APNE DUKH MUJHE DEDO BY BEDI

Articles

اپنے دُکھ مجھے دے دو

راجندر سنگھ بیدی

اپنے دُکھ مجھے دے دو

 

اندو نے پہلی بار ایک نظر اوپر دیکھتے ہوئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور صرف اتنا سا کہا۔ “جی” اسے خود اپنی آواز کسی پاتال سے آئی ہوئی سنائی دی۔

دیر تک کچھ ایسا ہی ہوتا رہا اور پھر ہولے ہولے بات چل نکلی۔ اب جو چلی سو چلی۔ وہ تھمنے ہی میں نہ آتی تھی۔ اندو کے پتا، اندو کی ماں، اندو کے بھائی، مدن کے بھائی بہن، باپ، ان کی ریلوے سیل سروس کی نوکری، ان کے مزاج، کپڑوں کی پسند، کھانے کی عادت، سبھی کا جائزہ لیا جانے لگا۔ بیچ بیچ میں مدن بات چیت کو توڑ کر کچھ اور ہی کرنا چاہتا تھا لیکن اندو طرح دے جاتی تھی۔ انتہائی مجبوری اور لاچاری میں مدن نے اپنی ماں کا ذکر چھیڑ دیا جو اسے سات سال کی عمر میں چھوڑ کر دق کے عارضے سے چلتی بنی تھی۔ “جتنی دیر زندہ رہی بیچاری” مدن نے کہا۔ “بابو جی کے ہاتھ میں دوائی کی شیشیاں رہیں۔ ہم اسپتال کی سیڑھیوں پر اور چھوٹا پاشی گھر میں چیونٹیوں کے بل پر سوتے رہے اور آخر ایک دن28 مارچ کی شام” اور مدن چپ ہو گیا۔ چند ہی لمحوں میں وہ رونے سے ذرا ادھر اور گھگھی سے ذرا اُدھر پہنچ گیا۔ اندو نے گھبرا کر مدن کا سر اپنی چھاتی سے لگا لیا۔ اس رونے نے پل بھر میں اندو کو اپنے پن سے ادھر اور بیگانے پن سے ادھر پہنچا دیا تھامدن اندو کے بارے میں کچھ اور بھی جاننا چاہتا تھا لیکن اندو نے اس کے ہاتھ پکڑ لئے اور کہا۔ “میں تو پڑھی لکھی نہیں ہو ں جیپر میں نے ماں باپ دیکھے ہیں، بھائی اور بھابھیاں دیکھی ہیں، بیسیوں اور لو گ دیکھے ہیں۔ اس لئے میں کچھ سمجھتی بوجھتی ہوںمیں اب تمہاری ہوںاپنے بدلے میں تم سے ایک ہی چیز مانگتی ہوں۔”

روتے وقت اور اس کے بعد بھی ایک نشہ سا تھا۔ مدن نے کچھ بے صبری اور؟؟؟؟کے ملے جلے شبدوں میں کہا”کیا مانگتی ہو؟ تم جو بھی کہو گی میں دو ں گا۔”

“پکی بات؟” اندو بولی۔

مدن نے کچھ اتادلے ہو کر کہا۔ “ہاں ہاں کہا جو پکی بات۔”

لیکن اس بیچ میں مدن کے من میں ایک وسوسہ آیامیرا کاروبار پہلے ہی مندا ہے، اگر اندو کوئی ایسی چیز مانگ لے جو میری پہنچ ہی سے باہر ہو تو پھر کیا ہو گا؟ لیکن اندو نے مدن کے سخت اور پھیلے ہوئے ہاتھوں کو اپنے ملائم ہاتھوں سے سمیٹتے ہوئے ان پر اپنے گال رکھتے ہوئے کہا۔

“تم اپنے دکھ مجھے دو۔”

مدن سخت حیران ہوا۔ ساتھ ہی اپنے آپ پر ایک بوجھ اترتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے چاندنی میں ایک بار پھر اندو کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی لیکن وہ کچھ نہ جان پایا۔ اس نے سوچا یہ ماں یا کسی سہیلی کا رٹا ہوا فقرہ ہو گا جو اندو نے کہہ دیا۔ جبھی یہ جلتا ہوا آنسو مدن کے ہاتھ کی پشت پر گرا۔ اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا۔

“دئے!” لیکن ان سب باتوں نے مدن سے اس کی بہیمت چھین لی تھی۔

مہان ایک ایک کر کے سب رخصت ہوئے۔ چکلی بھابھی دو بچوں کو انگلیوں سے لگائے سیڑھیوں کی اونچ نیچ سے تیسرا پیٹ سنبھالتی ہوئی چل دی۔ دریا آباد والی پھوپھی جو اپنے “نولکھے ” ہار کے گم ہو جانے پر شور مچاتی واویلا کرتی ہوئی بے ہوش ہو گئی تھی اور جو غسل خانے میں پڑا ہو ا مل گیا تھا، جہیز میں سے اپنے حصے کے تین کپڑے لے کر چلی گئی۔ پھر چاچا گئے۔ جن کو ان کے جے پی ہو جانے کی خبر تار کے ذریعے ملی تھی اور جو شاید بد حواسی میں مدن کی بجائے دلہن کا منہ چومنے چلے تھے۔

گھر میں بوڑھا باپ رہ گیا تھا اور چھوٹے بہن بھائی۔ چھوٹی دلاری تو ہر وقت بھابی کی ہی بغل میں گھسی رہتی۔ گلی محلے کی کوئی عورت دلہن کو دیکھے یا نہ دیکھے۔ دیکھے تو کتنی دیر دیکھے۔ یہ سب اس کے اختیار میں تھا۔ آخر یہ سب ختم ہوا اور آہستہ آہستہ پرانی ہو نے لگی لیکن کا کا جی کی اس نئی آبادی کے لوگ اب بھی آتے جاتے۔ مدن تو اس کے سامنے رک جاتے اور کسی بھی بہانے سے اندر چلے آتے۔ اندو انہیں دیکھتے ہی ایک دم گھونگٹ کھینچ لیتی لیکن اس چھوٹے سے وقفے میں جو کچھ دکھائی دے جاتا وہ بنا گھونگٹ کے دکھائی ہی نہ دے سکتا تھا۔

مدن کا کاروبار گندے بروزے کا تھا۔ کہیں بڑی سپلائی والے دو تین جنگلوں میں چیڑ اور دیودار کے پیڑوں کی جنگل میں آگ نے آ لیا تھا اور وہ دھڑا دھڑ جلتے ہوئے خاک سیاہ ہو کر رہ گئے تھے۔۔ شادی کی رات بالکل وہ نہ ہوا جو مدن نے سوچا تھا۔ جب چکلی بھابی نے پھسلا کر مدن کو بیچ والے کمرے میں دھکیل دیا تو اندو سامنے شالوں میں لپٹی اندھیرے کا بھاگ بنی جا رہی تھی۔ باہر چکلی بھابی اور دریا آباد والی پھوپھی اور دوسری عورتوں کی ہنسی، رات کے خاموش پانیوں میں مصری کی طرح دھیرے دھیرے گھل رہی تھی۔ عورتیں سب یہی سمجھتی تھیں کہ اتنا بڑا ہو جانے پر بھی مدن کچھ نہیں جانتا۔ کیونکہ جب اسے بیچ رات سے جگایا گیا تو وہ ہڑبڑا رہا تھا۔ “کہاں، کہاں لئے جا رہی ہو مجھے؟”

ان عورتوں کے اپنے اپنے دن بیت چکے تھے۔ پہلی رات کے بارے میں ان کے شریر شوہروں نے جو کچھ کہا اور مانا تھا، اس کی گونج ان کے کانوں میں باقی نہ رہی تھی۔ وہ خود رس بس چکی تھیں اور اب اپنی ایک اور بہن کو بسانے پر تلی ہوئی تھیں۔ زمین کی یہ بیٹیاں مرد کو تو یوں سمجھتی تھیں جیسے بادل کا ٹکڑا ہے جس کی طرف بارش کے لئے منہ اٹھا کر دیکھنا ہی پڑتا ہے۔ نہ برسے تو منتیں ماننی پڑتی ہیں۔ چڑھاوے چڑھانے پڑتے ہیں۔ جادو ٹونے کرنے ہوتے ہیں۔ حالانکہ مدن کالکا جی کی اس نئی آبادی میں گھر کے سامنے کی جگہ میں پڑا اسی وقت کا منتظر تھا۔ پھر شامتِ اعمال پڑوسی سبطے کی بھینس اس کی کھاٹ ہی کے پاس بندھی تھی جو بار بار پھنکارتی ہوئی مدن کو سونگھ لیتی تھی اور وہ ہاتھ اٹھا اٹھا کر اسے دور رکھنے کی کوشش کرتا۔ ایسے میں بھلا نیند کا سوال ہی کہاں تھا؟

سمندر کی لہروں اور عورت کے خون کو راستہ بتانے والا چاند ایک کھڑکی کے راستے سے اندر چلا آیا تھا اور دیکھ رہا تھا۔ دروازے کے اس طرف کھڑا مدن اگلا قدم کہاں رکھتا ہے۔ مدن کے اپنے اندر ایک گھن گرج سی ہو رہی تھی اور اسے اپنا آپ یوں معلوم ہو رہا تھا جیسے بجلی کا کھمبا ہے جسے کان لگانے سے اسے اندر کی سنسناہٹ سنائی دے جائے گی۔ کچھ دیر یونہی کھڑے رہنے کے بعد اس نے آگے بڑھ کر پلنگ کو کھینچ کر چاندنی میں کر دیا تاکہ دلہن کا چہرہ تو دیکھ سکے۔ پھر وہ ٹھٹک گیا۔ جب اس نے سوچااندو میری بیوی ہے۔ کوئی پرائی عورت تو نہیں جسے نہ چھونے کا سبق بچپن ہی سے پڑھتا آیا ہوں۔ شالو میں لپٹی ہوئی دلہن کو دیکھتے ہوئے اس نے فرض کر لیا، وہاں اندو کا منہ ہو گا۔ اور جب ہاتھ بڑھا کر اس نے پاس پڑی گٹھڑی کو چھوا تو وہیں اندو کا منہ تھا۔ مدن نے سوچا تھا وہ آسانی سے مجھے اپنا آپ نہ دیکھنے دے گی لیکن اندو نے ایسا نہ کیا۔ جیسے پچھلے کئی سالوں سے وہ بھی اسی لمحے کی منتظر ہو اور کسی خیالی بھینس کے سونگھتے رہنے سے اسے بھی نیند نہ آ رہی ہو۔ غائب نیند اور بند آنکھوں کا کرب اندھیرے کے باوجود سامنے پھڑپھڑاتا ہوا نظر آ رہا تھا۔ ٹھوڑی تک پہنچتے ہوئے عام طور پو چہرہ لمبوترا ہو جاتا ہے لیکن یہاں تو سبھی گول تھا۔ شاید اسی لئے چاندنی کی طرف گال اور ہونٹوں کے بیچ ایک سائے دار کھوہ سی بنی ہوئی تھی۔ جیسی دو سر سبز اور شاداب ٹیلوں کے بیچ ہوتی ہے۔ ماتھا کچھ تنگ تھا لیکن اس پر سے ایکا ایکی اٹھنے والے گھنگھریالے بال۔

جبھی اندو نے اپنا چہرہ چھڑا لیا جیسے وہ دیکھنے کی اجازت تو دیتی ہو لیکن اتنی دیر کے لئے نہیں۔ آخر شرم کی بھی تو کوئی حد ہوتی ہے۔ مدن نے ذرا سخت ہاتھوں سے یوں ہی سی ہوں ہاں کرتے ہوئے دلہن کا چہرہ پھر سے اوپر کو اٹھا دیا اور شرابی سی آواز میں کہا۔ “اندو!”

اندو کچھ ڈر سی گئی۔ زندگی میں پہلی بار کسی اجنبی نے اس کا نام اس انداز سے پکارا تھا اور وہ اجنبی کسی خدائی حق سے رات کے اندھیرے میں آہستہ آہستہ اس اکیلی بے یار و مددگار عورت کا اپنا ہوتا جا رہا تھا۔۔

“میں نے تو ابھی سے چار سوٹ اور کچھ برتن الگ کر ڈالے ہیں اس کے لئے اور جب مدن نے کوئی جواب نہ دیا تو اسے جھنجھوڑتے ہوئے بولی۔ “تم کیوں پریشان ہوتے ہویاد نہیں اپنا وچن؟ تم اپنے دکھ مجھے دے چکے ہو۔”

“ایں؟” مدن نے چونکتے ہوئے کہا اور جیسے بے فکر ہو گیا لیکن اب کے جب اس نے اندو کو اپنے ساتھ لپٹایا تو وہاں ایک جسم ہی نہیں رہ گیا تھا ساتھ ایک روح بھی شامل ہو گئی تھی۔

مدن کے لئے اندو روح ہی روح تھی۔ اندو کا جسم بھی تھا لیکن وہ ہمیشہ کسی نہ کسی وجہ سے مدن کی نظروں سے اوجھل ہی رہا۔ ایک پردہ تھا۔ خواب کے تاروں سے بنا ہوا۔ انہوں کے دھوئیں سے رنگین قہقہوں کی زر تاری سے چکا چوند جو ہر وقت اندو کو ڈھانپے رہتا تھا۔ مدن کی نگاہوں اور اس کے ہاتھوں کے دو شاسن صدیوں سے اس درو پدی کا چیر ہرن کرتے آئے تھے جو کہ عرفِ عام میں بیوی کہلاتی ہے لیکن ہمیشہ اسے آسمانوں سے تھانوں کے تھان، گزوں کے گز، کپڑا ننگا پن ڈھانپنے کے لئے ملتا آیا تھا۔ دو شاسن تھک ہار کے یہاں وہاں گرے پڑے تھے لیکن درو پدی وہیں کھڑی تھیں، عزت اور پاکیزگی کی ایک سفید اور بے داغ ساری میں ملبوس وہ دیوی لگ رہی تھی۔ اور مدن کے لوٹتے ہوئے ہاتھ خجالت کے پسینے سے تر ہوئے، جسے سکھانے کے لئے وہ انہیں اوپر ہوا میں اٹھا دیتا اور پھر ہاتھ کے پنجوں کو پورے طور پر پھیلا تا ہوا، ایک تشنجی کیفیت میں اپنی آنکھوں کی پھیلتی پھٹتی ہوئی پتلیوں کو سامنے رکھ دیا اور پھر انگلیوں کے بیچ میں سے جھانکتااندو کا مر مریں جسم خوش رنگ اور گداز سامنے پڑا ہوتا۔ استعمال کے لئے پاس، ابتذال کے لئے دورکبھی جب اندو کی ناکہ بندی ہو جاتی تو اس قسم کے فقرے ہوتے

“ہائے جی” گھر میں چھوٹے بڑے ہیں۔ وہ کیا کہیں گے؟

مدن کہتا۔ “چھوٹے سمجھتے نہیںبڑے انجان بن جاتے ہیں۔”

اسی دوران میں بابو دھنی رام کی تبدیلی سہارنپور ہو گئی۔ وہاں وہ ریلوے میل سروس میں سیلیکشن گریڈ کے ہیڈ کلرک ہو گئے۔ اتنا بڑا کوارٹر ملا کہ اس میں آٹھ کنبے رہ سکتے تھے لیکن بابو دھنی رام اس میں اکیلے ہی ٹانگیں پھیلائے کھڑے رہتے۔ زندگی بھر وہ بال بچوں سے کبھی علیٰحدہ نہیں ہوئے تھے۔ سخت گھریلو قسم کے آدمی۔ آخری زندگی میں اس تنہائی نے ان کے دل میں وحشت پیدا کر دی لیکن مجبوری تھی، بچے سب دلی میں مدن اور اندو کے پاس تھے اور وہیں اسکول میں پڑھتے تھے۔ سال کے خاتمے سے پہلے انہیں بیچ میں اٹھانا ان کی پڑھائی کے لئے اچھا نہ تھا۔ بابو جی کے دل کے دورے پڑنے لگے۔

بارے گرمی کی چھٹیاں ہوئیں۔ ان کے بار بار لکھنے پر مدن نے اندو کو کندن، پاشی اور دلاری کے ساتھ سہارنپور بھیج دیادھنی رام کی دنیا چمک اٹھی۔ کہاں انہیں دفتر کے کام کے بعد فرصت ہی فرصت تھی اور کہاں اب کام ہی کام تھا۔ بچے بچوں ہی کی طرح جہاں کپڑے اتارتے ہیں وہیں پڑے رہنے دیتے اور بابو جی انہیں سمیٹتے پھرتے۔ اپنے مدن سے دور السانی ہوئی رتی، اندو تو اپنے پہناوے تک سے غافل ہو گئی تھی۔ وہ رسوئی میں یوں پھرتی تھی جیسے کانجی ہاؤس میں گائے، باہر کی طرف منہ اٹھا اٹھا کر اپنے مالک کو ڈھونڈا کرتی ہو۔ کام وام کرنے کے بعد وہ کبھی اندر ٹرنکوں پر لیٹ جاتی۔ کبھی باہر کنیر کے بوٹے کے پاس اور کبھی آم کے پیڑ تلے جو آنگن میں کھڑا سینکڑوں ہزاروں دلوں کو تھامے ہوئے تھا۔

ساون بھادوں میں ڈھلنے لگا۔ آنگن میں سے باہر کا دریچہ کھلتا تو کنواریاں، نئی بیاہی ہوئی لڑکیاں پینگ بڑھاتے ہوئے گاتیںجھولا کن تے ڈارورے امریاںاور پھر گیت کے بول کے مطابق دو جھولتیں اور دو جھلاتیں اور کہیں چار مل جاتیں تو بھول بھلیاں ہو جاتیں۔ ادھیڑ عمر کی بوڑھی عورتیں ایک طرف کھڑی تکا کرتیں۔ اندو کو معلوم ہوتا جیسے وہ بھی ان میں شامل ہو گئی ہے۔ جبھی وہ منہ پھیر لیتی اور ٹھنڈی سانسیں بھرتی ہوئی سو جاتی۔ بابو جی پاس سے گزرتے تو اسے جگانے، اٹھانے کی ذرا بھی کوشش نہ کرتے۔

میسور اور آسام کی طرف سے منگوایا ہوا بیروزہ مہنگا پڑتا تھا اور لوگ اسے مہنگے داموں خریدنے کو تیار نہ تھے۔ ایک تو آمدنی کم ہو گئی تھی۔ اس پر مدن جلدی ہی دکان اور اس کے ساتھ والا دفتر بند کر کے گھر چلا آتا۔ گھر پہنچ کر اس کی ساری کوشش یہی ہوتی کہ سب کھائیں پئیں اور اپنے اپنے بستروں میں دبک جائیں۔ جب وہ کھاتے وقت خود تھالیاں اٹھا اٹھا کر باپ اور بہن کے سامنے رکھتا اور ان کے کھا چکنے کے جھوٹے برتنوں کو سمیٹ کر نل کے نیچے رکھ دیتا۔ سب سمجھتے بہو۔ بھابی نے مدن کے کان میں کچھ پھونکا ہے اور اب وہ گھر کے کام کاج میں دلچسپی لینے لگا ہے۔ مدن سب سے بڑا تھا۔ کندن اس سے چھوٹا اور پاشی سب سے چھوٹا۔ جب کندن بھابی کے سواگت میں سب کے ایک ساتھ بیٹھ کر کھانے پر اصرار کرتا تو باپ دھنی رام وہیں ڈانٹ دیتا۔

“کھاؤ تم۔ ” وہ کہتا “وہ بھی کھا لیں گے” اور پھر رسوئی میں ادھر ادھر دیکھنے لگتا اور جب بہو کھانے پینے سے فارغ ہو جاتی اور برتنو ں کی طرف متوجہ ہوتی تو بابو دھنی رام اسے روکتے ہوئے کہتے۔ “رہنے دے بہو برتن صبح ہو جائیں گے۔”

اندو کہتی “نہیں بابو جیمیں ابھی کئے دیتی ہوں جھپاکے سے۔”

تب بابو دھنی رام ایک لرزتی ہوئی آواز میں کہتے “مدن کی ماں ہوتی بہو، تو یہ سب تمہیں نہ کرنے دیتی۔؟ اور اندو ایک دم اپنے ہاتھ روک لیتی۔

چھوٹا پاشی بھابی سے شرماتا تھا۔ اس خیال سے کہ دلہن کی گود جھٹ سے ہری ہو، چمکی بھابی اور دریا باد والی پھوپھی نے ایک رسم میں پاشی ہی کو اندو کی گود میں ڈالا تھا۔ جب سے اندو اسے نہ صرف دیور بلکہ اپنا بچہ سمجھنے لگی تھی۔ جب بھی وہ پیار سے پاشی کو اپنے بازوؤں میں لینے کی کوشش کرتی تو وہ گھبرا اٹھتا اور اپنا آپ چھڑا کر دو ہاتھ کی دوری پر کھڑا ہو جاتا۔ دیکھتا اور ہنستا رہتا۔ پاس آتا تو دور ہٹتا۔ ایک عجیب اتفاق سے ایسے میں بابو جی ہمیشہ وہیں موجود ہوتے اور پاشی کو ڈانٹتے ہوئے کہتے “ارے جانا بھابی پیا ر کرتی ہے ابھی سے مرد ہو گیا تو؟” اور دلاری تو پیچھا ہی نہ چھوڑتی اس کا۔ “میں تو بھابی کے ساتھ ہی سوؤں گی۔”کے اصرار نے بابو جی کے اندر کوئی جنا ردھن جگا دیا تھا۔ ایک رات اس بات پر دلاری کو زور سے چپت پڑی اور وہ گھر کی آدھی کچی، آدھی پکی نالی میں جا گری۔ اندو نے لپکتے ہوئے پکڑا تو سر سے دوپٹہ اڑ گیا۔ بالوں کے پھول اور چڑیاں، مانگ کا سیندور، کانوں کے کرن پھول سب ننگے ہو گئے۔ “بابو جی۔” اندو نے سانس کھینچتے ہوئے کہاایک ساتھ دلاری کو پکڑنے اور سر پر دوپٹہ اوڑھنے میں اندو کے پسینے چھوٹ گئے۔ اس بے ماں بچی کو چھاتی سے لگائے ہوئے اندو نے اسے ایک ایسے بستر میں سلا دیا جہاں سرہانے ہی سرہانے، تکئے ہی تکئے تھے۔ نہ کہیں پائنتی تھی نہ کاٹھ کے بازو۔ چوٹ تو ایک طرف کہیں کو چبھنے والی چیز بھی نہ تھی۔ پھر اندو کی انگلیاں دلاری کے پھوڑے ایسے سر پر چلتی ہوئی اسے دکھا بھی رہی تھیں اور مزا بھی دے رہی تھیں۔ دلاری کے گالوں پر بڑے بڑے اور پیارے پیارے گڑھے پڑتے تھے۔ اندو نے ان گڑھوں کا جائزہ لیتے ہوئے کہا “ہائے ری منی! تیری ساس مرے، کیسے گڑھے پڑ رہے ہیں گالوں پر!”

منی نے منی کی طرح کہا۔ “گڑھے تمہارے بھی تو پڑتے ہیں بھابی۔”

“ہاں منو!” اندو نے کہا اور ایک ٹھنڈا سانس لیا۔

مدن کو کسی بات پر غصہ تھا۔ وہ پاس ہی کھڑا سب کچھ سن رہا تھا۔ “میں تو کہتا ہوں ایک طرح سے اچھا ہی ہے۔”

“کیوں اچھا کیوں ہے؟” اندو نے پوچھا۔

“ہاںنہ اُگے بانس نہ بجے بانسریسانس نہ ہو تو کوئی جھگڑا نہیں رہتا۔” اندو نے ایکا ایکی خفا ہوتے ہوئے کہا۔ “تم جاؤ جی سو رہو جا کربڑے آئے ہوآدمی جیتا ہے تو لڑتا ہے نا؟ مر گھٹ کی چپ چاپ سے جھگڑے بھلے۔ جاؤ نہ رسوئی میں تمہارا کیا کام؟”

مدن کھسیانا ہو کر رہ گیا۔ بابو دھنی رام کی ڈانٹ سے باقی بچے تو پہلے ہی اپنے اپنے بستروں میں یوں جا پڑے تھے جیسے دفتروں میں چھٹیاں سٹارٹ ہو تی ہیں۔

لیکن مدن وہیں کھڑا رہا۔ احتیاج نے اسے ڈھیٹ اور بے شرم بنا دیا تھا لیکن اس وقت جب اندو نے بھی اسے ڈانٹ دیا تو وہ روہانسا ہو کر اندر چلا گیا۔

دیر تک مدن بستر میں پڑا کسمساتا رہا لیکن بابو جی کے خیال سے اندو کو آواز دینے کی ہمت نہ پڑتی تھی۔ اس کی بے صبری کی حد ہو گئی تھی۔ جب منی کو سلانے کے لئے اندو کی لوری کی آواز سنائی دی”تو آ نندیا رانی، بورائی مستانی۔”

وہی لوری جو دلاری منی کو سلا رہی تھی، مدن کی نیند بھگا رہی تھی۔ اپنے آپ سے بیزار ہو کر اس نے زور سے چادر سر پر کھینچ لی۔ سفید چادر کے سر پر لپیٹنے اور سانس کے بند کرنے سے خواہ مخواہ ایک مردے کا تصور پیدا ہو گیا۔ مدن کو یوں لگا جیسے وہ مر چکا ہے اور اس کی دلہن اندو اس کے پاس بیٹھی زور زور سے سر پیٹ رہی ہے، دیوار کے ساتھ کلائیاں مار مار کر چوڑیاں توڑ رہی ہے اور پھر باہر لپک جاتی ہے اور بانہیں اٹھا اٹھا کر اگلے محلے کے لوگوں سے فریاد کرتی ہے۔ “لوگو! میں لٹ گئی۔ ” اب اسے دوپٹے کی پرواہ نہیں۔ قمیض کی پرواہ نہیں۔ مانگ کا سیندور، بالوں کے پھول اور چوڑیاں، جذبات اور خیالات کے طوطے تک اڑ چکے ہیں۔

مدن کی آنکھوں سے بے تحاشہ آنسو بہہ رہے تھے۔ حالانکہ رسوئی میں اندو ہنس رہی تھی۔ پل بھرمیں اپنے سہاگ کے اجڑنے اور پھر بس جانے سے بے خبر۔ مدن جب حقائق کی دنیا میں واپس آیا تو آنسو پونچھتے ہوئے اپنے اس رونے پر ہنسنے لگاادھر اندو تو ہنس رہی تھی لیکن اس کی ہنسی دبی دبی تھی۔ بابو جی کے خیال سے وہ کبھی اونچی آواز میں نہ ہنستی تھی جیسے کھلکھلاہٹ کوئی ننگا پن ہے، خاموشی، دوپٹہ اور دبی دبی ہنسی ایک گھونگٹ۔ پھر مدن نے اندو کا ایک خیالی بت بنایا اور اس سے بیسیوں باتیں کر ڈالیں۔ یوں اس سے پیار کیا جیسے ابھی تک نہ کیا تھاوہ پھر اپنی دنیا میں لوٹا جس میں ساتھ کا بستر خالی تھا۔ اس نے ہولے سے آواز دیاندوایک اونگھ سی آئی لیکن ساتھ ہی یوں لگا جیسے شادی کی رات والی، پڑوسی سبطے کی بھینس منہ کے پاس پھنکارنے لگی ہے۔ وہ ایک بے کلی کے عالم میں اٹھا، پھر رسوئی کی طرف دیکھتے، سر کو کھجاتے ہوئے دو تین جمائیاں لے کر لیٹ گیاسو گیا

مدن جیسے کانوں کو کوئی سندیسہ دے کر سویا تھا۔ جب اندو کی چوڑیاں بستر کی سلوٹیں سیدھی کرنے سے کھنک اٹھیں تو وہ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا۔ یوں ایک دم جاگنے میں محبت کا جذبہ اور بھی تیز ہو گیا تھا۔ پیار کی کروٹوں کو توڑے بغیر آدمی سو جائے اور ایکا ایکی اٹھے تو محبت دم توڑ دیتی ہے۔ مدن کا سارا بدن اندر کی آگ سے پھنک رہا تھا۔ اور یہی اس کے غصے کا کرن بن گیا۔ جب اس نے بوکھلائے ہوئے انداز میں کہا۔

“تو تم آ گئیں؟”

“ہاں۔”

“سنیسو مر گئی؟”

اندو جھکی جھکی ایک دم سیدھی کھڑی ہو گئی۔ “ہائے رام” اس نے ناک پر انگلی رکھتے ہوئے ہاتھ ملتے ہوئے کہا۔ “کیا کہہ رہے ہومرے کیوں بیچاری۔ ماں باپ کی ایک نہ ہی بیٹی۔”

“ہاںمدن نے کہا۔”بھابھی کی ایک ہی نند۔” اور ایک دم تحکمانہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے بولا۔ “زیادہ منہ مت لگاؤ اس چڑیل کو۔”

“کیوں اس میں کیا پاپ ہے؟”

“یہی پاپ ہے” مدن نے اور چڑتے ہوئے کہا۔ “وہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتی تمہارا۔ جب دیکھو جونک کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ دفان ہی نہیں ہوتی۔”

“ہااندو نے مدن کی چارپائی پر بیٹھتے ہوئے کہا۔ “بہنوں اور بیٹیوں کو یوں تو دھتکارنا نہیں چاہئے۔ بیچاری دو دن کی مہمان۔۔ آج نہیں تو کل۔ کل نہیں تو پرسوں۔ ایک دن تو چل ہی دے گی۔” اس کے بعد اندو کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن وہ چپ ہو گئی۔ اس کی آنکھوں کے سامنے اپنے ماں باپ، بھائی بہن چچا بھی گھوم گئے۔ کبھی وہ بھی ان کی دلاری تھی۔ جو پلک جھپکتے ہی نیاری ہو گئی۔ اور پھر دن رات اس کے نکالے جانے کی باتیں ہو نے لگیں۔ جیسے گھر میں کوئی بڑی سی باہنی ہے جس میں کوئی ناگن رہتی ہے اور جب تک وہ پکڑ کر پھنکوائی نہیں جاتی۔ گھر کے لوگ آرام کی نیند سو نہیں سکتے۔ دور دور سے کیلنے والے لتھن کرنے والے۔ دات چھوڑنے والے ماندری بلوائے گئے اور بڑے دھتورے اور موتی ساگر۔ آخر ایک دن اتر پچھم کی طرف سے لال آندھی آئی جو صاف ہوئی تو ایک لاری کھڑی تھی جس میں گوٹے کنری میں لپٹی ہوئی ایک دلہن بیٹھی تھی۔ پیچھے گھر میں ایک سر پر بجھتی ہوئی شہنائی بین کی آواز معلوم ہورہی تھی۔ پھر ایک دھچکے کے ساتھ لاری چل دی۔ مدن نے کچھ برافروختگی کے عالم میں کہا”تم عورتیں بڑی چالاک ہوتی ہو۔ ابھی کل ہی اس گھر میں آئی ہو اور یہاں کے سب لوگ تمہیں ہم سے زیادہ پیار کرنے لگے ہیں؟”

“ہاں!” اندو نے اثبات میں کہا۔

“یہ سب جھوٹ ہےیہ ہو ہی نہیں سکتا۔”

“تمہارا مطلب ہے میں”

“دکھاوا ہے یہ سب ہاں!”

“اچھا جی؟” اندو نے آنکھوں میں آنسو لاتے ہوئے کہا۔ “یہ سب دکھاوا ہے میرا؟ اور اندو اٹھ کر اپنے بستر میں چلی گئی۔ اور سرہانے میں منہ چھپا کر سسکیاں بھرنے لگی۔ مدن اسے منانے والا ہی تھا کہ اندو خود ہی اٹھ کر مدن کے پاس آ گئی اور سختی سے اس کا ہاتھ پکڑتے ہوئے بولی۔ “تم جو ہر وقت جلی کٹی کہتے رہتے ہوہوا کیا ہے تمہیں؟” مجھے تم سے کچھ نہیں لینا۔”

“تمہیں کچھ نہیں لینا مجھے تو لینا ہے۔” اندو بولی۔ زندگی بھر لینا ہے اور وہ چھینا جھپٹی کرنے لگی۔ مدن اسے دھتکارتا تھا اور وہ اس سے لپٹ لپٹ جاتی تھی۔ وہ اس مچھلی کی طرح تھی جو بہاؤ میں بہہ جانے کی بجائے آبشار کے تیز دھارے کو کاٹتی ہوئی اوپر ہی اوپر پہنچانا چاہتی ہو۔

چٹکیاں لیتے ہوئے، ہاتھ پکڑتی، روتی ہنستی وہ کہہ رہی تھی

“پھر مجھے پھاپھا کٹنی کہو گے؟”

“وہ تو سبھی عورتیں ہوتی ہیں۔”

“ٹھہروتمہاری تو” یوں معلوم ہوا جیسے اندو کوئی گالی دینے والی ہواور اس نے منہ میں کچھ منمنایا بھی۔ مدن نے مڑتے ہوئے کہا۔ “کیا کہا؟” اور اندو نے اب کی سنائی دینے والی آواز میں دہرایا۔ مدن کھلکھلا کر ہنس پڑا۔ اگلے ہی لمحے اندو مدن کے بازوؤں میں تھی اور کہہ رہی تھی “تم مرد لوگ کیا جانو؟جس سے پیار ہوتا ہے اس کے سبھی عزیز پیارے معلوم ہوتے ہیں۔ کیا باپ کیا بھائی اور کیا بہن” اور ایکا ایکی کہیں دور سے دیکھتے ہوئے بولی۔ “میں تو دلاری منی کا بیاہ کروں گی۔”

“حد ہو گئی” مدن نے کہا۔ “ابھی ایک ہاتھ کی ہوئی نہیں اور بیاہ کی سوچنے لگیں۔”

“تمہیں ایک ہاتھ کی لگتی ہے نا؟” اندو بولی اور پھر اپنے ہاتھ مدن کی آنکھوں پر رکھتے ہوئے کہنے لگی۔ “ذرا آنکھیں بند کرو اور پھر کھولو۔” مدن نے سچ مچ ہی آنکھیں بند کر لیں اور جب کچھ دیر تک نہ کھولیں تو اندو بولی۔ “اب کھولو بھیاتنی دیر میں تو میں بوڑھی ہو جاؤں گی۔ جبھی مدن نے آنکھیں کھول دیں۔ لمحہ بھر کے لئے اسے یوں لگا جیسے سامنے اندو نہیں منی بیٹھی ہے اور وہ کھو سا گیا۔ بلکہ موقع نہ پا کر اس شلوار کو جو بہو دھوتی سے بدل آتی اور جسے وہ ہمیشہ اپنی ساس والے پرانے صندل کے صندوق پر پھینک دیتی، اٹھا کر کھونٹی پر لٹکا دیتے۔ ایسے میں انہیں سب سے نظریں بچانا پڑتیں لیکن ابھی شلوار کو سمیٹ کر مڑتے ہی تو نیچے کونے میں نگاہ بہو کے محرم پر پڑ جاتی۔ تب ان کی ہمت جواب دے جاتی اور وہ شتابی کمرے سے نگل بھاگتے۔ جیسے سانپ کا بچہ بل سے باہر آگیا ہو۔ پھر برآمدے میں ان کی آواز سنائی دینے لگی۔ اوم نموم بھوتے دا سو دیوا

اڑوس پڑوس کی عورتوں نے بابو جی کی خوبصورتی کی داستانیں دور دور تک پہنچا دی تھیں۔ جب کوئی عورت بابو جی کے سامنے بہو کے پیارے پن اور سڈول جسم کی باتیں کرتی تو وہ خوشی سے پھول جاتے اور کہتے “ہم تو دھنیہ ہو گئے، امی چند کی ماں! شکر ہے ہمارے گھر میں بھی کوئی صحت والا جیو آیا۔” اور یہ کہتے ہوئے ان کی نگاہیں کہیں دور پہنچ جاتیں۔ جہاں دق کے عارضے تھے۔ دوائی کی شیشیاں، اسپتال کی سیڑھیاں یا چیونٹیوں کے بل، نگاہ قریب آتی تو موٹے موٹے گدرائے ہوئے جسم والے کئی بچے بغل میں جانگھ پر، گردن پر چڑھتے اترتے ہوئے محسوس ہوتے اور ایسا معلوم ہوتا جیسے ابھی اور آ رہے ہیں۔ پہلو پر لیٹی ہوئی بہو کی کمر زمین کے ساتھ اور کولہے چھت کے ساتھ لگ رہے ہیں اور وہ دھڑا دھڑ بچے جنتی جا رہی ہے اور ان بچوں کی عمر میں کوئی فرق نہیں۔ کوئی بڑا ہے نہ چھوٹا۔ سبھی ایک سےجڑواںتوام اوم نمو بھگوتے

آس پاس کے سب لوگ جان گئے تھے۔ اندو بابو جی کی چہیتی بہو ہے۔ چنانچہ دودھ اور چھاچھ کے مٹکے دھنی رام کے گھر آنے لگے اور پھر ایک دم سلام دین گوجر نے فرمائش کر دی۔ اندو نے کہا “بی بی میرا بیٹا آر۔ ایم۔ ایس میں قلی رکھوا دو۔ اللہ تم کو اچھا دے گا۔ ” اندو کے اشارے کی دیر تھی کہ سلام دین کا بیٹا نو کر ہو گیا۔ وہ بھی سارٹر، جو نہ ہو سکا اس کی قسمت، آسامیاں زیادہ نہ تھیں۔

بہو کے کھانے پینے اور اس کی صحت کا بابو جی خیال رکھتے تھے۔ دودھ پینے سے اندو کو چڑ تھی۔ وہ رات کے وقت خود دودھ کو بالائی میں پھینٹ، گلاس میں ڈال، بہو کو پلانے کے لئے اس کی کھٹیا کے پاس آ جاتے۔ اندو اپنے آپ کو سمیٹتے ہوئے اٹھتی اور کہتی۔”نہیں بابو جی مجھ سے نہیں پیا جاتا۔” “تیرا تو سسر بھی پئے گا۔ ” وہ مذاق سے کہتے۔

“تو پھر آپ پی لیجیئے نا۔” اندو ہنستی ہوئی جواب دیتی اور بابو جی ایک مصنوعی غصے سے برس پڑتے۔ “تو چاہتی ہے بعد میں تیری بھی وہی حالت ہو جو تیری ساس کی ہوئی؟”

ہوںہوںاندو لاڈ سے روٹھنے لگی۔ آخر کیوں نہ روٹھتی۔ وہ لوگ نہیں روٹھتے جنہیں منانے والا کوئی نہ ہو لیکن یہاں منانے والے سب تھے، روٹھنے والا صرف ایک۔ جب اندو بابو جی کے ہاتھ سے گلاس نہ لیتی تو وہ اسے کھٹیا کے پاس سرہانے کے نیچے رکھ دیتےاور “لے یہ پڑا ہے”، تیری مرضی ہے تو پی نہیں مرضی تو نہ پی” کہتے ہوئے چل دیتے۔

اپنے بستر پر پہنچ کر دھنی رام دلاری منی کے پاس کھیلنے لگتے۔ دلاری کو بابو جی کے ننگے پنڈے کے ساتھ پنڈا گھسانے اور پھر پیٹ پر منہ رکھ کر پھنکڑا پھلانے کی عادت تھی۔ آج جب بابو جی اور منی یہ کھیل کھیل رہے تھے۔ ہنس ہنسا رہے تھے، تو منی نے بھابی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “دودھ تو خراب ہو جائے گا بابو جی۔ بھابی تو پیتی ہی نہیں۔”

“پئے گی ضرور پئے گی بیٹا” بابو جی نے دوسرے ہاتھ سے پاشی کو لپٹاتے ہوئے کہا۔ “عورتیں گھر کی کسی چیز کو خراب ہوتے نہیں دیکھ سکتیں۔”

ابھی یہ فقرہ بابو جی کے منہ ہی میں ہوتا کہ ایک طرف سے “ہشہے خصم کھانی” کی آواز آنے لگتی۔ پتہ چلتا بہو بلی کو بھگا رہی ہے اور پھر غٹ غٹ سی سنائے دیتی اور سب جان لیتے بہوبھابی نے دودھ پی لیا۔ کچھ دیر کے بعد کندن بابو جی کے پاس آتا اور کہتا “بوجیبھابی رو رہی ہے۔”

“ہائیں؟” بابو جی کہتے اور پھر اٹھ کر اندھیرے میں دور اسی طرف دیکھنے لگتے جدھر بہو کی چارپائی پڑی ہوتی۔ کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ پھر لیٹ جاتے اور کچھ سمجھتے ہوئے کندن سے کہتے۔ “جاتو سو جاوہ بھی سو جائے گی اپنے آپ۔”

اور پھر لیٹتے ہوئے بابو دھنی رام آسمان پر کھلے ہوئے پرماتما کے گلزار کو دیکھنے لگتے اور اپنے من میں بھگوان سے پوچھتے” چاندی کے ان کھلتے بند ہوئے ہوئے پھولوں میں میرا پھول کہا ہے؟” اور پھر پورا آسمان انہیں درد کا ایک دریا دکھائی دینے لگتا اور کانوں میں مسلسل ایک ہاؤ کی آواز سنائی دیتی جسے سنتے ہوئے وہ کہتے۔”جب سے دنیا بنی ہے انسان کتنا رویا ہے!” اور روتے روتے سو جاتے۔

اندو کے جانے سے بیس پچیس روز ہی میں مدن نے واویلا شروع کر دیا۔ اس نے لکھا۔ میں بازار کی روٹیاں کھاتے کھاتے تنگ آگیا ہوں۔ مجھے قبض ہو گئی ہے۔ گردے کا درد شروع ہو گیا ہے۔ پھر جیسے دفتر کے لوگ چھٹی کی عرضی کے ساتھ ڈاکٹر کا سرٹیفکیٹ بھیج دیتے ہیں۔ مدن نے بابو جی کو ایک دوسرے سے تصدیق کی چھٹی لکھوا بھیجی۔ اس پر بھی جب کچھ نہ ہوا تو ایک ڈبل تارجوابی۔ جوابی تار کے پیسے مارے گئے لیکن بلا سے۔ اندو اور بچے لوٹ آئے تھے۔ مدن نے اندو سے دو دن سیدھے منہ بات ہی نہ کی۔ یہ دکھ بھی اندو ہی کا تھا۔ ایک دن مدن کو اکیلے میں پا کر وہ پکڑ بیٹھی اور بولی۔ “اتنا منہ پھلائے بیٹھے ہومیں نے کیا کیا ہے؟”

مدن نے اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے کہا۔ “چھوڑدور ہو جا میر آنکھوں سے کمی”

“یہی کہنے کے لئے اتنی دور سے بلوایا ہے؟”

“ہاں!”

“ہٹاؤ اب۔”

“خبرداریہ سب تمہارا ہی کیا دھرا ہے جو تم آنا چاہتی تو کیا بابو جی روک لیتے؟”

اندو نے بے بسی سے کہا۔ “ہائے جیتم بچوں کی سی باتیں کرتے ہو۔ میں انہیں بھلا کیسے کہہ سکتی تھی؟ سچ پوچھو تو تم نے مجھے بلوا کر بابو جی پر تو بڑا جلم کیا ہے۔”

“کیا مطلب ؟”

“مطلب کچھ نہیںان کا جی بہت لگا ہوا تھا بال بچوں میں۔”

“اور میرا جی؟”

“تمہارا جی؟” تم تو کہیں بھی لگا سکتے ہو۔ اندو نے شرارت سے کہا اور اس طرح سے مدن کی طرف دیکھا کہ اس کی مدافعت کی ساری قوتیں ختم ہو گئیں۔ یوں بھی اسے کسی اچھے سے بہانے کی تلاش تھی۔ ا س نے اندو کو پکڑ کر سینے سے لگا لیا۔ اور بولا۔ “بابو جی تم سے بہت خوش تھے؟”

“ہاں” اندو بولی۔ “ایک دن میں جاگی تو دیکھا سرہانے کھڑے مجھے دیکھ رہے ہیں۔”

“یہ نہیں ہو سکتا۔”

“اپنی قسم!”

“اپنی قسم نہیںمیری قسم کھاؤ۔”

“تمہاری قسم تو میں نہیں کھاتیکوئی کچھ بھی دے۔”


“ہاں!” مدن نے سوچتے ہوئے کہا۔ “کتابوں میں اسے سیکس کہتے ہیں۔”

“سیکس؟” اندو نے پوچھا وہ کیا ہوتا ہے؟۔

“وہی جو مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے۔”

“ہائے رام!” اندو نے ایک دم پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔ “گندے کہیں کے شرم نہیں آئی بابو جی کے بارے میں ایسا سوچتے ہوئے؟”

“تو بابو جی کو نہ آئی تجھے دیکھتے ہوئے؟”

“کیوں؟” اندو نے بابو جی کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔ “وہ اپنی بہو کو دیکھ کر خوش ہو رہے ہوں گے۔”

“کیوں نہیں۔ جب بہو تم ایسی ہو۔”

“تمہارا من گندا ہے۔ اندو نے نفرت سے کہا۔ اس لئے تمہارا کاروبار بھی گندے بروزے کا ہے۔ تمہاری کتابیں سب گندگی سے بھری پڑ ی ہیں۔ تمہیں اور تمہاری کتابوں کو اس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ ایسے تو جب میں بڑی ہو گئی تھی تو میرے پتا جی نے مجھ سے ادھک پیار کر نا شروع کر دیا تھا۔ تو کیا وہ بھیوہ تھا نگوڑاجس کا تم ابھی نام لے رہے تھے۔” اور پھر اندو بولی۔ “بابو جی کو یہاں بلا لو۔ ان کا وہاں جرا بھی جی نہیں لگتا۔ وہ دکھی ہوں گے تو کیا تم دکھی نہیں ہو گے؟”

مدن اپنے باپ سے بہت پیا ر کرتا تھا۔ گھر میں ماں کی موت نے بڑا ہونے کے کارن سب سے زیادہ اثر مدن پر ہی کیا تھا۔ اسے اچھی طرح سے یاد تھا۔ ماں کے بیمار رہنے کے باعث جب بھی اس کی موت کا خیال مدن کے دل میں آتا تو آنکھیں موند کر پرارتھنا شروع کر دیتااوم نمو بھگوتے دا سوویوا۔ اوم نمواب وہ نہیں چاہتا تھا کہ باپ کی چھتر چھایا بھی سر سے اٹھ جائے۔ خاص طور پر ایسے میں جبکہ وہ اپنے کاروبار کو بھی جما نہیں پایا تھا۔ اس نے غیر یقینی لہجے میں اندو سے صرف اتنا کہا۔ “ابھی رہنے دو بابو کو۔ شادی کے بعد ہم دونوں پہلی بار آزادی کے ساتھ مل سکتے ہیں۔”

تیسرے چوتھے روز بابو جی کا آنسوؤں میں ڈوبا ہوا خط آیا۔ میرے پیارے مدن کے تخاطب میں میرے پیارے کے الفاظ شور پانیوں میں دھل گئے تھے۔ لکھا تھا۔ “بہو کے یہاں ہونے پر میر ے تو وہی پرانے دن لوٹ آئے تھے، تمہاری ماں کے دن، جب ہماری نئی شادی ہوئی تھی تو وہ بھی ایسی ہی الہڑ تھی۔ ایسے میں اتارے ہوئے کپڑے ادھر ادھر پھینک دیتی۔ اور پتا جی سمیٹتے پھرتے۔ وہی صندل کا صندوق، وہی بیسویں خلجنمیں بازار جا رہا ہوں۔ آ رہا ہوں۔ کچھ نہیں تو دہی بڑے یا ربڑی لا رہا ہوں۔ اب گھر میں کوئی نہیں۔ وہ جگہ جہاں صندل کا صندوق پڑا تھا، خالی ہے” اور پھر ایک آدھ سطر اور دھل گئی تھی۔ آخر میں لکھا تھا۔ “دفتر سے لوٹتے سمے، یہاں کے بڑے بڑے اندھے کمروں میں داخل ہوتے ہوئے میرے من میں ایک ہول سا اٹھتا ہے۔ ” اور پھر”بہوکا خیال رکھنا۔ اسے کسی ایسی ویسی دایہ کے حوالے مت کرنا۔”

اندو نے دونوں ہاتھوں سے چٹھی پکڑ لی۔ سانس کھینچ لی، آنکھیں پھیلاتی شرم سے پانی پانی ہوتی ہوئی بولی۔ “میں مر گئی۔ بابو جی کو کیسے پتہ چل گیا؟”

مدن نے چٹھی چھڑاتے ہوئے کہا۔ “بابو جی کیا کہتے ہیں؟دنیا دیکھی ہے۔ ہمیں پیدا کیا ہے۔

“ہاں مگر۔” اندو بولی۔ “ابھی دن ہی کے ہوئے ہیں۔”اور پھر اس نے ایک تیز سی نظر اپنے پیٹ پر ڈالی جس نے ابھی بڑھنا بھی شروع نہیں کیا تھا اور جیسے بابو جی یا کوئی اور دیکھ رہا ہو۔ اس نے ساری کا پلو اس پر کھینچ لیا اور کچھ سوچنے لگی۔ جبھی ایک چمک سی اس کے چہرے پر آئی اور وہ بولی۔”تمہاری سسرال سے شیرینی آئے گی۔”

“میری سسرال؟”اور ہاں۔ مدن نے راستہ پاتے ہوئے کہا۔ “کتنی شرم کی بات ہے۔ ابھی چھ آٹھ مہینے شادی کے ہوئے ہیں اور چلا آ رہا ہے۔ “اور اس نے اندو کے پیٹ کی طرف اشارہ کیا۔

مدن کی ٹانگیں ابھی تک کانپ رہی تھیں۔ اس وقت خوف سے نہیںتسلی سے۔

“چلا آیا ہے یا تم لائے ہو؟”

“تمیہ سب قصور تمہارا ہے۔ کچھ عورتیں ہوتی ہی ایسی ہیں۔”

“تمہیں پسند نہیں؟”

“ایک دم نہیں”

“کیوں؟”

“چار دن تو مزے لے لیتی زندگی کے۔”

“کیا یہ جندگی کا مجا نہیں؟” اندو نے صدمہ زدہ لہجے میں کہا۔ مرد عورت شادی کس لئے کرتے ہیں؟ بھگوان نے بن مانگے دے دیا نا؟ پوچھو ان سے جن کے نہیں ہوتا۔ پھر وہ کیا کچھ کرتی ہیں۔ پیروں فقیروں کے پاس جاتی ہیں۔ سمادھیوں، مجاوروں پر چوٹیاں باندھتی ہیں، شرم و حیا تج کر دریاؤں کے کنارے ننگی ہو کر سرکنڈے کاٹتی، شمسانوں میں مسان جگاتی۔”

“اچھا! اچھا!” مدن بولا۔ “تم نے بکھان ہی شروع کر دیا۔ اولاد کے لئے تھوڑی عمر پڑی تھی۔؟”

“ہو گا تو!” اندو نے سرزنش کے انداز میں انگلی اٹھاتے ہوئے کہا۔”جب تم اسے ہاتھ بھی مت لگانا۔ وہ تمہارا نہیں، میرا ہو گا۔ تمہیں تو اس کی جرورت نہیں، پر اس کے دادا کو بہت ہے۔ یہ میں جانتی ہوں۔” اور پھر کچھ خجل، کچھ صدمہ زدہ ہو کر اندو نے اپنا منہ دونوں ہاتھوں سے چھپا لیا۔ وہ سوچتی تھی پیٹ میں اس ننھی سی جان کو پالینے کے سلسلے میں، اس جان کا ہوتا سوتا تھوڑی بہت ہمدردی تو کرے گا ہی لیکن مدن چپ چاپ بیٹھا رہا۔ ایک لفظ بھی اس نے منہ سے نہ نکالا۔ اندو نے چہرے پر سے ہاتھ اٹھا کر بدن کی طرف دیکھا اور ہونے والی پہلوٹن کے خاص انداز میں بولی۔ “وہ تو جو کچھ میں کہہ رہی ہوں سب پیچھے ہو گا۔ پہلے تو میں بچوں گی ہی نہیںمجھے بچپن سے وہم ہے اس بات کا۔”

مدن بھی جیسے خائف ہو گیایہ خوبصورت “چیز” جو حاملہ ہو جانے کے بعد اور بھی خوبصورت ہو گئی ہے مر جائے گی؟ اس نے پیٹھ کی طرف سے اندو کو تھام لیا اور پھر کھینچ کر اپنے بازوؤں میں لے آیا اور بولا۔ “تجھے کچھ نہ ہو گا اندومیں تو موت کے منہ سے بھی چھین کر لے آؤں گا تجھےاب ساوتری کی نہیں، سیہ دان کی باری ہے”

مدن سے لپٹ کر اندو بھول ہی گئی کہ اس کا اپنا بھی کوئی دکھ ہے

اس کے بعد بابو جی نے کچھ نہ لکھا۔ البتہ سہارنپور سے ایک سارٹر آیا جس نے صرف اتنا بتایا کہ بابو جی کو پھر سے دورے پڑنے لگے ہیں۔ ایک دورے میں تو وہ قریب قریب چل ہی بسے تھے۔ مدن ڈر گیا۔ اندو رونے لگی۔ سارٹر کے چلے جانے کے بعد ہمیشہ کی طرح مدن نے آنکھیں موند لیں اور من ہی من میں پڑھنے لگااوم نمو بھگوتے

دوسرے روز ہی مدن نے باپ کو چٹھی لکھیبابو جی! چلے آؤبچے بہت یاد کرتے ہیں اور آپ کی بہو بھی ” لیکن آخری نوکری تھی۔ اپنے بس کی بات تھوڑی تھی۔ دھنی رام کے خط کے مطابق وہ چٹھی کا بندوبست کررہے تھےان کے بارے میں دن بہ دن مدن کا احساس جرم بڑھنے لگا۔”اگر میں اندو کو وہیں رہنے دیتا تو میرا کیا بگڑجاتا؟”


وجے دشمی سے ایک رات پہلے مدن اضطراب کے عالم میں بیچ والے کمرے کے باہر برآمدے میں ٹہل رہا تھا کہ اندر سے رو نے کی آواز آئی اور وہ چونک کر دروازے کی طرف لپکا۔ بیگم دایہ باہر آئی اور بولی۔ “مبارک ہو۔ “مبارک ہو بابو جیلڑکا ہوا ہے۔”

“لڑکا ؟” مدن نے کہا اور پھر متفکرانہ لہجے میں بولا۔ “بی بی کیسی ہے؟”۔

بیگم بولی۔ “خیر مہر ہےمیں نے ابھی تک اسے لڑکی ہی بتائی ہےزچہ زیادہ خوش ہو جائے تو ا س کی آنول نہیں گرتی نا۔”

“تو” مدن نے بیوقوفوں کی طرح آنکھیں جھپکتے ہوئے کہا اور کمرے میں جانے کے لئے آگے بڑھا۔ بیگم نے اسے وہیں روک دیا اور کہنے لگی۔ “تمہارا اندر کیا کام؟” اور پھر ایکا ایکی دروازہ بھیڑ کر اندر لپک گئی یا شاید اس لئے کہ جب کوئی اس دنیا میں آتا ہے تو ارد گرد کے لوگوں کی یہی حالت ہوتی ہے۔ مدن نے سن رکھا تھا جب لڑکا پیدا ہوتا ہے تو گھر کے در و دیوار لرزنے لگتے ہیں۔ گویا ڈر رہے ہیں کہ بڑا ہو کر ہمیں بیچے گا یا رکھے گا۔ مدن نے محسوس کیا کہ جیسے سچ مچ ہی دیواریں کانپ رہی تھیںزچگی کے لئے چکلی بھابی تو نہ آئی تھیں کیونکہ اس کا اپنا بچہ تو بہت چھوٹا تھا البتہ دریا آباد والی پھوپھی ضرور پہنچی تھیں جس نے پیدائش کے وقت رام، رام، رام، رام کی رٹ لگا دی تھی اور اب وہی رٹ مدھم ہو رہی تھی۔

زندگی بھر مدن کو اپنا آپ اس قدر فضول اور بیکار نہ لگا تھا۔ اتنے میں پھر دروازہ کھلا اور پھوپھی نکلی۔ برآمدے کی بجلی کی مدھم روشنی میں اس کا چہرہ بھوت کے چہرے کی طرح ایک دم دودھیا نظر آ رہا تھا۔ مدن نے اس کا راستہ روکتے ہوئے کہا”اندو ٹھیک ہے نا پھوپھی۔”

“ٹھیک ہے ٹھیک ہے ٹھیک ہے! پھوپھی نے تین چار بار کہا اور پھر اپنا لرزتا ہوا ہاتھ مدن کے سر پر رکھ کر اسے نیچا کیا، چوما اور باہر لپک گئی”

پھوپھی برآمدے کے دروازے میں سے باہر جاتی ہوئی نظر آ رہی تھی۔ وہ بیٹھک میں پہنچی جہاں باقی بچے سو رہے تھے۔ پھوپھی نے ایک ایک کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرا اور پھر چھت کی طرف آنکھیں اٹھا کر منہ میں کچھ بولی اور پھر نڈھال سی ہو کر منی کے پاس لیٹ گئی اوندھیاس کے پھڑکتے ہوئے شانوں سے پتہ چل رہا تھا جیسے رو رہی ہے۔ مدن حیران ہواپھوپھی تو کئی زچگیوں سے گزر چکی ہے، پھر کیوں اس کی روح کانپ اٹھی ہےپھر ادھر کے کمرے سے ہر مل کی بو باہر لپکی۔ دھوئیں کا ایک غبار سا آیا۔ جس نے مدن کا احاطہ کر لیا۔ اس کا سر چکرا گیا۔ جبھی بیگم دایہ کپڑے میں کچھ لپیٹے ہوئے باہر نکلی۔ کپڑے پر خون ہی خون تھا۔ جس میں کچھ قطرے نکل کر فرش پر گر گئے۔ مدن کے ہوش اڑ گئے۔ اسے معلوم نہ تھا کہ وہ کہا ں ہے۔ آنکھیں کھلی ہوئی تھیں اور کچھ دکھائی نہ دے رہا تھا۔ بیچ میں اندو کی ایک نر گھلی سی آواز آئی۔”ہائےئے” اور پھر بچے کے رونے کی آواز۔”

تین چار دن میں بہت کچھ ہوا۔ مدن نے گھر کے ایک طرف گڑھا کھو د کر آنول کو دبا دیا۔ کتوں کو اندر آنے سے روکا لیکن اسے کچھ یاد نہ تھا۔ اسے یوں لگا جیسے ہرمل کی بو دماغ میں بس جانے کے بعد آج ہی اسے ہوش آیا ہے، کمرے میں وہ اکیلا ہی تھا اور اندونند اور جسووھااور دوسری طرف نند لالاندو نے بچے کی طرف دیکھا اور کچھ ٹوہ لینے کے سے انداز میں بولی۔ “بالک تم ہی پر گیا ہے۔”

“ہو گا۔” مدن نے ایک اچٹتی ہوئی نظر بچے پر ڈالتے ہوئے کہا۔ “میں تو کہتا ہوں شکر ہے بھگوان کا کہ تم بچ گئیں۔”

“ہاں!” اندو بولی۔ “میں تو سمجھتی تھی”

“شبھ شبھ بولو۔”مدن نے ایک دم اندو کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔ “یہاں تو جو کچھ ہوا ہےمیں تو اب تمہارے پاس بھی نہیں پھٹکوں گا۔” اور مدن نے زبان دانتوں تلے دبا لی۔”

“توبہ کرو۔” اندو بولی۔

مدن نے اسی دم کان اپنے ہاتھ سے پکڑ لئےاور اندو نحیف آواز میں ہنسنے لگی۔

بچہ ہونے کے کئی روز تک اندو کی ناف ٹھکانے پر نہ آئی۔ وہ گھوم گھوم کر اس بچے کی تلاش کر رہی تھی جو اب اس سے پرے، باہر کی دنیا میں جا کر اپنی اصلی ماں کو بھول گیا تھا۔ اب سب کچھ ٹھیک تھا اور اندو شانتی سے اس دنیا کو تک رہی تھیمعلوم ہوتا تھا اس نے مدن ہی کے نہیں دنیا بھر کے گناہگاروں کے گناہ معاف کر دئے ہیں اور دیوی بن کر دیا اور کرونا کے پرساد بانٹ رہی ہےمدن نے اندو کے منہ کی طرف دیکھا اور سوچنے لگا۔ اس سارے خون خرابے کے بعد کچھ دبلی ہو کر اندو اور بھی اچھی لگنے لگی ہےجبھی ایکا ایکی اندو نے دونوں ہاتھ اپنی چھاتیوں پر رکھ لئے۔

“کیا ہوا؟” مدن نے پوچھا۔

“کچھ نہیں۔ اندو تھوڑا سا اٹھنے کی کوشش کر کے بولی۔ “اسے بھوک لگی ہے” اور اس نے بچے کی طرف اشارہ کیا۔

“اسے؟بھوک؟”مدن نے پہلے بچے کی طرف اور پھر اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا “تمہیں کیسے پتہ چلا؟”

“دیکھتے نہیں” اندو نیچے کی طرف نگاہ کرتے ہوئے بولی۔ “سب کچھ گیلا ہو گیا ہے۔”

مدن نے غور سے ڈھیلے ڈھالے گلے کی طرف دیکھا۔ جھر جھر دودھ بہہ رہا تھا اور ایک خاص قسم کی بو آ رہی تھی۔ پھر اندو نے بچے کی طرف ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا۔

“اسے مجھے دے دو!”

