Khwaja Ahmad Abbas by Dr. Abubakar Abbad

Articles

ترقی پسندوں کا پہلا درویش: خواجہ احمد عباس

ڈاکٹر ابوبکر عباد

خواجہ احمد عباس افسانہ نگار تھے، ناول نویس تھے،ڈرامہ نگار تھے ، صحافی تھے، کالم نگار تھے،فلم ساز تھے اورخاکہ نگار بھی۔انھوں نے سفر نامے لکھے،آپ بیتی لکھی ، ڈراموں میں ایکٹنگ کی اور اردو، ہندی اورا نگریزی میں بہت سارے مضامین تحریر کیے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر ایک حیثیت ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہے ، سو اُن کا تقابل مختلف اصناف کے ماہرین یا ان کے معاصرین سے نہیں بلکہ خود ان کی ہی شخصیت کی مختلف جہات کاایک دوسرے سے کرنا چاہیے۔ ان کی اس ہمہ گیر خوبی کو عام لوگ اور ناقدین بھی جانتے تھے اور خواجہ احمد عباس بھی اس سے واقف تھے ۔ چنانچے وہ لکھتے ہیں:
ادیب اور تنقید نگار کہتے ہیں میں ایک اخبارچی ہوں،جرنلسٹ کہتے ہیں کہ میں ایک فلم والا ہوں، فلم والے کہتے ہیں میں ایک سیاسی پروپیگنڈٹسٹ ہوں، سیاست داں کہتے ہیں کہ میں کمیونسٹ ہوں،کمیونسٹ کہتے ہیں کہ میں بورژوا ہوں۔۔۔ سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں۔ ‘‘(آئینہ خانے میں، مطبوعہ، افکار، کراچی، دسمبر، 1963)
اور آگے کی بات یہ ہے کہ لوگ انھیں لا مذہب سمجھتے تھے، لیکن اُنھوں نے اپنے وصیت نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’میں اب بھی لا ادری ہوں یعنی مذہب کا مجھے زیادہ علم و ایقان نہیں، لیکن میں وحدہ لا شریک کا پرستار ہوں، اور اس حیثیت سے میں مسلمان ہوں۔‘‘دوستوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے احباب کی رائے تھی کہ خواجہ احمد عباس نہایت نیک، شریف النفس، ترقی پسند، سیکولر اور ہر مصیبت میں لوگوں کے کام آنے والا فرشتہ تھا۔
خواجہ احمد عباس اپنے متعلق جو کہیں ، لوگ ان کے بارے میں جو سمجھیں۔ ان کی کتاب زندگی اور فن کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ایک بشر دوست ،بے ریا ، مخلص، حق گو، ہمدرد،اور غیر مصلحت پسند انسان تھے۔ اور زندگی بھر اسی انسانیت کی تبلیغ کے لیے انھوں نے مختلف ذرائع ابلاغ سے کام لیا۔یاد پڑتا ہے کہ حدیث کی کسی کلاس میں ایک استاذ نے فرمایا تھا کہ ’’ جس شخص سے ہر طبقے کے لوگ خوش ہو ں وہ شخص در اصل منافق ہوتا ہے۔‘‘ایک شاگرد نے دریافت کیا کہ اگر بعض طبقے خوش ، بعض ناراض ہوں تو؟ ارشاد فرمایا: ’’ وہ سچا انسان ہو گا۔‘‘’’اور حضرت ! جو سبھی طبقے ناراض ہوں جس آدمی سے۔‘‘ ایک اور شاگرد نے استفسار کیاتھا۔فرمایا استاذ نے کہ:’’ وہ سچا انسان حق پسند بھی ہوگا ، حق گو بھی۔‘‘ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ انسانیت کی یہ منزل بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک ہوتی ہے ، تادیر کم ہی لوگ اس منزل پر ٹھہر پاتے ہیں۔‘‘ اور صاحبو! کہنے کی اجازت دیجیے کہ خواجہ احمد عباس انسانیت کی اس بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک منزل سے عمر کے آخری پڑائو تک نیچے نہ آئے۔ جب انھوں نے افسانہ ’’سرکشی ‘‘ لکھا تو مسلمانوں نے ناراضگی جتائی اورسخت احتجاج کیا کہ افسانے کی مسلم ہیروئن کی ایک ہندو سے کیوں شادی کروائی گئی۔افسانہ ’’بارہ گھنٹے ‘‘ کی اشاعت پر ہندوئوں نے اس بات کو بنیاد بنا کر خواجہ صاحب کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا، کہ افسانے کا ادھیڑ عمر انقلابی بارہ گھنٹے کے لیے رہا ہونے کے بعد بینا نام کی ایک آئیڈلسٹ لڑکی کے ساتھ رات گزارتا اور اس کے جسم سے لطف اندوز ہوتا ہے۔اور خواجہ صاحب کی زبردست مخالفت اور ان کے خلاف سب سے بڑا ہنگامہ تب ہوا جب ان کی کہانی ’’سردار جی‘‘ پہلی بار اگست 1948کے ’ادب لطیف‘ اور کچھ مہینوں بعد ہندی رسالے ’مایا‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کہانی کے خلاف پورے ہندوستان کے سکھوں نے اتنا زبردست مظاہرہ کیا تھاکہ یو پی کی حکومت نے کہانی کو ممنوع قرار دے دیا اور مصنف، ایڈیٹر اور پریس کے مالک پر الٰہ آباد کورٹ میں مقدمہ بھی چلایا ۔لیکن خواجہ صاحب کی مخالفتوں کے تعلق سے مقام حیرت ابھی باقی ہے۔تب تک ذہن میں اُس واقعے کو تازہ کر لیجیے جب خواجہ صاحب نے راما نند ساگر کے ناول ’’اور انسان مرگیا‘‘ کا دیباچہ لکھا تھا۔تلخی گفتار کی اجازت دیں تو عرض کروں کہ تقسیم ملک کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے خواجہ احمد عباس کی صورت میں پہلی بار کسی نے سچ اورحق بات لکھنے کی جرأت کی تھی۔ ورنہ ترقی پسندوں نے توفسادات کے تعلق سے عمومی رائے یہ بنائی تھی کہ اس میں ہندو، مسلم اور سکھ کی کوئی غلطی نہیں۔ ساری غلطی انگریز سامراجی حکومت کی ہے جس نے نفرت ونفاق کا بیج بویا ، جس کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا ۔ اور در اصل تقسیم ملک ہی فساد ات کی جڑ ہے۔خواجہ صاحب نے واضح طور سے لکھا کہ برطانوی سامراج کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ان فسادات کے ذمے دارمسلمان اور ہندوستان میں ہندو اور سکھ ہیں۔ اوریہ بھی کہ ان فسادات کی ذمے داری ہندو مہا سبھا، جن سنگھ، کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ اس نے عوام کو مہذب بنانے کی ذمہ داری نہیں نبھائی ۔ بس پھر کیا تھاترقی پسند دوستوں نے خواجہ صاحب کو عوام دشمن ، بورژوا اور سامراجی ایجنٹ بتایااور انھیں مجرم قرار دے کر انجمن کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اور مقام حیرت یہ ہے کہ الٰہ آباد کی کورٹ نے تو دو سماعتوں کے بعدکہانی ’’سردارجی‘‘ کے تعلق سے خواجہ صاحب پر چلائے جارہے مقدمے کو خارج کردیااور خوشونت سنگھ نے ان کی اس متنازعہ کہانی کوپنجاپ پر لکھی جانے والی کہانیوں کے اپنے انگریزی انتخاب میں سرِ فہرست شائع کیا۔ لیکن خواجہ احمد عباس کو ’’اور انسان مر گیا‘‘ کے دیباچے میں حق بات لکھنے کی پاداش میں ترقی پسندوں کی عدالت نے انھیں نہ صرف انجمن سے نکالادیابلکہ اپٹا(IPTA)کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے بھی ہٹایا اور ’’نیا ادب‘‘ کی رکنیت سے بھی باہر کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ برسوں بعد اُن سخت گیر دوستوں کے خیالات میں بھی تبدیلی آئی اوران کے رویوں میں بھی۔
خواجہ احمد عباس کو غیر اردو داں حضرات صحافی، فلم سازاور اسکرپٹ رائٹرکے علاوہ ’دھرتی کے لال‘ میںبلراج ساہنی اور ’سات ہندوستانی ‘ میں امیتابھ بچن کو بریک دینے والے کی حیثیت سے یاد رکھنے کے علاوہ راج کپور کے لیے بے حد کامیاب فلمیں لکھنے والے کہانی کار کے اعتبار سے بھی جانتے ہیں ۔ لیکن اردو کی دنیا میں بطور فکشن نگار اُن کی حیثیت مسلم ہے۔ انھوں نے نو ناول تحریر کیے۔ جن میں ’ ایک ٹب اور دنیا بھر کا کچرا‘، ’دوبوند پانی‘، ’تین پیسے‘، چار دل چار راہیں‘، ’سات ہندوستانی‘، انقلاب‘، فاصلہ‘، ’بمبئی رات کی بانہوں میں‘ ، ’اندھیرا اجالا‘ اور میرا نام جوکر‘ہیں۔ ’دوبوند پانی‘ راجستھان کے پس منظر میں پانی حاصل کرنے کی کوششوں پر مبنی ناول ہے ۔ ’سات ہندوستانی ‘چھوٹا سا ناول ہے جس میں گُوا کی تحریک آزادی کو محور میں رکھ کرہندوستان کے مختلف مذاہب اورمختلف لسانی خطوں کے تعصبات کوختم کرکے انھیں متحد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان دونوں ناولوں پر انھیں قومی یک جہتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ’اندھیرا اجالا‘ میںحقیقت پسندی کو خوبی سے پیش کیا گیاہے۔ اور ’انقلاب ‘آزادی کی جد وجہد کی داستان پر مبنی ان کا ضخیم ناول ہے جو پہلے انگریزی میں شائع ہواتھابعد کو اردو میںہوا۔ اس ناول کو خواجہ صاحب کے ذاتی تجربے کی شمولیت اور عصری حسیت نے بے حد اہم بنادیا ہے۔
خواجہ صاحب کا پہلاافسانوی مجموعہ ’’ایک لڑکی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا اور پھر ’پائوں میں پھول‘، ’زعفران کے پھول‘، ’میں کون ہوں‘،’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔‘، ’دیا جلے ساری رات‘، ’پیرس کی ایک شام‘، ’گیہوں اور گلاب‘، بیسویں صدی کے لیلیٰ مجنوں‘، ’نیلی ساڑھی‘ ’سونے چاندی کے بت ‘(اس مجموعے میں بعض فلمی ستاروں کے خاکے بھی شامل ہیں)اور ’نئی دھرتی نئے انسان‘تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔
ٍ جن سات ڈراموں کی انھوں کی تخلیق کی ان میں’زبیدہ‘، ’یہ امرت ہے‘، ’میں کون ہوں‘، انناس اور ایٹم بم‘، ’لال گلاب کی واپسی‘، گاندھی جی کے قتل پر طویل ڈرامہ’گاندھی اور غنڈہ‘، اور ’بھوکا ہے بنگال‘ جس پر بعد میں ’دھرتی کے لال ‘ نام سے فلم بنائی گئی ، خاصے اہم ہیں۔ان کے سفر ناموں میں ’ مسافر کی ڈائری‘، خروشچیف کیا چاہتا ہے‘،’ مسولینی‘اور ’محمد علی ‘ کے نام لیے جاتے ہیں۔1977میں انھوں نے انگریزی میں I am not an islandکے عنوان سے اپنی آپ بیتی لکھی ۔ یہ آپ بیتی صرف ان کی زندگی کے اتار چڑھائو کاہی نہیں بلکہ برصغیر کی نصف صدی کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تار یخ کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی بھی سوانح تحریر کی ہے۔ کئی ایک تنقیدی مضامین کے علاو ہ دانشورطبقے کے حوالے سے ان کے افسانہ نما طنزیہ مضمون ’انٹلکچوئل اور بینگن‘ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔لیکن آج کی صحبت میں گفتگو ان کے افسانوں اوران کے افسانوی طریقۂ کار سے ہوگی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام ترقی پسند افسانہ نگاروں کی طرح خواجہ احمد عباس نے بھی اپنے افسانوں کا محور و مرکزمعاشی، معاشرتی مسائل اور سماجی نظام کو بنایا ہے۔ فاقہ کشی، عدم مساوات، فسادات اور سامراج دشمنی جیسے موضوعات کو اہمیت دی ہے، روزانہ زندگی میں رونما ہونے وا لے واقعات اور انسان کوعام طور سے پیش آنے والے حادثات سے پلاٹو ں کی تعمیر کی ہے اور دبے کچلے عوام، گرے پڑے لوگوں اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والے افراد کو افسانوی محفل کا مسند نشیں بنایا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے ہم عصر ترقی پسندافسانہ نگاروں سے ذراالگ راہوں کا بھی انتخاب کیاہے۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے تاریکیوںمیں بھی روشنی دریافت کرنے کی کوشش کی ہے اورزندگی کے بعض خوبصورت پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے ’’گیہوں اور گلاب‘‘ ،’’ لال گلاب کی واپسی‘‘ اور ’’زعفران کے پھول‘‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایسے ہی غیر روایتی رومان کے کچھ رومانی افسانے لکھے ہیں مثلاً ’’کہتے ہیں جس کو عشق‘‘، ’’شکر اللہ کا‘‘ اور ’’مسوری 52ء‘‘ وغیرہ۔ پھر انھوں نے ملک کے بعض ترقیاتی منصوبوں کوبنیاد بنا کر بھی افسانے لکھے ہیں جن میں ’گیہوں اور گلاب‘ کے علاوہ ’نئی جنگ‘ جیسے افسانوں کو رکھا جا سکتا ہے۔ اور شاید یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ خواجہ احمد عباس پہلے ترقی پسند افسانہ نگار ہیں جنھوں نے اپنے افسانوں میں حب الوطنی کے جذبات کا کثرت سے اظہار کیا ہے۔اپنے مجموعے ’نئی دھرتی نئے انسان‘ میں انھوں نے ہندوستان میں ہونے والی ترقیوں، یہاں کی بدلتی ہوئی سماجی قدروں اور ہندوستانی عناصر کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے افکار و نظریات کو جِلا بخشنے کے لیے کارل مارکس اور لینن کے ساتھ گاندھی اور نہرو کے فلسفے سے بھی روشنی حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے بیشتر افسانوں میں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جستجو دکھائی دیتی ہے جس میں عدم تشدد، مساوات، خیر سگالی، سماجی انصاف اور امن وامان کی بالا دستی ہو۔ ان کے ایک اہم افسانے ’’نکسلائٹ‘‘کی ایک لڑکی کہتی ہے’’ اس تشدد کے راستے سے ہم اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے‘‘۔ظاہر ہے افسانے میں اُن حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو نوجوانوں کو دہشت کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ خواجہ صاحب کے اس افسانے پر بعض احباب نے خاصی ناگواری کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کو کیا کہیے گاکہ تشدد کی راہ سے منزل تک نہ پہنچے کی یہ بات آج بھی اُتنی ہی صحیح ہے جتنی تب تھی۔
جنسی موضوع بھی ان سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔ اس ضمن میں ’’ایک تھی لڑکی‘‘ اور ’’بارہ گھنٹے‘‘ جیسے افسانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ’آزاد کا دن‘ کی طوائف ملک کی آزادی سے اس لیے خوش نہیں ہے کہ اس کے بعد انگریز اپنے وطن واپس چلے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا پیشہ بند ہو جائے گا، یا پھر ہندوستانیوں سے اسے بہت ہی کم پیسے ملیں گے۔ جنسی موضوع کے افسانوں میں خواجہ صاحب نے منٹو کے بیان کی سی گرماہٹ ، بیدی کی سی نفسیاتی تحلیل اور عصمت کے چٹخارے دار انداز سے پرہیز کیا ہے۔ وہ اس بات کے شدت سے قائل تھے کہ انسان نہ تو محض نفسیات سے مغلوب ہوتا ہے، نہ صرف معاشیات اس کی شخصیت کو طے کرتی ہے۔ اور نہ ہی وہ صرف خارجی ماحول سے متاثر ہوتا ہے،نہ محض باطن کا اسیر۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ:
انسان کا کیریکٹر ہی نہیں، اس کی قسمت بھی داخلیت اور خارجیت دونوں کے تانے بانے سے بنتی ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،چاہے وہ مارکس کا چیلا ہو یا فرائڈ کا پیرو۔ بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ زندگی کی بُناوٹ میں نفسیات کا تانا زیادہ اہم ہے یا معاشیات کا بانا۔
خواجہ صاحب نے اپنے افسانوں میں عصری زندگی کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تہذیبی مسائل کو بڑی خوبی سے بیان کیااور جدید معاشرے کے کھوکھلے پن کوہنر مندی سے دکھایا ہے۔ وہ انفرادی انسان سے زیادہ معاشرتی انسان کی تصویر کشی کرتے ہیںجس میں ظلم کے خلاف ان کا سیاسی نقطۂ نظرخاصی اہمیت رکھتا ہے۔بیشتر افسانوں میں انسان کا ارتقا سماجی ارتقاسے وابستہ دکھانے کی کوشش کی ہے اور انسان اور اس کے معاشرتی یا اجتماعی وجود کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس میں بحیثیت مجموعی ایک درد مند دل اور روشن فکر کی جھلک بہر طور نظر آتی ہے۔
تسلیم کرنا چاہیے کہ فکر و خیال اور موضوعات کے اعتبار سے خواجہ احمد عباس کی کہانیاں بے حد اہم ہیں لیکن فن اور ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے انھیں اعلیٰ پیمانے کے افسانوں میں بمشکل شامل کیا جا سکتاہے۔ یہ درست ہے کہ افسانے میں مقصدیت کا ہونا معیوب نہیں لیکن محض مقصد کو افسانوی پیرائے میں پیش کرنے کے عمل کی بھی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ سچ کو سچی صورت میں اور واقعی افراد کو بطور کردار افسانے میں پیش کرنے کی روایت ہمارے یہاں موجود رہی ہے۔ لیکن فکشن پر جوانی اور اس کے جوبن پر نکھار تب آتا ہے جب جھوٹ کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ سچ لگے اور غیر حقیقی یا لاموجود کرداروں کو افسانہ نگاراپنی خلاقی سے یوں ڈھالے کہ وہ جیتے جاگتے انسان دکھیں۔اس معاملے میں خواجہ احمد عباس کا معاملہ تقریباً اُلٹا ہے۔ یوں کہ ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ سچے اور گزرے ہوئے واقعات سے تشکیل پاتے ہیں لیکن افسانوں میں یہ واقعات غیر حقیقی اور جھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنی کہانیوں میں بطور کردار فطری اور زندہ انسانوں کوداخل کرتے ہیں لیکن افسانوی عمل کے دوران وہ غیر فطری اور مصنوعی معلوم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ’میں کون ہوں‘، ’انتقام‘ ’میرا بیٹا میرا دشمن‘ ، ’ایک پائلی چاول‘، ’بنارس کا ٹھگ‘، ’ خونی‘،اور ’سبز موٹر وغیرہ‘۔ جیسے افسانوں کوپرکھا جا سکتا ہے۔ ’میں کون ہوں‘ فسادات کے پس منظر میں لکھی ہوئی کہانی ہے جس میں ایک مرتا ہوا زخمی آدمی ہنس ہنس کر ڈاکٹر کو اپنی داستان سناتا ہے اور یہ رٹ لگائے رہتا ہے ’میں ہندو نہیں ہوں‘ میں مسلمان نہیں ہوں، میں انسان ہوں۔‘’ایک پائلی چاول‘ میں راشن کی لائن میں کھڑی ایک عورت کے بچہ پیدا ہوجا تا ہے۔’انتقام‘ کا واقعہ یہ ہے کہ فساد میں ایک ہندو باپ پر اپنی جوان بیٹی کی کٹی ہوئی چھاتیاں دیکھ کر جنون طاری ہوجاتا ہے، وہ کسی بھی مسلمان لڑکی سے اس کا انتقام لیناچاہتا ہے، کافی عرصے کی تلاش کے بعد اسے موقع مل جاتا ہے، وہ چھرا نکال کر اس مسلمان لڑکی پر وار کرنے ہی والا ہوتا ہے کہ دیکھتا ہے اس کی چھاتیاں بھی پہلے سے ہی کٹی ہوئی ہیں۔اس افسانے کو نفسیاتی ٹچ دے کرمزید معیاری بنایا جا سکتا تھا، لیکن خواجہ صاحب بالعموم نفسیاتی دروں بینی اور انسانی بطون کے مقابلے میں خارجی واقعات اور سامنے کی چیزوں کو ہی مرکز توجہ بناتے اور ان کے اسباب و مضمرات بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے متعدد افسانوں کی بنیاداخباروں میں شائع ہونے والی خبریں ہیں۔ مثلاً ’ایک پائلی چاول‘، ’نیلی ساڑھی‘ اور ’تین بھنگی‘ وغیر ہ جیسے کئی اور افسانے۔
خواجہ احمد عباس کے یہاں عشق کا تصوردوسرے افسانہ نگاروں سے قدرے مختلف یا یوں کہیے کہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے ۔ان کے اس نوع کے بیشتر افسانوں میں عشق کی بنیاد مساوی معیارِ زندگی پر قائم ہوتی ہے۔ اگر عاشق و محبوب کی زندگی معاشی اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہے ، ایک امیر دوسرا غریب ہے تو محبت استوار نہیں رہتی ۔ گویا زندگی کا ایک جیسا معیار اور معاشی یکسانیت محبت کی پہلی شرط ہے۔ اور مفلس اور بے روز گار عاشق تو خواجہ احمد عباس کی افسانوی دنیا میں دو قدم بھی نہیں چل پاتے۔ ’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔ ‘ ، ’شکر اللہ کا‘، ’ہنومان جی کا ہاتھ‘، ’سونے کی چار چوڑیاں‘، ’تیسرا دریا‘ اور ’ٹیری لین کی پتلون‘ وغیرہ اس کی عمدہ مثالین ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں میں عشق کی نا آسودگی یاکہیے ایک نوع کی تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔عام طور سے یہ ناآسودگی یا تشنگی سماجی حالات اور معاشی حقائق کا زائیدہ ہوتی ہے۔ یہ کیفیت مذکورہ افسانوں کے علاوہ’نئی برسات‘، ’سبز موٹر‘، ’یہ بھی تاج محل ہے‘، ’چٹان اور سپنا‘، ’پائوں میں پھول‘ اور ’خزانہ‘ وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان افسانوں کی قرأت کرتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ احمد عباس فرائڈ کے نظریۂ تحلیل نفسی سے کافی حد تک متاثر ہیں لیکن وہ اپنے بیانیے کو منٹو کی سی جذباتی شدت اور عصمت جیسی شوخ اور چنچل زبان کے استعمال کے علاوہ بیدی کی نفسیاتی گہرائی میں اترنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی منشا کرداروں کو اجاگر کرنا اور بیان کو شیرینی عطا کرنا نہیں بلکہ موضوعات کو روشن کرنا اور مقصدیت پر زور دیناہوتا ہے۔
اور شاید اسی مقصدیت کے ابلاغ اور اس کی تکمیلیت کے جوش میں چیخوف کے بتائے ہوئے افسانے کی خوبصورتی کے اِس راز کووہ فراموش کر جاتے ہیں کہ ’’افسانہ نگار کا کام مسئلے کاحل بتانانہیں ، محض مسئلے کو پیش کرنا ہوتا ہے۔‘‘ چنانچہ ’’نیا شوالہ‘‘ میں وہ نئے بن رہے باندھ کے راستے میں حائل پرانے مندر کو ہٹانے کے لیے ایک روشن خیال نوجوان سے اس مسئلے کو حل کرواتے ہیں۔ ’’ٹیری لین کی پتلون‘‘ میں گائوں میں پیدا ہونے والے منگو اچھوت کو شہر کے مخلوط ماحول میںلے جا کر اسے انسان ہونے کا احساس دلاتے ہیں جہاں اسے ہر ایک کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور کھا نے پینے کی آزادی ہے اور اونچی ذات کی ایک لڑکی کملا راٹھور کے ساتھ عشق کی بھی۔اس طریقۂ کار کوانھوں نے ’میری موت‘ اور ’چڑے اور چڑیا کی کہانی ‘کے علاوہ متعدد افسانوں میں برتا ہے۔ بعض افسانوں میں مسائل کے حل کی پیش کش میں ان سے چوک بھی ہوئی ہے۔ مثلاً’’بنارس کا ٹھگ‘‘، میں اس کا اہم کردار کبیر داس جوہر طرح کے تعصبات سے پاک اور معاشی مساوات کا علمبردار ہے وہ امیروں کے اسباب لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ’’خونی‘‘ کا کردار نوکری نہ ملنے کی بنا پر بلڈ بینک میں اپنے جسم کا خون بیچ کر گزارہ کرتا ہے۔ظاہر ہے ایسے افسانوں پر بعض ناقدین نے اعتراض بھی کیا ہے کہ اس سے سماج میں اچھا پیغام نہیں جا تا ۔
ان کی بعض کہانیاں متنازعہ فیہ بھی رہیں اور ان کو بنیاد بنا کر مختلف فرقوں نے ہنگامے بھی کیے، مثلاً ’سرکشی‘، بارہ گھنٹے‘ اور ’سردار جی۔ ‘ پہلی پر مسلمانوں نے، دوسری پر ہندوئوں نے اور تیسری کہانی پر سکھوں نے ہنگامے کیے۔ یوں فن کے اعتبار سے آخر الذکر یعنی ’سردار جی‘ زیادہ اچھی کہانی ہے۔ اور اسے خاطر خواہ شہرت بھی ملی۔فسادات کے زمانے میں ’سردار جی‘ کا سِکھ کردار اپنی جان دے کر بھی اپنے پڑوسی مسلمان کو بچاتا ہے۔ ظاہر ہے افسانہ نگار کا مقصد اس سے سکھ کردار کی عظمت دکھانا ہے اور سکھوں کے خلاف مسلمانوں کے تعصب کو ختم کرنا ہے۔اس عظمت کو پُر قوت بنانے کے لیے تضاد کے طور پر کہانی کی ابتدا میں سرداروں سے متعلق چند مضحکہ خیز لطیفے سناے جاتے ہیں،جس پر سارا ہنگامہ برپا ہواتھا۔جب راجندر سنگھ بیدی نے اس کہانی سے شروع کے چند لطیفوں کو نکال دینے کا مشورہ دیا تو خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر اسے قبول نہیں کیا کہ اس سے افسانے کا نقطۂ عروج کمزور ہوجائے گااور تضاد کی وجہ سے بہادری اور انسان دوستی کا جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ زائل ہو جائے گا۔اسی نوع کا ان کا ایک اور افسانہ ہے ’کیپٹن حمید مارا گیا‘۔ اس کہانی کا پس منظر تقسیم ملک کے معاً بعد کشمیر میں ہندوستان پاکستان کی جنگ کا محاذ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب عام ہندوستانی مسلمان سہمے ہوئے تھے، مسلمانوں کا دانشور طبقہ مہر بہ لب تھا اور نیشلسٹ مسلمانوں نے چُپ کی مصلحت اختیار کر رکھی تھی۔ یوں کہ بعض برادران وطن نے مسلمانوں پر دو قومی نظریے کا الزام لگا کر دہشت میں مبتلاجو کر دیا تھا۔ ایسے میں قوم پرست مسلمانوں کا کردار واضح کرنے والی کسی مسلم ادیب کی یہ پہلی تحریر تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قوموں کی بنیاد یں مذاہب نہیںہوتے، جغرافیائی حدود ہوتی ہیں۔ اور شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کہانی نے دہشت کے ماحول میں نہ صرف سیکولر نظریے کو فروغ دیا بلکہ مسلمانوں کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بھی بخشاتھا۔
خواجہ صاحب نے چند تمثیلی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ان میں ’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ اور ’’فاحشہ‘‘ (غالباً)کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آخرا لذکر تقسیم وطن کے بعد فسادات کے پس منظر میں ایک ایسی فاحشہ لڑکی کی کہانی ہے۔ جسے نہ ہندوستان قبول کرتا ہے نہ پاکستان۔ مصائب وپریشانی جھیلتی یہ بے سہارا لڑکی بالآخر دونوں ملکوں کی سرحدپر گر کربیہوش ہوجاتی ہے۔ پہرے دار جب اس سے نام پوچھتے ہیں تو اس کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں ’’اردو۔۔۔اردو۔۔اردو۔‘‘’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ میں لڑکی کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں:
لڑکی خوبصورت، چنچل ہے، طرحدار ہے۔ دنیا اس کی دیوانی ہے۔ ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گُنی بھی تھی ، دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی ، ٹیگور اور قاضی نذر الاسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، جوش اور فیض کی نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ لنکن اور گیری بالڈی، ژولا اور مارکس انجلزاور لینن۔ گاندھی اور جواہر لال نہرو کی کتابیں پڑھے ہوئی تھی۔ اس کی زبان میں جادو تھا۔
اس لڑکی پر جو لوگ اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے ان میں تھے سوامی دھرم دیو، پرانے راجہ، نئے سرمایہ دار، نیا کسان، کمیونسٹ ریوولیوشنری،حاکم شاہی افسراورپولٹیکل لیڈر۔تمام گنوں سے بھر پور لڑکی در اصل ہندوستان کی تمثیل ہے اور یہ ساتوں لوگ نمائندے ہیں اُن طبقوں یا کلاسوں کے جو اس ملک پر قبضہ جمانا اپنا اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
خواجہ احمد عباس نے کبھی وقت اور حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ کسی لیڈر، پارٹی،یا مذہبی پیشوا پر اعتبار نہیں کیا، اوروں کی طرح اپنے نظریے میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں نہیں کیں،اقتدار وقت سے سمجھوتے نہیں کیے اور نہ ہی کبھی اپنے قلم کی سمت رفتار بدلی۔وہ اکثر ٹوٹ ٹوٹ گئے ہیں جھکے کبھی نہیں۔یہ ان کے ذاتی اور شخصی اوصاف تھے ، اور ذرا غور کیجیے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کی بیشتر کہانیوں کے کرداروں کی نمایاں خوبی سادگی ، راست گوئی اور بے باکی ہے، نہ وہ مصلحت اندیش ہیں نہ بزدل۔خوابوں کی وادی میں نہیں حقیقی دنیا میں زندگی کرتے ہیں، وہ جیسے ہیں، جس طبقے کے ہیں کمیٹیڈ ہیں۔سو یقین جانیے کہ خواجہ صاحب افسانوی چوراہوں پر دوچار اہم کیریکٹرزکے بُت نصب کر کے ناموری کی خواہش کے بجائے اپنے ایسے ہی کرداروں کی دریافت کے ذریعے ایک صحت مند معاشرے کی جستجو اور مامون و مستحکم ملک کی تعمیر میں زندگی بھر مصروف رہے۔ ان کے اہم اور یادگار افسانوں میں’اتار چڑھائو‘، ’اجنتا‘، ’شامِ اودھ‘، ’سردار جی‘، ’نیلی ساڑھی‘، ’رادھا‘، ’زعفران کے پھول‘، ’باقی کچھ نہیں‘ ، یہ بھی تاج محل ہے‘، ’کیپٹن حمید مارا گیا‘ اور ’ایک لڑکی سات دیوانے وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔
اعتراف کرنا چاہیے کہ ہمارے ناقدوں نے خواجہ احمد عباس کو کافی حد تک نظر انداز کیا ہے، اور جن لوگوں نے ان پر لکھا ہے انھوں نے ان کے مکمل فن کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بالعموم ان کے یہاں کوئی اہم کردار نہ ہونے کی شکایت توسبھوں نے کی ہے لیکن ان کی جدتِ فن کو ، ان کے موضوعات کے تنوع کو، فکر وخیال کی وسعت کو، بیان کے توازن کواور بیباکی ِاظہار کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اور نہ ہی کہانیوں کے پس منظر اور ان کی فضا پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی؛ جن میں ایک نئے ہندوستان کے تصوراور ہندوستانیوں کی نئی فکرکو پروان چڑھانے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔قبول کہ انھوں نے فن پر مواد کو ترجیح دی اور کرافٹ پر قصہ پن کو، لیکن یہ عیب کہاں ؟ حسن ہے۔ اور کیا ان کا یہ کارنامہ کم اہم ہے کہ انھوں نے کہانی کوافسانہ نگاروں کی تخیلاتی اقلیم سے نکال کر عوام کی حقیقی دنیا سے روشناس کرایا،اور شعری صداقت کے مقابلے میں علی الاعلان واقعی صداقت پر فکشن کی بنیاد رکھی۔
٭٭٭

