“Marked by the Moon” A Persian Folk Tale

Articles

فارسی لوک کہانی ’’ نشانِ قمر‘‘

مترجم : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔ بہت پہلے، بہت بہت پہلے۔دنیا کے بالکل کنارے کسی ایسی جگہ پر جو نہ بہت دور اور نہ ہی بہت قریب تھی ایک لڑکی رہا کرتی تھی جس کا نام چاند پری تھا۔چاند پری بہت مددگار اور رحم دل تھی۔لیکن اس پر مایوسیوں اور اداسیوں کا بوجھ بھی تھا۔پوری دنیا میں اس کا اپنا گھر اور اس کے اپنے دوست نہیں تھے۔وہ بالکل اکیلی تھی۔وہ بی بی خانم کے یہاں رہا کرتی تھی۔بی بی خانم کی ایک لڑکی تھی جس کا نام گلاب تن تھا۔وہ بھی خوبصورت تھی لیکن رحمدل نہیں تھی۔وہ ہر ایک کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔اگرچہ چاند پری کے پاس نہ خوبصورت لباس تھے، نہ اس کا اپنا گھر یا خاندان تھااور نہ ہی اس کے اپنے دوست تھے، اس کے باوجود بھی گلاب تن اس سے حسد کیا کرتی تھی۔
گھر کا تمام کام چاندپری کو ہی کرنا پڑتا تھا۔وہ صبح صادق سے لے کر آدھی رات تک گھر کا کام کیا کرتی تھی۔مختلف کمروں میں جھاڑو دینا، کپڑے دھونا، کھانا بنانا، کپڑے سینا اور اسی طرح کے تمام چھوٹے بڑے کام چاند پری کے ذمّہ تھے۔چاند پری ان تمام کاموں سے بہت زیادہ تھک جاتی تھی۔اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اتنے زیادہ برتن اور کپڑے دھونے کی طاقت نہ تھی اور نہ ہی وہ تمام کمروں میں جھاڑو لگا سکتی تھی۔کبھی کبھی تنہائی اور اکیلے پن کے احساس سے اس کا دل بھر آتا تھا۔تب وہ گھر کے پیچھے جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر رویا کرتی تھی۔اسے روتے دیکھ کر تتلیاں اس کے اطراف میں منڈلاتیں اور اس کے سر پر بیٹھ جایا کرتی تھیں۔پھول اپنا سر جھکا کر اپنی خوشبو اس پر چھڑکا کرتے تھے۔اگر رات کا وقت ہوتا تب ستارے رات بھر اس کے لیے جھلملایا کرتے تھے۔
ایک دن، گزرے ہوئے تمام دنوں کی طرح، ماضی کے تمام دنوں کی طرح چاند پری، بی بی خانم اور گلاب تن کے میلے کچیلے کپڑے دھونے کے لیے باہر گئی۔گھر کے پیچھے دو کنویں تھے۔ایک کنواں بہت پہلے ہی سوکھ چکا تھا۔لیکن دوسرا کنواں پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا۔چاندپری ایک ایک بالٹی پانی نکال کر کپڑے دھوتی رہی۔ان تمام کپڑوں کو دھونا اس کے لیے بہت مشکل کام تھا۔اس کی انگلیاں زخمی ہو چکی تھیں۔پیٹھ میں درد شروع ہو چکا تھا۔لیکن اس کے باوجود بھی اسے ابھی بہت سارے کپڑے دھونے تھے۔
اس نے تمام کپڑے دھو لیے ، انہیں سکھانے کے لیے ایک رسی پر پھیلادیااور ایک درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے بیٹھ گئی۔اس کی آنکھ لگ گئی اور چاندپری کو بالکل احساس نہیں ہوپایا کہ وہ کتنی دیر سے سوتی رہی ہے۔ اچانک تیز آوازسے وہ چونک کر بیدار ہوگئی۔شدید آندھی چل رہی تھی۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔درخت جھومنے لگے ،خوفناک آوازیں تیز تر ہوتی چلی گئیں۔ آندھی ان تمام کپڑوں کو اڑالے گئی جسے چاندپری نے ابھی ابھی دھویا تھا۔چاندپری کپڑوں کو پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے دوڑتی رہی۔انہیں یکجا کرنے کے لیے وہ ادھر سے اُدھر دوڑتی رہی۔ پھر اس نے اپنے اطراف دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ کچھ کپڑے کنویں کے کنارے پر پڑے ہوئے ہیں۔ جب اس نے انہیں جمع کرنا شروع کیا تب ایک کپڑا کنویں میں گر گیا۔ چاندپری بہت گھبرا گئی۔وہ تیز آواز میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی،’’اگر بی بی خانم کو اس بات کا پتہ چل گیا تو میں مصیبت میں آجائوں گی۔ یقینا وہ مجھے ڈانٹے گی۔ ہوسکتا ہے وہ مجھے، گھر سے ہی نکال دے۔‘‘
چاندپری آہستہ آہستہ پورے احتیاط سے کنویں میں اترنے لگی۔ اس نے سوچ لیا کہ چاہے جو ہوجائے وہ کپڑا باہر نکال کر ہی رہے گی۔ ابھی وہ زیادہ نیچے نہیں اتری تھی کہ اس کا پیر پھسل گیااور وہ نیچے گر گئی۔جب اسے ہوش آیا،اس نے اپنے اطراف دیکھا، بادل، زمین، آسمان،یہاں تک کہ درختوں اور پھولوں کے رنگ بھی مختلف تھے۔وہ بہت زیادہ خوبصورت اور دیدہ زیب تھے۔اس نے اپنی آنکھوں کو ملنا شروع کیا۔وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں ہے۔اسے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسے کہاں جانا ہے۔چاندپری نے بی بی خانم کا لباس تلاش کرنا شروع کیا۔ اسے تھوڑے فاصلے پر ایک جھونپڑی نظر آئی۔خاموشی سے وہ جھونپڑی کے قریب پہنچی اور اس نے دروازے پر دستک دی۔ اسے اندر سے آواز آئی کہ تم جو بھی ہو، جہاں سے بھی آئی ہو اندر آجائو۔دروازہ کھلا ہوا ہے۔چاندپری دروازہ کھول کرآہستہ سے اندر داخل ہوگئی۔اسے جھونپڑی مکمل طور پر درھم برہم نظر آرہی تھی۔ ہر چیز ادھر اُدھر بکھری ہوئی تھی۔اس پریشانی میں چاندپری کسی کو دیکھ نہیں سکی۔اسی آواز نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا :’’میں یہاں ہوں، کھڑکی کی طرف دیکھو، میں یہاں بیٹھی ہوں۔‘‘
چاند پری نے اپنا سر گھمایا اور دیکھا، وہ ڈر کر کچھ پیچھے ہٹ گئی۔ایک چڑیل کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے چاند پری کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا:’’لوگ مجھے آنٹی گھولی کہتے ہیں۔تمہارا نام کیا ہے؟‘‘چاندپری نے اچھی طرح اس کی جانب دیکھا۔آنٹی گھولی کی مسکراہٹ خوبصورت تھی۔ اس کی آنکھوں سے رحمدلی جھانک رہی تھی۔ان چیزوں کو دیکھ کر اس کا ڈر کچھ حد تک کم ہوگیا۔وہ اور قریب ہوگئی اور اپنا نام بتایا۔اسی لمحے اسے بی بی خانم کا لباس آنٹی گھولی کے ہاتھ میں نظر آیا۔چاندپری نے مسکراتے ہوئے کہا:’’یہ بی بی خانم کا ڈریس ہے اور میں اسے ہی تلاش کرتے ہوئے یہاں تک آئی ہوں۔‘‘
آنٹی گھولی نے لباس کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑلیا اور کہا،’’اگر تم میرے تین سوالوں کے جواب دوگی تب میں یہ لباس تمہیں لوٹا دوں گی اور تمہیں گھر جانے کا راستہ بھی بتا دوں گی۔‘‘چاندپری ہنسنے لگی، وہ آنٹی گھولی کی بغل میں بیٹھ گئی،اس کے پیروں پر ہاتھ رکھا اور کہا،’’اپنے سوال پوچھو لیکن یہ بھی خیال رکھو کہ سوال زیادہ مشکل نہیں ہونے چاہیے۔‘‘
آنٹی گھولی نے اپنے خیالات یکجا کرتے ہوئے پوچھا،’’کیا میرا گھر بی بی خانم کے گھر سے زیادہ خوبصورت ہے؟‘‘چاندپری نے اپنے اطراف دیکھا،ہرچیز بکھری پڑی تھی۔ایسا لگتا تھا جیسے آنٹی گھولی نے کئی سالوں سے اپنے کمرے کی صاف صفائی نہ کی ہو۔چاندپری نے اپنا سر ہلایا اور کہا،’’یہ گھر خوبصورت ہے لیکن بی بی خانم کا گھر اس سے زیادہ صاف ستھرا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی بے چین محسوس ہونے لگی۔ممکن تھا کہ وہ رودیتی لیکن چاندپری نے اس سے کہا، ’’آئو ہم دونوں ایک ساتھ کمرے کی صفائی کرتے ہیں۔‘‘فوراً اس نے خود سے کام کرنا شروع کردیا،سب سے پہلے اس نے کھڑکیاں کھولیں،اس کے بعد کمرے میں جھاڑو لگایا،ہر چیز کو اپنی صحیح جگہ پر رکھا،جتنی چیزوں کو دھونا ضروری تھا اسے دھویا،آنٹی گھولی بھی کام میں اس کی مدد کرتی رہی۔کچھ ہی وقت میں کمرہ صاف و شفاف نظر آنے لگا۔کام ختم کرنے کے بعد چاند پری نے کہا،’’اب تمہارا گھر بی بی خانم کے گھر سے زیادہ صاف اور خوبصورت ہو گیا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے کمرے کی طرف دیکھا،وہ خود بھی یقین نہیں کرسکی کہ کمرہ اتنا زیادہ صاف ہوگیا۔ وہ اتنی زیادہ خوش ہوئی کہ اسے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا کرنا ہے۔چاندپری بھی مسکرانے لگی۔ اسے یاد تھا کہ اسے یہاں سے جانا ہے اس لیے اس نے آنٹی گھولی سے کہا کہ وہ اب اپنا دوسرا سوال کرے۔آنٹی گھولی نے اپنا اسکارف درست کیا،اپنے ڈریس پر ایک نظر ڈالی اور پوچھا،’’کون زیادہ خوبصورت ہے؟ میں یا بی بی خانم؟‘‘
چاندپری نے آنٹی گھولی کو بغور دیکھا،اس کا چہرہ انتہائی گندہ اور گرد آلود تھا،اس نے اچھی طرح سے اپنے ہاتھ اور منہ بھی نہیں دھویا تھا۔کافی عرصے سے بالوں میں کنگھی بھی نہیں کی تھی۔چاند پری نے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے کہا،’’مجھے آپ پر ترس آتا ہے، بی بی خانم آپ سے زیادہ خوبصورت اور نفاست پسند ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے دوبارہ بے چینی محسوس کی لیکن چاندپری نے کہا،’’آئو، کھڑے رہو اور پہلے اپنا ہاتھ منہ دھو لو۔‘‘چاندپری نے منہ ہاتھ دھونے میں آنٹی گھولی کی مدد کی۔اس کے بعد وہ نیچے بیٹھ گئی اور آنٹی گھولی کے بالوں میں کنگھی کرنے لگی۔اس نے اس کے سر پر صاف اسکارف بھی رکھا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،’’اب آپ زیادہ نفاست پسند اور پرکشش نظر آرہی ہیں۔‘‘آنٹی گھولی نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا،وہ اپنا سر ادھر اُدھراور اوپر نیچے کرنے لگی۔پھر وہ چاندپری کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی جبکہ چاندپری کا چہرہ آنٹی گھولی کے شانوں پر تھا، آنٹی گھولی چاند پری کا سر سہلانے لگی۔چاند پری کو اپنی ماں یاد آگئی۔اس نے آنٹی گھولی سے کہا،’’آپ بہت مہربان ہیں، آپ میری ماں کی طرح ہے۔‘‘اتنا سنتے ہی آنٹی گھولی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔اس نے چاند پری کا چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا،’’میری پیاری بیٹی، اب تم چلی جائو، کافی دیر ہو رہی ہے۔‘‘
چاند پری نے کہا، ’’کیا آپ بھول گئیں، آپ نے ابھی تیسرا سوال نہیں پوچھا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے کہا ،’’تم نے خود ہی اس کا جواب دے دیا ہے۔میں یہی پوچھنا چاہتی تھی کہ ’’کون زیادہ مہربان ہے؟ میں یا بی بی خانم؟اور تم نے کہہ دیا کہ میں تمہاری ماں کی طرح ہوں۔‘‘ آنٹی گھولی نے چاندپری کو لباس لوٹا دیا اور کہا،’’کاش کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہ سکتیں!کاش کہ تم میری دوست اور ساتھی ہوتیں!لیکن تمہاری جگہ یہاں نہیں ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے آہیں بھرتے ہوئے کہا،’’جھونپڑی کے پاس میں ایک ندی ہے، یہ دھنک ندی ہے،جب اس کا پانی نیلا ہوجائے تب تم اپنا چہرہ دھو لینا۔‘‘آنٹی گھولی نے اسے ایک پھول بھی دیااور کہا کہ ’’اسے’ گلِ آرزو ‘کہتے ہیں۔یہ تمہاری ایک خواہش پوری کرسکتاہے۔‘‘چاند پری بہت خوش ہوئی۔اس نے’ گلِ آرزو ‘اپنی جیب میں رکھا،آنٹی گھولی کا بوسہ لیا اور وہاں سے نکل پڑی۔جھونپڑی کے بازومیں اسے دھنک ندی دکھائی دی،اس نے پانی کا رنگ نیلا ہونے تک انتظار کیا،جس لمحے وہ ندی کے پانی میں اپنا چہرہ دھو رہی تھی تب اس پر مدہوشی طاری ہونے لگی،اسے محسوس ہورہا تھا جیسے دنیا اس کے سامنے گردش کر رہی ہے۔اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ بھی نہیں یاد رہا۔
جب چاندپری کی آنکھ کھلی تب اسے محسوس ہوا کہ وہ سوکھے ہوئے کنویں کے پاس پڑی ہے۔چاند پری نے اطراف میں دیکھا اور اپنے تمام کپڑے بالٹی میں یکجا کیے۔گھر جانے سے پہلے وہ اپنے ہاتھ دھونا چاہتی تھی۔اس نے کنویں میں بالٹی ڈالی،تب اچانک اسے محسوس ہوا کہ کنویں میں کوئی چیز چمک رہی ہے۔چاندپری اسے بغور دیکھنے لگی۔ایسا لگتا تھا جیسے کنویں میں کوئی ستارہ اتر آیا ہو۔اسے بہت تعجب ہوا۔اس نے عجلت میں پانی کی بالٹی اوپر کھینچی۔چاند پری بہت گھبرا گئی تھی۔وہ فوراً اپنے ہاتھ دھو لینا چاہتی تھی۔لیکن اب اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ستارہ اس کی بالٹی میں چمک رہا ہو۔چاندپری نے اسے اور قریب سے دیکھا۔وہ چمک اس کے چہرے پر تھی۔وہ ہلالِ عید کی طرح اک چھوٹا اور خوبصورت چاند تھا جو چاندپری کی پیشانی پر جگمگارہا تھا۔
چاندپری نے اپنی پیشانی کو چھو کردیکھا،اس نے چاند نکالنے کی کوشش کی،لیکن کسی بھی طرح سے چاند اس کی پیشانی سے الگ نہیں ہوسکا۔اچانک نرم نازک ہو ا ا س کے چہرے کو چھو تے ہوئے گزرنے لگی۔پھول اسے دیکھ کر سر جھکانے لگے۔ پنکھڑیاں ٹوٹ کر اس کے پیروں پر گرنے لگی اور اسے چندا، چندا کہہ کر مخاطب کرنے لگیں۔تتلیاں اس کے اطراف منڈلاتے ہوئے اس کے کانوں کے قریب جاکر اسے چندا، چندا پکارتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ تم کتنی خوبصورت ہوگئی ہو!تتلیاں درخت اور ہوائیں اسے چاند پری کے نام سے مخاطب کرنے لگے۔دھیرے دھیرے اس نے گھر کا رخ کیا۔ اس نے اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ لیا تاکہ بی بی خانم اس کی پیشانی پر وہ چاند نہ دیکھ سکے۔ لیکن بی بی خانم نے اسے دیکھ ہی لیا۔ حیرت کی وجہ سے وہ کچھ بھی بولنے سے قاصر رہی۔ چاند پری کا چہرہ کسی چاند کی طرح روشن تھا۔ بی بی خانم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے گئی۔ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے کے بعد سوال کیاکہ کیا ہوا؟ یہ چاند کہاں سے آیا؟اورتم نے کیا کیا؟
چاند پری بہت ڈر گئی اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔اس نے کہا ’’میں نہیں جانتی ، شاید آنٹی گھولی نے ایسا کیا ہو۔‘‘
بی بی خانم نے حیرت سے دریافت کیا،’’آنٹی گھولی ! یہ آنٹی گھولی کون ہے؟‘‘پھر اس نے چاند پری کے بال کھینچتے ہوئے کہا،’’تم مجھے ضرور بتائو گی کہ تم نے کیا کیا،تم کہاں گئی تھیں؟ اور تم گلاب تن کو بھی سکھائو گی کہ تم نے ایسا کس طرح کیا۔‘‘
چاند پری خوفزدہ ہوگئی اس نے اپنا سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا،’’ٹھیک ہے میں گلاب تن سے کہہ دوں گی کہ میں نے کیا کیا اور میں کہاں گئی تھی۔‘‘
اگلی صبح گلاب تن بھی بالٹی میں کپڑے بھر کر سوکھے کنویں کے قریب پہنچی،اس نے ایک لباس کنویں میں پھینک دیااور خود سے کنویں میں اترنے لگی،ابھی وہ تہہ تک بھی نہیں پہنچی تھی کہ اس کا پیر پھسل گیا۔
جب گلاب تن کو ہوش آیا تووہ جلدی جلدی اس سمت دوڑنے لگی جس کا ذکرچاند پری نے کیا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر اسے آنٹی گھولی کی جھونپڑی نظر آگئی۔دروازے پر دستک دیے بغیر وہ اندر داخل ہوگئی۔ اس نے سلام تک نہیں کیا۔وہ سیدھے اندر داخل ہوئی اور ایک کنارے پر جا کر بیٹھ گئی۔ آنٹی گھولی نے اسے دیکھا اور دریافت کیا،’’تم کون ہو؟ تم کہاں سے آئی ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
گلاب تن نے نہ ہی اپنا نام بتایا اور نہ ہی یہ کہا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔اس نے صرف اتنا کہا کہ میں نے اپنا لباس گم کردیا ہے، مجھے میرا لباس دے دو اور میری پیشانی پر نشانِ قمر بنا دو۔
آنٹی گھولی نے اس سے کہا میں تم سے تین سوالات پوچھوں گی، اگر تم نے ان کے جوابات دے دیئے تو میں تمہیں تمہارا ڈریس لوٹا دوں گی اور تمہیں گھر کا راستہ بھی بتا دوں گی۔ اس نے اس کمرے کی طرف اشارہ کیا جسے چاند پری کی مدد سے اس نے صاف کیا تھا اور دریافت کیا کہ’’مجھے بتائو کیا میرا گھر بی۔بی خانم کے گھر سے زیادہ خوبصورت ہے۔‘‘
اطراف میں دیکھے بغیر گلاب تن نے جواب دیا۔’’ تمہارا یہ گھر کسی اصطبل کی طرح بدنما ہے۔ ہمارا گھر اس سے زیادہ صاف و شفاف اور خوبصورت ہے۔‘‘
آنٹی گھولی بے چینی محسوس کرنے لگی، اس نے سوچا شاید گلاب تن گھر کی صاف صفائی میں اس کی مدد کرے گی۔لیکن گلاب تن نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔
آنٹی گھولی نے دوسرا سوال کیا،’’مجھے بتائو کون زیادہ خوبصورت ہے؟ میں یا بی بی خانم؟‘‘
اس کے الفاظ سنتے ہی گلاب تن کھڑی ہو گئی اور کہا، ’’یہ بالکل واضح ہے کہ میری ماں زیادہ خوبصورت ہے۔میری یاداشت کے مطابق تم بد صورت ترین عورت ہو۔‘‘
آنٹی گھولی دوبارہ بے چینی محسوس کرنے لگی اور بہت اداس ہوگئی، اس نے سوچا شاید گلاب تن اسے خوبصورت بنانے میں مدد کرے گی۔ لیکن گلاب تن نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔لہٰذا آنٹی گھولی نے اس سے تیسرا سوال نہیں کیا۔ اس نے سمجھ لیاکہ گلاب تن کا دل تاریکیوں سے بھرا ہوا ہے۔ آنٹی گھولی نے اسے گھر کا راستہ بتاتے ہوئے کہا،’’ندی کے کنارے سے جائو اور جب ندی کا پانی سفید ہوجائے تو اپنا چہرہ دھو لینا۔ ‘‘
آنٹی گھولی ندی کے سفید پانی سے گلاب تن کی تمام برائیاں دھونا چاہتی تھیں۔گلاب تن تیزی سے باہر نکلی اور ندی کے کنارے انتظار کرنے لگی۔ ندی مختلف رنگوں میں تبدیل ہوتی رہی، اس کے بعد ندی سفید ہوگئی لیکن گلاب تن نے اپنا چہرہ نہیں دھویا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’سفید پانی اتنا خوبصورت نہیں ہے،مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے ندی کو اور رنگوں میں تبدیل ہونے کا انتظار کیا،جب پانی سرخ ہوگیا تب گلاب تن بہت خوش ہوئی اور اس نے اپنا چہرہ دھولیا۔
جب گلاب تن نے اپنی آنکھیں کھولی تو اسے پتہ چلا کہ وہ اپنے بستر پر پڑی ہوئی ہے اور بی بی خانم اس کے بازو میں بیٹھی ہوئی ہے۔ گلاب تن اٹھ بیٹھی اور دریافت کیا’’کیا میری پیشانی پر بھی نشانِ قمر موجود ہے؟‘‘
بی بی خانم رونے لگی، گلاب تن نے قریب ہی موجود پانی سے بھرے ہوئے پیالے میں اپنا عکس دیکھا، چیختے ہوئے اس نے وہ پیالہ دور پھینک دیا۔ اس کی پیشانی پر ایک لال رنگ کا بڑا سا بدنماداغ ابھر آیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے خون سے بھرا ہوا پھوڑا ابھر آیا ہو۔
گلاب تن خوفزدہ ہو کر چیخنے لگی، چاند پری دوڑتے ہوئے اس کے کمرے میں پہنچی، اس کے چہرے پر موجود چاند کی وجہ سے پورا کمرہ روشن ہوگیا۔وہ خاموشی سے گلاب تن کے قریب گئی اور اس بدنما داغ کو دیکھا۔
گلاب تن نے چاند پری کو تمام واقعات کی تفصیل بتائی، اور اس کی گود میں سر رکھ کر رونے لگی۔ چونکہ گلاب پری خود بھی اپنی زندگی میں بہت رو چکی تھی لہٰذا کسی کو روتے دیکھنا چاند پری کو بالکل پسند نہیں تھا۔وہ گلاب تن کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
اچانک اسے ’گلِ آرزو‘یاد آگیا۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے اسکرٹ کی جیب میں ڈالا۔ ’گلِ آرزو‘ اب بھی وہاں موجود تھا۔ اگرچہ کہ اس کی اپنی بہت ساری آرزوئیں اور خواہشات تھیں لیکن اس نے انہیں پرے رکھتے ہوئے ’گلِ آرزو‘کو باہر نکالا۔ چاند پری نے اس کی پنکھڑیوں کو رگڑتے ہوئے کہا، ’’اے ’گلِ آرزو‘ اس دنیا میں میری بھی بہت ساری آرزوئیں اور تمنائیں ہیں لیکن میں کسی کو اداس اور غمگین نہیں دیکھ سکتی۔ اگر تم واقعی ’گلِ آرزو‘ہو تو ایسا کچھ کرو کہ گلاب تن پھر کبھی رو نہ سکے۔‘‘
ابھی چاند پری کے الفاظ ختم بھی نہیں ہو پائے تھے کہ گلاب تن کی پیشانی پر موجود لال بدنما داغ زائل ہونا شروع ہوااور پھر دھیرے دھیرے اس طرح سے غائب ہوگیا جیسے پہلے کبھی تھا ہی نہیں۔ بی بی خانم اتنا خوش ہوئی کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے۔ گلاب تن بھی بہت خوش تھی۔ چاند پری ’گلِ آرزو‘ لے کر کمرے سے نکل گئی۔ وہ صحن میں بیٹھ کر سوچنے لگی، اس نے سوچا کہ اگلے دن اسے بی بی خانم اور گلاب تن کے لیے بہت سارا کام کرنا پڑے گا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ بی بی خانم اور گلاب تن اب بھی اس کے ساتھ بُرا سلوک کریں گے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے دھنک ندی کے سفید پانی نے ان لوگوں کے کالے دلوں کو دھو دیا ہو۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ’گلِ آرزو‘ نے بی بی خانم اور گلاب تن کی ساری برائیوں کو زائل کردیا ہو۔
٭٭٭
یہ لوک کہانی زارا ہوشمند نے فارسی سے انگریزی میں ترجمہ کی تھی۔ ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نے’اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے اسے انگریزی سے اردو میں منتقل کیا ہے۔

