Sir Syed Shanasi by Mujahid Husain

Articles

سر سیّد شناسی : مبالغے اور مغالطے ۔۔۔ترتیب : مجاہد حسین

مجاہد حسین

Bengali Folk Tale

Articles

برہمن جو بھگوان کو نگل گیا

بنگلہ لوک کہانی

ایک بار بدھاتا نے جو ہر کسی کے ماتھے پر چاہے وہ بچہ ہو یا بچی ، پیدائش کے وقت اس کی قسمت لکھ دیتا ہے ، کسی غریب برہمن کی قسمت میں کچھ عجیب سی تباہی لکھ دی۔ کبھی جی بھر کے نہ کھانا اس کا مقدر بن گیا۔ جب بھی وہ اپنا آدھا بھات کھا چکتا تو ہمیشہ ایسی کوئی نہ کوئی رکاوٹ آجاتی کہ وہ اور نہ کھاپاتا۔
ایک دن ایسا ہوا کہ اس کے پاس راجہ کے گھر سے بلاوا آیا۔ وہ بہت ہی خو ش ہوا اور اپنی بیوی سے بولا۔’’ میں تو بس اپنا آدھا بھات ہی کھا سکتا ہوں۔ اپنی ساری زندگی میں ایک بار بھی تو میں اپنی بھوک پوری طرح نہ مٹاپایا۔ آج نہ جانے کیسے قسمت جاگی ہے کہ راجہ کے گھر جانے کا بلاوا آیا ہے، لیکن میں جائوں تو کیسے جائوں؟ میرے کپڑے پھٹے ہوئے اور گندے ہیں اور اگر میں اس طرح چلاگیا تو اندیشہ ہے کہ چوکیدار مجھے واپس لوٹا دے گا۔‘‘ اس کی بیوی بولی۔ ’’ ارے میں تمہارے کپڑے سی کر دھو دوں گی۔ تب تو تم جاسکتے ہو۔‘‘ اور بیوی نے اسے اچھے ڈھنگ کے کپڑے مہیا کردیئے اور وہ راجہ کے گھر روانہ ہوگیا۔
اگرچہ شام ہوچکی تھی اور وہ دیر سے وہاں پہنچا تھا، لیکن اس کا شاہانہ خیر مقدم ہوا۔ جب وہ اپنے آگے رکھے گئے طرح طرح کے کھانوں کا جائزہ لے رہاتھا تو بوڑھا برہمن بے حد خوش ہوا۔ اس نے سوچا۔’’ چاہے جو بھی ہو آج تو میں جی بھر کے کھائوں گا۔‘‘ اب ایسا ہوا کہ مٹّی کی ایک چھوٹی سی ہانڈی جو چھت کی شہتیر سے لٹک رہی تھی ، جیسے ہی برہمن کا کھانا آدھا ختم ہوا ٹوٹ گئی اور اس کے ٹکڑے برہمن کے کھانے میں جاگرے۔ اس نے فوراً ہاتھ روک لیا۔ کھانا ختم کرتے ہوئے اس نے پانی کا ایک گھونٹ لیا اور اٹھ کھڑا ہوا۔ ہاتھ منہ دھوکر راجہ کے پاس گیا۔ راجہ نے بڑی عزت سے اس کا سواگت کیا اور پوچھا۔ ’’ ٹھاکر! کیا آپ پوری طرح مطمئن ہیں؟‘‘ برہمن نے جواب دیا ۔ ’’ مہاراج آپ کے نوکروں نے میرے ساتھ بڑا اچھا برتائو کیا ، میں نے جو مانگا لاکر دیا۔ یہ میری اپنی قسمت کا پھیر ہے کہ میں پیٹ نہ بھر سکا‘‘۔ ’’کیوں؟‘‘ راجہ نے پوچھا۔ ’’کیا بات ہوگئی؟‘‘ ۔’’مہاراج جب میں کھانا کھا رہا تھا تو مٹّی کی چھوٹی سی ہانڈی نے چھت سے گر کر میرا بھات خراب کردیا۔ ‘‘ جب راجہ نے یہ سنا تو بڑا ناراض ہوا اور اس نے نوکروں خوب ڈانٹا۔پھر اس نے برہمن سے کہا۔’’ٹھاکر! آج رات آپ میرے یہاں ٹھہرجایئے ۔ کل میں تازہ کھانا بنوا کر اپنے ہاتھوں سے آپ کے آگے پیش کروں گا۔ تو برہمن اس رات راجہ کے گھر ٹھہر گیا۔
