Samarqand by Amin Maalouf

Articles

سمرقند

امین مالوف

 

بحرِ اوقیانوس کی تہ میں ایک کتاب ہے۔ میں آپ کو اس کی سرگزشت سنانے والا ہوں۔

آپ کو شاید کہانی کے انجام کا علم ہے۔ معاصر اخباروں نے اس کی بابت لکھا تھا، جس طرح دوسروں نے بعد میں۔ جب 14 اپریل 1921 کی شب ٹائٹینک نئی دنیا کے ساحل سے تھوڑے فاصلے پر غرق ہوا، تو اس کا سب سے بلند مرتبت شکار ایک کتاب تھی، عمر خیّام، دانائے ایرانی، شاعر اور عالمِ ہیئت کی رباعیات کا اکلوتا نسخہ۔
میں جہاز کی تباہی کے ذکر پر طولِ کلام نہیں کروں گا۔ دوسروں نے پہلے ہی ڈالروں میں اس کی قیمت کا تخمینہ لگا دیا ہے، مرنے والوں کی فہرست بنادی ہے اور لوگوں کے آخری الفاظ قلم بند کردیے ہیں۔ اس واقعے کے چھ سال گزرنے کے بعد بھی گوشت و سیاہی کی اس شے کا خیال جس کا میں نا اہل نگہبان تھا ہنوز مجھ پر مسلّط ہے۔ کیا یہ میں، بینجامن او۔ لیسیج، ہی نہیں تھا جس نے اس کو اس کی ایشیائی زاد بوم سے اُچک لیا تھا؟ کیا یہ میرے سامان میں نہیں تھی کہ اسے ٹائٹینک پر سفر کے لیے نکلنا پڑا؟ اور کیا اس کے زمانوں کے سفر میں میری صدی کی نخوت پسندی نے دخل اندازی نہیں کی تھی؟
اس وقت سے دنیا روزبہ روز لہو اور اداس اندھیروں میں اور زیادہ ڈوبتی جارہی ہے، اور زندگی نے مجھ پر مسکرانا چھوڑ دیا ہے۔ مجھے خود کو لوگوں سے دور کرنا پڑا ہے تاکہ اپنی یاد کی آوازکو سن سکوں، ایک سادہ لوح امید اور ضدّی وہم کی پرورش کرسکوں کہ کل یہ قلمی نسخہ مل جائے گا۔ اپنے زرّیں بکسے میں مامون، یہ سمندر کی تاریک گہرائیوں سے صحیح سلامت برآمد ہوگا، اس حال میں کہ اس کی قسمت ایک نئے جوکھوں بھرے طویل سفر سے مالا مال ہوچکی ہوگی۔ لوگ اسے اپنی انگلیوں سے الٹ پلٹ سکیں گے، اسے کھول سکیں گے اور اس میں خود کو گم۔ مقیّد آنکھیں اس کی مہمات کے وقائع کا حاشیہ حاشیہ تعاقب کریں گی، وہ شاعر کو دریافت کریں گی، اس کے اولین کلام، اس کی اولین مدہوشیوں کے دورے اور اس کے اولین خوفوں کو؛ اور فرقۂ حشّاشین۔ پھر وہ ایک تصویر پر آکر رک جائیں گی، متأمل، جو ریت اور زمرّد کے رنگ کی ہے۔
اس پر نہ تاریخ پڑی ہے نہ کسی کے دستخط ہی ہیں، کچھ بھی تو نہیں، سواے ان لفظوں کے جو پُرجوش بھی ہوسکتے ہیں یا مایوسانہ: ’’سمرقند، حسین ترین چہرہ جو زمین نے کبھی سورج کو دکھایا ہو۔ ‘‘

 

 

 

پہلی کتاب
شعراء اور عشّاق

ناکردہ گناہ در جہان کیست بگو
وآنکس کہ گنہ نکرد چون زیست بگو
من بَد کنم و تو بَد مکافات بدہی
پس فرق میانِ من و تو چیست بگو
عمر خیّام

باب ١

کبھی کبھار سمرقند میں، ایک سست رو اور بے کیف دن کی شام، اہالین شہر وقت گزاری کے لیے دو میخانوں والی سڑک کے آخر پر آنکلتے جہاں مرچ بازار کے قریب آکرراستہ ختم ہوجاتا تھا۔ وہ یہاں سُغد کی شراب کا ذائقہ چکھنے کے لیے نہیں آتے تھے جس سے مشک کی مہک اٹھتی تھی، بلکہ آمد و رفت کا نظارہ کرنے یا کسی بدمست کی گھات میں، جسے زمین پر پٹخا جاتا، خوب ذلیل کیا جاتا، اور ایسے جہنّم بھیجنے کی بد دعا دی جاتی جس کی آتش، دنیا کے ختم تک، شراب کی ترغیبات کی گلگونی کی یاد دلاتی رہے۔
1027کی گرمیوں میں ایسے ہی کسی واقعے سے ’’رباعیات‘‘کا مخطوطہ معرضِ وجود میں آنے والا تھا۔ عمر خیام چوبیس سال کا تھا اور حال ہی میں سمرقند میں وارد ہوا تھا۔ کیا اُس شام وہ میخانے کا قصد کرے یا آرام آرام سے مٹر گشت؟ ڈھلتے دن کے ہزار تماشوں کی ہم راہی میں اس نے ایک نادیدہ شہر میں سڑکیں ناپنے کے شیریں لطف و نشاط کا انتخاب کیا۔ ریوندِ چینی کے کھیتوں والی سڑک پر ایک چھوٹا سا لڑکا بڑی تیزی سے اس کے پاس سے گزرگیا۔ وہ چوڑی سِلوں سے پٹے راستے پر ننگے، دبے پاؤںایک سیب مضبوطی کے ساتھ گردن سے چپکائے ہوئے تھا جو اس نے کسی خوانچے سے اُچک لیا تھا۔ پارچہ فروشوں کے بازار میں، ایک ذرا اونچے سے دکانچے پر، نرد بازوں کی ایک ٹولی روغنی مشعل کی روشنی میں بیٹھی اپنی بحثا بحثی میں لگی رہی۔ دو پانسے اچھلے، جس کے بعد لعنت ملامت، اور پھر دبی دبی سی ہنسی۔ ریسمان سازوں کے مسقّف راستے پر، ایک خچّر بان ایک فوارے کے پاس آکر رک گیا، ٹھنڈے پانی کو اپنی اوک میں گرنے دیا، پھر جھکا، ہونٹ یوں باہر کو نکلے ہوئے جیسے کسی محوِ خواب بچّے کی پیشانی کو چومنے کو ہوں۔ پیاس بجھا کر اس نے اپنی گیلی ہتھیلیاں چہرے پر پھرائیں اور بڑ بڑا کر خدا کا شکر ادا کیا۔ پھر وہ ایک جوف دار تربوز لے کر آیا، اسے پانی سے بھرا اور اپنے جانور کے پاس لے گیا تاکہ پانی پینے کے لیے اس کی باری بھی آجائے۔
پکے پکائے کھانوں کے بازار کے چوک میں ایک پندرہ سالہ لڑکی نے جو امید سے تھی اور جس کی نقاب الٹی ہوئی تھی خیام کو مخاطب کیا۔ اپنے بھولے بھالے چہرے پر مسکراہٹ لائے یا ایک لفظ کہے بغیر اس نے اس کے ہاتھوں سے چند سِکی ہوئی بادامیں چپکے سے کھسکا دیں جو اس نے ابھی ابھی خریدی تھیں، لیکن سیر کرنے والے کو اس پر تعجب نہیں ہوا۔ سمرقند میں یہ قدیم عقیدہ ہے کہ جب کسی ہونے والی ماں کی کسی من بھاؤنے اجنبی سے سڑک پر مڈ بھیڑ ہوتی ہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس کے کھانے میں شریک ہو تاکہ بچّہ اتنا ہی خوش شکل نکلے، اس کا پہلو کا رخ بھی اتنا ہی نازک اندام ہو، اس کے خط و خال بھی اتنے ہے نجیب اور ہموار ہوں۔
عمر وہیں لٹکا رہا، فخر سے بقیہ بادامیں چباتے ہوئے اس ناشناسا عورت کو دور جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔اچانک کسی آواز نے اسے وہاں سے جلدی کرنے کی تحریک دلائی۔ جلد ہی وہ ایک بے قابو ہجوم کے بیچوں بیچ میں تھا۔ ایک پیرِ فرتوت، جس کے لمبے لمبے استخوانی اعضا تھے، پہلے سے زمین پر چت پڑا ہوا تھا۔ اس کا سر ننگا تھا اور بس اس کی دھوپ سے سنولائی ہوئی چندیا پر گنے چنے سفید بال منتشر تھے۔ طیش اور خوف کی جو چیخیں اس کے منھ سے نکل رہی تھیں ان کی حیثیت ایک لمبی سسکی سے زیادہ نہ تھی اور اس کی آنکھوں نے نووارد کو بڑی عاجزی سے دیکھا۔
اُس بد قسمت کے چاروں طرف بیسیوں باریش بڑے انتقامی انداز میں اپنی جریبیں لہرا رہے تھے، اور کچھ فاصلے پر ایک اور ٹولی بڑے جوش و خروش سے اس منظر کو دیکھ رہی تھی۔ ان میں سے ایک نے خیام کے چہرے پر خوف و ہراس کا تأثر دیکھ کر اسے تسلّی دی، ’’پریشان مت ہو۔ یہ تو بس جابرِ لاغر ہے!‘‘ عمر ٹھٹھکا اور ندامت کی ایک لہر اس کے جسم میں سنسنا گئی۔ ’’جابر، ابو علی کا رفیق!‘‘ وہ بڑبڑایا۔
یوں تو ابو علی ناموں میں کا بے حد عام سا نام تھا، لیکن جب بخارا، قرطبہ، بلخ یا بغداد میں کوئی صاحبِ علم و فضل اسے اتنے مانوس لحاظ اور پاسِ ادب کے لہجے میں ادا کرتا، تو اس کے مشار الیہ کے بارے میں کسی شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہ جاتی۔ یہ ابو علی ابن سینا تھا، جو مغرب میں Avicenna کے نام سے مشہور تھا۔ عمر کی اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی، کیونکہ وہ اس کی پیدائش سے گیارہ سال پہلے ہی راہی ملکِ عدم ہوچکا تھا، تاہم وہ اس کی اپنی نسل کے بلا حجت استادِ گرامی، صاحبِ علم، عَلم بردارِ عقل و منطق ہونے کی حیثیت سے تکریم کرتا تھا۔
خیام پھر بڑبڑایا، ’’جابر، ابو علی کا منظورِ نظر چیلا!‘‘ اگرچہ وہ اسے پہلی ہی بار دیکھ رہا تھا، اسے اس رقّت آمیز اور عبرت انگیز عقوبت کا علم تھا جو اس پر عائد کی گئی تھی۔ ابو سینا نے جلد ہی طب اور مابعد الطبیعیات کے دائروں میں اسے اپنا جانشین تصور کرلیا تھا؛ اس نے اس کی قدرتِ استدلال کو تحسین کی نگاہ سے دیکھا تھا اور صرف اس بات پر اس کی سرزنش کی تھی کہ وہ اپنے نظریات کی تشریح کے انداز میں ذرا زیادہ ہی خود بیں اور بد لحاظ واقع ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں جابر کو کئی بار حوالات کی سیر کرنی پڑی تھی اور تین بار عوام الناس کی زدو و کوب کا نشانہ بھی بننا پڑا تھا، جس میں کی آخری سمرقند کے بڑے چوک میں واقع ہوئی جہاں اسے اپنے اہلِ خانہ کے سامنے ڈیڑھ سو کوڑے لگائے گئے۔ اس شرمساری سے وہ کبھی جانبر نہ ہوسکا۔ وہ ٹھیک کس لمحے کنارے سے لڑھک کر پاگل پن کی حدمیں جا گرا تھا؟ بیشک اپنی بیوی کی وفات پر۔ اسے اِدھر اُدھر چیتھڑوں میں ڈگمگاتے دیکھا جاسکتا تھا، چیختے چلاتے ہوئے، بے ادبی سے اول فول بکتے ہوئے ۔ بچوں کے غول اس کا پیچھا کرتے چلے آتے، تالیاں بجاتے اور اس پر سنگ برساتے، حتیٰ کہ اس کی آنکھیں آنسوؤں سے تر ہوجاتیں۔
اس منظر کو دیکھتے ہوئے عمر یہ سوچے بغیر نہ رہ سکا، ’’اگر میں نے احتیاط سے کام نہیں لیا، تو میرا بھی یہی حشر ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ بات نہیں تھی کہ اسے مدہوشی کا خوف تھا، کیونکہ وہ اور شراب ایک دوسرے کا پاس رکھنا سیکھ چکے تھے، اور ایک، دوسرے کو کبھی بھی سبک سر کرنے والا نہیں تھا۔ اسے خوف تھا تو اس بات کا کہ کہیں مجمع اس کے ناموس کی دیوار کو نہ ڈھا دے۔ اس آبرو باختہ آدمی کی حالت نے اسے کچھ زیادہ ہی ہراساں کردیا اور اسے اس سے گریز کی خواہش محسوس ہوئی۔ اس کے باوجود اسے یہ احساس بھی تھا کہ وہ ابن سینا کے رفیق کو یوں مجمعے کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جا بھی نہیں سکتا۔ اس نے تین با وقار قدم اٹھائے، غیر جانبدارانہ انداز اختیار کیا اور شاہانہ اشارے کے ساتھ مستحکم آواز میں کہا۔
’’اس غریب کی جان چھوڑو۔‘‘
ٹولی کا سرغنہ جو جابر پر جھکا ہوا تھا، دخل اندازی کرنے والے کے پاس آیا اور سینہ تان کر کھڑا ہوگیا۔ اس کی داڑھی کے سر تا سر، دائیں کان سے لے کر ٹھوڑی کی نوک تک، ایک گہرے زخم کا نشان پڑا تھا، اور یہ شکن آلود نیم رخ تھا جو اس نے عمر کے آگے بڑھاتے ہوئے فیصلہ کن انداز میں کہا، ’’یہ آدمی شرابی ہے، ایک کافر،‘‘ پھر آخری لفظ کسی کوسنے کی طرح سسیاتے ہوئے ادا کیا، ’’ایک فیلَسوف!‘‘
’’سمرقند میں ہمیںفیلَسوف نہیں چاہئیں!‘‘
بھیڑ سے تائید کی بڑبڑاہٹ ابھری۔ ان لوگوں کے نزدیک ’’فلسفی‘‘ کی اصطلاح ہر اس چیز پر دلالت کرتی تھی جو یونانی ملحدانہ علوم سے قریبی تعلق رکھتی ہو، اور اس سے بھی زیادہ ہر وہ چیز جو نہ دین ہو نہ ادب۔ اپنی کم عمری کے باوجود خیام پہلے ہی سے ایک نامی گرامی فیلَسوف تھا اور یوں دیکھا جائے تو بے چارے جابر کے مقابلے میں کہیں زیادہ شکار کے قابل۔
زخم رسیدہ آدمی نے یقیناً اسے نہیں پہچانا تھا، کیونکہ وہ دوبارہ جابر کی طرف متوجہ ہو گیا جس کی زبان ہنوز گنگ تھی۔ اس نے اسے بالوں سے پکڑ لیا، سر کو تین چار جھٹکے دیے یوں جیسے کسی قریبی دیوار سے مارکر پاش پاش کردینے کو ہو، لیکن پھر اچانک اسے چھوڑ دیا۔ اگرچہ سفّاک، یہ پھر بھی خود پر قابو رکھنے کی ایک وضع تھی، جیسے کہ یہ شخص اپنے عزم کا مظاہرہ کرنے کے باوجود ارتکابِ قتل سے ہچکچارہا ہو۔ خیام نے دوبارہ مداخلت کے لیے اس لمحے کا انتخاب کیا۔
’’اس بڈھے کی جان چھوڑو۔ یہ رنڈوا ہے۔ بیمار ہے—ایک دیوانہ۔ نہیں دیکھ رہے کہ یہ اپنے لبوں کو جنبش تک دینے سے عاجز ہے۔‘‘
ٹولی کا سرغنہ اچھل کر خیام کی طرف آیا، اور اس کی داڑھی میں انگلی گھسیڑ دی۔
’’لگتا ہے تم اسے خوب جانتے ہو! ہاں تو جناب کی ذاتِ شریف؟ تم سمرقند کے تو نہیں! اس شہر میں تمھیں کسی نے کبھی نہیں دیکھا!‘‘
عمر نے حقارت کے ساتھ اس کا ہاتھ اپنے سے جھٹک دیالیکن اب اتنی بے لختگی سے بھی نہیں کہ جس سے اسے لڑنے کا بہانہ مل جائے۔ آدمی ایک قدم پیچھے ہٹاپھر بھی اَڑا رہا، ’’تمھارا کیا نام ہے، اجنبی؟‘‘
خیام نے خود کو انھیں سپرد کرنے میں تأمل کیا۔ اس نے بچ نکلنے کی کوئی ترکیب سوچی۔ اس نے آنکھیں آسمان کی طرف اٹھائیں جہاں ہلکے سے بادل نے ابھی ابھی ماہِ ہلال کو ڈھانپ لیا تھا۔ وہ خاموش رہا، پھر ایک گہری سانس لی۔ اس نے خود کو غور و فکر میں غرق کرنے کی تمنا کی، اختر شماری کرنے کی، کہیں دور ہونے کی، بھیڑ بھاڑ سے محفوظ و مامون رہنے کی!
ٹولی نے اسے چاروں طرف سے گھیر لیا تھا اور کچھ ہاتھ اس کے جسم سے چُھلنے بھی لگے تھے۔ وہ واپس اپنی دنیا میں آگیا۔
’’میں عمر ہوں، نیشاپور کے ابراہیم کا بیٹا۔ اور تم کون ہو؟‘‘
سوال محض ایک رسم نبھانے کو کیا گیا تھا۔ اس آدمی کی خود کو متعارف کرانے کی کوئی نیّت نہیں تھی۔ وہ اپنے موطن میں تھا اور سوال وہی کر رہا تھا۔ بعد میں جاکر عمر کو اس کا نام معلوم ہونے والا تھا۔ یہ ایک طالب علم تھا اور ’’زخمی چہرہ‘‘ کے لقب سے مشہور تھا۔ ہاتھوں میں لاٹھی اور لبوں پر ایک قول لیے وہ جلد ہی پورے سمرقند میں خوف و ہراس کی تھراہٹ دوڑانے والا تھا لیکن فی الوقت اس کی دھاک کا دائرہ اپنے ارد گرد پھیلے نوجوانوں سے آگے نہیں بڑھا تھا جو اس کے ہر لفظ اور ہر اشارے پر آمنّا و صدقّنا کہتے تھے۔
یک بارگی اس کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ وہ اپنے چیلوں کی طرف لوٹا، اور پھر فتح مندی سے مجمعے کی طرف رخ کر کے چلایا، ’’یااﷲ، میں کیوں عمرابن ابراہیم خیام نیشاپوری کو پہچاننے سے عاجز رہا؟ عمر، ستارۂ خراسان، نابغۂ فارس وعراق،امیرِ فلاسِفہ!‘‘
جب وہ خوب جھک کر کورنش بجا لانے کی نقّالی کر رہا تھا، تو اس نے اپنی دستار کے دونوں جانب اپنی انگلیاں پھڑپھڑائیں اور ناظرین کو بے تحاشہ قہقہہ لگوانے میں کامیاب ہوگیا، ’’میں کیوں کر اس شخص کو پہچاننے میں ناکام رہا جس نے اتنی متقیانہ اور عبادت گزار رباعی کہی ہے:
ابریقِ مئے مرا شکستی ربّی
برمن درِ عیش را بہ بستی ربّی
برخاک فگندی مئے گلگونِ مرا
خاکم بدہن، مگر تو مستی ربّی
عمر نے یہ سخت برہمی سے سنا اور فکرمند ہوا۔ یہ اشتعال انگیزی اسی جگہ قتل کا بہانہ بن سکتی ہے۔ بغیر ایک لمحہ ضائع کیے، اس نے بڑی بلند اور واضح آواز میں جواب دیا تاکہ کوئی اُس شخص کے جھانسے میں نہ آ جائے۔ ’’ میں اس رباعی کو نہیں پہچانتا۔ حقیقیت میں پہلی بار اسے سن رہا ہوں۔ لیکن یہ رہی ایک رباعی جو میں نے خود کہی ہے:
نہ کچھ جانیں، نہ جاننا چاہیں
تہی از علم یہ جو دنیا پہ حکمرانی کریں
ان میں سے نہیں، تو کافر کہلاؤ
نظر انداز کرو، خیام، اپنی راہ لگو
’’تہی از علم‘‘ کہتے وقت عمر کو واقعی اپنے حریفوں کی طرف استہزا سے اشارہ نہیں کرنا چاہیے تھا۔ ہاتھ اس کی طرف اٹھے، اس کی عبا کو کھسوٹا، جو پھٹنے لگی۔ وہ ڈگمگا گیا، اس کی کمر کسی کے گھٹنے سے ٹکرائی اور وہ سنگِ سڑک پر جا پڑا۔ جب وہ اس غولِ بیابانی کے نیچے کچلا پڑا تھا، اس نے نبرد آزما ہوکر گلو خلاصی مناسب خیال نہیں کی بلکہ چارو نا چار اپنے لباس کو جسم سے پھٹ جانے دیا، اعضا سے چندی چندی ہو جانے دیا، اور اب تو اس نے اپنے کو اس مفلوج کیفیت کے سپرد کردیا تھا جو کسی قربانی کے جانور کی ہوتی ہے۔ اسے کچھ بھی محسوس نہیں ہورہا تھا، کچھ بھی سنائی نہیں دے رہا تھا۔ وہ اپنے میں سمٹا سمٹایا پڑا تھا، اور برہنہ۔
یہاں تک کہ اس نے ان دس مسلّح آدمیوں کو جو اس قربانی کے مجمعے کو منتشر کرنے آئے تھے داخل اندازی کرنے والوں میںہی گردانا۔ یہ سمرقند کے بلدی فوجی رضاکار(ملیشیا)تھے جن کی نمدے کی ٹوپیوں پر ’’احداث‘‘کا شناختی نشان جَڑا ہوا تھا۔ اِنھیں دیکھتے ہی خیام پر حملہ کرنے والے پیچھے ہٹنے لگے، ساتھ ساتھ اپنے طرزِ عمل کو برحق دکھانے کی خاطر یہ بھی چلانے لگے ’’کیمیا گر! کیمیا گر!‘‘ ، اور ہجوم سے اس کی شہادت چاہی۔
اربابِ اقتدار کی نگاہ میں فلسفی ہونا کوئی جرم نہیں تھا، لیکن کیمیا گری کی عملیات کا مطلب موت نکل سکتا تھا۔
خیر، پہرے کا سربراہ بحثا بحثی میں نہیں پڑنا چاہتا تھا۔
’’اگر یہ شخص واقعی کیمیا گر ہے،‘‘ اس نے فیصلہ صادر کیا، ’’تو ضروری ہے کہ اسے قاضی القضاۃ ابو طاہر کے پاس لے جایا جائے۔‘‘
جب جابرِ لاغر، جسے اس درمیان میں سب بھول بھال گئے تھے، قریب ترین میخانے کی طرف رینگنے لگا، اور بتدریج اندر داخل ہوا، اس عزم کے ساتھ کہ اب ہرگز کبھی باہر نہیں نکلے گا، عمر کسی کی مدد کے بغیر خود ہی لشٹم پشٹم کھڑا ہوگیا۔ وہ ناک کی سیدھ میں چلنے لگا، عالمِ سکوت میں۔ اس کے تار تار لباس اور اس کے خون آلود چہرے کو اس کے انداز کی برتری نے کسی حجاب کی طرح ڈھانپا ہوا تھا۔ اس کے آگے آگے فوجی رضاکار مشعلیں اُٹھائے چل رہے تھے۔ دنبالے میں اس کے حملہ آور چلے آرہے تھے، اور ان کے عقب میں منھ پھاڑ کر دیکھنے والوں کا ایک گروہ۔
عمر کو نہ وہ نظر آئے نہ سنائی دیے۔ جہاں تک اس کا تعلق تھا، راستے ویران پڑے تھے، ملک خاموش تھا، آسمان بے ابر، اور سمرقند ہنوز خوابوں کی وہ سرزمین تھاجسے اس نے چند سال پہلے دریافت کیا تھا۔
وہ یہاں تین ہفتوں کا سفر کرکے پہنچا تھا اورتھوڑا سا بھی آرام کیے بغیر گزرے وقتوں کے سیّاحوں کے مشورے پر عمل کرنے کا فیصلہ کر ڈالا تھا۔ قہندرز کے مرتفع پر جاؤ، انھوں نے صلاح دی تھی۔ اطرف و اکناف پر خوب اچھی نظر ڈالو اور تمھیں پانی اور سبزہ دکھائی دے گا، پھولوں کے قطعے، سرو جنھیں فنّان مالیوں نے بیلوں، فیلوں، جفا کش شتروں، یا جنگ آمدہ پلنگوں کے قالب میں تراشا ہوگاجو بالکل چھلانگ مارتے ہوئے لگتے ہوں ۔ بیشک، اندرونِ فصیل، خانقاہ کے پھاٹک سے، مغرب اور بابِ صین تک، عمر نے کبھی اتنے گھنے باغات اور شفاف چشمے نہیں دیکھے تھے۔ پھر، جہاں تہاں، ایک مینارۂ خشت بلند ہورہا تھا، اپنے گنبد کے ساتھ جسے سایے نے تراشا تھا، کسی سیر بین مہتابی کی دیوار کی سفیدی اور، ایک جھیل کے کنارے، جو اپنے بیدِ مجنوں کے سایوں میں جانے کن سوچوں میں غلطاں تھی، ایک ننگی پیراک جھلستی ہوئی ہوا میں اپنے بال پھیلائے ہوئے تھی۔
کیا یہ بہشت کا وہی منظر تو نہیں تھا جس کی، بہت بعد میں، ’’رباعیات‘‘ کے قلمی نسخے کو مصوّر کرنے کی کوشش کے وقت وہ گم نام مصور یادآوری کرانا چاہتا تھا؟ کیا یہ سب وہی نہیں تھا جو اس وقت اس کے ذہن میں گھوم رہاتھا، اس وقت جب اسے اسفزار کے علاقے لے جایا جا رہا تھا جہاں سمرقند کے قاضی القضاۃ ابو طاہر کی اقامت گاہ تھی؟ وہ بار بار اپنے سے یہی دہرا رہا تھا، ’’میں اس شہر سے نفرت نہیں کروں گا۔ چاہے میری وہ پیراک دوشیزہ ایک سراب ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے حقیقت سرد مہر اور زشت ہی کیوں نہ ہو۔ چاہے یہ سرد رات میری آخری رات ہی کیوں نہ ہو۔‘‘

 

