Intekhab E Kalam Ismaeel Merathi

Articles

انتخابِ کلام اسماعیل میرٹھی

اسماعیل میرٹھی

حمد

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاوں تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی
اور سر پہ لاجوردی اِک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اُگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اِس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا ، خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی
کیا خوب چشمہ تو نے اے مہرباں بنایا

سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری اِن کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا اِن کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائی تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میّسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدر داں بنایا

آبِ رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آبِ رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا
٭٭٭

ہماری گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

اس مالک کو کیوں نہ پکاریں
جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

خاک کو اس نے سبزہ بنایا
سبزہ کو پھر گائے نے کھایا

کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

سبحان اللہ دودھ ہے کیساا
تازہ گرم سفید اور میٹھا

دودھ میں بھیگی روٹی میری
اس کے کرم نے بخشی سیری

دودھ دہی اور مٹھگا مسکا
دے نہ خدا تو کس کے بس کا

گائے کو دی کیا اچھی صورت
خوبی کی ہے گویا مورت

دانہ دنکا بھوسی چوکر
کھا لیتی ہے سب خوش ہو کر

کھا کر تنکے اور ٹھیڑے
دودھ دیتی ہے شام سویرے

کیا ہی غریب اور کیسی پیاری
صبح ہوئی جنگل کو سدھاری

سبزہ سے میدان ہرا ہے
جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

پانی موجیں مار رہا ہے
چرواہا چمکار رہا ہے

پانی پی کر چارہ چر کر
شام کو آئی اپنے گھر پر

دوری میں جو دن ہے کاٹا
بچہ کو کس پیار سے چاٹا

گائے ہمارے حق میں ہے نعمت
دودھ دیتی ہے کھا کے بنسپت

بچھڑے اس کے بیل بنائے
جو کھیتی کے کام میں آئے

رب کی حمد و ثنا کر بھائی
جس نے ایسی گائے بنائی
٭٭٭

صبح کی آمد

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں
بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں
پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی
میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی
میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی
میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے
خوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے
درختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے
سہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

یہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی
ادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتی
دموں کو ہلاتی پروں کو پھلاتی
مری آمد آمد کے ہیں گیت گاتی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی
تو بلبل بھی گلشن میں ہے چہچہائی
اور اونچی منڈیروں پہ شاما بھی گائی
میں سو سو طرح دے رہی ہوں دہائی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے
نسیم اور صبا کو بھی لہکا دیا ہے
چمن سرخ پھولوں سے دہکا دیا ہے
مگر نیند نے تم کو بہکا دیا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں
ہر ایک ملک میں دیس میں ہر وطن میں
کھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں
بجھاتی چلی شمع کو انجمن میں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے
سو وہ نو لکھا ہار پہنے کھڑی ہے
کہ پچھلے کی ٹھنڈک سے شبنم پڑی ہے
عجب یہ سماں ہے عجب یہ گھڑی ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں
کلولیں ہرے کھیت میں کر رہے ہیں
ندی کے کنارے کھڑے چر ہیں
غرض میرے جلوے پہ سب مر رہے ہیں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں تاروں کی چھاں آن پہنچی یہاں تک
زمیں سے ہے جلوہ مرا آسماں تک
مجھے پاو¿ گے دیکھتے ہو جہاں تک
کرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تک
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

پجاری کو مندر کے میں نے جگایا
مو¿ذن کو مسجد کے میں نے اٹھایا
بھٹکتے مسافر کو رستہ بتایا
اندھیرا گھٹایا اجالا بڑھایا
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے
کسانوں کے ہل چل پڑے منہ اندھیرے
چلے جال کندھے پہ لے کر مچھیرے
دلدر ہوئے دور آئے سے میرے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بگل اور طنبور سنکھ اور نوبت
بجانے لگے اپنی اپنی سبھی گت
چلی توپ بھی دن سے حضرت سلامت
نہیں خواب غفلت نہیں خواب غفلت
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لو ہشیار ہو جاو¿ اور آنکھ کھولو
نہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو
خدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو
بس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بڑی دھوم سے آئی میری سواری
جہاں میں ہوا اب مرا حکم جاری
ستارے چھپے رات اندھیری سدھاری
دکھائی دیے باغ اور کھیت کیاری
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭٭٭

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ
ناچیز ہوں میں غریب قطرہ
تر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگا
میں اور کی گوں نہ آپ جوگا
کیا کھیت کی میں بجھاو¿ں گا پیاس
اپنا ہی کروں گا ستیاناس
خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت
پھیکی باتوں میں کیا حلاوت
کس برتے پہ میں کروں دلیری
میں کون ہوں کیا بساط میری
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم
سرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم
کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی
کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی
اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور
ہمت کے محیط کا شناور
فیاض و جواد و نیک نیت
بھڑکی اس کی رگ حمیت
بولا للکار کر کہ آو¿!
میرے پیچھے قدم بڑھاو¿
کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان
ڈالو مردہ زمین میں جان
یارو! یہ ہچر مچر کہاں تک
اپنی سی کرو بنے جہاں تک
مل کر جو کرو گے جاں فشانی
میدان پہ پھیر دوگے پانی
کہتا ہوں یہ سب سے برملا میں
آتے ہو تو آو¿ لو چلا میں
یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ
”دشوار ہے جی پہ کھیل جانا”
ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت
کی اس نے مگر بڑی شجاعت
دیکھی جرات جو اس سکھی کی
دو چار نے اور پیروی کی
پھر ایک کے بعد ایک لپکا
قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا
آخر قطروں کا بندھ گیا تار
بارش لگی ہونے موسلا دھار
پانی پانی ہوا بیاباں
سیراب ہوئے چمن خیاباں
تھی قحط سے پائمال خلقت
اس مینہ سے ہوئی نہال خلقت
جرات قطرہ کی کر گئی کام
باقی ہے جہاں میں آج تک نام
اے صاحبو! قوم کی خبر لو
قطروں کا سا اتفاق کر لو
قطروں ہی سے ہوگی نہر جاری
چل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
٭٭٭

شفق

 

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے
طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ
سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ
ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی
بنفشی و نارنجی و چمپئی
یہ کیا بھید ہے کیا کرامات ہے
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ
بنے سونے چاندنی کے گویا پہاڑ
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ
ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ
اب آثار ظاہر ہوئے رات کے
کہ پردے چھٹے لال بانات کے
٭٭٭

رات

گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات
خدا نے عجب شے بنائی ہے رات

نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا
اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا

ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے
خموشی سی چھائی سر شام سے

لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند
زمانے کے سب کار بہوار بند

مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر
سر شام منزل پہ کھولی کمر

درختوں کے پتے بھی چپ ہو گئے
ہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے

اندھیرا اجالے پہ غالب ہوا
ہر اک شخص راحت کا طالب ہوا

ہوئے روشن آبادیوں میں چراغ
ہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ

کسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر
کہ گھر میں چین سے شب بسر

تھپک کر سلایا اسے نیند نے
تردد بھلایا اسے نیند نے

غریب آدمی جو کہ مزدور ہیں
مشقت سے جن کے بدن چور ہیں

وہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے
وہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے

نہایت خوشی سے گئے اپنے گھر
ہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کر

گئے بھول سب کام دھندے کا غم
سویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دم

کہاں چین یہ بادشہ کو نصیب
کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب
٭٭٭

 

