Krishan Chandar: Life and Work

Articles

کرشن چندر: حیات اور خدمات

---

کرشن چندر اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کی پیدائش 23/ نومبر1914کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے۔ انھوں نے کرشن چندر کی تعلیم کا خاص خیال رکھا۔ کرشن چندر نے چونکہ تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے کیا تھا اس لئے اردوزبان و ادب پر ان کی گرفت کافی تھی۔ابتدائی تعلیم پونچھ(جموں کشمیر) میں ہوئی۔ 1930کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آگئے اور فورمین کرسچن کالج میں داخلہ لیا۔1934میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔
کرشن چندر کی ادبی زندگی صحیح معنوں میں ”ادبی دنیا“ لاہور سے شروع ہوئی۔ جہاں صلاح الدین احمد نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ اسی زمانے میں کرشن چندر کو آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں ملازمت مل گئی اور سال بھر میں دہلی اور پھر لکھنؤ تبادلہ ہوگیا۔لکھنؤ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک کا مرکز تھا۔ لکھنؤ کے قیام کے دوران ہی انھیں شالیمارپکچرز کی طرف سے مکالمے لکھنے کی دعوت ملی اور وہ ریڈیو کی ملازمت سے استعفیٰ دے کر پونہ چلے گئے۔بعد میں مستقل طور پر ممبئی میں سکونے اختیار کرلی اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔
کرشن چندر نے پنجاب اور کشمیر کی رومان پرورآب و ہوا میں ہوش سنبھالا اس لیے ابتدائی دور کے اکثر افسانوں اور ناولوں میں سماجی حقیقت نگاری اور طبقاتی شعور کا عنصر کم کم نظر آتا ہے اور رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے جب ان کے ذہن نے پختگی اختیار کی اور سماجی معاملات سے ان کا سابقہ پڑا تو لہجے میں تبدیلی آئی اور اس میں حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔
کرشن چندرنے اپنے افسانوں میں اس دور کے معاشی، سیاسی اور سماجی صورت حال کی خامیوں، مثلاً بیجا رسم و روایات، مذہبی تعصبات، آمرانہ نظام اور تیزی سے اْبھرتے ہوئے دولت مند طبقے کے منفی اثرات وغیرہ جیسے موضوعات کو شامل کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخر میں تحریر کئے گئے ان کے زیادہ تر افسانوں میں زندگی کے اعلیٰ معیار اور اس کے اقدار پر بحث کی گئی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ انہیں پڑھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی کئی تصنیفات، مثلاً ’کالو بھنگی‘، ’مہالکشمی کا پل‘ اور ’ایک گدھے کی سرگزشت‘ وغیرہ قارئین کے ذہن پر تادیر اپنا تاثر قائم رکھتے ہیں۔ کرشن چندر اپنے ہمعصر افسانہ نگاروں سے کسی حد تک مختلف تھے۔ کرشن چندر کو زبان پر جو عبور حاصل تھا اور ان کی خوبصورت اور آرائشی زبان قاری کو آغاز میں ہی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور افسانہ کے آخر تک اس سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتی۔کرشن چندر کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معروف نقاد گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:
”کرشن چندر اردو افسانے کی روایت کا ایک ایسا لائق احترام نام ہے جو ذہنوں میں برابر سوال اٹھاتا رہے گا۔ ان کے معاصرین میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی بے حد اہم نام ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کرشن چندر ۰۶۔۵۵۹۱ء تک اپنا بہترین ادب تخلیق کر چکے تھے۔ ان کا نام پریم چند کے بعد تین بڑے افسانہ نگاروں میں آئے گا“(افسانہ بیسوی صدی میں۔ از: مہدی جعفر۔ ص: ۹۳۱۔ معیار پبلی کیشنز، دہلی۔۳۰۰۲ء)
کرشن چندر کے افسانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلامبالغہ اس بات کا اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ وہ نہ صرف محبت کے جذبہ اور احساس کو پورے انہماک اور حساسیت کے ساتھ اپنی کہانیوں میں پیش کرتے تھے بلکہ سماجی برائیوں کو بھی انتہائی کامیابی کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھتے تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اور اسی لئے عام انسان کے حقوق کی بات کرتے تھے۔ ان کے دل میں امیروں کے تئیں بغاوت اور بدلے کا جذبہ تھا۔
’زندگی کے موڑ پر‘ اور ’بالکونی‘ جیسے رومانی افسانے نہ صرف جذباتی ہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ’زندگی کے موڑ پر‘ افسانہ پنجاب کی قصباتی زندگی کی انتہائی رومانی شبیہ پیش کرتا ہے، وہیں ’بالکونی‘ کشمیر کی خوبصورتی اور آب و ہوا کا عکاس ہے۔ کرشن چندر کے یہ رومانی افسانے دوسرے افسانہ نگاروں کے ذریعہ لکھے گئے افسانوں سے قدرے مختلف ہیں کیونکہ وہ ان افسانوں میں بھی روز مرہ کے عمل کے اندر سماجی عنصر کی تلاش کر لیتے ہیں۔ گویا کہ کرشن چندر کے رومانی افسانوں کی دنیا اردو افسانے کی روایتی رومانی دنیا نہیں ہے۔ اس ضمن میں محمد حسن عسکری نے تحریر کیا ہے کہ:
”اب رہی وہ رومانیت جسے عام طور پر کرشن چندر سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کے وہ افسانے جنہیں رومانی کہا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ افسانے رومانی ہیں، تب بھی کرشن چندر کی رومانیت دوسروں سے کافی مختلف ہے۔ وہ رومان کی تلاش میں ہجرت کر کے مالدیپ نہیں جاتا بلکہ یہ کوشش کرتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں رومان کے امکانات ہیں یا نہیں۔ درحقیقت یہ افسانے رومانی نہیں ہیں بلکہ رومان کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں“۔(افسانہ بیسوی صدی میں۔ از: مہدی جعفر۔ ص:۱۴۱۔ معیار پبلی کیشنز، دہلی۔۳۰۰۲ء)
کرشن چندر نے ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو بنیاد بنا کر بھی کئی افسانے لکھے جن میں ’اندھے‘، ’لال باغ‘، ’جیکسن‘، ’امرتسر‘ اور ’پیشاور ایکسپریس‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں کرشن چندر نے اس وقت کی سیاست کے عوام مخالف کرداروں پر بلاجھجک اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی برائیوں سے پیدا شدہ ماحول پر ضرب لگاتے ہوئے انسانی رشتوں اور جذبات کو اہمیت دی ہے۔ وہ ان افسانوں میں فرقہ واریت کی اصل ذہنیت اور صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے انسانیت پر مبنی سماجی نظام کی تعمیر پر زور دیتے ہیں۔
کرشن چندر کے شاہکار افسانوں میں ’کالو بھنگی‘ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کہانی میں انہوں نے چھوٹی ذات سے تعلق رکھنے والے کالو بھنگی کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی پریشان حال زندگی اور ان کے مسائل سے روشناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کہانی میں صرف کالو بھنگی کی پریشانیوں اور جدوجہد کو ہی پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ پورے سماج کی پست ذہنیت کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
کرشن چندر کی تقریباً ۰۸کتابیں شائع ہوئیں۔ حالانکہ انھوں نے ناول، افسانے، ڈرامے، رپورتاژ، مضامین گویا کہ نثرکی کماحقہ‘ اصناف میں طبع آزمائی کی تاہم ان کی بنیادی شناخت ایک افسانہ نگار کی ہے۔ان کے ناولوں میں شکست، جب کھیت جاگے، اور آسمان روشن ہے قابلِ ذکر ہیں لیکن کوئی ناول زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ کرشن چندر دراصل بسیار نویس اور زود نویس تھے اور اسی چیز نے ان کے فن کو نقصان پہنچایا۔ان کی مقبولیت رومانیت اور سبک و رواں نثر کی وجہ سے تھی جس میں گویا ایک طرح کی جادو اثری تھی۔ ان کے بہترین افسانے ان کی رومان پسندی، حسن کاری، فطرت پرستی، انسان دوستی اور بہتر سماج کی آرزو مندی کے سبب زندہ رہیں گے۔
کرشن چندرنے کئی فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے تحریر کئے۔ ’دھرتی کے لال‘، ’دل کی آواز‘، ’دو چور‘، ’دو پھول‘، ’من چلی‘، ’شرافت‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جنہوں نے کرشن چندر کی صلاحیتوں کو فلم ناظرین کے سامنے پیش کیا۔کرشن چندر کا انتقال8/ مارچ 1977 کو ممبئی میں ہوا۔
٭٭٭
یہ تحریر ڈاکٹر قمر صدیقی، ممبئی کی ہے۔

Rajindar Singh Bedi: Life and Work

Articles

راجندر سنگھ بیدی: حیات اور خدمات

---

اردو کے معروف فکشن نگار راجندر سنگھ بیدی غیرمنقسم پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکامیں 1915 میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزرے۔ اس زمانے کی روایت کے مطابق انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اردو میں حاصل کی۔1931میں میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد ڈی۔اے۔وی کالج لاہور سے انٹر میڈیٹ کیا۔گھرکے معاشی حالات بہت اچھے نہ تھے اس وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کا گریجویشن کرنے کا خواب شرمندہئ تعبیر نہ ہوسکا۔1932 سے طالب علمی کے زمانے میں ہی انگریزی، اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے تھے۔
راجندر سنگھ بیدی کے معاشی حالات چونکہ اچھے نہ تھے۔لہٰذا محض18سال کی عمر میں انھوں نے لاہور پوسٹ آفس میں 1933میں بطورکلرک ملازمت اختیار کرلی۔یہ ملازمت ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو راس نہیں آرہی تھی اوروہ بہتر ملازمت کی تلاش میں تھے۔ 1941میں انھیں آل انڈیا ریڈیو، لاہور کے اردو سیکشن میں ملازمت مل گئی۔ آل انڈیا ریڈیو کے ادبی ماحول میں ان کی صلاحیتیں دھیرے دھیرے نکھرنے لگیں۔ اس دوران انھوں نے ریڈیو کے لیے متعددڈرامے تحریر کیے۔ ان ڈراموں میں ”خواجہ سرا“ اور ”نقل مکانی“ بہت مشہور ہوئے۔ بعد ازاں ان دونوں ڈراموں کو ملاکر انھوں نے 1970 میں فلم ”دستک“ بنائی۔
1943میں راجندر سنگھ بیدی لاہور کے مہیشوری فلم سے وابستہ ہوگئے۔ اس ملازمت میں ڈیڑھ سال رہنے کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو واپس آگئے۔ ریڈیو واپسی پر انھیں جموں میں تعینات کیا گیا جہاں وہ 1947 تک رہے۔1947میں ملک کی تقسیم ہوئی اور بیدی کا خاندان ہندوستان کی ریاست پنجاب کے فاضلکہ میں آباد ہوگیا۔ البتہ بیدی پاکستان سے نقل مکانی کرکے ممبئی آگئے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئے۔ڈی ڈی کیشپ کی نگرانی میں بننے والی فلم ”بڑی بہن“ بطور مکالمہ نگار ہندوستان میں بیدی کی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم1949 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی دوسری فلم ”داغ“ تھی جسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور فلم انڈسٹری میں بیدی کی شناخت قائم ہوگئی۔ ”داغ“1952میں ریلیز ہوئی تھی۔
1954 میں بیدی نے امرکمار، بلراج ساہنی اور گیتا بالی کے ساتھ مل کر ”سِنے کو آپریٹیو“ نامی فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی نے پہلی فلم ”گرم کوٹ“ بنائی جو بیدی کے ہی مشہور افسانہ ”گرم کوٹ“ پر مبنی تھی۔ اس فلم میں بلراج ساہنی اور نروپارائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھاجبکہ امرکمار نے ہدایت کاری کی خدمات انجام دی تھیں۔اس فلم کے ذریعے راجندر سنگھ بیدی کو پہلی بار اسکرین پلے تحریر کرنے کا موقع ملا۔ سِنے کو آپریٹیو نے دوسری فلم ”رنگولی“ بنائی جس میں کشور کمار، وجنتی مالا اور درگا کھوٹے نے مرکزی کردار ادا کیے اور امرکمار نے ڈائریکشن دیا۔ اس فلم میں بھی اسکرین پلے راجندر سنگھ بیدی نے ہی تحریر کیا تھا۔
اپنی ذاتی فلم کمپنی کے باوجود بیدی نے مکالمہ نگاری جاری رکھی اور متعدد مشہور فلموں کے ڈائیلاگ تحریر کیے۔ جن میں سہراب مودی کی فلم ”مرزا غالب“ (1954)، بمل رائے کی فلم ”دیو داس“(1955)اور ”مدھومتی“(1958) امرکمار اور ہریکیش مکرجی کی فلمیں ”انورادھا“ (1960)، ”انوپما“(1969)، ”ستیم“ (1966)، ”ابھیمان“ (1973) وغیرہ شامل ہیں۔
1970میں فلم ”دستک“ کے ساتھ انھوں نے ہدایت کاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں سنجیو کمار اور ریحانہ سلطان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ موسیقی کار مدن موہن تھے۔ ”دستک“ کے علاوہ انھوں نے مزید تین فلموں ”پھاگن“ (1973)، ”نواب صاحب“ (1978) اور ”آنکھوں دیکھی“(1978) میں ہدایت کاری کے جوہر دکھائے۔
راجندر سنگھ بیدی کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلم بن چکی ہے۔ پاکستان میں 1978 میں ”مٹھی بھر چاول“ کے عنوان سے جبکہ ہندوستان میں ”ایک چادر میلی سی“ کے ہی نام سے1986میں۔ اس طرح وہ برصغیر ہند و پاک کے واحد فکشن نگار ہیں جن کی ایک ہی کہانی پر دونوں ممالک میں یعنی ہندوستان اور پاکستان میں فلم بن چکی ہے۔بیدی کے افسانے ”لاجونتی“ پر نینا گپتا2006میں ایک ٹیلی فلم بھی بنا چکی ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کی شادی خاندانی روایت کے مطابق کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی بیوی گھریلو خاتون تھیں اور بیدی نے تا عمر ان کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک رکھا۔حالانکہ اداکارہ ریحانہ سلطان کے ساتھ معاشقے کی خبریں بھی گرم ہوئیں تاہم بیدی کی ازدواجی زندگی پر اس کے کچھ خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ بیدی کی شخصیت میں امن پسندی، صلح کل اور محبت و رواداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہی محبت واپنائیت ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا سبب بنی۔ بیدی کی صرف ایک اولاد تھی جس کا نام نریندر بیدی تھا۔ جوان ہوکر نریندر بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے اور بطور فلم ڈائریکٹر اور فلم ساز انھوں نے خوب نام کمایا۔ان کی مشہور فلموں میں ”جوانی دیوانی“(1972)، ”بے نام“ (1974)، ”رفو چکر“ (1975) اور ”صنم تیری قسم“ (1982) وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ نریندر بیدی1982 میں انتقال کرگئے۔ بیٹے کی اس ناگہانی موت کے صدمے سے راجندر سنگھ بیدی ابھر نہ سکے اور نریندر کی موت کے دو سال بعد1984میں وہ بھی دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
راجندر سنگھ بیدی کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کے کل چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ”دانہ و دام“(1936)اور ”گرہن“ (1942) آزادی سے پہلے شائع ہوچکے تھے۔”کوکھ جلی“(1949)، ”اپنے دکھ مجھے دے دو“(1965)، ”ہاتھ ہمارے قلم ہوئے“(1974)اور ”مکتی بودھ“ (1982) آزادی کے بعد منظر عام پر آئے۔ ڈراموں کے دو مجموعے ”بے جان چیزیں“(1943) اور ”سات کھیل“ (1974) بھی شائع ہوئے۔ ان کا ناولٹ ”ایک چادر میلی سی“1962میں شائع ہوا۔ انھیں 1965 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جبکہ1972میں حکومتِ ہند نے پدم شری کا خطاب عطا کیا۔ 1978میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔
راجندر سنگھ بیدی کو کردار نگاری اور انسانی نفسیات کی مرقع کشی میں کمال حاصل تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقت نگار تھے۔اگرچہ انھوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا، وہ قدرِ اول کی چیز ہے۔ بیدی کسی فیشن یا فارمولے کے پابند نہیں تھے۔ ان کے افسانوں میں مشاہدے اور تخیل کی آمیزش ملتی ہے۔ انسانی نفسیات پر گہری نظر کی وجہ سے ان کے کردار صرف سیاہ و سفید کے خانوں میں بند نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ اس تعلق سے پروفیسر شمس الحق عثمانی رقم طراز ہیں:
”راجندر سنگھ بیدی کے فن کے ان اجزا و عناصر….. ان کی پُر جہد زندگی……. اور ان کی پُر گداز شخصیت کے تارو پود کو ایک دوسرے کے قریب رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے وجود کے جن لطیف ترین اجزا کے تحفظ و ارتفاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی زندگی میں پیش کیا، ان اجزا نے انھیں گہرا ایقان اور عمیق بصیرت عطا کی…….اسی ایقان اور بصیرت نے اُن کے پورے فن میں وہ عرفانی کیفیت خلق کی ہے جس کے وسیلے سے راجندر سنگھ بیدی اپنے ارد گرد سانس لینے والے افراد کو شناخت کرتے اور کراتے رہے۔ افراد کی شناخت کا یہ عمل دراصل کائنات شناسی کا عمل ہے کیونکہ راجندر سنگھ بیدی کا فن، آدمی کے وسیلے سے ہندوستانی معاشرے…… ہندوستانی معاشرے کے وسیلے سے آدمی……..اور ہندوستانی آدمی کے وسیلے سے پورے انسانی معاشرے کی شناخت کرتا ہے۔“(ممبئی کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتگان۔ مرتب: پروفیسر صاحب علی۔ ص: ۶۰۱۔ ناشر: شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی)
راجندر سنگھ بیدی کی کہانیوں میں رمزیت، استعاراتی معنویت اور اساطیری فضا ہوتی ہے۔ ان کے کردار اکثر و بیشتر محض زمان و مکاں کے نظام میں مقید نہیں رہتے بلکہ اپنے جسم کی حدود سے نکل کر ہزاروں لاکھوں برسوں کے انسان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ یوں تو ان کے یہاں ہر طرح کے کردار ملتے ہیں لیکن عورت کے تصور کو ان کے یہاں مرکزیت حاصل ہے۔ عورت جو ماں بھی ہے، محبوبہ بھی، بیوی بھی اور بہن بھی۔ ان کے یہاں نہ تو کرشن چندر جیسی رومانیت ہے اور نہ منٹو جیسی بے باکی۔ بلکہ ان کا فن زندگی کی چھوٹی بڑی سچائیوں کا فن ہے۔ فن پر توجہ بیدی کے مزاج کی خصوصیت ہے۔ ان کے افسانوں میں جذبات کی تیزی کے بجائے خیالات اور واقعات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے زندگی کی گہری ///معنویت ہوتی ہے۔

(یہ تحریر ڈاکٹر قمر صدیقی کی ہے)

Dakhma a Short Story by Baig Ahsas

Articles

"دخمہ"

