Prem Chand: Life and Work

Articles

پریم چند : حیات اور خدمات

ڈاکٹر قمر صدیقی

پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔31/ جولائی1880کو اترپردیش کے مردم خیز شہر بنارس سے چار پانچ میل دورایک چھوٹے سے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اسی نام سے کچھ تحریریں بھی قلمبند کیں۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔1902میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ملتفت ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ”اسرارِ معبد“ کے نام سے لکھنا شروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔ اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ”زمانہ“کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ 1908 میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”سوزِ وطن“ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔”سوزِ وطن“ تک کی بیشتر تحریریں پریم چند نے نواب رائے قلمی نام سے تحریر کی تھیں۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو افسانے کو ابتدائی دور میں ہی کچھ ایسے افسانہ نگار مل گئے جو ایک دوسرے سے قطعی مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پریم چند ایک رجحان کی ترویج کر رہے تھے، راشد الخیری دوسرے اورسجاد حید ر تیسرے نظریے و رجحان کے علمبردار تھے۔ لیکن پریم چند کی مقصدیت راشد الخیری کی اصلاح پسندی اور یلدرم کی رومانیت پر بازی لے گئی۔مقصدیت اور اصلاح کے پہلو نے پریم چند کے فن کو اتنا غیر معمولی بنادیا کہ وہ اردو افسانے کے سچے بنیاد گزار تسلیم کیے گئے۔ راشد الخیری اور سجاد حیدریلدرم کے رجحانات کی نیاز فتح پوری، مجنوں گوکھپوری، مہدی الافادی اور قاضی عبدالغفار کے بعد کوئی خاص تقلید نہ ہوئی۔ جبکہ پریم چند کی مقصدیت کا سدرشن، علی عباس حسینی، اعظم کریوی وغیرہ نے تتبع کیا اور ان بعد کے افسانہ نگاروں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھانے میں معاونت کی۔اسی لیے سمجھا جانے لگا کہ پریم چند اردو افسانے کے موجد ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے گئے ہیں۔ پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”سوز وطن“ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ”واردات“ اور ”زادراہ“ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور1909 سے لے کر1920کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور1920 سے1932تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی1932ء سے1936تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔ پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ”سوز وطن“ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں میں داستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔1909 سے1920تک پریم چند ”مہوبا“ کے مقام پر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے۔ جہاں کے کھنڈرات نے شایدانہیں ہندوؤں کی عظمت ِ رفتہ کی یاد دلائی۔ غالباً اسی لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ حالیؔ کی طرح انہیں اپنے افسانوں کے ذریعہ ہندوقوم کی ماضی کی شان و شوکت اجاگرکرنا چاہیے۔ چنانچہ ”رانی سارندھا“1911 میں اور1912میں ”راجہ ہردول“ اور ”آلھا“ جیسے افسانے اسی جذبے کے تحت لکھے گئے۔ ان تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے بعد اپنے دوسرے دور میں پریم چند نے قومی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل، بے جوڑ شادی، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔ تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، ستیہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندے ملک کی آزادی کے لیے پرجوش تھے۔ پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ قدرے واضح طور پر جھلکتا ہے۔ افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ”پوس کی رات“،”سواسیر گہیوں“ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔”سوز وطن“ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر،بوڑھی کاکی، دو بیل، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ”کفن“جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔ آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں۔کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔

Sajjad Haider Yaldaram : Life and Work

Articles

سجاد حیدر یلدرم : حیات اور کارنامے

ڈاکٹر قمر صدیقی

سجاد حیدر یلدرم 1880میں بنارس میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد سیّد جلال الدین حیدر مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ یلدرم کا خاندان پڑھا لکھا اور لبرل خاندان تھا۔ آبائی وطن قصبہ نہٹور، ضلع بجنور، اتر پردیش تھا۔ ۷۵۸۱ء کی جنگِ آزادی میں یلدرم کے دادا امیر احمد علی نے بھی انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ لہٰذا اس کی پاداش میں جاگیریں ضبط ہوئیں اور خاندان کی نئی نسل کو انگریزی پڑھنی اور سرکاری ملازمتیں کرنی پڑیں۔ان کے اہل خاندان سرکاری ملازمتوں میں اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ یلدرم اور ان کے بھائیوں نے ابتدائی تعلیم بنارس ہی میں حاصل کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اے۔ایم۔او کالج،علی گڑھ میں داخل کیے گئے۔1901میں یلدرم نے بی۔اے کیا اور پورے صوبے میں سیکنڈ آئے۱؎۔ یلدرم نے علی گڑھ میں بڑی بھرپور زندگی گزاری۔ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی رہے۔ مولانا محمد علی اور مولانا حسرت موہانی ان کے کلاس فیلو تھے۔علی گڑھ کالج کے زمانے میں انھوں نے حسرت موہانی پر ایک نظم ”مرزا پھویا“ لکھی تھی۔ اس زمانے میں علی گڑھ کی علمی رفعت قابل رشک تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک نابغہ روزگار اساتذہ علی گڑھ کالج سے منسلک تھے۔ قرۃ العین حیدر نے اس تعلق سے لکھا ہے: ”علی گڑھ ان دنوں گویا آکسفورڈ کا ماڈل بنا ہوا تھا۔ تھیوڈر بک پرنسپل تھے۔ آرنلڈ اور نکلسن انگریزی کے استاد تھے۔ پروفیسر چکرورتی اور ڈاکٹر ضیا الدین ریاضی پڑھاتے تھے۔ مولوی عباس حسین عربی کے استاد تھے اور مولانا شبلی فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ یلدرم فارسی میں بہت اچھے تھے لہٰذا شبلیؔ کے پسندیدہ شاگردوں میں تھے۔“ (”خیالستان“‘ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ ص: ۱۵۲) زمانہئ طالب علمی سے ہی یلدرم کو ترکی سے ذہنی لگاؤ تھا۔ حاجی اسمعٰیل خان رئیس دتاولی جنھیں اردو اور ترکی زبان کا اچھا ذوق تھا۔ان کی صحبت میں یلدرم نے ترکی زبان میں مہارت بہم پہنچائی۔ بی۔ اے کے بعد ایل۔ایل۔ بی کررہے تھے کہ اس درمیان برطانوی فارن آفس نے علی گڑھ کے پرنسپل کو بغداد کے قونصل خانے کے لیے ترکی زبان کا ترجمان مہیا کرانے کے لیے لکھا۔ کسی پروفیسر نے یلدرم سے اس کا ذکر کیا۔ انھوں نے درخواست دی اور تقرر ہوگیا۔ بغداد میں یلدرم کا قیام کئی سال رہا۔ بالآخر ان کا جی بھر گیا اوروہ چھٹی لے کرہندوستان آگئے۔ ہندوستان واپس آجانے کے بعد پھر بغداد جانے کی خواہش نہ ہوئی۔ لہٰذا حکومت نے ان کاتقرر اس زمانے میں کابل کے معزول شدہ امیر یعقوب علی خان کے پولیٹیکل افسر کے طور پر کردیا۔امیر یعقوب کا قیام اُن دنوں مسوری میں تھا۔ امیر کابل کے انتقال کے بعد یلدرم کی خدمات یو۔پی سول سروس میں منتقل کردی گئیں۔ 1920میں ایم۔اے۔او، کالج (علی گڑھ) کو یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ اس وقت مسلم یونیورسٹی کے پہلے رجسٹرار کی حیثیت سے اُن کی خدمات حاصل کی گئیں۔1929 میں وہ دوبارہ یو۔پی سول سروس میں واپس آگئے۔ دوران ملازمت انڈومان و نکوبار جزائر میں تبادلہ ہوا اور غازی پور اور اٹاوے میں بھی تعینات ہوئے۔1935 میں خرابیِ صحت کی وجہ سے وقت سے پہلے ریٹائر منٹ لے لیا۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ یلدرم کو ترکی زبان و ادب سے علی گڑھ کالج کے زمانے سے ہی دلچسپی تھی۔ بغداد کے زمانہئ قیام میں ان کی اس دلچسپی کو اور جلا ملی۔1902 میں انھوں نے احمد حکمت کے ایک ناول ”ثالث بالخیر“ کا ترجمہ کیا۔اس وقت یلدرم کا نوجوانی کا زمانہ تھا۔ اسی زمانے میں انھوں نے ”مخزن“ میں لکھنا شروع کیا۔ یلدرم کے افسانوی رجحان میں جس طرح کی رومانیت کا غلبہ تھا وہ بڑی حد تک مغربی اور ترکی رومانیت تھی۔ یلدرم سے پہلے اردو فکشن میں عورت کاکردار بہت نمایاں اور روشن نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے ایک ایسے رجحان کو متعارف کرانے کی کوشش کی جس میں رتن ناتھ سرشار کی سپہر آرا محض چلمن سے جھانکتی نظر نہ آئے بلکہ وہ مردوں کے دوش بدوش ان کے ہمراہ چل سکے۔ انھوں نے اپنے افسانوں کے نسوانی کرداروں کو لکھنؤ اور دلی کی حویلیوں کی چار دیواری سے نکال کر بمبئی کے ساحل پر کھلی ہوا میں سانس لینے کی ادا سکھائی۔ بغداد کے بعد یلدرم کا تبادلہ قسطنطنیہ کے برطانوی سفارت خانے میں ہوا۔ یہاں وہ ترکی ادب میں پیدا ہونے والی نئی تحریکوں سے متعارف ہوئے اور ینگ ترک پارٹی کے ساتھ منسلک ہوکر انقلاب میں عملی حصہ بھی لیا۔ اس ضمن میں قرۃ العین حیدر نے تحریر کیا ہے: ”یلدرم کی یہ انقلاب پرستی رومانیت کے جذبے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے بہت بڑا خطرہ مول لے کر ینگ ترک پارٹی کے ساتھ کام کیا۔ پھر لطف یہ کہ بعد میں ساری عمر کبھی بھولے سے اس کا ذکر نہ کیا۔ میرے خیال میں اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سنسنی خیز شہرت حاصل کرنے کے لیے بعد میں ہمیشہ کے واسطے لیڈر قوم اور غازی وغیرہ بن جاتا۔“ (”خیالستان“‘ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ ص: ۹۵۲) یلدرم کی شادی ۲۱۹۱ء میں نذرِ زہرا بیگم (نذرِ سجاد) سے ہوئی۔ نذرِ زہرا بیگم اپنے زمانے کی معروف قلمکار تھیں۔۸۰۹۱ء میں بچوں کے مشہور اخبار ”پھول“ کی ایڈیٹر رہیں۔ یہ رسالہ شمس العلما ممتاز علی کے ”دار الاشاعت پنجاب“ لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ان کا مشہور ناول ”اخترالنسا بیگم“ 1910میں شائع ہو چکا تھا جب ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔شادی سے قبل ہی ان کی تحریریں ’نیرنگِ خیال‘، ’زمانہ‘، ’تمدن‘، ’ادیب‘، ’انقلاب‘ اور ’الناظر‘ جیسے رسائل میں شائع ہوتی تھیں۔ 1935 میں یلدرم حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔1938میں بیمار ہوئے۔ ان کی آنکھ کے عین اوپر کاربنکل نکلا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی نے آپریشن کیا جو اپنے زمانے میں مشہور ڈاکٹر تھے۔ آپریشن کامیاب رہا لیکن صحت کمزور ہوتی جارہی تھی۔ کمزوری اور نقاہت کے باوجود ہر مصروفیت کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے۔ بالآخر6/ اپریل1943ء کو رات دو بجے حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوا۔ انتقال سے قبل تک وہ علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ لکھنؤ کے عیش باغ کے قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔ سجاد حیدر یلدرم نے اپنی تحریروں کے ذریعے جس نوع کے رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی اس میں عورتوں کی تعلیم اور مساوات کو اولیت حاصل ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے نہ صرف قلمی بلکہ عملی سطح پر بھی اقدامات کیے۔ خود اپنے خاندان کی بے شمار لڑکیوں کی خاطر یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ترین ڈگریوں کے حصول کے لیے اس زمانے میں کوشاں رہے جب مسلمان لڑکیوں کو اسکول بھیجنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے یلدرم اردو زبان میں ایک نئے اور دلنواز اسلوبِ بیان کے موجد تھے۔ان کا شمار اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ”خیالستان“ یلدرم کی رومانیت اور تخیل کا بہترین عکس ہے۔ خیالستان میں انشائیے، تراجم اور مختصر افسانے شامل ہیں۔ گویا صنف نثر کی تین اصناف کے مجموعہ کا نام ”خیالستان“ ہے۔ ان شہ پاروں میں کچھ ترکی ادب سے اخذ و ترجمہ ہیں اور بعض طبع زاد ہیں۔ ان میں سجاد حیدر یلدرم کا رومانی انداز فکرو بیان جادو جگا رہا ہے۔یلدرم علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور تہذیب یافتہ تھے۔ ان کی ادبی زندگی علی گڑھ سے پیدا ہوئی۔ انہیں سرسید اور علی گڑھ سے بے حد عقیدت اور غایت درجہ انس تھا۔ مگر اس کے باوجود یلدرم نے اپنی افسانوی تحریروں میں اس تحریک کی خشک حقیقت پسند ی اور بے نمکی کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے لیے یلدرم کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے افسانے کے لیے کوئی ایسا موضوع تلاش کریں جو دلچسپ بھی ہو اور زندگی کے ساتھ اس کا گہرا رابطہ بھی ہو۔ محض خیال اور خواب کی دنیا نہ ہو بلکہ اس میں اپنے عہد کی جھلک نظرآئے۔ اس مقصد کے پیش نظر یلدرم نے بطور خاص محبت اور عورت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔چونکہ عورت، مرد کی بہترین رفیق ہے اس لیے یلدرم کے نزدیک اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو بہترین رفیق کے لیے موزوں اور مناسب ہے۔ یلدرم اس بات کے بھی قائل تھے کہ عورت کے بغیر مرد کی زندگی ادھوری اور نامکمل ہے۔عورت یلدر م کے ہاں عیاشی اور گناہ کا مظہر نہیں، لطافت اور زندگی کی صحت مند تصور کی علامت ہے۔٭٭٭ ۱؎ یہ بیان قرۃ العین حیدر کا ہے۔ مشمولہ ”خیالستان“ ص: ۸۴۲۔ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ قرۃ العین حیدر کے اس بیان پر مرتب نے فٹ نوٹ لگاکر مشتاق احمد زاہدی کا بیان نقل کیا ہے کہ یلدرم تمام الہ آباد یونیورسٹی میں چوتھے نمبر تھے۔ اس زمانے میں علی گڑھ کالج الہ آباد یونیورسٹی سے منسلک تھا۔

