Bharpai a Hindi Story by Rata Shuk’l

Articles

بھرپائی

رتا شکل

 

وقت کی دھند کو چیرتا ہوا وہ سیاہ آبنوسی چہرہ نہ جانے کیوں باربار سروجنی کے ذہن میں دہکتا ہوا سوال بن کر اٹک جارہاتھا،’’ببونی ہو،ہمار کو بھُلاگئی لو؟‘‘
ملکی محلہ کے جلال الدین میاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھویں جماعت میں سروجنی کو اسکول کا منہ دیکھنا نصیب ہوا تھا،تب پورے گھر کے لوگ جمع ہوئے تھے۔حقّے کی پیچوان سنبھالتے پہلوان دادا جی،چوبیس گھنٹے بابوجی کے ساتھ دالان میں بیٹھ کر دونوں ٹانگیں ہلاتے،سرگوشیاں کرتے شینچر ماما،سپاری کے باریک ٹکڑوں کو سروتے سے کاٹنے کا جھوٹ موٹ سوانگ کرتی کرخدار آواز والی بینگا بوا اور دور رسوئی گھر میں چکلے بیلن کی کھٹ پٹ ،پتیلی کی کھدبد کے ساتھ اپنے آپ میں کھوئی ہوئی سزا یافتہ قیدی کی شکل میں بیٹھی اماںکی وہ فریادی شبیہ۔’’بچی تیری قسمت میں اسکول کی پڑھائی ہوگی تو بڑے میاں کا دل پسیجے گا ضرور! ہم نے مہاویر جی کو چونّی کا پرساد بھاکھ دیاہے۔‘‘
شچی نواس ماما جب دیکھو تب شنی کی ساڑھے ساتی بن کر اس گھر میں براجمان رہتے۔’’لو بھلا،ہمارے پاہُن جی تو ٹھہرے میش راشی کے۔اب انہیں کیا پتہ،بڑھتی عمر کی چھوکریوں کو منہ زور گھوڑیوں کی طرح لگام کیسے دی جاتی ہے۔ہماری چارچار بیٹیاں ہیں،مجال ہے جو کوئی کسی بات کے لیے منہ کھولنے کی جرأت کرے۔‘‘
بینگا بوا کو نیہر روگ تھا۔اماں کے پرانوں میں انہیں دیکھتے ہی ڈرکی جھرجھری سماجاتی۔ ’’جب دیکھو تب ڈولچی لیے باپ کی چوکھٹ پر حاضر!رام جانے ان کا آدمی،مرد مانس ہے یا بالکل زنخہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بواکا ہٹلری انداز کیا کمال کا ہوا کرتاتھا۔آتے ہی پورے گھر کا رائی رتی معائنہ۔ ’’بڑکی کی تین تین فراکیں ہیں۔اب سال بھرتو اس کے کپڑے لتے کا نام مت لینا۔منجھلی کے لیے نئی ہوائی چپل؟ باپ کی کمائی فالتو ہوئی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی کی سا نس چل رہی ہے تو اس میں بڑے اسپتال کے ڈاگڈر کی کیا ضرورت ہے؟پیاز کا رس شہد میں گھول کر چٹادو۔رگھو کے لیے اسکول کی دو قمیض کافی ہیں۔نئی کتابیں کیوں بھلا؟پڑوس کے لڑکے دھیرو سے مانگ کر پڑھ لے گا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اماں کی طرف سے ذرا بھی غلطی ہوجائے تو پہلوان دادا کے دالان میں فوراً سے پیشتر پیشی ہوتی،’’بینگا نے سب بتایا ہے،خوب فضول خرچی ہورہی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!شیو جتن چودھری نے ٹریکٹر میں بھرکراناج بھجوادیا ہے کیا؟خبردار،گن کر روٹیاں بنائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بھی فالتوروٹی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی تو کمانے والا ہے ہمارا بچوا اور مت بھمبا کی طرح چھ چھ بیٹیاں۔‘‘
ایسی گھنگھور کھینچاتانی میں اماں کے بجرنگ بلی نے سچ مچ اپنا اثر دکھایا تھا،’’تو پڑھنا چاہتی ہے؟‘‘
’’اری او سروجنی نائیڈو کی اوتار،ہم تجھی سے پوچھ رہے ہیں۔‘‘بینگا بوا کی زبان پر سرسوتی براجی تھی۔چھوکری سچ مچ دماغ والی ہے اور رام کی دیاسے اپنے علاقے میں لڑکیوں کا اسکول کھل گیا ہے۔ مگر، یہ اتنی دور جائے گی کیسے؟‘‘
سروجنی نے فوراً جواب دینے کی گستاخی کرڈالی تھی،’’چتھرو چودھری،پھینکن سنگھ، امیبا چاچا سب کی لڑکیاں ٹولی بنا کر پیدل ہی تو جاتی ہیں۔ہم بھی انہیں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سامنے بیٹھے بزرگ غرّا اُٹھے تھے،’’چتھرو،بھینکن،امیبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کل کو یہ کہوگی کہ وہ چھوکریاں نٹوا ناچ دیکھنے جاتی ہیں سو ہم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بوا کی کنجی آنکھوں کا قرضدار ہونا پڑاتھا سروجنی کو۔’’ارے نہیں بابوجی،اپنے ملکی محلے کا جلال الدین ہے نا،اس نے ٹم ٹم بیچ کر رکشہ خریدلیا ہے۔کل ہی تو اسٹیشن پر ملاتھا۔ہماری رائے ہے کہ۔۔۔۔۔‘‘
جلال الدین کو طلب کیا گیا تھا۔کوئلے سے بھی زیادہ کالی رنگت والے جلال الدین کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں انوکھی کسک تھی۔’’ببونی خاطر فکر مت کریں سرکار۔آنکھ کی پُتلی ایسن حفاظت سے مدرسہ لے جائب لے آئب۔‘‘
نویں جماعت سے لے کر میٹرک تک کے وہ دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جلال الدین چاچا کا چارخانے والا مٹ میلا گمچھا پھاٹک کے اس پار لہراتا۔رکشہ کی ٹن ٹن گھنٹی سنائی پڑتی اور سروجنی دونوں چوٹیاں ہلاتی بھاگ کر رکشہ میں سوار ہوجاتی۔
’’جلالو چاچا،ہم آگئے۔‘‘
’’چلیں ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’چلیے۔‘‘
بینگا بوا نے آگاہ کر رکھا تھا،’’خبردار ،اس کلوٹے کے ہاتھ کی کوئی بھی چیز بالکل مت لینا۔‘‘
سروجنی نے پہلی بار اصرارکیاتھا،’’چاچا ،آپ کے گمچھے میں کیا بندھا ہوا ہے؟‘‘
’’ارے کچھ نہیں ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں،کچھ تو ہے،بتائیے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘جلال الدین چاچا نے پوٹلی کھول دی تھی۔
’’باپ رے ،اتنے بڑے بڑے رس بھرے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں ببونی،بینگا بہن دیکھ لے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے نہیں چاچا،آپ دیجئے نہ۔ہماری ساری سہیلیاں خوش ہوجائیں گی۔‘‘
بیلااور مادھوری نے سیانے پن سے تاکید کی تھی،ہم لوگ ساری پوٹلی چٹ کرگئے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ جلالو چاچا اپنے بال بچو ں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن اس سے بھی بڑی پوٹلی حاضر تھی۔سروجنی نے اپنے ہاتھ روک لیے تھے، ’’چاچا آپ کے بال بچوں کا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘گھنے کالے بادلوں کے بیچ چھپی بجلی نے قہقہہ لگایا تھا۔ ’’ارے نہیں ببونی،یہ سوغات تو تمہارے لیے ہے۔‘‘
’’لیکن اتنے سارے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
رکشہ کی چال دھیمی کرتے ہوئے جلال الدین میاں نے خلاصہ کیاتھا۔’’ملکی محلے کے دائیں بازو بڑاسا قبرستان ہے۔ہماری پردادی بڑی نیک خاتون تھیں ببونی۔ہمارے پردادا کے انتقال کے بعد سے قبرستان کے سامنے والی مسجد ہی ان کی پناہ گاہ ہوگئی تھی۔دن بھر باغیچے میں رہتیں۔ اپنے مرحوم شوہر کی قبر کو یک ٹک دیکھتی رہتیں۔یہ بیر انہیں کی اگائی ہوئی بیری کے ہیں ببونی۔ظہور بخش مولوی صاحب کی کھلی اجازت ہے،ہم جب چاہیں،جتنے چاہیں بیر وہاں سے لاسکتے ہیں۔بدلے میں تمہاری چاچی وہاں محنت مزدوری کردیتی ہیں۔لو اب یقین ہوگیانا!‘‘
دروازے پر بے وقت دستک ہوئی تھی۔شریمتی سروجنی شری منت نے دروازہ کھولا تھا۔ مڑے تڑے ادھ میلے کرتے کی ڈوریا آستین سے پیشانی پر ابھری ہوئی پسینے کی بوندوں کو باربار پونچھتا کون کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
’’آپ کس کو کھوج رہے ہیں؟‘‘
بے وقت باسی ہوچکے اس آبنوسی چہرے پر جانی پہچانی ہنسی کی بجلی کوند کر بکھر گئی تھی۔ ملکی محلے کے جلا ل الدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو کیاتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اس نے جھک کر آداب کیا تھا۔’’آپا،میں احسان ہوں۔ان کا بڑابیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کھلے دروازے کے اندر پناہ لیتے ہی احسان میاں نے سکون کی سانس لی تھی۔’’شکر ہے اﷲ تعالیٰ کا۔ہم تو کھوجتے کھوجتے پریشان ہوگئے تھے۔رکشہ والے نے ناحق دس روپے کی چپت لگادی۔‘‘
روٹی کا پہلا نوالہ توڑتے ہی احسان چہک اٹھے تھے،’’ارے آپا،ہم تو بھول ہی گئے۔ابّا نے خاص طور پر آپ کے لیے یہ چھوٹی سی سوغات اور یہ خط بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
چٹھی کے حرف در حرف سے نَیہر کی بھولی بسری یادوں کی سب سے میٹھی تاثیر جِلا پارہی تھی۔
’’ببونی کو معلوم ہوکہ خدا کے کرم سے احسان میاں کو آپ ہی کے شہر میں نوکری مل گئی ہے۔ان کو ابھی اچھے برے کی تمیز نہیں ہے۔آپ عالم فاضل ٹھہریں،انہیں اونچ نیچ کا علم دیں گی۔‘‘
آپ کا ہی چاچا
ننھی شیلی اسکول سے لوٹی،تو احسان ماموں کے ہاتھوں سے میٹھے بیر کی پوٹلی پاکر پھولی نہیں سمارہی تھی۔’’ماں تم تو اپنے بچپن کے دنوں کی کہانی سنایا کرتی تھیں نا۔ پکے بیر کی کہانی،باغیچہ اگاتی جمیلہ دادی کی کہانی،ان بیروں کا ذائقہ بالکل ویسا ہی ہے۔‘‘
احسان میاں کے پاس بیٹھی شیلی توجہ سے سن رہی تھی،’’صرف بیر ہی کیوں،آم،مہووا، جامن، کٹہل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سارے کے سارے درخت ہوبہو ویسے ہی موجود ہیں۔اچھا بول تو بچی ہمارے ساتھ تیواری پور چلو گی؟‘‘
احسان میاں مہینہ بھر ان کے گھر رہے تھے۔
’’مدرسے کے بڑے صاحب سے بات ہوگئی ہے آپا۔اکائونٹ سیکشن کے گنیش بابو کوارٹر خالی کرکے گائوں جارہے ہیں۔ان کا وہ کوارٹر ہمارے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شیلی کے پاپا شری دھر واجپئی نے مذاقاً کہاتھا،’’احسان بھائی،اس بار گائوں سے لوٹو تو دلہن کو لانا مت بھولنا۔یہ عید تو وہ ہمارے ساتھ ہی گزاریں۔کیوں سروجنی؟‘‘
احسان کے ساتھ سروجنی کے بچپن کے وہ دن جیسے پھر سے لوٹ آئے تھے۔بینگا بوا کی پرانی عادت تھی،اچانک کوئی خوفناک خواب دیکھنے کے انداز میں کبھی کبھار بے حد چوکنا ہو اٹھتیں، ’’نہیں ، میٹرک کی پڑھائی بہت ہے،اس کے بعد گھر سنبھالے،رسوئی کا انتظام دیکھے۔‘‘
وظیفے کی پہلی رقم دیکھ کرسروجنی کے ننھے سے بٹوے کا دل بلیوںاچھل رہا تھا۔ایک مشت پانچ سو روپے۔’’جلالو چاچا۔‘‘
’’کیا بات ہے ببونی؟‘‘
’’ہمیں ذرا چوک تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پہلی بار اکیلے اسنیہی پٹواری کی دکان تک جانے کی ہمت کی تھی سروجنی نے۔ بڑی والی ٹکولی کی دو پتیاں،اماں کی کلائیوں کے ناپ کی ڈھائی انچ والی لہٹی،سریش نریش کے لیے لیمن چوس کی ڈھیر ساری گولیاں اور جلالو چاچا کے لیے پالش چڑھی جستے کی صورتی دانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ببونی،جلدی کر۔بینگا بوا کو معلوم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان میاں نے بتایا تھا،’’آپا،وہ صورتی دانی ایک دن ہم سے کہیں گم ہوگئی تھی۔گھر بھر کی آفت آگئی تھی سمجھئے۔موم جامے کی تہہ میں پڑی تھی۔ابّا نے دھو پونچھ کر اپنی جیب میں رکھی تب کہیں سکون کی سانس لی۔ہمیشہ کہتے ہیں ببونی کی نشانی ہے،آخری دم تک ساتھ رہے گی۔‘‘
بینگا بوا بہت بیمار تھیں۔کھانے کی نالی میں کوئی اندرونی زخم تھا شاید۔دن بھر بے تحاشہ چلاتی رہتیں۔اناج کا ایک دانہ ہضم نہیں کرسکتی تھیں۔جلال الدین چاچا نے مشورہ دیا تھا،’’ناریل پانی پلایا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بوا کو کسی نے نہیں بتایا تھا۔جلال الدین چاچا نے اپنی روزانہ ڈیوٹی باندھ رکھی تھی۔ قبرستان کے بغیچے سے پانچ کچے ناریل توڑ لاتے،تیز دھار والی چھری سے اوپر کا چھلکا نکالتے اورگمچھے سے پونچھ کر بڑی احتیاط سے تھماتے،’’لو ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بینگا بہن ٹھیک ہوجائیں اور کیا؟‘‘
بینگا بوا کی انتھک خدمت کی تھی سروجنی نے۔پہلوان دادا کی پنچایت بینگا بوا کے کمرے میں جمی تھی،’’کچھ بھی کہو،جلال الدین نے رکشہ والے کا نہیں بلکہ گھر کے فرد کا دھرم نبھایا ہے۔بینگا وہ تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔‘‘
کیسی عجیب التجا کی تھی جلال الدین چاچا نے،’’بینگا بہن،زمانہ بدل گیاہے۔ ببونی آگے پڑھنا چاہتی ہے۔اﷲ کے کرم سے وظیفہ تو طے ہے۔مناسب سمجھیں تو ببونی کا داخلہ کالج میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اماں کی آنکھیں پہلی بار کھل کر برسنے کے لیے بیتاب تھیں۔’’ممتا کی کوئی ذات پات نہیں ہوتی جلال الدین بھیّا،پچھلے جنم میں ضرور ہمارا تمہارا کوئی گہرا ناطہ رہا ہوگا۔ایک اپنا سری نواس ہے، کہنے کو کوکھ جایا بھائی اور کرنی سات دشمنوں کی۔ہمارے بال بچو ں کے لیے تو کنس کااوتار ہی سمجھواسے۔جب دیکھو تب کاٹنے کترنے کی لت لیے سر پر سواررہتا ہے۔نہ گھر سے دتکارتے بنتا ہے،نہ ڈھنگ کے چار بول بتیانے کو جی چاہتا ہے۔‘‘
سروجنی نے یونیورسٹی کے گذشتہ ریکارڈ توڑتے ہوئے اول درجے سے بی اے پاس کیا تھا۔ سری نواس ماما اس کے لیے کیسا اوٹ پٹانگ رشتہ لے کر آئے تھے۔’’لڑکے کی سوتیلی ماں ہے تو کیا ہوا،کون سا اس کے ساتھ زندگی بھر رہنا ہے۔لڑکا مِل میں نوکری کرتا ہے،ہزاروں روپے کی پگار ہے۔ سروجنی کو بہت خوش رکھے گا۔‘‘
بینگا بوا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔بابوجی خاموش تھے۔اماں نے اعتراض کیا تھا، ’’سوتیلی ماں،سوتیلے نند،دیور!نا،اس گھر کی بات دوبارہ یہاں نہیں چلے۔‘‘
جلال الدین چاچا کی سگی بہن بیٹہا میں بیاہی تھی۔وہ وہاں سے مصدقہ خبر لائے تھے۔ ’’لڑکا دیکھنے دکھانے میں معمولی سا ہے۔اپنی ببونی کے لائق تو ہر گز نہیں ہے۔سنا ہے کچھ بری عادتیں بھی ہیں۔ سری نواس ماما کے بہکاوے میں آکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سری نواس ماما برسوں روٹھے رہے ۔سروجنی کی پرنسپل یشودا واجپئی نے اپنے اکلوتے بیٹے شری دھر کے لیے سروجنی کو پسند کیا تھا۔’’آپ لوگوں کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔یہ شادی نہایت سادگی سے ہوگی۔‘‘
شری دھر کے ساتھ پٹنہ جانے والی ریل گاڑی میں بیٹھی تو جلال الدین چاچا کی اداس نگاہیں بڑی خاموشی سے دور تک پیچھا کرتی چلی آئی تھیں۔’’ببونی ہماری طرف سے یہ چھوٹا سا تحفہ۔‘‘
چارخانے کے نئے گمچھے میں بندھی سلمہ تاروں والی لال چُنری اور چھوٹی سی پوٹلی میں رس بھرے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شری دھر نے مذاقاًکہاتھا،’’اتنی بڑی ہوگئیں ،کیا اب بھی بیر چراکر کھانے کی عادت بنی ہوئی ہے؟‘‘
احسان میاں کو بڑے مدرسے کے کیمپس میں کوارٹر مل گیاتھا۔سری نواس ماما نے بینگا بوا کے دماغ میں شک کا بیج بودیاتھا۔’’جلال الدین کا بڑا بیٹا اکائونٹنٹ ہوگیاہے اورسروجنی کے شہر گیا ہے۔اس کا سروجنی کے گھر میں مہینوں رہنا،ساتھ کھانا پینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
اماں کے خط سے ساری باتیں معلوم ہوئی تھیں۔’’سروجنی کو معلوم ہو کہ بینگا بوا ایک دم سے سری نواس کی باتوں میں آگئی ہیں۔تمہارے خاندان کے ساتھ احسان کا میل جول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر کو بے حد غصہ آیاتھا۔’’انسانیت کا ناطہ ہمارے لیے سب سے بڑھ کر ہے اور پھر تمہارے میکے والوں کو ہمارے نجی معاملات میں دخل دینے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تم آج ہی انہیں خط لکھ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان اپنی ڈیوٹی میں دن رات مصروف ہوکر رہ گئے تھے۔نوشابہ دلہن اور پیارے پیارے گول مٹول سے تین بچے۔گلشن،ارمان اور آرزو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچ بیچ میں شیلی یوں ہی مچل اٹھتی۔’’پاپا،ہمیں احسان ماموں کے یہاں چھوڑآئیے نا!آج اتوار ہے گلشن کے ساتھ کھیلیں گے، آرزو کو جھولے میں جھلائیںگے اور ارمان کی پتنگ لوٹیں گے۔خوب مزہ آئے گا نا!‘‘
شری دھر کی ماں جی نے بتایا تھا،’’ناحق ہی خون کے رشتوں کی دہائی دیتے پھرتے ہیں لوگ! تمہیں بتائوں بہو،راون کی اشوک واٹیکابن کر رہ گئی تھی ہماری زندگی۔مانگ کو سونا پن جھیلتے اپنی سسرال کے اس آنگن میں ساس،جٹھانی کا وہ راکشس پن کیسے برداشت کیاتھا، وہ کہانی مت پوچھو۔تمہارے سسرجی کے ساتھی وکیل سہیل بھائی نے اپنے بل بوتے پر مقدمہ لڑاتھا۔ سسرال کی بے شمار دولت میں شری دھر برابر کے حصہ دار ہوئے تھے۔جٹھانی نے تو یہاں تک کہہ ڈالا تھا۔ ضرور اس رانڈ کا اس مُسلّے کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سروجنی کو پتہ تھا۔گذشتہ نوراتری میں بوڑھے سہیل چاچا کمر پر ہاتھ رکھے ان کی ڈیوڑھی پر حاضر تھے۔’’تم نہیں پہچانوگی بہو،اپنی ساس کو خبر کردے،بلیہار گائوں کے سہیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر ننھے بچے کی طرح ان کی گود میں دُبک گئے تھے۔’’سہیل چاچا،یہ گٹھیا کا روگ کب سے لگابیٹھے؟اب مہینہ بھر تو یہاں سے جانے کا نام مت لیجئے۔پہلے نئی بہو کے ہاتھ کی بنی چائے پی جیئے۔اماں سے باتیں کیجئے،تب تک ہم آئوٹ ڈور کے مریضوں کو دیکھ لیتے ہیں۔‘‘
پانچوں وقت نماز کی پابندی کرنے والے سہیل چاچا آنکھ موند کر پوری یکسوئی کے ساتھ کالی جی کا بھجن گاتے تو سروجنی کا من جانے کیوں اندر سے گنگا جمنی ہواُٹھتا۔
’’یہ سب شری دھر کے والد کی صحبت کا اثر ہے بیٹا۔جھوٹ نہیں کہوں گا بیٹا،ہمارے والدین سنسکرت پڑھنے کے سخت خلاف تھے۔فارسی تہذیب کا بول بالا تھا ہمارے یہاں۔ لیکن ہمارے یار پدم دھر واجپئی نے مشورہ دیا تھا۔تم سنسکرت پڑھو،تمہارا اس جانب رجحان ہے۔دیکھ لینا سہیل تم سے بڑھ کر اس مضمون میں کوئی عالم نہیں ہوگا اس پورے گائوں میں۔‘‘
شری دھر کی ماں بتایا کرتی تھیں،’’سہیل کی دنیا ہی بدل گئی تھی۔دھرم ایمان قرآن کے ساتھ اور علم کا سارا احساس وید،پُران،شریمدبھگوت کے اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘آگے کی پڑھائی کے لیے کلکتہ کے ڈگری کالج میں داخلہ لینے گئے تھے۔لوٹے تو ایک بھیانک صدمہ ساتھ تھا،’’وہاں کے تِری پُنڈھاریوں نے سیدھے سیدھے مجھے خارج کردیا تھا۔‘‘
پدم دھر کے ہاتھ سے سوٹالے کر ان کے پیچھے بے تحاشہ لپکے تھے سہیل۔’’تمہاری ہی سکھائی راہ پر چلے تھے ہم۔ہاتھ آگے کرو۔ہم کہتے ہیں ہاتھ آگے کرو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سوٹے کی مارسے پدم دھرپل بھرکے لیے تلملا کررہ گئے تھے۔سہیل بڑبڑاتے جارہے تھے، ’’دیکھا،اس سے کہیں زیادہ چوٹ اپنی نازک روح پر جھیل آئے ہیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! پتہ ہے تِری کے’نیتی شتکم‘سے سوال پوچھے گئے تھے۔ہم نے درست جواب دیے۔والمیکی رامائن کا شلوک غلط بول گئے تھے پنڈت۔ہم نے درست کرنا چاہا تو ہمیں پر برس پڑے۔آخر کاربورڈ کے ایک رکن نے صاف انکار کردیا۔ اس طرح کا کیس ہمارے سامنے پہلی بار آرہاہے۔ہمیں گورننگ باڈی سے خصوصی اجازت لینی ہوگی۔ ہمارے انتظام کا سوال ہے۔سنسکرت کالج کے بورڈنگ میں آپ کی رہائش نا ممکن ہے۔‘‘پدم دھر ہتھیلی کی چوٹ بھول کر سہیل کی آنکھوں میں اُمڈ آئے درد کا رِسائو خاموشی سے جھیلتے رہے۔’’تمہارا مجرم میں ہوں سہیل بھائی،جیسا بھی ہو یہ پرائسچت مجھے ہی کرنا ہوگا۔‘‘
حیدرآباد کے لا کالج میں داخلہ لینے کے لیے دونوں دوست ایک ساتھ روانہ ہوئے تھے۔ بیلہار والوں نے پدم دھر کے پورے خاندان کو پانی پی پی کر کوسا تھا،’’ذات پات،کل خاندان، سب کا بیڑا غرق۔بتائو بھلا،پنڈتوں کی نسل میں یہ کیا ہورہا ہے؟اس مشٹنڈے کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، اس کا چھوا پانی پینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پدم دھر کے والد شیوادھرواجپئی نے گائوں سے ہجرت کرلی تھی۔’’ملکینی انہیں بتادو، ان کے گھر میں ہمیں اپنی بیٹی نہیں بیاہنی۔آٹھوں انگ میں چندن لیپ اور رات میں ہریا کلال کے دارو کے ساتھ ساتھ اس کی کلٹا ہرارو کا سنگ۔یہی ہے ان کی پروہتائی؟تھوہے ان کے چھل کپٹ پر۔ سہیل انسان ہے۔دیکھنا ایک دن وہی ان کا محافظ بن کر ان بھوکے بھیڑیوں سے تمہارے خاندان کا بچائوکرے گا۔‘‘
کیسی آنسوئوں بھری بدائی لی تھی سہیل چاچا نے۔’’چھوٹو کی بہو شہر کی پڑھی لکھی ہے۔ جب دیکھو تب گھر میں مہابھارت شروع۔ایسے میں تمہاری چاچی جان تو قرآن کی آیتیں پڑھ کر دلی سکون حاصل کرلیتی ہیں اور ہم خود سدرشن چکر بنے اپنی کوٹھری سے چیمبر تک،احاطے سے گنگا کے کچھار تک بے مطلب بھٹکتے رہتے ہیں۔وہ بٹوارہ چاہتی ہیں اور اپنے انجینئر خاوند کے ساتھ دوبئی جاکر بس جانا چاہتی ہیں۔پیسہ کمانا ان دونوں کا شغل ہے۔یشودا بہن،اولاد کی عدالت میں والدین ہی سب سے بڑے گنہگار ٹھہرائے جاتے ہیں۔بدلتے وقت کی مار ہم سب کو جھیلنی ہے نا!پدم دھر کی بہو کو دیکھ لیا،من کی مراد پوری ہوئی۔کون جانے کب اوپر والے کا بلاوا آجائے!‘‘
شیلی کی پیدائش کے دو سال بعد سہیل چاچا نے آنکھیں موندیں تھیں۔شری دھر دیر تک گم سم بیٹھے رہے تھے۔اس روز گھر میں چولہا نہیں جلاتھا۔
سری نواس ماما پورے علاقے میں زہر پھیلاتے رہے۔’’کہنے کو میری سگی بھانجی ہے،لیکن سارا دھرم کرم بھلاکر پوری طرح سے سنسکار بھرشٹ ہوچکی ہے۔پہلے سے ہی اس کی بُری عادتیں جگ ظاہر تھیں۔اس جلال الدین کا چھوا بیر کھاتی تھی۔اس کے بچوں سے پیار کرتی تھی۔ہماری بہن ٹھہری نری گائے۔بالکل سورداس جیسی اور بہنوئی جھوٹ موٹ فقیر داس بنے سارا تماشہ دیکھتے رہے۔ہماری بیٹی ہوتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سری نواس ماما کی کالی کلوٹی بڑی بیٹی سات پردوں میں رکھی جاتی تھی۔میٹرک کے بعد پڑھائی لکھائی بند۔چھت پر اکیلی نہ جائے۔باغ بغیچے میں گھومنے کی قطعی اجازت نہیں۔ اپنی کوٹھری میں تھوڑی دیر بھی اکیلی بیٹھی رہتی تو گھر بھر میں کہرام مچ جایا ۔’’پھول کماری،باہر نکلو۔سب کے ساتھ آنگن میں بیٹھو۔‘‘
جٹیلا مامی بات بات پر پھول کماری کا جھونٹا پکڑ کر دوڑتی۔’’بند کوٹھری میں ساج سنگھار کررہی تھی۔کس کے لیے؟شیتل پائی کے نیچے یہ کون سی پوتھی ہے؟دیکھوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارنگا سدا بیرج کی پریم کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجی او پھول کے باپو سن رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
اسی پھول کماری نے ایک دن سچ مچ قہر برسانے والا کام کرڈالاتھا۔
سری نواس ماما نیم پاگل کی صورت بنائے سروجنی کی چوکھٹ پر کھڑے تھے۔دھاڑیں مارکر روتے ہوئے کسی طرح انہوں نے اس کہانی کو دہرایا تھا۔’’سروجنی،ہماری توپگڑی ہی لٹ گئی۔ ہماری عزت سربازار نیلام ہوگئی۔‘‘
شری دھر نے دھیان سے ساری باتیں سنی تھیں۔’’پچیس برس کی لڑکی ،اپنی مرضی سے وہ کسی بھی لڑکے کا ہاتھ تھام سکتی ہے۔ماما جی،آپ لوگوں نے اسے پنجرے میں بند کرکے رکھاتھا۔ آج نہیں تو کل یہ ہونا ہی تھا۔‘‘
پھول کماری اور اس کا عیسائی شوہر جوزف سروجنی کے شہرآگئے تھے۔فارمیسی کی پڑھائی کرکے جوزف نے دوا کی دکان شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔سری نواس ماما اس کے گھر کا پورا پتہ لے کر شری دھر سے مدد مانگنے آئے تھے۔
’’داماد بابو،یہاں کے ایس پی سے آپ کی دوستی ہے۔ان سے کہیے،ایک بار پھول کماری کو اس کرسچن کے گھر سے نکلواکر ہمارے حوالے کردے۔ بعد میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر نے صاف انکار کردیاتھا۔’’ان دونوں کی شادی قانونی طور پر جائز ہے۔ آپ یا ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے۔ہماری بات مانیئے ماما جی،پھول کو معافی دے دیجئے۔ دونوں کی زندگی اچھی گزرے گی۔‘‘
مگر ماما اگیا بیتال بن کر الٹے پائوں واپس لوٹے تھے۔ جاتے جاتے سروجنی کو چھلنی کرنا نہیں بھولے تھے۔
’’تیرے کلیجے میں خوب ٹھنڈک پڑی ہوگی۔خاندان کو بٹّہ لگانے والی۔آج سے ہمارا سارا سروکار ختم اور اس کلوٹی کا پاپ تو بھگوان بھی معاف نہیں کریں گے،شنکر جی کا ترشول اس پر ٹوٹے گا۔‘‘
شری دھر نے سروجنی کی ڈھارس بندھائی تھی،’’گرجنے والے بادل ہے تمہارے ماما۔ ایسا ڈھکوسلے باز آدمی آج تک ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔بھئی داددینی ہوگی پھول کماری کی ہمت کو۔اگلے اتوار اس جوڑی کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ہم خود چلیں گے انہیں دعوت دینے۔‘‘
احسان میاں کی ترقی ہوئی تھی۔چیف اکائونٹنٹ کا عہدہ!ارمان سائیکل کی تیز رفتار کے ساتھ آندھی کی شکل میں گیٹ میں داخل ہوا تھا۔’’پھو پھی،پھوپھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں ہیں آپ؟ بھئی، اتنی دور سے خوشخبری دینے کے لیے چلے آرہے ہیں ہم۔گائوں سے دادا جان آئے ہیں اورابّا نے فوراً اطلاع دینے کے لیے کہا ہے۔‘‘
دوسرے روز سانجھ کے جھُٹ پُٹے میں جلال الدین چاچا کا جھکا ہوا بدن دروازے پر حاضر تھا۔
’’کیسی ہو ببونی؟‘‘
’’ارے چاچا آپ!‘‘
سفید لٹھے کا جھک دھلاپاجامہ،ادھی کا کرتہ اور ہاتھ میں چھڑی تھامے جلال الدین کی ہنسی ویسے ہی پُر اثر تھی۔
’’آئیے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر آئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹھیے نا چاچا!‘‘لاکھ منت سماجت کے باوجود انہوں نے صوفے پر بیٹھنا قبول نہیںکیا۔’’نہیں،نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چٹائی ہی ٹھیک ہے ببونی۔‘‘
ارمان اور شیلی بیچ بیچ میں چُہل کرتے جارہے تھے۔’’دادا جی،بجلی کی چمک والے آپ کے دانت تو ویسے ہی ہیں۔‘‘
’’ارے کہاں بچی۔وقت کی ریت چڑھ گئی۔نیچے کے سارے دانت جھڑ گئے۔‘‘
’’اور آپ کے بال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’قبرستان میں تیری دادی کے سرہانے دھر آیا ہوں۔کچھ دن باقی ہیں،وہیں جانا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے سوچا کہ ہماری کوئی نشانی کیوں نہ پہلے سے ہی وہاں پہنچادی جائے۔‘‘
شیلی کا بال ہٹ دیکھنے لائق تھا،’’داداجی،ہمیں قبرستان کے بھوتوں کی کہانی سنائیے نا!‘‘
’’ارے نہیں بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کہاں کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’جھوٹ نہیں۔آپ ہماری اماں کو ڈھیر ساری کہانیاں سناچکے ہیں۔اب ہماری باری ہے۔‘‘
’’لو بھلا،کل کو یہ بچی کہے گی کہ اس کی بٹیا کو بھی کہانی سنائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘سروجنی کے ہاتھ سے کھیر کی رکابی تھامتے ہوئے جلال الدین میاں کی بوڑھی پلکوں پر نمی کی ڈھیر ساری پرتیں بچھ گئیں تھیں۔’’کس سوچ میں ڈوب گئے چاچا۔سچ مچ شیلی کے بیاہ میں آپ کو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا، یہاں بہت کچھ سنبھالنا ہوگا۔‘‘
چارخانے کا گمچھا آنکھوں پر دھرتے ہوئے جلال الدین چاچا یکبارگی بکھرگئے۔ ’’احسان میاں کے بارے میں ایک بات بتانی تھی ببونی۔ترقی تو انہیں مل گئی ہے،لیکن وہ اندر ہی اندر کسی سازش کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔کسی سے کچھ کہتے نہیں،لیکن پہلے والا سکون ان کے چہرے سے ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیاہے۔ہمیں ڈر ہے کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سروجنی نے ان کی ڈھارس بندھائی،’’شری دھر دورے سے لوٹ آئیں گے تب ہم لوگ احسان بھائی سے ملیں گے،ان سے ساری باتیں صاف صاف پوچھیں گے۔آپ فکر مت کیجئے چاچا!‘‘
احسان میاں نے قبول کیا تھا،اکائونٹ سیکشن کا کالی سنگھ بہت دنوں سے پیچھے پڑاہواتھا۔ اس کے بچپن کے دوست شکونی لال نے اعلیٰ مد رسے کی بیس سالہ نوکری میں خاص عہدوں پر فائز رہتے ہوئے بڑی چالاکی سے مدرسے کی رقم کا گول مال کیا تھا۔کتابوں کی خریداری،امتحان کے پرچوں کی خرید و فروخت،تیسرے درجے کے طالبِ علم کو اول درجہ دلانے کی سازش بھری دوڑ بھاگ۔کالی سنگھ کا بہت زیادہ دبائو تھا۔’’آپ کو اپنے پرسنٹیج سے مطلب ہونا چاہیے احسان میاں! شکونی لال کے یہ تمام بل پاس ہوجائیں تو یک مشت رقم آپ کے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان میاں نے منع کردیاتھا۔بدنیتی بھرا کوئی کام وہ نہیں کریں گے۔چاہے جو ہوجائے۔
کالی سنگھ نے دھمکی دی تھی،’’کالو پہلوان کا نام سنا ہے نا؟اس مدرسے کے اعلیٰ حاکم کا گریبان اس کی مٹھی میں رہتا ہے۔اپنی ترقی پر اس طرح مت اترائو احسان!تمہاری یہ سیٹ بدلواکر تمہیں اندھیرے میں گم نہیں کردیا تو میرا نام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اس وقت احسان میاں نے ذرا بھی دھیان نہیں دیاتھا،کوئی احتیاط نہیں برتی تھی۔جلال الدین میاں کے گائوں لوٹ جانے کے بعد احسان میاں پر گھات لگاکر حملہ کیا گیاتھا۔سر پر چھُرے کا گہرا گھائو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوزف کی دکان سے تھوڑی دور میڈیکل چوراہے پر وہ واردات ہوئی تھی۔ جوزف نے پہچان لیاتھا۔’’ارے یہ تو اپنے احسان میاں ہیں۔‘‘
احسان کوئی بھی بیان دینے سے کترارہے تھے۔’’نہیں گہرا اندھیرا تھا،کسی کو پہچاننے کا سوال ہی کہاں اٹھتا ہے۔‘‘
’’کسی پر آپ کا شک و شبہ؟‘‘
’’ہم نے کہانا،ہمارا کوئی بھی دشمن نہیں ہے۔‘‘
احسان میاں نے خود بخود فیصلہ کیاتھا،’’سر میری ڈیسک بدل دی جائے۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’میری صحت ٹھیک نہیں رہتی سر،لگاتار چکر آتے رہتے ہیں۔ڈاکٹروں نے دماغی مشقت سے پرہیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘احسان میاں کا تبادلہ دوسرے محکمہ میں کردیاگیاتھا۔سروجنی اور شری دھر نے راحت کی سانس لی تھی۔
نوشابہ پیر بابا کے مزار پر منت مانگ کر سیدھے ان کے یہاں آئی تھی،’’انہیں سمجھائیے ببونی،رات برات گھر سے باہر نہ رہا کریں۔‘‘
’’کیوں،کیا بات ہے بھابھی،ان لوگوں نے پھر کچھ ایسی ویسی حرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں ببونی،اب تو بات الٹی ہوگئی ہے۔شکونی لال مٹھائی کا ڈبہ لیے آیا تھا۔آرزو باہر نکلی تو اس نے آرزو کی کلائی پکڑلی تھی۔ہم تو سکتہ میں آگئے تھے۔کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا نہ کریں؟‘‘
مٹھائی کا ڈبہ آنگن میں پڑی چوکی پر رکھ کر شکونی لال فوراً سے پیشتر واپس لوٹ گیاتھا۔ احسان میاں نے ایک جھٹکے میں سب کچھ طے کرلیا تھا۔شکونی لال کے آفس میں جان بوجھ کر کی گئی ان کی وہ ملاقات،دارو کے اڈے پر اپنے پیسوں سے دارو پلانا اور نشے میں دُھت شکونی لال کی دونوں کلائیوں کو توڑکر ادھ مری حالت میں چوراہے پر چھوڑتے ہوئے اطمینان سے ان کی وہ گھر واپسی۔نوشابہ کو کھٹکا لگاتھا،لیکن احسان میاں کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر وہ خاموش رہ گئی تھی۔زندگی بہ دستور جاری تھی۔آرزو نے کالج میں داخلہ لے لیاتھا۔گلشن اور ارمان نے باری باری اسے پہنچانے اور گھر لانے کا ذمہ اٹھایا لیاتھا۔احسان اس کی شادی کے لیے بے حد فکر مند ہوچلے تھے۔’’شری دھر بھائی،آپ کی جان پہچان میں کوئی لڑکا ہوتو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
گلشن نے آکر وہ بری خبر دی تھی،’’ارمان کل رات سے غائب ہے پھوپھی!امّی اور آرزو کا روروکر بُرا حال ہوگیا ہے۔ابّا پورے شہر کا چپہ چپہ چھان آئے ہیں۔‘‘
آرزو نے چپکے سے نوشابہ کو بتایاتھا ،کالی سنگھ کے چچیرے بھائی بیرونے کالج کے احاطے میں اس کا راستہ روک لیاتھا۔’’اپنی مرضی سے ہمارے ساتھ چلو،ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
آرزو کے شور مچانے پر کئی لڑکیاں جمع ہوگئیں تھیں اور بیرو وہاں سے چپ چاپ کھسک گیا تھا۔ جاتے جاتے اس نے گلشن اور ارمان کودیکھ لینے کی دھمکیاں دی تھیں۔تین دنوں بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیمپس کے پاس والے اجاڑکنوئیں سے ارمان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔پچاس ساٹھ خاندان والے اس احاطے میں ایسا زبردست مجمع اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیاتھا۔
احسان میاں کا دکھ آسمان چھورہا تھا۔کالی سنگھ،شکونی لال اور ان کے دوسرے ساتھی لاش کو جتنی جلدی ہوسکے ٹھکانے لگانے کے چکر میں تھے۔’’جانے والا تو چلاگیا۔اب بلاوجہ چیرپھاڑ کرواکے لاش کی بے حرمتی کس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’گلشن اپنے ابا کو سمجھائو۔جی کڑاکے لاش کو دفنانے کی تیاری کریں۔‘‘
پولیس انسپکٹر نے کیس بنایا تھا۔’’لڑکے کو نشہ کرنے کی عادت تھی،اسی حالت میں کنوئیں کی اور گیااور پھسل کر نیچے گرپڑا۔‘‘
احسان کے کندھے پر شکونی لال کا ہاتھ تھا،’’جو ہوگیا سو ہوگیا۔تمہارے جگر کے ٹکڑے کو لوٹایا نہیں جاسکتا نا! احسان بھائی لو،یہ تھوڑے سے روپے رکھو۔ہماری جانب سے مدد کے طور پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سینہ کوبی کرتے ہوئے نوشابہ کی آنکھوں میں خون کے قطرے تیرنے لگے۔’’ارمان کے ابّا،روپے نہیں،کالے ناگ ہیں یہ!تمہارے بیٹے کا خون ہواہے!رسولِ پاک کی قسم ،میت نہیں اٹھے گی۔پہلے سروجنی بی بی کو بلائو۔ان کے خاوند کہاں گئے۔کوئی تو انہیں بتائو،ان کے لاڈلے ارمان کو کس بے دردی سے مارا ہے ظالموں نے!‘‘
شری دھر کو دیکھتے ہی کالی سنگھ اور شکونی لال اپنے اپنے کوارٹر کی جانب کھسک لیے۔لاش کو پوسٹ مارٹم گھر لے جانے کے لیے گاڑی کی تلاش ہونے لگی۔کسی نے دبی آواز میں بتایا،کالی سنگھ نے نئی گاڑی خریدی ہے۔
جھگڑو چپراسی منہ لٹکائے لوٹ آیاتھا۔’’مردے کو لے جانے کے لیے کالی سنگھ اپنی گاڑی ہرگز نہیں دے گا۔احسان میاں سے کتنے فائدے اٹھائے ہیں اس نے۔‘‘
کالی سنگھ نے راتوں رات بیرو کو شہر سے باہر روانہ کردیاتھا۔ایس پی انل چترویدی نے آرزو کا بیان لیا تھا۔شراب کے اڈے پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیرو پکڑاگیا۔ پہلی مار کے ساتھ ہی اس نے سارا سچ قبول کرلیا۔کالی سنگھ اور شکونی لال نے بیرو کے ساتھ مل کر یہ بھیانک سازش رچی تھی۔
’’احسان ہماری ترقی کے راستے کاروڑہ ہے۔ایمانداری کا سارا ٹھیکہ اس کم بخت نے اپنے اوپر لے رکھا ہے۔اس کے رہتے اوپری آمدنی کا ذریعہ ہوہی نہیں سکتا۔تو کچھ ایسا کیا جائے کہ اس کی زندگی اجیرن بن جائے۔‘‘
بیرو کا منصوبہ دوسراتھا،رات کے اندھیرے میں آرزو کو اٹھواکر نیپال اڑالے جانا۔لیکن ارمان سائے کی طرح بہن کے ساتھ رہتاتھا۔آرزو نے اس دن کے بارے میں ارمان سے اشارتاً کہاتھا۔ارمان بہن کو گھر پہنچا کر الٹے پائوں باہر چلاگیاتھا اور نوشابہ کا انتظار ہمیشہ کے لیے گھر کے گوشے گوشے میں ٹھہر کررہ گیاتھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ آئینے کی طرح صاف تھی۔ارمان کے سر پر کسی ہتھیار سے وار کیاگیا تھا۔اندرونی چوٹ سے اس کی آنتیں پھٹ گئی تھیں،خون کاا ندرونی رسائو اس کی موت کا سبب بن گیا تھا۔نیم بے ہوشی کی حالت میں بیرو کے آدمی رات کے اندھیرے میں اسے اجاڑکنوئیں میںڈال آئے تھے۔
بیرو نے بتایا تھا،’’ان لوگوں کی منشا اسے جان سے مارنے کی نہیں تھی،لیکن کالی سنگھ اور شکونی لال نے للکارہ تھا،’’سنپولا ہے،بچ کر جانے نہ پائے!اس کے گھر والے زندہ نرک کی آگ میں جھلستے رہیں گے،تب پتہ چلے گا کہ کالی سنگھ سے الجھنے کا انجام کیاہوتا ہے!‘‘
سروجنی حیرت زدہ تھی۔وہی کالی سنگھ گھنٹہ بھر قبل کیسی ماتمی صورت بنائے احسان کا سب سے قریبی ہونے کا دم بھررہاتھااور شکونی لال کا رہ رہ کر اپنی آنکھوں پر رومال دھرنا۔مکّاری کی اس سے بڑھ کر دوسری کوئی مثال ہوسکتی ہے بھلا؟
شری دھر کے دوست انل چترویدی نے بڑی مستعدی سے کاروائی کی تھی۔کالی سنگھ اور شکونی کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔دونوں کو گرفتار کرنے کے لیے بڑی سرگرمی سے کھوج شروع ہوئی تھی۔بیرو اور اس کے ساتھیوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
قبرستان تک جانے والے چند لوگوں میں شری دھر بھی تھے۔ارمان کو مٹی دے کر آدھی رات کو سب لوگ گھر لوٹے تھے۔احسان اور نوشابہ کی ڈھارس بندھانے کے لیے کسی کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
گلشن چپکے سے سروجنی کے پاس آبیٹھاتھا،’’پھوپھی،ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ سب لوگوں نے ہمیں انسان بننا سکھایااور بیرو کے ماں باپ نے؟کیا اس کی پیدائش ایسی ہی بُری حرکتوں کے لیے ہوئی تھی؟کتنی بے رحمی سے ہمارے بھائی کا قتل کیا اس نے! قانون اسے بخش دے مگر ہم اسے معاف کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘
دیر تک خاموش بیٹھے احسان میاں کی آواز کسی گہری سرنگ سے آتی ہوئی سی لگ رہی تھی، ’’اپنے آپ پر قابو رکھو بیٹے۔‘‘
’’کیسا قابو ابّو،ان شیطانوں نے ہم سے ہمارا بھائی چھین لیا اور آپ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’آپا ،اس سرپھرے کو سمجھائیے تو۔ہمارے بچے کی موت اسی روپ میں آنی تھی۔ قسمت کا قہر ہم پر ٹوٹناتھا۔جوہوگیا،سوہوگیا۔‘‘ایک لمحہ سروجنی کو ایسا لگا تھا جیسے جلال الدین میاں قبر سے اٹھ کر ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے ہوں۔’’ببونی،گلشن کو سمجھائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اﷲ ظالم کا کبھی مددگار نہیں ہوسکتا۔قیامت کے دن سب کا حساب ہوگا۔حوصلہ رکھو لوگو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
احسان میاں اپنی رو میں بہتے جارہے تھے۔’’کالی سنگھ کا آدمی پچھواڑے کھڑا دھمکیاں دے چکا ہے۔بیان واپس لو،تھانے میں جاکر کہو کہ ارمان کو نشیلی دوائوں کی لت تھی،وہ خود بخود کنوئیں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سب کچھ سن لینے کے بعد شری دھرنے فیصلہ کرلیا تھا،’’احسان بھائی،آپ لوگ مہینے بھر کے لیے گائوں چلے جائیں۔اس درمیان ہم آپ کے تبادلے کی کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پیٹیاں اور بستر سمیٹ کر احسان میاں جیپ پر سوارہوچکے تھے۔ڈرائیور کی سیٹ پر شری دھر بیٹھے تھے۔
اچانک احسان نے ذرا تیز آواز میں کہاتھا،’’شری دھر بھائی ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ دھیرے سے نیچے اترے تھے۔’’آپا ایک بات کہنی تھی۔ابّا نے ہمیں آپ کی پناہ میں بھیجا تھا۔ پندرہ برس بیت گئے۔قدرت کا کھیل ،ہماری واپسی اسی روپ میں ہونی تھی شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا چلتے ہیں،کہے سنے کی معافی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اسی رات ایک بار پھر جلا ل الدین کو ایک دم سامنے دیکھاتھا سروجنی نے۔’’سوگئی کیا ببونی؟ ایک پتے کی بات بتانے آئے ہیں ہم!اﷲ بڑا رحم و کرم والا ہے۔سارا حساب کتاب یہیں چُکتا ہوجائے گا، دیکھ لینا تم!ہمارے ارمان کی روح قبر میں تڑپ رہی ہے۔ان قاتلوں کو کبھی چین کی نیند نصیب نہیں ہوگی۔‘‘
وہ خوفناک خبر شری دھر نے سنائی تھی۔’’بیرو ،کالی سنگھ اور شکونی لال کو پولیس جیپ میں ہزاری باغ جیل لے جایا جارہا تھا۔کیسا بھیانک حادثہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سامنے سے آتے ہوئے ٹرک کے ساتھ جیپ کی سیدھی ٹکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیرو اورشکونی لال کی لاشیں پہچاننے کے قابل نہیں رہ گئی تھیں، کالی سنگھ اپنے لوتھڑا ہوچکے جسم کا درد بھُگتتا آخری سانسیں گن رہا تھا۔‘‘
گلشن کا پہلا خط مہینے بھر بعد ملاتھا۔
’’پھوپھی،ابا نہیں رہے۔ارمان بھائی کا صدمہ انہیں لے ڈوبا۔اپنے انتقال سے قبل ظالموں کے صفائے کی خبر سن لی تھی انہوں نے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امّی کہلوار ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کے بچے کھچے دن اسی قبرستان سے لگے بغیچے کی دیکھ بھال میں گزارنا چاہتی ہیں۔آپ ہمارے لیے دعا کرتی رہیں گی۔آرزو کی شادی اور اپنی پڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کے لیے فکر مند ہیں ہم!
ایک بات تو لکھنا بھول ہی گئے پھوپھی! ابّا کی زبان پر آخری لفظ آپ کے لیے تھے۔‘‘
کیسا عجیب سا سکون اپنی آنکھوں میں لیے احسان میاں اپنی منہ بولی بہن سروجنی کی اور مخاطب تھے،’’اﷲ کا فیصلہ دیکھ لیانا آپا!اس نے بھرپائی کردی۔اب ہم چین کی نیند سو سکیں گے۔ ارمان ہمیں بلارہے ہیں آپا،انہیں ہماری ضرورت ہے۔اچھا ،رُخصت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!