مدن نے ہاتھ پنگھوڑے کی طرف بڑھایا اور اسی دم کھینچ لیا۔ پھر کچھ ہمت سے کام لیتے ہوئے اس نے بچے کو یوں اٹھایا جیسے وہ کوئی مرا ہوا چوہا ہے۔ آخر اس نے بچے کو اندو کی گود میں دے دیا۔ اندو مدن کی طرف دیکھتے ہوئے بولی۔ “تم جاؤباہر۔”

“کیوں؟”باہر کیوں جاؤں؟” مدن نے پوچھا۔

“جاؤ نا۔ اندو نے کچھ مچلتے، کچھ شرماتے ہوئے کہا۔”تمہارے سامنے میں دودھ نہیں پلا سکوں گی۔” “ارے؟ مدن حیرت سے بولا” میرے سامنے؟نہیں پلا سکے گی۔” اور پھر نا سمجھی کے انداز میں سر کو جھٹکا دے کر باہر کی طرف چل نکلا۔ دروازے کے پاس پہنچ کر اس نے مڑتے ہوئے اندو پر ایک نگاہ ڈالی۔ اتنی خوبصورت اندو آج تک نہیں لگی تھی۔

بابو دھنی رام چھٹی پر گھر لوٹے تو وہ پہلے سے آدھے دکھائی پڑتے تھے۔ جب اندو نے پوتا ان کی گود میں دیا تو وہ کھل اٹھے۔ ان کے پیٹ کے اندر کوئی پھوڑا نکل آیا تھا جو چوبیس گھٹنے انہیں سولی پر لٹکائے رکھتا۔ اگر منا روتا تو بابو جی کی اس سے دس گنا بری حالت ہوتی۔

کئی علاج کئے گئے۔ بابو جی کے آخری علاج میں ڈاکٹر نے ادھنی کے برابر پندرہ بیس گولیاں روز کھانے کو دیں۔ پہلے ہی دن انہیں اتنا پسینہ آیا کہ دن میں تین تین چار چار بار کپڑے بدلنے پڑے۔ ہر بار مدن کپڑے اتار کر بالٹی میں نچوڑتا۔ صرف پسینے سے ہی بالٹی ایک چوتھائی ہو گئی تھی۔ رات انہیں متلی سی محسوس ہونے لگی تھی اور انہوں نے پکارا”بہو ذرا داتن تو دینا ذائقہ بہت خراب ہو رہا ہے۔” بہو بھاگی ہوئی گئی اور داتن لے کر آئی۔ بابو جی اٹھ کر داتن چبا ہی رہے تھے کہ ایک ابکائی آئی۔ ساتھ ہی خون کا پرنالہ لے آئی۔ بیٹے نے واپس سرہانے کی طرف لٹایا تو ان کی پتلیاں پھر چکی تھیں اور کوئی ہی دم میں وہ اوپر آسمان کے گلزار میں پہنچ چکے تھے جہاں انہوں نے اپنا پھول پہچان لیا تھا

منے کو پیدا ہوئے کُل بیس پچیس روز ہوئے تھے۔ اندو نے منہ نوچ کر، سر اور چھاتی پیٹ پیٹ کر خود کو نیلا کر لیا۔ مدن کے سامنے وہی منظر تھا جو اس نے تصور میں اپنے مرنے پر دیکھا تھا۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اندو نے چوڑیاں توڑنے کی بجائے اتار کر رکھ دی تھیں۔ سر پر راکھ نہیں ڈالی تھی لیکن زمین پر سے مٹی لگ جانے اور بالوں کے بکھر جانے سے چہرہ بھیانک ہو گیا تھا۔ “لوگو! میں لٹ گئی۔” کی جگہ اس نے ایک دل دوز آواز میں چلانا شروع کر دیا تھا۔ “لوگو! ہم لٹ گئے!”

گھر بارکا کتنا بوجھ مدن پر آ پڑا تھا۔ اب کا ابھی مدن کو پوری طرح اندازہ نہ تھا۔ صبح ہونے تک اس کا دل لپک کر منہ میں آگیا۔ وہ شاید بچ نہ پاتا۔ اگر وہ گھر کے باہر بدرو کے کنارے سیل چڑھی مٹی پر اوندھا لیٹ کر اپنے دل کو ٹھکانے پر نہ لاتادھرتی ماں نے چھاتی سے لگا کر اپنے بچے کو بچا لیا تھا۔ چھوٹے بچے کندن، دلاری منی، پاشی یوں چلا رہے تھے جیسے گھونسلے پر شکرے کے حملے پر چڑیا کے بونٹ چونچیں اٹھا اٹھا کر چیں چیں کرتے ہیں۔ انہیں اگر کوئی پروں کے اندر سمیٹتی ہے تو اندونالی کے کنارے پڑے پڑے مدن نے سوچا اب تو یہ دنیا میرے لئے ختم ہو گئی ہے۔ کیا میں جی سکوں گا؟ زندگی میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟ وہ اٹھا اور اٹھ کر گھر کے اندر چلا آیا۔

سیڑھیوں کے نیچے غسل خانہ تھا جس میں گھس کر اندر سے کواڑ بند کرتے ہوئے مدن نے ایک بار پھر اس سوال کو دہرایا”میں کبھی ہنس بھی سکوں گا؟” اور وہ کھل کھلا کر ہنس رہا تھا۔ حالانکہ اس کے باپ کی لاش ابھی پاس ہی بیٹھک میں پڑی تھی۔

باپ کو آگ میں حوالے کرنے سے پہلے مدن ارتھی پر پڑے ہوئے جسم کے سامنے ڈنڈوت کے انداز میں لیٹ گیا۔ یہ اس کا اپنے جنم داتا کو آخری پرنام تھا۔ تس پر بھی وہ رو نہ رہا تھا۔ اس کی یہ حالت دیکھ کر ماتم میں شریک ہونے والے رشتہ دار محلہ سن سے رہ گئے۔ پھر ہندو راج کے مطابق سب سے بڑا بیٹا ہونے کی حیثیت سے مدن کو چتا جلانی پڑی۔ جلتی ہوئی کھوپڑی میں کپال کرپا کی لاٹھی مارنی پڑتیعورتیں باہر ہی سے شمشان کے کنویں پر سے نہا کر لوٹ چکی تھیں۔ جب مدن گھر پہنچا تو وہ کانپ رہا تھا۔ دھرتی ماں نے تھوڑی دیر کے لئے جو طاقت اپنے بیٹے کو دی تھی، رات گھر کے گھر آنے پر پھر سے ہول میں ڈھل گئیاسے کوئی سہارا چاہئے تھا، کسی ایسے جذبے کا سہارا جو موت سے بھی بڑا ہو۔ اس وقت دھرتی ماں کی بیٹی جنک دلاری اندو نے کسی گھڑے میں سے پیدا ہو کر اس رام کو اپنی بانہوں میں لے لیااس رات کو اگر اندو اپنا آپ یوں اس پر نثار نہ کرتی تو اتنا بڑا دکھ مدن کو لے ڈوبتا۔

دس ہی مہینے کے اندر اندر ان کا دوسرا بچہ چلا آیا۔ بیوی کو اس دوزخ کی آگ میں دھکیل کر خود اپنا دکھ بھول گیا تھا۔ کبھی کبھی اسے خیال آتا اگر میں شادی کے بعد بابو جی کے پاس گئی ہوتی تو اندو کو نہ بلا لیتا تو شاید وہ اتنی جلدی نہ چل دیتے لیکن پھر وہ باپ کی موت سے پیدا ہونے والے خسارے کو پورا کرنے میں لگ جاتاکاروبار جو پہلے بے توجہی کی وجہ سے بند ہو گیا تھامجبوراً چل نکلا ان دنوں بڑے بچے کو مدن کے پاس چھوڑ کر، چھوٹے کو چھاتی سے گلے لگائے اندو میکے چلی گئی۔ پیچھے منا طرح طرح کی ضد کرتا تھا جو کبھی مانی جاتی تھی اور کبھی نہیں بھی۔ میکے سے اندو کا خط آیامجھے یہاں اپنے بیٹے کے رونے کی آواز آ رہی ہے، اسے کوئی مارتا تو نہیں؟ مدن کو بڑی حیرت ہوئیایک جاہل ان پڑھ عورت ایسی باتیں کیسے لکھ سکتی ہے؟ پھر اس نے اپنے آپ سے پوچھاکیا یہ بھی کوئی رٹا ہوا فقرہ ہے؟

سال گزر گئے۔ پیسے کبھی اتنے نہ آئے کہ ان میں سے کچھ پیش ہو سکے لیکن گزارے کے مطابق آمدنی ضرور ہو جاتی تھی۔ دقت اس وقت پر ہوتی جب کوئی بڑا خرچ سامنے آ جاتاکندن کا داخلہ دینا ہے، دلاری منی کا شگن بھجوانا ہے۔ اس وقت مدن منہ لٹکا کر بیٹھ جاتا اور پھر اندو ایک طرف سے آتی مسکراتی ہوئی اور کہتی “کیوں دکھی ہو رہے ہو؟” مدن امید بھری نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہتا۔ “دکھی نہ ہوں؟ کندن کا بی اے کا داخلہ دینا ہے منی” اندو پھر ہنستی اور کہتی۔ “چلو میرے ساتھ ” اور مدن بھیڑ کے بچے کی طرح اندو کے پیچھے چل دیتا۔ اندو صندل کے صندوق کے پاس پہنچتی جسے کسی کو، مدن سمیت ہاتھ لگانے کی اجازت نہ تھی۔ کبھی کبھی اس بات پر خفا ہو کر مدن کہتا۔ “مرو گی تو اسے بھی چھاتی پر ڈال کے لے جانا۔”اور اندو کہتی۔ “ہاں! لے جاؤں گی۔” پھر اندو وہاں سے مطلوبہ رقم نکال کر سامنے رکھ دیتی۔

“یہ کہاں سے آ گئے؟”

“کہیں سے بھیتمہیں آم کھانے سے مطلب ہے۔”

“پھر بھی؟”

“تم جاؤ اپنا کام چلاؤ۔”

اور جب مدن زیادہ اصرار کرتا تو اندو کہتی۔ “میں نے ایک سیٹھ دوست بنایا ہے نا۔” اور پھر ہنسنے لگتی۔۔

جھوٹ جانتے ہوئے بھی مدن کو یہ مذاق اچھا نہ لگتا۔ پھر اندو کہتی۔ “میں پورا لٹیرا ہوںتم نہیں جانتے؟” سخی اور لٹیراجو ایک ہاتھ سے لوٹتا ہے اور دوسرے ہاتھ سے گریب گربا کو دبا دیتا ہے”اس طرح منی کی شادی ہوئی جس پر ایسی ہی لوٹ کے زیور بکے۔ قرضہ چڑھا اور پھر اتر بھی گیا۔ ایسے ہی کندن بھی بیاہا گیا۔ ان شادیوں میں اندو ہی “ہتھ بھرا” کرتی تھی اور ماں کی جگہ کھڑی ہو جاتی۔ آسمان سے بابو جی اور ماں دیکھا کرتے اور پھول برساتے جو کسی کو نظر نہ آتے۔ پھر ایسا ہوا، اوپر ماں اور بابو جی میں جھگڑا چل گیا۔ ماں نے بابو جی سے کہا “تم تو بہو کے ہاتھ کی پکی کھا کر آئے ہو۔ اس کا سکھ بھی دیکھا ہے۔ پر میں نصیبوں جلی نے کچھ بھی نہیں دیکھا۔ ” اور یہ جھگڑا دشنو، مہیش اور شیو تک پہنچا۔ انہوں نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیااور یوں ماں، مات لوک میں آ کر بہو کی کوکھ میں پڑیاور اندو کے یہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی پھر اندو ایسی دیوی بھی نہ تھی۔ جب کوئی اصول کی بات ہوتی تو نند دیور کیا خود مدن سے بھی لڑ پڑتیمدن راست بازی کی اس پتلی کو خفا ہو کر ہریش چند ر کی بیٹی کہا کرتا تھا۔ چونکہ اندو کی باتوں میں الجھاؤ ہونے کے باوجود سچائی اور دھرم قائم رہتے تھے، اس لئے مدن اور کنبے کے باقی سب لوگوں کی آنکھیں اندو کے سامنے نیچے رہتی تھیں۔ جھگڑا کتنا بھی بڑھ جائے۔ مدن اپنے شوہر ی زعم میں کتنا بھی اندو کی بات کو رد کر دے لیکن آخر سب ہی سر جھکائے ہوئے اندو ہی کی شرن میں آتے تھے اور اسی سے چھما مانگتے تھے۔

نئی بھابھی آئی۔ کہنے کو تو وہ بھی بیوی تھی لیکن اندو ایک عورت تھی، جسے بیوی کہتے ہیں۔ اس کے الٹ چھوٹی بھابھی رانی ایک بیوی تھی جسے عورت کہتے ہیں۔ رانی کے کارن بھائیوں میں جھگڑا ہوا اور جے پی چاچا کی معرفت جائیداد تقسیم ہوئیں جس میں ماں باپ کو جائیداد تو ایک طرف اندو کی اپنی بنائی ہوئی چیزیں بھی تقسیم کی زد میں آ گئیں اور اندو کلیجہ مسوس کر رہ گئی۔ جہاں سب کچھ ہو جانے کے بعد اور الگ ہو کر بھی کندن اور رانی ٹھیک سے نہیں بس سکے تھے، وہاں اندو کا نیا گھر دنوں ہی میں جگ مگ جگ مگ کرنے لگا تھا۔

بچی کی پیدائش کے بعد اندو کی صحت وہ نہ رہی۔ بچی ہر وقت اندو کی چھاتیوں سے چمٹی رہتی جہاں سبھی گوشت کے اس لوتھڑے پر تھو تھو کرتے تھے وہاں ایک اندو تھی جو اسے کلیجے سے لگائے پھرتی لیکن کبھی خود پریشان ہو اٹھتی اور بچی کو سامنے جھلنگے میں پھینکتے ہوئے کہہ اٹھتی۔ “تو مجھے بھی جینے دے گیماں؟” اور بچی چلا چلا کر رونے لگتی۔

مدن اندو سے کٹنے لگا۔ شادی سے لے کر اس وقت تک اسے وہ عورت نہ ملی تھی جس کا وہ متلاشی تھا۔ گندہ بروزہ بکنے لگا اور مدن نے بہت سا روپیہ اندو سے بالا بالا خرچ کرنا شروع کر دیا۔ بابو جی کے چلے جانے کے بعد کوئی پوچھنے والا بھی تو نہ تھا۔ پوری آزادی تھی۔

گویا پڑوسی سبطے کی بھینس پھر مدن کے منہ کے پاس پھنکارنے لگی۔ بلکہ بار بار پھنکارنے لگی۔ شادی کی رات والی بھینس تو بک چکی تھی لیکن اس کا مالک زندہ تھا۔ مدن اس کے ساتھ ایسی جگہوں پر جانے لگا جہاں روشنی اور سائے عجیب بے قاعدہ سی شکلیں بناتے ہیں۔ نکڑ پر بھی کبھی اندھیرے کی تکون بنتی ہے اور اوپر کھٹ سے روشنی کی ایک چوکور لہر آ کر اسے کاٹ دیتی ہے۔ کوئی تصویر پوری نہیں بنتی۔ معلوم ہوتا ہے بغل سے ایک پاجامہ نکلا اور آسمان کی طرف اڑ گیا۔ یا کسی کوٹ نے دیکھنے والا کا منہ پوری طرح سے ڈھانپ لیا۔ اور کوئی سانس کے لئے تڑپنے لگا۔ جبھی روشنی کی ایک چوکور لہر ایک چوکٹھا بن گئی اور اس میں ایک صورت آ کر کھڑ ہو گئی۔ دیکھنے والے نے ہاتھ بڑھایا تو وہ آر پار چلا گیا۔ جیسے وہاں کچھ بھی نہ تھا۔ پیچھے کوئی کتا رونے لگا۔ اوپر طبل نے اس کی آواز ڈبو دی۔

مدن کو اس کے تصور کے خد و خال ملے لیکن ہر جگہ ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے آرٹسٹ سے ایک خط غلط لگ گیا یا ہنسی کی آواز ضرورت سے زیادہ بلند تھی اور مدنداغ صناعی اور متوازن ہنسی کی تلاش میں کھو گیا۔۔

سبطے نے اس وقت اپنی بیوی سے بات کی جب اس کی بیگم نے مدن کو مثالی شوہر کی حیثیت سے سبطے کے سامنے پیش کیا۔ پیش ہی نہیں کیا بلکہ منہ پہ مارا۔ اس کو اٹھا کر سبطے نے بیگم کے منہ پر دے مارا۔ معلوم ہوتا تھا کسی خونین تربوز کا گودا ہے جس کے رگ و ریشے بیگم کی ناک اس کی آنکھوں اور کانوں پر لگے ہوئے ہیں۔ کروڑ کروڑ گالی بکتی ہوئی بیگم نے حافظے کی ٹوکری میں سے گودا اور بیج اٹھائے اور اندو کے صاف ستھرے صحن میں بکھیر دئے۔

ایک اندو کی بجائے دو اندو ہو گئیں۔ ایک تو اندو خود تھی اور دوسری ایک کانپتا ہوا خط جو اندو کے پورے جسم کا احاطہ کئے ہوئے تھا اور جو نظر نہیں آ رہا تھامدن کہیں بھی جاتا تھا تو گھر سے ہو کرنہا دھو، اچھے کپڑے پہن، مگھئی کی ایک گلوری جس میں خوشبودار قوام لگا ہو، منہ میں رکھ کرلیکن اس دن مدن گھر آیا تو اندو کی شکل ہی دوسری تھی۔ اس نے چہرے پر پوڈر تھوپ رکھا تھا۔ گالوں پر روج لگا رکھی تھی۔ لپ اسٹک نہ ہونے پر ہونٹ ماتھے کی بندی سے رنگ لئے تھےاور بال کچھ اس طریقے سے بنائے تھے کہ مدن کی نظریں ان میں الجھ کر رہ گئیں۔ “کیا بات ہے آج ؟” مدن نے حیران ہو کر پوچھا۔

“کچھ نہیں” اندو نے مدن سے نظریں بچاتے ہوئے کہا۔ “آج فرصت ملی ہے۔”

شادی کے پندرہ بیس برس گزر جانے کے بعد اندو کو آج فرصت ملی تھی اور وہ بھی اس وقت جب چہرے پر جھائیاں آ چلی تھیں۔ ناک پر ایک سیاہ کاٹھی بن گئی تھی اور بلاؤز کے نیچے ننگے پیٹ کے پاس کمر پر چربی کی دو تہیں سی دکھائی دینے لگی تھیںآج اندو نے ایسا بندوبست کیا تھا کہ ان عیوب میں سے ایک بھی چیز نظر نہ آتی تھییوں بنی ٹھنی۔ کسی کسائی وہ بے حد حسین لگ رہی تھی”یہ نہیں ہو سکتا” مدن نے سوچا اور اسے ایک دھچکا سا لگا۔ اس نے پھر ایک بار مڑ کر اندو کی طرف دیکھا جیسے گھوڑوں کے بیوپاری کسی نامی گھوڑی کی طرف دیکھتے ہیںوہاں گھوڑی بھی تھی اور لال لگام بھییہاں جو غلط خط لگے تھے، شرابی آنکھوں کو نہ دیکھ سکےاندو سچ مچ خوبصورت تھی۔ آج بھی پندرہ سال کے بعد پھولاں، رشیدہ، مسز رابرٹ اور ان کی بہنیں ان کے سامنے پانی بھرتی تھیںپھر مدن کو رحم آنے لگا اور ایک ڈرآسمان پر کوئی خاص بادل بھی نہ تھے لیکن پانی پڑنا شروع ہو گیا۔ ادھر گھر کی گنگا طغیانی پر تھی اور اس کا پانی کناروں سے نکل نکل کر پوری اترائی اور اس کے آس پاس بسنے والے گاؤں اور قصبوں کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اسی رفتار سے اگر پانی بہتا رہا تو اس میں کیلاش پربت بھی ڈوب جائے گاادھر بچی رونے لگی۔ ایسا رونا جو وہ آج تک نہ روئی تھی۔ مدن نے اس کی آواز سن کر آنکھیں بند کر لیں۔ کھولیں تو وہ سامنے کھڑی تھی۔ جوان عورت بن کرنہیں نہیں، وہ اندو تھی، اپنی ماں کی بیٹی، اپنی بیٹی کی ماں۔ جو اپنی آنکھوں کے دنیالے سے مسکرائی اور ہونٹوں کے کونے سے دیکھنے لگی۔

اسی کمرے میں جہاں ایک دن ہرمل کی دھونی نے مدن کو چکرا دیا تھا، آج اس کی خوشبو نے بوکھلا دیا تھا۔ ہلکی بارش تیز بارش سے خطرناک ہوتی ہے۔ اس لئے باہر کا پانی اوپر کسی کڑی میں سے رستا ہوا اندو اور مدن کے بیچ ٹپکنے لگالیکن مدن تو شرابی ہو رہا تھا۔ اس نشے میں اس کی آنکھیں سمٹنے لگیں اور تنفس تیز ہو کر ا نسان کا تنفس نہ رہا۔

“اندو” مدن نے کہا۔ اور اس کی آواز شادی کی رات والی پکار سے دو سر اوپر تھیاور اندو نے پرے دیکھتے ہوئے کہا۔ “جی ” اور اس کی آواز دو سر نیچے تھیپھر آج چاندنی کی بجائے اماؤس تھی اس سے پہلے کہ مدن اندو کی طرف ہاتھ بڑھاتا۔ اندو خود ہی مدن سے لپٹ گئی۔ پھر مدن نے ہاتھ سے اندو کی ٹھوڑی اوپر اٹھائی اور دیکھنے لگا۔ اس نے کیا کھویا، کیا پایا ہے؟۔ اندو نے ایک نظر مدن کے سیاہ ہوتے ہوئے چہرے کی طرف پھینکی اور آنکھیں بند کر لیں۔


“یہ کیا؟” مدن نے چونکتے ہوئے کہا۔ “تمہاری آنکھیں سوجی ہوئی ہیں۔”

“یوں ہی” اندو نے کہا اور بچی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی۔ “رات بھر جگایا ہے اس چڑیل میا نے۔”

بچی اب تک خاموش ہو چکی تھی۔ گویا وہ دم سادھے دیکھ رہی تھی۔ اب کیا ہونے والا ہے؟ آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا؟ واقعی آسمان سے پانی پڑنا بند ہو گیا تھا۔ مدن نے پھر غور سے اندو کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ “ہاں مگر یہ آنسو؟”

“خوشی کے ہیں” اندو نے جوا ب دیا۔ آج کی رات میری ہے۔ اور پھر ایک عجیب سی ہنسی ہنستے ہوئے وہ مدن سے چمٹ گئی۔ ایک تلذذ کے احساس سے مدن نے کہا۔ “آج برسوں کے بعد میرے من کی مراد پوری ہوئی اندو! میں نے ہمیشہ چاہا تھا”

“لیکن تم نے کہا نہیں۔” اندو بولی۔ “یاد ہے شادی والی رات میں نے تم نے سے کچھ مانگا تھا؟”

“ہاں!” مدن بولا۔ “اپنے دکھ مجھے دے دو۔”

“تم نے کچھ نہیں مانگا مجھ سے”

“میں نے ؟” مدن نے حیران ہوتے ہوئے کہا “میں کیا مانگتا؟ میں تو جو کچھ مانگ سکتا تھا وہ سب تم نے دے دیا۔ میرے عزیزوں سے پیاران کی تعلیم، بیاہ شادیاںیہ پیارے پیارے بچےیہ کچھ تو تم نے دے دیا۔”

“میں بھی یہی سمجھتی تھی۔” اندو بولی “لیکن اب جا کر پتہ چلا، ایسا نہیں۔”

“کیا مطلب؟”

“کچھ نہیں۔” پھر اندو نے رک کر کہا۔ ” میں نے بھی ایک چیز رکھ لی۔”

“کیا چیز رکھ لی؟”

اندو کچھ دیر چپ رہی اور پھر اپنا منہ پرے کرتے ہوئے بولی “اپنی لاجاپنی خوشیاس وقت تم بھی کہہ دیتےاپنے سکھ مجھے دے دوتو میں” اور اندو کا گلا رندھ گیا۔ اور کچھ دیر بعد بولی۔ “اب تو میرے پاس کچھ بھی نہیں رہا۔”

مدن کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ وہ زمین میں گڑ گیا۔ یہ ان پڑھ عورت؟کوئی رٹا ہوا فقرہ؟ نہیں تو یہ تو ابھی ہی زندگی کی بھٹی سے نکلا ہے۔ ابھی تو اس پر برابر ہتھوڑے پڑ رہے ہیں اور آتشیں برادہ چاروں طرف اڑ رہا ہے

کچھ دیر بعد مدن کے ہوش ٹھکانے آئے اور بولا۔ “میں سمجھ گیا اندو” پھر روتے ہوئے مدن اور اندو ایک دوسرے سے لپٹ گئےاندو نے مدن کا ہاتھ پکڑا اور اسے ایسی دنیاؤں میں لے گئی جہاں انسان مر کر ہی پہنچ سکتا ہے۔

GEND,DASA BY AHMAD NADEEM QASMI

Articles

گنڈاسا

احمد ندیم قاسمی

 

 

اکھاڑہ جم چکا تھا۔ طرفین نے اپنی اپنی “چوکیاں” چن لی تھیں۔ “پڑکوڈی” کے کھلاڑی جسموں پر تیل مل کر بجتے ہوئے ڈھول کے گرد گھوم رہے تھے۔ انہوں نے رنگین لنگوٹیں کس کر باندھ رکھی تھیں۔ ذرا ذرا سے سفید پھینٹھئے ان کے چپڑے ہوئے لانبے لابنے پٹوں کے نیچے سے گزر کر سر کے دونوں طرف کنول کے پھولوں کے سے طرے بنا رہے تھے۔ وسیع میدان کے چاروں طرف گپوں اور حقوں کے دور چل رہے تھے اور کھلاڑیوں کے ماضی اور مستقبل کو جانچا پرکھا جا رہا تھا۔ مشہور جوڑیاں ابھی میدان میں نہیں اتری تھیں۔ یہ نامور کھلاڑی اپنے دوستوں اور عقیدت مندوں کے گھیرے میں کھڑے اس شدت سے تیل چپڑوا رہے تھے کہ ان کے جسموں کو ڈھلتی دھوپ کی چمک نے بالکل تانبے کا سا رنگ دے دیا تھا، پھر یہ کھلاڑی بھی میدان میں آئے، انہوں نے بجتے ہوئے ڈھولوں کے گرد چکر کاٹے اور اپنی اپنی چوکیوں کے سامنے ناچتے کودتے ہوئے بھاگنے لگے اور پھر آناً فاناً سارے میدان میں ایک سرگوشی بھنور کی طرح گھوم گئی۔”مولا کہاں ہے؟”

مولا ہی کا کھیل دیکھنے تو یہ لوگ دور دراز کے دیہات سے کھنچے چلے آئے تھے۔ “مولا کا جوڑی وال تاجا بھی تو نہیں!” دوسرا بھنور پیدا ہوا لوگ پوربی چوکوں کی طرف تیز تیز قدم اٹھاتے بڑھنے لگے، جما ہوا پڑ ٹوٹ گیا۔ منتظمین نے لمبے لمبے بیدوں اور لاٹھیوں کو زمین پر مار مار کر بڑھتے ہوئے ہجوم کے سامنے گرد کا طوفان اڑانے کی کوشش کی کہ پڑ کا ٹوٹنا اچھا شگون نہ تھا مگر جب یہ سرگوشی ان کے کانوں میں سیروں بارود بھرا ہوا ایک گولا ایک چکرا دینے والے دھماکے سے پھٹ پڑا۔ ہر طرف سناٹا چھا گیا۔ لوگ پڑ کی چوکور حدوں کی طرف واپس جانے لگے۔ مولا اپنے جوڑی وال تاجے کے ساتھ میدان میں آگیا۔ اس نے پھندنوں اور ڈوریوں سے سجے اور لدے ہوئے ڈھول کے گرد بڑے وقار سے تین چکر کاٹے اور پھر ڈھول کو پوروں سے چھو کر یا علیؓ کا نعرہ لگانے کے لئے ہاتھ ہوا میں بلند کیا ہی تھا کہ ایک آواز ڈھولوں کی دھما دھم چیرتی پھاڑتی اس کے سینے پر گنڈاسا بن کر پڑی مولے” “اے مولے بیٹے۔ تیرا باپ قتل ہو گیا!”

مولا کا اٹھا ہوا ہاتھ سانپ کے پھن کی طرح لہرا گیا اور پھر ایک دم جیسے اس کے قدموں میں نہتے نکل آئے۔ “رنگے نے تیرے باپ کو ادھیڑ ڈالا ہے گنڈاسے سے!” ان کی ماں کی آواز نے اس کا تعاقب کیا!

پڑ ٹو ٹ گیا۔ ڈھول رک گئے۔ کھلاڑی جلدی جلدی کپڑے پہننے لگے۔ ہجوم میں افراتفری پیدا ہوئی اور پھر بھگدڑ مچ گئی۔ مولا کے جسم کا تانبا گاؤں کی گلیوں میں کونڈتے بکھیرتا اڑا جا رہا تھا۔ بہت پیچھے اس کا جوڑی وال تاجا اپنے اور مولا کے کپڑوں کی گٹھڑی سینے سے لگائے آ رہا تھا اور پھر اس کے پیچھے ایک خوف زدہ ہجوم تھا۔ جس گاؤں میں کسی شخص کو ننگے سر پھرنے کا حوصلہ نہ ہو سکتا تھا وہاں مولا صرف ایک گلابی لنگوٹ باندھے پہناریوں کی قطاروں، بھیڑوں، بکریوں کے ریوڑوں کو چیرتا ہوا لپکا جا رہا تھا اور جب وہ رنگے کی چوپال کے بالکل سامنے پہنچا تو سامنے ایک اور ہجوم میں سے پیر نور شاہ نکلے اور مولا کو للکار کر بولے۔ “رک جا مولے!”

مولا لپکا گیا مگر پھر ایک دم جیسے اس کے قدم جکڑ لئے گئے اور وہ بت کی طرح جم کر رہ گیا۔ پیر نور شاہ اس کے قریب آئے اور اپنی پاٹ دار آواز میں بولے۔ “تو آگے نہیں جائے گا مولا!”

ہانپتا ہوا مولا کچھ دیر پیر نور شاہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے کھڑا رہا۔ پھر بولا “آگے نہیں جاؤں گا پیر جی تو زندہ کیوں رہوں گا؟”۔

“میں کہہ رہا ہوں” پیر جی “میں پر زور دیتے ہوئے دبدبے سے بولے۔”

مولا ہانپنے کے باوجود ایک ہی سانس میں بولتا چلا گیا۔ “تو پھر میرے منہ پر کالک بھی مل ڈالئے اور ناک بھی کاٹ ڈالئے میری، مجھے تو اپنے باپ کے خون کا بدلہ چکانا ہے پیر جی۔ بھیڑ بکریوں کی بات ہوتی تو میں آپ کے کہنے پر یہیں سے پلٹ جاتا۔”

مولا نے گردن کو بڑے زور سے جھٹکا دے کر رنگے کے چوپال کی طرف دیکھا۔ رنگا اور اس کے بیٹے بٹھوں سر گنڈاسے چڑھائے چوپائے پر تنے کھڑے تھے۔ رنگے کا بڑا لڑکا بولا۔

“آؤ بیٹے آؤ۔ گنڈاسے کے ایک ہی وار سے پھٹے ہوئے پیٹ میں سے انتڑیوں کا ڈھیرا نہ اگل ڈالوں تو قادا نام نہیں، میرا گنڈاسا جلد باز ہے اور کبڈی کھیلنے والے لاڈلے بیٹے باپ کے قتل کا بدلا نہیں لیتے، روتے ہیں اور کفن کا لٹھا ڈھونڈنے چلے جاتے ہیں۔”

مولا جیسے بات ختم ہونے کے انتظار میں تھا۔ ایک ہی رفتار میں چوپال کی سیڑھیوں پر پہنچ گیا۔ مگر اب کبڈی کے میدان کا ہجوم بھی پہنچ گیا تھا اور گاؤں کا گاؤں اس کے راستے میں حائل ہو گیا تھا۔ جسم پر تیل چپڑ رکھا تھا اس لئے وہ روکنے والوں کے ہاتھوں سے نکل نکل جاتا مگر پھر جکڑ لیا جاتا۔ ہجوم کا ایک حصہ رنگے اور اس کے تینوں بیٹوں کو بھی روک رہا تھا۔ چار گنڈاسے ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں جنوں کی طرح بار بار دانت چمکا رہے تھے کہ اچانک جیسے سارے ہجوم کو سانپ سو نگ گیا۔ پیر نور شاہ قرآن مجید کو دونوں ہاتھوں میں بلند کئے چوپال کی سیٹرھیوں پر آئے اور چلائے۔”اس کلام اللہ کا واسطہ اپنے اپنے گھروں کو چلے جاؤ ورنہ بدبختو گاؤں کا گاؤں کٹ مرے گا۔ جاؤ تمہیں خدا اور رسولؑ کا واسطہ، قرآن پاک کا واسطہ، جاؤ، چلے جاؤ۔”

لوگ سر جھکا کر ادھر ادھر بکھرنے لگے۔ مولا نے جلدی سے تائے سے پٹکا لے کر ادب سے اپنے گھٹنوں کو چھپا لیا اور سیٹرھیوں پر سے اتر گیا۔ پیر صاحب قرآن مجید کو بغل میں لئے اس کے پاس آئے اور بولے۔”اللہ تعالی تمہیں صبر دے اور آج کے اس نیک کام کا اجر دے۔”

مولا آگے بڑھ گیا۔ تاجا اس کے ساتھ تھا اور جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچے تو مولا نے پلٹ کر رنگے کی چوپال پر ایک نظر ڈالی۔

“تم تو رو رہے ہو مولے؟” تاجے نے بڑے دکھ سے کہا۔

اور مولا نے اپنے ننگے بازو کو آنکھوں پر رگڑ کر کہا۔ “تو کیا اب روؤں بھی نہیں؟”

“لوگ کیا کہیں گے؟” تاجے نے مشورہ دیا۔

“ہاں تاجے!” مولا نے دوسری بار بازو آنکھوں پر رگڑا۔ “میں بھی تو یہی سوچ رہا ہوں کہ لوگ کیا کہیں گے، میرے باپ کے خون پر مکھیاں اڑ رہی ہیں اور میں یہاں گلی میں ڈورے ہوئے کتے کی طرح دم دبائے بھاگا جا رہا ہوں ماں کے گھٹنے سے لگ کر رونے کے لئے!”

لیکن مولا ماں کے گھٹنے سے لگ کر رویا نہیں۔ وہ گھر کے دالان میں داخل ہوا تو رشتہ دار اس کے باپ کی لاش تھانے اٹھا لے جانے کا فیصلہ کر چکے تھے۔ منہ پیٹتی اور بال نوچتی ماں اس کے پاس آئی اور “شرم تو نہیں آتی” کہہ کر منہ پھیر کر لاش کے پاس چلی گئی۔ مولا کے تیور اسی طرح تنے رہے۔ اس نے بڑھ کر باپ کی لاش کو کندھا دیا اور برادری کے ساتھ روانہ ہو گیا۔

اور ابھی لاش تھانے نہیں پہنچی ہو گی کہ رنگے کی چوپال پر قیامت مچ گئی۔ رنگا چوپال کی سیڑھیوں پر سے اترکر سامنے اپنے گھر میں داخل ہونے ہی لگا تھا کہ کہیں سے ایک گنڈاسا لپکا اور انتڑیوں کا ایک ڈھیر اس کے پھٹے ہوئے پیٹ سے باہر ابل کر اس کے گھر کی دہلیز پر بھاپ چھوڑنے لگا۔ کافی دیر کو افراتفری کے بعد رنگے کے بیٹے گھوڑوں پر سوار ہو کر رپٹ کے لئے گاؤں سے نکلے، مگر جب وہ تھانے پہنچے تو یہ دیکھ کر دم بخود رہ گئے کہ جس شخص کے خلاف وہ رپٹ لکھوانے آئے ہیں وہ اپنے باپ کی لاش کے پاس بیٹھا تسبیح پر قل ھو اللہ کا ورد کر رہا تھا۔ تھانے دار کے ساتھ انہوں نے بہت ہیر پھیر کی کوشش کی اور اپنے باپ کا قاتل مولا ہی کو ٹھہرایا مگر تھانیدار نے انہیں سمجھایا کہ “خواہ مخواہ اپنے باپ کے قاتل کو ضائع کر بیٹھو گے، کوئی عقل کی بات کرو۔ ادھر یہ میرے پاس اپنے باپ کے قتل کی رپٹ لکھوا رہا ہے ادھر تمہارے باپ کے پیٹ میں گنڈاسا بھی بھونک آیا ہے۔”

آخر دونوں طرف سے چالان ہوئے، لیکن دونوں قتلوں کا کوئی چشم دید ثبوت نہ ملنے کی بناء پر طرفین بری ہو گئے اور جس روز مولا رہا ہو کر گاؤں میں آیا تو اپنی ماں سے ماتھے پر ایک طویل بوسہ ثبت کرانے کے بعد سب سے پہلے تاجے کے ہاں گیا۔ اسے بھینچ کر گلے لگایا اور کہا۔ “اس روز تم اور تمہارا گھوڑا میرے کام نہ آتے تو آج میں پھانسی کی رسی میں توری کی طرح لٹک رہا ہوتا۔ تمہاری جان کی قسم جب میں نے رنگے کے پیٹ کو کھول کر رکاب میں پاؤں رکھا ہے، آندھی بن گیا خدا کی قسم اسی لئے تو لاش ابھی تھانے بھی نہیں پہنچی تھی کہ میں ہاتھ جھاڑ کر واپس بھی آگیا۔”

سارے گاؤں کو معلوم تھا کہ رنگے کا قاتل مولا ہی ہے، مگر مولے کے چند عزیزوں اور تاجے کے سوا کوئی نہیں جانتا تھا کہ یہ سب کچھ ہوا کیسے پھر ایک دن گاؤں میں یہ خبر گشت کرنے لگی کہ مولا کا باپ تو رنگے کے بڑے بیٹے قادر کے گنڈاسے سے مرا تھا رنگا تو صرف ہشکار رہا تھا بیٹوں کو۔ رات کو چوپالوں اور گھروں میں یہ موضوع چلتا رہا اور صبح کو پتہ چلا کہ قادر اپنے کوٹھے کی چھت پر مردہ پایا گیا اور وہ بھی یوں کہ جب اس کے بھائیوں پھلے اور گلے نے اسے اٹھانے کی کوشش کی تو اس کا سر لڑھک کر نیچے گرا اور پرنالے تک لڑھکتا چلا گیا، رپٹ لکھوائی اور مولا پھر گرفتار ہو گیا۔ مرچوں کا دھواں پیا، تپتی دوپہروں میں لوہے کی چادر پر کھڑا رہا۔ کتنی راتیں اسے اونگھنے تک نہ دیا گیا مگر وہ اقبالی نہ ہوا اور آخر مہینوں کے بعد رہا ہو کر گاؤں میں آ نکلا اور جب اپنے آنگن میں قدم رکھا تو ماں بھاگی ہو ئی آئی۔ اس کے ماتھے پر طویل بوسہ لیا اور بولی۔ “ابھی دو اور باقی ہیں میرے لال۔ رنگے کا کوئی نام لیوا نہ رہے، تو جبھی بتیس دھاریں بخشوں گی۔ میرے دودھ میں تیرے باپ کا خون تھا۔ مولے اور تیرے خون میں میرا دودھ ہے اور تیرے گنڈاسے پر میں نے زنگ نہیں چڑھنے دیا۔ “مولا اب علاقے بھر کی ہیبت بن گیا تھا۔ اس کی مونچھوں میں دو دو بل آ گئے تھے۔ کانوں میں سونے کی بڑی بڑی بالیاں، خوشبودار تیل اس کے لہرئیے بالوں میں آگ کی قلمیں سی جگائے رکھتا تھا۔ ہاتھی دانت کا ہلالی کنگھا اتر کر اس کی کنپٹی پر چمکنے لگا تھا۔ وہ گلیوں میں چلتا تو پٹھے کے تہبند کا کم سے کم آدھا گز تو اس کے عقب میں لوٹتا ہوا جاتا۔ باریک ململ کا پٹکا اس کے کندھے پر پڑا رہتا اور اکثر اس کا سرا گر کر زمین پر گھسٹنے لگتا۔ اور گھسٹتا چلا جاتا۔ مولا کے ہاتھ میں ہمیشہ اس کے قد سے بھی لمبی تلی پلی لٹھ ہوتی اور جب وہ گلی کے کسی موڑ یا کسی چوراہے پر بیٹھتا تو یہ لٹھ جس انداز سے اس کے گھٹنے سے آ لگتی اسی انداز سے لگی رہتی اور گلی میں سے گزرنے والوں کو اتنی جرأت نہ ہوتی کہ وہ مولا کی لٹھ ایک طرف سرکانے کے لئے کہہ سکیں۔ اگر کبھی لٹھ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک تن گئی تو لو گ آتے، مولا کی طرف دیکھتے اور پلٹ کر کسی دوسری گلی میں چلے جاتے۔ عورتوں اور بچوں نے تو وہ گلیاں ہی چھوڑ دی تھیں جہاں مولا بیٹھنے کا عادی تھا۔ مشکل یہ تھی کہ مولا کی لٹھ پر سے الانگنے کا بھی کسی میں حوصلہ نہ تھا۔ ایک بار کسی اجنبی نوجوان کا اس گلی میں سے گزر ہوا۔ مولا اس وقت ایک دیوار سے لگا لٹھ سے دوسرے دیوار کو کریدے جا رہا تھا۔ اجنبی آیا اور لٹھ پر سے الانگ گیا۔ ایکا ایکی مولا نے بپھر کر ٹینک میں سے گنڈاسا نکالا اور لٹھ پر چڑھا کر بولا۔”ٹھہر جاؤ چھوکرے، جانتے ہو تم نے کس کی لٹھ الانگی ہے یہ مولا کی لٹھ ہے۔ مولے گنڈاسے والے کی۔”

نوجوان مولا کا نام سنتے ہی یک لخت زرد پڑ گیا اور ہولے سے بولا۔ “مجھے پتہ نہیں تھا، مولے۔” مولا نے گنڈاسا اتار کر ٹینک میں اڑس لیا اور لٹھ کے ایک سرے کو نوجوان کے پیٹ پر ہلکے سے دبا کر بولا۔ “تو پھر جا کر اپنا کام کر۔” اور پھروہ لٹھ کو یہاں سے وہاں تک پھیلا کر بیٹھ گیا۔

مولا کا لباس، اس کی چال، اس کی مونچھیں اور سب سے زیادہ اس کا لا ابالی انداز، یہ سب پہلے گاؤں کے فیشن میں داخل ہوئے اور پھر علاقے بھر کے فیشن پر اثر انداز ہوئے لیکن مولا کی جو چیز فیشن میں داخل نہ ہو سکی وہ اس کی لانبی لٹھ تھی۔ تیل پلی، پیتل کے کوکوں سے اٹی ہوئی، لوہے کی شاموں میں لپٹی ہوئی، گلیوں کے کنکروں پر بجتی اور یہاں سے وہاں تک پھیل کر آنے والوں کو پلٹا دینے والی لٹھ اور پھر وہ گنڈاسا جس کی میان مولا کی ٹینک تھی اور جس پر اس کی ماں زنگ کا ایک نقطہ تک نہیں دیکھ سکتی تھی۔

لوگ کہتے تھے کہ مولا گلیوں کے نکڑوں پر لٹھ پھیلائے اور گنڈاسا چھپائے گلے اور پھلے کی راہ تکتا ہے۔ قادرے کے قتل اور مولے کی رہائی کے بعد پھلا فوج میں بھرتی ہو کر چلا گیا تھا اور گلے نے علاقہ کے مشہور رسہ گیر چوھدری مظفر الٰہی کے ہاں پناہ لی تھی، جہاں وہ چوھدری کے دوسرے ملازموں کے ساتھ چناب اور راوی پر سے بیل اور گائیں چوری کر کے لاتا۔ چوھدری مظفر اس مال کو منڈیوں میں بیچ کر امیروں، وزیروں اور لیڈروں کی بڑی بڑی دعوتیں کرتا اور اخباروں میں نام چھپواتا اور جب چناب اور راوی کے کھوجی مویشیوں کے کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چوھدری مظفر کے قصبے کے قریب پہنچتے تو جی میں کہتے۔ “ہمارا ماتھا پہلے ہی ٹھنکا تھا! انہیں معلوم تھا کہ اگر وہ کھروں کے سراغ کے ساتھ ساتھ چلتے چودھری کے گھر تک جا پہنچے تو پھر کچھ دیر بعد لوگ مویشیوں کی بجائے خود کھوجیوں کا سراغ لگاتے پھریں گے اور لگا نہ پائیں گے۔ وہ چوھدری کے خوف کے مارے قصبے کے ایک طرف سے نکل کر اور تھلوں کے ریتے میں پہنچ کر یہ کہتے ہوئے واپس آ جاتے “کھروں کے نشان یہاں سے غائب ہو رہے ہیں۔”

مولا نے چوھدری مظفر اور اس کے پھیلے ہوئے بازوؤں کے بارے میں سن رکھا تھا۔ اسے کچھ ایسا لگتا تھا کہ جیسے علاقہ بھر میں صرف یہ چوھدری ہی ہے جو اس کی لٹھ الانگ سکتا ہے لیکن فی الحال اسے رنگے کے دونوں بیٹوں کا انتظار تھا۔

تاجے نے بڑے بھائیوں کی طرح مولے کو ڈانٹا “اور کچھ نہیں تو اپنی زمینوں کی نگرانی کر لیا کر، یہ کیا بات ہوئی کہ صبح سے شام تک گلیوں میں لٹھ پھیلائے بیٹھے ہیں اور میراثیوں، نائیوں سے خدمتیں لی جا رہی ہیں۔ تو شاید نہیں جانتا پر جان لے تو اس میں تیرا ہی بھلا ہے کہ مائیں بچوں کو تیرا نام لے کر ڈرانے لگی ہیں، لڑکیاں تو تیرا نام سنتے ہی تھوک دیتی ہیں، کسی کو بد دعا دینی ہو تو کہتی ہیں اللہ کرے تجھے مولا بیاہ کر لے جائے۔ سنتے ہو مولے!”

لیکن مولا تو جس بھٹی میں گودا تھا اس میں پک کر پختہ ہو چکا تھا۔ بولا “ابے جا تاجے اپنا کام کر، گاؤں بھر کی گالیاں سمیٹ کر میرے سامنے ان کا ڈھیر لگانے آیا ہے؟ دوستی رکھنا بڑی جی داری کی بات ہے پٹھے، تیرا جی چھوٹ گیا ہے تو میری آنکھوں میں دھول کیوں جھونکتا ہے۔ جا اپنا کام کر، میرے گنڈاسے کی پیاس ابھی تک نہیں بجھیجااس نے لاٹھی کو کنکروں پر بجایا اور گلی کے سامنے والے مکان میں میراثی کو بانگ لگائی۔ “ابے اب تک چلم تازہ نہیں کر چکا الو کے پٹھے جا کر گھر والوں کی گود میں سو گیا چلم لا۔”

تاجا پلٹ گیا مگر گلی کے موڑ پر رک گیا اور مڑ کر مولے کو کچھ یوں دیکھا جیسے اس کی جواں مرگی پر پھوٹ پھوٹ کر رو دے گا۔

مولا کنکھیوں سے اسے دیکھ رہا تھا اٹھا اور لٹھ کو اپنے پیچھے گھسیٹتا تاجے کے پاس آ کر بولا دیکھ تاجے مجھے ایسا لگتا ہے تو مجھ پر ترس کھا رہا ہے اس لئے کہ کسی زمانے میں تیری یاری تھی پر اب یہ یاری ٹوٹ گئی ہے تاجے تو میرا ساتھ نہیں دے سکتا تو پھر ایسی یاری کو لے کر چاٹنا ہے۔ میرے باپ کا خون اتنا سستا نہیں تھا کہ رنگے اور اس کے ایک ہی بیٹے کے خون سے حساب چک جائے، میرا گنڈاسا تو ابھی اس کے پوتے، پوتیوں، نواسے، نواسیوں تک پہنچے گا، اس لئے جا اپنا کام کر۔ تیری میری یار ختم۔ اس لئے مجھ پر ترس نہ کھایا کر، کوئی مجھ پر ترس کھائے تو آنچ میرے گنڈاسے پر جا پہنچتی ہے جا۔”

واپس آ کر مولا نے میراثی سے چلم لے کر کش لگایا تو سلفہ ابھر کر بکھر گیا۔ ایک چنگاری مولا کے ہاتھ پر گری اور ایک لمحہ تک وہیں چمکتی رہی۔ میراثی نے چنگاری کو جھاڑنا چاہا تو مولا نے اس کے ہاتھ پر اس زور سے ہاتھ مارا کہ میراثی بل کھا رہ گیا اور ہاتھ کو ران اور پنڈلی میں دبا کر ایک طرف ہٹ گیااور مولا گرجا۔ “ترس کھاتا ہے حرامزادہ۔”

اس نے چلم اٹھا کر سامنے دیوار پر پٹخ دی اور لٹھ اٹھا کر ایک طرف چل دیا۔

لوگوں نے مولا کو ایک نئی گلی کے چوراہے پر بیٹھے دیکھا تو چونکے اور سرگوشیاں کرتے ہوئے ادھر ادھر بکھر گئے۔ عورتیں سر پر گھڑے رکھے آئیں اور “ہائیں” کرتی واپس چلی گئیں۔ مولا کی لٹھ یہاں سے وہاں تک پھیلی ہوئی تھی۔ اور لوگوں کے خیال میں اس پر خون سوار تھا۔

مولا اس وقت دور مسجد کے مینار پر بیٹھی ہوئی چیل کو تکے جا رہا تھا۔ اچانک اسے کنکروں پر لٹھ کے بجنے کی آواز آئی۔ چونک کراس نے دیکھا کہ ایک نوجوان لڑکی نے اس کی لٹھ اٹھا کر دیوار کے ساتھ رکھ دی ہے اور ان لانبی سرخ مرچوں کو چن رہی ہے جو جھکتے ہوئے اس کے سر پر رکھی ہوئی گٹھڑی میں سے گر گئی تھیں۔ مولا سناٹے میں آگیا لٹھ کو الانگنا تو ایک طرف رہا اس نے یعنی ایک عورت ذات نے لٹھ کو گندے چیتھڑے کی طرح اٹھا کر پرے ڈال دیا ہے اور اب بڑے اطمینان سے مولا کے سامنے بیٹھی مرچیں چن رہی ہے اور جب مولا نے کڑک کر کہا۔ “جانتی ہو تم نے کس کی لاٹھی پر ہاتھ رکھا ہے جانتی ہو میں کون ہوں تو اس نے ہاتھ بلند کر کے چنی ہوئی مرچیں گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے کہا کوئی سڑی لگتے ہو۔”

مولا مارے غصے کے اٹھ کھڑا ہوا۔ لڑکی بھی اٹھی اور اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نرمی سے بولی اسی لئے تو میں نے تمہاری لٹھ تمہارے سر پر نہیں دے ماری ایسے لٹے لٹے سے لگتے تھے مجھے تو تم پر ترس آگیا تھا۔”

“تر س آگیا تھا تمہیں مولا پر؟ مولا دھاڑا۔

“مولا!”لڑکی نے گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور ذرا سی چونکی۔

“ہاں، مولا، گنڈاسے والا” مولا نے ٹھسے سے کہا اور وہ ذرا سی مسکرا کے گلی میں جانے لگی۔ مولا کچھ دیر وہاں چپ چاپ کھڑا رہا اور پھر ایک سانس لے کر دیوار سے لگ کر بیٹھ گیا۔ لٹھ کو سامنے کی دیوار تک پھیلا لیا تو پرلی طرف سے ادھیڑ عمر کی ایک عورت آتی دکھائی دی۔ مولا کو دیکھ کر ٹھٹکی۔ مولا نے لٹھ اٹھا کر ایک طرف رکھ دی اور بولا۔ “آ جاؤ ماسی، آ جاؤ میں تمہیں کھا تھوڑی جاؤں گا۔”

حواس باختہ عورت آئی اور مولے کے پاس سے گزرتے ہوئے بولی۔ “کیسا جھوٹ بکتے ہیں لوگ، کہتے ہیں جہاں مولا بخش بیٹھا ہو وہاں سے باؤ کتا بھی دبک کر گزرتا ہے، پر تو نے میرے لئے اپنی لٹھ۔”

“کون کہتا ہے؟” مولا اٹھ کھڑا ہوا۔

“سب کہتے ہیں، سارا گاؤں کہتا ہے، ابھی ابھی کنویں پر یہی باتیں ہو رہی تھیں، پر میں نے تو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا کہ مولا بخش”

لیکن مولا اب تک اس گلی میں لپک کر گیا تھا جس میں ابھی ابھی نوجوان لڑکی گئی تھی۔ وہ تیز تیز چلتا گیا اور آخر دور لمبی گلی کے سرے پر وہی لڑکی جاتی نظر آئی، وہ بھاگنے لگا۔ آنگنوں میں بیٹھی ہوئی عورتیں دروازوں تک آ گئیں اور بچے چھتوں پر چڑھ گئے۔ مولا کا گلی سے بھاگ کر نکلنا کسی حادثے کا پیش خیمہ سمجھا گیا۔ لڑکی نے بھی مولا کے قدموں کی چاپ سن لی تھی، وہ پلٹی اور پھر وہیں جم کر کھڑ ی رہ گئی۔ اس نے بس اتنا ہی کیا کہ گٹھڑی کو دونوں ہاتھوں سے تھا م لیا، چند مرچیں دہکتے ہوئے انگاروں کی طرح اس کے پاؤں پر بکھر گئیں۔

“میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا۔” مولا پکارا۔ “کچھ نہیں کہوں گا تمہیں۔”

لڑکی بولی۔ “میں ڈر کے نہیں رکی۔ ڈریں میرے دشمن۔”

مولا رک گیا، پھر ہولے ہولے چلتا ہوا اس کے پاس آیا اور بولا۔ “بس اتنا بتا دو تم ہو کون؟”

لڑکی ذرا سا مسکرا دی۔

عقب سے کسی بڑھیا کی آواز آئی۔ “یہ رنگے کے چھوٹے بیٹے کی منگیتر راجو ہے، مولا بخش۔”

مولا آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر راجو کو دیکھنے لگا۔ اسے راجو کے پاس رنگا اور رنگے کا سارا خاندان کھڑا نظر آیا۔ اس کا ہاتھ ٹینک تک گیا اور پھر رسے کی طرح لٹک گیا۔ راجو پلٹ کر بڑی متوازن رفتار سے چلنے لگی۔

مولا نے لاٹھی ایک طرف پھینک دی اور بولا۔ “ٹھہرو راجو، یہ اپنی مرچیں لیتی جاؤ۔”

راجو رک گئی۔ مولا نے جھک کر ایک ایک مرچ چن لی اور پھر اپنے ہاتھ سے انہیں راجو کی گٹھڑی میں ٹھونستے ہوئے بولا۔ “تمہیں مجھ پر ترس آیا تھا نا راجو؟”۔

لیکن راجو ایک دم سنجیدہ ہو گئی اور اپنے راستے پر ہولی۔ مولا بھی واپس جانے لگا۔ کچھ دور ہی گیا تھا کہ بڑھیا نے اسے پکارا۔ “یہ تمہاری لٹھ تو یہیں رکھی رہ گئی مولا بخش!”

