MALKA -E-HUSN (KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN)

Articles

ملکہ حسن کئی چاند تھے سرِ آسماں

محمد اسد الدین

محمد اسد الدین
انگریزی سے ترجمہ: شمس الرب

ملکہ حسن

شمس الرحمن فاروقی نے The Mirror of Beautyکا آغاز دو انوکھے کرداروں سے کیا ہے۔ ایک ماہرانساب ہے جبکہ دوسرا پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ، یہی وہ کردار ہے جو ہمیں ناول کی جادوئی دنیا کی سیر کراتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ایک ایسی ناول ہے جو صرف تعلیم یافتہ اور باعلم لوگوں کے لیے ہے۔
The Mirror of Beautyکے ساتھ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ حسنِ اتفاق سے جولائی کے مہینے میں مجھے اسی جگہ ٹھہرنے کا موقع ملا جہاں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی اور وسیم جعفر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میری مراد برٹش لائبریری (خاص طور سے تیسرا منزلہ جہاں انڈیا آفس لائبریری واقع ہے، جسے جنوبی ایشیا پر تحقیق کرنے والوں کا مکّہ کہا جاتا ہے۔) ویکٹوریہ والبرٹ میوزیم ، اسکول برائے مشرقی و افریقی زبان و ادب، برٹش میوزیم ، ورجینا وولف کی بلومز بے ری وغیرہ سے ہے۔
فاروقی قصے کا آغاز رک کر کرتے ہیں۔ پہلے دونوں کرداروں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” اس میں ایک کردار ماہر انساب شخص کا ہے جبکہ دوسرا کردار پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ ہے۔ یہی و ہ کردار ہے جو آپ کو اس ناول کی حسین دنیا کی سیر کرائے گا۔“اس کے بعد فاروقی واضح کرتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اہلِ علم کے لیے لکھی ہے۔ مزید وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اپنے لیے لکھی ہے اور” سات دہائیوںمیں مجھے جو خست و خاک مجھے ملے تھے ، اس کا نچوڑ اس ناول میں مَیں نے پیش کیا ہے۔ آپ ا س ناول سے کتنا استفادہ کرتے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس کتنا علم ہے۔“
’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کی جب 2006میں اشاعت ہوئی تو اردو اور ہندی حلقوں میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی ، نیز عالمی سطح پر ایک ادبی شاہکار کی حیثیت سے اس کا استقبال کیا گیا۔ فاروقی صاحب نے ادب کے کئی میدان میں قدم رکھا اور ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔چاہے وہ تنقید کا میدان ہو یا تحقیق کا، صحافت کا میدان ہو یا ترجمہ نگاری کا۔یہی وجہ ہے کہ علمی حلقہ یہ پیشن گوئی کررہا تھا کہ اس میدان میں بھی فاروقی صاحب کچھ نئی اور اہم چیز پیش کریں گے۔جو حضرات اردو اور ہندی میں اس کا مطالعہ کرنے سے قاصر تھے وہ بڑی بے صبری سے انگریزی ورژن کے منتظر تھے۔ انگریزی ورژن آجانے کے بعد مجھے قوی امید ہے کہ انگریزی داں طبقہ اس سے لطف انگیز ہوگا۔ پینگوئین کی فیڈ بیک سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی ورژن کی فروخت نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ ہندی اور اردو کی مشترکہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ دنیا کے عظیم معاصر فکشن نگار جیسے کہ میلان کندیرا، گبرائیل گارسیامارکیز، اورحان پاموک کی مترجم کتابوں کی فروخت اصل سے کہیں زیادہ ہیں۔
(ناول میں) راوی سیدھے مرکزی خیال کے قلب میں پہنچ کر کہتا ہے کہ وسیم جعفر اسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ، لیکن وسیم اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ماضی کے لوگ بیرونی ممالک سے تعلق رکھتے تھے ۔ بیرونی ممالک کے یہ باشندے یہاں کی زبان نی ٹھیک سے سمجھ سکتے تھے اور نہ ہی بول سکتے تھے۔“ (ص: 19)فاروقی صاحب اس خیال کی تردید کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ادبی تہذیب ہی یہی تھی۔ یہی وہ تہذیب ہے جوہندوستانی مسلمانوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اسی دور میں فارسی اور اردوشعرا کی کہکشاں آسمان ادب پر نمودار ہوئی ، ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان میں کچھ کا تعلق شاہی خاندان سے جبکہ کچھ کا تعلق طبقہ¿ اشرافیہ سے تھا۔ اپنی ناول میں فاروقی اس عہد کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ۔نیز اس بات کی کوشش بھی ہے کہ اس عہد کی بالکل ویسی ہی عکاسی ہو جیسا کہ اس دور کی شاعری، موسیقی اور مصوری کے ذریعے کی گئی ہے۔ اسی لیے فاروقی صاحب نے وزیر خانم کے حوالے سے اکثر جگہوں پر بڑی باریک بینی سے ایسی چیزوں کوتفصیل سے بیان کیا ہے۔ (وزیر خانم یعنی )ایک ایسی عورت جو نہایت حسین تھی اور جس میں شمع محفل بننے کی ساری خوبیاں بدرجہ¿ اتم موجود تھیں۔ یہ ناول جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور سات ابواب اور اڑسٹھ فصول میں منقسم ہے، جووزیر خانم کے ارد گرد گھومتی ہے اوراس کی زندگی کے نشیب و فراز کی عکاسی کرتی ہے نیز اس میں مغلیہ سلطنت کے ایام زوال، ممکنہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں کے تعلقات، کمپنی بہادر کے رنگین افسروں اور اس عہد کی بیشتر تاریخی شخصیات کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔
ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بعد فاروقی صاحب اردو زبان کے دو عظیم ناول نگاروں قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ فکشن نگاری کی ساخت اور فنکاری کی کچھ جہات میں گرچہ فاروقی مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کی طرح باکمال ثابت نہیں ہوتے پھر بھی یہ ناول اردو کے عظیم نالوں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ فاروقی صاحب مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کے مداح بھی ہیں ۔ اپنی ناول کے ابتدائی صفحات میں ’کارِ جہاں دراز ہے‘ کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے اور اس کا واضح عکس اس ناول پر نظر بھی آتا ہے۔
فاروقی نے عورت کی خوبصورتی اور اس کے جنسی رجحانات و میلانات کی جس خود اعتمادی سے عکاسی کی ہے ، وہ لائق ستائش ہے۔ خاص طور سے وزیر خانم اور نواب شمس الدین کی ہم بستری کی عکاسی و تصویر کشی۔ جدید اردو ادب میں مجھے اب تک کوئی ایسی ناول نہیں ملی ہے جس میں مرد و زن کے جنسی تعلقات اس گہرائی اور تفصیل سے بیان کی گئی ہو۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فاروقی صاحب نے مرد و زن کے جنسی تعلقات کی تصویر کشی کرکے اردو ناول نگاری میں نہ صرف ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے بلکہ نئے ناول نگاروں کو ایک نئی جہت سے آشنا بھی کیا ہے۔ ناول میں موجود شاعری کی کثرت ممکن ہے کہ انگریزی قاری کو اچھی نہ لگے لیکن فاروقی کیا کرتے ؟ وہ جس زمانے کی تصویر کشی کررہے ہیں ، شاعری تو اس زمانے کے تہذیبی و عناصر میں شامل تھی بلکہ یہ تہذیب و ثقافت کا پیمانہ بھی تھی۔ درحقیقت اردو شاعری میں ایسی کشش ہے کہ یہ نہ صرف اردو فکشن نگاروں بلکہ دوسری زبانوں کے فکشن نگاروں کو بھی اپنا گرویدہ بنالیتی ہے۔ فاروقی صاحب کی یہ ناول اکرم سیٹھ کی A Suitable Boy کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ جس میں وکرم سیٹھ نے اردو شاعری بخوبی استفادہ کیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ناولوں میں کافی مماثلت ہے۔ اسی طرح کی اور بہت ساری ناولیں انگریزی و دوسری زبانوں میں موجود ہیںمثلاً ربی شنکر بال کا حالیہ بنگالی ناول ”دوزخ نامہ‘ ‘۔
فاروقی صاحب کو قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی طرح اپنے شاہکار کا خود مترجم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین نے ’آگ کا دریا‘ (River of Fire) اور ’اداس نسلیں‘ (Weary Generations) کا مرکزی خیال عہد حاضر سے اخذ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا بیانیہ چست و درست ہے اور مغربی فکشن نگاری کے حساب سے پلاٹ کا تانہ بانہ بھی متاثر کن ہے۔ جبکہ فاروقی کو قاری کو سمجھانے کے لیے جگہ جگہ وضاحتی نوٹ بھی لکھنے پڑے ہیں۔ اس وجہ سے قاری کی توجہ متن سے تھوڑی دیر کے لیے ہٹ جاتی ہے۔ (یہ اٹھارہویں صدی میں لکھے گئے یورپی ناولوں کی یاد دلاتے ہیں) اردو ورژن کی طرح فاروقی نے انگریزی ورژن کو بھی ابواب اور فصول میں تقسیم کیا ہے۔ اردو میں ایک دو کلمات پر مشتمل ٹائٹل کو انگریزی میں لمبے وضاحتی ٹائٹل میں تبدیل کیا ہے۔ ترجمہ میں بہرحال پوری سلاست و روانی ہے نیز انگریزی زبان کے اسلوب بیان کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ انگریزی محاروں کے استعمال میںفاروقی صاحب نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیب کی عکاسی میں کہیں بال نہ پڑے اور اصل زبان میں جو شیرینی و حلاوت ہے وہ انگریزی میں کمزور نہ پڑنے پائے۔ تشبیہات و استعارات کو بڑی ذہانت سے قدیم انگریزی اسلوب میں ڈھالا گیا ہے تاکہ یہ گڈ مڈ نہ ہوں۔ اس طرزِ تحریر پر بس سبحان اللہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔
بہر کیف اس نال میں ایک دو جگہ غلطیاں بھی نظر آجاتی ہیں۔ لیکن اس سے اس شاہکار کی عظمت متاثر نہیں ہوتی۔ مثلاً صفحہ نمبر938پر راوی کہتا ہے کہ فتح الملک ، وزیر خانم کے آخری شوہر کو 10 جولائی2012(1856کی جگہ) کے دن دفن کیا گیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ مصنف کی غلطی نہیں ہوسکتی ، یہ ضرور کتابت یا کمپیوٹر ٹائپنگ کی غلطی ہے۔
————————————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