Old Waiter A Short Story by Ernest Hemingway

Articles

بوڑھا ویٹر

ارنسیٹ ہیمنگوے

رات کافی بیت چکی تھی اور سب لوگ کیفے سے چلے گئے تھے مگر وہ بوڑھا بجلی کے کھمبے کے ساتھ کھڑے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔دن میں وہ جگہ گردغبار سے اٹی رہتی تھی،مگر رات میں اوس گرنے کے سبب گروغبار بیٹھ جاتا تھا۔بوڑھے کو یہاں بیٹھنا پسند تھا،کیوں کہ وہ بہرہ تھا اور رات کے پرسکون سناٹے میں اسے یہاں کا ماحول اچھا لگتا تھا۔کیفے میں بیٹھے دونوں ویٹر جانتے تھے کہ بوڑھا ہلکے نشے میں ہے۔پھر بھی انھیں معلوم تھا کہ بوڑھا ایک اچھا گاہک ہے،مگر انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگر اسے نشہ چڑھ گیاتو وہ پیسے ادا کیے بنا ہی چلاجائے گا۔اس لیے وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
’’پچھلے ہفتے اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔‘‘ایک ویٹرنے کہا۔
’’کیوں؟‘‘
’’وہ بے حد دکھی تھا۔‘‘
’’اس کے پاس بہت دولت ہے۔‘‘
وہ دونوں کیفے کے پاس والی دیوار سے لگی میز پر بیٹھے تھے اور چھجے کی طرف دیکھ رہے تھے، جہاں ایک کے علاوہ ساری میزیں خالی تھیں۔ہوا سے ہلتی ہوئی پتیوں کی چھائوں میں وہ بوڑھا اب بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔باہر گلی میں ایک سپاہی ایک لڑکی کے ساتھ جارہا تھا۔
’’اسے گارڈ پکڑلیں گے۔‘‘ایک ویٹر نے کہا۔
’’جو یہ چاہتا ہے،وہ مل جانے پر بھی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’اسے گلی میں سے چلے جانا چاہیے۔نہیں تو اسے گارڈ پکڑلیں گے۔ابھی پانچ منٹ قبل ہی وہ یہاں سے گئے ہیں۔‘‘پیڑکے نیچے بیٹھے بوڑھے نے اپنے گلاس سے پلیٹ کو بجاکر آواز کی۔ نوجوان ویٹر اس کے پاس گیا،’’کیا چاہیے؟‘‘
بوڑھے نے اس کی جانب دیکھا۔
’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے کہا۔
’’تم پر نشہ طاری ہوجائے گا۔‘‘ویٹر نے کہا۔
بوڑھے نے جواب نہیں دیااور اس کی جانب دیکھا۔
’’وہ آج ساری رات یہیں رہے گا۔‘‘اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔
’’لیکن مجھے نیند آرہی ہے۔مجھے کبھی تین بجے سے قبل سونا نصیب نہیں ہوتا۔اسے پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘ویٹر نے کائونٹر سے برانڈی کی بوتل اور ایک پلیٹ اٹھائی اور اس بوڑھے کی طرف چل دیا۔پلیٹ نیچے رکھ کر اس نے گلاس کو برانڈی سے بھردیا۔
’’تمہیں پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘
بوڑھے نے اپنی انگلی ہلائی اور کہا،’’تھوڑی سی اور !‘‘ویٹر نے تھوڑی سی برانڈی انڈیلی۔ وہ بہہ کر نیچے والی پلیٹ میں گرنے لگی۔ویٹراپنے ساتھی کے ساتھ میز پر آبیٹھا۔
’’اب وہ نشے میں ہے۔‘‘اس نے کہا۔
’’یہ تو ہر رات نشے میں ہوتا ہے۔‘‘
’’خودکشی کیوں کرنا چاہتا ہے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘
’’کیسی کوشش کی تھی اس نے؟‘‘
’’خود کو رسی سے لٹکالیاتھا۔‘‘
’’اس کی رسی کس نے کاٹی؟‘‘
’’اس کی بھانجی نے۔‘‘
’’مگر اس نے ایساکیوں کیا؟‘‘
’’شاید اپنی خود کشی کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اس کے پاس کتنا پیسہ ہے؟‘‘
’’کافی ہے۔‘‘
’’وہ اسی سال کا تو ضرور ہوگا؟‘‘
’’میں چاہتاہوںکہ اب وہ گھر چلا جائے۔میں کبھی تین بجے سے قبل نہیں سوتا۔یہ بھی سونے کا وقت ہے۔‘‘
’’وہ بیٹھا رہتا ہے۔اسے یہ جگہ پسند ہے۔‘‘
’’وہ اکیلا ہے ۔مگر میں تو اکیلا نہیں ہوں۔میری بیوی انتظار کررہی ہے۔‘‘
’’اس کی بھی بیوی ہے؟‘‘
’’ہاں،مگراس کی بھانجی ہی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں تم نے کہاتھا،اسی نے رسی کاٹی تھی۔میں کبھی اتنا بوڑھا نہیں ہونا چاہوں گا۔ بڑھاپا منحوس ہوتاہے۔‘‘
’’میں اسے نہیں دیکھنا چاہتا۔وہ گھر چلا جائے تو اچھا۔‘‘بوڑھے نے گلاس سے سر اٹھاکر پہلے باہر دیکھا،پھر ویٹروں کی طرف۔’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جس ویٹر کو جلدی تھی،وہ اس کے پاس آیا۔
’’ختم!‘‘اس نے مدہوشی کے عالم میں کہا۔
’’آج رات اور نہیں!اب بند۔‘‘
’’ایک اور!‘‘بوڑھے نے کہا۔
’’نہیں،ختم!‘‘ویٹر نے میز کاکونا صاف کرتے ہوئے کہا۔
دھیرے دھیرے پلیٹیں گنتے ہوئے بوڑھا اٹھ کھڑاہوا۔پھر اس نے پرس نکالا اورپیسے دے دیئے۔آدھا پیسہ ٹِپ چھوڑدی۔دیٹر نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔بوڑھے کی چال غیر متوازن مگر رعب دار تھی۔
’’تم نے اسے بیٹھنے اور پینے کیوں نہیں دیا؟‘‘نوجوان ویٹر نے پوچھا،’’اسے جلدی نہیں تھی۔ابھی تو ڈھائی بھی نہیں بجے ہیں۔‘‘
’’میں سونے کے لے گھر جاتا ہوں۔‘‘
’’ایک گھنٹے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’میرے لیے کافی فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’مگر ایک گھنٹہ تو ایک گھنٹہ ہے۔‘‘
’’تم بذاتِ خود ایک بوڑھے کی طرح بات کررہے ہو۔وہ بوتل خرید کر گھر میں پی سکتا ہے۔‘‘
’’گھر میں پینے سے وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘
’’ہاں،وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘شادی شدہ ویٹر نے کہا۔
’’اور تم ؟تمہیں جلدی گھر جانے سے ڈر تو نہیں لگتا؟‘‘
’’تم میری بے عزتی کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’نہیں،میں تو مذاق کررہا تھا۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘شٹر گراتے ہوئے اس ویٹر نے کہا،جسے جلدی تھی،پھر وہ اس سے بولا۔’’مجھے اپنے آپ پر بھروسہ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس سب کچھ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس کیا کمی ہے؟‘‘
’’نوکری کے علاوہ سبھی چیزوں کی۔‘‘
’’تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میرے پاس ہے۔‘‘
’’نہیں،اعتماد تو مجھ میں کبھی رہا نہیں اور اب تو میںجوان بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’چھوڑو یہ بکواس۔لاک کرو۔‘‘
’’میں ان لوگوں میں سے ہوں،جو رات دیر تک کیفے میں رہنا چاہتے ہیں،ان سب لوگوں کے ساتھ،جنھیں رات میں روشنی درکار ہوتی ہے۔‘‘
’’میں توگھر جاکر سونا چاہتاہوں۔‘‘
’’ہر رات کو میں کیفے بند کرتے وقت ہچکچاتا ہوں،کیوں کہ شاید کوئی ایسا آدمی ہو، جسے اس کیفے کی ضرورت ہو۔‘‘
’’بہت سی شراب کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھتے ،یہ ایک صاف ستھرا کیفے ہے۔یہاں روشنی بھی مناسب ہے۔ساتھ ہی درختوں کے سایے بھی ہیں۔‘‘
وہ بتیاں بجھاتا رہااور خود سے ہی بات چیت کرتا رہا۔’’روشنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی جگہ بھی صاف ستھری اور اچھی ہونا چاہیے۔موسیقی بے شک نہ ہو۔موسیقی کی ضرورت تو بالکل نہیں ہے اور بار کے سامنے تو کوئی بھی عزت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا۔حالانکہ رات کے ان اوقات میں یہاں بارکھلے ہوتے ہیں۔اسے ڈر کس بات کا تھا؟ یہ ڈرتو نہیں تھا۔یہ تو ایک خالی پن کاا حساس تھا، جسے وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا۔ضرورت صرف روشنی او رتھوڑی سی صفائی کی تھی۔ کچھ لوگ تو محسوس کیے بنا ہی خالی پن کے ساتھ زندگی جیتے ہیں،مگر اسے احساس تھا کہ یہ صرف خالی پن کی بنا پر ہے۔
ہمیں ہمارا خالی پن،ہر روز کا خالی پن دے دو! کیوں کہ ہم اپنے خالی پن کو محسوس کرتے ہیں۔مگر ہمیں اس خالی پن سے نجات دلادو ۔اے خالی پن،تمہارا خیر مقدم ہے،کیوں کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
ایک اُجلے سے کافی بار کے سامنے وہ کھڑا ہوگیا۔’’کیا چاہیے؟‘‘بار والے نے پوچھا۔
’’خالی پن!‘‘
’’ایک چھوٹا کپ،‘‘بار والے نے کہا۔
’’ایک چھوٹا کپ۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’روشنی تو چمکدار اور اچھی ہے،مگر بار صاف ستھرا نہیں ہے۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’تمہیں ایک اور کوپیرا چاہیے؟‘‘
’’نہیں،تھینک یو!‘‘ویٹر نے کہااور باہر چلاگیا۔اسے بار اور شراب خانوں سے نفرت تھی مگر ایک صاف ستھرے اور روشنی سے بھرپور کیفے کی بات ہی کچھ اور ہے۔اب وہ مزید کچھ سوچے بغیر اپنے گھر،اپنے روم میںچلا جائے گا۔اپنے بستر میں لیٹا رہے گا اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سوجائے گا۔یہ شاید نیند نہ آنے والی بیماری ہے۔بہت سے لوگ اس کا شکار ہوں گے،اس نے سوچا۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

ارنیسٹ ہیمنگوے ۱۸۹۹ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۱ء میں انتقال فرمایا۔انہیں ۱۹۵۴ء میں ’’دَ اولڈ مین اینڈ دَ سی‘‘ناول کے لیے نوبل انعام پیش کیا گیا۔انہوں نے عالمی ادب کو بے شمار بہترین کہانیاں اور ناول دیئے ہیں۔اپنی تخلیقات میں ہیمنگوے نے اپنی زندگی کے تجربات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔کچھ عرصے تک نامہ نگاری کے علاوہ ماہی گیری بھی کی اور ان سے حاصل کردہ تجربات کو انہوں نے نوبل انعام یافتہ ناول میں پھولوں کی طرح پرودیاہے۔ان کی تصانیف میں اِن آدر ٹائم،دَ سن آلسو رائزیز،مین ودائوٹ ویمن،اے فیئرویل ٹو آرمس،ڈیتھ اِن دَ آفٹرنون،وِنر ٹیک نتھنگ،گرین ہِلس آف افریقہ وغیرہ شامل ہیں۔

 