Intekhab E Kalam Akbar Allahabadi

Articles

انتخابِ کلام اکبر الہ آبادی

اکبر الہ آبادی

 

 

فرضی لطیفہ

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ
مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں
نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس
سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ
کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس
تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے
بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس
کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
کجا یہ فطرتی جوش طبیعت
کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس
بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے
ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس
یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی
مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود
نہیں منظور مغز سر کا آماس
یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ
تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

***

نئی تہذیب

یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے

نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی
نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے

نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی
نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے

بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سے
نئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے

نہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیں
نہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے

خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کی
کھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے

عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے

بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کے
مگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے

ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے

بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے

گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
کتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے

کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگا
ہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے

تمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ
بہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے

***

برق کلیسا

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار
ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار
زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید
قدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں
گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں
گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے
دلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے
دل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیں
سرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں
آتش حسن سے تقوے کو جلانے والی
بجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی
پہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرق
ترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق
پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی
سر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی
ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا
یا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا
عرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار
دولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار
تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے
ساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے
شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولی
ناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی
غیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے
لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر
حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر
کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں
آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں
گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیں
پائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں
مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد
ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد
دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئی
کامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی
عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح
اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح
شجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیں
گیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں
اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
ٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
ہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگ
دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ
یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ
سب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ
جوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثار
نور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار
اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیک
دو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک
موج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گرد
میں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد
مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں
نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہم
تو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم
میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو
ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

***

 

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا
بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں
اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو
طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات
انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا
زر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے

***

 

غزل

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

***

غزل

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا
مہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا
برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے

سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازم
ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

***

غزل

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے
سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے
کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا
دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع
پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

***

غزل

صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی

زور آزمائیاں ہوئیں سائنس کی بھی خوب
طاقت بڑھی کسی کی کسی میں نہیں رہی

دنیا کبھی نہ صلح پہ مائل ہوئی مگر
باہم ہمیشہ برسر پیکار و کیں رہی

پایا اگر فروغ تو صرف ان نفوس نے
جن کی کہ خضر راہ فقط شمع دیں رہی

اللہ ہی کی یاد بہرحال خلق میں
وجہ سکون خاطر اندوہ گیں رہی

***

 

Research makes the Evolution of Language and Literature

Articles

تحقیق زبان و ادب کے ارتقا کی راہ ہموار کرتی ہے

تصویر میں دائیں سے قاضی مشتاق احمد، پروفیسر نسیم احمد اور پروفیسر صاحب علی

ممبئی،۱۵؍نومبر: شعبۂ اردو، ممبئی یونیورسٹی کی اردو ریسرچ ایسوسی ایشن کے زیر اہتمام منعقدہ ادبی تقریب کی صدارت کرتے ہوئے بنارس ہندو یونیورسٹی کے سابق صدر شعبہ ٔ اردو پروفیسر نسیم احمد نے کہا کہ تحقیق کا عمل گرچہ محنت طلب ہے لیکن زبان و ادب کے ارتقا کے لیے اس عمل سے گزرنا لازمی ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ تحقیق کے ذریعہ ادب کے تخلیقی رجحانات و میلانات کے مابین امتیازات کی نشاندہی ہوتی ہے اور کسی ادیب و شاعر تخلیقی محرکات و فنی اوصاف دریافت کرنے میں آسانی ہوتی ہے۔پروفیسر نسیم احمد نے شعبہ ٔ اردو ممبئی یونیورسٹی کی علمی وا دبی سرگرمیوں کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ صدر شعبہ پروفیسر صاحب علی کی سنجیدہ اور مخلصانہ کوششوں کے ذریعہ نہ صرف تدریسی سطح پر اردو زبان وادب کی ترقی کی راہ ہموار ہوئی بلکہ شعبہ کی جانب سے منعقد ہونے والی علمی وادبی تقریبات نے اس زبان کے وقار میں اضافہ کیا ہے۔انھوں نے ایم فل اور پی ایچ ڈی کے تحت ہونے والی تحقیق پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں بہت کم یونیورسٹیوں میں ایسے وقیع اور اہم موضوعات پر تحقیقی کام ہورہا ہے جو زبان و ادب کے ارتقا میں معاون ہو سکے اور اس لحاظ سے ممبئی یونیورسٹی کا شعبہ ٔ اردو اپنی علاحدہ شناخت رکھتا ہے ۔
اس تقریب میں اردو کے معروف فکشن نگار قاضی مشتاق احمد نے مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی اور اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ اردو ریسرچ ایسوسی ایشن کے ذریعہ منعقد ہونے والی ادبی تقاریب طلبہ کے اندر ذوق علم کو بڑھاوا دیں گی اور ساتھ ہی ادب کی تفہیم کے عمل کو بھی ان کے لیے آسان بنائیں گی ۔انھوں نے ایسویسی ایشن کی فعالیت کے لیے پروفیسر صاحب علی اور شعبہ کے سبھی اساتذہ اور طلبہ کو مبارک باد دی اور کہا کہ اردو کی ترقی کے لیے ضروری ہے کہ ہم علمی و عملی طور پر سرگرم رہیں اور اس زبان میں شائع ہونے والے اخبارات ، رسائل اور کتابوں کو خرید کر پڑھنے کا طریقہ اختیار کریں ۔تقریب کے آغاز میں پروفیسر صاحب علی نے مہمانان کا استقبال کیا اور ایسوسی ایشن کے قیام کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد طلبہ کو ایسا پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے جو ان کی علمی و ادبی صلاحیتوں کو جلا بخشے اور ان کے اندر زبان و ادب کی تفہیم کے شعور کو پختگی عطا کر ے۔ انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں وقتاً فوقتاً ایسی ادبی تقاریب کا انعقاد کیا جاتا ہے جن میں پی ایچ ڈی یا ایم فل کا کوئی طالب علم زبان و ادب سے متعلق کسی موضوع پر تحقیقی مقالہ پیش کرتا ہے اور تقریب کے شرکا اس پر اپنے خیالات و تاثرات کا اظہار کرتے ہیں۔ ایم فل کے طالب علم ندیم احمد انصاری نے پاکستان کی مشہور ادبی و مذہبی شخصیت تقی عثمانی کی نثری و شعری خدمات پر تحقیقی مقالہ پیش کیا ۔اس مقالے میں تقی عثمانی کی ہمہ جہت شخصیت کا تعارف پیش کرتے ہوئے ان کی شاعری اور سفرناموں پر خصوصی اظہار خیا ل کیا گیا تھا ۔ پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر عبداللہ امتیاز نے شرکا اور مہمانان کا شکریہ ادا کیا اور شعبہ کے اساتذہ ڈاکٹر جمال رضوی، ڈاکٹر قمر صدیقی، ڈاکٹر مزمل سرکھوت، محترمہ روشنی خان کے علاوہ ایم اے ، ایم فل اور پی ایچ ڈی کے طلبا نے شرکت کی۔


 