ہندی کہانی

ترجمہ: قاسم ندیم

 

Mumbai a Maliyalum Story by N.S. Madhuwan

Articles

ممبئی

این۔ایس۔ مادھون

 

بچپن کی یادوں نے دنیا کو سمجھنے میں عزیز کی مدد کی۔یقینا سبھی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آدم کے علاوہ۔زمین پر آئے پہلے آدمی کے طور پر ان کا کوئی بچپن نہیں تھا۔بچپن کی یاد دلانے والی کسی بھی چیز کو عزیز آسانی سے اپنا لیتا تھا۔اسی لیے ممبئی کو وہ پسند کرتا تھا۔اسے وہ بزرگ میاں بیوی اچھے لگتے تھے جووارڈن روڈکے اس مکان کے مالک تھے جس میں وہ رہتاتھا۔اگر باذوق،سفید ہوتی مونچھیں اور شرارتی آنکھوں والے شکورصاحب اسے ایئر انڈیا کے مہاراجہ کی یاد دلاتے تو گالوں پر بڑے بڑے گڑھے لیے امّی جان اسے اس کی من پسند اداکارہ کے پی اے سی للیتا کی یاد دلاتیں۔
ہمیشہ کی طرح اس روز بھی صبح کی تازہ دُھلی دھلائی ٹیکسیوںنے عزیز کو خوشیوں سے بھر دیا۔ دوسرے شہروں سے الگ، ممبئی کی ٹیکسیاں بھاری بھرکم ایمبسیڈر نہیں تھیں۔ یہ بڑی حد تک ان چتکبری بلیوں جیسی فیاٹ تھیںجو تھپ تھپائے اور دُلارے جانے کی منتظر ہوتی ہیں۔
جیسے ہی عزیز ٹیکسی میں داخل ہوا،اس نے اخبار کھول لیا۔صفحہ اوّل کی اہم سرخیوں پر سرسری نگاہ ڈال کر اس نے اسٹاک اور شیئر والا حصہ نکال لیا۔وہ کالموں اور شماریات میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس کا دھیان سہانی ہوامیں پھڑپھڑاتے اوراق پر گیا تب اسے احساس ہوا کہ وہ سمندر کے کنارے سفر کررہا ہے۔ عزیز نے وِنڈ اسکرین پر لگی سبز سَن فلم کو دیکھا۔ہرا سمندر بالکل نیا دکھائی دیا۔ سن فلم پر لگے ہندی اسٹیکر کو سمجھنے میں عزیز کو تھوڑا وقت لگا۔چھلانگ لگاتے باگھ پر پیلے حروف میں لکھا تھا،’’گرو سے کہو ہم ہندو ہیں۔‘‘
جیسے جیسے ٹیکسی یکے بعد دیگرے سرخ بتی پر رکتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی،عزیز سوچ رہا تھا کہ انتخابات کے بعد ممبئی تھکا ماندہ آرام کررہا ہے۔ہاتھ کا پنجہ،کنول، تیر کمان، نائو،ریلوے انجن۔ دیواروں پر آویزاں ان نشانیوں نے پورے شہر کو پہلی جماعت والی حروف تہجی کی کتاب میں بدل دیا تھا۔سرکار میں آنے والی کسی بھی تبدیلی کا عکس سب سے پہلے سینسکس اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس پر پڑتا تھا۔مگر اس کے لیے عزیز اور اس کے ساتھی،کمپنی میں کام کرنے والے دوسرے سیلز انجینئر ، شاید نئی سرکار کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے بھی نہیں آتے۔عزیز کے دل میں یہ خیال گذشتہ روز کوندا تھا جب پردیپ پلئی نے دوپہر کے کھانے کے وقت اعلان کیاتھا،’’سرکار بدل گئی ہے۔‘‘
’’تو؟‘‘یہ تھے جیوتی پرساد شری واستو،ایک دوسرے سیلز انجینئر۔
’’کئی دوسری چیزیں بدل جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘پردیپ پلئی نے کہا۔
گروپ میں سب سے بڑے جینت کرماکر نے پوچھا،’’تمہارا کیا مطلب ہے؟ کیا نئی سرکار ٹینڈرس کو خارج کردے گی جنہیں ہم نے اتنی مشکل سے حاصل کیا ہے؟‘‘
’’دوسری چیزوں میں۔۔۔۔‘‘پردیپ پلئی نے کہا۔عزیز کو محسوس ہواتھا کہ پلئی جان بوجھ کر اشتیاق پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب ٹیکسی نریمن پوائنٹ پر ایک کثیر منزلہ عمارت کے سامنے رکی،جہاں عزیز کام کرتا تھا،تب تک کچھ غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔مضافاتی ٹرینیں ممبئی کو چیرتے ہوئے اب بھی دوڑرہی تھیں۔سینسکس پھر جی اٹھا تھا۔چرچ گیٹ پر اترنے والے عام مسافروں کا جم غفیر دائیں بائیں دیکھے بنا آگے بڑھتا جارہا تھا جن میں سے تقریباً آدھے لوگ کھجلی سے پریشان تھے (ہمیشہ کی طرح ہاہاہا۔۔۔) ڈبّے والوں کی سائیکلوں پر ٹفن کیرئیر چلے جارہے تھے،جن کا مقام تھا تمام لنچ پیلیس اور یہی وہ وقت تھا جب نائٹ شفٹ کے بعد دیر رات گئے سونے والے جاگتے تھے اور ان کی بیویاں گھر پر نہ ہوتیں تو گھریلو کام کرنے والی کانتا بائی یا کسی اور کو بانہوں میں بھرنے کی کوشش کرتے۔
جیسے ہی وہ دفتر میں اپنے کمرے میں پہنچااس نے ٹیبل پر اپنی پاسپورٹ سایز کی تصویروں کی جانچ کی۔سبھی پاسپورٹ سائز کی تصویروں کی طرح وہ اجنبی سی دکھائی دیں۔اس عزیز کی طرح جسے وہ ہر صبح آئینے میںدیکھتاتھا۔اس نے پاسپورٹ کے لیے فارم بھرنا شروع کیا،اس کے نیلے صفحات پر بے حد اطمینان سے۔اسے کمپنی کے نمائندے کے طور پر فرینکفرٹ میں ہورہی تجارتی نمائش کے لیے روانہ کیا جارہا تھا۔جب اس نے بھرا ہوا فارم ٹراویل ایجنٹ کے پاس بھیجا،تب اس کے ساتھی جو دوپہر کا کھانا کھانے باہر گئے ہوئے تھے لوٹ رہے تھے۔جب اس نے انہیں غیرمعمولی انداز میں تیز آواز میں باتیں کرتے سنا تو اندازہ لگایا کہ ضرور ریلائنس یا اے سی سی کے شیئروں میں کافی اچھال یا گراوٹ آئی ہوگی۔
جوں ہی جیوتی پرساد کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے عزیز سے پوچھا،’’تم ہی بتائو عزیز۔یہ کرماکر کہتا ہے کہ نئی سرکار کا فیصلہ کہ وہ غیر ملکیوں کو نکال باہر کرے گی،غلط ہے۔ ان کے نظریات کہاں غلط ہیں؟‘‘
عزیز نے جواب دیا،’’کچھ نہیں۔سبھی ممالک ان مسافروں کو ان کے وطن واپس بھیج دیتے ہیں جن کے پاس ویزا نہیں ہوتا۔تو ہم کیوں نہ کریں ایسا؟‘‘
کرماکرنے غصے میں جواب دیا،’’یہ سیاست ہے۔تم میں سے کوئی بھی اسے نہیں سمجھتا۔‘‘
’’ہم تو صرف ایک چیز سمجھتے ہیں اور وہ ہے اسٹاک مارکیٹ۔چلو سیاسی بحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ،اس کے ذریعے کچھ مال بنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘کمرے سے باہر جاتے ہوئے پردیپ پلئی نے کہا۔دوسرے بھی یکے بعد دیگرے اس کے پیچھے نکل گئے۔
عزیز نے آنکھوں کو آرام دینے کے لیے انہیں پل بھر کے لیے بندکردیا۔تبھی ٹراویل ایجنٹ کا فون آگیا،’’مسٹر عزیز،آپ فوراً اپنے راشن کارڈ کی زیراکس کاپی ہمارے پاس بھیج دیں۔‘‘
’’لیکن میرے پاس راشن کارڈ نہیں ہے۔‘‘
’’تو بنوالیں فوراً۔‘‘
’’ایک پاسپورٹ کے لیے کیاکیا جھیلنا پڑتا ہے!آپ کا مطلب ہے کہ مجھے راشن سے ملنے والا چاول کھانا پڑے گا۔‘‘
’’نہیں،اس کی ضرورت نہیں۔لیکن آپ کو پتے کے پروف میں راشن کارڈ کی ایک کاپی پاسپورٹ کے فارم کے ساتھ دینا پڑے گی۔‘‘
’’تب مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’سپلائی آفس جائیں اور وہاں ایک درخواست فارم بھریں۔کچھ دنوں بعد آپ کے گھر ایک انسپکٹر آئے گا۔آج کل ان کا بھائو ایک گاندھی چل رہا ہے۔آپ کو دو دنوں میں کارڈ مل جائے گا۔بس۔‘‘
ہر اتوار کی طرح اس دن بھی عزیز وی سی آر کے سامنے بیٹھا پرانی راج کپور کی فلمیں دیکھ رہا تھا۔ اس طرح کی ہندی فلموں کے ذریعے ہی وہ ممبئی کے آثارِ قدیمہ کی کھوج کرلیتا تھا۔ان فلموں کے ذریعے وہ تین چار دہائی پرانی ممبئی میں داخل ہوجاتا۔جب وہ بلیک اینڈ وائٹ پردے پر قلعے، فوارے، کرکٹ پویلین یا باندرہ اسٹیشن،میٹروسنیما،تاج ہوٹل اور دیگر عمارتوں کو دیکھتا تو ٹیلی ویژن کے دوسرے جانب سے ہزاروں چہروں والی موجودہ ممبئی کے بے گانے پن سے اسے راحت محسوس ہوتی۔
چھٹی کے دن کھانے کے وقت دروازے پر ہونے والی امّی جان کی معمول کے مطابق دستک اس کے لیے گھڑی کا کام کرتی تھی۔لیکن اس دن امّی جان نے وقت سے قبل ہی گیارہ بجے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
’’کوئی تم سے ملنے آیا ہے۔کہتا ہے کہ سپلائی ڈپارٹمنٹ سے ہے۔‘‘انھوں نے کہا۔
’’اتوار کو؟‘‘
’’ہاں،اور اس کے ساتھ ایک دادا بھی ہے جو حکمراںپارٹی کے لیے ووٹوں کا جگاڑ کرتا ہے۔‘‘
جیسے ہی عزیز نے دروازہ کھولاسپلائی انسپکٹرنے جو عزیز کے خیال سے کافی کم عمر تھا پوچھا، ’’آپ نے راشن کارڈ کے لیے درخواست دی ہے ،ہے نا؟‘‘
’’آپ کے ساتھ یہ کون ہے؟‘‘عزیز نے جواب سے پہلے سوال کردیا۔
’’رامو دادا۔میں انہیں اپنے ساتھ گھر دکھلانے کے واسطے لے آیا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’آپ کل سپلائی آفس میں میڈم گوکھلے سے ضرور ملیں۔پرمیلا گوکھلے۔ میں آپ کو وقت پر مطلع کرنا چاہتاتھا۔اسی لیے آپ کو یوں اتوار کو پریشان کیا۔‘‘
جب عزیز نے پرمیلا گوکھلے کے آفس کے آدھے دروازے کو کھولا تو اس نے اس کے ناٹے ہونے کی توقع نہیں کی تھی۔حالانکہ ایک نظر میں وہ جوان لگتی تھی،مگر اس کی آنکھیں اس کی عمر تیس یا اس سے زیادہ بتاتی تھیں۔اس نے اسکولی لڑکیوں کی طرح دو چوٹیاں بنائی تھیں اور سفید دوپٹے میں ایک اسکولی لباس کی معصومیت تھی۔ اپنے پتلے،تیکھے سرخ ہونٹ اور موٹے چشمے سے چھوٹی دکھنے والی بھوری آنکھوں سے وہ ایک سفید چوہیا کی طرح نظر آرہی تھی۔عزیز سوچنے لگا کہ جوش میں آکر ملاقات کے دوران کہیں وہ آگے بڑھ کر اس کی پیٹھ نہ تھپتھپادے۔اس کی کھلی دراز میں گیانیشوری رکھی تھی جس کا کچھ حصہ پڑھا جاچکا تھا۔
’’مسٹر عزیز؟‘‘اس نے نرمی،بے حد نرمی سے پوچھا۔ جیسے ایک معشوق اپنے عشق کا اظہار کررہا ہو۔
’’ہاں۔‘‘
’’والد کا نام؟‘‘
’’بیرن کنجو۔‘‘
’’ماں کا نام؟‘‘
’’فاطمہ۔‘‘
’’کیا وہ حیات ہیں؟‘‘
’’نہیں،دو سال قبل ایک ماہ کے دوران ہی دونوں کا انتقال ہوگیاتھا۔‘‘
’’آپ کے پاس کوئی زمین،جائیداد ہے؟‘‘
’’نہیں۔مجھے آئی آئی ٹی میں پڑھانے اور میرے بھائی کا ابوظہبی کا ویزا دلوانے کے لیے انہیںاپنی ساری زمین فروخت کرنی پڑی۔‘‘
’’تب تو آپ کے پاس زمین کی پرانی ٹیکس کی رسیدیں ضرور ہوںگی؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’تو آپ کے پاس بھارت میں کسی زمینی جائیداد کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں۔میرا راشن کارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’یہ پوچھ تاچھ اسی کے لیے ہے۔پہلے آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ ہندوستانی ہیں۔ صرف اسی وقت ہم آپ کے راشن کارڈ کی درخواست پر غور کرسکتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو اچھا کھیل ہے۔سوچیے ایک رات آپ کو جگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ثابت کیجئے آپ ایک ہندوستانی ہیں،تو آپ کیا کریں گی بہن جی؟‘‘عزیز کی آواز بلند ہوئی۔ اچانک اس نے دروازے کے اس پار بے شمار پیروں کی آہٹ سنی۔پرمیلا گوکھلے کے دفتر کی کھڑکی پر چہروں کی بھیڑ تھی۔عزیز نے پل بھر میں ہی ان چہروں کے رنگ کو اور غصے کی لہروں کو بڑھتے دیکھا ۔
’’میںانہیں اپنا نام بتادوں گی۔بس میرا نام،میرا اتہاس اور جغرافیہ دونوں ہیں۔پرمیلا گو کھلے ، مہاراشٹرین ہندو۔چت پاون برہمن۔سمجھے آپ؟‘‘جب اس نے یہ سب کہا تب بھی اس کی آواز ایک معشوق کی طرح ہی تھی۔اس کی آواز کی نرمی نے عزیز کو اندرتک خوفزدہ کردیا تھا۔
’’میں کیا کروں؟‘‘
’’اب آپ جاسکتے ہیں۔آپ کو پھر بلایا جائے گا۔تب آپ کو آنا ہوگا بھائی صاحب۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی۔
جب دو روز بعد عزیز پرمیلا گوکھلے سے ملا،تو اس کی پوشاک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس کا کمرہ بھی ویسا ہی نظر آیا۔سوائے اس کے کہ اس نے اپنی دراز میں پڑی گیانیشوری کے مزید کچھ صفحات پڑھ لیے تھے۔
’’مسٹر عزیز ہم نے آپ کو کچھ اور چیزوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے بلایا ہے۔‘‘
’’ایک راشن کارڈ کے لیے اتنی بھاری پوچھ تاچھ؟اب کیا پوچھنا ہے؟جیسے کسی شادی کے مسئلے پر غوروفکر کرنا ہے؟‘‘
’’آپ کہاں پیدا ہوئے تھے؟‘‘اس نے اور بھی زیادہ اطمینان سے پوچھا۔
’’کیرالا میں۔‘‘
’’کیرالا میں کہاں؟‘‘
’’ملپّورم ضلع میں۔‘‘
’’اس ضلع کے کون سے گائوں میں؟‘‘
’’پانگ۔‘‘
’’پانگ؟پانگ کیا؟‘‘اس کی آواز پہلی بار ذرا اونچی اٹھی۔آدھے دروازے کے اس پار دکھائی دینے والے پیروں کے چلنے کی بدقسمتی دستک دینے لگی۔
’’پانگ۔جہاں میں پیدا ہواہوںاس کا نام یہی ہے۔‘‘
’’ایسا نام؟نہیں۔یہ ناممکن ہے۔ایسے نام کا بھارت میں کوئی گائوںنہیں ہوسکتا۔‘‘
’’میڈم،میں جھوٹ کیوں بولوں گا؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم۔خیر جو بھی ہو۔ملیالم میں پانگ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں کہ اس کا کوئی مطلب ہے بھی یا نہیں؟‘‘
’’بنا مطلب والا لفظ؟لفظوں کا احترام کیجئے۔اب بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ کوئی پانگ وانگ نہیں ہے؟‘‘
’’پانگ ہے۔یقینی طور پر ہے۔آپ اگر چاہیں تو ملپّورم کے کلکٹر کو ٹیلی گرام بھیج کر جانچ کرسکتی ہیں۔‘‘
’’کیا آپ بھارت کے نقشے پر مجھے پانگ دکھلاسکتے ہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیرالا کے نقشے پر؟‘‘
’’میں اعتماد کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’پھر بھارت میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے۔آپ جاسکتے ہیں۔میری پوچھ تاچھ میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔‘‘
جب عزیز باہر آیا تو بھیڑ اسے راستہ دینے کے لیے دو حصوں میں بٹ گئی۔اس سے اسے یاد آیا کہ سیسل دی مِل کی’داٹین کمانڈمینٹس‘میں موسیٰؑ کو راستہ دینے کے لیے دریائے نیل کس طرح دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔اس بار موسیٰ واپس لوٹ رہے ہیں۔بعد میں وہ آدم کے روپ میں لوٹ جائیں گے۔ معصوم،پہلی بار زمین پر آنے والے آدمؑ کی طرح،بنا کسی بچپن کے۔
عزیز اس کے بعد کچھ دنوں تک دفتر نہیں گیا۔وہ اپنے کمرے میںہی رہا۔ریڈیو آن کیے ہوئے،بے حد تیز آواز میں تاکہ وہ اپنے من کے خیالات کو نہ سن سکے۔کف پریڈ پر اس کے ایک دوست جو بحری فوج میں تھا،نے خواجہ احمدعباس کی فلم’شہراور سپنا‘کاایک ٹیپ دیا تھا۔اس پرانی فلم کو بیٹھ کرکئی بار دیکھنے کے بعد بھی،وہ اس میں سے ممبئی کی بھولی بسری یادوں کو کھودکر نکالنے میں ناکام رہا تھا۔
ایک شام سپلائی انسپکٹر اور رامو داد اآئے اور انہوں نے اپنی جیپ میں عزیزکو پرمیلا گوکھلے سے ملنے کے لیے ساتھ چلنے کو کہا۔جب وہ اپنے فلیٹ کا دروازہ بند کررہا تھا تو اس کی نگاہ خطاطی طرزِ تحریر میں شیشے کے فریم میں’بسم اﷲ‘کے سامنے چپ چاپ کھڑی امّی جان اور شکور صاحب پر پڑی۔بسم اﷲ،جو پانچ روشن شمعوں کے مانند دکھائی دیتا تھا،عربی میں عزیز کا من پسند لفظ تھا۔
اس بار پرمیلا گوکھلے کے آفس میں پہلے سے بھی زیادہ بھیڑ تھی۔کھڑکیاں چہروںکی بے چینی سے بھری ہوئی تھیں۔ایسا لگتاتھا کہ پرمیلا گوکھلے گیانیشوری کا مطالعہ مکمل کرچکی تھی۔اس نے بڑی ملائمت سے سوال کرنا شروع کیا،’’کیا 1970ء میں آپ بھارت میں تھے۔‘‘
’’میڈم اس وقت میں پیدا نہیں ہوا تھا۔‘‘
’’اچھا،1971ء میں؟‘‘
’’میں اسی سال پیدا ہوا تھا۔‘‘
’’تو آپ قبول کرتے ہیں کہ 70ء میں آپ بھارت میں نہیں تھے؟‘‘
’’یہ واقعی بے تکا سوال ہے۔میں تب پیدا نہیں ہوا تھا۔‘‘
’’کیا میں یہ درج کرلوں کہ بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ شروع ہونے سے پہلے آپ بھارت میں نہیں تھے؟‘‘
’’مجھے آپ کو کتنی بار بتانا پڑے گا کہ تب میں پیدا نہیں ہواتھا؟‘‘
’’سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دیجئے۔‘‘پرمیلا گوکھلے کی آواز ذرا اونچی ہوئی اور عزیز کو بجلی کی کڑک جیسی سنائی دی۔کھڑکی سے نظر آرہے چہرے اور خطرناک دکھائی دینے لگے اور آدھے دروازے کے باہر قدموں کی آہٹیں مزید بڑھ گئیں۔
’’بتائیے مجھے بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ سے پہلے یعنی 1970ء میں اور اس سے پہلے کیا آپ بھارت میں تھے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اچھا گھس پیٹھ کے دوران؟71ء کے بعد؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ہاں۔‘‘
کچھ دیر خاموشی رہی۔
مایوسی سے نبردآزما ہوتے ہوئے عزیزنے پوچھا،’’میرا راشن کارڈ؟‘‘
پرمیلا گوکھلے مسکرائی۔جواب میں باہر کے لوگ قہقہے لگانے لگے۔اس نے کہا،’’ میں نے اپنی رپورٹ مکمل کردی ہے۔میں اسے کل خود بھیجوں گی۔‘‘
’’کیا آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ میں ایک گھس پیٹھیا ہوں؟‘‘
’’آپ نے خود قبول نہیں کیا؟‘‘پرمیلا کھڑی ہوگئی۔کئی ملاقاتوں سے جو ربط ہواتھا، اس نے عزیز سے ہاتھ ملایا۔
جب عزیز گھر پہنچا تو اس نے دو پولیس والوں کو عمارت کے باہر پہرہ دیتے ہوئے دیکھا۔ وہ اپنے کمرے میں گیااور دروازہ بند کرلیا۔جیسے ہی وہ پردے ہٹاکر کھڑکی کھولنے والا تھا کہ اسے احساس ہوا کہ دوسری جانب مورپنکھی پر موجود دھبوں جیسی آنکھوں والے بے شمار آدمیوں کے چہرے ہوںگے۔بے تحاشہ خوف کی گرفت میں آکر عزیز اپنا چہرہ زمین پر دبائے بستر میں گھس گیااور نومولود بچے کی طرح بنا ہلے ڈُلے پڑا رہا۔

ملیالم کہانی

ترجمہ: قاسم ندیم


Jung by Chinwa Achebe

Articles

جنگ

چنوا اچے بے

 

پہلی بار جب وہ ایک دوسرے کی راہوں سے گذرے تو کچھ بھی نہیں ہوا ۔یہ جد و جہد بھرے دنوں کی بات ہے ۔ جب ہر روز نوجوانوں کی اور کبھی کبھی لڑکیوں کو بھی بھرتی دفتروں سے مایوس واپس لو ٹنا پڑتا تھا ، کیوں کہ نئے تشکیل شدہ ملک کی حفاظت کے لئے ہتھیار اٹھانے والے بہت سے لوگ آ رہے تھے ۔
دوسری بار وہ آنکار کے ایک چیک پوائنٹ پر ملے ۔ جنگ شروع ہو چکی تھی اور دور دراز کے شمالی علاقوں سے دھیرے دھیرے جنوب کی جانب بڑھ رہی تھی۔ وی اونتشا سے اینو گو جا رہا تھا اور عجلت میں تھا ۔ حالاں کہ وہ ذہنی طور پر سڑک پر کھڑی کی گئی رکاوٹوں اور اچھی تلاش کے حق میں تھا ، لیکن جب اسے تلاشی دینی پڑتی تھی ۔ اس کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی تھی ۔ حالاں کہ وہ بذات خود اس بات کو ماننے کے لئے تیار نہیں تھا ، لیکن لوگ مانتے تھے کہ اگر آپ کی تلاشی لی گئی تو آپ بڑے آدمی نہیں ہیں ۔ اگر وہ اپنی اور متاثر کن آواز میں یہ کہہ کر” ریگی نولڈ نوالکو“ ’ وزارت انصاف‘ اپنی تلاش سے بچ جاتا تھا۔اس کے جملے کا اثر فوراً ہوتا تھا ، لیکن کئی بار لا علمی کے سبب یا ضدی آفیسر کی بنا پر چیک پوائنٹ کے لوگ اس کے جملے سے متاثر نہیں ہوئے تھے ۔ جیسا کہ ابھی آفکا پر ہوا تھا ۔ مارک ۴ کی وزنی بندوقیں اٹھائے ہوئے دو کانسٹبل دور سڑک کے کنارے سے نظر رکھے ہوئے تھے اور تلاشی کا کام انھوں نے مقامیی نگراں کاروں کے حوالے کر دیا تھا ۔
”مجھے جلدی جانا ہے ۔“ اس نے لڑکی سے کہا ، جو اس کی کار تک آ گئی تھی ۔” میرا نام ریگی نولڈ نوانکو ہے ۔ وزارت انصاف سے وابستہ ہوں ۔“
” سلام سر “ میں آپ کی کار کا بوٹ دیکھنا چاہتی ہوں۔“
” اے خدا ! تمہارے خیال سے بوٹ میں کیا ہو سکتا ہے ؟“
” میں نہیں جانتی سر ۔“غصے پر قابو رکھتے ہوئے وہ کار سے باہر نکلا ، پیچھے گیا ، بوٹ کھولااور بائیں ہاتھ سے ڈھکن اٹھاتے ہوئے دائیں سے یوں اشارہ کیا ، جیسے کہہ رہا ہو ، اس کے بعد ۔” ہو گئی تسلی ؟‘اس نے سوال کیا ۔
”جی ، سر۔کیا میں آپ کی گاڑی کا پیچن ہول دیکھ سکتی ہوں!“
” او میرے خدا ۔“
” دیری کے لئے معافی چاہتی ہوں ، سر آپ ہی لوگوں نے ہمیں یہ کام سونپا ہے ۔“
” کوئی بات نہیں ، تم بالکل ٹھیک کہتی ہو یہ رہا گلف باکس ۔ دیکھ لو، کچھ بھی نہیں ہے ۔“
” ٹھیک ہے سر ، بند کر دیجئے ۔“ اس نے پیچھے کا در وازہ کھول کر سیٹ کے نیچے جھانکا ۔ تب اس نے پہلی بار لڑکی کو بغور دیکھا ۔ پیچھے سے۔ وہ خوبصورت لڑکی تھی ۔ جس نے نیلی جرسی ، خاکی جینس اور کینوس کے جوتے پہن رکھئے تھے اور بالوں کو نئے اسٹائل سے پلیٹو ں میں باندھ رکھا تھا ۔ جس سے لڑکیوں کے چہرے پر باغیانہ تیور ابھر آتا تھا ۔ جسے لوگوں نے نہ جانے کیوں ” ائیر فورس پیس“ کانام دے رکھا تھا ۔ وہ کچھ کچھ جانی پہچانی لگتی تھی ۔
”میں مطمئن ہوں سر“اس نے آخر میں کہا۔ جس کا واضح مطلب تھا کہ وہ اپنا کام مکمل کر چکی ہے ۔
” آپ نے مجھے پہچانا نہیں سر !“
” نہیں،کیوں !“
”جب میں اسکول چھوڑ کر فوج میں بھرتی ہونے جا رہی تھی تو آپ نے مجھے اینو گو تک لفٹ دی تھی ۔“
” اوں، ہاں۔تمہیں وہ لڑکی ہو ۔ میں نے تمہیں واپس اسکول جانے کے لئے کہا تھا نا،کیوں کہ فوج میں لڑکیوں کی ضرورت نہیں ہے ، پھر کیا ہوا !“
” انھوں نے مجھے اسکول جانے کے لئے کہا یا ریڈ کراس میں بھرتی ہونے کا مشور ہ دیا ۔“
” دیکھا تم نے ، میں نے ٹھیک ہی کہا تھا نا ۔تب پھر تم یہاں کیا کر رہی ہو!“
” صرف سول ڈیفنس کے ساتھ تھوڑا سا ہاتھ بتا رہی ہوں ۔“
” چلو ٹھیک ہے ، یقیناً تم بہت ہی اچھی لڑکی ہو ۔“ وہی دن تھا جس دن اس نے سوچا تھا کہ انقلاب میں آخر کچھ ہے ۔ اس نے پہلے ہی لڑکیوں اور عورتوں کو مارچنگ اور مظاہرہ کرتے دیکھا تھا۔ لیکن وہ ان کے بارے میں ٹھیک سے سوچ نہیں بنا پا یا تھا ۔ اس میں تو کوئی شک نہیں کہ عورتیں اور لڑکیاں اپنے بارے میں سنجیدگی سے سوچتی تھیں، جو گلیوں میں چھڑیاں اٹھائے اور سروں پر اسٹیل ہیلمٹ کی جگہ سوپ کے کٹورے رکھے آگے پیچھے ڈرل کیا کرتی تھیں ۔ ان دنوں کا سب سے مشہور مذاق تھاوہ بیز جس کے پیچھے پیچھے مقامی اسکول کی لڑکیاں چلتی تھیں اور جس پر لکھا رہتا تھا ” وی آر امپریگینل!“
لیکن آفکا چیک پوائنٹ پر اس لڑکی کے ملاقات کے بعد وہ دوبارہ نہ تو لڑکیوں کا مذاق ہی اڑا سکااور نہ ہی انقلاب کی بات کی ، کیوں کہ اس لڑکی کے کام کرنے کے طریقے نے اور سادگی وخود اعتمادی نے اسے ایک دم چھچھورے بدن کا مجرم بنا دیا تھا ۔ کیا کہا تھا اس نے۔” ہم وہی کام کر رہے ہیں جو آپ لوگوں نے ہمیں سونپا ہے۔“اس نے میرے عہدے کا بھی لحاظ نہیں کیا تھا جس نے ایک بار اس پر احسان بھی کیا تھا ۔ مجھے یقین تھا کہ وہ اپنے والد کی تلاشی بھی اسی سختی سے لیتی۔
جب وہ تیسری بار ایک دوسرے کی راہوں سے گذرے تو اٹھارہ مہینے بیت گئے تھے اور حالات کافی خراب تھے ۔ موت اور بھکمری نے بیتے دنوں کی خود داری کو رفو کر دیا تھا ، اس کی جگہ مایوسی اور بد امنی نے لے لی تھی ۔ جس کی بنا پر ہر ضمیر مردہ ہو گئے تھے ۔ حیرت کی بات ہے کہ ایسے وقت میں بھی کچھ لوگ ایسے تھے جن کی اکلوتی آرزو یہ تھی کہ زندگی میں بہترین سے بہترین چیزوں پر قبضہ جما لینا اور موج مستی کرنا۔ایسے لوگوں کے لئے دنیا میں ایک عجیب و غریب سی یکسانیت لوٹ آئی تھی ۔ سبھی چیک پوائنٹ غائب ہو گئے ۔ لڑکیاں پھر لڑکیاں بن گئیں اور لڑکے لڑکے ۔ زندگی خوف و دہشت سے بھری اور یاسیت زدہ ہو کر رہ گئی تھی۔ جس میں کچھ اچھائیاں تھیں ۔ کچھ برائیں اور ڈھیر ساری بہادری جو اس کہانی کے کرداروں سے پرے رفیوجی کیمپوں ، چیتھڑوں میں لپٹے ، گولی کے نشانے کے سامنے سینہ سپر، بھوکے ننگے لیکن با ہمت لوگوں میں دکھائی دیتی تھی ۔
ریگی نولڈ ناکوف ان دنوں اویری میں بود و باش اختیار کے ہوئے تھا ، لیکن اس دن وہ راشن کی تلاش میں نکوری گیا ہوا تھا ۔ اویری میں اسے کیریناس میں کچھ مچھلیاں ، ڈبہ بند گوشتاور گھٹیا امریکی اناج ، جسے کھاد نمبر دو کہتے تھے اور جو جانوروں کا چارہ تھا ۔ مل گیا تھا ۔ اسے لگتا تھا کہ کیتھولک نہ ہونے کی وجہ سے اسے کیریناس میں نقصان ہوتا تھا ۔ اس لئے وہ نکوری میں چاول ، بیسن اور گیبن گاری نامی ایک بہترین سیریل کی تلاش میں اپنے دوست کے پاس آیا تھا !جو ڈبلیو سی سی کا ایک ڈپو چلاتا تھا ۔
وہ اویری سے صبح چھ بجے ہی چل پڑا تھا تاکہ اپنے دوست کو ڈپو میں ہی پکڑ سکے ۔ جو ہوائی حملے کے ڈر سے ساڑھے آٹھ کے بعد وہاں ٹھہر تا نہیں تھا ۔ نانکوف کے لئے وہ دن خوش بختی والا تھا ۔ کچھ دن پہلے کئی جہازوں کے ایک ساتھ اچانک ایک ساتھ آ جانے کے سبب ڈپو میں ایک دن پہلے ہی رسد کا بہت بڑا اسٹاک آیا تھا ۔ جب اس کا ڈرائیور ٹن تھیلے اور کارٹن اس کی گاڑی میں لاد رہا تھا تو بھوکی بھیڑنے جو ہمیشہ ریلیف سینٹروں کے ارد گرد جمع رہتی تھی ، کئی بھپتیاں کسیں ۔ مثلاً ” وارکین کینٹینو“ جس کا مطلب ڈبلیو سی سی سے تھا ۔ کوئی اور چلایا ” ایرے ولو“
اس ے دوست نے جواب دیا ’ شم‘ ۔’ ایرے ولو‘ ۔”شم“
” ایسو ہیلی،’شم‘ ۔ ایسو ہیلی، ’ شم۔ممبا۔
نانکوف بے حد شرم محسوس ہوئی ۔ چیتھڑوں اور ننگی پسلیوں والی بھیڑ سے نہیں بلکہ ان کے بیمار جسموں سے اور التجا بھری آنکھوں سے ۔ اسے زیادہ برا محسوس ہوتا اگر وہ کچھ بھی نہ کہہ کرچپ چاپ اس کی گاڑی کے باٹ میں سے ، انڈے ، دودھ کا پاو¿ڈر ، دلیہ، گوشت اور مچھلی کے ڈبوں کو خاموشی سے لدتا ہوا دیکھتے رہے ۔ عمومی طور پرچاروں طرف پھیلی ہوئی مصیبتوں کے درمیان اس طرح کی خوش قسمتی پر شرم آنا لازمی تھا ۔ لیکن کوئی کیا کر سکتا تھا ۔ دور اوگبو قصبے میں موجود اس کی بیوی اور چار بچے مکمل طور پر اس کے ذریعے ارسال کئے گئے راحتی سامان پر انحصار کرتے تھے ۔ وہ انھیں کواشی خور جیسی جان لیوا بیماری کے منھ میں تو نہیں دھکیل سکتا تھا ۔وہ صرف اتنا کر سکتا تھا اور کر رہا تھا کہ جیب ہی اسے آج کی طرح اچھی ارسد مل جاتی تھی تو وہ اس کا کچھ حصہ اپنے ڈرائیور جانسن کے دے دیتا تھا ۔ جس کی بیوی اور چھ بچے تھے یا سات۔اور جس کی تنخواہ دس پاو¿نڈ ماہانہ تھی ۔بازار میں ’گاری‘ کی قیمت ایک پاو¿نڈی سگریٹ امن تک پہنچ گئی تھی ۔ ایسی حالت میں وہ بھیڑ کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا ۔ زیادہ سے زیادہ وہ اپنے پڑوسی کے لئے کچھ کر سکتا تھا ۔بس یہی کچھ۔
اومیری سے لوٹتے وقت سڑک کے کنارے کھڑی ایک خوبصورت لڑکی نے لفٹ مانگی۔ اس نے ڈرائیور کو رکنے کا اشارہ کیا ۔ چاروں طرف بیسیوں پیدل چلنے والے ۔ دھول سے سنے اور تھکے ماندے۔جن میں کچھ فوجی تھے اور کچھ پیوپلس۔گاڑی کی طرف دوڑے۔
” نہیں، نہیں، نہیں، مانکوف نے سختی سے کہا ۔” میں تو اس دوشیزہ کے لئے رکا ہوں ۔ میری گاڑی کا ٹائر خراب ہے اور میں صرف ایک ہی مسافر کو لے جا سکتا ہوں ۔سوری۔
” بیٹے پلیز۔“ ہینڈل پکڑتے ہوئے ایک مایوس بڑھیا نے کہا۔
” بڑھیا تو مرنا چاہتی ہے ؟“ ڈرائیور نے اسے دھکیلتے ہوئے کہا اور گاڑی آگے بڑھا دی ۔ مانکوف نے اب تک کتاب کھول لی تھی اور نظریں ان میں گڑا دی تھیں ۔ تقریباً ایک میل تک اس نے لڑکی کی طرف دیکھا ہی نہیں ۔ آخر لڑکی کو خاموشی گراں گذری ، اس نے خاموشی توڑی ۔” آپ نے مجھے بچالیا ۔شکریہ۔“
” اس میں شکریے کی کیا بات ہے ! کہاں جا رہی ہو؟“
” او میری ۔آپ نے مجھے پہچانا نہیں ؟“
” اوہ! ہاں ضرور …. میں بھی کتنا بھلکڑ ہوں ۔ تم ؟“
” گلیڈس۔“
” ہاں ، ہاں…. فوجی لڑکی ۔گلیڈس تم بالکل بدل گئی ہو ۔ خوبصورت تو تم پہلے سے ہی نہیں ۔ لیکن اب تو تم روپ کی رانی لگتی ہو۔ کیا کتی ہو آج کل؟“
” میں آج کل فویل ڈاریکٹریٹ میں ہوں ۔“
” بہت اچھی بات ہے۔“
” اچھی بات تو ہے ، اس نے سوچا ، لیکن تکلیف دہ بھی ہے ۔ وہ ایک گہرے رنگ کا وگ پہنے ہوئے تھی ۔ قیمتی اسکرٹ اور لوکٹ کا بلاو¿ز ۔ اس کے جوتے ضرور گیبن سے آئے ہوں گے اور کافی قیمتی ہوں گے۔ کل ملا کر نانکوف نے سوچا ۔ اسے کسی امیر آدمی کی داشتہ ہونا چاہیے۔ ایسا آدمی جو جنگ سے پیسوں کے پہاڑ جا رہا ہوگا ۔
” میں نے آج نہیں لفٹ دے کر اپنا ایک اصول توڑا ہے ۔ آج کل میں لفٹ بالکل نہیں دیتا ۔
” کیوں؟“
” آخر میں کتنے لوگوں کو لے جا سکتا ہوں ؟ بہتر ہے کہ کوشش ہی مت کرو ۔ اسی بڑھیا کو ہی لو ۔“
” میں سوچ رہی تھی کہ آپ اس بڑھیا کو بٹھا لیں گے ۔“
یہ سن کر اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ خاموشی کے طویل وقفے کے بعد گلیڈس کو محسوس ہوا کہ وہ برا مان گیا ہے ۔ اسی لیے اس نے پھر خاموشی توڑی ۔
” میرے لیے اپنا اصول توڑنے کا شکریہ ۔“ وہ اس کے مڑے ہوئے چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرر ہی تھی۔یہ سن کر وہ مسکرایا ۔ اپنا چہرہ اس کی جانب کیا ، اس کی گود میں ہلکی سی چٹکی لی اور پوچھا۔
” اومیری میںتم کیا کرنے جا رہی ہو؟“
” میں اپنی سہیلی سے ملنے جا رہی ہوں۔“
” سہیلی ؟ یقیناً؟“
” کیوں نہیں …. اگر آپ مجھے ا کے گھر تک چھوڑ دیں تو ا س سے مل بھی سکتے ہیں ۔ ب ایک ہی ڈر ہے کہ وہ کہیں ویک اینڈ ہر نہ نکل گئی ہو ۔ تب تو گڑ بڑ ہو جائے گی۔“
” کیوں ؟“
” کیوں کہ اگر وہ گھر پر نہ ہوئی تو سڑک پر سونا پڑے گا ۔“
” میں تو دعا کر رہا تھا کہ وہ گھر پر نہ ہو ۔“
” کیوں؟“
”کیوں کہ اگر وہ گھر پر نہ ہوئی تو میں تمہیں شب گزاری اور ناشتے کی دعوت دے سکوں ۔“
” کیا ہوا ؟ اس نے ڈرائیور سے پوچھا ، جس نے اچانک گاڑی روک دی تھی ۔ جواب کی ضرورت ہی نہیں تھی ۔ سامنے کھڑی بھیڑ اوپر دیکھ رہی تھی ۔ تینوں گاڑی سے نکلتے ہی جھاڑیوںکی طرف بھاگے ۔ گردنیں آسمان کی جانب تنی ہوئی تھیں ۔ لیکن الارم غلط تھا ۔ آسمان اف اور بے آواز تھا ، صرف دو گدھ اونچی اڑان بھر رہے تھے ۔ نھیڑ میں سے ایک مسخرے نے ان کوفائٹر اور بمبار کا نام دے دیا ۔ یہ دیکھ کر سب چہروں پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ تینوں پھر گاڑی میں سوار ہوئے اور سفر جاری ہو گیا۔
” ابھی ریڈرس کے لیے جلدی ہے۔“ اس نے گلیڈ سے کہا جواب بھی اپنے دونوں ہاتھ سینے پر رکھے ہوئے تھی، جیسے دل کی دھک دھک سن رہی ہو ۔” وہ دس بجے سے قبل نہیں آتے ہیں ۔“ لیکن گلیڈس مارے خوف کے بول نہیں پا رہی تھی ۔ نانکوف کو ایک موقع دکھائی دیا اور اس نے اس موقع کا فائدہ اٹھا لیا ۔
” تمہاری سہیلی کہاں رہتی ہے ؟“
” ۰۵۲ ڈگلس روڈ پر ۔“
”اوہ! وہ تو شہر کے درمیان میں ہے ، بہت ہی واہیات جگہ ہے۔ نہ خندق نہ کچھ اور۔ مین تمہیں وہاں شام چھ بجے سے پہلے جانے کا مشورہ نہیں دوں گا ۔ وہ جگہ محفوظ نہیں ہے ۔ اگر تمہیں برا نہ لگے تو تمہیں میں اپنے یہاں لے چلتا ہوں ۔ جیسے ہی چھ بجیں گے ۔ میں تمہیں تمہارے سہیلی کے یہاں چھوڑ آو¿ں گا ۔” ٹھیک ہے؟“
” ٹھیک ہے ۔“ اس نے بے جان سی آواز میں کہا ۔” مجھے اس سے بہت ڈر لگتا ہے ۔ اس لیے میں نے اومیری میں کام کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ جانے کس نے مجھے آج یہاں آنے کا مشورہ دیا تھا۔“
” کوئی بات نہیں ۔ ہمیں تو عادت ہو گئی ہے ۔“
” لیکن آپ کے ساتھ آپ کے افرادِ خانہ تو نہیں ہیں نا؟“
” نہیں “ اس نے کہا۔ کسی بھی خاندان کے افراد اس کے ساتھ نہیں ہیں ۔ کہتے ہم ہیں کہ اس کا سبب ایکر ریڈ س ، ہیں، لیکن حقیقت کچھ اور ہے ۔ اومیری موج مستی کا شہر ہے اور ہم لوگ گھوڑوں کی طرح رہتے ہیں ۔“
” میں نے بھی کچھ ایسا ہی سنا ہے۔“
” سنا ہی نہیں ، تم آج دیکھو گی بھی۔ میں تمہیں آج ایک بہت ہی موج مستی بھری پارٹی میں لے جاو¿ں گا ۔ میرے ایک دوست کی آج سالگرہ ہے ۔ وہ لیفٹنٹ کرنل ہے ۔ اسی نے پارٹی نے رکھی ہے ۔ انھوں نے ساو¿نڈ اسمیزرس بینڈ کرایے پر حاصل کیا ہے ۔ مجھے پورا یقین ےہے کہ تمہیں خوب مزہ آئے گا ۔لیکن اسے ا بات پر شرم آئی ۔ اسے پارٹیوں سے بہت چڑ تھی ۔ جب کہ اس کے دوست خوب رنگ رلیاں مناتے تھے ۔ اور نانکوف یہ سب بات اس لیے کر رہا تھاکہ وہ گلیڈس کو اپنے گھر لے جانا چاہتا تھا ۔ اور لڑکی بھی یعنی گلیڈس بھی ، جس کا ایک وقت تھا جنگ میں دارا یقین تھا اور جسے کسی نے دھوکا دیا تھا ۔دکھ بھرے انداز میں گلیڈس نے سر ہلالیا۔
” کیا ہوا !گلیڈس نے پوچھا۔
” کچھ نہیں ۔ یوں ہی کچھ سوچنے لگا تھا ۔ باقی سفر خاموشی میں طے ہوتا رہا ۔
گلیڈس بھی اس کے گھر میں اس قدر تیزی سے گھل مل گئی جیسا کہ وہ اس کی گرل فرینڈ ہو ۔اس نے گھریلو لباس زیب تن کیا اور اپنا بھڑک دار وگ اتار دیا ۔
”تمہارے بالوں کی سجاوٹ بہت اچھی ہے ۔ تم انھیں وگ میںکیوں چھپائے رکھتی ہو؟“
” شکریہ۔“ اس نے کچھ دیر تک اس کے سوال کا جواب دیا ہی نہیں ۔پھر کہا ۔” آدمی لوگ بھی مسخرے ہوتے ہیں ۔
” کیوں ؟“
” تم روپ کی رانی لگتی ہو ۔“ گلیڈس نے نانکوف کی نقل اتاری ۔
” اوہ“ وہ بات۔ میں تو اسے صد فیصد سچ جانتا ہوں ۔“ نانکوف نے یہ کہتے ہوئے اسے اپنی جانب کھینچا اور اس کابوسہ لے لیا ۔ گلیڈس نے نہ تو اعتراض کیا اور نہ ہی پوری طرح اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دیا ۔ شروعات کے لیے نانکوف کو یہ انداز اچھا لگا۔ان دنوں بہت سی لڑکیاں آسانی سے خود سپردگی کر دیتی ہیں ۔ کچھ لوگوں نے اسے ” بیماری¿ جنگ“ کا نام دے دیا تھا ۔
کچھ دیر وہ اپنے دفتر حاضری لگانے گیا اور وہ باورچی خانہ میں لنیچ کے لیے نوکر کی مدد کرنے گلی ۔ اس نے صرف حاضری ہی لگائی ہو گی ، کیوں کہ وہ آدھے گھنٹے میں ہی لوٹ آیا ۔ ہاتھ ملتے ہوئے بولا کہ وہ اپنے گلیڈس سے زیادہ دیر تک دور نہیں رہ سکتا ۔
جب و لنچ کر رہے تھے تو وہ بولی۔” تمہارے فریج میں تو کچھ بھی نہیں ہے !“
” مثلاً !“ اس نے برا مانتے ہوئے پوچھا ۔
” مثلاً گوشت“اس نے بلا جھجھک جواب دیا ۔
” تم اب بھی گوشت کھاتی ہو !“ اس نے سوال کیا۔
میں بھلا کون ہوتی ہوں۔لیکن آپ جیسے بڑے لوگ کھاتے ہیں ۔
” مجھے پتہ نہیں ت،م کتنے بڑے لوگوں کی بات کر رہی ہو ۔ لیکن وہ میرے جیسے نہیں ہیں ۔ میں نہ تو دشمن سے کار و بار کر کے پیسہ بناتا ہوں اور نہ یہی راحت کا سامان بیچ کر یا ….“
”آگسٹا کا بوائے فرینڈ یہ سب نہیں کرتا ، اسے صرف بیرونی کرنسی ملتی ہے ۔“
” کیسے ملتی ہے ؟ وہ سر کار وکو دھوکا دیتا ہے ۔ایسی ملتی ہے بیرونی کرنسی۔“
” چاہے وہ کوئی بھی ہو ۔ویسے یہ آگسٹا کون ہے ؟“
” میری سہیلی۔“
” اوہ!“
” پچھلی بار اس نے مجھے تین ڈالر دیے تھے ۔ جن میں میںنے بیلاس پاو¿نڈ میں بدل لیا ۔ ا آدمی نے؟ آگسٹا کو پچاس ڈالر دیے تھے ۔
خیر میری پیاری ، میں بیرونی کرنسی کی بھی دلالی نہیں کرتا اور میرے فریج میں گوشت بھی نہیں ہے ۔ ہم ایک جنگ لڑ رہے ہیں ، اور مجھے صرف یہ معلوم ہے کہ فرنٹ پر ہمارے کچھ نوجوان تین تیج دن میں ایک بار جَو کا پانی پی کر لڑ رہے ہیں ۔“
” یہ تو ٹھیک ہے ۔ اندھا پیے، کتا کھائے ۔“
” بات یہ بھی نہیں ہے ، اس سے بھی بری ہے ۔ “اس نے کہا۔ غصے سے اس کی زبان لڑ کھڑانے لگی تھی ۔
” لوگ ہر روز مارے جا رہے ہیں ۔ اس وقت جب ہم تم بات کر رہے ہیں، اس وقت بھی کوئی مارا جا رہا ہے ۔
” یہ تو ٹھیک ہے ۔“ اس نے کہا۔
” ہوائی جہاز !“‘ لڑکا باورچی خانے سے چلا یا۔
” اوہ ماں۔“ گلیڈس چلائی ۔ جیسے ہی وہ پام کے پتوں اور لال مٹی سے بنی خندق کی اور سر پر ہاتھ رکھ کر ’ بدن جھکائے ہوئے دوڑی‘ آسمان جیٹ طیاروں اور طیاروں کو نشانہ بناتی ہوئی ملکی توپوں کی گرج سے پھٹ پڑا۔
خندق میں ، طیاروں کے چلے جانے کے بعد اور دیر سے شروع ہوئی توپوں کی گھن گرج ختم ہو جانے کے بعد بھی وہ اس سے چپکی رہی ۔ وہ جہاز تو صرف اوپر سے گزر رہا تھا ۔ نانکوف نے کہا ۔
آوازیں کانپ سی رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں گرایا ۔ اس کی سمت سے لگ رہا تھا کہ لڑائی کے مورچے پر جا رہا ہے ۔ شاید ہمارے فوجی ان پر دباو¿ ڈال رہے ہیں ۔ اس لیے وہ ایسا کرتے ہیں ۔ جب بھی ہمارے فوجی دباو¿ ڈالتے ہیں وہ روسیوں اور ھَر کو ہوائی جہازوں کے لیے ایس او ایس بھیج دیتے ہیں ۔ اس نےلمبی سانس لی ۔
اس نے کچھ بھی نہیں کہا ۔صرف اس سے چپکی رہی ۔ وہ ہنستے رہے۔ ان کا نوکر ساتھ والے گھر کے نوکر کو بتلا رہا تھا کہ وہ دو تھے۔ ایک نے یوں ڈائی ماری اور دوسرے نے یوں۔
” ہم بھی اچھی طرح دیکھ رہے ہیں“ دوسرے نے اتنے ہی پر جوش انداز میں کہا ۔ کہنا تو نہیں چاہیے لیکن ان مشینوں سے لوگوں کا مرنا دیکھنے میں اچھا لگے نا!’ خدا کی قسم‘
” سوچو! “ آخر کار گلیڈس نے زبان کا استعمال کرتے ہوئے کہا ۔ نانکوف نے سوچا وہ چند لفظوں میں ہی یا صرف ایک ہی لفظ سے معنی کی کئی پرتوں کو اتار سکتی تھی ۔ اس ایک لفظ میں ’ سوچو‘ حیرت ، تنقید، اور شاید ان لوگوں کے لیے ایک طرح کی حوصلہ افزائی بھی پوشیدہ تھی جو موت کے ہر کاروں کے بارے میں بھی مذاق کر سکتے تھے ۔
” ڈرو مت۔“ اس نے کہا ۔ وہ اس کے مزید قریب آگئی اور وہ اس کے بوسے لینے لگا ۔ وہ دھیرے دھیرے کھلنے لگیاور پھر پوری طرح کھل گئی ۔ خندق میں اندھیرا تھا ۔وہاں جھاڑو بھی نہیں لگی تھی اور اس میں کیڑے پتنگے ہو سکتے تھے ۔ اس نے گھر میں سے چٹائی لانے کے بارے میں سوچا ۔ پھر خیال چھوڑ دیا ۔ اور کوئی ہوائی جہاز آسکتا تھا ۔ پروسی یا کوئی اور راہ گیر ان کے اوپر گر سکتا تھا ۔ یہ تو تقریباً ویسی ہی حالت ہو گئی جس میں لوگوں نے ہوائی حملے کے وقت دن دھاڑے ایک آدمی کو ننگ دھڑنگاپنے بیڈروم سے نکل کر دوڑتے ہوئے دیکھا تھا اور اس کے پیچھے پیچھے اس حالت میں ایک عورت بھی تھی۔
جیسا کہ گلیڈس کو ڈر تھا۔ اس کی سہیلی گھر پر نہیں تھی ۔ لگتا تھا کہ ا کے با اثر دوست نے لبرول میں خریداری کے لیے اس کے پیچھے ہوائی جہاز میں ایک سیٹ حاصل کرلی تھی ۔ کم از کم پڑوسیوں کا یہی اندازہ تھا ۔
” کمال ہے “ نانکوف نے واپسی پر کہا ۔” وہ لراکا طیارے جوتوں ، وگوں، پینٹوں، برا، کاسٹیمک،اور ایسی ہی دیگر چیزوں سے لدی پھندی لوٹے گی۔جنھیں پھر وہ ہزاروں پاو¿نڈ کی قیمت پر فروخت کر دے گی ۔ تم لڑکیاں سچ مچ جنگ پر ہو ۔نہیں !“
وہ کچھ نہیں بولی اور اسے لگا کہ آخر کاروہ اسے جھنجھوڑنے میں کامیاب ہو گیا ہے لیکن اچانک وہ بولی ۔” تم مرد تو چاہتے ہو کہ ہم سب یہی کچھ کریں ۔“
” خیر“ اس نے کہا ۔” میں ایک ایسا مرد ہوں جو نہیں چاہتاکہ تم یہ سب کرو ۔ تمہیں خاکی جنس میں وہ لڑکی یاد ہے جس نے بے رحمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے چیک پوائنٹ پر میری تلاشی لی تھی ؟“
یہ سن کر وہ ہنسنے لگی۔
” میں چاہتا ہوں کہ تم پھر سے وہی لڑکی بن جاو¿ ۔ تمہیں یاد ہے!“ کوئی وگ نہیں اور جہاں تک مجھے یاد ہے کوئی اسٹرنگ کانوں میں نہیں ….“
” دیکھو“جھوٹ نہیں …. میں نے اسٹرنگ پہن رکھے تھے۔“
” چلو ٹھیک ہے ۔ لیکن میری بات سمجھ میں آئی کہ میں کیا کہہ رہا ہوں ۔
” وہ وقت ہوا ہوا ۔اب تو سب بچنا چاہتے ہیں اسے کہتے ہیں نمبر چھ۔تم اپنا نمبر ہی نکالومیں اپنا نمبر چھ نکالتی ہوں ۔ سب کچھ ٹھیک ٹھاک۔
لیفٹنٹ کرنل کی پارٹی میں ایک عجیب سی بات ہو گئی ۔ لیکن ا کے ہونے سے پہلے سب کچھ ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا ۔ بکرے کا گوشت، مرغ اور چاول اور ڈھیر ساری دیشی شراب ، جس میں سے ایک کا نام انھوں نے ٹریسر رکھ چھوڑا تھا ، کیوں کہ وہ حلق کو جلاتی ہوئی نیچے اترتی تھی۔ مذاق کی بات تو یہ تھی کہ بوتل میں دیکھنے پروہ نارنگی کے رنگ جیسی سیدھی سادی لگتی تھی ۔ لیکن سب سے زیادہ جس چیز نے ہنگامہ کھڑا کیا وہ ۔ تھی ڈبل روٹی۔اصلی۔بینڈ بھی اچھا اور لڑکیاں بھی بہت سی تھیں ۔ ماحول کو اور بھی بہتر بنانے کے لئے دو گورے آنکلے جو ریڈ کراس میں تھے۔ ساتھ میں لائے وہ ایک بوتل کو ریزرو کی اور ایک اسکاچ کی ۔ پارٹی میں موجود افراد نے پہلے تو ان کا کھڑے ہو کر خیر مقدم کیا اور پھر سبھی دوڑے ایک ایک گھونٹ پانے کے لئے ۔ کچھ دیر بعد ایک گورے کے برتاو¿ سے لگاکہ اس نے پہلے سے ہی کافی پی رکھی تھی۔جس کا سبب شاید یہ تھا کہ گزشتہ رات ایک پائلٹ جسے وہ اچھی طرح جانتا تھا ۔ خراب موسم میں راحت کا سامان لاتے وقت ائیر پورٹ پر ہوائی حادثہ کا شکار ہو گیا تھا ۔
پارٹی میں اس وقت تک کم لوگوں نے ہی اس حادثہ کے بارے میں سنا تھا۔ اس بے ماحول پر فوراً مردنی سی چھا گئی ۔ رقص کرتے ہوئے کچھ جوڑے واپس اپنی اپنی سیٹوں پر چلے گئے اور بینڈ بجنا بند ہو گیا ۔ تب اچانک ہی ریڈ کراس والا آدمی گرج اٹھا ۔ایک آدمی نے ’[ شریف آدمی نے“ کیوں اپنی جان دے دی ۔ بے کار میں۔چاری کو مارنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اس بے کار جگہ کے لئے تو بالکل نہیں ۔یہاں ہر چیز سے تعفن اٹھتا ہے ۔یہ لڑکیاں بھی جو بن سنور کر ، مسکراتی ہوئی یہاں آئی ہیں ۔ کسی کام کی نہیں ہیں ۔ مچھلی کا ایک ٹکڑا ۔ یا ایک امریکی ڈالر…. بس اور یہ ہم بستری کے لئے راضی ہو جاتی ہیں ۔“
ابال کے بعد پھیلی ہوئی خاموشی میں ایک نوجوان افسر اس کے پاس گیا اور اسے تین طمانچے جڑ دیے ۔
دائیں بائیں…. اسے سیٹ سے اٹھا لیا ( اس کیآنکھوں میں آنسوو¿ں جیسا کچھ تھا ) اور باہر دھکیل دیا ۔ اس کا دوست بھی جس نے اسے خاموش کرانے کی کوشش کی تھی ۔ پیچھے پیچھے باہر چلا گیا ۔ ساکت پارٹی میں ان کی کار کے جانے کی آواز صاف طور پر سنائی دی ۔ افسر جس نے طمانچے جڑے تھے ۔ ہاتھ جھاڑتا ہوا اپنی سیٹ پر واپس آگیا۔
” سالا بے وقوف!“ اس نے رتعب دار آواز میں کہا ۔ سبھی لڑکیوں نے اپنی نظروں سے اسے احساس کرا دیا کہ وہ اسے مرد اور ہیرو سمجھتی ہیں۔
” آپ اسے جانتی ہیں !“ گلیڈس نے نانکوف سے پوچھا ۔
اس نے جواب نہیں دیا۔ بلکہ ساری پارٹی کو مخاطب کرتے ہوئے کہا” وہ پئے ہوئے تھا ۔“
” مجھے اس بات کی پرواہ نہیں ۔“افسر نے کہا ۔ جیسا آدمی نشے میں ہوتا ہے تبھی وہ کہتا ہے جو اس کے دل میں ہوتا ہے۔“
” تو تم نے اس بات کے لیے پیٹا جو اس کے من میں تھی ۔“ میزبان نے کہا ۔
” ایسے ہی احساسات ہونے چاہئیں۔جو….“
” شکریہ جناب ۔ جو نے سیلوٹ کرتے ہوئے کہا ۔
” تو اس کا نا م جو ہے۔“ گلیڈس اور اس کی بائیں طرف بیٹھی لڑکی نے ایک دوسرے کی جانب مڑتے ہوئے ایک ساتھ کہا ۔
اس وقت نانکوف اور دوسری جانب بیٹھا ایک دوست ایک دوسرے سے دبی زبان میں ، بہت ہی دبی زبان میں کہہ رہے تھے کہ حالاں کہ وہ آدمی بد دماغ اور بے ہودہ تھا ، لیکن لڑکیوں کے بارے میںاس نے جو کچھ بھی کہا تھا وہ بد قسمتی سے کڑوا سچ تھا ۔ صرف کہنے والا آدمی غلط تھا ۔
جب ڈانس دوبارہ شروع ہوا تو کیپٹن جو گلیڈس کے پاس آیا اور ڈانس کے لیے کہا ۔ اس کے منھ سے الفاظ نکلنے سے قبل ہی وہ کود کر کھڑی ہو گئی ۔ تب اسے اچانک یاد آیا ، وہ مڑی اور اس نے نانکوف سے اجازت مانگی ۔ ساتھ ہی کیپٹن نے بھی مڑ کر کہا ۔” معاف کیجئے۔“
” جائیے ،جائیے“ نانکوف نے دونوں کے درمیان کہیں دیکھتے ہوئے کہا ۔
ڈائس دیر تک چلا اور وہ بنا بتائے انھیں دیکھتا رہا ۔ کبھی کبھی اوپر سے رسد کا ہوائی جہاز گزرتا تو کوئی یہ کہہ کر بتی گل کردیتاکہ کہیں دشمن کا جہاز نہ ہو ۔ لیکن اصل میں تو یہ اندھیرے میں رقص کرنے کا اور لڑکیوں کو گدگدانے کا بہانہ تھا کیوں کہ دشمن کے ہوائی جہازوں کیآواز تو خوب جانی پہچانی تھی۔
گلیڈس جب واپس آئی تو بہت خوف زدہ تھی اور اس نے نانکوف کو اپنے ساتھ رقص کرنے کی درخواست کی ۔ لیکن اس نے منع کردیا ۔” میری پراہ مت کرو ۔“ میں تو یہاں بیٹھ کر تم لوگوں کو رقص کرتا دیکھ کرمزے لے رہا ہوں۔“
” تو پھر چلیے۔“ گلیڈس نے کہا ۔” اگر آپ رقص نہیں کریں گے ۔“
” لیکن میں تو کبھی رقص نہیںکرتا۔ یقین کرو۔ جاو¿ مزے کرو۔“
اس نے اگلا رقص لیفٹنٹ کرنل کے ساتھ کہا اور پھر کیپٹن جوکے ساتھ ۔ اس کے بعد نانکوف اسے گھر لے چلنے کے لیے تیار ہو گیا ۔” مجھے افسوس ہے کہ رقص نہیں کرتا۔“ اس نے کار میں بیٹھتے وقت کہا ۔ لیکن میں نے قسم کھائی ہے کہ جب تک یہ جنگ جاری رہے گی میں رقص نہیںکروں گا۔“
گلیڈس نے کچھ نہیں کہا ۔
” میں اس پائلٹ جیسے آدمی کے بارے میں سوچ رہا ہوں جو کل رات مارا گیا ۔ اس کا تو اس لڑائی سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔ وہ تو ہمارے لیے رسد….“
” مجھے امید ہے کہ اس کا دوست اس جیسا نہیں ہوگا ۔“ گلیڈس نے کہا۔
وہ تو اپنے دوست کے سبب اکھڑا ہوا تھا ۔ لیکن میں تو یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جب اس جیسے لوگ مارے جا رہے ہوں ۔ جب مورچے پر ہمارے نوجوان مارے جا رہے ہوں ۔تو ہم لوگوں کو چپ چاپ بیٹھے رہنا اورپارٹیاں کرنا یا رقص کرنا کتنا معقول ہے۔
” لیکن آپ ہی تو مجھے وہاں لے گئے تھے ۔“ آخر میں گلیڈس نے اس کی بات سے اختلاف کرتے ہوئے کہا __” وہ تو آپ ہی کے دوست ہیں ۔ میں تو انھیں جانتی بھی نہیں تھی۔“
دیکھو،میری پیاری گلیڈس ۔ میں تمہیں مورد الزام نہیں ٹھہرا رہا ہوں ۔ میں تو تمہیں صرف یہ بتلا رہا ہوںکہ میں رقص کیوں نہیںکرتا۔ خیر چھوڑو! کچھ اور بات کریں …. تم اب بھی کل ہی واپس جانے پر آمادہ ہو ! میرا ڈرائیور تمہیں پیر کی صبح کام پر ، وقت پر پہنچا سکتا ہے ۔ نہیں ؟ چلو ، جیسی تمہاری مرضی ۔ تم خود کی مالک ہو۔“
جس آسانی سے وہ اس کے بستر پر چلی آئی اور جس زبان کا اس نے استعما ل کیا وہ سن کر حیرت زدہ تھا ۔
” بمباری کرنا چاہتے ہو!“ اس نے پوچھا ۔ اور جواب کا انتطار کیے بنا بولی ” شروع کرو“ لیکن اپنے سیلوی انداز میں چھوڑنا۔“
ایک بات تو ایک دم صاف تھی ۔ وہ کسی فوجی افسر کی داشتہ تھی ۔ دو برس میں کتنا فرق آگیا تھا ۔ یہی کیا کم کمال تھا کہ اسے ابھی تک اپنی پہلی زندگی یاد تھی ، اپنا نام یاد تھا؟ اگر مشنری ریڈ کراس والا قصہ دوبارہ ہوا۔ اس نے سوچا تو وہ اس کے ساتھ کھڑا ہوگا ۔ ساری پارٹی کو بتلا دے گا کہ وہ آدمی کتنا سچا ہے ۔ ساری کی ساری پیڑھی کو ہو کیا گیا ہے ؟ کیا یہی ہے کل کی مائیں ؟
لیکن صبح ہوتے ہوئے وہ بہتر محسوس کر رہا تھااور اس کی رائے میں بھی تازگی آ گئی تھی ۔ اس نے سوچا کہ گلیڈس تو اس سماج کا ایک چھوٹا سا عکس ہے ، جو پوری طرح سڑ گل چکا ہے اور اس میں کیڑے رینگ رہے ہیں ۔ لیکن آئین سالم ہے صرف تھوڑی سی گرد جم گئی ہے ۔ ضرورت ہے تو ایک صاف شفاف کپڑے کی ۔ ”گلیڈس کے لیے بھی میرا کچھ فرض بنتا ہے۔“اس نے خود سے کہا ۔” وہ چھوٹی سی لڑکی ، جس نے ایک دن مجھے آنے والے خطرات کااحساس کرایا تھا ، اب بذات خود خطرے میں ہے ۔ کچھ خطرناک اثر پڑ رہا ہے اس پر۔
وہ اس خطرناک اثر کی جڑ تک جانا چاہتا تھا ۔ وہ اثر صرف اس کی اچھے دنوں کی دوست آگسٹا…. یا جو کچھ بھی اس کا نام رہاہو ، کا نہیں تھا اس کی تہہ میں ضرور کوئی آدمی ہوگا ۔ شاید ان بے رحم بیور پاریوں میں سے ایک جو بیرونی کرنسی کی چوری کرتے ہیں اور نوجوانوںکی زندگیوں کو خطروںمیں ڈال کر انھیں دشمنوں کی سرحد کے پار بھیجتے ہیں تاکہ اسمگلنگ کی چیزوں کو سگریٹوں میں بدل کر کروڑوں کمائیں۔ یا پھر ان ٹھیکیداروں میں سے ہوگاجو فوج کو بھیجی جانے والے رسد کی چوری کر کے پیسوں کا پہاڑ بنا رہے ہیں ۔ یا شاید کوئی بزدل فوجی افسر جو بیرکوں کے گندےفقرے اور بہادری کے جھوٹے قصوں سے بھرا ہوا ہوگا ۔ اس نے گلیڈس کو ڈرائیور کے ساتھ اکیلے ہی بھیجنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ لیکن نہیں،وہ خود جائے گا اور دیکھے گا کہ وہ کہاں رہتی ہے َ کچھ نہ کچھ ضرور سامنے آئے گا ۔ اسی پر وہ گلیڈس کو بچانے کا منصوبہ بنائے گا ۔ جیسے جیسے وہ اس ہڑپ کی تیاری کرنے لگا ، ہر پل گلیڈس کے متعلقوہ بہتر انداز میں سوچنے لگا ۔ اس نے ایک دن پہلے ریلف سنیٹر سے ملے راشن کارڈ کا آدھا حصہ اس کے لیے الگ کر دیا۔ حالاں کہ حالات خراب تھے ، لیکن اس نے سوچا تھا کہ جس لڑکی کے پاس کھانے کے لیے کچھ ہوگا وہ کم للچائے گی ۔ وہ ڈبلیو سی سی میں اپنے دوست سے ہر ہفتے اس کے لیے کچھ نہ کچھ دینے کی بات کرے گا۔
تحفے دیکھ کر گلیڈس کی آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ نانکوف کے پاس پیسے زیادہ نہیں تھے ، لیکن اس نے جوڑ کر بیس پاو¿نڈ بھی اسے تھما دیے۔
” میرے پاس بیرونی کرنسی تو نہیںہے اور میں جانتا ہوں کہ یہ زیادہ دنوں تک نہیں چل سکتے ، لیکن…. “
وہ دوڑکر آئی اور اس سے لپٹ کر رونے لگی ۔ اس نے اس کے لبوں پر بوسہ لیا اور آنکھوںکو چوم لیا اور مصیبت زدہ لوگوں کے بارے میں کچھ بد بدایا ، جسے وہ سمجھ نہ پائی ۔ نانکوف نے سوچا کہ میرے سبب ہی اس نے اپنا وگ اتار کر بیگ میں رکھ لیا ہے۔
” میں چاہتا ہوں کہ تم مجھ سے ایک وعدہ کرو ِ“ اس نے کہا ۔
” کیا؟“
” بمباری والے الفاظ اب تم کبھی استعمال نہیں کروگی۔“
بھگی آنکھوں سے وہ مسکرائی ۔” تمہیں پسند نہیں ہے نا۔“ لیکن سبھی لڑکیاں ایسے ہی کہتی ہیں ۔“
” خیر تم دوسری لڑکیوںسے الگ ہو ۔ وعدہ کروگی نا!“
” اچھا!“
انھیں نکلنے میں دیر ہو گئی تھی ۔ جب وہ گاڑی میں بیٹھے تو گاڑی نے اسٹارٹ ہونے سے انکار کر دیا ۔ انجن میں ادھر ادھر ہاتھ مارنے کے بعد ڈرائیور نے کہا کہ بیٹری ڈاو¿ن ہو گئی ہے ۔ نانکوف حیران ہو گیا ۔ اسی ہفتے اس نے دو سیل بدلنے کے لیے جو تیس پاو¿نڈ خرچ کیے تھے اور بیٹری بدلنے والے مکینک نے کہا تھا کہ یہ چھ ماہ تک چلے گی ۔ نئی بیٹری خریدنے کا تو سوال ہی نہیں اٹھتا تھا، کیوں کہ اس کی قیمت دو سو پچاس پاو¿نڈ تک جا پہنچی تھی ۔ ضرور ڈرائیور نے کوئی لا پرواہی دکھائی ہوگی ، اس نے سوچا ۔
” یہ کل رات ہوا ہو گا۔“ ڈرائیور نے کہا۔
” کل رات کیا ہوا تھا؟“ نانکوف نے غصے سے پوچھا ، یہ سوچتے ہوئے کہ یہ بد تمیزی کی حد ہو گئی ہے ، لیکن ڈرائیور کا ایسا کوئی مقصد نہیں تھا ۔
” کیوں کہ ہم ہیڈ لائیٹس استعمال رہے تھے ۔
”تو کیا ہم سے امید کی جاتی ہے کہ ہم لائٹس نہ جلائیں ؟ جاو¿ ، دھکا لگوانے کے لیے کچھ آدمی لے آو¿“
وہ گلیڈس کے ساتھ باہر نکل کر گھر میں واپس چلا آیا اور ڈرائیور پڑوس کے گھروںمیں دوسرے نوکروں کو مدد کے لیے ڈھونڈنے نکلا۔سڑک پر آدھا گھنٹہ آگے پیچھے کرنے کے بعدیا دھکا لگانے والوں کے زور و شور سے چلانے کے بعد گاڑی میں جان واپس آئی اور ایکزاسٹ سے دھویں کے کالے بادل نکلنے لگے__
جب وہ چلے تو اس کی گھڑی میں ساڑھے آٹھ بجے تھے ۔ کچھ میل دور ایک اپاہج سپاہی نے لفٹ کے لیے ہاتھ کا اشارہ کیا ۔
” روکو! “ نانکوف چلایا ۔ ڈرائیور نے بریک پراپنا پورا زور لگا دیا اور پھر حیرت سے اس کی طرف دیکھا ۔
” تم نے اس سپاہی کو ہاتھ ہلاتے ہوئے نہیں دیکھا ؟ واپس چلو اور اسے بٹھاو¿۔“
” معاف کیجئے سر ۔“ ڈرائیور نے کہا ۔ مجھے پتہ نہیں تھا کہ صاحب لفٹ دینے والے ہیں ۔“
”اگر معلوم نہیں تھا تو پوچھو۔ گاڑی واپس لو۔“
سپاہی، جو کہ نوجوان تھا ، پسینے سے شرابور، جیکٹ سی خاکی وردی پہنے تھا اور گھٹنے سے نیچے اس کی ٹانگ غائب تھی ۔ یہ جان کر کہ کار اس کے لیے رکی تھی وہ صرف احسامند ہی نہیں بلکہ حیرت زدہ بھی تھا ۔ اس نے پہلے لڑکی کو اپنی گھٹیا سی بیساکھیاں پکرائیں ، جنھیں ڈرائیور نے آگے دونوں سیٹوں کے بیچ ٹکا دیا، پھر وہ خود اندر بیٹھ گیا۔
” شکریہ سر!، اس نے گردن پیچھے گھماتے ہوئے کہا ۔ اس کی سانس بری طرح پھول رہی تھی ۔ میں آپ کا بے حد شکر گزار ہوں میڈم!“
” خوشی تو ہمیں ہے ۔“ نانکوف نے کہا ۔” یہ گھاو¿ کہاں لگا۔؟“
” اجومنی پر، سر ! د جنوری کو ۔“
کوئی بات نہیں ۔ سب ٹھیک ہو جائے گا ۔ ہمیں بے حد فخر ہے تم نوجوانوں پر ۔ سب ختم ہو جانے پر تم لوگوں کو مناسب میڈل ملیں گے ۔یہ ہم یقین دلاتے ہیں۔“
” میں خدا سے آپ کے لیے دعا کروں گا سر!“
اگلے گھنٹے تک وہ خاموش رہے جیسے ہی گاڑی ایک پل کی طرف ڈھلوان سے اتری ، کوئی چلایا ، شاید ڈرائیور یا سپاہی ،” وہ آگے!۔“ بریک کی آواز چیخوں اور آسمان پھٹنے کی آواز میں گھل گئی ۔ گاڑی کے رکنے سے پہلے ہی دروازے کھل گئے اور وہ ادھا دھند جھاڑیوں کی جانب دوڑنے لگے ۔ گلیڈس ناناکوف سے آگے تھی ۔ تب اس شور شرابے میں انھوںنے سپاہی کے چیخنے کی آواز سنی ۔” یہاں آکر میرے لیے دروازہ کھولو !“ اسے گلیڈس کے رکنے کا احساس ہوا اور پھر وہ اس سے آگے نکل گیا ۔ اس نے گلیڈس کودوڑتے رہنے کا مشورہ دیا ۔ تبھی اس ماحول میں ایک اونچی سیٹی کی آواز برچھے کی طرح نیچے گری ، زور کی ہلچل کے ساتھ ایک زور دار دھماکہ ہوا اور سب کچھ تتر بتر ہو گیا ۔ جس پیڑ سے وہ لگا کھڑا تھا ، وہ دور جھاڑیوں میں جا گرا ۔ پھر مزید ایک بھیانک سیٹی کی آواز اور آس پاس وہی توڑ پھوڑ ، ایک اور …. اور اس کے بعد نانکوف کو کچھ سنائی نہیں دیا۔
وہ اٹھا تو چاروں طرف رونے چلانے، چیخنے کی آوازیں تھیں ، دھواں تھا، بدبو اور چراند کا ماحول تھا۔ اس نے خود کو گھسیٹااور ان آوازوں کی طرف چل پرا۔
دور سے اس نے آنسوو¿ں اور خون سے لت پت ڈرائیور کو اپنی جانب آتے ہوئے دیکھا ۔ پھر اس کی اپنی گاڑی کے پرخچوں اور لڑکی اور سپاہی کی گڈ مڈ لاشوںکی اور گئی …. اور وہ چلّا کرڈیہہ گیا۔