Life and Work of Rashidul Khairi

Articles

راشد الخیری : حیات اور کارنامے

ڈاکٹر قمر صدیقی

راشد الخیری جنوری ۸۶۸۱ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حافظ عبد الواحد اور دادا کانام مولانا عبد القادر تھا۔ والدہ کا نام امیر بیگم بی بی رشید الزمانی تھا۔ یہ نواب فضل رسول خاں کی بیٹی تھیں۔ دادیہال کی طرف سے راشد الخیری کا خاندان علما و مشائخ میں شمار ہوتا تھا اور ننھیال کی طرف سے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر سے رشتہ داری تھی۔ گویا ایں خانہ تمام آفتاب است۔ راشد الخیری کے والد حافظ عبد الواجد خاندان کے پہلے شخص تھے جنھوں نے خاندانی روایت سے انحراف کرکے انگریزی تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت کی۔البتہ ملازمت کبھی جم کر نہ کرسکے۔ آخری ملازمت نواب آف حیدرآباد کی تھی جہاں وہ بندوبست کے مہتمم کے عہدے پر فائز تھے۔ راشد الخیری کی والدہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں۔ تاہم انھں تاریخی واقعات، بادشاہوں کے حالات، سبق آموز کہانیاں اور اردو اشعار خوب یاد تھے۔ وہ گاہے بہ گاہے ان اشعار و واقعات کو راشد الخیری کو سناتی تھیں۔ اس طرح بچپن ہی سے گھریلو تربیت کے باعث خوفِ خدا اور عظمتِ رسولؐ کا نقش دل پر ایسا بیٹھا کہ ساری زندگی جاہلانہ و باطلانہ نظریات اور رسم و رواج کے خلاف جہاد بالقلم کرتے رہے۔ راشد الخیری کی ابتدائی تعلیم ان کے دادا مولانا عبد القادر کی نگرانی میں ہوئی۔ چونکہ ان کے والد بہ سلسلہ ملازمت باہر رہتے تھے اس لیے راشد الخیری کی تربیت کی ساری ذمہ داری ان کے دادا نے ادا کی۔ قرآن کریم اپنی دادی بڑی استانی کی نگرانی میں مکمل کی اور فارسی کی تعلیم بھی گھر پر ہی ہوئی۔ بعد ازاں دلی کے عربک اسکول میں داخل ہوئے لیکن انگریزی کے علاوہ کسی مضمون میں دلچسپی نہ تھی لہٰذا اسکول سے اکثر غائب رہنے لگے۔ اسکول میں اساتذہ کا بہت احترام کرتے تھے۔ اردو فارسی کے استاد خواجہ الطاف حسین حالی تھے۔ وہ راشد الخیری کی علمی لیاقت سے بہت خوش تھے۔ حالی کے علاوہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر خواجہ شہاب الدین اور انگریزی کے استاد مرزا احمد بیگ بھی ان سے خوش تھے۔ اس کے باوجود اسکول میں ان کا جی نہ لگتا تھا۔ گھر کے تمام بزرگوں کی تاکید اور دباؤ کے باوجود نویں جماعت سے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ یہ صورت حال تمام اہل خانہ کے لیے تشویس ناک تھی۔ باب اور دادا کا انتقال ہوچکا تھا لہٰذا ان کی دادی اور والدہ ان حالات کے مدنظر بہت پریشان ہوئیں۔ اس دوران ڈپٹی نذیر احمد جو کہ راشدالخیری کے پھوپھا تھے حیدآباد (دکن) سے دہلی آئے۔ راشدلخیری کی دادی نے راشد الخیری کو ان کی نگرانی میں دے دیا۔ ڈپٹی نذیر احمد نے انھیں پڑھنے لکھنے کا سلیقہ سکھایا۔جب ڈپٹی نذیر احمدحیدر آبادجانے لگے تو انھوں نے راشد الخیری کے چچا خان بہادر ڈپٹی عبد الحامد کو خط لکھ اپنے پاس بلانے کی سفارش کی۔ ان کے چچا ان دنوں اورئی(یو پی) میں ملازم تھے۔ انھوں نے راشد الخیری کو وہاں بلا لیا اور ان کا داخلہ گورنمنٹ اسکول میں کرادیا۔لیکن یہاں بھی ان کا دل اسکول میں نہ لگا۔ کچھ دنوں بعد چچا کا تبادلہ اناؤ ہوگیا اور وہ چچا کے ساتھ اناؤ چلے گئے۔ اس طرح ان کا باقاعدہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔اس کے بعد انھوں نے جو صلاحیت اور لیاقت حاصل کی وہ ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر کی۔ راشد الخیری کی بہن زاہدہ بیگم کی شادی کے بعد ان کی والدہ کو راشد الخیری کی شادی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ ان کی والدہ نے اپنے پڑوسی عبد الرحیم کی بیوہ کی بیٹی فاطمہ خانم سے ان کی شادی طے کردی۔ ۵/ جنوری ۰۹۸۱ء کو حافظ سیّد محمد، امام جامع مسجد نے نکاح پڑھایا۔ راشد الخیری کی چار اولادیں راشدہ بیگم، رازق الخیری، واجدہ بیگم اور صادق الخیری نے لمبی حیات پائی البتہ ایک بیٹا عبد الخالق اٹھارہ سال کی عمر میں بیماری کی وجہ سے انتقال کرگیا۔ راشدہ بیگم سب سے بڑی تھیں اور والد سے قریب بھی۔ ۵۱۹۱ء میں ان کی شادی عبد الغفور سے ہوئی۔ رازق الخیری ان کے بعد تھے۔ بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ ۳۲۹۱ء میں ان کی شادی خاتون اکرم سے ہوئی جو نئی نسل کی معروف ادیبہ تھیں۔ لیکن دوسال بعد ہی خاتون اکرم کا انتقال ہوگیا۔ دوسری شادی ۹۲۹۱ء میں آمنہ نازلی سے ہوئی۔رازق الخیری نے راشد الخیری کی زندگی میں ہی عصمت، بنات اور جوہرِ نسواں کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق ورثے میں ملا تھا۔ تقریباً ۸کتابوں کے مصنف تھے۔ ہجرت کے بعد عصمت اور بنات کوپاکستان سے باقاعدگی سے شائع کرتے رہے۔ واجدہ بیگم کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اور وہ باسلیقہ خاتون تھیں۔ ان کی شادی سردار محمد خاں کے ساتھ ہوئی۔ صادق الخیری سب سے چھوٹے تھے۔ ۷۳۹۱ء میں فلسفہ میں ایم۔ اے کیا۔ افسانے اور تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ ترقی پسند ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ تقریباً ۹کتابوں کے مصنف تھے۔ شادی کے چند ماہ بعد راشد الخیری کو ان کے چچا عبد الحامد جو کہ اناؤ میں ڈپٹی کلکٹر تھے کی کوششوں سے محکمہ بندو بست میں کلرک کی ملازمت مل گئی۔ لیکن یہ ملازمت راشد الخیری کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتی تھی اور دفتری کاموں میں ان کی طبیعت نہیں لگتی تھی۔ دوران ملازمت ان کی دوکتابیں ”صالحات“ اور ”منازل السائرہ“ شائع ہوکر مقبول ہوچکی تھیں۔ لہٰذا ان کی طبیعت تحریر و تصنیف کی طرف زیادہ مائل رہتی تھی۔ گھریلو وجوہات کی بنا پر بھی دور دراز تبادلے پر بھی انھیں تامل ہوتا تھا۔اس لیے کہیں جم کر ملازمت نہیں کی۔ ان کی آخری ملازمت دلی کے پوسٹل آڈٹ آفس میں تھی۔جب انھوں نے رسالہ ”عصمت“ جاری کیاتو سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے رسالے میں ان کا نام شائع ہونے میں قانونی دشواری پیش آئی لہٰذا۰۱۹۱ء میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو پوری طرح اردو زبان و ادب کے لیے وقف کردیا۔وہ اردو کے ان چند خوش قسمت مصنفوں میں تھے جن کی کتابیں کثیر التعداد ہونے کے ساتھ ہی قبول عام کی سند حاصل کر چکی تھیں۔ راشد الخیری کا انتقال ۶۳۹۱ء میں ہوا۔ اردو افسانے کے تعلق سے جو تحقیق اب تک سامنے آئی ہے اُس کے نزدیک راشد الخیری کے افسانہ ”نصیر اور خدیجہ“ مطبوعہ رسالہ ”مخزن“، لاہور، شمارہ ۳، جلد ۶، دسمبر ۳۰۹۱ء کو اولیت حاصل ہے۔ یہی افسانہ راشد الخیری کی کتاب ”مسلی ہوئی پتیاں“ کی اولین اشاعت ۷۳۹۱ء، مطبوعہ عصمت بک ڈپو، دہلی کے صفحہ ۸۲تا۲۳میں ”بڑی بہن کا خط“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ڈاکٹر نجیب اختر نے راشد الخیری پر جومونوگراف دہلی اردو اکادمی کے لیے تحریر کیا ہے اس میں انھوں نے اس تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے: ”راشد الخیری کے دو طبع زاد افسانے ”نصیر اور خدیجہ“ اور ”بدنصیب کا لال“ دسمبر۳۰۹۱ء سے اگست۵۰۹۱ء تک شائع ہوچکے تھے۔ یلدرم کے دو افسانے ”دوست کا خط“ اور ”غربت وطن“ اکتوبر۶۰۹۱ء میں شائع ہوئے۔ سلطان حیدر جوش کا ”نابینا بیوی“ دسمبر ۷۰۹۱ء میں اور پریم چند کا پہلا افسانہ ”عشق دنیا اور حب وطن“ اپریل۸۰۹۱ء میں شائع ہوا۔ یہاں اس بات کی وضاحت مناسب ہوگی کہ پریم چند کے جس افسانے (دنیا کا سب سے انمول رتن) کو اردو پہلا افسانہ شمار کیا جاتا رہا وہ ۸۰۹۱ء میں شائع ہوا اور تاریخی اعتبار سے اردو کے طبع زاد افسانوں میں اس کا نمبر گیارہواں ہے۔“ اس طرح یہ واضح ہوجاتا ہے کہ راشد الخیری اردو کے اولین افسانہ نگار ہیں۔ افسانہ نگاری سے پہلے وہ بطور ناول نگار اردو میں اپنی شناخت قائم کرچکے تھے۔ راشد الخیری کے افسانے کے مطالعے سے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک نوع کے مقصدی اور اصلاحی لہر کے حامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ راشد الخیری کی شخصیت اور کارنامے میں مقصدیت کو اولیت حاصل تھی اور وہ افسانے کے ذریعے بھی اصلاح معاشرہ کا کام لینا چاہتے تھے۔ لہٰذا ان کے افسانے میں اصلاحی اسلوب حاوی نظر آتا ہے۔انھوں نے اردو افسانے میں متوسط طبقے کے مسائل، عورتوں کی تعلیم و تربیت اور حقوق نسواں کے لیے آواز بلند کرنے کے رجحان کو جلا بخشی۔

