Intekhab e Kalam Saqi Farooqui

Articles

انتخابِ کلام ساقی فاروقی

ساقی فاروقی

 

غزلیں

مجھے خبر تھی مرا انتظار گھر میں رہا
یہ حادثہ تھا کہ میں عمر بھر سفر میں رہا
میں رقص کرتا رہا ساری عمر وحشت میں
ہزار حلقۂ زنجیرِ بام و در میں رہا
ترے فراق کی قیمت ہمارے پاس نہ تھی
ترے وصال کا سودا ہمارے سر میں رہا
یہ آگ ساتھ نہ ہوتی تو راکھ ہوجاتے
عجیب رنگ ترے نام سے ہنر میں رہا
اب ایک وادیِ نسیاں میں چھُپتا جاتا ہے
وہ ایک سایہ کہ یادوں کی رہگزر میں رہا

———-

ریت کی صورت جاں پیاسی تھی آنکھ ہماری نم نہ ہوئی
تیری درد گساری سے بھی روح کی الجھن کم نہ ہوئی
شاخ سے ٹوٹ کے بے حرمت ہیں ویسے بھی بے حرمت تھے
ہم گرتے پتّوں پہ ملامت کب موسم موسم نہ ہوئی
ناگ پھنی سا شعلہ ہے جو آنکھوں میں لہراتا ہے
رات کبھی ہمدم نہ بنی اور نیند کبھی مرہم نہ ہوئی
اب یادوں کی دھوپ چھائوں میں پرچھائیں سا پھرتا ہوں
میں نے بچھڑ کر دیکھ لیا ہے دنیا نرم قدم نہ ہوئی
میری صحرا زاد محبت ابرِ سیہ کو ڈھونڈتی ہے
ایک جنم کی پیاسی تھی اک بوند سے تازہ دم نہ ہوئی

—————–

خامشی چھیڑ رہی ہے کوئی نوحہ اپنا
ٹوٹتا جاتا ہے آواز سے رشتہ اپنا
یہ جدائی ہے کہ نسیاں کا جہنم کوئی
راکھ ہوجائے نہ یادوں کا ذخیرہ اپنا
ان ہوائوں میں یہ سسکی کی صدا کیسی ہے
بین کرتا ہے کوئی درد پرانا اپنا
آگ کی طرح رہے ، آگ سے منسوب رہے
جب اسے چھوڑ دیا خاک تھا شعلہ اپنا
ہم اسے بھول گئے تو بھی نہ پوچھا اس نے
ہم سے کافر سے بھی جزیہ نہیں مانگا اپنا

————

یہ کیا کہ زہرِ سبز کا نشّہ نہ جانیے
اب کے بہار میں ہمیں افسانہ جانیے
جل جل کے لوگ خاک ہوئے نارِ خوف سے
یہ زندگی سراب ہے دریا نہ جانیے
یہ خواب نائے درد ہمیں چشمۂ حیات
ہم لوگ سیر چشم ہیں پیاسا نہ جانیے
اپنے قدم کے ساتھ ہیں آسیب کے قدم
یہ کوچۂ حبیب ہے صحرا نہ جانیے
وہ سحرِ گورکن ہے ، بدن بدحواس ہیں
ہو پُتلیوں میں جان تو مردہ نہ جانیے

—————-

یہ لوگ خواب میں بھی برہنہ نہیں ہوئے
یہ بدنصیب تو کبھی تنہا نہیں ہوئے
یہ کیا کہ اپنی ذات سے بے پردگی نہ ہو
یہ کیا کہ اپنے آپ پر افشا نہیں ہوئے
ہم وہ صدائے آب کہ مٹّی میں جذب ہیں
خوش ہیں کہ آبشار کا نغمہ نہیں ہوئے
وہ سنگ دل پہاڑ کہ پگھلے نہ اپنی برف
یہ رنج ہے کہ رازقِ دریا نہیں ہوئے
تیرے بدن کی آگ سے آنکھوں میں ہے دھنک
اپنے لہو سے رنگ یہ پیدا نہیں ہوئے

——————

دامن میں آنسوئوں کا ذخیرہ نہ کر ابھی
یہ صبر کا مقام ہے ، گریہ نہ کر ابھی
جس کی سخاوتوں کی زمانے میں دھوم ہے
وہ ہاتھ سو گیا ہے ، تقاضا نہ کر ابھی
نظریں جلا کے دیکھ مناظر کی آگ میں
اسرارِ کائنات سے پردا نہ کر ابھی
یہ خاموشی کا زہر نسوں میں اتر نہ جائے
آواز کی شکست گوارا نہ کر ابھی
دنیا پہ اپنے علم کی پرچھائیاں نہ ڈال
اے روشنی فروش اندھیرا نہ کر ابھی

——————-

خاک نیند آئے اگر دیدۂ بیدار ملے
اس خرابے میں کہاں خواب کے آثار ملے
اُس کے لہجے میں قیامت کی فسوں کاری تھی
لوگ آواز کی لذت میں گرفتار ملے
اُس کی آنکھوں میں محبت کے دیے جلتے رہیں
اور پندار میں انکار کی دیوار ملے
میرے اندر اسے کھونے کی تمنا کیوں ہے
جس کے ملنے سے مری ذات کو اظہار ملے
روح میں رینگتی رہتی ہے گنہہ کی خواہش
اس امر بیل کو اک دن کوئی دیوار ملے

———–

ہم تنگ نائے ہجر سے باہر نہیں گئے
تجھ سے بچھڑ کے زندہ رہے ، مر نہیں گئے
آج اپنے گھر میں قید ہیں ، ان سے حجاب ہے
جو گھر سے بے نیاز ہوئے ، گھر نہیں گئے
اپنے لہو میں جاگ رہی تھی نمو کی آگ
آنکھوں سے اس بہار کے منظر نہیں گئے
اُس پر نہ اپنے درد کی بے قامتی کھلے
ہم اس دراز قد کے برابر نہیں گئے
ساقیؔ اس رات کی بے حرمتی کے بعد
اچھا ہوا کہ سوئے ستم گر نہیں گئے

———-

پام کے پیڑ سے گفتگو

مجھے سبز حیرت سے کیوں دیکھتے ہو
وہی تتلیاں جمع کرنے کی ہابی
اِدھر کھینچ لائی
مگر تتلیاں اتنی زیرک ہیں
ہجرت کے ٹوٹے پروں پر
ہوا کے دو شالے میں لپٹی
مرے خوف سے اجنبی جنگلوں میں کہیں
کہیں جا چھپیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اور تھک ہار کرواپسی میں
سرکتے ہوئے ایک پتھر سے بچتے ہوئے
اس طرف میں نے دیکھا
تو ایسا لگا
یہ پہاڑی کسی دیو ہیکل فرشتے کا جوتا ہے
تم کتھئی چھال کے موزے میں
ایک پیر ڈالے
یہ جوتا پہننے کی کوشش میں لنگڑا رہے ہو ۔۔۔۔۔
دوسری ٹانگ شاید
کسی عالمی جنگ میں اڑ گئی ہے

مرا جال خالی
مگر دل مسرت کے احساس سے بھرگیا
تم اسی بانکپن سے
اسی طرح
گنجی پہاڑی پر
اپنی ہری وگ لگائے کھڑے ہو
یہ ہیئت کذائی جو بھائی
تو نزدیک سے دیکھنے آگیا ہوں

ذرا اپنے پنکھے ہلا دو
مجھے اپنے دامن کی ٹھنڈی ہوا دو
بہت تھک گیا ہوں

—————

ہمزاد

شیخ زَمَن شادانی
آئو
خواب دیکھتے ہیں
یاد نگر میں سائے پھرتے ہیں
تنہائی سسکاری بھرتی ہے
اپنی دنیا تاریکی میں ڈوب چلی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔باہر چل کر مہتاب دیکھتے ہیں
شیخ زَمَن شادانی
آئو
خواب دیکھتے ہیں
ہم سے پہلے کون کون سے لوگ ہوئے
جو ساحل پر کھڑے رہے
جن کی نظریں
پانی سے ٹکرا ٹکرا کر
ٹوٹ ٹوٹ کر بکھر گئی ہیں
بکھر گئی ہیں اور پانی کا سبزہ ہیں
اس سبزے کے پیچھے کیا ہے
آج عَقب میں
چھپے ہوئے گرداب دیکھتے ہیں
شیخ زَمَن شادانی
آئو
خواب دیکھتے ہیں

———————-

موت کی خوشبو

جدائی
محبت کے دریائے خوں کی معاون ندی ہے
وفا
یاد کی شاخِ مرجاں سے
لپٹی ہوئی ہے
دل آرام و عشاق سب
خوف کے دائرے میں کھڑے ہیں
ہوائوں میں بوسوں کی باسی مہک ہے
نگاہوں میں خوابوں کے ٹوٹے ہوئے آئینے ہیں
دلوں کے جزیروں میں
اشکوں کے نیلم چھپے ہیں
رگوں میں کوئی رودِ غم بہہ رہا ہے

مگر درد کے بیج پڑتے رہیں گے
مگر لوگ ملتے بچھڑتے رہیں گے
یہ سب غم پرانے
یہ ملنے بچھڑنے کے موسم پرانے
پُرانے غموں سے
نئے غم الجھنے چلے ہیں
لبوں پر نئے نیِل
دل میں نئے پیچ پڑنے لگے ہیں
غنیم آسمانوں میں
دشمن جہازوں کی سرگوشیاں ہیں
ستاروں کی جلتی ہوئی بستیاں ہیں
اور آنکھوں کے رادار پر
صرف تاریک پرچھائیاں ہیں

ہمیں موت کی تیز خوشبو نے پاگل کیا ہے
امیدوں کے سرخ آبدوزوں میں سہمے
تباہی کے کالے سمندر میں
بہتے چلے جارہے ہیں

کراں تا کراں
ایک گاڑھا کسیلا دھواں ہے
زمیں تیری مٹی کا جادو کہاں ہے

——————–

شاہ صاحب اینڈ سنز

شاہ صاحب خوش نظر تھے
خوش ادا تھے
اور روزی کے اندھیرے راستوں پر
صبر کی ٹوٹی ہوئی چپل پہن کر
اک للک اک طنطنے کے ساتھ سرگرمِ سفر تھے
اور جینے کے مرض میں مبتلا تھے
جو غذائیں دسترس میں تھیں
عجب بے نور تھیں
ان میں نمو کاری نہ تھی
وہ جو موتی کی سی آب آنکھوں میں تھی
جاتی رہی
پُتلیوں میں خون
کائی کی طرح جمنے لگا
رفتہ رفتہ
موتیا بند ان کے دیدوں پر
زمرّد کی طرح اترا
عجب پردا پڑا
سارے زمانے سے حجاب آنے لگا

مضطرب آنکھوں کے ڈھیلے
خشک پتھرائے ہوئے
اتنے بے مصرف کہ بس
اک سبز دروازے کے پیچھے
بند سیپی کی طرح
چھپ کے واویلا کریں
اور اندھیرے آئینہ دکھلائیں، استنجا کریں

صرف دشمن روشنی کا انتظار
زندگانی غزوۂ خندق ہوئی
اس قدر دیکھا کہ نابینا ہوئے

۔۔۔۔۔۔اور جب رازق نگاہوں میں
سیاہی کی سَلائی پھر گئی
چھتنار آنکھوں سے
تجلّی کی سنہری پتیاں گرنے لگیں
تو شاہ صاحب اور بے سایہ ہوئے
ان کی اندھی منتقم آنکھوں میں دنیا
ایک قاتل کی طرح سے جم گئی
جیسے مرتے سانپ کی آنکھوں میں
اپنے اجنبی دشمن کا عکس
یوں سراسیمہ ہوئے
یوں ذات کے سنسان صحرائوں میں افسردہ پھرے
جیسے جیتے جاگتے لوگوں کو دیکھا ہی نہ ہو
جوشبیہیں دھیان میں محفوظ تھیں
ان سے رشتہ ہی نہ ہو

جگمگاتی بے قرار آنکھیں
کسی سہمے ہوئے گھونگھے کے ہاتھوں کی طرح
دیکھتی تھیں، سونگھتی تھیں، لمس کرتی تھیں
وہی جاتی رہیں تو زندگی سے رابطہ جاتا رہا
ہمدمی کا سلسلہ جاتا رہا
وہ جو اک گہرا تعلق
اک امر سمبندھ سا
چاروں طرف بکھری ہوئی چیزوں سے تھا
ہنستے ہوئے ، روتے ہوئے لوگوں سے تھا
اس طرح ٹوٹا کہ جیسے شیر کی اک جست سے
زیبرے کے ریڑھ کی ہڈی چٹخ جاتی ہے ۔۔۔۔۔
برسوں بے طرح بے کل رہے
ایک دن آنکھوں میں صحرا جل اٹھا
وہ خیال آیا کہ چہرہ جل اٹھا
اپنے بیٹوں کو کلیجوں سے لگایا
جی بھرا تھا ابر کی مانند روئے
روچکے تو ایک مہلک آتشیں تیزاب کے
شعلۂ سفاک سے
ان کی فاقہ سنج آنکھوں کو جلایا
اور سجدے میں گرے
جیسے گہری نیند میں ہوں
جیسے اک سکتے میں ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔

مدتوں سے ان بیاباں راستوں پر
چار اندھے دوستوں کا ایک کورس گونجتا ہے:
’’اے سخی شہرِ سخاوت میں گزر اوقات کر
اے نظر والے نظر خیرات کر‘‘

———-

نوحہ

یہ کیسی سازش ہے جو ہوائوں میں بہہ رہی ہے
میں تیری یادوں کی شمعیں بجھا کے خوابوں میں چل رہا ہوں
تری محبت مجھے ندامت سے دیکھتی ہے
وہ آبگینہ ہوں خواہشوں کا کہ دھیرے دھیرے پگھل رہا ہوں
یہ میری آنکھوں میں کیسا صحرا ابھر رہا ہے
میں با ل رُوموں میں بجھ رہا ہوں ، شراب خانوں میں جل رہا ہوں
جو میرے اندر دھڑک رہا تھا وہ مر رہا ہے

—————–

انہدام

اے ہوائے خوش خبر ، اب نویدِ سنگ دے
میری جیب و آستیں میرے خوں سے رنگ دے
میری عمرِ کج روش مجھ سے کہہ رہی ہے ’’تو،
اک طلسم ہے تجھے ٹوٹنا ضرور ہے
تیری بد سرشت فکر تیرا قیمتی لہو
کھردری زبان سے چاٹتی چلی گئی
تو کنارِ بحر کی وہ چٹان ہے جسے
تند و تیز موجِ درد ، کاٹتی چلی گئی
اِس حریص جسم کا انہدام ہی سہی
ایک خون کی لکیر تیرے نام ہی سہی‘‘

—————–

سرخ گلاب اور بدرِ مُنیر

اے دل پہلے بھی تنہا تھے ، اے دل ہم تنہا آج بھی ہیں
اور ان زخموں اور داغوں سے اب اپنی باتیں ہوتی ہیں
جو زخم کہ سُرخ گلاب ہوئے ، جو داغ کہ بدرِ مُنیر ہوئے
اس طرح سے کب تک جینا ہے، میں ہار گیا اس جینے سے

کوئی ابر اُڑے کسی قلزم سے رَس برسے مرے ویرانے پر
کوئی جاگتا ہو ، کوئی کُڑھتا ہو،مرے دیر سے واپس آنے پر
کوئی سانس بھرے مرے پہلو میں کوئی ہاتھ دھرے مرے شانے پر

اور دبے دبے لہجے میں کہے تم نے اب تک بڑے درد سہے
تم تنہا تنہا جلتے رہے ، تم تنہا تنہا چلتے رہے
سنو تنہا چلنا کھیل نہیں ، چلو آئو مرے ہمراہ چلو
چلو نئے سفر پر چلتے ہیں ، چلو مجھے بنا کے گواہ چلو

 

Intekhab e Kalam Khalilur Rahman Azmi

Articles

خلیل الرحمن اعظمی کا منتخب کلام

خلیل الرحمن اعظمی

 

 

سوتے سوتے چونک پڑے ہم، خواب میں ہم نے کیا دیکھا
جو خود ہم کو ڈھونڈھ رہا ہو، ایسا اک رستا دیکھا

دور سے اک پرچھائیں دیکھی اپنے سے ملتی جلتی
پاس سے اپنے چہرے میں بھی اور کوئی چہرا دیکھا

سونا لینے جب نکلے تو ہر ہر ڈھیر میں مٹی تھی
جب مٹی کی کھوج میں نکلے، سونا ہی سونا دیکھا

سوکھی دھرتی سن لیتی ہے پانی کی آوازوں کو
پیاسی آنکھیں بول اٹھتی ہیں ہم نے اک دریا دیکھا

چاندی کے سے جن کے بدن تھے، سورج جیسے مکھڑے تھے
کچھ اندھی گلیوں میں ہم نے ان کا بھی سایا دیکھا

رات وہی پھر بات ہوئی نا۔۔۔ ہم کو نیند نہیں آئی
اپنی روح کے سنّاٹے سے شور سا اک اٹھتا دیکھا

بنے بنائے سے رستوں کا سلسلہ نکلا
نیا سفر بھی بہت ہی گریز پا دیکھا


 

رخ پہ گردِ ملال تھی، کیا تھی
حاصلِ ماہ و سال تھی، کیا تھی

ایک صورت سی یاد ہے اب بھی
آپ اپنی مثال تھی، کیا تھی

میری جانب اُٹھی تھی کوئی نگہ
ایک مبہم سوال تھی، کیا تھی

اس کو پا کر بھی اس کو پا نہ سکا
جستجوئے جمال تھی، کیا تھی

صبح تک خود سے ہم کلام رہا
یہ شبِ جذب و حال تھی، کیا تھی

دل میں تھی، پر لبوں تک آ نہ سکی
آرزوئے وصال تھی، کیا تھی

اپنے زخموں پہ اک فسردہ ہنسی
کوششِ اندمال تھی، کیا تھی

عمر بھر میں بس ایک بار آئی
ساعتِ لا زوال تھی، کیا تھی

خوں کی پیاسی تھی پر زمینِ وطن
ایک شہرِ خیال تھی، کیا تھی

باعثِ رنجشِ عزیزاں تھی
خوئے کسبِ کمال تھی، کیا تھی

اک جھلک لمحۂ فراغت کی
ایک امرِ محال تھی، کیا تھی

کوئی خواہاں نہ تھا کہ جنسِ ہنر
ایک مفلس کا مال تھی، کیا تھی


 

نہ جانے کس کی ہمیں عمر بھر تلاش رہی
جسے قریب سے دیکھا وہ دوسرا نکلا

ہمیں تو راس نہ آئی کسی کی محفل بھی
کوئی خدا، کوئی ہمسایۂ خدا نکلا

ہزار طرح کی مے پی، ہزار طرح کے زہر
نہ پیاس ہی بجھی اپنی، نہ حوصلہ نکلا

ہمارے پاس سے گزری تھی ایک پرچھائیں
پکارا ہم نے تو صدیوں کا فاصلہ نکلا

اب اپنے آپ کو ڈھونڈھیں کہاں کہاں جا کر
عدم سے تا بہ عدم اپنا نقشِ پا نکلا


 

مری صدا کا ہے صدیوں سے انتظار مجھے
مرے لہو کے سمندر ذرا پکار مجھے

میں اپنے گھرکو بلندی پہ چڑھ کے کیا دیکھوں
عروجِ فن! مری دہلیز پر اتار مجھے

ابلتے دیکھی ہے سورج سے میں نے تاریکی
نہ راس آئے گی یہ صبحِ زر نگار مجھے

کہے گا دل تو میں پتھر کے پاؤں چوموں گا
زمانہ لاکھ کرے آ کے سنگسار مجھے

وہ فاقہ مست ہوں جس راہ سے گزرتا ہوں
سلام کرتا ہے آشوبِ روزگار مجھے

 


میں گوتم نہیں ہوں

میں گوتم نہیں ہوں
مگر جب بھی گھر سے نکلا
یہ سوچتا تھا
کہ میں اپنے آپ کو
ڈھونڈھنے جا رہا ہوں
کسی پیڑ کی چھاؤں میں
میں بھی بیٹھوں گا
اک دن مجھے بھی کوئی گیان ہوگا
مگر
جسم کی آگ جو گھر سے لے کر چلا تھا
سلگتی رہی
گھر کے باہر ہوا تیز تھی
اور بھی یہ بھڑکتی رہی
ایک اک پیڑ جل کر ہوا راکھ
میں ایسے صحرا میں اب پھر رہا ہوں
جہاں میں ہی میں ہوں
جہاں میرا سایہ ہے
سائے کا سایہ ہے
اور دور تک
بس خلا ہی خلا ہے


میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں

میں دیر سے دھوپ میں کھڑا ہوں
سایہ سایہ پکارتا ہوں

سونا ہوں، کرید کر تو دیکھو
مٹی میں دبا ہوا پڑا ہوں

لے مجھ کو سنبھال گردشِ وقت
ٹوٹا ہوا تیرا آئینہ ہوں

یوں ربط تو ہے نشاط سے بھی
در اصل میں غم سے آشنا ہوں

صحبت میں گلوں کی میں بھی رہ کر
کانٹوں کی زباں سمجھ گیا ہوں

دشمن ہو کوئی کہ دوست میرا
ہر ایک کے حق میں میں دعا ہوں

کیوں آبِ حیات کو میں ترسوں
میں زہرِ حیات پی چکا ہوں!!

ہر عہد کے لوگ مجھ سے ناخوش
ہر عہد میں خواب دیکھتا ہوں


 


Jaun Elia ki Nazm Darakht e Zard by Jamal Rizvi

Articles

جون ایلیاؔ کی نظم’درختِ زرد‘

ڈاکٹرجمال رضوی

 

 

 