٭٭٭

انگریزی سے ترجمہ: قاسم ندیم

Nayyar Masood Aur Zafar Gorakhpuri

Articles

نیّر مسعود اور ظفر گورکھپوری کے لئے تعزیتی نشست

ممبرا(پریس ریلیز) پندرہ اگست کی شب نو بجے ممبرا میں یونیک ایجوکیشن سوسائٹی کے زیر اہتمام اور اردو لٹریری فورم کی جانب سے اسد اللہ خان انگلش ہائی اسکول و جونئیر کالج کے نعمان امام آڈیو ٹوریم میں معروف افسانہ نگار نیّر مسعود اور مشہور شاعر ظفر گورکھپوری کے لئے تعزیتی نشست کا اہتمام کیا گیا، جس کی صدارت سینئر صحافی عالِم نقوی نے کی۔ نشست کا افتتاح شعیب ندوی کے تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ صدر تقریب اور تجربہ کار صحافی عالِم نقوی نے اپنے مضمون سچی کہانی سنانے والا نیّر مسعود میں کہا کہ نیر مسعود کہانی سننے اور سنانے کی اس روایت کے امین تھے جو  بقول گوپی چند نارنگ’’  ہماری  تہذیبی گھٹی میں پڑی ہوئی ہے۔

انہوں نے فیاض رفعت کے مضمون کے کچھ حصے کو اپنے مضمون میں شامل  کرتے ہوئے لکھا کہ نیر مسعود کے افسانے اپنے جمالیاتی انبساط اور تہذیبی ہمہ گیری کے لیے تا دیر یاد رکھے جائیں گے کہ اُن کا رشتہ ہمارے تہذیبی وجدان کی اعلیٰ سطحوں سے ہم آہنگ اور اُستُوار ہے ۔انکے افسانوں کا مرکزی استعارہ ’’فنا‘‘ ہے کہ فنا ہی اصل حیات کی جستجو اور تلاش کے جذبے سے معمور ہے ۔اسی طرح ’نوری اور ناری‘ کی کشمکش بھی زیریں لہر کی طرح ان کے افسانوں میں ہنگامے کی صورت پیدا کرتی رہتی ہے۔ان کے افسانے پڑھ کر تزکیہ نفس کا احساس ہوتا ہے اور ہمارے بطون میں حزن و ملال کی چادر سی پھیل جاتی ہے ۔قول محال کے بر وقت استعمال سے وہ اپنے افسانوں کو معنی کی ایک سے زائد جہت عطا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں ۔الف لیلیٰ کے وقتوں کی طرح ایک کہانی میں کئی ذیلی قصوں کی موجودگی انہیں دیگر ہم عصر افسانہ نگاروں سے ممیز ثابت کرتی،  اور ممتاز بناتی ہے۔ نیو کلائی سائنس داں اور بیشتر کتابوں کے مصنف ڈاکٹر سلیم خان نے نیّر مسعود اور ظفرگورکھپوری پر لکھے اپنے مضمون آسماں دیکھ قضا کن کو لئے جاتی ہے میں کہا کہ دونوں صاحبان کی شخصیات اور فن میں بہت کچھ مشترک تھا اس کی ایک وجہ ان کا مشترک زمانہ ہے۔وہ دونوں یکساں تبدیلیوں کے شاہد تھے جو ان کے ادب اور شخصیت پر اثرانداز ہورہی تھیں. انہوں نے کہا کہ عام فنکار  ہوا کے رخ پر بہنے میں عافیت محسوس کرتا ہے مگر کچھ خاص لوگ پیش آمدہ انقلاب کو بھانپ کر اپنے آپ کو اس سے ہم آہنگ کرلیتے ہیں ۔  ہوا کے ساتھ چلنے والوں کو انقلابِ زمانہ جیتے جی بھلا دیتا ہے مگر مستقبل کو اپنے فن میں سمو لینے والے بعد ازممات بھی یاد کئے جاتے ہیں ۔ ظفر صاحب اور نیر صاحب انہیں لوگوں میں سے تھے اس لیے جہانِ فانی سےکوچ کر جانے کے بعد بھی  ان کا تخلیق کردہ ادب زندہ و تابندہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظفر گورکھپوری اور نیّر مسعود کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ وہ اپنی داخلی تڑپ کو خواہش ذات سے نکال کر کائنات میں پھیلا دیتے ہیں اور ایک نیا ادبی رجحان عالم وجود میں آ جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ  گورکھپوری اور نیر مسعود دونوں ہمہ جہت فنکار تھے ۔ ایک نے شاعری کی اور بچوں کا ادب تخلیق کیا دوسرے نے افسانے لکھے اور تحقیق کے شمع جلائی. صحافی اور مصنف ندیم صدیقی نے اپنی تقریر میں کہا کہ نیّر مسعود اپنے دور میں ہمارے افسانے کا ایک ایسا کردار تھے کہ جس کے جسد میں لکھنئوی فسوں سانس کا کام کر رہا تھا۔ ان کے افسانے نہیں بلکہ ان کی تحریروں میں لکھنؤ جیتا جاگتا محسوس ہوتا ہے۔ سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نیّر مسعود مسعود حسن رضوی ادیب کے صرف فرزند نہیں تھے بلکہ مسعود حسن ادیب کے تمام علم و ادب اور کمالات کے سچے وارث تھے اور اس پر کمال یہ بھی ہوا کہ انہوں نے اس وراثت کو جامد نہیں رکھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ بظاہر نیّر مسعود اب نہیں رہے مگر وہ تو اپنی تحریر میں روح کی طرح سمائے ہوئے ہیں. اردو چینل کے مدیر قمر صدیقی نے اپنے تفصیلی مضمون جادوئی حقیقتوں کا قصہ گو میں کہا کہ نیّر مسعود نے افسانہ نگاری کے علاوہ تحقیق و تشریح کے میدان میں بھی اپنی فتوحات درج کی ہیں مگر ان کی اصل شہرت افسانہ نگاری کی وجہ سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی کہانیوں میں سرّیت اور تجریدیت کی فضا کے بین بین علامتوں کے سہارے حقیقت اور معنویت کی فضا بھی برقرار رہتی ہے جو افسانے کے آہنگ کو ذاتی یا مابعد الطبیعاتی ہونے سے بچاکر اس کو ایک کائناتی یا آفاقی احساس میں بدل دیتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نیّر مسعود شاید ہمارے پہلے افسانہ نگار ہیں جن کے افسانوں میں رئیلزم اور میجک ریئلزم ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نیّر مسعود کے افسانے علائم اور ابہام سے مزین ہیں۔ ان کے یہاں علائم کا استعمال برجستہ ہوتا ہے۔ شاعر عرفان جعفری نے کہا کہ یہ کہنا تو بہت آسان لگتا ہے کہ موت برحق ہے اور سب کو آنی ہے مگر جن کے اپنے چلے جاتے ہیں وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ پاتے۔ انہوں نے کہا کہ قلمکار کا رشتہ ان کے عزیز و اقارب سے تو ہوتا ہی ہے مگر ساتھ ساتھ جو اس کی تخلیق کو پسند کرتے ہیں ایک رشتہ ان سے بھی ہوتا ہے اور جب وہ قلمکار دنیا سے کوچ کرتا ہے کسی حد تک وہ بھی مغموم ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ظفر صاحب کی خصوصیت تھی کہ ساٹھ سال کی عمر میں آٹھ سال کے بچے کی نفسیات پر پہونچ کر نظم کہتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ظفر صاحب میں ایک مجذوب موجود تھا اور اسی وجہ سے وہ بہترین دوہے کہہ پاتے تھے۔ انہوں نے اس ضرورت پر زور دیا کہ ہمیں اپنے بڑوں چھوٹوں سے ملتے رہنا چاہئیے۔ ظفر گورکھپوری کے صاحبزادے ایاز گورکھپوری نے کہا کہ ان کے والد ہمیشہ پر اعتماد اور با حوصلہ رہے اور آخری ایام میں بھی انہوں نے زندگی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔انہوں نے کہا کہ ان کی ہمت نو جوان نسل کے لئے ہی نہیں عمر رسیدہ افراد کے لئے بھی تمثیلی حیثیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے والد کی زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ آئے مگر انہوں نے ہمیشہ ہمت کا مظاہرہ کیا اور کبھی مایوس نہیں ہوئے. تقریب میں دیگر معززین کے علاوہ بزرگ شاعر جمیل مرصع پوری بھی موجود تھے۔ تقریب کی نظامت سید زاہد علی نے کی جبکہ احمد اظہار نے شرکاء کا شکریہ ادا کیا.
عالم نقوی صدارتی خطبہ پیش کرتے ہوئے

Aik Shaam Yume Azadi ke Naam

Articles

ممبئی یونیورسٹی میں یوم آزادی ِ ہند کی مناسبت سے شعری نشست

ممبئی، 14 اگست: شعبہ اردو ،ممبئی یونیورسٹی اور سرسید اکیڈمی ممبئی کے باہمی اشتراک سے ایک شعری نشست کا انعقاد یوم آزادی ہند کی مناسبت سے کیا گیا۔ اس شعری نشست کی صدارت شعبہ اردو کے صدر پروفیسر صاحب علی نے کی اور ممبئی بی جے پی کے نائب صدر شری حید ر اعظم نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔ پروگرام کے آغا ز میں پروفیسر صاحب علی نے کہا کہ شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی نے ہرسال یوم آزادی اور یوم جمہوریہ سے ایک دن قبل اس طرح کی شعری نشست کے انعقادکا فیصلہ کیا ہے اور اس سلسلے کاآغاز آج کی اس نشست سے ہورہا ہے۔انھوں نے علمی ، ادبی اور ثقافتی پروگراموں کے انعقاد میں شعبہ اردوکی فعالیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ کی جانب سے مختلف علمی و ادبی موضوعات پرقومی اور بین الاقوامی سطح کے سیمینار، کانفرنس ،ورکشاپ اور مذاکرات کے انعقاد کے علاوہ ایسے ثقافتی پروگراموں کا انعقاد بھی وقتاً فوقتاً کیا جاتا رہا ہے جو ہماری تہذیبی و ثقافتی روایتوں کی تجدید میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔پروفیسر صاحب علی نے اس شعری نشست میں شرکت کرنے والے تمام شعرا اور خصوصاً حیدر اعظم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ موصوف اقلیتی طبقہ کے مسائل و مفاد کے لیے ہمہ وقت جس طرح سرگرم ہیں وہ لائق ستائش ہے اور اس پروگرام میں ان کی شرکت بھی اقلیتی طبقہ سے ان کے والہانہ لگاو کا ایک ثبوت ہے۔
اس شعری نشست کے مہمان خصوصی حیدر اعظم نے شعبہ  اردو اور پروفیسر صاحب علی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ ایسے باوقار پروگرام میں شرکت کا موقع ملا جہاں شہر کے معروف و معتبر شعرا کے کلام سے محظوظ ہونے کے ساتھ ہی شعبہ  اردو کی مختلف النوع علمی و ادبی سرگرمیوں سے بھی واقفیت حاصل ہوئی ۔انھوں نے کہا کہ اس وقت اردو زبان کے محدود ہوتے دائرے کو وسعت عطا کرنے میں اس طرح کی کاوشیں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں اور شعرا اپنے کلام کے ذریعہ نہ صرف زبان کی مقبولیت میں اضافہ کر سکتے ہیں بلکہ اپنے سامعین کو عصری فہم و شعور بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ حید ر اعظم نے کہا کہ شاعروں کو نہ صرف ماضی اور حال کی بات کرنی چاہیے بلکہ انھیں مستقبل کے ان امکانات کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کرنی چاہیے جو معاشرہ میں خوشحالی اور ترقی کا باعث بن سکے۔
اس شعری نشست کو ڈاکٹر فیضان شہپر نے اپنی دلچسپ اور متاثر کن نظامت کے ذریعہ پروقار بنایا اور جن شعرا نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ان کے اسما ہیں ، عبدالاحد ساز، عرفان جعفری، قاسم امام، حامد اقبال صدیقی،عبید اعظم اعظمی، بھاگیہ شری ورما،فیضان شہپر، قمر صدیقی، سعید اختر، ذاکر خان اور رشید اشرف خان۔ ان کے علاوہ لندن میں اردو کی تدریس سے وابستہ عقیل دانش نے بھی اشعار سنائے۔ان شعرا نے غزلوں، نظموں، قطعات اور متفرق اشعار کے ذریعہ مجاہدین آزادی کو خراج عقیدت پیش کیا اور عصری حالات کے تناظر میں مختلف انشانی جذبات کا اظہار دلکش پیرایہ میں کیا۔
اس پروگرام میں محمد الیاس خان (پروپرائٹرسرفیس انفرا اسٹرکچر پرائیویٹ لمیٹیڈ )اورادبی و شعری ذوق رکھنے والی شہر کی مقتدر شخصیات اور شعبہ  اردو کے اساتذہ ڈاکٹر جمال رضوی، ڈاکٹر مزمل سرکھوت اور روشنی خان کے علاوہ ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے کثیر تعداد میں شرکت کی اور پروگرام کو کامیاب بنایا۔

تصویر میں مائک پر پروفیسر صاحب علی بائیں سے دائیں: حیدر اعظم ، محمد الیاس خان اور فیضان شہپر

 

تعلیمی ، تہذیبی اور ادبی پروگراموں کی رپورٹ اردو چینل ڈاٹ نیٹ پر شائع کرنے کے لیے ہمیں ارسال کریں۔

admin@urduchannel.in  or urduchannel@gmail.com

 

The Role of Literature Away From Cultural Changes

Articles

تہذیبی تبدیلیوں کے دور میں ادب کا کردار

قمر صدیقی

اگر یہ کہاجائے کہ کرہٗ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ :
”انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔“
بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح، حقیقت یہ ہے کہ آج ہر جگہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی حکمرانی ہے۔ گھر ہو یا دفتر ، علم ہو یا علاج، معیشت ہو یا ثقافت اور فن ہو یا تفریح ہر شعبہ¿ حیات میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل صاف نظر آتا ہے اورلطف کی بات یہ ہے کہ مختلف ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے مزید نئی نئی ٹیکنالوجیزسامنے آرہی ہیں ، بلکہ دیوندر اِسّر کے لفظوں میں تو ساری دنیا گھر کے آنگن میں سمٹ آئی ہے اور آنگن پھیل کر ساری دنیا کی وسعت سے ہم کنار ہورہا ہے۔ الیکٹرانک مشینوں کو کہیں سے بھی ہدایتیں دی جاسکتی ہیں اور انھیں حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ جب ہم گھر پہنچیں گے تو سب کچھ ہماری ضرورت اور ہدایت کے مطابق تیار ہوچکا ہوگا۔ پہلے زمانے کا شاعر دیواروں سے باتیں کرتا تھا ، اب دیواریں شاعروں سے باتیں کریں گی۔ شاید ہمارے غم و انبساط میں بھی شریک ہوں گی!ذہین ،مکین ہی نہیں، ذہین مکان بھی ہوں گے۔ حساس دل بے حس تجربہ گاہوں میں تیار کئے جائیں گے اور منجمد سڑکیں متحرک ہوجائیں گی۔ انسان حادثات سے بچ جائے گا، کاریں آپ کو ڈرائیو کریں گی اور الیکٹرانک آلات آنے والے خطرات سے آپ کو آگاہ ۔ دل کا دورہ ہو یا سڑک حادثہ ،اس پیش خبری کے باعث ٹل جائے گا۔ کلوننگ سے پیدا ڈولی کوبھول جائیے، اب بھیڑیں فیکٹریوں میں تیار ہوں گی۔ جینیٹک انجینئرنگ کی مددسے صرف چار بھیڑوں سے اتنی مقدار میں انسولین تیار کی جاسکے گی جو دنیا بھر کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے کافی ہوگی۔ کمپیوٹر انسانی ذہن کے حامل ہوں گے اور انسان کمپیوٹر کی مانند کام کریں گے۔ انسان اور حیوان کے اعضا ایک دوسرے کے جسم میں منتقل کیے جارہے ہیں۔ ذی روح اور غیر ذی روح میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تبدیلی کا ایک ریلا ہمارے شب وروز کو اپنے زور میں بہائے لیے جارہا ہے اور اس بہاﺅ میں عا لمیت ، قومیت، مقامیت، رنگ، نسل ، ذات ، طبقہ، فرقہ، مذہب اور جنس کے علاوہ مغرب اور مشرق کے تفاوت کے ساتھ ساتھ مختلف علوم ، بشریات ، سماجیات ، تاریخ ، فلسفہ ، سیاست اور جانے کیا کچھ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگا ہے۔تہذیبی اور تکنیکی سوچ ایک نئی حسیت کی پرورش کررہی ہے۔ میڈیا یعنی ٹی وی ، کمپیوٹر وغیرہ اس سوچ کو پھیلانے کے ہتھیار ہیں۔ میڈیا کے ذریعے اطلاعات کی برق رفتار ترسیل نے بڑی سہولیات پیدا کردی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اطلاعات کی اس ترسیل کے ساتھ محض خبروں یا خبروں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہی کی ترسیل نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ اپنے ساتھ اپناخیال اور اپنی فکر بھی لاتے ہیں ۔ اس خیال اوراس فکر کے رد و قبول کے اختیار کے ساتھ ساتھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے اتنے تواتر اورشدت کے ساتھ مختلف طرح کے اقدار و خیالات ہم تک پہنچ رہے ہیں کہ ایک طرح کی ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ہماری اقدار سے مختلف اقدار ٹکرا رہی ہیں۔ اس ٹکراﺅ کی وجہ سے یہ انتشار اور بحران تہذیب کے باطن میں اتر گیا ہے۔
برصغیر ہندو پاک میں یہ مواصلاتی انقلاب ، سماجی اور مذہبی اقدار کی پامالی، خاندانی اور انفرادی سطح پر رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، انتشار اور بکھراﺅ کے ساتھ داخل ہوا۔آج اخبارات و رسائل ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور فلموں سے ہوتے ہواتے یہ انقلاب کمپیوٹر ، انٹرنیٹ بلکہ سائبر اسپیس کے ذریعے اطلاعاتی شاہراہ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ 1945ءمیں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین ، یوروپ ، جاپان اور امریکہ میں شروع ہوئی ترقی کی بے نتیجہ دوڑ سے برصغیر ہند و پاک محفوظ تھے مگر اب یہاں بھی الیکٹرانک میڈیا کے فروغ کے باعث اندھی اور بے لگام صارفیت کی ڈھلان پر ہونے والی یہ ”چوہادوڑ“شروع ہوگئی ہے۔لہٰذا اب ہمارے معاشرے میں بھی انسانی رشتے ہوں یا ٹوتھ پیسٹ ، سب بازار کا مال بنتے جارہے ہیں۔ دراصل گلوبلائزیشن کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ دنیا کی ہرشئے یک مرکزی (بلکہ بازار مرکزی) ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے پل پل خرچ ہوتے وقت کا سارا گوشوارہ بازار یا سرمایہ دار کنٹرول کرتا ہے۔ تفریحی پارک، شیطان کی آنت کی طرح مسلسل قسط در قسط پھیلتے ٹی وی سیریلس، شاپنگ مال،فیس بُک، ٹی – 20کرکٹ یہ سب سرمایہ داروں کے وہ حربے (Tools)ہیں جس کے ذریعے وہ ہمارے وقت کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان زندگی کی چمچماتی سڑک پر نہ صرف مشین کی طرح دوڑنے پر مجبور ہے بلکہ وہ ایک ہی دن میں کئی ایام جینے کی اذیت میں بھی مبتلا ہے۔
آج گلوبلائزیشن نے بشمول ہند و پاک تیسری دنیا کے ممالک کے لیے ایک بار پھر سے نوآبادیاتی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ سیاست کے بجائے سامراجیت نے معاشی اور تہذیبی ، فکری اور نظریاتی سطح پر اپنی جڑیں پھیلائیں ہیں۔ غور کیجئے ہندوستانی بازاروں میں کس کا مال سب سے اچھا تسلیم کیا جاتا ہے؟ کس کے فیشن کو رائج الوقت تسلیم کرکے اس کی تقلید کی جاتی ہے؟ کس کے افکار و خیالات کو اعتبار و سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے؟ظاہر ہے ہندوستانی بازاروں کو امریکہ اور اس کے حلیف کنٹرول کررہے ہیں۔ ہندوستان میں فیشن کو وہ میڈیا رائج کرواتا ہے جو امریکہ کے کنٹرول میں ہے ۔ ہمارا بڑے سے بڑا دانشور جب تک کسی انگریز مفکر کا حوالہ نہ دے لے اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہوپاتا۔دراصل ہم نفسیاتی طور پر ایک ایسے بے آب و گیاہ صحرا میں آپھنسے ہیں جسے خود استعماریت یا Self Colonization کہتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں جس کا ادب کی تخلیق و ترویج سے بھی گہرا تعلق ہے یہ تو محسوس کیا گیا کہ استعماری دور کے نظام تعلیم میں آزادی کے بعد تبدیلی لانی چاہئے مگر زیادہ تر جو تبدیلیاں روا رکھی گئیں وہ یا تو بے ضرورت تھیں یا پھر مغرب کی بے جا تقلید اور یہ سلسلہ کبھی سیمسٹر سسٹم تو کبھی گریڈنگ نظام کی صورت آج بھی جاری ہے۔لہٰذا تعلیم کے روز مرہ وظائف یعنی درس و تدریس ، تربیت اساتذہ، نصابی کتب کی تیاری اور اہلیتوں کی ارزیابی کا معیار متاثر ہونا لازم تھا اور پھر نئی نئی سائنسی دریافتوں کے چلتے بشری علوم اور زبانوں کی تعلیم سے معاشرے کی توجہ بالکل ہٹ گئی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہند و پاک میں بھی آزادی کے بعد غیر ملکی زبانوں میں تحصیل کا معیار قائم رہ سکا نہ ملکی اور قومی زبانوں کی طرف کوئی توجہ دی جاسکی۔ لہٰذا نئی نسل کے طلبہ میں بھی اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت یا دلچسپی نہ پیدا کی جاسکی۔
رسمی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے میں غیر رسمی تعلیمی ادارے بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔اسی لیے ہرزندہ معاشرہ اپنے جلو میں کچھ ایسے تہذیبی اداروں کی پرورش کرتا ہے جو اگر بالواسطہ نہیں تو بلاواسطہ ادب کی غیر رسمی تعلیم کا انتظام و انصرام کرتے رہتے ہیں۔ ادب کی غیر رسمی تعلیم کے یہ ذرائع نہ صرف تہذیبی سطح پر کارآمد ہوتے ہیں بلکہ زبان و ادب کے ارتقا میں بھی کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔مثلاً جب استادی شاگردی کا ادارہ اٹھارویں صدی کی دہلی میں شروع ہوا تو بہت جلد اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی اور آگے چل کر اس ادارے کی اہمیت اس حد تک بڑھی کہ کسی شاعر کی خوبی کا ایک معیار یہ بھی بن گیا کہ وہ کس شاعر کا شاگرد ہے۔ مگر آج ادب کی تعلیم کے یہ غیر رسمی ذرائع محدود ہوگئے ہیں یا غیر موثر بنادیے گئے ہیں۔ محفلیں، اجتماعی سرگرمیاں ، ادیبوں اور فنکاروں کا عام لوگوں سے میل جول اور آپسی ربط و ضبط کے مواقع ، نوواردان ادب کا بزرگان ادب سے مکالمہ اور سب سے بڑھ کر ہند و پاک کی تہذیب کا منفرد ادارہ یعنی مشاعرے ، آج ہماری زندگی سے پوری طرح رخصت نہیں ہوئے تو نظروں سے اوجھل ضرور ہوگئے ہیں۔ مشاعروں کا اہتمام البتہ بہت ہورہا ہے، لیکن شاید ہی کسی کو اس بات کا احساس ہو کہ فی زمانہ مشاعروں کا معیار کیا ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھانڈ اور شاعروں میں تفریق کرنے والے لوگ اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔رہا سوال نوجوانوں میں اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے کے تعلق سے رسمی تعلیمی اداروں (مثلاً اسکول اور کالج وغیرہ)کے رول کا تو ان کا خدا ہی حافظ و ناصر ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ان کی طرف سے کسی پہل کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بلکہ ہمارے اساتذہ کا حال تو یہ ہے کہ شاید ہی کوئی استاد میر و غالب یا اقبال جیسے مشہور شعرا کے کلام کی کسی تغیر و تبدل کے بغیرصحیح قرا¿ت کرکے شعر کو شعر کی طرح پڑھ سکے۔ لہٰذا ایسے حالات میں نوجوانوں کی فنی نا پختگی کا الزام کس کے سر آئے گا؟

————————————

Waheed Akhtar

Articles

وحید اختر

وحید اختر

متاز شاعر اور نقاد وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں وہ منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کو نہ صرف اپنی شعری خدمات عطاکیں بلکہ اپنے مضامین کے ذریعے بھی انھوں نے جدیدیت کی تعبیر و تشریح کی کوشش کی۔ انھوں نے جدید طرز کے مرثیے لکھ کر اس صنف کا دائرہ وسیع کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے منسلک رہے۔ 13 دسمبر 1996 کو دہلی میں انتقال ہوا۔

Intekhab e Kalam Waheed Akhtar

Articles

وحید اختر کا منتخب کلام

وحید اختر

 

 

تم گئے ساتھ اجالوں کا بھی جھوٹا ٹھہرا

روز و شب اپنا مقدر ہی اندھیرا ٹھہرا

 

یاد کرتے نہیں اتنا تو دلِ خانہ خراب

بھولا بھٹکا کوئی دو روز اگر آ ٹھہرا

 

کوئی الزام نسیمِ سحری پر نہ گیا

 پھول ہنسنے پر سزاوار اکیلا ٹھہرا

 

پتیاں رہ گئیں ‘ بُو لے اُڑی آوارہ صبا

قافلہ موجِ صبا کا بس اتنا ٹھہرا

 

روز نظروں سے گذرتے ہیں ہزاروں چہرے

سامنے دل کے مگر ایک ہی چہرہ ٹھہرا

 

وقت بھی سعیِ مداوائے الم کر نہ سکا

جب سے تم بچھڑے ہو خود وقت ہے ٹھہرا ٹھہرا

 

دل ہے وہ موم ‘ ملا ہے جسے شمعوں کا گذار

اب کوئی دیکھے نہ دیکھے یونہی جلنا ٹھہرا

 

تم نے جو شمع جلائی تھی نہ بجھنے پائے

اب تو لے دے کے یہی کام ہمارا ٹھہرا

 

گنگنا لیں گے غزل آج وحید اختر کی

نام لینا ہی جو درپردہ تمہارا ٹھہرا

٭

 

برسی نہیں نغموں کی گھٹائیں کئی دن سے

 سنکی نہیں مدماتی ھوائیں کئی دن سے

 

 لب بستہ ہیں جینے کی دعائیں کئی دن سے

 ناکردہ ہیں معصوم خطائیں کئی دن سے

 

وہ حبس ہے آواز کا دم ٹوٹ رھا ھے

ھر گیت کا ھر ساز کا دم ٹوٹ رھا ھے

٭

 

 

 

نغمہ زنجیر

 

قیدخانے کی دیواریں اونچی تھیں

 در اور دریچے نہ تھے

 روزنوں سے ہوا ‘ روشنی ‘ دھوپ آتی تھی ہزاروں جتن سے

بیڑیاں پیر میں تھیں

 گلے میں تھا طوق گراں

ہاتھ تھے رسیوں سے بندھے

 جسم جکڑا ہوا آہنی زنجیر سے

ہم نے اک عمر اسیری زندان و زنجیر میں کاٹ دی

 

سالہا سال تک

 دھوپ اور روشنی اور ہوا کی اک اک بوند ہم نے سمیٹی

اور اس دولتِ بے بہا سے

 اک مدھم سا شعلہ بنایا

 اسے برسوں اپنے لہو میں تپایا ‘ جلایا

 اسی اک بوند بھر روشنی ہی سے خورشید ڈھالا

اسی اک بوند بھر دھوپ کو شعلگی دی

 اسی اک قطرہ  ہوا کو

 خود اپنے ہی انفاس کی گرمی و تندی و تیزگامی عطا کی

قید خانے میں اتنے ہی ھتھیار آئے میسر ہمیں

 

اور اک روز دیکھا

 شب و روز کی قطرہ قطرہ ٹپکتی ہوئی کاوشِ مستقل نے

 وہ طوق و رسن اور زنجیریں سب کاٹ دیں

 جسم سے خون کا طوفان اٹھا اور دیواریں زندان کی ڈھے گئیں

 سالہا سال زندان میں رھنے کے بعد تیز دھوپ اور تازہ ہوا

 اور اک بے کرن روشنی میں ہم آزاد تھے

 

ہم نے اپنی تئیں اک نئے ہی  سفر کا کیا عزم

 اور ہم جس جگہ بھی گئے

 ایک بے قید و زنجیر دنیا بسائی وہاں

 سالہا سال تک ہم نے تازہ جہانوں کی ڈالی بنا

ہاتھ دیواریں ڈھاتے رہیں

 شعلہ پائے رفتار سے زنجیریں کٹتی ‘ بکھرتی رہیں

 

اور اب تھک کے بیٹھے ہیں جو چند پل کیلئے

دیکھتے ہیں ہمارے ہی اطراف دیواریں پھر سے کھڑی ہو گئیں

جسم پھر سے گرفتارِ زنجیر ہے

 اور پھر دھوپ اور روشنی اور ہوا کی بس ایک بوند اپنے مقدر میں ہے

جسم میں خون کا طوفان سمٹا ھوا

 اور زندان کی خاموشی میں بس اک نوحہ شورِ زنجیر ھے

 

اور اس نغمہ شورِ زنجیر میں ایک آواز کہتی ہے یہ

قید خانے کی دیوار ہے خود تمہارا وجود

یہ گراں بار زنجیر و طوق و رسن ہیں تمہارے ہی انفاس کے سلسلے

 

توڑ دو ساری دیواریں زنجیریں اطراف کی

 اور اپنی تئیں یہ سمجھ لو کہ آزاد ہو پھر بھی آزاد ہو کر جہاں جاؤ گے

 اپنی دیواریں زنجیریں تم ساتھ لے جاؤ گے

تم خود اپنے صیاد بھی ‘ صید بھی

 تم خود ھی اپنی زنجیر بھی اور دیوار بھی

—————

Kuch Waheed Akhtar ke Bare Men by Sarwarul Huda

Articles

کچھ وحید اختر کے بارے میں

سرور الہدیٰ

 

۔ممتاز شاعر اور نقاد وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں وہ منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کو نہ صرف اپنی شعری خدمات عطاکیں بلکہ اپنے مضامین کے ذریعے بھی انھوں نے جدیدیت کی تعبیر و تشریح کی کوشش کی۔ انھوں نے جدید طرز کے مرثیے لکھ کر اس صنف کا دائرہ وسیع کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے منسلک رہے۔ مندرجہ ذیل کتابیں انھوں نے یادگار چھوڑی ہیں

  • پتھروں کا مغنی ۔ (1966)
  • شب کا رزمیہ ۔ (1973)
  • زنجیر کا نغمہ ۔ (1982)
  • کربلا تا کربلا (1991)
  • خواجہ میر درد ( تصوف اور شاعری )

13 دسمبر 1996 کو دہلی میں انتقال ہوا۔ ۔۔ادارہ۔

 

کچھ وحید اختر کے بارے میں

وحید اختر کی ذہانت اور علمیت نے ان کی تخلیقات کو استحکام بخشا ہے۔ علمیت تخلیق کار کو ایک خاص دائرے کا قیدی بھی بنا دیتی ہے۔ وہ مخصوص فکری اور لسانی دائرے میں رہ کر ادب اور زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ وحید اختر نے تاریخی اور تہذیبی حوالوں کو خالص ادب یا ادب کے ادبی معیار کے نام پر نظرانداز نہیں کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وحیدا ختر تاریخ اور تہذیب کو بعض جوشیلے اور انتہا پسند ترقی پسندوں اور جدیدیوں دونوں سے مختلف اندازمیں دیکھتے ہیں۔ جدیدیوں نے تاریخ اور تہذیب کو اہمیت تو دی مگر خالص ہنرمندی کے تصور کے سبب تاریخ ا ور تہذیب سے سچی اور گہری وابستگی قائم نہیں ہوسکی۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ تاریخ کو ادب بنانا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ تاریخی حقائق کی تجرید نہ ہوسکے۔ ان انتہاؤں کے درمیان وحیدا ختر نے جو رویہ اختیار کیا اس میں اپنی ہنرمندی اور تاریخی و تہذیبی حوالوں کا احترام ہے۔ وحیدا ختر کی نثری اور شعری دنیا اس لیے وسیع ہے کہ انھوں نے فکر و اظہار کی سطح پر کوئی پابندی قبول نہیں کی۔ ترقی پسندی سے ان کی شکایت یہ تھی کہ اس نے خود کو فارمولائی بنا لیا۔ جدیدیت اس روش کے خلاف بطورا حتجاج سامنے آئی مگر وہ بھی رفتہ رفتہ فارمولے کی نذر ہوگئی۔ وحیدا ختر نے ’زنجیر نغمہ‘ میں پس نوشت کے تحت لکھا ہے۔ ’’خاص قسم کی آزادی کا پابند ہوجانا نئی طرح کی پابندی ہے۔‘‘

خلیل الرحمن اعظمی پہلے نقاد ہیں جنھوں نے وحید اختر کی شاعری کو اس کے اصل سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی۔ نظریاتی طور پر وحید اختر اور خلیل الرحمن اعظمی جدیدیت کے حامی اور طرفدار تھے۔ دونوں نے اپنے مضامین کے ذریعہ جدیدیت کی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ وحیدا ختر نے شاعری کو جدید بنانے کی اس طرح کوشش نہیں کی جس کی مثالیں ان کے معاصرین کے یہاں ملتی ہیں۔ جس نقاد نے تواتر کے ساتھ جدید حسیت کو موضوع گفتگو بنایا اس کی شاعری کا مکمل طور پر جدید نہ بن پانا ایک واقعہ ہے۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ وحید اختر کی شاعری جدیدیت کی نمائندہ شاعری نہیں بن سکی۔ خلیل الرحمن اعظمی ’پتھرو ں کا مغنی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جن لوگوں نے وحید اختر کی بعض نظمیں اور غزلیں اِدھر اُدھر سے پڑھی ہوں گی یا خود ان کی زبان سے سننے کا موقع انھیں ملا ہوگا ممکن ہے ان کا پہلا تاثر یہ ہو کہ یہ شاعری اپنے انداز۔ و اسلوب کے اعتبار سے اس شاعری سے کچھ مختلف نہیں ہے جسے ہم ترقی پسند شاعری کہتے آئے ہیں۔  اس لیے کہ نئی نسل کے بہت سے دوسرے شعرا کے برخلاف ان کے یہاں اختصار اور پیچیدگی کے بجائے پھیلاؤ اور صراحت ملتی ہے۔‘‘ (ص 216)

وحید اختر کا مسئلہ نئی حسیت تھی، اسلوب نہیں تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ شعوری اور غیرفطری طور پر نظم کو ہیئتی بنانے کی کوشش کرتے۔ روایت ان کے لیے آسیب نہیں تھی اور وہ کسی اسلوب کو فیشن میں رد کرنا نہیں چاہتے۔ ایک ہی نظم میں واقعے کی مناسبت سے کئی اسالیب سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے وحیدا ختر کی نظموں کے بعض مصرعے اضافی معلوم ہوں مگر تخلیق کار کی طبیعت کی روانی اور وفور کہاں جاکر دم لے گی اس کا فیصلہ کوئی نقاد یا قاری تو نہیں کرسکتا۔ خلیل الرحمن اعظمی  نے یہ بھی لکھا ہے:’’لیکن اس مجموعہ کو شروع سے آخر تک پڑھنے کے بعد ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان نظموں اور غزلوں میں ہمیں جو فضا ملتی ہے اور اس کے اندر سے شاعر کی جو شخصیت ابھرتی ہے وہ اپنے پیش روؤں سے بالکل مختلف ہے۔ ان نظموں اور غزلوں کا شاعر اپنے جسم کے اعتبار سے اپنے بزرگ معاصرین سے مشابہ ہو تو ہو اپنی روح اپنے باطن کے اعتبار سے وہ ایک نئے وجود کا حامل ہے۔‘‘
وحید اختر کی نظموں میں خودکلامی کا وہ انداز نہیں ہے جسے عموماً جدیدیت سے وابستہ شاعری کے لیے لازمی تصور کیا گیا۔ وحید اختر نے کبھی خودکلامی کو ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ ان کے تخلیقی اور تنقیدی ذہن میں کسی بھی رجحان یا رویے کا اصل سیاق ہوتا ہے۔ ایک جگہ کوئی چیز غیراہم اور اوڑھی ہوئی معلوم ہوسکتی ہے اور دوسری جگہ وہ چیز برجستہ اور مناسب ہوسکتی ہے۔ نئی نظم کی تنقید میں جب نظم کو سیاق سے کاٹ کر دیکھا گیا تو غیرضروری طور پر انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وحید اختر نے اپنی نظموں کو کسی خاص ہیئت اور فکر کا پابند نہیں بنایا۔ ان کی بعض نظموں کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پابندی اور بغاوت کا سفر ایک ساتھ جاری رہتا ہے اور کبھی الگ لگ بھی۔ نظم کی خارجی ہیئت پہلے ہی قاری کو متوجہ کرلیتی ہے۔ آزاد اور پابند نظم میں بہتر کون سی ہیئت اور آزاد نظم کہنے کا حق کسے حاصل ہے، یہ سب باتیں وحید اختر کی نظم نگاری کے سیاق میں اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 60، 70  کی دہائی میں آزادا ور نثری نظم کے تخلیقی عجز کو چھپانے کا وسیلہ بنایا گیا۔ وحید اختر کی نظم یہ بتاتی ہے کہ کسی ہیئت کو اختیار کرنا اپنے تخلیقی عمل اور تخلیقی تقاضے کا خیال رکھنا ہے۔ اول و آخر تو تخلیقی حسیت ہے۔ انھوں نے تخلیقی سطح پر یہ بھی بتایا کہ نظم کہنے کے لیے فکر و خیال کی دنیا کا وسیع ہونا  ضروری ہے۔ وسعت کے بعد بھی مختصر نظم بامعنی ہوسکتی ہے۔ مختصر نظم کے چھوٹے بڑے مصرعے غزل کے مصرعوں کی طرح بامعنی اور معنی آفریں ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے ذہن کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں منیرنیازی اور شہریار کی مختصر نظمیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

وحید اختر نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اقبال کے ساتھ عظیم شاعری کا تصور بھی رخصت ہوگیا، گویا اقبال کے بعد جو شاعری سامنے آئی اس میں عظمت کے عناصر تو تھے لیکن یہ عظیم نہیں تھی، وحید اختر کے ذہن میں وہ اقدار ہیں جن سے کوئی شاعری علم و ذہانت کے ساتھ عظمت کے مقام پر فائز ہوتی ہے۔ جب عقیدہ اور تصور متزلزل ہو اور انسان فکر و احساس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا رہا ہو ایسے میں کسی ایسی شاعری کا وجود میں ا ٓنا دشوار ہے جو انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ کائناتی بھی ہو۔ وحید اختر نے اپنی شاعری میں اس کائناتی آہنگ کو برتنے کی کامیاب کوشش کی۔ ’شب کا رزمیہ‘ کی پہلی نظم ’شاعری‘ ہے۔ یہ نظم شاعر کا نظریۂ شعر بھی ہے اور نظریۂ کائنات بھی۔ یہ ایک آزاد نظم ہے جس میں شاعر کا تخیل اپنی ذات کے زنداں سے نکل کر کائنات میں باہیں ڈال دیتا ہے۔ وہ زماں مکاں کی سیر کرتا ہوا ذات کی طرف آتا ہے۔ اس درمیان اسے زندگی اور کائنات کی مختلف سچائیاں متوجہ کرتی ہیں۔ ان سچائیوں کا رشتہ زندگی کی تلخ سچائیوں سے ہے۔ آپ انھیں زندگی کی بدصورتیاں کہہ لیجیے :

خلوت ِ ذات کے محبس میں وہ بے نام اُمنگ
جس پہ کونین ہیں تنگ
چھان کر بیٹھی ہے جو وسعت ِ صحرائے زماں
جس کو راس آنہ سکی رسم ورہِ اہلِ جہاں
نشۂ غم کی ترنگ
خود سے بھی بر سرِ جنگ
پستیِ حوصلہ و شوق میں ہے قید وہ رُوحِ امکاں
شو رِ بزمِ طرب و شیونِ بزم ِ دل میں
دہر کی ہر محفل میں
جس نے دیکھی ہے سدا عرصۂ محشر کی جھلک
بوئے بازارمیں گُم کردہ رہی جس کی مہک
عالم ِ آب و گل میں
جہد کی ہر منزل میں
اپنے ہی ساختہ فانوس میں ہے قید وہ شعلے کی لپک

نظم کے ابتدائی یہ دو بند جس فکری بلندی اور کائناتی آہنگ کا پتہ دیتے ہیں وہ وحید اختر کی پوری شاعری میں موجود ہے۔ ان میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے ہم مانوس نہ ہوں مگر شاعر انھیں جس طرح برتنے میں کامیاب ہوا ہے وہ فکری بلندی کے ساتھ لسانی اظہار کی بھی تو بات ہے۔ یہ وہ لسانی اظہار ہے جو لفاظی اوربے معنی لسانی جزیرہ نہیں۔ بہت غور و فکر کے بعد زبان نے اپنا عمل شروع کیا ہے۔ پہلا ہی مصرعہ بظاہر جدیدیت کا زائیدہ معلوم ہوتا ہے۔ ’خلوت ذات کے محبس میں وہ بے نام امنگ‘ مگر اس بے نام امنگ پر کونین تنگ بھی تو ہے۔ ذات سے کائنات تک کا یہ سفر کس قدر صبر آزماہے مگر دیکھیے اس امنگ کو بالآخر پناہ خلوت ذات ہی میں ملی۔ یہاں کوئی نظریہ تیرتا نظر نہیں آتا۔ ایک شعلہ فطری طور پر بھڑکتا ہے مگر اس شعلے کی پرورش و پرداخت میں ایک باشعور تخلیقی ذہن نے حصہ لیا ہے جس کے پاس نظر اور نظریے کی وہ دولت ہے جس سے نہ انسانی اقدار کو خطرہ ہے اور نہ شعر و ادب کی بنیادی قدروں کو۔ اس عمل میں تشکیک بھی سر اٹھاتی ہے اور غم و غصہ بھی۔ یقین کی شمع بھی روشن ہوجاتی ہے اور بے یقینی کے اندھیرے بھی راستہ روکتے ہیں۔ یہ حقائق وحیدا ختر کے یہاں زندگی اور ادب دونوں کو قوت بخشتے ہیں۔ وحید اختر نے زندانِ ذات کو کائنات کا مرکز قرار دیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ زندان ذات کی صورت نئی شاعری میں ایک جیسی نہیں ہے

—————————-

 

JadooN ki Talash by Ibne Safi

Articles

جڑوں کی تلاش ( مکمل ناول)

ابن صفی

 

ڈھمپ اینڈ کو کا دفتر بڑے مزے میں چل رہا تھا مگر اس کی منیجری کم از کم خاور کے بس کا روگ نہیں تھی کیونکہ بزنس کے چکروں کے لئے اس کا ذہن موزوں نہیں تھا۔ ذہن موزوں رہا ہو یا نہ رہا ہو لیکن صورت تو ضرور ایسی تھی کہ وہ کسی فرم کا منیجر معلوم ہوسکتا تھا! بھاری بھرکم بارعب چہرے والا۔۔!

چونکہ وہ بزنس کے معاملہ میں اناڑی تھا اس لئے اس کے کمرے میں لکڑی کی ایک دیوار سے پارٹیشنز کردیئے گئے تھے ایک طرف جولیانا بیٹھی ٹائپ رائٹر کھٹکا یا کرتی تھی اور دوسری طرف خاور اپنی مینجری سمیت براجمان رہا کرتا تھا اگر کبھی کوئی نیا گاہک آجاتا اور خاور کو اسے ڈیل کرنے میں کچھ دشواری محسوس ہوتی تو جولیا کاغذات کا پلندہ دبائے دستخط کرانے کے بہانے اس کی میز پر آجاتی اور دوران گفتگو میں دخل اندازی کرکے خاور کو سہارا دیئے رہتی۔۔ آج بھی کوئی بڑا گاہک خاور کی میز پر موجود تھا اور اپنے کام کے سلسلے میں بعض امور کی وضاحت چاہتا تھا! جولیا نے محسوس کیا کہ خاور رک رک کر گفتگو کر رہا ہے اور گاہک کے ٹوکنے پر بعض اوقات گڑبڑا بھی جاتا ہے۔۔!
وہ کچھ کاغذات سنبھالے ہوئے خاور کی میز پر جا پہنچی “اوہو۔ اچھا ہوا تم آگئیں۔۔” خاور نے کہا اور پھر گاہک سے بولا۔ ” یہ میری اسسٹنٹ ہیں سرسوکھے! میرا داہنا ہاتھ۔۔ اب دیکھیئے آپ جو کچھ چاہتے ہیں اس کام کا تعلق زیادہ تر انہیں کی ذات سے ہوگا!۔۔ حسابات وغیرہ کی پڑتال یہی کرتی ہیں”۔

جولیا نے اس گول مٹول آدمی پر ایک اچٹتی سی نظر ڈالی۔۔ یہ کچھ وجہیہ ضرور رہا ہوگا! مگر اب مٹاپے نے اس کے ساتھ جو سلوک کیا تھا اس کا اظہار الفاظ میں ناممکن ہے! بس دیکھنے اور محسوس کرنے کی چیز تھی! قد تو متوسط ہی تھا مگر پھیلاو نے اس توسط کی ریڑھ مار کر رکھ دی تھی! صرف کناروں پر تھوڑے سے سیاہ بال تھے جو اگر سفید ہوتے تو اتنے برے نہ معلوم ہوتے۔ اس کے پیروں کے پاس ہی ایک ننھا منا سا خوبصورت کتا بیٹھا سرخ زبان نکالے ہانپ رہا تھا! جولیا نے اسے تعریفی نظروں سے دیکھا۔ اس کے بال بڑے اور سفید تھے۔ کان البتہ گہرے کتھئی تھے اور یہی اس کا حسن تھا۔ “سرسوکھے رام۔۔ اور مس جولیانافٹنرواٹر۔۔!” خاور نے تعارف کرایا۔ سرسوکھے رام نے مسکرا کر سر کو خفیف سی جنبش دی۔

اور جولیانے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ ” میں آپ کی کیا خدمت کرسکتی ہوں جناب ۔ وہ دل ہی دل میں ہنس رہی تھی۔ اتنی اردو تو سمجھتی ہی تھی کہ اس کے نام اور حبثہ کے تضاد سے لطف اندوز ہوسکتی!۔۔ کتنی ستم ظریفی تھی! یہ ہاتھی سا آدمی سوکھے رام کہلاتا تھا۔۔ یہی نہیں بلکہ خطاب یافتہ بھی تھا! وہ سوچ رہی تھی نہ ہوا عمران ورنہ مزہ آجاتا۔ “دیکھیئے بات دراصل یہ ہے کہ میں مستقل طور پر آپ لوگوں سے معاملہ کرنا چاہتا ہوں”۔ سرسوکھے نے کہا۔ “ہم ہر خدمت کے لئے حاضر ہیں”۔

” وہ۔۔ تو۔۔ تو۔۔ ٹھیک ہے”۔ سرسوکھے نے کرسی کی پشت سے ٹکنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا! “مگر آپ کو اس سلسلہ میں تھوڑی سی دردسری بھی مول لینی پڑے گی! دیکھیئے بات دراصل یہ ہے۔۔” وہ سانس لینے کے لئے رک گیا اور جولیا جھک کر اس کے کتے کا سرہلاتی ہوئی بولی۔ “بڑا پیارا کتا ہے۔ سرسوکھے نے اس طرح چونک کر کتے کی طرف دیکھا جیسے اس کی موجودگی کا خیال ہی نہ رہا ہو۔ ” آپ کو پسند ہے!” اس نے مسکرا کر پوچھا۔ “بہت زیادہ۔۔” “تو میری طرف سے قبول فرمائیے۔۔ “اوہ۔۔ ارے نہیں۔۔!” جولیا خواہ مخواہ ہنس پڑی۔

“نہیں! اب میں اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاں گا۔ سرسوکھے نے کہا اور کتے سے بولا۔ ” لکی۔۔ یہ دیکھو اب یہ تمہاری مالکہ ہیں”۔
وہ دم ہلانے لگا اور سرسوکھے نے پھر اپنے بزنس کی بات شروع کردی۔ “قصہ دراصل یہ ہے کہ۔۔ اوہ ٹھہرئیے میں پہلے اپنا پورا تعارف تو کرادوں! میری فرم کا نام “سوکھے انٹرپرائزس” ہے۔۔ “اوہ۔۔ اچھا میں سمجھ گئی۔۔ “آپ جانتی ہیں!” وہ خوش ہو کر بولا۔ “خیر تو۔۔ میرا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا الگ سے اسٹاف تھا! لیکن اب اس پر غیر ضروری مصارف ہونے لگے تھے! میں نے حساب لگایا تو اندازہ ہوا کہ اگر یہ کام کسی دوسری فرم کے سپرد کردیا جائے تو نسبتاسستے میں ہوگا”۔ “جی ہاں۔۔ عموما یہیں ہوتا ہے۔۔” جولیا سرہلا کر بولی۔

“بس تو پھر میں نے اپنے یہاں وہ سیکشن توڑ دیا ہے! “سرسوکھے نے کہا۔ “اور اب اس کے لئے آپ کی فرم سے معاملات طے کرنا چاہتا ہوں”۔
“غالبا مینجر صاحب آپ کو یہاں کے قواعد وضوابط سے آگاہ کرچکے ہیں”۔ “جی ہاں۔ اور میں ان سے کلی طور پر متفق ہوں۔ سرسوکھے نے کہا۔ “قواعد وضوابط کی بات نہیں تھی! میں تو دراصل آپ کے لئے تھوڑی سی دردسری بڑھانا چاہتا ہوں۔۔ “فرمائیے۔۔!”
“آپ کو ایک ایسا حساب بھی تیار کرنا ہوگا جس سے یہ ظاہر ہو کہ یہ کام میری ہی فرم کے ایک سیکشن نے کیا ہے”۔
خاور نے جولیاکی طرف دیکھا! اور جولیا جلدی سے بولی”یہ کوئی ایسی بات نہیں ہے جس کے لئے آپ کو زیادہ تشویش ہو۔ ایسا بھی ہوجائے گا”۔

“بس تو پھر ٹھیک ہے! کیا آپ کسی وقت میرے دفتر آنے کی زحمت گوارا کرسکتی ہیں؟”
“جب آپ فرمایئے۔۔!”
“نہیں بھئی جب آپ کو فرصت ملے۔ بس آنے سے پہلے فون کردیئے گا”۔
“بہتر ہے! میں آ کر دیکھ لوں گی کہ اب تک آپ کے یہاں حسابات کس طرح رکھے جاتے رہے ہیں”۔
“اوہ۔ شکریہ! یہ تو بڑی اچھی بات ہوگی! اس کے لئے آپ جو بھی حق المحنت تجویز کریں مجھے اس پر اعتراض نہ ہوگا۔۔!”
“حق المحنت کیسا”۔ جولیا نے حیرت سے کہا! “یہ تو میں اپنی فرم کے انٹرسٹ میں کروں گی۔ ہمارے لئے یہی کیا کم ہے کہ ہمیں اتنا بڑا اور مستقل کام مل رہا ہے”۔

“یہی بات۔۔!” سرسوکھے نے میز پر اس طرح گھونسہ مار کر کہا کہ اس کا سارا جسم تھلتھلا گیا!” یہی بات۔۔ یہی اسپرٹ کام کرنے والوں میں ہونی چاہیئے”۔ پھر خاور سے بولا۔ ” آپ خوش قسمت ہیں جناب کہ اتنے اچھے ساتھی آپ کے حصے میں آئے ہیں۔ “شکریہ۔۔” خاور نے سگار کا ڈبہ اسے پیش کیا۔ “بس جناب! اب اجازت دیجیئے!”۔۔ وہ اٹھتا ہوا بولا۔ پھر جولیا سے کہا۔ “میں آپ کا منتظر رہوں گا”۔۔ ساتھ ہی دم ہلاتے کتے سے بولا۔ “نہیں لکی تم میرے ساتھ نہیں جاسکتے! تمہاری مالکہ وہ ہیں!”