Chat Par Tahri Dhoop a Short Story Mushtaq Ahmad Noori

Articles

چھت پر ٹھہری دھوپ

مشتاق احمد نوری

کیا تمہیں ایسا نہیں لگتا کہ ہم دونوں خود اپنے ساتھ فریب کر رہے ہیں؟ آخر اس خود فریبی میں مبتلا ہو کر ہم کس حقیقت سے فرار چاہ رہے ہیں۔ زندگی فرار کانام تو نہیں ہے؟ زندگی تو خود سپردگی کا نام ہے۔
تو پھر اپنے آپ کو چھلنے کی یہ خواہش اپنے ہی ساتھ کی جانے والی سازش تو نہیں؟
اب دیکھو نا۔۔۔ بیس سال پرانا لمحہ تمہاری چھت پر زندگی کی صورت نظر آیا۔ یہ تم تھی۔ مجھے لگا وہی بیس سال والی وہ لڑکی ہے ،جو مجھے دیکھنے اور خود کو دکھانے کی تمنا میں دھوپ کی شدت کی پرواہ کئے بغیر چھت پر کھڑی ہے۔
لیکن آج دھوپ کب تھی؟ وہ تو ڈھل چکی تھی۔
اب نہ وہ شدت نہ وہ تمازت۔۔۔ ڈھلان پر رکے قدم جیسے۔۔۔
ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا، لیکن دونوں نے اپنے آپ کو فریب میں مبتلا رکھا۔ میں تمہیں دیکھ کر دیکھتا نہیں رہا بلکہ انجان بن کر تمہارے گھر کی جانب بڑھتا رہا، یہ سوچتا ہوا کہ تم دیکھ رہی ہوگی۔ اب چھت سے نیچے آؤ گی۔ میرے بل کا انتظار کرتی ہوئی جھٹ دروازہ کھول دو گی اور شرماتی ہوئی دریافت کرو گی:
’’آپ کب آئے؟‘‘
لیکن ایسا کچھ نہیں ہوا۔
میری ہی طرح تم بھی دیکھ لیے جانے اور دیکھنے کی خواہش کے درمیان خود کو چھلتی رہی اپنے آپ کو یہ کہہ کر بہلاتی رہی کہ تم نے مجھے دیکھا ہی نہیں، میں نے بل بجایا، لیکن دروازہ نہیں کھلا۔ عقب کی کھڑکی سے آواز آئی:
’’کب آئے؟ کہو تو دروازہ کھول دوں؟‘‘
یہ تمہارے شوہر کی آواز تھی۔ میرا اچھا دوست رہا ہے۔ مکتب اور اسکول کا ساتھی۔
’’اگر چاہو تو باہر سے ہی لوٹ جاؤں؟‘‘
میں نے جواب دیا اور وہ مسکراتا ہوا دروازہ کھول کر مجھے اندر لے گیا، لیکن میری ساری توجہ تو چھت پر تھی جہاں دھوپ کی شدت نہیں تھی، کیوں کہ دھوپ کے پاؤں تو ڈھلان پر تھے۔ میں تمہارے شوہر سے گفتگو کرتا رہا ،لیکن میرا سارا دھیان تمہارے قدموں کی چاپ پر لگا ہوا تھا اور تم چھت پر انجان بنی اپنے آپ کو چھلنے میں مصروف تھی۔ اچانک تمہاری بچی سامنے آگئی۔ میں تو چونک ہی گیا۔
’’ارے دھوپ کی یہ شدت کہاں تھی؟‘‘
ہو بہو بیس سال پرانی تمہاری اپنی تصویر۔۔۔
بیس سال بہت ہوتے ہیں۔
دو زمانوں کی دوریاں کم نہیں ہوتیں۔
لیکن مجھے ایسا کہاں لگتا ہے۔
مجھے تو آج بھی درمیانی دوری نظر نہیں آتی۔۔۔
تم جب سامنے ہوتی ہو تو یہ ساری دوریاں کہاں چلی جاتی ہیں؟
لیکن تم سامنے کب ہو؟
وہ لمحہ تو چھت پر ٹھہر گیا ہے۔
میں بھی کتنا ضدی تھا ۔مجھے ضدی بھی تو تم نے ہی بنایا تھا۔ میری ہر بات ماننے کی تمہاری وہ ادا اور تمہاری ہر ادا پر قربان ہونے کی میری خواہش۔۔۔
کیسے کیسے لمحے درمیان سے گزر گئے۔
وہ زمانہ بھی خوب تھا۔ نہ جانے کس بات پر ناراض تھا میں۔ کئی دنوں تک تم سے ملنے نہیں گیا تھا۔ کئی دن اس زمانے میں زمانوں پر بھاری ہوا کرتے تھے۔ تمہاری معافی قبول ہوئی اور شرط یہ ٹھہری کہ بارہ بجے دن میں چھت پر کھڑی ہو کر میرا انتظار کرو۔ مابدولت سامنے کی سڑک سے گزریں گے۔
وقت سے قبل تم آئی۔۔۔وقت گزار کر میں گیا۔
گھنٹہ دوگھنٹہ کھلی چھت پر مئی کی دوپہر میں بغیر کسی وجہ کے کھڑا رہنا کتنا مشکل ہوتا ہے،لیکن تم وہاں تھی۔میرے من پسند لباس میں تمہاری لمبی زلفیں تمہارے وجود پر سایہ فگن تھیں ،جنہیں دیکھ کر میں اکثر کہا کرتا تھا:
’’ان زلفوں کوکھلی مت رکھنا۔ بہت سے مسافر اپنے گھر کاراستہ بھول جائیں گے۔‘‘
جواب میں تم نے مسکراتے ہوئے کہاتھا:
’’جسے راستہ بھولنا تھا وہ بھول چکا اب تو سارے راستے بند ہو گئے ہیں۔‘‘
تمہاری لمبی زلفیں تمہیں پریشان کر رہی تھیں، ہوا کے جھونکے بار بار انہیں چھیڑ رہے تھے۔ میں نے تمہیں چھت پر دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ نہ جانے وہ لمحہ اچانک ساکت کیوں ہو گیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے وہ لمحہ صدیوں پر محیط ہو گیا ہو۔ سڑک پر ایک ہی جگہ کھڑے ہو کر دیدار یار کرنا ممکن بھی نہ تھا، اس لیے نہ جانے کتنی بار اس سڑک پر ادھر سے ادھر آتا جاتا رہا ،یہ یاد نہیں۔ یاد تو صرف تم ہو۔ کتنی شدت تھی ، کتنی بے قراری تھی اور کتنی تڑپ تھی دونوں طرف۔ ایک دوسرے کو دیکھنے اور دکھانے کی تمنا۔۔۔ آس پاس سے بے خبر دھوپ بھی خود پشیماں کہ اس کی شدت سے زیادہ شدت ہے اس جذبے میں۔
لیکن آج وہ سب کہاں تھا؟
جذبے تو شاید تھے، لیکن وہ شدت کہاں تھی؟
ہم فریب کیوں دے رہے تھے خود کو؟
چاہ تو آج بھی تھی کہ دیکھوں۔۔۔ جی بھر کے دیکھوں اور دیکھوں اور دیکھتا ہی رہوں، لیکن اندر ہی اندر اس جذبے کا گلا کیوں گھونٹ رہا تھا میں؟
تم بھی تو ویسا ہی کر رہی تھی۔ تمہیں معلوم تھاکہ میں شدت سے چھت کے نیچے، تمہارے قدموں کی چاپ سننے کا منتظر ہوں،لیکن تم انجان بنتی رہی کہ چھت کے اوپر تمہیں کچھ نہیں معلوم، حالانکہ اندر ہی اندر تم بھی اسی طرح تڑپ رہی تھی، جس طرح کہ میں ۔۔۔ لیکن یہ انجاناا حتیاط خود کو جان بوجھ کر چھلنے کی خواہش۔۔۔
بہت دیر بعد تمہارے قدموں کی آہٹ میں نے پہچان لی۔سراٹھایا ،تم سامنے تھی۔نگاہیں جھک گئیں جیسے چوری کررہا ہوں تم نے بھی بس رسمی طور پر پوچھا:
’’کب آئے آپ؟‘‘
جی میں آیا کہہ دوں:’’میں گیا ہی کب تھا۔‘‘
لیکن تمہارے جواب میں تمہیں کیسے بتاتا کہ صدیاں بیت گئیں تمہارا انتظار کرتے کرتے۔
تمہاری ساری توجہ اپنے شوہر پر مرکوز ہو گئیں ۔ تم نے اپنے شوہر پر اپنی محبت قربان کرتے ہوئے کہا:
’’آپ سوئٹر کیوں نہیں پہن لیتے۔ سردی لگ جائے گی۔‘‘
میں بھی تو اندر ہی اندر بہت سرد ہو چکا ہوں۔
میرے اندر کی گرمی سوئٹر سے واپس آسکے گی کیا؟
پھر۔۔۔پھر۔۔۔
لوگ کہتے ہیں کہ یگ کے ساتھ سب بدل جاتا ہے۔
یہاں تو پورے دویگ بیت گئے۔
لیکن بدلاؤکہاں آیا۔۔۔؟
نہیں۔۔۔ شاید نہیں۔۔۔بدلاؤ تو آیا ہے۔
دویگ قبل تم جس چھت پر کھڑی ہوا کرتی تھی اس کے نیچے ایک ہی منزل تھی آج تم جس چھت پر کھڑی تھی اس کے نیچے دو منزل تھی۔ سامنے کامیدان صرف فٹ بال گراؤنڈ ہوا کرتا تھا اور اب ایک اسٹیڈیم میں تبدیل ہو چکا تھا۔ میدان کے بغل میں جو خستہ حال ڈاک بنگلہ تھا وہ اب ایک سرکٹ ہاؤس کی شکل اختیار کر چکا تھا۔ گھر کے پاس والا سنیما ہال دوسری جگہ منتقل ہو گیا تھا اور اس کی جگہ ایک خوبصورت مارکیٹ نے لے لی تھی۔
بدلاؤ تو ہوا تھا۔۔۔سب کچھ بدل گیا تھا۔۔۔
میں بھی بدلا ۔۔۔تم بھی بدل گئی۔۔۔
لیکن وہ جذبہ جوں کا توں تھا۔
چھت پر دھوپ جیسے ٹھہر گئی تھی۔
لیکن وہ جذبہ صادق نہیں رہا تھا۔ ایک مجرمانہ کیفیت اس میں شامل ہو گئی تھی۔خلوص کی جگہ فرض نے لے لی تھی۔ بے قراری اور تڑپ کی جگہ بے بسی اور مجبوری آگئی تھی۔
میں وہی۔۔۔ وہی۔۔۔ تم ۔۔۔ درمیان کی ساری چیزیں بدل گئیں۔
ایسا ہوتا ہے۔۔۔ اکثر ہوتا ہے۔۔۔
’’کہاں ٹھہرے ہو، رات کہاں گزاروگے؟‘‘
تمہارے شوہر کی رسمی آواز نے مجھے چونکا دیا۔
’’سرکٹ ہاؤس میں ہی ٹھہرا ہوں ۔ساری سہولت ہے وہاں۔‘‘
’’سہولتیں یہاں بھی مل سکتی ہیں، چاہو تو یہیں ٹھہر جاؤ۔‘‘
میں انکار کر دیتا ہوں۔۔۔ خواہشوں پر جبر کیسے کیا جاتا ہے اب پتہ چلا۔
میں اسے یہ کیسے بتا پاؤں گا کہ قریب کے سرکٹ ہاؤس میں بھی میں رات بھر سونہیں پاؤں گا۔ ہزاروں گزرے لمحے مجھے پریشان کریں گے۔ میں ان لمحوں میں کھو کر شاید خودکو ہی گم کردوں گا۔۔۔اور اگر اس چھت کے نیچے سوگیا تو لمحے انگارے ہو جائیں گے۔ میرا کیا ہوگا۔۔۔ اور تم بھی سوپاؤگی کیا؟
پھر وہی ہوگا۔۔۔ سارے لوگ تو آرام کی نیند سورہے ہوں گے ،لیکن دوروحیں بے قرار ہوں گی۔ جاگ کر بھی رات بھر سونے کا ڈھونگ کریں گے۔ پاس کے کمروں سے گاہے بگاہے کھانس کر گلا صاف کرنے کے بہانے ، یا پھر چوڑیوں کی کھنک کے سہارے ایک دوسرے کو یہ احساس کراتے رہیں گے کہ ہم دونوں سو کر بھی جاگ رہے ہیں۔
لیکن جب سامنے ہوتے ہیں تو پھر جاگ کر بھی سونے کا بہانہ کیوں کرتے ہیں؟
یہ کیسی وفا داریاں ہیں؟
ہم اندر ہی اندر سمندر کی طرح بے چین ہوتے ہیں اور باہر سے پر سکون ہونے کا ڈھونگ کرتے ہیں۔ ہماری اس بے چینی میں کتنا سکون ہوتا ہے اسے کوئی کیسے محسوس کر سکتا ہے؟
ایک بار میں بچوں کے ساتھ گوا کے سفر پر گیا تھا۔ ہوٹل گو ون ہیری ٹیج بالکل سمندر کے کنارے تھا۔ شام اپنی بیگم کے ساتھ بیچ پر ٹہل رہا تھا ۔ماحول بالکل پر سکون تھا، لیکن چاروں طرف سمندر کی چنگھاڑتی لہروں کا شور تھا۔ سورج غروب ہونے کو تھا۔ سمندر کی چاندی جیسی لہروں پر شفق کا سونا بکھر ا ہوا تھا۔ میں وہاں کے ماحول میں گم تھا۔ شاید وہاں ہو کر بھی کہیں اور تھا۔ چاروں طرف سمندر کا شور۔۔۔ وسعت نگاہ تک چاندی پر پھیلی سونے کی پرت۔ میں نے بیگم سے کہا:
’’دیکھو تو اس شور میں کتنا سکون ہے۔‘‘
’’شور ہے تو سکون کیسے ہوگا؟‘‘ میری بیگم نے الٹے ہی سوال داغا:
پروفیسر وں کے ساتھ یہی بیماری ہے۔ وہ ہر سوال سے سوال پیدا کریں گے۔
’’شور تو ہے، لیکن اس شور بھرے ماحول میں تمہیں سکون کا احساس نہیں ہوتا؟‘‘
’’شور میں اگر سکون کا احساس ہونے لگے تو پھر آدمی شہر کے شور سے بھاگے ہی کیوں؟‘‘
’’تو پھر تم مئی کی شدت بھری دوپہرمیں دھوپ کی تمازت میں بھی سکون محسوس نہیں کر سکو گی؟‘‘
نہ جانے میری زبان سے یہ سوال کس طرح پھسل گیا۔ اس نے تضحیک بھری ہنسی سے سوال کیا:
’’دھوپ کی تمازت میں سکون۔۔۔ اور وہ بھی مئی میں۔۔۔‘‘
اس کا سوال درست تھا۔
اور میرا تجربہ بھی درست تھا۔
دونوں اپنی اپنی بھوگی ہوئی سچائی جھیل رہے تھے۔
ایک دن سمندر میں غسل کر رہا تھا ۔کچھ سمندر ی گھونگھے اور سیپ پاؤں کے نیچے آکر اپنی موجود گی کا احساس کرانے لگے۔ ہاتھوں میں لے کر دیکھا ان کی خوبصورتی نے متاثر کیا اور جیب بھر کر ہوٹل کے کمرے میں لے آیا۔ سمینار میں جانے سے قبل انہیں زندہ رکھنے کی تگ ودو میں پانی بھرے گلاس میں انہیں ڈال کر باہر نکل آیا۔ گھنٹہ دو گھنٹہ بعد واپس آنے پر دیکھا وہ ساری خوبصورت سمندری مخلوق مردہ پڑی تھی۔ میری حیرانی کی انتہا نہ رہی۔ بہت سوچنے پر خیال آیا کہ سمندر کا پانی چونکہ کا فی کھارا ہوتا ہے اور میں نے انہیں میٹھے پانی میں رکھ دیا تھا۔
اپنی دنیا سے نکل کر وہ دوسری دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتے تھے۔
ہم دونوں بھی تو اپنی اپنی دنیا سے نکلے ہوئے ہیں۔
تو پھر زندہ کیوں ہیں؟
ایک صبح سمندر کے کنارے کھڑا تھا۔ لہریں موج میں تھیں۔۔۔ بہت تیزی سے ہماری جانب آتیں،پاؤں چومتی ہوئی آگے نکل جاتیں۔ ایک عجیب سی مسرت کا احساس ہوتا ،لیکن یہ کیا لہروں کا پانی واپسی میں پاؤں کے نیچے کی زمین کھسکا جاتا۔ یہ ایک عجیب تجربہ تھا میرے لیے۔
ہم دونوں بھی تو اپنی اپنی جگہ مضبوطی سے قدم جمائے کھڑے تھے، لیکن نہ جانے کب حالات کے سمندر سے ایک تیز لہر آئی اور ہمارے پاؤں کے نیچے سے زمین ہی سرکا گئی۔
کچھ باتیں دوسروں کو نہیں سمجھائی جا سکتیں۔ ان باتوں کو سمجھنے کے لیے دھوپ کی شدت میں سکون حاصل کرنے کی کلا سیکھنی ہو گی۔
ہم دونوں ہی اپنی اپنی دنیا میں مگن ہیں۔ تم اپنے شوہر کی ایک ایک ضرورت کا خیال رکھتی ہو۔ میرے سامنے تو تم اور بھی وفادار ی کا ثبوت پیش کرتی ہو۔ جانتی ہو؟ یہ سب تمہارے اندر کا ڈر کرواتا ہے۔ یا پھر تم جتانا چاہتی ہوکہ تم اپنی زندگی سے بہت مطمئن ہو، لیکن سچ کا عکس اگر اپنے دل کے آئینے میں دیکھو گی تو ڈر جاؤ گی ۔
میں بھی اپنی بیگم کے لیے ایک آئیڈیل شوہر ہوں۔ اس کے لیے تو لاکھوں میں ایک۔ میں نے اسے زمین سے اٹھا کر آسمان پر پہنچا دیا۔
لیکن کیا اس طرح ہم ایک دوسرے سے انتقام لے رہے ہیں؟
لیکن کس بات کاانتقام ۔۔۔ کہیں یہ خود سے ہی انتقام تو نہیں۔۔۔؟
تم سمندر ی گھونگھے کی طرح گلاس کے میٹھے پانی میں مری نہیں، بلکہ زندہ ہو اور حالات کے سمندر کی لہریں بار بار میرے پاؤں کے نیچے کی زمین سر کاتی رہیں۔ پھر بھی میں کھڑا ہوں۔
یہ دویگ گزار کر۔۔۔ ہم ادھورے نہیں لگتے؟
سرکٹ ہاؤس کا کمرہ بہت شانت ہے۔ ایئر کنڈیشن کی ٹھنڈی ہواؤں میں بھی میں سکون محسوس نہیں کر پارہا ہوں۔ نرم و ملائم بستر بھی مجھے راحت نہیں دے پا رہا ہے۔ میری نگاہیں چھت پر ٹکی ہیں۔ اس چھت پر میرا کھویا ہوا لمحہ ٹھہر گیا ہے اور اس چھت پر بے شمار گزرے ہوئے لمحے متحرک ہو گئے ہیں۔ ایک کے بعد دوسرا عکس میری نظروں سے اوجھل ہوتا جارہا ہے۔ اچانک ایک عکس منجمد ہو گیا ہے۔
میں ٹیبل پر بیٹھا ہوں۔ پانی کا گلاس چھلک گیا ہے۔ ایک ٹیوٹر ٹیوشن پڑھانے کے بعد اپنے اندر کی آگ ٹھنڈے پانی سے بجھانے کی تمنا میں گلاس بھرنے کے بعد بھی پانی انڈیلنے لگتا ہے ۔ٹیبل پر پانی پھیل گیا ہے۔ میری انگلی پانی پر جاتی ہے اور پھر ٹیبل پر لکیروں کا جال بننے لگتا ہے۔ میں اس جال میں گم ہونے لگتا ہوں، تم پیچھے سے آکر میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ دیتی ہو اور دھیمے لہجے میں کہتی ہو:
’’ان لکیروں میں زندگی تلاش کر رہے ہیں یا پھر خود کو گم کرنے کا ارادہ ہے؟‘‘
تمہارے ہاتھوں کے سبک دباؤ نے سارے زمانے کو وہیں ٹھہر جانے پر مجبور کر دیا ہے۔ میری انگلی ساکت ہو گئی ہے۔ نگاہیں ٹیبل پر پتھرا گئی ہیں۔ سر کے پیچھے سے کئی روشن دان کھل جاتے ہیں اور ہر روشن دان سے تم جھانکنے لگتی ہو۔ میں پیچھے نہیں مڑتا ،لیکن تمہارا پورا سراپا میرے سامنے ہوتا ہے۔
تمہاری انگلیاں میرے الجھے بالوں میں رینگ جاتی ہیں۔ میرے پورے بدن میں ایک عجیب سی سہرن کا احساس پیدا ہوتا ہے، پھر اچانک تم اپنی ٹھڈی میرے سر سے ٹکا تی ہوئی پھسپھساتی ہو:
’’ان لکیروں کی طرح خود کو دن بدن کیوں الجھاتے جارہے ہیں؟‘‘
میرے پاس کو ئی جواب نہیں ہے۔ سامنے صرف لکیروں کا جال ہے اور اسی جال کے درمیان سے راستہ تلاش کرنا میری مجبوری ہے۔ یہ زندگی کی ایک پہیلی ہے۔ میں جال بھرے راستے کے اس جانب ہو ں اور تم دوسری جانب ہو۔ جال کے درمیان سے راستہ تلاش کرکے تم تک پہنچنا ہے، میں جس راستے کو بھی پکڑتا ہوں وہ آگے جا کر بند ملتا ہے۔ دوسرا۔۔۔ تیسرا۔۔۔ چوتھا۔۔۔ سارے راستے ایک ہی جیسے ہیں۔ بڑھنے کا راستہ تو دیتے ہیں پھر اچانک بند ہو جاتے ہیں۔
’’ان بند دروازوں سے گزرنا آسان ہے کیا؟‘‘
’’مجھ تک پہنچنے کے لیے انہیں بند دروازوں سے گزرنا ہوگا۔‘‘
تمہارا جواب میری پریشانی بڑھا دیتا ہے۔
’’ کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ تم اس جانب سے دروازہ تلاش کرتی ہوئی مجھ تک پہنچ جاؤ؟‘‘
’’نہیں ۔۔۔ اس پہیلی کو تو آپ کو ہی حل کرنا ہے۔ میں تو دیواروں میں چنی ہوئی ہوں۔ میرا اپنا آپ تو ان لکیروں میں گم ہے۔آپ کو ہی راستہ تلاش کرنا ہے اور اس دیوار کو بھی گرانا ہے۔‘‘
’’اور تم کچھ نہیں کرو گی میری شہزادی؟‘‘
’’کروں گی، ضرور کروں گی، میں آپ کا انتظار کروں گی۔‘‘
میرے سامنے لوک کتھا کی وہ شہزادی تھی ،جس کے پورے جسم میں کانٹے پیوست تھے۔ جو یہ کانٹے نکال دیتا شہزادی اس کی ہو جاتی۔
شہزادوں کی کمی نہیں تھی، لیکن ایک غریب لکڑہارا بھی اس دوڑ میں شامل رہا۔ وہ تن من سے کانٹے نکالتا رہا۔ ایک دن ایسا بھی آیا کہ صرف آنکھ کا کانٹا نکالنا باقی رہ گیا ۔ جسے اس نے دوسرے دن پر چھوڑ دیا اور جب دوسرے دن اس نے آنکھوں سے کانٹا نکالنا چاہا تو شہزادی نے جھٹ سے اپنی آنکھیں کھول دیں۔
کون ہو تم۔۔۔ اور کیا کرنے آئے ہو؟ ‘‘ شہزادی نے چونک کر پوچھا۔
’’میں۔۔۔؟‘‘ اس نے پورے اعتماد سے کہا۔
’’میں وہی ہوں شہزادی، جو ایک یگ سے تمہارے جسم سے کانٹے نکالتا رہا ہے اور جس نے ہر کانٹے کی چبھن اپنی روح پر محسوس کی ہے۔‘‘
’’لیکن تم تو وہ نہیں ہو جس نے میری آنکھ سے کانٹا نکالا تھا؟‘‘ وہ تذبذب کے عالم میں گویا ہوئی۔
’’وہ تو کوئی اور تھا اور اس نے بھی یہی دعوا کیا تھا، میں تمہاری باتوں پر کس طرح یقین کر لوں؟‘‘
وہ حیران و پریشان کھڑا ہے۔ اس کے پاس کو ئی جواب نہیں ہے۔ اس کے اندر سے آواز آتی ہے:
’’شہزادی ۔۔۔ تم ایک دن اور انتظار نہیں کر سکتی تھی؟‘‘
میں چونک پڑتا ہوں۔
سامنے لکیروں کا کوئی جال نہیں ہے۔ سارے راستے اب میری دسترس میں ہیں، لیکن اس جانب دیواروں کے درمیان کوئی نہیں ہے۔ دیوار کی اونچائی پہلے سے زیادہ ہو گئی ہے اور اس پر ایک مضبوط چھت بھی ہے۔ چھت پر بڑی شدت کی دھوپ ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ڈھل چکی ہے اورچاروں طرف شام کی سیاہی پھیلتی جا رہی ہے۔
———————–
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Kuch Bologe Nahi a Short Story by Anwar Mirza