Urdu Research in Bangladesh from 1947

Articles

بنگلہ دیش میں اردو تحقیق و تنقید ( ۱۹۴۷ء تا حال)

پروفیسر کنیز بتول

تاریخ و ادب اور تحقیق و تنقید کا رشتہ آپس میں بڑا گہرا اور مربوط ہے ۔ ایک کے بغیر دوسرے کی بنیاد نہیں پڑتی۔ زمانے کی ہوا و حوادث سے ٹکراتے ہوئے روزانہ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر تاریخ پہلے جنم لیتی ہے ،پھر اس تاریخ سے رشتہ جوڑ کر شعر و ادب اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ مورخین اور ادبا ہی تاریخ کو الفاظ کا جامہ پہناتے آئے ہیں ۔ اس سلسلے میں شعرا و ادبا غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی ترجمانی نثر و نظم کے پیرائے میں کرتے رہے۔ ان کے تخلیقی عملیات میں شعوری و لا شعوری طور پر فن کاروں کی خوبیاں اور خامیاں بھی اجاگر ہوتی رہیں ۔
میر تقی میرؔ کا ’’ نکات الشعراء‘‘ میر حسنؔ کا ’’ تذکر ہ شعرائے اردو ‘‘مصطفی خاں شیفتہ کا ’’ گلشنِ بے خار‘‘وغیرہ کو بنیادی اور محمد حسین آزادؔ کی ’’ آبِ حیات‘‘ اس سلسلے کی کامیاب کڑی کہی جا سکتی ہے ۔ یہ تذکرے فارسی تذکروں کی تقلید میں لکھے گئے ۔ جب انگریزی ادب سے تاثر لے کر مولانا الطاف حسین حالیؔ اور مولانا شبلی نعمانی ؔ نے اردو ادب کو براہ راست تنقید و تحقیق سے روشناس کرایا تو ان ادب پاروں کی فنی و جمالیاتی پہلو کے مثبت و منفی قدریں اجاگر ہونے لگیں ۔ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ادب کی طرح اردو میں بھی تحقیق و تنقید کی راہ نمائی اجاگر ہوئی ۔ ان مفید نتائج کے اثرات سے بنگلا دیش کا اردو ادب متاثر ہوتا رہا۔ اس سلسلے میں عبدالغفور نساخ ( ۱۸۳۳۔ ۱۸۸۹ء) کی تصنیفات ’’ تذکرۃ المعاصرین‘‘ اور ’’ تذکرہ ٔ سخن شعراء‘‘ نشی رحمن علی طیشؔ کی (۱۸۲۳ء ۔۱۹۰۵ء) ’’ تواریخ ڈھاکا‘‘ حکیم حبیب الرحمن (۱۸۸۱ء۔۱۹۴۱ء) کی تصنیفات ’’ آسودگان ڈھاکا‘‘ اور ’’ثلاثہ عسالہ‘‘ وغیر ہ کو تنقید و تحقیق کی بنیادی کڑیاں کہی جا سکتی ہیں۔ یہ تصنیفات بر صغیر کے مورخین کے علاوہ فارسی و اردو ادب کے محققین کے لئے مفید ثابت ہوئی ہیں ۔
۱۹۴۷ء کے بعد جب سابق مشرقی پاکستان میں ( بنگلا دیش میں) اردو ادبی ماحول خوش گوار ہونے لگے تو دیگر اصناف سخن کی طرح تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی وسعت و گیرائی پیدا ہوئی کہ یہاں ایک دبستان ِ تحقیق و تنقید بھی قائم ہو گیا ۔
تحقیق و تنقید کی اس دقیق خدمات میں جن مشاہیر قلم نے بڑی جستجو و لگن سے مفید مضامین و تصنیفات سپرد قلم کئے ان میں ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو فارسی کے اساتذہ ، راجشاہی یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ کے اساتذہ،سابق مشرقی پاکستان کے مختلف کالجوں میںاردو درس و تدریس سے منسلک اساتذہ کے علاوہ اردو زبان و ادب کے متعد د پرستاروں نے حسب توفیق دفتری و پیشہ روزگار ی کی ذمہ داریوں کو سنبھالتے ہوئے دبستان اردو کے اس خشک گوشے کو غیر معمولی تحقیقی صلاحیت سے ما لامال کیا۔ ان خدمت گاران ادب کے کارنامے حسب ذیل ہیں ۔
شعبہ اردو ڈھاکا یونیورسٹی کے ناقدین میں سب سے اول نام ڈاکٹر عندلیب شادانی (۱۸۹۷ء ۔۱۹۶۹ء) کا لیا جاتا ہے ۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۶۹ء تک وہ شعبۂ اردوڈھاکا یونیورسٹی سے وابستہ رہے ان کی قلمی خدمات برطانوی دور سے پاکستانی دور تک کا احاطہ کرتی ہے ۔ شادانی کی تنقید حقیقت بیانی پر مبنی ہے ۔ فنکار چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ اس کی خامیوں کو معاف کرنے کے قائل نہیں ۔ دوسری خصوصیت جو انھیں تخریبی تنقید کے سرحد تک لے جاتی ہے وہ ان کی نفسیاتی کمزوری یا احساس برتری کا تقاضا ہے ۔ انھوں نے فن کار کے محاسن کی بہ نسبت معائب کو زیادہ اجاگر کیا ہے ۔ تا ہم ان کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیت و علمیت انھیں ذی فہم نقاد کا درجہ عطا کرتی ہے ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ دور حاضر اور اردو غزل گوئی‘‘ ،’’تحقیقات‘‘ اور ’’تحقیق کی روشنی میں ‘‘ مفید تنقیدی کتابیں ہیں ۔
شعبۂ اردو فارسی کے پروفیسر ڈاکٹر شوکت سبزواری (۱۹۰۷ء۔۱۹۷۳ء) کی تحقیق و تنقید میں بڑی گہرائی ہے ۔ انھوں نے اپنی رائے بڑی چھان بین کے بعد پیش کی ہے ۔ ’’ اردو زبان کا ارتقا‘‘ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ۔ دوسری اہم کتاب ’’ نئی اور پرانی قدریں ‘‘ہیں ۔اس میں مصنف نے اردوز بان کے بہت اہم مسائل کو روشنی میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ پر پیچ مسائل کو واضح کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً ان کا انداز بیان واعظانہ ہو گیا ہے ۔’’ معیارِ ادب‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ اس میں تنقیدی اصول و مسائل پر بحث کی ہے ۔’’ لسانی مسائل‘‘ بھی ان کی قابل قدر کتاب میں شامل ہے ۔ جس میں اردو زبان کے لسانی مسائل سے بحث کی گئی ہے ۔۱۹۵۹ء میں وہ کراچی بلائے گئے اور انجمن ترقی اردو کراچی کی خدمات سے وابستہ رہے ۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء میں کراچی میں انتقال کیا۔ اور وہیں سپرد خاک کئے گئے۔
ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی ( ۱۹۱۵ء۔۱۹۹۸ء) ناقد سے زیادہ محقق ہیں۔’ ’گلہائے داغ‘‘ ،’’ صہبائے مینائی‘‘ ، ’’ شبلی ایک دبستان ‘‘ ان کے مفید ادبی کارنامے ہیں ۔
’’ شبلی ایک دبستان‘‘ ان کا تحقیقی مقالہ ہے ۔ ۲۲۸ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مصنف کی تحقیقی صلاحیت کا نمونہ ہے جس میں شبلی اور ان کے نوائے وقت کی بھر پور آئینہ داری ہے ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی ۱۹۷۵ء تک شعبۂ اردو فارسی میں درس و تدیس سے منسلک رہے ۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔ ۱۹۹۸ء میں کراچی میں انتقال کیا وہیں سپرد خاک ہوئے۔
ڈاکٹر حنیف فوق قریشی ، ۱۹۵۰ء سے قیام بنگلا دیش تک شعبۂ اردو فارسی ڈھاکا یونیورسٹی کے با شعور مدرس اور مقبول ناقد کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کی خدمات انجام دیتے رہے ۔ وہ تنقید کے جدید اصولوں سے واقف ہیں۔ ان کا شمار ترقی پسند نقاد کے زمرے میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے اردو تنقید کا رشتہ بنگلا دیش کی سرزمین سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے تحقیقی مضامین’’ اردو کے بنگالی تراجم ‘‘،’’ مشرقی پاکستان میں اردو ادب اور ادیبوں کے مسائل‘‘ ،’’ اردو ادب میں بنگالی ثقافت ‘‘ ،(ناول نگاری میں ) اس ضمن میں مفید کارنامے ہیں ۔
ان کی ناقدانہ صلاحیت کا معیار اس بات سے صاف عیاں ہے کہ انھوں نے بغیر کسی راہ نماکے ’’ دی سوشل انالائز آف اردو پوئٹری ۱۸۵۷ء اینڈ آفٹر‘‘( اردو شاعری سماجی تجزیہ۱۸۵۷ء اور اس کے بعد ) کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں پیش کیا اور کامیاب ہو گئے ۔’’ مبشر قدریں‘‘ اور ’’ متوازی نقوش‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ہیں ۔ حنیف فوق کی تنقید ساینٹفک تنقید ہے ۔ ان کی تنقید ادب کی روح کو بر قرار رکھتے ہوئے زندگی کے مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ارشد کاکوی (۱۹۳۰ء۔۱۹۶۳ء ) سابق مشرقی پاکستان میں اچھے نقاد اور صحافی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے ۔ (۱۷ )ماہنامہ ’’ ندیم‘‘ ڈھاکا کے شماروں میں ان کا تحریر کردہ اداریہ ان کی ناقدانہ صلاحیت کا آئینہ دار ہے ۔
پروفیسر محمد طاہر فاروقی (۱۹۰۶ء۔ ۱۹۷۸ء) کا شعبۂ اردو فارسی میں (۱۹۵۱ء۔ ۱۹۵۲ء) صرف ایک سال تقرر رہا ۔’’ سیرت اقبال ‘‘ان کی تحقیق و تنقید کا عمدہ نمونہ ہے ۔ اس میں انھوں نے علامہ اقبال کی سوانح کے ساتھ ان کی شاعری کا جامع اور تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔
شعبۂ اردو فارسی ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر عبداللہ کا شمار بنگالی نثر اور اردو نقادوں میں ہو تا ہے ۔ انھوں نے ’’ بنگلا دیشے فارسی ساھیتو ‘‘ ( بنگلہ دیش میں فارسی ادب) کے عنوان سے تحقیق مقالہ بنگلا زبان میں لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ پروفیسر عبداللہ نے ارد و ادب کے شہ پاروں کو بنگلا زبان کے قارئین میں اور اردو داں افراد کو بنگلا مشاہیر قلم کے مفید کارناموں سے رو شناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں پروفیسر عبداللہ کی اردو زبان میں لکھی ہوئی کتاب’’ قاضی نذرالاسلام‘‘اور بنگلا زبان میں لکھی ہوئی کتاب ’’ اقبال کابّے اسلامی بھاب دھارا‘‘ ( اقبال کی شاعری میں اسلامی تفکر ) وغیرہ ان کی مفید کاوش ہے ۔ ان کتابوں کے مضامین ان کی غیر معمولی ناقدانہ صلاحیت کی دلیل ہے۔۱۹۷۱ء سے قبل ڈاکٹر عبداللہ اردو ادب کی تحقیقی سرگرمیوں سے منسلک رہے ۔ ان کے مضامین ماہ نو کراچی ، فاران کراچی، ماہنامہ سیارہ لاہور، ماہنامہ ساقی میں شائع ہوتے رہے ۔ اب ان کا تحقیقی رجحان بنگلا دیش کی تاریخ و ثقافت ہے۔ ان کی تحقیق و تنقید کا احاطہ بہت وسیع ہے ۔ بنگلا اردو انگریزی زبان میں ان کی تقریباً تیس تحقیقی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں اب تک ان کا قلم رواں دواں ہے۔ ان کا اردو اسلوب تحریر مولوی عبدالحق سے متاثر ہے ۔
پروفیسر کلثوم ابوالبشر ۱۹۷۳ء سے ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی و اردو کے درس و تدریس سے وابستہ ہیں ۔ درسی مصروفیات کے پہلو بہ پہلو وہ اردو ، فارسی زبان و ادب کی تحقیق و تنقید کے مفید خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ وہ ایک با شعور محققہ کہلانے کی مستحق ہیں ۔ پروفیسر کلثوم نے ’’ ڈاکٹر عندلیب شادانی : حیات اور کارنامے‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ سپر د قلم کر کے بمبئی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی حاصل کی ۔ ان کی تنقید میں رواداری ہے ، تلخی نہیں۔ ان کے متعدد مضامین بنگلادیش، بھارت و پاکستان کے معیاری جرائد میں شائع ہوئے ۔ انھوں نے ڈھاکا یونیورسٹی کے کتب خانے میں پڑے ہوئے بیشتر اردو فارسی کے مخطوطات کو اپنی قلمی کاوشوں سے منظر عام پر لا کر قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی تحقیقی خدمات جاری ہیں۔
پروفیسر ام سلمیٰ ، شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی ۱۹۷۴ء سے منسلک ہیں۔ انھوں نے ’’ بنگلا دیش کے فارسی و اردو ادب میں تاریخی ما خذ( انیسویں صدی میں) ‘‘کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔یہ مقالہ بنگلا دیش میں انیسویں صدی کی سماجی ، سیاسی ، ادبی و ثقافتی زندگی کی معلومات کے لئے دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ؎ ۲۱ اس کے علاوہ انھوں نے اردو فارسی ادب سے منسلک متعدد تحقیقی مضامین بھی سپرد قلم کئے جو بنگلا پاک و بھارت کے موقر جریدوں میں شائع ہوئے ۔ موصوفہ میں تحقیق و تفتیش کا مادہ بدرجۂ اتم موجود ہے ۔ ان کا ناقدانہ لہجہ نرم اور دوستانہ ہے ۔ پروفیسر ام سلمیٰ کی ایک ناقدانہ کاوش’’ علامہ اقبال اور قاضی نذرالاسلام ‘‘ کتابی شکل میں زیر طبع ہے۔ ان کی تحقیقی کوشش رواں دواں ہے ۔
مذکورہ شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی کے تحقیقی خدمات میں راقمہ کا نام بھی لیا جا سکتا ہے ۔ راقمہ نے ’’ بنگلا دیش میں اردو ادب ( ۱۹۴۷ء ۔ تا ۱۹۹۰ء) ‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے (۲۰۰۳ء) میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ۔ ایک مرتب کردہ انتخاب ’’ آتش و گل‘‘ ( قاضی نذرالاسلام کی نظموں، گیتوں، افسانوں اور ڈرامہ کے منتخب تراجم) نذرل انسٹی ٹیوٹ ڈھاکا سے ۲۰۰۶ء میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ راقمہ کی تحقیقی کتاب ’’ اردو بھاشائے نذرل چرچا( اردو زبان میں نذرل چرچا) نذرل انسٹی ٹیوٹ سے ۲۰۰۱ء میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ اس کے علاوہ راقمہ کے متعدد تحقیقی مضامین بھی موقر جریدوں میں شائع ہوتے آرہے ہیں ۔
محترمہ زینت آراشیرازی ، ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تعلیمی مصروفیات کو انجام دیتے ہوئے بنگلہ و اردو زبان میں تحقیقی مضامین بھی سپرد قلم کرتی رہی ہیں ۔ ڈھاکا کا شیعہ شیمپر و دائر سنسکرتی و اردو فارسی شاہیتے ابدان’’ ڈھاکے میں فرقہ شیعہ کی ثقافت و فارسی اردو ادب میں خدمات‘‘ عنوان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہی ہیں ۔ ان کا تحقیقی پروگرام اب تکمیل کے مراحل میں ہے ۔
مذکورہ شعبے کے استاد ڈاکٹر جعفر احمد بھوئیاں نے ’’ احسن احمد اشکیر جیبوں وکرمو ‘‘ (احسن احمد اشک کی سوانح حیات اور کارنامے) کے عنوان سے بنگلا زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند لی ۔ انھوں نے متعدد مضامین بھی سپرد قلم کئے ۔
ڈاکٹر محمود الاسلام نے پروفیسر ام سلمیٰ کی نگرانی میں ’’ اردو ادب کی سر پرستی میں انگریز افسروں کا حصہ اور اردو ادب پر انگریزی ادب کا اثر‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔
راجشاہی یونیورسٹی ،شعبۂ السنہ کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم سہسرامی کا شمار بنگلہ دیش کے ممتاز نقادان ادب میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے شعبۂ السنہ، راجشاہی یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے متعدد تنقیدی مضامین ارد و فارسی زبان میں سپرد قلم کئے ۔ وہ تنقید میں اپنے استاد ڈاکٹر عندلیب شادانی اور ڈاکٹر شوکت سبزواری سے متاثر ہیں ۔ ان کی تنقیدی تصنیفات ’’ روایت در روایت‘‘ ۲۲ ،’’ بنگال میں غالبؔ شناسی‘‘ ۲۳، ’’ معائر بنگال‘‘ ۲۴ ،’’ خدمت گزاران فارسی در بنگلا دیش ‘‘ بنگلا دیش کے قومی ورثہ کے شامل رہنے کے مستحق ہیں ۔ حق گوئی و سچائی ان کی تنقیدی شان ہے ۔ ان کی تنقید عملی تنقید کی مترادف کہی جا سکتی ہے ۔ کلیم سہسرامی (۱۹۳۰ء ۲۰۰۶ء) نے ایک مدت علیل رہنے کے بعد ۲۰ نومبر ۲۰۰۶ء کو اپنی بیٹی ارم کی رہائش گاہ پر ومیمن سنھ میں وفات پائی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالحق کا شمار بنگلہ دیش کے بنگالی نژاد محققین میں ہوتا ہے ۔ موصوف کا تقرر لیکچرر کی حیثیت سے راجشاہی کالج میں ہوا ۔ بعد میں وہ راجشاہی یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ میں درس و تدریس سے منسلک ہو گئے ۔ ۱۹۶۱ء میں انھوں نے ’’ فارسی شاعری کا اثراردو شاعری پر‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ان کا یہ مقالہ اردو فارسی تشنگانِ ادب کے لئے نہایت مفید ہے ۔ یہ مقالہ ڈھاکا یونیورسٹی کے کتب خانہ میں محفوظ ہے ۔ اس میں انھوں نے اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی تک اردو اصنافِ سخن پر فارسی کے اثرات کا سیر حاصل جائزہ پیش کیا ہے ۔ موصوف ۱۹۶۴ء میں راجشاہی سے ڈھاکا آتے ہوئے ہیلی کاپٹر کے ہوائی حادثے میں جاں بحق ہوئے ۔
مذکورہ یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ کے پروفیسر ڈاکٹر شمیم خان نے مولانا عبیداللہ عبیدی سہروردی کی خود نوشت سوانح عمری کا مخطوطہ ( داستان عبرت بار)’’ تصحیح انتقادی داستان عبرت بار‘‘ کے عنوان سے فارسی زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر تہران یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سندحاصل کی ۔ پروفیسرشمیم خان وقتاً فوقتاً اردو میں بھی مضامین سپرد قلم کرتے رہے ہیں ’’ مولانا عبیداللہ عبیدی کی اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ ،’’ علامہ شبلی‘‘ وغیرہ ان کے اچھے مضامین ہیں ۔
ڈاکٹر حسین احمد کمالی نے’’ سر سید احمد خاں اور ان کی علمی خدمات‘‘ کے عنوان سے بنگلہ زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر راجشاہی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ حسین احمد کمالی میں تفتیش اور تحقیق کا مادہ اچھا ہے ۔ بنگلہ دیش گو اردو معلم کی حیثیت سے ان کاکارنامہ قابل ذکر ہے ۔ انھوں نے اردو میں بھی مضامین لکھنے کی سعی کی ۔ ڈاکٹر حسین احمد کمالی شعبہ السنہ راجشاہی یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے مضمون نگاری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔
راجشاہی یونیورسٹی کے ایسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر لطیف احمد نے (۱۹۷۱ء۔ ۱۹۹۰ء) ’’ بنگال میں اردو صحافت (۱۹۰۱ء۔ ۱۹۷۰ء) ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر راجشاہی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد تحقیقی مضامین موقر جرائد میں شائع ہوئے ۔ ڈاکٹر لطیف احمد کا فطری رجحان افسانہ نگاری کی طرف مائل ہے ۔ لطیف احمدکی اسلوب زبان بڑی پر لطف اور با محاورہ ہے ۔ وہ اپنے مضامین میں تنقید کے خشک و کار دار احاطے سے ہٹ کر غیر ارادی طور پر افسانوی رنگ میں پہنچ جاتے ہیں ۔ تاہم ان کی تنقیدی صلاحیت قابل ذکر ہے ۔
ڈھاکا یونیورسٹی اور راجشاہی یونیورسٹی کے اساتذہ کرام کے علاوہ متعدد کالجوں کے نامور اساتذہ اور اردو شعر و ادب سے منسلک دیگراہل قلم نے بھی اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں کامیاب خدمات انجام دیئے ۔ وہ حسب ذیل ہیں :
پروفیسر اقبال عظیم (۱۹۱۳ء۔ ۲۰۰۰ء) نے ۱۹۵۱ء سے ۱۹۷۰ء تک سرکاری کالج چاٹگام میں پروفیسر و صدر شعبہ اردو کی ذمہ داری کے علاوہ تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی ناقابل فراموش کارنامے انجام دیئے ۔ اردو ارباب قلم میں ان کا تعارف کامیاب معلم، معیاری شاعر اور نامور محقق کی حیثیت سے ہے۔ وہ اپنی ’’ مشرقی بنگال میں اردو ‘‘ ۲۶ (۱۹۵۴ء چاٹگام ) لکھ کرمشہور ہوئے ۔ اس کتاب میں ان کی طبعی رجحان تنقید سے زیادہ تحقیق کی طرف مائل ہے ۔ تا ہم ۴۷۶ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم تصنیف اردو ادب کے محققین کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔ اس کے علاوہ ’’ سات ستارے‘‘ اور ’’ مشرق‘‘ بھی مصنف کی تحقیقی صلاحیت کا نمونہ ہے ۔ ۲۲ ستمبر ۲۰۰۲ء کو اقبال عظیم نے کراچی میں رحلت فرمائی اور وہیں سپرد خاک کئے گئے۔
وفاراشدی (۱۹۲۶ء ۔۲۰۰۳ء) کا بنیادی میدان تحقیق وتنقید ہے ۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۴۹ء تک ان کا قیام ڈھاکے میں رہا ۔ بنگال میں اردو ( ۱۹۵۵ء حیدر آباد) ان کی مشہور و معروف کتاب بنگال میں اردو کی تقریباً دو سو سال کی تاریخ پر محیط ہے۔ اس کتاب میں ان کی تفتیش و تحقیق قابل ستائش ہے اس میں تنقید کا فقدان ہے ۔ بقول مصنف اسے تذکر ہ نگاری میں شامل کیاجائے ۔ بلا شبہ یہ کتاب دبستان اردو کے محقق کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’ سنہرا دیس‘‘ ( ادارہ مطبوعات پاکستان ۱۹۶۴ء) وفا راشدی کا دوسرا اہم کارنامہ ہے۔ یہ سابق مشرقی پاکستان ( بنگلا دیش ) کی تاریخ ،ادبیات، اہم مقامات ، مشاہیر و اولیائے کرام کے بارے میں ایک اہم دستاویز ہے ۔ اس کی ادبی حیثیت اور تاریخی حقیقت کے تناظر میں ایوب خاں کی حکومت نے ۱۹۶۶ء میں وفا راشدی کو بہترین مصنف کی حیثیت سے انعام و اکرام سے نوازا اور توصیفی سند بھی عطا کی ۔ ۲۷ اس کے علاوہ ان کی تنقیدی تصنیفات میں ’’ حیات و حشت‘‘ ،’’ کیفیات غالب‘‘ ،’’ چاند تارے‘‘ ،’’ خالد ایک نیا آہنگ‘‘،’’ میرے بزرگ میرے ہم عصر‘‘ ،’’ مہران نقش‘‘ وغیر ہ کو ان کے تحقیقی و تنقیدی شعور کی مفید سعی کہی جا سکتی ہے ۔
پروفیسر فروغ احمد (۱۹۲۰ء۔ ۱۹۹۴ء) قائد اعظم کالج ڈھاکا میں اردو کے پروفیسر تھے ۔ ۱۹۷۳ء میں لاہورچلے گئے ۔ فروغ کا بنیادی میدان تحقیق و تفیش ہے ۔ ادبی تاریخ ہو یا تنقید وہ اپنے آپ کو اسلامی نظریات کے تابع رکھنے کی کوشش کرتے تھے ۔’’ اسلامی ادب کی تحریک ۔ ایک اجمالی جائزہ ‘‘، ’’ مشرقی پاکستان میں نئے ادبی اور سماجی رجحانات ‘‘، ’’ ساقی کا نذالاسلام نمبر‘‘،’’ بنگلا زبان پر فکر اقبال کا اثر‘‘ وغیرہ ان کی کامیاب ناقدانہ کاوش کہی جا سکتی ہے ۔ ۲۸ فروغ کی تنقید روایتی ہے ۔ ان کا ناقدانہ اسلوب شبلی اور حالی سے متاثر ہے ۔ فروغ کے بیان میں پیچیدگی نہیں ۔ ان کے اسلوب میں سنجیدگی اور سچائی ہے ۔
پروفیسر ہارون الرشید ، جگناتھ کالج ڈھاکا میں اردو کے پروفیسر تھے ۔ ۱۹۸۵ء میں پاکستان ہجرت کر گئے ۔ ہارون الرشید تنقید نگاری کے علاوہ شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے ۔ ان کی تنقید اسلامی و اخلاقی تفکر سے رشتہ جوڑتی ہے ۔ پروفیسر ہارون الرشید کی نگارشات میں مذہبیت غالب رہتی ہے ۔ لیکن انھوں نے ملّا یا وعظ بننا پسند نہیں کیا ۔ ہارون الرشید راقمہ کے سوال نامہ کے جواب میں لکھتے ہیں ۔’’ میرا ذہن کبھی یہ بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں رہ سکا کہ ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہوئے اپنے فکر و عمل یا تحریر و تقریر میں غیر اسلامی رویہ بھی اختیار کر سکتا ہے ۔‘‘
’’ اردو ادب اور اسلام‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں نثر، ناول، مختصر افسانہ ، طنز و مزاح کے عنوان سے پانچ ابواب میں اسلامی ادب کو اجاگر کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے ۔ ان کی تصنیف ’’ محفل جو اجڑگئی ‘‘ ادبی تحقیق کا بہترین نمونہ ہے ۳۰ ’’ سر گذشت آصف‘‘ ، میں مرحوم آصف بنارسی کی سوانح اور کلام پر ناقدانہ اظہار ہے ۔ مصنف کی گراں قدر کتاب ’’اردو کا دینی ادب‘‘ ۲۰۰۶ء میں کراچی سے شائع ہوئی ۔ یہ کتاب ۱۹۵۷ء سے حال تک اسلام پسند مشاہیر قلم کی تحقیق و تنقید کی نشان دہی کرتی ہے ۔
پروفیسر اظہر قادری (۱۹۲۹ء۔ ۲۰۰۳ء) ترقی پسند خیالات کے حامل ادیبوں میں شامل تھے ۔ وہ ڈھاکا میں سینٹ گرے گریزکالج ( ڈھاکا) ہولی کراس کالج (ڈھاکا) میں اردو درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ انقلاب بنگلہ دیش کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔ ۲۰۰۳ء میں کراچی رحلت ہوئی اور وہیں سپرد خاک کئے گئے ۔اردو ادب پروروں میں اظہر قادری نقاد کی حیثیت سے مقبول ہیں ۔ان کی تنقیدی نگارشات کو افادی و علمی حیثیت سے اہم کہا جا سکتا ہے ۔ فکر و فن کے محرکات ۳۱ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ بقول شفیق احمد شفیق:
’’ اظہر قادری تنقید کے جدید سائنٹفک اصولوں سے اچھی طرح واقف ہیں ‘‘
بحیثیت مجموعی اظہر قادری کی تنقید عملی و تعمیری کہی جا سکتی ہے ۔ ان کی تنقید ادب کے ساتھ انسانی زندگی کا رشتہ جوڑتی ہے ۔’’ ہندو شعراء بارگاہِ رسول ؐ میں‘‘ فکر و فن کے بنیادی محرکات ، جوش، ایک تجزیاتی مطالعہ وغیرہ ان کے اچھے مضامین ہیں ۔ ان کے علاوہ انگریزی و اردو کے موقر جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔ ان مضامین کے موضوعات اردو، فارسی اور انگریزی ادب سے منسلک ہیں ۔
اردو ارباب قلم میں پروفیسر نظیر صدیقی (۱۹۳۰ء۔ ۲۰۰۱ء) کی شہرت اردو معلم، انشائیہ نگار، نقاداور شاعر کی حیثیت سے ہے ۔ ان کو اردو کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی دستگاہ حاصل تھی ۔ اردو لیکچرر کی حیثیت سے ۱۹۵۴ء میں ان کا تقرر قائد اعظم کالج ڈھاکا میں ہوا ۔ ۱۹۶۱ء میں نو ٹرڈم کالج ڈھاکا میں اردو لیکچرر کے عہدے پر بحال ہو ئے ۔ ۱۹۶۹ء میں نو ٹرڈم سے استعفیٰ دے کر اردو کالج کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی ۔ نظیر صدیقی آخر دم تک درس و تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے ۔ ۳۱ ۲۰۰۱ء میں انھوں نے اسلام آباد میں انتقال کیااور وہیں سپرد خاک کئے گئے ۔
پرفیسر نظیر صدیقی ایک بے باک اور نڈر نقاد تھے ۔’’ شہرت کی خاطر‘‘ ( ڈھاکا ۱۹۶۱ء ) ’’ تعصبات و تاثرات‘‘(ڈھاکا ۱۹۶۲ء)’’ میرے خیال میں ‘‘ ( ۱۹۶۸ء) ان کی ناقدانہ صلاحیت کے عمدہ نمونے ہیں ۔اس زمانے میں ان کی تصنیفات کی بڑی پذیرائی ہوئی ۔ نظیر صدیقی کی کتاب’’ شادانی ایک مطالعہ‘‘ ۱۹۸۵ء میں کراچی سے شائع ہوئی ۔ یہ کتاب اس دور کی ادبی محفل کی جیتی جاگتی تصویر کہی جا سکتی ہے ۔ اس میں تنقید کا فقدان ہے ۔ نقاد کی حیثیت سے نظیر صدیقی ، رشید احمد صدیقی سے متاثر نظر آتے ہیں ۔ تنقید و تحقیق ان کا نشہ تھا ۔ انھوں نے متعدد کتابوں کے دیباچے اور ناقدانہ مضامین بھی سپرد قلم کئے ہیں جو بر صغیر کے موقر جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔
شہزاد منظر (۱۹۳۳ء۔ ۱۹۹۷ء) کا تعارف ایک معتبر صحافی ، مقبول افسانہ نگار اور با شعور ناقد کی حیثیت سے ہے ۔ ۱۹۷۱ء تک ان کا قیام ڈھاکے میں رہا ۳۳۔ افسانہ اور تنقید سے متعلق شہزاد منظر کا مطالعہ وسیع تھا ۔
ان کی تنقیدی تصنیفات حسب ذیل ہیں :
’’ رد عمل‘‘ ( مطبوعہ منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۶ء) ’’ علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ‘‘( مطبوعہ منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۶ء)’’ مشرق و مغرب کے چند مشاہیر ادباء‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۹۶ء)’’ جدید اردو افسانہ ہندوستانی ایڈیشن ‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۸ء)’’ پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال‘‘ ( پاکستان اسٹڈی سینٹر۱۹۹۶ء ) ’’ غلام عباس : ایک مطالعہ‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۹۱ء)اس کے علاوہ ان کے متعدد تنقیدی مضامین روز نامہ عصر جدید( کلکتہ )روز نامہ آزاد ہند (کلکتہ) روز نامہ وطن ( ڈھاکا) روز نامہ پاسبان( ڈھاکا) سہ ماہی ماہ نو ( کراچی) وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ۔
شہزاد منظر کی زندگی کا بڑا حصہ مشرق و مغربی بنگال میں گذرا ۔ یہی وجہ ہے کہ افسانہ ہو یا تنقید وہ اپنی تحریر کا رشتہ بنگال سے جوڑتے آئے ہیں ۔ شہزاد نے تنقید کرتے ہوئے اپنے زمانے کے اہم ترین موضوعات پر قلم اٹھایا ْ بڑی تحقیق و تفتیش کے بعد غیر جانبدار رہ کر اپنی رائے پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کی تنقید میں ترقی پسند نظریات اور روایت پرستی کی ہم آہنگی ملتی ہے ۔ وہ دونوں میں اعتدال کے خواہاں رہے ۔ ان کے بیشتر مضامین عملی و تعمیری تنقید کے زمرے میں شامل ہیں ۔
محمد عبدالجلیل بسملؔ کا تعارف ایک محقق کی حیثیت سے ہے ۔ انھوں نے سہلٹ میں اردو ۳۳۶ صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی کتاب سپرد قلم کر کے بنگلہ دیش کے دبستانِ اردو کے ادبی ذخیرے میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔ یہ کتاب انجمن پریس کراچی سے ۱۹۸۱ء میں شائع ہوئی ۔ بنگلہ دیش میں اردو ادب کی تاریخ میں تنقید و تحقیق کے لیے بسمل کی کتاب ’’ سہلٹ میں اردو‘‘ کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ تاریخی اور افادی دونوں حیثیت سے معتبر ہے۔ بسملؔ کی دوسری تحقیقی کتاب ’’ شیخ سید جلال مجرد‘‘ کیلائی کی مختصر سوانح ۹۳ صفحات کی ہے۔ یہ ستارۂ پاکستان پریس ڈھاکا سے۱۹۳۶ء میں شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے تاریخی واقعات پیش کرتے ہوئے تحقیقی دلائل سے کام لیا ہے ۔ بلا شبہ عبدالجلیل بسمل ایک کامیاب محقق ہیں ۔
مسعود شہر یار ،۱۹۵۸ء سے ۱۹۶۴ء تک ڈھاکا میں انجمن اردو مشرقی پاکستان کے اہم رکن کی حیثیت سے منسلک رہے ۔ انھوں نے ’’ مشرقی پاکستان میں اردو ادب کا وسیع تر جائزہ‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ۳۴ ۔ مسعود کی تنقید جدید اور سائنٹفک ہے ۔ گر چہ ان کے قیام کا عرصہ بنگلا دیش میں مختصر رہا ۔ تا ہم انھوں نے اپنی تنقید و تحقیق کا رشتہ بنگلا دیش کی سر زمین سے جوڑ کر اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم باب بن کر حیات ابدی پا گئے ۔ ان کی یہ کتاب تاریخی، سیاسی اور ادبی حیثیت سے مفید کارنامہ کہی جاسکتی ہے ۔ مسعود کی تنقید تعمیری ہے ۔ وہ ترقی پسند نقادوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔
ڈاکٹر یوسف حسن (۱۹۲۶ء پیدائش) کھلنا میں اپنی تعلیمی درس گاہ ( پرائیویٹ اسکول) سے منسلک ہیں ۔ انھوں نے بنگال میں اردو ( آغاز سے ۱۹۴۷ء تک ) کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ جس کا صرف ایک حصہ زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکا ہے ۳۵ ۔ کتاب میں مصنف ناقد سے زیادہ ایک با شعور محقق کہلانے کے مستحق ہیں ۔ ڈاکٹر یوسف حسن کے متعدد تحقیقی مضامین موقر جرائد میں شائع ہوتے آ رہے ہیں ۔ تحقیق و تفتیش میں مصنف بڑی عرق ریزی سے کام لیتے ہیں۔
ڈاکٹر نورالدین (۱۹۲۹ء۔۱۹۹۹ء) کا شمار بنگالی نژاد اردو مصنف میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے ’’ اسلامی تصوف اور علامہ اقبال‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ’’ تاریخ ادبیاتِ اردو حصہ اول حصہ دوم ( مطبوعہ اردو اکیڈمی لاہور ۱۹۹۷ء) ان کی تحقیق و تنقید کا قابل قدرکارنامہ ہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے علامہ اقبال کی سوانح اور شعری خدمات سے متعلق بنگلا زبان میں بھی ایک تحقیقی کتاب ’’ مہا کوی اقبال‘‘ ( عظیم شاعر اقبال) رقم کی۔ ڈاکٹر نورالدین کو بنگلا، اردو او ر انگریزی تینوں زبانوں سے اچھی واقفیت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین تینوں زبانوں میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ علامہ اقبال کی فکر تصوف اور کودی سے متعلق انگریزی میں ۶۴ صفحات پر مشتمل کتاب ( ALLAMA IQBAL’S ATTITUDE TO WARD SUFISM AND HI SUNIQUE PHILOSOPHI OF KHUDIS SELF)ٰٓٓایک مفید تحقیقی کو شش ہے ۔
پروفیسر اسد الحق ، کشتیا سرکاری کالج میںدرس و تدریس کے پہلو بہ پہلو تحقیق و تنقید کی خدمات بھی انجام دیتے رہے ۔ ’’ نئی اور پرانی روشنی‘‘ ان کے اردو تحقیقی مضامین کا مجموعہ۱۹۹۶ء میں سبزی باغ پٹنہ ( انڈیا) سے شائع ہوا ۔ ان کا طبعی رجحان تنقید سے زیادہ تحقیق کی طرف مائل ہے ۔’’ نذ رالاسلام ۔ شاعر انقلاب‘‘ مثنوی کی تاریخ ، فلسفہ اقبال کی اساسی قدریں ‘‘ وغیرہ مصنف کے بہترین تحقیقی مضامین ہیں ۔
شفیق احمد شفیق کا تعارف شاعر ، تنقید نگار اور صحافی کی حیثیت سے ہے ۔ موصوف قیام بنگلہ دیش کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔نقاد کی حیثیت سے شفیق کا درجہ قابل ذکر ہے ۔ گر چہ ان کی تنقید وقتاً فوقتاً تاثراتی اور نظریاتی زمرے میں آجاتی ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے زیادہ تر ان فن کاروں یا فن پاروں پر اظہار خیال کیا ہے جن سے وہ کسی نہ کسی انداز سے متاثر ہوئے ۔ مثلاً انھوں نے نظیر صدیقی ، ایوب جوہراور اظہر قادری پر جو رائے ظاہر کی ہے، یہ تاثراتی کہی جا سکتی ہے ۔ تا ہم فیض احمد فیض ، جوش ملیح آبادی ، غلام عباس وغیرہ میں شفیق احمد کی تنقید تعمیری کہی جائے گی۔ انھوں نے فن کار کے مفید پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ اردو ادب مشرقی پاکستان میں ‘‘ ( تنقید و تحقیق) اور تنقید (مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی ۱۹۹۱ء) ادراک( تنقید) ان کے مضامین کا مفید مجموعہ ہے ۳۷ ۔
احمد الیاس کا تعارف بنگلا دیش میں کہنہ مشق شاعر ، مضمون نگار اور صحافی کی حیثیت سے ہے۔ ان کا بنیادی میدان شاعری ہے ۔ طرز تحریر میں وہ ترقی پسند خیالات کے حامی ہیں لیکن روایت سے منحرف نہیں ۔ وہ وقتاً فوقتاً تحقیقی مضامین ، کتابوں کے دیباچے بھی سپرد قلم کرتے آرہے ہیں ۔ خصوصاً بنگلہ دیش میں اردو شعر و ادب کے محققین کو ان کے مضامین سے مفید اطلاعات حاصل ہوتی ہیں ۔ احمد الیاس کے مضامین تاریخی، تحقیقی وافادی حیثیت سے قابل قبول ہیں۔بڑی نا سپاسی ہوگی اگر جناب شعیب عظیم کی تحقیقی و تنقیدی خدمات کا ذکر نہ کیاجائے ۔ شعیب عظیم بنگلا دیش میں اردو کے ایک بے لوث خادم کہے جاتے ہیں ۔ ان کا مطمح نظر تعمیر ادب ہے ، تخریب ادب نہیں ۔ وہ ادبی تحقیق میں بڑی عرق ریزی سے کام لیتے ہیں ۔ تنقید کے معاملے میں شعیب عظیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دوستانہ لہجے میں فن کار کو اس کی خامیوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مضامین بر صغیر کے متعدد جرائد میں شائع ہوتے آرہے ہیں ۔
۱۹۴۷ء کے بعد سے حال تک شعر و ادب کی سرگرمیوں سے متعلق ان کی معلومات وسیع ہیں ۔ اردو محققین کو ان سے بڑی اچھی ہدایت ملتی رہیں ۔ رسالہ’’ عقاب‘‘ (ڈھاکا) سہ ماہی ’’خرام‘‘(ڈھاکا) مصور ماہنامہ ’’ دلربا‘‘ ایک تفصیلی جائزہ وغیرہ ان کی تحقیق و تدقیق کی ایک حد تک کامیاب سعی ہے ۔بنگلا دیش میں ۱۹۴۷ء سے تا حال تک اردو تحقیق و تنقید کی سر گرمیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام بنگلا دیش کے بعد اردو کے نا مساعد حالات میں بھی محققین و ناقدین کی یہ دلچسپی اس بات کی ضامن ہے کہ مستقبل میں اردو تحقیقی کاموں کی اچھی روایت باقی رہے گی ۔
منابع و ماخذ :
۱۔ عبدالغفور نساخ ۔ تذکرۃ المعاصرین، کلکتہ ۱۸۰۹ء؁
۲۔ ایضاً تذکرۂ سخن شعرا ء، نول کشور لکھنؤ ۱۸۷۴ء؁
۳۔ منشی رحمن علی طیش تواریخ ڈھاکا ، ضلع آرہ ، بہار ۱۹۱۰ء؁
۴۔ حکیم حبیب الرحمن، آسودگانِ ڈھاکا ۔ منظر پریس ، ڈھاکا ۱۹۴۶ء؁
۵۔ حکیم حبیب الرحمن، ثلاثہ عسالہ ۔ لاہور ۔۱۹۹۵ء؁
۶۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی، دور حاضر اور اردو غزل گوئی ، شیخ غلام علی اینڈ سنز ۱۹۵۱ء؁
۷۔ ایضاً تحقیق کی روشنی میں ۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۶۳ء؁
۸۔ ڈاکٹر کینز بتول، بنگلہ دیش میں اردو ادب ( ۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۰ء) غیر مطبوعہ تحقیقی مقالہ
۹۔ ڈاکٹر شوکت سبزواری ، اردو زبان کا ارتقاء، گہوارۂ ادب ڈھاکا ۱۹۵۶ء؁
۱۰۔ ڈاکٹر کینز بتول، مذکورہ بالا۔
۱۱۔ ڈاکتر آفتاب احمد صدیقی ، گلہائے داغ، مکتبہ عارفین پریسڈھاکا۱۹۵۷ء؁
۱۲۔ایضاً صہبائے مینائی ، مطبوعہ ڈھاکا ۱۹۵۸ء؁
۱۳۔ ایضاً شبلی ایک دبستان ، مکتبہ عارفین پریس ڈھاکا،
۱۴۔ڈاکٹر کنیز بتول ۔ متذکرہ بالا ص ۱۵۰
۱۵۔ ڈاکٹر حنیف فوق ، مثبت قدریں ، مطبع پاسبا ن ڈھاکا۱۹۵۸ء ص ۷۵
ٍ۱۶۔ ایضاً متوازن نقوش ، نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی ۱۹۸۹ء؁
۱۷۔ارشد کا کوی ، ماہنامہ ندیم ڈھاکا ، جون و جولائی ۱۹۶۰ء؁
۱۸۔ پروفیسر ہارون الرشید ، محفل جو اجڑ گئی ، زین پبلی کیشن کراچی ۲۰۰۲ء؁ ص ۱۷۹
۱۹۔پروفیسر محمد عبداللہ ۔ قاضی نذرالاسلام۔ ڈھاکا ۱۹۷۱ء؁
۲۰۔ پروفیسر ڈاکٹر کلثوم ۔ متذکرہ بالا
۲۱۔ پروفیسر ام سلمیٰ ۔ بنگلہ دیش کے فارسی و اردو ادب میں تاریخی ما خذ، انیسویں صدی میں غیر مطبوعہ تحقیقی مقالہ
۲۲۔پروفیسر کلیم سہرامی ، روایت در روایت ( تنقید و تحقیق) نقاد پبلیشر عالم گنج ،پٹنہ ۱۹۹۱ء؁
۲۳۔ پروفیسر کلیم سہرامی ، بنگال میں غالب شناسی ، اقبال روڈڈھا کہ۱۹۹۰ء؁
۲۴۔ پروفیسر کلیم سہرامی ، مآثر بنگال ۔ پھلواری شریف، پٹنہ ۱۹۳۰ء؁
۲۵۔ پروفیسر اقبال عظیم ۔ مشرقی بنگال میں اردو ۔ چاٹگام ۱۹۵۴ء؁
۲۶۔ ڈاکٹر وفا راشدی کی خود نوشت کوائف۔ راقمہ کے سوال نامے کے جواب میں جو انھوں نے فراہم کئے۔
۲۷۔ ماہنامہ سیارہ لا ہور ۔ فروغ نمبر ۱۹۹۵ء؁
۲۸۔ پروفیسر ہارون الرشید ۔ اردو ادب اور اسلام ۔ اسلامک پبلی کیشنز لمٹیڈ لاہور ۱۹۷۰ء؁
۲۹۔پروفیسر ہارون الرشید۔ محفل جو اجڑ گئی ۔ زین پبلی کیشنز کراچی ۲۰۰۲ء؁
۳۰۔ پروفیسر اظہر قادری ۔ فکر و فن کے محرکات ۔ آہنگ نو کراچی ۲۰۰۱ء؁
۳۱۔ پروفیسر نظیر صدیقی ۔سو یہ ہے میری زندگی ۔ خود نوشت سوانح حیات ۱۹۹۱ء؁
۳۲۔ شہزاد منظر کی خود نوشت کوائف راقمہ کے سوال نامے کے جواب میں انھوں نے فراہم کئے ۔
۳۳۔ مسعود شہر یار ۔ مشرقی پاکستان میں اردو ادب کا وسیع تر جائزہ، کتابیات پریس لاہور ۱۹۹۹ء؁
۳۴۔ ڈاکٹر یوسف حسن ۔ بنگال میں اردو ( ۱۹۴۷ء؁ تک)
۳۵۔ اسدالحق شیدائی ، نئی اور پرانی روشنی ، تنقید و تحقیق پٹنہ ۱۹۹۶ء؁
۳۶۔ شفیق احمد شفیق ، ادراک: مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی
mmm