مولا پلٹا اور لٹھ لیتے ہوئے بڑھیا سے پوچھا۔

“ماسی! یہ لڑکی راجو کیا یہی کی رہنے والی ہے؟ میں نے تو اسے کبھی نہیں دیکھا۔”

“یہیں کی ہے بھی بیٹا اور نہیں بھی۔” بڑھیا بولی۔ “اس کے باپ نے لام میں دونوں بیٹوں کے مرنے کے بعد جب دیکھا کہ وہ روز ہل اٹھا کر اتنی دور کھیتوں میں نہیں جا سکتا تو گاتن والے گھر کی چھت اکھیڑی اور یہاں سے یوں سمجھو کہ کوئی دو ڈھائی کوس دور ایک ڈھوک بنا لی۔ وہیں راجو اپنے باپ کے ساتھ رہتی ہے، تیسرے چوتھے دن گاؤں میں سودا سلف خریدنے آ جاتی ہے اور بس۔”

مولا جواب میں صرف “ہوں” کہہ کر واپس چلا گیا، لیکن گاؤں بھر میں یہ خبر آندھی کی طرح پھیل گئی کہ آج مولا اپنی لٹھ ایک جگہ رکھ کر بھول گیا۔ باتوں باتوں میں راجو کا ایک دو بار نام آیا مگر دب گیا۔ رنگے کے گھرانے اور مولا کے درمیان صرف گنڈاسے کا رشتہ تھا نا اور راجو رنگے ہی کے بیٹے کی منگیتر تھی اور اپنی جان کسے پیاری نہیں ہوتی۔”

اس واقعہ کے بعد مولا گلیوں سے غائب ہو گیا۔ سارا دن گھر میں بیٹھا لاٹھی سے دالان کی مٹی کریدتا رہتا اور کبھی باہر جاتا بھی تو کھیتوں چراگاہوں میں پھرپھرا کر واپس آ جاتا۔ ماں اس کے رویے پر چونکی مگر صرف چونکنے پر اکتفا کی۔ وہ جانتی تھی کہ مولا کے سر پر بہت سے خون سوار ہیں، وہ بھی جو بہا دئے گئے اور وہ بھی جو بہائے نہ جا سکے۔

یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ نقارے پٹ پٹا کر خاموش ہو گئے تھے۔ گھروں میں سحری کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ دہی بلونے اور توے پر روٹیوں کے پڑنے کی آواز مندروں کی گھنٹیوں کی طرح پر اسرار معلوم ہو رہی تھیں۔ مولا کی ماں بھی چولہا جلائے بیٹھی تھی اور مولا مکان کی چھت پر ایک چارپائی پر لیٹا آسمان کو گھورے جا رہا تھا۔ یکا یک کسی گلی میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ مولا نے فوراً لٹھ پر گنڈاسا چڑھایا اور چھت پر سے اتر کر گلی میں بھاگا۔ ہر طرف گھروں میں لالٹینیں نکلی آ رہی تھیں اور شور بڑھ رہا تھا۔ وہاں پہنچ کر مولا کو معلوم ہوا کہ تین مسافر جو نیزوں، برچھیوں سے لیس تھے، بہت سے بیلوں اور گائے بھینسوں کو گلی میں سے ہنکائے لئے جا رہے تھے کہ چوکیدار نے انہیں ٹوکا اور جواب میں انہوں نے چوکیدار کو گالی دے کر کہا کہ یہ مال چوھدری مظفر الٰہی کا ہے، یہ گلی تو خیر ایک ذلیل سے گاؤں کی گلی ہے، چوھدری کا مال تو لاہور کی ٹھنڈک سڑک پر سے بھی گزرے تو کوئی اف نہ کرے۔

مولا کو کچھ ایسا محسوس ہوا جیسے چوھدری مظفر خود، بہ نفسِ نفیس گاؤں کی اس گلی میں کھڑا اس سے گنڈاسا چھیننا چاہتا ہے، کڑک کر بولا۔ “چوری کا یہ مال میرے گاؤں سے نہیں گزرے گا، چاہے یہ چوھدری مظفر کا ہو چاہے لاٹ صاحب کا۔ یہ مال چھوڑ کر چپکے سے اپنی راہ لو اور اپنی جان کے دشمن نہ بنو!” اس نے لٹھ کر جھکا کر گنڈاسے کو لالٹینوں کی روشنی میں چمکایا۔ “جاؤ۔”

مولا گھرے ہوئے مویشیوں کو لٹھ سے ایک طرف ہنکانے لگا۔ “جا کر کہہ دو اپنے چوھدری سے کہ مولا گنڈاسے نے تمہیں سلام بھیجا ہے اور اب جاؤ اپنا کام کرو۔”

مسافروں نے مولا کے ساتھ سارے ہجوم کے بدلے ہوئے تیور دیکھے تو چپ چاپ کھسک گئے۔ مولا سارے مال کو اپنے گھر لے آیا اور سحری کھاتے ہوئے ماں سے کہا کہ “یہ سب بے زبان ہمارے مہمان ہیں، ان کے مالک پرسوں تک آ نکلیں گے کہیں سے اور گاؤں کی عزت میری عزت ہے ماں۔” مالک دوسرے ہی دن دوپہر کو پہنچ گئے۔۔

یہ غریب کسان اور مزارعے کوسوں کی مسافتیں طے کر کے کھوجیوں کی ناز برداریاں کرتے یہاں تک پہنچے تھے اور یہ سوچتے آ رہے تھے کہ اگر ان کا مال چوھدری کے حلقۂ اثر تک پہنچ گیا تو پھر کیا ہو گا اور جب مولا ان کا مال ان کے حوالے کر رہا تھا تو سارا گاؤں باہر گلی میں جمع ہو گیا تھا اور اس ہجوم میں راجو بھی تھی۔ اس نے اپنے سر پر اینڈوا جما کر مٹی کا ایک برتن رکھا ہوا تھا اور منتشر ہوتے ہوئے ہجوم میں جب راجو مولا کے پاس سے گزری تو مولا نے کہا۔ “آج بہت دنوں بعد گاؤں میں آئی ہو راجو۔”

“کیوں؟” اس نے کچھ یوں کہا جیسے “میں کسی سے ڈرتی تھوڑی ہوں” کا تاثر پیدا کرنا چاہتی ہو۔ میں تو کل آئی تھی اور پرسوں اور ترسوں بھی۔ ترسوں تھوم پیاز خریدنے آئی۔ پرسوں بابا کو حکیم کے پاس لائی، کل ویسے ہی آ گئیں اور آج یہ گھی بیچنے آئی ہوں۔”

“کل ویسے ہی کیوں آ گئیں؟” مولا نے بڑے اشتیاق سے پوچھا۔

“ویسے ہی بس جی چاہا آ گئے، سہیلیوں سے ملے اور چلے گئے، کیوں؟”

“ویسے ہی” مولا نے بجھ کر کہا، پھر ایک دم اسے ایک خیال آیا۔ “یہ گھی بیچو گی؟”

“ہاں بیچنا تو ہے، پر تیرے ہاتھ نہیں بیچوں گی۔”

“کیوں؟”

“تیرے ہاتھوں میں میرے رشتہ داروں کا خون ہے۔”

مولا کو ایک دم خیال آیا کہ وہ اپنی لٹھ کو دالان میں اور گنڈاسے کو بستر تلے رکھ کر بھول آیا ہے۔ اس کے ہاتھوں میں چل سی ہونے لگی۔ اس نے گلی میں ایک کنکر اٹھایا اور اسے انگلیوں میں مسلنے لگا۔

راجو جانے کے لئے مڑی تو مولا ایک دم بولا۔ “دیکھو راجو میرے ہاتھوں پر خون ہے ہی اور ان پر ابھی جانے کتنا اور خون چڑھے گا، پر تمہیں گھی بیچنا ہے اور مجھے خریدنا ہے، میرے ہاتھ نہ بیچو، میری ماں کے ہاتھ بیچ دو۔”

راجو کچھ سوچ کر بولی”چلوآؤ”

مولا آگے آگے چلنے لگا۔ جاتے جاتے جانے اسے وہم سا گزرا کہ راجو اس کی پیٹھ اور پٹوں کو گھورے جا رہی ہے۔ ایک دم اس نے مڑ کر دیکھا راجو گلی میں چگتے ہوئے مرغی کے چوزوں کو بڑے غور سے دیکھتی ہوئی آ رہی تھی۔ وہ فوراً بولا”یہ چوزے میرے ہیں۔”

“ہوں گے۔” راجو بولی۔

مولا اب آنگن میں داخل ہو چکا تھا، بولا “ماں یہ سب گھی خرید لو، میرے مہمان آنے والے ہیں تھوڑے دنوں میں۔”

راجو نے برتن اتار کر اس کے دہانے پر سے کپڑا کھولا تاکہ بڑھیا گھی سونگھ لے، مگر وہ اندر چلی گئی تھی ترازو لینے اور مولا نے دیکھا کہ راجو کی کنپٹیوں پر سنہرے روئیں ہیں اور اس کی پلکیں یوں کمانوں کی طرح مڑی ہوئی ہیں جیسے اٹھیں گی تو اس کی بھنووں کو مس کر لیں گی اور ان پلکوں پر گرد کے ذرے ہیں اور اس کے ناک پر پسینے کے ننھے ننھے سوئی کے ناکے سے قطرے چمک رہے ہیں اور نتھنوں میں کچھ ایسی کیفیت ہے جیسے گھی کے بجائے گلاب کے پھول سونگھ رہی ہو۔ اس کے اوپر ہونٹ کی نازک محراب پر بھی پسینہ ہے اور ٹھوڑی اور نچلے ہونٹ کے درمیان ایک تل ہے جو کچھ یوں اچٹا ہوا لگ رہا ہے جیسے پھونک مارنے سے اڑ جائے گا۔ کانوں میں چاندی کے بندے انگور کے خوشوں کی طرح لس لس کرتے ہوئے لرز رہے ہیں اور ان بندوں میں اس کے بالوں کی ایک لٹ بے طرح الجھی ہوئی ہے۔ مولے گنڈاسے والے کا جی چاہا کہ وہ بڑی نرمی سے اس لٹ کو چھڑا کر راجو کے کانوں کے پیچھے جما دے یا چھڑا کر یونہی چھوڑ دے یا اسے اپنی ہتھیلی پر پھیلا کر ایک ایک بال کو گننے لگے یا

ماں ترازو لے کر آئی تو راجو بولی۔ “پہلے دیکھ لے ماسی، رگڑ کے سونگھ لے۔ آج صبح ہی کو تازہ تازہ مکھن گرم کیا تھا۔ پر سونگھ لے پہلے!”

“نہ بیٹی میں تو نہ سونگھوں گی۔” ماں نے کہا “میرا تو روزہ مکروہ ہوتا ہے!۔”

“لو” مولا نے لٹھ کی ایک طرف گرا دیا۔ پانچوں آہستہ آہستہ ا س کی طرف بڑھنے لگے۔ ہجوم جیسے دیوار سے چمٹ رہ گیا۔ بچے بہت پیچھے ہٹ کر کمہاروں کے آوے پر چڑھ گئے تھے۔

“کیا بات ہے؟” مولا نے گلے سے پوچھا۔

گلا جواب اس کے پاس پہنچ گیا تھا بولا۔

“تم نے چوھدری مظفر کا مال روکا تھا!”

“ہاں” مولا نے بڑے اطمینان سے کہا۔”پھر؟”

گلے نے کنکھیوں سے اپنے ساتھیوں کو دیکھا اور گلا صاف کرتے ہوئے بولا۔ چوھدری نے تمہیں اس کا انعام بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ہم یہ انعام ان سارے گاؤں والوں کے سامنے تمہارے حوالے کر دیں۔” “انعام!” مولا چونکا۔ “آخر بات کیا ہے؟”

گلے نے تڑاخ سے ایک چانٹا مولا کے منہ پر مارا اور پھر بجلی کی سی تیزی سے پیچھے ہٹتے ہوئے بولا۔ “یہ بات ہے۔”

تڑپ کر مولا نے لٹھ اٹھائی، ڈوبتے ہوئے سورج کی روشنی میں گنڈاسا شعلے کی طرح چمکا، پانچوں نووارد غیر انسانی تیزی سے واپس بھاگے، مگر گلا لاری کے پرلی طرف کنکروں پر پھسل کر گر گیا۔ لپکتا ہوا مولا رک گیا، اٹھا ہوا گنڈاسا جھکا اور جس زاویے پر جھکا تھا وہیں جھکا رہ گیادم بخود ہجوم دیوار سے اچٹ اچٹ کر آگے آ رہا تھا۔ بچے آوے کی راکھ اڑاتے ہوئے اتر آئے، نورا دکان میں سے باہر آگیا۔

گلے نے اپنی انگلیوں اور پنجوں کو زمین میں یوں گاڑ رکھا تھا۔ جیسے دھرتی کے سینہ میں اتر جانا چاہتا ہے اور پھر مولا، جو معلوم ہوتا تھا کچھ دیر کے لئے سکتے میں آگیا ہے، ایک قدم آگے بڑھا، لٹھ کو دور دکان کے سامنے اپنے کھٹولے کی طرف پھینک دیا اور گلے کو بازو سے پکڑ کر بڑی نرمی سے اٹھاتے ہوئے بولاچوھدری کو میرا سلام دینا اور کہنا کہ انعام مل گیا ہے، رسید میں خود پہنچانے آؤ ں گا۔”

اس نے ہولے ہولے گلے کے کپڑے جھاڑے، اس کے ٹوٹے ہوئے طرے کو سیدھا کیا اور بولا۔ “رسید تم ہی کو دے دیتا پر تمہیں تو دولہا بننا ہے ابھی اس لئے جاؤ، اپنا کام کرو”

گلا سر جھکائے ہولے ہولے چلتا گلی میں مڑ گیامولا آہستہ آہستہ کھاٹ کی طرف بڑھا، جیسے جیسے وہ آگے بڑھ رہا تھا ویسے ویسے لوگوں کے قدم پیچھے ہٹ رہے تھے اور جب اس نے کھاٹ پر بیٹھنا چاہا تو کمہاروں کے آوے کی طرف سے اس کی ماں چیختی چلاتی بھاگتی ہوئی آئی اور مولا کے پاس آ کر نہایت وحشت سے بولنے لگی۔”تجھے گلے نے تھپڑ مارا اور تو پی گیا چپکے سے! ارے تو تو میرا حلالی بیٹا تھا۔ تیرا گنڈاسا کیوں نہ اٹھا؟ تو نے” وہ اپنا سر پیٹتے ہوئے اچانک رک گئی اور بہت نرم آواز میں جیسے بہت دور سے بولی۔ “تو تو رو رہا ہے مولے؟”

مولے گنڈاسے والے نے چارپائی پر بیٹھتے ہوئے اپنا ایک بازو آنکھوں پر رگڑا اور لرزتے ہوئے ہونٹوں سے بالکل معصوم بچوں کی طرح ہولے بولا “تو کیا اب روؤں بھی نہیں!۔”

GADARIYA BY ASHFAQ AHMAD

Articles

گڈریا

اشفاق احمد

گڈریا

اشفاق احمد

یہ سردیوں کی ایک یخ بستہ اور طویل رات کی بات ہے۔ میں اپنے گرم گرم بستر میں سر ڈھانپے گہری نیند سو رہا تھا کہ کسی نے زور سے جھنجھوڑ کر مجھے جگا دیا۔

“کون ہے۔”میں نے چیخ کر پوچھا اور اس کے جواب میں ایک بڑا سا ہاتھ میرے سر سے ٹکرایا اور گھپ اندھیرے سے آواز آئی “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔”

“کیا؟” میں لرزتے ہوئے ہاتھ کو پرے دھکیلنا چاہا۔ “کیا ہے؟”

اور تاریکی کا بھوت بولا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیااس کا فارسی میں ترجمہ کرو۔”

“داؤ جی کے بچے” میں نے اونگھتے ہوئے کہا “آدھی آدھی رات کو تنگ کرتے ہودفع ہو جاؤ میں نہیں میں نہیں آپ کے گھر رہتا۔ میں نہیں پڑھتا داؤ جی کے بچےکتے!” اور میں رونے لگا۔

داؤ جی نے چمکار کر کہا “اگر پڑھے گا نہیں تو پاس کیسے ہو گا! پاس نہیں ہو گا تو بڑا آدمی نہ بن سکے گا، پھر لوگ تیرے داؤ کو کیسے جانیں گے؟”

“اللہ کرے سب مر جائیں۔ آپ بھی آپ کو جاننے والے بھیاور میں بھی میں بھی”

اپنی جواں مرگی پر ایسا رویا کہ دو ہی لمحوں میں گھگھی بندھ گئی۔

داؤ جی بڑے پیار سے میرے سر پر ہاتھ پھیرتے جاتے تھے اور کہہ رہے تھے “بس اب چپ کر شاباشمیرا اچھا بیٹا۔ اس وقت یہ ترجمہ کر دے، پھر نہیں جگاؤں گا۔”

آنسوؤں کا تار ٹوٹتا جا رہا تھا۔ میں نے جل کر کہا “آج حرامزادے رانو کو پکڑ کر لے گئے کل کسی اور کو پکڑ لیں گے۔ آپ کا ترجمہ تو”

“نہیں نہیں” انہوں نے بات کاٹ کر کہا “میرا تیرا وعدہ رہا آج کے بعد رات کو جگا کر کچھ نہ پوچھوں گاشاباش اب بتا “تھانے والوں نے رانو کو گرفتار کر لیا۔” میں نے روٹھ کر کہا “مجھے نہیں آتا۔”

“فوراً نہیں کہہ دیتا ہے” انہوں نے سر سے ہاتھ اٹھا کر کہا “کوشش تو کرو۔” “نہیں کرتا!” میں نے جل کر جواب دیا۔

اس پر وہ ذرا ہنسے اور بولے “کارکنانِ گزمہ خانہ رانو را توقیف کردندکارکنانِ گزمہ خانہ، تھانے والے۔ بھولنا نہیں نیا لفظ ہے۔ نئی ترکیب ہے، دس مرتبہ کہو۔”

مجھے پتہ تھا کہ یہ بلا ٹلنے والی نہیں، نا چار گزمہ خانہ والوں کا پہاڑہ شروع کر دیا، جب دس مرتبہ کہہ چکا تو داؤ جی نے بڑی لجاجت سے کہا اب سارا فقرہ پانچ بار کہو۔ جب پنجگانہ مصیبت بھی ختم ہوئی تو انہوں نے مجھے آرام سے بسترمیں لٹاتے ہوئے اور رضائی اوڑھاتے ہوئے کہا۔ “بھولنا نہیں! صبح اٹھتے ہی پوچھوں گا۔” پھر وہ جدھر سے آئے تھے ادھر لوٹ گئے۔

شام کو جب میں ملا جی سے سیپارے کا سبق لے کر لوٹتا تو خراسیوں والی گلی سے ہو کر اپنے گھر جایا کرتا۔ اس گلی میں طرح طرح کے لوگ بستے تھے۔ مگر میں صرف موٹے ماشکی سے واقف تھا جس کو ہم سب “کدو کریلا ڈھائی آنے” کہتے تھے۔

ماشکی کے گھر کے ساتھ بکریوں کا ایک باڑہ تھا جس کے تین طرف کچے پکے مکانوں کی دیواریں اور سامنے آڑی ترچھی لکڑیوں اور خار دار جھاڑیوں کا اونچا اونچا جنگلا تھا۔ اس کے بعد ایک چوکور میدان آتا تھا، پھر لنگڑے کمہار کی کوٹھڑی اور اس کے ساتھ گیرو رنگی کھڑکیوں اور پیتل کی کیلوں والے دروازوں کا ایک چھوٹا سا پکا مکان۔ اس کے بعد گلی میں ذرا سا خم پیدا ہوتا اور قدرے تنگ ہو جاتی پھر جوں جوں اس کی لمبائی بڑھتی توں توں اس کے دونوں بازو بھی ایک دوسرے کے قریب آتے جاتے۔ شاید وہ ہمارے قصبے کی سب سے لمبی گلی تھی اور حد سے زیادہ سنسان! اس میں اکیلے چلتے ہوئے مجھے ہمیشہ یوں لگتا تھا جیسے میں بندوق کی نالی میں چلا جا رہا ہوں اور جونہی میں اس کے دہانے سے باہر نکلوں گا زور سے “ٹھائیں” ہو گا اور میں مر جاؤں گا۔ مگر شام کے وقت کوئی نہ کوئی راہگیر اس گلی میں ضرور مل جاتا اور میری جان بچ جاتی۔ ان آنے جانے والوں میں کبھی کبھار ایک سفید سی مونچھوں والا لمبا سا آدمی ہوتا جس کی شکل بارہ ماہ والے ملکھی سے بہت ملتی تھی۔ سر پر ململ کی بڑی سی پگڑی۔ ذرا سی خمیدہ کمر پر خاکی رنگ کا ڈھیلا اور لمبا کوٹ۔ کھدر کا تنگ پائجامہ اور پاؤں میں فلیٹ بوٹ۔ اکثر اس کے ساتھ میری ہی عمر کا ایک لڑکا بھی ہوتا جس نے عین اسی طرح کے کپڑے پہنے ہوتے اور وہ آدمی سر جھکائے اور اپنے کوٹ کی جیبوں کی ہاتھ ڈالے آہستہ آہستہ اس سے باتیں کیا کرتا۔ جب وہ میرے برابر آتے تو لڑکا میری طرف دیکھتا تھا اور میں اس کی طرف اور پھر ایک ثانیہ ٹھٹھکے بغیر گردنوں کو ذرا ذرا موڑتے ہم اپنی اپنی راہ پر چلتے جاتے۔

ایک دن میں اور میرا بھائی ٹھٹھیاں کے جوہڑ سے مچھلیاں پکڑنے کی ناکام کوشش کے بعد قصبہ کو واپس آ رہے تھے تو نہر کے پل پر یہی آدمی اپنی پگڑی گود میں ڈالے بیٹھا تھا اور اس کی سفید چٹیا میری مرغی کے پر کی طرح اس کے سر سے چپکی ہوئی تھی۔ اس کے قریب سے گزرتے ہوئے میرے بھائی نے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے سلام کیا۔”داؤ جی سلام” اور داؤ جی نے سر ہلا کر جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

یہ جان کر کہ میرا بھائی اس سے واقف ہے میں بے حد خوش ہوا اور تھوڑی دیر بعد اپنی منمنی آواز میں چلایا۔ “داؤ جی سلام۔”

“جیتے رہو۔ جیتے رہو!!” انہوں نے دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا اور میرے بھائی نے پٹاخ سے میرے زناٹے کا ایک تھپڑ دیا۔

“شیخی خورے، کتے” وہ چیخا۔ جب میں نے سلام کر دیا تو تیری کیا ضرورت رہ گئی تھی؟ ہر بات میں اپنی ٹانگ پھنساتا ہے کمینہ”بھلا کون ہے وہ؟”

“داؤ جی” میں نے بسور کر کہا۔

“کون داؤ جی” میرے بھائی نے تنک کر پوچھا۔

“وہ جو بیٹھے ہیں” میں نے آنسو پی کر کہا۔

“بکواس نہ کر” میرا بھائی چڑ گیا اور آنکھیں نکال کر بولا۔ ہر بات میں میری نقل کرتا ہے کتاشیخی خورا۔”

میں نہیں بولا اور اپنی خاموشی کے ساتھ راہ چلتا رہا۔ دراصل مجھے اس بات کی خوشی تھی کہ داؤ جی سے تعارف ہو گیا۔ اس کا رنج نہ تھا کہ بھائی نے میرے تھپڑ کیوں مارا۔ وہ تو اس کی عادت تھی۔ بڑا تھا نا اس لئے ہر بات میں اپنی شیخی بگھارتا تھا۔

داؤ جی سے علیک سلیک تو ہو ہی گئی تھی اس لئے میں کوشش کر کے گلی میں سے اس وقت گزرنے لگا جب وہ آ جا رہے ہوں۔ انہیں سلام کر کے بڑا مزا آتا تھا اور جواب پا کر اس سے بھی زیادہ اس سے بھی زیادہ۔ جیتے رہو کچھ ایسی محبت سے کہتے کہ زندگی دو چند ہو سی جاتی اور آدمی زمین سے ذرا اوپر اٹھ کر ہوا میں چلنے لگتاسلام کا یہ سلسلہ کوئی سال بھر یونہی چلتا رہا اور اس اثناء میں مجھے اس قدر معلوم ہو سکا کہ داؤ جی گیرو رنگی کھڑکیوں والے مکان میں رہتے ہیں اور چھوٹا سا لڑکا ان کا بیٹا ہے۔ میں نے اپنے بھائی سے ان کے متعلق کچھ اور بھی پوچھنا چاہا مگر وہ بڑا سخت آدمی تھا اورمیری چھوٹی بات پر چڑ جاتا تھا۔ میرے ہر سوال کے جواب میں ا س کے پاس گھڑے گھڑائے دو فقرے ہوتے تھے۔ “تجھے کیا” اور “بکواس نہ کر” مگر خدا کا شکر ہے میرے تجسس کا یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہ چلا۔ اسلامیہ پرا ئمری سکول سے چوتھی پاس کر کے میں ایم۔ بی ہائی سکول کی پانچویں جماعت میں داخل ہوا تو وہی داؤ جی کا لڑکا میرا ہم جماعت نکلا۔ اس کی مدد سے اور اپنے بھائی کا احسان اٹھائے بغیر میں یہ جان گیا کہ داؤ جی کھتری تھے اور قصبہ کی منصفی میں عرضی نویسی کا کام کرتے تھے۔ لڑکے کا نام امی چند تھا اور وہ جماعت میں سب سے زیادہ ہشیار تھا۔ اس کی پگڑی کلاس بھر میں سب سے بڑی تھی اور چہرہ بلی کی طرح چھوٹا۔ چند لڑکے اسے میاؤں کہتے تھے اور باقی نیولا کہہ کر پکارتے تھے مگر میں داؤ جی کی وجہ سے اس کے اصلی نام ہی سے پکارتا تھا۔ اس لئے وہ میرا دوست بن گیا اور ہم نے ایک دوسرے کو نشانیاں دے کر پکے یار بننے کا وعدہ کر لیا تھا۔


گرمیوں کی چھٹیاں شروع ہونے میں کوئی ایک ہفتہ ہو گا جب میں امی چند کے ساتھ پہلی مرتبہ اس کے گھر گیا۔ وہ گرمیوں کی ایک جھلسا دینے والی دوپہر تھی لیکن شیخ چلی کی کہانیاں حاصل کرنے کا شوق مجھ پر بھوت بن کر سوار تھا اور میں بھوک اور دھوپ دونوں سے بے پرواہ ہو کر سکول سے سیدھا اس کے ساتھ چل دیا۔

امی چند کا گھر چھوٹا سا تھا لیکن بہت ہی صاف ستھرا اور روشن۔ پیتل کی کیلوں والے دروازے کے بعد ذرا سی ڈیوڑھی تھی۔ آگے مستطیل صحن، سامنے سرخ رنگ کا برآمدہ اور اس کے پیچھے اتنا ہی بڑا کمرہ۔ صحن میں ایک طرف انار کا پیڑ۔ عقیق کے چند پودے اور دھنیا کی ایک چھوٹی سی کیار ی تھی۔ دوسری طرف چوڑی سیڑھیوں کا ایک زینہ جس کی محراب تلے مختصر سی رسوئی تھی۔ گیرو رنگی کھڑکیاں ڈیوڑھی سے ملحقہ بیٹھک میں کھلتی تھیں اور بیٹھک کا دروازہ نیلے رنگ کا تھا۔ جب ہم ڈیوڑھی میں داخل ہوئے تو امی چند نے چلا کر “بے بے نمستے!” کہا اور مجھے صحن کے بیچوں بیچ چھوڑ کر بیٹھک میں گھس گیا۔ برآمدے میں بوریا بچھائے بے بے مشین چلا رہی تھی اور اس کے پاس ہی ایک لڑکی بڑی سی قینچی سے کپڑے قطع کر رہی تھی۔ بے بے نے منہ ہی منہ میں کچھ جواب دیا اور ویسے ہی مشین چلا تی رہی۔ لڑکی نے نگاہیں اٹھا کر میری طرف دیکھا اور گردن موڑ کر کہا۔ “بے بے شاید ڈاکٹر صاحب کا لڑکا ہے۔”

مشین رک گئی۔

“ہاں ہاں” بے بے نے مسکرا کر کہا اور ہاتھ کے اشارے سے مجھے اپنی طرف بلایا۔ میں اپنے جز دان کی رسی مروڑتا اور ٹیڑھے ٹیڑھے پاؤں دھرتا برآمدے کے ستون کے ساتھ آ لگا۔

“کیا نام ہے تمہارا” بے بے نے چمکار کر پوچھا اور میں نے نگاہیں جھکا کر آہستہ سے اپنا نام بتا دیا۔ “آفتاب سے بہت شکل ملتی ہے۔” اس لڑکی نے قینچی زمین پر رکھ کر کہا۔ “ہے نا بے بے ؟”

“کیوں نہیں بھائی جو ہوا۔”

“آفتاب کیا؟” اندر سے آواز آئی، آفتاب کیا بیٹا؟”

“آفتاب کا بھائی ہے داؤ جی” لڑکی نے رکتے ہوئے کہا۔ “امی چند کے ساتھ آیا ہے۔”

اندر سے داؤ جی برآمد ہوئے۔ انہوں نے گھٹنوں تک اپنا پائجامہ چڑھا رکھا اور کرتہ اتارا ہوا تھا۔ مگر سر پر پگڑی بدستور تھی۔ پانی کی ہلکی سی بالٹی اٹھا وہ برآمدے میں آ گئے اور میری طرف غور سے دیکھتے ہوئے بولے۔ “ہاں بہت شکل ملتی ہے مگر میرا آفتاب بہت دبلا ہے اور یہ گولو مولو سا ہے۔” پھر بالٹی فرش پر رکھ کے انہوں نے میرے سر ہاتھ پھیرا اور پاس کا ٹھ کا ایک اسٹول کھینچ کر اس پر بیٹھ گئے۔ زمین سے پاؤں اٹھا کر انہوں نے آہستہ سے انہیں جھاڑا اور پھر بالٹی میں ڈال دئے۔ “آفتاب کا خط آتا ہے؟” انہوں نے بالٹی سے پانی کے چلو بھر بھر کر ٹانگوں پر ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “آتا ہے جی” میں نے ہولے سے کہا۔ “پرسوں آیا تھا۔”

“کیا لکھتا ہے؟”۔

“پتا نہیں جی، ابا جی کو پتہ ہے۔”

“اچھا” انہوں نے سر ہلا کر کہا۔ “تو ابا جی سے پوچھا کرنا! جو پوچھتا نہیں اسے کسی بھی بات کا علم نہیں ہوتا۔”

میں چپ رہا۔

تھوڑی دیر انہوں نے ویسے ہی چلو ڈالتے ہوئے پوچھا۔ “کونسا سیپارہ پڑھ رہے ہو؟”

“چوتھا” میں نے وثوق سے جواب دیا۔

“کیا نام ہے تیسرے سیپارے کا؟” انہوں نے پوچھا۔

“جی نہیں پتہ۔ “میری آواز پھر ڈوب گئی۔

“تلک الرسل” انہوں نے پانی سے ہاتھ باہر نکال کر کہا۔ پھر تھوڑی دیر بعد وہ ہاتھ جھٹکتے اور ہوا میں لہراتے رہے۔ بے بے مشین چلاتی رہی۔ وہ لڑکی نعمت خانے سے روٹی نکال کر برآمدے کی چوکی پر لگانے لگی اور میں جزدان کی ڈوری کو کھولتا لپیٹتا رہا۔ امی چند ابھی تک بیٹھک کے اندر ہی تھا اور میں ستون کے ساتھ ساتھ جھینپ کی عمیق گہرائیوں میں اترتا جا رہا تھا، معاً داؤ جی نے نگاہیں میری طرف پھیر کر کہا

“سورة فاتحہ سناؤ۔”

“مجھے نہیں آتی جی” میں نے شرمندہ ہو کر کہا۔

انہوں نے حیرانی سے میری طرف دیکھا اور پوچھا “الحمدللہ بھی نہیں جانتے؟”

“الحمدللہ تو میں جانتا ہوں جی” میں نے جلدی سے کہا۔

وہ ذرا مسکرائے اور گویا اپنے آپ سے کہنے لگے۔ “ایک ہی بات ہے! ایک ہی بات ہے!!” پھر انہوں نے سر کے اشارے سے کہا سناؤ۔ جب میں سنانے لگا تو انہوں نے اپنا پائجامہ گھٹنوں سے نیچے کر لیا اور پگڑی کا شملہ چوڑا کر کے کندھوں پر ڈال دیا اور جب میں نے وَلَا الضَّالِّیْنَ کہا تو میر ے ساتھ ہی انہوں نے بھی آمین کہا۔ مجھے خیال ہوا کہ وہ ابھی اٹھ کر مجھے کچھ انعام دیں گے کیونکہ پہلی مرتبہ جب میں نے اپنے تایا جی کو الحمدللہ سنائی تھی تو انہوں نے بھی ایسے ہی آمین کہا تھا اور ساتھ ہی ایک روپیہ مجھے انعام بھی دیا تھا۔ مگر داؤ جی اسی طرح بیٹھے رہے بلکہ اور بھی پتھر ہو گئے۔ اتنے میں امی چند کتاب تلاش کر کے لے آیا اور جب میں چلنے لگا تو میں نے عادت کے خلاف آہستہ سے کہا “داؤ جی سلام” اور انہوں نے ویسے ہی ڈوبے ڈوبے ہولے سے جواب دیا۔ “جیتے رہو۔”

بے بے نے مشین روک کر کہا “کبھی کبھی امی چند کے ساتھ کھیلنے آ جایا کرو۔”

“ہاں ہاں آ جایا کر” داؤ جی چونک کر بولے۔ “آفتاب بھی آیا کرتا تھا” پھر انہوں نے بالٹی پر جھکتے ہوئے کہا “ہمارا آفتاب تو ہم سے بہت دور ہو گیا اور فارسی کا شعر سا پڑھنے لگے۔

یہ داؤ جی سے میری پہلی باقاعدہ ملاقات تھی اور اس ملاقات سے میں یہ نتائج اخذ کر کے چلا کہ داؤ جی بڑے کنجوس ہیں۔ حد سے زیادہ چپ ہیں اور کچھ بہرے سے ہیں۔ اسی دن شام کو میں نے اپنی اماں کو بتایا کہ میں داؤ جی کے گھر گیا تھا اور وہ آفتاب بھائی کو یاد کر رہے تھے۔

اماں نے قدرے تلخی سے کہا “تو مجھ سے پوچھ تو لیتا۔ بے شک آفتاب ان سے پڑھتا رہا ہے اور ان کی بہت عزت کرتا ہے مگر تیرے اباجی ان سے بولتے نہیں ہیں۔ کسی بات پر جھگڑا ہو گیا تھا سو اب تک ناراضگی چلی آتی ہے۔ اگر انہیں پتہ چل گیا کہ تو ان کے ہاں گیا تھا تو وہ خفا ہوں گے، پھر اماں نے ہمدرد بن کر کہا “اپنے ابا سے اس کا ذکر نہ کرنا۔”

میں ابا جی سے بھلا اس کا ذکر کیوں کرتا، مگر سچی بات تو یہ ہے کہ میں داؤ جی کے ہاں جاتا رہا اور خوب خوب ان سے معتبری کی باتیں کرتا رہا۔


وہ چٹائی بچھائے کوئی کتا ب پڑھ رہے ہوتے۔ میں آہستہ سے ان کے پیچھے جا کر کھڑا ہو جاتا اور وہ کتاب بند کر کے کہتے “گول آ گیا” پھر میری طرف مڑتے اور ہنس کر کہتے “کوئی گپ سنا” اور میں اپنی بساط کے اور سمجھ کے مطابق ڈھونڈ ڈھانڈ کے کوئی بات سناتا تو وہ خوب ہنستے۔ بس یونہی میرے لئے ہنستے حالانکہ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ وہ ایسی دلچسپ باتیں بھی نہ ہوتی تھیں، پھر وہ اپنے رجسٹر سے کوئی کاغذ نکال کر کہتے لے ایک سوال نکال۔ اس سے میری جان جاتی تھی لیکن ان کا وعدہ بڑا رسیلا ہوتا تھا کہ ایک سوال اور پندرہ منٹ باتیں۔ اس کے بعد ایک اور سوال اور پھر پندرہ منٹ گپیں۔ چنانچہ میں مان جاتا اور کاغذ لے کر بیٹھ جاتا لیکن ان کے خود ساختہ سوال کچھ ایسے الجھے ہوتے کہ اگلی باتوں اور اگلے سوالوں کا وقت بھی نکل جاتا۔ اگر خوش قسمی سے سوال جلد حل ہو جاتا تو وہ چٹائی کو ہاتھ لگا کر پوچھتے یہ کیا ہے؟ “چٹائی” میں منہ پھاڑ کر جواب دیتا “اوں ہوں” وہ سر ہلا کر کہتے “فارسی میں بتاؤ” تو میں تنک کر جواب دیتا “لو جی ہمیں کوئی فارسی پڑھائی جاتی ہے” اس پر وہ چمکار کر کہتے “میں جو پڑھاتا ہوں گولومیں جو سکھاتا ہوںسنو! فارسی میں بوریا، عربی میں حصیر” میں شرارت سے ہاتھ جوڑ کر کہتا “بخشو جی بخشو، فارسی بھی اور عربی بھی میں نہیں پڑھتا مجھے معاف کرو” مگر وہ سنی ان سنی ایک کر کے کہے جاتے فارسی بوریا، عربی حصیر۔ اور پھر کوئی چاہے اپنے کانوں میں سیسہ بھر لیتا۔ داؤ جی کے الفاظ گھستے چلے جاتے تھےامی چند کتابوں کا کیڑا تھا۔ سارا دن بیٹھک میں بیٹھا لکھتا پڑھتا رہتا۔ داؤ جی اس کے اوقات میں مخل نہ ہوتے تھے، لیکن ان کے داؤ امی چند پر بھی برابر ہوتے تھے، وہ اپنی نشست سے اٹھ کر گھڑے سے پانی پینے آیا، داؤ جی نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر پوچھا۔ “بیٹا؟؟؟؟ کیا ہے۔ اس نے گلاس کے ساتھ منہ لگائے لگائے “ڈیڈ” کہا اور پھر گلاس گھڑونچی تلے پھینک کر اپنے کمرے میں آگیا۔ داؤ جی پھر پڑھنے میں مصروف ہو گئے۔ گھر میں ان کو اپنی بیٹی سے بڑا پیار تھا۔ ہم سب اسے بی بی کہہ کر پکارتے تھے۔ اکیلے داؤ جی نے اس کا نام قرة رکھا ہوا تھا۔ اکثر بیٹھے بیٹھے ہانک لگا کر کہتے “قرة بیٹی یہ قینچی تجھ سے کب چھوٹے گی؟” اور وہ اس کے جواب میں مسکرا کر خاموش ہو جاتی۔ بے بے کو اس نام سے بڑی چڑ تھی۔ وہ چیخ کر جواب دیتی۔ “تم نے اس کا نام قرۃ رکھ کر اس کے بھاگ میں کرتے سینے لکھوا دئے ہیں۔ منہ اچھا نہ ہو تو شبد تو اچھے نکالنے چاہئیں” اور داؤ جی ایک لمبی سانس لے کر کہتے “جاہل اس کا مطلب کیا جانیں” اس پر بے بے کا غصہ چمک اٹھتا اور اس کے منہ میں جو کچھ آتا کہتی چلی جاتی۔ پہلے کوسنے، پھر بد دعائیں اور آخر میں گالیوں پر اتر آتی۔ بی بی رکتی تو داؤ جی کہتے “ہوائیں چلنے کو ہوتی ہیں بیٹا اور گالیاں برسنے کو، تم انہیں روکو مت، انہیں ٹوکو مت۔ پھر وہ اپنی کتابیں سمیٹتے اور اپنا محبوب حصیر اٹھا کر چپکے سے سیڑھیوں پر چڑھ جاتے۔

نویں جماعت کے شروع میں مجھے ایک بری عادت پڑ گئی اور اس بری عادت نے عجیب گل کھلائے۔ حکیم علی احمد مرحوم ہمارے قصبے کے ایک ہی حکیم تھے۔ علاج معالجہ سے ان کو کچھ ایسی دلچسپی نہ تھی لیکن باتیں بڑی مزیدار سناتے تھے۔ اولیاؤں کے تذکرے، جنوں بھوتوں کی کہانیاں اور حضرت سلیمانؑ اور ملکہ سبا کی گھریلو زندگی کی داستانیں ان کے تیر بہدف ٹوٹکے تھے۔ ان کے تنگ و تاریک مطب میں معجون کے چند ڈبوں، شربت کی دس پندرہ بوتلوں اور دو آتشی شیشیوں کے سوا اور کچھ نہ تھا۔ دواؤں کے علاوہ وہ اپنی طلسماتی تقریر اور حضرت سلیمانؑ کے خاص صدری تعویذوں سے مریض کا علاج کیا کرتے تھے۔ انہی باتوں کے لئے دور دراز گاؤں کے مریض ان کے پاس کھنچے چلے آتے اور فیض یاب ہو کر جاتے۔ ہفتہ دو ہفتہ کی صحبت میں میرا ان کے ساتھ ایک معاہدہ ہو گیا، میں اپنے ہسپتال سے ان کے لئے خالی بوتلیں اور شیشیاں چرا کے لاتا اور اس کے بدلے وہ مجھے داستانِ امیر حمزہ کی جلدیں پڑھنے کے لئے دیا کرتے۔

یہ کتابیں کچھ ایسی دلچسپ تھیں کہ میں رات رات بھر اپنے بستر میں دبک کر انہیں پڑھا کرتا اور صبح دیر تک سویا رہتا، اماں میرے اس رویے سے سخت نالاں تھیں، ابا جی کو میری صحت برباد ہونے کا خطرہ لاحق تھا لیکن میں نے ان کو بتا دیا تھا کہ چاہے جان چلی جائے اب کے دسویں میں وظیفہ ضرور حاصل کروں گا۔ رات طلسم ہوشربا کے ایوانوں میں بسر ہوتی اور دن بینچ پر کھڑے ہو کر، سہ ماہی امتحان میں فیل ہوتے ہوتے بچا۔ ششماہی میں بیمار پڑ گیا اور سالانہ امتحان کے موقع پر حکیم جی کی مدد سے ماسٹروں سے مل ملا کر پاس ہو گیا۔

دسویں میں صندلی نامہ، فسانۂ آزاد اور الف لیلیٰ ساتھ ساتھ چلتے تھے، فسانۂ آزاد اور صندلی نامہ گھر پر رکھے تھے، لیکن الف لیلیٰ سکول کے ڈیسک میں بند رہتی۔ آخری بینچ پر جغرافیہ کی کتاب تلے سند باد جہازی کے ساتھ ساتھ چلتا اور اس طرح دنیا کی سیر کرتابائیس مئی کا واقعہ ہے کہ صبح دس بجے یونیورسٹی سے نتیجہ کی کتاب ایم۔ بی ہائی سکول پہنچی۔ امی چند نہ صرف سکول میں بلکہ ضلع بھر میں اول آیا تھا۔ چھ لڑکے فیل تھے اور بائیس پاس۔ حکیم جی کا جادو یونیورسٹی پر نہ چل سکا اور پنجاب کی جابر دانش گاہ نے میرا نام بھی ان چھ لڑکوں میں شامل کر دیا۔ اسی شام قبلہ گاہی نے بید سے میری پٹائی کی اور گھر سے باہر نکال دیا۔ میں ہسپتال کے رہٹ کی گدی پر آ بیٹھا اور رات گئے تک سوچتا رہا کہ اب کیا کرنا چاہئے اور اب کدھر جانا چاہئے۔ خدا کا ملک تنگ نہیں تھا اور میں عمرو عیار کے ہتھکنڈوں اور سند باد جہازی کے تمام طریقوں سے واقف تھا مگر پھر بھی کوئی راہ سجھائی نہ دیتی تھی۔ کوئی دو تین گھنٹے اسی طرح ساکت و جامد اس گدی پر بیٹھا زیست کرنے کی راہیں سوچتا رہا۔ اتنے میں اماں سفید چادر اوڑھے مجھے ڈھونڈتی ڈھونڈتی ادھر آ گئیں اور اباجی سے معافی لے دینے کا وعدہ کر کے مجھے پھر گھر لے گئیں۔ مجھے معافی وافی سے کوئی دلچسپی نہ تھی، مجھے تو بس ایک رات ا ور ان کے یہاں گزارنی تھی اور صبح سویرے اپنے سفر پر روانہ ہونا تھا، چنانچہ میں آرام سے ان کے ساتھ جا کر حسب معمول اپنے بستر پر دراز ہو گیا۔

اگلے دن میرے فیل ہونے والے ساتھیوں میں سے خوشیا کوڈو اور دیسو یب یب مسجد کے پچھواڑے ٹال کے پاس بیٹھے مل گئے۔ وہ لاہور جا کر بزنس کرنے کا پرو گرام بنا رہے تھے۔ دیسو یب یب نے مجھے بتایا کہ لاہور میں بڑا بزنس ہے کیونکہ اس کے بھایا جی اکثر اپنے دوست فتح چند کے ٹھیکوں کا ذکر کیا کرتے تھے جس نے سال کے اندر اندر دو کاریں خرید لی تھیں۔ میں نے ان سے بزنس کی نوعیت کے بارے میں پوچھا تو یب یب نے کہا لاہور میں ہر طرح کا بزنس مل جاتا ہے۔ بس ایک دفتر ہونا چاہئے اور اس کے سامنے بڑا سا سائن بورڈ۔ سائن بورڈ دیکھ کر لوگ خود ہی بزنس دے جاتے ہیں۔ اس وقت بزنس سے مراد وہ کرنسی نوٹ لے رہا تھا۔

میں نے ایک مرتبہ پھر وضاحت چاہی تو کوڈو چمک کر بولا “یار دیسو سب جانتا ہے۔ یہ بتا، تو تیار ہے یا نہیں؟”

پھر اس نے پلٹ کر دیسو سے پوچھا “انار کلی میں دفتر بنائیں گے نا؟”

دیسو نے ذرا سوچ کر کہا “انار کلی میں یا شاہ عالمی کے باہر دونوں ہی جگہیں ایک سی ہیں۔”

میں نے کہا انار کلی زیادہ مناسب ہے کیونکہ وہی زیادہ مشہور جگہ ہے اور اخباروں میں جتنے بھی اشتہار نکلتے ہیں ان میں انار کلی لاہور لکھا ہوتا ہے۔”

چنانچہ یہ طے پایا کہ اگلے دن دو بجے کی گاڑی سے ہم لاہور روانہ ہو جائیں!

گھر پہنچ کر میں سفر کی تیاری کرنے لگا۔ بوٹ پالش کر رہا تھا کہ نوکر نے آ کر شرارت سے مسکراتے ہوئے کہا “چلو جی ڈاکٹر صاحب بلاتے ہیں۔”

“کہاں ہیں؟” میں نے برش زمین پر رکھ دیا اور کھڑا ہو گیا۔

“ہسپتال میں ” وہ بدستور مسکرا رہا تھا کیونکہ میری پٹائی کے روز حاضرین میں وہ بھی شامل تھا۔ میں ڈرتے ڈرتے برآمدے کی سیڑھیاں چڑھا۔ پھر آہستہ سے جالی والا دروازہ کھول کر اباجی کے کمرے میں داخل ہوا تو وہا ں ان کے علاوہ داؤ جی بھی بیٹھے تھے۔ میں نے سہمے سہمے داؤ جی کو سلام کیا اور اس کے جواب میں بڑی دیر کے بعد جیتے رہو کی مانوس دعا سنی۔

“ان کو پہچانتے ہو؟” اباجی نے سختی سے پوچھا۔

“بے شک” میں نے ایک مہذب سیلزمین کی طرح کہا۔

“بے شک کے بچے، حرامزادے، میں تیری یہ سب۔”

“نہ نہ ڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے ہاتھ اوپر اٹھا کر کہا “یہ تو بہت ہی اچھا بچہ ہے اس کو تو”

اور ڈاکٹر صاحب نے بات کاٹ کر تلخی سے کہا “آپ نہیں جانتے منشی جی اس کمینے نے میری عزت خاک میں ملا دی۔”


“اب فکر نہ کریں ” داؤ جی نے سر جھکائے کہا۔ “یہ ہمارے آفتاب سے بھی ذہین ہے اور ایک دن”

اب کے ڈاکٹر صاحب کو غصہ آگیا اور انہوں نے میز پر ہاتھ مار کر کہا “کیسی بات کرتے ہو منشی جی! یہ آفتاب کے جوتے کی برابری نہیں کر سکتا۔”

“کرے گا، کرے گاڈاکٹر صاحب” داؤ جی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے کہا “آپ خاطر جمع رکھیں۔”

پھر وہ اپنی کرسی سے اٹھے اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولے “میں سیر کو چلتا ہوں، تم بھی میرے ساتھ آؤ، راستے میں باتیں کریں گے۔”

اباجی اسی طرح کرسی پر بیٹھے غصے کے عالم میں اپنا رجسٹر الٹ پلٹ کرتے اور بڑبڑاتے رہے۔ میں نے آہستہ آہستہ چل کر جالی والا دروازہ کھولا تو داؤ جی نے پیچھے مڑ کر کہا۔

“ڈاکٹر صاحب بھول نہ جائیے ابھی بھجوا دیجئے گا۔”

داؤ جی نے مجھے ادھر ادھر گھماتے اور مختلف درختوں کے نام فارسی میں بتاتے نہر کے اسی پل پر لے گئے جہاں پہلے پہل میرا ان سے تعارف ہوا تھا۔ اپنی مخصوص نشست پر بیٹھ کر انہوں نے پگڑی اتار کر گود میں ڈال لی سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے سامنے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ پھر انہوں نے آنکھیں بند کر لیں اور کہا “آج سے میں تمہیں پڑھاؤں گا اور اگر جماعت میں اول نہ لا سکا تو فرسٹ ڈویژن ضرور دلوا دوں گا۔ میرے ہر ارادے میں خداوند تعالیٰ کی مدد شامل ہوتی ہے اور اس ہستی نے مجھے اپنی رحمت سے کبھی مایوس نہیں کیا”

“مجھ سے پڑھائی نہ ہو گی” میں نے گستاخی سے بات کاٹی۔

“تو اور کیا ہو گا گولو؟” انہوں نے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے کہا “میں بزنس کروں گا، روپیہ کماؤں گا اور اپنی کار لے کر یہاں ضرور آؤں گا، پھر دیکھنا” اب کے داؤ جی نے میری بات کاٹی اور بڑی محبت سے کہا “خدا ایک چھوڑ تجھے دس کاریں دے لیکن ایک ان پڑھ کی کار میں نہ میں بیٹھوں گا نہ ڈاکٹر صاحب۔”

میں نے جل کر کہا “مجھے کسی کی پرواہ نہیں ڈاکٹر صاحب اپنے گھر راضی، میں اپنے یہاں خوش۔”

انہوں نے حیران ہو کر پوچھا “میری بھی پرواہ نہیں؟” میں کچھ کہنے ہی والا تھا کہ وہ دکھی سے ہو گئے اور بار بار پوچھنے لگے۔

“میری بھی پرواہ نہیں؟”

“او گولو میری بھی پرواہ نہیں؟”

مجھے ان کے لہجے پر ترس آنے لگا اور میں نے آہستہ سے کہا۔ آپ کی تو ہے مگر” مگر انہوں نے میری بات نہ سنی اور کہنے لگے اگر اپنے حضرت کے سامنے میرے منہ سے ایسی بات نکل جاتی؟ اگر میں یہ کفر کا کلمہ کہہ جاتا تو تو ” انہوں نے فورا پگڑی اٹھا کر سر پر رکھ لی اور ہاتھ جوڑ کہنے لگے۔ “میں حضور کے دربار کا ایک ادنیٰ کتا۔ میں حضرت مولانا کی خاک پا سے بد تر بندہ ہو کر آقا سے یہ کہتا۔ لعنت کا طوق نہ پہنتا؟ خاندانِ ابو جہل کا خانوادہ اور آقا کی ایک نظر کرم۔ حضرت کا ایک اشارہ۔ حضور نے چنتو کو منشی رام بنا دیا۔ لوگ کہتے ہیں منشی جی، میں کہتا ہوں رحمۃ اللہ علیہ کا کفش بردارلوگ سمجھتے ہیں” داؤ جی کبھی ہاتھ جوڑتے، کبھی سر جھکاتے کبھی انگلیاں چوم کر آنکھوں کو لگاتے اور بیچ بیچ میں فارسی کے اشعار پڑھتے جاتے۔ میں کچھ پریشان سا پشیمان سا، ان کا زانو چھو کر آہستہ آہستہ کہہ رہا تھا “داؤ جی! داؤ جی” اور داؤ جی “میرے آقا، میرے مولانا، میرے مرشد” کا وظیفہ کئے جاتے۔

جب جذب کا یہ عالم دور ہوا تو نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے “کیا اچھا موسم ہے دن بھر دھوپ پڑتی ہے تو خوشگوار شاموں کا نزول ہوتا ہے ” پھر وہ پل کی دیوار سے اٹھے اور بولے “چلو اب چلیں بازار سے تھوڑا سودا خریدنا ہے۔” میں جیسا سرکش و بد مزاج بن کر ان کے ساتھ آیا تھا، اس سے کہیں زیادہ منفعل اور خجل ان کے ساتھ لوٹا۔ گھمسے پنساری یعنی دیسو یب یب کے باپ کی دکان سے انہوں نے گھریلو ضرورت کی چند چیزیں خریدیں اور لفافے گود میں اٹھا کر چل دئے، میں بار بار ان سے لفافے لینے کی کوشش کرتا مگر ہمت نہ پڑتی۔ ایک عجیب سی شرم ایک انوکھی سی ہچکچاہٹ مانع تھی اور اسی تامل اور جھجک میں ڈوبتا ابھرتا میں ان کے گھر پہنچ گیا۔

وہاں پہنچ کر یہ بھید کھلا کہ اب میں انہی کے ہاں سویا کرو ں گا اور وہیں پڑھا کروں گا۔ کیونکہ میرا بستر مجھ سے بھی پہلے وہاں پہنچا ہوا تھا اور اس کے پاس ہی ہمارے یہاں سے بھیجی ہوئی ایک ہری کین لالٹین بھی رکھی تھی۔ بزنس مین بننا اور پاں پاں کرتی پیکارڈ اڑائے پھرنا میرے مقدر میں نہ تھا۔ گو میرے ساتھیوں کی روانگی کے تیسرے ہی روز بعد ان کے والدین بھی انہیں لاہور سے پکڑ لائے لیکن اگر میں ان کے ساتھ ہوتا تو شاید اس وقت انار کلی میں ہمارا دفتر، پتہ نہیں ترقی کے کون سے شاندار سال میں داخل ہو چکا ہوتا۔

داؤ جی نے میری زندگی اجیرن کر دی، مجھے تباہ کر دیا، مجھ پر جینا حرام کر دیا، سارا دن سکول کی بکواس میں گزرتا اور رات، گرمیوں کی مختصر رات، ان کے سوالات کا جواب دینے، کوٹھے پر ان کی کھاٹ میرے بستر کے ساتھ لگی ہے اور وہ مونگ، رسول اور مرالہ کی نہروں کے بابت پوچھ رہے ہیں، میں نے بالکل ٹھیک بتا دیا ہے، وہ پھر اسی سوال کو دہرا رہے ہیں، میں نے پھر ٹھیک بتا دیا ہے اور انہوں نے پھر انہی نہروں کو آگے لا کھڑا کیا ہے، میں جل جاتا اور جھڑک کر کہتا “مجھے نہیں پتہ میں نہیں بتاتا” تو وہ خاموش ہو جاتے اور دم سادھ لیتے، میں آنکھیں بند کر کے سونے کی کوشش کرتا تو وہ شرمندگی کنکر بن کر پتلیوں میں اتر جاتی۔

میں آہستہ سے کہتا “داؤ جی۔”

“ہوں” ایک گھمبیر سی آواز آتی۔

’دداؤ جی کچھ اور پوچھو۔”

داؤ جی نے کہا “بہت بے آبرو ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے۔ اس کی ترکیب نحوی کرو۔”

میں نے سعادت مندی کے ساتھ کہا “جی یہ تو بہت لمبا فقرہ ہے صبح لکھ کر بتا دوں گا کوئی اور پوچھئے۔”

انہوں نے آسمان کی طرف انگلی اٹھائے کہا “میرا گولو بہت اچھا ہے۔”

میں نے ذرا سوچ کر کہنا شروع کیا بہت اچھا صفت ہے، حرف ربط مل کر بنا مسند اور داؤ جی اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئے۔ ہاتھ اٹھا کر بولے جانِ پدر، تجھے پہلے بھی کہا ہے مسند الیہ پہلے بنایا ہے۔

میں نے ترکیبِ نحوی سے جان چھڑانے کے لئے پوچھا “آپ مجھے جانِ پدر کیوں کہتے ہیں جانِ داؤ کیوں نہیں کہتے؟”

“شاباش” وہ خوش ہو کر کہتے “ایسی باتیں پوچھنے کی ہوتی ہیں۔ جان لفظ فارسی کا ہے اور داؤ بھاشا کا۔ ان کے درمیان فارسی اضافت نہیں لگ سکتی۔ جو لوگ دن بدن لکھتے یا بولتے ہیں سخت غلطی کرتے ہیں، روز بروز کہو یا دن پر دن اسی طرح سے”


اور جب میں سوچتا کہ یہ تو ترکیبِ نحوی سے بھی زیادہ خطرناک معاملے میں الجھ گیا ہوں تو جمائی لے کر پیار سے کہا “داؤ جی اب تو نیند آ رہی ہے!”

