Goodby Mom A short Story by Albert Camus

Articles

الوداع ماں

البیئر کامو

ماں کا آج انتقال ہوگیا یا شاید کل ہواہو،کہہ نہیں سکتا۔اولڈایج ہوم سے ٹیلی گرام آیا اس میں لکھا تھا ،”آپ کی والدہ چل بسیں،آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔اس دکھ کی گھڑی میں آپ سے گہری ہمدردی ہے۔“اس سے کچھ پتہ نہیں چلتا ،ہوسکتا ہے یہ کل ہواہو۔
اولڈ ایج ہوم مورنگو میں ہے۔الجیئرس سے تقریباً پچاس میل دور،دو بجے کی بس سے میں رات سے قبل پہنچ جاﺅں گا،پھر رات وہاں گزارسکتاہوں۔تابوت کے پاس رَت جگے کی رسم کے لیےپھر کل شام تک واپس،میں نے اپنے مالک سے دو دن کی چھٹی کی بات کرلی ہے۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں وہ منع نہیں کرسکتاتھا۔پھر بھی مجھے محسوس ہوا کہ وہ غصے میں ہے۔میں نے بنا سوچے ہی کہہ دےا،”سوری سر،آپ جانتے ہیں،اس میں میرا قصورنہیں ہے۔“
مجھے بعد میں احساس ہوا کہ ایسا کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔معافی مانگنے کی توکوئی وجہ ہی نہ تھی۔دراصل اسے مجھ سے اظہار ہمدردی کرنا چاہیے تھا،پرسوں جب میں سیاہ لباس میں دفتر جاﺅں گا تو شاید وہ ایسا کرے گا۔ابھی تک تو خود مجھے ہی نہیں لگ رہا ہے کہ ماں واقعی نہیں رہی۔شاید آخری رسومات کے بعد یقین ہوجائے گا۔
میں نے دو بجے کی بس پکڑی ۔چلچلاتی دوپہرتھی۔ہمیشہ کی طرح میں سیلسئے کے ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے اترا۔سبھی محبت سے پیش آئے۔سیلسئے نے مجھ سے کہا،”ماں جیسی کوئی امانت نہیں۔“جب میں وہاں سے چلا تو وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئے۔میں جلدبازی میں چل پڑاتھا، اس لیے مجھے اپنے دوست ایمبنوئل سے اس کی کالی ٹائی اور ماتم کے وقت باندھی جانے والی کالی پٹی مانگ کر لانی پڑی۔کچھ ماہ پہلے ہی اس کے چاچا چل بسے تھے۔
میں نے قریب قریب دوڑکر بس پکڑی۔اس بھاگ دوڑ ،چلچلاتی دھوپ اور گیسولین کی بدبو نے مجھے بیچین کردیا تھا۔راستہ بھر میں سوتا رہا۔جب اٹھا تو دیکھا میں ایک فوجی پر لڑھکا پڑا تھا۔ اس نے معلوم کرنا چاہا کہ کیا میں کسی لمبے سفر سے آرہا ہوں؟میں نے صرف گردن ہلائی، تاکہ بات چیت آگے نہ بڑھے۔میں باتیں کرنے کے موڈ میں قطعی نہیں تھا۔
گاﺅں سے اولڈ ایج ہوم میل بھر دور ہے،میں پیدل ہی چل پڑا۔وہاں پہنچتے ہی میں نے ماں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔مگر دربان نے پہلے وارڈن سے ملنے کےلیے کہا۔وہ مصروف تھے۔ مجھے کچھ دیر تک انتظارکرنا پڑا۔
اس دوران دربان میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا،پھر دفتر لے گیا،وارڈن چھوٹے قد ، بھورے بالوں والا آدمی تھا۔اپنی گیلی نیلی آنکھوں سے اس نے مجھے بڑی دیر تک دیکھا۔پھر ہاتھ ملایا اور میرا ہاتھ اتنی دیر تک پکڑے رکھا کہ میں اچھی خاصی الجھن محسوس کرنے لگا۔اس کے بعد ایک رجسٹر میں تحقیقات کی اور بولا،”مادام میئر سالٹ تین برس قبل اس ہوم میں آئی تھیں،ان کی اپنی کوئی آمدنی نہیں تھی اور وہ پوری طرح تم پر منحصر تھیں۔“
مجھے لگا وہ مجھے ملزم ٹھہرا رہا ہے۔اس لیے میں صفائی دینے لگا۔مگر اس نے میری بات کاٹ دی۔
”ارے بیٹے،صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میں نے ریکارڈ دیکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ تم ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔انہیں پورے وقت دیکھ بھال کی ضرورت تھی اور تمہاری طرح کی نوکری میں نوجوانوں کو بہت زیادہ تنخواہ نہیں ملتی۔ دراصل وہ یہاں کافی خوش تھیں۔“
”ہاں سر، مجھے پورا یقین ہے۔“میں نے کہا۔
وہ پھر بتانے لگا،”جانتے ہو،یہاں ان کے کئی اچھے دوست بن گئے تھے۔ سبھی ان کی عمر کے ہیں۔ویسے بھی ہم عمر لوگوں کے ساتھ زندگی اچھی گزرتی ہے۔تم عمر میں چھوٹے ہو، اس لیے ان کے دوست تو نہیں بن سکتے تھے۔“
یہ حقیقت تھی۔کیونکہ جب ہم ساتھ رہتے تھے تو ماں مجھے دیکھتی رہتی۔ مگر ہم شاید ہی کوئی بات چیت کرتے۔اولڈایج ہوم کے ابتدائی دنوں میں وہ خوب رویا کرتی تھی۔مگر یہ حالت کچھ دنوں تک ہی رہی۔اس کے بعد یہاں اس کا دل لگ گیا۔ایک آدھ مہینے بعد تو اگر اسے اولڈایج ہوم چھوڑنے کے لیے کہا جاتا تو وہ یقینا رونے لگتی،کیونکہ یہاں سے بچھڑنے کاا سے دکھ ہوتا۔ اس لیے پچھلے سال میں شاید ہی اس سے کبھی ملنے آیا۔ملنے آنا یعنی پورا اتوار کھپادینا۔بس سے سفر کرنا،ٹکٹ کٹوانا اور آنے جانے میں دو دو گھنٹے گنوانے کی تکلیف سو الگ۔
وارڈن بولتا ہی چلاگیاپھر اس کے پیچھے چل دیا،جب ہم سیڑھیوں سے اترنے لگے تو اس نے کہا،”میں نے ان کے جسد خاکی کو یہاں کے چھوٹے مردہ خانے میں رکھوادیا ہے۔ تاکہ دوسرے بوڑھے لوگ دُکھی نہ ہوں،تم سمجھ سکتے ہونا؟یہاں جب بھی کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو دو چار دنوں تک یہ سبھی غمزدہ و بے چین رہتے ہیں۔ظاہر ہے اس سے ہمارے اسٹاف کاکام بے حد بڑھ جاتاہے، اور دیگر پریشانیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔“
ہم نے برآمدہ پارکیا،جہاں کئی بوڑھے چھوٹے چھوٹے گروپ میں کھڑے ہوکر باتیں کررہے تھے۔ہم ان کے قریب پہنچے تو وہ خاموش ہوگئے۔جوں ہی ہم آگے بڑھے ان کی باتیں شروع ہوگئیں۔ان کی سرگوشیاں سن کر اچانک مجھے پنجرے میں بند طوطوں کی یاد آگئی۔ ان کی آوازیں ضرور اتنی تیکھی اور اونچی نہیں تھیں۔ایک چھوٹی،کم اونچی عمارت کے داخلی دروازے کے باہر پہنچ کر وارڈن رک گیا۔
”جناب میئر سالٹ،یہاں میں تم سے اجازت لیتاہوں۔اگر کوئی کام ہو تو میں اپنے دفتر میں ملوں گا۔کل صبح ماں کی آخری رسومات اداکرنا ہے۔اس سے تم اپنی ماں کے تابوت کے پاس رات گزار سکو گے اوریقینا تم ایسا کر نا چاہوگے۔ایک آخری بات ،تمہاری ماں کے ایک دوست سے مجھے پتہ چلا کہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں چرچ کے رسم و رواج کے مطابق دفنایا جائے۔ یوں تو میں نے سارے انتظامات کرلیے ہیں،پھر بھی تمہیں بتانا مناسب سمجھا۔“
میں نے وارڈن کا شکریہ ادا کیا،جہاں تک میں ماں کوجانتا تھا،حالانکہ وہ لامذہبی خیالات کی نہیں تھی۔مگر اس نے زندگی میں مذہب وغیرہ کو کبھی ترجیح نہیں دی تھی۔
میں مردہ خانے میں داخل ہوا،یہ پُتی ہوئی دیواروں اور کھلے روشن دان والا صاف ستھرا چمکدارکمرہ تھا۔فرنیچر کے نام پر یہاں کچھ کریاں اور صوفے رکھے تھے۔کمرے کے درمیان میں دو اسٹولوں پر تابوت کو رکھ دیاگیاتھا۔تابوت کا ڈھکن بند تھا۔مگر اسکرو کو بغیر پورا کَسے ہی چھوڑدیا گیاتھا۔ جس سے وہ لکڑی پر ابھرے ہوئے تھے۔
ایک عربی خاتون جو شاید نرس تھی،تابوت کے قریب بیٹھی تھی۔ اس نے نیلا کرتا پہن رکھاتھااور ایک بھڑکیلا سا اسکارف سر پر باندھ رکھا تھا، اسی پل میرے پیچھے ہانپتا ہوا دربان آپہنچا۔ ظاہر تھا کہ وہ بھاگتا ہوا آیا تھا۔
”ہم نے ڈھکن لگادیاتھا۔مگر مجھے ہدایت دی گئی تھی کہ آپ کے آنے کے بعد میں اسے کھول دوں، جس سے آپ ان کا دیدارکرسکیں۔“یہ کہہ کر وہ تابوت کھولنے کے لیے آگے بڑھا لیکن میں نے اسے منع کردیا۔
”کیا آپ نہیں چاہتے کہ“
”نہیں۔“میں نے کہا۔
اس نے اسکرو ڈرائیور جیب میں رکھا اور مجھے گھورنے لگا۔تب مجھے احساس ہوا کہ منع نہیں کرنا چاہیے تھا۔میں شرم محسوس کرنے لگاتھا،کچھ لمحات تک مجھے گھورنے کے بعداس نے پوچھا، ”کیوں نہیں؟“مگر اس کے لہجے میں حیرت نہیں تھی۔وہ بس یوں ہی جاننا چاہتا تھا۔
”دراصل میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔“میں نے کہا۔
وہ اپنی سفید مونچھوں کو ایٹھنے لگا،پھر میری جانب دیکھے بنا آہستگی سے بول اٹھا،”میں سمجھ سکتا ہوں۔“
وہ نیلی آنکھوں والا بھلا سا ہنس مکھ آدمی تھا،اس نے تابو ت کے نزدیک میرے لیے ایک کرسی سرکائی اور میرے قریب ہی پیچھے بیٹھ گیا۔نرس اٹھی اور دروزے کی جانب چل دی۔ جب وہ جانے لگی تو دربان میرے کان میں بُدبُدایا،”بے چاری کو ٹیومر ہے!“
میں نے اسے غور سے دیکھا،تب پتہ چلا کہ آنکھوں کے ٹھیک نیچے سر پر پٹی بندھی تھی، جس سے اس کا تھوڑا سا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس کے جاتے ہی دربان بھی کھڑا ہوگیا،”اب میں آپ کو اکیلاچھوڑدیتا ہوں۔“
میں نہیں جانتا کہ میں نے کوئی حرکت کی یا نہیں،مگر جانے کے بجائے وہ کرسی کے پیچھے ہی کھڑارہا۔پیٹھ پیچھے کسی کی موجودگی سے میں بڑی بے چینی محسوس کررہا تھا۔سورج ڈھلنے لگاتھا اور کمرہ خوشنما روشنی سے بھراٹھاتھا۔نیند سے میری آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں۔دیکھے بغیر میں نے دربان سے یوں ہی پوچھاکہ وہ کتنے برسوں سے یہاں کام کررہا ہے۔
”پانچ برسوں سے۔“اس نے فوراً جواب دیا،جیسے وہ سوال کا ہی منتظر تھا۔
بس پھر وہ شروع ہوگیا اور باتیں کرنے لگا،دس برس پہلے اگر کسی نے اس سے کہاہوتا کہ وہ اپنی زندگی مورےگو کے اولڈ ایج ہوم میں گزارے گا تو اسے یقین نہ ہوتا۔وہ چونسٹھ سال کا تھا اور پیرس کا رہنے والا تھا۔
”اوہ!تو تم یہاں کے نہیں ہو؟“میں نے یوں ہی کہہ دیا۔
تب مجھے یاد آیا کہ وارڈن کے پاس جانے سے پہلے اس نے ماں کے بارے میں کچھ کہا تھا کہ انہیں دفنانے کی رسم جلد سے جلد پوری کرنی ہوگی،کیونکہ اس حصے میں خاص طور پر میدانی علاقے میں اچھی خاصی گرمی رہتی ہے۔
”پیرس میں جسد خاکی کو تین دن ،کبھی کبھار چاردن بھی رکھا جاتا ہے۔“
اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ایک طویل عرصہ پیرس میں گزاراہے اور وہ دن اس کے زندگی کے بہترین دن تھے۔ جنہیں وہ کبھی بھلا نہیں سکتا،یہاں سب کچھ جلدی سے نبٹایا جاتاہے۔
”آپ اپنے عزیز کی موت کو پوری طرح قبول بھی نہیں کرپاتے کہ آخری رسومات کی جانب آپ کو بڑھادیا جاتا ہے۔“
اسی پل اس کی بیوی نے اسے ٹوکا ،”بس بھی کرو۔“
وہ بوڑھا گھبراکر معافی مانگنے لگا۔دراصل وہ جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ مجھے اچھا لگ رہا تھا،میں نے پہلے ان باتوں پر غور نہیں کیاتھا۔
پھر وہ بتانے لگا کہ کیسے ایک عام انسان کی طرح وہ بھی اولڈ ایج ہوم آیا تھا۔ تب وہ کافی صحت مند تھااور تندرست بھی۔اس لیے جب دربان کی جگہ خالی ہوئی تو اس نے یہ نوکری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
جب میں نے اس سے کہا کہ اوروں کی طرح وہ بھی یہاں کا ایک ’باسی‘ہے تو اسے یہ با ت ناگوار لگی۔وہ ایک خاص عہدے پر تھا۔میرے دھیان میں آیا کہ وہ لگاتار انہیں’وہ اور بوڑھے لوگ‘ کہہ کر مخاطب کررہا تھا،حالانکہ وہ خود ان سے کم بوڑھا نہ تھا۔پھر بھی اس کی بات میں دم تھا۔ایک دربان کے روپ میں اس کی حیثیت تھی،دوسروں سے اوپر اس کے حقوق تھے۔
اسی وقت نرس لوٹ آئی۔رات بہت جلد اتر آئی تھی۔اچانک محسوس ہوا جیسے آسمان پر اندھیرا چھاگیا ہے۔دربان نے بتیاں روشن کردیں۔ روشنی سے آنکھیں چکاچوند ہوگئیں۔
اس نے مشورہ دیا کہ مجھے باورچی خانہ جاکر کھانا کھالینا چاہیے۔مگر مجھے بھوک نہیں تھی۔ اس نے کافی پینے کی پیش کش کی ۔چونکہ مجھے کافی پسند تھی،میں نے شکریہ کہہ کر حامی بھری اور چند ہی منٹوں میں وہ ٹرے لے کر آیا۔میں نے کافی پی،پھر مجھے سگریٹ کی طلب ستانے لگی۔
لیکن کیا ان حالات میں سگریٹ پینامناسب ہوگا؟ماں کے تابوت کے پاس؟دراصل اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا،یہ سوچ کر میں نے دربان کی طرف بھی ایک سگریٹ بڑھائی اور ہم دونوں سگریٹ پینے لگے۔اس نے پھر باتیں شروع کردیں۔
”جانتے ہو،جلد ہی تمہاری ماں کے دوست آئیں گے، تمہارے ساتھ تابوت کے پاس رت جگا کرنے کے لیے۔جب بھی کوئی مرجاتا ہے تو ہم سبھی اسی طرح رت جگا کرتے ہیں۔میں جاکر کچھ کرسیاں اور کالی کافی کا جگ بھرکر لے آﺅں۔“
سفید دیواروں کی وجہ سے تیز روشنی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی میں نے دربان سے ایک دو بتیاں بجھانے کے لیے کہا،”ایسا کچھ نہیں کرسکتے،انھیں ایسا لگایا گیا ہے کہ سبھی ایک ساتھ جلتی ہیں اور ایک ساتھ بجھتی ہیں۔“اس کے بعدمیں نے روشنی کی طرف دھیان دینا چھوڑدیا۔ وہ باہرجاکر کرسیاں لے آیا اور تابوت کے چاروں اور لگادیں۔ایک پر اُس نے کافی کا جگ اور دس بارہ پیالے رکھ دیئے۔ پھر ٹھیک میرے سامنے تابوت کی دوسری جانب بیٹھ گیا۔
نرس کمرے کے دوسرے سرے پر تھی۔میری جانب اس کی پیٹھ تھی،میں نہیں جانتا،وہ کیا کررہی تھی،مگر اس کے ہاتھ ہل رہے تھے اس سے میں نے اندازہ لگاےیا کہ وہ کچھ بُن رہی تھی۔میں اب مطمئن تھا،کافی نے میرے اندر تازگی بھر دی تھی کھلے دروزے سے پھولوں کی خوشبو اور ٹھنڈی ہوا اندر آرہی تھی۔مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا۔
کانوں میں عجیب سی سرسراہٹ سے میں جاگ اٹھا۔کچھ دیر تک آنکھیں بند تھیں۔اس لیے روشنی پہلے سے بھی زیادہ تیز لگنے لگی۔کہیں بھی اوٹ نہیں تھی،اس لیے ہر ایک چیز پوری شدومد کے ساتھ واضح ہورہی تھی۔ماں کے بوڑھے دوست آگئے تھے۔میں نے ان کی گنتی کی،کل دس تھے۔ کوئی آہٹ کیے بنا میں نے کسی کو اس قدر قریب سے نہیں دیکھا تھا،ایک ایک عضو،ہاﺅ بھاﺅ،نین نقش، لباس وغیرہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں تھے۔پھر بھی میں انہیں سن نہیں پارہا تھا۔وہ واقعی موجود ہیں، اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا۔
تقریباً سبھی خواتین نے ایپرن پہن رکھاتھا،جس کی ڈوری کمر پر کس کر بندھی ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کے پیٹ اور بھی باہر اُبھر آئے تھے۔میں نے اب تک غور نہیں کیا تھا کہ اکثر بوڑھی خواتین کے پیٹ کافی بڑے ہوتے ہیں۔اس کے بر خلاف سبھی بوڑھے دُبلے پتلے تھے اور چھڑی لیے ہوئے تھے۔
ان کے چہروں کی جس بات نے سب سے زیادہ متوجہ کیا،وہ ان کی آنکھیں تھیں، جو بالکل ندارد تھیں، جھریوں کے درمیان بس ہلکی سی،دھندلی سی چمک بھر تھیں۔
بیٹھتے وقت سبھی نے مجھے دیکھا اورعجیب ڈھنگ سے سرہلایا۔ان کے ہونٹ دانتوں کے بغیر مسوڑھوں کے بیچ چُسکی کی حالت میں بھینچے ہوئے تھے۔میں طے نہیں کرپارہا تھا کہ وہ مجھ سے ہمدردی جتارہے ہیں یا کچھ کہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ ان کے بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔بعد میں میں نے مان لیا کہ شاید کسی رواج کے مطابق وہ میرا خیر مقدم کررہے ہیں۔دربان کے اِردگرد بیٹھے سبھی بوڑھوں کو پر تجسس نگاہوں سے مجھے دیکھنا اور سرہلانا واقعی عجیب لگ رہا تھا۔پل بھر میں مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھے کٹ گھر ے میں کھڑاکرنے آئے ہوں۔
کچھ دےیر بعد ایک عورت رونے لگی۔وہ دوسری قطار میں تھی اور اس کے آگے ایک عورت بیٹھی تھی،اس لیے میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پارہا تھا۔تھوڑی تھوڑی دیر میں اس کا گلا رُندھ جاتا اور لگتا کہ وہ کبھی رونابند نہیں کرے گی۔کوئی اور اس پر توجہ نہیں دے رہا تھا۔سبھی خاموش بیٹھے تھے۔ اپنی اپنی کرسیوں میں دھنسے وہ کبھی تابوت کو تو کبھی اپنی گھڑی یا کسی دوسری چیز کو گھورنے لگتے اورپھر ان کی نظریں وہیں جم جاتیں۔
وہ عورت اب بھی سسکیاں بھررہی تھی۔مجھے واقعی حیرت ہورہی تھی،کیونکہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھی؟میں چاہتا تھا کہ وہ رونا بند کردے،مگر اس سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔کچھ دیر بعد دربان اس کی جانب جھکا اور کان میں کچھ سرگوشی کی ۔اس نے محض سرہلایا۔ دھیمے سے کچھ کہا،جو میں سن نہ سکا اور پھر وہ اسی طرح رونے لگی۔
دربان اٹھا اور میرے پاس کرسی سرکاکر بیٹھ گیا،کچھ دیر خاموش رہا،پھر میری جانب دیکھے بغیر سمجھانے لگا،”وہ تمہاری ماں سے بےحد قریب تھی،وہ کہتی ہے،اس دنیا میں ماں کے سوا اس کا کوئی نہیں ،وہ اب اکیلی رہ گئی ہے۔“
میں بھلا کیا کہتا۔کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔اس خاتون کی سسکیاں اب کچھ کم ہونے لگیں۔پھر ناک صاف کرنے کے بعد کچھ دیر وہ ہچکیاں لیتی رہی،پھر خاموش ہوگئی۔
حالانکہ میری نیند اڑچکی تھی،مگر میں بے حد تھکان محسوس کررہاتھا۔پیر بری طرح کھینچے جارہے تھے۔ماحول میں ایک عجیب سی آواز تھی،جو کبھی کبھارسنائی دے جاتی،میں پہلے تو کافی الجھن محسوس کررہا تھامگر غور سے سننے کے بعد سمجھ گیا کہ ماجرا کیا ہے؟دراصل بوڑھے اپنے گالوں کے اندر چسکی لے رہے تھے،جس سے سُڑ سُڑ کی عجیب سی آواز پیدا ہورہی تھی۔وہ اپنے خیالوں میں اس قدر مگن تھے کہ انھیں کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔یکبارگی مجھے لگا کہ ان کے بیچ رکھی یہ بے جان لاش کوئی معنی نہیں رکھتی مگر یہاں میں شاید غلط تھا۔
ہم سبھی نے کافی پی جو دربان لایا تھا۔اس کے بعد مجھے کچھ زیادہ یاد نہیں۔رات کسی طرح کٹ گئی۔مجھے بس وہ ایک پل یاد ہے،جب اچانک میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا ایک بوڑھے کو چھوڑکر سبھی اپنی اپنی کرسیوں پر جھکے اونگھ رہے تھے۔اپنی چھڑی پر دونوں ہاتھ باندھے،تھوڑی ٹکائے وہ بوڑھا مجھے دیکھ رہا تھا۔جیسے میرے جاگنے کا منتظر ہو۔میں پھر سوگیا۔تھوڑی دیر بعد دونوں پیروں میں بے انتہا درد کی وجہ سے میں جاگ پڑا۔
روشن دان سے صبح کی لالی چمکنے لگی تھی،پل بھر کے بعد ہی ایک بوڑھا جاگ کر کھانسنے لگا، وہ بڑے سے رومال میں تھوکتااور ہر بار اُبکائی جیسی آواز آتی۔آواز سن کروہ سب جاگ اٹھے تھے۔ دربان نے انہیں بتایا کہ چلنے کا وقت ہوگیاہے۔وہ ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔اس طویل رات کے بعد ان کے چہرے مرجھاگئے تھے۔مجھے واقعی حیرت ہوئی۔جب ہر ایک نے مجھ سے ہاتھ ملایا، جیسے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے ہی ہم نے آپس میں ایک رشتہ قائم کرلیا ہو۔حالانکہ ایک دوسرے سے ہم نے ایک لفظ نہیں بولاتھا۔
میں کافی بجھ سا گیا تھا۔دربان مجھے اپنے کمرے میں لے گیا۔میں نے خود کو ٹھیک ٹھاک کیا۔اس نے مجھے تھوڑی اور سفید کافی دی۔جس سے میں تازگی محسوس کرنے لگا۔جب میں باہر نکلا، سورج چڑھ چکا تھا اور مورےنگو اور سمندر کے درمیان پہاڑیوں کے اوپر آسمان سرخی مائل ہورہا تھا۔صبح کی خنک ہوا چل رہی تھی،جس میں خوشنما نمکین مہک تھی،جو ایک خوشگواری کا احساس دلارہی تھی۔ ایک طویل عرصے سے میں دیہات میں نہیں آیا تھا۔دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اگر ماں کا مسئلہ نہیں ہوتا تو کتنی بہترین تفریح ہوسکتی تھی۔
میں آنگن میں ایک پیڑ کے نیچے انتظار کرنے لگا۔مٹی کی مہک میرے اندر بھرنے لگی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اب مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔پھر میں دفتر کے دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا۔اس وقت وہ لوگ دفتر جانے کی تیاری کررہے ہوں گے۔دن کا یہ وقت مجھے سب سے بے کار لگتا۔تقریباً دس منٹ میں انہیں خیالوں میں گم رہا۔
اچانک عمارت کے اندر سے گھنٹی کی آواز آنے لگی اس کے سبب میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا۔کھڑکیوں کے پیچھے کچھ ہلچل دکھائی دی۔پھر سب خاموش ۔سورج چڑھ آیا تھا۔تلوﺅں میں جلن محسوس ہورہی تھی۔دربان نے مجھے بتایا کہ وارڈن مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں ان کے دفتر گیا۔اس نے چند کاغذات پر دستخط کروائے۔وہ کالی پوشاک زیب تن کیے ہوئے تھا۔ریسیور اٹھاکر میری جانب دیکھنے لگا۔
”آخری رسومات کا انتظام کرنے والے کچھ دیر قبل یہاں آئے تھے۔وہ لوگ وہاں جاکر تابوت کے اِسکرو کس دیں گے۔کیا میں انہیں رُکنے کے لیے کہوں؟تاکہ تم اپنی ماں کا آخری دےدار کرسکو؟“
”نہیں۔“میں نے کہا۔
”اس نے دھیمی آواز سے ریسیورمیں کہا،”ٹھیک ہے،فیگی ایف،اپنے آدمیوں کو ابھی بھیج دو۔“
پھر اس نے بتایا وہ بھی ساتھ چل رہا ہے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ڈیوٹی پر جو نرس ہے اس کے علاوہ صرف ہم دو ہی آخری رسومات میں شریک ہوں گے۔یہاں کا قاعدہ ہے کہ یہاں رہنے والے آخری رسوما ت میں شامل نہیں ہوسکتے۔حالانکہ رات میں تابوت کے پاس بیٹھنے سے کسی کو روکا نہیں جاتا۔
”ایسا ان کی بھلائی کے لیے ہی کیاجاتاہے۔“اس نے واضح کیا،”تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو،مگر اس مرتبہ میں نے تمہاری ماں کے ایک پرانے دوست کو ساتھ آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کا نام ہے تھامس پریز۔“وارڈن مسکرایا۔”اصل میں یہ ایک چھوٹی سی دل کو چھولےنے والی کہانی ہے۔تمہاری ماں اور اس کے درمیان بڑی اپنائیت تھی۔یہاں تک کہ سبھی بوڑھے پریز کو اکثر چھیڑا کرتے تھے کہ وہ اس کی منگیتر ہے،وہ اس سے اکثر پوچھتے کہ تم اس سے شادی کب کررہے ہو؟ وہ ہنس کر ٹال دیتا ،ظاہر ہے ماں کی موت کے بعد اسے بے حد تکلیف پہنچی ہے،اس لیے آخری رسومات میں شامل ہونے سے میں انکار نہ کرسکا۔حالانکہ ڈاکٹر کے مشورے پر اسے پچھلی رات تابوت کے پاس بیٹھنے سے روک دیاتھا۔“
کچھ دیر ہم یوں ہی خاموش بیٹھے رہے۔پھر وارڈن کھڑکی کے پاس جاکر کھڑاہوگیا، اچانک بولا،”ارے مورےنگوکے پادری وقت کے بڑے پابند ہیں۔“
انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ گاﺅں میں موجود گرجا گھر تک پیدل پہنچنے میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ درکار ہوگا۔ہم سیڑھیاں اترنے لگے۔قبرستان کے قریب ہی پادری انتظار کررہے تھے۔ان کے ساتھ دو لوگ تھے ایک کے ہاتھ میں کچھ چیزیں تھیں۔پادری جھک کر چاندی کی زنجیر کی لمبائی کو ٹھیک کررہے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی وہ سیدھے کھڑے ہوگئے اور میرے ساتھ کچھ باتیں کی۔مجھے وہ بیٹا کہہ کر مخاطب کررہے تھے،پھر ہمیں وہ قبر کی اور لے جانے لگے۔
پل بھر میں میں نے دیکھا کہ تابوت کے پیچھے سیاہ لباس پہنے چار لوگ کھڑے تھے۔ اسی پل وارڈن نے بتایا کہ جنازہ پہنچ چکا ہے۔پادری نے عبادت شروع کردی۔سیاہ کپڑے کی پٹی پکڑے چار لوگ تابوت کے قریب پہنچے جبکہ پادری ،لڑکے اور میں قطار میں چلنے لگے۔ایک عورت جسے میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا دروازے پر کھڑی تھی۔وارڈن نے اس سے میرا تعارف کروایا۔ میں اس کانام تو سمجھ نہیں سکا مگر یہ جان گیا کہ وہ اولڈ ایج ہوم کی نرس ہے۔میرا تعارف سن کر اس نے سرکوجھکاکر میراخیر مقدم کیا،مگر اس کے لمبے دبلے پتلے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نہیں تھی۔ ہم ایک گلیارے سے ہوتے ہوئے صدر دروازے تک آئے۔جہاں تابوت کو رکھا گیا تھا۔مستطیل نما ،چمکیلے کالے رنگ کے تابوت کو دیکھ کر مجھے اچانک آفس میں رکھے کالے پین اسٹینڈ کی یاد آگئی۔
تابوت کے پاس انوکھی سج دھج کے ساتھ ایک چھوٹے قد کا آدمی کھڑا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ اس کا کام آخری رسومات کے وقت پورے انتظام کی دیکھ بھال کرنا ہے۔بالکل ماسٹر آف سیری منی کی طرح۔اس کے قریب خوفزدہ سا مسٹر پریز کھڑاتھا،ماں کا خاص دوست۔اس نے ہلکے رنگ کی چوڑے کنارے والی گول ٹوپی پہن رکھی تھی۔جب درواز ے سے تابوت لے جایا جانے لگاتو اس نے بڑی پھرتی سے ٹوپی کو اوپر اٹھایا۔پینٹ جوتوں سے کافی اوپر تھی اوراونچے کالر والی سفید شرٹ پر بندھی کالی ٹائی ضرورت سے زیادہ چھوٹی تھی۔اس کی موٹی چوڑی ناک کے نیچے ہونٹ لرزرہے تھے۔ مگر جس چیز نے مجھے  متوجہ کیا وہ تھے اس کے کان۔سرخی مائل،پنڈولم نما اس کے کان جو زرد سے رخساروں پر مہر بند کرنے کے لاکھ کے لال گولے  کی مانند دکھائی دے رہے تھے۔جیسے ریشمی سفید بادلوں کے درمیان انھیں گاڑدیا گیا ہو۔
منتظم کے ذریعے ہر کام کے لیے رکھے ہوئے ایک نوکر نے ہمیں اپنی اپنی جگہوں پر کھڑاکیا۔تابوت کے آگے پادری ،تابوت کے دونوں طرف کالے کپڑے پہنے ہوئے چار آدمی۔ ان کے پیچھے وارڈن ،میں اور ہمارے پیچھے پریز اور نرس۔
آسمان پر سورج دہکنے لگاتھا۔ہوا میں تپش بڑھ گئی تھی۔پیٹھ پر آگ کے تھپیڑے محسوس ہونے لگے تھے۔اس پر گہرے رنگ کی پوشاک نے میری حالت بدتر کردی تھی۔ نہ جانے کیوں ہم اتنی دیر رکے ہوئے تھے؟ بوڑھے پریز نے ٹوپی دوبارہ اتارلی۔میں ترچھا ہوکر اسے دیکھ رہاتھا،تبھی دربان مجھے اس کے بارے میں مزید باتیں بتانے لگا۔مجھے یاد ہے دربان نے مجھے بتایا کہ بوڑھا پریزاور میری ماں شام میں اکثر دوردورتک سیر کرنے جایا کرتے تھے۔کبھی کبھی چلتے چلتے وہ گاﺅں کے قریب پہنچ جاتے۔مگر ہاں،ان کے ساتھ نرس بھی رہتی تھی۔
میں نے اس دیہاتی علاقے،دورافق اور پہاڑیوں کی ڈھلوان پر سرو کے درختوں کی طویل قطاروں،چمکیلے ہرے رنگ سے رنگی اس زمین اور سورج کی روشنی میں نہائے ایک اکیلے مکان پر بھرپور نظر ڈالی۔میں نے جان لیا،ماں کیا محسوس کرتی ہوگی؟اس علاقے میں شام کا وقت سچ مچ کس قدر اداس اور بے چین کردیتاہوگا۔صبح سورج کی اس چلچلاتی دھوپ میں،جب سب کچھ تپش کی شدت میں لپ لپارہا تھا،تو کہیں کچھ ایساتھا،جو اس فطری نظام کے بیچ میں بھی غیر انسانی اور مایوس کردینے والا تھا۔
آخر ہم نے چلنا شروع کردیا،تبھی میں نے دیکھا کہ پریز ہلکا سا لنگڑاکر چل رہاتھا۔ جوں جوں تابوت تیزی سے آگے بڑھنے لگتا،وہ بوڑھاپچھڑتاچلاگیا۔مجھے واقعی حیرت ہوئی کہ سورج کتنی تیزی سے آسمان پر چڑھتا جارہا ہے۔اسی پل مجھے سوجھا کہ کیڑے مکوڑے کی گونج اور گرم گھاس کی سرسراہٹ کافی دیر سے ہوا میں ایک دھمک پیداکررہی ہے۔میرے چہرے سے بے حساب پسینہ ٹپک رہا تھا۔میرے پاس ٹوپی نہیں تھی،اس لیے میں رومال سے ہی چہرے پر ہواکرنے لگا۔منتظم کے آدمی نے پلٹ کر کچھ کہا،جو میں سمجھ نہ سکا۔اسی وقت اس نے اپنے سر کے کراﺅن کوبھی رومال سے پونچھا، جو اس نے بائیں ہاتھ میں پکڑرکھاتھا،اس نے اوپر کی جانب اشارہ کیا۔
”آج بے حد گرمی ہے،ہے نا؟“
”ہاں۔“میں نے کہا۔
کچھ دیر بعداس نے پوچھا،”وہ آپ کی ماں ہیں،جنہیں ہم دفنانے جارہے ہیں؟کیا عمر تھی ان کی ؟“”وہ بالکل تندرست تھی۔“میں نے کہا،”دراصل میں خود بھی ان کی صحیح عمر کے بارے میں نہیں جانتاتھا۔“
اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا،جب میں مڑا تو دیکھا کہ پریز تقریباً پچا س گز کے فاصلے پر لنگڑاتا چلاآرہا تھا۔تیز چلنے کی وجہ سے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹوپی بری طرح سے ہل رہی تھی۔ میں نے وارڈن پر بھی ایک نظر ڈالی،وہ نپے تلے قدموں سے متوازن ہاﺅبھاﺅ کے ساتھ چل رہا تھا،ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں،جو اس نے پونچھی نہیں تھیں۔مجھے لگاکہ جنازے کے ساتھ چلنے والے کچھ زیادہ ہی تیزچلنے لگے ہیں۔جہاں کہیں بھی نگاہ ڈالی،ہر طرف وہی سورج سے نہایا ہوا دیہاتی علاقہ دکھائی دیا۔سورج اس قدر چمکدار تھا کہ میں آنکھیں اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کرپارہا تھا۔پاﺅں چلچلاتی گرمی میں ہر قدم کے ساتھ زمین پر دھنس جاتے اور پیچھے ایک چمکدار کالا نشان چھوڑدیتے۔آگے کوچوان کی چمکیلی کالی ٹوپی تابوت کے اوپر رکھے اسی طرح کے لیس دار مادے کے لوندے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔یہ ایک حیرت انگیز خواب کا احساس تھا۔اوپر نیلی سفید چکاچوند اور چاروں جانب یہ گہرا سیاہ پن،چمکدار کالا تابوت ،لوگوں کی کالی پوشاک او رسڑک پر سنہرے،کالے گڑھے اور دھوئیں کے ساتھ ماحول میں گھلی ملی گرم مکڑے اور گھوڑے کی لید کی بو؟ان سب کی وجہ سے،اور رات کو نہ سونے کی بنا پر میری آنکھیں اور خیال دھندلے پڑتے جارہے تھے۔
میں نے دوبارہ پیچھے مڑکر دیکھا،پریز بہت پیچھے رہ گیاتھا۔اس تپتی دھند میں تقریباً اوجھل ہی ہوگیاتھا۔کچھ پل اسی ادھیڑ بن میں رہنے کے بعد میں نے یوں ہی اندازہ لگایاکہ وہ سڑک چھوڑکر کھیتوں سے آرہا ہوگا۔تبھی میں نے دیکھا،آگے سڑک پر ایک موڑ تھا۔ظاہر ہے پریز نے،جو اس علاقے کو بخوبی جانتا تھا،ایک پگڈنڈی پر چل رہا تھا۔ہم جیسے ہی سڑک کے موڑ پر پہنچے،وہ ہمارے ساتھ شامل ہوگیا۔لیکن کچھ دیر بعد پھر پچھڑنے لگا۔اس نے پھر شارٹ کٹ لیا اور پھر ہم میں شامل ہوگیا۔دراصل اگلے آدھے گھنٹے تک ایسا کئی بار ہوا۔پھر جلد ہی اس میں میری جودلچسپی تھی وہ جاتی رہی۔میراسر پھٹاجارہا تھا۔میں بہ مشکل خود کو گھسیٹ رہا تھا۔
اس کے بعد بہت کچھ جلدبازی میں کیا گیا کہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ جب ہم گاﺅں کی سرحد پر تھے تو نرس کچھ بولی تھی،اس کی آواز سے میں بری طرح چونک پڑاتھا۔ کیوں کہ اس کی آواز اس کے چہرے سے قطعی میل نہیں کھاتی تھی۔اس کی آواز میں موسیقی اور کپکپاہٹ تھی۔اس نے جو کچھ کہاتھا وہ کچھ اس طرح تھا،”اگر آپ اس قدر آہستہ آہستہ چلیں گے تو لو لگنے کا ڈر ہے، مگر تیز چلیں گے تو پسینہ آئے گااور چرچ کی سرد ہوا سے آپ کو زکام ہوجائے گا۔“اس کی بات میں دم تھا۔نقصان ہر طرح سے طے تھا۔تابوت کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ یادیں میرے ذہن میں چسپاں ہوگئی ہیں۔مثلاً اس بوڑھے پریز کا چہرہ جو گاﺅں کی سرحد پر ہی آخری بار ہم سے آملا تھا،اس کی آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسو جو تھکان کی وجہ سے تھے یا غم کے سبب،یا پھر دونوں کی وجہ سے۔مگر جھریوں کی وجہ سے نیچے ٹپک نہیں پارہے تھے۔آڑے ترچھے ہوکر کان تک پھیل گئے تھے اور اس بوڑھے ،تھکے چہرے کو ایک پیاری سی چمک سے بھردیاتھا۔
مجھے یاد ہے وہ گرجا گھر،سڑکوں سے گزرتے دیہاتی،قبروں پر کھلے لال رنگ کے پھول، پریز پر بے ہوشی کا دورہ،چیتھڑوں سے بنی کسی گڑیاکی مانند اس کا سکڑجانا۔ماں کے تابوت پر سنہری بھوری مٹی کا ٹپ ٹپ گرنا،لوگ بے شمار لوگ،آوازیں،کافی،رےستوراں کے باہر انتظار، ریل انجن کی گڑگڑاہٹ،روشنی سے نہائی الجیئرس کی سڑکیں اور ان پر قدم رکھتے ہی میرا خوشی سے بھرجانا اور پھر تخیل میں ہی سیدھے بستر پر جاکر نڈھال ہوجانا،لگاتار بارہ گھنٹے بے ہوشی کی نیند!
مجھے یہ سب یاد ہے !
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