بیگ احساس

سامنے سہرا ب کی نعش تھی اور اس کے پیچھے دو دو پارسی سفید لباس پہنے ہاتھ میں پیوند کا کنارہ پکڑے خاموشی سے چل رہے تھے۔ ان کے پیچھے ہم لوگ تھے۔ ’’دُخمہ‘‘ کی گیٹ پر ہم لوگ رک گیے۔ ہمیں اندر جانے کی اجازت نہیں تھی۔
میں نے ماحول کا جائزہ لیا۔ سب کچھ ویسا ہی تھا۔ کچھ بھی نہیں بدلا میری بہن کا گھر بھی !! لیکن اس گھر میں اب میرا کوئی نہیں رہتا تھا۔ میری بہن اور بہنوائی کا انتقال ہوئے ایک عرصہ ہوچکا تھا۔ میری بھانجی اسی شہر میں اپنے شوہر کے ساتھ رہتی تھی۔ اسکول کی چھٹیاں ہوتے ہی میں ا پنی بہن کے پاس دوڑا چلا آتا۔ وہ میری سب سے بڑی بہن تھیں درمیان میں چھ اور بہنیں اور ان کے بعد سب سے چھوٹا میں۔ اکلوتا بھائی۔ میری بھانجی مجھ سے صرف دو برس چھوٹی تھی۔ ہم دونوں خوب کھیلا کرتے۔

وہ گھر مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ چٹان پر بنا ہوا خوب صورت مکان اسٹیشن کے اس پار۔ پلاننگ کے ساتھ بنائے ہوئے بنگلے۔ درمیان میں سیدھی تار کول کی سڑکیں۔ کافی چڑھاؤ اور اتار تھے۔ ایک زمانے میں اس جڑواں شہر میں صرف تانگے چلتے تھے۔سائکل رکشاؤں کا داخلہ ممنوع تھا۔ میری بہن کے گھر پہنچتے پہنچتے گھوڑا ہانپنے لگتا۔ چڑھائی پر گھوڑے کے پیر جمتے نہ تھے۔جب ہم تانگے سے اترنے لگتے تو تانگے والا خاص انداز میں توازن بنائے رکھتا۔ مشرقی جانب واٹرریز روائر تھا۔ مغرب میں جہاں سڑک مسطح ہوجاتی ہے سینٹ فلومینا چرچ تھا۔ چرچ میں مشنری اسکول بھی تھا۔کھلی ٹانگوں والے یونیفارم کے اسکول کو کم ہی مسلمان لڑکیاں جاتی تھیں۔میری بھانجی بھی اسلامیہ اسکول میں پڑھتی تھی۔ لیکن ہم لوگوں نے چرچ کا چپہ چپہ دیکھا تھا۔ کیوں کہ بچوں کو کوئی نہیں روکتا تھا۔ اتوار کے دن اطراف کے کرسچن prayer کے لیے آجاتے فضا میں گھنٹے گونجنے لگتے تو بڑا اچھا لگتا ۔ پتہ ہی نہیں چلتا کہ گھنٹے کون بجاتاہے۔مسجد کافی فاصلے پر تھی جہاں چھوٹے چھوٹے بے ترتیب مکان تھے۔
گھر کے مقابل اونچی چٹان بلکہ پہاڑ پر ایک دائرہ نما عمارت بنی ہوئی تھی۔ کئی ایکر پر پھیلا ہوا علاقہ تھا۔ بہت بڑی باؤنڈری تھی۔ نیچے بڑا سا گیٹ تھا۔ لوگ اس کو پارسی گٹہ کہتے تھے۔ احاطہ میں ایک چھوٹا سا مکان بناہوا تھا۔ جس میں چوکیدار‘ اس کی بیوی اور ایک کتا رہتے۔ عجیب سا پر اسرار کتا !! محلے کے اکثر گھروں میں السیشن تھے یہ کتا ان سے مختلف تھا۔دور سے ایسا لگتا جیسے اس کی چار آنکھیں ہوں۔
میری بہن پارسی گٹہ جانے سے منع کرتی تھیں۔ کہتی تھیں بچوں کو وہاں نہیں جانا چاہیے۔
ایک دن ہم نے دیکھا پارسی گٹّہ کا گیٹ کھلا چھوڑ دیا گیا ہے اور چوکیدار صاحب بے حد مصروف ہیں۔۱۱ بجے دھوپ میں سفید کپڑوں میں ملبوس دو دو پارسی ایک رومال کے دو مختلف سرے پکڑے ہوئے ایک قطار میں چلے آرہے ہیں۔ سب سے آگے دوپارسی تھے۔ درمیان میں ایک گاڑی۔۔۔ پھر پارسیوں کی قطار ۔۔۔!! تقریباً ایک بجے تک وہ لوگ مصروف رہے پھر واپس ہوگئے۔ شام ہونے سے پہلے گدھوں کے جھنڈ آنا شروع ہوا۔ وہ سب اس دائرہ نما عمارت کے کنارے پر بیٹھ گئے۔ شام ہوتے ہوتے سارے گدھ اڑگئے میں نے ایک ساتھ اتنے سارے گدھ پہلی بار دیکھے تھے شام تک وہ مصروف رہے۔
میں نے اپنی بہن سے پوچھا کہ’’ اتنے گدھ اس عمارت پر کیوں جمع ہوگئے تھے؟‘‘ بہن نے بتایا پارسی گٹہ اصل میں پارسیوں کا قبرستان ہے۔ پارسی مرنے والے کی نعش کو چھت پر رکھ دیتے ہیں تاکہ گدھ اس نعش کو نوچ کھائیں یہ سارے گدھ اسی لیے آئے تھے۔
’’یہ کیسا طریقہ ہے آپی؟ ‘‘ میں نے جھر جھری سی لے کر کہا۔
’’بیٹا اپنا اپنا عقیدہ ہے۔ کوئی دفن کرتا ہے۔ کوئی جلادیتا ہے یہ لوگ پرندوں کوکھلادیتے ہیں اور اسی کو ثواب سمجھتے ہیں۔‘‘ اندھیرا ہونے سے قبل سارے گدھ لوٹ گئے ۔ اس کے باوجود ہم اس روز چھت پر نہیں سوئے ۔ میں اور میری بھانجی دونوں ڈرکے مارے نیچے کمرے میں ہی سوگئے کیا پتہ کوئی گدھ ہمیں مردہ سمجھ کر۔۔۔۔
بیدار ہوتے ہی ہم دونوں پارسی گٹہ گئے۔ کتا ہمیں دیکھ کر بھونکنے لگا۔
’’ارے بیٹا تم لوگ؟‘‘
’’چا چا کل کسی کا انتقال ہوا تھا؟‘‘
’’ہاں بیٹا‘‘
’’دو دو آدمی کیوں قطار بناکر چلتے ہیں؟‘‘
’’یہی طریقہ ہے۔ تنہا کوئی نہیں چلتا۔‘‘
’’انہوں نے رومال کیوں پکڑ رکھا تھا؟‘‘
’’وہ رومال نہیں اسے پیوند کہتے ہیں‘‘
’’اور یہ گول عمارت ؟‘‘
’’یہ ‘‘ دخمہ ‘‘ہے۔ اس کی چھت درمیان سے اونچی ہوتی ہے چھت پر تین دائرے بنے ہیں۔ مرد کی نعش بیرونی دائرے میں ‘ عورت کی درمیانی دائرے میں اور بچوں کی نعش اندرونی دائرے میں رکھی جاتی ہے تاکہ ان پر تیز دھوپ پڑے اور گدھوں کو دور سے نظر آجائے۔‘‘
’’چا چا یہ کُتّا اتنا عجیب کیوں ہے ؟‘‘ میری بھانجی نے پوچھا
’’ اسے ’’سگ دید ‘‘کہتے ہیں۔ چار آنکھوں والا کتا۔۔۔ اس کی چار آنکھیں نہیں ہیں لیکن آنکھوں پر ایسے نشان ہیں جس سے اس کی چار آنکھیں نظر آتی ہیں۔ یہ ’’سگ دید‘‘ ہی آدمی کے نیک و بد ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔‘‘
’’کیسے چاچا‘‘
’’جب بڑے ہوجاؤ گے تو خود ہی پتہ چل جائے گا‘‘ چا چا نے ہمارے سوالات سے اکتا کر کہا
’’ اور چا چا یہ گدھ کہاں سے آجاتے ہیں ؟‘‘
’’ اگر فرش پر چینی گرجائے تو چیونٹیاں کہا ں سے آتی ہیں ؟‘‘ چا چا نے سوال کیا اور اندر چلے گئے۔ اس روز بھی ہم چھت پر نہیں سوئے۔
(سہراب بھی ان تمام مراحل سے گزر رہا ہوگا۔)

(۲)