جون ایلیاؔ کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری میں فکر و فلسفہ کا عنصر فن کی جمالیات سے ہم آہنگ ہو کر ایک ایسی شعری کائنات کی تخلیق کرتا ہے جو بہ ظاہر بہت سادہ سی نظر آتی ہے لیکن اس کے مظاہر کا واقعتا عرفان حاصل کرنے کے لیے تفکر و تدبر کے اعلیٰ معیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جون ؔنے نہ صرف اپنے عہد کے شعرا کے مابین اپنی انفرادیت قائم کی بلکہ ان کی تخلیقی ریاضتوں نے انھیں ان شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کردیا جن کا فن حدودِ زماں و مکاں سے ماورا ہو کر منزل ابدیت پر پہنچ جاتا ہے۔ جون ؔکا منفرد لب و لہجہ اور الفاظ کو اس کے تمام تر معنیاتی امکان کے ساتھ برتنے کا انداز ان کے کمال ِ فن کا ثبوت ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن شعرا نے اردو کے شعری منظرنامہ پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ان میں ایک نام جون ایلیا ؔکا بھی ہے۔ جون ؔکی شاعری کا نمایاں وصف یہ ہے کہ اس نے شعری زبان کے دامن کو وسعت عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جون ؔکی شاعری میں الفاظ کا استعمال ان کی تخلیقی صلاحیت کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ اپنے معاصرین میں اس حوالے سے وہ صف اول کے شعرا میں نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موضوعاتی سطح پر بھی اردو شاعری کے دائرے کو کشادگی عطا کی ۔ جون کی غزلوں اور نظموں کے مطالعے کے بعد ان کی شخصیت ایک ایسے شاعر کے روپ میں سامنے آتی ہے جو انسانی معاشرہ سے محبت اور ہمدردی تو رکھتا ہے لیکن اس محبت و ہمدردی میں جذباتیت کے بجائے عقلیت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ اسی لیے وہ سوسائٹی کے تاریک و سیاہ پہلوؤں کو بیان کرتے وقت مصلحت پسندی سے کام نہیں لیتے۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ انسانوں کے غیر انسانی رویہ کے خلاف جونؔ کے لہجے کا تیکھا پن دنیائے احساس کو اس قدر متزلزل کر دتیا ہے کہ معاشرہ سے وابستہ تصورات ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔
جونؔ نے شعری اصناف میں غزل، نظم اور قطعہ نگاری میں خصوصی طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے ان اصناف میں قابل قدر شعری سرمایہ چھوڑا ہے۔ جونؔ کا یہ سرمایہ سنجیدہ اور معتبر شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ اس مضمون میں جونؔ کی نظم ’درختِ زرد‘ پر اظہار خیال مقصود ہے۔ ساڑھے چار سو سے زیادہ مصرعوں پر مبنی یہ نظم کئی تخلیقی جہات کی حامل ہے۔ جون ؔنے اس نظم میں مرکزی موضوع کے حوالے سے دیگر کئی ذیلی موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے نظم ’ درختِ زرد‘ کا تخلیقی کینوس بہت وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ جونؔ نے اس نظم میں بعض فنی تجربات بھی کیے ہیں جن میں سب سے اہم مختلف مقامات پر بحروں کی تبدیلی ہے۔جونؔ نے طویل اور مختصر بحروں کا ایسا فنکارانہ امتزاج پیش کیا ہے جس سے نظم کی روانی میں سیمابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سطور بالا میں جونؔ کی سنجیدہ اور معتبر شاعری کا جو ذکر کیا گیا اس حوالے سے بھی یہ نظم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ناقدین فن نے معتبر شاعری کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں اور ان تعریفوں میں جو چیز قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ کہ شاعری میں پیش کیے گیے خیالات میں عظمت اور ہمہ گیریت ہونی چاہیے۔ بقول سید شبیہ الحسن ’ جب شدید جذبات عظیم خیالات کے سائے میں پر تاثیر زبان کی مدد سے وجود میں آتے ہیں تو معتبر شاعری ظہور میں آتی ہے۔‘ معتبر شاعری کی اس متوازن اور واضح تعریف کی کسوٹی پر جون ؔکی یہ نظم ’درختِ زرد‘ پوری اترتی ہے۔
جون نے یہ نظم اپنے بیٹے زریون کو مخاطب کر کے لکھی ہے لیکن اس میں محض ایک باپ کے پدرانہ جذبات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ نظم تاریخ انسانی کا ایک ایسا روزن ہے جس سے تہذیب و ثقافت، فکر و فلسفہ، ادب و مذہب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس طرح جون ؔنے ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے جس میں انسانی تمدن کی تاریخ سمٹ آئی ہے۔ جون ؔکی اس نظم کی تفہیم ان کی ذات کو الگ کر کے نہیں کی جا سکتی ہر چند کہ نظم جوں جوں ارتقائی منزل طے کرتی جاتی ہے اس کا بیانیہ بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے سے نکل کر اس قدر وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ اگر نظم کے ابتدائی حصے کو الگ کر کے باقی حصے کو پڑھا جائے تو اسے ایک ایسی شعری تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے جس میں نیرنگیٔ حیات کی جلوہ سامانی اور کائنات کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش بہ یک وقت نظر آتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ جون ؔکے نحیف و لاغر جسم میں ایک ایسی روح بستی تھی جس نے تمام عمر انھیں بیچین رکھا۔ ان کی زندگی میں خوشی و انبساط کے مقابلے درد و غم کے لمحات زیادہ رہے اور شایدیہ کہنا غلط نہ ہو کہ رنج و غم مول لینا ان کی عادت سی ہو گئی تھی۔ زندگی کے تئیں ان کا مخصوص رویہ ان کے لیے بیشتر باعث ِ آزار ثابت ہوا۔ لیکن اس مقام پر یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ زندگی میں رنج و آلام کی کثرت کے باوجود ان کے شاعرانہ افکار میں انتشار کی کیفیت بہت کم نظر آتی ہے۔ جس طرح ہر بڑا ذہن اپنی ذات سے وابستہ مسائل سے بالا ہو کر دنیا اور معاملات دنیا کے متعلق غور وفکر کرتا ہے اسی طرح جون ؔنے بھی اس عمل سے گزرتے وقت اپنی ذات کو درمیان میں حائل نہیں ہونے دیا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے تجربات و مشاہدات کو شعری پیکر عطا کرتے وقت وہ جرات اظہار کی انتہائی منزلوں پر نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جرات اظہار تلخ کلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ایسی صورت میں جونؔ کی شاعری ضمیر کو بیدار کرنے اور اسے جھنجھوڑنے کا کام کرتی ہے۔ اس حوالے سے جونؔ کی شاعری کا مطالعہ اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ وہ صرف دنیا اور اہل دنیا کو ہی ہدف نہیں بناتے بلکہ اس دنیا سے مطابقت پیدا کرنے میں ناکامی پر وہ خود اپنے متعلق اس طرح گویا ہوتے ہیں ع میں جو ایک فاسق و فاجر ہوں جو زندیقی ہوں۔ جونؔ کا سا یہ انداز اور یہ حوصلہ اردو شاعری میں بہت کم نظر آتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انسان کو بہت صبر آزما اور دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور بلاشبہ جون ؔنے اس سخت سفر کو مکمل کر لینے کے بعد ہی یہ لب و لہجہ حاصل کیا تھا۔ جون کی نظم ’درختِ زرد‘ بھی بہت کچھ اسی تخلیقی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔
اس نظم کے مرکزی موضوع کے روایتی تصور کو پیش نظر رکھا جائے تو اسے کامیاب اور معتبر شاعری کہنا تو درکنار اچھی شاعری بھی نہیں کہا جا سکتا۔ نظم کے موضوع کا روایتی تقاضا یہ تھا کہ شاعر اپنے بیٹے سے ا پنی محبت و شفقت کا اظہار کرتا اور گردش وقت نے دونوں کے درمیان جو خلیج پیدا کر دی ہے اور اس فاصلے کے سبب باپ جس درد و کرب میں مبتلا ہے اسے بیان کیا جاتا۔ اس کے علاوہ راہِ زیست کے پیچ و خم اور ان سے کامیاب و کامراں گزرنے کا سلیقہ، زندگی میں انسانی اقدار کی پیروی اور نظم کے آخری حصے میں بیٹے کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے جاتے۔ لیکن اس نظم کا تخلیقی انداز یکسر مختلف ہے۔ جون ؔنے اس نظم کو اپنے بیٹے کے لیے دنیائے ارضی کا ایک ایسا Miniature بنا دیا ہے جس سے وہ اپنا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ اس کی بوالعجبیوں کا بہت کچھ مشاہدہ کر سکتا ہے۔ نظم کے آغاز میں جون ؔ، زریون کو مخاطب کرکے اس کی ممکنہ محبت کا ذکر کرتے ہیں اوراپنے بیٹے کے محبوب سے وہ اپنی جن توقعات کا اظہار کرتے ہیں وہ دراصل ان کی اپنی روداد عشق کا بیان ہے۔ جونؔ کی محبت ان کی زندگی کا ایک بڑا المیہ ثابت ہوئی ۔ اس کے اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن محبت میں ناکامی کے بعد جنس مخالف کے تئیں ان کے یہاں ایک مخصوص رویہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں چند تحفظات قایم کر لیے تھے اور ان تحفظات نے ان کے افکار کو ایک مخصوص نہج پر ڈال دیا تھا۔اس حوالے سے مذکورہ نظم کا یہ شعر :
گماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نا رسائی ہو
وہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہو
جون ؔکی ذاتی زندگی کا بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں جونؔ نے زمانے کے بدلتے ہوئے انداز کو بھی بہت دلچسپ اندازمیں بیان کیا ہے اور مسلم معاشرہ پر اس تغیر کے اثرات اورکے طرز ِبود و باش میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی جانب بھی ایسے بلیغ اشارے کیے ہیں جس میں تعلیم ، تہذیب اور کلچر سب کچھ سمٹ آیا ہے:
اسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہوگے
نہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگی
یہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہے
گزشتہ سطور میں اس نظم کے تخلیقی کینوس کی وسعت کا جو ذکر کیا گیا تھا یہ تین مصرعے اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ وقت کی تبدیلی کے ساتھ انسان کے معمولات حیات کی تبدیلی جو رفتہ رفتہ معاشرہ کی شناخت بن جایا کرتی ہے، اس کا بیان جون ؔنے اس انداز میں کیا ہے جو تاریخی حوالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ پوری نظم تاریخ و تہذیب کے حوالوں سے آگے بڑھتی ہے۔ اس نظم میں زریون، اس کا ممکنہ محبوب اور خود جون ؔکی شخصیت انسانی تہذیب و ثقافت کے تغیراتی عمل کے سبب اقدار کی تبدیلی کا اشاریہ بن کر سامنے آتے ہیں ۔ جون نے اس نظم میں زریون اور اس کے ممکنہ محبوب کو ایک ایسے میڈیم کے طور پر پیش کیا ہے جن کے توسط سے وہ انسانی سماج سے وابستہ اپنے تصورات و توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تصورات اور توقعات بلا جواز نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ وہ حقائق وابستہ ہیں جنھوں نے ایک مخصوص طرز پر معاشرہ کی تشکیل میں کم و بیش بنیادی کردار ادا کیا ہے، لیکن ان حقائق کی ساخت میں تبدیلی کے سبب انسانی افکار و رویہ میں تبدیلی کو خصوصی طور پر جونؔ نے ہدف بنایا ہے ۔اس نظم میں معاشرہ اور مذہب کی سابقہ اعلیٰ اقدار کے حوالے سے موجودہ دور کے انسانی سماج کی وہ تصویر پیش کی گئی ہے جس پر تصنع کی ملمع کاری واضح نظر آتی ہے۔ جون ؔجس مخصوص شیعی تہذیب وثقافت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بھی بیشتر عوامل میں یکسر تبدیلی کے سبب اس پر بھی تصنع کا رنگ غالب آگیا جس کا عکس ذیل کے مصرعوں میں نمایاں ہے :
وہ نجم آفندیِ مرحوم کو تو جانتی ہوگی
وہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگی
اسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑ ی ہوں
نہ ہوں گے خواب اس کا جو گویّے اور کھلاڑی ہوں
اس مقام پر یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جون ؔنے اس نظم میں اپنی فکر کو صرف تہذیب و معاشرت کی مختلف صورتوں کے بیان تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ کائنات اور اس کے وجود کے اسرار و رموز کو بھی اپنے دائرہ ٔ فکر میں لاکر اس نظم میں ایک ایسا فلسفیانہ تاثر پیدا کر دیا ہے جو ذہن کو غور وفکر پر آمادہ کرتا ہے۔شیکسپیئر کی طرح جون ؔبھی اس دنیا کو ایک اسٹیج تصور کرتے ہیں جس پر مختلف طرح کے کردار اپنا فن دکھا کر روپو ش ہوجاتے ہیں اور اس لامتناہی سلسلے پر دنیا کی ہاؤ ہو کا دارومدار ہے۔ دنیا کے اس وسیع و عریض اسٹیج پر کرتب دکھانے والے مختلف انسانی گروہوں کی فنکارانہ انفرادیت انھیں ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف شناخت عطا کرتی ہے بلکہ بعض امور کسی مخصوص انسانی گروہ کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کا تاریخی و تہذیبی اثاثہ بن جاتے ہیں ۔ اس کرہ ٔ ارض پر بنی نوع آدم کے درمیان تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا اختلاف بہت کچھ اسی سلسلے کے جاری رہنے کا نتیجہ ہے۔ جونؔ نے اس نظم میں دنیا کے اسٹیج کی یہ روداد اپنے اجداد کے حوالے سے یوں بیان کی ہے :
مگر میرے غریب اجداد نے بھی کچھ کیا ہوگا
بہت ٹچا سہی ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
یہ ہم جو ہیں ، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
درج بالا مصرعوں میں جون ؔکے لہجے کی کرختگی گرچہ شعری حسن کو مجروح کرتی ہے لیکن اگر ہم ان کی زندگی سے واقف ہوں تو یہ زبان بالکل فطری محسوس ہوگی۔ جونؔ کی ٹریجڈی صرف یہی نہیں تھی کہ انھیں اپنی ازدواجی زندگی میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور وقت و حالات کے سبب ایک حساس باپ اور شوہر کو اپنے بچوں اور بیوی سے الگ ہونا پڑا بلکہ کئی ایسے غم بھی ان کی ذات سے وابستہ تھے جن کا مداوا انھیں تمام عمر میسر نہ آسکا۔ انھیں اپنے سلسلۂ ٔنسب پر بہت فخر تھا، انھیں اپنے آبائی وطن امروہہ سے والہانہ محبت ہی نہیں بلکہ عقیدت تھی ، انھیں اپنی علمیت پر ناز تھا لیکن وطن سے ہجرت اور پاکستان میں قیام کے دوران انھیں جن کرب ناک حقائق سے دوچار ہونا پڑا اس نے ان کی شخصیت اور شاعری میں ایسی تلخی بھر دی جسے برداشت کرپانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔جس طرح زندگی میں ایک پرشکوہ اندازِ بے نیازی ان کی شان ِ امتیاز تھی اسی طرح ان کی شاعری بھی اپنے معاصرین کے درمیان اپنی منفرد فنی شناخت قایم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ جون ؔکی شاعری کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے سمجھنے کے لیے صرف مشرق و مغرب کے ادبی نظریات و رجحانات سے واقفیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ تاریخ، فلسفہ اور تصوف جیسے دیگر علوم سے بھی کماحقہ واقفیت ضروری ہے۔ ان کے فن میں اس گہرائی اور گیرائی نے ان کی شاعری کو سنجیدہ و معتبر شاعری کا مرتبہ عطا کرنے میں اہم رول اداکیا۔ جون ؔایک کثیر المطالعہ شاعر تھے اور وہ اکثر اس کا اظہار بھی کرتے تھے :
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمھیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
اس شعر میں ایک حد تک شاعرانہ تعلّی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی علمیت نے زندگی اور فن کے متعلق ان کے اندر ایک مخصوص وژن پیدا کردیا تھا۔ اس وژن میں یقین اور بغاوت دو اہم اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بنیادی طور پر ان دو مختلف المزاج اجزا کا یکجا ہونا قرین قیاس نہیں نظر آتا کیونکہ عموماً یقین کے بعد مفاہمت اور مصلحت پسندی کا رجحان پیدا ہوجانا فطری ہے جبکہ بغاوت کے لیے غیر یقینی پہلی شرط ہے۔ جونؔ کے شاعرانہ وژن کی تشکیل ان دواجزا سے اس طرح ہوتی ہے کہ وہ انسان کی عظمت پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن انسانی معاشرہ کی بے سمتی اور انتشار آمیز صورتحال کو دیکھ کر مروجہ نظام کے خلاف ان کے یہاں بغاوت کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔ نظم ’ درختِ زرد‘ میں بھی یہ دو اجزا وسیع تر تناظر میں نظر آتے ہیں ۔ جون ؔنے اس نظم میں جتنے بھی ذیلی موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے ان میں ان دو اجزا کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ خصوصاً باغیانہ میلان ، جس کی شروعات غیر یقینی کی کیفیت سے ہوتی ہے ۔ غیر یقینی کی یہ کیفیت جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو انداز بیان طنز و تضحیک کے دائرے سے نکل کر طعن و تشنیع کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس حوالے سے ذیل کی یہ مثالیں دیکھیے۔
۱۔ بہت ٹچا سہی، ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
۲۔ یہ ہم جو ہیں، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
۳۔ یہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں، گالیاں کھائیں
ہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
۴۔ ادب، ادب کتّے ، ترے کان کاٹوں
۵۔ مگر میں یعنی جانے کون؟ اچّھا میں ، سراسر میں
۶۔ میں اک کاسد ہوں ، کاذب ہوں ، میں کیّاد و کمینہ ہوں
میں کاسہ باز و کینہ ساز و کاسہ تن ہوں، کتّا ہوں
۷۔ زنازادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیں
کمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے ہیں
نظم کے مختلف حصوں سے پیش کی گئی درج بالا مثالوں سے پوری نظم کی کیفیت اور شعری آہنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس نظم کی تخلیق کا بنیادی محرک وہ اشتعال آمیز جذبہ ہے جو ایک حساس باپ کے دل میں اپنی اولاد سے فرقت کے سبب پیدا ہوا ہے۔ اس لیے نظم کے شعری آہنگ میں نرمی اور شیرینی کے بجائے کرختگی اور تلخی جونؔ کے درد و کرب کو ظاہر کرتی ہے ۔ نظم میں درد و کرب کی یہ کیفیت ان مقامات پر زیادہ نمایاں ہے جہاں جونؔ نے اپنی شخصیت کو موضوع بنایا ہے۔ یوں تو اس پوری نظم میں ان کی شخصیت ایک اہم حوالے کے طور پر موجود ہے لیکن جن مقامات پر انھوں نے براہ راست اپنے حالات کو شعری پیکر عطا کیا ہے وہاں دردوکرب کی یہ کیفیت دو آتشہ ہو گئی ہے ۔ مثلاً
۱۔ ہے شاید دل مرا بے زخم اور لب پر نہیں چھالے
مرے سینے میں کب سو زندہ تر داغوں کے ہیں تھالے
مگر دوزخ پگھل جائے جو میرے سانس اپنا لے
تم اپنی مام کے بے حد مرادی منتوں والے
مرے کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں ، کچھ بھی نہیں بالے
۲۔ ہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس ِ غم ہا
عزاہا، مرثیہ ہا، گریہ ہا، آشوبِ ماتم ہا
۳۔ تمہاری ارجمند امّی کو میں بھولا بہت دن میں
میں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میں
وہی تو ہیں جنھوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایا
وہ کس رنگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکا
لہو اور تھوکنا اس کا، ہے کاروبار بھی میرا
یہی ہے ساکھ بھی میری، یہی معیار بھی میرا
میں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیں
نہ جانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیں
یہ بات شروع میں ہی عرض کی جا چکی ہے کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر کئی جہات کی حامل ہے اس لیے اسے ایک بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظم میں بحیثیت باپ جون ؔکے شدید جذبات، عظیم خیالات کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں جس نے اس نظم کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے کہ یہ شعری تخلیق پوری انسانی سوسائٹی کا بیانیہ نظر آتی ہے۔ جون ؔنے اس بیانیہ میں مختلف رنگوں کی آمیزش سے ایسا مرکب تیار کیا ہے جو نیرنگیٔ حیات اور تغیر کائنات کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔
آخر میں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ کسی ایک نظم کی بنیاد پر کسی شاعر کے تخلیقی رجحانات و میلانات اور فنی سروکار کا تعیین نہیں کیا جا سکتا تاہم جونؔ کی یہ نظم بہت کچھ ان کے تخلیقی رویہ کو واضح کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے کمالِ فن سے اس نظم میں ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی آفاقیت عطا کردی ہے جس میں انسانی سماج کے مختلف عناصر اس طرح سمٹ آئے ہیں کہ ان کی گوناگونی کو ان کی امکانی کیفیات کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے اور بنیادی موضوع کے حوالے سے کئی ایسے موضوعات و مسائل کو بیان کرتی ہے جو انسانی سماج کا ناگزیر جزو ہیں۔ اس طرح یہ نظم ایک مخصوص رشتے کی انفرادیت اور اس سے وابستہ جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی حقائق کو بھی بیان کرتی ہے اور یہی اس نظم کا فنی امتیاز ہے۔
———————

Intekhab e Kalam Jaun Elia

Articles

انتخاب ِ کلام جون ایلیا

جون ایلیا

 

 

ایک گماں کا حال ہے اور فقط گماں میں ہے
کس نے عذابِ جاں سہا، کون عذابِ جاں میں ہے

لمحہ بہ لمحہ دم بہ دم آن بہ آن رم بہ رم
میں بھی گزشتگاں میں ہوں تو بھی گزشتگاں میں ہے

آدم و ذاتِ کبریا کرب میں ہیں جدا جدا
کیا کہوں ان کا ماجرا جو بھی ہے امتحاں میں ہے

شاخ سے اڑ گیا پرند ہے دلِ شام درد مند
صحن میں ہے ملال سا حزن سا آسماں میں ہے

خود میں بھی بے اماں ہوں میں، تجھ میں بھی بے اماں ہوں میں
کون سہے گا اس کا غم وہ جو مری اماں میں ہے

کیسا حساب کیا حساب حالتِ حال ہے عذاب
زخم نفس نفس میں ہے زہر زماں زماں میں ہے

اس کا فراق بھی زیاں اس کا وصال بھی زیاں
ایک عجیب کشمکش حلقۂ بے دلاں میں ہے

بود و نبود کا حساب میں نہیں جانتا مگر
سارے وجود کی نہیں میرے عدم کی ہاں میں ہے
—————-

تشنگی نے سراب ہی لکھا
خواب دیکھا تھا خواب ہی لکھا

ہم نے لکھا نصابِ تیرہ شبی
اور بہ صد آب و تاب ہی لکھا

منشیانِ شہود نے تاحال
ذکرِ غیب و حجاب ہی لکھا

نہ رکھا ہم نے بیش و کم کا خیال
شوق کو بے حساب ہی لکھا

دوستو ، ہم نے اپنا حال اسے
جب بھی لکھا خراب ہی لکھا

نہ لکھا اس نے کوئی بھی مکتوب
پھر بھی ہم نے جواب ہی لکھا

ہم نے اس شہر دین و دولت میں
مسخروں کو جناب ہی لکھا
——————–

خواب کے رنگ دل و جاں میں سجائے بھی گئے
پھر وہی رنگ بہ صد طور جلائے بھی گئے

انہیں شہروں کو شتابی سے لپیٹا بھی گیا
جو عجب شوق فراخی سے بچھائے بھی گئے

بزم ِ شوخی کا کسی کی کہیں کیا حال جہاں
دل جلائے بھی گئے اور بجھائے بھی گئے

پشت مٹی سے لگی جس میں ہماری لوگو
اسی دنگل میں ہمیں داؤ سکھائے بھی گئے

یادِ ایام کہ اک محفل جاں تھی کہ جہاں
ہاتھ کھینچے بھی گئے اور ملائے بھی گئے

ہم کہ جس شہر میں تھے سوگ نشین ِ احوال
روز ہم اس شہر میں دھوم مچائے بھی گئے

یاد مت رکھیو روداد ہمار ی ہرگز
ہم تھے وہ تاج محل جون ؔجو ڈھائے بھی گئے
————-

وہ اہل ِ حال جو خود رفتگی میں آئے تھے
بلا کی حالتِ شوریدگی میں آئے تھے

کہاں گئے کبھی ان کی خبر تو لے ظالم
وہ بے خبر جو تیری زندگی میں آئے تھے

گلی میں اپنی گلہ کر ہمارے آنے کا
کہ ہم خوشی میں نہیں سر خوشی میں آئے تھے

کہاں چلے گئے اے فصل رنگ و بو وہ لوگ
جو زرد زرد تھے اور سبزگی میں آئے تھے

نہیں ہے جن کے سبب اپنی جانبری ممکن
وہ زخم ہم کو گزشتہ صدی میں آئے تھے

تمہیں ہماری کمی کا خیال کیوں آتا
ہزار حیف ہم اپنی کمی میں آئے تھے
———–

بے انتہائی شیوہ ہمارا سدا سے ہے
اک دم سے بھولنا اسے پھر ابتدا سے ہے

یہ شام جانے کتنے ہی رشتوں کی شام ہو
اک حزن دل میں نکہت موج صبا سے ہے

دست شجر کی تحفہ رسانی ہے تابہ دل
اس دم ہے جو بھی دل میں مرے وہ ہوا سے ہے

جیسے کوئی چلا بھی گیا ہو اور آئے بھی
احساس مجھ کو کچھ یہی ہوتا فضا سے ہے

دل کی سہولتیں ہیں عجب ، مشکلیں عجب
نا آشنائی سی عجب اک آشنا سے ہے

اس میں کوئی گلہ ہی روا ہے نہ گفتگو
جو بھی یہاں کسی کا سخن ہے وہ جا سے ہے

آئے وہ کس ہنر سے لبوں پر کہ مجھ میں جونؔ
اک خامشی ہے جو مرے شور نوا سے ہے
———————-

Naya Qanoon by Sadat Hasan Manto

Articles

نیاقانون

سعادت حسن منٹو

 
 