البیئرکامو1913میں فرانس میں پیدا ہوئے اور1960میں انتقال فرمایا۔انہیں ”پلیگ“ ناول کے لیے 1957 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔کامو نے اپنی 47 برس کی مختصر زندگی میں نہ صرف اپنے ملک اور یورپ میں بلکہ عالمی ادب میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ انہوں نے اپنے مضامین،ناول،ڈرامے اور دیگر اصناف سے عالمی ادب میں اضافہ کیا۔ان کی تخلیقات میں کئی خوبیاں ہیں مگر سب سے اہم خوبی انسان کی تنہائی ہے۔انہوں نے اپنی تخلیقات میں موت،تکالیف،لامذہبیت اور ارتداد کو بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔ان کی تصانیف میں لاپسیٹ،لاشوٹ،لے جسٹس،لاہوم ریولئے وغیرہ اہم کتابیں شامل ہیں۔

Condolence A Short Story by William Faulkner

Articles

تعزیت

ولیم فاکنر

مس ایمیلی گریرسن کی آخری رسومات کے موقع پر شہر کے تقریباً سبھی لوگ آئے ۔مرد حضرات فوت ہونے والی ایمیلی کا آخری دیدار کرنے کی غرض سے اور خواتین اس کے مکان کو اندر سے دیکھنے کا تجسس لے کر۔دس برس سے مکان کی دیکھ بھال کرنے والا صرف ایک نوکرتھا۔وہ مالی کا کام بھی کرتا اور باورچی کا بھی۔
وہ ایک بڑا ساچوکون مکان تھا،جس پر ایک بار رنگ وروغن چڑھایاگیاتھا۔ساتویں دہائی میں سب سے بہترین ڈیزائن کا انتخاب کرکے اسے تعمیر کیا گیاتھا۔اس پر ایک بڑا سا گنبد ،پچی کاری اور منقش بالکونیاں تھیں۔وہ مکان ساتویں دہائی میں شہر کی سب سے عمدہ سڑک پر تعمیر ہواتھا۔اس کے پڑوس میں باعزت لوگوں کے مکانوں کی جگہ اب گیریج،اور سوت کتائی کی صنعتیں تھیں۔صرف مس ایمبلی کا اکلوتا مکان رہ گیا تھا۔مس ایمیلی کے مزاج کے سامنے کاٹن ویگنوں اور گیسولین پمپوں کی ایک نہ چلی۔وہ مکان بھی سب کی آنکھوں میں کھٹکتا رہا۔اور اب مس ایمیلی بھی ان باعزت لوگوں کے درمیان پہنچ گئی تھی جن کی قبریں جیفرسن کی جنگ میں شہید ہونے والے سپاہیوں کی نظربند اور گمنام قبروں کے درمیان ہی تھیں۔وہ قبریں دیودار کے اونچے درختوں سے ڈھکی تھیں۔
مس ایمیلی کی زندگی صدیوں سے جاری رسم،فرض اوراحتیاط کی بہترین مثال تھی۔اس کی زندگی کی اہمیت ۱۸۹۴ء میں اس روز سے بڑھ گئی تھی جس روز شہر کے میئر کرنل سارتورس نے اس کے تمام ٹیکس معاف کردیے تھے۔یہ کرنل سارتورس وہی تھے جنھوں نے یہ حکم جاری کیا تھا کہ کوئی نیگرو عورت بغیر اسکارف کے سڑک پر دکھائی نہیں دینی چاہئے۔ٹیکس معافی کا حکم اس کے والد کے انتقال کے بعد بھی قائم رہا۔مس ایمیلی کو اگر یہ احساس ہوجاتا کہ اس پر رحم کیا گیا ہے تو وہ اسے کبھی منظور نہیں کرتی۔کرنل سارتورس نے اس کے لیے ایک کہانی گھڑی تھی۔ان کے مطابق مس ایمیلی کے والد نے شہر کی انتظامیہ کو قرض دیا تھا،جسے شہری انتظامیہ لوٹانے کا خواہش مند تھا۔
اس قسم کی کہانی گھڑنا کرنل سارتورس کی پیڑھی اوراعلیٰ دماغ رکھنے والے شخص کے ہی بس کی بات تھی اور کوئی عورت ہی اس طرح کی بات پر یقین کرسکتی تھی۔جب اگلی پیڑھی کے لوگ جدید خیالات لے کر میئر اور مجسٹریٹ بنے،تو انتظامیہ میں کچھ بد گمانی پیداہوئی۔نئے سال کی پہلی تاریخ کو انھوں نے اسے ایک نوٹس بھیجا۔جس میں ٹیکس ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔فروری کا مہینہ آگیا مگر کوئی جواب نہیں آیا۔انھوں نے اسے اپنے ذاتی خرچ پر شیرف کے دفتر پہنچنے سے متعلق ایک رسمی پیغام ارسال کیا۔اگلے ہفتے میئر نے بذات خود ایک چٹھی لکھی کہ وہ آئے یا پھر اسے لینے کے لیے وہ اپنی کار روانہ کرسکتا ہے۔جواب میں اسے ایک بوسیدہ کاغذ پر پھیکی سیاہی سے مگر خوشخط تحریر میں ایک رقعہ موصول ہوا،جس میں تحریرتھا کہ وہ اب زیادہ تر باہر نہیں نکلتی۔کسی نوٹ کے بنا نوٹس بھی اس کے ساتھ نتھی تھا۔
مجسٹریٹ نے ایک مخصوص میٹنگ طلب کی۔مس ایمیلی کے لیے مقررہ ایک ڈیپوٹیشن نے جاکر دروازے پر دستک دی۔آٹھ دس سال قبل اس نے چینی پینٹنگ کلاس لیناچھوڑدیاتھا۔ تب سے اس مکان میں کوئی مہمان نہیں آیا تھا۔بوڑھا نیگرو انھیں اندھیرے ہال میں لے آیا۔جس میں سے سیڑھیاں اوپری منزل تک جاتی تھیں۔سیڑھیوں پر بھی اندھیرے کی دبیز چادر تنی ہوئی تھی۔ وہاں گردوغبار اورعجیب سی بو قوتِ سامہ سے ٹکرارہی تھی۔نیگرو انھیں’پارلر‘میں لے گیا۔جہاں بھاری بھر کم فرنیچر موجود تھا اور اس پر چمڑا مڑھا ہواتھا۔نیگرو نے کھڑکی کا پردہ سرکادیا۔اب وہ دیکھ سکتے تھے کہ چمڑا پھٹاہوا ہے۔وہ بیٹھ گئے۔اندر داخل ہوتی ہوئی روشنی کی لکیر میں گرد کے ذرات تیررہے تھے۔ فرنیچر پر جمی ہوئی گرد بھی اس میں شامل ہوکر ان کی جانگھوں کے نزدیک آہستگی سے داخل ہوگئی تھی۔آتش دان کے قریب ایک اسٹینڈ رکھا ہواتھا جس پر سونے کا ملمع چڑھا ہوا تھا۔لیکن اس کی چمک ماند پڑگئی تھی۔اس اسٹینڈ پرمس ایمیلی کے والد کی رنگین تصویر رکھی ہوئی تھی۔
مس ایمیلی کے آتے ہی وہ کھڑے ہوگئے۔وہ ایک کالی ،چھوٹے قد کی موٹی عورت تھی۔ اس کے گلے میں سونے کی ایک پتلی زنجیر تھی۔جو کمر تک لمبی تھی اور بیلٹ میں دھنسی ہوئی تھی۔اس کا ماتھا ماندپڑے ہوئے سونے کی طرح تھا۔وہ آبنوس کی چھڑی پر جھکی ہوئی تھی۔ اس کا قد چھوٹا سا تھا لیکن اس میں کچھ خاص بات تھی۔شاید بات یہی تھی کہ کسی دوسرے کا ایسابدن ہوتا تو وہ صرف موٹاپا کہلاتا۔اس کے بدن میں ٹھہرائو تھا۔وہ پھولی ہوئی دکھائی دیتی تھی جیسے کوئی ساکت پانی میں کافی دیر تک ڈوبا ہواہو۔اس کے بدن میں پیلا پن تھا۔
آنے والوں نے اپنے آنے کی وجہ بتائی۔اس دوران اس کی آنکھیں ان کے چہروں پر گھومتی رہیں۔چربی زدہ چہرے پر اس کی آنکھیں کوئلے کے دو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں کی طرح لگ رہی تھیں۔جیسے وہ ٹکڑے گندھے ہوئے آٹے کے ڈھیر میں دھنسے ہوئے ہوں۔اس نے انھیں بیٹھنے کے لیے نہیں کہا۔وہ دروازے میں کھڑے کھڑے سنتی رہی۔جو شخص بول رہا تھا پھر وہ لڑکھڑاکر چپ ہوگیا۔انھیں گھڑی کی ٹک ٹک سنائی دی جو سونے کی زنجیر کی کنارے جڑی ہوئی تھی اور نظر نہیں آرہی تھی۔مس ایمیلی نے سرد اور روکھے لہجے میں کہا،’’جیفرسن میں مجھ پرکوئی ٹیکس نہیں ہے۔کرنل سارتورس مجھے سمجھاچکے ہیں۔تم میں سے اگر کوئی چاہے تو وہ شہری انتظامیہ کے ریکارڈ کودیکھ کر معلوم کرسکتا ہے۔اس طرح تمھیں اطمینان ہوجائے گا۔‘‘
’’ہم ریکارڈ دیکھ چکے ہیں۔ہم شہر کے افسران ہیں،مس ایمیلی!آپ کو شیریف کا دستخط شدہ نوٹس موصول ہواہوگا؟‘‘
’’ہاں،مجھے ایک کاغذ ملا تھا۔‘‘مس ایمیلی نے کہا۔’’شاید وہ سمجھتا ہو اپنے آپ کو شریف ، جیفرسن لیکن مجھے کوئی ٹیکس ادا کرنا نہیں ہے۔‘‘
’’لیکن دیکھیے اس بات کا کوئی دستاویزی ثبوت موجود نہیں ہے۔ہمیں اپنا کام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کرنل سارتورس سے ملیے۔مجھے جیفرسن میں کوئی ٹیکس ادا نہیں کرنا ہے۔‘‘
’’لیکن ،مس ایمیلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کرنل سارتورس سے ملیے۔(کرنل سارتورس کو فوت ہوئے تقریباًدس برس ہوچکے تھے) مجھے جیفرسن کوکوئی ٹیکس نہیں دینا ہے،ٹاب!‘‘نیگروحاضر ہوا۔
’’ان شریف لوگوں کو باہر کا راستہ دکھائو۔‘‘
اس طرح اس نے انھیں شکست دے دی۔بالکل اسی طرح جیسے بووالے واقعہ سے پہلے وہ تیس برس تک ان کے والدین کو شکست دیتی آئی تھی۔اس کے والد کے انتقال کے دو سال بعد اس کے عاشق کے اسے چھوڑکر چلے جانے کے فوراً بعد کا یہ واقعہ ہے۔اس کے عاشق کے بارے میں ہمیں اعتماد تھا کہ وہ اس سے شادی کرلے گا۔اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ باہر بہت کم جاتی تھی۔عاشق کے چلے جانے کے بعد تو لوگوں نے اسے باہر نکلتے ہی نہیں دیکھا تھا۔کچھ خواتین نے اس کے قریب جانے کی ہمت جٹائی لیکن وہ ان سے ملی نہیں۔اس مکان میں زندگی کی علامت اکلوتا نیگروتھا۔وہ اس وقت خاصا جوان تھا اور بازار کی ٹوکری لیے آتے جاتے دکھائی دیتا تھا۔
’’آخر کیسے ایک آدمی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی آدمی باورچی خانہ کی دیکھ بھال کرسکتا ہے؟‘‘ خواتین کہتیں۔اس لیے انھیں کوئی حیرت نہیں ہوئی جب بو تیز ہوگئی۔گھنی آبادی والے علاقے اور قدآور ،طاقت ور گریرسنوں کے درمیان وہ بو ایک دوسری کڑی بن گئی تھی۔
ایک پڑوسی عورت نے اسی سالہ میئر جج اسٹیونس کے حضور شکایت درج کی۔‘‘
’’لیکن اس سلسے میں میں آپ کی کیا مدد کرسکتا ہوں؟‘‘
’’کیوں؟آپ اس سے کہہ نہیں سکتے کہ یہ سب بند کرے۔‘‘اس عورت نے کہا،’’کیا کوئی قانون نہیں ہے؟‘‘
’’مجھے یقین ہے کہ اس کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔‘‘میئر نے جواب دیا۔
’’ممکن ہے کہ اس کے نیگرو نوکر نے احاطے میں کوئی سانپ یاچوہا ماردیا ہو۔میں اس بارے میں اس سے بات کروں گا۔‘‘اگلے روز اس کے پاس دو مزید شکایتیں درج ہوئیں۔ایک آدمی نے جھجھکتے ہوئے اپنی بات کا اظہار یوں کیا،’’ہمیں در حقیقت اس بارے میں کچھ کرنا ہوگا،’’میئر صاحب!میں مس ایمیلی کو پریشان کرنا نہیں چاہتا۔ہمارے پاس اس کا علاج ہے۔‘‘
اس رات ججوں کی میٹنگ ہوئی۔وہ چار لوگ تھے،تین بوڑھے اور ایک نوجوان،جو نئی پیڑھی کا نمائندہ تھا۔
’’سیدھی سی بات ہے۔‘‘اس نے کہا،’’مس ایمیلی کو پیغام بھیجیں کہ وہ اپنی جگہ صاف کرادے۔ اس کام کے لیے وقت کا تعین کردیا جائے اور اگر اس دوران یہ کام نہیں کرواتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کیا بکواس کررہے ہیں جناب!‘‘جج اسٹیونس نے کہا،’’کیا تم عورت کی یہ کہہ کر بے عزتی کروگے کہ اس کے چہرے سے بدبو آتی ہے۔‘‘
اس لیے اگلی رات،آدھی رات کے بعد چار آدمی دبے پائوں مس ایمیلی کے لان میں داخل ہوئے۔دیواروں کے نیچے اور تہہ خانے کے دروازوں کو سونگھتے ہوئے انھوں نے چکر لگایا۔ اس دوران ان میں سے ایک آدمی اپنے کندھے پر لٹکے ہوئے جھولے سے فرش پر کوئی چیز چھڑکتا جارہا تھا جیسے کھیت میں بیج بورہا ہو۔انھوں نے تہہ خانوں کے دروازے کھولے اور اندر چونا چھڑک دیا۔ مکان کے چاروں طرف انھوں نے یہی کیا۔لوٹتے وقت جب وہ لان کو پار کررہے تھے،ہمیشہ اندھیرے میں ڈوبی ہوئی کھڑکی پراجالا ہوا۔مس ایمیلی وہاں تن کر بیٹھی تھی۔پیچھے سے آرہے اجالے میں اس کا بدن بت کی طرح ساکت لگ رہا تھا۔وہ لوگ چپ چاپ لان پر رینگتے ہوئے باہر سڑک پر نکل آئے۔جہاں اڑتی ہوئی ٹڈیوں کا سایہ ان پر پڑرہاتھا۔دوتین روز کے بعد بوآنا بند ہوگئی تھی۔اس واقعے کے بعد لوگ اس کے حالات سن کر دکھی ہوئے۔ہمارے شہر کے لوگ یاد کرتے تھے کہ کیسے اس کی عظیم چاچی بوڑھی ویاٹ اپنی زندگی کے آخری ایا م میں پوری طرح پاگل ہوگئی تھی۔ان کا ماننا تھا کہ گریرمنوں نے کبھی بھی اپنا قد نیچا نہیں کیااور وہ اس عظمت کے مستحق بھی تھے۔کوئی بھی جوان آدمی مس ایمیلی کے قابل نہیں تھااور ہوتا بھی کیسے؟
ہم کئی بار ایک تخئیلی منظر کو یاد کرتے۔جیسے وہ ’ئیبے لیوں‘ہو۔پسِ منظر میں سفید لباس میں لپٹی ایک نازک سی مس ایمیلی ہے،آگے اس کے والد کھڑے ہیں،اندھیرے میں ایک کرخت شکل ابھررہی ہے۔ان کی پیٹھ مس ایمیلی کی طرف ہے اور ان کے ہاتھوں میں چابک ہے۔وہ دونوں پیچھے کی جانب کھلنے والے دروازے کی درمیان جیسے فریم ہوگئے ہوں۔اس لیے تیس سال کی عمر ہونے کے بعد بھی اس کی تنہائی سے ہم سب اداس رہتے تھے۔اور کچھ کرنا چاہتے تھے۔اپنی چاچی کے پاگل پن کی وجہ سے وہ بہترین موقع گنوانہیں سکتی تھی۔لیکن ایسے مواقع آئے ہی نہیں۔
سننے میںآیا کہ اس کے والد کی موت کے بعد مکان اسی حالت میں مل گیا ہے۔اس سے لوگوں کو خوشی ہوئی۔آخر کار وہ مس ایمیلی کے لیے ہمدردی تو جتاسکتے تھے۔اب وہ اکیلی ہی اس حقیقی دنیا میں رہ گئی تھی۔اس کے والد کے انتقال سے ایک روز بعد سبھی عورتیں اس کے پاس گئیں اور اس سے اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔اور اس کی مدد کی جیسا کہ ہمارے یہاں رواج ہے۔مس ایمیلی ان سے دروازے پر ملی۔ ہمیشہ کی طرح اس نے وہی کپڑے زیب تن کیے ہوئے تھے۔چہرہ غم اور افسوس سے عاری تھا۔اس نے بتایا کہ اس کے والد مرے نہیں ہیں۔تین دنوں تک وہ اسی بات پر اڑی رہی۔ اس دوران وزیروں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی اور ڈاکٹروں نے اسے لاش کی جانچ کرنے کے لیے کہا۔قانون اور طاقت کا استعمال ہونے سے قبل ہی وہ مان گئی اور انھوں نے اس کے والد کوجس قدر ممکن تھا دفن کردیا۔
ہم یہ تونہیں کہتے کہ اس وقت وہ پاگل تھی۔ہم جانتے تھے کہ ایسی حرکت تو کوئی بھی کرسکتا ہے۔ہمیں وہ سارے جوان یادآئے جنھیں اس کے والد نے بھگادیاتھا۔ایسی حالت میں جب کچھ بھی نہیں بچا تھا،اسے اپنے والد سے وفاداری کا اظہار تو کرنا ہی تھا جس نے اس کے ساتھ دھوکہ دیا تھا اور لوگ چاہتے بھی یہی تھے۔
وہ طویل عرصے تک بیمار رہی۔ہم نے اسے دوبارہ دیکھا،اس کے بال کٹے ہوئے تھے۔وہ کسی دوشیزہ سی لگ رہی تھی۔ایک نظر میں وہ چرچ کی رنگین کھڑکیوں میں جڑی پریوں کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔
شہر میں فٹ پاتھوں کی تعمیر کے لیے ٹھیکے دیے جاچکے تھے۔اور گرمیوں میں اس کے والد کی موت کے بعد کام شروع ہوگیاتھا۔تعمیراتی کمپنی،نیگروں،خچروں اورمشینوں کے ساتھ وارد ہوگئی تھی۔ اس میں امریکہ کا رہنے والا فورمین ہومر بیٹن بھی تھا۔وہ سیاہ فام اور چست آدمی تھا۔اس کی آواز اونچی اور آنکھیں چہرے سے زیادہ ہلکی تھیں۔چھوٹے بچوں کی ایک ٹولی اس بھیڑ کے آگے پیچھے چلتی ۔ وہ ان گالیوں کو سنتے جو فورمین نیگروں کو دیتا تھا۔وہ پھاوڑے ،کدال چلاتے نیگروں کا گیت بھی سنتے۔ جلد ہی فورمین ہومر بیٹن کی سب سے پہچان ہوگئی۔کسی چوراہے میں کھڑے لوگوں کی قہقہے کی آوازیں گونجتیں۔اس سے پتہ چل جاتا کہ وہاں فورمین موجود ہوگا۔حال ہی کی بات تھی۔ہم نے دیکھا کہ وہ اور مس ایمیلی پیلے رنگ کی پہیوں والی بگھی میں بیٹھ کر اتوار کی دوپہر میں گھومنے نکلتے۔بگھی میں جتے ہوئے دونوں گھوڑوں کا رنگ لال بھورا تھا۔دونوں گھوڑے کافی چست تھے۔
پہلے ہم خوش ہوئے کہ چلو اب مس ایمیلی کا دل بہل جائے گا۔کیوں کہ سبھی عورتیں کہتیں، ’’گریرسن کی یقینی طور پر شامی علاقے کے رہنے والے ایک مزدور سے دوستی اچھی رہے گی۔‘‘لیکن اور بھی تو لوگ تھے،جیسے بوڑھے۔وہ کہتے کہ ایک خاندانی عورت کے لیے غم اتنی بڑی وجہ نہیں کہ وہ اپنی تہذیب کو بھول جائے۔حالانکہ یہ بات انھوں نے لفظـ’تہذیب‘کے بنا ادا کی تھی۔انھوں نے صرف یہی کہا،’’بیچاری ایمیلی‘‘اس کے رشتہ داروں کو یہاں آنا چاہئے۔‘‘
البامہ میں اس کی کوئی رشتہ دار تھی،لیکن برسوں پہلے پاگل اور بوڑھی ویاٹ کی جائیداد کے معاملے میں ان بن ہوگئی تھی۔اور دو خاندانوں کے درمیان تب سے کوئی رابطہ نہیں تھا۔اس خاندان سے آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت کوئی شریک بھی نہیں ہوا تھا،اور جیسے ہی بوڑھے لوگوں نے کہا،بے چاری ایمیلی ،کانا پھوسی شروع ہوگئی۔’’کیا تمہارے خیال میں یہی حقیقت ہے؟‘‘ وہ ایک دوسرے سے کہتے تھے،’’یقینی طور پر ایسا ہی ہے اور کیا ہوسکتا ہے؟‘‘اتوار کی دوپہر کی دھوپ کی وجہ سے کھڑکیوں پر پردے ڈالے لوگ اپنے اپنے گھروں میں ریشم اور ساٹن کا کپڑالے کر بیٹھے تھے۔ ان کے ہاتھوں میں کپڑوں کی سرسراہٹ سنی جاسکتی تھی۔سڑک پر بگھی کی آواز اور گھوڑوں کے دلکی چال کی آواز گونجتی تھی۔’’بے چاری ایمیلی!‘‘
مس ایمیلی اپنی گردن کو تان کر چلتی تھی۔اس وقت بھی ہم سوچتے تھے کہ اسے محبت ہوگئی ہے۔جیسا کہ وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ قابل احترام بننا چاہ رہی ہو۔یاپھر وہ اس بارے میں یہ ظاہر کرنا چاہتی ہوکہ اسے سمجھنا بے حد مشکل ہے۔جیسا کہ وہ ایک مرتبہ آرسینک خرید لائی جو چوہوں کا زہر ہوتا ہے۔لوگوں کے’’بے چاری ایمیلی‘‘کہنے کے ایک سال سے اوپر ہوجانے کے بعد کا یہ واقعہ تھا۔اسی دوران اس کی دو رشتہ دار آئی ہوئی تھیں۔
’’میں کوئی زہر چاہتی ہوں۔‘‘اس نے کیمسٹ سے کہا۔تب وہ تیس سال کے آس پاس کی ایک کمزور عورت تھی۔پہلے سے بھی زیادہ دبلی۔اس کی آنکھیں کالی اورسرد ہوگئی تھیں۔چہرے کی چربی کانوں کے اوپری کناروں اور آنکھوں کے گڑھوں تک کھنچ آئی تھی۔لائٹ ہائوس کی دیکھ ریکھ کرنے والے کا چہرہ جیسے ہوسکتا ہے،ویسا ہی مس ایمیلی کا چہرہ تھا۔
’’میں کوئی زہر چاہتی ہوں۔‘‘اس نے کیمسٹ سے دوبارہ کہا۔
’’ضرور مس ایمیلی،کیا چاہئے؟چوہوں کا یا کوئی اور؟میں چاہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’تمہارے پاس جو سب سے بہتر ہو۔وہ دے دو۔اس کے اقسام کی میں پرواہ نہیں کرتی۔‘‘
کیمسٹ نے بہت سے نام گنوائے۔’’وہ کسی بھی چیز کو ختم کرسکتا ہے،یہاں تک کہ ہاتھی کو بھی ۔لیکن آپ کو جوچاہئے،اس کا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’آرسینک،‘‘مس ایمیلی نے کہا،’’کیا یہ بہتر ہے؟‘‘
’’کیا،آرسینک ؟جی ہاں میڈم!لیکن آپ کو جو چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’مجھے آرسینک ہی چاہئے۔‘‘
کیمسٹ نے اسے سرتاپیر دیکھا۔اس نے بھی اسے پلٹ کردیکھا۔وہ بالکل مطمئن کھڑی تھی۔اس کا چہرہ تنے ہوئے جھنڈے کی طرح لگتا تھا۔’’کیوں،آخر کیوں؟‘‘کیمسٹ نے کہا۔’’مانا کہ آپ کو یہی چاہئے،لیکن قانون کے لحاظ سے آپ کو بتانا پڑے گا کہ اس کا استعمال آپ کس طرح کریں گی؟‘‘
مس ایمیلی اسے بس گھورتی رہی۔اس کا سر تھوڑا سا پیچھے جھک گیا۔تاکہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرسکے۔وہ دوسری طرف دیکھنے لگا اور مڑا۔اس نے آرسینک نکالا اور پیک کردیا۔کائونٹر پر سامان رکھنے والے نیگرولڑکے نے یہ پیکٹ لاکر دیا۔کیمسٹ لوٹ کر نہیں آیا۔گھر پر مس ایمیلی نے پیکٹ کھولا۔ڈبے پر ایک کھوپڑی اور دو ہڈیوں کی تصویر کے نیچے لکھا تھا،’’چوہوں کے لیے۔‘‘
اس لیے اگلے روز ہم سب نے کہا،’’وہ خود کو ختم کرلے گی۔‘‘اور پھر ہم نے سوچا کہ یہی سب سے اچھا رہے گا۔ ہومر بیٹن کے ساتھ جب وہ پہلے پہل دیکھی گئی تھی۔ہم نے کہا،’’وہ اس سے شادی کرلے گی‘‘۔پھر ہم نے کہا،’’وہ ابھی اسے اور بھی پریشان کرے گی۔‘‘کیوں کہ ہومر نے خود کہا تھا کہ وہ آدمیوں کو پسند کرتا ہے۔اور سب کو پتہ تھا کہ اس نے ایلکو کے کلب میں لڑکوں کے ساتھ شراب پی تھی۔شاید نشے کی حالت میں وہ کہہ گیا تھا،کہ وہ شادی کرنے والاآدمی نہیں ہے۔
بعد میں اتوار کی دوپہر میں چمکتی ہوئی بگھی میں بیٹھ کر سڑک سے گزرتے ہوئے ہم سب نے پردوں کے پیچھے سے دیکھا اور کہا،’’بے چاری ایمیلی۔‘‘مس ایمیلی کا سر اونچا اور تنا ہوا تھا اور ہومر بیٹن اپنی کلغی والی ٹوپی پہنے ،دانتوں میں سگار ،پیلے دستانے ،ہاتھوں میں لگام اور چابک دبائے ہوئے۔
تب کچھ کچھ عورتوں نے کہنا شروع کیا کہ یہ شہر والوں کی بے عزتی کا معاملہ ہے اور نوجوانوں پر اس کا برا اثر پڑے گا۔آدمی اس معاملے میں دخل اندازی کرنا نہیں چاہتے تھے۔ لیکن عورتوں نے بیسپٹ منسٹر(ایمیلی کے لوگ ایپس کوپال تھے)کو مس ایمیلی سے بات کرنے کے لیے مجبور کیا۔اس بات چیت کے دوران کیا کچھ ہوا یہ راز اس منسٹر نے کبھی نہیں کھولا۔لیکن اس نے وہاں دوبارہ جانے سے انکار کردیاتھا۔اگلے اتوار کو مس ایمیلی اور ہومر بیٹن پھر سڑک پر دکھائی دیئے اور اس کے اگلے روز منسٹر کی بیوی نے البامہ میں مس ایمیلی کے رشتہ داروں کو خط روانہ کیا۔
اس طرح اس کے رشتے کی بہنیں پھر ایک بار پہنچ گئیں اور ہم انتظار کرنے لگے کہ اب آگے کیا ہوتا ہے؟پہلے تو کچھ بھی نہیں ہوا۔تب ہمیں یقین ہوگیا کہ وہ شادی کرنے والے ہیں۔ہمیں پتہ چلا کہ مس ایمیلی جوہری کی دکان میں گئی تھی اور اس نے سنگھار کے لیے چاندی کا سیٹ خریدا تھا جس کی ہر چیز پر اس نے ایچ بی کھدوایا۔دو دن بعد ہمیں پتہ چلا کہ وہ ان سب کپڑوں کو خرید لائی جو آدمی پہنتے ہیں۔ان میں نائٹ شرٹ بھی تھا۔اور ہم نے کہا،’’وہ شادی کرچکے ہیں۔‘‘ہمیں خوشی ہوئی تھی۔کیوں کہ رشتے کی دونوں بہنیں مس ایمیلی سے کچھ زیادہ ہی گریرسن ثابت ہوئی تھی۔
اس لیے ہمیں حیرت نہیں ہوئی۔جب ہومر بیٹن سڑکیں بن جانے کے بعد چلا گیا تھا۔ ہمیں ذرا سی مایوسی ہوئی۔لیکن کوئی دھماکہ نہیں ہوا۔ہم نے سوچا شاید وہ مس ایمیلی کو وہاں لے جانے کی تیاری کے لیے پہلے خود چلاگیا ہوگا۔یا پھر رشتے کی بہنوں نے اسے چھٹکاراپانے کا ایک موقع دیا ہوگا۔(اس کے بعد لوگوں کی ایک خفیہ میٹنگ ہوئی۔جس میں ان بہنوں کو گھیرنے کا منصوبہ بنایا گیا جیسا کہ ہم سب مس ایمیلی کے خیرخواہ تھے)وہ دونوں ایک ہفتے بعد لوٹ گئیں۔جو کہ طے شدہ تھا۔ اور جیسا کہ ہم اندازہ لگا رہے تھے،ہومر بیٹن شہر واپس آگیا۔ایک پڑوسی نے شام کے دھندلکے میں نیگرو کو اس کے لیے باورچی خانے کا دروازہ کھولتے ہوئے دیکھا۔
اور اس طرح ہم نے اس وقت آخری بار مس ایمیلی اور ہومر بیٹن کو دیکھا۔نیگروبازار کی ٹوکری لیے آتا جاتا،لیکن اصل دروازہ بند ہی رہتا۔کبھی کبھار چند لمحوں کے لیے ایمیلی کو ہم کھڑکی کے پاس دیکھ لیتے۔جس طرح سے کہ وہ تب دکھائی دی تھی جب چوناچھڑکنے کے لیے وہاں کچھ لوگ گئے تھے۔تقریباً چھ مہینوں تک وہ سڑک پر دکھائی نہیں دی۔پھر ہمیں محسوس ہوا کہ یہ بھی تو فطری بات تھی، اس کے والد کی وجہ سے اس کی زندگی میں کئی بار روڑے اٹکائے گئے اور وہ اس طرح بھیانک تھے کہ موت بھی آنے سے کتراتی تھی۔
اگلی بار جب مس ایمیلی دکھائی دی تو وہ موٹی ہوگئی تھی۔اور اس کے بال پک گئے تھے۔ آگے کچھ سالوں کے بعد بال پک کر سلیٹی ہوگئے تھے اور مڑنے لگے تھے۔آخر میں جب وہ مڑنا بند ہوگئے تو ان کا رنگ جگہ جگہ گہرا سلیٹی ہوگیا۔چوہتر برس کی عمر میں جب اس کی موت ہوئی تب بھی وہ بال کسی زندہ انسان کے بالوں کی طرح گہرے سلیٹی ہی تھے۔
تب سے اس کے گھر کا دروازہ بند رہا۔ان چھ سات برس کو چھوڑکر جس وقت وہ چالیس کے آس پاس تھی اور چینی پینٹنگ کی کلاس لیتی تھی۔نیچے کے کمروں میں سے ایک کو اس نے اسٹوڈیو میں تبدیل کرلیا تھا۔کرنل سارتورس کے ہم عصروں کی بیٹیاں اور پوتیاں پابندی کے ساتھ اس کی کلاس میں روانہ کی جاتیں۔اسی دوران اس کے سارے ٹیکس معاف کردیے گئے تھے۔
پھر نئی پیڑھی نے شہر کا انتظام سنبھالا۔اس وقت تک یہ نسل پینٹنگ سے دور ہوچکی تھی۔ اس لیے انھوں نے اپنے بچوں کو رنگ ڈبوں اور اکتادینے والے برشوں سے دور کردیا۔اور اس کے پاس بھیجنا بند کردیا۔تب سے سامنے کا دروازہ بند تھا،اور بند ہی رہا۔جب شہر میں مفت ڈاک تقسیم کرنے کا نظام رائج ہوا تب اکیلے مس ایمیلی نے اپنے دروازے پر دھات کے بنے باکس لگانے سے منع کردیا۔وہ کسی کی بات سنتی ہی نہیں تھی۔
دن بدن،ماہ در ماہ،سال در سال ہم نے نیگرو کو بوڑھا ہوتے ہوئے دیکھا اور خمیدہ کمر دیکھتے رہے۔ وہ بازار کی ٹوکری لیے آتا جاتا۔ہر دسمبر کو ہم مس ایمیلی کے نام ٹیکس کا نوٹس روانہ کرتے جو ڈاک کے ذریعے واپس آجاتا۔کبھی کبھار ہم اسے زینے کی کھڑکیوں میں دیکھ لیتے وہ کسی مجسمے کی طرح نظر آتی۔ایسا لگتا کہ وہ ہماری طرف دیکھ رہی ہے یا نہیں بھی۔طے کرنا مشکل تھا۔اس نے مکان کی اوپری منزل پر کنڈی چڑھا دی تھی۔اس طرح نسل در نسل سب کے ساتھ چلتی رہی۔ پیاری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔محبت کرنے والی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سخت ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خاموش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور ضدی۔
اور اس طرح اس کی موت ہوگئی۔پرچھائیوں اور گرد سے اٹے مکان میں وہ بیمار پڑی ۔ اسے دیکھنے والااکلوتا شخص لزرتا کانپتا نیگرو تھا۔ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ وہ بیمار تھی۔ہم نے نیگرو سے معلومات حاصل کرنا بہت دنوں سے چھوڑدیاتھا۔وہ بھی کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ممکن ہے مس ایمیلی سے بھی نہیں۔کیوں کہ اس کی آواز کرخت ہوگئی تھی اور زنگ آلود ہوگئی تھی۔جیسا کہ اس کا غلط استعمال ہواہو۔
مس ایمیلی نے نیچے کے ایک کمرے میں رکھے اخروٹ کی لکڑی کے بھاری پلنگ پر آخری سانس لی۔اس پلنگ پر پردے لگے ہوئے تھے۔اس کا سلیٹی سر اس تکیے پرپڑا تھا جو عمر کے ساتھ ساتھ اور سورج کی مناسب روشنی نہ ملنے کے سبب پیلا اور گندا ہوگیا تھا۔
وہاں سب سے پہلے پہنچنے والی عورتوں کو نیگرو سامنے والے دروازے پر ملا۔ اس نے انھیں اندر آنے دیا۔ان کی آوازیں گھٹی گھٹی نکل رہی تھیں۔وہ جلدی جلدی اور تجسس سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھیں۔انھیں اندر پہنچانے کے بعد نیگرو غائب ہوگیا۔وہ سیدھا مکان کے اندر گیا اور پچھلے دروازے سے باہر نکل گیا۔دوبارہ وہ دکھائی نہیں دیا۔
رشتے کی دونوں بہنیں جلد ہی پہنچ گئیں۔انھوں نے دوسرے روز آخری رسومات ادا کیں۔ پھولوں کے ڈھیر کے نیچے پڑی مس ایمیلی کو دیکھنے سارا شہر امڈ پڑاتھا۔تابوت کے پاس اسٹینڈ پر اس کے والد کا رنگین چہرہ فکر میں ڈوبا ہوا نظرا آرہا تھا۔عورتیں ماتم کررہی تھیں اور وہ عجیب لگ رہی تھیں۔کچھ بے حد بوڑھے لوگ پورچ اور برآمدے میں کھڑے تھے۔ان میں سے کئی اپنا ماتمی لباس پہنے ہوئے تھے۔وہ مس ایمیلی کے بارے میں باتیں کررہے تھے۔جیسے وہ ان کی ہم عصر رہی ہو۔وہ اس طرح ظاہر کررہے تھے جیسے انھوں نے اس کے ساتھ رقص کیا ہو یا پھر اس سے شادی کی پیشکش کی ہو۔وہ وقت کے احتساب میں کئی غلطیاں کررہے تھے جیسا کہ اکثر بوڑھے کرتے ہیں۔ جن کے لیے ماضی کوئی ختم ہو نے والی سڑک نہیں بلکہ ایک بڑا سا گھاس کا میدان ہے جسے سردی کبھی چھوبھی نہ پائے۔اس ماضی سے انھیں الگ کرکے رکھ دیا گیاتھا۔
ہمیں پہلے سے ہی علم تھا کہ سیڑھیوں کے اوپر وہاں ایک کمرہ ہے جسے چالیس برس سے کوئی نہیں دیکھ پایا تھا اور جسے اب کھلنا ہی تھا۔لوگوں نے اسے کمرے سے پہلے مس ایمیلی کی تدفین تک انتظار کیا۔
دروازہ توڑنے سے شوروغوغہ ہورہا تھا۔اسے توڑنے کی وجہ سے کمرے میں گرد و غبار اڑنے لگاتھا۔گرد کی ایک مہین تہہ جیسا کہ کسی مزار پر پڑی ہوتی ہے اس کمرے کی ہر ایک چیزپر جمی ہوئی تھی۔یہ کمرہ اس طرح سجا دھجا تھا جیسے کوئی شادی کا جشن ہو۔چاروں طرف دھول کی حکمرانی تھی۔ گلاب کی اڑی ہوئی رنگت والے جھالر دار پردوں پر،اسی رنگت کی روشنی پر،سنگھار دان پر، کرسٹل کے مجسمے پر اور چاندی کے زیورات پر،جن کی پالش ماند پڑچکی تھی۔یہاں تک کہ چاندی کا مونوگرام بھی دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ان چیزوںکے درمیان ایک کالر اور ٹائی بھی پڑی ہوئی تھی۔ایسا لگتا تھا کہ انھیں تھوڑی ہی دیر قبل ہٹایا گیا ہے۔ انھیں جب اٹھایا گیا تو اس جگہ جمی ہوئی گرد سے آدھے چاند کی تصویر بن گئی تھی۔کرسی پر سوٹ لٹکا ہوا تھا،اچھی طرح تہہ کیاہوا۔ کرسی کے نیچے ایک جوڑی ہلکے جوتے اور الگ پڑے ہوئے موزے تھے۔
آدمی خود بستر پر لیٹا تھا۔
کافی دیر تک ہم حواس باختہ کھڑے رہے۔انتہائی گہری اور زندگی سے معمور مسکان پر نظر گڑائے۔یہ بات طے تھی کہ وہ کسی کو بانہوں میں بھرنے والی حالت میں پڑاتھا۔لیکن اب اسے ابدی نیند نے جالیا تھا۔جو محبت سے بھی زیادہ ثبات رکھتی تھی اور اس کے انکار کو بھی پیچھے چھوڑسکتی تھی۔ جو کچھ بھی اس کے ختم ہوچکے بدن اور گائون میں بچا تھا وہ اس بستر سے بری طرح چپک گیا تھا جس پر وہ لیٹا تھااور اس کے اوپر اور اس کی بغل میں پڑے تکیے کے اوپر انتظارکے گرد وغبار کی دبیز تہہ جم گئی تھی۔پھر ہماری نظر دوسرے تکیے پر کسی کے سر رکھنے سے بنے گڑھے پر پڑی۔ہم میں سے کسی نے اس تکیے سے کچھ اٹھایا اور ہم سب آگے بڑھ کر اسے دیکھنے کے لیے جھکے۔وہ ایک لمبا،گہرے سلیٹی رنگ کا بال تھا جو بے جان تھا اور دھول سے اٹا ہوا۔اس سے تیز بو آرہی تھی۔
٭٭٭

ولیم فاکنر ۱۸۹۷ء میں مسیسیپی ،امریکہ میںپیدا ہوئے اور ۱۹۶۱ء میں انتقال فرمایا۔ انہیں ۱۹۴۹ء میں نوبل انعام دیا گیا۔انھوں نے زندگی کو بے حد قریب سے دیکھا تھا۔وہ مختلف کاموں سے وابستہ رہے۔فوجی بنے،کتابوں کی دکان میں نوکری کی،پوسٹ ماسٹر رہے ساتھ ہی بڑھئی کا کام بھی کیا۔گھروں میں رنگ و روغن کرتے رہے۔کچھ عرصے تک ہالی ووڈ کی فلموں کے اسکرپٹ بھی قلمبند کرتے رہے۔ ’’سینکچوری‘‘ناول پر انہیں نوبل سے نوازا گیا۔ان کی تصانیف میں دَ ماربل فان،سولجرس پے،مسکیو روز، دَ سائونڈاینڈ فیوری،سارٹریج،ایچ آئی لے ڈائنگ،لائن اِن اگست،دَ آن وین کوشڈ وغیرہ ہیں۔

 