The Great Lord Pabori

Articles

خدائے پابوری

مترجم : حیدر شمسی

ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ کھانے کی تلاش میں شہر میں داخل ہوگیا۔ایک طرف سے آنے والی مرغیوں کی آوازکو اس نے سنا۔اندھیری رات میں آنے والی اس آواز کی طرف وہ بڑھتا چلا گیا اور اس بات کا خیال رکھا کہ کوئی کتّا اسے دیکھ نہ لے۔اسی راستے میں ایک نیل سے بھرا دھوبی گھاٹ بھی تھا۔ مرغیوں کی آواز نے اسے اپنی گرفت میں لے رکھا تھاجس کی وجہ سے گیدڑ نے گھاٹ کو نہیں دیکھااور سر کے بل اس میں گرگیا۔
پانی کے چھینٹوں کی آوا ز سن کر کتّوں کے کا ن کھڑے ہوگئے۔لیکن جب تک وہ وہاں پہنچتے گیدڑ نے گڑھے سے باہر چھلانگ لگائی اور وہاں سے بھاگ نکلا ۔ اس نے اپنے پیروں پر خوب زور لگایا اور سیدھا جنگل کے کنارے جا کر رکا۔وہاں پہنچ کر اس نے چاروں طرف دیکھا اور اطمینان کی سانس لی کہ کوئی کتا وہاں پر نہیں ہے۔سکون پا لینے کے بعد اس نے اپنے بدن کو دیکھا جو پوری طرح نیلا ہو چکا تھا۔ تھوڑا سا سوچنے کے بعد اسے ایک خیال آیااور وہ جنگل میں چلا گیا۔
تھوڑی دیر یہاں وہاں گھومنے کے بعد اس نے شیر کے غار پر اپنی قسمت آزمانا چاہی۔وہ غار کے باہر جا کر بیٹھ گیا۔اس نے دیکھا کہ اندر شیرنی موجود ہے اسے دیکھ کرگیدڑنے اپنے بالوں کو کھڑا کرلیا اور زور دار آواز میں پوچھا ’’ تم کون ہو؟‘‘ شیرنی نے جواب دیا’’ہم شیر ہیں جنگل کے بادشاہ، تم کون ہو جو اپنی جان گنوا نے کے لیے ہماری غار کے پاس آکربیٹھے ہو؟ اگر تمھیں اپنی جان کی ذرا بھی فکر ہے تو یہاں سے چلے جائوورنہ میرے شوہر کے آنے کے بعد تم اس کے منہ کا نوالا بن جائو گے۔‘‘ گیدڑ نے ڈرائونی آواز میں کہا ’’ میں خدائے پابوری ہوں ،جس کی ایک وقت کی خوراک سات شیروں کابھونا ہوا گوشت ہے!‘‘ آنے دو تمہارے شوہر کو میں اسے بھی بہترین سبق سکھائوں گا!‘‘
ٍ یہ سنتے ہی شیرنی کے دل کی دھڑکن تھم گئی اور وہ ڈر کے مارے غار سے نکل کر گیدڑ سے تھوڑے فاصلے پر سر جھکا کر بیٹھ گئی۔اسی وقت شیر غار پر پہنچا۔شیر نے اپنی پونچھ کو زمین پرزور سے مارا اور گرج دار آواز میں دھاڑا۔ ظالم شیر کو دیکھ کر گیدڑ کی ساری ہمت ختم ہوگئی اور وہ بھاگنے لگا۔
گیدڑ کو بھاگتا ہوا دیکھ کر شیرنی نے کہا’’او ۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدائے پابوری اتنی جلدی میں کہاں جارہے ہو۔ رکو ذرا ہماری مہمان نوازی کا مزہ بھی چکھتے جائو۔‘‘
گیدڑ کو بھاگتا دیکھ کر شیر اس کے تعاقب میں لگ گیا۔دونوں بھاگ رہے تھے ۔ گیدڑ آگے آگے اور شیر پیچھے پیچھے۔ شیر نے اپنی رفتار بڑھا دی ۔فاصلہ بہت کم رہ گیا تھا یہ دیکھ کر گیدڑ نے ڈر سے راستہ چھوڑ کر جھاڑیوں کا رُخ کر لیا۔اس نے مورپنکھی کے درخت کے اوپر سے چھلانگ لگائی اور سیل ورٹ کی جھاڑیوں میں جاکرچھپ گیا۔ شیر مسلسل اس کے تعاقب میں لگا رہا۔شیر سے ڈر کر آخر کار گیدڑ نے بندر کی طرح ایک سوکھے ہوئے درخت پر چھلانگ لگائی اور اس کی سوکھی ہوئی ٹہنی پر جاکر بیٹھ گیا۔ شیراب تک اس کا پیچھا کر رہا تھا۔ شیر نے اپنی جسامت کی پرواہ نہیں کی اور پیڑ پر چڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔ ایک نوکیلی شاخ کا سرا شیرکولگا جس سے اس کا پیٹ شق ہو گیا۔ یہ منظر دیکھ کر گیدڑ بہت خوش ہوا۔وہ شیرنی کے پاس پہنچا اور کہا’’او ۔۔۔بیوہ شیرنی جائو اور جاکر دیکھو تمہارے شوہر کا کیا حال ہوا ہے۔تو مجھے چڑاتی تھی اور میرا مذاق اڑاتی تھی کہ’’خدائے پابوری، ہماری مہمان نوازی کا بھی مزہ چکھ کے جائو ۔آج سے میں تیرا شوہر ہوں اور تم میری بیوی ۔اگر تجھے کوئی اعتراض ہے تو تیرا و ہی حشر کروں گا جو تیرے شوہر کا کیا ہے۔‘‘ شیر کی موت کی خبر سن کر وہ بھاگتے ہوئے شیر کی لاش کے پاس پہنچی۔ اس نے دیکھا کہ شیر پیڑ کی شاخ پر لٹکا ہوا ہے اورشیر کے خون سے سوکھا ہوادرخت مکمل لال ہوچکا ہے۔وہ یہ منظر دیکھ کر سہم گئی اور واپس لوٹ آئی اور گیدڑ کی بات کو مان لیا اور کہا ’’جناب ۔۔۔۔آج سے آپ میرے شوہر ہیں اور میں آپ کی بیوی ہوں۔آپ جہاں کہیں مجھے لے جانا پسند کریں گے میں وہاں چلوں گی۔‘‘ گیدڑ نے جواب دیا’’ ہم دونوں ایک ساتھ ایک ہی جگہ زندگی بسر نہیـں کرسکتے ہیں۔اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ میں خدائے پابوری ہوں تمام وحشی جانوروں کا خدا اور دوسری وجہ یہ ہے کہ مجھے شیر کا شکار کرنا بہت پسند ہے۔جدھر بھی مجھے شیر ملتا ہے میں اسے مار کر اپنے منھ کا نوالا بنا لیتا ہوں۔‘‘
شیرنی نے کہا’’او خدائے پابوری آپ مجھ سے جیسا کہو گے میں ویسا ہی کروں گی۔‘‘ لیکن یہ اچھا ہو گا کہ ہم اپنا گھر بسائیں اور ایک ساتھ زندگی بسر کریں۔تھوڑی سی بحث کے بعد گیدڑ نے شیرنی کی بات مان لی اور وہ راضی ہوگیا ۔ دونوں چلے گئے اور جنگل کے پاس انھوں نے ایک غار تلاش کیا اور اسے اپنا گھر بنا لیا۔پھر اس کے بعد گیڈر جب کبھی گھر سے باہر جاتا تو شیرنی کو بھی ساتھ لے جاتا تھا ۔شیرنی ہمیشہ شکار کرتی اور دونوں ساتھ مل کر اپنے شکار کو کھاتے۔
ایک دن شیرنی نے گیدڑ سے کہا ’’میری طبیعت آج ٹھیک نہیں ہے، آج تم اکیلے شکار کر کے لائو۔‘‘ گیدڑ نے جواب دیا’’ جیسی تمہاری مرضی!‘‘ اورسیدھا جنگل کی طرف چلاگیا۔ لیکن اس کا دل گھبرا رہا تھا کہ وہ کس طرح اکیلے شکار کرے۔ جس دوران وہ یہ سوچھ رہا تھا اسے اونٹنی کا ایک غول نظر آیا۔ جیسے ہی گیدڑ نے انھیں دیکھا اسے ایک ترکیب سوجھی اور وہ خوش ہوگیا۔نالے کے پاس جا کر اس نے پیشاب کردیااور اپنی پونچھ سے رگڑ کر وہاں کی زمین کو چکنا بنا دیا۔پھر اس کے بعد وہ اونٹنی کے غول کے پاس بھاگتا ہواگیا اور انھیں ڈرا دیا۔ تمام اونٹنیاں ڈر کے مارے نالے کے سمت بھاگنے لگیں۔ایک کو چھوڑ کرسبھوں نے نالے کو پار کرلیا۔ایک بوڑھی اونٹنی کا پیر چکنی زمین پر پڑا اور وہ سیدھا نالے میں گر گئی۔گیدڑ نے موقع کا فائدہ اُٹھا تے ہوئے فوراََاس پر حملہ کیا اور اپنے دانتوں سے اس کا پیٹ شق کردیا۔اونٹنی تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ گیدڑ اونٹنی کے پاس بیٹھ گیا اور سوچنے لگاکہ اتنی بڑھی اونٹنی کو میں کھینچ کر اپنے گھر کیسے لے جائوں۔
شیرنی غار میں اس کا انتظار کر رہی تھی اس نے بڑ بڑاتے ہوئے اپنے آپ سے کہا ’’کیا بات ہوئی ہوگی گیدڑ کے ساتھ جو بے وقوف ابھی تک نہیں آیا؟ــ‘‘ وہ بھی اس کی تلاش میں نکل پڑی اور نالے کے پاس پہنچ گئی۔اس نے دیکھا کہ گیدڑ مری ہوئی اونٹنی کے پاس بیٹھا ہوا ہے۔یہ منظر دیکھ کر شیرنی نے سوچا واقعی گیدڑ بہت بڑا درندہ ہے جس نے اکیلے اتنے بڑے جانور کو مار گرایاہے۔
اس نے گیدڑ سے کہا’’ اب ہمیں اپنے شکار کو گھر لے جانا چاہے۔‘‘ گیدڑ نے کہا ’’بہت اچھا! اب تم آہی گئی ہو تو چلو اپنے شکارکو اٹھا کر گھرلے چلتے ہیں۔‘‘ شیرنی نے اونٹنی کو گھسیٹنا شروع کیا اور اس کے اندر کی انتڑیاں گیدڑ کو اٹھا نے کے لیے چھوڑ دیں۔شیرنی کے جانے کے بعد انتڑیاں اٹھا نے کی اس نے بڑی کوشش کی لیکن کامیاب نہ ہوسکا۔ جب وہ اسے کھینچنے اور اٹھانے کی کوشش کر رہا تھا وہ تمام اس کے اوپر گر گئی اور وہ اس کے نیچے دب گیا۔
جب بہت وقت بیت گیا اور گیدڑ گھر نہیں پہنچا تو شیرنی واپس اسی جگہ آئی اور اس نے گیدڑ کو تلاش کیا مگر وہ نظر نہیں آیا۔اس کی نظر انتڑیوں پر پڑی اور اس نے اسے ہٹایا اوراس کے اندر سے گیدڑ کود کر باہرنکلااور غصّے سے بولا’’ او بے وقوف عورت کیا تجھے معلوم نہیں کہ میں یہاں کوّں کا شکار کرنے کے لیے چھپ کر بیٹھا ہوا تھا؟ میں نے فیصلہ کیا تھا کہ آج ہم پرندوں کی دعوت کریں گے۔تم نے انھیں اڑا دیا، وہ ڈر گئے اور اب وہ نہیں آئیں گے ۔ لہٰذا سزا کہ طور پر تمھیں یہ انتڑیاں بھی گھر تک لے جانا ہوں گی۔ مجھے جب آنا ہوگا میں گھر آجائوں گا۔‘‘ شیرنی اسے بھی کھینچ کر گھر لے گئی اور فریبی گیدڑ یہاں وہاں گھومتا رہا اور اپنے وقت پر گھر پہنچا۔
ایک دن معمول کے مطابق شیرنی اور گیدڑ گھر سے جنگل کی طرف نکلے، انھوں نے شیروں کے دھاڑنے کی آواز سنی ۔شیرنی نے کہا’’ شیر جشن منارہے ہیں اور ناچ گا رہے ہیں۔‘‘
جب گیدڑ نے سنا تو خوف سے کپکپانے لگا ۔شیرنی نے اس سے پوچھا’’ خدائے پابوری کیا ہوا؟ تم کیوں کپکپا رہے ہو؟ گیدڑ نے یہ سن کرجواب دیاــ’’جب کبھی میں شیر کی دھاڑنے کی آواز سنتا ہوں یا کوئی شیر میرے قبضہ میں آجاتا ہے تو فوراَ َ میرا خون کھول جاتا ہے اورمیں کپکپانے لگتا ہوں۔ یہ تمہارے لیے اچھا ہوگا کہ تم آگے آگے چلواور یہ کہتی رہو۔
’’ تم ناچتے ہو تو تھوڑا فاصلہ برقرار رکھو۔
نہیں تو تم اس کے پنجو ں کے نیچے آجائوگے۔‘‘
گیدڑ کے کہنے پر شیرنی آٹھ دس قدم آگے چلی گئی اور جیسا گیدڑ نے کہا تھا کہنے لگی۔جب وہ شیر کے سامنے آئی تب بھی وہ کہہ رہی تھی کہ:
’’ تم ناچتے ہو تو تھوڑا فاصلہ برقرار رکھو۔
نہیں تو تم اس کے پنجو ں کے نیچے آجائوگے۔‘‘
شیر وں نے شیرنی سے کہا’’تم کون ہو محترمہ ،جو ہمارے جشن کے بیچ میں مداخلت کر رہی ہو۔‘‘
شیرنی نے کہا’’اپنی زبان کو لگام دو! اور دیکھو اس ٹیلے پر جو مخلوق بیٹھی ہے۔‘‘
شیروں نے پوچھا ’’کون ہے وہ؟‘‘
شیرنی نے جوب دیا’’ وہ جو بیٹھا ہے وہ خدائے پابوری ہے۔جس کا ایک وقت کا کھانا سات بھونے ہوئے شیر ہیں۔ میں تمھیں مشورہ دیتی ہوں کہ تم لوگ اپنی جان بچا کر بھاگو یہاں سے ورنہ وہ تم لوگوں کو وہ قتل کر کے پیڑ پر لٹکا دے گا۔اگرتمھیں یقین نہیں آتا تو چلو میرے ساتھ میں تمھیں دکھاتی ہوں۔ـ‘‘ وہ ان لوگوں کو مرے ہوئے شیر کی لاش کے پاس لے گئی۔تمام شیر اس منظر کو دیکھ کر ڈر گئے اور خدائے پابوری کا ڈر ان کے دل میں بیٹھ گیا۔
وہ لوگ گیدڑ سے محفوظ فاصلے پر آکر بیٹھ گئے او راپنے سروں کو جھکا لیااور کہا’’ او، خدائے پابوری ہمیں بخش دو ۔ ہم آپ کے بچوں جیسے ہیں ۔ ہم شادی کی تقریب کا جشن منا رہے تھے۔ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ آیئے اور ہمارے جشن میں شامل ہو جائیے ۔ ہمیں امید ہے کہ آپ ہمیں بخش دیں گے اور اپنے بچوں کی طرف سے دی گئی دعوت کو قبول کریں گے ۔پھر اس کے بعدچاہے جو کرنا ہو آپ ہمارے ساتھ وہ کر سکتے ہیں۔سب کے دلوں کی دھڑکن تھم گئی۔ گیدڑ ساکت بیٹھا ہوا تھا اس نے شیر کی دعوت کو قبول کرلیا اور دوڑتا ہوا آیا اور شیر کے جھنڈ کے درمیان میں بیٹھ گیا۔ تمام شیر خوف زدہ ہوگئے اوراپنے گھیرے کو اور وسیع کرلیا اس ڈر سے کہ گیدڑ انھیں مار نہ ڈالے۔
شیروں نے پوچھا’’او خدائے پابوری اگر آپ اجازت دیں توہم گانا بجانا واپس شروع کریں ۔‘‘
گیدڑ نے کہا’’ٹھیک ہے لیکن مجھ سے دور ہو کر ناچنا نہیں تو تم میرے پنجو ں کے نیچے آجائوگے۔‘‘
شیروں نے ناچ دوبارہ شروع کر دیا شیرنی اور گیدڑ بیچ میں بیٹھے دیکھتے رہے۔
گیدڑ ڈرسے سانس بھی نہیں لے پا رہاتھا اور مسلسل چاروں طرف گھور رہا تھا کہ کہیں وہ شیروں کے پنجو ں کے نیچے نہ آجائے۔
ناچتے ناچتے سارے شیرتھک گئے تب انھوں نے گانا شروع کردیا۔ گانا ختم کرنے کے بعد سارے شیر گیدڑ کے پاس گئے اور انھوں نے کہا’’یہ ہمارا رواج ہے کہ ہم شادی کی تقریب میں اپنے مہمان کو بھی اپنے ساتھ ناچ گانے میں شامل کرتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ آپ بھی ہمارے ساتھ تھوڑاسا ناچ گا لیجئے۔‘‘
گیدڑ نے منہ ہی منہ میں بڑبڑاتے ہوئے اپنے آپ سے کہا’’ اب تو میرا کھیل ختم ،جب میں گائوں گاتب دوسرے گیدڑ بھی میری آواز پر یہاں تک آجائیں گے اور میری شامت آجائے گی۔‘‘ یہ سوچتے ہوئے اس نے شیروں سے کہا ’’ مجھے گاناگانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن میری آواز میں اتنی شدّت اور طاقت ہے کہ یہ سارے درخت اور جھاڑیاں چھوٹے اور بڑے سب کپکپانے لگ جائیں گے اور جڑ سے اکھڑ جائیں گے۔میں مشورہ دوں گا کہ چلو کسی اونچی جگہ یاپہاڑ پر چلتے ہیں تاکہ میں تمہارے خواہش پر عمل کر سکوں۔‘‘
گیدڑ اور تمام شیر پہاڑ پر چڑھ گئے ۔ گیدڑ نے تمام شیروں کو اپنے سے دور ایک جگہ کھڑے ہونے کوکہا اور خود اور اونچائی پر چلا گیا۔وہاں پہنچنے کے بعد اس نے شیروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ’’میں اب گاناگانے جارہا ہوں۔ آپ سب لوگ اپنی آنکھیں بند کر لیجئے اور درخت کے تنے کو پکڑ کر کھڑے ہو جایئے۔
جیسے ہی شیروں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور تنے کو پکڑ کر کھڑے ہوئے انھوں نے گیدڑ کی آواز سنی۔ان لوگوں نے اپنی آنکھیں کھولیں اور اُس فریبی کو دیکھا واقعی وہ گیدڑ تھاجو پہاڑ کی اونچائی پر گا رہا تھا۔سب کو غصّہ آیا کہ ان کے ساتھ ایسا مذاق کیا گیا۔گیڈر نے ان کی خواہش کو پورا کیا اور وہاں سے بھاگ نکلا اور اس نے جھیل میں چھلانگ لگادی ۔اس نے اپنا نیلا رنگ صاف کیاپھر اس نے کبھی کوئی نئی ترکیب نہیں سوچی۔
٭٭٭

اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے اس سندھی لوک کہانی کا حیدر شمسی نے انگریزی سےترجمہ کیا ہے۔

Role of Literature and Media in Social Movements

Articles

سماجی تحرّکات ، میڈیا اور ادب کا کردار

قاسم یعقوب

ادب اور سماج کا رشتہ کاغذ کے دو رخوں کی طرح کہا جاتاہے۔ ادب کے اندر سماجی رویّے تو سماج کا عکس ہوتے ہی ہیں غیر سماجی روّیے بھی درحقیقت سماج ہی کے کسی عمل کا ردِّ عمل ہوتے ہیں۔ ادبی سماجیات کو عموماً دو الگ الگ faculties میں تقسیم کر کے ان کے ایک دوسرے پر اثرات کا نام دیا جاتا ہے۔ ادب کوئی faculty نہیں بلکہ تمام faculties میں موجود ایک رویّہ ہے جو چیزوں کو ان کے وجود سے الگ کر کے دیکھنے کی اہلیّت رکھتا ہے ادب اپنی domain میں اپنا صرف تجزیہ (جذباتی اخلاص) رکھتا ہے ورنہ اس کا خام مواد زندگی کی تمام faculties میں موجود ہوتا ہے۔ گویا ادب ایک ذات ہے جو سماج کے اندر اپنا تشخص تیّار کرتی ہے۔ ایک درخت کی طرح جس کے مختلف اعضاء،مختلف اشکال میں اپنے وجود کا اثبات کرتے ہیں اپنے out put میں بھی مختلف ہوتے ہیں مگر ان تمام میں ایک روح کا ادراک کیا جا سکتا ہے جو ذرا ہٹ کے پورے درخت کی نمائندہ ہوتی ہے۔ایک اَن دیکھی قوت کا احساس درخت کے ہر حصے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اد ب اور سماج کے درمیان رشتے کو عموماً چار ذرائع سے تلاش کیا جاتا ہے:
۱۔ سماج کو ادبی نگارشات کی روشنی میں ڈھونڈا جائے۔
۲۔ ادب کے اندر سماجیات کے عناصر کو تلاش کیا جائے۔
۳۔ ایک سماج کو کتنا اور کس طرح اثر انداز کر تاہے۔
۴۔ سماج کی مقتدر طاقتوں (حکومتی ادارے، سیاسی ادارے، ترسیلی ادارے،نئی ایجادات، جغرافیائی حالات،ذرائع نقل و حرکت) کے ادب پر اثرات کا جائزہ۔
ادب کی درجہ بندی کرتے ہوئے اِس میں دو طرح کے رویّے نظر آتے ہیں:
ایک : ادب براہِ راست سماجی واقعات کا مرقّع ہو،
دوم: اد ب ذات کی جذباتی توڑ پھوڑ کے اظہار تک محدود ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ادب دونوں صورتوں میں سماج ہی کی حرکت کا عکّاس ہوتا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں میر کا چاند میں محبوب کا چہرہ تلاشنا، نظیر اکبر آبادی کا ’’مجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسی‘‘ کہنا اور میر درد کا ’’تصوف میں پناہ لینا اصل میں سماجی روّیے ہی ہیں۔ گویا ذات زندگی کی تمام faculties کا محور ہے بلکہ ایک روح کی طرح سماجیات کا حاصل بھی۔
ادب کی سماجیات پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ادب اپنے made میں ’’تعمیر‘‘ کا عنصر رکھتا ہے۔ادب کا سچ ایک غیر مرئی احساس ہوتا ہے جو انسانی خمیر کی بُنت کا دھاگہ ہوتا ہے ادب کی قرأت اور تخلیق اپنی ’’تعمیر‘‘ میں اپنی فطری بہاؤ کی طرف سفر کرتی ہے۔ بالکل ڈھلوان کی سمت بہتے پانی کی طرح۔ جو واپس چڑھائی کی طرف بہہ ہی نہیں سکتا جیسے برف حدّت نہیں دے سکتی۔ جیسے آگ منجمد نہیں ہوسکتی۔ ادب کی بُنت میں بنیادی عنصرجذبے کی’’گدازی‘‘ ہے۔ جو اصناف کی تفریق کیے بغیراپنا اظہار کرتی ہے۔ جذبہ اپنی فطرت میں معصوم ہے کوئی جذبہ منفی نہیں ہوتا۔