باب ٢

قاضی کے طویل و عریض دیوان میں دور کے شمع دان خیام پر ایک عاج رنگ کی چھوٹ ڈال رہے تھے۔ ابھی وہ داخل ہوہی رہا تھا کہ دو ادھیڑ عمر کے پہرے داروں نے اسے کندھوں سے یوں جکڑ لیا جیسے وہ کوئی خونخوار پاگل ہو—اور اس حالت میں اسے دروازے کے پاس انتظار کرنا پڑا۔
قاضی جو کمرے کے دوسرے سرے پر بیٹھا ہوا تھا اس کی طرف متوجہ نہیں ہوا۔ وہ کسی قضیے پر حکم سنا رہا تھا، مدعیان سے محوِ مناقشہ تھا، ایک سے استدلال اور دوسرے کی سرزنش۔ قرینے سے یہ دو ہمسایوں کے مابین کوئی پرانا جھگڑا لگ رہا تھا، فرسودہ و دیرینہ شکوے شکایات اور کٹ حجتی سے متعلق۔ ابو طاہر نے بڑے اعلانیہ طور پر اپنی بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے کارروائی لپیٹ دی، دونوں خاندانوں کے سربراہوں کو گلے لگنے کا حکم دیا، وہیں ابھی ابھی اس کے سامنے، یوں جیسے وہ کبھی ایک دوسرے سے نہ جھگڑے ہوں۔ ان میں سے ایک نے قدم آگے بڑھایا لیکن دوسرے نے، جو ایک تنگ پیشانی والا لحیم شحیم آدمی تھا،مزاحمت کی۔ قاضی نے اس کے منھ پر زور کا تھپڑ مارا جس کے باعث حاضرین کانپنے لگے۔ لحیم شحیم نے اس گول مٹول، برہم، چلبلے آدمی پر ایک فوری نظر ڈالی جو اس تک پہنچنے کے لیے خود کو اوپر اٹھا رہا تھا، پھر اپنا چہرہ نیچے کیا، اپنے رخسار پر ہاتھ پھیرا اور حکم بجا لایا۔
اس جماعت کو رخصت کر کے ابو طالب نے اپنے رضاکاروں کو قریب آنے کا اشارہ کیا۔ انھوں نے جلدی جلدی اپنی روداد پیش کی اور سوالوں کا جواب دیا، اور بتانا پڑا کہ انھوں نے اتنے بڑے مجمعے کو سڑک پر جمع ہونے ہی کیوں دیا۔ پھر زخمی چہرہ کی باری آئی کہ اپنا بیان دے۔ وہ قاضی کی طرف جھکا جو لگتا تھا جیسے ایک زمانے سے اس سے واقف ہو، اور بڑی جوشیلی خود کلامی شروع کردی۔ ابو طاہر اپنے احساسات ظاہر کیے بغیر بڑے غور سے سنتا رہا۔ پھر، کچھ دیر غور کرنے کے بعد، حکم دیا، ’’مجمعے سے منتشر ہوجانے کے لیے کہو۔ ہر آدمی سے کہو کہ کوتاہ ترین راہ سے گھر واپس جائے اور،‘‘ حملہ آوروں سے مخاطب ہو کر، ’’تم سب بھی گھر واپس جاؤ۔ کل سے پہلے کوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ مدعا علیہ رات یہیں ٹھہرے گا اور صرف میرے آدمی، کوئی دوسرا نہیں، اس کی رکھوالی کریں گے۔‘‘
اس پر متعجب کہ اسے یوں چٹ پٹ رفو چکر ہوجانے کے لیے کہا جارہا تھا، زخمی چہرہ نے مِن منا کر احتجاج کرنا چاہا لیکن پھر اصرار نہ کرنے ہی میں بہتری سمجھی۔ دانائی کے ساتھ اس نے اپنے لبادے کا پلّو سمیٹا اور احتراماً کمر جھکا کر الٹے قدم پلٹ گیا۔
جب ابو طاہر عمر کے ساتھ تنہا رہ گیا، شاہدین میں اس کے محرم و معتمد ہی باقی بچ رہے، تو اس نے خوش آمدید کا ایک پراسرا فقرہ ادا کیا، ’’مشہور و معروف عمر خیامِ نیشاپوری کا خیر مقدم کرنا میرے لے باعثِ صد احترام ہے۔‘‘
اس کے فقرے سے کسی بھی جذبے کے شائبے کی غمازی بھی نہیں ہورہی تھی۔ اس میں نہ طنز کی چبھن تھی نہ کوئی گرم جوشی۔ اس کا لہجہ بالکل غیر جانبدارانہ تھا اور آواز سپاٹ۔ وہ ایک لالہ شکل دستار پہنے ہوئے تھا، بھویں گنجان تھیں اور بے مونچھوں کی سفید داڑھی تھی، اور وہ خیام کو طویل، برماتی نظر سے دیکھ رہا تھا۔
سب سے زیادہ الجھن میں ڈالنے والی بات تو خیر مقدم تھا کیونکہ عمر وہاں ان چیتھڑوں میں کوئی گھنٹہ بھر سے کھڑا تھا، کہ سب دیکھ سکیں اور اس پر خندہ زن ہوسکیں۔
خاموشی کے کئی بڑی مہارت سے حساب لگائے ہوئے لمحوں کے بعد ابو طاہر نے یہ اضافہ کیا، ’’عمر، تم سمرقند میںناآشنا نہیں ہو۔ کم عمری کے باوجود، تمھارے علم وفضل کے پہلے ہی یہاں چرچے ہیں، اور مدرسوں میں تمھارے گُن گائے جاتے ہیں۔ کیا یہ سچ نہیں کے تم نے اصفہان میں ابن سینا کا ایک ادق رسالہ سات بار پڑھا، اور نیشاپور لوٹنے پر حرف بہ حرف حافظے سے دہرادیا؟‘‘
خیام کو یہ بات بے حد باعثِ تسکینِ نفس معلوم ہوئی کہ وہ مستند کارنامہ لوگوں کوماوراء النہر (طبرستان) معلوم تھا، لیکن اس کی فکروں میں ہنوز کوئی کمی نہیں ہوئی۔ شافعی مذہب کے قاضی کے منھ سے ابن سینا کا حوالہ کوئی بہت قابلِ اطمینان بات نہیں تھی، پھر یہ بھی کہ ہنوز ا سے بیٹھنے کی دعوت نہیں دی گئی تھی۔ ابو طاہر نے کلام جاری رکھا ’’یہ صرف تمھارے کارنامے ہی نہیں جو زبان زدِ خاص و عام ہیںبلکہ چند عجیب و غریب رباعیاں بھی تم سے منسوب کی جارہی ہیں۔‘‘
فقرہ کسی جذبے سے عاری تھا۔ وہ اس پر تہمت نہیں دھر رہا تھا، لیکن وہ اسے بری الذمہ بھی قرار نہیں دے رہا تھا—وہ تو صرف و محض اس سے کنایتاً ایک سوال کر رہا تھا۔ عمر نے اپنی خاموشی کو توڑنے کی کوشش کی۔ ’’وہ رباعی جو زخمی چہرہ سنا رہا تھا میری رباعیوں میں سے نہیں۔‘‘
قاضی نے اس احتجاج کو بے صبری سے رد کردیا، اور پہلی بار اس کے لہجے میں سختی آگئی۔ ’’اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کے تم نے یہ بیت کہا ہے یا وہ بیت۔ مجھے اتنے فحش شعروں کی خبر ملی ہے کہ میں انھیں سن کر خود کو اتنا ہی مجرم گردانوں گا جتنا وہ شخص جس نے انھیں شائع کیا ہے۔ میں تم پر کوئی سزا لاگو کرنے کی کوشش نہیں کر رہا ہوں۔ لیکن یہ کیمیا گری کے اتہامات، تو انھیں ایک کان میں ڈال کر دوسرے کان سے باہر نہیں نکالا جا سکتا۔ ہم اس وقت تنہا ہیں۔ ہم دو اصحابِ فضیلت ہیں اور میں صرف سچ کا طلب گار ہوں۔‘‘
عمر کو اس سے بالکل بھی تسلّی نہیں ہوئی۔ اسے ایک دام کا احساس ہوا اور اس نے جواب دینے میں تأمل کیا۔ وہ اپنے کو بہ خوبی دیکھ سکتا تھا کہ جلّاد کے سپرد کیا جا رہا ہے، تاکہ ہاتھ پاؤں بریدہ کردیے جائیں، آختہ کردیا جائے یا سولی چڑھا دیا جائے۔ ابو طاہر نے آواز بلند کی اور تقریباً چلا کر کہا، ’’عمر، ولد ابراہیم، خیمہ سازِ نیشاپور، کیا تم ایک دوست کو پہچاننے سے عاجز ہو؟‘‘
اس کے لہجے کے خلوص نے خیام کے اوسان خطا کردیے۔ ’’ایک دوست کو پہچاننے سے؟‘‘ اس نے موضوع پر خوب غور و خوض کیا، قاضی کے چہرے کا گہرا مشاہدہ کیا، اس انداز پر متوجہ ہوا جس میں وہ دانت باہر کیے ہنس رہا تھا اور اس کی داڑھی مرتعش تھی۔ آہستہ آہستہ اس نے اپنے کو قائل ہوجانے دیا۔ اس کے چہرے کا تناؤ ڈھیلا پڑ گیا۔ اس نے خود کو پہرے داروں کی گرفت سے آزاد کیا جنھوں نے، قاضی کا اشارہ پاکر، اسے باز رکھنے کی کوشش نہیں کی۔ پھر بغیر دعوت دیے وہ بیٹھ گیا۔ قاضی دوستانہ انداز میں مسکرایا لیکن کسی تاخیر کے بغیر پھر جرح شروع کردی۔ ’’کیا تم وہ کافر ہو جس کا بعض لوگ تمھارے باب میں دعویٰ کرتے ہیں؟‘‘
یہ سوال سے زیادہ ہی کچھ تھا۔ یہ ابتلا کی وہ پکار تھی جسے عمر نظر انداز نہیں کر سکا۔ ’’مجھے پارساؤں کے جوش و خروش سے نفرت ہے، لیکن میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ’ایک،‘ دو ہے۔‘‘
’’کیا کبھی ایسا سوچا ہے؟‘‘
’’کبھی نہیں، اور خدا میرا شاہد ہے۔‘‘
’’جہاں تک میرا تعلق ہے، یہ میرے لیے کافی ہے، اور میرا خیال ہے کہ خالق کے لیے بھی۔ لیکن عوام الناس کے لیے بھلا کہاں۔ وہ تمھارے الفاظ پر نظر رکھتے ہیں، تمھاری ادنیٰ ترین حرکات پر—خود میرے افعال و حرکات پر بھی، امراکے الفاظ اور اشاروں تک پر۔ تم یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہو، ’میں کبھی کبھی ایسی مسجدوں میں جاتا ہوں جہاں جھپکی لینے کے لیے چھاؤں اچھی ہوتی ہے۔‘ ‘‘
’’عبادت گاہ میں صرف وہی آدمی سو سکتا ہے جو اپنے خالق سے راضی خوشی ہو۔‘‘
قاضی کی خشم گینی اور اس میں بھرے شک کے باوجود عمر جوش میں آگیا اور اپنا بیان جاری رکھا، ’’میں ان میں سے نہیں جن کے لیے دین محض یوم الحساب کا خوف ہے۔ میری عبادت کا کیا ڈھنگ ہے؟ میں ایک گلاب کا بہ نظرِ غائر مشاہدہ کرتا ہوں، میں اختر شماری کرتا ہوں، میں کائنات کے حسن پر تعجب کرتا ہوں اور اس پر کہ یہ کس قدر منظم ہے، انسان پر، جو خالق کی حسین ترین صنعت ہے، انسان کے دماغ پرجو علم کا پیاسا ہے، اس کے دل پر جو محبت کا بھوکا ہے، اس کے حواس پر، چاہے یہ بیدار ہوںیا آسودہ ۔‘‘
فکرمند آنکھوںکے ساتھ قاضی اٹھا اور آکر خیام کے برابر بیٹھ گیا، پھر پدرانہ شفقت سے ہاتھ اس کے کندھے پر رکھ دیا۔ محافظوں نے ایک دوسرے کی طرف گم سُم نگاہوں سے دیکھا۔
’’میرے نوجوان رفیق، سنو۔ قادرِ مطلق نے تمھیں ان نایاب چیزوں سے نوازا ہے جو کسی ابنِ آدم کو میسّر ہوں—ذہانت، قادر الکلامی، صحت، وجاہت، طلبِ علم اور حرصِ حیات، مردوں کی ستائش اور، میں سمجھتا ہوں، عورتوں کی آرزومند آہیں۔ مجھے امید ہے کہ اُس نے خاموشی کی دانائی سے بھی تمھیںمحروم نہیں رکھا ہوگا، جس کے بغیر، سابق الذکر میں سے کسی کی بھی قدر دانی ہوسکتی ہے نہ اسے قائم رکھا جاسکتا ہے۔‘‘
’’تو کیا جو میں سوچتا ہوں اس کے اظہار کے لیے اپنے پیرِ فرتوت ہو جانے کا انتظار کروں؟‘‘
’’قبل اس کے کہ وہ سب جو تم سوچتے ہو اس کا اظہار کرسکو، تمھارے بچوں کے بچوں کے بچے بوڑھے ہو چکے ہوں گے۔ ہم رازوں اور خوف کے عہد میں زندگی کر رہے ہیں۔ تمھارے لیے ضروری ہے کہ تمھارے دو چہرے ہوں۔ ایک کا رخ عوام الناس کی طرف کرو، دوسرے کو اپنے اور اپنے خالق کے لیے رکھو۔ اگر تم اپنی آنکھوں، کانوں اورزبان کی سلامتی چاہتے ہو تو بھول جاؤ کہ تم ان کے مالک ہو۔‘‘
قاضی اچانک خاموش ہوگیا، لیکن اس لیے نہیں کہ عمر کو بولنے دے، بلکہ اپنی تنبیہ کو زیادہ مؤثر بنانے کے لیے۔ عمر نے اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور منتظر رہا کہ دیکھیں قاضی اور کیا کیا خیالات اپنے سر سے برآمد کرتا ہے۔
اس کے بر خلاف ابو طاہر نے ایک گہری سانس لی اور اپنے آدمیوں کو بڑی کراری آواز میں رخصت ہونے کا حکم دیا۔ جوں ہی انھوں نے اپنے پیچھے دروازہ بند کیا، وہ دیوان کے کونے کی طرف آیا، مشجّر کپڑے (ٹیپسٹری) کا ایک حصہ اوپر اٹھایا اور دمشقی نقاشی کا ایک ڈبا کھولا۔ اس نے ایک کتاب نکال کر عمر کو ایسے رسمی تپاک سے پیش کی جسے پدرانہ تبسم نے گداز کردیا تھا۔
تو یہ کتاب بالکل وہی تھی جسے میں، بنجامن او۔ لیسیج، ایک دن خود اپنے ہاتھوں میں لینے والا تھا۔ میرا خیال ہے اپنے ناہموارودبیز چرم سمیت— جس کے نقوش کسی طاؤس کی دم جیسے لگ رہے تھے —اور اپنے اوراق کے ساتھ —جن کے کنارے ناہموار اور خستہ تھے —اس کا لمس بالکل ویسا ہی رہا ہوگا۔ جب خیام نے گرما کی اُس ناقابلِ فراموش شب کو اسے کھولا ہوگاتو اسے صرف دو سو چھپن کورے صفحے ہی نظر آئے ہوں گے جو ابھی اشعار، تصاویر، حاشیاتی تفاسیر یا طلا کاری سے پُر نہیں ہوئے تھے۔
اپنے جذبات کو مخفی رکھنے کی خاطر ابوطاہر کسی فروش کار کے لہجے میں بولا۔
’’چینی کاغذ کی ہے، نفیس ترین کاغذ جو سمرقند کی کارگاہوں میں کبھی تیار ہوا ہو۔ ماترید علاقے کے ایک یہودی نے اس اسے ایک قدیم نسخے کے مطابق فرمائشی بنایا ہے۔ یہ کل کا کل توت سے بنا ہے۔ ذرا چھو کر تو دیکھو۔ اس میں وہی صفات ہیں جو ریشم میں ہوتی ہیں۔‘‘
کلام جاری رکھنے سے پہلے اس نے کھانس کر گلا صاف کیا۔
’’میرا ایک بھائی ہوا کرتا تھا، مجھے سے دس سال بڑا۔ جب وہ تمھاری سی عمر کا تھا، اس کی وفات ہوگئی۔ اسے ایک نظم کہنے پر ،جس سے حکمرانِ وقت ناراض ہوگیا تھا، بلخ جلاوطن کردیا گیا تھا۔ اس پر بد عقیدگی بھڑکانے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ یہ بات درست تھی یا نہیں، یہ مجھے نہیں معلوم، لیکن میں ضرور آزردہ ہوں کہ اس نے محض ایک نظم کے پیچھے اپنی جان گنوادی، ایک بد بخت نظم جو بہ مشکل ایک دوبیتی جتنی دراز ہوگی۔‘‘
اس کی آواز لرزنے لگی، اور وہ بے دم بولے گیا۔
’’اس کتاب کو اپنے پاس رکھو۔ جب کبھی کوئی شعر تمھارے دماغ میں متشکل ہونے لگے، یا تمھاری نوکِ زبان تک آجائے، اسے روکے رکھو۔ ان اوراق پر اسے نقل کرلو، اور جب نقل کر رہے ہو، ابو طاہر کو یاد کرلینا۔‘‘
کیا قاضی کو معلوم تھا کہ اس اشارے اور ان الفاظ کے ساتھ وہ تاریخِ ادب میں ایک سب سے زیادہ مخفی راز کو جنم دے رہا ہے، کہ عمر خیام کی پرشکوہ شاعری کو دریافت کرنے کے لیے عالم کو پوری آٹھ صدیاں انتظار کرنا ہوگا، کہ ’’رباعیات‘‘ کی دنیا کے سب سے زیادہ طبعزاد کارناموں میں سے ایک ہونے کی حیثیت سے تکریم ہوگی، اس سے بھی پہلے کہ سمرقندی مخطوطے کی عجیب قسمت کا حال دریافت ہو؟
باب ٣

اس رات عمر نے ایک منظرے میں، جو ابو طاہر کے بڑے کشادہ باغ کے وسط میں ٹیلے پر تعمیر کیا گیاایک چوبی مقصورہ تھا، کچھ سو لینے کی بے سود کوشش کی۔ اس کے قریب ہی ایک پستہ سی میز پر پَر کا قلم اور دوات پڑی تھی، ایک چراغ جسے ابھی روشن نہیں کیا گیا تھا، اور اس کی کتاب—پہلے صفحے پر کھلی ہوئی جو ابھی تک کورا تھا۔
صبحِ کاذب کے دھندلکے میں ایک سایہ سا تیر گیا۔ ایک خوب صورت کنیز رکابی میں خربوزے کی قاشیں اس کے لیے لائی، لباس کا ایک نیا جوڑا اور اس کی دستار کے لیے زَندان کے ریشم کا گھماؤ پارچہ۔ اس نے سرگوشی میں ایک پیغام دیا۔
’’آقا نمازِ فجر کے بعد آپ کا انتظار کریں گے۔‘‘
کمراپہلے ہی سے مدّعیوں،حاجت مندوں، درباریوں، رفقا اور بھانت بھانت کے ملاقاتیوں سے بھرا تھا۔ ان میں زخمی چہرہ بھی شامل تھاجو یقیناً سن گن لینے وہاں پہنچا تھا۔ عمرکے دروازے سے داخل ہوتے ہی قاضی کی آواز نے ہر کس کی نظر اور تبصرے کا رخ اس کی جانب موڑ دیا۔
’’امام عمر خیام کو خوش آمدید، جس کا حدیثِ نبوی کے علم میں کوئی ہم سر نہیں، ایک مرجع جس میں کسی کو کلام نہیں، ایک آواز جس کی کوئی تردید نہیں ہو سکتی۔‘‘
حاضرین یکے بعد دیگرے کھڑے ہوگئے، تکریم سے جھکے اور پھر بیٹھنے سے پہلے دبی زبان سے کوئی فقرہ ادا کیا۔ عمر نے اپنی آنکھ کے گوشے سے زخمی چہرہ کا جائزہ لیا جو اپنے کونے میں بھیگی بلّی بنا بیٹھا تھا، اس کے باوجود اس کا چہرہ خفیف سا شکن آلود بھی تھا۔
ابو طاہر نے بے حد رسمی انداز میں عمر کو اپنی دائیں طرف آبیٹھنے کی دعوت دی، اور اپنے پاس جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے انھیں بڑے ظاہری طور پر وہاں سے رخصت کیا۔ اس کے بعد اس نے سلسلۂ کلام جاری رکھا، ’’ہمارے بلند مرتبت مہمان کو کل شام ایک حادثہ پیش آیا۔ یہ آدمی جس کی خراسان، فارس اور مازندران میں عزّت ہوتی ہے، جس کی پذیرائی کا خواہش مند ہر شہر ہے اور جسے ہر امیر اپنے دربار سے وابستہ کرنے کا حریص ، تو اس آدمی پر کل سمرقند کی سڑکوں پر دست اندازی کی گئی۔‘‘
لوگوں نے اس پر دم بہ خود رہ جانے کا اظہار کیا، اس کے بعد افرا تفری سی مچ گئی جسے قاضی نے کسی قدر فزوں ہونے دیا اور پھر کہیں جاکر اسے تھمنے کا اشارہ کیا، اور کلام جاری رکھا۔
’’اس سے بد تر یہ کہ بازار میں تقریباً بَلوا ہوگیا۔ بَلوا اور وہ بھی ہمارے باعثِ تکریم حکمراں، نصر خان، شمس الملک، کی آمد سے ایک دن پہلے، جو انشاء اﷲ! ٹھیک آج صبح ہی بخارا سے آنے والا ہے۔ اگر ہجوم بر قابو پاکر اسے منتشر نہ کردیا گیا ہوتا تو میں تصوّر بھی نہیں کر سکتا کہ آج ہم کس مصیبت سے دوچار ہوتے۔ میں آپ کو خبردار کرتا ہوں کہ کوئی سر اپنے کندھوں پر مطمئن نہ ہوتا!‘‘
اس نے سانس لینے کے لیے توقّف کیا، اور اس لیے بھی کہ بات لوگوں کے دلوں میں اتر جائے، خوف حاضرین کے دلوں میں اپنا کام کر سکے۔
’’خوش قسمتی سے میرے ایک پرانے تلمیذ نے، جو اس وقت یہاں موجود ہے، عالی مرتبت مہمان کو پہچان لیا اور مجھے آ کر خبر کر دی۔‘‘
اس نے زخمی چہرہ کی طرف انگلی سے اشارہ کیا اور اسے کھڑے ہونے کی دعوت دی۔
’’تم نے امام عمر کو کیسے پہچان لیا؟‘‘
اس نے چند لفظ جواب میں بڑبڑا دیے۔
’’ذرا زور سے بولو! یہ ہمارے عمر رسیدہ عمّ تمھاری بات سن نہیں پا رہے ہیں!‘‘ قاضی نے اپنی بائیں طرف ایک سفید ریش کہن سالہ فرد کی طرف اشارہ کرتے ہوئے چلا کر کہا۔
’’میں بلند مرتبت مہمان کو ان کی قادر الکلامی کے باعث پہچان گیا،‘‘ زخمی چہرہ بہ مشکل ہی یہ الفاظ منھ سے نکال سکا۔ ’’اور میں نے انھیں قاضی کے پاس لانے سے پہلے ان کی شناخت کی بابت پوچھا۔‘‘
’’خوب کیا۔ اگر فساد جاری رہتا تو خوں ریزی ہو سکتی تھی۔ تم اس کے حق دار ہو کہ یہاں آکر ہمارے مہمان کے برابر بیٹھو۔‘‘
جب زخمی چہرہ جھوٹ موٹ کی اطاعت گزاری کی ادا سے قریب آنے لگاتو ابو طاہر نے عمر کے کان میں کہا، ’’چاہے تمھارا دوست نہ بھی بنے، لیکن اب یہ تمھیں عوام الناس کے سامنے لتاڑے گا بھی نہیں۔‘‘
وہ بلند آواز میں بولے گیا، ’’کیا میں امید کر سکتا ہوں کہ جو کچھ ان پر گزری ہے اس کے باوجود، خواجہ عمر سمرقند سے بری یاد لے کر نہیں جائیں گے؟‘‘
’’کل شام کا واقعہ میں پہلے ہی بھول بھال چکا ہوں،‘‘ خیام نے جواب دیا۔ ’’مستقبل میں مَیں جب بھی اس شہر کو یاد کروں گا تو ایک بالکل ہی مختلف تصویر ذہن میں آئے گی، ایک بے حد نفیس انسان کی تصویر۔ میں ابو طاہر کا ذکر نہیں کر رہا ہوں۔ اعلیٰ ترین ستائش جو کسی قاضی کو پیش کی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ اس کے اوصاف کی مدح آرائی نہ کی جائے بلکہ ان لوگوں کی دیانت داری کی جو اُس کی ذمّے داری ہیں۔ اسے اتّفاق کہہ لیجیے، جس دن میں یہاں وارد ہوا تو میرا خچّر بابِ کش کو جانے والی آخری چڑھائی سے جد و جہد کر رہا تھا، اور خود میں نے ابھی بہ مشکل ہی اپنے قدم زمین پر رکھے تھے کہ ایک آدمی نے مجھے مخاطب کیا۔
’’ ’اس شہر میں آنا مبارک ہو،‘ وہ بولا۔ ’کیا یہاں آپ کے کوئی خاندان والے یا دوست احباب ہیں؟‘
’’ اس ڈر سے کہ یہ کہیں کوئی چلتا پرزہ یا کم از کم کوئی بھکاری یا ناگوار آدمی نہ ہو، میں نے بغیر رکے ہوئے جواب دیا کہ نہیں، لیکن وہ آدمی بولے گیا:
’’ ’میرے اصرار پر شک و شبہ نہ کریں، مہمانِ شریف۔ یہ تو میرے آقا کا حکم ہے کہ یہاں ہر آنے والے کا انتظار کروں اور تمام آ نکلنے والے مسافروں کو مہمان نوازی پیش کروں۔‘
’’یہ آدمی واجبی حیثیت کا نظر آتا تھا، لیکن صاف ستھرے کپڑے پہنے ہوئے تھا اور عزّت داروں کے آداب سے ناواقف نہیں تھا۔ میں اس کے پیچھے ہولیا۔ کچھ دور کے بعد وہ مجھے ایک بھاری دروازے سے اندر لایا اور ایک مسقّف راہداری عبور کر کے میں کسی کارواں سرائے کے صحن میں آگیا جس کے وسط میں ایک کنواں تھا اور مرد و زن اِدھر اُدھر چہل پہل کر رہے تھے۔ کناروں پر، اوپر اور نیچے کی منزلوں میں مسافروں کے لیے کمرے تھے۔ آدمی نے کہا، ’جب تک جی چاہے یہاں قیام فرمائیں، چاہے ایک رات یا پورا موسم۔ آپ کو فراش، طعام اور اپنے خچّر کے لیے چارہ مہیّا ملے گا۔‘
’’جب میں نے پوچھا کہ میرے ذمّے کتنی رقم واجب الادا ہے تو یہ بات اسے ناگو ار گزری۔
’’ ’آپ میرے آقا کے مہمان ہیں۔‘
’’ ’اچھا تو بتاؤ کہ میرے فیّاض میزبان کہاں ہیں تاکہ ان کا شکریہ ادا کر سکوں۔‘
’’ ’میرے آقا کا سات سال پہلے انتقال ہوگیا ہے۔ وہ میرے پاس ایک رقم چھوڑ گئے ہیں تاکہ سمرقند کی ہر زیارت کرنے والے کی تعظیم و تکریم پر خرچ کروں۔‘
’’ ’تمھارے آقا کا کیا نام ہے؟ بتاؤ تاکہ دوسروں سے ان کی مہربانیوں کا ذکرتو کرسکوں۔‘
’’ ’آپ کو صرف قادرِ مطلق کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔ اسے خوب علم ہے کہ اس کے توسّط سے کس کی مہربانیاں پوری ہورہی ہیں۔‘
’’تو یوں میں کئی دن اس آدمی کے پاس رہا۔ میں باہر گھومتا گھامتا، لیکن جب بھی واپس آتا مجھے ایک سے بڑھ کر ایک لذیز کھانوں کے انبار لگے ملتے اور میرے خچّر کی نگہداشت اس سے بہتر ہورہی تھی جو میں کر سکتا تھا۔‘‘
عمر نے کسی ردِ عمل کی امید میں اپنے حاضرین پر نظر ڈالی لیکن اس کی کہانی سے نہ کسی آنکھ میں تعجب ابھرا نہ ہی کسی اسرار نے راہ پائی۔ قاضی نے عمر کی الجھن دیکھ کر وضاحت کی۔
’’بہتیرے شہر یہی سوچنا پسند کرتے ہیں کہ تمام عالمِ اسلام میں وہی سب سے زیادہ مہمان نواز ہیں، لیکن صرف اہالینِ سمرقند ہی اس اعزاز کے مستحق ہیں۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے، یہاں کسی مسافر کو اپنے قیام یا طعام کی قیمت ادا نہیں کرنی پڑی ہے۔ مجھے جانے کتنے ایسے خانوادوں کا علم ہے جو یہاں آنے والوں یا حاجت مندوں کی مہمان نوازی میں اپنا سب کچھ لٹا کر برباد ہوگئے ہیں، لیکن تم کبھی بھی انھیں اس کی شیخی مارتے ہوئے نہیں سنو گے۔کاشی، تانبے اور چینی مٹّی کے بنے ہوئے جو فوارے تم ہر سڑک کے نکّڑ پر دیکھتے ہو، شہر میں جن کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے، جن کا شیریں پانی ہر راہ گیر کی پیاس بجھانے کے لیے ہے، تو یہ سب کے سب سمرقند کے باشندوں ہی نے مہیّا کیے ہیں۔ لیکن کیا تمھیں کسی ایک آ دمی کے نام کا کتبہ بھی ان پر نظر آتا ہے جو اپنی حمد و ثنا کرانے کا خواہاں ہو؟‘‘
’’مجھے اعتراف ہے کہ ایسی فیّاضی مجھے کہیں نظر نہیں آئی ہے۔ کیا آپ مجھے ایک سوال پوچھنے کی اجازت دیں گے جو مجھے پریشان کر رہا ہے؟‘‘
قاضی نے لفظ اس کے منھ سے اچک لیے، ’’مجھے معلوم ہے تم کیا پوچھنا چاہتے ہو: یہی نا کہ وہ لوگ جو مہمان نوازی کے وصف کا اتنا مان کرتے ہیں انھوں نے تم جیسے مسافر کے ساتھ اتنے تردّد کا مظاہرہ کیسے کیا؟‘‘
’’یا جابرِ لاغر جیسے بے چارے بڈھے کے ساتھ؟‘‘
’’جو جواب میں تمھیں دینے والا ہوں اس کا خلاصہ ایک لفظ میں کیا جا سکتا ہے—خوف۔ ہمارے دین پر ہر طرف سے حملے ہو رہے ہیں: بحرین میں قرامطہ، قم کے امامی، بہتّر فرقے، قسطنطنیہ میں رومی، بھانت بھانت کے کفّار، اور سب سے بڑھ کر مصر کے اسماعیلی جن کے متّبعین کی بڑی بھاری تعداد ٹھیک بغداد کے قلب میں موجود ہے اور خود یہاں سمرقند میں بھی۔ یہ مت بھولو کہ ہمارے اسلامی شہر—مکہ، مدینہ، اصفہان، بغداد، دمشق، بخارا، مَرو، قاہرہ، سمرقند—تو ان کی حقیقت نخلستانوں سے زیادہ نہیں اور اگر ایک لمحے بھی ان سے غفلت برتی جائے تو واپس ریگستان میں بدل جائیں گے۔ یہ ہمیشہ ہی ریتیلی آندھیوں کے رحم و کرم پر رہے ہیں!‘‘
اپنی بائیں طرف کے جھروکے سے قاضی نے بڑی مہارت کے ساتھ گزرانِ آفتاب کا قیاس کیا اور کھڑا ہوگیا۔
’’حکمراں سے جا کر ملنے کا وقت ہوگیا ہے،‘‘ وہ بولا۔
اس نے ہاتھ سے تالی بجائی۔
’’ہمارے لیے کچھ زادِ راہ مہیّا کرو۔‘‘
یہ اس کی عادت تھی کہ راستے میں چبانے کے لیے اپنے ساتھ کِشمش رکھ لیتا تھا، ایک عادت جس کی نقّالی اس کے مقرّبین اور اس کے ملاقاتی دونوں ہی کرتے تھے۔ یہی وجہ تھی جو تانبے کی بڑی سی سینی اس کے پاس لائی گئی جس پر اس زردی مائل نعمت کا بڑا اونچا سا ڈھیر لگا تھا تاکہ ہر متنفس اس سے اپنی جیبیں اچھی طرح بھر لے۔
جب زخمی چہرہ کی باری آئی، تو اس نے چھوٹی سی مٹھی بھر کِشمشیں اٹھا کر خیام کی طرف یہ کہتے ہوئے بڑھائیں، ’’میرا خیال ہے تم چاہو گے کہ میں یہ تمھیں شراب کے عوض پیش کروں۔‘‘
گو اس نے یہ بات بلند آواز سے نہیں کہی تھی، لیکن جیسے کسی سحر کے نتیجے میں ہر متنفس بالکل بت بن گیا۔ ہر شخص دم بہ خود کھڑا عمر کے لبوں کو دیکھتا رہا۔
عمر نے جواباً کہا، ’’جب کوئی شراب پینا چاہتا ہے تو بڑی احتیاط سے اپنے ساقی اور ندیموں کا انتخاب کرتا ہے۔‘‘
زخمی چہرہ کی آواز کچھ بلند ہو گئی۔
’’جہاں تک میرا تعلق ہے، تو میں ایک قطرہ بھی چھونے والا نہیں۔ میں تو جنت الفردوس میں جگہ پانے کا آرزو مند ہوں۔ لگتا ہے تم وہاں میری رفاقت کے متمنّی نہیں۔‘‘
’’ایک پوری ابدیّت، اور وہ بھی ثقہ علما کی رفاقت میں؟ نہیں صاحب، شکریہ۔ خدا نے تو ہم سے کسی اور چیز کا وعدہ کیا ہے۔‘‘
یہ تبادلہ وہیں رک گیا۔ عمر سرعت سے قاضی کی طرف چل دیا جو اسے بلا رہا تھا۔
’’یہ ضروری ہے کہ شہر والے تمھیں میرے برابر برابر سوار دیکھیں۔ اس سے ان کا کل شام کا تاثر زائل ہو جائے گا۔‘‘
رہائش گاہ کے گرد مجتمع ہجوم میں عمر کو یوں لگا جیسے اسے ایک ناشپاتی کے درخت کے سایے میں کوئی بادام فروش نظر آرہی ہو۔ اس نے رفتار سست کردی اور اس کی تلاش میں اِدھر اُدھر نظر دوڑائی، لیکن ابو طاہر نے اسے چھیڑا۔
’’اور تیز چلو۔ اگر خان ہمارے پہنچنے سے پہلے ہی پہنچ گیا توتمھاری شامت آجائے گی ۔‘‘
باب ٤