Cobbler a Short Story by John Galsworthy

Articles

موچی

جان گالزوردی

میں اسے تب سے جانتا تھا،جب میں بہت چھوٹا تھا۔وہ میرے ابو کے جوتے بناتا تھا۔ چھوٹی سی ایک گلی میں دو دکانیں ملاکر انھیں ایک دکان میں کردیا گیا تھا۔مگر اب وہ دکان نہیں رہی،اس کی جگہ ایک بے حد جدید طرز کی دکان تیار ہوگئی ہے۔
اس کی کاریگری میں کچھ خاص بات تھی۔شاہی خاندان کے لیے تیار کیے گئے کسی بھی جوتے کی جوڑی پر کوئی نشان نہیں ہوتاتھاسوائے ان کے اپنے جرمن نام کے’’گیسلربردرس‘‘ اور کھڑکی پر جوتوں کی صرف چند جوڑیاں رکھی رہتیں۔مجھے یاد ہے کھڑکی پر ایک ہی طرح کی جوڑیوں کو باربار دیکھنا مجھے کھَلتا تھا،کیوں کہ وہ آرڈر کے مطابق ہی جوتے بناتاتھا۔نہ کم نہ زیادہ۔اس کے تیار کیے ہوئے جوتوں کے بارے میں یہ سوچنا غیر تصوراتی تھا کہ وہ پائوں میں ٹھیک سے نہیں آئیں گے؟ تو کیا کھڑکی پر رکھے جوتے اس نے خریدے تھے۔یہ سوچنا بھی تصور سے دور تھا۔وہ اپنے گھر میں ایسا کوئی چمڑا رکھنا برداشت نہیں کرتا تھا جس پر وہ بذاتِ خود کام نہ کرے۔اس کے علاوہ پمپ شو کا وہ جوڑا بے حد خوبصورت تھا،اتنا شاندار کہ بیان کرنا مشکل تھا۔وہ اصل چمڑے کا تھا جس کی اوپری تہہ کپڑے کی تھی۔انھیں دیکھ کر ہی جی للچانے لگتا تھا۔اونچے اونچے بھورے چمکدار جوتے،حالانکہ نئے تھے مگر ایسا لگتا تھا جیسے سیکڑوں برسوں سے پہنے جارہے ہوں۔واقعی جوتوں کا وہ جوڑا ایک مثالی نمونہ تھا۔جیسے تمام جوتوں کی روح اس میں منتقل ہوگئی ہو۔
دراصل یہ سارے خیالات میرے ذہن پر بعد میں ابھرے۔حالانکہ جب میں صرف چودہ برس کاتھا،تب سے اسے جانتا تھا اور اسی وقت سے میرے دل میں اس کے اور اس کے بھائی کے لیے احترام کا جذبہ پیدا ہوچکا تھا۔ایسے جوتے بنانا جیسے وہ بناتا تھا تب بھی اور اب بھی میرے لیے ایک عجوبہ یا حیرت انگیز بات تھی۔
مجھے بخوبی یاد ہے،ایک دن میں نے اپنا چھوٹا سا پیر آگے بڑھاکر شرماتے ہوئے اس سے پوچھا تھا،’’مسٹر !کیا یہ بہت مشکل کام نہیں ہے؟‘‘
جواب دیتے وقت سرخی مائل داڑھی سے ایک مسکان ابھر آئی تھی،’’ہاں، یہ مشکل کام ہے۔‘‘
چھوٹے قد کا وہ آدمی جیسے بذات خود چمڑے سے بنایا گیا ہو،اس کا زرد چہرہ جھریوں بھرا چہرہ اور سرخی مائل گھنگھرالے بال اور داڑھی،رخساروں سے اس کے منہ تک دائروی شکل میں ابھری چہرے کی لکیریں،گلے سے نکلی ہوئی بھاری بھرکم آواز۔چمڑہ ایک نافرمان چیز ہے۔سخت اور آہستہ آہستہ آکار لینے والی چیز۔اس کے چہرے کی بھی یہی خاصیت تھی۔اپنے آدرش کو اپنے اندر پوشیدہ رکھے ہوئے،محض اس کی آنکھیں اس سے عاری تھیں۔جو بھوری نیلی تھیں اور جن میں ایک سادگی بھری گہرائی تھی۔
اس کا بڑا بھائی بھی تقریباً اس جیسا ہی تھا،بلکہ اس کا رنگ کچھ زیادہ زردی مائل تھا۔ شروعات میں میرے لیے دونوں میں فرق کرپانا دشوار مرحلہ تھا۔پھرمیری سمجھ میں آگیا۔جب کبھی میں اپنے بھائی سے پوچھوں گا،ایسا نہیں کہا جاتا تو میں جان لیتا تھا کہ یہ وہی ہے اور یہ الفاظ دہرائے جاتے تو یقیناً وہ اس کا بڑا بھائی ہوتا۔
کئی بار برسوں بیت جاتے اور بل میں اضافہ ہوتا جاتا،مگر گیسلر بھائیوں کی رقم کوئی بقایا نہیں رکھتا تھا۔ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ اس نیلے فریم کے چشمے والے جوتاساز کا کسی پر دو جوڑیو ں سے زیادہ رقم باقی ہو۔اس کے پاس جانا ہی طمانیت کا احساس جگا دیتا تھا کہ ہم بھی اس کے گاہک ہیں۔
اس کے پاس باربار جانے کی ضرورت نہیں پڑتی تھی،کیوں کہ اس کے بنائے جوتے بہت مضبوط ہوتے تھے،ان کا کوئی ثانی نہیں ہوتا۔وہ جوتے ایسے ہوتے جیسے جوتوں کی روح ان کے اندرسِل دی گئی ہو۔
وہاں جانا کسی عام دکان پر خریداری کرنے کے مترادف نہیں تھا۔ایسا قطعی نہیں تھا کہ آپ دکان میں داخل ہوئے اور بس کہنے لگیں کہ،’’ذرا مجھے یہ دکھائو‘‘ یا ’’ٹھیک ہے‘‘ کہہ کر اٹھے اور چل دیئے۔یہاں پورے اطمینان کے ساتھ جانا پڑتا تھا،بالکل اسی طرح جیسے کسی گرجا گھر میں داخل ہواجاتا ہے۔پھر اس کی اکلوتی لکڑی کی کرسی پر بیٹھ کر انتظار کریں،کیوں کہ اس وقت وہاں کوئی نہیں ہوتا۔جلدی ہی چمڑے کی بھینی بھینی بو اور تاریکی سے بھری اوپر کی کنوئیں نما کوٹھری سے اس کا یا اس کے بڑے بھائی کا چہرا نیچے جھانکتا ہوا نظر آتا۔ایک بھاری بھر کم آواز اور لکڑی کی تنگ سیڑھیوں سے قدموں کی چاپ سنائی دیتی۔پھر وہ آپ کے سامنے کھڑاہوتا،بنا کوٹ کے تھوڑا جھکا جھکا سا،چمڑے کا ایپرن پہنے ،آستین اوپر چڑھائے،آنکھیں اور پلکیں جھپکاتے ہوئے جیسے اسے جوتوں کے خوبصورت خواب سے جگایا گیا ہو یا جیسے وہ الّو کی طرح دن کی روشنی سے حیرت زدہ اور خواب میں خلل کی وجہ سے جھنجھلایا ہوا ہو۔
میں اس سے پوچھتا،ــ  کیسے ہو بھائی گیسلر؟کیا تم میرے لیے روسی چمڑے سے ایک جوڑی جوتے بنا دوگے؟‘‘
بنا کچھ کہے وہ دکان کے اندر چلا جاتا اور میں اسی لکڑی کی کرسی پر آرام سے بیٹھ کر اس کے پیشے کی بو اپنی سانسوں میں اتارتارہتا۔کچھ ہی دیر بعد وہ لوٹتا ۔اس کے کمزور اور اُبھری ہوئی نسوں والے ہاتھوں میں گہرے بھورے رنگ کے چمڑے کا ایک ٹکڑا ہوتا۔اس کی آنکھیں اس پر گڑی رہتیں اور وہ کہتا،’’کتنا خوبصورت ٹکڑا ہے!‘‘جب میں بھی اس کی تعریف کردیتا تو وہ سوال کرتا، آپ کو جوتے کب تک چاہیے؟‘‘اور میں کہتا،’’اوہ،بنا کسی دقت کے جتنی جلد ممکن ہوسکے بنا کردے دو۔‘‘ اور پھر وہ سوالیہ انداز میں کہتا،’’کل دوپہر؟‘‘یا اگر اس کا بڑا بھائی ہوتا تو وہ کہتا،’’میں اپنے بھائی سے پوچھوں گا۔‘‘
پھر میں آہستہ سے کہتا ،’’شکریہ مسٹر گیسلر،اب اجازت ،خدا حافظ۔‘‘
’’خدا حافظ!‘‘وہ کہتا۔مگر اس کی نگاہ ہاتھ تھامے ہوئے چمڑے پر ہی ٹکی رہتیں۔میں دروازے کی جانب مڑتا۔مجھے سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اس کے قدموں کی آہٹ سنائی دیتی۔ جو اسے جوتوں کی اسی خوابوں بھری دنیا میں لے جاتی۔مگر ایسا کوئی نیا جوتا بنوانا ہو،جو اس نے ابھی تک میرے لیے نہ بنایا ہو تو وہ جیسے مخمصے میں پڑجاتا۔مجھے میرے جوتے سے آزاد کرکے دیر تک ہاتھ میں لے کر اس جوتے کو دیکھتا رہتا۔مسلسل شفقت بھری پارکھی نظروں سے نہارتا رہتا۔جیسے اس گھڑی کو یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو جب بڑے جتن سے انھیں بنایا گیا تھا۔اس کے ہائو بھائو میں کرب جھلکتا تھا کہ آخر کس نے اس قدر عمدہ نمونے کو اس حال میں پہنچایا ہے۔پھر کاغذ کے ایک ٹکڑے پر میرا پیر رکھ کر وہ پینسل سے دوتین بار پیر کے گھیرے کانشان بناتا،اس کی حرکت کرنے والی انگلیاں میرے انگوٹھے اور پیروں کو چھوتی رہتیں،جیسے میں نے یوں ہی اس سے کہہ دیا،’’بھائی گیسلر،آپ کو پتہ ہے، آپ نے جو پچھلا جوتا بناکر دیا تھا،وہ چرمراتاہے۔‘‘
کچھ کہے بغیر اس نے پل بھر میری طرف دیکھا،جیسے امید کررہا ہو کہ یاتو میں اپنا جملہ واپس لے لوں یا اپنی بات کا ثبوت پیش کروں۔
’’ایسا تو نہیں ہونا چاہیے تھا۔‘‘وہ بولا۔
’’ہاں مگر ایسا ہواہے۔‘‘
’’کیا تم نے انھیں بھگویا تھا؟‘‘
’’میرے خیال سے تو نہیں۔‘‘
یہ سن کر اس نے اپنی نظریں جھکالیں۔جیسے وہ ان جوتوں کو یاد کرنے کی کوشش کررہا ہو، مجھے بے حد افسوس ہواکہ میں نے یہ بات کیوں کہہ دی۔
’’جوتے واپس بھیج دو۔میں دیکھوں گا۔‘‘وہ بولا۔
اپنے چرمراتے ہوئے جوتوں کے بارے میں میرے اندر رحم دلی کے جذبات ابھر آئے۔ میں بخوبی تصور کرسکتا تھا کہ دکھ بھری طویل بے چینی کے ساتھ نہ جانے کتنی دیر تک وہ ان کی مرمت کرے گا؟
’’کچھ جوتے۔‘‘اس نے آہستگی سے کہا،’’پیدائشی خراب ہوتے ہیں،اگرانھیں درست نہ کرسکا تو آپ کے بل میں اس کے پیسے نہیں جوڑو ں گا۔‘‘
اک بار ،محض ایک ایک بار میں اس کی دکان میں بے خیالی سے ایسے جوتے پہن کر چلاگیا جو جلد بازی کی وجہ سے کسی مشہور دکان سے خرید لیے تھے۔اس نے بنا کوئی چمڑا دکھائے میرا آرڈر لے لیا۔میرے جوتوں کی گھٹیا بناوٹ پر اس کی آنکھیں ٹکی ہوئی تھیں۔میں اس بات کو محسوس کررہا تھا۔آخر اس سے رہا نہ گیا اور وہ بول اٹھا،’’یہ میرے بنائے ہوئے جوتے تو نہیں ہیں؟‘‘
اس کے لہجے میں نہ غصہ تھا نہ دکھ کا اظہار نہ نفرت کے جذبات۔مگر کچھ ایسا ضرور تھا، جو لہو کو سرد کردے۔اس نے ہاتھ اندر ڈال کر انگلی سے بائیں جوتے کو دبایا،جہاں جوتے کو فیشن ایبل بنانے کے لیے غیر ضروری کاریگری کی گئی تھی۔مگر وہاں وہ جوتا کاٹتا تھا۔
’’یہاں،یہ آپ کو کاٹتا ہے نا؟‘‘اس نے پوچھا،’’یہ جو بڑی کمپنیاں ہیں انھیں عزت کا پاس نہیں ہوتا۔‘‘پھر جیسے اس کے دماغ میں کچھ بیٹھ گیا ہو،وہ زورزور سے کڑواہٹ بھرے لہجے میں بولنے لگا۔یہ پہلی مرتبہ تھا،جب میں نے اسے اپنے پیشے سے پیدا ہونے والے نا گفتہ با حالات اور دقتوں کے بارے میں کچھ کہتے ہوئے سنا۔’’انھیں سب کچھ حاصل ہوجاتا ہے۔‘‘اس نے کہا،’’ وہ کام کے بوتے پر نہیں،بلکہ اشتہار کے بوتے پر سب کچھ حاصل کرلیتے ہیں۔وہ ہمارے گاہک چھین لیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج میرے پاس کام نہیں ہے۔‘‘اس کی جھریوں سے بھرے چہرے پر میں نے وہ سب دیکھا جو کبھی نہیں دیکھا تھا۔بے انتہا تکلیف،کڑواہٹ اور جدوجہد۔اچانک اس کی سرخ مائل داڑھی میں سفیدی لہرانے لگی تھی۔
اپنی جانب سے میں اتناکرسکتا تھا کہ اسے حالات روشناس کراتا۔جس کی بنا پر میں اس گھٹیا جوتوں کو خریدنے پر مجبور ہوگیاتھا۔مگر ان چند لمحات میں اس کے چہرے اور آواز نے مجھے اس قدر متاثر کیا کہ میں نے کئی جوڑی جوتوں کے بنانے کا آرڈر دے دیا اور اس کے بعد یہ تو ہونا ہی تھا۔ وہ جوتے گھسنے کا نام ہی نہیں لیتے تھے۔تقریباً دو برس تک میں وہاں نہ جاسکا۔
آخر جب میں گیا تو یہ دیکھ کر بڑا تعجب ہوا کہ اس کی دکان کی دو چھوٹی کھڑکیوں میں سے ایک کھڑکی کے باہر کسی دوسرے کے نام کا بورڈ آویزاں ہوگیا تھا۔وہ بھی جوتے بنانے والا ہی تھا۔ شاہی خاندان کے جوتے۔اب صرف ایک کھڑکی پر وہی جانے پہچانے جوتے رکھے ہوئے تھے۔ وہ الگ سے نہیں لگ رہے تھے۔اندر بھی،دکان کی وہ کنوئیں نما کوٹھری پہلے کی بہ نسبت زیادہ تاریک اور بو سے اٹی ہوئی لگ رہی تھی۔اس بار ہمیشہ سے کچھ زیادہ ہی وقت لگا۔کافی دیر بعد وہی چہرہ نیچے جھانکتا ہوا دکھائی دیا۔پھر چپلوں اور قدموں کی آواز گونجنے لگی۔آخر وہ میرے روبرو تھا، زنگ آلود ٹوٹے پرانے چشمے میں سے جھانکتا ہوا۔اس نے پوچھا،ــ’’آپ مسٹر۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہیں نا؟‘‘
’’ہاں مسٹر گیسلر۔‘‘میں نے کچھ ہچکچاتے ہوئے کہا،’’کیا بتلائوں،آپ کے جوتے اتنے اچھے ہیں کہ گھستے ہی نہیں۔دیکھیے یہ جوتے بھی ابھی تک چل رہے ہیں۔‘‘اور میں نے اپنا پیر آگے بڑھادیا۔اس نے انھیں دیکھا۔
’’ہاں۔‘‘وہ بول اٹھا۔’’مگر لگتا ہے لوگوں کو اب مضبوط جوتوں کی ضرورت نہیں رہی۔‘‘
اس کی طنز بھری نظروں اور آواز سے نجات پانے کے لیے میں نے فوراً کہا،’’یہ تم نے اپنی دکان کو کیا کر ڈالا ہے؟‘‘۔اس نے اطمینان سے کہا،’’بہت مہنگا پڑرہا تھا۔کیا آپ کو جوتے چاہیے؟‘‘
میں نے تین جوڑی جوتوں کا آرڈر دیا۔حالانکہ مجھے ضرورت صرف دو جوڑی جوتوں کی ہی تھی اور جلدی سے میں وہاں سے باہر نکل آیا۔نہ جانے کیوں مجھے لگا کہ اس کے ذہن میں کہیں یہ بات ہے کہ اسے یا سچ کہیں تو اس کے جوتوں سے متعلق جو سازش رچی جارہی ہے اس میں میں بھی شامل ہوں۔یوں بھی کوئی ان چیزوں کی اتنی پروا نہیں کرتا۔مگر پھر ایسا ہوا کہ میں کئی مہینوں تک وہاں نہیں گیا۔جب میں وہاں گیا تو میرے ذہن میں بس یہی خیال تھا،اوہ!میں بھلااس بوڑھے کو کیسے چھوڑسکتا ہوں۔شاید اس بار اس کے بڑے بھائی سے سامنا ہوجائے۔
میں جانتا تھا کہ اس کا بڑا بھائی تیکھے لہجے میں یا نفرت آمیز لہجے میں بات نہیں کرسکتا۔
واقعی دکان میں جب مجھے بڑے بھائی کی شبیہہ دکھائی دی تو میں نے راحت محسوس کی۔ وہ چمڑے کے ایک ٹکڑے پر کام کررہا تھا۔
’’ہیلو مسٹر گیسلر کیسے ہیں آپ؟‘‘میں نے پوچھا۔وہ اٹھا اور غور سے مجھے دیکھنے لگا۔
’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘اس نے آہستگی سے کہا،’’مگر میرے بڑے بھائی کا انتقال ہوگیا۔‘‘
تب میں نے دیکھا کہ یہ تو وہ خود تھا۔کتنا بوڑھا اور کمزور ہوگیا تھا۔اس سے پہلے میں نے کبھی اسے اپنے بڑے بھائی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں سنا تھا۔مجھے بڑا دکھ ہوا۔میں نے آہستہ سے کہا، ’’یہ تو بہت ہی برا ہوا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘وہ بولا،’’وہ نیک دل انسان تھا،اچھے جوتے بناتا تھا،مگر اب وہ نہیں رہا۔‘‘پھر اس نے اپنے سر پر ہاتھ رکھا،جہاں سے اچانک اس کے بہت زیادہ بال جھڑگئے تھے۔اس کے بدقسمت بھائی کی طرح۔مجھے محسوس ہوا شاید وہ اس طرح اپنے بھائی کی موت کا سبب بتارہا تھا۔ ’’بھائی اس دوسری دکان کو کھودینے کا غم برداشت نہیں کرپایا۔خیر،کیا آپ کو جوتے چاہیے؟‘‘ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چمڑہ اٹھاکر دکھایا۔’’یہ بہت خوبصورت ٹکڑاہے!‘‘
میں نے کئی جوتوں کاآرڈر دیا۔بہت دنوں بعد مجھے وہ جوتے ملے جو بے حد شاندار تھے۔ انھیں بڑے سلیقے سے پہنا جاسکتا تھا۔اس کے بعد میں بیرون ملک چلا گیا۔
لوٹ کر لندن آنے میں ایک برس سے بھی زیادہ وقت گزرگیا۔لوٹنے کے بعد سب سے پہلے میں اپنے اسی بوڑھے دوست کی دکان پر گیا۔میں جب گیا تھا وہ ساٹھ برس کا تھا۔اب جسے میں دیکھ رہا تھا وہ پچھہتر سے بھی زیادہ کا دکھائی دے رہا تھا۔بھوک سے بے حال،تھکا ماندا،خوفزدہ اور اس بار واقعی اس نے مجھے نہیں پہچانا۔
’’اور مسٹر گیسلر۔‘‘میں نے کہا۔دل ہی دل میں دکھی تھا،’’تمھارے جوتے تو واقعی کمال کے ہیں!دیکھو ،میں بیرونِ ملک یہی جوتے پہنتا رہا اور اب بھی یہ اچھی حالت میں ہیں۔ ذرا بھی خراب نہیں ہوئے ہیں،ہیں نا؟‘‘
بڑی دیر تک وہ جوتوں کو دیکھتا رہا۔روسی چمڑے سے بنے ہوئے جوتے۔اس کے چہرے پر ایک چمک سی لوٹ آئی۔اپنا ہاتھ جوتے کے اوپری حصے میں ڈالتے ہوئے وہ بولا۔’’کیا یہاں سے کاٹتے ہیں؟مجھے یاد ہے ان جوتوں کو بنا نے میں مجھے کافی پریشانی ہوئی تھی۔‘‘
میں نے اسے یقین دلایا کہ وہ ہر طرح سے بہترین ہیں۔ذرا بھی تکلیف نہیں دیتے۔
’’کیا آپ کو جوتے بنوانے ہیں؟‘‘اس نے پوچھا،میں جلد ہی بناکر دوں گا،یوں بھی مندی کا دور چل رہا ہے۔‘‘
’’میں بالکل نئے ماڈل کے جوتے بنائوں گا۔آپ کے پیر تھوڑے بڑے ہوگئے۔‘‘ اور آہستگی سے اس نے میرے پائوں کو ٹٹولا اور انگوٹھے کو محسوس کیا۔اس دوران صرف ایک بار اوپر دیکھ کر وہ بولا،’’کیا میں نے آپ کو بتایا کہ میرے بھائی کا انتقال ہوگیا ہے؟‘‘
اسے دیکھنا بڑا تکلیف دہ تھا،وہ بہت کمزور ہوگیا تھا،باہر آکر میں نے راحت محسوس کی۔
میں ان جوتوں کی بات بھول ہی چکا تھا کہ ایک شام اچانک وہ آپہنچے۔جب میں نے پارسل کھولا تو ایک کے بعد ایک چار جوڑی جوتے نکلے۔بناوٹ،آکار،چمڑے کی کوالیٹی اور فٹنگ ہر لحاظ سے اب تک بنائے گئے جوتوں سے بہتر اور لاجواب۔عام موقع پر پہنے جانے والے جوتے میں مجھے اس کا بل ملا۔اس نے ہمیشہ کی طرح ہی دام لگایا تھا۔مگر مجھے تھوڑادھکالگا۔کیوں کہ وہ کبھی تین ماہ کی آخری تاریخ سے قبل بل نہیں بھیجتا تھا۔میں دوڑتے ہوئے نیچے گیا،چیک بنایا اور فوراً پوسٹ کردیا۔
ایک ہفتے بعد میں اس راستے سے گزر رہا تھا تو سوچا کہ اسے جاکر بتائوں کہ اس کے جوتے کتنے شاندار اور بہترین ناپ کے بنے ہیں۔مگر جب میں وہاں پہنچا جہاں اس کی دکان تھی تو اس کا نام غائب تھا۔کھڑکی پر اب بھی وہی سلیقہ دار پمپ شو رکھے ہوئے تھے۔اصل چمڑے کے اور کپڑے کی اوپری تہہ والے۔
بے چین ہوکر میں اندر گیا،دونوں دکانوں کو ملاکر دوبارہ ایک دکان کردی گئی تھی۔ایک انگریز نوجوان ملا۔’’مسٹر گیسلر اندر ہیں؟‘‘ میں نے پوچھا۔اس نے مجھے عجیب نظروں سے دیکھا۔
’’نہیں سر۔‘‘وہ بولا،’’نہیں،مسٹر گیسلر نہیں ہیں۔مگر ہم ہر طرح سے آپ کی خدمت کرسکتے ہیں،یہ دکان ہم نے خریدلی ہے،آپ نے باہر ہمارا بورڈدیکھا ہوگا۔ہم نامی گرامی لوگوں کے لیے جوتے بناتے ہیں۔‘‘
’’ہاں،ہاں۔‘‘میں نے کہا،’’مگر مسٹرگیسلر؟‘‘
’’اوہ!‘‘وہ بولا،’’ان کا انتقال ہوگیا۔‘‘
’’کیا ،انتقال ہوگیا؟مگر انھوں نے مجھے پچھلے ہفتے ہی تو یہ جوتے بھیجے تھے۔‘‘
’’اوہ!بے چارہ بوڑھا،بھوک سے ہی مرگیا۔‘‘اس نے کہا۔’’بھوک سے آہستہ آہستہ موت،ڈاکٹر یہی کہتے ہیں!آپ جانتے ہیں وہ دن رات بھوکا رہتا تھا اور کام کرتا تھا۔اپنے علاوہ کسی کو بھی جوتوں پر ہاتھ لگانے نہیں دیتا تھا۔جب اسے آرڈر ملتا تو اسے پورا کرنے میں رات دن ایک کردیتا۔اب لوگ بھلا کیوں انتظار کرنے لگے۔اس کے سبھی گاہک چھوٹ گئے تھے۔وہ وہاں بیٹھا لگاتار کام کرتا رہتا۔وہ کہتا کہ پورے لندن میں اس سے بہتر جوتے کوئی نہیں بناتا۔ اس کے پاس بہترین چمڑا تھا مگر وہ اکیلا ہی سارا کام کرتا تھا۔خیر!چھوڑیئے اس طرح کے آدرش میں کیا رکھا ہے۔‘‘
’’مگر بھوک سے مرجانا؟‘‘
’’یہ بات عجیب سی لگتی ہے مگر میں جانتا ہوں دن رات اپنی آخری سانس تک وہ جوتوں پر لگا رہا۔انھیں دیکھتا رہتا۔اسے کھانے پینے کا بھی ہوش نہیں رہتا تھا۔جیب میں پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی۔ سب کچھ گروی رکھ دیا تھا۔مگر اس نے چمڑا نہیں چھوڑا۔نہ جانے کس طرح وہ اتنے دن زندہ رہا۔وہ مسلسل فاقے کرتا رہا۔وہ ایک عجیب انسان تھا، مگر ہاں،وہ جوتے بہت عمد ہ بناتا تھا۔‘‘
’’ہاں۔‘‘میں نے کہا،’’وہ عمدہ جوتے بناتا تھا۔‘‘

٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

جان گالزوردی ۱۹۶۷ء میں انگلینڈ کے شہر کِنگسٹن میں پیدا ہوئے اور ۱۹۳۳ء میں انتقال کرگئے۔انہیں’’دَفورسائٹ ساگا‘‘کے لیے نوبل سے نوازا گیا۔ان کے سترہ ناول،چھبیس ڈرامے اور افسانے بارہ جلدوں میں شائع ہوئے ہیں۔انہوں نے نظمیں بھی تخلیق کی ہیں۔لیکن وہ ناولوں کے لیے مشہور ہیں۔ان کی تصانیف میں دَ آئی لینڈ فیری سیز،دَ مین آف پراپرٹی،دَ ڈارک فلور،اِن چانسری، ٹولیٹ،لائلٹیز،دَ وہائٹ سنکی،دَ سلور باکس وغیرہ ہیں۔

My Village is me the best

Articles

میرا گاؤں مجھے سب سے پیارا لگے

انظر حسین کرھی

 