منگوکوچوان اپنے اڈّے میں بہت عقلمند آدمی سمجھا جاتا تھا۔ گو اس کی تعلیمی حیثیت صفر کے برابر تھی اور اس نے کبھی سکول کا منہ بھی نہیں دیکھا تھا لیکن اس کے باوجود اسے دنیا بھر کی چیزوں کا علم تھا۔ اڈّے کے وہ تمام کوچوان جن کو یہ جاننے کی خواہش ہوتی تھی کہ دنیا کے اندر کیا ہورہا ہے اُستاد منگو کی وسیع معلومات سے اچھی طرح واقف تھے۔
پچھلے دنوں جب استاد منگو نے اپنی ایک سواری سے اسپین میں جنگ چھڑجانے کی افواہ سنی تھی تو اس نے گاما چوہدری کے چوڑے کاندھے پر تھپکی دے کر مدبّرانہ انداز میں پیش گوئی کی تھی۔‘‘ دیکھ لینا چوہدری، تھوڑے ہی دنوں میں اسپین کے اندر جنگ چھڑ جائے گی۔‘‘
اور جب گاما چوہدری نے اس سے پوچھا تھا کہ اسپین کہاں واقع ہے تو استاد منگو نے بڑی متانت سے جواب دیا۔ ’’ولایت میں اور کہاں؟‘‘
اسپین میں جنگ چھڑی اور جب ہر شخص کو اس کا پتہ چل گیا تو اسٹیشن کے اڈّے پر جتنے کوچوان حلقہ بنائے حُقّہ پی رہے تھے۔ دل ہی دل میں استاد منگو کی بڑائی کا اعتراف کر رہے تھے اور استاد منگو اس وقت مال روڈ کی چمکیلی سطح پر تانگہ چلاتے ہوئے اپنی سواری سے تازہ ہند و مسلم فساد پر تبادلۂ خیال کر رہا تھا۔
اِسی روز شام کے قریب جب وہ اڈّے میں آیا تو اس کا چہرہ غیر معمولی طور پر تمتمایا ہوا تھا۔ حُقّے کا دور چلتے چلتے جب ہندو مسلم فساد کی بات چھڑی تو استاد منگو نے سر پر سے خاکی پگڑی اُتاری اور بغل میں داب کر بڑے مفکرانہ لہجے میں کہا۔
’’یہ کسی پیر کی بددعا کا نتیجہ ہے کہ آئے دن ہندوؤں اور مسلمانوں میں چاقو، چھریاں چلتے رہتے ہیں اور میں نے اپنے بڑوں سے سُنا ہے کہ اکبر بادشاہ نے کسی درویش کا دل دُکھایا تھا اور اس درویش نے جل کر یہ بددعا دی تھی، جا تیرے ہندوستان میں ہمیشہ فساد ہی ہوتے رہیں گے۔۔۔ اور دیکھ لو، جب سے اکبر بادشاہ کا راج ختم ہوا ہے ہندوستان میں فساد پر فساد ہوتے رہتے ہیں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے ٹھنڈی سانس بھری اور پھر حُقّے کا دم لگا کر اپنی بات شروع کی۔’’ یہ کانگرسی ہندوستان کو آزاد کرانا چاہتے ہیں۔ میں کہتا ہوں اگر یہ لوگ ہزار سال بھی سر پٹکتے رہیں تو کچھ نہ ہو گا۔ بڑی سے بڑی بات یہ ہو گی کہ انگریز چلا جائے گا اور کوئی اٹلی والا آ جائے گا یا وہ روس والا جس کی بابت میں نے سنا ہے کہ بہت تگڑا آدمی ہے لیکن ہندوستان سدا غلام رہے گا۔ ہاں میں یہ کہنا بھول ہی گیا کہ پیر نے یہ بددُعا بھی دی تھی کہ ہندوستان پر ہمیشہ باہر کے آدمی راج کرتے رہیں گے۔‘‘
استاد منگو کو انگریزوں سے بڑی نفرت تھی اور اس نفرت کا سبب تو وہ یہ بتلایا کرتا تھا کہ وہ اس کے ہندوستان پر اپنا سکہ چلاتے ہیں اور طرح طرح کے ظلم ڈھاتے ہیں مگر اس کے تنفّر کی سب سے بڑی وجہ یہ تھی کہ چھاؤنی کے گورے اسے بہت ستایا کرتے تھے۔ وہ اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتے تھے گویا وہ ایک ذلیل کُتا ہے۔ اس کے علاوہ اسے ان کا رنگ بھی بالکل پسند نہ تھا۔ جب کبھی وہ گورے کے سرخ و سپید چہرے کو دیکھتا تو اسے متلی سی آجاتی۔ نہ معلوم کیوں۔ وہ کہا کرتا تھا کہ ان کے لال جھریوں بھرے چہرے دیکھ کر مجھے وہ لاش یاد آجاتی ہے جس کے جسم پر سے اُوپر کی جھِلّی گل گل کر جھڑ رہی ہو!۔
جب کسی شرابی گورے سے اس کا جھگڑا ہو جاتا تو سارا دن اس کی طبیعت مُکّدر رہتی اور وہ شام کو اڈّے میں آ کر ہِل مارکہ سگریٹ پیتے یا حُقّے کے کش لگاتے ہوئے اس گورے کو جی بھر کر سنایا کرتا۔
’’. . . . . .‘‘ یہ موٹی گالی دینے کے بعد وہ اپنے سر کو ڈھیلی پگڑی سمیت جھٹکا دے کر کہا کرتا تھا۔ ’’آگ لینے آئے تھے، اب گھر کے مالک ہی بن گئے ہیں۔ ناک میں دم کر رکھا ہے ان بندروں کی اولاد نے،یوں رعب گانٹھتے ہیں گویا ہم ان کے باوا کے نوکر ہیں۔۔۔‘‘
اس پر بھی اس کا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوتا تھا۔ جب تک اس کا کوئی ساتھی اس کے پاس بیٹھا رہتا۔ وہ اپنے سینے کی آگ اُگلتا رہتا۔
’’شکل دیکھتے ہو نا تم اس کی۔۔۔ جیسے کوڑھ ہو رہا ہے۔۔۔ بالکل مُردار، ایک دھپّے کی مار اور گٹ پٹ گٹ پٹ یوں بک رہا تھا جیسے مار ہی ڈالے گا۔ تیری جان کی قسم، پہلے پہل جی میں آئی کہ ملاعون کی کھوپڑی کے پُرزے اُڑا دوں۔ لیکن اس خیال سے ٹل گیا کہ اس مردُود کو مارنا اپنی ہتک ہے۔‘‘ ۔۔۔ یہ کہتے کہتے وہ تھوڑی دیر کے لیے خاموش ہو جاتا اور ناک کو خاکی قمیض کی آستین سے صاف کرنے کے بعد پھر بُڑبڑانے لگ جاتا۔
’’قسم ہے بھگوان کی ، ان لاٹ صاحبوں کے ناز اُٹھاتے اُٹھاتے تنگ آگیا ہوں۔ جب کبھی ان کا منحوس چہرہ دیکھتا ہوں، رگوں میں خون کھولنے لگ جاتا ہے۔ کوئی نیا قانون وانون بنے تو ان لوگوں سے نجات ملے۔ تیری قسم، جان میں جان آ جائے۔‘‘
اور جب ایک روز استاد منگو نے کچہری سے اپنے تانگے پر دو سواریاں لادیں اور ان کی گفتگو سے اسے پتہ چلا کہ ہندوستان میں جدید آئین کا نفاذ ہونے والا ہے تو اس کی خوشی کی کوئی انتہا نہ رہی۔
دو مار واڑی جو کچہری میں اپنے دیوانی مقدمے کے سلسلے میں آئے تھے، گھر جاتے ہوئے جدید آئین یعنی انڈیا ایکٹ کے متعلق آپس میں بات چیت کر رہے تھے۔
’’سنا ہے کہ پہلی اپریل سے ہندوستان میں نیا قانون چلے گا۔۔۔ کیا ہر چیز بدل جائے گی؟۔‘‘
’’ہر چیز تو نہیں بدلے گی مگر کہتے ہیں کہ بہت کچھ بدل جائے گا اور ہندوستانیوں کو آزادی مل جائے گی۔‘‘
’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘
’’یہ پوچھنے کی بات ہے۔ کل کسی وکیل سے دریافت کریں گے۔‘‘
ان مارواڑیوں کی بات چیت استاد منگو کے دل میں ناقابلِ بیان خوشی پیدا کر رہی تھی۔ وہ اپنے گھوڑے کو ہمیشہ گالیاں دیتا تھا اور چابک سے بہت بُری طرح پیٹا کرتا تھا۔ مگر اس روز وہ بار بار پیچھے مڑ کر مارواڑیوں کی طرف دیکھتا اور اپنی بڑھی ہوئی مونچھوں کے بال ایک انگلی سے بڑی صفائی کے ساتھ اونچے کر کے گھوڑے کی پیٹھ پر باگیں ڈھیلی کرتے ہوئے بڑے پیار سے کہتا۔’’ چل بیٹا۔ چل بیٹا۔۔۔ ذرا ہوا سے باتیں کر کے دکھا دے۔‘‘
مارواڑیوں کو ان کے ٹھکانے پہنچا کر اس نے انارکلی میں دینو حلوائی کی دکان پر آدھ سیر دہی کی لسّی پی کر ایک بڑی ڈکار لی اور مونچھوں کو منہ میں دبا کر ان کو چوستے ہوئے ایسے ہی بلند آواز میں کہا۔ ’’ہت تیری ایسی کی تیسی۔‘‘
شام کو جب وہ اڈے کو لوٹا تو خلافِ معمول اسے وہاں اپنی جان پہچان کا کوئی آدمی نہ مل سکا۔ یہ دیکھ کر اس کے سینے میں ایک عجیب و غریب طوفان برپا ہو گیا۔ آج وہ ایک بڑی خبر اپنے دوستوں کو سنانے والا تھا۔۔۔ بہت بڑی خبر اور اس خبر کو اپنے اندر سے باہر نکالنے کے لیے وہ سخت مجبور ہو رہا تھا۔ لیکن وہاں کوئی تھا ہی نہیں۔
آدھ گھنٹے تک وہ چابک بغل میں دبائے اسٹیشن کے اڈے کی آہنی چھت کے نیچے بے قراری کی حالت میں ٹہلتا رہا۔ اس کے دماغ میں بڑے اچھے اچھے خیالات آ رہے تھے۔ نئے قانون کے نفاذ کی خبر نے اس کو ایک نئی دنیا میں لا کھڑاکر دیا تھا۔ وہ اس نئے قانون کے متعلق ،جو پہلی اپریل کو ہندوستان میں نافذ ہونے والا تھا، اپنے دماغ کی تمام بتیاں روشن کر کے غور و فکر کر رہا تھا۔ اس کے کانوں میں مارواڑی کا یہ اندیشہ ’’کیا بیاج کے متعلق بھی کوئی نیا قانون پاس ہو گا؟‘‘ بار بار گونج رہا تھا اور اس کے تمام جسم میں مسرت کی ایک لہر دوڑارہا تھا۔ کئی بار اپنی گھنی مونچھوں کے اندر ہنس کر اس نے ان مارواڑیوں کو گالی دی۔۔۔
’’. . . . . . . . غریبوں کی کھٹیا میں گُھسے ہوئے کھٹمل۔ نیا قانون ان کے لیے کھولتا ہوا پانی ہو گا۔‘‘
وہ بے حد مسرور تھا۔ خاص کر اس وقت اس کے دل کو بہت ٹھنڈک پہنچتی جب وہ خیال کرتا کہ گوروں، سفید چوہوں (وہ ان کو اسی نام سے یاد کیا کرتا تھا) کی تھوتھنیاں نئے قانون کے آتے ہی ہمیشہ کے لیے بِلوں میں غائب ہو جائیں گی۔
جب نتھو گنجا، پگڑی بغل میں دبائے، اڈے میں داخل ہوا تو استاد منگو بڑھ کر اس سے ملا اور اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے کہنے لگا۔ لا ہاتھ اِدھر ۔۔۔ ایسی خبر سناؤں کہ جی خوش ہو جائے۔ تیری اس گنجی کھوپڑی پر بال اُگ آئیں۔‘‘
یہ کہہ کرمنگو نے بڑے مزے لے لے کر نئے قانون کے متعلق اپنے دوست سے باتیں شروع کر دیں۔ دورانِ گفتگو میں اس نے کئی مرتبہ نتھو گنجے کے ہاتھ پر زور سے اپنا ماتھ مار کر کہا۔ ’’تُو دیکھتا رہ… کیا بنتا ہے۔ یہ روس والا بادشاہ کچھ نہ کچھ ضرور کرکے رہے گا‘‘۔
استاد منگو موجود سووےَت نظام کی اشتراکی سرگرمیوں کے متعلق بہت کچھ سُن چکا تھا۔ اور اسے وہاں کے نئے قانون اور دوسری نئی چیزیں بہت پسند تھیں۔ اسی لیے اس نے روس والے بادشاہ کو ’’انڈیا ایکٹ‘‘ یعنی جدید آئین کے ساتھ ملا دیا اور پہلی اپریل کو پُرانے نظام میں جو نئی تبدیلیاں ہونے والی تھیں۔ وہ انہیں ’’روس والے بادشاہ‘‘ کے اثر کا نتیجہ سمجھتا تھا۔
کچھ عرصے سے پشاور اور دیگر شہروں میں سرخ پوشوں کی تحریک جاری تھی۔ استاد منگو نے اس تحریک کو اپنے دماغ میں ’’روس والے بادشاہ اور پھر نئے قانون کے ساتھ خلط ملط کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ جب کبھی وہ کسی سے سُنتا کہ فلاں شہر میں اتنے بم ساز پکڑے گئے ہیں یا فلاں جگہ اتنے آدمیوں پر بغاوت کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا ہے تو ان واقعات کو نئے قانون کا پیش خیمہ سمجھتا اور دل ہی دل میں بہت خوش ہوتا تھا۔
ایک روز اس کے تانگے میں دو بیرسٹر بیٹھے نئے آئین پر بڑے زور سے تنقید کر رہے تھے اور وہ خاموشی سے ان کی باتیں سن رہا تھا۔ان میں سے ایک دوسرے سے کہہ رہا تھا۔
’’جدید آئین کا دوسرا حصہ فیڈریشن ہے جو میری سمجھ میں ابھی تک نہیں آیا۔ ایسی فیڈریشن دنیا کی تاریخ میں آج تک نہ سُنی نہ دیکھی گئی ہے۔ سیاسی نظریہ کے اعتبار سے بھی یہ فیڈریشن بالکل غلط ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ یہ کوئی فیڈریشن ہے ہی نہیں!‘‘
ان بیرسٹروں کے درمیان جو گفتگو ہوئی۔ چونکہ اس میں بیشتر الفاظ انگریزی کے تھے اس لیے استاد منگو صرف اوپر کے جملے ہی کو کسی قدر سمجھا اور اس نے خیال کیا یہ لوگ ہندوستان میں نئے قانون کی آمد کو بُرا سمجھتے ہیں۔ اور نہیں چاہتے کہ ان کا وطن آزاد ہو۔ چنانچہ اس خیال کے زیر اثر اس نے کئی مرتبہ ان دو بیرسٹروں کو حقارت کی نگاہوں سے دیکھ کر دل ہی دل میں کہا۔ ’’ٹوڈی بچے!‘‘
جب کبھی وہ کسی کو دبی زبان میں ’’ٹوڈی بچہ‘‘ کہتا تو دل میں یہ محسوس کر کے بڑا خوش ہوتا تھا کہ اس نے اس نام کو صحیح جگہ استعمال کیا ہے اور یہ کہ وہ شریف آدمی اور ’’ٹوڈی بچے‘‘ میں تمیز کرنے کی اہلیت رکھتا ہے۔
اس واقعے کے تیسرے روز وہ گورنمنٹ کالج کے تین طلباء کو اپنے ٹانگے میں بٹھا کر مزنگ جا رہا تھا کہ اس نے ان تین لڑکوں کو آپس میں باتیں کرتے سنا:
’’نئے آئین نے میری اُمیدیں بڑھا دی ہیں اگر ۔۔۔ صاحب اسمبلی کے ممبر ہو گئے تو کسی سرکاری دفتر میں ملازمت ضرور مل جائے گی‘‘۔
’’ویسے بھی بہت سی جگہیں اور نکلیں گی، شاید اسی گڑبڑ میں ہمارے ہاتھ بھی کچھ آ جائے۔
’’ہاں۔ ہاں۔ کیوں نہیں۔‘‘
’’وہ بیکار گریجویٹ جو مارے مارے پھر رہے ہیں۔ ان میں کچھ تو کمی ہو گی۔‘‘
اس گفتگو نے استاد منگو کے دل میں جدید آئین کی اہمیت اور بھی بڑھا دی۔اور وہ اس کو ایسی ’’چیز‘‘ سمجھنے لگا جو بہت چمکتی ہو۔ ’’نیا قانون۔۔۔!‘‘ وہ دن میں کئی بار سوچتا۔ ’’یعنی کوئی نئی چیز!‘‘ اور ہر بار اس کی نظروں کے سامنے اپنے گھوڑے کا وہ نیا ساز آ جاتا جو اس نے دو برس ہوئے چوہدری خدا بخش سے بڑی اچھی طرح ٹھونک بجا کر خریدا تھا۔ اس ساز پر،جب وہ نیا تھا،جگہ جگہ لوہے کی نکل چڑھی ہوئی کیلیں چمکتی تھیں اور جہاں جہاں پیتل کا کام تھا وہ تو سونے کی طرح دمکتا تھا۔ اس لحاظ سے بھی ’’نئے قانون‘‘ کا درخشاں و تاباں ہونا ضروری تھا۔
پہلی اپریل تک استاد منگو نے جدید آئین کے خلاف اور اس کے حق میں بہت کچھ سنا۔ مگر اس کے متعلق جو تصوّر وہ اپنے ذہن میں قائم کر چکا تھا، بدل نہ سکا۔ وہ سمجھتا تھا کہ پہلی اپریل کو نئے قانون کے آتے ہی سب معاملہ صاف ہو جائے گا اور اس کو یقین تھا کہ اس کی آمد پر جو چیزیں نظر آئیں گی، ان سے اس کی آنکھوں کو ضرور ٹھنڈک پہنچے گی۔
آخر کار مارچ کے اِکتّیس دن ختم ہو گئے اور اپریل کے شروع ہونے میں رات کے چند خاموش گھنٹے باقی رہ گئے۔ موسم خلافِ معمول سرد تھا اور ہوا میں تازگی تھی۔ پہلی اپریل کو صبح سویرے استاد منگو اُٹھا اور اصطبل میں جا کر تانگے میں گھوڑے کو جوتا اور باہر نکل گیا۔ اس کی طبیعت آج غیر معمولی طور پر مسرور تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنے والا تھا۔
اس نے صبح کے سرد دُھند لکے میں کئی تنگ اور کھلے بازاروں کا چکر لگایا مگر اسے ہر چیز پرانی نظر آئی۔ آسمان کی طرح پرانی۔ اس کی نگاہیں آج خاص طور پر نیا رنگ دیکھنا چاہتی تھیں مگر سوائے اس کلغی کے جو رنگ برنگ کے پروں سے بنی تھی اور اس کے گھوڑے کے سر پر جمی ہوئی تھی اور سب چیزیں پرانی نظر آتی تھیں۔ یہ نئی کلغی اس نے نئے قانون کی خوشی میں مارچ کو چوہدری خدا بخش سے ساڑھے چودہ آنّے میں خریدی تھی۔
گھوڑے کے ٹاپوں کی آواز کالی سڑک اور اس کے آس پاس تھوڑا تھوڑا فاصلہ چھوڑ کر لگائے ہوئے بجلی کے کھمبے، دکانوں کے بورڈ، اس گھوڑے کے گلے میں پڑے ہوئے گھنگھرو کی جھنجھناہٹ، بازار میں چلتے پھرتے آدمی۔۔۔ ان میں سے کون سی چیز نئی تھی؟ ظاہر ہے کہ کوئی بھی نہیں لیکن استاد منگو مایوس نہیں تھا۔
’’ابھی بہت سویرا ہے۔ دکانیں بھی تو سب کی سب بند ہیں۔‘‘ اس خیال سے اسے تسکین تھی۔ اس کے علاوہ وہ یہ بھی سوچتا تھا۔ ’’ہائی کورٹ میں نو بجے کے بعد ہی کام شروع ہوتا ہے۔ اب اس سے پہلے نئے قانون کا کیا نظر آئے گا؟‘‘
جب اس کا تانگہ گورنمنٹ کالج کے دروازے کے قریب پہنچا تو کالج کے گھڑیال نے بڑی رعونت سے نو بجائے۔ جو طلبا کالج کے بڑے دروازے سے باہر نکل رہے تھے۔ خوش پوش تھے۔ مگر استاد منگو کو نہ جانے ان کے کپڑے میلے میلے سے کیوں نظر آئے۔ شاید اس کی وجہ یہ تھی کہ اس کی نگاہیں آج کسی خِیرہ کُن جلوے کا نظارہ کرنے والی تھیں۔
تانگے کو دائیں ہاتھ موڑ کر وہ تھوڑی دیر کے بعد پھر انار کلی میں تھا۔ بازار کی آدھی دکانیں کھل چکی تھیں اور اب لوگوں کی آمد و رفت بھی بڑھ گئی تھی۔ حلوائی کی دکانوں پر گاہکوں کی خوب بھیڑ تھی۔ منہاری والوں کی نمائشی چیزیں شیشے کی الماریوں میں لوگوں کو دعوتِ نظارہ دے رہی تھیں اور بجلی کے تاروں پر کئی کبوتر آپس میں لڑ جھگڑ رہے تھے۔ مگر استاد منگو کے لیے ان تمام چیزوں میں کوئی دلچسپی نہ تھی۔ وہ نئے قانون کو دیکھنا چاہتا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح وہ اپنے گھوڑے کو دیکھ رہا تھا۔
جب استاد منگو کے گھر میں بچہ پیدا ہونے والا تھا تو اس نے چار پانچ مہینے بڑی بے قراری میں گزارے تھے۔ اس کو یقین تھا کہ بچہ کسی نہ کسی دن ضرور پیدا ہو گا مگر وہ انتظار کی گھڑیاں نہیں کاٹ سکتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ اپنے بچے کو صرف ایک نظر دیکھ لے۔ اس کے بعد وہ پیدا ہوتا رہے، چنانچہ اسی غیر مغلوب خواہش کے زیرِ اثر اس نے کئی مرتبہ اپنی بیمار بیوی کے پیٹ کو دبا دبا کر اور اس کے اوپر کان رکھ رکھ کر اپنے بچے کے متعلق کچھ جاننا چاہا تھا مگر ناکام رہا تھا۔ ایک مرتبہ وہ انتظار کرتے کرتے اس قدر تنگ آگیا تھا کہ اپنی بیوی پر برس بھی پڑا تھا۔
’’تُو ہر وقت مُردے کی طرح پڑی رہتی ہے۔ اُٹھ ذرا چل پھر، تیرے انگ میں تھوڑی سی طاقت تو آئے۔ یوں تختہ بنے رہنے سے کچھ نہ ہو سکے گا۔ تو سمجھتی ہے کہ اس طرح لیٹے لیٹے بچہ جن دے گی؟‘‘۔
استاد منگو طبعاً بہت جلد باز واقع ہوا تھا۔ وہ ہر سبب کی عملی تشکیل دیکھنے کا نہ صرف خواہش مند تھا بلکہ متجسس تھا۔ اس کی بیوی گنگا وَتی اس کی اس قسم کی بے قراریوں کو دیکھ کر عام طور پر یہ کہا کرتی تھی۔ ’’ابھی کنواں کھودا نہیں گیا اور تم پیاس سے بے حال ہو رہے ہو۔‘‘
کچھ بھی ہو مگر استاد منگو نئے قانون کے انتظار میں اتنا بے قرار نہیں تھا جتنا کہ اُسے اپنی طبیعت کے لحاظ سے ہونا چاہیے تھا۔ وہ آج نئے قانون کو دیکھنے کے لیے گھر سے نکلا تھا۔ ٹھیک اسی طرح جیسے وہ گاندھی یا جواہر لال کے جلوس کا نظارہ کرنے کے لیے نکلتا تھا۔
لیڈروں کی عظمت کا اندازہ استاد منگو ہمیشہ ان کے جلوس کے ہنگاموں اور ان کے گلے میں ڈالے ہوئے پھولوں کے ہاروں سے کیا کرتا تھا۔ اگر کوئی لیڈر گیندے کے پھولوں سے لدا ہو تو استاد منگو کے نزدیک وہ بڑا آدمی تھا اور اگر کسی لیڈر کے جلوس میں بھیڑ کے باعث دو تین فساد ہوتے ہوتے رہ جائیں تو اس کی نگاہوں میں وہ اور بھی بڑا تھا۔ اب نئے قانون کو وہ اپنے ذہن کے اِسی ترازو میں تولنا چاہتا تھا۔
انار کلی سے نکل کر وہ مال روڈ کی چمکیلی سطح پر اپنے تانگے کو آہستہ آہستہ چلا رہا تھا کہ موٹروں کی دکان کے پاس اسے چھاؤنی کی ایک سواری مل گئی۔ کرایہ طے کرنے کے بعد اس نے اپنے گھوڑے کو چابک دکھایا اوردل میں یہ خیال کیا۔
’’چلو یہ بھی اچھا ہوا۔۔۔ شاید چھاؤنی ہی سے نئے قانون کا کچھ پتہ چل جائے۔‘‘
چھاؤنی پہنچ کر استاد منگو نے سواری کو اس کی منزلِ مقصود پر اُتار دیا اور جیب سے سگریٹ نکال کر بائیں ہاتھ کی آخری دو اُنگلیوں میں دبا کر سُلگایا اور اگلی نشست کے گدّے پر بیٹھ گیا۔ جب استاد منگو کو کسی سواری کی تلاش نہیں ہوتی تھی یا اسے کسی بیتے ہوئے واقعے پر غور کرنا ہوتا تھا تو وہ عام طور پر اگلی نشست چھوڑ کر پچھلی نشست پر بڑے اطمینان سے بیٹھ کر اپنے گھوڑے کی باگیں دائیں ہاتھ کے گرد لپیٹ لیا کرتا تھا۔ ایسے موقعوں پر اس کا گھوڑا تھوڑا سا ہنہنانے کے بعد بڑی دھیمی چال چلنا شروع کر دیتا تھا۔ گویا اسے کچھ دیر کے لیے بھاگ دوڑ سے چھٹی مل گئی ہے۔
گھوڑے کی چال اور استاد منگو کے دماغ میں خیالات کی آمد بہت سُست تھی۔ جس طرح گھوڑا آہستہ آہستہ قدم اُٹھا رہا تھا، اسی طرح استاد منگو کے ذہن میں نئے قانون کے متعلق نئے قیاسات داخل ہو رہے تھے۔
وہ نئے قانون کی موجودگی میں میونسپل کمیٹی سے تانگوں کے نمبر ملنے کے طریقے پر غور کر رہا تھا اور اس قابلِ غور بات کو آئینِ جدید کی روشنی میں دیکھنے کی سعی کر رہا تھا۔ وہ اِسی سوچ بچار میں غرق تھا، اسے یوں معلوم ہوا جیسے کسی سواری نے اسے بلایا ہے پیچھے پلٹ کر دیکھنے سے اسے سڑک کے اس طرف دور بجلی کے کھمبے کے پاس ایک’گورا‘ کھڑا نظر آیا جو اسے ہاتھ سے بُلا رہا تھا۔
جیسا کہ بیان کیا جا چکا ہے اُستاد منگو کو گوروں سے بے حد نفرت تھی۔ جب اس نے اپنے تازہ گاہک کو گورے کی شکل میں دیکھا تو اس کے دل میں نفرت کے جذبات بیدار ہو گئے۔ پہلے تو اس کے جی میں آئی کہ بالکل توجہ نہ دے اور اس کو چھوڑ کر چلا جائے مگر بعد میں اس کو خیال آیا۔ ’’ان کے پیسے چھوڑنا بھی بیوقوفی ہے۔ کلغی پر جو مفت میں ساڑھے چودہ آنے خرچ کر دیئے ہیں، ان کی جیب ہی سے وصول کرنے چاہئیں۔ چلو چلتے ہیں۔‘‘
خالی سڑک پر بڑی صفائی سے تانگہ موڑ کر اس نے گھوڑے کو چابک دکھایا اور آنکھ جھپکتے میں وہ بجلی کے کھمبے کے پاس تھا۔ گھوڑے کی باگیں کھینچ کر اس نے تانگہ ٹھہرایا اور پچھلی نشست پر بیٹھے بیٹھے گورے سے پوچھا۔
’’صاحب بہادر،کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘
اس سوال میں بلا کا طنزیہ انداز تھا۔ ’صاحب بہادر‘ کہتے وقت اس کا اوپر کا مونچھوں بھرا ہونٹ نیچے کی طرف کھچ گیا اور پاس ہی گال کے اس طرف جو مدھم سی لکیر ناک کے نتھنے سے ٹھوڑی کے بالائی حصے تک چلی آ رہی تھی، ایک لرزش کے ساتھ گہری ہو گئی گویا کسی نے نوکیلے چاقو سے شیشم کی سانولی لکڑی میں دھاری ڈال دی ہے۔ اس کا سارا چہرہ ہنس رہا تھا اور اپنے اندر اس نے اس گورے کو سینے کی آگ میں جلا کر بھسم کر ڈالا تھا۔
جب گورے نے ،جو بجلی کے کھمبے کی اوٹ میں ہوا کا رُخ بچا کر سگریٹ سلگا رہا تھا، مڑ کر تانگے کے پائدان کی طرف قدم بڑھایا تو اچانک استاد منگو کی اور اس کی نگاہیں چار ہوئیں اور ایسا معلوم ہوا کہ بیک وقت آمنے سامنے کی بندوقوں سے گولیاں خارج ہوئیں اور آپس میں ٹکرا کر ایک آتشیں بگولا بن کر اُوپر کو اُڑ گئیں۔
استاد منگو جو اپنے دائیں ہاتھ سے باگ کے بل کھول کر تانگے پر سے نیچے اترنے والا تھا۔ اپنے سامنے کھڑے ’’گورے‘‘ کو یوں دیکھ رہا تھا گویا وہ اس کے وجود کے ذرّے ذرّے کو اپنی نگاہوں سے چبا رہا ہے اور گورا کچھ اس طرح اپنی نیلی پتلون پر سے غیر مرئی چیزیں جھاڑ رہا ہے گویا وہ استاد منگو کے اس حملے سے اپنے وجود کے کچھ حصے کو محفوظ رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
گورے نے سگریٹ کا دھواں نگلتے ہوئے کہا۔ ’’جانا مانگٹا یا پھر گڑبڑ کرے گا؟‘‘ ’’وہی ہے‘‘۔ یہ لفظ استاد منگو کے ذہن میں پیدا ہوئے اور اس کی چوڑی چھاتی کے اندر ناچنے لگے۔
’’وہی ہے۔‘‘ اس نے یہ لفظ اپنے منہ کے اندر ہی اندر دہرائے اور ساتھ ہی اسے پورا یقین ہو گیا کہ وہ گورا جو اس کے سامنے کھڑا تھا، وہی ہے جس سے پچھلے برس اس کی جھڑپ ہوئی تھی اور اس خوامخواہ کے جھگڑے میں جس کا باعث گورے کے دماغ میں چڑھی ہوئی شراب تھی، اُسے طوعاً کرہاً بہت سی باتیں سہنا پڑی تھیں۔ استاد منگو نے گورے کا دماغ درست کر دیا ہوتا بلکہ اس کے پرزے اُڑا دئے ہوتے۔ مگر وہ کسی خاص مصلحت کی بنا پر خاموش ہو گیا۔ اس کو معلوم تھا کہ اس قسم کے جھگڑوں میں عدالت کا نزلہ عام طور پر کوچوانوں ہی پر گرتا ہے۔
استاد منگو نے پچھلے برس کی لڑائی اورپہلی اپریل کے نئے قانون پر غور کرتے ہوئے گورے سے کہا۔ ’’کہاں جانا مانگٹا ہے؟‘‘
استاد منگو کے لہجے میں چابک ایسی تیزی تھی۔
گورے نے جواب دیا۔ ’’ہیرا منڈی۔‘‘
’’کرایہ پانچ روپے ہو گا۔‘‘ استاد منگو کی مونچھیں تھر تھرائیں۔
یہ سن کر گورا حیران ہو گیا۔ وہ چِلّایا ’’ پانچ روپے … کیا تم ۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’ہاں، ہاں پانچ روپے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے استاد منگو کا داہنا بالوں بھرا ہاتھ بھنچ کر ایک وزنی گھونسے کی شکل اختیار کر گیا۔ ’’کیوں … جاتے ہو یا بیکار باتیں بناؤ گے؟‘‘
استاد منگو کا لہجہ زیادہ سخت ہو گیا۔
گورا پچھلے برس کے واقعے کو پیشِ نظر رکھ کر استاد منگو کے سینے کی چوڑائی نظر انداز کر چکا تھا۔ وہ خیال کر رہا تھا کہ اس کی کھوپڑی پھر کھجلا رہی ہے۔ اس حوصلہ افزا خیال کے زیر اثر وہ تانگے کی طرف اکڑ کر بڑھا اور اپنی چھڑی سے استاد منگو کو تانگے پر سے نیچے اُترنے کا اشارہ کیا۔ بید کی یہ پالش کی ہوئی پتلی چھڑی استاد منگو کی موٹی ران کے ساتھ دو تین مرتبہ چھوئی۔ اس نے کھڑے کھڑے اوپر سے پست قد گورے کو دیکھا۔ گویا وہ اپنی نگاہوں کے وزن ہی سے اسے پیس ڈالنا چاہتا ہے۔ پھر اس کا گھونسہ کمان میں سے تیر کی طرح اوپر کو اُٹھا اور چشم زدن میں گورے کی ٹھڈی کے نیچے جم گیا۔ دھکا دے کر اس نے گورے کو پرے ہٹایا اور نیچے اُتر کر اسے دھڑا دھڑ پیٹنا شروع کر دیا۔
ششدرو متحیّر گورے نے اِدھر اُدھر سمٹ کر استاد منگو کے وزنی گھونسوں سے بچنے کی کوشش کی اور جب دیکھا کہ اس کے مخالف پر دیوانگی کی سی حالت طاری ہے اور اس کی آنکھوں میں سے شرارے برس رہے ہیں تو اس نے زور زور سے چِلّانا شروع کیا۔ اس کی چیخ و پکار نے استاد منگو کی بانہوں کا کام اور بھی تیز کر دیا۔ وہ گورے کو جی بھر کے پیٹ رہا تھا اور ساتھ ساتھ یہ کہتا جاتا تھا:
’’پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں۔۔۔ پہلی اپریل کو بھی وہی اکڑفوں۔۔۔ اب ہمارا راج ہے بچہ!‘‘
لوگ جمع ہو گئے اور پولیس کے دو سپاہیوں نے بڑی مشکل سے گورے کو استاد منگو کی گرفت سے چھڑایا۔ استاد منگو اُن دو سپاہیوں کے درمیان کھڑا تھا۔ اس کی چوڑی چھاتی پھولی ہوئی سانس کی وجہ سے اوپر نیچے ہو رہی تھی۔ منہ سے جھاگ بہہ رہا تھا اور اپنی مسکراتی ہوئی آنکھوں سے حیرت زدہ مجمع کی طرف دیکھ کر وہ ہانپتی ہوئی آواز میں کہہ رہا تھا۔
’’وہ دن گزر گئے جب خلیل خاں فاختہ اُڑایا کرتے تھے۔ اب نیا قانون ہے میاں۔۔۔ نیا قانون!‘‘
اور بیچارہ گورا اپنے بگڑے ہوئے چہرے کے ساتھ بے وقوفوں کی مانند کبھی استاد منگو کی طرف دیکھتا تھا اور کبھی ہجوم کی طرف۔
استاد منگو کو پولیس کے سپاہی تھانے میں لے گئے۔ راستے میں اور تھانے کے اندر کمرے میں وہ ’’نیا قانون، نیا قانون‘‘ چلّاتا رہا مگر کسی نے ایک نہ سنی۔
’’نیا قانون، نیا قانون، کیا بک رہے ہو… قانون وہی ہے پرانا!‘‘
اور اس کو حوالات میں بند کر دیا گیا!

