Aesthetic of Absurd: Miraji by Moid Rasheedi

Articles

ابہام کی جمالیات : میراجی

معید رشیدی


[شعر خوب معنی ندارد…بیدلؔ]

شعری دھند میں لپٹی ہوئی دوآوازیں ہیں…میرجی اورمیراجی۔دوسایے ہیں جو ہمارے تعاقب میں ہیں اور ہم ان کے تعاقب میں۔داستان رات اور سایے کی ہے۔رات انسان کی پہلی شناخت ہے۔سایہ آدمی کا پہلاہمزاد ہے۔سایے کی رات کتھادھند کے خمیر سے پھوٹی ہے۔یہ زمین بنجرہے!۔یہاں سوال اگتے ہیں:
جانے کس پاتال سے آئے
دھندلی رات کے دکھیا سائے
پاتال،رات اور سایہ…تینوں علامتیں ہیں۔معنوی اعتبارسے نہایت دبیز۔ان کی وجودی تعبیرمعنی کو وہ سمت عطاکرتی ہے جہاں لفظ’گنجینۂ معنی کاطلسم‘بن جاتاہے۔اس شعر کے توسط سے جب ہم نے میراجی کو سمجھنا شروع کیاتومحسوس ہواکہ یہ شخص دیوانہ ہے۔سوالات بہت کرتاہے،اورسوالات بھی ایسے کہ اس کے ہر سوال میں سوالوں کی ایک دنیاآباد ہے۔دھندلی رات کادکھیاسایہ دھرتی کے پاتال تک پہنچنے کی کوشش میں ماراماراپھرتاہے:
نگری نگری پھرامسافرگھرکارستہ بھول گیا
کیاہے تیراکیاہے میرااپناپرایابھول گیا
آوارگی ابہام کاچہراہے۔دھندلی رات کے دکھیاسایے نے ابہام کی چادر اوڑھ لی ہے۔ابہام کیاہے؟یہ کوئی صنعت نہیں۔ہرلفظ اس وقت تک مبہم اوربے معنی ہے جب تک ہم اسے مفروضوں کے ذریعے بامعنی نہ بنائیں۔ابہام لفظ کے خمیر میں ہے۔یہ مانوس و نامانوس کاایک سلسلہ ہے جس میں شاعر زندگی کے تجربوں کواجنبیاتاہے۔ابہام معنی کے طرفوں کوکھولنے کے لیے متن کی قرأت کاطریقہ بھی فراہم کرتاہے۔یہ طریقہ سوال سے شروع ہوکر سوال ہی پر ختم ہوجاتاہے۔ابہام کے پاتال میں چھپی زندگی خود سب سے بڑاسوال ہے۔توپھرابہام سے مفرکہاں؟قرأت کاتجزیاتی نظام ہرلفظ کومعنوی اساس پر پھیلنے کا موقع عطاکرتاہے۔استعارہ لفظ کے معنوی امکانات کو پھیلانے کاعام ذریعہ ہے۔زبان کی اساس استعاراتی ہے۔مفروضہ جب روزمرہ کاحصہ بن جاتاہے تو اس کی استعاراتی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔اس لیے ہرنیااستعارہ مشاہدے کی ندرت کوپیش کرتاہے۔شاعری زبان کامعجزہ ہے۔اس لیے ادبی تخلیق پر ہونے والی ہربحث کاآغاز لسانی بنت کے مسائل سے ہوتاہے۔لفظ ومعنی کے رشتے کوسمجھے بغیر معنوی رعایتوں کی تفہیم ادھوری ہے۔ہراستعاراتی پیکر مشاہدات کے متعدد اجزاسے باہم مربوط ہوتاہے۔انھی اجزاکی کثرت سے رعایتیں وجود میں آتی ہیں۔چونکہ مجازکی تمام صورتیں ابہام کی کوکھ سے پیداہوئی ہیں،اس لیے قاری کا ذہن ان صورتوں سے آشناہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ہرقاری متن سے مطابقت کانیاقرینہ ڈھونڈتاہے۔
ابہام شعری خواص کوتوانابناتاہے،کیونکہ یہ شاعری کی جڑوں میں پیوست ہے۔یہ ذہن کی مستقل حالت ہے۔انسانی ذہن ہمیشہ شک،واہمہ یامبہم کیفیات کاشکار،رہتاہے۔عبیداللہ علیم کی ایک تقریب میں جون ایلیانے کہاتھاکہ شاعری اظہارذات نہیں،بلکہ ہیجانِ ذات کااظہارہے۔یہ دراصل ذات کے حوالے سے ذہنی ہیجان کامعاملہ ہے جواکائی کی صورت کسی تخلیقی متن میں اپنی تمام ترکثرت کے ساتھ متشکل ہوتاہے۔کوئی بھی نظم،چاہے اس کابیانیہ جتنابھی سپاٹ ہو،ابہام سے مبرانہیں ہوتی۔نظم کاکوئی بھی مطالعہ شرح،تعبیریاتجزیے کے لیے نہ صرف ابہام کے درجات سے ہوکرگزرتاہے،بلکہ ان میں الجھتابھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تخلیقی متن کی قرأت ایک نوع کامجاہدہ بھی کہلاتی ہے۔قرأت کی پیچیدگیاں باذوق قاری کو مسرت بہم پہنچاتی ہیں۔میراجی کی شاعری میں ابہام ایک پاتال ہے۔فکری بنت،دھندلی رات کی مانند ہے اور دکھیاسایہ ان کامرکزی شعری کردار۔اسی لیے ابہام کی جمالیات کو ہم نے ان کی شاعری کاسرنامہ بنایاہے۔قرینہ یہ ہے کہ باغی اور وحشی تخیل والایہ دکھیاسایہ دھندلے اوراندھے نغموں میں راتوں کی کہانی سناتاہے:
آؤ۔اپنے باغی،وحشی تخیل کی
دھندلے،اندھے نغموں میں
سن لوکہانی راتوں کی۔ [مدھوری بانی]
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
قصہ گوئی کی تاریخ/تصور،رات ہی سے وابستہ ہے۔انسان نے اپنی اساطیر کوتخیلی حکایات میں پہچانا۔رات کتھاکابیانیہ سادہ ہوہی نہیں سکتااوریہاں تورات کاہرلمحہ خون بن کر تجربے کی آنکھوں سے رس رہاہے۔سرخ وسیاہ کے اس جنگل میں ایک سادھوآسن جمائے،دھونی رمائے پریم کے منتر پڑھ رہاہے۔الفاظ زبان سے اداہورہے ہیں اورمعنی کاچشمہ اداس آنکھوں سے پھوٹ رہاہے۔من مندر میں ایک دیوی ہے جس کے علم میں بنگال کاجادوہے۔روایت ہے کہ اس کے شہر میں جانے کے کئی راستے ہیں،واپس آنے کاکوئی راستہ نہیں۔اب سادھواس شہرکافقیربن چکاہے۔وہ اس شہر کی سانولی مٹی میں ضم ہوچکاہے۔اسی مٹی سے کالی بنتی ہے اورمیراسین کامیراجی کالی[رات]کی کہانی سنارہاہے:
رات اندھیری،بن ہے سونا،کوئی نہیں ہے ساتھ،
پَوَن جھکولے پیڑ ہلائیں،تھرتھرکانپیں پات
دل میں ڈرکاتیرچبھاہے،سینے پرہے ہاتھ،
رہ رہ کرسوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات؟ [نارسائی]
واہمہ کے دشت میں میراجی کاتخیل ارضی پیکرتراشتاہے۔ان کاارضی بیانیہ قدیم وطویل ہندوستانی تہذیب کے سلسلوں سے عبارت ہے۔ان کاکلام انھی سلسلوں کامظہرہے۔ابہام کی جمالیات نے ان کے تخیل کودبازت عطاکی ہے۔ان کی قرأت میںمعنوی پہلوؤں کی دریافت کے لیے ابہام کے مدارج کوطے کرناہے۔ابہام اورایہام میں فرق ہے۔ایہام[Pun]ایک شعری صنعت ہے جس میں ایک لفظ کے دومعنی مراد لیے جاتے ہیں۔ایک قریب کاہوتاہے،دوسرابعید کا،اورلکھنے والے کی مراد بعیدمعنی سے ہوتی ہے۔Ambivalenceبھی اسی سے مشابہ ہے۔یہاں دونوں معنی ایک دوسرے سے جداہونے کے ساتھ محدود ہوتے ہیں،جبکہ ابہام کثرت ِ معنی پردال ہے۔ابہام کی تعریف میں مارکسی نقادٹیری ایگلٹن لکھتاہے:
Ambiguity happens when two or more senses of a word merge into each other to the point where the meaning itself becomes indeterminate.(1)
یعنی ابہام معانی کاانضمام ہے۔کسی سیاق یاتناظر میں کوئی مبنی برابہام لفظ اپنے لغوی معنی [Literal Sense]میںاستعمال نہیں ہوتا۔ایک لفظ سے جب کئی معنی دریافت ہوں تومجازاپناسایہ وسیع ترکرلیتاہے۔کسی مخصوص/لغوی معنی سے تجاوزشعری عناصر[تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازمرسل، تمثیل، مبالغہ،علامت وغیرہ]کی تشکیل کاموجب بنتاہے۔بنیادی چیز تخیل ہے۔قوتِ واہمہ[Fancy]اس کاغیر منقسم حصہ ہے۔واہمہ مختلف معانی میں ارتباط پیداکرتاہے اورمنضبط قوتِ حاسّہ اسے صحیح سمت عطاکرتی ہے۔واہمہ ابہام کی کلید ہے۔ابہام عام گفتگو میں بھی درآتاہے،لیکن سب سے مبہم شعری زبان ہوتی ہے جس کاہرجزاپنی فطرت میں جدلیاتی ہوتاہے۔شمس الرحمن فاروقی کاخیال ہے:
اجمال اور جدلیاتی لفظ کے بعد ابہام شاعری کی تیسری اورآخری معروضی پہچان ہے۔[موزونیت اوراجمال کی موجودگی ہمیشہ فرض کرتے ہوئے]ہم یہ کہہ سکتے ہیں اگرکسی شعر میں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں،لیکن جس طرح تنہاجدلیاتی لفظ شعرکوشاعری میں بدل دیتاہے،اسی طرح تنہاابہام بھی شعر کوشاعری بنادیتاہے۔شعر میں ابہام یاتوعلامت سے پیداہوتاہے یاایسے الفاظ کے استعمال سے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹ سکیں۔جتنے سوالات اٹھیں گے شعراتناہی مبہم ہوگااوراتناہی اچھاہوگا۔(2)
یعنی اجمال اورجدلیاتی لفظ کی طرح ابہام بھی شاعری کامستقل جزہے،اوریہ تینوں شاعری کی معروضی شناخت مقرر کرتے ہیں،لیکن ابہام بذاتِ خود کبھی معروضی نہیں ہوتا۔[یعنی] ابہام کی معروضی شناخت ممکن نہیں،کسی مبنی برآہنگ شعری متن میں ابہام موجودہوتواسے شاعری کہاجاسکتاہے۔ابہام شاعری کی آخری معروضی شناخت نہیں،بلکہ یہ پہلی شناخت ہے اورشاعری کی اولین شرط بھی۔فاروقی صاحب بجافرماتے ہیںکہ اگرکسی شعرمیں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ہمارے خیال میں ابہام پہلے آتاہے،جدلیاتی لفظ بعدمیں۔اس لیے کہ جدلیاتی لفظ کی بنیاد ہی ابہام پرہے۔وہ کون سااستعارہ ہے جس سے ایک سے زائد سوالات پیدانہیں ہوتے؟اگرسوالات پیداہوتے ہیں تواس کی وجہ ابہام ہے۔اس طرح اس کی اولین حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔چوں کہ جدلیاتی لفظ از خود مبہم ہوتاہے،اس لیے ترسیل کا مسئلہ بھی پیداہوگا۔ابہام میں ابلاغ کاعمل جمالیات کوبھی طے کرتاہے۔
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
اکثر کہاجاتاہے کہ فلاں شعر/نظم مہمل ہے۔ابہام سے شعر نہ توچیستاں بنتاہے اور نہ ہی مبالغے سے کوئی شعرلغویات کے دائرے میں آتاہے۔ہرشعرمہمل نہیں ہوتا۔قصور تواپنی تفہیم کابھی ہوتاہے۔کوئی خیال کسی کے لیے مہمل ہوسکتاہے،لیکن وہی خیال دوسروں کے لیے بھی مہمل ہو،کوئی ضروری نہیں۔مبالغہ ابہام کے بطن سے نکل کر استعارے کی وجودیات میں داخل ہوجاتاہے۔ابہام نہ تواہمال ہے اور نہ اِشکال۔اہمال’مہمل گوئی‘کوکہتے ہیں،جبکہ ابہام معنی خیزی کاعمل ہے۔یہاں کوئی نہ کوئی معنی ضرورنکل آئے گا۔اِشکال میں کوئی خیال مشکل ضرورہوتاہے،ناقابلِ فہم نہیں۔بعض حوالوں سے یہ مشکل دورہوسکتی ہے۔کہاجاتاہے کہ’شاعری انکشاف ہے اسی لیے مبہم ہے۔‘کسی پرمہملیت کالیبل لگانابہت آسان ہے۔جب آدمی بشیربدراوراحمدفرازکوپڑھنے کاعادی ہوجاتاہے تواسے ن۔م۔راشداورمیراجی کی شاعری تومہمل معلوم ہوگی ہی۔ہم نے بعض لوگوں کوکہتے سناہے کہ میراجی مہمل بکتے ہیں۔کچھ لوگوں کویہ شکایت ہے کہ جس طرح فیض ہماری زبان پررہتے ہیں،میراجی نہیں رہتے۔ان کاکلام زبان زدنہیں ہوتا۔بھئی زبان زد توچٹکلے بھی ہوجاتے ہیں۔توشاعری اورلطیفے میں کیافرق ہے؟فیض کامیراجی سے کوئی موازنہ نہیں۔دونوں اپنے ڈھب کے شاعر ہیں۔میراجی کاکلام اگریاد نہیں رہتاتواس میں ان کاکوئی قصورنہیں۔میراجی وجودکاشاعرہے۔وہ مٹی میں چھپے پاتال میں لے جاناچاہتاہے۔جب زندگی ہی مبہم ہے تومیراجی سے کیوں مطالبہ کیاجائے کہ ان کے مطالب آسان ہوں؟ فاروقی صاحب نے پرلطف بات کہی ہے کہ :
ذاتی طورپرمیں کسی شاعری کومہمل کہنے سے اتناہی ڈرتاہوںجتناکوئی مسلمان دوسرے مسلمان کوکافرکہنے سے ڈرتاہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میںکفرکافتویٰ ہمیشہ سے بہت سستارہاہے،اورآج بھی ہے۔(3)
اب تک کی گفتگومیں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ابہام کی شناخت کیوں کرمقررکی جائے؟ابہام کی دبازت علامت ہے۔علامت میں تشبیہ،استعارہ یاتمثیل کامفہوم شامل ہوتاہے۔یہ استعارے سے زیادہ عمیق ہے۔علامت اپنے تمام انسلاکات کے ساتھ ظاہرہوتی ہے۔فرض کیجیے کہ’ آسمان‘،زمانے کااستعارہ ہے،لیکن اس میں عظمت،وسعت،تحرک،تغیر،وقت،جیسے تمام مفاہیم بھی موجود ہیں۔آسمان،خداکابھی استعارہ ہوسکتاہے اورظالم کابھی۔اس کی کیفیت کی مناسبت سے مفاہیم بدلیںگے،لیکن یہی آسمان جب علامت کے معنی میں لیاجائے گاتواس میں یہ سارے معانی مراد لیے جائیںگے۔
ابہام پرگفتگومیں سرولیم ایمپسن کی کتاب’Seven Types Of Ambiguity‘اہم حوالہ ہے۔یہ کتاب ایمپسن نے اس وقت لکھی جب وہ بائیس برس کے بھی نہیں تھے۔جب وہ چوبیس سال کے ہوئے توپہلی بار یہ کتاب 1930میں شائع ہوئی،اورجدیدادبی تنقید میںسنگ میل قراردی گئی۔ایمپسن نے ابہام کو سات حصوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ درجہ بندی کی۔اس نتیجے پرپہنچے کہ ابہام شاعری کے خمیرمیں ہے۔ابہام کی تعریف میںلکھتے ہیں:
‘Ambiguity’ itself can mean an indecision as to what you mean, an intention to mean several things, a probability that one or other or both of two things has been meant, and the fact that a statement has several meanings.It is useful to be able to separate these if you wish, but it is not obvious that in separating them at any particular point you will not be raising more problem than you solve.(4)
ایمپسن نے ابہام کی جمالیات کواسلوب کی لطافت سے تعبیر کیاہے۔ہماراخیال ہے کہ ابہام توبت ہزارشیوہ ہے۔اس تک رسائی کے محض سات نہیں،ہزاروں درہیں۔اس کی تہ میں اترنے کی کوشش میں قاری مزید الجھتاجاتاہے،اورمعنی التوامیں رہتاہے۔
کچھ لوگ ابہام کے بڑے مخالف ہیں ۔میراجی اور راشد کی شاعری کے مطالعے میں ابہام کا ذکر شدو مد سے کیا جاتا رہاہے ۔یہاں سلیم احمد کے دو مضامین کا حوالہ دینا مناسب معلوم پڑتا ہے ۔ ’ابہام کیوں ؟‘ اور ’ ابہام اور بازی گری ‘ ۔ انھوں نے ابہام کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا ہے اور اس نوع کے سوالات قائم کیے ہیں :
·ہمیں ایک نظم مبہم معلوم ہوتی ہے ۔ اس کا کیا سبب ہوتا ہے ؟
·[قاری کے ساتھ] شاعر بھی ابہام میں مبتلاہوتا ہے ۔ کیوں ؟
·ابہام کی فنی ضرورت کیا ہے ، یعنی دانستہ ابہام کی غرض و غایت کیا ہے ؟
سلیم احمد نے ابہام کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لینے کی بساط بھر کوشش کی ہے اور ابہام کو الہام سے ملاکر دیکھا ہے :
شاعری کے کسی سنجیدہ طالب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ شاعری اپنی آخری حدود میں ’’حقیقت نامعلوم‘‘ کا اشاریہ ہے ۔ یہ حقیقت اظہار اور ابلاغ سے گریزاں ، اور طالب ِ اخفا ہے ۔ اس کی فطرت ہی یہ ہے کہ ظاہرہونے سے بچتی ہے ۔ مگر شاعری ہمیشہ اس حقیقت پر کمند انداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ۔ یہ حقیقت تو قابو میں نہیں آتی مگر شاعری ایک ایسا آئینہ ضرور تیار کردیتی ہے جس میں اس کا عکس جھلملانے لگے یا کم از کم وہ نیم ظاہر ہوجائے ، گھونگھٹ میں چھپے ہوئے محبوب کی طرح حقیقت کی یہ جلوہ نمائی شاعری کو الہام بنادیتی ہے ۔ الہام ابہام کے بغیر ممکن نہیں ، اور راز کھل کر بھی راز ہی رہتے ہیں ۔(5)
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
شاعری کو الہام کہاجاتارہاہے ۔ یہ ایک الگ نظریہ ہے ۔ شاعری الہام ہے یا نہیں ، الگ بحث کا موضوع ہے ، لیکن اس بحث میں بعض اختلافات کے باوجود جو نکتہ اہم ہے وہ ابہام کا اعتراف ہے ، کیونکہ یہاں الہام کا دارومدارہی ابہام پر رکھاگیا ہے ۔[ایہام سے قطع نظر ] نظری سطح پر ابہام کے مطالعے کا چلن میراجی اور راشد کی شاعری کے جائزے سے ہوا۔ ایک گروہ نے ابہام کی حمایت کی اور دوسرے نے سخت مخالفت ۔ اس معرکے میں ابہام کی نظری اساس کو استحکام حاصل ہوا۔سلیم احمد کا مضمون ہے ’ ابلاغ کا مسئلہ ‘ ۔ اس میں انھوں نے وزیر آغاکے مضمون ’ ابلاغ سے علامت تک ‘ پر گفتگو کرتے ہوئے شاعری میں ابلاغ کے مسئلے کوالہام [ غیر اناکا شعور]کے حوالے سے سلجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے نزدیک تخلیق ،داخلیت [غیر انا کا شعور] سے خارجیت [ انا کا شعور ] کے سفر کا نام ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ تخلیقی امیج پوری تخلیقی شخصیت کا نچوڑ ہوتی ہے ۔ انھوں نے وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی کی شاعری کو بری شاعری کا نمونہ اس بنیاد پر قرار دیا کہ ان کے یہاں ’غیر انا‘ کا شعور ’انا‘ کے شعور سے مکالمے پر تیار نہیں ہوتا اور اسی لیے ان کی شاعری میکانکی ہوجاتی ہے ۔ انھوں نے ’ فکر کا طاعون ‘ والے مضمون میں فاروقی صاحب سے اپنے اختلافات واضح کیے ہیں ۔اس ضمن میں فاروقی صاحب کے تین مضامین حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’ تعبیر کی شرح ‘ ، ’ترسیل کی ناکامی کا المیہ‘ اور ’ شعر کا ابلاغ ‘ ۔ان مضامین کا براہِ راست تعلق ابہام سے ہے ۔ متن سے معنی کشید کرنے کا عمل تعبیر کہلاتا ہے ۔ تعبیر کے مختلف وسائل ہیں۔تعبیر کے عمل میں معنی کشید کرنے کا مرکزی وسیلہ ابہام ہے ۔تخلیقی سطح پر اظہار ، ترسیل اور ابلاغ کے تینوں مراحل میں زیریں لہر کے بطور ابہام موجود ہوتاہے ۔ ادبی تخلیق میں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے وجدان کو اپنے اوپر مکمل طور پر ظاہر کرلیاہے ؟کیا اس بات پر کوئی مصر ہوسکتا ہے کہ اس کے اظہار نے مکمل ترسیل حاصل کرلی ہے ؟ کیا اس پہلو پر کوئی اَڑ سکتا ہے کہ اسے تخلیقی متن کا پور ا ، ابلاغ ہوچکا؟ترسیل کی ناکامی کے لیے مصنف کو قصور وار ٹھہرانے سے پہلے تھوڑے توقف کے ساتھ غور کرلینا چاہیے کہ متن کا تشکیلی نظام کیا کہتا ہے اور متن کی قرأت کیسے کی جائے ؟ ہر متن ایک ہی زاویے سے نہیں پڑھاجاسکتا۔میراجی کا متن ترسیل کی ناکامی کا المیہ نہیں ؛ ابہام کی جمالیات کا محورہے ۔ محمد حسن عسکری نے میراجی پر خاکہ لکھتے ہوئے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ لوگوں کو میراجی سے شکایت رہتی ہے کہ وہ سمجھ میں نہیں آتے ۔ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے پڑھنے والوں کا خیال نہیں رکھا۔ اس نوع کی باتیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔
کلیات میراجی کی پہلی نظم ہے ’چل چلاؤ‘۔موضوع ’بے ثباتی ِ دنیا‘۔اس موضوع پر شاعری کا انبار ہے۔میرؔ جی نے تو ہستی کوحباب اور اس کی نسبت ، نمائش کو سراب سے تعبیر کیا ہے۔میر کے ہم عصر نظیر نے بھی کہا ہے ۔’سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا /جب لاد چلے گا بنجارہ‘۔ولی نے بھی خدو خال کی بات کو خال خال بتا کر زندگی کو دردو غم سے جوڑ دیا ہے۔میرجی سے میراجی تک کے سفر میں بے ثباتی ِ دنیا کا موضوع پامال بھی بہت ہوا۔شیلی بھی کہہ کر چلا گیا:
Our sweetest songs are those that tell of sadist thought
اس طرح درد و غم کے اظہار پر شاعروں کا اجارہ ٹھہرا۔حزنیہ اظہار شعر گوئی کا فیشن بھی قرار پایا۔جب تک درد کی جبلت کو محسوس نہ کیا جائے۔جب تک غم کی ماہیت سے ہوکر نہ گزراجائے۔اسے اپنے باطن میں کیسے اتارا جاسکتاہے؟ہاں صاحب ، میراجی غم کاشاعر ہے۔دکھوں کو اس نے پہچان لیاہے۔درد اس کے درون میں ہے۔غم اس کے وجود میں ہے۔وہ اپنے تخیل کو وحشی کیوں کہتا ہے؟راتوں کی کہانی کیوں سناتا ہے؟یہ کیسا عاشق ہے جو محبوب کی چوٹی اور کمر کا مقتول نہیں؟اس کے یہاں محبت پوجا بن گئی ہے اور اس محبت سے پھوٹنے والاہر منطقہ اس کے لیے مقدس ہے۔
میراجی کی شاعری عشق کا صحیفہ ہے۔اس جوگی نے دنیا کو ہزار رنگ میں دیکھا،لیکن:
’بس دیکھا اور پھر بھول گئے‘
کیوں؟اس لیے کہ کسی منظر کو ثبات نہیں۔’چل چلاؤ‘ ایک ’ لمحے ‘ کی جمالیات کو محسوس کرنے کا تجربہ ہے۔زندگی کو دیکھنے کے بے شمار زاویے ہیں۔قطرے میں دریا کی تلاش تصوف کا علاقہ ہے۔جز کو عظیم کُل کا حصہ سمجھنا اہل تصوف کا شیوہ رہاہے۔زندگی کا ہر لمحہ حیات ِ کُل کاایک جز ہے۔فانی نے کہا ہے:’ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی/ زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا‘۔غالب نے بھی کہا ہے:’عشرت ِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا‘۔غالب جادہ ٔ راہ ِ فنا کو عالم کے اجزاے پریشاں کا شیرازہ بتاتے ہیں۔میراجی نے عرصۂ حیات کے ، ایک لمحے میں سمٹنے کا تجربہ کیا ہے :
ہر منظر ، ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کا
اک پل کو ہمارے بس میں ہے ، پل بیتا ، سب مٹ جائے گا،
اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو ،
تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو؟
کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی ؟

ہے چاند فلک پر اک لمحہ ،
اور اک لمحہ یہ ستارے ہیں ،
اور عمر کا عرصہ بھی ، سوچو ! اک لمحہ ہے !
[چل چلاؤ]
میراجی نے عرصۂ حیات کو ایک لمحہ سمجھنے کے ساتھ ہستی کو ایک ذرہ بھی تصور کیا ہے ۔مسرت کے فلسفے میں زندگی کو خواب سے تعبیر کرکے انھوں نے مسرت کے خوف کا ادراک کیا ہے ۔اس دنیا میں ہرشخص مسرت کی تلاش میں ہے لیکن وہ مسرت سے خوف کھاتے ہیں ۔اس لیے کہ کہیں یہ مسرت زندگی کو خواب نہ بنادے ۔مسرت میں جو رومان کا پہلو ہے وہ خواب کی کیفیت کو جلا بخشتا ہے ۔شکست ِ خواب ان کے یہاں کرب انگیز تجربہ ہے ۔خواب بہر حال خواب ہے ۔ہر خواب حقیقت نہیں بنتا۔خواب کا ٹوٹنا میراجی کے یہاں دل کا ٹوٹنا ہے ۔انھیں معلوم ہے کہ ہر مسرت فانی ہے ۔اس لیے اس تجربے سے گزرنے میں انھیں ڈر کا احساس ٹیسیں مارتا ہے :
میں ڈرتا ہوں مسرت سے ،
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں ، کائناتی نغمہ ٔ مبہم میں الجھا دے ؛
کہیں یہ میری ہستی کو بنادے خواب کی صورت ؛
[میں ڈرتا ہوں مسرت سے ]
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کائنات کے نغمۂ مبہم میں الجھنا نہیں چاہتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر پل انھی نغموں میں گھرے ہوئے ہیں جن میں کائنات کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔وہ ابہام کو بعض اوقات شعوری طور پر موزوں کرتے ہیں ۔ان کی بعض نظمیں پہلی قرأت میں آسان معلوم پڑتی ہیں لیکن جب تہہ میں اتر نے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے ۔ان کی ایک نظم ہے ’سمندر کا بلاوا‘ ۔اس کی مختلف تعبیریں کی گئی ہیں ۔سمندر یہاں کلیدی وجودی علامت ہے ۔متکلم داخلی وجودی کردار ہے ۔بعض حضرات سمندر کو ماں کی علامت بتاتے ہیں کہ میراجی نے اپنی ماںکی یاد میں یہ نظم لکھی تھی ، لیکن اس طرح تو نظم ایک سیاق میں مقید ہوجاتی ہے ۔اس نظم کے کوڈز کو جب ڈی کوڈ کیا جاتا ہے تو معنی کی کئی نمایاں لہریں ابھرتی ہیں ۔ان لہروں میں بہہ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور یہ معنی کی سیال کیفیات کی وجہ سے ہیں۔سرگوشیوں سے شروع ہونے والی اس نظم میں آوازوں کی چمک ، دھمک ، شور اور اسرار کا جال پھیلا ہوا ہے ۔’صدا‘ اور ’ندا‘ دو بنیادی ذیلی علامتیں ہیں:
مگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھارہی ہے
یہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دیے جارہی ہے
عموماً صدا اور ندا کو ہم معنی تصور کیا جاتا ہے لیکن لغت اور علامت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔صدا پر ندا غالب ہے ۔صدا زندگی اور ندا موت ہے ۔اگر آپ اسے رد کرتے ہیں تو صدا خارج اور ندا باطن کا بلاوا ہے۔ اگر آپ اسے بھی رد کرتے ہیں تو صدا فانی ہے اور ندا لافانی تجربہ ہے ۔ ہر اک شے سمندر سے آئی اور سمندر میں جاکر ملے گی تو اس سمندر کا بلاوا وجود کا بلاوا ہے ۔سمندر کی ندا قطرے کی صدا سے ٹکرا رہی ہے :
یہ اک گلستاں ہے …ہوا لہلہاتی ہے ، کلیاں چٹکتی ہیں /…
یہ پر بت ہے …خاموش ساکن /…
یہ صحرا ہے …پھیلاہوا ، خشک ، بے برگ صحرا /…

نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
گلستاں ہو ، پربت ہو کہ صحرا، تینوں دبیز علامتیں ہیں ۔ ان میں زندگی کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ گلستاں میں ہواکا لہلہانا، کلیوں کا چٹکنا ،غنچوں کا مہکنا، پھولوں کا کھلنا …یہ سب زندگی اور بقا کی علامتیں ہیں لیکن انھیں پائداری میسر نہیں ۔بہار کے بعد خزاں کا دور بھی آتاہے ۔پربت کے دامن میں وادی ہے ۔وادی میں ندی ہے ۔ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہے ۔ندی زندگی کی علامت ہے ۔اس کی حرارت میں ناؤ کا بہنا زندگی کا رومان ہے لیکن ناؤ بہتے بہتے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔منظر ، پس منظر میں چلاجاتا ہے ۔حال سے ماضی بننے کا سفر تاریخ کے جبر کو بھی ہویدا کرتا ہے ، اس کے فنتاسی کو بھی اوراس کے اثبات کوبھی ۔صحرا کے بگولوں سے بننے والے عکس مجسم بھی زندگی کی رمق لیے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اک پل کو یہ متشکل ہوتے ہیں اور جیسے ہی طوفان اٹھتا ہے یا تند ہوا چلتی ہے تو عکس ِ مجسم بکھرجاتے ہیں ۔یہ فنا کی منزل ہے ۔یعنی ہر شے فانی ہے ۔تغیر مادّے کی فطرت میں ہے ۔مادہ ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہوتا ہے ۔ختم نہیں ہوتا ۔فنا اور بقا ،دونوں مستقل حالت نہیں ہیں ۔ہر بقا کو فنا کے رستے ہوکر گزرناپڑتا ہے ۔بہار کے بعد خزاں ہے لیکن خزاں کے بعد نئی بہار بھی تو ہے ۔ہرشے سمندر سے آئی ،سمندر سے جاکر ملے گی ۔سمندر زندگی کی نہایت عمیق علامت ہے ۔یہ زندگی کا منبع ہے ۔سمندر وقت کی بھی علامت ہے ۔شاعر پر یہ راز کھل چکا ہے کہ ثبات محض تغیر کو ہے ۔ہر شے مدارج ِ انتقال سے گزرتی ہے ۔اس لیے شاعر کی نظر اب نہ صحرا پر ہے ، نہ پربت پر اور نہ کسی گلستاں پر۔شاعر تو پیڑوں کے ایک جھرمٹ پر اپنی نگاہیں جمائے ہوا ہے ۔جھرمٹ جہاں ہر درجے کے پیڑ موجود ہیں۔مختلف رنگ، نسل اور جسامت کے ۔ ایک پیڑ گرتا ہے تو وہیں کوئی نو نہال سر اٹھاتا ہے ۔اجتماع تہذیب کابھی نقش ہے ۔یہاں ہر وحدت ، کثرت کا حصہ ہے ۔جس طرح فرد سماج کااور جس طرح قطرہ سمندر کا حصہ ہے :
نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
جب شاعر یہ کہتا ہے کہ ’ تو پھر یہ ندا آئینہ ہے ، فقط میں تھکا ہوں ‘ ، تو آئینے کا طلسم ٹوٹتا ہے ۔ نداآئینہ ہے اور آئینہ وجود ۔جسم مرتا ہے ، روح منتقل ہوتی ہے ۔اسی طرح آئینے میں عکس کچھ دیر کو ٹھہرتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے ۔آئینہ قائم رہتا ہے ، چہرے بدل جاتے ہیں ۔
’دن کے روپ میں رات کہانی ‘، ’جاتری ‘، ’محبت‘ ، ’ اونچا مکان ‘ ، ’ عکس کی حرکت ‘ ، ’ شام کو ، راستے پر ‘ ، ’ اُفتاد‘ ، ’ محبوبہ کا سایہ ‘ ، ’ فنا ‘ جیسی دیگر تمام نظمیں ابہام کی جمالیات میں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں:
لیکن یہ رنگ خیالوں کے اب میری نظر میں سایہ ہیں
سب بیتی رات کا جادو ہیں ، سب پچھلے جنم کی مایا ہیں [محبوبہ کا سایہ ]
جس جگہ آکے ازل اور ابد ایک ہوئے تھے دونوں ،
ایک ہی لمحہ بنے تھے مل کر [بعدکی اڑان ]
رات اک بات ہے صدیوں کی ، کئی صدیوں کی [دن کے روپ میں رات کہانی ]
یہ لہریں ہیں ، انھیں نسبت ہے کالی رات کے غمناک دریا سے [سرسراہٹ]
میراجی کی شخصیت اور شاعری دونوں کے ساتھ ابہام کا گہرا رشتہ ہے۔میراجی کی موت پر منٹو نے کہا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر سے مرتا تو یقیناً اس کی موت بھی ایک درد ناک ابہام بن جاتی۔منٹو نے میراجی کے ’تین گولے‘ والے خاکے میں لکھا ہے کہ اس کے سارے وجود میں ایک ناقابل ِ بیان ابہام کا زہر پھیل گیاتھاجوایک نقطے سے شروع ہوکرایک دائرے میں تبدیل ہوگیاتھا،اس طور پر کہ اس کاہرنقطہ اس کا نقطۂ آغاز ہے اوروہی نقطہ ، نقطۂ انجام۔

