Literary & Linguistic Relation Between Arabic & Urdu

Articles

عربی اور اردو کے لسانی و ادبی روابط

پروفیسر یونس اگاسکر

 

بر صغیر کے اردو بولنے ، پڑھنے او ر لکھنے والوں کی اکثریت کی اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے وابستگی کے سبب عربی زبان ان کے دلوں میں الفت و احترام کے جذبات کو موجزن کر دیتی ہے مگر اسے سیکھنے اور اس پر عبور حاصل کر لینے کے لیے جن عملی و ذہنی رکاوٹوں سے دو چار ہو نا پڑتا ہے ان کی وجہ سے اردو والے عموماً عربی سے پناہ مانگتے ہیں ۔ عربی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ عربی کے لیے طلبہ کے دلوں میں استکراہ پیدا کرنے میں اس زبان کا اردو سے مختلف گرامر اور خصوصاً اس کی تدریس کا روایتی بلکہ دقیانوسی طریقہ ایک بڑا سبب بنتا ہے ۔ طالب علم کو گردانیں اور صیغے ذہن نشین کرانے میں اساتذہ جو سختی کرتے ہیں ، وہ طلبہ کے چمن ذہن و قلب آبیاری کی کرنے کے بہ جائے اس میں بادِ سموم پھیلانے کا کام کرتی ہے ۔ لیکن بے چارے اساتذہ بھی کیا کریں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ Shereiz no royal road in arobicاس کے باوجود جب ہم اردو زبان کے لسانی رگ و ریشے او رادبی و روپ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں عربی زبان ، اردو کے خون میں گردش کرتی نظر آتی ہے اور جس طرح انسان اپنے اند رخون کی گردش کو محسوس نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک عام اردو والااپنی زبان میں شامل عربی کے الفاظ کو نہیں پکڑ سکتا جب تک کہ وہ اچھی نبض شناسی نہ سیکھ لے ۔
اردو زبان میں روز مرہ بات چیت ہو کہ علمی گفتگو ، سائنسی و تکنیکی تحقیق و تدقیق ہو کہ ادبی و شعری تنقید و تخلیق ، تذکر ہ ہو یا تجزیہ ، تعارف ہو یا تبصرہ عربی سے استعانت کے بغیرنوالہ توڑنا مشکل ہو تا ہے ۔ اردو تحریرو تقریر میں عربی کی مانوس اصطلاحات و تعبیرات یا معروف تراکیب کو تو ہم ان کی خصوصی و امتیازی حیثیت کے سبب بڑی آسانی سے پہچان لیتے ہیں ، لیکن بہت سے لفاظ و تراکیب اتنی خاموشی سے ہماری زبان میں سرایت کر گئی ہیں کہ ان کی نشان دہی کرنا بھی آسان نہیں ہو تا ۔
مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی جھجھک نہیں محسوس ہوتی کہ ہندی کے مقابلے میں اگر اردو کی الگ شناخت فارسی سے زیادہ عربی عناصر کے سبب قایم ہوتی ہے ۔ عربی کے لسانی عناصر سے مملو تحریر کو خواہ اردو رسمِ خط میں لکھا جائے خواہ دیو ناگری لپی میں ، وہ فوراً بول پڑے گی کہ میں اردو ہوں ۔ خیر اردو ہندی کا ٹنٹا کھڑا کیے بغیر میں اس وقت ایسی تین مثالیں دینا چاہوں گا جن سے بآسانی پتا چل سکے گا کہ تمام پڑھے لکھے اردو دانوں کی تحریر و تقریر خواہ وہ عمومی ہو یا اختصاصی ، عربی کے لسانی و ادبی عناصر سے مملو ہوتی ہے ۔ یاد رہے یہ مثالیں منفرد نہیں ہیں اور اس طرح کی مثالیں کسی بھی اخبار یا رسالے سے اخذ کی جا سکتی ہیں ۔ میں نے یہ مثالیں ممبئی سے شایع ہونے والے ایک رسالے ’ اردو چینل کے تازہ شمارے سے اخذ کی ہیں جو دو روز قبل ہی مجھے موصول ہوا ہے ۔ سب سے پہلے میں مرحوم رشید حسن خاں کے ایک انٹرویو کے چند جملے پیش کروں گا ۔ ملاحظہ فرمائیں :
” ہمارے ہاں شرح نگاری کی جو قدیم روایت تھی ، اس میں کسی بھی شرح نگار نے یہ نہیں کہا کہ ایک شعر کا ایک ہی مفہوم ہوتا ہے ۔ ہمیشہ مانا گیا ایک شعر کے متعدد مفاہیم ہو سکتے ہیں لیکن وہ مفاہیم بر آمدانھیں الفاظ سے ہوں گے ، خارج سے نہیں آئیں گے اور الفاظ جن مفاہیم سے مناسبت نہ رکھتے ہوں ان کو شاعر سے منسوب نہیں کیا جا سکتااور نہ شعر سے “
اس ٹکڑے میں ’ شرح نگاری‘ کی ترکیب میں فارسی شامل ہے اور دو لفظ فارسی کے آزادانہ طور پر استعمال ہوئے ہیں ’ ہمیشہ ‘ اور ’ بر آمد‘ ۔ ان کے علاوہ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر) عربی کے ہیں ۔اب ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس مین قاضی محمد عدیل عباسی کے بارے میں صرف یہ اطلاع دی گئی ہے کہ انھوں نے دور طالبعلمی ہی سے تحریک آزاد ی میں حصہ لینا شروع کردیا تھا ۔
1920ءمیں بی اے پاس کیا ۔ پھر قانون کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے ا لٰہ آباد گئے ۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے اسکول آف لا میں داخلہ لیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ترک موالات کی تحریک زوروں پر تھی ۔ قاضی صاحب اس تحریک سے بہت متاثر ہوئے اور جلد ہی یونی ورسٹی کو خیر آباد کہہ کر تحریک آزادی سے جڑ گئے ۔ تحریک ترکِ موالات کی حمایت میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے ہوتے ۔ ان جلسوں میں قاضی صاحب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور تقریریں کرتے تھے ۔“
اس تحریر میں بھی صرف دو لفظوں میں فارسی کا اثر ملتا ہے ” زوروں “ اور ” خیر آباد “۔ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر ) عربی کے ہیں ۔ یعنی ایک سیدھی سادی معلوماتی تحریر میں بھی بنیادی الفاظ عربی سے ماخوذ ہیں جن کی مدد کے بغیر مصنف کا قلم آگے نہیں بڑھ سکتا ۔
اب میں تیسری مثال ایک ایسی تحریر کی دینا چاہوں گا جس میں ادب میں مستعمل اصطلاحات کی مدد سے ایک ادبی تھیوری سے متعلق کسی اردو ناقد کی پیش کردہ وضاحت کا تعارف پیش کیا گیا ہے :
” مصنف کا موقف بھی یہی ہے کہ ساسیور اور دریدا کی اس لسانی تھیوری کا نہ صرف تفصیلی مطالعہ کیا جائے بلکہ توضیحات او ر دلائل کے ساتھ اردو ادب کے تخلیقی متون پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے جن کی نشانیاں ہمیں بڑے ناقد کے یہاں ملنے لگی تھیں ۔ ان مباحث سے پرے کی مذکورہ محتویات دیگر نظریہ ساز قبول کریں گے بھی یا نہیں ، ان کا سراغ لگانا اور صراحت کے ساتھ بیان کرنا،ایک دقت طلب مرحلہ تھا ۔“
اس اقتباس میں بھی ” نشانیاں “ ’ سراغ“ اور ” نظریہ ساز“ ان تینوں لفظوں اور ہندی کے افعال و حروف سے صرف نظر کریں تو تقریباً بیس لفظ یا ترکیبیں عربی سے ماخوذ ہیں ۔
ان تین مثالوں کا مزید تجزیہ کیے بغیر بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اردو سے عربی کا لسانی و ادبی رشتہ بہت گہرا اور قریبی ہے اور اس پر گفتگو کے لیے ایک سیمنار کا انعقاد نہایت موزوں اقدام ہے ۔ یہاں البتہ ایک خطرے کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ عربی دنیا کی عظیم ترین زبانوں میں سے ایک ہونے او ر اردو پر اسے کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہونے کے سبب شرکائے مذاکرہ مرعوبیت کا شکارہ نہ ہو جائیں اور اردو کو ایک آزاد اور خود مختار زبان سمجھنے کے بہ جائے اسے عربی کی دست نگر اور خوشہ چیں کے طور پر نہ پیش کرنے لگیں ۔ ان کو ایسے میں انشاءاللہ خاں انشاکی یہ با ت یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی لفظ خواہ عربی کا ہو، فارسی کا ہو یا ترکی کا، جب اردو میں آگیا تو اردو کا ہو گیا ۔ اب تلفظ ،معنی اور محل استعمال کے اعتبار سے وہ اردو کے چلن اور قاعدے کا پابند ہو گا ۔ انشا کے اس قول میں صرف لفظ املا کا اضافہ کر دیا جائے تو بات اور بھی مکمل ہو جائے گی ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عربی کے علماو اساتذہ اردو والوں کے تلفظات ، عربی الفاظ کے معانی و محلّ ِاستعمال اور ان کے املا پر تضحیک آمیز انداز میں اعتراض کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انھیں جاہل ٹھہرانے میں بھی کمی نہیں کرتے ۔ ایسے ہی دو تین عربی داں علما نے ’ قاموس الاغلاط“ کے نام سے ایک چھوٹی سی فرہنگ مرتب کی تھی اور اردو کے بیش تر اہل ِ قلم کی تحریروں سے مثالیں دے کر الفاظ کو ان کے اصلی عربی معنی ، محاورے اور تلفظ کے مطابق استعمال نہ کرنے پر انھیں اعتراض بلکہ استہزا کا نشانہ بنایا تھا ۔ ایسا ہی ایک لفظ ” مشکور “ ہے ۔ جسے شاکر یا متشکر سے بدلنے کا مشورہ اردو والوں کو گذشتہ ایک صدی سے دیا جا رہا ہے جب کہ یہ لفظ شبلی اور حالی تک کی تحریروں میں ’شکر گذار ‘کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے عربی کے جید عالم نے ’ مقالاتِ سلیمانی‘ میں مشکور کی جگہ شاکر یا متشکر بولنے اور لکھنے کا مشورہ دینے والوں کے سلسلے میں اردو والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شکریے کے ساتھ یہ مشورہ انھیں کو لوٹا دیں ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی صاحب اپنے مقالے میں اردو میں مستعمل ایسے تمام نہیں تو بیش تر الفاظ کو جو ’ معنی ، ’ تلفظ‘ املا اور محلِّ استعمال کے اعتبار سے قطعاً اردو کے ہو گئے ہیں ، زیر بحث لائیں اور معترضین کے ساتھ اردو کے عام قارئین کے ذہنی جالوں کو بھی صاف کریں ۔
بر صغیر میں اسلامی و مشرقی علوم و فنون خصوصاً تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، طب یونانی کے علاوہ فن تعمیر ، علم ہندسہ ، نقاشی،خطّاطی وغیرہ سے اردو والوں کو خاص جڑاو¿ اور لگاو¿رہا ہے ۔ چنانچہ ان شعبوں سے متعلق وہ تمام اصطلاحات و اظہارات جو عربی سے ماخوذ ہیں ، اردو میں بھی مستعمل ہیں ۔ ان مستعار عناصر کے سبب اردو کا رشتہ عربی سے کتنا گہرا اور پر معنی ہو گیا ہے ، اس پرتحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالنا بھی مفید ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ شرکائے مذاکرہ میں سے کسی نہ کسی نے اس پر توجہ کی ہو گی ۔
اردو اور عربی کے درمیان لسانی و ادبی رشتے کی جڑوں کے تلاش میں تراجم کا جائزہ لینا بھی کار آمد ہو سکتا ہے ۔ صرف قرآن کے ہی تراجم کا لسانی و ادبی تجزیہ کیا جائے تو اردو کے اسلوبیاتی ارتقا کی تاریخ کا ایک مختلف باب وا ہوسکتا ہے۔ قرآن کے متعدد تراجم کا تقابلی جائزہ بھی نہایت سنجیدگی اور ارتکاز کا تقاضا کرتا ہے اور اس سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اردو کے ساتھ عربی پر بھی غیر معمولی عبور کی ضرور ت ہے ۔ ممکن ہے اس مجلس میں موجود علما میں کوئی عربی داں صاحب نظر اسکالر اس پہلو کو بھی لائق توجہ سمجھیں اور سیمنار کے بنیادی مو ضوع کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں ۔
عربی سے اردو تراجم کی دنیا تو اتنی وسیع ہے کہ صرف اسی موضوع پر ایک سہ روزہ سیمنار منعقد ہو سکتا ہے اور اس کے بعد بھی شاید تشنگی باقی رہے ۔معزز سامعین ! میں نے قصداًاپنی تقریر میں محض بنیادی موضوع کے بعض پہلوو¿ں کی نشان دہی کو ملحوظ رکھا ہے۔ ممکن ہے اس سے آپ کی تشنگی رفع نہ ہوئی ہو اور آپ نے مجھ سے جو توقع وابستہ کی ہو وہ بھی پوری نہ ہوئی ہو ۔ لیکن آپ خاطر جمع رکھیں ۔ میرے بعد صدر محترم کے خطبہ¿ صدارت اور سیمنار میں شریک اہل علم کے مقالات سے آپ کے ذوق و جستجو کی سیرابی یقینا ہوگی اور آپ کے ساتھ یہ ناقص العلم بھی یہاں سے فیض یاب ہو کے چلے گا ۔
٭٭٭

Mumtaz shiireen

Articles

ممتاز شیریں: شخصیت اور فن (خطوط کے آئینے میں)

ڈاکٹر تنظیم الفردوس

ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاﺅ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔

ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔

اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔

افسانوی مجموعے

  • اپنی نگریا
  • حدیث دیگراں
  • میگھ ملہار
  • ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی

تنقید

  • معیار
  • منٹو، نوری نہ ناری

مدیر

  • نیا دور (ادبی جریدہ)

تراجم

  • درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
  • پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)

ممتاز شیریں پر کتب

ملازمت

ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔

وفات

ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔


 

ممتاز شیریں: شخصیت اور فن

(خطوط کے آئینے میں)