————————————-

Toba Tek Singh by Saadat Hasan Manto

Articles

ٹوبہ ٹیک سنگھ

سعادت حسن منٹو

 

 

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کی طرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہئے یعنی جو مسلمان پاگل ، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں ہندوستان کے حوالے کر دیا جائے .
معلوم نہیں یہ بات معقول تھی یا غیر معقول ، بہر حال دانش مندوں کے فیصلے کے مطابق ادھر ادھر اونچی سطح کی کانفرنسیں ہوئیں ، اور با‌لاخر ایک دن پاگلوں کے تبادلے کے لئے مقرّر ہو گیا۔ اچّھی طرح چھان بین کی گئی۔ وہ مسلمان پاگل جن کے لواحقین ہندوستان ہی میں تھے۔ وہیں رہنے دئے گئے تھے۔ جو باقی تھے ان کو سرحد پر روانہ کر دیا گیا۔ یہاں پاکستان میں چونکہ قریب قریب تمام ہندو سکھ جا چکے تھے۔ اس لئے کسی کو رکھنے رکھانے کا سوال ہی نہ پیدا ہوا۔ جتنے ہندو سکھ پاگل تھے۔ سب کے سب پولیس کی حفاظت میں بارڈر پر پہنچا دیے گئے
ادھر کا معلوم نہیں۔ لیکن ادھر لاہور کے پاگل خانے میں جب اس تبادلے کی خبر پہنچی تو بڑی دلچسپ چہ مگوئیاں ہونے لگیں۔ ایک مسلمان پاگل جو بارہ برس سے ہر روز با قائدگی کے ساتھ ” زمیندار ” پڑھتا تھا اس سے جب اس کے ایک دوست نے پوچھا۔ ” مولبی ساب ، یہ پاکستان کیا ہوتا ہے “۔ تو اس نے بڑے غور و فکر کے بعد جواب دیا۔” ہندوستان میں ایک ایسی جگہ ہے جہاں استرے بنتے ہیں “۔
یہ جواب سن کر اس کا دوست مطمئن ہو گیا .
اسی طرح ایک سکھ پاگل نے ایک دوسرے سکھ پاگل سے پوچھا۔” سردار جی ہمیں ہندوستان کیوں بھیجا جا رہا ہے ہمیں تو وہاں کی بولی نہیں آتی “۔
دوسرا مسکرایا۔ ” مجھے تو ہندوستوڑوں کی بولی آتی ہے ہندوستانی بڑے شیطانی آکڑ آکڑ پھرتے ہیں ”
ایک دن نہاتے نہاتے ایک مسلمان پاگل نے ” پاکستان زندہ باد ” کا نعرہ اس زور سے بلند کیا کہ فرش پر پھسل کر گرا اور بیہوش ہو گیا۔
بعض پاگل ایسے بھی تھے جو پاگل نہیں تھے۔ ان میں اکثریت ایسے قاتلوں کی تھی جن کے رشتہ داروں نے افسروں کو دے دلا کر پاگل خانے بھجوا دیا تھا کہ پھانسی کے پھندے سے بچ جائیں۔ یہ کچھ کچھ سمجھتے تھے کہ ہندوستان کیوں تقسیم ہوا ہے اور یہ پاکستان کیا ہے۔ لیکن صحیح واقعات سے یہ بھی بے خبر تھے۔ اخباروں سے کچھ پتا نہیں چلتا تھا اور پہرہ دار سپاہی انپڑھ اور جاہل تھے۔ ان کی گفتگو سے بھی وہ کوئی نتیجہ برآمد نہیں کر سکتے تھے۔ ان کو صرف اتنا معلوم تھا کہ ایک آدمی محمّد علی جناح ہے جس کو قائدِ اعظم کہتے ہیں۔ اس نے مسلمانوں کے لئے ایک علیٰحدہ ملک بنایا ہے جس کا نام پاکستان ہے۔ یہ کہاں ہے ، اس کا محلِّ وقوع کیا ہے۔ اس کے متعلّق وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ پاگل خانے میں وہ سب پاگل جن کا دماغ پوری طرح ماؤف نہیں ہوا تھا اس مخمصے میں گرفتار تھے کہ وہ پاکستان میں ہیں یا ہندوستان میں۔ اگر ہندوستان میں ہیں تو پاکستان کہاں ہے۔ اگر وہ پاکستان میں ہیں تو یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ کچھ عرصہ پہلے یہیں رہتے ہوئے بھی ہندوستان میں تھے۔
ایک پاگل تو پاکستان اور ہندوستان ، اور ہندوستان اور پاکستان کے چکّر میں کچھ ایسا گرفتار ہوا کہ اور زیادہ پاگل ہو گیا۔ جھاڑو دیتے دیتے ایک دن درخت پر چڑھ گیا اور ٹہنے پر بیٹھ کر دو گھنٹے مسلسل تقریر کرتا رہا جو پاکستان اور ہندوستان کے نازک مسئلے پر تھی۔ سپاہیوں نے اسے نیچے اترنے کو کہا تو وہ اور اوپر چڑھ گیا۔ ڈرایا دھمکایا گیا تو اس نے کہا ” میں ہندوستان میں رہنا چاہتا ہوں نہ پاکستان میں۔ میں اس درخت ہی پر رہونگا “۔
بڑی مشکلوں کے بعد جب اس کا دورہ سرد پڑا تو وہ نیچے اترا اور اپنے ہندو سکھ دوستوں سے گلے مل مل کر رونے لگا۔ اس خیال سے اس کا دل بھر آیا تھا کہ وہ اسے چھوڑ کر ہندوستان چلے جائینگے۔
ایک ایم ایس سی پاس ریڈیو انجینئر جو مسلمان تھا اور دوسرے پاگلوں سے با‌لکل الگ تھلگ باغ کی ایک خاص روش پر سارا دن خاموش ٹہلتا رہتا تھا یہ تبدیلی نمودار ہوئی کہ اس نے تمام کپڑے اتار کر دفعدار کے حوالے کر دئے اور ننگ دھڑنگ سارے باغ میں چلنا پھرنا شروع کر دیا۔
چنیوٹ کے ایک موٹے مسلمان پاگل نے جو مسلم لیگ کا سر گرم کارکن رہ چکا تھا اور دن میں پندرہ سولہ مرتبہ نہایا کرتا تھا یک لخت یہ عادت ترک کر دی۔ اس کا نام محمّد علی تھا۔ چنانچہ اس نے ایک دن اپنے جنگلے میں اعلان کر دیا کہ وہ قائدِ اعظم محمّد علی جنّاح ہے۔ اس کی دیکھا دیکھی ایک سکھ پاگل ماسٹر تارا سنگھ بن گیا۔ قریب تھا کہ اس جنگلے میں خون خرابہ ہو جائے مگر دونوں کو خطرناک پاگل قرار دے کر علیحدہ علیحدہ بند کر دیا گیا۔
لاہور کا ایک نوجوان ہندو وکیل تھا جو محبّت میں نا کام ہو کر پاگل ہو گیا تھا۔ جب اس نے سنا کہ امرتسر ہندوستان میں چلا گیا ہے تو اسے بہت دکھ ہوا۔ اسی شہر کی ایک ہندو لڑکی سے اسے محبّت ہو گئی تھی۔ گو اس نے اس وکیل کو ٹھکرا دیا تھا مگر دیوانگی کی حالت میں بھی وہ اس کو نہیں بھولا تھا۔ چنانچہ ان تمام ہندو اور مسلم لیڈروں کو گالیاں دیتا تھا جنہوں نے مل ملا کر ہندوستان کے دو ٹکڑے کر دئےاس کی محبوبہ ہندوستانی بن گئی اور وہ پاکستانی۔
جب تبادلے کی بات شروع ہوئی تو وکیل کو کئی پاگلوں نے سمجھایا کہ وہ دل برا نہ کرے۔ اس کو ہندوستان بھیج دیا جائیگا۔ اس ہندوستان میں جہاں اس کی محبوبہ رہتی ہے۔ مگر وہ لاہور چھوڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے کہ اس کا خیال تھا کہ امرتسر میں اس کی پریکٹس نہیں چلےگی۔
یوروپین وارڈ میں دو اینگلو انڈین پاگل تھے۔ ان کو جب معلوم ہوا کہ ہندوستان کو آزاد کر کے انگریز چلے گئے ہیں تو ان کو بہت صدمہ ہوا۔ وہ چھپ چھپ کر گھنٹوں آپس میں اس اہم مسئلے پر گفتگو کرتے رہتے کہ پاگل خانے میں ان کی حیثیت کس قسم کی ہوگی۔ یوروپین وارڈ رہیگا یا اڑا دیا جائیگا۔ بریک فاسٹ ملا کریگا یا نہیں۔ کیا انہیں ڈبل روٹی کے بجائے بلڈی انڈین چپاٹی تو زہر مار نہیں کرنا پڑیگی۔
ایک سکھ تھا جس کو پاگل خانے میں داخل ہوئے پندرہ برس ہو چکے تھے۔ ہر وقت اس کی زبان سے یہ عجیب و غریب الفاظ سننے میں آتے تھے۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی لالٹین”۔ دن کو سوتا تھا نہ رات کو۔ پہرہ داروں کا یہ کہنا تھا کہ پندرہ برس کے طویل عرصے میں وہ ایک لحظے کے لئے بھی نہیں سویا۔ لیٹتا بھی نہیں تھا۔ البتّہ کبھی کبھی کسی دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لیتا تھا۔
ہر وقت کھڑے رہنے سے اس کے پاؤں سوج گئے تھے۔ پنڈلیاں بھی پھول گئی تھیں۔ مگر اس جسمانی تکلیف کے باوجود لیٹ کر آرام نہیں کرتا تھا۔ ہندوستان ، پاکستان اور پاگلوں کے تبادلے کے متعلّق جب کبھی پاگل خانے میں گفتگو ہوتی تھی تو وہ غور سے سنتا تھا۔ کوئی اس سے پوچھتا کہ اس کا کیا خیال ہے تو وہ بڑی سنجیدگی سے جواب دیتا۔” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی پاکستان گورنمنٹ “۔
لیکن بعد میں ” آف دی پاکستان گورنمنٹ ” کی جگہ ” آف دی ٹوبہ ٹیک سنگھ گورنمنٹ ” نے لے لی اور اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے جہاں کا وہ رہنے والا ہے۔ لیکن کسی کو بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ جو بتانے کی کوشش کرتے تھے وہ خود اس الجھاؤ میں گرفتار ہو جاتے تھے کہ سیالکوٹ پہلے ہندوستان میں ہوتا تھا پر اب سنا ہے کہ پاکستان میں ہے۔ کیا پتا ہے کہ لاہور جو اب پاکستان میں ہے کل ہندوستان میں چلا جائے۔ یا سارا ہندوستان ہی پاکستان بن جائے۔ اور یہ بھی کون سینے پر ہاتھ رکھ کر کہہ سکتا تھا کہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کسی دن سرے سے غیب ہی ہو جائیں۔
اس سکھ پاگل کے کیس چھدرے ہو کے بہت مختصر رہ گئے تھے۔ چونکہ بہت کم نہاتا تھا اس لئے ڈاڑھی اور سر کے بال آپس میں جم گئے تھے۔ جن کے باعث اس کی شکل بڑی بھیانک ہو گئی تھی۔ مگر آدمی بے ضرر تھا۔ پندرہ برسوں میں اس نے کبھی کسی سے جھگڑا فساد نہیں کیا تھا۔ پاگل خانے کے جو پرانے ملازم تھے وہ اس کے متعلّق اتنا جانتے تھے کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ میں اس کی کئی زمینیں تھیں۔ اچّھا کھاتا پیتا زمین دار تھا کہ اچانک دماغ الٹ گیا۔ اس کے رشتہ دار لوہے کی موٹی موٹی زنجیروں میں اسے باندھ کر لائے اور پاگل خانے میں داخل کرا گئے۔
مہینے میں ایک بار ملاقات کے لئے یہ لوگ آتے تھے اور اس کی خیر خیریت دریافت کر کے چلے جاتے تھے۔ ایک مدّت تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ پر جب پاکستان ، ہندستان کی گڑبڑ شروع ہوئی تو ان کا آنا بند ہو گیا۔
اس کا نام بشن سنگھ تھا مگر سب اسے ٹوبہ ٹیک سنگھ کہتے تھے۔ اس کو قطعاً معلوم نہیں تھا کہ دن کون سا ہے ، مہینہ کون سا ہے ، یا کتنے سال بیت چکے ہیں۔ لیکن ہر مہینے جب اس کے عزیز و اقارب اس سے ملنے کے لئے آتے تھے تو اسے اپنے آپ پتا چل جاتا تھا۔ چنانچہ وہ دفعدار سے کہتا کہ اس کی ملاقات آ رہی ہے۔ اس دن وہ اچّھی طرح نہاتا ، بدن پر خوب صابن گھستا اور سر میں تیل لگا کر کنگھا کرتا ، اپنے کپڑے جو وہ کبھی استعمال نہیں کرتا تھا نکلوا کے پہنتا اور یوں سج بن کر ملنے والوں کے پاس جاتا۔ وہ اس سے کچھ پوچھتے تو وہ خاموش رہتا یا کبھی کبھار ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی مونگ دی دال آف دی لالٹین ” کہ دیتا۔
اس کی ایک لڑکی تھی جو ہر مہینے ایک انگلی بڑھتی بڑھتی پندرہ برسوں میں جوان ہو گئی تھی۔ بشن سنگھ اس کو پہچانتا ہی نہیں تھا۔ وہ بچّی تھی جب بھی اپنے باپ کو دیکھ کر روتی تھی ، جوان ہوئی تب بھی اس کی آنکھوں سے آنسو بہتے تھے۔
پاکستان اور ہندوستان کا قصّہ شروع ہوا تو اس نے دوسرے پاگلوں سے پوچھنا شروع کیا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے۔ جب اطمینان بخش جواب نہ ملا تو اس کی کرید دن بدن بڑھتی گئی۔ اب ملاقات بھی نہیں آتی تھی۔ پہلے تو اسے اپنے آپ پتہ چل جاتا تھا کہ ملنے والے آ رہے ہیں ، پر اب جیسے اس کے دل کی آواز بھی بند ہو گئی تھی جو اسے ان کی آمد کی خبر دے دیا کرتی تھی۔
اس کی بڑی خواہش تھی کہ وہ لوگ آئیں جو اس سے ہم دردی کا اظہار کرتے تھے اور اس کے لئے پھل ، مٹھائیاں اور کپڑے لاتے تھے۔ وہ اگر ان سے پوچھتا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے تو وہ یقیناً اسے بتا دیتے کہ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں۔ کیونکہ اس کا خیال تھا کہ وہ ٹوبہ ٹیک سنگھ ہی سے آتے ہیں جہاں اس کی زمینیں ہیں۔
پاگل خانے میں ایک پاگل ایسا بھی تھا جو خود کو خدا کہتا تھا۔ اس سے جب ایک روز بشن سنگھ نے پوچھا کہ ٹوبہ ٹیک سنگھ پاکستان میں ہے یا ہندوستان میں ، تو اس نے حسبِ عادت قہقہہ لگایا اور کہا۔” وہ پاکستان میں ہے نہ ہندوستان میں۔ اس لئے کہ ہم نے ابھی تک حکم نہیں دیا “۔
بشن سنگھ نے اس خدا سے کئی مرتبہ بڑی منّت سماجت سے کہا کہ وہ حکم دے دے تاکہ جھنجھٹ ختم ہو مگر وہ بہت مصروف تھا اسلئے کہ اسے اور بے شمار حکم دینے تھے۔ ایک دن تنگ آ کر وہ اس پر برس پڑا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف واہے گورو جی دا خالصہ اینڈ واہے گورو جی کی فتح جو بولے سو نہال ، ست سری اکال “۔
اس کا شاید یہ مطلب تھا کہ تم مسلمانوں کے خدا ہو سکھوں کے خدا ہوتے تو ضرور میری سنتے۔
تبادلے سے کچھ دن پہلے ٹوبہ ٹیک سنگھ کا ایک مسلمان جو اس کا دوست تھا ملاقات کے لئے آیا۔ پہلے وہ کبھی نہیں آیا تھا۔ جب بشن سنگھ نے اسے دیکھا تو ایک طرف ہٹ گیا اور واپس جانے لگا۔ مگر سپاہیوں نے اسے روکا۔ ” یہ تم سے ملنے آیا ہے تمہارا دوست فضل دین ہے “۔
بشن سنگھ نے فضل دین کو ایک نظر دیکھا اور کچھ بڑبڑانے لگا۔ فضل دین نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ ” میں بہت دنوں سے سوچ رہا تھا کہ تم سے ملوں لیکن فرصت ہی نہ ملی تمہارے سب آدمی خیریت سے ہندوستان چلے گئے تھے مجھ سے جتنی مدد ہو سکی ، میں نے کی۔ تمہاری بیٹی روپ کور . . . . ”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا۔ بشن سنگھ کچھ یاد کرنے لگا۔” بیٹی روپ کور “۔
فضل دین نے رک رک کر کہا۔ ” ہاں . . . . وہ . . . . وہ بھی ٹھیک ٹھاک ہے۔۔۔ان کے ساتھ ہی چلی گئی تھی “۔
بشن سنگھ خاموش رہا۔ فضل دین نے کہنا شروع کیا۔ ” انہوں نے مجھ سے کہا تھا کہ تمہاری خیر خیریت پوچھتا رہوں۔ اب میں نے سنا ہے کہ تم ہندوستان جا رہے ہو۔ بھائی بلبیسر سنگھ اور بھائی ودھاوا سنگھ سے میرا سلام کہنا-اور بہن امرت کور سے بھی . . . . بھائی بلبیسر سے کہنا۔ فضل دین راضی خوشی ہے۔ وہ بھوری بھینسیں جو وہ چھوڑ گئے تھے۔ ان میں سے ایک نے کٹّا دیا ہے۔ دوسری کے کٹّی ہوئی تھی پر وہ چھ دن کی ہو کے مر گئی . . . . اور . . . . میری لائق جو خدمت ہو ، کہنا ، میں ہر وقت تیار ہوں . . . . اور یہ تمہارے لئے تھوڑے سے مرونڈے لایا ہوں “۔
بشن سنگھ نے مرونڈوں کی پوٹلی لے کر پاس کھڑے سپاہی کے حوالے کر دی اور فضل دین سے پوچھا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ “۔
فضل دین نے قدرے حیرت سے کہا۔ ” کہاں ہے؟ وہیں ہے جہاں تھا “۔
بشن سنگھ نے پھر پوچھا۔ ” پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟ ”
” ہندوستان میں نہیں پاکستان میں “۔ فضل دین بوکھلا سا گیا۔
بشن سنگھ بڑبڑاتا ہوا چلا گیا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف دی آف دی پاکستان اینڈ ہندوستان آف دی دور فٹے منہ ! ،،
تبادلے کے تیاریاں مکمّل ہو چکی تھیں۔ ادھر سے ادھر اور ادھر سے ادھر آنے والے پاگلوں کی فہرستیں پہنچ گئی تھیں اور تبادلے کا دن بھی مقرّر ہو چکا تھا۔
سخت سردیاں تھیں جب لاہور کے پاگل خانے سے ہندو سکھ پاگلوں سے بھری ہوئی لاریاں پولیس کے محافظ دستے کے ساتھ روانہ ہوئیں۔ متعلّقہ افسر بھی ہمراہ تھے۔ واہگہ کے بورڈر پر طرفین کے سپرنٹندنٹ ایک دوسرے سے ملے اور ابتدائی کاروائی ختم ہونے کے بعد تبادلہ شروع ہو گیا جو رات بھر جاری رہا۔
پاگلوں کو لاریوں سے نکالنا اور دوسرے افسروں کے حوالے کرنا بڑا کٹھن کام تھا۔ بعض تو باہر نکلتے ہی نہیں تھے۔ جو نکلنے پر رضا مند ہوتے تھے۔ ان کو سنبھالنا مشکل ہو جاتا تھا۔ کیونکہ ادھر ادھر بھاگ اٹھتے تھے ، جو ننگے تھے ان کو کپڑے پہنائے جاتے تو وہ پھاڑ کر اپنے تن سے جدا کر دیتے۔کوئی گالیاں بک رہا ہے۔ کوئی گا رہا ہے۔ آپس میں لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ رو رہے ہیں ، بلک رہے ہیں۔ کان پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ پاگل عورتوں کا شور و غوغا الگ تھا اور سردی اتنی کڑاکے کی تھی کہ دانت سے دانت بج رہے تھے۔
پاگلوں کی اکثریت اس تبادلے کے حق میں نہیں تھی۔ اسلئے کہ ان کی سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ انہیں اپنی جگہ سے اکھاڑ کر کہاں پھینکا جا رہا ہے۔ وہ چند جو کچھ سوچ سمجھ سکتے تھے ” پاکستان زندہ باد ” اور ” پاکستان مردہ باد ” کے نعرے لگا رہے تھے۔ دو تین مرتبہ فساد ہوتے ہوتے بچا ، کیونکہ بعض مسلمانوں اور سکھوں کو یہ نعرے سن کر طیش آ گیا تھا۔
جب بشن سنگھ کی باری آئی اور واہگہ کے اس پار متعلّقہ افسر اس کا نام رجسٹر میں درج کرنے لگا تو اس نے پوچھا۔ ” ٹوبہ ٹیک سنگھ کہاں ہے؟ پاکستان میں یا ہندوستان میں ؟
معتلّقہ افسر ہنسا۔ ” پاکستان میں “۔
یہ سن کر بشن سنگھ اچھل کر ایک طرف ہٹا اور دوڑ کر اپنے باقی ماندہ ساتھیوں کے پاس پہنچ گیا۔ پاکستانی سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور دوسری طرف لے جانے لگے ، مگر اس نے چلنے سے انکار کر دیا۔ “ٹوبہ ٹیک سنگھ یہاں ہے ” اور زور زور سے چلّانے لگا۔ ” اوپڑ دی گڑ گڑ دی اینکس دی بے دھیانا دی منگ دی دال آف ٹوبہ ٹیک سنگھ اینڈ پاکستان “۔
اسے بہت سمجھایا گیا کہ دیکھو اب ٹوبہ ٹیک سنگھ ہندوستان میں چلا گیا ہے۔اگر نہیں گیا تو اسے فوراً وہاں بھیج دیا جائیگا۔ مگر وہ نہ مانا۔ جب اس کو زبردستی دوسری طرف لے جانے کی کوشش کی گئی تو وہ درمیان میں ایک جگہ اس انداز میں اپن سوجی ہوئی ٹانگوں پر کھڑا ہو گیا جیسے اب اسے کوئی طاقت وہاں سے نہیں ہلا سکے گی۔
آدمی چونکہ بے ضرر تھا اس لئے اس سے مزید زبردستی نہ کی گئی ، اس کو وہیں کھڑا رہنے دیا گیا اور تبادلے کا باقی کام ہوتا رہا۔
سورج نکلنے سے پہلے ساکت و صامت بشن سنگھ کے حلق سے ایک فلک شگاف چیخ نکلی۔ ادھر ادھر سے کئی افسر دوڑے آئے اور دیکھا کہ وہ آدمی جو پندرہ برس تک دن رات اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہا ، اوندھے منہ لیٹا ہے۔ ادھر خاردار تاروں کے پیچھے ہندوستان تھا ادھر ویسے ہی تاروں کے پیچھے پاکستان۔ درمیان میں زمین کے اس ٹکڑے پر جس کا کوئی نام نہیں تھا۔ ٹوبہ ٹیک سنگھ پڑا تھا۔