سہراب کا ’’میکدہ ‘‘ شہر کے مصروف علاقے میں تھا۔ ممکن ہے جس وقت اس کے اجداد نے ’’مئے کدنہ‘‘ کھولا ہوگا یہ مصروف ترین علاقہ نہ رہا ہو۔ کیوں کہ سامنے راجہ صاحب کی بہت بڑی حویلی تھی۔۔۔ بغل میں بھی ایک بہت بڑی حویلی تھی ۔۔۔ دائیں جانب ڈراما تھیٹر تھا ۔ اور بائیں جانب بہت آگے انگریزوں کی ریزیڈنسی تھی۔ مقابل میں ایک چھوٹی سی مسجد تھی مسجد سے لگ کر جو گلی تھی وہ ’’مجرد گاہ‘‘ تک جاتی تھی۔ مجرد گاہ ادیبوں ‘شاعروں اور فن کاروں کا میٹنگ پوائنٹ تھا۔ اس میں فائن آرٹس اکیڈمی بھی تھی اور رسالے کا دفتر بھی۔ہم لوگ ادیبوں‘ شاعروں اور فن کاروں کو دیکھنے آجاتے تھے۔ ان دنوں بعض ادیبوں و شاعروں کی شہرت فلمی اداکاروں سے کم نہ تھی۔ بیچلر کوارٹرس کے مقابل ایک بڑا شراب خانہ بھی تھا جہاں سستی شراب فروخت ہوتی۔ اکثر فن کار وہاں چلے جاتے۔ جیب گرم ہوتی تو اکثر ادیب و شاعر مۂ کدہ کا رخ کرتے شہر کا یہ سب سے قدیم شراب خانہ تھا!! ایک تو سہراب خالص شراب بیچتا تھا۔ دوسرے وہ ادیبوں و شاعروں کے مزاج سے اچھی طرح واقف بھی تھا۔ کسی اچھے شعر پر داد بھی دے دیا کرتا۔ پارسی ویسے بھی خوش اخلاق اور مہذب ہوتے ہیں ۔ پھر سہراب صرف شراب اور سوڈے کی اصل قیمت لیتا تھا۔ پانی اور گلاسس وہ خود فراہم کرتا۔ اندر ٹیبل اور کرسیاں بھی تھیں ۔ گزگ کا کوئی انتظام نہ تھا۔لڑکے ٹوکریوں میں گرین پیس‘ بھنی ہوئی مونگ پھلّی‘ چڑوا لیے گھومتے۔ لوگ حسبِ ضرورت ان سے چیزیں خرید لیتے۔ دوسرے بارس کے مقابلے میں ’’مئے کدہ ‘‘ نسبتاً کم خرچ تھا۔
ہم نے جس وقت ’’مئے کدہ‘‘ جانا شروع کیا۔ شہر کئی انقلابات سے گزر چکا تھا۔ کمیونسٹوں کی شاہی کے خلاف جدوجہد‘ تلنگانہ تحریک کامیاب تو ہوئی لیکن شاہی کا خاتمہ کانگریس کی نئی حکومت نے کیا تھا۔ پولس ایکشن نے مسلمانوں کو حواس باختہ کردیا تھا۔ مذہب کے نام پر ملک کی تقسیم سے پوری قوم سنبھلی بھی نہ تھی کہ زبان کی بنیاد پر ریاستوں کی نئی حدبندیاں کی گئیں۔ریاست کے تین ٹکڑے کردیے گئے۔ برسوں گزر جانے کے بعد بھی دوسری ریاستوں سے جڑے یہ ٹکڑے ان کا حصہ نہ بن سکے۔ اپنی مستحکم تہذیب کی بنیاد پر ریاست کے یہ حصّے ٹاٹ میں مخمل کے پیوند لگتے تھے۔ مذہب کے نام پر تقسیم کو عوام نے قبول نہیں کیا تو زبان کے نام پر ریاستوں کی نئی حدبندیوں کو بھی ایک ہی زبان بولنے والوں نے قبول نہیں کیا۔ دو مختلف کلچر۔!! جس شہر کی تاریخ نہیں ہوتی اس کی تہذیب بھی نہیں ہوتی۔ نئے آنے والوں کی کوئی تاریخ تھی نہ تہذیب ایک مستحکم حکومت کا دارالخلافہ سیاسی جبر کی وجہ سے ان کے ہاتھوں میں آگیا۔ وہ پاگلوں کی طرح خالی زمینوں پر آباد ہوگئے۔ ایک طرف بڑی بڑی حویلیاں حصے بخرے کرکے فروخت کردی گئیں ۔ زمین بیچنا یہاں کی تہذیب کے خلاف تھا ۔ شرما شرمی میں قیمتی زمینیں کوڑیوں کے مول فروخت کردی گئیں۔ آنے والے زمینیں خرید خرید کر کروڑ پتی بن گئے۔ نئے علاقوں کو خوب ترقی دی۔
کسی کوٹھی میں صدر ٹپہ خانہ آگیا‘ کسی حویلی میں انجنیرنگ کا آفس‘ کسی حویلی میں اے۔جی آفس تو کسی حویلی بڑی ہوٹل کھل گیا۔ باغات کی جگہ بازار نے لے لی ۔ لیڈی حیدری کلب پر سرکاری قبضہ ہوگیا ۔ کنگ کوٹھی کے ایک حصے میں سرکاری دواخانہ آگیا ۔ جیل کی عمارت منہدم کرکے دواخانہ بنادیا گیا ۔ رومن طرز کی بنی ہوئی تھیٹر میں اب بہت بڑا مال کھل گیا تھا۔ حویلیوں ‘ باغات ‘ جھیلوں اور پختہ سڑکوں کے شہر کی جگہ دوسرے عام شہروں جیساشہر ابھر رہا تھا جس کی کوئی شناخت نہ تھی ۔
چند برسوں میں سب کچھ بدل گیا ۔ جو تہذیب کے نمائندے تھے جو تہذیب کو بچا سکتے تھے ان میں سے کچھ اپنی زمینوں کو چھوڑ کرسرحد کے اس پار جابسے تھے اور کچھ مغربی ممالک میں آباد ہوگئے ۔ ولی عہد نے ایک مغربی ملک کو اپنا مسکن بنالیا۔ رعایہ کی محبت کا یہ حال تھا کہ جب بھی وہ اس شہر کو آتے تواس طرح خوشی سے پاگل ہونے لگتے تھے جیسے کوئی فاتح اپنی سلطنت کو لوٹا ہو۔ نہ شاہی خاندان کے افراد کو تہذیب کی فکر تھی ۔ نہ امرا کو اور نہ عوام کو ۔! ’’مۂ کدہ‘ ‘کے اطراف کا ماحول بھی تبدیل ہوگیا ۔ راجہ جی کی حویلی میں سرکاری دواخانہ آگیا ۔ سامنے کی کوٹھی میں بینک کا مین آفس ‘ ریذیڈنسی میں ویمنس کا لج‘ ڈراما تھیٹر فلمی تھیٹر میں تبدیل ہوگیا۔ شہر کا نقشہ تیزی سے بدلتا جارہا تھا ۔ تیلگو فلم انڈسٹری مدراس سے یہاں منتقل ہوگئی تھی ۔ شہر کی چمک دمک بڑھ گئی ۔ فلمی اسٹیڈیوز ‘ 70 ایم ایم تھیٹرز‘ بڑے بڑے مالس‘ کپڑوں اور زیورات کی دکانیں ۔ سب ان کا تھا ۔ سب پر ان کی چھاپ نمایاں ہورہی تھی ۔ ان کی غذاوں کے ہوٹل آگئے تھے جہاں متوسط طبقے کا آدمی پیٹ بھر کھانا کھاسکتا تھا۔’’فُل مِیل‘‘ (full meal)ملتا تھا۔ وہ آخر میں بڑے انہماک کے ساتھ چاول میں دہی ملاکر کھانے لگتے تو اکثر دہی بہہ کر کہنیوں تک آجاتا۔ سڑکوں اور کالجس میں سانولے اور سیاہ فام لڑکے لڑکیوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔ بڑی بڑی کاجل بھری آنکھیں۔۔ نمکین چہرے ۔ ۔پشت پر بلاوز دور تک کھلا ہوا۔۔۔ پتہ نہیں انھیں پیٹھ کی نمائش کا شوق کیوں تھا؟ مقامی لوگ لینڈ گرابرس کی فروخت کی ہوئی خشک تالابوں کی زمین پر مکانات بنانے پر مجبور ہوگئے تھے ۔ ہر بارش قیامت بن کر آتی ۔ مسلسل فسادات نے پرانے شہر کی ساکھ کو بہت متاثر کیا تھا۔ ہفتوں کرفیو لگا رہتا ۔ ہر تہوار و عید پر لوگ سہم جاتے ۔ اس صورت حال سے تنگ آکر جو پرانا شہر چھوڑ سکتے تھے۔ وہ نئے علاقوں میں جابسے ۔ ساری رونق ‘ بڑی بڑی سڑکیں ‘ فلائی اوور‘ ہائی ٹیک سٹی سب کچھ نئے شہر میں تھے ۔ تمام دفاتر نئے شہر کو منتقل کردیے گئے تھے ۔ پرانے شہر میں کچھ تاریخی عمارتیں رہ گئی تھیں ۔ مشہور زمانہ چوڑیوں کا لاڈبازار تھا۔ پتھر سے تعمیر کی گئی مار کٹ پتھر گٹی تھی۔ عیدوں پر ساری رات یہ بازار جگمگایا کرتے۔ دو تہذیبوں نے الگ الگ جزیرے بنالیے تھے۔ جب بھی ریاست کے مقامی افراد کو محرومی کا احساس بہت ستا تا تو وہ علیحدہ ریاست کا مطالبہ کرنے لگتے ۔ الیکشن کے زمانے میں کوئی باغی لیڈراس مسئلے کو گرما دیتا ۔ کچھ مہینوں خوب ہماہمی رہتی پھر جذبات سرد پڑجاتے ۔
’’مۂ کدہ‘‘ کا علاقہ بھی اب ڈاون ٹاون بنتا جارہا تھا۔ پرانے شہر سے نئے علاقے کو منتقل ہونے والوں میں خود میں بھی شامل تھا۔ ( ’’دخمہ‘‘ میں پارسی ابھی تک مصروف تھے ۔ کوئی باہر نہیں آیا تھا۔)
ان دنوں ادیبوں کا کوئی میٹنگ پوائنٹ نہیں تھا۔ سب بکھر گئے تھے۔ ہمارے دور کو انتشار کا عہد مان لیا گیا تھا ۔ فرد کو مشین قرار دے دیا گیا تھا اور تنہائی کو ہمارا مقدر ۔!! یہ تسلیم کرلیا گیا تھا کہ تاریخی‘ تہذیبی‘ قومی ‘ معاشرتی ‘ جذباتی و ذہنی ہم آہنگی کی ساری روایتیں منہدم ہوچکی ہیں ۔ پورا ادب درونِ ذات کے کرب میں مبتلا تھا ۔ اس لیے اب ضروری نہیں تھا کہ سب کسی ایک ہی بار یا ہوٹل میں ملیں ۔ شہر بہت پھیل گیا تھا۔ جگہ جگہ وائن شاپس کھل گئے تھے ۔ ہم کسی دوست کے گھر جمع ہوجاتے ۔ کسی قریبی دکان سے شراب منگوا لی جاتی ۔ فون کرنے پر ہوٹل سے ’’ گزگ‘‘ بھی پہنچ جاتی ۔ ہوم ڈیلیوری کا رواج ہوگیا تھا ۔ اب ’’مئے کدہ ‘‘ جانا ہی نہیں ہوتا تھا۔
لیکن وہ کیوں سوچ رہا ہے شہر کی تہذیب کے بارے میں شہرکے بارے میں؟ شاید اس لیے کہ ’’مئے کدہ‘‘ کو بند دیکھ کر اسے بڑا شاک لگا تھا ۔ جیسے تہذیب کا ایک حصہ مرگیا ہو۔
میرا دوست مشیرجو بہتر زندگی کا خواب آنکھوں میں سجائے امریکہ منتقل ہوگیا تھا۔ بیس برس بعد امریکہ سے آیا ۔ اپنا شہر چھوڑ کر باہر بس جانے والے ایک تو ناسٹالجک ہوجاتے ہیں دوسرے چیارٹی کرنے کے لیے اتاولے ہوتے ہیں ۔ وہ ایسی ہر جگہ جانا چاہتا تھا جہاں بیس برس قبل ہم جا یا کرتے تھے۔ ہرجگہ ساتھ چلتا بہت چیزوں کی تبدیلی پر اداس ہوجاتا ۔ ظاہر ہے شہر بہت تیزی سے بدلا تھا اور اس پر گلوبلائزیشن کی پرچھائیاں صاف نظر آرہی تھیں۔ اسے اس لیے بھی مایوسی ہورہی تھی کہ جو چیزیں وہاں ترقی یافتہ شکل میں دیکھ کر آیا ہے یہاں اسی کی نقل کی جارہی ہے۔ شہروں کی شناخت تیزی سے ختم ہورہی ہے ۔ سب شہر ایک جیسے ہورہے ہیں۔ مجھے یاد آیا کہ پرانی باقیات میں صرف ’’مۂ کدہ‘‘ بچا ہے جس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ وہی عمارت‘ وہی انتظام‘ ویسے ہی کاونٹر‘ وہی مستقل گاہگ۔۔۔جو بوتل خرید کر حسب ضرورت پیتے ہیں اور بچی ہوئی شراب کی بوتل محفوظ کروا دیتے ہیں۔ اس بوتل سے ایک قطرہ بھی کم نہ ہوتا۔ ۔ دیانت داری ’’مۂ کدہ‘‘ کی سب سے بڑی خوبی تھی۔ مستقل گاہکوں کو یہاں بڑی اپنائت محسوس ہوتی تھی۔ مشیر کے یہاں رہنے تک ہم روزانہ ’’مۂ کدہ‘‘ جایا کرتے تھے۔ ایک خاص وقت تک شغل کرتے پھر اپنی راہ لیتے۔ پتہ نہیں مشیر کو مۂ کدہ کی یاد کیوں نہیں آئی۔ امریکہ سے آنے کے بعد اس نے ایک بار بھی شراب کا نام نہیں لیا تھا۔میں نے اس سے کہا کہ اسے ایک ایسی جگہ لے چلوں گا جو بالکل نہیں بدلی ۔ دوسرے روز میں اسے ’’مئے کدہ ‘‘ لے آیا۔
لیکن ’’ مئے کدہ‘‘ بند تھا ۔ برسوں پہلے ’’ مئے کدہ‘‘ کی پیشانی پر ابھرے ہوئے لفظوں میںMAI KADA EST: 1904 اسی طرح موجود تھا نیچے اردو میں بھی ’’مۂ کدہ‘‘ لکھا تھا ۔ آس پاس دریافت کیا تو پتہ چلا کافی دنوں سے بند ہے۔ مجھے بڑا شاک لگا۔ اپنی بے خبری پر افسوس بھی ہوا۔ پتہ نہیں یہ سب کب اور کیسے ہوا؟ ایسا محسوس ہوا جیسے تہذیب کا ایک حصہ مرگیا ہو۔
پتہ نہیں سہراب کی صحت کیسی ہے؟ کاروبار میں نقصان تو نہیں ہوا؟ کسی ناگہانی مصیبت میں تو نہیں پھنس گیا؟
ہم لوگوں نے سہراب کے گھرکا پتہ چلایا ۔ اس کے گھر پہنچے ۔ قدیم پارسی طرز کا مکان تھا ۔ ملازم نے ڈرائنگ روم میں بٹھایا ۔ ہم دیوار پر ٹنگی تصویریں دیکھنے لگے ۔ سہراب نے انتظار نہیں کروایا ۔
’’آپ ‘‘ وہ مجھے دیکھ کرچونک پڑا
’’ہاں ۔ اور انھیں پہچانا ۔ مشیر !!‘‘
’’اوہ یاد آیا ۔ آپ تو پورے انگریز ہوگئے ۔‘‘
’’امریکہ میں جو رہتا ہے ۔‘‘ میں نے ہنس کرکہا
’’ آپ تو یہیں رہتے ہیں نا ؟‘‘ اس نے ہنس کر کہا
مجھے شرمندگی ہوئی۔
کہیے کیا لیں گے؟
’’نہیں میں دن میں نہیں لیتا‘‘ میں نے کہا ’’اورمشیر تم؟‘‘
’’نہیں میں بھی نہیں لوں گا‘‘
’’کوئی تکلّف نہیں۔‘‘ اس نے ملازم سے کچھ کہا۔’’آپ لوگوں کو دیکھنے آنکھیں ترس گئیں‘‘
’’میں شرمندہ ہوں ۔‘‘
’’ہاں شہر بھی تو بہت پھیل گیا ہے ۔‘‘
’’آپ کی صحت کیسی ہے ۔ ‘‘
’’اچھا ہوں ۔ ‘‘
’’بزنس میں نقصان ہوا ؟‘‘ میں نے راست پوچھ لیا
’’ نہیں ۔‘‘
’’پھر مئے کدہ ‘‘ ۔ ؟‘‘
’’چھوڑیے کوئی کب تک بزنس کرتا رہے ۔ آدمی کو آرام بھی کرنا چاہیے نا۔! ‘‘
اتنے میں ملازم ٹرے سجا کر لے آیا۔
’’خاص فرانسیسی شراب ہے۔ اتنے دن بعد ملے ہیں‘ انکار نہ کیجیے‘‘
ہم لوگ انکار نہ کرسکے۔ واقعی بڑی نفیس شراب تھی۔ دھیرے دھیرے سرور آنے لگا۔
’’آپ بتایے ‘‘ مشیر سے مخاطب ہوکر اس نے کہا ’’امریکہ میں کیسی گزررہی ہے؟‘‘
’’پہلے جیسا تو نہیں ہے ۔ یہاں کی گھٹن سے بھاگے کچھ دن تو اچھا لگا اب فضا پر حبس چھایا ہوا ہے ۔ شک کے سائے میں زندگی گزارنا کتنا مشکل ہوجاتا ہے۔اس کا تجربہ پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔‘‘
’’سارا منظر نامہ ہی بدل گیا۔‘‘ میں نے کہا ’’وطن کے لیے جدوجہد‘ بین الاقوامی فیصلوں کی جارحانہ خلاف ورزیاں‘ دہشت گردی سب گڈ مڈ ہوگئے ہیں ۔ایک پوری قوم کو دہشت گردی کے جال میں پھنسادیا گیا ۔ ایک آگ سی لگی ہوئی ہے جس میں پتہ نہیں کون کون ہاتھ سینک رہا ہے ۔ لیکن ملزم تیار ہے جرم کہیں بھی کسی نے کیا ہو۔ نشان زدہ ملزمین تیار ہیں ۔ پولیس نے بھی ظلم کے سارے حربے آزمالیے ۔ عدالتیں کبھی چھوڑتیں ہیں کبھی نہیں چھوڑتیں۔ اور بے وقوف قوم دلدل میں دھنستی ہی جارہی ہے ۔‘‘
’’آپ تو جذباتی ہوگئے ۔ تاریخ اپنے رنگ بدلتی رہتی ہے ۔ دیکھیے نا ایران سے مسلمانوں نے ہم کو باہر کیا تھا۔اسپین میں مسلمانوں کو باہر کیا گیا۔ اس ریاست کو ہم آصف جاہی سلطنت کے چرچے سن کر آئے تھے۔ ہمارے اجداد کوسالار جنگ اول نے مدعو کیا تھا۔ انتظامیہ میں ہمیں شامل کیا گیا۔ میرمحبوب علی خان نے ہمیں خطابات سے نوازا تھا۔ نواب سہراب نوازجنگ‘ فرام جی جنگ‘ فریدون الملک وغیرہ وغیرہ فارسی یہاں کی سرکاری زبان تھی اور اردو عوامی زبان ۔ بریانی ‘نوابوں اور موتیوں کا شہر ۔!! گجراتی ‘ مارواڑی ‘ سندھی سبھی آبسے تھے۔ سب کو آزادی حاصل تھی سب نے اپنی اپنی عبادت گاہیں تعمیر کرلیں۔ شاہی خزانے سے مدد بھی ملتی تھی ۔ ہمارے لیے تو بہت سازگار ماحول تھا۔بڑا عجیب معاشرہ تھا۔ ‘‘ اس نے ہنستے ہوئے کہا ’’ آپ کو یاد ہے ؟ نہیںآپ تو بہت چھوٹے رہے ہوں گے ۔تھیٹر میں جب ہم فلم دیکھنے جاتے تو درمیان میں ایک سلائیڈ دکھائی جاتی۔ ’’وقفہ برائے نماز ‘‘ لوگ جلدی جلدی فرض نماز پڑھ کر تھیٹر لوٹ آتے ۔ رند کے رند رہے ہاتھ سے جنت نہ گئی والا معاملہ تھا ۔
’’آپ کو شاہی دور پسند تھا ؟‘‘
’’نہیں رواداری پسند تھی ۔ معاشرے کا کھلاپن اچھا لگتا تھا ۔ اب تو کٹّرپن آگیا ہے ہر قوم میں ۔!
’’ہاں مسلمان بھی خدا حافظ کی جگہ اللہ حافظ اور نماز کے بجاے صلوٰۃ کہہ کر بہت خوش ہونے لگے ہیں‘‘ میں نے کہا۔
’’مئے کدہ‘‘ آپ نے کیوں بند کردیا؟ ‘‘ مشیر نے اچانک پوچھا۔
’’ارے ہاں میں تو اصل بات ہی بھول گیا‘‘ میں نے چونک کر کہا۔
’’چھوڑیے ۔‘‘
’’نہیں بتایے کیا ہوا تھا ؟‘‘میں نے اصرار کیا۔ کافی دیر تک وہ خاموش رہا۔ پھر دھیرے سے کہا
’’ مسلمانوں نے حکومت سے شکایت کی کہ ’’مئے کدہ ‘‘ مسجد سے بہت قریب ہے جو خلاف قانون ہے ‘‘ میں سناٹے میں آگیا ۔ تو یہ مسلمانوں کا کارنامہ ہے۔ میں نے سوچا۔
’’لیکن مسجد اور مئے کدہ برسوں سے اسی جگہ ہیں پھر ؟‘‘
’’وہ شاہی دور تھا۔ اب جمہوریت ہے۔!! مسلمان اس ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہیں۔ اس کا خیال رکھنا حکومت کا فرض بھی تو ہے۔‘‘
’’مسلمان بھی بہت کٹّر ہوتے جارہے ہیں ‘‘ مشیر نے کہا۔ نشہ چڑھنے لگا تو ہم کٹر مسلمانوں کو نوازنے لگے۔
’’مسلمان ہی کیوں ‘‘ سہراب نے ہمیں روکا سب کا یہی حال ہے خود مجھے دیکھیے ۔ میں نے شادی نہیں کی کیوں کہ پارسی غیر مذہب میں شادی نہیں کرسکتے ۔ اس مذہبی شرط کی وجہ سے ہماری تعداد گھٹتی جارہی ہے ۔ اکثر تاخیر سے شادی کرتے ہیں یا نہیں کرتے۔اب پورے شہر میں بارہ سو پارسی رہ گئے ہیں۔‘‘
’’واقعی ؟‘‘
’’ہاں دوسرا مسئلہ موت کا ہے ۔ وہی پرانا دُخمہ ۔ برہنہ نعش کو جلتی دھوپ میں چھوڑدیتے ہیں ۔ اب تقریباً بیس برس سے گدھوں نے شہر کا رخ کرناچھوڑ دیا ہے ۔ اب مختلف الخیال گروپ بن گئے ہیں کوئی کہتا ہے نعش کو دفن کردینا چاہیے ۔ کوئی جلا نے کے حق میں ہے ۔ الکٹرک بھٹی کے بارے میں بھی غور کیا جارہا ہے ۔ کچھ لوگ گِدھوں کی Artificial Incimination کے خطوط پر افزائش کے بارے میں سوچ رہے ہیں ۔ میں تو پرانے طریقے کو ترجیح دوں گا کہتے ہیں کوئی نیک آدمی مرتا ہے تو گدھ آتے ہیں۔ پتہ نہیں ہمارا کیا حشر ہوگا۔!!آپ کے عقیدے کے مطابق شراب بیچنے والا جہنمی ہوتا ہے نا؟‘‘ اس نے ٹھنڈی سانس بھری۔
’’ہاں۔۔۔اور شراب پینے والا بھی۔ اللہ معاف کرے۔!‘‘ میں نے کہا۔
ملازم نے آکر اطلاع دی کہ کھانا تیار ہے۔
’’آپ نے تکلف کیوں کیا۔ اتنی اچھی شراب پینے کے بعد کھانے کی بالکل اشتہا نہیں ہے۔‘‘
’’پارسی ڈشس بنوائی ہیں آپ کے لیے۔۔۔‘‘
ہم کھانے کی میز پر آگئے۔ زندگی میں پہلی بار پارسی ڈشس کھانے کا اتفاق ہورہا تھا۔ اس لیے بھی زیادہ انکار نہ کرسکے۔
’’یہ براون رائس ہے۔ یہ دَھن سَک یہ ساس اِن مچھی اور یہ کچومر سلاد‘‘
براون رائس باسمتی چاول کی عمدہ ڈش تھی جس میں چینی اور کالی مرچ شامل تھی۔ دَھن سَک تور کی دال‘ مونگ کی دال اور اڑت کی دال ‘ انڈے‘ ٹماٹر اور کھیرے سے بنائی گئی ڈش تھی۔ ساس اِن مچھی میں بہترین پمفرٹ تھی ساتھ میں کرارے چکن پارچہ بھی تھے۔کھانا واقعی لذیذ تھا۔ آخر میں موامی بوئی نام کا مچھلی کا میٹھا پیش کیا گیا۔ ہم نے بہت سیر ہوکر کھایا۔سہراب کی مہمان نوازی نے ہمیں بہت متاثر کیا۔
اور آج اطلاع ملی کہ سہراب مرگیا۔
مجھے بار بار یہی خیال آتا تھا کہ ’’مئے کدہ‘‘ کے بند ہوجانے کا اس پر بہت اثر ہوا ہوگا ۔ اس لیے شاید وہ زیادہ جی نہ سکا ہو ۔ میں Guilty محسوس کررہاتھا۔اس کا اپنا کوئی نہ تھا۔ دور کے رشتے دار اور چند احباب تھے۔
پارسی باہر آرہے تھے ۔ سہراب کی برہنہ نعش کو دُخمہ کی چھت پر چھوڑدیا گیا ہوگا۔ میں بار بار آسمان کی طرف دیکھنے لگا ۔ بہت سے پارسی بھی رک گئے تھے ۔ اگر گدھ نہ آئیں تو؟ کیا سہراب کی نعش دھوپ میں سوکھتی رہے گی؟کاش سہراب نے الکٹرک بھٹی کو ترجیح دی ہوتی میں سوچ رہا تھا۔
میں نے غیر ارادی طور پر آسمان کی طرف دیکھا ۔مجھے بچپن کا وہ منظردوبارہ نظر آنے لگا۔ گِدھوں کا ایک جھنڈ تیزی سے دخمہ کی طرف آرہا تھا ۔
پارسیوں کے چہرے خوشی سے کھل اٹھے ۔ بیس برس بعد یہ منظر لوٹا تھا ۔
’’پتہ نہیں کہاں سے آئے ہیں ؟ ‘‘ وہ ایک دوسرے سے سوال کررہے تھے۔
’’اگر فرش پر چینی گرجائے تو چیونٹیاں کہاں سے آتی ہیں ؟‘‘ کوئی میرے کان میں پھسپھسایا
———————————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