ڈاکٹر تنظیم الفردوس

اُردو ادب میں ممتاز شیرین چند نہایت عالمانہ بصیرت کی حامل مصنفوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ اُردو کے تین بہترین افسانہ نگاروں میں بے شک شامل نہ کی جائیں لیکن اس فن میں ان کی ہنرمندی، ادبی شعور، تخلیقی حساسیات اور ذہانت نے شامل ہوکر اُردو افسانے اور اس کی تنقید کو بہت کچھ دیا ہے۔ فنِ تنقید کے عمومی موضوعات کے حوالے سے بھی شیرین نے ستھرا اور اعلٰی درجے کا کام کیا اور عملی تنقید کے بہترین نمونے بھی فراہم کیے۔ ایک صحافی اور اپنے وقت کے اہم ادبی رسالے کی مدیرہ و منتظمہ کی حیثیت سے بھی انہوں نے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے عالمی افسانوی ادب کے تراجم کا سلسلہ بھی شروع کیا جو ان کی ادبی تنوع پسندی کی ایک انفرادی جہت ہے۔
اسی طرح مشاہیر، ہمعصر ادیبوں اور دوستوں کے نام اُن کے خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے مختلف النوع پہلووں کو اُجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے عصر کے حالات، ادبی تاریخ، رُجحانات، مسائل اور سرگرمیوں کا احاطہ بھی بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اِن خطوط سے ممتاز شیریں کی زندگی کے اُن گوشوں کی نقاب کشائی بھی ہوتی ہے جن کی مدد سے ان کی رواداری اور متواضع شخصیت کا علم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے جتنے خط منظرِ عام پر آنے چاہئے تھے وہ نہ آسکے جب کہ وہ برسوں ایک اہم رسالے کی ادارت کرتی رہیں۔ محض اس ایک ذمہ داری کی وجہ سے اپنے عہد کے بے شمار مشاہیرکو انھوں نے خطوط تحریر کیے ہوں گے۔ اگر وہ تمام خط سامنے آسکیں تو یقیناً ادبی دُنیا کو اُن کے افکار و تصورات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی۔
ہر لکھنے والے کے لیے خط تحریر کرتے ہوئے نہ کوئی محّرک  ضرور ہوتا ہے اور اسی محّرک کی بنا پر مکتوب نگار اپنی حد تک مکتوب نویسی کا کوئی نہ کوئی ضابط متعین کر لیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مکتوب نگار کی آواز سو فیصد ذاتی ہوتی ہے۔ حالاں کہ اپنی عملی زندگی میں وہی مکتوب نگار اپنی ایک منفرد سماجی آواز بھی رکھتا ہے اور اس کی ادبی تخلیقات میں بھی اس کی ایک علیحدہ آواز گونجتی ہے۔ لیکن خطوط میں مکتوب نگار کی آواز ایک ایسے انسان کی آواز “ایک ایسے انسان دوست کی ہوتی ہے جو عظیم فنکار ہوتے ہوئے بھی ایک عام انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خلوت کدے میں اپنے چہرے اور تہہ دار تہہ شخصیت سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔”۱
بے شک ایک اچھے خط کو ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب مکاتیب کی تحریر کے وقت اس کی اشاعت کا کوئی منصوبہ ذہن میں نہ ہو۔ ہمارے مشہور مکتوب نگاروں کے مجموعہ مکاتیب کے حوالے سے یہ دونوں صورتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی صورت میں اگر اسلوب میں روانی، بیان میں پختگی اور ہمعصر رجحانات پر گہری نظر مکاتیب کا خاصہ ہو تو ان کی ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔
ممتاز شیرین نے رشتہ داروں، دوستوں ہم عصروں اور ادبی دُنیا کے نامور مدیروں کو بے شمار خطوط لکھے۔ ان خطوط میں ان کے ذاتی معاملات کا بیان بھی ہے، ادبی مباحثوں پر تبصرے بھی ہیں، ادبی دُنیا کی بے مہری کے تذکرے بھی ملتے ہیں اور اپنی تصانیف پر بے لاگ تنقید کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ افسانہ نگاری اور افسانہ نگاری کی تنقید کے حوالے سے بہت سے خطوط میں وہ اپنے ادبی موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ خطوط  زیادہ خالص اور حقیقی جذبات کی موثر نشاندہی کرتے ہیں۔
ابوبکر عباد اپنی کتاب میں ممتاز شیرین کے خطوط کو بلحاظِ موضوع چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
۱۔        اپنے اور اپنے فن کے بارے میں
۲۔        دوسرے افراد اور ان کے رویوں سے متعلق
۳۔        ذاتی نوعیت کے
۴۔        سیاحت کے احوال و واقعات پر مشتمل۔ ۲
پہلے دو اقسام کے خطوط اکثر ادبی دوستوں، رسالوں کے مدیروں اور اپنے فن کے کھرے نقادوں کو لکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ انہی میں کچھ افراد سے نجی مراسم بھی گہرے تھے۔ لٰہذا انھیں اور بعض عزیزوں کو ذاتی حالات و معاملات پر مبنی خطوط بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ چوتھی قسم کے خطوط میں اہم ترین خط وہ ہیں جو انھوں نے مختلف ممالک میں قیام کے دوران صمد شاہین کی بھانجی اور اپنی عزیز دوست زینت جہاں کو لکھے تھے۔ تاج سعید نے ان کے انتقال کے بعد جب “قند” کا “ممتاز شیرین نمبر” نکالنے کا منصوبہ بنایا تو صمد شاہین کی وساطت سے انھین انگریزی میں لکھے گئے ان خطوط کا اسی (۸۰) سے زائد صفحات پر مشتمل مسودہ موصول ہوا۔ جن میں سے انتخاب کے بعد ان میں کچھ کا ترجمہ کرواکے مذکورہ نمبر میں شامل کر لیا گیا۔
ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے اہم خطوط میں محمد سلیم الرحمٰن کے نام خطوط مشمولہ “قومی زبان” ۱۹۹۰ء ونیز “سوغات” (بنگلور( شمارہ نمبر۳، ستمبر ۱۹۹۲ء ضمیر الدین احمد کے نام مشمولہ “سوغات” (کراچی) شمارہ نمبر ۶، مارچ ۱۹۹۴ء۔ شاہد حمید کے نام مشمولہ “صحرابیں” (لاہور) ۱۹۹۲ء۔ محمود ایاز کے نام مشمولہ “سوغات” (بنگلور)، شمارہ نمبر ۳، ستمبر ۱۹۹۲ء۔ اوپندر ناتھ اشک کے نام۔ ۳ بنام نظیر صدیقی مشمولہ “نامے میرے نام آئے” کے علاوہ مدیر نقوش محمد طفیل کے نام ۴۲ خطوط “تحقیق نامہ” : جی سی یونیورسٹی، ۲۰۰۶ میں صفحہ نمرب ۳۴۵ تا ۳۸۶ میں شائع ہوئے۔ /لاہور کے خصوصی شمارہ ۲۰۰۵
اپنے افسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بسا اوقات مبصرین کی رائے سے اتفاق کرتی ہیں، کھبی وضاحتی انداز اختیار کرتی ہیں اور کھبی ناقدین کی رائے سے قطعی عدم اتفاق کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مثلاً محمد سلیم الرحمٰن نے ان کے مجموعے “میگھ ملہار” پرپاکستان ٹائمز میں تبصرہ کیا تھا جس کا لہجہ بے حد سخت تھا۔ ۱۹۶۳ء میں سلیم الرحمٰن کی ممتاز شیرین سے براہِ راست خط و کتابت جاری تھی تو شاید کسی موقع پر سلیم الرحمٰن نے ندامت ظاہر کی ہوگی۔ اس کے جواب میں وہ لکھتی ہیں:
“نادم ہونے کی بھی آپ نے ایک کہی۔ جب آپ نے یہ سب کچھ سچائی سے محسوس کرکے
لکھا ہے تو اس میں نادم ہونے کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی میں ان زود حِس قسم کے ادیبوں
میں سے نہیں ہوں جو ذراسی بھی تنقید کا برامان جاتے ہیں جب میں خود نقاد ہوں تو اپنی
تحریروں پر دوسروں کی تنقید کو بھی برداشت کرسکتی ہوں۔” ۴
لیکن شاہد حمید کے نام ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء کے خط میں وہ شاہد حمید کی اپنے افسانوں سے متعلق رائے کو بالکل مسترد کردیتی ہیں۔ الگ الگ افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان افسانوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کا حوالہ دیتی ہیں اور اپنے افسانے “آئینہ” کو وقیع اور بلند قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:
“دوسروں کے افسانوں پر تنقید کرتے ہوئے اگر میں معروضیت برت سکتی ہوں تو اپنے متعلق بھی مرا رویہ مختلف نہیں ہوتا۔ اور اپنے افسانوں کے بارے میں اگر میں بہت زیادہ خوش فہم نہیں (کیوں کہ برائے ادب کا مجھے کچھ اندازہ ہے) تو بدظن بھی نہیں ہوں۔ اتنی خود اعتمادی مجھ میں ہے”۔۵
اسی خود اعتمادی کا مظاہرہ وہ ضمیر الدین احمد کے نام اپنے خط میں اس انداز میں کرتی ہیں:
“آپ کو اس کی شکایت ہے کہ وقار عظیم صاحب نے “ساقی” میں میرے بارے میں مضمون میں آپ کو یونہی ذکر کردیا ہے۔ اب اسے کیا کہیے گا کہ عبادت بریلوی نے “ساقی” میں پچیس سالہ تنقید پر مضمون میں میرا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ بعض اونچے ادبی حلقوں میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دو ہی وقیع نقاد ہیں۔ ایک عسکری صاحب ایک میں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جان بوجھ کر مجھے نظراندازکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی وجہ کا بھی اندازہ ہے کہ کیوں؟ میں لحاظ سے داد نہیں چاہتی کہ عورتوں میں میں ایک ہی نقاد ہوں۔ ادب میں عورت مرد کی تفریق کیوں لایا جائے۔ دونوں کی ادبی حیثیت ساتھ ساتھ متعین کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک ایسے مضمون میں جس میں ان تک کا ذکر ہو جنھوں نے صرف ایک ایک تنقیدی مضامین لکھے ہیں، میرا نام تک نہ لیا جائے تعجب خیز ہے۔” ۶
اس طرح اپنے تراجم کے سلسلے میں کئی خطوط میں تذکرہ کرتی ہیں۔ کامیوں کے ناول “اجنبی” کے ترجمے کے حوالے سے ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء نظیر صدیقی کو لکھتی ہیں:
“اس وقت میں کاموکی کتاب کا ترجمہ کر رہی ہوں۔ یہ ابھی ممکن نہیں ہوا ہے۔ مکتبہ جدید کا تقاضا ہے کہ جلد از جلد مکمل کرلوں۔ ترجمے کے علاوہ دیباچہ کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔ ایک سیر حاصل مضمون بھی چاہتے ہیں۔ اسی کام میں لگی ہوئی ہوں۔” ۷
لیکن محمد سلیم الرحمٰن کے نام اپنے خط میں لکھتی ہیں کہ:
“اجنبی” کا یا کسی اور کتاب کا ترجمہ نہیں کررہی۔ جن دنوں میں “اجنبی” کا ترجمہ کر رہی تھی مجھے معلوم ہوا کہ ایک اور مکتبے والے کسی اور صاحب سے اس کا ترجمہ پہلے ہی کراچکے ہیں۔” ۸
اس خط کے حاشیے میں سلیم الرحمٰن  لکھتے ہیں کہ:
“ترجمہ “بشیر چشتی” نے کیا تھا۔ ممتاز شیرین ترجمہ کرتیں تو خوب ہوتا۔ نامکمل ترجمے کا مسودہ شاید ان کاغذات میں موجود ہو۔” ۹
محمد سلیم الرحمٰن ہی کے نام ایک اور خط میں وہ “میگھ ملہار” پر ان کے کیے ہوئے تبصرے کو سراہتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
“آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ “میگھ ملہار” میں میرے فن کی سب سے نمائندہ، بہترین اور اصل تخلیق “کفارہ” ہی ہے۔ “کفارہ” میگھ ملہار” کی طرح صرف ادبی تجربہ نہیں ہے بلکہ ایک سچا تجربہ ہے۔ ایک روح کا   نہیں لکھا۔ میں نے اسے بھی ایک کیفColdbloodeallyاور Calculatinglyتجربہ۔ ویسے “میگھ ملہار” بھی نے
اور Learningاور سرشاری میں ڈوب کر لکھا تھا۔ البتہ اس افسانے میں آگے چل کر جیسا کہ آپ نے لکھا ہے،
میں توازن قائم کرنا مشکل ہوگیا۔”۱۰Creativity
اسی افسانے کے بارے میں محمود ایاز کو لکھتی ہیں:
ہو رہی ہے۔ مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ مظفر علی سید کے اس  Controversial          “آج کل یہ کتاب خوب
مضمون کے علاوہ ڈاکٹر احسن فاروقی نے “سات رنگ” کے سالنامے کے لیے بہت تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ “نیا  رہی اور یہ تو آپ کوRunner Upدور” میں سلیم احمد طویل مضمون لکھ رہے ہیں۔ آدم جی پرائیز کے لیے یہ کتاب
معلوم ہی ہوگا کہ بہترین افسانے کا انعام “کفارہ” کو ملا۔” ۱۱
“سوغات” (بنگلور) میں شیرین کے ایک خط کے حاشیے میں محمود ایاز نے لکھا ہے:
“مرحومہ کی خواہش پر اس کا انگریزی سے ترجمہ میں نے کیا تھا”۱۲
اگرچہ ممتاز شیرین نے اپنی بہت سی تحریروں میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ “کفارہ” بنیادی طور پرکے نام سے تحریر کیا گیا تھا۔ مگر اتفاق سے کسی مقام پر بھی انھوں نے“The Atonement”انگریزی میں
“کفارہ” کے مترجم کا ذکر نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے کئی افسانوں اور مضامین کے ترجمے لوگوں نے کیے۔ بلکہ ایک خط میں محمود ایاز ہی کو ۹ مئی ۱۹۶۳ء کو لکھتی ہیں:
“اگر اب بھی گنجائش ہو تو ایک چیز بھیج رہی ہوں۔ ایک مختصر سا انگریزی مضمون جو مجھ سے پطرس بخاری نے لکھوایا تھا۔ وہ ایک کتاب مرتب کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے دنیا بھر کے فلسفیوں، سائنس دانوں اور ادیبوں وغیرہ سے اس طرح کے تاثرات طلب کیے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مجھے بھی لکھا تھا۔ پھر نہیں معلوم اس کتاب کا کیا ہوا۔ شاید کتاب مرتب ہونے سے پہلے ہی پطرس بخاری صاحب وفات پاگئے۔ میں جانتی ہوں آپ بے حد مصروف ہیں لیکن مضمون چھوٹا سا ہے اگر مریم زمانی ایز ترجمے کے لیے تھوڑا سا وقت نکال سکتی ہوں تو پھر ان کے سپرد کر دیجیے۔” ۱۳
گویا محمود ایاز اور ان کی بیگم سے ترجمے کے سلسلے میں ان کی مراسلت رہا کرتی تھی۔ لیکن زینت جہاں کو کراچی سے خط میں تحریر کرتی ہیں کہ:
“تمھیں میرا افسانہ “کفارہ” پڑھنے کی بڑی خواہش تھی۔ حقیقت میں یہ افسانہ میں نے انگریزی زبان میں ۔۔۔ تخلیق کیا تھا اور اس کا ترجمہ اُردو میں “کفارہ” کی سرخی کے ساتھ کیا، انگریزی افسانہ نسبتاً زیادہ موثر ہے۔” ۱۴
مذکورہ بالا جملہ اس قدر صریح معنویت کا حامل ہے کہ اس کے سامنے “محمود ایز” صاحب کے محولہ بالا جملے کا استناد محلِ نظر معلوم ہوتا ہے۔
ان کے چند اہم خطوط میں سے ایک “اوپندرناتھ اشک” کے نام لکھا گیا ہے۔ جس کا طویل اقتباس ابوبکر عباد نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اس خط سے نیا دور اور ترقی پسندوں کے مناقشے کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔ “نظام” میں ترقی پسند تحریک کے اجلاس کی روداد چھپی تھی جس سے معلوم ہوا کہ “قدوس صہبائی” نے “نیا دور” سمیت رجعت پسند رسائل پر پابندی کی تحریک پیش کی تھی۔ قدوس صہبائی کی ناراضگی کی وجہ بھی بیان کرتی ہیں کہ ممتاز شیریں نے صہبائی کے افسانوں پر سخت تنقید کی تھی اور “نیا دور” میں ان کے غیر معیاری افسانے کی اشاعت سے انکار کردیا تھا۔ لہٰذا قدوس صہبائی سخت ناراض ہوگئے اور ممتاز شیرین اور “نیا دور” کی مخالفت پر اتر گئے۔ راقم الحروف نے ممتاز شیرین کے کاغذات کے درمیان قدوس صہبائی کا ایک خط دیکھا ہے۔ جو درشت لہجے میں ہے۔ شیرین، اشک کے خط میں قدوس صہبائی کے بارے میں لکھتی ہیں:
“جو کچھ ہم نے محسوس کیا لکھا اور وہ برامان گئے اور اس وقت سے ہم پر بہت بگڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر “نظام” کے ہرایڈیٹوریل میں اور ان کی بائیکاٹ والی تحریک میں “نیا دور” رجعت پسند رسالوں کے لیے سرِ فہرست پیش کیا گیا تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ البتہ جناب سجاد ظہیر کو “نیا دور” میں کون سی چیز کھٹکی ہے، نہیں معلوم۔ ” ۱۵
مدیر نقوش محمد طفیل کے نام “تحقیق نامہ” کے خصوصی شمارے میں شامل صفحہ نمبر ۳۴۵۔۳۸۶ پر ۴۲خطوط ۱۹۴۶ء سے ۱۹۶۴ء عرصے میں لکھے گئے ہیں۔ “نیا دور” کی اشاعت کے عرصے کے دوران اِن خطوط میں مضامین، افسانے، تراجم اور تصویر کے تبادلے کے موضوعات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ممتاز شیرین کی ادبی و ضعداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے “نیا دور” کے لیے مخصوص کیا ہوا اپنا مضمون “کشمیر اداس ہے” کا دیباچہ نقوش میں اشاعت کے لیے بھجوادیا ہے۔ کیوں کہ طفیل صاحب کو انکار کرنا مناسب نہ تھا۔ ۱۶۔
اسی طرح سے احمد علی صاحب کا بڑی محنت سے تیار کیا ہوا ایک مضمون و قار عظیم صاحب کے پاس ترجمے کے لیے گیا۔ اطلاع ملی کہ گم ہوگیا ہے۔ کیوں کہ مضمون شیرین کے توسط سے گیا تھا لہٰذا وہ بڑی بے چینی سے مضمون کی تلاش پر اصرار کرتی ہیں۔ ۱۷
۲۳اکتوبر ۱۹۵۱ء کے خط سے بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ محمد طفیل صاحب نے نقوش کا “الوداعی نمبر” نکالنے کے فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے بعد والے خط میں قدرے تفصیل سے ان مسائل اور معاملات پر اظہارِ خیال کرتی ہیں جو اچھے ادبی رسائل کے اجرا اور تسلسل کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ اسی خط میں وہ انھیں ایک مخلصانہ مشورہ دیتی ہیں:
“آپ اسے ماہانہ کی بجائے سہہ ماہی بنادیں یوں مضامین کی فراہمی میں اتنی دشواری محسوس نہ ہوگی اور پھر اچھے مضامین جمع ہوسکیں گے اور پرچہ کا معیار برقرار رہے گا۔۔۔۔۔۔ آپ “نقوش” کو سہہ ماہی بنائیں تو      پر چہ خاصا ضخیم ہوگا اور ہر پرچہ ایک “خاص نمبر” کی حیثیت رکھے گا۔ آپ کسی نہ کسی خصوصیت کے ساتھ ہر پرچہ کو خاص نمبر ہی کی طرح شائع کریں تو بہتر رہے گا۔” ۱۸
اس خط میں وہ طفیل صاحب کے استفسار پر یہ بھی بتاتی ہیں کہ میں “نقوش” کے لیے سال بھر میں کتنا لکھ سکتی ہوں اس سلسلے میں کوئی قطعی بات نہیں کہہ سکتی کیوں کہ ایک تو میں بہت کم لکھتی ہوں اور دوسرے یہ کہ “نیا دور” ہی کی ضروریات پوری ہو جائے تو کافی ہے۔۔۔۔۔ آگے چل کر خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ “نقوش” کی اشاعت تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور رسالے نے اپنا معیار خوبی سے برقرار رکھا ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ طفیل صاحب سے شیرین اور صمد شاہین کے بے تکلفی پر مبنی مراسم تھے۔ اسی لیے وہ نجی احوال اور صمد شاہین کی منصبی مصروفیات کو بھی اکثر بیان کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی دیگر مصروفیات مثلاً سیر وسیاحت وغیرہ سے، بچوں کے تعلیمی مدارج سے بھی طفیل کو آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۵ء میں تحریر کیے گئے چند خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ “نقوش” کے شخصیات نمبر کے منصوبے سے شیرین کو دلچسپی رہی۔ طفیل صاحب چاہتے تھے کہ کوئی صاحبِ علم شیرین کی شخصیت پر جامع مضمون لکھ دے۔ انھوں نے خود شیرین سے ایسے کسی لکھاری کا نام تجویز کرنے کی فرمائش کی۔ انھوں نے کچھ نام اور ان کے پتے طفیل صاحب کو بھجوادیے۔ لیکن وہ خود اس مقصد کے لیے کسی سے فرمائش کرنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ کیوں کہ یہ ان کے خیال میں مناسب بات نہیں تھی۔ شخصیت پر مضمون لکھنے کے لیے وہ سر سری اور عمومی مراسم کو کافی نہیں سمجھتی تھیں۔ اسی لیے احمد علی پر مضمون لکھنے سے معذرت کر لیتی ہیں۔ اسی طرح اپنے حوالے سے بھی بعض اشخاص کی معذرت (مثلاً کشفی صاحب کی) کو بجا اور روا سمجھتی ہیں۔ “نقوش” شخصیات نمبر (ا) میں ممتاز شیرین پر مضمون نہ آسکا۔ ۱۹
انہی خطوط میں منٹو میموریل کمیٹی کے حوالے سے اپنی مصروفیات کا بیان کرتی ہیں اس کمیٹی میں لاہور سے نمائندگی کے لیے طفیل صاحب کے نام کی تجویز کی اطلاع بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ منٹو کے بہترین افسانوں کا اعلٰی درجہ کا انتخاب اور فن و شخصیت پر مبنی مضامین سے سجی کتاب اہلِ ادب کی جانب سے منٹو کی ادبی خدمات کے خراجِ تحسین کے لیے آنی چاہیے۔ ۲۰
انہی دنون وہ تیزی سے منٹو پر کتاب بھی مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ ایک خط میں طفیل صاحب کو اطلاع دیتی ہیں۔ کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہو رہا ہے اور انگریزی و اُردو میں یہ کتاب ایک ساتھ چھپے گی۔ ۲۱
معلوم نہیں بعد میں انگریزی کتاب کا ترجمہ کہاں تک پہنچا۔ اُردو میں یہ نامکمل کتاب تو شائع ہو گئی ۲۲ اکتوبر ۱۵۵۶ء کے ایک خط میں “نقوش” شخصیات نمبر ۲ کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں فرمائش کرکے اپنے اوپر مضمون نہیں لکھوا سکتی تھی البتہ اپنے دیور کے ایک مضمون کا تذکرہ کرتی ہیں۔ جنھوں نے عصمت چغتائی پر ان کے دیور کا مضمون دیکھ کر اپنی بھاوج یعنی ممتاز شیرین پر بڑی محنت سے مضمون لکھا تھا۔ لیکن بیجھنے سے پہلے ہی رسالہ چھپ گیا۔ لہٰذہ مضمون نگار کو افسوس ہوا۔ اپنے بارے میں لکھتی ہیں کہ “اب کے تو میں نے محسوس بھی نہیں کیا۔” ۲۲
۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء کے خط میں اپنے افسانوں کے فرانسیسی تراجم کا احوال بیان کرتے ہوئے ایملی برو نٹے کے ناول “وُدِرنگ ہائٹس” کے ترجمے کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ ذمہ داری مکتبہ جدید والوں نے ان کے سپرد کی تھی۔ ۲۳ چند خط بنکاک میں قیام کے دوران لکھے گئے۔ جن میں “نقوش” کے “طنز و مزاح” نمبر کے لیے ستائش کے ساتھ ساتھ رفیق حسین کی افسانہ نگاری کو بھی بڑے جچے تلے انداز میں سراہا گیا ہے۔ ۲۴  ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء کے خط میں “میگھ ملہار” کی اشاعت کی اطلاع دیتی ہیں۔ اور اپنے حالیہ افسانے “کفارہ” کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
“اسے آپ ضرور پڑھیں۔ اس میں میں نے ان لمحات کو فنی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔ جب موت مجھ سے بہت قریب تھی۔ مجروح مامتا کے ذاتی المیے کو یہاں آفاتی حیثیت دی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے آپ یہ افسانہ کرسکیں گے۔” ۲۵Appreciateواقع
چند خطوط میں ناسازی طبع کا احوال اور مضمون کی ترسیل میں تاخیر پر معذرت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چند خطوط صمد شاہین کی ڈھاکہ پوسٹنگ کے دوران لکھے گئے ہیں۔
جون ۱۹۴۳ء کے چند خطوط سے “نقوش” کے آپ بیتی نمبر کی تیاری کے سلسلے میں استفسار ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنی خود نوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” کے لیے تحریک اس نمبر کی بنا پر ہوئی تھی۔ ۱۷ جنوری ۱۹۶۴ء کو انقرہ سے لکھے گئے خط میں تحریر کرتی ہیں:
“اب یہاں انقرہ پہنچتے ہی میں نے پہلا کام یہی کیا کہ پھر سے آپ بیتی لکھنی شروع کی۔۔۔۔۔۔ بہر حال مکمل کرلے ہے۔ اگر اب بھی “آپ بیتی نمبر” میں گنجائش ہے تو از راہِ کرم فوراً مطلع فرمائیں، بھیج دوں گی۔” ۲۶
بعض دیگر احباب، مدیر ان اور صاحبانِ علم کو لکھے گئے خطوط کے مقابلے پر محمد طفیل کے نام ان خطوط میں بے تکلف مراسم کی جھلک نمایاں ہے۔ اس بے تکلفی کی وجہ سے خطوط کا اسلوب رواں اور شگفتہ ہے۔ اور اس قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی جیسی کہ پر تکلف اور رسمی خطوط کے اسلوب میں نمایاں ہوکر ممتاز شیریں کی تحریر کے حسن کو متاثر کرتی ہے۔
ان کے خطوط کے معلوم اور مطبوعہ حصے میں سے زینت جہاں کے نام لکھے گئے بے حد اہمیت کے حامل خط انقرہ اور اسلام آباد میں آخری قیام تک کے عرصے میں ضبطِ تحریر میں لائے گئے۔ انقرہ سے لکھے گئے ان کے خطوط سوانحی بھی ہیں اور سیاحتی بھی۔ یوں تو ممتاز شیرین بنگلور سے کراچی کے سفر ہجرت کو اپنے لیے سب سے اہم سفر قراردیتی ہیں لیکن دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کی سیر کے دوران ان کے اندر چھپا ہوا دلنشین اسلوب کا انشائیہ نگار نمایاں ہو جاتا ہے اور اسی نمائندگی کی بناء پر زینت جہاں کے نام لکھے گئے ان خطوط کے اکثر حصے مختلف ممالک کے جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی سفر نامے یا سیاحت نامے بن گئے ہیں۔ اگر انھوں نے محض خارجی مناظر کے بیان پر زور دیا ہوتا تو شاید یہ محض جغرافیائی منظر نامے ہوتے لیکن ممتاز شیرین نے جغرافیائی تفصیلات کی فراہمی میں محسوسات کی شمولیت کے ذریعے ایک اچھوتا، منفرد اور اپنے گزشتہ اسالیب کے مقابلے پر زندہ تر اسلوب کا سراغ پالیا ہے۔ ان خطوط میں ہندوستان، روم، ترکی اور پاکستان کے مختلف شہروں کے بارے میں تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ ان کے یہ مکاتیب صرف مکتوب ہی نہیں رہتے بلکہ ان میں مضمون یا انشائیے کی خصوصیات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ ۲۷
جب وہ ہندوستان کی سیر کرتی ہیں تو ایک جانب لکھنو اور جے پور کی دید سے محرومی کا دکھ بیان کرتی ہیں، دوسری جانب دہلی، آگرہ، علی گڑھ ، چندی گڑھ اور امرتسر کے علاوہ بہت سے دوسرے شہروں کی سیر کا لطف بیان کرتے ہوئے اس گہرے اور ابدی تاثر کا بینا کرتی ہیں جو تاج محل کے صاف، شفاف اور لطیف حسن نے ان کے ذہن پر چھوڑا اور اس کے بعد “ہمالیہ کے شاندار جاہ و جلال نے بھی مجھے بڑا متاثر کیا۔ جس کی تحیر انگیز عظمت و رفعت خدائے بزرگ وبر ترکی شانِ کبریائی کی شہادت دیتی ہے۔ اور ہم وہاں اسے بہت قریب محسوس کرتے ہیں۔” ۲۸
پہاڑوں کی یہ ہیبت و عظمت ترکی کے رفیع الشان پہاڑوں کی سیاحت کے دوران بھی قائم رہتی ہے لیکن یہاں اس عظمت میں ان پہاڑوں کے تاریخی پس منظر اور دیو مالائی مقبولیت کی شمولیت دکھائی دیتی ہے اور تفصیل بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔
پہاڑ کی سیر کو گئے۔ یہ پہاڑ یونانیPagasns          “اولمپس یونانی دیوتاوں کا استھان ہے۔ ازمیر کے مقام پر ہم
رہتا تھا اور یہیں اس پہاڑ پر اس نے عظیم رزمیہ Homerدیو مالا میں شاعری کی علامت ہے۔ ازمیر میں ہومر
تخلیق کی تھی۔ سکندر نے یہاں جو قلعہ تعمیر کیا تھا وہ ابھی تک اچھی حالت میں موجود ہے۔Illiad and Odessy
ہے۔ ٹرائے آف ہیلن ازمیرHellenic Worldتمہیں معلوم ہوگا کہ جسے اب مغربی ترکی کہتے ہیں وہ عہد سلف کی
کے بالکل قریب ہے۔ اور یہاں پہنچ کر یونانی تاریخ، یونانی دیو مالا اور یونانی ادب ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔  ازمیر سے چند میل دور ہے۔ یہاں ہم نے یونانی اور باز نطینی تہذیب کے عظیم الشان کھنڈراتEuphesusیوفیسس
کے معبد اور اپالو کے مجسمہ کے خرابے موجود ہیں۔ میرے Diana میں Pergamumدیکھے۔ یوفیسس اور پرگیمم
کو دوبارہ زندہIpheginiaاس خط کے لفافہ پر اپالو ہی کے مجسمہ کی تصویر ہے۔ یہیں پر قربانی کی بھینٹ چڑھی
کو شہر افسوس کہا جاتا ہے۔ یہی وہ شہرِ گناہ ہے جہاں Euphesusکرکے اسے پجارن اور پروہت بنایا گیا۔۔۔۔۔۔
اصحابِ کہف نے بھاگ کر ایک غار میں پناہ لی تھی۔ شہر سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر وہ غار ہے جہاں Mount of اصحابِ کہف (قرآن شریف کے مطابق) تین سو نوسال تک سوتے رہے۔ اس سے آگے کوہ عنادل
ہے۔ ترکی میں اب اسے بلبل ڈاگ کہا جاتا ہے۔ اس کی چوٹی پر دوشیزہ مریم نے اپنی زندگی کے Nightingales
آخری سال بسر کیے تھے۔ حضرت عیسّی کے مصلوب ہونے کے بعد سینٹ جان نامی مبلغ انجیل مریم کو ایشیائے کوچک لے آئے تھے اور مریم کا قیام وہیں رہا ہم نے دوشیزہ مریم کی مقدس قیام گاہ کی بھی زیارت کی۔” ۲۹
ایک اور خط میں ترکی کی ثقافت، رہن سہن اور لوگوں کے عمومی رجحانات مثلاً گفتگو کے آداب، اخلاقی حیثیت، خوراک اور رہائش کے طرز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنی ایک ترکی سہیلی کے خاندان اور ان کے رکھ رکھاو کا تعارف پیش کرتی ہیں۔ قدیم و جدید کے امتزاج سے نشونما پانے والی لڑکیوں اور بے ریا، زمانہ سازی سے دور نئی نسل کے ترک انھیں بڑے “بامروت، مخلص اور خوش اخلاق” نظر آتے ہیں۔ ۳۰۔
جب روم اور اٹلی کے سیر کا احوال بیان کرتی ہیں تو ان تمام تاریخی، روایتی اور اساطیری واقعات و مقامات کا تذکرہ کرتی ہیں جنھوں نے مغرب و ایشیا کے بہت سے ادبی تصورات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو ادب کو بھی وسعت بخشی ہے۔ وسعت کی نئی شکلوں کو ہم نئے نئے رموزوں اور اساطیری اشاروں کی صورت میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں تحریر کرتی ہیں:
“اٹلی کے شہر روم اور نیپلز ہم نے بارہ سال قبل بھی دیکھے تھے لیکن اس مرتبہ روم نئے روپ میں تھا۔ اس شاندار اور عظیم تاریخی شہر نے کچھ زیادہ ہی متاثر کیا۔ روم کا ذرہ ذرہ اس کی گزشتہ عظمت کے گن کاتا ہے۔
سے اور جولیس سیزر، آگسٹس اور طورجان کے فورم کے کھنڈرات سے اب بھی ماضی کیCollosseumنیرو کے
شان و شوکت جھلکتی ہے اور ان جگہوں کو دیکھے ہی ذہن ایک دم کسی داستان میں کھو جاتا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انٹونی نے سیزر کی میت پر اپنی مشہور عالم تقریر کی تھی۔ ” ۳۱
ایک اور خط میں شیرین یوں رقم طراز ہیں:
“انطالیہ کی سیر نے بڑا لطف دیا۔ اس کا قدرتی حسن لاجواب اور سکون بخش ہے۔ بحرِ روم کے نیلگوں پانی کا نظارہ قابل دید ہے کو کناروں کے پاس فیروزی، پھر آگے ہلکا نیلا اور رفتہ رفتہ بیچ سمندر میں گہرا نیلا   کاپہاڑی سلسلہ ہے جو ایک عجیب رنگ بخشتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے “Tourus”دکھائی دیتا ہے۔ پس منظر میں
جیسے یہ پہاڑ سراسر سمندرہی سے اٹھے ہوں۔ ہم نے بہت سے تاریخی مقامات اور کھنڈرات بھی دیکھے۔ مثلاً
۔۔۔۔۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے قلو پطرہ غروب آفتاب کا نظارہ کیا کرتی تھی۔” ۳۲As Pendos
سفر کے ان مراحل میں انھوں نے مختلف ممالک کی سیر کی۔ نئے نئے انداز کے لوگ دیکھے۔ جدید سے جدید شہر کے حسنِ تعمیرکو سراہا لیکن جس شہر نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس بارے میں وہ اپنے محسوسات کا آغاز ان الفاظ میں کرتی ہیں:
دنیا کے ایک قدیم ترین اور عظیم ترین اور عظیم الشان دارالحکومت استنبول کا کوئی جواب نہیں۔ اس شہر کے مختلف نام رہے ہیں۔ بازنطینہ، نیا روم، قسطنطنیہ، استنبول وغیرہ۔ اسے مہا آنند (روحانی مسرت) کا استھان کہنا چاہیے۔” ۳۳
قیام انقرہ کے دوران مختصر مدت کے لیے پاکستان جانا ہوا تو کئی شہر کی سیر کی اس کی روداد بھی زینت جہاں کے ایک خط میں کچھ یوں ہے:
“ہم مری، ایبٹ آباد، ٹیکسلہ کے علاوہ اسلام آباد کی سیر کو بھی گئے جو پاکستان کا نیا دارلخلافہ ہے اور راولپنڈی سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہے۔ راولپنڈی میں ہم ایک بڑے بنگلے میں مقیم تھے جس کے پائیں باغ میں سرو، سورج مکھی اور رنگا رنگ گلابوں کے جھرمٹ تھے۔ چاندنی میں وہاں کے کھلے سبزہ زاروں میں بیٹھ کر سبز چائے پینے میں کیا لطف آتا تھا؟ ۔۔۔۔ میں پشاور میں تقریباً تین چار روز مشکور بھائی اور ان کے اہل و عیال کے ساتھ رہی اور وہاں تقریباً تمام قابلِ دید مقامات کی سیر کی۔ یونیورسٹی کا شاندار کمیپس، وارسک ڈیم، لنڈی کوتل، تاریخی درہ خیبر اور افغانستان کی سرحد تورخم، کیا تھا جو نہیں دیکھا۔” ۳۴
مختلف ممالک کی سیر، ملازمت کی زنجیر سے کھنچتی  ہوئی انھیں اسلام آباد لے آئی۔ یہ ایک تو آباد شہر ہے شیرین کے خیال میں تین سال کے اندر بیابان میں مکمل شہر بسا دینا کسی کمال سے کم نہیں۔۔۔۔ ان کے خیال میں:
“اسلام آباد کی خاص کشش اس کی تازہ ہوا، سبزہ اور دیہی علاقے کا فطری حسن ہے جس کے ساتھ اسے ایک جدید شہر کی تمام سہولتیں بھی مل گئی ہیں۔ فطرت یہاں اچھوتے حسن کے ساتھ موجود ہے۔ ہر طرف سے مری کی خاکستری رنگ کی پہاڑیوں سے گھرا ہوا اسلام آباد نہایت خوش کن منظر ہے۔ چناں چہ اس کے مختلف حصوں کو بھی رومانی اور اشاریاتی قسم کے نام دیے گئے ہیں۔ مثلاً روپ، پھلواری، گلشن، سنبل، کہسار، آب پارہ۔”۳۵
اس شہر میں انھیں سب سے خوبصورت آواز سنبل والی مسجد سے آنے والی اذان کی آواز محسوس ہوتی تھی۔ اگرچہ دفتری اور سرکاری ضابط بندی نے یہاں ماحول میں یکسانیت پیدا کردی تھی لیکن ان کے خیال میں “یہ  بہت پیارا شہر ہے۔ شیشے کی طرح صاف، وسیع میدانوں، سبزہ زاروں، ہواوں اور سکون کا گہوارہ۔” ۳۶
زینت جہاں کے نام انہی خطوط سے ہمیں ممتاز شیرین کے مرض الموت کے آغاز کا علم ہوتا ہے۔ جو ۱۹۷۰ء سے ہوا اور مارچ ۱۹۷۳ء میں وہ اس مرض سے ہار مان گئیں ۔۔۔۔ اسی عرصے میں ان کے اوپر ذہنی سکوت کا وہ حملہ ہوا جس نے ان کی تخلیقی صلاحتوں کو بے طرح متاثر کیا۔ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء کے ایک خط میں جب بیرونِ ملک صمد شاہین کی پھر سے تقرری کا امکان ہوا تو زینت جہاں کو لکھتی ہیں:
” کچھ عرصہ پہلے مجھے ایسا لگتا تھا جیسے لکھنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی بالکل ہی رک گئی ہے۔ کوئی چونکا دینے والی یا خاص خبر باقی نہیں رہی تھی، مستقبل کے لیے کوئی خاص منصوبے نہیں تھے۔” ۳۷
لیکن اسلام آباد سے ترکِ سکونت سے قبل وہ قرب و جوار کی مکمل سیاحت کرلینا چہتی تھی اسی لیے سوات کی سیر بھی کی اور پہاڑوں کے درمیان دم بخود کردینے والے مناظر سے خوب حظ اٹھایا۔ ۳۸
دنیا ک اہم ترین مقامات کی سیر کے دوران ممتاز شیریں نے محض کھلی آنکھوں سے خارج کا مشاہدہ نہیں کیا بلکہ باطنی نگاہوں کی گہرائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عظمتِ رفتہ کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔ جس عظمت کی نشانی وہ شخصیات تھی جنھوں نے حیاتِ ابدی حاصل کرلی ہے۔ دنیا بھر کی چیدہ چیدہ جاویداں شخصیات، جو ہمارے ادب میں بھی علامت بن کر اس کی نئی معنویت کی صورت گری کر رہے ہیں۔ ادبی شخصیات کو لکھے گئے شیریں کے خطوط میں لہجے کی سنجیدگی اور بیان کی علمیت کی وجہ سے
“زبان کو اظہار کی پوری قوت رکھنے کے باوجود بہت زیادہ صحیح اور ستھری نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے مقابلے میں زینت جہاں کے نام جو خطوط ہیں ان میں زبان و بیان کی کمزوریاں نہیں ہیں۔ اندازِ بیان نہایت شگفتہ اور تاثیر ہے۔ ان خطوط کی نثر نپی تلی ہے۔ اظہارمیں ایک روانی بھی ہے اور بیان میں ایک قوت بھی۔” ۳۹
اظہار کی یہ روانی اور بیان کی یہ قوت کسی مربوط اور منضبطہ سفر نامے کی متقاضی تھیں، اس قسم کا سفرنامہ یا انشائیہ تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار خود شیرین نے زینت جہاں سے ایک خط میں کیا تھا۔ ۳۹  لبنٰی شاہین کے تصرف میں ممتاز شیرین کے مسودات کی چھان پھٹک کے دوران ایک نامکمل سفری انشائیہ “مشرق و مغرب کے درمیان” ملا۔ اس انشائیے میں اسی اسلوب اور قوت اظہار کا تسلسل ملے گا جو مذکورہ خطوط میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں:
“رات گہری ہوچلی تھی،
فضا میں ایک بھاری سی سیٹی کی آواز گونج اٹھی۔ ساکت جہاز میں ایک حرکت، ایک تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی اور یہ مرمریں، شفاف، حسین اطالوی جہاز بحیرہ روم کے گہرے نیلے پانیوں کو کاٹتا ہوا نکل گیا۔
جہاز اس سرزمین کو چھوڑ رہا تھا جسے “مغرب” کہتے ہیں اور “سوئے مشرق” روانہ ہو رہا تھا۔ “مشرق” اور “مغرب”، یہ دو الفاظ سمت کا اشارہ کرنے کے علاوہ اور کتنے مہینوں کے حامل بن گئے ہیں۔ تہذیب و تمدن کا امتیاز، رنگ و نسل کا امتیاز ۔۔۔۔۔ صدیوں کی آقائی اور غلامی۔۔۔۔۔
لیکن یہ اطلالیہ تھا، اطالیہ جو یوں مغرب کا دوروزہ ہے، لیکن مشرق سے کہیں زیادہ قریب۔ اطالیہ جہاں مغربی ممالک میں گھوم پھر کر آئیں تو اچانک یوں محسوس ہوتا ہے ہم پھر مشرق میں آگئے ہیں۔
ہم سب عرشے پر کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر گویا نیپلز کو الودع کہہ رہے تھے۔” ۴۰
اسلوب کے اس تسلسل کو ہم کچھ اور پہلے ان کی نامکمل خودنوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ رواں، پُر جوش اور اظہار کی قوت سے لبریز یہ اسلوب بیان جیسے جیسے بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے ان کے طبعی اور جسمانی نظام میں درد کا جال پھیلتا جا رہا تھا۔ موت وہ اٹل، حتمی اور یقینی قوت تھی Fascinateجو ساٹھویں دہائی کے آخری چند برسوں میں ان کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کے محسوسات کی بھی
کر رہی تھی۔
سب سے پہلے ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء کو محمد طفیل مدیر نقوش کو لکھے گئے ایک خط سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں “باشو بھائی کی نانی اماں بستر مرگ پر تھیں۔ دو ہفتے ان کی حالت بہت خراب رہی۔ آخر چند دن ہوئے انتقال فرما گئیں۔ “انا اللہ و انا الیہ راجعون” وہ میرے لئے بالکل “آئینہ” کی نانی بی کی طرح یوں ان کی موت سے “آئینہ” کی کہانی پھر سے دہرائی گئی!
موت سے کچھ اتنی بڑی حقیقت ہے اور فنا اور اہدیت کا ایسا احساس قائم کرتی ہے کہ عام دُنیوی وقت کا احساس بھلا دیتی ہے۔ گھنٹے،دن ماہ و سال کے لیے بیرونی وقت بے حقیقت بن جاتا ہے۔” ۴۱
ان کی خود نوشت میں موت کے بیان کا یہ اسلوب دیکھیے۔
“عائشہ خانم جنھیں ہم عاشو پھوپھی بلایا کرتے تھے۔ وہ اکثر ہمیں ۔۔۔۔۔ قیامت کے آثار اور روزِ حشر کے قصے سنایا کرتی تھیں کچھ ان کی باتیں ذہن میں رہ گئی تھیں اور قرآن شریف کے وہ حصے پڑھ کر جن میں قیامت  خواب دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ خوف کی کپکپی طاری ہے اورNightmarishکا ذکر ہے، میں مسلسل کئی دن تک قیامت کے
میں سجدہ ریزہ ہوگئی ہوں، عجب خدا ترسی کا عالم تھا۔ پھر اچانک یہ سب کچھ نظروں سے غائب ہوگیا اور ہر طرف نور ہی نور چھا گیا۔ مجھے احساس ہوا یہ نور الٰہی ہے۔ جو خیرہ کن ہونے کے باوجود انتہائی طمانیت بخش ہے۔ پھر برسوں بعد آج سے تین سال پہلے جب حقیقت میں میں نے موت کے اپنے بہت قریب محسوس کیا تھا۔ مجھے اس طمانیت بخش نور کی، اس نفسِ مطمئنہ کی جستجو تھی۔” ۴۲
اور زینت جہاں کے خطوط میں ۱۹۷۱ء کے بعد کے خطوط کے وہ حصے جب وہ اپنی بیماری، عزیزوں
سے دوری اور اپنی تنہائی کا ذکر کرتی ہیں تب بھی نفسِ مطمئنہ کی یہ جستجو ان کے اسلوب کا نمایاں حصہ ہی رہتی ہے۔ جس نے ان کے فن کو ایک مخصوص انفرادیت بخشی تھی۔ یہی انفرادیت ممتاز شیرین کی خطوط میں بھی نظر آتی ہے۔
حوالہ جات
۱۔         خطوطِ غالب، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن ترقی اردو پاکستان ۱۹۹۲ء ص ۱۲۶، ۱۲۷
۲۔        ابوبکر عباد، “ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار”، دہلی، ۲۰۰۶ء ص ۲۸۶
۳۔        ایضاً، ص ۲۹۱
۴۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحٰمن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۵۔        ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “محرابیں”، لاہور ۱۹۹۲ء ص ۱۵
۶۔        ممتاز شیرین بنام ضمیر الدین احمد بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۷
۷۔        متاز شیرین بنام نظیر صدیقی مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء مشمولہ “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی
راہی، اشاعتِ ادب، روال پنڈی، ۱۹۸۴ء ص ۲۱۳
۸۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۹۔       ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۰۔      ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ قومی زبان”، اکتوبر ۱۹۹۲ء ص ۱۸
۱۱۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۲۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۳۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمون “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء ص
۳۱۹
۱۴۔      ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیریں نمبر، ستمبر،
اکتوبر ۱۹۷۳ء ص ۱۱۳
۱۵۔      ممتاز شیرین بنام اوپندرناتھ اشک، بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۱۶۔      ممتاز شیرین بنام محمد طفیل مورخہ ۱۲ اپریل ۱۹۵۰، مشمولہ “تحقیق نام” شعبہ اردو، جی،سی یونیورسٹی،
لاہور شمارہ ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ ء ص ۳۴۸
۱۷۔      ایضاً، مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء ص ۳۵۰
۱۸۔      ایضاً، مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۲ء ص ۳۵۲
۱۹۔      ایضاً، مورخہ فروری ۱۹۵۵ء ص ۳۵۹
۲۰۔      ایضاً، ص ۳۶۰
۲۱۔      ایضاً، مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۵۵ء ص ۳۶۴
۲۲۔      ایضاً، مورخہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۶ء ص ۳۶۴
۲۳۔      ایضاً مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء ص ۳۶۸
۲۴۔      ایضاً مورخہ ۱۰ جون ۱۹۵۹ء ص ۳۷۳
۲۵۔      ایضاً مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء ص ۳۷۵، ۳۷۶
۲۶۔      ایضاً مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۶۴ء ص ۳۸۴
۲۷۔      ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۲۸۔      ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” ، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۱۴
۲۹۔      ایضاً، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۶۴ء ص ۱۱۴، ۱۱۵
۳۰۔      ایضاً، س ں، ص ۱۱۸
۳۱۔      ایضاً
۳۲۔      ایضاً مورخہ ۷ مارچ ۱۹۶۵ء ص ۱۱۷
۳۳۔      ایضاً مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۶۶ء ۱۱۹
۳۴۔      ایضاً مورخہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۳ء ۱۱۴
۳۵۔      ایضاً مورخہ ۷ اپریل ۱۹۶۷ء ص ۱۲۱
۳۶۔      ایضاً مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۶۹ء ص ۱۲۳
۳۷۔      ایضاً مورخہ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء ص ۱۲۷
۳۸۔      ایضاً
۳۹۔      ابوبکر عباد، ص ۲۹۵
۴۰۔      ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ ذاتی کاغزات
۴۱۔      ممتازشیرین رین بنام محمد طفیل مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء، مشمولہ “تحقیق نامہ”، ص ۳۷۰
۴۲۔      ممتاز شیرین “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۰۶
کتابیات
۱۔        ابوبکر عباد،:ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار” دہلی، ۲۰۰۶ء
۲۔        غالب، “خطوطِ غالب”، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن رقی اُردو پاکستان، ۱۹۹۲ء
۳۔        نظیر صدیقی، “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی راہی، اشاعتِ ادب، راول پنڈی، ۱۹۸۴ء
۴۔        ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ لبنٰی شاہین صاحبہ کراچی
۵۔        ممتاز شیرین، “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر ستمبر، اکگوبر ۱۹۷۳ء
۶۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء، مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
۷۔        ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء
۸۔        ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور،شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء۔ؤ
۹۔       ممتاز شیرین بنام زینت جہاں (مکاتیب) مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیرین نمبر، ستمبر، اکتوبر ۱۹۷۳ء
۱۰۔      ممتاز شیرین بنام محمد طفیل (مکاتیب) مشمولہ “تحقیق نامہ”، شعبہ اُردو، ج۔ سی یونیورسٹی، لاہور، شمارہ            ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ء