———————————————–

Nijat by Munshi Premchand

Articles

نجات

منشی پریم چند

دکھی چمار دروازے پر جھاڑ رہا تھااور اس کی بیوی جھُریا گھر کو لیپ رہی تھی۔دونوں اپنے اپنے کام سے فراغت پا چکے تو چمارِن نے کہا۔

’’تو جا کر پنڈت با با سے کہہ آؤ ۔ ایسا نہ ہو کہیں چلے جائیں ‘‘۔دُکھی : ہاں جاتا ہوں لیکن یہ تو سوچ کہ بیٹھیں گے کس چیز پر؟‘‘

جُھریا: کہیں سے کوئی کھٹیا نہ مل جائے گی۔ٹھکرانی سے مانگ لانا‘‘۔

دُکھی: تو توُ کبھی کبھی ایسی بات کہہ دیتی ہے کہ بدن میں آگ لگ جاتی ہے۔ بھلا ٹھکرانے والے مجھے کھٹیا دیں گے؟ جاکر ایک لوٹا پانی مانگو تو نہ ملے۔ بھلا کھٹیا کون دے گا۔ ہمارے اوپلے،ایندھن،بھوسا لکڑی تھوڑے ہی ہیں کہ جو چاہے اٹھا لے جائے اپنی کھٹولی دھو کر رکھ دے۔ گرمی کے تو دن ہیں۔ان کے آتے آتے سوکھ جائے گی۔

جُھریا: ہماری کھٹولی پر وہ نہ بیٹھیں گے۔دیکھتے نہیں کتنے دھرم سے رہتے ہیں ۔

دُکھی نے کسی قدر مغموم لہجے میں کہا۔’’ہاں یہ بات تو ہے۔ مہوے کے پتے توڑ کر ایک پتل بنا لوں ،تو ٹھیک ہو جائے۔ پتل میں بڑے آدمی کھاتے ہیں۔وہ پاک ہے ۔لاتو لاٹھی،پتے توڑ لوں‘‘۔

جُھریا: پتّل میں بنا لوں گی۔تم جاؤ لیکن ہاں انہیں سیدھا بھی جائے اور تھالی ۔چھوٹے بابا تھالی اٹھا کر پٹک دیں گے۔وہ بہت جلد غصہ میں آجاتے ہیں ۔ غصّہ میں پنڈتانی تک کو نہیں چھوڑتے ۔ لڑکے کو ایسا پیٹا کہ آج تک ٹوٹا ہاتھ لیے پھرتا ہے۔پتّل میں سیدھا بھی دے دینا مگر چھونا مت ۔ بھوری گونڈکی لڑکی کو لے کر شاہ کی دکان سے چیزیں لے آنا۔سیدھا بھرپور ،سیر بھر آٹا،آدھ سیر چاول،پاؤ بھر دال،آدھ پاؤ گھی،نمک،ہلدی اور تیل میں ایک کنارے چار آنہ کے پیسے رکھ دینا۔

گونڈکی کی لڑکی نہ ملے تو پھرمہا جن کے ہاتھ پیر جوڑ کر لے آنا۔تم کچھ نہ چھونا ورنہ گجب ہو جائے گا۔

ان باتوں کی تاکید کر کے دکھی نے لکڑی اٹھالی اور گھاس کا ایک بڑا سا گٹھا لے کر پنڈت جی سے عرض کرنے چلا۔

خالی ہاتھ بابا جی کی خدمت میں کس طرح جاتا ۔نذرانے کے لیے اس کے پاس گھاس کے سوا اور کیا تھا۔ اسے کالی دیکھ کر تو بابا جی دور ہی سے دھتکار دیتے۔

پنڈت گھاسی رام ایشور کے پرم بھگت تھے۔ نیند کھلتے ہی ایشوراپاسنا میں لگ جاتے،منہ ہاتھ دھو تے آٹھ بجے،تب اصلی پوجا شروع ہوتی۔ جس کا پہلا حصہ بھنگ کی تیاری تھی۔اس کے بعد آدھ گھنٹہ تک چند ن رگڑ تے۔پھر آئینے کے سامنے ایک تنکے سے پیشانی پر تلک لگاتے ۔چندن کے متوازی خطوط کے درمیان لال روئی کا ٹیکہ ہوتا۔ پھر سینہ پر ،دونوں بازوؤں پر چند ن کے گول گول دائرے بناتے اور ٹھاکر جی کی مورتی نکال کر اسے نہلاتے۔ چندن لگاتے ،پھول چڑھاتے ،آرتی کرتے اور گھنٹی بجاتے ۔دس بجتے بجتے وہ پوجن سے اٹھتے اور بھنگ چھان کر باہر آتے ۔ اس وقت دوچار دروازے پر آ جاتے۔

ایشور اپاسنا کافی الفور پھل مل جاتا۔ یہی ان کی کھیتی تھی۔آج وہ عبادت خانے سے نکلے تو دیکھا دکھی چمار گھاس کا ایک گٹھا لئے بیٹھا ہے۔انہیں دیکھتے ہی کھڑا ہو ا ورنہایت ادب سے ڈنڈوت کر کے ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا۔ایسا پُر جلال چہرہ دیکھ کراس کا دل عقیدت سے پرہو گیا۔ کتنی تقدس مآب صورت تھی ۔چھوٹاسا گول مول آدمی۔ چکنا سر، بھولے ہوئے رکسار، روحانی جلال سے منور آنکھیں اس پر روئی اور چندن نے دیوتاؤں کی تقدس عطا کر دی تھی۔ دکھی کو دیکھ کر شیریں لہجہ میں بولے۔

’’آج کیسے چلا آیا رے دُکھیا؟‘‘ دُکھی نے سر جھکا کر کہا۔’’بٹیا کی سگائی کر رہا ہوں مہاراج!ساعت شگن بچارنا ہے ۔ کب مرجی ہو گی؟‘‘ گھاسی۔’’آ ج تو مجھے چھٹی نہیں ۔شام تک آجاؤں گا‘‘۔

دکھی :’’نہیں مہاراج !جلدی مرجی ہو جائے ۔سب سامان ٹھیک کر کے آیا ہوں۔ یہ گھاس کہاں رکھ دوں؟‘‘

گھاسی: اس گائے کے سامنے ڈال دے۔ اور ذرا جھاڑ ودے کر دروازہ تو صاف کر دے۔ یہ بیٹھک بھی کئی دن سے لیپی نہیں گئی۔ اسے بھی گوپر سے لیپ دے ۔ تب تک میں بھوجن کر لوں۔ پھر ذرا آرام کر کے چلوں گا۔ہاں یہ لکڑی بھی چیر دینا۔ کھلیان میں چار کھانچی بھوسہ پڑا ہے اسے بھی اٹھا لانا اور بھوسیلے میں رکھ دینا۔دکھی فوراًحکم کی تعمیل کرنے لگا۔ دروازے پر جھاڑ و لگائی۔ بیٹھک گور سے لیپا۔ اس وقت بارہ بج چکے تھے۔پنڈت جی بھوجن کرنے چلے۔ دکھی نے صبح سے کچھ نہیں کھایا تھا۔ اسے بھی زور کی بھوک لگی۔ لیکن وہاں کھانے کو دھرا ہی کیا تھا۔گھر یہاں سے میل بھر تھا۔ وہاں کھانے چلا جائے تو پنڈت جی بگڑ جائیں۔ بے چارے نے بھوک دبائی اور لکڑی پھاڑنے لگا۔

لکڑی کی موٹی سی گرہ تھی جس پر کتنے ہی بھگتوں نے اپنا زور آزما لیا تھا۔ وہ اسی دم خم کے ساتھ لوہے سے لوہا لینے کے لئے تیار تھی ۔دکھی گھاس چھیل کر بازار لے جاتا۔ لکڑی چیرنے کا اسے محاورہ نہ تھا۔ گھاس اس کے کھرپے کے سامنے سر جھکا دیتی تھی۔

یہاں کس کس کر کلہاری کا بھر پور ہاتھ جماتا لیکن اس گرہ پر نشان تک نہ پڑتا۔ کلہاڑی اچٹ جاتی۔ پسینہ سے تر تھا۔ہانپتا تھا۔ تھک کر بیٹھ جاتا تھا۔ پھر اٹھتا تھا۔ہاتھ اٹھائے نہ اٹھتے تھے ۔ پاؤن کانپ رہے تھے۔

ہوائیاں اُڑ رہی تھیں۔پھر بھی اپنا کام کئے جاتا تھا۔ اگر ایک چلم تمباکو پینے کو مل جاتا تو شاید کچھ طاقت آجاتی۔ اس نے سوچا۔یہاں چلم اور تمباکو کہاں ملے گا۔ برہمنوں کا گاؤں ہے۔ برہمن ہم سب نیچ جاتوں کی طرح تمباکو تھوڑا ہی پیتے ہیں۔ یکا یک اسے یاد آیا کہ گاؤں میں ایک گونڈ بھی رہتا ہے۔ اس کے یہاں ضرور چلم تمباکو ہو گی۔ فوراًاس کے گھر دوڑا ۔

خیر محنت سپھل ہوئی۔اس نے تمباکو اور چلم دی ۔لیکن آگ وہاں نہ تھی۔

دکھی نے کہا’’آگ کی فکر نہ کرو بھائی، پنڈت جی کے گھر سے آگ مانگ لوں گا۔ وہاں تو ابھی رسوئی بن رہی تھی‘‘۔

یہ کہتا ہوا وہ دونوں چیزیں لے کر چلا اور پنڈت جی کے گھر میں دالان کے دروازہ پر کھڑا ہو کر بولا۔’’مالک ذرا سی آگ مل جائے تو چلم پی لیں‘‘۔ پنڈت جی بھوجن کر رہے تھے ۔ پنڈتانی نے پوچھا۔۔’’یہ کون آدمی آگ مانگ رہا ہے؟‘‘

’’تو دے دو‘‘

پنڈتانی نے بھنویں چڑھا کر کہا۔’’تمہیں تو جیسے پوڑی پیڑ ے کے پھر میں دھرم کرم کی سدھ بھی نہ رہی۔

چمار ہوا، دھوبی ہوا،پاسی ہو۔منہ اٹھائے گھر میں چلے آئے۔ پنڈت کا گھر نہ ہوا،کوئی سرائے ہوئی۔ کہہ دو ڈیوڑھی سے چلا جائے ورنہ اسی آگ سے منہ جھلسا دوں گی۔ بڑے آگ مانگنے چلے ہیں‘‘۔

پنڈت جی نے انہیں سمجھا کر کہا۔’’اندر آگیا تو کیا ہوا۔ تمہاری کوئی چیز تو نہیں چھوئی،زمین پاک ہے۔

ذرا سی آگ کیوں نہیں دے دیتیں۔کام تو ہمارا کر رہا ہے۔ کوئی لکڑہارا یہی لکڑی پھاڑتا تو کم از کم چار آنے لیتا۔

پنڈتانی نے گرج کر کہا۔’’وہ گھر میں آیا ہی کیوں؟‘‘پنڈت نے ہار کر کہا ۔’’ سسرے کی بد قسمتی‘‘۔ پنڈتانی:اچھا اس وقت تو آگ تو دے

دیتی ہوں لیکن پھر جو اس گھر میں آئے گا تو منہ جھلس دو گی۔دکھی کے کانوں میں ان باتوں کی بھنک پڑ رہی تھی۔بیچارہ پچھتا رہا تھا۔نا حق چلا آیا ۔سچ تو کہتی ہیں پنڈت کے گھر چمار کیسے آئے۔یہ لوگ پاک صاف ہوتے ہیں۔تب ہی تو اتنا مان ہے۔چر چمار تھوڑے ہی ہیں۔اسی گاؤں میں بوڑھا ہو گیا ۔ مگر مجھے اتنی عقل بھی نہ آئی۔

اسی لئے جب پنڈتانی جی آگ لے کر نکلیں تو جیسے اسے جنت مل گئی۔ دونوں ہاتھ جوڑ کر زمین پر سر جھکاتا ہوا بولا۔پنڈتانی ماتا!مجھ سے بڑی بھول ہو ئی کہ گھر میں چلا آیا ۔چمار کی عقل ہی تو ٹھہری۔ اتنے مورکھ نہ ہوتے تو سب کی لات کیوں کھاتے؟ پنڈتانی چمٹے سے پکڑ کر آگ لائی تھی۔

انہوں نے پانچ ہاتھ کے فاصلہ پر گھونگھٹ کی آڑ سے دکھی کی طرف آگ پھینکی ۔ ایک بڑی سی چنگاری اس کے سر پر پڑ گئی۔ جلدی سے ہٹ کر جھاڑے لگا۔

اس کے دل نے کہا۔یہ ایک پاک برہمن کے گھر کو ناپاک کرنے کا نتیجہ ہے بھگوان نے کتنی جلدی سزا دے دی۔اسی لئے تو دنیا پنڈتوں سے ڈرتی ہے۔اور سب کے روپے مارے جاتے ہیں۔برہمن کے روپے بھلا کوئی مار تو لے۔ گھر بھر کا ستیا ناس ہو جائے۔ ہاتھ پاؤں گل گل گرنے لگیں۔

باہر آکر اس نے چلم پی اور کلہاڑی لے کر مستعد ہو گیا۔کھٹ کھٹ کی آوازیں آنے لگیں۔سر پر آگ پڑ گئی تو پنڈتانی کو کچھ رحم آگیا۔ پنڈت جی کھانا کھا کر اٹھے تو بولیں۔’’اس چمر ا کو بھی کھانے کو دے دو۔ بے چارا کب سے کام کر رہا ہے۔ بھوکا ہو گا‘‘۔ پنڈت نے اس تجویز کو فنا کر دینے کے ارادے سے پوچھا۔ ’’روٹیاں ہیں‘‘۔

پنڈتانی: دو چار بچ جائیں گی۔ پنڈت: دو چار روٹیوں سے کیا ہو گا؟یہ چمار ہے۔ کم از کم سیر چڑھا جائے گا۔

پنڈتانی کانوں پر ہاتھ رکھ کر بولیں۔’’ارے باپ رے۔ سیر بھر،تو پھررہنے دو‘‘۔پنڈت جی نے اب تیر بن کر کہا۔’’کچھ بھوسی چوکر ہو تو آٹے میں ملاکر موٹی موٹی روٹیاں توے پر ڈال دو۔سالے کا پیٹ بھر جائے گا۔

پتلی روٹیوں سے ان کمینوں کا پیٹ نہیں بھرتا۔ انہیں تو جوار کا ٹکڑا چاہئیے‘‘۔

پنڈتانی نے کہا۔’’اب جانے بھی دو،دھوپ میں مرے ‘‘۔

دکھی نے چلم پی کر کلہاڑی سنبھالی۔دم لینے سے ذرا ہاتھوں میں طاقت آگئی تھی ۔تقریباً آدھ گھنٹہ تک پھر کلہاڑی چلاتا رہا۔ پھر بے دم ہو کر وہیں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔اتنے میں وہی گونڈ آ گیا۔بولا’’بوڑھے دادا جان کیوں دم دیتے ہو۔تمہارے پھاڑے یہ گانٹھ نہ پھٹے گی۔نا حق ہلکان ہوتے ہو‘‘۔

دکھی نے پیشانی کا پسینہ صاف کر کے کہا۔’’بھائی ابھی گاڑی بھر بھوسہ ڈھونا ہے‘‘۔

گونڈ:کچھ کھانے کو بھی دیا یا کام ہی کرونا جانتے ہیں۔جا کے مانگتے کیوں نہیں ؟‘‘

دکھی: تم بھی کیسی باتیں کرتے ہو۔ بھلا برہمن کی روٹی ہم کو پچے گی؟ گونڈ:پچنے کو تو پچ جائے گی۔ مگر ملے تو۔ خود تو مونچھوں پر تاؤ دے کر کھانا کھایا اور آرم سے سو رہے ہیں۔

تمہارے لیے لکڑی پھاڑنے کا حکم لگا دیا۔ زمیندار بھی کچھ کھانے کو دیتا ہے۔ یہ ان سے بھی بڑھ گئے ۔ اس پر دھرماتما بنتے ہیں۔

دکھی نے کہا۔’’بھائی آہستہ بولو ۔ کہیں سن لیں گے تو بس!‘‘ یہ کہہ کر دکھی پھر سنبھل پڑااور کلہاڑی چلانے لگا۔ گونڈ کو اس پر رحم آگیا۔ کلہاڑی ہاتھ سے چھین کر تقریباً نصف گھنٹہ تک جی توڑ کر چلاتا رہا لیکن گانٹھ پرذرا بھی نشان نہ ہو۔

بالآخر اس نے کلہاڑی پھینک دی اور یہ کہہ کر چلاگیا۔’’یہ تمہارے پھاڑے نہ پھٹے گی۔ خواہ تمہاری جان ہی کیوں نہ نکل جائے‘‘۔

دکھی سوچنے لگا۔ یہ گانٹھ انہوں کہاں سے رکھ چھوڑی تھی کہ پھاڑے نہیں پھٹتی۔میں کب تک اپنا خون پسینہ ایک کروں گا۔ ابھی گھر پر سو کام پڑے ہیں۔کام کاج والا گھر ہے۔ایک نہ ایک چیز گھٹتی رہتی ہے۔ مگر انہیں اس کی کیا فکر؟چلوں جب تک بھوسہ ہی اٹھا لاؤں ۔ کہہ دوں گا آج تو لکڑی نہیں پھٹی۔ کل آکر پھاڑ دوں گا۔

اس نے ٹوکرا اٹھایا اور بھوسہ ڈھونے لگا۔کھلیان یہاں سے دو فرلانگ سے کم نہ تھا۔اگر ٹوکرا خوب بھر بھر کر لاتا تو کام جلد ہوجاتا ۔مگر سر پر اٹھاتا کون؟ خود اس سے نہ اٹھ سکتا۔

اس لیے تھوڑا تھوڑا لاتا تھا۔ چار بجے بھوسہ ختم ہوا۔ پنڈت کی نیند بھی کھلی،منہ ہاتھ دھو کے پان کھایا اور باہر نکلے۔ دیکھا تو دکھی توکرے پر سر رکھے سو رہا ہے۔زور سے بولے۔’’ارے دکھیا !تو سو رہا ہے۔ لکڑی تو ابھی جوں کی توں پڑی ہے۔ اتنی دیر تو کیا کر رہاتھا؟مٹھی بھر بھوسہ اٹھانے میں شام کر دی ۔ اس پر سو رہا ہے۔ کلہاڑی اٹھا لے اور لکڑی پھاڑ ڈال ۔ تجھ سے ذرا بھر لکڑی نہیں پھٹتی۔پھر ساعت بھی ویسی ہی نکلے گی۔مجھے دوش مت دینا۔ اسی لئے تو کہتے ہیں جہاں نیچ کے گھر کھانے کو ہوا اس کی آنکھ بدل جاتی ہے‘‘۔

دکھی نے پھر کلہاڑی اٹھائی۔جو باتیں اس نے پہلے سوچ رکھی تھیں ، وہ سب بھول گیا۔ پیٹ پیٹھ میں دھنسا جاتا تھا۔دل ڈوبا جاتا تھا۔ پر دل کو سمجھا کر اٹھا ۔ پنڈت ہیں ۔ کہیں ساعت ٹھیک نہ بچاریں تو پھر سفینہ ناس ہو جائے ۔ تب ہی تو ان کا دنیا میں اتنا مان ہے۔ ساعت ہی کا تو سب کھیل ہے۔ جسے چاہیں بنا دیں، جسے چاہیں بگاڑدیں گے۔پنڈت جی گانٹھ کے پاس آکر کھڑے ہو گئے اور حوصلہ افزائی کرنے لگے۔ ہاں مارکس کے۔اور مس کے مار۔ ایسے زور سے مار ،تیرے ہاتھوں میں جیسے دم ہی نہیں ۔ لگا کس کے۔ کھڑا کھڑا سوچنے کیا لگتا ہے۔

ہاں بس پھٹا ہی چاہتی ہے،اس سوراخ میں‘‘۔ دکھی اپنے ہوش میں نہیں تھا ۔ نہ معلوم کوئی غیبی طاقت اس کے ہاتھوں کو چلا رہی تھی۔ تھکان ،بھوک ،پیاس،کمزوری سب کے سب جیسے ہو اہو گئی تھیں۔ اسے اپنے قوت بازو پر خود تعجب ہو رہا تھا۔ ایک ایک چوٹ پہاڑ کی مانند پڑتی تھی۔ آدھ گھنٹے تک وہ اسی طرح بے خبری کی حالت میں ہاتھ چلاتا رہا۔ حتیٰ کہ لکڑی بیچ سے پھٹ گئی اور دکھی کے ہاتھ سے کلہاڑی چھوٹ کر گر پڑی ۔ اس کے ساتھ ہی وہ بھی چکر کھا کر گر پڑا۔ بھوکا پیاسا تکان خوردہ جسم جواب دے گیا۔ پنڈت جی نے پکارا ۔ اٹھ کر دو چار ہاتھ اور لگا دے۔ پتلی پتلی ہو جائیں ‘‘۔

پنڈت جی نے اب اسے دق کرنا مناسب نہ سمجھا ۔ اندر جا کر بوٹی چھانی ۔

حا جات ضروری سے فارغ ہوئے ،نہایا اور پنڈتوں کا لباس پہن کر باہر نکلے۔ دکھی ابھی تک وہیں پڑا تھا۔

زور سے پکارا۔’’ارے دکھی !کیا پڑے ہی رہو گے ۔ چلو تمہارے ہی گھر چل رہا ہوں سب سامان ٹھیک ہے نا؟‘‘ دکھی پھر بھی نہ اٹھا۔ اب پنڈت جی کو کچھ فکر ہوئی۔پاس جاکر دیکھا تو دکھی اکڑا ہوا پڑا تھا ۔

بدحواس ہو کر بھاگے اور پنڈتانی سے بولے۔’’دکھیا تو جیسے مر گیا‘‘۔ پنڈتانی جی تعجب انگیز لہجے میں بولیں ۔’’ابھی تو لکڑی چیر رہا تھا!؟‘‘

ہاں لکڑی چیرتے چیرتے مر گیا ۔اب کیا ہو گا؟‘‘ پنڈتانی نے مطمئن ہو کر کہا ۔’’چمروٹے میں کہلا بھیجو مردہ اٹھا لے جائیں‘‘۔

دم کے دم میں یہ خبر گاؤں بھر میں پھیل گئی۔گاؤں میں زیادہ تر برہمن ہی تھے۔صرف ایک گھر گونڈ کا تھا۔لوگوں نے ادھر کا راستہ چھوڑ دیا۔ کنویں کا راستہ ادھر ہی سے تھا۔پانی کیونکر بھرا جائے؟چمار کی لاش پاس ہو کر پانی بھرنے کون جائے ۔ ایک بڑھیا نے پنڈت جی سے کہا۔

’’مردہ کیوں نہیں اٹھواتے ۔کوئی گاؤں میں پانی پیے گا یا نہیں؟‘‘ ادھر گونڈ نے چمرونے میں جاکر سب سے کہہ دیا۔’’خبردار مردہ اٹھانے مت جانا۔ ابھی پولیس کی تحقیقات ہو گی۔

دل لگی ہے کہ ایک غریب کی جان لے لی ۔ پنڈت ہوں گے تو اپنے گھر ہوں گے۔ لاش اٹھاؤ گے تو تم بھی پکڑے جاؤ گے۔

اس کے بعد ہی پنڈت جی پہنچے ۔پر چمرونے میں کوئی آدمی لاش اٹھانے کو تیار نہ ہوا۔ ہاں دکھی کی بیوی اور لڑکی دونوں ہائے ہائے کرتی وہاں سے چلیں اور پنڈت جی کے دروازے پر آکر سر پیٹ کر رونے لگیں ۔ ان کے ساتھ دس پانچ اور چمارنیں تھیں۔کوئی روتی تھی،کوئی سمجھاتی تھی،پر چمارایک بھی نہ تھا۔پنڈت جی نے ان سب کو بہت دھمکایا،سمجھایا،منت کی۔ پر چماروں کے دل پر پولیس کاایسا رعب چھایا کہ ایک بھی مان نہ سکا ۔ آخر نا امید ہو کر لوٹ آئے۔

آدھی رات تک رونا پیٹنا جاری رہا۔دیوتاؤں کا سونا مشکل ہو گیا۔مگر لاش اٹھانے کوئی نہ آیا۔ اور برہمن چمار کی لاش کیسے اٹھاتے ؟بھلا ایسا کسی شاستر پوران میں لکھا ہو ، کہیں کوئی دکھا دے۔

پنڈتانی نے جھنجھلاکر کہا۔’’ان ڈائنوں نے تو کھوپڑی چاٹ ڈالی۔ ان سبھوں کا گلا بھی نہیں تھکتا‘‘۔ پنڈت نے کہا۔’’چڑیلوں کو رونے دو۔ کب تک روئیں گی۔جیتا تھا تو کوئی بات نہ پوچھتا تھا۔مر گیا تو شورو غل مچانے کے لئے سب آپہنچیں‘‘۔ پنڈتانی:چمار وں کا رونا منحوس ہوتا ہے؟

پنڈت: ہاں بہت منحوس ۔

پنڈتانی : ابھی سے بو آنے لگی۔ پنڈت : چمار تھا سسرا کہیں کا ۔ ان سبھوں کو کھانے پینے میں کوئی بچار نہیں ہوتا۔

پنڈتانی:ان لوگوں کو نفرت بھی معلوم نہیں ہوتی۔

پنڈت:سب کے سب بھرشٹ ہیں۔ رات تو کسی طرح کٹی مگر صبح بھی کوئی چمار نہ آیا۔ چمار نی بھی رو پیٹ کر چلی گئی۔بدبو پھیلنے لگی۔

پنڈت جی نے ایک رسی نکالی۔ اس کا پھندہ بنا کر مردے کے پیر میں ڈالا اور پھندے کو کھینچ کر کس دیا۔ابھی کچھ کچھ اندھیرا تھا۔پنڈت جی نے رسی پکڑ کر لاش کو گھسیٹنا شروع کیا اور گھسیٹ کر گاؤں سے باہر لے گئے۔

وہاں سے آ کر نہائے ،درگاپٹھ پڑھا اور سر میں گنگا جل چھڑکا۔ ادھر دکھی کی لاش کو کھیت میں گیدڑ ،گدھ اور کوے نوچ رہے تھے۔ یہی اس کی تمام زندگی کی بھگتی ،خدمت اور اعتقاد کا انعام تھا۔

Sawa Ser Gehun

Articles

سوا سیر گیہوں

منشی پریم چند

 

 

 