اگلے دن ، راجہ نے کھانا پکتے ہوئے نگرانی کی۔ بلکہ ایک دو چیزیں خود اپنے ہاتھوں سے بنائیں اور برہمن کو کھانا پیش کیا۔ راجہ کی خاطر داری سے برہمن بڑا خوش تھا۔ اس نے چاروں طرف دیکھا اور کھانے بیٹھ گیا۔ لیکن جب وہ آدھا کھانا کھاچکا تو بدھاتا نے دیکھا کہ اب اسے روکنا ہی پڑے گا، لیکن اسے اس کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا بس وہ خود ہی جلدی سے ایک سنہرے مینڈک میں تبدیل ہوگیا اور برہمن کے کیلے کے پتّے کے قریب پھدک کر آیا اور اس کے کھانے کے اندر لڑھک گیا۔
اس شام گھر لوٹتے ہوئے راستے میں جب وہ ایک جنگل سے گزر رہا تھا ۔اسے اچانک ایک آواز سنائی دی۔ ’’برہمن ، مجھے جانے دو! برہمن ، مجھے جانے دو!!‘‘ برہمن نے چاروں طرف نظر دوڑائی ، لیکن اسے کوئی نظر نہیں آیا۔ اس نے پھر آواز سنی۔’’ برہمن مجھے جانے دو!‘‘ تب اُس نے کہا ۔’’ تم کون ہو؟‘‘ جواب ملا۔’’ میں بدھاتا ہوں!‘‘برہمن نے پوچھا۔’’ تم آخر ہو کہاں؟‘‘ بدھاتا نے جواب دیا ۔ ’’تمہارے پیٹ میں تم نے مجھے گھونٹ لیا ہے۔‘‘ ،’’ناممکن!‘‘ برہمن بولا ’’ہاں‘‘۔ بدھاتا نے کہا۔’’ میں ایک مینڈک بن کر تمھارے کھانے میں لڑھک گیا تھا اور تم مجھے کھا گئے‘‘۔’’ ارے اس سے اچھی بات اور کیا ہوسکتی ہے! یہ تو بڑا ہی اچھا ہوا۔‘‘ برہمن نے جواب دیا۔ ’’ساری زندگی تم نے مجھے پریشان کیا ہے۔ بہتر ہوگا میں اپنی حلق بند کرلوں۔‘‘ برہمن جلدی جلدی گھر کی طرف چلا اور جب وہ وہاں پہنچ گیا تو اس نے اپنی بیوی سے کہا۔ ’’بیوی مجھے حقہ سلگا دے اور تو ہاتھ میں ایک ڈنڈا لے کر تیار ہوجا۔ ‘‘ اس کی بیوی نے فوراً اس کے کہنے پر عمل کیا اور برہمن بیٹھ کر حقہ پینے لگا۔ وہ بڑے آرام سے دیر تک حقہ گڑگڑاتا رہا اور اس بات کا پورا دھیان رکھا کہ کہیں بدھاتا آزاد نہ ہوجائے۔ دھوئیں سے بھگوان کا دم اور بھی زیادہ گھٹا، لیکن برہمن نے مدد کے لیے ان کے چلّانے کی کوئی پرواہ نہیں کی۔
اِس دوران تینوں دنیائوں میں زبردست کھلبلی مچ گئی ۔ بغیربدھاتا کے ، معاملات کو نظام کے تحت نہ چلائے جانے سے دنیا تباہی کے دہانے پر تھی۔ چنانچہ سارے بھگوانوں کی کونسل بیٹھی اور انھوں نے فیصلہ کیا کہ ان میں سے کسی ایک کو برہمن کے پاس بھیجنا ہوگا۔ لیکن کسے؟ سب نے اس بات سے اتفاق کیا کہ دیوی لکشمی کا انتخاب سب سے ٹھیک رہے گا۔ وہ بولیں۔ ’’اگر میں اس برہمن کے پاس جائوں گی تو کبھی واپس نہ آسکوں گی۔‘‘ لیکن سبھی نے بہت خوشامد کی تو پھر وہ راضی ہوگئیں اور برہمن کے گھر گئیں۔ جب برہمن کو پتہ چلا کہ اس کے دروازے پر دولت اور خوش قسمتی کی دیوی لکشمی آئی ہیں تو اس نے اوپر کا اپنا کپڑا ان کی تعظیم کے طور پر اپنی گردن کے گرد لپیٹ لیا۔ انھیں بیٹھنے کی جگہ دی اور پوچھا کہ’’ آخر کون سی بات انھیں ایک غریب آدمی کے دروازے پر لائی ہے‘‘؟’’ ٹھاکر! ‘‘ دیوی نے کہا۔’’ آپ نے بدھاتا کو بندی بنا رکھا ہے۔ اس سے جانے دیجئے ، ورنہ دنیا برباد ہوجائے گی‘‘۔ ’’ ذرا مجھے ڈنڈا تو دے دینا۔‘‘ برہمن نے اپنی بیوی سے کہا۔ ’’اور میں تمھیں دکھائوں گا کہ خوش قسمتی اور دولت کی اس دیوی کے بارے میں میں کیا سوچتا ہوں۔ جس دن سے میں پیدا ہوا ہوں یہ مجھ سے کتراتی رہی ہے۔ میرے پا س بدقسمتی کے سوا کچھ نہیں تھا اور اب وہ یہاں میرے گھر آئی ہے ۔ یہ لکشمی۔‘‘ جب دیوی نے یہ سنا تو خوف سے کانپنے لگی اور غائب ہوگئی۔ کسی نے اُس سے اس سے پہلے کسی زمانے میں بھی یوں بات نہ کی تھی۔ اس نے تمام بھگوانوں کو بتایا کہ کیا ہوا تھا اور دوسری بار سر جوڑ کر بیٹھنے کے بعد تمام بھگوانوں نے علم کی دیوی سرسوتی کو برہمن کے پاس بھیجا۔
جب دیوی سر سوتی اس کے گھر پہنچیں اور آواز لگائی کہ ’’ برہمن کیا تم اندر ہو؟‘‘ تو برہمن نے بڑی تعظیم کے ساتھ انھیں پرنام کیا اور بولا۔’’ ماتا، عظیم دیوی آپ ایک غریب آدمی کے گھر سے کیا چاہتی ہیں؟‘‘ ۔’’ ٹھاکر ! دنیا تیزی سے ٹکڑے ٹکڑے ہورہی ہے۔ بدھاتا کو جانے دیجئے‘‘۔ ’’ ارے ، بیوی ذرا ڈنڈا تو دینا ، میں اس علم کی دیوی کو ذرا سکھائوں ۔ اس نے مجھے حرفِ تہجی کے پہلے حرفوں تک کی بھی پہچان نہیں کرائی اور اب یہ میرے گھر آئی ہے۔‘‘ یہ سنتے ہی دیوی جلدی سے اٹھیں اور ٹھوکریں کھاتی ہوئی بھاگیں۔
آخر کار بھگوان شیو نے کام اپنے ہاتھ میں لیا۔ یہ برہمن شیوجی کا زبردست بھگت۔ ایسا بھگت کہ شیو کی پوجا کے بغیر پانی تک نہیں چھوتا تھا۔ چنانچہ جوں ہی شیوجی وہاں پہنچے، برہمن اور اس کی بیوی نے انھیں پیر دھونے کے لیے پانی دیا اور بیل کی پتّیاں ، پوِتر گھاس ، پھول ، چاول اور صندل کی لکڑی پیش کی اور ان کی پوجا کی۔ تب شیوجی بیٹھ گئے اور انھوں نے برہمن سے کہا۔ ’’برہمن ! بدھاتا کو جانے دو۔‘‘ برہمن بولا۔’’ او، عظیم شیوجی چونکہ آپ خود آئے ہیں ، مجھے اسے جانے دینا چاہیے لیکن میں کروں تو کیا کروں؟ اس بدھاتا کی بدولت ہی تو میں جس دن سے پیدا ہوا مصیبتیں جھیل رہا ہوں۔ وہی اس کی جڑ ہے۔‘‘ تب بھوان شیونے کہا۔’’ تم پریشان مت ہو، میں تمھارے جسم اور روح دونوں کو سورگ میں لے جائوں گا۔‘‘ یہ سُن کر برہمن نے اپنی حلق کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور منہ کھول دیا۔ بس بدھاتا نکل بھاگے۔ شیوجی برہمن اور اس کی بیوی کو ساتھ لے کر اپنی خاص جنت میں چلے گئے۔
٭٭٭