کتا جولیا کی طرف مڑا اور وہ متحیر رہ گئی کیونکہ اب وہ اس کی کرسی پر دونوں اگلے پنجے ٹیک کر کھڑا ہوگیا تھا اور اس کی ران سے اپنی تھوتھنی رگڑ رہا تھا۔ اس نے پھر اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور اس کی ننھی سی دم بڑی تیزی سے ہلنے لگی۔”کمال ہے!۔۔ جولیا اور خاور نے بیک وقت کہا۔ “کتوں کو ٹرینڈ کرنا میری ہابی ہے”۔ سرسوکھے مسکرایا۔ “میرے سارے کتے بڑے سمجھدار ہیں! اب یہ میرے ساتھ واپس جانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اور صرف آپ ہی کے ساتھ جائے گا! آپ کے دفتر کا کوئی دوسرا آدمی اسے اپنے ساتھ نہیں لے جاسکتا۔۔ اچھا بس اجازت دیجیئے!۔۔”

وہ ان دونوں سے مصافحہ کرکے رخصت ہوگا۔ اس کی چال بھی عجیب تھی بس ایسا معلوم ہورہا تھا جیسے کوئی گیند اچھلتا کودتا ہوا چل پڑا ہو۔ “کیا خیال ہے۔۔!” اس کے چلے جانے کے بعد خاور نے جولیا کی طرف دیکھا۔”حیرت انگیز۔۔” “ہر اعتبار سے۔۔ ہماری بڑی بدقسمتی ہے کہ اس شہر میں ایسے ایسے عجوبے موجود ہیں لیکن ہمیں ان کے دیدار نہیں ہوتے۔۔ تم نے اس کی چال پر غور کیا؟” “ہاں! وہی تو میرے لئے حیرت انگیز تھی۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اتنا موٹا آدمی اتنی تیز رفتاری سے چل سکے گا”۔ “اس کی آنکھیں کتنی چمکیلی ہیں”۔ خاور نے کہا۔

“اور یہ کتا۔۔” جولیا نے کتے کی طرف دیکھ کر کہا۔ جو اب اس کے پیروں کے قریب بیٹھا زبان نکالے ہانپ رہا تھا۔۔ جوزف رانا پیلس ہی کا ہو کر رہ گیا تھا! آتشدان کا بت والے کیس کے بعد اس نے فلیٹ کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ عمران کی تاکید تھی کہ وہ ادھر کا رخ بھی نہ کرے۔۔! اس طرح سلیمان یہ فیصلہ کرنے کے قابل ہوسکا تھا کہ وہ بدستور عمران ہی کی خدمت کرتا رہے گا۔ رانا پیلس میں سب ہی تھے۔ نوکر چاکر، ڈرائیور، جوزف۔ حتی کہ بلیک زیروبھی (بوڑھے آدمی کے میک اپ میں)۔ لیکن رانا تہور علی صندوقی کا کہیں پتہ نہ تھا۔۔!

بلیک زیرو بوڑھے طاہر صاحب کے روپ میں رانا تہور علی صندوقی کا منیجر تھا، سمجھا جاتا تھا کہ وہ اس کی جائیداد کی دیکھ بھال کرتا ہے۔
جوزف ہر وقت فوجی وردی میں رہتا تھا اور اس کے دونوں پہلوں سے ریوالور لٹکے رہتے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ فوجی وردی میں اس کی مارشل اسپرٹ ہر وقت بیدار رہتی ہے اور شراب نہ ہونے پر اسپرٹ ہی میں پانی ملا کر پینے سے بھی نہیں مرتی۔۔ جوزف بلانوش تھا! لیکن اسے معینہ مقدار سے زیادہ شراب نہیں ملتی تھی اس لئے وہ اکثر اسپرٹ میں پانی ملا کر پیا کرتا تھا۔۔ اس وقت وہ اسپرٹ کے نشے کی جھونک میں پورچ میں “اٹینشن” تھا!۔بالکل کسی بت کی طرح بیحس وحرکت۔ پلکیں ضرور جھپکتی رہتی تھیں۔ مگر بالکل ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے کسی الو کو پکڑ کر دھوپ میں بٹھا دیا گیا ہو۔۔! اور وہ خاموشی سے مجسم احتجاج بن کر تن بہ تقدیر ہوگیا ہو۔۔!

دفعتا ایک آدمی پشت پر ایک بہت بڑا تھیلا لادے ہوئے پھاٹک میں داخل ہوا لیکن جوزف کی پوزیشن میں کوئی فرق نہ آیا بلکہ وہ تو اس کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا تھا!۔۔ مگر جیسے ہی وہ پورچ کے قریب آیا۔ اچانک جوزف دہاڑا۔ “ہالٹ۔۔ اور وہ آدمی بھڑک کر دوچار قدم کے فاصلے پر تھیلے سمیت ڈھیر ہوگیا۔ “گٹ اپ۔۔!” جوزف اپنی جگہ سے ہلے بغیر پھر دہاڑا۔۔ “ارے مار ڈالا۔۔!” وہ مفلوک الحال آدمی دونوں ہاتھوں سے سر تھام کر کراہا۔”کی در جاتا!”۔۔ جوزف غرایا۔ “بھیر جاتا۔۔ رانا صاحب کے پاس۔۔ ایسی ایسی جڑی بوٹیاں ہیں میرے پاس!۔۔”
“کیا باکتا۔۔!” جوزف پھر غرایا!

“آں۔۔ آجاں۔۔ پاس آجاں!” وہ آدمی خوف زدہ انداز میں ہاتھ ہلا ہلا کر پوچھتا رہا۔ اب جوزف خود ہی اپنی جگہ سے ہلا اور وہ آدمی تھیلا سمیٹتا ہوا پیچھے پھدک گیا! یہ دبلا تپلا اور چیچڑ چسم والا ایک بوڑھا آدمی تھا۔ آنکپیں اندر کو دھنسی ہوئی اور دھندلی تھیں!۔۔ لیکن ہاتھ پاں میں خاصی تیزی معلوم ہوتی تھی۔ “کیا باکتا۔۔!” جوزف اس کے سر پر پہنچ کر دہاڑا۔ “شش شش۔۔ شقاقل۔۔ مصری!” وہ تھیلیسے کوئی چیز نکال کر اسے دکھاتا ہوا پیچھے کھسکا “یو کیا ہائے۔۔!” جوزف غرایا۔ “اجی بس۔۔ کیا بتاں۔۔” وہ بہت تیزی سے بول رہا تھا! رر ۔۔ رانا صاحب قدر کریں گے”۔

“رانا صاحب نائیں ہائے۔۔ بھاگ جیا۔۔ “تو آپ ہی لڑائی کیجیئے صاحب۔۔ مزہ آجائے گا۔۔ جڑی بوٹیاں۔۔ ہا ہا۔۔ رانا صاحب کہاں ہیں “ام نائیں۔۔ جیان تا۔۔ جیا۔۔اتنے میں بلیک زیرو شور سن کر باہر آگیا۔ “کیا بات ہے۔۔” اس نے جوزف سے انگریزی میں پوچھا۔ “باس کو پوچھتا ہے! میں کہتا ہوں باس نہیں ہیں! وہ مجھے کوئی چیز دکھاتا ہے”۔ بلیک زیرو نے بوڑھے کی طرف دیکھا! وہ جھک جھک کر اسے سلام کر رہا تھا۔
“حضور۔۔ حضور۔۔ حضور عالی۔۔ سرکار۔ جڑی بوٹیاں ہیں میریپاس۔ بڑی دور سے رانا صاحب کا سن کر آیا ہوں”۔ بلیک زیرو نے جلدی میں کچھ سوچا اور آہستہ سے بولا۔ “ہاں کہو ہم سن رہے ہیں”۔

“جو کچھ کہیئے۔ حاضر کروں سرکار۔۔ “ہم کیا کہیں! ہم نے تمہیں کب بلایا تھا؟” “سرکار حضور۔۔ رانا صاحب بڑے معرکے کی بوٹیاں ہیں۔ بس طبعیت خوش ہوجائے گی “کیا ہمارے کسی دوست نے تمہیں بھیجا ہے؟” “جی حضور۔۔ ہم نے اس سرکار کی بڑی تعریف سنی ہے!”
“خیر اندر چل کر۔۔ ہمیں کچھ بوٹیاں دکھا! اور ان کے خواص بتا”۔ بوڑھا خوش نظر آنے لگا تھا اس نے تھیلا سمیٹ کر کاندھے پر رکھا اور بلیک زیرو کے پیچھے چلنے لگا۔ جوزف کھڑا احمقانہ انداز میں پلکیں جھپکاتا رہا!۔۔ پھر یک بیک وہ چونک کر اس بوڑھے آدمی کے پیچھے جھپٹا!
بلیک زیرو اور بوڑھا آدمی اندرداخل ہوچکے تھے! بلیک زیرو اسے ایک کمرے میں بٹھانے کا ارادہ کر ہی رہا تھا کہ اس نے جوزف کو اس پر جھپٹے دیکھا!۔۔

“ارے۔۔ ارے حضور”۔ بوڑھا بوکھلا گیا۔ بلیک زیرو بھی بھونچکا رہ گیا!۔۔ لیکن بوڑھا دوسرے ہی لمحے میں زمین پر تھا! اور جوزف نے اس کی میلی اور سال خوردہ پتلون کی جیب سے ایک چھوٹا سال پستول نکال لیا تھا۔ بوڑھا اس اچانک حملے سے بری طرح بوکھلا گیا تھا۔ اس لئے جوزف کی گرفت سے آزاد ہونے کے بعد بھی اسی طرح بیحس وحرکت پڑا رہا البتہ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور وہ پلکیں بھی چھپکا رہا تھا۔
“کیوں! تم کون ہو!۔۔” بلیک زیرو نے آنکھیں نکال کر بولا۔

“مم۔۔ میں نہیں جانتا صاحب!۔۔ کہ یہ خطرناک ۔۔ چیز میری جیب میں کس نے ڈالی تھی”۔ وہ ہانپتا ہوا بولا۔ “بکواس مت کرو”۔ بلیک زیرو غرایا! تم کون ہو؟” “جی میں جڑی بوٹیاں تلاش کرکے بیچتا ہوں۔۔ شوقین رئیس میری قدر کرتے ہیں”۔ “مگر تم پہلے تو کبھی یہاں نہیں آئے۔۔!” بلیک زیرو اسے گھورتا ہوا بولا۔

“جی بیشک میں پہلے کبھی نہیں آیا”۔ “کیوں نہیں آئے تھے؟” بلیک زیرو نے غصیلے لہجے میں کہا! اس کے ذہن میں اس وقت عمران رینگنے لگا تھا اور اس نے یہ سوال بالکل اسی کے سے انداز میں کیا تھا۔ “جج۔۔ جی۔۔ ای۔۔ کیا بتاں مجھے اس سرکار کا پتہ نہیں معلوم تھا! وہ تو ابھی ابھی ایک صاحب نے سڑک ہی پر بتایا تھا کہ اس محل میں جا۔ یہاں رانا صاحب رہتے ہیں! بہت بڑی سرکار ہے!۔۔”
“اس پستول کی بات کرو۔۔ “صص۔۔ صاحب! میں نہیں جانتا! بھلا میرے پاس پستول کا کیا کام! پتہ نہیں کس نے کیوں یہ حرکت کی ہے۔ میں کچھ نہیں جانتا!۔۔ خدا کے لئے ان کالے صاحب کو یہاں سے ہٹا دیجیئے ورنہ میرا دم نکل جائے گا”۔

جوزف اسے خونخوار نظروں سے گھورتا ہوا بڑبڑا رہا تھا۔ “مسٹرٹائر۔ یہ کیا کہہ رہا ہے! مجھے بھی بتائیے”۔ “اس کو گردن سے پکڑ کر ٹانگ لو”۔ بلیک زیرو نے کہا۔ جوزف پستول کو بائیں ہاتھ میں سنبھال کر اس کی طرف بڑھا! لیکن اچانک ایسا معلوم ہواجیسے آنکھوں کے سامنے بجلی سی چمک گئی ہو! بوڑھا چکنے فرش پر پھسلتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا تھا۔ “خبردار فائر نہ کرنا جوزف۔۔” بلیک زیرو چیخا۔
جوزف نے بوڑھے پر چھلانگ لگائی تھی اور اب فرش سے اٹھ رھا تھا کیونکہ بوڑھا تو چھلاوہ تھا چھلاوہ۔
جب تک جوزف اٹھتاوہ بیرونی برآمدے میں تھا۔ “فائر مت کرنا۔ بلیک زیرو پھر چیخا! ساتھ ہی اب وہ بھی تیزی دکھانے پر آمادہ ہوگیا تھا جوزف کو پھلانگتا ہوا وہ بھی بیرونی برآمدے میں آیا۔

یہاں دو ملازم کھڑے چیخ رہے تھے۔ “۔۔ صاحب وہ چھت پر ہے”۔ دونوں نے بیک وقت کہا۔ بلیک زیرو چکرا گیا! بھلا یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اتنی جلدی چھت پر بھی پہنچ جاتا!۔۔ نوکروں نے قسمیں کھا کر یقین دلایا کہ انہوں نے اسے بندروں کی سی پھرتی سے اوپر جاتے دیکھا ہے۔ انہوں نے گندے پانی کے ایک موٹے پائپ کی طرف اشارہ کیا تھا۔ جس سے ملی ہوئی پورچ کی کارنس تھی اور پورچ کی چھت بہت زیادہ اونچی نہیں تھی کوئی بھی پھرتیلا آدمی کم از کم پورچ کی چھت تک تو اتنے وقت میں پہنچ ہی سکتا تھا۔

پھر ذرا ہی سی دیر میں پوری عمارت چھان ماری گئی لیکن اس کا کہیں پتہ نہیں تھا!۔۔ اندر پہنچ کر بلیک زیرو نے محسوس کیا کہ اس چھلاوے نے اپنا تھیلا بھی نہیں چھوڑا تھا۔ “ٹائر صاب”۔ جوزف نے غصیلی آواز میں کہا۔ “مجھے فائر کرنے سے کیوں منع کیا تھا؟” “باس کا حکم ہے کہ اس محل میں کبھی گولی نہ چلائی جائے”۔ “چاہے کوئی یہاں آکر جوزف دی فائٹر کے منہ پر تھوک دے”۔ “خاموش رہو! باس کے حکم میں بحث کی گنجائش نہیں ہوا کرتی”۔ جوزف فوجیوں کے سے انداز میں اسے سلیوٹ کرکے اپنے کمرے کی طرف مڑ گیا۔ اس کا موڈ خراب ہوگیا تھا اس لئے وہ شراب کی بوتل پر ٹوٹ پڑا۔۔

آج صفدر تین دن بعد آفس میں داخل ہوا تھا۔ مگر اس حال میں کہ اس کے بال گردآلود تھے۔ لباس میلا اور شیو بڑھا ہوا تھا۔ دوسروں نے اسے حیرت سے دیکھا! اور اس نے ایک بہت بری خبر سنائی! “عمران مار ڈالا گیا” اور یہ خبر بم کی طرح ان پر گری! جولیا تو اس طرح اچھلی جیسے اس کی کرسی میں اچانک برقی رو دوڑا دی گئی ہو “کیا بک رہے ہو!۔۔ اس نے کانپتے ہوئے سسکی سی لی۔ وہ سب صفدر کے گرد اکھٹے ہوگئے! اس وقت یہاں صرف سیکرٹ سروس کے آدمی تھے۔ چونکہ چھٹی کا وقت ہوچکا تھا اس لئے دوڑ دھوپ کے کام کرنے والے جاچکے تھے۔
“ہاں! یہ حادثہ مجھے زندگی بھر یاد رہے گا!” صفدر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ میں تین دن سیاس کے ساتھ ہی تھا! ہم دونوں کیپٹن واجد والی تنظیم کے بقیہ افراد کی فکر میں تھے۔ تین دن سے ایک آدمی پر نظر تھی! آج اس کا تعاقب کرتے ہوئے ندی کی طرف نکل گئے! مقبرے کے پاس جو سرکنڈوں کی جھاڑیاں ہیں وہاں ہمیں گھیر لیا گیا! حملہ اچانک ہوا تھا! پھر یہ بات میری سمجھ میں آئی کہ ہمیں دھوکے میں رکھا گیا تھا!

ہم تو دراصل یہ سمجھتے رہے تھے کہ اس تنظیم کا ایک آدمی ہماری نظروں میں آگیا ہے لیکن حقیقت یہ تھی کہ وہ ہمیں نہایت اطمینان سے ختم کرنا چاہتے تھے۔ کسی ایسی جگہ گھیرنا چاہتے تھے جہاں سے بچ کر ہم نکل ہی نہ سکیں یعنی انہوں نے بھی وہ طریقہ اختیار کیا تھا جسے واجد کو پکڑنے کے لئے عمران کام میں لایا تھا”۔ “پھر کیا ہوا۔۔ باتوں میں نہ الجھا!” جولیا مضطربانہ انداز میں چیخی۔ “ہم پر چاروں طرف سے فائرنگ ہو رہی تھی اور ہم کھلے میں تھے۔ اچانک میں نے عمران کی چیخ سنی۔ وہ ٹیکرے سے ندی میں گر رہا تھا! میں نے اسے گرتے اور غرق ہوتے دیکھا۔ تم جانتے ہی ہو کہ ندی کا وہ کنارہ کتنا گہرا ہے جس کنارے پر مقبرہ ہے۔۔

“تم کیسے بچ گئے؟” “بس موت نہیں آئی تھی!” صفدر نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “تب تو پھر تم آفس ناحق آئے۔۔! تمہیں ادھر کا رخ ہی نہ کرنا چاہیئے تھا! جا جتنی جلدی ممکن ہو اپنی قیام گاہ پر پہچنے کی کوشش کرو”۔ جولیا میز سے ٹکی کھڑی تھی۔ اس کا سر چکرارہا تھا۔ “نہیں میں یقین نہیں کرسکتی!۔۔ کبھی نہیں”۔ وہ کچھ دیر بعد ہذیانی انداز میں بولی۔ ” عمران نہیں مر سکتا! بکواس ہے۔ کبھی نہیں! تم جھوٹے ہو، وہ خواہ مخواہ ہنس پڑی! اس میں اس کے ارادے کو دخل نہیں تھا!۔۔

وہ سب اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔ ان میں تنویر بھی تھا۔”مرنے کو تو ہم سب ہی اسی وقت مرسکتے ہیں!” اس نے کہا۔
“ہم سب مرسکتے ہیں! مگر عمران نہیں مرسکتا! اپنی بکواس بند کرو”۔ پھر جولیا نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کئے لیکن دوسری طرف سے جواب نہ ملا۔” تمہیں سرسوکھے کے ہاں جانا تھا”۔ خاور نے کہا۔ “جہنم میں گیا سرسوکھے”۔ جولیا حلق پھاڑ کر چیخی۔ ” کیا تم سب پاگل ہوگئے ہوگیا عمران کا مرجانا کوئی بات ہی نہیں ہے!”

“اس کی موت پر یقین آجانے کے بعد ہی ہم سوگ مناسکیں گے!” خاور نے پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ دفعتا لیفٹننٹ چوہان نے صفدر سے سوال کیا! “تمہیں وہ آدمی ملا کہاں تھا!۔۔ اور تمہیں یقین کیسے آیا تھا کہ وہ اسی تنظیم سے تعلق رکھتا ہے”۔ “عمران نے مجھے یہ نہیں بتایا تھا”۔ “آخر وہ تمہیں ہی کیوں ایسے مہمات کے لئے منتخب کرتا ہے؟” “وہ کیوں کرنے لگا! مجھے ایکسٹو کی طرف سیہدایت ملی تھی۔۔ وہ سب پھر خاموش ہوگئے۔ جولیا میز پر سر ٹیکے بیٹھی تھی! اور تنویر غصیلی نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ پھر وہ اٹھی اوراپنا بیگ سنبھال کر دروازے کی طرف بڑھی۔ “تم کہاں جارہی ہو؟” تنویر نے اسے ٹوکا۔

“شٹ اپ۔۔” وہ مڑ کر تیز لہجے میں بولی۔ “میں ایکسٹو کے علاوہ اور کسی کو جواب دہ نہیں ہوں”۔ وہ باہر نکل کر اپنی چھوٹی سی ٹوسیٹر میں بیٹھ گئی! لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا ہے۔۔ صفدر کو وہ ایک دیانت دار اور سنجیدہ آدمی سمجھتی تھی۔ اس قسم کی جھوٹ کی توقع اس کی ذات سے نہیں کی جاسکتی! اس نے سوچا ممکن ہے عمران نے اسے بھی ڈاج دیا ہو!۔۔ لیکن کیا ضروری ہے کہ وہ ہمیشہ بچتا ہی رہے۔ کچھ دیر بعد ٹوسیٹر ایک پبلک فون بوتھ کے قریب رکی اور بوتھ میں آکر عمران کے نمبر ڈائیل کئے! اور دوسری طرف سے سلیمان نے جواب دیا! لیکن اس نے عمران کے متعلق لاعلمی ظاہر کرتے ہوئے بتایا کہ وہ پچھلے تین دنوں سے گھر نہیں آیا۔

جولیا نے سلسلہ منقطع کرتے ہوئے ٹھنڈی سانس لی۔کیسے معلوم ہو کہ صفدر کا بیان کہاں تک درست ہے! آخر یہ کمبخت کیوں بچ گیا! پھر ذرا ہی سی دیر میں اسے ایسا محسوس ہونے لگا جیسے صفدر ہی عمران کا قاتل ہو!۔۔ پھر اس نے غیر ارادی طور پر اپنی گاڑی ندی کی طرف جانے والی سڑک پر موڑ دی۔۔ سورج غروب ہونے والا تھا۔ مگر وہ دن رہے وہاں پہنچنا چاہتی تھی اس لئے کار کی رفتار خاصی تیز تھی۔ گھاٹ کی ڈھلان شروع ہوتے ہی اس نے بائیں جانب والے ایک کچے راستے پر گاڑی موڑ دی۔ اسی طرف سے وہ اس ٹیکرے تک پہنچ سکتی تھی جہاں ایک قدیم مقبرہ تھا۔ اور دور تک سرکنڈوں کا جنگل پھیلا ہواتھا۔

کچے راستے کی دونوں جانب جھنڈ بیریوں سے ڈھکے ہوئے اونچے اونچے ٹیلے تھے۔ مقبرے تک گاڑی نہیں جاسکتی تھی کیونکہ وہاں تک پہچنے کا راستہ ناہموار تھا! اس نے گاڑی روکی، انجن بند کیا اور نیچے اتر کر خالی خالی آنکھوں سے افق میں دیکھتی رہی جہاں سورج آسمان کو چھوتی ہوئی درختوں کی قطار کے پیچھے جھک چکا تھا۔ پھر وہ چونکی اور مقبرے کی طرف چل پڑی۔ ابھی دھندلکا نہیں پھیلا تھا!۔۔ دریا کی سطح پر ڈھلتی ہوئی روشنی کے رنگین لہرئے مچل رہے تھے۔۔ وہ ٹیکرے کے سرے کی جانب بڑھتی چلی گئی۔مگر کیا یہ حماقت ہی نہیں تھی!۔۔ اس نے سوچا! آخر وہ یہاں کیوں آئی ہے؟

ٹیکرے کے نیچے پانی پر ایک موٹر بوٹ نظر آئی جس میں کوئی نظر نہیں آرہا تھا! ہوسکتا ہے کچھ لوگ اس کے چھوٹے سے کیبن میں رہے ہوں۔
اچانک موٹر بوٹ سے ایک فائر ہوا۔ پانی پر ایک جگہ بلبلے اٹھے تھے اور گولی بھی ٹھیک اسی جگہ پڑی تھی۔کیبن کی کھڑکی سے رائفل کی نال پھر اندر چلی گئی اور اس کے بعد ایک آدمی سر نکال کر پانی کی سطح پر دیکھنے لگاجہاں ایک بڑی سی مردہ مچھلی ابھر آئی تھی!
پھر کیبن کی دوسری کھڑکی سے ایک سیاہ رنگ کا بڑا سا کتا پانی میں کودا اور تیرتا ہوا مچھلی تک جاپہنچا! اس کی دم منہ میں دبا کر وہ پھر موٹر بوٹ کی طرف مڑا تھا۔ دوسری بار جب موٹر بوٹ میں بیٹھے ہوئے آدمی نے اپنے دونوں ہاتھ کھڑکی سے نکال کر مچھلی کو سنبھالا۔ اس وقت جولیا نے اسے صاف پہچان لیا! وہ سرسوکھے تھا۔ اس نے مچھلی اندر کھینچ لی اور کتا بھی کھڑکی سے کیبن میں چلاگیا۔ تو وہ مچھلیوں کا شکار کھیل رہا تھا۔۔ جولیا ٹیکرے سے پرے کھسک آئی۔ اس نے سوچا اچھا ہی ہوا سرسوکھے کی نظر اس پر نہیں پڑی! ورنہ خواہ مخواہ تھوڑی دیر تک رسمی قسم کی گفتگو کرنی پڑتی! مگر اب وہ یہاں کیوں ٹھہرے! آئی ہی کیوں تھی؟ یہاں کیا ملتا!۔۔ اگر عمران مارا بھی گیا تو۔۔! وہ۔۔ وہ یک بیک چونک پڑی!اگر وہ یہاں مارا گیا ہوگا تو ایک آدھ بار لاش سطح پر ضرور ابھری ہوگی! مگر اسے کیا؟ ضروری نہیں ہے کہ کسی نے اسے دیکھا بھی ہو!۔۔

پھر وہ کیا کرے۔۔ کیا کرے۔۔ غیر ارادی طور پر وہ سرکنڈوں کی جھاڑیوں میں گھس پڑی! یہ ایک پتلی سی پگڈنڈی تھی جو سرکنڈوں کی جھاڑیوں سے گذر کر کسی نامعلوم مقام تک جاتی تھی۔ کچھ دور پر اسے ریوالور کے چند خالی کارتوس پڑے ملے اور صفدر کے بیان کی تصدیق ہوگئی! ویسے وہ تو اس پر یوں بھی اعتماد کرتی تھی۔ مگر سوال یہ تھا کہ اب جولیا کیا کرے۔۔ یہ بات تو خود صفدر کو بھی نہیں معلوم تھی کہ عمران نے اس آدمی کو کہاں سے کھود نکالا تھا جس کے تعاقب میں وہ دونوں یہاں تک آئے تھے اور یہ حادثہ پیش آیا تھا!

اچانک کوئی چیز اس کی پشت سے ٹکرائی اور وہ اچھل پڑی۔ بس غنیمت یہی تھااس کے حلق سے کسی قسم کی آواز نہیں نکلی تھی ورنہ وہ چیخ ہی ہوتی۔ اس نے جھک کر اس کاغذ کو اٹھایا جو شاید کسی وزنی چیز پر لپیٹ کر پھیکا گیا تھا۔ کاغذ کی تہوں کے درمیان ایک چھوٹی سی کنکری تھی۔ کاغذ پر تحریر تھا: “جولیا۔ دفع ہوجا یہاں سے۔۔ کھیل مت بگاڑو” ایک بیساختہ قسم کی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر پھیل گئی! دل پر سے بوجھ سا ہٹ گیا!۔۔ اور وہ تیزی سے واپسی کے لئے مڑ گئی! طرز تحریر عمران ہی کا سا تھا۔

واپسی بڑے سکون کے ساتھ ہوئی۔ جولیا کا دل چاہ رہا تھا کہ قہقہے لگائے، ہنستی ہی رہے!۔۔ لیکن وہ صرف ذہنی مسرت پر ہی قناعت کئے ہوئے کار ڈرائیو کرتی رہی، گھر پہنچ کر اس نے ٹھنڈی پھواروں سے غسل کیا اور ڈریسنگ گان پہنے ہوئے خواب گاہ میں چلی گئی۔ آج کی تھکن اسے بڑی لذت انگیز محسوس ہو رہی تھی، اس نے ہیٹر پر چائے کے لئے پانی رکھتے ہوئے سوچا! اگر اس وقت آجائے عمران۔۔؟ اچھی طرح خبر لوں اس کی۔
دفعتا فون کی گھنٹی بجی!
جولیا نے ہاتھ بڑھا کر رسیور اٹھا لیا۔
“ہیلو۔”
“ایکس ٹو۔” دوسری طرف سے آواز آئی۔
“یس سر۔”
“تم ندی کی طرف کیوں گئی تھیں؟”
“اوہ۔۔ جناب۔۔ وہ۔۔ عمران۔۔”
“ہاں مجھے علم ہے۔۔ مگر تم کیوں گئی تھیں؟”
“صص۔۔ صفدر۔۔!”
تمہارے علاوہ۔۔ اور کوئی کیوں نہیں گیا؟”
“پتہ نہیں جناب!” جولیا جھنجلا گئی۔
“وہ جانتے ہیں کہ انہیں اتنا ہی کرنا ہے جتنا کہا جائے۔۔!”
“یعنی میں۔۔ اس کی موت کی خبر سنتی۔۔ اور۔۔!”
“تجہیز و تکفین کی فکر نہ کرتی!” ایکس ٹو نے طنزیہ لہجے میں جملہ پورا کردیا!
“تم کون ہوتی ہو اس کی فکر کرنے والی! اپنی حدود سے باہر قدم نہ نکالا کرو”۔
“بہت بہتر جناب!” جولیا کسی سلگتی ہوئی لکڑی کی چٹخی!
“تمہارا لہجہ!۔۔ تم ہوش میں ہو یا نہیں!” ایکس ٹو اپنے مخصوص خونخوار لہجے میں غرایا!
“میرا محکمہ عشقیہ ڈراموں کے ریہرسل کے لئے نہیں ہے! سمجھیں۔۔!”
“جج۔۔ جی۔۔ ہاں”۔ جولیا بوکھلا گئی۔ دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا۔ وہ رسیور رکھ کر آرام کرسی کی پشت سے ٹک گئی۔ اس کی آنکھیں پھیلی ہوئی تھیں۔ اور دل بہت شدت سے دھڑک رہا تھا۔ پھر آہستہ آہستہ سکون ہوتا گیا اور اسے ایکس ٹو پر اس زور سے غصہ آیا کہ ذہنی طور پر ناچ کر رہ گئی۔۔ اسے کیا حق حاصل ہے۔ وہ کون ہوتا ہے۔ میرے نجی معاملات میں دخل دینے والا ظالم۔۔ کمینہ۔۔ ذلیل۔۔!
فون کی گھنٹی پھر بجی!

اس نے برا سا منہ بنا کر رسیور اٹھا لیا! اور “ہیلو” کہتے وقت بھی اس کا لہجہ زہریلا ہی رہا!
“مس فٹز واٹر پلیز۔۔!” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “ہاں۔۔! جولیا نے بھرائی ہوئی آواز میں جواب دیا۔۔ وہ بولنے والے کی آواز نہیں پہچان سکی تھی۔ “میں سوکھے رام بول رہا ہوں” “اوہ۔۔! فرمائیے۔۔ جناب۔۔” “میں اس وقت اپنے آفس میں تنہا ہوں! کیا آپ تکلیف کریں گی”۔
“اس وقت!” جولیا نے حیرت سے کہا اور پھر کسی سوچ میں پڑ گئی۔ “آپ نہیں سمجھ سکتیں مس فٹز واٹر۔۔ میں دراصل آپ کو اپنے اعتماد میں لینا چاہتا ہوں! میری بدنصیبی کی داستان طویل ہے”۔

“میں بالکل نہیں سمجھی! سرسوکھے۔۔ پلیز، “فون پر کچھ نہیں کہہ سکتا، “اچھا سر سوکھے! میں آرہی ہوں! مگر آپ کو میرے گھر کانمبر کیسے ملا؟” “بس اتفاق ہی سے میں مچھلیوں کا شکار کھیل کر واپس آرہا تھا کہ آپ کے دفتر کے ایک صاحب نظر آگئے۔ انہوں نے اپنا نام بتایا تھا لیکن صرف صورت آشنائی کی حد تک میری یادداشت قابل رشک ہے! نام وغیرہ البتہ یاد نہیں رہتے بہرحال میں نے ان سے آپ کیمتعلق پوچھا تھا انہوں نے بتایا کہ آپ اس وقت گھر ہی پر ملیں گی۔ انہوں نے فون نمبر بھی بتایا ، “خیر۔ میں آرہی ہوں”۔ جولیا نے کہا اور سلسلہ منقطع کرکے خاور کے نمبر ڈائیل کئے۔ وہ گھر ہی پر موجود تھا۔

“سر سوکھے مجھے اس وقت اپنے آفس میں طلب کر رہا!” جولیا نے کہا۔ “ضرور جا۔۔ ذرہ برابر بھی ہچکچاہٹ نہ ہونی چاہیئے۔ تمہاری حفاظت کا انتظام بھی کردیا جائے گا”۔ “مگر میں نہیں سمجھ سکتی؟” “ٹھہرو!” خاور نے جملہ پورا نہیں ہونے دیا۔ ” ایکس ٹو کی ہدایت ہے کہ اگر آج کل کوئی نیا گاہک بنے تو اسے ہر ممکن رعایت دی جائے! میں سر سوکھے کا معاملہ اس کے علم میں لاچکا ہوں”۔ “اور اگر میں جانے سے انکار کردوں تو۔۔”؟ “میں اسے محض مذاق سمجھوں گا! کیونکہ تم ناسمجھ نہیں ہو”۔

جولیا نے اپنی اور سرسوکھے رام کی گفتگو دہراتے ہوئے کہا۔ “وہ آدمی اب تک میری سمجھ میں نہیں آیا۔۔!”
“پرواہ مت کرو! ایکس ٹو اس کے معاملے میں بہت زیادہ دلچسپی لے رہا ہے”۔ جولیا نے پھر برا سا منہ بنایا اور سلسلہ منقطع کردیا۔
تھوڑی دیر بعد پھر اس کی ٹوسیٹر شہر کے بارونق بازاروں میں دوڑ رہی تھی۔ تقریبا پندرہ منٹ بعد اس نے عمارت کے سامنے کار روکی جس کی دوسری منزل پر سرسوکھے انٹرپرائزس کا دفتر تھا۔ کھڑکیوں میں اسے روشنی نظر آئی۔ چوتھی یا پانچویں منزل کی بات ہوتی تو وہ لفٹ ہی استعمال کرتی! لیکن دوسری منزل کے لئے تو زینے ہی مناسب تھے!

سر سوکھے نے بڑی گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا! لیکن جولیا محسوس کر رہی تھی کہ وہ کچھ خائف سا نظر آرہا ہے!
“بیٹھیئے بیٹھیئے! مس فٹز واٹر میں بیحد مسرور ہوں کہ آپ میری درخواست پر تشریف لائیں۔۔!” وہ ہانپتا ہوا بولا۔ جولیا ایک کرسکی کھسکا کر بیٹھ گئی، میں آپ کا زیادہ وقت نہیں برباد کروں گا مس فٹز واٹر!” سوکھے رام پھر بولا۔ “اوہ۔۔ ٹھہرئیے! آپ کیا پئیں گی۔ اس وقت تو میں ی آپ کو سرو کروں گا کیوں کہ اس وقت یہاں ہم دونوں کے علاوہ اور کوئی بھی نہیں ہے”۔

“اوہ شکریہ! میں کسی چیز کی بھی ضرورت نہیں محسوس کر رہی اور پھر میں تو ویسے بھی شراب نہیں پیتی۔ “گڈ!۔۔” سرسوکھے کی آنکھیں بچکانے انداز میں چمک اٹھیں! وہ اسے تحسین آمیز نظروں سے دیکھتا ہوا بولا۔ “اگر آپ شراب نہیں پیتیں تو میں یہی کہوں گا کہ آپ ہر اعتماد کیا جاسکتا ہے! بڑی پختہ قوت ارادی رکھتی ہیں وہ لڑکیاں جو شراب نہیں پیتیں”۔ “شکریہ ! جی ہاں میں بھی سمجھتی ہوں! خیر آپ کیا کہنے والے تھے؟”

جواب میں سرسوکھے نے پہلے تو ایک ٹھنڈی سانس لی اور پھر بولا۔ ” میں نے اپنا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا شعبہ بلا وجہ نہیں ختم کیا! میں مجبور تھا! نہ کرتا تو بہت بڑی مصیبت میں پڑ جاتا! لیکن ٹھہریئے ۔۔ میں آپ پر یہ بھی واضح کرتا چلو ں مس فٹز واٹر کہ آپ کو یہ سب باتیں کیوں بتا رہا ہوں! میں جانتا ہوں کہ عورتیں طبعا” رحم دل ہمدرد ہوتی ہیں”۔وہ خاموش ہو کر کچھ سوچنے لگا! اور جولیا سوچنے لگی کہ اس گفتگو کا ماحصل کیا ہوگا جس کے سر پیر کا ابھی تک تو پتہ نہیں چل سکا۔ “اوہ۔۔ میں خاموش کیوں ہوگیا!” سرسوکھے چونک کر بولا! پھر خفیف سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نظر آئی اور اس نے کہا۔ “میری باتیں اکثر بیربط ہوجاتی ہیں مس فٹز واٹر! مگر ٹھہریئے میں ایک نقطے کی وضاحت کرنے کی کوشش کروں گا! میرے فاورڈنگ اینڈ کلیرنگ سیکشن میں کوئی بہت ہی بدمعاش آدمی آگھسا تھا اور ایسے انداز میں اسمگلنگ کررہا تھا کہ آئی گئی میرے ہی سرجاتی۔ لکڑی کی پیٹیوں میں باہر سے مال پیک ہو کر آتا تھا لیکن اس کے بعد پتہ نہیں چلتا تھا کہ خالی پیٹیاں کہاں غائب ہوجاتی تھیں!”

“میں نہیں سمجھی۔ “خالی پیٹیاں۔۔ غائب ہوجاتی تھیں۔ “تو اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ فرم رٹیل بھی کرتی ہے۔۔!” جولیا نے حیرت سے کہا۔ پیٹیوں کا کھول ڈالا جانا تو یہی ظاہر کرتا ہے۔ “گڈ! آپ واقعئی ذہین ہیں! مجھ سے اندازے کی غلطی نہیں ہوئی”۔ سرسوکھے خوش ہو کر بولا! “میں ساری پیٹیوں کی بات نہیں کر رہا تھا۔ بلکہ میری مراد صرف ان بڑی پیٹیوں سے تھی جن میں مشینوں کے پرزے پیک ہو کر آتے ہیں! وہ پیٹیاں تو لامحالہ کھولی جاتی تھیں کیوں کہ ان مشینوں کی تیاری فرم ہی کراتی ہے! یعنی وہ یہیں اسمبل ہوتی ہیں”۔
“خیر۔۔ اچھا! “جولیا سرہلا کر بولی۔ ” لیکن آپ خالی پیٹیوں کے متعلق کچھ کہہ رہے تھے۔ “وہ پیٹیاں غائب ہوجاتی تھیں”!

“اچھا چلیئے!” جولیا مسکرا کر بولی۔ “اگر وہ پیٹیاں غائب ہوجاتی ہیں تو اس میں پریشانی کی کیا بات ہے۔ کوئی غریب آدمی انہیں بیچ کر اپنا بھلا کرلیتا ہوگا”۔ “اوہ یہی تو آپ نہیں سمجھتیں مس فٹز واٹر۔۔ بات دراصل یہ ہے کہ وہ پیٹیاں فائیو پلائی وڈ کی ہوتی ہیں۔۔مطلب سمجھتی ہیں نا آپ۔۔ خیر میں شروع سے بتاتا ہوں! ۔۔ مجھے کبھی ان پیٹیوں کا خیال بھی نہ آتا۔ مجھے بھلا اتنی فرصت کہاں کہ کاروبار کی ذرا ذرا سی تفصیل ذہن میں رکھتا پھروں۔۔ بات دراصل یہ ہوئی کہ ایک دوران میں کوٹھی پر لکڑی کا کام ہو رہا تھا۔ ایک جگہ لکڑی کا پارٹیشن ہونا تھا! خیال یہ تھا کہ دیوار کے فریم میں ہارڈ بورڈ لگا دیا جائے۔ لیکن کسی نے فائیو پلائی وڈ کی ان پیٹیوں کا خیال دلا دیا! میں نے سوچا کہ ہارڈ بورڈ سے بہتر وہی رہے گی پلائی وڈ۔۔ لہذا میں اتفاق سے خود ہی گوڈان کی طرف جا نکلا وہاں اسی دن کچھ پیٹیاں کھولی گئی تھیں۔

چوکیدار تنہا تھا اور وہ خود ہی پیٹیاں کھول کر ان میں سے پرزے نکال رہا تھا۔ مجھے بڑی حیرت ہوئی! کیونکہ یہ کام تو کسی ذمہ دار آدمی کے سامنے ہونا چاہیئے تھا اور پھر یہ چوکیدار کی ڈیوٹی نہیں تھی۔ میں نے اس سے اس کے متعلق استفسار کیا اور اس نے بوکھلا کر جواب دیا کہ گوڈان انچارج نے اسے یہی ہدایت دی تھی!۔۔ میں نے سوچا کہ انچارج سے جواب طلب کروں گا۔ اور چوکیدار سے کہا کہ وہ ایک ٹھیلا لائے اور جتنی جتنی بھی پیٹیاں خالی ہوگئی ہیں انہیں کوٹھی میں بھجوادے۔۔ وہ ٹھیلا لینے کے لئے دوڑا گیا۔ لیکن پھر اس کی واپسی نہ ہوئی! اوہ۔۔ خوب یاد آیا مس فٹز واٹر۔۔ لکی تو ٹھیک ہے نا!۔۔ وہ ایک فرمانبردار کتا ہے۔۔ آپ کو یقینا اس سے کوئی شکایت نہ ہوگی۔۔!”
“بہترین ہے۔۔!” جولیا نے کہا۔

“میرے پاس کئی قسم کے بہترین کتے ہیں! بہتری کمیاب نسلیں بھی ہیں! کسی دن کوٹھی آئیے آپ انہیں دیکھ کر بہت خوش ہوں گی”۔
“آپ یہ فرما رہے تھے کہ چوکیدار غائب ہوگیا۔۔” “اوہ۔۔ دیکھیئے! بس اسی طرح ذہن بہک جاتا ہے! ہاں تو وہ مردودبھاگ گیا۔ میں نے ایک دوسرے گوڈان کے چوکیدار سے ٹھیلا منگوایا! اس دوران میں، میں نے ایک پیٹی کا ڈھکن اٹھایا اور اندازہ کرنے لگا کہ وہ ہارڈ بورڈ سے بہتر ثابت ہوگا یا نہیں! اچانک اس کے ایک گوشے پر نظر رک گئی اور میری آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔ جانتی ہیں! میں نے کیا دیکھا!۔۔ لکڑیوں کی پرت میں ایک پرت سونے کی بھی تھی! سونے کا پتر۔۔ اسے بڑی خوبصورتی سے لکڑی کے پرتوں کے درمیان جمایا گیا تھا۔۔ شائد پیٹی کی کیلیں نکالتے وقت ایک گوشے کی لکڑی ادھڑ گئی تھی اور پرت ظاہر ہوگئی تھی!

میں نے فورا ہی گودام میں تالا ڈال دیا اور کوٹھی پر فون کرکے چار معتبر اور مسلح چوکیدار وہاں طلب کتے اور انہیں ہدایت کردی کہ کسی کو گودام کے قریب بھی نہ آنے دیں!۔۔ میں آپ سے کیا بتاں مس فٹز واٹر! ان تختوں سے تقریبا اٹھائیس سیر سونا برآمد ہوا تھا!۔۔ لیکن میں نے کسی کو بھی اس کی خبر نہ ہونے دی۔ آپ خود ہی سوچیئے اگر یہ بات کھل جاتی تو کون یقین کرتا کہ سرسوکھے کے ہاتھ صاف ہیں! کون یقین کرتا!۔۔ گوڈان انچارج سے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ ہمیشہ یہی ہوتا ہے چوکیدار کسی بڑے آفیسر کا حوالہ دے کہ اسے مطمئن کردیتا تھا! چونکہ اس سلسلے میں کبھی کوئی پوچھ گچھ نہیں ہوئی تھی اس لئے اس نے بھی اس پر دھیان نہیں دیا۔

اس طرح وہ ایک دردسری سے بچا رہتا تھا ورنہ اسے بھی کھولی جانے والی پیٹیوں کا باقاعدہ طور پر ریکارڈ رکھنا پڑتا! میں نے اس سے پہلے کی خالی پیٹیوں کے بارے میں پوچھا تو اس نے جنرل منیجر کی درجنوں چھٹیاں دکھائیں جن میں وقتا فوقتا خالی پیٹیاں طلب کی گئی تھیں! اس نیبتایا کہ کچھ کباڑی قسم کے لوگ آتے تھے اور پیٹیاں وصول کرکے رسیدیں دے جاتے تھے! اس نے رسیدیں بھی دکھائیں!۔۔ میں نے جنرل منیجر سے انکوائری کی! مگر اس نے چھٹیوں کے دستخط اپنے نہیں تسلیم کئے! اس پر میں نے ایک ایکسپرٹ کی خدمات حاصل کیں جس نے جنرل منیجر کے بیان کی تصدیق کردی! یعنی وہ دستخط سچ مچ جعلی تھے! بس یہیں سے انکوائری کا خاتمہ ہوگیا! میں اب کس کے گریبان میں ہاتھ ڈالتا!”۔۔

“آپ نے پولیس کو اطلاع دی ہوتی!” جولیا نے کہا۔ “شائد آپ میری دشواریوں کو ابھی تک نہیں سمجھیں! یقین کیجیئے کہ میں قانونی معاملات میں بیحد ڈرپوک قسم کا آدمی ہوں۔ اگر کہیں پولیس نے الٹا مجھ پر ہی نمدہ کس دیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کسی کو منہ دکھانے کے قابل بھی نہ رہوں گا! اوہ مس فٹز واٹر۔ بہرحال مجھے اپنے فاورڈنگ اینڈ کلیرنگ کے عملہ پر شبہ تھا اس لئے میں نے وہ سیکشن ہی توڑ دیا! اور اس کے پورے عملے کو برطرف کردیا۔۔ “چوکیدار کا کیا ہوا تھا؟” جولیا نے پوچھا۔ “اوہ۔ اس کا آج تک پتہ نہیں لگا سکا! وہ مل جاتا تو اتنی درسری ہی کیوں مول لی جاتی۔ اس سے تو سب کچھ معلوم ہوسکتا تھا! اب آپ میری مدد کیجیئے!”۔

“مگر میں اس سلسلے میں کیا کرسکتی ہوں؟” سرسوکھے کی ٹھنڈی سانس کمرے میں گونجی اور وہ تھوڑی دیر بعد مسکرا کر بولا! “اب مجھے پوری بات شروع سے بتانی پڑے گی۔۔ بات دراصل یہ ہے مس واٹر۔ میرے یہاں ایک اینگلو برمیز ٹائپسٹ تھی مس روشی۔ وہ آج کل رنگون گئی ہوئی ہے۔ اس نے ایک بار کسی مسٹر عمران کا تذکرہ کیا تھا جو پرائیویٹ سراغرساں ہیں!۔۔ اتفاق سے ایک دن مجھے اس نیدور سے مسٹر عمران کی زیارت بھی کرائی تھی اور مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ آپ ان کے ساتھ تھیں”۔
“میں۔۔؟”

“جی ہاں۔ آپ۔۔ دیکھیئے مجھے شکلیں ہمیشہ یادر رہتی ہیں یہ اور بات ہے کبھی کبھی نام بھول جاتا ہوں مگر یہ بھی کم ہی ہوتا ہے! اس دوران میں جب یہ واقع پیش آیا مجھے مسٹر عمران کا خیال آیا تھا! مگر افسوس کہ مجھے ان کا پتہ نہیں معلوم تھا! اچانک ایک دن آپ نظر آگئیں! آپ اس وقت آفس میں داخل ہو رہی تھیں! میں نہیں جانتا تھا کہ آپ وہیں کام کرتی ہیں! میں نے پوچھ گچھ کی تو معلوم ہوا کہ آپ وہیں کام کرتی ہیں! میں سوچا واہ سرسوکھے تو بہت خوش نصیب ہو۔ تمہارا فارورڈنگ اور کلیرنگ کا کام بھی ہوتا رہے گا اور عمران ساحب تک پہنچ بھی ہوجائے گی۔۔ واہ۔۔ اور آج کل میرے ستارے بھی اچھے ہیں مس فٹز واٹر۔۔ اگر میں آپ کو صرف واٹر کہوں تو آپ کو کوئی اعتراض تو نہ ہوگا۔ فٹز واٹر کہنے میں زبان لڑکھڑاتی ہے”۔

“آپ مجھے صرف جولیانا کہہ سکتے ہیں!” جولیا بڑے دلاویز انداز میں مسکرائی۔ “اوہ۔ بہت بہت شکریہ!”۔ وہ خوش ہو کر بولا۔ “میں آپ کا بیحد ممنون ہوں اس وقت میرے دل پر سے ایک بہت بڑا بوجھ ہٹ گیا ہے! صرف آپ ہی سے میں یہ بات کہہ سکا ہوں!۔۔ اوہ مس فٹز واٹر میں کتنا خوش نصیب ہوں دراصل اسی گفتگو کے لئے میں نے آپ کو تکلیف دی تھی اور نہ حسابات تو سب جگہ کے یکساں ہوتے ہیں”۔
“پھر آپ کیا چاہتے ہیں۔۔؟”

“مجھے عمران صاحب سے ملائیے! ان سے سفارش کیجیئے۔ انہیں مجبورکیجیئے کہ اس معاملہ کا پتہ لگائیں۔ حالانکہ میں نے فارورڈنگ اینڈ کلیرنگ کے عملے کو الگ کردیا ہے مگر کون جانے اصل چور اب بھی یہیں موجود ہو اور کبھی اس کی ذات سے مجھے کوئی بڑا نقصان پہنچ جائے۔ میں نجی طورپر اس کی تحقیقات چاہتا ہوں۔ پولیس کو کانوں کان خبر نہ ہونی چاہیئے”۔ “دیکھیئے میں کوشش کروں گی! ویسے بہت دنوں سے عمران سے ملاقات نہیں ہوئی”۔ “کوشش نہیں! بلکہ یہ کام ضرور کیجیئے گا مس جولیانا۔۔ اخراجات کی پروا مجھے نہ ہوگی”۔
“آج آپ مقبرے کے نیچے مچھلیوں کا شکار کھیل رہے تھے؟” جولیا مسکرا کر بولی اور آپ کا اسپینیئل شکار کی ہوئی مچھلیاں گھسیٹ رہا تھا”۔

“شکار تو میں یقینا کھیل رہا تھا!”۔ اس نے حیرت سے کہا۔ “مگر آپ کو یہ کیسے معلوم ہوا کہ مقبرے کے نیچے کھیل رہا تھا”۔
“میں نے آپ کو دیکھا تھا۔۔” “کمال ہے! آپ وہاں کہاں۔۔؟” “میں بھی اوپر جھاڑیوں میں تیتر تلاش کر رہی تھی! کچھ فائر بھی کئے تھے! کیا آپ نے میرے فائروں کی آوازیں نہیں سنی تھیں؟” “قطعی نہیں یا پھر ہوسکتا ہے میں نے دھیان نہ دیا ہو۔ اور تو کیا آپ بندوق چلاتی ہیں۔۔؟”
“مجھے بندوق سے عشق ہے”۔ “شاندار!۔۔” سرسوکھے بچکانہ انداز میں چیخا۔ اس کی آنکھوں کی چمک میں بھی بچپن ہی جھلک رہا تھا!۔۔ “آپ بندوق چلاتی ہیں! شاندار۔۔ آپ واقعئی خوب ہیں۔ مگر آپ نے مجھے آواز کیوں نہیں دی تھی!۔۔ آہا کبھی میرے ساتھ شکار پر چلیئے”۔
“فرصت کہاں ملتی ہے مجھے۔۔!” جولیا مسکرائی۔

“اوہ۔۔ تو آپ کو بہت کام کرنا پڑتا ہے”۔۔!
“بہت زیادہ۔۔!”
“بدتمیزی ضرور ہے مگر کیا پوچھ سکتا ہوں کہ آپ کو تنخواہ کتنی ملتی ہے؟”
“مجھے فی الحال وہاں ساڑھے چار سو مل رہے ہیں”۔
“بس۔۔ یہ تو کچھ بھی نہیں ہے! آپ پر اتنی ذمہ داریاں ہیں! اور تنخواہ! آپ جانتی ہیں روشنی کو یہاں کتنا ملتاتھا؟”
جولیا نے نفی میں سر ہلادیا!
“چھ سو!”
“اوہ۔۔!” جولیا نے خواہ مخواہ حیرت ظاہر کی۔ وہ سرسوکھے کو بد دل نہیں کرنا چاہتی تھی کیونکہ “چھ سو” کہتے وقت اس کا لہجہ فخریہ تھا۔ “اور آپ کی خدمات کا معاوضہ تو ایک ہزار سے کسی طرح بھی کم نہ ہونا چاہیئے؟” جولیا صرف مسکرا کر رہ گئی۔ انداز خاکسارانہ تھا۔ “میں اسے بیہودگی تصور کرتا ہوں کہ آپ کو آفر دوں!۔۔ بہرحال جب بھی آپ وہاں سے بددل ہوں۔ سوکھے انٹرپرائزس کے دروازے اپنے لئے کھلے پائیں گی”۔
“بہت بہت شکریہ جناب!”

دفعتا سر سوکھے نے انگلی اٹھا کر اسے خاموش رہنے کاا شارہ کیا اور اس کے چہرے پر ایسے آثار نظر آئے جیسے کسی کی آہٹ سن رہا ہو! جولیا بھی ساکت ہوگئی اس نے بھی کسی قسم کی آواز سنی تھی۔ اچانک سرسوکھے خوف زدہ انداز میں دہاڑا۔ “کون ہے؟”
کسی کمرے میں کوئی وزنی چیز گری اور بھاگتے ہوئے قدموں کی آواز آئی ایسا لگا جیسے کوئی دوڑتا ہوا زینے طے کر رہا ہو۔۔!
سرسوکھنے جیب سے پستول نکال لیا! لیکن جولیا اس کے چہرے پر خوف کے آثار دیکھ رہی تھی۔ “ٹھہریئے”۔ جولیا اٹھتی ہوئی بولی۔ “میں دیکھتی ہوں”۔

“اوہ۔۔ نہیں! پتہ نہیں کون تھا؟ بہرحال آپ نے دیکھ لیا تھا!” اس نے کہااور دروازے کی طرف بڑھا۔ جولیا بھی اس کے پیچھے بڑھی! انہوں نے سارے کمرے دیکھ ڈالے۔ برابر والے کمرے میں دیوار کے قریب ایک چھوٹی سی میز گری ہوئی نظر آئی۔ “یہ دیکھیئے۔۔” سرسوکھے نے کہا۔ “کوئی اس میز پر کھڑا ہو کر روشندان سے ہماری گفتگو سن رہا تھا، جولیا نے میز کی سطح پر ربر سول جوتے کے نشانات دیکھے۔
“آپ اس میز کو کسی کمرے میں مقفل کرادیجیئے! یہ نشانات عمران کے لئے کارآمد ہوسکتے ہیں”، جولیا نہ کہا۔”گڈ۔۔!” وہ خوش ہو کر بولا! “اب دیکھیئے یہ آپ کی ذہانت ہی تو ہے! مجھے اس کا خیال نہیں آیا تھا۔ اوہ مس جولیانامجھے یقین ہے کہ اب میری پریشانیوں کا دور ختم ہوجائے گا۔ مجھے یقین ہے”۔

“آپ بالکل فکر نہ کریں۔۔” جولیا نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔ “آپ کے پاس بلڈ ہانڈز بھی ہیں”!
“نہیں۔۔ کیوں۔۔ “اگر کوئی ہوتا تو اسے اس آدمی کی راہ پر بہ آسانی لگایا جاسکتا تھا جو اس وقت ہماری گفتگو سن رہا تھا!”
سرسوکھے کی آنکھیں حیرت سے پھٹی رہ گئیں۔ “اوہ۔۔ مس جولیانا! آپ کی ذہانت کی کہاں تک تعریف کی جائے آپ تو بہت گریٹ ہیں! عمران صاحب کی صحبت نے آپ کو بھی اچھا خاصہ جاسوس بنادیا ہے۔ کاش آپ ہمارے ساتھ ہوتیں! میں چین کی نیند لے سکتا! ساری تشویش ختم ہوجاتی۔۔ سرسوکھے نے خاموش ہو کر ٹھنڈی سانس لی۔

اندھیری رات تھی۔ سڑک پر ویرانیاں رقص کر رہی تھیں! اور ان کا رقص دراصل جوزف کے وزنی جوتوں کی تال پر ہو رہا تھا! وہ اونٹ کی طرح سر اٹھائے چلا جا رہا تھا۔ گو اس وقت وہ فوجی لباس میں نہیں تھا! اور اس کے دونوں ریوالور بھی ہولسٹروں کی بجائے جیب میں تھے۔
اس سڑک پر الیکٹرک پول اتنے فاصلے پر تھے کہ دو روشنیوں کے درمیان میں ایک جگہ ایسی ضرورملتی تھی جہاں اندھیرا ہی رہتا تھا۔ درمیان میں دو پول چھوڑ کر بلب لگائے گئے تھے۔ یہ شہر سے باہر کا حصہ تھا۔ اگر ان اطراف میں دو چار فیکٹریاں نہ ہوتیں تو یہ سڑک بالکل ہی تاریک ہوتی۔
جوزف اس وقت کتھئی سوٹ اور سفید قمیض میں تھا! ٹائی تو وہ کبھی استعمال ہی نہیں کرتا تھا! آج کل وہ بالکل ہی دیو معلوم ہوتا تھا! عمران کی ڈنڈبیٹھکوں نے اس کا جسم اور زیادہ نمایاں کردیا تھا!