Phool Aur Bachche

Articles

پھول اور بچے

پروفیسر صاحب علی

Kawwon ka School

Articles

کووں کا اسکول

پروفیسر صاحب علی

“Death of A Dream” Short Story by Sigrid Undset

Articles

ایک خواب کی موت

سیگرواُنڈسیت


گرجا گھر کے دروازے پر ہاتھوں میں جلتی ہوئی موم بتیاں لے کر راہبائیں آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے پہنچ گئی تھیں۔خوف نے کرستین کے پورے ہوش و حواس کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔اسے لگا جیسے چلتے ہوئے وہ کچھ تو اپنے آپ کو ڈھورہی ہے اور کچھ دوسروں کے سہارے بڑھ رہی ہے۔دروازے سے گزر کر وہ سفید دیواروں والے کمرے میں داخل ہوگئے،جہاں موم بتیاں اور سرخ دیودار کی مشعل کی ملی جلی پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور قدموں کی آہٹ سمند رکی لہر وں جیسی آوازیں پیداکررہی تھیں۔اس قریب المرگ عورت کو محسوس ہورہا تھا جیسے اس روشنی کی ہی طرح اس کی زندگی کی لو بھی بس اب بجھنے والی ہے اور ان قدموں کی آواز کے ساتھ ہی جیسے موت اس کے قریب آتی جارہی ہے۔
موم بتی کی روشنی پھر کھلے میں پھیل گئی تھی۔اب وہ برآمدے میں آگئے تھے۔چرچ کی بھورے پتھروں کی دیواروں اور اونچی اونچی کھڑکیوں سے اب موم بتی کی روشنی کھیلنے لگی تھی۔ اس وقت وہ کسی کی بانہوں کے سہارے تھی۔یہ سہارا ولفؔ ہی کا تھا۔مگر اس وقت تو وہ ان سبھی لوگوں جیسا دکھائی دے رہا تھا،جو اسے سہارا دیتے آئے ہیں۔ جب کرستین نے اپنی بانہیں اس کے گلے میں حائل کردیں اور اپنا گال اس کی گردن سے لگالیا تو لگا جسیے وہ پھر سے بچی بن گئی ہے اور اپنے والد کے ساتھ ہے۔ساتھ ہی اسے ایسا بھی لگا،جیسے وہ کسی بچے کو اپنے سینے سے لگارہی ہے۔ اس کے کالے سر کے پیچھے سے لال روشنی دکھائی دے رہی تھی،ایسے لگ رہا تھا جیسے اک آگ کی لپٹ ہو جوہر طرح کے پیار کے لیے ضروری ہو۔
تھوڑی دیربعد اس نے آنکھیں کھولیں۔اب اس کے ذہن میں انتشار نہیں تھا۔اب وہ ایک کمرے میں اپنے بستر پر تکیے کے سہارے بیٹھی تھی۔ایک راہبہ کپڑے کی پٹی لیے اس پر جھکی ہوئی تھی۔اس میں سے سِرکے کی بو آرہی تھی۔وہ سِسٹر ایگنیس تھی۔کرستین نے اسے اس کی آنکھیں اور ماتھے کے لال مسّے سے پہچان لیا تھا۔دن اوپر چڑھ آیا تھا اور کھڑکی کے چھوٹے سے کانچ میں سے چھن کر پوری روشنی کمر ے میں آرہی تھی۔
وہ بھیانک درداب نہیں تھا،مگر وہ پسینے سے پوری طرح بھیگی ہوئی تھی۔سانس لیتے ہوئے اس کی چھاتی بہت زور سے آگے پیچھے ہورہی تھی۔جو دواسِسٹرایگنیس نے اس کے منہ ڈالی اس نے چپ چاپ نگل لی۔اس کا بدن بالکل ٹھنڈا تھا۔
کرستین نے اپنی پشت تکیے سے لگالی۔اب اسے یاد آیا کہ پچھلی رات کو کیاکیا وقوع پذیر ہوا تھا۔وہ مایاجال سے بھرا بُرا خواب بیت گیا ہے،لیکن وہ حیران بھی تھی۔پھر بھی یہ ٹھیک ہی ہوا کہ کام ہوگیا کہ اس نے بچے کو بچالیا اور ان بے چارے لوگوں کی روحوں کو اس نفرت انگیز کام سے دور ہی رکھا۔وہ سمجھتی تھی کہ اس کی وجہ سے اسے خوش ہونا چاہیے،کیوں کہ مرنے سے قبل اسے یہ اچھا کام کرنے کا موقع نہیں ملاتھا۔دن بھر کے کام کرنے کے بعد شام کو یورنؔ گارد کے گھر میں،اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے اسے جتنی طمانیت کا احساس ہوتاتھا،اس وقت اس سے زیادہ طمانیت کا احساس ہورہا تھا۔ اس کے لیے اسے ولفؔ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔جب وہ ولف کا نام لے رہی تھی تو شاید وہ دروازے کے پاس ہی کہیں بیٹھا تھا،کیوں کہ اسی وقت وہ اندر آیا اور بستر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔کرستین نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھادیا۔اس نے ہاتھ اسی وقت اپنے ہاتھ میں لیااور مضبوطی سے تھام لیا۔
اچانک بستر مرگ پر پڑی کرستین بے چین ہوگئی اور اس کے ہاتھ اپنے گلے پر بندھی پٹی سے الجھ گئے۔
’’کیا ہوا کرستین؟‘‘ولف نے پوچھا۔
’’یہ کراس۔‘‘اس نے سرگوشی میں کہا اور نہایت تکلیف کے ساتھ اپنے والد کا سونے کا پانی چڑھا کراس کھینچ کر باہر نکال دیا۔تبھی اسے یاد آیا کہ اس نے کل بے چاری استینن کی روح کو سکون حاصل ہونے کے لیے کوئی تحفہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔تب اسے کہاں پتہ تھا کہ دنیا میں اس کے لیے اب زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا ہے۔اس کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں بچا تھا،سوائے اس کراس کے، جو اس کے والد کا تھا اور اس کی شادی کی انگوٹھی کے جواب بھی اس کی انگلی میں پڑی تھی۔ اس نے انگوٹھی کو انگلی سے باہر نکالا اور اسے غور سے دیکھنے لگی۔اس کے کمزور ہاتھوں کو یہ کافی بھاری لگ رہی تھی،کیوں کہ یہ خالص سونے کی تھی اور بڑا سا لال پتھر اس پر جڑا ہواتھا۔ بہتر ہوگا کہ اسے بھی وہ کسی کو دے دے۔دینا تو چاہیے ،مگر کسے؟ اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور انگوٹھی ولف کی جانب بڑھادی۔
’’تم یہ کسے دینا چاہتی ہو؟‘‘اس نے پوچھا اور جب کرستین نے کوئی جواب نہیں دیا تو خود ہی کہنے لگا،’’تمہارا مطلب ہے کہ میں اسے،کُلے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کرستین نے نفی میں سرہلایا اور پھر آنکھیں مضبوطی سے بند کرلیں۔
’’استینن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لیے کچھ دوں گی۔‘‘ اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور اس انگوٹھی کو اپنی نظروں سے تلاش کرنے لگی،جو ولف کی بھاری بھرکم ہتھیلی پر رکھی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گی۔اسے محسوس ہوا،جیسے وہ پہلی بار اس علامت کا مفہوم سمجھی ہو۔جو ازدواجی زندگی اس انگوٹھی نے اسے دی،جس کے خلاف اُسے اتنی شکایتیں رہی ہیں،جس کے خلاف وہ ہر دم سر گوشیاں کرتی رہی،جس پر اسے اتناغصہ رہا ہے اور جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔باوجود ان سب کے جسے اس نے پیارکیا ہے،جس سے اس نے حِظ اٹھایا ہے چاہے وہ سکھ کے دن رہے ہوں یا دکھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولف اور راہبہ نے کچھ بات کی،جسے وہ سن نہ سکی اور پھر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔کرستین نے چاہا کہ وہ اپنا ہاتھ اٹھاکر اپنی آنکھیں پونچھ لے مگر وہ ایسا نہ کرسکی اورہاتھ اس کے سینے پر ہی پڑا رہا۔ اندرونی کرب نے اس کے ہاتھ کو اتنا بھاری بنادیا تھا،جیسے لگتا تھا کہ وہ انگوٹھی ابھی اس کی انگلی میں ہی ہے۔ا س کا دماغ پھر دھندلانے لگا۔اسے یہ جانناہی چاہیے کہ انگوٹھی واقعی چلی گئی ہے اور اس کاجانا اس نے خواب میں دیکھاہے۔اب سب کچھ غیر متوقع سا لگ رہا تھا۔کل رات بھی جو کچھ واقع ہوا،اس کے بارے میں بھی توقع نہیں تھی کہ واقعی کچھ ہوجائے گا۔یا پھر اس نے صرف خواب دیکھا تھا۔اپنی آنکھیں کھولنے کی طاقت بھی اس میں باقی نہیں تھی۔
’’سِسٹر!‘‘راہبہ نے اس سے کہا،’’اب آپ کو سونا نہیں چاہیے۔ولف آپ کے لیے پادری کو بلانے گیا ہے۔‘‘
ایک جھرجھری لے کرکرستین پوری طرح جاگ گئی۔اب وہ مطمئن تھی کہ سونے کی انگوٹھی جاچکی تھی اور اس کے بیچ والی انگلی پرا نگوٹھی پہننے کی جگہ پر سفید نشان بن گیا تھا۔
اس کے دماغ میں ایک اور واضح خیال گردش کررہا تھاکہ اس نشان کے مٹنے سے قبل اسے مرجانا چاہیے۔اس خیال سے وہ خوش تھی۔اسے محسوس ہواکہ یہ اس کے لیے ایک ایسا معمہ ہے جس کی گہرائی وہ جان نہیں پائی ہے،لیکن وہ یقینی طور سے جانتی تھی کہ خدا اس کے اوپر محبتوں کی بارش کرتا ہوا، اس کی جانکاری کے بناہی اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے اس کی آرزوئوں کے خلاف، اسے جلد ہی اپنے پاس بلارہا ہے۔وہ خدا کی بندگی تو کرتی رہی مگر ضدی اور آزاد طبع بھی تھی۔جس کے دل میں کوئی اعتقاد نہیں تھا،کاہل اور بے پرواہ،اپنے کام میں من نہ لگائے رکھنے والی۔پھر بھی خدا نے اسے اپنی بندگی سے الگ نہیں کیااور چمکدار سونے کی انگوٹھی کے نیچے اپنا پاکیزہ نشان بنائے رکھا۔یہی نشان تو ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی،ساری دنیا کے پروردگار کی باندی رہی ہے اور وہی خدا اب پادری کے پاکیزہ ہاتھوں کے روپ میں آرہا ہے تاکہ اسے نجات ملے۔
پادری سراایلیوؔ کے ہاتھوں سے تیل کاجلتا ہوا دیالینے کے تھوڑی دیر بعد کرستین پھر بے ہوش ہوگئی۔خون کی الٹیوں کے دوروں اور تیز بخار نے اسے بے ہوش کردیاتھا۔ اس کے پاس کھڑے پادری نے راہبائوں کو بتایا کہ وہ جلد ہی اس جہاں سے کوچ کرنے والی ہے۔
بستر مرگ پر پڑی اس عورت کو ایک دوبار ہلکا ساہوش آیااور اس نے ایک دوچہروں کی اور دیکھا۔اس نے سِرا ایلیو کو پہچاناپھر ولف کو بھی پہچان لیا۔اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ پہچان رہی ہے۔اور اس کے پاس آنے اور اس کے لیے دعا کرنے کے لیے وہ ان سب کی شکر گزار ہے۔مگر جو لوگ آس پاس کھڑے تھے،انھیں لگ رہا تھا جیسے موت کی سختی سے وہ اپنا ہاتھ چھٹپٹانا چاہتی ہے۔
ایک بار اسے اَدھ کھلے دروازے میں سے جھانکتا اپنے چھوٹے بیٹے موننؔ کا چہرہ دکھائی دیا پھر اس نے اپنا چہرہ پیچھے کرلیا۔اور ماں خالی دروازے کو گھورتی رہ گئی۔اس امید پر کہ لڑکا پھر سے وہاں دکھائی دے گا۔مگر اس کے بدلے ایک راہبہ کمرے میں داخل ہوئی اور ایک گیلے کپڑے سے اس کا چہرہ پونچھنے لگی۔یہ بھی اسے اچھا لگا۔پھر سب چیزیں کالے لال کہرے میں کھوگئیں۔اور ایک غراہٹ پہلے بڑے ڈرائونے ڈھنگ سے شروع ہوئی اور مدھم پڑتی چلی گئی۔ لال کہرا بھی ہلکا ہوتا چلاگیا اور آخر میں وہ طلوع آفتاب سے قبل ہلکے کہرے میں بدل گیا۔ساری آوازیں بند ہوگئیں اور وہ جان گئی کہ وہ مررہی ہے۔
سراابلیو اور ولف اس موت والے کمرے سے ساتھ ساتھ باہر نکل آئے۔تھوڑی دیر کے لیے وہ گرجا گھر کے دروازے پررکے۔برف باری ہوچکی تھی۔جس وقت وہ عورت موت کے ساتھ نبرد آزما تھی،اس کے آس پاس کھڑے ہوئے لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ برف باری ہورہی ہے۔ چرچ کی ڈھلوان چھت سے آنے والی سفید چمک سے چندھیاتے دو لوگ۔ہلکے بھورے رنگ کے آسمان کے بیچ میں چرچ کا بڑا سا برج چمک رہا تھا۔کھڑکیوں کے چھجوں پرسے مہین برف پڑی تھی۔لگتا تھا جیسے وہ دونوں اس لیے رک گئے ہیں کیوں کہ وہ نئی پڑی ہوئی برف کی چادر کو اپنے قدموں کے نشانات سے بگاڑنا نہیں چاہتے ہوں۔
انھوں نے ہوا میں گہری سانس لی۔کسی بھی بیمار کے کمرے میں بھری رہنے والی بدبودار ہوا کی بہ نسبت یہ ہوا ٹھنڈی اور میٹھی تھی۔
برج کا گھنٹہ پھر سے بجنے لگا تھا۔دونوں نے اوپر دیکھا ۔ہلتے ہوئے گھنٹے پر سے برف کے ذرات نیچے گرتے ہوئے ننھے ننھے قطروں میں تبدیل ہورہے تھے اور گول چکر کاٹتے ہوئے نیچے آرہے تھے۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