The white-winged vulture a Short Story by Javed Nihal Hashmi

Articles

سفید پَروں والے گِدھ

جاوید نہال حشمی

شہر کے بیشتر حصے فساد کی لپیٹ میں آ چکے تھے۔افواہوں کا بازار بھی گرم تھا۔فرقہ وارانہ تشدد کی آگ کو مزید بھڑکنے اور دیگر علاقوں میں پھیلنے سے روکنے کے لئے ضلع انتظامیہ نے حکومت کے متعلقہ شعبے کے تعاون سے انٹرنیٹ سروسز وقتی طور پر بند کروا دی تھیں۔نتیجہ، بیشتر گھروں میں ٹیلی فون اور موبائل کی گھنٹی رکنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی۔
مغل پورہ، حاجی پور، داراب نگر اور قصائی پاڑہ مسلم اکثریتی علاقوں میں شمار ہوتے تھے۔یہاں رہنے والے لوگوں کو اپنے ان رشتے داروں کی فکر کھائے جا رہی تھی جن کے مکان پرتاپ گڑھ، ہنومان گڑھی، سونار پور اور درگا نگر جیسے ہندو اکثریتی علاقوں میں تھے۔ یہی حال وہاں کے ہندو خاندانوں کا تھا جن کے اعزّہ و دوست مسلم علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔ فرقہ وارانہ تشدد کی آگ نے مکانوں اور دکانوں کے ساتھ برسوں کی بھائی چارگی اور نسلوں سے قائم اعتماد اور بھروسے کو بھی جھلسا ڈالا تھا۔بے یقینی، خوف اور جذبۂ انتقام کے شدید احساس سے ان کی پھٹی آنکھیں پلکیں جھپکانا بھول گئی تھیں۔ پولیس کی یقین دہانی میں جھوٹ اور علاقائی چہ مگوئیوں میں حقیقت کا گمان ہونے لگا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ جب ہنومان گڑھی کے لوگوں کو خبر ملی کہ قصائی پاڑہ کےڈاکٹر شرما کا مکان لوٹ کر جلا دیا گیا ہے اور ان کی فیملی کے کسی فرد کا کوئی اَتا پتا نہیں ہے تو انہیں یقین ہو گیا کہ مسلمانوں نے ان سب کا کام تمام کر دیا ہے۔انتقامی کاروائی کے خدشے کے تحت انتظامیہ نے جعفرہ گنج کے گرد گویا پولس کا گھیرا ڈال دیا جو ہنومان گڑھی سے متصل ایک چھوٹا سا مسلم محلّہ تھا۔ ساتھ ہی پولیس افسران نے مقامی لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کی کہ جب تک لاشیں نہیں مل جاتیں، ان کے مارے جانے کی بات بے بنیاد ہے۔ ہو سکتا ہے انہوں نے کسی محفوظ مقام پر پناہ لے رکھی ہو۔ لیکن لوگوں، خاص طور سے نوجوانوں، کو پولیس کے بیان میں قیاس آرائی نظر آئی جب کہ چند مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کی باتوں میں منطق جنہوں نے بڑے وثوق سے کہا تھا کہ قصائی پاڑہ والوں نے ڈاکٹر شرما اور ان کی فیملی کے لوگوں کو ذبح خانے میں قتل کر کے چانپڑوں سے بوٹیاں بنا کر گٹر میں بہا دیا ہوگا، لاشیں کیا خاک ملیں گی۔
کمال یاوَر صاحب تھانہ موڑ کے قریب واقع جدید طرز پر بنے اسٹار ہاؤزنگ کمپلکس میں رہتے تھے جس میں ہندو اور مسلم دونوں فرقوں کے لوگوں کے فلیٹس تھے۔ یہاں زیادہ تر تعلیم یافتہ طبقے کے لوگ رہتے تھے جس کے سبب فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا ایسا ماحول تھا کہ کمپاؤنڈ میں بنے پوجا پنڈال میں مسلمان اور ان کے بچے بھی خوش گپیوں میں مشغول نظر آتے تو عید کے دن ہندو اہلِ خانہ بھی ہاؤزنگ کے گیٹ پر نماز پڑھ کر لوٹنے والے مسلمان پڑوسیوں سے گلے ملنے کے لئے سب سے آگے تیار کھڑے ملتے ۔بعض تو سیوئیاں کھانے پنجابی پائجامہ پہن کر پہنچ جاتے۔ کمال یاور صاحب دو سال قبل جب یہاں رہنے آئے تھے تو ہاؤزنگ کمیٹی کے سکریٹری شبیر صاحب نے اپنے دس سالہ تجربے کا حوالہ دیتے ہوئے سوسائٹی کو قومی یکجہتی کا بہترین نمونہ قرار دیا تھا اور مشترکہ تقریبات کے علاوہ روز مرہ کے واقعات کی کئی مثالیں بھی پیش کی تھیں۔ کمال یاور صاحب صرف امید ہی کر سکتے تھے کہ ملک کی تیزی سے بدلتی سیاسی و فرقہ وارانہ صورتِ حال کا اثر ہاؤزنگ سوسائٹی کے ماحول پر نہ پڑے۔
آج چوتھے روز کرفیو میں وقفے کے دوران جب وہ باہر نکلے تو چوک بازار میں پرانے پڑوسی شمشیر خان سے ملاقات ہو گئی۔ علیک سلیک کے بعد رسمی گفتگو کے دوران اچانک شمشیر صاحب نے پوچھا:
”گزشتہ ہفتے عرفان کو دیکھا تھا۔ کافی کسرتی بدن بنا لیا ہے اس نے۔ کوئی باڈی بلڈنگ کلب جوائن کیا ہے کیا اس نے؟“
”ارے نہیں،بس ہاؤزنگ کے جِم میں پابندی سے وقت دیتا ہے۔“ کمال صاحب نے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ وضاحت کی۔
”کیوں؟ کیا فلموں میں کام کرنے کا ارادہ ہے؟“ شمشیر صاحب کی مسکراہٹ میں طنز کا عنصر بھی شامل تھا۔
” ایسی کوئی بات نہیں۔ آج کے نوجوانوں کو تو آپ جانتے ہی ہیں، فٹ نس کا خبط …“
”انہیں احساس ہو نہ ہو، آپ تو ملک کے حالات سے باخبر ہیں۔ہماری نئی نسل کو معلوم ہونا چاہئے کہ اب بائی سپس (Biceps) بنانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ یہ وقت باڈی بنانے کا نہیں، بم بنانے کا ہے۔آج بابری مسجد ڈھائی گئی، کل کوئی ا ور مسجد ہوگی …“
”جی جی …بالکل ۔“انہوں نے بات کاٹتے ہوئے جلدی سے کہا ۔
پھر اس سے قبل کہ شمشیر خان مزید کچھ کہہ پاتے انہوں نے معذرت خواہ لہجے میں کہا:”میں اس وقت ذرا جلدی میں ہوں۔ پھر ملتا ہوں۔“ اور تیزی سے آگے بڑھ گئے۔ ان کے چہرے پر ناگواری کی لکیریں گہری ہو گئی تھیں۔ اگر رکتے تو زبان سے کوئی تلخ جملہ ضرور ادا ہو جاتا۔
شمشیر خان کی گفتگو سن کر انہیں لگا گویا بستی چھوڑ کر اس ہاؤزنگ کمپلکس میں رہائش اختیار کرنے کا ان کا فیصلہ درست تھا۔ ایسی سوچ چائے خانوں، پان دکانوں اور ہیئر کٹنگ سیلون میں بیٹھ کر عوام کے جذبات سے کھیلنے والے اردو اخبارات کی اشتعال انگیز سرخیوں پر بحث کا نتیجہ ہوتی ہے۔ وہ اس مخصوص طبقے کے لوگوں کی ذہنیت سے بخوبی واقف تھے۔
ابھی کل ہی شام کو ہاؤزنگ سوسائٹی کے دفتر میں شہر کے موجودہ سنگین حالات کے پیشِ نظر ممبران کی ایک جنرل میٹنگ بلائی گئی تھی جہاں فرقہ وارانہ صورت حال کے مدنظر احتیاطی تدابیر و تجاویز پر غور و خوض کیا گیا تھا۔متفقہ طور پر فیصلہ ہوا تھا کہ اس آگ اور خون کی ہولی کا ایک چھینٹا بھی ہاؤزنگ کمپلکس کے اندر آنے سے روکنے کے لئے مشترکہ طور پر ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ ہاؤزنگ کمیٹی کے سکریٹری کی حیثیت سے شبّیر صاحب نے ہاؤزنگ کمپلکس کے اندر فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھنے کے لئے سبھوں سے اپیل کی تھی۔کمیٹی کے صدر چتر ویدی جی اور دیگر نے بھی بھرپورتعاون کا یقین دلایا تھا اور کچھ کار آمد مشورے بھی دئیے تھے۔
ہاؤزنگ کے احاطے میں داخل ہونے کے بعد اپنے فلیٹ کی جانب جانے کی بجائے کمال یاور صاحب نے شبّیر صاحب کے بلاک کا رُخ کیا ۔
دیگر افراد کی طرح آج شبّیر صاحب بھی صبح ناشتے کے بعد سے ہی ٹی وی سے چپکے ہوئے تھے۔چہرہ پُرتفکر اور نگاہیں ٹی وی اسکرین پر مرکوز۔سلام کا جواب دیتے وقت لبوں پر آنے والی رسمی مسکراہٹ چند ساعتوں میں یوں معدوم ہو گئی گویا کسی فرض سے سبکدوش ہونے کی عجلت ہو۔
”یہ انتظامیہ کی نااہلی اور نکما پن ہے یا حکومت کے جانب دارانہ رویّے اور متعصب ذہن کا شاخسانہ … پوری اسٹیٹ مشینری فسادیوں کے آگے بےبس نظر آ رہی ہے۔“ انہوں نے کمال یاور صاحب کی توجہ ٹی وی پر دکھائی جانے والی فسادہ زدہ علاقوں کی ویڈیو کلیپنگ کی طرف مبذول کرنے کی کوشش کی۔لہجے میں برہمی کا عنصر نمایاں تھا۔
کمال یاور صاحب نے خاموشی سے سر ہلا کر اتفاق کا اظہار کیا۔ان کا ذہن شمشیر خان کی باتوں سے پیدا شدہ بدمزگی کے اثر سے ابھی تک آزاد نہیں ہو پایا تھا۔
اچانک ان کے موبائل کا رِنگ ٹون بج اٹھا۔
”معاف کیجئے گا۔“ انہوں نے شبّیر صاحب کی طرف معذرت طلب نظروں سے دیکھتے ہوئے کال ریسو کی۔ پھر کچھ کہنے کے لئے منہ کھولاہی تھا کہ ہونٹ گویا منجمد ہو گئے، اور آنکھیں پھیلتی چلی گئیں …
چترویدی جی کی چہکتی ہوئی آواز تھی:
”ارے کمل یادو جی، ٹی وی کھولیے اور اپنا چینل لگائیے۔ہمارا اسکور تیزی سے بڑھ رہا ہے اور ہم چالیس سے زیادہ کا لیڈ لے چکے ہیں۔پہلے دن جب نمک حراموں نے ہمارے دس بھائیوں کے گھر پھونک دئیے تھے تو میرا خون کھول اٹھا تھا۔ ان غدّاروں کو سبق سکھانے کے لئے اردھ شتک کافی نہیں، ہمارے لوگوں کو سنچری بنانی ہوگی…“
کمال یاور صاحب کھانس کر رہ گئے۔ انہیں گلے میں کچھ اٹکتا ہوا محسوس ہوا تھا۔
”آپ کی طبیعت کچھ ٹھیک نہیں لگتی۔چلیے، پھر باتیں کرتے ہیں، نمسکار۔“
کمال صاحب نےسکتے کے عالم میں موبائل کان سے ہٹایاہی تھا کہ شبّیر صاحب کی چھوٹی بیٹی نے آ کر پوچھا:
”ابّو، امّی نے پوچھا ہے چائے بسکٹ لیں گے آپ لوگ؟“
”ابھی جاؤ یہاں سے۔“ شبّیر صاحب نے ٹی وی نیوز سے نظریں ہٹائے بغیر ہاتھ اٹھا کر قدرے خشک لہجے میں اور تقریباً جھڑک کر کہا۔
ان کی پیشانی پر پڑی سلوٹیں ان کے گہرے ذہنی انتشار کا پتہ دے رہی تھیں اور بار بار مٹھیوں کے بھنچنے سے شدید اضطرابی کیفیت کا اظہار ہو رہا تھا۔
”اس وقت چائے نہیں، ان پیشاب پینے والوں کا خون پینے کی خواہش ہو رہی ہے۔“ شبّیر صاحب تنفر آمیز لہجے میں بڑبڑائے۔
کمال صاحب نے چونک کر ان کی طرف دیکھا کیوں کہ الفاظ تو ان کے تھے لیکن آواز چترویدی جی کی آئی تھی!وہ بے یقینی پن اور تذبذب کے عالم میں شبیر صاحب کا منہ تکتے رہے۔
”یہ ہوئی نا بات۔“تھوڑی دیر بعد اچانک شبّیر صاحب تقریباً چلّا اٹھے۔چہرہ بھی کھل اٹھا تھا، ”اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔ وہ سب دیکھ رہا ہے۔“
کمال صاحب کا شک یقین میں بدل گیا کیوں کہ یہ آواز بھی واضح طور پر چترویدی جی کی ہی تھی۔
شیو مندر میں بھگدڑ،سیڑھیوں پر اٹھارہ لاشیں، مرنے والوں میں پانچ عورتیں اور چھ بچے _ ٹی وی پر بریکنگ نیوز۔
”صوفیہ بیٹا، اب چائے لاؤ۔ بلکہ کچھ کھانے کو بھی لاؤ۔لیٹس سیلے بریٹ۔“ شبّیر صاحب نے چترویدی جی کی آواز میں اپنی بیٹی کو پکارا۔
”ہاں کمال صاحب، بتایا نہیں کس کا فون تھا؟“ شبّیر صاحب نے پوچھا۔
”گھر سے فون تھا۔میرے لوٹنے میں تاخیر سے سبھوں کو فکر ہو رہی تھی۔ اب میں چلتا ہوں۔“
”ارے، چائے تو پیتے جائیے…“
”جی نہیں، شکریہ۔ سب لوگ پریشان ہوں گے۔ چائے پھر کبھی۔ اللہ حافظ۔“
سیڑھیوں سے اترتے وقت انہیں ایک اور الجھن نے آ گھیرا۔پتہ نہیں انہیں ایسا کیوں لگنے لگا تھا جیسے کچھ دیر قبل فون پر انہوں نے چترویدی جی کی نہیں، شبّیر صاحب کی آواز سنی ہو۔
————————————————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

The Flies a Short Story by Tahir Anjum Siddiqui

Articles

مکّھیاں

طاہر انجم صدیقی

کالج سے واپسی پراکرم اپنے پُرانے مکان کی طرف سے گزرا۔ اس مکان کے بازو والے خستہ حال جھونپڑے کی چھت اپنے آگے بنائے گئے ٹاٹ کے سائبان میں جھانکنے کی کوشش کر رہی تھی۔سائبان کے نیچے لگی چارپائی کے اطراف مکّھیاں بھنبھنا رہیں تھیں۔ انھیں دیکھ کر وہ سوچنے لگا.
۔۔۔۔۔اتنی ساری مکّھیاں میں نے اور کہاں دیکھی ہیں؟۔۔۔۔۔کچرے کے ڈھیر پر؟۔۔۔۔۔گڑ کی بھیلی کے اطراف؟؟ ۔۔۔۔۔یا بیف مارکیٹ کے فرش پر جمے خون کے لوتھڑوں پر؟؟؟۔۔۔۔۔جواب ملا کہیں اور۔۔۔۔”
وہ پھر سوچ میں پڑ گیا ۔۔۔۔۔کہاں؟؟؟؟۔۔۔۔۔مگر جواب میں بہت سارے سوالیہ نشانات اس کےذہن میں بکھرتے چلے گئے اور اس نے زینو چاچا کی چارپائی کی طرف دیکھا۔
پہلی نظر میں وہ دکھائی ہی نہیں دئیے۔ ذرا غور کرنے پر ان کا وجود چارپائی سے الگ ہوا اور پھر جھرّیوں کے جال کے ساتھ ننگی چارپائی کی بنت میں استعمال ہونے والی رسّیوں میں کھو سا گیا۔ رسّیاں بھی تو ان کی جلد کی طرح میلی ہو چکی تھیں۔ زینو چاچا اپنے بدن کی طرح لاغر چارپائی میں دھنسے پڑے تھے۔ اُس کے ایک پائے کو اُن کی سانسوں کی طرح باندھ کر جبراً کھڑا کیا گیا تھا۔ دوسرے پائے کو ان کی زندگی کے گراف کی طرح اونچا اٹھانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔
ان کی ذرا سی حرکت سے ڈھیر ساری مکھیاں بھنبھنانے لگتیں۔ حالانکہ چارپائی کا ضروری حصہ بننے سے پہلے زینو چاچا اپنے کپڑوں پر مکھّی تک بیٹھنے نہیں دیتے تھے۔ سفید کپڑے تو ان کی جان ہوا کرتے تھے۔ قمیص، پتلون ہو یا کرتا پاجامہ ان کا رنگ سفید ضرور ہوا کرتا تھا۔ جوانی میں تو ان کی ٹوپی، رومال، بیلٹ، پین، جوتے اور موزے تک سفید ہوا کرتے تھے۔ وہ تھے تو پاور لوم مزدور مگر جب صبح سویرے اپنے گھر سے کھانے کا ٹفن لئے نکلتے تو ان پر کسی رئیس زادے کا گمان ہوتا تھا. دن بھر پاور لوم سے لوہا لے کر گھر کے تانے بانے سلجھانے کے لئے زینو چاچا اپنے کمزور اور دبلے پتلے بدن کو مشقّت میں ڈالے رہتے۔ شام کو پرندوں کے اپنے آشیانوں کی طرف لوٹ جانے کے ایک آدھ گھنٹہ بعد وہ پاور لوم کارخانے سے تھکے ہارے باہر نکلتے۔
کپاس کے ذرّات ضرورت بن کر ان کے بالوں سے چمٹے صاف دکھائی دیتے ۔ وہ بیس برس کی عمر میں ہی مکمل بوڑھے نظرآتے لیکن بوڑھے ہو جانے پر بھی جوان بیٹوں نے انھیں آرام نہیں دیا۔ وہ مسلسل محنت مزدوری کرتے رہے اور بیٹے مفت کا لقمہ توڑتے رہے۔
چھ مہینہ پہلے جب ان کے لئے چارپائی لگائی گئی تھی تب رسّیاں بڑی صاف ستھری تھیں۔ چارپائی بھی تو اچانک ہی لگانی پڑی تھی۔رات آٹھ بجے کے قریب وہ معمول کے مطابق اپنے گھر پہنچے تو باہر ہی سے انہوں نے آواز دی۔
’’شہناز!۔۔۔۔۔اے ۔۔۔۔۔شہناز بیٹی!۔۔۔۔۔ذرا پانی دے تو۔۔۔۔۔‘‘
تھوڑی دیر بعدان کی چھوٹی بہو شہناز بڑبڑاتی ہوئی پانی بھری ٹوٹی بالٹی لائی اور ایک جھٹکے سے رکھ کر کچھ بڑبڑاتی ہوئی واپس اندر چلی گئی۔ انہوں نے ایک گہری سانس لے کرواپس جاتی ہوئی شہناز کو دیکھا اور سوچنے لگے۔
’’صرف یہی لوگ تو رہ گئے ہیں ساتھ میں۔۔۔۔۔شریفہ اور نازیہ کی شادی تو میں نے باہر دوسرے شہر میں کردی ہے۔۔۔۔چلو اچھا ہے سکون سے تو ہیں دونوں۔۔۔۔۔مگر یہ سلیم تو شادی کے ایک مہینے بعد ہی گھر سےالگ ہو گیا تھا۔ تب سے وہ ادھر آتا ہی کہاں ہے؟ اور کریم نے بھی تو جاتے جاتے کتنا جھگڑا کیا تھا ؟؟؟۔۔۔۔۔اب رہ گیا یہ علیم! تو یہ بھی کہاں ٹھیک سے بات کرتا ہے۔۔۔۔۔‘‘
بس اس سے آگے وہ مزیدکچھ نہیں سوچ سکے اور دھڑام سے زمین پر گر گئے۔
گرنے سے کئی ایک جگہ چوٹیں آئیں مگر جبپاس پڑوس کے لوگوں نے انھیں اٹھایا گیا تو پتہ چلا کہ ان پر فالج کا حملہ ہوا ہے۔
تب ان کے لئے چارپائی لگادی گئی۔
اب اُسی چارپائی سے کچروں کے ڈھیر سے زیادہ بدبو اٹھتی تھی اور گندگی سے کہیں زیادہ مکّھیاں ان کے بدن اور چارپائی پر بھنبھناتی تھیں۔ تبھی تو ان کی بہو انھیں کھانا یوں دیتی جیسے کچرے کے ڈھیر پر کچرا پھینک کر بڑی تیزی سے دور چلی جانا چاہتی ہو۔ ان کا اپنابیٹا بھی اُن سے گندگی کے ڈھیر کی طرح کترا کر گزرتا تھا مگر مکّھیاں برابر انھیں گھیرے رہتیں۔
بالکل غیر محسوس طریقے سے زینو چاچا کا بدن لاغر ہوتے ہوتے مکّھیوں کا حصّہ بنتا چلا گیا۔ کئی مرتبہ آتے جاتے دیکھ کر انہوں نے اپنے ہاتھ کے اشارے سے اکرم کو بلایا۔ ہاتھ ہلتے ہی مکّھیوں کی بھبھناہٹ ایک احتجاج بن کر اس کے کانوں تک پہنچی مگر وہ سرد آہ بھر کر آگے بڑھ گیا۔
ان سے ملنے ہی کی وجہ سے ان کی بہو بیٹے سے اس کی ان بن ہوئی تھی۔
اکرم دو ایک دن کے ناغے سے برابر ان سے ملنے جایا کرتا تھا لیکن ایک روز جب وہ زینو چاچا کی چارپائی کے ایک کو نے پر بیٹھا ان سے باتیں کررہا تھا کہ اُس کے والدین خودمعاشی طور پربہت پریشان ہیں۔ ورنہ ان کے لئے علاج کا کچھ انتظام ضرور کرتے اور وہ تو خود ابھی کالج میں ہے۔اس کے پاس کہاں اتنے پیسے کہ وہ ان کی کچھ مدد کر سکے؟ اگر وہ چاہیں تو ان کے بیٹے کو سرکاری دواخانے میں علاج کے لئے لے جانے کو کہہ سکتے ہیں۔ وہ خودبھی ساتھ ہی رہے۔۔۔۔۔۔
مگردرمیان میں ہی چاچا کی بہو اندر سے تلملاتی ہوئی آئی اور برس پڑی ۔
’’اے اکرم ! تو مت آ یا کر تو یہاں ۔۔۔۔۔‘‘
وہ ہکا بکا ہو کر اس کا منہ دیکھنے لگا اور اس کی چڑھی ہوئی تیوریاں دیکھتے ہوئے بولا۔
’’شہناز بھابھی ۔۔۔۔کیا ہوا ؟۔۔۔۔۔ایسے کیوں بول رہی ہو؟۔۔۔۔۔”
” ‎بس بول دی نا ۔۔۔۔۔۔۔نہیں آ نا ادھر تو نہیں آنا سمجھے ۔۔۔۔اور اتنی ہی ہمدردی ہے اگر ان سے تولے جا اپنے گھر رکھ سمجھے ۔۔۔۔۔دیکھو جی ! یہ اکرم ابّا کو تمہارے بارے میں کیا کیا بول رہا تھا ابھی۔۔۔۔۔اور میں بول رہی ہوں تو زبان چلارہا ہے مجھ سے۔۔۔۔۔‘‘
اتنا کہہ کر وہ پیر پٹختی ہوئی گھر میں چلی گئی مگر علیم تیزی سے باہر نکلا ۔
اسے دیکھ کر اکرم کا خون کھول اٹھا. جینس پینٹ، جینس شرٹ، گلے میں سنہری چین ۔ بائیں ہاتھ میں کڑا ، بال فلمی ہیرو کے انداز سے سنوارے ہوئے اپنے بالوں کو مزید سنوارتے ہوئے کہنے لگا ۔
’’سن اےاکرم ! دوبارہ ادھر آیا نا۔۔۔۔۔تو ہاتھ پاؤں توڑ ڈالوں گا. سمجھا کیا؟ ۔۔۔۔۔دکھائی مت دینا ادھر دوبارہ ۔۔۔۔۔سالے لڑائی لگاتا ہے باپ بیٹے میں ۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کیسی لڑائی ۔۔۔؟ اس نے زینو چا چا کی طرف دیکھا ۔ اس کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا ۔۔۔اکرم بس اتنا سمجھ سکا کہ اس کا زینو چاچا سے ملنا ان کو خراب لگتاہے ۔
’’ٹھیک ہے ۔۔۔۔۔۔چلا جاتاہوں ۔۔۔۔۔نہیں آؤں گا ۔۔۔۔۔۔چلو چاچا ۔۔۔جو غلطی ہوئی معاف کرنا ۔۔۔۔۔‘‘
اس نے جھک کر چاچا سے کہا ۔
اکرم کی آواز بھرا گئی۔ علیم اندر چلا گیا ۔ چاچا خاموش رہے ۔عجیب سی نظروں سے اُسے دیکھتے رہے ۔ اُس نے اٹھ کراپنی چپل پہنی اور چلتے چلتے زینو چاچا کو دیکھا ۔ ان کی آنکھوں کے کناروں سے آ نسو ڈھلک رہے تھے ۔اکرم کی آنکھیں بھیگنے لگیں…… اور کیوں نہ بھیگتیں ؟ وہ انہیں کی گود میں کھیل کر تو بڑا ہوا تھا ۔ حالانکہ وہ رشتے میںاس کے کچھ نہیں لگتے تھے ۔ بس پڑوسی تھے لیکن اسے بچپن میں زینو چاچا سےبہت پیار ملا تھا۔
اکرم کو اُس کے گھر والوں نے بتایا تھا کہ صبح جب اُس کی آ نکھ کھلتی تو ناشتے کی بجائے زینو چاچا کا تقاضا کرتا اور ان کے لئے اتنی ضد کرتا کہ کسی کے ذریعے زینو چاچاکی گود میں پہنچا ہی دیا جاتا ۔ وہ اگرناشتہ کر رہے ہو تے تو زانو پر بٹھا کر اپنے ہاتھ سے چھوٹے چھوٹے نوالے اُس کے منہ میں ڈالتے ۔ ناشتے کے بعداُس کا منہ دُھلاتے ،تولیہ سے اپنا اوراُس کا منہ ہاتھ پونچھتے اوراُسے گود میں اٹھاکر ہوٹل کی طرف چل دیتے ۔
اپنے لئے گرما گرم چا ئے اور اکرم لئے دودھ کا آرڈر دیتے۔ دودھ آجانے پر چائے کا گلاس ایک طرف رکھ کر دودھ ٹھنڈا کرنے لگتے ۔۔۔۔ گلاس ہلاتے جاتے ۔۔۔اور اُس میں پھونک بھی مارتے جاتے ۔حالانکہ وہ بہت گرم چائے پینے کے عادی تھے مگر دودھ ٹھنڈا کرنے کے چکّرمیں اُن کی چائے بھی ٹھنڈی ہو جاتی ۔ جب وہ ٹھنڈا ہوجانے والادودھ اُسےپلا دیتے تو چائے ان کے انتظار میں پانی ہو جاتی ۔ وہ اسے ایک ہی سانس میں پی جاتے ۔
جب ہو ٹل سے واپس آ کر زینو چاچااکرم کواُس کے گھر والوں کے سپرد کر تے تو وہ ان سے چمٹ جاتا ۔ ان کے کپڑے ، داڑھی، کان، ناک یا سر کے بالوں میں سے جو بھی ہاتھ آجاتا اسے مضبوطی سے جکڑ لیتا مگر جیسے تیسے وہ اُسے گھر والوں کو سونپ کر پاور لوم کارخانے کی جانب چل دیتے اور اکرم اُن کے لیے روروکر پورا گھر سر پر اٹھا لیتا تھا لیکن آج زینو چاچا کو دیکھنے کے بعد ایک سرد آہ بھر کر بوجھل قدموں سے اُسے آگے بڑھ جانا پڑا۔ ایسا لگتا جیسے ان کے اطراف کی مکھیوں کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہو اوراُس ذہن کے سوالیہ نشانات بھی اتنی ہی تیزی سے پھیلتے جارہے ہوں۔
“۔۔۔۔۔کہاں دیکھی ہے اتنی مکھیاں میں نے ؟۔۔۔۔کہاں ہے ؟؟۔۔۔۔۔کچڑے کے ڈھیر پر ؟؟؟۔۔۔۔۔۔۔گڑ کی بھیلی کے اطراف؟؟؟؟۔۔۔۔۔یا بیف مارکیٹ کے فرش پر جمے خون کے لوتھڑوں پر ؟؟؟؟؟ مگر جواب میں سوالیہ نشانات ذہن میں پھیلتے چلے جاتے۔
ایک دن جب اکرم ادھر گیا تو زینو چاچا کی چارپائی سے مکھیوں کے بھنبھنانے کا شور نہیں اٹھا ۔اُن کا جنازہ ہی اٹھ گیا ۔۔۔وہ جنازے کے ساتھ ساتھ تھا ۔
جنازے کو چاروں طرف سے دیکھ چکا تھا ۔ مکھیوں کا کہیں پتہ نہیں تھا مگران کی بھنبھناہٹ برابراُس کے ذہن میں گونج رہی تھی ۔وہ جنازے کو کاندھا دے رہا تھا۔مکھیاں ان کے جنازے کے ساتھ نظر نہیں آرہی تھیں لیکن ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے بے شمار مکھیاں اُس کے ذہن میں بھنبھناتی ہوئی رینگ رہی ہوں ۔
رینگتی بھنبھناتی مکھیوں کو اپنے ذہن میں لئے لئےاکرم جنازے سے آگے بڑھ گیا۔قبرستان قریب آگیا ۔ وہ جنازے سے آ گے بڑھتا گیا ۔ اچانک مکھیوں کی بھنبھنانے کا وہی شور اکرم کے کان کے پردوں سے ٹکرایا ۔ اُس نے فوراً پلٹ کر جنازے کی طرف دیکھا زینو چاچا کا جنازہ ان کے بیٹوں کے کاندھوں پر تھا ۔مگر مکھیاں وہاں نہیں تھیں۔ اُس نے مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرف دھیان دیااور نظر گھما کرقبرستان کی دیوار کی طرف دیکھا۔ رس نکالنے والی مشین سے گنے کا سارا رس نکال کر گنّے کے تقریباً سوکھ جانے والے پھوگ کو ایک آدمی پہلے سے پڑے پھوگوں کے ڈھیر پرپھینک رہا تھا اورپھوگ کےاُس ڈھیرپر بے شمار مکھیاں بھنبھنا رہی تھیں۔