’’وقت کی تخلیق سے نجومی اعلان کرتے آئے ہیں کہ چار شہر ہیں جو بغاوت کی علامت کے زیر سایہ وجود میں آئے ہیں۔ سمرقند، مکہ، دمشق اور پالیرمو، اور ان کا قول عین صداقت ہے! اگر یہ شہر کبھی حکومت کے آگے سِپر انداز ہوئے ہیںتو صرف اس کی طاقت کے باعث۔ یہ صراطِ مستقیم کی پیروی اسی وقت کرتے ہیں جب اسے تلوار کے ذریعے بچھایا گیا ہو۔ آنحضرتؐ نے مکے کے گھمنڈ کو تلوار سے ہی کم کیا تھا، اور تلوار ہی سے میں بھی اہالیانِ سمرقند کے گھمنڈ کو کم کروں گا!‘‘
نصر خان، والئ ماوراء النہر، ایک کانسی رنگ دیو جو کارچوبی کا لہراتا جبہ پہنے ہوئے تھا، اپنے تخت کے سامنے کھڑا لقمہ چبا رہا تھا۔ اس کی آواز گھروالوں اور ملاقاتیوں میں لرزہ پیدا کر رہی تھی۔ اس کی آنکھیں حاضرین میں کسی شکار کو ڈھونڈ نکالتیں، ایک ہونٹ جو کپکپانے کی جرأت کرسکے، ایک نگاہ جس میں مناسب پشیمانی کی کمی ہو، کسی غدّاری کی یاد۔ جبلّی طور پر ہر کس و ناکس اپنے برابر والے کی آڑ میں سرک جاتا، اپنی پشت، گردن اور کندھوں کو ڈھیلا چھوڑ دیتا، اور طوفان کے گزر جانے کا انتظار کرتا۔
اپنے چنگل کے لیے کوئی شکار نہ پاکر ناصر خان نے ہاتھ بھر بھر کے اپنی تقریباتی قبائیں اٹھائیں اور انھیں طیش کے عالم میں ایک کے بعد ایک اپنے پیروں کے پاس پھینک کران کا انبار لگا دیا، اور کاشغر کی بلند آہنگ ملی جلی ترک اور منگول بولی میں ایک کے بعد ایک ہتک آمیز فقرے داغنے لگا۔ رواج کے مطابق حکمراں سہ تہی، چہار تہی اور بعض اوقات ہفت تہی کارچوبی کی عبائیں پہنتے، جنھیں دن میں بدن سے جدا کرتے اور جن کی عزّت افزأی مقصود ہوتی ان کی پشت پر بڑی تمکنت سے ڈال دیتے۔ لیکن اپنے موجودہ طرزِ عمل سے ناصر خان نے یہ واضح کردیا تھا کہ اُس دن اپنے کسی ملاقاتی کی آرزو کو تکمیل سے شاد کرنے کی اس کی کوئی نیّت نہیں۔
جیسا کہ ہر حکمراں کی سمرقند آمد پر ہوتا تھا، اسے بھی جشن اور خوش خرمّی کا دن ہونا چاہیے تھا، لیکن اولین لمحوں ہی میں مسرت کا ہر شائبہ جیسے بجھ کر رہ گیا تھا۔ دریائے سیاب سے اوپر کو جانے والی پکّی سڑک چڑھتے ہی خان شہر کے شمال میں بابِ بخارا سے متانت کے ساتھ داخل ہوا۔ وہ کھل کر مسکرایا، جس سے اس کی چھوٹی چھوٹی آنکھیں اور بھی اندر کو دھنسی نظر آنے لگیں، اور ہمیشہ سے زیادہ ترچھی،جس کی وجہ سے اس کے رخساروں کی ہڈیاں آفتاب کے عنبریں انعکاس میں چمکنے لگیں۔ لیکن بھر یک بارگی اس کے ساری شگفتگی رخصت ہوگئی۔ وہ کوئی دو سو کے لگ بھگ امراکی طرف بڑھا جو قاضی ابو طاہر کے گِرد جمع تھے، اور اس گروہ پر جس کے درمیان عمر خیام بھی تھا ایک مضطرب اور تقریباً شک بھری نظر گاڑ دی۔ بہ ظاہر جن کا طلب گار تھا انھیں نہ پاکر، اس نے یک لخت اپنے گھوڑے کو الف کیا، لگام کو زور سے کھٹکا اور ناقابلِ سماعت طور پر کچھ غرّاتے ہوئے وہاں سے دور ہوجانے کے لیے حرکت کی ۔ اپنی کالی گھوڑی پر اکڑے ہوئے براجمان وہ اب اور نہیں مسکرا رہا تھا، اور نہ ادنیٰ سے اشارے سے ان ہزارہا شہریوں کے مکررنعرۂ تحسین کا جواب دے رہا تھا جو اس کی پذیرائی کے لیے جمع ہورہے تھے، اوربعض تو منھ اندھیرے سے۔ ان میں سے کچھ نے عرض داشتیں اٹھائی ہوئی تھیں، جنھیں عوامی منشیوں نے رقم کیا تھا۔ بے سودہی کیونکہ کسی کی بھی اپنی عرض داشت حکمران کوپیش کرنے کی جرات نہیں ہوئی، بلکہ یہ انھوں نے حاجب کے حوالے کیں جسے ان اوراق کو قبول کرنے کے لیے بار بارآگے کو جھکنا پڑا، اس مبہم وعدے کے ساتھ کہ ان پر عمل درآمد ہوگا۔
آگے آگے چار گھڑ سوار، جو دودمان کا کتھئی عَلم بلند کیے ہوئے تھے، پیچھے پیچھے ایک کمر تک ننگا پا پیادہ غلام جو ایک دیو ہیکل دھوپ چھتری اٹھائے ہوئے تھا، خان نے بغیر کہیں توقف کیے کشادہ شاہراہیں طے کیں جن کے دورویہ توت کے بَل کھاتے ہوئے درختوں کی قطار لگی تھی۔ اس نے بازاروں سے اجتناب کیا اور آبپاشی کی بڑی نہروں کے سہارے سہارے چلا جنھیں اریق کہا جاتا ہے، تا آنکہ اسفیزار کے علاقے میں پہنچ گیا۔ یہاں اس نے ایک عارضی محل بنا رکھا تھا، جو ابو طاہر کی اقامت گاہ سے بالکل متّصل تھا، لیکن چونکہ حالیہ جنگوں نے اسے بہت زیادہ شکستہ کردیا تھا، اسے ترک کرنا پڑا تھا۔ اب یہاںصرف ترکی محافظ فوج وقتاً فوقتاً اپنے خیمے نصب کرتی تھی۔ [اصلی لفظ ’’یرٹ‘‘ (yurt) ہے، جو کھال یا نمدے سے بنا ہوتا ہے؛ اسے وسط ایشیا کے خانہ بدوش قبائل استعمال کرتے ہیں۔]
حکمراں کے مزاج کو بگڑا ہوا دیکھ کر عمر کو محل جاکر اپنی تہنیت پیش کرنے میں ہچکچاہٹ محسوس ہوئی، لیکن قاضی نے اصرار کیا کہ ضرور جائے، یقیناً اس امید میں کہ اتنے بلند مرتبت رفیق کی موجودگی ایک خوش گوار مشغولیت فراہم کردے گی۔ راستے میں ابو طاہر نے جو ابھی ابھی پیش آیا تھا اس سے خیام کو تفصیلاً آگاہ کرنے کی ذمّے داری اپنے سر لی۔ شہر کے ممتاز دینی اشخاص نے استقبالیے کے مقاطعے کا فیصلہ کیا تھا، اس لیے کہ خان نے بخارا کی جامع مسجد کو جلا دیا تھا جہاں مسلّح مخالفین نے مورچہ قائم کر کے پناہ لی تھی۔ ’’حکمراں اور مذہبی محکمے کے درمیان،‘‘ قاضی نے وضاحتاً بتایا، ’’ہمیشہ کی طرح شدید جنگ جاری ہے۔ بعض اوقات یہ کھلم کھلا اور خونین ہوتی ہے، لیکن زیادہ تر خفیہ اور اندر اندر۔‘‘
یہ افواہ بھی سننے میں آئی تھی کہ علما نے متعدد افسروں سے رابطہ قائم کیا تھا جو امیرکے طرزِ عمل سے سخت تنگ آئے ہوئے تھے۔کہا جاتا تھاکہ اس کے اجداد سپاہ کے ساتھ طعام تناول فرماتے تھے اور کوئی موقع یہ اعتراف کیے بغیر جانے نہیں دیتے تھے کہ ان کی طاقت کا سرچشمہ ان کی عوام کے جنگجو ہیں۔ لیکن ایک نسل سے دوسری تک ترکی خانوں نے ایرانی شہنشاہوں کی قابلِ مذمّت عادات اختیار کر لی تھیں۔ وہ خود کو نیم دیوتا گرداننے لگے تھے، اور اپنے گرد ایسی پیچیدہ پرتکلف تقریباتی رسومات کھڑی کر لی تھیں جو ان کے افسران کے لیے ناقابلِ فہم ہی نہیں بلکہ ہتک آمیز بھی تھیں۔ چنانچہ موخر الذکر میں سے بہت سوں نے مذہبی سربراہوں سے رجوع کیا تھا۔ یہ لوگ مذہبی سربراہ افسروں کی زبانی نصر کی ہجو سن کر اور یہ کہ اس نے اسلامی طور و طریق تج دیے ہیں حظ اٹھاتے۔ فوج کے دل میں خوف ڈالنے کے لیے حکمراں علاء کے خلاف سختی سے پیش آیا۔ کیا اس کے باپ نے، جو بنا بریں ایک متّقی تھا، اپنے دورِ سلطنت کا آغاز ایک دستار پوش کا سر قلم کر کے نہیں کیا تھا؟
۲۷۰۱ کے اس سال میں ابو طاہر ان معدودِ چند مذہبی اکابر میں سے تھا جس نے کسی نہ کسی طرح امیر سے قریبی روابط قائم کیے ہوئے تھے۔ وہ اکثر اس سے ملاقات کرنے بخارا کے قلعے میں جاتا، جو اس کی صدر رہائش گاہ تھی، اور جب بھی وہ سمرقندآتا تو اس کی بڑے پروقار انداز میں پذیرائی کرتا۔ بعض علما ابو طاہر کے مصالحانہ رویّے کو محتاط نظر سے دیکھتے لیکن بیشتر اس ثالث کی موجودگی کو مبارک بھی سمجھتے۔
قاضی کواپنی ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع دوبارہ بڑی آسانی سے مل گیا۔ اس نے نصر کی تردید کرنے سے احتراز کیا، اس کے مزاج میں بہتری کی ادنیٰ جھلک کی تاک میں رہا تاکہ اس کی پژمردہ ہمّت کو حوصلہ دے۔ وہ منتظر رہا تاآنکہ وہ صبر آز ما لمحے بیت گئے، اور جب حکمراں اپنے تخت پر لوٹا اور ابو طاہر نے دیکھا کہ وہ ایک نرم گاؤ تکیے سے خوب ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ہے، تو اس نے ایک بے حد لطیف اور غیر محسوس بازیافت کے ساتھ قابو اپنے ہاتھ میں لے لیا جسے عمر نے اطمینان کے ساتھ دیکھا۔ قاضی کا اشارہ پاکر حاجب ایک نوخیز کنیز کو بلا لایا کہ وہ ان عباؤں کو اٹھالے جو کسی جنگ کے بعد لاشوں کی طرح زمین پر چھوڑ دی گئی تھیں۔ فوراً ہی فضا کی گھٹن قدرے کم ہو گئی، لوگوں نے سنبھل سنبھل کر اپنے بازو سیدھے کیے اور بعضوں نے تو اپنے سے قریبی کان میں کچھ کھسر پھسر بھی۔
پھر قاضی نے کمرے کے وسط میں جو جگہ تھی اس کی طرف قدم بڑھائے، شاہ کے سامنے نشست سنبھالی، سر جھکالیا، اور کچھ کہا نہیں۔ یہ داؤں اتنی مہارت سے لگایا گیا تھا کہ ایک طویل خاموشی کے بعد، جب نصر نے بالآخر اعلان کیا، ’’جاؤ جاکر شہر کے سارے علماسے کہو کہ کل فجر کے وقت آکر میرے قدموں میں سر جھکائیں۔ جو سر نہیں جھکے گا قلم کردیا جائے گا،سو کوئی بھی فرار ہونے کی کوشش نہ کرے، کیونکہ کوئی زمین بھی اسے میرے قہر سے امان نہیں دے سکتی،‘‘ تو ہر فرد و بشر سمجھ گیا کہ طوفان فرو ہوچکا ہے اور تصفیے کی امید کی جاسکتی ہے۔ علمائے دین کو بس تلافی کرنے کی حاجت ہے اور شاہ شدید اقدامات کرنے سے باز رہے گا۔
اگلے دن جب عمر پھر قاضی کے ہم راہ دربار گیا تو فضا مشکل سے پہچاننے میں آتی تھی۔ نصر اپنے تخت پر براجمان تھا، جو ایک طرح کا اونچا سا چبوترہ تھا جس پر کسی گہرے رنگ کے قالین کا غلاف پڑا تھا۔ اس کے برابر ایک غلام گلاب کی قندیائی ہوئی پنکھڑیوں کی سینی اٹھائے کھڑا تھا۔ حکمراں ایک پنکھڑی اٹھاتا، اپنی زبان پر رکھتا، اور تالو کے نیچے اسے تحلیل ہونے دیتا، قبل اس کے کہ لاپروائی سے ہاتھ ایک دوسرے غلام کی طرف بڑھا دے جو اس کی انگلیوں پر معطّر پانی چھڑکتا اور توجہ سے انھیں پونچھاتا۔ یہ گردان کوئی بیس تیس بار دہرائی گئی، دریں اثنا وفود ایک کے بعد ایک گزرتے رہے۔ یہ شہر کے علاقوں کے نمائندے تھے، خاص طور پر اسفیزار، پنج خین، زگریماچ، ماترید، بازاروں کی انجمنوں، نحّاسوں، کاغذ سازوں، ریشم کے کیڑے کی افزائش کرنے والوں اور سقّوں کی تجارتی اصناف کے، اور ان کے علاوہ ذمّی جماعتوں کے بھی: یہودی، پارسی اور نسطوری عیسائی۔
یہ پہلے فرش کو بوسہ دیتے۔ پھر سیدھے کھڑے ہو جاتے اور ایک بار اور تعظیماً جھکتے اور جھکے رہتے تاآنکہ شاہ انھیں اٹھنے کا اشارہ کرتا۔ ان کا سربراہ چند فقرے ادا کرتا اور وہ الٹے قدم لوٹ جاتے، چونکہ کمرے سے رخصت ہوتے وقت حکمراں کی طرف پیٹھ کرنا ممنوع تھا۔ ایک عجیب و غریب رسم۔ کیا یہ کسی ایسے شاہ نے رائج کی تھی جو عزّت کروانے کا کچھ زیادہ ہی رسیا تھا، یا کسی خاص طور پر شکّی ملاقاتی نے ؟
اب دینی معزّزین آئے، جن کا تجسّس سے انتظار کیا جارہا تھا تاہم خوف و ہراس کے ساتھ بھی۔ یہ تعداد میں بیس سے زائد تھے۔ ابو طاہر کو انھیں آنے پر قائل کر لینے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی تھی۔ کیونکہ وہ اپنے جذبات کا وافی و شافی اظہار پہلے ہی کر چکے تھے، اس راہ پر مزید گامزن رہنا اپنی شہادت کو دعوت دینے کے مترداف تھا، جس کی کسی کو خواہش نہیں تھی۔
اب انھوں نے بھی خود کو تخت کے سامنے پیش کیا، ہر ایک اتنا نیچا جھکتا جتنا اس کی عمر اور جوڑاجازت دیتے،منتظر کہ امیر اٹھنے کا اشارہ کرے۔ لیکن اشارہ ہوکر نہ دیا۔ دس منٹ گزر گئے اور ان میں سے سب سے کم عمر بھی اس غیر آرام دہ حالت میں غیر معیّنہ مدّت تک نہیں رہ سکتا تھا۔ پس چہ باید کرد؟ اگر بلا اجازت اٹھتے ہیں تو شاہ کی ملامت کا نشانہ بنتے ہیں۔ ایک کے بعد ایک وہ اپنے گھٹنوں کے بَل ٹِک گئے، ایک ایسی حالت جو اتنی ہی پر تعظیم تھی لیکن قدرے کم مضمحل کردینے والی۔ جب تک آخری چپنی بھی زمین سے نہ لگ گئی حکمراں نے اٹھنے اور فوری وہاں سے روانہ ہو جانے کا اشارہ نہ کیا۔ جو پیش آرہا تھا اس پر کسی کو بھی تعجّب نہیں ہوا۔ سو شاہی عملداری کے معاملات یہ تھے۔
اس کے بعد ترکی افسراور معزّزین کی جماعتیں آگے بڑھے، اور کچھ دہقان بھی جو قریبی دیہاتوں کے سربراہ تھے۔ ہر ایک نے اپنے مرتبے کے مطابق حکمراں کی قدمبوسی کی یا شانہ چوما۔ پھر ایک شاعر آگے آیا اور شاہ کی عظمت پر بڑا ٹھسّے دار قصیدہ پڑھا جسے سن کر وہ ظاہرا بہت جلد ہی بے زار نظر آنے لگا۔ اس نے اشارے سے شاعر کی مدح سرائی قطع کی اور حاجب کو اشارہ کیا کہ جھک کر جو حکم اسے تفویض کیا گیا تھا سنائے۔ ’’ہمارے آقا کی یہ خواہش ہے کو وہ ان شعراکو جو یہاں مجتمع ہیں بتائیں کہ وہ ایک ہی موضوعات کی تکرار سنتے سنتے تھک گئے وہ نہ خودکو شیر سے تشبیہہ دلانا چاہتے ہیںنہ عقاب سے، اور اس سے بھی کم آفتاب سے۔ وہ جو اس کے ماسوا کہنے سے عاجز ہیں، براہ کرم تشریف لے جائیں۔‘‘
باب ٥