—————————————————-

سیگروانڈسیت ۱۸۸۲ء میں ناروے میں پیدا ہوئیںاور ۱۹۴۰ء میں انتقال فرمایا۔انہیں’’کرسٹن لورانسٹر‘‘کے لیے ۱۹۲۸ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔انہوں نے تقریباً دس برس تک ایک دفتر میں کام کیا تھا۔اس لیے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کے موضوع کو انہوں نے اپنی تخلیقات میں بہتر انداز سے پیش کیا۔ان کے دکھ ،سکھ کو فطری انداز میں پیش کرنے کا سہرا سیگروانڈسیت کے سر جاتا ہے۔ان کی تصانیف میں ماسٹر آف ہیٹ ویکین،جینی،گنارس،ڈاٹر،دَبرننگ بُش،امیجینران اے مِرر،دَوائلڈ آرچڈ،اِڈا ایلیزبیتھ وغیرہ شامل ہیں۔

 

Burhanpur by Shabana Nikhat Ansari

Articles

بابِ دکن برہان پور ایک سیاسی ،سماجی ، ثقافتی اور ادبی بازیافت

شبانہ نکہت انصاری

Torn Shoes A Short Story by Grazia Deledda

Articles

پھٹے ہوئے جوتے

گریزیا ڈیلیڈا

ایلیا کچہری میں بے کار سا رہتا تھا۔ان دنوں لوگ کچہری سے دور ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ بڑے سے بڑے وکیل بھی چھوٹے چھوٹے مقدمے لینے پر مجبور تھے۔ایلیا کے پاس تو کوئی بھی مقدمہ نہ آتا،پھر بھی وہ کچہری میں جاتا اور وہاں تنہائی میں بیٹھ کر اپنی بیوی کے لیے شعر کہتا۔ایک دن راستے میں ایک شناساگاڑی بان نے ایلیا کو روکتے ہوئے کہا،’’میں ابھی ابھی تیرسنوا سے آرہا ہوں،وہاں میں تمہارے چاچا سے ملا تھا۔وہ سخت بیمار ہیں۔‘‘
ایلیا گھر لوٹاتو اس کی بیوی گھر کے سامنے دھوپ میں کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی۔ ایلیا نے چاچا کی بیماری کی خبر اسے سنائی تو اس کے فکر مند چہرے پر بے چینی کی بجائے معنی خیزمسکراہٹ ابھر آئی۔اسے دیکھ کر ایلیا بھی مسکرادیا۔
’’تو پھر میں جاتا ہوں۔‘‘ایلیانے کہا۔آگے وہ کچھ نہ بولا۔بیوی اس کے دل کا حال جان گئی تھی۔چاچا انتقال کے بعد ساری دولت اسے ہی دینے والے تھے۔تبھی اس نے اپنے شوہر کے پھٹے ہوئے جوتے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،’’سفر کے اخراجات کے بارے میں کچھ سوچا ہے؟‘‘
’’اس کی فکر مت کرو۔میرے پاس کچھ پیسے ہیں۔‘‘ایلیا اپنے چاچا سے ملنے کے لیے روانہ ہوگیا۔راستے میں وہ تیزتیز قدم چلتا ہوا،اپنے پھٹے ہوئے جوتے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ اسے کسی نہ کسی چاچا کے گھر تک پہنچا دے تو بہت اچھاہو۔
رات ہوئی ہوا میں خنکی بڑھنے لگی۔ایلیا کو لگا اس کے پائوں برف پرپڑرہے ہوں۔اس نے اپنے خستہ جوتے کی طرف دیکھا،جواب مرمت کرنے کے قابل بھی نہیں رہ گیا تھا۔اسے پہن کرچلنے میں بڑی تکلیف ہورہی تھی۔پھر یہ خیال بھی تکلیف دے رہا تھا کہ ایسا جوتا پہن کر چاچاکے گھر جانا بے عزتی والی بات ہوگی،لیکن کوئی چارہ نہیں تھا۔تب وہ جوتے کی طرف سے دھیان ہٹاکر چاچا کی دولت حاصل کرنے اور مستقبل میں بہترین زندگی گزارنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ایک گائوں آنے پر وہ را ت بتانے کے لیے ایک مسافر خانہ میں ٹھہرا۔کم کرایے کی وجہ سے اسے ایک گندہ چھوٹا سا کمرہ ملا۔وہاں دو لوگ پہلے سے موجود تھے۔وہ دونوں ہی سوئے ہوئے تھے۔
ایلیااپنے انھیں کپڑوں میں لیٹ گیا،لیکن نیند نہ آئی۔اس نے اپنے خیالوں میں دنیا کی سبھی سڑکوں پر اور سبھی گھروں میں بے شمار جوتے دیکھے،پھرتو جیسے اسے ہر جگہ جوتے ہی جوتے دکھائی دینے لگے۔آخر اسے لگا کہ جیسے اس کمرے میں بھی جوتے بکھرے پڑے ہوں۔ تبھی وہ اچانک اٹھ بیٹھا۔اور سردی سے کانپتا ننگے پائوں چلتا ہوا،آہستگی سے اپنے قریب ہی سوئے ہوئے مسافر کی کھاٹ کے پاس گیا۔اس کا ایک جوتا اس نے پہنا ہی تھا کہ اس کے تپتے ہوئے پائوں میں کوئی چیز چبھی۔اس نے جوتا اتاردیا،تبھی کمرے کے باہر اسے کچھ آہٹ سی سنائی دی تو ڈرکے مارے اس کے پائوں جہاں تھے وہیں جم گئے۔اور اسی وقت اس نے اپنے ضمیر کی پھٹکار سنی کہ وہ گناہ کے راستے پر جارہا ہے۔باہر کی آہٹ جب بند ہوگئی تو وہ کمرے سے نکلا۔وہاں کوئی نہیں تھا۔ایک طرف لٹکی ہوئی لالٹین مدھم سی روشنی بکھیر رہی تھی۔ایلیانے اِدھر اُدھر دیکھاتو پاس ہی ایک جوتے کا جوڑ دکھائی دیا۔ اسی وقت اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے جوتوں کو اٹھاکر اپنے کوٹ میں چھپالیا۔پھر ایک نظر وہاں سوئے ہوئے چوکیدار کی طرف دیکھا اور چپکے سے پھاٹک کھول کر وہ باہر نکل گیا۔
تقریباً آدھا گھنٹہ ننگے پائوں چلنے کے بعد اسے جوتے پہننے کا خیال آیا۔ایک پتھر پر بیٹھ کر وہ چند لمحات تک جوتوں دیکھتا رہا۔آخر جب وہ جوتے پہن کر کھڑاہوا تو اس کے اندر سے آواز آئی، ’’گناہ،عظیم گناہ‘‘لیکن آواز کی ذرا بھی پرواہ کیے بنا وہ چل پڑا،اب وہ پہلے کی طرح تیزتیزقدم نہیں اٹھا رہا تھا۔اب اس کے قدم لڑکھڑارہے تھے۔اور وہ باربار پیچھے مڑکر دیکھتا تھا کہ کوئی اس کا پیچھا تو نہیں کررہاہے۔صبح کا اجالا پھیلنے لگاتھا تب ایلیا کاڈر اور بڑھ گیا۔اس کے دماغ میں مختلف خیالات نے ہلچل مچادی تھی۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ راہ چلتے لوگ اس کی چوری کو بھانپ لیں گے اور پھر اس کے چور ہونے کی خبر چاروں جانب پھیل جائے گی۔آخر پکڑے جانے کے ڈر سے اس نے پھر اپنا جوتا پہن لیااورچرایا ہوا جوتا سڑک کی ایک جانب اچھال دیا۔تب بھی اس کا دل مطمئن نہیں ہوا۔رات کا وہ واقعہ رہ رہ کر اس کے سامنے آنے لگا۔اسے باربار محسوس ہورہا تھا کہ اس کمرے کے دونوں مسافر اس کے پیچھے آرہے ہوںگے۔پھر اس خیال سے اس کا دل کانپ اٹھاکہ اس کے چور ہونے کی خبر اس کی بیوی تک پہنچ گئی تو غضب ہوجائے گا۔دولت حاصل کرنے سے قبل ہی وہ کس گناہوں کے دلدل میں دھنس گیا ہے۔
چلتے چلتے وہ رک گیا اور پھر لوٹ پڑا۔اس کا پھینکا ہوا جوتا وہیں پڑاتھا۔اُسے دیکھتے ہوئے اس کے دل میں عجیب سی ہلچل ہونے لگی۔اگر وہ اسے چھپادے یا زمین میں گاڑدے تب بھی وہ چوری اس کے ضمیر پر بوجھ بنی رہے گی ور وہ چوری اس کی پوری زندگی پر کلنک بن کر چھائی رہے گی۔
اچانک اس نے جوتے اٹھائے اور مسافر خانے کی طرف چل پڑا۔وہ دھیرے دھیرے چل رہا تھاتاکہ اندھیرا ہونے پر مسافر خانہ پہنچے۔دن بھر اس نے کچھ نہیں کھایاتھااور بے حد تھکان محسوس کررہا تھا۔اس کے قدم ڈگمگارہے تھے۔
مسافر خانے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔اس نے رات گزارنے کے لیے جگہ لی۔ پھر موقع پاکر اس نے وہ جوتے اسی جگہ رکھ دیئے،جہاں سے اٹھائے تھے۔اور اپنی کھاٹ پر جاکر لیٹ گیا۔بستر پر لیٹتے ہی وہ نیند کی آغوش میں سماگیا۔صبح جاگنے کے بعد اس نے بچے کھچے پیسوں سے ایک ڈبل روٹی خریدی اور وہاں سے چل دیا۔
بڑا سہانا موسم تھا۔ایلیا اپنے پھٹے ہوئے جوتے پہن کر بڑے اطمینان سے چلاجارہا تھا۔ آخر جب وہ اپنے چاچا کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ کچھ ہی گھنٹے قبل ان کا انتقال ہوگیاہے۔ نوکرانی نے اسے بتایا کہ،’’مالک نے آپ کا راستہ دیکھا۔کافی دیر تک انتظارکیا۔تین دن قبل انھوں نے آپ کو تاربھی بھیجا تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ آپ اکیلے ہی ان کے وارث ہیں،لیکن آپ نے انھیں بھلادیا ہے۔ وہ آپ سے بہت ناراض تھے۔جب آج صبح بھی آپ نہیں آئے تو انھوں نے اپنی ساری دولت مچھیروں کے یتیم بچوں کے نام کردی۔‘‘
ایلیا لوٹ کر اپنے گھر آیا۔اس کی بیوی نے سارا ماجرہ سن کر کہا،’’اچھا ہی ہوا، دولت ہمیں نہیں ملی۔جس دولت کے ملنے سے پہلے ہی آدمی اپنی ایمانداری کھوبیٹھے،اس کا نہ ملنا ہی اچھا ہے۔‘‘
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

————————–

گریز یاڈیلیڈا ۱۸۷۵ء میں اٹلی کے ایک قصبے میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۳۶ ء میں انتقال فرمایا۔انہیں’’ایڈز اِن دَ وِنڈ‘‘پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں دکھ اور پریشانیوں کا سامنا کیا تھا اس لیے ان کی تخلیقات میں اس کا اثر نمایاں نظر آتا ہے۔انہوں نے جو کچھ تحریر کیااپنے دل کی طمانیت کے لیے تحریر کیا۔انہیں ۱۹۲۶ء میں نوبل انعام تقویض کیا گیا۔ان کی اہم کتابیں آفر دَ ڈائیورس اور دَ مدرہیں۔