٭٭٭
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Beemari a Short Story by Wajahat Abdussattar

Articles

بیماری

وجاہت عبدالستار

ملک میں کرفیو نافذ ہوکر پندرہ دن مکمل ہو چکے تھے ۔کورونا نامی معمولی جرثومے کے خوف نے پوری دنیا کو اپنے گھیرے میں لےرکھا تھا ۔ حکومتوں کے پاس اب تک اس کا کوئی مناسب علاج موجود نہیں تھا اسلئے حکومتیں صرف احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے لوگوں کو اپنے گھروں میں قید رہنے کی سختی بنام تلقین کر رہی تھیں۔غذائی اجناس اور ضروریات زندگی کی خریداری کے لئے روزانہ صبح دو گھنٹے کرفیو میں راحت دی جاتی ۔ آج بھی کرفیو میں دو گھنٹے کی راحت ملی تو سب لوگ اپنے اپنے گھروں سے باہر نکل پڑے اور ضروری اشیا کی خرید و فروخت میں مصروف ہوگئے ۔ کچھ بے فکرے ایسے بھی تھے جنہوں نے چالاکی سے تین چار مہینے کے اناج کی ذخیرہ اندوزی کر رکھی تھی۔اس لئے ان اوقات میں باہر آکر وہ گپے شپے لڑاتے رہتے ۔ ندیم نے جیسے ہی حاجی اسلم کو دیکھا مبارک باد دیتے ہوئے کہا ۔
” مبارک ہو حاجی صاحب ۔۔ رفیق بتا رہا تھا کہ فیس بک پہ آپ کی تصویر کو پانچ سو زیادہ لائک ملے ہیں ۔۔”
”ہائیں ۔۔! کون سی تصویر ۔۔؟”
حاجی اسلم نے پان کی پچکاری مارتے ہوئے پوچھا ۔۔

” شاید کسی مسکین کو اناج کی تھیلی پکڑا رہے تھے آپ ۔۔”
ندیم نے جواباً کہا تو حاجی اسلم کی باچھیں کھل گئیں اور ان باچھوں سے پان کی پیک رِستے رِستے رہ گئی ۔
” اب کیا بتاوں ندیم بھائی … ” حاجی صاحب نے پان کو واپس اپنے دانتوں کے چنگل میں پھنساتے ہوئے کہا ۔
” بس اللہ کام لے رہا ہے جی ۔۔ لیکن یہ رفیق ہے نا ۔۔بڑا خار کھاتا ہے مجھ پر ۔۔”
” اچھا ۔۔۔بھلا وہ کیوں ۔۔؟” ندیم نے سوال داغا ۔
” ارے اس کی تصویروں کو کوئی نہیں پوچھتا نا فیس بک پر ۔۔۔” حاجی صاحب نےسرگوشیوں کے انداز میں کہا ۔۔” اس لئے کم لائک والی فوٹو کے بارے میں بتایا ہوگا لیکن مجھے یقین ہے اس نے تمہیں چار ہزار لائک والی پوسٹ کے بارے میں بالکل نہیں بتایا ہوگا ۔۔”
” چار ہزار ۔۔۔؟ ” ندیم نے حیرت ظاہر کرتے ہوئے کہا ۔۔” ارے واہ واہ حاجی صاحب ۔۔۔چار ہزار لائک معمولی بات نہیں ۔۔۔ واه ..!”
” صرف لائک ہی نہیں۔۔ سات سو کمنٹ بھی تھے ۔۔” یہ بتاتے ہوئےحاجی صاحب کا سینہ چھپن انچ چوڑا ہو گیا اور چہرے سے مسرت چھلکنے نہیں بلکہ ٹپکنے لگی ۔
” ارے واہ ۔۔۔ بھلا ایسی کیا بات تھی اس پوسٹ میں ؟ ”
” وہی ۔۔۔۔وہ پڑوسیوں والی حدیث نقل کی تھی میں نے ۔۔” حاجی صاحب نے اپنی ٹوپی اٹھا کر سر کھجایا اور کہا ۔ ” ارے وہی ۔۔جس میں نبی پاک ﷺ نے فرمایا نا ۔۔کہ تمہاری مدد کے سب سے زیادہ مستحق تمہارے پڑوسی ہیں ۔۔”
” ارے واہ واہ حاجی صاحب ۔۔واہ ۔۔۔ ۔۔۔آپ تو وی آئی پی بن گئے محلے کے ۔۔چار ہزار لائک اور سات سو کمنٹ ۔۔واہ بھئی واہ ۔۔۔ایک بار پھر مبارک ۔۔”
اسی اثنا میں سلیم رکشہ والا دوڑتا ہوا آیا اور تقریباً چیخ پڑا ۔۔
” ندیم بھائی ، ندیم بھائی۔۔حاجی صاحب ۔۔ وہ ۔۔وہ ۔۔۔ خواجہ چاچا ۔۔۔! ”
” ارے کون خواجہ چاچا ۔۔۔ ؟ یہ اتنا کیوں ہانپ رہا ہے تو ؟ ۔۔ذرا ہانپنا تو بند کر پہلے ۔ ” ندیم نے سلیم کو جھاڑتے ہوئے کہا ۔
” وہ دیہاڑی پہ کام کرنے والے خواجہ چاچا تھے نا ۔۔۔ارے وہی جن کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔” سلیم اپنی سانسیں درست کرتے ہوئے یاد دلانے کے انداز میں بولا ۔۔ ”ارے چھ مہینے پہلے ہی ان کی بیوی مر گئی تھی نا ۔۔”
” ہاں تو کیا ہوا انہیں ؟ وه بھی مر گئے کیا ۔۔؟ ”
حاجی صاحب نے پان کی پچکاری سے دیوار لال کرتے ہوئے اطمینان سے پوچھا ـ
” ہاں ۔مرگئے ۔۔۔” سلیم رکشہ والے نے بجھے بجھے انداز میں کہا ۔
” صبح اپنے بستر پر مردہ حالت میں پائے گئے ہیں ۔ ”
” انا للہ و انا الیہ راجعون ”
دونوں کی زبان سے ایک ساتھ نکلا پھرندیم نے سلیم سے پوچھا ۔۔
” کیا بیماری تھی انہیں ؟ کیا انہیں بھی کورونا ہو گیا تھا ۔۔؟”
سلیم نے دونوں کو عجیب سی نگاہوں سے دیکھا اور کہا ۔۔
” کورونا ؟ … نہیں نہیں ندیم بھائی ۔۔! کورونا نہیں ۔۔”
” اچھا ۔۔۔” ندیم کے چہرے پر فاتحانہ مسکراہٹ دوڑ گئی جیسے اس نے کورونا کو مار بھگایا ہو ، پھر اس نے اپنی بائیں آنکھ دبا کر تمسخرانہ انداز میں سلیم سے پوچھا ۔
” تو کیاایڈز ہو گیا تھا انہیں اس عمر میں۔۔۔؟ ”
سلیم ایک لمحے کے لئے بھونچکا سا رہ گیا اور تعجب سے سماج کے ان وی آئی پی لوگوں کو دیکھنے لگا جن پر یہ مخصوص حالات بھی اثر انداز نہیں ہوئے تھے ۔۔ کچھ دیر کے لئے تو اسکی زبان گنگ ہو کر رہ گئی پھر اس نے سپاٹ لہجے میں جواب دیا
”ایڈز نہیں ندیم بھائی ۔۔ایڈز سے بڑی بیماری ہوگئ تھی اس بڈھے کو ۔۔ بھوک ۔۔۔بھوک کی بیماری چاٹ گئی اس بڈھے کو ۔۔ بھوک کی بیماری ۔۔”
سلیم رکشے والا نمناک آنکھوں سے یہ الفاظ بدبداتا ہوا پلٹنے لگا تو حاجی اسلم بھائی نے آواز لگائی ۔۔
”اوئے سلیم ۔۔ سچ میں اس بڈھے کے آگے پیچھے کوئی نہیں تھا کیا ۔۔؟ ۔۔ اب کفن دفن کا انتظام تو ہم لوگوں کو ہی کرنا پڑے گا نا ۔۔۔ ”
” ہاں ۔۔ ”
”اب یہ تو بتاتا جا یہ بڈھا رہتا کہاں تھا ۔۔”
” وہ ۔۔۔ وہ تو آپ کے بالکل پڑوس ہی میں رہتا تھا حاجی صاحب ”
سلیم نے چبھتی ہوئی نگاہوں سے حاجی صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا اور پژمردہ قدموں سے پلٹ پڑا ۔