“اور وہ ترکیب نحوی؟” وہ جھٹ سے پوچھتے۔۔

اس کے بعد چاہے میں لاکھ بہانے کرتا ادھر ادھر کی ہزار باتیں کرتا، مگر وہ اپنی کھاٹ پر ایسے بیٹھے رہتے، بلکہ اگر ذرا سی دیر ہو جاتی تو کرسی پر رکھی ہوئی پگڑی اٹھا کر سر پر دھر لیتے۔ چنانچہ کچھ بھی ہوتا۔ ان کے ہر سوال کا خاطر خواہ جواب دینا پڑتا۔

امی چند کالج چلا گیا تو اس کی بیٹھک مجھے مل گئی اور داؤ جی کے دل میں اس کی محبت پر بھی میں نے قبضہ کر لیا۔ اب مجھے داؤ جی بہت اچھے لگنے لگے تھے لیکن ان کی باتیں جو اس وقت مجھے بری لگتی تھیں۔ وہ اب بھی بری لگتی ہیں بلکہ اب پہلے سے بھی کسی قدر زیادہ، شاید اس لئے کہ میں نفسیات کا ایک ہونہار طالب علم ہوں اور داؤ جی پرانے مُلّائی مکتب کے پروردہ تھے۔ سب سے بری عادت ان کی اٹھتے بیٹھتے سوال پوچھتے رہنے کی تھی اور دوسری کھیل کود سے منع کرنے کی۔ وہ تو بس یہ چاہتے تھے کہ آدمی پڑھتا رہے پڑھتا رہے اور جب اس مدقوق کی موت کا دن قریب آئے تو کتابوں کے ڈھیر پر جان دے دے۔ صحتِ جسمانی قائم رکھنے کے لئے ان کے پاس بس ایک ہی نسخہ تھا، لمبی سیر اور وہ بھی صبح کی۔ تقریباً سورج نکلنے سے دو گھنٹے پیشتر وہ مجھے بیٹھک میں جگانے آتے اور کندھا ہلا کر کہتے “اٹھو گولو موٹا ہو گیا بیٹا” دنیا جہاں کے والدین صبح جگانے کے لئے کہا کرتے ہیں کہ اٹھو بیٹا صبح ہو گئی یا سورج نکل آیا مگر وہ “موٹا ہو گیا” کہہ کر میری تذلیل کیا کرتے، میں منمناتا تو چمکار کر کہتے “بھدا ہو جائے گا بیٹا تو، گھوڑے پر ضلع کا دورہ کیسا کرے گا!” اور میں گرم گرم بستر سے ہاتھ جوڑ کر کہتا

“داؤ جی خدا کے لئے مجھے صبح نہ جگاؤ، چاہے مجھے قتل کر دو، جان سے مار ڈالو۔”

یہ فقرہ ان کی سب سے بڑی کمزوری تھی وہ فوراً میرے سر پر لحاف ڈال دیتے اور باہر نکل جاتے۔ بے بے کو ان داؤ جی سے اللہ واسطے کا بیر تھا اور داؤ جی ان سے بہت ڈرتے تھے، وہ سارا دن محلے والیوں کے کپڑے سیا کرتیں اور داؤ جی کو کوسنے دئے جاتیں۔ ان کی اس زبان درازی پر مجھے بڑا غصہ آتا تھا مگر دریا میں رہ کر مگر مچھ سے بیر نہ ہو سکتا تھا۔ کبھی کبھار جب وہ ناگفتنی گالیوں پر اتر آتیں تو داؤ جی میری بیٹھک میں آ جاتے اور کانوں پر ہاتھ رکھ کر کرسی پر بیٹھ جاتے۔ تھوڑی دیر بعد کہتے “غیبت کرنا بڑا گناہ ہے لیکن میرا خدا مجھے معاف کرے تیری بے بے بھٹیارن ہے اور اس کی سرائے میں، میں، میری قرة العین اور تھوڑا تھوڑا، تو بھی، ہم تینوں بڑے عاجز مسافر ہیں۔ ” اور واقعی بے بے بھٹیارن سی تھی۔ ان کا رنگ سخت کالا تھا اور دانت بے حد سفید، ماتھا محراب دار اور آنکھیں چنیاں سی۔ چلتی تو ایسی گربہ پائی کے ساتھ جیسے (خدا مجھے معاف کرے) کٹنی کنسوئیاں لیتی پھرتی ہے۔ بچاری بی بی کو ایسی ایسی بری باتیں کہتی کہ وہ دو دو دن رو رو کر ہلکان ہوا کرتی۔ ایک امی چند کے ساتھ اس کی بنتی تھی شاید اس وجہ سے کہ ہم دونوں ہم شکل تھے یا شاید اس وجہ سے کہ اس کو بی بی کی طرح اپنے داؤ جی سے پیار نہ تھا۔ یوں تو بی بی بے چاری بہت اچھی لگتی تھی مگر اس سے میری بھی نہ بنتی۔ میں کوٹھے پر بیٹھا سوال نکال رہا ہوں، داؤ جی نیچے بیٹھے ہیں اور بی بی اوپر برساتی سے ایندھن لینے آئی تو ذرا رک کر مجھے دیکھا پھر منڈیر سے جھانک کر بولی، داؤ جی! پڑھ تو نہیں رہا، تنکوں کی طرح چارپائیاں بنا رہا ہے۔”

میں غصیل بچے کی طرح منہ چڑا کر کہتا “تجھے کیا، نہیں پڑھتا، تو کیوں بڑ بڑ کرتی ہےآئی بڑی تھانیدارنی۔”

اور داؤ جی نیچے سے ہانک لگا کر کہتے “نہ گولو مولو بہنوں سے جھگڑا نہیں کرتے۔”

اور میں زور سے چلاتا “پڑھ رہا ہوں جی، جھوٹ بولتی ہے۔”

داؤ جی آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ کر اوپر آ جاتے اور کاپیوں کے نیچے نیم پوشیدہ چارپائیاں دیکھ کر کہتے “قرة بیٹا تو اس کو چڑایا نہ کر۔ یہ جن بڑی مشکل سے قابو کیا ہے۔ اگر ایک بار بگڑ گیا تو مشکل سے سنبھلے گا۔”

بی بی کہتی “کاپی اٹھا کر دیکھ لو داؤ جی اس کے نیچے ہے وہ چارپائی جس سے کھیل رہا تھا۔”

میں قہر آلود نگاہوں سے بی بی کو دیکھتا اور وہ لکڑیاں اٹھا کر نیچے اتر جاتی۔ پھر داؤ جی سمجھاتے کہ بی بی یہ کچھ تیرے فائدے کے لئے کہتی ہے ورنہ اسے کیا پڑی ہے کہ مجھے بتاتی پھرے۔ فیل ہویا پاس اس کی بلا سے! مگر وہ تیری بھلائی چاہتی ہے، تیری بہتری چاہتی ہے اور داؤ جی کی یہ بات ہر گز سمجھ میں نہ آتی تھی۔ میری شکایتیں کرنے والی میری بھلائی کیونکر چاہ سکتی تھی!۔

ان دنوں معمول یہ تھا کہ صبح دس بجے سے پہلے داؤ جی کے ہاں سے چل دیتا۔ گھر جا کر ناشتہ کرتا اور پھر سکول پہنچ جاتا۔ آدھی چھٹی پر میرا کھانا سکول بھیج دیا جاتا اور شام کو سکول بند ہونے پر گھر آ کے لالٹین تیل سے بھرتا اور داؤ جی کے یہاں آ جاتا۔ پھر رات کا کھانا بھی مجھے داؤ جی کے گھر ہی بھجوا دیا جاتا۔ جن ایام میں منصفی بند ہوتی، داؤ جی سکول کی گراؤنڈ میں آ کر بیٹھ جاتے اور میرا انتظار کرنے لگتے۔ وہاں سے گھر تک سوالات کی بوچھاڑ رہتی۔ سکول میں جو کچھ پڑھایا گیا ہوتا اس کی تفصیل پوچھتے، پھر مجھے گھر تک چھوڑ کر خود سیر کو چلے جاتے۔ ہمارے قصبہ میں منصفی کا کام مہینے میں دس دن ہوتا تھا اور بیس دن منصف صاحب بہادر کی کچہری ضلع میں رہتی تھی۔ یہ دس دن داؤ جی باقاعدہ کچہری میں گزارتے تھے۔ ایک آدھ عرضی آ جاتی تو دو چار روپے کما لیتے ورنہ فارغ اوقات میں وہاں بھی مطالعہ کا سلسلہ جاری رکھتے۔ بے بے کا کام اچھا تھا۔ اس کی کتر بیونت اور محلے والوں سے جوڑ توڑ اچھے مالی نتائج پیدا کرتی تھی۔ چونکہ پچھلے چند سالوں سے گھر کا بیشتر خرچ اس کی سلائی سے چلتا تھا، اس لئے وہ داؤ جی پر اور بھی حاوی ہو گئی تھی۔ ایک دن خلاف معمول داؤ جی کو لینے میں منصفی چلا گیا۔ اس وقت کچہری بند ہو گئی تھی اور داؤ جی نانبائی کے چھپر تلے ایک بینچ پر بیٹھے گڑ کی چائے پی رہے تھے۔ میں نے ہولے سے جا کر ان کا بستہ اٹھا لیا اور ان کے گلے میں بانہیں ڈال کر کہا “چلئے، آج میں آپ کو لینے آیا ہوں” انہوں نے میری طرف دیکھے بغیر چائے کے بڑے بڑے گھونٹ بھرے، ایک آنہ جیب سے نکال کر نانبائی کے حوالے کیا اور چپ چاپ میرے ساتھ چل دئے۔

میں نے شرارت سے ناچ کر کہا “گھر چلئے، بے بے کو بتاؤں گا کہ آپ چوری چوری یہاں چائے پیتے ہیں۔”

داؤ جی جیسے شرمندگی ٹالنے کو مسکرائے اور بولے “اس کی چائے بہت اچھی ہوتی ہے اور گڑ کی چائے سے تھکن بھی دور ہو جاتی ہے پھر یہ ایک آنہ میں گلاس بھر کے دیتا ہے۔ تم اپنی بے بے سے نہ کہنا، خواہ مخواہ ہنگامہ کھڑا کر دے گی۔ پھر انہوں نے خوفزدہ ہو کر کچھ مایوس ہو کر کہا “اس کی تو فطرت ہی ایسی ہے۔” اس دن مجھے داؤ جی پر رحم آیا۔ میرا جی ان کے لئے بہت کچھ کرنے کو چاہنے لگا مگر اس میں میں نے بے بے سے نہ کہنے کا ہی وعدہ کر کے ان کے کے لئے بہت کچھ کیا۔ جب اس واقعہ کا ذکر میں نے اماں سے کیا تو وہ بھی کبھی میرے ہاتھ اور کبھی نوکر کی معرفت داؤ جی کے ہاں دودھ، پھل اور چینی وغیرہ بھیجنے لگیں مگر اس رسد سے داؤ جی کو کبھی بھی کچھ نصیب نہ ہوا۔ ہاں بے بے کی نگاہوں میں میری قدر بڑھ گئی اور اس نے کسی حد تک مجھ سے رعایتی برتاؤ شروع کر دیا۔”

مجھے یاد ہے، ایک صبح میں دودھ سے بھرا تاملوٹ ان کے یہاں لے کر آیا تھا اور بے بے گھر نہ تھی۔ وہ اپنی سکھیوں کے ساتھ بابا ساون کے جوہڑ میں اشنان کرنے گئی تھی اور گھر میں صرف داؤ جی اور بی بی تھے۔ دودھ دیکھ کر داؤ جی نے کہا “چلو آج تینو ں چائے پئیں گے۔ میں دکان سے گڑ لے کر آتا ہوں، تم پانی چولہے پر رکھو۔” بی بی نے جلدی سے چولہا سلگایا۔ میں پتیلی میں پانی ڈال کر لایا اور پھر ہم دونوں وہیں چوکے پر بیٹھ کر باتیں کرنے لگے۔ داؤ جی گڑ لے کر آ گئے تو انہوں نے کہا “تم دونوں اپنے اپنے کام پر بیٹھو چائے میں بناتا ہوں۔”چنانچہ بی بی مشین چلانے لگی اور میں ڈائریکٹ اِن ڈائریکٹ کی مشقیں لکھنے لگا۔ داؤ جی چولہا بھی جھونکتے جاتے تھے اور عادت کے مطابق مجھے بھی اونچے اونچے بتاتے جاتے تھے۔

گلیلیو نے کہا “زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔” گلیلیو نے دریافت کیا کہ زمین سورج کے گرد گھومتی ہے۔ یہ نہ لکھ دینا کہ سورج کے گرد گھومتی ہے۔ پانی ابل رہا تھا داؤ جی خوش ہو رہے تھے۔ اسی خوشی میں جھوم جھوم کر وہ اپنا تازہ بنایا ہوا گیت گا رہے تھے۔ او گولو! او گولو! گلیلیو کی بات مت بھولنا، گلیلیو کی بات مت بھولنا۔ انہوں نے چائے کی پتی کھولتے ہوئے پانی میں ڈال دی۔ برتن ابھی تک چولہے پر ہی تھا اور داؤ جی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پانی کی گلب گل بل کے ساتھ گولو گلیلیو! گولو گلیلیو کئے جا رہے تھے، میں ہنس رہا تھا اور اپنا کام کئے جا رہا تھا، بی بی مسکرا رہی تھی اور مشین چلائے جاتی تھی اور ہم تینوں اپنے چھوٹے سے گھر میں بڑے ہی خوش تھے گویا سارے محلے بلکہ سارے قصبہ کی خوشیاں بڑے بڑے رنگین پروں والی پریوں کی طرح ہمارے گھر میں اتر آئی ہوں۔۔

اتنے میں دروازہ کھلا اور بے بے اندر داخل ہوئی۔ داؤ جی نے دروازہ کھلنے کی آواز پر پیچھے مڑ کر دیکھا اور ان کا رنگ فق ہو گیا۔ چمکتی ہوئی پتیلی سے گرم گرم بھاپ اٹھ رہی تھی۔ اس کے اندر چائے کے چھوٹے چھوٹے چھلاوے ایک دوسرے کے پیچھے شور مچاتے پھرتے تھے اور ممنوعہ کھیل رچانے والا بڈھا موقع پر پگڑا گیا۔ بے بے نے آگے بڑھ کر چولہے کی طرف دیکھا اور داؤ جی نے چوکے سے اٹھتے ہوئے معذرت بھرے لہجے میں کہا “چائے ہے!”


بے بے نے ایک دو ہتڑ داؤ جی کی کمر پر مارا اور کہا “بڈھے بروہا تجھے لاج نہیں آتی۔ تجھ پر بہار پھرے، تجھے یم سمیٹے، یہ تیرے چائے پینے کے دن ہیں۔ میں بیوہ گھر میں نہ تھی تو تجھے کسی کا ڈر نہ رہا۔ تیرے بھانویں میں کل کی مرتی آج مروں تیرا من راضی ہو۔ تیری آسیں پوری ہوں۔ کس مرن جوگی نے جنا اور کس لیکھ کی ریکھا نے میرے پلے باندھ دیاتجھے موت نہیں آتیاوں ہوں تجھے کیوں آئے گی” اس فقرے کی گردان کرتے ہوئے بے بے بھیڑنی کی طرح چوکے پر چڑھی کپڑے سے پتیلی پکڑ کر چولہے سے اٹھائی اور زمین پر دے ماری۔ گرم گرم چائے کے چھپاکے داؤ جی کی پنڈلیوں اور پاؤں پر گرے اور وہ “اوہ تیرا بھلا ہو جائے! او تیرا بھلا ہو جائے” کہتے وہاں سے ایک بچے کی طرح بھاگے اور بیٹھک میں گھس گئے۔ ان کے اس فرار بلکہ اندازِ فرار کو دیکھ کر میں اور بی بی ہنسے بنا نہ رہ سکے اور ہماری ہنسی کی آواز ایک ثانیہ کے لئے چاروں دیواروں سے ٹکرائی۔ میں تو خیر بچ گیا لیکن بے بے نے سیدھے جا کر بی بی کو بالوں سے پکڑ لیا اور چیخ کر بولی “میری سوت بڈھے سے تیرا کیا ناطہ ہے، بتا نہیں تو اپنی پران لیتی ہوں۔ تو نے اس کو چائے کی کنجی کیوں دی؟” بی بی بیچاری پھس پھس رونے لگی تو میں بھی اندر بیٹھک میں کھسک آیا۔ داؤ جی اپنی مخصوص کرسی پر بیٹھے تھے اور اپنے پاؤں سہلا رہے تھے۔ پتہ نہیں انہیں اس حالت میں دیکھ کر مجھے پھر کیوں گدگدی ہوئی کہ میں الماری کے اندر منہ کر کے ہنسنے لگا، انہوں نے ہاتھ کے اشارے سے مجھے پاس بلایا اور بولے “شکرِ کردگار کنم کہ گرفتارم بہ مصیبتے نہ کہ معصیتے۔

تھوڑی دیر رک کر پھر کہا “میں اس کے کتوں کا بھی کتا ہوں جس کے سرِ مُطہّر پر مکے کی ایک کم نصیب بڑھیا غلاظت پھینکا کرتی تھی۔”

میں نے حیرانی سے ان کی طرف دیکھا تو وہ بولے “آقائے نامدار کا ایک ادنیٰ حلقہ بگوش، گرم پانی کے چند چھینٹے پڑنے پر نالہ شیون کرے تو لعنت ہے اس کی زندگی پر۔ وہ اپنے محبوب کے طفیل نارِ جہنم سے بچائے۔ خدائے ابراہیمؑ مجھے جرأت عطا کرے، مولائے ایوبؑ مجھے صبر کی نعمت دے۔”

میں نے کہا “داؤ جی آقائے نامدار کون؟”

تو داؤ جی کو یہ سن کر ذرا تکلیف ہوئی۔ انہوں نے شفقت سے کہا “جان پدر یوں نہ پوچھا کر۔ میرے استاد، میرے حضرت کی روح کو مجھ سے بیزار نہ کر، وہ میرے آقا بھی تھے، میرے باپ بھی اور میرے استاد بھی، وہ تیرے دادا استاد ہیںدادا استاد” اور انہوں نے دونوں ہاتھ سینے پر رکھ لئے۔ آقائے نامدار کا لفظ اور کوتاہ و قسمتِ مجوزہ کی ترکیب میں نے پہلی بار داؤ جی سے سنی۔ یہ واقعہ سنانے میں انہوں نے کنتی ہی دیر لگا دی کیونکہ ایک ایک فقرے کے بعد فارسی کے بیشمار نعتیہ اشعار پڑھتے تھے اور بار بار اپنے استاد کی روح کو ثواب پہنچاتے تھے۔”

جب وہ یہ واقعہ بیان کر چکے تو میں نے بڑے ادب سے پوچھا “داؤ جی آپ کو اپنے استاد صاحب اس قدر اچھے کیوں لگتے تھے اور آپ ان کا نام لے کر ہاتھ کیوں جوڑتے ہیں اپنے آپ کو ان کا نوکر کیوں کہتے ہیں؟”

داؤ جی نے مسکرا کر کہا “جو طویلے کے ایک خر کو ایسا بنا دے کہ لوگ کہیں یہ منشی چنت رام جی ہیں۔ وہ مسیحا نہ ہو، آقا نہ ہو تو پھر کیا ہو؟”

میں چارپائی کے کونے سے آہستہ آہستہ پھسل کر بستر میں پہنچ گیا اور چاروں طرف رضائی لپیٹ کر داؤ جی کی طرف دیکھنے لگا جو سر جھکا کر کبھی اپنے پاؤں کی طرف دیکھتے تھے اور کبھی پنڈلیاں سہلاتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے وقفوں کے بعد ذرا سا ہنستے اور پھر خاموش ہو جاتے۔

کہنے لگے “میں تمہارا کیا تھا اور کیا ہو گیاحضرت مولانا کی پہلی آواز کیا تھی! میری طرف سر مبارک اٹھا کر فرمایا، چوپال زادے ہمارے پاس آؤ، میں لاٹھی ٹیکتا ان کے پاس جا کھڑا ہوا۔ چھتہ پٹھار اور دیگر دیہات کے لڑکے نیم دائرہ بنائے ان کے سامنے بیٹھے سبق یاد کر رہے تھے۔ ایک دربار لگا تھا اور کسی کو آنکھ اوپر اٹھانے کی ہمت نہ تھیمیں حضور کے قریب گیا تو فرمایا، بھئی ہم تم کو روز یہاں بکریاں چراتے دیکھتے ہیں۔ انہیں چرنے چگنے کے لئے چھوڑ کر ہمارے پاس آ جایا کرو اور کچھ پڑھ لیا کروپھر حضور نے میری عرض سنے بغیر پوچھا کہ کیا نام ہے تمہارا؟” میں نے گنواروں کی طرح کہا چنتومسکرائےتھوڑا سا ہنسے بھی فرمانے لگے پورا نام کیا ہے؟ پھر خود ہی بولے چنتو رام ہو گامیں نے سر ہلا دیاحضور کے شاگرد کتاب سے نظریں چرا کر میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میرے گلے میں کھدر کا لمبا سا کرتہ تھا۔ پائجامہ کی بجائے صرف لنگوٹ بندھا تھا۔ پاؤں میں ادھوڑی کے موٹے جوتے اور سر پر سرخ رنگ کا جانگیہ لپیٹا ہوا تھا۔ بکریاں میری”

میں نے بات کاٹ کر پوچھا “آپ بکریاں چراتے تھے داؤ جی؟”

“ہاں ہاں ” وہ فخر سے بولے “میں گڈریا تھا اور میرے باپ کی بارہ بکریاں تھیں۔”

حیرانی سے میرا منہ کھلا رہ گیا اور میں نے معاملہ کی تہہ تک پہنچنے کے لئے جلدی سے پوچھا۔ “اور آپ سکول کے پاس بکریاں چرایا کرتے تھے۔”داؤ جی نے کرسی چارپائی کے قریب کھینچ لی اور اپنے پاؤں پائے پر رکھ کر بولے “جان پدر اس زمانے میں تو شہروں میں بھی سکول نہیں ہوتے تھے، میں گاؤں کی بات کر رہا ہوں۔ آج سے چوہتر برس پہلے کوئی تمہارے ایم بی ہائی سکول کا نام بھی جانتا تھا؟ وہ تو میرے آقا کو پڑھانے کا شوق تھا۔ ارد گرد کے لوگ اپنے لڑکے چار حرف پڑھنے کو ان کے پاس بھیج دیتےان کا سارا خاندان زیورِ تعلیم سے آراستہ اور دینی اور دنیوی نعمتوں سے مالا مال تھا۔ والد ان کے ضلع بھر کے ایک ہی حکیم اور چوٹی کے مبلغ تھے۔ جدِ امجد مہاراجہ کشمیر کے میر منشی۔ گھر میں علم کے دریا بہتے تھے، فارسی، عربی، جبر و مقابلہ، اقلیدس، حکمت اور علم ہیئت ان کے گھر کی لونڈیاں تھیں۔ حضور کے والد کو دیکھنا مجھے نصیب نہیں ہوا لیکن آپ کی زبانی ان کے تبحرِ علمی کی سب داستانیں سنیں، شیفتہ اور حکیم مومن خاں مومن سے ان کے بڑے مراسم تھے اور خود مولانا کی تعلیم دلی میں مفتی آزردہ مرحوم کی نگرانی میں ہوئی تھی”

مجھے داؤجی کے موضوع سے بھٹک جانے کا ڈر تھا اس لئے میں نے جلدی سے پوچھا۔ “پھر آپ نے حضرت مولانا کے پاس پڑھنا شروع کر دیا۔” “ہاں” داؤ جی اپنے آپ سے باتیں کرنے لگے، “ان کی باتیں ہی ایسی تھیں۔ ان کی نگاہیں ہی ایسی تھیں جس کی طرف توجہ فرماتے تھے، بندے سے مولا کر دیتے تھے۔ مٹی کے ذرے کو اکسیر کی خاصیت دے دیتے تھےمیں تو ا پنی لاٹھی زمین پر ڈال کر ان کے پاس بیٹھ گیا۔ فرمایا، اپنے بھائیوں کے بوریے پر بیٹھو۔ میں نے کہا جی اٹھارہ برس دھرتی پر بیٹھے گزر گئے اب کیا فرق پڑتا ہے۔ پھر مسکرا دئے اپنے چوبی صندوقچے سے حروف ابجد کا ایک مقوا نکالا اور بولے الف۔ بے۔ بے۔ تےسبحان اللہ کیا آواز تھی۔ کس شفقت سے بو لے تھے، کس لہجہ میں فرما رہے تھے الف، بے، پے، ت ” اور جی داؤ جی ان حرفوں کا ورد کرتے ہوئے اپنے ماضی میں کھو گئے۔

تھوڑی دیر بعد انہوں نے اپنا دایاں ہاتھ اٹھا کر کہا۔ “ادھر رہٹ تھا اور اس کے ساتھ مچھلیوں کا حوض۔” پھر انہوں نے اپنا بایاں ہاتھ ہوا میں لہرا کر کہا “اور اس طرف مزارعین کے کوٹھے، دونوں کے درمیان حضور کا باغیچہ تھا اور سامنے ان کی عظیم الشان حویلی۔ اسی باغیچے میں ان کا مکتب تھا۔ درِ فیض کھلا تھا جس کا جی چاہے آئے، نہ مذہب کی قید نہ ملک کی پابندی”

میں نے کافی دیر سوچنے کے بعد با ادب با ملاحظہ قسم کا فقرہ تیار کر کے پوچھا “حضرت مولانا کا اسم گرامی شریف کیا تھا؟” تو پہلے انہوں نے میرا فقرہ ٹھیک کیا اور پھر بولے۔ “حضرت اسماعیل چشتی فرماتے تھے کہ ان کے والد ہمیشہ انہیں جانِ جاناں کہہ کر پکارتے تھے۔ کبھی جانِ جاناں کی رعایت سے مظہر جانِ جاناں بھی کہہ دیتے تھے۔

میں ایسی دلچسپ کہانی سننے کا ابھی اور خواہش مند تھا کہ داؤ جی اچانک رک گئے اور بولے۔ سب سڈی ایری سسٹم کیا تھا؟ ان انگریزوں کا برا ہو یہ ایسٹ انڈیا کمپنی کی صورت میں آئے یا ملکہ وکٹوریہ کا فرمان لے، سارے معاملے میں کھنڈت ڈال دیتے ہیں۔ سوا کے پہاڑے کی طرح میں نے سب سڈی ایری سسٹم کا ڈھانچہ ان کی خدمت میں پیش کر دیا۔ پھر انہوں نے میز سے گرائمر کی کتاب اٹھائی اور بولے “باہر جا کر دیکھ کے آ کہ تیری بے بے کا غصہ کم ہوا یا نہیں۔” میں دوات میں پانی ڈالنے کے بہانے باہر گیا تو بے بے کو مشین چلاتے اور بی بی کو چکوا صاف کرتے پایا۔”

داؤ جی کی زندگی میں بے بے والا پہلو بڑا ہی کمزور تھا۔ جب وہ دیکھتے کہ گھر میں مطلع صاف ہے اور بے بے کے چہرے پر کوئی شکن نہیں ہے، تو وہ پکار کر کہتے “سب ایک ایک شعر سناؤ” پہلے مجھی سے تقاضا ہوتا اور میں چھوٹتے ہی کہتا:

لازم تھا کہ دیکھو میرا رستہ کوئی دن اور
تنہا گئے کیوں اب رہو تنہا کوئی دن اور


اس پر وہ تالی بجاتے اور کہتے “اولین شعر نہ سنوں گا، اردو کا کم سنوں گا اور مسلسل نظم کا ہر گز نہ سنوں گا۔”

بی بی بھی میر ی طرح اکثر اس شعر سے شروع کرتی۔

شنیدم کہ شاپور دم در کشید
چو خسرو بر آتش قلم در کشید

اس پر داؤ جی ایک مرتبہ پھر آرڈر آرڈر پکارتے

بی بی قینچی رکھ کر کہتی:

شورے شد و از خوابِ عدم چشم کشوریم
دیدیم کہ باقی ست شبِ فتنہ غنودیم

داؤ جی شاباش تو ضرور کہہ دیتے لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیتے “بیٹا یہ شعر تُو کئی مرتبہ سنا چکی ہے۔”

پھر وہ بے بے کی طرف دیکھ کر کہتے۔ “بھئی آج تمہاری بے بے بھی ایک سنائے گی” مگر بے بے روکھا سا جواب دیتی “مجھے نہیں آتے شیر، کبت۔”

اس پر داؤ جی کہتے۔ “گھوڑیاں ہی سنا دے۔ اپنے بیٹوں کے بیاہ کی گھوڑیاں ہی گا دے۔

اس پر بے بے کے ہونٹ مسکرانے کو کرتے لیکن وہ مسکرا نہ سکتی اور داؤ جی عین عورتوں کی طرح گھوڑیاں گانے لگتے۔ ان کے درمیان کبھی امی چند اور کبھی میرا نام ٹانک دیتے۔ پھر کہتے “میں اپنے اس گولو مولو کی شادی پر سرخ پگڑی باندھوں گا۔ برات میں ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ساتھ چلوں گا اور نکاح نامے میں شہادت کے دستخط کروں گا۔ میں دستور کے مطابق شرما کر نگاہیں نیچی کر لیتا تو وہ کہتے۔ “پتہ نہیں اس ملک کے کسی شہر میں میری چھوٹی بہو پانچویں یا چھٹی جماعت میں پڑھ رہی ہو گی، ہفتہ میں ایک دن لڑکیوں کی خانہ داری ہوتی ہے۔ اس نے تو بہت سی چیزیں پکانی سیکھ لی ہو گی۔ پڑھنے میں بھی ہوشیار ہو گی۔ اس بدھو کو تو یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ مادیاں گھوڑیاں ہوتی ہے یا مرغی۔ وہ تو فر فر سب کچھ سناتی ہو گی۔ میں تو اس کو فارسی پڑھاؤں گا پہلے اس کو خطاطی کی تعلیم دوں گا پھر خطِ شکستہ سکھاؤں گا۔ مستورات کو خطِ شکستہ نہیں آتا۔ میں اپنی بہو کو سکھا دوں گاسن گولو! پھر میں تیرے پاس ہی رہو گا۔ میں اور میری بہو فارسی میں باتیں کریں گے۔ وہ بات بات پر بفرمائید بفرمائید کہے گی اور تو احمقوں کی طرح منہ دیکھا کرے گا۔ پھر وہ سینے پر ہاتھ رکھ کر جھکتے “خیلے خوب خیلے خوب” کہتے۔ جانِ پدر چرا ایں قدر زحمت می کشیخوبیاد دارماور پتہ نہیں کیا کیا کچھ کہتے۔ بچارے داؤ جی! چٹائی پر اپنی چھوٹی سی دنیا بسا کر اس میں فارسی کے فرمان جاری کئے جاتے

ایک دن جب چھت پر دھوپ پر بیٹھے ہوئے وہ ایسی ہی دنیا بسا چکے تھے تو ہولے سے مجھے کہنے لگے۔ “جس طرح خدا نے تجھے ایک نیک سیرت بیوی اور مجھے سعادت مند بہو عطا کی ہے ویسے ہی وہ اپنے فضل سے میرے امی چند کو بھی دے۔”

اس کے خیالات مجھے کچھ اچھے نہیں لگتے، یہ سوانگ یہ مسلم لیگ یہ بیلچہ پارٹیاں مجھے پسند نہیں اور امی چند لاٹھی چلانا گٹکا کھیلنا سیکھ رہا ہے میری تو وہ کب مانے گا، ہاں خدائے بزرگ و برتر اس کو ایک نیک مومن سی بیوی دلا دے تو وہ اسے راہِ راست پر لے آئے گی۔

اس مومن کے لفظ پر مجھے بہت تکلیف ہوئی اور میں چپ سا ہو گیا۔ چپ محض اس لئے ہوا تھا کہ اگر میں نے منہ کھولا تو یقیناً ایسی بات نکلے گی جس سے داؤ جی کو بڑا دکھ ہو گامیری اور امی چند کی تو خیر باتیں ہی تھیں، لیکن بارہ جنوری کو بی بی کی برات سچ مچ آ گئی۔ جیجا جی رام پرتاب کے بارے میں داؤ جی مجھے بہت کچھ بتا چکے تھے کہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے اور اس شادی کے بارے میں انہوں نے جو استخارہ کیا تھا اس پر وہ پورا اترتا ہے۔ سب سے زیادہ خوشی داؤ جی کو اس بات کی تھی کہ ان کے سمدھی فارسی کے استاد تھے اور کبیر پنتھی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ بارہ تاریخ کی شام کو بی بی وداع ہونے لگی تو گھر بھرمیں کہرام مچ گیا، بے بے زار و قطار رو رہی ہے امی چند آنسو بہا رہا ہے اور محلے کی عورتیں پھس پھس کر رہی ہیں۔ میں دیوار کے ساتھ لگا کھڑا ہوں اور داؤ جی میرے کندھے پر ہاتھ رکھے کھڑے ہیں اور بار بار کہہ رہے ہیں آج زمین کچھ میرے پاؤ ں نہیں پکڑتی۔ میں توازن قائم نہیں رکھ سکتا۔ جیجا جی کے باپ بولے۔ “منشی جی اب ہمیں اجازت دیجئے” تو بی بی پچھاڑ کر گر پڑی۔ اسے چارپائی پر ڈالا، عورتیں ہوا کرنے لگیں اور داؤ جی میرا سہارا لے کر اس کی چارپائی کی طرف چلے۔ انہوں نے بی بی کو کندھے سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا “یہ کیا ہوا بیٹا۔ اٹھو! یہ تو تمہاری نئی اور خود مختار زندگی کی پہلی گھڑی ہے۔ اسے یوں منحوس نہ بناؤ۔ بی بی اس طرح دھاڑیں مارتے ہوئے داؤ جی سے لپٹ گئی، انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا “قرة العین میں تیرا گنہگار ہوں کہ تجھے پڑھا نہ سکا۔ تیرے سامنے شرمندہ ہوں کہ تجھے علم کا جہیز نہ دے سکا۔ تو مجھے معاف کر دے گی اور شاید برخوردار رام پرتاب بھی لیکن میں اپنے کو معاف نہ کر سکوں گا۔ میں خطا کار ہوں اور میرا خجل سر تیرے سامنے خم ہے۔” یہ سن کر بی بی اور بھی زور زور سے رونے لگی اور داؤ جی کی آنکھوں سے کتنے سارے موٹے موٹے آنسوؤں کے قطرے ٹوٹ کر زمین پر گرے۔ ان کے سمدھی نے آگے بڑھ کر کہا۔ “منشی جی آپ فکر نہ کریں میں بیٹی کو کریما پڑھا دوں گا” داؤ جی ادھر پلٹے اور ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “کریما تو یہ پڑھ چکی ہے، گلستان بوستان بھی ختم کر چکا ہوں، لیکن میری حسرت پوری نہیں ہوئی۔” اس پر وہ ہنس کر بولے۔ “ساری گلستان تو میں نے بھی نہیں پڑھی، جہاں عربی آتی تھی، آگے گزر جاتا تھا’داؤ جی اسی طرح ہاتھ جوڑے کتنی دیر خاموش کھڑے رہے، بی بی نے گوٹہ لگی سرخ رنگ کی ریشمی چادر سے ہاتھ نکال کر پہلے امی چند اور پھر میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور سکھیوں کے بازوؤں میں ڈیوڑھی کی طرف چل دی۔ داؤ جی میرا سہارا لے کر چلے تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ زور سے بھینچ کر کہا۔ “یہ لو یہ بھی رو رہا ہے۔ دیکھو ہمارا سہارا بنا پھرتا ہے۔ او گولواو مردم دیدہتجھے کیا ہو گیاجانِ پدر تو کیوں”

اس پر ان کا گلا رندھ گیا اور میرے آنسو بھی تیز ہو گئے۔ برات والے تانگوں اور اکوں پر سوار تھے۔ بی بی رتھ میں جا رہی تھی اور اس کے پیچھے امی چند اور میں اور ہمارے درمیان میں دا ؤ جی پیدل چل رہے تھے۔ اگر بی بی کی چیخ ذرا زور سے نکل جاتی تو داؤ جی آگے بڑھ کر رتھ کا پردہ اٹھا تے او ر کہتے۔ “لا حول پڑھو بیٹا، لاحول پڑھو۔”اور خود آنکھوں پر رکھے رکھے ان کی پگڑی کا شملہ بھیگ گیا تھا۔

رانو ہمارے محلے کا کثیف سا انسان تھا، بدی اور کینہ پروری اس کی طبیعت میں کوٹ کوٹ کر بھر ی تھی۔ وہ باڑہ جس کا میں نے ذکر کیا ہے، اسی کا تھا۔ اس میں بیس تیس بکریاں اور گائیں تھیں جن کا دودھ صبح و شام رانو گلی کے بغلی میدان میں بیٹھ کر بیچا کرتا تھا۔ تقریباً سارے محلے والے اسی سے دودھ لیتے تھے اور اس کی شرارتوں کی وجہ سے دبتے بھی تھے۔ ہمارے گھر کے آگے سے گزرتے ہوئے وہ یونہی شوقیہ لاٹھی زمین پر بجا کر داؤ جی کو “پنڈتا جے رام جی کی “کہہ کر سلام کیا کرتا۔


داؤ جی نے اسے کئی مرتبہ سمجھایا بھی کہ وہ پنڈت نہیں ہیں معمولی آدمی ہیں کیونکہ پنڈت ان کے نزدیک بڑے پڑھے لکھے اور فاضل آدمی کو کہا جا سکتا تھا لیکن رانو نہیں مانتا تھا وہ اپنی مونچھ کو چبا کر کہتا۔ “ارے بھئی جس کے سر پر بودی (چٹیا) ہو وہی پنڈت ہوتا ہے” چوروں یاروں سے اس کی آشنائی تھی شام کو اس کے باڑے میں جوا بھی ہوتا اور گندی اور فحش بولیوں کا مشاعرہ۔ بی بی کے جانے کے ایک دن بعد جب میں اس سے دودھ لینے گیا تو اس نے شرارت سے آنکھ میچ کر کہا۔ “مورنی تو چلی گئی بابو اب تو اس گھر میں رہ کر کیا لے گا۔” میں چپ رہا تو اس نے جھاگ والے دودھ میں ڈبہ پھیرتے ہوئے کہا۔ “گھر میں گنگا بہتی تھی سچ بتا کہ غوطہ لگایا کہ نہیں۔” مجھے اس بات پر غصہ آگیا اور میں نے تاملوٹ گھما کر اس کے سر پر دے مارا۔ اس ضربِ شدید سے خون وغیرہ تو برآمد نہ ہوا لیکن وہ چکرا کر تخت پر گرپڑا اور میں بھاگ گیا۔ داؤ جی کو سارا واقعہ سنا کر میں دوڑا دوڑا اپنے گھر گیا اور ابا جی سے ساری حکایت بیان کی۔ ان کی بدولت رانو کی تھانہ میں طلبی ہوئی اور حوالدار صاحب نے ہلکی سی گو شمالی کے بعد اسے سخت تنبیہ کر کے چھوڑ دیا۔ اس دن کے بعد رانو دا ؤ جی پر آتے جاتے طرح طرح کے فقرے کسنے لگا۔ وہ سب سے زیادہ مذاق ان کی بودی کا اڑایا کرتا تھا اور واقعی داؤ جی کے فاضل سر پر وہ چپٹی سی بودی ذرا اچھی نہ لگتی تھی۔ مگر وہ کہتے تھے۔ “یہ میری مرحوم ماں کی نشانی ہے اور مجھے اپنی زندگی کی طرح عزیز ہے۔ وہ اپنی آغوش میں میرا سر رکھ کر اسے دہی سے دھوتی تھی اور کڑوا تیل لگا کر چمکاتی تھی۔ گو میں نے حضرت مولانا کے سامنے کبھی بھی پگڑی اتارنے کی جسارت نہیں کی، لیکن وہ جانتے تھے اور جب میں دیال سنگھ میموریل ہائی سکول سے ایک سال کی ملازمت کے بعد چھٹیوں میں گاؤں آیا تو حضور نے پوچھا “شہر جا کر چوٹی تو نہیں کٹوا دی؟” تو میں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر وہ بہت خوش ہوئے اور فرمایا تم سا سعادت مند بیٹا کم ماؤں کو نصیب ہوتا ہے اور ہم سا خوش قسمت استاد بھی خال خال ہو گا جسے تم ایسے شاگردوں کو پڑھانے کا فخر حاصل ہوا ہو، میں نے ان کے پاؤں چھو کر کہا حضور آپ مجھے شرمندہ کرتے ہیں۔ یہ سب آپ کے قدموں کی برکت ہے، ہنس کر فرمانے لگے چنت رام ہمارے پاؤں نہ چھوا کرو بھلا ایسے لمس کا کیا فائدہ جس کا ہمیں احساس نہ ہو۔ میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ میں نے کہا اگر کوئی مجھے بتا دے تو سمندر پھاڑ کر بھی آپ کے لئے دوائی نکال لاؤں۔ میں اپنی زندگی کی حرارت حضور کی ٹانگوں کے لئے نذر کر دوں لیکن میرا بس نہیں چلتاخاموش ہو گئے اور نگاہیں اوپر اٹھا کر بولے خدا کو یہی منظور ہے تو ایسے ہی سہی۔ تم سلامت رہو کہ تمہارے کندھوں پر میں نے کوئی دس سال بعد سارا گاؤں دیکھ لیا ہے” داؤ جی گزرے ایام کی تہہ میں اترتے ہوئے کہہ رہے تھے۔

“میں صبح سویرے حویلی کی ڈیوڑھی میں جا کر آواز دیتا “خادم آ گیا” مستورات ایک طرف ہو جاتیں تو حضور صحن سے آواز دے کر مجھے بلاتے اور میں اپنی قسمت کو سراہتا ہاتھ جوڑے جوڑے ان کی طرف بڑھتا۔ پاؤں چھوتا اور پھر حکم کا انتظار کرنے لگتا، وہ دعا دیتے میرے والدین کی خیریت پوچھتے، گاؤں کا حال دریافت فرماتے اور پھر کہتے “لو بھئی چنت رام ان گناہوں کی گٹھڑی کو اٹھا لو” میں سبدِ گل کی طرح انہیں اٹھاتا اور کمر پر لاد کر حویلی سے باہر آ جاتا۔ کبھی فرماتے، ہمیں باغ کا چکر دو کبھی حکم ہوتا سیدھے رہٹ کے پاس لے چلو اور کبھی کبھار بڑی نرمی سے کہتے چنت رام تھک نہ جاؤ تو ہمیں مسجد تک لے چلو۔ میں نے کئی بار عرض کیا کہ حضور ہر روز مسجد لے جایا کروں گا مگر نہیں مانے یہی فرماتے رہے کہ کبھی جی چاہتا ہے تو تم سے کہہ دیتا ہوں۔ میں وضو کرنے والے چبوترے پر بٹھا کر ان کے ہلکے ہلکے جوتے اتارتا اور انہیں جھولی میں رکھ کر دیوار سے لگ کر بیٹھ جاتا۔ چبوترے سے حضور خود گھسٹ کر صف کی جانب جاتے تھے۔ میں نے صرف ایک مرتبہ انہیں اس طرح جاتے دیکھا تھا اس کے بعد جرأت نہ ہوئی۔ ان کے جوتے اتارنے کے بعد دامن میں منہ چھپا لیتا اور پھر اسی وقت سر اٹھاتا جب وہ میرا نام لے کر یاد فرماتے۔ واپسی پر میں قصبے کی لمبی لمبی گلیوں کا چکر کاٹ کر حویلی کو لوٹتا۔ تو فرماتے ہم جانتے ہیں چنت رام تم ہماری خوشنودی کے لئے قصبہ کی سیر کراتے ہو لیکن ہمیں بڑی تکلیف ہوتی ہے۔ ایک تو تم پر لدا لدا پھرتا ہوں اور مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ ایک ہما ہے دوسرے تمہارا وقت ضائع کرتا ہوں۔ اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی میری زندگی کا نقطۂ عروج ہے اور یہ تکلیف ہی میری حیات کا مرکز ہے۔

اور حضور سے کون کہہ سکتا کہ آقا یہ وقت ہی ایک ہما ہے جس نے اپنا سایہ محض میرے لئے وقف کر دیا ہےجس دن میں نے سکندر نامہ زبانی یاد کر کے انہیں سنایا۔ اس قدر خوش ہوئے گویا ہفت اقلیم کی بادشاہی نصیب ہو گئی۔ دین و دنیا کی ہر دعا سے مجھے مالا مال کیا۔ دستِ شفقت میرے سر پر پھیرا اور جیب سے ایک روپیہ نکال کر انعام دیا۔ میں نے اسے حجرِ اسود جان کر بوسہ دیا۔ آنکھوں سے لگایا اور سکندر کا افسر سمجھ کر پگڑی میں رکھ لیا۔ دونوں ہاتھ اوپر اٹھا کر دعائیں دے رہے تھے اور فرما رہے تھے جو کام ہم سے نہ ہو سکا وہ تو نے کر دکھایا۔ تو نیک ہے خدا نے تجھے یہ سعادت نصیب کی۔ چنت رام تیرا مویشی چرانا پیشہ ہے تُو شاہ بطحا کا پیرو ہے اس لئے خدائے عز و جل تجھے برکت دیتا ہے وہ تجھے اور بھی برکت دے گا۔ تجھے اور کشائش میسر آئے گی”

داؤ جی یہ باتیں کرتے کرتے گھٹنوں پر سر رکھ کر خاموش ہو گئے۔

میرا امتحان قریب آ رہا تھا اور داؤ جی سخت ہوتے جا رہے تھے۔ انہوں نے میرے ہر فارغ وقت پر کوئی نہ کوئی کام پھیلا دیا تھا۔ ایک مضمون سے عہدہ برا ہوتا تو دوسرے کی کتابیں نکال کر سر پر سوار ہو جاتے تھے۔ پانی پینے اٹھتا تو سایہ کی طرح ساتھ ساتھ چلے آتے اور نہیں تو تاریخ کے سن ہی پوچھتے جاتے۔ شام کے وقت سکول پہنچنے کا انہوں نے وطیرہ بنا لیا تھا۔ ایک دن میں سکول کے بڑے دروازے سے نکلنے کی بجائے بورڈنگ کی راہ پر کھسک لیا تو انہوں نے جماعت کے کمرے کے سامنے آ کر بیٹھنا شروع کر دیا۔ میں چڑچڑا اور ضدی ہونے کے علاوہ بد زبان بھی ہو گیا تھا۔ داؤ جی کے بچے، گویا میرا تکیہ کلام بن گیا تھا اور کبھی کبھی جب ان کی یا ان کے سوالات کی سختی بڑھ جاتی تو میں انہیں کتے کہنے سے بھی نہ چوکتا۔ ناراض ہو جاتے تو بس اس قدر کہتے “دیکھ لے ڈومنی تو کیسی باتیں کر رہا ہے۔ تیری بیوی بیاہ کر لاؤں گا تو پہلے اسے یہی بتاؤں گا کہ جانِ پدر یہ تیرے باپ کو کتا کہتا تھا۔ ” میری گالیوں کے بدلے وہ مجھے ڈومنی کہا کرتے تھے۔ اگر انہیں زیادہ دکھ ہوتا تو منہ چڑی ڈومنی کہتے۔ اس سے زیادہ نہ انہیں غصہ آتا تھا نہ دکھ ہوتا تھا۔ میرے اصلی نام سے انہوں نے کبھی نہیں پکارا میرے بڑے بھائی کا ذکر آتا تو بیٹا آفتاب، برخوردار آفتاب کہہ کر انہیں یاد کرتے تھے لیکن میرے ہر روز نئے نئے نام رکھتے تھے۔ جن میں گولو انہیں بہت مرغوب تھا۔ طنبورا دوسرے درجہ پر مسٹر ہونق اور اخفش اسکوائر ان سب کے بعد آتے تھے اور ڈومنی صرف غصہ کی حالت میں۔ کبھی کبھی میں ان کو بہت دق کرتا۔ وہ اپنی چٹائی پر بیٹھے کچھ پڑھ رہے ہیں، مجھے الجبرے کا ایک سوال دے رکھا ہے اور میں سارے جہان کی ابجد کو ضرب دے دے کر تنگ آ چکا ہوں تو میں کاپیوں اور کتابوں کے ڈھیر کو پاؤں سے پرے دھکیل کر اونچے اونچے گانے لگتا۔

تیرے سامنے بیٹھ کے رونا تے دکھ تینوں نیو دسنا

دا ؤ جی حیرانی سے میری طرف دیکھتے تو میں تالیاں بجانے لگتا اور قوالی شروع کر دیتا۔ نیوں نیوں نیوں دسنا۔ تے دکھ تینوں نیوں دسنادسنا دسنا دسناتینوں تینوں تینوں۔ سارے گاما رونا رونا سارے گاما رونا روناتے دیکھ تینوں نیوں دسنا۔ وہ عینک کے اوپر سے مسکراتے۔ میرے پاس آ کر کاپی اٹھاتے، صفحہ نکالتے اور تالیوں کے درمیان اپنا بڑا سا ہاتھ کھڑا کر دیتے۔

“سن بیٹا” وہ بڑی محبت سے کہتے “یہ کوئی مشکل سوال ہے! ” جونہی وہ سوال سمجھانے کے لئے ہاتھ نیچے کرتے میں پھر تالیاں بجانے لگتا۔ “دیکھ پھر، میں تیرا داؤ نہیں ہو؟” وہ بڑے مان سے پوچھتے۔

“نہیں” میں منہ پھاڑ کر کہتا۔

“تو اور کون ہے ؟” وہ مایوس سے ہو جاتے۔

“وہ سچی سرکار” میں انگلی آسمان کی طرف کر کے شرارت سے کہتا۔ وہ سچی سرکار، وہ سب کا پالنے والابول بکرے سب کا والی کون؟”

وہ میرے پاس سے اٹھ کر جانے لگتے تو میں ان کی کمر میں ہاتھ ڈال دیتا “داؤ جی خفا ہو گئے کیا۔” وہ مسکرانے لگتے۔ “چھوڑ طنبورے! چھوڑ بیٹا! میں تو پانی پینے جا رہا تھامجھے پانی تو پی آنے دے۔

میں جھوٹ موٹ برامان کر کہتا۔ “لوجی جب مجھے سوال سمجھنا ہوا داؤ جی کو پانی یاد آگیا۔”

وہ آرام سے بیٹھ جاتے اور کاپی کھول کر کہتے۔ “اخفش اسکوائر جب تجھے چار ایکس کا مربع نظر آ رہا تھا تو تو نے تیسرا فارمولا کیوں نہ لگایا اور اگر ایسا نہ بھی کرتا تو”اور اس کے بعد پتہ نہیں داؤ جی کتنے دن پانی نہ پیتے۔