Articles

کچھ بولو گے نہیں!

انور مِرزا

صبح آنکھ کھُلتی. ..تو بس اِسی فِکر کےساتھ
کہ گیارہ بجے سے پہلے آفس پہنچنا ہے
یعنی وقت کے مقابلے انسان کی وہی دوڑ…
جو صدیوں سے چل رہی ہے…
زندگی کی سڑک پر
وقت ہمیشہ آگے بھاگتا نظر آتا ہے …
اورانسان تو بس، پیچھے سے لپکتا ہوا آ کر…
وقت کے ساتھ بھاگنے کی کوشش کرتا ہے …
میَں بھی اِسی کوشش میں صبح بِستر سے نکلتا…
آنکھوں کے فریم میں …پہلی تصویر فیڈ اِن ہوتی،بیوی کی…
ڈرتے ڈرتےاُس کے چہرے پر زوم اِن کرتا…
اندازہ لگانے کی کوشش کرتا… کہ آج آفس جا سکتا ہوں…یا
اُسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی نوبت آئے گی…
فیس ریڈنگ کے میرے ہُنر سے بیوی واقف تھی…
میرے ڈر سے بھی انجان نہیں تھی…مُسکرا پڑتی…
جیسے جتانا چاہتی ہوکہ…میَں ٹھیک ہوں! تم جاؤ…
در اصل ،فیس ریڈنگ میں وہ مجھ سے زیادہ ماہر تھی…
میَں اپنی ہوشیاری میں رہتا تھا… اور وہ اپنی کلاکاری میں…
مگر یہ خود فریبی اب میری ضرورت بن چکی تھی…
میَں بظاہر مطمئن ہو کر کمپیوٹر آن کردیتا…
وہ سمجھ جاتی کہ اب آفس کیلئے نکلنے سے پہلے…
میَں اُ س سے کوئی بات نہیں کروں گا…
میرے فریش ہونے تک چائے آجاتی…
وہ نہیں جانتی تھی کہ میَں چائے اور بریڈ، بٹر کے ذائقے سے بھی
اندازہ لگا سکتا ہوں… کہ اُس کی طبیعت کتنی اچھّی یا کتنی خراب ہے!
چائے پیتے ہوئے میَں آن لائن انگریزی اخبار پڑھ لیتا…
وہ بھی خاموشی سے چائے پیتے ہوئے میرا چہرہ پڑھتی رہتی…
جیسے انگریزی اخبار کا اُردو ٹرانسلیشن
میرے چہرے پر لکھا ہوانظر آ رہا ہو…!
جب میَں ہر طرح سے تیار ہو جاتا …
تو وہ فریج سے ٹھنڈے پانی کی بوتل لا کر دیتی…
میَں بوتل اپنے شولڈر بیگ میں رکھتا…
یہ وہ لمحہ ہوتا…جب وہ بہت پُر امید ہوتی…
کہ شاید اب میَں اُس سے کچھ کہوں گا…
پتہ نہیں کیا، شاید کچھ بھی…بے معنی سا کوئی جملہ…
یا شاید صرف میری آواز…میَں کبھی سمجھ نہیں سکا…
کہ عارضی جدائی کے اِن لمحوں میں…وہ کیا سُننا چاہتی تھی…
شاید کچھ برسوں سے…یا شاید صدیوں سے…
اُس کی ایک ایک حرکت سے ایسا لگتا…
جیسے خاموشی کی زبان سےپوچھ رہی ہو…
کچھ بولوگے نہیں…!
اور میَں بس اتنا ہی بولتا…’ آتا ہوں… آفس جا کر… ‘
اُس لمحے کی, اُس کی آخری اُمّید بھی دم توڑ دیتی…
مگر اُس کی مسکراہٹ کہتی… میَں انتظار کروں گی…
پھر محض چند سیکنڈز کیلئے ہم ایسے بغل گیرہوتے…
کہ درمیان میں ایک محتاط فاصلہ رہتا…
دروازے پر پہنچ کر میَں اُس کا چہرہ…
نظروں کے فریم میں ایڈجسٹ کرتا… اور باہر نکل جاتا…
مگر اُس دن… اخبار پڑھنے کے بعد…
میَں جلدی جلدی ایک اسکرپٹ فائنل کرنے لگا…
تاکہ کل تک اکاؤنٹ میں کچھ پیسے آجائیں…
اِس درمیان انتظار کرتے کرتے…
وہ پلنگ پر دراز ہوئی… اور اُس کی آنکھ لگ گئی…
جب میَں آفس جانے کیلئے اُٹھا…
تو اُسے سوتا دیکھ کر تذبذب میں پڑ گیا…
اُسے جگاؤں… یا نہ جگاؤں… ؟
جب تک وہ سوتی رہتی… تب تک بیمار نہیں لگتی تھی…
ایک بار تو جی میں آیاکہ اُس کی راحت میں خلل نہ ڈالوں…
لیکن پھر خیال آیا کہ آنکھ کھُلنے پر…
میری غیر موجود گی سے وہ بہت افسردہ ہوگی…
میَں نے اُسے جگانے کیلئے بہت آہستگی سے…
اُس کے شانے پر ہاتھ رکھا…
اُس نے فوراً ایسے آنکھیں کھول دیں…
جیسے اِسی انتظار میں تھی… اُٹھنے کی کوشش کرنے لگی…
میَں نے منع کیا… وہ مان گئی…
میَں نے اُس کا چہرہ اپنی آنکھوں میں کمپوز کیا… اور…
’آتا ہوں!‘ … کہہ کر آفس کیلئے نکل گیا…
آٹو رکشہ… ٹرین… اور بس نے مجھے آفس پہنچایا…
دو چار نئے گانے… آڈیو… ویڈیو… یوٹیوب…
ایڈیٹنگ…مِکسِنگ… اپ لوڈنگ… لنچ ٹائم…
گھرسے اُس کا فون آیا… پوچھنے لگی…
کیا کمپیوٹر پر تمہاری کوئی فلم ڈاؤن لوڈ ہو رہی ہے؟
میَں نے کہا نہیں! لیکن ڈِش ٹی وی پر لائیو کرکٹ ریکارڈ ہوگا…
اُس نے چند لمحوں انتظار کیا… کہ شاید میَں کوئی اور بات کروں…
آخرپھر خود ہی ’اچھا‘ کہہ کر فون رکھ دیا…
میَں نے لنچ ٹیبل سے اُٹھتے ہوئے سوچا…
کم از کم مجھے اتنا تو پوچھ ہی لیناچاہئیے تھا …
کہ اُس نے کھانا کھا لیا یا نہیں… !
دو گھنٹے بعد پھر فون آیا… مگر یہ فون اُس کا نہیں تھا…
اُس کےبارے میں تھا…
بچّوں نے مجھے فوراً گھر آنے کیلئے کہا…
پتہ نہیں بچّوں کی آواز میں میَں نے ایسا کون سا منظر دیکھ لیا…
کہ کسی سے کچھ کہے بِنا آفس سے نِکل گیا…
میَں فاسٹ فارورڈ میں گھر پہنچ جانا چاہتا تھا…
لیکن اِس دوران پھر بچّوں کا فون آگیا…
اب مجھے گھر نہیں… اسپتال پہنچنا تھا… مجھے جلدی تھی…
مگر آٹو رکشہ جیسے سلو موشن میں اسپتال کی طرف بڑھ رہا تھا…
ذہن میں زندگی کا فلیش بیک چلنے لگا…
وہ آج پہلی بار اسپتال نہیں گئى ہے…
وہ ٹی بی کو شکست دے چکی ہے…
استھما کو حیرت زدہ کر چکی ہے…
آج بھی واپس آ جائے گی… اور آج…ہاں! آج…
آج… میں اُس سے پوچھ ہی لُوں گا
کہ وہ‌ مجھ سے کیا کہنا…یا کیا سننا چاہتی ہے…
اور اچانک’ فلیش کٹ ‘ میں شادی کی پہلی سالگرہ کی
ایک بات یاد کرکے مجھے اور آٹو رکشہ کو ایک ساتھ جھٹکا لگا…
میرے اسپتال پہنچتے ہی…بچے مجھ سے لپٹ کر رونے لگے…
’کچھ نہیں ہوگا!…میَں ہوں نا…‘میں دِلاسہ دے کر آگے بڑھا…
وہ بیڈ پر اُسی طرح لیٹی تھی…جیسے آج صبح گھر پر…
میَں نے اُسے جگانے کیلئے بہت آہستگی سے…
اُس کے شانے پر ہاتھ رکھا…
لیکن اس نے آنکھیں نہیں کھولیں…
میں نے اسے آواز دی…
ایک بار…دو بار…تین بار…
’’اٹھو…! دیکھو…!! میں آگیا ہوں…‘‘
’’چلو گھر چلو…! مجھے یاد آگیا ہے…
کہ تم برسوں سے کیاسننا چاہ‌ رہی ہو…‘‘
’’ہاں…میں تمہیں اپنی جان سے زیادہ چاہتاہوں…‘‘
’’بہت پیار کرتا ہوں تم سے…‘‘
’’بہت محبت کرتاہوں…آئی لو یو…!‘‘
بچے دھاڑیں مار کر روتے ہوئے…پھر مجھ سے لپٹ گئے …
ڈاکٹر نے وہ ایک لفظ کہہ دیا…
جس کے بعد ہر امید دم توڑ دیتی ہے…
وہ جا چکی تھی…!
میَں نے اُس کا بے جان چہرہ غور سے دیکھا…
زندگی میں پہلی بار احساس ہوا …
کہ چہرے کا نُور کِسے کہتے ہیں…
وہ ڈائی بیٹیز کی گرفت میں تھی…
خالی پیٹ کے سبب اسٹروک آگیاتھا…
ایک اسٹروک میرے ذہن میں بجلی کی طرح کوندا…
کم از کم مجھے اتنا تو پوچھ ہی لیناچاہئیے تھا …
کہ اُس نے کھانا کھا لیا یا نہیں… !
اگر پوچھ لیتا …تو… شاید…شاید!
میری نم آنکھوں میں اُس کا بھیگا ہواچہرہ کمپوز ہوا…
’کچھ بولو گے نہیں…!‘
——————————————–
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Khel Khel mein Science