AIK TAHZEEBI MURAQQA : KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN

Articles

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

معید رشیدی

معید رشیدی

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں بعض اوقات اپنی مرضی کے بغیر بھی ہم تسلیم کرلیتے ہیں ۔ ادب کا جس طرح ایک اجتماعی منظرنامہ ہوتا ہے ، اسی طرح اس منظرنامے یا اس کے کسی مخصوص پہلو سے متعلق ہماری اجتماعی رائے بھی ہوتی ہے جس کا اعتراف بعض حضرات کھل کر ، بعض دبی زبان میں اور بعض خاموش رہ کر کرتے ہیں ۔ علمی بنیادوں پر شمس الرحمن فاروقی قاموسی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اس سے ان کا سخت سے سخت مخالف بھی انکار نہیں کرتا۔ان کا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ اردو کی پہلی کتاب ہے جسے پینگوئن انڈیا نے 2006میں شائع کی تھی ۔’امراو¿جان ادا‘ اور ’ آگ کا دریا ‘ کے بعد جو ناول سب سے زیادہ زیر بحث ثابت ہوا ہے وہ ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ ہے ۔ اس ناول کا ہندی اور انگریزی اڈیشن بھی شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے ۔ اگر کسی متن سے کثرت و شدت کے ساتھ اختلاف و اعتراف کیا جائے اور اختلاف یا اعتراف کرنے والوں کی کثیر تعداد صف اول کے مصنفین و ناقدین کے علاوہ طلبہ اور عام قارئین تک پہنچ جائے تو اس واقعے سے ایک نتیجہ تو کوئی بھی آسانی سے اخذ کرسکتا ہے کہ موضوع بحث متن کوئی عام تحریر نہیں ہے اور اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جب وہ متن اپنی سرحدوں کو توڑ کر عالمی سطح پر موضوع گفتگو بن جائے تو لامحالہ اس کی اہمیت کا معترف ہونا پڑتا ہے ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کی اہمیت اور تخلیقی حیثیت کااستقبال و اعتراف کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ THE MIRROR OF BEAUTYکے نام سے اس ناول کی انگریزی میں اشاعت نے فاروقی صاحب کو یقینا Celebrityہونے کا عالمی اعزاز بخشا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ہندوپاک میں جو لٹریچر فیسٹول منعقد کیے گئے ، ان میں اس ناول پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اردو، ہندی اور انگریزی کے اخباروں نے بھی اس کے متعلقات کو اپنے صفحات سے مزین کیا۔2015کے DSC Prize for South Asian Literatureکے آخری منتخب پانچ ناموں میں جب اس ناول کا انتخاب ہوا تو اہل اردو کی نظر اس ناول پر نہیں بلکہ انعام کی رقم پچاس ہزار امریکی ڈالر پر تھی ۔ اطلاعاً عرض ہے کہ اس انعام کے لیے ہند نژاد امریکی مصنفہ جھمپا لہڑی کے نام کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ افسوس ہوا کہ اردو میں لکھی گئی ایک کتاب اپنے تمام استحقاق کے باوجود انعام سے محروم رہی ، لیکن اس سے فاروقی صاحب کی علمی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ ان کی علمی اور تخلیقی حیثیت کا اعتراف کرنے والوں میںنوبل انعام یافتہ ترکی مصنف اورہان پاموک نے لکھا ہے :
An erudite,amazing historical novel,elegiac in tone and written with heartfelt attention to the details and the rituals of a lost culture.
پاکستانی انگریزی ناول نگار محمد حنیف نے اس ناول کو ہندوستانی ناولوں کا کوہ نور قرار دیا ہے اور اس کے شکوہ، چمک اور پراسراریت کا اعتراف کیا ہے ۔ پاکستان نژاد برٹش ناول نگار ندیم اسلم نے اس ناول کو پراسرار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فاروقی نے اس ناول کو Historyاور Illusionکے تانے بانے میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بُنا ہے ۔ پاکستان نژاد کینیڈین ناول نگار مشرف علی فاروقی ،The Annual of Urdu Studiesکے مدیرمشہور ادیب و مترجم محمد عمر میمن، ہندی کے ادیب وشوناتھ ترپاٹھی، وندناراگ،کیدارناتھ سنگھ کے علاوہ غیر اردو داں طبقے کا ایک اہم ادب دوست حصہ اس ناول کی تعریف میں رطب اللسان ہے ۔ اس ناول سے متعلق اردو میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ایک مکمل کتاب ’ خدا لگتی ‘ [مرتبہ : لئیق صلاح /سید ارشاد حیدر]شائع ہوچکی ہے ۔اس ناول پر اردو کے بعض اہم مصنفین کرشن موہن، اسلم فرخی ، افضال احمد سید، انورسدیدوغیرہ نے اظہار خیال کیا ہے ۔ اردو کے مصنفین میں ہم صرف انتظار حسین کے دو اقتباسات درج کرنا چاہتے ہیں ۔پہلا ان کے ایک مکتوب کا اقتباس ہے اور دوسرا ’دی ڈان‘ میں چھپے انگریزی میں لکھے گئے ایک تبصرے کا اقتباس :
بھائی میں نے آپ کا لوہا مان لیا۔ اگر اس سے پہلے کوئی عزیز مجھے بتاتا کہ فلاں صاحب نے بہت علمی مطالعہ اور تحقیق کے بعد ایک ناول لکھا ہے ۔ لکھا ہوگا ۔ اگر وہ قرآن کا جامہ پہن کربھی آتا اور مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتا تو میں قائل نہ ہوتا ۔ سو میں نے ایک شک کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ جادو چڑھنا شروع ہوااور ایسا چڑھا کہ میرے سارے شک رفو چکر ہوگئے ۔
مدتوں کے بعد اردو میں ایسا ایک ناول آیا ہے جس نے ہندوپاک کی ادبی دنیا میں ہلچل مچادی ہے ۔….یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔….ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں ۔
جہاں ملکی اور غیرملکی سطح پر اعتراف کی یہ سطح ہو وہاں اردو کے ایک پروفیسر صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ بھائی مضمون لکھنے سے پہلے آپ اسے بطورناول تو Establishکرلیجیے! ۔گویا ہندوستان کے اردوحلقوں میں اب تک یہی طے نہیں ہوسکاہے کہ یہ متن ناول ہے بھی یا نہیں ۔ ہمارے بعض احباب کو اس ناول کے موضوع اور بعض کو زبان اور بعض کو دونوں پر سخت اعتراض ہے ۔ ہر شخص کو اختلاف کا حق ہے لیکن اس اختلاف میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم ایک ہی جھٹکے میں کسی شخص کی زندگی بھر کی بصیرتوں کو منسوخ کردیتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ ہر اہم اور بڑے متن میں اعتراف اور اختلاف کی صورتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ’آگ کا دریا‘ کو غیر اہم اور اوسط درجے کا ناول مانتے ہیں ، لیکن جب عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا جاتا ہے تو ذہن سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ 2008 میںفرانسیسی مصنف زین میری گوستاو¿لے کلے زیو (Jean-Marie Gustave Le Clézio) کو اس کے ناول پرادب کا نوبل پرائز دیاگیا تھا۔سات دسمبر 2008کے نوبل لکچر میں اس نے دنیا کے چند اہم نظرانداز کیے گئے مصنفین میں قرةالعین حیدر کا نام لیا تھا اور ان سب کے ساتھ اس نے عینی کے نام اپنے نوبل انعام کو منسوب کیا تھااور اعتراف کیا تھا کہ قرةالعین حیدر کو ’آگ کا دریا‘ کے لیے نوبل انعام کا مستحق قرار دیا جانا چاہیے تھا۔علم کی ناقدری کے اس عہد میں کس سے گفتگو کی جائے اور کسے قائل کیا جائے ۔ ہمارے یہاں اکثر ادبی فیصلے ذاتی رویوں اور سودوزیاں کی میزان پر کرلیے جاتے ہیں ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کا متن اگر ناول نہیں تو کیا ہے ؟اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ اگر کمزور ناول ہے تو اس کے لیے دلائل کا فقدان ہے ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ تاریخ کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس کے بیانیہ میں تاریخی کتب اور قدیم لغات سے استفادہ کیا گیا ہے ، اس لیے فرسودہ اور بے کار ہے ، قطعی مناسب نہیں ۔اسی بات کو اگر تعریف کے پیرایے میں کہا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ فاروقی صاحب نے انیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب کو اس کی پوری گہرائی ، لطافت اور طاقت کے ساتھ تخلیق کیا ہے ۔ ا س لیے یہ تاریخ نہیں ماضی کی بازیافت ہے ۔یہ تاریخ نہیں تہذیبی مرقع ہے ۔ اگر تاریخ پر اصرارہی مقصود ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناول تاریخ کی از سر نو تخلیق ہے ۔ وزیر خانم کی صورت میں ایک تاریخی اشارے کو انیسویں صدی کے حسن کازندہ شہکار(Celebrated beauty) بنادیا ہے اور یہ شہکار انیسویں صدی کے ہندوستان کا چہرہ بن گیا ہے ۔یہ اس تہذیب کا حوالہ ہے جس میں تہذیب شاعری اور شاعری تہذیب میں گھل گئی تھی ۔یہ ناول اقبال کے ایک مصرعے کی تعبیر ہے :”دردوداغ و سوز و سازو جستجو و آرزو“۔فاروقی صاحب اسے تاریخی ناول نہیں مانتے جبکہ قارئین کا ایک بڑا طبقہ اسے تاریخی ناول ہی کی حیثیت سے پڑھتا ہے ۔مصنف کا اصرار ہے کہ یہ تاریخ نہیں ، تہذیبی مرقع ہے ۔یعنی تہذیبی نقوش یہاں مختلف رنگوں میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ اس ناول میں تاریخ کی صحت سے زیادہ تہذیب کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے ۔ اکثر کردار تاریخ کا زندہ حوالہ ہیں ۔ غالب ، مومن ، ذوق ،حکیم احسن اللہ خان،گھنشیام لال عاصی،ظہیر دہلوی، مرزا فخرو، نواب یوسف علی خاں،صہبائی ، نواب شمس الدین احمد، داغ دہلوی ، بہادر شاہ ظفر، ولیم فریزر، مارسٹن بلیک وغیرہ ۔مصنف نے ان حضرات کے خاکوں میں Illusionپیدا کیا ہے ۔اس لیے یہ ناول تاریخ نہیں تاریخ کا التباس ہے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخی کرداروں کے حوالے میں تخلیق کار کی بعض آزادیا ں سلب ہو جا تی ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطا بق کر داروں کو واقعات سے نہیں جو ڑ سکتا ۔وہ سوانح کی صحت کے چکر میں اپنے اوپر بعض پا بندیا ں عائد کر لیتا ہے مگر فاروقی صاحب نے کر داروں کو قابل توجہ بنا نے کے لیے دلچسپ ،گرما گر م اور پھڑکتے ہو ئے فقرے تر اشے ہیں اور سا تھ ہی مر قع نگا ری کے بہترین نمو نے پیش کیے ہیں ۔یہ کردار اس ناول میں تلمیحی واقعات کے بجائے علامتی حقیقت بن گئے ہیں ۔ وزیر خانم سے متعلق تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ داغ دہلوی کی والدہ ہیں ۔مورخین نے انھیں داغ کے حالاتِ زندگی کے سلسلے میں معلوم حوالوں کے حاشیے پر رکھا ہے ۔داغ کے اجداد کی کچھ تاریخ کا علم فاروقی صاحب کووزیر کے پوتے وسیم جعفرسے ہوا اور ایک تخیلی کردار ماہرامراض چشم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی وسیم جعفر کی کہانی چل پڑی ۔ اٹھارویں صدی کے راجپوتا نے سے جو کہا نی شروع ہو ئی تھی وہ 1856 تک محیط لال قلعہ میں آکر ختم ہو ئی ۔ اختتامیہ المیہ پر ہے۔یہ تہذیب کا آئینہ اور کھوئے ہوئے کی جستجو ہے ۔
فاروقی صاحب نے اس ناول میں مندرج اہم تا ریخی واقعات کی صحت کا حتی الا مکا ن اہتمام کیا ہے۔ایسے واقعات کم ہیں اور سہارے کے بطور استعمال کیے گئے ہیں۔تاریخی واقعات کی صحت کا اہتمام کرنا غالباً ضروری بھی تھا تاکہ قاری تاریخی حوالوں سے بصیرت کشید کرنے میں گمراہ نہ ہوجائے ۔ مجموعی طور پر اس ناول کے علمیاتی پہلو کئی سطحوں پر ہماری بصیرتوں کو انگیز کرتے ہیں۔ اس کی علمیاتی قوتوں کے سبب ہی اسے عالمانہ تخلیقی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے ۔یہ تخلیقی سطح پر انیسویں صدی کے ہندوستان کا وجودیاتی رزمیہ ہے اور شعریاتی سطح پر شاندار بزمیہ ۔یہ اس نا ول کا اعجا ز ہے کہ بعض تاریخی حقائق کو بھی قاری افسانہ سمجھ کر پڑھتا ہے اور بعض افسانوں کو تاریخی حقائق پر محمول کرلیتا ہے اور ان سے حظ اٹھا تا ہے۔ جزئیات کے بیان میں نا ول نگا ر کی دوررس نگاہ اور عمیق تا ریخی و تہذیبی مطالعے کی داد جتنی دی جا ئے ، کم ہے ۔جنسی افعال کی جزئیا ت نگا ری بھی انھو ں نے غضب کی ،کی ہے ۔ عمارات ، ملبو سات ،اسلحہ جا ت ، آلاتِ مو سیقی ،سازو سامان،سواریا ں،کھانے پینے کی چیزوں اور منا ظر کی ایسی تفصیل پیش کی ہے جس سے اس عہد کی پو ری تصویر آنکھو ں کے سامنے پھر جا تی ہے ۔انھوں نے جو پیکر ترتیب دیے ہیں، ان سے اس عہد کی شخصیتو ں کی شکل و صورت ،حرکا ت و سکنا ت ، نشست و بر خاست کے آداب ،طبیعت کی رنگا رنگی ، آواز کی کیفیا ت،ملبو سات کا انصرام ، وضع قطع اور حالا ت و واقعات نما یاں ہو تے ہیں ۔
فاروقی صاحب نے نا ول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی سے متصف ہے ۔انھو ں نے اس زبان کا اسلو ب تذکروں ،سوانح ،خود نو شت اور دیگر دستا ویزی حوالہ جا ت سے اخذ کیا ہے جبکہ زبان کی صحت کے لیے انھوں نے جا ن شیکسپیر ،ڈنکن فور بس ،جا ن گلکرسٹ وغیرہ کے مر تب کر دہ لغات سے رجو ع کیا ہے ۔ انھوں نے وہی زبان لکھی ہے جو اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے معاشرے میں رائج تھی ۔ انھو ں نے اس کا التزام خصوصی طورپر کیا ہے کہ بیا نیہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہ آنے پا ئے جو اس زما نے میں مستعمل نہ تھا ۔اس لیے زبان کا مغلق اور گنجلک ہو نا عین فطری ہے اور کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایسے الفا ظ کیو ں بر تے گئے ۔عر بی اور فا رسی الفا ظ کی کثرت اس زمانے کے لسا نی مذاق کا پتا دیتی ہے ۔ وہ محاورے جو دہلی اور حضرتِ دہلی میں مستعمل تھے مصنف نے انہیں بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے ۔مکا لمو ں میں بیگما ت ، نو ابین ،امراو روئسا، شعر اوادبا ،عشاق ،خدام ،نو کر چا کر ،کی زبان اس طر ح پیش کی گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی اس عہد میں مو جو د ہیں اور ان کی گفتگو سے محظوظ ہو رہے ہیں ۔ناول نگا رنے اس طر ح ہمیں اس دنیا کی سیر کر ائی ہے جو ہماری تہذیب کی بنیا د ہے اور جسے ہم فرامو ش کر چلے تھے ۔عورتو ں کے محاوارات کو بر تنے میں نا ول نگا ر کو قدرت حاصل ہے ۔ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس ناول کی زبان سے متعلق دو طرح کی آرا موجود ہیں ۔ کچھ لوگ اس اسلوب کو قابل رشک بتاتے ہیں اور حیرت سے کہتے ہیں کہ واہ فاروقی نے کیا زبان لکھی ہے ۔ کچھ لوگ ان کے اسلوب کو اس ناول کے لیے سب سے بڑا عیب گردانتے ہیں ۔ اعتراض یہ ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ماحول کی عکاسی کے لیے کیا ضروری ہے کہ اس زمانے ہی کی زبان اور اسلوب کا استعمال کیا جائے ؟ اس عہد کو آج کے روز مرہ میں کیوں نہیں پیش کیا جاسکتا ؟ Time Out Delhiکی مدیر Sonal Shahنے بھی اپنے انٹرویو میں فاروقی صاحب سے سوال کیا تھا :
For both Urdu and English novels, you restricted yourself to words from the 19th-century lexicon.”The Mirror of Beauty” is very readable, but is the original book a challenge for native Urdu speakers?
فاروقی صاحب نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ انھوں نے یہ اسلوب شعوری طور پر اختیار کیا ہے ۔ اس لیے لوگوں کے اعتراضات کی پروا کیے بغیر انھیں اپنے ویژن میں ایماندار ہونا چاہیے ۔ہر قاری کی ذہنی اور علمی استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ بعض حضرات کے لیے یہ اسلوب دقت طلب محسوس نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ قدیم اور مشکل لفظیات کے لیے فرہنگ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اسلوب کے لحاظ سے اصل اردو متن مشکل ہے لیکن اردو کے قدیم و جدید محاوروں اور لسانی مزاج سے آشنا ذہنوں کو یہ مسئلہ پریشان نہیں کرتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اکثر لغت سے رجوع کرنے میں گھبراتے ہیں ۔ آج اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی بعض لفظیات ترک ہوچکی ہیں اور ہمارے نئے لسانی مزاج کو انھیں قبول کرنے میں تامل ہوتا ہے ۔کم سے کم گفتگو کی حد تک وہ نامانوس اور غریب معلوم پڑتے ہیں ۔ناول کی قرا¿ت میں مجھے بھی ایسی بعض لفظیات کا سامنا کرنا پڑا جن سے تخلیق کی روانی میں خلل محسوس ہوا ۔ یہ بھی محسوس ہوا کہ مصنف معنی پر لفظ کو ترجیح دے رہا ہے ، مگر یہ پہلو ضمنی ہیں ۔ ضمنی اختلافات کے سبب پورے متن کو ناقابل قبول نہیں قرار دیا جاسکتا ۔
متن کے بین السطور میں بعض موقعوں پر تنقیدی بیانیہ بھی در آیا ہے ۔ غور طلب پہلو ہے کہ اس عہد میں ایک نئی شعریات مرتب ہورہی تھی ۔ محاوروں کے مسائل ، لفظ و معنی کی نزاکتوں اور اشعار کے برجستہ استعمال کے منظرنامے میں یہ کیسے ممکن نہیں تھا کہ شعر اور زبان سے متعلق اس عہد کی تنقیدی بصیرت کسی کردار کی زبانی مترشح نہ ہو ۔ یہ اعتراض صرف اس لیے ممکن ہوسکا ہے کہ مصنف کو ہم اول اول نقاد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ ورنہ کسی اور کے قلم سے اگر یہ متن تخلیق پاتا تو اس قسم کی غیرسنجیدہ شکایت نہ ہوتی۔ ایک اعتراض یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جزئیات کے بیان میں فاروقی صاحب نے معلومات کو شعوری طور پر ٹھونسنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمارا معروضہ ہے کہ ماضی کی یہ ’معلومات ‘ نئی نسل کے لیے حیرت اور آگہی کے درمیان بصیرت تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔ اس لیے یہ اعتراض بھی ضمنی ہے ۔ ناول کے مندرجات ہما ری روایات کے امین اور ہماری میراث ہیں جنھیں ہم کھو چکے تھے ۔ نا و ل کے مطالعے کے بعد ان کی روحانی اور جذباتی باز یا فت ہو تی ہے۔
یہ خانم کی محبتو ں کی ادھو ر ی داستان ہی نہیںبلکہ ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستا ویز ہے۔فاروقی صاحب اس متن کو تہذیبی مرقع کہنے پر مصر ہیں ۔ اگر معترضین اس متن کو ناول نہ بھی تسلیم کریں اور تہذیبی مرقع تسلیم کرلیں تو مصنف کی محنت کام آجاتی ہے اور مقصد پورا ہوجاتا ہے ۔
ہم نے ’تصویر‘ کو کتاب بنتے دیکھا اور کتاب کو ناول۔حقیقت کو افسانے کے قالب میں ڈھلتے ہوئے دیکھا ۔ خواب نے دستک دی اور ماضی نے دروزہ کھولا ۔ دیکھتے ہیں کہ دور تلک اندھیرے اجالے کی کشمکش ہے ۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ کوئی شعر سنارہاہے اور ہرطرف سے داد و تحسین کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ ایک سلطنت اور ایک تہذیب پر اندھیرا گہرا ہوتا جارہاہے ۔ دہلی کے لال قلعے سے ایک سایہ لہراتا ہوا ہماری آنکھوں سے گزرگیا ہے ۔ ہم نے شاید انیسویں صدی کے حسن و جلال کا وہ آئینہ دیکھ لیا ہے جس میں ہمارا وجود فخر ، تاسف، مسرت اور حیرانی کے ملے جلے اثرات سے بے چین ہوگیا ہے ۔ اب یہ بے چینی دور تلک جائے گی ۔
——————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

 

KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN : AIK MUTALEA

Articles

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

پروفیسرصغیر افراہیم

پروفیسرصغیر افراہیم

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ ایک محقق اور بلند پایہ ناقد ناول لکھے اور واقعہ نگاری پر اپنی غیر معمولی قدرت، تخیل کی پرواز اور دلفریب اسلوب سے ناول کے قاری کو حیرت میں ڈال دے۔ شمس الرحمن فاروقی، اس وقت اردو کے بے مثال نقاد ہیں جن کے تنقیدی مضامین نے ادب کی سمت و رفتار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن جب ان کا ناول ” کئی چاند تھے سرِ آسماں“ شائع ہوا تو ناول نگاری کے فنّی ضابطوں کے ساتھ اتنا ضخیم ناول لکھنے کی ان کی صلاحیت پر سب کو حیرت ہوئی۔
شمس الرحمن فاروقی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانوں سے کیا۔ انھوں نے نئے طرز کی غزلیں کہیں اور نظمیں بھی لکھیں لیکن ان کے تنقیدی مضامین نے معاصر ادبی منظر نامے کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے تخلیقی کارناموں کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کو زبان و بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ وہ اپنی بات کو بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اُن کے افسانوی مجموعہ ”سوار“ نے اردو دنیا کو چونکا دیا۔”سوار“ کے افسانے اردو افسانے کی ایک بالکل نئی جہت کا پتہ دیتے ہیں۔اس میں ہماری ادبی زندگی کے بعض گراں قدر زمانوں کی تخلیقی بازیافت کی گئی تھی۔اسی طرح فاروقی کا ضخیم ناول”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اردو ناولوں کی کہکشاں میں ایک چاند کی طرح وارد ہوا اورفکشن کی دنیا اُس کی چاندنی میں نہا گئی ہے۔ ہم اس ناول کو کسی بھی مخصوص رجحان یا تحریک سے نہیں منسوب کر سکتے کیونکہ اس میں تاریخی شعور کے علاوہ ادبی پس منظر، روایت سے جڑے رہنے پر اصرار، سوانحی گوشے کے علاوہ ایک طویل زمانے کی تہذیبی فضا کی بازیافت کی گئی ہے۔ اِس ناول میں تاریخ کا گہرا شعور اور ہمارے تہذیبی ارتقا کے ایک خاص دور کو بڑی فنکاری سے روشن کیا گیا ہے۔ پلاٹ منظم ہے کہ ایک باب کا اختتام دوسرے باب کا پس منظر بنتا ہے اور قصہ اِس طرح آگے بڑھتا ہے کہ حیرت و استعجاب کا ماحول بر قرار رہتا ہے۔ شعور کی رو اور اندرونی خود کلامی کے ساتھ کہیں کہیں جنس کی نزاکتوں اور لطافتوں کا بھی اظہار ملتا ہے۔
ناول کا فن وضاحت کا فن ہے۔ اس کا کینوس زندگی کی طرح بسیط ہوتا ہے جس طرح سے زندگی کی کہانی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اُسی طرح ناول کا فن بھی صراحت اور وسعت کا تقاضہ کرتا ہے۔ ناول میں ادیب اپنا مخصوص نقطہ¿ نظر پیش کرتے ہوئے زندگی کی تصویر کشی کرتا ہے۔ حقیقت کو تخلیقی عمل میںیوں پیش کیاجاتا ہے کہ قصہ کی حیثیت سے اُس کے تمام عناصر میں تال میل، ہم آہنگی اور ربط قائم ہو جائے۔
ناول نگار کو سادہ حقیقت نگار ہی نہیں، زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کا بھی ترجمان ہونا چاہیے۔اِس کا فن اخلاقیاتی شعور کا بھی مطالبہ کرتا ہے اورفنّی حکمت عملی کا بھی ۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ناول نثر میں ایک طربیہ کہانی ہوتی ہے لیکن اِس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ناول زندگی کی حقیقتوں کو پیش کرنے کا فن ہے تو اس میں طربیہ کے ساتھ ساتھ المیہ عناصر کو پیش کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ ناول جو اپنے طور پر ایک وسیع کینوس کی حامل صنف ہے تو ہم اس کو طربیہ میں سمیٹ کر محدود کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایک بنیادی بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ جو ناول نگار اخلاقی و اصلاحی مقاصد کو پیش کرنے کے لیے اِس صنف کو اختیار کر تے ہیں تو ناول تہہ دارنہ ہوکربیشتر ایک سطحی قصہ بن کر رہ جاتے ہیں چونکہ زندگی صرف معروضی سچائی کا نام نہیں اسی لیے اعلیٰ اخلاقی یا صرف اصلاحی قدروں کو پیش کرنے کا نام ناول نگاری نہیں ہو سکتا۔ ناول زندگی کی پیچیدہ تر صداقتوں کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے اس میں خیر کے ساتھ شر، حق کے ساتھ باطل ایمان کے ساتھ بے ایمانی، سچ کے ساتھ جھوٹ کے رشتے کی دریافت اس کا فن بن جاتا ہے۔ کہانی کا مقصود صرف نیکی اور اخلاقیات کا درس دینا ہی نہیں ہے بلکہ سماج میں رہنے والے کرداروں کے منفی اخلاق، غیر انسانی افعال کے محرکات کی جتھ اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کی گہری انسان دوستی کی آرزو کے بیان کرنے کا عمل بھی ہے۔
چونکہ ناول ایک پھیلی ہوئی بڑی تصویر ہے جس میں ایک مقررہ پلاٹ کو واضح کرنے کے لیے کائنات کے متنوع کرداروں جو مختلف جماعتوں اور قبیلوں کے ساتھ رہتے ہیں ، کی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کی مصوری ہے۔ اس طرح سے شمس الرحمن فاروقی کا ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ صرف حقیقت نگاری کا نمونہ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بھرپور زندگی متحرک نظر آتی ہے جس میں ہنداسلامی تہذیب اور ثقافت کے موضوع پر مشتمل روداد کو بیان کیا گیا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی ہندوستان میں فارسی تہذیب کی ترقی و ترویج اور اردو کی کلاسیکی روایت سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ زبان کے بننے اور سنورنے کے عمل سے بھی آگاہ ہیں۔ تہذیبوں کے میل ملاپ پر بھی اُن کی گہری نظر ہے لہٰذاانھوں نے اِس پورے تدریجی عمل کے نشیب و فراز کو اپنے بیانیے کا جُز بنایا ہے۔اسی لیے ناول میں قدیم و متروک الفاظ کے ساتھ مشکل الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کو بھی فضا بندی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی کی بازیافت کے متعین مقصد نے فاروقی کے اسلوب کو بے حد مشکل بنا دیا ہے لیکن فضا، ماحول اوربرتاو¿ کے اعتبار سے دیکھیں تو سب کچھ موقع و محل سے گہری مناسبت رکھتاہے جس کا اعتراف ہندو پاک کے کئی بڑے فکشن نگاروں نے کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ فاروقی کے پیشِ نظر اردو کے بھی کئی ناول تھے جن سے انھیں خام مواد ملا ہے۔ مثلاً”امراو¿ جان ادا“ میں لکھنو¿ کے قرب و جوار کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منظر کشی سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ انحطاط پذیر حیدر آباد ی تہذیب ، حویلیوں کی ٹوٹتی ہوئی دیواروں کا المیہ اورمعاشرے کی اُلٹتی ہوئی بساط کا حال انھوں نے عزیز احمد کے ناول ”ایسی بلندی ایسی پستی“ میں محسوس کیا ۔ ”آگ کا دریا“ جس کا وسیع کینوس ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کے پسِ منظرکو سمیٹے ہوئے ہے اُس سے بھی فاروقی نے تاریخی بصیرت کے ساتھ تکنیک اور فن کی جدّت و نُدرت کے تاثر کو قبول کیا ہے۔ اردو کا ایک بڑا ناول ”اداس نسلیں“ بھی اُن کے پیشِ نظر رہا ہوگا جس میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی کشمکش کے ساتھ بدلتے ہوئے تاریخ کے منظر نامہ اور تہذیبی تصادم ، ہندو پاک کے گوناگوں پیچیدہ مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی اہم ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کے محرک معلوم ہوتے ہیں۔
مذکورہ ناول ۶۰۰۲ءمیں پاکستان کے مشہور اشاعتی ادارے شہرزاد اور ہندوستان میں پینگوئن و یاترا بُکس سے شائع ہوکر اردو کے اہم ناولوں کی فہرست میں شامل ہوا۔ تکنیکی اعتبار سے اِس ناول کو کسی ایک زمرے میں شامل کرنا دشوار ہے کہ اس میںفکر و فن کے مختلف رجحانات کے عکس کسی نہ کسی صورت میں نظر آتے ہےں۔تاہم تکنیکی سطح پر یہ ایک نیا تجربہ ضرور قرار دیا جائے گا۔ مصنف نے اس ناول کے حوالے سے اعتراف کیا ہے:
”یہ بات واضح کردوں کہ اگر چہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب اور انسانی تہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا۔“
ماضی کے دریچوں سے جھانکنے کی کوشش کریں تو اورنگ زیب کے انتقال (۳ مارچ ۷۰۷۱ئ) کے بعد عظیم الشان مغل حکومت کے زوال کے اسباب میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ محض بارہ سال میں سات بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ تخت سے دار تک پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ریاستیں خود مختار ہونے لگیں۔ نادر شاہی حملے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی حکمرانی کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اِسی دور کی تہذیب و ثقافت کے عروج و زوال کو مرکز و محور بنایا ۔ اس ناول کے منظر نامے پر کئی دائرے اُبھرتے ہیں جن میں کشمیر، راجپوتانہ اور پنجاب کے بعد دہلی کا گہرا رنگ حاوی ہو جاتا ہے۔یہ دائروی رنگ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک پھیلا ہوا ہے۔ سلیم جعفر ہوں یا وسیم جعفر، خانم کی زندگی کی چھان بین اور اُس کے عہد کے تہذیب و تمدن کی تلاش میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ فاروقی اس جتھ میں ان کے معاون ہوتے ہیں۔
۱۱۸۱ءمیں وزیر خانم پیدا ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے من موہنی نے نیا روپ اختیار کر لیا۔ خانم کے بُزرگ مصوّر تھے ، انھوں نے ایک ایسی تصوراتی تصویر بنائی تھی جو اتفاقاً مہاراول کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے مشابہ تھی۔وقت کی طنابیں کھنچتی ہیں اور قاری محسوس کرتا ہے کہ تقدیر بھی دونوں کی ایک جیسی، المیاتی کرب کا شکار رہی۔محمد یوسف سادہ کار کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ با صلاحیت اور آزاد طبیعت کی مالک تھی۔
تاریخی اعتبار سے یہ ناول انیسویں صدی سے بہت پہلے شروع ہوکر سال ۶۵۸۱ءمیں ختم ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے کا بیان ہمیں ایسی دنیا کی سیر کراتا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی لحاظ سے بے حد معمور ہے۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم ایک تاریخی کردار ہے جو فعال ، پُر رعب، مقناطیسی کشش رکھنے والی شخصیت ہے۔ اُسی کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے اس کے ذریعہ نہ صرف شجرہ¿ خاندان آگے تک چلتا ہے بلکہ کہانی بھی ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اگر یوں کہیں کہ ناول ایک ہی خاندان کی کہانی کا پس منظر رکھتا ہے لیکن اس کے مختلف کردار کے رابطوں سے جو وسعت اس میں پیدا ہوئی ہے وہ مغلیہ دور کے آخری وقتوں کے تاریخی اور معاشرتی صورتِ حال کا احاطہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اِس میں قلعہ کی نامور ہستیاں اپنے افعال و اعمال کے ساتھ موجود ہیں۔ ناول میں مرکزی کرداروں کے ساتھ جب تک دوسرے کرداروں کا رابطہ پیش نہیں کیا جاتا ہے اور ان کا تذکرہ شامل نہیں ہوتا ہے۔ تب تک نہ تو پلاٹ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ناول کی صورت اختیار کر تے ہیں۔ مذکورہ ناول میں مغلیہ دور کے زوال کی داستان کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں قلعہ سے متعلق شخصیتوں کے رہن سہن، بود و باش اور غور و فکر کو ان کے مکالموں کے ذریعہ فعال اور متحرک کرنے کی کامیاب سعی ملتی ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کا ایک ادبی پس منظر بھی ہے۔ مغلیہ دور میں فنونِ لطیفہ خصوصی طور سے شعر و سخن کے تعلق سے ادبی محفلیں، مناظرے، مشاعروں کی تہذیب کا جو بیان ملتا ہے وہ بیانیہ تخلیقی اور اسلوبی نقطہ¿ نظر سے اہمیت کا حامل ہے اور ہمارے سامنے شعر و سخن کا عام مذاق و معیار اور ادب کی تاریخ میں اس کی قدر و قیمت کا تعین ناول کے فنی اور پلاٹ کے منطقی ربط میں اس طرح پیوست ہے کہ قصے کی ساخت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ مثلاً غالب کے معاصرین کا ذکر کرتے ہوئے کرداروں کے درمیان ایک ربط اور تعلق قائم رہتا ہے۔داغدہلوی کے عصر کی ادبی چشمکیں، مشاعروں کی تہذیب، ان کے ہم عصروں کی فنی خوبیوں کے علاوہ اُن کی شخصیت کی تہہ داریاں اور نفسیاتی الجھنوں کا بیان بھی اس ناول کی ایک اہم خوبی ہے۔ یوں کہانی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے کہ کہیں دلچسپی اورتجسّس ٹوٹتاہوا دکھائی نہیں دیتا۔
چونکہ ناول اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی ۶۵۸۱ءکے طویل عرصہ پر پھیلا ہوا ہے اس لیے انگریزی دور حکومت اور اُن کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر آنا یقینی ہے۔ یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا کوئی ضخیم ناول محض برہنہ حقائق کے سہارے لکھا جا سکتا ہے؟ کیا ناول اور تاریخ میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے تخلیقی عمل کے لیے حقائق تحریک پیدا کرتے ہیں اگر ان حقائق کے ساتھ تخلیق کار کی ذہنی پرواز شامل نہیں ہوگی اُس وقت تک کوئی بھی تخلیق وجود میں نہیں آتی مزید یہ کہ قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے حقائق اورتخیل کے درمیان باہم رشتہ بنائے ہوئے قصہ کا منطقی ربط بر قرار رکھنا بھی ضروری ہے تب ہی قصہ ناول کی فارم میں آتا ہے۔ چونکہ ناول کا کینوس وسیع ہوتا ہے اور اس میں گوناگوں رنگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔مزید برآں ناول صرف ذاتی تسکین کا ذریعہ نہیں اس کا رشتہ قاری سے بھی ہوتا ہے اس لیے مکالمے کا سہارا لینا بھی ضروری ہوتا ہے جو حقائق اور تخیل کی آمیزش سے ایک عمدہ فن پارے کا روپ اختیار کرتا ہے۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اس کی واضح مثال ہے۔
ادبی تاریخ میں ذکر ہے کہ وزیر خانم، مرزا داغ دہلوی کی والدہ ہیں جو حسین و جمیل ہونے کے ساتھ شوخ طبیعت، خوش اخلاق، خوش گفتار خاتون تھیں مصنف نے ان کی فطری خوبیوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خیالی کردار تشکیل دیا، جن سے کردار جُڑتے گئے، واقعات کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ پسِ منظر میں تاریخ، ادب اور معاشرہ کی تفصیل ایک بہترین تخلیق کا ضامن ہوتی۔ واقعات کے انسلاک اور ارتباط سے یہ تاریخی کردار، بڑی حد تک افسانوی بن گیا اور افسانوی فن کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی بڑی تخلیق بننے کے لیے حقیقت کے ساتھ تخیل کی آمیزش ضروری ہے۔ اس طرح مذکورہ ناول میں تاریخی حقائق کے ساتھ تخیل بھی تخلیقی عمل میں شامل رہتا ہے یوں ناول ایک اعلیٰ فن پارہ بن گیا۔
جس طرح ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم، مغلیہ سلطنت کے بتدریج ختم ہوتے ہوئے اقتدار کی علامت بن گیا ہے اسی طرح کہانی بتدریج ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ناول کا وہ حصہ بے حد اہم ہے جس میں ولیم فریزر پر انگریزی حکومت کے جبر،ہٹ دھرمی اورزبردستی کا نقشہ علامت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ناول کو اس نقطہ¿ نظر سے پڑھیے تووزیر خانم کی اپنی زندگی میں پے در پے شکست،ایک عہد کے زوال کی داستان بن جاتی ہے۔
انگریز افسر کیپٹن مارسٹن بلیک کے رشتے سے خانم کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے ۔ پھر نواب شمس الدین خاں والیِ لوہارو و جھرکہ خانم کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں اور نواب مرزا (داغ دہلوی) کی پیدائش ہوتی ہے۔ شمس الدین کوسازشوں کا شکار بناتے ہوئے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ تین بچوں کی ماں، خانم، آغا مرزا تراب علی سے نکاح کر لیتی ہیں۔ اُس وقت داغ گیارہ برس کے تھے۔ رام پور میں بھی قسمت بہت دیر تک ساتھ نہیں دیتی ہے اور وہ دہلی کے لال قلعہ میں مرزا فخرو بہادر کی زوجیت میں داخل ہوکر شوکت محل کہلاتی ہیں۔ ایک بیٹا خورشید عالم پیدا ہوتا ہے۔ ولی عہد ابھی چلنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مرزا فخرو سخت بیمار پڑکر اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔اُن کے انتقال کے بعد ۶۵۸۱ءمیں خانم کو اُن کے بچوں کے ساتھ قلعہ¿ معلّٰی سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔عمر کے اس پڑاو¿ میں وہ قدرِ مطمئن تھیں کہ بقیہ زندگی بےوگی میں گذار کر بچوں کی شاہانہ انداز میں پرورش کریں گی مگر ’کوچ‘ کے حکم نے سکون بھری زندگی کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔اِس ذلّت و رسوائی سے وہ بے حد رنجیدہ تھیں مگرقدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں، انھیں پتہ نہیں تھا کہ قدرت اُنھیں بچا رہی ہے۔ اگلے سال برپا ہونے والے خونی کھیل سے محفوظ ہو گئیں جس میں شہزادوں کے سر قلم ہوتے ہیں اور شاہ کو رنگون میں سسکتے ہوئے دم توڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
مصنف نے اِس فن پارے کے تاریخی ناول ہونے سے انکار کیا ہے جبکہ اس کے سارے کردار تاریخی ہیں جو اپنی شناخت اورمقامی حیثیت رکھتے ہیں۔ناول میں اُس وقت رائج مخصوص زبان ، اپنے منصب، اپنے تہذیبی حوالوں، جس میںکرداروں کا اندازِ گفتگو، لب و لہجہ شامل ہیں،کے ذریعہ اپنا تعارف کراتے ہیں۔ اس فن پارے کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے زمانے میں زبان کے بتدریج ارتقا میں لفظ و آہنگ کی بنیاد پر صورتیں بدلتی ہیں ناول کی زبان میں بھی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو فاروقی کی تحقیقی، تنقیدی اور لسانی صلاحیت کی غماز ہےں۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کے کردار اس زمانے کی زبان، علم و ہنر، منصب اور لیاقت کے ذریعہ اپنی نفسیات اور فطرت کا اظہارکرتے ہیں۔
مذکورہ ناول میں رومان بھی ہے، اسلامی تہذیب کی جھلک بھی ہے، زندگی کے تضادات، خیر و شر کے معرکے، حق و باطل کی جنگ، انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں بھی ہیں۔حقیقی اور تاریخی واقعہ کے ساتھ ضمنی واقعات سے ربط بناتے ہوئے ڈرامائی انداز میں چُست اور برجستہ مکالموں کے ذریعہ کرداروں کو فعال اور جاندار بنانے کی سعی اور کہانی کو مضبوط اور مربوط کرنے کی کاوش بھی ملتی ہے، مجموعی طور پر کہانی کی رفتار میں کہیں بھی جھول نہیں پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی فطری روانی سے چلتی رہتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ فن کار اپنی تخلیقات سے اپنے وجود کو یکسر الگ بھی نہیں رکھ سکتا۔ وہ اپنے کرداروں کے ہر عمل میں کہیں چھپا بیٹھا رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنے کرداروں کے عمل اور ردّ عمل میں بولتا ہے تو کبھی اپنے افکار کو کرداروں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ وہ سارے عمل میں بحیثیت انسان کبھی بھی لا تعلق نہیں رہ سکتا۔”کئی چاند تھے سرِ آسماں“میں فاروقی کا عمق اور اُن کے کثیر المطالعہ ہونے کا احساس ہر جگہ ہوتا ہے۔ ناول میں انسانی کردار، جذبات اور عمل کا اظہار کچھ ایسے تسلسل اور اعتماد کے ساتھ ملتا ہے کہ باوجود ان زمانی و مکانی حدود کے جن کی پابندی ناول کے ماحول ، پلاٹ اور منفرد اشخاص کو کرنی پڑتی ہے ۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے ان زمانی حدود سے ماوریٰ ناول میں ایک وسیع انسانیت اور جذبات کی ایک نئی بصیرت بھی روشن ہے، جو اس ناول کا خاص امتیازہے۔
مذکورہ ناول میں کہیں کہیں داستانی رنگ بھی نمایاں ہے۔ تخیل کی جدّت، علم و آگہی جب تخیل کی نادرہ کاری سے ہم آہنگ ہوتی ہے توایسا عمدہ تخلیقی ناول وجود میں آتا ہے۔ ادبی و تاریخی تحریکات کے شعور کے ساتھ، واقعات سے زیادہ اُن کے اثرات کا جائزہ داخلی زاویہ¿ نگاہ سے تجربات کی روشنی میں لیا گیاہے۔ اسی لیے مذکورہ ناول کو تخلیقی سطح پر ادب کا بہترین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ میں دو سو سال پہلے کی دلّی کی گلیاں، کوچے، محلے، حویلیاں ، اُس زمانے کے لوگوں کی بود و باش، طرز معاشرت، وضع قطع،رہن سہن، زبان، طرزِ کلام، سفر و حضر، ان کی سواریاں، د شواریاں،زندگی کی دقتیں، الجھنیں بڑی تفصیل اور اہتمام سے اس ناول میں نظر آتی ہیں۔ایسا بیانیہ ہے کہ جسے ناول میں سبھی خصوصیات جذب کردی گئی ہوں اُسے کسی ایک قسم کا ناول کہنا مناسب نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کوئی نیا نام و عنوان تلاش کرنا ہوگا۔
پلاٹ و اسلوب بیان کے اعتبار سے یہ ناول موثر ہے۔ اتنے وسیع کینوس پرجہاں کرداروں کا شمار مشکل ہوتا ایک ڈیڑھ صدی سے زیادہ مدّت پر محیط داستان کی تصویر کشی اور منظر نگاری مہارت کے ساتھ اس طرح کی گئی ہے کہ پورے ناول میں کہیں بھی نہ تو روانی متاثر ہوئی، نہ زبان لڑکھڑائی ہے۔ ایک محقق اور ناقد تخلیقی کائنات میں اس شان سے جلوہ گر ہے تو حیرت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں ایک ایسے ہی بڑے ناول کا انتظار تھا جس میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے معاشرتی کوائف کی تصویر کشی ہو۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ہماری اس توقع پر پورا اُترتا ہے۔
————————————————