Daman e Yazdaan Chaak a Short Story by Ansari Afzaal Ahmad

Articles

دامنِ یزداں چاک

انصاری افضال احمد

رات کا پچھلا پہر تھا … میرے سامنے نئے افسانے کا ادھورا مسودہ پڑا ہوا تھا ، میں بالوں میں انگلیاں دیئے ہوئے مسلسل مرکزی کردار کے اختتام کے بارے میں سوچ رہا تھا ، بیوی کی بے حیائی، بے وفائی، دوسرے مردوں سے کھلے عام معاشقہ، مرکزی کردار کی بے روزگاری، بے بسی، بیوی کا اچھی تنخواہ پر کام کرنا، گھر میں آفس کے لوگوں کو کام کے بہانے سے لانا اور بے حیائی کرنا… مرکزی کردار کو کیا کرنا چاہیے؟؟ طلاق دے کر دوسری لڑکی تلاش کر لے؟؟ مگر اس سے بھی شاید دل دریدہ زخموں کا مداوا نہ ہو سکے اور یہ تو ایک سیدھا سا اختتام ہوگا، اس میں نہ کوئی کرب آزارافسانوی رنگ ہوگا نہ پڑھنے والے کے لیے کوئی دلچسپی… پھر؟؟؟ پھر کیا کرنا چاہیے اسے؟؟ یہ سوچتے ہوئے میرے ماتھے کی رگیں تن گئیں، مٹھیاں بھنچی ہوئیں اور سانسیں چڑھی ہوئی تھیں پھر اچانک ایک خیال سا ذہن میں آیا… ہاں اسے خودکشی کرنا ہوگی تاکہ انجام افسانوی اور چونکا دینے والا ہو .. اور ویسے بھی موت سے کردار کے سارے دکھوں کا مداوا ہوجاتاہے… موت زندگی کا سب سے بہترین حسن ہے۔موت سارے دکھوں کا اپنے خوبصورت ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر اپنے چاہنے والوں کو رہائی دیتی ہے.. ہاں اسے یقیناً مر ہی جانا چاہیے.. یہ سوچتے ہوئے میں نے آنکھیں موند لیں.. اچانک کچھ آوازوں کے شور سے میں ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا.. کمرا مختلف نوع کی آوازوں سے بھرا ہوا تھا، ہر طرف پرچھائیاں اور سائے لہرا رہے تھے اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر مجھ سے کچھ کہہ رہے تھے مگر ایک ساتھ آتی ہوئی آوازوں کے سبب میں کچھ بھی سمجھنے سے قاصر تھا .. میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی، جسم سے جیسے پسینے کی دھاریں پھوٹ رہی تھیں، سانسیں تنی ہوئی تھیں ٹیبل لیمپ کی روشنی ہلکی ہلکی سی سارے کمرے میں پھیلی ہوئی تھی، اور اسے شاید روشنی کہنا بھی غلط تھا یہ تو ایک ایسا اندھیرا تھا جسے تھوڑی سے روشنی نے اور گھنا کر دیا تھا…. مسلسل آوازیں جب میری برداشت کے باہر ہونے لگیں تو میں اچانک پھٹ پڑا… “خدا کے لیے خاموش ہو جاؤ !!!کون ہو تم لوگ؟ اور میرے کمرے میں کیوں گھس آئے ہو ؟ ” میں تم لوگوں کو جانتا تک نہیں” ۔۔ کون ہو تم لوگ”
میرا خاموش ہونا تھا کہ آواز کی بھنبناہٹوں کا شور غالب آگیا. ان میں غصیلی آوازیں بھی تھیں، تکرار اور اضطراب سے بھری آوازیں بھی، کچھ آوازیں خود میں بے انتہا درد سموئے ہوئی تھیں تو کچھ گریہ وزاری کر رہی تھیں… اس مرتبہ میں حلق پھاڑ کر چینخا… “چپ ہو جاو!!… چپ ہوجاؤ!!!… کیوں میری جان کے گاہک بنے ہوئے ہو؟اگر تم لوگ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہو تو ایک ایک کر کے مجھ سے بات کرو! ” یہ کہنا تھا کہ کمرے میں دل کو دہلا دینے والا گمبھیر سناٹا چھا گیا اور سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے آ گیا.. ” ہاں کہو! کیا کہنا چاہتے ہو؟ اور تم کون ہو یہ بھی مجھے بتاؤ؟؟ ” ” میں کون ہوں؟؟” ایک کھرکھراتی ہوئی آواز میرے کانوں سے ٹکرائی “تم مجھے نہیں جانتے؟ تم نے مجھے زندگی دی، تمہاری ہی مرضی کے مطابق میں نے وہ زندگی گزاری!!اور تم نے ہی مری مرضی کے خلاف مجھ پر موت مسلط کر دی!! جس کہانی میں تم نے مجھے جنم دیا تھا، میں اس کے دوسرے کرداروں سے بے انتہا محبت کرتا تھا! ٹھیک ہے میری بیوی میری بے روزگاری کی وجہ سے مجھے کوستی رہتی تھی، یہ بھی درست ہے کہ میرا لڑکا مجھے ہمیشہ اس بات کا طعنہ دیتا تھا کہ میں نے اسے ایک اچھی اور معیاری زندگی نہیں دی، لیکن کیا تمہیں نہیں معلوم انہیں کرداروں میں میری چھ سال کی ایک بچی تھی.. جو مجھ سے بہت پیار کرتی تھی، میں جب گھر آتا تو میرے پیروں سے لپٹ جاتی، اپنی توتلی زبان میں مجھے دن بھر کی معصوم سی باتیں بتاتی، تم اگر میرے اندر جی رہے ہوتے تو تم جان پاتے کہ اس کی محبت ساری نفرتوں پر حاوی تھی، میں اس کے لیے جینا چاہتا تھا، مگر تم……!!.! اس کی آواز بلند ہوتی جا رہی تھی.. “مگر تم میرے خدا بن بیٹھے، تمھیں تو میری کہانی کا درد بھرا اختتام چاہیے تھا، تا کہ لوگ تمھیں سراہیں.. اور تم نے اپنے لالچ کے چلتے میرے حق میں موت کا فیصلہ سنا دیا، تم نے مجھے خود کشی پر مجبور کر دیا ” ” میں نے مجبور کیا ؟ ” ” ہاں تم نے!! لوگوں نے اسے خودکشی سمجھا ہوگا ! مگر میں جانتا ہوں کہ یہ قتل تھا، اور تم میرے قاتل ہو!! تم ہوتے کون ہو میری زندگی کا فیصلہ کرنے والے؟ کیا صرف اس لئے کہ تم نے مجھے تخلیق کیا ہے؟ “
” میرے لحاظ سے جو فیصلہ میں نے لکھا تھا ، وہ درست تھا ” میں نے اپنے دفاع کی کمزور سی کوشش کی.. ” اس نے سبھوں کے ساتھ ایک سا برتاؤ کیا ہے ” ایک منمناتی ہوئی آواز میرے کانوں میں آئی اور ایک سایہ بھیڑ سے نکل کر سامنے آ گیا… ” میں ایک عفیفہ تھی، شوہر کی شراب کی لت، اس کی بیماری، بچوں کی کثرت نے مجھے توڑ تو دیا تھا مگر پھر بھی میں اپنے حوصلے کے سہارے ان مصائب کا سامنا کیا مگر میری اس مجبوری اور میری خوبصورتی کا فائدہ اٹھا کر تم نے مجھے کوٹھے پر بٹھا دیا، مجھے جسم فروشی پر مجبور کیا… ” ” میں نے مجبور کیا؟؟” “ہاں تم نے…..!! کیوں کہ تم کہتے ہو ‘چکی پیسنے والی عورت جو دن بھر کام کرتی ہے۔ اور رات کو اطمینان سے سو جاتی ہے۔ تمہارے افسانوں کی ہیروئن نہیں ہو سکتی۔ تمہاری ہیروئن چکلے کی ایک طوائف ہو سکتی ہے۔ تمہیں اور تمہارے پڑھنے والوں کو میری مشقت بھری با عزت زندگی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اس لیے تم نے مجھے چکلے پر بٹھا دیا، تم نے اگر میرے کردار کو جیا ہوتا، جیسا تمہارا دعوی ہے، تو شاید تم میرے لیے چکلے کا انتخاب نہ کرتے، لیکن تم تو ہمارے خالق ہو تمہیں ہمارے جذبات اور احساسات سے کیا لینا، تمہیں تو صرف اپنی تحریروں پر داد بٹورنی ہوتی ہے، میری عصمت کا سودا کرنے والے تم ہو، تم نے میری دلالی کی ہے، میرے جسم کو فروخت کر کے تم نے دولت، عزت اور شہرت کمائی ہے.
میری جانب اٹھنے والی غلیظ نگاہیں اور میری جانب لپکنے والے ہاتھ تمہارے تھے، تم کیا سمجھتے ہو کہ میری عصمت کے لٹنے کا الزام تم دوسروں پر ڈال کر بری الذمہ ہو جاؤ گے؟؟ ”
” سنو! میں نے تمہارے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں کی ہے، مجھے لگا کہ ایسے حالات میں شاید یہی ہونا چاہیے تھا “میں نے دفاع کی ایک کمزور سی کوشش کی…
” یہی ہونا چاہیے تھا؟؟ تم ہوتے کون ہو میرا اگلا قدم طے کرنے والے؟؟ چکلہ اور کوٹھا تم مرد ذات کے دماغوں میں گھسا ہوا ہے، جتنی نجاست اور غلاظت تمہارے دماغوں میں بھری ہوئی ہے اتنی تو ان کوٹھوں پر بھی نہیں ہوتی،بلکہ کوٹھے تو تم لوگوں کے ذہنی بیت الخلاء کا کام کرتے ہیں، جہاں تم اپنی گندگیاں اگل کر معاشرے میں سفید پوش بنے پھرتے ہو.. اچانک ایک پھٹے پھٹے سے سائے نے اس عورت کو پیچھے کیا اور خود آگے آ گیا اور نہایت درد ناک آواز میں چلانے لگا، اس کی شکل میں پہچانتا تھا، میں نے بھی چلّا کر کہا..
“ارے تمہیں تو میں بہت اچھی طرح پہچانتا ہوں، تم میری آخری کہانی کے کردار تھے، تم جو ایک مذہبی جنونی تھے تم نے ایک بھرے چوک پر خود کو بم سے اڑا لیا تھا اور بے شمار معصوموں کی جان لی تھی “
“میں نے خود کو بم سے اڑایا تھا؟؟؛ ارے میں تو مدرسہ میں تعلیم حاصل کرنے والا ایک عام سا نوجوان تھا، جو خود بھی جینا چاہتا تھا اور دوسروں کو بھی جینے دینا چاہتا تھا مگر تم نے میرے جسم ہر بم باندھ کر مجھے بھرے چوک میں اڑا دیا، تم جو کرداروں کے لہو سے اپنی کہانیوں میں رنگ بھرتے ہو، آہوں اور سسکیوں سے اس کا راگ سنوارتے ہو… کیا تمہارے پاس دریائے نیل سے آنے والے امن کے حوالے نہیں تھے؟ کیا تم نے برگد کے نیچے بیٹھے اس شخص کی انسان سے انسان کی محبت کے پیغام کو نہیں سنا جس نے امن اور محبت کے لیے اپنا سب کچھ تیاگ دیا تھا؟ کیا تم تک مردوں کو زندہ کرنے والے کا پیغام امن نہیں پہنچا؟؟ وہ جو مردوں کو زندہ کرکے مسیحائی کرتا تھا اور تم جو زندوں کو مردہ بنانے پر تلے ہوئے ہو.. کیا تمہارے کانوں میں رس گھولتی ہوئی بانسری کی وہ آوازیں نہیں آئیں جس نے جانوروں کو بھی محبت کی ڈور سے باندھ دیا تھا ؟ ہاں تم سنتے بھی تو کیسے سنتے!! تم دیکھتے بھی تو کیسے دیکھتے!! ان میں تمہارے اور تمہارے قارئین کے لیے دلچسپی کہاں تھی!!! تم نے تو ان قوموں سے سیکھا جنھوں نے دنیا کو لکیروں، زاویوں، رنگوں، نسلوں، زبانوں اور دھرموں میں تقسیم کیا، تم بھی تو انہیں کے علم بردار ہو، تمہیں کیا ہوجاتا اگر تم مجھے میرے اصلی کردار میں پیش کر دیتے؟ ہاں شاید تمہاری کہانی کا رنگ چلا جاتا کیونکہ امن کا پرچم بھی سفید ہوتا ہے”…
اچانک سایوں کی بھیڑ میں سے ایک سایہ آگے سرک آیا،اس کی آنکھوں میں موت کا خوف رقص کر رہا تھا اس نے فضا میں مکے لہرائے اور بلند آواز سے کہنے لگا.. “تمہیں تو اس نے انجام تک پہنچا دیا مگر میرا انجام ہونا باقی ہے، میری ادھوری کہانی اس کی میز پر رکھی ہوئی ہے، اور اس نے مجھے میرا انجام نہیں بتایا ہے،لیکن مجھے یقین ہے کہ یہ میرے لیے بھی موت ہی چنے گا، سن رہے ہو تم؟؟ بتاؤ مجھے تم نے میرے لیے کیا چنا ہے؟؟ “
رفتہ رفتہ میرے سارے کردار سامنے سے ہٹتے چلے گئے، اب میرے سامنے ایک ہی کردار تھا جو مجھ سے سوال کر تھا کہ میں نے اس کے لیے کیا چنا ہے…
” ہاں تم نے صحیح سوچا ہے، موت ہی تمہارے غموں کا مداوا ہے “
” یہ تو تمہارا فیصلہ ہے… قلمکار!..!! تم اپنے حصے کی موت مجھ پر لادنا چاہتے ہو…مگر آج نہیں!! آج قلم وہی ہوگا اور کاغذ بھی وہی اور فیصلہ بھی وہی مگر لکھنے والے ہاتھ اور کردار بدل جائیں گے… ”
رات کا سیاہ اندھیرا چھٹ چکا ہے ، سورج کی پہلی کرن ابھی ابھی اندرداخل ہوئی ہے۔ کلائیوں سے بہنے والے خون نے کاغذ پر پھیلی سیاہی کو مٹاکر ادھوری کہانی کو مکمل کردیا ہے.
————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Singhar Daan a Short Story by Shamoil Ahmad

Articles

سنگھار دان

شموئل احمد

فساد میں رنڈیاں بھی لوٹی گئی تھیں….

برحمبوہن کو نسیم جان کا سنگھار دان ہاتھ لگا تھا۔ سنگھار دان کا فریم ہاتھی دانت کا تھا۔ جس میں قد آدم شیشہ جڑا ہوا تھا اور برجمبو ہن کی لڑکیاں باری باری سے شیشے میں اپنا عکس دیکھا کرتی تھیں۔ فریم میں جگہ جگہ تیل، ناخن پالش اور لپ اسٹک کے دھبے تھے جس سے اس کا رنگ مٹ میلا ہو گیا تھااور برجمبوہن حیران تھا کہ ان دنوں اس کی بیٹیوں کے لھچن….

یہ لچھن پہلے نہیں تھے…. پہلے بھی وہ بالکنی میں کھڑی رہتی تھیں لیکن انداز یہ نہیں ہوتا تھا…. اب تو چھوٹی بھی چہرے پر اُسی طرح پاﺅڈر تھوپتی تھی اور ہونٹوں پر گاڑھی لپ اسٹک جما کر بالکنی میں ٹھٹھا کرتی تھی۔

آج بھی تینوں کی تینوں بالکنی میں کھڑی آپس میں اسی طرح چہلیں کر رہی تھیں اور برحمبوہن چپ چاپ سڑک پر کھڑا ان کی نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔ یکایک بڑی نے ایک بھرپور انگڑائی لی۔ اس کے جوبن کا اُبھار نمایاں ہو گیا۔ منجھلی نے جھانک کر نیچے دیکھا اور ہاتھ پیچھے کر کے پیٹھ کھجائی۔ پان کی دکان کے قریب کھڑے ایک نوجوان نے مسکرا کر بالکنی کی طرف دیکھا تو چھوٹی نے منجھلی کو کہنی سے ٹھوکا دیا اور پھر تینوں کی تینوں ہنسنے لگیں…. اور برحمبوہن کا دل ایک انجانے خوف سے دھڑکنے لگا…. آخر وہی ہوا جس بات کا ڈر تھا…. آخر وہی ہوا….

یہ خوف برحمبوہن کے دل میں اُسی دن گھر کر گیا تھا جس دن اس نے نسیم جان کا سنگھاردان لوٹا تھا۔ جب بلوائی رنڈے پاڑے میں گھسے تھے کہرام مچ گیا۔ برحمبوہن ور اس کے ساتھی دندناتے ہوئے نسیم جان کے کوٹھے پر چڑھ گئے تھے۔ نسیم جان خوب چیختی چلاتی تھی۔ برحمبوہن جب سنگھاردان لے کر اُترنے لگا تو اس کے پاﺅں سے لپٹ کر گڑ گڑانے لگی تھی۔

”بھیا….یہ موروثی سنگھاردان ہے…. اس کو چھوڑ دو…. بھیا۔“

لیکن برحمبوہن نے اپنے پاﺅں کو زور کا جھٹکا دیا تھا۔

”چل ہٹ……..رنڈی….“

اور وہ چاروں خانے چت گری تھی۔ اس کی ساڑی کمر تک اُٹھ گئی تھی۔ لیکن پھر اس نے فوراً ہی خود کو سنبھالا تھا اور ایک بار پھر برحمبوہن سے لپٹ گئی تھی۔

”بھیا…. یہ میری نانی کی نشانی ہے….بھیا“

اس باربرحمبوہن نے اس کی کمر پر زور کی لات ماری۔ نسیم جان زمین پر دوہری ہو گئی۔ اس کے بلوز کے بٹن کھل گئے اور چھاتیاں جھونے لگیں۔برحمبوہن نے چھرا چمکایا۔

”کاٹ لوں گا۔“

نسیم جان سہم گئی اور دونوں ہاتھوں سے چھاتیوں کو ڈھکتی ہوئی کونے میں دبک گئی۔ برحمبوہن سنگھاردان لئے نیچے اتر گیا۔

برحمبوہن جب اتر رہا تھا تو یہ سوچ کر اس کو لذت ملی کہ سنگھاردان لوٹ کر اس نے نسیم جان کو گویا اس کے خاندانی اثاثے سے محروم کر دیا ہے۔ یقینا یہ موروثی سنگھاردان تھا جس میں اس کی پرنانی اپنا عکس دیکھتی ہو گی۔ پھر اس کی نانی اور اس کی ماں بھی اسی سنگھار دان کے سامنے بن ٹھن کر گاہکوں سے آنکھیں لڑاتی ہو گی۔ برحمبوہن یہ سوچ کر خوش ہونے لگا کہ بھلے ہی نسیم جان اس سے اچھا سنگھار دان خرید لے لیکن یہ موروثی چیز تو اب اُسے ملنے سے رہی…. تب ایک پل کےلئے برحمبوہن کو کو لگا کہ آگ زنی اور لوٹ مار میں ملوث دوسرے بلوائی بھی یقینا احساس کی اس لذت سے گزر رہے ہوں گے کہ ایک فرقہ کو اس کی وراثت سے محروم کر دینے کی سازش میں وہ پیش پیش ہے۔

برحمبوہن جب گھر پہنچا تو اس کی بیوی کو سنگھاردان بھا گیا۔ شیشہ اس کو دھندلا معلوم ہوا تو وہ بھیکے ہوئے کپڑے سے پونچھنے لگی۔ شیشے میں جگہ جگہ تیل کے گرد آلود دھبے تھے۔ صاف ہونے پر شیشہ جھل مل کر اُٹھا۔ اوربرحمبوہن کی بیوی خوش ہو گئی۔ اس نے گھوم گھوم کر اپنے کو آئینہ میں دیکھا۔ پھر لڑکیاں بھی باری باری سے اپنا عکس دیکھنے لگیں۔

برحمبوہن نے بھی سنگھاردان میں جھانکا تو قد آدم شیشے میں اس کو اپنا عکس مکمل اور دلفریب معلوم ہوا۔ اس کو لگا سنگھاردان میں واقعی ایک خاص بات ہے۔ اس کے جی میں آیا کچھ دیر اپنے آپ کو دیکھئے…. لیکن یکایک نسیم جان روتی بلکتی نظر آئی۔

بھیا….سنگھاردان چھوڑدو…. میری پرنانی کی نشانی ہے….بھیا….“

”چل ہٹ رنڈی….“برحمبوہن نے سر کو دو تین جھٹکے دیئے اور سامنے سے ہٹ گیا۔

برحمبوہن نے سنگھاردان اپنے بیڈ روم میں رکھا۔ اب کوئی پرانے سنگھاردان کو پوچھتا نہیں تھا۔ نیا سنگھاردان جیسے سب کا محبوب بن گیا تھا۔ گھر کا ہر فرد خواہ مخواہ ہی آئینے کے سامنے کھڑا رہتا۔ برحمبوہن اکثر سوچتا کہ رنڈی کے سنگھاردان میں آخر کیا اسرار چھپا ہے کہ دیکھنے والا آئینہ سے چپک سا جاتا ہے لڑکیاں جلدی ہٹنے کا نام نہیں لیتی ہےں اور بیوی بھی رہ رہ کر خود کو مختلف زاویوں سے گھورتی رہتی ہے…. یہاں تک کہ خود وہ بھی…. لیکن اس کےلئے دیر تک آئینہ کا سامنا کرنا مشکل ہوتا۔ فوراً ہی نسیم جان رونے بلکنے لگی تھی اور برحمبوہن کے دل و دماغ پر دھواں سا چھانے لگتا تھا۔

برحمبوہن نے محسوس کیا کہ آہستہ آہستہ گھر میں سب کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگتے ہےں۔ بیوی اب کولہے مٹکا کر چلتی تھی اور دانتوں میں مسی بھی لگاتی تھی لڑکیاں پاﺅں میں پائل باندھنے لگی تھیں اور نت نئے ڈھنگ سے بناﺅ سنگھار میں لگی رہتی تھیں۔ ٹیکہ، لپ اسٹک اور کاجل کے ساتھ وہ گالوں پر تل بھی بنائیں۔ گھر میں ایک پاندان بھی آگیا تھا اور ہر شام پھول اور گجرے بھی آنے لگے تھے۔ برحمبوہن کی بیوی سرشام پاندان لے کر بیٹھ جاتی چھالیا کترتی اور سب کے سنگ ٹھٹھا کرتی اوربرحمبوہن تماشائی بنا سب کچھ دیکھتا رہتا۔ اس کو حیرت تھی کہ اس کی زبان گنگ کیوں ہو گئی ہے…. وہ کچھ بولتا کیوں نہیں….؟ انہیں تنبیہ کیوں نہیں کرتا؟

ایک دن برحمبوہن اپنے کمرے میں موجود تھا کہ بڑی سنگھاردان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔ کچھ دیر اس نے اپنے آپ کو دائیں بائیں دیکھا اور چولی کے بند ڈھیلے کرنے لگی۔ پھر بایاں بازو اُوپر اُٹھایا اور دوسرے ہاتھ کی انگلیوں سے بغل کے بالوں کو چھو کر دیکھا۔ پھر سنگھار دان کی دراز سے لوشن نکال کر بغل میں ملنے لگی۔ برحمبوہن جیسے سکتے میں تھا۔ وہ چپ چاپ بیٹی کی نقل و حرکت دیکھ رہا تھا۔ اتنے میں منجھلی بھی آگئی اور اس کے پیچھے پیچھے چھوٹی بھی۔

”دیدی…. لوشن مجھے بھی دو….“

”کیا کرے گی……..؟“بڑی اترائی

”دیدی یہ باتھ روم لگائے گی……..“چھوٹی بولی

”چل ہٹ……..“ منجھلی نے چھوٹی کے گالوں میں چٹکی لی اور تینوں کی تینوں ہنسنے لگیں۔

برحمبوہن کا دل کسی انجانے خوش سے دھڑکنے لگا…. ان لڑکیوں کے تو سنگھار ہی بدلنے لگے ہےں…. ان کو کمرے میں اپنے باپ کی موجودگی کا بھی خیال نہیں ہے…. تب برحمبوہن اپنی جگہ سے ہٹ کر اس طرح کھڑا ہوا کہ اس کا عکس سنگھاردان میں نظر آنے لگا۔ لیکن لڑکیوں کے روےے میں کوئی فرق نہیں آیا۔ بڑی اسی طرح لوشن ملنے میں منہمک رہی اور دونوں اس کے اغل بغل میں کھڑی دیدے مٹکاتی رہیں۔

برحمبوہن کو محسوس ہوا جیسے گھر میں اب اس کا کوئی وجود نہیں ہے۔ تب یکایک نسیم جان شیشے میں مسکرائی۔

”گھر میں اب میرا وجود ہے….“

اور برحمبوہن حیران رہ گیا…. اس کو لگا واقعی نسیم جان شیشے میں بند ہو کر چلی آئی ہے اور ایک دن نکلے گی اور گھر کے چپہ چپہ میں پھیل جائے گی۔

برحمبوہن نے کمرے سے نکلناچاہا۔ لیکن اس کے پاﺅں جیسے زمین میں گڑ گئے تھے وہ اپنی جگہ سے ہل نہیں سکا۔ وہ خاموش سنگھار دان کو تکتا رہا اور لڑکیاں ہنستی رہیں…. دفعتاً برحمبوہن کو محسوس ہوا کہ اس طرح ٹھٹھا کرتی لڑکیوں کے درمیان کمرے میں اس وقت ان کا باپ نہیں ایک بھڑوا کھڑا ہے….