Muqadma E Hali Aur Ghalib Shanasi

Articles

مقدمۂ حالی اور غالب شناسی

پروفیسر یونس اگاسکر

حالی نے ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ میں ’شاعری کے لیے کیا کیا شرطیں ضروری ہیں‘ کے زیر عنوان سب سے پہلے تخیل کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس شاعر میں قوت متخیلہ اعلا درجے کی ہوگی، اس کی شاعری اعلا درجے کی ہوگی۔ اپنی قوتِ متخیلہ کے زور پر شاعر جو نتیجے نکالتا ہے، وہ منطق کے قاعدوں پر منطبق نہیں ہوتے لیکن جب دل اپنی معمولی حالت سے قدرے بلند ہو جاتا ہے تو وہ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔
اپنی بات میں تیقن پیدا کرنے کے لیے حالی نے فیضی کے درجِ ذیل فارسی شعر کی مثال دی ہے:
سخت است سیاہیِ شبِ من
لختے ز شب است کوکبِ من
(یعنی میری رات اتنی زیادہ تاریک ہے کہ میری قسمت کا ستارہ بھی اس رات ہی کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔)
اس شعر کی توجیہہ میں حالی فرماتے ہیں:
’’رات کی تاریکی سب کے لیے یکساں ہوتی ہے، پھر ایک خاص شخص کی رات سب سے تاریک کیوں کر ہوسکتی ہے؟ اور تمام کواکب ایسے اجرام ہیں جن کا وجود بغیر روشنی کے تصور میں نہیں آسکتا۔ پھر ایک کوکب ایسا سیاہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے کالی رات کا ایک ٹکڑا کہا جا سکے۔ مگر جس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب ناممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں۔‘‘
عرض کرنا چاہوں گا کہ فیضی کے مذکورہ شعر کی روشنی میں حالی کی راے کو جوں کا توں تسلیم کرنے میں تردّد ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو حالی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ تخیل کی ڈور مشاہدات و تجربات سے بندھی ہوتی ہے۔ چناں چہ قوتِ متخیلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربے یا مشاہدے کے ذریعے سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے دل کش پیراے میں جلوہ گر کرتی ہے جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔‘‘
اس توضیح کی روشنی میں فیضی کا شعر ایک بار پھر ملاحظہ کیجیے:
سخت است سیاہیِ شبِ من
لختے ز شب است کوکبِ من
اوّل تو یہ شعر فیضی کے احوال سے میل نہیں کھاتا کہ اسے ’’جس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب ناممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں، کے ذیل میں رکھا جاسکے۔ دوسرے یہ کہ اس شعر میں تجربے یا مشاہدے سے زیادہ فارسی اور اُردو شاعری میں مروّج تاریکیِ شب کے تصور کو بنیاد بنا کر محض مبالغے کی مدد سے بات کو دل چسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جسے معمولی پیرایوں سے الگ پیرایہ سمجھنا بھی محال ہے۔
اس شعر کے مقابلے میں غالب کا یہ شعر جسے حالی نے قابل اعتنا نہیں سمجھا ہے، حالی کے موقف کی بھرپور کفایت کرتا ہے کہ اس میں مشاہدے کے توسط سے حاصل کردہ ذخیرۂ معلومات کو دل کش اور منفرد پیرایے میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ دل و دماغ دونوں کے لیے تسکین و راحت کا سامان مہیا ہو جاتا ہے:
کیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم، اندھیر ہے
پنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
غالب کے ہاں منطقی ربط بھی ہے کیوں کہ زنداں کے روزنوں میں روئی کے گالے ٹھنسے ہونے سے روشنی کے دُخول کا امکان ہی نہیں رہا۔ چناں چہ ایک گہری تاریکی کا عالم ہے جس میں سفید روئی کے گالوں پر سپیدۂ سحر کا گمان ہونا قطعی فطری تاثر ہے۔ اس کے علاوہ ’اندھیر ہے‘ کے فقرے میں لفظی رعایت کے باوجود بیان کی دل کشی پائی جاتی ہے کہ یہ ٹکڑا متکلم کی بے بسی و ناامیدی کا اشاریہ بھی ہے۔
شاعری کے لیے دوسری شرط حالی نے ’کائنات کا مطالعہ‘ بتائی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’اگر چہ قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کہ شاعر کی معلومات کا دایرہ تنگ اور محدود ہو، اس معمولی ذخیرے سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتی ہے ۔ لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نسخۂ کائنات اور اس میں سے خاص کر نسخۂ فطرتِ انسانی کا مطالعہ نہایت غور سے کیا جائے۔‘‘
اس شرط کی تکمیل کی مثال کے طور پر حالی نے غالب کا ایک اُردو اور ایک فارسی شعر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
بوے گل ، نالۂ دل ، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
بگذر ز سعادت و نحوست کہ مرا
ناہید بہ غمزہ کشت و مریخ و بقہر
عرض کرنا چاہوں گا کہ غالب کے ان دو شعروں کے مضمون اور انداز پیشکش میں کائنات یا فطرت انسانی کے مطالعے سے زیادہ تخیل کی مدد سے اپنے تجربے اور مشاہدے کو شعر میں ایک نئی ترتیب اور نئی صورت میں پیش کر کے اپنا پسندیدہ نتیجہ اخذ کرنے کی سعی نظر آتی ہے۔
شاعر کو پتا ہے کہ بوے گل ، نالۂ دل اور دودِ چراغِ محفل ان تینوں میں بکھرنے یا پریشان ہونے کی صفت مشترک ہے۔ لیکن وہ اسے معشوق کی بزم طرب سے ناکام و نامراد لوٹنے کا نتیجہ بتاتا ہے ۔ یعنی ایک عمومی مشاہدے کو ایک خصوصی صورت حال سے جوڑتا ہے۔ بوے گل اور دودِ چراغ محفل کی مثال کو اپنے نالۂ دل کے ساتھ شامل کر کے معشوق کی بے اعتنائی و بے رخی کو جو فارسی و اُردو کی غزلیہ شاعری کے مسلمات میں شامل ہے، مزید اجاگر کرتا ہے۔ میرے نزدیک اس شعر کو مطالعۂ کاینات کے ذیل میں رکھنا دشوار ہے۔
غالب نے اپنے فارسی شعر میں عام تصور کے مطابق سعادت و نحوست کے حامل ستاروں ناہید یعنی زہرہ و مریخ دونوں کو اپنے لیے ناموافق و ناسازگار بتایا ہے کیوں کہ قسامِ ازل نے اس کی تقدیر میں صعوبت و کلفت لکھ دی ہے۔ ایسے میں ناہید کاغمزہ بھی وہی کام کرتا ہے جو مریخ کے قہر سے وابستہ سمجھا جاتا ہے ۔ کیوں کہ بربادی و ستم رانی کا شکار ہونا تو متکلّم کا مقدر ہے۔
غالب نے اپنے ایک اُردو شعر میں اسی خیال کو دوسرے لفظوں میں اس طرح باندھا ہے:
میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
لکھ دیا من جملۂ اسبابِ ویرانی مجھے
حالی نے مطالعۂ کائنات کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ کائنات میں گہری نظر سے ان خواص و کیفیات کا مطالعہ کرنے کے بعد جو عام آنکھوں سے مخفی ہوں، مشق و مہارت سے مختلف چیزوں میں متحد اور متحد چیزوں سے مختلف خاصیتیں اخذ کر کے انھیں اشعار میں ڈھالے۔ غالب کے مذکورۂ بالا دونوں شعروں سے اس شرط کی تکمیل ہوتی نظر نہیں آتی کیوں کہ ان میں عام آنکھوں سے مخفی خواص و کیفیات کی بجائے معلوم حقایق اور فرد کے ذاتی تاثرات جھلکتے ہیں۔
حالی نے میر ممنون کا یہ شعر متحد اشیا سے مختلف خاصیتیں استنباط کرنے کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے:
تفاوت قامتِ یارو قیامت میں ہے کیا ممنوں
وہی فتنہ ہے لیکن یاں زرا سانچے میں ڈھلتا ہے
یعنی قامت معشوق اور قیامت دونوں فتنہ ہونے میں تو متحد ہیں مگر فرق یہ ہے کہ فتنۂ قیامت سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں ہے۔
عرض ہے کہ میر ممنون نے قامت یار کے مسلمہ تصور کو قیامت سے متعلق عقیدے سے جوڑ کر قامت یار کو سانچے میں ڈھلا ہونے کے سبب نہایت قابل قبول و لایق ستایش بتایا ہے۔ زور تخیل اور حسن بیان کے حامل اس دل کش شعر کو مطالعۂ کائنات کی بحث میں شامل کرنا، موزوں نہیں معلوم ہوتا۔ اس شعر کو معشوق کی صفات کی تحسین سے متعلق گفتگو میں شامل کرنا چاہیے۔
مقدمے کے نصفِ دوم میں حالی نے غزل، قصیدہ اور مثنوی پر بہ تفصیل گفتگو کی ہے اور ان تینوں اصنافِ سخن کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے متقدمین و متاخرین شعرا کے تخلیقی کارناموں کا بھی تنقیدی محاسبہ کیا ہے۔ اس مضمون میں غالب کے غزلیہ اشعار پر حالی کے تنقیدی کلمات سے متعلق گفتگو کرنی مقصود ہے۔ متقدمین کے ذریعے غزل میں باندھے گئے مضامین کو متاخرین شعرا نے کس طرح اپنایا اور ان میں کیا اضافے کیے، اس پر بحث کرتے ہوئے حالی نے شفائی صفاہانی کا ایک شعر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غالب نے اسی شعر سے قصداًیا بلا قصد خیال اخذ کیا ہے اور بہ قول حالی
’’اس مضمون کو اصل خیال کے باندھنے والے سے بالکل چھین لیا ہے۔‘‘

فارسی کا شعر ملاحظہ کیجیے:
مشاطہ را بگو کہ بر اسبابِ حسنِ دوست
چیزے فزوں کند کہ تماشا بہ ما رسید
یعنی ہماری پسند کے لیے معشوق کا روز مرہ کا سامانِ آرایش کافی نہیں ہے، مشاطہ کو چاہیے کہ اس میں کچھ اور اضافہ کرے کہ اس کا نظارہ کرنے کی نوبت ہم تک آپہنچی ہے۔ حالی نے غالب کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہ انھوں نے اس مضمون کو بہت بلندی عطا کی ہے، نواب تجمل حسین خاں والیِ باندہ کی مدح میں کہے گئے اس شعر کو نقل کیا ہے:
زمانہ عہد میں ہے اس کے محو آرایش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
حالی نے اس شعر کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے :
مرزا نے ممدوح کو ایک ایسے کمال کے ساتھ متصف کیا ہے جو تمام کمالات کی جڑ ہے۔ یعنی وہ ہر چیز کو کامل تر اور افضل تر حالت میں دیکھنا چاہتا ہے اس لیے ہر شئے اپنے تئیں کامل تر حالت میں اس کو دکھانا چاہتی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگر یہی حال ہے تو شاید آسمان کی زیب و زینت کے لیے اور ستارے پیدا کیے جائیں گے۔‘‘
ہمیں حالی کی شرح پڑھ کر ان کی سخن فہمی اور ذہنی رسائی پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔ مگر غالب کو شفائی صفا ہانی کا خوشہ چیں بتانے پر سخت حیرت بھی ہوتی ہے۔کیوں کہ شفائی کا مضمون غالب کے مضمون سے کم تر ہی نہیں مختلف بھی ہے۔ شفائی نے اپنے ذاتی معیار حسن کی تعریف کی ہے جب کہ غالب اپنے ممدوح کی اعلا ظرفی و تکمیل پسندی کی مدح کر رہے ہیں۔ معشوقِ ازلی کے سجنے سنورنے کا مضمون بھی نیا نہیں ہے۔ اور اس کے لیے اسے کسی مشاطہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خود غالب کے ہاں اس کی گونج سماعت فرمائیں۔ غالب کہتے ہیں:
آرایشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دایم نقاب میں
شفائی نے مشاطہ کا ذکر کر کے معشوق ازلی کو معشوق مجازی میں بدل دیا ہے جس سے شعر ادنا درجے کا معلوم ہونے لگا ہے۔ جب کہ زمانے کا نواب تجمل حسین خاں کے لیے محو آرایش ہونا، اس مضمون کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔
غالب کے درج ذیل شعر کے تعلق سے بھی حالی کا کہنا ہے کہ غالب نے عرفی شیرازی کے مضمون کو دوسرے لباس میں جلوہ گر کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہاے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
حالی کی رائے میں غالب نے عرفی شیرازی کے اس شعر سے اخذِ مضمون کیا ہے:
ہر کس نہ شناسندۂ راز ست وگرنہ
ایں ہا ہمہ راز است کہ معلوم عوام است
حالی کے نزدیک:
’عرفی کا یہ شعر آب زر سے لکھنے کے قابل ہے اور اس جس اسلوب میں کہ یہ خیال اس سے ادا ہوگیا ہے، اب اس سے بہتر اسلوب ہاتھ آنا دشوار ہے۔
اس کے بعد غالب کی وکالت میں کہتے ہیں:
’’مرزا کی جدّت اور تلاش بھی کچھ کم تحسین کے قابل نہیں ہے کہ جس مضمون میں مطلق اضافے کی گنجایش نہ تھی، اس میں ایسا لطیف اضافہ کیا ہے جو باوجود الفاظ کی دل فریبی کے لطفِ معنی سے بھی خالی نہیں ہے۔‘‘
اخیر میں کہتے ہیں:
عرفی کا یہ مطلب ہے کہ جو باتیں عوام کو معلوم ہیں، یہی در حقیقت اسرار ہیں۔ مرزا یہ کہتے ہیں کہ جو چیزیں مانع کشفِ راز معلوم ہوتی ہیں، یہی در حقیقت کاشفِ راز ہیں۔
اب حالی سے یہ کون دریافت کرے کہ حضرت’ جو باتیں عوام کو معلوم ہیں، یہی در حقیقت اسرار ہیں‘ اور ’یہی در حقیقت کاشفِ راز ہیں‘ میں کون سی معنوی مناسبت ہے جس کی بنا پر آپ نے غالب کو عرفی شیرازی کے شعر سے مضمون اُڑا لینے کا مرتکب ٹھہرایا ہے؟
اور یہ بھی کہ جو راز معلوم عوام ہوں وہ بھلا اسرار کیوں کر ٹھہرائے جائیں گے؟
عرفی کے شعر کا معنوی تضاد خود اُن کے شعر کو سبک ٹھہرانے کے لیے کافی ہے۔
اور جہاں تک غالب کے شعر کا سوال ہے اس کا ایک ایک لفظ معنویت سے پر اور پردۂ ساز کی ترکیب غالب کی انفرادیت اوراختراع پسند طبیعت پر دال ہے۔ موسیقی کی اصطلاح میں تاروں والے سازوں میں لگنے والے پیتل کے وہ ٹکڑے جن پر انگلیاں چلا کر یا جنھیں انگلیوں سے دبا کر الگ الگ سُر قایم کرتے ہیں، پردہ کہلاتے ہیں۔ اسی طرح بعض سازوں پر آڑے لگے ہوئے تاروں کو جن پر موسیقار انگلیاں چلا کر راگ یا سر نکالتا ہے، پردہ کہا جاتا ہے۔
غالب نے نہ صرف محرم، نواہاے راز، حجاب اور پردۂ ساز کی لفظی مناسبت سے بیان میں دل کشی پیدا کی ہے بلکہ معنوی اعتبار سے بھی شعر کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں طائرِ خیال کے پر جلنے لگتے ہیں۔
اخیر میں عرض کردوں کہ غالب نے موسیقی کی اصطلاحوں خصوصاً پردۂ ساز کی ترکیب کو ایک سے زیادہ بار استعمال کیا ہے اور ہر جگہ اپنی انفردیت کی چھاپ ڈالی ہے:
غالب کا یہ مشہور شعر کس نے نہیں سنا ہوگا
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
اب دو کم معروف شعر بھی سن لیجیے:
جاں مطربِ ترانۂ ہل من مزید ہے
لب پردہ سنجِ زمزمۂ الاماں نہیں
فریاد اسد غفلتِ رسوائی دل سے
کس پر دے میں فریاد کی آہنگ نکالوں