حواشی
(1)Terry Eagleton,How to read a poem,Indian edition 2007,Blackwell Publishing,P:125
(2)شمس الرحمن فاروقی،شعر،غیرشعراورنثر،2005،قومی کونسل براے فروغ اردوزبان،نئی دہلی،ص:96
(3)ایضاً
(4)William Empson, Seven Types Of Ambiguity, 1949,Chatto and Windus,London,P :5-6
245-246،اکادمی بازیافت ، کراچی ،: پاکستان ، ص ص: 2009سلیم احمد، مضامین سلیم احمد، مرتبہ: جمال پانی پتی ، (5)

Majrooh and Progressive Movement by Farooqui

Articles

مجروحؔ سلطان پوری اور ترقی پسند تحریک

شمس الرحمٰن فاروقی

مجروحؔ سلطان پوری اس بات سے متفق نہ ہونگے ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے منسلک ہونے کی وجہ سے انھیں جو شہرت اور عزت ملی اس کی قیمت سے بہت زیادہ قدر و قیمت کے حامل شعر کہہ کر انھوں نے خود ترقی پسند غزل کی توقیر بڑھائی۔بہ الفاظ دیگر مجروحؔ سلطان پوری کی عزت ترقی پسند تحریک کے باعث نہیں بلکہ ترقی پسند تحریک کا اعتبار مجروحؔ جیسے شعراء کے باعث تھا۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ ترقی پسند نظریے پر ان کے عقیدئہ راسخہ اور اس کے رہنمائوں سے ان کی عقیدتِ شدیدہ نے اشعار بھی ان سے کہلائے جو ترقی پسند غزل کی بدنامی اور خود ان کے شاعرانہ مرتبے میں تخفیف کا سبب بنے۔یعنی ترقی پسندی سے وفاداری کی بنا پر ان کا نقصان دونوں طرف سے ہوا۔جیل جانا یا نوکری سے برطرفی بھی نقصانات ہیں،(اور مجروحؔ جیل گئے بھی)لیکن یہ نقصانات شعر کی زندگی کے مقابلے میں چند روزہ ہیں۔ترقی پسند صاحبان فیضؔ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جیل جانے کی بات ضرور کرتے ہیں ،کہ فیضؔ صاحب نے اپنے آدرشوں اور اصولوں کی خاطر قید کی صعوبت بھی اٹھائی۔حالانکہ واقعہ یہ ہے سزا ئے قید نے فیضؔ کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔اچھے شاعر تو وہ بہرحال تھے،لیکن جیل ان کو اور اس طرح ان کی شاعری کو ،ترقی پسندی کا اسطور بنا دیا۔اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ فیضؔ صاحب چاہے جتنے بڑے انقلابی ترقی پسند رہے ہوں ،لیکن شاعری کے معاملے میں خاصے محتاط تھے۔ انھوں نے برہنہ حرف نہ گفتن کے اصول پر بیش از بیش عمل کیا۔مجروحؔ صاحب تو ہٹلر کے چیلوں کو دوڑا کر مارنے اور حسن کو کارخانے میں ڈھال کر اسے موٹر سائیکل(یا شاید سائیکل ) قسم کی چیز قرار دینے کے لیے بدنامی بٹورتے رہے اور ان کے اچھے اشعار دوسروں کے لیے شہرت کے شہپر بنتے رہے۔ غنی کاشمیری؎
یاراں برد نہ شعر مارا ٭ افسوس کہ نام ما نہ بردند
میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ مجروحؔ کے یہ اشعار میں نے لڑکپن میں شکیلؔ بدایونی کے نام سے سنے تھے ۔عرصہ دراز کے بعد میں نے ان کا مجموعہ(یا انتخاب) دیکھا تو حقیقت آشکار ہوئی۔؎
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک خدایا غمِ زندگی نباہیں

کبھی جادئہ طلب سے جو پھرہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں باہیں
یہ شعر بہت اعلی پائے کے نہیں ہیں(ان دنوں البتہ بہت اچھے لگتے تھے اور اتنے برس بعد آج بھی یاد ہیں) لیکن ان کا لہجہ بہر حال جگرؔ ،فراقؔ اور حسرتؔ موہانی کی غزل سے بہت مختلف ہے۔ان دنوں ہم لوگ بھی کچھ پڑھے لکھے نہ تھے ،افسوس تو ان پڑ ھے لکھوںپر ہوتا ہے جنھوں نے ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
جیسے اشعار کا سہرا فیضؔ کے سر باندھ دیا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ ان شعروں کا آہنگ اور کیفیت فیضؔ کے رنگ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔اس طرہ یہ کہ مجروحؔ کی طرف سے احتجاج ہوا تو تو لوگ خفا ہوئے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی،شعر تو مشہور ہوگئے کسی بھی نام سے سہی۔مجروحؔ نے اپنے بارے میں خوب کہا ہے کہ’’چپ رہوں تو معضوب اور بولوں تو مغضوب ہوں‘‘۔
اسی طرح میں اس بات کا بھی گواہ ہو کہ میری عمر کے لوگوں نے مجروحؔ سلطان پوری کو ترقی پسند تحریک کے حوالے سے نہیں ،جگرؔ صاحب کے بھی حوالے سے نہیں ،محض شاعری کے حوالے سے جانا۔’’ گائے جا پپیہے گائے جا‘‘بڑی شاعری نہ سہی لیکن اس نظم میں ہم نوبارگانِ شعر کو لطف آتا تھا وہ جوش کے گاڑھے لہجے اور احسان دانش(ان دنوں احسان بن دانش) کے مزدور کی بیٹی میں نہ تھا۔اور جب فیضؔ کا نام میرے کانوں میں پڑا ،اور احتشام حسین کا تعریفی ذکر میں نے اپنے والد مرحوم سے سنا(یہ بات ۱۹۴۸ء کی ہے) تو اس سے مجروحؔ کی جگہ میرے دل میں کم نہ ہوئی ۔ لیکن وہ اس قدر کم گو اور کم نما تھے کہ فیضؔ، سردار جعفری،جذبیؔ اور دوسرے ترقی پسند شعراء کے غلبے میں گھرے ہوئے مجروحؔ ہم نوجوانوں کو بہت کم نظر آتے تھے۔میرؔ کا شعر یاد آیا؎
وہ کم نما ء دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
یہاں یہ بات بھی ظاہر کردوں کہ ترقی پسندوں میں سردار جعفری میرؔ شناسی کے لیے مشہور ہیں اور بجا مشہور ہیں۔ لیکن مجروحؔ سلطان پوری کو بھی میرؔ سے سچا اور گیرا شغف ہے اور وہ میرؔ کا کلام سمجھتے بھی خوب ہیں۔میرؔ کو جذب کیے بغیر مجروحؔ سلطان پوری اس طرح کے شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔؎
وہ تو گیا یہ دیدئہ خوں بار دیکھئے
دامن پہ رنگِ پیرہنِ یار دیکھئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں صاحبانِ چمن
مری طرف سے گلوں کو بہت دعاء کہئے
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے
اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔ
زندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے
مجرحؔ کی بہترین غزلوں میں کلاسیکی غزل کی تمکنت اور آہنگ کی بلندی ہے۔آہنگ کی بلندی سے میری مراد خطابانہ یا وعظانہ انداز نہیں،بلکہ زبان کی وہ موسیقیاتی صفت ہے تجریدی سطح پر جس کی مثال روی شنکر کے ستار یا فیاض خاں کی آواز کے جوار بھاٹے اور گونج میں دیکھی جا سکتی ہے۔
آہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا
نہ سہی باب قفس روزن ِزنداں تو کھلا
سیلِ رنگ آہی رہے گا مگراے کشت چمن
ضرب موسم تو پڑی بند بہاراں تو کھلا
دل تلک پہنچے نہ پہنچے مگر اے چشم حیات
بعد مدّت کے ترا پنجہ مژگاں تو کھلا
پھر آئی فصل کہ مانند برگ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے
اس پر باقر ہروی کا شعر یاد آگیا؎
برگ گل رابہ کف باد صبامی بینم
باغ ہم جانب اونامہ بر سے پیدا کرو
فرق یہ ہے کہ باقر ہروی کے شعر میں معشوق کے نام نامہ و پیام کا ذکر ہے۔اور مجروح سلطان پوری خود بہار ِباغ کے مکتوبِ الیہ ہیں۔ایک اگر معشوق میں گم ہے تو دوسرا اپنے نصب العین کو اپنا عشق گردانتا ہے اور اس کا معشوق خود اسے آواز دیتا ہے،جیسا کہ اسی غزل کے ایک شعر میں ہے؎
ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہی
وہیں پہنچتی ہے یاروں کہیں سے بات چلے
کلاسیکی آہنگ کی ایک مثال میں چند شعر اور دیکھئے؎
ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں
چراغ راہ کئے خوں چکاں جبینوں کو
نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروانِ حیات
یہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں
پارئہ دل ہے وطن کی سر زمیں مشکل یہ ہے
شہر کو ویراں کہیں یا دل کو ویرانہ کہیں
یہ کہنا مشکل ہے کہ مجروح ؔ نے خود کو بعض مضامین وافکار کا پابند نہ کر لیا ہوتا تو ان کی غزل کن راہوں اور وادیوں میں گامزن ہوتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کی شاعری میں کاروبار حیات اور معاملات جہد وعمل کے بارے میں ایک شدت شعور ،ایک فوری پن، اور خارج کی زندگی کے بارے میں سریع التاثیری ضرورپیدا کی۔ان کے یہاں ایک ولولہ کچھ کر جانے کے لئے تیاری اور جوش ،اور زندگی کی خاطر موت کے لطف اندوز ہونے کاجو تاثر نظر آتا ہے وہ انھیں تمام معاصرغزل گویوں میں ممتاز کرتا ہے؎
جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوق
نہ کب ہو سحر کون انتظار کرے
سیر ساحل کرچکے اے موج ساحل سر نہ مار
تجھ سے کیا بہلیں گے طوفان کے بہلائے ہوئے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیں
ہر چند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے
اکتا کے ہم نے توڑ دی زنجیر نام وتنگ
اب تک فضا میں ہے وہی جھنکار دیکھئے
یہ سب اشعار درست ہیں،ان میں ’’پیغام‘‘کا عنصر الگ سے نہیں لایا گیا،بلکہ شعر میں مل گیا ہے۔ ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ ان پر کوئی سیل نہیں لگ سکتا ۔سرور صاحب نے یگانہ کے بارے میں عمدہ بات کہی تھی کہ ان کے یہاں اکڑ تو ہے ،لیکن فرحت نہیں ۔مجروحؔ کے مندرجہ بالا اشعار کی عدم ا لنفالیت اورماحول سے لوہا لینے کی ادا ایک حد تک یگانہ کی یاد تو دلاتی ہے ،لیکن ان اشعار میں غزل کی زبان از خود بول رہی ہے ،یگانہ کی طرح تکلف کا احسا نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی ہے کہ ان اشعار کو یا ان کی طرح کے اور اشعار کو معنی سے آزاد کرکے صرف کیفیت کے بل بوتے پر نہیں پڑھا اور قبول کیا جاسکتا ۔یہ اشعار کسی نہ کسی طرح کی دعوت فکر ضرور دیتے ہیں۔
مجروح ؔکا کلام بہت تھوڑا ہے،لیکن ابھی اس کے بارے میں اور بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ مجروح نے اتنا کم کیوں کہا؟ان کا پہلا مجموعہ ’’غزل ‘‘مشکل سے پچھتر اسّی صفحات کا تھا۔نیا مجموعہ جس میں ’’غزل‘‘کا خاصا حصّہ شامل ہے،اس سے کچھ ہی بڑا ہے۔ایک اردو ایک فارسی نظم کی شمولیت نے ’’مشعل جاں‘‘ کو ’’غزل‘‘کے مقابلے میں کچھ زیادہ تنوع عطا کردیاہے۔دونوں نظمیں بہت عمدہ اور مجروح ؔکے عام کلاسیکی رنگ میں رچی ہوتی ہیں۔لیکن یہ سارا سرمایہ پچاس پچپن برس کی مشق سخن کے سامنے کچھ نہیں معلوم ہوتا ۔مجروحؔ کی کم سخنی جدیدادب کالاینحل معما ہے۔توقع تھی کہ زیر نظر کتاب میں اس معمے کا حل نہیں تو اس پر کچھ روشنی ضرور ہوگی،لیکن یہ توقع پوری نہیں ہوتی ۔مجروحؔ اور ان کے چا ہنے والوںاپنا وطن خاص کرکے نقادوں سے سردمہری کا شکوہ ہے۔اور یہ شکوہ کچھ الجھا بے جا بھی نہیں لیکن یہ بات بھی خیال میں رکھنے کی ہے مجروح نے کہا کس قدر کم ہے۔اب ایسی کثرت بھی نہ چاہتے جیسی ہم ان دنوں بعض لوگوں کے یہاں دیکھتے ہیں اور جس کا نقصان مصحفیؔنے اٹھایا۔میرؔ نے تو کثرت سے زیادہ کثر ت کی شہرت کے با عثِ نقصان اٹھایا ،ورنہ ان کا تمام کلیات مع مثنویات ومراثی مصحفیؔ کے اول تین دیوان سے بہت زیادہ نہیں ۔کثرت کلام سے زیادہ قلت کلام نقصان دیتی ہے۔مجروحؔ نے گزشتہ تیس برسوں میں دو غزلوں کا بھی اوسط نہ رکھا۔غالبؔ کو تو جنت کے خیال سے وحشت ہوتی تھی کہ تا ابد وہی ایک حور ساتھ رہیگی تو زندگی اجیرن ہوجائے گی ۔اردو غزل کا قاری ہزار ہابرس سہی ،لیکن وہ ان دس پندرہ غزلوں میںکیا کھئے اور کیا پس انداز کرے؟مولانا روم نے مثنوی کے چھ ضخیم دفتر کہہ لینے کے بعد ساتواں مجوزہ دفتر نہ لکھا ۔لیکن مولانا اس وقت تک چھبیس ہزار شعر وں کی شاہکار مثنوی اور کم سے کم تیس ہزار شعر کا دیوانِ غزلیات اور سیکڑوں رعبایاں کہہ چکے تھے۔اور یہ سب اس پائے کا کہ اتنا ضخیم و حجیم کلام بھی سراپا انتخاب ہی کہا جائے گا۔’’مشعلِ جاں‘‘ میں شامل فارسی مثنوی میں قوتِ کلام کا اظہار صاف پتہ دیتا ہے کہ بستہ شد دیگر نہ می آید بروں کا معاملہ یہاں نہیں ہے۔اور نہ ابھی ان بدلے ہوئے زندگانی کو پھاند کر سیرآں سوئے تماشا کا وقت آیا ہے۔کارلائل کے بارے میں سنا ہے کہ جب اس نے اپنی ’انقلابِ فرانس‘ مکمل کی تو آب دیدہ ہوگیا کہ اس کے آگے کیا لکھوں۔ چارلس ڈکنس نے انقلاب فرانس کے بارے میں اپنے ناول ’’دو شہروں کا ایک قصہ‘‘ کے بارے میں مبالغہ آمیز مگر مبنی برحقیقت دعوی کیا کہ میں نے اپنا ناول لکھنے کے پہلے کارلائل کی کتاب پانچ ہزار مرتبہ پڑھی تھی۔مگر مجروحؔ کی غزل میں اتنی کیفیت نہیں کہ وہ اتنے مسلسل اور مکرر مطالعے کی متحمل ہو سکے۔ان پر زمانے کا یہ حق بہرحال ہے کہ ان کے گنجِ ہائے رنگا رنگ سے مزید مستفیض ہو۔
٭٭٭

Shafeeq Fatima Shera ka Sheri Canvas

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ کا شعری کینوس اور نسائی حسیت