دوستو: ابھی بھی گاؤں کے موسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دن میں وہی جون ماہ والی گرمی سورج میں وہی تمازت ہوا میں وہی حرارت لیکن شام ڈھلے سرمئی شام کے بیچ سورج کے ڈوبنے کا دلفریب انداز نہر کے پانی کا زردی مائل ہوجانا اور درخت پر انگارے جیسی شعاعیں بکھیرنا یہ خوبصورتی صرف گاؤں کو ہی میسر ہو سکتی ہے ۔ اس لئے یہ مقولہ عام ہے کہ دیہات کو خدا نے بنایا ہے اور شہر کو انسان نے
میرا تعلق جس علاقے سے ہے یہ علاقہ مردم خیز ہے یہاں کے لوگوں کا اکثر پیشہ زراعت ہے اور اس علاقے کا شمار ترقی یا یفتہ علاقوں میں ہوتا ہے ۔ یہاں پہلے کے مقابلے اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جگہ جگہ پرائیویٹ نرسری اور کالج اور اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ علاقہ تعلیمی میدان میں اب بھی دوسرے علاقوں سے بہت پیچھے ہے میرے بلاک میں ایک سو سے بھی زیادہ گرام پنچایت ہیں میری خواہش ہے کہ میں ہر گرام پنچایت میں پہنچوں اور وہاں کے حالات سے آپ سبکو بھی رو شناس کراؤں اور یہ بھی بتاؤں کہ کس گرام پنچایت میں ترقی کی روشنی کتنی پہنچی ہے جس کا اندازہ اس گاؤں کی سڑک نالے اور صاف اور صفائی سے ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن دوستوں ایک بات واضح کردوں میرا مقصد واللہ کسی گاؤں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانے کا ہے اور نہ ہی اس گاؤں کے قائد پر کیچڑ اچھالنے کا ۔ مجھے اس بات کا علم ہے کہ ہر گاؤں کے قائد کی کچھ مجبوریاں بھی رہتی ہونگی اور ہر انسان یکساں ہوتا بھی نہیں کمیاں سب کے اندر ہوتی ہیں ۔ لیکن کوشش اور جد جہد انسان کے زندگی کا حصہ ہے اسے ہمیشہ جاری و ساری رکھنا چاہئے ۔
آج میں نے جن گاؤں کو دیکھنے کا انتخاب کیا وہ بلاک سمریانواں کے شمالی جانب تھے ۔ ان گاؤں میں مجھے سب سے تیز ترقی حاصل کرنے والا گاؤں دیوریا ناصر لگا 10 سال پہلے اس گاؤں میں جانے کے لئے کوئی آسان راستہ نہیں تھا بارش میں اس گاؤں کا تعلق شہر اور بلاک سے منقطع ہوجاتا تھا ۔ مجھے آج بھی یہاں جانے سے پہلے میرے ذہن میں اسی وقت کا تصور تھا ۔ سمرہانواں سے نماز ظہر ادا کرکے اپنی سفری گاڑی کو اس جانب چلنے کا حکم دیا ۔ اور اس بات کا خیال رکھا کہ دیوریاں ناصر جاتے وقت اور بھی گاؤں کی زیارت ہوجائے تو بہتر ہوگا اس لئے راستے کا انتخاب کہریانواں چوراہے سے پہلے بائیں طرف مڑنے والی پکی سڑک کا کیا کیونکہ اس راستے میں۔ کنڑجا ، پرسوہیاں ، مصرولیا ۔ بھی آتا ہے ۔ تقریبا 500 میٹر چلنے کے بعد کنڑجا کا چوراہا گاؤں کے بائیں جانب جو واقع ہے مجھے ملا ۔ اس چوراہے پر چائے کی دوکان زیادہ دیکھنے کو ملی اور ایک سرکاری پن چکی بھی گاؤں گھنے درختوں کی اوٹ میں چھپا تھا گاؤں کے چاروں طرف لمبے اور سایہ دار درخت گاؤں کو اپنی آغوش میں چھپا رکھا تھا جس سے گاؤں اور خوبصورت نظر ارہا تھا دل چاہتا تھا کہ دیکھتا ہی رہوں ۔ لیکن گاڑی کے پہیہ کے ساتھ وقت بھی بہت تیزی سے دوڑ رہا تھا جس بنا پر مجھے بغیر کسی ٹہراؤ کے سفر جاری رکھنا تھا کنڑجا کے حدود سے نکلتے ہی کرما خان کا حدود مل جاتا ہے جبکہ گاؤں آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ کرماں خان جاتا تو وقت زیادہ صرف ہوتا لہذا میں نے اپنی گاڑی کا رخ پرسوہنیا کی طرف موڑدیا اس کے بعد ہی دیوریا تھا مگر میں نے سیدھا دیوریا ناصر جانے کے بجائے مصرولیا کی طرف مڑ گیا مصرولیا اور پرسوہیاں کے کونے پر ایک پرائمری اسکول ہے اور یہیں سے ایک راستہ مصرولیا اور ایک دیوریا ناصر کو جاتا ہے میں نے پہلے مصرولیا دیکھنے کا عزم کیا سڑک بہت زیادہ کج رو کے باوجود عمدہ تھی گاڑی بغیر جنبش اور کھڑکھڑاہٹ کے اپنی فطری رفتار سے دوڑ رہی تھی پہلے اس گاؤں کا نام سنکر کچھ عجیب سا لگتا تھا کہ یہ گاؤں بہت پچھڑا ہوگا اس گاؤں میں گندگی کا انبار ہوگا مکان کچے اور خستہ حال ہونگے لیکن اس گاؤں کو دیکھکر دل خوش ہوگیا گاؤں کے دونوں جانب شہر سے جوڑنے والی پختہ سڑک تھی گندگی کا کوئی نشان نہیں تھا سڑکیں صاف و شفاف اور وسیع تھیں گاؤں والوں نے اپنے گھروں کو بہتر انداز میں تعمیر کیا تھا سڑک کے کنارے جتنے بھی گھر مجھے ملے انکے سامنے زمین خالی ملی پہلے یہ گاؤں کہریانواں گرام سبھا سے ملحق تھا اس گاؤں کا پردھان کہریانواں کا ہوتا تھا لیکن اس گرام سبھا کے انتخاب کے وقت سرکار نے کچھ گاؤں کو گرام سبھا کا درجہ دے دیا تھا اس گاؤں میں کوئی چائے کی دوکان نہ ہونے کی وجہ سے یہاں رکنا اور یہاں کی معلومات لینا میرے لئے مشکل تھا کیونکہ اس گاؤں کے لئے میں اجنبی تھا اور اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اس گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ اس لئے بغیر کسی معلومات کے لوٹ گیا اب اگلی منزل میری دیوریا ناصر تھی جس کے دیدار کی غرض سے میں اپنے گھر سے نکلا تھا مصرولیا سے 3 منٹ کی دوری پر دیوریا ناصر تھا ماشاءاللہ اب اس گاؤں کو جانے والی سڑک بھی بن چکی ہے اس گاؤں کو لیکر جیسا میرا تصور تھا سب اس کے عکس نکلا میں نے اب تک جتنے گاؤں دیکھے سب سے تیز رفتار ی سے ترقی کرنے والا گاؤں مجھے یہیں کا محسوس ہوا ۔ سڑک تو بن ہی گئی ہے پہلے گاؤں میں داخل ہوتے ہی آپکے استقبال میں چھپر اورپھوس کی عمارتیں ملتی تھیں ۔ لیکن اب خوبصورت نئے طرز اور شہری نمونے کی کشادہ عمارتیں آپ کے خیر مقدم کے لئے کھڑی ملیں گی۔ اس کو دیکھکر میرے دل میں مزید اس گاؤں کو دیکھنے کا شوق پیدا ہونے لگا اس لئے میں یہاں کے عربیہ مدرسہ کے باب زکریا سے ہوکر سیدھا باہر نکل گیا راستے کے دونوں جانب مجھے نئے مکانات زیر تعمیر نظر آئے جو گاؤں کی خوشحالی کی شہادت دے رہے تھے اور یہاں کے لوگوں کا ذوق تعمیر کا نمونہ پیش کر رہے تھے ۔ میں نے اپنے گاڑی کی رفتار بڑھائی تاکہ کرماخان کا بھی دیدار چلتے چلتے ہوجائے ارادہ تو ڈنڑواں مالی بھی جانے کا تھا یہ گاؤں پرانا ہے مگر ابھی یہ نئے زمانے کی نئے طور طریقوں سے نا آشنا ہے یہ گاؤں دینی اور دنیاوی اعتبار دونوں سے پیچھے ہے بچوں کے تعلیم کا بھی کوئی خاص بند و بست نہیں یہاں دینی تعلیم کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ میں چاہ کر بھی اس گاؤں میں نہیں جا سکا کیونکہ راستہ خراب تھا بارش کی وجہ سے ابھی تال میں پانی تھا اس لئے مجھے ملتوی کرنا پڑا ۔ کرماں خان تو راستے میں ہی پڑا تھا مگر راستہ مشکوک تھا اور کوئی رہنمائی کرنے والا بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا میں نے گاڑی تھوڑی دیر کے لئے دیوریا ناصر مسلم قبرستان کے پاس کھڑی کردی اور نگاہیں دور تک دوڑانا شروع کردیا کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ مجھے راہ بتانے والا مل جائے خیر کچھ دوری پر مجھے بھینس چرواہے دکھائی دیئے میں نے سرپٹ گاڑی اس طرف دوڑا دی ان سے کرماں خان کا راستہ معلوم کیا اور انکی ہدایت پر چل دیا ایک کلو میٹر چلنے کے بعد مجھے ایک باغ اور اسکے بیچ میں ایک سرکاری اسکول نظر ایا چرواہوں نے یہیں سے مڑنے کی مجھے ہدایت دی تھی
میں انہیں کے نشان پر اپنے داہنی جانب مڑ گیا راستہ اینٹ کا وہ بھی پرانا تعمیر شدہ تھا جگہ سے جگہ ٹوٹا ہوا گاڑی کے ہچکولے کے ساتھ گاؤں میں داخل ہوگیا گاؤں کے اندر انٹر لاکنگ اور نئے طرز کا شہری ماڈل نالا تو بن گیا مگر پھر بھی کام باقی ہے کرما خان کو شہر سے جوڑنے والی سڑکیں اب بھی مخدوش اور کچی ہیں جس کے تعمیر کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہی سڑکیں گاؤں کے ترقی اور دیگر سہولیات کی شہ رگ ہوتی ہیں انہیں راستوں سے گذر کر گاؤں میں ترقی داخل ہوتی ہے اب اس کے دونوں جانب شہر کی سڑکیں ابھی تک کیوں نہیں تعمیر ہوئیں یہ تو اس گاؤں کے سرکردہ افراد بتائیں گے یا اس گاؤں کے مکین ہوسکتا ہے اس کے تعمیری کام میں کوئی رکاوٹ ہو وہ تو وہیں کے لوگ بہتر بتائیں گے میں گاؤں کے پل کے پاس پہنچکر پان کی ٹنکی والے سے اپنے گاؤں کرہی جانے کے لئے سہل راستہ دریافت کیا پان والے نے بڑے ہی خندہ پیشانی سے مجھے میرے گاؤں کو جانے والا نہر کا راستہ بٹایا راستہ پر خطر اور تنگ ضرور ہے مگر میرے گاؤں کی مسافت کو کم کرنے میں بہتر ہے اور مجھے ایسے راستوں کی تلاش رہتی ہے تاکہ قدرت کے کچھ اچھے تخلیقی نمونوں کا دیدار کرسکوں نہر پر چرواہے اور مچھلی کے شکاری مجھے جگہ جگہ ملے اور نہر کی بلندی سے مجھے دور تک کئی اور گاؤں کے حسین منظر دکھائی دیتے رہے گنبد و محراب کے نظاروں سے اللہ کی یاد آتی رہی میں ابھی اپنے مالک و خالق کی حسین تخلیقات میں ایسا محو تھا کہ میرا گاؤں اگیا ۔ لیکن دوستوں گاؤں کوئی بھی ہو لیکن سب ایک جیسے ہوتے ہیں سبزہ زاروں سے زمین ڈھکی ہوتی ہے گھنے درخت کے سائے سے چاند اور سورج کی روشنی چھن چھن کر دھیرے دھیرے زمین پر اترتی ہے بانس اور تارکول کے چومتے درخت ہوا کی ہلکی سے حرکت پر جنبش کرتے رہتے ہیں قدرت کے ہر قسم کے پھل اور سبزیوں سے گاؤں والے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں گاؤں کی زندگی بڑی ہی فرحت بخش ہوتی ہے یہاں کے لوگ خالص غذا کھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ شہری لوگوں کی نسبت زیادہ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں ۔ گاؤں کے لوگ بہت سادہ اور مخلص ہوتے ہیں انکی زندگی میں تکلف بناوٹ ریاکاری مکر و فریب اور دکھاوا نہیں ہوتا وہ خلوص اور صاف دلی کا پیکر ہوتے ہیں اور انکی زندگی میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہوتا ۔ گاؤں کے لوگ قناعت پسند ہوتے ہیں وہ طمع لالچ اور حرص سے دور ہوتے ہیں وہ اپنی قسمت پر شاکر و صابر رہتے ہیں اس لئے اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ گاؤں کیسا بھی اسکی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آتی موسم کے ساتھ قدرت نے گاؤں کو بھی اہنگ کردیا ہے اور گاؤں کی زمین کو موسم کی تبدیلی کے ساتھ کاشت کے لئے ہموار کردیا ہے ۔دوستوں گاؤں کو کبھی نہ بھولنا گاؤں ہمارے پرکھوں کی وراثت ہیں گاؤں کی وجہ سے رشتے قائم ہیں گاوں میں پیار ہے الفت ہے محبت ہے گاؤں دو جدا دل کو ملاتا ہے گاؤں کی ہر شئی نرالی ہے جب بھی فرصت ملے گاؤں کو یاد کرلینا تنہائ میں جب دل گھبرائے تو گاؤں کی رعنائیوں اور یہاں کی دلفریبی کو یاد کرکے دل کو بہلا لینا ۔گاؤں کی سڑکوں پر اب بھی آپ کے قدموں کے نشان باقی ہیں یہاں کی فضاؤں میں اب بھی آپکی آواز قید ہے آپ کا گاؤں ہمیشہ آپ کا رہے گا اپنے گاؤں کی عزت کبھی نیلام نہیں ہونے دینا جہاں بھی رینا اپنے گاؤں کا نام روشن کرنے کی کوشش کرنا مجھے تو میرا گاؤں سب سے عزیز ہے خیر دوستوں آپ بھی اپنے گاؤں سے محبت کریں اور مجھے اجازت دیں۔ کیونکہ رات کے 1 بجنے والے ہیں سکون جان کے لئے نیند بھی ضروری ہے ان شاءالله کل پھر ملاقات ہوگی اگر زندگی نے وفا کی دعا کرتے رہیں اللہ سے مجھ سیہکار کے لئے ۔

ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی
فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے

 

Kawwoon se Dhaka AAsman by Anwar Khan

Articles

کوّوں سے ڈھکا آسمان

انور خان

آسمان ان گنت سیاہ بھجنگ کووں سے ڈھکا تھا۔ وہ لوگ آگ کے گرد بیٹھے تھے۔ان کے اطراف میں بےشمار عمارتیں تھیں جن کی کھڑکیاں اور دروازے بند تھے۔

’’بڑی سردی ہے، ‘‘ ایک نے کہا۔

’’اور ہوا بھی ایسی تیز،‘‘ دوسرے نے کہا۔

’’جیسے رامپوری چاقو ہڈیوں میں اتر رہا ہو،‘‘ تیسرے نے بات پوری کی۔

’’سنتے ہیں دن بھی نکلنے کا نہیں،‘‘ چوتھے آدمی نے کہا۔

’’یہ تم سے کس نے کہا؟‘‘ پہلا آدمی پریشان ہو کر بولا۔

’’شہر میں ایسی افواہیں ہیں،‘‘ وہ آدمی بولا۔

’’بھلا ایسا ہو سکتا ہے؟‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔

’’ایسا نہیں ہو سکتا،‘‘ تیسرے آدمی نے کہا۔

’’آگ دھیمی ہو رہی ہے،‘‘ چوتھا آدمی بولا۔

’’ہمارے پاس ابھی اور لکڑیاں ہیں۔‘‘

’’اس شہر کی سڑکیں اس قدر صاف ہیں۔ کہیں کاغذ، لکڑی یا کوئی ایسی چیز نہیں ملتی جسے جلا کر آدمی خود کو گرم رکھ سکے۔‘‘

’’آگ رات بھر جل سکے گی؟‘‘

’’کیا پتا۔‘‘

’’اور ہمیں تو یہ بھی نہیں پتا کہ رات کتنی لمبی ہے۔‘‘

’’رات تو کاٹنی ہی ہو گی۔‘‘

’’چاہے رات کتنی ہی لمبی ہو۔‘‘

وہ چپ ہو گئے اور دیر تک چپ رہے۔ آسمان ان گنت کووں سے ڈھکا تھا۔ تیز سرد ہوا رامپوری چاقو کی طرح ہڈی میں اترتی تھی۔ اطراف میں بلند عمارتیں تھیں جن کی کھڑکیاں اور دروازے بند تھے۔

قدموں کی چاپ سن کر انھوں نے سر اٹھایا۔ ایک دبلاپتلا، کھچڑی سے بالوں والا آدمی ان کی طرف آ رہا تھا۔ وہ آدمی آگ کے قریب آ کر بیٹھ گیا۔

’’کون ہو تم ؟ کیا کرتے ہو؟‘‘

’’پردیسی ہوں۔ کہانیاں جمع کرتا ہوں،‘‘ اس نے نرم لہجے میں جواب دیا۔

’’کہانی؟‘‘ ان کی آنکھیں چمک اٹھیں۔

’’پردیسی کوئی کہانی سناؤ کہ رات کٹے۔‘‘

’’میرے پاس کوئی کہانی نہیں،‘‘ اس نے کہا۔

’’ یہ کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘

’’میں شہر کے تقریباً ہر آدمی سے مل چکا ہوں۔‘‘

’’کسی کے پاس کوئی کہانی نہیں؟‘‘ پہلے آدمی نے پوچھا۔

اس نے نفی میں سر ہلایا۔

’’مجھے تو یقین نہیں آتا،‘‘ پہلے آدمی نے کہا۔

’’مجھے بھی یقین نہیں آتا،‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔

’’لیکن یہ سچ ہے! ‘‘ تیسرے آدمی نے کہا۔

’’یہ سچ ہے؟‘‘ چوتھے آدمی نے کہا۔

’’ہاں یہ سچ ہے، ‘‘ کہانی جمع کرنے والے نے کہا۔

’’مجھے یقین نہیں آتا،‘‘ پہلے آدمی نے کہا۔

’’مجھے بھی یقین نہیں آتا،‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔

’’کسی مکان میں روشنی نظر نہیں آتی،‘‘ چوتھے آدمی نے کہا۔

’’ہاں ایک بھی کمرے میں روشنی نہیں ہے،‘‘ دوسرے نے غور سے اپنے اطراف دیکھتے ہوے کہا۔

’’شہر کی بجلی فیل ہو گئی ہے،‘‘ کہانی جمع کرنے والا بولا۔

’’بجلی فیل ہو گئی ہے؟‘‘ پہلا آدمی آگ میں گرتے گرتے بچا۔

’’بجلی فیل ہو گئی؟‘‘ دوسرا آدمی ہڑبڑایا۔

’’کیا یہ سچ ہے کہ اب صبح نہیں ہو گی؟‘‘

’’ہاں، میں نے ایسا ہی سنا ہے،‘‘ اس نے کہا۔

’’آگ دھیمی ہو رہی ہے،‘‘ پہلا آدمی بولا۔

’’اور لکڑیاں جمع کرنی چاہییں۔‘‘

دوسرا آدمی اٹھ کر اطراف میں ایسی چیز تلاش کرنے لگا جس کو جلایا جا سکے۔ کچھ دیر بعد وہ مایوس ہو کر لوٹ آیا اور آگ کے پاس بیٹھ گیا۔

’’سالی اس شہر کی مو،نسپلٹی اس قدر واہیات ہے، سڑک پر ایک تنکا بھی نہیں ہے۔‘‘

’’آگ دھیمی ہو رہی ہے،‘‘ کہانی جمع کرنے والا بولا۔

کافی دیر وہ خاموش بیٹھے رہے۔ جب آگ بہت ہی دھیمی ہو گئی تو پہلے آدمی نے کپڑے اتار کر آگ میں جھونک دیے۔سب نے آگ میں اپنے کپڑے جھونک دیے۔ کہانی جمع کرنے والے نے بھی۔

’’پتا نہیں کتنی رات باقی ہے!‘‘ تیسرے آدمی نے کہا۔

’’کیسے کٹے گی یہ رات؟‘‘ چوتھا آدمی بولا۔

’’کیوں نہ ہم کہانی بنائیں۔‘‘

’’ہا! ‘‘ سب کے منھ سے نکلا۔‘‘ کتنی مزیدار بات۔‘‘

’’تو پہلے تم ہی شروع کرو،‘‘ پہلا آدمی بولا۔

’’گلابی صبح،‘‘ کہانی جمع کرنے والا کچھ سوچ کر بولا۔

’’ہنستا بچہ،‘‘ پہلے آدمی نے کہا۔

’’شرماتی لڑکی،‘‘ دوسرے آدمی نے کہا۔

’’پھونس کا مکان،‘‘ تیسرے آدمی نے کہا۔

’’مٹھی بھر چاول،‘‘ چوتھے آدمی نے کہا۔

’’مچھلی کا شوربہ،‘‘ پہلے آدمی نے کہا۔

’’کافی کا پیالہ،‘‘ دوسرا آدمی بولا۔

’’روئی کی دُلائی،‘‘ تیسرا آدمی بولا۔

سب ہنس پڑے۔

آسمان ان گنت سیاہ بھجنگ کووں سے ڈھکا تھا اور تیز سرد ہوا رامپوری چاقو کی طرح ہڈیوں میں اترتی تھی۔ اطراف کی بلند عمارتوں کی کھڑکیاں اور دروازے بند تھے۔ اور وہ دوہرا رہے تھے: گلابی صبح، ہنستا بچہ، شرماتی لڑکی، پھونس کا مکان، مٹھی بھر چاول، مچھلی کا شوربہ ، کافی کا پیالہ، روئی کی دلائی۔

آسمان دھواں دھواں ہوا اور فضا کووں کی کائیں کائیں سے پٹ گئی۔ ملوں کے بھونپو بجے۔ پھر ایک موٹا سا آدمی بنیان اور نیکر پہنے گیلری میں آ کر دانت مانجھتا کھڑا ہوا۔ ایک عورت اپنے بال سمیٹتی آئی اور ایک ادھوری انگڑائی لے کر لوٹ گئی۔ نوکر چاکر دودھ کی بوتلیں، ڈبل روٹی، مکھن، سبز ترکاریاں خریدنے نکلے۔ پھر ایک بس سڑک پر سے گزری جس میں چند آدمی بیٹھے تھے۔ کئی مکانوں سے ٹرانزسٹر کی آوازیں آئیں۔ فلمی گیت اور اشتہارات نشر ہونے لگے۔ اس کے بعد کارپوریشن کی گاڑی آئی اور سڑک کے موڑ پر رک گئی۔ وہاں چند لوگ برہنہ اکڑے پڑے تھے۔ کچھ لوگ گاڑی میں سے اترے، آدمیوں کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا، اور گاڑی پھر چل پڑی۔

intekhab E Kalam Qalandar Bakhsh Jura’t

Articles

انتخابِ کلام شیخ قلندر بخش جرأت

قلندر بخش جرأت

 

 

جو راہِ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
اے خضر تصور ترے قربان گئے ہم

جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہر
جس بزم میں با حال پریشان گئے ہم

اس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیں
صد شکر کہ بے منتِ دربان گئے ہم

کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات
جرات کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر
جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم
٭٭٭

ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں
رہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیں

لے خبر اس کی شتابی سے کہ عاشق کو ترے
غش پہ غش شوخ ستم گار چلے آتے ہیں

میں تو حیراں ہوں مطب ہے کہ درِ یار ہے یہ
یاں تو بیمار پہ بیمار چلے آتے ہیں

گھر میں گھبراتے ہیں بے یار تو ہم وحشی سے
سر برہنہ سرِ بازار چلے آتے ہیں

کھڑے رہ سکتے نہیں در پہ تو حیران سے واں
بیٹھ کر ہم پسِ دیوار چلے آتے ہیں

کس کے نالوں کی یہ آندھی ہے کہ شکلِ پر کاہ
آج اڑتے ہوئے کہسار چلے آتے ہیں
٭٭٭

جذبہِ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں
اپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں

بزم میں تکتے ہیں منہ اس کا کھڑے اور وہ شوخ
نہ اٹھاتا ہے کسی کو نہ بٹھاتا ہے ہمیں

کیا ستم ہے کہ طریق اپنا رہِ عشق میں آہ
کوئی جس کو نہیں بھاتا وہ ہی بھاتا ہے ہمیں

اس ترقی میں تنزل میں ہے کہ جوں قامت طفل
آسماں عمر گھٹانے کو بڑھاتا ہے ہمیں

بند کر بیٹھے ہیں اب آنکھ جو ہم تو اللہ
نظر آتا جو نہیں سو نظر آتا ہے ہمیں

مل کے ہم اس سے جو ٹک سوویں تو دکھ دینے کو
بختِ بد خواب جدائی کا دکھاتا ہے ہمیں

ہم ہیں وہ مرغِ گرفتار کہ اپنے پر سے
وارنا جس کو کہ ہووے وہ چھڑاتا ہے ہمیں

لا کے اس شوخ ستم گر کے دو رنگی کے پیام
نہ ہنساتا ہے کوئی اب نہ رلاتا ہے ہمیں

سن سے جا بیٹھتے ہیں اس کے تصور میں ہم آہ
بزم خوباں میں کوئی پاس بلاتا ہے ہمیں

محوِ نظارہ ہوں کیا ہم کہ بہ قول جرات
اپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں
٭٭٭

اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور

ناصح کی حماقت تو ذرا دیکھیو یارو
سمجھا ہوں میں کچھ اور مجھے سمجھائے ہے کچھ اور

کیا دیدہ¿ خوں بار سے نسبت ہے کہ یہ ابر
برسائے ہے کچھ اور وہ برسائے کچھ اور

رونے دے، ہنسا مجھ کو نہ ہمدم کہ تجھے اب
کچھ اور ہی بھاتا ہے مجھے بھائے ہے کچھ اور

پیغام بر آیا ہے یہ اوسان گنوائے
پوچھوں ہوں میں کچھ اور مجھے بتلائے ہے کچھ اور

جرات کی طرح میرے حواس اب نہیں بر جا
کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور
٭٭٭

مطلب کی کہہ سناو¿ں کسی بات میں لگا
رہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگا

محفل میں مضطرب سا جو دیکھا مجھے تو بس
کہنے کسی سے کچھ وہ اشارات میں لگا

ہوتے ہی وصل کچھ خفقاں سا اسے ہوا
دھڑکا یہ بے طرح کا ملاقات میں لگا

کل رات ہم سے اس نے تو پوچھی نہ بات بھی
غیروں کی یاں تلک وہ مدارات میں لگا

آیا ہے ابر گھر کے اب آنے میں ساقیا
تو بھی نہ دیر موسم برسات میں لگا

مسجد میں سر بہ سجدہ ہوئے ہم تو کیا کہ ہے
کم بخت دل تو بزم خرابات میں لگا

گھٹّے پہ اپنے ماتھے کہ نازاں جو اب ہوئے
یہ داغ شیخ جی کے کرامات میں لگا

گر مجھ کو کارخانہِ تقدیر میں ہو دخل
روز قیام وصل کی دوں رات میں لگا

جرات ہماری بات پہ آیا نہ یاں تو آہ
کیا جانیے کسی کی وہ کس بات میں لگا
٭٭٭

Intekhab E Kalam Wamiq Jaunuri

Articles

انتخابِ کلام وامق جونپوری

وامق جونپوری

 

 

تجھ سے مل کر دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات
یاد رہتی ہے کسی ساحل پہ طوفانوں کی بات

وہ تو کہئے آج بھی زنجیر میں جھنکار ہے
ورنہ کس کو یاد رہ جاتی ہے دیوانوں کی بات

کیا نہ تھی تم کو خبر اے کج کلاہانِ بہار
بوئے گل کے ساتھ ہی پھیلے گی زندانوں کی بات

خیر ہو میرے جنوں کی کھل گئے صدہا گلاب
ورنہ کوئی پوچھتا ہی کیا بیابانوں کی بات

کیا کبھی ہوتی کسی کی تو مگر اے زندگی
زہر پی کر ہم نے رکھ لی تیرے دیوانوں کی بات

رشتہ¿ یادِ بتاں ٹوٹا نہ ترکِ عشق سے
ہے حرم میں اب بھی زیرِ لب صنم خانوں کی بات

ہم نشیں اس کے لب و رخسار ہوں یا سیرِ گل
تذکرہ کوئی بھی ہو نکلے گی مے خانوں کی بات

بزمِ انجم ہو کہ بزمِ خاک یا بزمِ خیال
جس جگہ جاو¿ سنائی دے گی انسانوں کی بات

ابنِ آدم خوشہ¿ گندم پہ ہے مائل بہ جنگ
یہ نہ ہے مسجد کا قصہ اور نہ بت خانوں کی بات

پھول سے بھی نرم تر وامق کبھی اپنا کلام
اور کبھی تلوار ہم آشفتہ سامانوں کی بات
٭٭٭

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
کر بھی کیا سکتے ہیں تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم

جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بیکار سب
قرض خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم

تلخیِ کام و دہن کی آبیاری کے لیے
دعوتِ شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم

کون سنتا ہے بھکاری کی صدائیں اس لیے
کچھ ظریفانہ لطیفے یاد کر لیتے ہیں ہم

جب پرانا لہجہ کھو دیتا ہے اپنی تازگی
اک نئی طرزِ نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم

دیکھ کر اہلِ قلم کو کشتہِ آسودگی
خود کو وامق فرض اک نقاد کر لیتے ہیں ہم
٭٭٭

شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں
داغِ دل جل رہے ہیں سینوں میں

پھر کہیں بندگی کا نام آیا
پھر شکن پڑ گئی جبینوں میں

لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور
ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں

ذہن میں انقلاب آتے ہی
جان سی پڑ گئی دفینوں میں

بات کرتے ہیں غم نصیبوں کی
اور بیٹھے ہیں شہ نشینوں میں

جن کو گرداب کی خبر ہی نہیں
کیسے یہ لوگ ہیں سفینوں میں

ہم صفیرو چمن کو بتلا دو
سانپ بیٹھے ہیں آستینوں میں
٭٭٭

نئے گل کھلے ،نئے دل بنے ،نئے نقش کتنے ابھر گئے
وہ پیمبرانِ صد انقلاب جدھر جدھر سے گزر گئے

جو شہید راہ وفا ہوئے وہ اسی خوشی میں مگن رہے
کہ جو دن تھے ان کی حیات کے غمِ زندگی میں گزر گئے

ابھی ساتھ ساتھ تو تھے مگر مجھے میرے حال پہ چھوڑ کر
مرے ہم جلیس کہاں گئے مرے ہم صفیر کدھر گئے

مری جستجو کو فقیہِ شہر بتا رہا ہے شریکِ زہر
اسے کیا خبر کہ دماغ و دل یہی زہر کھا کے نکھر گئے

ارے او ادیبِ فسردہ خو ارے او مغنیِ رنگ و بو
ابھی حاشیے پہ کھڑا ہے تو بہت آگے اہل ہنر گئے
٭٭٭

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے

یہ مانا شیشہِ دل رونقِ بازارِ الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے

نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداو¿ں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامق
مزاجِ عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
٭٭٭