٭٭٭

Shabkhoon ka Tauzihi Ishariya

Articles

شب خون کا توضیحی اشاریہ : ڈاکٹر انیس صدیقی کی معرکہ آرا تحقیقی کتاب

ڈاکٹربی محمد داؤد محسن

ڈاکٹر انیس صدیقی کا شمار کرناٹک کے ان معدودے چند اردو قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کی پہچان ادبی حلقوں میں ہے بھی اور نہیں بھی ۔ یہ ان قلم کاروں میں سے نہیں ہیں جو ہر دوسرے ہفتہ اپنی تخلیقات کے ساتھ کسی نہ کسی اخبار کے ادبی صفحات کی زینت بڑھاتے ہیں اورنہ رسائل کی رونق بڑھاتے ہیں۔ ان کا شماران نام نہاد ، کثیر جہات قلم کاروں میں بھی نہیں ہوتا جنھوں نے نظم و نثر کی کم کم ہی اصناف کو اپنی طبع آزمائی سے محفوظ رکھا ہے۔ سمیناری لکھاریوں کی فہرست میں بھی ڈاکٹر انیس صدیقی شامل نہیں ہیں۔ فیس بک اور واٹس اپ کی واہ واہی خرافات سے بھی خود کو بچائے رکھا ہے۔ لیکن یہ اپنی سنجیدہ علمی و ادبی کاوشوں کی وجہ سے اردو کے پڑھے لکھے طبقے میں نہ صرف اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں بلکہ قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی نے ابتدائی زمانے میں ہی اپنے میلان طبعی کا محاسبہ کیا، اپنے لیے منزلیں طے کیں اور ان تک رسائی کے لیے راستوں کا انتخاب کیا۔ آج بھی وہ نہایت تندہی اور دل بستگی کے ساتھ ان ہی راہوں پر گامزن ہیں۔ ادبی صحافت ، ترتیب و تدوین اور تحقیق، ادب کے باب میں ان کی ترجیحات ہیں۔ چنانچہ زمانۂ طالب علمی میں اپنا ادبی رسالہ ’نوائے عصر‘ جاری کیا۔ کالج اور یونیورسٹی کے مجلّوں کی ادارت کی۔ کئی مقامی ادبا اور شعرا کے کلام کو ترتیب دیا اور انھیں شائع کیا۔ کرناٹک اردو اکادمی کے رکن نامزد ہوئے اور اکادمی کے ترجمان ’اذکار‘ کی ادارت ان کوتفویض کی گئی تو انھوںنے ممتاز شیریں کے ’نیا دور‘ اور محمود ایاز کے’سوغات‘ کی طرح ’اذکار ‘کی بھی قومی سطح پر شناخت بنائی۔ انجمن ترقی اردو ہند(شاخ) گلبرگہ کے ترجمان ’انجمن ‘کے کئی شمارے بھی ڈاکٹر انیس صدیقی نے ترتیب دیے ہیں۔ گلبرگہ کے مقامی روز نامہ ’کے بی این ٹائمز‘ کے ادبی صفحہ ’ادب نما‘ کے مرتب کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابل لحاظ رہی ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی کی اولین تحقیقی کاوش ان کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا گیا تحقیقی مقالہ تھا جو بعد میں ’کرناٹک میں اردو صحافت ‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں منظر عام پر آیا ۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگاکہ کرناٹک کی مختلف جامعات کے اردو شعبہ جات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے درجنوں مقالے لکھے اور لکھوائے گئے لیکن ان مقالوں میں زیور طباعت سے آراستہ ہونے والے مقالوں کی تعداد غالباً ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے۔ اس کے اسباب و علل پر گفتگو ایک دفتر کا متقاضی ہے اور یہاں صرف اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنا تحقیقی مقالہ شائع کیا اور یہی ان کی محقق کی حیثیت سے پہچان کا سبب بنا۔ اس کے بعد اپنے مختلف احباب کی شراکت سے گلبرگہ کے ادبا و شعرا کا انتخاب ’افلاک‘ ، گلبرگہ کے شعر و ادب کی سمت و رفتار پر انجمن ترقی ہند اردو(شاخ) گلبرگہ کے سمیناروں کے مقالوں پر مشتمل کتاب ’گلبرگہ میں شعر و ادب‘ ترتیب دی ۔ پھر ممتاز شاعر ، ادیب و نقاد شمس الرحمن فاروقی صاحب کے مختلف کتابوں اور رسالوں میں شائع شدہ انٹرویو کو یکجا کرکے ’فاروقی : محوِ گفتگو‘مرتب کیا۔اسی طرح ’خاکہ نگاری اردو ادب میں‘ ان کی مرتبہ ایک اور کتاب ہے جس میں انھوں نے خاکہ نگاری کے آغاز و ارتقا اور اس کے فن پر تا حال شائع شدہ مضامین کو نہایت سلیقہ سے ترتیب دے کر اسے ایک دستاویزی حیثیت دی ہے۔
پیش نظر کتاب ’شب خون کا توضیحی اشاریہ‘ ڈاکٹر انیس صدیقی کے تحقیقی جنون و جستجو کی مظہر ایک ایسی عدیم المثال کتاب ہے جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے اپنے اشاعتی پروگرام کے تحت تقریباً 1500 صفحات پر مشتمل کتاب کو دو ضخیم جلدوں میں شائع کیا ہے ۔اس کتاب کے ایک ایک صفحے سے ان کی تحقیقی ژرف نگاہی اور عرق ریزی کا پتہ چلتا ہے۔
اشاریہ سازی اردو میں بہت زیادہ قدیم فن نہیں ہے۔ محققین کو مواد کی رسائی میں آسانی فراہم کرنے والا تحقیق کے فن کا ہی یہ ایک شعبہ ہے۔ حالیہ دو تین دہوں میں اردو کے اہم اور غیر اہم ادبی ، مذہبی ، علمی و سائنسی رسائل کے اشاریے سامنے آئے ہیں۔ جامعاتی سطح پر بھی اس فن میں کام ہوا ہے ۔لیکن اردو کے رجحان ساز رسالہ ’شب خون‘ کااشاریہ تیار کرنے کا سہرا ڈاکٹر انیس صدیقی کے سربندھا۔ ’شب خون‘ اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ کا روشن ترین نام ہے اس رسالہ نے اردو میں جدیدیت کے رجحان کی بنیاد رکھی اور اس رجحان کو فروغ دینے اسے مستحکم اور توانا کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر انیس صدیقی کے مطابق ؛
’’شب خون نے اردو ادب میں جدیدیت کے انقلاب آفرین رجحان کی اساس رکھی اور اس کی معنویت اور اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔’شب خون‘ نے نئے فکری و معنوی ابعاد اجاگر کیے ۔ قاری کے فکر و ذہن کو مرتعش کرنے والے فکر انگیز مباحث کو جنم دیا۔ جدید ادب کے مالہ و ماعلیہ پر عالمانہ انداز کے حامل مضامین شائع کیے ، جدیدیت کی تائید و تردید ، افہا م و تفہیم ،وضاحت اور حد بندیوں پر کثرت سے مضامین شائع کی ہیں۔ ‘‘
جہانِ شعر و ادب میں اردو کی ادبی صحافت کے منارۂ نور’ شب خون‘ کے اشاریہ کی ترتیب و تدوین اور اس کی ضرورت کا جواز ڈاکٹر انیس صدیقی نے یوں پیش کیا ہے؛
’’ اردو ادب کے توانا اور مقبول ترین رجحان جدیدیت کے آغاز و ارتقا ، اس کا تاریخی پس منظر، اس کے صحیح خد و خال ، نظم و نثر کی تمام اصناف پر اس کے اثرات و اطلاقات، اس کے رجحان سے متاثر اور اس کے ہم نوا اہل قلم سے متعلق کسی بھی موضوع پر تحقیقی کام ’شب خون‘ میں شائع ہوئی تحریروں کے حوالے کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا ’شب خون ‘کا پیش نظر اشاریہ ، ان تحقیق کاروں کے لیے مفید ہوگا جو جدید ادب اور اس کے متعلقات کے کسی موضوع پر کام کررہے ہیں۔ ‘‘
’شب خون کا توضیحی اشاریہ‘ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ جلد اول میں دو باب اور جلد دوم میں تین ابواب شامل ہیں۔ پہلا باب ’شب خون‘ کے تعارف پر مبنی ہے۔ جس میں ہندوستان کی اردو ادبی صحافت کے تاریخی سیاق و سباق میں ’شب خون ‘کے اجرا ، ادارت ، ضخامت ، کتابت و طباعت اور اس کے مستقل کالموں سے متعلق معلومات افزا مواد کے علاوہ شب خون کی ادبی خدمات سے متعلق مشاہرین ادب کی آراء کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا دوسرا باب ’شب خون‘ میں شائع شدہ نثری نگار شات کا احاطہ کرتا ہے۔ جس میں اصناف کے اعتبار سے زمرہ بندی کی گئی ہے۔ اس باب کا سب سے اہم حصہ مضامین سے متعلق ہے۔ اس میں ڈاکٹر انیس صدیقی نے ’شب خون ‘میں شائع ہوئے سات سو سے زائد تنقیدی و تحقیقی مضامین کی توضیحات قلم بند کی ہیں۔ اس کی افادیت یہ ہے کہ تحقیق کار کو ان مضامین کے مندرجات اور ان کی کیفیت و کمیت کا پتہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے۔
تیسرا باب شعری نگارشات پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی اشاریہ ساز نے اصناف کے اعتبار سے شعری نگارشات کی تفصیلات کو درجہ بند کیا ہے۔ چوتھا باب شب خون میں شائع ہوئے تراجم پر محیط ہے اس حصہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شب خون میں دیگر زبانوں کے ادبیات کے سیکڑوں ادبی شہ پاروں کو اردو قارئین سے متعارف کرانے میں بڑا اہم کام انجام دیا ہے۔
پانچواں اور آخری باب سب سے اہم ہے جسے ’ماحصل ‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس باب میں شب خون کے کل 293شماروں میں شائع شدہ قلم کاروں اور ان کی نثری و شعری نگارشات کے تعلق سے دلچسپ معلومات اعداد و شمار اور گراف کے توسط سے پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً بتایا گیا ہے کہ ’شب خون ‘کے کل 293شماروں میں 1357قلم کاروں کی 16721شعری و نثری تخلیقات شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 710نگار شات شمس الرحمن فاروقی کی ہیں۔ ’شب خون ‘میں شائع ہونے والی خاتون قلم کاروں کی تعداد صرف 91ہے جو کل تعداد کا 6.7فی صد ہے۔ غیر مسلم اردو قلم کاروں کی تعداد 138بتائی گئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’شب خون‘ میں شائع شدہ کل 16721تخلیقات میں 2748کا تعلق نثر سے اور13169کا تعلق شاعری سے ہے۔ جب کہ تراجم کی تعداد 806ہے۔ ’شب خون ‘کے تعلق سے اس طرح کی کئی اور معلومات اس حصہ کو نہ صرف دلچسپ بناتی ہیں بلکہ قاری کو حیرت انگیز مسرت سے بھی دو چار کرتی ہیں۔ کتاب کے آخر میں دو مفصل اشاریے الگ الگ اردو اور غیر اردو زبانوں کے قلم کاروں کے شامل ہیں۔
اس مضمون کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوگا جب تک کہ اس کتاب پر لکھے گئے شمس الرحمن فاروقی صاحب کے مقدمہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ فاروقی صاحب کے تبحر علمی ، کثیر جہات ، وقیع اور گراں قدر ادبی خدمات کا ذکر کرنا الفاظ کا زیاں ان معنوں میں ہے کہ اسکالر ، دانشور، نابغۂ روزگار ، عبقری شخصیت ، لیجنڈ جیسے الفاظ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے محاذی بونے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ ادبی دنیا واقف ہے کہ فاروقی صاحب ہی شب خون کے روح رواں تھے اور یہ ڈاکٹر انیس صدیقی کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایسی شخصیت نے اس کتاب کی تیاری میں نہ صرف ان کی رہنمائی کی بلکہ اس کتاب کے لیے مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ فاروقی صاحب کے مطابق ؛
’’حالاں کہ اشاریہ سازی یا فہرست سازی خالص علمی اور شماریاتی کام ہے لیکن اشاریہ اورفہرست سازی خاص کر کتابوں یا رسالوں کی اشاریہ سازی اور فہرست سازی میں فہرست ساز کی اپنی رائے (یا اپنے تعصبات)کی جھلک کہیں نہ کہیں نظر آجاتی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ انیس صدیقی نے خود کو ہر طرح کے تعصب اور خود درائی سے محفوظ رکھا۔ مشمولات میں اس قدر تفصیل اور اندراجات میں اس قدر تنوع ہے کہ یہ اشاریہ عام کتاب کے طورپر ، عام دل چسپی کی خاطر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ ‘‘
شمس الرحمن فاروقی صاحب اور ’شب خون ‘کی مداحی اور پرستاری کے دعوے دار، ان کی وابستگی کے حوالے سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے کئی احباب شمالی ہند کی مختلف جامعات میں اہم مناصب پر فائز ہیں۔ لیکن کسی نے اس رسالے کی خدمات پر کام کرنے یا کروانے کی جانب توجہ نہیں کی۔یہ بات ہمارے لیے باعث فخر و انبساط ہے کہ اس کام کو جنوبی ہند کے محقق ڈاکٹر انیس صدیقی نے انجام دیا اور بہت بہتر طریقہ سے انجام دیا۔ بہر حال ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنی کتاب کے ذریعہ ’شب خون ‘کی نہایت غیرمعمولی اور روشن ادبی خدمات پر جمتی ہوئی زمانے کی گرد کو اپنی بے لوث تحقیقی جستجو سے صاف کرنے اور نئی نسل کو اس تاریخ ساز رسالے کی خدمات سے واقف کرانے کا اہم کام انجام دیا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سنجیدہ علمی و ادبی حلقوں میں ڈاکٹر انیس صدیقی کی اس گراں قدر تحقیقی کتاب کی پذیرائی ہوگی اور ’فاروقیات‘کے باب میں ایک اہم اضافہ تصور کی جائے گی۔
٭٭٭

 

Interview of Adil Mansuri by Dr. Qasim Imam

Articles

ہر تجربہ رواج نہیں پا تا ہے

عادل منصوری

ڈاکٹرقاسم امام : عادل منصوری صاحب سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ نے جو ماڈرن یا سر ریلسٹک شاعری کی ہے تو کیا یہ سب کچھ آپ کے ذہن میں پہلے سے تھا یعنی یہ کہ آپ کا تخلیقی تجربہ اسی طرح کا اظہار چاہتا تھا یا پھر آپ نے جدیدیت سے متاثر ہوکر اس اندازِ بیان کو اختیار کیا؟
عادل منصوری: ’ماڈرن ‘ یا ’سرریلسٹ‘ وغیرہ قسم کے نام شاید تخلیق کاروں نے نہیں دیئے۔ پینٹنگ کے ذریعہ اس بات کو موثر طریقے سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ’لینڈ سکیپ‘ اور ’پورٹریٹ‘پینٹنگ غالباً ہر دور میں، ہر وقت میں تقریباً روایتی یگانگت سے منسلک رہتے ہیں۔ آنکھ کے سامنے کوئی منظر یا شخص موجود ہوتا ہے، جس کا تاثر فنکار برش، رنگوں کی مدد سے کینواس پر پھیلاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ’کیوبزم‘ اور ’ایبسٹریکٹ‘ پینٹنگ کا دروازہ کھلتا ہے اور کینواس بالکل بدل جاتا ہے۔ پکاسو، ڈالی ، پولوک تک پہنچتے پہنچتے کینواس اپنی فریم توڑ کر پھیلنے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے افق در افق پھیلتا ہوا خلاء کی لامحدود یت سے جا ملتا ہے۔ اب اسے اپنی قدیم فریم کی حدود میں واپس لے جانا ناممکنات میں شامل ہے۔بالکل اسی طرح :
یہ ہم سے پوچھ کہ معیارِ دوستی کیا ہے
کہ ہم نے سانپ بھی پالے ہیں آستینوں میں

محسوس یہ ہوتا ہے مجھے آپ سے مل کر
پہلے بھی کہیں اپنی ملاقات ہوئی ہے

جیسے شعر کہنے والا اب :
حیرت سے سبھی خاک زدہ دیکھ رہے ہیں
ہر روز زمیں گھٹتی ہے کونوں کی طرف سے
ڈھوتے ہیں شب و روز یہ الفاظ کی اینٹیں
رہتی ہے ادھوری ہی ، وہ دیوار الگ ہے
دل کی گہرائی میں خواہش کے اگیں ہاتھ ہزار
اور خواہش کے ہر اک ہاتھ میں سُرخاب کا پر
اظہار کا نیا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ کافکا، بیکٹ اور ’تھیئٹر آف ایبسرڈ‘ کے متعدد قلم کاروں نے معنی کی فریم توڑ دی ہے ،اور تخلیقی تجربے کے اظہار کے لیے خلاء کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اور تحت الشعور میں موجزن احساسات کو وسعتِ آفاق میں پھیلا دیئے ہیں۔
ڈاکٹرقاسم امام : اچھا ، اس طرح کا اندازِ بیان اختیار کرتے وقت آپ نے کبھی یہ نہیں محسوس کیا کہ اردو میں اس نوع کی شاعری ابھی رواج نہیں پاسکی ہے ، اس طرح کی شاعری کی کوئی مستحکم روایت نہیں ہے تو اس پر شدید رد عمل سامنے آئیں گے؟
عادل منصوری:شدید ردِّ عمل کا خوف محسوس کریں تو پھر ادب اور آرٹ میں کوئی نئی بات، نیا تجربہ، نئی جدّت وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ اگر شدید ردِّ عمل سامنے آنے کے فرضی خوف کی دیوار کے پیچھے نت نئے اظہار کے پیکروں کو روپوش کردیا جائے تو تجسس کے افق پر پَو پھٹنے کے منظر کا تصور کیسے مجسوم ہوسکے گا۔ نہ صبحِ کاذب ہوگی ، نہ صبحِ صادق تاریکی کی اتھاہ گہرائی میں امید کی کرن کیسے جگمگائے گی؟ سنگ نا تراشیدہ میں محور خواب پیکروں کو کیسے جگایا جاسکے گا۔ جواب میں سوالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ دروازہ کب تک بند رہے گا؟
ڈاکٹرقاسم امام :خیر نظموں میں سر ریلسٹک انداز بیان کسی نہ صورت نبھ جاتا ہے اور آپ نے اس نہج پر چلتے ہوئے کچھ شاہکار نظمیں بھی خلق کی ہیں اور آج یہ اندازِ بیان اردو کی نظمیں شاعری میں رواج بھی پاگیا ہے لیکن غزل میں شاید یہ کوششیں اتنی کامیاب نہ ہوسکیں۔ آپ کی ’’الف اور شین ‘‘ سیریز کی غزلوں اور ظفر اقبال کی اینٹی غزل میرے خیال میں اردو میں اتنی رواج پاتی نظر نہیں آرہی ہے؟
عادل منصوری:نظم کے ذریعے افتخار جالب اور احمد ہمیش نے اظہار کے کینواس کو پھیلانے میں بہت اہم ، نمایاں اور کامیاب تجربے کئے ہیں۔ غزل میں ظفر اقبال نے مشعل کو بلند کئے ہوئے بڑی پیش رفت کی ہے۔ غزل کو نئی وسعت اور زبان کو انوکھی دھار عطا کرنے کا ان کا کارنامہ اردو غزل کو نئی تابناکی سے منور کررہا ہے۔ اب تک ، ۔۔۔۔۔ ان کی کلیا ت کا سلسلہ اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرے پلڑے میں کیا کیا رکھا جاسکتا ہے؟ کسی بھی طرزِ تحریر کا رواج پانا ، یہ تخلیقی عمل کے بعد کی بات ہے۔ ہر تجربہ رواج بھی نہیں پا تا ہے۔ یہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا معیار بھی تو نہیں بن سکتا۔ شاید نظم کی بہ نسبت غزل کی فریم منہدم ہونے میں مزید وقت ، شدید ضرب اور کئی ایک ظفر اقبال درکار ہوں۔لیکن پچھلی پانچ دہائیوں میں غزل کتنی بدلی ہے، کتنی کامیاب رہی ہے یہ تو اظہرمن الشمس ہے۔
ڈاکٹرقاسم امام : ہاں ! یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی اور ظفر اقبال اور کچھ دیگر شعراء کی اس نوع کی غزلوں سے ایک بے تکلفی کا مزاج پیدا ہوا اور نئے شعراء نے آپ حضرات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے تخلیقی اظہار میں لکیر کے فقیر نہ رہتے ہوئے بے تکلفی کا اظہاراختیار کیا۔ کیا آپ اسے جدید غزل کی کامیابی تصور کرتے ہیں؟
عادل منصوری:زبان کی نسبت بے تکلفی کا مزاج ظفر اقبال کی غزلوں میں شروع ہی سے کامیاب ترین شکل میں نمایاں ہے۔ آج وہ اردو غزل میں Legendہیں ، اور یہ بات راتوں رات تو ظہور میں نہیں آجاتی۔
ڈاکٹرقاسم امام :گجراتی شاعری میں عادل منصوری بھی ایک Legendشاعر کا نام ہے۔ خیر سے اردو کے جدید شعرا کی مختصر سے مختصر فہرست میں بھی آپ کا نام ضرور شامل رہتا ہے۔ تو ان دو مختلف زبانوں میں شاعری کرتے ہوئے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ یعنی اپنے آپ کو جذباتی طور کس زبان سے زیادہ قریب پاتے ہیں اور جب آپ ایک زبان میں شاعری کررہے ہوتے ہیں تو کیا دوسری زبان اور اس کی شاعری اور اس کی شعری روایت سے بھی استفادہ کرتے ہیں؟
عادل منصوری:دو مختلف زبانوں میں شاعری کرنے کا تجربہ کچھ عجیب سا ہے۔ گجراتی مادری زبان ہوتے ہوئے بے تکلفی اور آسانی کے ساتھ اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ دن بھر گھر میں گجراتی بولتا ہوں ۔ اردو نائٹ اسکول میں جاکر پڑھی، سیکھی اور ڈھیر ساری کتابیں پڑھیں اور مشاعرے سنے، پھر بھی جب جب ذریعہ اظہار کے طور پر برتنے کی گھڑی آتی ہے تو ذہن میں ایک گھنٹی سی بجنے لگتی ہے ، کہ کہیں زبان میں لکھنے، بولنے ، برتنے میں کوئی غلطی تو سرزد نہیں ہورہی ہے؟ کئی بار لغت بھی زیرِ مطالعہ رہتا ہے۔ لغت میں ایک ہی لفظ کے کئی کئی معنی اور بعض جگہ تو متضاد معنی دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوجاتا ہوں ۔ شاید اسی تجربے کے تحت ’’ یہود یُو کان یُوس یکرز‘‘ قبیل کی نظمیں بھی کہی ہیں۔
گجراتی میں غزل کہتے وقت اردو زبان اور غزل کی شعری روایت اور تجربے سے ، اور اردو میں نظم لکھتے وقت گجراتی زبان اور گجراتی نظم کی شعری روایت اور تجربے سے بھر پور استعادہ کرتا رہتا ہوں۔ اصل میں، دو زبانوں اور دو زبانوں کی شعری روایات کے درمیان ایک Balancing Actہے میرے لیے۔ کبھی کبھی اس عمل پر مجھے تعجب بھی ہوتا ہے۔ اردو کی عظیم شعری روایت سے گجراتی غزل میں بھر پور استفادہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تقریباً 35-40سال قبل ممبئی میں ’آئی ، این، ٹی‘ کے ایک بڑے گجراتی مشاعرے میں نظامت کرتے ہوئے ، ہر دو شاعر کے درمیانی وقفے میں ظفر اقبال کے منتخب شعر سناتا رہا۔ گجراتی شاعروں اور سامعین کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ گجراتی کے مقبول اور معمر شاعر امرت گھایلؔ (جو اردو بھی جانتے تھے ) ظفر اقبال کے شعروں بہت متاثر ہوئے۔ ’آبِ رواں‘ منگوا کر بڑے ذوق شوق سے پڑھی اور ایک حد تک ان کا اثر بھی قبول کیا۔
ڈاکٹرقاسم امام :گجراتی غزل پر اردو غزل کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور کیا گجراتی غزل کی بنیاد اردو غزل پر ہی ہے؟
عادل منصوری:جی ہاں! گجراتی غزل کی بنیاد اردو پر ہی ہے۔ تقریباً 150-175سالوں سے گجراتی میں غزلیں لکھی جارہی ہیں۔ 103برس کی عمر کے بزرگ شاعر حضرت عاصمؔ رَاندِیری (محصود میاں صوبے دار) آج بھی بقید حیات ہیں۔ اختر شیرانی کے رنگ میں نظمیں ، غزلیں کہتے ہیں۔ ’سلمیٰ‘ کی طرح ’لیٖلیٰ ‘ نام کی فرضی محبوبہ سے خطاب کرتے ہوئے شاعری کرتے ہیں۔ ان کی کلیات کا نام بھی ’لیٖلیٰ‘ ہی ہے اور کافی مقبول و مشہور ہے۔
ابتدا میں گجراتی میں فارسی اور عربی آمیز غزلیں لکھی جاتی تھیں۔ پھر اردو آمیز اور 1960ء سے خالص گجراتی میںغزلیں لکھی جارہی ہیں۔ ممبئی، احمد آباد اور گجرات کے کئی بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر مشاعروں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اور ان مشاعروں میں اکثر جدید غزل کا دور دورہ ہے۔
ہم لوگوں نے جب گجراتی میں غزل کہنی شروع کی تو سامنے اردو غزل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔خاص طور پر جدید اردو غزل کے تخلیقی سفر کا غیر شعوری ادراک، گجراتی غزل کی کشتی چلانے کے لیے بادبان اور پتوار بن گیا۔1960ء سے پہلے گجراتی غزل کی دنیا میں جدید اردو غزل سے واقفیت برائے نام بھی نہیں تھی۔ گجراتی کے وہ شعرا جو اردو شاعری سے واقفیت رکھتے تھے ان میں اکثر اختر شیرانی اور عبد الحمید عدم کو اہم شاعر مانتے تھے اور بات بات میں ان کے شعر ٹانکا کرتے تھے۔
جدید اردو غزل کا تجربہ گجراتی میں نئے گل کھلا گیا۔ بہت قلیل مدت میں گجراتی غزل کا رنگ روپ ، زبان اور طرز سب کچھ بدل گیا۔ غزل ، روایت کی لکشمن ریکھا پھلانگ کر باہر نکل آئی۔ اتاری ہوئی کینچلی میں سانپ کا واپس جانا ، ناممکن ہوگیا۔ سانیٹ اور ہائیکو کی طرح غزل بھی اب گجراتی شاعری کا حصّہ بن گئی ہے۔ بلکہ اہم اور مقبول ترین حصّہ بن گئی ہے۔
ڈاکٹرقاسم امام:خیر یہ بھی بتاتے چلیں کہ امریکہ جو کہ اب آپ کا وطنِ ثانی بن چکا ہے ، یہاں اردو کی کیا صورتِ حال ہے۔ اور تخلیقی اظہار کے لیے آپ لوگ اردو زبان کا استعمال کرتے ہیںتو کیا وہاں اتنے دنوں رہتے ہوئے سوچنے کے عمل میں بھی اردو کا اتنا ہی ساتھ ہوتا ہے جتنا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے تھا؟
عادل منصوری:یہاں امریکہ میں سوچنے کے عمل میں اردو کا اتنا ہی ساتھ ہوتا ہے جتنا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے تھا۔ اردو کے رسائل ، کتابیں، مشاعرے ، ٹی وی چینلوں میں زبان کی دھڑکنیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔

———————————————————————

Interview of Shamim Hanafi by Prof. Saheb Ali

Articles

افسانہ ایک معجزاتی صنف ہے

پروفیسرشمیم حنفی


ڈاکٹرصاحب علی:پروفیسرشمیم حنفی صاحب! اردو زبا ن وادب میں آپ کا شمار ایک اچھے تخلیق کار اور سنجیدہ تنقید نگار میں ہوتا ہے۔ ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اردو کی موجودہ ادبی صورتِ حال کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی: صاحب علی صاحب ! اصل میں ادب کی موجودہ صورت حال کا تعلق انسانی صورت حال سے ہوتا ہے۔ اب حقیقت یہ ہے کہ ہمارے زمانے میں انسانی صورتِ حال کا جو نقشہ ہے وہ پریشان کن اور ہولناک ہے۔ آج دہشت ، خوف ، نفرت، اجتماعی اموات اور تہذیبی زوال کا ماحول ہے۔ نسلیں اخلاقی اعتبار سے معذور اور اپاہج ہونے لگی ہیں۔ ایسے ماحول میں ادب کی صورت حال بھی وہی ہوگی جو حال عام زندگی کا دکھائی دیتا ہے۔
ہمارے یہاں اکا دکا لوگ اچھے لکھنے والے ہیں وہ لکھ رہے ہیں۔ مگر ہر زمانے کی طرح آج بھی خراب لکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے، چنانچہ آج کا ادب غیر موثر ہوگیا ہے اور ادب کا حلقہ محدود ہوتا جارہا ہے۔ اس صارفیت کے دور میں ادیب کی آواز میں یا ادب کے دائرہ عمل میں کوئی بہت زیادہ امکان ، وسعت یا پھیلاؤ دکھائی نہیں دیتا۔
ڈاکٹرصاحب علی:آپ کے نزدیک اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال کچھ بہتر نہیں ہے تو کیا اردو تنقید بھی اپنے مقصد اور منصب کو بچانے میں ناکام رہی ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی:کسی مہذب اور صحت مند ادبی معاشرہ میں تنقید کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور اولیت کا درجہ تخلیق کو حاصل ہوتا ہے۔ مگر ہمارے زمانے کا معجزہ اور بدمذاقی یہ ہوئی کہ اردو ادب کا نقاد اپنے آپ کو جج سمجھنے لگا ۔ کچھ منصف اور کچھ سند بانٹنے والا، کچھ لوگوں کو بنانے اور بگاڑنے والا۔ اس کے علاوہ تنقید کے ساتھ ایک ٹریجڈی یہ بھی ہوئی کہ ہمارے یہاں تنقید زیادہ تر یونیورسٹیوں میں لکھی گئی ، جہاں لوگ ذہانت اور دیانت داری سے ڈرتے ہیں۔ ان کا اپنا ایک مخصوص کلچر ہے اور اردو کی تو یوں بھی بہت چھوٹی سی دنیا ہے، جہاں مواقع کم ہیں اور کم مواقع کے لیے رسہ کشی زیادہ ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کی ٹانگ کھینچی جاتی ہے۔ چنانچہ یہ جو تنقید کا اکیڈیمک بیک گراؤنڈ ہے اس سے تنقید کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ حالانکہ ماضی قریب میں احتشام حسین، حسن عسکری، آل احمد سرور ، کلیم الدین احمد، خلیل الرحمن اعظمی اور وحید اختر یونیورسٹیوں سے وابستہ تھے اور اچھی تنقید لکھتے تھے۔
ڈاکٹر صاحب علی: جو لوگ یونیورسٹیوں سے وابستہ نہیں ہیں تو کیا وہ مقابلتاً بہتر تنقید لکھ رہے ہیں؟
پروفیسرشمیم حنفی: میرا توخیال ہے کہ بہتر لکھ رہے ہیں۔ مثال کے طور پر شمس الرحمن فاروقی ہیں جن کی تنقید سے میں سو فیصدی اتفاق نہیں کرتا۔ بہت رائیں ہیں جن سے مجھے کچھ اختلاف ہے لیکن یہ تو میں بہرحال تسلیم کروں گا کہ شمس الرحمن فاروقی کی تنقید کا جو Range ہے اور جو اس کی ایک خاص طرح کی Sophisticationاور شائستگی ہے وہ ہمارے یہاں کم لوگوں کو میسّر ہے۔ اسی طرح ہمارے یہاں زیادہ تنقید لکھنے والوں میں باقر مہدی ہیں جو پیشہ ور نقاد نہیں ہیں۔ آپ ان کا کوئی مضمون پڑھ لیں تو اس میں ذہانت کاکوئی نہ کوئی نکتہ یا کوئی نئی اور بامعنی چیز آپ کو ضرور ملے گی ۔ فضیل جعفری ہیں جو پیشے کے لحاظ سے صحافی ہیں مگر اچھی تنقید لکھتے ہیں۔
ڈاکٹر صاحب علی: اردو شاعری کے بارے میں آپ کا کیا خیا ل ہے؟ آج کل شاعری اچھی ہورہی ہے یا نہیں؟
پروفیسرشمیم حنفی:اچھی، بری نہیں، بے چہرہ ہورہی ہے۔ مثلاً ایک شاعر کی غزل آپ نے پڑھی ، اس پر دوسرے کا نام لکھ دیجئے، کوئی نہیں پہچان پائے گا کہ یہ فلاں کی غزل ہے یا فلاں کی نہیں ہے۔ بالکل یہی حال نظم کا بھی ہے، بہت کم لوگ ایسے ہیں جو اپنا انفرادی رنگ پیدا کرپاتے ہیں۔ مثلاً اردو شاعری میں آپ عرفان صدیقی کی غزل چھانٹ سکتے ہیں۔ شہریار کی غزل آپ پہچان سکتے ہیں۔ محمد علوی کی غزل ہو یا نظم آپ شناخت کر لیں گے۔ قاضی سلیم کی تخلیقات کو آپ فوراً الگ کرلیں گے۔ کچھ نئے لکھنے والے بھی ہیں جن کے اشعار مجھے بہت اچھے لگتے ہیں اور انھیں میں پڑھتا ہوں۔ مثال کے طور پر مہتاب حیدر نقوی، فرحت احساس اور خورشید عالم وغیرہ کی غزلیں۔ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد بہت کم ہے۔ کیونکہ شاعروں کی بھیڑ میں اپنا رنگ قائم کرنا اور اپنی شناخت متعین کرنا آسان کام نہیں ہے۔ اس کے لئے بہت لمبی مدت اور ذہانت چاہئے۔
ڈاکٹرصاحب علی: اردو افسانے کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں کچھ بتائیں؟
پروفیسرشمیم حنفی:اردو افسانہ ایک معجزاتی صنف ہے اور یہ ہمیشہ مقبول رہی ہے۔ اس کی ہمارے پاس سوسال پرانی روایت ہے۔ اس عرصے میں بہت سی کہانیاں ایسی لکھی گئی ہیں جو غیر معمولی درجے کی ہیں اگر آپ منشی پریم چند سے دیکھنا شروع کریں تو کرشن چندر، منٹو، بیدی، غلام عباس، عصمت چغتائی، احمد ندیم قاسمی ، قرۃ العین حیدر، انتظار حسین اور ان کے بعد کے پورے دور نے جو کمالات دکھائے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے عہد کی پوری بصیرت اور حسّیت کا اظہار زیادہ منظم اور مربوط سطح پر شاعری کی بہ نسبت افسانے یعنی فکشن میں ہواہے۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ ہماری زندگی جن تماشوں میں گھری ہوئی ہے اس کی زیادہ مربوط تصویر فکشن ہی میں ابھر سکتی ہے۔ لہٰذا میرا اپنا خیال ہے کہ ہمیں اپنے زمانے کو سمجھنے کے لیے آج کے فکشن کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ لیکن ادھر جو کچھ اردو افسانے اور ناول تخلیق کئے جارہے ہیں ان کے حوالے سے میں نہیں کہہ سکتا ۔کیونکہ اب ادھر جو بالکل نئے نام آئے ہیں ان کا تاثر بننے دیجئے۔ ان کو سمجھنے میں کچھ وقت لگتا ہے۔ اس معاملے میں عجلت سے نہ ہمیں کام لینا چاہیے نہ ان لوگوں کو لینا چاہیے جو لکھ رہے ہیں۔
ڈاکٹرصاحب علی:کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو مدتوں سے کہانیاں تخلیق کررہے ہیں مگر انھیں وہ مقام نہیں ملا جس کے وہ مستحق سمجھے جاتے ہیں جیسے ممبئی میں سلام بن رزاق، انورخان، انورقمر، ساجد رشید اور علی امام نقوی وغیرہ۔
پروفیسرشمیم حنفی:دیکھئے صاحب! میں ممبئی کے افسانہ نگاروں میں سریندر پرکاش کے افسانے پڑھتا ہوںان کا شمار تو اساتذہ میں ہوتا ہے۔ ان کے علاوہ سلام بن رزاق، انور خان، انور قمر، ساجد رشید اور علی امام نقوی کی کہانیاں پڑھتا ہوں۔ ان لوگوں نے اچھی کہانیاں لکھی ہیں۔ لیکن ابھی ایسی کوئی کہانی سامنے نہیں آئی ہے جو اس عہد کا استعارہ بن گئی ہو۔ اس کے لئے شاید ہمیں انتظار کرنا پڑے۔
ڈاکٹرصاحب علی: ڈاکٹر صاحب! اردو شاعری ہندوستان میں اچھی ہورہی ہے یا پاکستان میں؟
پروفیسرشمیم حنفی: اب یہ تو آپ نے جھگڑے کا سوال پوچھ لیا۔ ایک تو اردو کی بہت چھوٹی سی دنیا ہے اور اس میں ہم یہ کہیں کہ شاعری بہار میں اچھی ہورہی ہے یا حیدر آباد میں ، دلی میں اچھی شاعری کی جارہی ہے کہ پنجاب میں، یہ کہنا بڑا مشکل کام ہے۔ لیکن جب میں اپنی پسند کی اچھی نظموں اور غزلوں کے مجموعے اور نئے لکھنے والوں کے ناموں کا شمار کرتا ہوں تو وہ اتفاق سے ہندوستان میں نہیں رہتے، پاکستان میں رہتے ہیں۔ مثلاًسعید الدین کا مجموعہ میں نے دیکھا، مجھے اچھا لگا۔ حارث خلیق کے دو مجموعے سامنے آئے، مجھے بہت اچھے لگے۔ عذرا عباس اور تنویر انجم وغیرہ کی نظمیں آئیں۔ میں نے پڑھا۔ لیکن میرے لیے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ وہ کس کمرے میں تخلیق پائی ہیں۔
ڈاکٹر صاحب علی: کیا افسانے بھی پاکستان میں اچھے لکھے جارہے ہیں؟
پروفیسرشمیم حنفی:میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ افسانے ہمارے یہاں بہت اچھے لکھے گئے لیکن جن لوگوں نے لکھا وہ Estabslihedہیں۔ اب ان کے قلم سے بھی کوئی نئی چیز نہیں نکل پارہی ہے۔ اگر کوئی نئی بات آپ اپنے افسانے کے ذریعے نہیں کہہ سکتے تو افسانہ نہیں لکھنا چاہیے کیونکہ خاموشی کی بھی قدر ہوتی ہے اور اظہار کا یہ بھی ایک طریقہ ہے۔
ڈاکٹر صاحب علی: تنقید نگاری کے تعلق سے آپ کیا فرمائیں گے؟
پروفیسرشمیم حنفی: تنقید ہمارے یہاں بہت اچھی لکھی گئی ہے اور اب بھی لکھی جارہی ہے۔
ڈاکٹر صاحب علی:اس وقت اردوکے کون کون سے تنقید نگار اچھی تنقید لکھ رہے ہیں۔
پروفیسرشمیم حنفی: صاحب علی صاحب ، آپ کو ناموں سے اتنی دلچسپی کیوں ہے؟ بس یہ بات بالکل صحیح ہے کہ ہمارے یہاں تنقید اچھی لکھی جارہی ہے۔
صاحب علی:ناموں سے دلچسپی کا سوال نہیں ہے بلکہ ان کے تنقیدی مضامین سے ہم بھی استفادہ کرنا چاہیں گے۔
شمیم حنفی:میں کچھ دنوں پہلے مظفر علی سید، سید باقر رضوی اور آصف فرخی کے تنقیدی مضامین کو پڑھ رہا تھا وہ مجھے اچھے لگے۔ ابھی میں نے ایک مضمون اجمل کمال کا پڑھا جو بہت اینٹی محمد حسن عسکری مضمون تھا۔’ نقّاد کی خدائی‘ کے نام سے وہ کتاب لکھ رہے ہیں، مجھے بہت اچھا لگا کہ ایک اچھا مضمون سمجھنے کی سنجیدہ کوشش کی۔ مجھے وارث علوی ، باقر مہدی اور فضیل جعفری کے مضامین سے بہت روشنی ملتی ہے۔ مجھے بہت زیادہ اکیڈیمک قسم کی تنقید یا اکیڈیمک قسم کی معلومات سے بھرا ہوا مضمون زیادہ راس نہیں آتا۔
ڈاکٹر صاحب علی: اکیڈیمک سے کیا مراد ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی:اکیڈیمک سے مراد یہ ہے کہ جو مکتبی انداز کی چیزیں لکھی جاتی ہیں اگرچہ میں یہ دعویٰ نہیں کرتا کہ میں اس طرح سے نہیں لکھتا، لیکن مجھے اس کی بجائے کہیں ذہانت کا ، بصیرت کا واقعی اظہار ہوا ہو تو یہ چیزیں مجھے زیادہInspireکرتی ہیں اور ان سے مجھے ایک روشنی ملتی ہے۔
ڈاکٹر صاحب علی: پروفیسرصاحب! اکابرین اردو کا خیال ہے اردو ادب میں ابھی پوری طرح جدیدیت نہیں آپائی ہے تو پھر مابعد جدیدیت کے کیا معنی ہیں؟
پروفیسرشمیم حنفی: پتہ نہیں صاحب ! مجھے معلوم نہیں کون آیا اور کون نہیں آیااور کس کی جگہ کب خالی ہوگی، مجھے کچھ نہیں پتہ۔ میرے ذہن میں ایک ہی Criteriaبنتا ہے اور وہ یہ ہے کہ وہ فن پارہ یا ادب میرے لئے بامعنی ہے جس سے میں اپنے احساسات کا رشتہ قائم کرپاتا ہوں ۔ وہ ادب چاہے دو سو سال پہلے لکھا گیا ہو یا پانچ سوسال پہلے۔ اس سے مجھے کوئی مطلب نہیں۔ ہمارے زمانے میں بہت سے لکھنے والوں کی تحریریں ایسی ہیں جن سے میرے احساسات کا کوئی رشتہ قائم نہیں ہوپاتا۔ میرے شعور میں ان کی کوئی جگہ نہیں بنتی اور وہ میرے لیے غیر اہم ہیں۔
میرا اپنا خیال یہ ہے کہ ہمیں Theoriesکے پیچھے بہت نہیں بھاگنا چاہئے اس لیے کہ یہ ایک طرح کی غیر تخلیقی سرگرمی ہے، جس کا براہ راست ادب سے کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ یہ سچ ہے کہ تنقیدی اصول ادب کو پرکھنے کا ایک معیار فراہم کرتا ہے ، ہمیں اسے پڑھنا چاہئے اور اس سے مدد لینی چاہئے، لیکن یہ کہ اعلیٰ ادب اس کی مدد سے لکھا جاسکتا ہے اس کی کوئی ضمانت نہیں۔
ڈاکٹر صاحب علی:کیا ادب سے کوئی غیر معمولی سماجی رول ادا کیا جاسکتا ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی: ادب زندگی کا ایک چراغ ہے جو اندھیرے میں جلتا رہتا ہے۔ یہ اندھیرے کو دور تو نہیں کرسکتا البتہ اندھیرے کو جھیلنے کی طاقت ہمارے اندر پیدا کردیتا ہے۔ کم از کم میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ ادب سے کوئی سماجی رول ادا کیا جاسکتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب علی:کچھ لوگوں کاخیال ہے کہ اردو کا رسم الخط بدل کر دیو ناگری کر دیا جائے تو یہ زبان زیادہ پھولے پھلے گی اس تعلق سے آپ کا کیا خیال ہے ؟
پروفیسرشمیم حنفی:دیکھئے جناب !یہ تو بہت شا طرانہ بات ہے کہ رسم الخط بدل دیجئے ۔ایک زمانے میں عصمت آپانے یہ بات کہی تھی ۔علی سردارؔ جعفری اور مجروحؔ سلطان پوری کا بھی یہی خیال تھا۔اس پر بڑی بحثیں ہوئی تھیں ۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ رسم الخط کوئی قمیص نہیں ہے کہ جب جی چاہا ایک اتار کر پھینکی اور دوسری پہن لی ۔رسم الخط انسان کی قمیص نہیں بلکہ اس کی جلد ہے اور اس کو اتار کر نہیں پھینک سکتے ۔
ڈاکٹر صاحب علی:آپ شاعری اچھی کرتے ہیں مگر ابھی تک آپ کا کوئی شعری مجموعہ نہیں آیا؟
پروفیسرشمیم حنفی:صاحب علی صاحب !دیکھئے میں شاعری اچھی کرتا ہوں یا نہیں یہ تو مجھے معلوم نہیں ۔ہمارا معاملہ تو یہ ہے کہ لہریں جب اٹھتی ہیں تو کبھی غزل کہنے لگے اور کبھی جی چاہا تو ڈارامہ لکھ لیا ۔میری ایسی صلاحیت نہیں ہے کہ میں کسی فن میں کمال حاصل کر سکوں بس یہ ہے کہ شعر کہتا ہوں کوئی مجموعہ نہیں چھپاہے اور نہ میرا کوئی ارادہ ہے ۔
ڈاکٹر صاحب علی:آپ نے ڈرامے خوب لکھے ہیں اور ڈراموں کے مجموعے بھی چھپے ہیں ۔بتایئے اب تک آپ کے کتنے مجموعے چھپ چکے ہیں ؟
پروفیسرشمیم حنفی: میرے ڈراموں کے اب تک چار مجموعے ’’مٹّی کا بلاوا ‘‘،’’زندگی کی طرف ‘‘،’’مجھے گھر یاد آتا ہے ‘‘اور ’’بازار میں نیم ‘‘ منظرِ عام پر آچکے ہیں ۔’’مٹّی کابلاوا‘‘کئی یونیور سٹیوں کے نصاب میں شامل ہے ۔
ڈاکٹر صاحب علی: کیا آپ کا کوئی فل لینتھ ڈرامہ بھی ہے ؟
پروفیسرشمیم حنفی: میں نے ریڈیو کے لئے بڑے ڈرامے لکھے ہیں اور فل لینتھ بھی لکھے ہیں اور میرے بہت سے ریڈیائی ڈرامے ایسے بھی ہیں جن کو طلبہ نے یا کسی کسی گروپ نے تھوڑی بہت تبدیلی کر کے اسٹیج بھی کیا ہے ،لیکن ابھی تک میں نے کوئی بڑ ا ڈراما نہیں لکھا ہے ۔البتہ آج کل ایک ڈراما ’’حویلی ‘‘کے نام سے لکھ رہا ہوں جو فل لینتھ ڈراما ہے ۔
ڈاکٹر صاحب علی:ڈراما ’’حویلی ‘‘کے پلاٹ کے بارے میں کچھ بتایئے ؟
پروفیسرشمیم حنفی:یہ ایک تہذیبی ڈراما ہے اور اس کا سیدھا سا ایک پلاٹ ہے کہ ایک خاندان ہے اس کی دو شاخیں ہیں ان کی مشترکہ جائیداد ایک پرانی حویلی ہے ۔ اس حویلی کے لئے خاندان میں جھگڑا ہے ۔میں باقی باتیں ابھی نہیں بتاؤں گا جب ڈراما چھپے گا تو پڑھ لینا۔
ڈاکٹر صاحب علی: موجودہ دور میں اردو ڈرامے کی معنویت کیا ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی:ڈرامے کا زندگی کی حقیقتوں سے اور جوہم زندگی گزار رہے ہیں اس کے معمولات سے بہت گہرا رشتہ ہوتا ہے۔ہمارے یہاں ڈرامے کی بڑی شاندار روایت قائم رہی ہے۔ پارسی تھیٹر سے لے کر بیسویں صدی کے نصف اوّل تک اچھی روایت ملتی ہے، لیکن آجکل ڈراموں کی طرف سے ہماری توجہ ہٹ گئی ہے۔ میرا خیا ل ہے کہ آج کے زمانے کے واقعات اور روز مرّہ زندگی کے مسائل کے بیان کے لیے ڈراما ایک طاقتور صنف بن سکتا ہے لیکن ڈراما لکھنے کے لیے جس خاص قسم کی بصیرت اور حسیّت چاہئے وہ ہمارے یہاں اب عام نہیں رہی۔ چنانچہ ضرورت اس بات کی ہے کہ اردو والوں کو اپنی کھوئی دولت سے دوبارہ رشتہ قائم کرنا چاہئے اگرچہ فلم اور ٹی وی راہ میں حائل ہیں۔
ڈاکٹر صاحب علی: ہمارے ملک میں اردو کی صورتِ حال کیسی ہے؟
پروفیسرشمیم حنفی:افسوس ناک ہے۔ اردو زبان کے تعلق سے جو آرائشی قسم کی باتیں کہی جارہی ہیں کہ صاحب ! اردو کے اتنے ادارے قائم ہیں۔ اتنی اردو اکاڈمیاں ہیں۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ ان اداروں اوراردو اکاڈمیوں میں ہوتا کیا ہے؟ کیا اردو زبان کی بقا اور تحفظ کا دار و مدار آئے دن کے جلسوں اور تماشوں پر ہے؟ یہ سب Public Relationکے اڈّے ہیں۔ اردو دفاتر میں اب تو ایسے لوگ بیٹھے ہوئے ملتے ہیں جن کو اردو لکھنا پڑھنا تک نہیں آتا۔ تو سوال یہ ہے کہ اردو کی پرورش کے کیا یہی طریقے ہیں؟ بورڈ قائم کرلیجئے ، ادارے قائم کرلیجئے۔ لیکن بہر حال ناشکرا بھی نہیں ہونا چاہئے اگر وہ بھی کچھ نہ کرتے تو ہم کیا کرسکتے تھے۔ ہم ان کا کیا بگاڑ سکتے تھے۔اردو زبان کی ترقی کے تعلق سے اس حقیقت کا اعتراف بھی ضروری ہے کہ جنوبی ہندوستان میں اردو کے ساتھ وہ برا سلوک نہیں کیا جارہا ہے جو شمالی ہندوستان میں کیا جارہاہے۔ آندھرا پردیش، کرناٹک اور مہاراشٹر میں اردو کی صورتِ حال شمالی ہند کے مقابلے میں بہتر ہے اور سو بات کی ایک بات یہ کہ اردو والے خود بھی اپنی زبان کے تعلق سے سنجیدہ نہیں دکھائی دیتے۔
ڈاکٹر صاحب علی:پروفیسر صاحب! ایک آخری سوال اور ہے کہ صارفیت کے معاشرے میں ادب اپنا وجود برقرار رکھ سکے گا؟ کیا قلمکار کی تخلیق میں اتنی قوت اور کشش باقی رہ جائے گی کہ وہ لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرسکے؟
پروفیسرشمیم حنفی:صاحب علی صاحب! یہ صحیح ہے کہ صارفیت کے معاشرے نے ہر چیز کو ایک مادّی شئے میں تبدیل کردیا ہے۔ مرتبہ ،عہدہ ایک شئے ہے، شہرت ایک شئے ہے۔ یعنی ہر چیز کو آپ مادّی چیزوں میں منتقل کرسکتے ہیں۔ شہرت ہے تو آپ پیسے زیادہ کما سکتے ہیں۔ عہدہ زیادہ بلند ہے تو آپ بہت سارے فائدے اٹھا سکتے ہیں۔ بنگلے بنوا سکتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ معاشرے میں قلمکار کا جو رول ہوا کرتا تھا اور جس سے معاشرے میں ایک خاص طرح کی پاکیزگی بھی منسوب کی جاتی تھی وہ رول تو اب قلمکار کا رہا نہیں ____پھر بھی چھپے ہوئے لفظ میں ایک جادو ہوتا ہے۔ میرا اپنا ذاتی خیال ہے کہ دنیا چاہے جتنی ترقی کرلے، مگر جب تک انسان کے اندر تخلیق قوت باقی رہے گی تب تک ادب باقی رہے گا اور ادب کا احترام کیا جاتا رہے گا۔
٭٭٭

The Ideology or Manifestation is not necessary: Saba Ikram

Articles

نظریئے یا منشور ضروری نہیں

صبا اکرام

اختر سعیدی: وہ کیا محرکات تھے جنھوں نے آپ کو ادب کی طرف راغب کیا؟
صبا اکرام: میرے آبائی وطن ہزاری باغ میں میرا ایک ہندو دوست تربھون تھا جو ’’تیرشت‘‘ تخلص کرتا تھا اور ہندی میں کویتائیں لکھتا تھا۔ دو ایک بار وہ مجھے اپنے ہمراہ کوی سمیلن میں لے گیا ، لہٰذا مجھ میں بھی شعر کہنے کی خواہش جاگی ، اور میں نے ایک غزل کہہ ڈالی۔ اسے اپنے یہاں کے ایک سینئر شاعر قمر امروہوی (قمر احمد صدیقی) کو دکھایا تو انھوں نے اس کی نوک پلک درست کردی۔ وہ غزل بہار سے نکلنے والے رسالے ’’شاخِ گل‘‘ میں شائع ہوگئی۔ پھر تو شعر کہنے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ آج تک جاری ہے۔
اختر سعیدی: آپ بنیادی طور پر شاعر ہیں ، نثر کی طرف آنے کے اسباب کیا ہیں؟
صبا اکرام: 60کی دہائی کے اوائل میں جب میں نے شاعری شروع کی ، اس کے تھوڑے دنوں بعد ہی ’’شب خون‘‘ الہ آباد سے نکلنے لگا، ڈاکٹر وزیر آغا کے رسالے ’’اوراق‘‘ کا اجراء بھی اسی زمانے میں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی جدیدیت کے چرچے بھی ہونے لگے اور بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس میں شرکت نثر کے ذریعے ہی ممکن تھی، لہٰذا اُس دور کے بیشتر لکھنے والوں کی طرح مجھے بھی گاہے بگاہے رسالوں کے صفحات پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نثر کا سہارا لینا پڑا۔ ویسے باضابطہ طور پر نثر لکھنے کی جانب اُس وقت راغب ہوا ، جب ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ کے لیے جدید افسانے پر سلسلہ وار مضامین لکھنے کا مشورہ دیا۔ ان مضامین کا مجموعہ حال ہی میں ’’جدید افسانہ چند صورتیں‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا ہے۔
اختر سعیدی:جدیدیت سے متاثر ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
صبا اکرام:در اصل میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہر طرف جدیدیت کی باتیں ہونے لگی تھیں ۔ ہمارے شہر میں تو خیر کوئی اور نہ تھا، مگر قریب ہی رانچی میں پرکاش فکری ، وہاب دانش، اختر یوسف، شاہد احمد شعیب، صدیق مجیبی وغیرہ جیسے اہم جدید شعراء سامنے آچکے تھے۔ پٹنہ پہنچا تو وہاں جدید شاعروں اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود تھی، جس میں وہاب اشرفی ، ظفر اوگانوی، علیم اللہ حالی، ظہیر صدیقی، نور الہدیٰ سیّد ، ارمان نجمی، شکیب ایاز اور اسلم آزاد وغیرہ شامل تھے ، لہٰذا میرا اس مرکزی دھارے میں شامل ہوجانا ایک فطری عمل تھا۔
اختر سعیدی:آ پ کا نظریۂ جدیدیت کیا ہے؟
صبا اکرام:جدیدیت سے میری مراد وہ جدیدیت یا ’’جدید‘‘ ہرگز نہیں ، جسے آزاد اور حالی نے مقصدی اور اصلاحی ادب کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا تھا۔ میں تو اس جدیدیت کا ماننے والا ہوں ، جسے اس کے بنیادی معماروں ، یعنی ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ادب میں رواج دیا ۔ وہ جدیدیت کسی نظریے یا منشور کو ضروری نہیں سمجھتی اور آزاد روی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ دنوں جب ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کراچی آئے تو آپ کے انٹرویو اور دیگر کئی جگہوں پر سوالات کے جواب میں انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ جدیدیت کوئی تحریک نہیں ، بلکہ ایک ’’رویہ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اسے اگر ایک تحریک کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک خالص ادبی تحریک ہے ، جس میں بقول ان کے وسعت اور کشادگی اور تخلیقی سطح اور تہذیبی نکھار کے ساتھ سماجی شعور بھی شامل ہے۔
اختر سعیدی:جدید فکشن پر تنقید لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
صبا اکرام:جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے اس طرف آنے کا مشورہ دیا ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ جیسے بہت سارے کام آدمی دوسروں کے بہکاوے میں آکرکر بیٹھتا ہے ، تو مجھے بھی اس جانب دھکیلنے والوں میں میرے فکشن گروپ کے دوست یعنی مرحوم شہزاد منظر ، علی حیدر ملک اور اے۔ خیام تھے۔ اُس زمانے میں ہمارے دوست ممتاز احمد خان بھی پابندی سے فکشن گروپ کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن سے کہا گیا کہ ناول کی تنقید کا شعبہ خالی ہے، تم اِدھر آجائو۔ سو وہ بھی آج تک ناول کی تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔
اختر سعیدی:کہاجاتا ہے کہ جدید افسانہ موضوعات کے اعتبار سے اب تکرار کا شکار ہے؟ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
صبا اکرام:نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے تو جدید افسانے نے اپنے موضوعات کا دائرہ اتنا وسیع کیا ہے کہ افغانستان ، فلسطین اور عراق کے حوالے سے بھی موضوعات خوبصورتی سے اس کے دامن میں سمٹ آئے ہیں اور تازگی کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ کراچی کی حد تک دیکھئے تو شہر آشوب کو جس فنکارانہ انداز میں اے۔ خیام ، نجم الحسن رضوی، شمشاد احمد ، مبین مرزا، شمیم منظر نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے ، وہ بھی موضوعاتی اعتبار سے تازگی کا احساس دلاتے ہیں۔
اختر سعیدی:آپ کی نظر میں جدیدیت کے حوالے سے کون سے نقاد اہم ہیں؟
صبا اکرام:اس حوالے سے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کو بہت اہم سمجھتا ہوں۔ یہ دونوں اپنے ملکوں میں جدیدیت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
اختر سعیدی:جدیدیت اور ترقی پسندی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
صبا اکرام:ترقی پسندی ایک خاص نظریے اور مقصد یعنی ہندوستان کو انگریزی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے اور ادب میں اشتراکی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط تحریک کی صورت میں سامنے آئی تھی، جبکہ جدیدیت کسی منشور کے بغیر آزادانہ طور پر ذات اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ جدیدیت ارد گرد کے ماحول میں کھو جانے کی بجائے روح کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔
اختر سعیدی:کراچی میں جدید افسانے کی صورتِ حال کیا ہے؟
صبا اکرام:کراچی میں تو جدید افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود ہے، جس میں اسد محمد خان، زاہدہ حنا، محمود واجد، علی حیدر ملک، اے۔ خیام، احمد ہمیش، شمشاد احمد، فردوس حیدر، احمد زین الدین، آصف فرّخی اور مبین مرزا جیسے جانے پہچانے کہانی کار شامل ہیں۔ اب تو کراچی میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگاروں کی بھی پوری کھیپ سامنے آچکی ہے، جس میں آصف ملک، شہناز شورو، نسیم انجم، آفاق سمیع اور امین الدین جیسے ذہین اور باصلاحیت لکھنے والے شامل ہیں۔
ہاجرہ مسرور گوکہ کافی عرصے سے خاموش ہیں ، مگر ان کی شہر میں موجودگی بھی نئے افسانہ نگاروں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ اب تو خیر سے ڈاکٹر انور سجاد بھی کراچی میں رہنے لگے ہیں۔ وہ اردو افسانے میں علامت نگاری اور تجریدیت کے بانیوں میں سے ہیں۔
اختر سعیدی:کیا یہ درست ہے کہ علامت نگاری نے قاری کو اردو افسانے سے دور کیا؟
صبا اکرام:بھئی ، اردو افسانے میں علامت نگاری کے نمونے تو بہت پہلے کرشن چندر، احمد علی اور ممتاز شیریں کے یہاں سامنے آچکے تھے۔ دراصل نقصان علامت نگاری سے نہیں ، بلکہ نا پختہ کار اور جعلی علامت نگاروں سے پہنچا ہے۔
اختر سعیدی:آپ نثری نظم کابانی کسے سمجھتے ہیں ۔ اردو میں اس کے کیا امکانات ہیں؟
صبا اکرام:میں نثری نظم کے موضوع پر اپنے ایک مضمون میں جو ’شب خون‘‘ میں شائع ہوچکا ہے، یہ کہہ چکاہوں کہ اس کے نمونے یوں تو کسی اور حوالے سے اردو میں سامنے آتے رہے ہیں، مگر پہلی بار اس کو اِسی نام سے احمد ہمیش نے پیش کیا۔ یہ نظمیں ’’شب خون‘‘ میں ہی شائع ہوئی تھیں۔ویسے پاکستان میں اس کو تحریک کی شکل دینے میں قمر جمیل پیش پیش تھے۔ وہ افضال احمد سیّد ، عذرا عباس، انور سین راے، ذی شان ساحل جیسے نثری نظم لکھنے والوں کو سامنے لائے۔
اختر سعیدی:اردو ادب کا ایک دور اقبال کے ساتھ، دوسرا دور فیض کے ساتھ ختم ہوا۔ شاعری کے موجودہ دور کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:شاعری کے اعتبار سے موجودہ دور کسی ایک نام سے نہیں ، بلکہ کئی ناموں سے پہچانا جائے گا۔ جن میں سرِ فہرست نظم کے حوالے سے وزیر آغا اور غزل کے حوالے سے ظفر اقبال، جون ایلیا اور عرفان صدیقی کے نام ہوں گے۔
اختر سعیدی:مجموعی اعتبار سے کراچی کی ادبی صورتِ حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
صبا اکرام:ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر ادبی اعتبار سے کنگال ہوتا جارہا ہے۔ مجنوں گورکھپوری گئے، اختر حسین رائے پوری اور ممتاز حسین بھی چلے گئے۔ سلیم احمد اور شمیم احمد بھی رخصت ہوئے، قمر جمیل ، محمد خالد اختر اور جون ایلیا بھی انتقال کرگئے۔تحقیق اور تنقید کے حوالے سے بڑے ناموں میں ہمارے درمیان اب ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی موجودگی تقویت کا باعث ہے۔
اختر سعیدی:کیا اردو تنقید کے حوالے سے آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی فرق دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:مشرقی شعریات کی جانب بھارت میں جھکائو نظر آتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں مغربی تنقیدی اصولوں اور نئے علوم سے استفادے کا رجحان زیادہ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا مغرب میں نئی تنقید ی تھیوری کے حوالے سے اکثر اپنے مضامین میں بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ نئے علوم سے اردو کو متعارف کرانے والوں میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا نام بھی اہم ہے۔
بھارت میں ساختیات اور پس ساختیات اور پھر مابعد جدیدیت کا بڑا چرچا رہا ہے۔ اسے تحریک بنانے کی کوشش میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ پیش پیش رہے۔ کراچی میں اس حوالے سے کچھ سرگرمیاں رہی ہیں اور خاص طور سے ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے ماہنامے ’’صریر‘‘ میں اس پر خود بھی لکھا اور دوسروں سے بھی مضامین لکھوائے۔ ضمیر علی بدایونی اور رئوف نیازی نے تو اس موضوع پر پوری کتاب لکھی۔
قمر جمیل نے بھی ’’ دریافت‘‘ میں اس پر مضامین شائع کیے۔ ویسے ساختیات اور پس ساختیات کو بطور علم سمجھنے سمجھانے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انور سدید بھی پنجاب میں پیش پیش رہے۔ آغا صاحب کی کتاب اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔ پنجاب میں ان کے علاوہ کسی نے بھی اس موضوع کی طرف دھیان نہیں دیا۔ ڈاکٹر فہیم اعظمی کے انتقال کے بعد ’’صریر‘‘ بھی بند ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی کراچی میں اس پر بحث مباحثے بھی ختم ہوگئے۔ بھارت میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ان کے کچھ ساتھی اسے تحریک بنانے کی کوششوں میں اب تک لگے ہوئے ہیں، مگر کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
اختر سعیدی:ایک زمانے میں شکایت تھی کہ اردو کے نقاد غزل کی زلفوں کے اسیر ہوگئے ہیں اور افسانے کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اب کیا صورتِ حال ہے؟
صبا اکرام:گذشتہ دو تین دہائیوں کے دوران تو خاصے لوگ فکشن کی تنقید کی جانب راغب ہوئے۔ ہمارے ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ایک پوری کتاب ’’افسانے کی حمایت میں ‘ کے عنوان سے لکھی۔ پھر مہدی جعفر اور وارث علوی نے بھی وہاں افسانے پر کئی کتابیں لکھ ڈالیں۔ یہاں شہزاد منظر فکشن کے نقادکی حیثیت سے سب سے نمایاں رہے۔ انھوں نے ’’جدید اردو افسانہ‘‘ ، ’’علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ‘‘ اور ’’اردو افسانے کے پچاس سال‘‘ جیسی اہم کتابیں لکھیں۔ جن کے مطالعے کے بغیر اردو افسانے ، بالخصوص جدید افسانے کو سمجھنا مشکل ہے۔ یوں تو پاکستان میں افسانے کی تنقید ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر انوار احمد، علی حیدر ملک، رشید امجد، مرزا حامد بیگ اور سلیم آغا قزلباش نے بھی لکھی ہے ، مگر شہزاد منظر کی پہچان ہی ایک فکشن کے نقاد کی تھی۔ یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ ابھی حال میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کی ڈگری علامہ اقبال یونیورسٹی سے اسد فیض کو ملی ہے۔ ہزاری باغ (بھارت) میں ڈاکٹر جلیل اشرف کی نگرانی میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تکمیل کے قریب ہے۔