حاجب کے کلام کے بعد کوئی بیس سے زائد شعرا کی دبی دبی سی آوازیں، کڑ کڑاہٹ اور پھر عام شور وغل اٹھا جو اپنی اپنی باری کاانتظار کررہے تھے۔ بعضے تو دو الٹے قدم اٹھا کر خاموشی سے کھسک گئے۔ قطار سے صرف ایک عورت ہی نکلی اور بڑی مستحکم چال سے آگے بڑھی۔ عمر کی آنکھوں میں تجسّس کو تیرتے دیکھ کر، قاضی نے سرگوشی کی، ’’بخارا کی ایک شاعرہ ہے۔ اپنے کو ’جہان‘ کہلواتی ہے، یعنی کہ عالمِ کل۔ یہ ایک متلوّن مزاج نو عمر بیوہ ہے۔‘‘
اس کے لہجے میں ملامت کا رنگ تھا، لیکن اس نے عمر کی دلچسپی کو اور بھی ہوا دی اور وہ اس سے اپنے نگاہیں نہ پھیر سکا۔ اس وقت تک جہان نے اپنی نقاب کا زیریں حصہ اوپر اٹھادیا تھا اور اس کے آرائش سے معریٰ ہونٹ نظر آنے لگے تھے۔ اس نے ایک پُر لطف نظم پڑھ کر سنائی جس میں، عجیب بات ہے، خان کا نام ایک مرتبہ بھی نہیں آیا تھا۔ ستائش تو دریا سوگدہ کی کی گئی تھی جو اپنی فیّاضی سمرقند پر نثار کرتا ہے، پھر بخارا پر، قبل اس کے کہ خود کو ریگ زار میں گم کردے، کیونکہ کوئی سمندر بھی اس کے پانیوں کی پذیرائی کے قابل نہیں۔
’’بہت خوب کہا ! واجب ہے کہ تمھارا منھ سونے سے بھر دیا جائے،‘‘ نصر نے اپنا رواجی فقرہ دہراتے ہوئے کہا ۔
شاعرہ طلائی دیناروں سے بھرے ایک بڑے سے طشت پر جھک گئی اور ایک ایک کر کے سکّے اپنے منھ میںبھرنے لگی جب کہ حاضرین بہ آوازِ بلند گنتے گئے۔ جب جہان نے ہچکی لی اور تقریباً گلا گھٹنے کو ہوا، تو شاہ سمیت پورا دربار قہقہہ زن ہوگیا۔ حاجب نے شاعرہ کو اپنی جگہ پر لوٹ جانے کا اشارہ کیا۔ انھوں نے چھیالیس دینار گنے تھے۔
صرف خیام ہی نہیں ہنسا۔ نگاہیں جہان پر ثبت کیے وہ اس کے بارے میں اپنے جذبات کو بھانپنے کی کوشش کرنے لگا۔ اس کا شعر اس قدر خالص تھا، اس کی قادر الکلامی اس قدر باوقار، اس کی چال اس قدر دلیرانہ، لیکن وہ اپنے منھ میں دھات کے پیلے پیلے سکّے ٹھونسے جارہی تھی اور خود کو اس قدر ہتک آمیز انعام کا نشانہ بننے دے رہی تھی۔ نقاب دوبارہ واپس ڈالنے سے پہلے اس نے اسے ایک ذرا سا اوپر اٹھایا اور ایک نگاہ ڈالی جو عمر کی توجہ میں آئی۔اس نے اسے تنفس کے ساتھ اپنے میں اتر جانے دیا اور اسے وہیں روکے رکھنے کی کوشش کی۔ یہ ایک اتنا زود گزر لمحہ تھا کہ ہجوم کی نظر میںتو کیا آتالیکن کسی عاشق کے لیے ابدیّت سے کم نہیںتھا۔ وقت کے دو چہرے ہوتے ہیں، خیام نے اپنے سے کہا۔ اس کی دو ابعاد ہیں، اس کی طوالت کو حرکتِ آفتاب سے ناپا جاسکتا ہے لیکن اس کی گہرائی کو صرف جذبے کے ہیجانی آہنگ ہی سے۔
ان کے درمیان رفعت کا یہ لمحہ قاضی کی مداخلت سے ٹوٹ گیا جوخیام کا شانہ تَھپ تَھپا کر اسے واپس ہوش و حواس میں لا رہا تھا۔ لیکن اب کیا ہوتاہے، عورت جا چکی تھی۔ صرف حجاب ہی باقی رہ گئے تھے۔
ابو طاہر اپنے دوست کو خان کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا تھا۔ اس نے بندھے ٹکے الفاظ میں کہا، ’’آپ کی سقفِ عالی آج خراسان کی عظیم ترین خرد پر سایہ فگن ہے، عمر خیام، جس سے نباتات کا کوئی راز مخفی نہیں، نہ نجوم کا کوئی اسرار۔‘‘
یہ کوئی خوش گوار اتّفاق نہیں تھا کہ قاضی نے ان تمام علوم میں سے جن میں عمر کو فضل و تبحّر حاصل تھا صرف طب اور نجوم ہی کا ذکر کیا، کیونکہ بس یہی دو علم ایسے تھے جن کے امرا شیفتہ و گرویدہ تھے؛ اوّل الذکر تو اس لیے کہ یہ ان کی صحت و زندگی کی بقا کے لیے ضروری تھا، اور موخر الذکر ان کی دھن دولت کی بقا کے لیے۔
امیر کے مزاج میں شگفتگی آگئی اوربولا کہ یہ بات اس کے لیے باعثِ عزّت ہے۔ اس کے باوجود، سردست کسی ذہنی بحث و تمحیص میں پڑنے کے لیے طبیعت کو مائل نہ پاکر یا ملاقاتی کے مقاصد کی بابت غلط قیاس آرائی کے باعث اس نے وہی گھسا پٹا فقرہ دہرانا پسند کیا، ’’اس کا منھ زر سے بھر دیا جائے!‘‘
عمر ہکّا بکّا رہ گیا اور بہ مشکل ابکائی کو دبا پایا۔ یہ بات ابو طاہر کی توجہ میں آگئی اور پریشان ہوگیا۔
اس خوف سے کہ کہیں انکار حکمراں کو ناگوار خاطر نہ محسوس ہو، اس نے اپنے رفیق پر بڑی تاکیدی اور گمبھیر نظر ڈالی اور شانے سے آگے کی طرف بے سود دھکیلا۔ خیام پہلے ہی اپنا فیصلہ کرچکا تھا۔
’’براہِ مہربانی، کیا میرے آقا مجھے معاف رکھیں گے۔ میں روزے سے ہوں اور اپنے منھ میں کچھ ڈالنے سے عاجز۔‘‘
’’لیکن روزوں کا مہینہ، اگر مجھ سے غلطی نہیں ہورہی، تو تین ہفتے پہلے ہی ختم ہوچکا ہے!‘‘
’’رمضان کے دنوں میں میں نیشاپور سے سمرقند کا سفر کر رہا تھا۔ میں نے اس عہد کے ساتھ اس وقت روزے نہیں رکھے کہ بعد میں یہ فرض پورا کرلوں گا۔‘‘
قاضی دہشت زدہ رہ گیا اور سارے مجتمعین کسمسانے لگے، لیکن حکمراں کا چہرہ بالکل سپاٹ رہا۔ اس نے ابو طاہر سے سوال کرنا پسند کیا۔
’’کیا تم جسے مذہب کی تمام تفصیلات کا علم ہے بتا سکتے ہو کہ اگر طلائی سکّے اس کے منھ میں ڈال کر فوراً ہی نکال لیے جائیں تو کیا اس سے خواجہ عمر کا روزہ ٹوٹ جائے گا؟‘‘
قاضی نے غایت درجے کے غیر جانب دارانہ لہجے میں کہا، ’’صحیح معنی میں، ہر چیز جو منھ میں جائے روزہ توڑ سکتی ہے۔ ایسا ہوا ہے کہ سکّہ اتفاقاً حلق سے نیچے اتر گیا تھا۔‘‘
نصر نے دلیل قبول کر لی، لیکن اس سے اس کی تشفّی بہرحال نہیں ہوئی۔ اس نے عمر سے مزیداستفسار کیا:
’’کیا تم نے مجھے اپنے انکار کی اصل وجہ بتائی ہے؟‘‘
خیام لمحے بھر تذبذب کرتا رہا پھر بولا:
’’صرف یہی وجہ نہیں ہے۔‘‘
’’صاف صاف کہو،‘‘ خان نے کہا۔ ’’مجھ سے خوف زدہ ہونے کی حاجت نہیں۔‘‘
پھر عمر نے یہ شعر سنائے:
یہ غربت نہیں جو مجھے آپ کے در پہ لائی ہے
میں مفلس نہیں کہ میری خواہشیں سادہ سی ہیں
آپ سے صرف عزّت کا خواہاں ہوں
ایک آزاد اور مستقل مزاج انسان کی عزّت کا
’’خیام، خدا تیرے دن تاریک کرے!‘‘ ابو طاہر نے بڑبڑا کر کہا، جیسے خود اپنے سے۔
اسے معلوم نہیں تھا کہ سوچے تو کیاسوچے، لیکن اس کا خوف بالکل واضح تھا۔ ایک حالیہ طیش کی گونج ہنوز اس کے کانوں میں جھنجھنا رہی تھی، اور اسے یقین نہیں تھا کہ وہ وحشی کو دوبارہ قابو میں رکھ سکے گا۔ خان خاموش و بے حرکت رہا، جیسے کسی بے تھاہ سوچ میں منجمد ہوگیا ہو۔ خان کے مقربّین اس کے پہلے لفظ کے منتظر تھے جیسے یہ کوئی حتمی فیصلہ ہوگا، اور بعض نے تو طوفان کی آمد سے قبل ہی وہاں سے رخصت ہو جانے میں عافیت سمجھی۔
عمر نے اس عام افراتفری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے جہان کی آنکھوں کو تلاش کیا۔ وہ ایک ستون سے اپنی پشت ٹِکائے کھڑی تھی اس طرح کہ چہرہ ہاتھوں میں دفن تھا۔ کیا یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی خاطر لرزہ براند ام ہو؟
بالآخر خان بلند ہوا، ثابت قدمی سے عمر کی طرف آیا، اس سے بڑا جاندار معانقہ کیا، ہاتھ تھاما اور اس لے کر وہاں سے چل دیا۔
’’حاکم ماوراء النہر کے دل میں،‘‘ وقائع نگاروں نے اپنی روداد میں رقم کیا، ’’عمر خیام کی عزّت اتنی بڑھ گئی کہ اسے تخت پر اپنے پاس آکر بیٹھنے کی دعوت دی۔‘‘
’’تو اب تم خان کے دوست ہو،‘‘ جب وہ محل سے نکلے تو ابو طاہر نے خیام سے کہا۔
اس کی خوش مزاجی اتنی ہی شدید تھی جتنا وہ ذہنی عذاب جس نے اس کا حلق جکڑ دیا تھا، لیکن خیام نے سرد لہجے میں جواب دیا: ’’کیا ہو سکتا ہے کہ آپ وہ ضرب المثل بھول رہے ہوں جس کے مطابق، ’سمندر کسی پڑوسی کو نہیں پہچانتا، اور امیر کسی دوست کو‘؟‘‘
’’کھلے دروازے کی تحقیر نہ کرو۔ مجھے تمھیں دربار میں ملازمت ملنے کے آثار نظر آرہے ہیں!‘‘
’’درباری زندگی میرے لیے نہیں بنی؛ میری صرف اتنی ہی آرزو ہے کہ کبھی میری ایک رصد گاہ ہو اور ایک گلاب کا باغ اور میں خود کو آسمان کے مشاہدے میں غرق کرسکوں ، مینا ہاتھ میںہو اور پہلو میں ایک حسین عورت۔‘‘
’’اتنی ہی حسین جتنی وہ شاعرہ تھی؟‘‘ ابو طاہر نے زیر لب ہنستے ہوئے کہا۔
عمر سواے اس عورت کے کسی اور چیز کے بارے میں سوچنے سے قاصر تھا، پھر بھی اس نے کوئی جواب نہیں دیا۔ اسے ڈر تھا کہ لاپروائی میںمنھ سے نکلا ادنیٰ سا لفظ اس کی چغلی کھا دے گا۔خود کو کسی قدر بشّاش محسوس کر کے قاضی نے نہ صرف اپنا لہجہ بلکہ موضوع بھی بدل دیا:
’’تم سے ایک عنایت کی درخواست کرنا چاہتا ہوں!‘‘
’’یہ تو آپ ہیں جنھوں نے مجھے اپنی عنایات سے مالا مال کردیا ہے۔‘‘
’’ابو طاہر نے بلا حیل و حجت یہ مان لیا۔ ’’اچھا تو یوں سمجھو کہ میں اس کے بدلے میںکچھ چاہتا ہوں۔‘‘
اب وہ اس کی رہائش گاہ کے پھاٹک پر پہنچ گئے تھے۔ اس نے طرح طرح کے کھانوں سے بھری میز کے گِرد خیام کودونوں کی گفتگو جاری رکھنے کی دعوت دی۔
’’میں نے تمھارے لیے ایک منصوبہ بنایا ہے۔ کیوں نہ فی الوقت تمھاری’ رباعیات‘ سے صرفِ نظر کریں۔ جہاں تک میرا تعلّق ہے، میں تو انھیں عبقریت کی ناگزیر للک سمجھتا ہوں۔ وہ میدان جن میں تمھیں واقعی فضیلت حاصل ہے طب، علمِ نجوم، ریاضی اور ہندسہ، طبیعیات اور مابعد الطبیعیات ہیں۔ میں یہ کہنے میں غلط تو نہیں کہ ابن سینا کی وفات کے بعد کوئی اور انھیں تم سے بہتر نہیں جانتا؟‘‘
خیام خاموش رہا۔ ابو طاہر نے اپنی بات جاری رکھی:
’’میں چاہتا ہوں کہ تم ان علوم پر ایک قاطع تصنیف رقم کرو اوراسے میرے نام معنون کرو۔‘‘
’’میرے خیال میں تو ان علوم پر کوئی قاطع کتاب نہیں لکھی جاسکتی، اور یہی وجہ ہے کہ میں صرف پڑھنے اور حصول علم پر ہی اکتفا کرتا ہوں، خود کچھ لکھے بغیر۔‘‘
’’یعنی!‘‘
’’چلیے قدما کا تصوّر کریں—یونانیوں کا، اہلِ ہند اور مسلمانوں کا جو مجھ سے پہلے ہوئے ہیں۔ انھوں نے ان علوم پر بہ کثرت لکھا ہے۔ اگر میں وہی دہرا دیتا ہوں جو وہ پہلے لکھ چکے ہیں، تو میرا کام فالتو ہوگا؛ اگر میں ان کی تردید کرتا ہوں، جس کی مجھے رہ رہ کر ترغیب محسوس ہوتی ہے، تو دوسرے میرے بعد آکر خود میری تردید کر دیں گے۔ دانشوروں کی نگارشات میں کا آئندہ کل کیا باقی رہ جائے گا؟ صرف وہ عیب جوئی جو انھوں نے اپنے سے پہلے والوں کے بارے میں کی تھی۔ لوگوں کو صرف یہی یاد رہے گا کہ انھوں نے دوسروں کے کون سے نظریات منہدم کیے ہیں، لیکن وہ نظریات جو خود انھوں نے وضع کیے ہیں، آنے والے انھیں منہدم تو خیر کریں گے ہی، ان کا تمسخر بھی اڑائیں گے۔ علم کا قانون یہی ہے۔ لیکن شاعری کا ایسا کوئی قانون نہیں۔ یہ جو پہلے کہا جا چکا ہے اسے ہرگز مسترد نہیں کرتی اور جو اس کے بعد آنے والا ہے اس سے کبھی جھوٹی نہیں پڑتی۔ صدیوں صدیوں شاعری مکمل سکون کی حالت میں رہتی ہے۔ اسی لیے میں نے اپنی’ رباعیات ‘لکھی۔ آپ کو معلوم ہے کہ علم کی بابت کونسی چیز مجھے من بھاؤنی لگتی ہے؟ یہی کہ مجھے اس میں عظیم ترین شاعری ملی ہے: اعدادِ ریاضی کی سرشار کردینے والی سرمستی، اور فلکیات میں کائنات کی پراسرا سرسراہٹ۔ لیکن، آپ کی اجازت ہو توکہوں کہ براہِ کرم مجھ سے’ سچ ‘کیا ہے کی بات نہ کریں۔‘‘
کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد پھر کہا:
’’یہ اتفاقاً سمرقند کے اِرد گِرد چہل قدمی کر رہا تھا تو مجھے پرانے کھنڈرات اور ان کے کتبے نظر آئے جنھیں آج کوئی پڑھ بھی نہیںسکتا۔ میں نے تعجب سے سوچا، ’وہ شہر جو کبھی یہاں آباد تھا، اس کا کیا باقی بچ رہا ہے؟‘ تو چلیے لوگوں کی باتیں نہ کریں، کیونکہ وہ تخلیق میں سب سے زیادہ آنی جانی شے ہیں، لیکن ان کی تہذیب کا کیا بچا ہے؟ یہاں کس سلطنت، علم، قانون اورسچائی کا وجود تھا؟ کچھ بھی تو نہیں، میں بے سود ہی ان قدیم آثار میں جہاں تہاں ٹامک ٹوئیے مارتا پھرا اور ہاتھ آیا تو صرف کسی سفالی ظرف کا ٹوٹا ہوا پارہ ہی جس پر ایک چہرہ کندہ تھا یا کسی ستون کے آرائشی حاشیے کا ایک ٹکڑا۔ اور ہزار سال بعد میری نظموں کی بھی یہی حالت ہونے والی ہے—پارے، ریزے، ٹکڑے، اس دنیا کا ملبہ جو ابد تک مدفون ہوچکی ہے۔ شہر کا کچھ باقی رہتا ہے تو یہ وہ بے تعلّق نگاہ ہے جس سے کسی نیم مدہوش شاعر نے اسے دیکھا ہوتا ہے۔‘‘
’’میں تمھاری بات سمجھتا ہوں، ‘‘ ابو طاہر نے ہکلا کر کہا، بلکہ چکراکر۔ ’’ اس کے باوجود، تم ایک شافعی مذہب کے قاضی کے نام لگی بندھی نظمیں تو معنون کرنے سے رہے جن سے شراب کی بو آرہی ہو!‘‘
حقیقت یہ ہے کہ عمر کا رویّہ مصالحتی اور تشکرانہ ثابت ہونے والا تھا۔ بہ الفاظ دیگر، وہ اپنی شراب کی تندی کو کم کرنے والا تھا۔ آنے والے مہینوں میں اس نے کعبی مساوات (cubic equations) سے متعلق ایک بے حد گمبھیر رسالے کی تصنیف میں خود کو غرق کرلیا۔ الجبر کے اس رسالے میں لامعلوم کی نمائندگی کے لیے، خیام نے عربی لفظ ’’شے ‘‘مقرّر کیا، جس کا مطلب ’’چیز‘‘ ہے۔ یہ لفظ، جو ہسپانوی کی علمی تصانیف میں xay کے طور پر املا ہوا، رفتہ رفتہ صرف اپنے پہلے حرف، x، سے بدل دیا گیا جو ساری دنیا میں لامعلوم قدر کی علامت کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔
خیام کا یہ علمی پارہ سمرقند میں تکمیل کو پہنچا اور اپنے محافظ کے نام یوںمعنون ہوا: ’’ہم ایک ایسے عہد کے کشتہ ہیں جسے میں اربابِ علم بے اعتبار ہیں اور ان میں بس معدودِ چند ہی خالص تحقیق کے لیے اپنے کو وقف کرنے کے امکانات سے بہرہ ور ہیں۔ وہ تھوڑا سا علم جو دورِ حاضر کے دانش وروں کو حاصل ہے، وہ مادّی اغراض کی تگ و دو میں کھپ جاتا ہے۔ چنانچہ میں اس عالم میں کسی ایسے کے حصول سے مایوس ہوچکا تھا جس کی دلچسپی علمی چیزوں میں بھی اتنی ہی ہو جتنی دنیوی چیزوں میں، ایک فرد جو انسانی تقدیر کی فکر میں غرق ہو، تاآنکہ خدا نے مجھے قاضی، امام ابو طاہر، سے ملنے کا موقع عنایت فرمایا۔ یہ ان کی نوازشوں کے طفیل ہے کہ میں خود کو ان کاموں میں لگا سکا ہوں۔‘‘
اس رات جب خیام اپنے منظرے کی طرف واپس آرہا تھا جہاں ان دنوں اس کی رہائش تھی، تو اس نے یہ سوچ کر کہ اب کچھ پڑھنے لکھنے کا وقت کہاں رہا ہے چراغ ساتھ نہیں لیا تھا۔ اس کے باوجود اس کے راستے پر چاند کی روشنی کا مدّھم سا اجالا تھا، ماہِ شوال کے ختم کا لاغر سا ہلال۔ جوں جوں وہ قاضی کی مسکن سے کچھ آگے بڑھا، اسے باقاعدہ ٹٹول ٹٹول کر اپنا راستہ تلاش کرنا پڑا۔ ایک سے زائد بار اسے ٹھوکر لگی، جھاڑیوں کو پکڑ کر اپنے کو گرنے سے روکا اور ٹھیک منھ پر بیدِ مجنوں کے سخت طمانچے کو سہا۔
اس نے ابھی بہ مشکل ہی اپنے کمرے میں قدم رکھا تھا کہ اسے میٹھی میٹھی سی سرزنش کی آواز سنائی دی۔ ’’میں ذرا اس سے پہلے تمھارے آنے کی متوقع تھی۔‘‘
تو کیا اس نے اس عورت کے بارے میں اتنی شدّت سے سوچا تھا کہ اب یہ گمان کر رہا ہے کہ اسے سن بھی رہا ہے؟ دروازے کے سامنے کھڑے کھڑے، جسے اس نے دھیرے سے بھیڑ دیا، اس نے کسی نیم رخ کو پہچاننے کی کوشش کی۔ بے سود ہی، کیونکہ دوبارہ صرف آواز ہی آئی، قابلِ سماعت پھر بھی مبہم۔
’’تم خاموش ہو۔ یہ یقین کرنے سے انکار کر رہے ہو کہ کوئی عورت یوں بے باکانہ تمھارے کمرے میں در آنے کی جرات کر سکتی ہے۔ محل میں ہماری نظریںملی تھیں اور جگمگا اٹھی تھیں، لیکن خان وہاں موجود تھا، اور قاضی اور درباری بھی، اور تم نے اپنی نظر پھیر لی تھی۔ بہت سے مردوں کی طرح تم نے بھی رکنا پسند نہیں کیا۔ لیکن تقدیر کی مزاحمت سے کیا ملے گا۔ صرف ایک عورت کی خاطر امیر کے غیظ و غضب کو مول لینے سے کیا ہاتھ آئے گا، ایک بیوہ کی خاطر جو جہیز میں صرف ایک منھ پھٹ زبان اور ایک مشتبہ ناموس ہی لا سکتی ہو؟‘‘
کسی پراسرا طاقت نے عمر کو باز رکھا،۔ وہ نہ کوئی جنش کرسکا نہ ہونٹوں کو ڈھیلا ہی۔
’’تم تو کچھ بھی نہیں بول رہے،‘‘ جہان نے بڑے گداز طنزِ خفی کے ساتھ تبصرہ کیا۔ ’’اچھا، خیر، میں خود ہی بولتی رہوں گی، اور یوں بھی اب تک صرف میں نے ہی کوئی قدم اٹھایا ہے۔ جب تم دربار سے جا رہے تھے، میں نے تمھاری پوچھ گچھ کی اور تمھاری قیام گاہ کا پتا لگایا۔ میں نے یہ عذر پیش کیا کہ اپنی عم زادی کے پاس رہنے جا رہی ہوں جس کی شادی سمرقند کے ایک متموّل سوداگر سے ہوئی ہے۔ عام طور پر جب میری نقل و حرکت دربار کے ساتھ ساتھ ہوتی ہے تو جاکر حرم میں سوتی ہوں۔ وہاں میری کچھ سہیلیاں ہیں جو میری رفاقت پسند کرتی ہیں۔ بڑے اشتیاق سے میری لائی ہوئی خبریں سنتی ہیں۔مجھے اپنا رقیب نہیں سمجھتیں کیونکہ انھیں خوب معلوم ہے کہ خان کی بیوی بننے کی میری کوئی خواہش نہیں۔ اگر میں چاہتی تو اسے رجھا پرچا سکتی تھی، لیکن میں شاہ کی بیگمات کے ساتھ اتنا زیادہ وقت گزار چکی ہوں کہ اس قسم کی قسمت مجھے لبھا نہیں سکتی۔ میرے لیے زندگی مردوں سے اس قدر زیادہ اہم ہے! جب تک میں کسی اور کی بیوی ہوں، یا کسی کی بھی نہیں، حکمراں اپنے دیوان میں میری، میرے اشعارکی اور میری خندہ زنی کی نمائش کا مشتاق رہے گا۔ لیکن جس دن بھی مجھ سے شادی کرنے کا خواب دیکھا، وہ شروعات مجھے تالے چابی میں ڈال کر کرے گا۔‘‘
اپنی مجہول کیفیت سے بہ مشکل باہر آتے ہوئے عورت کا ایک لفظ بھی عمر کی سمجھ میں نہیں آیا، اور جب اس نے کچھ کہنے کا فیصلہ کیا تو وہ اُس سے کم، بلکہ اپنے سے یا کسی سائے سے زیادہ بول رہا تھا:
’’اپنی جوانی میں، یااس کے بعد بھی، بارہاکوئی نگاہ مجھ پر اٹھی ہے، یا کوئی مجھے دیکھ کر مسکرایا ہے۔ پھر رات کو میںنے خواب میں اسی نگاہ کو جمسم ہوتے ہوئے دیکھا ہے، گوشت پوست میں بدل تے ہوئے۔ ایک عورت، اندھیرے میں دمکتی ہوا ایک پیکر۔ اچانک، اس رات کے اندھیارے میں، اس غیر حقیقی منظرے میں، اس غیر حقیقی شہر میں، تم یہاں ہو—ایک حسین عورت، اس پر مستزاد ایک شاعرہ، او ر مہیّا۔‘‘
وہ ہنس پڑی۔
’’مہیّا! یہ تمھیں کیسے معلوم ہوا؟ تم نے تو مجھے ہاتھ بھی نہیں لگایا، مجھے دیکھا تک نہیں، اور یقیناً دیکھو گے بھی نہیں کیونکہ اس سے پہلے کہ سورج مجھے بھگا دے، میں خود ہی یہاں سے رخصت ہو جاؤں گی۔‘‘
اس دبیز تاریکی میں ریشم کی بے ترتیب سی سرسراہٹ ہوئی اور خوشبو سی لہرائی۔ عمر دم بہ خود رہ گیا، اس کا جسم جاگ گیا تھا۔ وہ کسی طفلِ مکتب کی سادہ لوحی سے پوچھے بغیر نہ رہ سکا:
’’کیا تم اب بھی نقاب پہنے ہوئے ہو؟‘‘
’’تنہا نقاب جو پہنے ہوں وہ رات ہی ہے۔‘‘
باب ٦

ایک عورت اور ایک مرد۔ گمنام مصور نے انھیں نیم رخ میں تصوّر کیا تھا، پھیلے ہوئے اور ایک دوسرے میںپیوست۔ اس نے منظرے کی دیواریں ہٹا دی تھیں، انھیں بسترِ گیاہ مہیّا کر دیا تھا جس کا حاشیہ گلابوں کا تھا اور ایک سیمیں چشمہ جو ان کے پاؤں کے قریب اُبل رہا تھا۔ اس نے جہان کے پستان کسی ہندو دیوی جیسے خوش وضع بناے تھے۔ عمر اس کی زلفوں کو ایک ہاتھ سے ہلکے ہلکے چھو رہا ہے اور دوسرے میں ایک جام سنبھالے ہے۔
ہر روز محل میں ان کی مڈ بھیڑ ہوتی، لیکن وہ ایک دوسرے کی طرف دیکھنے سے اجتناب کرتے کہ مبادا اپنی چغلی نہ کھا دیں۔ ہر شام خیام بہ عجلت منظرے لوٹ آتا اور اپنی محبوب کا انتظار کرتا۔ قسمت نے انھیں کتنی راتیں ارزانی کی تھیں؟ ہر چیز کا انحصار حکمراں پر تھا۔ جب وہ خیمہ اٹھادے گا، جہان اس کے ساتھ ساتھ چلی جائے گی۔ وہ کبھی پیشگی کوئی اطلاع نہیں دیتا تھا۔ کسی صبح یہ ابنِ خانہ بدوش چھلانگ مار کر اپنے راہوار پر جا سوار ہوگا اور بخارا کی راہ لے گا، کِش یا پنج قند کی، اور دربار میں افراتفری مچ جائے گی کہ اسے جا لیں۔ عمر اور جہان کو اس لمحے سے خوف آتا تھا اور ان کے ہر بوسے میں الوداع کا ذائقہ ہوتا، ہر ہم آغوشی میں دم بہ خود فرار کا رنگ۔
گرمیوں کی ایک حد درجہ اُمس زدہ رات خیام منظرے کی مہتابی میں انتظار کی گھڑیاں گزارنے پہنچا کہ اسے کہیں نزدیک ہی قاضی کے پہرے داروں کے ہنسنے کی آواز سنائی دی اور وہ بے چین ہوگیا۔ لیکن یہ بے چینی بلا وجہ تھی، کیونکہ جہان آ پہنچی اور اسے اطمینان دلایا کہ کسی کی بھی نظرا س پرنہیں پڑی ہے۔ انھوں نے ایک دوسرے کا پہلے چوری چوری بوسہ لیا، بعد میں ایک اور شدید تر۔ اسی طرح وہ دن کو اس کے اختتام تک پہنچاتے تھے جس میں وہ دوسروں کی ملکیت ہوتے اور اُس رات کی ابتدا کرتے جو ان کی ملکیت تھی۔
’’ کیا خیال ہے، اس شہر میں کتنے ایسے عاشق ہوں گے جو ہماری طرح محوِ وصل ہوں؟‘‘ جہان نے شرارت سے سرگوشی کی۔ عمر نے ماہرانہ طور پر اپنا مشروبِ شب تیار کیا، گال پھلائے اور غورو فکر کے اندز میں کہا:
’’چلو اس پر توجہ سے غور کریں: اگر ہم بے زار بیویوں کو منہا کردیں، اطاعت گزار باندیوں، بازاری کسبیوں کو جو اپنے کو بیچتی ہیں یا کرائے پر اٹھاتی ہیں، اور آہیں بھرتی باکراؤں کو، تو کتنی عورتیں باقی بچ رہتی ہیں، کتنی عورتیں جو اس آدمی سے محوِ وصل ہیں جسے انھوں نے خود پسند کیا ہے؟ اسی طرح، ایسے کتنے مرد ہوں گے جو اس عورت کے برابر سوئیں گے جس سے انھیں عشق ہے، ایک ایسی عورت جو خود کو اپنی مرضی سے پیش کر رہی ہے، اس لیے نہیں کہ اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں؟ کون جانے، آج رات شاید پورے سمرقند میں صرف ایک ہی ایسا مرد اور ایک ہی ایسی عورت ہے۔ صرف تم ہی کیوں اور صرف میں ہی کیوں؟ اس لیے کہ خدا نے ہمیں محبت میں گرفتار کیا ہے، بالکل جس طرح اس نے بعض پھولوں کو زہر ناک بنایا ہے۔‘‘
وہ ہنسا اور وہ رو پڑی۔
’’چلو اند چلیں اور دروازہ بند کردیں۔ انھیں ہماری خوشیوں کی آواز کان پڑ جائے گی۔‘‘
بہت سی ہم آغوشیوں کے بعد، جہان کمر سیدھی کر کے بیٹھ گئی، اپنے کو کچھ ڈھانپ لیا، اور بڑی نرمی کے ساتھ اپنے کو اپنے عاشق کی آغوش سے علاحدہ کر لیا۔
’’مجھے ایک راز تمھیں بتا دینا چاہیے جو میں نے خان کی بڑی بیگم سے سنا ہے۔ معلوم ہے وہ سمرقند کیوں آیا ہوا ہے؟‘‘
عمر نے اسے روک دیا، اس خیال سے کہ حرم کی کوئی گپ شپ ہوگی۔
’’امرا کے رازوں سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں۔ یہ اپنے سننے والوں کے کان جلا دیتے ہیں۔‘‘
’’میری بات سنو تو سہی۔ اس راز کا اثر ہم پر بھی پڑتا ہے، کیونکہ یہ ہماری زندگی میں خلل اندازی کر سکتا ہے۔ نصر خان مورچوں کے معائنے کے لیے آیا ہے۔ گرماکے ختم پر، جب گرمی کا زور ٹوٹ چکا ہوگا، وہ سلجوق فوج کی حملہ آوری کا متوقع ہے۔‘‘
سلجوق، خیام ان سے خوب واقف تھا۔ یہ اس کے بچپن کی اولین یادوں میں جاگزین تھے۔ مسلمان ایشاکے مالک بن بیٹھنے سے بہت پہلے، وہ اس کے پیدائشی شہر پر حملہ آور ہوئے تھے اور اپنے پیچھے، نسلہا نسل تک، ایک خوفِ عظیم کی یاد چھوڑ گئے تھے۔
یہ واقعہ اس کی پیدائش سے دس سال پہلے رونما ہوا تھا۔ نیشاپور کے باشندے ایک صبح اٹھے تو دیکھا کہ ان کے شہر کے گرد ترکی جنگجوؤں نے پورا پورا محاصرہ کیا ہوا ہے، اور ان کی سربراہی دو بھائی کر رہے ہیں، طغرل بیگ باز اور چغری بیگ شِکرا، میخائیل ابن سلجوق کے فرزند، جو اس وقت غیر معروف سے خانہ بدوش سردار تھے اور ابھی حال ہی میں مشرف بہ اسلام ہوئے تھے۔ شہر کے سربرآوردگان کو پیغام ملا: ’’کہا جاتا ہے کہ تمھارے نوجوان اپنے فخر پر ناز کرتے ہیں اور میٹھا پانی تمھاری قناتوں میں بہتا ہے۔ اگر تم نے مزاحمت کی کوشش کی تو جلد ہی تمھاری قناتوں کے منھ سوئے فلک کھل جائیں گے اور تمھارے جوان زیرِ زمیں ہوں گے۔‘‘
اس قسم کی لاف زنی محاصرے کے وقت عام تھی۔ اس کے باوجود اکابرِ نیشاپور نے اس وعدے کے عوض ہتھیار ڈالنے میں عجلت دکھائی کہ اہالین شہر کی جان کو کوئی گزندنہ پہنچے اور ان کا مال، ان کے گھر اور ان کی قناتیں محفوظ رہیں ۔ لیکن ایک فاتح کے وعدوں کا کیا بھروسا؟ جب لشکر شہر میں داخل ہوا، چغری اپنے سپاہ کو سڑکوں اور بازاروں میںکھلے بندوں چھوڑ دینا چاہتا تھا۔ طغرل کی صلاح مختلف تھی۔ وہ ماہِ رمضان کا احترام کرنا چاہتا تھا کیونکہ اس ماہِ صوم میں ایک اسلامی شہر میں قتل و غارت گری حرام تھی۔ جیت بہرکیف اسی دلیل کی ہوئی، تاہم چغری قائل نہیں ہوا اور چارو ناچار اس وقت کا انتظار کرنے لگا جب آبادی اس مذہبی کیفیت سے نکل آئے گی۔
جب اہالین شہر کو برادران کی نا اتّفاقی کی ہوا لگی اور احساس ہوا کہ ماہِ آئندہ کے آغاز میں ان کی غارتگری، زنا بالجبر اور قتلِ عام ہونے والا ہے، تو بس یہیں سے خوفِ عظیم کی ابتدا ہوئی۔ زنا بالجبر سے زیادہ ہتک آمیز اس کی ناگزیریت کا اعلان ہے، جس پر ہونی کا انفعالی اور باعثِ ذلّت انتظار مستزاد۔ دکانیں خالی ہوگئیں، مرد جا چھپے اور ان کی بیوی بیٹی نے انھیں اپنی بیچارگی کا ماتم کرتے دیکھا۔ کیا کریں؟ کیسے فرار ہوں؟ کس راہ سے؟ قابض ہر طرف دندناتا پھر رہا تھا۔ چوٹی دار سپاہ صدر چوک کے بازاروں میں، مختلف علاقوں، مضافات اور بابِ سوختہ کے اکناف میں گھات لگائے بیٹھے تھے۔ وہ مسلسل پیے ہوتے اور زرِ مخلصی اور لوٹ کھسوٹ کے متلاشی، اور ان کے بے قابو جتّھے دیہی علاقوں میں جراثیم کی طرح پھیلے ہوئے تھے۔
کیا آدمی روزوں کے ختم ہونے اور عید کی آمد کی خواہش نہیں کرتا؟ اس سال وہ چاہتے تھے کہ صیام کبھی ختم نہ ہو اور امید کرتے کہ عید کبھی نہ آئے۔ جب نئے ماہ کا ہلال نظر آیا، کسی کو خوشی منانے یا بھیڑ ذبح کرنے کا خیال تک نہیں آیا۔ پورا شہر ہی کسی دیو ہیکل بھیڑ کی طرح نظر آرہا تھا جسے خوب کھلا پلا کر قربانی کے لیے فربہ کیا گیا ہو۔
عید سے پچھلی رات، جب ہر امید پوری ہوتی ہے، شبِ عذاب تھی، ہزاروں خاندانوں نے مسجدوں اور اولیاوں کی درگاہوں کی مشتبہ امان میں آنسو بہائے اور دعائیں مانگیں۔
اس وقت قلعیکے اندر دونوں سلجوق بھائیوں کے درمیان بڑی قیامت خیز بحث جاری تھی۔ چغری چلّا رہا تھا کہ اس کے سپاہ کو مہینوں سے مشاہرہ نہیں ملا ہے، کہ وہ صرف اس لیے لڑنے کے لیے آمادہ ہوئے تھے کہ ان سے اس ثروت مند شہر میں آزادانہ تصرّف کا وعدہ کیا گیا تھا، کہ وہ بغاوت کی کگر پر کھڑے ہوئے تھے اور کہ وہ، چغری، ان کو مزید روکے رکھنے سے قاصر تھا۔
لیکن طغرل کسی اور ہی زبان میں بات کر رہا تھا:
’’ ہماری فتوحات کی ابھی باسم اﷲہی ہوئی ہے۔ قبضۂ اختیار میں لانے کے لیے ابھی بہتیرے شہر باقی ہیں۔ اصفہان، شیراز، ری، تبریز اور ان سے آگے دوسرے۔ اگر ہم نیشاپور کے سپر انداز ہوجانے کے بعد اس میں لوٹ مار مچاتے ہیں، اپنے سارے وعدوں کے باوجود، تو کوئی اور دروازہ ہمارے لیے نہیں کھلے گا، کوئی اور قلعہ بند شہر اپنی محافظ فوج کے ساتھ ذرہ برابر بھی کم زوری نہیں دکھائے گا۔‘‘
’’ اگر ہم اپنی فوج ہی سے ہاتھ دھوے بیٹھے اور ہمارے سپاہ ہمیں چھوڑ کر بھاگ کھڑے ہوئے تو یہ جو تم اتنے بہت سے شہروں کے خواب دیکھ رہے ہو تو یہ کیسے فتح ہوں گے؟ وفادار ترین سپاہی بھی اب شکایت کر رہے ہیں اور دھمکی دے رہے ہیں۔‘‘
دونوں بھائی اپنے سپہ سالاروں اور قبیلے کے بزرگوں میں گھرے ہوئے تھا، جن میں سے ایکو ایک نے چغری کی بات کی تصدیق کی۔ اس سے ہمت پاکر وہ کھڑا ہوا اور معاملہ کو یکسو کرنے کا فیصلہ کر ڈالا:
’’بہت باتیں ہو لیں۔ میں اپنے آدمیوں سے جاکر کہتا ہوں کہ شہر کے ساتھ جو کرنا ہے کریں۔ اگر تم اپنے آدمیوں کو باز رکھنا چاہتے ہو تو تمھاری مرضی۔ تم اور تمھارے سپاہ الگ، میں اور میرے سپاہ الگ۔‘‘
اس مخمصے میں پھنس کر، اس نے کوئی جنبش نہیں کی۔ وہ یک بارگی ان کے درمیان سے اچھل کر دور ہوا اور ایک خنجر اٹھالیا۔
خود چغری نے بھی اس درمیان میں اپنی تلوار نیام سے باہر کر لی تھی۔ کسی کو معلوم نہیں تھا کہ مداخلت کریں یا، جیسا کہ رواج تھا، سلجوق بھائیوں کو اپنا حساب خون سے طے کر لینے دیں، کہ طغرل نے پکار کر کہا:
’’برادر، میں تمھیں اپنی بات ماننے پر مجبور نہیں کر سکتا۔ میں تمھارے سپاہ کو روک نہیں سکتا، لیکن اگر تم نے انھیں اس شہر پر چھوڑ دیا تو میں یہ خنجر اپنے سینے میں اتار لوں گا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے اس نے خنجر کا قبضہ دونوں ہاتھوں سے پکڑ لیا اور انی کو کو نیچے اپنے سینے کی طرف کردیا۔ اس کا بھائی قدرے ہچکچایا، لیکن بازو پھیلا کر اس کی طرف قدم بڑھا کر آیا اور دیر تک اس سے بغل گیررہا۔ وعدہ کیا کہ اس کی مرضی کے خلاف نہیں کرے گا۔ نیشاپور کی جاں بخشی ہوگئی، لیکن وہ رمضان کے خوفِ عظیم کو کبھی نہیں بھولے گا۔٭