جذبات کا منفی پن اپنے عمل کے ردّعمل میں منفی یا مثبت ہوتا ہے اپنی سرشت میں نہیں۔ ادب کی سماجیات اصل میں اِس ’’معصومیّت‘‘ کا ادراک ہے سماج کے اندر اسے ’’سچ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لفظ’’سچ‘‘ اپنے استعمال میں اتنا پامال ہو گیا ہے کہ اِس لفظ کی روح ہی مسخ ہو گئی ہے۔ سچ بھی وہ بنیادی رویّہ ہے جو اپنی اصل میں منفی نہیں ہو سکتاجو مختلف حالتوں میں بدلتا ضرور ہے مگر ختم نہیں ہو تا۔ سچ کے بھیس میں بہت سے منفی رویّے سچ بننے پر مُصر ہوتے ہیں مگر سچ درخت میں موجود روح کی طرح معاشرتی سطح پر اپنا اثبات کرواتا رہتا ہے۔ ادیب ادب کے اندر اِسی ’’سچ‘‘ کا سراغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر سطح کا ادیب اپناایک world view رکھتا ہے۔ یہی world view اس کا سچ ہو تا ہے۔ تخلیقی سطح پر کم درجے کے ادیب اس world viewکو اظہار میں نئی زبان میں نہ دے سکنے کی وجہ سے کم تر درجے پر ہی رہ جاتے ہیں یا پہلے سے موجودادبی میکانیات کا اِستعمال کرنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کم درجے کے ادیب کے ہاں world view ہی بہت محدود پیمانے کا ہو جس کو کسی بڑے ادبی میکانیاتی نظام کی ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی ہو۔ ہمارے ہاں غزل کا شاعر عموماً محدود world view رکھتا ہے جس کی وجہ سے غزل کے پرانے سانچے ہی کافی چلے آ رہے ہیں۔ پرانے textsکی ہی نئی تشکیل (construction) سے اِس صنف کا پیٹ بھرا جا رہا ہے۔ حالاںکہ کوئی صنف اپنی حدود میں دائرے کے سفر پر نہیں رواں ہوتی بلکہ اس کے لکھنے والے اسے دائرے کا سفر عطا کرتے ہیں۔
ادیب کےworld view کو مندرجہ ذیل عناصرتشکیل دے سکتے ہیں :
۱۔ کسی سماج میں سرگرمِ عمل تہذیب کے اثرات۔ہمارے ہاں بہت سی تہذیبیں بیک وقت موجود ہیں۔اُردو ادیب کا world view ان تہذیبوں کے باہمی کلچر اور اثرات سے غیر شعوری پر متاثر ملے گا (یہاں کلچر کو تہذیب کی روح کے معنوں میں لیا جا رہا ہے)۔
۲۔ جغرافیائی یا نیچرل اثرات۔ بہ ظاہر اِن عوامل کا world view سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں لگتا مگر ایک ادیب کی نظری داخلیّت کے بہت سے تانے بانے اِسی قوت کی ہر وقت رواں رفتار سے بنتے بگڑتے ہیں۔مثلاً پہاڑوں کی درشتی اور ٹھنڈے علاقوں کی یخ بستگی چیزوں کے معروقی اثرات پر بھی اثر ڈالیں گے۔
۳۔ سیاسی حالات کی معاشرتی نفوذ پذیری۔سیاسی حالات میں دفاعی اورانتظامی نظم و ضبط،امن و امان،انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو ایک ادیب کی داخلیت پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
۴۔ خیالات و واقعات کی ترسیل کی قوتیں بھی ادب پر غیر معمولی اثرات ڈالنے کا موجب بنتی ہیں۔ جن میں میڈیا کا کردار اِس دور کا سب سے جاندار حوالہ کہا جا سکتا ہے۔ اصل میں world view نام کی کوئی چیز اب معرضِ وجود میں آ ہی نہیں سکتی۔ میڈیا نے ادب،ادیب اور قاری کے رشتوں میں ایک ہائپر رئیلٹی کا روپ بھرلیا ہے۔معروض کا دھاگا اب ایک ایسی حقیقت کے بغیر اپنے وجود کی بنت میں ڈھل ہی نہیں سکتا جو خودبھی’’حقیقت‘‘ نہیں۔ میڈیا ایک ’’جنگشن‘‘بن کے سامنے آیا ہے جہاں حقیقتیں اتھل پتھل ہوتی اور نکھرتی ہیں (یہاں ’’حقیقت‘‘ واقعات کی براہِ راست ترسیل ہے) میڈیا ہر دور میں رہا ہے۔ کبھی ایک تہذیب کے کلچر کو بیج کی شکل میں کسی اور جگہ اگا آتا کبھی بادشاہوں کو فوجوں کی نقل و حرکت کی واقعاتی تصویر پیش کرتا رہا۔ ترسیلِ واقعات سے ترسیلِ حقیقت تک کا سفر میڈیا ہی کے مرہونِ منت رہا۔
یاد رہے کہ world viewمعروض کی ’’معروضیّت‘‘ کو جاننے کا نام نہیں بلکہ ’’پہچاننے‘‘ کا گہرا عمل ہے۔ اقبال نے انہی کیفیّوں کو دو لفظوں ’’خبر‘‘ اور ’’نظر‘‘ سے نشان زد کیا تھا۔ سماجی تحرکات محض واقعات کا وقوع پذیر ہونا نہیں رہا۔ واقعات تو تصویر کھینچتے ہوئے کیمرے کا بٹن دبانے کا عمل ہے، ورنہ اس تصویر سازی میں بہت سا مواد پہلے ہی جمع ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ مضمون آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں سچ اور حقیقت دو الگ الگ معنوں میں پائی جاتی ہیں۔ ہر حقیقت جو اپنا اثبات کروانا چاہتی ہے، سچ ہوتی ہے۔ اور ہر سچ ایک حقیقت کا روپ لینا چاہتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں حقیقتیں سچ نہیں ہیں اور سچ بے حقیقت ہیں۔ موزے تنگ نے کسی جگہ کہا تھا کہ:

“There are realities without names and names without realities.”

یعنی حقیقتوں کونام مل گیا کہ یہ سچ کی نمائندہ ہیں، مگر وہ نام سے آگے کچھ نہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں ہزاروں سچ ایسے ہیں جو حقیقت کا لیبل نہیں بن سکے۔ وہ آوارہ اور پژمردہ حالت میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔ جمہوریت، سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ، قومیت، حب الوطنی، عوامی طاقت وغیرہ ایسی حقیقتیں رہ گئی ہیں جو اپنے نام کے اندر سچ سے خالی ہیں۔ جمہوریت عوام کی قوت کا نام ہے مگر ہماری جمہوریت مقتدر حلقے کی اقتدار تک حصولی کا عمل ہے۔ یہ نام اپنے معنی کے نام پر اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی کیبن سے اٹھتی ہیں مگر عوامی کیبن سے الگ ہو کے اپنی بقا ڈھونڈتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایک عرصے سے اَن دیکھی قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں عوام کو دھوکہ دیتی آ رہی ہیں مگر وہ عوامی کیبن کے آگے بھی مگرمچھ کے آنسو بہانے میں دیر نہیں لگاتیں، کیوں کہ انہیں بقا کی ضمانت بالآخر یہیں سے ملتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اس سلسلے میں مکمل تیاری کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ مخصوص طرز کے ووٹرز اور مخصوص قسم کی ڈپلومیسی سے سادہ لوح عوام اُن کے بقا کی ضمانت فراہم کر دیتے ہیں۔

حضور ﷺ نے کہا تھا کہ اگر تم قیامت کی پوری نشانیاں دیکھ لو اور یقین کر لو کہ اب قیامت بالکل آنے والی ہے تو اپنے ہاتھ میں پکڑے سبز ننھے پودے کو زمین میں دبانا نہ بھولنا۔ گویا اسلام ایک حقیقت بن کے سامنے موجود ہے، جس کی پُرامن اور گہری دانش ورانہ روایت (جو سچ ہے) اس نام لینے والی حقیقت سے دور ہو گئی ہے۔ تہذیبوں کے تصادم میں ایک طرف مقتدر قوتیں معاشی غلبے کی جنگ لڑ رہی ہیں جب کہ دوسری طرف کی قوتیں اسے اپنے آئیڈیالوجیکل ایجنڈے کے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں، حالاں کہ بڑی طاقتوں کو اِس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے محکوم کیا ورد کرتے ہیں اور کس کو ربِ کائنات مانتے ہیں۔ ہاں انہیں اس سے تکلیف ہے کہ ان کی راہ میں حائل انبوہ ان کے لیے معاشی رکاوٹ نہ بن جائیں۔ گویا مذہبی حلقہ اس ’’معصومانہ‘‘ خطرے کے آگے بند باندھنے کے لیے جان کی بازی بھی لگانے پر تلا بیٹھا ہے۔ حال ہی میں اٹھنے والی خودکش لہر نے کتنی مقتدر طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا؟ کیا اس لہر کے اٹھنے کا باعث بننے والی طاقتیں مذہبی تباہی کا ایجنڈا لے کر خطے میں آئی تھیں؟ اس صورتِ حال میں معصوم جانوں کا ضیاع سچ سے نابلدی نہیں تو اور کیا ہے؟
اسٹیبلشمنٹ معاشرتی سرگرمیوں کے تحفظ کا ادارہ ہے جو جغرافیائی حدود کے اندر اور باہر قومی نظریے اور نظریے کے پاس داروں کی حفاظت کرتا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی سچ کے عنصر سے خالی ہے۔ اس نام سے منسوب جتنی حقیقتیں ہیں وہ سب power discourse کا حصہ ہیں، اس سے وابستہ کر دی گئی ہیں، ہو نہیں سکتیں۔ اس ادارے نے ہمیشہ عوام کے خلاف ایک ’’پارٹی‘‘ کا رول ادا کیا۔ گویا بیرونی مقتدر طاقتوں اور عوام کے درمیان معاہدوں کی عملی اشکال اسی ادارے کی مرہونِ منت ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے دستِ کمال رکھتی ہیں کہ وہ عوامی حقیقت کے نام پر اس ادارے کے ساتھ مل کر چلتی ہیں۔ گویا سیاسی جماعتوں کا کردار ’’شفٹ‘‘ ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے عوام کے کیبن سے اور الیکشن کے بعد مقتدر طاقتوں کے حلقوں کی جانب۔ قومیت، حب الوطنی اور دیگر جذباتی نعرے بھی اپنی ’’سچائی‘‘ کھو چکے ہیں۔ ہمارا پیارا ملک اپنی مٹی کے آنسوؤں سے لدا جا رہا ہے۔ ہم قومیت کا نعرہ تو لگا رہے ہیں مگر اس کے اندر وہ سچ نہیں جو ہماری روحوں کو ہلا دے۔ حب الوطنی برائے نام ہے۔
ادیب کا world view اس صورتِ حال میں اُس سچائی تک رسائی کا نام ہے جو ہمارے اردگرد کہیں کھو گئی ہے۔ یہ حقیقتیں جو برائے نام ہیں، ان کو سچائی کا لبادہ دوبارہ پہنانا اور جو سچ موجود ہیں ان کو حقیقتیں تسلیم کروانے میں ادیب کا کردار بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کیا ہمارا ادیب یہ بھول گیا ہے کہ ہمارے سچ تو بھوک، افلاس، تعلیمی انحطاط، معاشرتی توڑ پھوڑ، صوبائیت کا زہر، بیروزگاری، انصاف اور بنیادی ضروریاتِ زندگی ہیں۔ ہمارا ادیب کیوں خوف زدہ ہے کہ وہ مذکور حقیقتوں کو فاش کر دینے سے خوف ناک انجام سے دوچار ہو جائے گا جو صرف نام رکھتی ہیں سچ نہیں۔ یہی تو وہ سچ ہے جس کا پرچار آج ادیب کا منشور ہونا چاہیے۔ یہاں یہ سوال بھی ہے کہ کیا ہمارا ادیب اپنے world view میں اتنا میچور بھی ہے کہ اس کے تخلیقی حصہ میں اس طرح کی تجزیاتی سوچ سہارا بن کے آ سکے؟ یہ ضروری تونہیں کہ اس کا world view اس کے فن میں معروضی حیثیت سے ہی آئے۔ پھولوں کو ’’اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن‘‘ کہنے والا شاعر اپنے world view میں اس سچائی کا نقیب ہو سکتا ہے یا اُسے لازمی ہونا چاہیے۔ ایک افسانہ نگار جو کبھی بھی معاشرتی توڑ پھوڑ کو اپنا مواد نہیں بناتا، کیا معاشرتی سچائیوں سے نابلد رہ سکتا ہے؟
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا،ادیب کے world view کی تشکیل میں اب میڈیا کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اصل میں میڈیا ان واقعات کی ترسیل کا ذریعہ ہے جو معاشرتی سطح پر کہیں نہ کہیں وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ میڈیا نے اس معاشرے میں دو بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں:
۱۔ دور دراز علاقوں میں محرومی کا خاتمہ، جسے regional disparity بھی کہتے ہے۔
۲۔ وہ تمام کردار جو حقیقتوں کی شکل میں سچ کی طاقت بنے ہوئے تھے، بُری طرح expose ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کردار ادارے اور اشخاص میں دونوں کی شکل میں موجود ہیں۔
میڈیا پر یہ الزام عاید کیا جا رہا ہے کہ اس کا کردار غیرمتوازن ہے، وہ حقائق کی پردہ پوش قوتوں کو غیر مہذب رویے سے سامنے لا رہا ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ معاشرتی سطح پر یہ ملک ’’عوام‘‘ اور ’’عوام مخالف‘‘ دو حلقوں میں تقسیم ہے۔ ملک ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔ اقتدار کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر معاشرتی سرگرمی ہی سب سے بڑی حقیقت ہے جس میں عوام حصہ دار ہوتے ہیں عوامی قوت اپنی تنظیم کے لیے مقتدر طاقتیں پیدا کرتی ہے جو سیاسی قوتیں، اسٹیبلشمنٹ اور حکومتوں میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔ عوامی طاقت کا پرمٹ استعمال کرنے والی غیر عوامی قوتیں ہمیشہ سے عوام کے خلاف ایک ’’پارٹی‘‘ بنی ہوئی ہیں۔ گویا ملک ’’عوام‘‘ اور ’’عوام مخالف‘‘ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ میڈیا نے ’’عوام مخالف‘‘ قوتوں کا پردہ چاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا بھی ایک ’’پارٹی‘‘ بن گیا ہے، مگر وہ ’’عوام حمایت‘‘ کردار میں سامنے ہے۔ آزاد طاقتیں ہمیشہ عوامی کیبن سے اپنا جھنڈا بلند کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی جب آزاد ہوتی ہیں، عوامی حلقوں سے حیاتِ تازہ لیتی ہیں اور حکومت میں مقتدر حلقوں کی اسیر بن کے ’’عوام مخالف‘‘ رویوں میں ڈھل جاتی ہیں۔
اس وقت میڈیا تجزیاتی سطح پر نہیں، expose کی سطح پر ہے۔ چیزیں تہہ در تہہ بند ہیں، جنہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح اتارا جا رہا ہے۔ یہ عمل بے کار تو ہے مگر قصور کس کا ہے؟ پیاز کا یا اُس کا چھلکا اتارنے والے کا؟ ڈبوں کے اندر سے ڈبے نکلتے جا رہے ہیں مگر خزانے کا کہیں پتا نہیں۔ expose ہونے پر خطرہ کس کو ہے، ان کو جو عوام مخالف ’’پارٹی‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عرصے سے کرتے آ رہے ہیں۔ power discourse نے عوام کے اندر بھی اپنا نفوذ شروع کر رکھا ہے، لہٰذا یہاں سے میڈیا کے خلاف حمایت بھی سامنے آ رہی ہے۔

اس سارے عمل کے دوران سول سوسائٹی بھی عوام حمایت قوت بن کے سامنے آئی ہے۔ سول سوسائٹی عموماً غیرفعال ادارہ ہوتا ہے جو معاشرے میں متحرک چیزوں کا اعلی درجے کا ناظر کہلایا جا سکتا ہے، جس کا کام معاشرتی سرگرمی پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ میڈیا کی حد درجہ مداخلت نے اس ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے پر اُکسا دیا ہے۔ گویا یہ بے ضرر ادارہ اب اینٹی عوام قوتوں کے لیے ضرر رساں بن چکا ہے۔
یہ مضمون آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
ادیب کی سماجیات، سماجی تحرکات کی زَد میں ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادیب اپنے کردار سے آگاہ بھی ہے؟ اُردو ادیب کسی غزل کا پامال قافیہ ہے جو اپنے پہلے قافیے کے وجود میں آنے کے فوری بعد پہچانا جاتا ہے یا ایک آوارہ کاغذ کی طرح، ذرا ہوا چلی اُڑ کے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
ادب اور ادیب ہمیشہ سچ کی قوتوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ سچ کے نام پر فقط ’’حقیقتیں‘‘ رہ جانے والی قوتوں کو بے نقاب کرنا ادیب کا کام ہے۔ ایسے سچ جو برہنہ ہیں اُن کو وقار دینا بھی ادبی عمل کا حصہ ہے۔ نجانے وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ہاں یہ برہنہ سچ حقیقت کا نام پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم ابھی اس کھیل میں اس درجہ بھی واقف نہیں کہ ہم کس ٹیم کی طرف ہیں اور ہمارے پاؤں سے لگے فٹ بال کا ہدف کس طرف ہے؟ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کھیل کون سا ہے۔ اس پہلی شناخت کے بعد اپنی شناخت کا مرحلہ ہے اور پھر کہیں اپنے مقاصد کی شناخت کا مرحلہ آتا ہے۔
انجم سلیمی نے کہا تھا ؂

ابھی یہ ظلم سہہ سکتے ہیں تو ہتھیار مٹ بانٹو
ابھی کچھ روز ان کو اور بھی مظلوم رہنے دو

IKntekhab E Kalam Manchanda Bani

Articles

انتخابِ کلام منچندہ بانی

منچندہ بانی

1
پیہم موجِ امکانی میں
اگلا پاؤں نئے پانی میں

صفِ شفق سے مرے بستر تک
ساتوں رنگ فراوانی میں

بدن، وصال آہنگ ہَوا سا
قبا، عجیب پریشانی میں

کیا سالم پہچان ہے اُس کی
وہ کہ نہیں اپنے ثانی میں

ٹوک کے جانے کیا کہتا وہ
اُس نے سُنا سب بے دھیانی میں

یاد تری، جیسے کہ سرِ شام
دُھند اُتر جائے پانی میں

خود سے کبھی مِل لیتا ہوں میں
سنّاٹے میں، ویرانی میں

آخر سوچا دیکھ ہی لیجے
کیا کرتا ہے وہ من مانی میں

ایک دِیا آکاش میں بانی
ایک چراغ سا پیشانی میں
***
2

کوئی بھوُلی ہوئی شے طاقِ ہر منظر پہ رکھّی تھی
ستارے چھت پہ رکھّے تھے شکن بستر پہ رکھّی تھی

لرزجاتا تھا باہر جھانکنے سے اُس کا تن سارا
سیاہی جانے کن راتوں کی اُس کے در پہ رکھّی تھی

وہ اپنے شہر کے مٹتے ہوئے کردار پر چپُ تھا
عجب اک لاپتہ ذات اُس کے اپنے سر پہ رکھّی تھی

کہاں کی سیرِ ہفت افلاک ، اوپر دیکھ لیتے تھے
حسیں اُجلی کپاسی برف بال وپر پہ رکھّی تھی

کوئی کیا جانتا کیا چیز کس پر بوجھ ہے بانیؔ
ذراسی اوس یوں تو سینۂ پتّھر پہ رکھّی تھی
***
3

علی بِن متّقی رویا
وہی چپ تھا، وہی رویا

عجب آشوبِ عرفاں میں
فضا گُم تھی، کہ جی رویا

یقیں مِسمار موسم کا
کھنڈر خود سے تہی رویا

اذاں زینہ اُتر آئی
سکُوتِ باطنی رویا

خلا ہر ذات کے اندر
سُنا جس نے وہی رویا

ندی پانی بہت روئی
عقیدہ روشنی رویا

سَحر دم کون روتا ہے
علی بِن متّقی رویا
***

4

صد سوغات، سکوں فردوس ستمبر آ
اے رنگوں کے موسم، منظر منظر آ

آدھے ادُھورے لمس نہ میرے ہاتھ پہ رکھ
کبھی سپُرد بدن سا مجھے میسر آ

کب تک پھیلائے گا دُھند مرے خوں میں
جھوٹی سچی نوا میں ڈھل کر لب پر آ

مجھے پتہ تھا اِک دن لوٹ کے آئے گا تُو
رُکا ہُوا دہلیز پہ کیوں ہے اندر آ

اے پیہم پرواز پرندے، دم لے لے
نہیں اُترتا آنگن میں تو چھت پر آ

اُس نے عجب کچھ پیار سے اب کے لکھا بانیؔ
بہت دنوں پھر گھوم لیا، واپس گھر آ
***

5

غائب ہر منظر میرا
ڈھونڈ پرندے گھر میرا

جنگل میں گُم فصل مِری
ندی میں گُم پتھر میرا

دُعا مِری گُم صر صر میں
بھنور میں گُم محور میرا

ناف میں گُم سب خواب مِرے
ریت میں گُم بِستر میرا

سب بے نور قیاس مِرے
گُم سارا دفتر میرا

کبھی کبھی سب کچھ غائب
نام، کہ گُم اکثر میرا

میں اپنے اندر کی بہار
بانیؔ کیا باہر میرا
***

6

ہری، سُنہری خاک اُڑانے والا مَیں
شفق شجر تصویر بنانے والا مَیں

خلا کے سارے رنگ سمیٹنے والی شام
شب کی مژہ پر خواب سجانے والا مَیں

فضا کا پہلا پھول کھلانے والی صبح
ہَوا کے سُر میں گیت ملانے والا مَیں

باہر بھیتر فصل اُگانے والا تُو
ترے خزانے سَدا لُٹانے والا مَیں

چھتوں پہ بارش، دُور پہاڑی، ہلکی دھوپ
بھیگنے والا، پنکھ سُکھانے والا مَیں

چار دشائیں جب آپس میں گھُل مل جائیں
سنّاٹے کو دُعا بنانے والا مَیں

گھنے بنوں میں، شنکھ بجانے والا تُو
تری طرف گھر چھوڑ کے آنے والا مَیں

***
7

سیاہ خانۂ اُمّیدِ رائگاں سے نکِل
کھُلی فضا میں ذرا آ ، غبارِ جاں سے نکِل

عجیب بھِیڑ یہاں جمع ہے ، یہاں سے نکِل،
کہیں بھی چل مگر اِس شہرِ بے اماں سے نکِل

اِک اور راہ ، اُدھر دیکھ ، جا رہی ہے وہیں
یہ لوگ آتے رہیں گے ، تُو درمیاں سے نکِل