Articles

کھیل کھیل میں سائنس

مترجم: ڈاکٹر صابرہ خاتون

Khalid ka Khatna a Short Story by Ghazanfar

Articles

خالد کا ختنہ

غضنفر

جو تقریب ٹلتی آ رہی تھی، طے پا گئی تھی۔ تاریخ بھی سب کو سوٹ کر گئی تھی۔ پاکستان والے خالو اور خالہ بھی آ گئے تھے اور عرب والے ماموں ممانی بھی۔ مہمانوں سے گھر بھر گیا تھا۔
بھرا ہوا گھر جگمگا رہا تھا۔ در و دیوار پر نئے رنگ و روغن روشن تھے۔ چھتیں چمکے لیے کاغذ کے پھول پتوں سے گلشن بن گئی تھیں۔ کمروں کے فرش آئینہ ہو گئے تھے۔ آنگن میں چمچماتی ہوئی چاندنی تن گئی تھی۔ چاندنی کے نیچے صاف ستھری جازم بچھ چکی تھی۔
باہر کے برآمدے میں بڑی بڑی دیگیں چڑھ چکی تھیں۔ باس متی چاولوں کی بریانی سے خوشبوئیں نکل رہی تھیں۔ قورمے کی دیگوں سے گرم مصالحوں کی لپٹیں ہواؤں سے لپٹ کر دُور دُور تک پھیل رہی تھیں۔
دھیرے دھیرے محلّہ پڑوس کی عورتیں بھی آنگن میں جمع ہو گئیں۔ بچّوں کی ریل پیل بڑھ گئی۔
رنگ برنگ کے لباس فضا میں رنگ گھولنے لگے۔ سونے چاندی کے گہنے کھن کھن چھن چھن بولنے لگے۔ پرفیوم کے جھونکے چلنے لگے۔ دل و دماغ میں خوشبوئیں بسنے لگیں۔ میک اپ جلوہ دکھانے لگا۔ چہروں سے رنگین شعاعیں پھوٹنے لگیں۔ ابرق سے آراستہ آنکھوں کی جھلملاہٹیں جھلمل کرنے لگیں۔ سرخ سرخ ہونٹوں کی مسکراہٹیں کھلکھلا پڑیں۔ ماحول میں رنگ نور، نگہت تینوں رچ بس گئے۔ جگمگاتا ہوا گھر اور جگمگا اُٹھا۔
ابو امّی بے حد خوش تھے کہ خوشیاں سمٹ کران کے قدموں میں آ پڑی تھیں۔ دلوں میں بے پناہ جوش و خروش تھا کہ جوش ایمانی اور پرُ جوش ہونے والا تھا۔ آنکھیں پر نور تھیں کہ نور نظر سنّت ابراہیمی سے سرفراز ہونے جا رہا تھا۔ چہرے پرتاب و تب تھی کہ لختِ جگر کی مسلمانی کو تاب و توانائی ملنے والی تھی۔ سانسیں مشک بار تھیں کہ تمنّاؤں کے چمن میں بہار آ گئی تھی۔
تقریب کا آخری مرحلے شروع ہوا۔
مہمان برآمدوں اور کمروں سے نکل کر آنگن میں آ گئے۔ چاندنی کے نیچے بیٹھے ہوئے لوگ کھڑے ہو گئے ——فرش کے وسط میں اوکھلی آ پڑی۔ اوکھلی پر پھول دار چادر بچھ گئی۔ خوان تازہ پھولوں کے سہرے سے سج گیا۔ ململ کا کڑھا ہوا کرتا پیکٹ سے باہر نکل آیا۔
بزرگ نائی نے اپنی بغچی کھول لی۔ استراباہر آ گیا۔ کمانی تن گئی۔ راکھ کی پڑیا کھل گئی۔
خالد کو پکارا گیا مگر خالد موجود نہ تھا۔ بچّوں سے پوچھ تاچھ کی گئی۔ سب نے نفی میں سرہلا دیا۔ ابو امّی کی تشویش بڑھ گئی۔ تلاش جاری ہوئی۔ ابو اور میں ڈھونڈتے ہوئے کباڑ والی اندھیری کوٹھری میں پہنچے۔ ٹارچ کی روشنی میں دیکھا تو خالد ایک کونے میں دیر تک کسی دوڑائے گئے مرغ کی طرح دُبکا پڑا تھا۔
’’خالد بیٹے ! تم یہاں ہو اور لوگ ادھر تمہارا انتظار کر رہے ہیں۔ آؤ، چلو! تمہاری ممی پریشان ہو رہی ہیں۔ ‘‘
’’نہیں ابو !میں ختنہ نہیں کراؤں گا۔ ‘‘خالد منہ بسورتے ہوئے بولا۔
خالد سے ختنے کی بات چھپائی گئی تھی مگر شاید کچھ دیر پہلے کسی نے اسے بتا دی تھی۔
’’ٹھیک ہے، مت کرانا۔ مگر باہر تو آ جاؤ۔ !ابو نے بڑے پیارسے یقین دلایا۔ مگر خالد دیوارسے اس طرح چمٹ کر بیٹھا تھاجیسے دیوار نے کسی طاقت ور مقناطیس کی طرح اسے جکڑ لیا ہو۔ ہم نے اس کا ایک ہاتھ پکڑ کر باہر کھینچنے کی کوشش کی مگر اس کا دوسرا ہاتھ دیوارسے اس طرح چپک گیا تھاجیسے وہ کوئی سانپ ہو جس کا اگلا حصہ کسی بل میں جا چکا ہو اور دم ہمارے ہاتھ میں۔ نہ جانے کہاں سے اس چھوٹے سے بچّے میں اتنی طاقت آ گئی تھی۔ بڑی زور آوری کے بعد مشکل سے اسے کوٹھری سے باہر لایا گیا۔
’’امّی!امّی! میں ختنہ نہیں کراؤں گا۔ اس کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
’’اچھّی بات ہے۔ نہ کرانا لیکن یہ نیا کرتا تو پہن لو۔ دیکھو نا سارے بچّے نئے نئے کپڑے پہنے ہوئے ہیں۔ اور یہ دیکھو!یہ سہراکتنا اچھّا ہے۔ تمہارے سرپربہت سجے گا۔ لو، اسے باندھ کر دولھا بن جاؤ۔ یہ سب لوگ تمھیں دولہا بنانے آئے ہیں۔ تمہاری شادی بھی تو ہو گی نا!
’’امّی!آپ جھوٹ بول رہی ہیں۔ میں سب جانتا ہوں ‘‘میں کرتا نہیں پہنوں گا۔ میں سہرانہیں باندھوں گا۔ ‘‘
’’یہ دیکھو!تمہارے لیے کتنے سارے روپیے لایا ہوں !ابو نے کڑکڑاتے ہوئے دس دس کے ڈھیرسارے نوٹ خالد کے آگے بچھا دیئے۔
آس پاس کھڑے بچّوں کی آنکھیں چمک انھیں۔
’’اچھّا!یہ دیکھو! تمہارے لیے میں کیا لایا ہوں ؟پاکستان والے خالو نے امپورٹیڈ ٹافیوں کا ڈبہ کھول دیا۔
بچّوں کی زبانیں ہونٹوں پر پھرنے لگیں۔
عرب والے ماموں آگے بڑھ کر بولے۔
’’دیکھو خالد! یہ کار تمہارے لیے ہے۔ بغیر چابی کے چلتی ہے۔ یوں ——‘‘تالی کی آواز پر کار اِدھر اُدھر دوڑنے لگی۔
مگر خالد کی آنکھیں کچھ نہ دیکھ سکیں۔ اس کی نظریں کسی صیّاد دیدہ جانور کی طرح پتلی میں سہمی ہوئی ساکت پڑی رہیں۔
ابو، امّی، خالو، ماموں، پیار، پیسہ، ٹافی، کارسب کچھ دے کر تھک گئے۔ خالد ٹس سے مس نہ ہوا۔
جھنجھلا کرابوزبردستی پر اُتر آئے۔ خالد کی پینٹ کھول کر نیچے کھسکانے لگے مگر خالد نے کھلی ہوئی پینٹ کے سروں کو دونوں ہاتھوں سے کس کر پکر لیا۔ آنکھوں سے آنسوؤں کے ساتھ لبوں سے رونے کی آوازیں بھی نکلنے لگیں۔ خالد کے آنسوؤں نے امّی کی آنکھوں کو گیلا کر دیا۔ ’’مت روؤ میرے لال! مت روؤ!تم نہیں چاہتے توہم زبردستی نہیں کریں گے۔ تمہارا ختنہ نہیں کرائیں گے۔ ‘‘ امّی نے روندھی ہوئی آواز میں خالد کو دلاسادیا اور اپنے آنچل میں اس کے آنسو جذب کر لیے۔ کچھ دیر تک امّی خاموش رہیں۔ پھر خالد کے سرپرہاتھ پھیرتے ہوئے بولیں۔ ’’پچھلے سال تو پھوپھی کے گھر کامران کے ختنے کے وقت تم خود ضد کرتے رہے کہ امّی آپ میرا بھی ختنہ کرا دیجیے مگر آج تمھیں کیا ہو گیا ہے ؟تم اتنے ڈرپوک کیوں بن گئے ؟تم تو بڑے بہادر بچّے ہو۔ تم نے اپنے زخم کا آپریشن بھی ہنستے ہنستے کرا لیا تھا۔ اس میں تو زیادہ تکلیف بھی نہیں ہوتی۔ ‘‘
’’امّی !میں ختنہ کرانے سے نہیں ڈرتا۔ ‘‘
’’تو؟‘‘
’’ابو!آپ ہی نے تو ایک دن کہا تھا کہ جن کا ختنہ ہوتا ہے بدمعاش انہیں جان سے مار دیتے ہیں۔ ‘‘
خالد کا جملہ ابو کے ساتھ ساتھ سب کے سروں پر فالج کی طرح گر پڑا۔ سب کی زبانیں اینٹھ گئیں۔ چہکتا ہوا ماحول چپ ہو گیا۔ جگمگاہٹیں بجھ گئیں۔ مسکراہٹیں مرجھا گئیں۔ بچّوں کی اُنگلیاں اپنے پاجاموں میں پہنچ گئیں۔
تلاشیوں کا گھناؤنا منظر اُبھر گیا۔ جسم ننگے ہو گئے۔ چاقو سینے میں اُترنے لگے۔ ماحول کا رنگ اُڑ گیا۔ نور پر دھندکا غبار چڑھ گیا۔ خوشبو بکھر گئی۔
نائی کا استرابھی کند پڑ گیا۔ راکھ پر پانی پھر گیا۔
پاکستان والے خالو نے ماحول کے بوجھل پن کو توڑتے ہوئے خالد کو مخاطب کیا۔
’’خالد بیٹے !اگر تم ختنہ نہیں کراؤ گے تو جانتے ہو کیا ہو گا؟تمہارا ختنہ نہ دیکھ کر تمھیں ختنہ والے بدمعاش مار ڈالیں گے۔ ‘‘
’’سچ ابو ؟‘‘خالد سرسے پاؤں تک لرز گیا۔
’’ہاں، بیٹے !تمہارے خالوسچ کہہ رہے ہیں۔ ‘‘
’’تو ٹھیک ہے میرا ختنہ کر دیجیے۔ ‘‘جھٹ اس کے ہاتھوں سے کھلی ہوئی پینٹ کے سرے چھوٹ گئے۔ پینٹ کولھے سے نیچے سرک آئی۔ خالد ختنے کے لیے تیار تھا۔ مگراس کی رضا مندی کے باوجود کسی نے بھی اس کے سرپرسہرا نہیں باندھا۔ کوئی بھی ہاتھ کرتا پہنانے آگے نہیں بڑھا۔
اذیت ناک سکوت جب ناقابل برداشت ہو گیا تو پاکستان والے خالو نے آگے بڑھ کر خالد کو اسی حلیے میں اوکھلی کے اوپر بٹھا دیا۔
تقریب کا آغاز ہو گیا مگر نائی کے تھال میں پیسے نہیں گرے۔ نائی نے مطالبہ بھی نہیں کیا۔
خاموشی سے اس نے مسلمانی میں راکھ بھری۔ کمانی فٹ کی۔ چمٹے میں چمڑے کوکسا اور اس پر لرزتا ہوا استرارکھ دیا۔ جیسے ختنہ نہیں، گردن کاٹنے جا رہا ہو۔
٭٭٭
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Sang Taraash a Short Story by Ishrat Naheed