Mumbai ke Asri Afsane ka Manzarnama

Articles

مُمبئی کے عصری افسانے کا منظر نامہ

محمد اسلم پرویز

parvez45@gmail.com
کہنے کی ضرورت نہیں بمبئی جسے اب ممبئی کہا جاتا ہے،محض جغرافیائی حد وں میں بندھے ہوئے زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا،بیس ملین سے زائد آبادی والا،سات جزیروں سے بنا ،پانی پر تیرتا یہ شہراردو فکشن کی ثروت مند روایت کا امین رہا ہے۔ ایک زمانے میں اردو افسانے کی گلیکسی ممبئی کے آسمان تلے موجود تھی۔راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ،قرۃالعین حیدر، خواجہ احمد عباس ،مہندر ناتھ سے لے کر سریندرپرکاش ، محافظ حیدر ،واجدہ تبسم،جیتندر بلّو،ساگر سرحدی جیسے لکھنے والوں کے لیے ممبئی شہر سے بچنا محال تھا اورشعوری و غیر شعوری طورپر ممبئی کی ہمہ پہلو ، بھاگتی دوڑتی زندگی کو وہ اپنے فن اور فکشن میں تبدیل کرتے رہے۔ان میں زیادہ ترلوگ چونکہ دوسرے علاقوں سے یہاں آکر بسے تھے لہذا ممبئی کے حوالے انہوں نے جو کامیاب افسانے لکھے ان میں وہ اس شہر کو ایک ٹورسٹ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن ستّر کے بعد جو افسانہ نگارابھرے وہ تو ممبئی کی زندگی میں رچے بسے تھے اس لیے ان کے افسانوں میں ممبئی کی محض topography نہیں۔ ممبئی شہر کی آوازوں، روشنیوں اور سایوں ،اس کی رفتار ،ردھم ،ماحول کو ان افسانہ نگاروں نے جس طرح کاغذ پر پکڑنے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ممبئی کو سنا سونگھا،ہاتھ لگا کر چھوا،برتا اور جیابھی ہے۔ان افسانہ نگاروں کے فن میں ممبئی اپنے کیا جلوے بکھیرتی ہے اس کا مطالعہ اور تجزیہ دلچسپ بھی ہو سکتا ہے اور معنی خیز بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن اس وقت میرا موضوع اردو افسانوں میں ممبئی نہیں بلکہ سن ستّر او ر اس کے بعد کے وہ افسانہ نگار ہیں،جنہوں نے ممبئی میں رہتے ہوئے اردو افسانے کو نئے رنگ دئے۔
افسانہ ،افسانہ ہوتا ہے اسے ممبئی، دہلی ،کولکتہ میں بانٹنا غلط ہوگا۔اگر تقسیم کا یہی مزاج رہا تو پھرمنطقی اعتبار سے اس کی مزید خانہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ممبئی آٹھ کے افسانے، مضافات کے افسانے ،نئی ممبئی کے افسانے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے افسانہ نگاروں کے domacileدیکھ کر فن کا مطالعہ بھی ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ لیکن یہاں اردو افسانے کے ہندوستانی منظر نامے کے حوالے سے ممبئی کے لکھنے والوں کے فنی امتیازسے بحث کرنا مقصود ہے کہ ان کا تخلیقی رویہ ہندوستان کے دوسرے لکھنے والوں سے کس حد تک مختلف ہے اور کیوں؟
گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ممبئی کے جن لکھنے والوں نے فکری فطانت، تخلیقی سرگرمیوں اور فنی مشق و مہارت کی وجہ سے اردو افسانے کی تاریخ میں اپنی شناخت درج کی ان میں سلام بن رزاق ،انور خان، انور قمر،علی امام نقوی ، ساجد رشید، مشتاق مومن ، مقدر حمید اورم ناگ کے نام کافی اہم ہیں۔گو کہ ان کے تجربات کا دائرہ بہت وسیع نہیں اور بڑا افسانہ لکھنے کی منوہری کنجی ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگی ہے لیکن اپنے محدود ماحول، دائرے اور تجربے میں رہ کر بھی انہوں نے اردو فکشن کو چند اہم اور دلچسپ افسانے ضرور عطا کئے ہیں اوراہم بات یہ ہے کہ آج بھی یہ اس کے لیے کوشاں ہیں۔
ستّر کے بعد ابھرنے والے ان افسانہ نگاروں نے کم و بیش ایک ایسے وقت میں لکھنا شروع کیا جب جدیدافسانہ اردو فکشن پر تجریدی،علامتی اور تمثیلی کہانیوں کی شکل میں موجودتو تھا لیکن قاری سے اپنا ترسیلیnetworkکو توڑ چکاتھا۔اس وقت سیدھی سرل اور سہیج افسانے لکھنا ممنوع تھا۔مقبول ہونا غیر ادبی ہونے کی دلیل تھی اور ساری کوشش افسانے کو مشکل اور پیچیدہ بنانے پر ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ نام نہاد جدیدیت absolute story پیدا کرنے کی جھونک میں جس کہانی پن کو fake encounter میں قتل کرنے کے درپے تھی وہی کہانی پن ممبئی کے افسانہ نگاروں کے پاس survival kitکی طرح موجود تھی۔
نئے افسانے میں سب سے بڑی تبدیلی کہانی کی واپسی سے عبارت ہے۔ لیکن فکشن کے طالبِ علم کی حیثیت سے ایک سوال مجھے پریشان کرتا ہے کہ اس وقت جب پورے ملک میںعلامتی وتجریدی افسانہ پورے طمطراق سے فروغ پا رہا تھا ممبئی کے لکھنے والوں کا فنی شعور اس سُر میں سُر کیوں نہیں ملا رہا تھا ؟اس کی سب سے بڑی اور سامنے کی وجہ تو یہ تھی کہ ممبئی جیسے کاسمو پولیٹین مہا نگرمیں رہنے کے باعث ممبئی کے اردو لکھنے والوں کو دوسری زبان یعنی ہندی،انگریزی، مراٹھی ،گجراتی زبان کے ادیبوں سے ملنے کے مواقع نسبتاً زیادہ نصیب تھے۔ دوسری زبان کی ادبی ،تخلیقی اور ثقافتی آدان پردان نے اردو فکشن میں رائج فارمولا کہانیوں اور فیشن پرستی سے انہیں کسی حد تک محفوظ رکھا۔۔اس وقت جب جدید افسانہ عدم تحفظ،خوف،دہشت اور تشکیک کو شعور کی رو ،علامت، تمثیل اور استعاروں کے ذریعے بڑے دھوم دھڑاکے سے پیش کر رہا تھا ممبئی کے افسانہ نگار نہ تو جدیدیت کے اس high voltageگلیمر سے متاثر ہوئے اور نہ ہی جدیدیت کے camp fallowers میں اپنا نام درج کرایا۔ ستّر کے بعد کے ان افسانہ نگاروںنے تو ’۔’روشنی کی رفتار‘‘ کی قرۃالعین حیدرمیں اورانتظار حسین کااس ’’آخری آدمی‘‘میں جو بندر کی جون میں منقلب ہونے سے خودکو بچا رہا تھا اپنی فنی شناخت کے مراکز تلاش کئے۔ظاہر ہے یہ سب کسی منصوبہ بندی یا hidden agenda کے تحت نہیں کیا گیا۔ممبئی کے لکھنے والے علامتی ،تجریدی اور تمثیلی افسانے اس اختصاص کے ساتھ لکھ رہے تھے کہ کہانی پن سے افسانے کا رشتہ منقطع نہ ہونے پائے۔ ’’ ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘،’’زنجیر ہلانے والے،‘‘ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘،’’شان دار موت کے لیے‘‘،’’کلر بلائنڈ‘‘، ’’منو کی ارتھ ہین یاترا‘‘، ’’جلتے پروں کی اڑان‘‘، ’’خواب‘‘،’’ڈاکو طے کریں گے ‘‘، ’’موت شطرنج اور پرندے ‘‘ تمام تر علاماتی اور استعاراتی اظہار کے باوجودیہ افسانے اپنا سارا زور اسی کہانی پر دیتے ہیں جو بیانیہ کے back stageپر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا فنی رویہ اپنے ہم عصرافسانوں اور افسانہ نگاروں سے اگر مختلف تھا تو اس کی میرے خیال میں دو اور وجہیں تھیں۔ ایک تو خود سریندرپرکاش ، جو ا س وقت ایک سنئیر پیش رو افسانہ نگار اور جدید افسانے کے ایک رول ماڈل کے طور پر ستّر کی اس نسل کے سامنے موجود تھے۔ سریندر پرکاش کا فنی رویہ اظہار و اسالیب کے نئے وسیلوں کو قبول کرنے کے باوجود اپنا رشتہ اسی تجسس آمیز قصّہ گوئی پر قائم کررہاتھا، جو پریم چند ،منٹو اور بیدی کے ذریعے ان تک پہنچی تھی۔یہی وجہ ہے کہ استعاراتی اظہار اورتجریدی اسلوب میں لکھے ہوئے افسانوں میں بھی کہانی سے کلیتاً دامن چھڑانے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سریند پرکاش کی story tellingکے آرٹ نے ممبئی کے افسانہ نگاروں کو لکھنے کی ترغیب دی لیکن نت نئے تجربے کواپنی تحریروں میں جگہ دینے کے شوق میں کہانی پن کو outcasteکرنے سے اگر انہوں نے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو اس میں کہیں نہ کہیں سریندر پرکاش کا بھی کچھ حصّہ ضرور ہے۔ سریند پرکاش کے علاوہ ممبئی کے ان افسانہ نگاروں کے ذہنی کلچر کی تعمیر میں باقر مہدی نے بہت اہم اور بامعنی رول ادا کیا ہے۔ باقر مہدی شاعری کے نقاد تو تھے ہی لیکن فکشن پر بھی ان کی نظر گہری تھی۔ یہی نہیں وہ افسانے کے بہت ہی حساّس اور پر شوق قاری تھے۔ فکشن کے فنی تقاضوں اور اس کے بدلتے سماجی رول کا وہ کس قدرگہرااور زندہ شعور رکھتے تھے اس کی شہادت تو فکشن پر لکھے ان کے مضامین دے ہی دیں گے لیکن ’’اظہار ‘‘میں انہوں نے نمائندہ جدید افسانہ نگار انور سجّاد کے افسانوں کا جو انتخاب شائع کیا وہ فکشن سے ان کے ادبی مطالبات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ غرضکہ یہ بات بغیر کسی تکلف کے کہی جا سکتی ہے کہ سریندر پرکاش اور باقر مہدی کی ذہنی قربت اور رفاقت اگر ممبئی کے لکھنے والوں کو نصیب نہیں ہوئی ہوتی تو شاید جدید افسانے کی سونامی انہیںبھی ٹھکانے لگا چکی ہوتی۔
ستّر کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل کا اگر کوئی ’’کارنامہ‘‘ ہے تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے افسانے کو اس کھویا ہوا چہرہ عطا کیا۔ اس کارنامے کو انہوں نے متن اور کرافٹ دونوں سطحوں پر انجام دیااور اس انجام دہی میں ممبئی کے افسانہ نگاروں کا رول قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام بن رزاق، انور خان اور انور قمر ممبئی کے افسانہ نگاروں کی یہ تثلیث نہ تو ترقی پسندوں کے مخالف تھی نہ ہی جدیدیت کی علمبردار۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے یہاں بنیادی کردار ایک ایسے شخص کا رہا ہے جو موجود ہ سماجی،سیاسی ، مذہبی ،ثقافتی ،معاشی منظر نامے میں خود کو situate کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
سلام کے افسانوں پر مختلف ناقدوں نے جو رائے دی ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سلام اپنی نسل کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ ،’’معبر‘‘ اور ’’شکستہ بتوں کے درمیان‘‘ ان کے تین افسانوی مجموعے ہیں جن میں لگ بھگ پچاس ساٹھ افسانے شامل ہیں۔ زیادہ تر افسانے موضوع،کرافٹ ،اوراسلوب کے نقطہ نظر سے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ زندگی کی بساط پر رینگنے والے اس بے بس، لاچار اور مجبور انسان کوجسے سسٹم نے پیس ڈالا ہے سلام نے اپنے افسانے کاشاہ کردار بنایا ۔۔۔۔۔۔تو گویا سلام کے افسانوں کے ذریعے ہماری ملاقات ایک ایسے ہیرو سے ہوتی ہے جواپنی اصل میں نان ہیرو ہے۔
بہت پہلے شاید ایمرجنسی کے زمانے میں سلام بن رزاق نے ایک مختصر سا افسانہ ’’اندھیرا‘‘کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ چار چھ سطری یہ مختصر افسانہ یا افسانچہ میرے خیال میں سلام کے فنی رویے کا بلو پرنٹ ہے۔افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کے کارن اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ آنکھیں ناکارہ ہوگئیں اور ہاتھوں کو ہاتھ تک سجھائی نہیںدے رہے تھے۔ مگر کچھ دیر بعد لوگوں کو محسوس ہواکہ اندھیرا کم ہو رہا ہے اور انہیں کچھ کچھ دکھا ئی دے رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوتی جا رہی تھیں۔غور کریں توسلام کے بیشتر افسانوں کا موضوع اورمظروف اندھیرے سے مانوس ہوتی وہی آنکھیں ہیں۔ ہر ظلم سہہ جانے کی بے بس مجبور اور لاچار آدمی کی سائیکی جوزندگی بھر گم نام حاشیہ بن کر جیتاہے اور ہر قسم کی سماجی ناانصافی اور سیاسی جبر کو بڑی خود اطمینانی کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے مر جاتاہے۔ اب چاہے وہ ’’انجام کار‘‘ کا مرکزی کردار ہو یا’’کام دھینو ‘‘ کا مادھو۔، ’’خصی‘‘ کا پرس رام ہو یا پھر ’’خوں بہا‘‘ کا اسکول ماسٹر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اہم بات یہ ہے کہ سلام نے بے حسی ،مفاہمت پسندی اور خود اطمینان زندگی جینے والی اس معمولی، بے بس اور لاچار اکائی کے حوالے سے نہ صرف اپنے عہد کی حقیقتوں کو جاننے کی کوشش کی بلکہ اپنے تخلیقی اور فنی وجود کی شناخت بھی کی۔ایک زمانے میںسلام سے ان کے ہم عصرلکھنے والوں اور ناقدوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے کردار افسانے اختتام میں سرینڈرہو جاتے ہیں۔افسانے کے کرداروں کی مزاحمت اور مفاہمت کے حوالے سے ادبی اقدار کا تعین جتنا خطرناک ہے اتنا ہی گمراہ کن بھی۔ افسانے کی کامیابی و ناکامی کا انحصار فنکارکی اظہاری صورتوں میں مضمر ہے۔
اور یوں بھی ا فسانے میں کرداروں کی مفاہمت کا اظہار کیا انحرافی قوت کا پیش لفظ نہیں ہو سکتا؟
ابھی حال میں سلام بن رزاق نے جودو افسانے تحریر کئے ہیں ان میں ان کا سماجی و سیاسی سروکار بہت سیدھا صاف اور شفاف ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔‘‘دونوں افسانوں میں ایک داخلی مماثلت ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘اگر بم بلاسٹ میں بے قصور پکڑے جانے والے مسلمانوں کی کہانی ہے تو ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘مذہبی شدّت پسندی کے بیچ پسنے والی ایک مسلم نوعمر لڑکی کا افسانہ ہے۔ دونوں افسانوں میں سلام نے مسئلے کو اندر سے دیکھنے اور آدمی و سماج کو ایک نقطے پر پکڑنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔خاص طور پر ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘ کے اختتام پر غائب راوی کا افسانے کی چوتھی دیوار کو توڑ کر براہِ راست قاری سے مخاطب ہو نا ironyکی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔
سلام بن رزاق کے نہایت قریبی ہم عصر افسانہ نگار انور خان ہیں۔ دونوں نے لگ بھگ ایک ساتھ ہی لکھنا شروع کیا افسانوی مجموعے بھی دونوں کے ایک دو سال کے فرق کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ سلام کی بہ نسبت انور خان کا رحجان علامتی طرز کی کہانیوں کی طرف زیادہ رہا۔’’ راستے اور کھڑکیاں ‘‘،’’ فنکاری‘‘ اور’’یاد بسیرے‘‘کے مختلف افسانے ان انسانی اقدار کے کھونے اور کھوجنے کا اظہار ہے جو ہماری سماجی، سیاسی، تہذیبی ،ثقافتی اور ذہنی زندگی کی فریم سے نکل گئے ہیں۔سلیم شہزاد ی اصطلاحوں کا سہارا لے کر کہوں توmimeticاور diegtic بیانیہ کے دونوں طریقِ کار کا استعمال انور خان اپنے افسانوں میں نہایت کامیابی سے کرتے ہیں۔’’لمحوں کی موت‘‘، ’’شام رنگ ‘‘اور ۔’’بول بچن ‘‘میں اگرافسانے کاحاضر یا غائب راوی ماجرائی پرتوں کو مکالموں کی ڈرامائیت اور منظر کے ذریعے دکھاتا ہے تو’’شاندار موت کے لیے‘‘ ،’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ ، ’’برف باری‘‘ اور ’’اپنائیت ‘‘میں راوی واقعہ کا حصہ نہیں بنتا ،وہ محض واقعہ کی تفصیل کو اطلاعاتی انداز میں فراہم کر دیتا ہے۔انور خان کے افسانوں میں غالب رحجان diegtic طرزِ اظہار کا ہے اور یہی ان کے فنّی رویے کو مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔
انور خان کے بیشتر افسانے کی قرات کے دوران جدید مشینی دور کے غیر انسانی اور لاتعلقانہ رویے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ’’راستے اور کھڑکیاں ‘‘اور ’’فنکاری‘‘کے بیشتر افسانے جذبات سے عاری ایک ایسے اسلوب میں لکھے گئے ہیں جو اپنے ڈسکورس کے دوران سولات قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سوالات زمیں اور آسمان کے بیچ رہنے والے ایک حسّاس انسان کے ہیں جو مختلف محاذ پر لڑ رہا ہے اور ہر محاذ پر اپنے سامنے اپنے آپ کو ہی پا رہا ہے۔ سولات پوچھنے کی tendencyنے انور خان کے افسانوی ڈسکورس کو اگر ایک طرف ثروت مند کیا ہے تو دوسری طرف قاری کو اس روحانی کرب سے متعارف کروادیا ہے جن سے گزر کریہ ڈسکورس قائم ہوا ہے۔ انور خان کی فنی معروضیت اصل میں ان کی گہری فنکارانہ وابستگی کے سبب ہے۔اس نے انہیں الفاظ کے کفایت شعارانہ استعمال کا سلیقہ بھی دیا۔انور خان کفایت ِلفظی کے توقائل ہیں لیکن یہ کفایتِ لفظی افسانوی تاثّر کو گہرا کرنے کا محض ذریعہ ہی نہیں بلکہ قاری کے ذہن کو متحرک کرنے کا یہ ایک حیلہ بھی ہے۔ غور سے دیکھیں تو ان کے افسانوں کے جملوں میں الفاظ کے بیچ کی خالی جگہوں میں کئی گہرے خیال اور نکتے چھپے ہوتے ہیں۔ انور خان کے بیشتر افسانوںمیں کرداراپنے ہاڑ مانس کے ساتھ حرکت نہیں کرتے بلکہ shadow play کی طرح ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔
انور خان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو زندگی کی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنا دیتے ہیں۔’’برف باری‘‘ میں محض وقت گزاری کے لیے tic tac toe کا کھیل کھیلنا،یا ’’فنکاری ‘‘میں چائے کے داموں میں اضافے پر احتجاج کرنا،یا پھر ’’گیلری میں بیٹھی ہوئی ایک عورت‘‘ میں عورت کا یوں ہی اپنے سامنے پھیلے ہوئے منظر کا جائزہ لینا۔۔۔۔یہ سب بظاہر بہت ہی معمولی واقعات ہیں لیکن انور خان ان ہی معمولی اور روٹین واقعات سے ہماری زندگی کے گہرے حقایق کو منکشف کرتے ہیں۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ انور خان نہ صرف روزمرہ کے معمولی واقعات اور جزئیات سے کہانی بننے کے فن سے واقف ہیں بلکہ مجرد خیال کو کہانی میں بدل دینا بھی انہیں خوب آتا ہے۔’’برف باری‘‘، کتاب دار کا خواب‘‘ ، ’’اپنائیت‘‘اس کی جگمگاتی مثالیں ہیں۔لیکن بعض افسانوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ خیالات کو افسانے کے چوکھٹے میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔ ’’شاٹ‘‘،’’ہوا‘‘،’’گونج ‘‘جیسے افسانوں میں ان کی اس کمزوری کا احساس شدّت سے ہوتا ہے۔
انور خان اور سلام بن رزاق کے ہم سفر اور ہم رکاب افسانہ نگاروں میں انور قمر نہایت اہم ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ’’چاندنی کے سُپرد‘‘ ، ’’ چوپال میں سنا ہوا قصّہ‘‘ کلر بلائنڈ‘‘ اور ’’جہاز پر کیا ہو ا؟‘‘شائع ہوچکے ہیں ،جو ان کے چالیس سالہ افسانوی سفر کی کُل پونجی اور تخلیقی سرگرمی سے ان کے والہانہ لگائو کا نتیجہ ہیں۔ خوش کن بات یہ ہے کہ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سالہ فکشن کے اس سفر میں انور قمر کے یہاں کئی طرح کے فکری و فنی پڑائو ملتے ہیں۔انورقمر ایک فکرسے مربوط افسانہ نگار نہیں ہیں۔زندگی کی جولانی اور ہیجان ،داخلی احساسات اور تجربات کا reflectionان کی تحریروں میں کسی نہ کسی صورت ابھرتا ہے اور یہ صورتیں ان کے افسانوں میں ایک دوسرے سے کس قدر مختلف، متضاد اور متنوّع ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوی رویے کو کسی ایک خاص برانڈ میں باندھا نہیں جا سکتا۔ان کی تخلیقی کائنات بیانیہ، علامتی، تمثیلی، اشارتی،فنٹیسی اور تجرباتی سبھی طرز کے افسانوں سے آباد ہے۔ کہیں وہ کامیاب ہیں ،کہیں ناکام اور کہیںبری طرح ناکام۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موضوعی و اسلوبیاتی تنوع اور آزاد تخلیقی فضا کا جو احساس ہمیں انور قمر کے یہاں ملتا ہے ،ان کے دوسرے ہم عصروں کے یہاں کم کم ہے۔یہ تنوع ان کے یہاں ایک ایسے تخلیقی و ارتقائی سفر کی نشاندہی کرتا ہے جو افقی بھی ہے اور عمودی بھی۔ موضوعی اور اسلوبیاتی سطح کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تبدیلیوں کا اشاریہ ان کے افسانوں سے حاصل ہوتاہے۔’’چاندنی کے سُپرد ‘‘کے افسانوں میں جو سرخ رنگ خوش آئند مستقبل کا استعارہ نظر آتا ہے وہی ’’کابلی والا کی واپسی ‘‘ میں خون کی سرخی میں تبدیل ہو گیا ہے۔
انور قمر کا تعلق افسانہ نگاروں کے اس قبیل سے ہے جو instinctکے بجائے فکر و شعور کی تمام جہات کو برروئے کار لاتے ہوئے افسانے کی تعمیر کرتے ہیں۔انور قمر نے جب بھی لکھا بہت سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر لکھا۔ان کا فنی رویہ اپنے موضوع کے انتخاب ،واقعات کی تشکیل ،ان کی ترتیب اور ان کے درمیان ربط کی نوعیت میں منصوبہ بند تعمیر کا پابند ہوتا ہے۔ان کے یہاں سبب اور نتیجہ والی تعقلّی ترتیب سے انکار بھی اتفاقی اور غیر شعوری نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر تخلیقی مقاصد کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انور قمر اپنے ہم عصرافسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ concious افسانہ نگار ہیں۔
بعض افسانوں میں انور قمر کا سماجی و سیاسی سروکار بہت واضح نظر آتاہے تو بعض میں قدرے دھندلا۔۔۔۔۔ ۔ برسوں پہلے افغانستان پر روسی حملے کے حوالے سے انہوں نے رابند ناتھ ٹیگور کی کہانی ’’کابلی والا‘‘ کو بنیاد بنا کر ایک نیا افسانہ’’کابلی والا کی واپسی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں مسلم کش فسادات کو موضوع بنا کر’’جہاز پر کیا ہوا ؟‘‘ جیساایک اہم افسانہ لکھا۔ دونوں افسانوں میں سیاسی جبر اور منافرت کی فضا کو جس طرح تخلیقی جہت دی ہے وہ انور قمر کے فکری و فنی شعور پر دال ہے۔ دونوں افسانے سیاسی افسانے کا ا لتباس پیدا کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں افسانے مخصوص تاریخٰی صورتحال میں گھرے عام آدمی کے مقدر اور اس کے وجود کی معنویت کی دریافت سے عبارت ہیں۔ اقتدار کی اندھی قوت کے سامنے ایک عام آدمی کے د رد اور خوف کو انور قمر نے یوں translateکیا ہے اسے کسی سیاسی تاریخ کے حصار میں باندھا نہیں جا سکتا۔
70ء کی دہائی ممبئی کے اردو فکشن کے لیے یوں بھی فالِ نیک ثابت ہوئی کہ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان ابھی اپنی فنی شناخت کے پہلے پائیدان پر ہی تھے کہ افسانہ نگاروں کی دوسری فصل ممبئی میں لہلہاتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مقدر حمید،ساجد رشید، علی امام نقوی، مشتاق مومن نے بڑے جوش و خروش سے لکھنا شروع کیاکچھ عرصے بعد ہی م ناگ بھی ناگپور اٹھ کر ان لوگوں کے بیچ کنڈلی مار کر بیٹھ گئے اور ایسے بیٹھے کہ پھر ممبئی کے ہی ہو گئے۔ان لکھنے والوں نے اپنے افسانوں سے اردو فکشن کو وقار اور اعتبار بخشا۔ خاص طور پر ساجد رشید، علی امام نقوی اورم ناگ نے ۔۔۔۔
یہاں میں مشتاق مومن کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہوں گا۔ سلام، انورخان اور انور قمر کے فو راً بعد ممبئی کے اردو افسانے کے سنیئر یوپر اچانک ابھرنے اور پھر چپ چاپ ڈوب جانے والے ایک فنکار کا نام مشتاق مومن ہے۔ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے جس میں ’’کریم لگا بسکٹ اور چونٹیاں‘‘ ،’’موز ‘‘اور’’رت جگوں کا زوال‘‘جیسے کئی صاف ستھرے اورنتھرے ہوئے افسانے ہیں جو اپنے قاری کو چونکائے بنا متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ایک افسانہ اس کتاب میں ایسا بھی شامل ہے جس نے پڑھنے والے کومتاثر کئے بنا چونکایا اور جسے مشتاق مومن نے نہیں سریندرپرکاش نے ’’دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار‘‘کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ کے طور پر تحریر کیا تھا۔ سریندرپرکاش کے اس left handed compliment نے لوگوں کو چونکایا توضرور مگر مشتاق مومن کے فن اور فنی رویے پر روشنی ڈالنے کے بجائے یہ فسانہ خود سریندر پرکاش کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
مشتاق مومن نے اسّی کی دہائی میں جو افسانے لکھے تھے ان میں کچھ اب بھی حافظے کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں۔ جس طرح عبدل بسم اللہ نے اپنے ناول ’’جھینی جھینی بینی چدریا‘‘ میں بنارس کی مسلم بستی مدن پورہ کی inner life کو زندہ کر دیا ہے اسی طرح مشتاق مومن نے پاور لوم سٹی بھیونڈی کواپنے افسانوں میں دھڑکتے ہوئے حوالوں کا حصّہ بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ بیس برسوں سے افسانہ نگاری سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بررئوے کا ر لا تے ہوئے امتیاز و اختصاص کی منزلوں سے گزرتے ان کی صحت نے انہیں معذور کر دیا ہے اور اب تو افسانہ نگاری سے ان کے رشتے کی تجدید معدوم نظر آتی ہے۔