ذرا بڑھا تو سہی واقعات کو آگے
طلسم کارئ آغازِ داستاں سے نکِل

تُو کوئی غم ہے تو دل میں جگہ بنا اپنی
توُاِک صدا ہے تو احساس کی کماں سے نکِل

یہیں کہیں تِرا دشمن چھپا ہے اے بانی
کوئی بہانہ بنا ، بزمِ دوستاں سے نکِل
***
8

تمام راستہ پھُولوں بھرا ہے میرے لیے
کہیں تو کوئی دُعا مانگتا ہے میرے لیے

تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے
میں جانتا ہوں تِرا دَر کُھلا ہے میرے لیے

مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو
مگر سفر کا تقاضا جُدا ہے میرے لیے

وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا
تمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے

عجیب در گذری کا شِکار ہوں اب تک
کوئی کرم ہے نہ کوئی سزا ہے میرے لیے

گذر سکوں گا نہ اِس خواب خواب بستی سے
یہاں کی مٹّی بھی زنجیرِ پا ہے میرے لیے

اب آپ جاؤں تو جاکر اُسے سمیٹوں میں
تمام سِلسِلہ بِکھرا پڑا ہے میرے لیے

یہ حسنِ ختمِ سفر یہ طِلسم خانۂ رنگ
کہ آنکھ جھپکوں تو منظر نیا ہے میرے لیے

یہ کیسے کوہ کے اندر میں دفن تھا بانیؔ
وہ ابر بن کے برستا رہا ہے میرے لیے
***

 

Pandit Jawaharlal Nehru

Articles

پنڈت جواہر لال نہرو

ڈاکٹر محمد نسیم الدین ندوی

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ دامانی اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

ان میں بہت سے شخصیات ایسی ہیں جن کو ہندوستان میں بالکل نظرانداز اور فراموش کردیا گیا ہے۔ سرِدست آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو کی ہمہ جہت شخصیت پر خامہ فرسائی مقصود ہے۔ پنڈت نہرو مورخ، مصنف اور سیاست داں تھے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو 14 نومبر 1889ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش پر ہر سال یوم اطفال بڑی دھوم دھوم سے منایا جاتا ہے۔ ان کے والد موتی لعل نہرو معروف قانون داں تھے۔ ماں شریمتی سروپ رانی تعلیم یافتہ خوبصورت خاتون تھیں۔ یہ برہمن خاندان جنت نشاں وادی کشمیر سے آکر الہ آباد میں آباد ہوگیا تھا۔ الہ آباد ایک شہرت یافتہ تاریخی شہر ہے۔ یہاں عقیدت کی آئینہ دار تین دریاؤں کا سنگم ہے گنگا، جمنا اور سرسوتی کا خوبصورت ملن یہیں ہوتا ہے۔ سرسوتی یہاں سطح زمین کے اندر رہتی ہے۔ یہاں پورے ملک سے زائرین آتے ہیں۔ الہ آباد کئی سالوں تک متحدہ آگرہ و اودھ کا دارالسلطنت بھی رہا ہے۔ پنڈت نہرو کی تعلیم و تربیت کے لیے اول مرحلے میں گھر پر ہی انتظام کیا گیا۔ سنسکرت، ہندی پڑھانے کے لئے جہاں پنڈت رکھے گئے اردو فارسی پڑھانے کے لیے مولوی رکھے گئے۔ انگریزی پڑھانے کے لیے انگریز استاد رکھا گیا۔ جب پنڈت نہرو چودھ سال کے ہوئے تو ان کو انگلستان کے ہیرو کالج میں داخل کیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں ان کی طبیعت گھبرائی لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکول کی زندگی میں رچ بس گئے اور ہمہ وقت مطالعے میں مصروف رہنے لگے۔ وہ اپنے ہم جماعت طلبا سے زیادہ اخبارات و جرائد کا مطالعہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1905 کے اواخر میں انگلستان میں عام انتخابات ہوئے، لیبر پارٹی برسراقتدار آگئی، 1906 کے شروع میں پنڈت نہرو کے کلاس ٹیچر نے انتخابات اور برسراقتدار آئی پارٹی اور حکومت کے بارے میں سوالات کئے تو کلاس میں استاد حیران رہ گئے جب پورے کلاس میں جواہر لعل ہی ایسے طالب علم تھے جو سب سے زیادہ معلومات رکھتے تھے۔ حکومت کے وزرا کے نام کی فہرست منہ زبانی یاد تھی۔ 1906 میں ہیرو کالج کے سالانہ امتحان میں جواہر لعل اول آئے۔ ہیرو کالج کے ہیڈماسٹر جواہر لعل کی کارکردگی سے پورے طور پر مطمئن تھے۔ انھوں نے موتی لعل نہرو کو جواہر لعل نہرو کی جو رپورٹ ارسال کی اس میں پورے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جواہر آگے چل کر تاریخ رقم کرے گا۔ اکتوبر 1907 میں 18 سال کی عمر میں جواہر لعل نہرو کو کیمرج یونیورسٹی میں داخل کیا گیا۔ یہ دنیا کی مایہ ناز اور معروف یونیورسٹی ہے۔  پنڈت نہرو یونیورسٹی آکر بہت خوش تھے۔ انھوں نے کیمرج کی کھلی فضا میں خوب مطالبہ کیا اور وسیع تر معلومات حاصل کیں۔ علم کیمیا، علم ارضیات، علم اقتصادیات، علم نباتات، علم قدرتی سائنس، علم سیاسیات پر مختلف نظریات کا مطالعہ کیا۔ اسی دوران وہ سوشلسٹ خیالات سے واقف ہوئے۔ برناڈشا اور ٹرینڈرسل سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ اسی دوران ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوا کہ بھارت کی آزادی کے لئے جد و جہد کرنا چاہئے۔ کیمرج یونیورسٹی میں مقیم ہندوستانیوں نے ایک سوسائٹی بنائی تھی جس کو مجلس کہا جاتا تھا۔ اس میں مختلف موضوعات پر بحث و تمحیص ہوتی تھی۔ ہندوستانی طلباء اپنی تہذیب و ثقافت کو انگریزوں کی تہذیب و ثقافت سے اعلیٰ و برتر سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ ہندوستانی تہذیب میں زیادہ کشادگی اور رواداری ہے۔ اس مجلس میں حقوق انسانی اور آزادی پر بھی بحث ہوتی تھی۔ پنڈت نہرو اس میں برابر شریک ہوتے تھے اور اپنی بات بڑے محتاط انداز میں رکھتے تھے۔ ان کو اس مجلس سے بڑی معلومات حاصل ہوتی تھی اور آہستہ آہستہ آزادئ ہند کا جذبہ موجزن ہونے لگا۔ جواہر لعل نہرو کی عمر صرف 20 سال کی تھی جب 1910میں ڈگری حاصل کرلی۔ ان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوں لیکن ان کے والد نے کہا کہ نہیں تم بیرسٹر بنو۔ اس کے مدنظر ان کو لندن کے مہشور قانون کے کالج انرٹیمپل میں داخل کیا گیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے 1912ء میں امتیازی نمبرات سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی۔
1912میں پنڈت بھارت واپس آگئے۔ ملک میں جنگ آزادی کی جد و جہد جاری تھی۔ پہلی عالمی جنگ کی آمد آمد تھی۔ اس وقت کانگریس دو حصوں میں منقسم تھی۔ ایک حصہ کی رائے تھی کہ ملک کی آزادی کا حصول گفت وشنید سے ہو جبکہ دوسرے حصہ کی رائے تھی کہ آزادی بزور شمشیر حاصل کی جائے۔ پنڈت نہرو کے والد موتی لعل اعتدال پسندی کے حامی تھے۔ ان کا مشورہ تھا کہ ملک کی آزادی انتہا پسندی سے نہیں بلکہ اعتدال پسندی سے ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو بھی اعتدال پسند تھے اور بات چیت اور امن و امان کی راہ پر چل کر بھارت کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔
1916ء میں لکھنؤ کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی سے جواہر لعل نہرو کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت گاندھی کی شخصیت ایک عظیم داستان بن چکی تھی۔ گاندھی جی عدم تشدد کی راہ پر چل کر ملک کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ جواہر لعل، گاندھی سے بہت متاثر ہوئے اور پھر کیا تھا بہت جلد وہ گاندھی کے شریک کار بن گئے۔ 1916میں ہی جواہر لعل نہرو کی شادی دہلی میں کملا کول سے ہوئی۔ 19نومبر1917 میں ان کے یہاں ایک بچی کا جنم ہوا جس کا نام اندرا پریہ درشنی رکھا گیا۔
پہلی عالمی جنگ نومبر 1918 میں ختم ہوئی۔ بھارت کے عوام برطانیہ کی زنجیر غلامی کو ہر حال میں توڑ پھینکنا چاہتے تھے اور بغاوت پر آمادہ تھے۔ انگریزوں سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وعدے کے مطابق بھارت کو آزاد کردیں لیکن انگریزوں نے اس کے برعکس قانون بنادیا کہ کسی کو بھی بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیجا جاسکتا تھا۔ گاندھی جی نے ستیہ گرہ شروع کردی۔ پرامن احتجاج اور گرفتاریاں دینا شروع کردی گئیں۔ دسمبر 1927 کے مدراس کے کانگریس اجلاس میں بھارت کی مکمل آزادی کی تجویز پیش کی گئی۔
جواہر لعل نہرو کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں کٹا۔ بریلی، دہرہ دون، الموڑہ، علی پور، کلکتہ اور احمد نگر کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ چونکہ پنڈت سیاسی قیدی تھے اور جیلوں کے افسران مہذب ہوتے تھے اس لیے ان کو اخبارات، کتابیں، رسائل پڑھنے کی اجازت تھی۔ وہ جیلوں میں خوش اخلاقی کے ساتھ رہتے تھے۔ جیلوں کے قوانین پر بہت سختی سے عمل کرتے تھے۔ جسمانی ورزش کے لیے باغبانی کیا کرتے تھے اور دماغی ورزش کے لیے پڑھتے لکھتے رہتے تھے۔ ’’تلاش ہند‘‘ جیل میں رہ کر ہی لکھی تھی۔ اپنی بیٹی اندرا پریہ درشنی کو خطوط لکھا کرتے تھے جو ’باپ کے خط بیٹی کے نام‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکے ہیں۔
8اگست 1942 میں ممبئی میں کانگریس کا اجلاس ہوا۔ بھارت چھوڑو تجویز منظور ہوئی اور آثار نمایاں ہونے لگے کہ اب بھارت آزاد ہوجائے گا۔ 1945 میں عالمی جنگ ختم ہوئی۔ انگلستان میں لیبر پارٹی برسراقتدار آئی۔ نئی پارٹی ایک بار پھر بھارت کی آزادی کے مطالبہ کو طے کرنا چاہتی تھی۔ آزادی کے لیے انگریزوں نے دو تجویزیں رکھیں۔ ایک قلیل مدتی اور ایک طویل مدتی۔ کانگریس نے قلیل مدتی تجویز کو مان لیا لیکن مسلم لیگ نے اس کو نامنظور کردیا اور الگ ملک کا مطالبہ تیز کردیا۔ گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل ان قومی لیڈروں کے ساتھ تھے لیکن مسلم لیگ کے جھگڑوں سے پریشان یہ فیصلہ کیا کہ تقسیم تسلیم کرلینے میں بھلائی ہے۔ دونوں لیڈران بابائے قوم مہاتما گاندھی کو منانے میں لگ گئے۔ آخرکار گاندھی جی نے ہتھیار ڈال دیئے اور ملک تقسیم ہوکر آزاد ہوگیا۔ گاندھی جی، سردار پٹیل، پنڈت جواہر لعل نہرو و دیگر کانگریسی لیڈران مولانا ابوالکلام آزاد کو منانے میں ناکام رہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، ہم نے بھارت کی جنگ آزادی کی لڑائی تقسیم کے لیے نہیں لڑی تھی، تقسیم اس ملک کا بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے، اس کا خمیازہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔ مولانا کی مخالفت کو کانگریس نے درکنار کرتے ہوئے تقسیم ہند کو تسلیم کرلیا اور بھارت آزاد ہوگیا۔
15اگست 1947 کو آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے پنڈت جواہر لعل نہرو نے حلف لیا۔ وہ اس وقت اٹھاون سال کے تھے۔ وہ جوان، خوش اور صحت منطر نظر آتے تھے۔ انھوں نے مجلس آئین کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اب وقت آگیا ہے ہم اپنے ملک کی تقدیر سنوائیں اور ملک کا مستقبل روشن و تابناک بنانے کا عہد و پیمان کریں۔ چلاپتی راؤ رقم طراز ہیں:
’’جواہر لعل نہرو محض وزیراعظم ہی نہ تھے وہ قوم کے رہنما بھی تھے۔ وہ کانگریس کے جسم اور روح تھے، ساری دنیا کے سامنے وہی ہندوستان کی نمائندگی کرتے تھے، ہندوستان کا مطلب تھا جواہر لعل اور جواہر لعل کے معنی ہندوستان تھا‘‘
وہ بہت لگن اور دلچسپی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اپنی کاپی پر امریکی شاعر رابرٹ فروسٹ کی نظم کی مندرجہ ذیل سطریں درج کر رکھی تھیں:
اگرچہ جنگلات خوبصورت گھنے اور تاریک ہیں
مگر مجھے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
پنڈت جواہر نہرو آخری دم ان سطور کا ورد کرتے رہے۔
جدید بھارت کا عظیم معمار 27مئی 1964 کو اپنے داربقا کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ پنڈت جی کو آج بھی دنیا ان کے عالمی امن و امان کے لیے کئے گئے کاموں کے لیے یاد کرتی ہے اور بھارت میں ان کے یوم ولادت کو یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اور بچے آج بھی ان کو چچا نہرو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
جواہر لعل کو کسی بھی یادگار کی ضرورت نہیں۔ پورا جدید ہندوستان ان کی یادگار ہے۔ یہ بہادر محنتی اور زندہ دل انسان کا قصہ ہے جو اپنے عوام کو اپنے دل و دماغ کی پوری قوت سے پیار کرتا رہا اور جس نے ان کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک کام کیا اور ان کو ان کے مستقبل کے بارے میں پرامید بنایا۔ عوام جواہر لعل کو کبھی فراموش نہ کرسکیں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں جواہر لعل کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھانا ہے۔


بشکریہ فکر و خبر ڈاٹ کام

Adabi Tahqeeq Ke Taqaze by Shamsur Rahan Farooqui

Articles

ادبی تحقیق کے تقاضے

شمس الرحمن فاروقی

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، ادبیات اور دیگر انسانیاتی علوم (Humanities) کے شعبوں میں تحقیقی مقالہ نگاروں پر جو شرطیں پی ایچ ڈی کے لیے(یا الٰہ آباد یونیورسٹی میں، جہاں کا طالب علم میں تھا) ڈی فل کے لیے عائد کی جاتی تھیں،انھیں چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

  1. اپنے موضوع کے اعتبار سے نئے حقائق کی دریافت
  2. یا پھر اس موضوع کے بارے میں پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر

میرا خیال ہے یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں۔ لیکن مزید وضاحت کے لیے یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ ’نئے حقائق‘ سے مراد وہ حقائق ہیں جو مطبوعہ مآخذ میں نہ ملتے ہوں۔ وہ بات جو کسی مطبوعہ ماخذ میں ملتی ہو، خواہ وہ مطبوعہ ماخذ کتنا ہی کمیاب کیوں نہ ہو، اسے ڈھونڈ کر اس میں سے کوئی بات نکال لانا موجب تحسین تو ہو سکتا ہے لیکن اسے’نئے حقائق کی دریافت‘ کا درجہ نہیں دے سکتے۔اسی طرح،’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘کا مطلب یہ نہیں کہ کسی موضوع پر مختلف اقوال جمع کر دیے جائیں اور آخر میں خلاصۂ کلام کے طور کچھ اپنی بھی رائے دے دی جائے۔ ’نئی تعبیر‘کی کم سے کم شرط یہ ہے کہ وہ قابل قبول ہو، موجودہ تعبیروں کے مقابلے میں اقلیتی رائے کی حیثیت رکھتی ہو، یا پھر وہ موجود تعبیروں پر کوئی ایسا اضافہ کرتی ہو جس کی روشنی میں ان تعبیروں کی وقعت یا معنویت میں اضافہ ہو، یا پھر ان حقائق پر نئے طور سے سوچنے کی تحریک پیدا ہو۔
واضح رہے کہ ’تعبیر‘ سے مراد ایسی تعبیر ہے جو ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی جارہی ہے۔ اس کی سب سے مشہور اور بالکل سامنے کی مثال غالب کی غزل ہے۔

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

رہی    نہ  طرز   ستم  کوئی آسماں   کے لیے

اس غزل کا آٹھواں شعر ہے  ؎

بقدر   شوق   نہیں ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

اس شعر کی یہ تعبیر ایک زمانے میں عام تھی اور اب بھی کچھ لوگ اس کے قائل نظر آتے ہیں کہ غالب نے اس شعر میں غزل کی تنگ دامانی کی شکایت کی ہے۔ یعنی غالب جیسے شخص کو بھی شکوہ ہے کہ غزل بہت تنگ اور محدود صنف سخن ہے یا یہ کہ اس میں کوئی خرابی ہے، کوئی کمی ہے جس کی بنا پر غزل میں شاعر کو اپنی بات پوری طرح پھیلا کر کہنے کی گنجائش نہیں ملتی۔