ترجمہ: محمد عمر میمن

Zauq ki Kuch GhazleN

Articles

انتخابِ کلام ذوق

شیخ محمد ابراہیم ذوق

کسی بے کس کو اے بیداد گر مارا تو کیا مارا​​

جو آپ ہی مر رہا ہو اس کو گر مارا تو کیا مارا​

نہ مارا آپ کو جو خاک ہو اکسیر بن جاتا ​

اگر پارے کو اے اکسیر گر ! مارا تو کیا مار ​

بڑے موذی کو مارا نفس امارہ کو گر مارا ​

نہنگ و اژدہا و شیر نر مارا تو کیا مارا​

خطا تو دل کی تھی قابل ، بہت سی مار کھانے کی ​

تری زلفوں نے مشکیں باندھ کر مارا تو کیا مارا​

نہیں وہ قول کا سچا ، ہمیشہ قول دے دے کر​

جو اس نے ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا تو کیا مارا​

تفنگ و تیر تو ظاہر نہ تھے کچھ پاس قاتل کے ​

الٰہی اس نے دل کو تاک کر مارا تو کیا مارا​

ہنسی کے ساتھ یاں رونا ہے مثل قلقل مینا​

کسی نے قہقہہ ،اے بے خبر مارا تو کیا مارا​

مرے آنسو ہمیشہ ہیں برنگ لعل غرق خوں​

جو غوطہ آب میں تو نے گہر مارا تو کیا مارا

جگر دل دونوں پہلو میں ہیں زخمی اس نے کیا جانے​

اِدھر مارا تو کیا مارا ا دھر مارا تو کیا مارا​

گیا شیطان مارا ایک سجدہ کے نہ کرنے میں​

اگر لاکھوں برس سجدے میں سر مارا تو کیا مارا​

دل سنگینِ خسرو پر بھی ضرب اے کوہکن پہنچی​

اگر تیشہ سرِ کہسار مارا تو کیا مارا​

دل بد خواہ میں تھا مارنا یا چشم ِ بد بیں میں​

فلک پر ذوق تیر ِ آہ گر مارا تو کیا مارا​

……………………………….

لائی حيات آئے ، قضا لے چلي چلے
اپني خوشي نہ آئے نہ اپني خوشي چلے

ہم عمر خضر بھي تو ہو معلوم وقت مرگ
ہم کيا رھے يہاں ابھي آئے ابھي چلے

ہم سے بھي اس بساط پہ کم ہوں گے بد وقمار
جو چال ہم چلے سو نہايت بري چلے

ليلي کا ناقہ دشت ميں تاثير عشق سے
سن کر فغانِ قيس بجائے حدي چلے

نازاں نہ ہو خرد پہ جوہونا ھے ہو وہي
دانش تيري نہ کچھ مري دانش وري چلے

دنيا نے کس کا راہ ميں ديا ہے ساتھ
تم بھي چلے چلو يونہي جب تک چلي چلے

—————————-

 

معلوم جو ہوتا ہميں انجامِ محبت
ليتے نہ کبھي بھول کے ہم نامِ محبت

مانند کباب آگ پہ گرتے ہيں ہميشہ
دل سوز ترے بستر آرامِ محبت

کي جس سے رہ و سم محبت اسے مارا
پيغام قضا ہے ترا پيغامِ محبت

نے زہد سے ھے کام نہ زاہد سے کہ ہم تو
ہيں بادہ کش عشق و مئے جام محبت

ايمان کو غرورکہ کے نہ يوں کفر کو لے مول
کافر نہو گرويدہ اسلام محبت

معراج سمجھ ذوق تو قاتل کي سناں کو
چڑھ سر کے بل سے زينے پہ تا بام محبت

——————————

اب تو گھبرا کے يہ کہتے ہيں کہ مرجائيں گے
مر کے بھي چين نہ پايا تو کدھر جائيں گے

تم نے ٹھرائي اگر غير کے گہر جانے کي
تو ارادے يہاں کچھ اور ٹھر جائيں گے

خالي اے چارہ گر ہوں گے بہت مرہم داں
پر مرے زخم نہيں ايسے کہ بھر جائيں گے

پہنچيں گے رہ گزر يار تلک کيوں کر ہم
پہلے جب تک دو عالم سے گزر جائيں گے

ہم ہيں وہ جو کريں خون کا دعوي تجھ پر
بلکہ پوچہے گا خدا بھي تو مکر جائيں گے

آگ دوزخ کي بھي ہو جائے گي پاني پاني
جب يہ عاصي عرق شرم سے تر جائيں گے

ذوق جو مدرسے کے بگڑے ہوئے ہيں ملا
ان کو مے خانے ميں لے آئو سنور جائيں گے​​​

lehaf by Ismat Chughtai

Articles

لحاف

عصمت چغتائی

 

عصمت چغتائی اردو ادب کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ناول، افسانہ اور خاکہ نگاری کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ انھوں نے اردو میں ایک بے باک تانیثی رویے اور رجحان کا آغاز کیا اور اسے فروغ بھی دیا۔ عصمت۲۱؍ اگست۱۹۱۵ء کو اترپردیش کے مردم خیز شہربدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا نسیم بیگ چغتائی ڈپٹی کلکٹر تھے ۔ لہٰذا ان کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ اسی سبب سے ان کا بچپن جودھ پور (راجستھان) میں گزرا۔ انھوں نے علی گڑھ گرلس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد بی ٹی (بیچلر آف ٹیچنگ) کیا۔ تحصیل علم کے بعد بدایوں کی ایک گرلس کالج میں ملازمت اختیارکی۔ وہ ۱۹۴۲ء میں انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے بمبئی پہنچیں۔ شاہد لطیف سے ان کی شادی ہوئی جو تھوڑے سے ابتدائی دنوں کو چھوڑکر ہمیشہ جی کا جنجال بنی رہی۔ فلم، صحافت اور ادب ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محورہیں۔ ان کا انتقال ممبئی میں ۲۴؍ اکتوبر۱۹۹۱ء کو ہوا۔ انھیں ان کی وصیت کے مطابق بمبئی کے چندن واڑی سری میٹوریم میں سپرد برق کیا گیا۔
عصمت چغتائی بڑی آزاد خیال اور عجیب و غریب خاتون تھیں۔اُن کی شخصیت اور انسانی رشتوں اور ان رشتوں کے ساتھ عصمت کے رویے اور تعلق کو درشانے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے کچھ مختصر واقعات نقل کیے جائیں جنھوں نے عصمت کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ مثال کے طور پر مشہور افسانہ نگار اوپندر ناتھ اشک اپنے ایک مضمون میں ساحر لدھیانوی کے گھر فراق کے اعزاز میں دئے گئے ایک ڈنر جس میں عصمت کے شوہر شاہد لطیف بھی تھے کا ذکر کرتے ہوئے عصمت کے کردار کی یہ تصویر کھینچتے ہیں:
’’سبھی مرد عورتیں پی رہے تھے۔ عصمت نے ایک آدھ پیگ پینے کے بعد ہاتھ میں گلاس تھامے اسے گھماتے ہوئے بہ آواز بلند کہا۔۔۔ ’’میر اجی چاہتا ہے میں ایک حرام کا بچہ جنوں ، لیکن شاہد زہر کھا لے گا‘‘۔۔۔ مجھے اس ریمارک سے خاصہ دھکا لگا تھا۔ کوئی عورت پی کر بھی ایسا ریمارک نہیں کس سکتی۔ جب تک کہ اپنے شوہر کی بے راہ روی یا کمزوری سے اس کے دماغ میں یہ خیال نہ پیدا ہوا ہو یا پھر شوہر کے علاوہ وہ کسی اور مرد کونہ چاہتی ہو۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: اوپیندر ناتھ اشک۔ ص: ۲۲۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
عصمت کو قریب سے دیکھنے اور جاننے والوں میں قرۃ العین حیدر بھی ہیں۔ انھوں نے عصمت کی وفات سے متاثر ہو کر لیڈی چنگیز خان کے عنوان سے جو مضمون قلم بند کیا تھا اس میں عصمت کی آزاد خیالی کو اس واقعے کی روشنی میں پیش کیا :
’’ان کی بڑی بیٹی نے بنگلور میں سول میریج کر لی اور اطلاع دی کہ اس کی ساس سسر مذہبی رسوم کی ادائیگی بھی چاہتے ہیں آپ بھی آ جائیے۔ بنگلور سے واپس آکے عصمت آپا نے اپنے خاص انداز میں نہایت محظوظ ہوتے ہوئے سنایا کہ صبح صبح میں اٹھ گئی۔ سارا گھر سو رہا تھا۔ ان کا پنڈت آگیا۔ اب وہ بے چارہ ایک کمرے میں پریشان بیٹھا تھا۔ کہنے لگا مہورت نکلی جا رہی ہے اور یہاں کوئی ہے ہی نہیں۔ میں پوجا کیسے شروع کروں۔ میں نے کہا اے پنڈت جی آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ میں پوجا شروع کروائے دیتی ہوں۔ بس میں بیٹھ گئی اور میں نے پوجا شروع کروا دی۔ میں نے حیران ہوکے پوچھا بھلا اپ نے پوجا کس طرح کروائی۔ کہنے لگیں۔ اے اس میں کیا تھا۔ پنڈت نے کہا۔ میں منتر پڑھتا ہوں آگ میں تھوڑے تھوڑے چاول پھینکتے جائیے۔ میں چاول پھینکتی گئی۔ اتنے میں گھر کے اور لوگ بھی آ گئے۔ بس۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: قرۃ العین حیدر۔ ص:۳۷۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
یہ ہے عصمت چغتائی کی سیرت وشخصیت ،کردار اور ان کی فکر کا محور۔ وہ بہت آزاد خیال تھیں۔ وہ تاش دلچسپی سے کھیلتیں اور لگاتار سگریٹ پیتی تھیں۔ انھیں مے نوشی کا بھی شوق تھا۔ ان کے سینے میں مردوں یا اپنے حریفوں سے انتقام کی آگ ہمیشہ جلتی رہی۔ جس سے نفرت ہوئی اس کو کبھی معاف نہیں کیا۔ دراصل انھوں نے اپنے بچپن ہی میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا کہ اچھی سے اچھی بیٹی نالائق سے نالائق بیٹے سے کم ترہی سمجھی جاتی ہے چنانچہ ان کی اپنے کسی بھائی سے کبھی نہیں نبھی۔ ہر بھائی سے لڑائی جھگڑے میں ہی ان کا بچپن گزرا۔ بچپن کا یہ نقش ان کے بڑھاپے تک پتھر کی لکیر بنا رہا اور مردوں سے بیر رکھنا ان کی فطرت ثانیہ بن گیا۔ وہ انتقام کی اسی آگ میں ہمیشہ جلتی رہیں۔ یہاں تک کہ مرنے کے بعد خود جل کر راکھ ہو گئیں۔ عصمت چغتائی کی سوچ کا تانا بانا انھیں حادثات و واقعات سے تیار ہوا ہے۔ انھوں نے ترقی پسندی کے انتہائی عروج کے زمانے میں قلم سنبھالا اور اپنے باغی لب و لہجے سے مردوں کی صفوں میں ہل چل مچا دی ۔ساتھ ہی یہ یقین دلانے کی بے باکانہ کوشش بھی کی کہ عورت اپنی محدودیت کے باوجود لامحدود ہے اور مرد سے کسی طرح کم نہیں ہے۔
عصمت چغتائی نے ضدی، ٹیڑھی لکیر، ایک بات، معصومہ، جنگلی کبوتر، سودائی، انسان اور فرشتے، عجیب آدمی اور ایک قطرۂ خون جیسے مشہور ناول لکھے۔ باغیانہ خیالات پر مشتمل ایک ناولٹ دل کی دنیا تحریر کیا۔ اپنے افسانوں کے مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں شائع کروائے۔ دھانی بانکپن اور شیطان جیسے معروف ڈرامے قلمبند کیے اور تاویل، سودائی اور دوزخی جیسے بے مثال خاکے لکھے۔ ان کی یہ وہ تخلیقات ہیں جو ناول، افسانہ، ڈراما اور خاکہ نگاری کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہیں۔
ناول نگاری کی طرح افسانہ نگاری میں بھی عصمت کا ایک منفرد مقام ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں کو بہت مقبولیت ملی۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں رشید جہاں کی قائم کردہ روایت کو بلندیوں پر پہنچایا اور عورت کے مسائل کی پیش کش میں رقت آمیز اور رومانی طرز کو بدل کر ایک بے باک، تلخ لیکن جرأت آمیز اسلوب کو رائج کیا۔ عصمت نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے گھروں میں بولی جانے والی جس ٹھیٹھ اردو اور کٹیلے طنزیہ لہجے کو اپنایا وہ ان کی انفرادیت کا ضامن بن گیا۔ انھوں نے زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کی خواتین کے مسائل اور ان کی نفسیات پر لکھا جس پر انھیں گہرا عبورحاصل تھا۔ ان کے زیادہ تر افسانے ایک ایسے المیے پر ختم ہوتے ہیں جو حقیقت سے بہت قریب ہوتے ہیں۔ انھوں نے اردو افسانے کو سچ بولنا سکھایا اور عورت کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو کہانی کا موضوع بنایا۔ چوتھی کا جوڑا، بہو بیٹیاں ، سونے کا انڈا، چھوئی موئی، بھول بھلیاں ، ساس، لحاف، بے کار، کلو کی ماں ، اف یہ بچے، چارپائی، جھوٹی تھالی، میرا بچہ، ڈائن، ایک شوہر کی خاطر، سالی، سفر میں ، تل، لال چیونٹے، پیشہ ور، ننھی کی نانی وغیرہ ان کے مشہور اور یادگار افسانے ہیں۔ ان افسانوںمیں انھوں نے ایک مخصوص قسم کی فضا تخلیق کی ہے جو فضا گھر اور گھریلو زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان افسانوں میں عورت کا تصور اس کی بدنصیبی سے وابستہ نظر آتا ہے۔ اس کی پوری زندگی تلخیوں اور پریشانیوں میں گھری معلوم ہوتی ہے اور آخر میں وہ ان دکھوں کی تاب نہ لا کر اپنی جان دے دیتی ہے۔ عصمت کے زیادہ تر افسانے ایک خاص طبقے اور خصوصی طور پر عورت کے گھریلو ا ور جنسی تعلقات کے اردگرد گھومتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں یکسانیت کا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے جو قاری کے لیے کبھی کبھی اکتاہٹ کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
عصمت صرف جنس اور عورت کے مسائل تک محدود نہیں تھیں۔ ان کے افسانے:جڑیں ، کافر، دو ہاتھ اور ہندوستان چھوڑ دو وغیرہ گہرے تاریخی اور معاشرتی شعور کے آئینہ دار ہیں۔ انھوں نے دو ہاتھ میں محنت کس طبقے کی اہمیت اجاگر کیا ہے۔ دراصل عصمت کا دور ترقی پسندی کا دور تھا جس میں سماجی نا انصافیوں کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے آزادی، انصاف اور ترقی کا ساتھ دیا گیا۔ یوں انھوں نے سماج کے ہر مسئلے اور طبقے پر لکھا لیکن یہ ایک مسلمہ سچائی ہے کہ عورت کی نفسیات اور جنس کے موضوع ہی ان کے نزدیک اہمیت کے حامل تھے۔
عصمت ناول نگار اور افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ڈراما نگار بھی تھیں انھوں نے اپنے ڈراموں میں حقیقت نگاری پر زور دیا۔ ان کے ڈراموں میں ایک بات اور نیلی رگیں بہت مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ سانپ، دھانی بانکپن اور انتخاب بھی ان کے اچھے ڈرامے ہیں۔ ان کے ڈراموں کے کردار ہماری زندگی کے کردار ہیں۔ ان کی زبان صاف، سادہ اور دل کش ہے۔
عصمت کے تحریر کیے ہوئے خاکے تاویل، سودائی اور دوزخی کے نام سے شائع ہوئے۔ ان خاکوں میں دوزخی کو ادبی دنیا میں کافی مقبولیت ملی۔ جب یہ ماہنامہ ساقی (دہلی) میں شائع ہوا تو منٹو کی بہن نے کہا کہ ’’سعادت یہ عصمت کیسی بے ہودہ عورت ہے کہ اپنے موئے بھائی کو بھی نہیں بخشا۔ کمبخت نے کیسی کیسی فضول باتیں لکھی ہیں۔ اس وقت منٹو نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ اقبال اگر تم مجھ پر ایسا ہی مضمون لکھنے کا وعدہ کروتو میں ابھی مرنے کو تیار ہوں۔
بلاشبہ عصمت کی تحریریں موضوعات، اسلوب، کردار اور لب و لہجے کے اعتبار سے تانیثی حسیت اور تانیثی شعور کے اظہار کا پہلا معتبر تجربہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ تانیثیت کی پہلی اور مستند دستاویزات ہیں۔


لحاف

جب میں جاڑوں میں لحاف اوڑھتی ہوں، تو پاس کی دیواروں پر اس کی پرچھائیں ہاتھی کی طرح جھومتی ہوئی معلوم ہوتی ہے اور ایک دم سے میرا دماغ بیتی ہوئی دنیا کے پردوں میں دوڑنے بھاگنے لگتا ہے۔ نہ جانے کیا کچھ یاد آنے لگتا ہے۔

معاف کیجئے گا، میں آپ کو خود اپنے لحاف کا رومان انگیز ذکر بتانے نہیں جا رہی ہوں۔ نہ لحاف سے کسی قسم کا رومان جوڑا ہی جا سکتا ہے۔ میرے خیال میں کمبل آرام دہ سہی، مگر اس کی پرچھائیں اتنی بھیانک نہیں ہوتی جب لحاف کی پرچھائیں دیوار پر ڈگمگا رہی ہو۔ یہ تب کا ذکر ہے جب میں چھوٹی سی تھی اور دن بھر بھائیوں اور ان کے دوستوں کے ساتھ مار کٹائی میں گزار دیا کرتی تھی۔ کبھی کبھی مجھے خیال آتا کہ میں کم بخت اتنی لڑاکا کیوں ہوں۔ اس عمر میں جب کہ میری اور بہنیں عاشق جمع کر رہی تھیں میں اپنے پرائے ہر لڑکے اور لڑکی سے جو تم بیزار میں مشغول تھی۔ یہی وجہ تھی کہ اماں جب آگرہ جانے لگیں، تو ہفتے بھر کے لئے مجھے اپنی منہ بولی بہن کے پاس چھوڑ گئیں۔ ان کے یہاں اماں خوب جانتی تھی کہ چوہے کا بچہ بھی نہیں اور میں کسی سے لڑ بھڑ نہ سکوں گی۔ سزا تو خوب تھی! ہاں تو اماں مجھے بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ وہی بیگم جان جن کا لحاف اب تک میرے ذہن میں گرم لوہے کے داغ کی طرح محفوظ ہے۔ یہ بیگم جان تھیں جن کے غریب ماں باپ نے نواب صاحب کو اسی لئے داماد بنالیا کہ وہ پکی عمر کے تھے۔ مگر تھے نہایت نیک۔ کوئی رنڈی بازاری عورت ان کے یہاں نظر نہیں آئی۔ خود حاجی تھے اور بہتوں کو حج کرا چکے تھے۔ مگر انہیں ایک عجیب و غریب شوق تھا۔ لوگوں کو کبوتر پالنے کا شوق ہوتا ہے، بٹیرے لڑاتے ہیں، مرغ بازی کرتے ہیں۔ اس قسم کے واہیات کھیلوں سے نواب صاحب کو نفر ت تھی۔ ان کے یہاں تو بس طالب علم رہتے تھے۔ نوجوان گورے گورے پتلی کمروں کے لڑکے جن کا خرچ وہ خود برداشت کرتے تھے۔

مگر بیگم جان سے شادی کر کے تو وہ انہیں کل ساز و سامان کے ساتھ ہی گھر میں رکھ کر بھول گئے اور وہ بے چاری دبلی پتلی نازک سی بیگم تنہائی کے غم میں گھلنے لگی۔

نہ جانے ان کی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں سے جب وہ پیدا ہونے کی غلطی کر چکی تھی، یا وہاں سے جب وہ ایک نواب بیگم بن کر آئیں اور چھپر کھٹ پر زندگی گزارنے لگیں۔ یا جب سے نواب صاحب کے یہاں لڑکوں کا زور بندھا۔ ان کے لئے مرغن حلوے اور لذیذ کھانے جانے لگے اور بیگم جان دیوان خانے کے درزوں میں سے ان لچکتی کمروں والے لڑکوں کی چست پنڈلیاں اور معطر باریک شبنم کے کرتے دیکھ دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے لگیں۔

یا جب سے، جب وہ منتوں مرادوں سے ہار گئیں، چلے بندھے اور ٹوٹکے اور راتوں کی وظیفہ خوانی بھی چت ہو گئی۔ کہیں پتھر میں جونک لگتی ہے۔ نواب صاحب اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئے۔ پھر بیگم جان کا دل ٹوٹ گیا اور وہ علم کی طرف متوجہ ہوئیں لیکن یہاں بھی انہیں کچھ نہ ملا۔ عشقیہ ناول اور جذباتی اشعار پڑھ کر اور بھی پستی چھاگئی۔ رات کی نیند بھی ہاتھ سے گئی اور بیگم جان جی جان چھوڑ کر بالکل ہی یاس و حسرت کی پوٹ بن گئیں۔ چولہے میں ڈالا ایسا کپڑا لتا۔ کپڑا پہنا جا تا ہے، کسی پر رعب گانٹھنے کے لئے۔ اب نہ تو نواب صاحب کو فرصت کہ شبنمی کرتوتوں کو چھوڑ کر ذرا ادھر توجہ کریں اور نہ وہ انہیں آنے جانے دیتے۔ جب سے بیگم جان بیاہ کر آئی تھیں رشتہ دار آ کر مہینوں رہتے اور چلے جاتے۔ مگر وہ بے چاری قید کی قید رہتیں۔

پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوئے ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوئے، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجئے پھسل کر گئے کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