برحمبوہن کو اب سنگھاردان سے خوف محسوس ہونے لگا اور نسیم جان اب شیشے میں ہنسنے لگی…. بڑی چوڑیاں کھنکھاتی تو وہ ہنستی…. چھوٹی پائل بجاتی تو وہ ہنستی اور برحمبوہن کو اب….

آج بھی جب وہ بالکنی میں کھڑی ہنس رہی تھیں تو وہ تماشائی بنا سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اس کا دل کسی انجانے خوب سے دھڑک رہا تھا۔

برحمبوہن نے محسوس کیا کہ راہ گیر بھی رُک رُک کر بالکنی کی طرف دیکھنے لگے ہےں۔ یکایک پان کی دکان کے قریب کھڑے نوجوان نے کچھ اشارہ کیا۔ جواب میں لڑکیوں نے بھی اشارہ کیا تو نوجوان مسکرانے لگا۔ برحمبوہن کے جی میں آیا کہ وہ نوجوان کا نام پوچھے۔ وہ دوکان کی طرف بڑھا۔ لیکن نزدیک پہنچ کر خاموش رہا۔ دفعتاً اس کو محسوس ہوا کہ وہ نوجوان میں اسی طرح دلچسپی لے رہا ہے جس طر ح لڑکیاں لے رہی ہےں…. تب یہ سوچ کر اس کو حیرت ہوئی کہ وہ اس کا نام کیوں پوچھنا چاہتا ہے….؟ آخر اس کے ارادے کیا ہےں….؟ کیا وہ اس کو لڑکیوں کے درمیان لے جائے گا؟ برحمبوہن کے ہونٹوں پر لمحہ بھر کےلئے ایک پراسرار مسکراہٹ رینگ گئی۔ اس نے پان کا بیڑہ کلے میں دبایا اور جیب سے کنگھی نکال کر دوکان کے شیشے میں بال سونٹنے لگا۔ اس طرح بالوں میں کھنگی کرتے ہوئے اس کو یک گونہ راحت کا احساس ہوا۔ اس نے ایک بار کنگھیوں سے نوجوان کی طرف دیکھا۔ وہ ایک رکشہ والے سے آہستہ آہستہ باتیں کر رہاتھا اور بیچ بیچ میں بالکنی کیطرف بھی دیکھ رہا تھا۔ جیب میں کنگھی رکھتے ہوئے برحمبوہن نے محسوس کیا کہ واقعی اس کی نوجوان میں کسی حد تک دلچسپی ضرور ہے۔ گویا خود اس کے سنسکار بھی…. اونہہ…. یہ سنسکارونکسار سے کیا ہوتا ہے….؟ یہ اس کا کیسا سنسکار تھا کہ اس نے ایک رنڈی کو لوٹا…. ایک رنڈی کو…. کس طرح روتی تھی…. بھیا ….بھیا میرے…. اور پھر برحمبوہن کے کانوں میں نسیم جان کے رونے بلکنے کی آوازیں گونجنے لگیں۔ برحمبوہن نے غصہ میں دو تین چھٹکے سر کو دیئے…. ایک نظر بالکنی کی طرف دیکھا پان کے پیسے ادا کئے اور سڑک پار کر کے گھر میں داخل ہوا۔

اپنے کمرے میں آکر وہ سنگھار دان کے سامنے کھڑاہوا گیا۔ اس کو اپنا رنگ روپ بدلا ہوا نظر آیا۔ چہرے پر جگہ جگہ جھائیاں پڑ گئی تھیں اور آنکھوں میں کاسنی رنگ گھلا ہوا تھا۔ ایک بار اس نے دھوتی کی گرہ کھول کر باندھی اور چہرے کی جھائیوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ اس کے جی میں آیا کہ آنکھوں میں سرمہ لگائے اور گلے میں لال رومال باندھ لے۔ کچھ دیر تک وہ اپنے آپ کو اسی طرح گھورتا رہا پھر اسکی بیوی بھی آگئی۔ اس نے انگیا پر ہی ساڑی لپیٹ رکھی تھی۔ سنگھاردان کے سامنے وہ کھڑی ہوئی تو اس کا آنچل ڈھلک گیا۔ وہ بڑی ادا سے مسکرائی اور آنکھ کے اشارے سےبرحمبوہن کو انگیا کے بند لگانے کےلئے کہا۔

برحمبوہن نے ایک بار شیشے کی طرف دیکھا۔ انگیا میں پھنسی ہوئی چھاتیوں کا عکس اس کو لبھاﺅنا لگا۔ بند لگاتے ہوئے ناگہاں اس کے ہاتھ چھاتیوں کی طرف رینگ گئے۔

”اوئی دیا….“ برحمبوہن کی بیوی بل کھا گئی اور برحمبوہن کی عجیب کیفیت ہو گئی۔ اس نے چھاتیوں کو زور سے دبا دیا۔“

”ہائے راجہ….“ اس کی بیوی کسمسائی اور برحمبوہن کی رگوں میں خون کی گردش یکلخت تیز ہو گئی۔ اس نے ایک جھٹکے میں انگیا نوچ کر پھینک دی اور اس کو پلنگ پر کھینچ لیا۔ وہ اس سے لپٹی ہوئی پلنگ پر گری اور ہنسنے لگی۔

برحمبوہن نے ایک نظر شےشے کی طرف دیکھا۔ بیوی کے ننگے بدن کا عکس دیکھ کر اس کی رگوں میں شعلہ سا بھڑک اُٹھا۔ اس نے یکایک خود کو کپڑوں سے ایک دم بے نیاز کر دیا۔ تببرحمبوہن کی بیوی اس کے کانوں میں آہستہ سے پھسپھائی۔

”ہائے راجہ….لوٹ لو بھرت پور)“

برحمبوہن نے اپنی بیوی کے منہ سے کبھی ”اوئی دیا“ اور ہائے راجہ“ جیسے الفاظ نہیں سنے تھے۔ اس کو لگا یہ الفاظ نہیں سارنگی کے سر ہےں جو نسیم جان کے کوٹھے سے بلند ہو رہے ہےں اور تب….

اور تب فضا کاسنی ہو گئی تھی…. شیشہ دھندلا گیا تھا…. اور سارنگی کے سر گونجنے لگے تھے۔

برحمبوہن بستر سے اُٹھا۔ سنگھاردان کی دراز سے سرمہ دانی نکالی آنکھوں میں سرمہ لگایا۔ کلائی پر گجرا لپیٹا اور گلے میں لال رومال باندھ کر نیچے اُتر گیا اور سیڑھیوں کے قریب دیوار سے لگ کر بیڑی کے لمبے کش لینے لگا۔

(ذہن جدید نئی دہلی فروری1993ئ)
———————————————————————————————————
یہ افسانہ معروف واہٹس ایپ گروپ ’’ بزمِ افسانہ‘‘ کے توسط سے پیش کیا جارہا ہے۔

Ana ki Taskeen a Short Story by Noman Nazeer

Articles

انا کی تسکین

نعمان نذیر

چھت مسلسل چھلنی ہو رہی تھی گو یا کسی جنگ میں دشمن کی گولیوں کے نشانے پہ ہو اور اس میں مسلسل چھید ہو رہے ہوں۔ ان سوراخوں سے پا نی کے تیز رفتار قطرے خون کی دھاریوں کی ما نند چل رہے تھے۔ بارش تھی کی تھمنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔ دسمبر کی اس با رش نے خون رگوں میں جما دیا تھا۔رضیہ اور اللہ دتہ اپنے بچوں کو مثل پرندوں کی اپنے پروں میں چھپائے بیٹھے تھے۔جیسے شکاری سامنے موجود ہو اور شکار اپنے بچاؤ کی آخری کوشش کر رہا ہو۔ اس قاتل موسم میں کچے کمرے میں موجود گرم انگیٹھی تو کب کی ٹھنڈ ی ہو چکی تھی بستر بھی مسلسل چھت ٹپکنے سے کافی حد تک گیلے ہو چکے تھے۔
رضیہ اور اللہ دتہ پیدائشی مفلس نہ تھے بلکہ ایک آفت کے مارے اس حال میں تھے۔ اللہ دتہ کے پاس وراثت میں ملی ۴ ایکڑ زمین تھی جس میں فصل اگا کے وہ اچھا گزر بسر کر رہے تھے۔اللہ دتہ کا باپ اب بہت بوڑھا ہو چکا تھا اور بیمار بھی رہتا تھا۔اس کا ایک چھوٹا بھائی سکول میں اچھا طالب علم رہنے کے بعد اب کا لج میں داخل ہو چکا تھا۔سکول کے سب اساتذہ اس کی قابلیت کے متعرف تھے۔اللہ دتہ سے عمر میں آٹھ نو سا ل چھوٹا تھا اس نے تو پڑھائی میں زیادہ دلچسپی نہ لی اور باپ کے ساتھ کھتی باڑی کر نے لگا۔اب تمام خاندان کی کفالت کی ذمہ داری اس پہ تھی۔اس لیے اس کی خواہش تھی کے اس کا بھائی پڑ لکھ کر اچھا مسقبل بنائے کیھتوں میں کیا رکھا ہے مٹی میں مٹی ہو نا۔
حبیب اللہ نے میڑک کا امتحان امتیازی نمبروں سے پا س اور مز ید تعلیم کے لئے شہر میں کا لج میں داخلہ لے لیا۔ گاؤں سے شہر کا فاصلہ بارہ تیرا میل تھا۔ساتھ کے گاؤں سے ایک بس روز صبح شہر کو جا تی اورشام سے قبل واپس آجا تی اس لئے اس کا شہر جا نا زیادہ مشکل نہ ہوا۔کالج میں بھی جلد ہی اس نے نمایاں طالب ِ علوں میں جگہ بنا لی۔گاؤں میں بھی سب اس کو بڑی عزت دیتے تھے کہ وہ گاؤں والوں کے لئے فخر کا باعث تھا۔بل کھاتی سڑکوں پہ وہ زندگی کی منزلوں کا متلاشی تھا۔
حبیب اللہ نے ایف۔ایس۔ سی میں کامیابی کے بعد بی۔ایس۔سی میں داخلہ لے لیا۔اس کو سکالر شپ مل گئی جس کی وجہ سے بھائی پہ خرچے کا زیادہ بوجھ نہ پڑا۔وہ کا لج سے چھٹی کے بعد ایک جگہ ٹیوشن پڑھانے کے بعد گھر آتا۔اس نے کچھ رقم جمع کر کے اور کچھ بھائی سے لے کر ایک پرانی موٹر سائیکل لے لی تاکہ شہر ٓانے جا نے میں آسانی ہو۔ پورے گاؤں میں سے وہ چند ایک پڑے لکھے لوگوں میں سے ایک تھا گاؤں کے نوجوان زیادہ تر زمینداری، غلہ بانی کی طرف راغب ہو جا تے۔گاؤں کا سب سے بڑا زمیندار چوہدری عبدالعزیز تھا۔ چوہدری صاحب نیک سیرت،ہمدرد اور غریبوں کے خیر خواہ تھے صلوۃ و صوم کے پابند۔۔۔۔۔۔!! لیکن حبیب اللہ کے تعلیم حاصل کرنے کی خبر نے ان کے دل میں کوئی خاص خوشگورگی کا احساس پیدا نہ کیا۔۔۔۔ چوہدری کا اپنا بیٹا نہ تھا اس کی واحد اکلوتی اولاد ایک بیٹی تھی۔اس کی واحد اکلوتی وارث لیکن چوہدری کی طبیعت میں اسی قدر حرص و لالچ بھی شامل تھا۔اس کا بھائی شہر میں رہتا تھا اس کے تین بیٹے تھے جو وہیں تعلیم حاصل کر رہے تھے اور ایک اپنا کاروبار چوہدری کی نسبت ان کا مزاج روشن خیال تھا لیکن چوہدر ی فرسودہ خیالات کا مالک تھا۔اس کی بیٹی”عالیہ“بمشکل میڑک پاس کیا اور چوہدری نے اسے شہر کے مشہور کالج میں داخل کرویا جبکہ عالیہ کی طبعت پڑھائی کی جانب ہو نے کے برابر تھی۔ایک روز چوہدری نے اللہ دتہ کو ڈیرے پہ بلایا،اس سے حبیب کے بارے میں پوچھا اور کہا کہ وہ حویلی میں آکے چھوٹی چوہدرانی(عالیہ) کو آکے پڑھایا کرے۔ اللہ دتہ جی سرکار جو آپ کا حکم وہ ضرور آئے گا اور سر کے بل چل کے آئے گا۔۔۔۔ حبیب بھائی کی تا کید کے مطابق شام کو حویلی پہنچا اس کوعام لو گوں کی طرح بیٹھک میں نہیں بٹھایا گیا۔ چوہدرانی نیک اور رحم دل خاتون تھی وہ حبیب کے سا تھ بہت عزت سے پیش آتی وہ اُسے استاد کا درجہ دیتی اور بیٹوں کی طر ح سمجھتی جبکہ چوہدری کا رویہ یکسر مختلف تھا۔عالیہ کا رویہ پڑھائی کی جابب کچھ اچھا نہ تھا۔لیکن وہ حبیب کے سا تھ بہت عزت سے پیش آتی۔ دو ماہ گذر گئے عالیہ کے امتحان قریب آگئے اس نے با پ سے کہلوایا کہ اب اس کو حبیب کی زیادہ ضرورت ہے وہ اسے امتحانات کے دوران زیادہ وقت دے تا کہ اس کا نتیجہ اچھا آئے۔ وہ اس کی اکلوتی لاڈلی بیٹی تھی اس کی با ت کو کیسے رد کر سکتا تھا سا تھ ہی اس کو یہ خوشی بھی ہو ئی کہ اس کا پڑھائی میں دل لگ گیا۔۔۔۔۔ عالیہ حبیب کی منتظر رہتی اس کی آنکھوں کی چمک کچھ اور ہی بتا رہی تھی۔ حبیب کو ایک دو با ر اس با ت کا شک ہو لیکن اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔ عالیہ اس کے باتوں سے زیادہ اس کی طرف توجہ دینے لگی۔عالیہ نے اس سے اظہار کر دیا کہ وہ اسے پسند کرنے لگی ہے حبیب نے اس با ت پہ تعجب کا اظہار کیا اور اس ڈانٹا بھی لیکن وہ اس کی تما م باتوں کو برداشت کر گئی لیکن با ت سمجھنے کو تیا ر نہ ہوئی۔حبیب اس بات کا خوف نا ک انجام جا نتا تھا لیکن وہ فل وقت آنے سے انکار بھی نہیں کر سکتا تھا اس کی سوچوں کی گھتی مزیدالجھ رہی تھی۔عالیہ جذباتیت کی اس انتہا پہ تھی جہاں کوئی نصحت کار گر نہیں ہو تی۔
سردیوں کے خاتمے کے بعد بہار کے موسم کی آمد آمد تھی۔ گاؤں کے ہر سو ہریالی کی بہار تھی گندم کی ٖفصل جواں تھی سٹوں میں دانہ پڑ چکا تھا سرسوں کے پھول ختم ہو کہ پھلیوں کی صورت میں ڈھل چکے تھے۔دوپہر کے وقت کریم عالیہ کو حساب کے پر چے کی تیاری کروا رہا تھا۔چوہدری صاحب ڈیرے پہ تھے۔عالیہ کے پرچے جلد ہی شروع ہو نے والے تھے۔عالیہ کی آنکھوں میں ایسی چمک تھی کہ مشکل سے ہی ایسی نظر رائیگاں جا تی ہے۔عالیہ نے پھر وہی مو ضو ع چھیڑا لیکن کریم نے تو جہ نہ دی۔عالیہ نے بسی کے آنسو بہانے لگی حبیب نے گھبراہٹ کے عالم میں اس کو سمجھانے کی بہت کو شش کی۔اس نے شفقت سے اس کے سر پہ ہا تھ رکھا۔ عالیہ رونے ہو اس کے گلے لگ گیا اس نے خود کو الگ ہو نے کی بہت کو شش کیا لیکن وہ پھوٹ پھو ٹ کر رو نے لگی۔ اچانک چوہدری صاحب آگئے بیٹی کو اس حالت میں گاؤں کیاایک معمولی لڑکے کے سا تھ دیکھ کر یک لخت سکتے میں آگئے۔ ایک لمحے کے بعد وہ وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلے گئے۔ کئی راتوں تک وہ سو نہ سکے لیکن اس راز کو فاش نہ کیا کہ اس میں اپنی عزت کے تاتار ہونے کا اندیشہ تھا۔
چند دن بعد ایک خبر جنگل میں آگ کی طر ح پھیلی کہ چوہدری عبدالعزیز کے گھر میں چوری ہو گئی ہے اس میں لاکھوں مالیت کے زیورات کے علاوہ نقدی بھی شا مل تھی۔حبیب کے امتحا نا ت کے سلسلے میں کا لج سے چھٹیاں تھی اور وہ اس کی تیاری کر رہا تھا۔ اپریل کے مہینے کا آغاز تھا وہ صحن میں موجود دریک کے درخت کے پتلی چھاؤں میں چارپائی پہ بیٹھا پڑھائی میں مشغول تھا کہ اچانک گھر کے پرانے زنگ آلود دروازے پہ دستک رضیہ نے دروازہ کھولا تو پولیس کی وردی میں ملبوس چار سپاہی اندر آئے اورحبیب جو چار پائی سے اُٹھنے کا اردہ ہی کر رہا تھا آدبوچااُس کو ہتھکڑیاں لگا کر جانے لگے وہ حیران تھا رضیہ رونے لگی حبیب نے بھی حیرت اور پریشانی کے عالم میں پوچھا کہ آخر قصور کیا ہے پولیس والے اس کو گاڑی میں بٹھاتے ہو ئے صرف اتنا بولے ”چوری“۔۔۔۔چوہدری عزیز کے گھر چوری نمک حرام نے۔۔۔۔چوری کی!!
جیل کے تاریک کمرے میں وہ بیٹھا اسی سوچ میں غرق تھا جرم۔۔۔کیسا جرم۔۔عالیہ کا مجھ سے محبت کرنا۔۔ کیونکہ میں میری حثیت۔۔ سوچوں کا جال الجھتا ہی جا رہا تھا۔اس کو ایک ایسے جرم کی سزا دی جا رہی ہے جس میں اس کا کو ئی قصور بھی نہیں۔ لیکن اس راز کو کبھی اس نے بھی فاش نہ کیا۔ کریم کے بھائی نے بہت دوڑ دوپ کی لیکن ایک عام دیہاتی غریب آدمی کی کون سنتا۔آخر کار چوہدری کی لاکھوں کی چوری تھی۔۔۔۔سال بھر میں دو ایکڑ زمین بک گئی لیکن اس کی رہائی نہ ہوئی۔اللہ دتہ بہت رویا منت سماجت کی لیکن اس کی ایک نہ سنی گئی۔عالیہ نے اپنے باپ کو ساری بات بتائی کی اصل قصور وار وہ خود ہے اس پہ چوہدری صاحب نے بہت مہربانی کہ بقایا دو ایکڑ زمین کے بدلے صلح ہو گئی اور حبیب ڈیڑھ سال کی قید با مشقت کے بعد رہا ہو گیا۔اس دوران اس کا بوڑھا باپ جوان بیٹے کے دکھ میں دنیا سے چل بسا۔بھائی کے پاس بھی اب کچھ نہ بچاتھا۔ زمین مال مویشی سب بک گیا۔اللہ دتا محنت مزدوری پہ آگیا زمین جو اس کی آس اس کا مان تھی اب چوہدری کے پاس تھی۔حوالات میں بے جا تشدد کے باعث حبیب کی ہڈیاں کمزور ہو گئیں اس کی صحت نے بھی جواب دے دیا سانس کی تکلیف دمے کی صورت اختیار کر چکی تھی۔اللہ دیہ ان سب مشکلات کو برداشت کرتے کرتے قبل از وقت بوڑھا اور کمزور ہو رہا تھا مگر پھر بھی حوصلہ نہ ہارا۔حبیب سارا دن گھر میں پڑ ا اس خوف ناک وقعے کی وجہ سوچتارہتا۔ گھر کے درو دیوار اس کو قید سے کم نہ لگتے اب وہ اپنی بیماری سے بھی لڑ رہا تھا اور حالات سے بھی۔گھر کے حالات دن بہ دن خستہ حالی کا شکار ہو ر تھے۔کھیتی باڑی کے لئے اب زمین بھی نہ تھی۔اللہ دتہ اب محنت مزدوری کرتا تھا۔حبیب دو ہفتے بعد شہر میں سرکاری ہسپتال میں گھنٹوں قطاروں میں لگ کے دوائی لے کہ آتا غریب کا واحد سہارا سرکاری ہسپتال ہی ہو تا ہے جس میں ڈاکٹر تک پہنچنے کے لئے بھی صبرو استقامت سے کا م لینا پڑتا ہے۔حبیب کو علا ج سے زیادہ افاقہ نہ ہو رہا تھا۔اس کے مرض میں بتدریج اضافہ ہی ہو تا رہا۔
اللہ دتہ سارا دن چوہدری کے ہاں کام کاج کرتا۔ چوہدری اس کی ایمانداری اور کام کی لگن سے خو ش تھا۔ایک دن اس نے اسے ڈیرے پہ بلایا اس کے کام کی تعریف کی اور کہا کہ اس ڈیرے کے تمام کام کی دیکھ بھا ل وہ کرے گا اور حساب کتا ب کے لئے اپنے بھائی حبیب کی مدد بھی لے سکتا ہے کیونکہ وہ پڑھا لکھا نو جوان ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر سخاوت یہ کہ اگر وہ چاہے تو ڈیرے پہ ہی اپنی رہائش رکھ سکتا ہے یہ سب ایک درد دل اور ہمدر انسان ہی کہہ سکتا ہے۔۔۔۔۔۔چوہدری جی آپ ہمارے مالک ہیں آپ کے سواء ہمارا اور ہے کون آپ کے اعلٰی ظرفی ہے جو اس غریب کو اس قابل سمجھا۔اللہ دتہ شکرانہ انداز میں بو لا۔
حبیب کو احساسِ ندامت ہر وقت ستاتا کی اس کی وجہ سے سارا خاندان تباہ ہو گیا۔یہ خیال اس کے دل پہ چرکے لگاتا۔بھائی نے اس کی خاطر اپنا سب کچھ لُٹا دیا اور اب بھی اس کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیا ر ہے کہ کسی طرح اس کی صحت بحا ل ہو جائے اور اپنی پڑھائی پھر سے شروع کرکے اپنا اچھا مستقبل بنا سکے۔حبیب حسب معمول دوا کی خاطر ہسپتال گیا تو ڈاکٹروں نے اس کو داخل کر لیا اس کے مزید ٹیسٹ بھی کراوئے۔ اس کو ٹی بی کا مرض تشخیص ہوا۔ ڈاکٹروں نے اس کو اچھے ہسپتال لے جانے کا مشورہ دیا جس کا خرچ تو زیادہ لیکن سہولیات تما م موجود تھیں۔اللہ دتہ نے چوہدری سے قرض لے کر اس کے علاج کا بندوبست کیا۔ڈاکٹروں نے علاج شروع کیا۔اللہ دتہ ہر دوسرے دن اس کی خیر خبر لینے آتا۔وہ سارا دن ہسپتال میں لاورثوں کی طرح پڑا بھائی کی راہ تکتا رہتا۔اس وارڈ میں موجود دوسرے مریضوں کے عزیز و اقارب آتے تو ان کو دیکھ اس کا دل بیٹھ سا جاتا جو جاتے ہو ئے اس پہ بھی ہمدردی کی ایک نگاہ ڈال جا تے۔۔۔۔۔۔ ہسپتال کے ڈاکٹروں سے لے کر خاکروب تک سھبی اس کو جاننے لگے آتے جا تے اس سے خیریت دریافت کر تے۔جو آپس میں بات کرتے تو کہتے بے چارہ غریب جوان۔۔۔۔۔۔۔۔
بھائی آتا آکے مل کے واپس چلا جا تا اس کے سواء کر بھی کیا سکتا تھا سب کچھ لُٹا دینے کے بعد اب اگر محنت مزدوری بھی نہ کرتا تو جسم اور روح کا رشتہ کیسے برقرار رہتا۔اس کے دو معصوم بچے بھی تھے جو اب دو وقت کی روٹی کے بھی محتاج تھے۔ہسپتال میں حبیب کو آئے دو ہفتے بیت چکے تھے۔ڈاکٹروں کو اب اس کی بہتر ی کی کا فی اُمید نظر آنے لگی تھی۔ بظاہر اب اس کی حالت اب ویسی نہ تھی جیسے دو ہفتے پہلے سے اب بہت بہتر تھا۔ایک سہ پہر اس کو اچانک کھانسی کا شدید دورہ پڑا اس کے ساتھ ہی اُسے ایک خون آلود قہہ آئی۔اس کی حالت خراب ہو نے لگی۔ ڈیوٹی پہ معمور وارڈ نرس نے ڈاکٹر کو بلایا اس کا سا نس اکھڑ رہا تھا۔ اس کی سانس کی بحالی کی پوری کوشش کی گئی۔ڈاکٹروں اور نرسوں کی آنکھیں سوالیہ نظروں سے ایک دوسرے کی جا نب دیکھنے لگے ان نظر وں میں ہی جواب تھا۔۔۔۔۔۔سوری۔۔۔
گاؤں مں اس قابل ہونہار نوجوان کی لاش پہنچنے پہ کہرام مچ گیا ہر کوئی اشکبار تھا۔ چوہدری صاحب نے کفن دفن کا بندوبست کرایا۔ لواحقین کی خوب داد رسی کی۔کیونکہ وہ سب کے ہمدرد تھے۔۔۔۔اللہ دتہ کئی روز تک بھوکا پیاسا روتا رہا بھائی کی قبر سے نہ ہلا مگر۔۔۔زندگی بہت کچھ کرنے پہ مجبور کر دیتی ہے۔ عالیہ کو جب اس بات کا علم ہوا تو اس نے بہت آہ زاری کی اس کے ساتھ ہونے والے سلوک کا ذمہ دار باپ کو ٹھہرا اس راز کو فاش کر دیا جس نے کئی زندگیاں اُجاڑی تھیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لیکن چوہدری انا پرست تھا کیوں کہ وہ با اختیار تھا عالیہ کی محبت یک طرفہ تھی اس بات کو جاننے کے باوجود اس کی انا کی تسکین ابھی نہ ہوئی تھی۔
چند ماہ بعد ہی چوہدری نے قرض کی واپسی کا تقاضا شروع کر دیا۔ اللہ دتہ تو دو وقت کی روٹی کا محتاج تھا وہ قرض کی واپسی کو اتنا جلدی رقم واپس کر نا اس کے بس میں نہ تھا۔ چوہدری نے چند ماہ کے انتظار کے بعد قرض کے بدلے اللہ دتہ کا گھر بھی کے لیا اُس کو رہنے کے لئے ڈیرے پہ جانور باندھنے والے کمروں سے متصل ایک کمرہ رہنے کے لئے دیا تاکہ وہ اس کی ملازمت بھی کرتے رہیں۔