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

SOCIAL NETWORKING SITES

Articles

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس

ڈاکٹر ذاکر خان

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس

ڈاکٹر ذاکر خان

تغیّرِ حیات جب لمحوں سے تیز تر ہوجائے تب انسانی زندگی پر اِس کے بے شمار اثرات ظاہرہونے لگتے ہیں۔ یہ اثرات سماجی بھی ہوسکتے ہیں، سیاسی ،معاشی اور معاشرتی بھی۔ یوں بھی اکیسویں صدی کو تبدیلیوں کی صدی کہا جاتا ہے جس نے ہمارے ہاتھوں سے ماضی کی میراث چھین کر ہمارے گلے میں نیٹ ورک کا طوق ڈال دیا ہے۔ہوا یوںکہ ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک کے اختلاط سے ایک نئی چیز وجود میں آئی جسے انٹر نیٹ کہا جاتا ہے۔عدم سے وجود میں آتے ہی انٹرنیٹ نے اپنے ہاتھ پیر پسارنے شروع کردیے نتیجتاًبے شمار شوشل نیٹ ورکنگ سائٹس مزاجِ عاشقانہ اور ادائے دلربانہ لیے ہماری زندگی کے شب و روز میں اسطرح داخل ہو گئیں کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہ ہوا۔پچھلی ایک دہائی میں اِس شعبہ میں بے انتہا ترقی ہوئی اور اب یہ تمام سائٹس نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن کر انہیں اپنے دامِ فریب میں گرفتار کرچکی ہیں۔ہمیں ہوش توآیالیکن قدرے تاخیرسے یا یوں کہیے کہ سانپ نکل جانے کے بعد، اب لاٹھی پیٹنا چہ معنی دارد۔لیکن ہم اتنا ضرور بتا سکتے ہیں کہ کس دلکش و خوبرو بلا کو شوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کہا جاتا ہے۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس یعنی ایسی تما م سائٹس جو وقت کا زیاں بھی ہوں اور اپنے استعمال کرنے والوں کو اوروں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی۔لیکن اکثر یہاں بے جوڑ بھی جُڑنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً دہلی جیسے واقعات پنپتے ہیںاور ملک کا سر شرم سے جھک جاتاہے مگر ہمارے رہنمایانِ ملک وملّت کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔مادّہ پرستی کے چڑھتے سورج کو سلام کے مصداق اس سماج میں بے شمار سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی افزائشِ نسل میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی صرف گوگل(GOOGLE)اور یاہو(YAHOO)سرچ انجن ہوا کرتے تھے مگر آج ہم ٹوئیٹر(Twitter)اور فیس بُک(Facebook)سے بھی ہم کلام ہیں۔حیرت بھی نقطۂ عروج پر اُس وقت پہنچ جاتی جبOrkut پر پسند کیا جاتا ہے linked in پر شادی کے پیغام بھیجے جاتے ہیںblogsterپر خوشیاں منائی جاتی ہیں اور my spaceپر تعزیت کی جاتی ہے۔flickerپرہم بچھڑتے ہیں اورclassmatesپر مل بھی جاتے ہیں۔کبھی موت کی خبریں تار سے دی جاتی تھیں مگر آج ٹوئیٹر پر بلاگ لکھ کر موت سے پہلے ہی تعزیت کردی جاتی ہے۔ مجال ہے آپ جو تعزیت میں ہمارے نیتائوں سے بازی ما رلے جائیں۔ نیتا تو پھر نیتا ہی ہیں چاہے وہ شوشہ گر ہوں یا صفر۔ یہ وقت سے پہلے تعزیت بھی کرلیتے ہیں اور غلطی کا احساس ہونے پر معذرت بھی ۔
Flickr,classmates,Blogster,Facebook,hi5,Linked In,My space,Orkut,Twitter اور اِس طرح کی بے شمار سائٹس نے ہمیں اپنا بے دام غلام بنا لیا ہے ۔آج طلبہ مادرِعلمی میں کم اور سائبر کیفوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔کبھی کبھی تو والدین اِن ہی SNSپر پیغام چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ” میرے لال گھر آجائو کھانے کا وقت ہوگیا ہے۔”آج سماج اور معاشرے میں اِن تمام سائٹس نے نشے کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ نشہ بھی ایسا جو منشیات کی طرح چھپ چھپا کر نہیں بلکہ کھلے عام کیا جا رہا ہے۔ اس کے نشے کے شکار صارفین عموماً اس کی علامات سے بے خبر ہیں۔اپنے علاج کی طرف توجہ دینے کی بجائے وہ اپنے آپ کو نارمل قرار دیتے ہیں ۔اِن کی اپنی دنیا ہی اِن کی اپنی جنّت ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ جنّتیں احمقوں کے لیے بھی مخصوص ہوتی ہیں۔منشیات کے عادی اور شوشل سائٹس کے دلدادہ،ان دونوں قسم کے افراد میں بے شمار قدریں مشترک ہوتی ہیں۔نہ اُنہیں وقت کا احساس ہوتا ہے نہ اِنہیں۔ ذمّہ داریوں سے فرار وہاں بھی ہے اور یہاں بھی۔عزیز و اقارب کے لیے تنگئیِ وقت کا عذرِ لنگ وہ بھی کرتے ہیں اور یہ بھی۔اُن کا نشہ بھی باعثِ شرمندگی ہے اور اِن کا نشہ بھی۔نشہ اُن افراد کے لیے بھی جذبات کی تسکین کا سامان ہے اور اِن لوگوں کے لیے بھی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔اس نشے کے نہ ملنے پر دونوں قسم کے افراد بے چینی اور ہیجان کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر سماج اِس ترقی یافتہ دور میں بھی پتھروں کے اُس دور کی یاد تازہ کردیتا ہے جہاں انسانی زندگیاں کوڑیوں کے مول بکا کرتی تھیں۔
اِن سائٹس کو استعمال کرنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس کا ایک سائٹ پر ایک ہی اکائونٹ ہو۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ دو دو اکائونٹ بنائے جاتے ہیں ایک originalاور دوسراfakeایک تو برائے نام ہوتااور دوسرا معشوقہ کے لیے وقف یا تلاشِ محبوبہ کا ذریعہ۔ fake accountتو ہر حال میں fakeہی ہوتا ہے۔یہاں نہ بھائی بہن کا رشتہ ہے نہ ماں بیٹے اور نہ ہی پاپ بیٹی کابس ایک حمام ہیں اور سب ننگے ہیں۔اب کون کتنا ننگا ہے اس بات کا پتہ تو اُس وقت چلتا ہے جب ویب کیم webcamآن ہوتا ہے اور پھر شرم سے گردن یوں جھکتی ہے مانو ریڑھ کی ہڈی ہی نہ ہو۔
عزّت کی خوشبو پھیلنے میں زندگیاں درکار ہوتی ہیں مگرذلّت لمحوں میں میلوں کا سفر طے کرلیتی ہے ۔اِ س معاملے میں بھی یہی ہوا۔ہر خاص و عام میںاِن تمام سائٹس کے مقبول ہونے کے بیشمار اسباب ہیں۔یہاں بھی نشے والی تھیوری کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اوّل اوّل مفت میں خدمات دستیاب کروائی جاتی ہیں۔اس کے استعمال کو آسان بنایا جاتا ہے۔چھوٹے چھوٹے موبائل فون سے لیکر کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ تک اِس سے ہم آہنگ کردیے جاتے ہیںاور جب نوجوان اِس کا عادی ہوجائے تب یہ محبوبہ شانِ بے نیازی کا اظہار کرنے لگتی ہے اور عاشقِ نامراداپنی محبوبہ کو خوش کرنے کے چکر میں خون پسینے کی کمائی ون جی سے لیکر فور جی تک پانی کی طرح بہانے لگتا ہے۔
ہر سکّے کے دو رخ ہوتے ہیں ہر بات کے دو پہلو ہوتے اور وہ مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی۔یہ تمام سائٹس جہاں فحاشی ، عریانیت اور بے راہ روی کو پروان چڑھاتی ہیںوہیں کاروباری تشہیر کے لیے انتہائی زرخیز گردانی جاتی ہیں۔ یقیناًیہ تمام سائٹس روپیوں ،پیسوں کی بربادی اور اصراف کا ذریعہ ہیں لیکن یہی سائٹس آپ کے کاروبار کو مفت یا انتہائی کم خرچ پر منٹوں میں ساری دنیا میں متعارف کرا سکتی ہیں۔یہ سائٹس اگر مغلّظات کا ذریعہ ہیں تو مواصلات کا وسیلہ بھی۔جہاں یہ سائٹس لوگوں کو راہِ راست سے ہٹاتی ہیں وہیں بھٹکوں کو راستہ بھی دکھلاتی ہیں۔بچھڑوں کو ملاتی بھی ہیں۔پھر چاہے وہ کمبھ کے میلے میں بچھڑے ہوں یا تقسیمِ وطن میں۔ اگر ایک طرف یہ سماج کے بگاڑ کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف انقلاب کا ایک پیغام بھی ۔مجھے یقین ہے آپ مصر کے حالات ابھی بھُولے نہیں ہونگے ،جہاں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کے facebookسے دئیے گئے پیغام نے مصر کے برسوں پرانے تخت کو تاراج کردیا۔ ایک مراٹھا لیڈر کی موت کے بعد facebookسے اٹھنے والا تنازعہ بھی آپ کو یاد ہی ہوگا جس نے متعصب عدلیہ اور افسرِشاہی کی چولیں ہلا دیں اور انھیں یہ مان لینے پر مجبور ہونا پڑا کہ دستورِہند نے ہمیں بھی اظہاروبیان کی آزادی دی ہے۔اور بِلا امتیاز اپنی رائے رکھنے اور پسند و ناپسند کا حق دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ یہ سائٹس غلط استعمال کی بناء پر بے شمار دخترانِ ملک وملّت کی بربادی اور آبروریزی کی ذمہ دار ہیںلیکن ان ہی سائٹس نے سیکڑوںکے گھر بھی بسائے ہیں ۔ہزاروں کی امیدیں پوری کی ہیں لاکھوں کو شادی شدہ زندگی کا سکھ بھی دیا ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ یہاں hackersہئکرس آپ کی خوشیاں تک چھین لینے کے درپے ہیں لیکن ان ہی سائٹس پرایسے ادارے بھی ہیں جو سخاوت اور فیاضی میں اپنی مثال آپ ہیں۔یہ سائٹس صرف حواس چھینے کا ذریعہ ہی نہیں اچھے کاموں کی ترغیب دینے کا وسیلہ بھی ہے۔ اِن سائٹس پر امڈتا ہوا فحاشی اور عریانیت کا سیلِ رواں ہونے کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہیں جو قندیلِ حرم جلا کر بے راہ رئوں کی رہبری کر رہے ہیں۔کفر اور ظلمت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ایمان و یقین کی مشعلیں جلائے ہوئے ہیں۔ضمیر فروشی اور ابن الوقتی کے دور میں ہمدردی اور ایثار کا پیکر بنے ہوئے ہیں۔
انسانی زندگی روزِ ازل سے ہی تضاد کا شکار رہی ہے۔یہاں ہابیل بھی ہے اور قابیل بھی، کرامن بھی اور کاتبین بھی، منکر بھی ہیں اور نکیر بھی، خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی، خوشحالی بھی ہے اور بدحالی بھی،یہاں عیش وعشرت بھی ہے اور بھکمری و تنگ دستی بھی،عقلمند وہ ہے جو عیوب میں ہنر ڈھونڈ لے،خرابیوں سے اچھائی باہر نکالے، ظلمت میں نور تلاش کرے،سیاہ رات کی بجائے روشن سویرے کا استقبال کرے کیونکہ Every cloud has silver liningماضی پر ماتم کر کے مستقبل سنوارا نہیں جا سکتا۔برائیوں کے ڈر سے اچھائیوں کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔صرف نقصانات گِنوا کر ہم فوائد سے کنارا کشی اختیار نہیں کرسکتے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ:
فرق آنکھوں میں نہیں فرق ہے بینائی میں
عیب بیں عیب ،ہنرمند ہنر دیکھتے ہیں