وہ یکساں رفتار سے چلتا رہا اور اس کے وزنی جوتوں کی آوازیں دور دور تک گونجتی رہیں۔ فیکٹریوں کے قریب پہنچ کر وہ بائیں جانب مڑ گیا!۔۔ یہ فیکٹریوں کی مخالف سمت تھی! ادھر دور تک ویرانہ ہی تھا۔ ناہموار اور جھاڑیوں سے ذھکی ہوئی زمین میلوں تک پھیلی ہوئی تھی۔
اچانک جوزف رک گیا! وہ اندھیرے میں آنکھیں پھاڑ رہا تھا۔۔ تقریبا سو گز کے فاصلے پر مشرق کی طرف اسے کوئی ننھی سی چمکدار چیز دکھائی دی اور وہ دوسرے ہی لمحے زمین پر تھا! اب وہ گھنٹوں اور ہتھیلیوں کے بل بالکل اسی طرح آہستہ آہستہ چل رہا تھا جیسے کوئی تیندوا شکار کی گھات میں ہو!

رخ اسی جانب تھا جہاں وہ ننھی سی چمکدار چیز نظر آئی تھی۔ “جوزف۔۔!” اس نے ہلکی سی سرگوشی سنی!۔۔ اور وہ کسی وفادار کتے کی طرح اچھل کر ادھر ہی پہنچ گیا۔ “شش۔۔ جوزف جھاڑیوں میں دبک گیا پھر کوئی اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھ کر بولا۔ ” چند منٹ یہیں رکو”۔
جوزف جس پوزیشن میں تھا اسی میں رہ گیا! یہ اس کی عجیب وغریب عادت تھی۔ جب بھی اسے مخاطب کیا جاتا تو ہو اسی طرح ساکت ہوجاتاکہ اٹھا ہوا ہاتھ اٹھا ہی رہ جاتا! جماہی آ رہی ہوتی تو منہ پھیلا کر ہی رہ جاتا اور تاوقتیکہ کوئی نہ کہہ دی جاتی پھیلا ہی رہتا۔۔!
تھوڑی دیر بعد کہا گیا۔

“جوزف کیا تم اس وقت بہت خوش ہو”؟ “ہاں۔ باس بہت زیادہ۔۔ کیونکہ میں آج ایک نئی چیز دریافت کی ہے”۔ “اچھا۔۔!”
“ہاں باس! اگراسپرٹ اور پانی میں تھوڑا سا جنجر ایسنس بھی ملا لیا جائے تو بس۔۔ مزہ ہی آجاتا ہے”۔ “تم نے پھر اسپرٹ شروع کردی ہے؟”
“ہاں۔۔ باس۔۔”۔
“ایک ہزار ڈنڈ۔۔!”

“نن۔۔ نہیں۔۔ باس!” جوزف بوکھلا کر بولا! “نشہ اتر جائے گا! کھوپڑی بالکل خالی ہوجائے گی! اور میں کیچوا بن کر رہ جاں گا۔۔!”
“چلو اٹھو!۔۔” عمران نے اسیٹھوکا دیا۔
“ہم کہاں چلیں گے باس۔۔؟”
“کالا گھاٹ۔۔ تم نے دیکھا نا؟”
“ہاں۔۔ باس۔۔”۔
“وہاں ایک شراب خانہ ہے!”

“میں جانتا ہوں باس!”۔۔ جوزف خوش ہو کر بولا! “وہاں تاڑی بھی ملتی ہے”۔
“ہوم۔۔! اس شراب خانہ کے پاس ندی کی سمت جو ڈھلان شروع ہوتی ہے!تمہیں وہاں رکنا ہوگا!”
“ڈھلان پر رک کر کیا کروں گا باس! کہ آپ شراب خانہ میں جائیں اور میں ڈھلان پر کھڑا رہوں”۔
“چلتے رہو۔۔!”

وہ اندھیرے ہی میں ناہموار راستے طیکرتے رہے! کبھی کبھی محدود روشنی والی چھوٹی سی ٹارچ روشن کرلی جاتی!
جوزف کچھ بڑبڑا رہا تھا۔ “خاموشی سے چلتے رہو”۔ کہا گیا۔ آدھے گھنٹے بعد وہ ایک ڈھلوان راستے پر چل رہے تھے جہاں سے ندی کے کنارے والے چراغوں کے سلسلے صاف نظر آنے لگے تھے۔ “ایک بار پھر سنو جوزف!” اس سے کہا گیا۔ “تم شراب خانے کی پشت پر ندی والی ڈھلان پر ٹھہرو گے”۔ “اچھا باس!” جوزف نے بیحد اداس لہجے میں کہا۔ “مگر تم وہاں کیوں ٹھہرو گے؟” “جماہیاں لینے اور آنسو بہانے کے لئے!” جوزف کی آواز دردناک تھی!

عمران ہنس پڑا۔ “مگر باس ! تم اپنے محل میں کیوں نہیں آتے۔۔؟” جوزف نے کہا!
“یہ ایک درد بھری کہانی ہے۔۔ جوزف!” عمران غمناک لہجے میں بولا۔ ” میری آخری بیوی کے رشتے دار مجھے قتل کردینا چاہتے ہیں۔۔!”
“اف۔فوہ! “جوزف چلتے چلتے رک گیا۔ اسے وہ پھرتیلا بوڑھا یاد آگیا تھا جس نے دو تین دن پہلے رانا پیلس میں اپنی چلت پھرت کا مظاہرہ کیا تھا!
بلیک زیرو کو علم ہی نہیں تھا کہ عمران کہاں ہوگا اس لئے یہ کہانی عمران تک نہیں پہنچ سکی تھی! اتفاق سے آج صبح جوزف ہوا خوری کو نکلا تھا۔ راستے میں ایک لڑکے نے اسے ایک خط دیا جو عمران کی طرف سے ٹائپ کیا گیا تھا اور جس میں جوزف کے لئے ہدایت تھی کہ وہ رات کو فلاں وقت فلاں مقام پر پہنچ جائے۔

جوزف اس معاملہ میں اتنا محتاط ثابت ہوگا کہ اس نے اس کا تذکرہ بلیک زیرو (طاہر صاحب) سے بھی نہیں کیاتھا۔ حالانکہ وہ خود بھی دھوکا کھا سکتا تھا۔ کیونکہ وہ خط ٹائپ کیا ہوا تھا اور اس کے نیچے بھی عمران کے دستخط نہیں تھے بلکہ نام ہی ٹائپ کردیا گیا تھا! لیکن اس نے کسی وفادار کتے کی طرح اس میں عمران کی بو محسوس کی تھی اور نتیجے کے طور پر وہ اس وقت یہاں موجود تھا!
“کیوں رک گئے؟” عمران نے ٹوکا۔

اس پر اس نے جڑی بوٹیاں فروخت کرنے والے بوڑھے کی داستان دہرائی اور بتایا کہ کس طرح اس نے اس کی جیب سے پستول نکال لیا تھا۔
عمران سوچ میں پڑ گیا اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اس پر عمران ہونے کی بنا پر حملے ہو رہے تھے یا اس لئے کوئی اس کے پیچھے پڑ گیا تھا کہ رانا تہور علی صندوقی کا راز معلوم کرسکے۔ یا پھر حملہ آواروں کی نظروں میں بھی تہور علی اور عمران ایک ہی شخصیت کے دو مختلف روپ تھے۔۔!

“بس اسی سے اندازہ کرلو۔ جوزف۔۔ کہ آج کل میں کتنی الجھنوں میں گھرا ہوا ہوں۔۔!”
“مجھے ان کا پتہ بتا باس! ایک کو بھی زندہ نہ چھوڑوں گا”۔ جوزف بھرائی ہوئی آواز میں بولا!
“چلتے رہو۔۔!” عمران بولا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اب وہ اپنے ماتحتوں کو اپنے قریب بھی نہیں آنے دے گا ورنہ اس کا امکان بھی ہے کہ اسی سلسلے میں ڈھمپ اینڈ کو کا راز ہی فاش ہوجائے۔
“ہاں تو باس! مجھے ڈھلان پر کیا کرنا ہوگا؟”

“اگر میری عدم موجودگی وہاں کوئی سبز رنگ کا موٹر بوٹ آئے تو تم فورا ہی ایک ہوائی فائر کردینا”۔
“بس صرف ہوائی فائر کردوں گا!” جوزف نے پھر مایوسانہ انداز میں پوچھا۔
“تم پر خون کیوں سوار رہتا ہے جوزف؟” “نہیں تو باس!۔۔ وہ دراصل میں سوچتا ہوں کہ مجھے پھانسی کیوں نہ ہوجائے میں نے سنا ہے کہ اب اسپرٹ میں لائسنس کے بغیر نہیں ملا کرے گی۔ مجھے کون لائسنس دے گا! اس لئے بہتر یہی ہے کہ میں کسی کو قتل کرکے جیل چلا جاں!”
“اور اگر میں ہی تمہیں قتل کردوں تو۔۔!”
“نہیں! اس کی بجائے میری بوتلوں میں اضافہ کردو۔ باس!” جوزف گھگھیا۔
“اب روزانہ پانچ ہزار ڈنڈ۔۔!”

“مم۔۔ مرا۔۔ نہیں۔۔ نہیں باس میریپھیپھڑے پھٹ جائیں گے”۔ “خاموش رہو۔ ہم شراب خانے کے قریب ہیں! تم یہیں سے اسی پگڈنڈی پر مڑ جا! آگے چل کر یہ دو مختلف سمتوں میں تقسیم ہوگئی ہے مگر تم بائیں جانب مڑ جانا۔ پگڈنڈی نہ چھوٹنے پائے۔ اس طرح تم تھیک اسی جگہ پہنچو گے جہاں ٹھہر کر تمہیں میرا انتظار کرنا ہے”۔ “اچھا باس!”جوزف کسی بہت ہی ستم رسیدہ آدمی کی طرح ٹھنڈی سانس لے کر پگڈنڈی پر مڑ گیا۔۔!

عمران جو اب روشنی میں آچکا تھا یعنی طور پر جوزف کے لئے ایک مسئلہ بن کر رہ جاتا!۔۔ اسی لئے اور بھی اس نے اسے اندھیرے ہیں میں رخصت کردیا تھا! وہ دراصل ایک بوڑھے بھکاری کے روپ میں تھا اور اس کے جسم پر چیتھڑے جھول رہے تھے۔ جوزف چلتا رہا! اس مقام کو پہچاننے میں بھی اسے کوئی دشواری نہیں پیش آئی۔ جہاں پگڈنڈی دو شاخوں میں بٹ کر مخالف سمتوں میں مڑ گئی تھی! وہ عمران کی بتائی ہوئی سمت پر چلنے لگا!۔۔ ہوٹل کی پشت پر پہنچ کر اس نے چاروں طرف نظریں دوڑائیں! گہرا اندھیرا فضا پر مسلط تھا! کہیں کہیں روشنی کے نقطے سے نظر آرہے تھے۔

جوزف لاکھ ڈفر سہی لیکن خطرات کے معاملہ میں وہ جانوروں کی سی حس رکھتا تھا! اس نے سوچا کہ فائر کرنے کے بعد وہ کیا کرے گا! اگر کچھ لوگ آگئے اور وہ پکڑ لیا گیا تو۔۔! کیا باس اسے پسند کرے گا!۔۔ اب وہ کوئی ایسا درخت تلاش کرنے لگا جسے فائر کرنے کے بعد اپنے بچا کے لئے استعمال کرسکے۔ اچانک ایک موٹر بوٹ گھاٹ سے آلگی۔۔ جوزف نے تیزی سے جیب میں ہاتھ ڈالا لیکن پھر آنکھیں پھاڑ کر رہ گیا! بھلا اندھیرے میں موٹر بوٹ کا رنگ کیسے نظر آتا! ہیڈ لیمپ کی روشنی بھی اسے نہ ظاہر کرسکتی تھی!۔۔ “او۔۔ باس!” جوزف دانت پیس کر بڑبڑایا۔ “تم نشے میں تھے یا مجھے ہی ہوش نہیں تھا! سبز رنگ۔۔ ہائے سبز رنگ۔۔ زرد نکلے تو کیا ہوگا۔۔ نیلا۔۔ اودا۔۔ کتھئی۔۔ زعفرانی۔۔ اب میں کیا کروں۔۔؟ او باس!۔۔

وہ کھڑا دانت پیستا رہا پھر اپنے سر پر مکے مارنے لگا۔ بہرحال اب اس کے لئے ضروری ہوگیا تھا کہ وہ عمران کو تلاش کرکے پوچھتا کہ اندھیرے میں موٹر بوٹ کا رنگ کیسے دیکھا جائے؟ وہ شراب خانے کے صدر دروازے کی طرف چل پڑا۔ اسے یقین تھا کہ عمران شراب خانے ہی میں ملے گا!۔۔ شاید اس نے کہا بھی تھا!۔۔ شراب خانہ پوری طرح آباد ملا! اس کی چھت زیادہ اونچی نہیں تھی! دیواریں اور چھت سفید آئل پینٹ سے رنگی گئی تھیں! بس ایسا ہی معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی بہت بڑے بحری جہاز کا شراب خانہ ہو! لیکن یہاں اتنی صفائی اور خوش سلیقگی کو دخل نہیں تھا۔

لوگ میلی کچیلی میزوں پر بیٹھے تاڑی یا دیسی شراب پی رہے تھے! ویسے بھی یہاں قیمتی شرابیں شاذونادر ہی ملتی تھیں۔ یہاں پہنچ کر جوزف کی پیاس بری طرح جاگ اٹھی۔ وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتا اور چندھیائی ہوئی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھتا رہا! لیکن یہاں کہیں اسے عمران نہ دکھائی دیا۔ وہ جو ابھی زیادہ نشے میں نہیں تھے اسے گھورنے لگے تھے۔ دفعتا ایک بوڑھا آدمی جھومتا ہوا اپنی میز سے اٹھا اور جوزف کی طرف بڑھنے لگا! اس کے ہاتھ میں گلاس تھا۔ اس کی ہیت کذائی پر جوزف کو ہنسی آگئی۔ یہ ایک پست دبلا پتلا آدمی تھا! چہرے پر اگر ڈاڑھی نہ ہوتی تو بالکل گلہری معلوم ہوتا! آنکھیں دھندلی تھیں۔

جوزف کے قریب پہنچ کر وہ رک گیا اور اس طرح سر اٹھا کر اس کی شکل دیکھنے لگا جیسے کسی منارہ کی چوٹی کا جائزہ لے رہا ہو!۔۔
“کیا ہے۔۔؟” جوزف کھسیانے انداز میں ہنس کر پوچھا۔ “مجھے ڈر ہے کہ کہیں تمہارے کانوں تک اپنی آواز پہنچانے کے لئے مجھے۔۔لاڈ اسپیکر نہ استعمال کرنا پڑے” “ہام!” جوزف اسے پکڑنے کے لئے جھکا اور وہ اچھل کر پیچھے ہٹ گیا۔ “خفا ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں بہت غم زدہ آدمی ہوں”۔ بوڑھے نے رونی آواز میں کہا۔ وہ انگریزی ہی میں گفتگو کر رہا تھا!

“کیا ہوا ہے تمہیں”۔ جوزف غرایا۔ “ادھر چلو۔ میں تمہیں پلاں گا! تمہیں اپنی دکھ بھری داستان سناں گا! مجھے یقین ہے کہ تم میری مدد کرو گے! بہت زیادہ لمبے آدمی عموما مجھ پر رحم کرتے ہیں”۔ “میں نہیں پیوں گا۔۔!” جوزف نے احمقانہ انداز میں کہا اور پھر چاروں طرف دیکھنے لگا۔ “کیا تمہیں کسی کی تلاش ہے”۔ بوڑھے نے پوچھا۔ “نہیں۔” “تو پھر آ۔ نا۔۔ غم غلط کریں۔ تم مجھے کوئی بہت شریف آدمی معلوم ہوتے ہو”۔ “ہاں۔!” جوزف نے سر ہلا کر پلکیں جھپکائیں۔ “آ۔۔ دوست آ۔ تمہار دل بہت نورانی ہے” جوزف سچ مچ خوش ہوگیا! اپنی صفائے دل کے متعلق کسی سیکچھ سن کر وہ نہال ہوجاتا تھا۔ ایسے مواقع پر اسے فادر جوشوا یاد آجتے جنہوں نے اسے عیسائی بنایا تھا اور جو اکثر کہا کرتے تھے کہ “تم سفید فاموں سے افضل ہو کیونکہ تم کالوں کے دل بڑے نورانی ہوتے ہیں”۔

بوڑھا اسے اپنی میز پر لے آیا۔ “اوہ۔۔ شکریہ! میں گھر سے باہر کبھی کچھ نہیں پیتا!” جوزف نے کہا۔ “یہ بہت بری عادت ہے دوست! گھر پر پینے سے کیا فائدہ۔ کیا دیواروں سے دل بہلاتے ہو” عادت ہے۔۔! جوزف نے خواہ مخواہ دانت نکال دیئے۔ “نہیں میری خاطر! پیو! میں بہت غم زدہ آدمی ہوں۔۔ میری بات نہ ٹالو! ورنہ میرے غموں میں ایک کا اور اضافہ ہوجائے گا!”
“تمہیں کیا غم ہے؟”

“ایک دو۔ نہیں۔۔ ہزاروں میں!۔۔ بس تم پیو پیارے۔۔ یہی میرے غم کا علاج ہے۔ تم بہت نیک آدمی ہو ضرور پیو گے مجھے یقین ہے۔۔!”
“کیا میرے پینے سے تمہارے غم دور ہوجائیں گے!” جوزف نے بڑی معصومیت سے پوچھا۔ “قطعی دور ہوجائیں گے۔۔ “اچھا تو پھر میں پیوں گا! خدا تمہاری مشکل آسان کرے!” جوزف نے انگلیوں سے کراس بنایا۔ “کیا پیو گے؟” “تاڑی۔۔ سالہاسال ذرے کہ میں تاڑی نہیں پی۔۔!”
“مذاق مت کرو پیارے۔!” بوڑھے نے کہا۔ “میں مذاق نہیں کر رہا”۔ جوزف کو غصہ آگیا۔ “اچھا۔۔ اچھا۔۔ تاڑی ہی سہی”۔ بوڑھے نے کہا اور اٹھ کر کانٹر کی طرف چلا گیا۔ واپسی پر اس کے ہاتھوں میں تاڑی کی بوتل اور گلاس تھے۔

جوزف نے حلق تر کرنا شروع کیا! جب کھوپڑی کچھ گرم ہوئی تو میز پر گھونسہ مار کر بولا۔ “بتا کس کی وجہ سے تمہیں اتنے دکھ پہنچے ہیں؟” “ابھی بتاں گا۔۔ سن سے پہلے آج کا غم دہراں گا” تھوڑی دیر تک خاموشی رہی پھر بوڑھے نے کہا۔ “ہزاروں روپے کی شراب برباد ہوجائے گی۔ اگر میں نے دو گھنٹے کے اندر ہی اندر کوئی قدم نہ اٹھایا” “شراب برباد ہوجائے گی!” جوزف نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔
“ہاں! پانچ بیرل۔ یہاں سے تقریبا ایک میل کے فاصلے پر جنگل میں پڑے ہوئے ہیں۔ میں نے ہی انہیں وہاں چھپایا تھا۔ اب اطلاع ملی ہے کہ پولیس کو شبہ ہوگیا ہے! اس لئے وہ عنقریب وہاں گھیرا ڈالنے والی ہے۔ کاش میرے بازوں میں اتنی قوت ہوتی کہ میں ان بیرلوں کو قریب ہی کے ایک کھڈ میں لڑھکا سکتا!”

“یہ کون سی بڑی بات ہے”۔ جوزف اکڑ کر بولا۔ “میں چل کر لڑھکا دوں گا!”
“اوہ۔۔ اگر تم ایسا کرسکو تو ایک بیرل تمہارا انعام۔۔!”
“لا۔۔ ہاتھ”۔ جوزف میز پر ہاتھ مار کر بولا! “بات پکی ہوگئی! میں لڑھکاں گا اور تم اس کے عوض مجھے ایک بیرل دو گے!”
پھر تاڑی کی مزید دو بوتلیں ختم ہونے تک بات بالکل ہی پکی ہوگئی اور جوزف لڑکھڑاتا ہوا اٹھا۔۔ بوڑھا آدمی کسی ننھے سے بچے کی طرح اس کی انگلی پکڑے چل رہا تھا!۔۔
یہ جوڑا دیکھ کر لوگ بیتحاشہ ہنسے تھے۔۔ اور جوزف تو اب اسے قطعی فراموش کرچکا تھا کہ یہاں کیوں آیا تھا!۔۔

ایکس ٹو نے اپنے ماتحتوں کو باقاعدہ طور پر ہدایت کردی تھی کہ وہ عمران کے متعلق کسی چکر میں نہ پڑیں۔ نہ تو اس کے فلیٹ کے فون نمبر رنگ کئے جائیں اور نہ کوئی ادھر جائے! جولیا کو اس قسم کی ہدایت دیتے وقت اس کا لہجہ بیحد سخت تھا۔ جولیا اس پر بری طرح جھلا گئی تھی! لیکن کرتی بھی کیا! ایکس ٹو بہرحال اپنے ماتحتوں کے اعصاب پر سوار تھا! وہ اس سے اسی طرح خائف رہتے تھے جیسے ضعیف الاعتقاد لوگ ارواح کے نام پر لرزہ براندام ہوجاتے ہیں۔ مگر جولیا الجھن میں مبتلا تھی۔ آج کل ایک ناقابل فہم سی خلش ہر وقت ذہن میں موجود رہتی اور اس کا دل چاہتا کہ وہ شہر کی گلیوں میں بھٹکتی پھرے! چھتوں اور دیواروں کے درمیان گھٹن سی محسوس ہوتی تھی۔ آج صبح اس نے فون پر بڑے جھلائے ہوئے انداز میں ایکس ٹو سے گفتگو کی تھی۔ اسے بتایا تھا کہ سرسوکھے کی بھاگ دوڑ کا اصل مقصد کیا ہے! پھروہ اس کے لئے عمران کو تلاش کرے یا نہ کرے!۔۔

“بس اسی حد تک جولیا ناکہ وہ مطمئن ہوجائے!” ایکس ٹو نے جواب دیا تھا! ” اسے یہ شبہ نہ ہونا چاہیئے کہ تم اسے ٹال رہی ہو! بلکہ عمران کی گمشدگی پر پریشانی بھی ظاہر کرو۔ جولیا برا سا منہ بنا کر رہ گئی تھی۔ سرسوکھے کی فرمائش کے مطابق آج اسے عمران کی تلاش میں اس کا ساتھ دینا تھا! سب سے پہلے وہ عمران کے فلیٹ میں پہنچے لیکن سلیمان سے یہی معلوم ہوا کہ عمران پچھلے پندرہ دنوں سے غائب ہے! پھر جولیا نے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران وہاں کا مستقل ممبر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں اس کیمتعلق کچھ معلومات حاصل ہوسکیں۔وہ ٹپ ٹاپ کلب پہنچے۔ یہاں بھی کوئی امید افزا صورت نہ نکل سکی! آخر سرسوکھے نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اب کہاں جائیں۔ میں واقعی بڑا بدنصیب ہوں مس جولیانا۔ آیئے کچھ دیر یہیں بیٹھیں!”

جولیا کو اس پہاڑ نما آدمی سے بڑی الجھن ہوتی تھی! اس کے ساتھ کہیں نکلتے ہوئے اس کے ذہن میں صرف یہی ایک خیال ہوتا تھا کہ وہ بڑی مضحکہ خیز لگ رہی ہوگی۔ آس پاس کے سارے لوگ انہیں گھور رہے ہوں گے۔ مگر اس کمبخت ایکس ٹو کو کیا کہیئے جس کا حکم موت کی طرح اٹل تھا۔ وہ سرسوکھے کے ساتھ بیٹھی اور بور ہوتی رہی! لیکن پھر اس نے ریکرئیشن ہال میں چلنے کی تجویز پیش کی۔ مقصد یہ تھا کہ وہاں کوئی نہ کوئی اس سے رقص کی درخواست ضرور کرے گا اور سرسوکھے سے پیچھا چھوٹ جائے گا! سرسوکھے اس تجویز پر خوش ہوا تھا!
وہ ریکریشن ہال میں آئے۔ یہاں ابھی آرکسٹرا جاز بجا رہا تھا! اور چند باوردی منتظمین چوبی فرش پر پاڈر چھڑکتے پھر رہے تھے۔
وہ گیلری میں جا بیٹھے! تھوڑی دیر بعد رقص کے لئے موسیقی شروع ہوئی!

“کیا میں آپ سے رقص کی درخواست کرسکتا ہوں!” سرسوکھے نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ “آپ!” جولیا نے متحیرانہ لہجے میں سوال کیا! اس کا سر چکرا گیا تھا۔ “اوہ”۔ دفعتا سرسوکھے بیحد مغوم نظر آنے لگا! کرسی کی پشت سے ٹکتے ہوئے اس نے چھت پر نظریں جما دیں! جولیا کو اپنے رویے پر افسوس ہونے لگا کیونکہ سرسوکھے کی آنکھیوں میں آنسو تیر رہے تھے! جولیا نے محسوس کیا کہ اس کا وہ “آپ” گویا ایک تھپڑ تھا جو سرسوکھے کے دل پر پڑا تھا! کیونکہ “آپ” کہتے وقت جولیا کیلہجے میں تحیر سے زیادہ تضحیک تھی۔ “اوہو۔۔ تو پھر۔۔ آپ اٹھیئے نا!” جولیا نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔ وہ ہنسنے لگا۔ بیتکی سی ہنسی! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے خود اسے بھی احساس ہو کہ وہ یوں ہی احمقانہ انداز میں ہنس پڑا ہے۔ پھر وہ آنکھیں ملنے لگا!

“نہیں ۔!” وہ کچھ دیر بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ “میں اپنی اس بیتکی درخواست پر شرمندہ ہوں! میں آپ کو بھی مضحکہ خیز نہیں بنانا چاہتا ۔ وہ پھر ہنسا مگر جولیا کو اس کی ہنسی دردناک معلوم ہوئی تھی! ایسا لگا تھا جیسے متعدد کراہوں نے ہنسی کی شکل اختیار کرلی ہو!
“مس فٹز واٹر!” اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مار کر کہا۔ “ہڈیوں اور گوشت کا یہ بنجر پہاڑ ہمیشہ تنہا کھڑا رہے گا۔ میں نے نہ جانے کس رو میں آپ سے درخواست کردی تھی! اداس اور تنہا آدمی بچوں کی سی ذہنیت رکھتے ہیں”۔ گوشت اور ہڈیوں کے اس بیہنگم سے ڈھیر میں چھپا ہوا سرسوکھے رام بچہ ہی تو ہے جو بڑی لاپروائی سے اس بدنما ڈھیر کو اٹھائے پھرتا ہے۔ اگر باشعور ہوتا تو۔۔”

“اور دیکھیئے! آپ بالکل غلط سمجھے سرسوکھے! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا! دراصل مجھے اس پر حیرت تھی کہ۔۔ “نہیں۔ مس جولیانا! میں خود بھی تماشہ بننا پسند نہیں کروں گا!” وہ ہاتھ اٹھا کر دردناک آواز میں بولا۔ جولیا خاموش ہوگئی! رقص شروع ہوکا تھا! سرسوکھے رقاصوں کو کسی بچے ہی کے سے انداز میں دیکھتا رہا۔۔! نہ جانے کیوں جولیا سچ مچ اس کے لئے مغوم ہوگئی تھی۔ جوزف بس چلتا ہی رہا! اسے احساس نہیں تھا کہ وہ کتنا چل چکا ہے۔ اور کب تک چلتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی زبان ہی چل رہی تھی ۔ نوجوانی کے قصے چھیڑ رکھے تھے!

نوجوانی کے قصے بھی جوزف کی ایک کمزوری تھی۔ وہ مزے لے لے کر اپنے کارنامے بیان کرتا تھا اور ان کہانیوں کے درمیان قبیلے کی ان لڑکیوں کا تذکرہ ضرور آتا تھا جو اس پر مرتی تھیں۔ اس مرحلہ پر جوزف کے ہونٹ سکڑ جانے اور آواز میں سختی پیدا ہوجاتی۔ ایسا لگتا جیسے حقیقتا اسے کبھی ان کی پرواہ نہ ہوئی ہو! اس وقت وہ بوڑھے سے کہہ رہا تھا۔ “بھلا بتا۔ مجھے ان باتوں کی فرصت کہاں ملتی تھی۔ میں تو زیادہ تر رائفلوں اور نیزوں کے کھیل میں الجھا رہتا تھا۔ جب بھی سفید فام شکاری میرے علاقہ میں داخل ہوتے تو انہیں تندوے کی تلاش ضروری ہوتی تھی! میں ہی ان کی رہنمائی کرتا تھا۔ ان کی زندگیاں میری مٹھی میں ہوتی تھیں۔۔ اب بتا۔۔ تم ہی بتا۔۔ میں کیا کرتا! نگانہ جو قبیلے کی سب سے حسین لڑکی تھی! اس نے مجھے بددعائیں دی تھیں۔۔ آہ۔۔ آج میں اسی لئے بھٹکتا پھر رہا ہوں۔ مگر بتا! اس کے لئے کہاں سے وقت نکالتا۔۔!”

جوزف نے پھر بکواس شروع کردی۔ تاڑی کی تین بوتلیں ہٹلر بھی بن سکتی ہیں اور علم الکلام کی ماہر بھی۔۔۔اچانک بوڑھا چلتے چلتے رک گیا۔ اور خوش ہو کر بولا! “واہ۔۔ اب تو وہ بیرل یہاں سے لے جائے بھی جاسکتے ہیں! میرے آدمی ٹرک لے آئے ہیں لیکن پولیس کا کہیں پتہ نہیںہے۔۔!”
“ہائیں!” جوزف منہ پھاڑ کر رہ گیا۔ پھر بولا! “اب میرے انعام کا کیا ہوگا۔ “ایک بیرل تمہارا ہے دوست!” بوڑھے نے اس کی کمر تھپتھپا کر کہا! “تم اب انہیں ٹرک میں چڑھانے میں مدد دو گے”۔ ٹرک قریب ہی موجود تھا۔ اس کا پچھلا ڈھکنا زمین پر ٹکا ہوا تھا۔ جوزف نے چندھائی ہوئی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا! یہ ایک ویرانہ تھا۔ گھنیرے درخت اور جھاڑ جھنکار قریب وجوار کے اندھیرے میں کچھ اور اضافہ کرتے ہوئے سے معلوم ہو رہے تھے۔

“چلو۔ اندازہ کرلو کہ تم بیرل اوپر چڑھا سکو گے یا نہیں!” بوڑھے نے کہا اور ٹرک پر چڑھ گیا۔ جوزف کی رفتار سست تھی۔ لیکن وہ بھی اوپر پہنچ ہی گیا! ٹرک تین طرف سے بند تھا اور اس کی چھت کافی اونچی تھی! لیکن جوزف جیسے لمبے تڑنگے آدمی کو تو جھکنا ہی پڑا تھا۔ “چڑھا سکو گے نا؟” بوڑھے نے پوچھا۔ “بل۔۔ بل۔۔ بلکول۔۔” جوزف لڑکھڑایا اور آندھی سے اکھڑتے ہوئے کسی تناور درخت کی طرح ڈھیر ہوگیا! اسے اس پر بھی غور کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا تھا کہ کھوپڑی پر ہونے والے تین بھرپور وار زیادہ نشہ آور ہوتے ہیں۔۔ یا تاڑی کی تین بوتلیں۔۔ اس کا ذہن تاریکی کی دلدل میں ڈوبتا چلا گیا! پھر دونوں ٹرک کے اگلے حصے میں چلے گئے!
تھوڑی دیر بعد ٹرک چل پڑا!

صفدر نے اس دن کے بعد سے اب تک ڈھمپ اینڈ کو کے دفتر کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ جب وہاں عمران کی موت کی اطلاع لے کر گیا تھا! ایکس ٹو کی طرف سے اسے یہی ہدایت ملی تھی۔ لیکن وہ عمران کے متعلق الجھن میں تھا! کبھی یقین کرنے پر مجبور ہوتا کہ اب عمران اس دنیا میں نہیں! اور کبھی پھر کئی طرح کے شبہات سر اٹھاتے! مگر یہ تو اس کی آنکھوں کے سامنے کی بات تھی کہ عمران چیخ مار کر ندی میں جا پڑا تھا! کچھ بھی ہو دل نہیں چاہتا تھا کہ عمران کی موت پر یقین کرے۔ جولیا نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ عمران زندہ ہے اور اسے اس واقعہ کے بعد اس کی کوئی تحریر ملی تھی! ایکس ٹو تو اسے یقینی طور پر صحیح حالات کا علم تھا۔ ورنہ وہ جولیا کو فون پر سرزنش کیوں کرتا۔ یہی سوچ کر جولیا نے اس سے بھی اس مسئلہ پر کسی قسم کی گفتگو نہیں کی تھی!

بہرحال صفدر آج کل زیادہ تر گھر ہی میں پڑا رہتا تھا۔۔ اس وقت بھی وہ آرام کرسی میں پڑا اونگھ رہا تھا! اچانک فون کی گھنٹی بجی جو ان دونوں شاذونادر ہی بجتی تھی۔ وہ اچھل پڑا۔۔ “ہیلو۔۔!” اس نے ماتھ پیس میں کہا۔ “ہائیں۔۔!” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “کیا تم زندہ ہو؟”
“ارے!” صفدر پرمسرت لہجے میں چیخا! “آپ۔۔ اس نے عمران کی آواز صاف پہچان لی تھی۔ “اتنی زور سے نہ چیخو کہ تمہاری لائن کو شادی مرگ ہوجائے۔ ویسے میں عالم بالا سے بو ل رہا ہوں۔ “عمران صاحب خدا کے لئے بتایئے کہ وہ سب کیا تھا؟”

“یار بس کیا بتاں”۔ دوسری طرف سے مغوم لہجے میں کہا گیا! ” میں تو یہی سمجھ کر مرا تھا کہ گولی لگ چکی ہے۔ مگر فرشتوں نے پھر دھکا دے دیا! کہنے لگے کھسکو یہاں سے۔ یہاں چارسو بیسی نہیں چلے گی۔ گولی وولی نہیں لگی۔ آئندہ اچھی طرح مرے بغیر ادھر کا رخ بھی نہ کرنا۔ نہیں تو اب کی دم لگا کر واپس کئے جا گے۔ صفدر ہنسنے لگا! وہ بیحد خوش تھا۔ اس کی بیک بہت بڑی الجھن رفع ہو گئی تھی!
“جولیا بے حد پریشان تھی۔۔!” صفدر نے کہا۔ “پچھلے سال میں اس سے ساڑھے پانچ روپے ادھار لیئے تھے نا۔۔ آج تک واپس نہیں کرسکا۔۔!”
“عمران صاحب خدا آپ کو جمالیاتی حس بھی عطا کردے تو کتنا اچھا ہو!”

“تب پھر لوگ مجھے جمال احمد کہیں!” عمران خوش ہو کر بولا۔ “اور میں جمالی تخلص کرنے لگوں! خیر اس پر کبھی سوچیں گے۔ اس وقت تمہیں ایک آدمی کا تعاقب کرنا ہے جو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے بلیرڈ روم نمبر میں بلیرڈ کھیل رہا ہے۔ اس کے جسم پر سرمئی آئیرن کا سوٹ ہے اور گلے میں نیلی دھاریوں والی زرد ٹائی۔ اگر وہ تمہارے پہنچنے تک وہاں سے جاچکا ہو تو پھر وہیں ٹھہرنا”۔ دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا۔

صفدر کو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب پہچنے میں بیس منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے! وہ آدمی اب بھی بلیرڈ روم میں موجود تھا جس کے متعلق عمران نے بیس منٹ پہلے اس سے فون پر گفتگو کی تھی۔ یہ ایک لمبا تڑنگا اور صحت مند جوان تھا۔ جبڑوں کی بناوٹ اس کی سخت دلی کا اعلان کر رہی تھی۔ البتہ آنکھیں کاہلوں اور شرابیوں کی سی تھیں۔ آنکھوں کی بناوٹ اور جسم کے پھرتیلے پن میں بڑا تضاد تھا۔
صفدر اس طرح ایک خالی کرسی پر جا بیٹھا جیسے وہ بھی کھیلنے کا ارادہ رکھتا ہو! یہاں چار بلیرڈ روم تھے اور ہر کمرے میں دو دو میزیں تھیں! اس کمرے کی دونوں میزوں پر کھیل ہو رہا تھا!

بھاری جبڑے والے کا ساتھی تھوڑی دیر بعد ہٹ گیا! اور بھاری جبڑے والے صفدر سے پوچھا۔ “کیا آپ کھیلیں گے؟”
“جی ہاں۔۔!” صفدر اٹھ گیا۔ دونوں کھیلنے گے! کچھ دیر بعد صفدر نے محسوس کیا کہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں کیسے وہ عورتوں اور آرائشی مصنوعات کا تذکرہ نکال بیٹھا تھا۔ “کیا خیال ہے آپ کا یہ عورتیں سال میں کتنی لپ اسٹک کھا جاتی ہوں گی؟”اس نے پوچھا۔ “ابھی تک میں عورتوں کے معاملات سمجھنے کے قابل نہیں ہوا”۔ صفدر نے جواب دیا۔ “اوہو۔۔ تو کیا بھی تک سنگل ہی ہو یار۔۔!”
“بالکل سنگل۔۔!”

“یہ تو بہت بری بات ہے کہ تمہاری آمدنی کا بہت بڑا حصہ لغویات پر نہیں صرف ہوتا”۔ “تم شائد بہت زیادہ زیربار ہوجاتے ہو”۔ صفدر مسکرایا۔ “دو بیویاں ہیں! لیکن ایک کو دوسری کی خبر نہیں۔۔ “یہ کیسے ممکن ہے؟”۔ “دن ایک کے ہاں گزرتا ہے، رات دوسری کے ہاں”۔ ایک سمجھتی ہے کہ میں فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں! وہی جس کے ہاں رات بسر ہوتی ہے۔ اور دوسری سمجھتی ہے کہ میں ایک مل میں اسسٹنٹ ویونگ ماسٹر ہوں اور ہمیشہ رات کی ڈیوٹی پر رہتا ہوں”۔ “تو تم حقیقتا” کیا کرتے ہو؟”

“فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں۔۔!” اس نے جواب دیا۔ “اور یہ کہانیاں کہیں بھی بیٹھ کر لکھی جاسکتی ہیں! اور کبھی ناوقت سیٹ پر جانا پڑا تو اس وقت والی بیوی سمجھتی ہے کہ اوورٹائم کر رہا ہو۔ یا شوٹنگ طویل ہوگئی ہے۔۔ “کما ل کے آدمی ہو۔۔ “بیویوں کو دھوکا دینا میری تفریح ہے!۔ اب تیسری کے امکانات پر غور کر رہا ہوں لیکن وقت کیسے نکالوں گا”۔ “واہ۔۔ تیسری بھی کرو گے۔۔ “کرنی ہی پڑے گی۔ دیکھو یار قصہ دراصل یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ شادیاں کرنے سے سالیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔۔ اور سالیاں۔۔ ہا۔۔ اگر سالیاں نہ ہوں تو دنیا ویران ہوجائے!”

“مجھے تو اس نام ہی سے گھن آتی ہے”۔ صفدر نے کہا۔ “آہا۔ تو تم انہیں سالیوں کی بجائے بتاشیاں یا جلیبیاں کہہ لیا کرو! کیا فرق پڑتا ہے”۔
صفدر ہنسنے لگا اور تھوڑی دیر بعد یہ بھول ہی گیا کہ وہ یہاں کس لئے آیا تھا۔ کھیل ختم ہوجانے کے بعد وہ ڈائننگ روم میں آ بیٹھے۔ بھاری جبڑے والا ایک لاپرواہ اور فضول خرچ آدمی معلوم ہوتا تھا۔ کافی پیتے وقت اس نے صفدر سے کہا۔”یا مجھ پر ایک احسان کرو”۔ “کیا؟” صفدر چونک پڑا۔

اس نے کلائی کی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ “چھ بج رہے ہیں لیکن میں رات والی بیوی سے آج پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں اس سے کہوں گا کہ تم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہو۔ آج رات بھی شوٹنگ ہوگی۔ اس لئے ڈائریکٹر نے تمہیں ساتھ کردیا ہے تاکہ تم مجھے اپنے ساتھ ہی لے جا! ساڑھے سات بجے ہم گھر ہی پر رات کا کھانا کھائیں گے۔ تم برابر کہتے رہنا، بھئی جلدی چلو اور بس ہم آٹھ بجے تک گھر سے نکل آئیں گے۔کیوں؟ پھر ہم دونوں دوست ہوجائیں گے۔ اور تم آئندہ بھی ایسے مواقع پر میرے کام آیا کرنا!”
صفدر ہنسنے لگا۔ مگر بھاری جبڑے والے کی سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا!

“میں سنجیدہ ہوں دوست!” اس نے کہا۔ “اگر تم یہ کام نہ کرسکو تو صاف جواب دو۔ تاکہ میں کسی دوسرے کو پھانسوں! بس کسی اور کے ساتھ کچھ دیر کھیلنا پڑے گا! سارے ہی آدمی تمہاری طرح ٹھس تھوڑا ہی ہوں گے۔ ایڈوینچر کا شوق کسے نہیں ہوتا! بہتیرے پھنسیں گے!”
صفدر نے سوچا چلو دیکھا ہی جائے گا کہ یہ آدمی کس حد تک بکواس کر رہا ہے اور اسے بہرحال اس کے متعلق معلومات فراہم کرنی تھیں! پہلے چوری چھپے یہ کام سرانجام دینا پڑتا۔ مگر اب۔۔ اب تو وہ اسے کھلی ہوئی کتاب کی طرح پڑھ سکے گا۔

اس نے حامی بھر لی۔
باہر نکل کر بھاری جبڑے والے نے کہا۔ “یہ تو اور اچھی بات ہے کہ تمہاری کار بھی موجود ہے! اب وہ شبہ بھی نہ کرسکے گی کہ میں اسے الو بنا رہا ہوں۔ وہ تمہارے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر ایمان لے آئے گی”۔ “قطعی۔!” صفدر یوں ہی بولنے کے لئے بولا۔ وہ صفدر کی رہنمائی کرتا رہا اور پھر ماڈل کالونی کی ایک دور افتادہ عمارت کے سامنے کار روکنے کو کہا۔ عمارت نہ خوبصورت تھی اور نہ بڑی تھی۔ پائیں باغ ابتر حالت میں تھا۔ جس سے مالک مکان کی لاپرواہی یا مفلوک الحالی ظاہر ہو رہی تھی۔ اس نے اسے نشست کے کمرے میں بٹھایا اور خود اندر چلا گیا۔
صفدر سوچ رہا تھا کہ اسے فلموں یا فلموں کی شوٹنگ کے متعلق بالکل کچھ نہیں معلوم! اگر اس کی بیوی اس سلسلے میں اس سے کچھ پوچھ بیٹھی تو کیا ہوگا۔۔!

لیکن اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے تین چار آدمی اس پر ٹوٹ پڑے۔ حملہ پشت سے ہوا تھا۔ اس لئے اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
ایک نے اس کا منہ دبالیا تھا اور دو بری طرح جکڑے ہوئے دروازے کی جانب کھینچ رہے تھے۔ لیکن جب وہ اس طرح اسے کمرے سیباہر نہ لے جاسکے تو تین مزید آدمی ان کی امداد کے لئے وہاں آپہنچے۔ اور صفدر کشاں کشاں ایک تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔ تہہ خانے کا علم تو اسے اس وقت ہوجا جب اس کی آنکھوں پر سے پٹی کھولی گئی۔ بعد میں آنے والے تین آدمیوں میں سے ایک نے اس کی آنکھوں پر رومال باندھ دیا تھا اور کسی نے دونوں ہاتھ پشت پر جکڑ دیئے تھے۔

لیکن جب آنکھوں پر سے رومال کھولا گیا تو اس کے سامنے صرف ایک ہی آدمی تھا اور یہ تھا وہی بھاری جبڑے والا جو اسے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب سے یہاں تک لایا تھا۔ “مجھے افسوس ہے دوست!” اس نے سر ہلا کر مغوم لہجے میں کہا۔ “اس وقت دونوں بیویاں یہاں موجود ہیں! اس لئے یہ ابتری پھیلی ہے۔ سالیوں کی بجائے دونوں طرف کے سالے اکھٹے ہوگئے ہیں اور انہیں شبہ ہے کہ تم ہی مجھے بہکایا کرتے ہو۔ صفدر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ہوئے اسے گھورتا رہا۔ وہ کوشش کر رہا تھا کہ پشت پر بندھے ہوئے ہاتھ آزاد ہوجائیں! لیکن کامیابی کی امید کم تھی۔ اگر کسی طرح وہ اپنے ہاتھ استعمال کرنے کے قابل ہوسکتا تو اس بھاری جبڑے کے زاویوں میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور نظر آتیں کیونکہ وہ ایک بیجگر فائٹر تھا!

دفعتا بائیں جانب دیوار میں ایک دروازہ نما خلا نمودار ہوئی اور جوزف جھکا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس کے سر پر پٹی چڑھی ہوئی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ بھی پشت پر بندھے ہوئے تھے! سر شاید زخمی تھا! شاید یہ صفدر کی چھٹی حس ہی تھی جس نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نہ پیدا ہونے دیئے اور جوزف تو پہلے ہی سے سر جھکائے کھڑا ہوا تھا! اس نے کسی طرف دیکھنا بھی نہیں تھا! اس کے چہرے پر نظر آنے والے آثار اکھڑے ہوئے نشے سے پیدا ہونے والی بوریت کی غمازی کر رہے تھے۔ زیادہ دیر تک شراب نہ ملنے پر اس کی پلکیں ایسی ہی بوجھل ہوجاتی تھیں کہ وہ کسی کی طرف دیکھنے میں بھی کاہلی محسوس کرتا تھا!

اچانک بھاری جبڑے والے نے صفدر سے پوچھا۔ ” یہ کون ہے؟”
“میں کیا جانوں!” صفدر غرایا۔ “کہیں تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!”
بھاری جبڑے والے کا قہقہہ کافی طویل تھا لیکن جوزف اب بھی سر جھکائے کسی بت کی طرح کھڑا رہا!ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے یہ آوازیں اس کے کانوں تک پہنچی ہی نہ ہوں۔ جو آدمی اسے یہاں لایا تھا اس کی رائفل کی نال اب بھی اس کی کمر سے لگی ہوئی تھی!
“تم بکواس کرکے کامیاب نہیں ہوسکتے دوست”۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ “تم عمران کے آدمی ہو! اور اس وقت بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب وہ ندی پر مقبرہ کے قریب گھیرا گیا تھا”۔

“مجھے اس سے کب انکار ہے مگر میں اس آدمی کو نہیں جانتا”۔ صفدر نے لاپروائی سے کہا۔
“یہ عمران کا ملازم نہیں ہے؟” بھاری جبڑے والے نے غرا کر کہا۔
“میں نے تو کبھی عمران کے ساتھ نہیں دیکھا”۔ صفدر نے جواب د یا! وہ جانتا تھا کہ جوزف اب عمران کے ساتھ اس کے فلیٹ میں نہیں رہتا بلکہ مستقل طور پر رانا پیلس ہی میں اس کا قیام ہے۔ اس لئے وہ اس کے معاملے میں محتاط ہو کر زبان کھول رہا تھا!
“رانا تہور علی کو جانتے ہو؟”

“یہ نام میرے بالکل نیا ہے”۔ صفدر نے متحیرانہ لہجے میں کہا۔
“او۔۔ حبشی۔۔!” دفعتا وہ جوزف کی طرف مڑکر گرجا! “اب تم اپنی زبان کھولو۔ ورنہ تمہارے جسم کا ایک ایک ریشہ الگ کردیا جائے گا”۔
“جا۔۔” جوزف سر اٹھائے بغیر بھرائی سی آواز میں بولا! “پہلے میری پیاس بجھا! پھر میں بات کروں گا۔ تم لوگ بہت کمینے ہو۔ تمہیں شاید نہیں معلوم کہ شراب ہی میری زبان کھلواسکے گی”۔ “شراب نہیں مل سکے گی”۔ “تب پھر مجھے کسی کی بھی پروا نہیں! جو تمہارا دل چاہے کرو”۔ “ادھر دیکہو۔ کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟” اشارہ صفدر کی طرف تھا۔ “کیوں دیکھوں؟ کیسے دیکھوں؟ میری آنکھوں کے سامنے غبار اڑ رہا ہے۔ مجھے اپنے پیر بھی صاف نہیں دکھائی دیتے۔ شراب لا۔ یا مجھے گولی مارد”۔

“پلا۔ اسے۔ پلا”۔ دفعتا بھاری جبڑے والا دونوں ہاتھ ملا کر غرایا ۔ “اتنی پلا کہ اس کا پیٹ پھٹ جائے”۔ رائفل والا جوزف کے پاس سے ہٹ کر پچھلے دروازے سے نکل گیا۔ “عمران کہاں ہے؟” وہ پھر صفدر کی طرف متوجہ ہوا۔ “اگر تم یہ جانتے ہو کہ میں اس دن عمران کے ساتھ تھا جب ہم پر چاروں طرف سے گولیاں برس رہی تھیں تو یہ بھی جانتے ہو گے کہ عمران کام آگیا تھااور میں بچ کر نکل گیا تھا”۔ “ہمیں تو اس پر یقین تھا کہ تم بھی نہ بچے ہوگے! لیکن آج تم ہاں میرے سامنے موجود ہو! تم اتنی چالاکی سے نکل گئے تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا تھا”۔ “عمران گولی کھا کر دریا میں گر گیا تھا”۔ صفدر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا! لیکن وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں جوزف یہ جملے سن کر چونک نہ پڑے۔ اس وقت کی گفتگو سے اچھی طرح اندازہ کرچکا تھا کہ وہ رانا تہور علی اور عمران کی الجھن میں پڑ گئے ہیں۔

لیکن صفدر کے اندیشے بیبنیاد ثابت ہوئے کیونکہ جوزف کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی اس نے نہ تو سر اٹھایا اور نہ کسی طرف دیکھا۔
تھوڑی دیر بعد قدموں کی آہٹ سنائی دی اور رائفل والا دیسی شراب کی دو بوتلیں لئے دروازے سے اندر داخل ہوا۔ “ایک بوتل کھول کر اس کے منہ سے لگا دو”۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ تعمیل کی گئی! جوزف کے موٹے موٹے ہونٹ بوتل کے منہ سے چپک کر رہ گئے! بڑا مضحکہ خیز منظر تھا۔ ایسا ہی لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بھوکے شیرخوار بچے نے دودھ کی بوتل سے منہ لگا کر چسر چسر شروع کردی ہو۔
آدھی بوتل غٹا غٹ پی جانے کے بعد اس نے بوتل کا منہ چھوڑ کر دو تین لمبی لمبی سانسیں لیں اور مسکرا کر بولا۔

“تم بڑے اچھے ہو! بڑے پیارے آدمی ہو! تم پر آسمان سے برکتیں نازل ہوتی رہیں! اور آسمانی باپ تمہیں اچھے کاموں کی توفیق دے”۔
بھاری جبڑے والا کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے سالہا سال سے اسے مار ڈالنے کی خواہش پال رہا ہو! جوزف نے بقیہ آدھی بوتل بھی ختم کردی۔ اب وہ کسی جاگتے ہوئے آدمی کی سی حالت میں آگیا تھا۔ آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں اور چہرے کی سیاہی چمکنے لگی تھی۔ “ارے۔۔ یہ آدمی۔۔” دفعتا اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ “ہاں! مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اسے ایک آدھ بار مسٹر عمران کے ساتھ دیکھا تھا”۔

“لیکن میں نے تو تمہیں کبھی نہیں دیکھا”۔ صفدر نے غصیلی آواز میں کہا۔ “یہ بھی ممکن ہے مسٹر کہ تمہاری نظر مجھ پر کبھی نہ پڑی ہو”۔
“عمران کہاں ملے گا؟” بھاری جبڑے والا غرایا۔ “میں کیا بتا سکتا ہوں مسٹر”۔ جوزف نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔ “بہت دنوں کی بات ہے جب میں مسٹر عمران کے ساتھ تھا۔ لیکن وہ میرے پینے پلانے کا بار سنبھالنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے خود ہی میرا پیچھا چھوڑ دیا۔۔ اس طرح میں نے اطمینان کا سانس لیا! ورنہ مجھے تو اس کا غلام رہنا ہی پڑتا ہے جو مجھے زیر کرلے۔ اور پھر میرا تو ڈاکٹر طارق والا مقدمہ بھی چل رہا ہے”۔
“کیسا مقدمہ۔۔؟”

اس پر جوزف نے ڈاکٹر طارق کی کہانی دہراتے ہوئے کہا۔ ماسٹر عمران نے مجھے بہت پیٹا تھا۔ وہ شاید پولیس کے لئے کام کرتے ہیں۔۔!”
بھاری جبڑے والا تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا پھر بولا! “رانا کون ہے؟” “باس ہے میرا۔ جوزف نے فخر سے سینہ تان کر کہا۔ “وہ کہاں ملے گا۔۔؟” “میں نہیں جانتا۔ ان سے تو بس کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے”۔ “عمران سے اس کا کیا تعلق ہے۔۔؟” “میں کیا بتاسکتا ہوں مسٹر۔ میں کیا جانوں! میں نے کبھی ان کے ساتھ مسٹر عمران کو نہیں دیکھا”۔ “تم رانا کے پاس کیسے پہنچے تھے؟” “بس یوں ہی میں ایک دن سڑک پر جا رہا تھا کہ ایک کار میرے پاس رکی! اس پر سے رانا صاحب اترے اور کہنے لگے میں نے پچھلے سال شاید تمہیں نیٹال میں دیکھا۔ میں نے کہا کہ میں تو دس سال سے اس ملک میں ہوں! انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے ان کے ذہن میں کوئی اور ہو۔ پھر وہ مجھ سے میرے متعلق پوچھ گچھ کرنے لگے!۔۔ یہ۔۔ دوسری بوتل بھی مسٹر۔۔ خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور عورت کے سائے سے بچائے۔ تم بہت نیک ہو”۔

بھاری جبڑے والے کے اشارے پر دوسری بوتل بھی کھولی گئی! اور جوزف چوتھائی پینے کے بعد بولا۔ “ہاں تو تم کیا پوچھ رہے تھے۔ برادر۔۔!”
“تم رانا کے پاس کیسے پہنچے تھے؟” “ہاں۔۔ ہاں۔۔ شاید میں یہی بتا رہا تھا کہ وہ مجھ سے میرے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے۔ “چلو کہتے رہو! رکو مت!” بھاری جبڑے والا بولا۔ “میں نے انہیں بتایا کہ مجھے نوکری کی تلاش ہے۔ انہوں نے پوچھا باڈی گارڈز کے فرائض انجام دے سکو گے! اوہ۔۔ بڑی آسانی سے میں نے انہیں بتایا اور یہ بھی کہا کہ میرا نشانہ بڑا عمدہ ہے اور میں کبھی ہیوی ویٹ چیمپین بھی رہ چکا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے نوکر رکھ لیا! میں ان کے پیسنے کی جگہ خون بھی بہا سکتا ہوں۔ لارڈ آدمی ہیں۔ کبھی نہیں پوچھتے کہ میں دن بھر میں کتنی بوتلیں صاف کردیتا ہو”۔

بھاری جبڑے والا پھر کسی سوچ میں پڑ گیا! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اس کے بیان پر تذبذب میں پڑ گیا ہو۔ دوسری طرف صفدر پر جوزف کے جوہر پہلی بار کھلے تھے! وہ اب تک اسے پرلے درجے کا ایڈیٹ ہی تصور کرتا رہا تھا! لیکن اس وقت تو عمران ہی کا یہ قول کرسی نشین ہوا تھا کہ جوزف ایک نادر الوجود شکاری کتا ہے۔ سادہ لوحی اور چیز ہے! لیکن بیضرر نظر آنے والاے کتے بھی شکار کے وقت اپنی تمام تر صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں! بشرطیکہ وہ شکاری ہوں! جوزف پر صحیح معنوں میں یہ مثال صادق آتی تھی۔ “دیکھو میں تمہاری ہڈیاں چور کردوں گا۔ ورنہ مجھ سے اڑنے کی کوشش نہ کرو”۔

“بس یہ بوتل ختم کر لینے دو! اس کے بعد جو دل چاہے کرنا!” جوزف نے ہونٹ چاٹتے ہوئے کہا۔ “صرف ایک دن کی مہلت اور دی جاتی ہے۔ تم عمران کا پتہ بتا اور تم رانا تہور علی کا۔۔!” بھاری جبڑے والا ہاتھ اٹھا کر بولا۔ وہ رائفل والے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا دروازے سے نکل گیا اور پھر وہ دروازہ بھی غائب ہوگیا۔ دیوار برابر ہوگئی تھی۔ جوزف دوسری برتل کی طرف ندیدوں کی طرح دیکھنے لگا جس میں ابھی تین چوتھائی شراب باقی تھی۔ اس پر کاگ بھی نہیں تھا۔ وہ تھوڑی دیر تک حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر پشت پر بندھے ہوئے ہاتھوں کے بل فرش پر نیم دراز ہوگیا! دیکھتے ہی دیکھتے بوتل دونوں پیروں میں دبائی اور پیر سر کی طرف اٹھنے لگے۔۔ اور بوتل کا منہ اس کے ہونٹوں سے جالگا!

صفدر کھڑا پلکیں چھپکاتا رہا! “غٹ غٹ” کی صدائیں تہہ خانے کے سکوت میں گونج رہی تھیں۔ بوتل خالی ہوئے بغیر ہونٹوں سے نہ ہٹ سکی۔ دفعتا کھٹاکے کی آواز آئی اور بھاری جبڑے والا پھر اندر داخل ہوا اس بار اس کے اس کے ہاتھ میں چمڑے کا چابک تھا! نہ جانے کیوں جوزف مسکرا پڑا مگر وہ جوزف کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ “سرسوکھے رام کو عمران کی تلاش کیوں ہے؟” اس نے صفدر سے پوچھا۔ “میں نہیں جانتا”۔ “تم جانتے ہو۔۔!” وہ چابک زمین پر مارتا ہوا دہاڑا۔ “میرے ہاتھ کھول دو۔ پھر اس طرح اکڑوں تو یقینا مرد کہلا گے”۔ اس بار چابک صفدر کے جسم پر پڑا اور وہ تلملا گیا۔
“بتا!”
صفدر اس کی طرف جھپٹا لیکن اس نے اچھل کر پیچھے ہٹتے ہوئے پھر چابک گہما دیا! اس طرح صفدر نے کئی چابک کھائے! اور یک بیک سست پڑ گیا! یہ حماقت ہی تو تھی کہ وہ اس طرح پٹ رہا تھا! ادھر جوزف کا یہ حال تھا کہ وہ کوشش کے باوجود بھی فرش سے نہیں اٹھ سکتا تھا! پورے چھتیس گھنٹوں کے بعد اسے شراب ملی تھی اور اس نے یہ دو بوتلیں جس طرح ختم کی تھیں اس طرح کوئی دوسرا پانی بھی نہ پی سکتا!
“میں نہیں جانتا۔۔ “ڈھمپ اینڈ کو کا اصل بزنس کیا ہے؟” “فارورڈنگ اینڈ کلیرنگ۔۔ “تم وہاں کام کرتے ہو؟” “ہاں۔۔!”
“پھر عمران کا اور تمہارا کیا ساتھ۔۔ “مجھے شوق ہے سراغرسانی کا”۔ صفدر بولا۔ “عمران کی وجہ سے میں بھی اپنا یہ شوق پورا کرسکتا ہوں کیونکہ وہ پولیس کے لئے کام کرتا ہے”۔ “تمہارے دفتر کی اسٹینو ٹائپسٹ جولیا کا عمران سے کیا تعلق ہے؟” “یہ وہی دونوں بتا سکیں گے!” صفدر نے ناخوشگوار لہجے میں کہا۔ بھاری جبڑے والا کھڑا دانت پیستا رہا۔ پھر آنکھیں نکال کر آہستہ آہستہ بولا۔ “تم مجھے نہیں جانتے! میں تمہارے فرشتوں سے بھی اگلوالوں گا! خواہ اس کے لئے تمہارا بند بند بھی کیوں نہ الگ کرنا پڑے۔۔!”