گرمی جاڑے بیگم جان حیدر آبادی جالی کارگے کے کرتے پہنتیں۔ گہرے رنگ کے پاجامے اور سفید جھاگ سے کرتے اور پنکھا بھی چلتا ہو۔ پھر وہ ہلکی دلائی ضرور جسم پر ڈھکے رہتی تھیں۔ انہیں جاڑا بہت پسند تھا۔ جاڑے میں مجھے ان کے یہاں اچھامعلوم ہوتا۔ وہ ہلتی جلتی بہت کم تھیں۔ قالین پر لیٹی ہیں۔ پیٹھ کھج رہی ہے۔ خشک میوے چبا رہی ہیں اور بس۔ ربو سے دوسری ساری نوکرانیاں خار کھاتی تھیں۔ چڑیل بیگم جان کے ساتھ کھاتی، ساتھ اٹھتی بیٹھتی اور ماشاءاللہ ساتھ ہی سوتی تھی۔ ربو اور بیگم جان عام جلوؤں اور مجموعوں کی دلچسپ گفتگو کا موضوع تھیں۔ جہاں ان دونوں کا ذکر آیا اور قہقہے اٹھے۔ یہ لوگ نہ جانے کیا کیا چٹکے غریب پر اڑاتے۔ مگر وہ دنیا میں کسی سے ملتی نہ تھیں۔ وہاں تو بس وہ تھیں اور ان کی کھجلی۔

میں نے کہا کہ اس وقت میں کافی چھوٹی تھی اور بیگم جان پر فدا۔ وہ مجھے بہت ہی پیار کرتی تھیں۔ اتفاق سے اماں آگرے گئیں۔ انہیں معلوم تھا کہ اکیلے گھر میں بھائیوں سے مار کٹائی ہو گی۔ ماری ماری پھروں گی۔ اس لئے وہ ہفتے بھر کے لئے بیگم جان کے پاس چھوڑ گئیں۔ میں بھی خوش اور بیگم جان بھی خوش۔ آخر کو اماں کی بھابھی بنی ہوئی تھیں۔

سوال یہ اٹھا کہ میں سوؤں کہاں؟ قدرتی طور پر بیگم جان کے کمرے میں۔ لہذا میرے لئے بھی ان کے چھپر کھٹ سے لگا کر چھوٹی سی پلنگڑی ڈال دی گئی۔ گیارہ بجے تک تو باتیں کرتے رہے، میں اور بیگم جان تاش کھیلتے رہے اور پھر میں سونے کے لئے اپنے پلنگ پر چلی گئی اور جب میں سوئی تو ربو ویسی ہی بیٹھی ان کی پیٹھ کھجا رہی تھی۔ “بھنگن کہیں کی۔” میں نے سوچا۔ رات کو میری ایک دم سے آنکھ کھلی تو مجھے عجیب طرح کا ڈر لگنے لگا۔ کمرہ میں گھپ اندھیرا اور اس اندھیرے میں بیگم جان کا لحاف ایسے ہل رہا تھا جیسے اس میں ہاتھی بند ہو۔ بیگم جانمیں نے ڈری ہوئی آواز نکالی، ہاتھ ہلنا بند ہو گیا۔ لحاف نیچے دب گیا۔

“کیا ہے، سو رہو” بیگم جان نے کہیں سے آواز دی۔

“ڈر لگ رہا ہے۔” میں نے چوہے کی سی آواز سے کہا۔

“سو جاؤ۔ ڈر کی کیا بات ہے۔ آیت الکرسی پڑھ لو۔”

“اچھامیں نے جلدی جلدی آیت الکرسی پڑھی مگر یَعْلَمُ مَا بَیْنَ پر دفعتاً آ کر اٹک گئی۔ حالانکہ مجھے اس وقت پوری یاد تھی۔

“تمہارے پاس آ جاؤں بیگم جان۔”

“نہیں بیٹیسو رہو” ذرا سختی سے کہا۔

اور پھر دو آدمیوں کے کھسر پھسر کرنے کی آواز سنائی دینے لگی۔ ہائے رے دوسرا کونمیں اور بھی ڈری۔

“بیگم جانچور تو نہیں۔”

“سو جاؤ بیٹاکیسا چور” ربو کی آواز آئی۔ میں جلدی سے لحاف میں منہ ڈال کر سو گئی۔

صبح میرے ذہن میں رات کے خوفناک نظارے کا خیال بھی نہ رہا۔ میں ہمیشہ کی وہمی ہوں۔ رات کو ڈرنا۔ اٹھ اٹھ کر بھاگنا اور بڑبڑانا تو بچپن میں روز ہی ہوتا تھا۔ سب تو کہتے تھے کہ مجھ پر بھوتوں کا سایہ ہو گیا ہے۔ لہٰذا مجھے خیال بھی نہ رہا۔ صبح کو لحاف بالکل معصوم نظر آ رہا تھا مگر دوسری رات میری آنکھ کھلی تو ربو اور بیگم جان میں کچھ جھگڑا بڑی خاموشی سے چھپڑ کھٹ پر ہی طے ہو رہا تھا اور مجھے خاک سمجھ نہ آیا۔ اور کیا فیصلہ ہوا، ربو ہچکیاں لے کر روئی پھر بلی کی طرح چڑ چڑ رکابی چاٹنے جیسی آوازیں آنے لگیں۔ اونہہ میں گھبرا کر سو گئی۔۔

ان رشتہ داروں کو دیکھ کر اور بھی ان کا خون جلتا تھا کہ سب کے سب مزے سے مال اڑانے، عمدہ گھی نگلنے، جاڑوں کا ساز و سامان بنوانے آن مرتے اور باوجود نئی روئی کے لحاف کے بڑی سردی میں اکڑا کرتیں۔ ہر کروٹ پر لحاف نئی نئی صورتیں بنا کر دیوار پر سایہ ڈالتا۔ مگر کوئی بھی سایہ ایسا نہ تھا جو انہیں زندہ رکھنے کے لئے کافی ہو۔ مگر کیوں جئے پھر کوئی، زندگی! جان کی زندگی جو تھی، جینا بدا تھا نصیبوں میں، وہ پھر جینے لگیں اور خوب جئیں!

ربو نے انہیں نیچے گرتے گرتے سنبھال لیا۔ چپ پٹ دیکھتے دیکھتے ان کا سوکھا جسم ہرا ہونا شروع ہوا۔ گال چمک اٹھے اور حسن پھوٹ نکلا۔ ایک عجیب و غریب تیل کی مالش سے بیگم جان میں زندگی کی جھلک آئی۔ معاف کیجئے، اس تیل کا نسخہ آپ کو بہترین سے بہترین رسالہ میں بھی نہ ملے گا۔

جب میں نے بیگم جان کو دیکھا تو وہ چالیس بیالیس کی ہوں گی۔ اُفوہ کس شان سے وہ مسند پر نیم دراز تھیں اور ربو ان کی پیٹھ سے لگی کمر دبا رہی تھی۔ ایک اودے رنگ کا دوشالہ ان کے پیروں پر پڑا تھا اور وہ مہارانوں کی طرح شاندار معلوم ہو رہی تھیں۔ مجھے ان کی شکل بے انتہا پسند تھی۔ میرا جی چاہتا تھا کہ گھنٹوں بالکل پاس سے ان کی صورت دیکھا کروں۔ ان کی رنگت بالکل سفید تھی۔ نام کو سرخی کا ذکر نہیں اور بال سیاہ اور تیل میں ڈوبے رہتے تھے۔ میں نے آج تک ان کی مانگ ہی بگڑی نہ دیکھی۔ مجال ہے جو ایک بال ادھر ادھر ہو جائے۔ ان کی آنکھیں کالی تھیں اور ابرو پر کے زائد بال علیحدہ کر دینے سے کمانیں سے کھچی رہتی تھیں۔ آنکھیں ذرا تنی ہوئی رہتی تھیں۔ بھاری بھاری پھولے پپوٹے موٹی موٹی آنکھیں۔ سب سے جو ان کے چہرے پر حیرت انگیز جاذبیت نظر چیز تھی، وہ ان کے ہونٹ تھے۔ عموماً وہ سرخی سے رنگے رہتے تھے۔ اوپر کے ہونٹوں پر ہلکی ہلکی مونچھیں سی تھیں اور کنپٹیوں پر لمبے لمبے بال کبھی کبھی ان کا چہرہ دیکھتے دیکھتے عجیب سا لگنے لگتا تھا۔ کم عمر لڑکوں جیسا!

ان کے جسم کی جلد بھی سفید اور چکنی تھی۔ معلوم ہوتا تھا، کسی نے کس کر ٹانکے لگا دئے ہوں۔ عموماً وہ اپنی پنڈلیاں کھجانے کے لئے کھولتیں، تو میں چپکے چپکے ان کی چمک دیکھا کرتی۔ ان کا قد بہت لمبا تھا اور پھر گوشت ہونے کی وجہ سے وہ بہت ہی لمبی چوڑی معلوم ہوتی تھیں لیکن بہت متناسب اور ڈھیلا ہوا جسم تھا۔ بڑے بڑے چکنے اور سفید ہاتھ اور سڈول کمر، تو ربو ان کی پیٹھ کھجایا کرتی تھی۔ یعنی گھنٹوں ان کی پیٹھ کھجاتی۔ پیٹھ کھجوانا بھی زندگی کی ضروریات میں سے تھا بلکہ شاید ضرورت زندگی سے بھی زیادہ۔

ربو کو گھر کا اور کوئی کام نہ تھا بس وہ سارے وقت ان کے چھپر کھٹ پر چڑھی کبھی پیر، کبھی سر اور کبھی جسم کے دوسرے حصے کو دبایا کرتی تھی۔ کبھی تو میرا دل ہول اٹھتا تھا جب دیکھو ربو کچھ نہ کچھ دبا رہی ہے، یا مالش کر رہی ہے۔ کوئی دوسرا ہوتا تو نہ جانے کیا ہوتا۔ میں اپنا کہتی ہوں، کوئی اتنا چھوئے بھی تو میرا جسم سڑ گل کے ختم ہو جائے۔

اور پھر یہ روز روز کی مالش کافی نہیں تھی۔ جس روز بیگم جان نہاتیں۔ یا اللہ بس دو گھنٹہ پہلے سے تیل اور خوشبودار ابٹنوں کی مالش شروع ہو جاتی اور اتنی ہوتی کہ میرا تو تخیل سے ہی دل ٹوٹ جاتا۔ کمرے کے دروازے بند کر کے انگیٹھیاں سلگتیں اور چلتا مالش کا دور اور عموماً صرف ربو ہی رہتی۔ باقی کی نوکرانیاں بڑبڑاتی دروازہ پر سے ہی ضرورت کی چیزیں دیتی جاتیں۔

بات یہ بھی تھی کہ بیگم جان کو کھجلی کا مرض تھا۔ بے چاری کو ایسی کھجلی ہوتی تھی اور ہزاروں تیل اور ابٹن ملے جاتے تھے مگر کھجلی تھی کہ قائم۔ ڈاکٹر حکیم کہتے کچھ بھی نہیں۔ جسم صاف چٹ پڑا ہے۔ ہاں کوئی جلد اندر بیماری ہو تو خیر۔ نہیں بھئی یہ ڈاکٹر تو موئے ہیں پاگل۔ کوئی آپ کے دشمنوں کو مرض ہے۔ اللہ رکھے خون میں گرمی ہے۔ ربو مسکرا کر کہتی اور مہین مہین نظروں سے بیگم جان کو گھورتی۔ اوہ یہ ربوجتنی یہ بیگم جان گوری، اتنی ہی یہ کالی تھی۔ جتنی یہ بیگم جان سفید تھیں، اتنی ہی یہ سرخ۔ بس جیسے تپا ہوا لوہا۔ ہلکے ہلکے چیچک کے داغ۔ گٹھا ہوا ٹھوس جسم۔ پھرتیلے چھوٹے چھوٹے ہاتھ، کسی ہوئی چھوٹی سی توند۔ بڑے بڑے پھولے ہوئے ہونٹ، جو ہمیشہ نمی میں ڈوبے رہتے اور جسم میں عجیب گھبرانے والی بو کے شرارے نکلتے رہتے تھے اور یہ نتھنے تھے پھولے ہوئے، ہاتھ کس قدر پھرتیلے تھے، ابھی کمر پر، تو وہ لیجئے پھسل کر گئے کولھوں پر، وہاں رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بھی بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی دیکھتی کہ اب اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کر رہے ہیں۔

آج ربو اپنے بیٹے سے ملنے گئی ہوئی تھی۔ وہ بڑا جھگڑالو تھا۔ بہت کچھ بیگم جان نے کیا۔ اسے دکان کرائی،گاؤں میں لگایا مگر وہ کسی طرح مانتا ہی نہ تھا۔ نواب صاحب کے یہاں کچھ دن رہا۔ خوب جوڑے بھاگے بھی بنے۔ نہ جانے کیوں ایسا بھاگا کہ ربو سے ملنے بھی نہ آتا تھا۔ لہٰذا ربو ہی اپنے کسی رشتہ دار کے یہاں اس سے ملنے گئی تھی۔ بیگم جان نہ جانے دیتی مگر ربو بھی مجبور ہو گئی۔ سارا دان بیگم جان پریشان رہیں۔ اس کا جوڑ جوڑ ٹوٹتا رہا۔ کسی کا چھونا بھی انہیں نہ بھاتا تھا۔ انہوں نے کھانا بھی نہ کھایا اور سارا دن اداس پڑی رہیں۔

“میں کھجا دوں سچ کہتی ہوں۔” میں نے بڑے شوق سے تاش کے پتے بانٹتے ہوئے کہا۔ بیگم جان مجھے غور سے دیکھنے لگیں۔

میں تھوڑی دیر کھجاتی رہی اور بیگم جان چپکی لیٹی رہیں۔ دوسرے دن ربو کو آنا تھا مگر وہ آج بھی غائب تھی۔ بیگم جان کا مزاج چڑچڑا ہوتا گیا۔ چائے پی پی کر انہوں نے سر میں درد کر لیا۔

میں پھر کھجانے لگی، ان کی پیٹھچکنی میز کی تختی جیسی پیٹھ۔ میں ہولے ہولے کھجاتی رہی۔ ان کا کام کر کے کیسی خوش ہوتی تھی۔

“ذرا زور سے کھجاؤبند کھول دو” بیگم جان بولیں۔

ادھراے ہے ذرا شانے سے۔ نیچےہاںوہاں بھئی واہہاہاوہ سرور میں ٹھنڈی ٹھنڈی سانسیں لے کر اطمینان کا اظہار کرنے لگیں۔

“اور ادھرحالانکہ بیگم جان کا ہاتھ خوب جا سکتا تھا مگر وہ مجھ سے ہی کھجوا رہی تھیں اور مجھے الٹا فخر ہو رہا تھا” یہاں اوئیتم تو گدگدی کرتی ہوواہ” وہ ہنسیں۔ میں باتیں بھی کر رہی تھی اور کھجا بھی رہی تھی۔

تمہیں کل بازار بھیجوں گیکیا لوگیوہی سوتی جاگتی گڑیا۔

نہیں بیگم جانمیں تو گڑیا نہیں لیتیکیا بچہ ہوں اب میں”

بچہ نہیں تو کیا بوڑھی ہو گئیوہ ہنسیںگڑیا نہیں تو ببوا لیناکپڑے پہنانا خود۔ میں دوں گی تمہیں بہت سے کپڑے سنا” انہوں نے کروٹ لی۔

“اچھا” میں نے جواب دیا۔

“ادھر۔” انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر جہاں کجھلی ہو رہی تھی، رکھ دیا۔ جہاں انہیں کھجلی معلوم ہوتی وہاں رکھ دیتی اور میں بے خیالی میں ببوے کے دھیان میں ڈوبی مشین کی طرح کھجاتی رہی اور وہ متواتر باتیں کرتی رہیں۔

“سنو توتمہاری فراکیں کم ہو گئی ہیں۔ کل درزی کو دے دوں گی کہ نئی سی لائے۔ تمہاری اماں کپڑے دے گئی ہیں۔”

“وہ لال کپڑے کی نہیں بنواؤں گیچماروں جیسی ہے۔” میں بکواس کر رہی تھی اور میرا ہاتھ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم بھی نہ ہوا۔ بیگم جان تو چت لیٹی تھیںارےمیں نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔

“اوئی لڑکیدیکھ کر نہیں کھجاتیمیری پسلیاں نوچے ڈالتی ہے۔” بیگم جان شرارت سے مسکرائیں اور میں جھینپ گئی۔

ادھر آ کر میرے پاس لیٹ جا” انہوں نے مجھے بازو پر سر رکھ کر لٹا لیا۔

اے ہے کتنی سوکھ رہی ہے۔ پسلیاں نکل رہی ہیں۔ انہوں نے پسلیاں گننا شروع کر دیں۔

“اوں” میں منمنائی۔

“اوئیتو کیا میں کھا جاؤں گیکیسا تنگ سویٹر بُنا ہے!” گرم بنیان بھی نہیں پہنا تم نےمیں کلبلانے لگی۔ “کتنی پسلیاں ہوتی ہیں” انہوں نے بات بدلی۔

“ایک طرف نو اور ایک طرف دس” میں نے اسکول میں یاد کی ہوئی ہائی جین کی مدد لی۔ وہ بھی اوٹ پٹانگ۔

“ہٹا لو ہاتھہاں ایکدوتین”

میرا دل چاہا کس طرح بھاگوںاور انہوں نے زور سے بھینچا۔

“اوں” میں مچل گئیبیگم جان زور زور سے ہنسنے لگیں۔ اب بھی جب کبھی میں ان کا اس وقت کا چہرہ یاد کرتی ہوں تو دل گھبرانے لگتا ہے۔ ان کی آنکھوں کے پپوٹے اور وزنی ہو گئے۔ اوپر کے ہونٹ پر سیاہی گھری ہوئی تھی۔ باوجود سردی کے پسینے کی ننھی ننھی بوندیں ہونٹوں پر اور ناک پر چمک رہی تھیں۔ اس کے ہاتھ یخ ٹھنڈے تھے۔ مگر نرم جیسے ان پر کھال اتر گئی ہو۔ انہوں نے شال اتار دی اور کارگے کے مہین کرتے میں ان کا جسم آٹے کی لونی کی طرح چمک رہا تھا۔ بھاری جڑاؤ سونے کے گرین بٹن گربیان کی ایک طرف جھول رہے تھے۔ شام ہو گئی تھی اور کمرے میں اندھیرا گھٹ رہا تھا۔ مجھے ایک نا معلوم ڈر سے وحشت سی ہونے لگی۔ بیگم جان کی گہری گہری آنکھیں۔ میں رونے لگی دل میں۔ وہ مجھے ایک مٹی کے کھلونے کی طرح بھینچ رہی تھیں۔ ان کے گرم گرم جسم سے میرا دل ہولانے لگا مگر ان پر تو جیسے بھتنا سوار تھا اور میرے دماغ کا یہ حال کہ نہ چیخا جائے اور نہ رہ سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پست ہو کر نڈھال لیٹ گئیں۔ ان کا چہرہ پھیکا اور بد رونق ہو گیا اور لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ میں سمجھی کہ اب مریں یہ اور وہاں سے اٹھ کر سرپٹ بھاگی باہر۔

شکر ہے کہ ربو رات کو آ گئی اور میں ڈری ہوئی جلدی سے لحاف اوڑھ کر سو گئی مگر نیند کہاں۔ چپ گھنٹوں پڑی رہی۔

اماں کسی طرح آہی نہیں چکی تھیں۔ بیگم جان سے مجھے ایسا ڈر لگتا تھا کہ میں سار ا دن ماماؤں کے پاس بیٹھی رہی مگر ان کے کمرے میں قدم رکھتے ہی دم نکلتا تھا اور کہتی کس سے اور کہتی ہی کیا کہ بیگم جان سے ڈر لگتا ہے۔ بیگم جان جو میرے اوپر جان چھڑکتی تھیں۔

آج ربو میں اور بیگم جان میں پھر ان بن ہو گئیمیری قسمت کی خرابی کہیے یا کچھ اور مجھے ان دونوں کی ان بن سے ڈر لگا۔ کیونکہ رات ہی بیگم جان کو خیال آیا کہ میں باہر سردی میں گھوم رہی ہوں اور مروں گی نمونیے میں۔

“لڑکی کیا میرا سر منڈوائے گی۔ جو کچھ ہوا ہو گیا، تو اور آفت آئے گی۔”

انہوں نے نے مجھے پاس بٹھا لیا۔ وہ خود منہ ہاتھ سلفچی میں دھو رہی تھیں، چائے تپائی پر رکھی تھی۔

“چائے تو بناؤایک پیالی مجھے بھی دیناوہ تولیے سے منہ خشک کر کے بولیں ذرا کپڑے بدل لوں۔”

وہ کپڑے بدلتی رہیں اور میں چائے پیتی رہی۔ بیگم جان نائن سے پیٹھ ملواتے وقت اگر مجھے کسی کام سے بلواتیں، تو میں گردن موڑے جاتی اور واپس بھاگ آتی۔ اب جو انہوں نے کپڑے بدلے، تو میرا دل الٹنے لگا۔ منہ موڑے میں چائے پیتی رہی۔

“ہائے اماںمیرے دل نے بے کسی سے پکاراآخر ایسا بھائیوں سے کیا لڑتی ہوں جو تم میری مصیبتاماں کو ہمیشہ سے میرا لڑکوں کے ساتھ کھیلنا ناپسند ہے۔ کہو بھلا لڑکے کیا شیر چیتے ہیں جو نگل جائیں گے ان کی لاڈلی کو؛ اور لڑکے بھی کون؟ خود بھائی اور دو چار سڑے سڑائے۔ ان ذرا ذرا سے ان کے دوست مگر نہیں، وہ تو عورت ذات کو سات سالوں میں رکھنے کی قائل اور یہاں بیگم جان کی وہ دہشت کہ دنیا بھر کے غنڈوں سے نہیں۔ بس چلتا، سو اس وقت سڑک پر بھاگ جاتی، پھر وہاں نہ ٹکتی مگر لاچار تھی۔ مجبور کلیجہ پر پتھر رکھے بیٹھی رہی۔”

کپڑے بدل کر سولہ سنگھار ہوئے اور گرم گرم خوشبوؤں کے عطر نے اور بھی انہیں انگارا بنا دیا اور وہ چلیں مجھ پر لاڈ اتارنے۔

“گھر جاؤں گی” میں نے ان کی ہر رائے کے جواب میں کہا اور رونے لگی۔ “میرے پاس تو آؤمیں تمہیں بازار لے چلوں گیسنو تو۔”

مگر میں کلی کی طرح پھسل گئی۔ سارے کھلونے، مٹھائیاں ایک طرف اور گھر جانے کی رٹ ایک طرف۔

“وہاں بھیا ماریں گے چڑیل” انہوں نے پیار سے مجھے تھپڑ لگایا۔

“پڑیں ماریں بھیامیں نے سوچا اور روٹھی اکڑتی رہی۔ “کچی امیاں کھٹی ہوتی ہیں بیگم جان” جلی کٹی ربو نے رائے دی اور پھر اس کے بعد بیگم جان کو دورہ پڑ گیا۔ سونے کا ہار جو وہ تھوڑی دیر پہلے مجھے پہنا رہی تھیں، ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ مہین جالی کا دوپٹہ تار تار اور وہ مانگ جو میں نے کبھی بگڑی نہ دیکھی تھی، جھاڑ جھنکاڑ ہو گئی۔

“اوہ اوہ اوہ اوہ” وہ جھٹکی لے لے کر چلانے لگیں۔ میں رپٹی باہر۔

بڑے جتنوں سے بیگم جان کو ہوش آیا۔ جب میں سونے کے لئے کمرے میں دبے پیر جا کر جھانکی، تو ربو ان کی کمر سے لگی جسم دبا رہی تھی۔

“جوتی اتار دواس نے اس کی پسلیاں کھجاتے ہوئے کہا اور میں چوہیا کی طرح لحاف میں دبک گئی۔”

سر سر پھٹ کجبیگم جان کا لحاف اندھیرے میں پھر ہاتھی کی طرح جھوم رہا تھا۔

“اللہ آں” میں نے مری ہوئی آواز نکالی۔ لحاف میں ہاتھی چھلکا اور بیٹھ گیا۔ میں بھی چپ ہو گئی۔ ہاتھی نے پھر لوٹ مچائی۔ میرا رواں رواں کانپا۔ آج میں نے دل میں ٹھان لیا کہ ضرور ہمت کر کے سرہانے لگا ہوا بلب جلا دوں۔ ہاتھ پھڑپھڑا رہا تھا اور جیسے اکڑوں بیٹھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ چپڑ چپڑ کچھ کھانے کی آواز آ رہی تھیں۔ جیسے کوئی مزے دار چٹنی چکھ رہا ہو۔ اب میں سمجھی! یہ بیگم جان نے آج کچھ نہیں کھایا اور ربو مردی تو ہے سدا کی چٹو۔ ضرور یہ تر مال اڑا رہی ہے۔ میں نے نتھنے پھلا کر سوں سوں ہوا کو سونگھا۔ سوائے عطر صندل اور حنا کی گرم گرم خوشبو کے اور کچھ محسوس نہ ہوا۔

لحاف پھر امنڈنا شروع ہو ا۔ میں نے بہتیرا چاہا کہ چپکی پڑی رہوں۔ مگر اس لحاف نے تو ایسی عجیب عجیب شکلیں بنانی شروع کیں کہ میں ڈر گئی۔ معلوم ہوتا تھا غوں غوں کر کے کوئی بڑا سا مینڈک پھول رہا ہے اور اب اچھل کر میرے اوپر آیا۔

آناماںمیں ہمت کر کے گنگنائی۔ مگر وہاں کچھ شنوائی نہ ہوئی اور لحاف میرے دماغ میں گھس کر پھولنا شروع ہوا۔ میں نے ڈرتے ڈرتے پلنگ کے دوسری طرف پیر اتارے اور ٹٹول ٹٹول کر بجلی کا بٹن دبایا۔ ہاتھی نے لحاف کے نیچے ایک قلابازی لگائی اور پچک گیا۔ قلابازی لگانے میں لحاف کا کونہ فٹ بھر اٹھا۔

اللہ! میں غڑاپ سے اپنے بچھونے میں۔


 

