A Study of Sufi Poetry in Marathi Literature
Articles
My Poetry by Akhtarul Iman
Articles
میری شاعری
اختر الایمان

میری عادت ہے جب نظم ہو جاتی ہے اسے رکھ دیتا ہوں اور اتنے دن رکھا رہنے دیتا ہوں کہ نظم ذہن سے محو ہوجائے ۔نظر ثانی کرتے وقت اکثر اوقات نظم کا اچھا برا سامنے آجاتا ہے پھر بھی یہ کوئی قاعدہ یا کلیہ نہیں۔میں نے یہ عادت اس لیے اختیار کی کہ شاعری پر کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی تھی نہ کوئی مشورہ کیا تھا۔جس طرح کا مزاج تھا اس میں استادی شاگردی والا ڈھرّہ چل بھی نہیں سکتا تھا ۔شاعری شروع کی تھی لونڈے پن میں۔رکان تھی مصرع موزوں کرنے کی مگر جب کچھ دوستوں اور بزرگوں نے کہا تمہارے اندر شاعر بننے کی صلاحیت ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا۔شاعری کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے سمجھنے کے لیے کافی ریاض کیا۔کچھ ایسے بے لاگ بات کرنے والے دوست اور ساتھی بھی مل گئے جو مجھے پسند تھے اور گاڑی دھیرے دھیرے ڈھرّے پر آگئی۔
ڈھرے کا یہ مطلب نہ نکالیے کہ مہاتما بدھ کی طرح کسی پیڑ کے نیچے القا یا الہام ہوا۔کہنے سے مراد ہے مجھے کس طرح کا شاعرانہ رویہ پسند ہے،اور اسے اختیار کرنے کی سبیل کیا ہو،اس کا ایک دھندلا ساراستہ دکھائی دیا۔ہر دور کی تخلیق اور احتساب، پیش رو‘بڑے لکھنے والوں کی تخلیقات کو ذہن میں رکھ کر کیا جاتا ہے ۔سامنے غزل کی بڑی شاعری تھی۔پھر مسدس سریلے بول اور غالبؔ کو از سر نو روشناس کرانے والے لوگ۔
یہ درست ہے لکھنے کے بہت ابتدائی دور میں شاعرکو اتنا شعور نہیں ہوتا کہ چیزوں کی بہت چھان پھٹک کرے مگر غیر شعوری ہوتے ہوئے بھی فن کا ایک معیار تو ذہن میں ہوتا ہے۔ راستہ دھندلا ہوتا ہے پھر بھی کوئی یہ تو نہیں چاہتا کہ کوشش رائیگاں جائے۔تقریب کچھ تو بہرملاقات چاہیے والا بھی ایک راستہ ہے مگر میرے ذہن میں وہ نہیں تھا۔
آج کل کے چل چلاؤ کے زمانے میں اچھے خاصے معقول حضرات بھی ایک الجھن کا حل دوسری الجھن کی صورت میں پیش کردیتے ہیں۔شاید سوچتے ہیں کون جھنجٹ میں پڑے۔ کسی نے پوچھا آسمان پر کتنے ستارے ہیں جواب دیا سمندر میں جتنے قطرے ہیں ۔اب چاہے راتوں کو بیٹھے آسمان تکا کیجئے چاہے سمندر میں غوطہ لگائیے اس سے انہیں کچھ مطلب نہیں۔ جدید اردو شاعری کا بھی کچھ ایسا ہی حال دکھائی دیتا ہے۔اس خواب کو بھی کثرت تعبیر کرنے پر پریشان کردیا ہے۔گنبد میں ہر کوئی اپنی سی کہے جاتا ہے اور ہر نئے آنے والے کی تعمیر یا (تخریب)الجھنوں میں اضافہ کردیتی ہے، اور نقصان میں رہتے ہیں شعر و شاعری سے لطف اٹھانے والے یا ان سے بھی زیادہ خود شاعری۔مختصر یہ کہ جدید اردو شاعری کے تصوّر کو بعض لوگوں نے جان بوجھ کر انجانے میں ایک گورکھ دھندابنادیا ہے۔اور یوں وہ اکثر لوگوں کے لیے بھول بھلیاں بن کر رہ گئی ہے۔ایسی صورت حال کے ہوتے ہوئے وہی لوگ فائدہ میں رہ سکتے ہیں جو اپنی عینک میں صحیح نمبر کا شیشہ لگا کر دیکھنے کی کوشش کریں۔
جدید اردو شاعری ایک ایسی پھلواری ہے جس کی زمین تو حالیؔ، اسماعیل ،آزاد اور ان کے دوسرے ہم خیالوں نے تیار کی تھی لیکن اس میں سب سے پہلا خوشنما اور بارآور پودا عظمت اللہ اور بجنوری ؔنے لگایا تھا۔اپنے وسیع مفہوم کے لحاظ سے جدید اردو شاعری کا اطلاق حالیؔ اور اس کے بعد کی شاعری پر کیا جاسکتا ہے مگر آج اضافی ادب خصوصاً مغربی ادب کے مطالعے کے اثرات سے ہمارے جو نئے شاعر پیدا ہوئے ہیں ان کے صحیح پیش رو میری نظر میں عظمتؔ اللہ اور بجنوریؔ ہیں۔گذشتہ دس پندرہ سال کی اردو شاعری میں فن اور خیال کے تمام تجربات شجرے کے لحاظ سے انہیں کے ذیل میں آئیں گے ۔عظمت اللہ خاں نے ’’سریلے بول‘‘کے آغازمیں نئی پود کے نام اپنے کلام کاانتساب یوں کیا۔
’’اس آنے والی پود کے لیے جس کے ہونٹوں پر ابھی ماں کے دودھ کا مزہ کچھ یونہی سا باقی ہے۔جس کی آواز میں ابھی لڑکپن کا سریلا پن گونج رہا ہے یہ چند lyric نظمیں سوغات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔اس پود کے پھولنے پھلنے کے بعد بڑا کام یہ ہوگا کہ اس کی نغمہ سرائی سے اردو شاعری فطرت کی طرح وسیع ہوجائے اور فطرت ہی کی طرح گونج اٹھے۔اگر ان چند بولوں سے اس پود کو اردو ادب کا ایک نیا دور طلوع کرنے میں ذرا بھی مدد ملی تو گویا ان ناچیز۔چیزوں کا صلہ مل گیا۔‘‘
یہ اس شاعر کے الفاظ ہیں جسے اپنے اوپر اعتماد تھا۔اس اعتماد کی تائید اس نئے دور نے زیادہ سے زیادہ زور دار الفاظ میں کی ہے جو اردو شاعری میں طلوع ہوچکا ہے لیکن اس نئے دور میں اپنے پیشرو کے ہم نوا اس کے جیسے اعتماد کے حامل نہیں ہیں۔چاہے آزاد نظم اور دوسرے ضمنی تجربات ہوں چاہے جنسی موضوعات اور چاہے سیاسی عقائد اور خیالات۔ہر ایک کے حامیوں کی ہستی کچھ برسبیل تذکرہ ہی دکھائی دیتی ہے۔یہ تسلیم کہ شروع میں صرف قدامت پرستی اور محض بے علمی یا جہالت کی جس مخالفت سے سامنا پڑا تھا وہ اب دور ہوچکی ہے یا کم سے کم دب سی گئی ہے ۔مگر اس کی جگہ اب آنے والوں کی باہمی غلط فہمیوں نے لے لی ہے۔ادب برائے ادب کا مقولہ تو اب ایک پرانی سی بات ہے اس کا نعم البدل ادب برائے زندگی کی صورت میں نمودار ہواتھا۔اس کی چھان پھٹک کے بعد اب جو صورت مجھے دکھائی دیتی ہے اسے دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ لوگ جو زندگی برائے زندگی کے قائل معلوم ہوتے ہیں اس گروہ کی سطحیت ہی انہیں درخور اعتنانہ سمجھنے کا جواز ہے۔دوسرے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جو زندگی برائے ادب پر عمل پیرا ہیں۔اور اپنے مسلک کے پردے میں ادب برائے زندگی کے مفہوم کو بھی لئے ہوئے ہیں لیکن ان کا راستہ بھی صاف نظر نہیں آتا۔
ہمارے جدید شاعروں کی مختلف الجھنوں کا ابتدائی زمانہ تو گذرتا جارہا ہے بلکہ یوں کہئے ختم ہونے کو ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ منزل بھی تقریباًآن پہونچی ہے جہاں کھڑے ہوکر سب سے پہلے انہیں سختی کے ساتھ نیا جائزہ لینا ہوگا پھر مستقبل پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھنا ہوگا ورنہ ان کی محنتوں کے بے ثمر ،ہونے کا اندیشہ ہے ۔عظمت اللہ اور بجنوری کی شخصیتیں اس سلسلے میں اب بھی ان کی راہ نما ہوسکتی ہیں۔یہ دونوں شاعر مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مشرقی علوم سے بھی کماحقہ،واقف تھے اور اس کے پہلو بہ پہلو رائے زنی کی وہ اہلیت بھی ان کی ذہانت کا خاصہ تھی جو صرف گہرے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ بجنوری کے مقدمے سے قطع نظر ان کی تخلیقات میں تجربوں کے باوجود ایک توازن تھا ایک ایسی ہم آہنگی تھی جو انسان کی سطحیت سے بچائے رکھتی ہے آج ہمارے بہت سے شاعر جنسی موضوعات پر محض اس لیے خامہ فرسائی کرتے ہیں کہ اس میں انہیں لذّت حاصل ہوتی ہے۔آزاد نظم یا دوسرے ضمنی تجربوں کی طرف اس لیے رجوع کرتے ہیں کہ ان کی عجب پرستی ہی نمودکا باعث بن جائے اور اپنی ہر نظم سرخ روشنائی سے اس لیے لکھتے ہیں کہ سرخ پھریرانوجوانوں کے لیے فیشن سا بن گیا ہے۔
عظمت اللہ نے جس دور کی پیشن گوئی کی تھی وہ آگیا ہے اور شاعری کے دروازے ہر طرح کے موضوعات کے لیے کھل گئے مگر کتنے اس دروازے سے داخل ہونے کی نیت رکھتے ہیں اس کا اندازہ آج کی ادبی فضا سے ہوسکتا ہے ۔لکھنے والے پلٹ پلٹ کر پیچھے کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔جس طرح قصیدہ ،مرثیہ،رجز،پوری شاعری نہیں شاعری کی ایک صنف ہے،اور زندگی کے صرف ایک رخ کی نمائندگی کرتے ہیں وہی صورت حال غزل کی بھی ہے۔ غزل کی تعریف جو میں نے پڑھی ہے وہ،بازی کردن محبوب و حکایت کردن ازجوانی و حدیثِ صحبت و عشق زناں’’یعنی محبوب کے ساتھ کھیل ،رنگ رلیاں ،جوانی کی باتیں اور عورتوں کے ساتھ عشق و محبت کے قصّے ۔ظاہر ہے بڑا دلچسپ موضوع ہے۔خدا سب کو اس کی توفیق دے مگر یہ زندگی کا صرف ایک رخ ہے ۔اس کا زمانہ اور وقت بھی بہت محدود ہے۔
پندرہ بیس سال پرانی بات ہے میں نے مدراس کی ایک فلم لکھی تھی جس کا نام ’’آدمی‘‘ تھا۔(یوسف خان)دلیپ کمار،کے ساتھ اس فلم میں بہت سے بڑے بڑے اور معروف اداکار بھی تھے۔کوڈے کنال میں فلم کی شوٹنگ ہورہی تھی جس ہوٹل میں ہم سب کا قیام تھا اس کا نام شاید کوائیلٹی ہوٹل تھا۔ایک روز رات کے کھانے کے بعد یوسف خان نے ڈائنگ ہال میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کو روک لیا ۔کہا اخترالایمان کی شاعری سنیں گے ۔ان میں ایک مصور بھی تھا جو گجرات کا رہنے والا تھا۔باقی سب کی زبان بھی اردو نہیں تھی۔یوسف خان نے کہا وہ نظم کا انگریزی میں ترجمہ کریں گے۔خیر!شاعری ہوئی یوسف ترجمہ کرتے گئے اور محفل بخیر خوبی ختم ہوگئی،اگلے روز شام کو میں ٹہلنے کے لیے کمرے سے نکل رہا تھا کہ یوسف خاں آئے اور معنی خیز انداز میں مسکراکر کہنے لگے وہ مصور صاحب جو کل رات ہال میں تھے بیٹھے تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔کہتے ہیں اسی قوّال کو بلاؤ جو کل سنا رہا تھا۔
یہ لطیفہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ شاعری کے ساتھ گانا بجانا جڑے ہونے کے سبب سننے والے شاعری کو تفریحی پروگرام کا بدل یا اس کا مترادف سمجھنے لگے ہیں ۔کوئی سنجیدہ چیز نہیں۔غزل کی طرف میرے اس رویہّ کا نتیجہ غزل کے کچھ شیدائیوں نے یہ نکالا ہے کہ میں غزل کا مخالف ہوں ۔نہیں ایسی بات نہیں ۔غزل کا حامی نہ ہونا مخالف ہونے کے مترادف نہیں۔نہ حامی ہونے کا سبب ایک تو یہ ہے کہ غزل میں پھولنے پھلنے کی گنجائش نہیں رہی دوسرا سبب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں غالبؔغزل کا نقطہ عروج ہے۔