 

Urdu Translation of Mahabharat

Articles

مہابھارت

جلال افسر سنبھلی

Matri ki Kahani A Persian Folk Tale

Articles

مٹری کی کہانی

ایرانی لوک کہانی

بہت پرانے وقتوں کی یہ بات ہے کہ ایک بہت شاداب سے گاؤں میں دو میاں بیوی رہتے تھے جن کا کوئی بچہ نہ تھا۔ وہ ہر وقت خدا سے یہی دعا کرتے رہتے کہ خدا انہیں اولاد دے۔
ایک دن کیا ہوا کہ وہ عورت شوربے کی پیالی ہاتھ میں لیے جا رہی تھی کہ پیالی میں سے مٹر کا ایک دانہ اچھلا اور تندور میں جا گرا۔ تندور میں گرتے ہی وہ مٹر کا دانہ ایک خوبصورت اور نٹ کھٹ سی بچی بن گیا۔
اسی اثنا میں اس کی ایک پڑوسن جو ہر وقت اس کا دماغ کھاتی رہتی تھی، اس نے دیوار سے سر اوپر کر کے کہا: “اری بہن! میری بیٹیاں جنگل میں پھل پھول چننے جانے لگی ہیں۔ اپنی بیٹی کو بھی ان کے ساتھ بھیج دو جنگل میں پھل پھول چننے”۔
 وہ اس بات پر بہت غمگین ہوئی اور ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے رونے لگی۔ مٹر نے رونے کی آواز سنی اور باتیں کرنے لگا، اس نے تندور کے اندر سے آواز سنی: “پیاری اماں! مجھے باہر نکالو اور ان لڑکیوں کے ساتھ جنگل بھیجو!”
عورت حیران اور پریشان سی ہو گئی اور سمجھی کہ وہ خواب دیکھ رہی ہے۔ اسی وقت اس کے کانوں پر آواز پڑی اور اسے اندازہ ہوا کہ آواز تندور سے ہی آ رہی ہے۔ وہ جلدی سے آگے بڑھی اور تندور کے اندر جھانکا اور ایک ننھی منی سی پیاری سی، بالکل ایک مٹر کے دانے جیسی چھوٹی سی بچی تندور میں پڑی ہے۔ وہ بہت خوش ہوئی اور اسے تندور سے باہر نکالا۔ اس نے اسے نہلایا دھلایا، اسے اچھے سے کپڑے پہنائے۔ اس کی بالوں میں مانگ کھینچی۔ اور اس کا نام رکھا مٹری۔ پھر اس نے پڑوسن کے بچوں کے ساتھ جنگل کی طرف بھیج دیا۔
مٹری پڑوسن کے بچوں کے ساتھ سورج ڈوبنے تک پھل پھول چنتی رہی۔ سورج پہاڑ کے پیچھے کہیں چھپ گیا اور سب بچوں نے کہا: “اب ہم گھر لوٹتے ہیں”۔
مٹری نے کہا: “ابھی بہت جلدی ہے۔ تھوڑی دیر اور چن لیں”۔
سب بچوں نے مٹری کی بات مان لی اور سبھی پھر سے جنگل میں پھل پھول چننے لگے۔ اندھیرے میں ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا چلنے لگی، اور سبھی بچے اپنا کام ختم کر کے اپنے گھروں کی طرف چل دیے۔ اچانک ایک دیو اندھیرے سے نکل کر باہر آ گیا۔
دیو نے کہا: “بچو بچو، چاند سے بچو! یہ راستہ کہاں اور تم کہاں! یہاں سے آگے جاؤ گے کہاں؟”
مٹری نے کہا: “ہم یہاں سے گھر کی طرف جا رہے ہیں”۔
دیو نے کہا: “چاروں طرف چھایا ہے اندھیرا۔۔ یہاں سے آگے ہے بھیڑیے کا ڈیرا۔۔ وہ آ نکلا بچے، تو کیا بنے گا تیرا!!۔۔ اگر تم مانو، ایک مشورہ ہے میرا۔۔”
بچوں نے پوچھا: “کہیے، ہم کیا کریں اب؟”
دیو نے کہا: ” گھروں کو نکلنا صبح سویرے۔۔ آج کی رات رہو گھر میرے۔۔”
مٹری نے کہا: “ٹھیک ہے، ہمیں قبول ہے”۔
اور وہ سبھی دیو کے ساتھ اس کے گھر کی طرف چل پڑے۔ دیو نے انہیں سونے کے کپڑے پہنائے اور جونہی وہ سو گئے اس نے اپنے آپ سے کہا: “آہا! کیسا ان کو میں نے الو بنایا۔۔ بھیڑیے سے ڈرا کے گھر لے آیا۔۔ کچھ دن ان کو کھلاؤں گا، پلاؤں گا۔۔۔ ان کو خوب موٹا تازہ بناؤں گا۔۔ جب ٹھیک سے پل جائے گا ایک ایک بچہ۔۔ مزے سے ان کو چباؤں گا کچا۔۔”
تھوڑی دیر گزری تو دیو نے اونچے سے کہا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “آدھی ہے رات ، سوتی ہے خدائی۔۔ پر تم کو نیند ابتک نہ آئی۔۔۔ کیوں بچے؟”
مٹری نے کہا: “مجھے اس طرح نیند نہیں آتی۔۔”
دیو نے کہا: “جھولا جھلاؤں کہ لوری سناؤں۔۔۔ بتاؤ بچی، تمہیں کیسے سلاؤں؟”
مٹری نے جواب دیا: “جب میں گھر میں ہوتی ہوں تو میری اماں سونے سے پہلے حلوا بناتی ہیں اور تلے ہوئے انڈے کے ساتھ مجھے کھلاتی ہیں۔