 

Masnavi Gulzar E Naseem

Articles

مثنوی گلزارِ نسیم

مثنوی گلزارِ نسیم

Albert Camus

Articles

البرٹ کامو

البرٹ کامو

Goodby Mom A short Story by Albert Camus

Articles

الوداع ماں

البیئر کامو

ماں کا آج انتقال ہوگیا یا شاید کل ہواہو،کہہ نہیں سکتا۔اولڈایج ہوم سے ٹیلی گرام آیا اس میں لکھا تھا ،”آپ کی والدہ چل بسیں،آخری رسومات کل ادا کی جائیں گی۔اس دکھ کی گھڑی میں آپ سے گہری ہمدردی ہے۔“اس سے کچھ پتہ نہیں چلتا ،ہوسکتا ہے یہ کل ہواہو۔
اولڈ ایج ہوم مورنگو میں ہے۔الجیئرس سے تقریباً پچاس میل دور،دو بجے کی بس سے میں رات سے قبل پہنچ جاﺅں گا،پھر رات وہاں گزارسکتاہوں۔تابوت کے پاس رَت جگے کی رسم کے لیےپھر کل شام تک واپس،میں نے اپنے مالک سے دو دن کی چھٹی کی بات کرلی ہے۔ ظاہر ہے ایسے حالات میں وہ منع نہیں کرسکتاتھا۔پھر بھی مجھے محسوس ہوا کہ وہ غصے میں ہے۔میں نے بنا سوچے ہی کہہ دےا،”سوری سر،آپ جانتے ہیں،اس میں میرا قصورنہیں ہے۔“
مجھے بعد میں احساس ہوا کہ ایسا کہنے کی ضرورت نہیں تھی۔معافی مانگنے کی توکوئی وجہ ہی نہ تھی۔دراصل اسے مجھ سے اظہار ہمدردی کرنا چاہیے تھا،پرسوں جب میں سیاہ لباس میں دفتر جاﺅں گا تو شاید وہ ایسا کرے گا۔ابھی تک تو خود مجھے ہی نہیں لگ رہا ہے کہ ماں واقعی نہیں رہی۔شاید آخری رسومات کے بعد یقین ہوجائے گا۔
میں نے دو بجے کی بس پکڑی ۔چلچلاتی دوپہرتھی۔ہمیشہ کی طرح میں سیلسئے کے ریسٹورنٹ میں کھانے کے لیے اترا۔سبھی محبت سے پیش آئے۔سیلسئے نے مجھ سے کہا،”ماں جیسی کوئی امانت نہیں۔“جب میں وہاں سے چلا تو وہ مجھے دروازے تک چھوڑنے آئے۔میں جلدبازی میں چل پڑاتھا، اس لیے مجھے اپنے دوست ایمبنوئل سے اس کی کالی ٹائی اور ماتم کے وقت باندھی جانے والی کالی پٹی مانگ کر لانی پڑی۔کچھ ماہ پہلے ہی اس کے چاچا چل بسے تھے۔
میں نے قریب قریب دوڑکر بس پکڑی۔اس بھاگ دوڑ ،چلچلاتی دھوپ اور گیسولین کی بدبو نے مجھے بیچین کردیا تھا۔راستہ بھر میں سوتا رہا۔جب اٹھا تو دیکھا میں ایک فوجی پر لڑھکا پڑا تھا۔ اس نے معلوم کرنا چاہا کہ کیا میں کسی لمبے سفر سے آرہا ہوں؟میں نے صرف گردن ہلائی، تاکہ بات چیت آگے نہ بڑھے۔میں باتیں کرنے کے موڈ میں قطعی نہیں تھا۔
گاﺅں سے اولڈ ایج ہوم میل بھر دور ہے،میں پیدل ہی چل پڑا۔وہاں پہنچتے ہی میں نے ماں کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔مگر دربان نے پہلے وارڈن سے ملنے کےلیے کہا۔وہ مصروف تھے۔ مجھے کچھ دیر تک انتظارکرنا پڑا۔
اس دوران دربان میرے ساتھ گپ شپ کرتا رہا،پھر دفتر لے گیا،وارڈن چھوٹے قد ، بھورے بالوں والا آدمی تھا۔اپنی گیلی نیلی آنکھوں سے اس نے مجھے بڑی دیر تک دیکھا۔پھر ہاتھ ملایا اور میرا ہاتھ اتنی دیر تک پکڑے رکھا کہ میں اچھی خاصی الجھن محسوس کرنے لگا۔اس کے بعد ایک رجسٹر میں تحقیقات کی اور بولا،”مادام میئر سالٹ تین برس قبل اس ہوم میں آئی تھیں،ان کی اپنی کوئی آمدنی نہیں تھی اور وہ پوری طرح تم پر منحصر تھیں۔“
مجھے لگا وہ مجھے ملزم ٹھہرا رہا ہے۔اس لیے میں صفائی دینے لگا۔مگر اس نے میری بات کاٹ دی۔
”ارے بیٹے،صفائی پیش کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔میں نے ریکارڈ دیکھا ہے۔ اس سے ظاہر ہے کہ تم ان کی اچھی طرح دیکھ بھال کرنے کی حالت میں نہیں تھے۔انہیں پورے وقت دیکھ بھال کی ضرورت تھی اور تمہاری طرح کی نوکری میں نوجوانوں کو بہت زیادہ تنخواہ نہیں ملتی۔ دراصل وہ یہاں کافی خوش تھیں۔“
”ہاں سر، مجھے پورا یقین ہے۔“میں نے کہا۔
وہ پھر بتانے لگا،”جانتے ہو،یہاں ان کے کئی اچھے دوست بن گئے تھے۔ سبھی ان کی عمر کے ہیں۔ویسے بھی ہم عمر لوگوں کے ساتھ زندگی اچھی گزرتی ہے۔تم عمر میں چھوٹے ہو، اس لیے ان کے دوست تو نہیں بن سکتے تھے۔“
یہ حقیقت تھی۔کیونکہ جب ہم ساتھ رہتے تھے تو ماں مجھے دیکھتی رہتی۔ مگر ہم شاید ہی کوئی بات چیت کرتے۔اولڈایج ہوم کے ابتدائی دنوں میں وہ خوب رویا کرتی تھی۔مگر یہ حالت کچھ دنوں تک ہی رہی۔اس کے بعد یہاں اس کا دل لگ گیا۔ایک آدھ مہینے بعد تو اگر اسے اولڈایج ہوم چھوڑنے کے لیے کہا جاتا تو وہ یقینا رونے لگتی،کیونکہ یہاں سے بچھڑنے کاا سے دکھ ہوتا۔ اس لیے پچھلے سال میں شاید ہی اس سے کبھی ملنے آیا۔ملنے آنا یعنی پورا اتوار کھپادینا۔بس سے سفر کرنا،ٹکٹ کٹوانا اور آنے جانے میں دو دو گھنٹے گنوانے کی تکلیف سو الگ۔
وارڈن بولتا ہی چلاگیاپھر اس کے پیچھے چل دیا،جب ہم سیڑھیوں سے اترنے لگے تو اس نے کہا،”میں نے ان کے جسد خاکی کو یہاں کے چھوٹے مردہ خانے میں رکھوادیا ہے۔ تاکہ دوسرے بوڑھے لوگ دُکھی نہ ہوں،تم سمجھ سکتے ہونا؟یہاں جب بھی کسی کی موت واقع ہوتی ہے تو دو چار دنوں تک یہ سبھی غمزدہ و بے چین رہتے ہیں۔ظاہر ہے اس سے ہمارے اسٹاف کاکام بے حد بڑھ جاتاہے، اور دیگر پریشانیاں بھی بڑھ جاتی ہیں۔“
ہم نے برآمدہ پارکیا،جہاں کئی بوڑھے چھوٹے چھوٹے گروپ میں کھڑے ہوکر باتیں کررہے تھے۔ہم ان کے قریب پہنچے تو وہ خاموش ہوگئے۔جوں ہی ہم آگے بڑھے ان کی باتیں شروع ہوگئیں۔ان کی سرگوشیاں سن کر اچانک مجھے پنجرے میں بند طوطوں کی یاد آگئی۔ ان کی آوازیں ضرور اتنی تیکھی اور اونچی نہیں تھیں۔ایک چھوٹی،کم اونچی عمارت کے داخلی دروازے کے باہر پہنچ کر وارڈن رک گیا۔
”جناب میئر سالٹ،یہاں میں تم سے اجازت لیتاہوں۔اگر کوئی کام ہو تو میں اپنے دفتر میں ملوں گا۔کل صبح ماں کی آخری رسومات اداکرنا ہے۔اس سے تم اپنی ماں کے تابوت کے پاس رات گزار سکو گے اوریقینا تم ایسا کر نا چاہوگے۔ایک آخری بات ،تمہاری ماں کے ایک دوست سے مجھے پتہ چلا کہ ان کی خواہش تھی کہ انہیں چرچ کے رسم و رواج کے مطابق دفنایا جائے۔ یوں تو میں نے سارے انتظامات کرلیے ہیں،پھر بھی تمہیں بتانا مناسب سمجھا۔“
میں نے وارڈن کا شکریہ ادا کیا،جہاں تک میں ماں کوجانتا تھا،حالانکہ وہ لامذہبی خیالات کی نہیں تھی۔مگر اس نے زندگی میں مذہب وغیرہ کو کبھی ترجیح نہیں دی تھی۔
میں مردہ خانے میں داخل ہوا،یہ پُتی ہوئی دیواروں اور کھلے روشن دان والا صاف ستھرا چمکدارکمرہ تھا۔فرنیچر کے نام پر یہاں کچھ کریاں اور صوفے رکھے تھے۔کمرے کے درمیان میں دو اسٹولوں پر تابوت کو رکھ دیاگیاتھا۔تابوت کا ڈھکن بند تھا۔مگر اسکرو کو بغیر پورا کَسے ہی چھوڑدیا گیاتھا۔ جس سے وہ لکڑی پر ابھرے ہوئے تھے۔
ایک عربی خاتون جو شاید نرس تھی،تابوت کے قریب بیٹھی تھی۔ اس نے نیلا کرتا پہن رکھاتھااور ایک بھڑکیلا سا اسکارف سر پر باندھ رکھا تھا، اسی پل میرے پیچھے ہانپتا ہوا دربان آپہنچا۔ ظاہر تھا کہ وہ بھاگتا ہوا آیا تھا۔
”ہم نے ڈھکن لگادیاتھا۔مگر مجھے ہدایت دی گئی تھی کہ آپ کے آنے کے بعد میں اسے کھول دوں، جس سے آپ ان کا دیدارکرسکیں۔“یہ کہہ کر وہ تابوت کھولنے کے لیے آگے بڑھا لیکن میں نے اسے منع کردیا۔
”کیا آپ نہیں چاہتے کہ“
”نہیں۔“میں نے کہا۔
اس نے اسکرو ڈرائیور جیب میں رکھا اور مجھے گھورنے لگا۔تب مجھے احساس ہوا کہ منع نہیں کرنا چاہیے تھا۔میں شرم محسوس کرنے لگاتھا،کچھ لمحات تک مجھے گھورنے کے بعداس نے پوچھا، ”کیوں نہیں؟“مگر اس کے لہجے میں حیرت نہیں تھی۔وہ بس یوں ہی جاننا چاہتا تھا۔