وہ پیر پٹختا ہوا چلا گیا! دیوار کی خلا اس کے گذرتے ہی پر ہوگئی تھی! ایک تختہ سا بائیں جانب کھسک کر دوسری جانب کی دیوارسے جا ملتا تھا۔ جیسے ہی جولیا کی نظر سرسوکھے پر پڑی وہ ستون کی اوٹ میں ہوگئی۔ یہاں پام کا بڑا گملا رکھا ہوا تھا اور پام کے پتے اسے چھپانے کے لئے کافی تھے۔ وہ سرسوکھے سے بھاگنے لگی تھی! کیونکہ وہ اسے بیحد بور کرتا تھا! وہ پرانی کہانی جس کا سلسلہ میں وہ عمران کا تعاون حاصل کرنا چاہتا تھا بار بار دہرائی جاتی! اور پھر اس کے ساتھ سرسوکھے کی اداسی بھی تو تھی! اسے غم تھا کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جسے وہ اپنا کہہ سکے! جوانی ہی میں موٹاپا شروع ہوگیا تھا اور اسی بنا پر خود اس کی پسند کی لڑکیاں اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتی تھیں۔۔ وہ جولیا سے یہ ساری باتیں کہتا رہتا! ٹھنڈی سانسیں بھرتا اور کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں آنسوتیرنے لگتے! جنہیں وہ چھپانے کے لئے وہ طرح طرح کے منہ بناتا! اور ہزاروں قہقہے جولیا کے سینے میں طوفان کی سی کیفیت اختیار کرلیتے پھر اسے کسی بہانے سے اس کے پاس سے اٹھ جانا پڑتا۔۔ وہ کسی باتھ روم میں گھس کر پیٹ دبا دبا کر ہنستی۔۔!

اکثر سوچتی کہ اسے تو اس سے ہمدردی ہونی چاہیئے! پھر آخر اسے اس پر تا کیوں آتا ہے۔۔! وہ غور کرتی تو سرسوکھے کی زندگی اسے بڑی دردناک لگتی! لیکن زیادہ سوچنے پر اسے یا تو ہنسی آتی یا غصہ آتا! کبھی وہ سوچتی کہ کہیں سرسوکھے اس کام کے بہانے اس سے قریب ہونے کی کوشش تو نہیں کر رہا! اس خیال پر غصے کی لہر کچھ اور تیز ہوجاتی! مگر پھر کچھ دیر بعد ہی اس شام کا خیال آجاتا جب وہ اس کے دفتر میں بیٹھی سونے کی اسمگلنگ کی کہانی سن رہی تھی اور دوسرے کمرے کی میز الٹنے کی آواز نے انہیں چونکا دیا تھا! اور پھر اس نے میز کی سطح پر پیروں کے نشانات محفوظ کئے تھے۔۔! وہ سوچتی رہی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ حقیقتا پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہر قسم کی پریشانیوں کا تذکرہ بیک بوقت کردینے کا عادی ہو!

وہ روزانہ شام کو عمران کی تلاش میں نکلتے تھے! لیکن آج کے لئے جولیا نے ایک ضروری کام کا بہانہ کرکے اس سے معافی مانگ لی تھی۔۔! لیکن وہ گھر میں نہ بیٹھ سکی! شام ہوتے ہی اس نے سوچا آج تنہا نکلنا چاہیئے! مقصد عمران کی تلاش کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا! وہ ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے پورچ میں پہنچی ہی تھی کہ اچانک غیر متوقع طور پر سرسوکھے نظر آگیا تھا! وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آج وہ بھی وہیں آ مرے گا۔

جیسے ہی وہ پورچ میں پہنچا! جولیا گملے کی آڑ سے نکلی اور جھپٹ کر کلرک روم میں د اخل ہوگئی! یہاں سے ایک راہداری براہ راست ریکریئشن ہال میں جاتی تھی! جہاں آج اسکیٹنگ کا پروگرام تھا۔۔ وہ بڑی بدحواسی کے عالم میں یہاں پہنچی۔ “اف خدا۔۔” وہ بڑبڑائی اور اس کا سر چکرا گیا! کیونکہ سرسوکھے دوسرے دروازے سے ریکریئشن ہال میں داخل ہوا تھا! ویسے اس کی توجہ جولیانا کی طرف نہیں تھی! جولیانا کلوک روم والی راہداری ایک گیلری میں لائی تھی۔ اس نے ذہنی انتشار کے دوران فیصلہ کیا کہ سرسوکھے سے تو کھوپڑی نہیں چٹوائے گی خواہ کچھ ہوجائے۔ پھر؟

وہ جھپٹ کر ایک میز پر جا بیٹھی جہاں ایک اداس آنکھیوں والا نوجوان پہلے ہی سے موجود تھا۔ “معاف کیجیئے گا!” جولیا نے کہا۔ ذرا سر چکرا گیا ہے۔۔۔ ابھی اٹھ جاں گی”۔ “کوئی بات نہیں محترمہ!” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ جولیا نے آنکھوں پر رومال رکھ کر سرجھکا لیا اور چڑھتی ہوئی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔۔ “کیسی طبعیت ہے۔۔ آپ کی؟” تھوڑی دیر بعد نوجوان نے پوچھا۔ “اوہ۔۔ جی ہاں۔۔ بس ٹھیک ہی ہے۔۔ اب۔۔ “برانڈی منگوا ں۔۔ “جی نہیں شکریہ! میں اب بالکل ٹھیک ہوں!” وہ سر اٹھا کر بولی۔ “آج کل موسم بڑا خراب جارہا ہے!” نوجوان بولا۔
“جی ہاں۔۔ جی ہاں۔۔ یہی بات ہے”۔

یہ دبلے چہرے والا مگر وجیہہ نوجوان تھا! اس کی آنکھوں کی غم آلود نرماہٹ نے اسے کافی دلکش بنادیا تھا۔ پیشانی کی بناوٹ بھی نرم دلی اور اور ایمانداری کا اعلان کر رہی تھی۔۔ “میں اس شہر میں نوارد ہوں”۔ جولیا نے کہا۔ “مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہاں اسکیٹنگ بھی ہوتی ہے! مجھے بیحد شوق ہے۔ اس کا۔ جی ہاں”۔ اس نے تھکی ہوئی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “دلچسپ کھیل ہے”۔
“آپ کو پسند ہے؟”
“بہت زیادہ۔۔!” نوجوان کا لہجہ بیحد خم انگیز تھا۔۔!

ٹھیک اسی وقت سرسوکھے ان کے قریب پہنچا! جولیا کی نظر غیر ارادی طور پراس کی طرف اٹھ گئی تھ اور وہ بطور اعتراف شناسائی سر کو خفیف سی جنبش دے کر آگے بڑھ گیا تھا! جولیا بھی بادل ناخواستہ مسکرائی تھی۔
بہرحال اس کے اس طرح آگے بڑھ انے پر اس کی جان میں جان آئی تھی وہ اس پر یہ بھی نہیں ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے! سرسوکھے آگے بھ کر ایک میز پر جا بیٹھا تھا! جولیا سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس میز سے اٹھی اور سرسوکھے کو شبہ بھی ہوگیا کہ وہ تنہا ہے تو وہ تیر کی طرح اس کی طرف آئے گا۔

اتنے میں اسکیٹنگ کے لئے موسیقی شروع ہوگئی! اور جولیا نے اس انداز میں نوجوان کی طرف دیکھا جیسے مطالبہ کر رہی ہو کہ مجھ سے رقص کی درخواست کرو! مگر نوجوان خالی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔!
جولیا نے سوچا بدھو ہے لہذا اس نے خود ہی کہا! “اگر آپ کو اسکیٹنگ سے دلچسپی ہے ۔۔ تو۔۔ آئیے۔۔!”
“میں۔۔!” نوجوان کے لہجے میں تحیر تھا! پھر اس کی آنکھوں کی اداسی اور گہری ہوگئی۔۔! اس نے چھبتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ “آپ میرا مذاق کیوں اڑا رہی ہیں محترمہ؟”
“میں نہیں سمجھی!” جولیا بوکھلا گئی!

“یا آپ یہ بیساکھی نہیں دیکھ رہی ہیں!” اس نے ایک کرسی سے ٹکی ہوئی بیساکھی کی طرف اشارہ کیا۔
جولیا کی نظریں اگر پہلے اس پر پڑی بھی ہوگی تو اس نے دھیان نہ دیا ہوگا! بہرحال اب وہ کٹ کر رہ گئی!
“اوہ۔۔ معاف کیجیئے گا!” اس نے لجاجت سے کہا۔ ” میں نے خیال نہیں کیا تھا میں بیحد شرمندہ ہوں جناب! کیا آپ معاف نہیں کریں گے؟”
“کو ئی بات نہیں!” وہ ہنس پڑا۔
اس کا بیاں پیر شاید کسی حادثے کی نظر ہو کر گھٹنے کے پاس سے کاٹ دیا گیا تھا اور اب لکڑی کا ایک ڈھانچہ پنڈلی کا کام دے رہا تھا۔
“یہ کیسے ہوا تھا؟” جولیا نے پوچھا۔ وہ سچ مچ اس کے لئے غمگین ہوگئی تھی!

“فوجیوں کی زندگی میں ایسے حادثات کوئی اہمیت نہیں رکھتے”۔ اس نے کہا اور بتایا کہ وہ پچھلی جنگ عظیم میں اطالولیوں کے خلاف لڑا تھا اور مورچے پر ہی اس کی بائیں ٹانگ ایک حادثہ کا شکار ہوگئی تھی! وہ سیکنڈ لیفٹنٹ تھا!
بات لمبی ہوتی گئی اور وہ جنگ کے تجربات بیان کرتا رہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جولیا نے محسوس کیا کہ اب اس میز سے اٹھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا! اس کے بعد بھی وہ تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی گفتگو کرتے رہے۔ پھر پہلا دور ختم ہوگیا۔۔! نوجوان نے کافی منگوائی اور جولیا کو انکار کے باجود بھی پینی ہی پڑی! ویسے بھی وہ اس مغوم نوجوان کی درخواست رد نہیں کرنا چاہتی تھی۔
کچھ دیر بعد کسی جانب سے ایک خوبصورت اور صحت مند نوجوان ان کی طرف آیا اور جولیا سے ساتھی بننے کی درخواست کی۔ جولیا اس کی آواز سن کر چونک پڑی۔
“اگر کوئی حرج نہ ہو تو۔۔!” وہ کہہ رہا تھا!

“ضرور۔۔ ضرور۔۔!” جولیا مسکراتی ہوئی اٹھ گئی تھی! ساتھ ہی اس نے لنگڑے نوجوان کی طرف دیکھ کر سر ہلایا اور یہ بھی محسوس کیا تھا کہ وہ کھسیاسا گیا ہے لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس آدمی کی درخواست رد کردیتی جس کے لئے خود اتنے دنوں سے بھٹکتی پھر رہی تھی! صورت سے تو وہ اسے ہرگز نہ پہچان سکتی کیونکہ وہ میک اپ میں تھا لیکن جب اپنی اصلی آواز میں بولا تھا تو جولیا اسے کیوں نہ پپہچان لیتی وہ عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا!

وہ اس جگہ آئے جہاں اسکیٹس ملتے تھے! جلدی جلدی انہیں جوتوں سے باندھا اور چوبی فرش پر پھسل آئے! عمران اس کے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھا!
“تم کہاں تھے درندے؟” جولیا نے پوچھا!
“شکار پر۔۔!” عمران نے جواب دیا! پھر بولا۔ “تم اس شام ندی پر کیوں دوڑی آئی تھیں؟”
“یہ اطلاع دینے کیلئے کہ تمہاری موت پر کرائے کے رونے والے بھی نہ مل سکیں گے!”
“لیکن میں تمہیں اس وقت یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ تمہارا پورا دفتر ان لوگوں کی نظروں میں آگیا ہے”۔
“پھر کیا کرنا چاہی؟”

“پرواہ مت کرو!” لیکن فی الحال یہ بھول جا کہ تمہارے ساتھ کبھی کوئی عمران بھی تھا! میں نے انہیں شہبے میں مبتلا کردیا ہے۔ کبھی انہیں میری موت پر یقین سا آنے لگتا ہے اور کبھی وہ میری تلاش شروع کردیتے ہیں”۔
“ایک آدمی اور بھی تمہاری تلاش میں ہے”۔ جولیا نے کہا اور سرسوکھے کا واقعہ بتایا۔
“فی الحال میں اس کے لئے کچھ نہیں کرسکتا!”

“ایکس ٹو تو اس کے کیس میں دلچسپی لے رہا ہے اور میں بڑی شدت سے بور ہو رہی ہوں”۔
“ہوسکتا ہے وہ اس لئے دلچسپی لے رہا ہو کہ تم میری تلاش جاری رکھو! خوب بہت اچھے یہ ایکس ٹو تو یقینا بھوت ہے وہ شاید مجرموں پر یہی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ عمران کے ساتھیوں کو بھی اس کی موت پر یقین نہیں آیا۔۔ اچھا جولیا تم دن میں تین چار بار میرے فون نمبر پر رنگ کرکے سلیمان سے میرے متعلق پوچھتی رہو! میرا خیال ہے کہ وہ لوگ میرا فون ٹیپ کر رہے ہیں! سرسوکھے کے ساتھ مل کر میری تلاش بھی جاری رکھو!”

“اس کی رام کہانیاں مجھے بور کرکے مار ڈالیں گی!”
“اگر تم اتنی آسانی سے مر سکو تو کیا کہنے ہیں!” عمران نے کہا اور جولیا نے اسے لاکھوں سلواتیں سنا ڈالیں۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اسکیٹنگ کرتے رہے پھر جولیا نے کہا۔
“سرسوکھے یہیں موجود ہے۔۔!”
“کہاں۔۔؟”

جولیا نے بتایا! عمران کنکھیوں سے موٹے آدمی کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ “یہ تو صحیح معنوں میں پہاڑی معلوم ہوتا ہے کیا تم اس کے ساتھ اسکیٹنگ نہیں کرو گی؟”
جولیا نے اسے بتایا کہ کس طرح اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے وہ ایک لنگڑے آدمی کے پاس جا بیٹھی تھی!
“بہت بری بات ہے۔۔! موٹاپا اپنے بس کی بات نہیں”۔ عمران نے مغوم لہجہ میں کہا! “تمہیں اس سے شادی کر لینی چاہیئے!”
“میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔۔!” جولیا جھلا گئی۔
“آ ج کل تو سب ہی مجھے مار ڈالنے کی تاک میں ہیں۔۔ ایک تم بھی سہی”۔

جولیا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اسکیٹنگ کرتی رہی۔۔! اس غیر متوقع ملاقات سے پہلے اس کے ذہن میں عمران کے متعلق ہزاروں باتیں تھیں جنہیں اس وقت قدری طور پر اس کی زبان میں آنا چاہیئے تھا! لیکن وہ محسوس کر رہی تھی کہ اب اس کے پاس جھنجھلاہٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ گیا! ویسے یہ اور بات ہے کہ اس جھنجھلاہٹ کو بھی اظہار کے لئے الفاظ نہ ملتے۔۔!
تو گویا یہ عمران اس کے لئے سوہان روح بن کر رہ گیا تھا! اس کی عدم موجودگی اس کے لئے بیچینی اور اضطراب کا باعث بنتی تھی! لیکن جہاں مشکل نظر آئی تا آگیا۔۔ وہ تا لانے والی باتیں ہی کرتا ھا۔۔!

جولیا کا ذہن بہک گیا تھا اور وہ کسی ننھی سی بچی کی طرف سوچ رہی تھی! یہ بھول گئی تھی کہ وہ کون ہے اور کن ذہنی بلندیوں پر رہتی ہے!
“غالبا۔۔ تم میرے فیصلے پر نظرثانی کر رہی ہو”۔ عمران نے کچھ دیر بعد مسکرا کر کہا!
“کیا مطلب۔۔؟”
“یہی کہ تمہیں سرسوکھے سے شادی کر ہی لینی چاہیئے!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “ہوسکتا ہے اس کے بعد ہی وہ صحیح معنوں میں سرسوکھے کہلانے کا مستحق ہوسکے!”
جولیا نے جھٹکا دے کر اپنے ہاتھ اس سے چھڑا لیئے اور تھوڑا سا کترا کر تنہا پھسلتی چلی گئی!

گیارہ بجے وہ گھر پہنچی! سرسوکھے سے اس کی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ ٹپ ٹاپ کلب میں زیادہ دیر نہیں بیٹھا تھا!۔۔ جولیا تنہا اسکیٹنگ کرتی رہی تھی! لیکن جب اس نے تقریبا دس منٹ بعد دوبارہ عمران کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ وہ بھی ہال میں موجود نہیں ہے پھر اب وہ وہاں ٹھہر کر کیا کرتی!
گھر پہنچی تو قفل کھولتے وقت کاغذ کی کھڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی اور قفل سے ایک رول کیا ہوا کاغذ کا ٹکڑا پھنسا ہوا ملا۔
جولیا نے اسے کھینچ کر ٹارچ کی روشنی میں دیکھا!

اس پر پنسل کی تحریر نظر آئی!
“جولیا ! جب بھی واپس آ! فورا مجھے رنگ کرو”۔
صفدر۔”
“کیا مصیبت ہے؟” وہ تھکے تھکے سے انداز میں بڑبڑائی تھی۔
دروازہ کھول کر وہ خواب گاہ میں آئی یہیں فون تھا! اس پر صفدر کے نمبر رنگ کئے۔
“ہیلو۔۔ کون۔۔ جولیا! دوسری طرف سے آواز آئی! “اوہ۔۔ بس میں تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ تم کب گھر پہنچتی ہو؟”
“کیوں؟”

“چند بہت ہی اہم باتیں ہیں۔ میں وہیں آرہا ہوں! پہچنے میں زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگیں گے!”
جولیا نے برا سا منہ بنا کر سلسلہ منقطع کردیا! وہ اب صرف سونا چاہتی تھی لیکن صفدر اتنی رات گئے اس سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟
وہ اس کا انتظار کرنے لگی۔۔ پھر صفدر وعدہ کے مطابق پندرہ منٹ کے اندر ہی اندر وہاں پہنچ گیا تھا۔
“کیوں۔۔ اتنی رات گئے؟” جولیا نے متحیرانہ انداز میں پوچھا۔

“صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ سرسوکھے رام کون ہے اور عمران کو کیوں تلاش کر رہا ہے”۔
“کیوں معلوم کرنا چاہتے ہو؟” یہ سوال غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔
“کیونکر کچھ لوگ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں”۔
صفدر نے اپنی کہانی چھیڑ دی۔

“مگر پھر تم یہاں کیسے نظر آرہے ہو”۔ جولیا نے اس کے خاموش ہوجانے پر پوچھا!
“یہ جوزف جیسے گدھے کا کارنامہ ہے! واقعی عمران کا انتخاب بھی لاجواب ہوتا ہے”۔
“مگر میں نے سنا ہے وہ اب عمران کے ساتھ نہیں رہتا!”

“اسی پر تو حیرت ہے!” صفدر نے کہا! حالانکہ اسے ذرہ برابر بھی حیرت نہیں تھی کیونکہ وہ جوزف کی جائے قیام سے اچھی طرح واقف تھا! لیکن ایکس ٹو کی ہدایت کے مطابق اسے پراسرار رانا پیلس کو راز ہی رکھنا تھا!
“خیر تو پھر تم لوگ رہا کیسے ہوئے؟” جولیا نے پوچھا۔

“جوزف نے ایک خالی بوتل پیروں میں دبا کر دیوار پر کھینچ ماری تھی اور پھر اس کا نیک ٹکڑا دانتوں میں دبائے ہوئے میرے پاس آیا تھا۔ ہم دونوں ہی کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ اس نے اسی شیشے کے ٹکڑے سے میرے ہاتھوں کی ڈور کاٹنی شروع کردی! وہ شیشے کا ٹکڑا منہ میں دبائے کسی نہ تھکنے والے جانور کی طرح اپنے کام میں مشغول رہا۔ آخرکار اسے کامیابی ہی ہوئی۔ رسی کٹتے ہی میرے ہاتھ آزاد ہوگئے! پھر میں نے جوزف کے ہاتھ بھی کھول دیئے لیکن اس خدشے کی بنا پر کچھ دیر پریشان بھی ہونا پڑا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے۔ اب ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنا بھی ہمیں کھل رہا تہا اس لئے تہہ خانے سے باہر نکلنے کے سلسلے میں ہم نے اپنی جدوجہد تیز کردی۔ ہمیں وہاں کسی ایسی چیز کی تلاش تھی جس سے دیوار میں دروازہ نما خلا پیدا کی جاسکتی!”

جولیا کچھ نہ بولی! صفدر نے ایک سگریٹ سلگایا اور دو تین ہلکے ہلکے کش لئے!
لیکن نہ جانے کیوں وہ سوالیہ انداز میں جولیا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔!
کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ “یہ ناممکن ہے کہ عمران تم سے نہ ملا ہو”۔
“ابھی تمہاری پچھلی بات پوری نہیں ہوئی”۔ جولیا ناخوشگوار لہجے میں بولی۔

“پھر کوئی بات ہی نہیں رہ گئی تھی! ہم جلدہی اس دروازے کے میکنزم کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئے! تہہ خانے کے اوپر۔۔ عمارت سنسان پڑی تھی! کسی جگہ بھی روشنی نہ دکھائی دی۔ وہ لوگ موجود نہیں تھے! ایک کھڑکی سے میں نے کمپانڈ میں جھانکا۔ باہر ایک آدمی موجود تھا اور برآمدے کا بلب روشن تھا! اس آدمی نے چوکیداروں کی سی وردی پہن رکھی تھی! جوزف کسی بلی کی طر برآمدے میں رینگ گیا۔ کمال کا پھرتیلا آدمی ہے۔۔ بالکل کسی تیندوے کی طرح اور تیزی سے جھپٹنے والا! چوکیدار کے حلق سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکل سکی تھی! پھر جلد ہی وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا تھا۔۔ اس طرح ہم وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے”۔
“پھر کیا کیا تم نے۔۔؟”

“کچھ بھی نہیں! میں اپنی ذمہ داری پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا”۔
“جولیا نے کچھ کہے بغیر ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کئے۔۔!
اور دوسری طرف سے آواز آئی۔ “دانش منزل پلیز”۔
عمران نے حال ہی میں ایکس ٹو کے پرائیویٹ فون سے ایک ٹیپ ریکارڈ اٹیچ کردیا تھا اور اس کا سسٹم کچھ اس قسم کا تھا کہ رنگ کرنے والے کو ادھر سے ریسور اٹھاے بغیر ہی جواب مل جاتا تھا! اس میں مختلف قسم کے احکامات تھے۔ آج کل کے ٹیپ پر “دانش منزل پلیز” ہی چل رہا تھا کیوں کہ عمران فلیٹ میں ہوتا ہی نہیں تھا! ظاہر ہے کہ ایسے کسی زمانے میں اس کی پناہ گاہ دانش منزل ہی ہوسکتی تھی جب کچھ نامعلوم لوگ اسے مار ڈالنے کے درپے ہوں۔

جولیا نے سلسلہ منقطع کرکے دانش منزل کے لئے ٹرانسمیٹر نکالا! اور بولی۔ ” ہیلو۔۔ ہیلو۔۔ ایکس ٹو پلیز۔۔! ایکس ٹو۔۔ ہلو۔۔ ہلو۔۔ ایکس ٹو۔ ایکس ٹو”۔
“ہلو۔۔!” آواز آئی اور یہ ایکس ٹو ہی کی آواز تھی۔
“یہاں صفدر موجود ہے۔۔!”
“تو پھر۔۔!”
“وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔۔ کیا فون استعمال کیا جائے”۔
“میں جانتا ہوں وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے۔ اس سے کہو کہ دو دن کی تھکن بڑی اچھی نیند لاتی ہے”۔
“بہتر ہے!”
“غالبا تم سوچ رہی ہوگی کہ اس عمارت پر چھاپہ کیوں نہ مارا جائے”۔
“جی ہاں قدرتی بات ہے”۔

“لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ مجھے سرغنہ کی تلاش ہے۔ وہ اس عمارت میں نہیں تھا! اور اب تو وہاں تمہیں ایک پرندہ بھی نہیں ملے گا!”
“میرے لئے کیا حکم ہے؟”
“وقت آنے پر مطلع کیا جائے گا۔ اور کچھ؟”
“جی نہیں!”
“اوور اینڈ آل۔۔!”
جولیا نے سوئچ آف کردیا اور صفدر کی طرف مڑی جو بہت زیادہ متحیر نظر آرہا تھا!
“یہ سب کچھ جانتا تھا!” صفدر نے آہستہ سے کہہ کر جلدی جلدی پلکیں جھپکائیں اور ختم ہوئے سگریٹ سے دوسرا سگریٹ سلگانے لگا۔ پھر دو تین گہرے کش لے کر بولا۔ ” وہ جانتا تھا مگر اس نے مطلق پرواہ نہ کی کہ مجھ پر کیا گذرے گی!”
“مگر تمہیں تو عمران نے اس آدمی کے تعاقب کے لئے کہا تھا”۔

“عمران۔ نتائج کا ذمہ دار تو نہیں ہے!” صفدر نے کہا! “ایکس ٹو کو علم تھا آخر اس نے ہماری مدد کیوں نہیں کی؟”
“صفدر صاحب آپ کو تعاقب کے لئے کہا گیا تھا! اس سے دور رہ کر اس کی نظروں سے بچ کر! عمران نے یہ تو نہ کہا ہوگا کہ آپ اس کے ساتھ بلیرڈ کھیلنا شروع کردیں”۔
“ہاں مجھ سے ہی غلطی ہوئی تھی”۔
“ہوسکتا ہے اسی غلطی کی پاداش میں یہ تمہاری سزا رہی ہو کہ ایکس ٹو نے حالات سے واقف ہونے کے باوجود بھی تمہاری کوئی مدد نہ کی!”
صفدر کچھ نہ بولا! اس کی بھنویں سمٹ گئی تھیں اور پیشانی پر کئی سلوٹیں ابھر آئی تھیں!
کچھ دیر بعد جولیا نے جوزف کا تذکرہ چھیڑدیا!

“وہ عمران ہی کی طرح عجیب ہے! بظاہر ڈیوٹ۔ لیکن۔ بہرحال اس نے مجھے کسی طرح بھی یہ نہیں بتایا کہ وہاں کیسے پہنچا تھا!”
“مگر اب وہ رہتا کہاں ہے؟”
“خدا جانے۔۔!”
“عمران کے فلیٹ میں تو بہت دنوں سے نہیں دیکھا گیا”۔
“ہوں۔ یہ بتا۔ سرسوکھے کا کیا قصہ ہے۔ یہ کون ہے؟” وہ عمران کو کیوں تلاش کر رہا ہے! وہ لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ سرسوکھے عمران کی تلاش میں کیوں ہے اور اس نے ہمارے دفتر سے کیوں رابطہ قائم کیا ہے۔۔!”
“سرسوکھے یہاں کا ایک دولت مند آدمی ہے! وہ اس لئے ہمارے فرم سے رجوع ہوا ہے کہ ہم اس کی فرم کے لئے فارورڈنگ اور کلیرنگ کریں! لیکن میں یہ نہیں جانتی کہ اسے عمران کی تلاش کیوں ہے! یہ تو بہت برا ہوا کہ آفس بھی ان کی نظروں میں آگیا ہے”۔
“میرا تو خیال ہے کہ وہ ہمارے چیف ایکس ٹو کے متعلق بھی کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں”۔

“اور عمران کے قول کے مطابق یہ لوگ وہی ہیں جن سے آتشدان کے بت والے کیس میں مڈبھیڑ ہوئی تھی۔۔! وہ قصہ وہیں ختم نہیں ہوگیا تھا!” جولیا نے کہا اور کسی سوچ میں پڑ گئی!
دفعتا فونی کی گہنٹی بجی اور اور جولیا نے ریسیور اٹھالیا!
“ہیلو۔۔!”

“میں ہوں”۔ ایک ٹو کی آواز آئی۔ سرسوکھے کا کیس ایک بار پھر دہرا۔ تفصیل سے۔۔!”
جولیا نے شروع سے اب تک کے واقعات دہرانے شروع کردیئے لیکن پھر یک بیک اسے خیال آیا کہ اس نے اصلیت صفدر کو نہیں بتائی! اور وہ اب بھی یہیں موجود ہے۔ لہذا اس نے سونے کی اسمگلنگ کی طرف سے آنے سے پہلے کہا۔ “صفدر یہیں موجود ہے”۔
“پروا ہ نہیں”۔ ایکس ٹو کی آواز آئی۔ “صفدر سے اس سلسلے میں کچھ بھی نہ چھپا! وہ ان لوگو میں سے ہے جن پر میں بہت زیادہ اعتماد کرتا ہوں”۔

پھر جیسے ہی جولیا نے سونے کی اسمگلنگ کی کہانی چھیڑی صفدر اسے گھورنے لگا!
آخر میں جولیا نے پوچھا۔”کیا آپ کو علم ہے کہ جن لوگوں نے صفدر کو پکڑا تھا وہ سرسوکھے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں”۔
“نہیں میں نہیں جانتا”۔
“انہوں نے صفدر سے یہ معلوم کرنے کے لئے سختی برتی تھی”۔
“کیا معلوم کرنے کے لئے۔ جملے ادھورے نہ چھوڑا کرو” ایکس ٹو غرایا۔

“معافی چاہتی ہوں جناب! وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ سرسوکھے عمران کی تلاش میں کیوں ہے! یہ معلوم کرنے کے لئے انہوں نے صفدر پر چابک برسائے تھے۔ ڈھمپ اینڈ کو اور عمران کا تعلق بھی ان کے لئے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے”۔
“اوہ۔۔ اچھا تو۔۔ اب سرسوکھے کو عمران سے ملا دو”۔ ایکس ٹو نے کہا۔
“مگر میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟”

“کل صبح سرسوکھے کو گرینڈ ہوٹل میں مدعو کرو! عمران پہنچ جائے گا”۔
“بہت بہتر جناب۔۔!”
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا۔
دوسری صبح تقریبا نو بجے جولیا گرینڈ ہوٹل میں سرسوکھے کا انتظار کر رہی تھی اور اسے یقین تھا کہ اب سرسوکھے سے نجات مل جائے گی۔ ظاہر ہے کہ اب تک وہ عمران ہی کے سلسلے میں اس کیساتھ رہی تھی! لیکن اب عمران خود ہی اس سے ملنے والا تھا!
پھر کیا؟ اب بھی اس کی گلوخلاصی نہ ہوگی؟ جولیا کے پاس اس وقت بھی اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں تھا!

ٹھیک نو بج کر دس منٹ پر سرسوکھے ڈائننگ ہال میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور آنکھیں غمگین تھیں! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے کسی عزیز کے کریا کرم سے واپس آیا ہو۔۔!
جولیا نے خوش اخلاقی سے اس کا استقبال کیا!
“بس آجائیں گے تھوڑی دیر میں”۔
اس نے غور سے جولیا کی طرف دیکھا۔ ایک ٹھنڈی سانس لی اور دوسری طرف دیکھنے لگا! ایسا کرتے وقت وہ بیحد مضحکہ خیز لگا تھا! جولیا نے نہ جانے کیسے اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔

“پچھلی شام آپ مجھ سے ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ملی تھیں؟” دفعتا اس نے سرجھکا کر آہستہ سے کہا!
“میرے چند دوست۔۔”۔
“ٹھیک ہے”! وہ جلدی سے بولا۔ دیکھیئے مجھے غلط نہ سمجھیئے گا! آخر مجھے کیا حق حاصل ہے کہ آپ سے ایسی گفتگو کروں۔ میرے خدا۔۔!”
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا! اور جولیا کا دل چاہا کہ ایک کرسی اٹھا کر اسی پر توڑ دے۔ گدھا کہیں کا۔ آخر خود کو سمجھتا کیا ہے!

“وہ دیکھیئے”۔ سرسوکھے نے تھوڑی دیر بعد کہا۔ “میں کیا بتاں بعض اوقات مجھ سے بچکانہ حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں! بھلا بتائیے یہ بھی کوئی کہنے کی بات تھی مگر زبان سے نکل ہی گئی۔ اسے یوں سمجھیئے۔ دیکھیئے! بالکل بچوں کی طرح۔۔! وہ ٹھہرئیے۔۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ دیکھیئے شاید آپ اسی سے میرے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ میری ایک بھابی تھیں! میں انہیں بہت پسند کرتا تھا! اور وہ بھی مجھے بہت چاہتی تھیں! ایک دن ان کا ایک کزن آگیا جو میرا ہی ہم سن تھا۔ کچھ دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ اب وہ مجھ پر اتنی مہربان نہیں رہیں جتنی پہلے تھیں۔ بس رو پڑا۔ الگ جاکر۔ کوٹھری میں کھڑا رو رہا تھا کہ بھابی آگئیں۔ میں خاموش ہوگیا۔ وہ رونے کی وجہ پوچھتی رہیں لیکن میں کیا بتاتا! بہرحال مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے پیر میں چوٹ آگئی ہے مجھ سے اٹھا نہیں جاتا۔ انہوں نے مجھے اٹھایا۔ باہر لائیں۔ میرے پیر میں مالش کی۔۔ لیکن میں روتا ہی رہا۔ اب دیکھیئے۔ میں ان سے کیسے کہتا۔ کیسے کہتا کہ وہ اپنے کزن کو مجھ سے زیادہ کیوں چاہتی ہیں۔۔ اسی طرح کل میں کتنا دکھی تھا! بالکل اسی طرح۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردوں! یعنی آپ نے میری طرف آنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ اوہ۔۔!”

وہ یک بیک چونک کر خاموش ہوگیا! اس کی آنکھوں سے ندامت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ پھر وہ دونارہ چونک کر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ “مس جولیانا۔۔ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک باکل گدھا اور بیعقل آدمی سمجھ کر معاف کردیجیئے۔ میں آخر یہ ساری بکواس کیوں کر رہا ہوں۔۔ بوائے۔۔”
اس نے بڑے غیر مہذب انداز میں بیرے کو پکارا تھا! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی کہی ہوئی باتیں جولیا کے ذہن سے نکال پھینکنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔!

“کافی۔۔ اور ایک بڑا پگ وہسکی!” اس نے بیرے سے کہا اور جولیا کی طرف متوجہ ہوا ہی تھا کہ جولیا بولی۔
“پچھلی رات میں نے صرف عمران کے ساتھ اسکیٹنگ کی تھی!”
“نہیں تو۔ میں وہاں موجود تھا میں نے دیکھا پہلے آپ کے ساتھ کوئی اور تھا”۔
“پہلا اور آخری آدمی۔۔!” جولیا مسکرائی۔۔!
“میں نہیں سمجھا!”
“وہ عمران ہی تھا۔۔!”

“نہیں۔۔! مگر۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ نہیں وہ نہیں ہوسکتے! تم مذاق کر رہی ہو!”
“یقین کیجیئے! وہ میک اپ میں تھا! آج کل وہ کسی چکر میں ہے اور کچھ لوگ اس کے دمشن ہوگئے ہیں اس لئے وہ زیادہ تر خود کو چھپائے رکھتا ہے”۔
“اوہ! بھیئی کمال کا آدمی ہے!” سرسوکھے نے بچوں کے سے متحیرانہ لہجے میں کہا۔ “کیا شاندار میک تھا گھنٹوں دیکھتے رہنے کے بعد بھی نہ پہچانا جاسکے”۔
“میں نے بھی اسے صرف آواز سے پہچانا تھا!
“اوہ۔۔!” وہ مضطربانہ انداز میں بولا۔ جس میں دبی ہوئی سی خوشی بھی شامل تھی۔ “تب تو مجھے یقین ہے۔ بالکل یقین ہے کہ میری مشکلات رفع ہوجائیں گی”۔
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی تیر کی طرح ان کی طرف آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔

جولیا سٹپٹا گئی! کیونکہ یہ عمران نہیں ہو سکتا تھا اور اگر تھا بھی تو پچھلی رات والے میک اپ میں نہیں تھا!
“فرمائیے جناب!” سرسوکھے غصیلے لہجے میں بولا!
“میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے”۔ آنے والے مسمی صورت بنا کر کہا!
“درد۔ یعنی کہ پین۔ پتہ نہیں فرانسیسی اور جرمن میں اسے کیا کہتے ہیں”۔
“میں پوچھتا ہوں کہ آپ اس میز پر کیوں آئے ہیں”۔ سرسوکھے میز پر ہاتھ مار کر غرایا!
“انہیں دیکھ کر۔۔!” اجنبی نے جولیا کی طرف اشارہ کیا!
“کیا مطلب۔۔!”

“دیکھنے کا مطلب کیسے سمجھاں؟”
“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا۔۔!”
“اگر کچھ دیر تک آپ اسی قسم کی گفتگو کرتے رہے تو یقینا خراب ہوجائے گا۔ بھلا کوئی تک ہے۔۔ آخر آپ درد کا مطلب نہیں سمجھتے۔۔دیکھنے کا مطلب نہیں سمجھتے! پھر کیا میں درد کو شکرقند اور دیکھنے کو فلفلانا کہوں۔ واہ بھلا آپ مجھے غصے سے کیوں فلفلا رہے ہیں! میرے پیٹ میں تو شکرقند ہو رہا ہے!”
“تمہاری ایسی کی تیسی”۔ سرسوکھے کرسی کھسکا کر کھڑا ہوگیا اور لگا آستین سمیٹنے!

“ارے۔ تم نے تو میری مٹی پلید کردی جولیا! اجنبی نے جولیا سے کہا۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ تم کسی سرسوکھے کے ساتھ ملو گی۔ یہ تو سرہاتھی نہیں بلکہ سرپہاڑ ہیں۔ پہلوان بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایک آدھ ہاتھ رکھ ہی دیا ہوتا تو میں کہاں ہوں گا! خدا تمہیں غارت کرے!”
جولیا پیٹ دبائے بیتحاشہ ہنس رہی تھی!
“ارے سرسوکھے! یہ عمران ہے!” بدقت اس نے کہا!
“کیا۔۔! اف فہ۔۔ ہاہا۔۔ ہا ہا۔۔ ہاہا!” سرسوکھے نے بھی منہ پھاڑ دیا۔
لیکن اس کی ہنسی خجالت آمیز تھی۔۔!

پھر وہ بیٹھ گیا! لیکن عمران اب بھی ایسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا جیسے اب اٹھ کر بھاگا!
“مائی ڈیئر مسٹر عمران آپ واقعی کمال کے آدمی ہیں!” سرسوکھے نے ہانپتے ہوئے کہا!
وہ اسی طرح ہانپ رہا تھا جیسے دور سے چل کر آیا ہو!
عمران چونکہ میک اپ میں تھا اس لئے حماقت کا اظہار صرف آنکھوں ہی سے ہوسکتا تھا! لیکن اس وقت تو آنکھیں سرسوکھے کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں!

“اسمگلنگ کی کہانی میں سن چکا ہوں!” عمران نے کہا۔
“مس جولیا نے آپ کو سب کچھ بتایا ہوگا۔۔!”
“جی ہاں سب کچھ!۔۔ آپ اپنے آدمیوں میں سے کس پر شبہ ہے”۔
“دیکھینے! مجھے تو جس اسٹاف پر شبہ تھا اسے پہلے ہی الگ کردیا تھا! فاورڈنگ اور کلیرنگ کا سیکشن ہی توڑ دیا۔۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ اسٹاف بیداغ ہے۔ بھلا کیسے کہہ سکتا ہوں! آپ خود ہی سوچیئے!”
“ٹھیک ہے ایسے حالات میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا”۔ عمران سر ہلا کر بولا!
“پھر آپ میرے لئے کیا کریں گے۔۔؟”

“پکوڑے تلوں گا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا اور سرسوکھے بیساختہ ہنس پڑا۔۔
“خیر۔۔ خیر۔۔” اس نے کہا! “میں اب یہ معاملہ آپ پر چھوڑتا ہوں! جس طرح آپ کا دل چاہے اسے ہینڈل کیجیئے!۔۔!”
“آپ کو میرے ساتھ تھوڑی سی دوڑ دھوپ بھی کرنی پڑے گی!”
“اس کی فکر نہ کیجیئے! میں موٹا اور بیہنگم ہی سہی! لیکن چلنے کے معاملے میں کسی سے کم بھی نہیں ہوں! مطلب یہ کہ اگر پیدل بھی چلنا پڑے گا۔ جی ہاں”۔

“سواری کا تو کچومر نکل جائے گا! پیدل ہی ٹھیک ہے”۔ عمران سرہلا کر بولا۔
“میں برا نہیں مانتا!” سرسوکھے نے کھسیانی ہنسی کے ساتھ کہا۔
پتہ نہیں کیوں یک بیک جولیا کو عمران پر تا آنے لگا اور سرسوکھے کے لئے ہمدردی محسوس ہونے لگی!
اس نے کہا۔ “اچھا تو سرسوکھے۔۔ اب ہم اس معاملہ کو دیکھ لیں گے! ہوسکتا ہے کہ آپ بہت مشغول ہوں!”
“اوہ۔ بیحد۔۔ بیحد۔۔ اچھا اب اجازت دیجیئے!” سرسوکھیاٹھتا ہوا بولا۔
عمران اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔!

“تم اس کا مضحکہ کیوں اڑا رہے تھے؟” جولیا نے غصیلے لہجے میں پوچھا۔
“پھر کیا کروں؟ اتنے موٹے آدمی کو سر پر بیٹھا لوں!” عمران بھی جھلا کر بولا۔
“مجھے اس سے ہمدردی ہے! اتنے بڑے ڈیل ڈول میں ایک ننھا سا بچہ! بیچارا۔۔!”
“خدا تمہیں بھی بیچاری بننے کی توفیق عطا کرے۔۔ اور آئندہ مجھے کوئی اتنا موٹا بیچارہ نہ دکھائے تو بہتر ہے ورنہ میں تو کہیں کا نہ رہوں گا۔ تم ایسے اوٹ پٹانگ آدمیوں سے ملاتی رہتی ہو۔ اچھا ٹاٹا۔۔!”
پھر جولیا اسے روکتی ہی رہ گئی۔۔ لیکن وہ چھلاوے ہی کی طرح آیا تھا اور اسی طرح یہ جاوہ جا۔۔ نظروں سے غائب۔۔!

ایکس ٹو نے اپنے ماتحتوں کو باقاعدہ طور پر ہدایت کردی تھی کہ وہ عمران کے متعلق کسی چکر میں نہ پڑیں۔ نہ تو اس کے فلیٹ کے فون نمبر رنگ کئے جائیں اور نہ کوئی ادھر جائے! جولیا کو اس قسم کی ہدایت دیتے وقت اس کا لہجہ بیحد سخت تھا!
جولیا اس پر بری طرح جھلا گئی تھی! لیکن کرتی بھی کیا! ایکس ٹو بہرحال اپنے ماتحتوں کے اعصاب پر سوار تھا! وہ اس سے اسی طرح خائف رہتے تھے جیسے ضعیف الاعتقاد لوگ ارواح کے نام پر لرزہ براندام ہوجاتے ہیں!

مگر جولیا الجھن میں مبتلا تھی۔ آج کل ایک ناقابل فہم سی خلش ہر وقت ذہن میں موجود رہتی اور اس کا دل چاہتا کہ وہ شہر کی گلیوں میں بھٹکتی پھرے! چھتوں اور دیواروں کے درمیان گھٹن سی محسوس ہوتی تھی!
آج صبح اس نے فون پر بڑے جھلائے ہوئے انداز میں ایکس ٹو سے گفتگو کی تھی۔ اسے بتایا تھا کہ سرسوکھے کی بھاگ دوڑ کا اصل مقصد کیا ہے! پھروہ اس کے لئے عمران کو تلاش کرے یا نہ کرے!۔۔
“بس اسی حد تک جولیا ناکہ وہ مطمئن ہوجائے!” ایکس ٹو نے جواب دیا تھا! ” اسے یہ شبہ نہ ہونا چاہیئے کہ تم اسے ٹال رہی ہو! بلکہ عمران کی گمشدگی پر پریشانی بھی ظاہر کرو!”
جولیا برا سا منہ بنا کر رہ گئی تھی!
سرسوکھے کی فرمائش کے مطابق آج اسے عمران کی تلاش میں اس کا ساتھ دینا تھا! سب سے پہلے وہ عمران کے فلیٹ میں پہنچے لیکن سلیمان سے یہی معلوم ہوا کہ عمران پچھلے پندرہ دنوں سے غائب ہے! پھر جولیا نے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران وہاں کا مستقل ممبر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہاں اس کیمتعلق کچھ معلومات حاصل ہوسکیں۔

وہ ٹپ ٹاپ کلب پہنچے۔ یہاں بھی کوئی امید افزا صورت نہ نکل سکی! آخر سرسوکھے نے تھکے ہوئے لہجے میں کہا۔ “اب کہاں جائیں۔ میں واقعی بڑا بدنصیب ہوں مس جولیانا۔ آیئے کچھ دیر یہیں بیٹھیں!”
جولیا کو اس پہاڑ نما آدمی سے بڑی الجھن ہوتی تھی! اس کے ساتھ کہیں نکلتے ہوئے اس کے ذہن میں صرف یہی ایک خیال ہوتا تھا کہ وہ بڑی مضحکہ خیز لگ رہی ہوگی۔ آس پاس کے سارے لوگ انہیں گھور رہے ہوں گے!
مگر اس کمبخت ایکس ٹو کو کیا کہیئے جس کا حکم موت کی طرح اٹل تھا!

وہ سرسوکھے کے ساتھ بیٹھی اور بور ہوتی رہی! لیکن پھر اس نے ریکرئیشن ہال میں چلنے کی تجویز پیش کی!
مقصد یہ تھا کہ وہاں کوئی نہ کوئی اس سے رقص کی درخواست ضرور کرے گا اور سرسوکھے سے پیچھا چھوٹ جائے گا! سرسوکھے اس تجویز پر خوش ہوا تھا!
وہ ریکریشن ہال میں آئے۔ یہاں ابھی آرکسٹرا جاز بجا رہا تھا! اور چند باوردی منتظمین چوبی فرش پر پاڈر چھڑکتے پھر رہے تھے۔
وہ گیلری میں جا بیٹھے! تھوڑی دیر بعد رقص کے لئے موسیقی شروع ہوئی!

“کیا میں آپ سے رقص کی درخواست کرسکتا ہوں!” سرسوکھے نے ہچکچاتے ہوئے کہا!
“آپ!” جولیا نے متحیرانہ لہجے میں سوال کیا! اس کا سر چکرا گیا تھا!
“اوہ”۔ دفعتا سرسوکھے بیحد مغوم نظر آنے لگا! کرسی کی پشت سے ٹکتے ہوئے اس نے چھت پر نظریں جما دیں! جولیا کو اپنے رویے پر افسوس ہونے لگا کیونکہ سرسوکھے کی آنکھیوں میں آنسو تیر رہے تھے! جولیا نے محسوس کیا کہ اس کا وہ “آپ” گویا ایک تھپڑ تھا جو سرسوکھے کے دل پر پڑا تھا! کیونکہ “آپ” کہتے وقت جولیا کیلہجے میں تحیر سے زیادہ تضحیک تھی!
“اوہو۔۔ تو پھر۔۔ آپ اٹھیئے نا!” جولیا نے بوکھلائے ہوئے لہجے میں کہا۔

وہ ہنسنے لگا۔ بیتکی سی ہنسی! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے خود اسے بھی احساس ہو کہ وہ یوں ہی احمقانہ انداز میں ہنس پڑا ہے۔ پھر وہ آنکھیں ملنے لگا!
“نہیں ۔!” وہ کچھ دیر بعد بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ “میں اپنی اس بیتکی درخواست پر شرمندہ ہوں! میں آپ کو بھی مضحکہ خیز نہیں بنانا چاہتا !”

وہ پھر ہنسا مگر جولیا کو اس کی ہنسی دردناک معلوم ہوئی تھی! ایسا لگا تھا جیسے متعدد کراہوں نے ہنسی کی شکل اختیار کرلی ہو!
“مس فٹز واٹر!” اس نے اپنے سینے پر ہاتھ مار کر کہا۔ “ہڈیوں اور گوشت کا یہ بنجر پہاڑ ہمیشہ تنہا کھڑا رہے گا۔ میں نے نہ جانے کس رو میں آپ سے درخواست کردی تھی! اداس اور تنہا آدمی بچوں کی سی ذہنیت رکھتے ہیں”۔ گوشت اور ہڈیوں کے اس بیہنگم سے ڈھیر میں چھپا ہوا سرسوکھے رام بچہ ہی تو ہے جو بڑی لاپروائی سے اس بدنما ڈھیر کو اٹھائے پھرتا ہے۔ اگر باشعور ہوتا تو۔۔”
“اور دیکھیئے! آپ بالکل غلط سمجھے سرسوکھے! میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا! دراصل مجھے اس پر حیرت تھی کہ۔۔!”
“نہیں۔ مس جولیانا! میں خود بھی تماشہ بننا پسند نہیں کروں گا!” وہ ہاتھ اٹھا کر دردناک آواز میں بولا۔

جولیا خاموش ہوگئی! رقص شروع ہوکا تھا! سرسوکھے رقاصوں کو کسی بچے ہی کے سے انداز میں دیکھتا رہا۔۔! نہ جانے کیوں جولیا سچ مچ اس کے لئے مغوم ہوگئی تھی!
جوزف بس چلتا ہی رہا! اسے احساس نہیں تھا کہ وہ کتنا چل چکا ہے۔ اور کب تک چلتا رہے گا۔ اس کے ساتھ ہی اس کی زبان ہی چل رہی تھی ۔ نوجوانی کے قصے چھیڑ رکھے تھے!

نوجوانی کے قصے بھی جوزف کی ایک کمزوری تھی۔ وہ مزے لے لے کر اپنے کارنامے بیان کرتا تھا اور ان کہانیوں کے درمیان قبیلے کی ان لڑکیوں کا تذکرہ ضرور آتا تھا جو اس پر مرتی تھیں۔ اس مرحلہ پر جوزف کے ہونٹ سکڑ جانے اور آواز میں سختی پیدا ہوجاتی۔ ایسا لگتا جیسے حقیقتا اسے کبھی ان کی پرواہ نہ ہوئی ہو! اس وقت وہ بوڑھے سے کہہ رہا تھا۔ “بھلا بتا۔ مجھے ان باتوں کی فرصت کہاں ملتی تھی۔ میں تو زیادہ تر رائفلوں اور نیزوں کے کھیل میں الجھا رہتا تھا۔ جب بھی سفید فام شکاری میرے علاقہ میں داخل ہوتے تو انہیں تندوے کی تلاش ضروری ہوتی تھی! میں ہی ان کی رہنمائی کرتا تھا۔ ان کی زندگیاں میری مٹھی میں ہوتی تھیں۔۔ اب بتا۔۔ تم ہی بتا۔۔ میں کیا کرتا! نگانہ جو قبیلے کی سب سے حسین لڑکی تھی! اس نے مجھے بددعائیں دی تھیں۔۔ آہ۔۔ آج میں اسی لئے بھٹکتا پھر رہا ہوں۔ مگر بتا! اس کے لئے کہاں سے وقت نکالتا۔۔!”

جوزف نے پھر بکواس شروع کردی۔ تاڑی کی تین بوتلیں ہٹلر بھی بن سکتی ہیں اور علم الکلام کی ماہر بھی۔۔!
اچانک بوڑھا چلتے چلتے رک گیا۔ اور خوش ہو کر بولا! “واہ۔۔ اب تو وہ بیرل یہاں سے لے جائے بھی جاسکتے ہیں! میرے آدمی ٹرک لے آئے ہیں لیکن پولیس کا کہیں پتہ نہیں ہے۔۔!”
“ہائیں!” جوزف منہ پھاڑ کر رہ گیا۔ پھر بولا! “اب میرے انعام کا کیا ہوگا!”
“ایک بیرل تمہارا ہے دوست!” بوڑھے نے اس کی کمر تھپتھپا کر کہا! “تم اب انہیں ٹرک میں چڑھانے میں مدد دو گے”۔
ٹرک قریب ہی موجود تھا۔ اس کا پچھلا ڈھکنا زمین پر ٹکا ہوا تھا۔ جوزف نے چندھائی ہوئی آنکھوں سے چاروں طرف دیکھا! یہ ایک ویرانہ تھا۔ گھنیرے درخت اور جھاڑ جھنکار قریب وجوار کے اندھیرے میں کچھ اور اضافہ کرتے ہوئے سے معلوم ہو رہے تھے۔
“چلو۔ اندازہ کرلو کہ تم بیرل اوپر چڑھا سکو گے یا نہیں!” بوڑھے نے کہا اور ٹرک پر چڑھ گیا۔

جوزف کی رفتار سست تھی۔ لیکن وہ بھی اوپر پہنچ ہی گیا! ٹرک تین طرف سے بند تھا اور اس کی چھت کافی اونچی تھی! لیکن جوزف جیسے لمبے تڑنگے آدمی کو تو جھکنا ہی پڑا تھا۔
“چڑھا سکو گے نا؟” بوڑھے نے پوچھا۔
“بل۔۔ بل۔۔ بلکول۔۔” جوزف لڑکھڑایا اور آندھی سے اکھڑتے ہوئے کسی تناور درخت کی طرح ڈھیر ہوگیا! اسے اس پر بھی غور کرنے کا موقعہ نہیں مل سکا تھا کہ کھوپڑی پر ہونے والے تین بھرپور وار زیادہ نشہ آور ہوتے ہیں۔۔ یا تاڑی کی تین بوتلیں۔۔!
اس کا ذہن تاریکی کی دلدل میں ڈوبتا چلا گیا! پھر دونوں ٹرک کے اگلے حصے میں چلے گئے!
تھوڑی دیر بعد ٹرک چل پڑا!

صفدر نے اس دن کے بعد سے اب تک ڈھمپ اینڈ کو کے دفتر کی شکل نہیں دیکھی تھی۔ جب وہاں عمران کی موت کی اطلاع لے کر گیا تھا! ایکس ٹو کی طرف سے اسے یہی ہدایت ملی تھی!
لیکن وہ عمران کے متعلق الجھن میں تھا! کبھی یقین کرنے پر مجبور ہوتا کہ اب عمران اس دنیا میں نہیں! اور کبھی پھر کئی طرح کے شبہات سر اٹھاتے! مگر یہ تو اس کی آنکھوں کے سامنے کی بات تھی کہ عمران چیخ مار کر ندی میں جا پڑا تھا! کچھ بھی ہو دل نہیں چاہتا تھا کہ عمران کی موت پر یقین کرے!

جولیا نے کسی کو بھی نہیں بتایا تھا کہ عمران زندہ ہے اور اسے اس واقعہ کے بعد اس کی کوئی تحریر ملی تھی! ایکس ٹو تو اسے یقینی طور پر صحیح حالات کا علم تھا۔ ورنہ وہ جولیا کو فون پر سرزنش کیوں کرتا۔ یہی سوچ کر جولیا نے اس سے بھی اس مسئلہ پر کسی قسم کی گفتگو نہیں کی تھی!
بہرحال صفدر آج کل زیادہ تر گھر ہی میں پڑا رہتا تھا۔۔ اس وقت بھی وہ آرام کرسی میں پڑا اونگھ رہا تھا! اچانک فون کی گھنٹی بجی جو ان دونوں شاذونادر ہی بجتی تھی!
وہ اچھل پڑا۔۔!

“ہیلو۔۔!” اس نے ماتھ پیس میں کہا۔
“ہائیں۔۔!” دوسری طرف سے آواز آئی۔ “کیا تم زندہ ہو؟”
“ارے!” صفدر پرمسرت لہجے میں چیخا! “آپ۔۔!”
اس نے عمران کی آواز صاف پہچان لی تھی۔
“اتنی زور سے نہ چیخو کہ تمہاری لائن کو شادی مرگ ہوجائے۔ ویسے میں عالم بالا سے بو ل رہا ہوں!”
“عمران صاحب خدا کے لئے بتایئے کہ وہ سب کیا تھا؟”

“یار بس کیا بتاں”۔ دوسری طرف سے مغوم لہجے میں کہا گیا! ” میں تو یہی سمجھ کر مرا تھا کہ گولی لگ چکی ہے۔ مگر فرشتوں نے پھر دھکا دے دیا! کہنے لگے کھسکو یہاں سے۔ یہاں چارسو بیسی نہیں چلے گی۔ گولی وولی نہیں لگی۔ آئندہ اچھی طرح مرے بغیر ادھر کا رخ بھی نہ کرنا۔ نہیں تو اب کی دم لگا کر واپس کئے جا گے!”
صفدر ہنسنے لگا! وہ بیحد خوش تھا۔ اس کی بیک بہت بڑی الجھن رفع ہو گئی تھی!
“جولیا بے حد پریشان تھی۔۔!” صفدر نے کہا۔
“پچھلے سال میں اس سے ساڑھے پانچ روپے ادھار لیئے تھے نا۔۔ آج تک واپس نہیں کرسکا۔۔!”
“عمران صاحب خدا آپ کو جمالیاتی حس بھی عطا کردے تو کتنا اچھا ہو!”

“تب پھر لوگ مجھے جمال احمد کہیں!” عمران خوش ہو کر بولا۔ “اور میں جمالی تخلص کرنے لگوں! خیر اس پر کبھی سوچیں گے۔ اس وقت تمہیں ایک آدمی کا تعاقب کرنا ہے جو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے بلیرڈ روم نمبر میں بلیرڈ کھیل رہا ہے۔ اس کے جسم پر سرمئی آئیرن کا سوٹ ہے اور گلے میں نیلی دھاریوں والی زرد ٹائی۔ اگر وہ تمہارے پہنچنے تک وہاں سے جاچکا ہو تو پھر وہیں ٹھہرنا”۔
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا!