 

Ghazal : Tarjumanul AS’R BY DR. ZAKIR KHAN ZAKIR

Articles

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل کی پشت برسہا برس کی تاریخ اور عظیم روایتوں کے بوجھ کو سنبھالے ہوئے ہے۔دنیا کی تمام اصنافِ سخن میں غزل کی طرح مقبولیت کسی اور صنفِ سخن کو حاصل نہیں ہوئی۔وہ تمام شعراء جنھوں نے غزل کو عروج بخشا، سماج اور معاشرے نے انھیں بھی اوجِ ثریّا پر پہنچا دیا۔غزل عہدِ حاضر کے تقاضوں کو حتیٰ المقدور پورا بھی کرتی ہے اور انتہائی شاندار روایتوںکو نا صرف برقرار رکھتی ہے بلکہ اپنی شناخت بھی قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ اردو غزل ہی ہے جو کبھی محبوب و معشوق کے دلوں کی آواز ہوا کرتی تھی جس سے عاشقی کے تار جھنجھنا اٹھتے تھے آج یہی غزل رومانیت،محبوبیت اور اعشاریت کو پیکر بنا لینے کے باوجود عہدِ حاضر میں ہونے والی تمام تر تبدیلیوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ حالات سازگار نہ ہو تو شاعر کے دل سے نکلی ہوئی آواز غزل کے شعر کا پیکر بنتی ہے اور یہ کہہ اٹھتی ہے
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول ساز گار نہیں
حالی اور اقبال نے غزل کو حدیثِ دلبراں سے صحیفہء کائنات بنایاہے۔ آج غزل کے پاس شاعر انقلاب، شاعرِ شباب، امامِ یاسیئت، فردوسیہء اسلام ،شاعرِ مزدور، یگانہء روزگار، شاعرِ رومان، شاعرِ مشرق، جانشینِ داغ اور رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی عظیم روایات ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو آرائشِ خم وکاکل اور اندیشہ ہائے درودراز ہماری زندگی کے محور ہیں اور یہی غزل کی بساط بھی، ادب ہماری زندگی کی عکاسی کرتا ہے بقول ڈاکٹر قمر رئیس”احساسات کی بے نام پرچھائیاں اپنی ذات اور تجربات کے تناظر میں واضح روپ اختیار کرتی ہیں تو غزل کی تہہ داریاں بڑھ جاتی ہیں”یہ غزل کی ہمہ جہتی کا اعتراف ہی ہے۔ لفظیات اور اسالیب و الائم تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن بنتے ہیں تب شعر کے پیکر میں ڈھلتے ہیں۔ انسان جس قدر نہاں خانہء دل میں نظر ڈالتا ہے اتنا ہی نیا ہوتا اسکا ایمان تازہ ہوتاہے۔
بے گھری کا دکھ اور لامکانی کا غم روزِ آفرینش سے ہی اولادِ آدم کی میراث ہے۔ اسی سبب اس کو روح کو قرار نہیں، اسے دکھ ہوتا ہے کہ آرزومند آنکھیں، بشارت طلب دل اور دعائوں کو اٹھتے ہوئے ہاتھ بے ثمر ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے شاعری کو پیمبری اور شاعر کو قوم کی آنکھ کہا ہے جو دکھ پر چینخ اٹھتی ہے ، ہر کرب پر چھلک پڑتی ہے تب ہی تو امیر مینائی بھی کہتے ہیں
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اسی خیال کو انیسؔ اپنے انداز میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہردم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینے کو
فرقہ وارانہ فسادات ہمارے اس دور کا المیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد سانحے کے تناظر میں نظم کا جیالا شاعر کیفی ؔ ،غزل ہی کے پیرائے میں کہتا ہے
اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا چلن تم سکھا تو چلے
اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پائوں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بتا تو چلے
بیلچے لائو کھودو زمیں کی تہیں
مَیں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
آل احمد سرور کہتے ہیں کہ “مَیں غزل کو اردو شاعری کی آبرو سمجھتا ہوں، ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب میں ڈھلی ہوئی ہے”غزل حسن و عشق کی داستان بھی ہے اور کاکل و رخسار کا قصّہ بھی، یہ ہجرووصال کی کہانی بھی ہے اور غمِ روزگار کی حکایت بھی، بیک وقت مسرت و شادمانی کا نغمہ بھی ہے اور یاس و حرماں نصیبی کا تذکرہ بھی۔ وہ کون سا عصری جذبہ ہے جو شرمندہء اظہار نہیں؟ وہ کون سا احساس ہے غزل نے جس کی ترجمانی نہ کی ہو؟ہمارے دکھ سکھ، ارمان و آرزومندی کی موثر عکاسی غزل کے اشعار ہی سے ہوتی ہے۔ افتخار عارف کہتا ہے کہ
ہوس لقمہء تر کھا گئی لہجوں کا جلال
اب کسی حرف کو حرمت نہیں ملنے والی
یا
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
غزل نے عہدحاضر کے ہر تقاضے کو چھوا ہے۔ آج غزل دامنِ محبوبیت سے نکل کر سسکتی، چینختی، چلّاتی انسانیت کی غمازی بھی کرتی ہے۔ وہ بھوک اور افلاس پر، جنگ و جدال پر، رونے چینخنے اور چلّانے پر ، اناج پر، پیاز پر، بدحالی اور بے قراری پر، غرض انسانی زندگی کے جتنے مسائل ہیں اسے غزل نے پگڈنڈیوں سے نکال کر شاہراہِ عظیم پر لے آیا ہے۔ اپنے لوچ، اپنی گہرائی و گیرائی، تاثر اور تاثیر کی بنا پر غزل نے ان مسائل میں ایک نئی روح، ایک نئی تحریک اور ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔
ہم غزل کو صرف غزل ہی کی طرز پر دیکھتے ہیں یہی ہماری اصل بھول ہے۔ غزل نے ہمیشہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کا حق ادا کیا اور ہر اعتبار سے ببانگِ دہل نعرہء انقلاب بلند کیا ہے۔ وہ غریبوں کی جھونپڑیوں سے سسکنے والی صدائوں کو ایوانوں میں پہنچانے کاکام کرتی ہے۔ غریبوں اور مزدوروں کو احترامِ زندگی سکھاتے ہوئے کہتی ہے
سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
وزراء کا طمطراق، زندگی کے نشیب و فراز، اہلِ امن کی امن پسندیاں، مذہبی عقائد، اسلاف کی روایات، اقدار کی پامالی، اخلاق کا فقدان، اندھے عقائد اور ہماری توہم پرستیوں جیسے موضوعات پر غزل لب کشائی کرتے ہوئے کہتی ہے
لوگ پیپل کے درختوں کو خدا کہنے لگے
مَیں تو بس دھوپ سے بچنے کو یہاں آیا تھا
وہ لوگ جو اپنے آپ کو صاحبِ ثروت وزیروں اور درندہ صفت امیروں کی صف میں کھڑا کرتے ہیں، جن کے لیے انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں، وہ لوگ جن کے نزدیک بیوائوں کے آنسوئوں کی کوئی قیمت نہیں، جو مظلوم کی آہوں پر اپنے کان بند کرلیتے ہیںاور انسانیت کو اپنے پیروں تلے کچل دیتے ہیں۔ غزل ان سے مخاطب ہوکر کہتی ہے
عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے
یہ ہوا کتنے چراغوں کو بجھا دیتی ہے
غزل نے عصرِ حاضر کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ اس نے مجبوریوں کا ذکرکیا، بے ایمانیوں کو سڑکوں پر لایا، بدکاریوں کا پردہ فاش کیا، مزدوروں کو صف آرا کیا، حکومتوں کو تبدیل کیا، رشوت ستانی کے خلاف آواز میں آواز ملائی اور شیطانیت سے برسرِپیکار رہی ہے۔ غرض دورِ حاضر کے ہر شعبہ ہائے حیات پر غزل نے حقیقت بیانی سے کام لیا۔ نفرت کے خلاف محبت کے میٹھے راگ الاپے ہیں۔ خوشی مسرت اور انسانیت کے نغمے گائے ہیں۔
غزل نے اہلِ سیاست کو سیاست کا گردیا، اہلِ علم کو سچی علمیت سے آگاہ کیا، مجبوروں اور بے کسوں کی دادرسی کرتے ہوئے حقیقت کو اس انداز سے آشکار کیا کہ پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی اشکبار ہوجائیں۔
جس طرح لوگ الگ الگ طرزِ فکر اور روش اختیار کرتے گئے، غزل اسی طرح اپنا انداز اور لب و لہجہ بدلتی گئی۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی۔ روز اوّل ہی سے ادب مختلف تحریکوں کا حصّہ رہا ہے اور غزل ہر تحریک کا بساط بھر ساتھ دیتی رہی ہے۔غزل کی عظیم روایات ہماری میراث ہیں، اس کی بقا و پرورش ہماری ادبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Intekhab e kalam Shahid Lateef

Articles

انتخابِ کلام شاہد لطیف

شاہد لطیف

انتخابِ کلام شاہد لطیف

غزلیں
یہ جو ربط رو بہ زوال ہے ، یہ سوال ہے
مجھے اس کا کتنا ملال ہے ؟ یہ سوال ہے
یہ جو سر پہ میرے وبال ہے ، یہ سوال ہے
یہ جو گرد و پیش کا حال ہے ، یہ سوال ہے
مجھے کیا غرض مرے دشمنوں کا ہدف ہے کیا
مرے پاس کون سی ڈھال ہے ؟ یہ سوال ہے
مرے سارے خواب ہیں معتبر ، میں ہوں در بہ در
یہ عروج ہے کہ زوال ہے ؟ یہ سوال ہے
مرے ہاتھ شل ، مرے پائوں شل ، مری عقل گم
کوئی اور اتنا نڈھال ہے ؟ یہ سوال ہے
مرا ماضی کتنا امیر تھا ، میں غریب ہوں
کوئی یہ بھی ماضی و حال ہے ؟ یہ سوال ہے
کوئی ہے جو مجھ سا عظیم ہو ، جو فہیم ہو؟
یہ سوال کوئی سوال ہے ؟ یہ سوال ہے
نئے عہد کی یہ ترقیاں ، یہ تجلیاں
کوئی اس میں میرا کمال ہے ؟ یہ سوال ہے
وہ صدا نہ تھی وہ تو جذب تھا ، وہ تو عشق تھا
مری صف میں کوئی بلالؓ ہے ؟ یہ سوال ہے
٭٭٭
سوچ اندھی ہے ابھی تک علم و فن کے باوجود
ہم برہنہ تن پھرے ہیں پیرہن کے باوجود
روز و شب کی الجھنوں میں اک خیالِ دل نشیں
تازہ دم ہے زندگی ذہنی تھکن کے باوجود
موت اک زندہ حقیقت ، طے شدہ اک حادثہ
زندگی بے دست و پا لاکھوں جتن کے باوجود
ناکشادہ ذہن و دل ، ہاتھوں کے خالی پن کے ساتھ
ہم ادھورے ہی رہے پورے بدن کے باوجود
سب سے ملنا لازمی ہے دوستی کے جرم میں
خوش کلامی شرط ہے دل کی جلن کے باجود
پھول کی سانسوں میں شاہد اپنی سانسیں جوڑ کر
تازگی محسوس کرتے ہیں گھٹن کے باوجود
٭٭٭
ایک اک موج کو سونے کی قبا دیتی ہے
شام سورج کو سمندر میں چھپا دیتی ہے
ایک چہرہ مجھے روزانہ سکوں دیتا ہے
ایک تصویر مجھے روز رُلا دیتی ہے
عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے
یہ ہوا کتنے چراغوں کو بجھا دیتی ہے
لوگ آتے ہیں ، ٹھہرتے ہیں ، گذر جاتے ہیں
یہ زمیں خود ہی گذرگاہ بنا دیتی ہے
کسی چہرے میں نظر آتا ہے کوئی چہرا
کوئی صورت کسی صورت کا پتہ دیتی ہے
نیل میں راستہ بننا تو ہے دشوار مگر
میری غیرت مرے ہاتھوں میں عصا دیتی ہے
٭٭٭
کوئی لہجہ ، کوئی جملہ ، کوئی چہرا نکل آیا
پرانے طاق کے سامان سے کیا کیا نکل آیا
بظاہر اجنبی بستی سے جب کچھ دیر باتیں کیں
یہاں کی ایک ایک شے سے مرا رشتا نکل آیا
مرے آنسو ہوئے تھے جذب جس مٹی میں ، اب اُس پر
کہیں پودا ، کہیں سبزہ ، کہیں چشما نکل آیا
خدا نے ایک ہی مٹی سے گوندھا سب کو اک جیسا
مگر ہم میں کوئی ادنیٰ ، کوئی اعلیٰ نکل آیا
سبھی سے فاصلہ رکھنے کی عادت تھی ، سو اب بھی ہے
پرایا کون تھا جو شہر میں اپنا نکل آیا
نئے ماحول نے پہچان ہی مشکوک کر ڈالی
جو بے چہرا تھا کل تک اس کے بھی چہرا نکل آیا
٭٭٭