”دراصل میں کچھ کہہ نہیں سکتا۔“میں نے کہا۔
وہ اپنی سفید مونچھوں کو ایٹھنے لگا،پھر میری جانب دیکھے بنا آہستگی سے بول اٹھا،”میں سمجھ سکتا ہوں۔“
وہ نیلی آنکھوں والا بھلا سا ہنس مکھ آدمی تھا،اس نے تابو ت کے نزدیک میرے لیے ایک کرسی سرکائی اور میرے قریب ہی پیچھے بیٹھ گیا۔نرس اٹھی اور دروزے کی جانب چل دی۔ جب وہ جانے لگی تو دربان میرے کان میں بُدبُدایا،”بے چاری کو ٹیومر ہے!“
میں نے اسے غور سے دیکھا،تب پتہ چلا کہ آنکھوں کے ٹھیک نیچے سر پر پٹی بندھی تھی، جس سے اس کا تھوڑا سا چہرہ دکھائی دے رہا تھا۔
اس کے جاتے ہی دربان بھی کھڑا ہوگیا،”اب میں آپ کو اکیلاچھوڑدیتا ہوں۔“
میں نہیں جانتا کہ میں نے کوئی حرکت کی یا نہیں،مگر جانے کے بجائے وہ کرسی کے پیچھے ہی کھڑارہا۔پیٹھ پیچھے کسی کی موجودگی سے میں بڑی بے چینی محسوس کررہا تھا۔سورج ڈھلنے لگاتھا اور کمرہ خوشنما روشنی سے بھراٹھاتھا۔نیند سے میری آنکھیں بوجھل ہورہی تھیں۔دیکھے بغیر میں نے دربان سے یوں ہی پوچھاکہ وہ کتنے برسوں سے یہاں کام کررہا ہے۔
”پانچ برسوں سے۔“اس نے فوراً جواب دیا،جیسے وہ سوال کا ہی منتظر تھا۔
بس پھر وہ شروع ہوگیا اور باتیں کرنے لگا،دس برس پہلے اگر کسی نے اس سے کہاہوتا کہ وہ اپنی زندگی مورےگو کے اولڈ ایج ہوم میں گزارے گا تو اسے یقین نہ ہوتا۔وہ چونسٹھ سال کا تھا اور پیرس کا رہنے والا تھا۔
”اوہ!تو تم یہاں کے نہیں ہو؟“میں نے یوں ہی کہہ دیا۔
تب مجھے یاد آیا کہ وارڈن کے پاس جانے سے پہلے اس نے ماں کے بارے میں کچھ کہا تھا کہ انہیں دفنانے کی رسم جلد سے جلد پوری کرنی ہوگی،کیونکہ اس حصے میں خاص طور پر میدانی علاقے میں اچھی خاصی گرمی رہتی ہے۔
”پیرس میں جسد خاکی کو تین دن ،کبھی کبھار چاردن بھی رکھا جاتا ہے۔“
اس نے یہ بھی بتایا کہ اس نے ایک طویل عرصہ پیرس میں گزاراہے اور وہ دن اس کے زندگی کے بہترین دن تھے۔ جنہیں وہ کبھی بھلا نہیں سکتا،یہاں سب کچھ جلدی سے نبٹایا جاتاہے۔
”آپ اپنے عزیز کی موت کو پوری طرح قبول بھی نہیں کرپاتے کہ آخری رسومات کی جانب آپ کو بڑھادیا جاتا ہے۔“
اسی پل اس کی بیوی نے اسے ٹوکا ،”بس بھی کرو۔“
وہ بوڑھا گھبراکر معافی مانگنے لگا۔دراصل وہ جو کچھ کہہ رہا تھا، وہ مجھے اچھا لگ رہا تھا،میں نے پہلے ان باتوں پر غور نہیں کیاتھا۔
پھر وہ بتانے لگا کہ کیسے ایک عام انسان کی طرح وہ بھی اولڈ ایج ہوم آیا تھا۔ تب وہ کافی صحت مند تھااور تندرست بھی۔اس لیے جب دربان کی جگہ خالی ہوئی تو اس نے یہ نوکری کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔
جب میں نے اس سے کہا کہ اوروں کی طرح وہ بھی یہاں کا ایک ’باسی‘ہے تو اسے یہ با ت ناگوار لگی۔وہ ایک خاص عہدے پر تھا۔میرے دھیان میں آیا کہ وہ لگاتار انہیں’وہ اور بوڑھے لوگ‘ کہہ کر مخاطب کررہا تھا،حالانکہ وہ خود ان سے کم بوڑھا نہ تھا۔پھر بھی اس کی بات میں دم تھا۔ایک دربان کے روپ میں اس کی حیثیت تھی،دوسروں سے اوپر اس کے حقوق تھے۔
اسی وقت نرس لوٹ آئی۔رات بہت جلد اتر آئی تھی۔اچانک محسوس ہوا جیسے آسمان پر اندھیرا چھاگیا ہے۔دربان نے بتیاں روشن کردیں۔ روشنی سے آنکھیں چکاچوند ہوگئیں۔
اس نے مشورہ دیا کہ مجھے باورچی خانہ جاکر کھانا کھالینا چاہیے۔مگر مجھے بھوک نہیں تھی۔ اس نے کافی پینے کی پیش کش کی ۔چونکہ مجھے کافی پسند تھی،میں نے شکریہ کہہ کر حامی بھری اور چند ہی منٹوں میں وہ ٹرے لے کر آیا۔میں نے کافی پی،پھر مجھے سگریٹ کی طلب ستانے لگی۔
لیکن کیا ان حالات میں سگریٹ پینامناسب ہوگا؟ماں کے تابوت کے پاس؟دراصل اس سے کچھ خاص فرق نہیں پڑتا،یہ سوچ کر میں نے دربان کی طرف بھی ایک سگریٹ بڑھائی اور ہم دونوں سگریٹ پینے لگے۔اس نے پھر باتیں شروع کردیں۔
”جانتے ہو،جلد ہی تمہاری ماں کے دوست آئیں گے، تمہارے ساتھ تابوت کے پاس رت جگا کرنے کے لیے۔جب بھی کوئی مرجاتا ہے تو ہم سبھی اسی طرح رت جگا کرتے ہیں۔میں جاکر کچھ کرسیاں اور کالی کافی کا جگ بھرکر لے آﺅں۔“
سفید دیواروں کی وجہ سے تیز روشنی آنکھوں میں کھٹک رہی تھی میں نے دربان سے ایک دو بتیاں بجھانے کے لیے کہا،”ایسا کچھ نہیں کرسکتے،انھیں ایسا لگایا گیا ہے کہ سبھی ایک ساتھ جلتی ہیں اور ایک ساتھ بجھتی ہیں۔“اس کے بعدمیں نے روشنی کی طرف دھیان دینا چھوڑدیا۔ وہ باہرجاکر کرسیاں لے آیا اور تابوت کے چاروں اور لگادیں۔ایک پر اُس نے کافی کا جگ اور دس بارہ پیالے رکھ دیئے۔ پھر ٹھیک میرے سامنے تابوت کی دوسری جانب بیٹھ گیا۔
نرس کمرے کے دوسرے سرے پر تھی۔میری جانب اس کی پیٹھ تھی،میں نہیں جانتا،وہ کیا کررہی تھی،مگر اس کے ہاتھ ہل رہے تھے اس سے میں نے اندازہ لگاےیا کہ وہ کچھ بُن رہی تھی۔میں اب مطمئن تھا،کافی نے میرے اندر تازگی بھر دی تھی کھلے دروزے سے پھولوں کی خوشبو اور ٹھنڈی ہوا اندر آرہی تھی۔مجھ پر نیند کا غلبہ طاری ہونے لگا۔
کانوں میں عجیب سی سرسراہٹ سے میں جاگ اٹھا۔کچھ دیر تک آنکھیں بند تھیں۔اس لیے روشنی پہلے سے بھی زیادہ تیز لگنے لگی۔کہیں بھی اوٹ نہیں تھی،اس لیے ہر ایک چیز پوری شدومد کے ساتھ واضح ہورہی تھی۔ماں کے بوڑھے دوست آگئے تھے۔میں نے ان کی گنتی کی،کل دس تھے۔ کوئی آہٹ کیے بنا میں نے کسی کو اس قدر قریب سے نہیں دیکھا تھا،ایک ایک عضو،ہاﺅ بھاﺅ،نین نقش، لباس وغیرہ کچھ بھی پوشیدہ نہیں تھے۔پھر بھی میں انہیں سن نہیں پارہا تھا۔وہ واقعی موجود ہیں، اس بات کا یقین کرنا مشکل تھا۔
تقریباً سبھی خواتین نے ایپرن پہن رکھاتھا،جس کی ڈوری کمر پر کس کر بندھی ہوئی تھی۔ اس کی وجہ سے ان کے پیٹ اور بھی باہر اُبھر آئے تھے۔میں نے اب تک غور نہیں کیا تھا کہ اکثر بوڑھی خواتین کے پیٹ کافی بڑے ہوتے ہیں۔اس کے بر خلاف سبھی بوڑھے دُبلے پتلے تھے اور چھڑی لیے ہوئے تھے۔
ان کے چہروں کی جس بات نے سب سے زیادہ متوجہ کیا،وہ ان کی آنکھیں تھیں، جو بالکل ندارد تھیں، جھریوں کے درمیان بس ہلکی سی،دھندلی سی چمک بھر تھیں۔
بیٹھتے وقت سبھی نے مجھے دیکھا اورعجیب ڈھنگ سے سرہلایا۔ان کے ہونٹ دانتوں کے بغیر مسوڑھوں کے بیچ چُسکی کی حالت میں بھینچے ہوئے تھے۔میں طے نہیں کرپارہا تھا کہ وہ مجھ سے ہمدردی جتارہے ہیں یا کچھ کہنا چاہتے ہیں یا پھر یہ ان کے بڑھاپے کی وجہ سے ہے۔بعد میں میں نے مان لیا کہ شاید کسی رواج کے مطابق وہ میرا خیر مقدم کررہے ہیں۔دربان کے اِردگرد بیٹھے سبھی بوڑھوں کو پر تجسس نگاہوں سے مجھے دیکھنا اور سرہلانا واقعی عجیب لگ رہا تھا۔پل بھر میں مجھے احساس ہوا کہ وہ مجھے کٹ گھر ے میں کھڑاکرنے آئے ہوں۔
کچھ دےیر بعد ایک عورت رونے لگی۔وہ دوسری قطار میں تھی اور اس کے آگے ایک عورت بیٹھی تھی،اس لیے میں اس کا چہرہ نہیں دیکھ پارہا تھا۔تھوڑی تھوڑی دیر میں اس کا گلا رُندھ جاتا اور لگتا کہ وہ کبھی رونابند نہیں کرے گی۔کوئی اور اس پر توجہ نہیں دے رہا تھا۔سبھی خاموش بیٹھے تھے۔ اپنی اپنی کرسیوں میں دھنسے وہ کبھی تابوت کو تو کبھی اپنی گھڑی یا کسی دوسری چیز کو گھورنے لگتے اورپھر ان کی نظریں وہیں جم جاتیں۔