قمر جہاں

بیاباں سبزۂ نوخیز سے آباد ہوتے ہیں
سکھی تم بھی جو اپنا دل بسا لیتیں تو اچھا تھا
حیا ہے خوف ہے پندار ہے ضد ہے یہ کیا شے ہے
تم اس خود ساختہ زنداں کو ڈھادیتیں تو اچھا تھا
ہمیشہ التجائیں رائیگاں جاتی رہیں میری
کبھی میری خوشی کی بھی دعا لیتیں تو کیا ہوتا
(’ صدا بصحرا ‘ازشفیق فاطمہ شعریٰؔ)
نسائی جذبات سے لرزاں یہ دل نشین آوازبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ابھرنے والی اس شاعرہ کی آواز تھی جس کے پیش نظر اردوشاعری میں نسائی حسیت کی پیش کش کا کوئی بہت کامیاب نمونہ نہیں تھا۔باوجود اس کے اس نے خالص نسائی جذبات کو الفاظ کا شفاف پیرہن عطا کیا، وہ بھی اس کامیابی کے ساتھ کہ یہ نظمیں اردو شعروادب کی تاریخ میں خوشگوار اور تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئیں اور شائقین ادب کے قلوب و اذہان کے لیے باعث مسرت و بصیرت۔ یہ منفرد آواز اس وقت گونجی جب بقول محمود ہاشمی ’’اردو میں خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا۔‘‘(۱)
شعریٰ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز منظوم تراجم سے کیا۔ انھوں نے اقبال کی پیام مشرق، ارمغان حجاز اور جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ (ادھورا) کیا۔ ساتھ ہی اسپین کے نوبل انعام یافتہ غنائی شاعر JAUN RAMON JIMENEZ کی نظموں کا ترجمہ کیا تھاجو ان کے پہلے مجموعۂ کلام ـ ’گلۂ صفورہ‘ میں شامل ہے۔یہ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ہے جس میں ان کی شادی (۱۹۶۵) سے قبل کی نظمیں شامل ہیںلیکن اس کی اشاعت مکتبہ جامعہ سے ۱۹۹۰؍ میں ممکن ہوسکی ۔ دوسرا مجموعۂ کلام ’آفاق نوا‘ ہے جس میں شادی کے بعد کا کلام شامل ہے لیکن اگر اشاعتی ترتیب سے دیکھا جائے تو یہ مجموعہ ’گلۂ صفورہ‘ سے پہلے یعنی ۱۹۸۷ میں شائع ہواجب کہ ان کا کلیات ’سلسلۂ مکالمات‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی سے ۲۰۰۶ میں شائع ہوا، جس میں مذکورہ دونوں مجموعوں کے علاوہ ’کرن کرن یادداشت ‘اور ’سلسلۂ مکالمات‘نامی مجموعے بھی شامل ہیں۔ ۱۳ ؍ اگست ۲۰۱۲؍کو آسمان ادب کا یہ روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
شعریٰ کی نظمیں گجر، صبا، آئینہ ، سوغات، شب خون، شعروحکمت، شاہراہ اور بہت بعد میںپاکستان سے شائع ہونے والے رسالہ بادبان اور دیگر ادبی رسالوں کی زینت بنتی رہیں۔ ان کی نظموں نے اپنے آغاز میں ہی باذوق قارئین کو چونکایاتھا۔ حمید نسیم نے انھیں عہد حاضر کے پانچ سب سے بڑے شاعروں میں شمار کیا ہے اورگلۂ صفورہ‘ کے گرد پوش پرقاضی سلیم ان کا تعارف کراتے ہوئے ’ ’شعریٰ اردو شاعری کی پہلی نسائی آوازہے‘‘ جیسا اہم بیان درج کیا ہے۔
شعریٰ کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے ۔ ابتدائی عہد کے کلام میں نو بلوغیت کے عہد کے نسوانی جذبات کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے وہیں آگے چل کر ان کی شاعری میں احساسات کی نزاکت اور غنائیت کے ساتھ ساتھ فکر کی گہرائی و گیرائی اور متانت ودانش وری کا جو امتزاج نظر آتا ہے وہ ان کی ہم عصر شاعرات میں سے کسی کے یہاں نظر نہیں آتا۔ خواتین کے سماجی مسائل پر اپنے منفرد انداز میں قلم اٹھانے والی اس شاعرہ کی گرفت میں انفس و آفاق بھی ہیں، بحروبر اور دشت و شجر بھی اور آج کا وہ صنعتی اور مادی عہد بھی جس میں تمام جمالیاتی اور اخلاقی قدریں اپنی ناقدری پر ماتم کناں ہیں۔ان کے یہاں مستعمل علامتوں ، تشبیہوں اور استعاروں میں قرآنی آیات، بزرگوں کے اقوال و ملفوظات کا بکثرت استعمال نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری کی جڑیں اپنے تہذیبی ورثے میں برگد کی پارنبیوں کی طرح پیوست ہیں۔ موضوعات کے تنوع کے ساتھ ہی فنی باریکیوں پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ شعریٰ کی شاعری میں نسائی حسیت ان کے ہشت پہلو کلام کا ایک مختصر سا زاویہ ہے۔کلامِ شعریٰ میں نسائی حسیت کی نشان دہی سے پہلے بہتر ہوگاکہ نسائی حسیت کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہر ذی روح میں خواہ وہ انسان ہو یا جانورفطری طور پر قوت حس ودیعت کی گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان قوّت گویائی کا سہارا لے کر اپنی حسیت یا اپنے احساسات کا اظہار کر سکتا ہے جب کہ جانور اس قوت سے محروم ہے ۔ انسان کی یہ حسّی صلاحیت عمر، طبقہ ،مزاج اور جنس کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی سے کوئی رشتہ اور لگاؤ بھی حسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے ،یہ رشتہ فرد سے بھی ہو سکتا ہے اور سماج یا سیاست سے بھی ۔ حسیت کو بیدار کرنے میں شخصیت کے مخصوص مزاج کا بھی اہم رول ہوتا ہے ۔ اسی طرح مختلف طبقات یا جماعت کے لوگوں کے احساسات و جذبات اور سوچنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے علاوہ ازیں جنسیت یعنی Sex بھی حسیت کو متاثر کرتا ہے۔
عورتوں میں چند مخصوص خوبیاں اور صفات ایسی ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے ان کی حسیت میں کچھ ایسی انفرادیت آجاتی ہے جو مردوں میں نہیں پائی جاتی ۔جیسے جذباتیت، ایثار و قربانی ،ممتا ، وفا ، پناہ اور رقیق القلبی وغیرہ کا جذبہ جو مردوں کے بالمقابل عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں کی ان حسیات کو جو عرف عام میں عورتوں سے مخصوص ہیں ،نسائی حسیت یا عورت پن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ صفات خالص فطری نہیں بلکہ اس میں سماج اور معاشرے کا بہت بڑا رول ہوتا ہے جو مشرقی اورمغربی عورت کے تقابل سے بالکل صاف اورواضح ہو جاتا ہے۔نسائی حسّیت کے سلسلے میں خالدہ حسینؔ لکھتی ہیں:
نسائی حسیت صرف یہی نہیں کہ مؤنث واحد متکلم کا صیغہ اپنا لیا جائے۔ گھر آنگن اور سنگھار اور برہا کی بات کی جائے۔ اوڑھنی کے رنگوں اور چوڑیوں کی چھنک کو شاعری میں ایک معتبر مقام دلوایا جائے۔ نسائی حسیت سے مراد ہے کہ عورت جس طرح زندگی کو دیکھتی اور بسر کرتی ہے وہ مرد سے مختلف ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان وقت کو اپنے حوالے سے پہچانتا ہے۔یعنی اس کا وقت کا تصور ذاتی اور داخلی نوعیت رکھتا ہے۔ اس طرح عورت کا وقت کے ساتھ تعلق اور زمانی احساس مرد سے مختلف ہے کیوں کہ اس کے شب و روز اور معاملات و مسائل کی نوعیت منفرد ہے ۔ وہ اپنی سائیکی (جو مرہون منت ہے اس کی جسمانیات کی )کے حوالے سے فطرت کے تمام مظاہر کو ، جن میں اس کے پانچوں حواس سے اخذ کردہ تجربہ یعنی رنگ ، خوشبو ، آواز ، لمس اور ذائقہ شامل ہیں اپنے ا نداز سے محسوس کرتی ہے اس میں صدیوں کے روایتی تلازمات کا بھی دخل ہے اور حال کی تبدیلیوں اور مستقبل کی امیدوں کا تعلق بھی ۔وہ جب موسموں ، رتوں رنگوں اورخوشبوؤں کا تجربہ کرتی ہے تو اس کے تلازمات میں ممتااور بیٹی، بہن اور بیوی کی ذات بھی شامل ہے ۔مرد اس سے مختلف انداز میں سوچتا اور محسوس کرتا ہے ۔ اس کی سوچ دور رسی اور ارتکا زکی خصوصیت رکھتی ہے ۔ جب کہ عورت بے شمار کام بہ یک وقت نمٹاتی اور ان گنت رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر عورت فنکار ہے ۔ یوں شعر میں عورت کی شخصیت ایک منفرد نقطہء نظر کی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے ہم نسائی حسیت کا نام دیں گے ورنہ محض مؤنث کا صیغہ استعمال کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔(۲)
نسائیت عورت کی حسیت کا ایک نمایاں پہلو ہے عورت کی مکمل حسیت یا نسائی حسیت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ، جس کا تعلق عورت کی پوری زندگی اور اس کی پیچیدگیوں سے عبارت ہے۔ اس میں اس کے جذبات و احساسات، افکار و تخیلات ، مزاج و اطوارسبھی کا دخل ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر عورت کی حسیت ایک دوسرے سے منفرد ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ گھریلو اور سماجی زندگی میں یکسانیت اور مطابقت کی بنا پر ان کے فکرو احساس کے دھارے میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔شاعری میں نسائی حسیت کا اطلاق ان اشعار پر ہوتا ہے جن مین عورت کی مخصوص فطرت، اس کی ذات، ذہنی و نفسیاتی کیفیات ، اس کی خواہشات و آرزوؤں کا بیان فطری انداز میں ہوتا ہے اور اس میں کسی روایتی کردار یا اصلاحی جذبہ کی شمولیت نہیں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی وہ موضوعات بھی نسائی حسیت کے زمرے میں آتے ہیں جس میں کسی سیاسی وسماجی مسئلے کا بیان ایک عورت (ماں،بیوی، بہن،بیٹی)کے زاویہء نگاہ سے کیا جاتا ہے۔
نسائیت
نسائیت اور تانیثیت عورت کی حسیت کے دو نمایاں پہلوہیں ، جنھیں نسائی حسیت کے تحت رکھا گیا ہے۔ اول الذکرکا تعلق جذباتی حسیت سے ہے جب کہ آخر الذکرکا فکری حسیت سے ہے۔نسوانیت اور نو بلوغیت سے تعلق رکھنے والے شدید جذبات کے اظہار کو ’ نسائیت ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ شعریٰؔ کو زمانہء طالب علمی سے ہی ادب کے علاوہ مذہب،تاریخ اور عصری حالات و سانحات سے گہری دلچسپی تھی ۔ تاہم شاعری کی سطح پر اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں یا بالفاظ دگر شادی سے قبل کی نظموں میں غنائیت سے بھرپور نیز جذبات کو بر انگیختہ کرنے والاایسا اسلوب ملتا ہے جو شعریٰ کا اپنا ذاتی اسلوب ہے اور جسے’ نسائیت‘ کے ذیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظمیں بے چینی اور شوریدگی ،سلگتے ہوئے جذبات کا بہاؤ،احساسات کی شدّت کی تپش ، اپنی کھال سے باہر نکلنے اور کسی کو ٹوٹ کر چاہنے کی ناآسودہ خواہش اور جذباتی زندگی میں ناکامیوں کا زبردست تخلیقی اظہار ہیں۔ غیر معمولی غنائیت اور لہجے کا ایسا اتار چڑھاؤجو موسیقی سے لبریز زمزموں کی شمعیں روشن کردیتا ہے۔حمید نسیم کے الفاظ میں ’’گلہء صفورہ کی نظموں میں فکر محکم اور پختہ ہے لیکن بیشتر نظموں میں ایک ترنگ سی ، جذبہ کا ایک وفور سا ہے ۔ اسلوب میں ایک لہک ہے جس کی حدت سے Effervescent Lyricism ایک ابھرتی ہوئی موج کی مانند ہے ،جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے ۔‘‘ (۳)
عشق شروع سے ہی نہ صرف اردو شاعری کا بلکہ انسانی زندگی کامرکزی موضوع رہا ہے ۔عہد قدیم سے لے کرآج تک شعرا اس محبوب موضوع کو نئے پیرہن میں پیش کرتے رہے ہیں۔لیکن شعریٰؔ کی شاعری اس حیثیت سے ایک ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ اس میں عشقیہ جذبات کا اظہار (جن پر ابھی تک شعرا قابض تھے) ایک شاعرہ کی جانب سے ہوا اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ مرد کی طرح عورت بھی اپنے دھڑکتے ہوئے دل میں لطیف جذبات و احساسات رکھتی ہے۔اس کے دل میں بھی عشق و محبت کے حسین جذبات پنہاں ہوتے ہیں۔یہ صرف معشوق نہیں عاشق بھی ہے۔ شعریٰؔ کی اس قبیل کی شاعری خالص جذبات واحساسات کی شاعری ہے جو ظاہری آلائش سے پاک دل کا رشتہ دل سے رکھتی ہے۔ ’ارضِ نغمہ ‘ کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
جب سے مجھ کو دل ملا دل کو دھڑکنیں ملیں
تب سے میرے دل میں تھا اس کے پیار کا قیام
اس کی راہ میں مجھے کتنے ہم سفر ملے
ایک مے سے ہیں گداز جن کی زندگی کے جام (۴)
عصر حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں خواتین تانیثیت کے نام پر زندگی کے ہر میدان میں مساوی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں، وہیں مشرق میں عورت ابھی درونِ خانہ ہی آزاد نہیں کجا بیرونِ خانہ ۔ وہ اپنی زندگی کے کسی فیصلے میں آزاد و خود مختار نہیں۔ ہماری تہذیب و ثقافت جہاں سماجی سطح پر عورتوں کا دائرہ محدود اور زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط مرد حضرات سے مختلف ہیں، جہاں شادی بیاہ جیسے اہم ترین معاملات میں بھی لڑکیوں کی رائے لینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ، جہاں وفا، عصمت ، پاکیزگی اور قربانی جیسی صفات عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں؛ ایسی تہذیب و ثقافت میں عشق جیسے شجر ممنوعہ کے پھل کو چکھنے کی اجازت کسے ہوسکتی ہے۔ اوراگر کسی نے غلطی سے اس پھل کو چکھنے کی جسارت کرلی تو یقیناً راندۂ درگاہ ہونا طے ہے۔ مشرقی ممالک میں ایسا قدم اٹھانے والی دوشیزاؤں کو آنر کلنگ کے نام پر زندگی کی قید سے آزاد کر دینا کوئی تعجب خیز امر نہیں۔ لیکن عشق تو ایک فطری اور الوہی جذبہ ہے،جس سے دامن بچانا ممکن نہیں ۔ ’ صدا بصحرا‘ میں ایک ایسی ہی لڑکی کی سہمی سہمی کیفیت کی عکاسی کی گئی ہے ، جو عشق کی کسک سے آگاہ ہے لیکن حیا اور پندار کے نام پر خاموش اور اظہار سے قاصر اندر ہی اندر گھٹ رہی ہے:
سکھی پھر آگئی رت جھولنے کی گنگنانے کی
سیہ آنچل کی تہہ میں بجلیوں کے ڈوب جانے کی
سبک ہاتھوں سے مہندی کی ہری شاخیں جھکانے کی
لگن میں رنگ آنچل میں دھنک کے مسکرانے کی
امنگوں کے سبو سے قطرہ قطرہ مے ٹپکنے کی
گھنیرے گیسوؤں میں ادھ کھلی کلیاں سجانے کی(۵)
’صدا بصحرا‘ کے اس بند میںگنگنانے ، جھولنے اور مہندی کی ہری شاخیں جھکانے والی رت سے مرادساون کا وہ روایتی مہینہ ہے ،جب ایک طرف تو پانی ٹوٹ کر برستا ہے اور دوسری طرف دوشیزاؤں کے پورے وجود پر ایک شعلہ صفت ہریالی چھا جاتی ہے اور جذبات سلگنے لگتے ہیں۔ نظم میں سکھی کو جو لڑکی مخاطب کرتی ہے وہ در اصل ان ہی جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔اور جس لڑکی سے یہ باتیں کی جارہی ہیں وہ راوی کی اپنی ہم زاد ہے،ایسی ہم زاد جس پربدلتے ہوئے موسموں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہ ایک ایسی جھیل ہے جس کی تہہ میں اگرچہ ہلچل ہے لیکن اس کی سطح بہت پرسکون اور خاموش ہے ۔مختصر یہ کہ راوی جذبہ ہے جب کہ اس کا مخاطب اس کا اپنا شعور ہے۔فضیل جعفری ؔلکھتے ہیں’’ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں ان پر’ میر ابابیت ‘کا غلبہ تھا ۔علاوہ ازیں ان کی بعض نظموں سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے عشق تو ٹوت کر کیا مگر کلی پھول نہ بن سکی۔ اپنی ایک بڑی خوبصورت نظم ’سمتیں ‘کے اس بند میں انھوں نے جو داستان بیان کی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔‘‘ (۶)
اس شاعری میں جدت کا رنگ اور آہنگ پایا جاتا ہے ،جس میں عشق و محبت کے سارے رنگ محبوب کی فکرمندی، روٹھنے منانے کا کھیل،بچھڑنا اور پھر زندگی کی تاریک راتوں میں محبوب کی یادوں کے اجالوں کو اپنے ہمراہ رکھناغرض یہ کہ تمام احساسات مرد کے عشقیہ جذبات واحساسات سے مختلف ہیں ۔ شعریٰ کی نظموں میں عورت رادھا ، میرا اور سیتا کا روپ ہے جس نے اپنے محبوب کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔ نظم ’سمتیں‘ کے یہ دو بند ملاحظہ ہوں :
راہی سب سے روٹھو لیکن مت روٹھو
اپنی میٹھی اور منوہر بانی سے
اس لہجہ سے جس پر سب مفتون ہوئے
جس کی بدولت لگتے ہو لاثانی سے
—————-
راہی یوں نہ سمجھنا بازی ختم ہوئی
جنم جنم ہم راہوں میں ٹکرائیں گے
جنم جنم چمکیں گے اشارے سمتوں کے
دل کی قسمت کے تارے گہنائیں گے (۷)
مندرجہ بالا اقتباسات میں جدید شاعری کے مروجہ تکنیکی عناصر یعنی علامتوں ، استعاروں اور امیجری کی پیچیدگی نظر نہیں آتی لیکن جذبات و احساسات کی شدّت اور بیانیہ کی ندرت نے مجموعی طور پر اتنا زبردست تاثر تخلیق کر دیا ہے ،جس سے دامن بچا کر نکل جاناممکن نہیں۔ان اشعار میں عشق کا اظہار ایک خالص ہندوستانی عورت کی طرف سے ہوا ہے جو ہندوستانی شاعری کا امتیاز ہے جب کہ اب تک فارسی شاعری کے زیرِ اثرعورت اردو غزل کا معشوق تھی۔ شعریٰ کے کلام کی نسائیت ’’سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں‘‘کا ایک روپ ہے، جو ایک عورت کی زبان سے تشکیل پارہا ہے۔ اس سے قبل کی شاعری میں عورت ستر پردوں میں ملفوف معشوقہ یا پھر سنگ دل شاہدان بازاری تھی۔ وہ سب کچھ تھی بس نہیں تھی تو ایک عورت۔ اس کے بارے میںاب تک جو کچھ لکھا یا کہا گیا وہ اس کے تئیں محض مرد کا تصور یا اس سے متعلق مرد کی آرزوؤں اور خواہشوں کا مظہر تھا۔ شعریٰ کی اس قبیل کی دوسری کئی نظموں جیسے’ زوالِ عہد تمنا‘،’زیرِ چرخِ کہن‘،’گلۂ صفورہ‘،’اسیر‘، ’صدا بصحرا‘اور ’پریتی‘ وغیرہ کا عمومی اسلوب بیک وقت شیریں بھی ہے اور اس پر اداسی کی پرچھائیں بھی نظر آتی ہے۔شعریٰؔ کی ابتدائی شاعری کی اس غیر معمولی حد تک غنّائیت اور داخلیت کے بارے میں وحید اخترؔ لکھتے ہیں :
ان کے لہجے پر عرب شاعروں کے عشقیہ آہنگ کا بھی اثر ہے ۔لیکن جو چیز انھیں ممتاز کرتی ہے وہ ان کا افسردگی آمیز تفکر ہے ۔اس افسردی میں کھوکھلے رجائیت سے زیادہ ایمان افروز کیفیت ہے ۔ دوسری خصوصیت جو انھیں تمام خواتین شعرا سے ممتا ز کرتی ہے ،ان کا نسائی لب ولہجہ ہے۔ترقی پسند دور کی شاعرات میں ادا بدایونی ؔ اور صفیہ شمیمؔ ملیح آبادی کے یہاں جو لہجہ ہے وہ اس دور کے مرد شاعروں سے الگ نہیں ،صرف نام سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ خواتین کی نظمیں ہیں۔اس کے برخلاف شعریٰؔ کی نظم کا پورا ڈھانچہ اور ان کے لہجے کی ہلکی سی کسک ،دردمندی اور نرمی ان کے جنس کی صاف غمّازی کرتی ہیں۔(۸)
تانیثیت
تانیثیت بنیادی طور پر ایک شعوری تصور ہے جس کے پیچھے بطور محرک عورت کے وہ اجتماعی تجربات کار فرما ہیں جو اس نے مرد اساس نظام و اقدار میں استحصال اور نا انصافی کی شکل میں حاصل کیے ہیں ۔مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی تفریق کے سبب اسے سیمون دی بوار کے لفظوں میں ہمیشہ’ دوسری جنس ‘ہی سمجھا گیا۔چونکہ وہ صرف ایک کمیوڈٹی تھی اس لیے سیاسی ، سماجی، معاشی اور قانونی سطح پر اس کے لیے یکساں حقوق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔تانیثی تحریک کا بنیادی مقصدان حقوق کی حصولیابی اور ترقی کے میدان میں انھیں یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔اجتماعی طور پر تانیثیت کی لہر اٹھنے سے پہلے حقوق نسواں کی تمام تر جدوجہد انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ایک تحریک کی شکل میں تانیثیت کا آغاز انیسویں صدی کے دوران برطانیہ میں ہوااور تب سے اب تک مغرب میں تانیثی تحریک نے تین ارتقائی مراحل طے کیے ہیں جنھیں تین’ لہر‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پہلی لہر میں، جس کا آغاز برطانیہ میں ہوا عورتوں کی تعلیم، ان کے لیے روزگار کے مواقع اور شادی سے متعلق قوانین جیسے مسائل کو اٹھایا گیا ۔ اس تحریک کو زبردست کامیابی ملی عورتوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے اور ۱۸۷۰ء میں شادی شدہ عورتوں کی حق ملکیت کا قانون بھی عمل میں آگیا۔ تانیثیت کی یہ لہر پہلی عالمی جنگ تک جاری رہی۔
برطانیہ میں حقوق نسواں کی اس بلند بانگ صدا نے نہ صرف یہ کہ پورے یورپ کی خواتین کوبیدار کردیا بلکہ اس کی گونج امریکہ کی شاہراہوں تک پہنچی ۔نتیجتاً بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں یوروپی ممالک اور امریکہ میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری کے لیے آواز بلند کی گئی۔ تانیثیت کی اس دوسری لہر میں اسقاطِ حمل کے حق اور لسبین مسائل کو بھی حقوق نسواں کی تحریک میں شامل کیا گیا۔ یہ لہر تنازعات کا شکار ہوکر ۱۹۹۰ء کے آس پاس ختم ہوگئی ۔
تانیثی تحریک کی تیسری لہر بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ذرا قبل نمودار ہوئی۔ اس تحریک سے عورت کی ایک نئی شبیہ ابھر کر سامنے آئی۔ اب عورت ادعائیت کی حامل ہے ، طاقت ور ہے، اپنے تشخص پر اسے خود اختیار ہے ۔ یہ تحریک عورت کے سیاسی ،سماجی اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی انفرادی تشخص پر بھی مصر ہے۔عورت کو اپنا تشخص یا پہچان خود قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
بیسویں صدی کے دوران برصغیر ہندوپاک میں عورتوں کی تعلیمی بیداری کے نتیجے میں ان کا شعور بھی بیدار ہوا اور بیرونِ خانہ معاملات سے وابستگی نے ان کے اندر تشخص کا احساس جگایا۔یہی تشخص تانیثیت کا مرکزی موضوع ہے لہٰذا تانیثیت کو ’جدید عورت کی حسیت‘ اور نسائیت کو’قدیم عورت کی حسیت ‘سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ امتیاز صرف یہ ہے کہ نسائیت کا عنصر تو عصر حاضر کی شاعرات کے یہاں بھی مل جائے گا لیکن تانیثیت بیسویں صدی کے نصف آخر اور خاص کر ۱۹۶۰؁ء کے پہلے شاذ ہی نظر آتا ہے ۔البتہ افسانہ نگاروں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہی خواتین کی مساوی حیثیت پر زور دیا۔ انھوں نے خواتین کی سماجی نابرابری ، کمتر حیثیت اور تعلیم سے محرومی کو اپنا موضوع بنایا۔ بلا مرضی اور بے جوڑ شادی، جنسی ناآسودگی، درونِ خانہ عورتوں کا جنسی استحصال، کثرت ازدواج، بچوں کی بھرمار اور اس کے اوپر لعنت ملامت وغیرہ موضوعات بھی تانیثیت کے رجحان کے تحت حیطۂ تخلیق میں لائے گئے۔ ان مسائل کی کامیاب اور پرزور پیش کش سب سے پہلے رشید جہاں اور پھر عصمت کے یہاں نظر آتی ہے۔ تعلیمی بیداری کے نتیجے میں خواتین کا شعور بیدار ہو، ساتھ ہی تعلیم اور ملازمت کی وجہ سے وہ گھر سے باہر کی دنیا سے بھی آشنا ہوئیں۔باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ اس کربناک حقیقت سے بھی روشناس ہوئیں کہ صرف معاشی خود کفالت ہی سماجی مساوات کی آخری حد نہیں بلکہ یہ اس کی ایک چھوٹی سی اکائی ہے۔ ورکنگ وومن کے سامنے اپنے مسائل کا ایک کھولتا ہوا جہنم موجود تھا۔ کام کے مواقع میں بھی عدم مساوات، مشاہرے میں ان کے ساتھ امتیاز اوراس قسم کے دیگر مسائل ورکنگ وومن کی نفسیات و تجربات کا حصہ ہیں ۔ تانیثی رجحان جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا ویسے ویسے اس کے سامنے خواتین سے متعلق مسائل کی فہرست نئی نئی شکل میں آنے لگی۔
تانیثیت کے اس کارواں میں شاعرات بھی پوری سج دھج کے ساتھ شریک ہوئیں۔ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ زیدی، ساجدہ زیدی،سارا شگفتہ اور زہرا نگاہ وغیرہ نے ایک طرف جہاں عورتوں کے مسائل کو اٹھایا وہیںسماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر ان کے مساوات کی متقاضی ہوئیںہے۔ان شاعرات کے یہاں اظہار کے پیرایے اور لہجے میں فرق ہے تاہم مقصد سب کا ایک ہے یعنی عورت کے وجود کو اس کے پورے احترام کے ساتھ منوانا۔محض مراعات کی بخشش مسئلے کا حل نہیں ۔ پہلے عورت کی نفسیاتی، جذباتی اور انسانی تشخص کو تسلیم کرنا پڑے گا تب ہی باہمی شرکتیں مکمل ہو سکتی ہیں۔اس سلسلے میں جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً سبھی شاعرات نے اپنی شاعری کا آغاز ’تانیثیت‘نہیں بلکہ ’ نسائیت ‘ سے کیا ، اور نوعمری کے نسوانی اور غنائی جذبات کو شاعری کا جامہ پہنایالیکن بہت جلد ہی شرم و حیا ،کپکپاتے ہوئے ہونٹ اور خواہشات کی دھیمی دھیمی سلگتی آگ کی جگہ بغاوت، جسارت اور اعلان جنگ نے لے لی۔نظم ’گھاس بھی مجھ جیسی ہے‘ میںکشور ناہید لکھتی ہیں:
گھاس بھی مجھ جیسی ہے ؍ ذرا سر اٹھا نے کے قابل ہو ؍ تو کاٹنے والی مشین ؍ اسے مخمل بنانے کا سودا لیے ؍ ہم پر وار کرتی ہے (۹)
یہ ہے صدیوں کے ظلم اور مردوں کی غلامی کا شکار عورت۔وہ بولنا چاہتی ہے تو اسے قوت گویائی سے محروم کردیا جاتا ہے،کھلے آسمان میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑنا چاہتی ہے تو ا س کے پر کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ صدیوں سے استحصال کا شکار عوت اپنے وجود اپنے جسم اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتی ہوئی لہولہان ہورہی ہے اور بسا اوقات شکست سے دوچار بھی تاہم اس کی ہمت پر آفرین کہ وہ اس شکست کو جز سنجیدنِ پر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ بالزاک نے کہا تھا ’’شادی شدہ عورت غلام سے بھی بدتر ہے۔‘‘ بس فرق یہ ہے کہ بالزاک نے فرانس کے تناظر میں یہ بات انیسویں صدی میں کہی تھی جب کہ جنوبی ایشیا میںاکیسویں صدی کی شادی شدہ عورت کی حالت اب بھی اس قول کی صداقت کی گواہ ہے۔کشور ناہید کی ایک اور نظم نیلام گھر کے کچھ مصرعے ملاحظہ ہوں:
مرے منھ پر طمانچہ مار کر ؍ تمھاری انگلیوں کے نشان ؍ پھولی ہوئی روئی کی طرح ؍ میرے منھ پر صد رنگ غبارے چھوڑ جاتے ہیں ؍ تم حق والے ہو ؍ تم نے مہر کے عوض حق کی بولی جیتی ہے (۱۰)
اس کے علاوہ جاروب کش،میں کون ہوں ،سنسر شپ ، دفعہ ۱۴۴ ؍اور اینٹی کلاک وایز جیسی نظمیں بھی ان کے تانیثی رویوں کی بھر پور نمائندگی کرتی ہیں۔انھوں نے اپنے وجود کو پوری طرح اس معاشرے سے منوایا جہاں عورت کی جمہوری حق حکمرانی اور پوری یا آدھی گواہی جیسے مسائل پر ابھی تک بحث جاری ہے۔پاکستان میں جنرل ضیا ء الحق کا عہد آمریت عورتوں کے لیے سیاسی اور سماجی دونوں سطح پر ناسازگار ثابت ہوا ۔ اسلامی حکومت کے نام پر خود ساختہ قوانین کو جبراً نافذ کرنے کے نتیجے میں تعلیم یافتہ عورتوں کے طبقے میں شدید احتجاج ہوا۔ ’حدود قانون‘ اور ’ نصف گواہی‘ جیسے مسئلے پر عورتوں کا شدید ردّ ِ عمل سامنے آنا لازمی تھا۔’ حدود آرڈیننس‘ کے خلاف اسی عنوان سے زہرہ نگاہ ؔ نے ایک نظم لکھی جو خواتین کے احتجاج کی تصویر پیش کرتی ہے۔
فہمیدہ ریاض اپنی نظموں میں خدا، مذہب اور معاشرے سے مخاطب ہوتی ہیں۔ ان کی نظموں میں احتجاج اور بغاوت کی شدت فرسودہ معاشرے اور مذہبی بندشوں کے بارے میں از سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔مقابلہء حسن، باکرہ ، نینا عزیز ، اقلیما،چادر اور چاردیواری اور کب تک اسی قبیل کی نظمیں ہیں، جن میں مذہب اور سماج کے خودساختہ ٹھیکیداروں کو انتہائی طاقتور آواز میں چیلنج کیا گیا ہے ۔
چونکہ مرد اساس معاشرے کے قانون ساز مرد حضرات ہیں اس لیے معاشرتی سطح پر سارے اختیارات آج بھی مرد ہی کو حاصل ہیں۔ عورت کو محض اس کی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ مانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کاگاڑی کے دو پہیے ہونا صرف مقولے کی حد تک درست ہے ورنہ عملی زندگی میں عورت کی حیثیت ثانوی ہے ۔ عورت کی اس بے جان حیثیت کو فہمیدہ ریاض نے اپنی نظم’ گڑیا ‘میں بہت خوبصورتی کے ساتھ موضوع بنایا ہے:
جب جی چاہے کھیلو اس سے ؍ الماری میں بند کرو ؍ یا طاق میں اسے سجا کر رکھ دو ؍ اس کے ننّھے لبوں پہ کوئی پیاس نہیں ؍ نیلی آنکھوں کی حیرت سے مت گھبراؤ ؍ اسے لٹا دو ؍ پھر یہ جیسے سو جائے گی(۱۱)
خالص نسائی لہجے کی سوگوار شاعرہ پروین شاکر ؔنے بھی اپنی ایک نظم ’نک نیم ‘ میں عورت کی اس حالت کو موضوع بنایا ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جہاں کبھی مذہب ، کبھی سماج تو کبھی تہذیب و ثقافت کے نام پرعورت کے ساتھ بے شمار زیادتیاں اور ناانصافیاں روا رکھی گئیں۔ خانگی تشدد، زدوکوب، جنسی استحصال اورکبھی عزت تو کبھی جہیز کے نام پر قتل یہ سب عام واقعات ہیں۔ عورت کی ذہانت، صلاحیت اور قابلیت سے قصداًچشم پوشی کی گئی ، اسے مرد کے مقابلے میںجسمانی طور پر کمزور اور ناتواں نیز جذباتی طور پرزیادہ حساس اور نم دیدہ قرار دیا گیا۔ ناقص العقل بھی کہا گیا اگرچہ سائنس اسے ثابت نہیں کر سکی۔اس کے علی الرغم مردکو عقل و فراست، ذہانت اور تفکر پسندی کی صفت سے متصف قرار دیا گیا۔اسے سیتا، ساوتری،شکنتلا، پدمنی اور دروپدی کا درجہ دیا گیا یا پھر، پری ، شہزادی، گڑیا، ملکہ اور مہارانی کا ۔ محروم رکھا گیا تو صرف ایک حیثیت سے اور وہ حیثیت ایک انسان کی ہے۔یہ ذہنیت صرف مشرق ہی تک محدود نہیںبلکہ مغرب جو ترقی پسندی کی روشن مثال ہے وہاں بھی رائج ہے۔ سلویا پلاتھ کے مطابق”They spoke about us, to us and at us but never for us.”مرد اساس معاشرے میں عورت کی ذات اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی و نمائندگی سے یکسر محروم رہی ۔ پروین شاکر ’نک نیم‘ میں اس طرح تصویر کشی کرتی ہیں:
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو ؍ کھیلنے والے سب ہاتھوں کو ؍ میں گڑیا ہی لگتی ہوں ؍ جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا ؍ میرا کوئی رنگ نہیں ؍ جس بچے کے ہاتھ تھما دو ؍ میری کسی سے جنگ نہیں ؍ سوتی جاگتی آنکھیںمیری ؍ جب چاہے بینائی لے لو ؍ کوک بھرو اور باتین سن لو ؍ یا میری گویائی لے لو ؍ مانگ بھرو سیندور لگاؤ ؍ پیار کرو آنکھوں میں بساؤ ؍ اور پھر جب دل بھر جائے تو ؍ دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ؍ تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو(۱۲)
فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر ؔ کی ان نظموں کے بعد جب ہم اسی موضوع پر شعریٰؔ کی نظم کا جائزہ لیتے ہیں توشعریٰؔکی فکری انفرادیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔’ گڑیاگھر ‘جیسے اکہرے موضوع میں بظاہر کسی فکری گہرائی یا موضوعی پیچیدگی کی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن شعریٰؔنے اس موضوع میں بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے اور اپنی مخصوص تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ’گڑیا گھر‘ جیسے پامال موضوع کو ایک ندرت بخشی ہے۔یعنی مرکزی موضوع کے علاوہ بھی اس میںبعض ضمنی موضوعات کو سمیٹ لیا ہے ،جس کی وجہ سے تانیثیت کی جو دھیمی اور تیز ہوتی لے پروین شاکر یا فہمیدہ ریا ض کے یہاں نظر آتی ہے جسے پڑھتے ہوئے یکسانیت بلکہ توارد کا احساس ہوتاہے وہ یکسانیت شعریٰؔ کے یہاں نظر نہیں آتی۔ بلکہ ان کے یہاں سوگواری اور متانت کی ایک کیفیت ہے جوقاری کو ایک گہری سوگواری سے دوچار کرتی ہے ۔اور ان کا سنجیدہ اور فلسفیانہ انداز قاری کو غور و فکر دعوت دیتا ہے۔ شعریٰؔ کی نظم’گڑیا گھر‘ کا ابتدائی بند ملاحظہ ہو:
ریاضت کے لیے مردان حق ؍ کوہ و بیاباں کی طرف نکلے ؍ کبھی ڈوبے کبھی ابھرے ؍ مگر گڑیا کی رنگیں پالکی کو پالکی بردار ؍ جس بستی میں لے آئے ؍ وہیں اپنی تپسیا کی ڈگر پر اس کو چلنا ہے(۱۳)
پروین شاکر اور فہمیدہ ریا ض ؔکی نظموں ( گڑیا اور نک نیم )کے بر خلاف شعریٰؔ کی نظم میں شائستہ اور پُر وقار لہجے کے ساتھ فکراور دانش وری کی ایک لہر ملتی ہے جو نہ صرف یہ کہ ظاہری طور پرموضوع کا احاطہ کرتی ہے،بلکہ اس میں عورت کی مکمل زندگی کا ایک عکس پیش کیا گیا ہے ۔ ہمارا سماج جہاںسربراہِ مملکت سے لے سربراہِ خاندان تک اقتدار اور طاقت کی ہر کرسی کا حقدار صرف اور صرف مرد ہے۔جہاں قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ۳۳؍ فیصد نشستیں محفوظ کرانے کا بل سولہ برسوں سے زیرِ التوا ہے ،جہاں پہلی لوک سبھا سے سولہویں لوک سبھا تک کے طویل سفر میں خواتین کی شمولیت کا تناسب ۵ فیصدکی جگہ صرف ۱۲ فیصد ہوا ہے اور جس ملک میں اکیسویں صدی میں بھی جہیز کے لیے عورتوں کو نذر آتش کر دینے کی خبریں تقریباً روز ہی اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ایسے معاشرے میںخواتین کے سماجی، سیاسی، قانونی اور دیگر حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے خواب بھی کیسے دیکھے جاسکتے ہیں۔ شعریٰؔ اسی موضوع کو ایک آفاقی رنگ دیتی ہیں :
چھٹی حس بھی معطل ہونے لگتی ہے جب اخبار کی خبروں سے ؍ تو پرکھوں کی دعائیں ؍ کام آتی ہیں ؍ وہ گڑیا کو کہانی ؍ ایسے بیڑوں کی سناتی ہیں ؍ ہزاروں سال کے ترک ِ وطن کے بعد بھی ؍ جن کی جڑیں ؍ اپنی زمیں سے جڑ نہیں پائیں (۱۴)
عورت کو جنم سے ہی ایک گھر کی خواہش ہوتی ہے جو گزرتے عمر کے ساتھ شدید ہوتی جاتی ہے۔ ناسمجھ اور معصوم بچیوںکا ریت کے گھروندوںکی تعمیر میں منہمک ہونا ان کے اس فطری رجحان کی غمازی کرتاہے۔ اس کے باوجود عورت تمام عمر باپ،بھائی ، شوہر اور بیٹے کے گھر میں زندگی بسر کرتی ہے،اس کا کوئی اپنا گھر نہیں ہوتا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسے ووٹ ڈالنے ، ملازمت ، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور جائیدادکی ملکیت کے حقوق حاصل ہیں تاہم جب ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ آج بھی اس کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ورکنگ وومن کے نام سے شناخت رکھنے والی ملازمت پیشہ عورتوں کے گھروں کے باہربھی نیم پلیٹ پر مرد حضرات کے نام ہی جگمگاتے ہیں۔شعریٰؔ رقم طراز ہیں :
یہ حسرت رہ گئی ؍ سارا جہاں ہوتا ؍ گھروندا اپنا موروثی ؍ پہن کر خول کچھوے کانہ پھر یوں زندگی کرتے ؍ غبار آلود چہروںاور پراگندہ لٹوں والے ؍ ملامت کیش(۱۵)
انسان کے خواب و حقائق کی کوئی انتہا نہیں ،اس نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں اور چاند پر اپنے نقش پا ثبت کیے۔اس کی خواہشیں، تمنائیں اور آرزوئیں روزنت نئے ایجادات کا عملی جامہ پہن کر ہمارے سامنے مجسم نظر آتی ہیں اوراب تو وہ مقام آگیا ہے کہ انھوں نے عقل انسانی پرحیرت کے سارے در بند کر دیئے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں اس ہوشربا ترقی نے انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں منہمک رکھا ہے۔’’لب کشا‘‘میں لکھتی ہیں:
ہم آہنگ گردش ستاروںکی ہے ؍ پڑ گئیں جو فضاؤں میں لیکیں پرانی ؍ وہ ان پر پھرے جارہے ہیں، پھرے جارہے ہیں ؍ سب حدیں ان کی پیمودہ ہیں ؍ مگر اپنے خواب و حقائق کا سیل عظیم ؍ کوئی لیک اس کی بنا دے ؍ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ ؍ کبھی جو بنا دے بھی کوئی تو سوچو ؍ ہمارے قدم اور لیکوں کا رشتہ کہاں تک ؍ کہ اک حد پہ مٹ جائیں گی وہ ؍ تو کیا ہم بھی تھم جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؍ ہم تو بڑھتے ہی رہتے ہیں ؍ چاہے وہ زلزال ہو جو ہمکتا نظر آئے ؍ چاہے وہ ایک سوچ ہو جو تراشے چلی جائے بے شوروشیون ؍ سیہ دہشتوں کے پہاڑ(۱۶)
لیکن اس کے بعد شعریٰؔ جب معاشرے میں عورت کی حالت پر نظر ڈالتی ہیں تو اس کے برعکس پاتی ہیں۔عورت تو آج بھی وہی ہیں جہاں روز اول تھی ۔’’اک ستارہ آدرش کا‘‘میںیوں گویا ہوتی ہیں:
’’ہم نے انساں کا جنم پایا ‘‘ ؍ ستارے گارہے تھے—– ؍ ’’کس عمل کے اجر میں ؍ پایا ستارو، ؍ تم نے انساں کا جنم؟‘‘ ؍ ہم تو انساں کے جنم میں بھی ستارے ہی رہے(۱۷)
اردوادب کی ممتاز شاعرات کے یہاں تانیثیت کی بے باک اور چبھتی ہوئی آواز کے پہلو بہ پہلو جب ہم شعریٰ کی ان نظموں کو رکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ شعریٰؔ کے یہاں تانیثیت کا مخصوص آہنگ نظر نہیں آتا ۔ ان کے پہلے مجموعے میں نسائیت ضرور نظر آتی ہے۔ ’گلہ ء صفورہ‘ کے گردپوش پر قاضی سلیم کے اس جملے ’’ شعریٰ ؔ اردو شاعری کی پہلی نسائی آواز ہے ‘‘کے حوالے سے فضیل جعفری لکھتے ہیں کہ ’’ قاضی صاحب کا یہ قول فیصل’ گلہء صفورہ‘ میں شامل نظموں پر ہی صادق نہیں آتا بلکہ اس کا تعلق شعریٰؔ کے عمومی شعری اور فکری رویے سے ہے۔ عورتوںکے سلسلے میں شعریٰؔ کا جو وژن ہے اس کی تشکیل میں مشاہدات کے علاوہ ان کے ذاتی تجربات کا کردار بھی نمایاں ہے ۔‘‘ (۱۸) ذاتی تجربات سے شعریٰؔ کے گھریلو مسائل کی طرف اشارہ ہے ۔ شعریٰؔ کے عہد میں تانیثیت کا غلغلہ پورے زور و شور کے ساتھ اٹھا ، لیکن شعریٰؔ اس سے بالکل بھی متاثر نہیں تھیں ۔تانیثیت سے شعریٰؔکی جذباتی یا نظریاتی وابستگی تلاش کرنے سے قبل تانیثی تحریک کے سلسلے میں شعریٰؔ کی آرا سے رجوع کرنا زیادہ مناسب ہے۔وہ لکھتی ہیں:
اقبال نے نسوانی زندگی کو نسبتوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
مریم ازیک نسبت عیسیٰؔ عزیز
از سر نسبت حضرت زہرا عزیز
خانوادہ کی دنیاعقبیٰ تک توسیع یاب ہے لیکن خانوادہ کے وقت کے تسلسل کا ایک موڑ یوم مسئولیت ہے،جہاں زن و مرد دونوں اپنے انسانی جوہر کی نمود کے ساتھ ، فرد واحد کی حیثیت سے ذات یکتاکے حضور حاضر پائے جاتے ہیں ۔ نسبتوں کا تناظر پیچھے چھوٹ جاتا ہے یہاں نہ مریم نسبت سے عیسیٰ عزیزالوجود ہیں نہ عیسی نسبت مریم سے بلکہ اپنی سج دھج اپنے تیور اور اپنے جوہر سے عزیز الوجود ہیں ۔ اس پہلو سے اقبال کی نگاہ نے صورت حال کو نہیں دیکھا۔۔۔
یہ ضروری نہیں کہ ان خیالات کی بنا پر میں اناثی تحریک کی گرد کارواں سمجھی جاؤں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس تحریک کے رطب و یابس کا بوجھ اٹھانا میرے بس کا روگ نہیں۔ اپنے عہد کے تناظر میں گھر سنسار کا منظر نامہ ابھرے تو دکھائی دیتا ہے کہ گھر سنسار حال حال تک اپنی خیر منارہا تھا کہ کہیں اشتراکی ریاستوں کی اجتماعی رہائشی فارمولوں میں تحلیل ہو کر نہ رہ جائے۔۔۔آخر میں اپنے یہاں کی صورت حال پر ایک نظر ڈالنا بھی قرین انصاف ہو گا۔ عرصہء دراز سے یہاںعورت کو حور ارضی کاتشخص عطا کیا گیا ہے۔ اس موقف میں ایسا لگتا ہے کہ شاید روز حساب یہ اپنے نامہء اعمال کو بھی اپنے سرپرستوں سے پڑھوائے جانے پر اصرار کرے گی۔(۱۹)
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شعریٰؔ تانیثیت کی تحریک سے وابستگی تو دور کی بات اس تحریک کوپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں ۔ شعریٰؔ نے اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کو زندگی گزارنے کے لیے ’رابعہ تابعیہ‘ کے حوالے سے پورا منشور مرتب کردیا ہے۔ عقائد کی دیوار کو توڑ کراجتہاد کی جو بنیاد حضرت آسیہ ؓنے رکھی تھی اسے رابعہ ؒنے آگے بڑھایا ہے۔ انھوں نے خود اپنی مثال دے کر خواتین کو خود کفیل بننے اور پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا راستہ دکھایا ہے۔
’’وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاًلِلَّذِیْنَ آمَنُوْا اِمْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبّ ِ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتاًفِیْ الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْن ‘‘( اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ،جب کہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے) (سورہ تحریم : آیت : ۱۱) قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے نظم ’دعائے بانوئے فرعون ‘ میںا س عقیدے کو باطل قرار دیا ہے کہ شوہر سے غیر مشروط ہم آہنگی کا نام وفا ہے اور عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو اس وفا کی بنا پر ہی باشرف اور نیک ٹھہرے اور اس کی عبادتیں اور نیکیاں اسی شرف کی بنا پر تولی جائیں۔عہد قدیم کی اس عظیم المرتبت خاتون کی دعا کے ان الفاظ میں ان کا مکمل تعارف موجود ہے ایسا کافی ووافی تعارف جس کی بنا پر انسانی تاریخ میں ایک مثال اور ایک آدرش کی حیثیت سے ان کا تذکرہ کیا جائے گا ۔ قرآن مجید میں تاریخ عالم کی جھلک، ارتقا کے سنگ ہائے میل بنانے والے انسانی کارناموں پر مشتمل ہے۔’ دعائے بانوئے فرعون‘ کے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
اتفاق و بخت کا ہر دام جبر ؍ توڑ دینے کی یہ مختاری ، ؍ یہ گھر کے راج سے ، ؍ حق بجانب ارجمندو بے گزند، ؍ دست برداری ، ؍ خدا یا ؍ تیرے رازوں میں ؍ یہ کیسا راز ہے(۲۰)
شعریٰؔ اپنے ایک مضمون میںلکھتی ہیں:
فرعونی جلال وجبروت کو ٹھکراتے ہوئے صرف عائیلی نظام سے نہیں بلکہ ناکسوں کے خشک وتر سے بھی غیر مشروط ہم آہنگی کے وفادارانہ عقیدہ کو وہ [ فرعون کی بیوی حضرت آسیہؓ] مسترد کرتی ہیں، جس کو آج سے ہزاروں برس پہلے مسترد کرنا جان کا زیاں تھا۔۔۔ان کا یہ رویہ انھیں خدا سے دور نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے جوار قرب کے باغات میں بسیرا کرنے کا تمنائی بناتا ہے۔(۲۱)
ساتھ ہی شعریٰؔ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ عورتوں کو ذریعہ معاش کے لیے گھر کی چہار دیواری سے باہر نکلنا پڑتا ہے،کیوں کہ صارفیت کے اس دور میںبسا اوقات تنہا مرد کی آمدنی کے ذریعے گھر چلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ’شاہ راہ آرزو ‘ نامی نظم کا یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا پہلو ملک میں پھیلی ہوئی غربت اور غریبوں کی زندگی کی سچائی اور مشکلات کو اجاگر کرنا ہے:
سطح غربت سے بھی نیچے پلنے والا صبر و شکر ؍ متصل ہو جب شب غم میں بلاؤں کا نزول ؍ مٹ کے رہ جاتا ہے فرق اندرون ِ خانہ و بیرونِ در ؍ صبح دم دونوں ہی (مرد وزن ) ؍ تلاش رزق میں باہر نکلتے ہیں ؍ تبھی چلتا ہے کام(۲۲)
اور وہ جانتی ہیں کہ روز اوّل سے اسی لیے بابِ رعایت کشادہ ہے کہ بسا اوقات خواتین کا ملازمت کرنا ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔اسلام عورت کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کا محافظ ہے اور اسے ملازمت و تجارت میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے تو امہات المؤمنین ، صحابیات کرام اور دیگر خواتین اسلام کے باقاعدہ تجارت اور صنعت و حرفت سے وابستہ اور معاشی طور پر خودمختار ہونے کی کئی مثالیں نظر آتی ہیں۔ روشن ترین مثال ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی ہے:
لارہی ہیں بھر کے مشکیزے کہاں سے لڑکیاں؟ ؍ ۔۔۔۔۔۔بہتے چشموں سے ؍ بیابانوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ایندھن ؍ میوہ ہائے خشک وتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باغات سے ؍ کچھ رداؤں میں ہیں مستور ؍ اور کچھ ان میں ہیں بے چادر کھلے سر ؍ خادمائیں بھی ہیںمخدومات بھی پاکیزہ اطوار ؍ یہ ہیں معروف النسب اپنے قبیلے میں، ؍ انھیں پہچانتے ہیں نام سے ان کے، ؍ غیورانِ عرب۔ ؍ کون ہیں یہ؟ ؍ یہ وہی ہیں جن کے قدموں کے تلے ؍ مردانِ آزاد ؍ ڈھونڈتے ہیں اپنی جنت کا سراغ (۲۳)
شعریٰؔ معاشی طور پرعورت کی خود مختاری کی اس وجہ سے بھی قائل تھیںکہ معاشی پائیداری عمدہ سماجی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور عورت کی خستہ حالی میں معاشی کمزوری کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ظلم وزیادتی کی اصل وجہ معاشی طور پر مرد کا دست نگر ہونا ہی ہے۔اور شعریٰؔ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھیں بلکہ اس تجربے سے گزری بھی تھیں جب ان کے والد لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کے سلسلے میں نظریاتی اختلاف کی بنا پر ان کی والدہ اور ان بھائی بہنوں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
شعریٰؔعورت کو صنف کی حد میں محدود رکھنے کی قطعی مخالف ہیں ۔ وہ نسوانی چہرے کے پس منظر میں انسانی چہرے کی جھلک تلاش کرنے کی قائل ہیں ۔جنس کی بنیاد پر تقسیم کی وہ قائل نہیں ہیں ۔ مردوں کی بالا دستی والے نظام معاشرت کے اس اصول کے خلاف تھیں کہ عورت کو تو ہمیشہ صنف کی حد میں محدود کردیا جاتا ہے، جب کہ اس کے بر خلاف مردانہ تجمل کو لازماً انسانی سج دھج کا آئینہ مانا گیا ہے ۔ اس سلسلے کی ان کی خوبصورت نظم ’رابعہ تابعیہؒ کی یاد میں ‘ ہے اس میں لکھتی ہیں :
امتیاز ِ مردو زن سے ماورا
سطح برتر بھی ہے اک انسانیت کی
جس پہ ابھرے وہ معاصر تابعین(۲۴)
رابعہ تابعیہؒ علامت ہیں عورت کے خود کفیل ہونے کی۔ رابعہ تابعیہ ؒالمعروف بہ رابعہ بصریؒ کا شمار تاریخ اسلام کی ان پاکیزہ اور نیک خواتین میں ہوتا ہے جن کی از ابتدا تا آخر تمام زندگی فقرو غنا سے عبارت ہے۔انھوں نے شدید ریاضت،علم سیکھنے کے کمال اور زہدو عبادت سے ایسا مقام پالیا تھا کہ ان کے عہد کے بڑے بڑے زاہدوعابد مالک بن دینارؒ،سفیان ثوریؒ،شفیق بلخی ؒ اور ابراہیم ادہمؒ جیسے بزرگ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کی گفتگو سننا اپنے لیے باعثِ شرف سمجھتے تھے۔وہ بزرگ بھی جو عمر اور بای النظر میں علم اور تصوف میں ان سے آگے تھے ،ان کی مجلس میں مؤدب رہتے تھے۔ اور حسن بصری ؒ جیسے صاحب علم بزرگ کے نزدیک ان کا یہ مرتبہ تھا کہ:
مجلس خاموش محو انتظار ؍ کس کی آمد پر نہ جانے آج ہے موقوف آغاز خطاب ؍ گوش بر آواز ہیں ہم سب یہاں ؍ لب کشا ہوتے نہیں لیکن حسن بصری ؍ کہ اب تک رابعہ آئی نہیں ؍ ’’ کس طرح شربت بھرا اتنا گراں برتن ؍ جو ہاتھی کے لیے ہے ؍ میں اٹھا کر چیونٹیوں کے سامنے رکھ دوں‘‘ ؍ حسن بصری نے پو چھا (۲۵)
مادری نظام کے بعد انسانیت نے جوں ہی پدری نظام میں قدم رکھا ،تمام اقدار کا مرکز مرد بن گیا۔ اساطیری دیویاں ماقبل تاریخ کی خرافات ٹھہریں اورخدا ، دیوتا ، فرشتے ، اوتار اور پیغامبر وغیرہ کا صیغہ آہستہ آہستہ تذکیر میں بدل گیا۔ پدرانہ نظام معاشرت میں گھر سے لے کر تخت اور مکتب سے لے کر منبر اور محراب تک ہر درجے پر مرد اپنا ہی حق فائق سمجھتا آرہا ہے ۔ایسے میں اگر ایک زاہد و صالح عورت اپنے اقوال و افکار سے اور اپنی عبادات کی انتہا سے ہلچل مچادے تو یہ حیرت کا مقام ہے۔اور یہی رابعہ ؒ شعریٰؔ کے لیے سر چشمہء فیضان ہیں۔ کہتی ہیں : ’’رابعہ سر چشمہء فیضان ہیں میرے لیے‘‘۔رابعہ بصری ؒکی جن خوبیوں نے شعریٰؔ کو اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ انھیں ’سرچشمہء فیضان‘ قرار دیتی ہیں ان میں سے ایک رابعہؒ کا خود کفیل ہونا اور مرد کی با لا دستی والے اس معاشرے میں کسی کا دست نگر نہ ہوکر ایک خود مختار زندگی بسر کرنا ہے:
زندگی نے بارہا آواز دی ؍ پرکشش محمل کی جانب ؍ وہ مگر بہر مثال ؍ پاپیادہ ہی رہیں اپنی ریاضت کی ڈگر پر گامزن ؍ اک کھلی دنیا کا انسانی تناظر ؍ اس میں اک خاتون تنہا خود کفیل ؍ منفرد اپنی روش میں بر بنائے اجتہاد ؍ بے ہراس و برحق و بااعتماد ؍ یہ طریق زندگی خود ان کا اپنا انتخاب(۲۶)
عورت کے سلسلے میں شعریٰؔ کی یہ شعری تحریریں صنفی انصاف اور صنفی مساوات جیسے نظریات سے آگے کی منزل ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان جیسا جمہوری ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ۔ دنیا کے تمام ممالک میں خواتین کو مال واسباب کی طرح استعمال کیا جارہا ہے اور انھیں مال و اسباب کو فروخت کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بنا دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ’’ رابعہ تابعیہؒ‘‘ ایک طاقتور نظم ہے کہ انھوں نے اس میں ’صنف ‘ والی قدیم دیوار کو ڈھا کرمعاشی، سماجی، مذہبی اور سیاسی غرض کہ ہر زاویے سے عورت کو مرد کا نصف بہتر کہنے کے بجائے ایک آزاد اور خود مختار انسانی وجود کے طور پر پیش کیا ہے ۔شعریٰؔ کا تاریخی شعور بہت بالیدہ ہے ۔ اکثر وہ شاعرات جنھوں نے تانیثیت کو برتنے کی کوشش کی ، اعتدال و توازن کی ڈور ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور باغیانہ پن ان کے لہجے میں در آیا۔نتیجتاً ان کی شاعری ، شاعری کم اور نعرہء بغاوت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اس کے بر عکس شعریٰؔ کے یہاں ایک خوشگوار توازن پایا جاتا ہے۔ انھوں نے تانیثیت کے نام پربے مہار آزادی اور جنسی بے راہ روی کا استقبال نہیں کیا بلکہ ان کے تانیثی رویے کو اس زمرے میں رکھا جاسکتا ہے جو تیسری دنیا کے بیش تر ممالک میں ’اسلامی تانیثیت‘ کے نام سے رائج ہے۔پڑھی لکھی مسلم خواتین اب نہایت سنجیدگی سے اپنے حقوق کے لیے متحرک ہورہی ہیں۔ ناری شکشا نکیتن لکھنؤ میں اقتصادیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عذرا بانو لکھتی ہیں:
جنسی مساوات ایک طرح کی جنگ نہیں مردوں سے، بلکہ ایک ایسی روایت کو توڑنا ہے جو ہمارے سماج میں برسوں سے بودی گئی ہے۔ سماج کو چاہیے کہ اس کی اہمیت کو محسوس کریں اور قبول کریں کہ عورت مرد زندگی کے ہم سفر ہیںاور سماج کی پہچان اور ترقی صرف مردوں سے نہیں بلکہ عورتوں سے بھی ہوتی ہے۔ آج کی عورت نے برابری کی آواز اٹھانے کے حق کو طلب کیا ہے۔ یہ برابری تعلیم ، نوکری، سیاست اور جائداد وغیرہ کے لیے ہے۔ یہ نعرے عورتوں کو آگے لانے کے لیے ہیںجو ان کی شخصیت اورخیالات میں تبدیلی لانے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔(۲۷)
شعریٰ نے تاریخ سے ایسی مسلمان خواتین کو اپنا موضوع بنایا،جنھوں نے خود مختاری کی زندگی گزارتے ہوئے بھی عظمتوں کی بلندیوں کو چھوا اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن گئیں ۔ان کا آئیڈیل آسیہؓ، خدیجہؓ، عائشہؓ اور ہاجرہؓ جیسی خواتین ہیںاور وہ ان ہی کرداروں سے روشنی اخذ کرتی ہیں۔ شعریٰ کی اس قسم کی نظموں میں ’گلۂ صفورہ،‘’ مریم صدیقہ‘ ،’رابعہ تابعیہ کی یاد میں‘، ’دعائے بانوئے فرعون‘، ’اک ستارہ آدرش کا‘ اور ’شاہ راہِ آرزو وغیرہ‘ ہیں۔ شعریٰ اپنے معاشرے اور ماحول سے نامطمئن ضرور ہیں ،لیکن باغی نہیں۔ یہی اعتدال و توازن انھیں فکر وفن کی بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔
حواشی
۱۔ محمود ہاشمی، ’’آفاقِ نوا -ایک جائزہ‘‘ ، سوغات،شمارہ: پہلی کتاب (ستمبر ۱۹۹۱ء)، ص، ۴۲۳۔
۲۔خالدہ حسین،’’زہرانگاہ‘‘، شعر و حکمت ،کتاب :۱۲،دور : سوم ،ص،۱۰۳۔
۳۔ حمیدنسیم،’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ (ایک تعارف)‘‘،مشمولہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات،ہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء ، ص ، ۳۷۷۔
۴۔شفیق فاطمہ شعریٰؔ،سلسلہء مکالمات ،ص ،۲۶۹۔
۵۔ایضاً،ص،۳۱۸۔
۶۔فضیل جعفری، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘، اردو ادب (سہ ماہی)کتاب : ۳۶۱ ، (جولائی تا ستمبر ۲۰۱۳ء) ،ص ،۳۹۔
۷۔ایضاً،ص،۳۱۰۔
۸۔وحیداختر، ’’ اردو نظم آزادی کے بعد‘‘، سرورا لہدیٰؔ(مرتبہ)، کلیاتِ وحید اختر جلددوم،ص،۸۰۔
۹۔کشور ناہیدؔ،دائروں میں پھیلی لکیر،نئی دہلی؛ نئی آواز، جامعہ نگر،۱۹۸۷ء،ص،۵۲۔
۱۰۔ ایضاً،ص، ۲۷۔
۱۱۔فہمیدہ ریاض ،میں مٹی کی مورت ہوں ، لاہور؛سنگ میل پبلیکیشنز،۱۹۸۸ء، ص ۶۴۔
۱۲۔پروین شاکر ،ماہِ تمام، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،۲۰۰۸ء، ص، ۷۷۔
۱۳۔ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات ،ص ،۱۱۴
۱۴۔ ایضاً،ص،۱۱۵۔
۱۵۔ ایضاً،ص،۱۱۷۔
۱۶۔ایضاً، ص،۳۲۔
۱۷۔ایضاً، ص،۱۴۹۔
۱۸۔فضیل جعفری ؔ، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘،اردو ادب ، ص، ۵۱۔
۱۹۔ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، ’’دعائے بانوئے فرعون ‘‘، مشمولہ سلسلہء مکالمات ، ص ،۱۸۰۔
۲۰۔ ایضاً، ص ،۱۶۱۔
۲۱۔ ایضاً،ص،۱۸۰۔
۲۲۔ ایضاً،ص،۲۴۱۔
۲۳۔ ایضاً، ص،۲۴۰۔
۲۴۔ ایضاً،ص،۱۳۹۔
۲۵۔ ایضاًایضا۔
۲۶۔ ایضاً، ص،۱۴۰۔
۲۷۔ بحوالہ خلیل احمد بیگ۔’’تانیثیت‘‘۔ مشمولہ اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہات (مرتبہ) صالحہ صدیقی۔ دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔ ۲۰۱۳۔ ص،۷۱۔