دیو گیا ، حلوہ اور تلا ہوا انڈہ بنا کر لایا اور لا کر مٹری کے آگے رکھ دیا۔ مٹری نے باقی سب لڑکیوں کو جگایا اور کہا: “اٹھو اور حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھاؤ”۔
سبھی لڑکیوں نے جی بھر کے حلوہ اور تلا ہوا انڈہ کھایا اور پھر جا کر سو گئیں۔
کچھ دیر گزری تو دیو نے اونچی آواز میں پوچھا: “کون کون سوتا ہے، کون کون جاگتا ہے؟”
مٹری نے جواب دیا: “سبھی سو رہے ہیں، صرف میں جاگ رہی ہوں”۔
دیو نے پوچھا: “تم کیوں جاگتی ہو؟”
مٹری نے کہا: “جب میں اپنے گھر میں ہوتی ہوں تو میری ماں ہمیشہ شام پڑنے کے بعد کوہ بلور کی طرف جاتی ہے اور چھلنی سے نُور نَدی کا پانی چھان کر لاتی ہے اور مجھے پلاتی ہے”۔
دیو ایک چھلنی ہاتھ میں لیے کوہ بلور اور نور ندی کی طرف چل دیا۔ وہ چلتا رہا، چلتا رہا، یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔مٹری اور باقی سبھی لڑکیاں نیند سے جاگیں اور انہوں نے دیو کے گھر سے جو چیز پسند آئی، اٹھا لی اور گھر کو چل دیں۔ وہ آدھے راستے تک پہنچی تھیں کہ مٹری کو یاد آیا کہ ایک بہت خوبصورت سونے کا چمچ دیو کے گھر پڑا رہ گیا ہے۔ وہ واپس پلٹ گئی کہ جا کر وہ چمچ اٹھا لے۔ جونہی وہ دیو کے گھر پہنچی، اس نے دیکھا کہ دیو گھر واپس آ گیا پہنچ آیا ہے۔ وہ اپنی جگہ لیٹ گئی اور سونے کا چمچ اٹھانے کے لیے  رینگنے لگی۔ اس کوشش میں برتنوں کے ٹکرانے سے کھٹ کھٹ کی آواز پیدا ہوئی جو دیو نے سن لی۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر مٹری کو پکڑ لیا۔ اس نے اسے پکڑ کر ایک بوری میں بند کر دیا اور بوری کے منہ کو باندھ دیا اور جنگل چلا گیا تاکہ مٹری کو پیٹنے کے لیے انار کی لکڑی سے ڈنڈا بنا لائے۔
مٹری نے جیسے تیسے، زور لگا کر بوری کی گرہ کھول لی اور باہر نکل آئی۔ اس نے دیو کے پالے ہوئے میمنے کو پکڑ کر بوری میں ڈال دیا اور گرہ دے کر ایک کونے میں چھپ کر کھڑی ہو گئی۔
دیو بغل میں چھڑی دبائے واپس آیا اور اس کے ساتھ زور زور سے اپنے میمنے کو پیٹنے لگا۔ میمنا مارے درد کے زور سے ممیاتا اور چلاتا، اور دیو اسے اور زور سے مارتا جاتا اور کہتا: “پہلے مجھے الو بناتی ہو!۔۔ پھر میرے گھر کی سبھی چیزیں اٹھا لے جاتی ہو۔۔۔ اب میمنے کی طرح ممیاتی ہو!”
جب میمنے نے ممیانا اور تڑپنا بند کر دیا تو دیو نے بوری کو کھولا۔ کیا دیکھتا ہے کہ اس کا لاڈلا میمنا اسی کے ہاتھوں مارا گیا ہے۔ وہ غصے سے پاگل ہو گیا اور دائیں بائیں سونگھنے لگا۔ گھر کے ہر کونے کھدرے سے ڈھونڈنے کے بعد آخر اس نے مٹری کو ڈھونڈ لیا اور اسے پکڑ کر اونچی آواز میں چلایا: “میں تیری تکا بوٹی نہیں بناؤں گا۔۔ میں تمہیں زندہ ہی کھاؤں گا۔۔۔اور تیری شرارتوں سے جان چھڑاؤں گا۔۔”
مٹری نے کہا: “اگر تو مجھے زندہ کھائے گا تو میں تیرے اندر جا کر تیرا پیٹ پھاڑ ڈالوں گی اور باہر نکل آؤں گی”۔
دیو ڈر گیا اور سوچا کہ یہ سچ مچ میری انتڑیاں توڑ ڈالے گی اور میرا پیٹ پھاڑ دے گی۔ اس نے پوچھا: “تجھے ایسے نہ کھاؤں۔۔ تو پھر کیسے کھاؤں؟”
مٹری نے کہا: “پہلے روٹیاں پکاؤ۔ پھر میرے کباب بھوننا اور مجھے روٹی کے ساتھ مزے لے لے کر کھانا۔ تمہیں پتہ ہی ہے کہ روٹی اور کباب کیسے مزے کا کھانا ہے”۔
یہ بات سنتے ہیں دیو کے منہ میں پانی بھر آیا اور جھاگ بن کر اس کی باچھوں سے نکلنے لگا۔ اس کا دل گرما گرم کباب اور تازہ روٹی کے لیےبے چین ہو گیا۔ وہ تیزی سے تندور کی طرف گیا اور اس میں آگ جلائی۔ جونہی وہ روٹی پٹخنے کو تندور میں جھکا، مٹری اس کی بغل سے پیچھے کود گئی۔ اس نے دیو کو ایک زور دار دھکا دیا جس سے وہ جلتے ہوئے تندور کے اندر جا گرا۔ مٹری سونے کا چمچ اٹھا کر واپس اپنے گھر اپنے ماں باپ کے پاس جا پہنچی اور ان کے ساتھ ہنسی خوشی رہنے لگی۔
———————————————————————