اک عذاب ہوتا ہے روز جی کا کھونا بھی
رو کے مسکرانا بھی ، مسکرا کے رونا بھی
رونقیں تھی شہروں میں ، برکتیں محلوں میں
اب کہاں میسر ہے گھر میں گھر کا ہونا بھی
دل کے کھیل میں ہردم احتیاط لازم ہے
ٹوٹ پھوٹ جاتا ہے ورنہ یہ کھلونا بھی
دیدنی ہے ساحل پر یہ غروب کا منظر
بہہ رہا ہے پانی میں آسماں کا سونا بھی
رات ہی کے دامن میں چاند بھی ہیں تارے بھی
رات ہی کی قسمت ہے بے چراغ ہونا بھی
وقت آپڑا ایسا ، وقت ہی نہیں ملتا
چھٹ گیا ہے برسوں سے اپنا رونا دھونا بھی
٭٭٭
لوگ حیران ہیں ہم کیوں یہ کیا کرتے ہیں
زخم کو بھول کے مرہم کا گلا کرتے ہیں
کبھی خوشبو ، کبھی جگنو ، کبھی سبزہ ، کبھی چاند
ایک تیرے لیے کس کس کو خفا کرتے ہیں
ہم تو ڈوبے بھی ، نکل آئے بھی ، پھر ڈوبے بھی
لوگ دریا کو کنارے سے تکا کرتے ہیں
ہیں تو میرے ہی قبیلے کے یہ سب لوگ مگر
میری ہی راہ کو دُشوار کیا کرتے ہیں
ہم چراغ ایسے کہ امید ہی لَو ہے جن کی
روز بجھتے ہیں مگر روز جلا کرتے ہیں
وہ ہمارا در و دیوار سے مل کر رونا
چند ہمسائے تو اب تک بھی ہنسا کرتے ہیں
٭٭٭
کہیں پہ ٹھنڈی ہوائیں ہوں گی کہیں کوئی آبشار ہوگا
کبھی جو ہمراہ چل سکو تو سفر بہت خوشگوار ہوگا
میں شام ہوتے ہی اپنی ساری اُداسیوں کو سمیٹتا ہوں
یہ جانتا ہوں کہ کوئی لمحہ مرے لیے بے قرار ہوگا
عروج کیا ہے زوال کیا ہے ، یہ جان لوگے تو دیکھ لینا
زمانہ آئے گا جب زمانہ قدم قدم پر نثار ہوگا
محبتوں کی ہزار صبحیں ، رفاقتوں کی ہزار شامیں
تمہاری راہوں میں بجھ گئی ہیں ، تمہیں کہاں اعتبار ہوگا

Intekhab e kalam Shahryar

Articles

انتخابِ کلام شہریار

شہریار

انتخابِ کلام شہریار

غزلیں
شمع دل ، شمع تمنا نہ جلا مان بھی جا
تیز آندھی ہے مخالف ہے ہوا مان بھی جا
ایسی دنیا میں جنوں ، ایسے زمانے میں وفا
اس طرح خود کو تماشا نہ بنا مان بھی جا
کب تلک ساتھ ترا دیں گے یہ دھندلے سائے
دیکھ نادان نہ بن میرا کہا مان بھی جا
زندگی میں ابھی خوشیاں بھی ہیں رعنائی بھی
زندگی سے ابھی دامن نہ چھڑا مان بھی جا
شہر پھر شہر ہے یاں جی تو بہل جاتاہے
شہرسے بھاگ کے صحراکو نہ جا مان بھی جا
پھر نہ کچھ ہوگا اگر بعد میں پچھتایا تو
وقت ہے اب بھی ذراہوش میں آ مان بھی جا
٭٭٭
کس کس طرح سے مجھ کو نہ رسواکیاگیا
غیروں کا نام میرے لہو سے لکھا گیا
نکلا تھا میں صدائے جرس کی تلاش میں
دھوکے سے اس سکوت کے صحرا میں آگیا
کیوں آج اس کا ذکرمجھے خوش نہ کرسکا
کیوں آج اس کا نام مرا دل دکھا گیا
میں جسم کے حصار میں محصور ہوں ابھی
وہ روح کی حدوں سے بھی آگے چلا گیا
اس حادثے کو سن کے کرے گا یقیں کوئی
سورج کو ایک جھونکا ہوا کا بجھا گیا
٭٭٭
دل میں رکھتاہے نہ پلکوں پہ بٹھاتاہے مجھے
پھربھی اس شخص میں کیاکیا نظرآتاہے مجھے
ساری آوازوںکو سناٹے نگل جائیں گے
کب سے رہ رہ کے یہی خوف ستاتاہے مجھے
یہ الگ بات کہ د ن میں مجھے رکھتاہے نڈھال
رات کی زد سے تو سورج ہی بچاتاہے مجھے
اک نئے قہر کے امکان سے بوجھل ہے فضا
آسماں دھند میں لپٹا نظر آتا ہے مجھے
تذکرہ اتنا ہوا روح کی آلودگی کا
جسم صد چاک بھی آئینہ دکھاتا ہے مجھے
٭٭٭
زخموں کو رفو کرلیں دل شاد کریں پھرسے
خوابوں کی نئی دنیا آباد کریں پھرسے
مدت ہوئی جینے کا احساس نہیں ہوتا
دل ان سے تقاضا کر بیداد کریں پھرسے
مجرم کے کٹہرے میں پھرہم کو کھڑا کردو
ہو رسمِ کہن تازہ فریاد کریں پھرسے
اے اہل جنوںدیکھو زنجیر ہوئے سائے
ہم کیسے انہیں، سوچو، آزاد کریں پھرسے
اب جی کے بہلنے کی ہے ایک یہی صورت
بیتی ہوئی کچھ باتیں ہم یاد کریں پھرسے
٭٭٭
وحشتِ دل تھی کہاں کم کہ بڑھانے آئے
کس لیے یادہمیں بیتے زمانے آئے
دشت خالی ہوئے زنجیر ہوئے دیوانے
تھی خطا اتنی کہ کیوںخاک اڑانے آئے
کیاعجب رسم ہے ، دستوربھی کیاخوب ہے یہ
آگ بھڑکائے کوئی ، کوئی بجھانے آئے
وقت کی بات ہے یہ بھی کہ مکاںخوابوںکا
جس نے تعمیرکیاہو وہی ڈھانے آئے
کوئی آسان نہیں ترکِ تعلق کرنا
بزمِ اغیارمیں یاروںکو بھلانے آئے
نقش کچھ اب بھی سرجادۂ دل باقی ہیں
تیزآندھی سے کہو ان کومٹانے آئے
٭٭٭
بند دروازوںکوجب جب دستکیں سہلائیں گی
بھولی بسری ساری باتیں دیرتک یادآئیں گی
نائو کاغذکی بنانے میںہیں بچے منہمک
پانیوںسے یہ ڈھکی سڑکیں کہاںتک جائیں گی
کون ان کے واسطے روشن کرے گا راستے
ہم سے بچھڑیں گی تو یہ پرچھائیاں پچھتائیں گی
عکس اک ٹھہرا ہوا ہے کب سے سطحِ آب پر
تیزطوفانی ہوائیں کب ادھر کوآئیں گی
٭٭٭

ہم کو جس دن نہ زمانے سے شکایت ہوگی
خود سے شرم آئے گی یا تجھ سے ندامت ہوگی
ایک دن آئے گا جب آنکھیںہی آنکھیں ہوںگی
اورہرآنکھ میں بیداری کی لذت ہوگی
کس کی دستک ہے کہ دروازے کوسہلاتی ہے
اورکون آئے گا یاں، ہجرکی ساعت ہوگی
وہ ادھر اوس کی اک بوند نظر آتی ہے
جانے کس شخص کی پلکوںکی امانت ہوگی
مٹھیاںریت سے بھرلوکہ سمندرمیں تمھیں
اک نہ اک روز جزیروں کی ضرورت ہوگی
٭٭٭
شدید پیاس تھی پھربھی چھوانہ پانی کو
میں دیکھتارہا دریاتری روانی کو
سیاہ رات نے بے حال کردیا مجھ کو
کہ طول دے نہیں پایاکسی کہانی کو
بجائے میرے کسی اور کا تقرر ہو
قبول جو کرے خوابوں کی پاسبانی کو
اماں کی جا ، مجھے اے شہر، تونے، دی توہے
بھلا نہ پائوں گا صحرا کی بیکرانی کو
جو چاہتا ہے کہ اقبال ہو سوا تیرا
تو سب میں بانٹ برابر سے شادمانی کو
٭٭٭
دیکھتے ہی دیکھتے ہر شئے یہاں فانی ہوئی
لمحۂ آیندہ کو کتنی پشیمانی ہوئی
لوگ کہتے ہیں کہ کل یہ شہر بھی آباد تھے
حکمراں کب اور کیسے ان پہ ویرانی ہوئی
معجزو ں کی منتظر آنکھیں رہیں شام وسحر
اس زمانے میںہمیں سے بس یہ نادانی ہوئی
تم کو اس بے بادباں کشتی پہ کتنا ناز ہے
وہ اُدھر دیکھو ندی کچھ اور طوفانی ہوئی
ہر قدم پر موڑ تھے، ہر موڑ پر منظر نئے
عمر کی اک ایک ساعت صرفِ حیرانی ہوئی
٭٭٭
جستجو جس کی تھی اس کو تو نہ پایا ہم نے
اس بہانے سے مگر دیکھ لی دنیا ہم نے
سب کا احوال وہی ہے جو ہمارا ہے آج
یہ الگ بات کہ شکوہ کیا تنہا ہم نے
خود پشیمان ہوئے اس کو پشیماں نہ کیا
عشق کی وضع کو کیا خوب نبھایا ہم نے
عمر بھر سچ ہی کہا ، سچ کے سوا کچھ نہ کہا
اجر کیا اس کا ملے گا یہ نہ سوچا ہم نے
کو ن سا قہر یہ آنکھوں پہ ہوا ہے نازل
ایک مدت سے کوئی خواب نہ دیکھا ہم نے

نظمیں

نیند سے آگے کی منزل

خواب کب ٹوٹتے ہیں
آنکھیں کسی خوف کی تاریکی سے
کیوں چمک اٹھتی ہیں
دل کی دھڑکن میں تسلسل نہیں باقی رہتا
ایسی باتوں کو سمجھنا نہیں آساں کوئی
نیند سے آگے کی منزل نہیں دیکھی تم نے

 

شب بیداری کی حمایت میں

اے ہم نفسوکچھ سوچو
آنکھیں کھولو اور دیکھو
یہ بنجر رات تمھارے
سب خوابوں کی دشمن ہے
تم اپنی شب بیداری
اس کے ہاتھوں مت بیچوں

Intekhab e Kalam Yas Yagana Changezi

Articles

انتخابِ کلام یگانہ چنگیزی

یگانہ چنگیزی

انتخابِ کلام یگانہ چنگیزی

غزلیں
ادب نے دل کے تقاضے اٹھائے ہیں کیا کیا؟
ہوس نے شوق کے پہلو دبائے ہیں کیا کیا؟
نہ جانے سہوِ قلم ہے کہ شاہکارِ قلم
بلائے حسن نے فتنے اٹھائے ہیں کیاکیا؟
نگاہ ڈالی دی جس پر، وہ ہوگیا اندھا
نظر نے رنگِ تصرّف دکھائے ہیں کیا کیا؟
پیامِ مرگ سے کیا کم ہے مژدۂ ناگاہ
اسیر چونکتے ہیں تلملائے ہیں کیاکیا؟
پہاڑ کاٹنے والے ، زمیں سے ہار گئے
اسی زمین میں دریا سمائے ہیں کیا کیا؟
بلند ہو کے کُھلے تجھ پہ زور پستی کا
بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیاکیا؟
خدا ہی جانے یگانہؔ! میں کون ہوں کیا ہوں؟
خود اپنی ذات پہ، شک دل میں آئے ہیں کیا کیا؟
٭٭٭
کون جانے وعدۂ فردا وفا ہوجائے گا
آج سے کل تک خدا معلوم کیا ہو جائے گا
بڑھتے بڑھتے اپنی حد سے بڑھ چلا دستِ ہوس
گھٹتے گھٹتے ایک دن دستِ دعا ہوجائے گا
ہے ذرا سی ٹھیس کا مہماں حبابِ جاں بہ لب
اک اشارے میں ہوا کے دم فنا ہو جائے گا
سانس لیتا ہوں تو آتی ہے صدائے بازگشت
کون دن ہوگا کہ اک نالہ رسا ہوجائے گا
کیا سمجھتے تھے یگانہؔ محرمِ رازِ فنا
غرق ہوکر آپ اپنا ناخدا ہوجائے گا
٭٭٭
قفس میں بوئے مستانہ بھی آئی دردِ سر ہوکر
نویدِ ناگہاں پہنچی ہے مرگِ منتظر ہو کر
زمانے کی ہوا بدلی نگاہِ آشیاں بدلی
اٹھے محفل سے سب بیگانۂ شمعِ سحر ہوکر
کہاں پر نارسائی کی ہے پروانوں کی قسمت نے
پڑے ہیں منزلِ فانوس پر بے بال وپر ہوکر
خدا معلوم اس آغاز کا انجام کیا ہوگا
چھڑا ہے سازِ ہستی مبتدائے بے خبر ہوکر
مبارک نام ِ آزادی ،سلامت دامِ آزادی
دعائیں دوں کسے یارب اسیرِ بال و پر ہوکر
نگاہِ یاس ؔکا عالم جو آگے تھا سو اب بھی
ہزاروں گل کھلے بازیچۂ شام و سحر ہوکر
٭٭٭
دل لگانے کی جگہ عالمِ ایجاد نہیں
خواب آنکھوں نے بہت دیکھے مگر یاد نہیں
تلملانے کا مزہ کچھ نہ تڑپنے کا مزہ
ہیچ ہے دل میں اگر دردِ خداداد نہیں
سر شوریدہ سلامت ہے مگر کیا کہیے
دستِ فرہاد نہیں تیشۂ فرہاد نہیں
نکہتِ گل کی ہے رفتار ،ہوا کی پابند
روح قالب سے نکلنے پہ بھی آزاد نہیں
فکرِ امروز نہ اندیشۂ فردا کی خلش
زندگی اس کی جسے موت کا دن یاد نہیں
٭٭٭
ہے جان کے ساتھ اور ایمان کا ڈر بھی
وہ شوخ کہیں دیکھ نہ لے مڑکے ادھر بھی
وہ کشمکشِ غم ہے کہ میں کہہ نہیں سکتا
آغاز کا افسوس اور انجام کا ڈر بھی
دیکھے کوئی جاتی ہوئی دنیا کا تماشا
بیمار بھی سر دھنتا ہے اور شمع سحر بھی
صحرا کی ہوا کھینچے لیے جاتی ہے مجھ کو
کہتا ہے وطن دیکھ ذرا پھر کے ادھر بھی
کیا وعدۂ دیدار کو سچ جانتے ہو یاسؔ
لو فرض کرو آئی قیامت کی سحر بھی
٭٭٭
انوکھی معرفت اندھوں کو حاصل ہوتی جاتی ہے
حقیقت تھی جو کل تک آج باطل ہوتی جاتی ہے
بلندی کیا ہے پستی کیا، ہوا کی کار فرمائی
سراسر موجِ دریا غرقِ ساحل ہوتی جاتی ہے
کہاں لے جائے گی یہ وسعتِ آفاق کیا جانے
مکان و لا مکاں سے دور منزل ہوتی جاتی ہے
مجھے دیکھو تو سمجھو حسن کے معنیِ وجدانی
وہ معنی جس سے روشن خلوت ِ دل ہوتی جاتی ہے
یگانہؔ لکھنؤ کی سیر کر آتے تو اچھا تھا
طبیعت سان پر چڑھنے کے قابل ہوتی جاتی ہے
٭٭٭
جان پیاری ہے حیاتِ جاوداں پیاری نہیں
زندگی کیا موت کی جب گرم بازاری نہیں
صبر کہتا ہے کہ رفتہ رفتہ مٹ جائے گا داغ
دل یہ کہتا ہے کہ بجھنے کی یہ چنگاری نہیں
جلوہ گر رہنے لگا چشمِ تصور میں کوئی
حضرتِ دل بے سبب راتوں کی بیداری نہیں
چھوڑ کر جائیں کہاں اب اپنے ویرانے کو ہم
کون سی جا ہے جہاں حکمِ خزاں جاری نہیں
جھیل لیں گے ہجر کے مارے قیامت کا بھی دن
آج کی شب تو کٹے پھر کوئی دشواری نہیں
٭٭٭
ازل سے سخت جاں آمادۂ صد امتحاں آئے
عذابِ چند روزہ یا عذابِ جاوداں آئے
بہارستانِ عبرت میں یہ گل کیا خار کیا خس کیا
سراپا سب کے سب آلودۂ رنگِ خزاں آئے
حق اپنی دھن کا پکّا باطل اپنے زعم میں پورا
الہیٰ گفتگوئے صلح کیوں کر درمیاں آئے
خیالِ خام ہے یا معنیِ موہوم کیا جانیں
سمجھ میں رازِ فردا کیوں نصیبِ دشمناں آئے
حریمِ ناز کیا ہے جلوہ گاہِ بے تماشا ہے
نگاہِ یاسؔ کہتی ہے کدھر آئے کہاں آئے
رباعیات