میں مزید اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہنا صرف اس قدر ہے کہ نظم ایسی صنف ہے جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔زندگی سے متعلق کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر نظم نہیں کہی جاسکتی۔ اخلاقی، سیاسی، معاشی، سماجی، نفسیاتی، رومانی کوئی بھی موضوع ہو نظم کا کینواس اتنا بڑا ہے کہ اس پر جو رنگ فنکار ڈھنگ سے استعمال کرے گا،اچھا لگے گا۔
اس پچھلے چالیس پچاس برسوں میں نظم کی صنف اتنی وسیع اور ترقی یافتہ یا اتنی بالغ ہوگئی ہے کہ اس پر پوری طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے قناعت بہت اچھی چیز ہے انسان کو لالچی اور کمینہ ہونے سے بچاتی ہے۔حیوانیت کا توڑ بھی کرتی ہے مگر شاعری میں قناعت کا استعمال نقصان دہ ہے۔چونکہ قناعت اس ملک کے فلسفہ اور مزاح کا بڑا جزو ہے اس لیے ہم نے غزل پر قناعت کرلی مگر زندگی میں حریص اور کمینے ہوگئے۔
غزل اور بے غزلی کی بحث میں نہ پڑیئے۔ غزل ہی کیا ایسے اور بہت مسائل ہوں گے جن پر مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہوگا اور آپ کو مجھ سے مگر اس بات پر ہم ضرور متفق ہوں گے کہ کوئی صنف سخن ہو اس میں وسعت کی گنجائش ہونی چاہیے اور زبان کا ایسا استعمال ہونا چاہیے کہ پہلے جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں اضافہ بھی ہو اور زبان اپنے وسیع تر معنوں میں بھی استعمال ہوسکے اور وہ صنف اور پیکر زندگی سے ہم آہنگ بھی ہو فن کا کام پوری زندگی کا احاطہ کرنا ہے اس کے کسی ایک رخ کا نہیں ۔تحریر وجود ہی میں کیوں آئی؟اس لیے کہ اشاروں اور اشکال کی زبان محدود تھی۔اس قید سے بچنے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے صرف شاعری ہی کا استعمال نہیں کیا آدمی نے نثر کی بھی بہت سی اصناف ایجاد کی ہیں۔کہانی لکھی،ڈرامہ لکھا،ناول لکھا،رپورتاژ لکھے،سوانح لکھی غرض کہ جو قلم کی زد میں آیا اگر ایک صنف نے ساتھ نہیں دیا تو دوسری ایجاد اور اختیار کی یہی بات اس نے شاعری میں بھی روا رکھی۔مثنوی لکھی،قصیدہ لکھا،مرثیہ لکھا،رجز لکھے،غزل لکھی اور جب زبان کو وسعت دینے کی ضرورت محسوس کی، گوناگوں خیالات کا اظہار چاہا تو نظم ایجاد کی۔بیان کو وسعت دینے کے لیے زبان لا محدود چاہئے۔ زبان تو ایک ہی ہے مگر موضوع کے ساتھ لفظوں کا دروبست بدل جاتا ہے۔ رپورتاژکی زبان کلاسیکی شاعری کے لیے موزوں نہیں۔قصیدہ اور مرثیہ کا ٹھاٹھ غزل میں کام نہیں آتا اور غزل کی نزاکت نظم کے دشوار گذار میدانوں میں ساتھ نہیں چل سکتی۔کچھ لوگ اگر دو مصرعوں میں بات کہنے کو غزل کا مترادف سمجھتے ہیں تو دوہا بھی دو ہی مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر دوہا غزل نہیں ہوتا نہ دوہے کا انداز بیان غزل کے لیے موزوں ہے۔ادب، فن، شاعری جہاں انسانی جذبات اور معاملات کو رقم کرنے کا ذریعہ ہے وہاں اس کا مقصد زبان کی وسعت اور ترویج بھی ہے۔زبان میں وسعت آتی ہے پھیلے ہوئے ہشت پہلو موضوعات سے اور وہ صرف نظم میں آسکتے ہیں اس لیے کہ نظم محدود صنف سخن اور اظہار خیال کے ذریعہ کا نام ہے۔
جب میں شاعری میں کھردرے پن کا ذکر کرتا ہوں اس کا مطلب اخباری زبان نہیں ہوتا۔کلامِ موزوںبھی نہیں ہوتا۔اس کا مطلب ہوتا ہے بندھے ٹکے مروجہ اشارے اور تشبیہات ،بیان کے پیش افتادہ انداز اور مضامین سے گریز،ٹکسالی محاوروں اور روزمرہ سے پرہیز۔ایسی زبان جو ابھی شاعری کی خیرادپر نہیں چڑھی ،ان لفظیات سے مراد ہوتی ہے،جن میں ابھی کنوارا پن کی خوشبو ہے۔ اس لیے کہ وہ تواناہوتے ہیں اور نئے موضوعات میں خیال کے اظہار کا بھرپور ذریعہ ثابت ہوتے ہیں ۔تخلیق کا ایک اور اہم پہلو خود احتسابی ہے۔
خود احتسابی ایسی صفت ہے جس کا ہونا ایک قلم کار کے اندر اس کی ذہنی صحت مندی کی علامت ہے۔ہر انسان کو اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے یہ تسلیم مگر اپنے احمق بیٹے کو دنیا کا سب سے زیادہ خود صورت اور ذہین انسان سمجھ لینا ذہنی کج روی کی علامت ہے۔
٭٭٭
مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 17تا 24
Nairang E Juno
Articles
نیرنگِ جنوں
شہناز رحمن
Khana E Takallum A Collection of Interviews by Akram Naqqash
Articles
خانہِ تکلم۔۔۔۔ انٹرویوز کا مجموعہ
اکرم نقاش
Bachchon ke Shair Imsaeel Merthi
Articles
بچوں کے شاعر اسماعیل میرٹھی
نصرت شمسی
Urdu Fiction Tanqeedi Tanazuraat
Articles
اردو فکشن تنقیدی تناظرات
روبینہ تبسم
Takhleeq ki Dahleez Par
Articles
تخلیق کی دہلیز پر
محمد فاروق اعظم قاسمی
Fromation of Israel by Manawwar Rizvi
Articles
Urdu ke Aham Adabi Jaraid by Dr. Asad Faiz
Articles
اردو کے اہم ادبی جرائد کے اولین شمارے
ڈاکٹر اسد فیض

بیسویں صدی کی ابتدائی دھائیوں میں برصغیر کے اہم ادبی مراکز سے ادبی جرائد کی اشاعت کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔اِن ادبی جرائد نے بر صغیر کے ادبی معاشرہ کی علمی اور فکری بنیادیں استوار کیں اور اُن کو استحکام بخشا۔اپنے عہد کا شعور اپنے اندر سمیٹے ہوئے یہ ادبی رسائل ہمارا عظیم اثاثہ ہیں۔آج کے کئی معروف ادیبوں کی ابتدائی تحریروں اور علمی و فکری تحریکوں کے بھی یہ جرائدامین ہیں۔پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو کا اولین رسالہ‘‘میں ’’ محب ہند‘‘دہلی کو اردو زبان کا اولین ادبی جریدہ قرار دیا ہے۔اس کا اجرا جون ۱۸۴۷ء میں عمل میں آیا(۱)۔ یہ ہر ماہ دہلی سے چھوٹی تقطیع کے پچاس صفحات کی ضخامت میں شائع ہوتا تھا۔اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر (۱۸۲۱۔۱۸۸۰) تھے جو دہلی کالج میں علوم ریاضی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے کئی کتب تالیف کیں۔ ان میں چند اردو زبان میں بھی تھیں۔رسالہ’’ محب ہند‘‘ میں بہادر شاہ ظفر،شاہ نصیر کی غزلیں اور مومن و مجنوں کی شاعری بھی شائع ہوتی رہی۔یوسف خاں کمبل پوش کا سفر نامہ کئی شماروں میں قسط وار طبع ہوا۔اکتوبر ۱۸۴۹ء کے شمارے میں یوسف خاں کمبل پوش کی شبہیہ بھی شائع کی گئی۔رسالہ محب ہند سے اب تک ادبی جرائد کی اشاعت کو ایک سو باسٹھ برس کا عرصہ گذر چکاہے۔اس دوران جن رسائل نے اپنی منفرد اشاعتوں سے ادبی تاریخ پریادگار نقوش ثبت کیئے۔ اُن میں ایک اہم نام نیاز فتح پوری کے ادبی جریدہ ’’نگار‘‘ کا ہے۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی کی ابتدا میں اس ادبی جریدہ نے ہندوستان میں ایک دبستان اورتحریک کی صورت اختیار کرلی تھی اور اس کے موضوعات اور اسلوب نثرادب کی رومانوی تحریک کی تقویت کا باعث بنے ۔ ’’نگار‘‘کا پہلا شمارہ فروری ۱۹۲۲ میں آگرہ سے شائع ہوا( ۲ )۔ اولین شمارہ کے سرورق پر رئیس التحریر کے عنوان سے نیاز فتح پوری کا نام درج ہے .جبکہ اندرونی صفحات سے پتہ چلتا ہے کہ مخمور اکبر آبادی بھی ان کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر شامل تھے۔نیاز فتح پوری (۱۸۸۴۔۱۹۶۶)تاریخ ساز ادبی شخصیت تھے ۔ انہوں نے اپنے عہد کے ادبی ،مذہبی ا ور تہذیبی منظر نامے پر انمٹ نقوش ثبت کئے ۔نگار بنت عثمان ترکی کی ایک انقلابی شاعرہ تھی ۔نیاز اس کی انقلابی اور رومانوی شاعری سے متاثر تھے۔ اس لئے انہوں نے اُس کے نام پر نگار کا اجراء کیا۔۔نیاز فتح پوری اس وقت تک افسانہ نگار کے طور پر شہرت حاصل کرچکے تھے لیکن نگار ان کے سنجیدہ علمی موضوعات کا صحیح معنوں میں ترجمان ثابت ہوا۔نگارمیں انہوں نے اخلاق و حکمت سے لے کر علم نجوم ،مذہب،ادب، سیاست ،معاشرت اور جنس تک کے موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔پہلے شمارے کے کل صفحات اسی(۸۰)ہیں ۔پرچہ کی ابتدا منظوم انتساب کی صورت ہے۔ جو نیاز فتح پوری کے اعلا شعری ذ وق اور اختراعی ذہن کی علامت ہے۔اس تخیلاتی اور احساس آفریں نظم کا آخری شعر ہے۔
ان خندہ ہائے حسن کی کرتا ہوں قائم یادگار
یعنی ان پھولوں کا ہے چھوٹا سا گلدستہ نگار
’’عناصر نگار ‘‘ کے عنوان سے نیاز نے اداریہ لکھا ہے اور ’’نگار‘‘ کی اشاعت اور اس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ہے۔نثری مضا مین میں پہلا مضمون شعر (عربوں کے نقطہ نظر سے) ہے یہ نیاز فتح پوری کا لکھا ہوا ہے۔جس میں شاعری اور شعر کی داستان کو رقم کیا گیا ہے۔اس میں تمام دیگر اقوام اور زبانوں میں بھی شاعری کے معانی اور ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے اس مضمون سے اندازہ ہوتا کہ نیاز تحقیقی مزاج بھی رکھتے تھے۔فکشن کی ذیل میں ’’سمنستان کی شاہزادی‘‘ کے عنوان سے لطیف الدین احمد کا ایک افسانہ شائع ہوا ہے ۔