وہ عورت اب بھی سسکیاں بھررہی تھی۔مجھے واقعی حیرت ہورہی تھی،کیونکہ میں نہیں جانتا تھا کہ وہ کون تھی؟میں چاہتا تھا کہ وہ رونا بند کردے،مگر اس سے کچھ کہنے کی ہمت نہیں تھی۔کچھ دیر بعد دربان اس کی جانب جھکا اور کان میں کچھ سرگوشی کی ۔اس نے محض سرہلایا۔ دھیمے سے کچھ کہا،جو میں سن نہ سکا اور پھر وہ اسی طرح رونے لگی۔
دربان اٹھا اور میرے پاس کرسی سرکاکر بیٹھ گیا،کچھ دیر خاموش رہا،پھر میری جانب دیکھے بغیر سمجھانے لگا،”وہ تمہاری ماں سے بےحد قریب تھی،وہ کہتی ہے،اس دنیا میں ماں کے سوا اس کا کوئی نہیں ،وہ اب اکیلی رہ گئی ہے۔“
میں بھلا کیا کہتا۔کچھ دیر تک خاموشی چھائی رہی۔اس خاتون کی سسکیاں اب کچھ کم ہونے لگیں۔پھر ناک صاف کرنے کے بعد کچھ دیر وہ ہچکیاں لیتی رہی،پھر خاموش ہوگئی۔
حالانکہ میری نیند اڑچکی تھی،مگر میں بے حد تھکان محسوس کررہاتھا۔پیر بری طرح کھینچے جارہے تھے۔ماحول میں ایک عجیب سی آواز تھی،جو کبھی کبھارسنائی دے جاتی،میں پہلے تو کافی الجھن محسوس کررہا تھامگر غور سے سننے کے بعد سمجھ گیا کہ ماجرا کیا ہے؟دراصل بوڑھے اپنے گالوں کے اندر چسکی لے رہے تھے،جس سے سُڑ سُڑ کی عجیب سی آواز پیدا ہورہی تھی۔وہ اپنے خیالوں میں اس قدر مگن تھے کہ انھیں کسی بات کا ہوش نہیں تھا۔یکبارگی مجھے لگا کہ ان کے بیچ رکھی یہ بے جان لاش کوئی معنی نہیں رکھتی مگر یہاں میں شاید غلط تھا۔
ہم سبھی نے کافی پی جو دربان لایا تھا۔اس کے بعد مجھے کچھ زیادہ یاد نہیں۔رات کسی طرح کٹ گئی۔مجھے بس وہ ایک پل یاد ہے،جب اچانک میں نے آنکھیں کھولیں تو دیکھا ایک بوڑھے کو چھوڑکر سبھی اپنی اپنی کرسیوں پر جھکے اونگھ رہے تھے۔اپنی چھڑی پر دونوں ہاتھ باندھے،تھوڑی ٹکائے وہ بوڑھا مجھے دیکھ رہا تھا۔جیسے میرے جاگنے کا منتظر ہو۔میں پھر سوگیا۔تھوڑی دیر بعد دونوں پیروں میں بے انتہا درد کی وجہ سے میں جاگ پڑا۔
روشن دان سے صبح کی لالی چمکنے لگی تھی،پل بھر کے بعد ہی ایک بوڑھا جاگ کر کھانسنے لگا، وہ بڑے سے رومال میں تھوکتااور ہر بار اُبکائی جیسی آواز آتی۔آواز سن کروہ سب جاگ اٹھے تھے۔ دربان نے انہیں بتایا کہ چلنے کا وقت ہوگیاہے۔وہ ایک ساتھ کھڑے ہوئے۔اس طویل رات کے بعد ان کے چہرے مرجھاگئے تھے۔مجھے واقعی حیرت ہوئی۔جب ہر ایک نے مجھ سے ہاتھ ملایا، جیسے ساتھ گزاری ہوئی ایک رات سے ہی ہم نے آپس میں ایک رشتہ قائم کرلیا ہو۔حالانکہ ایک دوسرے سے ہم نے ایک لفظ نہیں بولاتھا۔
میں کافی بجھ سا گیا تھا۔دربان مجھے اپنے کمرے میں لے گیا۔میں نے خود کو ٹھیک ٹھاک کیا۔اس نے مجھے تھوڑی اور سفید کافی دی۔جس سے میں تازگی محسوس کرنے لگا۔جب میں باہر نکلا، سورج چڑھ چکا تھا اور مورےنگو اور سمندر کے درمیان پہاڑیوں کے اوپر آسمان سرخی مائل ہورہا تھا۔صبح کی خنک ہوا چل رہی تھی،جس میں خوشنما نمکین مہک تھی،جو ایک خوشگواری کا احساس دلارہی تھی۔ ایک طویل عرصے سے میں دیہات میں نہیں آیا تھا۔دل ہی دل میں سوچنے لگا کہ اگر ماں کا مسئلہ نہیں ہوتا تو کتنی بہترین تفریح ہوسکتی تھی۔
میں آنگن میں ایک پیڑ کے نیچے انتظار کرنے لگا۔مٹی کی مہک میرے اندر بھرنے لگی تھی۔ میں نے محسوس کیا کہ اب مجھے نیند نہیں آرہی تھی۔پھر میں دفتر کے دوسرے لوگوں کے بارے میں سوچنے لگا۔اس وقت وہ لوگ دفتر جانے کی تیاری کررہے ہوں گے۔دن کا یہ وقت مجھے سب سے بے کار لگتا۔تقریباً دس منٹ میں انہیں خیالوں میں گم رہا۔
اچانک عمارت کے اندر سے گھنٹی کی آواز آنے لگی اس کے سبب میرے خیالات کا سلسلہ ٹوٹا۔کھڑکیوں کے پیچھے کچھ ہلچل دکھائی دی۔پھر سب خاموش ۔سورج چڑھ آیا تھا۔تلوﺅں میں جلن محسوس ہورہی تھی۔دربان نے مجھے بتایا کہ وارڈن مجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔میں ان کے دفتر گیا۔اس نے چند کاغذات پر دستخط کروائے۔وہ کالی پوشاک زیب تن کیے ہوئے تھا۔ریسیور اٹھاکر میری جانب دیکھنے لگا۔
”آخری رسومات کا انتظام کرنے والے کچھ دیر قبل یہاں آئے تھے۔وہ لوگ وہاں جاکر تابوت کے اِسکرو کس دیں گے۔کیا میں انہیں رُکنے کے لیے کہوں؟تاکہ تم اپنی ماں کا آخری دےدار کرسکو؟“
”نہیں۔“میں نے کہا۔
”اس نے دھیمی آواز سے ریسیورمیں کہا،”ٹھیک ہے،فیگی ایف،اپنے آدمیوں کو ابھی بھیج دو۔“
پھر اس نے بتایا وہ بھی ساتھ چل رہا ہے۔میں نے اس کا شکریہ ادا کیا۔ڈیوٹی پر جو نرس ہے اس کے علاوہ صرف ہم دو ہی آخری رسومات میں شریک ہوں گے۔یہاں کا قاعدہ ہے کہ یہاں رہنے والے آخری رسوما ت میں شامل نہیں ہوسکتے۔حالانکہ رات میں تابوت کے پاس بیٹھنے سے کسی کو روکا نہیں جاتا۔
”ایسا ان کی بھلائی کے لیے ہی کیاجاتاہے۔“اس نے واضح کیا،”تاکہ انہیں کوئی تکلیف نہ ہو،مگر اس مرتبہ میں نے تمہاری ماں کے ایک پرانے دوست کو ساتھ آنے کی اجازت دے دی ہے۔ اس کا نام ہے تھامس پریز۔“وارڈن مسکرایا۔”اصل میں یہ ایک چھوٹی سی دل کو چھولےنے والی کہانی ہے۔تمہاری ماں اور اس کے درمیان بڑی اپنائیت تھی۔یہاں تک کہ سبھی بوڑھے پریز کو اکثر چھیڑا کرتے تھے کہ وہ اس کی منگیتر ہے،وہ اس سے اکثر پوچھتے کہ تم اس سے شادی کب کررہے ہو؟ وہ ہنس کر ٹال دیتا ،ظاہر ہے ماں کی موت کے بعد اسے بے حد تکلیف پہنچی ہے،اس لیے آخری رسومات میں شامل ہونے سے میں انکار نہ کرسکا۔حالانکہ ڈاکٹر کے مشورے پر اسے پچھلی رات تابوت کے پاس بیٹھنے سے روک دیاتھا۔“
کچھ دیر ہم یوں ہی خاموش بیٹھے رہے۔پھر وارڈن کھڑکی کے پاس جاکر کھڑاہوگیا، اچانک بولا،”ارے مورےنگوکے پادری وقت کے بڑے پابند ہیں۔“
انھوں نے مجھے بتایا تھا کہ گاﺅں میں موجود گرجا گھر تک پیدل پہنچنے میں ایک ڈیڑھ گھنٹہ درکار ہوگا۔ہم سیڑھیاں اترنے لگے۔قبرستان کے قریب ہی پادری انتظار کررہے تھے۔ان کے ساتھ دو لوگ تھے ایک کے ہاتھ میں کچھ چیزیں تھیں۔پادری جھک کر چاندی کی زنجیر کی لمبائی کو ٹھیک کررہے تھے۔ہمیں دیکھتے ہی وہ سیدھے کھڑے ہوگئے اور میرے ساتھ کچھ باتیں کی۔مجھے وہ بیٹا کہہ کر مخاطب کررہے تھے،پھر ہمیں وہ قبر کی اور لے جانے لگے۔
پل بھر میں میں نے دیکھا کہ تابوت کے پیچھے سیاہ لباس پہنے چار لوگ کھڑے تھے۔ اسی پل وارڈن نے بتایا کہ جنازہ پہنچ چکا ہے۔پادری نے عبادت شروع کردی۔سیاہ کپڑے کی پٹی پکڑے چار لوگ تابوت کے قریب پہنچے جبکہ پادری ،لڑکے اور میں قطار میں چلنے لگے۔ایک عورت جسے میں نے پہلے نہیں دیکھا تھا دروازے پر کھڑی تھی۔وارڈن نے اس سے میرا تعارف کروایا۔ میں اس کانام تو سمجھ نہیں سکا مگر یہ جان گیا کہ وہ اولڈ ایج ہوم کی نرس ہے۔میرا تعارف سن کر اس نے سرکوجھکاکر میراخیر مقدم کیا،مگر اس کے لمبے دبلے پتلے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ نہیں تھی۔ ہم ایک گلیارے سے ہوتے ہوئے صدر دروازے تک آئے۔جہاں تابوت کو رکھا گیا تھا۔مستطیل نما ،چمکیلے کالے رنگ کے تابوت کو دیکھ کر مجھے اچانک آفس میں رکھے کالے پین اسٹینڈ کی یاد آگئی۔
تابوت کے پاس انوکھی سج دھج کے ساتھ ایک چھوٹے قد کا آدمی کھڑا تھا۔ میں سمجھ گیا کہ اس کا کام آخری رسومات کے وقت پورے انتظام کی دیکھ بھال کرنا ہے۔بالکل ماسٹر آف سیری منی کی طرح۔اس کے قریب خوفزدہ سا مسٹر پریز کھڑاتھا،ماں کا خاص دوست۔اس نے ہلکے رنگ کی چوڑے کنارے والی گول ٹوپی پہن رکھی تھی۔جب درواز ے سے تابوت لے جایا جانے لگاتو اس نے بڑی پھرتی سے ٹوپی کو اوپر اٹھایا۔پینٹ جوتوں سے کافی اوپر تھی اوراونچے کالر والی سفید شرٹ پر بندھی کالی ٹائی ضرورت سے زیادہ چھوٹی تھی۔اس کی موٹی چوڑی ناک کے نیچے ہونٹ لرزرہے تھے۔ مگر جس چیز نے مجھے  متوجہ کیا وہ تھے اس کے کان۔سرخی مائل،پنڈولم نما اس کے کان جو زرد سے رخساروں پر مہر بند کرنے کے لاکھ کے لال گولے  کی مانند دکھائی دے رہے تھے۔جیسے ریشمی سفید بادلوں کے درمیان انھیں گاڑدیا گیا ہو۔