اس تعبیر کو درست ہونے کے لیے اولاً یہ ضروری ہے کہ یہ ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی گئی ہے۔ غزل کے اس شعر کی حد تک ’حقائق‘ کا پورا احاطہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ شعر کے تمام الفاظ کو مناسب اہمیت دی جائے اور ہر لفظ پر پورا غور کیا جائے اور اس کے ممکن معنی دریافت کیے جائیں۔ لہٰذا جس تعبیرکا ذکر میں نے ابھی کیا، یعنی یہ کہ اس شعر میں غالب نے غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کیا ہے، اس کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہیے کہ شعر میں ’ظرف تنگناے غزل‘ کے لفظ آئے ہیں، اور یہ بھی ہے کہ اس ظرف کو شاعر یا متکلم کے ’شوق’ کے مقابلے میں کم لکھا گیا ہے۔ پھر دوسرے مصرعے میں شاعر یا متکلم تقاضا کرتا ہے کہ مجھے اپنے ’بیان‘ کے لیے ’کچھ اور وسعت‘ درکار ہے۔ ’شوق‘ سے مراد ہے، غزل کہنے یا غزل میں مضامین باندھنے کا شوق، اور ’بیان‘ سے مراد ہے مضامین غزل کا بیان، اور ’وسعت‘ سے مراد ہے کوئی ایسی صنف سخن جس میں اتنی وسعت ہو کہ شاعر یا متکلم اس میں اپنے ’شوق‘ کے مطابق خوب تفصیل سے اپنے مضامین بیان کر سکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس شعر میں شاعر یا متکلم غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا ہے۔

یہ سب کہہ کر ہم اپنے طور پرمطمئن ہو گئے کہ ہم نے شعر میں بیان کیے ہوئے حقائق کا مکمل احاطہ کر لیا ہے اوراس لیے ہماری تعبیر بالکل درست ہے۔ یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ غالب نے کہیں اور اس طرح کی بات کہی ہو کہ میں غزل کی تنگ دامانی کا شاکی ہوں، تو ہم مانیں کہ اس شعر میں غالب کا شکوہ عمومی شکوہ ہے، کسی مخصوص موقعے پر یہ مخصوص نکتہ غالب نے نہیں بیان کیا ہے۔اس کے جواب میں ہم کلامِ غالب سے مزید ثبوت کے طور پر یہ شعر لاتے ہیں ؎

نہ  بندھے تشنگیِ شوق   کے   مضموں   غالب

گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

غالب کے کلام سے یہ سند لا کر ہم نے اپنا دوسرا ثبوت بھی بیان کر دیا کہ غالب کوغزل کی تنگ دامانی کا شکوہ تھا۔ شعر میں صاف کہا جا رہا ہے کہ تشنگیِ شوق کے مضمون نہ بندھ سکے، اگرچہ ہم نے مبالغے کی انتہا کر دی۔ لیکن اگر توجہ سے شعر کو پڑھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اول تو یہ کہ شعر میں ’تشنگی شوق‘ کا ذکر ہے، محض شوق کا نہیں اور دوئم یہ کہ شعر میں غزل کے دامن کی تنگی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہاں تو یہ کہا گیا ہے کہ ہماری’تشنگیِ شوق‘اس قدر بے حد و بے نہایت ہے کہ اغراق اور غلو کی تمام حدیں پار کرکے بھی ہم اسے بیان نہ کر سکے۔
یہ خیال رہے کہ ’شوق‘ عمومی لفظ ہے۔اس سے کوئی بھی شوق مراد لے سکتے ہیں: جان دینے کا شوق، معشوق سے ملاقات کا شوق، وصل کا شوق، کہیں جانے کا شوق، کوئی بات کہنے کا شوق، وغیرہ۔ اگرچہ لفظ ’شوق‘ کو اکثر عشقیہ ماحول یا سیاق و سباق میں برتا جاتا ہے، خاص کر شعر میں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ لفظ صرف عشق کے معاملات تک محدود ہو۔ لہٰذا ’تشنگی شوق‘ اور شے ہے اور صرف’شوق‘ اور شے۔ ’بقدر شوق نہیں‘ اور ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ سے بالکل ظاہر ہے کہ ’بیان‘ کے شوق کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ کچھ بیان کرنے کا شوق بہت ہے اور دوسری بات یہ کہ اس بیان کے لیے وسعت بہت درکار ہے۔غزل کے مضامین کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ صرف ‘بیان’ سے یہ مراد لینا غلط ہوگا کہ غزل کے مضامین کا بیان مقصود ہے۔’مضمون‘ سے ’بیان‘ مراد لینے کا کوئی قرینہ شعر میں نہیں۔ تشنگیِ شوق والے شعر میں صاف صاف’مضمون‘ کا ذکر ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھ سے اور کوئی مضمون تو شاید، یا غالباً، بندھ سکتا ہو، لیکن تشنگیِ شوق کے مضامین بیان کرنے کی قوت مجھ میں نہیں ہے۔

اب شعرِ زیر بحث کو پھر دیکھیں؎

بقدر   شوق   نہیں   ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اب یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ شاعر یا متکلم کو کچھ کہنا مقصود ہے، یا یوں کہیں کہ اسے کسی بات کو کہنے کا شوق بہت ہے، لیکن وہ بات غزل میں بیان نہیں ہو سکتی۔ یعنی بات کسی خاص مضمون یا موضوع کی ہے کہ اس کے لیے یہ غزل کافی نہیں۔ یہاں غزل کی عمومی تنگی کی بات نہیں ہے، ایک مخصوص موقعے کی بات ہے۔
مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس شعر(’بقدر ظرف نہیں‘)کا ماحول کیا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ بالکل لازم نہیں کہ غزل کے شعر باہم مربوط ہوں لیکن چوں کہ شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ کچھ معمّائی سی ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس شعر کے پہلے کیا ہے اور بعد میں کیا ہے۔ چناں چہ جب ہم زیر بحث شعر کے پہلے جو شعرگزرا ہے اس کو دیکھتے ہیں   ؎

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے

اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں  نے  پاسباں  کے  لیے
ظاہر ہے کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے ’ظرف تنگناے غزل‘ سے متعلق کیا جا سکے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اردو کیا، فارسی شاعری میں بھی نہیں باندھا گیا۔ غزل کے مخالفین کچھ بھی کہیں اور غزل میں انسان کی کم وقعتی پر کتنا ہی ماتم کریں، لیکن یہ مضمون اپنی جگہ پر بالکل نیا ہے اور ایسا کہ پہلے تو کبھی بندھا ہی نہ تھا، بعد میں بھی کسی سے نہ بندھ سکا۔
منقولہ بالا شعر کے بعد وسعتِ بیاں اور تنگناے غزل کا مضمون ہے جس کی تعبیر میں منقولہ بالا شعر سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس لیے اس سے اگلا شعر دیکھتے ہیں   ؎

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے

بنا  ہے  عیش  تجمل  حسین   خاں  کے  لیے

اب بات فوراًآئینہ ہو جاتی ہے۔ پچھلا شعر اس بات کی تمہید تھا کہ میں تجمل حسین خان کی مدح کا شوق بے حد رکھتا ہوں لیکن غزل کا دامن قصیدے کی طرح وسیع نہیں کہ اس میں مختلف طور اور قرینے سے مدح کے مضامین بیان ہو سکیں۔ یعنی یہاں غزل کے دامن کی تنگی کی بات نہیں ہو رہی ہے، غزل اورقصیدے کا فرق بیان ہو رہا ہے۔ غزل بنیادی طور پر عشقیہ مضامین کی شاعری ہے اوراس کی زبان بھی قصیدے کے پر شکوہ اور مغلق الفاظ سے بالعموم ابا کرتی ہے۔قصیدہ ہوتا تو میں طبیعت کی جولانی دکھاتا، غزل میں کہاں تک اور کس طرح بیان کروں۔ پھر بھی شوق سے مجبور ہو کر چند شعر موزوں کررہا ہوں۔
یہ بات خیال میں رکھنے کی ہے کہ غالب نے غزل کو تنگ یا قصیدہ یا مثنوی کو اس کے مقابلے میں فراخ نہیں کہا ہے۔ بات یہاں کمیت کی ہے، کیفیت کی نہیں۔ بات قصیدے میں کثرتِ اشعار اور غزل میں نسبةً قلت اشعار کی ہے۔ اس غزل میں بھی مدح کو ختم کرتے وقت غالب نے یہی کہا ہے کہ لکھنے کے لیے مزید جگہ نہیں مل رہی ہے، ورق ختم ہو گیا    ؎

ورق   تمام   ہوا   اور   مدح   باقی    ہے

سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

لفظ ‘سفینہ’ بھی یہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ‘بحر بےکراں’ سےصرف مناسبت ہی نہیں رکھتا،  بلکہ اس کے ایک معنی ’مجموعہ‘ یا ’بیاض‘ بھی ہوتے ہیں۔’بہارِعجم‘ میں ہے کہ ’سفینہ‘ عرف عام میں اس بیاض کو کہتے ہیں جو لمبائی کی طرف سے کھلتی ہے اور جس کی شکل کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ یہی معنی ’آنند راج‘ میں بھی درج ہیں، اس تفصیل کے ساتھ کہ عربی میں لفظ ’سفینہ‘کی بہت سی جمعیں ہیں اور لغت نگار نے وہ سب درج کر دی ہیں۔

غزل زیر بحث کا مقطع دیکھیے تو ہماری تعبیر بالکل مکمل ہوجاتی ہے  ؎

اداے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا

صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

 

یہاں اگرچہ لفظ ‘نکتہ’ کی تکرار کچھ گراں گزرتی ہے، لیکن معنی بالکل واضح ہیں: غالب نے اس غزل میں کچھ نئے انداز سے نغمہ سنجی کی ہے، یعنی غزل میں قصیدے کے شعر ڈال دیے ہیں۔ اب جو لوگ نکتہ شناس ہیں وہ اس کی داد دیں اور اس طرح کہنے کی کوشش کریں۔
تو جب ایک شعر کی تعبیر میں اس قدر الجھن ہو سکتی ہے تو کسی وسیع الذیل حقیقت یا حقائق کی تعبیر میں کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں،اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مزید وضاحت کے لیے تاریخِ ادب سے ایک مثال لیتے ہیں۔
جب تک میر اور قائم کے تذکرے چھپ کرعام نہیں ہوئے تھے، ولی کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات کا ماخذ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف’آبِ حیات‘ تک محدود تھا۔ مثلاً یہ بات مصدقہ طور پر معلوم نہ تھی کہ ولی کتنی بار دہلی آئے اور پہلی بار کب آئے۔ مولانا محمد حسین آزاد ’آبِ حیات‘ میں لکھتے ہیں:

’’ ولی احمدآباد گجرات کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہ الدین کے مشہور خاندان سے تھے۔ یہ اپنے وطن سے ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ شاید ان سے شعر میں اصلاح لی ہو۔مگر دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارے سے کی۔‘‘
اس آخری جملے پر آزاد کا حاشیہ ہے:’دیکھو تذکرۂ فائق کہ خاص شعراے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔‘لیکن مشکل یہ ہے تذکرۂ فائق نامی کسی کتاب سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نگار پاکستان کے ’تذکروں کا تذکرہ‘ نمبرمطبوعہ 1964 میں فرمان فتح پوری نے تمام معلوم تذکروں کی فہرست دی ہے اور پھر ان کا حال لکھا ہے۔ صفحہ 4 پر کسی ’مخزنِ شعرا‘ مرقومہ 1297ھ بہ مطابق 1880کا ذکر ہے اور مصنف کا نام نورالدین خان فائق بتایا ہے۔ لیکن کتاب کے متن میں اس تذکرے کا کوئی حال نہیں۔ فہرست میں ’مخزن شعرا‘ کا اندراج بھی اپنی مناسب جگہ پر نہیں ہے، کیوں کہ اس کے بعد بھی کئی تذکرے ایسے درج ہیں جو 1880کے بہت پہلے لکھے گئے۔ 1880میں تحریر کردہ (یا شایع شدہ) تین تذکروں کے نام فہرست میں درج ہیں:’طورِ کلیم‘؛ ’بزمِ سخن‘ اور خود ’آبِ حیات‘۔ فائق کے تذکرے کا نام یہیں آنا چاہیے تھا لیکن وہ اپنی جگہ سے بہت پہلے آگیا ہے اور اس کے آگے کوئی صفحہ نمبر بھی نہیں ہے، صرف 20 لکھا ہے۔
محمد حسین آزاد پراسلم فرخی مرحوم کی مبسوط دو جلدی کتاب میں بھی نور الدین خان فائق یا ’مخزنِ شعرا‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ’آبِ حیات کا تنقیدی مطالعہ‘ یا قاضی عبدالودود کی ’محمد حسین آزاد بحیثیت محقق‘ میں فائق کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ ہمارے یہاں جن لوگوں نے ولی پرتحقیقی نظر ڈالی ہے، انھوں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں کی۔ ورنہ یہ تذکرہ (اگر واقعی ایسا کوئی تذکرہ ہے اور بقول آزاد وہ ’خاص شعراے دکن کے حال میں ہے‘) حاصل ہو سکتا توولی اور شاہ گلشن کی مبینہ ملاقات اور شاہ صاحب کے اس مشورے کے بارے میں کہ ولی اپنا دیوان ’فارسی کے طور پر‘ ترتیب دیں، کچھ زیادہ تفصیلی اور زیادہ معتبر بات معلوم ہو سکتی تھی۔
جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا،اس وقت تو ولی کی دہلی (پہلی اور اغلباً واحد) آمد کے بارے میں ہمارے پاس ‘آبِ حیات’ کے بعد جو دو اطلاعات ہیں وہ میر اور قائم کے تذکروں پر مبنی ہیں۔ میرکا بیان درج ذیل ہے۔ اس کے بعد میں قائم کا بیان نقل کروں گا:

’’ولی (محمد، ملک الشعرا) شاعر ریختہ (زبردست) (صاحب دیوان) از خاک اورنگ آباد است۔ می گویند کہ در شاہجہان آباد نیز آمدہ بود۔ بخدمت میاں(شاہ) گلشن صاحب رفت و از اشعار خود پارۂ خواند۔ میاں صاحب فرمود(ند کہ)ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند، در ریختہ(ہاے)خود بکار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت۔‘‘(’نکات الشعرا‘ از میر محمد تقی میر، مرتبہ و مدونہ پروفیسر محمود الٰہی، ادارۂ تصنیف، دہلی 6، 1972، ص 91)

’’شاہ ولی اللہ، ولی تخلص، شاعرےست مشہور، مولدش گجرات است۔ گویند بہ نسبت فرزندی شاہ وجیہ الدین گجراتی، کہ از اولیاے مشاہیر است، افتخار ہاداشت۔ درسنہ چہل و چہار ازجلوس عالمگیر بادشاہ، ہمراہ میر ابوالمعالی، نام سید پسرے کہ دلش فریفتۂ او بود، بہ جہان آباد آمد۔ گاہ گاہ بزبان فارسی دو سہ بیت در وصف خط و خالش می گفت۔ چوں درآنجا ملازمت حضرت شیخ سعد اللہ گلشن قدس سرہٗ مستعد گردید، بگفتن شعر بزبان ریختہ امر فرمودند و ایں مطلع تعلیماً موزوں کردہ حوالۂ او نمودند

خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں

بے تکلف صفحۂ کاغذ یدِبیضا کروں

(’مخزن نکات‘ از قائم چاندپوری، مرتبہ و مدوّنہ اقتدا حسن، لاہور، مجلس ترقیِ ادب، 1966، متن صفحہ 21 تا 22)

ان دو عبارتوں میں کئی تضاد اور کئی اختلافات ہیں۔ ان کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

  1.   میر کا کہنا یہ ہے کہ ولی جب دلی آئے تو شاعر تھے۔ لیکن شاہ صاحب نے ان کے اشعار سن کر مشورہ دیا کہ فارسی میں مضامین بھرے پڑے ہیں، انھیں کیوں نہ استعمال کرو۔ میر کو یہ نہیں معلوم کہ ولی اور گلشن کی ملاقات دلی میں کب ہوئی۔
  2. قائم کہتے ہیں کہ ولی جب دہلی پہنچے تو وہ ریختہ کے شاعر ہی نہیں تھے، نہ ہی وہ باقاعدہ فارسی گو تھے۔ ہاں کبھی کبھی ایک دو بیت فارسی میں شاہ ابوالمعالی کی ثنا و صفت میں کہہ لیتے تھے۔ شاہ گلشن نے ’مضامین فارسی‘ کو بکار لانے کے باب میں ولی کوکچھ مشورہ نہ دیا، البتہ ایک مطلع بطورتعلیم موزوں کرکے ان کو عطا کیا۔
  3. ولی کے دہلی آنے کی تاریخ کے بارے میں میر کو کچھ نہیں معلوم۔ ان کا بیان ہے کہ ’لوگ کہتے ہیں‘ کہ وہ شاہجہان آباد دہلی بھی آئے تھے۔ اس کے برخلاف قائم نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ ولی اورنگ زیب عالمگیر کے چوالیسویں سالہ جلوس میں دہلی آئے۔ معمولی گنتی کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سال 1112 ہجری اور 1700 حالی تھا۔چوں کہ ولی کے ورودِ دہلی کے بارے میں ہمیں کوئی اور قطعی اطلاع نہیں، اس لیے سب اسی تاریخ کو مانتے ہیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ ان تضادات کا کیا ہو؟ میر کہتے ہیں شاہ صاحب نے ولی سے کہا کہ فارسی کے مضامین کیوں نہیں لکھتے ہو؟ قائم کہتے ہیں کہ ولی اس وقت تک ریختہ گو تھے ہی نہیں، چہ جاے کہ شاہ صاحب ان کا کلام سنیں اور کوئی مشورہ دیں۔ لیکن یہ انھوں نے ضرور کہا کہ ریختہ کہو اوران کو تعلیماًایک مطلع بھی کہہ کر دیا۔
اس بات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ دہلی والوں نے میر اور قائم کے بیانات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا(اور یہ فیصلہ اب تک رائج ہے) کہ ولی کچھ نہ تھے اور کچھ نہ ہوتے اگر وہ دہلی نہ آئے ہوتے اور انھوں نے شاہ سعد اللہ گلشن سے فیض نہ حاصل کیا ہوتا۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے کسی محقق نے میر اور قائم کے تضادات اور اختلافات پر غور کیا ہو۔ محمد اکرام چغتائی، جو مورخ ہیں اور ادبی محقق کے زمرے میں نہیں آتے، انھوں نے ضرور لکھا ہے کہ 1112ھ میں شاہ گلشن صاحب دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ دکن کی سیاحت کر رہے تھے۔ لہٰذا دہلی میں شاہ صاحب اور ولی کی 1112 میں ملاقات ممکن ہی نہیں ہے۔ اقتدا حسن نے چغتائی کے مضمون مطبوعہ ’اردو نامہ‘ بابت مارچ 1966 کا حوالہ اسی صفحے پر حاشیے میں دیا ہے جہاں سے میں نے قائم کا بیان نقل کیا۔دوسرے صاحب ڈاکٹر محمدصادق ہیں جنھیں ہم ان کی تاریخ ادب اردو بزبان انگریزی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ محقق انھیں کوئی نہیں مانتا۔ یوں بھی، وہ انگریزی کے پروفیسر تھے، اردو والے انھیں اپنا آدمی بھلا کب مان کے دیتے؟ لیکن ’تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند‘ جلد ششم، مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی،لاہور کے صفحہ530 اور پھر صفحہ 532پر صادق صاحب لکھتے ہیں:

’’تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ولی کا سفرِ دہلی، نہ صرف اس کی شاعری میں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ میں بھی ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہےمیری رائے میں [شاہ گلشن کی]یہ مفروضہ ہدایات اہالیان دہلی کی اختراعات ہیں۔ان کا منشا (غیر شعوری طور پر ہی سہی)یہ ہے کہ اردو شاعری کی اولیت کا سہرا دہلی ہی کے سر رہے۔‘‘
میں چودھری محمد نعیم کا ممنون ہوں(اگرچہ مستعمل معنی میں محقق وہ بھی نہیں ہیں) کہ انھوں نے ڈاکٹر صادق کی عبارت کی خبر مجھے دی۔ لیکن میں اردو کے محققین سے پوچھتا ہوں کہ انھوں نے ’آب حیات‘ اور ’نکات الشعرا‘ اور ’مخزن نکات‘ کے بیانات پر آنکھ بند کر کے کیوں یقین کر لیا؟ آزاد کا تعصب تو اس بات سے ظاہر ہے کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ولی نے ’دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناًان [شاہ سعد اللہ گلشن]کے اشارے سے کی‘ اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی نے یہ تو لکھا ہے کہ میں شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد ہوں’ مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں۔‘اس صورت میں اس بات کا امکان کتنا رہ جاتا ہے کہ کوئی شخص، جو فن شعر میں کسی کا استاد نہ ہو، وہ اسے اتنا مہتم بالشان مشورہ دے ڈالے کہ فارسی میں مضامین پڑے ہیں انھیں بے تکلف لوٹو اور اپنا گلشن شاعری آراستہ کرو۔

قائم نے تو کہہ دیا کہ شاہ گلشن سے ملاقات کے پہلے ولی ریختہ کے شاعر ہی نہ تھے، لیکن آزاد خود کہہ رہے ہیں کہ ولی نے ایک شعر میں ناصر علی سرہندی کو کھل کر چنوتی دی ہے

 

اچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق

اگر  مصرع   لکھوں  ناصر علی   کوں

’کلیات ولی‘مرتبہ نورالحسن ہاشمی مطبوعہ لاہور، 1996، صفحہ195 پر یہ شعر یوں درج ہے   ؎

 

پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق

اگر   مصرع   لکھوں   ناصر علی   کوں

بے شک یہ شعر آزاد کے روایت کردہ شعر سے بہتر ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ایسا شعر ناصر علی کے زمانۂ حیات ہی میں کہا گیا ہوگا۔ ناصر علی سرہندی کا سال وفات1696 ہے۔ اس طرح یہ بات بالکل صاف ہے کہ 1696تک (یعنی دہلی آنے سے کم از کم چار سال پہلے)ولی شعر گوئی میں اتنے مشاق اورمستحکم ہو چکے تھے کہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے فارسی استاد کو اس طرح للکار سکتے۔
مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ ’نئے حقائق کی دریافت‘ ہو، یا ’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘، ولی کے بارے میں ان دونوں شرائط کا حق ’آب حیات‘ اور ’نکات‘ اور ’مخزن‘میں درج کردہ بیانات کی تحقیق کی حد تک ہم سے ادا نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے کھلے طور پر دہلی والوں کے تعصب کو اس کا ذمہ دار بتایا ہے۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ جو دہلی والے نہیں بھی ہیں  وہ بھی میر اور قائم کے اختراع کردہ افسانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناں چہ تبسم کاشمیری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
’’شمال کے اس سفر کی داستان خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو،یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی ہند کے ادبی ماحول، تہذیبی فضا اور شعری اسالیب سے ولی نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔‘‘

یعنی اب بات ’تھا‘ سے ’ہوگا‘ تک آگئی، لیکن بات رہی وہی پہلے سی۔ لطف یہ ہے کہ اسی صفحے پر تبسم کاشمیری نے یہ بات کہی ہے کہ ’یہ ولی کا کمال تھا کہ اس نے شمالی ہند میں فارسی روایت کے مغرور علما اور شعرا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔‘
بھلا ’بہت کچھ سیکھنے‘ میں ’جھنجھوڑ کر رکھ دینے‘ کا عنصر کہاں رہا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے ولی رہے پھر بھی دہلی کے ممنون احسان کہ بقول ناصر نذیر فراق، ورود دہلی کے پہلے ولی شاعر ہی نہیں تھے، وہ جو کچھ ہیں انھیں دہلی نے بنایا۔ جمیل جالبی نے اپنی تاریخ میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ ولی کا انتقال 1707/1708 کے بہت بعد ہوا ہوگا، کیونکہ اگر وہ دہلی پہنچنے کے کچھ ہی عرصہ بعد راہی ملک عدم ہوئے تو بھلا انھوں نے وہ سارا کلام کب کہا ہو گا جو کمیت میں خاصا ہے اور جس پر بقول جالبی صاحب، دہلی کا اثر صاف نظر آتا ہے؟ لیکن حقیقت بہ ہر حال یہی ہے کہ ولی کا مکمل ترین کلام جس مخطوطے میں ملتا ہے اس کی تاریخ کتابت 1709 ہے۔اس کے بعد اگر وہ جئے ہوتے اور انھوں نے کچھ کہا ہوتا تو وہ کہیں تو ملتا۔

فن تحقیق پر ہمارے یہاں کئی کتابیں اور کئی مضامین ہیں۔ تقریباً سب میں دیانت داری پر زور دیا گیا ہے لیکن مجرد دیانت داری کسی کام کی نہیں۔دیانت داری کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ پوری اور سخت چھان بین کے بغیر کسی ایسی بات کو، یا کسی ایسے نتیجے کو نہ قبول کر لیا جائے جو ہمارے دل کو بھاتا ہو بلکہ ایسے نتیجے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو ہمارے حسب دلخواہ ہو۔ ہماری ادبی تحقیق کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ محقق نے پوری ایمان داری کے ساتھ کسی نتیجے کو اس لیے قبول کیا کہ وہ اس کے معتقدات کے موافق تھا، یعنی اس کا خیال تھا کہ اس چیز کو ایساہی ہونا چاہیے۔
داغ پر ہم لوگوں کی خامہ فرسائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزی تاریخیں یا انگریزوں سے متاثر تاریخیں پڑھ پڑھ کرہم لوگوں نے یقین کر لیا کہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں لال قلعہ ہر طرح کی بداطواری اور تعیش پسندی اور ذہنی انحطاط کا صدر مقام تھا۔ پھر ہم لوگوں نے پڑھا کہ داغ کی ماں نے ایک شہزادے سے شادی کر لی اور قلعہ میں جا رہیں اور داغ بھی ان کے ساتھ تھے۔لہٰذا داغ کی نشوو نما لال قلعے میں ہوئی۔ داغ کے بارے میں یہ کہا گیا:

’’مغلیہ حکومت کا یہ آخری دور تھا۔ شمشیر و سناں سے گزر کر طاﺅس و رباب میں شاہی خاندان مصروف تھا۔ رقص و سرود کی محفلیں، قلعے کی بیگمات،خواصیں، چونچلے، رنگ رلیاں،اس ماحول میں شہزادوں کے ساتھ داغ نے بھی بارہ سال گزارے۔‘‘
ہم لوگوں کے خیال میں اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ قلعے والوں کی تمام بری باتیں داغ کی طینت میں پیوست ہو جائیں۔ مندرجہ بالا رائے کا بلاواسطہ یا بالواسطہ پرتوداغ کے بارے میں ہرتحریر میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتباس کی سب باتیں غلط ہیں سوا اس کے کہ داغ نے قلعے میں بارہ سال گزارے۔اگر ذرا سی بھی کاوش کی جاتی تو داغ کے بارے میں ہمارے نتائج بالکل مختلف ہو سکتے تھے۔ لیکن جو نتیجہ ہم نے نکالا وہ جذباتی طور پر ہمارے لیے قابل قبول تھا کہ داغ تو ہنسی ٹھٹھول کے شاعر تھے، ان کے کلام میں مضامین بلند نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ ارباب نشاط میں بہت مقبول تھے۔ مزید کاوش کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔داغ کا دیوان کھولنے کی زحمت کون کرتا۔
یہیں سے محقق کے منصب کے بارے میں دوسری اہم بات بھی سامنے آتی ہے: جو نتیجے اور فیصلے پہلے سے موجود ہیں یا ہم نے ورثے میں پائے ہیں،ان پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کر لینا چاہیے۔ کوئی روایت، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی دلکش یا کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو،اسے اسی وقت قبول کرنا چاہیے جب اپنی ذاتی تحقیق اس کی تصدیق کر دے۔ ہمارے یہاں کتاب پر اعتماد کی رسم بہت مستحکم ہے۔ کسی مبتدی طالب علم کے لیے تویہ طریق عمل بہت مناسب ہے، لیکن محقق کا یہ منصب نہیں۔ یہ بھی ہے کہ ادبی تہذیب میں بعض باتیں غیر معمولی شہرت حاصل کر لیتی ہیں، خواہ وہ کسی کتاب میں نہ ہوں۔انسان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ مشہور باتوں پر،یا لکھی ہوئی باتوں پریقین کر لینے پر بہت مائل رہتا ہے، خاص کر اگر ایسی باتیں دلکش یا ڈرامائی انداز میں بیان کی گئی ہوں۔ محقق کواس کمزوری سے مبرا ہونا چاہیے۔
ہمارے جدید شعرا میں میراجی ایک ایسے ہیں جن کی شخصیت کی بارے میں خاکے کے نام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور وہ کم و بیش سب کا سب حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میراجی کا افسانہ پہلے بنا، خاکے بعد میں لکھے گئے۔ یعنی ان کی شخصیت میں کچھ ایسی بات تھی، اسے اسرار کہیے، کشش کہیے، یا توجہ انگیزی کہیے، لیکن کچھ ایسا ضرور تھا کہ لوگوں کو ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کرنے میں مزہ آتا تھا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہر خاکہ ان کی زندگی کی کسی منزل پرلکھا گیا ہوگا، وہ ان کی پوری زندگی کو محیط نہیں ہو سکتا۔ لیکن اکثر لوگوں نے ہر خاکے کو میراجی کی پوری شخصیت کی تصویر سمجھ لیا ہے۔ ہر چند کہ میراجی کی تخلیقی شخصیت تو دور رہی، ان خاکوں سے ان کی پوری زندگی کی بھی فہم نہیں حاصل ہو سکتی۔ مثلاً کہا گیا کہ میراجی اپنی پتلون کی جیبیں کٹوا دیا کرتے تھے۔ممکن ہے ایسا ہو، لیکن کون سے میراجی؟ بمبئی کے میرا جی، یا دہلی کے میرا جی، یا حلقۂ ارباب ذوق کے میراجی، یا ’ادب لطیف‘ کے مدیر میراجی؟ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کی نظمیں مبہم ہوتی تھیں اور انھیں ابہام بہت پسند تھا۔وہ اپنی بات کو گھماپھرا کر کہنا پسند کرتے تھے۔لیکن ’مشرق و مغرب کے نغمے‘ میں جو میراجی ہیں وہ تو انتہائی شفاف نثر لکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کی کتاب ’اس نظم میں‘ کا صرف نام سن لیا، اور چوں کہ یہ مفروضہ بہت مشہور تھا کہ میراجی کا کلام مشکل اور مبہم ہوتا تھا، لہٰذا انھوں نے کتاب پڑھنے کی زحمت کیے بغیر لکھ دیا کہ میراجی کا کلام اس قدر مشکل تھا کہ انھوں نے مجبوراً خود ہی ’اس نظم میں‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنی نظموں کے معنی بیان کیے۔
ہمارے یہاں پہلے زمانے کی ادبی تاریخ کے بارے میں اس طرح کی حکایتیں بہت مشہور ہیں کہ مثلاً انشا آخری عمر میں بالکل بدحال اور مجنون ہو گئے تھے، یا غالب نے آخیر آخیر میں طرز میر اختیار کیا، یا اردو ’لشکری زبان‘ ہے کیونکہ ’اردو‘کے معنی’لشکر‘ ہیں۔ محقق کو یہ اصول ہمیشہ مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ جو بات جتنی ہی مشہور ہوگی، اتنا ہی قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ غلط ہوگی لیکن ہمارےمحققین نے اس اصول کو اکثر نظر انداز کر دیا ہے۔
آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے۔اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل انگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے۔ آج اردو پڑھنے والے کم نہیں ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ہو، ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاش معاش کے لیے جوڑ توڑمیں لگ جانے کی جلدی ہے۔ آج کل ہماری یونیورسٹیوں میں جن موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور جس طرح کی تحقیق ہورہی اس میں بھاری اکثریت ’فلاں کی حیات اور کارنامے‘ قسم کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب کم حقیقت اور زندہ لوگوں کے ’کارناموں‘کے الگ الگ پہلوﺅں پر تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔مثلاً ’فلاں کی افسانہ نگاری‘،پھر اسی شخص کی شاعری، پھر اسی شخص کی تحقیق، وغیرہ الگ الگ موضوع بن گئے ہیں۔ زندوں بچاروں پر یوں لکھا جارہا ہے گویا اب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا اور اب ہم ان کے ’ کارناموں‘ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی موضوع پرایک ہی یونیورسٹی میں، یا مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کی داد دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تحقیقی مقالوں میں نئی بات کیا، تنوع بھی نہ ہوگا۔’چبائے ہوئے نوالے‘، ’چچوڑی ہوئی ہڈیاں‘جیسے فقرے ایک زمانے میں ہماری شاعری کے بارے میں استعمال ہوتے تھے۔ اب یہی فقرے ہمارے تحقیقی مقالوں پر صادق آتے ہیں۔

Ghubar E Khatir ka Usloob by Abdulbari Qasmi

Articles

غبارخاطرکا اسلوب

عبدالباری قاسمی

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا
اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد نے تحریر کیا ہے کہ
’’ مولانا کا اسلوب تحریر ان کی شخصیت تھی اوران کی شخصیت ان کا اسلوب دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ (۱)
اس تبصرہ سے مولانا آزاد کے اسلوب اور زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ان کے اسلوب میں حکیمانہ لہجہ بھی ہے تو زعیمانہ انداز بھی اور ساتھ ساتھ ادیبانہ وجاہت بھی ،یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے ان کی نثر کو شعر منثور سے تعبیر کیا ہے ۔ وہ بیک وقت متعدداسالیب پر قدرت رکھتے تھے ۔ رشید احمد صدیقی نے ان کے انداز اور لب لہجہ کو قرآنی لہجہ سے تعبیر کیا ہے ’’مولانا نے لکھنے کا انداز، لب و لہجہ اور مواد کلام پاک سے لیا ہے
جو ان کے مزاج کے مطابق تھا مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنہوں نے براہ راست قرآن کو اپنے اسلوب کا سر چشمہ بنایا‘‘(۲)
غبار خاطر جسے مولانا نے ’’خط غبارمن است این غبار خاطر‘‘کہہ کر پکارا ہے اس سے اس کی اہمیت و افادیت اور دیگر فنی محاسن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔مولانا کی یہ کتاب جسے مولانانے حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط سے تعبیر کیا ہے۔ بعض حضرات نے اسے انشائیہ تو بعض نے افسانہ کہہ کر بھی پکار ہے، اس میں مولانا نے انشاپردازی ،زبان دانی ،فطری اسلوب ،طنزومزاح ،قلمی مصوری، مناظر فطرت کی عکاسی اور اشعار کا بر محل استعمال کر کے ایسی نقاشی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے کہ لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے پر مجبور ہوئے ، آزاد کا کمال ہے کہ کہیں تو بالکل سادگی پر اتر آتے ہیں تو کہیں عربی و فارسی اشعار اور تراکیب لا کر زبان دانی اور تبحر علمی کاا علی نمونہ پیش کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور سب سے بڑی چیز فطری پن اور بہا ئوہے ۔جو انہیں دیگر انشاپردازوں سے ممتاز کرتی ہے اور انفرادیت کے مقام پر پہنچاتی ہے۔

غبار خاطر کی تصنیف :

غبار خاطر خطوط ہے یا انشائیہ یہ بھی موضوع بحث رہا ہے ،مگر مولانا نے خود اسے خطوط سے تعبیر کیا ہے ،یہ مولانا آزاد کی آخری تصنیف ہے ،جو 3اگست1942ء سے 3ستمبر 1945ء کے درمیانی وقفہ میں رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے،اس میں دو خط مولانا شیروانی کے بھی شامل ہیں مگر اتنی بات مسلم ہے کہ مولانا آزادکی شیروانی صاحب سے گہری دوستی تھی ،اس لیے ان کے نام منسوب کرکے یہ خطوط کی شکل میں مضمون لکھے ورنہ ایک بھی خط ارسال نہیں کیا گیا ،البتہ مولانانے خطوط کا پیرایہ اس لیے اختیار کیا کہ بہت سی باتیں جسے مضمون میں ظاہر نہیں کیا جاتا مگر خطوط میں بے تکلف لکھا جا سکتا ہے ۔

مولانا آز اد کے تصنیفی ادوار :

مولانا آزاد ایسے انشاپرداز ہیں جن کے یہاں ایک اسلوب پر اکتفا نظر نہیں آتا ۔بلکہ ان کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے ان کے تصنیفی ادوار کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ان کے تصنیفی ادوار کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا پہلا دور گھن گرج والا دور ہے جس میں انہوں نے ’’ الہلال‘‘ اور’’ البلاغ‘‘ جاری کیااور اپنی سوانح عمری اور تذکرہ بھی ترتیب دیا ۔دوسرا دور وہ ہے جس میں انہوں نے قرآن پاک کے تراجم اور تفسیر وغیرہ لکھے ۔’’ ترجمان القر آن ‘‘اسی دور کی شاہکار ہے۔اس دور میں عالمانہ سنجیدگی اور علمی تبحرکا غلبہ نظر آتا ہے تیسرادور وہ ہے جس میں انہوں نے خط کی شکل میں انشائیوں کے اعلی نمونے پیش کیے غبار خاطر اسی دور کی تصنیف ہے اور چوتھا دور وہ ہے جس میں انہوں نے مختلف اور متعدد معرکتہ الآرا خطبے پیش کیے ’’ خطبات آزاد‘‘ اسی عہد کی باز گشت ہے ۔

مولانا آزاد کے متعدد اسالیب :

مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین اسالیب اختیار کیے ۔اطلاعی اسلوب یعنی کسی کو اطلاع دینا خواہ مثبت ہو یا منفی عام طور پر رپورٹنگ اسی اسلوب میں ہوتی ہے ۔الہلال ، البلاغ تذکرہ اور خطبات میں اسی اسلوب کو برتا گیا ہے ۔ہدایتی اسلوب سے مراد directive style ہوتا ہے یعنی حکم دینا یہ طریقہ ترجمان القرآن میں دکھائی دیتا ہے اور اظہاری اسلوب سے مراد expressive style ہوتا ہے اس اسلوب کو شاعری اور جذبات و احساسا ت کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا جا تا ہے یہاں مواد اور معنی کی جگہ لفظ اور طرز بیان کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اسے’’ غبارخاطر ‘‘ میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔مرزا خلیل احمد بیگ نے ان کے اسلوب کے متعلق لکھا ہے کہ
’’ غبار خاطر کی نثر ادبی مرصع کاری اور رنگین عبارت کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ اس کے علاوہ لفظی رعایات و مناسبات فقروں کی صوتی دروبست جملوں کی متوازن ترکیب و ترتیب اظہار کے بدلے ہوئے پیرائے۔ نت نئے تلازمات اور نادر ترکیبات نے اس کی دل آویزی اور دل کشی میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے‘‘(۴)۔