Articles

سنگ تراش

عشرت ناہید

وہ ایک ماہر سنگ تراش تھاا ´ور اپنی صناعانہ صفتوں سے معمور انگلیوں سے جب بھی کوئی بت تراشتا تو ایسا لگتا کہ یہ مورت بس ابھی بول پڑیگی اور اس خوبی کا راز صرف یہ تھا کہ وہ مجسمہ سازی کرتے وقت اپنی روح کا کچھ حصہ اس مجسمہ میں منتقل کر دیتا تھا ۔ وہ روح جو کہ بہت پاکیزہ تھی اور سنگ تراش کے جسم پر قبا کی مانند لپٹی ہوئی تھی۔یہی وجہ تھی کہ ہر کوئی اس کے ہنر کے فسوں میں گرفتار ہو جاتا ۔اس کے مجسموں کو دیکھنے اور خریدنے کے لیے دور دور سے لوگ آتے اور منہ مانگی قیمت ادا کرتے ۔ اس کا فن اس کا جنون بن چکا تھا دراصل اس جنون کے پیچھے اس کا عشق تھا وہ جو دل کے نہاں خانوں میں چھپا ہوا تھا جو کہ عرصہ ہوا اپنے معشوق حقیقی کے قرب کی تمنا میں اسے چھوڑ تنہائی کا درد بخش گیا تھا اس کی جدائی نے اسے ایک نئے سوز سے ہمکنار کر دیا تھا ۔ سنگ تراش اپنی ا س لافانی محبت کو ایک مجسمہ کی طرح دل میں بسا کر اس کی عبادت میں ہمہ وقت مصروف تھا اور اس کا فن اپنے نکھار کے عروج کی طرف گامزن ۔
آہستہ آہستہ اس کا فن مقدس عبادت میں بدلتا جا رہا تھا اور وہ خود ایک تپسوی کی طرح اس کی ارچنا کر رہاتھا، وہ لین تھاہوگیا
سادھنا میں ، وہ یہ بھول گیا تھا کہ تپسیا جب آخری مرحلے پر پہنچنے کو ہوتی ہے تو دیوتا بھی حسد کا شکار ہو اٹھتے ہیں اور برہما سے وشوامتر کا ملن ناممکن ہوجاتا ہے ۔مینکا رقص کا سہارا لے کر تپسیا بھنگ بھی کر دیتی ہے ۔ان تمام خدشات سے پرے وہ دنیا و مافیہا سے بے نیاز اپنے کا م میں منہمک رہتاصرف اور صرف پتھر اس کے سامنے ہوتے اور وہ اپنی چھوٹی بڑی ہتھوڑیوں سے انہیں تراشتا رہتا ۔لیکن کئی بار ایسا بھی ہوتا کہ وہ اپنے بت سازی کے عمل میں مشغول ہوتا ،بے قیمت پتھر اس کی انگلیوں کی جنبش سے ا نمو ل بن رہے ہوتے ، زندگی نمو پارہی ہوتی کہ کوئی پتھر آکر اس کی ذات کے خاموش سمندر میں تلاطم پیدا کرنے کی کوشش کرتا وہ چونک اٹھتا لہروں کا ارتعاش کچھ لمحوں کے لیے اسے بے چین ضرور کرتا مگر وہ جلد ہی لہروں کو سکوت کے لیے تہہ آب بھیج دیتا اور پھر محو ہوجاتا اپنی عبادت میں، لیکن جب ایسا بار بار ہونے لگا تو اس نے اپنی قبا کو سمیٹ کر اپنی ذات کو ایک مجسمے میں ڈھال دیا کہ کوئی اسے ڈھونڈ نہ پائے ۔ور آخر کار وہ ایک نایاب مجسمہ تر اشنے میں کامیاب ہوگیا
اس نے ایک انتہائی حسین شہزادی کا عکس پتھر پر کچھ یوں اکیرا کہ دیکھ کر لگتا تھا کہ سنگ تراش کی روح شہزادی میں تحلیل کرگئی ہو یا پھر جیتی جاگتی سی شہزادی اس مجسمہ میں سما گئی ہو ،من و تو کا فرق مٹ چکا تھا گو کہ ایسا کرتے وقت اس کا وجود لہو لہان ہوتا رہا ۔ اس کی انگلیوں سے خون رستا رہا مگر وہ دیوانہ وار ضرب لگاتا رہا ا ۔ شہزادی کی آنکھیں دیکھ کر نیلگوں سمندر کا گمان ہوتا اس کے تراشیدہ ہونٹ سرخی مائل محسوس ہوتے ۔ شہزادی کی مخمور آنکھوں میں کرب کا سمندر سا ہلکورے لے رہا تھا اس کے رسیلے ہونٹوں میں ایک تشنگی چھپی ہوئی تھی ۔ جن میں صدیوں کی ان بجھی پیاس تھی ایک درد بھری روح تھی جو شہزادی کی قبا اوڑھے قلو پطرہ کے حسن کو مات دیتی مونا لیزا کی مسکراہٹ بکھیر رہی تھی ۔یہی دو اعضاءایسے تھے جو دیدہ بینا پر سنگ تراش کا راز کھول سکتے تھے اور دیدہ نابینا کے لیے تو وہ محض ایک نادر مجسمہ تھا جس سے وہ صرف رومانیت کا حظ اٹھا سکتا تھا ۔
لیکن نگاہ زرقا ءشہزادی کے درون کا سفر طے کر چکی تھی ۔ایک مینکا اس کی تپسیا بھنگ کرنے کا قصد کر بیٹھی تھی ، لیکن اس بار مینکا نے رقاصہ کا روپ نہیں دھارا تھا بلکہ نقرئی گھنگھروﺅں والی آواز میں ڈھل گئی تھی ۔اس کی نگاہوں میں نہیں لہجے میں بنگال کا جادو تھا وہ بات کرنے کے ہنر ہی سے نہیں موسیقی کے تمام سروں سے بھی واقف تھی ،اسے معلوم تھا کہ کہاں اور کس لفظ کی ادائیگی کیسے کرنا ہے ۔کس سُر پر زور دینا ہے کسے ہلکے سے ادا کردینے سے دل ِسخت مانند ِموم پگھل جاتا ہے ۔ الفاظ کی شمع کس طرح پروانے کو خاکستر کر دیتی ہے
وہ جس کا تعارف صرف ایک آواز تھا ۔
اس کا وجود محض الفاظ کا ذخیرہ تھا ۔
لہجہ کا زیر و بم تھا ۔۔۔۔
لفظوں کا جادو تھا ۔۔۔
حروف کامعنی خیز سلسلہ تھا۔۔۔
جو کبھی خمار میں ڈوبا ہوتا تو کبھی ایک سرور میں ۔
افف وہ
مدھ بھری آواز ۔۔۔
اسے اپنی آواز پر بلا کا اعتماد تھا کہ وہ سنگ تراش کے خود ساختہ مجسمے کو اسی کی بدولت پاش پاش کر دینے کا ہنر رکھتی ہے ۔
سنگ ترا ش حیران تھا کہ کوئی بھلا کیسے اس کی ردا کو ہٹا کر اس کے اصل تک رسائی حاصل کر سکتا ہے ؟
وہ مصر تھی اسے اس قید سے آزاد کرنے کے لیے جب کہ سنگ تراش بضد تھا باہر نہ آنے کے لیے ۔
سنگ ترا ش اپنے فن پر مغرور
تو مینکا اپنے سروں پر مسرور
دونوں کو یہ اعتماد کہ جیت اسی کا مقدر
ویسے ان دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل تھا جسے گرانے کی خواہش دونوں طرف سے کبھی نہ ہوئی رشتہ صرف آواز کا تھا ۔نہ کبھی سنگ تراش کے دل میں اسے دیکھنے کی خواہش ہوئی نہ ہی کبھی اس نے سامنے آنا چاہا ۔ عجیب تعلق تھا یہ آوازوں کا۔
وہ جو محض سنگتراش کے فن سے متاثر ہوکر اس سے دوستی کرنے کی غرض سے آگے بڑھی تھی ،اب اسے بھی اس رشتے میں ایک انجانی کشش محسوس ہونے لگی تھی ،لیکن سنگتراش کے اعتماد نے اس پیارے سے جذبے کو ضد کا ایک تناور درخت بنا دیا تھا ۔
اب بات جیت اور ہار میں بدل چکی تھی
خمار اور سرور کے ساتھ جب سنگ تراش کو مسحور کردینے والی یہ آواز محبت کا مفہوم سمجھاتی تب سنگ تراش پر ایک مد ہوشی کی سی کیفیت طاری ہو جاتی
وہ کہتی ” محبت ایک پیارا سا موسیقی کا ردھم ہے جو دل کے تاروں کو ہولے سے چھیڑ کر کہے ’ مجھے تم سے محبت ہے۔‘ اور پھر دوسرے کے دل کی دھڑکنیں منتشر ہو جائیں اور مسکراہٹیں لبیک کہہ دیں وہی محبت ہے بت ساز “
اس کی آواز کی جھنکار سچ میں اس کی دھڑکنوں میں ارتعاش پیدا کرنے لگتی ۔
وہ اس کے سحر میں گرفتار ہونے لگتا مجسمہ کی قبا ہلکی سی چاک ہونے لگتی لیکن وہ جلد ہی ہوش میں آکر شاطرانہ طریقے سے چاک قبا کو درست کر لیتا مگر نگاہ زرقاءسے اس کا یہ عمل چھپ نہ پاتا ۔ وہ اکثر خود کو سمجھاتا کہ میرے پاس تو میری محبت ہے جو صدیوں سے میرے اندر ڈیرہ ڈالے میری ہمنوا بنی ہوئی ہے بھلا کوئی اور کیسے نقب لگا سکتا ہے ؟
” نہیں سنگ تراش وہ مکین نہیں وہ تو ایک چھلاوہ ہے جب تمہارا یہ خود ساختہ بت پاش پاش ہوگا تب ہی تو تم محبت کے صحیح مفہوم سے آشنا ہو پاﺅ گے تمہیں اس خول سے باہر نکلنا ہوگا اپنے وجود کو اس کی اصل پہچان دینا ہی ہوگی ۔“ اس کے لہجے میں شہد اتر آتا
” نہیں نہیں ، میری محبت کا حصار بہت مضبوط ہے ، وہ میرے نہاں خانے کی مکین ہے جو مجھے سرشار کیے ہوئے ہے “
سنگ تراش بہت معصوم ہو تم ،یہ سرشاری دیکھو درد بن کر آنکھوں سے چھلک رہی ہے ،
دیکھو دیکھو سنگ تراش شہزادی کے ہونٹوں کی مسکراہٹ میں ایک تشنگی ہے ۔“
”نہیں نہیں دیکھو وہ مسرور ہے ، وہ بہت شاد ہے میری محبت میں “ وہ چیخ پڑتا
وہ اپنے لفظوں میں حلاوت گھولتے ہوئے کہتی
”نہیں سنگ تراش تم اس طرح خود کو بہلا رہے ہو جسے تم محبت کا نام دے رہے ہووہ تو تمہاری روح کا درد ہے ۔جس دن یہ مجسمہ چور چور ہوگا اس دن تمہیں اپنے وجود کا احساس ہوگا تمہیں خود کو پانے کے لیے ایک دن اس خول سے باہر آنا ہوگا ۔“
اس کی آواز میں ایک الگ طرح کا خمار ہوتا مگر لہجہ تحکمانہ سا ہو جاتا
” نہیں نہیں یہ سب جھوٹ ہے “وہ بے بسی سے چیخ پڑتا
” اس نہیں میں ہی تو ’ ہاں پوشیدہ ہے سنگ تراش ’ لا ہی تو ہونے کا ثبوت ہے اگر ایسا نہ ہوتا تو تمہاری زبان سے ’ نہیں ‘ لفظ ادا نہیں ہوتا ۔تم اپنے آپ کو اتنا جھٹلاتے کیوں ہو ؟“
وہ جھنجھلانے لگتی۔
” دیکھو دیکھو تمہارے مجسمے میں شگاف پڑنے لگا ۔ “
وہ حیران پریشان مجسمے پر ہاتھ پھیرتا اسے ہر طرف سے دیکھتا اسے تو کوئی شگاف نظر نہیں آتا
” نہیں یہ ممکن نہیں “
” ایسا ہی ہے “
فضا میں اس کی نقرئی گھنگھرو سی ہنسی بکھر جاتی
” ایک دن تمہارا یہ بھرم ٹوٹے گا سنگ تراش “
اس کا یقین سنگ تراش کے دل کی دھڑکنوں کو پھر منتشر کرنے لگتا
” ہاں مگر یہ عین ممکن ہے کہ تم اعتراف نہ کر پاﺅ کیونکہ تم ڈرپوک جو ہو ازل سے ۔لیکن آج تم مجھ سے ایک وعدہ کرو سنگ تراش کہ جس دن تمہیں کسی سے محبت ہو جائے تم اس کا اعتراف اور اظہار ضرور کروگے “
” نہیں میری روح مجھ سے روٹھ جائیگی “وہ بے بس سا نظر آنے لگتا
” روٹھ جانے دو اسے ۔سچ کو سامنے آنے د و “ وہ کمال ہشیاری سے قائل کرتی
یہ سلسلہ یونہی چلتا رہا اب وہ آہستہ آہستہ ، دن بہ دن اس کی آواز کے سرور میں کھونے لگا تھا ا اس کی زبان سے نکلنے والے ہر لفظ میں ایک الگ طرح کا نشہ ہوتاتھا جس کی بازگشت چاروں طرف تھی جس سے وہ نجات پانا چاہتا تھا لیکن وہ جتنی کوشش کرتا تھا اتنا ہی وہ اس کے سحر میں گرفتار ہوتا چلا جا رہا تھا اور آخر ایک دن وہ چیخ ہی پڑا ۔
” ہاں۔۔۔ہاں مجھے تم سے محبت ہو گئی ہے محبت ہو گئی ہے “
اور اسی لمحہ اسے محسوس ہوا کہ وہ تو دور بہت دور تھی اس کے لبوں پر فاتحانہ مسکراہٹ رقص کر رہی تھی بت میں شگاف پڑ چکا تھا مجسمہ ریزہ ریزہ ہو کر بکھرنے لگا تھا روح نے پوری قوت سے اسے ایک بار پھر سمیٹنے کی کوشش کی مگر وہ بھر بھری مٹی اس کے ہاتھوں سے ریت کی مانند پھسلتی چلی گئی۔ پھسلتی چلی گئی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Name Plate a Short Story by Tariq Chattari