ل ۔احمد کا اسلوب سجاد حیدر یلدرم کے رنگ سے مما ثلت رکھتا ہے،کہانی دلچسپ اور قدیم شہزادے شہزادیوں کے قصے پر مبنی ہے۔ اگلے صفحات پر نیاز فتح پوری کا ایک مضمون ’’کیا مانی واقعی مصور تھا‘‘ طبع ہوا ہے جس میں مانی کی اصلیت کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے اور اس کے مذہب کے بارے میں معلومات پیش کی گئی ہیں۔’’صحرا کے مو تی ‘‘کے نام سے قمرالحسن قمر کی ایک کہانی اس شمارے کی زینت ہے۔یہ عرب معاشرت سے متعلق ہے اور ایک لڑکی کی بے مثال قربانی سے عبارت ہے۔ترکی ادب سے ماخوذ’گیسو‘‘ کے عنوان سے نیاز اور ’’مطربہ‘‘کے نام سے امتیاز علی تاج کی رشحات قلم بر صغیر میں ترکی اد ب کی مقبولیت اور نثر کے رومانوی اسلوب کے مرصع و رنگین انداز کی خوبصورت جھلکیاں ہیں۔نثرکے دیگر مضا مین میں جو نیاز فتح پوری نے لکھے ۔ ان میں ’’جرمن حرب و تجارت کا ایک عجیب راز‘‘ ،معلومات حرکت زمین کا مشاہدہ عینی،اشتراکیت کے عنوان سے تمام معلو ماتی مضا مین نیاز فتح پوری کے نتیجہ فکر کے مر ہون منت ہیں۔صفحہ ۵۵ پر ایک غلطی کا ازالہ کے عنوان سے نیاز نے علی گڑھ میگزین کی جولائی تا اکتوبر اشاعت میں سُہاکی شرح دیوان غالب پر ایک معاندانہ تبصرہ سے اپنی لا تعلقی کا اعلان کیا ہے۔مضمون کے آخر میں صرف فتح پوری از بھوپال شائع ہوا ہے۔ انہوں نے ایڈیٹر رشید احمد صدیقی سے نگار کے صفحات کے توسط سے استد عا کی ہے کہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں ۔نگار کے اس شمارے میں چھپنے والی منظو مات بھی معیاری ہیں۔’’فروغ نظر‘‘ کے عنوان سے ضیائی ،’’شام جمن ‘‘کے نام سے مخمور اکبر آبادی جن کا اصل نام سید محمد محمود رضوی ہے ان کی ایک نظم،’’اندر پرستش‘‘ کے عنوان سے صفحہ ۹ ۳۔۴۰ پر ایک فارسی نظم،’’بہار کی دیوی ‘‘ کے عنوان سے نیاز فتح پوری کی نظم اس شمارہ کا قابل قدر حصہ ہیں ۔اس شمارے کی واحد غزل شوکت علی فانی کی تحریر کردہ ہے جس پر ایڈیٹر نے ایک طویل نوٹ لکھا ہے۔مجموعی طور پر ’’نگار‘‘ کا یہ شمارہ اس دور کے ادبی مزاج کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔خاص طور پر اس شمارے کی وساطت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیاز اپنے عہد کی نابغہ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے ادب میں اپنی الگ پہچان بنائی۔اگست ۱۹۶۲ سے نگار پاکستان کے نام سے کراچی سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری اس کے ایڈیٹر اور پبلشر ہیں ۔نگار کا شمار آج بھی سنجیدہ ادبی جرائدمیں ہو تا ہے۔جس پر ابتدا میں نیاز کی اور اب ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی شخصیت کی چھاپ نما یاں ہے۔ اس کا ہر شمارہ یادگارحیثیت کا حامل ہو تا ہے۔
بیسویں صدی کی دوسری دھائی میں ایک اور ادبی جریدے نے بھی مجلا تی صحافت کو نئی راہوں اور مزاج سے آشنا کیا ۔اس کا نام نیرنگ خیال ہے۔ ’’نیرنگ خیال‘‘کے مالک و مدیر حکیم یوسف حسن تھے۔ وہ افسانہ نویس اور طبیب بھی تھے۔وہ ۱۸۹۴ ء کو لا ہور میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم لا ہور میں پائی ۔مڈل پاس کرنے کے بعد ریلوے میں بطور گڈس کلرک ملازم ہوگئے تھے۔لائل پور میں بھی تعینات رہے۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی ۔اُن کے افسانے’’ نیرنگ خیال‘‘اور’’ زمانہ ‘‘ کانپور میں شائع ہوتے رہے۔جو اس زمانے کا ایک مقبول ادبی جریدہ تھا۔حکیم یوسف حسن نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کا اجرا جولائی ۱۹۲۴ میں لاہور سے کیا(۳) ان کے ساتھ محمد دین تا ثیر(۱۹۰۲۔۱۹۵۰) بھی جائینٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ِسفر تھے ۔ حکیم یوسف حسن کا کہنا ہے کہ’’نیرنگ خیال‘‘ کا نام حکیم فقیر محمد چشتی نے تجویز کیا تھا اور اس کا ٹائیٹل بھی حکیم فقیر محمد چشتی نے بنایا تھا(۴)پہلے شمارے کا سائز ۸ / ۳۳x ۲۳ اور اس کے کل صفحات پچاس تھے۔علامہ اقبال نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کی اشاعت پر اِس کے ایڈیٹر کو ایک خط ۱۷ اگست ۱۹۲۴ کو تحریر کیا ۔
’’رسالہ نیر نگ خیال جو حال ہی میں لاہور سے نکلنا شروع ہوا ہے۔بہت ہونہار معلوم ہوتا ہے ۔اس کے مضامین میں پختگی اور متانت پائی جاتی ہے مجھے یقین ہے کہ یہ رسالہ پنجاب میں صحیح ادبی مذاق پیدا کرنے میں بہت مفید ثابت ہوگا‘‘(۵)
پہلے شمارے کااداریہ’’ مقالہ افتتا حیہ‘‘ کے عنوان سے حکیم یوسف حسن نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اداریہ میں لکھا ہم اسے تجارتی فوائد کے لیئے نہیں چلا رہے مگر ہم تمام تجارتی اصولوں کے پابند رہیں گے تاکہ اس رسالہ کی زندگی محض ایک رقص شرر ثابت نہ ہو ۔اُن کا یہ خلوص شائد قدرت کو اتنا پسند آیاکہ اس پرچے نے خاص نمبروں کی اشاعت کا رواج ڈالا اورعلامہ اقبال کی زندگی ہی میں ان پر ایک شاندار اور یادگار نمبر ستمبر ۔اکتوبر ۱۹۳۲ میں شائع کیا۔حکیم یوسف حسن کا انتقال ۱۹۸۱ کو راولپنڈی میں ہوا۔ان کی عمر نوے برس تھی (۶)حکیم یوسف حسن کا یہ فیضان ’’ نیرنگ خیال ‘‘ جس نے اپنا اشاعتی سفر ۱۹۲۴ء میں شروع کیا تھا ۔ آج بھی جاری و ساری ہے۔اب سلطان رشک اِسے راولپنڈی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے شمارہ کے مشمولات میں مضامین کا حصہ بے حد معیاری اور معلوماتی ہے۔ابتدائی صفحات میں ’’شذرات‘‘ کے عنوان سے ہندوستان بھر سے اہم خبروں اور واقعات کو بھی شائع کیا گیا ہے۔ان شذرات سے اس دور کے سیاسی و معاشرتی حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔تحریک خلافت کے حوالے سے تحریر ہے۔
’’سیاسی سرگرمیوں اور مسئلہ خلافت کے حل میں مسلمانوں کے کامل دس سال صرف ہوچکے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ مسئلہ خلافت ہنوز روزاول کا مصداق ہے اور بلا شبہ اس کی ضرورت سمجھنے یا ِاس کے متعلق حقیقی کام کرنے کا وقت اب آیا ہے۔گزشتہ دس سال کی سیاسی سرگرمیوں سے ہمیں کوئی نمایاں فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ ان سرگرمیوں کا انجام ہندو مسلم نفاق کی صورت ظاہر ہوا ہے اور تمام ملک میں کانگریس کمیٹیوں کی جگہ سنگھٹن شدھی اور مہابیر دل وغیرہ جماعتوں نے لے لی ہے۔قومی اخبارات کی جگہ ہندو مسلمانوں کو لڑانے اور گالیاں دینے کے لئے فحش نویس ظریفانہ اخباروں کا ظہور ہواہے۔ ( ۷ )
شذرات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی کی دوسری دھائی کے وسط میں پنجاب میں طاعون کی وبا نے بے حد جانی نقصان کیا اور اس کا زیادہ تر شکار مسلمان ہوئے۔
اس شمارے کی واحد افسانوی تحریر بلقیس خاتون جمال بنت مولوی عبدالاحد کا ایک فسانہ ’’عصمت کی دیوی‘‘ہے یہ افسانہ ہندوستانی عورت کی عزت و عصمت کے لئے قربانی اور پتی ورتا کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔جس وجہ سے دیوتائوں نے اسے ’’عصمت کی دیوی‘‘ کا خطاب دیا ہے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک ہندو عورت تلو تما ہے۔اس شمارے کے دیگر معلو ماتی اور خوبصورت مضامین میں ملک عبدالقیوم کا ترکوں کی معا شرت،دینی مضامین میں مولانا محمد عبداللہ کا مضمون ’’حسن معاملت‘‘’ایک مسلمان کے قلم سے ایک فکر انگیز مضمون ’’عمل‘‘میں اُس دور کے مسلمانوں کی حالت زار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
ـ’’مسلمانوں کی موجودہ پستی اور تنزل و کمزوری محض کام نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔مسلمان باتیں بہت کرتے ہیں لیکن کسی نظام و ضابطہ کے ماتحت عمل کرنا ان کے لئے محال ہے۔قوم کی جہالت و لا علمی کو دور کرنے کے لئے تعلیمی نظام پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔قوم کی مالی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے قوم کو تجارتی و صنعتی کاموں میں حصہ لینے کی حاجت ہے۔( ۸)
عبدالرحمن چغتائی جن کو اس شمارے میں ہندوستان کا مایہ ناز مصور کہا گیا ہے۔ اُن کے فن کا نمونہ ایک مصورانہ کاوش ’ ’ لیلیٰ کا تحفہ‘‘اور نثری تحریریں بہ عنوان ’’حجازی شراب‘‘اور’’ راوی‘‘ بھی شامل ہیں ۔ایڈیٹر نے اس پر ایک مختصرشذرہ رقم کیا ہے اور اس اسلوب ِنثر کو جو رنگینی عبارت سے معمور ہے عبدالرحمن چغتائی کا خاص مصورانہ اسلوب قرار دیاہے۔محمد دین تاثیر کا ایک مضمون ’’فلسفہ اقبال‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں انہوں نے علامہ اقبال کی فکر کومشرقی تنا ظر میں پیش کیاہے اور معترضین کے اس اعتراض کو رد کیا ہے کہ اقبال کی فکر کا ماخذمغربی افکارہیں۔اس شمارے میں ایڈیٹرحکیم یوسف حسن کا ایک مضمون ’’میں کون ہوں‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا ہے۔یہ مضمون انسان کو محنت اور عمل کا درس دیتا ہے۔اس میں قومی اور انفرادی سطح پر کام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔’’گل ِصد برگ ‘‘ کے عنوان سے ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد تحریروں کے انتخاب کا ایک گوشہ ترتیب دیا گیا ہے۔جس میں دو مختصر تحریریں ’’میں کہاں ہوں ‘‘ اور’’ تاج آگرہ ‘‘شائع کی گئی ہیں۔’’ اخبارِ علمیہ‘‘ کے عنوان سے ’’نیرنگ خیال ‘‘میں ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد و اہم تحریروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔یہ نئی دریا فتوں اور ایجادات سے متعلق ہیں۔ ’’تنسیخ خلافت پر ایک محققانہ رائے‘‘ کے عنوان سے آغا محمدصفدر کا ایک مضمون بھی شامل اشاعت ہے جس میں تحریک ِخلافت کے تاریخی کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔’’عہد حاضرہ کا مغل اعظم ‘‘کے عنوان سے ایک تحریر کا انگریزی جریدہ سے ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔جس میں سنت نہال سنگھ کی مسلمان حکمران شاہ دکن کے دولت کا ڈھیر رکھنے کے باوجود کفایت شعاری سے کام لینے اور سادہ زندگی بسر کرنے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔جس کے جواب میں مدیر’’ نیرنگ خیال‘‘ نے شاہ دکن کی علم دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے کفایت شعاری کو عین بمطابق اسلام بتایا ہے۔آخری صفحات میں’’ پارۂ دل ‘‘کے عنوان سے خواجہ حسن نظامی کی ایک تحریر بھی شائع ہوئی ہے۔جس میں مسلم معاشرت کی اصلاح کے حوالے سے مختصرتحریریں جمع کی گئی ہیںجن میں مسلمانوں کو خاص طور پر عورتوں کو ہندووں کی شادی بیاہ اور دوسری رسموں سے اجتناب برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔شاعری کی ذیل میں جو منظو مات اس شمارے میں شائع ہوئی ہیں ان میں’’طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا ’‘ مولانا اختر علی خان کی نظم ہے جو مولانا ظفر علی خاں کے صاحب زادے تھے ۔