افسانوں کا انتخاب ہو یا تنقیدی مطالعے میں فنکاروں کانام اور ذکر ،بڑی حد تک یہ مرتبین اور ناقدین کی صواب دید کا پابندہوتا ہے۔لیکن جب جوگندر پال پنگوین کے لیے ’’عصری اردو کہانیاں‘‘ مرتب کرتے ہوئے غزال صیغم کے افسانے کو شامل کرتے ہیں اور انور خان کوبھول جاتے ہیں یا پھر قاضی افضال سیّد ممبئی کے افسانہ نگاروں پراپنے کلیدی خطبے میں مظہر سلیم کا ذکر بڑے اہتمام سے کرتے ہیں مگر ساجد رشید کا نام ان کے حافظے سے پھسل جاتا ہے ، تو اس کا جواب اور جواز سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے تعصب اور بد دیانتی آج بھی ہماری ادبی کلچر کا اٹوٹ حصّہ ہے۔انور خان اور ساجد رشید کے افسانوں پر سخت سے سخت تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ نئے افسانے کے ذکر میں انہیں بھول جائیں۔
جہاں تک ساجد رشید کا تعلق ہے انہوں نے سلام بن رزاق،انور خان اور انور قمر کے بعد لکھنا شروع کیا،لیکن قصّہ گوئی کی سلیقہ مندی نے انہیں بہت جلدی اپنے سنیئر افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ستّر کے بعد کے افسانہ نگاروں نے جس کہانی پن کی بازیافت کی تھی وو ساجد رشید کے افسانوں میں ایک تنائو کی شکل میں ابھرتی ہے اور تجسس کو جنم دیتی ہے۔ نکیل ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتی اور ایک کشمکش۔۔۔۔۔۔۔ایک تصادم ٹیومر کی طرح ساجد کے افسانوں میں پہلی سطر سے اختتام تک زندہ رہتا ہے۔ جامد تصاویر کے بجائے متحرک مناظر اور مکالماتی بیانیہ نے ان کے افسانوں کو ڈرامے کی صنف سے قریب کردیا ہے۔ ساجد کے افسانوں کی قرات کے دوران قاری ناظر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کردار اداکار میں۔۔۔۔۔۔اور یوں وہ افسانوی متن کو اسٹیج پر پرفارم ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ ساجد کا فنی امتیاز ہے کہ وہ افسانے میں موجود اندورنی تصادم کو فوکس کرنے کے لیے مختلف tools استعمال کرتے ہیں۔چونکہ ساجدصرف افسانہ نگار نہیں بلکہ صحافی،سماجی ورکر،ڈرامہ نگار،اداکار اور کارٹونسٹ بھی ہیں اس لیے ان تمام فنون کے اظہاری وسائل کا بھرپور فائدہ افسانے کی تعمیر میں وہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ ساجد رشید کے افسانوی ڈسکورس میں ہم ڈرامہ نگار ،سماجی ورکر، صحافی ،کارٹونسٹ اور اداکار ساجد رشید کو افسانہ نگار ساجد رشید سے قریب آتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اس قربت نے بیشتر جگہوں پر ان کے فکشن کے امتیازی عناصر کی شناخٹ قائم کی ہے اوربعض مقامات پر ان چیزوں نے ان کے افسانوی کرافٹ کوزبردست نقصان بھی پہنچایا ہے۔لیکن یہ قصّہ پھر کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوعی طور پر ساجد رشید کے افسانوں کو دوحصّوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک سماجی و سیاسی سروکاروں کے افسانے دوسرے انسانی رشتوں کے افسانے۔ گو کہ یہ تقسیم واٹر ٹائیٹ کمپارٹمینٹل نہیںہے کیونکہ انسانی رشتوں کے افسانوں میں سماجی و سیاسی سیاق ابھرتے ہیں تو سیاسی اورسماجی موضوع کے افسانوں میں انسانی رشتے پنپتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے طرز کے افسانوں میں ساجد اگر آس پاس بکھری ہوئی سماجی و سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسرے طرزکے افسانوں میں بجائے خود زندگی کو دریافت کرنے میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جو بات ساجد کے افسانوں کو ایک امتیازی وصف عطا کرتی ہے وہ یہ کہ ان کا ہر افسانہ اپنے عصر اور سماج سے ایک جرح ہے ،ایک مکالمہ ہے۔
موضوع ،تکنیک ،مواد اور زبان کا ایک اچھا تال میل ساجد کے افسانوں میں ملتا ہے۔وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سا افسانہ کس ڈکشن میں لکھنا ہے۔بیانیہ پر مظبوط گرفت ،بے پناہ قوّت مشاہدہ اور انسانی نفسیات کے ان کے گہرے شعور کے سبب ہی اپنے کسی انٹرویو یا نجی گفتگو میں وارث علوی نے ساجد رشید سے کرداری افسانہ لکھنے کی توقع ظاہر کی تھی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے مختلف افسانوں میں کئی منفرد، پیچیدہ اور complexedکردارپیش کرنے کے باوجود ساجد رشید کے پاس کوئی کرداری افسانہ نہیں ہے۔’’مردہ دھوپ‘‘کی پھوپھی یا ’’ایک چھوٹا سا جہنم ‘‘کا ڈاکٹر نائیک یا پھر ’’شام کے پرندے ‘‘کے اختر حسین، یہ سبھی ساجد رشید کے ایسے کردار ہیں جو اپنی شناخت افسانوی فریم ورک سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر کرواتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کی سرشاری میں ساجد کی مثالیت پسندی کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ساجد رشید اپنی بنیاد میں idealist ہیں اوراگر یہ idealism حیات و کائنات کے بارے میں ان کے موقف کی تشکیل کرتا ہے توان کی مثالیت پسندی کرداروں کے حقِ خود اختیاری کی محتسب بن کر بھی ابھرتی ہے۔ ساجد رشید سے کرداری افسانے کے مطالبے کے پیچھے وارث علوی کہیں اس دھندلی مثالیت پسندی کو فنی دائرے سے ٹاٹ باہر کرنے کے تو متمنی نہیں ہیں؟ میرے خیال میں ساجد رشید کو وارث علوی کی اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
کرداری افسانوں کی جس کمی کا احساس وارث علوی کو ساجد رشید کے افسانوں میں ہوتا ہے وہ شاید علی امام نقوی کے افسانوں میں انہیں نہ ہو۔ علی امام نقوی کے بیشتر افسانوں میںڈرائیونگ سیٹ پر پلاٹ کے بجائے کردار سوار ہوتا ہے، چنانچہ وہاں واقعات کردار کا تانا بانا بننے کے بجائے کردار خودواقعات کی ترتیب و تنظیم کرتے ہیں۔ ’’نئے مکان کی دیمک ‘‘،’’گھٹتے بڑھتے سائے‘‘،’’مباہلہ‘‘اور ’’موسم عذابوں کا ‘‘اپنی ان چار کتابوں میں شامل افسانوں سے علی امام نقوی اردو فکشن میں اپنی جگہ محفوظ کر چکے ہیں۔
علی امام نقوی نے اپنی افسانوی کائنات ہمارے معاشرے کے ان کرداروں سے سجائی ہے جن کی تلاش میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ٹیکسی وٹرک ڈرائیور، شرابی، چرسی، آوارہ، بیکار، نکمے افراد،مزدور، وارڈ بوائز،جرائم پیشہ ،ریکروٹنگ ایجنٹ ،کلرک، ٹی وی مکینک ،کباڑیے ،رنڈیاں، بدچلن عورتیں۔۔۔۔۔۔ ان کی جیتی جاگتی تصویروں کو تخلیقی جہت دے کرعلی امام نے ایک فنی تجربے میں بدل دیا ہے۔ ان کرداروں کی معمولی سے معمولی اور اسفل سے اسفل جزئیات اور تفصیلات میں دلچسپی محض ان کی زندگی کا روزنامچہ ان ہی کی زبان اور محاورے میں لکھنا ہی علی امام کا منتہائے مقصود نہیں بلکہ ہوا کے دبائو اور پانی کے بہائو سے ادھر ادھر ڈولنے والے ان بے بس اور مجبور کرداروں کے ذریعے زندگی کی پہنایوں تک اترنے کی جہت ان کے افسانوں کے sub textمیں دیکھی جا سکتی ہے۔ علی امام نے اپنے بیانیہ میں ایک under currentضرور بچھایا ہے جن میں ان کے نقطہ نظر کے بنیادی نقوش جھلملاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصل زندگی علی امام کے یہاں، زندگی کی اصل تک رسائی حاصل کرنے کی ایک فنکارانہ کوشش ہے۔
تین لوک میں متھرا پیاری ۔۔۔اور علی امام کی متھرا ان کی ممبئی ہے۔ ممبئی کی زندگی علی امام نقوی کے افسانوں میں سانس لیتی اور خون میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کا ماحول، یہاں کی زندگی کی رفتار،بھیڑ بھاڑ،اس شہر کی زندگیوں کے sound tracks اور اس کی خاموشیاں ،یہاں کے محاورے اور یہاں کی low languageکو علی امام نے اپنے ناول ’’تین بتی کے راما ‘‘ اور مختلف افسانوں میں جس طرح پکڑا ہے وہ اس شہر کو جئے بنا حاصل ہونا ممکن نہیں۔ ’’ڈونگر واڑی کے گدھ‘‘فسادات پر لکھا ان کا یہ افسانہ کافی مشہور ہوا۔اکثر لوگوں کا خیال ہے اختتام میں علی امام نے عصری پس منظر کو ایک دائمی تناظر عطا کر دیا ہے۔ممکن ہے یہ درست ہو لیکن افسانے کا یہ انجام تاثّر سے بھرپور ہونے کے باوجود پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتا ہے۔البتہ اس افسانے میں پارسیوں کے dialectکا بہت ہی خلاّقانہ استعمال انہوں نے کیا ہے۔
تقسیم اگر ہندوستانی فکشن کا ایک اہم موڑ ہے تو تقسیم کے بعد بھی ہند و پاک کے تہذیبی ثقافتی رشتوںپردونوں ملک میں کئی اچھے اور کامیاب افسانے لکھے گئے۔ ان میں علی امام کا افسانہ’’ میراث‘‘کافی اہم ہے مگر افسوس کے ناقدوں نے اس پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی۔
ہمارے یہاں بیشتر لکھنے والوں کے لیے افسانہ تحریر کرنا سوئمبر میں حصّہ لینے جیسا ہے۔ جہاں سوئمبر کی شرائط کی تکمیل کے لیے افسانہ نگار جان کی بازی لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ناگ کا فنی رویہ ان سے قدرے مختلف ہے۔ ناگ کے لیے افسانہ لکھنا سوئمبر میںحصّہ لینانہیں ہے۔ اسی لیے نہ تو وہ شیو کے دھنش کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی ارجن کی طرح اپنی نظر صرف مچھلی کی آنکھ پر رکھتے ہیں۔اس تخلیقی رویے نے ناگ کے افسانوں کو اس منطقی ارتقاء سے محروم رکھا جو عموماً افسانے میں وحدتِ تاثّر ابھارنے میں مدد دیتا ہے۔پلاٹ کے افسانے میں واقعات کی ایک منطقی ترتیب ہوتی ہے اور اس کا ایک خاص نقطہ آغاز اور نقطہ انجام ہوتا ہے۔ سارے سلسلے ایک مرکزی نقطے سے جڑے ہوتے ہیںلیکن ناگ افسانوں میں کوئی منطقی ترتیب نہیں ملتی اور اگر ہے بھی تو سطح پر نہیں تیرتی۔ چونکہ افسانہ واقعہ کو منطقی ترتیب سے بیان نہیں کرتا۔ اس لیے متن میں موجود کشمکش زبان کی تخلیق نہیں کرتی بلکہ افسانہ نگار اپنے اسلوب میں اپنی زبان ،اپنے نجی محاورے میں اپنی بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی نجی آھنگ اور ذاتی لہجے کی چھاپ نے ایک طرف ناگ کے افسانوں کو رسمی اسلوب اور موضوعات کے فرسودہ برتائو سے آزاد رکھا تو دوسری طرف الفاظ کو فقط سننے یا پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ دیکھنے اور چھونے کی چیز بھی بنا دیا ہے۔
اگر علی امام نقوی کے افسانوں میں مختلف رنگ، نسل ،ڈئزائن کے کرداروں کا میلا ہے تو م ناگ اپنے افسانوں کی دنیا میں بالکل اکیلا ہے۔ اپنے اندر اور باہر اجنبی سچائیوں کو دیکھتا ،پرکھتا ایک اکیلا تنہا آدمی۔۔۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے اکثر آر کے لکشمن کے عام آدمی کا وہ کارٹون یاد آتا ہے جو دیکھتا سب کچھ ہے ،سنتا سب کچھ ہے لیکن بولتا کچھ بھی نہیں۔ ناگ کے افسانے بھی سننے اور دیکھنے والے افسانے ہیں،بولنے والے نہیں ۔۔۔۔کیونکہ ناگ کے افسانوں میں خاموشیاں بھی بولتی ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ڈاکوطے کریں گے‘‘ اور ’’غلط پتہ‘‘اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی اشاعت میں بھی ایک طویل عرصہ حائل ہے۔اور بقول انتظار حسین ہمارا زمانہ ادیب کو پروجیکٹ کر رہاہے اور ادب کو پیچھے دھکیل رہاہے۔اسی لیے جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کہ اس دور میں دنیا داری کے جھمیلوں اور تعلقات عامّہ کے حیلوںسے الگ تھلگ رہنے اور رسائل میں افسانوں کی اشاعت سے بے نیازی برتنے نے ناگ کو بہت نقصان پہنچایا۔
ناگ نے اپنے افسانوں میں جو دنیا رچی ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جس دنیا میں ہم آپ جی رہے ہیں وہ اتنی سیدھی اور صاف نہیں ہے۔ شفاف واقعات کی باطنی پرت کے نیچے بھی مضحکہ خیز عوامل کار فرما ہیںاور بظاہر سیدھے دکھائی دینے والے رشتے بھی دھندلے ہو چکے ہیں۔ایک بے نیازاور بے پروا راوی کا پوز بنائے رکھنے میں ناگ اکثر کامیاب ہو تے ہیں۔
ناگ کی تخلیقیت کا بنیادی رمز ان کا اسلوب ہی ہے۔یہ اسلوب اور کچھ نہیں ناگ کی شخصیت کی ہی لسانیاتی تجسیم ہے۔ ہلکی پھلکی لیکن گہری ،دلچسپ اور دلاویز اور شاید اسی لیے منفرد بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ناگ کے افسانے ہر پھر کر ان کی شخصیت کے آس پاس ہی طواف کرتے ہیں اور۔اسی لیے ان کے زیادہ تر افسانے آٹو بائیگرافیکل ہونے کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ناگ کے افسانوں تک رسائی ہم اس اس کی شخصیت کو tracepass کر کے ہی حاصل کر سکتے۔
جنس ناگ کا پسندیدہ موضوع ہے۔ موضوع بھی نہیں بلکہ ایک حوالہ ہے۔ جنس کے مجرد اور غیر مجرد تصورات کو جس طرح ناگ نے اپنے افسانوں میں animateکیا ہے اس نے ان کی تحریروں کو اپنے پیش روئوں اور ہم عصروں میں منفرد بنا دیا ہے۔ چونکہ جنس کو موضوع کے بجائے بطور حوالہ برتا گیا ہے اسی لیے افسانوں میں ناگ کا رویہ peeping tomجیسا نہیں ہے اور اسی لیے سیکس اور رشتوں پران کی متنازعہ تحریروں میں بھی ترغیب کا پہلو نہیں ہے۔ فنکارانہ اعتبار سے ناگ کے افسانے بلاشبہ اتنے بلند نہ ہوں لیکن اس میں ایک ایسے آدمی کا کرب ضرور موجود ہے جو رشتوںاور سسٹم کو اپنی کھال اور روح پر بھوگ رہا ہے۔ان کے دونوں افسانوی مجموعوں سے متعلق یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘کے بعد ’’غلط پتہ ‘‘تک پہنچتے پہنچتے البتہ ایسا لگتا ضرورہے ناگ کا تخلیقی رویہ اپنے محور سے کچھ ہٹ سا گیا ہے ’’غلط پتہ‘‘ میں نہ تو وہ تازگی ہے اور نہ ہی وہ brandingجو ناگ کی پہچان ہے۔ ’’غلط پتہ‘‘ پر پہنچنے کا جو احساس قاری کو ہوتا ہے اگر وہ افسانہ نگارکوبھی ہوجائے تو شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین پا لے۔
مقدر حمیدایک سنئیر افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے لگ بھگ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھا۔لیکن ایک زمانے تک ادبی رسائل سے ایک ’’محفوظ دوری‘‘بنائے رکھنے کے سبب ناقدین اور قارئین نے بھی انہیں وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ چالیس سال پر محیط اپنے افسانوی سفرمیں مقدر حمید کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ ’’زر بیل‘‘ ،’’ابر کاری‘‘ اور ’’جل ترنگ‘‘یہ عنوانات ہی افسانوں کے موڈ اور ان کے فنی رویوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
مقدرحمید کے بیشتر افسانے دھیمی لے کے افسانے ہیں اور معلوم پڑتا ہے کمر کے نیچے تکیہ رکھ کرconciveکئے گئے اور آرام کرسی پر لیٹ کر تحریر کئے گئے ہیں۔قاری کے ذہن پر ہتھوڑا مار کر اس کے پورے وجود کوجھنجھنا دینے والے افسانوں کے بجائے ان کے افسانے غلام علی کی گائیکی کی طرح اپنی محدوداور مخصوص نوٹ سے اوپر نہیں اٹھتے۔ اپنے آس پاس کی زندگی پر ان کی نظر مرکوز ہوتی ہیںاور اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس میںشریک کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے محدود کینواس کے باوجودان کے یہ افسانے پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں ،مقدر حمید کے افسانوںمیں ایک خاص قسم کا تاثّر دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان کی زبان واقعات کو دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے یہاں موضوع کے بطن سے واقعات جنم نہیں لیتے بلکہ واقعات کی پرتوں میںوہ موضوع تلاشتے ہیں۔
مقدر حمید کے یہاں خوبصورت الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔مگر یہ خوبصورت الفاظ ان کی قصّہ گوئی کو مدد بہم پہنچانے کے بجائے سلمہ ستاروں کی طرح افسانوی فریم ورک میں بے بس ٹنکے نظر آتے ہیں۔اورظاہر ہے جب لفظ افسانوی فریم ورک میں اپنا کام انجام دینے سے انکار کردیں تو افسانہ نگار کی خود تزئینی کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
’’ابر کاری‘‘ کے پیش لفظ میں انہوں نے لکھا تھا کہ اپنی بات کہنے کے لیے کہانی کی تصویر کو جو بھی فریم راس آتی ہے اسے اپنانے میں انہیں احتراز نہیں ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مقدر حمید نے کہانی کی تصویر کے مطالبے کے موافق ہی فریم کا انتخاب کیا ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے سارے افسانے ایک ہی فریم میں جڑے نظر آتے ہیں۔ ہاں فریم کو نقش و نگاری کے ذریعے انہیں الگ کرنے کی کوشش افسانہ نگار نے ضرور کی ہے۔
مقدر حمید کی طرح جیتندر بلّونے بھی انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھابلکہ بلّو تو غالباًان سے بھی پہلے سے لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں اسی لیے ان کے افسانوں کا پس منظر دیارِفرنگ میں بسے ہندوستانیوںکے تہذیبی اور جذباتی مسائل ہیں۔اپنی زندگی کے آزمائشی دور کا ایک حصّٓہ انہوں نے ممبئی میں ہی گزارا تھا۔’’ پہچان کی نوک پر‘‘کے افسانے ان کے اسی دورکی یادگار ہیں۔اس میں کل چودہ افسانے ہیں اوربیشترافسانوںکو ان کی زبان کے استعاراتی برتائو نے حقیقت نگارانہ اکہرے پن سے بچا لیا ہے۔ انسانی رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانیوں کوبِلو نے فنکارانہ صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے اور سماجی حقیقتوں،معاشرتی ناہمواریوں اور نفسی الجھنوںکو بیانیے کی نت نئی صورتوں میں ڈھالا ہے۔ ابھی حال میں ہی ان کے افسانوں کا نیا مجموعہ اور بقول ان کے آخری مجموعہ ’’چکر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اپنی اس کتاب کے مقدمے میں اردو ادب میں بڑھتی ہوئی اسلام پسندی سے متعلق انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔گو کہ ان کا لہجہ کچھ کڑا اور کڑوا ہو گیا ہے اور جذبات میں جتیندر بلّو یہ بھول گئے ہیں کہ کمبل سے کمبل کی گانٹھ نہیں بندھتی۔
سلام بن رزاق سے لے کر م ناگ تک یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے ہیں جنہیںفضیل جعفری نے Bombay group of short story writers کے نام سے یاد کیا ہے۔ ان مین اسٹریم رائٹرس کے علاوہ ایسے لکھنے والے بھی یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے لیے افسانہ نگاری جز وقتی کام رہا یا پھر جنہوں نے افسانہ نگاری کو سنڈے پینٹنگ کی طرح آزمایا۔گو کہ ان سے چار چھ ڈھنگ کے افسانے بھی سرزد ہوگئے مگر وہ ان کی شناخت کا حوالہ نہیں بن پائے۔ساگر سرحدی ،محمود ایوبی، بنتِ مسعود(جو بعد میں فیروزہ خان کے نام سے لکھنے لگیں)الیاس شوقی، اقبال نیازی، اسلم خان، معین الدین جینابڑے اور مقصود اظہر کے نام اس فہرست میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے توبڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں کچھ نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پرکنارہ کشی اختیار کر لی۔ کچھ کے منکے ڈھیلے پڑ گئے ، کچھ نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کیا اورکچھ نے لکھنا جاری رکھا مگر سنڈے پینٹنگ کی طرز پر۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ مسعود ایک بہت اچھی لکھنے والی ہیں۔افسانے بننے کے عناصر ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں مگر غالباً ازدواجی زندگی کی مصروفیات نے انہیں افسانہ نگاری ترک کرنے پر مجبور کیا۔ اقبال نیازی نے ’’سرکس‘‘ اور ’’اسپیڈ بریکر ‘‘ جیسی خوبصورت کہانیاں لکھیں تو ان سے بھی کچھ توقع بندھی مگر بہت جلد ڈراموں نے انہیں highjackکر لیا اور ان دنوں بڑے زور شور سے تھیٹر کے لیے سرگرداں ہیں۔البتہ اسلم خان نے ابھی تک افسانہ نگاری ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا اوراپنے نئے افسانے کے ساتھ کبھی بھی LOCپار کر سکتے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے ’’ٹیلی پرنٹر‘‘ ،’’کنفیشن‘‘، ’’کاروائی‘‘ اور’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘ جیسے چند ایک اچھے افسانے ضرور تحریر کئے تھے مگر پھر event managementجیسی کسی چیز میں مصروف ہوگئے۔ ان کے تحریر کردہ افسانے بھی کسی event کاخاکہ ہی معلوم پڑتے ہیں۔ ’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘اصل میں ایک فلمی کہانی کی one line script ہے مگر اسے افسانہ سمجھ کر پڑھا بھی جا سکتا ہے اور انگیز بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ فنی سرچشموں سے نکلنے والے اس کے زریں دھارے ایک بڑی تصویر کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔مقصود اظہر ان لوگوں سے نسبتاً جونئیر لکھنے والے ہیں ’’کشتن‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک افسانوی مجموعہ منظر ِعام پر آ چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ افسانے پڑھنے والے کو متوجہ کرتے اور ان کا نام لوگوں کے حافظے پر چڑھتا انہوں نے بھی افسانہ نگاری ترک کرد ی۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا کوئی افسانہ پڑھنے کو نہیں ملا۔ یہی حال الیاس شوقی کا ہے۔ افسانے سے منہ موڑ کر انہوں نے تنقید کا دامن تھاما ہے اور’’فکشن پر مکالمہ ‘‘ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
دو اور ایسے فنکار ہمارے درمیان موجود ہیں جنہوں نے افسانے تو لکھے ہیںلیکن بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر۔۔۔۔۔۔ شاید دونوں کے لیے افسانہ نگار ی مین کورس کے بعد سرو ہونے والے desertکی طرح ہے۔ دونوں نے ناول لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ فکشن کے آسمان پر اڑنے کے لیے ان کے پنکھ مضبوط ہیں۔رحمٰن عباس کے اب تک دو ناول’’نخلستان کی تلاش میں‘‘ اور ’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘منظر عام پر آ چکے ہیں۔ان کا پہلا ناول جس قدر کمزور اور لچر تھا دوسرا اتنا ہی thought provokingاور توانا۔زبان کے پُر تکلف اور شاعرانہ استعمال کے باوجود رحمٰن نے اپنے اس نئے ناول میں کوکن کے گائوں بدلتے لینڈاسکیپ کواپنی نظر سے دیکھنے ،اپنے ذہن سے سوچنے اور اپنے محاورے میں اسے دریافت کرنے کی جرائت مندانہ کوشش کی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخراس ناول پر اچھے مضامین اور تجزیے تو جانے دیجئے ڈھنگ کے تبصرے بھی کیوں نہیں آئے ؟
کیا اس کی وجہ اس کا موضوع ہے؟
۔رحمٰن عباس نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں مگر وہ تعداد میں اتنے کم اور فکری وحدت میں اس قدرمعمولیہیں کہ ان کے فنی رویے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔لگ بھگ یہی بات ہم صادقہ نواب سحر کے افسانوں کے تعلق سے کہہ سکتے ہیں۔ البتہ’’کہانی کوئی سنائو متاشا‘‘ ناول لکھ کر بحیثیت فکشن نگارصادقہ نواب سحر نے اپنی شناخت درج کر لی ہے۔ناول کے کرافٹ اور متن کے ایک خوشگوار تال میل نے ان کے ناول کو دلچسپ اور readableبنا دیا ہے۔ تازہ ہوا لانے والی کوئی کھڑکی اچانک کھل جانے کا احساس اس ناول سے ہوتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اسے لوگوں نے respondبھی کیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے ناول میںپیش کی گئی نسائی حسیت اور سوز و گداز سے بھرے احساسات اوراپنے آس پاس بکھری زندگی پر ناول نگار کی گہری ،شفاف اورحساّس نگاہیں ہیں۔ناول کے اجزائے ترکیبی پر گہری نظر کے علاوہ صادقہ نواب کی پی آر شپ نے بھی اس ناول کو پروجیکٹ کرنے میں اہم بھومیکا نبھائی ہے۔ جہاں تک افسانہ نگاری کا تعلق ہے وہ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر کا اصل میدان نہیں لیکن پھر بھی ان سے اچھے اور یادگار افسانوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ان بھولے بسرے لکھنے والوں کے ریوڑ میں مجھے بھی آپ کالی بھیڑ کے طور پر شامل کر سکتے ہیںکیونکہ میں نے جو دو ڈھائی افسانے تحریر کئے وہ اتنے بچکانہ ، ناپختہ اور trashتھے کہ اب ان کا ذکر کرنا بھی بے کار ہے۔