Majalisun Nisa

Articles

مجالس النسا

مولانا خواجہ الطاف حسین حالی

Tauqeet E Sir Syed Ahmed Khan

Articles

توقیّت ِ سر سیّد احمد خاں

ڈاکٹر ذکیہ رانی

Masnavi Gulzar E Naseem

Articles

مثنوی گلزارِ نسیم

پنڈت دیا شنکر نسیم

Kuliyat E Akhtar Muslami 2nd Edition

Articles

کلیاتِ اختر مسلمی

اختر مسلمی

Urdu Fiction : Aik Mutala by Prof. Saheb Ali

Articles

اردو فکشن ایک مطالعہ : مصنف ، پروفیسر صاحب علی

پروفیسر صاحب علی

Jackal and Bear A Nepali Folk Tale

Articles

گیدڑ اور بھالو

انگریزی سے ترجمہ: حیدر شمسی

 

ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گائوں کے میلے میں آسمانی جھولے میں ہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہین گے، ساتھ کمائیں گے اور ساتھ کھائیں گے ۔
گیدڑ نے کہا ’’میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع کریں۔‘‘
بھالو نے سوچا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تب دونوں گھر کی تلاش میں نکلے۔ گائوں سے تھوڑے ہی دور جنگل میں جہاں لوگ لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے انھیں وہاں ایک چرواہے کا جھونپڑا نظر آیا جو کئی سالوں سے ویران تھا ۔انھوں نے بامبو سے چھت بنائی اور جھونپڑے کو اچھی طرح سے صاف کیا۔پھر انھوں نے جوئے میں جیتے ہوئے پیسوں سے ایک سانڈ خریدااور زمین جوتنا شروع کردی۔
بھالو کا سلوک گیدڑ کے ساتھ بہت اچھا تھا اور وہ بہت محنتی بھی تھالیکن بے وقوف تھا ۔دوسری طرف گیدڑ بہت چالاک تھا لیکن اسے کام سے بالکل بھی دلچسپی نہ تھی۔انھوں نے مل کر اپنی پہلی بھنٹے کی فصل تیار کرلی ۔گیدڑ کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بھالو کے ساتھ زندگی بطور کسان نہیں گذار سکتا۔
دوسرے دن صبح گیڈر نے کہادوست میں کھیت میں کام کرتا ہوں اور تم جائو سانڈ کو چرا لائو۔اس طرح ہم باری باری کرینگے جس سے ہمارے کام کا بوجھ ہلکا ہو جائیگا ۔
یہ طریقہ بھالو کو بہت پسند آیا وہ روزانہ صبح اٹھتا ناشتہ کرتا اور سانڈ کو چرانے نکل جاتا اور سانڈ کو چرانے چھوڑ کر اونچی جگہ جا کر بیٹھ جاتا اور دن بھر اس پہ نظر رکھتا ۔اس طرح سانڈ گھم ہو جانے اور شیر کی خوراک بننے سے بچا رہتا۔اسی دوران گیدڑ کھیت میں درخت کے سائے میں دن بھر لیٹا رہتا اس طرح فصل بڑھتی گئی۔
جب فصل کی کٹائی کا وقت آیا تب گیدڑ نے کہا’’میرے دوست تم نے بہت محنت کی ہے اورکئی دنوں سے سانڈ کو چرا رہے ہو ۔ سانڈ بھی بہت صحت مند ہو گیا ہے ۔اب میری باری ہے اسے چرانے کی اب تم کھیت میں کام کرو۔
بھالو اپنی تعریف سنتے ہی راضی ہو گیا۔وہ فصل کی کٹائی کرنے لگااور گیدڑ سانڈ کو چرانے چلا گیا۔
بھالو مسلسل پورا دن کام کرتا رہتا ۔گیڈر کم محنتی تھا۔اسے گھنے جنگل میں اندر تک جانا بھی بھاری پڑتا تھا جہاں سانڈ کے لیے اچھی غذا تھی۔اسے اونچی جگہ پر چڑھنا اور سانڈ پہ نظر رکھنا بھی بھاری پڑتا تھا ۔ اور وہ دن بھر سانڈ کے ساتھ رہتا کہ کہیں گھم نہ جائے یا وہ شیر کی خوراک نہ بن جائے۔وہ میدانی علاقے میں سانڈ کو چرا تا رہتا یہ اس کے لیے آسان تھا اسے اس چیز کی پرواہ نہ تھی کہ وہاں چھوٹی چھوٹی گھاس ہے۔وہ بیری کے درخت کے نیچے لیٹا رہتا اور اسے دیکھتا رہتا۔اسے نہ ہی اٹھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سانڈ کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی۔شام میں تاخیر سے وہ گھر جاتا تاکہ اسے بھالو کے ساتھ فصل کی کٹا ئی میں مدد نہ کرنا پڑے۔