فروری کے دوسرے ہفتہ کی بات ہے۔ امتحان میں کل ڈیڑھ مہینہ رہ گیا تھا اور مجھ پر آنے والے خطرناک وقت کا خوف بھوت بن کر سوار ہو گیا تھا۔ میں نے خود اپنی پڑھائی پہلے سے تیز کر دی تھی اور کافی سنجیدہ ہو گیا تھا لیکن جیومیٹری کے مسائل میری سمجھ میں نہ آتے تھے۔ داؤ جی نے بہت کوشش کی لیکن بات نہ بنی۔ آخر ایک دن انہوں نے کہا کُل باون پراپوزیشنیں ہیں زبانی یاد کر لے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ چنانچہ میں انہیں رٹنے میں مصروف ہو گیا لیکن جو پراپوزیشن رات کو یاد کرتا صبح کو بھول جاتا۔ میں دل برداشتہ ہو کر ہمت چھوڑ سی بیٹھا۔ ایک رات داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی شکلیں بنوا کر اور مشقیں سن کر اٹھے تو وہ بھی کچھ پریشان سے ہو گئے تھے۔ میں بار بار اٹکا تھا اور انہیں بہت کوفت ہوئی تھی۔ مجھے سونے کی تاکید کر کے وہ اپنے کمرے میں چلے گئے تو میں کاپی پینسل لے کر پھر بیٹھ گیا اور رات کے ڈیڑھ بجے تک لکھ لکھ کر رٹا لگاتا رہا مگر جب کتاب بند کر کے لکھنے لگتا تو چند فقروں کے بعد اٹک جاتا۔ مجھے داؤ جی کا مایوس چہرہ یاد کر کے اور اپنی حالت کا اندازہ کر کے رونا آگیا اور میں باہر صحن میں آ کر سیڑھیوں پر بیٹھ کے سچ مچ رونے لگا، گھٹنوں پر سر رکھے رو رہا تھا اور سردی کی شدت سے کانپ رہا تھا۔ اسی طرح بیٹھے بیٹھے کوئی ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تو میں نے داؤ جی کی عزت بچانے کے لئے یہی ترکیب سوچی کہ ڈیوڑھی کا دروازہ کھول کر چپکے سے نکال جاؤں اور پھر واپس نہ آؤں۔ جب یہ فیصلہ کر چکا اور عملی قدم آگے بڑھانے کے لئے سر اوپر اٹھایا تو داؤ جی کمبل اوڑھے میرے پاس کھڑے تھے۔ انہوں نے مجھے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا تو سسکیوں کا لامتناہی سلسلہ صحن میں پھیل گیا۔ داؤ جی نے میرا سر چوم کر کہا۔ “لے بھئی طنبورے میں تو یوں نہ سمجھتا تھا تو تو بہت ہی کم ہمت نکلا۔” پھر انہوں نے مجھے اپنے ساتھ کمبل میں لپیٹ لیا اور بیٹھک میں لے آئے۔ بستر میں بٹھا کر انہوں نے میرے چاروں طرف رضائی لپیٹی اور خود پاؤں اوپر کر کے کرسی پر بیٹھ گئے۔

انہوں نے کہا “اقلیدس چیز ہی ایسی ہے۔ تو اس کے ہاتھوں یوں نالا ں ہے، میں اس سے اور طرح تنگ ہوا تھا۔ حضرت مولانا کے پاس جبر و مقابلہ اور اقلیدس کی جس قدر کتابیں تھیں انہیں میں اچھی طرح پڑھ کر اپنی کاپیوں پر اتار چکا تھا۔ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس سے الجھن ہوتی۔ میں نے یہ جانا کہ ریاضی کا ماہر ہو گیا ہوں لیکن ایک رات میں اپنی کھاٹ پر پڑا متساوی الساقلین کے ایک مسئلہ پر غور کر رہا تھا کہ بات الجھ گئی۔ میں نے دیا جلا کر شکل بنائی اور اس پر غور کرنے لگا۔ جبر و مقابلہ کی رو سے اس کا جواب ٹھیک آتا تھا لیکن علمِ ہندسہ سے پایۂ ثبوت کو نہ پہنچتا تھا۔ میں ساری رات کاغذ سیاہ کرتا رہا لیکن تیری طرح سے رویا نہیں۔ علی الصبح میں حضرت کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے اپنے دستِ مبارک سے کاغذ پر شکل کھینچ کر سمجھانا شروع کیا لیکن جہاں مجھے الجھن ہوئی تھی وہیں حضرت مولانا کی طبعِ رسا کو بھی کوفت ہوئی۔ فرمانے لگے۔ “چنت رام اب ہم تم کو نہیں پڑھا سکتے۔ جب استاد اور شاگرد کا علم ایک سا ہو جائے تو شاگرد کو کسی اور معلم کی طرف رجوع کرنا چاہئے۔ ” میں نے جرأت کر کے کہہ دیا کہ حضور اگر کوئی اور یہ جملہ کہتا تو میں اسے کفر کے مترادف سمجھتا لیکن آپ کا ہر حرف اور ہر شوشہ میرے لئے حکمِ ربانی سے کم نہیں۔ اس لئے خاموش ہو ں۔ بھلا آقائے غزنوی کے سامنے ایاز کی مجال! لیکن حضور مجھے بہت دکھ ہوا ہے۔ فرمانے لگے “تم بے حد جذباتی آدمی ہو۔ بات تو سن لی ہوتی، میں نے سر جھکا کر کہا ارشاد! فرمایا “دلی میں حکیم ناصر علی سیستانی علمِ ہندسہ کے بڑے ماہر ہیں اگر تم کو اس کا ایسا ہی شوق ہے تو ان کے پاس چلے جاؤ اور اکتسابِ علم کرو۔ ہم ان کے نام رقعہ لکھ دیں گے۔ میں نے رضا مندی ظاہر کی تو فرمایا اپنی والدہ سے پوچھ لینا اگر وہ رضامند ہوں تو ہمارے پاس آناوالدہ مرحومہ سے پوچھا اور ان سے اپنی مرضی کے مطابق جواب پانا انہونی بات تھی۔ چنانچہ میں نے ان سے نہیں پوچھا۔

حضور پوچھتے تو میں دروغ بیانی سے کام لیتا کہ گھر کی لپائی تپائی کر رہا ہوں جب فارغ ہوں گا تو والدہ سے عرض کروں گا۔”

چند ایام بڑے اضطرار کی حالت میں گزرے۔ میں دن رات اس شکل کو حل کرنے کی کوشش کرتا مگر صحیح جواب برآمد نہ ہوتا۔ اس لا ینحل مسئلہ سے طبیعت میں اور انتشار پیدا ہوا۔ میں دلی جانا چاہتا تھا لیکن حضور سے اجازت مل سکتی تھی نہ رقعہ، وہ والدہ کی رضامندی کے بغیر اجازت دینے والے نہ تھے اور والدہ اس بڑھاپا میں کیسے آمادہ ہو سکتی تھیںایک رات جب سارا گاؤں سو رہا تھا اور میں تیری طرح پریشان تھا تو میں نے اپنی والدہ کی پٹاری سے اس کی کل پونجی دو روپے چرائے اور نصف اس کے لئے چھوڑ کر گاؤں سے نکل گیا۔ خدا مجھے معاف کرے اور میرے دونوں بزرگوں کی روحوں کو مجھ پر مہربان رکھے! واقعی میں نے بڑا گناہ کیا اور ابد تک میرا سر ان دونوں کرم فرماؤں کے سامنے ندامت سے جھکا رہے گاگاؤں سے نکل کر میں حضور کی حویلی کے پیچھے ان کی مسند کے پاس پہنچا جہاں بیٹھ کر آپ پڑھاتے تھے۔ گھٹنوں کے بل ہو کر میں نے زمین کو بوسہ دیا اور دل میں کہا۔ “بد قسمت ہوں، بے اجازت جا رہا ہوں لیکن آپ کی دعاؤں کا عمر بھر محتاج رہوں گا۔ میرا قصور معاف نہ کیا تو آ کے قدموں میں جان دے دوں گا۔ اتنا کہہ کر اٹھا اور لاٹھی کندھے پر رکھ کر میں وہاں سے چل دیاسن رہا ہے؟” داؤ جی نے میری طرف غور سے دیکھ کر پوچھا۔

رضائی کے بیچ خارپشت بنے، میں نے آنکھیں جھپکائیں اور ہولے سے کہا۔ “جی؟”

داؤ جی نے پھر کہنا شروع کیا “قدرت نے میری کمال مدد کی۔ ان دنوں جاکھل جنید سرسہ حصار والی پٹڑی بن رہی تھی۔ یہی راستہ سیدھا دلی کو جاتا تھا اور یہیں مزدوری ملتی تھی۔ ایک دن میں مزدوری کرتا اور ایک دن چلتا، اس طرح تائیدِ غیبی کے سہارے سولہ دن میں دلی پہنچ گیا۔ منزل مقصود تو ہاتھ آ گئی تھی لیکن گوہرِ مقصود کا سراغ نہ ملتا تھا۔ جس کسی سے پوچھتا حکیم ناصر علی سیستانی کا دولت خانہ کہاں ہے، نفی میں جواب ملتا۔ دو دن ان کی تلاش جاری رہی لیکن پتہ نہ پا سکا۔ قسمت یاور تھی صحت اچھی تھی۔ انگریزوں کے لئے نئی کوٹھیاں بن رہی تھیں۔ وہاں کام پر جانے لگا۔ شام کو فارغ ہو کر حکیم صاحب کا پتہ معلوم کرتا اور رات کے وقت ایک دھرم شالہ میں کھیس پھینک کر گہری نیند سو جاتا۔ مثل مشہور ہے جوئندہ یابندہ! آخر ایک دن مجھے حکیم صاحب کی جائے رہائش معلوم ہو گئی، وہ پتھر پھوڑوں کے محلہ کی ایک تیرہ و تاریک گلی میں رہتے تھے شام کے وقت میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ ایک چھوٹی سی کوٹھڑی میں فروکش تھے اور چند دوستوں سے اونچے اونچے گفتگو ہو رہی تھی۔ میں جوتے اتار کر دہلیز کے اندر کھڑا ہو گیا۔ ایک صاحب نے پوچھا۔”کون ہے؟” میں نے سلام کر کے کہا۔ “حکیم صاحب سے ملنا ہے۔” حکیم صاحب دوستوں کے حلقہ میں سر جھکائے بیٹھے تھے اور ان کی پشت میری طرف تھی۔ اسی طرح بیٹھے بولے “اسم گرامی” میں نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ “پنجاب سے آیا ہوں اور ” میں بات پوری بھی نہ کرپا یا تھا کہ زور سے بولے “اوہو! چنت رام ہو؟” میں کچھ جواب نہ دے سکا۔ فرمانے لگے۔ “مجھے اسماعیل کا خط ملا ہے لکھتا ہے شاید چنت رام تمہارے پاس آئے۔ ہمیں بتائے بغیر گھر سے فرار ہو گیا ہے اس کی مدد کرنا۔ ” میں اسی طرح خاموش کھڑا رہا تو پاٹ دار آواز میں بولے “میاں اندر آ جاؤ کیا چپ کا روزہ رکھا ہے؟” میں ذرا آگے بڑھا تو بھی میری طرف نہ دیکھا اور ویسے ہی عروسِ نو کی طرح بیٹھے رہے۔ پھر قدرے تحکمانہ انداز میں کہا۔ “برخوردار بیٹھ جاؤ۔ میں وہیں بیٹھ گیا تو اپنے دوستوں سے فرمایا، بھئی ذرا ٹھہرو مجھے اس سے دو دو ہاتھ کر لینے دو۔ پھر حکم ہوا بتاؤ ہندسہ کا کونسا مسئلہ تمہاری سمجھ میں نہیں آتا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے عرض کیا تو انہوں نے اسی طرح کندھوں کی طرف اپنے ہاتھ بڑھائے اور آہستہ آہستہ کُرتا یوں اوپر کھینچ لیا کہ ان کی کمر برہنہ ہو گئی۔ پھر فرمایا۔ “بناؤ اپنی انگلی سے میری کمر پر ایک متساوی الساقین۔” مجھ پر سکتہ کا عالم طاری تھا۔ نہ آگے بڑھنے کی ہمت تھی نہ پیچھے ہٹنے کی طاقت۔ ایک لمحہ کے بعد بولے، میاں جلدی کرو۔ نابینا ہوں۔ کاغذ قلم کچھ نہیں سمجھتا۔ میں ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور ان کی چوڑی چکلی کمر پر ہانپتی ہوئی انگلیوں سے متساوی الساقین بنانے لگا۔ جب وہ غیر مرئی شکل بن چکی تو بولے اب اس نقطہ”س” سے خط “ب ج” پر عمود گراؤ۔ ایک تو میں گھبرایا ہوا تھا دوسرے وہاں کچھ نہ آتا تھا۔ یونہی اٹکل سے میں نے ایک مقام پر انگلی رکھ کر عمود گرانا چاہا تو تیزی سے بولے ہے ہے کیا کرتے ہو یہ نقطہ ہے کیا؟

پھر خود ہی بولے آہستہ آہستہ عادی ہو جاؤ گے۔ وہ بول رہے تھے اور میں مبہوت بیٹھا تھا۔ یوں لگ رہا تھا کہ ابھی ان کے آخری جملے کے ساتھ نور کی لکیر متساوی الساقین بن کر ان کی کمر پر ابھر آئیں گی۔” پھر داؤ جی دلی کے دنوں میں ڈوب گئے۔ ان کی آنکھیں کھلی تھیں وہ میری طرف دیکھ رہے تھے لیکن مجھے نہیں دیکھ رہے تھے۔ میں نے بے چین ہو کر پوچھا۔ “پھر کیا ہوا داؤ جی؟”انہوں نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا “رات بہت گزر چکی ہے اب تو سو جا پھر بتاؤں گا۔” میں ضدی بچے کی طرح ان کے پیچھے پڑ گیا تو انہوں نے کہا۔ “پہلے وعدہ کر کہ آئندہ مایوس نہیں ہو گا اور ان چھوٹی چھوٹی پراپوزیشنوں کو پتاشے سمجھے گا” میں نے جواب دیا۔ “حلوہ سمجھوں گا آپ فکر نہ کریں” انہوں نے کھڑے کھڑے کمبل لپیٹتے ہوئے کہا۔ “بس مختصر یہ کہ میں ایک سال حکیم صاحب کی حضوری میں رہا اور اس بحرِ علم سے چند قطرے حاصل کر کے اپنی کور آنکھوں کو دھویا۔ واپسی پر میں سیدھا اپنے آقا کی خدمت میں پہنچا اور ان کے قدموں پر سر رکھ دیا۔ فرمانے لگے چنت رام اگر ہم میں قوت ہو تو ان پاؤں کو کھینچ لیں۔ اس پر میں رو دیا تو دستِ مبارک محبت سے میرے سر پر پھیر کر کہنے لگے، ہم تم سے ناراض نہیں ہیں لیکن ایک سال کی فرقت بہت طویل ہے۔ آئندہ کہیں جانا ہو تو ہمیں بھی ساتھ لے جانا، یہ کہتے ہوئے داؤ جی کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور وہ مجھے اسی طرح گم سم چھوڑ کر بیٹھک میں چلے گئے۔”


امتحان کی قربت سے میرا خون خشک ہو رہا تھا لیکن جسم پھول رہا تھا۔ داؤ جی کو میرے موٹاپے کی فکر رہنے لگی۔ اکثر میرے تھن متھنے ہاتھ پکڑ کر کہتے۔ “اسپِ تازی بن طویلہ خر نہ بن۔” مجھے ان کا یہ فقرہ بہت ناگوار گزرتا اور میں احتجاجاً ان سے کلام بند کر دیتا۔ میرے مسلسل مرن برت نے بھی ان پر کوئی اثر نہ کیا اور ان کی فکر، اندیشہ کی حد تک بڑھ گئی۔ ایک صبح سیر کو جانے سے پہلے انہوں نے مجھے آ جگایا اور میری منتوں، خوشامدوں، گالیوں اور جھڑکیوں کے باوجود بستر سے اٹھا کوٹ پہنا کر کھڑا کر دیا۔ پھر وہ مجھے بازو سے پکڑ کر گویا گھسیٹتے ہوئے باہر گئے۔ سردیوں کی صبح کوئی چار بجے کا عمل۔ گلی میں آدم نہ آدم زاد، تاریکی سے کچھ بھی دکھائی نہ دیتا تھا اور داؤ جی مجھے اسی طرح سیر کو لے جا رہے تھے۔ میں کچھ بک رہا تھا اور وہ کہہ رہے تھے ابھی گراں خوابی دور نہیں ہوئی ابھی طنبورا بڑبڑا رہا ہے۔ تھوڑے تھوڑے وقفہ کے بعد کہتے کوئی سر نکال طنبورے کی آہنگ پر بجا یہ کیا کر رہا ہے! جب ہم بستی سے دور نکل گئے اور صبح کی یخ ہوا نے میری آنکھوں کو زبردستی کھول دیا تو داؤ جی نے میرا بازو چھوڑ دیا۔ سرداروں کا رہٹ آیا اور نکل گیا۔ ندی آئی اور پیچھے رہ گئی۔ قبرستان گزر گیا مگر داؤ جی تھے کہ کچھ آیتیں ہی پڑھتے چلے جا رہے تھے۔ جب تھبہ پر پہنچے تو میری روح فنا ہو گئی۔ یہاں سے لوگ دوپہر کے وقت بھی نہ گزرتے تھے کیونکہ پرانے زمانے میں یہاں ایک شہر غرق ہو ا تھا۔ مرنے والوں کی روحیں اسی ٹیلے پر رہتی تھیں اور آنے جانے والوں کا کلیجہ چبا جاتی تھیں۔ میں خوف سے کانپنے لگا تو داؤ جی نے میرے گلے کے گرد مفلر اچھی طرح لپیٹ کر کہا۔

سامنے ان دو کیکروں کے درمیان اپنی پوری رفتار سے دس چکر لگاؤ، پھر سو لمبی سانسیں کھینچو اور چھوڑ دو، تب میرے پاس آؤ، میں یہاں بیٹھتا ہوں، میں تھبہ سے جان بچانے کے لئے سیدھا ان کیکروں کی طرف روانہ ہو گیا۔ پہلے ایک بڑے سے ڈھیلے پر بیٹھ کر آرام کیا اور ساتھ ہی حساب لگایا کہ چھ چکروں گا وقت گزر چکا ہو گا، اس کے بعد آہستہ آہستہ اونٹ کی طرح کیکروں کے درمیان دوڑنے لگا اور جب دس یعنی چار چکر پورے ہو گئے تو پھر اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر لمبی لمبی سانسیں کھینچنے لگا۔ ایک تو درخت پر عجیب و غریب قسم کے جانور بولنے لگے تھے دوسرے میری پسلی میں بلا کا درد شروع ہو گیا تھا۔ یہی مناسب سمجھا کہ تھبہ پر جا کر داؤ جی کو سوئے ہوئے اٹھاؤں اور گھر لے جا کر خوب خاطر کروں؟ غصہ سے بھرا اور دہشت سے لرزتا میں ٹیلے کے پاس پہنچا۔ داؤ جی تھبہ کی ٹھیکریوں پر گھٹنوں کے بل گرے ہوئے دیوانوں کی طرح سر مار رہے تھے اور اونچے اونچے اپنا محبوب شعر گار ہے تھے۔

جفا کم کن کہ فردا روزِ محشر
بہ پیشِ عاشقاں شرمندہ باشی!

کبھی دونوں ہتھیلیاں زور سے زمین پر مارتے اور سر اوپر اٹھا کر انگشتِ شہادت فضا میں یوں ہلاتے۔ جیسے کوئی ان کے سامنے کھڑا ہو اور اس سے کہہ رہے ہو دیکھ لو، سوچ لو میں تمہیںمیں تمہیں بتا رہا ہوں سنا رہا ہوںایک دھمکی دئے جاتے تھے۔ پھر تڑپ کر ٹھیکریوں پر گرتے اور جفا کم کن جفا کم کن کہتے ہوئے رونے لگتے۔ تھوڑی دیر میں ساکت و جامد کھڑا رہا اور پھر زور سے چیخ مار کر بجائے قصبہ کی طرف بھاگنے کے پھر کیکروں کی طرف دوڑ گیا۔ داؤ جی ضرور اسمِ اعظم جانتے تھے اور وہ جن قابو کر رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھوں سے ایک جن ان کے سامنے کھڑا دیکھا تھا۔ بالکل الف لیلیٰ با تصویر والا جن تھا۔ جب داؤ جی کا طلسم اس پر نہ چل سکا تو اس نے انہیں نیچے گرا لیا تھا۔ وہ چیخ رہے تھے جفا کم کن جفا کم کن مگر وہ چھوڑتا نہیں تھا۔ میں اسی ڈھیلے پر بیٹھ کر رونے لگاتھوڑی دیر بعد داؤ جی آئے انہوں نے پہلے جیسا چہرہ بنا کر کہا۔ “چل طنبورے” اور میں ڈرتا ڈرتا ان کے پیچھے ہو لیا۔ راستہ میں انہوں نے گلے میں لٹکتی ہوئی کھلی پگڑی کے دونوں کونے ہاتھ میں پکڑ لئے اور جھوم جھوم کر گانے لگے۔

تیرے لمے لمے وال فریدا ٹریا جا!

اس جادو گر کے پیچھے چلتے ہوئے میں نے ان آنکھوں سے واقعی ان آنکھوں سے دیکھا کہ ان کا سر تبدیل ہو گیا۔ ان کی لمبی لمبی زلفیں کندھوں پر جھولنے لگیں اور ان کا سارا وجود جٹا دھاری ہو گیااس کے بعد چاہے کوئی میری بوٹی بوٹی اڑا دیتا، میں ان کے ساتھ سیر کو ہر گز نہ جاتا!

اس واقعہ کے چند ہی دن بعد کا قصہ ہے کہ ہمارے گھر میں مٹی کے بڑے بڑے ڈھیلے اور اینٹوں کے ٹکڑے آ کر گرنے لگے۔ بے بے نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔ کتیا کی بچوں کی طرح داؤ جی سے چمٹ گئی۔ سچ مچ ان سے لپٹ کر گئی اور انہیں دھکا دے کر زمین پر گرا دیا۔ وہ چلا رہی تھی۔ “بڈھے ٹوٹکی یہ سب تیرے منتر ہیں۔ یہ سب تیری خارسی ہے۔ تیرا کالا علم ہے جو الٹا ہمارے سر پر آگیا ہے۔ تیرے پریت میرے گھر میں اینٹیں پھینکتے ہیں۔ اجاڑ مانگتے ہیں۔ موت چاہتے ہیں۔” پھر وہ زور زور سے چیخنے لگی “میں مر گئی، میں جل گئی، لوگوں اس بڈھے نے میرے امی چند کی جان لینے کا سمبندھ کیا ہے۔ مجھ پر جادو کیا ہے اور میرا انگ انگ توڑ دیا ہے۔” امی چند تو داؤ جی کو اپنی زندگی کی طرح عزیز تھا اور اس کی جان کے دشمن بھلا وہ کیونکر ہو سکتے تھے لیکن جنوں کی خشت باری انہیں کی وجہ سے عمل میں آئی تھی۔ جب میں نے بھی بے بے کی تائید کی تو داؤ جی نے زندگی میں پہلی بار مجھے جھڑک کر کہا “تو احمق ہے اور تیری بے بے ام الجاہلینمیری ایک سال کی تعلیم کا یہ اثر ہوا کہ تو جنوں بھوتوں میں اعتقاد کرنے لگا۔ افسوس تو نے مجھے مایوس کر دیا، اے وائے کہ تو شعور کی بجائے عورتوں کے اعتقاد کا غلام نکلا۔ افسوس صد افسوس” بے بے کو اسی طرح چلاتے اور داؤ جی کو یوں کراہتے چھوڑ کر میں اوپر کوٹھے پر دھوپ میں جا بیٹھا اسی دن شام کو جب میں اپنے گھر جا رہا تھا تو راستے میں رانو نے اپنے مخصوص انداز میں آنکھ کانی کر کے پوچھا “بابو تیرے کوئی اینٹ ڈھیلا تو نہیں لگا؟ سنا ہے تمہارے پنڈت کے گھر میں روڑے گرتے ہیں۔”

میں نے اس کمینہ کے منہ لگنا پسند نہ کیا اور چپ چاپ ڈیوڑھی میں داخل ہو گیا۔ رات کے وقت داؤ جی مجھ سے جیومیٹری کی پراپوزیشن سنتے ہوئے پوچھنے لگے “بیٹا کیا تم سچ مچ جن، بھوت یا پری چڑیل کو کوئی مخلوق سمجھتے ہو؟” میں نے اثبات میں جواب دیا تو وہ ہنس پڑے اور بولے واقعی تو بہت بھولا ہے اور میں نے خواہ مخواہ جھڑ ک دیا۔ بھلا تو نے مجھے پہلے کیوں نہ بتایا کہ جن ہوتے ہیں اور اس طرح سے اینٹیں پھینک سکتے ہیں۔ ہم نے جو دلی اور پھتے مزدور کو بلا کر برساتی بنوائی ہے، وہ تیرے کسی جن کو کہہ کر بنوا لیتے لیکن یہ تو بتا کہ جن صرف اینٹیں پھینکنے کا کام ہی کرتے ہیں کہ چنائی بھی کر لیتے ہیں۔” میں نے جل کر کہا “جتنے مذاق چاہو کر لو مگر جس دن سر پھٹے گا اس دن پتہ چلے گا داؤ۔” داؤ جی نے کہا “تیرے جن کی پھینکی ہوئی اینٹ سے تو تا قیامت سر نہیں پھٹ سکتا اس لئے کہ وہ نہ ہے نہ اس سے اینٹ اٹھائی جا سکے گی اور نہ میرے تیرے یا تیری بے بے کے سر میں لگے گی۔”

پھر بولے۔ “سن! علمِ طبعی کا موٹا اصول ہے کہ کوئی مادی شے کسی غیر مادی وجود سے حرکت میں نہیں لائی جا سکتی سمجھ گیا۔”

“سمجھ گیا” میں نے چڑ کر کہا۔

ہمارے قصبہ میں ہائی سکول ضرور تھا لیکن میٹرک کا امتحان کا سنٹر نہ تھا۔ امتحان دینے کے لئے ہمیں ضلع جانا ہوتا تھا۔ چنانچہ وہ صبح آ گئی جس دن ہماری جماعت امتحان دینے کے لئے ضلع جا رہی تھی اور لاری کے ارد گرد والدین قسم کے لوگوں کا ہجوم تھا اور اس ہجوم میں داؤ جی کیسے پیچھے رہ سکتے تھے۔ اور سب لڑکوں کے گھر والے انہیں خیر و برکت کی دعاؤ ں سے نواز رہے تھے اور داؤ جی سارے سال کی پڑھائی کا خلاصہ تیار کر کے جلدی جلدی سوال پوچھ رہے تھے اور میرے ساتھ ساتھ خود ہی جواب دیتے جاتے تھے۔ اکبر کی اصطلاحات سے اچھل کر موسم کے تغیر و تبدل پر پہنچ جاتے وہاں سے پلٹتے تو “اس کے بعد ایک اور بادشاہ آیا کہ اپنی وضع سے ہندو معلوم ہوتا تھا۔ وہ نشہ میں چور تھا ایک صاحبِ جمال اس کا ہاتھ پکڑ کر لے آئی تھی اور جدھر چاہتی تھی پھراتی تھی ” کہہ کر پوچھتے تھے یہ کون تھا؟

“جہانگیر ” میں نے جواب دیا۔ اور وہ عورت۔ “نور جہان” ہم دونوں ایک ساتھ بولے”صفتِ مشبہ اور اسم فاعل میں فرق؟” میں نے دونوں کی تعریفیں بیان کیں۔ بولے مثالیں؟ میں نے مثالیں دیں۔ سب لڑکے لاری میں بیٹھ گئے اور میں ان سے جان چھڑا کر جلدی سے داخل ہوا تو گھوم کر کھڑکی کے پاس آ گئے اور پوچھنے لگے بریک ان اور بیک ان ٹو کو فقروں میں استعمال کرو۔ ان کا استعمال بھی ہو گیا اور موٹر سٹارٹ ہو چلی تو اس کے ساتھ قدم اٹھا کر بولے طنبورے مادیاں گھوڑیاں ماکیاں مرغیمادیاں گھوڑیاںماکیاںایک سال بعد خدا خدا کر کے یہ آواز دور ہوئی اور میں نے آزادی کا سانس لیا!

پہلے دن تاریخ کا پرچہ بہت اچھا ہوا۔ دوسرے دن جغرافیہ کا اس بھی بڑھ کر، تیسرے دن اتوار تھا اور اس کے بعد حساب کی باری تھی۔ اتوار کی صبح کو داؤ جی کا کوئی بیس صفحہ لمبا خط ملا جس میں الجبرے کے فارمولوں اور حساب کے قاعدوں کے علاوہ اور اور کوئی بات نہ تھی۔


حساب کا پرچہ کرنے کے بعد برآمدے میں میں نے لڑکوں سے جوابات ملائے تو سو میں سے اسی نمبر کا پرچہ ٹھیک تھا۔ میں خوشی سے پاگل ہو گیا۔ زمین پر پاؤں نہ پڑتا تھا اور میرے منہ سے مسرت کے نعرے نکل رہے تھے۔ جونہی میں نے برآمدے سے پاؤں باہر رکھا۔ داؤ جی کھیس کندھے پر ڈالے ایک لڑکے کا پرچہ دیکھ رہے تھے۔ میں چیخ مار کر ان سے لپٹ گیا۔ اور اسی نمبر!! اسی نمبر” کے نعرے لگانے شروع کر دیے۔ انہوں نے پرچہ میرے ہاتھ سے چھین کر تلخی سے پوچھا “کون سا سوال غلط ہو گیا؟” میں نے جھوم کر کہا “چار دیواری والا ” جھلا کر بولے “تو نے کھڑکیاں اور دروازے منفی نہ کئے ہوں گے” میں نے ان کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیڑ کی طرح جھلاتے ہوئے کہا “ہاں ہاں جی گولی مارو کھڑکیوں کو ” داؤ جی ڈوبی ہوئی آواز میں بولے “تو نے مجھے برباد کر دیا طنبورے سال کے تین سو پینسٹھ دن میں پکار پکار کر کہتا رہا سطحات کا سوال آنکھیں کھول کر حل کرنا مگر تو نے میری بات نہ مانی۔ بیس نمبر ضائع کئےپورے بیس نمبر۔”

اور داؤ جی کا چہرہ دیکھ کر میری اسی فیصد کامیابی بیس فیصد ناکامی کے نیچے یوں دب گئی گویا اس کا کوئی وجود ہی نہ تھا۔ راستہ بھر وہ اپنے آپ سے کہتے رہے۔ “اگر ممتحن اچھے دل کا ہوا تو دو ایک نمبر تو ضرور دے گا، تیرا باقی حل تو ٹھیک ہے۔” اس پرچے کے بعد داؤ جی امتحان کے آخری دن تک میرے ساتھ رہے۔ وہ رات کے بارہ بجے تک مجھے اس سرائے میں بیٹھ کر پڑھاتے جہاں کلاس مقیم تھی اور اس کے بعد بقول ان کے اپنے ایک دوست کے ہاں چلے جاتے۔ صبح آٹھ بجے پھر آ جاتے اور کمرہ امتحان تک میرے ساتھ چلتے۔

امتحان ختم ہوتے ہی میں نے داؤ جی کو یوں چھوڑ دیا گویا میری ان سے جان پہچان نہ تھی۔ سارا دن دوستوں یاروں کے ساتھ گھومتا اور شام کو ناولیں پڑھا کرتا۔ اس دوران میں اگر کبھی فرصت ملتی تو داؤ جی کو سلام کرنے بھی چلا جاتا۔ وہ اس بات پر مصر تھے کہ میں ہر روز کم از کم ایک گھنٹہ ان کے ساتھ گزاروں تاکہ وہ مجھے کالج کی پڑھائی کے لئے بھی تیار کریں لیکن میں ان کے پھندے میں آنے والا نہ تھا۔ مجھے کالج میں سو بار فیل ہونا گوارا تھا اور ہے لیکن داؤ جی سے پڑھنا منظور نہیں۔ پڑھنے کو چھوڑیئے ان سے باتیں کر نا بھی مشکل تھا۔ میں نے کچھ پوچھا۔ انہوں نے کہا اس کا فارسی میں ترجمہ کرو، میں نے کچھ جواب دیا فرمایا اس کی ترکیب نحوی کرو۔ حوالداروں کی گائے اندر گھس آئی میں اسے لکڑی سے باہر نکال رہا ہوں اور داؤ جی پوچھ رہے ہیں cow ناؤن ہے یا ورب۔ اب ہر عقل کا اندھا پانچویں جماعت پڑھا جانتا ہے کہ گائے اسم ہے مگر داؤ جی فرما رہے ہیں کہ اسم بھی ہے اور فعل بھی۔۔

cow to کا مطلب ہے ڈرانا، دھمکی دینا۔ اور یہ ان دنوں کی باتیں ہیں جب میں امتحان سے فارغ ہو کر نتیجہ کا انتظار کر رہا تھاپھر ایک دن وہ بھی آیا جب ہم چند دوست شکار کھیلنے کے لئے نکلے تو میں نے ان سے درخواست کی کہ منصفی کے آگے سے نہ جائیں کیونکہ وہاں داؤ جی ہوں گے اور مجھے روک کر شکار، بندوق اور کارتوسوں کے محاورے پوچھنے لگیں گے۔ بازار میں دکھائی دیتے تو میں کسی بغلی گلی میں گھس جاتا۔ گھر پر رسماً ملنے جاتا تو بے بے سے زیادہ اور داؤ جی سے کم باتیں کرتا۔ اکثر کہا کرتے۔ افسوس آفتاب کی طرح تو بھی ہمیں فراموش کر رہا ہے۔ میں شرارتاً خیلے خوب خیلے خوب کہہ کر ہنسنے لگتا۔

جس دن نتیجہ نکلا اور ابا جی لڈوؤں کی چھوٹی سی ٹوکری لے کر ان کے گھر گئے۔ داؤ جی سر جھکائے اپنے حصیر میں بیٹھے تھے۔ ابا جی کو دیکھ کر اٹھ کھڑے ہوئے اور اندر سے کرسی اٹھا لائے اور اپنے بوریے کے پاس ڈال کر بولے “ڈاکٹر صاحب آپ کے سامنے شرمندہ ہوں، لیکن اسے بھی مقسوم کی خوبی سمجھئے، میرا خیال تھا کہ اس کی فرسٹ ڈویژن آ جائے گی لیکن اس کی بنیاد کمزور تھی”

“ایک ہی تو نمبر کم ہے۔” میں نے چمک کر بات کاٹی۔ اور وہ میری طرف دیکھ کر بولے “تو نہیں جانتا اس ایک نمبر سے میرا دل دو نیم ہو گیا ہے۔ خیر میں اسے منجانب اللہ خیال کرتا ہوں۔ پھر اباجی اور وہ باتیں کرنے لگے اور میں بے بے کے ساتھ گپیں لڑانے میں مشغول ہو گیا۔

اول اول کالج سے میں داؤ جی کے خطوں کا باقاعدہ جواب دیتا رہا۔ اس کے بعد بے قاعدگی سے لکھنے لگا اور آہستہ آہستہ یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا۔ چھٹیوں میں جب گھر آتا تو جیسے سکول کے دیگر ماسٹروں سے ملتا ویسے ہی داؤ جی کو بھی سلام کر آتا۔ اب وہ مجھ سے سوال وغیرہ نہ پوچھتے تھے۔ کوٹ، پتلون اور ٹائی دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ چارپائی پر بیٹھنے نہ دیتے۔ “اگر مجھے اٹھنے نہیں دیتا تو خود کرسی لے لے” اور میں کرسی کھینچ کر ان کے پاس ڈٹ جاتا۔ کالج لائبریری سے میں جو کتابیں ساتھ لایا کرتا انہیں دیکھنے کی تمنا ضرور کرتے اور میرے وعدے کے باوجود اگلے دن خود ہمارے گھر آ کر کتابیں دیکھ جاتے۔ امی چند بوجوہ کالج چھوڑ کر بنک میں ملازم ہو گیا تھا اور دلی چلا گیا تھا۔ بے بے کی سلائی کا کام بدستور تھا۔ داؤ جی منصفی جاتے تھے لیکن کچھ نہ لاتے تھے۔ بی بی کے خط آتے تھے وہ اپنے گھر میں خوش تھی کالج کی ایک سال کی زندگی نے مجھے داؤ جی سے بہت دور کھینچ لیا۔ وہ لڑکیاں جو دو سال پہلے ہمارے ساتھ آپو ٹاپو کھیلا کرتی تھیں بنت عم بنت بن گئی تھیں۔ سیکنڈ ائیر کے زمانے کی ہر چھٹی میں آپو ٹاپو میں گزارنے کی کوشش کرتا اور کسی حد تک کامیاب بھی ہوتا۔ گھر کی مختصر مسافت کے سامنے ایبٹ آباد کا طویل سفر زیادہ تسکین دہ اور سہانا بن گیا۔

انہی ایام میں میں نے پہلی مرتبہ ایک خوبصورت گلابی پیڈ اور ایسے ہی لفافوں کا ایک پیکٹ خریدا تھا اور ان پر نہ ابا جی کو خط لکھے جا سکتے تھے اور نہ ہی داؤ جی کو۔ نہ دسہرے کی چھٹیوں میں داؤ جی سے ملاقات ہو سکی تھی نہ کرسمس کی تعطیلات میں۔ ایسے ہی ایسٹر گزر گیا اور یوں ہی ایام گزرتے رہےملک کو آزادی ملنے لگی تو کچھ بلوے ہوئے پھر لڑائیاں شروع ہو گئیں۔ ہر طرف سے فسادات کی خبریں آنے لگیں اور اماں نے ہم سب کو گھر بلوا لیا۔ ہمارے لئے یہ بہت محفوظ جگہ تھی۔ بنئے ساہو کار گھر بار چھوڑ کر بھاگ رہے تھے لیکن دوسرے لوگ خاموش تھے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد مہاجرین کی آمد کا سلسلہ شروع ہو گیا اور وہی لوگ یہ خبر لائے کہ آزادی مل گئی! ایک دن ہمارے قصبے میں بھی چند گھروں کو آگ لگی اور دو ناکوں پر سخت لڑائی ہوئی۔ تھانے والے اور ملٹری کے سپاہیوں نے کرفیو لگا دیا اور جب کرفیو ختم ہوا تو سب ہندو سکھ قصبہ چھوڑ کر چل دئے، دوپہر کو اماں جی نے مجھے دا ؤ جی کی خبر لینے بھیجا تو اس جانی پہنچانی گلی میں عجیب و غریب صورتیں نظر آئیں۔ ہمارے گھر یعنی داؤ جی کے گھر کی ڈیوڑھی میں ایک بیل بندھا تھا اور اس کے پیچھے بوری کا پردہ لٹک رہا تھا۔ میں نے گھر آ کر بتایا کہ داؤ جی اور بے بے اپنا گھر چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور یہ کہتے ہوئے میرا گلا رندھ گیا۔ اس دن مجھے یوں لگا جیسے داؤ جی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے چلے گئے ہیں اور لوٹ کر نہ آئیں گے۔ داؤ جی ایسے بے وفا تھے!

کوئی تیسرے روز غروب آفتاب کے بعد جب میں مسجد میں نئے پنا ہ گزینوں کے نام نوٹ کر کے اور کمبل بھجوانے کا وعدہ کر کے اس گلی سے گزرا تو کھلے میدان میں سو دو سو آدمیوں کی بھیڑ جمع دیکھی، مہاجر لڑکے لاٹھیاں پکڑے نعرے لگا رہے تھے اور گالیاں دے رہے تھے۔ میں نے تماشائیوں کو پھاڑ کر مرکز میں گھسنے کی کوشش کی مگر مہاجرین کی خونخوار آنکھیں دیکھ کر سہم گیا۔ ایک لڑکا کسی بزرگ سے کہہ رہا تھا۔

“ساتھ والے گاؤں گیا ہوا تھا جب لوٹا تو اپنے گھر میں گھستا چلا گیا۔”

“کون سے گھر میں؟” بزرگ نے پوچھا۔

“رہتکی مہاجروں کے گھر میں” لڑکے نے کہا۔

“پھر کیا انہوں نے پکڑ لیا۔ دیکھا تو ہندو نکلا۔”

اتنے میں بھیڑ میں سے کسی نے چلا کر کہا۔ “اوئے رانو جلد آ اوئے جلدی آتیری سامیپنڈتتیری سامی۔” رانو بکریوں کا ریوڑ باڑے کی طرف لے جا رہا تھا۔ انہیں روک کر اور ایک لاٹھی والے لڑکے کو ان کے آگے کھڑا کر کے وہ بھیڑ میں گھس گیا۔ میرے دل کو ایک دھکا سا لگا جیسے انہوں نے داؤ جی کو پکڑ لیا ہو۔ میں نے ملزم کو دیکھے بغیر اپنے قریبی لوگوں سے کہا۔

“یہ بڑا اچھا آدمی ہے بڑا نیک آدمی ہےاسے کچھ مت کہویہ تویہ تو” خون میں نہائی ہوئی چند آنکھوں نے میری طرف دیکھا اور ایک نوجوان گنڈاسی تول کر بولا۔

“بتاؤں تجھے بھی آگیا بڑا حمایتی بن کرتیرے ساتھ کچھ ہوا نہیں نا” اور لوگوں نے گالیاں بک کر کہا۔ “انصار ہو گا شاید۔”

میں ڈر کر دوسری جانب بھیڑ میں گھس گیا۔ رانو کی قیادت میں اس کے دوست داؤ جی کو گھیرے کھڑے تھے اور رانو داؤ جی کی ٹھوڑی پکڑ کر ہلا رہا تھا اور پوچھ رہا تھا۔ اب بول بیٹا، اب بول” اور داؤ جی خاموش کھڑے تھے، ایک لڑکے نے پگڑی اتار کر کہا۔ “پہلے بودی کاٹو بودی” اور رانو نے مسواکیں کاٹنے والی درانتی سے داؤ جی کی بودی کاٹ دی۔ وہی لڑکا پھر بولا “بلا دیں جے؟” اور رانو ں نے کہا۔”جانے دو بڈھا ہے، میرے ساتھ بکریاں چرایا کرے گا۔” پھر اس نے داؤ جی کی ٹھوڑی اوپر اٹھاتے ہوئے کہا “کلمہ پڑھ پنڈتا” اور داؤ جی آہستہ سے بولے:

“کون سا؟”

رانو نے ان کے ننگے سر پر ایسا تھپڑ مارا کہ وہ گرتے گرتے بچے اور بولا “سالے کلمے بھی کوئی پانچ سات ہیں!”

جب وہ کلمہ پڑھ چکے تو رانو نے اپنی لاٹھی ان کے ہاتھ میں تھما کر کہا۔”چل بکریاں تیرا انتظار کرتی ہیں۔”

اور ننگے سر داؤ جی بکریوں کے پیچھے پیچھے یوں چلے جیسے لمبے لمبے بالوں والا فریدا چل رہا ہو!۔

EID GAH BY MUNSHI PREEMCHAND

Articles

عید گاہ

منشی پریم چند

عید گاہ

منشی پریم چند

رمضان کے پورے تیس روزوں کے بعد آج عید آئی۔ کتنی سہانی اور رنگین صبح ہے۔ بچے کی طرح پر تبسم درختوں پر کچھ عجیب ہریاول ہے۔ کھیتوں میں کچھ عجیب رونق ہے۔ آسمان پر کچھ عجیب فضا ہے۔ آج کا آفتاب دیکھ کتنا پیارا ہے گویا دُنیا کو عید کی خوشی پر مبارکباد دے رہا ہے۔ گاؤں میں کتنی چہل پہل ہے۔ عید گاہ جانے کی دھوم ہے۔ کسی کے کرتے میں بٹن نہیں ہیں تو سوئی تاگا لینے دوڑے جا رہا ہے۔ کسی کے جوتے سخت ہو گئے ہیں۔ اسے تیل اور پانی سے نرم کر رہا ہے۔ جلدی جلدی بیلوں کو سانی پانی دے دیں۔ عید گاہ سے لوٹتے لوٹتے دوپہر ہو جائے گی۔ تین کوس کا پیدل راستہ پھر سینکڑوں رشتے قرابت والوں سے ملنا ملانا۔ دوپہر سے پہلے لوٹنا غیر ممکن ہے۔ لڑکے سب سے زیادہ خوش ہیں۔ کسی نے ایک روزہ رکھا، وہ بھی دوپہر تک۔ کسی نے وہ بھی نہیں لیکن عید گاہ جانے کی خوشی ان کا حصہ ہے۔ روزے بڑے بوڑھوں کے لئے ہوں گے، بچوں کے لئے تو عید ہے۔ روز عید کا نام رٹتے تھے آج وہ آ گئی۔ اب جلدی پڑی ہوئی ہے کہ عید گاہ کیوں نہیں چلتے۔ انہیں گھر کی فکروں سے کیا واسطہ؟ سویّوں کے لئے گھر میں دودھ اور شکر میوے ہیں یا نہیں، اس کی انہیں کیا فکر؟ وہ کیا جانیں ابا کیوں بدحواس گاؤں کے مہاجن چودھری قاسم علی کے گھر دوڑے جا رہے ہیں، ان کی اپنی جیبوں میں تو قارون کا خزانہ رکھا ہوا ہے۔ بار بار جیب سے خزانہ نکال کر گنتے ہیں۔ دوستوں کو دکھاتے ہیں اور خوش ہو کر رکھ لیتے ہیں۔ ان ہی دو چار پیسوں میں دُنیا کی سات نعمتیں لائیں گے۔ کھلونے اور مٹھائیاں اور بگل اور خدا جانے کیا کیا۔ سب سے زیادہ خوش ہے حامد۔ وہ چار سال کا غریب خوب صورت بچہ ہے، جس کا باپ پچھلے سال ہیضہ کی نذر ہو گیا تھا اور ماں نہ جانے کیوں زرد ہوتی ہوتی ایک دن مر گئی۔ کسی کو پتہ نہ چلا کہ بیماری کیا ہے؟ کہتی کس سے؟ کون سننے والا تھا؟ دل پر جو گزرتی تھی سہتی تھی اور جب نہ سہا گیا تو دُنیا سے رُخصت ہو گئی۔ اب حامد اپنی بوڑھی دادی امینہ کی گود میں سوتا ہے اور اتنا ہی خوش ہے۔ اس کے ابا جان بڑی دُور روپے کمانے گئے تھے اور بہت سی تھیلیاں لے کر آئیں گے۔ امی جان اللہ میاں کے گھر مٹھائی لینے گئی ہیں۔ اس لئے خاموش ہے۔ حامد کے پاؤں میں جوتے نہیں ہیں۔ سر پر ایک پرانی دھرانی ٹوپی ہے جس کا گوٹہ سیاہ ہو گیا ہے پھر بھی وہ خوش ہے۔ جب اس کے ابّا جان تھیلیاں اور اماں جان نعمتیں لے کر آئیں گے تب وہ دل کے ارمان نکالے گا۔ تب دیکھے گا کہ محمود اور محسن آذر اور سمیع کہاں سے اتنے پیسے لاتے ہیں۔ دُنیا میں مصیبتوں کی ساری فوج لے کر آئے، اس کی ایک نگاہِ معصوم اسے پامال کرنے کے لئے کافی ہے۔

حامد اندر جا کر امینہ سے کہتا ہے، “تم ڈرنا نہیں امّاں! میں گاؤں والوں کا ساتھ نہ چھوڑوں گا۔ بالکل نہ ڈرنا لیکن امینہ کا دل نہیں مانتا۔ گاؤں کے بچے اپنے اپنے باپ کے ساتھ جا رہے ہیں۔ حامد کیا اکیلا ہی جائے گا۔ اس بھیڑ بھاڑ میں کہیں کھو جائے تو کیا ہو؟ نہیں امینہ اسے تنہا نہ جانے دے گی۔ ننھی سی جان۔ تین کوس چلے گا تو پاؤں میں چھالے نہ پڑ جائیں گے؟

مگر وہ چلی جائے تو یہاں سوّیاں کون پکائے گا، بھوکا پیاسا دوپہر کو لوٹے گا، کیا اس وقت سوّیاں پکانے بیٹھے گی۔ رونا تو یہ ہے کہ امینہ کے پاس پیسے نہیں ہیں۔ اس نے فہمین کے کپڑے سیے تھے۔ آٹھ آنے پیسے ملے تھے۔ اس اٹھنی کو ایمان کی طرح بچاتی چلی آئی تھی اس عید کے لئے لیکن گھر میں پیسے اور نہ تھے اور گوالن کے پیسے اور چڑھ گئے تھے، دینے پڑے۔ حامد کے لئے روز دو پیسے کا دودھ تو لینا پڑتا ہے اب کُل دو آنے پیسے بچ رہے ہیں۔

سمیع: سنا ہے چودھری صاحب کے قبضہ میں بہت سے جنات ہیں۔ کوئی چیز چوری چلی جائے، چودھری صاحب اس کا پتہ بتا دیں گے اور چور کا نام تک بتا دیں گے۔ جمعراتی کا بچھڑا اس دن کھو گیا تھا۔ تین دن حیران ہوئے، کہیں نہ ملا، تب جھک مار کر چودھری کے پاس گئے۔ چودھری نے کہا، مویشی خانہ میں ہے اور وہیں ملا۔ جنات آ کر انہیں سب خبریں دے جایا کرتے ہیں۔

اب ہر ایک کی سمجھ میں آ گیا کہ چودھری قاسم علی کے پاس کیوں اس قدر دولت ہے اور کیوں وہ قرب و جوار کے مواضعات کے مہاجن ہیں۔ جنات آ کر انہیں روپے دے جاتے ہیں۔ آگے چلئے یہ پولیس لائن ہے۔ یہاں پولیس والے قواعد کرتے ہیں۔ رائٹ لپ، پھام پھو۔

نوری نے تصحیح کی، “یہاں پولیس والے پہرہ دیتے ہیں۔ جب ہی تو انہیں بہت خبر ہے۔ اجی حضرت یہ لوگ چوریاں کراتے ہیں۔ شہر کے جتنے چور ڈاکو ہیں سب ان سے ملے رہتے ہیں۔ رات کو سب ایک محلّہ میں چوروں سے کہتے ہیں اور دوسرے محلّہ میں پکارتے ہیں جاگتے رہو۔ میرے ماموں صاحب ایک تھانہ میں سپاہی ہیں۔ بیس روپے مہینہ پاتے ہیں لیکن تھیلیاں بھر بھر گھر بھیجتے ہیں۔ میں نے ایک بار پوچھا تھا، ماموں اتنے روپے آپ چاہیں تو ایک دن میں لاکھوں بار لائیں۔ ہم تو اتنا ہی لیتے ہیں جس میں اپنی بدنامی نہ ہو اور نوکری بنی رہے۔

حامد نے تعجب سے پوچھا، “یہ لوگ چوری کراتے ہیں تو انہیں کوئی پکڑتا نہیں؟ ” نوری نے اس کی کوتاہ فہمی پر رحم کھا کر کہا، “ارے احمق! انہیں کون پکڑے گا، پکڑنے والے تو یہ خود ہیں لیکن اللہ انہیں سزا بھی خوب دیتا ہے۔ تھوڑے دن ہوئے ماموں کے گھر میں آگ لگ گئی۔ سارا مال متاع جل گیا۔ ایک برتن تک نہ بچا۔ کئی دن تک درخت کے سائے کے نیچے سوئے، اللہ قسم پھر نہ جانے کہاں سے قرض لائے تو برتن بھانڈے آئے۔”

بستی گھنی ہونے لگی۔ عید گاہ جانے والوں کے مجمعے نظر آنے لگے۔ ایک سے ایک زرق برق پوشاک پہنے ہوئے۔ کوئی تانگے پر سوار کوئی موٹر پر چلتے تھے تو کپڑوں سے عطر کی خوشبو اُڑتی تھی۔

دہقانوں کی یہ مختصر سی ٹولی اپنی بے سر و سامانی سے بے حس اپنی خستہ حالی میں مگر صابر و شا کر چلی جاتی تھی۔ جس چیز کی طرف تاکتے تاکتے رہ جاتے اور پیچھے سے بار بار ہارن کی آواز ہونے پر بھی خبر نہ ہوتی تھی۔ محسن تو موٹر کے نیچے جاتے جاتے بچا۔

وہ عید گاہ نظر آئی۔ جماعت شروع ہو گئی ہے۔ املی کے گھنے درختوں کا سایہ ہے نیچے کھلا ہوا پختہ فرش ہے۔ جس پر جاجم بچھا ہوا ہے اور نمازیوں کی قطاریں ایک کے پیچھے دوسرے خدا جانے کہاں تک چلی گئی ہیں۔ پختہ فرش کے نیچے جاجم بھی نہیں۔ کئی قطاریں کھڑی ہیں جو آتے جاتے ہیں پیچھے کھڑے ہوتے جاتے ہیں۔ آگے اب جگہ نہیں رہی۔ یہاں کوئی رُتبہ اور عہدہ نہیں دیکھتا۔ اسلام کی نگاہ میں سب برابر ہیں۔ دہقانوں نے بھی وضو کیا اور جماعت میں شامل ہو گئے۔ کتنی باقاعدہ منظم جماعت ہے، لاکھوں آدمی ایک ساتھ جھکتے ہیں، ایک ساتھ دو زانو بیٹھ جاتے ہیں اور یہ عمل بار بار ہوتا ہے ایسا معلوم ہو رہا ہے گویا بجلی کی لاکھوں بتیاں ایک ساتھ روشن ہو جائیں اور ایک ساتھ بجھ جائیں۔ کتنا پُر احترام رعب انگیز نظارہ ہے۔ جس کی ہم آہنگی اور وسعت اور تعداد دلوں پر ایک وجدانی کیفیت پیدا کر دیتی ہے۔ گویا اخوت کا رشتہ ان تمام روحوں کو منسلک کئے ہوئے ہے۔

نماز ختم ہو گئی ہے لوگ باہم گلے مل رہے ہیں۔ کچھ لوگ محتاجوں اور سائلوں کو خیرات کر رہے ہیں۔ جو آج یہاں ہزاروں جمع ہو گئے ہیں۔ ہمارے دہقانوں نے مٹھائی اور کھلونوں کی دُکانوں پر یورش کی۔ بوڑھے بھی ان دلچسپیوں میں بچوں سے کم نہیں ہیں۔

یہ دیکھو ہنڈولا ہے ایک پیسہ دے کر آسمان پر جاتے معلوم ہوں گے۔ کبھی زمین پر گرتے ہیں یہ چرخی ہے لکڑی کے گھوڑے، اُونٹ، ہاتھی منجوں سے لٹکے ہوئے ہیں۔ ایک پیسہ دے کر بیٹھ جاؤ اور پچیس چکروں کا مزہ لو۔ محمود اور محسن دونوں ہنڈولے پر بیٹھے ہیں۔ آذر اور سمیع گھوڑوں پر۔”


ان کے بزرگ اتنے ہی طفلانہ اشتیاق سے چرخی پر بیٹھے ہیں۔ حامد دور کھڑا ہے تین ہی پیسے تو اس کے پاس ہیں۔ ذرا سا چکر کھانے کے لئے وہ اپنے خزانہ کا ثلث نہیں صَرف کر سکتا۔ محسن کا باپ بار بار اسے چرخی پر بلاتا ہے لیکن وہ راضی نہیں ہوتا۔ بوڑھے کہتے ہیں اس لڑکے میں ابھی سے اپنا پرایا آ گایا ہے۔ حامد سوچتا ہے، کیوں کسی کا احسان لوں؟ عسرت نے اسے ضرورت سے زیادہ ذکی الحس بنا دیا ہے۔ سب لو گ چرخی سے اُترتے ہیں۔ کھلونوں کی خرید شروع ہوتی ہے۔ سپاہی اور گجریا اور راجہ رانی اور وکیل اور دھوبی اور بہشتی بے امتیاز ران سے ران ملائے بیٹھے ہیں۔ دھوبی راجہ رانی کی بغل میں ہے اور بہشتی وکیل صاحب کی بغل میں۔ واہ کتنے خوبصورتبولا ہی چاہتے ہیں۔ محمود سپاہی پر لٹو ہو جاتا ہے خاکی وردی اور پگڑی لال، کندھے پر بندوق، معلوم ہوتا ہے ابھی قواعد کے لئے چلا آ رہا ہے۔ محسن کو بہشتی پسند آیا۔ کمر جھکی ہوئی ہے اس پر مشک کا دہانہ ایک ہاتھ سے پکڑے ہوئے ہے۔ دوسرے ہاتھ میں رسی ہے، کتنا بشاش چہرہ ہے، شاید کوئی گیت گا رہا ہے۔ مشک سے پانی ٹپکتا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ نوری کو وکیل سے مناسبت ہے۔ کتنی عالمانہ صورت ہے، سیاہ چغہ نیچے سفید اچکن، اچکن کے سینہ کی جیب میں سنہری زنجیر، ایک ہاتھ میں قانون کی کتاب لئے ہوئے ہے۔ معلوم ہوتا ہے، ابھی کسی عدالت سے جرح یا بحث کر کے چلے آ رہے ہیں۔ یہ سب دو دو پیسے کے کھلونے ہیں۔ حامد کے پاس کل تین پیسے ہیں۔ اگر دو کا ایک کھلونا لے لے تو پھر اور کیا لے گا؟ نہیں کھلونے فضول ہیں۔ کہیں ہاتھ سے گر پڑے تو چور چور ہو جائے۔ ذرا سا پانی پڑ جائے تو سارا رنگ دُھل جائے۔ ان کھلونوں کو لے کر وہ کیا کرے گا، کس مصرف کے ہیں؟