سنئیر لکھنے والوں میں ساگر سرحدی، محافظ حیدر اور محمود ایوبی نے منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر کئی اچھے افسانے لکھے گو کہ ان کی اصل پہچان افسانہ نگار کی نہیں ہے۔ ساگر سرحدی ایک فلم کاراور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ان کے افسانوں کی ایک کتاب’’آوازوں کا میوزیم‘‘ اردو میں اور ’’جیو جناور‘‘ ہندی میں شائع ہو چکی ہے۔ساگر سرحدی کی ذہانت، بذلہ سنجی اور تخلیقیت کا جو جلوہ ہمیں ان کے ڈراموں اور مکالموںمیں ملتا ہے افسانوں میں diluteہو گیا ہے۔یہی نہیں موضوعات کو جو تنوع ان کے ڈراموں میں ہے افسانے میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔بیشتر افسانے man-woman relationshipکی تفتیش پر قائم ہیں۔ اس رشتے کو دیکھنے والی آنکھیں ایک مرد کی ہیں اور ناک پر ٹکی ہوئی عینک کے lensبھی خالص مردانہ ہیں۔ عورتوں کے مختلف روپ ساگرکے افسانوں میںنظر آتے ہیں مگر وہ مرد کی ہم سفر یا دوست کم اس کی sleeping partnerزیادہ ہے۔ عورتوں کی نفسیات،ان کے خواب اور خوف پر ساگر کی نظر گہری ہے اور پینی بھی۔محبت میں سرشار عورت ہو یا خود فریبی میں گرفتار،نوعمر لڑکی ہو یا بیوہ عورت، ماضی سے خوف زدہ ہو یا مستقبل سے پرامید ،ساگر سرحدی کے افسانوں میں عورتیں اپنے ہاڑ مانس اور سوچ کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن مختلف افسانوں کے مرد کرداروں کی گردن پر چہرہ ایک ہی ہے۔یہ کوئی اور نہیں ساگر سرحدی کا ہمزاد ہے۔ شاید اسی لیے ساگر کے ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیںڈائری یا یاداشتوںکا گمان سا ہوتا ہے۔ پرسنل ٹچ ان افسانوں کی طاقت ہے تو کمزوری بھی۔ ساگر ہر لفظ، جذبے اور احساس کے پیچھے سے جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ افسانے ساگر سرحدی کی شخصیت سے اپنے آپ کو بچا پاتے تو شاید اور زیادہ کامیاب ہوتے۔
مکالمہ نگاری ساگر سرحدی کا fortay ہے اور اس میں ان نبض دھڑکتی ہے۔ مکالمہ نگاری ساگر کے افسانوں میں کبھی کردار نگاری کے فرائض انجام دیتی ہے تو کبھی منظر نگاری کی۔
ساگر سرحدی کی طرح محافظ حیدر کا تعلق بھی فلم اور ٹی وی کے میڈیم سے رہا ،جس کی وجہ سے افسانہ لکھنے کے لیے وہ زیادہ وقت نہیں نکال سکے۔ حالانکہ افسانہ بُننے کا آرٹ انہیں بھی خوب آتا ہے،جس کا بین ثبوت ’’کاغذ کی دیوار‘‘ میں شامل ان کے افسانے ہیں۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی readablity اور originalityہے۔افسانے کی روایت سے الگ ہوئے بنا محافظ حیدر کے ان افسانوں کی اپنی ایک originalityہے۔ تکنیک کے اعتبار سے محافظ حیدر کے یہ افسانے روایت کے تسلسل کا ایک جز ہی ہی معلوم ہوتے ہیںلیکن ان میں معنویت کے لحاظ سے جو تنوع ہوتا ہے وہی ان کے تخلیقی جوہر کا بنیادی نشان ہے۔ فارم ،زبان اور کرافٹ کی سطح پر ان میں کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی موضوع چونکائو ہیں۔ لیکن آرٹ اور کرافٹ کی سطح پریہ افسانے اتنے سدھے ہوئے ہیں کہ یہی سہجتا ان کی USPبن گئی ہے۔ محافظ حیدر کے افسانوں کاقاری ہونے کی حیثیت سے ایک احساس مجھے ہمیشہ سے رہا اپنی تخلیقی انفرادیت، گہری نظر،فنی ہنر مندی اور زندگی کے متنوع تجربات و مشاہدات کا جس قدر فائدہ افسانہ نگار کو اٹھانا چاہئے تھا کسی وجہ سے محروم رہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے کھاتے میں ’’روزنامچے کا ایک ورق‘‘،’’سالگرہ‘‘،’’ہوائی قلعہ‘‘ اور آئیڈنٹیٹی کارڈ‘‘ جیسے خوبصورت افسانے ہیں، جنہیں لکھنے کا خواب کوئی بھی افسانہ نگاردیکھنا پسند کرے گا۔
ساگر سرحدی اور محافظ حیدرکے ساتھ ایک اور نام محمود ایوبی کاہے۔ محمود ایوبی بنیادی طور پر صحافی اور مارکسٹ نظریہ کے حامی تھے۔اکّا دُکّا افسانے تو وہ ابتداء ہی سے لکھ رہے تھے لیکن باقاعدہ افسانہ نگاری انہوں نے انہوں نے ریٹائرمینٹ لائف کے دوران شروع کی۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’دوسری مخلوق‘‘ اور’’پری کتھا‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔
محمود ایوبی کے افسانوں پر instantردّعمل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت نگاری ہی ان کے افسانوں کا مرکز اور محور ہے۔سیدھے سادے لوگوں کی باتوں کوبہت سادے طریقے سے بیان کردیناہی ان کا ادبی موقف رہا ہے۔ چونکہ صحافت سے محمود ایوبی کا تعلق بہت گہرا تھاچنانچہ اس کا مثبت اور منفی اثر ان کے افسانوں میں نظر آنافطری ہے۔ صحافت کی وجہ سے روز مرہ کے واقعات جنہیں ہم عموماً معمولات کا درجہ دے دیتے ہیں ایوبی صاحب نے انہیں افسانے کے فارم میں ڈھال کر امکانات کی نئی سطح عطا کی۔ لیکن افسانہ نگاری کا فن جس تحمل کامطالبہ کرتا ہے اور افسانے کی ماجرائی پرتیں جس فطری ارتقاء کے ساتھ unfoldہونے کی مانگ کرتی ہیں وہ صحافی محمودایوبی میں کم کم نظر آتی ہے۔ اور لگتا ہے اخبار کی آخری کاپی کی طرح افسانے کو بھی ایک طے شدہ ٹائم میں بھیجنا ضروری ہو۔ اگر یہ افسانے افسانہ نگار کی دوسری نظر اور finishing touches پا لیتے تو شاید ان کی روپ ریکھا اور سنور جاتی۔ کچھ افسانے غیر ضروری طوالت کا شکار ہو گئے ہیں اورانہیں نہ صرف ایڈیٹنگ کی سخت ضرورت بلکہ کئی افسانوں کو سخت ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔
نوّے کی دہائی میں ممبئی کے جن افسانہ نگاروں نے بڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا اور پڑھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی ان میں معین الدین جینابڑے کا نام کافی اہم ہے۔ سن2000ء کے آس پاس ان کے افسانوں کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’تعبیر‘‘ کے نام سے جب منظر عام پر آیاتو لوگوں نے ایک اہم افسانہ نگار کی آمد کی آہٹ اس میں محسوس کی لیکن پتہ نہیں اپنے کس فکری،نظریاتی اور جذباتی اسباب کے تحت ان کا دل افسانہ نگاری کی طرف سے ہٹ گیا۔ کیونکہ ادھر ان کے نئے افسانے پڑھنے کو کم کم ہی ملے۔
’’تعبیر‘‘کے افسانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ معین الدین سوچ سوچ کر لکھنے والے افسانہ نگار ہیں اور جو لکھتے ہیں فنی شعور کی بھٹّی میں تپ کر آنے کے بعد ہی لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں ’’تعبیر‘‘ ،’’گیت گھاٹ ‘‘اور ’’کہانی‘‘جیسے خوبصورت افسانے ہیں۔معین الدین کا فنی رویّہ واقعات تانے بانے بننے کے بہانے اپنے خیالات کی صورت گیری کرتا ہے جس میں ایک لُپی پتی اور پھونک پھونک کرقدم رکھنے والی محتاط شخصیت سے ہم روبرو ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو انڈیلنے کے شوق نے افسانے کے ندیدہ تخلیقی امکانات کو منکشف ہونے نہیں دیا اور اسے معین الدین جینا بڑے نے اپنی شخصیت کا ضمیمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ’’رنگ ماسٹر‘‘ اس کی عبرتناک مثال ہے۔
جس طرح مقدر حمید زبان کو تصویر کے پُر کشش چوکھٹے کی طرح استعمال کرتے ہیں معین الدین اپنے خیالات کو افسانے میں بھرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی غائب راوی کے ذریعے تو کبھی کسی کردار کا مکھوٹا پہن کر ۔۔۔۔۔غرضکہ افسانے کی کوئی دیوار ان کے یہاں خالی نہیں۔ قصّہ گوئی میں جب اپنی ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی شخصیت کو ظاہر کرنے کا لپکا افسانہ نگار میں پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے جو ڈھیر ہوتا ہے اس کا نام افسانہ ہے۔
بنتِ مسعود ،ساگر سرحدی، محافظ حیدر، اقبال نیازی، محمود ایوبی ،معین الدین جینا بڑے یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے جن کے فنکارانہ اظہار کا اصل میدان اور ان کی شناخت کا اصل وسیلہ افسانہ نگاری نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔اور اس میں شک نہیں کہ اگر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کو وہ افسانوں میںمرتکیز کرتے تو شاید ممبئی کااردو افسانہ اور بھی صاحبِ ثروت کہلاتا۔بہرکیف ان جُز وقتی افسانہ نگاروں اور اتواری مصوروں سے قطع نظر ممبئی میں ایسے لکھنے والوں کی تعدادبہت زیادہ نہیں تواتنی کم بھی نہیں، جن کی شناخت کا بنیادی حوالہ افسانہ اور افسانہ نگاری ہے۔ نئی صدی کے قرب و جوار میں تازہ دم لکھنے والوں میں مظہر سلیم،ایم مبین، اشتیاق سعید،عبدالعزیز خان کے نام اہم ہیں۔
کہا جاتا ہے ٹڈیوں کا آنا کال کی نشانی ہے اور ممبئی کے اردو افسانے پر گزشتہ دیڑھ دو دہائیوں سے ٹڈیوں کے دل منڈلا رہے ہیں۔قرۃالعین حیدر نے اردو افسانے پر مسلط جس میڈیوکریسی کااظہار برسوں پہلے کیا تھا اس کا نہایت ہولناک سایہ ممبئی کے ان عصری افسانہ نگاروں پردیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت سریندرپرکاش کا ایک فقرہ یاد آتا ہے جسے اکثروہ اپنے بعد میں آنے والی نسل کے افسانہ نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت استہزایہ انداز میں کہا کرتے تھے۔’’سچ ہے اردو افسانے پر برا وقت آن پڑا ہے۔‘‘
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ستّر کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں کی نمائندگی سلام بن رزاق کر رہے تھے تو نوّے تک آتے آتے نمائندگی کی یہ پگڑی وقت نے مظہر سلیم کے سر باندھ دی۔ مظہر سلیم 90ء کے آس پاس ممبئی کے ادبی منظر نامے میں ابھرنے والے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جوممبئی میں کم لیکن مہاراشٹر کے دیگر اردو حلقوں میں خاصے مقبول ہیں۔’’جہاد‘‘،’’اپنے حصّے کی دھوپ‘‘کے علاوہ ان کے افسانوں کاایک انتخاب ’’نیا منظر نامہ‘‘(مرتب:ابراہیم اشک) بھی شائع ہوا ہے۔ان کے افسانوں کے ذخیرے میں علامتی، تمثیلی اور بیانیہ سبھی طرز کے افسانے دستیاب ہیں۔ایک محدود اور تنگ دائرے میں گردش کرنے والے ان افسانوں میں کامیاب اور ناکام افسانے شامل ہیں۔لیکن افسانوں کا کامیاب یا ناکام ہونا مظہر کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ اپنے اس محدود دائرے میں مظہر اور مظہر کے یہ افسانے بہت شاداں ہیں۔۔۔اپنے آپ میں مست ۔۔۔۔۔اسی لیے دائرے سے باہر چھلانگ لگانے کی یا اس کا حصار توڑنے کی کوئی جہت ان میں نظر نہیں آتی۔ یہ خود اطمینانی ہی مظہر سلیم کے فنّی رویے کی تشکیل و شناخت کرتی ہے۔ افسانہ ان کے پاس جس فارم میں ،جس زبان میں اور جس تکنیک میں آتا ہے مظہر کان سے پینسل اتار کر اسے لکھ ڈالتے ہیں۔مظہر سلیم کا فنّی رویہ انہیں سکینڈ ٹھاٹ دینا یا اسے re-writeکرنے کا تکلف سہارتا نہیں ہے۔اس تن آسانی ،یا خوش گمانی یا عجلت پسندی نے ان کے بہت سے افسانوں کی مٹی خراب کی ہے اور تیز دھماکے دار بارود کو سلے ہوئے پٹاخوں میں تبدیل کر دیا ہے۔’’نیا مظر نامہ‘‘اور ’’اپنے حصّہ کی دھوپ‘‘کو ہم مظہر کے نمائندہ افسانے کہہ سکتے ہیں۔
ممبئی میں نوّے کے بعد جو افسانہ نگار ابھرے ایم۔ مبین اس نسل کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نسل کی دوسری صف تیار ہی نہیں ہو سکی۔ ایم مبین کے کچھ افسانے ادھر ادھر رسائل میں پڑھے تھے لیکن ان میں کوئی افسانہ بھی حافظہ میں محفوظ نہیں ہے۔ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘اور ’’نئی صدی کاعذاب ‘‘اردو میں اور’’اذان ‘‘ ہندی میں ۔۔۔۔۔میرے پاس ان کی کوئی کتاب نہیں تھی لہذا ویب سائٹ سے ان کے اٹھائس افسانے پڑھے جو انہوں نے up loadکئے ہیں۔یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی کہ اردو کے افسانہ نگار بھی اب وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ایم مبین کے افسانوں کو پڑھتے ہی خوشی کا یہ احساس کہیں تحلیل ہو گیا۔ان کے بیشتر افسانے پرانی لیک پر چلنے والے افسانے ہیں اور انہیں پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کب گابرئیل گارسیا مارکیز کی طلسمی حقیقت نگاری کے دورسے نکل کرماضی کے سہیل عظیم آبادی کی حقیقت نگاری کے دور میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔جن پڑھنے والوں کو باریکیوں کی تلاش ہوتی ہے بلاشبہ انہیں ایم مبین کے افسانوں سے مایوسی ہی ہوگی۔ یہ افسانے قاری کی بصیرت اور بصارت کا امتحان لیے بنا ہی اپنی حقیقت منکشف کر دیتے ہیں اور یوں پڑھنے والے کوفن کے اسرار و رموز کی تفہیم کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ ان افسانوں کی کوئی خوبی ہے تو بیانیہ کی روانی اور اسلوب کی سادگی ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سادگی سادہ لوحی کی کوکھ سے برآمد ہوئی ہے لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ان اٹھائس افسانوںمیں ایک افسانہ بھی ایسا نہیں جو ذہن کے تاروں کو جھنجھوڑ دے یا جسے پڑھ کر قاری اندر سے جگمگا اٹھے۔ جو چیز سب سے زیادہ کھلتی ہے وہ ان کی سطحیت ، اکہریت اورفکری افلاسیت ۔۔۔۔۔۔اگر آپ مجھے ایم مبین کے دو نمائندہ افسانے منتخب کرنے کے لیے کہیں گے تو میں ’’سمینٹ میں دفن آدمی ‘‘اور ’’نئی صدی کا عذاب‘‘ کا نام لوں گا۔
اردو فکشن کے قاری کے لیے عبدالعزیز خان کا نام نامانوس نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ تھوک کے بھائو سے افسانے لکھ کر ممبئی عصری اردو افسانے سے اپنا بھر پور تعارف کرا رہے ہیں۔ان دس برسوں میں انہوں نے اردو فکشن میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اس کے لیے اگر لمکا گینئس بُک میں ان کا نام درج ہو جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ ’’ باتوں سے بنی کہانیاں‘‘ کے تحت ایک ہزار کے قریب مکالماتی افسانے لکھنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔یہی نہیں’’بریکنگ نیوز‘‘ کے عنوان سے صرف پندرہ صفحات پر ناول لکھنے کا ریکارڈ توڑ کمال بھی جس شخص نے انجام دیا ہے اس کا نام عندالعزیز خان ہے۔پچھلے دنوں ان کی ’’ایک سطری افسانوں‘‘ کی کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔پھول کی جگہ پنکھڑی جمع کرنے کے شوق نے ہی عزیز خان سے یہ آٹھ سو بیانوّے یک سطری افسانے لکھوائے ہیں۔حوصلہ اگر ساتھ رہا تو بعید از قیاس نہیں کہ وہ ’’یک لفظی‘‘ افسانے لکھنے کی بدعت شروع کردیں۔ان کے پیش رواور ہم عصر لکھنے والوں کے سینوں میں اب جبکہ سانسیں نہیں سما رہی ہیں اور ان کی تحریروں سے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دینے لگی ہے ، عبدالعزیز خان بفضلِ تعالیٰ مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔ان کا قلم سرپٹ دوڑ رہاہے۔ پانچ ناولوں کے ایک مجموعے کے علاوہ ان کے کئی افسانوی مجموعے ’’ایک اور بجوکا‘‘،’’مونالیزا کی مسکراہٹ‘‘ ،’’فساد،کرفیو اور کرفیو کے بعد‘‘ ،’’اور بجوکا ننگا ہو گیا‘‘اور ’’سلم ڈاگ ملینئر ۔‘‘ بڑے ٹیم ٹام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ شائع ہوئے ہیں اور۔۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔
نوّے کے بعد ممبئی کے فکشن کے آسمان پر چمکنے والے سبھی ستاروں کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ ڈھیر سارا لکھنے کے باوجود بھی بے توفیقی کا یہ عالم ہے کہ ان کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ اپنی فنی قدر و قیمت کے بوتے پر قاری کے ذہن میںاپنے عنوان ریکارڈ نہیں کرواپایا ہے۔ ایک عرصے کے بعد فن اور فنکار یا افسانہ اور افسانہ نگار ایک دوسرے کی شناخت کا حوالہ بن جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیں ’’ڈونگر واڑی کے گدھ ‘‘کے ساتھ ہی علی امام نقوی یاد آ جاتے ہیں یا انور خان کا نام لیا جائے تو دوسرے ہی لمحے ’’لمحوں کی موت ‘‘ سے لے کر’’ کتاب دار کا خواب ‘‘تک کتنے ہی افسانوں کے عنوانات ذہن کے افق پر تیرنے لگتے ہیں۔ سریندرپرکاش، سلام بن رزاق،ساجد رشید،م ناگ کے ساتھ بھی لگ بھگ یہی معاملہ ہے مگر مظہرسلیم ہوں یا اشتیاق سعید یا ان کے دوسرے رفقاء اس قدر بے مایا اور تہی دست ہیں کہ ایک عرصے سے لکھنے بلکہ مسلسل لکھتے رہنے کے باوجود ان کی کوئی تحریر قاری کے ذہن میں مستقیل جگہ بنائے رکھنے میں ہنوز ناکام ہے۔
اشتیاق سعید کا تعلق بھی اس صدی کے آغاز میں ابھرنے والی نسل سے ہے۔ افسانہ نگاری سے قبل انہوں نے ڈرامے بھی تحریر کئے ہیں۔ان کا تحریر کردہ ڈرامہ’’نعرہ بکتا ہے‘‘کتابی شکل میں دستیاب ہے۔حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ہل جوتا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں کُل اٹھارہ افسانے اور ایک مقدمہ ہے۔ان کے تحریر کردہ مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ ساجد رشید کو وہ اپنا mantor مانتے ہیں۔کاش وہ ساجد رشید سے کہانی کہنے کے گُر بھی سیکھتے۔
ہندی میں گائوں کے افسانے نسبتاً زیادہ لکھے گئے ہیں اردو میں تو گائوں میں قیام پذیر قلمکاروں کی تحریروں میں بھی شہر چیختا اورچنگھاڑتا ہے۔بے شک ان دنوں شہر و گائوں کی دوریاں مٹتی جا رہی ہیں اوردونوں کی شکلیں ملتی جا رہی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گا ئوں یا شہر کا پس منظر افسانہ نگار کے اسلوبیاتی بنیاد کی نشاندہی تو کر سکتا ہے لیکن فنی سا لمیت اور تخلیقی وحدت کا جواز نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی یہ اشتیاق سعید نے ممبئی جیسے شہر میں رہتے ہوئے گائوںکے back dropمیں افسانے لکھے اور یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
دہاڑی پر کام کرنے والے کسان،کھیت کھلیان،لہلہاتی فصل،جیٹھ بیساکھ کی چلچلاتی دھوپ،ساون کی پہلی پھوار،گوبر کی لپائی کرتی عورتیں ،مہنت، پردھان،پروہت،گائوں کی چوپال،جن پنچایت،کھیت کی منڈیریں،ستیہ نارائین کی کتھا،گائے کے ڈکارنے کی آوازیں،مونج کی رسی سے بندھے کھیتوں میں کھڑے بجوکا،سوکھتے ہوئے کنویںِ،کھیتوں میں اچانک پھوٹتے پانی کے چشمے ،ہریجنوں کی بستی،مہواکی شراب،مٹی کی سوندھی سوندھی مہکاریں،حقّہ گڑگڑاتے ،بلغم تھوکتے بوڑھے ،ٹیوب ویل،گائوں کی عورتیں،چرن چھوتے اور آشیرواد لیتے بچے اور جوان،دیوی پرکوپ سے خوفزدہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرضکہ اشتیاق سعید ان کے افسانوںمیں دیہی زندگی کے منظر جا بجا ابھرتے ہیںلیکن یہ تخلیقی وحدت کا حصّہ نہیں بنتے بس افسانوی فریم ورک میں آدھے ادھورے اور شکستہ بجوکا کی طرح بے حس و بے حرکت ہاتھ پسارے جہاں تہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔stock emotionsنے افسانے کی روح کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
ڈرامہ سے اشتیاق سعید کا تعلق کس قدر گہرا رہا ہے لیکن ان کے افسانوں کا بیانیہ میں وہ تجسس خیزی اور بصری ڈرامائی صورتحال کر داروں کا تصادم اور سچویشنز کی کشمکش کا فقدان ہے جو اکہریت اور سپاٹ پن کو جنم دیتا ہے۔ کہیںکہیں انہوں نے جذباتی شدّت پیدا کرنے یا کیفیت کو ابھارنے کی خاطر اپنے لہجے کو انڈر لائین کیا ہے جس نے افسانوی بیانیہ کی روانی کو بری طرح متاثر کیا اور کرداروں کو fakeبنا دیا ہے۔ اشتیاق سعید بھی برسوں سے لکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے قلم تلے رکھا ہوا کورا کاغذ ایک ایسے افسانے کا منتظیر ہے جسے ممبئی کی بھاشا میں ’’سالڈ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن قمبرعلی جیسوں کی بھی ہمارے یہاں کمی نہیںجنہیں اشتیاق سعید کا ’’بجوکا‘‘ افسانہ سریندر پرکاش اور سلام بن رزاق کے ’’بجوکا ‘‘سے زیادہ بہترافسانہ لگتا ہے۔ ویسے تو کمی تو ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی بھی نہیں ہے جن کا ماننا ہے کہ امریکن excentمیں انگریزی بولنے سے دانتوں کو کیڑے نہیں لگتے۔ کیا کیا جائے؟؟؟
اصل مسئلہ نئے لکھنے والوںکی مجرمانہ معصومیت اور سادہ لوحی ہے جو اپنے متعلق کہے یا لکھے ہر توصیفی کلمات پر ایمان لانے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔اب چاہے کسی نقادکے نجی خط میں رسماً لکھی ہوئی عبارت ہو یا کسی سنئیر رائٹر کے ذریعے مروتاً تحریر کیاگیا تعریفی نوٹ ہو۔ ان توصیفی کلمات اور تبصروں کو اگر کوئی اپنے کارناموں کا momento سمجھنے لگے تو بھلا کوئی کیا کر سکتا ہے۔نئے لکھنے والوں میں اکبر عابد قریشی اور ڈاکٹر سلیم خان کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔سلیم خان کے افسانوں کا مجموعہ ’’حصار‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے جو زندگی کی کثافتوںپر رومانی لطافتوں کے غالب آنے کی داستان بیان کرتے ہیں جبکہ اکبر عابد قریشی نے اپنی کتاب ’’چپ چاپ‘‘ میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ان کے علاوہ محتشم اکبر اور شاداب رشید بھی ان دنوں افسانہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ان کے افسانے مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
آخر میں اپنے اس مضمون کو سمیٹتے ہوئے اتنا کہوںگا کہ زندگی کو جس روپ میں پریم چند، سریندر پرکاش، سلام بن رزاق دیکھ رہے تھے وہ زندگی بعد کے لکھنے والوں کے حصّے میں نہیں آئی۔ گزشتہ بیس برسوںجو اقدار بدلی ہیں،جینے کے جو pattern تبدیل ہوئے ہیں اس نے زندگی کوجس قدر پے چیدہ اور مشکل بنا یا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ کہنے کے لیے دنیا کو ایک عالمی گائوں یعنی گلوبل ولیج میں بدل دیا گیاہے مگر اسی کے ساتھglobal marketingکے ان گنت آ ہنی ہاتھ نہایت تیزی، چالاکی، ہنرمندی اور ظالمانہ طریقے سے ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور وراثت کودبوچ رہے ہیں۔جو لفظ نئے لکھنے والوں نے وراثت میں پائے تھے وہ لفظ اپنی حرمت بھی کھو چکے ہیںاور معنویت بھی۔
ایک وقت تھا جب ہر دس سال بعدافسانہ نگاروں کی کھیپ نمودار ہوجایا کرتی تھی اور اب صورتحال قحطِ دمشق کی سی ہے۔ ممبئی کے افسانوں کی محفل ودھوا کے آنچل جیسی اجڑی ہوئی ہے اورنئے افسانہ نگارblack patch سے گزر رہے ہیںگو کہ اس برے وقت کے لیے وہ خود جتنے ذمہ دارنہیں ہیں اس سے زیادہ وہ ماحول اور وقت بھی ہے جس میں وہ لکھ رہے ہیں۔
زندگی جس طرح آج کے انسان کو برت رہی ہے اس نے آرٹسٹ کے سر پر دوہری ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اپنی تخلیقی نہج اور فنی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آج کی زندگی سے اپنے محاورے حاصل کرنااس کے لیے اشد ضروری ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے اور حیرت سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ نوّے کے افسانہ نگاروں کے پاس نہ تو آج کی زندگی کو پیش کرنے لیے آج کے محاورے ہیں نہ ہی نئی حسّیت۔۔۔۔۔۔ اظہار کے toolsتک زنگ آلود ہیں۔ شاید اسی لیے سماجی اور جذباتی مطالعات کے ساتھ جو نئے رحجانات ممبئی کے اردو فکشن میں طلوع ہونے چاہئے وہ موضوعاتی سطح پر تو کہیں کہیں اپنی جھلک دکھلا جاتے ہیں لیکن یہ رحجانات تخلیقی تجربے کی وحدت میں مبّدل ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ممبئی کے یہ نئے لکھنے والے (گو کہ ان کے برتھ سر ٹیفکیٹ میں درج ان کی عمر اور ان کی کنپٹیوں پر ابھرتی سفیدی مجھے ان کو نیا کہنے سے روکتی ہے ) ابھی تک اپنے سنئیراور پیش رئو لکھنے والوں کی دال سے کام چلا رہے ہیںاور بہت فاصلے سے ان کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے اپنی فنی مفلسی اور فکری کنگالی کا انہیں احساس تک نہیں۔ ان نئے لکھنے والوں کے افسانوں کے مطالعے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ستّر پانچ پچھتر سالہ بزرگ افسانہ نگار اقبال مجید ان لوگوں سے کہیں زیادہ جواں سال اور ماڈرن ہے۔ احساس و ادراک میں بھی اور فنی رویوں کے اظہار میں بھی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