———————————————————————

Interview of Jameel Jalibi

Articles

معاشرہ عبوری اور تشکیلی دور سے گذرر ہا ہے

جمیل جالبی

طاہر مسعود: ڈاکٹر صاحب! آج آپ جس مقام پر ہیں، اس کے پیچھے آپ کا مطالعہ ، محنت اور ڈسپلن کارفرما ہے۔آپ اپنے بارے میں ہمیں تفصیل سے بتائیں۔ اپنے زمانۂ طالب علمی کے بارے میں ، ان موضوعات اور ان ادیبوں کے بارے میں جنھیں آپ نے پڑھا۔ ان دوستوں اور شہروں کے متعلق جن کے ساتھ اور جہاں آپ رہے اور ہاں ان اساتذہ کے بارے میں بھی جنھوں نے آپ کی ذہنی تعمیر میں حصہ لیا؟
جمیل جالبی:آپ کے اس سوال کا جواب دینے کے لیے مجھے اپنے ماضی میں بہت دور تک جھانکنا پڑے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ساری باتیں جو اب دھندلی پڑچکی ہیں، اس وقت واپس آئیں گی یا نہیں، کیونکہ یادوں کو بھی بعض دفعہ واپس لانے کے لیے شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اپنے رجحانات ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اور وقت اور حالات سازگار ہوں تو یہ رجحانات پروان چڑھ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری پٹائی اکثر اس بات پر ہوتی تھی کہ میں کاپیاں پھاڑ کر ان سے کتاب بناتا تھا اور دوپہر کو جب سب لوگ سوجاتے تھے غسل خانے میں چھپ کر کاپیوں کے ورق علیحدہ کرکے ان سے کتاب بناتا اور اپنے کورس کی کتاب اس پر نقل کرکے اپنانام نمایاں طریقے سے لکھ دیتا:’’محمدجمیل خان‘‘۔ اس سے اباجی بہت خوش ہوتے تھے لیکن ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹر فانسس جو عیسائی ہوگئے تھے، انھیں میری اس قسم کی سرگرمیوں سے سخت شکایت رہتی تھی اور وہ اباجی سے اکثر شکایت کرتے تھے کہ یہ کاپیاں پھاڑ دیتا ہے۔ گویا کتاب لکھنے یا مصنف بننے کا رجحان شعوری طور سے موجودتھا۔ اسی زمانے میں ہمارے ایک استاد تھے مولوی اسمٰعیل صاحب، پڑھے لکھے آدمی تھے، بہت ہی بوڑھے۔ مجھے یاد ہے لیکن بچوں کو تو ہر شخص بوڑھا لگتا ہے، ممکن ہے وہ اتنے بوڑھے نہ ہوں، لیکن وہ بہت بوڑھے تھے اورآنکھوں سے بھی بالکل معذور تھے۔ ان سے ہم نے اردو اور فارسی پڑھی۔ وہ اتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے کہ ان کی سنائی ہوئی کہانیاں ہمیں فوراً یاد ہوجاتی تھیں۔ وہ محبت بھی کرتے اور ناراض ہوتے تو مار بھی دیتے تھے۔ مارنا جو تھا وہ محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ وہ خود مولوی اسمٰعیل میرٹھی کے شاگرد تھے۔ ان ہی مولوی صاحب سے ہم نے صحتِ زبان و بیان اور اچھی عبارت لکھنے کا انداز سیکھا۔
طاہر مسعود: آپ کے بہت سے شاعراور ادیب دوست، جن کے ساتھ آپ نے ادبی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان میں سے بہت سے سفر کی ابتدا ء میں آپ سے آگے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ پیچھے جانے لگے۔ یہاں تک کہ آپ ان سے بہت آگے نکل گئے۔ گویا دیکھیں تو ایک طرح سے خرگوش اور کچھوے کی دوڑ تھی جس میں جیت بالآخر کچھوے کے حصے میں آئی؟
جمیل جالبی: ہاں پتہ نہیں ، وہ پیچھے رہ گئے یا ہم جیت گئے لیکن مجھے یہ معلوم تھا کہ میں جو کچھ کررہا ہوں وہ ٹھیک ہے۔ مجھ میں اور سلیم احمد میں ایک بات مشترک رہی کہ آدمی کو آدمی کی حیثیت سے نہیں اس کے کام کے حوالے سے پہچانا جانا چاہئے کہ وہ وہ آدمی ہے جس نے فلاں کتاب لکھی ہے، اب آپ اتنا کام کیوں کرتے ہیں؟ چھوڑیں ! ‘‘ میں نے انھیں جواب دیا کہ: ’جب ہم پچیس تیس برس بعد بوڑھے ہوجائیں گے تو نئی نسل ہم سے مل کر کہے گی۔ ہاں آپ کا نام تو بہت سنا ہے مگر آپ نے کام کیا ہے؟ لہٰذا نئی نسل سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل آپ کو پہچانے تو آپ کو چاہئے کہ آپ ان کے ورثے میں شامل ہوں۔ ان کے لیے کوئی کام کرکے چھوڑ جائیں۔ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپ ٹوڈیٹ رکھنے کی کوشش کی ہے اور ہر اس چیز سے وابستگی اختیار کی ہے جس کا تعلق ادب سے رہا ہو اور یہ چیز میں نے عسکری صاحب سے سیکھی۔
طاہر مسعود:: تاریخ ادب اردو لکھنے کے لیے آپ نے کس نوعیت کی تیاری کی؟ اور اس کے لیے آپ کوکن دشواریوں سے گذرنا پڑا؟
جمیل جالبی:ادب کی تاریخ لکھنے کے لیے کئی چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً آپ کا ادب کا مطالعہ وسیع ہونا چاہئے، جس ملک کے ادب کی تاریخ لکھ رہے ہیں، آپ کو اس ملک کی تاریخ سے واقف ہونا چاہئے، اس کی تہذیب سے ، زبان کی میراث سے آگاہی ہونی چاہئے۔ لسانی نقطۂ نگاہ اور قواعد کے پہلوؤں پر بھی گرفت ہونی چاہئے۔ فلسفہ بھی آنا چاہئے، نثر بھی لکھنی آنی چاہئے، زمان ومکان کا شعور بھی ضروری ہے یعنی آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک ادب پارے کی کس دور میں کیا اہمیت ہے؟ جب میں نے تاریخ ادب اردو کا کام شروع کیا تو مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ میں نے لسانیات کا بھی مطالعہ کیااور تاریخ کو ادب سے اور ادب کو تاریخ سے ملادیا۔ میں نے ادیبوں اور شاعروں کا مطالعہ اس انداز سے کیا جس انداز سے ان کا مطالعہ کیا جانا چاہئے ، مثلاً میر ؔکے دماغ کی ساخت ،کس قسم کی شاعری وجود میں آئی ۔ میر اثرؔ کے تنقید ی مطالعے کا انداز جدا ہے۔ سوداؔ اور قائمؔ کے مطالعے کی نوعیت جدا ہے۔ جب آپ پڑھیں گے تو دیکھیں گے کہ ہر ادیب و شاعر کی انفرادیت کے خدوخال سامنے آجاتے ہیں۔
طاہر مسعود: اردو کے نئے ادب پر گذشتہ پندرہ برس سے پژمردگی ، اضمحلال اور لاتعلقی کی کیفیت چھاگئی ہے اور ادبی سرگرمیوں سے قطع نظرادب میں کوئی اہم اور قابلِ قدر کام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں؟
جمیل جالبی:اس کی ایک وجہ تو یہ ہے ہمارا ادیب اور تخلیقی ذہن بے سمتی اور بے جہتی کا شکار ہے۔ اس کے پاس تخلیقی سطح پر ایسا نظام خیال یاWorld View نہیں ہے جس سے تخلیقی قوتیں پرورش پاتی ہوں اور اپنا راستہ متعین کرتی ہوں۔ ہم ایک عبوری دور سے گذررہے ہیں اور عبوری دور ہمیشہ تخلیقی سطح پر بحران کو جنم دیتا ہے اور بحران کے اظہار کی سطح پر بھی اور احساس کی سطح پر بھی تخلیقی قوتوں کو اپنی اصلی شکل میں نہیں آنے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 25سال سے ہم اچھی صلاحیتوں کے باوجود وہ ادب تخلیق کرنے میں کامیاب نہیں رہے جو ہمیں تخلیق کرنا چاہئے تھا۔ ہمارے یہاں ابھی بنیادی مسائل ہی طے نہیں ہوئے۔ ہمیں کہاں جانا ہے؟ ہماری منزل کون سی ہے؟ ابھی ہم اس میں الجھے ہوئے ہیں وہ نقطۂ نظر جو ادیبوں کو لکھنے پر اکساتا تھا۔ وہ شاید بے معنی ہوگیا ہے۔ ان سب مسائل نے ذہنی طور پر ادیبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ ادب زندگی کی نئی اکائی تخلیق کرتا ہے۔ ہمارا ادب فی الحال اس وحدت اور اس اکائی کو تخلیق کرنے میں ناکام رہا ہے۔
طاہر مسعود:کہا جاتا ہے کہ نیا ادیب معاشرے اور اس کے مسائل سے پورے طور پر ہم آہنگ نہیں ہے۔ وہ زندگی کے عمومی مسائل پر لکھنے کو سطحیت سے تعبیر کرتا ہے اور آفاقی باتیں کہنے ہی کو اپنے ادبی اور تخلیقی عمل کا حصہ سمجھتا ہے۔ کیا زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتیں ، ارد گرد کا ماحول اور ان سب چیزوں کو نظر انداز کرکے کوئی اعلیٰ ادب پیدا کیا جاسکتا ہے؟
جمیل جالبی: جیسا میں نے عرض کیا تھا کہ معاشرہ عبوری اور تشکیلی دور سے گذررہا ہے۔ اس وقت ادیب ان مسائل کو جو معاشرہ کے باطن میں موجود ہے، پورے طور سے گرفت میں نہیں لاسکا۔ عبوری دور بڑا سفاک ہوتا ہے۔ اس دور کو سمجھنے اور اسے ایک شکل دینے کے لیے بڑی پیغمبرانہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ یہ اتنے بڑے مسائل ہیں کہ ان کو سمجھنے کے لیے بہت بڑے تاریخی شعور کی ضرورت ہے اور جب میں تاریخی شعور کی بات کررہا ہوں تو اس میں اپنی روایت، اپنی تاریخ اور اس روایت کا سارا ماضی شامل ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس تاریخی شعور کی مدد سے ہم عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسا زندہ جیتا جاگتا نظامِ خیال اور تصور حقیقت تخلیق کرسکتے ہیں جس سے فکر کے نئے چشمے پھوٹیں گے اور تخلیقی قوتیں پھر سے بیدار ہوجائیںگی۔ یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کے پیچھے یہ فلسفہ موجود ہے کہ جب تک تنقید تخلیق کے لیے راستہ ہموار نہیں کرے گی،اس وقت تک تخلیق اسی طرح راستہ ٹٹولتی رہے گی اور تنقید کے معنی کتابوں کی رونمائی میں مقالہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ اس میں علم و فکر کے ساتھ نئے سرے سے نظامِ خیال کی تلاش یا اس کی تشکیل نو کرنے کے مسائل ہیں۔ اقبالؔ نے اس سمت میں قدم اٹھایا تھا ان سے پہلے سر سید احمد خاں نے اس تلاش میں اپنا نقطۂ نظر قائم کیا تھا ۔اس وقت ہمیں پھر سے ایک سر سید اور اقبالؔ کی ضرورت ہے ۔
طاہر مسعود: آپ محقق بھی ہیں اور نقاد بھی ۔کیا آپ ان چند نقادوں کا ذکر کریں گے جن سے آپ متاثر ہوئے ؟
جمیل جالبی:وہ نقاد جنھوں نے نظامِ خیال کی تشکیل کے سلسلے میں کام کیا ہے ۔ ان میں سب سے بڑا نام محمد حسن عسکری کا ہے آپ ان سے اتفاق کریں یا اختلاف ،لیکن انھوں نے اس سمت میں کام کیا ہے او رجو آئندہ یا ہمارے دور میں اس حوالے سے کام کرے گا وہ عسکری صاحب کو رد یا قبول کرتے ہوئے نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا ۔
طاہر مسعود:آپ نے حسن عسکری سے اختلاف کا ذکر کیا۔کچھ عرصے سے عسکری صاحب کے خلاف ادبی محاذ پر چند افراد سر گرمِ عمل ہیں ۔اس سلسلے میں ایک ادبی رسالے میں ان کے نظریات کے خلاف ایک جارحانہ مضمون شائع ہوا ہے جس پر ایک اخبار میں کافی لے دے ہوئی ۔آپ کے خیال میں اس کا پس منظر کیا ہے اور کس حد تک ادب کے حق میں مفید ہے؟
جمیل جالبی:اصل میں عسکری صاحب کے خلاف جو مضامین لکھے گئے ہیں ۔ ان میں بنیادی حوالہ اس کتاب کا تھا جو جدیدیت (مغربی گمراہیوں کا خاکہ ) کے نا م سے عسکری صاحب کی وفات کے ایک سال بعد شائع ہوئی ۔یہ کتاب عسکری صاحب نے اپنی وفات سے سات آٹھ سال پہلے لکھی تھی لیکن شائع نہیں کرائی تھی ۔یہ کتاب دار العلوم کراچی کے جدید نصاب کے اشارات کے طور پرلکھی گئی تھی تاکہ دار العلوم کے نئے طالب علم مغرب کی ان گمراہیوں سے اچھی طرح واقف ہو سکیں ،جو جدیدیت کے نام سے پوری دنیامیں پھیلائے جا رہے ہیں ۔یہ صرف نوٹس تھے اور اساتذہ کو ان نوٹس کی مدد سے اپنا لکچر تیار کرنا ہوتا تھا۔کچھ عرصہ عسکری صاحب خود بھی دار العلوم کے طلبہ کو یہ مضمون پڑھاتے رہے تھے۔اگر عسکری صاحب زندہ ہوتے اور اس کتاب کو شائع کرتے تو یقین ہے ان باتوں کی جنھیں اشاروں میں بیان کیا گیا ہے، اپنے مخصوص انداز میں وضاحت کرتے ۔ اس کے ساتھ وہ خطوط جو عسکری صاحب نے مدیر’’ شب خون‘‘ الہ آبادکے نام لکھے جو بعد میں ’’شب خون‘‘ میں شائع کردئیے گئے اگراس کتاب کے ساتھ ان خطوط کو بھی شامل کردیا جاتا تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہوجاتیں۔ عسکری صاحب نے اسلام کے حوالے سے تحقیق ، غور و فکر اور وسیع مطالعے کے بعد ایک راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ادب ہمیشہ ان کا بنیادی حوالہ رہا ہے اور مغربی ادب کے بارے میں نہ صرف ہم سب سے زیادہ جانتے تھے بلکہ خود بہت سے مغربی ادیبوں سے بھی زیادہ جانتے تھے۔ ان کے خلاف جو کچھ لکھا جارہا ہے، وہ بہت اچھی علامت ہے۔ فکر وخیال کے گھنے اور خاردار جنگل میں راستہ بنانے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور عسکری صاحب کی تحریروں نے ہمیں موافقت یا مخالفت پر اکسا کر راستہ تلاش کرنے کے شعور کو ابھارا۔ خدا عسکری صاحب کی مغفرت فرمائے اور انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
طاہر مسعود: آپ حسن عسکری مرحوم اور اردو ادب کے دیگر نقادوں کی علمی ، ادبی اور تخلیقی ایپروچ میں کون سا بنیادی فرق محسوس کرتے ہیں اور کن اسباب کی بنا پر انھیں دیگر نقادوں پر ترجیح دیتے ہیں؟
جمیل جالبی:عسکری صاحب ایک نظامِ خیال کی تشکیل نو کی کوشش کررہے تھے اور یہ بنیادی کام تھا۔ دوسرے نقاد یا تو پہلے سے بنے بنائے فلسفہ یا نظامِ خیال کے حوالے سے ادب کا مطالعہ کرتے ہیں یا پھر اس نظریے کی وضاحت کرتے ہیں۔ عسکری صاحب توخود نظامِ خیال کی تشکیل نوکے عمل میں مصروف تھے۔ عسکری صاحب اور دوسرے نقادوں میں یہی بنیادی فرق ہے یعنی کوئی نفسیاتی تنقید لکھ رہا ہے یعنی نفسیات کے موجودہ علم کو بنیاد بنا کر ادب اور ادیب کا مطالعہ کررہا ہے۔ کوئی جمالیاتی تنقید کو لے کر کروچے کے فلسفۂ حیات کو بنیاد بنا کر مطالعہ کررہا ہے۔ کوئی سماجی تنقید میں مارکس اور اینگلز کے نظریۂ پیداوار اور مادی جدلیت کوبنیاد بنا کر ادب اور زندگی کا مطالعہ کررہا ہے، لیکن ان میں سے کوئی نقاد ایسا نہیں ہے جو موجودہ دنیا کے حوالے سے اپنے معاشرے اور عالمِ انسانیت کے لیے کسی نئے نظامِ خیال کی تلاش یا تشکیل نو کے سلسلے میں سرگرداں ہو۔
طاہر مسعود: ہمارے یہاں شاعری کے مقابلے میں فکشن کو زیادہ فروغ حاصل نہیں ہوسکا اور ہماری زبان اور ادب نے جتنے بڑے شاعر پیدا کئے اتنے بڑے افسانہ نگار جنم نہیں لے سکے۔ آپ کے ذہن میں اس کا کیا تجزیہ ہے؟
جمیل جالبی: شاعری ہماری تہذیب کی روح اور باطن میں موجود ہے۔ یہ ہماری روایت کا حصہ ہے اس لئے شاعری پر تنقید کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک وہ موضوعات جن پر آج نثر کو ذریعۂ اظہار بنایا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں نظم میں بیان کئے جاتے تھے نثر ویسے بھی ہمارے یہاں کم لکھی گئی۔ شمال میں پہلی نثری تصنیف ’’کربل کتھا ‘‘ہے ورنہ عام طور پر قصے کہانیاں ، داستانیں سب نظم میں لکھی جاتی تھیں اور مثنویوں میں بھی قصوں کو بیان کیا جاتا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نظم یا شاعری ہمارے مزاج سے قریب رہی ہے اور نثر کا ارتقا بعد کی بات ہے اور ہمارے یہاں دیر سے شروع ہوا۔ برخلاف اس کے ناول کی صنف ہمارے ادب میں انگریزوں کے اقتدار میں قابض ہونے کے بعد داخل ہوئی اور ظاہر ہے کہ یہ روایت ابھی نئی ہے۔ پھر ایک بات اور،مشرقی شاعری کی روایت کا تعلق ایک طرف اپنی روایت سے رہا ہے ساتھ ساتھ علم و فصاحت و بلاغت سے یہ سخن کی روایت ہے۔ برخلاف اس کے مغرب کے ادب کا تعلق ارسطو کی ’بوطیقا‘ سے ہے۔ ہم اب تک تہذیبی ، تاریخی یا کسی اپنی وجہ سے روایت کو ترک کرکے بوطیقا سے اپنا معنوی یا روحانی رشتہ نہیں جوڑ سکے ہیں۔’’بوطیقا‘‘ سے مغرب میں فکشن کی روایت شروع ہوئی ہے اور ہم خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ نہیں سمجھ پائے کہ بوطیقا سے ہمارا دودھیالی رشتہ ہے یاننھیالی۔
طاہر مسعود:آپ نے بدیسی ادب اور خصوصاً شاعری کے موضوع پر تنقیدی مضامین کے تراجم کئے ہیں اور مغرب میں فکشن پر لکھی جانے والی تنقید کو اردو زبان کا جامہ پہنانے کی جانب ذرا کم توجہ کی ہے حالانکہ یہ اس اعتبار سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا کہ شاعری کے موضوع پر ہمارے یہاں تراجم کا سلسلہ پہلے اور آج بھی جاری ہے کیا آپ کے آئندہ منصوبوں میں فکش کے تنقیدی مضامین کے ترجمے کا منصوبہ شامل تھا؟
جمیل جالبی: فکشن کے سلسلے میں چند چیزیں ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ میں شامل ہیں لیکن اس میں چونکہ مغرب کی ڈھائی ہزار سال کی فکر کا احاطہ کیا گیا تھا اس لئے اس کا بڑا حصہ انیسویں صدی تک کی فکر کا احاطہ کرتا ہے۔ بیسویں صدی کے سلسلے میںکتاب کی ضخامت کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ طے کیا بیسویں صدی کی تنقید ایک جلد میں شائع ہونی چاہئے۔ اس لئے فکشن اور ادبی فکر و مسائل کے تعلق کے سلسلے کی بہت سی اہم تحریریں میں نے دوسری جلد کے لئے مخصوص کردیں۔ بیسویں صدی میں چونکہ فکشن کی تنقید بہت زیادہ لکھی گئی اور یہ جلد مکمل نہ ہوسکی، اس لئے آپ کو یہ کمی محسوس ہوتی ہے مثلاً اگر میں دوسری جلد کا منصوبہ نہ بناتا تو ، ڈی ایچ لارنس کو اس جلد میں شامل کرلیتا۔ جس نے فکشن کے سلسلے میں ہنری جیمس کی طرح اعلیٰ درجے کی تنقید لکھی اسی لئے میں نے ورجینا وولف کے مضمون ’’ماڈرن ناول‘‘ کو بھی دوسری جلد کے لئے روک لیا تھا۔ یہ مضامین اور اس کی فہرست میرے پاس ہے اگر کوئی نوجوان ہمت کرے اور اس کام کو کردے تو اردو ادب کی بڑی خدمت ہوگی میں اس کی مدد اور تعاون کے لئے تیار رہوں گا۔
طاہر مسعود:’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ میں بعض ایسے مضامین کا بھی آپ نے ترجمہ کیا ہے جن کا پہلے ترجمہ ہوچکا تھا، ا س کا سبب کیا ہے؟
جمیل جالبی:۔مثلاً؟
طاہر مسعود: مثلاً ارسطو کی بوطیقا کا۔ اس کا ترجمہ عزیز احمد مرحوم کرچکے ہیں۔ اسی طرح غالباً چند ایک مضامین کا ترجمہ ہادی حسین مرحوم نے بھی پہلے کیا ہوا تھا۔؟
جمیل جالبی:’’بوطیقا‘‘ بہت اہم کتاب ہے عزیز احمد کا ترجمہ مجھے پسند نہیں رہا۔ اس لئے میں نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ ہادی حسین نے جن مضامین کا ترجمہ کیا ہے وہ آزاد ترجمہ ہے انھوں نے مضامین اور کتابوں کا خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کردیا ہے جبکہ میں نے ترجمہ کی کوشش کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بوطیقا کے دوبارہ ترجمہ کئے جانے کا جواز موجود تھا۔
طاہر مسعود: ہمارے یہاں غیر ملکی ادب کے ترجمے کی رفتار بہت سست ہے۔ انفرادی سطح پر ادیب اور نقاد تو ترجمہ کرتے رہتے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس اہم کام کو تیز کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کسی ایسے قومی ادارے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جو صرف ترجمے کا کام انجام دے۔
جمیل جالبی:انگریزی میں دوسری زبانوں کی ہر اچھی کتاب کا ترجمہ عام طور پر جلدی ہوجاتا ہے اور انگریزی زبان کے ادیب دوسری زبانوں کے ادب سے باخبر رہ کر اپنے ذہنی تناظر کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے قومی ادارے کی فوری ضرورت ہے جو ترجمے کرائے اور ان کی اشاعت کا انتظام کرے۔ یہ نہایت ضروری اور فوری نوعیت کا مفید کام ہے۔


یہ انٹرویورسالہ’ اردو چینلُ کے انٹرویو نمبر میں شامل ہے

 