سنگدل ہے اس کے در پہ جائیں کیا
اپنا سر پتھر سے ہم ٹکرائیں کیا
کس سے ہوگا چارہ درد فراق
اس دل بیتاب کو سمجھا ئیں کیا
ہوچکے جب زلف پُر خم کے اسیر
طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا
دے کے ان کے ہات میں قسمت کی باگ
اس کئے پر اپنے ہم پچھتائیںکیا
کج ادائی جس کا شیوہ ہو چکا
حال دل اس شوخ کو بتلائیں کیا
داغ ہائے غم ہیں دل پر جا بجا
کھول کر سینہ انھیں دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں ہم سے وہ اختر کا حال
’’کوئی بتلاوٗ کہ ہم بتلائیں کیا‘‘ ( ۹ )
اس کے علاوہ ’’نمود صبح‘‘ کے نام سے محمد دین تاثیر ’’برسات کی رت‘‘ محمود حسن محمود اسرائیلی ’’ واردات قلب‘‘ کے عنوان سے حامداللہ ا فسربی اے،’’ادبیات‘‘عزیز لکھنوی، ’’افکارناظم‘‘،ابو الانظم محمدناظم،حسیات شایق،سردار اودے سنگھ شائق کی خوبصورت نظمیں شائع ہوئی ہیں۔غزلوں میں،ظہیری بدایونی ، سہا،تاجور نجیب آبادی،اور رابعہ پنہاں کی شاعری اس شمارے کی زینت ہے۔اسلامی دنیا کی مردم شماری کے عنوان سے آخری صفحات میں دنیا میں مختلف حوالوں سے دئے گئے اعداد شمار سے مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ لگانے کی سعی کی گئی ہے اور تحریر کیاگیا ہے ۔
’’ اس جدید حساب کی رو سے مسلمانوں کی تعداد ۲۳۴۸۱۴۹۸۹ ہے۔جس میں سے دس کروڑ ستاون لا کھ تئیس ہزار انگریزی جھنڈے تلے ہیں‘‘ ( ۱۰)
’’مرقع الاخبار ‘‘کے تحت واقعات حاضرہ کے حوالے سے ہاتھ سے بنائی گئی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ (۲)غازی فتحی بے جو مسئلہ موصل (۳)آغا محمد صفدر استقبا لیہ کمیٹی۔صفحہ ۵۱ پر ایک ادبی جریدہ اور ایک گلدستہ کا اشتہار بھی شائع ہوا ہے۔ان میں ایک دلکش لا ہور جس کا پہلا شمارہ جولائی ۱۹۲۴ میں شائع ہونا ہے۔دوسرا الکمال ہے جو عرصہ سے لا ہور سے شائع ہوتاہے اور اسے ہندوستان بھر کا واحد گلدستہ قرار دیا گیا ہے جو ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہے۔مجموعی طور پر جو لائی ۱۹۲۴ میں’’ نیرنگ خیال ‘‘کا پہلا شمارہ متنوع دلچسپیوں کا محور و مرکز ہے۔یہ شمارہ حکیم یوسف حسن اور محمد دین تاثیرکی اجتماعی کو ششوں کا ثمر ہے۔جنہوں نے اسے دلچسپ بنانے کے لئے مختلف علمی مذہبی اور قومی معاملات و مسائل پربھی مضامین کو اس شمارے میں شامل اشاعت کیا۔اس دور کی مسلم معاشرت،ہندوستان کے سیا سی و معا شرتی حالات ادیبوں کی سوچ و فکر کا بھی یہ شمارہ آئینہ دار ہے۔اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’نیرنگ خیال‘‘ محض ایک ادبی جریدہ ہی نہ تھا ایک علمی تحریک کا نام بھی تھا جس نے بر صغیر کے عوام میں آزادی کا جذبہ ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ چالیس کی د ہائی میں اردو زبان کے ایک اور مقبول عام ادبی جریدہ ’’نیا دور ‘‘بنگلور کا اجرا عمل میں آیا۔اس کا پہلا شمارہ اگست ستمبر ۱۹۴۴ میں شائع ہوا۔ادارہ تحریر میں صمد شاہین اور ممتاز شیریں کے نام شامل تھے ۔صمد شاہین نے اس کا اداریہ ’’افتتاحیہ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ مضامین کے حصے میں پہلا مضمون فیض احمد فیض کا ترقی پسند ادب ہے۔یہ مضمون ان کے ابتدائی دور کے خیالات کا عکس ہے اور ان کے پہلے نثری مجموعہ ’’میزان‘‘میںبھی شامل ہے۔عبدالقادری سروری نے ’’موجودہ اردو ادب کا پس منظر‘‘جبکہ ممتاز شیریں نے’’ ۱۹۴۳ کے افسانے ‘‘کے عنوان سے ۱۹۴۳ میں لکھے جانے والے افسانوںکا عمدہ تنقیدی جائزہ لیا ہے۔یہ اُن کا پہلا تنقیدی مضمون ہے۔ جنگ عظیم دوم کے تناظر میں ایک اور اہم تنقیدی مضمون کرشن چندر کا ’’جنگ اور ہندوستانی ادیب‘‘ ہے۔شاعری کے حصے میں غزل کے عنوان سے واحد غزل حسرت موہانی کی ہے جسے انہوں نے قسم فاسقانہ تحریر کیا ہے۔اس کے علاو ہ حصہ شاعری میں باقی تمام نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ان میں ’’دریچے کے قریب‘‘،ن م راشد،’’اندھیرا‘‘مخدوم محی الدین، ’’شباب‘‘،اخترانصاری،’’قیامت‘‘،اخترالایمان،’’ٹیپوکی آواز‘‘، آل احمد سرور، ’’سناٹا‘‘، مجروح سلطان پوری،’’کھنڈر‘‘،منیب الرحمن،’’عزم جواں‘،محمد علی کمالی،’’ زندہ و پائندہ رہوں ‘‘خورشیدالا سلام۔یہ خوبصورت نظمیں چالیس کی دہائی کے شعری منظر نامہ کو عیاں کرتی ہیں۔کہا نیاں کے عنوان سے پہلی کہانی ’’آم‘‘ سعادت حسن منٹو کی ہے۔دوسری طبع زاد کہانی صمد شاہین کی تحریر کردہ ہے جو’’ توہین‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ہے۔دو غیر ملکی ترجمہ شدہ کہا نیاں بھی شائع کی گئی ہیں ان میں ایک ’’دہی والی‘‘کنٹری زبان کے ادیب ماستیونگ آینگار اور دوسری’’نفرت‘‘ما ئیکل شالوخوف کی ہے۔نیا دور کا پہلا شمارہ 23X33/16 کے سائز کے دو سو تین صفحات پر محیط ہے آخری صفحات پر اس شمارے کے لکھنے والوں کا تعارف بھی شاملَِ اشاعت ہے۔ممتاز شیریں کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔
’’عمر انیس سال مہارانی کالج بنگلور سے ۱۹۴۲ء میں بی اے کیا۔کالج میں بہت ذہین طالبعلم تھیں۔ادبی زندگی کی ابتدا تراجم سے ہوئی۔ میسور کی یہی ایک مسلمان خا تون ہیں جن کے تراجم اور طبعزاد افسانوں نے شمالی ہند کے معیاری رسالوں میں جگہ پائی۔ممتاز شیریں نے صرف تین طبعزاد افسانے لکھے ہیں ‘‘ (۱۱)
صمد شاہین ایڈیٹر و پبلشر ’’نیا دور ‘‘ کے بارے میں تعارف کے حوالے سے درج ذیل معلو مات شائع ہوئی ہیں ۔
’’پیدائش ۱۶ جون ۱۹۱۶ء مہاراجہ کالج میسور میں انگریزی ادب کے آ نرز کے لئے پڑھالیکن بی اے کی ڈگری ملی گو انٹر میڈیٹ میں وہ انگریزی میں اول رہے تھے علی گڑھ میں ایم اے کے لئے چار پانچ ماہ رہے لیکن تعلیم مکمل کئے بغیر آنا پڑا پھر لا کالج پونا سے ایل یل بی کیا۔اب ایم اے سیا سیات، معا شیات اور ایل ایل ایم کی تیاری کر رہے ہیں اچھے مقرر ہیں ۔اردو کی بہ نسبت انگریزی میں زیادہ لکھتے ہیں اردو میں بھی چند افسانے لکھے ہیں جوایک مقامی رسالہ میں چھپ کر مقبول ہوئے بنگلور سے صادق صاحب کے ساتھ ایک ہفتہ وار انگریزی ’’میسورین‘‘ نکال رہے ہیں اور ا ب نیا دور کی بھی ادارت کر رہے ہیں ابھی ابھی وکالت شروع کی ہے‘‘(۱۲)
یہ پر چہ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۲ تک کراچی سے چھپتا رہا۔اس کے بعد اسی نام سے ایک پرچہ کراچی سے ڈاکٹر جمیل جالبی بھی مرتب کرتے رہے اور لکھنو (انڈیا)سے اتر پردیش کے محکمہ اطلاعات کے تحت ایک ماہ نامہ نیا دور کے نام سے بھی شائع ہو رہا ہے۔ نقوش ایک اور ایسا جریدہ ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد اپنا سفر شروع کیا لیکن اردو کی ادبی صحافت میں اپنے لیے جلد ایک الگ جگہ بنا لی۔نقوش کے تمام اشاعتی سفر کے دوران اس کے خاص نمبر ہی اس کی وجہ شہرت بنے۔ نقوش کا پہلا شمارہ مارچ ۱۹۴۸ میں منصہ شہود پر آیا۔اس کے پہلے ایڈیٹر ہا جرہ مسرور اور احمد ندیم قاسمی تھے ۔ ان کی ادارت میں شمارہ ایک تا دس شائع ہوئے۔قاسمی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ’’ نقوش‘‘ کا نام انہوں نے تجویز کیا تھا (۱۳)پہلے شمارے کا سرورق آذر زوبی نے بنا یا تھا۔اس کی پیشانی پر’’ زندگی آمیز اور زندگی آموز ادب کا ترجمان ‘‘کے الفاظ بھی قاسمی صاحب کے خلاق ذہن کی اختراع تھے۔محمد طفیل (۱۹۲۳۔۱۹۸۶) جو نقوش کی بدولت محمد نقوش بن گئے تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۴ میں لا ہور میں ادارہ فرو غ اردو کی بنیاد رکھی تھی ’’نقوش ‘‘ کا اجراء اس کے تحت کیا گیا تھا۔’’نقوش‘‘ نے کئی معر کۃالآرا نمبر شائع کیے ا ور اپنے پیشرو جرائد ’’نگار‘‘ اور ’’نیرنگ خیال ‘‘کی روایت کو آگے بڑھایا۔نقوش کا پہلا شمارہ ۸۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ طلوع کے نام سے اس کا اداریہ ہا جرہ مسرور نے لکھا ہے۔مضامین،افسانے اور شاعری کا بے حد متنوع اور معیاری انتخاب اس شمارے میں شامل اشاعت ہے۔افسانوں میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’میں انسان ہوں ‘‘اور ہا جرہ مسرور کا افسانہ ’’بڑے انسان بنے بیٹھے ہو‘‘ ۱۹۴۷ کے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں اور انسانیت پر کئے گئے ظلم و ستم کی المناک داستاں سناتے ہیں۔دیگر افسانوں میں کرشن چندر کا ’’بھیروں کا مندر لیمٹڈ‘‘ اور عزیز احمد کا ’’ میرا دشمن میرا بھائی‘‘ بھی لائق مطا لعہ ہیں۔مضامین میں خالد حسن قادری نے’’ نیا افق‘‘ کے عنوان سے نئے پاکستان کے احوال اور اردو زبان کو موضوع بنا یا ہے عزیز احمد نے فرحت اللہ بیگ کی مزاح نگاری پر اور غلام رسول مہر نے کمال الدین اصفہانی پر مقالات تحریر کئے ہیں۔