صفدر کو ٹپ ٹاپ نائٹ کلب پہچنے میں بیس منٹ سے زیادہ نہیں لگے تھے! وہ آدمی اب بھی بلیرڈ روم میں موجود تھا جس کے متعلق عمران نے بیس منٹ پہلے اس سے فون پر گفتگو کی تھی۔ یہ ایک لمبا تڑنگا اور صحت مند جوان تھا۔ جبڑوں کی بناوٹ اس کی سخت دلی کا اعلان کر رہی تھی۔ البتہ آنکھیں کاہلوں اور شرابیوں کی سی تھیں۔ آنکھوں کی بناوٹ اور جسم کے پھرتیلے پن میں بڑا تضاد تھا۔
صفدر اس طرح ایک خالی کرسی پر جا بیٹھا جیسے وہ بھی کھیلنے کا ارادہ رکھتا ہو! یہاں چار بلیرڈ روم تھے اور ہر کمرے میں دو دو میزیں تھیں! اس کمرے کی دونوں میزوں پر کھیل ہو رہا تھا!
بھاری جبڑے والے کا ساتھی تھوڑی دیر بعد ہٹ گیا! اور بھاری جبڑے والے صفدر سے پوچھا!
“کیا آپ کھیلیں گے؟”

“جی ہاں۔۔!” صفدر اٹھ گیا۔
دونوں کھیلنے گے! کچھ دیر بعد صفدر نے محسوس کیا کہ اس کی باتیں بڑی دلچسپ ہوتی ہیں۔ پتہ نہیں کیسے وہ عورتوں اور آرائشی مصنوعات کا تذکرہ نکال بیٹھا تھا!
“کیا خیال ہے آپ کا یہ عورتیں سال میں کتنی لپ اسٹک کھا جاتی ہوں گی؟”
اس نے پوچھا!
“ابھی تک میں عورتوں کے معاملات سمجھنے کے قابل نہیں ہوا”۔ صفدر نے جواب دیا۔
“اوہو۔۔ تو کیا بھی تک سنگل ہی ہو یار۔۔!”
“بالکل سنگل۔۔!”

“یہ تو بہت بری بات ہے کہ تمہاری آمدنی کا بہت بڑا حصہ لغویات پر نہیں صرف ہوتا”۔
“تم شائد بہت زیادہ زیربار ہوجاتے ہو”۔ صفدر مسکرایا۔
“دو بیویاں ہیں! لیکن ایک کو دوسری کی خبر نہیں۔۔!”
“یہ کیسے ممکن ہے؟”
“دن ایک کے ہاں گزرتا ہے، رات دوسری کے ہاں”۔ ایک سمجھتی ہے کہ میں فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں! وہی جس کے ہاں رات بسر ہوتی ہے۔ اور دوسری سمجھتی ہے کہ میں ایک مل میں اسسٹنٹ ویونگ ماسٹر ہوں اور ہمیشہ رات کی ڈیوٹی پر رہتا ہوں”۔
“تو تم حقیقتا” کیا کرتے ہو؟”

“فلموں کے لئے کہانیاں لکھتا ہوں۔۔!” اس نے جواب دیا۔ “اور یہ کہانیاں کہیں بھی بیٹھ کر لکھی جاسکتی ہیں! اور کبھی ناوقت سیٹ پر جانا پڑا تو اس وقت والی بیوی سمجھتی ہے کہ اوورٹائم کر رہا ہو۔ یا شوٹنگ طویل ہوگئی ہے۔۔!”
“کما ل کے آدمی ہو۔۔!”
“بیویوں کو دھوکا دینا میری تفریح ہے!۔ اب تیسری کے امکانات پر غور کر رہا ہوں لیکن وقت کیسے نکالوں گا”۔
“واہ۔۔ تیسری بھی کرو گے۔۔!”

“کرنی ہی پڑے گی۔ دیکھو یار قصہ دراصل یہ ہے کہ زیادہ سے زیادہ شادیاں کرنے سے سالیوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔۔ اور سالیاں۔۔ ہا۔۔ اگر سالیاں نہ ہوں تو دنیا ویران ہوجائے!”
“مجھے تو اس نام ہی سے گھن آتی ہے”۔ صفدر نے کہا۔
“آہا۔ تو تم انہیں سالیوں کی بجائے بتاشیاں یا جلیبیاں کہہ لیا کرو! کیا فرق پڑتا ہے”۔
صفدر ہنسنے لگا اور تھوڑی دیر بعد یہ بھول ہی گیا کہ وہ یہاں کس لئے آیا تھا۔
کھیل ختم ہوجانے کے بعد وہ ڈائننگ روم میں آ بیٹھے۔ بھاری جبڑے والا ایک لاپرواہ اور فضول خرچ آدمی معلوم ہوتا تھا۔
کافی پیتے وقت اس نے صفدر سے کہا۔”یا مجھ پر ایک احسان کرو”۔
“کیا؟” صفدر چونک پڑا۔

اس نے کلائی کی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا۔ “چھ بج رہے ہیں لیکن میں رات والی بیوی سے آج پیچھا چھڑانا چاہتا ہوں۔ میں اس سے کہوں گا کہ تم اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہو۔ آج رات بھی شوٹنگ ہوگی۔ اس لئے ڈائریکٹر نے تمہیں ساتھ کردیا ہے تاکہ تم مجھے اپنے ساتھ ہی لے جا! ساڑھے سات بجے ہم گھر ہی پر رات کا کھانا کھائیں گے۔ تم برابر کہتے رہنا، بھئی جلدی چلو اور بس ہم آٹھ بجے تک گھر سے نکل آئیں گے۔کیوں؟ پھر ہم دونوں دوست ہوجائیں گے۔ اور تم آئندہ بھی ایسے مواقع پر میرے کام آیا کرنا!”
صفدر ہنسنے لگا۔ مگر بھاری جبڑے والے کی سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہ آیا!

“میں سنجیدہ ہوں دوست!” اس نے کہا۔ “اگر تم یہ کام نہ کرسکو تو صاف جواب دو۔ تاکہ میں کسی دوسرے کو پھانسوں! بس کسی اور کے ساتھ کچھ دیر کھیلنا پڑے گا! سارے ہی آدمی تمہاری طرح ٹھس تھوڑا ہی ہوں گے۔ ایڈوینچر کا شوق کسے نہیں ہوتا! بہتیرے پھنسیں گے!”
صفدر نے سوچا چلو دیکھا ہی جائے گا کہ یہ آدمی کس حد تک بکواس کر رہا ہے اور اسے بہرحال اس کے متعلق معلومات فراہم کرنی تھیں! پہلے چوری چھپے یہ کام سرانجام دینا پڑتا۔ مگر اب۔۔ اب تو وہ اسے کھلی ہوئی کتاب کی طرح پڑھ سکے گا۔
اس نے حامی بھر لی۔

باہر نکل کر بھاری جبڑے والے نے کہا۔ “یہ تو اور اچھی بات ہے کہ تمہاری کار بھی موجود ہے! اب وہ شبہ بھی نہ کرسکے گی کہ میں اسے الو بنا رہا ہوں۔ وہ تمہارے اسسٹنٹ ڈائریکٹر پر ایمان لے آئے گی”۔
“قطعی۔!” صفدر یوں ہی بولنے کے لئے بولا۔

وہ صفدر کی رہنمائی کرتا رہا اور پھر ماڈل کالونی کی ایک دور افتادہ عمارت کے سامنے کار روکنے کو کہا۔ عمارت نہ خوبصورت تھی اور نہ بڑی تھی۔ پائیں باغ ابتر حالت میں تھا۔ جس سے مالک مکان کی لاپرواہی یا مفلوک الحالی ظاہر ہو رہی تھی!
اس نے اسے نشست کے کمرے میں بٹھایا اور خود اندر چلا گیا!
صفدر سوچ رہا تھا کہ اسے فلموں یا فلموں کی شوٹنگ کے متعلق بالکل کچھ نہیں معلوم! اگر اس کی بیوی اس سلسلے میں اس سے کچھ پوچھ بیٹھی تو کیا ہوگا۔۔!

لیکن اس کے کچھ پوچھنے سے پہلے تین چار آدمی اس پر ٹوٹ پڑے۔ حملہ پشت سے ہوا تھا۔ اس لئے اسے سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
ایک نے اس کا منہ دبالیا تھا اور دو بری طرح جکڑے ہوئے دروازے کی جانب کھینچ رہے تھے۔ لیکن جب وہ اس طرح اسے کمرے سیباہر نہ لے جاسکے تو تین مزید آدمی ان کی امداد کے لئے وہاں آپہنچے۔ اور صفدر کشاں کشاں ایک تہہ خانے میں پہنچا دیا گیا۔ تہہ خانے کا علم تو اسے اس وقت ہوجا جب اس کی آنکھوں پر سے پٹی کھولی گئی۔ بعد میں آنے والے تین آدمیوں میں سے ایک نے اس کی آنکھوں پر رومال باندھ دیا تھا اور کسی نے دونوں ہاتھ پشت پر جکڑ دیئے تھے۔
لیکن جب آنکھوں پر سے رومال کھولا گیا تو اس کے سامنے صرف ایک ہی آدمی تھا اور یہ تھا وہی بھاری جبڑے والا جو اسے ٹپ ٹاپ نائٹ کلب سے یہاں تک لایا تھا!

“مجھے افسوس ہے دوست!” اس نے سر ہلا کر مغوم لہجے میں کہا۔ “اس وقت دونوں بیویاں یہاں موجود ہیں! اس لئے یہ ابتری پھیلی ہے۔ سالیوں کی بجائے دونوں طرف کے سالے اکھٹے ہوگئے ہیں اور انہیں شبہ ہے کہ تم ہی مجھے بہکایا کرتے ہو!”
صفدر نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے ہوئے اسے گھورتا رہا!

وہ کوشش کر رہا تھا کہ پشت پر بندھے ہوئے ہاتھ آزاد ہوجائیں! لیکن کامیابی کی امید کم تھی۔ اگر کسی طرح وہ اپنے ہاتھ استعمال کرنے کے قابل ہوسکتا تو اس بھاری جبڑے کے زاویوں میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں ضرور نظر آتیں کیونکہ وہ ایک بیجگر فائٹر تھا!
دفعتا بائیں جانب دیوار میں ایک دروازہ نما خلا نمودار ہوئی اور جوزف جھکا ہوا اندر داخل ہوا۔ اس کے سر پر پٹی چڑھی ہوئی تھی اور اس کے دونوں ہاتھ بھی پشت پر بندھے ہوئے تھے! سر شاید زخمی تھا! شاید یہ صفدر کی چھٹی حس ہی تھی جس نے اس کے چہرے پر حیرت کے آثار نہ پیدا ہونے دیئے اور جوزف تو پہلے ہی سے سر جھکائے کھڑا ہوا تھا! اس نے کسی طرف دیکھنا بھی نہیں تھا! اس کے چہرے پر نظر آنے والے آثار اکھڑے ہوئے نشے سے پیدا ہونے والی بوریت کی غمازی کر رہے تھے۔ زیادہ دیر تک شراب نہ ملنے پر اس کی پلکیں ایسی ہی بوجھل ہوجاتی تھیں کہ وہ کسی کی طرف دیکھنے میں بھی کاہلی محسوس کرتا تھا!

اچانک بھاری جبڑے والے نے صفدر سے پوچھا۔ ” یہ کون ہے؟”
“میں کیا جانوں!” صفدر غرایا۔ “کہیں تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!”
بھاری جبڑے والے کا قہقہہ کافی طویل تھا لیکن جوزف اب بھی سر جھکائے کسی بت کی طرح کھڑا رہا!ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے یہ آوازیں اس کے کانوں تک پہنچی ہی نہ ہوں۔ جو آدمی اسے یہاں لایا تھا اس کی رائفل کی نال اب بھی اس کی کمر سے لگی ہوئی تھی!
“تم بکواس کرکے کامیاب نہیں ہوسکتے دوست”۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ “تم عمران کے آدمی ہو! اور اس وقت بھی اس کے ساتھ تھے۔ جب وہ ندی پر مقبرہ کے قریب گھیرا گیا تھا”۔

“مجھے اس سے کب انکار ہے مگر میں اس آدمی کو نہیں جانتا”۔ صفدر نے لاپروائی سے کہا۔
“یہ عمران کا ملازم نہیں ہے؟” بھاری جبڑے والے نے غرا کر کہا۔
“میں نے تو کبھی عمران کے ساتھ نہیں دیکھا”۔ صفدر نے جواب د یا! وہ جانتا تھا کہ جوزف اب عمران کے ساتھ اس کے فلیٹ میں نہیں رہتا بلکہ مستقل طور پر رانا پیلس ہی میں اس کا قیام ہے۔ اس لئے وہ اس کے معاملے میں محتاط ہو کر زبان کھول رہا تھا!
“رانا تہور علی کو جانتے ہو؟”

“یہ نام میرے بالکل نیا ہے”۔ صفدر نے متحیرانہ لہجے میں کہا۔
“او۔۔ حبشی۔۔!” دفعتا وہ جوزف کی طرف مڑکر گرجا! “اب تم اپنی زبان کھولو۔ ورنہ تمہارے جسم کا ایک ایک ریشہ الگ کردیا جائے گا”۔
“جا۔۔” جوزف سر اٹھائے بغیر بھرائی سی آواز میں بولا! “پہلے میری پیاس بجھا! پھر میں بات کروں گا۔ تم لوگ بہت کمینے ہو۔ تمہیں شاید نہیں معلوم کہ شراب ہی میری زبان کھلواسکے گی”۔
“شراب نہیں مل سکے گی”۔

“تب پھر مجھے کسی کی بھی پروا نہیں! جو تمہارا دل چاہے کرو”۔
“ادھر دیکہو۔ کیا تم اس آدمی کو پہچانتے ہو؟” اشارہ صفدر کی طرف تھا۔
“کیوں دیکھوں؟ کیسے دیکھوں؟ میری آنکھوں کے سامنے غبار اڑ رہا ہے۔ مجھے اپنے پیر بھی صاف نہیں دکھائی دیتے۔ شراب لا۔ یا مجھے گولی مارد”۔

“پلا۔ اسے۔ پلا”۔ دفعتا بھاری جبڑے والا دونوں ہاتھ ملا کر غرایا ۔ “اتنی پلا کہ اس کا پیٹ پھٹ جائے”۔
رائفل والا جوزف کے پاس سے ہٹ کر پچھلے دروازے سے نکل گیا۔
“عمران کہاں ہے؟” وہ پھر صفدر کی طرف متوجہ ہوا۔
“اگر تم یہ جانتے ہو کہ میں اس دن عمران کے ساتھ تھا جب ہم پر چاروں طرف سے گولیاں برس رہی تھیں تو یہ بھی جانتے ہو گے کہ عمران کام آگیا تھااور میں بچ کر نکل گیا تھا”۔

“ہمیں تو اس پر یقین تھا کہ تم بھی نہ بچے ہوگے! لیکن آج تم ہاں میرے سامنے موجود ہو! تم اتنی چالاکی سے نکل گئے تھے کہ ہمیں پتہ ہی نہ چل سکا تھا”۔
“عمران گولی کھا کر دریا میں گر گیا تھا”۔ صفدر نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا! لیکن وہ ڈر رہا تھا کہ کہیں جوزف یہ جملے سن کر چونک نہ پڑے۔ اس وقت کی گفتگو سے اچھی طرح اندازہ کرچکا تھا کہ وہ رانا تہور علی اور عمران کی الجھن میں پڑ گئے ہیں۔
لیکن صفدر کے اندیشے بیبنیاد ثابت ہوئے کیونکہ جوزف کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی تھی اس نے نہ تو سر اٹھایا اور نہ کسی طرف دیکھا۔
تھوڑی دیر بعد قدموں کی آہٹ سنائی دی اور رائفل والا دیسی شراب کی دو بوتلیں لئے دروازے سے اندر داخل ہوا۔
“ایک بوتل کھول کر اس کے منہ سے لگا دو”۔ بھاری جبڑے والے نے کہا۔ تعمیل کی گئی! جوزف کے موٹے موٹے ہونٹ بوتل کے منہ سے چپک کر رہ گئے! بڑا مضحکہ خیز منظر تھا۔ ایسا ہی لگ رہا تھا کہ جیسے کسی بھوکے شیرخوار بچے نے دودھ کی بوتل سے منہ لگا کر چسر چسر شروع کردی ہو۔

آدھی بوتل غٹا غٹ پی جانے کے بعد اس نے بوتل کا منہ چھوڑ کر دو تین لمبی لمبی سانسیں لیں اور مسکرا کر بولا۔
“تم بڑے اچھے ہو! بڑے پیارے آدمی ہو! تم پر آسمان سے برکتیں نازل ہوتی رہیں! اور آسمانی باپ تمہیں اچھے کاموں کی توفیق دے”۔
بھاری جبڑے والا کینہ توز نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا۔ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے سالہا سال سے اسے مار ڈالنے کی خواہش پال رہا ہو! جوزف نے بقیہ آدھی بوتل بھی ختم کردی!

اب وہ کسی جاگتے ہوئے آدمی کی سی حالت میں آگیا تھا۔ آنکھیں سرخ ہوگئیں تھیں اور چہرے کی سیاہی چمکنے لگی تھی!
“ارے۔۔ یہ آدمی۔۔” دفعتا اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔ “ہاں! مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے اسے ایک آدھ بار مسٹر عمران کے ساتھ دیکھا تھا”۔
“لیکن میں نے تو تمہیں کبھی نہیں دیکھا”۔ صفدر نے غصیلی آواز میں کہا۔
“یہ بھی ممکن ہے مسٹر کہ تمہاری نظر مجھ پر کبھی نہ پڑی ہو”۔
“عمران کہاں ملے گا؟” بھاری جبڑے والا غرایا۔

“میں کیا بتا سکتا ہوں مسٹر”۔ جوزف نے متحیرانہ انداز میں پلکیں جھپکائیں۔ “بہت دنوں کی بات ہے جب میں مسٹر عمران کے ساتھ تھا۔ لیکن وہ میرے پینے پلانے کا بار سنبھالنے کی حیثیت نہیں رکھتے تھے۔ اس لئے انہوں نے خود ہی میرا پیچھا چھوڑ دیا۔۔ اس طرح میں نے اطمینان کا سانس لیا! ورنہ مجھے تو اس کا غلام رہنا ہی پڑتا ہے جو مجھے زیر کرلے۔ اور پھر میرا تو ڈاکٹر طارق والا مقدمہ بھی چل رہا ہے”۔
“کیسا مقدمہ۔۔؟”

اس پر جوزف نے ڈاکٹر طارق کی کہانی دہراتے ہوئے کہا۔ ماسٹر عمران نے مجھے بہت پیٹا تھا۔ وہ شاید پولیس کے لئے کام کرتے ہیں۔۔!”
بھاری جبڑے والا تھوڑی دیر تک کچھ سوچتا رہا پھر بولا! “رانا کون ہے؟”
“باس ہے میرا۔ جوزف نے فخر سے سینہ تان کر کہا۔
“وہ کہاں ملے گا۔۔؟”
“میں نہیں جانتا۔ ان سے تو بس کبھی کبھی ملاقات ہوتی ہے”۔
“عمران سے اس کا کیا تعلق ہے۔۔؟”

“میں کیا بتاسکتا ہوں مسٹر۔ میں کیا جانوں! میں نے کبھی ان کے ساتھ مسٹر عمران کو نہیں دیکھا”۔
“تم رانا کے پاس کیسے پہنچے تھے؟”
“بس یوں ہی میں ایک دن سڑک پر جا رہا تھا کہ ایک کار میرے پاس رکی! اس پر سے رانا صاحب اترے اور کہنے لگے میں نے پچھلے سال شاید تمہیں نیٹال میں دیکھا۔ میں نے کہا کہ میں تو دس سال سے اس ملک میں ہوں! انہوں نے کہا کہ ہوسکتا ہے ان کے ذہن میں کوئی اور ہو۔ پھر وہ مجھ سے میرے متعلق پوچھ گچھ کرنے لگے!۔۔ یہ۔۔ دوسری بوتل بھی مسٹر۔۔ خدا تمہیں ہمیشہ خوش رکھے اور عورت کے سائے سے بچائے۔ تم بہت نیک ہو”۔

بھاری جبڑے والے کے اشارے پر دوسری بوتل بھی کھولی گئی! اور جوزف چوتھائی پینے کے بعد بولا۔ “ہاں تو تم کیا پوچھ رہے تھے۔ برادر۔۔!”
“تم رانا کے پاس کیسے پہنچے تھے؟”
“ہاں۔۔ ہاں۔۔ شاید میں یہی بتا رہا تھا کہ وہ مجھ سے میرے بارے میں پوچھ گچھ کرنے لگے!”
“چلو کہتے رہو! رکو مت!” بھاری جبڑے والا بولا۔
“میں نے انہیں بتایا کہ مجھے نوکری کی تلاش ہے۔ انہوں نے پوچھا باڈی گارڈز کے فرائض انجام دے سکو گے! اوہ۔۔ بڑی آسانی سے میں نے انہیں بتایا اور یہ بھی کہا کہ میرا نشانہ بڑا عمدہ ہے اور میں کبھی ہیوی ویٹ چیمپین بھی رہ چکا ہوں۔ وہ بہت خوش ہوئے اور مجھے نوکر رکھ لیا! میں ان کے پیسنے کی جگہ خون بھی بہا سکتا ہوں۔ لارڈ آدمی ہیں۔ کبھی نہیں پوچھتے کہ میں دن بھر میں کتنی بوتلیں صاف کردیتا ہو”۔
بھاری جبڑے والا پھر کسی سوچ میں پڑ گیا! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اس کے بیان پر تذبذب میں پڑ گیا ہو۔

دوسری طرف صفدر پر جوزف کے جوہر پہلی بار کھلے تھے! وہ اب تک اسے پرلے درجے کا ایڈیٹ ہی تصور کرتا رہا تھا! لیکن اس وقت تو عمران ہی کا یہ قول کرسی نشین ہوا تھا کہ جوزف ایک نادر الوجود شکاری کتا ہے۔ سادہ لوحی اور چیز ہے! لیکن بیضرر نظر آنے والاے کتے بھی شکار کے وقت اپنی تمام تر صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں! بشرطیکہ وہ شکاری ہوں! جوزف پر صحیح معنوں میں یہ مثال صادق آتی تھی۔
“دیکھو میں تمہاری ہڈیاں چور کردوں گا۔ ورنہ مجھ سے اڑنے کی کوشش نہ کرو”۔
“بس یہ بوتل ختم کر لینے دو! اس کے بعد جو دل چاہے کرنا!” جوزف نے ہونٹ چاٹتے ہوئے کہا۔

“صرف ایک دن کی مہلت اور دی جاتی ہے۔ تم عمران کا پتہ بتا اور تم رانا تہور علی کا۔۔!” بھاری جبڑے والا ہاتھ اٹھا کر بولا۔
وہ رائفل والے کو اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کرتا ہوا دروازے سے نکل گیا اور پھر وہ دروازہ بھی غائب ہوگیا۔ دیوار برابر ہوگئی تھی۔
جوزف دوسری برتل کی طرف ندیدوں کی طرح دیکھنے لگا جس میں ابھی تین چوتھائی شراب باقی تھی۔ اس پر کاگ بھی نہیں تھا۔
وہ تھوڑی دیر تک حسرت بھری نظروں سے اسے دیکھتا رہا پھر پشت پر بندھے ہوئے ہاتھوں کے بل فرش پر نیم دراز ہوگیا! دیکھتے ہی دیکھتے بوتل دونوں پیروں میں دبائی اور پیر سر کی طرف اٹھنے لگے۔۔ اور بوتل کا منہ اس کے ہونٹوں سے جالگا!
صفدر کھڑا پلکیں چھپکاتا رہا! “غٹ غٹ” کی صدائیں تہہ خانے کے سکوت میں گونج رہی تھیں۔ بوتل خالی ہوئے بغیر ہونٹوں سے نہ ہٹ سکی۔

دفعتا کھٹاکے کی آواز آئی اور بھاری جبڑے والا پھر اندر داخل ہوا اس بار اس کے اس کے ہاتھ میں چمڑے کا چابک تھا! نہ جانے کیوں جوزف مسکرا پڑا مگر وہ جوزف کی طرف متوجہ نہیں تھا!
“سرسوکھے رام کو عمران کی تلاش کیوں ہے؟” اس نے صفدر سے پوچھا!
“میں نہیں جانتا”۔
“تم جانتے ہو۔۔!” وہ چابک زمین پر مارتا ہوا دہاڑا۔
“میرے ہاتھ کھول دو۔ پھر اس طرح اکڑوں تو یقینا مرد کہلا گے”۔
اس بار چابک صفدر کے جسم پر پڑا اور وہ تلملا گیا۔
“بتا!”

صفدر اس کی طرف جھپٹا لیکن اس نے اچھل کر پیچھے ہٹتے ہوئے پھر چابک گہما دیا! اس طرح صفدر نے کئی چابک کھائے! اور یک بیک سست پڑ گیا! یہ حماقت ہی تو تھی کہ وہ اس طرح پٹ رہا تھا! ادھر جوزف کا یہ حال تھا کہ وہ کوشش کے باوجود بھی فرش سے نہیں اٹھ سکتا تھا! پورے چھتیس گھنٹوں کے بعد اسے شراب ملی تھی اور اس نے یہ دو بوتلیں جس طرح ختم کی تھیں اس طرح کوئی دوسرا پانی بھی نہ پی سکتا!
“میں نہیں جانتا۔۔!”
“ڈھمپ اینڈ کو کا اصل بزنس کیا ہے؟”
“فارورڈنگ اینڈ کلیرنگ۔۔!”
“تم وہاں کام کرتے ہو؟”
“ہاں۔۔!”

“پھر عمران کا اور تمہارا کیا ساتھ۔۔؟”
“مجھے شوق ہے سراغرسانی کا”۔ صفدر بولا۔ “عمران کی وجہ سے میں بھی اپنا یہ شوق پورا کرسکتا ہوں کیونکہ وہ پولیس کے لئے کام کرتا ہے”۔
“تمہارے دفتر کی اسٹینو ٹائپسٹ جولیا کا عمران سے کیا تعلق ہے؟”
“یہ وہی دونوں بتا سکیں گے!” صفدر نے ناخوشگوار لہجے میں کہا۔
بھاری جبڑے والا کھڑا دانت پیستا رہا۔ پھر آنکھیں نکال کر آہستہ آہستہ بولا۔ “تم مجھے نہیں جانتے! میں تمہارے فرشتوں سے بھی اگلوالوں گا! خواہ اس کے لئے تمہارا بند بند بھی کیوں نہ الگ کرنا پڑے۔۔!”
وہ پیر پٹختا ہوا چلا گیا! دیوار کی خلا اس کے گذرتے ہی پر ہوگئی تھی! ایک تختہ سا بائیں جانب کھسک کر دوسری جانب کی دیوارسے جا ملتا تھا!

جیسے ہی جولیا کی نظر سرسوکھے پر پڑی وہ ستون کی اوٹ میں ہوگئی۔ یہاں پام کا بڑا گملا رکھا ہوا تھا اور پام کے پتے اسے چھپانے کے لئے کافی تھے۔ وہ سرسوکھے سے بھاگنے لگی تھی! کیونکہ وہ اسے بیحد بور کرتا تھا! وہ پرانی کہانی جس کا سلسلہ میں وہ عمران کا تعاون حاصل کرنا چاہتا تھا بار بار دہرائی جاتی! اور پھر اس کے ساتھ سرسوکھے کی اداسی بھی تو تھی! اسے غم تھا کہ اس کے آگے پیچھے کوئی نہیں ہے۔ کوئی ایسا نہیں ہے جسے وہ اپنا کہہ سکے! جوانی ہی میں موٹاپا شروع ہوگیا تھا اور اسی بنا پر خود اس کی پسند کی لڑکیاں اسے منہ لگانا پسند نہیں کرتی تھیں۔۔ وہ جولیا سے یہ ساری باتیں کہتا رہتا! ٹھنڈی سانسیں بھرتا اور کبھی کبھی اس کی آنکھوں میں آنسوتیرنے لگتے! جنہیں وہ چھپانے کے لئے وہ طرح طرح کے منہ بناتا! اور ہزاروں قہقہے جولیا کے سینے میں طوفان کی سی کیفیت اختیار کرلیتے پھر اسے کسی بہانے سے اس کے پاس سے اٹھ جانا پڑتا۔۔ وہ کسی باتھ روم میں گھس کر پیٹ دبا دبا کر ہنستی۔۔! اکثر سوچتی کہ اسے تو اس سے ہمدردی ہونی چاہیئے! پھر آخر اسے اس پر تا کیوں آتا ہے۔۔

وہ غور کرتی تو سرسوکھے کی زندگی اسے بڑی دردناک لگتی! لیکن زیادہ سوچنے پر اسے یا تو ہنسی آتی یا غصہ آتا! کبھی وہ سوچتی کہ کہیں سرسوکھے اس کام کے بہانے اس سے قریب ہونے کی کوشش تو نہیں کر رہا! اس خیال پر غصے کی لہر کچھ اور تیز ہوجاتی! مگر پھر کچھ دیر بعد ہی اس شام کا خیال آجاتا جب وہ اس کے دفتر میں بیٹھی سونے کی اسمگلنگ کی کہانی سن رہی تھی اور دوسرے کمرے کی میز الٹنے کی آواز نے انہیں چونکا دیا تھا! اور پھر اس نے میز کی سطح پر پیروں کے نشانات محفوظ کئے تھے۔۔! وہ سوچتی رہی اور اس نتیجے پر پہنچی کہ وہ حقیقتا پریشانیوں میں مبتلا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ ہر قسم کی پریشانیوں کا تذکرہ بیک بوقت کردینے کا عادی ہو!
وہ روزانہ شام کو عمران کی تلاش میں نکلتے تھے! لیکن آج کے لئے جولیا نے ایک ضروری کام کا بہانہ کرکے اس سے معافی مانگ لی تھی۔۔! لیکن وہ گھر میں نہ بیٹھ سکی! شام ہوتے ہی اس نے سوچا آج تنہا نکلنا چاہیئے! مقصد عمران کی تلاش کے علاوہ اور کچھ نہیں تھا! وہ ٹپ ٹاپ نائٹ کلب کے پورچ میں پہنچی ہی تھی کہ اچانک غیر متوقع طور پر سرسوکھے نظر آگیا تھا! وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ آج وہ بھی وہیں آ مرے گا۔

جیسے ہی وہ پورچ میں پہنچا! جولیا گملے کی آڑ سے نکلی اور جھپٹ کر کلرک روم میں د اخل ہوگئی! یہاں سے ایک راہداری براہ راست ریکریئشن ہال میں جاتی تھی! جہاں آج اسکیٹنگ کا پروگرام تھا۔۔!
وہ بڑی بدحواسی کے عالم میں یہاں پہنچی!
“اف خدا۔۔” وہ بڑبڑائی اور اس کا سر چکرا گیا! کیونکہ سرسوکھے دوسرے دروازے سے ریکریئشن ہال میں داخل ہوا تھا! ویسے اس کی توجہ جولیانا کی طرف نہیں تھی! جولیانا کلوک روم والی راہداری ایک گیلری میں لائی تھی۔ اس نے ذہنی انتشار کے دوران فیصلہ کیا کہ سرسوکھے سے تو کھوپڑی نہیں چٹوائے گی خواہ کچھ ہوجائے۔ پھر؟

وہ جھپٹ کر ایک میز پر جا بیٹھی جہاں ایک اداس آنکھیوں والا نوجوان پہلے ہی سے موجود تھا۔
“معاف کیجیئے گا!” جولیا نے کہا۔ ذرا سر چکرا گیا ہے۔۔۔ ابھی اٹھ جاں گی”۔
“کوئی بات نہیں محترمہ!” وہ بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔
جولیا نے آنکھوں پر رومال رکھ کر سرجھکا لیا اور چڑھتی ہوئی سانسوں پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگی۔۔!
“کیسی طبعیت ہے۔۔ آپ کی؟” تھوڑی دیر بعد نوجوان نے پوچھا!
“اوہ۔۔ جی ہاں۔۔ بس ٹھیک ہی ہے۔۔ اب۔۔!”
“برانڈی منگوا ں۔۔!”

“جی نہیں شکریہ! میں اب بالکل ٹھیک ہوں!” وہ سر اٹھا کر بولی۔
“آج کل موسم بڑا خراب جارہا ہے!” نوجوان بولا۔
“جی ہاں۔۔ جی ہاں۔۔ یہی بات ہے”۔
یہ دبلے چہرے والا مگر وجیہہ نوجوان تھا! اس کی آنکھوں کی غم آلود نرماہٹ نے اسے کافی دلکش بنادیا تھا۔ پیشانی کی بناوٹ بھی نرم دلی اور اور ایمانداری کا اعلان کر رہی تھی۔۔!

“میں اس شہر میں نوارد ہوں”۔ جولیا نے کہا۔ “مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہاں اسکیٹنگ بھی ہوتی ہے! مجھے بیحد شوق ہے۔ اس کا!”
“جی ہاں”۔ اس نے تھکی ہوئی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔ “دلچسپ کھیل ہے”۔
“آپ کو پسند ہے؟”
“بہت زیادہ۔۔!” نوجوان کا لہجہ بیحد خم انگیز تھا۔۔!

ٹھیک اسی وقت سرسوکھے ان کے قریب پہنچا! جولیا کی نظر غیر ارادی طور پراس کی طرف اٹھ گئی تھ اور وہ بطور اعتراف شناسائی سر کو خفیف سی جنبش دے کر آگے بڑھ گیا تھا! جولیا بھی بادل ناخواستہ مسکرائی تھی۔
بہرحال اس کے اس طرح آگے بڑھ انے پر اس کی جان میں جان آئی تھی وہ اس پر یہ بھی نہیں ظاہر کرنا چاہتی تھی کہ اس سے بچنے کی کوشش کر رہی ہے! سرسوکھے آگے بھ کر ایک میز پر جا بیٹھا تھا! جولیا سوچ رہی تھی کہ اگر وہ اس میز سے اٹھی اور سرسوکھے کو شبہ بھی ہوگیا کہ وہ تنہا ہے تو وہ تیر کی طرح اس کی طرف آئے گا۔

اتنے میں اسکیٹنگ کے لئے موسیقی شروع ہوگئی! اور جولیا نے اس انداز میں نوجوان کی طرف دیکھا جیسے مطالبہ کر رہی ہو کہ مجھ سے رقص کی درخواست کرو! مگر نوجوان خالی آنکھوں سے اس کی طرف دیکھتا رہا۔۔!
جولیا نے سوچا بدھو ہے لہذا اس نے خود ہی کہا! “اگر آپ کو اسکیٹنگ سے دلچسپی ہے ۔۔ تو۔۔ آئیے۔۔!”
“میں۔۔!” نوجوان کے لہجے میں تحیر تھا! پھر اس کی آنکھوں کی اداسی اور گہری ہوگئی۔۔! اس نے چھبتے ہوئے لہجے میں پوچھا۔ “آپ میرا مذاق کیوں اڑا رہی ہیں محترمہ؟”
“میں نہیں سمجھی!” جولیا بوکھلا گئی!

“یا آپ یہ بیساکھی نہیں دیکھ رہی ہیں!” اس نے ایک کرسی سے ٹکی ہوئی بیساکھی کی طرف اشارہ کیا۔
جولیا کی نظریں اگر پہلے اس پر پڑی بھی ہوگی تو اس نے دھیان نہ دیا ہوگا! بہرحال اب وہ کٹ کر رہ گئی!
“اوہ۔۔ معاف کیجیئے گا!” اس نے لجاجت سے کہا۔ ” میں نے خیال نہیں کیا تھا میں بیحد شرمندہ ہوں جناب! کیا آپ معاف نہیں کریں گے؟”
“کو ئی بات نہیں!” وہ ہنس پڑا۔ اس کا بیاں پیر شاید کسی حادثے کی نظر ہو کر گھٹنے کے پاس سے کاٹ دیا گیا تھا اور اب لکڑی کا ایک ڈھانچہ پنڈلی کا کام دے رہا تھا۔ “یہ کیسے ہوا تھا؟” جولیا نے پوچھا۔ وہ سچ مچ اس کے لئے غمگین ہوگئی تھی!

“فوجیوں کی زندگی میں ایسے حادثات کوئی اہمیت نہیں رکھتے”۔ اس نے کہا اور بتایا کہ وہ پچھلی جنگ عظیم میں اطالولیوں کے خلاف لڑا تھا اور مورچے پر ہی اس کی بائیں ٹانگ ایک حادثہ کا شکار ہوگئی تھی! وہ سیکنڈ لیفٹنٹ تھا۔ بات لمبی ہوتی گئی اور وہ جنگ کے تجربات بیان کرتا رہا۔ تھوڑی ہی دیر بعد جولیا نے محسوس کیا کہ اب اس میز سے اٹھنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوسکتا! اس کے بعد بھی وہ تھوڑی دیر تک ادھر ادھر کی گفتگو کرتے رہے۔ پھر پہلا دور ختم ہوگیا۔۔! نوجوان نے کافی منگوائی اور جولیا کو انکار کے باجود بھی پینی ہی پڑی! ویسے بھی وہ اس مغوم نوجوان کی درخواست رد نہیں کرنا چاہتی تھی۔

کچھ دیر بعد کسی جانب سے ایک خوبصورت اور صحت مند نوجوان ان کی طرف آیا اور جولیا سے ساتھی بننے کی درخواست کی۔ جولیا اس کی آواز سن کر چونک پڑی۔ “اگر کوئی حرج نہ ہو تو۔۔!” وہ کہہ رہا تھا۔ “ضرور۔۔ ضرور۔۔!” جولیا مسکراتی ہوئی اٹھ گئی تھی! ساتھ ہی اس نے لنگڑے نوجوان کی طرف دیکھ کر سر ہلایا اور یہ بھی محسوس کیا تھا کہ وہ کھسیاسا گیا ہے لیکن یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ اس آدمی کی درخواست رد کردیتی جس کے لئے خود اتنے دنوں سے بھٹکتی پھر رہی تھی! صورت سے تو وہ اسے ہرگز نہ پہچان سکتی کیونکہ وہ میک اپ میں تھا لیکن جب اپنی اصلی آواز میں بولا تھا تو جولیا اسے کیوں نہ پپہچان لیتی وہ عمران کے علاوہ اور کوئی نہیں ہوسکتا تھا!
وہ اس جگہ آئے جہاں اسکیٹس ملتے تھے! جلدی جلدی انہیں جوتوں سے باندھا اور چوبی فرش پر پھسل آئے! عمران اس کے دونوں ہاتھ پکڑے ہوئے تھا!

“تم کہاں تھے درندے؟” جولیا نے پوچھا!
“شکار پر۔۔!” عمران نے جواب دیا! پھر بولا۔ “تم اس شام ندی پر کیوں دوڑی آئی تھیں؟”
“یہ اطلاع دینے کیلئے کہ تمہاری موت پر کرائے کے رونے والے بھی نہ مل سکیں گے!”
“لیکن میں تمہیں اس وقت یہ اطلاع دینا چاہتا ہوں کہ تمہارا پورا دفتر ان لوگوں کی نظروں میں آگیا ہے”۔
“پھر کیا کرنا چاہی؟”

“پرواہ مت کرو!” لیکن فی الحال یہ بھول جا کہ تمہارے ساتھ کبھی کوئی عمران بھی تھا! میں نے انہیں شہبے میں مبتلا کردیا ہے۔ کبھی انہیں میری موت پر یقین سا آنے لگتا ہے اور کبھی وہ میری تلاش شروع کردیتے ہیں”۔
“ایک آدمی اور بھی تمہاری تلاش میں ہے”۔ جولیا نے کہا اور سرسوکھے کا واقعہ بتایا۔
“فی الحال میں اس کے لئے کچھ نہیں کرسکتا!”

“ایکس ٹو تو اس کے کیس میں دلچسپی لے رہا ہے اور میں بڑی شدت سے بور ہو رہی ہوں”۔
“ہوسکتا ہے وہ اس لئے دلچسپی لے رہا ہو کہ تم میری تلاش جاری رکھو! خوب بہت اچھے یہ ایکس ٹو تو یقینا بھوت ہے وہ شاید مجرموں پر یہی ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ عمران کے ساتھیوں کو بھی اس کی موت پر یقین نہیں آیا۔۔ اچھا جولیا تم دن میں تین چار بار میرے فون نمبر پر رنگ کرکے سلیمان سے میرے متعلق پوچھتی رہو! میرا خیال ہے کہ وہ لوگ میرا فون ٹیپ کر رہے ہیں! سرسوکھے کے ساتھ مل کر میری تلاش بھی جاری رکھو!”

“اس کی رام کہانیاں مجھے بور کرکے مار ڈالیں گی!”
“اگر تم اتنی آسانی سے مر سکو تو کیا کہنے ہیں!” عمران نے کہا اور جولیا نے اسے لاکھوں سلواتیں سنا ڈالیں۔
وہ کچھ دیر خاموشی سے اسکیٹنگ کرتے رہے پھر جولیا نے کہا۔
“سرسوکھے یہیں موجود ہے۔۔!”
“کہاں۔۔؟”

جولیا نے بتایا! عمران کنکھیوں سے موٹے آدمی کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔ “یہ تو صحیح معنوں میں پہاڑی معلوم ہوتا ہے کیا تم اس کے ساتھ اسکیٹنگ نہیں کرو گی؟”
جولیا نے اسے بتایا کہ کس طرح اس سے پیچھا چھڑانے کے لئے وہ ایک لنگڑے آدمی کے پاس جا بیٹھی تھی!
“بہت بری بات ہے۔۔! موٹاپا اپنے بس کی بات نہیں”۔ عمران نے مغوم لہجہ میں کہا! “تمہیں اس سے شادی کر لینی چاہیئے!”
“میں تمہارا گلا گھونٹ دوں گی۔۔!” جولیا جھلا گئی۔
“آ ج کل تو سب ہی مجھے مار ڈالنے کی تاک میں ہیں۔۔ ایک تم بھی سہی”۔

جولیا نچلا ہونٹ دانتوں میں دبائے اسکیٹنگ کرتی رہی۔۔! اس غیر متوقع ملاقات سے پہلے اس کے ذہن میں عمران کے متعلق ہزاروں باتیں تھیں جنہیں اس وقت قدری طور پر اس کی زبان میں آنا چاہیئے تھا! لیکن وہ محسوس کر رہی تھی کہ اب اس کے پاس جھنجھلاہٹ کے علاوہ اور کچھ نہیں رہ گیا! ویسے یہ اور بات ہے کہ اس جھنجھلاہٹ کو بھی اظہار کے لئے الفاظ نہ ملتے۔۔!
تو گویا یہ عمران اس کے لئے سوہان روح بن کر رہ گیا تھا! اس کی عدم موجودگی اس کے لئے بیچینی اور اضطراب کا باعث بنتی تھی! لیکن جہاں مشکل نظر آئی تا آگیا۔۔ وہ تا لانے والی باتیں ہی کرتا ھا۔۔!

جولیا کا ذہن بہک گیا تھا اور وہ کسی ننھی سی بچی کی طرف سوچ رہی تھی! یہ بھول گئی تھی کہ وہ کون ہے اور کن ذہنی بلندیوں پر رہتی ہے۔ “غالبا۔۔ تم میرے فیصلے پر نظرثانی کر رہی ہو”۔ عمران نے کچھ دیر بعد مسکرا کر کہا۔ “کیا مطلب۔۔؟” “یہی کہ تمہیں سرسوکھے سے شادی کر ہی لینی چاہیئے!” عمران نے سنجیدگی سے کہا۔ “ہوسکتا ہے اس کے بعد ہی وہ صحیح معنوں میں سرسوکھے کہلانے کا مستحق ہوسکے۔ جولیا نے جھٹکا دے کر اپنے ہاتھ اس سے چھڑا لیئے اور تھوڑا سا کترا کر تنہا پھسلتی چلی گئی۔

گیارہ بجے وہ گھر پہنچی! سرسوکھے سے اس کی گفتگو نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ ٹپ ٹاپ کلب میں زیادہ دیر نہیں بیٹھا تھا!۔۔ جولیا تنہا اسکیٹنگ کرتی رہی تھی! لیکن جب اس نے تقریبا دس منٹ بعد دوبارہ عمران کی تلاش شروع کی تو معلوم ہوا کہ وہ بھی ہال میں موجود نہیں ہے پھر اب وہ وہاں ٹھہر کر کیا کرتی۔ گھر پہنچی تو قفل کھولتے وقت کاغذ کی کھڑکھڑاہٹ محسوس ہوئی اور قفل سے ایک رول کیا ہوا کاغذ کا ٹکڑا پھنسا ہوا ملا۔

جولیا نے اسے کھینچ کر ٹارچ کی روشنی میں دیکھا!
اس پر پنسل کی تحریر نظر آئی!
“جولیا ! جب بھی واپس آ! فورا مجھے رنگ کرو”۔
صفدر۔”
“کیا مصیبت ہے؟” وہ تھکے تھکے سے انداز میں بڑبڑائی تھی۔

دروازہ کھول کر وہ خواب گاہ میں آئی یہیں فون تھا! اس پر صفدر کے نمبر رنگ کئے۔
“ہیلو۔۔ کون۔۔ جولیا! دوسری طرف سے آواز آئی! “اوہ۔۔ بس میں تو صرف یہ معلوم کرنا چاہتا تھا کہ تم کب گھر پہنچتی ہو؟”
“کیوں؟” “چند بہت ہی اہم باتیں ہیں۔ میں وہیں آرہا ہوں! پہچنے میں زیادہ سے زیادہ پندرہ منٹ لگیں گے!”

جولیا نے برا سا منہ بنا کر سلسلہ منقطع کردیا! وہ اب صرف سونا چاہتی تھی لیکن صفدر اتنی رات گئے اس سے کیوں ملنا چاہتا ہے؟
وہ اس کا انتظار کرنے لگی۔۔ پھر صفدر وعدہ کے مطابق پندرہ منٹ کے اندر ہی اندر وہاں پہنچ گیا تھا۔
“کیوں۔۔ اتنی رات گئے؟” جولیا نے متحیرانہ انداز میں پوچھا۔ “صرف ایک بات معلوم کرنا چاہتا ہوں کہ سرسوکھے رام کون ہے اور عمران کو کیوں تلاش کر رہا ہے”۔

“کیوں معلوم کرنا چاہتے ہو؟” یہ سوال غیر ارادی طور پر ہوا تھا۔ “کیونکر کچھ لوگ مجھ سے معلوم کرنا چاہتے ہیں”۔ صفدر نے اپنی کہانی چھیڑ دی۔ “مگر پھر تم یہاں کیسے نظر آرہے ہو”۔ جولیا نے اس کے خاموش ہوجانے پر پوچھا۔ “یہ جوزف جیسے گدھے کا کارنامہ ہے! واقعی عمران کا انتخاب بھی لاجواب ہوتا ہے”۔ “مگر میں نے سنا ہے وہ اب عمران کے ساتھ نہیں رہتا۔ “اسی پر تو حیرت ہے!” صفدر نے کہا! حالانکہ اسے ذرہ برابر بھی حیرت نہیں تھی کیونکہ وہ جوزف کی جائے قیام سے اچھی طرح واقف تھا! لیکن ایکس ٹو کی ہدایت کے مطابق اسے پراسرار رانا پیلس کو راز ہی رکھنا تھا!

“خیر تو پھر تم لوگ رہا کیسے ہوئے؟” جولیا نے پوچھا۔ “جوزف نے ایک خالی بوتل پیروں میں دبا کر دیوار پر کھینچ ماری تھی اور پھر اس کا نیک ٹکڑا دانتوں میں دبائے ہوئے میرے پاس آیا تھا۔ ہم دونوں ہی کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوئے تھے۔ اس نے اسی شیشے کے ٹکڑے سے میرے ہاتھوں کی ڈور کاٹنی شروع کردی! وہ شیشے کا ٹکڑا منہ میں دبائے کسی نہ تھکنے والے جانور کی طرح اپنے کام میں مشغول رہا۔ آخرکار اسے کامیابی ہی ہوئی۔ رسی کٹتے ہی میرے ہاتھ آزاد ہوگئے! پھر میں نے جوزف کے ہاتھ بھی کھول دیئے لیکن اس خدشے کی بنا پر کچھ دیر پریشان بھی ہونا پڑا کہ کہیں کوئی آ نہ جائے۔ اب ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے رہنا بھی ہمیں کھل رہا تہا اس لئے تہہ خانے سے باہر نکلنے کے سلسلے میں ہم نے اپنی جدوجہد تیز کردی۔ ہمیں وہاں کسی ایسی چیز کی تلاش تھی جس سے دیوار میں دروازہ نما خلا پیدا کی جاسکتی!”
جولیا کچھ نہ بولی! صفدر نے ایک سگریٹ سلگایا اور دو تین ہلکے ہلکے کش لئے!

لیکن نہ جانے کیوں وہ سوالیہ انداز میں جولیا کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔ کچھ دیر بعد اس نے کہا۔ “یہ ناممکن ہے کہ عمران تم سے نہ ملا ہو”۔
“ابھی تمہاری پچھلی بات پوری نہیں ہوئی”۔ جولیا ناخوشگوار لہجے میں بولی۔
“پھر کوئی بات ہی نہیں رہ گئی تھی! ہم جلدہی اس دروازے کے میکنزم کا پتہ لگانے میں کامیاب ہوگئے! تہہ خانے کے اوپر۔۔ عمارت سنسان پڑی تھی! کسی جگہ بھی روشنی نہ دکھائی دی۔ وہ لوگ موجود نہیں تھے! ایک کھڑکی سے میں نے کمپانڈ میں جھانکا۔ باہر ایک آدمی موجود تھا اور برآمدے کا بلب روشن تھا! اس آدمی نے چوکیداروں کی سی وردی پہن رکھی تھی! جوزف کسی بلی کی طر برآمدے میں رینگ گیا۔ کمال کا پھرتیلا آدمی ہے۔۔ بالکل کسی تیندوے کی طرح اور تیزی سے جھپٹنے والا! چوکیدار کے حلق سے ہلکی سی آواز بھی نہیں نکل سکی تھی! پھر جلد ہی وہ اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا تھا۔۔ اس طرح ہم وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہوئے تھے”۔
“پھر کیا کیا تم نے۔۔؟”

“کچھ بھی نہیں! میں اپنی ذمہ داری پر کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا”۔
“جولیا نے کچھ کہے بغیر ایکس ٹو کے نمبر ڈائیل کئے۔۔!
اور دوسری طرف سے آواز آئی۔ “دانش منزل پلیز”۔
عمران نے حال ہی میں ایکس ٹو کے پرائیویٹ فون سے ایک ٹیپ ریکارڈ اٹیچ کردیا تھا اور اس کا سسٹم کچھ اس قسم کا تھا کہ رنگ کرنے والے کو ادھر سے ریسور اٹھاے بغیر ہی جواب مل جاتا تھا! اس میں مختلف قسم کے احکامات تھے۔ آج کل کے ٹیپ پر “دانش منزل پلیز” ہی چل رہا تھا کیوں کہ عمران فلیٹ میں ہوتا ہی نہیں تھا! ظاہر ہے کہ ایسے کسی زمانے میں اس کی پناہ گاہ دانش منزل ہی ہوسکتی تھی جب کچھ نامعلوم لوگ اسے مار ڈالنے کے درپے ہوں۔

جولیا نے سلسلہ منقطع کرکے دانش منزل کے لئے ٹرانسمیٹر نکالا! اور بولی۔ ” ہیلو۔۔ ہیلو۔۔ ایکس ٹو پلیز۔۔! ایکس ٹو۔۔ ہلو۔۔ ہلو۔۔ ایکس ٹو۔ ایکس ٹو”۔
“ہلو۔۔!” آواز آئی اور یہ ایکس ٹو ہی کی آواز تھی۔
“یہاں صفدر موجود ہے۔۔!”
“تو پھر۔۔!”
“وہ کچھ کہنا چاہتا ہے۔۔ کیا فون استعمال کیا جائے”۔
“میں جانتا ہوں وہ جو کچھ کہنا چاہتا ہے۔ اس سے کہو کہ دو دن کی تھکن بڑی اچھی نیند لاتی ہے”۔
“بہتر ہے!”

“غالبا تم سوچ رہی ہوگی کہ اس عمارت پر چھاپہ کیوں نہ مارا جائے”۔
“جی ہاں قدرتی بات ہے”۔
“لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہیئے کہ مجھے سرغنہ کی تلاش ہے۔ وہ اس عمارت میں نہیں تھا! اور اب تو وہاں تمہیں ایک پرندہ بھی نہیں ملے گا!”
“میرے لئے کیا حکم ہے؟”
“وقت آنے پر مطلع کیا جائے گا۔ اور کچھ؟”
“جی نہیں!”
“اوور اینڈ آل۔۔!”

جولیا نے سوئچ آف کردیا اور صفدر کی طرف مڑی جو بہت زیادہ متحیر نظر آرہا تھا!
“یہ سب کچھ جانتا تھا!” صفدر نے آہستہ سے کہہ کر جلدی جلدی پلکیں جھپکائیں اور ختم ہوئے سگریٹ سے دوسرا سگریٹ سلگانے لگا۔ پھر دو تین گہرے کش لے کر بولا۔ ” وہ جانتا تھا مگر اس نے مطلق پرواہ نہ کی کہ مجھ پر کیا گذرے گی!”
“مگر تمہیں تو عمران نے اس آدمی کے تعاقب کے لئے کہا تھا”۔
“عمران۔ نتائج کا ذمہ دار تو نہیں ہے!” صفدر نے کہا! “ایکس ٹو کو علم تھا آخر اس نے ہماری مدد کیوں نہیں کی؟”
“صفدر صاحب آپ کو تعاقب کے لئے کہا گیا تھا! اس سے دور رہ کر اس کی نظروں سے بچ کر! عمران نے یہ تو نہ کہا ہوگا کہ آپ اس کے ساتھ بلیرڈ کھیلنا شروع کردیں”۔
“ہاں مجھ سے ہی غلطی ہوئی تھی”۔

“ہوسکتا ہے اسی غلطی کی پاداش میں یہ تمہاری سزا رہی ہو کہ ایکس ٹو نے حالات سے واقف ہونے کے باوجود بھی تمہاری کوئی مدد نہ کی!”
صفدر کچھ نہ بولا! اس کی بھنویں سمٹ گئی تھیں اور پیشانی پر کئی سلوٹیں ابھر آئی تھیں!
کچھ دیر بعد جولیا نے جوزف کا تذکرہ چھیڑدیا!
“وہ عمران ہی کی طرح عجیب ہے! بظاہر ڈیوٹ۔ لیکن۔ بہرحال اس نے مجھے کسی طرح بھی یہ نہیں بتایا کہ وہاں کیسے پہنچا تھا!”
“مگر اب وہ رہتا کہاں ہے؟”
“خدا جانے۔۔!”
“عمران کے فلیٹ میں تو بہت دنوں سے نہیں دیکھا گیا”۔

“ہوں۔ یہ بتا۔ سرسوکھے کا کیا قصہ ہے۔ یہ کون ہے؟” وہ عمران کو کیوں تلاش کر رہا ہے! وہ لوگ یہ بھی جاننا چاہتے ہیں کہ سرسوکھے عمران کی تلاش میں کیوں ہے اور اس نے ہمارے دفتر سے کیوں رابطہ قائم کیا ہے۔۔!”
“سرسوکھے یہاں کا ایک دولت مند آدمی ہے! وہ اس لئے ہمارے فرم سے رجوع ہوا ہے کہ ہم اس کی فرم کے لئے فارورڈنگ اور کلیرنگ کریں! لیکن میں یہ نہیں جانتی کہ اسے عمران کی تلاش کیوں ہے! یہ تو بہت برا ہوا کہ آفس بھی ان کی نظروں میں آگیا ہے”۔
“میرا تو خیال ہے کہ وہ ہمارے چیف ایکس ٹو کے متعلق بھی کچھ نہ کچھ ضرور جانتے ہیں”۔
“اور عمران کے قول کے مطابق یہ لوگ وہی ہیں جن سے آتشدان کے بت والے کیس میں مڈبھیڑ ہوئی تھی۔۔! وہ قصہ وہیں ختم نہیں ہوگیا تھا!” جولیا نے کہا اور کسی سوچ میں پڑ گئی!

دفعتا فونی کی گہنٹی بجی اور اور جولیا نے ریسیور اٹھالیا!
“ہیلو۔۔!”
“میں ہوں”۔ ایک ٹو کی آواز آئی۔ سرسوکھے کا کیس ایک بار پھر دہرا۔ تفصیل سے۔۔!”
جولیا نے شروع سے اب تک کے واقعات دہرانے شروع کردیئے لیکن پھر یک بیک اسے خیال آیا کہ اس نے اصلیت صفدر کو نہیں بتائی! اور وہ اب بھی یہیں موجود ہے۔ لہذا اس نے سونے کی اسمگلنگ کی طرف سے آنے سے پہلے کہا۔ “صفدر یہیں موجود ہے”۔
“پروا ہ نہیں”۔ ایکس ٹو کی آواز آئی۔ “صفدر سے اس سلسلے میں کچھ بھی نہ چھپا! وہ ان لوگو میں سے ہے جن پر میں بہت زیادہ اعتماد کرتا ہوں”۔

پھر جیسے ہی جولیا نے سونے کی اسمگلنگ کی کہانی چھیڑی صفدر اسے گھورنے لگا!
آخر میں جولیا نے پوچھا۔”کیا آپ کو علم ہے کہ جن لوگوں نے صفدر کو پکڑا تھا وہ سرسوکھے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں”۔
“نہیں میں نہیں جانتا”۔
“انہوں نے صفدر سے یہ معلوم کرنے کے لئے سختی برتی تھی”۔
“کیا معلوم کرنے کے لئے۔ جملے ادھورے نہ چھوڑا کرو” ایکس ٹو غرایا۔
“معافی چاہتی ہوں جناب! وہ یہ معلوم کرنا چاہتے تھے کہ سرسوکھے عمران کی تلاش میں کیوں ہے! یہ معلوم کرنے کے لئے انہوں نے صفدر پر چابک برسائے تھے۔ ڈھمپ اینڈ کو اور عمران کا تعلق بھی ان کے لئے الجھن کا باعث بنا ہوا ہے”۔
“اوہ۔۔ اچھا تو۔۔ اب سرسوکھے کو عمران سے ملا دو”۔ ایکس ٹو نے کہا۔

“مگر میں اسے کہاں ڈھونڈوں؟”
“کل صبح سرسوکھے کو گرینڈ ہوٹل میں مدعو کرو! عمران پہنچ جائے گا”۔
“بہت بہتر جناب۔۔!”
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہوگیا۔

دوسری صبح تقریبا نو بجے جولیا گرینڈ ہوٹل میں سرسوکھے کا انتظار کر رہی تھی اور اسے یقین تھا کہ اب سرسوکھے سے نجات مل جائے گی۔ ظاہر ہے کہ اب تک وہ عمران ہی کے سلسلے میں اس کیساتھ رہی تھی! لیکن اب عمران خود ہی اس سے ملنے والا تھا!
پھر کیا؟ اب بھی اس کی گلوخلاصی نہ ہوگی؟ جولیا کے پاس اس وقت بھی اس سوال کا کوئی واضح جواب نہیں تھا!
ٹھیک نو بج کر دس منٹ پر سرسوکھے ڈائننگ ہال میں داخل ہوا۔ اس کا چہرہ اترا ہوا تھا اور آنکھیں غمگین تھیں! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے کسی عزیز کے کریا کرم سے واپس آیا ہو۔۔!
جولیا نے خوش اخلاقی سے اس کا استقبال کیا!
“بس آجائیں گے تھوڑی دیر میں”۔

اس نے غور سے جولیا کی طرف دیکھا۔ ایک ٹھنڈی سانس لی اور دوسری طرف دیکھنے لگا! ایسا کرتے وقت وہ بیحد مضحکہ خیز لگا تھا! جولیا نے نہ جانے کیسے اپنی ہنسی ضبط کی تھی۔
“پچھلی شام آپ مجھ سے ایک منٹ کے لئے بھی نہیں ملی تھیں؟” دفعتا اس نے سرجھکا کر آہستہ سے کہا!
“میرے چند دوست۔۔”۔
“ٹھیک ہے”! وہ جلدی سے بولا۔ دیکھیئے مجھے غلط نہ سمجھیئے گا! آخر مجھے کیا حق حاصل ہے کہ آپ سے ایسی گفتگو کروں۔ میرے خدا۔۔!”
اس نے دونوں ہاتھوں سے اپنا چہرہ چھپا لیا! اور جولیا کا دل چاہا کہ ایک کرسی اٹھا کر اسی پر توڑ دے۔ گدھا کہیں کا۔ آخر خود کو سمجھتا کیا ہے!