چند دنوں بعد سانڈ دبلا پڑ گیا۔اگر چہ بھالو بے وقوف تھا مگر اندھا نہیں تھا۔
اس نے ایک شام کو گیدڑ سے کہا’’دوست ہمارا سانڈ اتنا دبلا کیوں ہوتا جا رہا ہے۔‘‘
گیدڑ کے پاس جواب تیار تھا۔
’’ اس معاملہ میں ہم دونوں برابرنہیں ہیں دوست تم مجھ سے زیادہ اچھا چراتے ہو‘‘۔ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا’’جہاں کہیں میں اسے لے جا تا ہووہاں مجھ سے پہلے لوگ پہنچ جاتے ہیں اس لیے اسے کھانے کے لیے کم مل پاتا ہے۔لیکن آج میں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرلی ہے جہاں گھاس سانڈ کے گھٹنوں تک اگی ہوئی ہے۔کل میں اسے وہاں لے جائوں گا اور اسے پیٹ بھر کھلائوں گا۔‘‘
بھالو کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ گیدڑ اچھا چرواہا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے دن صبح جب گیدڑ سانڈ کو لے جانے کے لیے اس کی رسی کھول رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ فصل کی کٹائی تقریباََ ہو چکی ہے ۔ اسی دن کا اس کو انتظار تھا ۔وہ گیڈر کو جنگل میں لے گیا مگر اسے گھنی جھاڑی میں نہیں لے گیا بلکہ بنجر ٹیلہ پر لے گیا جہاں گھاس کا نام و نشان نہ تھا۔جب سانڈ نے چرنے کے لیے اپنے سر کو جھکایا تب گیڈر نے اسے دھکا دے دیا اور وہ ٹیلہ سے نیچے گر گیا۔پھر گیدڑ بھاگتا ہوا ٹیلے سے نیچے اترا اور سانڈ کے مردہ جسم کو کھسکا کرٹیلے کے سائے میں لے آیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔
صبح کا ناشتہ گیدڑ نے سانڈ کے گوشت سے کیا۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تب اس نے سانڈ کے بچے ہوئے جسم کو پہاڑ کی غار میں چھپا دیا اور غار کے راستے کو پتھروں سے بند کردیا صرف اتنی جگہ چھوڑ دی کہ وہ خود اندر داخل ہو سکے اور سانڈ کی پونچھ سوراخ سے لٹکا کر باہر چھوڑ دی۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے ۔وہ گھر شام کو دیر سے جانا چاہتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ فصل کاٹنے میں آج بھالو کو دیر ہو جائے گی۔
گیدڑ کو دور سے اکیلا آتا دیکھ بھالو نے گیدڑ سے کہا’’سانڈ کہاں ہیں؟‘‘
گیدڑ روتے ہوئے کہنے لگا ’’ دوست آج بہت برا ہوا سانڈ غار کے دہانے میں پھنس گیا میں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اسے نکال نہ سکا کیوں کہ میں بہت کمزرور تھا ۔میرے دوست تم بہت طاقتور ہو ۔ کل تم میرے ساتھ چلو مجھے یقین ہے کہ تم اسے نکال لو گے۔
بھا لو تعریف سن کر نرم پڑ گیااور وہ اپنے دوست کی بات ٹال نہ سکا۔
دوسرے دن صبح گیدڑ بھالو کو لے کر غار کے پاس پہنچا ۔گیدڑ نے بھالو سے کہا تم بہت موٹے ہو تم اندر نہیں جا سکتے میں اندر جاتا ہوں اور سانڈ کو ڈھکیلتا ہوں تم باہر رہو اورباہر کی طرف کھینچو۔لیکن جب تک مت کھینچنا جب تک میں نہ کہوں۔جب میں کہوںتب تم دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت لگا کر کھینچنا ۔