نقوش کے پہلے شمارے میں اردو زبان کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس بارے میں فلک پیما،ڈاکٹر عبدالحق،سیماب اکبر آبادی۔خواجہ احمد فاروقی احتشام حسین، نورالحسن ہاشمی اور خدیجہ مستور کے ز ریں خیالات اور اردو کے فروغ کے لیے تجاویزشائع کی گئی ہیں۔غزلوں میں اثر لکھنوی،اختر شیرانی،فراق گو رکھپوری ،حفیظ ہوشیار پوری علی سردار جعفری ،احمد ندیم قاسمی ،سیف الدین سیف، مختار صدیقی کی خوبصورت غزلیں شائع کی گئی ہیں۔نظموں میں حفیظ جالند ھری،سیماب اکبر آبادی،یوسف ظفر،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی رُبا عیات شائع ہوئی ہیں۔اِن صفحات سے ا س دور میں دونوں جانب اردو شاعری اور غزل و نظم کے مو ضوعات اور معیار کو دیکھا جا سکتا ہے۔حالات حاضرہ کے تحت ایک مضمون ہاجرہ مسرور کا ہمارا سماج کے عنوان سے شائع ہوا یہ ان عورتوں سے متعلق ہے جو فسادات میں اغوا ہوگئی تھیں ۔ ان کی واپسی نے دونوں جانب بہت سے سماجی مسائل کو جنم دیا ۔یہ مضمون ان حالات کا تجزیہ کرتا ہے۔عبدالمجید سالک نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی گئی کو ششوں کا احاطہ کیا ہے دیگر عنوانات کے تحت فلم کے عنوان سے ڈاکو منٹری کی اہمیت اور افادیت پر اے قدوس نے اپنے خیالات رقم کیے ہیں ’’نئی کتابوں‘‘ کے عنوان سے ہم وحشی ہیں کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ پر ہا جرہ مسرور اور علی سردار جعفری کے شعری مجموعہ پر قاسمی صاحب نے تبصرہ کیا ہے۔بہ حیثیت مجموعی ’’نقوش‘‘ کا یہ شمارہ خوبصورت اور یادگار تحریروں کا ایک گلدستہ ہے جس کی مہک آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔’’ماہ نو ‘‘حکومت پاکستان کا سرکاری ادبی جریدہ ہے جو ہندوستانی جریدے ’’آجکل‘‘ دہلی کی طرز پر نکالا گیا تھا ۔وقار عظیم آجکل دہلی کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے ۔پاکستان کا پہلا دارلحکو مت کراچی تھا۔ اس لیے اپریل ۱۹۴۸ میں’’ ماہ نو ‘‘ کا پہلا شمارہ کراچی سے جلوہ گر ہوا۔معروف نقاد وقار عظیم اس کے مدیر تھے۔اولین شمارہ ۶۲ صفحات پر مبنی تھا۔ادب کے بڑے اہم نام اور اُن کی تحریریں اس شمارے کی زینت تھیں ۔’’کچھ اپنی با تیں ‘‘ کے عنوان سے مدیر وقار عظیم نے اولین شمارہ کا اداریہ رقم کیا ہے۔صفحہ ۳ پر حامد حسن قادری نے ’’تاریخِ قیام پاکستان‘‘ قران مجید سے نکا لی ہے۔اس کے بعد خوبصورت اور معیاری نظموں اور غزلوں کا ایک انتخاب شائع کیا گیا ہے۔اس شمارے کی زیادہ تر تخلیقات آزادی اور فسادات کے تناظر میں لکھی گئی ہیں۔اسد ملتانی کی نظم ’’غم نہ کر‘‘ مسعود حسن کی نظم ’’مدینہ آدم‘‘ش ضحی کی نظم ’’ محسوسات‘‘ اور وشوامتر عادل کی نظم ’’نیند سے پہلے‘‘ کے بنیادی استعارے اور لفظیات غم، بے بسی اور اس سے جنم لینے والی یاسیت ہے جبکہ احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’کل اور آج‘‘ ان کے ترقی پسندانہ نظریات کی علمبردار ہے۔اس شمارے کی واحد غزل فراق گورکھ پوری کی ہے جو غزل کے روایتی مو ضوع کی حا مل ہے اور اس میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔افسانوں میں کرشن چندر کا ’’لال باغ ‘‘ آغا محمد کا اشرف کا ’’دلی کا ایک پودہ‘‘خواجہ احمد عباس کا افسانہ ’’میں کون ہوں ‘‘ فسادات کے موضوع پر ہیں۔اس شمارے کے قابل مطالعہ اور اہم مضا مین میں خواجہ غلام السیدین کا مضمون ’’آندہی میں چراغ‘‘ قومی ترقی کے موضوع کا احاطہ کر تا ہے۔ علی سردار جعفری کا مضمون ’’اقبال کی آواز‘‘ اقبال کی شاعری میں حرکت و عمل کے پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ سید احتشام حسین نے ’’اردو کا لسا نیاتی مطالعہ‘‘میںزبان کے مطا لعہ کے لئے صوتیات اور لسا نیات کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اختر حسین رائے پوری کا مضمون ’’پاکستان کے بعض تعلیمی مسائل ‘‘اس میں نو زائیدہ ملک میں تعلیم کی حالت زار اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر سوچ بچار شامل ہے۔جس کا ایک پیراگراف حکومتوں کے طرز عمل اور سوچ و فکر کی عکاسی کرتاہے۔ جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔
اختر حسین رائے پوری لکھتے ہیں :
’’ تعلیم کے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس پر خزانہ کے روپے صرف کرنا اگر فضول خرچی نہیں تو زکواۃ یا خیرات کے قسم کی کوئی چیز ہے جس کا حاصل مادی اعتبار سے کچھ نہیں‘‘ (۱۴)
’’ اتا ترک کی وصیت‘‘ آغا محمد یعقوب دداشی کا مضمون ہے جس میں اتاترک کی ایک تقریر کا اقتباس دیا گیا ہے جو پارٹی کی ایک کانگریس میں چھ دن جاری رہی تھی دیگر مضامین میں سید وقار عظیم نے شاہ عبدللطیف بھٹائی کا تعارف اور فضل حق قریشی دہلوی نے مغلوں کے فن خطاطی پر ایک دلچسپ اور معلو ماتی مضمون تحریر کیا ہے۔صفحہ ۵۵ پر دو نئی اردو فلموں اور نئی کتابوں کے عنوان سے علی سردار جعفری کی نظموں کے مجموعے ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ اور اوپند ناتھ اشک کے ڈراموں کے مجموعہ ’’ازلی راستے‘‘ پر تبصرہ کیا گیا ہے۔جریدے کے وسط میں قیام پاکستان سے متعلق کئی اہم تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں ۔ماہ نو کا اشاعتی سفر آج بھی جاری ہے ۔اب یہ لا ہور سے شائع ہو تا ہے اور علمی ادبی حلقوں میں ایک معتبر ادبی جریدہ سمجھا جا تا ہے۔اس کے سینکڑوں صفحات پر پاکستانی ادب کے عظیم جواہر پارے اور ادب کی تاریخ بھی ثبت ہیں۔ ’اوراق‘ کا پہلا شمارہ ۱۹۶۵ میںڈاکٹر وزیر آغاکی زیر ادارت لا ہور سے ماہ وار جریدے کی صورت شائع ہوا ۔اس پر کسی مہینے کا اندراج نہیں ہے یہ ۳۱۲ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کی قیمت دو روپے ہے ۔فہرست میں مختلف اصناف کے لئے عنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔پہلا ورق کے عنوان سے ڈاکٹر وزیر آغا نے اداریہ میں لکھا ہے۔
’’اوراق کے پس پشت بنیادی ادبی نظریہ یہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کے ادب کو اس کی ثقافت اور تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور ثقافتی ماحول زمین کی باس ،پانی،نمک اور فضا پر عناصر آفاقی کے عمل سے پیدا ہوتا ہے اوراق زمین کو اہمیت دینے میں اس لئے پیش پیش رہے گا کہ زمین عورت کی طرح تخلیق کرتی ہے لیکن وہ آسمان کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیںکرے گا کہ آسمان اس تخلیق میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے مگر آسمان کی اہمیت بہر حال ثانوی ہے اور یہ نکتہ ہمہ وقت ہماری نظروں کے سامنے ہے‘‘ (۱۵)
آغاز میں ’’ہمارا وطن‘‘ کے عنوان سے نظمیں اور افسانے شا ئع کئے گئے ہیں۔پہلی نظم ’’سپاہی‘‘ کے عنوان سے مجید امجد کی ہے دیگر شعرا میں قیوم نظر،شہزاد احمد،رشید قیصرانی وزیر آغا،جعفر طاہر،عارف عبدالمتین کی نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ای گوشہ مولا نا صلاح الدین احمد کی یاد میں بھی مخصوصکیا گیا ہے جس میں آغا محمد باقر،انور سدید اور وزیر آغا کے مولانا صلا ح الدین احمد کے فن و شخصیت پر مضامین شائع کئے گئے ہیں ۔’’سوال یہ ہے‘‘کے عنوان سے ایک مسلسل سلسلہ اوراق میں آخر تک قائم رہا۔جس میں کسی ایک مو ضوع پر مختلف ادیبوں کی آرا شائع کی جا تی رہیں ۔پہلے شمارے میں ’’فن ابلاغ کی اہمیت پر شہزاد احمد، افتخار جالب،سجاد باقر رضوی،غلام جیلانی اصغر،صدیق کلیم اور صلاح الدین ندیم کی رائے شامل اشاعت ہے۔(۱۶)پہلے شمارے میں تمام اہم ادبی اصناف پر بہترین معیاری انٹخاب شائع کیا گیا ہے اور ساٹھ کی دحائی کے تمام اہم ادیبوں کی بغیر کسی ادبی گروہ بندی کے نام اور تخلیقات اس شمارے میں جلوہ گر ہیں ۔اوراق کی ادبی خدمات کا دائرہ تقریبا ستر شماروں پر محیط ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان عظیم ادبی جرائد کے اشاریئے مرتب کرائے جا ئیں تاکہ ان میں موجود عظیم ادب پاروں کا نئی نسل اور محقیقین کو اندازہ ہو سکے اور وہ اس سے استفادہ کرسکیں۔
______________________________________________________
حوالے و حواشی
( ۱)۔ ادبی دنیا،لاہور، نو روز نمبر، ۱۹۳۲،جلد نمبر ۶،شمارہ نمبر ۱ ،ص ۹۸
( ۲)۔ڈاکٹر خلیق انجم نے لکھا ہے کہ’’ نگار کا اجرا آگرہ سے ہوا اور پہلا جریدہ ۲۲ فروری ۱۹۲۲ کو شائع ہوا،صفحہ ۸۶ماہ نامہ انشا کلکتہ دسمبر ۱۹۹۶ نیاز فتحپوری نمبر ،مانک ٹالہ نے صفحہ ۱۴۸ پر یہ ہی بات دہرائی ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے اپنی کتاب ’’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ،مطبوعہ ۱۹۹۲میں صفحہ ۱۱۷ پر لکھا ہے ۔’’بھوپال سے فروری ۱۹۴۴ میں نگار جاری ہوا‘‘۔رسالے کے ابتدائی صفحات میں ایسا کچھ نہیں پرنٹ ہوا کہ یہ پرچہ کہاں سے شائع ہورہا ہے۔صفحہ ۵۳ پر لکھا ہے ایڈیٹر سے خط و کتابت کا پتہ ۔نور محل بھو پال ہے۔امکان غالب ہے کہ نیاز فتح پوری بھو پال میں مقیم تھے اور پرچہ آگرہ سے جاری کیا گیا۔
(۳)اردو جامع انسائکلو پیڈیا (جلد دوم) مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۸۸ نے صفحہ ۱۹۱۰ پر لکھاکے نیرنگ خیال لاہور ۱۹۲۲ ء میں نکلا جو کہ غلط ہے۔