Shafeeq Fatimia Shera ki Shairi by Qamar JahaN

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ ؔکے کلام میں پیکر تراشی

قمر جہاں

تھم جاتے ہیں پل بھر کو نوا گر سفر نصیب
یہ کس ساگر کی پروردہ بدلی ہوگی
کتنی جاں لیوا مسافتیں طے کر کے اسے
اس وادی کے دامن میں ملا
ہنگام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برسنے کا (شعریٰؔ)
دشت شاعری کی خارزار راہوں کی جان لیوا مسافتیں طے کرکے اپنا انفرادی اور امتیازی تشخّص قائم کرنے والا یہ خوبصورت لہجہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے ۔ جس نے بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں اپنی طویل نظم ’’ فصیلِ اورنگ آباد ‘‘ کے ذریعے باذوق قارئین کو نہ صرف چونکایا بلکہ اردو شاعری کی تاریخ کو ایک نیا اوراہم موڑ دینے کا عزمِ مصمّم کیا ۔
اردو شاعری کے ابتدائی دور سے ہی خواتین کی شاعری کے نقوش ملتے ہیں لیکن یہ نقوش اتنے مدھم اور دھندلے ہیں کہ وہ اردو شعرو ادب کی تاریخ میں کوئی نمایاں اور دیر پا اثر نہ چھوڑ کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجاتے ہیں تفنّنِ طبع اور ذہنی تسکین کے لیے کی جارہی اس شاعری میں پر اعتمادی اور انفرادیت نہیں بلکہ تقلید کا رویّہ صاف نظر آتا ہے لہٰذا اس میں عورت کی انفرادیت اور اس کا امتیازی لہجہ تلاش کرنا عبث ہے۔
شاعری سے قطعِ نظر اگر فکشن پر نظر ڈالی جائے توترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر رشید جہاں ؔ کے پر اعتماد اور باغی لہجہ نے مردوں کی بالادستی والے اس معاشرے میں عورت کے وجود اور اس کے حقوق کا احساس دلایا اس کے ساتھ ہی عصمت چغتائیؔکا بے باک لہجہ بھی ادب میں اپنے قدم جمارہا تھا لیکن شاعری کی تاریخ ہنوز کسی وجودِ زن کے قرطاس و قلم سے محروم تھی۔ محمود ہاشمی کے الفاظ میں ’’ اردو میں اور خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا ۔‘‘کہ انھیں حالات میں شفیق ؔفاطمہ آسمانِ شاعری پر شعریٰؔ بن کر نمودار ہوئیں ،جس کی ضیا پاش کرنوں نے ماقبل کی تاریخ میں ٹمٹماتے ہوئے نسوانی لہجے میں خود کو شعریٰ( آسمان کا روشن ترین ستارہ (Siriusثابت کیا۔ ان کی شاعری کے تعلق سے یہ دعویٰ غلط نہیں کہ انھوں نے نہ صرف شاعرات کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ خوبصورت، دلکش اور مسحور کن لب و لہجہ کی حامل یہ پہلی شاعرہ تھی جس کی شاعری کے کینوس پر بکھرے ہوئے قوس قزح کے متعدد رنگوں نے مردوں کے ہمراہ اپنا نام درج کرایا۔ ذہنِ جدید کے شمارہ نمبر ۲۸؍ میںجمال اویسیؔ لکھتے ہیں ’’میرے سامنے اردو شاعری کی پوری تاریخ ہے اور میں اقبالؔ کے بعدراشدؔ، میراجیؔ، اخترالایمان ، فیضؔ، منیر نیازیؔ،ضیا جالندھریؔ، مجید امجدؔ ، منیب الرحمٰن اور شفیق فاطمہ شعریٰؔ وغیرہ کو اہم نظم نگار شاعر تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
ادب میں زبان کا براہِ راست نہیں بلکہ اس کا تخلیقی استعمال کیا جاتا ہے اورتخلیقی زبان چار چیزوں سے عبارت ہے: تشبیہہ،پیکر ، استعارہ اور علامت۔نثر ہو یا شعر ،اگر ان میں زبان کا تخلیقی استعمال نہ کیا جائے تو وہ ادب نہیں بلکہ صحافت کے دائرے میں آجاتا ہے۔ زبان کے اس تخلیقی استعمال کے متعلق شمس الرحمن فاروقی رقم طراز ہیں :
تشبیہ، پیکر، استعارہ اور علامت میں سے کم سے کم دو عناصر تخلیقی زبان میں تقریباً ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ اگر دو سے کم ہوں تو زبان غیر تخلیقی ہو جائے گی ۔ یہ اصول اس قدر بین اور شواہد و براہین کے ذریعہ اس قدر مستند ہے کہ اس سے اختلاف شاید ممکن نہ ہو۔(شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)
چونکہ گفتگو’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کے کلام میں پیکر تراشی‘‘ سے ہے اس لیے تشبیہہ، استعارہ اور علامت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بحث براہِ راست پیکرتراشی یا امیجری کے حوالے سے کی جا رہی ہے ۔ پیکر تراشی یا امیجری کا سیدھا سادہ مفہوم لفظوں کے ذریعے تصویر کشی ہے۔امیجری، پیکر تراشی یا محاکات کا عمل بنیادی طور پر اشاراتی یا علاماتی زبان کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ امیج کے لفظی معنی یوں تو پیکر یا تصویر کے ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ شاعری کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے اس وقت محض پیکر یا تصویر کے معنی کے بجائے یہ لفظ ایک اصطلاح بن جاتا ہے۔ امیجری کی تعریف کرتے ہوئے مشہور نقاد پروفیسرابوالکلام قاسمی نےC. Day Lewis کی معرکۃ الآرا کتاب The Poetic Imageکے حوالے سے لکھا ہے کہ:
لفظی تصویریں بنانا امیج سازی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ کہ اس وقت پوری نظم ایک مکمل امیج بن جاتی ہے جب اس کے مختلف حصوں میں متنوع پیکروں کی تخلیق ایک ساتھ مل کر مبسوط اور مرکب تشکیل کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔(شاعری کی تنقید، ص، ۱۱۸)
گذشتہ سطروں میں محاکات کو پیکر تراشی اور امیجری کے ہم معنی لفظ کے مفہوم کے طور پر استعمال کیا گیاہے ۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ پیکر تراشی کے ساتھ ساتھ محاکات پربھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ شعر کے لوازم میں محاکات کا ذکر سب سے پہلے شبلیؔ نے کیاہے، انھوںنے محاکات کو شعر کا ایک لازمی عنصر قرار دیا ہے ۔ وہ محاکات کی تعریف یوں کرتے ہیں :’’محاکات کے معنی کسی چیز یاکسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویرآنکھوں میں پھر جائے۔‘‘( شعرالعجم (جلد چہارم) ص، ۸)پیکر کی تعریف کرتے ہوئے شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں،’’ہر وہ لفظ جو حواسِ خمسہ میں کسی ایک( یا ایک سے زیادہ ) کو متوجہ اور متحرک کرے پیکر ہے ۔ یعنی حواس کے اس تجربے کی وساطت سے ہمارے متخیلہ کو متحرک کرنے والے الفاظ پیکر کہلاتے ہیں ۔‘‘(’’علامت کی پہچان‘‘ شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)صاحبِ آئینۂ بلاغت مرزا محمد عسکری محاکات کی تعریف کے ضمن میں لکھتے ہیں ’’کسی منظر کا مرقع الفاظ کے ذریعہ سے کھینچنا جس کی تصویر کوئی مصور نہ کھینچ سکے۔‘‘(آئینۂ بلاغت، ص، ۳۶)
تقریباً سوا سو سال پر محیط اردو تنقید کی تاریخ میں اہم مقام کے حامل ان نظریہ ساز ناقدین کی آرا کو مد نظر رکھتے ہوئے پیکر تراشی کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مادی اور غیر مادی مناظر کی تفریق سے قطع نظر کسی منظر، شے یا حالت کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ قاری یا سامع کے حواسِ خمسہ میں سے کوئی حس متحرک ہو جائے۔ واضح ہو کہ مصوری اور پیکر تراشی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ فنِ مصوری میں کسی منظر کی ہو بہو تصویر کھینچنا فن کی پختگی اور فنکار کی مہارت کا ثبوت ہے جب کہ پیکر تراشی میں شاعراپنی مرضی کے مطابق اصل نقش میں حذف و اضافہ کر لیتا ہے۔اسی لیے شبلیؔ محاکات کو شاعرانہ مصوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ لیکن وہ تصویر کشی یا مصوری اور محاکات میں فرق کرتے ہیں ۔ شبلیؔ کے مطابق مصوری میں ہو بہو تصویر کھینچی جاتی ہے جب کہ محاکات کے ذریعے شاعر ہو بہو تصویر نہیں کھینچتا بلکہ اصل نقش میں کچھ اضافے اور کچھ کمی کے ذریعے اپنے خیال کی تر جمانی کرنے والی تصویر کھینچتا ہے۔ اس طرح کی تصویر کشی کو نئی تنقید میں ’’پیکر تراشی‘‘یا ’’ امیجری‘‘ کہا جاتا ہے۔
پیکر تراشی کا سب سے اہم رول مجرد تصورات کو مجسم اور ٹھوس پیکر میں تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح پیکر تراشی کے ذریعے شاعر ایسی فضا خلق کرتا ہے کہ ہم مناظر کو دیکھنے، آوازوں کو سننے اور بعض کیفیات کو لامسہ، ذائقہ اور شامّہ کی مدد سے محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
شعریٰؔ کے شعری امتیازات ،ان تمام فنی تدابیر اور شاعرانہ ہنر مندی میں مضمر ہیں جن کو انھوں نے اپنے شعری اظہار اور لسانی طریقِ کار کا حصہ بنایا ہے ۔ کلامِ شعریٰؔ میں ان عناصر کی تلاش و جستجو کرنے پر،جن سے ان کا کلام دو آتشہ ہوجاتا ہے ،پتہ چلتا ہے کہ ان کے کلام میں جہاں فکر کی گہرائی وگیرائی اور دیگر فنی محاسن عروج پر ہیں ،وہیںاحساس کو مہمیز کرنے والے پیکروں کی فراوانی اور مجرد احساسات وکیفیات کو لفظوں کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دکھانے کے سارے وسائل موجود ہیں ۔ موضوع کی ڈرامائی پیش کش ،متفرق اجزا کے ترک و اختیار اور الفاظ کے خلاقانہ استعمال سے وہ ایسا مرقع تیار کرتی ہیں کہ جب نظم کے درمیان کوئی منظر نامہ آجاتا ہے تو ہم خود کو قاری کے بجائے ناظر محسوس کرنے لگتے ہیں۔
شعریٰؔ نے شعری تصویر بنانے اور تاثر خلق کرنے کے لیے جس انداز کے پیکروں کی تخلیق کی ہے ان میں بصری پیکروں کی فراوانی ہے ۔ان کی نظموں کے ان گنت بند یا مصرعے مناظر کا بیان کم کرتے ہیں اور انھیں رو بہ عمل ہوتے ہوئے زیادہ دکھاتے ہیں۔ ان مناظر سے کبھی خوش گوار تاثر ابھرتا ہے ،کبھی حیرت و استعجاب کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور کبھی کھوئے ہوؤں پرافسردگی کا احساس ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر شعریٰؔ کی شاعری میں پیکر تراشی کے بہت عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔ نظم’ راگ یُگ کی نظمیں ‘سے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
حاشیہ دیوار کی صورت
ڈھیر سنہرا
پیلے سوکھے پتوں کا
چر مر کرتا ضرر سے عاری
خاک میں رلتی چر مر اس کی سنتا ہوا
کھڑکی سے چپکا کھڑا وہ بے پروا
ہر آہٹ کے ہر آواز کے ڈھانچے میں
رینگ رہا بیری بھیدی———-(سلسۂ مکالمات، ص، ۱۰۵)
اس بند میں جس نوع کا شعری پیکر تراشا گیا ہے اس کا تعلق قاری کی قوّتِ بصارت اور قوّتِ سماعت کو مہمیز کرتا ہے۔ حاشیہ دیوار، پیلے سوکھے پتوں کا سنہرا ڈھیر،چر مر، ضرر سے عاری،کھڑکی سے چپکا،بے پروا ،بیری ، بھیدی ان الفاظ کے ذریعے استعارے اور پیکر کا پورا نظام مرتب ہو گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعرہ ایک خاموش اور پر اسرار تصویر کو مختلف زاویوں سے دکھانا چاہتی ہے اور وہ یقیناً اپنے مقصد میں بحسن و خوبی کامیاب ہوئی ہے۔
اردو شاعری میں زیادہ تر پیکری اظہار بصری اور صوتی رہا ہے اگرچہ نئے شعرا کے یہاں لمسی اور ذوقی پیکر وں کا استعمال ملتا ہے۔نئے شعرا میں سے راشد ؔ ، میراجیؔاور فیض میں راشدؔ کے یہاں استعارہ زیادہ ہے پیکر کم ، جب کہ فیض نے پیکر کا استعمال زیادہ کیا ہے۔لیکن فیض ؔ کے پیکر داخلی منظر کو زیادہ ابھا رتے ہیں اس لیے زیادہ تر بصری ہیں میراجیؔ واحد شاعر ہیں جو پانچوں حواس پر قادر ہیں ۔ بقول فاروقیؔ’’نئی شاعری جو میراجیؔ کی طرف بار بار جھکتی ہے اور ان کے یہاں سے اپنا جواز ڈھونڈھتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ‘‘(،شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۹۰)
شاعرانہ امیجری کے ماہرین کا عام خیال ہے کہ ایسے حسّی پیکر تراش لینا جو کسی مخصوص قوّتِ حاسہ کو بر انگیخت کر لیں ہر چند کہ اہم اور قابلِ تعریف شعری محاسن میں سے ایک ہے ،لیکن پیکر جس حد تک اور جتنے زیادہ حواس کو متحرک کرے گا اتنا ہی اس شاعری کا معیار بلند ہوگا ۔ایک ساتھ مختلف حواسِ انسانی کو بیدار کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا تاہم اس ضمن میں بھی شعریٰؔ کا امتیاز غیر معمولی ہے۔ان کی نظموں میں متعدد مقامات پر یکساںاور متوازی طور پر ایک سے زیادہ حواس کو متحرک کرنے والے مخلوط پیکروں کی فراوانی ہے ۔ایک سے زائد حواس کی پیکر تراشی میں قاری اس طرح محو ہوجاتا ہے کہ اس کا پورا وجود شاعر کی بنائی ہوئی فضا،آواز،خوشبو،رنگ اور منظر میں شریک ہو جاتا ہے۔نظم ’ بہتا پانی‘ میں لکھتی ہیں :
اچانک کہیں اک درندے کا بین
وحشت آلود بد مزہ بو املتاس کی
تیز جھونکا سا بھرتا اڑان
جھاڑ جھنکاڑ کے درمیاں
پر بچاتا سمٹتا گذرتا ہوا ———–(سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۳)
اس اقتباس میںمتحرک بصری پیکر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔پہلے ہی مصرعے میںمستعمل علامت’ درندے کا بین ‘استماعی تجربہ ہے لیکن درندے کا لفظ بصری حسّیت کو بھی مہمیز کرتا ہے۔ بدمزہ بو بیک وقت قوت ذائقہ ، شامّہ اور باصرہ جب کہ تیز جھونکا سا بھرتا اڑان احساسِ بصارت جیسے حواسِ انسانی کو متحرک کرتا ہے۔ غیر معمولی طور پرمتحرک یہ منظر اپنے مختلف حوالوں سے قاری کے ایک سے زائد حواس ( قوّت ِ باصرہ،سامعہ،شامہ، ذائقہ) کو بیدار کرتا ہے۔الفاط کے جدلیاتی استعمال سے شعریٰؔ نے تصویر کو ایسا ہشت پہل بنا دیا ہے کہ دیکھنے کا ہر زاویہ منظر کا کوئی نیا پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے۔استعارے ،علامت اور پیکر کا یہ دلکش امتزاج شعریٰؔ کی انفرادیت ہے۔اس قسم کے پیکر شعریٰؔ کے یہاں بکثرت ملتے ہیں:
گپھا گپھا یگوں کے دائرے
گپھا گپھا یگوں کے دائرے میں
بن گھنے کہ جن میں جھٹپٹا
تپسویوں کے ساتھ ساتھ تھا سدا مقیم
جل رہے ہیں
جل رہا ہے فجر کا الاؤ
سگندھ اس کی اتنی گھائل اتنی تیز ہے
کہ سیلی سیلی یہ سگندھ ہے لہو لہو۔ ———–(نظم:فجر کا الاؤ، سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ہیرے کی کنی سی کہ ہے طینت میں سرشتہ
کبھی آواز کی لو بن گئی
آفاق بہ آفاق پلٹتی ہوئی اوراق
کبھی چھنتی رہی آنکھوں سے پیہم صفت ِ اشک
تو بدلتا ہوا رستہ
تہہ دریا سے دہکتی ہوئی بالو میں
نکلتا ہوا رستہ
جسے دیکھا
وہ مرا وہم نہیں میرا یقیں تھا—–(نظم:نرمل میٹھے پا نی کی تلاش میں، سلسلۂ مکالمات،ص،۸۳ )
اردو شاعری کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میںمناظر فطرت کی ترجمانی یا منظر نگاری ،مغربی شاعری سے اثر پذیری کا نتیجہ ہے ۔ یہ خیال 1857 کے بعد نشوونما پانے والی شاعری کی حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے لیکن دکنی اردو شاعری کے متعلق یہ رائے درست معلوم نہیںہوتی ۔ فطرت پرستی اور مناظر قدرت کی پیش کش کے آغاز کا سہرا غالباً محمد قلی قطب شاہؔ کے سر ہے مگر اس کی منظر نگاری بالکل ضمنی ہے ۔ قطب شاہی دور کے شعرا میں غواصیؔ نے سب سے پہلے منظر نگاری کی طرف توجہ دی۔منظر نگاری کے تحت فطرت کی کیف سامانیاں اور رنگینیاں بیان کی جاتی ہیں۔منظر نگاری کے دلکش نمونے مثنویوں اور خاص کر ’ سحر البیان ‘ میں ملتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مرثیہ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔ کربلا کے بے آب وگیاہ میدان میں پیڑ پودے اور جنگل وغیرہ کا ذکر بے معنی ہے لیکن چہرے یا تمہید کے بندوں میں شعرانے خوب خوب کمالات دکھائے ہیں ۔ جنگ کے وقت منظر کا بیان تو سورج کی تمازت، ریت کی تپش اور لو، دھوپ کے تھپیڑوں تک محدود ہے لیکن اس محدود منظر میں بھی خاص کر انیسؔ نے ایسی گل کاریاں کی ہیں کہ موسم بہار کے مناظر بھی پھیکے پڑ جائیں ۔
شعریٰؔ کے کلام میں منظر نگاری کے خوبصورت نمونے ملتے ہیں ۔شعریٰؔ کے منظر نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات کی بنیاد تخیل پر نہیں بلکہ مشاہدہ پر رکھی ہے اور ایک مصور کی طرح قدرتی مناظر کی بڑی خوبصورت تصویر کشی کی ہے ۔ نظم’ فصیل اورنگ آباد ‘ میں فصیل کے دوسری طرف کھیتوں کی منظر کشی اس طرح کرتی ہیں :
ایک سمت کھیتوں کی خوشگوار ہریالی
فرط سر خوشی سے ہے پتی پتی متوالی
ننھی ننھی چڑیوں کے دل یہاں ابلتے ہیں
کھیت کی خموشی سے زمزمے ابلتے ہیں
کاشتکار کے دل کے سب دبے چھپے ارماں
ان حسین خوشوں کی گودیوں میں پلتے ہیں
اک ہوا کے جھونکے سے کھیت ہوگئے ترچھے
جھک کے پھر وہ اٹھتے ہیں گر کے پھر سنبھلتے ہیں