محسن کہتا ہے، “میرا بہشتی روز پانی دے جائے گا صبح شام۔”

نوری بولی، “اور میرا وکیل روز مقدمے لڑے گا اور روز روپے لائے گا”

حامد کھلونوں کی مذمت کرتا ہے۔ مٹی کے ہی تو ہیں، گریں تو چکنا چور ہو جائیں، لیکن ہر چیز کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھ رہا ہے اور چاہتا ہے کہ ذرا دیر کے لئے انہیں ہاتھ میں لے سکتا۔ یہ بساطی کی دکان ہے، طرح طرح کی ضروری چیزیں، ایک چادر بچھی ہوئی ہے۔ گیند، سیٹیاں، بگل، بھنورے، ربڑ کے کھلونے اور ہزاروں چیزیں۔ محسن ایک سیٹی لیتا ہے محمود گیند، نوری ربڑ کا بت جو چوں چوں کرتا ہے اور سمیع ایک خنجری۔ اسے وہ بجا بجا کر گائے گا۔ حامد کھڑا ہر ایک کو حسرت سے دیکھ رہا ہے۔ جب اس کا رفیق کوئی چیز خرید لیتا ہے تو وہ بڑے اشتیاق سے ایک بار اسے ہاتھ میں لے کر دیکھنے لگتا ہے، لیکن لڑکے اتنے دوست نواز نہیں ہوتے۔ خاص کر جب کہ ابھی دلچسپی تازہ ہے۔ بے چارہ یوں ہی مایوس ہو کر رہ جاتا ہے۔

کھلونوں کے بعد مٹھائیوں کا نمبر آیا، کسی نے ریوڑیاں لی ہیں، کسی نے گلاب جامن، کسی نے سوہن حلوہ۔ مزے سے کھا رہے ہیں۔ حامد ان کی برادری سے خارج ہے۔ کمبخت کی جیب میں تین پیسے تو ہیں، کیوں نہیں کچھ لے کر کھاتا۔ حریص نگاہوں سے سب کی طرف دیکھتا ہے۔

محسن نے کہا، “حامد یہ ریوڑی لے جا کتنی خوشبودار ہیں۔”

حامد سمجھ گیا یہ محض شرارت کہے۔ محسن اتنا فیاض طبع نہ تھا۔ پھر بھی وہ اس کے پاس گیا۔ محسن نے دونے سے دو تین ریوڑیاں نکالیں۔ حامد کی طرف بڑھائیں۔ حامد نے ہاتھ پھیلایا۔ محسن نے ہاتھ کھینچ لیا اور ریوڑیاں اپنے منھ میں رکھ لیں۔ محمود اور نوری اور سمیع خوب تالیاں بجا بجا کر ہنسنے لگے۔ حامد کھسیانہ ہو گیا۔ محسن نے کہا۔

“اچھا اب ضرور دیں گے۔ یہ لے جاؤ۔ اللہ قسم۔”

حامد نے کہا، “رکھیے رکھیےکیا میرے پاس پیسے نہیں ہیں؟”

سمیع بولا، “تین ہی پیسے تو ہیں، کیا کیا لو گے؟”

محمود بولا، “تم اس سے مت بولو، حامد میرے پاس آؤ۔ یہ گلاب جامن لے لو”

حامد: “مٹھائی کون سی بڑی نعمت ہے۔ کتاب میں اس کی برائیاں لکھی ہیں۔”

محسن: لیکن جی میں کہہ رہے ہو گے کہ کچھ مل جائے تو کھا لیں۔ اپنے پیسے کیوں نہیں نکالتے؟” محمود: اس کی ہوشیاری میں سمجھتا ہوں۔ جب ہمارے سارے پیسے خرچ ہو جائیں گے، تب یہ مٹھائی لے گا اور ہمیں چڑا چڑا کر کھائے گا۔

حلوائیوں کی دُکانوں کے آگے کچھ دُکانیں لوہے کی چیزوں کی تھیں کچھ گلٹ اور ملمع کے زیورات کی۔ لڑکوں کے لئے یہاں دلچسپی کا کوئی سامان نہ تھا۔ حامد لوہے کی دُکان پر ایک لمحہ کے لئے رک گیا۔ دست پناہ رکھے ہوئے تھے۔ وہ دست پناہ خرید لے گا۔ ماں کے پاس دست پناہ نہیں ہے۔ توے سے روٹیاں اتارتی ہیں تو ہاتھ جل جاتا ہے۔ اگر وہ دست پناہ لے جا کر اماں کو دے دے تو وہ کتنی خوش ہوں گی۔ پھر ان کی انگلیاں کبھی نہیں جلیں گی، گھر میں ایک کام کی چیز ہو جائے گی۔ کھلونوں سے کیا فائدہ۔ مُفت میں پیسے خراب ہوتے ہیں۔ ذرا دیر ہی تو خوشی ہوتی ہے پھر تو انہیں کوئی آنکھ اُٹھا کر کبھی نہیں دیکھتا۔ یا تو گھر پہنچتے پہنچتے ٹوٹ پھوٹ کر برباد ہو جائیں گے یا چھوٹے بچے جو عید گاہ نہیں جا سکتے ہیں ضد کر کے لے لیں گے اور توڑ ڈالیں گے۔ دست پناہ کتنے فائدہ کی چیز ہے۔ روٹیاں توے سے اُتار لو، چولھے سے آگ نکال کر دے دو۔ اماں کو فرصت کہاں ہے بازار آئیں اور اتنے پیسے کہاں ملتے ہیں۔ روز ہاتھ جلا لیتی ہیں۔ اس کے ساتھی آگے بڑھ گئے ہیں۔ سبیل پر سب کے سب پانی پی رہے ہیں۔ کتنے لالچی ہیں۔ سب نے اتنی مٹھائیاں لیں کسی نے مجھے ایک بھی نہ دی۔ اس پر کہتے ہیں میرے ساتھ کھیلو۔ میری تختی دھو لاؤ۔ اب اگر یہاں محسن نے کوئی کام کرنے کو کہا تو خبر لوں گا، کھائیں مٹھائیآپ ہی منہ سڑے گا، پھوڑے پھنسیاں نکلیں گی۔ آپ ہی زبان چٹوری ہو جائے گی، تب پیسے چرائیں گے اور مار کھائیں گے۔ میری زبان کیوں خراب ہو گی۔ اس نے پھر سوچا، اماں دست پناہ دیکھتے ہی دوڑ کر میرے ہاتھ سے لے لیں گی اور کہیں گی۔ میرا بیٹا اپنی ماں کے لئے دست پناہ لایا ہے، ہزاروں دُعائیں دیں گی۔ پھر اسے پڑوسیوں کو دکھائیں گی۔ سارے گاؤں میں واہ واہ مچ جائے گی۔ ان لوگوں کے کھلونوں پر کون انہیں دُعائیں دے گا۔ بزرگوں کی دُعائیں سیدھی خدا کی درگاہ میں پہنچتی ہیں اور فوراً قبول ہوتی ہیں۔ میرے پاس بہت سے پیسے نہیں ہیں۔ جب ہی تو محسن اور محمود یوں مزاج دکھاتے ہیں۔ میں بھی ان کو مزاج دکھاؤں گا۔ وہ کھلونے کھیلیں، مٹھائیاں کھائیں میں غریب سہی۔ کسی سے کچھ مانگنے تو نہیں جاتا۔ آخر ابا کبھی نہ کبھی آئیں گے ہی پھر ان لوگوں سے پوچھوں گا کتنے کھلونے لو گے؟ ایک ایک کو ایک ٹوکری دوں اور دکھا دوں کہ دوستوں کے ساتھ اس طرح سلوک کیا جاتا ہے۔ جتنے غریب لڑکے ہیں سب کو اچھے اچھے کرتے دلوا دوں گا اور کتابیں دے دوں گا، یہ نہیں کہ ایک پیسہ کی ریوڑیاں لیں تو چڑا چڑا کر کھانے لگیں۔ دست پناہ دیکھ کر سب کے سب ہنسیں گے۔ احمق تو ہیں ہی سب۔ اس نے ڈرتے ڈرتے دُکاندار سے پوچھا، “یہ دست پناہ بیچو گے؟”

دکاندار نے اس کی طرف دیکھا اور ساتھ کوئی آدمی نہ دیکھ کر کہا، وہ تمہارے کام کا نہیں ہے۔

“بکاؤ ہے یا نہیں؟”

“بکاؤ ہے جی اور یہاں کیوں لاد کر لائے ہیں”

“تو بتلاتے کیوں نہیں؟ کے پیسے کا دو گے؟”

“چھ پیسے لگے لگا”

حامد کا دل بیٹھ گیا۔ کلیجہ مضبوط کر کے بولا، تین پیسے لو گے؟ اور آگے بڑھا کہ دُکاندار کی گھرکیاں نہ سنے، مگر دُکاندار نے گھرکیاں نہ دیں۔ دست پناہ اس کی طرف بڑھا دیا اور پیسے لے لئے۔ حامد نے دست پناہ کندھے پر رکھ لیا، گویا بندوق ہے اور شان سے اکڑتا ہوا اپنے رفیقوں کے پاس آیا۔ محسن نے ہنستے ہوئے کہا، “یہ دست پناہ لایا ہے۔ احمق اسے کیا کرو گے؟”

حامد نے دست پناہ کو زمین پر پٹک کر کہا، “ذرا اپنا بہشتی زمین پر گرا دو، ساری پسلیاں چور چور ہو جائیں گی بچو کی”


محمود: “تو یہ دست پناہ کوئی کھلونا ہے؟”

حامد: “کھلونا کیوں نہیں ہے؟ ابھی کندھے پر رکھا، بندوق ہو گیا” ہاتھ میں لے لیا فقیر کا چمٹا ہو گیا، چاہوں تو اس سے تمہاری ناک پکڑ لوں۔ ایک چمٹا دوں تو تم لوگوں کے سارے کھلونوں کی جان نکل جائے۔ تمہارے کھلونے کتنا ہی زور لگائیں، اس کا بال بیکا نہیں کر سکتے۔ میرا بہادر شیر ہے یہ دست پناہ۔”

سمیع متاثر ہو کر بدلا، “میری خنجری سے بدلو گے؟ دو آنے کی ہے”

حامد نے خنجری کی طرف حقارت سے دیکھ کر کہا، “میرا دست پناہ چاہے تو تمہاری خنجری کا پیٹ پھاڑ ڈالے۔ بس ایک چمڑے کی جھلی لگا دی، ڈھب ڈھب بولنے لگی۔ ذرا سا پانی لگے تو ختم ہو جائے۔ میرا بہادر دست پناہ تو آگ میں، پانی میں، آندھی میں، طوفان میں برابر ڈٹا رہے گا۔ میلہ بہت دور پیچھے چھوٹ چکا تھا۔ دس بج رہے تھے۔ گھر پہنچنے کی جلدی تھی۔ اب دست پناہ نہیں مل سکتا تھا۔ اب کسی کے پاس پیسے بھی تو نہیں رہے، حامد ہے بڑا ہوشیار۔ اب دو فریق ہو گئے، محمود، محسن اور نوری ایک طرف، حامد یکہ و تنہا دوسری طرف۔ سمیع غیر جانبدار ہے جس کی فتح دیکھے گا اس کی طرف ہو جائے گا۔ مناظرہ شروع ہو گیا۔ آج حامد کی زبان بڑی صفائی سے چل رہی ہے۔ اتحادِ ثلاثہ اس کے جارحانہ عمل سے پریشان ہو رہا ہے۔ ثلاثہ کے پاس تعداد کی طاقت ہے، حامد کے پاس حق اور اخلاق، ایک طرف مٹی ربڑ اور لکڑی کی چیزیں دوسری جانب اکیلا لوہا جو اس وقت اپنے آپ کو فولاد کہہ رہا ہے۔ وہ روئیں تن ہے صف شکن ہے اگر کہیں شیر کی آواز کان میں آ جائے تو میاں بہشتی کے اوسان خطا ہو جائیں۔ میاں سپاہی مٹکی بندوق چھوڑ کر بھاگیں۔ وکیل صاحب کا سارا قانون پیٹ میں سما جائے۔ چغے میں، منہ میں چھپا کر لیٹ جائیں۔ مگر بہادر یہ رُستمِ ہند لپک کر شیر کی گردن پر سوار ہو جائے گا اور اس کی آنکھیں نکال لے گا۔

محسن نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر کہا، “اچھا تمہارا دست پناہ پانی تو نہیں بھر سکتا۔ حامد نے دست پناہ کو سیدھا کر کے کہا کہ یہ بہشتی کو ایک ڈانٹ پلائے گا تو دوڑا ہوا پانی لا کر اس کے دروازے پر چھڑکنے لگے گا۔ جناب اس سے چاہے گھڑے مٹکے اور کونڈے بھر لو۔

محسن کا ناطقہ بند ہو گیا۔ نوری نے کمک پہنچائی، “بچہ گرفتار ہو جائیں تو عدالت میں بندھے بندھے پھریں گے۔ تب تو ہمارے وکیل صاحب ہی پیروی کریں گے۔ بولئے جناب”

حامد کے پاس اس وار کا دفیعہ اتنا آسان نہ تھا، دفعتاً اس نے ذرا مہلت پا جانے کے ارادے سے پوچھا، “اسے پکڑنے کون آئے گا؟”

محمود نے کہا، “یہ سپاہی بندوق والا”

حامد نے منھ چڑا کر کہا یہ بے چارے اس رستم ہند کو پکڑ لیں گے؟ اچھا لاؤ ابھی ذرا مقابلہ ہو جائے۔ اس کی صورت دیکھتے ہی بچہ کی ماں مر جائے گی، پکڑیں گے کیا بے چارے”

محسن نے تازہ دم ہو کر وار کیا، “تمہارے دست پناہ کا منھ روز آگ میں جلا کر ے گا۔” حامد کے پاس جواب تیار تھا، “آگ میں بہادر کودتے ہیں جناب۔ تمہارے یہ وکیل اور سپاہی اور بہشتی ڈرپوک ہیں۔ سب گھر میں گھس جائیں گے۔ آگ میں کودنا وہ کام ہے جو رُستم ہی کر سکتا ہے۔”

نوری نے انتہائی جدت سے کام لیا، “تمہارا دست پناہ باورچی خانہ میں زمین پر پڑا رہے گا۔ میرا وکیل شان سے میز کرسی لگا کر بیٹھے گا۔ اس جملہ نے مُردوں میں بھی جان ڈال دی، سمیع بھی جیت گیا۔”بے شک بڑے معرکے کی بات کہی، دست پناہ باورچی خانہ میں پڑا رہے گا”

حامد نے دھاندلی کی، میرا دست پناہ باورچی خانہ میں رہے گا، وکیل صاحب کرسی پر بیٹھیں گے تو جا کر انہیں زمین پر پٹک دے گا اور سارا قانون ان کے پیٹ میں ڈال دے گا۔

اس جواب میں بالکل جان نہ تھی، بالکل بے تکی سی بات تھی لیکن قانون پیٹ میں ڈالنے والی بات چھا گئی۔ تینوں سورما منھ تکتے رہ گئے۔ حامد نے میدان جیت لیا، گو ثلاثہ کے پاس ابھی گیند سیٹی اور بت ریزرو تھے مگر ان مشین گنوں کے سامنے ان بزدلوں کو کون پوچھتا ہے۔ دست پناہ رستمِ ہند ہے۔ اس میں کسی کو چوں چرا کی گنجائش نہیں۔”

فاتح کو مفتوحوں سے خوشامد کا مزاج ملتا ہے۔ وہ حامد کو ملنے لگا اور سب نے تین تین آنے خرچ کئے اور کوئی کام کی چیز نہ لا سکے۔ حامد نے تین ہی پیسوں میں رنگ جما لیا۔ کھلونوں کا کیا اعتبار۔ دو ایک دن میں ٹوٹ پھوٹ جائیں گے۔ حامد کا دست پناہ تو فاتح رہے گا۔ ہمیشہ صلح کی شرطیں طے ہونے لگیں۔

محسن نے کہا، “ذرا اپنا چمٹا دو۔ ہم بھی تو دیکھیں۔ تم چاہو تو ہمارا وکیل دیکھ لو حامد! ہمیں اس میں کوئی اعتراض نہیں ہے۔ وہ فیاض طبع فاتح ہے۔ دست پناہ باری باری سے محمود، محسن، نور اور سمیع سب کے ہاتھوں میں گیا اور ان کے کھلونے باری باری حامد کے ہاتھ میں آئے۔ کتنے خوبصورت کھلونے ہیں، معلوم ہوتا ہے بولا ہی چاہتے ہیں۔ مگر ان کھلونوں کے لئے انہیں دُعا کون دے گا؟ کون کون ان کھلونوں کو دیکھ کر اتنا خوش ہو گا جتنا اماں جان دست پناہ کو دیکھ کر ہوں گی۔ اسے اپنے طرزِ عمل پر مطلق پچھتاوا نہیں ہے۔ پھر اب دست پناہ تو ہے اور سب کا بادشاہ۔ راستے میں محمود نے ایک پیسے کی ککڑیاں لیں۔ اس میں حامد کو بھی خراج ملا حالانکہ وہ انکار کرتا رہا۔ محسن اور سمیع نے ایک ایک پیسے کے فالسے لئے، حامد کو خراج ملا۔ یہ سب رستم ہند کی برکت تھی۔

گیارہ بجے سارے گاؤں میں چہل پہل ہو گئی۔ میلے والے آ گئے۔ محسن کی چھوٹی بہن نے دوڑ کر بہشتی اس کے ہاتھ سے چھین لیا اور مارے خوشی جو اچھلی تو میاں بہشتی نیچے آ رہے اور عالمِ جاودانی کو سدھارے۔ اس پر بھائی بہن میں مار پیٹ ہوئی۔ دونوں خوب روئے۔ ان کی اماں جان یہ کہرام سن کر اور بگڑیں۔ دونوں کو اوپر سے دو دو چانٹے رسید کئے۔ میاں نوری کے وکیل صاحب کا حشر اس سے بھی بدتر ہوا۔ وکیل زمین پر یا طاق پرتو نہیں بیٹھ سکتا۔ اس کی پوزیشن کا لحاظ تو کرنا ہی ہو گا۔ دیوار میں دو کھونٹیاں گاڑی گئیں۔ ان پر چیڑ کا ایک پرانا پڑا رکھا گیا۔ پڑے پر سرخ رنگ کا ایک چیتھڑا بچھا دیا گیا جو منزلۂ قالین کا تھا۔ وکیل صاحب عالم بالا پہ جلوہ افروز ہوئے۔ یہیں سے قانونی بحث کریں گے۔ نوری ایک پنکھا لے کر جھلنے لگی۔ معلوم نہیں پنکھے کی ہوا سے یا پنکھے کی چوٹ سے وکیل صاحب عالم بالا سے دُنیائے فانی میں آ رہے۔ اور ان کی مجسمۂ خاکی کے پرزے ہوئے۔ پھر بڑے زور کا ماتم ہوا اور وکیل صاحب کی میت پارسی دستور کے مطابق کوڑے پر پھینک دی گئی تاکہ بے کار نہ جا کر زاغ و زغن کے کام آ جائے۔

اب رہے میاں محمود کے سپاہی۔ وہ محترم اور ذی رُعب ہستی ہے اپنے پیروں چلنے کی ذلت اسے گوارا نہیں۔ محمود نے اپنی بکری کا بچہ پکڑا اور اس پر سپاہی کو سوار کیا۔ محمود کی بہن ایک ہاتھ سے سپاہی کو پکڑے ہوئے تھی اور محمود بکری کے بچہ کا کان پکڑ کر اسے دروازے پر چلا رہا تھا اور اس کے دونوں بھائی سپاہی کی طرف سے “تھونے والے داگتے لہو” پکارتے چلتے تھے۔ معلوم نہیں کیا ہوا، میاں سپاہی اپنے گھوڑے کی پیٹھ سے گر پڑے اور اپنی بندوق لئے زمین پر آ رہے۔ ایک ٹانگ مضروب ہو گئی۔ مگر کوئی مضائقہ نہیں، محمود ہوشیار ڈاکٹر ہے۔ ڈاکٹر نگم اور بھاٹیہ اس کی شاگردی کر سکتے ہیں اور یہ ٹوٹی ٹانگ آناً فاناً میں جوڑ د ے گا۔ صرف گولر کا دودھ چاہئے۔ گولر کا دودھ آتا ہے۔ ٹانگ جوڑی جاتی ہے لیکن جوں ہی کھڑا ہوتا ہے، ٹانگ پھر الگ ہو جاتی ہے۔ عملِ جراحی ناکام ہو جاتا ہے۔ تب محمود اس کی دوسری ٹانگ بھی توڑ دیتا ہے۔ اب وہ آرام سے ایک جگہ بیٹھ سکتا ہے۔ ایک ٹانگ سے تو نہ چل سکتا تھا نہ بیٹھ سکتا تھا۔ اب وہ گوشہ میں بیٹھ کر ٹٹی کی آڑ میں شکار کھیلے گا۔

اب میاں حامد کا قصہ سنئے۔ امینہ اس کی آواز سنتے ہی دوڑی اور اسے گود میں اُٹھا کر پیار کرنے لگی۔ دفعتاً اس کے ہاتھ میں چمٹا دیکھ کر چونک پڑی۔

“یہ دست پناہ کہاں تھا بیٹا؟”

“میں نے مول لیا ہے، تین پیسے میں۔”

امینہ نے چھاتی پیٹ لی۔ “یہ کیسا بے سمجھ لڑکا ہے کہ دوپہر ہو گئی۔ نہ کچھ کھایا نہ پیا۔ لایا کیا یہ دست پناہ۔ سارے میلے میں تجھے اور کوئی چیز نہ ملی۔”

حامد نے خطاوارانہ انداز سے کہا، “تمہاری انگلیاں توے سے جل جاتی تھیں کہ نہیں؟”

امینہ کا غصہ فوراً شفقت میں تبدیل ہو گیا۔ اور شفقت بھی وہ نہیں جو منہ پر بیان ہوتی ہے اور اپنی ساری تاثیر لفظوں میں منتشر کر دیتی ہے۔ یہ بے زبان شفقت تھی۔ دردِ التجا میں ڈوبی ہوئی۔ اُف کتنی نفس کشی ہے۔ کتنی جانسوزی ہے۔ غریب نے اپنے طفلانہ اشتیاق کو روکنے کے لئے کتنا ضبط کیا۔ جب دوسرے لڑکے کھلونے لے رہے ہوں گے، مٹھائیاں کھا رہے ہوں گے، اس کا دل کتنا لہراتا ہو گا۔ اتنا ضبط اس سے ہوا۔ کیونکہ اپنی بوڑھی ماں کی یاد اسے وہاں بھی رہی۔ میرا لال میری کتنی فکر رکھتا ہے۔ اس کے دل میں ایک ایسا جذبہ پیدا ہوا کہ اس کے ہاتھ میں دُنیا کی بادشاہت آ جائے اور وہ اسے حامد کے اوپر نثار کر دے۔

اور تب بڑی دلچسپ بات ہوئی۔ بڑھیا امینہ ننھی سی امینہ بن گئی۔ وہ رونے لگی۔ دامن پھیلا کر حامد کو دُعائیں دیتی جاتی تھی اور آنکھوں سے آنسو کی بڑی بڑی بوندیں گراتی جاتی تھی۔ حامد اس کا راز کیا سمجھتا اور نہ شاید ہمارے بعض ناظرین ہی سمجھ سکیں گے۔


Intekhab e Kalam Ahmad Mushtaq

Articles

انتخابِ کلام احمد مشتاق

احمد مشتاق

احمد مشتاق

غزلیں

وہ لڑکپن کے دن وہ پیار کی دھوپ
چھائوں لگتی تھی رہگذار کی دھوپ

وہ کھلی کھڑکیاں مکانوں کی
دو پہر میں وہ کوے یار کی دھوپ

کنج سورج مکھی کے پھولوں کے
ٹھنڈی ٹھنڈی وہ سبزہ زار کی دھوپ

یہ بھی اک منظر زمینی ہے
خوف کے سائے گیر و دار کی دھوپ

برف چاروں طرف ہے اور دل میں
گل آئندہ اور بہار کی دھوپ

————–

شامِ غم یاد ہے کب شمع جلی یاد نہیں
کب وہ رخصت ہوئے کب رات ڈھلی یاد نہیں

دل سے بہتے ہوئے پانی کی صدا گذری تھی
کب دھندلکا ہوا کب شام ڈھلی یاد نہیں

ٹھنڈے موسم میں پکارا کوئی ہم آتے ہیں
جس میں ہم کھیل رہے تھے وہ گلی یاد نہیں

ان مضافات میں چھپ چھپ کے ہوا چلتی ہے
کیسے کھلتی تھی محبت کی کلی یاد نہیں

جسم و جاں ڈوب گئے خواب فراموشی میں
اب کوئی بات بری ہو کہ بھلی یاد نہیں

———————

دہلیز پہ چاندنی کھڑی ہے
یہ رات کی کونسی گھڑی ہے

جگ بیت گئے مگر وہی شام
اب تک مری یاد میں گڑی ہے

کچھ بھی نہ ستم گروں نے چھوڑا
ہر چیز ملی دلی پڑی ہے

اس زلف سے سلسلہ ہمارا
زنجیر کی آخری کڑی ہے

میں گاوِ زمانہ و زمیں ہوں
دنیا مرے سینگ پر کھڑی ہے

XXX

اسی جزیرۂ جنت نشان ہی میں رہے
ہم اس جہان کے تھے اس جہان ہی میں رہے

زمینیوں کے تھے اپنے مہہ و نجوم بہت
جو آسمان کے تھے آسمان ہی میں رہے

نئی جگہ میں تو سب کچھ سما نہ سکتا تھا
وہ صبح و شام پرانے مکان ہی میں رہے

نہ جانے کون کشش تھی ہوا کی گلیوں میں
کہ نو نیاز پرندے اُڑان ہی میں رہے

جو چار حرف بمشکل زباں تک آئے تھے
تمام عمر امید بیان ہی میں رہے

XXX

بدن نزار ہوا دل ہوا نڈھال مرا
اس آرزو نے تو بھر کس دیا نکال مرا

پلٹ کے بھی نہیں دیکھا پکار بھی نہ سنی
رہا جواب سے محروم ہر سوال مرا

جہاں اٹھانے ہیں سو رنج ایک یہ بھی سہی
سنبھال خود کو مرے دل نہ کر خیال مرا

وہ زلف باد صبا بھی تھی جس کی باج گزار
اسی کے قرض میں جکڑا ہے بال بال مرا

خزاں میں بھی وہی رونق ہے جو بہار میں تھی
نہیں نشاط سے کم مرتبہ ملال مرا

XXX

منہ سوئے فلک ہے بھونکتا ہوں
آوازِ سگانِ بے نوا ہوں

یاروں کو ضیافتیں مبارک
میں ایسی غذا پہ تھوکتا ہوں

پروانہ بھی آپ شمع بھی آپ
اور بزم سے دور جل رہا ہوں

مجھ سے نہ الجھ ہوائے دنیا
میں دل کی زمین سے اُگا ہوں

دنیا سے بھی ہے دلی تعلق
دل کا بھی مزاج آشنا ہوں

ہاتھوں پہ اٹھائے چاند کی لاش
تاروں کے غروب تک گیا ہوں

ہیں ابروِ ہوا گواہ میرے
سورج کے پڑوس میں رہا ہوں

صحرائے طلب کے ساربانو
خوابوں سے لدا ہوا کھڑا ہوں

بس موجِ خیال یار تھم جا
ساحل کے قریب آگیا ہوں

XXX

لفظوں کے سراب سے نکل جا
کاغذ کے عذاب سے نکل جا

افسانۂ حسن ختم پر ہے
افسونِ شباب سے نکل جا

میں دل کی طرف پلٹ رہا ہوں
دنیا مرے خواب سے نکل جا

مت ریجھ فریب کار دل پر
اس شہرِ خراب سے نکل جا

اے رمز شناس مہر و مہتاب
اس آب و تراب کے نکل جا

XXX

دل میں کہیں سراغِ نشاط و الم نہیں
گو شور بھی بہت ہے خموشی بھی کم نہیں

جو اک سوال تھا مرے لب پر کہاں گیا
مجھ کو تر ے جواب نہ دینے کا غم نہیں

اپنائیت تو وہ کہ محبت بھی ہو نثار
بے گانگی تو یہ کہ مروّت بہم نہیں
میلے لگے ہوئے تھے اسی دل کے آس پاس
اب دور دور تک کوئی نقش قدم نہیں

XXX

مرے اندر کوئی شئے مائل فریاد رہتی ہے
مقیّد ہے مگر ہر بند سے آزاد رہتی ہے

جہاں دل تھا کبھی سایا نظر آتا ہے اب دل کا
جہاں آنسو رہے اب آنسووں کی یاد رہتی ہے

مرے نا کام دل اک عمر ہوتی ہے تمنا کی
نہ پھر وہ شوق رہتا ہے نہ استعداد رہتی ہے

XXX

کیا شب ہجر تھی سویر لگی
چاند کو ڈوبنے میں دیر لگی

XXX

 

Story of Pen by Achariya Atre

Articles

قلم کی لکھی کہانی

اچاریہ اَترے

قلم کی لکھی کہانی

مصنف: اچاریہ اَترے
مراٹھی سے ترجمہ : پروفیسر صاحب علی

میز پر چاندی کے شمع دان میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی۔بہت خوبصورت موم بتی تھی وہ۔ اس کا رنگ گلابی تھا، اس کا قد لمبا اور نازک تھا۔ اس کے گاو دم  پرکجلائی ہوئی سیاہ بتی خوب زیب دیتی تھی۔
اسے لگتا تھا سارے کمرے میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں۔
سامنے دیوار پر لگے ہوئے آئینے میں اسے اپنا چہرہ دکھائی دیتا۔ گھنٹوں وہ اپنا روپ نہارتی رہتی۔
اس کے قریب ہی کانچ کی ایک خوبصورت سی دوات اور ایک منقش قلم رکھا ہوا تھا۔ لیکن ان سے وہ موم بتی کبھی بات تک نہ کرتی۔ سارا وقت اپنی اکڑ میں رہتی۔ قریب کی کھڑکی سے دھوپ کمرے میں آتی۔ دھوپ کو دیکھ کر
کانچ کی دوات اور چاندی کے قلم کو بڑی خوشی ہوتی۔ ان کے چہرے خوشی

سے چمکنے لگتے۔ اس بات پر موم بتی کو اُن پر بہت غصہ آتا۔ ’’سورج کو دیکھ کر تمھیں اتنی خوشی کیوں ہوتی ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
ایک بار اس نے چڑ کر کہا۔ ’’ایسا کون سا بڑا راجا ہے وہ!‘‘ کہے بغیر اس سے رہا نہ جاتا۔

’’راجا ہی ہے وہ‘‘ دوات بولتی۔ ’’اس کے جتنا بڑا راجا دنیا میں کوئی دوسرا
ہے ہی کون؟‘‘
’’واہ رے راجا‘‘ موم بتی نے کہا ’’ایک چھوٹا سا بادل بھی اسے ڈھانک سکتاہے۔ کبھی آرام نہیں کرسکتا، کبھی دیر سے نہیں آسکتا۔ ایک نوکر کی طرح
سارے کام مقررہ وقت پر ہی کرنے پڑتے ہیں اسے۔ اور رات میں منہ کالا
کرکے رفو چکّر ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں ایک دن
اسے اپنے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردوں گی۔‘‘دوات اور قلم نے کچھ نہیں کہا۔ اور وہ جواب دیتے بھی تو کیا دیتے؟ ایک دن نوکر کمرہ صاف کرنے آیا تو اس نے میز کو اٹھا کر کھڑکی کے قریب رکھ دیا۔ اس وجہ سے باہر سے آنے والی سورج کی دھوپ پوری میز پر چھا گئی۔ موم بتی کا دھوپ میں بیٹھنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔
تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اسے کچھ عجیب سا لگنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ
اسے چکر سا آرہا ہے۔
قریب ہی دوات اور قلم خوشی سے چمک رہے تھے۔
موم بتی کا سرخ چہرہ دیکھ کر دوات نے کہا ’ ’کیوں بھئی؟ تمھارا چہرہ ایسا
کیوں نظر آرہا ہے؟ لگتا ہے تمھیں گرمی لگ رہی ہے۔ ذرا ٹھہرو، ابھی کوئی
بادل آکر سورج کو ڈھانک لے گا اور تھوڑی ٹھنڈک محسوس ہوگی۔‘‘’’تم سے کسی نے کچھ پوچھا؟‘‘ موم بتی نے کہا ’’بی اماں میں اتنی نازک نہیں۔ پوچھ رہی ہو گرمی تو نہیں ہورہی؟ مجھے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ سورج میرا کیا بگاڑ لے گا؟‘‘دھوپ تیز ہونے لگی۔ اب موم بتی سے اس کی تپش سہن نہیں ہورہی تھی۔ اسے سچ مچ چکر آنے لگا اور ایک لخت اس نے اپنی گردن نیچے ڈال دی۔
دوات کو ٹھونگا لگاتے ہوئے قلم نے کہا ’’یہ دیکھو!  موم بتی کو کیا
ہوگیاہے؟‘‘ ’’ہاں سچ مچ! یا خدا اس کی کیا حالت ہوگئی ہے، مجھے لگ ہی رہا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔‘‘ ’’ایسا لگ رہا ہے سورج کو نمسکار کر رہی ہے۔‘‘ قلم من ہی من ہنس کر بُدبُدایا۔
تھوڑی ہی دیر میں نوکر اندر آیا۔ اس نے ایک نظر ڈال کر موم بتی کو دیکھا اور
اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
’’ختم ہوگئی بے چاری کی زندگی‘‘ دوات نے کہا۔
’’اب میں اس پر کہانی لکھوں گا‘‘ قلم نے بڑھ کر کہا
قلم نے کہانی لکھی
وہی کہانی ہے یہ۔

Urdu Nazm and Zafar Gorakhpuri by K.H. Aqib

Articles

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

خان حسنین عاقبؔ

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

 

ما قبل ِ آزادی نیز ما بعد ِ آزادی ، دونوں ادوار میں شمالی ہند نے اردو ادب و شعر کی سر پرستی کی ہے۔ ما قبل ِ آزادی شمالی ہند میں سیاسی استحکام اور حکمرانوں کا ادبی ذوق اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ما بعد ِ آزادی ، دو تین دہا ئیوں تک تو معاملہ ٹھیک ٹھاک اور حسبِ سابق رہا لیکن گذشتہ تین چار دہا ئیوں سے ریاستی حکومتوں کی دورُخی پا لیسیوں نے اکثر جگہوں سے اردو کو عملاً ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن اردو شعر و ادب اپنی رفتار سے ترقی کر تا رہا۔ خصوصا ً غزل نے نت نئے گوشوں کو تلاش کیا۔ لیکن آج مجھے بات نظم پر کرنی ہے اسلئے غزل کا ذکر نہیں کروں گا۔ اگر میں براہ ِ راست بات کروں اور کسی رسمی تمہید سے کام نہ لوں تومجھے کہنا یہ ہے کہ اردو نظم نے اپنی ابتدا سے لے کر اب تک جتنا بھی فاصلہ طے کیا ہے، اور یہ آج جہاں آکر کھڑی ہے، اس مقام سے آگے بھی کئی مقام آ نے ابھی باقی ہیں کہ زمانہ تغیرات سے عبارت ہے۔ لیکن آج تک یہ جہاں آن کھڑی ہوئی ہے، اس میں جن جن شعرا نے اپنا الگ راستہ بنا یا ہے ان میں ظفر ؔ گورکھپوری کا نام ابتدائی فہرست میں رکھا جائے گا۔ ظفر گورکھپوری، زبیرؔ رضوی، محمد علوی، ندا فاضلی وغیرہم ہمارے عہد کے ایسے نمائندہ بزرگ شعراء ہیں )جنہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے )جو اردو شعر و ادب میں نظم کی نئی روشوں (جدتوں) اور تازہ کار لہجوں کے امین ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے جدید اردو نظم کی دلداری کی اور اس کی عکا سی بھی کی ہے۔
اگر ادب و شعر کو مقصدیت سے نتھی کر دیا جائے تو بقول ِ افلا طون، ’’ادب برائے زندگی اور جمالیات خاص طور پر اخلاقیات اور فلسفہ کے ماتحت ہے۔‘‘ اسی بات کو مغربی نقاد وِنٹرس (Winters) نے کہا تھا۔ “poetry is a statement in words about a human experience.” یعنی شاعری نام ہے انسانی تجربات کو الفاظ میں بیان کر نے کا۔ غالب ؔ بھی کہا ں پیچھے رہنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا ؎
ما نہ بودیم بدیں مر تبہ راضی غالبؔ
شعر خود خواہش ِ آں کرد کہ گر دد فنِ ما۔
ظفرؔ کی شاعری مندرجہ بالا ضابطوں کی پابند شاعری ہے۔ نئے عہد نے زندگی کو جتنے پہلوؤں سے بر تا ہے، ان سے کئی گنا زیادہ موضوعات شاعری کے دامن میں آن گرے ہیں۔ اکثر شعراء نے موضوعات پر ہاتھ ڈالا ہے لیکن ظفر ؔ نے جس خوش سلیقگی سے ان مو ضوعات کے جدید نظم کے حوالوں کے ساتھ اپنی فکر اور اظہار کا محور بنایا ہے، وہ بے مثل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور اسلو بیاتی اور محاکاتی رنگا رنگی اپنی ضو فشانی اور اپنا وجود منوانے پر تُلی نظر آتی ہیں۔ ظفرؔ کی نظم گوئی کا آغاز ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند نظم کے زیر ِ اثر ہوا لیکن انہوں نے میرا جی اور ن۔م۔راشد جیسے نظم گویوں کے قبیلے کی رکنیت سے از خود انکار کیااور صرف ’خود کے لئے کہی گئی ‘ مبہم اور ادق الفہم نظموں کی تقلید سے پر ہیز کیا۔ انہوں نے اصطلاحی جماعت بندیوں اور جدیدیت اور ما بعد ِ جدیدیت وغیرہ جیسے از کار رفتہ مفروضات سے بھی دانستہ اجتناب برتتے ہوئے زمانے کو اپنے شعور اور احساس کی آنکھوں سے دیکھا اور پرکھا ہے۔اسلام میں عقیدتاً اور رسما ً ، بہ ہر دو طور، ہر کام اللہ کی حمد و ثناء اور دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ظفر ؔ اپنے انفرادی لہجے میں دعا کر تے ہیں جو ان کی ایک نظم کا عنوان ہے۔
خدائے بر تر و بالا
ترا ممنون ہوں۔ کیا کیا عطا کیں نعمتیں تونے
مری اوقات سے بھی کچھ زیادہ دے دیا مجھ کو
مگر
میں ایسا خود غرض ،نا شکر و نا فرماں
کہ سب کچھ پاکے بھی نا مطمئن ٹہرا
مرے لالچ نے
مٹی ، دھوپ، پانی
ثمر، دریا، ہوائیں، پیڑ
سب کو قتل کر ڈالا۔
شاعر کا لہجہ اسے کہاں لے جارہا ہے۔ اس کا تخاطب تو لازماً خدا ہے، لیکن شاعر اپنی بات ، اپنے ذاتی مفاد کی بات نہیں کر رہا ہے، بلکہ وہ سماجی سروکار کی بات کر رہا ہے جو ایک شاعر کا سب سے مقدس فریضہ ہوتا ہے۔بنی نوع انسان کی نمائندگی کر تے ہوئے شاعر اعتراف کر رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی عدم توازن کا مجرم ہے جسے اس کی غرض مندی نے بگاڑدیا ہے۔ وہ توضیح کر تا ہے۔
مرے الفاظ مصنوعی ہیں سارے
میں ہر پہچان اپنی کھو چکا ہوں
نہ چہرہ ہے، نہ آنکھیں
دماغ اکثر یہ مجھ سے پوچھتا ہے
کیا حقیقت میں وہی ہوں میں؟
فرشتوں نے جسے سجدے کئے تھے
نہیں۔۔ میں وہ نہیں ہوں۔
اور پھر آخر ِ میں وہ اللہ سے دعا مانگتا ہے۔
خدائے بر تر و بالا
مرے تاریک ۔ خالی۔۔ خود گزیدہ
سرد سینے کو
عطا کر آگ
اس کو درد کی خوشبو سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کر دے۔
یہی شاعر کی فکری جہت ہوتی ہے جسے وہ اپنے عقیدے تک بھی کھینچ لاتا ہے۔ یہ اس کا عالمی کر ب ہے جو دعا کے توسط سے اس کے قلم سے نکل کر کاغذ پر بہہ نکلتا ہے۔ اور پھر شاعر اپنے لئے کیا مانگ رہا ہے؟ کچھ نہیں۔اگر کچھ مانگ رہا ہے تو انسان کا انسان ہونا۔ جو مشکل ہے۔ آج ایک جانور کا انسان ہونا آسان نظر آتا ہے لیکن ایک انسان کا انسان ہونا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ یہی کرب ظفر ؔ سے یہ دعا کر واتا ہے جس پر تمام علم کے انسان آمین کہنے سے نہیں ہچلچائیں گے۔ یہی ایک جدید طرزِ اظہار کا خاصہ ہو تا ہے۔ ظفر ؔ کا دکھ بھی کو ئی انفرادی اور ذاتی دکھ نہیں ہے۔ اس کا تصور اسے کہاں کہاں کی سیر کرواتا ہے۔ ایک نظم ’’ تری بے چین آنکھوں کے پرے‘‘ کا یہ حصہ دیکھئے۔
’’دکانیں ، لال ٹینیں، اونگھتے سائے، ڈبل روٹی
سلگتے گوشت کی خوشبو
دھنسا ہوا چہرہ، مہینے بھر کی داڑھی
پھٹی جیبوں کی میلی سی قمیصیں
سنیما گھر کے آگے پوسٹر پر قہقہوں کی
دھول بر ساتا ہوا پاگل
کنارِ آب ننھی مچھلیاں کھاتا ہوا بگلا
محاذ ِ جنگ پر مارے گئے فوجی کی محبوبہ
میں کیا بتلاؤں، تیری گول سی سپنوں بھری
بے چین آنکھوں کے پرے
کیا کیا دیکھتا ہوں۔‘‘
یہ ایسی شاعری ہے جو کسی طور اپنے ماحول، اپنے اِرد گِرد سے بے خبر نہیں رہتی۔ شاعر جب اپنے مخاطب کی بے چین آنکھوں کے پرے جھانکتا ہے تو اسے اپنے تجربات یاد آجاتے ہیں۔ اسے اپنے مشاہدات کے درشن ہوتے ہیں۔ وہ اُن بے چین آنکھوں کی جمالیاتی تشریح کر نے کے بجائے ان کے پرے نکل جاتا ہے، اور اسے اپنا دکانوں کے سامنے سے گزرنا یاد آجاتاہے جہاں اس نے لال ٹینوں کی روشنی میں کچھ اونگھتے سائے دیکھے تھے۔ سلگتے گوشت کی خوشبو، دھنسا ہوا چہرہ اور مہینے بھر کی داڑھی، یہ علامات معاشی احتیاج کی نشاندہی کر تی ہیں۔ کنار ِ آب ننھی مچھلیاں، اور ان مچھلیوں کو اپنی غذا بناتا ہوا ایک بگلا، یہ محض ایک خوبصورت فطری منظر نہیں ہے بلکہ سر مایہ دارانہ نظام کا اعلامیہ ہے۔یہاں اس بات کا اعادہ غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ جدید اردو نظم کی ہیئت اور اسلوب مغرب سے بر آمد کر دہ ہیں۔ اس لئے اردومیں اسے لسانی تاثر کی originalityکے ساتھ برتنا کمال ہے۔ ظفر ؔ کی شاعری کا اختصاص یہی ہے کہ وہ ظاہری محاکات کے حوالوں سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی پر قادر ہیں۔ ’اسٹیٹس سمبل‘ ظفر ؔ کی ایسی ہی نظم ہے جو معاشرتی منافقت hypocricy کی عمدہ عکاسی کر تی ہے۔ اس نظم کا اختتامیہ بے حد چونکا دینے والا ہے۔
’’کلب، ڈنر اور ڈانس کی رسیا
صارف کلچر کی مخلوق
ننھی شبنم، ننھے بیج سے
اک بار یہ پوچھے
سر کیسے اونچا ہوتا ہے
عزت کیسے ملتی ہے
کیا شئے ہے اسٹیٹس سمبل؟
اب کوئی بتا ئے کہ یہ ننھی شبنم ، ننھے بیج کے استعارے کس کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور شاعر ان استعاروں کے ذریعے کس سے مخاطب ہو رہا ہے اور وہ کن معاشرتی اکا ئیوں پر طنز کر رہا ہے۔ یہی ظفرؔ کی نظموں کا خاصہ ہے۔ ان کے تخیل نے یک لخت شہری زندگی کی منافقانہ رَوِشوں کی جانب سے اپنی فکر کے عدسہ Lenseکا رُخ فطرت کی طرف موڑتے ہوئے ننھی شبنم اور ننھے بیج کی جانب کر دیا اور نئے سر مایہ دارانہ رویوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ بقول فریدوں مشیریؔ ؎
در کجای ٔ ایں فضائے تنگ ، بے آواز من کبوتر ہائے شعرم را دہم پر واز
ظفر کی شاعری اس لحاظ سے بھی منفرد کہلائے جانے کی مستحق ہے کہ یہ اپنے فوری ماحول سے متاثر ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ چاہے وہ ماحول مکانی لحاظ سے قریب ہو یا بعید۔ یعنی مقامی ہو یا عالمی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ ہر صورت میں شاعر اس ماحول کے خلاف مزاحمت کر تا دکھائی دیتا ہے، وہ بھی ایسی مزاحمت جیسی فلسطینی لوگ اسرائیلی غاصبوں کے خلاف کر تے ہیں۔ اور شاعر اسے اپنا فرض تصور کر تا ہے۔ ظفر ؔ کی نظم ’ٹکراؤ‘ کا اختتامیہ دیکھئے۔
’’ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
پھر لڑیں گے
تو جگ مگ شہر
میں سادہ سا شہری۔۔ دیہاتی سا کچھ
اگر مجھ کو ہرا پائے ، ہرا دینا
ابھی تک تو ہرا پایا نہیں ہے
مجھے اپنا بنا پایا نہیں ہے۔ ‘‘
نظم کا یہ حصہ صاف بتاتا ہے کہ شاعر بہ آسانی ’ سَرِ تسلیم خم ‘کرنے کا یعنی submission کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ ایک عظییم آبادی والے ، چو بیس گھنٹے مصروف رہنے والے شہر کا حصہ بن تو گیا ہے لیکن واقعتا وہ ایسے ہی علیحدہ ہے جیسے ہندوستان کے جغرافیائی نقشے میں سری لنکا۔ لیکن اسے فخر ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور اپنی اقدار سے اب بھی مر بوط ہے۔ مزاحمتی رویے کی ایک اور مثال ، ایک اور منظر ، نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں دکھائی دیتا ہے۔
میں بارش ہوں
مری بوندیں خدا کی پھیلی پھیلی اس زمیں پر
کہیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں
تمہارا کیا ہے؟
تم کون ہو؟
ہوا کو ، پانیوں کو کاٹنے والے
زمین و آسماں کو بانٹنے والے
مجھے زنجیر پہناؤ گے
مجھ کو روک پاؤ گے؟
بہت کمزور ہو تم
ہار جاؤ گے!
ایسے احتجاجی اور مزاحمتی رویوں کا آغازشعر و ادب میں ، نیز خصو صا ً جدید نظم میں مغرب کے زیر ِ اثر ہوا۔ گو ، ان رویوں کا آغاز ترقی یافتہ ممالک سے ہوا لیکن ترقی پذیر مما لک میں کو ئی ملک ایسا نہیں رہا جو ان رویوں سے براہِ راست متا ثر نہ ہوا ہو۔ چاہے وہ افریقہ کی aparthied تحریک ہو یا ایشیاء میں ترقی پسند تحریک۔ کلاسیکیت کی دیوانی فارسی شاعری بھی اس سے دامن نہ بچاسکی۔ احمد شاملو کی جدید نظم کے تئیں وابستگی ملا حظے کی شئے ہے۔
’’درخت ِ تناور
امسال
چہ میوہ خواہد داد
تا پرندگاں را
بہ قفس نیاز نہ ماند؟؟
(نظم ، ’’تا بستان‘‘ مجموعہ ۔ ابراہیم و آتش۔ احمد شاملو)
ظفر ؔ نے اپنی مندرجہ بالا نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں شاعرانہ تعلی سے کام لیتے ہوئے خود کو بارش کے استعارے کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن مقصدیت کے لحاظ سے آخر ِ کار، ما حول میں موجود انسانی وسائل کی کِرم خوردہ ذہنیت کے خلاف اس کے احتجاج اور مزاحمت کا عندیہ بہت واضح ہے۔ان کے یہاں معاشرتی عدم توازن، مزاحمت اور احتجاج کی لے َ تیز ضرور ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ظفر ؔ کی شاعری میں زمانی اعتبار سے حال کا بیان زیادہ ہے اور ان کی تمثیلات، استعارے اور محاکات نسبتا ً وا ضح ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’بے حا صل‘ کا یہ ٹکڑا دیکھئے۔
’’۔۔۔
بھول بھال کر گلی تمہاری
کانکریٹ کی پکی اور
تپتی سڑک پر ہانپ رہا ہوں
اور ابھی کتنا چلنا ہے؟
اِدھر اُدھر سے دھوپ اُٹھاکر
اپنے سفر کی لمبائی میں ناپ رہا ہوں
وقت کے ساتھ سفر کا شوق!‘‘
ظفر ؔ کے یہاں نئی تہذیب کی عیاریاں ان کے جمالیاتی شعور romantic sense کا پیچھا نہیں چھو ڑ تیں۔اس نظم میں وہ معشوق کی گلی بھول کر اپنے سفر کو نئی تہذیب اور نئی ضروریات سے ہم آہنگ کر تے ہیںاور عشق کے کیف آور تصور سے نکل کر موجودہ زمانے کی تلخ سچائیوں کی رزم گاہ میں آن پہنچتے ہیںاور پھر کانکریٹ کی پکی اور تپتی ہوئی سڑک ، دھوپ کی شدت اور سفر کی مسافت کا توشہ دان ساتھ رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ظفر ؔ کو ایک جانب شہری زندگی کی ہماہمی سے شکایت ہے وہیں وہ پرانی صحت مند اقدار کی گم گشتگی کا نوحہ بھی کر رہے ہیں۔جب ہم ان کی شاعری کے دروازے پر اس حوالے سے دستک دیتے ہیں تو ان کی واقعاتی اور موضوعاتی نظمیں بے حد خوش سلیقگی سے ہمارا استقبال کر تی ہیں۔ اس خصوص میں ان کی نظم ’مرے چراغوں کو دفن کردو‘ ایسے قبیل کی نظم ہے جو ماضی اور حال دونوں زمانوں کی اقدار کا تقابل کر تی ہے۔
’’ اصول ، اونچے وِچار
حق گوئی
اور دیانت
چراغ کیا کیا
دئے تھے دادا نے باپ کو
باپ نے یہ ورثہ مجھے تھمایا
اور اب بڑھاپے میں، میں نے چاہا
کہ سارا وِرثہ ، چراغ سارے میں
اپنے بچوں کو سونپ دوں
مر سکوں، سُکوں سے ۔۔۔۔‘‘
یہاں تک شاعر کا ایقان اپنی اگلی نسل پر قائم نظر آتا ہے لیکن جیسے جیسے نظم proceed کر تی ہے، یہ ایقان ، کامل بے اعتباری اور حسرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’’بہت چالاک ہیں میرے بچے
وہ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں’ڈیڈی‘
یہ ساری چیزیں، یہ ٹمٹماتے چراغ سارے
بہت پرانے ہیں
اب ان سے کیا روشنی ملے گی؟
۔۔۔۔۔
کچھ اور ہے آج کی یہ دنیا
یہ وہ نہیں ہے کہ جس میں کھولی تھیں تم نے آنکھیں۔۔۔‘‘
یہ نظم نہیں ہے ، ظفرؔ کا شخصی کرب ہے۔ یہ ایسی کوفت کا اظہار ہے جو شاعر کو مسلسل اضطراب میں رکھتی ہے اور اس کرب و گھٹن سے تنگ آکر آخر ِ کار ’ سرِ تسلیم خم ہے‘ کی بے چارگی بھری و مصلحت آمیز کیفیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ وہ اپنے ایقان کو submit کر دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ
’تو میرے بچو !
نئے زمانے میں جینے والو!
بلند دیواروں ، اونچی چھتوں کے نیچے، نئے کھلونوں کے ساتھ
مصنوعی زندگی راس آئے تم کو
مرے چراغوں کو میرے ہمراہ دفن کردو
اندھیری دنیا تمہیں مبارک !!!
ہر شاعر کے نزدیک ماضی کی ایک الگ اہمیت اور افادیت ہوتی ہے۔ اس ماضی کو انگریزی میں nostalgia کہتے ہیں جو شاعر کا سر مایۂ شعر ہوتا ہے۔ پھر یہ ظفر ؔ کا ساتھ کیسے چھوڑ دیتا؟ ان کی نظم ’چھوٹا ہوا ہاتھ‘ ملا حظہ کیجئے۔
’’تمہارا ہاتھ تھا بابا !
تھی میرے ہاتھ میں انگلی تمہاری
تمہارے اونچے کاندھوں سے ڈھلک کر
تمہاری صاف ستھری بے شکن چادر کا کونا
مجھے رہ رہ کے چھوتا تھا
کہ مجھ سے راستے کی گرد نہ آکر لپٹ جائے
تمہارا ساتھ تھا با با !
خدا منھ سے تمہارے بولتا تھا
سچ بولو
کہ سچ سورج ہے باطن کا
محبت ایک دولت ہے۔ ۔۔‘‘
اور اکثر شاعروں کے ساتھ مصیبت یہ ہوتی ہے کہ شام ہوتے ہی یا پھر تنہائی کی چادر پھیلتے ہی ان کا یہ nostalgia عود کر آتا ہے اور انہیں ماضی کے گلیاروں کی سیر کر واتا ہے جِسے وہ اپنے رجحان کے مطابق اپنی شاعری میں نظم کر تے ہیں۔بقول فِراقؔ ؎
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
میں نے اوپر جس نظم کا حوالہ درج کیا ہے ، اس میںظفر ؔ کو کسی محبوبہ یا اپنی محبت کے بجائے ایک مشفق اور مربی کر دار کی یاد آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شاعر کا خیال ، اس کا تخیل محترم ہوجاتا ہے اور اس کی ہر بات شخصِ مذکور کی کر دار سازی کر رہی ہوتی ہے۔اپنے بچپن کا بیان، بابا کا والہانہ ذکر اور پھر ان کی اعلی اقدار پر مبنی نصیحت ، اس نظم کے مبادیاتی اجزاء ہیں۔
یو ں کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ ظفر ؔ زندگی کی صدا قتوں کی شاعر ہیں؟ وہ بے معنی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اپنی اسی عنوان کی نظم ’زندگی با معنی ہے‘ میں وہ یہی پیغام دیتے ہیں۔
’ہاتھ نہ آئے ستارہ
ہاتھ نہ آئے جزیرہ
لیکن ان کے پانے ، ان کو چھونے ، ان کے پاس جانے کا
جو اک سنگھرش ہے
وہ زندہ رہنا چاہئے
اک اسی سنگھرش سے
زندگی میں کچھ نہ کچھ مفہوم ہے
زندگی با معنی ہے۔‘
ظفر ؔ کی نظم بے سمت اور بے رُخ خیالات اور موضوعات کے ہمراہ نہیں چلتی۔ وہ بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ اپنے خیالات کو خلق کر تے ہیں۔اور پھر انہی خیالات کے آٹے سے شعر کی روٹی تیار کر تے ہیں۔ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل ہونے کو اپنا بڑا کار نامہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن ظفرؔ اس اکیسویں صدی کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ اس لئے وہ اس اکیسویں صدی سے مخا طب ہو کر کہہ اٹھتے ہیں۔
میں نہیں کہتا تو مری خاطر
آسماں اک نیا فراہم کر
جی سکوں میں زمیں پہ عزت سے
ایسی آب و ہو ا فراہم کر
یعنی شاعر کا ادراک اس واقعے سے اچھی طرح واقف ہے کہ اکیسویں صدی میں کو ئی اگر ایسی ہوا ، ایسا ماحول ہی فراہم کر دے کہ انسان، بلکہ بنی نوع انسان عزت سے اپنی بچی کھچی سانسیں لے کر اپنا رخت ِ سفر باندھ سکے، تو یہی غنیمت ہے۔ لیکن وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا جارہا ہے ، یہ امید ، نا امیدی میں بدلتی جارہی ہے۔
ظفر ؔ کی نظموں میں طرزِ اظہار کی خوبصورتی ، ترسیل و ابلاغ کی منزلوں سے گزرتے ہوئے محاکات کی جدت و ندرت کے نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ میں ان کی نظموں سے کچھ حوالے دے رہا ہوں۔ آپ مکمل نظمیں پڑھے بغیر بھی ان کا مزہ تو لے سکیں گے لیکن اگر مکمل متن پڑھیں گے تو یہ سہ آتشہ ہو جائے گا۔
’ میں اپنی سرخ صبحوں
سبز شاموں
سانولی راتوں کی لاشوں پر کھڑا ہوں
۔۔۔۔۔
ہنسے کوئی تو اس کے شوخ غنچے میرے ہونٹوں میں
چمک اٹھیں
۔۔۔
سرد سینے کو عطا کر آگ
اس کو درد سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کردے
( نظم : دُعا)
تو میرے ساتھ ہے لیکن
میں تیرے پاس ابھی آیا نہیں ہوں
میں زندہ ذہن ہوں
سایہ نہیں ہوں
( نظم : تری بے چین آنکھوں کے پرے)
کہ یہ دھیان کی سیڑھیاں ٹوٹ جائیں گی سب
چاندنی آگ کی جھیل بن جائے گی
اور میں۔۔۔۔کرب کی کالی دیوار میں
چُن دیا جاؤں گا
(نظم : کرب کی کالی دیوار)
پُل ، مینار، سفینہ، پانی
سب ڈوبیں گے ساتھ
کاش کہ لمبے ہو جاتے
تیری یادوں کے ہاتھ۔۔۔
(نظم : غر قابی سے پہلے)
وہ آس کے پاؤں میں بجلی کی جو پازیب تھی
گھٹا کا آنکھ میں جو سُر مہ تھا
ماتھے پر تھا جھومر چاند کا
کہاں کھو آئی دنیا؟
یہ دنیا خوبصورت تھی
یہ بد صورت ہوئی کیسے، خدایا؟
(نظم : یہ دنیا خوبصورت تھی)
ہوا سا وقت اُڑا جارہا تھا اور منظر
دُھنی کپاس کی مانند ٹوٹ کر بکھرا
(نظم : دوڑ)
وہ دیواریںجو آندھی اور بارش سے کبھی محفوظ رہنے کے لئے
میں نے بنائی تھیں
انہیں خود توڑ دیتا ہوں
کسی ویرانے میں
اپنے خدا کو میں اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔
(نظم : جب کوئی نیا موسم)
غرض ظفر ؔ کی نظموں میں لفظیات، علامات، لہجہ اور جدید تشبیہات و استعارات کی تناظر میں بھی تنوع اور وارفتگی پائی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

memories of Shamsur Rahman Farooqi

Articles

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

شمس الرحمن فاروقی

 