کسی گاؤ ں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور راما کا نام لے کر سو رہا۔ مگر جب کوئی مہمان درواز ے پر آ جاتا تو اسے یہ غنا کا راستہ تر ک کر دینا پڑ تا تھا۔ خصوصاً جب کوئی سادھومہا تما آ جاتے تھے تو اسے لا زماً دنیا وی باتو ں کا سہا را لینا پڑ تا۔ خود بھو کا سو سکتا تھا مگر سادھو کو کیسے بھو کا سلا تا۔ بھگو ان کے بھگت جو ٹھہرے۔
ایک روز شام کو ایک مہاتما نے آکر اس کے درواز ے پر ڈ یر ا جمادیا۔ چہرے پر جلال تھا۔ پیتا میر گلے میں، جٹا سر پر، پیتل کا کمنڈ ل ہاتھ میں، کھڑ اؤ ں پیر میں، عینک آنکھوں پر، غر ض کہ پو را بھیس ان مہا تما کا ساتھا جو رؤسا کے محلو ں میں ریاضت، ہوا گاڑیوں پر مندروں کا طواف اور یو گ (مراقبہ ) میں کمال حال کرنے کے لیے لذیذ غذائیں کھا تے ہیں۔ گھر میں جو کا آ ٹا تھا وہ انہیں کیسے کھلا تا؟ زمانۂ قدیم میں جو کی خواہ کچھ اہمیت رہی ہو، مگر زمانہ حال میں جو کی خورش مہاتما لوگو ں کے لیے ثقیل اور دیر ہضم ہوئی ہے، بڑی فکر ہوئی کہ مہا تما جی کو کیا کھلاؤں؟ آخر طے کیا کہ کہیں سے گیہوں کا آٹا ادھا ر لا ؤ ں۔ گاؤ ں بھر میں گیہوں کا آٹا نہ ملا۔ گاؤں بھر میں سب آدمی ہی آدمی تھے، دیو تا ایک بھی نہ تھا، دیوتا ؤ ں کو خورش کیسے ملتی؟ خوش قسمی سے گاؤں کے پر وہت جی کے یہاں تھو ڑے سے گیہوں مل گئے۔ ان سے سوا سیر گیہوں ادھار لیے اور بیوی سے کہا کہ پیس دے۔ مہا تما نے کھا یا۔ لمبی تا ن کر سوئے اور صبح آشیر واددے کر اپنا راستہ لیا۔
پر وہت جی سال میں دوبار کھلیانی لیا کرتے تھے۔ شنکر نے دل میں کہا کہ سوا سیر گیہوں کیا لوٹا ؤں۔ پنسیر ی کے بدلے کچھ زیادہ کھلیانی دے دوں گا۔ وہ بھی سمجھ جائیں گے، میں بھی سمجھ جاؤں گا۔ چیت میں جب وہ پر وہت جی پہنچے تو انھیں ڈیڑ ھ پنسیر ی کے قریب گیہوں دے دیے اور اپنے کو سبکد وش سمجھ کر اس کا کوئی تذکرہ نہ کیا۔ پروہت جی نے بھی پھر کبھی نہ مانگا۔ سید ھے سادھے شنکر کو کیا معلوم کہ یہ سوا سیر گیہوں چکانے کے لیے مجھے دوبارہ جنم لینا پڑے گا۔
سات سال گذ ر گئے۔ پر وہت جی برہمن سے مہاجن ہوئے۔ شنکر کسان سے مزور ہو گیا۔ اس کا چھو ٹا بھائی منگل اس سے الگ ہو گیا تھا۔ ایک ساتھ رہ کر دونو ں کسان تھے، الگ ہو کر دونو ں مزدور ہوگئے تھے۔ شنکر نے بہت چاہا کہ نفا ق کی آگ بھڑ کنے نہ پاوے۔ مگر حالت نے اس کو مجبور کر دیا۔ جس وقت الگ چولھے جلے وہ پھوٹ پھوٹ کر رویا۔ آج سے بھائی بھا ئی دشمن ہو جائیں گے۔ ایک روئے تو دوسر ا ہنسے گا، ایک کے گھر میں غمی ہو گی تو دوسرے کے گھر گلگلے پکیں گے۔ محبت کا رشتہ، دودھ کا رشتہ آج ٹو ٹا جاتا ہے۔ اس نے سخت محنت کر کے خاندانی عزت کا یہ درخت لگایا تھا۔ اسے اپنے خون سے سینچا تھا، اس کا جڑ سے اکھڑ نا دیکھ کر اس کے دل کے ٹکڑ ے ہو ئے جاتے تھے۔ سات روز تک اس نے دانے کی صورت بھی نہ دیکھی۔ دن بھر جیٹھ کی دھو پ میں کا م کرتا اور رات میں لپیٹ کرسورہتا۔ اس سخت رنج اور ناقابل برداشت تکلیف نے خون کو جلا یا دیا، گوشت اور چربی کو گھُلا دیا۔ بیمار پڑا تو مہینوں چار پائی سے نہ اٹھا۔ اب گزر بسر کیسے ہو؟ پانچ بیگھے کے آدھے کھیت رہ گئے، ایک بیل رہ گیا۔ کھیتی کیا خاک ہوتی۔ آخر یہا ں تک نوبت پہنچی کہ کھیتی صرف نام بھر کو رہ گئی۔ معاش کا سارا بھار مزدوری پر آپڑا۔
سا ت سال گزر گئے۔ ایک دن شنکر مزدوری کر کے لو ٹا تو راستہ میں پر وہت جی نے ٹو ک کر کہا۔ شنکر کل آکے اپنے بیج بینک کا حساب کر لے۔ تیرے یہاں ساڑھے پانچ من گیہوں کب سے باقی پڑے ہیں اور تو دینے کا نام نہیں لیتا۔ کیا ہضم کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘۔
شنکرنے تعجب سے کہا’’میں نے تم سے کب گیہوں لیے تھے کہ ساڑھے پانچ من ہو گئے؟تم بھو لتے ہو، میرے یہاں نہ کسی چھٹانک بھرا ناج ہے، نہ ایک پیسہ ادھار‘‘۔
پروہت۔ ’’اسی نیت کا تو یہ پھل بھو گ رہے ہو کھانے کو نہیں جڑتا۔
یہ کہہ پر وہت جی نے اس کا سوا سیر گیہوں کا ذکر کیا جو آج سے سال قبل شنکر کو دیے تھے۔ شنکر سن کر ساکت رہ گیا۔ میں نے کتنی بار انہیں کھلیانی دی۔ انہوں نے میرا کون سا کا م کیا۔ جب پو تھی پتر اد یکھنے، ساعت شگون بچارنے دوار پر آتے تھے تو کچھ نہ کچھ دچھنا لے ہی جا تے تھے۔ اتنا سوارتھ۔ سوا سیر اناج کولے انڈے کی طرح یہ بھو ت کھڑا کر دیا۔ جو مجھے نگل ہی جائے گا۔ اتنے دنوں میں ایک بار بھی کہہ دیتے تو گیہوں دے ہی دیتا۔ کیا اسی نیت سے چپ بیٹھے رہے۔ بولا۔ ’’مہا راج نام لے کر تو میں نے اتنا انا ج نہیں دیا، مگر کئی با ر کھلیانی میں سیر سیر، دودوسیر دے دیا ہے۔ اب آپ آج ساڑھے پانچ من مانگتے ہو، میں کہاں سے دوں گا؟
پروہت۔ ’’لیکھا جَو جَو بکسیں سوسو۔ تم نے جو کچھ دیاہوگا، کھلیانی میں دیاہوگا، اس کا کوئی حساب نہیں۔ چاہے ایک کی جگہ چار پنسیر ی دے، تمہارے نام ہی میں ساڑھے پانچ من لکھا ہوا۔ جس سے چاہے حساب لگو ا لو۔ دے دو تو تمہارا نام جھیک (کاٹ )دوں، نہیں تو اور بڑھتا رہے گا‘‘۔
شنکر’’پانڈ ے، کیوں ایک غریب کو ستانے ہو میر ے کھانے کا ٹھکا نا نہیں، اتنا گیہوں کس کے گھر تو دو گے‘‘۔
پر وہت۔ ’’جس کے گھر سے چاہے لا ؤ، میں چھٹا نک بھر بھی نہ چھوڑوں گا۔ یہاں نہ دوگے، بھگوان کے گھر تو دو گے‘‘۔
شنکر کا نپ اٹھا۔ ہم پڑھے لکھے لو گ ہوتے تو کہہ دیتے۔ ’’اچھی بات ہے، ایشو ر کے گھر ہی دیں گے وہا ں کی تو ل یہاں سے کچھ بڑی تو نہ ہو گی۔ کم سے کم اس کا کو ئی ثبو ت ہمارے پاس نہیں۔ پھر اس کی کیا فکر؟ ‘‘مگر شنکر اتنا عقل مند، اتنا چالاک نہ تھا۔ ایک تو قرض، وہ بھی بڑہمن کا! بہی میں نام رہے گا تو سید ھے نرک میں جاؤں گا۔ اس خیال سے ہی اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے۔ بو لا۔ مہاراج تمہار اجتنا ہو گایہیں دوں گا۔ ایشو ر کے یہاں کیوں دوں؟ اس جنم میں تو ٹھو کر کھا ہی رہاہوں اُس جنم کے لیے کیوں کا نٹے بو ؤں؟ مگر یہ کو ئی نیا ئے نہیں ہے۔ تم نے رائی کا پر بت بنا دیا۔ برہمن ہو کے تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہتے تھا۔ اسی گھڑی تقاضا کر کے لیا ہوتا تو آج میر ے اوپر بڑا بوجھ کیوں پڑتا؟ میں تو دے دوں گا، لیکن تمہیں بھگوان کے یہاں جواب دینا پڑے گا؟
پر وہت:’’وہاں کا ڈر تمہیں ہوگا۔ مجھے کیوں ہونے لگا۔ وہاں تو سب اپنے ہی بھائی بند ہیں۔ رشی مُنی سب تو برہمن ہی ہیں۔ کچھ بنے بگڑے گی، سنبھال لیں گے۔ تو کب دیتے ہو؟۔ ‘‘
شنکر۔ ’’میرے پاس دھرا تو ہے نہیں، کسی سے مانگ جا نچ کر لا ؤ ں گا تبھی دوں گا‘‘۔
پروہت۔ ’’میں یہ مانوں گا۔ سات سال ہو گئے۔ اب ایک کا بھی ملا حظہ نہ کر وں گا۔ گیہوں نہیں دے سکتے تو دستاو یزلکھ دو۔
شنکر۔ ’’مجھے تو دینا ہے۔ چاہیے گیہوں لے لو۔ چاہے دستاویزلکھاؤ کس حساب سے دام رکھو گے؟
پروہت۔ ’’جب دے ہی رہا ہوں تو بازار بھاؤ کا ٹوں گا۔ پاؤ بھر چھڑا کر کیوں بُر ا بنوں ‘‘۔
حساب لگایا گیا توگیہوں کی قیمت ساٹھ روپیہ بنی۔ سا ٹھ کا دستاویز لکھا گیا۔ تین روپیہ سیکڑہ سود۔ سال بھر میں نہ دینے پر سود کی شر ح ساڑہے تین روپے سیکڑہ۔ آٹھ آنے کا اسٹا مپ، ایک روپیہ دستاویز کی تحر یر شنکر کو علیحدہ دینی پڑی۔
سا رے گاؤں نے پروہت جی کی مذمت کی مگر سامنے نہیں۔ مہاجن سے سبھی کو کام پڑتاہے اس کے منہ کون لگے؟

شنکرنے سال بھر تک سخت ریاضت کی میعاد سے قبل اس نے روپیہ ادا کرنے کابرَت سا کرلیا۔ دوپہر کو پہلے بھی چولھا نہ جلتا تھا، صرف چربن پر بسر ہوتی تھی۔ اب وہ بھی بند ہوا۔ صرف لڑکے کے لیے رات کو روٹیاں رکھ دی جاتیں۔ ایک پیسہ کی تمباکو روزپی جاتا تھا۔ یہی ایک لت تھی جسے وہ کبھی نہ چھو ڑ سکا تھا۔ اب وہ بھی اس کٹھن برت کے بھینٹ ہو گئی۔ اس نے چلم پٹک دی، حقہ تو ڑ دیا اور تمبا کو کی ہانڈی چور چور رکرڈالی۔ کپڑے پہلے بھی تر ک کی انتہا ئی حد تک پہنچ چکے تھے۔ اب وہ باریک ترین قدر تی کپڑوں میں منسلک ہو گئے۔ ماگھ کی ہڈیو ں تک میں سیرایت کر جانے والی سردی کو اس نے آگ کے سہارے کا ٹ دیا۔
ا س اٹل ارادے کا نتیجہ امید سے بڑھ کر نکلا۔ سال کے آخر تک اس کے پا س ساٹھ روپے جمع ہو گئے۔ اس نے سمجھا کہ پنڈت جی کواتنے روپے دے دوں گااور کہوں گامہاراج باقی روپے بھی جلدی آپ کے سامنے حاضر کردوں گا۔ پندرہ کی تو اور بات ہے۔ کیا پنڈت جی اتنا بھی نہ مانیں گے۔ اس نے روپے لیے اور لے جا کر پنڈت جی کے قدموں پر رکھ دیے۔
پنڈ ت جی نے متعجب ہو کر پوچھا۔ ’’کسی سے ادھار لے کیا؟‘‘
’’شنکر‘‘۔ نہیں مہاراج !آپ کی اسیس سے اب کی مجوری اچھی ملی‘‘۔
پنڈ ت جی، ’’لیکن یہ تو ساٹھ ہی ہیں‘‘۔
شنکر۔ ’’ہاں مہاراج !اتنے ابھی لے لیجیے۔ باقی دوتین مہینے مین دے دوں گا۔ مجھے ارن کر دیجیے‘‘۔
پنڈ ت جی۔ ’’ارن تو جبھی ہوں گے، جب میری کوڑی کوڑی چکا دوگے؟جاکر میرے پندرہ او رلاؤ‘‘۔
شنکر۔ ’’مہاراج !اتنی دیا کرو۔ اب سانجھ کی روٹیوں کا بھی ٹھکانا نہیں ہے۔ گاؤ ں میں ہوں توکبھی نہ کبھی دے ہی دوں گا‘‘۔
پنڈت۔ ’’میں یہ روگ نہیں پالتا۔ نہ بہت باتیں کرنا جانتاہوں۔ اگر میرے پورے روپے نہ ملیں گے تو آج سے ساڑے تین روپے سیکڑہ کا بیاج چلے گا۔ اتنے روپے چاہے اپنے گھر میں رکھو چاہے میر ے یہاں چھوڑ جاؤ‘‘۔
شنکر۔ ’’اچھا، جتنالایا ہوں، اتنا رکھ لیجیے۔ میں جاتاہوں، کہیں سے پندرہ اور لانے کی فکر کرتا ہوں ‘‘۔
شنکر نے سارا گاؤ چھان مارا مگر کسی نے روپے نہ دیے۔ اس لیے نہیں کہ اس کا اعتبا ر نہ تھا، یا کسی کے پاس روپے نہ تھے، بلکہ پنڈت جی کے شکار کو چھیڑنے کی کسی میں ہمت نہ تھی۔

عمل کے بعد رد عمل کا قدرتی قاعدہ ہے۔ شنکر سال بھر تک تپسیاکرنے پر بھی جب قر ض بیباق کرنے میں کامیاب نہ ہوا تو اس کی احتیاط مایوسی کی شکل میں تبدیل ہوگئی۔ اس نے سمجھ لیاکہ جب اتنی تکلیف اٹھا نے پر سال بھر میں ساٹھ روپے سے زیادہ نہ جمع کر سکا تو اب کون سا اپا ئے ہے جس سے اس کے دونے روپے جمع ہوں۔ جب سرپر قر ض کا بو جھ ہی لدنا ہے توکیا من بھر اور کیا سوا من کا۔ اس کی ہمت پست ہوگئی محنت سے نفرت ہوگئی۔ امید ہی حوصلہ کی پیدا کرنے والی ہے۔ امید میں رونق ہے، طاقت ہے، زندگی ہے، امید ہی دنیا کی متحرک کرنے والی قوت ہے۔ شنکر مایوس ہوکر بے پر وا ہوگیا۔ وہ ضرور تیں جن کو اس نے سال بھر تک ٹال رکھا تھا۔ اب دروازے پر کھڑی ہونے والی بھکارنیں نہ تھیں، بلکہ سر پر سوار ہونے والی چڑیلیں تھیں جو اپنا چڑھا وا لیے بغیر جان ہی نہیں چھوڑتیں۔ کپڑوں میں پیوندلگنے کی بھی ایک حد ہوتی ہے۔ اب شنکر کو حساب ملتا تو روپے جمع نہ کرتا۔ کبھی کپڑے لاتا اور کبھی کھانے کی کوئی چیز۔ جہاں پہلے تمباکو پیا کرتا تھاوہاں اب گانجہ اور چرس کا چسکا بھی لگا۔ اسے اب روپے ادا کرنے کی کوئی فکر نہ تھی۔ گویا اس پر کسی کا ایک پیسہ بھی نہ تھا۔ پہلے لرزہ آجانے پر بھی وہ کا م کرنے ضرور جاتا تھا۔ اب کام پر نہ جانے کا بہانہ تلاش کیا کرتا۔
اس طرح تین سال گزر گئے۔ پنڈت جی مہاراج نے ایک بار بھی تقاضانہ کیا۔ وہ ہوشیاری شکاری کی طرح تیر بہد ف نشانہ لگانا چاہتے تھے۔ پہلے سے شکار کو بھڑ کا دینا ان کے شیوہ کے خلاف تھا۔
ایک روز پنڈ ت جی نے شنکر کوبلایا۔ حساب دکھایا۔ ساٹھ روپے جمع تھے وہ منہا کرنے پر بھی اب شنکر کے ذمے ایک سو بیس روپے نکلے۔
’’اتنے روپے تو اُسی جنم میں دوں گا۔ اس جنم میں نہیں ہوسکتا؟‘‘
پنڈ ت۔ ’’میں اسی جنم میں لوں گا۔ اصل نہ سہی سود تو دینا ہی پڑ ے گا ‘‘۔
شنکر۔ ’’ایک بیل ہے وہ لے لیجیے۔ ایک جھو نپڑی ہے، وہ لے لیجیے ‘‘اور میر ے پاس رکھاکیاہے؟‘‘۔
پنڈت۔ ’’مجھے بیل بد ہیالے کریکا کرنا ہے۔ مجھے دینے کو تمہارے پاس بہت کچھ ہے‘‘۔
شنکر۔ ’’اورکیا ہے مہاراج‘‘۔
پنڈت۔ ’’کچھ نہیں ہے، تم تو ہو؟ آخر تم بھی کہیں مزدوری کرنے ہی جاتے ہو۔ مجھے بھی کھیتی کرنے کے لیے ایک مزدور رکھناہی پڑتا ہے۔ سود میں تم ہما رے یہاں کام کیا کرو۔ جب سبھیتاہواصل بھی دے دینا۔ سچ تویہ ہے کہ اب تم دوسری جگہ کام کرنے کے لیے جانہیں سکتے۔ جب تک میر ے روپے نہ چکادو۔ تمہارے پاس کوئی جائیداد نہیں ہے۔ اتنی بڑی گٹھری میں کس اعتبار پر چھوڑدوں؟ کون اس کاذمہ لے گاتم مجھے مہینے مہینے سود دیے جاؤ گے۔ اور کہیں کما کر جب تم مجھے سود بھی نہیں دے سکتے تو اصل کی کو ن کہے؟‘‘۔
شنکر۔ ’’مہاراج !سود میں تو کا م کروں گا اور کھاؤ گاکیا؟‘‘۔
پنڈت ’’تمہاری گھر والی ہے، لڑکے ہیں۔ کیا وہ ہاتھ پیر کٹا بیٹھیں گے، تمہیں آدھ سیر جور وز چربن کے لیے دے دیا کروں گا۔ اوڑھنے کے لیے سال میں کمبل پاجاؤ گے۔ ایک سلوکا بھی بنو ادیا کروں گا، اورکیا چاہیے؟ یہ سچ ہے کہ اور لو گ تمہیں چھ آنے روز دیتے ہیں لیکن مجھے ایسی غرض نہیں ہے۔ میں تو تمہیں اپنے روپے بھر انے کے لیے رکھتا ہوں‘‘۔
شنکر نے کچھ دیر تک گہر ے سوچ میں پڑے رہنے کے بعد کہا۔ ’’مہاراج !یہ تو جنم بھر کی گلامی ہوئی؟۔
پندت۔ ’’غلامی سمجھو، چاہے مجوری سمجھو۔ میں اپنے روپے بھرائے بنا تمہیں نہ چھوڑوں گا۔ تم بھا گو گے تو تمہارا لڑکا۔ ہا ں جب کوئی نہ رہے گاتب کی بات دوسری ہے‘‘۔
اس فیصلہ کی کہیں اپیل نہ تھی۔ مزدور کی ضمانت کون کرتا؟ کہیں پناہ نہ تھی؟ بھاگ کر کہاں جاتا؟ دوسرے روز سے اس نے پنڈت جی کے ہاں کام کرنا شروع کردیا۔ سوا سیر گیہوں کی بدولت عمر بھر کے لیے غلامی کی بیڑ یا ں پاؤں میں ڈالنی بڑیں۔ اس بد نصیب کو اب اگر کسی خیال سے تسکین ہوتی تھی۔ تو اسی سے کہ یہ سب میرے پچھلے جنم کا بھو گ ہے۔ عورت کووہ کا م کرنے پڑے تھے جو اس نے کبھی نہ کیے تھے۔ بچے دانے دانے کو ترستے تھے، لیکن شنکر چپ دیکھنے کے سوااور کچھ نہ کر سکتا تھا۔ وہ گیہوں کے دانے کسی دیوتا بد ھا کی طرح تمام عمر اس کے سر سے نہ اترے۔

شنکر نے پنڈت جی کے یہاں بیس برس تک غلامی کرنے کے بعد اس غم کدے سے رحلت کی۔ ایک سو بیس ابھی تک اس کے سر پر سوار تھے۔ پنڈت جی نے اس غریب کو ایشور کے دربار میں تکلیف دینا مناسب نہ سمجھا۔ پس انہوں نے اس کے جوان بیٹے کی گردن پکڑی۔ آج تک وہ پنڈت جی کے یہاں کام کرتا ہے۔ اس کا ادھار کب ادا ہو گا، ہو گا بھی یا نہیں، ایشور ہی جانے۔
ناظرین! اس قصہ کوفرضی نہ سمجھئے، یہ سچا واقعہ ہے ایسے شنکروں اور ایسے پروہتوں سے دنیا خالی نہیں ہے۔

———————————-

Doo(2) Bayl by Munshi Premchand

Articles

دو بَیل

پریم چند

 

جھوری کاچھی کے پاس دو بیل تھے ۔ ایک کا نام تھا ہیرا اور دوسرے کا موتی ۔ دونوں دیکھنے میں خوب صورت، کام میں چوکس، ڈیل ڈول میں اونچے ۔ بہت دِنوں سے ایک ساتھ رہتے رہتے ، دونوں میں محبت ہوگئی تھی ۔ جس وقت یہ دونوں بیل ہَل یا گاڑی میں جوتے جاتے اور گردنیں ہِلا ہِلا کر چلتے تو ہر ایک کی یہی کوشش ہوتی کہ زیادہ بوجھ میری ہی گردن پر رہے ۔ ایک ساتھ ناند میں مُنھ ڈالتے ۔ ایک منھ ہٹا لیتا تو دوسرا بھی ہٹا لیتا اور ایک ساتھ ہی بیٹھتے ۔

ایک مرتبہ جھوری نے دونوں بیل چند دنوں کے لیے اپنی سُسرال بھیجے ۔ بیلوں کو کیا معلوم وہ کیوں بھیجے جارہے ہیں ۔ سمجھے مالک نے ہمیں بیچ دیا ۔ اگر اِن بے زبانوں کی زبان ہوتی تو جھوری سے پوچھتے :’’ تم نے ہم غریبوں کو کیوں نکال دیا؟ ہم نے کبھی دانے چارے کی شکایت نہیں کی ۔ تم نے جو کچھ کھِلایا ، سر جھکا کر کھالیا، پھر تم نےہمیں کیوں بیچ دیا۔ ‘‘

کسی وقت دونوں بیل نئے گاؤں جا پہنچے ۔ دِن بھر کے بھوکے تھے ، دونوں کا دِل بھاری ہو رہا تھا ۔ جسے اُنھوں نے اپناگھر سمجھا تھا ، وہ اُن سے چھوٹ گیا تھا ۔ جب گاؤں میں سوتا پڑگیا ، تو دونوں نے زور مار کر رسّے تڑالیے اور گھر کی طرف چلے ۔ جھوری نے صبح اُٹھ کر دیکھا تو دونوں بیل چرنی پر کھڑے تھے ۔ دونوں کے گھٹنوں تک پاؤں کیچڑ میں بھرے ہوئے تھے ۔ دونوں کی آنکھوں میں محبت کی ناراضگی جھلک رہی تھی ۔ جھوری اُن کو دیکھ کر محبت سے باؤلا ہوگیااور دوڑ کر اُن کے گلے سے لپٹ گیا ۔ گھر اور گاؤں کے لڑکے جمع ہوگئے اور تالیاں بجا بجا کر اُن کا خیر مقدم کرنے لگے ۔ کوئی اپنے گھر سے روٹیاں لایا ، کوئی گُڑ اور کوئی بھوسی ۔

جھوری کی بیوی نے بیلوں کو دروازے پر دیکھا تو جل اُٹھی، بولی :’’ کیسے نمک حرام بیل ہیں ۔ ایک دن بھی وہاں کام نہ کیا، بھاگ کھڑے ہوئے ۔ ‘‘
جھوری اپنے بیلوں پر یہ اِلزام برداشت نہ کرسکا ، بولا: ’’ نمک حرام کیوں ہیں ؟ چارہ نہ دیا ہوگا، تو کیا کرتے ۔ ‘‘
عورت نے تک کر کہا :’’بس تمھیں بیلوں کو کھِلانا جانتے ہو، اور تو سبھی پانی پِلا پِلا کر رکھتے ہیں ۔ ‘‘
دوسرے دِن جھوری کا سالا جس کا نام گیا تھا ، جھوری کے گھر آیا اور بیلوں کو دوبارہ لے گیا ۔ اب کے اُس نے گاڑی میں جوتا ۔ شام کو گھر پہنچ کر گیا نے دونوں کو موٹی رسّیوں سے باندھا اور پھر وہی خشک بھوسا ڈال دیا۔