منقولہ اشعار میں اور بطورِ خاص مؤخر الذکر شعر میں لہلہاتے کھیت کی جس قدر جاندار اور حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے اس سے خوبصورت تصویر کشی ممکن نظر نہیں آتی ۔ مناظر فطرت کی پیکر تراشی میں شعریٰؔ نے تکلف، مبالغے اور رعایت لفظی و معنوی خاص کر صنعت حسن تعلیل کانہایت فن کا رانہ استعمال کیا ہے ۔حسن تعلیل کا اتنا خوبصورت استعمال میر انیس ؔ کی یاد تازہ کردیتا ہے کہ میر انیس ؔنے بھی قدرتی مناظر کی تصویر کشی میں اس صنعت کا خوبصورت استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں مناظر فطرت کے بیان میں اس صنعت کا استعمال ملاحظہ کیجیے:

شوخ و شنگ کرنیں بھی جھیل میں نہانے آئیں
بے قرار موجوں پر ناچ اٹھے ستارے سے
اف کنول کے پھولوں کا یہ تبسم شیریں
کانپ اٹھے ہیں شرما کر موج کے اشارے سے

اسی طرح ’خوابوں کی انجمن ‘ میں بھی منظر نگاری کے دلکش نمونے نظر آتے ہیں ۔خاص کر اس کے پہلے بند میں چاندنی رات کی اتنی مکمل اور جاندار عکاسی کی گئی ہے کہ شاعرہ کی چشمِ خامہ کے بالمقابل حقیقی کیمرہ ناکام نظر آتا ہے ۔ بارہ مصرعوں پر مشتمل یہ بند پڑھتے ہوئے ہم کسی اور ہی خوبصورت لیکن پرسکون ماحول میں پہنچ جاتے ہیں اس بند میں بھی حسن تعلیل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں۔ منظر یہ ہے کہ رات کی تاریکی اپنا دامن وسیع کرتی جارہی ہے اور ستارے تنہا اس تیرگی سے دست و گریباں ہیں :
تیرگی کے نرغے میں کانپ کانپ اٹھے تارے
کررہا ہے روشن تر ان کو خوف پسپائی
سایے میں درختوں کے اپنے جال بننے کو
ٹہنیوں سے چھن چھن کر روشنی اتر آئی
کررہے ہیں سرگوشی جھنڈ کچھ سندولی کے
سوچتے ہیں بڑھ جائیں جا ملیں مناروں سے

اکثر مقامات پرایسی انوکھی تشبیہا ت و استعارات کی زرتابی کے ساتھ منظر کشی کرتی ہیں کہ ان کے تخیل کی داد دینی پڑتی ہے ۔ اردو شاعری کے منظر نامے پر آغاز سے ہی مناظرِ فطرت جیسے سورج،چاند ، ستارے ، پہاڑ ، دریا ، درخت، پھول، ہوا موسم ، بادل ،اور بارش وغیرہ کی چھاپ بہت گہری ہے ۔ لیکن قدیم شعرا کے یہاں زیادہ تر فطرت بحیثیت ایک معروض کے سامنے آتی ہے۔ جہاں شاعر کا مقصد مناظرِ فطرت کی معروضی پیش کش کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا ہے ۔ مناظرِ فطرت کی پیش کش کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ فطرت کے رسمیاتی یا عمومی اظہار سے قطعِ نظر فطرت کو اپنے موضوع کے پسِ منظر کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ جب کہ نظم کا اصل موضوع کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسی نظمیں فطرت کا لینڈ اسکیپ معلوم ہوتی ہیں لیکن پوری نظم میں اصل موضوع اسی طرح متاثر کن ہوتا ہے جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر میں فطری مناظر تصویرِ مقصود کے حسن میں اضافہ کرنے کا باعث ہوتے ہیں،اور شاعر کا کمال اس بات میں مضمرہوتا ہے کہ اس نے اپنے خیالات کو ابھارنے میں فطرت کا کتنا کامیاب اور خوبصورت استعمال کیا ہے۔ فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کرنے والے شعرا میںنمایاں ترین نام اقبال ؔ کاہے ۔ اقبالؔ کی متعدد نظموں کے آغازمیں مناظرِ فطرت کی سادہ پیکر تراشی کا تاثر ابھرتا ہے، لیکن انجام تک پہنچتے پہنچتے فطرت کا رشتہ کسی گہری اور فلسفیانہ فکر سے استوار ہو جاتا ہے ، اور وہ زندگی یا قوم و فرد کے افکار کا علامیہ بن جاتی ہے۔ اقبال کے علاوہ جوشؔ اور اختر الایمانؔ وغیرہ نے بھی فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان شعرا کے یہاں فطرت کا معروضی اور غیر معروضی دونوں تصور موجود ہے۔
شعریٰؔ نے فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں ان کی بنیادی فکر (اسلامی فکر )اور آگہی تک رسائی حاصل کرنے میں مناظرِ فطرت شاعرہ کے ہم سفر و رہنما بن کر سامنے آتے ہیں ۔ا س طرح فطرت شعریٰؔ جیسی ’’اہلِ نظر‘‘شاعرہ کے لیے انکشافِ ذات ،عرفانِ الٰہی اور’ ثبوتِ حق ‘کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ ان کی ایک نظم’ اسیر‘سے ایک بند ملاحظہ ہو:

یہ پانی جس نے دی پھولوں کو خوشبو دوب کو رنگت
حلاوت گھول دی آزاد چڑیوں کے ترنم میں
دہکتے زرد ٹیلوں کے دلوں کو خنکیاں بخشیں
ڈھلا آخر یہ کیسے میرے آزردہ تبسم میں

شعریٰؔ کی یہ نظم مکمل طور پر منظر کشی کے سہارے ہی آگے بڑھتی ہے اور پوری نظم میں مناظر کے ذریعے ایک سوگوار اور دلکش فضا تخلیق کی گئی ہے ۔ شعریٰؔ کی اس نظم میں منظر نگاری کے اس فنکارانہ استعمال کا ذکر کرتے ہوئے گوپی چند نارنگؔ لکھتے ہیں ’’ ایسی نظموں کو پڑھ کر اس امر کی توثیق ہوجاتی ہے کہ جس طرح وقت کا تحرک واقعات کا progression یا مکالمہ سے واردات کا کھلنا،بیانیہ عنصر ہو سکتے ہیں اسی طرح منظر کاری بھی بیانیہ سے باہر نہیں۔‘‘(’’جدید نظم کی شعریات اور بیانیہ ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۳۹)
مذکورہ نظموں کے علاوہ نہ صرف یہ کہ شجرِ تمثال، خلدآباد کی سرزمین، فصیلِ اورنگ آباد، ایلورہ، شفیع الامم اور یاد نگر وغیرہ نظمیں بھی پیکر تراشی کے نمونوں سے آراستہ ہیں بلکہ ان کا پورا کلیات ہی ایک ایسا خوبصورت البم ہے جس میں جابجا متحرک اور غیر متحرک تصویریں قاری کے حواس کو بیدار کرنے کے ساتھ ایک ایسے انجانے جہان کی سیر کراتی ہیں کہ قاری ایک مسحور کن کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔ باذوق حضرات کلیاتِ شعریٰؔ کی ورق گردانی کرسکتے ہیں ۔
کلامِ شعریٰؔ میں موجود فنی اور فکری محاسن کے باعث ہی فضیل جعفریؔ کا خیال ہے کہ جو مقام انگریزی فکشن میں جین آسٹنؔ کا ہے، اردو نظم میں وہی مقام شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے۔جدید نظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فضیل جعفری کہتے ہیں، ’’وہ [ شعریٰؔ] تمام جدید شاعروں سے یکسر مختلف ہیں ۔ آخر میں یہ بھی کہہ دوں کہ پاکستانی شاعرات جن کی نظموں کا ڈنکا چار دانگ عالم میں پیٹا جارہا ہے ، تاحال شعریٰؔ کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں ۔ ‘‘( ’’ جدید نظم کا موجودہ منظر نامہ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۱۷)۔
کتابیات
ابوالکلام قاسمی ، شاعری کی تنقید، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۱۱ء۔
اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، تیسری اشاعت، دہلی؛اردو اکادمی، ۲۰۱۳ء۔
شفیق فاطمہ شعریٰؔ ، سلسلۂ مکالمات، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء۔
شمس الرحمٰن فاروقی، شعر، غیر شعر اور نثر، تیسری اشاعت، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۰۵ء۔
علامہ شبلی نعمانی، شعرالعجم حصہ چہارم، اعظم گڑھ، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، ۲۰۱۴ء۔
مرزا محمد عسکری، آئینۂ بلاغت، تیسری اشاعت، لکھنؤ، اتر پردیش اردو اکادمی، ۲۰۱۵ء۔


قمر جہاں جواں سال مصنفہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر ہیں ۔

Slottica Casino Polska

Articles

Slottica Casino Polska

Odkryj ekscytujący świat rozrywki online w kasynie Slottica! Slottica to dynamicznie rozwijające się kasyno online, oferujące szeroki wachlarz gier hazardowych, dostosowanych do potrzeb polskich graczy. Zanurz się w atmosferze pełnej emocji i wygrywaj prawdziwe pieniądze, korzystając z dogodnych metod płatności w polskich złotych (PLN). W Slottica znajdziesz wszystko, czego potrzebujesz do niezapomnianej rozrywki – od klasycznych automatów po nowoczesne gry stołowe i emocjonujące kasyno na żywo.

Slottica kasyno, działające na rynku od 2019 roku, zyskało renomę dzięki transparentności, bezpieczeństwu i atrakcyjnym promocjom. Posiadamy licencję, co gwarantuje uczciwą grę i ochronę danych osobowych naszych użytkowników. W Slottica dbamy o komfort graczy, oferując intuicyjną platformę, łatwą nawigację i profesjonalną obsługę klienta, dostępną w razie jakichkolwiek pytań czy wątpliwości. Nasza oferta obejmuje gry od renomowanych dostawców oprogramowania, co zapewnia najwyższą jakość grafiki, dźwięku i płynność rozgrywki.

Dołącz do grona zadowolonych graczy Slottica i skorzystaj z licznych bonusów powitalnych oraz regularnych promocji. Oferujemy szybkie i bezpieczne wypłaty wygranych za pomocą popularnych w Polsce metod płatności, takich jak karty płatnicze, e-portfele i przelewy bankowe. Niezależnie od tego, czy jesteś doświadczonym graczem, czy dopiero zaczynasz swoją przygodę z hazardem online, w kasynie Slottica znajdziesz coś dla siebie. Rozpocznij swoją ekscytującą podróż w Slottica casino już dziś i przekonaj się, co oznacza prawdziwa rozrywka na najwyższym poziomie!

Slottica Casino: Zalety i Wady

Slottica Casino Dla polskich graczy
Zalety

  • Bogaty wybór gier: Ponad 3000 tytułów od czołowych dostawców, m.in. NetEnt, Microgaming i Play’n GO. Oferujemy sloty, gry stołowe, kasyno na żywo i wiele innych!
  • Atrakcyjne bonusy i promocje: Skorzystaj z bonusów powitalnych, darmowych spinów, zwrotów gotówki i regularnych akcji dla nowych i stałych graczy.
  • Błyskawiczne i bezpieczne płatności: Wpłacaj i wypłacaj środki za pomocą popularnych metod, takich jak Visa, Mastercard, Skrill i Neteller.
  • Całodobowa obsługa klienta: Nasz profesjonalny zespół wsparcia jest dostępny 24/7, gotowy do pomocy w każdej sytuacji.
  • Licencjonowane i zaufane kasyno: Graj bezpiecznie w legalnym i regulowanym kasynie online z ważną licencją.

Wady

  • Dostępność regionalna: Slottica może być niedostępna w niektórych regionach.

Odbierz Atrakcyjne Bonusy w Slottica Kasyno!

Slottica PL oferuje rozbudowany program bonusowy, który usatysfakcjonuje zarówno początkujących, jak i doświadczonych graczy. Wykorzystaj szeroki wybór promocji i zwiększ swoje szanse na wygraną!

Bonus Powitalny

  • 200% bonusu do 700 zł od pierwszego depozytu! Podwój swoją pierwszą wpłatę i zyskaj dodatkowe środki na grę.
  • Minimalny depozyt: 70 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Bonusy od Kolejnych Depozytów

  • Drugi depozyt: 150% bonusu do 1500 zł
  • Minimalny depozyt: 250 zł
  • Warunek obrotu: 45x
  • Trzeci depozyt: 100% bonusu do 2100 zł
  • Minimalny depozyt: 350 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Inne Promocje

  • Cotygodniowy Bonus: 90 Darmowych Spinów za depozyt minimum 450 zł (warunek obrotu: 45x)
  • Regularne Darmowe Spiny:
    • 35 darmowych spinów za depozyt minimum 250 zł
    • 50 darmowych spinów za depozyt minimum 500 zł
    • Warunek obrotu: 45x

Ważne Informacje

  • Zapoznaj się z regulaminem każdego bonusu przed skorzystaniem z oferty.
  • Wymagania obrotu określają, ile razy musisz postawić kwotę bonusu przed wypłatą wygranych.
  • Maksymalna stawka zakładu podczas gry z aktywnym bonusem wynosi 20 zł.
Bonus Szczegóły Oferty Minimalny Depozyt Wymóg Obrotu
Bonus Powitalny 200% do 140 zł przy pierwszym depozycie 70 zł 45x
Bonus od Drugiego Depozytu 30 darmowych spinów w “100 Joker Staxx: 100 lines” 200 zł 45x
Bonus od Trzeciego Depozytu 100% bonusu do 350 zł 350 zł 45x
Pakiet Darmowych Spinów 100 spinów w “Wild’n Luck 20” za 350 zł 350 zł 45x
Darmowe Spiny 60 spinów w “Four Lucky Clover” za 200 zł 200 zł 45x
Darmowe Spiny 50 spinów w “Clover Bonanza” za 70 zł 70 zł 45x

Odkryj Świat Gier w Slottica Casino

Slottica to kasyno online oferujące szeroki wybór gier od renomowanych dostawców, takich jak NetEnt, Play’n GO i Microgaming. Znajdź rozrywkę dopasowaną do Twoich preferencji:

  • Sloty: Ponad tysiąc slotów online, od klasycznych automatów owocowych po nowoczesne wideo sloty z imponującą grafiką i innowacyjnymi funkcjami. Odkryj popularne tytuły, takie jak Book of Dead, Starburst i Gonzo’s Quest.
  • Gry karciane: Doskonal swoje umiejętności w różnych wariantach blackjacka, bakarata i pokera.
  • Ruletka: Wybierz swój ulubiony wariant ruletki: europejską, amerykańską lub francuską.
  • Kasyno na żywo: Poczuj autentyczną atmosferę kasyna, grając z profesjonalnymi krupierami w ruletkę, blackjacka, bakarata i pokera na żywo.

Kasyno na Żywo — Doświadcz Prawdziwych Emocji

Zanurz się w świecie kasyna na żywo i graj z prawdziwymi krupierami w czasie rzeczywistym. Odkryj klasyczne gry stołowe, takie jak ruletka, blackjack i bakarat, a także unikalne tytuły, takie jak Andar Bahar i Sic Bo. Ciesz się wysoką jakością transmisji i interaktywnymi funkcjami. Znajdziesz tu popularne warianty gier stołowych i ekscytujące teleturnieje. Dzięki czatowi na żywo poczujesz autentyczną atmosferę kasyna

Loterie i Turnieje z Fantastycznymi Nagrodami

Weź udział w regularnych loteriach i turniejach, aby wygrać atrakcyjne nagrody, w tym darmowe spiny, bonusy i nagrody rzeczowe. Rywalizuj z innymi graczami i ciesz się emocjami związanymi z wygrywaniem. Do wygrania są nagrody pieniężne, darmowe spiny i ekskluzywne gadżety. Informacje o aktualnych akcjach znajdziesz w sekcji “Promocje”.

Zakłady Sportowe — Więcej niż Kasyno

Slottica to nie tylko kasyno online, ale także miejsce dla fanów zakładów sportowych. Obstawiaj wyniki meczów w popularnych dyscyplinach, takich jak piłka nożna, koszykówka, tenis i hokej. Skorzystaj z konkurencyjnych kursów i obstawiaj na żywo. Oferujemy szeroki zakres rynków i zakłady na żywo. Slottica dba o atrakcyjne kursy i różnorodne promocje sportowe.

Wirtualne Sporty — Akcja przez Całą Dobę

Obstawiaj wirtualne sporty, dostępne 24 godziny na dobę, 7 dni w tygodniu. Wybieraj spośród wirtualnych wyścigów konnych, psich i samochodowych, a także meczów piłki nożnej i koszykówki. Wirtualne sporty generowane są komputerowo z wysokiej jakości grafiką. To szybka i dynamiczna forma rozrywki z natychmiastowymi wynikami.

Dołącz do Slottica i Zacznij Wygrywać!

Zarejestruj się w Slottica i odbierz swój bonus powitalny. Ciesz się szerokim wyborem gier, ekscytującymi promocjami i profesjonalną obsługą klienta. Rozpocznij swoją przygodę z wygranymi już dziś!

Szybkie i Bezpieczne Płatności w Slottica Kasyno

W Slottica PL dbamy o Twój komfort i bezpieczeństwo transakcji. Oferujemy szeroki wybór metod płatności, umożliwiających szybkie i wygodne wpłaty oraz wypłaty środków.

  • Karty płatnicze: Wpłacaj środki natychmiastowo za pomocą karty Visa.
  • Portfele elektroniczne: Korzystaj z popularnych portfeli elektronicznych, takich jak eZeeWallet i Jeton, aby dokonywać szybkich i bezpiecznych transakcji online.
  • MiFinity: Zarządzaj swoimi środkami w wygodny sposób za pomocą aplikacji MiFinity.
  • Kryptowaluty: Wpłacaj Bitcoin, ciesząc się anonimowością i błyskawicznymi transakcjami.
  • Binance Pay: Płać za pomocą różnych kryptowalut dzięki usłudze Binance Pay.

Stosujemy zaawansowane technologie szyfrowania, aby zapewnić bezpieczeństwo Twoich transakcji. Możesz skoncentrować się na rozgrywce, wiedząc, że Twoje dane są chronione.

Wypłaty i Weryfikacja Konta

Weryfikacja tożsamości: Dla zapewnienia bezpieczeństwa Twoich środków i spełnienia wymogów prawnych, przed pierwszą wypłatą prosimy o przesłanie kopii dokumentu tożsamości do naszego Działu Bezpieczeństwa. Ten prosty proces weryfikacji zapewni ochronę Twojego konta i transakcji.

Metody wypłat: Oferujemy wygodne metody wypłaty, takie jak portfel elektroniczny Jeton oraz przelew bankowy. Wybierz opcję, która najlepiej odpowiada Twoim potrzebom.

Warunki wypłat: Przed zleceniem wypłaty należy spełnić wymóg obrotu trzykrotności kwoty depozytu. Oznacza to, że należy postawić zakłady o łącznej wartości co najmniej trzykrotnie wyższej od wpłaconej kwoty. Jest to standardowa procedura zapewniająca uczciwość gry.

My Journey by Salambin Razaaq

Articles

میرا تخلیقی سفر

سلام بن رزاق

کسی مفکر کا قول ہے ’’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ اس قول میں ذرا سی ترمیم کر دی جائے تو ایک ادیب کی حیثیت سے میرا معروضہ یہی ہوگا کہ ’’میں لکھتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ مفکر کی سوچ اس کی زندگی کی دلیل ہے تو ایک ادیب کی تحریر اس کے وجود کی شہادت ہے ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم کیوں لکھتے ہو ؟ تو شاید میں اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ میں ایک چینی کہاوت ضرور سنانا چاہوں گا۔ ’’پرندے اس لیے نہیں گاتے کہ ان کے پاس گانے کا کوئی جواز ہے ۔ پرندے اس لیے گاتے ہیں کہ ان کے پاس گیت ہیں ‘‘ میں اس لیے لکھتا کہ میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ ہے ۔
اگرچہ لکھنا ایک شعوری عمل ہے مگر لکھنے کی خواہش ادیب کے لاشعور کی گہرائیوں میں پرورش پاتی رہتی ہے ۔ جو مناسب وقت پر الفاظ کا جامہ پہن کر صفحۂ قرطاس پر نموپذیر ہوتی ہے ، بسا اوقات ہمیں خود پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے کب اور کیوں لکھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے میں ابھی چھوٹا تھا ، تیرنا نہیں جانتا تھا مگر تالاب کے کنارے بیٹھ کر دوسرے بچوں کو تیرے ہوئے دیکھنے میں مجھے بڑا مزہ آتا تھا۔ پتہ نہیں ایک دن اچانک کسی نے مجھے پیچھے سے دھکا دے دیا۔ میں پانی میں گرکر کا غوطے کھانے لگا مگر ڈوبنے سے بچنے کے لیے غیر ارادی طور پر ہاتھ پائوں بھی چلاتا رہا بالآخر جوں توں کنارے پر آلگا مگر اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ مجھ میں حیرت انگیز طور پر تبدیلی آگئی ہے۔ میرے دل سے گہرے پانیوں کا خوف جاتا رہا اور میں بھی رفتہ رفتہ دوسرے بچوں کے ساتھ تیرنے لگ گیا۔ میرے لکھنے کی ابتدا بھی کچھ اس طرح ہوئی ۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، داستانِ امیر حمزہ، الف لیلیٰ ، طوطا مینا، حاتم طائی ، باغ و بہار ، تاریخ اسلام ، صادق حسین سردھنوی، مولانا عبدالحلیم شرر اور نسیم حجازی کے تاریخی ناول ، ابن صفی کے جاسوسی ناول اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں چلا کہ پڑھتے پڑھتے کب لکھنا شروع کردیا ۔ اب غور کرتا ہوں کہ وہ کون تھا جس نے مجھے پانی میں دھکا دیا تھاتو لگتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں شاید میرا ہی ہمزاد تھا۔
اول اول قلم چلانا شوق تھا رفتہ رفتہ جی کا روگ بن گیا اور اب تو تاحیات اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ جس شوق کو کچی عمر میں ہنسی کھیل میں شروع کیا تھا، اب وہ لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور صورت یہ ہے کہ اگر میں قلم کو چھوڑنا بھی چاہوں تو قلم مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں ۔اکثر کوئی خیال کوئی سوال ، کوئی واقعہ ، کوئی کردار اچانک میرے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور کسی بیتال کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے ۔ تب میں حتی الامکان اس سے دامن بچاتا ہوں ، آنکھیں چراتا ہوں ، بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا تاوقتیکہ میں اسے کسی موکل کی طرح اپنے قابو میں کرکے الفاظ کی بوتل میں بند نہیں کر دیتا۔
جب لکھنا شروع کیا تو چھپنے کا شوق پید ا ہونا بھی لازمی تھا۔ لہٰذا چھوٹے بڑے رسائل اور جرائد کے کشت زاروں میں قلم کا ہل چلایا ، الفاظ کی کاشت کی اور دادوتحسین کی فصل کاٹی۔ یوں تو میں ہلکے پھلکے تنقیدی مضامین ، تبصرے ،ڈرامے ،بچوں کے مضامین اور کہانیاں تراجم ، ریڈیو فیچر ، ٹیلی فلمیں اور فیچرفلمیں بقدر ظرف ہر صنف میں طبع آزمائی کرتا رہتا ہوں مگر ایک قلمکار کی حیثیت سے افسانہ لکھ کر مجھے روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے اور اسے اگر کسی چیز کے مماثل قرار دوں تو وہ کم و بیش مہاتما بدھ کے نروان والی کیفیت سی ہو سکتی ہے ۔ مجھ سے ایک انٹرویوں میں پوچھاگیاتھا۔’’آپ کس حیثیت سے یاد کیا جانا پسند کریں گے؟‘‘ میں نے بلا تامل جواب دیا۔ ’’افسانہ نگار کی حیثیت سے ۔‘‘ اگر چہ میں جانتا ہوں فی زمانہ لکھنا اوروہ بھی افسانہ تضیع اوقات ہے ۔ تاہم اس کو کیا کیا جائے کہ بعض طبیعتیں خسارے کے سودے میں ہی تسکین پاتی ہیں ۔ ایسے موقع پر غالب کا یہ مصرعہ بڑی تسلی دیتا ہے :
ع عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
آج سے پچیس تیس برس پہلے معاشرے میں ادب کی اہمیت اور ضرورت ایک مسلمہ حقیقت تھی ۔ ادب ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سب سے بڑا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج معاشرے کا منظر نامہ بدل چکا ہے آج ہمارا معاشرہ ایک ہولناک صورتِ حال سے گزررہا ہے اور ایک تشویش ناک مستقبل ہمارا منتظر ہے اقدار پارہ پارہ ہوچکی ہیں ۔ جو اصول صبح بنائے جاتے ہیں شام میں شکستہ پیمانوں کی طرح پاش پاش ہوجاتے ہیں ۔ تہذیبیں دم توڑ رہی ہیں ۔ خدا کی موت کا اعلان تو بہت پہلے کیا جا چکا تھا اب خود انسانیت معرض خطرمیں پڑ چکی ہے ۔ اس ہیجان اور انتشار کے دور میں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کے معاشرے کو افسانے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔ ذرائع ابلاغ نے ایک عام قاری کے ذوق کو اس قدر پامال کردیا ہے کہ صرف افسانہ ہی نہیں پوراادب اس کے نزدیک ایک شوق فضول کے سوا کچھ نہیں ۔ بہر حال صورت ِ حال جو بھی ہو میں اتنا جانتا ہوں کہ معاشرے کی ضرورت ہو یا نا ہوں مگر افسانہ میری ضرورت ہے یقینا ہے ۔ میں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے ’’ننگی دوپہر کا سپاہی ‘‘میں بطور دیباچہ لکھا تھا :
انسانی قدروں کی بساط مضحکہ خیز طور پر الٹ گئی ہے وزیر شاہ پر سوار ہو گیا ہے ۔ ہاتھی گھوڑے کہیں کے کہیں جا پڑے ہیں اور پیادے چاروں خانے چت ہیں اس بکھری بازی کو دوبارہ کون جمائے ؟ کوئی نہیں جانتا بازی کہاں سے چلی تھی کہاں تک پہنچی ؟ مگر تعجب ہے کہ لوگ بازی پھر بھی کھیلے جارہے ہیں ۔ پر اب کوئی ضابطہ ہے نہ اصول ۔ ساری بازی کسی پاگل کی سنک کی طرح چل رہی ہے۔‘‘ اس دیباچے کو لکھے اٹھائیس برس گزر گئے ۔ آج اٹھائیس برس بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں بلکہ صورت حال زیادہ پیچیدہ اور بھیانک ہو گئی ہے ۔میرے پائوں ننگے ہیں اور سر پر دھوپ کی چادر تنی ہوئی ہے ، تلوئوں میں چھالے پڑے ہیں اور راستہ پر خار ہے ۔
پیچھے مڑکر دیکھنے کا سوال ہی نہیں ۔ اگر میں نے ایسا کیا تو کسی جادو کے زور سے پتھر کا ہوجائوں گا ۔ اس خوف سے میں چلتا جا رہاہوں ۔ متواتر چل رہا ہوں ۔ میر اسفر جاری ہے ، میں اس سفر میں لمحہ لمحہ ٹوٹتا ہوں ، ریزہ ریزہ بکھرتا ہوں ۔ افسانہ لکھنا میرے نزدیک اپنے اسی کرچی کرچی وجود کو سمیٹنے کا نام ہے جس کے وسیلے سے میں اپنے آپ کو ماحول کی جبریت سے آزاد کرتا رہتا ہوں ۔ میرا افسانہ دراصل میری نجات کاذریعہ ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ افسانہ لکھنا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے ۔ بقول راجندرسنگھ بیدی یہ کام ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کی کھال کھینچ کر اسے ننگے بدن نمک کی کان سے گزارا جائے ۔ مگر کیا کیا جائے کہ تخلیق کار کو اسی میں راحت ملتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ سیپی کے سینے میں جب کوئی کنکر گڑ جاتا ہے تو وہ اس کے اندر ٹیس پیداکرنے لگتا ہے ۔ سیپی اس رِڑک کو کم کرنے کے لیے اپنے اندر ایک قسم کا لعاب پیدا کرتی ہے اور لعاب کو اس پھنسے ہوئے ذرے کے گرد لپیٹتی رہتی ہے کنکر پر لعاب کی تہہ جمتی رہتی ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کنکر لعاب سے مل کر موتی بن جاتا ہے افسانہ لکھنا بھی دراصل اپنے اندر پھنسے کسی خیال کی رِڑک سے نجات پانے کا عمل ہے ۔ یہ خیال ہی کی رِڑک ہے جو افسانہ نگار کے جگر میں گڑتے گڑتے بالآخر افسانے کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ میں اپنے افسانوں کے حوالے سے زندگی کو انگیز کرتا ہوں اور زندگی کے حوالے سے اپنے افسانوں میں رنگ بھرتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض افسانہ نگار ،عظیم موضوعات کی تلاش میں بہت دور نکل جاتے ہیں اس قدر دور کہ بسا اوقات اپنے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں جب کہ آنکھیں کھلی اور ذہن بیدار ہوتو ہر واقعہ ایک کہانی اور ہر فرد ایک کردار ہے ۔ میں اپنی ذات کے آئینے میں اپنے اطراف کے لوگوں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتا ہوں ۔ میرے بیشترافسانوں کے کردار خود میری ذات سے کچھ اس طرح برآمد ہوئے ہیں کہ انھیں یوں اچانک دیکھ کر میں حیران رہ گیا ہوں ۔ ان کی محبتیں ، ان کی نفرتیں ان کی شرافت ، ان کی کمینگی ، ان کی سر کشی ، ان کی بزدلی ، ان کے سکھ دکھ ، غم و غصہ ، سختی و نرمی سب میرے ہی جذبہ و احساس کے مختلف عکس ہیں۔ اگر فلائبیر، مادام بواری ہے ، منٹو کا لی شلوار کا دلال ہے تو پھر میں واسوہوں ، ننگی دوپہر کا سپاہی ہوں ، بجوکاکی شالوہوں ، خصی کا پر س رام ہوں ، کام دھینوکا مادھوہوں ۔ انجام کار کا راوی ہوں ۔
میں ایک عام آدمی کا افسانہ نگار ہوں کیوں کہ میرے اردگرد ایسے ہی لوگ بستے ہیں ۔ مظلوم ، مجبور،محروم اور ناآسودہ ۔ مگر خاطر نشان رہے کہ یہ عام آدمی نہیں ہیں ۔ میرے کردار وہ سخت جان افراد ہیں جو دن بھر میں بیسیوں دفعہ ٹوٹتے ہیں ، ٹوٹ کر بکھرتے ہیں مگر دوسری صبح اپنے بستر سے صحیح و سالم اٹھتے ہیں۔ وہ روز شکست کھاتے ہیں مگر زندگی جینے کا حوصلہ نہیں ہارتے۔ میرا افسانہ نعرہ نہیں چیخ ہے ۔ بسا اوقات ایسی چیخ جو سینے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے ۔ ان کی بے کسی اور بے چارگی دیکھ کر مجھے پکاسو کی عالمی شہرت یافتہ تصویر ، گویرنیکا ، کے اس گھوڑے کی یاد آتی ہے جو جاں کنی کے عالم میں چیخ رہا ہے ۔ اُس کی دلخراش چیخ کو بظاہر ہم اپنے کانوں سے سن نہیں پاتے البتہ اس کی خوفناک مگر خاموش گونج ہمارے وجود میں ایک پر شور طوفان کی سی کیفیت پیدا کردیتی ہے ۔ یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جنہیں حالات نے اپنے چکر ویومیں جکڑ رکھا ہے ۔ وہ اس چکر ویوسے نکلنا چاہتے ہیں مگر ابھیمنیوکی طرح، چکرویو کو توڑکر اس سے باہر نکلنے کا منتر نہیں جانتے ۔ میں حالات کے چکر ویو میں پھنسے انہیںبیمار، تھکے ہارے اور دبے کچلے افراد کا افسانہ نگار ہوں ۔ ان کے دکھ درد ان کی یاس و محرومی ان کا اضطراب و انتشار ہی میرے افسانے کا محرک اور موضوع ہے ۔ میں باغیوں کی کہانیاں اس لیے نہیں لکھتا کہ میرے عہد میں کوئی باغی نہیں ہے ۔ میں فاتحین اور نائکوں کے افسانے کیوں کر لکھوں کہ میرے عہد میں ظلم کو بہادری مکاری کو دانائی کج روی کو راستی اور موقع پرستی کو سیاست کا نام دیا گیا ہے ۔ ساری قدریں سر کے بل کھڑی ہوچکی ہیں ۔آج مذہب ،ذات ، قوم اور علاقے کے نام پر انسانوں کو اتنے خیموں میں بانٹ دیا گیا ہے کہ پورا سماج ٹکرے ٹکرے ہو کر بکھر گیا ہے ۔ میرے کردار اسی پارہ پارہ معاشرے کے افراد ہیں ۔ وہ اس گھنائونے معاشرے میں جینے اور مرنے پر مجبور ہیں ۔ انھیں غصہ آتا ہے ۔ وہ احتجاج بھی کرتے ہیں ۔ مگر ان کا غصہ اور ان کا احتجاج اس الائو کی مانند ہے جس کی آ گ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ میرا افسانہ دراصل اُسی بجھے ہوئے الائو کی راکھ میں چنگاریاں تلاش کرنے کا عمل ہے ۔
مجھے اس نوجوان کی کہانی یاد آرہی ہے جس نے ٹھٹھرا دینے والے موسم میں پہاڑ کی چوٹی پر ننگے بدن رات گذارنے کی شرط لگائی تھی اور دور ایک کٹیا میں جگنو کی طرح ٹمٹماتے چراغ کی لو پر نظریں گڑائے اس نے صبح کے ستارے کا استقبال کیا تھا اور شرط جیت گیا تھا۔ میرے کردار جس الائو کے گرد بیٹھے ہیں اگرچہ اس کی بھی آگ سرد پڑ چکی ہے مگر ان کے لہو میں ایک مدھم چراغ روشن ہے ۔ اُمید کا یہ چراغ ان کے اندر زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے ۔ وہ افق پر نظریں گڑائے صبح کے انتظار میں رات کاٹ رہے ہیں وہ شرط جیتیں گے یا نہیں یہ انھیں بھی نہیں معلوم مگر وہ اتنا جانتے ہیں کہ شرط کے لیے زندہ رہنا ضروری ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اب ان کی نجات کی خاطر مصلوب ہونے کے لیے کوئی مسیح نہیں آئے گا ۔ نہ صداقت کے نام پر کوئی زہر کا پیالہ پئے گا ۔ہر شخص کو اپنی صلیب خود اٹھانی ہے اور اپنے حصے کا زہر خود ہی پینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منٹو کی موت پر کرشن چندر نے کہا تھا۔وہ اردو کا واحد شنکر ہے جس نے زندگی کے زہر کو گھول کر پی لیا ہے ۔ آج سے پچاس برس پہلے ممکن ہے کرشن چندر نے ایسا محسوس کیا ہو کہ تنہا منٹو زندگی کے زہر کو گھول کر پی سکتا ہے ۔ہمارے اردگرد چپے چپے پر اس قدر زہر پھیلاہے کہ منٹو کیا شنکر بھگوان بھی زمین پر آجائیں تو اس زہر کو نہیں پی سکتے ۔ لہٰذا معاشرے کا یہ زہر تھوڑا تھوڑا ہم سب کو پینا ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ۔ ایک قلم کار کی حیثیت سے میرے سامنے بھی یہ چیلنج موجود ہے لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں افسانے میں کیا لکھتا ہوں دراصل اپنے حصے کا زہر پی کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتا ہوں، علی ھذا القیاس۔
———————————————————————-