Interview of Shamsur Rahman Farooqui by Nadeem Ahmad

Articles

فن ، زندگی کا تابع ہوتا ہے

شمس الرحمن فاروقی

ندیم احمد:جمالیاتی قدروں کے علاوہ کیا ادب اور آرٹ کی تاریخ میں کسی ایسی قدر کا تصور ممکن ہے جو کلاسیکی اور جدید ادب کی تحریک یا فنکاری پر حاوی نہ ہو، لیکن بہت بڑی حد تک اس میں تخلیقی روح بند ہو؟
شمس الرحمن فاروقی: کسی بھی قدر کو، فن کی قدر کو یہ ممکن نہیں ہے اسے ہم کسی بھی ادبی اصول کی روشنی میں دیکھے بغیر یہ طے کرلیں کہ اس کے اندرتخلیق کی روح بند ہے۔ خود تخلیق کی روح کا فقرہ نہایت گمراہ کن ہے اور میرے خیال میں تخلیق کی روح کا بندہونا اور بھی گمراہ کن ہے۔ گویا فن پارہ کوئی بوتل ہے جس کو آپ کھول دیں تو روح باہر آجائے گی۔ بہر حال بنیادی بات یہ ہے کہ تخلیق ہمیشہ کسی نہ کسی فنی معیار کی ہوتی ہے، چاہے وہ فنی معیار پرانے زمانے کا ہو یا نئے زمانے کا ہو۔
ندیم احمد: زندگی کی جستجو ، نئے توازن اور نئے آہنگ کی تلاش فنکار کو بودلیئر کے Etoile(ستارہ) اور Toile (بادبان)کا سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن فنکار کو یہ نیا توازن پوری طرح حاصل نہ ہونے کی صورت میں زندگی کی تلاش موت کی خواہش میں تبدیل ہوجاتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادب اور آرٹ موت کا اعلان کرتا ہے؟
شمس الرحمن فاروقی: توازن کی تلاش تو ہرفنکار کے لیے کوئی بڑی ،بہت بڑی تلاش نہیں ہوتی ہے۔اول تو فرانسیسی ادیبوں کی مثال دینا اور وہ بھی خاص مخصوص حالات کے اندر مثال دینا اردو زبان کے آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی مناسب نہیں معلوم ہوتا لیکن بہر حال اگر آپ نے بودلیئر کی مثال دی ہے تو آپ کو پھر ریمو کا خیال بھی آنا چاہئے جس کی یہاں اصولاً توازن سے انکار بنیاد ہے شاعری کی اور فن کی بھی ۔ توازن ہو یا عدم توازن ہو جن چیزوں کو ہم جانتے ہیں، فنکار کو دراصل اپنے اندرونی تصورات کا ، تجربات کا اور اپنی ذات میں جو کچھ گذررہی ہے، باہر سے جو کچھ اس کو حاصل ہورہا ہے اس کو جس طرح ممکن ہوسکتا ہے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی توازن کی تلاش بھی کرتا ہے تو وہ توازن الفاظ اور خیالات میں ہوگا۔ اس طرح سے نہیں ہوگا کہ زندگی میں ایک نیا توازن لایا جائے۔ اکثر توزندگی کے توازن سے گھبرا کرکے فن کار یا شاعر کسی اور طرف بھاگنا چاہتا ہے۔ میرؔ نے کہا تھا:
ہم مست میں بھی دیکھا کوئی مزہ نہیں ہے
ہشیاری کے برابر کوئی نشہ نہیں ہے
ظاہر بات ہے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں توازن سے انکار کیا جارہا ہے یا ایک نئے توازن کی بات کی جارہی ہے۔
ندیم احمد:انسانی اور اخلاقی تعلقات کی سماج میں جو اقدار رائج ہیںان کو شبہ کی نظر سے دیکھنے اور ان کے متعلق اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فنکار اخلاقی مسئلوں اور اقدار کے الجھیڑوں سے یکسر کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن نظریہ اخلاقیات سے جان بچا کر بھاگناایک بہت بڑا فنی مسئلہ بھی پیدا کرتا ہے جو اپنے وسیع تر مفہوم میں نفسیاتی اور حیاتیاتی بھی ہے۔ اخلاقی اقدار و معیار چھوڑنے کو تو چھوڑ دئے جائیں لیکن فن پارے کی تخلیق کے لیے کوئی نہ کوئی معیار تو ہونا چاہئے، وہ کون فراہم کرے گا؟ اخلاقیات کو تو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ایسی صورت میں فنکار کون سا نظریہ اخلاقیات ڈھونڈنے کی کوشش کرے جس سے وہ خود مطمئن ہو اور دوسروں کو بھی مطمئن کرسکے؟
شمس الرحمن فاروقی: اول تو یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اخلاقیات کو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخلاقیات کا تصور اب ویسا نہیں،اب دنیا میں کئی طرح کی اخلاقیات رائج ہیں، اور بعض بنیادی باتوں پر اتفاق ہونے کے باوجود اخلاقیات کے نام پر بہت ساری غیر اخلاقی چیزیں بھی ہورہی ہیں۔ لیکن اخلاقی تصورات کی روشنی میں کبھی بھی فن پارے کی خوبی یا خرابی نہیں طے ہوتی ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی فن پارے کو ہم اخلاقی طورپر خراب بھی سمجھیں لیکن پھر بھی ہم اس کے لیے کوشش کریں اور یہ دیکھیں کہ بطور فن پارے کے ، بطور فن کے اور بطور اظہار فن کے اس میں جو خوبصورتیاں ہیں وہ ان نام نہاد غیر اخلاقی تصورات یا اقدار پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ عسکری صاحب نے لکھا بھی ہے کہ سجاد انصاری ایک زمانے کے بڑے ہونہار ، بڑے اچھے، ابھرتے ہوئے فنکار تھے ان کا جو ڈرامہ تھا’جزا‘ وہ برنارڈ شا کے ڈرامے کی بنیاد پر لکھا گیا تھا لیکن یہ کہ نئے انداز ، نئی طرح سے لکھا گیا تھا۔ اس میں ساری بحث بھی انسان ، گناہ کی اور ثواب کی، اچھائی کی برائی اور خدا آپ کا مواخذہ کرتا ہے، یہ سب اس کی چیزیں ایسی تھیں جو آپ بہت سخت مذہب کی بنیاد پر دیکھیںتو شاید اعتراض کے قابل ٹھہرے۔ لیکن انسانی روح میں جو کشمکش ہے ،انسان کے ذہن میں جو کشمکش ہے۔ا چھے اور برے کی ، تقدیر کی اور جبر کی ان سب کو دیکھتے ہوئے اس ڈرامہ میں ایسے سوال اٹھائے گئے ہیں جن سے کہ کم از کم ہمیں ایک طرح سے معاملہ کر نا پڑے گا۔ بہرحال خیر، مگر یہ بات ہوئی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ، اردو ڈپارٹمنٹ میں اس کو رکھا جائے بطور ایک درسی کتاب کے تومولانا عبدالماجد دریابادی کو جب یہ معلوم ہوا تو انھوں نے اس پر سخت اعتراض کردیا۔ اور سرور صاحب نے اس اعتراض کونہیں مانا۔ اور انھوں نے ، جس کو بورڈ آف اسٹڈیز کہتے ہیں اس کے جلسے میں انھوں نے کہا کہ ہمارا شعبہ ادب کا شعبہ ہے۔ ہم ادبی چیزیں ادبی معیار دیکھ کر پڑھانا چاہتے ہیں۔اگر اس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اخلاقی طور پر نامناسب ہیں  تو ہم ان کا تذکرہ کردیں گے طالب علم کو سمجھادیں گے۔ لیکن محض اس بنا پر کہ کسی ایک شخص کو، یا کسی ایک فرقہ کو یا کسی ایک طبقے کو اس کی باتیں پسند نہیں ہیں، ہم اس کتاب کو یا اس فن پارے کو نصاب سے خارج کردیں یہ مناسب نہیں ہے۔ بالکل ایسی ہی بات 1955-1956میں ہوئی جب عسکری صاحب نے طلسمِ ہوشربا کا انتخاب شائع کیا جو بہت دلچسپ انتخاب ہے اور اب بھی اسے بہت اچھا کہنا چاہئے کہ جس میں معاشرے کی عکاسی کے جو رنگ تھے انھوں نے دکھائے تھے۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں برصغیر کے مشہور مصور اورافسانہ نگار اور بعد میں سیاست داں حنیف رامے نے تصویریں بنائی تھیں۔ تو ان تصویروں میں بعض تصویروں کو عریاں اور مخرب الاخلاق قرار دیا گیا۔ اور اس بنا پر اس کتاب کی مخالفت کی گئی اور سرور صاحب نے اگرچہ پھر کوشش کی کہ اسے کورس میں آنے دیا جائے لیکن کامیابی نہیں ہوئی، اور وہ کتاب نصاب سے خارج کردی گئی۔ بعد میں وہ کتاب اردو اکیڈمی لکھنؤ نے چھاپی۔ تصویریں اس میں نہیں ہیں۔مطلب میرے کہنے کا یہ ہے ان تمام باتوں کا لب لباب یہ نکلتا ہے کہ فن پارے کو کسی اخلاقی یاکسی غیر فنی معیار کا تابع قرار دینا ظاہر بات ہے یہ سیاسی طور پر اس طبقہ کو جو کہ طاقت کا حامل ہے اور جو چاہتا ہے کہ طاقت حاصل ہو اسے، (اس کے لیے) یقیناً یہ چیز بڑی اچھی ہے کہ وہ ادب کو اپنی بیان کردہ اخلاقیات کا تابع بنانے کی کوشش کرے۔ ہمارے لیے یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے اور اخلاقیات کا کامیاب ہوجانا یا ناکام ہوجانایہ ادب کی کامیابی یا ناکامی کی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔
ندیم احمد: ادب اور آرٹ انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے مگر بعض لوگ ادب اور آرٹ کو زندگی کے شعبوں سے الگ ایک مستقل ہستی سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جو بجائے خودقابل قدر بھی ہے اپنی حدود کے اندر آزاد اور خود مختار بھی۔ یہ لوگ زندگی کو ادب اور آرٹ کا تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں،زندگی کے کسی اہم شعبے کو باکل آزاد چھوڑ دینا اور اس پر کسی قسم کی اقدار عائد نہ کرنا کہاں تک درست ہے۔ میرے خیال میں ڈی ایچ لارنس جیسے بھاری بھرکم آدمی کے بارے میں ٹی ایس ایلیٹ کا یہ کہنا کہ ’’فنکار تو بہت زبردست ہے مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اسے دنیا میں بھیجا ہے‘‘ محض تنقیدی بیان نہیں بلکہ ادب اور آرٹ کی اخلاقی معیاروں سے مکمل آزادی کے متعلق سوچنے کا عمل بھی ہے جو آگے چل کر ایلیٹ سے یہ بھی کہلواتا ہے کہ’’ ادبی نقاد کے پاس کسی دینیاتی نظام کا ہونا لازمی ہے‘‘۔ تو اس سلسلے میں آپ کے خیالات کیا ہیں؟ ادب اور آرٹ کی مکمل آزادی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: یہ بات جو آپ نے کہی ہے کہ زندگی کو ادب اور آرٹ کا تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، میں سمجھا نہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے کہ زندگی اور ادب یا آرٹ الگ الگ تو نہیں ہے۔ لیکن زندگی کا تابع بنانے کا مطلب یہی نکلتا ہے۔ یہ ضرورہے کہ جیسا کہ آپ نے بعد میں ایلیٹ کا اور کیا نام ہے اس کا آپ نے لیا ہے کہ ایلیٹ نے لارنس کے بارے میں کہا کہ وہ فنکار تو بہت زبردست ہے لیکن دنیا میں وہ لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔ تو پھر وہی بات ہوئی، اخلاقی معاملہ ہوا کہ ایلیٹ اس بات کو مانتا ہے کہ لارنس بہت بڑا فنکار ہے، بہت بڑا ناول نگار ہے، لیکن چونکہ لارنس کے خیالات سے اس کو اتفاق نہیں ہے لہٰذا اس کی بنا پر وہ اس کو کہتا ہے کہ لارنس دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔ ورنہ صحیح معنوں میں دیکھئے تو جس بناء پر کہ لارنس کو گمراہ کن بتارہا ہے، وہ جنسی آزادی وغیرہ کا جو ذکر ہے تواس پورے معاشرے میں جو تبدیلی آئی ہے، مغرب میں وہ ساری کی ساری تھوڑے ہی مغرب کی مرہونِ منت ہے توبیچارہ لارنس کیا کرے گا۔ اس سے پہلے بھی لوگ لکھ چکے ہیں ، اس طرح کی چیزیں جن کو کہ لوگوں نے فحش قرار دیا ہے۔ ہمارے پاس غنا کے بارے میں کتنی بار کہا جاچکا ہے کہ ا س سے ہوشیار رہیں۔ ہمارے ادبیات کے بارے میں لوگ کہتے ہیں ، اس میں بہت زیادہ فحش چیزیں ہیں۔ تو ان سے کون سا اخلاق میں زوال آگیا یا بداخلاقی پھیل گئی۔ فرائڈ کے خیالات نے مغرب کی دنیا میں انقلاب پیدا کردیا اور پھر یہ کہ خود بھی کچھ ترقیاں ایسی ہوگئیں ، مانع حمل چیزیں ایسی آگئیں سامنے جن کی بنا پر جنسی آزادی ممکن ہوسکی۔ اور جنسی عمل میں حصہ لینے والے مرد وعورت کو خطرہ نہ رہا تولیدکا، تو صاحب یہ چیزیں تھیں جن سے کہ یہ چیزیں آئیں اگر آپ اسے مغرب کی بے حیائی اور فحاشی اور عریانی وغیرہ کہئے توبے چارہ لارنس توبہت چھوٹا سا آدمی، اس کی کون سنتا ہے تو یہ سب محض کہنے کی باتیں ہیں۔ زندگی آرٹ کے تابع تو ہوسکتی نہیں بلکہ آرٹ کو زندگی کا تابع بہرحال ہونا پڑتا ہے۔ بس یہی آپ کہہ لیجئے کہ آخر ہم لوگ سمجھتے ہیں آج جو گندی چیزیں ہورہی ہیں، آج بھی ہورہی ہیں،پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ جعفر زٹلی کے زمانے میں آپ دیکھ لیجئے۔ جعفر زٹلی یعنی اردو کی پہلی اور واحد نثرجو ہے شمالی ہند میں وہ جعفر زٹلی کی نثر ہے۔ وہ اتنی فحش ہے کہ جس کوپڑھنا پڑھانا بہت مشکل ہے۔ ہمارے عزیز دوست الوک رائے جو ہندی کے پروفیسر ہیں دلی میں ، بہت لائق آدمی ہیں اور آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ پریم چند کے بیٹے ہیں اور انھوں نے پریم چند کی کتاب کے خلاف اپنی کتاب لکھی ہے۔ تووہ چاہتے تھے کہ اردو میں ایسی نثر جمع کی جائے جس میں کہ مذہبی طور پر نہیںبلکہ غیر مذہبی طور پر بہت سی چیزیں معاشرے کے بارے میں ہوں ، وہ کہتے ہیں ہم لوگوں نے اسے بھلادئے ہیں۔ پرانی اردو کو ہم لوگوں نے بالکل بھلادیا ہے۔ پرانی اردو میں غیر مذہبی اور آزاد رسوم تھے ۔بہرحال مجھ سے انھوں نے کچھ مدد مانگی میں نے اپنے ایک ہم کارجو اردو کے صاحب تھے ان کو اس میں لگادیا کہ آپ ڈھونڈئے ان چیزوں کو میںنے ان کو نشاندہی کی کہ فلاں چیزیں فلاں چیزیں ڈھونڈئے یہ ملیں گی۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ بھئی شمالی ہند میں غیر مذہبی نثرجو ایسی ملتی ہے سب سے پہلی تو وہ جعفر زٹلی کی نثر ہے۔ جو صفحہ تھا میں نے ان کو دیا۔انھوں نے اس کو پڑھ کر سر پکڑ لیا۔ حالانکہ وہ بہت لائق آدمی ہیں لیکن ان کی بھی ہمت نہیں پڑی کہ اس کو اپنے انتخاب میں شامل کرسکیں۔ توآج جو ہم اپنے یہاں فحاشی اور برائی دیکھ رہے ہیں وہ پہلے بھی تھی۔ دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ زندگی کو ہم فن کا تابع بناتے ہیں، ہمیشہ فن زندگی کا تابع ہوتا ہے۔زندگی جیسی ہوتی ہے فن ویسا ہی بنتا ہے۔
ندیم احمد: ایک ایسے دور میں جب لوگ انگریزی شاعری کو شیکسپیئر اور رومانی شاعروں کا مجموعہ سمجھنے لگے تھے ایلیٹ نے لوگوں کو قول و عمل دونوں کے ذریعہ سے احساس دلایا کہ انگریزی شاعری کی روایت جوچوسر سے لے کر ٹینی سن تک آتی ہے بہت وسیع و عریض ہے اور اس روایت سے پوری طرح واقفیت حاصل کئے بغیر بڑا ادب یا بڑی شاعری نہیں پیدا ہوسکتی۔ آپ کے خیال میں اردو ادب پر اس تصور کا اطلاق کن تصرفات کے ساتھ ہوتا ہے اور ان باتوں کو آپ کس طرح سے محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: میں سمجھتا ہوں کہ اردو والوں کے لیے غیر ضروری ہے یہ بحث کرنا کہ چوسر اور ٹینی سن تک کون سی روایت آتی ہے۔ یہ تو ایک بہت معمولی بات ہے ۔ افسوس یہ کہ ہم لوگوں کو یہ بڑی نئی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایلیٹ نے کہا۔ آپ نے کچھ چیزیں بیان نہیں کیں ایلیٹ نے کہا تھا کہ وہی فن پارہ سب سے نیا ہوتا ہے جسے کہ اس کے بنانے والے کو پرانے فن پاروں کا پورا پورا احساس و عرفان ہوتا ہے، وہی نئی شاعری پیدا کرسکتا ہے۔ایلیٹ نے کہی یہ بات ، ہم لوگوں نے اس کو پڑھا توہم لوگوں نے یہاںبہت خوشیاں منائیں۔ لیکن افسوس یہ کہ اردو میں ہم لوگ اس بات سے انکار کرتے رہے۔ ہم لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ صاحب اب آپ کی پرانی شاعری ، روایت غیر ضروری نہیں تو بیکار تو ہے ہی اور اس کے بغیر ہم لوگ شاعری کرسکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے، بلکہ ضروری ہے کہ انقطاع پیدا کیا جائے ۔اس میں جب بعض لوگوںنے ایلیٹ کا قول پڑھا تو بہت چونکے ، ارے صاحب ایسا بھی ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ سامنے کی بات ہے۔ یہ ہمارے یہاں بہت پہلے کہا جاچکا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ متنبی کا جو استاد تھا،جن کے پاس متنبی گیا کہ شعر کہنا ہے اور میں نے بہت کچھ پڑ ھ لیا، مجھے اب اجازت دیجئے کہ شعر کہنا شروع کروں تو انھوں نے کہا ابھی نہیں ابھی تم جاکر دس ہزار شعر یاد کرکے آؤ پرانے استادوں کے۔ اور صاحب وہ گئے اپنی محنت کی اور یاد کرکے آئے۔ اور اب ان سے کہا خلق احمر، خلق احمر استاد کا نام تھاتو متنبی نے جاکر ان سے کہا کہ استاد اب میں نے آپ کا حکم پورا کرلیا ہے اور دس ہزار شعر یاد کرلئے ہیں۔ تو کہا جاؤ ان کو بھلا کر آؤ۔ کہا کیا مطلب۔ کہا ہاں جاؤ بس اس کو بھلاؤ، یاد تو تم نے کرلیا، اب خود تم ان کو اپنے حافظے سے محو کردو۔ خیر اب چونکہ متنبی کو شعر کہنے کا اور شاعر بننے کا بے انتہا شوق تھا اوراس نے کہا چلئے آپ کا حکم مانتے ہیں۔ پھر وہ شہر چھوڑا، پتہ نہیں کسی غار میں گیا، جنگل میں گیا اور پتہ نہیں کہاں گیا دل لگایا اور پوری طرح ان اشعار کو ذہن سے محو کردیا۔ پھر آکے اس نے خلق احمر سے کہا استاد میں نے وہ اشعار بھلادئے۔تب جاکر استاد نے کہا۔ ہاں اب تم شعر کہہ سکتے ہو۔ تو یہ بہت سامنے کی بات ہے۔ ہمارے یہاں تو ہمیشہ سے ہوتا رہا ۔ اب یہ ہوا کہ ہمارے یہاں چونکہ یہ کہہ دیا گیا کہ ہمارا سب شعر مولاناحالیؔ کا مسدس میں جو مصرعہ ہے یہ’’یہ شعر وحکایات کا ناپاک دفتر حقیقت میں سنڈاس سے ہے بدتر‘‘ اب ایسا بھی چل گیا کہ صاحب ہم لوگوں نے کہا سب کو القطع ہی کردو۔ تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ہمارے لیے۔ یہ آپ کو ممکن ہے کہ ایلیٹ کیا کہتے ہیں،اس قول کو آپ بہت بڑی دریافت سمجھیں، دریافت تو نہیں ہے، اچھی بات ہے۔ لیکن اس میں کوئی ہمارے لیے نئی بات نہیں ہے۔
ندیم احمد:’’طلسم ہوشربا‘‘ اور ’’الف لیلیٰ‘‘ جیسی داستانیں ، حافظؔ اور میرؔ کی شاعری اور خسروؔ جیسے فنکار پیدا کرنے والی قوم آج تخلیق سے ڈر رہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ تخلیق ایک دہشت ناک عمل ہے اور اگر یہ ایک بے ضرر کھیل نہ معلوم ہو تو فنکار اس کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ لیکن آج ہم اس بے ضرر کھیل کو کھیلنے کی کوشش اور خواہش سے بھی محروم نظر آتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی:ارے صاحب نہ تخلیق چٹان پر بیٹھتی ہے، نہ دہشت ناک عمل ہے۔ تخلیق سے ڈر کوئی نہیں رہا ہے۔ ڈرائے ضرور جارہے ہیں تخلیق کار۔ لیکن اب کتنا ڈرجائیں یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔ اور ڈرانے والے بہت سے لوگ ہیں جو نئے نئے فلسفے لے کر آتے ہیں۔ کوئی ساختیات لے کے آتا ہے کوئی پسِ ساختیات لے کے آتا ہے۔ کوئی مابعد جدیدیت لے کے آتا ہے کوئی جدیدیت لے کے آتا ہے، کوئی ترقی پسندی لاتا ہے۔ اور اس کے ڈنڈے سے ہانکنا شروع کرتا ہے تو کوئی مانتا نہیں ان باتوں کو۔ شعر تو لوگ وہی کہتے ہیں، افسانہ تو وہی کہتے ہیں جو ان کو اچھا لگتا ہے۔ تو اس کو اتنا ڈرامہ بناکر مت رکھئے۔ یہ ہے کہ جو بات کہنے والی تھی، جو آپ نے نہیں کہی، جو کہنا چاہئے تھی آپ کو جو آج کے تخلیق کار ہیں اگر وہ ڈر رہے ہیں توڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت کچے اور کمزور ہیں ۔ وہ پوری طرح سے تخلیق کے فن سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ وہ اشیا ء کو تخلیق کی آنکھ سے دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔ وہ موٹی آنکھ سے دیکھتے ہیں، جس آنکھ سے کہ میں دیکھتا ہوں۔ اس سے دیکھتے ہیں کہ جس آنکھ سے عام آدمی دیکھتا ہے۔ دیکھئے ورڈزورتھ جیسا بھی تھا آپ نے پڑھا ہی ہو گالیکن ایک بات وہ بڑے پتے کی کہہ گئے تھے کہ صاحب شاعر وہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کی طرح سے ہے لیکن اس کا سوچنے اور دیکھنے اور محسوس کرنے کا طریقہ عام لوگوں سے الگ ہوتا ہے۔ اور ہم لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو عام لوگ سوچ رہے ہیں ، جو اخبارات میں لکھا جارہا ہے، ٹی وی پر آرہا ہے اسی کو فوراً افسانہ بنادو،ا سی کو نظم بنادو۔ تو اس طرح سے نہیں ہوسکتا ہے نہ۔
ندیم احمد: انسانی تخیل حقیقت کو افسانہ بناتا ہے اور افسانہ بن جانے کے بعد ہی حقیقت میں معنی پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب اور آرٹ کی بڑی شخصیتوں کو حقیقت کی نسبت افسانوں سے زیادہ شغف رہا ہے۔ کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ پچھلے 50سال کی مدت میں ہم نے جو ادب پیدا کیا ہے یا جس قسم کا ادب ہم آج پیدا کررہے ہیں اس میں انسانی تخیل کا عمل اور ردِّعمل ایسے افسانے تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن پر حقیقت کا دھوکا ہو اور جو حقیقت سے زیادہ جاندار ہوں؟
شمس الرحمن فاروقی: بھئی یہ عمل اور ردِ عمل یہ دونوں کیوں لگارہے ہیں آپ۔ ایک توالفاظ کا کم استعمال کرو بھائی۔ اتنا سمجھاتا ہوں تم سب لوگوں کو کہ الفاظ کی قدروقیمت گنو، قدروقیمت سمجھو۔ ان کو پیسے کی طرح گنتے رہا کرو۔ کم ہوگئے تو کہاں خرچ کئے، اب سو روپے کا، پانچ سو روپے کا ، ہزار روپے کا نوٹ بازار میں لے کر جاتے ہو، واپس آتے ہو تو اس کو گنتے ہو کہ کتنا بچ گیا،چار روپے، آٹھ آنے، بارہ آنے بچے ہیں۔اور کہاں کہاں خرچ کئے گئے۔ لفظ کے بارے میں ایسا کچھ نہیں ہے، جو جی میں آئے لکھتے چلے جاتے ہو، خیر چھوڑو وہ الگ بات ہے۔ لیکن اس وقت اصل بات یہ ہے کہ حقیقت سے زیادہ جاندار ہونے سے کیا مراد ہے تمہاری۔ حقیقت کسے کہتے ہیں آخر؟ جو حقیقت شعر میں بیان ہوئی یا افسانے میں بیان ہوتی ہے وہ اس معاملے میں یقیناً جاندار ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ سے موجود رہتی ہے۔ اور حقیقتیں جتنی بھی ہیں وہ تاریخ میں ہیں یا وہ فلسفے میں ہیں ، کسی جگہ صحیح ، کسی جگہ صحیح نہیںہیں۔ تخلیق میں سچائی جو ہوتی ہے اگر آپ اس سے اس سچائی کا تقاضہ نہ کریں کہ صاحب آم کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن جب کچا ہوتا ہے تو بڑا کھٹا ہوتا ہے۔ اس طرح کی باتیں جو آج کل شاعری میں لکھی جارہی ہیں ۔ اس طرح کے تقاضے اس سے نہ کریں آپ ،توتخلیق یقینا سچی ہوتی ہے، زیادہ جاندار ہوتی ہے کیونکہ رہتی ہے۔ ارے بھائی ہم توکتنی بار کہہ چکے ہیں کہ کئے نقاد زندہ رہے اور کئے شاعر زندہ رہے آپ گن لیجئے۔ ایک شعر لوگوں کا زندہ رہ جاتا ہے۔ ایک افسانہ زندہ رہ جاتا ہے۔ توتخلیق توجاندار ہمیشہ ہوتی ہے ۔
ندیم احمد: ہمارے یہاں بہت سے ایسے فنکار ہیں جو دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر تخلیقی سفر میں کچھ دور چلنے کے بعد ان کی سانسیں پھولنے لگیں اور دیکھتے دیکھتے مسلسل چلنے کا عمل تھک کر بیٹھ جانے کے بعد ایک آسان عمل میں تبدیل ہوگیا۔ ان تجربات سے کیا ہم یہ نتیجہ اخذکرسکتے ہیں کہ تخلیقی سفر میں چلنا اور چلتے رہنا ہی سب کچھ ہوتا ہے، پہنچنا نہ پہنچناسب برابر ہے۔
شمس الرحمن فاروقی: جو آپ کہہ رہے ہیں کہ صاحب بہت سے فنکار ہیں دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر کچھ دور چلنے کے بعد ان کی سانسیں پھولنے لگیں۔ تو میں نے کہا ہے آپ سے کہ بھئی بنیادی بات یہ ہے کہ اگرآپ مفاہمت کرلیں گے، اگر آپ اپنے فن سے یا دنیا سے یا معاشرے سے سمجھوتا کرلیں گے ۔ میں وہی لکھوں گا جوآپ کواچھا لگتا ہے، کہ میں وہی لکھوںگا جو محفوظ ہے، جس میں کوئی خطرہ نہیں ہے، میں وہی لکھوں گا جس کو پڑھ کر لوگ کہیں کہ ہاں صاحب ٹھیک ہے، آپ اچھا کہتے ہیں، آپ نیک آدمی ہیں تو یہ بات ہے نہ۔ اچھا دوسری بات یہ ہے کہ فنکار کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ زندگی بھر لکھتارہے۔ بھئی ایسا بھی توہوتا ہے نہ کہ لوگ جلد مرجاتے ہیں۔ تو کیا مطلب ہے کہ جو کچھ انھوں نے لکھا ہے، جو کم لکھا ہے انھوں نے ، اب تاباںؔ جوانی میں مرگئے، تو کیا تاباںؔ کو ہم شاعر نہیں مانیں گے کیونکہ وہ جوانی میں مرگئے اور ہم میرؔ کو اس لیے شاعر مانیں گے کہ وہ بہت دن تک زندہ رہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں بھئی اگرتاباںؔ زندہ رہتے تواگر خدا معلوم زندہ رہتے تو ممکن ہے کہ اور خراب شعر کہتے یا اچھے شعر کہتے۔ توشاعر یا تخلیق کار کی ایک اپنی اندر کی عمر بھی تو ہوتی ہے نہ۔ اس اندر کی عمر کو کیوں نہیں دیکھتے ہو۔ اس اندر کی عمر کو گھٹانے اور بڑھانے والی چیزیں اس کے اندر بھی ہوتی ہیں، اس کے معاشرے میں بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً پڑھتا نہیں اگر وہ مان لو۔ اب پڑھے بغیر توکبھی شعر ہوتا نہیں ہے، افسانہ ہوتا نہیں ہے، ناول ہوتا نہیں ہے، پڑھوگے نہیں توکہاں سے لکھوگے۔ ہم سے ابھی ایک صاحب کہنے لگے کچھ دن پہلے کی بات ہے، ہندی کی محفل تھی۔ میں ہندی والوں میں اکثر بلالیا جاتاہوں۔ توایسے باتیں ہونے لگیں۔افسانے کے بارے میں: کہنے لگے صاحب ہم لوگ کیا کریں۔ہم لوگ تووہی لکھتے ہیں جو کہ ہم سنتے ہیں۔ تو میں نے کہا بھائی ہمارے زمانے میںتو یہ قول تھا کہ ہم وہی لکھتے ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔ توظاہر بات ہے سننے کی بات کروگے، بازار کی زبان سنو گے تو وہی لکھوگے ، اس میں کتنا دم پھر۔ آخر کتنی اچھی بات کہی جناب آڈن نے کہ’’عام زبان جو ہے اس میں شاعری نہیں ہوسکتی۔‘‘ ہم مثلاً ٹیکسی میں بیٹھ رہے ہیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایئرپورٹ جانا ہے اس میں تو شاعری ممکن نہیں ہے۔ اس میں اطلاع ممکن ہے کہ ائیر پورٹ جانا ہے، کئے گھنٹے میں پہنچیں گے وغیرہ وغیرہ۔ تو زبان کو آپ اس کے تخلیقی عمل سے نہیں استعمال کریں گے تو جیسے یہ کہ میں نے آپ سے کہا ، بہت سے لوگ معاہدہ کرلیتے ہیں کہ بھئی ہم کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے آپ کو، کوئی بری بات نہیں کہیں گے، کوئی ایسی چیز نہ کریں گے کہ جس سے آپ کے ضمیر کو جناب چونکنا پڑے۔ تویہ بھی ہوسکتا ہے۔
ندیم احمد: موت وحیات، جسم وروح، خیر و شر، عدم اور وجود جیسے مسائل کا ذکرتو ہمارے ادب میں خوب ملتا ہے لیکن مجموعی طورپر یہ مسائل جس انسان سے متعلق ہیں اس کے بارے میں کسی گہرے انکشاف کی کمی ہمارے ادب میں صاف نظر آتی ہے۔ میرؔ کو الگ کردیں تو شاید ہی ہماراکوئی فنکارملارمےؔ اور والیریؔ کے آس پاس بھی پہنچے۔
شمس الرحمن فاروقی: ارے بھائی کاہے کے لیے، اول توہمار ی عمر ہی کتنی ہے۔ اگر آپ ملارمےؔ او روالیریؔ کو اتنے بڑے شاعر مانتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ہیں تو چلئے میں بھی مان لیتا ہوں، ملارمے ؔکے بارے میں کچھ شک بھی رکھا جاسکتا ہے لیکن چلئے بہرحال شاعر وہ بھی فرانسیسی کاہے۔تو اب میرؔ کے برابررکھ رہے ہیں کم سے کم آپ، توآپ کی عمر ہی کتنی ہے۔ ابھی توجمعہ جمعہ آٹھ دن آپ کو ہوئے ہیں۔ پانچ چھ سو برس آپ کی کل تاریخ ہے۔ اب پانچ چھ سو برسوں میں آپ نے ایک عدد میرؔ پیدا کرلیا تو کیا کم پیدا کرلیا؟ ویسے آپ کے یہاں صرف میرؔ نہیں ہیں۔ آپ کے یہاںتویعنی آپ صرف بڑے لوگوں کا نام لیجئے تو بھی پانچ سات آدمی ایسے ہیں جن کا بڑے فخر سے آپ نام لے سکتے ہیں۔ غالبؔ کا نام لینا پڑے گا آپ کومیر انیسؔ کا نام لینا پڑے گا آپ کو، اقبالؔ کا نام لینا پڑے گا، نظیرؔ اکبر آبادی کا نام لینا پڑے گا،سوداؔ کا نام لینا پڑے گا، دکنی میں بہت کم جانتاہوں لیکن جہاں تک میں نے سنا ہے اور پڑھا ہے نصرتیؔ کا نام ہم کو لینا پڑے گا، وجہیؔ کا نام لینا پڑے گا۔ تو یہ سب بڑے شاعر ہیں، ان کو دنیا میں کسی بھی جگہ بٹھادیجئے یہ شرمندہ نہیں ہوں گے۔ہم سے ایک دفعہ ہمیں یاد ہے ایک دفعہ ایک جلسے میں ہمارے دوست بہت بڑے نقاد ، اللہ جنت نصیب کرے وہ مرحوم ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرؔ کوئی بڑے شاعر تھوڑی ہیں۔ ہم نے کہا بھائی ہم توابھی آج ہی ایک انگریزی رسالے میں ایک مضمون پڑھ آئے ہیں کہ ہیلین کوپر جو کہ معمولی شاعر ہے انگریزی کا ، اسے قرار دیا گیا کہ جینئس تھا۔ تو وہاں تو یہ عالم ہے کہ ان کے یہاں جو درجہ دوم کے شاعر ہیں ان میں بھی ایک معمولی حیثیت رکھنے والے شاعر کو وہ لوگ جینئس کہہ رہے ہیں۔ اور ہم لوگ اپنے منہ سے اپنے بڑے شاعر کو کہہ رہے ہیں کہ وہ بڑا شاعر نہیںتھا۔ تواصل میں ہوتا یہی ہے نہ، کہ اپنی دہی کو کھٹا نہیں کہنا چاہئے پہلے اپنے شاعر کو اپنے آدمی کو دیکھو، بڑا سمجھو اسے ، قدر کرو اس کی پھر اس کے بعد آگے جاؤ۔ ٹھیک ہے والیری بڑا شاعر ہے۔ ہم سے زیادہ والیری کو کون پڑھا ہوگایا عسکری سے زیادہ کس نے پڑھا ہوگا۔ عسکری صاحب تو زندگی بھر بودلیئر اور والیری کو پڑھتے ہی رہ گئے۔ پھر بھی وہ بیدلؔ کے جتنے قائلؔ تھے، جتنے میرؔ کے قائل تھے آپ کو خوب معلوم ہے۔ آپ خود ہی عسکری کے بہت اچھے اسٹوڈینٹ ہیں ، آپ جانتے ہیں۔
ندیم احمد: ہمارے زمانے کے بعض فنکاروں نے زندگی کا اظہار کرنے کے بجائے اظہار کے عمل اور اظہار کے ذرائع کو اظہار کا موضوع بنایا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ رویہ کہاں تک درست ہے۔ کیا ادب اور آرٹ کے لیے یہ رویہ کسی صحت مند مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
شمس الرحمن فاروقی: کیا مطلب ہے بھئی اس کا۔ اظہار کا عمل کون بیان کرسکتا ہے؟ اظہار کے ذرائع جوہیں، اس کے موضوع کو کون بیان کرسکتا ہے؟ اظہار کے ذرائع کیا ہیں؟ ریڈیو ہے ٹی وی ہے۔ ارے بھائی! ہر ادیب کی اپنی محدود پرواز ہے۔ جہاں تک پہنچتا ہے پہنچتا ہے۔ اچھا اب اس زمانے میں چونکہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، تم خوب جانتے ہو، ضمیر اکثر حد تک لوگوں کا یا تو بے کار ہوگیا ہے یا مردہ ہوگیا ہے یا تھا ہی نہیں شاید۔ اب یہ ہے کہ جو چیز چل جائے تو لوگ اس کو مان لیتے ہیں، اس کو شروع کرنے لگتے ہیں، اس کو بڑھانے لگتے ہیں آگے۔ تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن ہے، یہ ہورہا ہے۔ مگرمیں ان چیزوں سے ڈرتا نہیں ہوں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو بہت بڑی خوبی ہمارے یہاں اردو کے معاشرے میں ہے جو کہ دوسرے معاشروں میں بہت دیر سے آئی کہ جتنا یہ معاشرہ اپنی خود آگاہی رکھتا ہے ،جتنا شعور اس کو اپنے بارے میں ہے، اتنا انگریزی ونگریزی والوں کو بہت بعد میں شعور ہوا۔ یعنی بیسویں صدی کے بارے میں جو شروع میں کتاب لکھی گئی ، بہت مشہور کتاب ہوئی ایلیٹ نام ہے ان کا، تین لیکچر دئے انھوں نے ، بڑے مشہور ہوئے اس زمانے میں کہ بیسویں صدی کے ادب کی کیا خصوصیات ہیں؟ تو پہلے انھوں نے یہی بیان کیا کہ صاحب پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بہت خود آگاہ صدی ہے۔ اجی اگر وہ ہمارے یہاں آکر دیکھتے تو کل سے شاعری شروع ہوئی ہے اور آج جناب لوگ تذکرے لکھ رہے ہیں۔ تذکروں میں شعراء کے نام لکھ رہے ہیں۔ ان کے حالات بیان کررہے ہیں۔ تنقید ان کی کررہے ہیں، ان کا چیستاں کررہے ہیں۔ جھگڑے نمٹا رہے ہیں۔ جتنا ہم لوگ خود آگاہ تھے، اتنا بھلا وہ لوگ کیا خود آگاہ ہوںگے۔ تو اس لیے ٹھیک ہے ۔ ہورہاہے بھئی، کھوٹا سکہ چل رہا ہے، فریبی چل رہے ہیں۔ غلط سلط بھی ہورہا ہے۔ اور میں تو خود ہی کہتاہوں کہ ہورہا ہے اس سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ جس چیز سے مجھے خوف ہے، جس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے آپ نے اب تک کہ ہم لوگ اپنی زبان کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہم لوگ زبان ہندی پڑھ کر آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہندی ، اردو میں گرامر چونکہ ایک ہی ہے، تو زبان بھی ایک ہی ہوگی۔ اسی کو ہم لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہی نہیں کہ جو ہندی کا محاورہ ہے ، اردو میں نہیں ہے یا ہندی میں کسی اور معنی میں ہے، اردو میں کسی اور معنی میں ہے، تو زبان اتنی خراب ہماری ہوگئی ہے۔ جب آپ کے پاس اردو کے جو اتنے اچھے الفاظ ہیں ، جب اسی کو استعمال نہ کریں گے تو اردو میں آپ اچھا اد ب کیسے لکھئے گا؟
ندیم احمد: انسانی زندگی کے متعلق ہر نظرئے کو چند دائمی اور مستقل اقدار فرض کرنا پڑتی ہیں۔ مارکسیت کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ لیکن مارکسیوںکے یہاں مسئلہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنے لیے دائمی اقدار بھی معاشی عوامل سے ہی اخذ کئے تھے۔ جدیدیت کو اگر ایک نظریہ تسلیم کریںتو آپ کے خیال میں وہ کون سے عوامل ہیں جن سے جدیدیت نے اپنی دائمی اقدار مستعار لیے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی: بھئی سب سے پہلی بات تو جدیدیت یہی کہتی رہی تھی کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کے اقدار کون سے ہیں۔ آپ کے مارکسی اقدار ہوں تو بڑی اچھی بات ہے۔ ہم نے تو یہاںتک لکھا، میں نے کہ صاحب اگر مان لیجئے کہ کوئی ایسا نظریہ ہو کسی ناول میں جو میرے اصولوں کے بالکل سراسر منافی جاتا ہو تو بھی اگر وہ ناول اچھا ہے تواچھا کہا جائے گا۔ آخر آپ کے سامنے مثال موجود ہے کہ دانتے کا جناب عالی مشہور طربیہ خدا وندیDevine Comedy ، ہم لوگوں نے بھی خوب پڑھا وڑھا اس کو، ترجمے اس کے کئے گئے ٹوٹے پھوٹے جیسے بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ کو خوب معلوم ہے اس میں اسلام کے بارے میں اور پیغمبراسلام ؐکے بارے میں کتنی خراب خراب باتیں لکھی گئی ہیں۔ تواگر دائمی اقدار کو پوچھتے ہو توکون سی اقدار اس میںا یسی ہیں جو تمہارے لیے اچھی ہوں۔ تواقدار وقدار نہیں ہوتی اصل میں۔ اقدارتو یہ ہوتی ہیں کہ آدمی کیا کررہا ہے۔ آدمی کے پاس جو خزانہ ہے اب اس نے آپ کو معلوم ہے کہ دانتے نے حضرت شیخ اکبر ابنِ عربی سے اٹھایا توحۃ المسیحا سے کچھ چیزیں اٹھائیں، اور اس نے اس کو اٹھاکرکے اپنے اوپر اتباع کردیا۔ اور اس سے پوری کہانی تیار کرلی انھوں نے اپنی۔یعنی فیضان حاصل کیا اسلام سے اور سب سے زیادہ برا بھلا اس نے اسلام کو کہا۔ تواقدار تو دراصل فنی اقدار ہوتی ہیں نا۔ فن کی اقدار ہوتی ہیں۔
ندیم احمد:1960ء کے بعد ہمارے یہاں جدیدیت کا جو میلان سامنے آیا اس کا اردو کی اصل روایت سے کس حد تک رشتہ تھا۔ جدیدیت کے زیرِِ اثر جو لوگ اردو ادب کے منظر نامے پر ابھرے انہوں نے اردو کی اصل روایت کو اپنی تخلیق میں کس طرح محفوظ کیا ہے اور کیا ہے بھی یا نہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: اس میں ظاہر ہے کہ سب سے پہلے یہ بحث کرنا چاہئے ہم لوگوں کوکہ اردو کی اصل اور بنیادی روایت کیا ہے۔ اگر مان لیجئے کہ اصل بنیادی روایت سے مراد لی جائے اردو غزل کی شاعری تومثنوی کہاں جائے گی، قصیدہ کہاں جائے گا، داستانیں کہاں جائیں گی؟ تواس طرح سے ہم لوگوں کے ذہن میں جو تصور ہوتا ہے عام طور پر اور اس کو ہم لوگ اصل روایت یا بنیادی روایت کہتے ہیں تودراصل ایک ذاتی سوچ اور انتخاب کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ عام طورپر لوگوں سے پوچھئے تووہ بنیادی اور اصل روایت کا جب ذکر کریں گے صاحب، بہت دور چلے گئے تو نظیر اکبرؔآبادی کا نام لیں گے۔ لیکن فقیرمحمدگویاؔ کا نام نہیں لیںگے مثال کے طور پر ۔ ہجویات یوں ہی بھول جائیں گے۔ تو ادب میں جو کچھ ہوچکا ہے ان سب کو روایت میں شامل سمجھنا چاہئے۔ اور دیکھنا یہ چاہئے جو کچھ ہوا ہے اس کا ادب کے بارے میں کیا تصور اور کیا نظریہ تھا اور جدیدیت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے ادب کے بارے میں جو تصورپہلے رائج تھا، پچھلے پچاس ساٹھ برس میں رائج ہوگیا تھا حالیؔ کے زیرِ اثر، ترقی پسندوں کے زیرِاثر، تھوڑا بہت اقبالؔ کے زیرِ اثر کہ ادب کو کسی خاص مقصد کے تحت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہونا چاہئے یا جولوگ کوشاں ہیں ان کے ہاتھ مضبوط کرناچاہئے۔ یعنی ادب میں، ادبی اقدار اور فنی اقدار کو پسِ پشت ڈالا جائے یا نہ ڈالا جائے تواتنا ضرور دیکھا جائے کہ فنی اقدار اور ادبی اقدار اس وقت تک کارآمد ہیں جب تک وہ سماجی یا سیاسی تبدیلی کی راہ میں معاون ہیں یا ان لوگوں کے زیرِاثر ہیں جو کہ سماجی یا سیاسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
اس میں مشکل یہ آپڑی تھی کہ سماجی تبدیلی اور سیاسی تبدیلی سے مراد وہ تبدیلی نہیںتھی جو سرسیّد نے، محمد حسین آزاد نے لی تھی وہ کچھ اور تھی اور یہ مراد سجاد ظہیر نے یا احتشام حسین صاحب نے لی وہ کچھ اور تھی تواس جھگڑے میں بہت سارا ادب ہمارا، ہمارے لیے خطرے میں پڑگیا اور کبھی کسی نے ، ادب کے کسی حصے کو غیر صحت مند روایت کہا، کسی نے کہا صاحب یہ روایت ہے ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو دوکام کئے بہر حال بڑے جدیدیت نے۔ ایک یہ کہا کہ سارا ادب روایت میں شامل ہے۔ روایت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو آپ کاٹ چھانٹ کر الگ کردیں اور کہیں صاحب یہ روایت میں ہے ہی نہیں یا یہ ہے لیکن خراب تھا، اس کو ہم کاٹے دیتے ہیں، نکالے دیتے ہیں۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ اس روایت کے پیچھے جو دراصل تصور ہے ادب کا وہ زیادہ ضروری ہے کہ اس کو ہم سمجھیں اور اپنائیں۔یہ نہیں کہ ہم ادب کے لیے باہر سے کوئی مقصد لاکے تعمیر کریںیا کہ داخل کریں۔ تواپنی اپنی حد تک سب لوگوں نے کیا اس کو۔ پرانے لوگوں کے انداز بھی اختیار کئے، پرانے انداز میں نیا رنگ بھی ڈالا۔ بعض لوگوں نے اپنے کو بالکل ہی نیا بنانے کی کوشش کی۔ لیکن پھر معلوم ہوا صاحب یہ نئی چیزیں پہلے ہو بھی چکی ہیں، کسی نہ کسی طورپر ۔ توغزل کے میدان میں خاص کر ہم دیکھتے ہیں۔ اب رہ گیا جو نئے میدان ہیں وہ افسانے کا اور نظم کا ، جو نئے میدان اس معنی میں ہیں کہ ان کے لیے کوئی بہت لمبی روایت اردو میں نہیں موجود تھی۔ تو وہاں زیادہ آزادی کی گنجائش نظر آتی ہے۔ تو اس میں یہ سوال پوچھنا مشکل ہے کہ کس روایت کو اور کہاں تک اس کو اختیار کیا گیا ۔ وہاں تو ظاہر بات ہے کہ روایت بن رہی تھی بلکہ اب بھی بن رہی ہے۔ بہت پہلے مرحوم خلیل الرحمن اعظمی نے کہا تھا کہ ابھی بڑی شاعری کے واقعی جو اظہارات ہیں ان کو پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔
ندیم احمد: بعض لوگوں کا جن میںعسکری بھی شامل ہیں یہ خیال ہے کہ جدیدیت مذہب ہو یا اخلاقی معاشرتی زندگی ، ہرجگہ آخری معیار فرد اور اس کے تجربے کو ہی سمجھتی ہے۔ یعنی جدیدیت کی اصل روح یہی انفرادیت پسندی ہے۔ عسکری صاحب نے اپنی کتاب’’جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ میں جدیدیت کو ابلیسیت بتاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ پچھلے پانچ سو سال میں مغرب نے گمراہی کی جتنی بھی شکلیں پیدا کی ہیں۔ وہ سب اسی انفرادیت پرستی کے بیج سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں۔ عسکری صاحب والی گفتگو (مطبوعہ’شب خون‘شمارہ؟‘) میں آپ نے اس بارے میں کچھ اشارے کیے ہیں ؟
شمس الرحمن فاروقی: تویہ عسکری صاحب سے پوچھنے کا سوال ہے۔مجھ سے آپ کیوں پوچھتے ہیں؟ میں نے تو اس بات کو بہت بارسمجھادیا ہے کہ عسکری صاحب جدیدیت سے مراد لیتے ہیںInlightmentیعنی روشن فکری کا وہ زمانہ، خاص کر جو سترہویں صدی کے آخر سے شروع ہوتا ہے اور بڑی حد تک دوسری جنگ عظیم تک آتے آتے ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن تب تک اس نے اپنی تمام تر نقصان دہ اور اچھی اور بری چیزیں سب ظاہر کردی تھیں۔ اچھا اس روشن فکری کی مخالفت کرنے والوں میں عسکری صاحب نئے نہیں ہیں۔ اس کی مخالفت کرنے والوں میں اسحاق برلن صاحب جیسے لوگ شامل ہیں، جنھوں نے کہ پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ا س کی مخالفت کرنے والوں میں سیّد حسین نصر بھی شامل ہیں، انھوں نے بھی پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ توعسکری صاحب کا ایک نظریہ اس معاملہ میں اکیلا نہیں تھا۔ اور جدیدیت ہے، جس کے سلسلے کو ہم مغرب سے بھی جوڑتے ہیں۔اس میں اندھی انفرادیت کا احساس نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ فرد کی ذات اپنی جگہ ایک وجود رکھتی ہے، ایک کائنات رکھتی ہے۔ اور فرد کی ذات کو اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔
ندیم احمد: جب بعض حلقوں کی طرف سے جدیدیت پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا ہے تو اس میلان کے ہمنواؤں نے جن میں آپ بھی پیش پیش تھے یہ کہہ کر اس کا دفاع کیا کہ جدیدیت قاری سے اپنے ابلاغ کی سطح کو بلند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدیدیت بہت چھوٹے مکان بنانے کے بجائے ایک بڑا محل تعمیر کرنے پر ایمان رکھتی ہے۔ جدیدیت کے میرِ کارواں کی حیثیت سے ان باتوں کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی:ظاہر بات ہے کہ یہ کہنا چاہئے تھا کہ جدیدیت قاری کو اہمیت دیتی ہے اور اس کو نظر اندازنہیں کرنا چاہتی۔ اور اس کو نگاہ ترحم اور مربیانہ انداز میں نہیں دیکھتی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اس کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ جدیدیت نے قاری کے ساتھ وہ مربیانہ رویہ نہیں رکھا جو پہلے لوگ رکھتے تھے کہ ہر بات کو تین دفعہ کھول کے جب تک نہ بیان کریں،ان کو یقین نہیں آتا کہ قاری سمجھ سکتا ہے۔ قاری کی ناک پکڑ کر جب تک اس کو چلائیںنہیں وہ چلے گا نہیں۔ جب تک قاری کی گردن میں ہاتھ ڈال کردوڑائیں گے نہیں وہ دوڑے گا نہیں۔ کیا شاعری اور کیا افسانہ دونوں میں عام طور پر یہ بات مشہور تھی کہ صاحب ہم کوہر بات کو بہت صاف صاف نتیجہ بیان کرکے کہنا ہے یعنی قاری بے چارہ ایک بچّہ ہے۔ ایک ناسمجھ ، نافہم جاہل، اگر جاہل نہیں توکم سے کم ایک گنوار قسم کا آدمی ہے، جو ادب کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر بات ہم کھول کھول کے کہیں۔ تو یہ اور بات ہے کہ ہم قاری کو مربیانہ نگاہ سے دیکھیں اس کے اوپر ایک نگاہِ ترحم ڈالیں کے بھئی اچھا۔آپ تو بچے ہیں، آپ تو سمجھتے نہیں،لو یہ ہم سمجھائیں دیتے ہیں آپ کو، ہم نے کیا کہا تھا اس افسانے میں۔ اور ایک یہ ہے کہ ہم افسانہ لکھیں یا شعر کہیں اور اس میں اپنی باتوں کو پورے استدلال سے پیش کریں۔ لیکن ہر جملے اور ہر لفظ اور ہر افسانے اور ہر شعر کی کنجی نہ پیش کردیں کہ لیجئے صاحب یہ کنجی لے جائیے اس سے آپ کا معاملہ حل ہوجائے گا۔ بلکہ ہم اس سے توقع کریں کہ وہ خود اپنی تخلیقی قوت کو استعمال میں لاتے ہوئے ، اس کو پڑھے گا، فن کو پڑھے گا اور اس کے معنی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ورنہ جدیدیت کے بارے میں یہ الزام یا یہ نعرہ کہ اس نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا ، یہ محض ایک فارمولا ہے جیسے بہت سے فارمولے لگائے گئے۔ جدیدیت سماج سے کٹی ہوئی تھی یا کٹی ہوئی ہے،‘‘ جدیدیت نے سماج کو نظر انداز کردیا۔ جدیدیت میں سماجی ذمہ داری کا لفظ گالی کی طرح استعمال ہونے لگا‘ جدیدیت کو ہر طرح کی وابستگی سے انکار ہے،اس طرح کے بہت سے فارمولے ، بہت سے نعرے دیے گئے۔ جو کہ ایک طرح سے جذباتی طور پر خوف پیدا کرنے والے تھے۔ اور اصل چیز کیا تھی وہ کسی نے بھی غور نہیں کیا۔ لہٰذا چل پڑا یہ۔ کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ صاحب جدیدیت نے قاری اور ادب کے درمیان کوئی پل نہیں چھوڑا ، ہم پل بنا رہے ہیں۔ اب ذرا ان سے کوئی جاکر پوچھے کہ جدیدیت ہی کے نام پر آخر’’شب خون ‘‘چالیس سال تک چلتا رہا۔ اور دنیا کے ہر گوشے میںجہاںاردو پڑھی جاتی ہے’شب خون ‘ پڑھا جاتا رہا۔ اور اس کے پڑھنے والے سب پڑھے لکھے اور ادب فہم لوگ ہیں۔ تو جدیدیت نے ان لوگوں کو کہاں سے پیدا کردیا۔ اگر جدیدیت نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا تھا تو یہ لوگ کہاں سے آگئے؟ جدیدیت کے جو بڑے نام میں ہیںپاکستان میں، ہندوستان میں ان کا کلام بار بارچھپتا ہے،ان کے افسانوں کی، ان کی نظموں کی، ان کی غزلوں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ مطالعہ ان کا ہوتا ہے ، تو کیوں آخر ہورہا ہے یہ۔ کیا ایسے ہی ہورہا ہے کہ لوگ ان کو سمجھ نہیں رہے ہیں؟