ہیرا اور موتی اِس برتاؤ کے عادی نہ تھے ۔ جھوری اُنھیں پھول کی چھڑی سے بھی نہ مارتا تھا ، یہاں مار پڑی ، اِس پر خشک بھوسا، ناند کی طرف آنکھ بھی نہ اُٹھائی ۔ دوسرے دِن گیانے بیلوں کو ہل میں جوتا ، مگر اُنھوں نے پاؤں نہ اُٹھایا ۔ ایک مرتبہ جب اُس ظالِم نے ہیرا کی ناک پر ڈنڈا جمایا ، تو موتی غُصّے کے مارے آپے سے باہر ہوگیا ، ہل لے کے بھاگا۔ گلے میں بڑی بڑی رسیّاں نہ ہوتیں تو وہ دونوں نکل گئے ہوتے ۔ موتی تو بس اِینّٹھ کر رہ گیا۔ گیا آپہنچا اور دونوں کو پکڑ کر لے چلا ۔ آج دونوں کے سامنے پھر وہی خشک بھوسا لایا گیا۔ دونوں چُپ چاپ کھڑے رہے ۔ اُس وقت ایک چھوٹی سی لڑکی دو روٹیاں لیے نکلی اور دونوں کے منھ میں ایک ایک روٹی دے کر چلی گئی ۔ یہ لڑکی گیا کی تھی ۔ اُس کی ماں مرچکی تھی ۔ سوتیلی ماں اُسے مارتی رہتی تھی ۔ اُن بیلوں سے اُسے ہمدردی ہوگئی ۔

دونوں دِن بھر جوتے جاتے ۔ اُلٹے ڈنڈے کھاتے ، شام کو تھان پر باندھ دیے جاتے اور رات کو وہی لڑکی اُنھیں ایک ایک روٹی دے جاتی ۔

ایک بار رات کو جب لڑکی روٹی دے کر چلی گئی تو دونوں رسیّاں چبانے لگے ، لیکن موٹی رسّی منھ میں نہ آتی تھی ۔ بے چارے زور لگا کر رہ جاتے ۔ اتنے میں گھر کا دروازہ کھُلا اور وہی لڑکی نکلی ۔ دونوں سرجھکا کر اس کا ہاتھ چاٹنے لگے ۔ اُس نے اِن کی پیشانی سہلائی اور بولی :’’کھول دیتی ہوں ، بھا گ جاؤ ، نہیں تو یہ لوگ تمھیں مار ڈالیں گے ۔ آج گھر میں مشورہ ہو رہا ہے کہ تمھاری ناک میں ناتھ ڈال دی جائے ۔ ‘‘ اُس نے رسّے کھول دیے اور پھر خود ہی چلاّئی :’’ او دادا ! او دادا ! دونوں پھوپھا والے بیل بھاگے جارہے ہیں ۔دوڑو__دوڑو!‘‘

گیا گھبرا کر باہر نکلا ، اُس نے بیلوں کا پیچھا کیا وہ اور تیزہوگئے ۔ گیا نے جب اُن کو ہاتھ سے نکلتے دیکھا تو گاؤں کے کچھ اور آدمیوں کو ساتھ لینے کے لیے لوٹا ۔ پھر کیا تھا دونوں بیلوں کو بھاگنے کا موقع مِل گیا ۔ سیدھے دوڑے چلے گئے ۔ راستے کا خیال بھی نہ رہا ، بہت دور نکل گئے ، تب دونوں ایک کھیت کے کِنارے کھڑے ہو کر سوچنے لگے کہ اب کیا کرنا چاہیے ؟ دونوں بھوک سے بے حال ہو رہے تھے ۔ کھیت میں مٹر کھڑی تھی ، چرنے لگے ۔ جب پیٹ بھر گیا تو دونوں اُچھلنے کودنے لگے ۔ دیکھتے کیا ہیں کہ ایک موٹا تازہ سانڈ جھومتا چلا آرہا ہے ۔ دونوں دوست جان ہتھیلیوں پر لے کر آگے بڑھے ۔ جوں ہی ہیرا جھپٹا ، موتی نے پیچھے سے ہَلّہ بول دیا۔ سانڈ اُس کی طرف مڑا تو ہیرا نے ڈھکیلنا شروع کردیا۔ سانڈ غُصّے سے پیچھے مڑا تو ہیرا نے دوسرے پہلو میں سینگ رکھ دیے ۔ بے چارہ زخمی ہو کر بھاگا دونوں نے دور تک تعاقب کیا ۔ جب سانڈ بے دم ہو کر گِر پڑا ، تب جاکر دونوں نے اُس کا پیچھا چھوڑا۔

دونوں فتح کے نشے میں جھومتے چلے جارہے تھے ۔ پھرمٹر کے کھیت میں گُھس گئے۔ ابھی دو چار ہی منھ مارے تھے کہ دو آدمی لاٹھی لے کر آگئے اور دونوں بیلوں کو گھیر لیا ۔ دوسرے دن دونوں دوست کانجی ہاؤس میں بند تھے ۔

اُن کی زندگی میں پہلا موقع تھا کہ کھانے کو تِنکا بھی نہ ملا ۔ وہاں کئی بھینسیں تھیں ، کئی بکریاں ، کئی گھوڑے ، کئی گدھے ، مگر چارہ کسی کے سامنے نہ تھا۔ سب زمین پر مردے کی طرح پڑے تھے ۔ رات کو جب کھانا نہ ملا تو ہیرا بولا :’’ مجھے تو معلوم ہوتا ہے کہ جان نکل رہی ہے ۔ ‘‘ موتی نے کہا :’’ اتنی جلدی ہمّت نہ ہارو،بھائی یہاں سے بھاگنے کا کوئی طریقہ سوچو۔‘‘ ’’ باڑے کی دیوار کچّی تھی ۔ ہیرا نے اپنے نکیلے سینگ دیوار میں گاڑ کر سوراخ کیا اور پھر دوڑ دوڑ کر دیوار سے ٹکرّیں ماریں ۔ ٹکرّوں کی آواز سُن کر کانجی ہاؤس کا چوکیدار لالٹین لے کر نکلا۔ اُس نے جو یہ رنگ دیکھا تو دونوں کو کئی ڈنڈے رسید کیے اور موٹی رسّی سے باندھ دیا ہیرا اور موتی نے پھر بھی ہمّت نہ ہاری ۔ پھر اُسی طرح دیوار میں سینگ لگا کر زور کرنے لگے ۔ آخر دیوار کا کچھ حِصّہ گر گیا۔ دیوار کا گرنا تھا کہ جانور اُٹھ کھڑے ہوئے ۔ گھوڑے ، بھیڑ، بکریاں ، بھینسیں سب بھاگ نکلے ۔ ہیرا، موتی رہ گئے صبح ہوتے ہوتے منشیوں ، چوکیداروں اور دوسرے ملازمین میں کھَلبَلی مچ گئی ۔ اُس کے بعد اُن کی خوب مرمّت ہوئی۔ اب اور موٹی رسّی سے باندھ دیا گیا ۔

ایک ہفتے تک دونوں بیل وہاں بندھے پڑے رہے ۔ خدا جانے کانجی ہاؤس کے آدمی کتنے بے درد تھے ، کسی نے بے چاروں کو ایک تنکا بھی نہ دیا۔ ایک مرتبہ پانی دکھا دیتے تھے ۔ یہ اُن کی خوراک تھی ۔ دونوں کمزور ہوگئے ۔ ہڈّیاں نکل آئیں ۔

ایک دِن باڑے کے سامنے ڈگڈگی بجنے لگی اور دوپہرہوتے ہوتے چالیس پچاس آدمی جمع ہوگئے ۔ تب دونوں بیل نکالے گئے ۔ لوگ آکراُن کی صورت دیکھتے اور چلے جاتے اِن کمزور بیلوں کو کون خریدتا ! اتنے میں ایک آدمی آیا ، جس کی آنکھیں سُرخ تھیں ، وہ منشی جی سے باتیں کرنے لگا ۔ اس کی شکل دیکھ کر دونوں بیل کانپ اُٹھے ۔ نیلام ہو جانے کے بعد دونوں بیل اُس آدمی کے ساتھ چلے ۔

اچانک اُنھیں ایسا معلوم ہوا کہ یہ رستہ دیکھا ہوا ہے ۔ ہاں ! اِدھر ہی سے تو گیا اُن کو اپنے گاؤں لے گیا تھا ، وہی کھیت ، وہی باغ ، وہی گاؤں، اب اُن کی رفتار تیز ہونے لگی۔ ساری تکان ، ساری کمزوری ، ساری مایوسی رفع ہوگئی ۔ ارے ! یہ تو اپنا کھیت آگیا ۔ یہ اپنا کنواں ہے ، جہاں ہر روز پانی پیا کرتے تھے ۔

دونوں مست ہو کر کُلیلیں کرتے ہوئے گھر کی طرف دوڑے اوراپنے تھان پر جاکر کھڑے ہوگئے ۔ وہ آدمی بھی پیچھے پیچھے دوڑاآیا ۔ جھوریدروازے پر بیٹھا کھانا کھا رہا تھا ، بیلوں کو دیکھتے ہی دوڑا اور انھیں پیار کرنے لگا۔ بیلوں کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔

اُس آدمی نے آکر بیلوں کی رسیاں پکڑ لیں ۔ جھوری نے کہا :’’ یہ بیل میرے ہیں ۔‘‘ ’’تمہارے کیسے ہیں ۔ میں نے نیلام میں لیے ہیں ۔ ‘‘ وہ آدمی زبردستی بیلوں کو لے جانے کے لیے آگے بڑھا ۔ اُسی وقت موتی نے سینگ چلایا ، وہ آدمی پیچھے ہٹا ۔ موتی نے تعاقب کیا اور اُسے کھدیڑتا ہوا گاؤں کے باہر تک لے گیا۔ گاؤں والے یہ تماشا دیکھتے تھے اورہنستے تھے ۔ جب وہ آدمی ہار کر چلا گیا تو موتی اکڑتا ہوا لوٹ آیا۔

ذراسی دیر میں ناند میں کھلی ، بھوسا ، چوکر ، دانا سب بھردیا گیا۔ دونوں بیل کھانے لگے ۔ جھوری کھڑا اُن کی طرف دیکھتا رہا اور خوش ہوتا رہا، بیسیوں لڑکے تماشا دیکھ رہے تھے ۔ سارا گاؤں مُسکراتا ہوا معلوم ہوتا تھا۔

اُسی وقت مالکن نے آخر دونوں بیلوں کے ماتھے چوم لیے ۔

—————————

Shikwa Shikayat by Munshi Prem Chand

Articles

شکوہ شکایت

منشی پریم چند

 

 

 

زندگی کا بڑا حصّہ تو اسی گھر میں گزر گیا مگر کبھی آرام نہ نصیب ہوا۔ میرے شوہر دُنیا کی نگاہ میں بڑے نیک اور خوش خلق اور فیاض اور بیدار مغز ہوں گے لیکن جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے۔ دُنیا کو تو ان لوگوں کی تعریف میں مزا آتا ہے جو اپنے گھر کو جہنم میں ڈال رہے ہوں اور غیروں کے پیچھے اپنے آپ کو تباہ کئے کئے ڈالتے ہوں۔ جو گھر والوں کے لئے مرتا ہے اس کی تعریف دُنیا والے نہیں کرتے۔ وہ تو ان کی نگاہ میں خود غرض ہے، بخیل ہے، تنگ دل ہے، مغرور ہے، کور باطن ہے۔ اسی طرح جو لوگ باہر والوں کے لئے مرتے ہیں ان کی تعریف گھر والے کیوں کرنے لگے۔ اب ان ہی کو دیکھوصبح سے شام تک مجھے پریشان کیا کرتے ہیں۔ باہر سے کوئی چیز منگواؤ تو اسی دُکان سے لائیں گے جہاں کوئی گاہک بھول کر بھی نہ جاتا ہے۔ ایسی دُکانوں پر نہ چیز اچھی ملتی ہے نہ وزن ٹھیک ہوتا ہے۔ نہ دام ہی مناسب۔ یہ نقائص نہ ہوتے تو وہ دُکان بدنام ہی کیوں ہوتی۔ انہیں ایسی ہی دُکانوں سے سودا سلف خریدنے کا مرض ہے۔ با رہا کہا کسی چلتی ہوئی دُکان سے چیزیں لایا کرو وہاں مال زیادہ کھپتا ہے۔ اس لئے تازہ مال آتا رہتا ہے۔ مگر نہیں ٹٹ پونجیوں سے ان کو ہمدردی ہے اور وہ انہیں اُلٹے استرے سے مونڈتے ہیں۔ گیہوں لائیں گے تو سارے بازار سے خراب گھنا ہوا، چاول ایسا موٹا کہ بیل بھی نہ پوچھے۔ دال میں کنکر بھرے ہوئے۔ منوں لکڑی جلا ڈالو، کیا مجال کہ گلے۔ گھی لائیں گے تو آدھوں آدھ تیل اور نرخ اصلی گھی سے ایک چھٹانک کم۔ تیل لائیں گے تو ملاوٹ کا۔ بالوں میں ڈالو تو چیکٹ جائیں، مگر دام دے آئیں گے اعلیٰ درجے کے، چنبیلی کے تیل کے۔ چلتی ہوئی دُکان پر جاتے تو جیسے انہیں ڈر لگتا ہے۔ شاید”اونچی دُکان اور پھیکا پکوان” کے قائل ہیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ نیچی دُکان پر سڑے پکوان ہی ملتے ہیں۔ ایک دن کی بات ہو تو برداشت کر لی جائے۔ روز روز کی یہ مصیبت برداشت نہیں ہوتی ہے۔ کہتی ہوں آخر ٹٹ پونجیوں کی دُکان پر جاتے ہی کیوں ہیں، کیا ان کی پرورش کا ٹھیکہ تم ہی نے لے لیا ہے؟ آپ فرماتے ہیں”مجھے دیکھ کر بلانے لگتے ہیں۔” خوب! ذرا انہیں بلا لیا اور خوشامد کے دو چار الفاظ سنا دئے، بس آپ کا مزاج آسمان پر جا پہنچا۔ پھر انہیں سدھ نہیں رہتی کہ وہ کوڑا کرکٹ باندھ رہا ہے یا کیا۔ پوچھتی ہوں تم اس راستے سے جاتے ہیں کیو ں ہو؟ کیوں کسی دوسرے راستے سے نہیں جاتے؟ ایسے اٹھائی گیروں کو منہ ہی کیوں لگاتے ہو؟ اس کا کوئی جواب نہیں۔ ایک خموشی سو بلاؤں کو ٹالتی ہے۔

ایک بار ایک زیور بنوانا تھا۔ میں تو حضرت کو جانتی تھی۔ ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہ سمجھی۔ ایک پہچان کے سنار کو بلا رہی تھی۔ اتفاق سے آپ بھی موجود تھے۔ بولے یہ فرقہ بالکل اعتبار کے قابل نہیں، دھوکا کھاؤ گی۔ میں ایک سنار کو جانتا ہوں۔ میرے ساتھ کا پڑھا ہوا ہے۔ برسوں ساتھ ساتھ کھیلے ہیں۔ میرے ساتھ چالبازی نہیں کر سکتا۔ میں نے سمجھا جب ان کا دوست ہے اور وہ بھی بچپن کا، تو کہاں تک دوستی کا حق نہ نبھائے گا۔ سونے کا ایک زیور اور پچاس روپے ان کے حوالے کئے اور اس بھلے آدمی نے وہ چیز اور روپے نہ جانے کس بے ایمان کو دے دئے کہ برسوں کے پیہم تقاضوں کے بعد جب چیز بن کر آئی تو روپے میں آٹھ آنے تانبا اور اتنی بدنما کہ دیکھ کر گھن آتی تھی۔ برسوں کاارمان خاک میں مل گیا۔ رو پیٹ کر بیٹھ رہی۔ ایسے ایسے وفادار تو ان کے دوست ہیں جنہیں دوست کی گردن پر چھری پھیرنے میں عار نہیں۔

ان کی دوستی بھی انہیں لوگوں سے ہے جو زمانہ بھر کے فاقہ مست، قلانچ، بے سرو سامان ہیں، جن کا پیشہ ہی ان جیسے آنکھ کے اندھوں سے دوستی کرنا ہے۔ روز ایک نہ ایک صاحب مانگنے کے لئے سرپر سوار رہتے ہیں اور بلا لئے گلا نہیں چھوڑتے۔ مگر ایسا کبھی نہیں ہوا کہ کسی نے روپے ادا کئے ہوں۔ آدمی ایک بار کھو کر سیکھتا ہے، دو بار کھو کر سیکھتا ہے، مگر یہ بھلے مانس ہزار بار کھو کر بھی نہیں سیکھتے۔ جب کہتی ہوں روپے تو دے دئے اب مانگ کیوں نہیں لاتے۔ کیا مر گئے تمہارے دوست؟ تو بس بغلیں جھانک کر رہ جاتے۔ آپ سے دوستوں کو سوکھا جواب نہیں دیا جاتا۔ خیر سوکھا جواب نہ دو، میں یہ بھی نہیں کہتی کہ دوستوں سے بے مروّتی کرو۔ مگر ٹال تو سکتے ہیں۔ کیا بہانے نہیں بنا سکتے؟ مگر آپ انکار نہیں کر سکتے۔ کسی دوست نے کچھ طلب کیا اور آپ کے سر پر بوجھ پڑا۔ بے چارے کیسے انکار کریں۔ آخر لوگ جان جائیں گے یہ حضرت بھی فاقہ مست ہیں۔ دُنیا انہیں امیر سمجھتی ہے چاہے میرے زیور ہی کیوں نہ گروی رکھنے پڑیں۔ سچ کہتی ہوں بعض اوقات ایک ایک پیسے کی تنگی ہو جاتی ہے اور اس بھلے آدمی کو روپے جیسے گھر میں کاٹتے ہیں۔ جب تک روپے کے وارے نیارے نہ کر لے اسے کسی پہلو قرار نہیں۔ ان کے کرتوت کہاں تک کہوں۔ میرا تو ناک میں دم آگیا۔ ایک نہ ایک مہمان روز بلائے بے درماں کی طرح سر پر سوار۔ نہ جانے کہاں کے بے فکرے ان کے دوست ہیں۔ کوئی کہیں سے آ کر مرتا ہے، کوئی کہیں سے۔ گھر کیا ہے اپاہجوں کو اڈہ ہے۔ ذرا سا گھر، مشکل سے دو تو چارپائیاں۔ اوڑھنا بچھونا بھی بافراط نہیں مگر آپ ہیں کہ دوستوں کو دینے کے لئے تیار۔ آپ تو مہمان کے ساتھ لیٹیں گے۔ اس لئے انہیں چارپائی بھی چاہئے۔ اوڑھنا بچھونا بھی چاہئے ورنہ گھر کا پردہ کھل جائے، جاتی ہے تو میرے اور بچوں کے سر۔ زمین پر پڑے سکڑ کر رات کاٹتے ہیں، گرمیوں میں تو خیر مضائقہ نہیں لیکن جاڑوں میں تو بس قیامت ہی آ جاتی ہے۔ گرمیوں میں بھی کھلی چھت پر تو مہمانوں کا قبضہ ہو جاتا ہے۔ اب میں بچوں کو لئے قفس میں پڑی تڑپا کروں۔ اتنی سمجھ بھی نہیں کہ جب گھر کی یہ حالت ہے تو کیوں ایسوں کو مہمان بنائیں جن کے پاس کپڑے لتے تک نہیں۔ خدا کے فضل سے ان کے سبھی دوست ایسے ہی ہیں۔ ایک بھی خدا کا بندہ ایسا نہیں، جو ضرورت کے وقت ان کے دھیلے سے بھی مدد کر سکے۔ دو ایک بار حضرت کو اس کا تجربہ اور بے حد تلخ تجربہ ہو چکا ہے۔ مگر اس مردِ خدا نے تو آنکھیں نہ کھولنے کی قسم کھا لی ہے۔ ایسے ہی ناداروں سے ان کی پٹتی ہے، ایسے ایسے لوگوں سے آپ کی دوستی ہے کہ کہتے شرم آتی ہے۔ جسے کوئی اپنے دروازے پر کھڑا بھی نہ ہونے دے، وہ آپ کا دوست ہے۔ شہر میں اتنے امیر کبیر ہیں، آپ کا کسی سے ربط ضبط نہیں، کسی کے پاس نہیں جاتے۔ امرا مغرور ہیں، مُدَمِّغ ہیں، خوشامد پسند ہیں، ان کے پاس کیسے جائیں، دوستی گانٹھیں گے ایسوں سے جن کے گھر میں کھانے کو بھی نہیں۔

ایک بار ہمارا خدمت گار چلا گیا اور کئی دن دوسرا خدمت گار نہ ملا۔ میں کسی ہوشیار اور سلیقہ مند نوکر کی تلاش میں تھی مگر بابو صاحب کو جلد سے جلد کوئی آدمی رکھ لینے کی فکر سوار ہوئی۔ گھر کے سارے کام بدستور چل رہے تھے مگر آپ کو معلوم ہو رہا تھا کہ گاڑی رکی ہوئی ہے۔ ایک دن جانے کہاں سے ایک بانگڑو کو پکڑ لائے۔ اس کی صورت کہے دیتی تھی کہ کوئی جانگلو ہے مگر آپ نے اس کی ایسی ایسی تعریفیں کیں کہ کیا کہوں! بڑا فرماں بردار ہے، پرلے سرے کا ایمان دار، بلا کا محنتی، غضب کا سلیقہ شعار اور انتہا درجے کا با تمیز۔ خیر میں نے رکھ لیا۔ میں بار بار کیوں کر ان کی باتوں میں آ جاتی ہوں، مجھے خود تعجب ہے۔ یہ آدمی صرف شکل سے آدمی تھا، آدمیت کی کوئی علامت اس میں نہ تھی۔ کسی کام کی تمیز نہیں۔ بے ایمان نہ تھا مگر احمق اوّل نمبر کا۔ بے ایمان ہوتا تو کم سے کم اتنی تسکین تو ہوتی کہ خود کھاتا ہے۔ کم بخت دُکان داروں کی فطرتوں کا شکار ہو جاتا تھا۔ اسے دس تک گنتی بھی نہ آتی تھی۔ ایک روپیہ دے کر بازار بھیجوں تو شام تک حساب نہ سمجھا سکے۔ غصہ پی پی کر رہ جاتی تھی۔ خون جوش کھانے لگتا تھا کہ سور کے کان اکھاڑ لوں۔ مگر ان حضرت کو کبھی اسے کچھ کہتے نہیں دیکھا۔ آپ نہا کر دھوتی چھانٹ رہے ہیں اور و ہ دور بیٹھا تماشہ دیکھ رہا ہے۔ میرا خون کھولنے لگتا، لیکن انہیں ذرا بھی احساس نہیں ہوتا۔ جب میرے ڈانٹنے پر دھوتی چھانٹنے جاتا بھی تو آپ اسے قریب نہ آنے دیتے۔ اس کے عیبوں کو ہنر بنا کر دکھایا کرتے تھے اور اس کوشش میں کامیاب نہ ہوتے تو ان عیوب پر پردہ ڈال دیتے تھے۔ کم بخت کو جھاڑو دینے کی بھی تمیز نہ تھی۔ مردانہ کمرہ ہی تو سارے گھر میں ڈھنگ کا ایک کمرہ ہے، اس میں جھاڑو دیتا تو ادھر کی چیز اُدھر، اوپر کی نیچے گویا سارے کمرے میں زلزلہ آ گیا ہو۔ اور گرد کا یہ عالم کہ سانس لینی مشکل مگر آپ کمرے میں اطمینان سے بیٹھے رہتے۔ گویا کوئی بات ہی نہیں۔ ایک دن میں نے اسے خوب ڈانٹا اور کہہ دیا، “اگر کل سے تو نے سلیقے سے جھاڑو نہ دی تو کھڑے کھڑے نکال دوں گی۔”

سویرے سو کر اٹھتی تو دیکھتی ہوں کمرے میں جھاڑو دی ہوئی ہے۔ ہر ایک چیز قرینے سے رکھی ہے۔ گرد و غبار کا کہیں نام نہیں۔ آپ نے فوراً ہنس کر کہا، “دیکھتی کیا ہو، آج گھورے نے بڑے سویرے جھاڑو دی ہے۔ میں نے سمجھا دیا، تم طریقہ تو بتلاتی نہیں ہو، الٹی ڈانٹنے لگتی ہو۔” لیجئے صاحب! یہ بھی میری ہی خطا تھی۔ خیر، میں نے سمجھا اس نالائق نے کم سے کم ایک کام تو سلیقے کے ساتھ کیا۔ اب روز کمرہ صاف ستھرا ملتا اور میری نگاہوں میں گھورے کی کچھ وقعت ہونے لگی۔ اتفاق کی بات ایک دن میں ذرا معمول سے سویرے اٹھ بیٹھی اور کمرے میں آئی تو کیا دیکھتی ہوں کہ گھورے دروازے پر کھڑا ہے اور خود بدولت بڑی تن دہی سے جھاڑو دے رہے ہیں۔ مجھ سے ضبط نہ ہو سکا۔ ان کے ہاتھ سے جھاڑو چھین لی اور گھورے کے سر پر پٹک دی۔ حرام خور کو اسی وقت دھتکار بتائی۔ آپ فرمانے لگے، اس کی تنخواہ تو بیباق کر دو۔ خوب! ایک تو کام نہ کرے، دوسرے آنکھیں دکھائے، اس پر تنخواہ بھی دے دوں۔ میں نے ایک کوڑی بھی نہ دی۔ ایک کرتا دیا تھا وہ بھی چھین لیا۔ اس پر حضرت کئی دن مجھ سے روٹھے رہے۔ گھر چھوڑ کر بھاگے جا رہے تھے، بڑی مشکلوں سے رکے۔