(۴) محمد طفیل،حکیم صاحب(خاکہ)مطبوعہ، نقوش ،لا ہور، محمد طفیل نمبر،(جلد دوم)شمارہ۱۳۵، جولائی ۱۹۸۷،ص۱۰۷۶
( ۵)برنی،سید مظفر حسین ، کلیات مکاتیب اقبال ،جلد دوم،اردو اکادمی دہلی۔۱۹۹۳ ،ص۵۳۲
(۶) حکیم یوسف حسن کی وفات پر شان الحق حقی نے تاریخ ِوفات کہی ہے ۔اٹھ گیا بانی میخانہ نیرنگ خیال لُجہ دود ہوا عرصہ نیرنگ خیال ۱۴۰۱ ھ بحوالہ ۔سہ ماہی اردو کراچی جلد ۶۱،شمارہ نمبر ۳،۱۹۸۵،ص ۳۳
(۷)نیرنگ خیال ، ماہ نامہ،لا ہور ،جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۱،۱۹۲۴،ص
(۸) ایضاً ص ۲۷
(۹) ایضاً ص ۳۸
(۱۰) ایضاًص ۴۷
(۱۱ )نیا دور،سہ ماہی،بنگلور،جلد۱ شمارہ نمبر ۱ ،ص ۲۰۲
(۱۲) ایضا ص ۲۰۳
(۱۳)بحوالہ نقوش ،محمد طفیل نمبر (جلد نمبر ۱)،ص ۱۷
(۱۴) رائے پوری،اختر حسین،ماہ نو،کراچی،جلد ا ،شمارنمبر ۱،اپریل ۱۹۴۸،ص ۲۸
(۱۵)اوراق،ماہ نامہ ۔لاہور، جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر۱ ،۱۹۶۵،ص۵
(۱۶) سوال یہ ہے،جو ’’اوراق ‘‘کا مقبول سلسلہ تھا ۔اِس کے تمام مباحث کو کتابی صورت میں جمع کرکے شائع کر دیا گیا ہے
Khwaja Ahmad Abbas by Dr. Abubakar Abbad
Articles
ترقی پسندوں کا پہلا درویش: خواجہ احمد عباس
ڈاکٹر ابوبکر عباد

خواجہ احمد عباس افسانہ نگار تھے، ناول نویس تھے،ڈرامہ نگار تھے ، صحافی تھے، کالم نگار تھے،فلم ساز تھے اورخاکہ نگار بھی۔انھوں نے سفر نامے لکھے،آپ بیتی لکھی ، ڈراموں میں ایکٹنگ کی اور اردو، ہندی اورا نگریزی میں بہت سارے مضامین تحریر کیے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر ایک حیثیت ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہے ، سو اُن کا تقابل مختلف اصناف کے ماہرین یا ان کے معاصرین سے نہیں بلکہ خود ان کی ہی شخصیت کی مختلف جہات کاایک دوسرے سے کرنا چاہیے۔ ان کی اس ہمہ گیر خوبی کو عام لوگ اور ناقدین بھی جانتے تھے اور خواجہ احمد عباس بھی اس سے واقف تھے ۔ چنانچے وہ لکھتے ہیں:
ادیب اور تنقید نگار کہتے ہیں میں ایک اخبارچی ہوں،جرنلسٹ کہتے ہیں کہ میں ایک فلم والا ہوں، فلم والے کہتے ہیں میں ایک سیاسی پروپیگنڈٹسٹ ہوں، سیاست داں کہتے ہیں کہ میں کمیونسٹ ہوں،کمیونسٹ کہتے ہیں کہ میں بورژوا ہوں۔۔۔ سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں۔ ‘‘(آئینہ خانے میں، مطبوعہ، افکار، کراچی، دسمبر، 1963)
اور آگے کی بات یہ ہے کہ لوگ انھیں لا مذہب سمجھتے تھے، لیکن اُنھوں نے اپنے وصیت نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’میں اب بھی لا ادری ہوں یعنی مذہب کا مجھے زیادہ علم و ایقان نہیں، لیکن میں وحدہ لا شریک کا پرستار ہوں، اور اس حیثیت سے میں مسلمان ہوں۔‘‘دوستوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے احباب کی رائے تھی کہ خواجہ احمد عباس نہایت نیک، شریف النفس، ترقی پسند، سیکولر اور ہر مصیبت میں لوگوں کے کام آنے والا فرشتہ تھا۔
خواجہ احمد عباس اپنے متعلق جو کہیں ، لوگ ان کے بارے میں جو سمجھیں۔ ان کی کتاب زندگی اور فن کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ایک بشر دوست ،بے ریا ، مخلص، حق گو، ہمدرد،اور غیر مصلحت پسند انسان تھے۔ اور زندگی بھر اسی انسانیت کی تبلیغ کے لیے انھوں نے مختلف ذرائع ابلاغ سے کام لیا۔یاد پڑتا ہے کہ حدیث کی کسی کلاس میں ایک استاذ نے فرمایا تھا کہ ’’ جس شخص سے ہر طبقے کے لوگ خوش ہو ں وہ شخص در اصل منافق ہوتا ہے۔‘‘ایک شاگرد نے دریافت کیا کہ اگر بعض طبقے خوش ، بعض ناراض ہوں تو؟ ارشاد فرمایا: ’’ وہ سچا انسان ہو گا۔‘‘’’اور حضرت ! جو سبھی طبقے ناراض ہوں جس آدمی سے۔‘‘ ایک اور شاگرد نے استفسار کیاتھا۔فرمایا استاذ نے کہ:’’ وہ سچا انسان حق پسند بھی ہوگا ، حق گو بھی۔‘‘ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ انسانیت کی یہ منزل بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک ہوتی ہے ، تادیر کم ہی لوگ اس منزل پر ٹھہر پاتے ہیں۔‘‘ اور صاحبو! کہنے کی اجازت دیجیے کہ خواجہ احمد عباس انسانیت کی اس بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک منزل سے عمر کے آخری پڑائو تک نیچے نہ آئے۔ جب انھوں نے افسانہ ’’سرکشی ‘‘ لکھا تو مسلمانوں نے ناراضگی جتائی اورسخت احتجاج کیا کہ افسانے کی مسلم ہیروئن کی ایک ہندو سے کیوں شادی کروائی گئی۔افسانہ ’’بارہ گھنٹے ‘‘ کی اشاعت پر ہندوئوں نے اس بات کو بنیاد بنا کر خواجہ صاحب کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا، کہ افسانے کا ادھیڑ عمر انقلابی بارہ گھنٹے کے لیے رہا ہونے کے بعد بینا نام کی ایک آئیڈلسٹ لڑکی کے ساتھ رات گزارتا اور اس کے جسم سے لطف اندوز ہوتا ہے۔اور خواجہ صاحب کی زبردست مخالفت اور ان کے خلاف سب سے بڑا ہنگامہ تب ہوا جب ان کی کہانی ’’سردار جی‘‘ پہلی بار اگست 1948کے ’ادب لطیف‘ اور کچھ مہینوں بعد ہندی رسالے ’مایا‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کہانی کے خلاف پورے ہندوستان کے سکھوں نے اتنا زبردست مظاہرہ کیا تھاکہ یو پی کی حکومت نے کہانی کو ممنوع قرار دے دیا اور مصنف، ایڈیٹر اور پریس کے مالک پر الٰہ آباد کورٹ میں مقدمہ بھی چلایا ۔لیکن خواجہ صاحب کی مخالفتوں کے تعلق سے مقام حیرت ابھی باقی ہے۔تب تک ذہن میں اُس واقعے کو تازہ کر لیجیے جب خواجہ صاحب نے راما نند ساگر کے ناول ’’اور انسان مرگیا‘‘ کا دیباچہ لکھا تھا۔تلخی گفتار کی اجازت دیں تو عرض کروں کہ تقسیم ملک کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے خواجہ احمد عباس کی صورت میں پہلی بار کسی نے سچ اورحق بات لکھنے کی جرأت کی تھی۔ ورنہ ترقی پسندوں نے توفسادات کے تعلق سے عمومی رائے یہ بنائی تھی کہ اس میں ہندو، مسلم اور سکھ کی کوئی غلطی نہیں۔ ساری غلطی انگریز سامراجی حکومت کی ہے جس نے نفرت ونفاق کا بیج بویا ، جس کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا ۔ اور در اصل تقسیم ملک ہی فساد ات کی جڑ ہے۔خواجہ صاحب نے واضح طور سے لکھا کہ برطانوی سامراج کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ان فسادات کے ذمے دارمسلمان اور ہندوستان میں ہندو اور سکھ ہیں۔ اوریہ بھی کہ ان فسادات کی ذمے داری ہندو مہا سبھا، جن سنگھ، کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ اس نے عوام کو مہذب بنانے کی ذمہ داری نہیں نبھائی ۔ بس پھر کیا تھاترقی پسند دوستوں نے خواجہ صاحب کو عوام دشمن ، بورژوا اور سامراجی ایجنٹ بتایااور انھیں مجرم قرار دے کر انجمن کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اور مقام حیرت یہ ہے کہ الٰہ آباد کی کورٹ نے تو دو سماعتوں کے بعدکہانی ’’سردارجی‘‘ کے تعلق سے خواجہ صاحب پر چلائے جارہے مقدمے کو خارج کردیااور خوشونت سنگھ نے ان کی اس متنازعہ کہانی کوپنجاپ پر لکھی جانے والی کہانیوں کے اپنے انگریزی انتخاب میں سرِ فہرست شائع کیا۔ لیکن خواجہ احمد عباس کو ’’اور انسان مر گیا‘‘ کے دیباچے میں حق بات لکھنے کی پاداش میں ترقی پسندوں کی عدالت نے انھیں نہ صرف انجمن سے نکالادیابلکہ اپٹا(IPTA)کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے بھی ہٹایا اور ’’نیا ادب‘‘ کی رکنیت سے بھی باہر کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ برسوں بعد اُن سخت گیر دوستوں کے خیالات میں بھی تبدیلی آئی اوران کے رویوں میں بھی۔
خواجہ احمد عباس کو غیر اردو داں حضرات صحافی، فلم سازاور اسکرپٹ رائٹرکے علاوہ ’دھرتی کے لال‘ میںبلراج ساہنی اور ’سات ہندوستانی ‘ میں امیتابھ بچن کو بریک دینے والے کی حیثیت سے یاد رکھنے کے علاوہ راج کپور کے لیے بے حد کامیاب فلمیں لکھنے والے کہانی کار کے اعتبار سے بھی جانتے ہیں ۔ لیکن اردو کی دنیا میں بطور فکشن نگار اُن کی حیثیت مسلم ہے۔ انھوں نے نو ناول تحریر کیے۔ جن میں ’ ایک ٹب اور دنیا بھر کا کچرا‘، ’دوبوند پانی‘، ’تین پیسے‘، چار دل چار راہیں‘، ’سات ہندوستانی‘، انقلاب‘، فاصلہ‘، ’بمبئی رات کی بانہوں میں‘ ، ’اندھیرا اجالا‘ اور میرا نام جوکر‘ہیں۔ ’دوبوند پانی‘ راجستھان کے پس منظر میں پانی حاصل کرنے کی کوششوں پر مبنی ناول ہے ۔ ’سات ہندوستانی ‘چھوٹا سا ناول ہے جس میں گُوا کی تحریک آزادی کو محور میں رکھ کرہندوستان کے مختلف مذاہب اورمختلف لسانی خطوں کے تعصبات کوختم کرکے انھیں متحد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان دونوں ناولوں پر انھیں قومی یک جہتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ’اندھیرا اجالا‘ میںحقیقت پسندی کو خوبی سے پیش کیا گیاہے۔ اور ’انقلاب ‘آزادی کی جد وجہد کی داستان پر مبنی ان کا ضخیم ناول ہے جو پہلے انگریزی میں شائع ہواتھابعد کو اردو میںہوا۔ اس ناول کو خواجہ صاحب کے ذاتی تجربے کی شمولیت اور عصری حسیت نے بے حد اہم بنادیا ہے۔
خواجہ صاحب کا پہلاافسانوی مجموعہ ’’ایک لڑکی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا اور پھر ’پائوں میں پھول‘، ’زعفران کے پھول‘، ’میں کون ہوں‘،’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔‘، ’دیا جلے ساری رات‘، ’پیرس کی ایک شام‘، ’گیہوں اور گلاب‘، بیسویں صدی کے لیلیٰ مجنوں‘، ’نیلی ساڑھی‘ ’سونے چاندی کے بت ‘(اس مجموعے میں بعض فلمی ستاروں کے خاکے بھی شامل ہیں)اور ’نئی دھرتی نئے انسان‘تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔
ٍ جن سات ڈراموں کی انھوں کی تخلیق کی ان میں’زبیدہ‘، ’یہ امرت ہے‘، ’میں کون ہوں‘، انناس اور ایٹم بم‘، ’لال گلاب کی واپسی‘، گاندھی جی کے قتل پر طویل ڈرامہ’گاندھی اور غنڈہ‘، اور ’بھوکا ہے بنگال‘ جس پر بعد میں ’دھرتی کے لال ‘ نام سے فلم بنائی گئی ، خاصے اہم ہیں۔ان کے سفر ناموں میں ’ مسافر کی ڈائری‘، خروشچیف کیا چاہتا ہے‘،’ مسولینی‘اور ’محمد علی ‘ کے نام لیے جاتے ہیں۔1977میں انھوں نے انگریزی میں I am not an islandکے عنوان سے اپنی آپ بیتی لکھی ۔ یہ آپ بیتی صرف ان کی زندگی کے اتار چڑھائو کاہی نہیں بلکہ برصغیر کی نصف صدی کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تار یخ کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی بھی سوانح تحریر کی ہے۔ کئی ایک تنقیدی مضامین کے علاو ہ دانشورطبقے کے حوالے سے ان کے افسانہ نما طنزیہ مضمون ’انٹلکچوئل اور بینگن‘ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔لیکن آج کی صحبت میں گفتگو ان کے افسانوں اوران کے افسانوی طریقۂ کار سے ہوگی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام ترقی پسند افسانہ نگاروں کی طرح خواجہ احمد عباس نے بھی اپنے افسانوں کا محور و مرکزمعاشی، معاشرتی مسائل اور سماجی نظام کو بنایا ہے۔ فاقہ کشی، عدم مساوات، فسادات اور سامراج دشمنی جیسے موضوعات کو اہمیت دی ہے، روزانہ زندگی میں رونما ہونے وا لے واقعات اور انسان کوعام طور سے پیش آنے والے حادثات سے پلاٹو ں کی تعمیر کی ہے اور دبے کچلے عوام، گرے پڑے لوگوں اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والے افراد کو افسانوی محفل کا مسند نشیں بنایا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے ہم عصر ترقی پسندافسانہ نگاروں سے ذراالگ راہوں کا بھی انتخاب کیاہے۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے تاریکیوںمیں بھی روشنی دریافت کرنے کی کوشش کی ہے اورزندگی کے بعض خوبصورت پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے ’’گیہوں اور گلاب‘‘ ،’’ لال گلاب کی واپسی‘‘ اور ’’زعفران کے پھول‘‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایسے ہی غیر روایتی رومان کے کچھ رومانی افسانے لکھے ہیں مثلاً ’’کہتے ہیں جس کو عشق‘‘، ’’شکر اللہ کا‘‘ اور ’’مسوری 52ء‘‘ وغیرہ۔ پھر انھوں نے ملک کے بعض ترقیاتی منصوبوں کوبنیاد بنا کر بھی افسانے لکھے ہیں جن میں ’گیہوں اور گلاب‘ کے علاوہ ’نئی جنگ‘ جیسے افسانوں کو رکھا جا سکتا ہے۔ اور شاید یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ خواجہ احمد عباس پہلے ترقی پسند افسانہ نگار ہیں جنھوں نے اپنے افسانوں میں حب الوطنی کے جذبات کا کثرت سے اظہار کیا ہے۔اپنے مجموعے ’نئی دھرتی نئے انسان‘ میں انھوں نے ہندوستان میں ہونے والی ترقیوں، یہاں کی بدلتی ہوئی سماجی قدروں اور ہندوستانی عناصر کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے افکار و نظریات کو جِلا بخشنے کے لیے کارل مارکس اور لینن کے ساتھ گاندھی اور نہرو کے فلسفے سے بھی روشنی حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے بیشتر افسانوں میں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جستجو دکھائی دیتی ہے جس میں عدم تشدد، مساوات، خیر سگالی، سماجی انصاف اور امن وامان کی بالا دستی ہو۔ ان کے ایک اہم افسانے ’’نکسلائٹ‘‘کی ایک لڑکی کہتی ہے’’ اس تشدد کے راستے سے ہم اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے‘‘۔ظاہر ہے افسانے میں اُن حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو نوجوانوں کو دہشت کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ خواجہ صاحب کے اس افسانے پر بعض احباب نے خاصی ناگواری کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کو کیا کہیے گاکہ تشدد کی راہ سے منزل تک نہ پہنچے کی یہ بات آج بھی اُتنی ہی صحیح ہے جتنی تب تھی۔
جنسی موضوع بھی ان سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔ اس ضمن میں ’’ایک تھی لڑکی‘‘ اور ’’بارہ گھنٹے‘‘ جیسے افسانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ’آزاد کا دن‘ کی طوائف ملک کی آزادی سے اس لیے خوش نہیں ہے کہ اس کے بعد انگریز اپنے وطن واپس چلے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا پیشہ بند ہو جائے گا، یا پھر ہندوستانیوں سے اسے بہت ہی کم پیسے ملیں گے۔ جنسی موضوع کے افسانوں میں خواجہ صاحب نے منٹو کے بیان کی سی گرماہٹ ، بیدی کی سی نفسیاتی تحلیل اور عصمت کے چٹخارے دار انداز سے پرہیز کیا ہے۔ وہ اس بات کے شدت سے قائل تھے کہ انسان نہ تو محض نفسیات سے مغلوب ہوتا ہے، نہ صرف معاشیات اس کی شخصیت کو طے کرتی ہے۔ اور نہ ہی وہ صرف خارجی ماحول سے متاثر ہوتا ہے،نہ محض باطن کا اسیر۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ:
انسان کا کیریکٹر ہی نہیں، اس کی قسمت بھی داخلیت اور خارجیت دونوں کے تانے بانے سے بنتی ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،چاہے وہ مارکس کا چیلا ہو یا فرائڈ کا پیرو۔ بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ زندگی کی بُناوٹ میں نفسیات کا تانا زیادہ اہم ہے یا معاشیات کا بانا۔
خواجہ صاحب نے اپنے افسانوں میں عصری زندگی کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تہذیبی مسائل کو بڑی خوبی سے بیان کیااور جدید معاشرے کے کھوکھلے پن کوہنر مندی سے دکھایا ہے۔ وہ انفرادی انسان سے زیادہ معاشرتی انسان کی تصویر کشی کرتے ہیںجس میں ظلم کے خلاف ان کا سیاسی نقطۂ نظرخاصی اہمیت رکھتا ہے۔بیشتر افسانوں میں انسان کا ارتقا سماجی ارتقاسے وابستہ دکھانے کی کوشش کی ہے اور انسان اور اس کے معاشرتی یا اجتماعی وجود کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس میں بحیثیت مجموعی ایک درد مند دل اور روشن فکر کی جھلک بہر طور نظر آتی ہے۔
تسلیم کرنا چاہیے کہ فکر و خیال اور موضوعات کے اعتبار سے خواجہ احمد عباس کی کہانیاں بے حد اہم ہیں لیکن فن اور ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے انھیں اعلیٰ پیمانے کے افسانوں میں بمشکل شامل کیا جا سکتاہے۔ یہ درست ہے کہ افسانے میں مقصدیت کا ہونا معیوب نہیں لیکن محض مقصد کو افسانوی پیرائے میں پیش کرنے کے عمل کی بھی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ سچ کو سچی صورت میں اور واقعی افراد کو بطور کردار افسانے میں پیش کرنے کی روایت ہمارے یہاں موجود رہی ہے۔ لیکن فکشن پر جوانی اور اس کے جوبن پر نکھار تب آتا ہے جب جھوٹ کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ سچ لگے اور غیر حقیقی یا لاموجود کرداروں کو افسانہ نگاراپنی خلاقی سے یوں ڈھالے کہ وہ جیتے جاگتے انسان دکھیں۔اس معاملے میں خواجہ احمد عباس کا معاملہ تقریباً اُلٹا ہے۔ یوں کہ ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ سچے اور گزرے ہوئے واقعات سے تشکیل پاتے ہیں لیکن افسانوں میں یہ واقعات غیر حقیقی اور جھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنی کہانیوں میں بطور کردار فطری اور زندہ انسانوں کوداخل کرتے ہیں لیکن افسانوی عمل کے دوران وہ غیر فطری اور مصنوعی معلوم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ’میں کون ہوں‘، ’انتقام‘ ’میرا بیٹا میرا دشمن‘ ، ’ایک پائلی چاول‘، ’بنارس کا ٹھگ‘، ’ خونی‘،اور ’سبز موٹر وغیرہ‘۔ جیسے افسانوں کوپرکھا جا سکتا ہے۔ ’میں کون ہوں‘ فسادات کے پس منظر میں لکھی ہوئی کہانی ہے جس میں ایک مرتا ہوا زخمی آدمی ہنس ہنس کر ڈاکٹر کو اپنی داستان سناتا ہے اور یہ رٹ لگائے رہتا ہے ’میں ہندو نہیں ہوں‘ میں مسلمان نہیں ہوں، میں انسان ہوں۔‘’ایک پائلی چاول‘ میں راشن کی لائن میں کھڑی ایک عورت کے بچہ پیدا ہوجا تا ہے۔’انتقام‘ کا واقعہ یہ ہے کہ فساد میں ایک ہندو باپ پر اپنی جوان بیٹی کی کٹی ہوئی چھاتیاں دیکھ کر جنون طاری ہوجاتا ہے، وہ کسی بھی مسلمان لڑکی سے اس کا انتقام لیناچاہتا ہے، کافی عرصے کی تلاش کے بعد اسے موقع مل جاتا ہے، وہ چھرا نکال کر اس مسلمان لڑکی پر وار کرنے ہی والا ہوتا ہے کہ دیکھتا ہے اس کی چھاتیاں بھی پہلے سے ہی کٹی ہوئی ہیں۔اس افسانے کو نفسیاتی ٹچ دے کرمزید معیاری بنایا جا سکتا تھا، لیکن خواجہ صاحب بالعموم نفسیاتی دروں بینی اور انسانی بطون کے مقابلے میں خارجی واقعات اور سامنے کی چیزوں کو ہی مرکز توجہ بناتے اور ان کے اسباب و مضمرات بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے متعدد افسانوں کی بنیاداخباروں میں شائع ہونے والی خبریں ہیں۔ مثلاً ’ایک پائلی چاول‘، ’نیلی ساڑھی‘ اور ’تین بھنگی‘ وغیر ہ جیسے کئی اور افسانے۔