 

problems of Urdu teaching at University Level

Articles

یونیورسٹی سطح پر اردو تدریس کے مسائل

سیّد اقبال

 

ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری زندگی اپنی پچھلی نسل سے قدرے بہتر ہے۔ ہم بہتر گھروں میں رہتے ہیں، اُن سے بہتر کھانا ہمیں نصیب ہے، اُن سے بہتر کپڑے میّسر ہیں اور ہماری تنخواہیں بھی اُن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پچھلے پچاس برسوں کے مقابلے میں تعلیم آج کہیں زیادہ عام ہے۔حکمت کا نظام بھی قدرے بہتر ہوچلا ہے اور ہم اپنے پرکھوں کے مقابلے میں دس پندرہ سال زیادہ جی رہے ہیں،مواصلاتی نظام تو اِس قدر ترقی کرگیا ہے کہ گھر بیٹھے ہم جس سے چاہیں اور جب چاہیں منٹوں میں گفتگو کر سکتے ہیں، انٹرنیٹ نے دنیا ہماری گود میں ڈال دی ہے اور سارے عالم کی ہر طرح کی معلومات صرف ایک بٹن دباتے ہی اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے۔ یہی نہیں ہم اتنے پُرامن حالات میں جی رہے ہیں کہ ہمیں آزادی¿ تحریر اور آزادی¿ تقریر کا احساس تک نہیں ہوا۔اس کے باوجود ہم نہایت بدنصیب بھی ہیں کہ اب ہمیں ایک ایسے دور میں جینا پڑ رہا ہے جہاں معیشت کی حکمرانی ہے اور بازار ہماری زندگی کی کہانی لکھتے ہیں ۔سیاسی خداﺅں نے ٹکنالوجی کی مدد سے ہماری ذاتی زندگی کو ریکارڈ کرنا شروع کردیا ہے۔ لہذا کسی حکومت کے لیے صرف ایک بٹن دبا کر اس کے شہری کی پوری زندگی ، اس کی مالی حالت، اس کا بینک اکاﺅنٹ، اُس کے تعلقات، اُس کی ذاتی اہلیت، اُس کی پسندنا پسند ، یہاں تک کہ اُس کی بیماریاں اور ماضی میں کئے گئے سارے انکار کی تفصیل رکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ایک طرف مشینوں نے ہمیں فارغ اوقات کی نعمتوں سے نوازا ہے،دوسری طرف جرائم اور خودکشی کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی تعلقات میں اتنی دراڑیں پیدا ہوگئی ہیں کہ پچاس سال میں اُن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ خاندانی نظام تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہی تھا، ملٹی نیشنل کارپوریشن نے ہماری روایتی ہنر مندی اور چھوٹے چھوٹے فنکاروں کی روزی پر بھی قدغن لگادی ہے۔تعلیم کا حصول بھی عام ہوا ہے اور نت نئے کورسیس بھی متعارف ہوئے ہیں۔ مگر اِن تعلیمی اداروں سے علم اور ذوق و شوق غائب ہوگئے ہیں ۔ طلباءکو ڈگریاں تو درکار ہیں مگر اُس کے لئے جو محنت اور عرق ریزی درکار ہے آج مفقود ہے۔علم فن کا عروج کیا ہوتا ہے اور اُسے حاصل کرنے کے لئے کتنی تگ ودو کرنی ہوتی ہے اُس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ۔ آج اخلاقیات باقی ہے نہ خیر خواہی، باقی ہے تو صرف مادی ترقی مادی ترقی کی زبردست خواہش ، اور جوابدہی کے تصور سے عاری ایک ایسی زندگی جہاں ایک فرد کی اپنی حیثیت اہم ہے نہ کہ معاشرے کی اہمیت اور ترقی ۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں بازار اہم ہو چکے ہوں ، وہاں اخلاقیات، فلسفہ ، سماجی علوم اور زبان و ادب کی اہمیت کیا ہوگی۔اس لئے ہمیں زبان و ادب کی تدریس کے مسائل پر اگر بحث کرنی بھی ہے تو موجودہ معاشرے کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، جہاں نصاب سے لیکر اساتذہ کا تقرر اور تحقیق کا کام، طلباءکی ذہنی صلاحیتیں ، معاشرے کے انھیں عوامل سے جڑی ہوئی ہیں۔وہ عوامل جو ہمارے لئے آئیڈیل یا کتابی نہیں رہے ۔یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے کالیجز اور یونیورسٹیوں میں ان موضوعات پر سمینار اور ورکشاپ ہوتے رہیں گے(اور ہم اُن کے حل تلاش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے) شاید اس لئے کہ ان عنوانات پر سمینار اور ورکشاپ منعقد کرنا صدر شعبہ کی محض ذمّہ داری ہے اور مجھ ایسے کم علم کو اور نا اہل  کو اُن عنوانات پر بولنے کی دعوت دینا ، اُن کی مجبوری ۔ سچ تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ہمیں بھی کچھ نہ کچھ بولنے کی عادت ہو چلی ہے ہاں یہ دعا ضرور کرتے ہیں کہ “کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”
جہاں تک نصاب کا تعلق ہے اُس کی تیاری ایک بورڈ یا کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس میں اکثر و بیشتر وہی اساتذہ ہوتے ہیں جو برسہا برس سے کالجوں یا یونیورسٹیوں میں اردو پڑھا رہے ہیں ۔انھیں خوب اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے نصاب میں کیا کمی تھی جو اِس بار انھیں دور کرنی چاہئے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلا نصاب پڑھاتے وقت طلباءکا رسپانس(response) کیا تھا۔اور خود انھیں کتنی پریشانیاں اٹھانی پڑی تھیں۔لہذا ایک خاموش سمجھوتے کے تحت بورڈ کے ممبران عموماً ایسا نصاب تیار کرتے ہیں جس کو پڑھانے میں انھیں زیادہ دشواری نہ ہواور اُن عنوانات پر ایک یا دو کتابیں بآسانی دستیاب ہوں۔ غرض نصاب بنانے میں فوکس(focus) استاد ہوتا ہے، نہ طالبِ علم۔ بالفاظ دیگر اپنی تساہلی اور مواد کی دستیابی ایسے نصاب کی سب سے اہم ترجیح ہوا کرتی ہے۔اور یہ تیاری بھی اتنی رواروی میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے موصوف نے میٹنگ سے ایک دن قبل ہی اس کا ڈرافٹ تیار کیا تھا۔اور کالج یا یونیورسٹی کی لائبریری سے مطلوبہ کتابیں حاصل کر کے اُن  کی فہرست سے نصاب کے لئے عنوانات تجویز کر لئے تھے ۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سارے کالجوں اور شعبہ کے سارے اساتذہ کے مشورے سے نصاب تیار کیا جائے۔اور یہ تو بہت کم ہوتا ہے کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے نصاب کو سامنے رکھ کر اپنا نصاب تیار کیا جائے۔ نتیجتاً نثر و نظم پڑھانے کے نام پر کسی شاعر اور ایک ناول نگار کو منتخب کرلیا اور شاعر کی دس بیس نظمیں اور ناول نگار کا ایک یا دو مشہور ناول تجویز کردیا۔ یہی حال کلاسیکی ادب کا ہوتا ہے۔ایک کلاسیکی شاعر اور کلاسیکی نثر و نگار غرض نصاب اس قدر مختصر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سنجیدہ ، ایماندار اور صاحبِ علم استاد اُس ایک پرچے کو پڑھانا چاہے تو بڑی آسانی سے اُسے تین ماہ میں ختم کر سکتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنی سہولت کی خاطر طلباءکو ادب کے ایک بڑے حصّہ سے محروم کردیتے ہیں ۔ وہ اگر غالب کا مطالعہ کرتے ہیں تو میر اور اقبال  سے محروم ہوجاتے ہیں اور سردار جعفری کو پڑھ لیں تو فیض اور فراق سے متعارف نہیں ہو پاتے۔نظیر اوراکبر کا ذکر کیا کریں اسی طرح طلباءکی کثیرتعدادمنٹو، عصمت ،بیدی اور قرة العین حیدر کے نام تو جانتی ہی ہے ، مگر ان کی ادبی قدرو قیمت سے واقف نہیں ہو پاتی ۔ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ آج ایسے اساتذہ کا فقدان ہے جو کسی ایک ادیب کو پڑھانے سے قبل اردو فکشن کا احاطہ کرتے ہوئے سارے اہم ادیبوں سے طلباءکو متعارف کراتے ہیں۔ نہ ہی ایسے پڑھے لکھے اساتذہ نظر آتے ہیں جنھوں نے اردو شاعری کا عمیق مطالعہ کیا ہو۔ لکھنﺅ اور دہلی اسکول کی خوبیوں کے ساتھ ترقی پسند اور جدید شعراءکی منظومات سے بھی طلباءکو متعارف کراسکیں۔ یہاں تک کہ ایک یونیورسٹی نے بڑی خاموشی سے اپنے نصاب سے علامہ اقبال کو حذف کردیا ہے کہ اُن کے کلام کو پڑھانے والے اساتذہ مل نہیں پائے۔ شاید آپ اِس پر بھی یقین نہ کریں مگر اب شاید ہی کسی یونیورسٹی کے نصاب میں قصیدہ شامل ہو۔یہ اور بات ہے کہ اردو والے اپنے آقاﺅں کی قصیدہ خوانی میں دن رات لگے رہتے ہیں۔
اِس ضمن میں ایک اور بات قابلِ غور ہے ، ہم اردو طالبِ علموں کی محدود سوچ کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے محبوب دائروں سے باہر نہیں نکل پاتے، کبھی غزلیں پکڑ لیتی ہیں تو کبھی کوئی خوبصورت کہانی پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں ۔ جبکہ عالم کاری کے اِس زمانے میں ضرورت ہے کہ ہم دیگر علوم کے سے بھی کما حقہ واقفیت حاصل کریں ۔ ہندوستان کی مختلف IIT میں انجنیئرنگ کے کورسیز کے ساتھ Humanities کا کورس بھی پڑھایا جانا چا ہیے تا کہ ایک انجنیئرکو یہ علم ہوسکے کہ انسانی سماج کیسے بنتے بگڑتے ہیں اور عالمی سیاسی بساط پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔کیا ہم یونیورسٹی کی سطح پر اپنے نصاب میں سماجی علوم کا ایک پرچہ رکھ کر اپنے طلباءکے ذہنی افق کو وا نہیں کر سکتے؟اسی طرح ہم اردو کے قواعد اور مضمون نویسی کے پرچے میں ترجمے کا چاہے وہ دس بیس نمبر کا ہی ہو ایک سوال ضرور رکھتے ہیں ۔ وہ اساتذہ جو انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں وہ ترجمے کے فن سے طلباءکو کو متعارف بھی کراتے ہیں ۔مگر کیا ایک یا دو سوالوں کا حل کردینا بچوں کو انگریزی زبان سے واقف کرا پاتا ہے۔کیوں نہ ہم یونیورسٹی کی سطح پر طلباءکو انگریزی کا ایک باقاعدہ نصاب پڑھائیں یا انھیں انگریزی زبان کے ساتھ ادب کے اہم شہ پاروں کے متعارف کرائیں تا کہ جب یہ ڈگریاں لیکر نکلیں تو آج طاقت کی سب سے بڑی زبان سے اُن کی شناسائی تو ہو۔جواہر لال یونیورسٹی کے ڈاکٹر نامور سنگھ نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا تجربہ کیا تھا۔انھوں نے پوسٹ گریجویشن کی سطح پر ہندی کے طلباءکواردو اور اردو طلباءکو ہندی کے ایک ایک پرچے سے متعارف کرایا تھا تاکہ اِس بہانے وہ ایکدوسرے کے ادب سے واقف ہوں اور یوں زبان کی سطح پر سہی دو مختلف زبان کے طلباءکی دوریاں کچھ کم ہو سکیں ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آپ چاہے کتنا ہی اعلیٰ اور معیاری نصاب بنالیں مگر اُسے پڑھانے والا اچھا استاد میسّر نہ ہو، تو پھر بھی وہ نصاب نرا نصاب ہی رہ جاتا ہے۔ بلکہ اکثر صورتوں میں ایک غیر معیاری ا ستاد اُس کاناس مار دیتا ہے ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک اچھے استاد نے ایک معمولی نصاب کو اتنا دلچسپ بنا کر پڑھایا کہ طلباءکی دلچسپی کورس کے خاتمے تک باقی رہی۔ غرض زبان و ادب کے پڑھانے کے لئے ایک اچھا استاد بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہ صرف نصاب ہی نہیں پڑھاتا زبان کی باریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور اپنے طلباءکو ذوقِ سلیم کی اس دولت سے نوازتا ہے جس کے سہارے وہ زندگی بھر دنیائے ادب کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ان کی تدریسی صلاحیتیں ہمارے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہےتو ہمیں تھوڑی دیر رک کر اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے کہ آخر ان کم نصیبوں کو کس نے پڑھایا تھا۔ کیا ان کے اساتذہ واقعی قد آور اساتذہ تھے ۔ کیا وہ علم و ادب سکھانے کے جنون میں مبتلا تھے؟ کیا ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا؟کیا اپنے طلبا کی تربیت میں وہ دل و جان سے مصروف تھے؟ اگر اُن کے اساتذہ بھی معمولی صلاحیتوں کے افراد تھے تو پھر اُن کی اہلیت کا شکوہ کیوں کریں۔ در اصل آج اساتذہ کی وہ کھیپ ناپید ہے جن کے لئے زبان و ادب پڑھانا زندگی کا واحد مقصد ہوا کرتا تھا۔جو اپنی ساری زندگی ادب کے مطالعہ، علمی تحقیقی کام اور اپنے شاگردوں کی تربیت میں صرف کردیتے تھے۔ یہ اساتذہ اُن گھرانوں سے آئے تھے جہاں تہذیبی قدریں زندہ تھیں جہاں مادی آسائشوں اور نام و نمود کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔اِس لئے ساٹھ اور ستر کی دہائی تک آپ کو اردو کے ایسے اساتذہ کے نام سنائی پڑتے ہیں جو اپنے شعبوں کی شناخت تھے۔ علی گڑھ میں رشید احمد صدیقی ، خورشیدالاسلام، مسعود حسین خان، دہلی میں خواجہ احمد فاروقی، الہ باد میں اعجاز حسین ، احتشام حسین، ممبئی میں نجیب اشرف ندوی ظہیرالدین مدنی، عالی جعفری وغیرہ۔پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور علم و تعلیم کا زوال شروع ہوا، اداروں کو گُھن لگنے لگی اور تہذیبی قدریں مدھم پڑتی گئیں ۔ لہذا بعد کی کھیپ جو آئی وہ پچھلی کھیپ سے کمتر نکلی ۔ پھر تو جو سلسلہ شروع ہوا تو علم تعلیم کے زوال کے ساتھ ساتھ دانشوری کی روایت بھی زوال پذیر ہوئی اور اساتذہ کی تقرری میں وہ سارے عوامل کام کرنے لگے جن کا تعلق کسی طورعلم و تعلیم سے نہیں تھا۔ کہیں سفارش کا سکّہ چلا تو کہیں کسی سیاسی قائد کا دباﺅ بڑھا، کہیں کسی شاگرد کو وفاداری کا صلہ دیا گیا۔تو کہیں علاقائیت کو مستحکم کیا گیا۔in-breeding کی اصلاح کا ذکر کیا کریں اقرباءپروری اور دوست نوازی نے بھی اردو کے شعبوں کو نہیں بخشا۔غرض حال یہ ہوا کہ تقرر کرنے والا تو پستہ قد تھا ہی ،جس کا تقرر کیا گیا وہ اُس سے بھی کوتاہ قد تھا۔ہارورڈ یونیورسٹی میں آج بھی جب کوئی اسامی خالی ہوتی ہے اُس کے لئے عالمی سطح پر تلاش شروع کردیتے ہیں ۔ کنیڈا کی ایک یونیورسٹی میں لکچرر شپ کے لئے وہاں کے صدر شعبہ نے ممبئی کے ایک پی۔ایچ۔ڈی کے طالبِ علم کو دعوت دی تھی۔صرف اس لئے کہ اس طالبِ علم کی پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ صدر موصوف نے پڑھا تھااور حیران تھے کہ اِس صاحبزادے نے اتنا معیاری مقالہ کیسے لکھ لیا۔ہمارے یہاں جب آپ شعبہ میں ایک بار داخل ہو جائیں تو پھر آپ ہر طرح کے امتحان سے بری ہو جاتے ہیں جبکہ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں آج بھی اساتذہ کو صرف ایک سال کا کنٹریکٹ دیا جاتا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا باقاعدہ تجزیہ کرکے جس میں صدر شعبہ کی رائے، رفقائے کار کی رائے اور طلبا کی آراءاور پھر استاد کے علمی کاموں کی جانچ کے بعد ہی استاد محترم کو ان کے منصب پر باقی رکھا جاتا ہے۔ہم اِس طرح کا کوئی اصول بنائیں تو اساتذہ کی یونین ایک ہنگامہ کھڑا کردے گی۔ لہذا نا اہل سے نا اہل امیدوار بھی کالج یا یونیورسٹی کی لکچرر شپ کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے کیوں کہ اسے پتہ ہے،ایک بار اُسے تقرری کا پروانہ مل گیا پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے مات نہیں دے سکتی۔اب وہ سماج میں اونچے منصب پر فائز ہوگا اور چھٹے پے کمیشن کے حساب سے اچھی خاصی تنخواہ پائے گا۔ رہا پڑھنا پڑھانا ، تو نصاب ہی تو پڑھانا ہے کچھ نوٹس بنا لیں گے اور کچھ سابق طالبِ علموں سے لے لیں گے کچھ نہیں بن پڑا تو پوری کتاب زیروکس کرالیں گے۔اس دوران صدر شعبہ یا پرنسپال صاحب سے پینگیں بڑھنے لگیں تب تو سارے کام آسان ہو جائیں گے، اور کسی سے مقابلہ تو کرنا ہے نہیں ، خود کو بہتر کرنے کا جذبہ بھی عرصہ پہلے سرد ہوچکا ہے، ہاں اپنے jobکو permanent کرنے کے لئے جو لازمی قابلیت درکار ہوتی ہے جیسے orientation کورسیز اور ریفریشر کورسیز وغیرہ وہ بھی اب routine بن چکا ہے۔ اور ہر لیکچرر دیر سویر مکمل کرہی لیتا ہے۔رہی سمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت ، تو یہ آپ حضرات سے کہنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ مرحلے بھی بڑی آسانی سے طے ہوجاتے ہیں
ہوتے نہ لیکچرر تو کئی لوگ جعفری
ساحل پہ بیچتے کہیں چھولے دہی بڑے
رہے ہمارے اساتذہ کے تحقیقی کام تو اس پر کچھ کہتے شرم آتی ہے۔کالج ہوں یا یونیورسٹی ،اردو کے شعبوں کی پی۔ایچ۔ڈی کی علمی دنیا میں کوئی وقت نہیں رہی پچھلے بیس پچیس برسوں میں اکادکا کوئی تحقیقی کام ہوگا جس نے اردو دنیا پر اپنے اثرات چھوڑے ہوں۔ورنہ یہ ایسی مشق ہو چکی ہے کہ آپ کا گائڈ آپ کے مقالے کو یہاں وہاں سے دیکھ کر یونیورسٹی میں پیش کردیتا ہے اور اپنے دوست ممتحن کو مطلع کردیتا ہے کہ بھائی مع اہل و عیال ہمارے شہر تشریف لے آئیے میرا شاگرد آپ کی مہمان نوازی کے لئے بے تاب ہے۔اب یہ لیکچرر صاحب کی ذمہ داری ہے کہ ممتحن صاحب کی آﺅ بھگت کریں ، اُن کے آرام کا خیال رکھیں انھیں اسٹیشن یا ائیرپورٹ لینے اور چھوڑنے جائیں اور انھیں یہ باور کرادیں کہ ان سے زیادہ پڑھا لکھا شخص اس قطعہءارض پر ابھی تک پیدا نہیں ہوا، مزید یہ کہ آپ نے ان کی ساری کتابیں اور مقالے پڑھ رکھے ہیں اور اپنے لکچرس میں صرف اُن سے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ غرض یہ ڈرامہ اتنی پابندی اور اس مہارت سے کھیلا جاتا ہے کہ اب ہر مقالہ نگار کو پتہ ہے کہ اُسے اپنے گائڈ اور مہمان ممتحن کو ان کی محنت کا کتنا صلہ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کے مقالے یونیورسٹی لائبریریوں کے کسی کونے میں ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہ خود بھی کالج یا یونیورسٹی کے رجسٹرار کو اُس کی رسید دے کر بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے بھی کبھی کوئی علمی کارنامہ انجام دیا تھا۔ہاں اب یہ بات بھی کوئی راز نہیں رہ گئی کہ ایسے Ghost رائٹر بھی موجود ہیں جو مناسب حقِ محنت پر آپ کو مقالہ لکھ کر دیں گے۔ ظاہر ہے جب یونیورسٹی کا سارا نظام کرپٹ ہوچکا ہو وہاں شاطر قسم کے افراد کے لئے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کا حصول کوئی مشکل کام نہیں رہ جاتا۔ چونکہ اردو والوں کے ہاں ایسا کوئی میکانزم بھی نہیں ہے جو آزادانہ طور پر ان مقالوں کی علمی حثیت جانچ سکے۔اس لئے ان مقالوں کی اکثریت صرف پی۔ایچ۔ڈی کی لازمی قابلیت کی خانہ پُری کے کام آتی ہے جس سے تنخواہ میں اضافہ مقصود ہوتا ہے اور بس۔
مختصراً یہ کہ اردو اساتذہ میں علم کے حصول کی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور اب وہ بھی خود کو ڈگری تفویض کرنے کی فیکٹری کا ایک فرد سمجھنے لگے ہیں ۔ انھیں اب اپنے increment کی فکر رہتی ہے۔اور اُن کی ساری سہولتوں کی جس کا وہ خود کو مستحق سمجھتے ہیں۔انھیں اس بات کی فکر نہیں کہ اردو کے طالبِ علموں کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے۔ انھیں اس بات کا بھی دکھ نہیں کہ شہر کے مختلف کالجوں میں اردو کے شعبے بند ہونے لگے ہیں۔ یہ تو مہاراشٹرا آندھرا پردیش ایسی ریاستیں ہیں جہاں آج بھی اردو اسکول جاری ہیںاور کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اردو کے طلباءمل جاتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہماری اسکولی تعلیم کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔بلکہ اسکولوں میں اردو کا معیار اس قدر ناقص ہوچلا ہے کہ اردو میں بی۔اے کرنے والے طلباءبھی ڈھنگ کا مضمون نہیں لکھ پاتے، اُن کا اِملا درست ہوتا ہے نہ تلفّظ، ادب سے شناسائی تو دور کی بات رہی، وہ تو صرف اِس لئے شعبہءاردو کا رخ کرتے ہیں کے ان کے نمبرات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ وہ کسی اور شعبہ میں داخل ہو کر کامیاب ہو ہی نہیں سکتے۔ویسے بھی آرٹس فیکلٹی آج سارے ملک میں بحران کا شکار ہے اور ایک سروے کے مطابق آرٹس کے صرف دس فیصد طلباءہی عالمی معیار پر پورے اترتے ہیں۔(اردو والے تو شاید اس صد فیصد میں نظر بھی نہ آئیں)
بہر حال اگر ہمیں اردو کی تدریس کی بہتری کی طرف قدم بڑھانا ہے تو سب سے پہلے اسکول میں اردو کی تدریس پر دھیان دینا ہوگا۔ اپنے شعبوں میں ایسے افرادکا تقرر کرنا ہوگا جو اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کو اپنی زندگی کی اہم ترجیحات سمجھتے ہوں وہ ایسے افراد ہوں جو نہ صرف خود مطالعہ کا شوق رکھتے ہوں بلکہ طلباءکو مطالعہ پر مائل کر سکتے ہوں۔جو اپنی کلاسوں میں طلبا کو صرف ادب کی اعلیٰ قدروں سے متعارف کرانے کا ہنر ہی نہ جانتے ہوں بلکہ اپنے حسن سلوک اور کردار سے انھیں متاثر بھی کریں۔ وہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انھیں تخلیقی سوچ اور تجزیہ کرنے پر بھی مائل کر سکیں اور تحریر و تقریر کے رموز و آداب سے بھی روشناس کراسکیں ۔ گو ایک مخصوص مدت میں نصاب کی تکمیل ایک استاد کی محض ذمہ داری قرار دی گئی ہے، مگر وہ چاہے تو اپنے اسی محدود وقت میں طلباءکو نصاب سے کچھ زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے ایک کھلا ذہن اور غیر جانب دارانہ اندازِ تدریس درکار ہے، جو ایک اچھا استاد چاہے تو تھوڑی سی محنت سے یقیناً حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارے اساتذہ اسی محنت کو اپنا شعار بنالیں اور اپنے کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنے لگیں تو اردو کی بے رنگ اور بے کیف تدریس میں انقلاب آسکتا ہے۔ اردو تدریس کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے نکل کر دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں سے رابطہ رکھیں ،جو تحقیقی کاموں میں شراکت کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔اور اساتذہ اور طلباءکے Excange پروگراموں کے انعقاد میں بھی۔ لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ ہم ایک لگے بندھے ڈھرے سے ہٹ کر صرف اور صرف اردو زبان و ادب کی محبت میں انتھک محنت پر راضی ہیں؟ یہ نہ بھولئے کہ کسی شعبہ کی شناخت اس کا معیار اور اُس کی ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ اس شعبہ نے کتنے ذہین اور با ذوق طلباءکو اپنی طرف مائل کیا ، وہاں کے اساتذہ کتنے معیاری، کتنے محنتی،کتنے جنونی اور کتنے عالم ہیں، اور وہاں کس معیار کے علمی کام ہو رہے ہیں۔
٭٭٭