ایک دن مہتر نے اتارے کپڑوں کا سوال کیا۔ اس بے کاری کے زمانے میں فالتو کپڑے کس کے گھر میں ہیں۔ میرے یہاں تو ضروری کپڑے بھی نہیں۔ حضرت ہی کا توشہ خانہ ایک بغچی میں آ جائے گا جو ڈاک کے پارسل سے کہیں بھیجا جا سکتا ہے۔ پھر اس سال سردی کے موسم میں نئے کپڑے بنوانے کی نوبت بھی نہ آئی تھی۔ میں نے مہتر کو صاف جواب دے دیا۔ سردی کی شدت تھی اس کا مجھے خود احساس تھا۔ غریبوں پر کیا گزرتی ہے، اس کا بھی علم تھا لیکن میرے یا آپ کے پاس افسوس کے سوا اور کیا علاج ہے۔ جب رؤسا اور امرا کے پاس ایک مال گاڑی کپڑوں سے بھری ہوئی ہے تو پھر غربا کیوں نہ برہنگی کا عذاب جھیلیں۔ خیر! میں نے تو اسے جواب دے دیا۔ آپ نے کیا کیا، اپنا کوٹ اُتار کر اس کے حوالے کر دیا۔ میری آنکھوں میں خون اتر آیا۔ حضرت کے پاس یہی ایک کوٹ تھا۔ یہ خیال نہ ہوا کہ پہنیں گے کیا۔ مہتر نے سلام کیا، دعائیں دیں اور اپنی راہ لی۔ آخر کئی دن سردی کھاتے رہے، صبح کو گھومنے جایا کرتے تھے، وہ سلسلہ بھی بند ہو گیا۔ مگر دل بھی قدرت نے انہیں عجیب قسم کا دیا ہے۔ پھٹے پرانے کپڑے پہنتے آپ کو شرم نہیں آتی۔ میں تو کٹ جاتی ہوں، آپ کو مطلق احساس نہیں۔ کوئی ہنستا ہے تو ہنسے۔ آپ کی بلا سے۔ آخر مجھ سے دیکھا نہ گیا تو ایک کوٹ بنوا دیا۔ جی تو جلتا تھا کہ خوب سردی کھانے دوں مگر ڈری کہ کہیں بیمار پڑ جائیں تو اور بھی آفت آ جائے۔ آخر کام تو انہیں کو کرنا ہے۔ یہ اپنے دل میں سمجھتے ہوں گے کہ میں کتنا نیک نفس اور منکسر المزاج ہوں۔ شاید انہیں ان اوصاف پر ناز ہو۔ میں انہیں نیک نفس نہیں سمجھتی ہوں۔ یہ سادہ لوحی نہیں، سیدھی سادی حماقت ہے۔ جس مہتر کو آپ نے اپنا کوٹ دیا اسی کو میں نے کئی بار رات کو شراب کے نشے میں بد مست جھومتے دیکھا ہے اور آپ کو دکھا بھی دیا ہے، تو پھر دوسروں کی کج روی کا تاوان ہم کیوں دیں؟ اگر آپ نیک نفس اور فیاض ہوتے تو گھر والوں سے بھی تو فیاضانہ برتاؤ کرتے یا ساری فیاضی باہر والوں کے لئے ہی مخصوص ہے۔ گھر والوں کو اس کا عشرِ عشیر بھی نہ ملنا چاہئے؟ اتنی عمر گزر گئی مگر اس شخص نے کبھی اپنے دل سے میرے لئے ایک سوغات بھی نہ خریدی۔ بے شک جو چیز طلب کروں اسے بازار سے لانے میں انہیں کلام نہیں، مطلق عذر نہیں مگر روپیہ بھی دے دوں یہ شرط ہے۔ انہیں خود کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ یہ میں مانتی ہوں کہ بچارے اپنے لئے بھی کچھ نہیں لاتے۔ میں جو کچھ منگوا دوں اسی پر قناعت کر لیتے ہیں۔ مگر انسان کبھی کبھی شوق کی چیزیں چاہتا ہی ہے اور مردوں کو دیکھتی ہوں، گھر میں عورت کے لئے طرح طرح کے زیور، کپڑے، شوق سنگھار کے لوازمات لاتے رہتے ہیں۔ یہاں یہ رسم ممنوع ہے۔ بچوں کے لئے مٹھائی، کھلونے، باجے، بگل شاید اپنی زندگی میں ایک بار بھی نہ لائے ہوں، قسم سی کھا لی ہے۔ اس لئے میں تو انہیں بخیل کہوں گی، مردہ دل ہی کہوں گی۔ فیاض نہیں کہہ سکتی۔

دوسروں کے ساتھ ان کا جو فیاضانہ سلوک ہے اسے مَیں حرص نمود اور سادہ لوحی پر محمول کرتی ہوں۔ آپ کی منکسر المزاجی کا یہ حال ہے کہ جس دفتر میں آپ ملازم ہیں اس کے کسی عہدہ دار سے آپ کا میل جول نہیں۔ افسروں کو سلام کرنا تو آپ کے آئین کے خلاف ہے۔ نذر یا ڈالی کی بات تو الگ ہے اور تو اور کبھی کسی افسر کے گھر جاتے ہی نہیں۔ اس کا خمیازہ آپ نہ اُٹھائیں تو کون اُٹھائے اوروں کو رعایتی چھٹیاں ملتی ہیں، آپ کی تنخواہ کٹتی ہے اوروں کی ترقیاں ہوتی ہیں آپ کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔ حاضری میں پانچ منٹ بھی دیر ہو جائے تو جواب طلب ہو جاتا ہے۔ بچارے جی توڑ کر کام کرتے ہیں۔ کوئی پیچیدہ، مشکل کام آ جائے تو انہیں کے سر منڈھا جاتا ہے۔ انہیں مطلق عذر نہیں، دفتر میں انہیں گھسو اور پسو وغیرہ خطابات ملے ہوئے ہیںمگر منزل کتنی ہی دشوار طے کریں ان کی تقدیر میں وہی سوکھی گھاس لکھی ہے۔ یہ انکساری نہیں ہے۔ میں تو اسے زمانہ شناسی کا فقدان کہتی ہوں۔ آخر کیوں کوئی شخص آپ سے خوش ہو۔ دُنیا میں مروت اور رواداری سے کام چلتا ہے، اگر ہم کسی سے کھنچے رہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ ہم سے نہ کھنچا رہے، پھر جب دل میں کبیدگی ہوتی ہے تو وہ دفتری تعلقات میں ظاہر ہو جاتی ہے۔ جو ماتحت افسر کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہے، جس کی ذات سے افسر کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے، جس پر اعتبار ہوتا ہے، اس کا لحاظ وہ لازمی طور پر کرتا ہے۔ ایسے بے غرضوں سے کیوں کسی کو ہمدردی ہونے لگی۔ افسر بھی انسان ہیں۔ ان کے دل میں جو اعزاز و امتیار کی ہوس ہوتی ہے وہ کہاں پوری ہو۔ جب اس کے ماتحت ہی فرنٹ رہیں۔ آپ نے جہاں ملازمت کی وہاں سے نکالے گئے۔ کبھی کسی دفتر میں سال دو سال سے زیادہ نہ چلے۔ یا تو افسروں سے لڑ گئے یا کام کی کثرت کی شکایت کر بیٹھے۔

آپ کو کنبہ پروری کا دعویٰ ہے۔ آپ کے کئی بھائی بھتیجے ہیں۔ وہ کبھی آپ کی بات بھی نہیں پوچھتے۔ مگر آپ برابر ان کا منہ تاکتے رہتے ہیں۔ ان کے ایک بھائی صاحب آج کل تحصیل دار ہیں۔ گھر کی جائیداد انہی کی نگرانی میں ہے۔ وہ شان سے رہتے ہیں، موٹر خرید لی ہے۔ کئی نوکر ہیں، مگر یہاں بھولے سے بھی خط نہیں لکھتے۔ ایک بار ہمیں روپے کی سخت ضرورت ہوئی، میں نے کہا اپنے برادر مکرم سے کیوں نہیں مانگتے؟ کہنے لگے انہیں کیوں پریشان کروں۔ آخر انہیں بھی تو اپنا خرچ کرنا ہے۔ کون سی ایسی بچت ہو جاتی ہو گی۔ میں نے بہت مجبور کیا، تو آ پ نے خط لکھا۔ معلوم نہیں خط میں کیا لکھا، لیکن روپے نہ آنے تھے نہ آئے۔ کئی دنوں کے بعد میں نے پوچھا، “کچھ جواب آیا حضور کے بھائی صاحب کے دربار سے؟” آپ نے ترش ہو کر کہا، “ابھی ایک ہفتہ تو خط بھیجے ہوا۔ ابھی کیا جواب آ سکتا ہے؟ ایک ہفتہ اور گزرا۔ اب آپ کا یہ حال ہے کہ مجھے کوئی بات کرنے کا موقع ہی نہیں عطا فرماتے۔ اتنے بشاش نظر آتے ہیں کہ کیا کہوں۔ باہر سے آتے ہیں تو خوش خوش۔ کوئی نہ کوئی شگوفہ لئے ہوئے۔ میری خوشامد بھی خوب ہو رہی ہے۔ میرے میکے والوں کی بھی تعریف ہو رہی ہے۔ میں حضرت کی چال سمجھ رہی تھی۔ یہ ساری دلجوئیاں محض اس لئے تھیں کہ آپ کے برادرم مکرم کے متعلق کچھ پوچھ نہ بیٹھوں۔ سارے، ملکی، مالی، اخلاقی تمدنی مسائل میرے سامنے بیان کئے جاتے تھے، اتنی تفصیل اور شرح کے ساتھ کہ پروفیسر بھی دنگ رہ جائے۔ محض اس لئے کہ مجھے اس امر کی بابت کچھ پوچھنے کا موقع نہ ملے لیکن میں کیا چُوکنے والی تھی، جب پورے دو ہفتے گزر گئے اور بیمہ کمپنی کے روپے روانہ کرنے کی تاریخ موت کی طرح سر پر آ پہنچی تو میں نے پوچھا کیا ہوا؟ تمہارے بھائی صاحب نے دہن مبارک سے کچھ فرمایا یا ابھی تک خط ہی نہیں پہنچا۔ آخر ہمارا حصہ بھی گھر کی جائیداد میں کچھ ہے یا نہیں یا ہم کسی لونڈی باندی کی اولاد ہیں؟ پانچ سو روپے سال کا منافع نو دس سال قبل تھا، اب ایک ہزار سے کم نہ ہو گا۔ کبھی ایک جھنجی کوڑی بھی ہمیں نہ ملی۔ موٹے حساب سے ہمیں دو ہزار ملنا چاہئے۔ دو ہزار نہ ہو، ایک ہزار ہو، پانچ سو ہو، ڈھائی سو ہو، کچھ نہ ہو تو بیمہ کمپنی کے پریمیم بھرنے کو تو ہو۔ تحصیل دار کی آمدنی ہماری آمدنی سے چوگنی ہے، رشوتیں بھی لیتے ہیں۔ تو پھر ہمارے روپے کیوں نہیں دیتے۔ آپ ہیں ہیں، ہاں ہاں کرنے لگے۔ بچارے گھر کی مرمت کراتے ہیں۔ عزیز و اقارب کی مہمان داری کا بار بھی تو انہیں پر ہے۔ خوب! گویا جائداد کا منشا محض یہ ہے کہ اس کی کمائی اسی میں صرف ہو جائے۔ اس بھلے آدمی کو بہانے بھی گھڑنے نہیں آتے۔ مجھ سے پوچھتے، میں ایک نہیں تو ہزار بتا دیتی۔ کہہ دیتے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا اثاثہ جل کر خاک ہو گیا۔ یا چوری ہو گئی۔ چور نے گھر میں تنکا تک نہ چھوڑا۔ یا دس ہزار کا غلّہ خریدا تھا۔ اس میں خسارہ ہو گیا۔ گھاٹے سے بیچنا پڑا۔ یا کسی سے مقدمہ بازی ہو گئی اس میں دیوالیہ پٹ گیا۔

آپ کو سوجھی بھی تو لچر سی بات۔ اس جولانئ طبع پر آپ مصنف اور شاعر بھی بنتے ہیں۔ تقدیر ٹھونک کر بیٹھی رہی۔ پڑوس کی بی بی سے قرض لئے تب جا کر کہیں کام چلا۔ پھر بھی آپ بھائی بھتیجوں کی تعریف کے پل باندھتے ہیں تو میرے جسم میں آگ لگ جاتی ہے۔ ایسے برادرانِ یوسف سے خدا بچائے۔

خدا کے فضل سے آپ کے دو بچے ہیں، دو بچیاں بھی ہیں۔ خدا کا فضل کہوں یا خدا کا قہر کہوں، سب کے سب اتنے شریر ہو گئے کہ معاذ اللہ۔ مگر کیا مجال کہ یہ بھلے مانس کسی بچے کو تیز نگاہ سے بھی دیکھیں۔ رات کے آٹھ بج گئے ہیں، بڑے صاحب زادے ابھی گھوم کر نہیں آئے۔ میں گھبرا رہی ہوں۔ آپ اطمینان سے بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہیں۔ جھلائی ہوئی آتی ہوں اور اخبار چھین کر کہتی ہوں، “جا کر ذرا دیکھتے کیوں نہیں لونڈا کہاں رہ گیا۔ نہ جانے تمہارے دل میں کچھ قلق ہے بھی یا نہیں۔ تمہیں تو خدا نے اولاد ہی ناحق دی۔ آج آئے تو خوب ڈانٹنا۔” تب آپ بھی گرم ہو جاتے ہیں۔ “ابھی تک نہیں آیا۔ بڑا شیطان ہے۔ آج بچوُ آتے ہیں تو کان اکھاڑ لیتا ہوں، مارے تھپڑوں کے کھال ادھیڑ کر رکھ دوں گا۔ یوں بگڑ کر طیش کے عالم میں آپ اس کو تلاش کرنے نکلتے ہیں۔ اتفاق سے آپ ادھر جاتے ہیں، ادھر لڑکا آ جاتا ہے۔ میں کہتی ہوں کدھر سے آ گیا۔ وہ بچارے تجھے ڈھونڈنے گئے ہوئے ہیں۔ دیکھنا آج کیسی مرمت ہوتی ہے۔ یہ عادت ہی چھوٹ جائے گی۔ دانت پیس رہے تھے آتے ہی ہوں گے۔ چھڑی بھی ہاتھ میں ہے۔ تم اتنے شریر ہو گئے ہو کہ بات نہیں سنتے۔ آج قدر و عافیت معلوم ہو گی۔ لڑکا سہم جاتا ہے اور لیمپ جلا کر پڑھنے لگتا ہے۔ آپ ڈیڑھ دو گھنٹے میں لوٹتے ہیں۔ حیران و پریشان اور بدحواس، گھر میں قدم رکھتے ہی پوچھتے ہیں، “آیا کہ نہیں؟”

میں ان کا غصہ بھڑکانے کے ارادے سے کہتی ہوں، “آ کر بیٹھا تو ہے جا کر پوچھتے کیوں نہیں، پوچھ کر ہار گئی کہاں گیا تھا۔ کچھ بولتا ہی نہیں۔”

آپ گرج پڑتے ہیں، “منو! یہاں آؤ”

لڑکا تھر تھر کانپتا ہوا آ کر آنگن میں کھڑا ہو جاتا ہے۔ دونوں بچیاں گھر میں چھپ جاتی ہیں کہ خدا جانے کیا آفت نازل ہونے والی ہے۔ چھوٹا بچہ کھڑکی سے چوہے کی طرح جھانک رہا ہے۔ آپ جامے سے باہر ہیں۔ ہاتھ میں چھڑی ہے۔ میں بھی وہ غضب ناک چہرہ دیکھ کر پچھتانے لگتی ہوں کہ کیوں ان سے شکایت کی۔ آپ لڑکے کے پاس جاتے ہیں مگر بجائے اس کے کہ چھڑی سے اس کی مرمت کریں۔ آہستہ سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بناوٹی غصے سے کہتے ہیں۔ “تم کہاں گئے تھے جی! منع کیا جاتا ہے۔ مانتے نہیں ہو۔ خبردار جو اب اتنی دیر کی۔ آدمی شام کو گھر چلا آتا ہے یا ادھر ادھر گھومتا ہے؟”

میں سمجھ رہی ہوں یہ تمہید ہے۔ قصیدہ اب شروع ہو گا، گریز تو بری نہیں لیکن یہاں تمہید ہی خاتمہ ہو جاتی ہے۔ بس آپ کا غصہ فرو ہو گیا۔ لڑکا اپنے کمرے میں چلا جاتا ہے اور غالباً خوشی سے اچھلنے لگتا ہے۔ میں احتجاج کی صدا بلند کرتی ہوں۔ “تم تو جیسے ڈر گئے، بھلا دو چار تمانچے تو لگائے ہوتے۔ اس طرح تو لڑکے شیر ہو جاتے ہیں۔ آج آٹھ بجے آیا ہے۔ کل نو بجے کی خبر لائے گا۔ اس نے بھی دل میں کیا سوچا ہو گا۔”

آپ فرماتے ہیں، “تم نے سنا نہیں میں نے کتنی زور سے ڈانٹا۔ بچے کی روح ہی فنا ہو گئی۔ دیکھ لینا جو پھر کبھی دیر میں آئے۔” “تم نے ڈانٹا تو نہیں ہاں آنسو پونچھ دیئے۔”

آپ نے ایک نئی اپج نکالی ہے کہ لڑکے تادیب سے خراب ہو جاتے ہیں۔ آپ کے خیال میں لڑکوں کو آزاد رہنا چاہئے۔ ان پر کسی قسم کی بندش یا دباؤ نہ ہونا چاہئے۔ بندش سے آپ کے خیال میں لڑکے کی دماغی نشو و نمامیں رکاوٹ پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کا یہ نتیجہ ہے، کبھی گولیاں، کبھی کنکوے۔ حضرت بھی انہیں کے ساتھ کھیلتے ہیں۔ چالیس سال سے تو متجاوز آپ کی عمر ہے مگر لڑکپن دل سے نہیں گیا۔ میرے باپ کے سامنے مجال تھی کہ کوئی لڑکا کنکوا اڑا لے یا گلی ڈنڈا کھیل سکے۔ خون پی جاتے۔ صبح سے لڑکوں کو پڑھانے بیٹھ جاتے۔ اسکول سے جوں ہی لڑکے واپس آتے پھر لے بیٹھتے۔ بس شام کو آدھے گھنٹے کی چھٹی دیتے۔ رات کو پھر کام میں جوت دیتے۔ یہ نہیں کہ آپ تو اخبار پڑھیں اور لڑکے گلی گلی کی خاک چھانتے پھریں۔

کبھی آپ بھی سینگ کٹا کر بچھڑے بن جاتے ہیں، لڑکوں کے ساتھ تاش کھیلنے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایسے باپ کا لڑکوں پر کیا رعب ہو سکتا ہے۔ ابا جان کے سامنے میرے بھائی سیدھے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔ ان کی آواز سنتے ہی قیامت آ جاتی تھی۔ انہوں نے گھر میں قدم رکھا اور خاموشی طاری ہوئی۔ ان کے رو برو جاتے ہوئے لڑکوں کی جان نکلتی تھی اور اسی تعلیم کی برکت ہے کہ سبھی اچھے عہدوں پر پہنچ گئے۔ صحت البتہ کسی کی بہت اچھی نہیں ہے۔ تو ابا جان کی صحت ہی کون سی بہت اچھی تھی۔ بچارے ہمیشہ کسی نہ کسی بیماری میں مبتلا رہتے۔ پھر لڑکوں کی صحت کہاں سے اچھی ہو جاتی لیکن کچھ بھی ہو تعلیم و تادیب میں انہوں نے کسی کے ساتھ رعایت نہیں کی۔ ایک روز میں نے حضرت کو بڑے صاحبزادے کی کنکوا کی تعلیم دیتے دیکھا۔ یوں گھماؤ، یوں غوطہ دو، یوں کھینچو، یوں ڈھیل دو۔ ایسا دل و جان سے سیکھا رہے تھے، گویا گرو منتر دے رہے ہوں۔ اس دن میں نے بھی ان کی ایسی خبر لی کہ یاد کرتے ہوں گے۔ میں نے صاف کہہ دیا تم کون ہوتے ہو میرے بچوں کو بگاڑنے والے۔ تمہیں گھر سے کوئی مطلب نہیں ہے، نہ ہو، لیکن میرے بچوں کو خراب مت کیجئے، برے برے شوق نہ پیدا کیجئے۔ اگر آپ انہیں سدھا نہیں سکتے تو کم سے کم بگاڑیئے تو مت۔ لگے باتیں بنانے، ابا جان کسی لڑکے کو میلے تماشے نہ لے جاتے تھے۔ لڑکا سر پٹک پٹک کر مر جائے مگر ذرا بھی نہ پسیجتے تھے اور ان بھلے آدمی کا یہ حال ہے کہ ایک ایک سے پوچھ کر میلے لے جاتے ہیں۔ چلو چلو، وہاں بڑی بہار ہے، خوب آتش بازیاں چھوٹیں گی، غبارے اڑیں گے۔ ولایتی چرخیاں بھی ہیں، ان میں مزے سے بیٹھنا اور تو اور آپ لڑکوں کو ہاکی کھیلنے سے بھی نہیں روکتے۔ یہ انگریزی کھیل بھی کتنے خوف ناک ہوتے ہیں۔ کرکٹ، فٹ بال، ہاکی ایک سے ایک مہلک۔ گیند لگ جائے تو جان ہی لے کر چھوڑے۔ مگر آپ کو ان کھیلوں سے بڑی رغبت ہے۔ کوئی لڑکا میچ جیت کر آ جاتا ہے تو کتنے خوش ہوتے ہیں، گویا کوئی قلعہ فتح کر آیا ہو۔ حضرت کو ذرا بھی اندیشہ نہیں کہ کسی لڑکے کے چوٹ لگ گئی تو کیا ہو گا۔ ہاتھ پاؤں ٹوٹ گیا تو بچاروں کی زندگی کیسے پار لگے گی۔

پچھلے سال لڑکی کی شادی تھی۔ آپ کو یہ ضد تھی کہ جہیز کے نام کھوٹی کوڑی بھی نہ دیں گے۔ چاہے لڑکی ساری عمر کنواری بیٹھی رہے۔ آپ اہل دُنیا کی خبیث النفسی آئے دن دیکھتے رہتے ہیں۔ پھر بھی چشم بصیرت نہیں کھلتی۔ جب تک سماج کا یہ نظام قائم ہے اور لڑکی کا بلوغ کے بعد کنواری رہنا انگشت نمائی کا باعث ہے اس وقت تک یہ رسم فنا نہیں ہو سکتی۔ دو چار افراد بھلے ہی ایسے بیدار مغز نکل آئیں جو جہیز لینے سے انکار کریں لیکن اس کا اثر عام حالات پر کم ہوتا ہے اور برائی بدستور قائم رہتی ہے۔ جب لڑکوں کی طرح لڑکیوں کے لئے بھی بیس پچیس برس کی عمر تک کنواری رہنا بدنامی کا باعث نہ سمجھا جائے گا۔ اس وقت آپ ہی آپ یہ رسم رخصت ہو جائے گی۔ میں نے جہاں جہاں پیغام دئے، جہیز کا مسئلہ پیدا ہوا اور آپ نے ہر موقع پر ٹانگ اڑا دی۔ جب اس طرح ایک سال پورا گزر گیا اور لڑکی کا سترھواں سال شروع ہو گیا تو میں نے ایک جگہ بات پکی کر لی۔ حضرت بھی راضی ہو گئے کیوں کہ ان لوگوں نے قرارداد نہیں کی۔ حالانکہ دل میں انہیں پورا یقین تھا کہ ایک اچھی رقم ملے گی اور میں نے بھی طے کر لیا تھا کہ اپنے مقدور بھر کوئی بات اُٹھا نہ رکھوں گی۔ شادی کے بخیر و عافیت انجام پانے میں کوئی شبہ نہ تھا، لیکن ان مہاشے کے آگے میری ایک نہ چلتی تھی۔ یہ رسم بے ہودہ ہے۔ یہ رسم بے معنی ہے۔ یہاں روپے کی کیا ضرورت؟۔ یہاں گیتوں کی کیا ضرورت؟ ناک میں دم تھا۔ یہ کیوں وہ کیوں؟ یہ تو صاف جہیز ہے۔ تم نے میرے منہ میں کالک لگا دی۔ میری آبرو مٹا دی۔ ذرا خیال کیجئے بارات دروازے پر پڑی ہوئی۔ دن لڑکی کے ماں باپ برت رکھتے ہیں۔ میں نے بھی برت رکھا لیکن آپ کو ضد تھی۔ کہ برت کی کوئی ضرورت نہیں۔ جب لڑکے کے والدین برت نہیں رکھتے تو لڑکی کے والدین کیوں رکھیں اور سارا خاندان ہر چند منع کرتا رہا لیکن آپ نے حسب معمول ناشتہ کیا، کھانا کھایا۔ خیر رات کو شادی کے وقت کنیا دان کی رسم آئی۔ آپ کو کنیا دان کی رسم پر ہمیشہ سے اعتراض ہے۔ اسے آپ مہمل سمجھتے ہیں۔ لڑکی دان کی چیز نہیں۔ دان روپے پیسے کا ہوتا ہے جانور بھی دان دئے جا سکتے ہیں لیکن لڑکی کا دان ایک لچر سی بات ہے۔ کتنا سمجھتی ہوں۔ “صاحب پرانا رواج ہے، شاستروں میں صاف اس کا حکم ہے۔ عزیز و اقارب سمجھا رہے ہیں مگر آپ ہیں کہ کان پر جوں نہیں رینگتی۔ کہتی ہوں دُنیا کیا کہے گی؟ یہ لوگ کیا بالکل لا مذہب ہو گئے مگر آپ کان ہی نہیں دھرتے۔ پیروں پڑی، یہاں تک کہا کہ بابا تم کچھ نہ کرنا جو کچھ کرنا ہو گا میں کر لوں گی۔ تم صرف چل کر منڈپ میں لڑکی کے پاس بیٹھ جاؤ اور اسے دُعا دو۔ مگر اس مرد خدا نے مطلق سماعت نہ کی۔ آخر مجھے رونا آگیا۔ باپ کے ہوتے میری لڑکی کا کنیا دان چچا یا ماموں کرے، یہ مجھے منظور نہ تھا۔ میں نے تنہا کنیا دان کی رسم ادا کی۔ آپ گھر جھانکے تک نہیں اور لطف یہ ہے کہ آپ ہی مجھ سے روٹھ بھی گئے۔ بارات کی رخصتی کے بعد مجھ سے مہینوں بولے نہیں۔ جھک مار کر مجھی کو منانا پڑا۔

مگر کچھ عجیب دل لگی ہے کہ ان ساری برائیوں کے باوجود میں ان سے ایک دن کے لئے بھی جدا نہیں رہ سکتی۔ ان سارے عیوب کے باوجود میں انہیں پیار کرتی ہوں۔ ان میں وہ کون سی خوبی ہے جس پر میں فریفتہ ہوں۔ مجھے خود نہیں معلوم۔ مگر کوئی چیز ہے ضرور جو مجھے ان کا غلام بنائے ہوئے ہے۔ وہ ذرا معمول سے دیر میں گھر آتے ہیں تو میں بے صبر ہو جاتی ہوں۔ ان کا سر بھی درد کرے تو میری جان نکل جاتی ہے۔ آج اگر تقدیر ان کے عوض مجھے کوئی علم اور عقل کا پتلا، حسن اور دولت کا دیوتا بھی دے تو میں اس کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہ دیکھوں۔ یہ فرض کی بیڑی نہیں ہے۔ ہرگز نہیں۔ یہ رواجی وفاداری بھی نہیں ہے بلکہ ہم دونوں کی فطرتوں میں کچھ ایسی رواداریاں کچھ ایسی صلاحیتیں پیدا ہو گئی ہیں۔ گویا کسی مشین کے کل پرزے گھس گھسا کر فٹ ہو گئے ہوں۔ ا ور ایک پرزے کی جگہ دوسرا پرزہ کام نہ دے سکے چاہے وہ پہلے سے کتنا ہی سڈول، نیا اور خوشنما کیوں نہ ہو۔ جانے ہوئے رستے سے ہم بے خوف، آنکھیں بند کئے چلے جاتے ہیں، اس کے نشیب و فراز، موڑ اور گھماؤ اب ہماری آنکھوں میں سمائے ہوئے ہیں۔ اس کے برعکس کسی انجان رستے پر چلنا کتنی زحمت کا باعث ہو سکتا ہے۔ قدم قدم پر گمراہ ہو جانے کے اندیشے، ہر لمحہ چور اور رہزن کا خوف، بلکہ شاید آج میں ان کی برائیوں کو خوبیوں سے تبدیل کرنے پر بھی تیار نہیں۔

—————————