افسانہ لحاف کا تجزیہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

لحاف کے متن میں عصمت چغتائی خود ہی سوال اٹھاتی ہیں:
’’ نہ جانے بیگم جان کی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ وہاں سے جب وہ پیدا ہونے کی غلطی کرچکی تھیں یا وہاں سے جب وہ نواب کی بیگم بن کر آئی تھیں اور چھپر کھٹ پر زندگی گزارنے لگیں۔یا جب سے نواب صاحب کے یہاں لڑکوں کا زور بندھا؟ ان کے لیے مرغن حلوے اور لذیذ کھانے جانے لگے اور بیگم جان دیوان خانے کی دیواروں میں سے لچکتی کمروں والے لڑکوں کی چست پنڈلیاں اور عطر میں ڈوبے باریک شبنم کے کرتے دیکھ دیکھ کر انگاروں پر لوٹنے لگیں۔‘‘
(لحاف۔ از: عصمت چغتائی۔ ص: ۲۱۔ ساقی بک ڈپو۔ نئی دہلی)
محولہ بالا سوالات کے جواب تلاش کرتے ہوئے عصمت چغتائی نے یہ افسانہ تخلیق کیا ہے۔ اس افسانے میں پہلی بارعورتوں کے نفسیاتی جذبات پر ایک عورت ہی نے تخلیقی نظر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ عصمت چغتائی کی افسانہ نگاری کے ابتدائی دور میں اس قسم کے باغیانہ تیور معاشرے کے مروجہ اخلاقیات سے بغاوت کرنے کے مترادف تھا۔عصمت نے اس افسانے میں عورت اور عورت کی نفسیات کو سمجھنے کی جرأت مندانہ کوشش کی ہے۔ایک طرح سے دیکھا جائے تو افسانہ لحاف اردو میں بولڈ اور بے جھجھک انداز میں عورتوں کے مسائل پر گفتگو کے حوالے سے ایک رجحان ساز افسانہ سمجھا جاسکتا ہے۔
لحاف کے کئی شیڈس ہیں ان میں سب سے اچھوتا وہ شیڈ ہے جو افسانے کے ساتویں پیراگراف میں بنتا ہے۔ وہ کچھ اس طرح ہے:
’’ بیگم جان باوجود نئی روئی کے لحاف کے سردی میں اکڑا جاتیں۔ ہر کروٹ پر لحاف نئی نئی صورتیں بناکر دیوار پر سایہ ڈالتا مگر کوئی بھی سایہ ایسا نہ تھا جو انھیں زندہ رکھنے کے لیے کافی ہو۔ مگر کیوں جیے پھر کوئی ؟ زندگی۔ بیگم جان کی زندگی جو تھی، جینا بدا تھا نصیبوں میں۔‘‘
(لحاف۔ از: عصمت چغتائی۔ ص: ۲۳۔ ساقی بک ڈپو۔ نئی دہلی)
زندہ رہنے کے لیے بیگم جان نے کون سی راہ اختیار کی ؟ اور وہ اس راہ پر کیوں گامزن ہوئیں؟ اس طرح کے سوالات پیدا کرتا ہوا افسانہ آگے بڑھتا ہے۔
اس افسانے میں کل چار کردار ہیں۔ بیگم جان ، نواب صاحب ، ربّو اور راوی۔ سب سے پہلے یہ غور کیا جائے کہ یہ افسانہ اتنا مشہور یا بدنام کیوں ہوا؟یہاں تک کہ عصمت چغتائی کو عدالت کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ ’لحاف‘ کے اندر کیا ہے؟ جنسی تلذذ یا اشتہا انگیزی ؟ چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
٭ صبح کو لحاف بالکل معصوم نظر آرہا تھا مگر دوسری رات آنکھ کھلی تو ربّو اور بیگم جان میں کچھ جھگڑا بڑی خاموشی سے چھپر کھٹ پر ہی طے ہورہا تھا۔ ربّو ہچکیاں لے کر روئی۔ پھر بلّی کی طرح سپر سپر رکابی چاٹنے جیسی آوازیں آنے لگیں۔ اونھ ، میں تو گھبرا کر سوگئی۔
٭ یہ ننھے ننھے پھولے ہوئے ہاتھ کس قدر پھر تیلے تھے۔ ابھی کمر پر تو وہ لیجئے پھسل گئے کولہے پر ، وہاں سے رپٹے رانوں پر اور پھر دوڑ ٹخنوں کی طرف۔ میں تو جب بیگم جان کے پاس بیٹھتی یہی ریکھتی کہ اس کے ہاتھ کہاں ہیں اور کیا کررہے ہیں؟
٭سارا دن بیگم پریشان رہیں۔ ان کا جوڑ جوڑ ٹوٹتا رہا۔ کسی کا چھونا بھی انھیں نہ بھاتا تھا۔
٭ میں کھجا دوں بیگم جان ۔ میں نے بڑے شوق سے کہا۔ بیگم جان مجھے غور سے دیکھنے لگیں۔
٭ ذرا زور سے کھجائو۔ بند کھول دو۔ اِدھر ۔ اے ہے ذرا شانے کے نیچے۔ ہاں واہ بھئی واہ ۔ ہا۔۔۔ ہا۔
٭ وہ سرور میں ٹھنڈی سانسیں لے کر اطمینان ظاہر کرنے لگیں۔ حالانکہ بیگم جان کا ہاتھ خود جاسکتا تھا مگر وہ مجھ سے ہی کھجوا رہی تھیں اور مجھے الٹا فخر ہورہا تھا۔ یہاں اوئی ۔ تم تو گدگدی کرتی ہو۔ واہ۔
٭ اور ہاتھ نہ جانے کہاں سے کہاں پہنچا۔ باتوں باتوں میں مجھے معلوم نہیں ہوا۔ بیگم جان تو چت لیٹی تھیں اور میں نے جلدی سے ہاتھ کھینچ لیا۔
٭ ائی لڑکی دیکھ کر نہیں کھجاتی۔ میری پسلیاں نوچے ڈالتی ہے۔ بیگم جان شرارت سے مسکرائیں اور میں جھینپ گئی۔
٭اِدھر آکر میرے پاس لیٹ جا۔ تو کیا میں تمہیں کھا جائوں گی۔ کیسا تنگ سوئیٹر بنا ہے۔
٭ کتنی پسلیاں ہوتی ہیں۔ ہٹائو تو ہاتھ۔ ایک ،دو ، تین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
٭ مجھے ایک نامعلوم ڈر سے دہشت ہونے لگی۔ بیگم جان کی گہری گہری آنکھیں۔ میں رونے لگی۔ دل میں، وہ مجھے ایک مٹی کے کھلونے کی طرح بھینچ رہی تھیں۔ ان کے گرم گرم جسم سے میرا دل بولانے لگا۔ مگر ان پر تو جیسے کوئی بھتنا سوار تھا۔ میرے دماغ کا یہ حال کہ نہ چیخا جائے اور نہ رو سکوں۔ تھوڑی دیر کے بعد وہ پست ہوکر نڈھال لیٹ گئیں۔ ان کا چہرہ پھیکا اور بد رونق ہوگیا۔ وہ لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔
محولہ بالا جملوں میں پوشیدہ مناظر سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ آج سے تقریباً اسّی برس قبل افسانے میں اس طرح کی جنسی تلذذ سے بھرپور باتیں رقم کرنا واقعی جرأت رندانہ قسم کا واقعہ ہوسکتا ہے۔ شاید اسی لیے مقدمہ بھی کیا گیا تھا۔
افسانے کا زمانہ راوی کے لڑکپن کا ہے۔ ابھی جوانی کی دہلیز دور ہے۔ پھر بھی راوی کا بیگم جان کی جانب اس طرح کا جھکائو معنی خیز ہے۔ بیگم جان کی شکل پسند آنا، انھیں قریب سے گھنٹوں دیکھنے کی خواہش رکھنا اور اس قدر باریک بینی سے مشاہدہ کرنا کہ اوپر کے ہونٹوں پر ہلکے ہلکے مونچھوں جیسے بال نظر آجائیں۔ ان کے بدن کی رنگت ، ان کی پنڈلیاں نہارنا یہ سارے نکات حیرت و استعجاب کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
اس افسانے کی راوی بذاتِ خود عصمت چغتائی ہیں۔ افسانہ زمانۂ ماضی میں بیتے ہوئے واقعات پر مبنی ہے جو کہ راوی کے تحت الشعور میں بیتی ہوئی یادوں کے اژدہام کا ایک حصہ ہے۔ یہ یادیں جاڑوں کی رُت میں لحاف اوڑھتے ہوئے ذہن کی رَو سے ہوتا ہوا صفحۂ قرطاس پر منعکس ہوا ہے۔
افسانے کا دورانیہ طول طویل نہیں ہے بلکہ راوی کی والدہ کا اسے بیگم جان کے یہاں چھوڑنے اور وہاں بتائے ہوئے چند دنوں پر مبنی ہے۔ راوی چونکہ اپنے بھائیوں اور بھائیوں کے دوستوں سے بلا خوف و تردد لڑنے جھگڑنے میں مصروف رہتی ہے یعنی ہم عمر اور خود سے بڑے لڑکوں کا اسے خوف نہیں ہے۔ مگر افسانے میں تین چار مناظر میں بیگم جان کے یہاں راوی کا خوف زدہ ہونا غیر فطری نظر آتا۔
عصمت چغتائی کا یہ افسانہ اردو ادب کے ایسے چنندہ افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے جس میں حقیقت اپنی پوری کڑواہٹ کے ساتھ عود آئی ہے۔ ایسے افسانے نہ صرف سماج کے بے حس رویے کی کھال اتار لیتے ہیں بلکہ اشراف کی حویلیوں کے دروازوں پر لٹکے دبیز پردوں کو چاک کرکے سماج کے صحیح خد و خال قارئین کے روبرو پیش کرتے ہیں ۔ عصمت چغتائی کا سماجی شعوربالیدہ تھااور وہ اصلی اور نقلی کرداروں میں تفریق کرسکتی تھیں۔ کون سا کردار نقاب اپنے چہرے پر ڈالے ہوئے ہے اور کون بدنصیب اسی سماج کا حصہ ہوکر اپنے زخموں کے اوپر پٹیاں لپیٹے ہوئے ہے۔ اس افسانے میں بھی بیگم جان اپنی جنسی خواہشات کی تکمیل کے لیے ربّو کا استعمال کرتی ہیں۔ وہ نواب صاحب کی توجہ کا مرکز نہ بنیں، ان کے ساتھ ظلم ہوا یا زیادتی ہوئی۔ وہ اپنی ہی آگ میں سلگتی رہیں مگر ربّو کے ساتھ جو جبر ہورہا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے؟ ربّو کا اپنا بیٹا باغی و نافرمان بن گیا ہے۔ اس کا باغی بن جانا سڑاند بھرے معاشرے کے خلاف بغاوت کی عکاسی کرتا ہے۔بدصورت ربّو کا ظلم کی چکّی میں پستے رہنا، بیگم جان کا ہر حکم ماننا، اس کی معاشی بدحالی اور غربت کو پیش کرتا ہے۔ ربّو کا لحاف کے اندر رونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ وہ اس قدر مجبور ہے کہ ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھا سکتی۔
بیگم جان کی زندگی کہاں سے شروع ہوتی ہے؟ ابتدا میں کیا گیایہی سوال اس افسانے کو تکمیلیت عطا کرتا ہے۔ نواب صاحب کا بیگم جان سے شادی کرکے انھیں کل ساز و سامان کے ساتھ گھر میں رکھ کر بھول جانا اور بیگم جان کے جذبات ، احساسات ، خیالات اور جسمانی خواہشات سے عدم دلچسپی کا مظاہرہ کرنا ہی بیگم جان کو نفسیاتی مریضہ بننے کی وجہ ہے۔ نواب صاحب کا لچکیلی کمر والے لڑکوں کی جانب راغب ہونا بھی بیگم جان کو منتوں ، مرادوں کی راہ دکھاتا ہے:
’’ میں ڈالو ایسا کپڑا لتّا۔ کپڑا پہنا جاتا ہے کسی پر رعب گانٹھنے کے لیے۔ اب نہ تو نواب صاحب کو فرصت کہ شبنمی کہ شبنمی کرتوں کو چھوڑ کر ذرا ادھر دھیان کریں اور نہ ہی انھیں کہیں آنے جانے دیں۔‘‘
(لحاف۔ از: عصمت چغتائی۔ ص: ۲۳۔ ساقی بک ڈپو۔ نئی دہلی)
عصمت چغتائی نے پہلے تو نواب صاحب کو نہایت نیک اور شریف بنا کر پیش کیا ۔ پھر ان کی بشری کمزوریوں کو اجاگر کرکے منفی کردار میں تبدیل کردیا۔ ابتدا میں تو قاری کی ہمدردی بیگم جان سے وابستہ ہوتی ہے مگر جوں جوں افسانہ آگے بڑھتا ہے بیگم جان ہمدردی کا استحقاق کھوتی جاتی ہیں۔
عصمت چغتائی نے ان عورتوں کے بارے میں خوب لکھا جن کی ساری زندگی آنگنوں اور دالانوں میں گزر جاتی ہے۔ چھوئی موئی، سونے کا انڈا، چوتھی کا جوڑا، بہو بیٹیاں، جڑیں وغیرہ وہ افسانے ہیں جن میں بطورِ خاص خواتین کرداروں کے دکھ سکھ ، الجھنیں اور پریشانیوں کو پیش کیا گیا ہے۔ البتہ لحاف کے بارے میں عصمت بذاتِ خود رقم طراز ہیں:
’’ منٹو گھوم پھر کر ’لحاف‘ کے بخیے ادھیڑنے لگتا۔ جو ان دنوں میری دکھتی رگ بنا ہوا تھا۔ میں نے بہت ٹالنا چاہامگر وہ ڈھٹائی سے اڑا رہا اور اس کا ایک ایک تار گھسیٹ ڈالا۔ اسے بڑا دھکا لگا یہ سن کر کہ مجھے ’لحاف‘ لکھنے پر افسوس ہے۔ یہ سن کر منٹو نے مجھے خوب جلی کٹی سناڈالی اور مجھے نہایت بزدل اور کم نظر کہہ ڈالا۔ میں ’لحاف‘ کو اپنا شاہکار ماننے کو تیار نہیں تھی اور منٹو مصر تھا۔‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: اوپیندر ناتھ اشک۔ ص: ۲۴۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء)
جنسی ربط کے ممکنہ سارے کے سارے پہلو عصمت کے افسانوں میں موجود ہیں۔ ’لحاف‘ میں نواب صاحب کا کردار اور بیگم جان کا کردار اس کا بیّن ثبوت ہیں۔اس افسانے میں ایک مخصوص طبقے کے مردوں کی بداعمالیاں بڑی بھیانک صورت میں نظر آتی ہیں۔ اسی طرح اس طبقے کی عورت کو ہم بہکتے ہوئے اگر دیکھنا چاہیں تو ’لحاف‘ میں وہ نظر آئے گی۔ دولت و ثروت کی فراوانی سے جوخلافِ وضع عادتیں مرد وعورت میں سرایت کرجاتی ہیں اس کا بہترین عکس لحاف میں موجود ہے۔
افسانوں کے عنوان قائم کرنے کے معاملے میں عصمت چغتائی نے ہمیشہ اپنی ذہانت و فتانت کو بروے کار لایا ہے۔ اس افسانے کا عنوان اگر ’لحاف‘ نہ ہوتا تو شاید یہ اتنا موضوعِ بحث نہ بنتا۔ عصمت نے اپنے معاشرے کی ناہمواریوں اور اس معاشرے کے پروردہ لوگوں کی گہرائیوں پر نظر رکھ کر افسانے بنے ہیں اور انھیں میں رجحان ساز اور لا زوال افسانہ ’لحاف ‘بھی شامل ہے۔

 

Ismat Chughtai

Articles

عصمت چغتائی

عصمت چغتائی

 

عصمت چغتائی اردو ادب کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ناول، افسانہ اور خاکہ نگاری کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ انھوں نے اردو میں ایک بے باک تانیثی رویے اور رجحان کا آغاز کیا اور اسے فروغ بھی دیا۔ عصمت۲۱؍ اگست۱۹۱۵ء کو اترپردیش کے مردم خیز شہربدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا نسیم بیگ چغتائی ڈپٹی کلکٹر تھے ۔ لہٰذا ان کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ اسی سبب سے ان کا بچپن جودھ پور (راجستھان) میں گزرا۔ انھوں نے علی گڑھ گرلس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد بی ٹی (بیچلر آف ٹیچنگ) کیا۔ تحصیل علم کے بعد بدایوں کی ایک گرلس کالج میں ملازمت اختیارکی۔ وہ ۱۹۴۲ء میں انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے بمبئی پہنچیں۔ شاہد لطیف سے ان کی شادی ہوئی جو تھوڑے سے ابتدائی دنوں کو چھوڑکر ہمیشہ جی کا جنجال بنی رہی۔ فلم، صحافت اور ادب ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محورہیں۔ ان کا انتقال ممبئی میں ۲۴؍ اکتوبر۱۹۹۱ء کو ہوا۔ انھیں ان کی وصیت کے مطابق بمبئی کے چندن واڑی سری میٹوریم میں سپرد برق کیا گیا۔
عصمت چغتائی بڑی آزاد خیال اور عجیب و غریب خاتون تھیں۔اُن کی شخصیت اور انسانی رشتوں اور ان رشتوں کے ساتھ عصمت کے رویے اور تعلق کو درشانے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے کچھ مختصر واقعات نقل کیے جائیں جنھوں نے عصمت کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ مثال کے طور پر مشہور افسانہ نگار اوپندر ناتھ اشک اپنے ایک مضمون میں ساحر لدھیانوی کے گھر فراق کے اعزاز میں دئے گئے ایک ڈنر جس میں عصمت کے شوہر شاہد لطیف بھی تھے کا ذکر کرتے ہوئے عصمت کے کردار کی یہ تصویر کھینچتے ہیں:
’’سبھی مرد عورتیں پی رہے تھے۔ عصمت نے ایک آدھ پیگ پینے کے بعد ہاتھ میں گلاس تھامے اسے گھماتے ہوئے بہ آواز بلند کہا۔۔۔ ’’میر اجی چاہتا ہے میں ایک حرام کا بچہ جنوں ، لیکن شاہد زہر کھا لے گا‘‘۔۔۔ مجھے اس ریمارک سے خاصہ دھکا لگا تھا۔ کوئی عورت پی کر بھی ایسا ریمارک نہیں کس سکتی۔ جب تک کہ اپنے شوہر کی بے راہ روی یا کمزوری سے اس کے دماغ میں یہ خیال نہ پیدا ہوا ہو یا پھر شوہر کے علاوہ وہ کسی اور مرد کونہ چاہتی ہو۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: اوپیندر ناتھ اشک۔ ص: ۲۲۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
عصمت کو قریب سے دیکھنے اور جاننے والوں میں قرۃ العین حیدر بھی ہیں۔ انھوں نے عصمت کی وفات سے متاثر ہو کر لیڈی چنگیز خان کے عنوان سے جو مضمون قلم بند کیا تھا اس میں عصمت کی آزاد خیالی کو اس واقعے کی روشنی میں پیش کیا :
’’ان کی بڑی بیٹی نے بنگلور میں سول میریج کر لی اور اطلاع دی کہ اس کی ساس سسر مذہبی رسوم کی ادائیگی بھی چاہتے ہیں آپ بھی آ جائیے۔ بنگلور سے واپس آکے عصمت آپا نے اپنے خاص انداز میں نہایت محظوظ ہوتے ہوئے سنایا کہ صبح صبح میں اٹھ گئی۔ سارا گھر سو رہا تھا۔ ان کا پنڈت آگیا۔ اب وہ بے چارہ ایک کمرے میں پریشان بیٹھا تھا۔ کہنے لگا مہورت نکلی جا رہی ہے اور یہاں کوئی ہے ہی نہیں۔ میں پوجا کیسے شروع کروں۔ میں نے کہا اے پنڈت جی آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ میں پوجا شروع کروائے دیتی ہوں۔ بس میں بیٹھ گئی اور میں نے پوجا شروع کروا دی۔ میں نے حیران ہوکے پوچھا بھلا اپ نے پوجا کس طرح کروائی۔ کہنے لگیں۔ اے اس میں کیا تھا۔ پنڈت نے کہا۔ میں منتر پڑھتا ہوں آگ میں تھوڑے تھوڑے چاول پھینکتے جائیے۔ میں چاول پھینکتی گئی۔ اتنے میں گھر کے اور لوگ بھی آ گئے۔ بس۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: قرۃ العین حیدر۔ ص:۳۷۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
یہ ہے عصمت چغتائی کی سیرت وشخصیت ،کردار اور ان کی فکر کا محور۔ وہ بہت آزاد خیال تھیں۔ وہ تاش دلچسپی سے کھیلتیں اور لگاتار سگریٹ پیتی تھیں۔ انھیں مے نوشی کا بھی شوق تھا۔ ان کے سینے میں مردوں یا اپنے حریفوں سے انتقام کی آگ ہمیشہ جلتی رہی۔ جس سے نفرت ہوئی اس کو کبھی معاف نہیں کیا۔ دراصل انھوں نے اپنے بچپن ہی میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا کہ اچھی سے اچھی بیٹی نالائق سے نالائق بیٹے سے کم ترہی سمجھی جاتی ہے چنانچہ ان کی اپنے کسی بھائی سے کبھی نہیں نبھی۔ ہر بھائی سے لڑائی جھگڑے میں ہی ان کا بچپن گزرا۔ بچپن کا یہ نقش ان کے بڑھاپے تک پتھر کی لکیر بنا رہا اور مردوں سے بیر رکھنا ان کی فطرت ثانیہ بن گیا۔ وہ انتقام کی اسی آگ میں ہمیشہ جلتی رہیں۔ یہاں تک کہ مرنے کے بعد خود جل کر راکھ ہو گئیں۔ عصمت چغتائی کی سوچ کا تانا بانا انھیں حادثات و واقعات سے تیار ہوا ہے۔ انھوں نے ترقی پسندی کے انتہائی عروج کے زمانے میں قلم سنبھالا اور اپنے باغی لب و لہجے سے مردوں کی صفوں میں ہل چل مچا دی ۔ساتھ ہی یہ یقین دلانے کی بے باکانہ کوشش بھی کی کہ عورت اپنی محدودیت کے باوجود لامحدود ہے اور مرد سے کسی طرح کم نہیں ہے۔
عصمت چغتائی نے ضدی، ٹیڑھی لکیر، ایک بات، معصومہ، جنگلی کبوتر، سودائی، انسان اور فرشتے، عجیب آدمی اور ایک قطرۂ خون جیسے مشہور ناول لکھے۔ باغیانہ خیالات پر مشتمل ایک ناولٹ دل کی دنیا تحریر کیا۔ اپنے افسانوں کے مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں شائع کروائے۔ دھانی بانکپن اور شیطان جیسے معروف ڈرامے قلمبند کیے اور تاویل، سودائی اور دوزخی جیسے بے مثال خاکے لکھے۔ ان کی یہ وہ تخلیقات ہیں جو ناول، افسانہ، ڈراما اور خاکہ نگاری کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہیں۔
ناول نگاری کی طرح افسانہ نگاری میں بھی عصمت کا ایک منفرد مقام ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں کو بہت مقبولیت ملی۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں رشید جہاں کی قائم کردہ روایت کو بلندیوں پر پہنچایا اور عورت کے مسائل کی پیش کش میں رقت آمیز اور رومانی طرز کو بدل کر ایک بے باک، تلخ لیکن جرأت آمیز اسلوب کو رائج کیا۔ عصمت نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے گھروں میں بولی جانے والی جس ٹھیٹھ اردو اور کٹیلے طنزیہ لہجے کو اپنایا وہ ان کی انفرادیت کا ضامن بن گیا۔ انھوں نے زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کی خواتین کے مسائل اور ان کی نفسیات پر لکھا جس پر انھیں گہرا عبورحاصل تھا۔ ان کے زیادہ تر افسانے ایک ایسے المیے پر ختم ہوتے ہیں جو حقیقت سے بہت قریب ہوتے ہیں۔ انھوں نے اردو افسانے کو سچ بولنا سکھایا اور عورت کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو کہانی کا موضوع بنایا۔ چوتھی کا جوڑا، بہو بیٹیاں ، سونے کا انڈا، چھوئی موئی، بھول بھلیاں ، ساس، لحاف، بے کار، کلو کی ماں ، اف یہ بچے، چارپائی، جھوٹی تھالی، میرا بچہ، ڈائن، ایک شوہر کی خاطر، سالی، سفر میں ، تل، لال چیونٹے، پیشہ ور، ننھی کی نانی وغیرہ ان کے مشہور اور یادگار افسانے ہیں۔ ان افسانوںمیں انھوں نے ایک مخصوص قسم کی فضا تخلیق کی ہے جو فضا گھر اور گھریلو زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان افسانوں میں عورت کا تصور اس کی بدنصیبی سے وابستہ نظر آتا ہے۔ اس کی پوری زندگی تلخیوں اور پریشانیوں میں گھری معلوم ہوتی ہے اور آخر میں وہ ان دکھوں کی تاب نہ لا کر اپنی جان دے دیتی ہے۔ عصمت کے زیادہ تر افسانے ایک خاص طبقے اور خصوصی طور پر عورت کے گھریلو ا ور جنسی تعلقات کے اردگرد گھومتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں یکسانیت کا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے جو قاری کے لیے کبھی کبھی اکتاہٹ کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
عصمت صرف جنس اور عورت کے مسائل تک محدود نہیں تھیں۔ ان کے افسانے:جڑیں ، کافر، دو ہاتھ اور ہندوستان چھوڑ دو وغیرہ گہرے تاریخی اور معاشرتی شعور کے آئینہ دار ہیں۔ انھوں نے دو ہاتھ میں محنت کس طبقے کی اہمیت اجاگر کیا ہے۔ دراصل عصمت کا دور ترقی پسندی کا دور تھا جس میں سماجی نا انصافیوں کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے آزادی، انصاف اور ترقی کا ساتھ دیا گیا۔ یوں انھوں نے سماج کے ہر مسئلے اور طبقے پر لکھا لیکن یہ ایک مسلمہ سچائی ہے کہ عورت کی نفسیات اور جنس کے موضوع ہی ان کے نزدیک اہمیت کے حامل تھے۔
عصمت ناول نگار اور افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ڈراما نگار بھی تھیں انھوں نے اپنے ڈراموں میں حقیقت نگاری پر زور دیا۔ ان کے ڈراموں میں ایک بات اور نیلی رگیں بہت مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ سانپ، دھانی بانکپن اور انتخاب بھی ان کے اچھے ڈرامے ہیں۔ ان کے ڈراموں کے کردار ہماری زندگی کے کردار ہیں۔ ان کی زبان صاف، سادہ اور دل کش ہے۔
عصمت کے تحریر کیے ہوئے خاکے تاویل، سودائی اور دوزخی کے نام سے شائع ہوئے۔ ان خاکوں میں دوزخی کو ادبی دنیا میں کافی مقبولیت ملی۔ جب یہ ماہنامہ ساقی (دہلی) میں شائع ہوا تو منٹو کی بہن نے کہا کہ ’’سعادت یہ عصمت کیسی بے ہودہ عورت ہے کہ اپنے موئے بھائی کو بھی نہیں بخشا۔ کمبخت نے کیسی کیسی فضول باتیں لکھی ہیں۔ اس وقت منٹو نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ اقبال اگر تم مجھ پر ایسا ہی مضمون لکھنے کا وعدہ کروتو میں ابھی مرنے کو تیار ہوں۔
بلاشبہ عصمت کی تحریریں موضوعات، اسلوب، کردار اور لب و لہجے کے اعتبار سے تانیثی حسیت اور تانیثی شعور کے اظہار کا پہلا معتبر تجربہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ تانیثیت کی پہلی اور مستند دستاویزات ہیں۔

 

Anis Javed ki Drama Nigari

Articles

انیس جاوید کی ڈراما نگاری

ڈاکٹر ذاکر خان

 