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

مجھے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی بہت سی باتیں یاد ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ میں اس وقت وہاں پڑھنے گیا تھا جب میری عمر کم تھی، اور اس عمر کی باتیں انسان اکثر یاد رکھتا ہے۔ میں ویزلی ہائی اسکول (Wesley High School)اعظم گڑھ (اب انٹر کالج) میں پڑھنے گیا تھا (1943ئ) تو اس وقت میری عمر اور بھی کم تھی ، یعنی اس وقت میں صرف آٹھ سال کا تھا ۔ لیکن وہاں کی باتیں مجھے اتنی یاد نہیں جتنی جارج اسلامیہ کی باتیں۔ لہٰذا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جارج اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبہ میں متعدد ایسے تھے جنھیں آسانی سے بھلایا نہیں جاسکتا۔
میں نے ۹۴۹۱ءمیں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول (اب انٹر کالج) گورکھپور سے ہائی اسکول پاس کیا اور نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی میرانام میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج کے گیارہویں درجے میں لکھوادیا گیا۔ لیکن یہ میری اور جارج اسلامیہ کالج کی پہلی ملاقات نہ تھی ۔ گذشتہ سال جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا ، میں نے جارج اسلامیہ کالج میں مضمون نویسی اور فی البدیہ تقریر کے مقابلوں میں تیسرا انعام ( مضمون نویسی) اور خاص انعام ( فی البدیہ تقریر) حاصل کیا تھا۔ مجھے دو کتابیں انعام میں ملیں۔ ایک تو جوش صاحب کا چھوٹا سا ، لیکن مجلد مجموعہ ”شاعر کی راتیں“ تھا اور دوسرا تیغ الہٰ آبادی ( بعد میں مصطفی زیدی) کا اتنا ہی چھوٹا سا غیرمجلد مجموعہ تھا ”روشنی“ ۔ تیغ صاحب کا مجموعہ مجھے اس زمانے میں بھی بہت چھچھلا معلوم ہوا ، بلکہ خدا اور مذہب پر ان کے حملے چھچھورپن اور رکاکت سے مملو معلوم ہوئے ۔ مجھے اس مجموعے کے بہت سے شعر یاد ہیں، اور ان کے بارے میں میری اب بھی یہی رائے ہے۔ جوش صاحب کی کتاب مجھے نسبتاً زیادہ ”شاعرانہ“ معلوم ہوئی اور اس کے بھی بہت سے شعر مجھے اب تک یاد ہیں ۔ تیغ صاحب کی کتاب اب میرے پاس نہیں، لیکن ”شاعر کی راتیں“ خوش قسمتی سے محفوظ ہے۔ اس پر 6 فروری ، 1949ءکی تاریخ پڑی ہے، اور یہ بھی درج ہے کہ میں نے اسے دوسرے دن ختم کرلیا تھا۔
کالج میں جو مضامین مجھے پڑھنے پڑے ان میں انگریزی چھوڑ کرکسی سے بھی مجھے کچھ لگاﺅ نہ تھا۔ انگریزی کے استاد جناب غلام مصطفی خاں رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی ، تبحر علمی ، پھر اچھے طالب علموں سے دلچسپی اور مسلسل ہمت افزائی کے ذریعہ چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کوبھی انھوں نے ہمیشہ تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ میں اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا تھا۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ اور باریک بینی سے مملو ہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔ رشیدی صاحب بہت عمدہ شاعر بھی تھے اور یہاں بھی ان کی مثال میرے لیے رہنمائی کاکام کرتی تھی۔
رشیدی صاحب کے بہت سے شعر مجھے یاد ہیں۔وہ غزل اور نظم دونوں کہتے تھے،اور نظموں میں ان کی طویل نظم ”سراپا“کے بہت چرچے تھے،لیکن وہ طالب علموں کے سامنے ،یاعام محفلوں میں یہ نظم نہ سناتے تھے کہ اس میں کئی شعروں میں تکلف اور احتیاط کا دامن چھوڑ کر معشوق کے بدن کا بیان اور اس کے حسن کی ثنا کی گئی تھی۔میری زندگی کے یادگار دنوں میں ایک دن وہ ہے جب مسعود اختر جمال کسی مشاعرے میں گورکھپور آئے تھے۔ان سے میری اور میرے ایک دوست کی کچھ ملاقات تھی۔ہم لوگ انھیں راضی کرکے اپنے یہاں لے آئے اور جمال صاحب کے وعدے کا سہارا لے کر رشیدی صاحب کو اور گورکھپور کے مشہور شاعر ہندی گورکھپوری کو بھی بلا لائے۔یہ ان بزرگوں کی طالب علم نوازی اور ادب دوستی تھی کہ تینوں بے حیل وحجت تشریف لے آئے اور ہم لوگوں نے دیر تک ان کا کلام سنا ۔ ہندی صاحب نے کیا سنایا،افسوس کہ یہ مجھے یاد نہیں،لیکن جمال صاحب نے میری درخواست پر اپنی مشہور طویل نظم ”صبح بنارس“ بڑے دلنشیں دھیمے ترنم سے سنائی تھی۔مجھے کچھ شعر پہلے سے یاد تھے اور اب بھی یاد ہیں۔نظم شروع ہوتی تھی ،ع
صبح بنارس گنگا کنارے
ایک بند تھا
دلکش منظر حد نظر تک
حد نظر تک دلکش منظر
جنبش لہروں میں ہلکی سی
جیسے فسوں بر لب ہو فسوں گر
رشیدی صاحب نے ہم لوگوں کی درخواست پر ”سراپا“سنائی،لیکن اکثر شعرپھر بھی چھوڑ دئیے ،اور مزاج کی شائستگی دیکھئے کہ انھوں نے کبھی ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر نہ کہا،بلکہ ہمیشہ جمال صاحب یا ہندی صاحب سے کہتے، ”یہاں بہت سے شعر چھوٹتے ہیں۔“جو شعر انھوں نے سنائے ان میں سے کچھ مجھے یاد رہ گئے مندرجہ ذیل شعر کے روشن اور لطیف جنسی پیکر مجھے اب بھی بے نظیر لگتے ہیں
سینے سے ہے کلائی روشن وادی شانہ شانے سے
گورے سے گورے عضو بدن میں صبح کف پا عام نہیں
نظم کئی بحروں میں تھی ،اور ہر بند میں کئی شعر تھے۔ایک یہ شعر بھی اب تک میرے دل میں سنسنی پیدا کردیتا ہے ۔
آکاش سے تارے چن لاﺅں لمحوں کو ابد میں ضم کردوں
تم اپنی زباں سے کہہ تو دو پھر کوشش آدم کیا کہئے
افسوس کے اب وہ تینوں اللہ کو پیارے ہوچکے۔ان جیسے شرافت کے پتلے ،حسن خلق اور خوش لباسی کے مجسمے اب کہاں دیکھنے کو ملیں گے۔تینوں شیروانی اور چوڑی مہری کے پاجاموں میں ملبوس ،تینوں کے ہونٹوں پر پان کی سرخی، چہرے پر متین تبسم کی جھلک ۔رشیدی صاحب چھوٹے قد کے اور گورے تھے،ہندی صاحب بھی پستہ قد لیکن سونولے تھے اور تاریک شیشوں کی عینک لگاتے تھے۔مسعود اختر جمال اچھے ہاتھ پاﺅں کے اور گندم گوں تھے۔تینوں کی پیشانیاں شرافت کے نور سے روشن تھیں۔رشیدی صاحب نے شادی نہیں کی تھی۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ رنگین مزاج اور حسن پرست ہیں،لیکن مدت مدید کے نیاز مندانہ اور شاگردانہ مراسم میں مجھے ان کی کوئی بات شرافت اور متانت سے سر مو متجاوز نہیں دکھائی دی۔
رشدی صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان کے مجرد رہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عشق میں ناکام رہے تھے۔ممکن ہے ایسا ہی ہو،لیکن ان کے کلام میں عشق کی سچی گرمی تھی اور مضامین کی کیفیت عشق میں ناکامی سے زیادہ محبوب کی بے وفائی کا پتہ دیتی تھی ۔وہ میرا لڑکپن تھا،مطالعہ اور فہم دونوں ہی محدود تھے اور عمر بھی ایسی کہ ہر دلکش کلام فوراً متاثر کرتا تھا۔یہ وہ دن تھے جب جدید شعرا میں مجھے جذبی اور ساحر کا تقریباًسارا کلام ،اور حفیظ جالندھری اور مجاز کا بہت سا کلام یاد تھا۔لہٰذا اس زمانے میں رشیدی صاحب کے کلام سے متاثر ہونا کوئی خاص بات نہ تھی ۔لیکن آج بھی،نصف صدی سے کچھ زیادہ مدت گذر جانے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ عشق کی گرمی اور معشوق کی بے وفائی کا تجربہ رشیدی صاحب کی غزل میں بے نظیر بانکپن اورمحزونی کے ساتھ ادا ہوا۔
یہی بہت کہ میں غائبانہ جبین عجز بچھا سکوں
تراسنگ در تو مرا نہیں کہ وہیں پہ سر کو جھکا سکوں
ہے ملاحتوں کا وہ حال جس پہ صباحتیں بھی نثار ہیں
میں تجھے بھی اپنی نگاہوں سے ترا حسن کاش دکھا سکوں
یہی آرزو ہے رشید یا کہ میں خاک ہونے سے پہلے اب
وہی زندگی وہی صحبتیں کبھی ایک بار تو پاسکوں
٪٪٪٪٪
انداز و اشارات و کنایات نہیں ہیں
آنکھوں کے سوالات و جوابات نہیں ہیں
نظریں ہیں ابھی تک وہی پیمانہ¿ رقصاں
پر پینے پلانے کے اشارات نہیں ہیں
اب تک اسی خاموشی ناطق کے ہیں جلوے
اس نطق میں لیکن وہ خیالات نہیں ہیں
جھک جاتی ہیں اب بھی کبھی ملنے پہ نگاہیں
لیکن وہ محبت کے حجابات نہیں ہیں
٪٪٪٪٪
نگاہیں کہہ رہی تھیں کچھ یکایک خامشی کیوں ہے
یہ دامان نوازش میں شکن آلودگی کیوں ہے
شکایت ہو کہ نفرت ہو کوئی انداز ہو لیکن
تمھیں ترک تعلق پر بھی یہ وابستگی کیوں ہے
٪٪٪٪٪
پیمانہ ¿رقصاں ،پینے پلانے کے اشارات،خاموشی ناطق،دامان نوازش میں شکن آلودگی ،بھلا مجاز اور اختر شیرانی اس سے بہتر کیا کہتے ؟اور تمام اشعار ،خاص کر پہلی غزل کی روانی اور کیفیت ،اور اس کے ساتھ دوسرے شعر کا مضمون،اعلیٰ درجے کی شاعری ضمانت ہیں۔رشیدی صاحب کو چھپنے چھپانے یا مشاعرہ پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسلامیہ کالج کے مشاعروں اور سالانہ میگزین میں وہ ضرور نظر آتے تھے۔کاش کوئی اللہ کا بندہ ان کا کلام وہاں سے جمع کرکے شائع کردیتا۔
انگریزی کے دوسرے استاد ایک مدراسی (غالباً تامل بولنے والے)عیسائی مسٹرپی۔آئی۔کورئین(P.I. Kurien)تھے کورئین صاحب مدراسی لہجے میں انگریزی بولتے تھے جو ہم لوگوں کے لئے انوکھا اور ساتھ ہی ساتھ مرعوب کن تھا،کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ان کا لہجہ اہلِ زبان جیسا ہے۔ اس زمانے میں مدراس (آج کے چنئی) میں انگریزی اس کثرت سے بولی جاتی تھی کہ ہم سب اسے وہاں کی دوسری زبان سمجھتے تھے، اور یہ غلط نہ تھا ۔ یہ اور بات کہ مدراسیوں کا انگریزی لہجہ اہلِ زبان کی طرح بالکل نہ تھا، لیکن یہ بات ہم لوگ اس وقت کہاں سمجھ سکتے تھے۔ بہرحال ، کورئین صاحب چند مہینے بعد سینٹ اینڈروز کالج (St. Andrew’s College) چلے گئے۔ وہاں ایم۔اے ۔ تک پڑھائی ہوتی تھی اور وہ گورکھپور کا نہایت قدیمی اور مہتم بالشان کالج تھا۔ مجنوں صاحب بھی وہیں اردو اور انگریزی پڑھاتے تھے۔ ہم لوگ کورئین صاحب سے اس بناپر بھی مرعوب ہوئے کہ انھیں بی۔اے۔ پڑھانے کے لائق سمجھا گیا، لیکن رشیدی صاحب کی بات ہی اور تھی۔
ہمارے پرنسپل حامد علی خاں صاحب دبلے پتلے نہایت کم سخن تھے اور دھیمی آواز میں گفتگو کرتے تھے لیکن ناراض ہوجائیں تو ڈانٹ بھی دیا کرتے ۔ انھوں نے کچھ دن ہم لوگوں کو الگ سے انگریزی صرف و نحو وغیرہ پڑھائی۔
اردو کے اساتذہ میں منظور علی صاحب کی نستعلیق صورت ، عمدہ شیروانی، منجھی ہوئی آواز اور باوقار رکھ رکھاﺅ سے لگتا تھا کہ وہ کسی بڑی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ شمس الآفاق صاحب شمس اردو کے دوسرے استاد تھے ۔ وہ منظور صاحب کے مقابلے ذرا کم بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔ شیروانی اور بڑے پائینچوں کا پاجامہ وہ بھی پہنتے تھے۔ یہ لباس ان پر بھلا لگتا تھا۔ دیگر استادوں کی طرح شمس الآفاق صاحب بھی مجھ پر مہربان تھے۔ ایک بار میرے ایک افسانے کی انھوں نے بہت تعریف کی تھی۔
سائنس سے مجھے کوئی لگاﺅ نہ تھا لیکن کیمسٹری کی لیبوریٹری سے اٹھنے والی پراسرار بدبوئیں مجھے ہمیشہ ان تقریباً مخبوط الحواس سائنس دانوں(Mad Scientists)کی یاد لائی تھیں جواس زمانے میں کئی انگریزی اور ایک آدھ اردو افسانوں میں نظر آتے تھے۔لطف یہ کہ کیمسٹری کے لکچرر صاحب(وہ بھی شاید کوئی مدراسی تھے،لیکن ہندو)کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے سائنٹسٹ ہوتے لیکن ایک بار بڑے حادثے کا شکار ہوگئے۔کہا جاتا تھا کہ وہ کیمسٹری کا کوئی بہت مشکل اور عالمانہ تجربہ کررہے تھے جس میں طرح طرح کی گیسیں بروئے کار لائی جاتی تھیں۔ان گیسوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جنھوں نے ان کے دماغ پر اثر ڈالا اور وہ نیم مخبوط الحواس ہوگئے۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی بہت بڑی یونیورسٹی میں ہونے کے بجائے گورکھپور کے ایک چھوٹے سے انٹر کالج ہی میں لکچرر ہوسکے تھے۔حقیقت کیا تھی ،یہ تو خدا ہی جانے لیکن ایک بار ان کا غصہ میں نے بھی دیکھا تھا۔وہ سب لڑکوں کو بھگاتے ہوئے لیبوریٹری کے باہر تک لے آئے تھے اور چیخ رہے تھے:
Get out! You are not fit to study!
ظاہر ہے کہ قصور لڑکوں ہی کا رہا ہوگا۔ہم لوگ ان کی لیبوریٹری کے سامنے سے چپ چاپ گذرتے ،شور ہر گز نہ مچاتے تھے۔افسوس کہ ان کا نام بھول گیا ہوں لیکن ان کی شکل ٹھیک سے یاد ہے،پکا سانولا رنگ،موٹے موٹے ہونٹ ،ماتھے پر شکن اور ناک پر عینک ہمیشہ رہتی۔
اقتصادیات کے استادانتظار حسین صاحب مجھے اس لیے یاد ہیں کہ وہ کرکٹ کے عمدہ کھلاڑی تھے اور بریلی ضلع کی ٹیم میں مشہور زمانہ تیز گیند انداز اور ٹسٹ کھلاڑی محمد نثار صاحب کی گیندوں پر وکٹ کیپری کرچکے تھے۔کلاس میں وہ اقتصادیات کی اصطلاحات کے سوا ایک بھی لفظ انگریزی کا نہ بولتے تھے۔نہایت خوش مزاج اور خوش لباس شخص تھے۔ ہائی اسکول کے درجے پڑھانے والوں میں ایک استاد شیخ جگو المتخلص بہ مائل تھے۔ان کا اصل نام ہی ”جگو“ تھا،جس طرح موجودہ پرنسپل صاحب کے پیش رو پرنسپل صاحب کا نام چھوٹے خاں تھا۔وہ بھی بڑے دبدبے کے پرنسپل تھے،انگریز نے انہیں ”خان صاحب“کا خطاب بھی دیا تھا۔شیخ جگو صاحب کی لیاقت کا عالم تھا کہ اگرچہ و ہ سائنس کے طالب علم کبھی نہ رہے تھے لیکن انھوں نے الہٰ آباد یونیورسٹی کے نامور پرفیسر گورکھ پرشاد کی کتاب ،جو فلکیات اور علم ہیئت پر تھی،اس کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔یہ ترجمہ اعلیٰ درجے کے کاغذ پر ٹائپ کے حروف میں ہندوستانی اکیڈمی الہٰ آباد سے چھپا تھا۔پھر انگریزی گرامر اور ریاضی کے ماہر بابو گجا دھر پرشاد تھے۔سارا کالج ان کا ادب کرتا تھا۔جغرافیہ کے لکچر ر منیر صاحب تھے ، نہایت نیک نفیس اور کم گو۔وہ شاعر بھی تھے۔ہم لوگ ان کی خدمت میں تھوڑے بہت گستاخ تھے۔ہندی کے استاد کا نام بھول گیاہوں،بہت سیدھے سادھے بھلے آدمی تھے۔ایک بار ان کی چھتری کلاس میں چھوٹ گئی تھی۔میں اسے اٹھائے اٹھائے ان کے پیچھے بھاگ کر گیااور چھتری ان کی خدمت میں حاضر کردی۔انھوں نے گرم جوشی سے”دھنیہ واد“ کہا۔مجھے یہ بات ان کے لہجے کی گرم جوشی کے باعث ،اور اس سبب سے یاد رہ گئی کہ اب تک مجھے کسی نے ”دھنیہ واد“نہ کہا تھا۔میرے کان Thank Youاور ”شکریہ“کے آشنا تھے۔
میں اردو کا طالب علم نہ تھا(ہندی البتہ میں نے پڑھی،اس زمانے میں انٹر اور بی۔اے۔دونوں میں غیر ہندی داں طالب علموں کو”ابتدائی ہندی“پڑھائی جاتی تھی۔انٹر میں ہم لوگوں نے ہندی کی ایک درسی کتاب”ہندی ہلور“نام کی پڑھی تھی۔ہم لوگ مدتوں اس نام سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے۔اس زمانے میں ہندی کی نثر بہت غیر ترقی یافتہ تھی۔لیکن آج تو ہندی خوب اچھی لکھی جارہی ہے اور اہل اردو پچھڑے جارہے ہیں۔)ادب سے میرے شغف کی بدولت منظور صاحب نے مجھے بزم ادب کا معتمد بنادیا تھا۔اس کے پچھلے سال منظور صاحب کی نگرانی میں انشا کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں انتہائی دلچسپ اور پر اثر ڈراما کالج میں ہوا تھا۔انشا،سعادت علی خاں،اور جرا¿ت کے کردار جن لڑکوں نے ادا کئے تھے ان کے نام بھول گیا ہوں ،لیکن ان کے ادا کئے ہوئے مکالمے ،ان کا طرز گفتار ورفتار ، اب بھی مجھے یاد ہیں۔میں بے کھٹکے کہتا ہوں کہ اتنے عمدہ ڈرامے میں نے کم دیکھے ہیں ۔اس سال ایک بڑا مشاعرہ بھی ہوا تھا جس کے شعرا میں سید حامد اور ان کے شعر مجھے خوب یاد ہیں۔سید حامد ان دنوں آئی۔اے۔ایس۔میں کامیاب ہو کر گورکھپور میں ریجنل فوڈ کنٹر ولر کے عہدے پر تھے اور ہمارے لئے ہیرو کا مرتبہ رکھتے تھے۔
منظور صاحب نے مجھے معتمد بزم ادب بنا تو دیا تھا لیکن جلد ہی انھیں اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کام کے لئے جتنے محنت،ذمہ داری ،اور طالب علموں سے ملتے جلتے رہنے کی ضرورت ہے،وہ میری بساط کے باہر ہے۔لہٰذا میں نے استعفیٰ دے دیا جو بخوشی قبول کرلیا گیا۔
اردو کے ایک استاد مولوی صدیقی صاحب تھے،منظور صاحب اور شمس الآ فاق صاحب کے مقابلے میں وہ بالکل مولوی لگتے تھے،شاید جماعت اسلامی سے بھی منسلک تھے۔میں بزعم خوداردو میں مہارت رکھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ اردو کا کوئی شعر یا کلام ایسا نہیں جسے میں نہ سمجھ سکوں۔پھر ایک دن اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا۔ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ مجھے سودا کا قصیدہ پڑھادو،ع
سنگ کو اتنے لئے کرتا ہے پانی آسماں
میں نے کہا ،لاﺅ جھٹ پڑھادیں گے۔لیکن جب کتاب کھلی تو میری زبان بند ہوگئی ۔بھلا ایک شعر تو سمجھ میں آیا ہو۔میں کوئی بہانہ کرکے بھاگا بھاگ مولوی صدیق صاحب کے یہاں گیا۔وہ فرشتہ صفت شاید کسی کام میں مصروف رہے ہوں،لیکن انھوں نے نہایت خندہ پیشانی سے،اور مزے لے لے کر وہ قصیدہ مجھے پڑھایا۔میں اس وقت ان کا شکر گذار ہوا ،اور ہمیشہ کے لئے احسان مند بھی ہوں کہ ان کی پڑھائی سے مجھے معلوم ہوا کہ کلاسیکی ادب کی کیا خوبصورتیاں ہیں،اور یہ کہ یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھ رہاتھا۔
جارج اسلامیہ کی لائبریری اس زمانے میں اعلیٰ درجے کی انگریزی کتابوں،خاص کر یورپی فکشن کے انگریزی تراجم پر مبنی موٹی موٹی جلدوں سے بھری ہوئی تھی۔میں نے کئی کتابیں وہاں نکال کر پڑھیں،گھر لے جانے کی اجازت نہ تھی ۔موجودہ زمانے کا حال نہیں کہہ سکتا،لیکن اس زمانے میں کالج لائبریری کا دارالمطالعہ تقریباً ہمیشہ لڑکوں سے بھرا رہتا تھا۔غلام مصطفیٰ صاحب اور شمس الآ فاق صاحب بھی اکثر وہاں بیٹھتے تھے۔کیا مجال کہ کسی طالب علم یا استاد کی آواز بلند ہوجائے،یا کرسی ہی کھینچنے کی آواز اونچی سنائی دے۔میں فرسٹ ایر میں تھا تو سکنڈ ایر کے ایک مقبول اور اچھے طالب علم نے (افسوس کہ ان کا نام اب یاد نہیں)میری طرف اشارہ کرکے شاید کورئین صاحب سے،یا کسی اور سے ، مسکراتے ہوئے مجھےThis little chapکہا۔میری عمر کم تو تھی ہی،لیکن میں کچھ دبلا پتلا اور متوسط قد بھی تھا ،اور وہ صاحب تنو مند اور بلند و بالا تھے۔مجھے یاد ہے کہ This little chapکا خطاب مجھے کچھ برا نہ لگا ،بلکہ اچھا ہی لگا کہ ان کی انگریزی با محاورہ تھی۔اس وقت تک میری انگریزی کے چرچے بہت نہ تھے،لیکن واقف کار لوگ جانتے تھے ۔فرسٹ ایر کے شش ماہی امتحان میں انگریزی کے کسی پرچے میں ہمیں ”کتب بینی “پر مضمون لکھنا تھا۔میں لکھنے میں منہمک تھا اور ایک استاد سید تسنیم احمد میری پشت پر کھڑے دیکھ رہے تھے کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔معاً ان کے منھ سے نکلا ،”اجی تم تو بہت اچھی انگریزی لکھتے ہو!“پندرہ بیس لڑکے رہے ہو ں گے ،لیکن کوئی متوجہ نہ ہوا ،کیوں کہ اس وقت میرے ساتھی سبھی جان گئے تھے کہ میری انگریزی بہت اچھی ہے۔
شہر میں ایک اور لائبریری سے میرا رابطہ مدتوں رہا۔یہ واحد لائبریری تھی ،اور اس کے کرتا دھرتا ، مالک،منیجر،سب کچھ واحد بھائی(واحد علی ہاشمی)تھے۔اللہ بخشے واحد بھائی مرحوم سے میری اچھی نہ بنتی تھی،کیونکہ میں الماری سے بے تکلف کتاب نکال لینے کا عادی تھا،لیکن لائبریری کا ممبر نہ تھا۔میری مالی حالت ہی ایسی نہ تھی کہ لائبریری کی بہت حقیر فیس ادا کر سکتا، اور واحد بھائی کا خیال تھا کہ دارالمطالعہ میں بیٹھ کر پڑھنے کا استحقاق بھی انھیں کو ہے جو باضابطہ رکن کتب ہوں۔ دوسری بات یہ کہ طالب علم کی حیثیت سے میری سنجیدگی شاید واحد بھائی کی نظر میں بہت مشکوک تھی ، کیونکہ میں افسانے ، ناول ،اور خاص کر جاسوسی ناول بہت پڑھتا تھا ۔ ایک بار جب میں نے ان سے اختر حسین رائے پوری کی مترجمہ قاضی نذر الاسلام کی نظموں کے مجموعے ”پیغامِ شباب“ کی فرمائش کی تو انھوں نے سمجھا کہ میں عنوان سے دھوکا کھاکر اسے کوئی عشقیہ ناول سمجھا ہوں۔ انھوں نے کتاب مجھے دے تو دی لیکن کئی بار کہا کہ یہ آپ کے مطلب کی نہیں ہے۔
میں نے واحد بھائی جیسا فنافی الکتاب شخص نہیں دیکھا۔ انھوں نے اپنا تن من دھن سب لائبریری میں لگا دیا۔ خدا جانے ان کی روٹی کس طرح چلتی تھی اور کتابیں وہ کہاں سے خریدتے تھے۔ افسوس کہ وہ بھی راہی ملک عدم ہوئے اور ان کی لائبریری سب بکھر گئی۔
مجھ سے اوپر کے طالب علموں میں نجات اللہ صدیقی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ مجھ سے دوسال آگے تھے لہٰذا جب میں پہنچا تو وہ کالج چھوڑ چکے تھے۔ لیکن تمام کالج میں ان کی شہرت بہت تھی، اور ہم لوگوں سے کچھ ان کی عزیز داری بھی تھی۔ انھوں نے انٹر میڈیٹ میں سارے یو۔پی ۔ میں نواں مقام حاصل کیا تھا۔ یہ آج بھی بہت بڑی بات ہے، اور اس زمانے میں تو اور بھی بڑی بات تھی، کہ اس زمانے میں طالب علم نسبتہً کم تھے لیکن امتحان بہت سخت ہوتا تھا۔ انٹرمیڈیٹ میں فرسٹ کلاس لانا گویا چاند پر اترنا تھا۔ سیکنڈ کلاس بھی بہت باعزت نتیجہ تھا۔ اکثریت تھرڈ کلاس والوں کی ہوتی تھی۔ پھر نجات اللہ صاحب نے نویں پوزیشن اس وقت حاصل کی تھی جب سارے ملک میں مسلمانوں کے دل مایوسی سے بھرے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ ایمان دارانہ سلوک بہت کم ہوتا تھا ، بلکہ اکثر حالات میں تو ہوتا ہی نہ تھا۔ نجات اللہ صاحب کی شاندار کامیابی سے کچھ ہی کم بڑی بات یہ تھی کہ انھوں نے انگریزی تعلیم جاری رکھنے کے بجاے رام پور میں جماعت اسلامی کے مدرسہ¿ عالیہ میں اسلام اور عربی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔
نجات اللہ صاحب ایک بار مجھے اسلامیہ کالج میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے سامنے ملے تو میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے ، تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں ایک کاغذ کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا:
” پرنسپل صاحب سے اپنے بارے میں ایک Testimonial(تصدیق نامہ) لینا ہے ، اسی کا ڈرافٹ لایا ہوں۔ “
میں اس وقت لفظ ” ڈرافٹ “ سے ناواقف تھا، کچھ غور کرنے پر سمجھ میں آیا کہ اس طرح کے مسودے کو ، جس پر کسی اور کی منظوری یا دستخط ہونے ہوں ، انگریزی میں ڈرافٹ کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی مجھے متاثر کن لگی کہ اپنے تصدیق نامے کا مسودہ نجات اللہ صاحب خود لائے تھے ، یعنی انھیں اپنے اوپر اس قدر اعتماد ہے اور پرنسپل صاحب بھی ان پر اس قدر اعتبار کرتے ہیں کہ انھیں سے ان کا تصدیق نامہ لکھواتے ہیں۔ چونکہ یہ لفظ ” ڈرافٹ“ میں نے ان سے گویا حاصل کیا تھا اس لیے میں انھیں اپنا استاد سمجھتا ہوں۔ نجات اللہ صاحب موٹے شیشوں کی نیلگونی عینک لگاتے تھے ، اس کا بھی ہم لوگوں پر بڑا رعب تھا۔ بعد میں جب میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور نجات اللہ صاحب کبھی کبھی رام پور سے آتے تو ہم لوگوں کا محاسبہ کرتے کہ جماعت کی کتابیں ہم نے کتنی پڑھیں اور ان پر کس حد عمل پیرا ہوئے ۔ یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہوگیا۔
میرے ساتھیوں میں سب سے تیز اور لائق لڑکا اظہار عثمانی تھا۔ افسوس کہ وہ پاکستان چلاگیا۔ پاکستان سے اس کے خط کبھی کبھی آئے ، پھر بند ہوگئے۔ اس کا ایک خط واحد بھائی کے پاس آیا تھا جس میں میری بڑی تعریف تھی کہ ان کا مطالعہ ”وسیع اور ہمہ گیر“ ہے۔ واحد بھائی کی رائے میرے بارے میں ایسی نہ تھی اس لیے انھیں یقین کرنے میں مشکل ہورہی تھی کہ اظہار کی مراد مجھی سے ہے۔ انھوں نے اس کا خط مجھے دکھایا اور پوچھا، یہ کون صاحب ہیں جن کا ذکر اظہار صاحب نے کیا ہے۔ پاکستان جانے کے بعد اظہار نے کچھ بہت زیادہ ترقی نہ کی ۔ شاید وہ کسی کالج میں لیکچرر ہوگیا اور پھر بہت جلد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ میرا اس کا رابطہ اس وقت سے بالکل ٹوٹ گیا تھا جب میں نے گورکھپور چھوڑا (1953) اس کے مرنے کی خبر مجھے بہت بعد میں ملی۔ پھر اس کے بعد اظہار کا ذکر میں نے پاکستان میں تب سنا جب مظفر علی سیّد سے میری ملاقات ہوئی ۔ دریغا کہ اب مظفر علی سیّد بھی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ انھوں نے میرا مضمون ”غبارکارواں“ پڑھا تھا جس میں اظہار کا ذکر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اظہار سے ان کی اچھی ملاقات تھی اور اس کی موت کار حادثے میں ہوئی تھی۔
اظہار کے ساتھ میرے دوسرے لائق دوست عبدالحی¿ خاں، یامین اور ابرار حسین خاں تھے ۔ عبدالحی¿ خاں ڈاکٹر بنے اور تھوڑا بہت تصنیف و تالیف کا شوق انھوں نے کالج کے بعد برقرار رکھا لیکن موت نے انھیں بھی بہت جلد تاک لیا۔ یامین کو شعر گوئی کا ذوق تھا ، ترنم بھی اس کا اچھا تھا۔ بھاری بھرکم ، بذلہ سنج ، کم جاننے والا لیکن زیادہ مرعوب کرنے والا، وہ بھی پاکستان چلا گیا۔ خدا جانے اس پر کیا بیتی۔ ابرار حسین خاں خود کو بہت لیے دیئے رہنے والے ، نہایت ذہین اور شعر فہم ، لیکن بہت جلد پریشان ہوجانے والے ، میرے قریب ترین دوست تھے۔ وہ گورکھپور سے علی گڑھ گئے ، پھر انھوں نے تعلیمات میں پی۔ایچ۔ڈی ۔ کی ڈگری لی ، شاعری میں ابرار اعظمی کے نام سے نام کمایا ۔ اب وظیفہ یاب ہوکر اپنے گاﺅں خالص پور ، ضلع اعظم گڑھ میں رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہماراگھر کا سا آناجانا اب بھی ہے۔
اقبال انصاری ہم لوگوں سے ایک سال پیچھے تھے لیکن ذہانت اور خوش مزاجی او ر خوش صورتی کے سبب سے ہم لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ انھوں نے بنارس میں انجینئرنگ میں داخلہ لیا، لیکن پھر انگریزی میں آگئے اور اقبال اے۔انصای کے نام سے علی گڑھ میں انگریزی کے سربرآوردہ پروفیسر بنے۔ اب بھی وہ علی گڑھ میں ہیں اور اقلیتوں اور انسانی حقوق کے لیے نبرد آزما کئی اداروں سے منسلک یا ان کے سربراہ ہیں۔
ہم سب پر جماعت اسلامی کا تھوڑا ، یا بہت اثر پڑا ۔ اظہار تو بہت جلد کمیونزم کی طرف مائل ہوگیا۔ اس نے تھوڑے ہی عرصے میں مارکس اور لینن کی تصنیفات پڑھ ڈالی تھیں۔ لیکن اس میں کٹر پن کا شائبہ نہ تھا، بڑا عالی دماغ شخص تھا ۔ عبدالحی¿ خاں بھی اشتراکیت کی طرف جھکے ہوئے تھے، لیکن ان کا رنگ ہلکا تھا۔ ابرار اعظمی اور اقبال انصاری دیر تک جماعت کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ دونوں کی مذہبیت اب بھی باقی ہے۔ لیکن جماعت سے وہ تعلق شاید اب نہیں رہ گیا، جماعت کے بارے میں خوش عقیدگی ابرار اعظمی میں بے شک اب تک ہے۔ بی۔اے کا دوسرا سال ختم ہوتے ہوتے (1953) میں جماعت اسلامی سے منحرف ، اور پھر بہت جلد متنفر ہوگیا۔ جماعت سے لگاﺅ کے ساتھ ساتھ ، یا اس کے باوجود ، میں گورکھپور کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے بھی جلسوں میں شریک ہوتا تھا۔ وہاں ،اور بعض دوسرے جلسوں میں فراق صاحب کو دیکھنے اور سننے کا موقع کئی بار ملا ۔نامی گرامی ترقی پسندوں کا مداح ہونے کے باوجود مجھے ترقی پسندی کو گلے سے اتارنے (ےا کم از کم گلے سے لگالےنے)کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی روس،اور پھر سویت یونین نے وسط ایشیاکے مسلمان ممالک پر جو ظلم کیے تھے اور جس طرح اسلامی تہذیب کی بیخ کنی کی تھی ،اس سے میں واقف تھا ۔انسانی حقوق کے احترا م کے سلسلے میں بھی مجھے اسٹالن کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ تھی ۔
ممکن ہے امتداد زمانہ کے سبب پرانی کہانیاں اب زیادہ رنگین نہ معلوم ہوتی ہوں،مجھے تو یہی لگتا ہے کہ میری طالب علمی کے سب سے اچھے دن وہی تھے جومیں نے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور میں گذارے۔انھیں کو یاد کرکے خوش ہو لیتا ہوں ،ظفر خاں احسن کیا خوب کہہ گئے
زبہر مستیم کے کاربا جام و شراب افتد
مرا از گفتگو ے بادہ سر خوش مہ تواں کردن
٪٪٪٪٪

Prem Chand: life and critical study

Articles

پریم چند کا افسانہ کفن

پریم چند

پریم چند : ایک نظر میں

قمر صدیقی

پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔۳۱؍ جولائی۱۸۸۰ء کو اترپردیش کے مردم خیز شہر بنارس سے چار پانچ میل دورایک چھوٹے سے گائوں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اسی نام سے کچھ تحریریں بھی قلمبند کیں۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گائوں میں ہوئی ۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ ۱۹۰۲ء میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ملتفت ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’اسرارِ معبد‘‘ کے نام سے لکھنا شروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔ اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ’’زمانہ‘‘کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ ۱۹۰۸ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔’’سوزِ وطن‘‘ تک کی بیشتر تحریریں پریم چند نے نواب رائے قلمی نام سے تحریر کی تھیں۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو افسانے کو ابتدائی دور میں ہی کچھ ایسے افسانہ نگار مل گئے جو ایک دوسرے سے قطعی مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پریم چند ایک رجحان کی ترویج کر رہے تھے ، راشد الخیری دوسرے اورسجاد حید ر تیسرے نظریے و رجحان کے علمبردار تھے۔ لیکن پریم چند کی مقصدیت راشد الخیری کی اصلاح پسندی اور یلدرم کی رومانیت پر بازی لے گئی۔مقصدیت اور اصلاح کے پہلو نے پریم چند کے فن کو اتنا غیر معمولی بنادیا کہ وہ اردو افسانے کے سچے بنیاد گزار تسلیم کیے گئے۔ راشد الخیری اور سجاد حیدریلدرم کے رجحانات کی نیاز فتح پوری ، مجنوں گوکھپوری ، مہدی الافادی اور قاضی عبدالغفار کے بعد کوئی خاص تقلید نہ ہوئی۔ جبکہ پریم چند کی مقصدیت کا سدرشن ، علی عباس حسینی ، اعظم کریوی وغیرہ نے تتبع کیا اور ان بعد کے افسانہ نگاروں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھانے میں معاونت کی۔اسی لیے سمجھا جانے لگا کہ پریم چند اردو افسانے کے موجد ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے گئے ہیں۔
پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’سوز وطن ‘‘ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ’’واردات ‘‘ اور ’’زادراہ‘‘ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور۱۹۰۹ء سے لے کر۱۹۲۰ء کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۲ء تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی۱۹۳۲ء سے۱۹۳۶ء تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔
پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’سوز وطن‘‘ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں میںداستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔ ۱۹۰۹ء سے۱۹۲۰ ء تک پریم چند ’’مہوبا‘‘ کے مقام پر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے۔ جہاں کے کھنڈرات نے شایدانہیں ہندوؤں کی عظمت ِ رفتہ کی یاد دلائی۔ غالباً اسی لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ حالیؔ کی طرح انہیں اپنے افسانوں کے ذریعہ ہندوقوم کی ماضی کی شان و شوکت اجاگرکرنا چاہیے۔ چنانچہ ’’رانی سارندھا‘‘۱۹۱۱ء میں اور۱۹۱۲ء میں’’راجہ ہردول‘‘ اور ’’آلھا‘‘ جیسے افسانے اسی جذبے کے تحت لکھے گئے۔
ان تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے بعد اپنے دوسرے دور میں پریم چند نے قومی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل ، بے جوڑ شادی ، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔ تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، ستیہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندے ملک کی آزادی کے لیے پرجوش تھے۔ پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ قدرے واضح طور پر جھلکتا ہے۔
افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ’’پوس کی رات ‘‘ ،’’سواسیر گہیوں‘‘ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں ۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔’’سوز وطن‘‘ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر ،بوڑھی کاکی، دو بیل ، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ’’کفن ‘‘جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔
آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں ۔کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔

کفن​

 پریم چند

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی ۔ اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے _ جاڑوں کی رات تھی ، فضا سنّاٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا ۔
گھیسو نے کہا ، ” معلوم ہوتا ہے بچیگی نہیں ۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا ۔ جا ، دیکھ تو آ۔”
مادھو دردناک لہجے میں بولا ، ” مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔ دیکھ کر کیا کروں ”
” تو بڑا بیدرد ہے بے ۔ سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بیوپھائی ۔”
” تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا ۔”
چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام ۔ گھیسو اک دن کام کرتا تو تین دن آرام ۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا ۔ اسلئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہ تھا ۔ گھر میں مٹّھی بھر اناج بھی موجود ہو تو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا ۔ اور جب تک وہ پیسے رہتے دونوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ۔ جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے ، یا کوئی مزدوری تلاش کرتے ۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی _ کاشتکاروں کا گاؤں تھا ۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے _ مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔
کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکّل کے لئے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی ۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی ۔ عجیب زندگی تھی ان کی ۔ گھر میں مٹّی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں ۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی ڈھانکے ہوئے ، دنیا کی فکروں سے آزاد ۔ قرض سے لدے ہوئے ۔ گالیاں بھی کھاتے ، مار بھی کھاتے ، مگر کوئی غم نہیں ۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امّید نہ ہونے پر بھی لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے ۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھا لیتے ۔ یا دس پانچ اوکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے ۔ گھیسو نے اسی زاہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی ۔ اور مادھو بھی سعادتمند بیٹے کی طرح باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا ۔ بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے ۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدّت ہوئی انتقال ہو گیا تھا ۔ مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی ۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدّن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ پسائی کر کے ، گھاس چھیل کر ، وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کر لیتی تھی ۔ اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی ۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے۔ بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے ۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے ۔ وہی عورت آج صبح سے دردِ زہ سے مر رہی تھی ۔ اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مر جائے تو آرام سے سوئیں ۔
گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا ، ” جا کر دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی ۔ چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا ۔ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے ۔کس کے گھر سے آئے ۔”

مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصّہ صاف کر دیگا ۔ بولا ، ” مجھے وہاں ڈر لگتا ہے ۔،،

” ڈر کس بات کا ہے ۔ میں تو یہاں ہوں ہی ۔،،

” تو تمہیں جا کر دیکھو نہ ۔”

” میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں _ اور پھر مجھ سے لجائیگی کہ نہیں ۔ کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا ، آج اس کا اگھڑا ہوا بدن دیکھوں ! اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہوگی _ مجھے دیکھ لیگی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکےگی _”

” میں سوچتا ہوں کوئی بال بچّہ ہو گیا تو کیا ہوگا _ سونٹھ ، گڑ ، تیل ، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں ۔،،

” سب کچھ آ جائیگا ۔ بھگوان بچّہ دیں تو ۔ جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کر دینگے ۔ میرے نو لڑکے ہوئے ۔ گھر میں کبھی کچھ نہ تھا۔ مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔”
جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچّھی نہ تھی ، اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے ، کہیں زیادہ فارغ البال تھے ، وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجّب کی بات نہ تھی _ ہم تو کہینگے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا _ اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا _ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا _ اسلئے جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے ، اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کرتا تھا _ پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی _ اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اٹھاتے _
دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے ۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔ اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں ۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں ۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصّہ تو بہت زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا ۔ لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصّہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا ۔ اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے _ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھے ۔ اسلئے دونوں جلد جلد نگل جاتے ۔ حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔
گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا ۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی ۔ اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی ۔ بولا ، ” وہ بھوج نہیں بھولتا ۔ تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا ۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں سب کو ۔ چھوٹے بڑے ، سب نے پوڑیاں کھائیں ، اور اصلی گھی کی ۔ چٹنی ، رائتہ ، تین طرح کے سوکھے ساگ ۔ ایک رسیدار ترکاری ، دہی ، چٹنی ، مٹھائی ۔ اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا ۔ کوئی روک نہیں تھی ۔ جو چیز چاہو مانگو ۔ اور جتنا چاہو کھاؤ ۔ لوگوں نے ایسا کھایا ، ایسا کھایا ، کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا ۔ مگر پروسنے ولے ہیں کہ سامنے گرم گرم ، گول گول ، مہکتی ہوئی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں ۔ منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہئے _ پتّل کو ہاتھ سے روکے ہوئے ہیں ۔ مگر وہ ہیں کہ دئے جاتے ہیں ۔ اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بیڑا پان بھی ملا۔ مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی ۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ چٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا ۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر ۔”

مادھو نے ان تکلّفات کا مزہ لیتے ہوئے کہا ، “اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا ۔”
” اب کوئی کیا کھلائیگا ، وہ جمانا دوسرا تھا _ اب تو سب کو کپھایت سوجھتی ہے ۔ سادی میں مت کھرچ کرو _ کریا کرم میں مت کھرچ کرو ۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھوگے ! بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے ۔ ہاں کھرچ میں کپھایت سوجھتی ہے ۔”
” تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہونگی ! ”
” بیس سے جیادہ کھائی تھیں ۔،،
” میں پچاس کھا جاتا۔”
” پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہونگی _ اچّا پٹّھا تھا _ تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے ۔”
آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر ، پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے ، جیسے دو بڑے بڑے اژدر گینڈلیاں مارے پڑے ہوں ۔
اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی
صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جا کر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی ۔ اس کے منہ پر مکّھیاں بھنک رہی تھیں ۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت تھا۔ اس کے پیٹ میں بچّہ مر گیا تھا۔
مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا _ پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے _ پڑوس والوں نے یہ آہ و زاری سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسمِ قدیم کے مطابق غم زدوں کی تشفّی کرنے لگے ۔
مگر زیادہ رونے دھونے کا موقعہ نہ تھا _ کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی ۔ گھر میں تو پیسہ اسی طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں ماس۔
باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے _ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے ۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے ، چوری کی علّت میں ، وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علّت میں _ پوچھا ، ” کیا ہے بے گھسوا ۔ روتا کیوں ہے ۔ اب تو تیری صورت ہی نہیں نظر آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے ۔”
گھسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے کہا ، ” سرکار بڑی بپت میں ہوں _ مادھو کی گھر والی رت گجر گئی ۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار ۔ آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ۔ دوا دارو جو کچھ ہو سکا سب کیا ۔ مگر وہ ہمیں دگا دے گئی ۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا ۔ مالک ، تباہ ہو گئے ۔ گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں ۔ اب آپ کے سوا اس کی مٹّی کون پار لگائیگا۔ ہمارے ہاتھ میں تو جو کچھ تھا وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا ۔ سرکار ہی کی دیا ہوگی تو اس کی مٹّی اٹھیگی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جائیں ۔ ”
زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے ۔ مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں ، ” چل ، دور ہو یہاں سے۔ لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا ۔ آج جب غرض پڑی تو آ کر خوشامد کر رہا ہے ۔ حرام خور کہیں کا ۔ بدمعاش۔ ” مگر یہ غصّہ یا انتقام کا موقعہ نہ تھا۔ طوعاً و کرہاً دو روپئے نکال کر پھینک دئے ۔ مگر تشفّی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا ۔ اس کی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اتارا ہو۔
جب زمیندار صاحب نے دو روپیہ دیے تو گاؤں کے بنئے مہاجنوں کو انکار کی جرائت کیونکر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈھورا پیٹنا جانتا تھا۔ کسی نے دو آنے دئے ، کسی نے چار آنے ۔ ایک گھنٹہ میں گھیسو کے پاس پانچ روپئے کی معقول رقم جمع ہو گئی ۔ کسی نے غلّہ دے دیا ، کسی نے لکڑی ۔ اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے۔ ادھر لوگ بانس وانس کاٹنے لگے ۔
گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں ، اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔
بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا ، ” لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے ، کیوں مادھو۔ ”
مادھو بولا ، ” ہاں لکڑی تو بہت ہے ۔ اب کپھن چاہئے۔”
” تو کوئی ہلکا سا کپھن لے لیں۔”
” ہاں اور کیا ۔ لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائیگی ۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے۔”
” کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کپھن چاہئے۔ ”
” کپھن لاس کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔”
” اور کیا رکھا رہتا ہے۔ یہی پانچ روپیہ ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔”
دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے۔ بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے۔ کبھی اس بجاج کی دوکان پر گئے کبھی اس کی دوکان پر _ طرح طرح کے کپڑے ، ریشمی اور سوتی ، دیکھے ، مگر کچھ جچتا نہیں ۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی ۔ دونوں اتّفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے آ پہنچے ۔ اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے ۔ وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے ۔ پھر گھیسو نے گَدّی کے سامنے جا کر کہا ، ” ساہو جی ایک بوتل ہمیں بھی دینا۔ ” پھر گھیسو نے ایک بوتل شراب لی ، کچھ گزک۔ اس کے بعد کچھ چکھونہ آیا، تلی ہوئی مچھلی آئی۔ اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر شراب پینے لگے ۔
کئی کجّیاں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آ گئے ۔
گھیسو بولا ، ” کپھن لگانے سے کیا ملتا۔ آکھر جل ہی تو جاتا۔ کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔”
مادھو آسمان ک طرف دیکھ کر بولا ، گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو ، ” دنیا کا دستور ہے ۔ یہی لوگ بامہنوں کو ہجاروں رپئے کیوں دے دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں ۔”
” بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے، پھونکیں۔ ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے ۔ ”
” لیکن لوگوں کو جواب کیا دوگے ! لوگ پوچھینگے نہیں ، کپھن کہاں ہے ! ”
گھیسو ہنسا ۔ ” کہہ دینگے روپئے کمر سے کھسک گئے ۔ بہت ڈھونڈا ، ملے نہیں ۔ لوگوں کو وشواس نہ آئیگا ، لیکن پھر وہی روپیہ دینگے۔”
مادھو بھی ہنسا ، اس غیر متوقّع خوش نصیبی پر ، قدرت کو اس طرح شکست دینے پر ۔ بولا ، ” بڑی اچّھی تھی ، بچاری ۔ مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔”
آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی _ گھیسو نے دو سیر پوڑیاں منگوائیں ، گوشت اور سالن ۔ اور چٹپٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں ۔ شراب خانے کے سامنے ہی دوکان تھی ۔ مادھو لپک کر دو پتّلوں میں ساری چیزیں لے آیا ۔ پورے ڈیڑھ روپئے خرچ ہو گئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔
دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوڑیاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو ۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا ، نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوننے بہت پہلے طے کر لیا تھا ۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا ، ” ہماری آتما پرسنّ ہو رہی ہے تو کیا اسے پنّ نہ ہوگا ؟ ”
مادھو نے فرقِ عقیدت جھکا کر تصدیق کی _ ” جرور اسے جرور ہوگا ۔ بھگوان ، تم انترجامی ( علیم ) ہو ۔ اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔”
ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی ۔ بولا ، ” کیوں دادا ، ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائینگے ہی۔”
گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا جواب نہ دیا ۔مادھو کی طرف پر ملامت انداز سے دیکھا۔ وہ پرلوک کی باتیں سوچ کر اس آنند میں بادھا نہ ڈالنا چاہتا تھا۔
” جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچے کہ تم نے ہمیں کپھن کیوں نہیں دیا تو کیا کہوگے ؟ ”
” کہینگے تمہارا سر۔”
” پوچھیگی تو جرور۔”
” تو کیسے جانتا ہے اسے کپھن نہ ملیگا ؟ تو مجھے ایسا گدھا سمجھتا ہے ! میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں ۔ اس کو کپھن ملیگا اور بہت اچّھا ملیگا ۔اس سے بہت اچّھا ملیگا جو ہم دیتے”
مادھو کو یقین نہ آیا ۔ بولا ، ” کون دیگا ؟ روپئے تو تم نے چٹ کر دئے۔”
گھیسو تیز ہو گیا۔ ” میں کہتا ہوں اسے کپھن ملیگا۔ تو مانتا کیوں نہیں ؟”
” کون دیگا ، بتاتے کیوں نہیں ؟ وہ تو مجھ سے پوچھیگی۔ اس کی مانگ میں تو سندور میں نے ڈالا تھا۔”
” وہی لوگ دینگے جنہوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپئے ہمارے ہاتھ نہ آئینگے ۔اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اسی طرح یہاں بیٹھے پیّنگے ۔ اور کپھن تیسری بار ملیگا ۔ ”
جیوں جیوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی ، مے خانہ کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی _ کوئی گاتا تھا ، کوئی بہکتا تھا _ کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا ، کوئی اپنے دوست کے منہ میں ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ ۔ کتنے تو چلّو میں الّو ہو جاتے ہیں ۔ یہاں آتے تھے صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے ۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے ۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی ۔ اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں ، یا مردہ ہیں ، یا زندہ در گور ہیں۔
اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے ۔ سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں۔ پوری بوتل بیچ میں ہے ۔
کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوڑیوں کا پتّل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اور دینے کے غرور اور مسرّت اور ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔
گھیسو نے کہا ، ” لے جا ۔ کھوب کھا اور اسیرباد دے ۔ جس کی کمائی ہے وہ تو مر گئی ، مگر تیرا اسیرباد اسے جرور پہنچ جائیگا ۔ روئیں روئیں سے اسیرباد دے ۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔”
مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ، ” بیکنٹھ میں جائیگی دادا ۔ بیکنٹھ کی رانی بنیگی”
گھیسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرّت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا ، ” ہاں بیٹا ، بیکنٹھ میں جائیگی ۔ کسی کو ستایا نہیں۔ کسی کو دبایا نہیں۔ مرتے مرتے ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کر گئی۔ وہ نہ بیکنٹھ میں جائیگی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائینگے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں ، اور اپنے پاپ کو دھونے کے لئے گنگا میں نہاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔”
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا۔ تلوّن نشے کی خاصیت ہے ۔ یاس اور غم کا دورہ ہوا۔
مادھو بولا ، ” مگر دادا بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر۔ ” وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا ۔چیخیں مار مار کر۔
گھیسو نے سمجھایا ، ” کیوں روتا ہے بیٹا۔ کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی ۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا موہ کے بندھن توڑ دئے ۔”
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگی۔
ٹھگنی کیوں نیناں جھمکاوے ۔ ٹھگنی۔
سارا مے خانہ محوِ تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے ۔ پھر دونوں ناچنے لگے۔ اچھلے بھی ، کودے بھی ، گرے بھی ، مٹکے بھی ۔ بھاؤ بھی بتائے ،ابھینے بھی کئیے ، اور آخر نشے سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے ۔