Shishe ka Ghar by Surendar Parkash

Articles

شیشے کا گھر

سریندر پرکاش

شیشے کے گھر میں سیڑھیاں، بنانا اور پھر ان سیڑھیوں پر اس کی آخری چھت تک پہنچنا کیا ایک مسئلہ نہیں ہے؟ یہ فرض کرلیا گیاہے کہ فنکار کو اس کی فن کاری کی دادملنی ہی چاہیے۔ لیکن کیافن کی تخلیق کے پیچھے داد خواہی کا جذبہ کلبلارہا ہوتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ اس مفروضے سے فن کی قدروقیمت کم ہوتی ہے۔ بڑے فن کی یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ قاری،سامع یا ناظر کو فنکار کے تجربے میں شامل ہونے کی تحریک دے۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر دادا ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا اور اگر تخلیق نے خاطر خواہ اثر نہیں کیا اور اس کی طرف نقاد یا قاری متوجہ نہیں ہوا تو فن کو اپنی تخلیقی صلاحیت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
تخلیق کو بسا اوقات معاوضے کے ترازو میں بھی تولاجاتا ہے لیکن یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ فن اپنا معاوضہ صرف سکّوں ہی کی صورت میں وصول نہیں کرتا۔ زیادہ تر فن کو پرکھنے والے ہی نہیں ملتے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا فن بھی انھیں لوگوں کو پرکھنے کے لیے پیش کردیا جاتا ہے جو عام درجہ کا فن پرکھنے کی عادت بنا کر بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاں تخیل (Imagination) کی کمی ہوتی ہے اور وہ ایک محدود نظریہ فن کی بنیاد پر اپنا کام چلاتے ہیں۔ اکثر ایسی صورت میں ادب کو اس کا پارکھ قارئین میں مل جاتا ہے جو اپنی زندگی میں کم وبیش اسی ذہنی سفر کا تجربہ رکھتا ہے جیسا کہ اعلیٰ درجہ کا فنکار۔
جب مجھ پر پہلا خیال اترا جسے میں نے قلم بند کرنے کی کوشش کی تو میں صحیح معنوں میں تخلیقی عمل سے اچھی طرح روشناس نہ تھا۔ کوئی سامنے کا دیکھا ہوا واقعہ۔ کوئی دلچسپ کردار اچھا لگتا تو میں اس کی قلمی تصویر بنانے کے لیے قلم اٹھالیتا۔ لیکن وہ تصویریں بے جان ہوتیں۔ نہ ان کی شریانوں میں خون گردش کررہا ہوتا نہ ان کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہوتا۔ نہ ہی ان کے وجود میں روح جنبش کررہی ہوتی۔ نہ ہی میں ان تصویروں کا دکھ سکھ جان پاتا اور نہ ہی ان کے وسیلے سے اپنی ذات کا سکھ کہہ پاتا۔
میں الگ سے ایک آدمی ہوتا اور اپنی قلمی تصویروں سے میرا رشتہ اسی وقت ٹوٹ جاتا۔ جب میں ان کو اپنی طرف سے مکمل کر کے الگ ہوتا ، لیکن ایک خلش سی باقی رہتی۔ اپنے اندر ایک کمی سی محسوس ہوتی اور اس کیفیت کو ٹھیک طور پر سمجھنے کا شعور مجھ میں بالکل نہ تھا۔ ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میرا پہلا افسانہ تھا۔ جسے لکھنے کے بعد میں بے حد اداس ہوگیا۔ مجھے بے گھر ہونے کا احساس بری طرح ستانے لگا۔ اس افسانے کے مرکزی کردار کے سارے غم میں، میں نے اپنے آپ کو شریک پایا۔ اس گھر کے مکینوںسے اجنبیت کا کرب میرے اندر تک سرایت کر گیا۔
لیکن نہیں، یہ میں نہ تھا، یہ تو کوئی اور ہی شخصیت تھی۔ جس کا وجود اچانک عمل میں آگیا تھا جو میرے وجود کاانگ تھی۔ لیکن پھر بھی مجھ سے، میرے ماحول سے اور میرے رشتے ناطے والوں سے اجنبی تھی۔ کون ہے یہ؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تب میری نظروں کے سامنے ایک مجسمہ ابھرا جس کا آدھا دھڑ عورت کا تھا اور آدھا مرد کا۔ وہ وشنو کا اور نریشور کاروپ تھا۔ بات میری سمجھ میں آگئی۔ وہ راز میں سمجھ گیا کہ وشنو کا یہ روپ جس نے تخلیق کیا تھا وہ کہنا کیا چاہتا تھا۔
فنکار کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے ہی نطفہ سے اور اپنے ہی بطن سے ایک نئی شخصیت کو جنم دیتا ہے یعنی اس کی شخصیت کا مرد اس کی شخصیت کی عورت سے بیاہ رچا لیتا ہے اور ان کے قرب سے پیدا ہونے والا بچہ آنکھیں مل مل کر اپنے ارد گرد کے ماحول کو پہنچاننے کی کوشش کرتا ہے اور اسے سب اجنبی، اجنبی سا لگتا ہے اور پھر وہ بچہ پروان چڑھنے لگتا ہے۔
’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کی تخلیق کے بعد مجھ میں اور میرے بطن سے میرے ہی نطفے سے پیدا ہونے والے بچے میں ایک عجیب کشمکش سی شروع ہوگئی اور پھر ایک دن آیا کہ اس نے قلمدان میرے ہاتھ سے چھین لیا اور میں بے حسی اور بے کسی کے عالم میں گم سم کھڑا رہا۔ وہ بچہ جیسے جیسے توانا ہوا جاتا تھا، میں ویسے ویسے ہی کمزور و ناتواں ہوا جاتا تھا اور پھر ایک وقت آیا جب وہ جدو جہد ختم ہوگی اور میں نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد سریندر پرکاش نام کا خاوند،باپ، بھائی اور دوست محض ایک نام رہ گیا اور زندگی کی پوری باگ ڈور سریندر پرکاش افسانہ نگار نے سنبھال لی۔
گو کہ سریندر پرکاش ابھی زندہ تھا، لیکن مردوں کے برابر کہ دونوں شخصیتیں الگ الگ اپنی زندگی گزاررہی تھیں۔ ایک جو تخلیق میں مصروف تھی اور دوسری جو رشتوں ناطوں کے محدود دائرے میں سانس لے رہی تھی۔
وہ کون ہے جو ،رونے کی آواز، بجو کا، بازگوئی اور ساحل پر لیٹی ہوئی عورت تخلیق کرتا ہے اور پوجا کا تلک میری پیشانی پر لگادیتا ہے، جس نے مجھے سکھایا کہ مذہب کو ذاتی عقیدے کے حصار سے نکال کر فلسفہ کے ساحل پر لا کر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اسلام، عیسائیت اور ہندومت اپنے آفاقی روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں فرد کا کرب، انسانیت کا کرب بن جاتا ہے اور آدمی زندگی کا مہامنتر پاجاتا ہے اور آزادی۔ آزادی!
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں ایک ہی گھر میں قیام کرتی ہیں۔
میری جگہ اگر آپ ہوں تو آپ پر کیا گزرے گی۔
یہ کس نے بجائی بانسری؟ اور کون سے پیڑ پہ کوئل نغمہ سرا ہوئی اور کوئل کے کنٹھ میں کانٹا چبھا ہے۔ مت رو کوئل مت رو۔ کالی کلوٹی کوئل تو حسن کا مجسمہ ہے۔
اُف! اس نظام میں کس نے خون نہیں تھوکا؟
تو صاحبو۔ مطلب یہ ہوا کہ فنکار دوہری زندگی جیتا ہے۔ ایک چہرہ، چہرے پر لگا رہتا ہے اور ایک چہرہ چہرے کے نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے عتاب مجھ پر نازل ہوتے ہیں۔ لوگوں کی نفرتیں، شکایتیں اور دشنام میرے لیے ہیں۔ نیکیاں، تعریفیں اور اعزاز اس کے لیے جو میری شخصیت کے پردے میں چھپا بیٹھا ہے یہاں تک کہ اب لفظ بھی اسی پر نازل ہوتا ہے اور میں محض تماشائی کی طرح سب کچھ دیکھتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔
اگر آپ نے میرا افسانہ ’سرنگ ‘پڑھا ہے تو آپ کو ضرور معلوم ہوگا کہ مجھے اس نے ایک ٹنل میں لا پٹکا ہے، جس میں سے نکلنے کا راستہ بڑا دشوار گزار ہے اور آدم خور چوہے میری بوٹی بوٹی کے بھوکے ہیں۔ مجھے دو جنگیں ایک ساتھ لڑنا پڑ رہی ہیں۔ ایک اس کے ساتھ اور دوسری آپ کے ساتھ۔ جی ہاں! میں آپ کے ساتھ بھی برسرِپیکار ہوں۔
’بجوکا‘ میں جب زمانے کا سردو گرم برداشت کرنا ہوتا ہے تو وہ مجھے ’بجوکا‘ بنا کے کھیت میں کھڑا کر دیتا ہے اور فصل کاٹتے وقت وہ ہوری بن کے آموجود ہوتا ہے اور جب ہوری کا مقدر موت بن جاتی ہے تو وہ خود،بجوکا‘ بن جاتا ہے اور میری فصل کا ایک چوتھائی لینے کا حق دار بن جاتا ہے۔ ’بازگوئی‘ میں نیک موسیقار اور شاعر تلقار مس وہ ہے اور جب تلقار مس کا پتن ہوتا ہے تو وہ مجھے تلقارمس بناڈالتا ہے اور میرے ہاتھ پائوں کاٹ کر ملکہ شہروزی کے محل کے کھنڈر میں پھنکوا دیتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوا ہے کہ میرا مزاج بالکل بدلتا جارہا ہے۔ میرے اوپر کی کھال اتر رہی ہے اور میرا سارا وجود اس کی شخصیت میں سماتا جارہا ہے مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں ایک دن اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا اور اس کا تابع ہو کر رہ جائوں گا۔ کیا یہ ایک عظیم کرب نہیں ہے کہ میں زندہ ہوں اور اپنی زندگی کا ثبوت مجھے اس کے وسیلے سے دینا پڑ رہا ہے۔
سیرابی و تشنگی کا احساس میرا کہاں رہا ہے کہ میںاپنے سننے اور پڑھنے والوں کو جس میں شامل کروں!شاعری کرنا یا افسانہ لکھنا ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے لیے اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس گلی میں داخل ہونا پڑتا ہے، ورنہ آپ کا لفظ، لفظ نہیں بنتا جو پڑھ کر پھونکا جاسکے۔
ہاں تو میں عرض کررہا تھا شیشے کا یہ گھر عجیب ہے۔ جس میں کوئی سیڑھی نہیں اور جس کی کوئی چھت نہیں اور آپ اس کی چار دیواری کے اندر رہ کر بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔ باہر سے آپ کی نظریں فنکار کو کھائے جاتی ہیں اور اندر سے فنکار اپنا خون گھونٹ گھونٹ پیتا رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ مرنے کے باوجود فنکار اپنی موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے اکثر دیکھا ہے، وہ شیشے کے گھر میں گردن جھکائے آہستہ آہستہ ٹہلتا رہتا ہے، لیکن اس کے اندر بلا کی بے چینی ہوتی ہے وہ جانتا ہے کہ اس گھر میں کوئی دروازہ نہیں، باہر نکلتا ہے تو کسی ایک دیوار کا شیشہ ضرور ٹوٹے گا اور پھر ٹوٹے ہوئے گھر میں بھی اسے ہی جھک کر ایک ایک کرچی چننا ہے۔


My Journey by Rajindar Singh Bedi

Articles

افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل

راجندر سنگھ بیدی

میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو لکھنے کے لیے مجھے اپنی ذات سے ہوکر گزرنا پڑرہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگذر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک،لہٰذا سب کو سمجھنے کے لیے میری نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں اپنے آپ سے سمجھ لوں۔
افسانوی تجربہ کیا ہے؟ مجھے افسانہ سازی کی لت کیسے پڑھی؟ اگر یہ مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو پڑی، تو باقی دوسروں کو کیوں نہیں پڑی؟ کیوں نہیں میں کسی فرنانڈس کی طرح گرجے کے سامنے بیٹھا موم بتیاں بیچتا؟
فن کسی شخص میں سوتے کی طرح نہیں پھوٹ نکلتا۔ ایسا نہیں کہ آج رات کو آپ سوئیں گے اور صبح فن کار ہوکر جاگیں گے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی پیدائشی طور پر فن کار ہے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے، کہ اس میں صلاحیتیں ہیں، جن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چاہے وہ اسے جبلت میں ملیں اور یا وہ ریاضت سے ان کا اکتساب کرے، پہلی تو یہ کہ وہ ہر بات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتا ہو، جس کے لیے ایک طرف تو وہ داد تحسین پائے اور دوسری طرف ایسے دکھ اٹھائے، جیسے کہ اس کے بدن پر سے کھال کھینچ لی گئی ہو اور اسے نمک کی کھان سے گزرنا پڑرہا ہو۔ دوسری صلاحیت یہ کہ اس کے کام و دہن اس چرند کی طرح ہو جو منھ چلانے میں خوراک کو ریت اور مٹی سے الگ کرسکے۔ پھر یہ خیال اس کے دل کے کسی کونے میں نہ آئے گا کہ گھاسلیٹ یا بجلی کا زیادہ خرچ ہوگیا۔ یا کاغذ کے ریم کے ریم ضائع ہوگئے۔ وہ جانتا ہو کہ قدرت کے کسی بنیادی قانون کے تحت کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ پھر وہ ڈھیٹ ایسا ہو کہ نقش ثانی کو ہمیشہ نقش اول پر فوقیت دے سکے۔ پھر اپنے فن سے پرے کی باتوں پہ کان دھرے۔ مثلاً موسیقی، اور جان پائے کہ استاد آج کیوں سُر کی تلاش میں بہت دور نکل گیا ہے۔ مصوری کے لیے نگاہ رکھے اور سمجھے کہ وشی واشی میں خطوط کیسی رعنائی اورتوانائی سے ابھرے ہیں۔ اگر یہ ساری صلاحتیں اس میں ہو تو آخر میں ایک معمولی سی بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس ایڈیٹر نے اس کا افسانہ لوٹا دیا ہے، گدھا ہے!
اس کے بعد کوئی بھی چیز افسانے کے عمل کو چھیڑ Trigger ofکرسکتی ہے۔ مثلاً کوئی راہ جاتا اس کی پگڑی اچھال دے، یا کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جس پہ اس غریب کا کوئی بس نہ ہو اور جو اسے بے سلامتی کا شکار کردے اور وہ اپنے آپ میں ٹھان لے کہ مجھے اس بے تعاون ، بے رحم دنیا میں کہیں جگہ پانا ہے کچھ بن کے دکھانا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک آدمی خطرے سے دوچار نہیں ہوتا اس میں مدافعت کی وہ قوتیں نہیں ابھرتیں، قدرت کے پاس جن کا بہت بڑا خزانہ ہے۔
نوعمری میں یہ سب باتیں میرے ساتھ ہوئیں اور مجھے یقین ہے کہ تھوڑے سے یا زیادہ فرق کے ساتھ دوسرے فن کاروں پر بھی بیتی ہوں گی۔ اکثر لوگوں کو حادثے پیش آتے ہیں اور وہ گوناگوں مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ وہ فن کے راستے پر سے ہوکر گزرنے کی بجائے کسی اور طرف مڑ لیے۔ صد ہرجا کہ نشیند ، صد راست۔ انھوں نے یا تو اپنے مخصوص کام میں جھنڈے گاڑے اور یا تھک ہار کر جنت کو سدھارے۔ گویا بے عزتی اور پے درپے حادثوں کے بعد کچھ کرنے، بن کر دکھانے کے سلسلے میں اپنے ملک کے ہر اردو داں نوجوان کی طرح غزل کہنے کی کوشش کی، لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ کیوں کہ چھوٹی عمر ہی میں میری شادی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری بات سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی معشوق میرے سامنے تھا ہی نہیں۔ اگر تھا تو مجھے بچہ سمجھ کر ٹال جاتا تھا۔ اگر وہ رکے تو میری بیوی جوتا پکڑ کر اسے ہنکا دیتی تھی۔ میں نے تو یہ پڑھ رکھا تھا کہ عشق پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس لیے میں چپکے سے بیٹھا اس کا انتظار کرتا اور کرتا ہی رہ گیا۔ میں نے ہجر و وصال، وفا و بے وفائی، رقیب و مستحب کے مضمون شاعروں کے تتبع میں باندھے، مگر وہ سب مجھے جھوٹے اور کھوکھلے لگتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مستحب تو میں خود ہوں۔ رقیب روسیاہ کی کیا مجال جو میرے گھر کے پاس پھٹکے۔ یہ تو شادی کے ان لکھے معاہدے کی دوسری مد ہے، جس کی رو سے اگر رقیب کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ حوالات تو بھجوایا جاسکتا ہے۔ بہت کم لوگ جو فیض کی طرح رقیب کے ساتھ رشتہ پیدا کرسکتے ہیں اور اس کے افادی پہلوسے واقف ہیں۔ گویا زندگی شعر کے سلسلے میں جو بھی تعلیم دیتی ہے، میں اس میں کورا ہی رہا۔ اس کے برعکس میڈم زندگی نے تلافی مافات میں مجھے دوسرے مسئلے دے دئیے۔ مثلاً خانہ داری کے مسئلے ، روزگار کے مسئلے جو کسی طرح بھی عشق کے مسائل سے کم نہ تھے۔ حالات میں ایسا جمود پیدا کردیا اور بدن میں ایسی کپکپی کہ لاہور کے لنڈے بازار سے خریدا ہوا مرانجا مرانج پرانا پھٹا کوٹ بھی مجھے نہ بچا سکا۔
بس، بہت ہولی۔ اب میں اپنی بات بند کرتا ہوں، کیوں کہ ’’گرم کوٹ‘‘ کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہ ہوا، یہ کچھ لوگ جانتے ہیں، بلکہ کیا نہیں ہوا کے بارے میں انھیں مجھ سے زیادہ واقفیت ہے۔
افسانے اور شعر میں کوئی فرق نہیں۔ ہے تو صرف اتنا کہ شعر چھوٹی بحر میں ہوتا ہے اور افسانہ ایک لمبی اور مسلسل بحر میں جو افسانے کے شروع سے لے کر آخر تک چلتی ہے۔ مبتدی اس بات کو نہیں جانتا اور افسانے کو بحیثیت فن شعر سے زیادہ سہل سمجھتا ہے۔ پھر شعر با۔الخصوص غزل میں آپ عورت سے مخاطب ہیں لیکن افسانے میں کوئی ایسی قباحت نہیں۔ آپ مرد سے بھی بات کررہے ہیں۔ اس لیے زبان کا اتنا رکھ رکھاؤ نہیں۔ غزل کا شعر کسی کھردرے پن کا متحمل نہیں ہوسکتا، لیکن افسانہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ نثری نژاد ہونے کی وجہ سے اس میں کھردرا پن ہونا ہی چاہیے، جس سے وہ شعر سے ممیز ہوسکے۔ دنیا میں حسین عورت کے لیے جگہ ہے تو اکھڑ مرد کے لیے بھی ہے، جو اپنے اکھڑپن ہی کی وجہ سے صنف نازک کو مرغوب ہے۔ فیصلہ اگرچہ عورت پہ نہیں ، مگر وہ بھی کسی ایسے مرد کو پسند نہیں کرتی جو نقل میں بھی اس کی چال چلے۔ ہمارے نقادوں نے افسانے کو داد بھی دی تو نظم کے راستے سے ہوکر، نثر کی راہ سے نہیں، جس سے اچھے اچھے افسانہ نگاروں کی ریل پٹری سے اتر گئی اور جن کی نہیں اتری تھی، ایسی توصیف سے متاثر ہوکر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی لائن کے نٹ بولٹ ڈھیلے کرلیے۔
یہ بات طے ہے کہ افسانے کا فن زیادہ ریاضت اور ڈسپلن مانگتا ہے۔ آخر اتنی لمبی اور مسلسل بحر سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں تو ہونی چاہئیں ہی۔ باقی کی اصناف ادب، جن میں ناول بھی شامل ہے، کی طرف جزواً جزواً توجہ دی جاسکتی ہے لیکن افسانے میں جزو کل کو ایک ساتھ رکھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کا ہراول اور آخری دستہ مل کر نہ بڑھیں تو یہ جنگ جیتی نہیں جاسکتی۔ شروع سے ہی لے کر آخر تک لکھ لینے کے بعدپھر آپ ایک لفظ بڑھانے یا دو فقرے کاٹ دینے ہی کے لیے لوٹ سکتے ہیں۔ رد و اضافے کی یہ نسبت میں نے بے خیالی میں قائم نہیں کی۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ افسانے میں ایراد اضافے سے زیادہ ضروری ہے۔ آپ کو ان چیزوں کو قلم زد کرنا ہی ہوگا جو بجائے خود خوبصورت ہوں اور مجموعی تاثر کو زائل کردیں ا ور یا مرکزی خیال سے پرے لے جائیں۔
اب میں ایک چونکا دینے والی بات کرنے جارہا ہوں اور وہ یہ کہ اردو زبان نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ افسانے کے فن لطیف کو اس طریقے سے سمجھ سکے یا قبول کرسکے، جیسے سمجھنا یا قبول کرنا چاہیے۔ میری اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ پیچھے مڑ کر دیکھئے کہ ہر آن آپ نے ڈکشن پر کچھ زیادہ ہی زور دیا ہے۔ اس عمل کا گراف بنایا جائے تو وہ میرؔ، انیسؔ، اور غالبؔ کے بعد نیچے ہی آتا ہوا دکھائی دے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ’فسانۂ آزاد ‘‘ کو افسانہ یا ناول ہی سمجھ کر پڑھا۔ ہم نے اس کا مقابلہ Vanity Fairسے کیا ہے۔ ہم نے آغا حشر کو ہندوستانی شیکسپیئر بھی کہا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ہم نے دونوں میں سے کسی ایک کو نہیں پڑھا اور اگر پڑھا تو فرق کو نہیں سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ پونا فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں ممتحن کی حیثیت سے جب میں نے ایک امیدوار سے سوال کیا…آپ کو کون سے مصنف پسند ہیں تو اس نے آنکھ جھپکے بغیر جواب دیا۔ ’’مجھے تو دو ہی پسند ہیں سر، گلشن نندہ اور شیکسپیئر!‘‘
کبھی ’’ہمایوں ‘‘ اور’ ادبی دنیا‘ کے پرچے فیاض محمود اور عاشق بٹالوی کی توصیف میں کالے تھے اور آج ہم ہی افسانے کی تاریخ میں ان بے چاروں کا ذکر تک نہیں کرتے۔ ہم نے افسانے میں زور بیان کو اس قدر سراہا ہے کہ ادب تو ایک طرف خود ادیب کو نقصان پہنچایا ہے۔ افسانے میں اظہار کے تخلیقی مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ گریز کا ہے۔ لیکن ہمارے شغف ناآشنا کان ،گریز کو معجز بیان کا نام دیتے ہیں۔ ہم ابھی تک داستان گوئی، فلسفہ رانی اور تخلیقی واقعات کو آج یا کل کے کرداروںکی معرفت پیش کردئیے جانے پر سردسھنتے ہیں۔ سردھننے سے مجھے کچھ کد نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ تو ہم کچھ بھی کرکے دھنیں گے ہی کہ ہماری عادت ثانیہ ہوچکی ہے۔ مگر تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ہم خطیب، مؤرّخ اور فلسفہ بردار ہی کو افسانہ نگار کا نام دیتے ہیں۔
افسانہ کوئی سودیشی Indigenousشے نہیں۔ ہم نے جاتک کہانیاں لکھیں، کتھا ساگر لکھی اور ہم سے لوگ انھیں مغرب لے گئے جہاں انھوں نے کہانی کو فن بنادیا۔ ہیئت میں بے شمار تجربے کیے، جن سے استفادہ کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں ہے۔ افسانے کے فن کو چھوڑئیے، کسی بھی فن کو جانچنے پرکھنے کے لیے عالمی پیمانے پر اسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی علاحدگی (Isolation)نہیں ہے۔ ملکوں اور قوموں کی حدیں نہیں ہیں۔ بشرطیکہ آپ منٹو کو موپساں اور مجھے چیخوف کے نام سے نہ پکارنے لگیں۔ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ میں خود کو کاوا باٹا کہلوانا پسند کروں۔ آپ کو کیسا لگے اگر میں کہوں کہ رام لال اور جوگندر پال ہندوستان کے ہیزش بوہل ہیں اور قرۃ العین حیدر ،ہان سویان! مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ بشرطیکہ ہان سویان کے ہم وطن اسے اپنے دیس کی قرۃ العین حیدر کہیں۔
عجیب دھاندلی ہے نا ۔ معلوم ہوتا ہے اردو اسم بامسمّیٰ ہوتی جارہی ہے۔ ہیزش بوہل کا ایک جج کردار یہ کہتا ہے:
’’…ایسے مقدمے میں انصاف قسم کی کوئی چیز ہی نہیں کیوں کہ ملزم اس کا تقاضا ہی نہیں کرتے۔ یہ ایک ایسی آمریت ہے جس میں انفرادی اظہار اور اخلاقی سہوزمانی (Anachronetic)بات ہے…‘‘
مذکورہ ریاضت اور عالمی پیمانے پہ گردوپیش کی آگہی کے بعد ہی افسانے پر عبور حاصل ہوتا ہے اور جب یہ بات ہوجاتی ہے تو افسانہ لکھنے والے کے اضطرار (Reflexes) کا حصہ ہوجاتا ہے۔ نہ صرف آپ کی بے ارادہ بات سے افسانے کا مواد مل سکتا ہے بلکہ ہر موڑ، ہر نکڑ پہ افسانے بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ تعداد میں اتنے ہیں کہ انھیں سمیٹتے ہوئے افسانہ نگار کے ہاتھ قلم ہوجائیں۔ بہرحال افسانوی تجربے پر عبور حاصل ہوجانے کے بعد افسانہ نگار کو یونان کے اساطیری کردارمی ڈاس کا وہ لمس مل جاتا ہے جس سے ہر بات سونا ہوجاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوستان کا افسانہ نگار سونے کو بھی چھوتا ہے تو وہ افسانہ ہوجاتا ہے۔ گھبراہٹ کی بات اس لیے نہیں کہ اتنا سونا پاکر می ڈاس بھی بھوکا مرا تھا۔
افسانہ لکھنے کے عمل میں بھولنا اور یاد رکھنا دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے بڑی بڑی ڈگریوں والے…پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ اچھا افسانہ نہیں لکھ سکتے۔ کیوں کہ انھیں بھول نہ سکنے کی بیماری ہے۔ میں ایک دماغی تساہل کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ جسے منٹو نے میرے نام ایک خط میں لکھا…’بیدی، تمھاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو،لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو‘‘۔ میں سمجھ گیا کہ منٹو کا مطلب ہے۔ میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ مگر میں کیا کرتا؟ ایک طرف مجھے فن اور دوسری طرف زبان سے لوہا لینا تھا ۔ اہل زبان اس قدر بے مروّت نکلے کہ انھوں نے اقبال کا بھی لحاظ نہ کیا۔ کسی سے پوچھا آپ اقبال سے ملے تو کیا بات ہوئی۔ بولے، کچھ نہیں، میں ’جی ہاں جی ہاں ‘ کہتا رہا اور وہ ’ہاں جی ہاں جی ‘ کہتے رہے۔ اب کے حالات میں نسبتاً آسانی ہے کیوں کہ سند کے لیے ہمیں کہیں دور نہیں جانا ہے۔ پرسوں ہی ڈاکٹر نارنگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں ایک تحریک چلی ہے جو شوکت صدیقی جیسے ادیبوں کی پورب سے آئی زبان کو ٹکسالی نہیں مانتی۔ بہرحال میں نے منٹو کی تنقید سے فائدہ اٹھایا اور دھیرے دھیرے اپنی کہانی سے ہاتھ کو مار بھگایا۔ لیکن اس کا کیا کروں کہ وہ ادھر ادھر سے ہوکر پھر رونما ہوجاتا ہے۔ وہ بے ادائی کی ادا جس کی طرف منٹو نے اشارہ کیا میرکے الفاظ میں خاک ہی میں مل کر میسّر آتی ہے لیکن یہی بے ادائی اور قلم برداشتگی جہاں منٹو اور کرشن چندر میں مزہ پیدا کرتی تھی، وہیں بدمزگی بھی۔ منٹو کی تنقید کی وجہ سے میری حالت اس عورت کی سی تھی جو مقبوض اور تاراج بھی ہونا چاہتی ہے اور پھر اس کا بدلہ لینا بھی۔ جب میں نے منٹو کے کچھ افسانے میں لاابالی پن دیکھا تو انھیں لکھا…’’منٹو تم میں ایک بری بات ہے اور وہ یہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو اور نہ لکھتے وقت سوچتے اور نہ لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔‘‘
اس کے بعد منٹو اور مجھ میں خط و کتابت بند ہوگی۔ بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے میری تنقیدکا اتنا بر انہیں مانا جتنا اس بات کا کہ میں لکھوں گا خاک، جب کہ شادی سے پرے مجھے کسی بات کا تجربہ ہی نہیں۔ اس پہ طرفہ یہ کہ میں نہ صرف بھینس کا دودھ پیتا ہوں بلکہ اسے پال بھی رکھا ہے۔ میں انھیں کیسے بتاتا کہ اگر اونٹ کا رشتہ مسلمان سے ہے۔ گائے کا ہندو سے، تو سکھ کا بھی کسی سے ہوسکتا ہے۔
افسانہ ایک شعور، ایک احساس ہے، جو کسی میں پید انہیں کیا جاسکتا۔ اسے محنت سے تو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن حاصل کرنے کے بعد بھی آدمی دست بہ دعا ہی رہتا ہے۔ کچھ وافر باتیں سوئے ہضم کی وجہ سے بھی اس میں آجاتی ہیں اور کچھ ذہنی فتور سے…تسکین کی بات صرف اتنی ہے کہ افسانہ ابھی ہمارے ہاتھ سے نکل کر ایڈیٹر کے ہاتھ نہیں پہنچا۔ ہم اس میں ایرادو اضافہ کرسکتے ہیں اور اس پر بات نہ بنے تو پھاڑ کر پھینک سکتے ہیں۔ اگر ہیمنگ وے پانچ سو صفحے لکھ کر ان میں سے صرف چھیانوے صفحے کا مواد نکال سکتا ہے، تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟
اُردو میں بہت عمدہ افسانے لکھے گئے ہیں۔اگر ان کی تعداد گنی چنی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تقاضے پورا کرنے میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ایمان ہاتھ سے جارہا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اہم اپنے ہی امیج میں قیدی ہوکر رہ ئے ہیں۔


مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 97تا 104

My Poetry by Akhtarul Iman

Articles

میری شاعری

اختر الایمان

میری عادت ہے جب نظم ہو جاتی ہے اسے رکھ دیتا ہوں اور اتنے دن رکھا رہنے دیتا ہوں کہ نظم ذہن سے محو ہوجائے ۔نظر ثانی کرتے وقت اکثر اوقات نظم کا اچھا برا سامنے آجاتا ہے پھر بھی یہ کوئی قاعدہ یا کلیہ نہیں۔میں نے یہ عادت اس لیے اختیار کی کہ شاعری پر کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی تھی نہ کوئی مشورہ کیا تھا۔جس طرح کا مزاج تھا اس میں استادی شاگردی والا ڈھرّہ چل بھی نہیں سکتا تھا ۔شاعری شروع کی تھی لونڈے پن میں۔رکان تھی مصرع موزوں کرنے کی مگر جب کچھ دوستوں اور بزرگوں نے کہا تمہارے اندر شاعر بننے کی صلاحیت ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا۔شاعری کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے سمجھنے کے لیے کافی ریاض کیا۔کچھ ایسے بے لاگ بات کرنے والے دوست اور ساتھی بھی مل گئے جو مجھے پسند تھے اور گاڑی دھیرے دھیرے ڈھرّے پر آگئی۔
ڈھرے کا یہ مطلب نہ نکالیے کہ مہاتما بدھ کی طرح کسی پیڑ کے نیچے القا یا الہام ہوا۔کہنے سے مراد ہے مجھے کس طرح کا شاعرانہ رویہ پسند ہے،اور اسے اختیار کرنے کی سبیل کیا ہو،اس کا ایک دھندلا ساراستہ دکھائی دیا۔ہر دور کی تخلیق اور احتساب، پیش رو‘بڑے لکھنے والوں کی تخلیقات کو ذہن میں رکھ کر کیا جاتا ہے ۔سامنے غزل کی بڑی شاعری تھی۔پھر مسدس سریلے بول اور غالبؔ کو از سر نو روشناس کرانے والے لوگ۔
یہ درست ہے لکھنے کے بہت ابتدائی دور میں شاعرکو اتنا شعور نہیں ہوتا کہ چیزوں کی بہت چھان پھٹک کرے مگر غیر شعوری ہوتے ہوئے بھی فن کا ایک معیار تو ذہن میں ہوتا ہے۔ راستہ دھندلا ہوتا ہے پھر بھی کوئی یہ تو نہیں چاہتا کہ کوشش رائیگاں جائے۔تقریب کچھ تو بہرملاقات چاہیے والا بھی ایک راستہ ہے مگر میرے ذہن میں وہ نہیں تھا۔
آج کل کے چل چلاؤ کے زمانے میں اچھے خاصے معقول حضرات بھی ایک الجھن کا حل دوسری الجھن کی صورت میں پیش کردیتے ہیں۔شاید سوچتے ہیں کون جھنجٹ میں پڑے۔ کسی نے پوچھا آسمان پر کتنے ستارے ہیں جواب دیا سمندر میں جتنے قطرے ہیں ۔اب چاہے راتوں کو بیٹھے آسمان تکا کیجئے چاہے سمندر میں غوطہ لگائیے اس سے انہیں کچھ مطلب نہیں۔ جدید اردو شاعری کا بھی کچھ ایسا ہی حال دکھائی دیتا ہے۔اس خواب کو بھی کثرت تعبیر کرنے پر پریشان کردیا ہے۔گنبد میں ہر کوئی اپنی سی کہے جاتا ہے اور ہر نئے آنے والے کی تعمیر یا (تخریب)الجھنوں میں اضافہ کردیتی ہے، اور نقصان میں رہتے ہیں شعر و شاعری سے لطف اٹھانے والے یا ان سے بھی زیادہ خود شاعری۔مختصر یہ کہ جدید اردو شاعری کے تصوّر کو بعض لوگوں نے جان بوجھ کر انجانے میں ایک گورکھ دھندابنادیا ہے۔اور یوں وہ اکثر لوگوں کے لیے بھول بھلیاں بن کر رہ گئی ہے۔ایسی صورت حال کے ہوتے ہوئے وہی لوگ فائدہ میں رہ سکتے ہیں جو اپنی عینک میں صحیح نمبر کا شیشہ لگا کر دیکھنے کی کوشش کریں۔
جدید اردو شاعری ایک ایسی پھلواری ہے جس کی زمین تو حالیؔ، اسماعیل ،آزاد اور ان کے دوسرے ہم خیالوں نے تیار کی تھی لیکن اس میں سب سے پہلا خوشنما اور بارآور پودا عظمت اللہ اور بجنوری ؔنے لگایا تھا۔اپنے وسیع مفہوم کے لحاظ سے جدید اردو شاعری کا اطلاق حالیؔ اور اس کے بعد کی شاعری پر کیا جاسکتا ہے مگر آج اضافی ادب خصوصاً مغربی ادب کے مطالعے کے اثرات سے ہمارے جو نئے شاعر پیدا ہوئے ہیں ان کے صحیح پیش رو میری نظر میں عظمتؔ اللہ اور بجنوریؔ ہیں۔گذشتہ دس پندرہ سال کی اردو شاعری میں فن اور خیال کے تمام تجربات شجرے کے لحاظ سے انہیں کے ذیل میں آئیں گے ۔عظمت اللہ خاں نے ’’سریلے بول‘‘کے آغازمیں نئی پود کے نام اپنے کلام کاانتساب یوں کیا۔
’’اس آنے والی پود کے لیے جس کے ہونٹوں پر ابھی ماں کے دودھ کا مزہ کچھ یونہی سا باقی ہے۔جس کی آواز میں ابھی لڑکپن کا سریلا پن گونج رہا ہے یہ چند lyric نظمیں سوغات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔اس پود کے پھولنے پھلنے کے بعد بڑا کام یہ ہوگا کہ اس کی نغمہ سرائی سے اردو شاعری فطرت کی طرح وسیع ہوجائے اور فطرت ہی کی طرح گونج اٹھے۔اگر ان چند بولوں سے اس پود کو اردو ادب کا ایک نیا دور طلوع کرنے میں ذرا بھی مدد ملی تو گویا ان ناچیز۔چیزوں کا صلہ مل گیا۔‘‘
یہ اس شاعر کے الفاظ ہیں جسے اپنے اوپر اعتماد تھا۔اس اعتماد کی تائید اس نئے دور نے زیادہ سے زیادہ زور دار الفاظ میں کی ہے جو اردو شاعری میں طلوع ہوچکا ہے لیکن اس نئے دور میں اپنے پیشرو کے ہم نوا اس کے جیسے اعتماد کے حامل نہیں ہیں۔چاہے آزاد نظم اور دوسرے ضمنی تجربات ہوں چاہے جنسی موضوعات اور چاہے سیاسی عقائد اور خیالات۔ہر ایک کے حامیوں کی ہستی کچھ برسبیل تذکرہ ہی دکھائی دیتی ہے۔یہ تسلیم کہ شروع میں صرف قدامت پرستی اور محض بے علمی یا جہالت کی جس مخالفت سے سامنا پڑا تھا وہ اب دور ہوچکی ہے یا کم سے کم دب سی گئی ہے ۔مگر اس کی جگہ اب آنے والوں کی باہمی غلط فہمیوں نے لے لی ہے۔ادب برائے ادب کا مقولہ تو اب ایک پرانی سی بات ہے اس کا نعم البدل ادب برائے زندگی کی صورت میں نمودار ہواتھا۔اس کی چھان پھٹک کے بعد اب جو صورت مجھے دکھائی دیتی ہے اسے دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ لوگ جو زندگی برائے زندگی کے قائل معلوم ہوتے ہیں اس گروہ کی سطحیت ہی انہیں درخور اعتنانہ سمجھنے کا جواز ہے۔دوسرے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جو زندگی برائے ادب پر عمل پیرا ہیں۔اور اپنے مسلک کے پردے میں ادب برائے زندگی کے مفہوم کو بھی لئے ہوئے ہیں لیکن ان کا راستہ بھی صاف نظر نہیں آتا۔
ہمارے جدید شاعروں کی مختلف الجھنوں کا ابتدائی زمانہ تو گذرتا جارہا ہے بلکہ یوں کہئے ختم ہونے کو ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ منزل بھی تقریباًآن پہونچی ہے جہاں کھڑے ہوکر سب سے پہلے انہیں سختی کے ساتھ نیا جائزہ لینا ہوگا پھر مستقبل پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھنا ہوگا ورنہ ان کی محنتوں کے بے ثمر ،ہونے کا اندیشہ ہے ۔عظمت اللہ اور بجنوری کی شخصیتیں اس سلسلے میں اب بھی ان کی راہ نما ہوسکتی ہیں۔یہ دونوں شاعر مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مشرقی علوم سے بھی کماحقہ،واقف تھے اور اس کے پہلو بہ پہلو رائے زنی کی وہ اہلیت بھی ان کی ذہانت کا خاصہ تھی جو صرف گہرے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ بجنوری کے مقدمے سے قطع نظر ان کی تخلیقات میں تجربوں کے باوجود ایک توازن تھا ایک ایسی ہم آہنگی تھی جو انسان کی سطحیت سے بچائے رکھتی ہے آج ہمارے بہت سے شاعر جنسی موضوعات پر محض اس لیے خامہ فرسائی کرتے ہیں کہ اس میں انہیں لذّت حاصل ہوتی ہے۔آزاد نظم یا دوسرے ضمنی تجربوں کی طرف اس لیے رجوع کرتے ہیں کہ ان کی عجب پرستی ہی نمودکا باعث بن جائے اور اپنی ہر نظم سرخ روشنائی سے اس لیے لکھتے ہیں کہ سرخ پھریرانوجوانوں کے لیے فیشن سا بن گیا ہے۔
عظمت اللہ نے جس دور کی پیشن گوئی کی تھی وہ آگیا ہے اور شاعری کے دروازے ہر طرح کے موضوعات کے لیے کھل گئے مگر کتنے اس دروازے سے داخل ہونے کی نیت رکھتے ہیں اس کا اندازہ آج کی ادبی فضا سے ہوسکتا ہے ۔لکھنے والے پلٹ پلٹ کر پیچھے کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔جس طرح قصیدہ ،مرثیہ،رجز،پوری شاعری نہیں شاعری کی ایک صنف ہے،اور زندگی کے صرف ایک رخ کی نمائندگی کرتے ہیں وہی صورت حال غزل کی بھی ہے۔ غزل کی تعریف جو میں نے پڑھی ہے وہ،بازی کردن محبوب و حکایت کردن ازجوانی و حدیثِ صحبت و عشق زناں’’یعنی محبوب کے ساتھ کھیل ،رنگ رلیاں ،جوانی کی باتیں اور عورتوں کے ساتھ عشق و محبت کے قصّے ۔ظاہر ہے بڑا دلچسپ موضوع ہے۔خدا سب کو اس کی توفیق دے مگر یہ زندگی کا صرف ایک رخ ہے ۔اس کا زمانہ اور وقت بھی بہت محدود ہے۔
پندرہ بیس سال پرانی بات ہے میں نے مدراس کی ایک فلم لکھی تھی جس کا نام ’’آدمی‘‘ تھا۔(یوسف خان)دلیپ کمار،کے ساتھ اس فلم میں بہت سے بڑے بڑے اور معروف اداکار بھی تھے۔کوڈے کنال میں فلم کی شوٹنگ ہورہی تھی جس ہوٹل میں ہم سب کا قیام تھا اس کا نام شاید کوائیلٹی ہوٹل تھا۔ایک روز رات کے کھانے کے بعد یوسف خان نے ڈائنگ ہال میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کو روک لیا ۔کہا اخترالایمان کی شاعری سنیں گے ۔ان میں ایک مصور بھی تھا جو گجرات کا رہنے والا تھا۔باقی سب کی زبان بھی اردو نہیں تھی۔یوسف خان نے کہا وہ نظم کا انگریزی میں ترجمہ کریں گے۔خیر!شاعری ہوئی یوسف ترجمہ کرتے گئے اور محفل بخیر خوبی ختم ہوگئی،اگلے روز شام کو میں ٹہلنے کے لیے کمرے سے نکل رہا تھا کہ یوسف خاں آئے اور معنی خیز انداز میں مسکراکر کہنے لگے وہ مصور صاحب جو کل رات ہال میں تھے بیٹھے تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔کہتے ہیں اسی قوّال کو بلاؤ جو کل سنا رہا تھا۔
یہ لطیفہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ شاعری کے ساتھ گانا بجانا جڑے ہونے کے سبب سننے والے شاعری کو تفریحی پروگرام کا بدل یا اس کا مترادف سمجھنے لگے ہیں ۔کوئی سنجیدہ چیز نہیں۔غزل کی طرف میرے اس رویہّ کا نتیجہ غزل کے کچھ شیدائیوں نے یہ نکالا ہے کہ میں غزل کا مخالف ہوں ۔نہیں ایسی بات نہیں ۔غزل کا حامی نہ ہونا مخالف ہونے کے مترادف نہیں۔نہ حامی ہونے کا سبب ایک تو یہ ہے کہ غزل میں پھولنے پھلنے کی گنجائش نہیں رہی دوسرا سبب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں غالبؔغزل کا نقطہ عروج ہے۔
میں مزید اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہنا صرف اس قدر ہے کہ نظم ایسی صنف ہے جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔زندگی سے متعلق کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر نظم نہیں کہی جاسکتی۔ اخلاقی، سیاسی، معاشی، سماجی، نفسیاتی، رومانی کوئی بھی موضوع ہو نظم کا کینواس اتنا بڑا ہے کہ اس پر جو رنگ فنکار ڈھنگ سے استعمال کرے گا،اچھا لگے گا۔
اس پچھلے چالیس پچاس برسوں میں نظم کی صنف اتنی وسیع اور ترقی یافتہ یا اتنی بالغ ہوگئی ہے کہ اس پر پوری طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے قناعت بہت اچھی چیز ہے انسان کو لالچی اور کمینہ ہونے سے بچاتی ہے۔حیوانیت کا توڑ بھی کرتی ہے مگر شاعری میں قناعت کا استعمال نقصان دہ ہے۔چونکہ قناعت اس ملک کے فلسفہ اور مزاح کا بڑا جزو ہے اس لیے ہم نے غزل پر قناعت کرلی مگر زندگی میں حریص اور کمینے ہوگئے۔
غزل اور بے غزلی کی بحث میں نہ پڑیئے۔ غزل ہی کیا ایسے اور بہت مسائل ہوں گے جن پر مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہوگا اور آپ کو مجھ سے مگر اس بات پر ہم ضرور متفق ہوں گے کہ کوئی صنف سخن ہو اس میں وسعت کی گنجائش ہونی چاہیے اور زبان کا ایسا استعمال ہونا چاہیے کہ پہلے جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں اضافہ بھی ہو اور زبان اپنے وسیع تر معنوں میں بھی استعمال ہوسکے اور وہ صنف اور پیکر زندگی سے ہم آہنگ بھی ہو فن کا کام پوری زندگی کا احاطہ کرنا ہے اس کے کسی ایک رخ کا نہیں ۔تحریر وجود ہی میں کیوں آئی؟اس لیے کہ اشاروں اور اشکال کی زبان محدود تھی۔اس قید سے بچنے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے صرف شاعری ہی کا استعمال نہیں کیا آدمی نے نثر کی بھی بہت سی اصناف ایجاد کی ہیں۔کہانی لکھی،ڈرامہ لکھا،ناول لکھا،رپورتاژ لکھے،سوانح لکھی غرض کہ جو قلم کی زد میں آیا اگر ایک صنف نے ساتھ نہیں دیا تو دوسری ایجاد اور اختیار کی یہی بات اس نے شاعری میں بھی روا رکھی۔مثنوی لکھی،قصیدہ لکھا،مرثیہ لکھا،رجز لکھے،غزل لکھی اور جب زبان کو وسعت دینے کی ضرورت محسوس کی، گوناگوں خیالات کا اظہار چاہا تو نظم ایجاد کی۔بیان کو وسعت دینے کے لیے زبان لا محدود چاہئے۔ زبان تو ایک ہی ہے مگر موضوع کے ساتھ لفظوں کا دروبست بدل جاتا ہے۔ رپورتاژکی زبان کلاسیکی شاعری کے لیے موزوں نہیں۔قصیدہ اور مرثیہ کا ٹھاٹھ غزل میں کام نہیں آتا اور غزل کی نزاکت نظم کے دشوار گذار میدانوں میں ساتھ نہیں چل سکتی۔کچھ لوگ اگر دو مصرعوں میں بات کہنے کو غزل کا مترادف سمجھتے ہیں تو دوہا بھی دو ہی مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر دوہا غزل نہیں ہوتا نہ دوہے کا انداز بیان غزل کے لیے موزوں ہے۔ادب، فن، شاعری جہاں انسانی جذبات اور معاملات کو رقم کرنے کا ذریعہ ہے وہاں اس کا مقصد زبان کی وسعت اور ترویج بھی ہے۔زبان میں وسعت آتی ہے پھیلے ہوئے ہشت پہلو موضوعات سے اور وہ صرف نظم میں آسکتے ہیں اس لیے کہ نظم محدود صنف سخن اور اظہار خیال کے ذریعہ کا نام ہے۔
جب میں شاعری میں کھردرے پن کا ذکر کرتا ہوں اس کا مطلب اخباری زبان نہیں ہوتا۔کلامِ موزوںبھی نہیں ہوتا۔اس کا مطلب ہوتا ہے بندھے ٹکے مروجہ اشارے اور تشبیہات ،بیان کے پیش افتادہ انداز اور مضامین سے گریز،ٹکسالی محاوروں اور روزمرہ سے پرہیز۔ایسی زبان جو ابھی شاعری کی خیرادپر نہیں چڑھی ،ان لفظیات سے مراد ہوتی ہے،جن میں ابھی کنوارا پن کی خوشبو ہے۔ اس لیے کہ وہ تواناہوتے ہیں اور نئے موضوعات میں خیال کے اظہار کا بھرپور ذریعہ ثابت ہوتے ہیں ۔تخلیق کا ایک اور اہم پہلو خود احتسابی ہے۔
خود احتسابی ایسی صفت ہے جس کا ہونا ایک قلم کار کے اندر اس کی ذہنی صحت مندی کی علامت ہے۔ہر انسان کو اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے یہ تسلیم مگر اپنے احمق بیٹے کو دنیا کا سب سے زیادہ خود صورت اور ذہین انسان سمجھ لینا ذہنی کج روی کی علامت ہے۔
٭٭٭

مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 17تا 24

Urdu ke Aham Adabi Jaraid by Dr. Asad Faiz

Articles

اردو کے اہم ادبی جرائد کے اولین شمارے

ڈاکٹر اسد فیض

بیسویں صدی کی ابتدائی دھائیوں میں برصغیر کے اہم ادبی مراکز سے ادبی جرائد کی اشاعت کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔اِن ادبی جرائد نے بر صغیر کے ادبی معاشرہ کی علمی اور فکری بنیادیں استوار کیں اور اُن کو استحکام بخشا۔اپنے عہد کا شعور اپنے اندر سمیٹے ہوئے یہ ادبی رسائل ہمارا عظیم اثاثہ ہیں۔آج کے کئی معروف ادیبوں کی ابتدائی تحریروں اور علمی و فکری تحریکوں کے بھی یہ جرائدامین ہیں۔پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو کا اولین رسالہ‘‘میں ’’ محب ہند‘‘دہلی کو اردو زبان کا اولین ادبی جریدہ قرار دیا ہے۔اس کا اجرا جون ۱۸۴۷ء میں عمل میں آیا(۱)۔ یہ ہر ماہ دہلی سے چھوٹی تقطیع کے پچاس صفحات کی ضخامت میں شائع ہوتا تھا۔اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر (۱۸۲۱۔۱۸۸۰) تھے جو دہلی کالج میں علوم ریاضی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے کئی کتب تالیف کیں۔ ان میں چند اردو زبان میں بھی تھیں۔رسالہ’’ محب ہند‘‘ میں بہادر شاہ ظفر،شاہ نصیر کی غزلیں اور مومن و مجنوں کی شاعری بھی شائع ہوتی رہی۔یوسف خاں کمبل پوش کا سفر نامہ کئی شماروں میں قسط وار طبع ہوا۔اکتوبر ۱۸۴۹ء کے شمارے میں یوسف خاں کمبل پوش کی شبہیہ بھی شائع کی گئی۔رسالہ محب ہند سے اب تک ادبی جرائد کی اشاعت کو ایک سو باسٹھ برس کا عرصہ گذر چکاہے۔اس دوران جن رسائل نے اپنی منفرد اشاعتوں سے ادبی تاریخ پریادگار نقوش ثبت کیئے۔ اُن میں ایک اہم نام نیاز فتح پوری کے ادبی جریدہ ’’نگار‘‘ کا ہے۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی کی ابتدا میں اس ادبی جریدہ نے ہندوستان میں ایک دبستان اورتحریک کی صورت اختیار کرلی تھی اور اس کے موضوعات اور اسلوب نثرادب کی رومانوی تحریک کی تقویت کا باعث بنے ۔ ’’نگار‘‘کا پہلا شمارہ فروری ۱۹۲۲ میں آگرہ سے شائع ہوا( ۲ )۔ اولین شمارہ کے سرورق پر رئیس التحریر کے عنوان سے نیاز فتح پوری کا نام درج ہے .جبکہ اندرونی صفحات سے پتہ چلتا ہے کہ مخمور اکبر آبادی بھی ان کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر شامل تھے۔نیاز فتح پوری (۱۸۸۴۔۱۹۶۶)تاریخ ساز ادبی شخصیت تھے ۔ انہوں نے اپنے عہد کے ادبی ،مذہبی ا ور تہذیبی منظر نامے پر انمٹ نقوش ثبت کئے ۔نگار بنت عثمان ترکی کی ایک انقلابی شاعرہ تھی ۔نیاز اس کی انقلابی اور رومانوی شاعری سے متاثر تھے۔ اس لئے انہوں نے اُس کے نام پر نگار کا اجراء کیا۔۔نیاز فتح پوری اس وقت تک افسانہ نگار کے طور پر شہرت حاصل کرچکے تھے لیکن نگار ان کے سنجیدہ علمی موضوعات کا صحیح معنوں میں ترجمان ثابت ہوا۔نگارمیں انہوں نے اخلاق و حکمت سے لے کر علم نجوم ،مذہب،ادب، سیاست ،معاشرت اور جنس تک کے موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔پہلے شمارے کے کل صفحات اسی(۸۰)ہیں ۔پرچہ کی ابتدا منظوم انتساب کی صورت ہے۔ جو نیاز فتح پوری کے اعلا شعری ذ وق اور اختراعی ذہن کی علامت ہے۔اس تخیلاتی اور احساس آفریں نظم کا آخری شعر ہے۔
ان خندہ ہائے حسن کی کرتا ہوں قائم یادگار
یعنی ان پھولوں کا ہے چھوٹا سا گلدستہ نگار
’’عناصر نگار ‘‘ کے عنوان سے نیاز نے اداریہ لکھا ہے اور ’’نگار‘‘ کی اشاعت اور اس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ہے۔نثری مضا مین میں پہلا مضمون شعر (عربوں کے نقطہ نظر سے) ہے یہ نیاز فتح پوری کا لکھا ہوا ہے۔جس میں شاعری اور شعر کی داستان کو رقم کیا گیا ہے۔اس میں تمام دیگر اقوام اور زبانوں میں بھی شاعری کے معانی اور ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے اس مضمون سے اندازہ ہوتا کہ نیاز تحقیقی مزاج بھی رکھتے تھے۔فکشن کی ذیل میں ’’سمنستان کی شاہزادی‘‘ کے عنوان سے لطیف الدین احمد کا ایک افسانہ شائع ہوا ہے ۔
ل ۔احمد کا اسلوب سجاد حیدر یلدرم کے رنگ سے مما ثلت رکھتا ہے،کہانی دلچسپ اور قدیم شہزادے شہزادیوں کے قصے پر مبنی ہے۔ اگلے صفحات پر نیاز فتح پوری کا ایک مضمون ’’کیا مانی واقعی مصور تھا‘‘ طبع ہوا ہے جس میں مانی کی اصلیت کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے اور اس کے مذہب کے بارے میں معلومات پیش کی گئی ہیں۔’’صحرا کے مو تی ‘‘کے نام سے قمرالحسن قمر کی ایک کہانی اس شمارے کی زینت ہے۔یہ عرب معاشرت سے متعلق ہے اور ایک لڑکی کی بے مثال قربانی سے عبارت ہے۔ترکی ادب سے ماخوذ’گیسو‘‘ کے عنوان سے نیاز اور ’’مطربہ‘‘کے نام سے امتیاز علی تاج کی رشحات قلم بر صغیر میں ترکی اد ب کی مقبولیت اور نثر کے رومانوی اسلوب کے مرصع و رنگین انداز کی خوبصورت جھلکیاں ہیں۔نثرکے دیگر مضا مین میں جو نیاز فتح پوری نے لکھے ۔ ان میں ’’جرمن حرب و تجارت کا ایک عجیب راز‘‘ ،معلومات حرکت زمین کا مشاہدہ عینی،اشتراکیت کے عنوان سے تمام معلو ماتی مضا مین نیاز فتح پوری کے نتیجہ فکر کے مر ہون منت ہیں۔صفحہ ۵۵ پر ایک غلطی کا ازالہ کے عنوان سے نیاز نے علی گڑھ میگزین کی جولائی تا اکتوبر اشاعت میں سُہاکی شرح دیوان غالب پر ایک معاندانہ تبصرہ سے اپنی لا تعلقی کا اعلان کیا ہے۔مضمون کے آخر میں صرف فتح پوری از بھوپال شائع ہوا ہے۔ انہوں نے ایڈیٹر رشید احمد صدیقی سے نگار کے صفحات کے توسط سے استد عا کی ہے کہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں ۔نگار کے اس شمارے میں چھپنے والی منظو مات بھی معیاری ہیں۔’’فروغ نظر‘‘ کے عنوان سے ضیائی ،’’شام جمن ‘‘کے نام سے مخمور اکبر آبادی جن کا اصل نام سید محمد محمود رضوی ہے ان کی ایک نظم،’’اندر پرستش‘‘ کے عنوان سے صفحہ ۹ ۳۔۴۰ پر ایک فارسی نظم،’’بہار کی دیوی ‘‘ کے عنوان سے نیاز فتح پوری کی نظم اس شمارہ کا قابل قدر حصہ ہیں ۔اس شمارے کی واحد غزل شوکت علی فانی کی تحریر کردہ ہے جس پر ایڈیٹر نے ایک طویل نوٹ لکھا ہے۔مجموعی طور پر ’’نگار‘‘ کا یہ شمارہ اس دور کے ادبی مزاج کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔خاص طور پر اس شمارے کی وساطت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیاز اپنے عہد کی نابغہ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے ادب میں اپنی الگ پہچان بنائی۔اگست ۱۹۶۲ سے نگار پاکستان کے نام سے کراچی سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری اس کے ایڈیٹر اور پبلشر ہیں ۔نگار کا شمار آج بھی سنجیدہ ادبی جرائدمیں ہو تا ہے۔جس پر ابتدا میں نیاز کی اور اب ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی شخصیت کی چھاپ نما یاں ہے۔ اس کا ہر شمارہ یادگارحیثیت کا حامل ہو تا ہے۔
بیسویں صدی کی دوسری دھائی میں ایک اور ادبی جریدے نے بھی مجلا تی صحافت کو نئی راہوں اور مزاج سے آشنا کیا ۔اس کا نام نیرنگ خیال ہے۔ ’’نیرنگ خیال‘‘کے مالک و مدیر حکیم یوسف حسن تھے۔ وہ افسانہ نویس اور طبیب بھی تھے۔وہ ۱۸۹۴ ء کو لا ہور میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم لا ہور میں پائی ۔مڈل پاس کرنے کے بعد ریلوے میں بطور گڈس کلرک ملازم ہوگئے تھے۔لائل پور میں بھی تعینات رہے۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی ۔اُن کے افسانے’’ نیرنگ خیال‘‘اور’’ زمانہ ‘‘ کانپور میں شائع ہوتے رہے۔جو اس زمانے کا ایک مقبول ادبی جریدہ تھا۔حکیم یوسف حسن نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کا اجرا جولائی ۱۹۲۴ میں لاہور سے کیا(۳) ان کے ساتھ محمد دین تا ثیر(۱۹۰۲۔۱۹۵۰) بھی جائینٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ِسفر تھے ۔ حکیم یوسف حسن کا کہنا ہے کہ’’نیرنگ خیال‘‘ کا نام حکیم فقیر محمد چشتی نے تجویز کیا تھا اور اس کا ٹائیٹل بھی حکیم فقیر محمد چشتی نے بنایا تھا(۴)پہلے شمارے کا سائز ۸ / ۳۳x ۲۳ اور اس کے کل صفحات پچاس تھے۔علامہ اقبال نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کی اشاعت پر اِس کے ایڈیٹر کو ایک خط ۱۷ اگست ۱۹۲۴ کو تحریر کیا ۔
’’رسالہ نیر نگ خیال جو حال ہی میں لاہور سے نکلنا شروع ہوا ہے۔بہت ہونہار معلوم ہوتا ہے ۔اس کے مضامین میں پختگی اور متانت پائی جاتی ہے مجھے یقین ہے کہ یہ رسالہ پنجاب میں صحیح ادبی مذاق پیدا کرنے میں بہت مفید ثابت ہوگا‘‘(۵)
پہلے شمارے کااداریہ’’ مقالہ افتتا حیہ‘‘ کے عنوان سے حکیم یوسف حسن نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اداریہ میں لکھا ہم اسے تجارتی فوائد کے لیئے نہیں چلا رہے مگر ہم تمام تجارتی اصولوں کے پابند رہیں گے تاکہ اس رسالہ کی زندگی محض ایک رقص شرر ثابت نہ ہو ۔اُن کا یہ خلوص شائد قدرت کو اتنا پسند آیاکہ اس پرچے نے خاص نمبروں کی اشاعت کا رواج ڈالا اورعلامہ اقبال کی زندگی ہی میں ان پر ایک شاندار اور یادگار نمبر ستمبر ۔اکتوبر ۱۹۳۲ میں شائع کیا۔حکیم یوسف حسن کا انتقال ۱۹۸۱ کو راولپنڈی میں ہوا۔ان کی عمر نوے برس تھی (۶)حکیم یوسف حسن کا یہ فیضان ’’ نیرنگ خیال ‘‘ جس نے اپنا اشاعتی سفر ۱۹۲۴ء میں شروع کیا تھا ۔ آج بھی جاری و ساری ہے۔اب سلطان رشک اِسے راولپنڈی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے شمارہ کے مشمولات میں مضامین کا حصہ بے حد معیاری اور معلوماتی ہے۔ابتدائی صفحات میں ’’شذرات‘‘ کے عنوان سے ہندوستان بھر سے اہم خبروں اور واقعات کو بھی شائع کیا گیا ہے۔ان شذرات سے اس دور کے سیاسی و معاشرتی حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔تحریک خلافت کے حوالے سے تحریر ہے۔
’’سیاسی سرگرمیوں اور مسئلہ خلافت کے حل میں مسلمانوں کے کامل دس سال صرف ہوچکے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ مسئلہ خلافت ہنوز روزاول کا مصداق ہے اور بلا شبہ اس کی ضرورت سمجھنے یا ِاس کے متعلق حقیقی کام کرنے کا وقت اب آیا ہے۔گزشتہ دس سال کی سیاسی سرگرمیوں سے ہمیں کوئی نمایاں فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ ان سرگرمیوں کا انجام ہندو مسلم نفاق کی صورت ظاہر ہوا ہے اور تمام ملک میں کانگریس کمیٹیوں کی جگہ سنگھٹن شدھی اور مہابیر دل وغیرہ جماعتوں نے لے لی ہے۔قومی اخبارات کی جگہ ہندو مسلمانوں کو لڑانے اور گالیاں دینے کے لئے فحش نویس ظریفانہ اخباروں کا ظہور ہواہے۔ ( ۷ )
شذرات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی کی دوسری دھائی کے وسط میں پنجاب میں طاعون کی وبا نے بے حد جانی نقصان کیا اور اس کا زیادہ تر شکار مسلمان ہوئے۔
اس شمارے کی واحد افسانوی تحریر بلقیس خاتون جمال بنت مولوی عبدالاحد کا ایک فسانہ ’’عصمت کی دیوی‘‘ہے یہ افسانہ ہندوستانی عورت کی عزت و عصمت کے لئے قربانی اور پتی ورتا کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔جس وجہ سے دیوتائوں نے اسے ’’عصمت کی دیوی‘‘ کا خطاب دیا ہے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک ہندو عورت تلو تما ہے۔اس شمارے کے دیگر معلو ماتی اور خوبصورت مضامین میں ملک عبدالقیوم کا ترکوں کی معا شرت،دینی مضامین میں مولانا محمد عبداللہ کا مضمون ’’حسن معاملت‘‘’ایک مسلمان کے قلم سے ایک فکر انگیز مضمون ’’عمل‘‘میں اُس دور کے مسلمانوں کی حالت زار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
ـ’’مسلمانوں کی موجودہ پستی اور تنزل و کمزوری محض کام نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔مسلمان باتیں بہت کرتے ہیں لیکن کسی نظام و ضابطہ کے ماتحت عمل کرنا ان کے لئے محال ہے۔قوم کی جہالت و لا علمی کو دور کرنے کے لئے تعلیمی نظام پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔قوم کی مالی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے قوم کو تجارتی و صنعتی کاموں میں حصہ لینے کی حاجت ہے۔( ۸)
عبدالرحمن چغتائی جن کو اس شمارے میں ہندوستان کا مایہ ناز مصور کہا گیا ہے۔ اُن کے فن کا نمونہ ایک مصورانہ کاوش ’ ’ لیلیٰ کا تحفہ‘‘اور نثری تحریریں بہ عنوان ’’حجازی شراب‘‘اور’’ راوی‘‘ بھی شامل ہیں ۔ایڈیٹر نے اس پر ایک مختصرشذرہ رقم کیا ہے اور اس اسلوب ِنثر کو جو رنگینی عبارت سے معمور ہے عبدالرحمن چغتائی کا خاص مصورانہ اسلوب قرار دیاہے۔محمد دین تاثیر کا ایک مضمون ’’فلسفہ اقبال‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں انہوں نے علامہ اقبال کی فکر کومشرقی تنا ظر میں پیش کیاہے اور معترضین کے اس اعتراض کو رد کیا ہے کہ اقبال کی فکر کا ماخذمغربی افکارہیں۔اس شمارے میں ایڈیٹرحکیم یوسف حسن کا ایک مضمون ’’میں کون ہوں‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا ہے۔یہ مضمون انسان کو محنت اور عمل کا درس دیتا ہے۔اس میں قومی اور انفرادی سطح پر کام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔’’گل ِصد برگ ‘‘ کے عنوان سے ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد تحریروں کے انتخاب کا ایک گوشہ ترتیب دیا گیا ہے۔جس میں دو مختصر تحریریں ’’میں کہاں ہوں ‘‘ اور’’ تاج آگرہ ‘‘شائع کی گئی ہیں۔’’ اخبارِ علمیہ‘‘ کے عنوان سے ’’نیرنگ خیال ‘‘میں ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد و اہم تحریروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔یہ نئی دریا فتوں اور ایجادات سے متعلق ہیں۔ ’’تنسیخ خلافت پر ایک محققانہ رائے‘‘ کے عنوان سے آغا محمدصفدر کا ایک مضمون بھی شامل اشاعت ہے جس میں تحریک ِخلافت کے تاریخی کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔’’عہد حاضرہ کا مغل اعظم ‘‘کے عنوان سے ایک تحریر کا انگریزی جریدہ سے ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔جس میں سنت نہال سنگھ کی مسلمان حکمران شاہ دکن کے دولت کا ڈھیر رکھنے کے باوجود کفایت شعاری سے کام لینے اور سادہ زندگی بسر کرنے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔جس کے جواب میں مدیر’’ نیرنگ خیال‘‘ نے شاہ دکن کی علم دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے کفایت شعاری کو عین بمطابق اسلام بتایا ہے۔آخری صفحات میں’’ پارۂ دل ‘‘کے عنوان سے خواجہ حسن نظامی کی ایک تحریر بھی شائع ہوئی ہے۔جس میں مسلم معاشرت کی اصلاح کے حوالے سے مختصرتحریریں جمع کی گئی ہیںجن میں مسلمانوں کو خاص طور پر عورتوں کو ہندووں کی شادی بیاہ اور دوسری رسموں سے اجتناب برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔شاعری کی ذیل میں جو منظو مات اس شمارے میں شائع ہوئی ہیں ان میں’’طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا ’‘ مولانا اختر علی خان کی نظم ہے جو مولانا ظفر علی خاں کے صاحب زادے تھے ۔
سنگدل ہے اس کے در پہ جائیں کیا
اپنا سر پتھر سے ہم ٹکرائیں کیا
کس سے ہوگا چارہ درد فراق
اس دل بیتاب کو سمجھا ئیں کیا
ہوچکے جب زلف پُر خم کے اسیر
طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا
دے کے ان کے ہات میں قسمت کی باگ
اس کئے پر اپنے ہم پچھتائیںکیا
کج ادائی جس کا شیوہ ہو چکا
حال دل اس شوخ کو بتلائیں کیا
داغ ہائے غم ہیں دل پر جا بجا
کھول کر سینہ انھیں دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں ہم سے وہ اختر کا حال
’’کوئی بتلاوٗ کہ ہم بتلائیں کیا‘‘ ( ۹ )
اس کے علاوہ ’’نمود صبح‘‘ کے نام سے محمد دین تاثیر ’’برسات کی رت‘‘ محمود حسن محمود اسرائیلی ’’ واردات قلب‘‘ کے عنوان سے حامداللہ ا فسربی اے،’’ادبیات‘‘عزیز لکھنوی، ’’افکارناظم‘‘،ابو الانظم محمدناظم،حسیات شایق،سردار اودے سنگھ شائق کی خوبصورت نظمیں شائع ہوئی ہیں۔غزلوں میں،ظہیری بدایونی ، سہا،تاجور نجیب آبادی،اور رابعہ پنہاں کی شاعری اس شمارے کی زینت ہے۔اسلامی دنیا کی مردم شماری کے عنوان سے آخری صفحات میں دنیا میں مختلف حوالوں سے دئے گئے اعداد شمار سے مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ لگانے کی سعی کی گئی ہے اور تحریر کیاگیا ہے ۔
’’ اس جدید حساب کی رو سے مسلمانوں کی تعداد ۲۳۴۸۱۴۹۸۹ ہے۔جس میں سے دس کروڑ ستاون لا کھ تئیس ہزار انگریزی جھنڈے تلے ہیں‘‘ ( ۱۰)
’’مرقع الاخبار ‘‘کے تحت واقعات حاضرہ کے حوالے سے ہاتھ سے بنائی گئی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ (۲)غازی فتحی بے جو مسئلہ موصل (۳)آغا محمد صفدر استقبا لیہ کمیٹی۔صفحہ ۵۱ پر ایک ادبی جریدہ اور ایک گلدستہ کا اشتہار بھی شائع ہوا ہے۔ان میں ایک دلکش لا ہور جس کا پہلا شمارہ جولائی ۱۹۲۴ میں شائع ہونا ہے۔دوسرا الکمال ہے جو عرصہ سے لا ہور سے شائع ہوتاہے اور اسے ہندوستان بھر کا واحد گلدستہ قرار دیا گیا ہے جو ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہے۔مجموعی طور پر جو لائی ۱۹۲۴ میں’’ نیرنگ خیال ‘‘کا پہلا شمارہ متنوع دلچسپیوں کا محور و مرکز ہے۔یہ شمارہ حکیم یوسف حسن اور محمد دین تاثیرکی اجتماعی کو ششوں کا ثمر ہے۔جنہوں نے اسے دلچسپ بنانے کے لئے مختلف علمی مذہبی اور قومی معاملات و مسائل پربھی مضامین کو اس شمارے میں شامل اشاعت کیا۔اس دور کی مسلم معاشرت،ہندوستان کے سیا سی و معا شرتی حالات ادیبوں کی سوچ و فکر کا بھی یہ شمارہ آئینہ دار ہے۔اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’نیرنگ خیال‘‘ محض ایک ادبی جریدہ ہی نہ تھا ایک علمی تحریک کا نام بھی تھا جس نے بر صغیر کے عوام میں آزادی کا جذبہ ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ چالیس کی د ہائی میں اردو زبان کے ایک اور مقبول عام ادبی جریدہ ’’نیا دور ‘‘بنگلور کا اجرا عمل میں آیا۔اس کا پہلا شمارہ اگست ستمبر ۱۹۴۴ میں شائع ہوا۔ادارہ تحریر میں صمد شاہین اور ممتاز شیریں کے نام شامل تھے ۔صمد شاہین نے اس کا اداریہ ’’افتتاحیہ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ مضامین کے حصے میں پہلا مضمون فیض احمد فیض کا ترقی پسند ادب ہے۔یہ مضمون ان کے ابتدائی دور کے خیالات کا عکس ہے اور ان کے پہلے نثری مجموعہ ’’میزان‘‘میںبھی شامل ہے۔عبدالقادری سروری نے ’’موجودہ اردو ادب کا پس منظر‘‘جبکہ ممتاز شیریں نے’’ ۱۹۴۳ کے افسانے ‘‘کے عنوان سے ۱۹۴۳ میں لکھے جانے والے افسانوںکا عمدہ تنقیدی جائزہ لیا ہے۔یہ اُن کا پہلا تنقیدی مضمون ہے۔ جنگ عظیم دوم کے تناظر میں ایک اور اہم تنقیدی مضمون کرشن چندر کا ’’جنگ اور ہندوستانی ادیب‘‘ ہے۔شاعری کے حصے میں غزل کے عنوان سے واحد غزل حسرت موہانی کی ہے جسے انہوں نے قسم فاسقانہ تحریر کیا ہے۔اس کے علاو ہ حصہ شاعری میں باقی تمام نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ان میں ’’دریچے کے قریب‘‘،ن م راشد،’’اندھیرا‘‘مخدوم محی الدین، ’’شباب‘‘،اخترانصاری،’’قیامت‘‘،اخترالایمان،’’ٹیپوکی آواز‘‘، آل احمد سرور، ’’سناٹا‘‘، مجروح سلطان پوری،’’کھنڈر‘‘،منیب الرحمن،’’عزم جواں‘،محمد علی کمالی،’’ زندہ و پائندہ رہوں ‘‘خورشیدالا سلام۔یہ خوبصورت نظمیں چالیس کی دہائی کے شعری منظر نامہ کو عیاں کرتی ہیں۔کہا نیاں کے عنوان سے پہلی کہانی ’’آم‘‘ سعادت حسن منٹو کی ہے۔دوسری طبع زاد کہانی صمد شاہین کی تحریر کردہ ہے جو’’ توہین‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ہے۔دو غیر ملکی ترجمہ شدہ کہا نیاں بھی شائع کی گئی ہیں ان میں ایک ’’دہی والی‘‘کنٹری زبان کے ادیب ماستیونگ آینگار اور دوسری’’نفرت‘‘ما ئیکل شالوخوف کی ہے۔نیا دور کا پہلا شمارہ 23X33/16 کے سائز کے دو سو تین صفحات پر محیط ہے آخری صفحات پر اس شمارے کے لکھنے والوں کا تعارف بھی شاملَِ اشاعت ہے۔ممتاز شیریں کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔
’’عمر انیس سال مہارانی کالج بنگلور سے ۱۹۴۲ء میں بی اے کیا۔کالج میں بہت ذہین طالبعلم تھیں۔ادبی زندگی کی ابتدا تراجم سے ہوئی۔ میسور کی یہی ایک مسلمان خا تون ہیں جن کے تراجم اور طبعزاد افسانوں نے شمالی ہند کے معیاری رسالوں میں جگہ پائی۔ممتاز شیریں نے صرف تین طبعزاد افسانے لکھے ہیں ‘‘ (۱۱)
صمد شاہین ایڈیٹر و پبلشر ’’نیا دور ‘‘ کے بارے میں تعارف کے حوالے سے درج ذیل معلو مات شائع ہوئی ہیں ۔
’’پیدائش ۱۶ جون ۱۹۱۶ء مہاراجہ کالج میسور میں انگریزی ادب کے آ نرز کے لئے پڑھالیکن بی اے کی ڈگری ملی گو انٹر میڈیٹ میں وہ انگریزی میں اول رہے تھے علی گڑھ میں ایم اے کے لئے چار پانچ ماہ رہے لیکن تعلیم مکمل کئے بغیر آنا پڑا پھر لا کالج پونا سے ایل یل بی کیا۔اب ایم اے سیا سیات، معا شیات اور ایل ایل ایم کی تیاری کر رہے ہیں اچھے مقرر ہیں ۔اردو کی بہ نسبت انگریزی میں زیادہ لکھتے ہیں اردو میں بھی چند افسانے لکھے ہیں جوایک مقامی رسالہ میں چھپ کر مقبول ہوئے بنگلور سے صادق صاحب کے ساتھ ایک ہفتہ وار انگریزی ’’میسورین‘‘ نکال رہے ہیں اور ا ب نیا دور کی بھی ادارت کر رہے ہیں ابھی ابھی وکالت شروع کی ہے‘‘(۱۲)
یہ پر چہ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۲ تک کراچی سے چھپتا رہا۔اس کے بعد اسی نام سے ایک پرچہ کراچی سے ڈاکٹر جمیل جالبی بھی مرتب کرتے رہے اور لکھنو (انڈیا)سے اتر پردیش کے محکمہ اطلاعات کے تحت ایک ماہ نامہ نیا دور کے نام سے بھی شائع ہو رہا ہے۔ نقوش ایک اور ایسا جریدہ ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد اپنا سفر شروع کیا لیکن اردو کی ادبی صحافت میں اپنے لیے جلد ایک الگ جگہ بنا لی۔نقوش کے تمام اشاعتی سفر کے دوران اس کے خاص نمبر ہی اس کی وجہ شہرت بنے۔ نقوش کا پہلا شمارہ مارچ ۱۹۴۸ میں منصہ شہود پر آیا۔اس کے پہلے ایڈیٹر ہا جرہ مسرور اور احمد ندیم قاسمی تھے ۔ ان کی ادارت میں شمارہ ایک تا دس شائع ہوئے۔قاسمی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ’’ نقوش‘‘ کا نام انہوں نے تجویز کیا تھا (۱۳)پہلے شمارے کا سرورق آذر زوبی نے بنا یا تھا۔اس کی پیشانی پر’’ زندگی آمیز اور زندگی آموز ادب کا ترجمان ‘‘کے الفاظ بھی قاسمی صاحب کے خلاق ذہن کی اختراع تھے۔محمد طفیل (۱۹۲۳۔۱۹۸۶) جو نقوش کی بدولت محمد نقوش بن گئے تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۴ میں لا ہور میں ادارہ فرو غ اردو کی بنیاد رکھی تھی ’’نقوش ‘‘ کا اجراء اس کے تحت کیا گیا تھا۔’’نقوش‘‘ نے کئی معر کۃالآرا نمبر شائع کیے ا ور اپنے پیشرو جرائد ’’نگار‘‘ اور ’’نیرنگ خیال ‘‘کی روایت کو آگے بڑھایا۔نقوش کا پہلا شمارہ ۸۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ طلوع کے نام سے اس کا اداریہ ہا جرہ مسرور نے لکھا ہے۔مضامین،افسانے اور شاعری کا بے حد متنوع اور معیاری انتخاب اس شمارے میں شامل اشاعت ہے۔افسانوں میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’میں انسان ہوں ‘‘اور ہا جرہ مسرور کا افسانہ ’’بڑے انسان بنے بیٹھے ہو‘‘ ۱۹۴۷ کے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں اور انسانیت پر کئے گئے ظلم و ستم کی المناک داستاں سناتے ہیں۔دیگر افسانوں میں کرشن چندر کا ’’بھیروں کا مندر لیمٹڈ‘‘ اور عزیز احمد کا ’’ میرا دشمن میرا بھائی‘‘ بھی لائق مطا لعہ ہیں۔مضامین میں خالد حسن قادری نے’’ نیا افق‘‘ کے عنوان سے نئے پاکستان کے احوال اور اردو زبان کو موضوع بنا یا ہے عزیز احمد نے فرحت اللہ بیگ کی مزاح نگاری پر اور غلام رسول مہر نے کمال الدین اصفہانی پر مقالات تحریر کئے ہیں۔نقوش کے پہلے شمارے میں اردو زبان کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس بارے میں فلک پیما،ڈاکٹر عبدالحق،سیماب اکبر آبادی۔خواجہ احمد فاروقی احتشام حسین، نورالحسن ہاشمی اور خدیجہ مستور کے ز ریں خیالات اور اردو کے فروغ کے لیے تجاویزشائع کی گئی ہیں۔غزلوں میں اثر لکھنوی،اختر شیرانی،فراق گو رکھپوری ،حفیظ ہوشیار پوری علی سردار جعفری ،احمد ندیم قاسمی ،سیف الدین سیف، مختار صدیقی کی خوبصورت غزلیں شائع کی گئی ہیں۔نظموں میں حفیظ جالند ھری،سیماب اکبر آبادی،یوسف ظفر،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی رُبا عیات شائع ہوئی ہیں۔اِن صفحات سے ا س دور میں دونوں جانب اردو شاعری اور غزل و نظم کے مو ضوعات اور معیار کو دیکھا جا سکتا ہے۔حالات حاضرہ کے تحت ایک مضمون ہاجرہ مسرور کا ہمارا سماج کے عنوان سے شائع ہوا یہ ان عورتوں سے متعلق ہے جو فسادات میں اغوا ہوگئی تھیں ۔ ان کی واپسی نے دونوں جانب بہت سے سماجی مسائل کو جنم دیا ۔یہ مضمون ان حالات کا تجزیہ کرتا ہے۔عبدالمجید سالک نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی گئی کو ششوں کا احاطہ کیا ہے دیگر عنوانات کے تحت فلم کے عنوان سے ڈاکو منٹری کی اہمیت اور افادیت پر اے قدوس نے اپنے خیالات رقم کیے ہیں ’’نئی کتابوں‘‘ کے عنوان سے ہم وحشی ہیں کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ پر ہا جرہ مسرور اور علی سردار جعفری کے شعری مجموعہ پر قاسمی صاحب نے تبصرہ کیا ہے۔بہ حیثیت مجموعی ’’نقوش‘‘ کا یہ شمارہ خوبصورت اور یادگار تحریروں کا ایک گلدستہ ہے جس کی مہک آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔’’ماہ نو ‘‘حکومت پاکستان کا سرکاری ادبی جریدہ ہے جو ہندوستانی جریدے ’’آجکل‘‘ دہلی کی طرز پر نکالا گیا تھا ۔وقار عظیم آجکل دہلی کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے ۔پاکستان کا پہلا دارلحکو مت کراچی تھا۔ اس لیے اپریل ۱۹۴۸ میں’’ ماہ نو ‘‘ کا پہلا شمارہ کراچی سے جلوہ گر ہوا۔معروف نقاد وقار عظیم اس کے مدیر تھے۔اولین شمارہ ۶۲ صفحات پر مبنی تھا۔ادب کے بڑے اہم نام اور اُن کی تحریریں اس شمارے کی زینت تھیں ۔’’کچھ اپنی با تیں ‘‘ کے عنوان سے مدیر وقار عظیم نے اولین شمارہ کا اداریہ رقم کیا ہے۔صفحہ ۳ پر حامد حسن قادری نے ’’تاریخِ قیام پاکستان‘‘ قران مجید سے نکا لی ہے۔اس کے بعد خوبصورت اور معیاری نظموں اور غزلوں کا ایک انتخاب شائع کیا گیا ہے۔اس شمارے کی زیادہ تر تخلیقات آزادی اور فسادات کے تناظر میں لکھی گئی ہیں۔اسد ملتانی کی نظم ’’غم نہ کر‘‘ مسعود حسن کی نظم ’’مدینہ آدم‘‘ش ضحی کی نظم ’’ محسوسات‘‘ اور وشوامتر عادل کی نظم ’’نیند سے پہلے‘‘ کے بنیادی استعارے اور لفظیات غم، بے بسی اور اس سے جنم لینے والی یاسیت ہے جبکہ احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’کل اور آج‘‘ ان کے ترقی پسندانہ نظریات کی علمبردار ہے۔اس شمارے کی واحد غزل فراق گورکھ پوری کی ہے جو غزل کے روایتی مو ضوع کی حا مل ہے اور اس میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔افسانوں میں کرشن چندر کا ’’لال باغ ‘‘ آغا محمد کا اشرف کا ’’دلی کا ایک پودہ‘‘خواجہ احمد عباس کا افسانہ ’’میں کون ہوں ‘‘ فسادات کے موضوع پر ہیں۔اس شمارے کے قابل مطالعہ اور اہم مضا مین میں خواجہ غلام السیدین کا مضمون ’’آندہی میں چراغ‘‘ قومی ترقی کے موضوع کا احاطہ کر تا ہے۔ علی سردار جعفری کا مضمون ’’اقبال کی آواز‘‘ اقبال کی شاعری میں حرکت و عمل کے پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ سید احتشام حسین نے ’’اردو کا لسا نیاتی مطالعہ‘‘میںزبان کے مطا لعہ کے لئے صوتیات اور لسا نیات کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اختر حسین رائے پوری کا مضمون ’’پاکستان کے بعض تعلیمی مسائل ‘‘اس میں نو زائیدہ ملک میں تعلیم کی حالت زار اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر سوچ بچار شامل ہے۔جس کا ایک پیراگراف حکومتوں کے طرز عمل اور سوچ و فکر کی عکاسی کرتاہے۔ جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔
اختر حسین رائے پوری لکھتے ہیں :
’’ تعلیم کے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس پر خزانہ کے روپے صرف کرنا اگر فضول خرچی نہیں تو زکواۃ یا خیرات کے قسم کی کوئی چیز ہے جس کا حاصل مادی اعتبار سے کچھ نہیں‘‘ (۱۴)
’’ اتا ترک کی وصیت‘‘ آغا محمد یعقوب دداشی کا مضمون ہے جس میں اتاترک کی ایک تقریر کا اقتباس دیا گیا ہے جو پارٹی کی ایک کانگریس میں چھ دن جاری رہی تھی دیگر مضامین میں سید وقار عظیم نے شاہ عبدللطیف بھٹائی کا تعارف اور فضل حق قریشی دہلوی نے مغلوں کے فن خطاطی پر ایک دلچسپ اور معلو ماتی مضمون تحریر کیا ہے۔صفحہ ۵۵ پر دو نئی اردو فلموں اور نئی کتابوں کے عنوان سے علی سردار جعفری کی نظموں کے مجموعے ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ اور اوپند ناتھ اشک کے ڈراموں کے مجموعہ ’’ازلی راستے‘‘ پر تبصرہ کیا گیا ہے۔جریدے کے وسط میں قیام پاکستان سے متعلق کئی اہم تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں ۔ماہ نو کا اشاعتی سفر آج بھی جاری ہے ۔اب یہ لا ہور سے شائع ہو تا ہے اور علمی ادبی حلقوں میں ایک معتبر ادبی جریدہ سمجھا جا تا ہے۔اس کے سینکڑوں صفحات پر پاکستانی ادب کے عظیم جواہر پارے اور ادب کی تاریخ بھی ثبت ہیں۔ ’اوراق‘ کا پہلا شمارہ ۱۹۶۵ میںڈاکٹر وزیر آغاکی زیر ادارت لا ہور سے ماہ وار جریدے کی صورت شائع ہوا ۔اس پر کسی مہینے کا اندراج نہیں ہے یہ ۳۱۲ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کی قیمت دو روپے ہے ۔فہرست میں مختلف اصناف کے لئے عنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔پہلا ورق کے عنوان سے ڈاکٹر وزیر آغا نے اداریہ میں لکھا ہے۔
’’اوراق کے پس پشت بنیادی ادبی نظریہ یہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کے ادب کو اس کی ثقافت اور تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور ثقافتی ماحول زمین کی باس ،پانی،نمک اور فضا پر عناصر آفاقی کے عمل سے پیدا ہوتا ہے اوراق زمین کو اہمیت دینے میں اس لئے پیش پیش رہے گا کہ زمین عورت کی طرح تخلیق کرتی ہے لیکن وہ آسمان کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیںکرے گا کہ آسمان اس تخلیق میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے مگر آسمان کی اہمیت بہر حال ثانوی ہے اور یہ نکتہ ہمہ وقت ہماری نظروں کے سامنے ہے‘‘ (۱۵)
آغاز میں ’’ہمارا وطن‘‘ کے عنوان سے نظمیں اور افسانے شا ئع کئے گئے ہیں۔پہلی نظم ’’سپاہی‘‘ کے عنوان سے مجید امجد کی ہے دیگر شعرا میں قیوم نظر،شہزاد احمد،رشید قیصرانی وزیر آغا،جعفر طاہر،عارف عبدالمتین کی نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ای گوشہ مولا نا صلاح الدین احمد کی یاد میں بھی مخصوصکیا گیا ہے جس میں آغا محمد باقر،انور سدید اور وزیر آغا کے مولانا صلا ح الدین احمد کے فن و شخصیت پر مضامین شائع کئے گئے ہیں ۔’’سوال یہ ہے‘‘کے عنوان سے ایک مسلسل سلسلہ اوراق میں آخر تک قائم رہا۔جس میں کسی ایک مو ضوع پر مختلف ادیبوں کی آرا شائع کی جا تی رہیں ۔پہلے شمارے میں ’’فن ابلاغ کی اہمیت پر شہزاد احمد، افتخار جالب،سجاد باقر رضوی،غلام جیلانی اصغر،صدیق کلیم اور صلاح الدین ندیم کی رائے شامل اشاعت ہے۔(۱۶)پہلے شمارے میں تمام اہم ادبی اصناف پر بہترین معیاری انٹخاب شائع کیا گیا ہے اور ساٹھ کی دحائی کے تمام اہم ادیبوں کی بغیر کسی ادبی گروہ بندی کے نام اور تخلیقات اس شمارے میں جلوہ گر ہیں ۔اوراق کی ادبی خدمات کا دائرہ تقریبا ستر شماروں پر محیط ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان عظیم ادبی جرائد کے اشاریئے مرتب کرائے جا ئیں تاکہ ان میں موجود عظیم ادب پاروں کا نئی نسل اور محقیقین کو اندازہ ہو سکے اور وہ اس سے استفادہ کرسکیں۔
______________________________________________________
حوالے و حواشی
( ۱)۔ ادبی دنیا،لاہور، نو روز نمبر، ۱۹۳۲،جلد نمبر ۶،شمارہ نمبر ۱ ،ص ۹۸
( ۲)۔ڈاکٹر خلیق انجم نے لکھا ہے کہ’’ نگار کا اجرا آگرہ سے ہوا اور پہلا جریدہ ۲۲ فروری ۱۹۲۲ کو شائع ہوا،صفحہ ۸۶ماہ نامہ انشا کلکتہ دسمبر ۱۹۹۶ نیاز فتحپوری نمبر ،مانک ٹالہ نے صفحہ ۱۴۸ پر یہ ہی بات دہرائی ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے اپنی کتاب ’’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ،مطبوعہ ۱۹۹۲میں صفحہ ۱۱۷ پر لکھا ہے ۔’’بھوپال سے فروری ۱۹۴۴ میں نگار جاری ہوا‘‘۔رسالے کے ابتدائی صفحات میں ایسا کچھ نہیں پرنٹ ہوا کہ یہ پرچہ کہاں سے شائع ہورہا ہے۔صفحہ ۵۳ پر لکھا ہے ایڈیٹر سے خط و کتابت کا پتہ ۔نور محل بھو پال ہے۔امکان غالب ہے کہ نیاز فتح پوری بھو پال میں مقیم تھے اور پرچہ آگرہ سے جاری کیا گیا۔
(۳)اردو جامع انسائکلو پیڈیا (جلد دوم) مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۸۸ نے صفحہ ۱۹۱۰ پر لکھاکے نیرنگ خیال لاہور ۱۹۲۲ ء میں نکلا جو کہ غلط ہے۔
(۴) محمد طفیل،حکیم صاحب(خاکہ)مطبوعہ، نقوش ،لا ہور، محمد طفیل نمبر،(جلد دوم)شمارہ۱۳۵، جولائی ۱۹۸۷،ص۱۰۷۶
( ۵)برنی،سید مظفر حسین ، کلیات مکاتیب اقبال ،جلد دوم،اردو اکادمی دہلی۔۱۹۹۳ ،ص۵۳۲
(۶) حکیم یوسف حسن کی وفات پر شان الحق حقی نے تاریخ ِوفات کہی ہے ۔اٹھ گیا بانی میخانہ نیرنگ خیال لُجہ دود ہوا عرصہ نیرنگ خیال ۱۴۰۱ ھ بحوالہ ۔سہ ماہی اردو کراچی جلد ۶۱،شمارہ نمبر ۳،۱۹۸۵،ص ۳۳
(۷)نیرنگ خیال ، ماہ نامہ،لا ہور ،جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۱،۱۹۲۴،ص
(۸) ایضاً ص ۲۷
(۹) ایضاً ص ۳۸
(۱۰) ایضاًص ۴۷
(۱۱ )نیا دور،سہ ماہی،بنگلور،جلد۱ شمارہ نمبر ۱ ،ص ۲۰۲
(۱۲) ایضا ص ۲۰۳
(۱۳)بحوالہ نقوش ،محمد طفیل نمبر (جلد نمبر ۱)،ص ۱۷
(۱۴) رائے پوری،اختر حسین،ماہ نو،کراچی،جلد ا ،شمارنمبر ۱،اپریل ۱۹۴۸،ص ۲۸
(۱۵)اوراق،ماہ نامہ ۔لاہور، جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر۱ ،۱۹۶۵،ص۵
(۱۶) سوال یہ ہے،جو ’’اوراق ‘‘کا مقبول سلسلہ تھا ۔اِس کے تمام مباحث کو کتابی صورت میں جمع کرکے شائع کر دیا گیا ہے