The Role of Literature in Current World Scenario

Articles

موجودہ عالمی صورتِ حال میں ادب کے تقاضے

ڈاکٹر سیّد جعفر احمد

 

اکیسویں صدی کے عصری منظر نامے کی تفہیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے اقتصادی محرکات اور عوامل کا بھی شعور حاصل نہ کرلیا جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کا سیاسی منظر نامہ ہمارے اقتصادی منظر نامے سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس وقت ہر طرف گلوبلائزیشن کا دور دورہ ہے اور یہ اصطلاح سکہ¿ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ غور سے دیکھیں تو گلوبلائزیشن بھی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ دنیا نے جب سے سرمایہ دارانہ نظام کا تجربہ کیا ہے یہ گلوبلائزیشن ہمیشہ ہی افق پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح موجود رہی ہے۔ سرمائے کی سرشت میں ہے کہ وہ پھیلتا ہے۔ اس کی طبع میں ہے کہ یہ’ رُکتی ہے تو ہوتی ہے رواں اور ‘۔ اس کے آگے بند باندھنا مشکل ہوتا ہے۔ سو گزشتہ تین چار سو سال سے سرمایہ Globalizeہونے ہی کی طرف مائل تھا اور آج اس کی بن آئی ہے، چنانچہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا پر اپنے پھریرے لہراتی پھر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے بجٹ تیسری دنیا کے کئی کئی ملکوں کے بجٹوں سے زیادہ ہیں۔ یہ حکومتوں کو بنواتی ہیں اور گراتی ہیں، آبادیوں کو تہہ تیغ کرتی ہیں، لاکھوں نفوس ان کی مصنوعات کی تجربہ گاہ بنتے ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی نظام اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انھوں نے اطلاع کو ایک صنعت بناکر اس کو بھی اپنے قبضے میں کرلیا ہے۔ پھر ان کثیر القومی کمپنیوں میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کی اکثریت ہے۔یہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیرہ دستیاں ہیں جن سے آج کا نیا عالمی نظام اپنی شناخت پاتا ہے۔
اس نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ امیر اور غریب ملکوں کے درمیان تفاوت بڑھا ہے۔ چھوٹے ملکوں کی مختاری اور آزادی جو پہلے ہی بہت محدود تھی اب تقریباً معدوم ہوچکی ہے۔ غریب ملکوں کے بالا دست طبقات تو نئے نظام کا دُم چھلا بن کر اپنی مطلب براری کرلیتے ہیں لیکن زیر دست طبقات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ خود امیر ملکوں میں امیر اور غریب کا تضاد روز افزوں ہے۔ معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مقامی آبادی اور تارکینِ وطن کے درمیان خلیج بڑھتی جاتی ہے جس کا مظہر آئے دن کے فرقہ وارانہ اور نسلی ہنگامے ہیں۔
گلوبلائزیشن کے سماجی اثرات سے مربوط اس کے تہذیبی اثرات ہیں۔ گلوبلائزیشن نے چھوٹی ریاستوں اور ان کے تشخص کو ہی پامال نہیں کیا ہے بلکہ اس نے چھوٹے ملکوں اور چھوٹی آبادیوں کی ثقافتوں کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی کوشش کی ہے۔ گلوبلائزیشن کے زیرِ اثر وہی زبان یا زبانیں برقرار رہنے کا پروانہ حاصل کرپاتی ہیں جو بڑی منڈیوں کی زبانیں ہیں۔ جو زبان بازار میں نہیں بولی جاتی یا بازار میں جس کے لیے مناسب جگہ نہیں بن سکی ، اس کا مستقبل تاریک ہوتا جاتا ہے۔ بیسیوں زبانیں پچھلے چند برسوں میں لسانی منظر نامے سے غائب ہوچکی ہیں اور بہت سی زبانیں ممکنہ مخدوش مستقبل سے دوچار ہیں۔ زبانوں کا معدوم ہوجانا شاید مملکتوں اور ریاستوں کے معدوم ہوجانے سے بھی زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ زبانیں تہذیب کی امانت دار ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان میں ہمارے پُرکھوں کے خواب محفوظ ہوتے ہیں، وہ ہمارے خیالات میں ارتفاع پیدا کرتی ہیں، ان کے وسیلے سے ہم اپنی اُمنگوں کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔ ایک زبان کا مَر جانا بہت سے خوابوں ، ان گنت خیالوں اور بہت سی قدروں کا مَر جانا ہوتا ہے۔ گلوبلائزیشن سے آج یہی خواب ، خیال اور قدریں مَر رہی ہیں۔ ہماری تہذیب کا ایک بہت درخشاں حصہ خزاں کے پت چھڑ کی طرح شاخوں سے ٹوٹ کر ختم ہورہا ہے۔
نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن نے تہذیب کی سطح پر جو دوسرا بڑا وار کیا ہے وہ ثقافتوں اور زبانوں پر حملے سے بھی سنگین ہے اور وہ ہے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا وار۔ بظاہر اس وقت دنیا میں ایک نام نہاد اطلاعات کا انقلاب آیا ہوا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے معلومات کے ذخیرے کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے۔ کمپیوٹر نے انسان کے ذخیرہ¿ معلومات میں جس رفتار سے اضافہ کیا ہے خود اس رفتار کو ناپنا بھی اب کمپیوٹر کے بغیر ناممکن ہوچکا ہے۔ سیٹیلائٹس نے انسان کی رسائی ہزاروں چینلز تک کردی ہے اور خبریں جو کبھی ڈھونڈنے سے ملا کرتی تھیں اب سیلاب کی شکل میں ہمارے وجود کو غرق کرنے پر تلی نظر آتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کس خبر کو درست سمجھا جائے اور کس کو غلط، یا درست اور غلط کے درمیان جو ہزاروں رنگ ہیں ان میں سے کس رنگ پر اعتبار کیا جائے ۔میڈیا نے گلوبلائزیشن کی محرک قوتوں کے اور نئے عالمی نظام کی قیادت پر فائز حکومتوں کے ہاتھ میں ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا ایسا آلہ فراہم کردیا ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو کیا رائے قائم کرنی چاہیے، ان کو کس چیز کو منتخب اور کس کو رَد کرنا چاہیے، ان کو اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے کس قسم کے فیصلے کرنے چاہیے ، ان کو کیا پینا چاہیے ، کیا کھانا چاہیے ، کیا سوچنا چاہیے اور کون سے خواب دیکھنے چاہیے ، آج یہ سب کچھ انسان کے اپنے اختیار سے نکل کر میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں شہریوں کے سوچنے اور سمجھنے پر میڈیا کے ذریعے کنٹرول کا حربہ وہاں کے کارپوریٹ سیکٹر اور ریاست کا اب تک کا سب سے کارآمد حربہ ہے۔ نام چومسکی اس صورتِ حال کو Necessary Illussionsسے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ Water Lippmann کے اتّباع میں مغربی جمہوریت کو ’تماش بینوں‘ کی جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ Lippmannکے خیال میں یہ ایسی جمہوریتیں ہیں جہاں بھٹکے ہوئے ہجوم رہنمائی کے طالب تو ہوتے ہیں، با اختیار ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ چومسکی کا کہنا ہے کہ ’پروپیگنڈہ مغربی جمہوریت میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک آمرانہ ریاست میں ڈنڈے کو حاصل ہوتی ہے۔ دونوں کا کام لوگوں کو ہانکنا اور ان کو ایک خاص سمت میں لے جانا ہوتا ہے۔‘اپنی کتاب ’ذرائع ابلاغ کا کنٹرول‘ (Media Control) میں چومسکی نے بتایا ہے کہ کس طرح ووڈرو ولسن (Woodrow Wilson) کے زمانے میں صرف چھ ماہ میں ایک خاموش طبع آبادی کو ایک ہیجان اور جنگی جنون میں سرشار آبادی میں ڈھال دیا گیا اور کس طرح بش سینئر کے زمانے میں قوم کو میڈیا کے ذریعے اور پبلک ریلیشننگ کی صنعت کے ذریعے جنگ بازی کے لیے تیار کرلیا گیا۔ چومسکی اور ان جیسے دانشور غلط نہیں ہیں۔ ہم خود بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی ہولناک جنگی کاروائیوں ، عراق میں اس کی انسانیت کش سرگرمیوں اور افغانستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں اس کی بربریت کی تہہ در تہہ تفصیلات کے منظرِ عام پر آنے کے باوجود امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی حکومت کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔
گلوبلائزیشن کا تیسرا بڑا حملہ جو بہت خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے ہوا ہے ، وہ ہماری زبان ، ہمارے لغت بلکہ یہاں تک کہا جاسکتا ہے کہ ہماری ترقی پسند زبان اور لغت کے اغوا کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ آج ہماری اصطلاحیں ، ہمارے نعرے، ہمارے استعارے اُن انسان دشمن اور تہذیب ناشناس قوتوں کے تصرف میں ہیں جن کے خلاف ہم جد و جہد کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ چنانچہ صدر بس اور ٹونی بلیئر عراق کو ’آزاد‘ کرواتے ہیں۔ امریکہ عراق اور افغانستان میں ’جمہوری آزادیاں‘ لے کر آرہا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ’حقوقِ انسانی‘ کا شور مچاتی نظر آتی ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو ’بچوں کی محنت‘ شاق گزرتی ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کو بنیاد پرستی بُری لگنے لگی ہے اور وہ ’مذہبی ہم آہنگی‘ اور ’رواداری‘ کے علمبردار بن چکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں کے کاسہ لیس حکمراں اپنے اپنے ملکوں میں ’جمہوریت کو نچلی سے نچلی سطح‘ تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور فوجی آمریتیں ‘میانہ رَوئی اور روشن خیالی‘ کی علمبردار نظر آتی ہیں۔ الفاظ و اصطلاحات ، زبان و لغت کے اس اغوا کے بعد ہم جیسے لوگوں کے لیے اب ایک اضافی آزمائش یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہم کس طرح اپنی زبان اور اپنے لفظیات کی بازیافت کرتے ہیں۔
٭٭٭

Lajwanti by Rajindar Singh Bedi

Articles

لاجونتی

راجندر سنگھ بیدی

 

راجندر سنگھ بیدی ایک تعارف

قمر صدیقی

اردو کے معروف فکشن نگار راجندر سنگھ بیدی غیرمنقسم پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکامیں ۱۹۱۵ء میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزرے۔ اس زمانے کی روایت کے مطابق انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اردو میں حاصل کی۔۱۹۳۱ء میں میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد ڈی۔اے ۔وی کالج لاہور سے انٹر میڈیٹ کیا۔گھرکے معاشی حالات بہت اچھے نہ تھے اس وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کا گریجویشن کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔۱۹۳۲ء سے طالب علمی کے زمانے میں ہی انگریزی ، اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے تھے۔
راجندر سنگھ بیدی کے معاشی حالات چونکہ اچھے نہ تھے ۔لہٰذا محض۱۸سال کی عمر میں انھوں نے لاہور پوسٹ آفس میں ۱۹۳۳ء میں بطورکلرک ملازمت اختیار کرلی۔یہ ملازمت ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو راس نہیں آرہی تھی اوروہ بہتر ملازمت کی تلاش میں تھے۔ ۱۹۴۱ء میں انھیں آل انڈیا ریڈیو ، لاہور کے اردو سیکشن میں ملازمت مل گئی۔ آل انڈیا ریڈیو کے ادبی ماحول میں ان کی صلاحیتیں دھیرے دھیرے نکھرنے لگیں۔ اس دوران انھوں نے ریڈیو کے لیے متعددڈرامے تحریر کیے۔ ان ڈراموں میں ’’خواجہ سرا‘‘ اور ’’ نقل مکانی‘‘ بہت مشہور ہوئے۔ بعد ازاں ان دونوں ڈراموں کو ملاکر انھوں نے ۱۹۷۰ء میں فلم ’’دستک‘‘ بنائی۔
۱۹۴۳ء میں راجندر سنگھ بیدی لاہور کے مہیشوری فلم سے وابستہ ہوگئے۔ اس ملازمت میں ڈیڑھ سال رہنے کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو واپس آگئے۔ ریڈیو واپسی پر انھیں جموں میں تعینات کیا گیا جہاں وہ ۱۹۴۷ء تک رہے۔۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم ہوئی اور بیدی کا خاندان ہندوستان کی ریاست پنجاب کے فاضلکہ میں آباد ہوگیا۔ البتہ بیدی پاکستان سے نقل مکانی کرکے ممبئی آگئے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئے۔ڈی ڈی کیشپ کی نگرانی میں بننے والی فلم ’’بڑی بہن‘‘ بطور مکالمہ نگار ہندوستان میں بیدی کی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم ۱۹۴۹ء میں ریلیز ہوئی۔ ان کی دوسری فلم ’’داغ‘‘ تھی جسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور فلم انڈسٹری میں بیدی کی شناخت قائم ہوگئی۔ ’’داغ‘‘۱۹۵۲ء میں ریلیز ہوئی تھی۔
۱۹۵۴ء میں بیدی نے امرکمار ، بلراج ساہنی اور گیتا بالی کے ساتھ مل کر ’’سِنے کو آپریٹیو ‘‘ نامی فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی نے پہلی فلم ’’گرم کوٹ‘‘ بنائی جو بیدی کے ہی مشہور افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ پر مبنی تھی۔ اس فلم میں بلراج ساہنی اور نروپارائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھاجبکہ امرکمار نے ہدایت کاری کی خدمات انجام دی تھیں۔اس فلم کے ذریعے راجندر سنگھ بیدی کو پہلی بار اسکرین پلے تحریر کرنے کا موقع ملا۔ سِنے کو آپریٹیو نے دوسری فلم ’’رنگولی‘‘ بنائی جس میں کشور کمار ، وجنتی مالا اور درگا کھوٹے نے مرکزی کردار ادا کیے اور امرکمار نے ڈائریکشن دیا۔ اس فلم میں بھی اسکرین پلے راجندر سنگھ بیدی نے ہی تحریر کیا تھا۔
اپنی ذاتی فلم کمپنی کے باوجود بیدی نے مکالمہ نگاری جاری رکھی اور متعدد مشہور فلموں کے ڈائیلاگ تحریر کیے۔ جن میں سہراب مودی کی فلم ’’ مرزا غالب‘‘ (۱۹۵۴ء) ، بمل رائے کی فلم ’’دیو داس‘‘(۱۹۵۵ء)اور ’’مدھومتی‘‘(۱۹۵۸ء) امرکمار اور ہریکیش مکرجی کی فلمیں ’’انورادھا‘‘ (۱۹۶۰ء)، ’’انوپما‘‘(۱۹۶۹ء) ، ’’ستیم‘‘ (۱۹۶۶ء) ، ’’ابھیمان‘‘ (۱۹۷۳ء) وغیرہ شامل ہیں۔
۱۹۷۰ء میں فلم ’’دستک‘‘ کے ساتھ انھوں نے ہدایت کاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں سنجیو کمار اور ریحانہ سلطان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ موسیقی کار مدن موہن تھے۔ ’’دستک‘‘ کے علاوہ انھوں نے مزید تین فلموں ’’پھاگن‘‘ (۱۹۷۳ء)، ’’نواب صاحب‘‘ (۱۹۷۸ء) اور ’’آنکھوں دیکھی‘‘(۱۹۷۸ء) میں ہدایت کاری کے جوہر دکھائے۔
راجندر سنگھ بیدی کے ناول ’’ایک چادر میلی سی‘‘ پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلم بن چکی ہے۔ پاکستان میں ۱۹۷۸ء میں ’’مٹھی بھر چاول‘‘ کے عنوان سے جبکہ ہندوستان میں ’’ایک چادر میلی سی‘‘ کے ہی نام سے ۱۹۸۶ء میں۔ اس طرح وہ برصغیر ہند و پاک کے واحد فکشن نگار ہیں جن کی ایک ہی کہانی پر دونوں ممالک میں یعنی ہندوستان اور پاکستان میں فلم بن چکی ہے۔بیدی کے افسانے ’’لاجونتی‘‘ پر نینا گپتا ۲۰۰۶ء میں ایک ٹیلی فلم بھی بنا چکی ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کی شادی خاندانی روایت کے مطابق کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی بیوی گھریلو خاتون تھیں اور بیدی نے تا عمر ان کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک رکھا۔حالانکہ اداکارہ ریحانہ سلطان کے ساتھ معاشقے کی خبریں بھی گرم ہوئیں تاہم بیدی کی ازدواجی زندگی پر اس کے کچھ خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ بیدی کی شخصیت میں امن پسندی، صلح کل اور محبت و رواداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہی محبت واپنائیت ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا سبب بنی۔ بیدی کی صرف ایک اولاد تھی جس کا نام نریندر بیدی تھا۔ جوان ہوکر نریندر بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے اور بطور فلم ڈائریکٹر اور فلم ساز انھوں نے خوب نام کمایا۔ان کی مشہور فلموں میں ’’جوانی دیوانی‘‘( ۱۹۷۲ء) ، ’’بے نام‘‘ (۱۹۷۴ء)، ’’رفو چکر‘‘ (۱۹۷۵ء) اور ’’صنم تیری قسم ‘‘ (۱۹۸۲ء) وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ نریندر بیدی۱۹۸۲ء میں انتقال کرگئے۔ بیٹے کی اس ناگہانی موت کے صدمے سے راجندر سنگھ بیدی ابھر نہ سکے اور نریندر کی موت کے دو سال بعد ۱۹۸۴ء میں وہ بھی دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
راجندر سنگھ بیدی کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کے کل چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ’’دانہ و دام‘‘(۱۹۳۶ء)اور ’’گرہن‘‘ (۱۹۴۲ء) آزادی سے پہلے شائع ہوچکے تھے۔’’کوکھ جلی‘‘(۱۹۴۹ء)، ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘(۱۹۶۵ء) ، ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘(۱۹۷۴ء)اور ’’مکتی بودھ‘‘ (۱۹۸۲ء) آزادی کے بعد منظر عام پر آئے۔ ڈراموں کے دو مجموعے ’’بے جان چیزیں‘‘(۱۹۴۳ء) اور ’’سات کھیل ‘‘ (۱۹۷۴ء) بھی شائع ہوئے۔ ان کا ناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘۱۹۶۲ء میں شائع ہوا۔ انھیں۱۹۶۵ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جبکہ ۱۹۷۲میں حکومتِ ہند نے پدم شری کا خطاب عطا کیا۔ ۱۹۷۸ء میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔
راجندر سنگھ بیدی کو کردار نگاری اور انسانی نفسیات کی مرقع کشی میں کمال حاصل تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقت نگار تھے۔اگرچہ انھوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا، وہ قدرِ اول کی چیز ہے۔ بیدی کسی فیشن یا فارمولے کے پابند نہیں تھے۔ ان کے افسانوں میں مشاہدے اور تخیل کی آمیزش ملتی ہے۔ انسانی نفسیات پر گہری نظر کی وجہ سے ان کے کردار صرف سیاہ و سفید کے خانوں میں بند نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ اس تعلق سے پروفیسر شمس الحق عثمانی رقم طراز ہیں:
’’راجندر سنگھ بیدی کے فن کے ان اجزا و عناصر ۔۔۔۔۔ ان کی پُر جہد زندگی۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کی پُر گداز شخصیت کے تارو پود کو ایک دوسرے کے قریب رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے وجود کے جن لطیف ترین اجزا کے تحفظ و ارتفاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی زندگی میں پیش کیا، ان اجزا نے انھیں گہرا ایقان اور عمیق بصیرت عطا کی۔۔۔۔۔۔۔اسی ایقان اور بصیرت نے اُن کے پورے فن میں وہ عرفانی کیفیت خلق کی ہے جس کے وسیلے سے راجندر سنگھ بیدی اپنے ارد گرد سانس لینے والے افراد کو شناخت کرتے اور کراتے رہے۔ افراد کی شناخت کا یہ عمل دراصل کائنات شناسی کا عمل ہے کیونکہ راجندر سنگھ بیدی کا فن ، آدمی کے وسیلے سے ہندوستانی معاشرے ۔۔۔۔۔۔ ہندوستانی معاشرے کے وسیلے سے آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہندوستانی آدمی کے وسیلے سے پورے انسانی معاشرے کی شناخت کرتا ہے۔‘‘
(ممبئی کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتگان ۔ مرتب: پروفیسر صاحب علی۔ ص: ۱۰۶۔ ناشر : شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی)
راجندر سنگھ بیدی کی کہانیوں میں رمزیت ، استعاراتی معنویت اور اساطیری فضا ہوتی ہے۔ ان کے کردار اکثر و بیشتر محض زمان و مکاں کے نظام میں مقید نہیں رہتے بلکہ اپنے جسم کی حدود سے نکل کر ہزاروں لاکھوں برسوں کے انسان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ یوں تو ان کے یہاں ہر طرح کے کردار ملتے ہیں لیکن عورت کے تصور کو ان کے یہاں مرکزیت حاصل ہے۔ عورت جو ماں بھی ہے، محبوبہ بھی ، بیوی بھی اور بہن بھی۔ ان کے یہاں نہ تو کرشن چندر جیسی رومانیت ہے اور نہ منٹو جیسی بے باکی۔ بلکہ ان کا فن زندگی کی چھوٹی بڑی سچائیوں کا فن ہے۔ فن پر توجہ بیدی کے مزاج کی خصوصیت ہے۔ ان کے افسانوں میں جذبات کی تیزی کے بجائے خیالات اور واقعات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے زندگی کی گہری معنویت ہوتی ہے۔


 

لاجونتی
(تحریر: راجندر سنگھ بیدی)