بھالو راضی ہو گیا اور گیدڑ غار کے اندر چلا گیا۔اور اند رجا کر اس نے سانڈ کو باہر ڈھکیلنے کی پوری تیاری کرلی۔پھر آواز لگائی’’دوست کھینچو!‘‘
بھالو نے دونوں ہاتھوں سے پونچھ کو پکڑا اور اپنا پیر سہارے کے لیے غار پر رکھ کرپوری طاقت سے کھینچنے لگا۔جب گیدڑ کو لگا کے بھالو پوری طاقت سے کھینچ رہا ہے تب اس نے سانڈ کو باہر کی طرف ڈھکیل دیا ۔بھالو سانڈ کے وزن کو سنبھا ل نہ سکا اور لڑکھڑا کر پہاڑسے نیچے ندی میں گر گیا۔
سانڈ ہاتھ مل کر مسکرانے لگا ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تھا۔فصل پوری کٹ چکی تھی۔سانڈ کو بھی اب چرانے کی ضرورت نہیں تھی اور اب بھالو بھی نہیں تھا جو اسے غلط کام پر بولتا۔دھوکہ باز گیدڑ نے سوچا’’اب جیسا میں چاہوں ویسا کر سکتا ہوں کوئی بولنے والا نہیں ہے۔‘‘
وہ بھاگتا ہواگھر آیا ۔کلہاڑی اور باسکٹ لے کر پھر پہاڑی پر گیا تاکہ سانڈ کا بچا ہوا گوشت کھا سکے اورجو بچے اسے کاٹ کر گھر لا سکے۔گیدڑ نے گھر سے دلیابھی ساتھ لے لیا تا کہ دوپہر کا کھانا مکمل ہو جائے۔اور وہ یہ ساری چیزیں لے کر پہاڑی پر پہنچا ۔
پہنچتے ہی وہ ششدر رہ گیا۔ غار کے سامنے بھالوہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا۔
’’ ارے دوست ‘‘گیدڑ کو دیکھ کر بھالو نے کہا۔’’سانڈ کا کیا ہوا؟‘‘
’’تم نے زیادہ زور سے کھینچ دیا ‘‘ گیدڑ نے برجستہ جواب دیا۔’’ تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں رہا ۔ تمہارے ساتھ ہی سانڈ بھی دریا میں گر گیا اور ڈوب گیا۔وہ دریا میں بہت زور سے گرا تھا پانی بھی بہت اوپر تک اچھلا تھا۔‘‘
’’میرے پیارے دوست‘‘بھالوبڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا’’اب ہم اس سے کبھی نہیں مل سکتے ۔ اس کے ساتھ میری بھی زندگی ختم ہوگئی !‘‘ پھراس نے گیدڑ کی طرف دیکھ کر کہا’’تم کلہاڑی اور باسکٹ اپنے ساتھ کیوں لائے ہو؟‘‘
’’میں نے سوچا کہ میں جنگل میں جا کر کچھ لکڑیاں کاٹ لائوں گا۔مجھے معلوم تھا کہ تم دریا سے بچ کر نکل جائوں گے اور تمہیں سردی پکڑ لے گی اور تم کام نہیں کر پائوں گے۔میں تم سے کہنے ہی والا تھا کہ تم گھر جا کر تھوڑا آرام کرلو۔‘‘
تمہیں اپنے آپ پر رشک کرنا چاہئے کہ تمہارے بارے میں اتنا سوچنے والا تمہیں بھائی جیسادوست ملا۔پھر بھالو نے کھچڑی کی طرف دیکھ کر کہا ’’تم دلیا کیوں اپنے ساتھ لائے؟‘‘
’’میں نے سوچا کہ تم تیرتے تیرتے بہت تھک گئے ہوگے اور تمہیں بہت بھوک لگی ہو گی اس لیے میں گھر جاکر تمہارے لیے کھچڑی لے کر آیا۔‘‘
بھالو کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ خوش نظر آنے لگا۔
’’میرے دوست تم لاکھوں میں ایک ہو‘‘ اس نے چلا کر کہا اور گیدڑ کو گلے سے لگا لیا۔
گیڈر نے بھی ہنسنا شروع کر دیا ۔وہ دونوں ہنسی خوشی پہاڑ سے نیچے اتر گئے۔جب دونوں ہنستے ہنستے نڈھال ہوگئے تب انھوں نے ساتھ مل کردلیا کھایا۔پھر جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر دونوں ساتھ لائے ۔
دونوں ایک دوسرے کے اب تک دوست تھے ۔حالانکہ کسی کوبھی یقین نہیں آتا تھا کہ بے وقوف ،سخت محنتی بھالو چالاک اور کام چور گیدڑ کا دوست کیسے ہے۔
٭٭٭
یہ نیپالی لوک کہانی اردو چینل ڈاٹ اِن کے لیے حیدر شمسی نے انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی ہے۔