دل کیا ہے اک آگ ہے دہکنے کے لیے
دنیا کی ہوا کھاکے بھڑکنے کے لیے
یا غنچۂ سربستہ چٹکنے کے لیے
یا خار ہے پہلو میں کھٹکنے کے لیے
٭٭٭
منزل کا پتہ ہے نہ ٹھکانا معلوم
جب تک نہ ہو گم ، راہ پہ آنا معلوم
کھولیتا ہے انسان تو کچھ پاتا ہے
کھویا ہی نہیں تونے تو پانا معلوم
٭٭٭
کیوں مطلبِ ہستی و عدم کھُل جاتا
کیوں رازِ طلسمِ کیف و کم کھُل جاتا
کانوں نے جو سن لیا وہی کیا کم ہے
آنکھیں کھلتیں تو سب بھرم کھُل جاتا
٭٭٭
صیّادِ ازل کی شعبدہ کاری ہے
آزادی کیا ، عین گرفتاری ہے
اسرارِ طلسمِ زندگی کیا کہیے
یہ رات کٹی تو کل کا دن بھاری ہے
٭٭٭
چارہ نہیں جلتے رہنے کے سوا
سانچے میں فنا کے ڈھلتے رہنے کے سوا
اے شمع تری حیاتِ فانی کیا ہے
جھونکا کھانے سنبھلتے رہنے کے سوا
٭٭٭
تھمنے کا نہیں قافلۂ موجِ سراب
کٹنے کا نہیں مرحلۂ موجِ سراب
آغاز ہی آغاز ہے انجام کجا
عالم ہے عجب سلسلۂ موجِ سراب
٭٭٭
ہوں صید کبھی اور کبھی صیاد ہوں میں
کچھ بھی نہیں بازیچۂ اضداد ہوں میں
مختار مگر اپنی حدوں میں محدود
ہاں وسعتِ زنجیر تک آزاد ہوں میں
٭٭٭
ہر رنگ کو کہتا ہے فریبِ نظری
ہر بو کو ہوائے منزلِ بے خبری
ہر حسن کو فلسفی کی آنکھوں سے نہ دیکھ
دشمن کو مبارک ہو یہ بالغ نظری
٭٭٭
یارانِ چمن یہ رنگ و بو مجھ سے ہے
تم سے کیا ہوگا لکھنؤ مجھ سے ہے
میں جانِ سخن ہوں بلکہ ایمانِ سخن
دنیائے ادب کی آبرو مجھ سے ہے

Articles

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا تعلق Austro Asiaticلسانی خانوادے کی شاخ Mundaکی ذیلی شاخ Hoاور Mundariسے ہے۔ یہ ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہندوستان میں یہ جھارکھنڈ، آسام، بہار، اڑیسہ ، تری پورہ، میزورم اور مغربی بنگال کے مخصوص علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد 2011کی مردم شماری کے مطابق 63لاکھ ہے۔ اس کا رسم الخط Ol Chikiکہلاتا ہے اور اس کی ایک ذیلی اسلوب یا بولی Mahaliبھی ہے جو خاصی تعداد میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میںGregory David Shelton Andersonاس بابت تحریر کرتے ہیں کہ:
”سنتھالی زبان کا تعلق لسانی خانوادے Mundaسے ہے۔ یہ زبان ہندوستان کے وسط مشرق اور شمال مشرق کے جھارکھنڈ، آسام، بہار ، اڑیسہ اور تریپورہ وغیرہ میں بولی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں پچاس لاکھ، بنگلہ دیش میں دس لاکھ اور نیپال میں تقریباً پچاس ہزار تھی۔“(1)
انیسویں صدی تک سنتھالی زبان صرف ایک بولی کی حیثیت رکھتی تھی۔ تاریخ، کہانیاں، گیت وغیرہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری تک منتقل ہوتے رہے۔ یورپی نو آبادیات کاروں نے اپنی انتظامی ضرورتوں کے تحت جب ہندوستانی زبانوں میں دلچسپی لینی شروع کی تو اسی دلچسپی کے نتیجے میں سنتھالی زبان کو تحریر کرنے کے لیے دیوناگری اور رومن رسم الخط کا استعمال کیا جانے لگا۔1860کے بعد یورپی بیورکریٹس اورمشنری نے سنتھالی زبان کی ڈکشنری ، تراجم ، لوک کہانیاں ، صرف و نحواور سنتھالی حروف تہجی پر خاصا کام کیا۔ 1970میں پنڈت رگھوناتھ مورمونے سنتھالی زبان کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھنے کاآغاز کیا۔ یہ رسم الخط سنتھالی بولنے والے اڑیہ اورسنگھ بھوم علاقے میں پہلے سے رائج تھا۔ البتہ مذکورہ رسم الخط کو تمام سنتھالی بولنے والی آبادی نے قبول نہیں کیا ۔ مثال کے طور پر جھارکھنڈ میں درس و تدریس کے لیے دیوناگری رسم الخط اور بنگال میں بنگالی رسم الخط مستعمل ہے۔ علاوہ ازیں اس زبان کے بیشتر مخطوطات رومن رسم الخط میں ہیں لہٰذا تحقیق کے شعبے میں رومن رسم الخط کی اہمیت آج مسلم ہے۔
ہندوستان میں آنے والے آسٹری قبائل اپنے آغاز سے باہم اتحاد و اختلاط کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں سُونتی کمار چٹرجی تحریر کرتے ہیں کہ :
”ہندوستان آنے والے اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنے والے آسٹری قبائل —-بے شک وہ دوسری نسلوں ، منگولوں، دراوڑین اور شاید حبشیوں کے ساتھ مخلوط ہوگئے تھے—– کول (یا منڈا) اقوام میں (جیسے سنتھال، منڈا، ہوا(hos) ، کوروا، بھومجی(Bhumijee) کرکو (Karku) سورا (soras)یا سوا را (Savaras)، گدابا(Gudabas) وغیرہ۔“(2)
ہندوستان میں آسٹرو ایشائی زبانوں کی قدامت اور پھیلاﺅ سے متعلق کے۔اے نیل کنٹھ شاستری نے تحریر کیا ہے کہ:
”آسٹرو ایشائی زبانوں میں منڈا زبانیں ہیں جن میں دکن کے شمالی مشرقی علاقوں میں کھریا، جوانگ، سُوار اور گُڈا نیز مدھیہ پردیش کے شمالی مغربی اضلاع کی کرُو کی زبانیں شامل ہیں۔ اگرچہ ہندآریائی خزانہ¿ الفاظ پر مُنڈا زبان کا اثر نمایاں ہے لیکن دراوڑ زبان سے جو الفاظ لیے گئے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے کہ دراوڑ گروپ کی زبانوں کی ابتدا آسٹرو ایشائی زبانوں سے نسبتاً زیادہ جدید ہے۔ چنانچہ آسٹرو ایشائی زبانوں کے لیے عام طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ دراوڑ زبان سے پہلے کی زبانیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی زمانے میں مُنڈا زبانیں پورے شمال ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ کیونکہ ہمالیہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یعنی پنجاب سے بنگال تک کے علاقے میں جو متعدد مخلوط زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب کی بنیاد یہی زبانیں ہیں۔“ (3)
ہندوستان میں سنتھالی بولنے والوں کی آمد سے متعلق مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ البتہ زمانہ¿ قدیم سے ہندوستان میں ان کی موجودگی ثابت ہے۔ اس تعلق ممتاز مورخ رومیلا تھاپر نے تحریر کیا ہے کہ :
”ہڑپااورموہن جوداڑو ، وادیِ سندھ کی باقیات کا ایسا ثبوت ہے جس کے ذریعے ہندوستان میں آریوں کی آمد اور ان کی تہذیب کے پھیلاﺅ سے پہلے کی زندگی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ آریوں سے قبل ہندوستانی تہذیب میں اپنی موجودگی درج کرانے والے مختلف نسلی گروہوں کی شناخت مشکل ہے تاہم ماہرین ایسے چھ گروہوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
۱۔ Negritos
۲۔ Proto – Australoids
۳۔ Mongoloid
۴۔ دراوڑی (جس نے بعد میں آرین تہذیب سے مطابقت پیدا کی)
۵۔Western Brachy Cephals
۶۔Nordics
کھدائی میں ملی انسانی ہڈیوں کی تحقیق سے یہاں Proto Australoids، دراوڑی،Alpineاور Mongoloidتہذیبوں کے آثار ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ تسلیم کیا جاتا ہے مذکورہ بالا انسانی نسلیں ہندوستان میں پوری طرح آباد تھیں اور Proto-Australoid گروہ ہندوستان کی آبادی کی بنیاد میں شامل تھا۔ ان کی زبان Austric linguisticخواندے سے تعلق رکھتی تھی جس کی ایک شاخ Mundaہے جس سے مختلف قبائلی زبانیں نکلی ہیں۔“(4)
اسی طرح L.O. Skrefsudکے مطابق سنتھالی ایران، منگولیا، افغانستان فتح کرتے ہوئے ہندوستان کے شمال مغربی علاقے میں داخل ہوئے اور پنجاب کو اپنا مسکن بنایا۔آریوں کی آمد کے بعد وہ مسلسل پیچھے ہٹتے گئے حتیٰ کہ چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع میں آباد ہوگئے۔ اس کے برعکس Colonel Daltonکے مطابق سنتھالی شمال مشرق سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع سے ہوتے ہوئے دریائے دامودر کے کنارے پھیل گئے۔Colonel Daltonنے اپنے اس نظریے کی تائید میں سنتھالی زبان، رسم و رواج اور تہذیب اور شمال مشرق کے دیگر قدیم قبائل کی رسم و رواج اور تہذیب میں پائی جانے والی مطابقت کو پیش کیا ہے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ برصغیرہند و پاک کے دیگر قبائل کے علی الرغم سنتھالیوں نے اپنی تہذیبی شناخت کو حتیٰ المقدور برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ متعدد مرتبہ ہجرت ، مغلوں اور یورپی اقوام کے حملوں کے باوصف سنتھالیوں کی سماجی زندگی مقامی زبان و تہذیب کے تحفظ سے عبارت ہے۔ اُن کی تہذیب کی عکاسی گھروں کی دیواروں پر مزین مصوری کے نمونوں اور لوک کہانیوں میں اپنے آبا و اجداد کو دیو مالائی شخصیت کے طور پر پیش کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان قصوں کے دو دیومالائی کردار ’پلچو ہرم‘ اور پلچو بھودی‘ معروف ہیں۔ سنتھالی موسیقی اور رقص کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر تہذیبوں کی طرح سنتھالی تہذیب مقامی اور مغربی تہذیب سے بہت زیادہ تو متاثر نہیں ہوئی لیکن یہاں عیسائی میشنری کی وجہ سے تعلیم عام ہوئی لہٰذا عیسائیت کے اثرات مرتب ہونے لازمی تھے۔ البتہ ان کے روایتی موسیقی اور رقص میں ابھی تک پرانی خو بو باقی ہے۔ یہ موسیقی ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ اپنا رقص پیش کرنے کے لیے عموماًسنتھالی دو طرح کی ڈھول استعمال کرتے ہیں۔جنھیں مقامی زبان میں Tamakاور Tumdahکہا جاتا ہے۔ بانسری سنتھالیوں کا پسندیدہ ساز ہے۔ یہ سب سے ا ہم روایتی ساز تسلیم کیا جاتا ہے جو سنتھالیوں کے نوسٹلجیائی جذبات بر انگخیت کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہاں کی موسیقی اور رقص کا گہرا تعلق مذہبی رسومیات سے ہے۔ خاطر نشان رہے کہ سنتھالیوں کے مذہبی عقائد پر ہندو مت اور عیسائی مشنریوں کے اثرات واضح ہیں۔بہرکیف سنتھالی موسیقی اور رقص ہر دو کا مذہبی عقائد، رسوم اور تہواروں سے گہرا تعلق ہے۔حتیٰ کہ گیت اور موسیقی کے سُر ، تال کے نام بھی مذہبی تہواروں سے ماخوذ ہیں۔ مثال کے طور پر Sohariکا گیت ہے جسے Sohariتہوار کے موقع پر گایا جاتا ہے۔
سنتھالی سماج ذات پات کے نظام سے مبرّا ہے اور یہاں پیدائش کے اعتبار سے کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا ۔ یہ لوگ عموماً مافوق الفطرت عناصر اور اجداد کی روحوں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنی دعاﺅں اور قربانیوں میں اپنے اجدادکی روحوں کو بطور خاص یاد کرتے ہیں۔ سنتھالی اسے Bongaکہہ کر پکارتے ہیں۔ اس تعلق سے کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ لفظ Bongaدراصل Bhagaیا Bhagvanسے مشتق ہے۔ سنتھالیوں میں سماجی نظم و ضبط اور پنچایتی طریقہ Manjhi-Paragana کہلاتا ہے ۔ یہ مقامی لوگوں کے ذریعہ چلایا جاتا ہے اور اس کا مقصد علاقے کی سماجی اور معاشی اصلاح کے لیے فیصلے کرنا ہوتا ہے۔
ہندوستان کے لسانی منظر نامے میں اردو زبان کی حیثیت کلید بردار کی ہے۔ گجرات سے میزروم اور کنیا کماری سے کشمیر تک اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ لگ بھگ سبھی ہندوستانی زبانیں کسی نہ کسی طور اردو سے متاثر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ایسی زبانوں میں بھی اردو کے الفاظ نظر آجاتے ہیں جس کا اردو سے دور دور تک کوئی لسانی یا تہذیبی ربط نہیں ملتا ہے۔ سنتھالی بھی ایسی ہی زبان ہے اور اس کے لغت پر سرسری نگاہ ڈالنے پر ہی ایسے متعدد الفاظ مل جاتے ہیں جو خالص اردو کے ہیں۔ مثال کے طور پر لگ بھگ تمام پھلوں کے نام یہاں وہی مروج ہیں جو اردو میں۔ امرود، انار، اخروٹ، انجیر وغیرہ ۔علاوہ ازیں بچہ اور بابا(بمعنی والد) بھی یہاں رائج ہے۔ مذکروہ الفاظ کے علاوہ سنتھالی لغت کے صرف حصہ¿ ’الف‘ کے سرسری مطالعے سے  مندرجہ ذیل الفاظ پیش کیے گئے ہیں۔
سنتھالی                /                      اردو
اَجار                         آزار (بمعنی تکلیف)
اَرسی                                             آرسی
اَخر                                                    اَخر
الم گلم                                             الم غلم
اَکل                                                      عقل
اَرج                                                 عرض
اَملہ                                                    عملہ
اندھا                                                   اندھا
اول                                                       اوّل
بچھرا                                                 بچھڑا
اَواج                                                      آواز
بابر                                    بابر(بمعنی رسّی)