غبار خاطر کی زبان :

غبار خاطر میں مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین طرح کی زبان استعمال کی ہے ،ویسے ان کے اسلوب میں زعیمانہ ،حکیمانہ اورادیبانہ انداز ہے وہی زبان میں بھی ۔غبار خاطر میں سادہ اور عام فہم زبان کے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ایک اقتباس چڑا چڑے کی کہانی سے :
’’ لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں میں لائیں ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ یہاں سب سے بڑا کام خود زندگی ہے یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا یہاں اس سے زیادہ سہل کوئی کام نہیں ‘‘(۵)
غبار خاطر کی زبان شعریت سے متصف ہے یہ آزاد کی شعری آہنگ والی ایسی زبان ہے جس نے آزاد کو نثر نگار کی فہرست سے نکال کر شاعروں کے صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ اس انداز بیان کے نمونے غبار خاطر میں جابجا دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھول جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں تاکہ کھولے جائیں ‘‘ (۶)
فارسی آمیز : غبار خاطر میں زبان کی تیسری قسم فارسی آمیز زبان کی ہے ، غبار خاطر میں مولانا آزاد نے شروع سے آخر تک جگہ جگہ فارسی اشعار الفاظ و تراکیب اور فارسی محاوروں کا استعمال کیا ہے ۔اس سے جہاں ایک طرف آزاد کی فارسی پر عبور اور گرفت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس بات کی بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کتاب کو کماحقہ سمجھنے کے لیے فارسی کی شد بد ضروری ہے ۔جیسے ایک خط کا عنوان انہوں نے’’ داستان بے ستوں و کوہ کن‘‘ رکھا ہے ۔

اشعار کا برمحل استعمال :

غبار خاطر اردو،فارسی اور عربی اشعار سے لبریز ہے،مولانا آزاد نے اشعار کوخوبصورتی اور چابکدستی سے استعمال کیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر خود انہیں کا ہے ، کہیں تو مکمل شعر نگینے کی طرح جڑ دیتے ہیں تو کہیں ایک مصرعہ کو ہی جملوں کے درمیان اس انداز سے فٹ کرتے ہیں کہ قاری مطلب بھی سمجھ لیتا ہے اور نثر ایک نئی خوبصورتی سے متصف بھی ہو جاتی ہے ۔
اردو شعر:

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
فارسی شعر:

ہزار قافلہ شوق می کشد شب گیر
کہ با رعیش کشاید بخطٔہ کشمیر
عربی شعر ـ:

قلیل منک یکفینی و لکن
قلیلک لا یقال لہ قلیل
اور کہیں کہیں پورے شعر کے مفہوم کو اپنی زبان میں بڑی خوبصورتی سے ڈھال لیتے ہیں ، جیسے میر دردؔ کے مشہور شعر ’’تر دامنی ‘‘ کو اپنی نثر میں بڑی خوش سلیقگی سے ڈھال کر نیا طرز ایجاد کیا ہے ۔

عربی الفاظ وتراکیب کی کثرت :

غبار خاطر میں عربی الفاظ و تراکیب کی بھی خوب کثرت ہے۔ جسے وہ درمیان میں کہیں بھی استعمال کر لیتے ہیں ۔عربی اشعار اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے الفاظ و تراکیب بھی استعمال کرتے ہیں کہ جسے ایک عربی جاننے والا شخص ہی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت کے متعلق لکھا ہے کہ
’’آزاد پہلے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اردو رسم الخط میں عربی لکھی ہے ‘‘(۷)

فطری اسلوب :

شروع سے آخر تک غبار خاطر ٖفطری اسلوب سے لبریز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں آزاد کے اسلوب کا ایسا بہائو اور ایسی روانی نظر آتی ہے کہ اس کے بہائو کو کوئی بھی پل اور باندھ نہیں روک سکتا ۔رشید احمد صدیقی نے غبارخاطر کے اسلوب پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ
’’غبار خاطر کا اسلوب اردو میں نا معلوم مدت تک زندہ رہے گا اکثر بے اختیار جی چاہنے لگ جاتا ہے کہ کاش اس اسلوب کے ساتھ مولانا کچھ دن اور جیئے ہوتے ۔پھر ہمارے ادب میں کیسے کیسے نسرین و نسترن اپنی بہائو دکھاتے اورخود مولانا کے جذبئہ تخیل کی کیسی کیسی کلیاں شگفتہ ہوتیں‘‘(۸)
یہ حقیقت ہے کہ اس کتاب کی دلکشی کا راز اس کی طرز تحریر میں پنہاں ہے اور یہ شاہکار تخلیق اپنے اس عظیم حسن کی وجہ سے ہزاروں حسن پر ستوں کو فرحت و انبساط بخشنے کے ساتھ ساتھ شوق کا ہاتھ دراز کرنے پر مجبور کرے گا ۔

طنزو مزاح :

غبار خاطر میں بکثرت طنزومزاح کے نمونے بھی ملتے ہیں مولانا آازاد کا کمال ہے کہ انہوں نے خشک سے خشک موضوع کو بھی مضحکہ خیز انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کا انگشت بدنداں ہونا فطری ہے ۔ایسی خوبصورتی سے طنزومزاح کا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ سامنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا اور سب کچھ کہہ جاتے ہیں انہوں نے اپنے ساتھ قلعہ احمد نگر میں اسیر ڈاکٹر سید محمود کے  بارے میں ’’فقیرانہ آئے صدا کر چلے ’’صلائے عام ہے یاراں نکتہ داں کے لئے ‘‘ بڑی خوبصورتی سے مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا ہے ۔

رومانیت :

غبارخاطر میں جہاں دیگر محاسن جا بجا نظر آتے ہیں وہیں رومانیت کی جھلکیا ں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ،بہت سے مقامات پر وہ ایسی پر لطف فضا اور ایسا ماحول تیار کرتے ہیں کہ رومانیت کی فضا تیار ہو جاتی ہے ،خاص طور پر اس موقع پر جب وہ اپنے متعلق اشارے کرتے ہیں تو بڑی خوبصورت رومانی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔
قلمی مصوری :

غبار خاطر کے اسلوب کا ایک اہم حصہ مولانا آزاد کی قلمی مصوری اور نقش و نگاری بھی ہے جسے بآسانی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی ایک روحانی شخص کا نقشہ ، کبھی فلسفی کا ،کبھی مزاح نگار کاتو کبھی ایک غمگین شخص کا نہایت خوبصورت قلمی نقشہ بناتے نظر آتے ہیں
’’پھولوں نے زباں کھولی ،پتھروں نے اٹھ اٹھ کر اشارے کئے خاک پامال نے اڑ اڑ کر گہر افشانیاں کیں ‘‘
اس سے ان کی نقش و نگاری اور قلمی مصوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔عام طور پر ایسے نمونے شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں ،مگر مولانا آزاد نے نثر میں اس کے نمونے پیش کیے ہیں۔

مناظر فطرت کی عکاسی :

مولانا آزاد نے غبار خاطر میں جس خوبصورتی سے پھلوں ،پھولوں ، پرندوں ،بیل ،بوٹوں اور دیگر مظاہر کائنات کی عکاسی کی ہے ۔ اس سے مولانا آزاد کے روحانی مزاج ،فطرت دوستی اور کائنات کے حسین مناظر کے مشاہدہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور بعض مقامات پر پھولوں کے ذریعے ایسی نقاشی پیش کرتے ہیں کہ جس سے ایرانی اور ہندوستانی دونوں پھولوں کی خوشبو مسکراتی نظر آتی ہے ۔
’’کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا کوئی نیلم کی پیالی تھی ، کسی پر گنگا جمنا کی قلم کاری کی گئی تھی ‘‘(۱۰)

انانیتی انداز :

غبار خاطرمیں مولانا آزاد کا انانیتی انداز اور لہجہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس انداز سے شاعرانہ تعلی شاعروں کے یہاں ملتی ہے اسی انداز سے انانیتی نمونے ان کی نثر میں پائے جاتے ہیں خاص طور پر جب وہ اپنے متعلق لمبی باتیں کرتے ہیں تب یہ خصوصیت بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔
خلاصہ کے طور پر مولانا عبدالماجددریا بادی کے اس قول کو پیش کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کے انداز تحریر اور طرز نگارش کے متعلق لکھا ہے کہ ’’وہ اپنے طرزو انشا کے جس طرح موجد ہیں اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں تقلید کی کوشش بہتوں نے کی ، پیروان غالب کی طرح سب ناکام رہے ،بہ حیثیت مجموعی ابوالکلام آزاد اپنی انشاپردازی میں اب تک بالکل منفردو یکتا ہیں بظاہراحوال یہی نظر آتا ہے کہ غالب کی طرح ان کی بھی یکتائی وقتی نہیں ،مستقل ہے ،حال ہی کے لیے نہیں مستقل کے لیے۔
٭٭٭

حوالہ جات :
(۱)کلیات رشید احمد صدیقی جلد سوم ص:۳۴۷۔(۲)ایضا ص:۳۴۷(۳) اردو کے نثری اسالیب ص:۱۶۱(۴) تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ص: (۵)چڑا چڑے کی کہانی غبار خاطر ص: (۶) ایضا ص:۲۱۰(۷) ابولکلام کی اردو آب گم از مشتاق یوسفی (۸) کلیات رشید احمدصدیقی جلد سوم ص :۳۵۴ (۹)غبار خاطر کا تنقیدی مطالعہ ص: ۸۰(۱۰) غبار خاطر ص:۲۱۸۔
٭٭٭
مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
مضمون نگار سے رابطہ :

abariqasmi13@gmail.com
09871523432

 

Educational Thoughts of Maulana Abul Kalam Azad

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد کے تعلیمی نظریات

ڈاکٹر قمر صدیقی

ہر دور میں وقت اور حالات کے مد نظر دانشورانہ فکر کے حامل افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے لہٰذا کسی بھی دور میں دانشورانہ فکر کے حامل افراد کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ان افراد کی سوسائٹی کے تئیں سپردگی اور وابستگی کا جذبہ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی دانشورانہ فہم و فراست کی عظمت کا راز یہی ہے کہ ان کا سارا علم و تدبر سماج کے لیے وقف تھا۔
مولانا آزاد مکہ معظمہ کے محلہ دارالسلام میں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک رسالہ ’لسان الصدق‘ نکالا۔ لسان الصدق کے مضامین سے لوگوں کو یہ اندازہ ہوتا تھاکہ یہ رسالہ نکالنے والا کوئی بہت ہی تجربہ کار اور معمر شخص ہے۔چنانچہ لاہور کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں جب مولانا حالی اور مولانا وحیدالدین سلیم کی ملاقات مولانا ابوالکلام آزاد سے ہوئی تو ان حضرات کوبڑی حیرت ہوئی اور انھوں نے کئی بار دریافت کیا کہ لسان الصدق کے ایڈیٹر آپ ہی ہیں۔ اسی طرح جب مولانا ابوالکلام آزاد کی ملاقات مولانا شبلی نعمانی سے ہوئی تو مولانا شبلی کو بھی بہت حیرت ہوئی۔ اس سلسلے میں مولانا آزاد خود کہتے ہیں کہ ’’چلتے وقت انھوں نے مجھ سے کہا تو ابوالکلام آپ کے والد ہیں! میں نے کہا نہیں میں خود ہوں‘‘۔ مولانا آزاد شروع سے سرسید احمد خاں سے متاثر رہے۔ کچھ عرصہ تک وہ جمال الدین افغانی اورپین اسلام ازم کے زیرِ اثر بھی رہے۔ ان کی میںاس کا عکس نظر آتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں وہ سر سیّد کے نظریات کے حامی و ناشر تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمانان ہند جدید تعلیم سے آراستہ ہوں۔ وہ مسلمانوں کی نجات کے لیے جدید تعلیم کو ضروری تصور کرتے تھے۔ سرسید احمد خاں کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کی معاشرتی زندگی بالخصوص رسم و رواج میں اصلاح ہو۔ لہٰذاوہ مسلمانوںکے لیے زندگی کے نئے تقاضوںکے تحت اجتہادو اصلاح کو ضروری سمجھتے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سرسید کے ان نظریات کا نہ صرف باریک بینی سے مشاہدہ کیابلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہوئے۔لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ مولانا آزاد، سرسید سے متاثر تھے اور تعلیمی اور سماجی اعتبار سے دونوں کے نظریات مسلمانوں کے متعلق ایک تھے تو غلط نہ ہوگا۔ ہاں! ان دونوں حضرات کے نظریات سیاسی میدان میں الگ ہیں۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دور رہ کر خود کو نئے حالات کے سانچوں میں ڈھال لیں۔ جبکہ اس تعلق سے مولانا کے سیاسی نظریات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں۔
مولانا آزاد ایک خالص مذہبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والد نے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں مذہب کو مقدم رکھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، اصول اور منطق وغیرہ کی خاص تعلیم کے ذریعہ جس فکری اساس کی بنیاد ان کے والد چاہتے تھے مولانا آزاد کی طبیعت اس سے میل نہ کھا سکی۔ چنانچہ جلد ہی انہوں نے فرسودہ روایات سے انحراف کر کے اپنی الگ راہ بنا لی۔ مولانا آزاد خود کہتے ہیں— ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے ابھی پندرہ برس سے زیادہ کی عمر نہیں ہوئی تھی کہ طبیعت کا سکون ہلنا شروع ہو گیا اور شک و شبہات کے کانٹے دل میں چبھنے لگے۔ یہاں تک کہ چند برسوں کے اندر عقائد و افکار کی وہ تمام بنیادیں جو خاندان، تعلیم اور گرد و پیش نے چنی تھیں بہ یک وقت متزلزل ہوگئیں اور پھر وہ وقت آیا جب اس ہلتی ہوئی دیوار کو خود ڈھا کر اس جگہ نئی دیواریں چننی پڑیں‘‘۔
مولانا نے مذہب، سیاست، معاشرت اور حب الوطنی غرضیکہ زندگی اور سماج کے تمام گوشوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں استدلال و اجتہاد کیا۔ مولانا مذہب میں اجتہاد اور تفہیمِ جدید کے علمبردار تھے۔
مسلم معاشرے کی اصلاح اور جہالت و تَوَہُمَات سے چھٹکارا پانے کے بارے میں مولانا آزاد ہمیشہ غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ مولانا آزاد کو مسلمانوں کی کامیابی کے لیے صرف ایک ہی راستہ نظر آتا تھا اور وہ راستہ تعلیم ہے۔ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیم کے قائل تھے جس سے مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ مولانا آزاد کے مطابق تعلیم اسلام پر مبنی ہونی چاہئے ۔وہ جس طرز کی تعلیم کے حامی وناشر تھے اس کی بابت ایک تقریر میں انھوں نے کہا تھاکہ۔’’ انگریزی تعلیم کی ضرورت کا تو یہاں کسی کو وہم و گمان تک نہیں گزر سکتا لیکن کم از کم یہ تو ہو سکتا ہے کہ قدیم تعلیم کے مدرسوں میں سے کسی مدرسہ سے واسطہ پڑتا۔ مدرسے کی تعلیمی زندگی کفر کی چاردیواری کے گوشۂ تنگ سے زیادہ وسعت رکھتی ہے اور طبیعت کو کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے‘‘۔
مولانا آزاد فن تعلیم و تربیت اور پورے تعلیمی نظام پر دانشورانہ نگاہ رکھتے تھے اور دینی اور دنیوی تعلیم کے خلا کو پر کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انھوں تعلیمی نصاب کی بہتری اور ہمہ گیریت پر زور دیا۔خود انھوں نے ڈائریکٹر تعلیم بنگال کی درخواست پر مدرسہ عالیہ کلکتہ کا ایک جامع نصاب تیار کیا۔ مولانا کی خواہش تھی کہ صرف رانچی اور کلکتہ کے مدارس ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان اور مسلم معاشرہ اس سے مستفید ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جو تمام علاقے میں قابل قبول ہو۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا تصورِ تعلیم ماضی کا ادراک، حال کی بصیرت اور مستقبل کی آگہی پر مبنی ہے۔ مولانا نے ایسی تعلیم کی وکالت کی ہے جو سائنسی تحقیقات اور بھاری صنعتوں کے شایان شان ہو۔ساتھ ہی ساتھ مولانا سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی کو مذہبی اور اخلاقی اقدار کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ مولانا آزاد کی دور بین نگاہ قدیم نظامِ تعلیم سے نکل کر جدید طرز تعلیم سے حاصل ہونے والی تبدیلی پر تھی۔ انہوں نے دینی نظام تعلیم میں مضامین کے تنوع اور جدت کی ضرورت کومحسوس کیا۔انھوں نے قومی تعلیمی پروگرام میں مذہبی تعلیم کے تعلق سے 13 جنوری 1948کو نئی دہلی میں ایک پروگرام کے خطبۂ صدارت میں اپنے نظریہ تعلیم پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ مولانا کہتے ہیںکہ ’’ایک چیز آپ بھول گئے۔ وہ چیز ہے تعلیم اور وقت اور زندگی کی چال کے غیر متعلق کوئی تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تعلیم ایسی ہونی چاہئے کہ زمانہ کی جو چال ہے، اس کے ساتھ جڑ سکے۔ اگر آپ مذہب اور عصردونوں ٹکڑوں کو الگ رکھیں گے تو وہ تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج جو تعلیم آپ ان مدرسوں میں دے رہے ہیں، آپ وقت کی چال سے اسے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ نہیں جوڑ سکتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زمانہ میں اور آپ میں ایک اونچی دیوار کھڑی ہے۔ آپ کی تعلیم زمانے کی مانگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھتی اور ز مانہ نے آپ کے خلاف آپ کو نکما سمجھ کر فیصلہ کر دیا ہے‘‘۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے آج سے برسوں پہلے مدارس کے نظام تعلیم کے جن بنیادی نقائص کا ذکر کیا تھا، آج تک ان کے تدارک پر کوئی خاص ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ آج بھی بہت سے بلکہ بیشتر مدارس کی تعلیم عصری زندگی سے دوری پر مبنی ہے۔سرسید اور آزاد کے تعلیمی نظریات ایک ہی زمین کی پیداوار ہیں۔ سرسید نے بھی مسلمانوں کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سائنس کا خواب دیکھا تھا ۔
مسلمان صرف جدیدیت کا حامل یا صرف مذاہب میں مستغرق رہا۔ ہاں! کچھ مدارس نے تطبیق کی ابتدائی کوشش کی۔ یعنی مذہبی علوم کے ساتھ چند جدید علوم کی طرف بھی توجہ کی ہے جس کی روشن مثال ندوۃ العلما، لکھنؤ ہے۔ مولانا نے طریقہ تدریس پر بہت زور دیا اور مشرق و مغرب کی مشترک آگہی اور فرد و سماج کے باہمی شے کو صحیح تعلیم سے تعبیر کیا ہے۔ تعلیم کا مقصد نہ تو مادیت کا حصول ہے اور نہ ہی روزی روٹی کمانے کا ذریعہ بلکہ تعلیم کا مقصد انسان کی تعمیر نو اورایک ایسی شخصیت کی نشو و نما ہے جس سے فرد اور سماج کے مابین ایک پرا من ، صالح اور خوشگوار رشتے کی بنیاد رکھی جاسکے۔ مولاناآزاد کے تعلیمی نظریے کا اولین مقصد بھی یہی تھا۔
٭٭٭