منتظم کے ذریعے ہر کام کے لیے رکھے ہوئے ایک نوکر نے ہمیں اپنی اپنی جگہوں پر کھڑاکیا۔تابوت کے آگے پادری ،تابوت کے دونوں طرف کالے کپڑے پہنے ہوئے چار آدمی۔ ان کے پیچھے وارڈن ،میں اور ہمارے پیچھے پریز اور نرس۔
آسمان پر سورج دہکنے لگاتھا۔ہوا میں تپش بڑھ گئی تھی۔پیٹھ پر آگ کے تھپیڑے محسوس ہونے لگے تھے۔اس پر گہرے رنگ کی پوشاک نے میری حالت بدتر کردی تھی۔ نہ جانے کیوں ہم اتنی دیر رکے ہوئے تھے؟ بوڑھے پریز نے ٹوپی دوبارہ اتارلی۔میں ترچھا ہوکر اسے دیکھ رہاتھا،تبھی دربان مجھے اس کے بارے میں مزید باتیں بتانے لگا۔مجھے یاد ہے دربان نے مجھے بتایا کہ بوڑھا پریزاور میری ماں شام میں اکثر دوردورتک سیر کرنے جایا کرتے تھے۔کبھی کبھی چلتے چلتے وہ گاﺅں کے قریب پہنچ جاتے۔مگر ہاں،ان کے ساتھ نرس بھی رہتی تھی۔
میں نے اس دیہاتی علاقے،دورافق اور پہاڑیوں کی ڈھلوان پر سرو کے درختوں کی طویل قطاروں،چمکیلے ہرے رنگ سے رنگی اس زمین اور سورج کی روشنی میں نہائے ایک اکیلے مکان پر بھرپور نظر ڈالی۔میں نے جان لیا،ماں کیا محسوس کرتی ہوگی؟اس علاقے میں شام کا وقت سچ مچ کس قدر اداس اور بے چین کردیتاہوگا۔صبح سورج کی اس چلچلاتی دھوپ میں،جب سب کچھ تپش کی شدت میں لپ لپارہا تھا،تو کہیں کچھ ایساتھا،جو اس فطری نظام کے بیچ میں بھی غیر انسانی اور مایوس کردینے والا تھا۔
آخر ہم نے چلنا شروع کردیا،تبھی میں نے دیکھا کہ پریز ہلکا سا لنگڑاکر چل رہاتھا۔ جوں جوں تابوت تیزی سے آگے بڑھنے لگتا،وہ بوڑھاپچھڑتاچلاگیا۔مجھے واقعی حیرت ہوئی کہ سورج کتنی تیزی سے آسمان پر چڑھتا جارہا ہے۔اسی پل مجھے سوجھا کہ کیڑے مکوڑے کی گونج اور گرم گھاس کی سرسراہٹ کافی دیر سے ہوا میں ایک دھمک پیداکررہی ہے۔میرے چہرے سے بے حساب پسینہ ٹپک رہا تھا۔میرے پاس ٹوپی نہیں تھی،اس لیے میں رومال سے ہی چہرے پر ہواکرنے لگا۔منتظم کے آدمی نے پلٹ کر کچھ کہا،جو میں سمجھ نہ سکا۔اسی وقت اس نے اپنے سر کے کراﺅن کوبھی رومال سے پونچھا، جو اس نے بائیں ہاتھ میں پکڑرکھاتھا،اس نے اوپر کی جانب اشارہ کیا۔
”آج بے حد گرمی ہے،ہے نا؟“
”ہاں۔“میں نے کہا۔
کچھ دیر بعداس نے پوچھا،”وہ آپ کی ماں ہیں،جنہیں ہم دفنانے جارہے ہیں؟کیا عمر تھی ان کی ؟“”وہ بالکل تندرست تھی۔“میں نے کہا،”دراصل میں خود بھی ان کی صحیح عمر کے بارے میں نہیں جانتاتھا۔“
اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا،جب میں مڑا تو دیکھا کہ پریز تقریباً پچا س گز کے فاصلے پر لنگڑاتا چلاآرہا تھا۔تیز چلنے کی وجہ سے ہاتھ میں پکڑی ہوئی ٹوپی بری طرح سے ہل رہی تھی۔ میں نے وارڈن پر بھی ایک نظر ڈالی،وہ نپے تلے قدموں سے متوازن ہاﺅبھاﺅ کے ساتھ چل رہا تھا،ماتھے پر پسینے کی بوندیں تھیں،جو اس نے پونچھی نہیں تھیں۔مجھے لگاکہ جنازے کے ساتھ چلنے والے کچھ زیادہ ہی تیزچلنے لگے ہیں۔جہاں کہیں بھی نگاہ ڈالی،ہر طرف وہی سورج سے نہایا ہوا دیہاتی علاقہ دکھائی دیا۔سورج اس قدر چمکدار تھا کہ میں آنکھیں اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کرپارہا تھا۔پاﺅں چلچلاتی گرمی میں ہر قدم کے ساتھ زمین پر دھنس جاتے اور پیچھے ایک چمکدار کالا نشان چھوڑدیتے۔آگے کوچوان کی چمکیلی کالی ٹوپی تابوت کے اوپر رکھے اسی طرح کے لیس دار مادے کے لوندے کی طرح دکھائی دے رہی تھی۔یہ ایک حیرت انگیز خواب کا احساس تھا۔اوپر نیلی سفید چکاچوند اور چاروں جانب یہ گہرا سیاہ پن،چمکدار کالا تابوت ،لوگوں کی کالی پوشاک او رسڑک پر سنہرے،کالے گڑھے اور دھوئیں کے ساتھ ماحول میں گھلی ملی گرم مکڑے اور گھوڑے کی لید کی بو؟ان سب کی وجہ سے،اور رات کو نہ سونے کی بنا پر میری آنکھیں اور خیال دھندلے پڑتے جارہے تھے۔
میں نے دوبارہ پیچھے مڑکر دیکھا،پریز بہت پیچھے رہ گیاتھا۔اس تپتی دھند میں تقریباً اوجھل ہی ہوگیاتھا۔کچھ پل اسی ادھیڑ بن میں رہنے کے بعد میں نے یوں ہی اندازہ لگایاکہ وہ سڑک چھوڑکر کھیتوں سے آرہا ہوگا۔تبھی میں نے دیکھا،آگے سڑک پر ایک موڑ تھا۔ظاہر ہے پریز نے،جو اس علاقے کو بخوبی جانتا تھا،ایک پگڈنڈی پر چل رہا تھا۔ہم جیسے ہی سڑک کے موڑ پر پہنچے،وہ ہمارے ساتھ شامل ہوگیا۔لیکن کچھ دیر بعد پھر پچھڑنے لگا۔اس نے پھر شارٹ کٹ لیا اور پھر ہم میں شامل ہوگیا۔دراصل اگلے آدھے گھنٹے تک ایسا کئی بار ہوا۔پھر جلد ہی اس میں میری جودلچسپی تھی وہ جاتی رہی۔میراسر پھٹاجارہا تھا۔میں بہ مشکل خود کو گھسیٹ رہا تھا۔
اس کے بعد بہت کچھ جلدبازی میں کیا گیا کہ مجھے کچھ یاد نہیں۔ہاں اتنا ضرور یاد ہے کہ جب ہم گاﺅں کی سرحد پر تھے تو نرس کچھ بولی تھی،اس کی آواز سے میں بری طرح چونک پڑاتھا۔ کیوں کہ اس کی آواز اس کے چہرے سے قطعی میل نہیں کھاتی تھی۔اس کی آواز میں موسیقی اور کپکپاہٹ تھی۔اس نے جو کچھ کہاتھا وہ کچھ اس طرح تھا،”اگر آپ اس قدر آہستہ آہستہ چلیں گے تو لو لگنے کا ڈر ہے، مگر تیز چلیں گے تو پسینہ آئے گااور چرچ کی سرد ہوا سے آپ کو زکام ہوجائے گا۔“اس کی بات میں دم تھا۔نقصان ہر طرح سے طے تھا۔تابوت کے ساتھ چلتے ہوئے کچھ یادیں میرے ذہن میں چسپاں ہوگئی ہیں۔مثلاً اس بوڑھے پریز کا چہرہ جو گاﺅں کی سرحد پر ہی آخری بار ہم سے آملا تھا،اس کی آنکھوں سے مسلسل بہتے آنسو جو تھکان کی وجہ سے تھے یا غم کے سبب،یا پھر دونوں کی وجہ سے۔مگر جھریوں کی وجہ سے نیچے ٹپک نہیں پارہے تھے۔آڑے ترچھے ہوکر کان تک پھیل گئے تھے اور اس بوڑھے ،تھکے چہرے کو ایک پیاری سی چمک سے بھردیاتھا۔
مجھے یاد ہے وہ گرجا گھر،سڑکوں سے گزرتے دیہاتی،قبروں پر کھلے لال رنگ کے پھول، پریز پر بے ہوشی کا دورہ،چیتھڑوں سے بنی کسی گڑیاکی مانند اس کا سکڑجانا۔ماں کے تابوت پر سنہری بھوری مٹی کا ٹپ ٹپ گرنا،لوگ بے شمار لوگ،آوازیں،کافی،رےستوراں کے باہر انتظار، ریل انجن کی گڑگڑاہٹ،روشنی سے نہائی الجیئرس کی سڑکیں اور ان پر قدم رکھتے ہی میرا خوشی سے بھرجانا اور پھر تخیل میں ہی سیدھے بستر پر جاکر نڈھال ہوجانا،لگاتار بارہ گھنٹے بے ہوشی کی نیند!
مجھے یہ سب یاد ہے !
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

البیئرکامو1913میں فرانس میں پیدا ہوئے اور1960میں انتقال فرمایا۔انہیں ”پلیگ“ ناول کے لیے 1957 میں نوبل انعام سے نوازا گیا تھا۔کامو نے اپنی 47 برس کی مختصر زندگی میں نہ صرف اپنے ملک اور یورپ میں بلکہ عالمی ادب میں ایک اہم مقام حاصل کیا۔ انہوں نے اپنے مضامین،ناول،ڈرامے اور دیگر اصناف سے عالمی ادب میں اضافہ کیا۔ان کی تخلیقات میں کئی خوبیاں ہیں مگر سب سے اہم خوبی انسان کی تنہائی ہے۔انہوں نے اپنی تخلیقات میں موت،تکالیف،لامذہبیت اور ارتداد کو بہتر انداز میں پیش کیا ہے۔ان کی تصانیف میں لاپسیٹ،لاشوٹ،لے جسٹس،لاہوم ریولئے وغیرہ اہم کتابیں شامل ہیں۔