’’ ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے …‘‘
(یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ کمھلا جاتے ہیں)
—— ایک پنجابی گیت
بٹوارہ ہوا اور بے شمار زخمی لوگوں نے اُٹھ کر اپنے بدن پر سے خون پونچھ ڈالا اور پھر سب مل کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے جن کے بدن صحیح و سالم تھے، لیکن دل زخمی ……
گلی گلی، محلّے محلّے میں ’’پھر بساؤ‘‘ کمیٹیاں بن گئی تھیں اور شروع شروع میں بڑی تندہی کے ساتھ ’’کاروبار میں بساؤ‘‘ ، ’’زمین پر بساؤ‘‘ اور ’’گھروں میں بساؤ‘‘ پروگرام شروع کردیا گیا تھا۔ لیکن ایک پروگرام ایسا تھا جس کی طرف کسی نے توجہ نہ دی تھی۔ وہ پروگرام مغویہ عورتوں کے سلسلے میں تھا جس کا سلوگن تھا ’’دل میں بساؤ‘‘ اور اس پروگرام کی نارائن باوا کے مندر اور اس کے آس پاس بسنے والے قدامت پسند طبقے کی طرف سے بڑی مخالفت ہوتی تھی ——
اس پروگرام کو حرکت میں لانے کے لیے مندر کے پاس محلّے ’’ملاّ شکور‘‘ میں ایک کمیٹی قائم ہوگئی اور گیارہ ووٹوں کی اکثریت سے سندرلال بابو کو اس کا سکریٹری چُن لیا گیا۔ وکیل صاحب صدر چوکی کلاں کا بوڑھا محرر اور محلّے کے دوسرے معتبر لوگوں کا خیال تھا کہ سندر لال سے زیادہ جانفشانی کے ساتھ اس کام کو کوئی اور نہ کرسکے گا۔ شاید اس لیے کہ سندرلال کی اپنی بیوی اغوا ہوچکی تھی اور اس کا نام تھا بھی لاجو —— لاجونتی۔
چنانچہ پربھات پھیری نکالتے ہوئے جب سندر لال بابو، اس کا ساتھی رسالو اور نیکی رام وغیرہ مل کر گاتے —— ’’ہتھ لائیاں کمھلان نی لاجونتی دے بوٹے…‘‘ تو سندر لال کی آواز ایک دم بند ہوجاتی اور وہ خاموشی کے ساتھ چلتے چلتے لاجونتی کی بابت سوچتا —— جانے وہ کہاں ہوگی، کس حال میں ہوگی، ہماری بابت کیا سوچ رہی ہوگی، وہ کبھی آئے گی بھی یا نہیں؟… اور پتھریلے فرش پر چلتے چلتے اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے۔
اور اب تو یہاں تک نوبت آگئی تھی کہ اس نے لاجونتی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑدیا تھا۔ اس کا غم اب دُنیا کا غم ہوچکا تھا۔ اس نے اپنے دکھ سے بچنے کے لیے لوک سیوا میں اپنے آپ کو غرق کردیا۔ اس کے باوجود دوسرے ساتھیوں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اسے یہ خیال ضرور آتا —— انسانی دل کتنا نازک ہوتا ہے۔ ذراسی بات پر اسے ٹھیس لگ سکتی ہے۔ وہ لاجونتی کے پودے کی طرح ہے، جس کی طرف ہاتھ بھی بڑھاؤ تو کُمھلا جاتا ہے، لیکن اس نے اپنی لاجونتی کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں کوئی بھی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ وہ اسے جگہ بے جگہ اُٹھنے بیٹھنے ، کھانے کی طرف بے توجہی برتنے اور ایسی ہی معمولی معمولی باتوں پر پیٹ دیا کرتا تھا۔
اور لاجو ایک پتلی شہتوت کی ڈالی کی طرح، نازک سی دیہاتی لڑکی تھی۔ زیادہ دھوپ دیکھنے کی وجہ سے اس کا رنگ سنولا چکا تھا۔ طبیعت میں ایک عجیب طرح کی بے قراری تھی۔ اُس کا اضطراب شبنم کے اس قطرے کی طرح تھا جو پارہ کر اس کے بڑے سے پتّے پر کبھی ادھر اور کبھی اُدھر لڑھکتا رہتا ہے۔ اس کا دُبلاپن اس کی صحت کے خراب ہونے کی دلیل نہ تھی، ایک صحت مندی کی نشانی تھی جسے دیکھ کر بھاری بھرکم سندر لال پہلے تو گھبرایا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ لاجو ہر قسم کا بوجھ، ہر قسم کا صدمہ حتیٰ کہ مارپیٹ تک سہ گزرتی ہے تو وہ اپنی بدسلوکی کو بتدریج بڑھاتا گیا اور اُس نے ان حدوں کا خیال ہی نہ کیا، جہاں پہنچ جانے کے بعد کسی بھی انسان کا صبر ٹوٹ سکتا ہے۔ ان حدوں کو دھندلا دینے میں لاجونتی خود بھی تو ممد ثابت ہوئی تھی۔ چونکہ وہ دیر تک اُداس نہ بیٹھ سکتی تھی، اس لیے بڑی سے بڑی لڑائی کے بعد بھی سندر لال کے صرف ایک بار مسکرادینے پر وہ اپنی ہنسی نہ روک سکتی اور لپک کر اُس کے پاس چلی آتی اور گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہہ اُٹھتی — ’’پھرمارا تو میں تم سے نہیں بولوں گی …‘‘ صاف پتہ چلتا تھا، وہ ایک دم ساری مارپیٹ بھول چکی ہے۔ گان￿و کی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مرد ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں، بلکہ عورتوں میں کوئی بھی سرکشی کرتی تو لڑکیاں خود ہی ناک پر انگلی رکھ کے کہتیں — ’’لے وہ بھی کوئی مرد ہے بھلا، عورت جس کے قابو میں نہیں آتی ……‘‘ اور یہ مار پیٹ ان کے گیتوں میں چلی گئی تھی۔ خود لاجو گایا کرتی تھی۔ میں شہر کے لڑکے سے شادی نہ کروں گی۔ وہ بوٹ پہنتا ہے اور میری کمر بڑی پتلی ہے۔ لیکن پہلی ہی فرصت میں لاجو نے شہر ہی کے ایک لڑکے سے لو لگالی اور اس کا نام تھا سندر لال، جو ایک برات کے ساتھ لاجونتی کے گان￿و۔‘‘ چلا آیا تھا اور جس نے دولھا کے کان میں صرف اتنا سا کہا تھا —— ’’تیری سالی تو بڑی نمکین ہے یار۔ بیوی بھی چٹ پٹی ہوگی۔‘‘ لاجونتی نے سندر لال کی اس بات کو سن لیا تھا، مگر وہ بھول ہی گئی کہ سندر لال کتنے بڑے بڑے اور بھدّے سے بُوٹ پہنے ہوئے ہے اور اس کی اپنی کمر کتنی پتلی ہے!
اور پربھات پھیری کے سمے ایسی ہی باتیں سندر لال کو یاد آئیں اور وہ یہی سوچتا۔ ایک بار صرف ایک بار لاجو مل جائے تو میں اسے سچ مچ ہی دل میں بسا لوں اور لوگوں کو بتادوں —— ان بے چاری عورتوں کے اغوا ہوجانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ فسادیوں کی ہوس ناکیوں کا شکار ہوجانے میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ وہ سماج جو ان معصوم اور بے قصور عورتوں کو قبول نہیں کرتا، انھیں اپنا نہیں لیتا —— ایک گلا سڑا سماج ہے اور اسے ختم کردینا چاہیے …… وہ ان عورتوں کو گھروں میں آباد کرنے کی تلقین کیا کرتا اور انھیں ایسا مرتبہ دینے کی پریرنا کرتا ،جو گھر میں کسی بھی عورت، کسی بھی ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کو دیا جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا —— انھیں اشارے اور کنائے سے بھی ایسی باتوں کی یاد نہیں دلانی چاہیے جو ان کے ساتھ ہوئیں —— کیوں کہ ان کے دِل زخمی ہیں۔ وہ نازک ہیں، چھوئی موئی کی طرح —— ہاتھ بھی لگاؤ تو کمھلا جائیں گے …
گویا ’’دل میں بساؤ‘‘ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محلّہ ملاّ شکور کی اس کمیٹی نے کئی پربھات پھیریاں نکالیں۔ صبح چار پانچ بجے کا وقت ان کے لیے موزوں ترین وقت ہوتا تھا۔ نہ لوگوں کا شور، نہ ٹریفک کی اُلجھن۔ رات بھر چوکیداری کرنے والے کتّے تک بجھے ہوئے تنوروں میں سر دے کر پڑے ہوتے تھے۔ اپنے اپنے بستروں میں دبکے ہوئے لوگ پربھات پھیری والوں کی آواز سُن کر صرف اتنا کہتے —— او! وہی منڈلی ہے! اور پھر کبھی صبر اور کبھی تنک مزاجی سے وہ بابو سندر لال کا پروپگینڈا سنا کرتے۔ وہ عورتیں جو بڑی محفوظ اس پار پہنچ گئی تھیں، گوبھی کے پھولوں کی طرح پھیلی پڑی رہتیں اور ان کے خاوند ان کے پہلو میں ڈنٹھلوں کی طرح اکڑے پڑے پڑے پربھات پھیری کے شور پر احتجاج کرتے ہوئے منھ میں کچھ منمناتے چلے جاتے۔ یا کہیں کوئی بچہ تھوڑی دیر کے لے آنکھیں کھولتا اور ’’دل میں بساؤ‘‘ کے فریادی اور اندوہگین پروپگنڈ ے کو صرف ایک گانا سمجھ کر پھر سوجاتا۔
لیکن صبح کے سمے کان میں پڑا ہوا شبد بیکار نہیں جاتا۔ وہ سارا دن ایک تکرار کے ساتھ دماغ میں چکّر لگاتا رہتا ہے اور بعض وقت تو انسان اس کے معنی کو بھی نہیں سمجھتا۔ پر گُنگناتا چلا جاتاہے۔ اسی آواز کے گھر کر جانے کی بدولت ہی تھا کہ انھیں دنوں، جب کہ مِس مردولا سارا بائی، ہند اور پاکستان کے درمیان اغوا شدہ عورتیں تبادلے میں لائیں، تو محلّہ ملاّ شکور کے کچھ آدمی انھیں پھر سے بسانے کے لیے تیار ہوگئے۔ ان کے وارث شہر سے باہر چوکی کلاں پر انھیں ملنے کے لیے گئے۔ مغویہ عورتیں اور ان کے لواحقین کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر سرجھکائے اپنے اپنے برباد گھروں کو پھر سے آباد کرنے کے کام پر چل دیے۔ رسالو اور نیکی رام اور سندرلال بابو کبھی ’’مہندر سنگھ زندہ باد‘‘ اور کبھی ’’سوہن لال زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے … اور وہ نعرے لگاتے رہے، حتیٰ کہ ان کے گلے سوکھ گئے ……
لیکن مغویہ عورتوں میں ایسی بھی تھیں جن کے شوہروں، جن کے ماںباپ، بہن اور بھائیوں نے اُنھیں پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔ آخر وہ مر کیوں نہ گئیں؟ اپنی عفت اور عصمت کو بچانے کے لیے انھوں نے زہر کیوں نہ کھالیا؟ کنوئیں میں چھلانگ کیوں نہ لگا دی؟وہ بُزدل تھیں جو اس طرح زندگی سے چمٹی ہوئی تھیں۔ سینکڑوں ہزاروں عورتوں نے اپنی عصمت لُٹ جانے سے پہلے اپنی جان دے دی لیکن انھیں کیا پتہ کہ وہ زندہ رہ کر کس بہادری سے کام لے رہی ہیں۔ کیسے پتھرائی ہوئی آنکھیں سے موت کو گُھور رہی ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں ان کے شوہر تک اُنھیں نہیں پہچانتے۔ پھر ان میں سے کوئی جی ہی جی میں اپنا نام دہراتی —— سہاگ ونتی —— سہاگ والی … اور اپنے بھائی کو اس جمّ غفیر میں دیکھ کر آخری بار اتنا کہتی …… تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟ میں نے تجھے گودی کھلایا تھا رے …… اور بہاری چلاّ دینا چاہتا۔ پھر وہ ماں باپ کی طرف دیکھتا اور ماں باپ اپنے جگر پر ہاتھ رکھ کے نارائن بابا کی طرف دیکھتے اور نہایت بے بسی کے عالم میں نارائن بابا آسمان کی طرف دیکھتا، جو دراصل کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور جو صرف ہماری نظر کا دھوکا ہے۔ جو صرف ایک حد ہے جس کے پار ہماری نگاہیں کام نہیں کرتیں۔
لیکن فوجی ٹرک میں مس سارابائی تبادلے میں جو عورتیں لائیں، ان میں لاجو نہ تھی۔ سندرلال نے امید وبیم سے آخری لڑکی کو ٹرک سے نیچے اترتے دیکھا اور پھر اس نے بڑی خاموشی اور بڑے عزم سے اپنی کمیٹی کی سرگرمیوں کو دوچند کردیا۔ اب وہ صرف صبح کے سمے ہی پربھات پھیری کے لیے نہ نکلتے تھے، بلکہ شام کو بھی جلوس نکالنے لگے، اور کبھی کبھی ایک آدھ چھوٹا موٹا جلسہ بھی کرنے لگے جس میں کمیٹی کا بوڑھا صدر وکیل کالکا پرشاد صوفی کھنکاروں سے ملی جُلی ایک تقریر کردیا کرتا اور رسالو ایک پیکدان لیے ڈیوٹی پر ہمیشہ موجود رہتا۔ لاؤڈاسپیکر سے عجیب طرح کی آوازیں آتیں۔ پھر کہیں نیکی رام، محرر چوکی کچھ کہنے کے لیے اُٹھتے۔ لیکن وہ جتنی بھی باتیں کہتے اور جتنے بھی شاستروں اور پُرانوں کا حوالہ دیتے، اُتنا ہی اپنے مقصد کے خلاف باتیں کرتے اور یوں میدان ہاتھ سے جاتے دیکھ کر سندر لال بابو اُٹھتا، لیکن وہ دو فقروں کے علاوہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ اس کا گلا رُک جاتا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور روہانسا ہونے کے کارن وہ تقریر نہ کر پاتا۔ آخر بیٹھ جاتا۔ لیکن مجمع پر ایک عجیب طرح کی خاموشی چھاجاتی اور سندر لال بابو کی ان دو باتوں کا اثر، جو کہ اس کے دل کی گہرائیوں سے چلی آتیں، وکیل کالکا پرشاد صوفی کی ساری ناصحانہ فصاحت پر بھاری ہوتا۔ لیکن لوگ وہیں رو دیتے۔ اپنے جذبات کو آسودہ کر لیتے اور پھر خالی الذہن گھر لَوٹ جاتے ———
ایک روز کمیٹی والے سانجھ کے سمے بھی پرچار کرنے چلے آئے اور ہوتے ہوتے قدامت پسندوں کے گڑھ میں پہنچ گئے۔ مندر کے باہر پیپل کے ایک پیڑ کے اردگرد سیمنٹ کے تھڑے پر کئی شردھالو بیٹھے تھے اور رامائن کی کتھا ہورہی تھی۔ نارائن باوا رامائن کا وہ حصّہ سنا رہے تھے جہاں ایک دھوبی نے اپنی دھوبن کو گھر سے نکال دیا تھا اور اس سے کہہ دیا —— میں راجا رام چندر نہیں، جو اتنے سال راون کے ساتھ رہ آنے پر بھی سیتا کو بسا لے گا اور رام چندر جی نے مہاستونتی سیتا کو گھر سے نکال دیا —— ایسی حالت میں جب کہ وہ گربھ وتی تھی۔ ’’کیا اس سے بھی بڑھ کر رام راج کا کوئی ثبوت مل سکتا ہے؟‘‘——نارائن باوا نے کہا —— ’’یہ ہے رام راج! جس میں ایک دھوبی کی بات کو بھی اتنی ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘
کمیٹی کا جلوس مندر کے پاس رُک چکا تھا اور لوگ رامائن کی کتھا اور شلوک کا ورنن سننے کے لیے ٹھہر چکے تھے۔ سندر لال آخری فقرے سنتے ہوئے کہہ اُٹھا ——
’’ہمیں ایسا رام راج نہیں چاہیے بابا!‘‘
’’چُپ رہو جی‘‘ —— ’’تم کون ہوتے ہو؟‘‘ —— ’’خاموش!‘‘ مجمع سے آوازیں آئیں اور سندر لال نے بڑھ کر کہا —— ’’مجھے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
پھر ملی جُلی آوازیں آئیں —— ’’خاموش!‘‘ —— ’’ہم نہیں بولنے دیں گے‘‘ اور ایک کونے میں سے یہ بھی آواز آئی —— ’’مار دیں گے۔‘‘
نارائن بابا نے بڑی میٹھی آواز میں کہا —— ’’تم شاستروں کی مان مرجادا کو نہیں سمجھتے سندر لال!‘‘
سندر لال نے کہا —— ’’میں ایک بات تو سمجھتا ہوں بابا — رام راج میں دھوبی کی آواز تو سنی جاتی ہے، لیکن سندر لال کی نہیں۔‘‘
انہی لوگوں نے جو ابھی مارنے پہ تلے تھے، اپنے نیچے سے پیپل کی گولریں ہٹا دیں، اور پھر سے بیٹھتے ہوئے بول اُٹھے۔ ’’سُنو ، سُنو، سُنو……‘‘
رسالو اور نیکی رام نے سندر لال بابو کو ٹہوکا دیا اور سندر لال بولے— ’’شری رام نیتا تھے ہمارے۔ پر یہ کیا بات ہے بابا جی! انھوں نے دھوبی کی بات کو ستیہ سمجھ لیا، مگر اتنی بڑی مہارانی کے ستیہ پر وشواس نہ کرپائے؟‘‘
نارائن بابا نے اپنی ڈاڑھی کی کھچڑی پکاتے ہوئے کہا — ’’اِس لیے کہ سیتا ان کی اپنی پتنی تھی۔ سندر لال ! تم اس بات کی مہانتا کو نہیں جانتے۔‘‘
’’ہاں بابا‘‘ سندر لال بابو نے کہا —— ’’اس سنسار میں بہت سی باتیں ہیں جو میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ پر میں سچا رام راج اُسے سمجھتا ہوں جس میں انسان اپنے آپ پر بھی ظلم نہیں کرسکتا۔ اپنے آپ سے بے انصافی کرنا اتنا ہی بڑا پاپ ہے، جتنا کسی دوسرے سے بے انصافی کرنا… آج بھی بھگوان رام نے سیتا کو گھر سے نکال دیا ہے … اس لیے کہ وہ راون کے پاس رہ آئی ہے … اس میں کیا قصور تھا سیتا کا؟ کیا وہ بھی ہماری بہت سی ماؤں بہنوں کی طرح ایک چھل اور کپٹ کی شکار نہ تھی؟ اس میں سیتا کے ستیہ اور اَستیہ کی بات ہے یا راکشش راون کے وحشی پن کی، جس کے دس سر انسان کے تھے لیکن ایک اور سب سے بڑا سر گدھے کا؟‘‘
آج ہماری سیتا نردوش گھر سے نکال دی گئی ہے… سیتا … لاجونتی … اور سندر لال بابو نے رونا شروع کردیا۔ رسالو اور نیکی رام نے تمام وہ سُرخ جھنڈے اُٹھا لیے جن پر آج ہی اسکول کے چھوکروں نے بڑی صفائی سے نعرے کاٹ کے چپکا دیے تھے اورپھر وہ سب ’’سندرلال بابو زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے چل دیے۔ جلوس میں سے ایک نے کہا — ’’مہاستی سیتا زندہ باد‘‘ ایک طرف سے آواز آئی — ’’شری رام چندر ‘‘……
اور پھر بہت سی آوازیں آئیں— ’’خاموش! خاموش!‘‘ اور نارائن باوا کی مہینوں کی کتھا اکارت چلی گئی۔ بہت سے لوگ جلوس میںشامل ہوگئے، جس کے آگے آگے وکیل کالکا پرشاد اور حکم سنگھ محرر چوکی کلاں، جارہے تھے ، اپنی بوڑھی چھڑیوں کو زمین پر مارتے اور ایک فاتحانہ سی آواز پیدا کرتے ہوئے —— اور ان کے درمیان کہیں سندرلال جارہاتھا۔ اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسو بہہ رہے تھے۔ آج اس کے دل کو بڑی ٹھیس لگی تھی اور لوگ بڑے جوش کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گا رہے ۔
’’ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے…!‘‘
ابھی گیت کی آواز لوگوں کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ابھی صبح بھی نہیں ہوپائی تھی اور محلہ ملاّ شکور کے مکان 414 کی بدھوا ابھی تک اپنے بستر میں کربناک سی انگڑائیاں لے رہی تھی کہ سندر لال کا ’’گرائیں‘‘لال چند، جسے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے سندر لال اور خلیفہ کالکا پرشاد نے راشن ڈپوے دیا تھا، دوڑا دوڑا آیا اور اپنی گاڑھے کی چادر سے ہاتھ پھیلائے ہوئے بولا—
’’بدھائی ہو سندر لال۔‘‘
سندر لال نے میٹھا گڑ چلم میں رکھتے ہوئے کہا — ’’کس بات کی بدھائی لال چند؟‘‘
’’میں نے لاجو بھابی کو دیکھا ہے۔‘‘
سندر لال کے ہاتھ سے چلم گر گئی اور میٹھا تمباکو فرش پر گر گیا —— ’’کہاں دیکھا ہے؟‘‘ اس نے لال چند کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے پوچھا اور جلد جواب نہ پانے پر جھنجھوڑدیا۔
’’واگہ کی سرحد پر۔‘‘
سندر لال نے لال چند کو چھوڑ دیا اور اتنا سا بولا ’’کوئی اور ہوگی۔‘‘
لال چند نے یقین دلاتے ہوئے کہا —— ’’نہیں بھیّا، وہ لاجو ہی تھی، لاجو …‘‘
’’تم اسے پہچانتے بھی ہو؟‘ سندر لال نے پھر سے میٹھے تمباکو کو فرش پر سے اُٹھاتے اور ہتھیلی پر مسلتے ہوئے پوچھا ،اور ایسا کرتے ہوئے اس نے رسالو کی چلم حُقّے پر سے اُٹھالی اور بولا— ’’بھلا کیا پہچان ہے اس کی؟‘‘
’’ایک تیندولہ ٹھوڑی پر ہے، دوسرا گال پر—‘‘
’’ہاں ہاں ہاں‘‘ اور سندر لال نے خود ہی کہہ دیا ’’تیسرا ماتھے پر۔‘‘ وہ نہیںچاہتا تھا، اب کوئی خدشہ رہ جائے اور ایک دم اسے لاجونتی کے جانے پہچانے جسم کے سارے تیندولے یاد آگئے، جو اس نے بچپنے میں اپنے جسم پر بنوا لیے تھے، جو ان ہلکے ہلکے سبز دانوں کی مانند تھے جو چھوئی موئی کے پودے کے بدن پر ہوتے ہیں اور جس کی طرف اشارہ کرتے ہی وہ کمھلانے لگتا ہے۔ بالکل اسی طرح ان تیندولوں کی طرف انگلی کرتے ہی لاجونتی شرما جاتی تھی — اور گم ہوجاتی تھی، اپنے آپ میں سمٹ جاتی تھی۔ گویا اس کے سب راز کسی کو معلوم ہوگئے ہوں اور کسی نامعلوم خزانے کے لُٹ جانے سے وہ مفلس ہوگئی ہو … سندرلال کا سارا جسم ایک اَن جانے خوف، ایک اَن جانی محبت اور اس کی مقدس آگ میں پُھنکنے لگا۔ اس نے پھر سے لال چند کو پکڑ لیا اور پوچھا—
’’لاجو واگہ کیسے پہنچ گئی؟‘‘
لال چند نے کہا — ’’ہند اور پاکستان میں عورتوں کا تبادلہ ہو رہا تھا نا ۔‘‘
’’پھر کیا ہوا — ؟‘‘ سندر لال نے اکڑوں بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہوا پھر؟‘‘
رسالو بھی اپنی چارپائی پر اُٹھ بیٹھا اور تمباکو نوشوں کی مخصوص کھانسی کھانستے ہوئے بولا— ’’سچ مچ آگئی ہے لجونتی بھابی؟‘‘
لال چند نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’واگہ پر سولہ عورتیں پاکستان نے دے دیں اور اس کے عوض سولہ عورتیں لے لیں —لیکن ایک جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ ہمارے والنٹیراعتراض کر رہے تھے کہ تم نے جو عورتیں دی ہیں، ان میں ادھیڑ، بوڑھی اور بیکار عورتیں زیادہ ہیں۔ اس تنازع پر لوگ جمع ہوگئے۔ اس وقت اُدھر کے والنٹیروں نے لاجو بھابی کو دکھاتے ہوئے کہا — ’’تم اسے بوڑھی کہتے ہو؟ دیکھو … دیکھو … جتنی عورتیں تم نے دی ہیں، ان میں سے ایک بھی برابری کرتی ہے اس کی ؟’’ اور وہاں لاجو بھابی سب کی نظروں کے سامنے اپنے تیندولے چُھپا رہی تھی۔‘‘
پھر جھگڑا بڑھ گیا ۔ دونوں نے اپنا اپنا ’’مال‘‘ واپس لے لینے کی ٹھان لی۔ میں نے شور مچایا — ’’لاجو — لاجو بھابی …‘‘ مگر ہماری فوج کے سپاہیوں نے ہمیں ہی مار مار کے بھگا دیا۔
اور لال چند اپنی کہنی دکھانے لگا، جہاں اسے لاٹھی پڑی تھی۔ رسالو اور نیکی رام چُپ چاپ بیٹھے رہے اور سندر لال کہیں دور دیکھنے لگا۔ شاید سوچنے لگا۔ لاجو آئی بھی پر نہ آئی… اور سندر لال کی شکل ہی سے جان پڑتا تھا، جیسے وہ بیکانیر کا صحرا پھاند کر آیا ہے اور اب کہیں درخت کی چھان￿و میں، زبان نکالے ہانپ رہا ہے۔ مُنھ سے اتنا بھی نہیں نکلتا — ’’پانی دے دو۔‘‘ اسے یوں محسوس ہوا، بٹوارے سے پہلے بٹوارے کے بعد کا تشدّد ابھی تک کارفرما ہے۔ صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اب لوگوں میں پہلا سا دریغ بھی نہیں رہا۔ کسی سے پوچھو، سانبھر والا میں لہنا سنگھ رہاکرتا تھا اور اس کی بھابی بنتو — تو وہ جھٹ سے کہتا ’’مر گئے‘‘ اور اس کے بعد موت اور اس کے مفہوم سے بالکل بے خبر بالکل عاری آگے چلاجاتا۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ٹھنڈے دل سے تاجر، انسانی مال، انسانی گوشت اور پوست کی تجارت اور اس کا تبادلہ کرنے لگے۔ مویشی خریدنے والے کسی بھینس یا گائے کا جبڑا ہٹا کر دانتوں سے اس کی عمر کا اندازہ کرتے تھے۔
اب وہ جوان عورت کے روپ، اس کے نکھار، اس کے عزیز ترین رازوں، اس کے تیندولوں کی شارع عام میں نمائش کرنے لگے۔ تشدّد اب تاجروں کی نس نس میں بس چکا ہے۔ پہلے منڈی میں مال بکتا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے والے ہاتھ ملا کر اس پر ایک رومال ڈال لیتے اور یوں ’’گپتی‘‘ کرلیتے۔ گویا رومال کے نیچے انگلیوں کے اشاروں سے سودا ہوجاتا تھا۔ اب ’’گپتی‘‘ کا رومال بھی ہٹ چکا تھا اور سامنے سودے ہو رہے تھے اور لوگ تجارت کے آداب بھی بھول گئے تھے۔ یہ سارا ’’لین دین‘‘ یہ سارا کاروبار پُرانے زمانے کی داستان معلوم ہو رہا تھا، جس میں عورتوں کی آزادانہ خرید و فرخت کا قصّہ بیان کیا جاتا ہے۔ از بیک اَن گنت عریاں عورتوں کے سامنے کھڑا اُن کے جسموں کو ٹوہ ٹوہ کے دیکھ رہا ہے اور جب وہ کسی عورت کے جسم کو اُنگلی لگاتا ہے تو اس پر ایک گلابی سا گڑھا پڑجاتا ہے اور اس کے اردگرد ایک زرد سا حلقہ اور پھر زردیاں اور سُرخیاں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لیے دوڑتی ہیں … ازبیک آگے گزر جاتا ہے اور ناقابلِ قبول عورت ایک اعترافِ شکست، ایک انفعالیت کے عالم میں ایک ہاتھ سے ازار بند تھامے اور دوسرے سے اپنے چہرے کو عوام کی نظروں سے چھپائے سِسکیاں لیتی ہے…
سندرلال امرتسر (سرحد) جانے کی تیاری کرہی رہا تھا کہ اسے لاجو کے آنے کی خبر ملی۔ ایک دم ایسی خبر مل جانے سے سندر لال گھبرا گیا۔ اس کا ایک قدم فوراً دروازے کی طرف بڑھا، لیکن وہ پیچھے لوٹ آیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ روٹھ جائے اور کمیٹی کے تمام پلے کارڈوں اور جھنڈیوں کو بچھا کر بیٹھ جائے اور پھر روئے، لیکن وہاں جذبات کا یوں مظاہرہ ممکن نہ تھا۔ اُس نے مردانہ وار اس اندرونی کشاکش کا مقابلہ کیا اور اپنے قدموں کو ناپتے ہوئے چوکی کلاں کی طرف چل دیا ،کیونکہ وہی جگہ تھی جہاں مغویہ عورتوں کی ڈلیوری دی جاتی تھی۔
اب لاجو سامنے کھڑی تھی اور ایک خوف کے جذبے سے کانپ رہی تھی۔ وہی سندرلال کو جانتی تھی ،اس کے سوائے کوئی نہ جانتا تھا۔ وہ پہلے ہی اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتا تھا اور اب جب کہ وہ ایک غیرمرد کے ساتھ زندگی کے دن بِتا کر آئی تھی، نہ جانے کیا کرے گا؟ سندرلال نے لاجو کی طرف دیکھا۔ وہ خالص اسلامی طرز کا لال دوپٹہ اوڑھے تھی اور بائیں بکّل مارے ہوئے تھی … عادتاً محض عادتاً —— دوسری عورتوں میں گھل مل جانے اور بالآخر اپنے صیّاد کے دام سے بھاگ جانے کی آسانی تھی اور وہ سندرلال کے بارے میں اتنا زیادہ سوچ رہی تھی کہ اسے کپڑے بدلنے یا دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھنے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ ہندو اور مسلمان کی تہذیب کے بنیادی فرق — دائیں بُکل اور بائیں بُکل میں امتیاز کرنے سے قاصر رہی تھی۔ اب وہ سندرلال کے سامنے کھڑی تھی اور کانپ رہی تھی، ایک اُمید اور ایک ڈر کے جذبے کے ساتھ —
سندر لال کو دھچکا سا لگا۔ اس نے دیکھا لاجونتی کا رنگ کچھ نکھر گیا تھااور وہ پہلے کی بہ نسبت کچھ تندرست سی نظر آتی تھی۔ نہیں ۔ وہ موٹی ہوگئی تھی — سندر لال نے جو کچھ لاجو کے بارے میں سوچ رکھا تھا، وہ سب غلط تھا۔ وہ سمجھتا تھا غم میں گُھل جانے کے بعد لاجونتی بالکل مریل ہوچکی ہوگی اور آواز اس کے منھ سے نکالے نہ نکلتی ہوگی۔ اس خیال سے کہ وہ پاکستان میں بڑی خوش رہی ہے، اسے بڑا صدمہ ہوا ،لیکن وہ چُپ رہا کیونکہ اس نے چُپ رہنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اگرچہ وہ نہ جان پایا کہ اتنی خوش تھی تو پھر چلی کیوں آئی؟اس نے سوچا شاید ہند سرکار کے دباؤ کی وجہ سے اسے اپنی مرضی کے خلاف یہاں آنا پڑا —— لیکن ایک چیز وہ نہ سمجھ سکا کہ لاجونتی کا سنولایا ہوا چہرہ زردی لیے ہوئے تھا اور غم، محض غم سے اس کے بدن کے گوشت نے ہڈیوں کو چھوڑ دیاتھا۔ وہ غم کی کثرت سے ’’موٹی‘‘ ہوگئی تھی اور ’’صحت مند‘‘ نظر آتی تھی، لیکن یہ ایسی صحت مندی تھی جس میں دو قدم چلنے پر آدمی کا سانس پھول جاتا ہے…‘‘
مغویہ کے چہرے پر پہلی نگاہ ڈالنے کا تاثر کچھ عجیب سا ہوا۔ لیکن اس نے سب خیالات کا ایک اثباتی مردانگی سے مقابلہ کیا اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے۔ کسی نے کہا —— ’’ہم نہیں لیتے مسلمران (مسلمان) کی جھوٹی عورت ——‘‘
اور یہ آواز رسالو، نیکی رام اور چوکی کلاں کے بوڑھے محرر کے نعروں میں گُم ہوکر رہ گئی ۔ ان سب آوازوں سے الگ کالکاپرشاد کی پھٹتی اور چلاّتی آواز آرہی تھی۔ وہ کھانس بھی لیتا اور بولتا بھی جاتا۔ وہ اس نئی حقیقت، اس نئی شدھی کا شدّت سے قائل ہوچکا تھا۔ یُوں معلوم ہوتا تھا آج اس نے کوئی نیا وید، کوئی نیا پران اور شاستر پڑھ لیا ہے اور اپنے اس حصول میں دوسروں کو بھی حصّے دار بنانا چاہتا ہے… ان سب لوگوں اور ان کی آوازوں میں گھِرے ہوئے لاجو اور سندر لال اپنے ڈیرے کو جا رہے تھے اور ایسا جان پڑتا تھا جیسے ہزاروں سال پہلے کے رام چندر اور سیتا کسی بہت لمبے اخلاقی بن باس کے بعد اجودھیا لوٹ رہے ہیں۔ ایک طرف تو لوگ خوشی کے اظہار میں دیپ مالا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف انھیں اتنی لمبی اذیّت دیے جانے پر تاسف بھی۔
لاجونتی کے چلے آنے پر بھی سندر لال بابو نے اسی شدّ و مد سے ’’دل میں بساؤ‘‘ پروگرام کو جاری رکھا۔ اس نے قول اور فعل دونوں اعتبار سے اسے نبھادیا تھا اور وہ لوگ جنھیں سندرلال کی باتوں میں خالی خولی جذباتیت نظر آتی تھی، قائل ہونا شروع ہوئے۔ اکثر لوگوں کے دل میں خوشی تھی اور بیشتر کے دل میں افسوس۔ مکان 414 کی بیوہ کے علاوہ محلہ ملاّ شکور کی بہت سی عورتیں سندرلال بابو سوشل ورکر کے گھر آنے سے گھبراتی تھیں۔
لیکن سندرلال کو کسی کی اعتنا یا بے اعتنائی کی پروا نہ تھی۔ اس کے دل کی رانی آچکی تھی اور اس کے دل کا خلا پٹ چکا تھا۔ سندرلال نے لاجو کی سورن مورتی کو اپنے دل کے مندر میں استھاپت کرلیا تھا اور خود دروازے پر بیٹھا اس کی حفاظت کرنے لگا تھا۔ لاجو جو پہلے خوف سے سہمی رہتی تھی، سندر لال کے غیرمتوقع نرم سلوک کو دیکھ کر آہستہ آہستہ کھُلنے لگی۔
سندرلال، لاجونتی کو اب لاجو کے نام سے نہیں پکارتا تھا۔ وہ اسے کہتا تھا ’’دیوی!‘‘اور لاجو ایک اَن جانی خوشی سے پاگل ہوئی جاتی تھی۔ وہ کتنا چاہتی تھی کہ سندرلال کو اپنی واردات کہہ سنائے اور سناتے سناتے اس قدر روئے کہ اس کے سب گناہ دُھل جائیں۔ لیکن سندرلال، لاجو کی وہ باتیں سننے سے گریز کرتا تھا اور لاجو اپنے کُھل جانے میں بھی ایک طرح سے سِمٹی رہتی۔ البتہ جب سندرلال سوجاتا تو اسے دیکھا کرتی اور اپنی اس چوری میں پکڑی جاتی۔ جب سندرلال اس کی وجہ پوچھتا تو وہ ’’نہیں‘‘ ’’یو نہیں‘‘ ’’اونھوں‘‘ کے سوا اور کچھ نہ کہتی اور سارے دن کا تھکا ہارا سندرلال پھر اونگھ جاتا… البتہ شروع شروع میں ایک دفعہ سندرلال نے لاجونتی کے ’’سیاہ دنوں‘‘ کے بارے میں صرف اتنا سا پوچھا تھا ——
’’کون تھا وہ؟‘‘
لاجونتی نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے کہا —— ’’جُمّاں‘‘ —— پھر وہ اپنی نگاہیں سندرلال کے چہرے پر جمائے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سندرلال ایک عجیب سی نظروں سے لاجونتی کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے بالوں کو سہلارہا تھا۔ لاجونتی نے پھر آنکھیں نیچی کرلیں اور سندر لال نے پُوچھا ——
’’اچھا سلوک کرتا تھا وہ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مارتا تونہیں تھا؟‘‘
لاجونتی نے اپنا سر سندر لال کی چھاتی پر سرکاتے ہوئے کہا —— ’’نہیں‘‘… اور پھر بولی ’’وہ مارتا نہیں تھا، پر مجھے اس سے زیادہ ڈر آتا تھا۔ تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی … اب تو نہ ماروگے؟‘‘
سندر لال کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے اور اس نے بڑی ندامت اور بڑے تاسف سے کہا —— ’’نہیں دیوی! اب نہیں … نہیں ماروں گا…‘‘
’’دیوی!‘‘ لاجونتی نے سوچا اور وہ بھی آنسو بہانے لگی۔
اور اس کے بعد لاجونتی سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی، لیکن سندرلال نے کہا —— ’’جانے دو بیتی باتیں۔ اس میں تمھارا کیا قصور ہے؟ اس میں قصور ہے ہمارے سماج کا جو تجھ ایسی دیویوں کو اپنے ہاں عزت کی جگہ نہیں دیتا۔ وہ تمھاری ہانی نہیں کرتا، اپنی کرتا ہے۔‘‘
اور لاجونتی کی من کی من ہی میں رہی۔ وہ کہہ نہ سکی ساری بات اور چپکی دبکی پڑی رہی اور اپنے بدن کی طرف دیکھتی رہی جو کہ بٹوارے کے بعد اب ’’دیوی‘‘ کا بدن ہوچکا تھا۔لاجونتی کا نہ تھا۔ وہ خوش تھی بہت خوش ۔ لیکن ایک ایسی خوشی میں سرشار جس میں ایک شک تھا اور وسوسے۔ وہ لیٹی لیٹی اچانک بیٹھ جاتی، جیسے انتہائی خوشی کے لمحوں میں کوئی آہٹ پاکر ایکاایکی اس کی طرف متوجہ ہوجائے …
جب بہت سے دن بیت گئے تو خوشی کی جگہ پورے شک نے لے لی۔ اس لیے نہیں کہ سندر لال بابو نے پھر وہی پرانی بدسلوکی شروع کردی تھی، بلکہ اس لیے کہ وہ لاجو سے بہت ہی اچھا سلوک کرنے لگا تھا۔ ایسا سلوک جس کی لاجو متوقع نہ تھی … وہ سندر لال کی، وہ پرانی لاجو ہوجانا چاہتی تھی جو گاجر سے لڑپڑتی اور مولی سے مان جاتی۔ لیکن اب لڑائی کا سوال ہی نہ تھا۔ سندرلال نے اسے یہ محسوس کرا دیا جیسے وہ — لاجونتی کانچ کی کوئی چیز ہے، جو چھوتے ہی ٹوٹ جائے گی… اور لاجو آئینے میں اپنے سراپا کی طرف دیکھتی اور آخر اس نتیجے پر پہنچتی کہ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے، پر لاجو نہیں ہوسکتی۔ وہ بس گئی، پر اُجڑ گئی … سندرلال کے پاس اُس کے آنسو دیکھنے کے لیے آنکھیں تھیں اور نہ آہیں سننے کے لیے کان!… پربھات پھیریاں نکلتی رہیں اور محلہ ملاّ شکور کا سدھارک رسالو اور نیکی رام کے ساتھ مل کر اُسی آواز میں گاتا رہا ——