Articles

نیم پلیٹ

طارق چھتاری

’’کیا نام تھا اس کا ؟ اُف بالکل یاد نہیں آ رہا ہے۔‘‘ کیدار ناتھ نے اپنے اوپر سے لحاف ہٹا کر پھینک دیا اور اٹھ کر بیٹھ گئے۔
’’ یہ کیا ہو گیا ہے مجھے ، ساری رات بیت گئی نیند ہی نہیں آ رہی ہے۔ ہو گا کچھ نام وام نہیں یاد آتا تو کیا کروں ، لیکن نام تو یاد آنا ہی چاہئے۔آخر وہ میری بیوی تھی ، میری دھرم پتنی۔‘‘انھوں نے پیشانی پہ ہاتھ رکھا۔پچھتر سالہ کیدار ناتھ کے ماتھے کی بے شمار جھریاں بوڑھی ہتھیلی کے نیچے دب کر پھڑپھڑنے لگیں۔
’’ سر لا کی ماں ……….’’ ا ن کے منھ سے بے ساختہ نکل پڑا۔
’’ وہ تو ٹھیک ہے مگر کچھ نام بھی تھا اس کا۔ کیا نام تھا؟ اس کے نام کا پہلا اکچھر ……….ہاں کچھ کچھ یاد آ رہا ہے …………‘‘ انھوں نے پیر پلنگ کے نیچے لٹکا دیے اور وہ لائٹ آن کرنے کے لئے دیوار میں لگے سوئچ کی طرف بڑھے۔
’’ اس کے نام کا پہلا اکچھر …………..’’کے ‘‘ نہیں نہیں۔ہاں ہاں یاد آ گیا۔‘‘
ان کا جھریوں سے بھرا پوپلا منھ مسکرانے کے لئے تیار ہو ہی رہا تھا کہ کھانسی کا ایک ٹھسکا لگا اور پھر بھول گئے کہ وہ اکچھر کیا تھا۔
کمرے میں چاروں طرف روشنی پھیل چکی تھی۔
’’ ڈھائی بجنے کو ہیں۔‘‘ ان کی نظر ٹائم پیس پر پڑ گئی۔
ٹائم پیس ………….؟ ہاں …………..ٹا…………..نہیں ،  پیس…..’’سا‘‘ ارے ہاں ___
’’ سا‘‘ ہی تو تھا اس کے نام کا پہلا اکچھر۔‘‘
’’ سا‘‘ ؟ نہیں یہ تو سرلا کی ماں۔آخر نام بھی تو کچھ تھا اس کا۔‘‘ کیدار ناتھ نے جھنجھلا کر سرہانے رکھی چھڑی کو اٹھایا ، گلے میں کس کے مفلر لپیٹا اور بار بار چھڑی کو فرش پر پٹخنے لگے۔ پھر دونوں ہاتھوں میں چھڑی کو جکڑ کر اس طرح سر کے قریب لائے جیسے اس کے ہتھے سے اپنا سر پھوڑ ڈالنا چاہتے ہوں۔
’’ تعجب ہے اپنی بیوی کا نام بھول گیا !اسے مرے ہوئے بھی تو چالیس برس گذر گئے ہیں۔تین سال کا عرصہ ہوتا ہی کتنا ہے۔صرف تین سال ہی تو اس کے ساتھ رہ پایا تھا میں۔‘‘
وہ خالی خالی نظروں سے کمرے کو گھور رہے ہیں۔پلنگ، میز، کرسی اور الماری، کتابیں ……….الماری کتابوں سے بھری پڑی ہو گی ، الماری کے پٹ بند ہیں۔ وہ پلنگ کی جانب بڑھے اور پھر الماری کی طرف مڑ گئے۔ دروازہ کھولا الماری خالی تھی __نہ اس میں کتابیں تھیں اور نہ خانے۔‘‘ ارے اس میں تو پچھلی دیوار بھی نہیں ہے۔‘‘
وہ لرز گئے اور گھبرا کر ایک پاؤں اس کے اندر رکھ دیا پھر دوسرا پاؤں ، اب وہ دروازے کے باہر کھڑے تھے۔سب کچھ خالی تھا ، ان کے ذہن کی طرح ، وہ سمت بھول گئے تھے اور الماری کے بجائے باہر جانے والا دروازہ کھول بیٹھے تھے۔ باہر سڑک پر کہرا جما ہوا تھا۔ کھمبوں کے بلب مدھم دیوں کی طرح ٹمٹما رہے تھے۔ سنسان سڑک پر انھیں لگا کہ یکایک بھیڑ امڈ آئی ہے۔ چاروں طرف شور ہو رہا ہے۔ باجے کے شور سے کان پھٹے جا رہے ہیں۔دور کہرے میں چھپی ہوئی ڈولی __سرخ جوڑا پہنے دلہن مسکرا رہی ہے۔
سڑک پر ایک پتھر کا ٹکڑا پڑا تھا ، انھیں ٹھوکر لگی اور وہ لڑکھڑا کر کھمبے سے جا ٹکرائے ، بہت زور سے دھکا دیا تھا محلے بھر کی لڑکیوں نے ، اور پھر دروازہ بند۔
’’ کیا نام ہے تمہارا ؟‘‘ نام معلوم ہوتے ہوئے بھی اس کا نام پوچھا تھا انھوں نے۔ وہ شرما گئی تھی اور گھٹنوں میں منھ چھپا لیا تھا۔ انھوں نے پھر پوچھا تو اس نے آہستہ سے اپنا نام بتایا۔
’’ کیا بتایا تھا اس نے ؟ اف بالکل یاد نہیں۔‘‘ اور وہ چھڑی کو زمین پر ٹیکتے ہوئے تیز تیز قدموں سے چل پڑے۔ انھیں کہاں جانا ہے ؟ پتہ نہیں۔پھر بھی وہ چلتے رہے اور اب اپنے گھر سے بہت دور نکل آئے تھے۔
یہ علاقہ کون سا ہے ؟ کیلاش نگر ؟ ہاں شاید وہی ہے۔ آگے دائیں طرف ان کے دوست شرما جی کی کوٹھی ہے۔ باہر گیٹ پر نیم پلیٹ لگی ہے۔’’ ست پرکاش شرما۔‘‘ وہ ان کے دفتر کے ساتھی تھے۔ گذرے ہوئے کئی برس ہو گئے۔
اچانک کیدار ناتھ ٹھٹھکے اور رک گئے۔’’ ارے یہی تو ہے شرما جی کی کوٹھی ، ہاں باکل یہی ہے۔ وہ وہاں لگی ہے ان کے نام کی پلیٹ۔‘‘ کیدار ناتھ کو کمرے کی دھندلی فضا میں ایک تختی نظر آئی۔
’’ شرما ……….‘‘ انھوں نے پڑھا۔ ’’ رام پرکاش شرما۔‘‘
’’رام پرکاش ………..؟.نہیں ان کا نام تو ست پرکاش تھا۔ پھر غور سے دیکھا۔
’’ رام پرکاش شرما (ایڈوکیٹ)۔‘‘ صاف صاف لکھا تھا۔
انھیں یاد آیا کہ ایک روز شرما جی نے کہا تھا۔’’ میرا بیٹا رام پرکاش ایڈوکیٹ ہو گیا ہے۔‘‘
’’ اچھا تو اپنے باپ کے نام کی پلیٹ اکھاڑ کر…………‘‘ کھٹ سے کوئی چیز گری۔ انھیں لگا کہ ان کے ذہن سے کوئی چیز نکل کر قدموں میں آن گری ہے۔ وہ سہم گئے اور مجرم کی طرح گردن جھکا لی۔ یہ کسی کے نام کی پلیٹ تھی۔ مگر ایک حرف بھی صاف نہیں۔ سب کچھ مٹ چکا ہے۔ ان کے جسم میں سنسناہٹ سی ہونے لگی۔ لاغر ٹانگیں جو ابھی ابھی کانپ رہی تھیں ، پیاسے ہرن کی کلانچیں مارنے کو بے تاب ہو اٹھیں۔
 وہ بھاگ رہے ہیں۔ نہیں آہستہ آہستہ چل رہے ہیں۔ یا رینگ رہے ہیں یا پھر کھڑے کھڑے ہی …………….یہ تو معلوم نہیں مگر وہ اپنے گھر سے کئی میل دور سرلا کے گھر کے بہت قریب آن پہنچے ہیں۔
سرلا سے اس  کی ماں کا نام پوچھ ہی لیں گے۔
سرلا کو اپنی ماں کا نام یاد ہو گا ؟ کیوں نہیں ………..کوئی ماں کا نام بھی بھولتا ہے کیا۔
’’ پاروتی دیوی…….‘‘ ان کی ماں کا نام پاروتی دیوی تھا۔ انھیں پچھتر سال کی عمر میں بھی اپنی ماں کا نام یاد ہے۔
’’ پاروتی دیوی کی جے ………………‘‘ بچپن میں وہ اپنے با با کے ساتھ بیٹھے پوجا کر رہے تھے۔’’ بابا …………..اماں کا نام بھی تو پاروتی دیوی ہے۔‘‘ ’’ ہاں بیٹے یہی پاروتی دیوی ہیں جن کے نام پر تمہاری ماں کا نام رکھا گیا ہے۔‘‘ اور اس روز سے وہ آج تک روزانہ پاروتی دیوی کی پوجا کرتے ہیں اور جے بولتے ہیں۔ ماں تو بھگوان کا روپ ہوتی ہے ، پھر بھلا سرلا کیسے اپنی ماں کا نام بھولی ہو گی۔ کیدار ناتھ کا دل اندر سے اتنا خوش ہو رہا تھا کہ ہاتھ پاؤں پھولنے لگے۔ رفتار میں دھیما پن آ گیا مگر وہ اپنے بوڑھے جسم کو ڈھکیلتے ہوئے آگے بڑھتے چلے جا رہے تھے __!!
’’ بابو جی آج اتنے سویرے آپ ادھر………؟ ‘‘ سرلا نے  کسی سوچ میں ڈوبے کیدار ناتھ کو چائے کی پیالی دیتے ہوئے پوچھا۔ بوڑھے آسمان کی گود سے نئے سورج کا گولا جھانک رہا ہے۔ کیدار ناتھ کے پنجوں کی انگلیاں سرد ہو کر سُن پڑچکی ہیں ، جیسے ان میں گوشت ہے ہی نہیں اور وہ اندر سے بالکل خالی ، بالکل کھوکھلی ہو چکی ہیں ، پرندے ان کے سر پر منڈلاتے منڈلاتے سرلا کے مکان کے اوپر جا بیٹھتے ہیں اور وہ سرلا کے مکان کے باہر کھڑے کھڑے تھک چکے ہیں۔’’ میں یہاں کھڑا ہوں۔ آتے جاتے لوگ دیکھ کر کیا سوچیں گے۔ اب تو دن چڑھے کافی دیر ہو گئی ہے۔ سرلا سو کر اٹھ گئی ہو گی۔ اندر چلنا چاہئے۔
نام کی پلیٹ اکھاڑ کر ……………’’ کھٹ سے کوئی چیز گری ، انھیں لگا کہ ان کے ذہن سے کوئی چیز نکل کو قدموں میں آن گری ہے۔دھندلے دھندلے حرف ابھرنے لگے اور ان کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا۔ اندھیری رات…………..کہرے سے بھری ہو ئی سرد رات ………………..بے شمار کتوں کے بھونکنے کی آوازیں ، کئی آوارہ کتے ان کے پیچھے لگ گئے ہیں۔وہ کتوں سے بچنے کے لئے ملٹن پارک میں گھس جاتے ہیں۔ملٹن پارک؟ اب تو اس کا نام گاندھی پارک ہو گیا ہے۔ گاندھی پارک ہو یا ملٹن پارک ،  ہے تو یہ وہی پارک جہاں وہ شادی کے دو دن بعد اسے لے کر آئے تھے۔پارک کی بارہ دری ٹوٹ کر کھنڈر بن گئی ہے۔ ٹوٹی ہوئی بارہ دری کے پتھروں کے نیچے سے ہوتی ہوئی ان کی نظریں چالیس برس پرانی بارہ دری میں گھس جاتی ہیں۔’’ آؤ یہاں بیٹھو ………کتنی خوبصورت ہیں یہ محرابیں۔‘‘ وہ دونوں سنگ مر مر کے ستون سے کمر ٹکا کر بیٹھ جاتے ہیں اور پھر وہ دنیا سے بے خبر بہت دیر تک اس کے پاس بیٹھے رہے۔مہینوں …………برسوں …………………کہ اچانک ان کی بیٹی سر لا نے انھیں چونکا دیا۔
’’ بابو جی آپ چپ کیوں ہیں ؟ کیا سوچ رہے ہیں ؟
’’ کچھ نہیں بیٹی۔ میں سوچ رہا تھا آج اتنے سویرے …………..اصل میں ،  میں نے سوچا جو گیندر کے دفتر جانے سے پہلے ہی پہنچ جاؤں تو اچھا ہے۔‘‘
’’ بابو جی آج تو اتوار ہے۔‘‘
’’ اوہ ، ہاں آج تو اتوار ہے۔ کیا کروں بیٹی ریٹائر ہونے کے بعد دن تاریخ یاد ہی نہیں رہتے۔‘‘
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگے۔’’ دن تاریخ کیا اب تو بہت کچھ یاد نہیں رہا۔‘‘
اتنے میں جو گیندر بھی آنکھیں ملتے ہوئے آئے اور کیدار ناتھ کو پرنام کر کے صوفے پر بیٹھ گئے۔
’’ با بو جی اتنے سویرے ؟ سب ٹھیک ہے نا۔‘‘
’’ میرے جلد ی آنے پر یہ لوگ اتنا زور کیوں دے رہے ہیں۔ ضرور میرے اچانک آنے سے یہ سب ڈسٹرب ہوئے ہوں گے۔ مجھے چلے جانا چاہئے ، ابھی…………‘‘
کیدار ناتھ کو خاموش بیٹھا دیکھ کر سرلا بول پڑی۔’’ ارے بابو جی تو بھول ہی گئے تھے کہ آج اتوار ہے ؟؟؟؟؟؟؟؟
آج اتوار ہے اور میں اس طرح بغیر بتائے یہاں چلا آیا ہوں۔ ہو سکتا ہے ان دونوں کا کوئی پروگرام ہو۔ اب میری وجہ سے …………‘‘
’’ہفتے میں  چھٹی اک ایک ہی دن تو ملتا ہے ان لوگوں کو۔مگر میں بھی تو روز روز نہیں آتا ، گھر سے چل پڑا تھا ، بس چلتا رہا اور چلتے چلتے جب سرلا کے گھر کے قریب آ گیا تو سوچا، ملتا چلوں ،  کیا یہ لوگ آج میرے لئے اپنے پروگرام نہیں چھوڑ سکتے ؟‘‘
کیدار ناتھ کی آنکھوں میں آنسو چھلک آئے ہیں۔
’’ کمبخت بڑھاپے میں آنسو بھی کتنی جلدی نکل آتے ہیں۔‘‘ وہ آنسوؤں کو چھپانے کی کوشش کر رہے تھے کہ سرلا نے ان کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھا۔’’ یہ اس طرح کیا دیکھ رہی ہے ؟ کہیں سب کچھ سمجھ تو نہیں گئی۔‘‘
’’ کیا سمجھے گی ؟ یہ کہ میں اپنی بیوی کا نام بھول گیا ہوں اور رات بھر جاگتا رہا ہوں یا یہ کہ میں رو رہا ہوں۔‘‘
’’ بیٹی آج مجھے جو گیندر سے کچھ کام تھا ………..‘‘
’’ بابو جی مجھ سے ؟‘‘ جو گیندر نے حیرت زدہ ہو کر پوچھا۔
’’ہاں یوں ہی ،  کوئی خاص بات نہیں تھی_‘‘ پھر وہ لان کی رف جھانکنے لگے۔
’’ آج بہت سردی ہے۔تمہارے لان میں تو سویرے ہی دھوپ آ جاتی ہے۔‘‘ سرلا نے لان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا :
’’ہاں بابوجی ، ابھی تو دھوپ میں تیزی بھی نہیں آئی اور اوس بھی بہت ہے ،  پورا لان گیلا……….‘‘
وہ  کہہ رہی تھی کہ جو گیندر بیچ میں بول پڑے۔
’’ بابوجی ابھی کچھ کام کے سلسلے میں آپ کہہ رہے تھے ……..‘‘
’’ کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں جلدی سے کام بتا کر چلتا بنوں تاکہ ان کے پروگرام ڈسٹرب نہ ہوں۔‘‘ کیدار ناتھ کھانسنے لگے اور کافی دیر تک کھانستے رہے۔ وہ کھانس رہے تھے اور سوچتے جا رہے تھے کہ اب کیا کہوں کہ بغیر سوچے سمجھے ہی بول پڑے _
’’ بیٹے تمہیں نام یاد رہتے ہیں ؟‘‘
’’ کیسے نام بابوجی؟ ویسے میں ہمیشہ نام یاد رکھنے میں کمزور رہا ہوں ، اسی لئے ہسٹری کے پرچے میں میرے نمبر بہت کم آتے تھے۔‘‘
’’ اب کیا پوچھوں ؟ کیا سرلا سے یہی سوال کروں ؟مگر یہ تو بڑی بے تکی بات ہو گی۔ اگر سرلا خود ہی بول پڑے کہ بابو جی مجھے نام یاد رہتے ہیں ، تو جلدی سے پوچھ لوں کہ بتاؤ تمہاری ماں کا کیا نام تھا _‘‘
کیدار ناتھ نے حسرت بھری نظروں سے سرلا کی طرف دیکھا لیکن وہ خاموش بیٹھی رہی اور پھر اٹھ کر کچن کی طرف چل دی _
سورج چڑھے کافی دیر ہو چکی تھی۔ دھوپ میں بھی تیزی آتی جا رہی تھی۔لان کی ہری گھاس پر جمے شبنم کے قطرے اپنا وجود کھو چکے تھے۔ کیدار ناتھ نے اپنے جسم پر چڑھے گرم کپڑوں کو اس طرح ٹٹولا  جیسے وہ ڈھونڈ رہے ہوں کہ کپڑوں کے اندر جسم ہے بھی یا نہیں۔
دوپہر کا کھانا تیار تھا۔ لیکن ابھی تک سرلا سے اس کی ماں کا نام پوچھنے کا موقع نہیں مل پایا تھا۔ سرلا صبح سے کھانا تیار کرنے میں لگی ہوئی تھی۔ کیدار ناتھ باہر دھوپ میں جا کر بیٹھتے تو کبھی اندر آ کر برآمدے میں ٹہلنے لگتے۔ کبھی جو گیندر سے ادھر اُدھر کی باتیں ہوتیں اور کبھی سرلا آتی تو اس تلاش میں رہتے کہ ذرا جو گیندر اٹھ کر جائیں اور وہ اکیلے میں سرلا سے اس کی ماں کا نام پوچھ لیں۔