ندیم احمد نئی نسل کے اہم ناقد اور شاعر ہیں۔ فی الحال شعبہ اردو ، کلکتہ یونیورسٹی میں استاذ ہیں۔ یہ انٹرویو انھوں نے رسالہ اردو چینل کے لیے تقریباً دس بارہ سال قبل لیا تھا جو اردو چینل کے انٹرویو نمبر میں شامل بھی ہے۔ اِس انٹرویو میں بعض ایسے مباحث بھی ہیں جو آج بھی اپنی معنویت رکھتے ہیں لہٰذا اسے اِس ویبسائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔

Interview Mohammad Alvi by Farhan Haneef Warsi

Articles

پاکستان میں نئے لب و لہجے کی تلاش پہلے شروع ہوئی

محمد علوی

فرحان حنیف: علوی صاحب! اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔ میں نے سنا ہے ، آپ کا تعلق کسی روحانی خانوادے سے بھی ہے۔
محمدعلوی: ہاں۔ آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔ احمد آباد میں نہرو پل کے مشرقی سرے پر واقع خان پور سیّد واڑے میں حضرت شاہ وجیہہ الدین علوی الحسینی الگجراتی ۔ؒ ۔۔کا مزار آج بھی مرجع الخلائق ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک بڑے عالم اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ میرا تعلق آپؒ کے گدّی نشینوں کے خاندان سے ہے اور میرے بڑے بھائی سیّد احمد علوی درگاہ شریف کے حالیہ سجادہ نشین ہیں۔ میرے والد صاحب کانام سیّد بڑا صاحب میاں علوی تھا۔ ایک اور دلچسپ بات آپ کو بتانا چاہوں گا کہ میرے آباء و اجداد نے پورے بھڑوچ ضلع میں مذہب اسلام کی تبلیغ کی ہے اور کئی دیہات اور کئی گائوں کے باشندوں کو حلقۂ اسلام میں داخل کیا ہے۔ میں 10؍ اپریل 1927ء کو احمد آباد میں پیدا ہوا اور صرف ساتویں جماعت تک میں نے تعلیم حاصل کی ہے۔
فرحان حنیف: کیا آپ کو اپنا اولین شعر یادہے؟ یہ بھی بتایئے کہ آپ نے پڑھنے لکھنے کی شروعات کس طرح کی ؟
محمدعلوی: پہلا شعر تو اب یاد نہیں ہے۔البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ والد نے آٹھ نو سال کی عمر میں بغرضِ تعلیم مجھے دہلی کے جامعہ میں داخل کیا تھا۔ وہیں دورانِ تعلیم میں نے بچوں کے ایک مشاعرے میں حصّہ لیتے ہوئے کبوتر پر ایک نظم کہی تھی۔ جج حضرات نے میری اس نظم کو پسند کیا اور بطور اوّل انعام مجھے مولوی اسماعیل میرٹھی کی تصانیف کے مکمل سیٹ سے نوازا۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوتے ہی میں واپس احمد آباد آگیا۔ اب مجھے ایک مقامی اسکول میں بھیجا گیا۔ مجھے پڑھنے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی۔ اسکول کا ناغہ کرکے دوستوں کے ساتھ کھیل میں مصروف رہتا یا پھر شرارتیں کرتا۔
میرے دوست اور کزن مظہر الحق علوی (انگریزی کے سو(100) ناولوں کے مترجم) کے والد کو مطالعہ کا شوق تھا اور ان کے پاس تاریخی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ مظہر الحق علوی، وارث علوی اور میں نے مل کر صادق سردھنوی کی تمام کتابیں پڑھ ڈالیں۔ تیرتھ رام فیروز پوری کے تراجم بھی پڑھے۔ احمد آباد میں اس وقت کلیم بک ڈپو ہوا کرتا تھا ، وہاں سے لیکر ہم تینوں نے شفیق الرحمن کی ’’حماقتیں‘‘ اور احمد ندیم قاسمی کی ’’بگولے‘‘ نامی کتابیں پڑھیں۔ مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہی ہم نے خود میں ایک طرح کی تبدیلی محسوس کی۔ ان دنوں نظیرؔ اکبرآبادی کی کلیات بھی پڑھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں موجود تخلیقات میں جہاں گالیاں آتی تھیں وہاں ڈاٹ ڈاٹ ڈاٹ ہوتا تھا، ہم تینوں ان خالی جگہوں کو مناسب گالیاں لکھ کر پر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی کی تصانیف اور تخلیقات بھی برابر پڑھنے لگے۔ ترقی پسند تحریک ان دنوں شباب پر تھی۔ اس وقت ہم لوگ اٹھارہ سال کے رہے ہوں گے۔ میں 1946ء کی بات کر رہاہوں۔ ترقی پسند تحریک نے ہم تینوں کو متاثر کیا اور ہم نے اس تحریک سے جڑنے کا فیصلہ کیا۔احمد آباد میں ہم نے بڑی محنت کی اور ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم کی۔ 1947ء میں احمد آباد میں ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں جوش ملیح آبادی، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، نیاز حیدر، مجاز لکھنوی، ممتاز حسین اور ساحر لدھیانوی نے بھی شرکت کی تھی۔ ان دنوں مشاعروں کی فضا گرم تھی اور سامعین علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور نیاز حیدر کی نظموں اور اشعار پر اچھل کر داد دیتے تھے۔ داد پانے کے اس جوش نے کچھ ایسا اثر کیا کہ میں نے بھی انہی کے رنگ میں شاعری کا آغاز کردیا۔
ان دنوں احمدآباد سے ممبئی کا کرایہ آٹھ دس روپے ہی تھا۔ وارث علوی اور میں سجاد ظہیر صاحب کے مکان پر منعقدہ میٹنگوں میں شریک ہونے لگے۔ کرشن چندر چار بنگلہ(اندھیری) کے ایک بوسیدہ بنگلے میں مقیم تھے۔ ساحر لدھیانوی، ممتاز مفتی، میراجی، مجاز لکھنوی اور نیاز حیدر اس بنگلے کے اوپری حصّے میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ دن بھر سبھی آوارہ گردی کرتے اور شام ہوتے ہی یہاں جمع ہوجاتے۔ وارث علوی اور میں بھی وہاں پہنچ جاتے ۔بڑی ہماہمی رہتی۔ جیل کی باتوں یا پھر مجروحؔ سلطان پوری کی غزلوں کا دور چلتا۔ مجھے بھی ان دنوں مدنپورہ، بھمڑی اور مالیگائوں کے کئی مشاعروں میں پڑھنے کا موقع ملا۔ وارث علوی اور میں نے 1949ء میں بھمڑی کانفرنس میں بھی حصّہ لیا۔
بھمڑی کانفرنس کے بعد ترقی پسند تحریک کا جادو ختم ہونے لگا اور کچھ میرا بھی موڈ تبدیل ہوگیا۔ میں نے فراقؔ گورکھپوری ، سیف الدین سیفؔ، مجاز ؔلکھنوی، مخدومؔ محی الدین اور ناصرؔ کاظمی کی شاعری کا مطالعہ کیا۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے تمام مصنفین کو پڑھا ۔ میراجیؔ کو بھی توجہ سے پڑھا۔ اس مطالعے کا اثر یہ ہوا کہ میں نے 1949ء میں مجازؔ لکھنوی کی زمین میں ایک غزل لکھی جو ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس وقت میرا اپنا کوئی لہجہ نہیں بنا تھا۔ وہ غزل تھی:
غمِ جاناں کو ابھی اور ابھر جانا تھا
زہر بن کے مری رگ رگ میں اتر جانا تھا
آج تو ان کی نگاہوں میں بھی تھا لطف و کرم
آج تو گردشِ دوراں کو ٹھہر جانا تھا
ان کا آنا بھی تھا ہنگامۂ محشر کی مثال
ان کا جانا بھی قیامت کا گزر جانا تھا
اس دور میں، میں نے زیادہ تر غزلیں لکھیں جو’ ادبِ لطیف‘، ’صبا‘ اور’ تحریک‘ وغیرہ میں چھپتی رہیں۔ ان غزلوں میں سیف الدین سیفؔ اور ناصرؔ کاظمی کا بھی رنگ شامل تھا۔ شاید 1952ء تک میں اس قسم کی شاعری کرتا رہا۔ بڑی ہلکی پھلکی سی غزلیں لکھتا رہا۔ 1952ء کے بعد میں شاعری چھوڑ کر کاروبار اور دیگر عیاشیوں میں مصروف ہوگیا۔
فرحان حنیف: آپ شاعری سے کب تک روٹھے رہے؟
محمدعلوی: ہاں بتاتا ہوں۔1959ء تک یہ جمود طاری رہا۔1959ء میں دوبارہ شاعری نے اپنی طرف کھینچا اور پہلی مرتبہ میں نے چار پانچ نظمیں لکھ کر ’’سوغات‘‘ کے لیے محمود ایاز صاحب کو روانہ کردیں۔ خوش قسمتی سے محمود ایاز صاحب کو وہ نظمیں اچھی لگیں اور انھوں نے نام مخفی رکھ کر شہر یار سے ان نظموں پر تاثرات لکھوائے اور ’’سوغات‘‘ کے ’’جدید نظم نمبر‘‘ میں ان نظموں کو شامل کیا۔ قارئین نے اور ادبی حلقے نے ان نظموں کو سراہا اور اس طرح نظمیں لکھنے کا آغاز ہوا۔ 1959ء سے 1962ء تک میں زیادہ تر پاکستانی رسائل ادبِ لطیف، نصرت، نقوش، سویرا، نیادور اور سات رنگ وغیرہ میں چھپتا رہا۔ 1963ء میں محمود ایاز صاحب نے میرا پہلا شعری مجموعہ ’’خالی مکان‘‘ شائع کیا۔ یہ جدید شاعری کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔ حالانکہ ان دنوں خلیل الرحمن اعظمی، شہر یار، بلراج کومل، باقر مہدی، بشیر بدر، بمل کرشن اشک، قاضی سلیم، شاذ تمکنت اور وحید اختر جدید شاعری میں اپنی چھاپ چھوڑ چکے تھے ، لیکن شائع ہونے والا پہلا مجموعہ ’’خالی مکان‘‘ ہی تھا۔
فرحان حنیف: کیا’’خالی مکان ‘‘ کے بعد آپ نے حسبِ مزاج پھر خاموشی اختیار کرلی؟
محمدعلوی: (ہنستے ہوئے) جی ہاں۔ 1967ء میں الہ آباد سے شمس الرحمن فاروقی نے ’’شب خون‘‘ جاری کیا ____ فاروقی صاحب مجھے’’شب خون‘‘ کے ساتھ ایک رقعہ بھی روانہ کرتے جس میں نظمیں بھیجنے کی فرمائش ہوتی۔ لہٰذا 1967ء میں ایک بار پھر شاعری کا موڈ بنایا اور چند مہینوں میں اتنی شاعری کی کہ فاروقی صاحب نے 1968ء میں دوسرا شعری مجموعہ ’’آخری دن کی تلاش‘‘ شائع کیا۔
فرحان حنیف: ’’آخری دن کی تلاش‘‘ کے بعد شاعری یا موڈ کو پکڑنے کی تلاش کب شروع ہوئی؟
محمدعلوی: (زوردار قہقہہ ) اس بار یہ خاموشی1975-76تک چھائی رہی۔ بس کاروبار میں الجھا رہا۔ میں احمدآباد میونسپل کارپوریشن کا اے گریڈ کا کانٹریکٹر تھا۔ خوب دولت کمائی، کبھی کلب میں جاکر رمی کھیلتا، کبھی گھر والوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلا جاتا، کبھی دہلی جاکر دوستوں سے ملتا، کبھی ممبئی چلاآتا اور ٹیکسی لے کر ندافاضلی کو ڈھونڈتا، ندا کہاں ہے، کیسا ہے۔ باقر مہدی سے بھی خوب جمتی تھی۔ بہرحال 1975-76تک کچھ نہیں کہا،اور جب کہنا شروع کیا تو ایک نشست میں کئی کئی نظمیں اور غزلیں کہہ ڈالیں۔ 1978ء میں بلراج مینرا نے’’تیسری کتاب‘‘ شائع کی۔ اس کے بعد پھر گیپ آگیا ۔ 1992ء میں چوتھی کتاب’’ چوتھا آسمان‘‘ منظر عام پر آئی اور ساہتیہ اکیڈمی نے اسے ایوارڈ سے نوازا۔ 1995ء میں اردو ساہتیہ اکیڈمی گجرات نے ’’رات اِدھر اُدھر روشن‘‘ کلیات چھاپی اور اس کے بعد سے ایک بار پھر جمود طاری ہے۔ کبھی کبھار ایک آدھ نظم ہوجاتی ہے۔ گجرات بھوکمپ پر ایک نظم لکھی تھی ’’زلزلہ‘‘:
آنے سے پہلے کم سے کم
ایک خط تو بھیج دیا ہوتا
یا ٹیلی فون کیا ہوتا
ہم تیرا سواگت کرنے کو
گھر سے سڑکوں پر آجاتے
گھر یوں نہ ہم کو کھا جاتے
فرحان حنیف: علوی صاحب۔۔!۔۔ آپ ترقی پسند تحریک سے بھی منسلک رہے، اور آپ کا شمار جدید لب و لہجہ کے اہم شاعروں میں بھی ہوتا ہے، آپ نے ان دونوں تحریکوں کو کس روپ میں محسوس کیا؟
محمدعلوی: 1947ء کے بعد اردو کے مجموعی فکری نظام میں ایک تبدیلی آگئی تھی اور ترقی پسندوں نے اس تبدیلی کو۔ شکستِ خواب سے تعبیر کیا تھا، اور پھر جب فیض احمد فیضؔ کا یہ مصرعہ سامنے آیا:
؎۔۔یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
تواس شکستگی کو خود ترقی پسندوں نے بھی قبول نہیں کیا۔بہرحال اس تبدیلی سے انڈر کرنٹ تجسّس اور احساس کا ایک ماحول بنا اور ہندوستان سے قبل پاکستان میں نئے لب و لہجے کی تلاش شروع ہوگئی۔ پاکستان میں حلقۂ اربابِ ذوق کے سبب ہیئت کی تبدیلی ، نئے الفاظ کی تلاش، نئے پیکر اور نئی علامتوں کی کھوج کا آغاز ہوا۔ اِدھر ہندوستان میں ترقی پسند جوشؔ ملیح آبادی کی رہنمائی میں سرگرمِ عمل رہے۔ یہاں اجتماع سے بات کی جارہی تھی اور وہاں فرد کو بنیاد بناکر بات کی جارہی تھی۔ پاکستان میں مختارؔ صدیقی، ضیاءؔ جالندھری، یوسف ظفرؔ، قیوم نظرؔ اور میراجیؔ کی آوازیں حاوی تھیں۔ اگر دیکھاجائے تو جدید شاعری جو ہندوستان میں آئی ، وہ ترقی پسند اور حلقۂ اربابِ ذوق کے ملاپ کے ردِّ عمل میں آئی۔ اچھا اِدھر علی سردار جعفری کے اپنے ہیئتی تجربے بھی تھے۔ ترقی پسندوں میں فرد کی نفی کی جارہی تھی اور حلقۂ اربابِ ذوق میں سماج کی نفی کی جارہی تھی۔
جدید شاعری نے اپنے ورثے میں فرد اور سماج کا ایک متبادل روپ دینے کی سعی کی ہے۔ ناصرؔ کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، ابنِ انشاء، منیر ؔنیازی، عزیز حامدمدنیؔ، سلیمؔ احمد ،انتظار حسین اور باقر مہدی جدیدیت کے اہم نام ہیں۔ایک اور شاعر ہیں ڈاکٹر راہی معصوم رضاؔ انھیں کیوں نظر انداز کیا گیا مجھے نہیں معلوم۔ آرزوؔ لکھنوی نے ’’سنہری بانسری‘‘لکھتے وقت یہ احتیاط برتی تھی کہ اس میں فارسی اور عربی کے ثقیل الفاظ نہ ہوں، عام بول چال کے الفاظ ہوں:
اس نے بھیگے ہوئے بالوں سے جو جھٹکا پانی
جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
اب یہ شعر لب ولہجے کے لحاظ سے بہت خوبصورت ہے ، مگر اس کا مفہوم کیا اخذ کریں گے؟آرزوؔ لکھنوی تو کلاسک میں سے ہیں اور ادب میں ان کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے لب و لہجے کو مانجھا، صاف کیااور اسے عام بول چال کی زبان سے نزدیک کیا۔ ایک طرف جدید شاعری میں کئی چہرے ہیں۔ایک چہرہ وہ ہے جو اس زبان میں بات کرتا ہے جو عام بول چال کی زبان ہے۔ عام بول چال کی زبان میںشاعری کا جادو جگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔آج پاکستان میں جو زبان استعمال ہورہی ہے وہ وہی کلاسیکی زبان ہے۔
فرحان حنیف: اب تو جدیدیت کے ختم ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ خاص طور سے مابعد جدیدیت کے حوالے سے۔ علوی صاحب آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
محمدعلوی: وارث علوی کا ’’ذہن جدید‘‘ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے اس قسم کی باتوں کو تنقیدی اچھل کود سے تعبیر کیا تھا۔ ہر عہد کی اچھی شاعری جدید ہوتی ہے۔ اردو شاعری ہرعہد میں اپنے سماج کے حالات اور اس کے اتار چڑھائو کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ جدید شاعری تنہائی کا شکار ہے یا اقدار کی شکست کا نوحہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ عمیقؔ حنفی کی شاعری کو کس خانے میں رکھیںگے؟ محمد علوی کی شاعری کا بڑا حصّہ کس خانے میں رکھیں گے؟ میں نے رام اور ایودھیا دونوں پر نظم لکھی ہے۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں ایک عہد ختم ہوگیا۔ غالبؔ کی شاعری اچھی شاعری ہے اور وہ آج بھی جدید ہے۔ جوشاعری وقت کے ساتھ پرانی ہوجاتی ہے وہ نہ جدید ہوتی ہے اور نہ ہی قدیم ، وہ صرف بری شاعری ہوتی ہے۔ شہریار، محمد علوی اور ندا فاضلی جدیدیت یا مابعد جدیدیت سے نہیں، بلکہ اپنی شخصیت اور شاعری سے پہچانے جاتے ہیں۔
———————————-