افسانہ ’’کفن ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ

آٹھ دہائی قبل لکھی گئی منشی پریم چند کی مشہورکہانی ’’ کفن‘‘ اس دور میں سماج کے دبے کچلے طبقے کی حقیقی عکاسی پیش کرتی ہے۔ اس کہانی میں کل چار کردار ہیں۔ گھیسو ، مادھو اور بُدھیا۔ چوتھا کردار زمیندار کا ہے جو ایک طرح سے اس سماج کا عکاس ہے جو اس دور میں استحصال کرنے والی قوت کے روپ میں موجود تھا ۔ استحصال کرنے والی یہ قوت آج بھی سماج میں اپنا وجود قائم کیے ہوئے ہے صرف پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔
کہانی ’’کفن‘‘ کی ابتدا بُدھیا کے دردِ زہ میں پچھاڑیں کھانے سے ہوتی ہے۔ اس کے منہ سے ایسی دلخراش چیخیں نکل رہی تھیں کہ گھیسو اور مادھو کلیجہ تھام لیتے ہیں۔ اگر قاری کی قوت سماعت متاثر نہیں ہے تو سمجھ لیجئے کہ بُدھیا کا کرب،درد،چیخیں،کراہیں مسلسل’کفن‘ کی آخری سطر تک کانوں میں گونجتی رہتی ہیں۔قاری اس درد اور کرب کو بخوبی محسوس کرسکتا ہے۔
دردِزہ کے دوران بدھیا کی دل فراش صدا نکلنے پر مادھو اور گھیسو کا کلیجہ تھام لینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں کا احساس زندہ ہے۔افسانے کا اقتباس کچھ اس طرح ہیـ:
’’گیسو نے کہا ’معلوم ہوتا ہے کہ بچے گا نہیں۔سارا دن تر دیتے گزر گیا۔جا دیکھ تو آ۔۔۔۔۔۔
مادھو چڑھ کر بولا ،مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔دیکھ کر کیا کروں۔
تو بڑا بے درد ہے بے !سال بھر جس کے ساتھ سکھ چین سے رہا اسی کے ساتھ اتنی بے ویاہی۔
’تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا دیکھا نہیں جاتا۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۵ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
اس منظر سے ہی احساس اور بے حسی کی کشمکش عیاں ہوتی ہے۔جب سے بدھیا آئی تھی تب سے دوہ ان دونوں بے غیرتوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔آج وہ زندگی اور موت سے نبرد آزما ہے تب بھی دونوں صرف اپنے اپنے دوزخ کو بھرنے کی فکر میں مبتلا ہیں۔دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اس بات کی فکر نہیں کہ اس کے لیے کچھ انتظام کریں۔گھیسوآلو چھیلتے ہوئے جب مادھو سے اس کی بیوی کا حال معلوم کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ کوٹھری کے اندر جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیتا ہے کہ اسے بدھیا کو اس حالت میں دیکھنے سے ڈر لگتا ہے۔دراصل یہاں مفاد میاں بیوی کے رشتے پر غالب آجاتا ہے۔مادھو اس لیے انکار کردیتا ہے کہ گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ کھا نہ جائے۔یہی وہ مفاد ہے جو کئی اندیشوں کو جنم دیتا ہے۔بدھیا اندر اکیلی تڑپتی رہتی ہے، اس کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔تیمارداری تو بہت دور کی بات رہی۔بدھیا کا حوصلہ بڑھانے والا کوئی نہیں۔حاشیے پر زندگی گزارنے والے انسانوں کے محلے یا گھر ویسے بھی گاؤں سے دور ہی ہوتے تھے یہاں افسانے میں جو فضا قائم کی گئی ہے وہ جاڑوں کی رات ہے، سارا گاؤں سناٹے میں اور تاریکی میں جذب ہوگیا ہے۔ایسی فضا میں بدھیا کے کراہنے کی آواز واقعی دل کو چیر کر رکھ دینے والی ہوگی۔مگر یہاں منشی پریم چند نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گھیسو اور مادھو الاؤ کے گرد بیٹھے جلتے ہوئے آلو کھانے میں مگن ہیں۔یعنی دونوں کرداروں کی سوچ اپنی بھوک اور پیاس تک محدود ہوگئی ہے کہ وہ اپنی بھوک کے علاوہ کسی اور بات پر توجہ ہی نہیں دیتے۔انھوں نے گھیسو اور مادھو کی بے حسی ،بے غیرتی اور نکمّے پن کو کہانی میں اس طرح اجاگر کیا گیاہے:
’’چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام ۔گیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام ۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔اس لیے انھیں کہیں مزدوری نہیں ملتی تھی۔گھر میں مٹھی بھر اناج ہوتو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔جب ایک دودانے ہوجاتے تو گیسو درختوں پر چڑھ کرلکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتا اور جب تک پیسے رہتے دونوں ادھر اُدھر مارے مارے پھرتے۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۶ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
یہاں یہ سوال اٹھا یا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے حٓلات کس نے پیدا کیے؟یکا سو کی گوٹیر نکا کی یاد آجاتی ہے ۔ایک گیٹاپو نے یکا سو سے پوچھا ’’ایسا کس نے کیا؟یکاسو کا مختصر سا جواب تھا‘‘تم نے کیا۔
’کفن‘کو پڑھنے سے قبل اگر قاری’مہاجنی تہذیب‘کو ذہن میں رکھے تو اس کہانی کیکی تفہیم قدرے آسان ہوجاتی ہے۔مہاجنی تہذیب کے اصول و ضوابط میں اس بات کو فوقیت دی جاتی ہے کہ دبے کچلے انسانوں کو مزید دبا کر رکھا جائے۔اگر وہ گردن اٹھانے کی کوشش کریں تو اس پر قرض کا بوجھ بڑھا دیا جائے۔اسی نظریے کا آج کے دور سے موازنہ کیا جائے تو اس کی جھلک یا اس کا نیا روپ گلوبلائزیشن کے صارفیت ازم میں دکھائی دے گا۔
کہانی میں فلیش بیک کی تکنیک کی مدد سے کچھ یادوں کو بھی فوکس کیا گیا ہے مثلاًآلو کھاتے کھاتے گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی بارات کا یاد آنا جس میں وہ بیس سال پہلے گیا تھا۔اس دعوت میں اسے جوکچھ میسرہواتھا،وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ بن گیااور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔گیسوبولا:
’’وہ بھوج نہیںبھولتا‘تب سے اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔اصلی گھی کی پوریاں، چٹنی، رائتا،تین طرح کے سوکھے ساگ،ایک رس دار ترکاری،دہی چٹنی مٹھائی۔اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔لوگوں نے تو ایسا کھایا، ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا۔مگر پروسنے والے ہیں گرم گرم اور گول گول مہکتی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں۔ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر۔۔۔۔۔۔۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۹ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
محولہ بالا پیراگراف میں ٹھاکر کو دریا دل بتایا گیا ہے۔لیکن یہ واقعہ بیس سال قبل کا ہے۔ان بیس برسوں میںدنیا ایسی تبدیل ہوتی ہے کہ اب کوئی ٹھاکر اس طرح بھوج نہیں کھلاتا۔کہانی کا منظر تبدیل ہوتا ہے۔اس منظر میں گھیسو اور مادھو آلو کھاکر پانی پیتے ہیں اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پیٹ میں پاؤں ڈالے سوجاتے ہیں۔اسی سے میل کھاتا ہوا ایک منظر ہمیں’پوس کی رات‘میں بھی نظر آتا ہے۔ہلکو کھیت چرنے کی پرواہ کے بنا ہی راکھ کے پاس چادر اوڑھ کر سوگیا تھا۔ہلکو کے پاس چادر تھی۔گھیسواورمادھو کے پاس صرف دھوتیاں ہیں۔پاؤں پیٹ میں ڈالے پڑے رہنے کو دوبڑے اجگر کا کنڈلیاں مارے پڑے رہنے سے تشبیہہ دینا مصنف کی فن کاری پر دلالت کرتا ہے
صبح مادھو کوٹھری میں جاکر دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ٹھنڈی ہوچکی ہے۔اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی ہیں۔پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر کو تن گئی ہیں۔سارا جسم خاک میں لت پت ہورہا ہے۔اس کے پیٹ میں بچہ مرگیا تھا۔یہاں زبان کی روانی اپنے شباب پر ہے ۔فطری اورغیر فطری یا اذیت ناک موت کی اس سے بہتر تصویر کہیں نہیںہوسکتی۔یہی ہوتا ہے فن کا کمال۔
پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے۔یہاںجو الاپ کیا جارہا ہے وہ صرف دکھاوا ہے زور زور سے رونے میں بھی مطلب پوشیدہ ہے ۔چھاتی پیٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ واقعی وہ دونوں بدھیا کی موت کا ماتم کررہے ہیں بلکہ یہ بھی سماجی رسم کی ادائیگی ہے۔کیونکہ اب کفن اور لکڑی کی فکر ہورہی تھی۔دونوں روتے روتے زمیندار کے پاس جاتے ہیں ۔گاؤں کے زمیندار ایسے موقعوں پر کام چور رعایا پر احسان کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔حالانکہ زمیندار کو ان کی صورت سے نفرت تھی۔حرام خور بدمعاش کہہ کر دوروپے پھینک دیے۔ایسے وقت گاؤں والے بھی مددکرتے تھے۔جیسے تیسے پانچ روپے جمع ہوگئے۔کسی نے اناج دے دیا ،کسی نے لکڑی۔گاؤں میں انسانیت اب بھی باقی ہے۔یہاں بغور مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند کسانوں کی بدحالی کے ساتھ ان کے اوصاف حمیدہ کو بھی پیش کرتے ہیں۔
گھیسو اور مادھو دونوں کفن خریدنے بازار جاتے ہیں۔گیسو کہتا ہے،کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے،اسے مرنے پر نیا کفن چاہیے۔مادھو یہاں خاموش نہیں رہتا وہ بھی کہتا ہے’’کفن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔‘‘یہاں پریم چند صرف اتنا اشارہ کرتے ہیں ۔ ’’دونوں ایک دوسرے کے دل کی بات تاڑ رہے تھے۔‘‘قاری بھی اس بات سے واقف ہوجاتا ہے ۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی وہ کفن خرید نہیں پاتے۔دونوں اتفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے جاپہنچے۔تھوڑی دیر کے لیے تھوڑا سا تذبذب رہا۔پھر تذ بذب کو جھٹک کرگھیسو شراب فروش کے پاس پہنچ کر کہتا ہے۔’’ساہوجی ایک بوتل ہمیں بھی دینا۔‘‘دونوں برآمدے میں بیٹھے تلی ہوئی مچھلی کا ذائقہ لیتے ہوئے پی رہے تھے۔دو تین پیک کے بعد سرور آگیا۔اس حالت میں چھٹی حس جاگ جاتی ہے۔اب فلسفیانہ باتیں ہونے لگتی ہیں۔’’کفن جل ہی تو جاتا بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔دستور ہے،نہیں تو لوگ بانسوں کو ہماروں روپے کیوں دے دیتے ہیں!کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں۔
بھر پیٹ کھانے کے بعد مادھو بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھاکر ایک بھکاری کو دیا۔جوکھڑا ان کی طرف بھوکی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔پینے کا غرور اور دینے کی برتری اور مسرت کا اپنی زندگی میں انہیں پہلی بار احساس ہوا۔گیسو کہہ رہا ہے کہ :
’’ہاں بیٹا،وہ بے کنٹھ میں ضرور جائے گی۔کسی کو ستایا نہیں ،کسی کو دبایا نہیں۔مرتے مرتے ہماری زندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کرگئی۔وہ بے کنٹھ نہ جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپوں کو دھونے کے لیے گنگا میں نہاتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۳۲ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
دراصل ’کفن‘کا نقطئہ عروج بھی یہی حصہ ہے۔پریم چند ان فرسودہ رسوم اور رواجوں پر کاری ضرب لگانا چاہتے تھے۔زمیندار کا ہمدردی جتانے کے ناطے گھیسو اور مادھو کی مدد کرنااور دوسرے دولت مندوں کا امداد کے لیے ہاتھ بڑھانا ہی بے کنٹھ پانے کی لالسا کے سبب ہے۔جب کہ زمیندار ، سودخور،مہاجن وغیرہ دونوں ہاتھوں سے غریبوں کو لوٹتے کسوٹتے رہنے کے باوجود چند نیکیاں کماکر اور گنگا میں ڈبکی لگاکر جنت کے خواب دیکھتے۔یہاں پریم چند باریک بینی سے مشاہدہ کرکے ہندؤوں کی اندھی شردھا کو قاری کے روبرو پیش کرتے ہیں۔اسی اندھی شردھا کے سبب ہندوستانی تہذیب کا ڈھانچہ چرمراکر رہ گیا ہے۔اسی اندھی شردھا کی مخالفت تہذیب کو سالمیت عطا کرسکتی ہے۔فرسودہ رسم و رواج کے خلاف صوفی سنتوں نے نبردآزما ئی کی ہے۔جب ہم ادب کو تہذیبی نقطئہ نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو پریم چند کی تہذیبی وراثت کو پرکھنا ضروری ہوجاتاہے۔
پریم چند نے کفن میں اس بات کو بطور خاص اجاگر کیا ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کی اگر تکمیل نہیں ہوتی ہے تو اس میں بے حسی کا عنصر غالب آجاتا ہے۔بے غیرتی بڑھ جاتی ہے۔اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔آہستہ آہستہ وہ انسانی قدروں کے احساس سے بے بہرہ ہوجاتا ہے۔ اسے انسانی رشتوں کا پاس نہیں رہتا۔اسے دم توڑتے ہوئے انسان کو دیکھ کر دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی ۔کفن کو بھوک اور ناداری سے زیادہ انسانی سفاکی اورجبلتوں کی غلامی کا افسانہ کہا جاسکتا ہے جو انتہائی مفلسی کی حالت میں پیدا ہوتا ہے۔اس افسانے میں رشتوں کی شکست دریخت کے ساتھ اذیت ناک خود غرضی کو پیش کیا گیا ہے۔
حقیقت نگاری کا یہ اسلوب اردو افسانے میں خاص طور سے ترقی پسند تحریک کے زیر، اثر بہر مقبول ہوا۔ نچلے طبقے کی محرومیوں ، مجبوریوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفاکیوں کو آگے چل کر سدرشن ، کرشن چندر اور خواجہ احمد عباس وغیرہ نے اپنے افسانوں میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح پریم چند کا یہ افسانہ رجحان ساز افسانوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

_______________________________

Interview with Shamsur Rahman Farooqi

Articles

شمس الرحمن فاروقی سے ایک گفتگو

شمس الرحمن فاروقی

شمس الرحمن فاروقی سے ایک گفتگو

قاسم ندیم : فاروقی صاحب ‘ کیا کسی فن پارے کے عرفان کے لیے اس کے تخلیق کار کی شخصیت سے آگہی ضروری ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :دنیا کے اکثر بڑے فن کار وں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں، یا کچھ نہیں جانتے ۔ شخصیت تو دور کی چیز ہے، ان کے زمانے کا بھی تعین ٹھیک سے نہیں ہوسکتا۔ بلکہ بعض کے بارے میں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا وجود تھا کہ نہیں۔ مثال کے طور پر سورداس اور ہومر دونوں کے بارے میں شک ہے کہ یہ ایک ہی شخص تھے یا کئی لوگ یکے بعد دیگرے اس روایت میں شامل ہوتے گئے جسے ہم سورداس کی روایت یا ہومر کی روایت کہتے ہیں۔ عرب کے بعض جاہلی شعراءکے بارے میں بھی کہاجاتا ہے کہ اصلاً ان کا وجود نہ تھا۔ بہر حال اتنا تو ظاہر ہے کہ دنیا کے اکثر فن کاروں کی شخصیت کے بارے میں ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم ۔ ایسی صورت میں کیوںکر کہا جاسکتا ہے کہ کسی فن پارے کے عرفان کے لیے اس کے بنانے والے کی شخصیت سے آگہی ضروری ہے؟
قاسم ندیم : جوں جوں مرزا غالب کی شخصیت کے پہلو اجاگر ہوتے گئے اسی تیز روی کے ساتھ ان کے کلام کو پرکھنے میں ، سمجھنے میں آسانیاں ہوتی گئیں۔ کیا اس نکتے میںغالب کی شخصیت سے آگہی کا پہلو مضمر ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میں نہیں سمجھتا کہ غالب کی شخصیت کے بارے میں ہمیں جو معلومات ”یادگارِ غالب“ ، ”اردوے معلیٰ“ اور ”عود ہندی“ سے حاصل ہوئی ہیں ان پر کوئی قابلِ ذکر اضافہ ان کتابوں کی اشاعت کے بعد ہوا ہے۔ ویسے یہ خیال ہی بالکل مہمل ہے کہ ہمیں غالب کی شخصیت کے بارے میں جتنا معلوم ہے مولانا حالی کو اس سے کم معلوم تھا۔ لہٰذا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ گذشتہ سو سوا سو برس میں غالب کی شخصیت کے پہلو آہستہ آہستہ ہم پر روشن ہوتے گئے ہیں۔
قاسم ندیم : آپ نے ”تفہیم غالب“ لکھی ۔ اسے قلم بند کرنے میں آپ کو کیا دشواریاں پیش آئیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : پہلی دشواری تو یہ تھی کہ غالب کے کلام کو ان کے عہد اور ان کے پیش روﺅں کے حوالے سے سمجھا جائے ۔یعنی یہ دیکھا جائے کہ غالب جس شعری روایت کے پروردہ اور نمائندہ تھے اس میں شاعری کی کیا تعریف تھی اور غالب کے زمانے کا ادبی معاشرہ شاعر سے کیا توقع رکھتا تھا؟ ان باتوں کو معلوم کرنا اور سمجھنا مجھے بہت مشکل معلوم ہوا۔ دوسری مشکل یہ تھی کہ غالب نے دو طرح کے الفاظ استعمال کےے ہےں۔اےک تو وہ جو عام لوگوں کے لےے نامانوس ہےں،اور اےک وہ جو بظاہر مانوس اورسادہ ہےں لےکن ان مےں بعض اےسے معنی بھی ہےں جن کی خبر عام لوگوں کو نہےں،لےکن وہ معنی غالب کے شعر کے لےے کار آمد ہےں۔پہلی طرح کے الفاظ کو تو پہچاننا کچھ مشکل نہےں لےکن دوسری طرح کے لفاظ کو پہچاننے کے لےے زبان اور شعر دونوں کا زندہ اور سچا ذوق ہونا چاہےے۔بڑی شاعری کے ہر شارح کی طرح ۔مجھے بھی قدم قدم پر چوکس رہنا پڑتا تھا کہ کس لفظ کا کوئی کار آمد پہلو مجھ سے چھوٹ نہ جائے ۔تےسری مشکل ےہ تھی کہ غالب نے کچھ اےسے الفاظ بھی استعمال کئے ہےں۔جو عام طور پر لغات مےں نہےں ملتے ۔لہٰذ غالب کے شارح کی حےثےت سے مجھے ضروری تھا کہ فارسی کے بڑے لغات کو زےر مطالعہ رکھوں اور ےہ بڑے لغات عام طور پر دستےاب نہےں ۔واضح رہے کہ بڑے لغت سے مےری مراد صرف حجم نہےں بلکہ لغت کا مستند ہونا بھی ہے۔مثال کے طور پر کسی صاحب نے علامہ کالی داس گپتا رضا کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”جگر تشنہ“کا فقرہ کسی فارسی لغت مےں نہےں ملتا اور غالب نے جو مصرع ”دل جگر تشنہ¿ فرےاد آےا“ لکھا ہے وہ بےدل کی نقل مےں لکھا ہے ‘ورنہ فارسی لغات مےں ےہ ترکےب نہےں ملتی۔علامہ کالی داس گپتا رضا با علم آدمی تھے۔لےکن اگر انھوں نے اےسا لکھا ہے(جس مےں مجھے شک ہے)تو انھوں نے غلطی کی ہے ۔جہانگےر کے عہد مےں اےک بہت عمدہ لغت مولوی محمدلاد نے ”موےد الفضلا“نام کا مرتب کےا تھا۔اس مےں”جگر تشنہ¿“کا اندراج موجود ہے اور معنی وہی ہےں جو عام طور پر بےان کےے گئے ہےں ےعنی ”مشتاق“۔اس طرح طبا طبائی نے لکھا ہے کہ شعر
چھوڑانہ مجھ مےں ضعف نے رنگ اختلاط کا
ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کےوں نہ ہو
مےں لفظ ”رنگ“فقط لفظ ”نقش“کی مناسبت سے استعمال کےا گےا ہے ورنہ ےہاں رنگ کا معنوی اعتبار سے کوئی خاص کام نہےں۔لےکن ”برہان قاطع“مےں لفظ ”رنگ“کے اےک دو نہےں تےنتےس(۳۳)معنی درج ہےں۔ان مےں کئی معنی اےسے ہےں جو غالب کے شعر کے لےے کار آمد ہےں۔مثلاً طاقت،خون،زور اور قوت اور توانائی ‘طرز ورزش ۔اگر طبا طبائی نے لغت ملاخطہ فرماےا ہوتا تو وہ ےہ گمان نہ کرتے کی غالب نے محض لفظی مناسبت کو ملحوظ رکھا ہے۔
قاسم ندیم : کےا آپ کی نگاہ مےں ےہ تکمےلےت کی سطح کا کام ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اپنی حد تک تو وہ کام مکمل ہے۔لےکن ظاہر ہے کہ ابھی غالب کے بہت سے اشعار تلاش کےے جاسکتے ہےں جن مےں معنی کے اےسے پہلو ہےں جو گذشتہ شارحےن کی نظر سے پوشےدہ رہے ہےں۔مےں اس کتاب کا دوسرا اےڈےشن تےار کر رہا ہوں ۔اس مےں چار پانچ اشعار کی تفہےم کا اضافہ کروں گا۔
قاسم ندیم : آپ نے اس کام کو صرف سو اشعار تک ہی محدود رکھا ؟اگر آپ چاہتے تو شعر شعور انگےز کی طرح” دےوانِ غالب “کا احاطہ کرسکتے تھے۔اےسا کےوں ممکن نہ ہوسکا؟
شمس الرحمٰن فاروقی :دونوں کتابوں کی نوعےت الگ الگ ہے۔”تفہےم غالب“کا مقصد ےہ تھا کہ غالب کے ان اشعار پر اظہارِ خےال کےا جائے جن مےں کوئی اےسا پہلو ہو جو دوسرے شارحےن کی نظر سے اوجھل رہ گےا ہو”شعر شعور انگےز“مےں نے دراصل پہلے محض مےر کے انتخاب کے طور پر شروع کی تھی ۔پھر ےہ خےال آےا کہ مےر کے ےہاں اےسے اشعار کی کمی نہےں جن مےں معنی کی کئی تہےں پوشےدہ ہےں اور وہ اتنے سادہ نہےں ہےں جتنے کہ وہ بظاہر نظر آتے ہےں ۔لہٰذا اےسے اشعار پر کچھ نہ کچھ لکھنا کار آمد ہوگا۔لےکن جب مےں نے اس نےت سے اشعار کو دےکھنا شروع کےا تو محسوس ہوا کہ ہر شعر مےں کوئی نا کوئی بات ہے جس کی طرف اگر نشاندہی نہ کی جائے تو ممکن ہے کہ عام پڑھنے والے کی نظر اس بات تک نہ پہنچے۔لہٰذا مےںنے فےصلہ کےا کہ ہر شعر پر اطہارِ خےال کروں گا ۔اس طرح مےر کے انتخاب کی جگہ مےرا کام مےر کے منتخب کلام کے تجزےاتی اور تقابلی مطالعے کی شکل اختےار کر گےا ۔جب کئی سو صفحے لکھ لےے تو مجھے خےال آےا کہ مےر کے کلام کا مطالعہ اور تجزےہ مےں جس انداز سے اور جن اصول نقد کی روشنی مےں قلمبند کر رہا ہوں ان کی وضاحت اور مےر کے بارے مےں مےرے تنقےدی موقف کا بےان بھی ضروری ہے ۔لہٰذا مےں نے اےک دےباچہ لکھا جو بذاتِ خود مستقل کتاب بن گےا۔کام مزےد آگے بڑھا تو شعر کی تعبےر اور تفہےم پر کچھ نظرےاتی بحث بھی لکھنا ضروری معلوم ہوا۔ےہ مضمون بھی اےک چھوٹی سی کتاب کے برابر ہوگےا اور اسے مےں نے جلد دوم کے دےباچے کے طور پر کتاب مےں شامل کر لےا۔جب کام تقرےباً مکمل ہوگےا تو مےں نے محسوس کےا کہ کلاسےکی اردو غزل کی شعرےات جس کی بنا پر اور جس کی روشنی مےں مےں نے مےر اور دوسرے کلاسےکی شعرا کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔اس پر کوئی نظری بحث اردو مےں نہےں ملتی اور اگر اےسی کچھ تحرےر کتاب مےں شامل کر لی جائے تو اس کی افادےت مےں اضافہ ہوسکتا ہے ۔اس طرح اےک اور کتاب وجود مےں آگئی جسے مےں نے دو حصوں مےں تقسےم کرکے جلد سوم اور چہارم کے دےباچے کی شکل دے دی ۔اب آپ دےکھ ہی سکتے ہےں کہ اس کام کا نقشہ ”تفہےم غالب“سے بالکل مختلف ہے۔
قاسم ندیم : فی لحال آپ اقبال پر بھی کام کر رہے ہےں۔اقبال پر اتنا کام ہو چکا ہے کہ شمار کرنا دشوار ہے ۔پھر کےا سبب ہے کہ آپ اس موضوع پر مزےد لکھنا چاہتے ہےں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :مےرا خےال ہے کہ بڑی شاعری کی تنقےد اور تعبےر کے امکانات کبھی ختم نہےں ہوتے ۔اور جہاں تک اقبال کا معاملہ ہے ‘مےں سمجھتا ہوں کہ ابھی اقبال کے بہت سے پہلواےسے ہےں جن پر بہت کم لکھا گےا ہے ہمارا زیادہ زور اقبال کو فلسفی اور اسلامی مفکر ثابت کرنے میں صرف ہواہے۔اقبال بڑے شاعر ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔لیکن وہ بڑے شاعر کیوں ہیں یہ شاید کم لوگوں کو معلوم ہے۔
قاسم ندیم : اقبال کی ذہنی اور تہذیبی رو کا مشاہدہ کریں تو لگتا ہے کہ اقبال نے اپنے فلسفیانہ ذہن سے سائنس اور مذہب کے درمیان ایک نیا توازن ڈھونڈنکالنے کی کوشش کی ہے۔کیا آپ کے خیال میں اقبال اس عمل میں کامیاب ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :ذہنی اور تہذیبی رو سے آپ کی کیا مراد ہے،میں سمجھ نہیں سکا۔اور اگر ایسی کوئی چیز ہے بھی تومجھے نہیں معلوم کہ اس کا مشاہدہ کیوںکر ممکن ہے؟ویسے میرا خیال ہے کہ اقبال نے سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی توازن وغیرہ قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔جہاں تک میں سمجھا ہوں اقبال کی نظر میں سائنس ایک نسبتاً غیر اہم شئے تھی۔یعنی سائنس محض ٹکنالوجی کے طور پر انسان کے کام آسکتی تھی۔رہا سوال ان چیزوں کا جنھیں سائنسی افکار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ،تو میرے خیال میں اقبال اس نظریے کے حامل تھے کہ مابعد الطبیعیانی اور مذہبی فکر کی مدد سے سائنسی افکار بھی سمجھے جاسکتے ہیں۔
قاسم ندیم : اقبال ضابطہ اور عمل کو تصور اور سپردگی پر فوقیت دیتے ہیں۔لیکن وہ تصور پر ست اور عینیت پسند بھی رہے ہیں۔انھوں نے لینن کو خدا کے حضور میں کھڑا کردیا ۔اس کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اقبال یقیناًضابطہ اور عمل کے آدمی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عشق کی سپردگی کے قائل نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ اقبال کا عشق دراصل رسول ہے۔اور رسول کے سامنے وہ اپنے پوری طرح بے دست و پا کردیتے ہیں۔یہ ان کی بڑائی کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عینیت پرست ہیں۔اگر عینیت سے آپ کی مراد افلاطونی عینیت ہے یا وہ نو افلاطون عینیت ہے جس کا آغاز فلاطینوس سے ہوتا ہے اور جس نے مسلمان صوفیا کو متاثر کیا تو اقبال کے یہاں افلاطونی عینیت یا نو افلاطونی عینیت جیسی کوئی چیز نہیں۔ان کے کچھ آدرش ضرور ہیں لیکن آدرش ہمیشہ عمل کی تلقین دیتے ہیں۔آدرش پرستی کا مطلب تصویر پرستی ہر گز نہیں۔رہا سوال نظم”لینن خدا کے حضور میں“کا تو اس کا تعلق نہ آدرش سے ہے اور نہ عمل سے۔یہ ایک دلچسپ مگر پیچیدہ نظم ہے۔کائنات کا سارا نظام اللہ کے ہاتھ میںہے۔اور اللہ رحیم و کریم ہے۔اس کے باوجود دنیا میں دکھ،درد،غم ،ظلم اور بے انصافی بھی ہے۔تو پھر نظام کائنات کی بنا انصاف پر کیوںکر قرار دی جائے؟یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال ہیں جنھیں سلجھانے کی کوشش میں انسانی عقل ہزاروں برس سے گرفتار ہے۔اقبال نے اس نظم میں اپنے شکوک اور شبہات کولینن کے زبان سے پیش کیا ہے۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ خدا موجود ہے ورنہ لینن کا اس کے حضور میں ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟
قاسم ندیم : کیا آپ بھی سلیم احمد کی طرح اقبال کو ”حکیم الامت“کے بجائے مرد یا آدمی کے زمرے میں رکھنا پسند کریں گے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :میں اقبال کو صرف شاعر سمجھنا بہتر سمجھتا ہوں ۔ان کا حکیم الامت ہونایا مرد یا آدمی ہونا ان کی شاعری کا ایک پہلو ہوسکتا ہے نہ کہ اس کے بر عکس ان کی شاعری کا ان کے حکیم الامت ہونے یا مرد یا آدمی ہونے کا ایک پہلو قرار دیا جائے۔
قاسم ندیم : فرقہ پرست حضرات اقبال کو پاکستان کا نظریہ پیش کرنے والا سمجھتے ہیں ،یعنی تقسیم ملک کا ذمہ دار حق بات تو یہ ہے کہ ان کے کام میں قومی یک جہتی کے تصور کی جتنی مثالیں موجود ہیں شاید ہی کسی اور شاعر کے یہاں ہوں۔اس سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ کے اس جلسے میں جو ۰۳۹۱ میں الہ آباد میں منعقد ہوا تھا،اقبال نے جو صدارتی خطبہ دیا تھا اس میں یہ تجویز ملتی ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کو آزاد اور فیڈریشن کی طرح قائم کرنا چاہئے ۔اس فیڈریشن میں مسلمان اکثریت کے جو صوبے ہوں گے انھیں بعض مرکزی معاملات کو چھوڑ کر باقی سب انتظامی امور میں خودمختار ی حاصل ہوگی۔لیکن اسے باقاعدہ تجویز نہیں کہا جاسکتا ۔اور بہر حال کسی تجویز کا پیش کرنا اور ملک کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرانا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔تقسیم کی ذمہ داری مہاتما گاندھی،جواہر لال نہرو دوسرے اکابرین کانگریس اورمحمد علی جناح پر ہے۔اور ان سب سے زیادہ بڑے مجرم اس معاملے میں انگریزہیں۔رہا سوال اقبال کے کلام میں قومی یک جہتی کے تصور کا اظہار ہے کہ نہیں ،تو یقیناًہے اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اظہار اور احساس اقبال کے یہاں دوسری زبانوں میں ان کے معاصر بہت سے بڑے ادیبوں سے زیادہ ہے۔
قاسم ندیم : فیض کو آپ نے اپنے پسندیدہ پانچ جدید شعراءمیں رکھا ہے۔کس بنا پر آپ نے انھیں جدید شاعر مانا ہے؟کیا اس لیے کہ ترقی پسندوں نے انھیں کنارے لگا دیا تھا؟
شمس الرحمٰن فاروقی :سب ترقی پسندوں نے نہیں،صرف کچھ نے،اور ہمیشہ کے لیے نہیں صرف کچھ مدت کے لیے فیض صاحب کے خلاف منفی خیالات کا اظہار ضرور کیا تھا۔لیکن ترقی پسندحلقوں میں کسی کا ردو قبول میرے لئے کوئی معیار نہیں۔ترقی پسند حضرات کسی کو بڑا شاعر مانیں یا نہ مانیں یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔یہ قطعی ناممکن ہے کہ میں کسی شاعر کو برا شاعر صرف اس لیے مانوں کہ ترقی پسند حضرات اس کے قائل نہیں ہیں۔اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ میں کسی کو بڑا شاعر صرف اس لیے مانوں کہ ترقی پسند حضرات اسے بڑا شاعر مانتے ہیں۔
جہاں تک سوال میرے پانچ پسندیدہ جدید شعرا کا ہے تو میں نے یہ نہیں کہا کہ فیض میرے پانچ پسندیدہ جدید شعرا میں ہیں۔میں نے یہ کہا ہے کہ اقبال کے بعد پانچ بڑے شعرا کی فہرست جو میرے حساب سے بنتی ہے وہ حسب ذیل ہے :میراجی،راشد،اخترالایمان ،مجید امجد اور فیض۔
قاسم ندیم : کیا آپ فیض پر بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :جی نہیں ایک وقت میں مجھے امید تھی کہ میں ترقی پسند ادب پر ایک مفصل کتاب لکھوں گا لیکن افسوس کہ اب یہ ممکن نہ ہوگا ،کیوں کہ میں نے کچھ اور کام کئی سال ہوئے شروع کیے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں اور اب میری عمر ختم ہونے کو آرہی ہے۔
قاسم ندیم : کیا اس قول میں صداقت ہے کہ ادب کے لیے تنقید سانس کی طرح ناگزیر ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :کچھ اس طرح کی بات ٹی ایس الیٹ (T. S. Eliot) نے کبھی کہی تھی۔ لیکن اس سے اس کی مراد لازمی طور پر وہ تنقید نہیں تھی جو ہم آپ لکھتے یا پڑھتے ہیں۔ اس کی مراد یہ تھی کہ تنقیدی شعور کے بغیر تخلیقی کاروائی ممکن نہیں۔
قاسم ندیم : یہ بتائے کہ کیا کسی تخلیق کار کی عصری آگہی اس کی فکری اور جذباتی وحدت کا روپ اختیار کر سکتی ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :”عصری آگہی “ کی اصطلاح سے تو میں واقف ہوں لیکن ” فکری اور جذباتی وحدت کا روپ اختیار کرنے“ سے کیا مطلب ہے ، میں نہیں سمجھا۔ اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ کیا فن کار کی عصری آگہی اس کے جذبات اور افکار پر اثر انداز ہوتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً اثرانداز ہوتی ہے، لیکن یہ اثراندازی ہر فن کار بلکہ ہر فن پارے میں مختلف کیفیت رکھتی ہے۔
قاسم ندیم : جس وقت آپ کی تخلیقات پر تنقید کی جاتی ہے اس وقت آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : ذاکر صاحب کہتے تھے کہ اپنی تعریف سن کر خوش ہونا تو فطری بات ہے لیکن اس پر یقین کرلینا احمقوں کا شیوہ ہے۔ اسی کو پلٹ کر میں یوں کہتا ہوں کہ اپنی برائی پڑھ یا سن کر ناخوش ہونا تو بجا ہے لیکن اس پر یقین کرلینا بے وقوفی ہے۔ میں اپنے بارے میں بے تکلف یہ کہہ سکتا ہوں کہ چالیس برس سے زیادہ مدت کی تصنیفی اور تخلیقی زندگی میں مجھے دوہی چار تحریریں ایسی ملیں جن میں مجھ پر مدلل یا عالمانہ اعتراضات کیے گئے ہوں۔
قاسم ندیم : ادبی حلقوں میں دبے دبے انداز میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ آپ کی نثر آپ کی شاعری پر حاوی ہوگئی ہے ۔ کیا آپ بھی یہی محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اگر حاوی ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ میں نے نثر زیادہ لکھی ہے اور شعر کم ، تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ اگر تنقید لکھنے کے لیے مجھ پر اتنا دباﺅ نہ ہوتا تو میں نے اپنی شاعری پر زیادہ توجہ صرف کی ہوتی ۔ تنقید لکھنے کے لیے دباﺅ میرے اوپر شروع سے رہا ہے، اور کچھ میں نے بھی تنقید پر زیادہ توجہ صرف کی۔ شاید اس لیے کہ مجھے یہ خیال تھا کہ تنقید کے میدان میں جو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی اور نہیں کہہ رہا ہے، اور شاعری کا معاملہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ میری طرح کا شعر کہہ ہی دے گا۔ لیکن سچ پوچھیے تو ادھر دس پندرہ سال میں میرا یہ احساس شدید ہوگیا ہے کہ میری شاعری کچھ اس طرح کی ہے کہ اس جیسی شاعری کوئی اور نہیں لکھ رہا ہے۔
قاسم ندیم : آپ نے ”سبز اندر سبز“ میں بچوں کے لیے بھی کچھ نظمیں شامل کی ہیں۔ کیا آپ نے بچوں کے لیے اور بھی کچھ لکھا ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : ”چار سمت کا دریا“ جو صرف رباعیوں کا مجموعہ ہے ، اس کو چھوڑ کر میرے دو مجموعوں میں بچوں کے لیے نظمیں شامل ہیں۔ میں نے بچوں کے لیے کچھ رباعیاں بھی کہی ہیں۔ لیکن وہ ”چار سمت کا دریا“ کے بہت بعد کی ہیں ‘ بلکہ ”آسماں محراب “ کے بھی بعد کی ہیں۔
قاسم ندیم : اردو رسم الخط کو دیوناگری میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں اکثر کہا گیا ہے کہ اردو کا رسم الخط بدل کر ناگری کردیاجائے ۔ یہاں تک کہ احتشام صاحب نے بھی کچھ ایسی رائے ظاہر کی تھی۔ آخر پروفیسر احتشام حسین جیسے معزز اور معتبر بزرگ کے اردو رسم الخط کو دیوناگری میں بدلنے کی رائے دینے کے پسِ پشت کیا وجوہات رہی ہوں گی؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد اردو پر جو کڑا وقت پڑا اس سے گھبرا کر بعض ترقی پسند بزرگوں نے رائے ظاہر کی کہ اردو کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کا رسم الخط دیوناگری کردیا جائے ۔ ان بزرگوں میں احتشام صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔ لیکن جلد ہی انھوں نے اپنی رائے بدل لی تھی۔ چنانچہ ایک بار جب بعض ترقی پسند ادیبوں مثالاً عصمت چغتائی مرحومہ وغیرہ نے پھر یہ تجویز رکھی تو میری درخواست پر احتشام صاحب نے ایک مضمون لکھا جسے میں نے ”شب خون“ میں شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں احتشام صاحب نے بہت زور دے کر رسم الخط کی تبدیلی کی مخالفت کی ، اور یہاں تک کہا کہ جو لوگ اردو رسم الخط بدل کر دیوناگری کرنا چاہتے ہیں وہ فاشی ہیں۔
قاسم ندیم : آپ کو سرسوتی سمّان سے نوازا گیا اور اردو کے تمام حلقوں کی طرف سے اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ بے شک صرف اور صرف آپ اس اعزاز کے حق دار تھے ۔ کیا اردو کے خدمت گاروں میں کچھ ایسی ہستیاں اور بھی ہیں جنھیں اس طرح کے اعزاز سے نوازا جانا چاہیے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : یقینا ہیں ۔ اور مجھے پوری امید ہے کہ یہ ایوارڈ ابھی اردو کے کئی ادیبوں کو ملے گا۔
قاسم ندیم : اگر نیّر مسعود صاحب کو ساہتیہ اکیڈمی انعام نہ دیا جاتا تو آپ کے تاثرات کیاہوتے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھے یقیناً افسوس ہوتا۔
قاسم ندیم :انعامات اور اعزازات کی بات چل رہی ہے تو ےہ بتائےے کہ (Booker)انعام اور نوبل انعام اردو کے نصےب مےں ہےں کہ نہےں؟اور ان اعزازات کے حق دار کون ہوسکتے ہےں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :Bookerانعام تو انگرےزی کی کتابوں پر ملتا ہے ،لہٰذا اس کا کوئی امکان نہےں ۔نوبل انعام کا معاملہ ےہ ہے کہ ابھی کسی اردو ادےب کے حق مےں مغربی ممالک مےں عام تذکرہ اور چرچا نہےں ہوا ہے،اور ےہ بہت ضروری ہے۔
قاسم ندیم : گلوبلائزیشن کے اس دور میں مختلف تہذیبوں کا ٹکراﺅ جاری ہے۔ ایسے وقت میں شعرا اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : تہذیبوں کے ٹکراﺅ کا تصور امریکی سامراج کا ایجاد کیا ہوا ہے۔ میں اس کو قبول نہیں کرتا ۔ دوسری بات یہ کہ تہذیبوں کا ٹکراﺅ ہو یا گلوبلائزیشن یا اور کوئی صورت حال ، شاعر (اور اس اصطلاح میں تمام تخلیقی فن کار شامل ہیں) کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھرتے ہوئے اچھے سے اچھا لکھے۔
قاسم ندیم : آپ نے ۶۶۹۱ءمیں ”شب خون“ جاری کیا ،ا س کے اسباب کیاتھے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ نئے لکھنے والوں اور نئے سوچنے والوں (جن میں میں خود کو بھی شامل کرتا تھا) ‘ ان کے لیے لکھنے اور تبادلہ¿ خیال کا معتبر اور مستقل میدان مہیا کیا جائے۔دوسری بات یہ کہ ترقی پسند ادب اس وقت تک بڑی حد تک بے جان ہوچکا تھا اور ضرورت تھی کہ اس کی جگہ لینے کے لیے ایسا ادب سامنے لایا جائے جو نئے حالات کی نمائندگی کرتا ہو اور جو ترقی پسند ادب کی طرح نظریے کی انتہا پسندی کا شکار نہ ہو۔ تیسری بات یہ کہ اس زمانے میں الہٰ آباد میں کئی نئے لکھنے والے موجود تھے جنھیں قومی سطح پر متعارف ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کوئی اچھا رسالہ ان کی دسترس میں نہ تھا۔ ایسے لکھنے والوں کے لیے بھی ایک جگہ درکا رتھی جسے میں نے ”شب خون“ کے ذریعے مہیا کرنے کی کوشش کی ۔ چوتھی بات یہ کہ اس وقت ہندوستان کے اکثر اچھے لکھنے والے پاکستانی پرچوں میں چھپنا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ پاکستانی پرچوں کو دلکش اور معیاری سمجھتے تھے۔ اس کے برخلاف ، اس زمانے میں شاید ہی کوئی قابلِ ذکر پاکستانی ادیب رہا ہو جو ہندوستان میں چھپتا ہو۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ ایک ایسا پرچہ نکالا جائے جس میں ہندوستان کے اچھے ادیبوں کو چھپنے کی خواہش ہو۔ اور اس طرح پاکستان کا رعب لوگوں کے دل سے زائل ہو۔ اسی فیصلے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ میں نے شروع کے دوسال میں کسی پاکستانی ادیب کو ”شب خون“ میں شائع نہیں کیا۔ اور جب تیسرے برس سے انھیں شائع کرنا شروع کیا تو متعدد سربر آوردہ پاکستانی ادیب ہندوستان میں پہلی بار شائع ہوئے ۔ مثلاً انتظار حسین ، انور سجاد ، ظفر اقبال ‘وغیرہ۔
قاسم ندیم : صرف بتیس(۲۳) سال کی عمر میں آپ نے محسوس کرلیا تھا کہ آپ جدیدیت کی علم برداری کرسکتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : جدیدیت کی علم برداری وغیرہ کا کوئی تصور میرے ذہن میں نہ تھا۔ ممکن ہے ”جدیدیت“ کا لفظ بطور اصطلاح سب سے پہلے میں نے استعمال کیا ہو، میں اس بات میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ عسکری صاحب نے ”جدیدیت“ کا لفظ یورپی افکار کے حوالے سے ضرور استعمال کیا ہے ، لیکن اس سے ان کی مراد یورپی روشن فکری تھی نہ کہ وہ ادبی رجحان جسے ہم آپ جدیدیت کا نام دیتے ہیں۔ مغربی ادب میں بھی Modernismکی اصطلاح تقریباً انھیں معنی میں رائج ہے جن معنی میں ہمارے یہاں ”جدیدیت“ کی اصطلاح رائج ہے۔
قاسم ندیم : کیا اس زمانے میں جدیدیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی تھی؟اردو میں جو مختلف تحریکیں وجود میں آئیں ان سے زبان و ادب کو نقصان ہوا یا فائدہ؟
شمس الرحمٰن فاروقی : دوسرے سوال کا جواب پہلے عرض کرتا ہوں۔ میرا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی ادبی تحریک سرا سر نقصان دہ نہیں ہوتی۔ دیکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ کسی تحریک کے اثرات کس حدتک منفی تھے اور کس حد تک مثبت۔ پہلے سوال کے جواب میں یہ عرض کروں گا کہ جدیدیت سے اختلاف بہت کیا گیا ۔ لیکن اس میں کم سے کم تین طرح کے اختلاف کی نشاندہی ہوسکتی ہے ۔(۱) پرانے وقتوں کے زیادہ تر سیدھے سادے لوگ جن کااختلاف ادبی بنیادوں پر تھا لیکن ادبی نظریات پر ان کی گرفت کچھ مضبوط نہ تھی ،اس لیے ان کا اختلاف زیادہ تر واویلا کی شکل میں ظاہر ہو۔ (۲) ترقی پسند ادیب ، جنھیں اپنی کرسی خطرے میں نظر آرہی تھی۔ (۳) عام طور پر بزرگ ادیب جو ہر طرح کی تبدیلی کے خلاف تھے۔
قاسم ندیم : جدیدیت کے متعلق ہمیشہ یہ بات کہی گئی ہے کہ اس میں جو تجربے ہوئے ہیں وہ ہماری زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آپ سے بھی کئی لوگوں نے اس قسم کے سوالات کیے ہوں گے ۔ آپ نے انھیں کس طرح مطمئن کیا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھ سے اس معاملہ پر باقاعدہ سوال و جواب تو شاید کبھی نہیں ہوا ، اوراگر ہوا بھی ہوتا تو میں یہ دعویٰ نہ کرسکتا کہ میں نے سب کو مطمئن کردیا۔ یہ بات ضرور ہے کہ جدیدیت پر مختلف مضامین میں یہ اعتراض ضرور کیا گیا کہ جدیدیت سماجی شعور کی قائل نہیں اور نہ ادب میں سماجی معنویت دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی طرح کے اعتراض کے ضمن میں یہ بھی کہا گیا کہ جدیدیت زندگی سے منقطع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں غلط تھیں۔ کم سے کم میں نے تو ہمیشہ کہا کہ ادیب اپنے معاشرے کا اثر قبول کرتا ہے اور معاشرے میں رہ کر ہی ادب تخلیق کرتا ہے۔ ہاں میں نے اس بات سے انکار کیا اور اب بھی انکار کرتا ہوں کہ ادیب کا سماجی شعور یا سماجی زندگی کا ادب میں اظہار کسی خارجی دباﺅ کا پابند ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ غور کیجئے تو ادیب کی آزادی اظہار پر اصرار کرنے کے معنی ہی یہی ہیں کہ ادیب کا سماجی شعور اور زندگی کے بارے میں اس کا ادراک کسی خارجی دباﺅ کا پابند نہ قرار دیا جائے۔
قاسم ندیم : کیا آپ مانتے ہیں کہ واقعی اس دور میں قاری ناپید ہوگیا تھا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : یہ عجیب بات آپ نے کہی ۔ قاری کوئی پھول یا پھل تو ہے نہیں کہ کسی موسم میں نظر آئے اور کسی موسم میں ناپید ہوجائے ۔ ہمارا کہنا صرف یہ تھا کہ قاری کا احترام فرض ہے ، لیکن ادیب کا احترام بھی ہمارا فرض ہے اور یہی ہمارا پہلا فرض ہے۔ ادیب کو قاری کا محکوم نہ قرار دینا چاہیے۔ اگر ہم ادیب سے توقع کرتے ہیں کہ تخلیق کے کام میں وہ کوئی کوتاہی نہ کرے گا اور اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق بہترین ادب لکھے گا ، تو ہم قاری سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اندر تخلیق کی فہم پیدا کرے اور اپنی ذہنی تربیت اس طرح کرے کہ وہ مختلف رنگوں کی تخلیقات کو سمجھنے کی اہلیت حاصل کرلے۔
قاسم ندیم : اگر مابعد جدیدیت کو ایک تحریک مان لیا جائے تو کیا یہ تمیز کرنا ممکن ہے کہ فلاں تخلیق جدیدیت یا ترقی پسند تصورات سے مبراہے ؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مابعد جدیدیت کو آپ تحریک مانیں یا نہ مانیں اس کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔ جب مابعد جدیدیت کا نام بھی نہ تھا ، تب بھی یہ پہچاننا کچھ مشکل نہ تھا کہ کوئی فن پارہ ترقی پسند تصورات سے عاری ہے یا نہیں۔ مثلاً میراجی کی تمام شاعری ایسی ہے کہ اسے ترقی پسند نہیں کہا جاسکتا۔ یہی حال راشد اور اخترالایمان کی شاعری اور بیدی اور منٹو کے بیشتر فکشن کا ہے۔ اسی طرح جدید دور میں بھی ایسے بہت سے فن کار تھے جنھیں جدید نہیں کہا جاسکتا۔ یہ کہنا صحیح نہیں کہ اگر کوئی فن پارہ ترقی پسندی یا جدیدیت سے خالی ہے تو وہ مابعد جدید ہی ہوگا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کون سے عناصر ہیں جن کی موجودگی کسی تخلیق کو مابعد جدید بنادیتی ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر گو پی چند نارنگ نے آج تک کوئی ایسی فہرست نہیں مہیا کی ۔ اور ہمارے دوسرے دوست پروفیسر وہاب اشرفی نے جو کتاب اس موضوع پر لکھی ہے اس میں انھوں نے جس قسم کے فن پاروں کو مابعد جدید کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے ان میں تو مجھے جدیدیت بھی ٹھیک سے نظر نہیں آئی۔ مابعد جدیدیت کا کیا پوچھنا ہے۔ بلکہ وہاب صاحب نے اور خود نارنگ صاحب نے مابعد جدید ادیبوں کے طور پر جن لوگوں کے نام گنائے ہیں ان میں سے اکثر کوتو درجہ سوم کا بھی شاعر یا افسانہ نگار یا نقاد تسلیم کرنا مشکل ہے۔
قاسم ندیم : جب گوپی چند نارنگ صاحب ساہتیہ اکیڈمی کے صدر منتخب ہوئے تو آپ نے انھیں مبارکباد دی ۔ کیا نارنگ صاحب نے بھی آپ کا شکریہ ادا کیا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : لوگ معلوم نہیں کیوں سمجھتے ہیں کہ گوپی چند نارنگ سے میری بات چیت نہیں ہے یا میرا ان سے کوئی جھگڑا ہے۔ادبی معاملات میں اختلاف رائے نہ کوئی نئی بات ہے نہ میری بات۔ بلکہ یہ رسم تو جدیدیت ہی کی قائم کردہ ہے کہ ہر شخص کواپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔
قاسم ندیم : آپ کا وارث علوی سے بھی چھیڑ چلی جائے ہے والا معاملہ بھی رہا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : وارث علوی سے کوئی ایسا معاملہ میرا کبھی نہیں رہا۔ہاں وارث علوی کبھی کبھی مجھے برا بھلا کہنے اور کبھی کبھی مجھے گوپی چند نارنگ کے مقابل کھڑا کرنے میں لطف لیتے رہے ہیں۔ لیکن یہ ان کا اپنا معاملہ ہے ، اور ممکن ہے کہ اس میں ان کے احساس غیر محفوظیت کو بھی کچھ دخل ہو۔ وارث علوی نے جب ترقی پسندی ترک کی اور جدیدیت اختیار کی تو اس وقت وہ ترقی پسندوں سے اس قدر خائف تھے کہ انھوں نے اپنے اولین مضامین ”ابن حسین“ کے نام سے لکھے۔ یہ سب مضامین ”شب خون“ میں چھپے۔ جب ان مضامین کا شہرہ ہوا اور انھیں مقبولیت ملی تو وارث علوی کو اپنا نام ظاہر کرنے کی ہمت ہوئی ۔ انھوں نے قبول کیا کہ وہ مضامین انھیں کے ہیں اور پھر آئندہ مضامین انھوں نے اپنے اصل نام یعنی وارث علوی کے نام سے لکھے۔ اور اب ظاہر ہے کہ وہ جدید ادب کی ایک بہت نمایاں ہستی ہیں تو شاید انھیں کبھی کبھی اپنے پرانے دن یاد آجاتے ہوں تو مجھ سے کچھ چھیڑ چھاڑ کرلیتے ہوں۔
قاسم ندیم :آپ اردو کے نقادوں میں سب سے زیادہ کسے پسند کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : محمد حسن عسکری پھر آل احمد سرور
قاسم ندیم : بیسویں میں اردو کے پانچ بڑے ناول نگاروں ، افسانہ نگاروں ، شاعروں اور ناقدوں اور محققین کی فہرست آپ بنادیں تو آنے والی نسلوں کے لیے سند بن جائے۔
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھے فہرست بنانے میں لطف نہیں آتا۔ کچھ عرصہ ہوا زبیر رضوی کے رسالے ”ذہن جدید“ میں ناول نگاروں ، افسانہ نگاروں اور فکشن کے نقادوں کی فہرست بنانے کی فرمائش آئی تھی ۔ میں نے زبیر صاحب کا دل رکھنے کے لیے ایک فہرست بنادی تھی ، وہ آپ دیکھ لیں ۔مزید زحمت سے مجھے معاف رکھیں۔
قاسم ندیم : برصغیر کے اردو رسائل میں سے آپ کن کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میرے پاس جو رسالے آتے ہیں ان سب کو ایک نظر دیکھ لیتا ہوں ۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں فہرست کی حد تک دیکھتا ہوں۔
قاسم ندیم : نئی نسل کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میں اپنے کو کسی خاص علم یا صلاحیت کا حامل نہیں سمجھتا اور اس لیے خود کو اس بات کا حق داربھی نہیں سمجھتا کہ نئی نسل کوکوئی پیغام دوں۔ لیکن اردو زبان اور ادب سے محبت کرنے والے ایک عام شخص کی حیثیت سے میں سب سے پہلی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل اردو زبان ، اس کے رسم الخط ،اور اس کے املا کے بارے میں کسی قسم کا مدافعانہ یا شرمندگی کا رویہ نہ رکھے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کہے کہ ہمیں اس زبان پر فخر ہے اور اس سے محبت ہے۔ ہمیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اور اگر کوئی برائی ہو بھی تو ہم اسے اچھائی ہی سمجھتے ہیں کیونکہ محبت کرنے والے کو محبوب میں اچھائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ نئے لوگ اردو زبان کے بارے میں یہ نہ گمان کریں کہ یہ لشکری زبان ہے یا مسلمانوں کی زبان ہے ، بلکہ یہ جانیں کہ اردو برصغیر میں پیدا ہوئی اور برصغیر کے تمام باسیوں کا اس پر حق ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنی زبان کو سادہ ،شستہ ،بامحاورہ بنائیں۔ غیر زبانوں کے الفاظ سے گریز کریں خاص کر جب اردو زبان میں ان کے متبادل الفاظ موجود ہیں ۔ تیسری بات یہ کہ ادب سے محبت اور ادب کا مطالعہ کسی فائدے یا منفعت کی غرض سے نہ کریں بلکہ اردو زبان اور ادب سے بے غرض اور بے لوث محبت کو اپنی رگ رگ میں پیوست کرلیں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
٭٭٭
مشمومہ ، سہ ماہی ”اردو چینل“ (شمس الرحمن فاروقی نمبر) جلد ۵ ، شمارہ ۴ (ستمبر 2003تا دسمبر 2004) صفحہ نمبر 94تا 102)