’’اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہو چکا ہے۔ کھانے پر بات میں بات نکلے گی ، تب تو پاچھ ہی لوں گا۔‘‘ انھوں نے سوچا اور مطمئن ہو گئے۔
کھانے کی میز سج چکی ہے۔ سرلا نے کئی طرح کی سبزیاں بنائی ہیں _کھانا بہت لذیذ ہے۔ آج بہت دنوں بعد اپنی بیٹی کے ہاتھوں کا کھانا ملا ہے۔ نوکر کے ہاتھ کا کھاتے کھاتے ان کا دل بھر گیا تھا۔سرلا کی ماں کے ہاتھ کا ذائقہ تو اب انھیں یاد بھی نہیں۔ اس کا نام بھی تو یاد نہیں __ان کا جی چاہا کہ جلدی سے پوچھ لیں۔
’’ بیٹی تمہاری ماں کا کیا نام تھا۔‘‘
’’ ارے یہ کیا۔ اگر اس طرح وہ کوئی سوال کریں گے تو یہ دونوں کیا سوچیں گے۔ دونوں قہقہہ مار کر ہنس پڑیں گے __‘‘ کیدار ناتھ خود پر قابو پانے کی کوشش کرنے لگے کہ کہیں بھول کر یہ سوال ان کے منھ سے نہ نکل پڑے _‘‘ کس سے پوچھوں ؟ کمبخت خود ہی میرے ذہن میں آ جائے تو پوچھنا ہی کیوں پڑے ؟‘‘ انھوں نے بھویں سکوڑیں ، پیشانی پر بے شمار بل پڑ گئے پھر آنکھیں بند کر لیں اور اپنے ذہن سے جھوجھنے لگے۔’’ آج سرلا کا بیٹا نظر نہیں آ رہا ہے شاید اسے اپنی نانی کا نام یاد ہو_باتوں باتوں میں اس سے تو پوچھ ہی لوں گا _‘‘’’ سرلا آج تمہارا بیٹا ……؟‘‘
’’ہاں پتا جی میں تو بتانا بھول ہی گئی۔ بی۔ اے پاس کرنے کے بعد اس نے کمپٹیشن کی تیاری شروع کر دی تھی۔ کل سے اس کے امتحان ہیں۔ دو دن پہلے ہی دلی چلا گیا ہے __‘‘ ’’ او…….اچھا…………تو گھر پر نہیں ہے۔‘‘کیدار ناتھ ایک ٹھنڈی سانس لے کر پھر کھانے میں مصروف ہو گئے۔ کھانا ختم ہو گیا اور کیدار ناتھ کو اپنی بیوی کا نام یاد نہیں آیا۔ کھانے کے بعد چائے اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے شام ہو گئی۔ کیدار ناتھ بغیر نام پوچھے ہی وہاں سے اٹھ پڑے۔ گھر لوٹنے کے لئے بس پکڑی۔اب ان کے جسم کی ساری رگیں ڈھیلی پڑ چکی تھیں۔ ہر ایک شخص کو دیکھ کر انھیں لگتا کہ اسے ضرور میری بیوی کا نام معلوم ہو گا۔ وہ ہر ایک سے پوچھنا چاہتے ہیں مگر کوئی شخص نہ تو ان کی طرف متوجہ ہوتا اور نہ ہی کچھ پوچھنے کے لئے ان کے ہونٹ کھلتے۔ سفر جاری رہا اور پھر اچانک ایک جھٹکے کے ساتھ بس رکی۔انھوں نے کھڑکی سے باہر جھانکا اور اترنے کے لئے سیٹ سے اٹھ کھڑے ہو گئے۔
کمرے میں چاروں طرف اندھیرا ہے۔ وہ بغیر روشنی کئے بستر پر ڈھیر ہو گئے۔ اندھیرا گہرا ہو تا جا رہا تھا ، کیدار ناتھ کو محسوس ہوا کہ دیواریں ان کی طرف کھسکتی چلی آ رہی ہیں۔ انھوں نے آنکھوں پر زور دے کر دیواروں کی طرف دیکھا تو ان کی آنکھوں میں جلن ہو نے لگی۔ پورے کمرے میں دھواں بھر گیا تھا۔’’ اٹھ کر لائٹ جلا دی جائے۔‘‘ انھوں نے سوچا۔ مگر روشنی میں تو انھیں نیند ہی نہیں آتی۔ اندھیرے میں بھی کب آتی ہے۔ اب ان کی آنکھیں شعلوں کی طرح دہکنے لگی تھیں۔ جسم سے بھی آگ نکلنے لگے گی۔آگ کی لپٹیں بہت تیز  ہو گئی ہیں ،  سرلا کی ماں کی چتا جل رہی ہے ، روشنی بہت تیز ہے او انھیں نیند نہیں آ رہی ہے۔تو پھر آنکھیں نیند سے بوجھل کیوں ہوتی جا رہی ہیں __؟جگہ جگہ سے جسم گل گیا ہے۔ وہ جدھر کروٹ لیتے ہیں ادھر سے شدید درد کی لہر اٹھتی ہے۔ ان کے ہاتھ پیر بالکل ٹھنڈے ہوتے جا رہے تھے کہ اچانک ذہن سے کوئی چیز نکل کر پلنگ کے نیچے فرش پر جا پڑی۔کیدار ناتھ اٹھ کر بیٹھ گئے۔لائٹ جلائی اور الماری کھول کر تمام کتابیں فرش پر بکھیر دیں۔ایک ایک کر کے میز کی دراز کے تمام کاغذات نکال ڈالے اور پرانے بکس سے کچھ فائلیں نکالیں پھر دیوانوں کی طرح انھیں الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے __کسی کاغذ کو پڑھتے ،  کسی کو پھاڑ کر پھینک دیتے اور کسی کو تہہ کر کے رکھ لیتے۔’’کمبخت اس کی کوئی چٹھی بھی تو نہیں مل رہی ہے۔‘‘ اب کیدار ناتھ نے جھنجھلا کر کتابوں ، کاغذوں اور فائلوں کو نوچ کر پھینکنا شروع کر دیا ہے۔ دونوں ہاتھ بالکل شل ہو چکے ہیں۔ سانس رکنے لگی ہے۔ انھوں نے گھبرا کر گلے میں بندھے مفلر کا بل کھولنا چاہا کہ پتہ نہیں کیسے گرفت اور تنگ ہو گئی پھر ایک جھٹکے کے ساتھ مفلر کھینچ لیا اور بری طرح ہانپنے لگے۔’’ڈھونڈنے سے کوئی فائدہ نہیں ___یاد کرنا بھی بیکار ہے ، اب کچھ یاد نہیں آئے گا۔‘‘ اور وہ یاد کرنے لگے کہ ان کی بیوی کا کیا نام تھا۔
شانتی………………….؟
نہیں ___
سروجنی____
نہیں …………..نہیں …….
سرشٹھا………….؟
اف یہ بھی نہیں __
ہزاروں نام ان کے ذہن میں تیزی سے آنے لگے۔ پھر وہ بھول گئے کہ وہ کیا یاد کر رہے تھے۔
آج کون سا دن ہے ؟
اتوار___
نہیں اتوار تو کل تھا۔
کل؟
اتوار تو اس دن تھا جب وہ سرلا کے گھر گئے تھے اور سرلا کے گھر گئے ہوئے اب صدیاں گذر چکی ہیں۔
 ان کی آنکھوں سے زرد روشنائی ٹپک کر پورے کمرے میں پھیل گئی ہے۔ کتابیں ، کاغذات اور فائلیں __کچھ دھندلے دھندلے حروف نظر آئے۔
’’ شرما۔ہاں میرے دفتر کے ساتھی شرما۔‘‘
’’ پورا نام کیا تھا ان کا؟۔‘‘
’’ یہ بھی بھول گیا؟۔‘‘
’’ اور ان کے بیٹے کا؟۔‘‘
’’نہیں ، اب مجھے کچھ بھی یاد نہیں ہے۔‘‘
پارک___
’’کون سا پارک‘‘؟
’’ہاں وہی  پارک جہاں وہ کھڑی مسکرا رہی ہے۔‘‘
’’ لیکن اب تو اس پارک کا نام بھی بدل گیا ہے۔‘‘
’’ کیا ہے اس کا نیا نام؟‘‘
’’ نیا ہی کیا اب تو پرانا بھی یاد نہیں۔ میں سب کچھ بھولتا جا رہا ہوں۔‘‘
’’ میری بیٹی __‘‘
’’ اف اس کا نام بھی نہیں یاد آ رہا ہے۔‘‘
’’ اس کے شوہر کا نام ؟‘‘
’’ہے بھگوان مجھے کیا ہوتا جا رہا ہے۔ اب تو کچھ بھی یاد نہیں۔‘‘
کیا صرف بیوی کے نام کے لئے وہ اتنے پریشان ہیں۔
نہیں ، کوئی اور چیز بھی ہے جسے وہ بھول گئے ہیں۔
’’ کیا چیز ہے وہ؟‘‘
وہ نیم پلیٹ جو بار بار ان کے ذہن سے نکل کر گر پڑتی ہے ! کیا لکھا ہے اس میں ؟ کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ سب کچھ مٹ چکا ہے ___
دیواریں ، چھت،  دروازے اور فرش ……………….کچھ بھی نہیں ہے۔دور تک پھیلا ہوا ایک بہت بڑا میدان ہے۔زمین میں جگہ جگہ دراڑیں پڑ چکی ہیں۔ سور ج کا گولا پھیل کر اتنا بڑا ہو گیا ہے کہ پورا آسمان  اس کے پیچھے چھپ جاتا ہے۔ روشنی اتنی تیز ہے کہ کچھ دکھائی نہیں دیتا کہ اچانک اور کوئی بہت چھوٹی سی چیز نظر آئی۔
’’ کیا ہے وہ ؟‘‘
’’ کوئی انسان ہے جو اپنے چاروں طرف مڑ مڑ کر دیکھ رہا ہے۔ اس کے قریب کوئی بھی نہیں ، وہ تنہا ہے ، بالکل تنہا۔‘‘
’’ ارے وہ تو میری طرف بڑھ رہا ہے ، اور اب میری آنکھوں کے اتنا قریب آ گیا کہ اس کے پیچھے سارا میدان ، آسمان اور سورج کا پھیلا ہوا گولا بھی چھپ گیا ہے۔‘‘
’’ کون ہے یہ شخص؟‘‘
’’میں ؟‘‘اور ان کی آنکھوں کے سامنے خود ان کی اپنی ذات اندھیرا بن کے چھانے لگی۔
’’ مگر میں کون ہوں ؟کیا نام ہے میرا؟‘‘
’’ایں ……………….اب تو میں اپنا نام بھی بھول گیا۔‘‘ وہ ماتھے پر ہاتھ رکھ کر زور سے چیخے اور بغیر ریڑھ کی ہڈی والے آدمی کی طرح دہرے ہوتے ہوتے اپنے آپ میں سمٹنے لگے۔ انھیں لگا وہ کئی گز زمین کے اندر دھنس گئے ہیں۔ ان کا دم گھٹ رہا ہے۔سر بری طرح چکرانے لگا اور آنکھوں میں نیلے پیلے بادل امڈ آئے۔ ہاتھ پاؤں سن پڑچکے ہیں  اور گلا رندھ گیا ہے ، جیسے کوئی بہت موٹی سی چیز اس میں اٹک گئی ہو۔ کانپتا ہوا ہاتھ انھوں نے گردن پر رکھ لیا اور کھنکھارنا چاہا مگر انھیں لگا کہ کھنکھارتے ہی ہچکی آ جائے گی  اور وہ مر جائیں گے۔
’’ نہیں ……….‘‘ وہ بہت زور سے چیخے۔ ان کے ہاتھ کی گرفت گلے پر خود بخود مضبوط ہو گئی تھی۔ دھندلے دھندلے حروف ابھرنے لگے۔
’’کے …………….کے …………..‘‘ اف لگتا ہے دماغ کے پرخچے اڑ جائیں گے اور زبان کٹ کر دور جا گرے گی۔ انھوں نے غور سے دیکھا،  حرف کچھ کچھ صاف دکھائی دینے لگے تھے۔’’کیدا ا ا……………..‘‘
اور پھر انھوں نے پڑھ لیا۔’’ کیدار ناتھ۔‘‘ وہ خوشی سے چیخ پڑے اور گلے پر ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔ دل بہت زور سے دھڑکا،  پورے بدن میں گد گدی سی ہونے لگی اور وہ لڑکھڑاتے ہوئے پلنگ پر جا پڑے۔
’’ کیدار ناتھ، کیدار ناتھ__‘‘ وہ زور زور سے کہنے لگے جیسے اب انھیں سب کچھ یاد آ گیا ہو۔
اپنی بیٹی کا، دوست کا،  اس پارک کا اور اپنی بیوی کا نام _ کیدار ناتھ !محسوس ہوا کہ ساری دنیا کا نام کیدار ناتھ ہے۔
پھر آہستہ سے اٹھے ، لائٹ بجھائی اور کیدار ناتھ، کیدار ناتھ کہتے ہوئے لحاف میں گھس گئے۔
صبح ہوئی تو انھوں نے خود کو بہت مطمئن محسوس کیا۔ رات بہت گہری اور سکون کی نیند آئی تھی۔!!
———————————————————————————————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Tanhai a Short Story by Iqbal Niyazi

Articles

تنہائی

اقبال نیازی

بہت عجیب بات ہو گئی……….
فلموں کے سینیر رأیٹر ساحل صاحب اچانک لاک ڈاؤن سے گھبرا کر،بڑبڑاتے ہوے کپڑے پہننے لگےتو نوجوان نوکر نے حیرت سے پوچھا
” صاحب کہاں جا رہے ہیں؟؟ باہر سب بند ہے.”
ساحل صاحب نےایک موٹی گالی دے کر کہا ” جوہو جا رہا ہوں , میری نئ فلم کی پارٹی ملنے آرہی ہے”
“ارے صاحب! لاک ڈاؤن ہے, باہر سب بند ہے. جانے کا کوئی سادھن نہیں ہےاور ایسے میں کون سی پارٹی آےگی, سب گھروں میں بند ہیں”
“چپ بے……” ایک اور موٹی گالی ان کی زبان نے ایسے ُاگلی جیسے سنّاٹے میں زِپ سے کوئ بائیک نکلتی ہے.
” تو چل تیار ہو….میرے ساتھ چل….” ساحل صاحب نے نوکر کے شانے دبائے.
لڑکا منع کرتا رہا, دُہائی دیتا رہااور ساحل صاحب اسے لے کر باندرہ کے کارٹر روڈ کے اپنے فلیٹ سے باہر آ گئے. ابھی مین روڈ تک ہی پہنچے تھے کہ پولِس جیپ نے انہیں روکا… ایک تھری اسٹار باہر نکلا,
” ارے انکل! کہاں نکلے ہو؟ دیکھ نہیں رہےلاک ڈاءون ہے.”
” دیکھئے میں فلم رأیٹر ہوں, میں نے فلاں, فلاں, فلاں فلمیں لکھی ہیں” ساحل صاحب نے مرعوب کرنے کی کوشش کی, ” اور میری ایک نئی فلم کی آج سِٹنگ ہے.”
” ارے انکل آپ اتنے بزرگ ہو گئے ہیں اس لئے بچ گئے…. ورنہ ابھی ڈنڈے پڑنے شروع ہوتے پچھواڑے پر..” انسپکٹر نے ساحل صاحب کی مشہور فلموں سے مرعوب ہوئے بغیر کہا, ” چلئے جائیے گھر پر….ایسی کنڈیشن میں کوئ سِٹنگ وِٹنگ نہیں ہوتی…چلئے… اے لڑکے ! لے جا ان کو گھر پر، ورنہ تیری سوُج جائیگی… سمجھا!!!” انسپکٹر نے ڈنڈا بتا کر نوکر لڑکے سے کہا.
ساحل صاحب بڑبڑاتے ہوئے گھر کی طرف لوٹنے لگے. راستے بھر ان کو جتنی گالیاں یاد تھیں, سب پولِس والوں کو ارپن کرتے رہے.
نوکر نے مسکرا کر گھر کا دروازہ کھولا… ساحل صاحب نے آواز لگائی,
” ارے بیوی ! او بیوی…ذرا ایک ڈرنک بنا دو… اجی بیگم….سنو!!! اور یہ تمہارا لاڈلا کہاں ہے؟؟ ابھی تک سو رہا ہے؟؟ اس کو اُٹھاؤ, بولو باپ کو جوہو تک اپنی کار میں چھوڑ آئے..اور سنو بیگم ! ہماری بٹیا کالج گئی کیا؟؟”
نوکر لڑکا حیرت سے ساحل صاحب کو دیکھ رہا تھا….وہ بہت گمبھیرتا سے اپنےبیوی بچوں کو آواز دے رہے تھے جن کا وجود ہی نہیں تھا.
ساحل صاحب نے تو شادی ہی نہیں کی تھی, پھر یہ بیوی بچے…؟؟؟ وہ سوچ میں پڑ گیا.
ایک بھدّی گالی اس کے کانوں میں پڑی ” ابے کھڑا کیا ہے.. تیری مالکن کو بول ایک وہسکی کا لارج بنا دے میرے لئے…. سالا پیاس ہی نہیں بجھ رہی..”
نوکر نے اندر روم میں جاکر ساحل صاحب کی بھتیجی کو فون لگایا.. سارا حال سنایا…دوسری طرف سے ہنسی کی آواز أئی اور فون کٹ گیا.
بھتیجی نے کانفرنس کال پر اپنے بڑے بھائی اور ایک بہن کو لیا… اپنے چاچا کا حال سن کر سب ہنسے. بھتیجے نے کہا,” بہنوں تیار رہو…کارٹر روڈ کے فلیٹ کے اب 9 کروڑ ملنے والے ہیں…. بہت جلد !!!!

——————————————————————————————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