خواجہ احمد عباس کے یہاں عشق کا تصوردوسرے افسانہ نگاروں سے قدرے مختلف یا یوں کہیے کہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے ۔ان کے اس نوع کے بیشتر افسانوں میں عشق کی بنیاد مساوی معیارِ زندگی پر قائم ہوتی ہے۔ اگر عاشق و محبوب کی زندگی معاشی اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہے ، ایک امیر دوسرا غریب ہے تو محبت استوار نہیں رہتی ۔ گویا زندگی کا ایک جیسا معیار اور معاشی یکسانیت محبت کی پہلی شرط ہے۔ اور مفلس اور بے روز گار عاشق تو خواجہ احمد عباس کی افسانوی دنیا میں دو قدم بھی نہیں چل پاتے۔ ’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔ ‘ ، ’شکر اللہ کا‘، ’ہنومان جی کا ہاتھ‘، ’سونے کی چار چوڑیاں‘، ’تیسرا دریا‘ اور ’ٹیری لین کی پتلون‘ وغیرہ اس کی عمدہ مثالین ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں میں عشق کی نا آسودگی یاکہیے ایک نوع کی تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔عام طور سے یہ ناآسودگی یا تشنگی سماجی حالات اور معاشی حقائق کا زائیدہ ہوتی ہے۔ یہ کیفیت مذکورہ افسانوں کے علاوہ’نئی برسات‘، ’سبز موٹر‘، ’یہ بھی تاج محل ہے‘، ’چٹان اور سپنا‘، ’پائوں میں پھول‘ اور ’خزانہ‘ وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان افسانوں کی قرأت کرتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ احمد عباس فرائڈ کے نظریۂ تحلیل نفسی سے کافی حد تک متاثر ہیں لیکن وہ اپنے بیانیے کو منٹو کی سی جذباتی شدت اور عصمت جیسی شوخ اور چنچل زبان کے استعمال کے علاوہ بیدی کی نفسیاتی گہرائی میں اترنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی منشا کرداروں کو اجاگر کرنا اور بیان کو شیرینی عطا کرنا نہیں بلکہ موضوعات کو روشن کرنا اور مقصدیت پر زور دیناہوتا ہے۔
اور شاید اسی مقصدیت کے ابلاغ اور اس کی تکمیلیت کے جوش میں چیخوف کے بتائے ہوئے افسانے کی خوبصورتی کے اِس راز کووہ فراموش کر جاتے ہیں کہ ’’افسانہ نگار کا کام مسئلے کاحل بتانانہیں ، محض مسئلے کو پیش کرنا ہوتا ہے۔‘‘ چنانچہ ’’نیا شوالہ‘‘ میں وہ نئے بن رہے باندھ کے راستے میں حائل پرانے مندر کو ہٹانے کے لیے ایک روشن خیال نوجوان سے اس مسئلے کو حل کرواتے ہیں۔ ’’ٹیری لین کی پتلون‘‘ میں گائوں میں پیدا ہونے والے منگو اچھوت کو شہر کے مخلوط ماحول میںلے جا کر اسے انسان ہونے کا احساس دلاتے ہیں جہاں اسے ہر ایک کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور کھا نے پینے کی آزادی ہے اور اونچی ذات کی ایک لڑکی کملا راٹھور کے ساتھ عشق کی بھی۔اس طریقۂ کار کوانھوں نے ’میری موت‘ اور ’چڑے اور چڑیا کی کہانی ‘کے علاوہ متعدد افسانوں میں برتا ہے۔ بعض افسانوں میں مسائل کے حل کی پیش کش میں ان سے چوک بھی ہوئی ہے۔ مثلاً’’بنارس کا ٹھگ‘‘، میں اس کا اہم کردار کبیر داس جوہر طرح کے تعصبات سے پاک اور معاشی مساوات کا علمبردار ہے وہ امیروں کے اسباب لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ’’خونی‘‘ کا کردار نوکری نہ ملنے کی بنا پر بلڈ بینک میں اپنے جسم کا خون بیچ کر گزارہ کرتا ہے۔ظاہر ہے ایسے افسانوں پر بعض ناقدین نے اعتراض بھی کیا ہے کہ اس سے سماج میں اچھا پیغام نہیں جا تا ۔
ان کی بعض کہانیاں متنازعہ فیہ بھی رہیں اور ان کو بنیاد بنا کر مختلف فرقوں نے ہنگامے بھی کیے، مثلاً ’سرکشی‘، بارہ گھنٹے‘ اور ’سردار جی۔ ‘ پہلی پر مسلمانوں نے، دوسری پر ہندوئوں نے اور تیسری کہانی پر سکھوں نے ہنگامے کیے۔ یوں فن کے اعتبار سے آخر الذکر یعنی ’سردار جی‘ زیادہ اچھی کہانی ہے۔ اور اسے خاطر خواہ شہرت بھی ملی۔فسادات کے زمانے میں ’سردار جی‘ کا سِکھ کردار اپنی جان دے کر بھی اپنے پڑوسی مسلمان کو بچاتا ہے۔ ظاہر ہے افسانہ نگار کا مقصد اس سے سکھ کردار کی عظمت دکھانا ہے اور سکھوں کے خلاف مسلمانوں کے تعصب کو ختم کرنا ہے۔اس عظمت کو پُر قوت بنانے کے لیے تضاد کے طور پر کہانی کی ابتدا میں سرداروں سے متعلق چند مضحکہ خیز لطیفے سناے جاتے ہیں،جس پر سارا ہنگامہ برپا ہواتھا۔جب راجندر سنگھ بیدی نے اس کہانی سے شروع کے چند لطیفوں کو نکال دینے کا مشورہ دیا تو خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر اسے قبول نہیں کیا کہ اس سے افسانے کا نقطۂ عروج کمزور ہوجائے گااور تضاد کی وجہ سے بہادری اور انسان دوستی کا جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ زائل ہو جائے گا۔اسی نوع کا ان کا ایک اور افسانہ ہے ’کیپٹن حمید مارا گیا‘۔ اس کہانی کا پس منظر تقسیم ملک کے معاً بعد کشمیر میں ہندوستان پاکستان کی جنگ کا محاذ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب عام ہندوستانی مسلمان سہمے ہوئے تھے، مسلمانوں کا دانشور طبقہ مہر بہ لب تھا اور نیشلسٹ مسلمانوں نے چُپ کی مصلحت اختیار کر رکھی تھی۔ یوں کہ بعض برادران وطن نے مسلمانوں پر دو قومی نظریے کا الزام لگا کر دہشت میں مبتلاجو کر دیا تھا۔ ایسے میں قوم پرست مسلمانوں کا کردار واضح کرنے والی کسی مسلم ادیب کی یہ پہلی تحریر تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قوموں کی بنیاد یں مذاہب نہیںہوتے، جغرافیائی حدود ہوتی ہیں۔ اور شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کہانی نے دہشت کے ماحول میں نہ صرف سیکولر نظریے کو فروغ دیا بلکہ مسلمانوں کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بھی بخشاتھا۔
خواجہ صاحب نے چند تمثیلی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ان میں ’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ اور ’’فاحشہ‘‘ (غالباً)کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آخرا لذکر تقسیم وطن کے بعد فسادات کے پس منظر میں ایک ایسی فاحشہ لڑکی کی کہانی ہے۔ جسے نہ ہندوستان قبول کرتا ہے نہ پاکستان۔ مصائب وپریشانی جھیلتی یہ بے سہارا لڑکی بالآخر دونوں ملکوں کی سرحدپر گر کربیہوش ہوجاتی ہے۔ پہرے دار جب اس سے نام پوچھتے ہیں تو اس کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں ’’اردو۔۔۔اردو۔۔اردو۔‘‘’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ میں لڑکی کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں:
لڑکی خوبصورت، چنچل ہے، طرحدار ہے۔ دنیا اس کی دیوانی ہے۔ ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گُنی بھی تھی ، دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی ، ٹیگور اور قاضی نذر الاسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، جوش اور فیض کی نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ لنکن اور گیری بالڈی، ژولا اور مارکس انجلزاور لینن۔ گاندھی اور جواہر لال نہرو کی کتابیں پڑھے ہوئی تھی۔ اس کی زبان میں جادو تھا۔
اس لڑکی پر جو لوگ اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے ان میں تھے سوامی دھرم دیو، پرانے راجہ، نئے سرمایہ دار، نیا کسان، کمیونسٹ ریوولیوشنری،حاکم شاہی افسراورپولٹیکل لیڈر۔تمام گنوں سے بھر پور لڑکی در اصل ہندوستان کی تمثیل ہے اور یہ ساتوں لوگ نمائندے ہیں اُن طبقوں یا کلاسوں کے جو اس ملک پر قبضہ جمانا اپنا اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
خواجہ احمد عباس نے کبھی وقت اور حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ کسی لیڈر، پارٹی،یا مذہبی پیشوا پر اعتبار نہیں کیا، اوروں کی طرح اپنے نظریے میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں نہیں کیں،اقتدار وقت سے سمجھوتے نہیں کیے اور نہ ہی کبھی اپنے قلم کی سمت رفتار بدلی۔وہ اکثر ٹوٹ ٹوٹ گئے ہیں جھکے کبھی نہیں۔یہ ان کے ذاتی اور شخصی اوصاف تھے ، اور ذرا غور کیجیے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کی بیشتر کہانیوں کے کرداروں کی نمایاں خوبی سادگی ، راست گوئی اور بے باکی ہے، نہ وہ مصلحت اندیش ہیں نہ بزدل۔خوابوں کی وادی میں نہیں حقیقی دنیا میں زندگی کرتے ہیں، وہ جیسے ہیں، جس طبقے کے ہیں کمیٹیڈ ہیں۔سو یقین جانیے کہ خواجہ صاحب افسانوی چوراہوں پر دوچار اہم کیریکٹرزکے بُت نصب کر کے ناموری کی خواہش کے بجائے اپنے ایسے ہی کرداروں کی دریافت کے ذریعے ایک صحت مند معاشرے کی جستجو اور مامون و مستحکم ملک کی تعمیر میں زندگی بھر مصروف رہے۔ ان کے اہم اور یادگار افسانوں میں’اتار چڑھائو‘، ’اجنتا‘، ’شامِ اودھ‘، ’سردار جی‘، ’نیلی ساڑھی‘، ’رادھا‘، ’زعفران کے پھول‘، ’باقی کچھ نہیں‘ ، یہ بھی تاج محل ہے‘، ’کیپٹن حمید مارا گیا‘ اور ’ایک لڑکی سات دیوانے وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔
اعتراف کرنا چاہیے کہ ہمارے ناقدوں نے خواجہ احمد عباس کو کافی حد تک نظر انداز کیا ہے، اور جن لوگوں نے ان پر لکھا ہے انھوں نے ان کے مکمل فن کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بالعموم ان کے یہاں کوئی اہم کردار نہ ہونے کی شکایت توسبھوں نے کی ہے لیکن ان کی جدتِ فن کو ، ان کے موضوعات کے تنوع کو، فکر وخیال کی وسعت کو، بیان کے توازن کواور بیباکی ِاظہار کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اور نہ ہی کہانیوں کے پس منظر اور ان کی فضا پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی؛ جن میں ایک نئے ہندوستان کے تصوراور ہندوستانیوں کی نئی فکرکو پروان چڑھانے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔قبول کہ انھوں نے فن پر مواد کو ترجیح دی اور کرافٹ پر قصہ پن کو، لیکن یہ عیب کہاں ؟ حسن ہے۔ اور کیا ان کا یہ کارنامہ کم اہم ہے کہ انھوں نے کہانی کوافسانہ نگاروں کی تخیلاتی اقلیم سے نکال کر عوام کی حقیقی دنیا سے روشناس کرایا،اور شعری صداقت کے مقابلے میں علی الاعلان واقعی صداقت پر فکشن کی بنیاد رکھی۔
٭٭٭