ایسا نہیں ہے سنتھالی زبان پرصرف اردو ، ہندی یا دیگر ہندوستانی زبانوں نے اپنے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ سنتھالی کے الفاظ بھی بشمول اردو ہندوستان کی دیگر زبانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف ایک مثال لفظ ”ٹھاکر“ کی پیش کی جاتی ہے۔ یہ لفظ سنتھالی زبان سے ہندوستان کی دیگر زبانوں میں آیا اور مستعمل ہوگیا ۔ اس تعلق سے احمد جاوید کی تحریر ملاحظہ ہو:
”عموماً اردو لغات میں ’ٹھاکر‘ کو ہندی کا لفظ قرار دیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں، بنیادی طور پر ’ٹھاکر‘ اسٹرک(کول) خاندان کا لفظ ہے۔ یہ غیر آریائی لفظ سنتالی یا سنتھالی زبان سے دیگر ہندوستانی زبانوں میں آیا ہے۔ “
ہندوستان کی لسانی تکثیریت میں Austro Asiaticخاندان سے متعلق دوسری کئی زبانیں اپنی بقا کی جد وجہد میں مصروف ہیں لیکن سنتھالی زبان اپنی داخلی قوت اور اپنے بولنے والوں بے پناہ محبت کے سہارے آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ۔ اس تعلق سے قیصر شمیم نے تحریر کیا ہے کہ:
” اسٹرو ایشیاٹک خاندان ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کا قدیم ترین لسانی خاندان ہے ۔اس خاندان کی چار زبانوں یعنی Khemr، ویت نامی، کھاسی اور سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ دو سو سے زائد زبانیں خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مون( Mon)زبان جس میں تحریر کی روایت ساتویں صدی میں موجود تھی اس خطرہ کا شکار ہے۔ نکوبار جزائر میں اسی خاندان کی زبانیں پو، (Pu،Powahat،Taihlong ،Tatet،Ong، Lo’ong، Tehnu، Laful،Nancowry) وغیرہ کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ وہاں ایک انوکھی زبان Shompen بھی ہے جس کے بولنے والے 1981 میں 223افراد تھے۔
اس لسانی گروہ کی تقریباً18زبانیں جن کے بولنے والے کئی لاکھ افراد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، اڑیسہ، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں جو ہر طرف سے ہند آریائی زبانوں کا دباﺅ جھیل رہے ہیں۔ ان میں سنتھالی کوچھوڑ کر سب زوال پذیر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ سنتھالی میں مزاحمت کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ مگر بقیہ منڈا زبانوں کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔“
سنتھالی ادب ، خاص طور سے شاعری میں رقص کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ سنتھالی رقص کے حوالے سے اردو میں منیب الرحمن کی نظم ”سنتھالی ناچ“ ایک زمانے میں کافی مشہور ہوئی تھی۔ بہرکیف سنتھالی زبان میں ادب اور شاعری کی روایت کافی پختہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بیشتر ادبی تخلیقات رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ نہ ہوسکیں اور باہر کی دنیا سنتھالی کی تخلیقی جودت سے نہ آشنا رہی۔ 1970کے بعد جب سنتھالی کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھا جانے لگا تو اس زبان کا ادب بھی شائع ہونے لگا۔ سنتھالی کے ممتاز لکھنے والوں میں Majhi Ramdas Tudu Rouska کا شمار ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز بیسیوں صدی کے بالکل ابدائی برسوں سے کیا تھا۔ کلکتہ یونیورسٹی نے 1951 میں سنتھالی زبان و تہذیب کے لیے ان کی خدمات کے مد نظر ڈی لٹ کی ڈگری تفویض کی۔ سنتھالی زبان و تہذیب سے متعلق ان کی کتاب کو اپنے تعارف و تبصرے کے ساتھ معروف ماہر لسانیات سُونیتی کمار چٹرجی نے شائع کیا تھا۔
سنتھالی زبان میں Sadhu Ram Chand Murmu کو مہاکوی یا ملک الشعرا کا درجہ حاصل ہے۔انکی شاعری سنتھالی بولنے والے تمام علاقے میں یکساں طور سے مقبول ہے۔ جبکہ سادھو رام کا آبائی تعلق ضلع مدنا پور، مغربی بنگال سے ہے۔ ان کا شاعری بنیادی طور پر اصلاحی اور باغیانہ شاعری ہے ۔شاعری کے علاوہ انھوں نے ڈرامے اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ ان کی شعری اور نثری تخلیقات انتقال کے بعد شائع ہوئیں۔
سنتھالی زبان کے ایک اور مشہور شاعر Sarada Prasad Kisku ہیں ۔پیشے کے اعتبار سے اسکول ٹیچر ساردا پرساد کا تعلق بھی مغربی بنگال سے ہے ۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی سنتھالی زبان کی ترویج و اشاعت میں لگا دی۔ ان کے علاوہ جو شعرا ادبا سنتھالی زبان و ادب میں اہم مقام کے حامل ہیں ان میں شیام سندر ہمبھروم، ٹھاکر پرساد مُرمو، گماستا پرساد سورین، ربی لال ماجھی، بابو لال مُرمی آدی باسی اور بھگوان مُرمو وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ سنتھالی زبان صحافت کے میدان میں بھی اپنی شناخت درج کرا رہی ہے۔ تین ماہنامے ، دو ماہی اور ایک پندرہ روزہ رسائل کے علاوہ تقریباً آدھا درجن رونامے بھی اس زبان میں شائع ہورہے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سنتھالی ایک ترقی پذیر زبان ہے اوراس کے بولنے والے اس کی ترویج و اشاعت میں اسی طرح تعاون کرتے رہے تو یہ زبان ہندوستان کی لسانی تکثیریت کو مزید منور و مجلا کرے گی۔
حواشی
۱۔https://www.britannica.com/topic/Santali-language
۲۔ ہند آرائی اور ہندی۔ مصنف، سُنیتی کمار چٹرجی۔ صفحہ نمبر 38
۳۔جنوبی ہند کی تاریخ ۔ مصنف کے ۔ اے۔ نیل کنٹھ شاستری ۔ صفحہ نمبر۔ 77,78
۴۔History of India Vol.1, Page.26, Rumila Thapar

 

Cenima ka Ishq

Articles

سینما کا عشق

پطرس بخاری

سینما کا عشق

“سینما کا عشق” عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی موسیقی اور تاریکی میں جو ارمان انگیزی ہے میں اس کا قائل نہیں۔ میں تو سینما کے معاملے میں اوائل عمر ہی سے بزرگوں کا مورد عتاب رہ چکا ہوں لیکن آج کل ہمارے دوست مرزا صاحب کی مہربانیوں کے طفیل سینما گویا میری دکھتی رگ بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں اس کا نام سن پاتا ہوں بعض درد انگیز واقعات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس سے رفتہ رفتہ میری فطرت ہی کج بین بن گئی ہے۔ اول تو خدا کے فضل سے ہم کبھی سینما وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کو ذرا دخل نہیں یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے جو کہنے کو تو ہمارے دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے ان کی دوستی سے جو نقصان ہمیں پہنچے ہیں کسی دشمن کے قبضہ قدرت سے بھی باہر ہوں گے۔

جب سینما جانے کا ارادہ ہو ہفتہ بھر پہلے سے انہیں کہہ رکھتا ہوں کہ کیوں بھئی مرزا اگلی جمعرات سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کوئی ہرج واقع نہ ہو لیکن وہ جواب میں عجب قدر نا شناسی سے فرماتے ہیں:

“ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اور پھر کبھی ہم نے تم سے آج تک ایسی بےمروتی بھی برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور ہم نے تمہارا ساتھ نہ دیا ہو؟”

ان کی تقریر سن کر میں کھسیانا سا ہو جاتا ہوں۔ کچھ دیر چپ رہتا ہوں اور پھر دبی زبان سے کہتا ہوں:

“بھئی اب کے ہو سکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟”

میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار ہو جاتا ہے۔ خیر میں بھی بہت زور نہیں دیتا۔ صرف ان کو بات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں:

“کیوں بھئی سینما آج کل چھ بجے شروع ہوتا ہے نا؟”

مرزا صاحب عجیب معصومیت کے انداز میں جواب دیتے ہیں۔ “بھئی ہمیں یہ معلوم نہیں۔”

“میرا خیال ہے چھ ہی بجے شروع ہوتا ہے۔”

“اب تمہارے خیال کی تو کوئی سند نہیں۔”

“نہیں مجھے یقین ہے چھ بجے شروع ہوتا ہے۔”

“تمہیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟”

اس کے بعد آپ ہی کہئے میں کیا بولوں؟

خیر جناب جمعرات کے دن چار بجے ہی ان کے مکان کو روانہ ہو جاتا ہوں اس خیال سے کہ جلدی جلدی انہیں تیار کرا کے وقت پر پہنچ جائیں۔ دولت خانے پر پہنچتا ہوں تو آدم نہ آدم زاد۔ مردانے کے سب کمروں میں گھوم جاتا ہوں۔ ہر کھڑکی میں سے جھانکتا ہوں ہر شگاف میں سے آوازیں دیتا ہوں لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی آخر تنگ آ کر ان کے کمرے میں بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں دس منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ پنسل سے بلاٹنگ پیپر پر تصویریں بناتا رہتا ہوں پھر سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور باہر ڈیوڑھی میں نکل کر ادھر اُدھر جھانکتا ہوں۔ وہاں بدستور ہو کا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آ جاتا ہوں اور اخبار پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ ہر کالم کے بعد مرزا صاحب کو ایک آواز دے لیتا ہوں۔ اس امید پر کہ شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سو رہے تھے تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں۔ یا نہا رہے تھے تو شاید غسل خانے سے باہر نکل آئے ہوں۔ لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں میں سے گونج ہر واپس آ جاتی ہے آخرکار ساڑھے پانچ بجے کے قریب زنانے سے تشریف لاتے ہیں۔ میں اپنے کھولتے ہوئے خون پر قابو میں لا کر متانت اور اخلاق کو بڑی مشکل سے مد نظر رکھ کر پوچھتا ہوں:

“کیوں حضرات آپ اندر ہی تھے؟”

“ہاں میں اندر ہی تھا۔”

“میری آواز آپ نے نہیں سنی؟”

“اچھا یہ تم تھے؟ میں سمجھا کوئی اور ہے؟”

آنکھیں بند کر کے سر کو پیچھے ڈال لیتا ہوں اور دانت پیس کر غصے کو پی جاتا ہوں اور پھر کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں:

“تو اچھا اب چلیں گے یا نہیں؟”

“وہ کہاں”؟

“ارے بندۂ خدا آج سینما نہیں جانا؟”

“ہاں سینما۔ سینما۔ (یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں) ٹھیک ہے۔ سینما۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھے یاد نہیں آتی اچھا ہوا تم نے یاد دلایا ورنہ مجھے رات بھر الجھن رہتی۔”

“تو چلو پھر اب چلیں۔”

“ہاں وہ تو چلیں ہی گے میں سوچ رہا تھا کہ آج ذرا کپڑے بدل لیتے۔ خدا جانے دھوبی کم بخت کپڑے بھی لایا ہے یا نہیں۔ یار ان دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔”

اگر قتل انسانی ایک سنگین جرم نہ ہوتا تو ایسے موقع پر مجھ سے ضرور سرزد ہو جاتا لیکن کیا کروں اپنی جوانی پر رحم کھاتا ہوں بےبس ہوتا ہوں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ: “مرزا بھئی للہ مجھ پر رحم کرو۔ میں سینما چلنے کو آیا ہوں دھوبیوں کا انتظام کرنے نہیں آیا۔ یار بڑے بدتمیز ہو پونے چھ بج چکے ہیں اور تم جوں کے توں بیٹھے ہو۔”

مرزا صاحب عجب مربیانہ تبسم کے ساتھ کرسی پر سے اٹھتے ہیں گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اچھا بھئی تمہاری طفلانہ خواہشات آخر ہم پوری کر رہی دیں۔ چنانچہ پھر یہ کہہ کر اندر تشریف لے جاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آؤں۔

مرزا صاحب کے کپڑے پہنے کا عمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار ہوتا قانون کی رو سے انہیں کبھی کپڑے اتارنے ہی نہ دیتا۔ آدھ گھنٹے کے بعد وہ کپڑے پہنے ہوئے تشریف لاتے ہیں۔ ایک پان منہ میں دوسرا ہاتھ میں، میں بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ دروازے تک پہنچ کر مڑ کر جو دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب۔ پھر اندر آ جاتا ہوں مرزا صاحب کسی کونے میں کھڑے کچھ کرید رہے ہوتے ہیں۔ “ارے بھئی چلو۔”

“چل تو رہا ہوں یار، آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟”

“اور یہ تم کیا کر رہے ہو؟”

“پان کے لیے ذرا تمباکو لے رہا تھا۔”

تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے جاتے ہیں۔ میں ہر دو تین لمحے کے بعد اپنے آپ کو ان سے چارپانچ قدم آگے پاتا ہوں۔ کچھ دیر ٹھہر جاتا ہوں وہ ساتھ آ ملتے ہیں تو پھر چلنا شروع کر دیتا ہوں پھر آگے نکل جاتا ہوں پھر ٹھہر جاتا ہوں۔ غرض یہ کہ گو چلتا دوگنی تگنی رفتار سے ہوں لیکن پہنچتا ان کے ساتھ ہی ہوں۔

ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوتے ہیں تو اندھیرا گھپ، بہتیرا آنکھیں جھپکتا ہوں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز دیتا ہے۔ “یہ دروازہ بند کر دو جی!” یا اللہ اب جاؤں کہاں۔ رستہ، کرسی، دیوار، آدمی، کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم بڑھاتا ہوں تو سر ان بالٹیوں سے جا ٹکراتا ہے جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکی رہتی ہیں، تھوڑی دیر کے بعد تاریکی میں کچھ دھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جہاں ذرا تاریک تر سا دھبہ دکھائی دے جائے۔ وہاں سمجھتا ہوں خالی کرسی ہو گی خمیدہ پشت ہو کر اس کا رخ کرتا ہوں، اس کے پاؤں کو پھاند کر اس کے ٹخنوں کو ٹھکرا۔خواتین کے گھنٹوں سے دامن بچا۔ آخرکار کسی گود میں جا کر بیٹھتا ہوں وہاں سے نکال دیا جاتا ہوں اور لوگوں کے دھکوں کی مدد سے کسی خالی کرسی تک جا پہنچتا ہوں مرزا صاحب سے کہتا ہوں: “میں نہ بکتا تھا کہ جلدی چلو خوامخواہ میں ہم کو رسوا کروا دیا نا! گدھا کہیں کا!” اس شگفتہ بیانی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ کی کرسی پر جو حضرت بیٹھے ہیں اور جن کو مخاطب کر رہا ہوں وہ مرزا صاحب نہیں کوئی اور بزرگ ہیں۔ اب تماشے کی طرف متوجہ ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ فلم کون سا ہے اس کی کہانی کیا ہے اور کہاں تک پہنچ چکی ہے اور سمجھ میں صرف اس قدر آتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت جو پردے پر بغلگیر نظر آتے ہیں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں گے۔ اس انتظار میں رہتا ہوں کہ کچھ لکھا ہوا سامنے آئے تو معاملہ کھلے کہ اتنے میں سامنے کی کرسی پر بیٹھے ہوئے حضرات ایک وسیع و فراخ انگڑائی لیتے ہیں جس کے دوران میں کم از کم دو تین سو فٹ فلم گزر جاتا ہے۔ جب انگڑائی کو لپیٹ لیتے ہیں تو سر کو کھجانا شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے نہیں ہٹاتے بلکہ بازو کو ویسے خمیدہ رکھتے ہیں۔ میں مجبوراً سر کو نیچا کر کے چائے دانی کے اس دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے راستہ نکال لیتا ہوں اور اپنے بیٹھنے کے انداز سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیا ہوں اور چوروں کی طرح بیٹھا ہوا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہیں کرسی کی نشست پر کوئی مچھر یا پسو محسوس ہوتا ہے چنانچہ وہ دائیں سے ذرا اونچے ہو کر بائیں طرف کو جھک جاتے ہیں۔ میں مصیبت کا مارا دوسری طرف جھک جاتا ہوں۔ ایک دو لمحے کے بعد وہی مچھر دوسری طرف ہجرت کر جاتا ہے چنانچہ ہم دونوں پھر سے پینترا بدل لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دل لگی یوں ہی جاری رہتی ہے وہ دائیں تو میں بائیں اور وہ بائیں تو میں دائیں ان کو کیا معلوم کہ اندھیرے میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دل یہی چاہتا ہے کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر ان کے آگے جا بیٹھوں۔ اور کہوں کہ لے بیٹا دیکھوں تو اب تو کیسے فلم دیکھتا ہے۔

پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ہے: “یار تم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ اب ہمیں ساتھ لائے ہو تو فلم تو دیکھنے دو۔”

اس کے بعد غصے میں آ کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور قتل عمد، خودکشی، زہر خورانی وغیرہ معاملات پر غور کرنے لگتا ہے۔ دل میں، میں کہتا ہوں کہ ایسی کی تیسی اس فلم کی۔ سو سو قسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا۔ اور اگر آیا بھی تو اس کم بخت مرزا سے ذکر تک نہ کروں گا۔ پانچ چھ گھنٹے پہلے سے آ جاؤں گا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پر اچھلتا رہوں گا! بہت بڑے طرے والی پگڑی پہن کر آؤں گا اور اپنے اوور کوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیلا کر لٹکا دوں گا! بہرحال مرزا کے پاس تک نہیں پھٹکوں گا!

لیکن اس کم بخت دل کو کیا کروں۔ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ کر پاتا ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتا ہوں اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے کہ کیوں بھئی اگلی جمعرات سے سینما چلو گے نا؟