’’ہتھ لائیاں کملان نی، لاجونتی دے بُوٹے


 

افسانہ ’’ لاجونتی‘‘ کا تجزیہ
قمر صدیقی

راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری کا سب سے روشن پہلو انسانی نفسیات کی تہہ میں کارفرما سماجی و تہذیبی عوامل کی رنگا رنگی ہے۔ اس رنگارنگی کا بنیادی حوالہ اجتماعیت سے نہیں فرد کی ذات سے عبارت ہے۔ فرد کی باہمی وابستگی، رفاقت ، علیحدگی اور رشتوں کی پیچیدگی ان کے افسانوں کا حاوی موضوع ہے۔ بیدی کے افسانوں میں انسانی نفسیات کو ترجیح حاصل ہے لہٰذا ان کے کردار منطقی بنیادوں کے برعکس حسیاتی و جذباتی سطح پر زیادہ فعال نظر آتے ہیں۔
انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کے ساتھ ہی ساتھ بیدی کو ازدواجی زندگی کے مسائل پیش کرنے میں بھی مہارت حاصل ہے۔ ’گرم کوٹ‘، ’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘ اور ’لاجونتی‘اس موضوع پر ان کے شاہکار افسانے ہیں۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ’’لاجونتی‘‘ اپنے موضوع کی انفرادیت اور اسلوب و بیان کی شفافیت کی وجہ سے اردو کے اہم ترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ لاجونتی کا شوہر سندر لال، اس کے تئیں زیادتیاں کرتا ہے ۔ حتیٰ کے مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ملک کی تقسیم اور اس کے بعد کے حالات میں جس طرح بہت ساری عورتوں کا اغوا ہوا اس میں لاجونتی بھی ایک تھی۔ لاجونتی کے اغوا کے بعد سندر لال میں کئی طرح کی تبدیلیاں پید ہوئیں۔ اسے یہ احساس ہوا کہ لاجونتی کے تئیں اس کا رویہ کس قدر غلط تھا۔ اسی پشیمنانی کے احساس کے چلتے وہ بازیافت کی گئیں مغویہ عورتوں کے گھر دوبارہ بسانے کی تحریک کا روحِ رواں بن گیا۔ اسی بیچ لاجونتی کو بھی مغویہ عورتوں کی ادلا بدلی میں دوبارہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اب سندر لال کا رویہ لاجونتی کے تعلق سے ایک شوہر کا نہیں بلکہ سماجی کارکن کا ہوجاتا ہے۔ وہ اُسے دیوی کہہ کر پکارتا ہے۔ اس کا پورا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم لاجونتی تو بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے۔ اُسے سندر لال کا یہ رویہ برداشت نہیں ہے لیکن سندر لال اُس کے اس جذبے سے ناآشنا ہے۔ افسانے کا آخری حصہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو بڑی فنکاری سے پیش کرتا ہے۔ سندر لال اور لاجونتی دونوں کے جذباتی رویوں میں کارفرما سماجی و تہذیبی عوامل کو بیدی نے کمال مہارت سے پیش کیا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی ان ذہین افسانہ نگاروں میں ہیں جومتن سے معنی برآمد کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایک کہانی میں متعدد کہانیاں بھی پیش کرسکتے ہیں۔ افسانہ ’’لاجونتی‘‘ صرف لاجونتی اور سندر لال کی ہی کہانی ہے بلکہ ملک کی تقسیم کے بعد لاتعداد ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی بھی کہانی ہے۔ اس میں مذکورہ دونوں کردار بھلے ہی مرکزی اہمیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کہانی ایسی ان گنت مغویہ عورتوں کی جذبات و احساسات کی بھی عکاس ہے جو اس کربناک دور سے گزریں:
’’مغویہ عورتوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جن کے شوہر ، جن کے ماں باپ، بہن اور بھائیوں نے انھیں پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔ آخر وہ مرکیوں نہ گئیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں کیا پتہ کہ وہ زندہ رہ کر کس بہادری سے کام لے رہی ہیں۔ کیسے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے موت کو گھور رہی ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں ان کے شوہر تک انھیں نہیں پہچانتے۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۷۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
یا
’’تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟ میں نے تجھے گودی کھلایا تھا رے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہاری چلّا دینا چاہتا پھر وہ ماں باپ کی طرف دیکھتا اور ماں باپ اپنے جگر پر ہاتھ رکھ کر نارائن بابا کی طرف دیکھتے اور نہایت بے بسی کے عالم میں نارائن بابا آسمان کی طرف دیکھتا جو دراصل کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور صرف ہماری نظر کا دھوکا ہے۔ جو صرف ایک حد ہے جس کے پار ہماری نگاہیں کام نہیں کرتیں۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۸۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
یہاں یہ افسانہ صرف سندر لال اور لاجونتی کا قصہ نہیں بیان کررہا ہے بلکہ دکھ کی ماری اُن تمام ابلا عورتوں کی روداد پیش کررہا ہے جو وقت کی اس بھیانک ستم ظریفی کا شکار ہوئیں۔بلوائیوں کی گرفت سے رہا ہونے کے باوجودنام نہاد خاندانی ، قومی اور ملی غیرت کے نام پر ان عورتوں کو وقت کے رحم و کرم پر پل پل سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑدیا گیا۔
بیدی کے افسانوں کا اسلوب اپنے دیگر معاصرین سے بالکل جداگانہ ہے۔ ان کا اسلوب اپنے کسی معاصر افسانہ نگار سے متاصدم و متاثر نہیں ہوتا۔ ان کا انداز منٹو کی طرح دوٹوک اور عصمت کی طرح بولڈ نہیں ہے اور نہ ہی کرشن چندر کی طرح شاعرانہ نثر کا حامل ۔ وہ اپنے افسانوں میں کرداروں کی نفسیات نیز اس کے گرد و پیش کے حالات و واقعات کی عکاسی میں حقیقت نگاری اور جزئیات نگاری سے کام لیتے ہیں۔ بیدی کے افسانے خاص طورسے اُن کی انسانی نفسیات کے گہرے شعور کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اُن کے افسانوں کے بیشتر کرداروں کی تفہیم جذباتی و نفسیاتی رویوں کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ’’لاجونتی‘‘ میں لاجونتی شوہر کے مظالم کا شکار ہے۔ لیکن اسی شوہر کا ہلکا سا التفات پاکر وہ دوبارہ اس سے پہلے سی محبت کرنے لگتی ہے۔ وہ ایک روایتی بیوی کی طرح شوہر کے تمام مظالم کو عورت کا مقدر تسلیم کرتی ہے۔ دراصل اس کی تربیت ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جہاں شوہر کی حاکمیت اور بالادستی سماجی اور کسی حد مذہبی نظریے کا درجہ رکھتی ہے:
’’ چونکہ وہ دیر تک اداس نہ بیٹھ سکتی تھی اس لیے بڑی سے بڑی لڑائی کے بعد بھی سندر لال کے صرف ایک بار مسکرا دینے پر وہ اپنی ہنسی نہ روک سکتی اور لپک کر اس کے پاس چلی آتی اور گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہہ اٹھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ پھر مارا تو میں تم سے نہیں بولوں گی۔۔۔۔۔‘‘ صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ ایک دم ساری مار پیٹ بھول چکی ہے۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مرد ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں بلکہ عورتوں میں کوئی سرکشی کرتی تو لڑکیاں خود ہی ناک پر انگلی رکھ کر کہتیں ۔۔۔۔۔’’ لے وہ بھی کوئی مرد ہے بھلا ؟ عورت جس کے قابو میں نہیں آتی۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۲۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
بیدی کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ ان کے افسانوں کی بنت میں تہذیبی رنگارنگی ہوتی ہے۔ یہ رنگارنگی اُس ہندوستانی تہذیب سے عبارت ہے جو کثرت میں وحدت کی جلوسامانیاں پیش کرتی ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں کی تہذبی فضا میں مصنوعی پن نہیں جھلکتا۔ ان کے افسانے ہمارے اِرد گرد کے افسانے لگتے ہیں۔ ان کے کردار ہماری اپنی دنیا اور ہماری آس پاس کی زندگی میں چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں۔وارث علوی نے بیدی کی اس خوبی ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ :
بیدی کے افسانوں میں ہندوستان کی روح جاگتی ہے۔ ان کے افسانوں میں اس دھرتی کی بوباس بسی ہوئی ہے اور اس زمین کے رسم و رواج، عقائد اور توہمات سے افسانوں کو رنگ و آہنگ ملتا ہے۔ بیدی کی کوئی کہانی مستعار نہیں معلوم ہوتی۔ کسی کہانی کی تہذیبی فضا مصنوعی نہیں لگتی۔‘‘
( راجندر سنگھ بیدی ۔ از: وارث علوی۔ ص: ۵۹ ۔ تخلیقار پبلیکشنز۔ نئی دہلی)
بیدی کے افسانوں میں ان کا تاریخی شعور اور فلسفیانہ نقطۂ نظر بھی شفافیت کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ حالانکہ اس کا احساس متن کی ظاہری قرأت سے ذرا کم کم ہی ہوپاتا ہے لیکن جب ہم افسانے کی Close Readingکرتے ہیں تو یہ احساس بین السطور میں اپنے جلوے بکھیرتا نظر آجاتا ہے۔ ویسے بھی بیدی کے افسانوں میں اصل فن متن کی اوپری سطح پر نہیں بلکہ متن کے اندر کسی موجِ تہہ نشیں کی طرح ہلچل اور تلاطم کو پیش کرتا ہے۔
’’ آج بھگوان رام نے سیتا کو گھر سے نکال دیا۔ اس لیے کہ وہ راون کے پاس رہ آئی ہے۔ اس میں کیا قصور تھا سیتا کا؟ کیا وہ بھی ہماری بہت سی مائوں بہنوں کی طرح ایک چھل اور کپٹ کا شکار نہ تھی۔ اس میں سیتا کے ستیہ اور استیہ کی بات ہے یا راکشش راون کے وحشی پن کی جس کے دس سر انسان کے تھے لیکن ایک اور سب سے بڑا سر گدھے تھا۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۴۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
زبان و بیان اور تکنیک کے اعتبار سے بیدی کا کوئی افسانہ ایسا نہیں ہے جس پر انگلی رکھی جاسکے۔ انھوں نے تقریباً ۷۰ افسانے لکھے ہیں لیکن لگ بھگ سارے ہی افسانے زبان و بیان پر بیدی کی قدرت کے غماز ہیں۔ افسانہ ’’لاجونتی‘‘بھی میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔
بیدی کے افسانوں میں مختلف تہذیبی و تمدنی مظاہر افسانے کے فنی نظام میں اس طرح مدغم ہوجاتے ہیں کہ ان کے پختہ سماجی شعور کے ساتھ ہی ساتھ افسانے کے فن پر ان کی گرفت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ وہ سماجی حقیقت نگاری کے لیے علامتی و اساطیری ، استعاراتی و تخیل آفریں اسلوب کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بیدی ایک رجحان ساز افسانہ نگار قرار پائے۔ بشمول افسانہ ’’لاجونتی‘‘ ان کے کئی افسانے بعد کے افسانہ نگاروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ خاص طور سے ان کے علامتی اور اساطیری اسلوب کی تقلید جدیدیت کے زمانے میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملی۔ جدید افسانے کے ممتاز لکھنے والے مثلاً انتظار حسین ، اسد محمد خاں وغیرہ نے اس اسلوب سے خوب خوب استفادہ کیا۔


قمر صدیقی سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

قمر صدیقی سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

 

 

Articles

نجیب محفوظ کی ادبی زندگی اورنوبل پرائز

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

نجیب محفوظ 11 /دسمبر1911 سے 30/ اگست2006
نجیب محفوظ ایک مصری مصنّف ہیں جنھیں 1988 میں ادب کے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔توقیق الحکیم کے ساتھ ساتھ نجیب محفوظ ایک ایسے عربی مصنف ہیں جنھوں نے وجود کے نظریے پر بات کی ہے۔نجیب محفوظ نے اپنے 80 سالہ کرئیر میں 5ڈرامے،بےشمار فلمی اسکرپٹ، 350 سے زائد کہانیاں اور 34 ناول شائع کئے ہیں ۔ مصری اور بیرونی فلموں میں نجیب محفوظ کی تحریروں کا سہارا لیا گیا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیمEarly life and education
نجیب محفوظ کی پیدائش قاہرہ کے ایک نچلے متوسط طبقے میں ہوئی۔وہ پانچ بھائیوں اور دو بہنوں کے خاندان میں ساتویں نمبر پر تھے۔یہ خاندان دو مشہور شہروں میں رہا۔ پہلے الغمالیہ، اسکے بعد 1942 میں یہ عباسیہ منتقل ہوگیا۔اور آخر کار قاہرہ کے نئے مضافات میں سکونت اختیار کرلی۔یہیں نجیب محفوظ نے اپنی بیشتر تخلیقات مکمل کیں۔اپنے والد کی طرح نجیب محفوظ نے بھی سرکاری ملازمت اختیار کی۔وہ حافظ نجیب، طحہ حسین اور سلامہ موسیٰ سے کافی متاثر تھے۔1919 کے انقلابِ مصر نے نجیب محفوظ پر گہرا اثر ڈالا۔سکنڈری تعلیم مکمل کرنے کے بعد نجیب محفوظ کو کنگ فہد یونیورسٹی میں داخل کردیا گیا۔جسے آج قاہرہ یونیورسٹی کہا جاتا ہے۔یہاں انھوں نے 1934 میں فلسفے سے گریجویشن پھر 1936 میں پوسٹ گریجویشن مکمل کیا۔اُس کے بعد انھوں نے ایک پیشہ ور مصنف بننے کا ارادہ کرلیا۔بطور جرنلسٹ نجیب نے الہلال اور الحرم نامی رسالے میں کام کیا۔ The Satanic Verses کے شائع ہوتے ہی نجیب کے ناول Children of Gebelawi کا تنازعہ دوبارہ زندہ ہوگیا۔ اور محفوظ کو قتل کی دھمکیاں ملنے لگیں۔1994 میں اسلامی بنیاد پرست ایک 82 سالہ مصنف کو قاہرہ میں اُسی کے گھر کے سامنے گردن پر چھرا مارنے میں کامیاب ہوگئے۔نجیب اس حملے میں بچ تو گئے لیکن اُن کے سیدھے ہاتھ کی رگیں مستقل طور پر متاثر ہوگئیں۔اس حادثے کے بعد محفوظ چند منٹ سے زیادہ لکھنے کے قابل نہ رہے۔اس طرح سے اُن کی تحریریں کم سے کم تر ہوتی گئیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
اہرامِ مصر کے سائے میں جس طرح ہزاروں سال کی آسیب زدہ تاریخ کروٹیں لیتی ہے۔جس کے باطن کی بھول بھلیّوں میں سربستہ اسرار روز کسی نئی کہانی کے تہہ خانے کی سیڑھیوں سے کوئی اینٹ سرکا دیتے ہیں اور کوئی خوفزدہ کرنے والا شگون جاگ اٹھتا ہے۔ مصر میں ایک اُس سے بھی عظیم تر بُرے شگون کا ایک دائرہ ہے جس نے نجیب محفوظ جیسا عظیم قلمکار تاریخ کے سپرد کردیا۔ قاہرہ کے حالا برج کا وہ سبز لان جہاں قاہرہ کے کچھ اہلِ قلم نوجوان سال ہا سال تک گھاس پر ایک دائرے کی صورت میں بیٹھتے تھے اُس بیٹھک کا نام انہوں نے بُرے شگون کا دائرہ رکھا تھا۔اہلِ مصر نجیب محفوظ کو اُسی برے شگون کے دائرے کا نمائندہ قرار دیتے ہیں۔
نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز سلامہ موسیٰ کے میگزین “المجلہ الجدید “سے کیا۔ اِ س میں اُن کی پہلی تحریر شائع ہوئی ، یہ اُن کے مزاج میں ترقی پسندی کے رجحان کاپہلا اعلان تھا۔اگرچہ کہ 1939میں اُن کی شائع ہونے والی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں ہیں۔مگر وہاں ترقی پسندی کے جراثیم کسی خوردبین کے بغیر بھی نظر آتے ہیں۔ 1945میں جب اُن کا پہلا ناول خان الخلیلی شائع ہوا تب پوری عرب دنیا میں ایک ناول نگار کے طور پر اُن کی حیثیت تسلیم کرلی گئی۔مگر خود اپنے ملک مصر میں انہیں اُس وقت تسلیم کیا گیاجب 1957جب اُن کی ایپک قاہرہ سے متعلق تین سلسلہ وار المیہ کہانیوں کی اشاعت ہوئی۔تین ہزار صفحات پر مشتمل اِس جنگ نامے میں قاہرہ کی مڈل کلاس زندگی کی عکّاسی کی گئی ہے۔ اس ایپک کے شائع ہوتے ہی انھیں نوجوان نسل کا بہت بڑا ناول نگار قرار دیدیا گیا۔یہ دراصل تین باہم مربوط ناول ہیں پہلے ناول کا نام Palace Walkمحل کی سیردوسرے ناول کا نام Palace of Desireخواہشات کا محل اور تیسرے ناول کا نام Sugar Streetچینی گلی ہے۔اُن کی تخلیقات کے انگریزی، فرانسیسی، روسی، جرمن اور اردو زبان میں تراجم ہو چکے ہیں۔حقیقی طور پر دنیا اُن کی طرف اُس وقت متوجہ ہوئی جب 1988میں انھیں ادب کے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔
نجیب محفوظ کی تخلیقات کو مشرق و مغرب کے درمیان رابطے کا پل بھی کہاجاسکتا ہے۔اُن کی تخلیق کی اِسی خصوصیت نے انھیں نوبل انعام کا حق دار بنا دیا۔ پرل ایس بک کو بھی نوبل انعام اسی وجہ سے ملا تھا۔اُس کا بھی تما م تخلیقی کام مشرق و مغرب کے اتصال سے نمو پذیر ہوتا ہے۔وہ بھی دو تاریخوں کی مورخ تھی ، دو تہذیبوں کی کہانی کار تھیں۔دو ثقافتوں کو ساتھ لیکر چلتی تھیں، دو فکری دھارے اُس کی شخصیت میں ایک ہوجاتے تھے۔ بالکل اُسی طرح جیسے نجیب محفوظ کے یہاں آکر مابعد الطبیعیات اور سائنسی سماجیات آپس میں گھل مل گئی ہیں۔
ایک اہم ترین بات نجیب محفوظ کے حوالے سے یہ ہے اور جس سے کوئی لکھنے والا صرف نظر نہیں کرسکتاکہ جس کام پر انھیں نوبل پرائز دیا گیا وہ اُن کا تیس سال پرانا کام تھا۔کیا اہلِ مغرب کو نجیب محفوظ کو سمجھنے میں تیس سال لگ گئے تھے یا نوبل پرائز دینے والوں نے جو معیار مقرر کر رکھا تھا اُس پر پہنچتے پہنچتے نجیب محفوظ کو تیس سال لگ گئے تھے۔اُن کا ناول The Children of Gebelawiجبلاوی کی اولاد، مذہبی نقطہءنظر سے بہت متنازعہ ناول ہے۔اُس کے قسط وار شائع ہونے پر مذہبی حلقوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا تھا۔کسی انتہا پسند نے انھیں قتل کرنے کی کوشش بھی کی تھی۔جامعہ الازہر نے 1959میں اُن کے ناول پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی کہ اُن میں پیغمبر اور خدا، کرداروں کی صورت میں جلوہ گر ہیں۔نجیب محفوظ نے اِس کے جواب میں جو کالم لکھا تھا اُس میں دوسرے حوالوں کے ساتھ علامہ اقبال کے فارسی مجموعہ کلام جاوید نامہ کا حوالہ دیا تھاجس میں اقبال نے اپنی شاعری میں جنّت و دوزخ کی ڈرامائی تشکیل کی ہے۔
نجیب محفوظ بےشک بیسویں صدی میں عربی ادب کے افق پر سب سے بڑی شخصیت تھے۔ اُن کے کام میں جس بات نے انھیں سب سے زیادہ ممتاز رکھا وہ اپنی زمین کے ساتھ اُن کی وابستگی تھی۔ قاہرہ اُن کے رگ و پے میں خون بن کر ڈوڑتا تھا۔ انھوں نے قاہرہ کی مڈل کلاس زندگی کی جس انداز میں عکّاسی کی ہے وہ کمال اُن ہی پر ختم ہوجاتا ہے۔انہوں نے قاہرہ کی گلیوں میں جاگتی ہوئی زندگی کو اپنے تخلیقی عمل میں ڈھال کر یوں زندہ و جاوید کردیا ہے کہ وقت چاہے اُن گلیوں کو کھنڈرات میں ہی کیوں نہ بدل دے وہ آنکھوں کو آباد دکھائی دیتی رہیں گی۔وہ صاحبِ اسلوب نثر نگار تھے۔ اُن کا اسلوبِ نگارش اُن کی تحریر کی تہہ داری سے جنم لیتا ہوا دکھائی دیتا ہے ۔محفوظ کا نثر اُس کے خیال کی صاف صاف پیروی کرتا ہوا نظر آتاہے۔
Washington Post کا ماننا ہےکہ
“Throughout Naguib Mahfouz’s fiction there is a pervasive sense of metaphor, of a literary artist who is using his fiction to speak directly and unequivocally to the condition of his country. His work is imbued with love for Egypt and its people, but it is also utterly honest and unsentimental.”
محفوظ کا پورا فکشن ہمیں ایک ایسے ادبی فنکار کا دلوں میں سرایت کرجانے والا استعارہ نظر آتا ہے جو غیر مشکوک طریقے سے اپنے فکشن میں بلاواسطہ اپنے ملک کے حالات کی عکاسی کرتا ہو۔اُس کی تحریریں مصر اور اُس کے لوگوں کی محبّت سے بھری ہوئی ہیں۔لیکن یہ مکمل طور پر ایماندارانہ اور غیر جذباتی ہے۔”
نجیب محفوظ کے یہاں بےشمار موضوعات ہیں۔جن میں socialism, homosexuality اور خدا بھی شامل ہے۔ اِن میں سے کچھ موضوعات مصر میں ممنوع قرار دئیے گئے ہیں۔اپنی تخلیقات میں محفوظ نے بیسویں صدی میں مصر کی ترقی اور مشرق و مغرب کے ذہنی اور تہذیبی ارتباط کا ذکر کیا ہے۔جوانی کے دور ہی سے محفوظ، مغربی جاسوسی کہانیوں، روسی داستانوںاور جدید مصنفین سے متاثر تھے۔ Kafka، James Joyceکا شمار انہی مصنفین میں ہوتا ہے۔محفوظ کی کہانیوں کا محلِ وقوع مصر کے شہری کوارٹر ہوتے ہیں جہاںعام انسان اُس کے کردار ہیں جو جدیت سے مقابلہ آرائی اور مغربی لالچ کی طرف دیکھتے ہوئے نظر آتے ہیں۔
Newsweekکا کہنا ہے کہ
“The alleys, the houses, the palaces and mosques and the people who live among them are evoked as vividly in Mahfouz’s work as the streets of London were conjured by Dickens.”
“گلیاں، گھر، محلّات، مساجداور اُن میں رہنے بسنے والے لوگ محفوظ کی تخلیقات میں اُسی طرح روشن نظر آتے ہیں جس طرح Dickensکی تحریروں میں لندن کی گلیوں میں لوگ نظر آتے ہیں۔”
۰۶ اور ۰۷ کی دہائی میں محفوظ نے آزادانہ طور پر ناول لکھنا شروع کیا۔ Miramar (1967)میں لکھے گئے ناول میں ایک سے زائد راویوں multiple first-person narration.کا تجربہ کیا۔ یہاں چار راوی الگ الگ طرز پر سیاسی خیالات بیان کرتے ہیں۔کہانی کے وسط میں ایک خوبصورت لڑکی کو بطور نوکرانی رکھا گیا ہے۔ محفوظ کی زیادہ تر تخلیقات کا تعلق سیاست سے ہے۔انھیں خود اِس بات کا اقرار ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ
“تمھیں میری تمام تحریروں میں سیاست ملےگی۔ تمھیں ایسی کہانی تو مل سکتی ہے جو محبّت یا کسی اور موضوع کو نظر انداز کردے مگر سیاست کو نہیں۔ یہ ہماری سوچ کا بنیادی محور ہے”
اپنی بےشمار تخلیقات میں محفوظ نے مصری قومیت کی زوردار حمایت کی ہے اور عالمی جنگوں کے بعد کے دور پر ہمدردی کا اظہار بھی کیا ہے۔ جوانی کے دور میں وہ سماجی اور جمہوری رجحانات سے بھی کافی متاثر تھے۔Khana Al-Khalili اور اُس کے بعد کی کچھ تخلیقات میں ہمیں اُن کے سماجی رجحانات کا پتہ چلتا ہے۔جمہوریت اور شوشلزم کی تعریف اِس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ وہ اخوان المسلمین کے ذریعے پھیلائی گئی مذہبی شدت پسندی سے نفرت کرتے تھے۔اپنی تحریروں میں انھوں نے اس پر سخت تنقید کی ہے۔اور پہلے دو ناول میں شوشلزم کے فوائد اور مذہبی شدت پسندی کے نقصانات بتانے کی کوشش کی ہے ایک ادیب کی حیثیت سے انہوں نے جو کام کیا اُسے کلیات کے طور پر پانچ جلدوں میں شائع کیا گیا ہے۔ مگر یہ اُن کا آدھا کام بھی نہیں ہے۔انھوں نے نے اپنے ۰۷ سالہ کرئیر میں ۵ ڈرامے،بےشمار فلمی اسکرپٹ، ۰۵۳ سے زائد کہانیاں اور ۴۳ ناول شائع کئے ہیں ۔
نوبل پرائز
نوبل پرائز سویڈن کے نامور سائنسداں الفریڈ نوبل سے منسوب ہے جن کے دم سے آج دنیا ڈائنامائٹ جیسی نعمت سے لطف اندوز ہو رہی ہے ۔ نوبل پرائز خواہ امن کے لئے ہو یا ادب کے لئے بارود سے اِس کا گہرا رشتہ ہے۔
محفوظ کو ۸۸۹۱ میں ادب کے نوبل انعام سے سرفراز کیا گیا۔وہ اکیلے ایسے عرب مصنف ہیں جنھیں اِس اعزاز سے سرفراز کیا گیاانعام حاصل کرنے کے فوراً بعد محفوظ کو یہ کہتے ہوئے سنا گیا کہ
“The Nobel Prize has given me, for the first time in my life, the feeling that my literature could be appreciated on an international level. The Arab world also won the Nobel with me. I believe that international doors have opened, and that from now on, literate people will consider Arab literature also. We deserve that recognition.”
“نوبل انعام مجھے دےدیا گیا میری زندگی میں پہلی مرتبہ ادب کے تعلق سے میرے جذبات کو بین الاقوامی سطح پر سراہا گیا ۔میرے ساتھ ساتھ عرب دنیا نے بھی نوبل انعام حاصل کرلیا۔میرا یقین ہے کہ بین الاقوامی دروازے کھل چکے ہیں اور اب تعلیم یافتہ لوگ ادبِ عرب پر بھی غور کریں گے۔ہم اِس شناخت کی اہلیت رکھتے تھے”
نجیب محفوظ کو نوبل انعام سے سرفراز تو کردیا گیا لیکن یہ انعام اپنے پیچھے بےشمار سوالات چھوڑ گیا۔مثلاً نوبل پرائز کا اسلام فوبیا سے کیا تعلق ہے۔اور مسلم ممالک میں جن شخصیات کو ابتک اس باوقار انعام سے سرفراز کیا گیا اُن کی مشترکہ خصوصیات کیا تھیں۔ انور سادات، نجیب محفوظ، یاسرعرفات، ڈاکٹر احمد زویل،ڈاکٹر محمد البرادعی، وی۔ایس۔نائپول اور اورھان باموک کا شمار اُن لوگوں میں ہوتا جن کی بودوباش مسلم ممالک میں تھی۔ لیکن یہ تمام صاحبِ اعزاز مسلم مخالف رویے کے لیے کافی مشہور ہیں۔انور سادات نے کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی رو سے اسرائیل کے وجود کو تسلیم کرلیا۔یاسر عرفات اوسلو پیکٹ کے سبب بدنام ہوئے جسے عام فلسطینی فلسطین کی فروخت مانتے ہیں۔ڈاکٹر احمد زویل کی پیدائش مصر میں ضرور ہوئی لیکن اِن کی مکمل خدمات امریکہ کے لئے وقف تھیں آپ نے نہ کبھی مصر اور نہ ہی کسی دوسرے اسلامی ملک کے لئے کوئی خدمت انجام دی۔کچھ لوگوں کا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل کی میزائل ٹکنالوجی میں بھی آپ نے مدد کی۔مصر ہی کے ڈاکٹر محمد البرادعی IAEA کے دو مرتبہ ڈائرکٹر رہے ، عراق پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے میں اِس ادارے کی ابتدائی رپورٹس نے اہم ترین کردار ادا کیا۔وی ایس نائپول اسلام کو استعمار سے بھی بدتر کہتا ۔اس کے نزدیک اسلام فرد کی شخصیت کو تباہ کرتا ہے۔نائپول کے ناولوں کا مستقل موضوع اسلام اور مسلم شخصیات پر کیچڑ اچھالنا ہے اُس کی نظر میں بابری مسجد کا سانحہ درست ہے۔اورہان باموک ترکی میں پیدا ہوئے لیکن وہیں کی حکومت پر بےشمار ناجائز الزامات عائد کئے۔
جہاں تک نجیب محفوظ کا تعلق ہے وہ اپنے استاد سلامہ موسیٰ کے افکار سے حد درجہ متاثر تھے اور سلامہ موسیٰ کی عربوں سے نفرت چھپی ہوئی نہیں ہے۔ سلامہ موسیٰ مغرب سے نسبت جوڑنے میں اور مصر میں مغربی تہذیب کا بیج بونے میں سب سے نمایاں نام ہے۔نجیب محفوظ اُس سے بھی ایک قدم آگے مصر کا رشتہ عربوں اور اسلام سے توڑتے ہوئے فرعونی تہذیب سے جوڑنے میں سب سے بڑا نام ہے۔جس وقت نجیب محفوظ کو ادب کے نوبل پرائز کے لئے منتخب کیا گیا تھا اُس وقت فرعونی تہذیب کے احیا میں سب سے اونچی آواز نجیب محفوظ کی ہوا کرتی تھی۔نوبل پرائز کے انتخاب تک نجیب محفوظ کا تخلیقی کام مصر اور عربی اخلاقیات کی قدروقیمت گھٹانے تک محدود تھا ۔ وہ اِس بات کے داعی تھے کہ انسان پر اخلاقی پابندیاں نہیں ہونی چاہیے۔وہ کہتے ہیں کہ
اِنّہُ لیس من مصلحة الانسان اَن یعیش فی قفص من الواجبات الاخلاقیة
یہ بات انسان کی بھلائی میں نہیںکہ وہ اخلاقی اقدار کی بہت سی پابندیوں کے قید خانے میں دب کر زندگی گذارے۔
مسئلہءفلسطین کے لئے نجیب کے پاس کوئی حل نہیں ہے بلکہ کہ اُن کی رائے سے فلسطین کے کاز کو ہمیشہ نقصان پہنچا ہے وہ خود کہتے ہیں کہ میں انور سادات سے پہلے ہی کیمپ ڈیوڈ طرز کے کسی معاہدے کا خواہش مند تھا۔مصر اسرائیل معاہدہ طئے پانے میں نجیب کے بیانات کافی اہمیت رکھتے ہیں۔نجیب محفوظ کا ناول اولاد ِحارتنا جس پر انہیں نوبل پرائز دیا گیا بذاتِ خود سیکڑوں تنازعات کا شکار ہے۔نجیب محفوظ کے پورے کام میں یہودیوں پر کہیں کوئی تنقید نہیں ملتی ، جہاں تک اُن کی تعریف کا تعلق ہے تو وہ واضح طور پر خان الخلیلی، زقاق المدق جیسے ناولوں میں موجود ہے۔
یقیناً نجیب محفوظ ایک بڑے فنکار، زبردست نثر نگار اور بے پناہ صلاحیتوں کے حامل موّرخ بھی ہیں لیکن اِن حالات میں آپ بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ قابلیت کے ساتھ ساتھ نوبل پرائز کا دوسرا معیار کیا ہے۔