Sadat Hasan Manto: Life and Work

Articles

سعادت حسن منٹو: حیات اور خدمات

ڈاکٹر قمر صدیقی

سعادت منٹو کی ولادت لدھیانہ کے سبرمالہ ضلع کے پاپرودی گاؤں میں 11/مئی1912 میں ہوئی۔ والد کانام میاں غلام حسن تھا جو حکومت پنجاب کے محکمہئ انصاف میں سب جج کے عہدے پر فائز تھے۔ منٹو کی والدہ سردار بیگم، میاں غلام حسن کی دوسری بیوی تھیں۔ منٹو کومیٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول، امرتسر سے پاس کرنے میں چار برس لگ گئے۔ تین بار فیل ہوئے اور آخر کار1931 میں یہ امتحان درجہ سوم میں پاس کیا۔ اردو کے مضمون میں برابر فیل ہوتے رہے تھے، چوتھی بار میٹرک تو پاس ہوگئے لیکن اردو کے مضمون میں فیل ہی رہے۔ انٹر کے طالبِ علم کی حیثیت سے پہلے ہندو سبھا کالج امرتسر میں داخلہ لیا اور اُس کے بعد ایم اے او کالج، امرتسر چلے گئے۔ انٹر تو نہ کرسکے البتہ1935میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچ گئے۔ لیکن تپ دق کا مریض ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی حکام نے انھیں کیمپس کے حدود میں رہنے سے منع کردیا۔ منٹو ایک بار پھر امرتسر واپس آگئے اور غازی عبد الرحمن کے اخبار ”مساوات“ میں مترجم کی حیثیت سے نوکری کرلی۔ یہی وہ زمانہ ہے جب منٹو نے عبدالباری علیگ کی حوصلہ افزائی کے طفیل 1933میں وکٹر ہیگو کے ناول The Last Days of Condemnکا ترجمہ ”سرگزشتِ اسیر“ کے نام سے اور آسکر وائلڈ کے ایک ڈرامے کا حسن عباس کے اشتراک سے ”ویرا“ کے عنوان سے کیا۔ منٹو کے تراجم اردو میں مقبول ہوئے اور انھوں نے ایک طرح سے راتوں رات شہرت حاصل کرلی۔ اِس شہرت سے منٹو کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں بطور اسکرپٹ ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔ اسی شہرت کے چلتے انھیں منورنجن پکچرز کی فلم ”بنجارہ“ لکھنے کا موقع بھی ملا۔ تاہم فلم مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ ادارہ بند ہوگیا اور فلموں میں لکھنے کا شوق منٹوکو ممبئی لے آیا۔ ممبئی کی فلم نگری کو شروع میں بطور فلم رائٹر منٹو کچھ زیادہ متاثر نہ کرسکے لہٰذا وہ ہفتہ وار فلمی اخبار ”مصور“ سے بطور ایڈیٹر منسلک ہوگئے۔اسی ہفتہ وار اخبار سے منسلک رہتے ہوئے منٹو نے دھواں، کالی شلوار، بو، کھول دواور ٹھندا گوشت جیسے افسانے تحریر کیے۔ ان افسانوں میں فحش نگاری کو بنیاد بناکر انجمن ترقی پسند مصنفین نے منٹو کو انجمن سے بے دخل کردیااور حکومت نے بھی منٹو پر مقدمے قائم کیے۔ مئی1938میں منٹو کا نکاح کشمیری خاندان کی ایک سادہ سی لڑکی صفیہ سے ہوا۔ شادی کے بعد منٹو ’سنے ٹون فلم کمپنی‘ سے منسلک ہوگئے اور اس کمپنی کے لیے انھوں نے فلم ’اپنی نگریا‘ لکھی۔ یہ فلم 1940 میں ریلیز ہوئی۔ فلم سوپر ہٹ ہوئی اور منٹو کی مالی مشکلات کچھ دنوں کے لیے حل ہوگئیں۔ ابھی فلم انڈسٹری میں منٹو کے قدم جم ہی رہے تھے کہ وہ جنوری 1948 میں لاہور ہجرت کرگئے۔ ایک بارپھر اُن کی معاشی حالت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اُن کا قلم رواں رہا لیکن معاشی مسائل تھے کہ الجھتے گئے۔ اِس پر مزید ستم یہ کہ اُن کی مخصوص سنک اور شراب کی لت نے انھیں کہیں کا نہ رکھا۔دو بار ذہنی امراض کے شفا خانے میں بھی داخل ہونا پڑا۔ معاشی اور ذہنی پریشانیوں نے ازدواجی زندگی پر بھی تلخ اثرات مرتب کیے تاہم اُن کی صابر و شاکر بیوی صفیہ نے ان تمام تلخیوں کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ آخری وقت میں منٹو کو اپنی بیوی کی اِس عظمت کا احساس ہوا اور 18/ جنوری1955کو مرتے وقت منٹو نے اُن سے کہا: ”اب یہ ذلت ختم ہوجانی چاہیے۔“ منٹو نے اپنا ادبی سفر وکٹر ہگو، اوسکر وائلڈ، چیکوف اور میکسم گورکی کی تخلیقات کے تراجم سے شروع کیا۔منٹو کاپہلا مطبوعہ افسانہ ”تماشا“ تھا جو ہفت روزہ ”خلق“ امرتسر میں 1933 میں شائع ہوا۔ جلیانوالہ باغ کے پس منظر میں لکھے گئے اس افسانے کو منٹو نے ’ابنِ آدم‘ کے قلمی نام سے لکھا تھا۔ منٹو کی ابتدائی تخلیقات پر ترقی پسندرویے اور رجحانات کے اثرات نمایاں ہیں۔ انھوں نے سماجی حقیقت پسندی اور کمیونزم کے اثرات بھی قبول کیے۔منٹو نے انسانی نفسیات اورتقسیم کے بعد گرتی ہوئی قدروں کو اپنا موضوع بنایا۔ کہیں کہیں پر منٹو نے انسانی زندگی کے معاشی مسائل کو بھی موضوع بنایا ہے۔غرض کہ انسانی وجود اور بقا کا شاید ہی کوئی ایسا جزو رہا ہو گا جسے منٹو کے نوکِ قلم نے نہ چھوا ہو۔ انھوں نے طوائفوں کے حالات تحریر کرتے ہوئے جنسی غلامی کے موضوع کو لافانی بنا دیا۔منٹوکو اپنی بصیرت اور بصارت دونوں کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سعادت حسن منٹو کے بیش تر افسانے تھیم پر مبنی ہیں۔منٹوکا افسانوی عمل کسی سماجی یا ادبی گروہ کا حلیف بننے سے انکار کرتا اورایک نیااور منفرد تھیم تخلیق کرتا ہے۔اس امر کی ایک عمدہ مثال ان کا افسانہ جانکی ہے۔واحد متکلم کے ”نقطہئ نظر“میں لکھے گئے اس افسانے کا موضوع ”عورت کی محبت“ ہے اور تھیم یہ ہے:”عورت ایک آزاد و خود مختار وجود ہے۔وہ محبت کے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے اور اپنی ہر محبت میں پر خلوص ہوتی ہے۔“ واضح رہے کہ موضوع اور تھیم میں فرق ہوتا ہے اور اس فرق کا لحاظ اکثر نہیں رکھا گیا۔کسی افسانے کا موضوع ایک عام سچائی،رویہ،قدر،مسئلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے موضوع سے کسی افسانے کے امتیاز کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس کے مقابلے میں تھیم کے ذریعے اس امتیاز کی طرف اشارہ ممکن ہے۔لہٰذا افسانے میں موضوع ”عام“ ہے،جبکہ تھیم خاص۔یہ دوسری بات ہے کہ ہر خاص تھیم میں ایک عمومی صداقت یا اصول بننے کا امکان ہوتا ہے۔افسانہ جانکی کے علاوہ بھی منٹو کے بیشتر افسانے اِس رجحان کے حامل نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر افسانہ ’ہتک‘ کا موضوع جسم فروشی جیسی لعنت پر طنز ہے جبکہ اِس کا تھیم عورت کی عظمت ہے۔ اس تعلق سے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے تحریر کیا ہے کہ: ”جو چیز منٹو کے تخلیقی ذہن میں اضطراب پیدا کرتی ہے۔ وہ خریدی اور بیچی جاسکنے والی جنس نہیں بلکہ انسانی روح کا وہ درد و کرب ہے جو جسم کو بکاؤ مال بنانے سے پیدا ہوتا ہے یعنی انسانی عظمت کا سودا اور بے بسی اور بے چارگی کا گھاؤ جو وجود کو کھوکھلا اور زندگی کو لغو بنا دیتا ہے۔ مال کے دام تو لگائے جا سکتے ہیں لیکن انسانی روح کی عظمت کے دام نہیں لگائے جا سکتے۔“(جدیدیت کے بعد:منٹو کی نئی قرأت۔ از: پروفیسرگوپی چند نارنگ۔ص ۰۱۳۔) منٹو کے افسانوں میں انسانی نفسیات کا گہرا شعور نظر آتا ہے۔انسانی زندگی کی صورتحال اور فطرت نگاری کے علاوہ ان کے یہاں جو ایک اور اہم موضوع ملتا ہے وہ سماجی اور معاشی ناہمواری کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل ہیں۔ یہ مسائل انسانی دکھوں اور آشوب کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی ناآسودگی بھی منٹو کا من پسند موضوع ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جو ہولناک فسادات کی کہانیاں منظرعام پر آئیں وہ بھی منٹو کے افسانوں میں جا بجا ملتی ہیں۔ منٹو براہ راست ابلاغ میں یقین رکھتے تھے اور حقیقت پسندانہ اسلوب نگارش ان کے افسانوں کا طرہئ امتیاز ہے۔لیکن وہ موپساں کی طرح انسانوں کی بے بسی اور بے کسی پر خاموشی سے ماتم کناں نہیں ہوتے بلکہ مروجہ سماجی اور معاشی نظام کے جسم پر بڑی سفاکی سے تنقید اور طنز کے کوڑے برساتے نظر آتے ہیں۔ان کے اکثر افسانوں کا کلائمکس بھی بہت حیران کن ہوتا ہے اور قاری کوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں اْ ن کے بے مثال افسانے ٹھنڈا گوشت،کالی شلوار، دھْواں، ’جانکی ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نیا قانون، بابو گوپی ناتھ اور ”بو“ وغیرہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ اردو کے افسانوی منظر نامے کو مسلسل متاثر کررہے ہیں۔ منٹواردو کے ایک رجحان ساز نہیں بلکہ تاریخ ساز افسانہ نگار ہیں۔