“وہ دیکھیئے”۔ سرسوکھے نے تھوڑی دیر بعد کہا۔ “میں کیا بتاں بعض اوقات مجھ سے بچکانہ حرکتیں سرزد ہوجاتی ہیں! بھلا بتائیے یہ بھی کوئی کہنے کی بات تھی مگر زبان سے نکل ہی گئی۔ اسے یوں سمجھیئے۔ دیکھیئے! بالکل بچوں کی طرح۔۔! وہ ٹھہرئیے۔۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے۔ دیکھیئے شاید آپ اسی سے میرے احساسات کا اندازہ کرسکیں۔ میری ایک بھابی تھیں! میں انہیں بہت پسند کرتا تھا! اور وہ بھی مجھے بہت چاہتی تھیں! ایک دن ان کا ایک کزن آگیا جو میرا ہی ہم سن تھا۔ کچھ دنوں بعد میں نے محسوس کیا کہ اب وہ مجھ پر اتنی مہربان نہیں رہیں جتنی پہلے تھیں۔ بس رو پڑا۔ الگ جاکر۔ کوٹھری میں کھڑا رو رہا تھا کہ بھابی آگئیں۔ میں خاموش ہوگیا۔ وہ رونے کی وجہ پوچھتی رہیں لیکن میں کیا بتاتا! بہرحال مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔ میں نے انہیں بتایا کہ میرے پیر میں چوٹ آگئی ہے مجھ سے اٹھا نہیں جاتا۔ انہوں نے مجھے اٹھایا۔ باہر لائیں۔ میرے پیر میں مالش کی۔۔ لیکن میں روتا ہی رہا۔ اب دیکھیئے۔ میں ان سے کیسے کہتا۔ کیسے کہتا کہ وہ اپنے کزن کو مجھ سے زیادہ کیوں چاہتی ہیں۔۔ اسی طرح کل میں کتنا دکھی تھا! بالکل اسی طرح۔ میرا دل چاہ رہا تھا کہ دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کردوں! یعنی آپ نے میری طرف آنا بھی گوارہ نہیں کیا۔ اوہ۔۔!”

وہ یک بیک چونک کر خاموش ہوگیا! اس کی آنکھوں سے ندامت کے آثار ظاہر ہو رہے تھے۔ پھر وہ دونارہ چونک کر بھرائی ہوئی آواز میں بولا۔ “مس جولیانا۔۔ میں آپ سے معافی چاہتا ہوں۔ ایک باکل گدھا اور بیعقل آدمی سمجھ کر معاف کردیجیئے۔ میں آخر یہ ساری بکواس کیوں کر رہا ہوں۔۔ بوائے۔۔”
اس نے بڑے غیر مہذب انداز میں بیرے کو پکارا تھا! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اپنی کہی ہوئی باتیں جولیا کے ذہن سے نکال پھینکنے کی کوشش کر رہا ہو۔۔!

“کافی۔۔ اور ایک بڑا پگ وہسکی!” اس نے بیرے سے کہا اور جولیا کی طرف متوجہ ہوا ہی تھا کہ جولیا بولی۔” پچھلی رات میں نے صرف عمران کے ساتھ اسکیٹنگ کی تھی!”
“نہیں تو۔ میں وہاں موجود تھا میں نے دیکھا پہلے آپ کے ساتھ کوئی اور تھا”۔
“پہلا اور آخری آدمی۔۔!” جولیا مسکرائی۔۔!
“میں نہیں سمجھا!”
“وہ عمران ہی تھا۔۔!”

“نہیں۔۔! مگر۔۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے۔ نہیں وہ نہیں ہوسکتے! تم مذاق کر رہی ہو!”
“یقین کیجیئے! وہ میک اپ میں تھا! آج کل وہ کسی چکر میں ہے اور کچھ لوگ اس کے دمشن ہوگئے ہیں اس لئے وہ زیادہ تر خود کو چھپائے رکھتا ہے”۔
“اوہ! بھیئی کمال کا آدمی ہے!” سرسوکھے نے بچوں کے سے متحیرانہ لہجے میں کہا۔ “کیا شاندار میک تھا گھنٹوں دیکھتے رہنے کے بعد بھی نہ پہچانا جاسکے”۔
“میں نے بھی اسے صرف آواز سے پہچانا تھا!

“اوہ۔۔!” وہ مضطربانہ انداز میں بولا۔ جس میں دبی ہوئی سی خوشی بھی شامل تھی۔ “تب تو مجھے یقین ہے۔ بالکل یقین ہے کہ میری مشکلات رفع ہوجائیں گی”۔
تھوڑی دیر بعد ایک آدمی تیر کی طرح ان کی طرف آیا اور کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
جولیا سٹپٹا گئی! کیونکہ یہ عمران نہیں ہو سکتا تھا اور اگر تھا بھی تو پچھلی رات والے میک اپ میں نہیں تھا!
“فرمائیے جناب!” سرسوکھے غصیلے لہجے میں بولا!
“میرے پیٹ میں درد ہو رہا ہے”۔ آنے والے مسمی صورت بنا کر کہا!
“درد۔ یعنی کہ پین۔ پتہ نہیں فرانسیسی اور جرمن میں اسے کیا کہتے ہیں”۔

“میں پوچھتا ہوں کہ آپ اس میز پر کیوں آئے ہیں”۔ سرسوکھے میز پر ہاتھ مار کر غرایا!
“انہیں دیکھ کر۔۔!” اجنبی نے جولیا کی طرف اشارہ کیا!
“کیا مطلب۔۔!”
“دیکھنے کا مطلب کیسے سمجھاں؟”
“تمہارا دماغ تو نہیں خراب ہوگیا۔۔!”
“اگر کچھ دیر تک آپ اسی قسم کی گفتگو کرتے رہے تو یقینا خراب ہوجائے گا۔ بھلا کوئی تک ہے۔۔ آخر آپ درد کا مطلب نہیں سمجھتے۔۔دیکھنے کا مطلب نہیں سمجھتے! پھر کیا میں درد کو شکرقند اور دیکھنے کو فلفلانا کہوں۔ واہ بھلا آپ مجھے غصے سے کیوں فلفلا رہے ہیں! میرے پیٹ میں تو شکرقند ہو رہا ہے!”

“تمہاری ایسی کی تیسی”۔ سرسوکھے کرسی کھسکا کر کھڑا ہوگیا اور لگا آستین سمیٹنے!
“ارے۔ تم نے تو میری مٹی پلید کردی جولیا! اجنبی نے جولیا سے کہا۔ ” تم نے تو کہا تھا کہ تم کسی سرسوکھے کے ساتھ ملو گی۔ یہ تو سرہاتھی نہیں بلکہ سرپہاڑ ہیں۔ پہلوان بھی معلوم ہوتے ہیں۔ اگر انہوں نے ایک آدھ ہاتھ رکھ ہی دیا ہوتا تو میں کہاں ہوں گا! خدا تمہیں غارت کرے!”
جولیا پیٹ دبائے بیتحاشہ ہنس رہی تھی!
“ارے سرسوکھے! یہ عمران ہے!” بدقت اس نے کہا!
“کیا۔۔! اف فہ۔۔ ہاہا۔۔ ہا ہا۔۔ ہاہا!” سرسوکھے نے بھی منہ پھاڑ دیا۔

لیکن اس کی ہنسی خجالت آمیز تھی۔۔!
پھر وہ بیٹھ گیا! لیکن عمران اب بھی ایسی پوزیشن میں بیٹھا ہوا تھا جیسے اب اٹھ کر بھاگا!
“مائی ڈیئر مسٹر عمران آپ واقعی کمال کے آدمی ہیں!” سرسوکھے نے ہانپتے ہوئے کہا!
وہ اسی طرح ہانپ رہا تھا جیسے دور سے چل کر آیا ہو!
عمران چونکہ میک اپ میں تھا اس لئے حماقت کا اظہار صرف آنکھوں ہی سے ہوسکتا تھا! لیکن اس وقت تو آنکھیں سرسوکھے کا جائزہ لینے میں مصروف تھیں!
“اسمگلنگ کی کہانی میں سن چکا ہوں!” عمران نے کہا۔
“مس جولیا نے آپ کو سب کچھ بتایا ہوگا۔۔!”
“جی ہاں سب کچھ!۔۔ آپ اپنے آدمیوں میں سے کس پر شبہ ہے”۔
“دیکھینے! مجھے تو جس اسٹاف پر شبہ تھا اسے پہلے ہی الگ کردیا تھا! فاورڈنگ اور کلیرنگ کا سیکشن ہی توڑ دیا۔۔ لیکن میں یہ بھی نہیں کہہ سکتا کہ موجودہ اسٹاف بیداغ ہے۔ بھلا کیسے کہہ سکتا ہوں! آپ خود ہی سوچیئے!”
“ٹھیک ہے ایسے حالات میں یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا”۔ عمران سر ہلا کر بولا!
“پھر آپ میرے لئے کیا کریں گے۔۔؟”
“پکوڑے تلوں گا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا اور سرسوکھے بیساختہ ہنس پڑا۔۔
“خیر۔۔ خیر۔۔” اس نے کہا! “میں اب یہ معاملہ آپ پر چھوڑتا ہوں! جس طرح آپ کا دل چاہے اسے ہینڈل کیجیئے!۔۔!”
“آپ کو میرے ساتھ تھوڑی سی دوڑ دھوپ بھی کرنی پڑے گی!”
“اس کی فکر نہ کیجیئے! میں موٹا اور بیہنگم ہی سہی! لیکن چلنے کے معاملے میں کسی سے کم بھی نہیں ہوں! مطلب یہ کہ اگر پیدل بھی چلنا پڑے گا۔ جی ہاں”۔
“سواری کا تو کچومر نکل جائے گا! پیدل ہی ٹھیک ہے”۔ عمران سرہلا کر بولا۔
“میں برا نہیں مانتا!” سرسوکھے نے کھسیانی ہنسی کے ساتھ کہا۔
پتہ نہیں کیوں یک بیک جولیا کو عمران پر تا آنے لگا اور سرسوکھے کے لئے ہمدردی محسوس ہونے لگی!
اس نے کہا۔ “اچھا تو سرسوکھے۔۔ اب ہم اس معاملہ کو دیکھ لیں گے! ہوسکتا ہے کہ آپ بہت مشغول ہوں!”
“اوہ۔ بیحد۔۔ بیحد۔۔ اچھا اب اجازت دیجیئے!” سرسوکھیاٹھتا ہوا بولا۔
عمران اسے جاتے دیکھتا رہا۔۔!
“تم اس کا مضحکہ کیوں اڑا رہے تھے؟” جولیا نے غصیلے لہجے میں پوچھا۔
“پھر کیا کروں؟ اتنے موٹے آدمی کو سر پر بیٹھا لوں!” عمران بھی جھلا کر بولا۔
“مجھے اس سے ہمدردی ہے! اتنے بڑے ڈیل ڈول میں ایک ننھا سا بچہ! بیچارا۔۔!”
“خدا تمہیں بھی بیچاری بننے کی توفیق عطا کرے۔۔ اور آئندہ مجھے کوئی اتنا موٹا بیچارہ نہ دکھائے تو بہتر ہے ورنہ میں تو کہیں کا نہ رہوں گا۔ تم ایسے اوٹ پٹانگ آدمیوں سے ملاتی رہتی ہو۔ اچھا ٹاٹا۔۔!”
پھر جولیا اسے روکتی ہی رہ گئی۔۔ لیکن وہ چھلاوے ہی کی طرح آیا تھا اور اسی طرح یہ جاوہ جا۔۔ نظروں سے غائب۔۔!

دوسری شام جولیا آفس سے گھر آکر لیٹ ہی گئی تھی۔۔! بوریت۔۔! وہ سوچ رہی تھی کہ اس کو ذہنی اضمحلال سے کیسے چھٹکارا ملے گا! آج وہ دن بھر اداس رہی تھی۔ اس کا کسی کام میں بھی دل نہیں لگا تھا۔ عمران۔۔! ان ذہنی الجھنوں کی جڑ عمران ہی تھا! اس کے متعلق کسی ذہنی کشمکش میں پڑ کر وہ اپنی ساری زندہ دلی اور مسرور رہنے کی صلاحیت کھو بیٹھی تھی!

یہ عمران اس کے لئے ایک بہت بڑی مصیبت تھا! اس کی عدم موجودگی میں وہ اس کے لئے بیچین رہتی تھی لیکن جہاں سامنا ہوتا اور وہ اپنے مخصوص لہجے میں گفتگو شروع کرتا تو اس کا یہی جی چاہتا کہ اس وقت جو چیز بھی ہاتھ میں ہو کھینچ مارے! ایسا ہی تا اس کی خاموشی پر بھی آتا تھا! کیونکہ خاموشی حماقت انگیز ہوتی تھی۔ جولیا نے کراہ کر کروٹ بدلی۔۔ اور آنکھیں بند کی ہی تھیں کہ فون چیخ پڑا۔۔ وہ اٹھی اور ریسیور اٹھا لیا! دوسری طرف تنویر ٹھا۔ “اوہو۔۔ تو گھر ہی پر ہو!” اس نے کہا۔ کیا آج سرسوکھے واقعی سوکھتا ہی رہے گا؟” “کیا مطلب؟ جولیا غرائی!”

“سنا ہے آج کل وہ تمہیں بڑی موٹی موٹی رنگینیاں عطا کر رہا ہے۔۔”خاموش رہو بدتمیز۔۔” جولیا بپھر گئی۔ “ارے بس۔۔ تھوکو عضہ۔۔ میں نے تو محض عمران کے جملے دہرائے ہیں! ابھی ابھی اس نے فون پر کہا تھا کہ تم تو خیر پہلے ہی ہاتھ دھوچکے تھے اب میں نے بھی دھولئے ہیں اور اس وقت انہیں تولیئے سے خشک کررہا ہوں۔ میں نے پوچھا کیا بکتے ہو کہنے لگا سوکھ رہا ہوں! میں جھنجھلا کر سلسلہ منقطع کرنے ہی والا تھا کہ بولا۔ جولیا آج کل ہمالیاتی عشق کا شکار ہوگئی ہے سرسوکھے اسے عشق کے موٹے موٹے نغمے سناتا ہیاور ایک موٹی سی مسکراہٹ جولیا کے ہونٹوں پر رقص کرنے لگتی ہے اور اسے چاند ستارے، دریا کے کنارے حتی کہ ساون کے نظارے بھی موٹے نظر آنے لگتے ہیں۔۔!”

“شٹ اپ!” جولیا حلق پھاڑ کر چیخی اور سلسلہ منقطع کردیا۔ وہ کانپ رہی تھی! اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے رگوں میں خون کی بجائے چنگاریاں دوڑ رہی ہوں۔ “سور۔۔ کمینہ۔۔ وحشی۔۔ درندہ!” وہ دانت پیس کر بولی اور منہ کے بل تکیئے پر گر گئی۔ تھوڑی دیر تک بیحس وحرکت پڑی رہی! پھر اٹھی اور سرسوکھے کے نمبر ڈائیل کئے! وہ بھی اتفاق سے مل ہی گیا فون پر!
“کون ہے۔۔؟”
“فٹز واٹر۔۔”
“اوہ۔۔ کہیئے کہیئے۔۔!”
“آپ سے نہیں ملتی تو دل گھبراتا رہتا ہے۔۔!” جولیا ٹھنک کر بولی! اور پھر بڑا برا سا منہ بنایا۔
“اوہو۔۔ تو میں آجاں۔۔ یا آپ آرہی ہیں!”
“کسی اچھی جگہ ملیے۔۔!”
“اچھا۔۔ جاگیردار کلب کیسا رہے گا؟”
“اوہو۔۔ بہت شاندار۔۔ پھر آپ کہاں ملیں گے۔۔؟”

“میں آپ کے گھر ہی پر آرہا ہوں!”۔۔ سرسوکھے کا لہجہ بیحد پرمسرت تھا! بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی بچے سے مٹھائی کا وعدہ کیا گیا ہو۔ سلسلہ منقطع کرکے جولیا لباس کا انتخاب کرنے لگی۔۔ یہ عمران آخر خود کو سمجھتا کیا ہے۔ وہ سوچ رہی تھی! بیہودہ کہیں کا۔۔ دوسروں کے جذبات کا احترام کرنا تو آتا ہی نہیں۔۔ جانور۔۔ خیر دیکھوں گی! تم بھی کیا یاد کرو گے۔ اب سرسوکھے ہی سہی۔۔!

سرسوکھے آدھے گھنٹے کیاندر ہی اندر وہاں پہنچ گیا۔ جولیا بیحد دلکش نظر آرہی تھی! اس نے بڑی احتیاط اور توجہ سے میک اپ کیا تھا اور لباس کا تذکرہ ہی فضول ہے کیونکہ گھٹیا سے گھٹیا لباس بھی اس کے جسم پر آنے کے بعد شاندار ہوجاتا تھا۔ وہ ایسی ہی جامہ زیب تھی۔۔!
جاگیردار کلب پہنچنے میں دیر تو نہ لگتی لیکن واقعہ ہی ایسا پیش آیا جو دیر کا سبب تو بن گیا تھا لیکن جولیا کی سمجھ میں نہیں آسکا تھا!

جگایردار کلب پہنچنے کے لئے ایک ایسی سڑک سے گذرنا پڑتا تھا جو زیادہ کشادہ نہیں تھی اور عموما سرشام ہی اپنی رونق کھو بیٹھی تھی! وہ اس سڑک ہی پر تھے کہ جولیا نے محسوس کیا جیسے ان کا تعاقب کیا جارہا ہو! دیر سے ایک کار پیچھے لگی ہوئی تھی۔ “شاید یہ آگے جانا چاہتا ہے۔۔ ایک طرف ہوجائیے!” جولیا نے کہا۔ سرسوکھے نے بھی پلٹ کر دیکھا۔ پچھلی کار اب زیادہ فاصلے پر نہیں تھی۔ اس کے اندر بھی روشنی تھی اور ایک بڑا شاندار آدمی اسٹیرنگ کر رہا تھا۔ جولیا کو تو وہ شاندار ہی لگا تھا!
سرسوکھے کے حلق سے عجیب سی آواز نکلی اور پھر جولیا نے محسوس کیا جیسے اس نے اپنے ہونٹ سختی سے بند کرلیئے ہوں! اس نے اپنی گاڑی بائیں کنارے کرلی اور پچھلی کار فراٹے بھرتی ہوئی آگے نکل گئی۔۔!
تھوڑی دیر بعد جولیا نے چونک کر کہا۔ “ارے جاگیردار کلب تو شاید پیچھے ہی رہ گیا۔۔!
“جی ہاں۔۔ بس ابھی واپس ہوتے ہیں! یہ کام اچانک نکل آیا ہے”۔

“میں نہیں سمجھی؟”
“ہوسکتا ہے کہ آپ نے اس آدمی کو بارہادیکھا ہو! یہ جو اگلی کار میں ہے!”
“جی نہیں! میں نے تو پہلے کبھی نہیں دیکھا۔۔” جولیا بولی!
“تعجب ہے آپ فارورڈنگ کلیرنگ کا کام کرتی ہیں لیکن اسے نہیں جانتیں میرا خیال تھا کہ یہ بھی آپ کے کاروباری حریفوں میں سے ہوگا!اس کا بھی تو فارورڈنگ کلیرنگ کا بزنس ہے شاید۔۔!”
“پتہ نہیں! میں نہیں جانتی!”
“کسی زمانے میں میرے یہاں اسسٹنٹ منیجر تھا”۔ سرسوکھے نے ٹھنڈا سانس لے کر کہا۔ “لیکن بیایمان آدمی ہے اس لئے میں نے اسے الگ کردیا تھا!”

“تو کیا آپ اس کا تعاقب کر رہے ہیں!”
“یقینا کیونکہ میرا خیال ہے کہ وہ میری فرم کے موجودہ جنرل منیجر سے گٹھ جوڑ کئے ہوئے ہے۔ مقصد کیا ہے! میں نہیں جانتا!”
“گٹھ جوڑ کا شبہ کیسے ہوا آپ کو؟”
“جب یہ میرے یہاں تھا تو دونوں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے تھے۔۔!”
“تو آپ کس بات کا شبہ کر رہے ہیں۔۔!”

“وہ ایک پرانا اسمگلر ہے۔۔ یہی معلوم ہوجانے پر میں نے اسے اپنی فرم سے الگ کیا تھا۔۔!”
“تب تو پھر اتنے گھما پھرا کی بات ہی نہیں تھی! آپ نے پہلے ہی اس کا نام بتایا ہوتا! ہم اسے چیک کرلیتے”۔
“نام تو درجنوں بتائے جاسکتے ہیں! مگر یہ اس وقت میرا تعاقب کیوں کر رہا تھا! مجھے تو یہ دیکھنا ہے۔۔!”
” تو اب آپ اس کا تعاقب کریں گے؟”

قطعی۔۔ قطعی!” وہ بوکھلائے ہوئے لہجے میں بولا! “اس کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ میں نہیں جانتا کہ اب وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں؟” کیا اس لئے میرا تعاقب کیا جا رہا ہے کہ میں نے تم لوگوں سے مدد طلب کی ہے!”
“خیر ایسے لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث صرف عمران ہوسکتا ہے!” جولیا نے کہا۔ “کیونکر بعض بڑے جرائم پیشہ اس کی ساکھ سے واقف ہیں!”

“میں یہی کہنا چاہتا تھا مس جولیانا۔۔ آپ کو وہ شام تو یاد ہی ہوگی جب آپ میرے آفس میں میری کہانی سن رہی تھیں۔۔!”
“جی ہاں! میں نے میز پر پائے جانے والے پیر کے نشان کا چربہ عمران کے حوالے کردیا ہے!”
“اوہ۔۔ دیکھیئے وہ کار بائیں جانب مڑرہی ہے۔۔ کیا میں ہیڈلائٹس بجھا دو”۔
“اگر تعاقب جاری رکھنا ہے تو یہی مناسب ہوگا!” جولیا نے کہا!

سرسوکھے نے اگلی روشنی گل کردی اور پھر وہ بھی بائیں جانب مڑ گیا! تھوڑی دیر بعد وہ پھر شہر کے ایک بھرے پرے حصے میں داخل ہوئے!
“اوہ وہ اپنی گاڑی گرینڈ ہوٹل کی کمپانڈ میں موڑ رہا ہے!” سرسوکھے بڑبڑایا۔۔!
اگلی کار گرینڈ ہوٹل کے پھاٹک میں داخل ہو رہی تھی۔ سرسوکھے نے اپنی گاڑی کی رفتار رینگنے کی حد تک کم کردی۔۔! اگلی کار پارک ہوچکی تھی اس سے وہی آدمی اترا اور بڑے پروقار انداز میں چلتا ہوگا گرینڈ ہوٹل کے صدر دروازے میں داخل ہوگیا۔۔!
ادھر سرسوکھے نے اپنی گاڑی روک دی تھی۔۔!

“اوہ۔۔ میں کیا کروں!” وہ مضطربانہ انداز میں بولا! “آپ ہی بتایئے!”
“کاش میں یہ معلوم کرسکتی کہ آپ کیا چاہتے ہیں”۔
“ہمیشے کے لئے ان بدبختوں کا خاتمہ جن کی وجہ سے نیندیں حرام ہوگئی ہیں مجھ پر۔۔! اس وقت تو میں صرف اپنی جان بچانا چاہتا ہوں! آپ کے لئے کوئی خطرہ نہیں ہے مس جولیا!”
“آپ جو کچھ کہیں۔۔ میں کروں!”

“اوہ دیکھیئے! میں بھی اپنی گاڑی کمپانڈ ہی میں پارک کروں گا اور آپ اسی میں بیٹھ کر میرا انتظار کریں گی!”
“کتنی دیر۔۔!”
“ہوسکتا ہے۔۔ جلد ہی لوٹ آں! ہوسکتا ہے دیر ہوجائے”۔
“آپ جائیں گے کہاں۔۔؟”
“اندر۔۔! میں دیکھوں گا کہ وہ کس چکر میں ہے! آپ خود سوچیئے کہ وہ میرا تعاقب کر رہا تھا! پھر آگے نکل آیا۔۔ اب یہاں آرکا ہے۔ کیاوہ میرے گرد کسی قسم کا جال پھیلا رہا ہے!”

جولیا کچھ نہ بولی! سرسوکھے نے گاڑی پھاٹک میں گھمائی اور اسے ایک گوشے میں روکتا ہوا بولا۔
“بس آپ اس کی کار پر نظر رکھیئے گا!”
سرسوکھے گاڑی سے اترا اور صدر دروازے کی طرف چل پڑا! اس کی چال میں معمول سے زیادہ تیزی تھی! جولیا کار میں بیٹھی رہی! تقریبا پانچ منٹ گذر گئے! وہ اس آدمی کے متعلق سوچ رہی تھی جسے کار میں دیکھا تھا۔۔ یکایک وہ چونک پڑی ایک نیا سوال اس کے ذہن کے تاریک گوشوں سے ابھرا تھا!۔۔ اگر وہ سرسوکھے کا تعاقب ہی کر رہا تھا تو گاڑی کے اندر روشنی رکھنے کی کیا ضرورت تھی؟
جولیا اس پر غور کرتی رہی! اور اس کا ذہن الجھتا چلا گیا! اب تو ایک نہیں درجنوں سوالات تھے۔۔!

کیا سرسوکھے اسے خطرے میں چھوڑ کر خود کھسک گیا تھا؟ خصوصیت سے اس سوال کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا! لہذا وہ چپ چاپ سرسوکھے کی گاڑی سے اتر آئی! قریب ہی بڑے بڑے گملوں کی ایک قطار دور تک پھیلی ہوئی تھی! ان میں گنجان اور قدآور پودے تھے جن کی پشت پر تاریکی ہی تھی! جولیا نے سوچا کہ وہ بہ آسانی ان کی آڑ لے سکے گی!
شاید آدھا گھنٹہ گذر چکا تھا لیکن ابھی تک ان دونوں میں سے کسی کی بھی واپسی نہیں ہوئی تھی۔۔!

جولیا سوچنے لگی کہ وہ خواہ مخواہ اپنے پیر تھکا رہی ہے اور اسے ایک بار پھر عمران پر غصہ آگیا۔۔ محض عمران کی وجہ سے وہ اس وقت گھر سے نکل آئی تھی ورنہ دل تو یہی چاہا تھا کہ آفس سے واپسی پر گھنٹوں مسہری پر پڑی رہے گی! تنویر نے فون پر عمران کی گفتگو دہرا کر اسے تا دلا دیا تھا اور وہ سرسوکھے کے ساتھ باہر نکل آئی تھی اور تہیہ کرلیا تھا کہ آئندہ شامیں بھی اسی کے ساتھ گذارے گی!

لیکن اب اسے اپنی جلد بازی کھل رہی تھی! ویسے اس کی ذمہ داری تو عمران ہی پر تھی لہذا وہ سلگتی رہی۔۔!
دفعتا اسے سرسوکھے نظر آیا جو بڑی تیزی سے اسی کار کی طرف جارہا تھا جس پر تعاقب کرنے والا آیا تھا۔ پھر جولیا نے اسے کار کے انجن میں کچھ کرتے دیکھا اور اس کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں! آخر وہ کیا کرتا پھر رہا ہے!
اس کے بعد وہ وہیں کھڑے کھڑے اپنی کار کی طرف مڑا اور داہنا ہاتھ اٹھا کر اسے دو تین بار جنبش دی!
غالبا یہ اشارہ جولیا کے لئے تھا کہ وہ ابھی انتظار کرے۔۔ جولیا نے ایک طویل سانس لی۔۔!

سرسوکھے بڑی تیزی سے پھاٹک کی طرف سے چلا جارہا تھا! پھر وہ اس سے گذر کر سڑک پر نکل گیا!
جولیا وہیں کھڑی رہی! پھر اس نے سوچا کہ وہ خواہ مخواہ اپنی ٹانگیں توڑ رہی ہے! جہنم میں گئے سرسوکھے کے معاملات! وہ خود ہی نپٹتا پھرے گا اسے کیا پڑی ہے کہ خواہ مخواہ اپنا وقت برباد کرے، اپنی انرجی ضائع کرے۔۔ اچانک وہ ایک بار پھر چونک پڑی!
اب وہ آدمی اپنی کار کی طرف جا رہا تھا جو سرسوکھے کی موجودہ بھاگ دور کی وجہ بنا تھا۔۔!

پھر جولیا نے دیکھا کہ وہ کار میں بیٹھ کر اسے اسٹارٹ کرنے کی کوشش کر رہا ہے! تھوڑی ہی دیر بعد وہ انجن کھولے اس پر جھکا ہوا نظر آیا۔۔ اور پھر جب وہ سیدھا کھڑا ہو ا تو اس کے ہاتھوں کی مایوسانہ جنبشیں اس کی بیبسی کا اعلان کر رہی تھیں۔۔!
دفعتا ایک ٹیکسی ڈرائیور اس کی طرف آیا! دونوں میں گفتگو ہوتی رہی پھر ٹیکسی ڈرائیور نے بھی انجن دیکھا اور کار اسٹارٹ کرنے کی کوشش کی! جولیا محسوس کر رہی تھی کہ وہ آدمی بہت زیادہ پریشان ہے!

پھر ذرا سی دیر بعد اس نے اسے ٹیکسی میں بیٹھتے دیکھا کہ وہ اپنی کار وہیں چھوڑے جا رہا تھا۔۔!
جولیا نے سوچا کہ اب اسے ہر قیمت پر اس کا تعاقب کرنا چاہیئے! ہوسکتا ہے سرسوکھے نے اسے وہاں کچھ دیر روکے رکھنے ہی کے لئے اس کے کار کے انجن میں کوئی خرابی پیدا کی ہو!

اس نے تعاقب کا فیصلہ بہت جلدی میں کیا تھا! کیونکہ ٹیکسی نکلی جارہی تھی ورنہ وہ کوئی قدم اٹھانے سے پہلے مناسب حد تک غور کرنے کی عادی تھی! وہ جھپٹ کر سرسوکھے کی کار میں آ بیٹھی! اور پھر دس منٹ بعد دونوں کاروں کے درمیان صرف سو گز کا فاصلہ رہ گیا! وہ اس فاصلہ کو اس سے بھی زیادہ رکھنا چاہتی تھی لیکن اس بھری پری سڑک پر اس کے امکانات نہیں تھے!

جو ں توں کرکے اس نے تعاقب جاری رکھا! کچھ دیر بعد وہ ٹیکسی شہر کے ایک کم آباد حصے میں داخل ہوئی لیکن یہاں بھی ٹریفک کم نہیں تھا!
دفعتا وہ ٹیکسی ایک عمارت کی کمپانڈ میں مڑ گئی! پھاٹک کھلا ہی ہوا تھا! جولیا نے اپنی کار کی رفتار کم کرکے اسے سڑک کے نیچے اتار دیا!
دوسری عمارت کی کمپانڈ تاریک پڑی تھی اورچہار دیواری اتنی اونچی تھی کہ اندر کا حال نظر نہیں آسکتا تھا!
پتہ نہیں اس کے سر میں کیا سمائی کہ وہ بھی کار سے اتر کر کمپانڈ میں داخل ہوگئی! چاروں طرف اندھیرا تھا۔ عمارت کی کوئی کھڑکی بھی روشن نہیں تھی!

وہ مہندی کی باڑھ سے لگی ہوئی آگے بڑھ ہی رہی تھی کہ اچانک کوئی سخت سی چیز اس کے بائیں شانے سے کچھ نیچے چھبنے لگی اور ایک تیز قسم کی سرگوشی سنائی دی! “چپ چاپ چلتی رہو۔ یہ پستول بےآواز ہے!”
جولیا کا سرچکرا گیا۔۔ یہ کس مصیبت میں آ پھنسی۔ لیکن وہ چلتی ہی رہی!
اسے ہوش نہیں تھا کہ اندھیرے میں اسے کتنے دروازے طے کرنے پڑے تھے! پھر جب وہ ایک بڑے کمرے میں پہنچی تو اس کی آنکھیں چندھیا کر رہ گئیں۔یہاں متعدد بلب روشن تھے اور ان کی برقی قوت بھی زیادہ تھی!

یہاں اسے وہ آدمی جو ٹیکسی میں بیٹھ کر آیا تھا! تین نقاب پوشو ں میں گھرا ہوا نظر آیا جن کے ہاتھوں میں ریوالور تھے۔۔!
جولیا نے مڑ کر اس کی طرف دیکھا جو اسے یہاں تک لایا تھا۔۔! دوسرے ہی لمحے اس کے حلق سے ایک تحیر زدہ سی چیخ نکلی۔۔! یہ سرسوکھے تھا۔۔!

اس کے ہونٹوں پر ایک خونخوار سی مسکراہٹ تھی۔۔! اس نے کہا!
“میں جانتا تھا کہ تم یہی کرو گی۔۔!”
“مم۔۔ مگر۔۔ میں نہیں سمجھی”۔ جولیا ہکلائی!
“ابھی سمجھ جا گئی”۔ سرسوکھے نے خشک لہجے میں کہا! “چپ چاپ یہیں کھڑی رہو! اوہ۔۔ تمہارے ہینڈ بیگ میں ننھا سا پستول ضرور ہوگا! مجھے یقین ہے”۔
اس نے اس کے ہاتھ سے بیگ چھین لیا!
جولیا دم بخود کھڑی رہی! اب وہ پھر اس آدمی کی طرف متوجہ ہوگئی تھی جس کی وجہ سے ان مشکلات میں پڑی تھی۔۔ سرسوکھے کا مرکز نگاہ بھی وہیں تھا۔

“کیوں۔۔؟ خفیہ معاہدہ کے کاغذات کہاں ہیں؟” اس نے گرج کر اس آدمی سے پوچھا!
“کیسا خفیہ معاہدہ۔۔ اور کیسے کاغذات؟” وہ آدمی مسکرا کر بولا۔ “میں نہیں جانتا کہ تم کون ہو!”
“اوہ تو کیا تم اسے بھی جھٹلا سکو گے کہ تم رانا تہور علی ہو!”
“اسے جھٹلانے کی ضرورت ہی کیا ہے!”
“کیا لیفٹننٹ واجد والے کاغذات تمہارے پاس نہیں ہیں؟”

” میں جب کسی کسی لیفٹننٹ واجد ہی کو نہیں جانت تو کاغذات کے متعلق کیا بتاں۔۔؟”
“تب تو عمران بھی تمہارے لئے اجنبی ہی ہوگا”۔ سرسوکھے کی مسکراہٹ زہریلی تھی!
“یہ کیا چیز ہے۔۔؟”
“خاموش رہو!” سرسوکھے آنکھیں نکال کر چیخا!
“چلو اب خاموش ہی رہوں گا!یقین نہ ہو تو کچھ پوچھ کر آزمالو۔۔!”
“رانا۔۔”

“اب اپنا نام بھی بتا دو۔۔” وہ آدمی مسکرایا! ت”تاکہ میں بھی تمہیں اتنی ہی بیتکلفی سے مخاطب کرسکوں!”
“رانا تمہارے جسم کا بند بند الگ کردیا جائے گا!”
“ضرور کوشش کرو! میں بھی آدمی کی ٹوٹ پھوٹ کا تجربہ کرنا چاہتا ہوں! میری نظروں سے آج تک کوئی ایسا آدمی نہیں گذرا جس کا بند بند الگ کردیا گیا ہو؟”

“ستون سے باندھ کر کوڑے برسا”۔ سرسوکھے نے نقاب پوشوں سے کہا۔
نقاب پوشوں نے اپنے ریوالور جیبوں میں ڈال لئے۔ لیکن اس وقت جولیا کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب وہ اس آدمی کی بجائے خود سرسوکھے ہی پر ٹوٹ پڑے۔۔!
“ارے۔۔ ارے! دماغ تو نہیں خراب ہوگیا!” سرسوکھے بوکھلا کر پیچھے ہٹا۔

“ہاں۔۔ دیکھو! دفعتا وہ آدمی بولا۔ “ہم اسے زندہ چاہتے ہیں! تاکہ اس پر ہودہ کسوا کر سواری کے کام میں لاسکیں۔۔ رانا تہور علی صندوقی کا ہاتھی بھی عام ہاتھیوں سے الگ تھلگ ہونا چاہیئے۔۔!”
جولیا کو تو ابھی بھانت بھانت کی حیرتوں سے دوچار ہونا تھا! سرسوکھے ان تینوں کے لئے لوہے کا چنا ثابت ہوا۔۔!
سارے کمرے میں وہ انہیں نچاتا پھر رہا تھا۔۔ اتنے بھاری جسم والا اتنا پھرتیلا بھی ہوسکتا ہے! حیرت! حیرت!! جولیا کو تو ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی بھوت انے میں آ پھنسی ہو! سرسوکھے آدمی تو نہیں معلوم ہو رہا تھا۔۔!

بالکل ایسا ہی معلوم ہو رہا تھا جیسے کسی ہاتھی نے چیتے کی طرح چھلانگیں لگانی شروع کردی ہو۔۔!
سب سے لمبا نقاب پوش حلق سے طرح طرح کی آوازیں نکالتا ہوا اسے پکڑنے کی کوشش کر رہا تھا۔۔!
رانا تہویر علی ریوالور سنبھالے دروازوں کی روک بنتا پھر رہا تھا کہ کہیں سرسوکھے کسی دروازے سے نکل کر فرار نہ ہوجائے! ویسے اس کی آنکھوں میں کچھ اس قسم کے تاثرات پائے جاتے رہے تھے جیسے اچھی فیلڈنگ کرنے والے کسی چست وچالاک بچے کی آنکھوں میں پائے جاتے ہیں۔ جولیا کبھی اس کی طرف دیکھنے لگی تھی اور کبھی سرسوکھے کی طرف۔۔!
“سرسوکھے تم ابھی تھک جا گے”۔ دفعتا رانا نے کہا۔

“اسی طرح صبح ہوجائے گی”۔ سرسوکھے نے قہقہہ لگایا۔ تم مجھ پر فائر کیوں نہیں کرتے؟”
“میں ایک بلیک میلر ہوں سرسوکھے!” رانا کہا۔ “کیا تم سودا کرو گے؟”
“میں جانتا تھا!”۔۔ سرسوکھے نے بیتکان قہقہ لگایا۔ وہ اب بھی ان تینوں کو ڈاج دیتا پھر رہا تھا!
جولیا دروازے کی طرف کھسک رہی تھی۔۔ رانا نے اسے للکارا۔
“خبردار اگر تم اپنی جگہ سے ہلیں تو تمہاری لاش یہیں پڑے پڑے سڑ جائے گی!” جولیا ٹھٹک گئی!
“اپنے آدمیوں کو روکو”۔۔ سرسوکھے نے کہا۔

“اوہ۔۔ تم تینوں دفع ہوجا”۔ رانا نے ہاتھ ہلا کر کہا! اور تینوں نقاب پوش اسے چھوڑ کر ایک دروازے سے نکل گئے!
“تم ادھر چلو۔۔!” سرسوکھے نے جولیا سے کہا۔۔ اور رانا نے ریوالور کی نال کو جنبش دے کر سرسوکھے کی تائید کی! جولیا ان کے قریب آگئی۔ “تم اسے کہاں لئے پھر رہے ہو سرسوکھے؟ جانتے ہو یہ کون ہے؟” رانا نے پوچھا۔
“میں سب کچھ جانتا ہوں تم معاملے کی بات کرو!”
“ساڑھے تین لاکھ”۔
“بہت ہے۔۔ میں نہیں دے سکتا۔۔!”

“تب پھر میں دوسروں سے بھی بزنس کرسکتا ہوں۔۔! مگر نہیں!
میں تم سے بات ہی کیوں کرو۔۔ معاملہ تو تمہارے چیف ہی سے طے ہو سکے گا۔۔!”
“میرا کوئی چیف نہیں ہے!” سرسوکھے غرایا! “میں مالک ہوں”۔
“تب پھر تم ہی معاملہ طے کرو”۔ “میں ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ تک بڑھ سکوں گا! لیکن اس کے بعد گنجائش نہیں ہے!”
“اس سے بہتر تو یہی ہوگا کہ میں عمران سے ہار مان کر اپنا پیچھا چھڑاں!”

“تم ایسا نہیں کرسکتے!” سرسوکھے گرجا! “میں کتوں کے راتب میں اضافہ کرنے کی سکت رکھتا ہوں۔۔ ساڑھے تین لاکھ ہی سہی”۔
اچانک رانا نے اچھل کر اس کی توند پر ایک زر دار لات رسید کی۔۔!
اور وہ چیخ کر الٹ گیا! اس کے گرنے سے کسی قسم کی آواز پیدا ہوئی تھی!
جولیا اندازہ نہ کرسکی! عجیب سی آواز تھی۔۔ نہ وہ کسی چٹان کے گرنے کی آواز تھی اور نہ۔۔؟ وہ اندازہ بھی کیسے کرسکتی تھی کیونکہ اس نے آج تک نہ تو گوشت کا پہاڑ دیکھا ہی تھا اور نہ اس کے گرنے کی آواز سنی تھی!

“اب تم اٹھ نہ سکو گے سرسوکھے۔۔! رانا نے قہقہہ لگایا۔ “بس کسی ایسی بطخ کی طرح پڑے رہوجو چت لیٹا کر سینے پر کنکری رکھ دی گئی ہو! مجھے اسی کا انتظار تھا۔ مگر تم تو ایسے بھی ڈفر ہو! تم غالبا یہ سمجھتے تھے کہ رانا اتفاقا ہاتھ آگیا ہے اسی لئے اس پھر بھی غور نہ کرسکے کہ جو شخص کسی سے چھپتا پھر رہا ہو وہ بھلا کار کے اندر روشنی کیوں رکھنے لگا! کار کے اندر میں نے اس توقع پر روشنی کی تھی کہ شاید تم پھنس ہی جا۔۔ وہا ہوا۔۔ یہاں کچھ دیر پہلے تمہارے آدمی تھے جنہیں میرے آدمیوں نے ٹھکانے لگا کر ان کی جگہ خوش لے لی تھی۔۔

مجھے تمہارے سارے اڈوں کا علم تھا! اس لئے اس وقت ہر اڈے پر میرے ہی آدمی موجود ہوں گے! اتنی دردسری تو محض اس لئے مول لی تھی کہ تمہاری زبان سے اعتراف کراسکوں کہ اس کالی تنظیم کے سربراہ تم ہی ہو۔۔ تم ہی وہ وطن فروش ہو جس نے ملک کو تباہ کردینے کی سازش کی تھی۔۔ ہاہا۔۔ تم اٹھ نہیں سکتے۔۔ بس اسی طرح بیبسی سے ہاتھ پیر مارتے رہو! میں یہ بھی جانتا تھا کہ تم لیٹ جانے پر خود سے نہیں اٹھ سکتے تین چار نوکر تمہیں کینچ کھانچ کر بستر سے اٹھاتے ہیں! اسی کام کے لئے تم نے تین چار پہلوا رکھ چھوڑے ہیں۔۔!”
“مجھے۔۔ اٹھا۔۔ دس لاکھ!” سرسوکھے چیخا!
جولیا پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔۔!

“تم اس فکر میں تھے کہ مجھے اور عمران دونوں کو ٹھکانے لگا دو۔۔ اس لئے اسمگلنگ کی کہانی لے کر عمران کی بیوی کے پاس پہنچ گئے تھے۔۔ “اے۔ تم کیا بکواس کر رہے ہو!” جولیا بگڑ گئی۔ “تم عمران کی بیوی نہیں ہو؟” رانا نے بڑی معصومیت سے پوچھا!
“نہیں۔ “اوہ۔۔ تو اس نے بکواس کی ہوگی۔۔ بہرحال تو پھر تم اس سے اتنی ہی قریب ہوسکتی ہو کہ سرسوکھے تمہارا سہارا لیتا”۔
“وہ صرف میرا دوست ہے”۔
“شوہر بھی دشمن تو نہیں ہوتا!”
“زبان۔۔ بند کرو۔۔! تم کون ہو؟ اور تمہارا ان معاملات سے کیا تعلق ہے؟”

“زبان بند کرلوں گا تو تم سنو گی! خیر۔۔ تم خود ہی اپنی زبان بند کرو اور مجھے سرسوکھے سے گفتگو کرنے دو! ہاں سوکھے! تم ابھی دس لاکھ کی بات کر رہے تھے! دس کروڑ اور دس ارب کی باتیں شروع کرو پھر شاید مجھے سوچنا پڑے کہ مجھے کیا کرنا چاہیئے!”
“تم کیا چاہتے ہو؟” سرسوکھے نے بیبسی سے پڑے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔!
“تمہارے ہاتھوں کے لئے اسپیشل ہتھکڑیاں بنوائی ہیں! دیکھنا چاہتا ہوں کہ فٹ ہوں گی یا نہیں۔۔؟”
“تم بلیک میلر ہو؟۔۔”

“ہاں میں اپنے ملک و قوم کے لئے سب کچھ کرسکتا ہوں! بلیک میلنگ تو تفریحا بھی ہوجاتی ہے۔۔!”
“تم کون ہو۔۔؟” سرسوکھے نے خوف زدہ سی آواز میں پوچھا!
“جوزف۔۔!” رانا نے جواب دینے کی بجائے آواز دی!
دوسرے ہی لمحے جوزف کمرے میں تھا اور اس کے ہاتھوں میں بڑی بڑی اور وزنی ہتھکڑیاں تھیں۔۔!
“ہتھکڑی لگا دو!” لیکن خیال رکھنا کہ کہیں وہ تمہارے سارے اٹھ نہ آئے! ورنہ پھر اس کا پیٹ ہی پھاڑنا پڑے گا! میں اس ہاتھی کو زندہ لے جانا چاہتا ہوں۔۔!”

جوزف اس کا مطلب سمجھ گیا تھا اس لئے وہ کوشش کر رہا تھا کہ قوت صرف کئے بغیر ہی اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال دے۔ لیکن اسے کامیابی نہ ہوئی۔ تب رانا نے صفدر کو آواز دی! اور جولیا چونک کر اسے گھورنے لگی صفدر بھی اندر آیا۔۔!
“چلو بھئی۔۔ تم بھی مدد کرو جوزف کی!” رانا نے کہا اور جولیا کھسک کر اس کے قریب آگئی! وہ آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر اسے دیکھ رہی تھی!
“فرمائیے محترمہ۔۔!”

“تم کون ہو؟” جولیا نے آہستہ سے پوچھا!
“ہم۔۔ رانا تہور علی صندوقی ہیں!۔۔ ہمارے حضور ابا۔۔ یعنی کہ آنریبل فادر۔۔”
“تم جھوٹے ہو۔۔!” سرسوکھے حلق پھاڑ کر چیخا!” تم ان لوگوں سے بھی کوئی فراڈ کرو گے۔۔ صفدر تم تو عمران کے ساتھی ہو! جولیا اس کے باتوں پر یقین نہ کرو! یہ تمہیں بھی ڈبوئے گا!”
“مگر کچھ دیر پہلے تو یہ تمہاری فرم کا ایک نالائق ملازم تھا”۔ جولیا نے زہریلے لہجے میں کہا!
“کچھ بھی ہو تم اس سے وفا کی امید نہ رکھنا یہ تمہیں اور صفدر کو یہاں سے زندہ واپس نہ جانے دے گا۔۔!”
“مجھے یقین ہے۔۔ تم بکواس نہ کرو!” صفدر نے اس کے منہ پر گھونسہ مارتے ہوئے کہا! وہ دونوں مل کر اس کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں ڈال چکے تھے!

“پچھتا گے۔۔ تم لوگ پچھتا گ۔۔!” سرسوکھے کراہا!
“تم ڈفر ہو سرسوکھے!”۔۔ دفعتا رانا نے کہا۔ “عمران اس وقت بہتزیادہ خطرناک ہوجاتا ہے جب اسے خود اپنی ہی تلاش ہو۔۔ کیا سمجھے!”
“میں نہیں سمجھا! تم کیا کہہ رہے ہو؟”
“عمران کو عمران کی تلاش تھی اس لئے تم چکر کھا گئیتھے! سرسوکھے اگر عمران کو عمران کی تلاش نہ ہوتی تو تم کبھی روشنی میں نہ آتے!”
“تم ۔۔ تم۔۔ عمران۔۔!”

“ہاں! میں عمران۔۔!” عمران سینے پر ہاتھ رکھ کر خفیف سا خم ہوا اور پھر سیدھا کھڑا ہوتا ہوا بولا۔ “میں جانتا تھا کہ تم لوگ کیپٹن واجد کی گرفتاری کے بعد سے رانا تہور علی کے پیچھے پڑ جا گے! مجھے سرغنہ پر ہاتھ ڈالنا تھا جو اندھیرے میں تھا! لہذا میں نے کیپٹن واجد کے ان ساتھیوں میں جنہیں میں نے دانستہ نظر انداز کردیا تھا یہ بات پھیلانے کی کوشش کی کیپٹن واجد کے بعض اہم کاغذات رانا تہور علی نے عمران کے ہاتھ لگتے ہی نہیں دیئے۔۔ اور عمران اب رانا تہور علی کی تلاش میں ہے اور رانا تہور علی کوشش کر رہا ہے کہ وہ عمران کو ختم ہی کردے! تم نے سوچا کہ کیوں نہ دونوں ہی کو ختم کردیا جائے! لہذا تم ڈھمپ اینڈ کمپنی جا پہنچے۔ مقصد صرف یہ تھا کہ جولیا کا قرب حاصل کرسکو!

ہاں مجھے یہ بھی یاد ہے کہ کسی زمانے میں روشی نے بھی تمہاری فرم کی ملازمت کی تھی! لیکن یہ قطعی غلط ہے کہ تم نے مجھے اسی کے توسط سے پہچانا تھا! سیکرٹ سروس والوں پر تمہاری نظریں پہلے ہی سے تھیں اور تم یہ بھی جانتے تھے کہ میں ان کے لئے کام کرتا ہوں! بہرحال تم اس لئے آئے تھے کہ ہم میں گھل مل کر تم بھی رانا تہور علی کی تلاش کرنے والی مہم میں شریک ہوسکو! اور جب وہ مل جائے تو چپ چاپ اسے اور عمران دونوں کو میٹھی نیند سلا دو۔۔! اس لئے تم نے اپنے آفس کے پراسرار اسمگلروں کی کہانی تراشی تھی۔ تقریب کچھ تو بہرملاقات چاہیئے! تمہیں عمران کی تلاش تھی لیکن وہ ہمیشہ بحیثیت عمران تمہاری نظروں میں رہا ہے تم اسے دیکھتے تھے اور نظرآنداز کردیتے تھے۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو میں تمہیں دھوکا دینے میں کیسے کامیاب ہوتا! تم یہ کیسے سمجھتے کہ عمران اور تہور علی میں چھڑ گئی ہے! وہ دونوں ایک دوسرے کو رگڑ دینا چاہتے ہیں۔۔!”

سرسوکھے نے آنکھیں بند کرلیں تھیں! ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ شروع سے اب تک کے واقعات کو ذہنی طور پر ترتیب دینے کی کوشش کر رہا ہو۔ عمران نے کچھ دیر خاموش رہ کر قہقہہ لگایا۔ “ہاہا ۔ سوکھے رام! جب میرے کرایہ کے آدمیوں نے ندی کے کنارے مجھ پر اور صفدر پر حملہ کیا تھا تو تم یہی سمجھے تھے کے حملہ رانا تہور علی کی طرف سے ہوا تھا۔۔ وہ ڈرامہ میں نے اسی لئے اسٹیج کیا تھا کہ تم یہی سمجھو! موٹی عقل والے موٹے آدمی تم اتنا نہیں سوچ سکتے تھے کے کھلے میں ہم پر فائرنگ ہوئی تھی۔۔ لیکن اس کے باوجود بھی صفدر بچ نکلا تھا۔۔! میں تو خیر دریا ہی میں کود گیا تھا!”

صفدر نے پلکیں جھپکائیں! اسے وہ واقعہ اب بھی یاد تھا! لیکن اصلیت اسی وقت معلوم ہوئی تھی! اس کے فرشتے بھی اس موقع پر یہ نہ سوچ سکتے کہ جس کا تعاقب کرتے ہوئے وہ ندی تک پہنچے تھے عمران ہی کا آدمی تھا اور وہ فائرنگ بھی مصنوعی ہی تھی! ہوسکتا ہے کہ گولیوں والے کارتوس سرے سے استعمال ہی نہ کئے گئے ہوں! لیکن بچ نکلنے کے بعد تو وہ اسے معجزہ ہی سمجھتا رہا تھا! کیونکہ فائرنگ جھاڑیوں سے ہوئی تھی اور وہ کھلے میدان میں تھے اوٹ کے لئے کوئی جگہ نہیں مل سکتی تھی۔

ادھر جولیا کوعمران کی تحریر یاد آگئی جو سرکنڈوں کی جھاڑیوں کے درمیان ملی تھی۔۔!
عمران نے پھر قہقہہ لگایا اور بولا! ” میں نے خود ہی تمہیں موقع دیا تھا۔ کہ تم میرے کچھ آدمیوں کو پکڑ لو۔۔تاکہ مجھے تمہارے مختلف اڈوں کا علم ہوسکے اور تم دوسرے چکر میں تھے! تم انہیں پکڑواتے تھے اور پھر ایسے حالات پیدا کرتے تھے کہ وہ نکل جائیں۔۔ اور مجھ تک یہ بات پہنچے کہ وہ لوگ سرسوکھے میں بھی دلچسپی لے رہے ہیں! اور مجھے نہ صرف سرسوکھے کی اسمگلنگ والی کہانی پر یقین آجائے بلکہ میں اس الجھن میں بھی پڑ جاں کہ آخر ان اسمگلروں کو رانا تہور علی سے کیا سروکار۔۔! تمہیں یقین تھا کہ اس طرح میں تم پر اعتماد کرکے تمہیں رانا تہور علی والے معاملہ میں بھی شریک کرلوں گا! اس طرح تمہیں رانا تک پہنچنے میں آسانی ہوگی۔۔!”
“باس!” دفعتا جوزف ہاتھ اٹھا کر بولا۔ “تم نے اس رات اندھیرے میں سبز رنگ کی بوٹ دیکھنے کی ہدایت دی! مجھے بتا کہ میں اندھیرے میں سبز رنگ کیسے دیکھ سکتا تھا؟”

“بکواس بند کرو! یہ میں نے اسی لئے کیا تھا کہ تم یہی پوچھنے کے لئے مجھے تلاش کرتے ہوئے شراب خانے میں آ۔۔ اور حلق تک تاڑی ٹھونس لو!”
“میں قسم کہا سکتا ہوں کہ مجھے دس سال بعد تاڑی نصیب ہوئی تھی”۔
جوزف نے غالبا” تاڑی کا ذائقہ یاد کرکے اپنے ہونٹ چاٹے تھے!
“بکواس بند کرو!” عمران نے کہا اور پھر سرسوکھے کی طرف دیکھنے لگا جو زمین میں پڑا اس طرح ہانپ رہا تھا جیسے کچھ دیر پہلے کی اچھل کود سے پیدا ہونے تھکن اب محسوس ہوئی ہو! دفعتا اس نے کھنکار کر کہا۔

“میں بہت بڑا آدمی ہوں! تمہیں پچھتانا پڑے گا! اگر تم کسی کو میری کہانی سنانا چاہو گے تو وہ تم پر ہنسے گا۔ تمہیں پاگل سمجھے گا!”
“پاگل تو لوگ ویسے ہی سمجھتے ہیں سوکھے رام۔۔ مجھے بالکل دکھ نہ ہوگا۔ لیکن تم خود ہی عدالت کے لئے اپنے خللاف سارا ثبوت مہیا کرچکے ہو۔ یہاں ایک ٹیپ ریکارڈ بھی موجود ہے جس پر شروع سے اب تک ہماری گفتگو ریکارڈ ہوتی رہی ہے۔۔ اور اب بھی ہو رہی ہے۔۔!”
دفعتا سرسوکھے پر چنگھاڑنے کا دورہ سا پڑ گی! لیکن ٹیپ ریکارڈر ایک بھی صحیح وسالم گالی ریکارڈ نہ کرسکا ہو! سرسوکھے کی ذہنی حالت اتنی اچھی نہیں معلوم ہوتی تھی کہ وہ مختلف گالیوں کو مربوط کرکے انہیں قابل فہم بنا سکتا۔۔!

دوسرے دن عمران جولیا کے فلیٹ میں نظر آیا! وہ اسے بتا رہا تھا کہ اس نے تنویر کو اسی لئے فون پر بور کیا تھا کہ وہ جولیا کو بور کرے۔ عمران کو یقین تھا کہ جولیا تنویر کی زبانی اس کی بکواس سن کر ضرور تا میں آجائے گی اور نتیجہ یہی ہوگا کہ وہ اسی وقت سرسوکھے کے ساتھ نکل کھڑی ہو۔۔!
“سرسوکھے نے تم سے تعاقب کرنے والے کے متعلق بحث کرکے یہی معلوم کرنا چاہا تھا کہ تم رانا کو پہچانتی ہو یا نہیں۔ تم نہیں پہچانتی تھیں! اس لئے اس نے صحیح اندازہ لگایا اور اپنے کام میں لگ گیا۔۔!”

“ایکس ٹو نے مجھے فون پر ہدایت دی ہے کہ میں رانا کے وجود کو راز ہی رکھوں”۔ جولیا نے کہا۔ “اس کا بیان ہے کہ ہم لوگوں میں سے صرف صفدر اور میں رانا کے وجود سے واقف ہوں! بقیہ لوگ نہیں جانتے! تو کیا تمہارا رانا والا رول ابھی برقرار رہے گا؟”
“فی الحال وہ مستقل ہے!”
“تب پھر یہ سمجھنا چاہیئے کہ اس پارٹی میں سب سے زیادہ اہمیت تمہیں ہی حاصل ہے”۔
“یا پھر میری بیوی کو حاصل ہوسکتی ہے!” عمران بڑی معصومیت سے کہا!

جولیا بڑا برا سا منہ بنا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔ اور عمران اٹھتا ہوا بولا! بہرحال مجھے اس غیر ملکی سازش کی جڑوں کی تلاش تھی۔۔ کتنی موٹی جڑ ہاتھ آئی۔۔ ہاہا۔۔ کاش اسے کسی چڑیاگھر کی زینت بنایاجاسکتا! اس کے پھرتیلے پن نے تو میرے بھی چھکے چھڑا دیئے تھے! لیکن گر جانے کے بعد وہ کس طرح بیبس ہوگیا تھا! دنیا کا آٹھواں عجوبہ۔۔!”
اس کے بعد نہ جولیا نے اسے رسما ہی روکا اور نہ عمران ہی تفریح کے موڈ میں معلوم ہوتا تھا۔

—————-