تدوین و تہذیب: ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر, نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Naguib Mahfouz by Qamar Siddiqui

Articles

معنی کے طرزِ وجود کا فکشن نگار: نجیب محفوظ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمعروف عربی جریدے ’المجلہ الجدید‘، مصر سے شروع کیا تھا۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں ترقی پسند نظریات سے نجیب کی وابستگی کا اعلان نامہ تھیں۔اگرچہ ابتدائی دورمیں شائع ہونے والی ان کی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں تحریر کی گئی تھیں تاہم اُن کہانیوں میں بھی مارکسی اثرات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب نجیب محفوظ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سائنس، سوشلزم اور برداشت میں یقین کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں نجیب سر رئیلسٹ فکشن نگاری کی طرف ملتفت ہوگئے ۔بعض ناقدین نے سر ریئلزم سے نجیب کے اس التفات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ حتیٰ کہ انھیں قنوطیت پسند فکشن نگار کے لقب سے بھی نوازا گیا:
’’نجیب محفوظ نے اپنی سوشلسٹ آیڈیالوجی سے ہٹ کر گہری قنوطیت کی راہ اختیار کر لی اور اپنے ارد گرد برے شکون کا دائرہ کھینچ لیا۔‘‘
( ایڈرورڈ بون ۔ ٹائمس لٹریری سپلیمنٹ۔ ص: ۹دسمبر ۔ ۱۹۹۰ء)

لیکن نجیب اپنے اِس اسلوب پر کاربند رہے۔بطور ایک سر رئیلسٹ فکشن نگار انھوں نے اپنی کہانیوں میں تصوف اور مابعدالطبعیاتی تجربات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش کی۔انہوں نے اپنی گویائی وہاں سے شروع کی جہاں سائنس خاموش ہوجاتی ہے۔ آگے چل کر انھوں نے ایسی کہانیاں تحریر کہیں جن میں سائنسی سماجیات اور روحانیت کسی حدتک آپس میں ہم آغوش ہیں۔1945ء میں شائع ہونے والا ان کا پہلا ناول ’خان الخلیلی‘ اسی کشمکش کی عکاس ہے۔اِس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب محفوظ کو عرب دنیا میں ایک ناول نگار کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔ البتہ اُن کے ملک مصر میں انھیں ایک ممتاز فکشن نگار کی حیثیت اُس وقت حاصل ہوئی جب ۱۹۵۷ء میں تین ہزار صفحات پر مشتمل اُن کی مشہور رزمیہ تصنیف ’’قاہرہ سے متعلق تین سلسلہ وار ڈرامے‘‘کی اشاعت ہوئی۔ یہ رزمیہ دراصل تین سلسلے وار ناول ہیں۔ پہلے ناول کا نام ہے ’ محل کی سیر Walk Palace The ، دوسرے ناول کا نام ہے ’ خواہشات کا محل‘ Palace of Desir اور تیسرے ناول کا نام ہے ’چینی کی گلی ‘ Sugar Street ۔تین ہزار صفحات کا احاطہ کرنے والے اس رزمیے میں قاہرہ کی مڈل کلاس زندگی کے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مذکورہ رزمیے کی اشاعت کے بعد نجیب کو مصر میں نوجوان نسل کا ایک بڑا ناول نگار قرار دیا جانے لگا۔ البتہ عرب دنیا سے باہر نجیب کی شناخت ۱۹۶۰ء کے بعد قائم ہونی شروع ہوئی جب ان کی تصنیفات کے انگریزی، فرانسیسی ، جرمن ، اردو اور روسی زبانوں میں تراجم ہونے شروع ہوئے۔ نجیب کی اِس شہرت کو ۱۹۸۸ء میں ادب کا نوبل پرائز ملنے کے بعد گویا پَر لگ گئے اور وہ پوری دنیا میں عظیم ناول نگار تسلیم کیے جانے لگے۔
نجیب محفوظ روایتی فکشن نگار نہیں ہے اور روایتی ذہن کے ساتھ نجیب کی تحریروں کی قرأت عموماً ترسیل کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔ دراصل نجیب معنی کی ترسیل کا نہیں بلکہ معنی کے طرزِ وجود (یعنی Ontology) کا فکشن نگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں مثلاً شوگر اسٹریٹ وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں باب در باب معنی کی تعمیر نہیں بلکہ معنی کے انہدام کے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔دراصل اس ناول میں معنی خیزی کا منبع اِس کے قصے سے ماورا ،اِس کے اجزا کے باہمی ارتباط کا مرہون منت ہے۔ نجیب نے جن جگہوں، عمارات اور اشخاص کا ذکر اِس ناول میں کیا ہے غور کریں تووہ اِس ناول کی بافت یا فریم سے باہر اپنی اُس معنویت سے محروم ہوجاتے ہیں ، جو انھیں مذکورہ ناول میں حاصل ہے۔ یعنی ناول سیاق سے باہر قاہرہ وہ قاہرہ نہیں رہتا جو کہ ناول میں ہے۔ یا پھر کردار اور معاشرہ کے تعلق سے گفتگو کریں تو اس ناول میں جو ایک بھرا پُرا خاندان ہے اُس کی معنویت کا تعین ناول کے فریم اور اُس کے متن سے باہر شایدہی ممکن ہوسکے۔ لہٰذا ناول شوگر اسٹریٹ کو اس کے متن سے باہر نکل کر سمجھ پانا قدرے مشکل ہے۔
اسی طرح نجیب کا ایک پیچیدہ افسانہ ’’وقت اور مقام‘‘ ہے۔ اس افسانے میں پیچیدگی شاید اس لیے در آئی ہے کیوں کہ افسانے میں ایک ہی سطح پر دو زمانوں کو پیش کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ جس میں مابعد از طبیعات اور سائنسی سماجیات آپس میں کھل مل گئی ہیں۔افسانہ کا قصہ کچھ یوں ہے کہ راوی ،اس کا ایک بھائی اور ایک بہن مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے آبائی مکان کو فروخت کرکے وہ ایک آرام دہ فلیٹ میں منتقل ہوجائیں۔ اس بیچ راوی اپنے آبائی مکان میں ایک میٹا فیزکل تجربے سے گزرتا ہے۔ اسے ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو اس کا ہم شکل ہے ۔ ایک بوڑھا شخص راوی کے اُس ہم شکل کو ایک صندوقچی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ چونکہ اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے اس لیے وہ اِس صندوقچی کو کسی مناسب مقام پر دفن کردے اور وقت آنے پر اسے نکال کر اس میں لکھی ہدایات پر عمل کرے۔ راوی کو یہ سب خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم تلاش کے بعد راوی وہ جگہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جہاں واقعی صندوقچی دفن ہوتی ہے۔اُس کے تحیر کا ٹھکانہ نہیں رہتا اور وہ اپنے بھائی اور بہن کے مکان فروخت کرنے کے فیصلے سے خود کو الگ کرلیتا ہے۔ وہ صندوقچی کھول کر اُس میں پڑے کاغذ کے پرزے کی ہدایت پر عمل کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ ‘‘ خط میں پیر عارف البلقانی کے گھر کا پتہ بھی درج ہے۔ راوی خط پڑھ کر عارف البلقانی کے مکان کو تلاش کرتا ہوا پتے تک پہنچتا ہے۔ وہ مکان پولیس کی نگرانی میں ہے ۔ راوی کے وہاں پہنچنے پر اُسے گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔مکان میں پہلے سے ہی ایک شخص قید ہے ۔ پولیس راوی کواُس کا گرگا تسلیم کرکے جیل میں ٹھونس دیتی ہے۔
اس طرح کے افسانوں کے لیے جس نوع کی فن کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے تعلق سے پروفیسر قاضی افضال حسین نے تحریر کیا ہے کہ :
’’اگر بالکل سادہ غیر تنقیدی زبان میں کہیں تو افسانہ جھوٹ کو سچ کر دکھانے کا فن ہے، اس لیے نہیں کہ اس میں بیان کردہ واقعات ’’سچے‘‘ نہیں ہوتے ؍ ہوسکتے بلکہ اس اعتبار سے کہ افسانہ نگار ، ہر وہ فنی تدبیر استعمال کرتا ہے جس سے وہ اپنے قاری کو یقین دلا سکے کہ وہ افسانہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ سچا واقعہ سنا رہا ہے اور اگر اس نے افسانے کی تشکیل کے لیے کوئی خاص زمانی یا مکانی عرصہ منتخب کیا ہے، جس کا تعلق ماضی بعید سے ہوتو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ افسانے کے خیالی بیانیہ کو تاریخی واقعہ کی شکل دے کر قاری کو یہ یقین دلا دے کہ وہ ’’فرضی‘‘ کہانی نہیں سنا رہا ، ایک خاص انداز سے تاریخ بیان کررہا ہے۔ اس نوع کے تاریخی افسانے کی سب سے آسان ترکیب یہ ہوتی ہے کہ بیان میں ماضی کے ایک زمانے میں ایک مخصوص جگہ، موجود افراد ؍ تعمیرات کے اسمائے خاص اور لوگوں کو پیش آنے والے واقعات کا حوالہ شامل کردیا جائے۔ اِن اسماء یا واقعات کا شدید حوالہ جاتی کردار بیان کی افسانویت ، یعنی اُس کی لسانی تشکیل ہونے پر دبیز پردے ڈال دیتا ہے۔ قاری پر افسانہ نگار کے اس فریب کا راز نہیں کھلتا اور ہم ایک صاف ’’جھوٹ‘‘ کو بے ملاوٹ ’’صداقت ‘‘ سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

(تحریر اساس تنقید۔ از: پروفیسر قاضی افضال حسین۔ ص: ۲۵۳۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ۔ ۲۰۰۹ء)

افسانے کی بُنت میں نجیب نے مذکورہ بالا فنی چالاکیوں سے کام لیتے ہوئے ایک ایسا بیانیہ خلق کیا ہے جس میں جگہ جگہ سر ریئلزم کے رنگوں کی چھاپ بھی نظر آجاتی ہے۔ ایک نامانوس اور تحیر خیز کیفیت سے شروع ہونے والے اس افسانے کا اختتام مانوس مگر ناپسندیدہ ماحول پر ہوتاہے۔ مثلاًافسانے کا ابتدائی حصہ ہے کہ :
’’ ہماری بیٹھک نجانے کہاں کھو گئی اور اس کی جگہ ایک لمبے چوڑے دالان نے لے لی۔ جس کا دوسرا سرا چوک کی موٹی سفید دیوار تک جا پہنچا تھا۔ دالان میں کہیں گول گول اور کہیں دوج کے شکل میں گھاس اُگی ہوئی تھی اور درمیان میں ایک کنواں تھا ۔ کنویں سے کچھ فاصلے پر کھجور کا ایک اونچا درخت تھا۔ میں دو احساسات کے بیچ جھولنے لگا۔ کبھی لگتا کہ کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ کبھی لگتا کہ ان میں کچھ بھی میرے لیے ان دیکھا نہیں ہے۔مدھم ہوتی ہوئی روشنی سورج کے غروب ہونے کا اشارہ کرنے لگی اور اس کے ساتھ ہی کنویں اور کھجور کے درخت کے بیچ ایک ادھیڑ آدمی بھی آن کھڑا ہوا جو قطعی میری پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی اُس ادھیڑ شخص کو ایک چھوٹی سی صندوقچی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ :’’اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اسے زمین میں گہرا گاڑ کر چھپا دے۔ صحیح وقت آنے پر نکالنا۔‘‘

(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۹۸۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء
)
خواب اور واہمے کے درمیان کی کیفیت کے اِس ابتدائی بیانیے کے بعد اس

افسانے کا اختتام بھی ملاحظہ فرمانے کی زحمت کریں :
’’خاموشی کی دبیز چادر ہم پر چھاگئی۔ میں نے نئے مکان میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی ، بہن کا تصور کیا اور پرانے مکان میں بنے ہوئے گڑھے ، کنویں اور کھجور کا بھی۔ ساری چیزیں میرے سامنے اس طرح پیش ہوئیں جیسے میں اس کے اندر ہوتے ہوئے بھی ان کو باہر سے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔ مگر کوئی میری او‘ر نہیں گھوما ۔کسی نے خاموشی نہیں توڑی۔‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۲۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )

افسانے کے ابتدائی اور اختتامی حصوں کو پڑھنے کے بعد یہ بات کسی قدر واضح ہوتی ہے کہ افسانے کی تفہیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اُسے پہلے سے رائج تصورات کی مدد سے ہی سمجھا جاسکے۔ ہر بڑا فن پارہ اکثر اپنے پیش رو طریقۂ تفہیم کی نفی بھی کرتا ہے اور اپنی ترسیل کی نئی روایت کی بافت بھی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ متن ہمیشہ ایک شفاف میڈیم کے طور پر سامنے آئے جیسا کہ حقیقت پسند افسانے میں پہلے سے موجود سچائی کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے سامنے آتا ہے۔ اِس افسانے کا متن بھی سبب اور نتیجے والی افسانے کی روایتی منطق سے انکار کرتے ہوئے اپنی پیچیدگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ البتہ سبب اور نتیجے کے عمل اور فیصلے کے لیے قاری کو راوی کے جبر سے آزاد کردیتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا دونوں پیراگراف کی مدد سے افسانے کی تعبیر اور تشریح کی تمام تر کوششوں کے لیے قاری آزاد ہے۔مثال کے طور پر افسانے کو ایک ایسی ناصحانہ تحریر کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے محض تخیل کی مدد سے کیے گئے عمل کا نتیجہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ یا اگر پورے متن کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے اور اس مطالعہ میں مصر کی سماجی اور سیاسی صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے تو یہ افسانہ ایک ایسی انڈر گراؤنڈ تحریک کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اُس وقت کی مصری حکومت کے طرز عمل سے نالاں ہے۔ راوی کے لاشعور میں اُس تحریک کے تئیں ہمدردی کے جذبات موجود ہیں لہٰذا اسے اس طرح کا خواب دکھائی دیتا ہے۔ خود افسانے کے متن میں بھی اِس کے شواہد موجود ہیں۔ مثلاً خط میں تحریر کیے جملے کی نوعیت ملاحظہ ہو:

’’ اپنا مکان مت چھوڑ ، کیوں کہ یہ قاہرہ میں سب سے خوبصورت ہے اور پھر اہلِ ایمان کے لیے تو بس یہی ایک مکان ہے۔ یہی ایک محفوظ مقام ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ تو اُن کے مکان میں جا۔ ‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۰۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )
مصر کے سماجی اور خاص طور سے سیاسی حالات کو نگاہ میں رکھیں تو حکومت سے اختلاف، ایسی ہی علامتی کہانی کے ذریعے ممکن تھا۔ لہٰذا اس افسانے کی ایک یہ بھی تفہیم ممکن ہے۔


مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

Firaq Gorakhpuri ki Tanqeed Nigari by Qamar Siddiqui

Articles

فراق کی تنقید نگاری

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

فراق گورکھپوری نے تنقید کے دو مجموعے ”اندازے“ اور ”حاشیے“ اور اردو کی عشقیہ شاعری پر ایک کتابچہ یادگار چھوڑے ہیں ۔ ان میں ’اندازے‘ تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے میں کل دس مضامین ہیں جس میں پانچ غزل یا غزل گو شعرا سے متعلق ہے۔ در اصل فراق کی تنقید اکثر و بیشتر اردو غزل کے آس پاس ہی رہی ہے۔ انھوں نے دہلی اور لکھنو¿ اسکول، داخلیت اور خارجیت، زمینوں کے انتخاب اور مطلعوں کی موزونیت کے علاوہ ریاض، مصحفی ، ذوق اور حالی وغیرہ کی شاعری کا فنی و تشریحی جائزہ پیش کیا ہے۔
’اندازے‘ کے دیباچے میں فراق گورکھپوری نے جس طرح روایت سے وابستگی اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے ترقی پسند ادب کی تحسین کی ہے وہ ان کے تنقیدی مسلک کی غمازی کرتا ہے۔ دیباچے میں انھوں نے بالکل تاثراتی انداز اپناتے ہوئے ادب اور تنقید میں میانہ روی کو مقدم گردانا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
” خوش نصیب ہیں نئی نسل والوں میں اور نئے ادب کے قدر شناسوں میں وہ لوگ جو پرانی غزلوں کے سمندر میں ڈوب کر ایسے ایسے موتی نکال لائے ہیں جن کی آب و تاب کو وقت دھندلا نہیں سکا۔ اقبال، اکبر، جوش، مجاز، زیدی اور جذبی اور ہماری نئی شاعری کے کئی اور نمائندے ہماری قدیم شاعری سے کم مستفید نہیں ہیں۔ لیکن نثر نگاروں، شاعروں اور پڑھنے والوں کی نئی نسل عجلت اور سہل پسندی کی غالباً شکار ہوئی ہے اور قدیم ادب سے منہ موڑ چکی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پرانی شاعری میں بھی بہت نئی چیزیں ہیں۔ تسلسل تاریخِ انسانی اور تاریخِ ادب کا اٹل قانون ہے۔ ماضی سے بے خبری ترقی پسندی نہیں ہے ، نہ ماضی کی قدر شناسی رجعت پسندی اور قدامت پسندی ہے۔“
فراق کی تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات بہت واضح ہیں۔ حالانکہ انھوں نے جس زمانے میں تنقید نگاری کا آغاز کیا اس وقت ناقدین کی اکثریت کا مغربی ادب کا مطالعہ زیادہ گہرا نہ تھا۔ فراق کے بیشتر معاصرین فکری طور پر آزاد، حالی اور شبلی کا تتبع کررہے تھے اور ان کی تحریروں میں اِنھیں قد آور شخصیات کا پرتو نظر آتا ہے۔ فراق نے اپنے معاصرین کے برخلاف مغربی افکار و نظریات سے استفادے پر زور دیا۔ اس ضمن میں خود فراق گورکھپوری نے تحریرکیا ہے کہ:
” میرے مذاقِ تنقید پر دو چیزوں کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔ ایک تو خود میرے وجدانِ شعری کا ، دوسرے یورپین ادب اور تنقید کے مطالعے کا۔ مجھے اردو شعرا کو اس طرح سمجھنے سمجھانے میں بڑا لطف آتا ہے، جس طرح یورپین نقاد یورپین شعرا کو سمجھاتے ہیں۔ “
مغربی تنقید سے استفادے کے اس اعتراف میں اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ فراق نے مغربی تنقید کے کس دبستان کا تتبع کیا ہے۔ فراق کی تنقیدی تحریروں کے مطالعے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کا رجحان تاثراتی تنقید کی طرف ہے۔ محولہ بالا پیراگراف میں ”وجدانِ شعری“ کی ترکیب بھی اس بات کی طرف دلالت کرتی ہے۔ ”وجدان“ ایک خوبصورت مگر پر اسرار لفظ ہے اور معنی سے گریز پائی اس لفظ کا خاصہ ہے۔ کیونکہ شاعر کا وجدان اور نقاد کا وجدان دو الگ الگ ذہنی وقوعے ہیں البتہ اس کے استعمال میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ نقاد مختلف نوع موشگافیوں کی مشقت سے بچ جاتا ہے۔ چنانچہ اردو میں وجدان تاثراتی نقادوں کا مخصوص Toolہے اور مہدی افادی سے لے کر عبد الرحمن بجنوری اور فراق گورکھپوری تک لگ بھگ تمام تاثراتی نقاد وجدان کے میزان سے شعر کو تولتے نظر آتے ہیں۔ فراق کے مجموعے ’اندازے‘ سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
” مصحفی کی انفرادیت وجدانی سطح پر اپنا کام کرتی ہے۔“
” غم آمیز وجدان میں تنوع کے اتنے امکانات نہیں ہوتے جتنے نشاط آمیز وجدان میں ہوتے ہیں۔“
کتاب میں اس نوع کے تاثراتی جملے جگہ جگہ نظر آجاتے ہیں۔ تاثراتی تنقید اپنی اسی محدودیت کی وجہ سے بیشتر محاسنِ شعری کے بیان تک محدود رہتی ہے یا اپنی ارفع صورت میں بھی یہ تشریح و توضیح سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
تاثراتی تنقید کے مغربی اصولوں کے مطابق مواد اور ہیئت پر توجہ دیئے بغیر صرف ادیب کی شخصیت کی بنیاد پر فن پارے کے حسن و قبح کا فیصلہ کرنا تاثراتی تنقید کہلاتا ہے۔ اس ضمن میں تاثراتی تنقید کے نظریہ ساز والٹر پیٹر کی رائے بھی ملاحظہ فرمالیں؛ ”تنقید نگار کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ وہ فن پارے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھے اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کردے۔“ علاوہ ازیں یورپ میں تاثراتی نقادوں کا خیال تھا کہ کسی ادبی تخلیق کے مطالعے سے نقاد کے دل و دماغ اور اس کے شعور پر جو تاثرات مرتب ہوتے ہیں ، انھیں لفظوں میں سمودیا جائے اور یہی حقیقی تنقید ہے۔ مغرب میں تاثراتی تنقید کی یہ تحریک جے ۔ای اسپنگر کے خیالات سے متاثر رہی۔ اس کا کہنا تھا کہ داخلیت اور جذباتی و تاثراتی سطح ہی تنقید کا صحیح معیار ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:
” کسی فن پارے کو دیکھ کر جو جذبات و احساسات دل پر طاری ہوتے ہوں ان کو ہو بہو بیان کردینا تاثراتی دبستان سے تعلق رکھنے والے نقاد کے نزدیک تنقید نگاری کا سب سے بڑا منصب ہے۔“
فراق کی تنقیدی تحریریں بھی مذکورہ بالا خصوصیات سے مبرا نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے فراق کی تنقید اور تنقیدی فیصلے بیشتر صورتوں میں ایسے تاثرات پر مبنی ہوتے ہیں جن کی جڑیں بچپن کی یادوں میں پیوست ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ تحریریں ملاحظہ ہوں:
” ایک زمانہ ہوا جب میں نے مولوی اسمعیل میرٹھی کی مرتب کردہ کتاب ” تزکِ اردو“ میں جو میرے نصاب میں تھی غالباً پہلے پہل مصحفی کا نام دیکھا اور سنا۔ اب میرے جذبات کا حال سنیے، سب سے قابلِ توجہ بات تو یہ تھی کہ مصحفی کا تخلص وہ لفظ تھا جس کی صورت و صوت نے فوراً مجھ پر اپنی دلکش انفرادیت کا اثر ڈالا۔“
” مجھے بچپن سے نہ جانے کیوں ذوق کا کلام نا پسند تھا۔ “
” میں نے بھی اور شاید آپ نے بھی سات آٹھ برس کی عمر میں پہلے پہل حالی کا نام سنا ہوگا۔“
کچی عمر کے ناپختہ تاثرات سے اس طرح Conditionedہوکر کوئی تنقیدی نکتہ پیدا کرنا ظاہر ہے تقریباً نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراق گورکھپوری کی تنقیدی تحریریں ہمیں کوئی راہ نہیں سجھاتیں ، کسی منزل کا پتہ نہیں دیتیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اندھیری رات میں یہاں وہاں چمکتے ہوئے جگنوﺅں کی مانند ان کی تحریروں میں بصیرت سے پُر جملے ایک ایسا جمالیاتی تاثر قائم کرتے ہیں جس کا سحر ہمارے ذہنوں پر تادیر قائم رہتا ہے۔
٭٭٭

مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

2 ZabaneN, 2 SHAIR, 1 Khayal

Articles

دو زبانیں، دو شاعر، ایک خیال

ڈاکٹر ذاکر خان

اردو اور انگریزی شعر و ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد دو باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں کہ اردو شعر وادب نے انگریزی شعر وادب کو اور انگریزی شعر و ادب نے اردو شعر و ادب کو نہ صرف متاثر کیا ہے بلکہ اس کی آبیاری کے لیے مناسب ماحول بھی فراہم کیا ہے۔دونوں ہی قسم کے شعر و ادب میں بے شمار مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی اس قسم کے شکوک و شبہات بھی ابھرنے لگتے ہیں کہ ایک زبان وادب کے فنکار نے دوسری زبان و ادب کے فنکار کی یاتو نقل کی ہے یا ادبی سرقہ کیا ہے۔کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دو مختلف زبانوں کے فنکار ایک دوسرے کے فن اور شخصیت سے بالکل ہی ناآشنا ہوں مگر دونوں کے فن میں یکساں محرّکات کارفرما ہوں، یکساں خیالات و افکار کا سیلان ہو، یکساں حالات کی عکاسی کی گئی ہو۔حقیقت یہ بھی ہے کہ انیسویں صدی تک اردو شعراء، انگریزی شعر و ادب سے تقریباً نابلد تھے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ غیر منقسم ہندستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت کے جذبات نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے تھے۔ان حالات میں ہندوستانیوں کی انا اور عزتِ نفس کبھی انہیں انگریزوں کی نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اسی طرح انگریزی ادب بھی احساسِ برتری کا شکار تھا پھر وہ کس طرح غلام ہندوستانیوں کے خیالات و افکار کی ہو بہو نقل کرتا؟لیکن اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ فورٹ ولیم کالج کے توسط سے اردو شعر و ادب انگریزوں تک برابر پہنچ رہا تھا۔اسی طرح دوسری جانب سرسید، حالی اور آزاد کی کوششوں سے انگریزی خیالات و افکار کی درآمدگی سہل ہوچکی تھی۔ کرنل ہالرائڈ اپنے مشن میں لگے ہوئے تھے اور اقبال آرنالڈ سے متاثر ہوچکے تھے۔ ان حالات میں اردو کے انگریزی پر اثرات اور انگریزی کے اردو پر اثرات مکمّل نہ سہی، کم کم، ہی پڑنے لگے تھے۔
الفاظ اور خیالات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ، ان ہی دونوں کے اختلاط سے فن پاروں کا جنم ہوتا ہے۔شاعری ایک ایسی صنف ہے جو شاعر کو خوابوں میں بھی کافکا کی طرں جھنجوڑتی ہے، ایلیٹ کی طرح سوچنے پر مجبور کرتی ،ورڈس ورتھ کی طرح خوبصورت نظاروں کی سیر کراتی ہے۔اور کولرج کی طرح چبھتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرواتی ہے۔یہی چبھتے ہوئے جذبات، اسٹیفن گل اور فراق گورکھپوری کی شاعری پر مبنی میرے مقالے کی اساس ہیں۔
فراق کا جنم گورکھپور میں ہوا جبکہ اسٹیفن گل پاکستان میں پیدا ہوئے ہندوستان میں پرورش پائی اور کنیڈا میں سکونت اختیار کی۔ فراق کی طرح اسٹیفن گل بھی شاعر اور نقاد ہیں ۔آپ تقریباً ۰۲ کتابوں کے مصنف ہیں جس میں ناول ، تنقید اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ گلِ نے اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی میں شاعری کی ہے۔ ان کی نثر اور نظم دونوں کو ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار پبلشر شائع کرچکے ہیں۔ہند و پاک کے مختلف گلوکاروں نے آپ کی شاعری کو اپنی آواز دی ہے۔
فراق اور گِل دونوںنے اپنی شاعری کی ابتدا بچپن ہی سے کردی تھی۔گل نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنی شاعری کی اساس بنایا ہے۔کے کے سری واستو دونوں کے ساتھ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
“گل نے میرے پہلے مجوعہ کلامIneluctable Stilnessکی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری شاعری میں جینت مہاپاترا کو پاتا ہوں جبکہ فراق نے ملاقات کے وقت مجھ سے کہا تھا کہ کبھی یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کے درمیان رہو جو تمہارے برابر نہ ہو تب بھی اس طرح کا برتاﺅ کرو کہ وہ تمہیں اپنے برابر نظر آنے لگے۔ فراق اپنی اس عظمت سے واقف تھے”
وہ کہتے ہیں کہ
اب اکثر چپ چپ سے رہے ہیں، یوں کبھی منہ کھولے ہیں
پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولے ہیں
اسٹیفن گِل کبھی فراق کی طرح کھل کر سامنے نہیں آئے، ان کی شاعری پوری انسانیت پر چھائی ہوئی اداسی، مایوسی اور حسرت کی ترجمان ہے۔وہ جذبات کی گہرائی تک پہنچ کر انہیں آشکار کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ
storms hid the glow with dust
when the albatross of violence
flies over the flower
(You are not There)
جنگ جدید تہذیب و تمدّن کے ماتھے پر موجود ایک بدنما داغ ہے، فراق اور گِل دونوں بھی ہمیںجنگ اور اس کی تباہ کاریوں پر فکر مند نظر آتے ہیں۔دونوں ہی جنگ کو ایسی لعنت ملامت تصور کرتے ہیںجس کے چلتے فرار کے سوا کوئی دوسری راہ نہ ہو
فراق کہتے ہیں
کاریگر، مزدور کسان
کھریال اور بگرل جوان
کاندھے سے کاندھا جوڑیں گے
دنیا پر دھاوا بولیں گے
(نئی دنیا)
دوسری جگہ فراق کچھ یوں گویا ہوتے ہیں کہ
تیرے لیے دنیا ہے، دنیا کے لیے تو ہے
ہاں خود پر نظر کر کے دنیا پر نظر کر
(ہاں اے دل افسردہ)
جب جنگ چھڑی دیشوں میں
جو بھی پڑی ہم پر ہی پڑی
بھس میں چنگی دے کر ساتھی
دیکھ جمالو دور کھڑی
(مزدوروں کاریگروں شپکاروں کی للکار)
اسٹیفن گل اس سے آگے بڑھ کر وحشیوں اور درندوںکو امن قائم کرنے دعوت دیتے ہیں۔اس سے ان کی اندرونی تڑپ کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک جنگ زدہ حالات بدلنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں
let us ask all beings
even the beast
give us their hands
let us not surrender
(Seekin the Dove of Peace)
کبھی وہ کہتے ہیں کہ
When
harmony was fused
into my mind, soul heart
and every other organ of the body
the human was created (When)
for which of those sins
offences and crime
have we lost the time to breathe
no hope, no spark
to own own your tranquil eyes (Hramony and Peace)
ہند پاک جنگ کے تناظر میں فراق نے کہا تھا کہ
ہم نے تم نے اپنی ہی بیٹیوں کا سہاگ مٹایا
اپنے بیٹوں کو خود ہی
کیا ہے یتیم
بھائی نے بھائی کے خون سے ہولی کھیلی
کیا ہمیں مل گیا گیا تمہیں مل گیا
ان ہی خیالات کو اسٹیفن گل کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ
if the nuclear bombs drop
will the dawn be born again
will the players play again
will the children swim again
تشدّد ان دونوں شعراءکو اس قدر کچوکے لگاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح کے اشعار کہنے سے روک نہ سکے
صدیوں کے بنے کام بگڑ جائیں گے
دھرتی پر عالم موت کے گر جائیں گے
اسٹیفن کہتے ہیں
the willful ghosts of sorrow
have not dissolved
nor have the fogs of ignorance
will float over the cold tombs
rather
they have grown in strength
in the gloom of violence
(New Year)
ان ہی خطوط پر T.S. Eliotکہتا ہے کہ
“گزشتہ سال کے الفاظ کا تعلق گزشتہ سال کی زبان سے ہوتا ہے، آئندہ سال کے الفاظ کسی دوسری نئی آواز کے منتظر ہوتے ہیں”
آفاقی شاعر ہونے کے ناطے اسٹیفن گل کو کسی ایسے نظام کی تلاش ہے جو سماج و معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو ختم کردے۔ وہ ایسی آواز کی حمایت کرتا ہے جسے پوری دنیا میں سنا اور سمجھا جا سکے۔وہ آواز امن اور محبت کی آواز ہو۔ وہ آواز بین الاقوامی اتحاد کی آواز ہو۔ گل کی نظمیں مختلف معنی و مفاہیم کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف النّوع جذبات کی ترسیل کا کام انجام دیتی ہیں
فراق اور گل دونوں کا شمار شاعرِ امن آشتی اور شاعرِ محبت و انسانیت میں ہوتا ہے۔دونوں ہمیں عوام الناس کے آپسی اتحاد کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔دونوں کی شاعری میں جذبات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دونوں ہی اپنی شاعری میں ماں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فراق اپنی نظم “جگنو “میں کچھ یوں کہتے ہیں کہ
وہ ماں جو دودھ بھی اپنا مجھے پلا نہ سکی
وہ ماں جو ہاتھ سے اپنے مجھے کھلا نہ سکی
وہ ماں جو میرے لیے تتلیاں پکڑ نہ سکی
جو بھاگتے ہوئے میرے بازو پکڑ نہ سکی
ان ہی یادوں کو گل کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں
images of sacrifice
message of hope
you are highly prized
the gift of this life
I owe to you
اکثر و بیشتر محبوبائیں تنہائی میں شعراءکے تخیّل پر وارد ہوتی ہیں۔ ان ہی کے جلوے کبھی تخلیقات میں اور کبھی تخلیقات سے پرے نظرآتے ہیں۔لیکن محبت کا حلقہ شاعری میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔فراق اور گل نے بھی اپنی تنہائی کے لمحات اپنی اپنی شاعری میں پیش کیے ہیں۔ دونوں کے جذبات کی مماثلت قارئین کو چونکا دینے والی ہے۔
فراق کہتے ہیں
وہ چپ چپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شبِ ماہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے کسمسانے کی راتیں
گل نے اسی خیال کو کچھ یوں باندھا ہے
In the ruin of lonesome hours
she knocks
at the doors of my dreams
and shyly sits
beside me (Haunting Melody)
نظم “ہنڈولا “میں شعور کی رو میں بہتے ہوئے فراق اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے فراق کے خواب بکھر گئے ہوں ، خواب خواب نہ بلکہ فریب نظر ہوں
مجھے گماں پرستانیت کا ہوتا تھا
ہر چیز کی وہ خواب ناک اصلیت
مرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئی
لیے ربوبیتِ کائنات کا احساس
ہرایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپ
ہراک نظارہ اک آئینہ خانہ¿ حیرت
گل، فراق اور D.H. Lawrenceکی طرح پریوں کی دنیا میں سیر کرتے ہوئے شخص اور کائنات کے درمیان کا ربط تلاش کرتے ہوئے کہتا ہے
I wish to harvest
a ripened manna of wonders
of the youthful bloom
for the courtof enlightenment
to vakidatethe claim
those outgrowths
from diversityof landscape
stem from the cosmic order
of the same source
(To Be)
گل جمہوری طرز حکومت کے حامی تھے وہ کہتے ہیں کہ
I am aware of the dangers
from the east and the west
I know I am surrounded
by the demons of repression
اسی انداز میں فراق سوشلزم کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
وہ علم کیا جو ضامنِ فردہ نہ ہو سکے
جو آئینے میں آج کے کل کو نہ دیکھ لے
Mathew Arnold نے کہا تھا کہ شاعر کو سمجھنے کے لیے شاعرانہ دل چاہیے۔ Walt Whitman کہتا ہے کہ اچھے شاعر پیدا کرنے کے لیے اچھے قارئین کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ ممکن ہو تب ہی قارئین اسٹیفن گل اور فراق کی شاعری سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ دونوں کی شاعری انسانی جذبات، خواہشات اور یاداشت کی ترجمانی کرتے ہوئے، Benedict De Spinoza کی طرح اتحاد کی تبلیغ کرتے ہوئے لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عظیم اذہان، ذات پات، سماج و معاشرہ، زبان و ادب، ملک ملّت، اور علاقوں سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بھلائی کے لیے یکساں خطوط پر سوچ سکتے ہیں


مضمون نگار نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Firaq ki Infradiat by Abdulbari Qasmi

Articles

فراق کی انفرادیت

عبد الباری قاسمی

بیسویں صدی کو ادب داں طبقہ تحریکات و رحجانات کی صدی سے تعبیر کرتا اور جانتاہے انیسویں صدی میں ادب کی فضا بالکل مختلف تھی ، مگر جوں ہی اس کا اختتام ہواا ور عقلیت پسندی کارحجان بڑھنے لگا خود بخود نئی نئی تحریکیں معرض وجود میں آنے لگیں، ان تحریکات کا اثرادب کے تمام ہی اصناف پر ہوا خواہ شاعری ہو یا نثر، اسی دور میں غزل کی کوکھ سے جدید غزل کی پیدائش ہوئی اور اہل علم کے طبقہ نے ہر چیز میں جدت و ندرت تلاش کرنے میں مصروف رکھنے کو ہی قابلیت اور مہارت کا معراج سمجھنا شروع کیا ، اسی انیسویں صدی کے اختتام سے چند سالوں قبل گھورکھ پرساد عبرت کے لکشمی منزل میں رگھوپتی سہائے فراق نے آنکھیں کھولیں ، فراق کی زندگی گلہائے رنگارنگ سے مزین رہی ہے، اگر ہم فراق کا جائزہ لیں تو ان کی زندگی ہر سطح اور ہر باب میں منفرد دکھائی دیتی ہے خواہ ان کی شاعری کا مطالعہ کریں یا ان کی نثر کاجا ئزہ لیں ، ان کی داخلی زندگی کو دیکھیں یا ان کے خارجی معاملات کو ان کی انفرادیت ہر جگہ مسلم نظر آتی ہے، فراق کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری میں کئی زبانوں ، کئی تہذیبوں اور کئی تحریکات کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے اور ان سب کے حسین امتزاج سے ان کی شاعری کی جودنیا آباد ہوتی ہے وہ انہیں بالکل مختلف اور منفرد مقام پر کھڑا کر دیتی ہے ، فراق کی شاعری کا بنیادی رنگ اور موضوع حسن و عشق ہے مگر جہا ں ان کی شاعری میں خاص طور پر غزل گوئی میں حسن پرستی اور انسان دوستی کے اعلیٰ نمونے اور قدریں ملتی ہیں تو وہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پر چھائیں بھی باہیں دراز کیے ہوئے استقبال کرتی نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ جدید غزل گو شعرا میں فراق کا نام کافی اہمیت سے لیا جاتا ہے ویسے تو فراق غزلوں میں روایت کی پاسداری اور انحراف دونوںکا عکس دکھائی دیتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں عشق ، معاملات عشق، جسم و جنس کا تصور، اشتراکی رنگ، خوبصورت ہندوستانی دیومالائی عناصر سے مزین تشبیہات وا ستعارات ، ڈرامائیت، تجسیم کاری، معنیٰ آفرینی، رعایت لفظی اور کائنات کے حسین مناظر ان تمام چیزوں کو اس خوبصورتی سے غزل کا حصہ بنایا ہے کہ خود بخود ان کی شاعری ایک نئی جہت سے آشنا ہوگئی ہے ، فراق کے فکروفن دونوں اعتبار سے انفرادیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کی تشکیل میں مشرق کی نرمی اور روحانیت اور مغرب کی جدت و آفاقیت دونوں ساتھ رہی ہیں اور انہیں دونوں کے امتزاج سے ان کی شاعری ایک نئی لے اور لہجہ سے آشنا ہوتی ہے فراق فارسی اردو ، انگلش اور ہندی جاننے کے ساتھ ساتھ سنسکرت پر بھی اچھی گرفت رکھتے تھے ، اس لیے ان کی شاعری میں ان تمام ہی زبانوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیںا ور ان کی انفرادیت صرف غزل گوئی ہی میں نہیں بلکہ نظم نگاری ، رباعی نگاری، خطوط نگاری، تنقید نگاری، دوہے اور چھند وغیرہ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
فراق کی شاعری©: فراق گورکھپوری کو تو شاعری ورثہ ہی میں ملا تھا ؛اس لیے کہ ان کے والد گورکھ پرساد عبرت بھی شاعر تھے ۔”حسنِ فطرت“ نام سے ان کی مثنوی مشہور ہے۔ اس لیے بچپن سے ہی شاعری کا مزاج تھا ، مگر فراق نے باضابطہ شاعری 1918ءاور 1919ءکے درمیان شروع کی۔ اس وقت داغ اور امیر مینائی کا ہر طرف شہرہ تھا، اس لیے فراق نے بھی امیر مینائی کے شاگردوسیم خیر آبادی کو غزلیں دکھا نا شروع کیا ، اس کے بعد ریاض خیر آبادی اور پروفیسر مہدی حسن ناصری سے بھی اصلاحیں لیں، اصل ان کی شاعری میں انقلاب 1920ءمیں آیا جب پنڈت نہرو کے ساتھ گرفتار کر کے انہیں آگرہ جیل بھیج دیا گیا تھا چوں کہ جیل جانے والے لوگوں میں بڑے بڑے ادیب ، شعرا اور دانشور حضرات تھے ، اس لیے موقع پاکر جیل میں ہی مشاعرے ہونے لگے اورفراق کی شاعری ایک نئے انداز اور نئے لہجے سے متصف ہونے لگی ، اس سے ان کی شاعری اور نکھرتی ہی چلی گئی اور انہوں نے شاعری کو روایت سے لے کر انحراف تک کا سفر کر ایا یہی وجہ ہے فراق کی شاعری میں میر، حسرت اور دیگر شعراکا بھی رنگ نظر آتا ہے اوران کا رنگ ناصر کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی جیسے جدیدیت کے شعراپر بھی دیکھنے کو ملتا ہے، فراق نے غزل گوئی کے علاوہ نظم نگاری، رباعی نگاری، دوہے اور چھند بھی کہے ہیں اور شاعری کی ہر صنف میں ان کی آواز کو پہچانا جا سکتا ہے۔
فراق کی غزل گوئی: فراق گورکھپوری نے ویسے تو شاعری کے مختلف اصناف کو برتا اور اِس میں طبع آزمائی کی ہے، مگر وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل گو شعرا میں بھی ان کا شمار ان شعرامیں ہوتا ہے جہنوں نے اپنی خلاقانہ ذہنیت ،بے انتہا علوم اور حساس مزاجوں کو استعمال کر کے غزل میں نئے نئے گوشوں کا اضافہ کیا، ان کی غزلوں میں مشرقی لے بھی نظر آتی ہے اور مغربی بھی، انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں آزادی کے بعد کے ہندوستانی فضا کی عکاسی جس خوبصورتی سے کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ اسلوب احمد انصاری جیسے ناقد نے انہیںہندوستان کی نشا¿ة ثانیہ کا ایک ممتاز نمائندہ قرار دیا ، سید محمد عقیل رضوی نے عہد آفریں ، مظہر امام نے کلاسیکی غزل کا آخری بڑا شاعر، رشید احمد صدیقی نے اردو غزل کا رمز آشنا، فتح محمد ملک نے جنوبی ایشیا کی تہذیبی دنیا میں معقولیت کی سب سے توانا آواز اور حسن عسکری نے نئی آواز سے تعبیر کیا، اس کے علاوہ بھی کچھ حضرات نے ا مام المتغزلیں اور خاتم المتغزلیں کے بھی خطاب سے فراق کو سر فراز کیا۔ پروفیسر شمیم حنفی صاحب نے فراق کے غزل کی تعداداور مقام پر اس انداز سے تبصرہ کیا ہے کہ
”1965 میں فراق صاحب نے اپنی غزلوں کا ایک اشاریہ بنوایا تھا ، اس اشاریہ کے مطابق 1965ءتک فراق صاحب نے کل چھ سو چوبیس غزلیں کہیں تھیں، 1965ءکے بعد سے 1982ءیعنی فراق صاحب کے سال وفات تک اس تعداد میں کم سے کم سو غزلوں کا اور اضافہ کر لیجیے یعنی کہ تقریباََ سو ا سات سو غزلیں ان میں زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس غزلیں ایسی ہوں گی جنہیں فراق صاحب کے واسطے سے نئی حسیت کا ترجمان قرار دیا جا سکے“(۱)
فراق کی غزلوں میں میر کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کے معاصرین شعرامیں حسرت، اصغر، جگر ، فانی اور یگانہ کا بھی، فراق کی نرمی، حلاوت، احساس کی گرمی اور جذبات کی آہستگی انہیں میر سے قریب کر دیتی ہے
بات بھی پوچھی نہ جائے گی جہاں جائیں گے ہم
تیری محفل سے اگر اُٹھے کہاں جائیں گے ہم
اس کے علاوہ ان کی غزلوں کی دوسری سب سے اہم خصوصیات ہیں کہ ان کی غزلوں میں مشرقی اور مغربی دونوں مزاجوں کا زبردست امتزاج ملتا ہے، اس لیے کہ جہاں وہ انگریزی شعرا شیلی، ورڈس ورتھ، اور کیٹس وغیرہ سے متاثر ہیں وہیں سنسکرت شاعری، سنسکرت تہذیب ، کلاسیکی اور جمالیاتی روایت پر بھی گہری نگاہ ہے، بلکہ فراق کی لفظیات ، استعارات، تشبیہات و کنایات کو سمجھنے کے لیے فارسی، اردو ، ہندی ، سنسکرت، انگریزی اور بھوجپوری کو بھی اچھی طرح جاننا ضروری ہے۔جذبات کی عکاسی کس خوبصورتی سے اس شعر میں کیا ہے
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق تو فیق ہے گناہ نہیں
فراق کی غزلوں کا رنگ ہی منفرد ہے، ان کا محبوب جہاں گوشت پوست والا انسان ہے، وہیں ان کی غزلوں میں تشبیہات وکنایات اور استعارات بھی روایتی اور تہذیبی ہیں، غرض انہوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے غزلوں میں ڈھال دیا ہے، ان کے یہاں سادگی بھی ہے اور روایت سے خوبصورتی سے انحراف، تحریکات کے اثرات بھی ہیں اور محبوب سے جدائی کے جذبات بھی۔
فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ: ویسے تو اگر ہم فراق کی غزلوں کو بغور پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ابتداہی سے وہ روایت سے انحراف کی کو شش کر رہے ہیں، مگر ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ دیکھنے کو خوب ملتا ہے، پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ
”فراق کلاسیکی اردو شاعری کا گہراثر رکھتے تھے ان کی ذہنی اور فنی تربیت میں کلاسیکیت کا بہت بڑا ہاتھ تھا “(۲)
وحید اختر نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
”فراق کی غزل کلاسیکی روایت کاعطر مجموعہ ہے،ان کی شمع سخن میں تمام اساتذہ کی آوازیں روشن ہیں “ (۳)
ابولکلا م قاسمی صاحب نے ہلکی سی الگ رائے قائم کی ہے۔
”فراق کے شعر میں بلا شبہ میر کے شعر کی بازگشت بھی موجود ہے مگر میر کے شعر میں محبوب کو ساری خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنے پر اصرار ہے جبکہ فراق محبوب کے منفرد اور آزاد و جود کی اہمیت کو واضح کر نا چاہتے ہیں۔“ (۴)
دیکھ پھر حسن کے محاسن کو
حسن کی پہلے ہر برائی دیکھ
اس شعر میں میر کو محسوس کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی نے سودا کے نزدیک قرار دیا تو کچھ لوگوں نے مومن کے اسکول کانمائندہ قرار دیا،مگر یہ حقیقت ہے کہ فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ نمایاں ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ فراقنے احساسات ، تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ایک الگ راہ نکالی۔
تشبیہات واستعارات: فراق کی غزلوں میں تشبیہات و استعارات بھی دکھائی دیتے ہیں اور کمال ہے کہ فراق کے تشبیہات و استعارات اور تلمیحات میں بھی ہندوستانی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے۔
دلوں میں تیرے تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اُٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
فراق عام طور پر رات، شب ، سناٹا، روشن وغیرہ الفاظ کو بطور تشبیہ خوب لاتے ہیں بلکہ رات“ کا تصور رتو اس قدر تنو ع سے ان کی شاعری میں ہے جس سے انداز ہوتا ہے کہ رات میں کبھی انہیں نیند ہی نہ آتی ہو
غزل کے ساز اُٹھاو¿ بڑی اداس ہے رات
نوائے میر سناو¿ بڑی اداس ہے رات
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
اسلوب احمد انصاری نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
” فراق کی تشبیہیں روایت سے کم اور ذاتی مشاہدہ سے زیادہ قریب ہیں “
ان اقتباسات سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ فراق کس طرح کے تشبیہات و استعارات کا انتخاب کرتے ہیں۔
پیکر تراشی: لفظوںکی مدد سے شاعری میں تصویر سازی کے ہنر کوپیکر تراشی سے تعبیر کیا ہے ، اس باب میں بھی فراقنے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں
سفید پھول زمیں پر برس پڑیں جیسے
فضا میں کیف سحر ہے جدھر کو دیکھتے ہیں
آگئی باد بہاری کی لچک رفتار میں
موج دریا کا تبسم بس گیا رخسار میں
رومانیت: فراق انگریزی شعرا شیلی ، ورڈس ورتھ، کیٹس اور ٹینس وغیرہ کو خوب پڑھتے تھے، اس لیے انگریزی شاعری والی رومانیت فراق کی غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، مگر اس باب میں بھی فراق کی ایک انفرادیت ہے کہ وہ انگریزی شاعری کے مناظر فطرت اور رومانیت کو ہندوستانی تہذیب میں ڈھال کر بڑی خوبصورتی سے پیش کر تے ہیں
زندگی کیا ہے اس کو آج اے دوسست
سوچ لیں اور اداس ہوجائیں
مہر بانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جابھی نہیں
موضوعات: فراق کی غزلوں کے بنیادی موضوعات حسن و عشق،انسانی جذبات و کیفیات اور جسم و جمال کی لطافتیں ہیں وہ اپنے عمدہ اور لطیف تخیل کے ذریعہ غزلوں میں ایسا رنگ بھر دیتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا
ذرا وصال کے بعد آ ئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
عشق: عشق اور معاملات عشق کا تعلق شروع سے ہی شاعری سے رہا ہے، مگر فراق کا عشق وہ ہے جو ذاتی حادثات و تجربات کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور جلد ہی انسانیت کے عشق میں ڈھل جاتا ہے، پروفیسر ممتاز حسین نے لکھا ہے کہ
” وہ (فراق) بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ میں ان چند گنے چنے شعرامیں تھے جنہوں نے اردو شاعری کے رخ کو اس کے پیش پافتادہ وہ عشقیہ شاعری سے ایک نئی شاعری کی طرف موڑ دیا جو حیات آفریں کو منقلب کرنے والی ہے۔“(۶)
ہزار بار زمانہ ادھر سے گذرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تری رہ گزر پھر بھی

عشق کی آگ ہے وہ آتش خود سوز فراق
کہ جلا بھی نہ سکوں اور بجھا بھی نہ سکو ں
محبوب: دیگر کلاسیکی شعراکی طرح فراق کے محبوب میں حقیقی و مجازی کا کوئی اختلاف نہیںہے، بلکہ ان کا محبوب خالص مجازی اسی دنیا میں رہنے ولا گوشت پوشت کا انسان ہے، فراق کو ہر وقت وصل کا غم دامن گیر رہتا ہے اور اسی وجہ سے ایسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ وصل میں بھی انہیں محرومی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔
رات آدھی سے زیادہ گئی تھی سارا عالم سوتا تھا
نام تیرا لے لے کر کوئی درد کا مارا روتا تھا
جسم وجنس: فراق نے جسم و جنس کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ میں ڈھال کرغزل میں پیش کیا ہے، یہ فراق کی ہی انفرادیت ہے، فراق نے جسم سے کائنات اور عشق سے عشقِ انسانیت کا سفر لاجواب انداز سے طے کیا ہے
ایک مدت سے تری یادبھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
ہندوستانی تہذیب کی عکاسی : فراقایک سچے محب و طن اور اپنی تہذیب سے بے انتہا محبت کرنے والے انسان تھے ، اس لیے ان غزلوں میں ہندوستانی تہذیب اوررنگ کافی نما یاں ہے خود انہوں نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ”ہندوستانی تہذیب میری غزلوں میں عشقیہ جذبات اور احساس کی نزاکتوں اور نرمیوں کا لہجہ اختیار کر لیتی ہیں۔“ اسی پہلو کو دوسری جگہ فراق نے اس انداز سے بیا ن کیا ہے کہ
” میرے و جدان پر عمر بھر ہندوستان کے قدیم ترین اور پاکیزہ ترین ادب اور دیگر فنون لطیفہ اور نظریہ¿ زندگی کا گہرے سے گہرااثر رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ بہترین فارسی شاعری، اردو شاعری ، انگریزی شاعری کے بہترین نثر و نظم کا ادب فلسفہ، اشتراکیت کی فکر یات قدیم و جدید ، یورپ کے ثقافتی خزانوں کے اثرات بھی میری غزل پر اثرا نداز ہوتے رہے ہیں میں نے اپنی غزلوں میں یہ چاہا ہے کہ اپنے ہر اہل وطن کو ہندوستا ن کے مزاج کا روح عصر اور صحت مند تصور دے دوں، میں نے یہ چاہا ہے کہ میری شاعری دھرتی کی شاعری ہے۔“(۷)
اشتراکی رنگ: فراق نے جب شاعری کی ابتدا کی تھی تو داغاور امیر کا زمانہ تھا، مگر جب عروج کا زمانہ آیا تو اشتراکی اور ترقی پسند تحریک کی شروعات بڑے زوو شور سے ہوئی، فراق بھی اس تحریک سے وابستہ ہوگئے اور شاعری کو قومیت کے نئے زنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی
زندگی کو بھی منھ دکھانا ہے
رہ چکے تیرے بے قرار بہت
بعد کے شعراپر فراق کا رنگ: جس طرح فراق نے کلاسیکی شعر اکے اثرات قبول کیے فراق کے بعد آنے والے جدید شعرا نے بھی فراق کے اثرات قبول کیے جن میں ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی اور شاذ تمکنت وغیرہ کے نام اہمیت سے لیے جاتے ہیں۔
ناصر کاظمی
تو کون ہے ترا نام ہے کیا
کیا سچ ہے کہ تیرے ہوگئے ہم
خلیل الرحمن اعظمی
ایسی راتیں بھی ہم پہ گزریں ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
ساقی فاروقی
وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے
جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا
حرفِ آخر: فراق زندگی ، فکر اور فن دونوں اعتبارسے تمام ہی چیزوں میں انفرادیت رکھنے والے شاعر ہیں، ان کی شاعری میں مشرق و مغرب دونوں مزاج کا حسین امتزاج ملتا ہے، انہوں نے کلاسیکی شعراکے اثرات قبول کیے اور اس سے انحراف کر کے ایک نئی راہ بھی نکالی ، گرچہ خلیق انجم صاحب نے کہا ہے کہ ” ان کے سامنے کوئی واضح راہ نہیں تھی“چوں کہ فراق بیک وقت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ہندوستانی تہذیب، مناظر قدرت، فطرت انسانی، زبان و ساز اور انگریزی، ہندی، فارسی ،اردو ، سنسکرت سے مل کر ایک نئی تہذیب ان کی شاعری میں رچ بس رہی تھی انہوں نے ان تمام چیزوں کو ملا کر اپنی ایک منفرد آواز بنائی ، فراق کا شمار ان جدید غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کو جدت و ندرت اور نئے آواز و آہنگ سے آشنا کیا ۔ فراق کا کمال ہے کہ انہوں نے حسن و عشق اور جسم و حسن کو بھی احساسات و ادراک میں ڈھال کر ایک نئے اور اچھوتے انداز میں پیش کیا، ان کی شاعری میں ترقی پسند تحریک اور دیگر رحجانات اور ہندوستانی دیومالائی عناصر کا بھی رنگ دکھاتی دیتا ہے، انسان دوستی کاجذبہ بھی فراق کامنفرد ہے۔ انہوں نے غزل میں بہت سی خوبصورت تشبیہات و استعارات، علائم اور لفظیات پیش کیے جس کی نظیر یں ملتی۔ ان کی شاعری میں ڈرامائی عناصر بھی بہت خوبصورت نظر آتا ہے
تارے بھی ہیں بیدار زمیں جاگ رہی ہے
پچھلے کو بھی وہ آنکھ کہیںجاگ رہی ہے
……………………………………..
حوالہ جات
(۱) فراق دیار شب کامسافر شمیم حنفی جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛ ۱۵۱
(۲)فراق دیار شب کامسافر پروفیسر عتیق اللہ جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛۴۰۱
(۳) ص؛۵۰۱
(۴)شاعری کی تنقید ابوالکلام قاسمی ص؛۱۰۱
(۵)فراق گورکھپوری اسلوب احمد انصاری مجموعہ¿ مضامین انجمن ترقی اردو دہلی
(۶)فراق اور فراق کی شاعری پروفیسر ممتاز حسین
(۷)آج کل دہلی فراق گورکھپوری ص؛۴
(۸)پچھلی رات فراق گورکھپوری ص؛۷
(۹)فراقگورکھپوری ڈاکٹر خلیق انجم انجمن ترقی اردو دہلی ص؛۳۹۱


مضمون نگار شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

abariqasmi13@gmail.com
9871523432