Intekhab E Kalam Joshish Azeemabadi

Articles

انتخابِ کلام جوشش عظیم آبادی

جوشش عظیم آبادی

 

 

ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا
اپنا جینا نظر نہیں آتا

گھر بہ گھر تو پڑا پھرے ہے تو
آہ کیوں میرے گھر نہیں آتا

قاصد اس بے وفا سے یوں کہنا
لکھ تو کچھ بھیج گر نہیں آتا

گو کہ رہتا ہے یہ جرس نالاں
میرے نالوں سے پر نہیں آتا

یار راتوں کو تیرے کوچے میں
کب یہ خستہ جگر نہیں آتا

کس لئے جوشش اتنی نالہ کشی
کچھ اثر تو نظر نہیں آتا
٭٭٭

حال اب تنگ ہے زمانے کا
رنگ بے رنگ ہے زمانے کا

نہیں کوتاہ اس کا دست طلب
یہ گدا ننگ ہے زمانے کا

ایک دم چین سے نہ کوئی رہے
یہی آہنگ ہے زمانے کا

اے جفا کار دہر میں تجھ بن
کون ہم سنگ ہے زمانے کا

جھوٹ میں نے کہا ترے ہاتھوں
قافیہ تنگ ہے زمانے کا

چل نکل جلد یاں سے اے جوشش
ڈھنگ بے ڈھنگ ہے زمانے کا
٭٭٭

ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں
پہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوں

ہے بزم بے وفائی رونق پزیر ان سے
روشن رہیں یہ تیری چشم سیاہ دونوں

اے ترک چشم تیری خوں ریزیِ مژہ سے
پیٹیں ہیں سر گنہ گار اور بے گناہ دونوں

بیمار دل کے ہم دم اک درد و غم تھے سو بھی
بہر عیادت آتے ہیں گاہ گاہ دونوں

کوئی زلف کو کہے زلف کاکل کو سمجھے کاکل
اپنی نظر میں تو ہیں مار سیاہ دونوں

کیا شیخ کیا برہمن ہیں پھیر میں دوئی کے
گمراہ ہو گئے ہیں بھولے ہیں راہ دونوں
٭٭٭

چھوڑ دے مار لات دنیا کو
کچھ نہیں ہے ثبات دنیا کو

ہاتھ آئی ہے جس کو دولت فقر
ان نے ماری ہے لات دنیا کو

زال دنیا ہی سا ہے وہ بد ذات
جو کہے نیک ذات دنیا کو

دام الفت میں سب کو کھینچے ہے
آ گئی ہے یہ گھات دنیا کو

پشت پا مارے مسند جم پر
جو لگائے نہ ہاتھ دنیا کو

تو جو مرتا ہے اس پر اے جوشش
لے گیا کوئی ساتھ دنیا کو
٭٭٭

تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا
ہم نے کیا جبر اختیار کیا

مثل سیماب بے قرار رہے
ایک جا ہم نے کب قرار کیا

آنکھیں پتھرا گئیں اے سنگیں دل
یاں تلک تیرا انتظار کیا

تو جو کہتا ہے جلد آو¿ں گا
میں نے کیا تیرا اعتبار کیا

جیب توکیا ہے ناصحو ہم نے
چاک سینے کو غنچہ وار کیا

نظر آئے قیاس سے باہر
دل کے زخموں کو جب شمار کیا

تو وفا سے نہ در گزر جوشش
اس نے گو جور اختیار کیا
٭٭٭

Intekhab E Kalam Hasrat Azeemabadi

Articles

انتخابِ کلام حسرتؔ عظیم آبادی

حسرتؔ عظیم آبادی

 

 

عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا
نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا

خطا سے اس کی نہیں نام کو غبار ملال
میں رو رو ڈالا ہے سب دل سے دھو ہوا سو ہوا

ہنسے ہے دل میں یہ نا دردمند سب سن سن
تو دکھ کو عشق کے اے دل نہ رو ہوا سو ہوا

ستم گرو جو تمہیں رحم کی ہو کچھ توفیق
ستم کی اپنے تلافی کرو ہوا سو ہوا

تو کون ہے کہ ہو ملنے سے غیر کے مانع
دل اس کو ہاتھ سے اپنے نہ کھو ہوا سو ہوا

نہ سرگزشت مری پوچھ مجھ سے کچھ اے بخت
تو اپنے خوابِ فراغت میں سو ہوا سو ہوا

محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے
میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا

بیان حال سے رکتا ہے حسرت اب یارو
نہ پوچھو اس سے نہ کچھ تم کہو ہوا سو ہوا
٭٭٭

ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا
اور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دینا

کر کر کے یاد اس کی بے حال ہوں نہایت
فرصت ذرا تو مجھ کو تو اے خیال دینا

اس زلف کج کے عقدے ہرگز کھلے نہ مجھ پر
کیوں اس کو شانہ کر کے ایک ایک بال دینا

میں مدعا کو اپنے محمل کہوں ہوں تجھ سے
گوش دل اپنا ایدھر صاحب جمال دینا

اس عمر بھر میں تجھ سے مانگا ہے ایک بوسہ
خالی پڑے نہ پیارے میرا سوال دینا

دیکھے ہے دور سے تو کہتا ہے بے مروت
یہ کون آ گھسا ہے اس کو نکال دینا

قابو ہے تیرا حسرت مت چھوڑ مدعی کو
دشمن کو مصلحت نیں ہرگز مجال دینا
٭٭٭

اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
یہ سلسلہ¿ الفت کر یاد بہت رویا

رحم اس کو نہ تھا ہرگز ہر چند بحال سگ
اس کوچے میں میں کر فریاد بہت رویا

مظلومی مری اور ظلم دیکھ اس بت کافر کا
رحم آیا ستم کے تئیں بے داد بہت رویا

دل غم سے نہ ہو خالی رونے سے مرا لیکن
تا ہو مرے رونے سے وہ شاد بہت رویا

اس عشق کی مجبوری ناصح پہ کھلی جب سے
کر منع محبت کا ارشاد بہت رویا

انجام محبت کا بوجھا تھا مگر اس کو
جب دل لگا شیریں سے فرہاد بہت رویا

ہے تازہ گرفتاروں کی فریاد کو کیا رقت
شب نالہ مرا سن کر صیاد بہت رویا

سنگیں دلی اس بت کی میں جس سے کہی حسرت
ہر چند دل اس کا تھا فولاد بہت رویا
٭٭٭

اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا
اس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہمارا

ہے سخت مرے درپئے جاں تیرا غم ہجر
جاناں سے کہے جا کوئی پیغام ہمارا

جاگیر میں ہے غیر کی وہ بوسہ¿ لب گو
قائم رہے یہ منصب دشنام ہمارا

ہونے نہیں پاتے یہ مرے دیدہ¿ تر خشک
دولت سے تری تر ہے سدا جام ہمارا

دو دن میں کسی کام کا رہنے کا نہیں تو
کچھ تجھ سے نکل لے کبھی تو کام ہمارا

اک روز ملا عالم مستی میں جو ہم سے
تنہا بت بدمست مے آشام ہمارا

شمشیر علم کر کے لگا کہنے رکھوں ٹھور
بدنام تو کرتا پھرے ہے نام ہمارا

ایام کے ہر ذکر سے اور فکر سے فارغ
یا عشق ہے ورد سحر و شام ہمارا

ہوتا نہ فریبندہ ¿دل کاش کے حسرت
آغاز میں یہ عشق بد انجام ہمارا
٭٭٭

دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا
میری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسرا

یک رنگ ہوں میں اس گل رعنا کے عشق میں
بلبل نہ ہوں کہ ڈھونڈوں گلستان دوسرا

تھا ہی غم فراق ملا اس میں درد رشک
مفلس کے گھر میں آیا یہ مہمان دوسرا

تیری حیائے چشم سا دیکھا نہیں رقیب
یاں احتیاج کیا ہے نگہبان دوسرا

عریاں تنوں کے سر پہ تری خاک کو رہے
در کارواں نہیں سر و سامان دوسرا

کیجے ضمیر خاک کو آدم کی چھان اگر
اس شکل کا بن آوے نہ انسان دوسرا

جوع البقر رکھے یہ شیخ شکم پرست
اک خوان کھا کہے ہے کہاں خوان دوسرا

سیر عجب رکھے ہے تری جلوہ گاہ ناز
اس لطف کا کہاں ہے خیابان دوسرا

نقد دل اس کو دینا ہے حسرت ثواب و فرض
اس زلف سا نہ ہوگا پریشان دوسرا
٭٭٭