اردو ڈراموں کا سفر بر سہا برس پر محیط ہے۔سنتے ہیں کہ ڈرامے پرانے زمانے میں سنسکرت اور یونانی روایتوں کے امین و علمبردار ہوا کرتے تھے ۔ڈراموں کا دائرہ مذہب اورسماجی رسم ورواج کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔مگر دھیرے دھیرے لوگوں کے شوق بدلتے گئے،مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور سماجی رسم و رواج پر گرد جمنے لگی ، نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرامے بامِ عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی رو بہ زوال ہوتے چلے گئے۔سماجی سطح پر بدلتا ہوا شوق مکمل طور پر شاعری کے سحر سے باہر نہ آ پایا اور شاعری عوامی تفریحِ طبع کا واحد ذریعہ ٹھری۔پھر کسے فرصت تھی کہ ڈراموں کی سنگلاخ وادیوں کا سفر کرے اور دشوار گذار گھاٹیوں کی گہرائی ناپے۔ڈرامے قارئین اور ناظرین کی تفریح کا سامان تو تھے ہی لیکن انھیں تخلیق کرنا اور اسٹیج پر کھیلنا کافی مشکل تھا۔ یہی سبب تھا کہ اِس جانب کم ہی توجہ دی گئی۔لیکن دھیرے دھیرے مایوسی کے بادل جھٹنے لگے اور ایک دور وہ بھی آیا جب ڈراموں کونواب واجد علی شاہ کے ذریعے شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور یہیں سے ڈراموں کی تاریخ کا سنہری دور شروع ہوا۔اور مختلف ادوار میں مختلف نامور ہستیاں ڈراموں کی بقا کے لیے کوششیں کرتی چلی گئیں۔ آغا حشر کاشمیری سے لیکر منٹو تک اور منٹو سے لیکر حبیب تنویر تک اور پھر حبیب تنویر سے انیس جاوید تک بیشمار ڈرامہ نگار تھیٹر کے منظر نامے پر ظاہر ہوئے لیکن اُن میں کم ہی ایسے ہونگے جنھوں نے خود اپنے تخلیق کردہ ڈراموں میں ایکٹر اور ڈائرکٹر کے فرائض انجام دیے ہوں۔ انیس جاوید کا شمار انھیں صفِ اوّل کے ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے جو اپنوں ڈراموں کے نہ صرف رائٹر ہیں بلکہ انھیں ایکٹر اور ڈائرکٹر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ انیس کے معاصرین خود آپ کی عظمتوں کو سلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور صدق دل سے اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انیس نے اپنے فن کو وہ جلا بخشی کہ ہم بھی نمبر ایک پر آنے کے تمنائی ہوگئے۔” ابھی تو رات ہے “پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال نیازی یوں کہتے ہیں کہ
“۱۹۷۸؁ سے ۱۹۸۲؁ کے دوران انیس جاوید ہر سال اپنا ڈرامہ مقابلے میں لاتے اور اوّل انعام لے جاتے اور ہم دوست احباب دوّم انعام حاصل کر کے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے کہ ہم سیکنڈ کیوں ہو رہے ہیں ”
انیس جاوید سے میرے مراسم دیرینہ نہ سہی مگر کم بھی نہیں ۔ میں انھیں پچھلے دس سالوں سے جانتا ہوں ۔ آپ کی شخصیت خلوص، ایثار ، ہمدردی اور انسان دوستی سے عبارت ہے ۔عصرِ حاضر میں انیس جاوید ڈراموں کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ لیکن آپ کی دنیا صرف ڈراموں تک ہی محدود نہیں ۔آپ نے اپنے فن اور صلاحیتوں کا بخوبی استعمال فلموں اور ٹی وی سیریئلس میں بحسن خوبی کیا ہے۔ایک طرف آپ نے فلموں میں رائٹر ڈائرکٹڑ کے فرائض انجام دیے تو دوسری طرف سرئیلس میں مکالمہ نگاری اور گیت کے ذریعے اپنے فن کو کمالِ عروج تک پہنچا دیا۔مگر ڈرامہ ہمہ وقت انیس جاوید کا شوق ہی نہیں جنون بھی رہاہے جو اب بھی رواں دواں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر میں ادب جنونی لوگوں کی بدولت ہی زندہ رہتا ہے جو مال و منال کی پرواہ کئے بغیر منزلِ لا مکاں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیںاس لحاظ سے انیس جاوید بھی کم جنونی نہیں ۔ ڈراموں کے اسٹیج پر آپ کے قدم تقریباًچالیس برسوں سے کسی ستون کی مانند ایستادہ ہیں ۔عمارتیں پرانی ہوگئیں ، اسٹیج رو بہ زوال ہیں ، ناظرین بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن انیس جاوید کا جذبہ آج بھی جوان ہے۔
انیس جاوید سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انیس جاوید Etvاردو کے لیے بیت بازی کا مقابلہ شوٹ کروارہے تھے اور ہم بھی شاملِ مقابلہ تھے۔اس ملاقات پر یقین نہیں آیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے بے شمار ڈرامے تخلیق کیے، سیرئیلس کی اسکرپٹ میں چار چاند لگائے،فلموں کے لیے اسٹوری لکھی مکالمے تحریر کیے، ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے اور بذاتِ خود اپنے ڈراموں میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ میرے ذہن نے کچھ اس طرح اُن کا خاکہ بنانا شروع کیا کہ ایک عام سا نظر آنے والاشخص، ہونٹوں پر مخلص مسکراہٹ، دل میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی مشفق محبت ، چہرے پر متانت و سنجیدگی، گفتار میں شائستگی، کردار میں پختگی،کام میں سلیقہ مندی، سوچ کے آئینہ دار جذبات،انگلیوں سے چپکی ہوئی ایک مہین سی امپورٹیڈ سگریٹ جو کبھی انگلیوں کی پکڑ میں جل جاتی اور کبھی محبوبہ بن کر لبوں کو چوم لیتی ۔ محبوبہ بھی ایسی جو چوبیس گھنٹے اُن کا ساتھ نہ چھوڑے۔مَیں نے خود سے سوال کیا، کیا اتنا سنجیدہ نظر آنے والا شخص اپنے ڈراموں سے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل پر چوٹ کر سکتا ہے؟ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے نچوم کے افسانوی کردار کو حقیقت کا روپ دیدیا؟میری الجھن اُن سے چھپی نہ رہ سکی فوراً مجھ سے سوال کیا ،سر کیا سوچ رہے ہو؟مَیں اچانک تخیّلات کی ماورائی دنیا سے باہر آگیااور مجھ پر یہ راز بھی منکشف ہو گیا کہ انیس صرف فنکار ہی نہیں چہرہ شناس بھی ہے جو چہرے کے نقوش سے شخصیت کے پیچ و خم پڑھنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔لبوں کی تھرتھراہٹ سے مدّعی کا مدّعا جان لینا اُن ہی کا وصف ہو سکتا ہے۔پھر انیس مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا ، سر آپ شاعری کا تو اچھا ذوق و شوق رکھتے ہو کبھی ہمارے ساتھ ڈرامہ بھی کرلوویسے بھی زندگی ایک ڈرامہ ہی ہے اور ہم سب سانسوں کی ڈور پر چلنے والی کٹھ پتلیاں۔مَیں نے ہچکچاتے ہوئے ڈرامے کے لیے ہاں کردی۔اِس طرح سے انیس جاوید کی رہنمائی ایک ٹیچر کو ایکٹنگ کی طرف مائل کرنے لگی بعد میں پتہ چلا کہ انیس جاوید کی پوری ٹیم ہی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔اِن میں منصف قریشی بھی ہیں اور محمّد رفیق شیخ بھی،مشتاق زبیر بھی ہیں اور رمضان امین بھی۔ خاکسار کو سب سے پہلے “دو گز زمین” میں کام کرنے کا موقع ملااور پھر مواقع بڑھتے گئے۔ڈراموں سے ہٹ کر ہم نے ڈی ڈی اردو اور Etvاردو کے لیے بھی اُن کے ساتھ کام کیا۔ انیس جاوید کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر ایکٹر کو مرکزی کردار کا اہل بنا دیتے ہیں ۔ اُن کی ٹیم میں شامل ہر ایکٹر نے مختلف ڈراموں میں مرکزی کردار نبھائے ہیں۔مَیں نے اوپر ہی بیان کردیا کہ انیس جاوید چہرہ اور شخصیت پڑھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔دو ڈراموں کے بعد ہی مجھے “سمندر خاموش ہے”میں “دیش”کا مرکزی کردار مل گیا۔شروعات میں کچھ ڈر بھی لگا مگر دھیرے دھیرے ڈر کافور ہوتا گیا۔ریہرسل پر اُن کا رویہ انتہائی دوستانہ ہوتا مگر مسلسل غلطیوں پر رشتے ناطے ، دوستی و دلبری کی روایات طاق پر رکھ دی جاتی اور اُن کے منہ سے لکلتا “pack up”چند لمحوں تک اپنی ٹیم کی طرف دیکھتے ، سگریٹ غالبؔ کی کافر مئے کی طرح لبوں سے چپک جاتی دھواں فضائوں میں مرغولے بنانے لگتا اور وہ دھویں کو کچھ اِس طرح دیکھتے جیسے اسکرین پر پورا ڈرامہ نظر آ رہا ہو۔پھر مسکراتے ہوئے اپنی ٹیم سے کہتے ، چلو بھائی ایک کوشش اور کرلی جائے اور وہ کوشش ہماری آخری کوشش ہوتی اور ڈرامہ فائنل ہوجاتا۔شاید ہی کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں آپ کو pack up نہ کہنا پڑا ہو۔
آپ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے ایک مصلح کا کردار ادا کیا ،جو سماج کی ہر برائی پر چوٹ کرتا ہے سماج کی ہر غلطی پر اصلاح کرتا۔ سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت اور مساوات پر یقین آپ کی عمر کے ہر اُس فنکار کا خاصّہ ہے جس نے غربت اور غرباء کو قریب سے دیکھاہو،اُن کے مسائل جانے ہو، سسکتی ہوئی آہیں سنی ہو ، بلبلاتے ہوئے بچے دیکھے ہوں، سیکولرزم کی دہائی دیتی ہوئی جمہوریت کو پرکھا ہو، دھوپ سے کھیتوں میں جلتے ہوئے جواں جسم اور بڑھاپے میں سردیوں سے ٹھٹرتی ہوئی ادھ مری لاشیں دیکھی ہوں،جمہوریت کا گلا ریت کر دیش کو کھوکھلا کرنے والے نیتائوں سے روبرو ہوا ہو، کچھ حد تک یہ بات انیس جاوید کے فن میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ جب شوکت کیفی کی موجودگی میں انھیں اپنے ڈرامے “ابھی تو رات ہے”پر اوّل انعام سے سرفراز کیا گیا تب بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلا اردو اکادیمی کو لال سلام ،شوکت کیفی کو لال سلام۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک زمانہ جو اُن کا معترف تھا منحرف ہوگیا، صلاحیتیں عیب نظر آنے لگیں اور انیس کے تار سرخ پرچم سے منسوب کردیے گئے۔ طوفان اٹھے ،بلائیں لادی گئیں مگر عشقِ صادق نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انیس اپنی عمر کی سیڑھیاں چڑھتے رہے مگر جذبہ روز افزوں جواں ہوتا رہا۔ ساٹھ بہاریں دیکھنے کے بعد بھی وہ اُسی طرح چاک و چوبند جیسے وہ تیس برس قبل تھے۔
انیس جاوید کے ڈراموں کا ایک خاص وصف جو اوروں سے انھیں منفرد کرتا ہے وہ قبولیتِ عام ہے۔عوام و خواص ، امیر و غریب ، اور ہر عمر کے افراد اُن کے ناظرین ہی نہیں شیدائی بھی ہیں۔آپ کے ڈراموں کے مجموعے” ابھی تو رات ہے “اور”معمار جہاں تو ہے ” منظرِ عام پر آ کر قارئین سے دادو تحسین حاصل کرچکے ہیں لیکن یہ اُن کی معراج نہیں ،انہیں تو ابھی اوجِ ثرّیا تک سفر کرنا ہے۔وہ اپنے ڈراموں کے ذریعے سماج کو ایک نیا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔شاید ہی ان کا کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں انہوں نے ناظرین کا دل جیت کر انھیں سوچنے پر مجبو ر نہ کیا ہو۔ ڈراموں کے کردار مکالمے اور پلاٹ میں غضب کا تال میل پایا جاتا ہے۔بھرتی کے کرداروں اور بے جا مکالموں سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ڈراموں میں کردار وںکی بہتات نہیں ،وہ کم کرداروں کے ساتھ بھی کامیاب ہیں۔ آپ ہر سین کے تانے بانے انتہائی کمالِ خوبصورتی سے بنتے ہیں ۔ابتدائی مراحل میں یوں نظر آتا ہے جیسے کینوس پر کسی مصّور نے آڑھی تیڑھی لکیریں کھینچ دی ہوں لیکن جیسے جیسے ڈرامہ آگے بڑھتا ہے یہ آڑھی ٹیڑھی لکیریں خوبصورت پیکر میں ڈھلنے لگتی ہیں مگر مصّور کو اطمینان نہیں وہ اسٹیج پر پہنچنے تک اُسے finishing touch دیتا رہتا ہے۔ انیس بھی انہیں عظیم مصّوروں اور فنکاروں میں شامل ہیں جنھیںاپنے فن کی خوبصورتی دیکھ کر محض خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا گوارہ نہیں۔وہ ہمہ وقت اُسے اور زیادہ نکھارنا اور سنوارنا چاہتے ہیں ۔ہم سے بہتر انہیں کون جان سکتا ہے جنھوں نے اُن کے ساتھ کام کیا ہے۔ کسی ڈرامے کے پانچ پانچ شو ہوجانے کے بعد بھی اُن کی اصلاح بدستور جاری رہتی ہے۔اور وہ خوب سے خوب تر کے سفر کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔
“ابھی تو رات ہے “کا بھیکو ہو یا “دو گز زمین “کا نچوم، “سمندر خاموش ہے “کا دیش ہو یا “معمارِ جہاں تو ہے “کا معلّم انیس جاوید نے ہر جگہ اپنے کرداروں کو بلندی عطا کی ہے۔حالات کا مارا بھیکو جاگیردارنہ نظام کے خلاف در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے ، انصاف کے لیے ہر اُس دروازے پر دستک دیتا ہے جہاں سے اُسے معمولی سی بھی امید ہو مگر اُس بے چارے کو کیا پتہ کہ انصاف تو امیروں کی لونڈی اور جاگیرداروں کی رکھیل بن چکا ہے۔ اپنا سب کچھ لُٹ جانے کے بعد وہ حواس باختہ ہوجاتا تب اُسے کہیں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک جگہ ایسی بھی جہاں گھنٹہ بجائو اور انصاف پائو،بے چارہ ہانپتے کانپتے وہاں پہنچ تو جاتا ہے مگر دروازے پر لگا ہوا بڑا سا تالا اُسے مبہوت کردیتا ہے اور پھر واچ مین کی کرخت آواز آتی ہے کہ کہ ابھی انصاف کہاں ابھی تو رات ہے۔انیس جاوید نے اپنے اِس ڈرامے کے ذریعے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کے ساتھ ساتھ چترورنیہ پرمپرائوں پر زبردست تنقید کی ہے۔جہاں نچلی ذات مسلسل استحصال کا شکار ہے۔کوئی پرسانِ حال نہیں گویا یوں لگتا ہے کہ دبتے رہنا اور کچلا جانا ہی اُن کا مقدرہو۔آخر یہ سماجی نابرابری کب ختم ہوگی؟ بھیکو کو انصاف کب ملے گا؟ کب سماج ظالم و جابر جاگیرداروں اور سود خور مہاجنوں کی گرفت سے آزاد ہوگا؟اسی طرح ” سمندر خاموش ہے”میں انیس جاوید کے ظالم و جابر کردار کرپٹ نیتائوں کے روپ میں نظر آتے ہیں جو دیش کی ایک ایک چیز نیلام کرکے اُسے بیرونی قرضوں کا تاج پہنا دیتے ہیں۔اور دیش کی حالت برٹش دورسے زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ یوں لگتاہے انیس جاوید سماج و معاشرے کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اُس کے ہر دکھ پر چینخ پڑتے ہیں ہر قرب پر بلک اُٹھتے ہیں۔اور تن من دھن کے ساتھ سماج میں خوشحالی کے متمنّی ہیں۔
انیس جاوید خود بھی درس و تدریس سے وابستہ تھے پھر آپ طلبا کے مسائل سے کیسے چشم پوشی کرتے۔فی زمانہ طلبا کے لیے صحیح کرئیر کا انتخاب انتہائی اہم مسئلہ ہے ۔ آپ نے اپنی فنکارانہ مہارت سے طلبا اور سرپرستوں کے لئے “آو کہ چھولیں خوابوں کو”تحریر کیا اور اسٹیج کی زینت بناتے ہوئے والدین کو تلقین کی کہ وہ اپنی سرپرستانہ رائے بچوں کے ذہنوں پر مسلّط نہ کریں انہیں خود اپنے کرئیر کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد رکھیں۔ اسی طرح آل مہاراشٹر آئیڈیل ٹیچر کانفرنس میں الفلاح ہائی اسکول ملاڈ کے پرنسپل کی فرمائش پر “معمارِ جہاں تو ہے”نامی ڈرامہ پیش کیا اور بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ڈرامہ کے فوراًبعد مولانا آزاد ٹیچر ٹرینگ کالج دربھنگہ کے پروفیسر ڈاکٹر صدّیقی محمد محمود صاحب کو سامعین سے مخاطب ہونا تھا ۔مگر لوگ ڈرامے کے سحر سے باہر نہ آسکے محمود صاحب اورنگ آباد میں میرے بھی استاد رہے ہیں۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد آپ نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ
“ذاکر میں نہیں سمجھتا کہ اورنگ آباد میں مَیں نے آپ کے ساتھ کوئی ظلم کیا تھا جو آپ لوگوں نے مجھ سے اُس کا بدلہ لے لیا۔لوگ ڈرامے کے سحر ہی سے باہر نہ آسکے پھر وہ مجھے کیسے سنتے”
میں نہیں سمجھتا کہ اُس روز انیس جاوید کے لیے اِس سے بڑا complementکچھ اور ہو سکتا تھا۔معمارِ جہاں تو ہے میں انیس جاوید ٹیچر پر ہونے والے مظالم مختلف غیر ضروری ذمّہ داریوں کا بوجھ منیجمنٹ کا دبائو اور حکومتی پریشر کو اپنا موضوع بنایا۔جب اِس ڈرامے کی کاسٹنگ کی جارہی تھی تب میں نے انیس جاوید سے دریافت کیا ، سرآپ ٹیچر کا رول کسے دینے والے ہیں ۔ اُن رگِ ظرافت پھڑکی اور گویا ہوئے ذاکر ہمیں ایک بھولا بھالا ٹیچر چاہیے جو ظلم ستم کا شکار ہو، چہرے پر متانت ہو سنجیدگی ہو۔ اور شاید اِس رول کے لئے رمضان امین سے بہتر کوئی نہیں۔اِس طرح سے اِس مرتبہ مرکزی رول کے لیے قرعہ فال رمضان امین کے نام نکلا۔
انیس جاوید کبھی بھی اپنی قوم کی حالتِ زار سے غافل نہیں رہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج پورے ملک میں مسلمانوں کو جھوٹے مقدّمات کا سامنا ہے۔ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جارہی ہیں ۔ بم دھماکوں کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے۔آپ سے یہ حالات دیکھے نہ گئے اور “مَیں آتنک وادی ہوں” نامی ڈرامہ تخلیق کردیا ۔ جہاں بابو چیخنے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتا ہے مگر اُس پر ظلم وستم کی انتہا کردی جاتی آخر میں وہ تنگ آکر چیخنے لگتا ہے کہ ہاں ہاں میں ہی آتنک وادی ہوں۔
انیس جاوید نے اب تک جتنے بھی ڈرامے پیش کیے ،شہرت و مقبولیت نے اُن قدم چومے ہیں۔انیس نہ صرف ممبئی بلکہ مہاراشٹر اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ڈراموں کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔میوزک اُن کے ڈراموں میں روح کی حثیت رکھتی ہے ، وہ ہمیشہ اپنے ڈراموں کے لیے پروفیشنل موسیقار کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح سے منفرد لب و لہجے میں لمبی سانسوں کے ساتھ کیا جانے والا اُن کا انائونسمنٹ اور قتیل شفائی کا شعر انیس جاوید کی شناخت بن چکا ہے۔
جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیلؔوقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں

———————-

Gujrati Story by Greesh Bapat

Articles

وہ اب ہجوم کا حصہ نہیں ہے

گریش بھٹ

 

دوپہر کی نا قابل برداشت گرمی۔ چا چا کی دوکان تنگ اور لمبی تھی ۔ اس لیے وہاں گرمی کا احساس زیادہ ہو رہا تھا ۔ دوپہر ہونے کی بنا پر گاہک بھی کم تھے ۔ مگر مالتی کو یہ وقت بے حد پسند تھا ۔ اس وقت وہ بڑے اطمینان سے اپنی کتابیں تلاش کر سکتی تھی ۔ پڑھ سکتی تھی۔ کتب فروش سلمان چا چا سے مالتی بخوبی واقف تھی ۔ سلمان چا چا بھی اس کے مطالعے کے شوق اور کتابوں کی خریداری سے واقفیت رکھتے تھے ۔ وہ سلمان چاچا کی دوکان میںآکر اپنے آپ کو بھول جاتی تھی کیوں کہ وہاں نایاب اور کمیاب کتابوں کا ذخیرہ تھا ۔
شوق بے شمار ہوتے ہیں ۔ مگر مالتی کی دنیا تو یہی تھی ۔ اس کی ممی اس شوق سے فکر مند رہتی تھیں اور سوچتی تھیں کہ یہ لڑکی بے کار میںاتنا پڑھ کرکیا کرے گی ؟ بڑی عجیب لڑکی ہے ۔ مطالعے کے علاوہ دوسرا کوئی شوق ہی نہیں ۔
ممی کی سوچ درست بھی تھی ۔ بیس برس کی دوشیزہ کے کئی شوق ہوتے ہیں ۔ نئے نئے لبا س سلوانے کا شوق، سیر و تفریح، پرفیوم، سنیما، ہیروئن بننے یا پھر بوائے فرینڈ کا شوق، مگر مالتی کے پاس ان فضول باتوں کے لیے کوئی وقت نہیں تھا ۔ اس کے لیے تو صرف اور صرف کتابیں ہی سب کچھ ہیں ۔
سلمان چاچا دل ہی دل میں سوچتے رہتے کہ یہ لڑکی آخر ڈھیر ساری کتابوں کا کیا کرتی ہے ؟ وہ جب بھی چا چا کی دوکان پر آتی ان کی دو چار بوسیدہ اور ردی کی کتابوں کا وزن کم ہو جاتا ۔ وہ کتابوں کی قیمت ادا کرتے ہوئے کہتی ’’ چا چا وقت نکال کر پھر آؤں گی ۔‘‘ اور چا چا اسے حیرت سے دیکھتے رہ جاتے ۔
مالتی اس روز چا چا کے خزانے میں کتابیں تلاش کر رہی تھی ۔ پسینے سے اس کا بدن شرابور ہوا جارہا تھا ، مگر کام ابھی پورا نہیں ہوا تھا ۔ صرف ایک کتاب کا پہلا حصہ ہی دستیاب ہوا تھا اور ایک حصہ دستیاب ہونے کے بعد دوسرا حصہ تلاش کرنا ضروری تھا ورنہ اس قدر محنت اکارت جاتی ۔ اپنی تلاش میں مگن مالتی کو دیکھ کر چا چانے پوچھا’’کیوں بھئی ، کیا تمہیں اپنی پسند کی کتاب مل گئی ؟‘‘
’’ چا چا ، آج تو کتابیں لے کر ہی گھر جاؤں گی ، بھلے ہی شام کیوں نہ ہو جائے ‘‘ پسینہ پونچھتے ہوئے مالتی نے کہا ۔
’’ بیٹی، کتابیں مل جائیں گی ۔‘‘ یہ کہہ کر چا چا اپنے دوسرے کام میں مصروف ہو گئے ۔
شام ہوئی ۔ گرمی کی شدت کم ہوئی تو گاہکوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا ۔ مالتی اب مایوس ہونے لگی تھی کہ آخر اس کی پسندیدہ کتاب کا دوسرا حصہ کہاں کھو گیا !
ٹھیک اسی وقت ’’ مارو…… کاٹو… مارو … کا شور بلند ہوا ۔
مالتی نے بھی چیخیں سنی۔ چیخیں سن کر وہ چوک اٹھی ۔ مگر یہ سب کیا ہو رہا ہے ، اس کا خیال اسے کچھ دیر بعد آیا ۔ تبھی اسے کتاب کا دوسرا حصہ بھی مل گیا ۔ دوسرا حصہ ملنے پر وہ بہت خوش ہوئی ۔ اس نے پھر بھی کتاب کے چند اوراق الٹ پلٹ کر دیکھے ۔ اس کی سماعت سے شور دوبارہ ٹکرایا ۔ اسے خیال آیا کہ یہ فرقہ وارانہ فساد تو نہیں ؟ اس نے اپنی کلائی میں بندھی گھڑی میں دیکھنا چاہا کہ سلمان چاچا اس کے قریب آئے اور گھبرائے ہوئے انداز میں بولے ۔’’ بیٹی فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا ہے … چلو میرے ساتھ پیچھے کے دروازے سے ……‘‘
چا چا کی آواز میں گھبراہٹ تھی ۔ انھوں نے فوراً دوکان کا دروازہ بند کیا اور پیچھے کی بند کھڑکی کھولی ۔ سوچنے کا وقت کہاں تھا ۔ وہ چا چا کے ساتھ پچھلی گلی میں آئی ۔ دونوں گلی کے آگے بڑھے ۔ دیکھا تو سامنے شر پسندوں کا ہجوم ہے ’مارو… کاٹو…مارو… ‘‘ کی آوازیں گونج رہی ہیں ۔ مالتی اور چا چا گلی پار کر کے جلدی سے گھر پہنچے ۔ مالتی کو اب تک یہ احساس ہو چکا تھا کہ یہ کس کا محلہ ہے ۔ اسے کئی نظریں ایک ساتھ گھو رہی تھیں ۔ کچھ نظروں میں تجسس تھا تو کچھ میں نفرت۔
مالتی کے آنے سے چا چا کا مکان آباد ہو گیا ۔ مکان میں دو خواتین تھیں ۔ ایک عمر دراز اور دوسری اس کی ہم عمر ۔ دونوں اسے حیرت و استعجاب سے دیکھنے لگیں ۔ مالتی کو اطمینان تھا کہ چا چا تو ا س کے ساتھ ہیں ہی ۔
’’فساد بھڑک اٹھا ؟‘‘ عمر دراز عورت نے پوچھا۔
’’ ہاں … مگر اس بار بڑے پیمانے پہ فساد بھڑک اٹھا ہے ۔‘‘ چا چا نے جواب دیا ۔
انھیں گھر کے اندر ہی طرح طرح کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں۔ ہوا میں بدبو تھی ۔
’’آمنہ ، اب مالتی بھی ہمارے ساتھ ہی رہے گی ۔ ابھی تم اسے اندر کے کمرے میں لے جاؤ ۔ تاکہ کسی کو بھی اس کی بھنک نہ لگے ۔ طوفان تھمتے ہی میں خود اسے لے جا کر اس کے والد کو بہ حفاظت سونپ آؤں گا ۔‘‘چا چا نے وضاحت کی ۔
گھر کے اندر تہہ خانے کی طرح چھوٹا سا ایک کمرہ تھا ۔ اس کمرے میں گھر کا کباڑ پڑا ہوا تھا ۔ آمنہ مالتی کو اس تہہ خانے تک لے آئی ۔’’ جب تک ابّا ہیں تب تک کوئی فکر کی بات نہیں ۔‘‘ یہ کہہ کر آمنہ تہہ خانے سے فوراً باہر نکل گئی ۔
مالتی نے سوچا کہ وہ تہہ خانے سے باہر نکل جائے کیوں کہ وہاں بیٹھنے تک کے لیے جگہ نہیں تھی۔ وہاں ہلکا سا اجالا تو تھا مگر کباڑ کی بو نا قابلِ برداشت تھی ۔ پھر اس نے سوچا کہ اب اس کے پاس اس کے علاوہ دوسرا متبادل ہی کیا ہے ؟ چا چا نے بھی اسے بلا سبب ہی اس جگہ نہیں چھپایا ہے ۔ آخر کار وہ وہیں خالی فرش پر بیٹھ گئی ۔ رکے ہوئے آنسو اچانک اس کے رخساروں کو بھگونے لگے ۔ اسے راہل، ممی، پاپا وغیرہ یاد آنے لگے ۔ وہ سبھی اس وقت کیا کر رہے ہوں گے ؟ وہ کسی کو بھی کچھ بتا کر نہیں آئی تھی ۔
اسی دوران چا چا تہہ خانے میں آئے اور بولے ’’ بیٹی گھر کا فون نمبر بتاؤ۔‘‘
اس نے فوراً اپنے گھر کا فون نمبر بتایا ۔ من کچھ ہلکا ہوا ۔ وقت آہستہ آہستہ گذرنے لگا اور باقی ماندہ اجالا بھی سمٹ گیا ۔ رات ڈھلنے لگی ۔
آمنہ آئی اور بولی ۔’’ کیا کوئی دوسرا نمبر بھی ہے ؟ تم نے جو نمبر دیا ہے وہ توڈیڈ ہے ۔‘‘
ہاں… اسے خیال آیا کہ گھر کا فون تو ڈیڈ ہی ہے ۔
مالتی اپنے ذہن پر زور دے رہی تھی کہ کسی کی دھمکی سنائی پڑی ۔’’ چا چا تم جو کررہے ہو ، یہ ٹھیک نہیں ہے ۔‘‘ آمنہ فوراً وہاں سے دوڑ پڑی ۔ وہ یوسف کو اچھی طرح جانتی تھی ۔
’’ کیوں یوسف کیا بات ہے ؟‘‘ چا چا کی آواز گونجی ۔ وہ بھی یوسف کو اچھی طرح جانتے تھے ۔ پہچانتے تھے ۔ یوسف ان کی گود میں ہی تو بڑا ہوا تھا اس سے ڈر کیسا ؟
’’ چا چا آپ مجھے وہ لڑکی سونپ دیجئے۔‘‘ یوسف کی آواز گونجی ۔ مالتی یہ سن کر کانپنے لگی ۔ یوسف کی بات سن کر چا چا کو دکھ ہوا ۔ آمنہ چونکی اور اس کی امّی بہت گھبرائی ۔
یوسف کیوں ، کیا ترا دماغ تو خراب نہیں ہو گیا ہے ؟ کیابکواس کر رہا ہے !‘‘ چا چا نے گرجدا ر آواز میں کہا ۔
’’ چا چا سیدھی سی بات ہے کہ آپ اس ہندو لڑکی کو ہمیں سونپ دیں ۔‘‘ یوسف کی آواز مالتی کی سماعت سے ٹکرائی ۔
’’ چلتا بن یہاں سے ۔ تو یہاں سے نکل جا ۔ لگتا ہے تجھے کسی نے ورغلایا ہے ۔‘‘ اتنا کہہ کر چاچانے یوسف کو دروازے کی جانب دھکیلا ۔ یوسف وہاں سے چلا گیا ۔ اب چا چا بندگی کے لہجے میں بد بدایا۔
’’ اے خدا ، کیسا وقت آگیا ہے ؟‘‘
آمنہ دوڑ کر مالتی کے پاس آئی اور اس کے سامنے زمین پر بیٹھ گئی پھر بولی ’ مالتی مت گھبراؤ ۔ ابھی جو آیا تھا نا وہ یوسف ہے ۔ وہ ہمارے پڑوس میں ہی رہتا ہے ۔ ویسے تو اچھا لڑکا ہے ۔ بڑے مزے کی ایسی میٹھی باتیں کرتا ہے کہ سن کر ہنسی آجائے ، دل باغ باغ ہو جائے ۔ یوسف ابا کی بات کو ٹال نہیں سکتا ۔ آمنہ نے مالتی کے شانے کو چھوا ۔ مالتی جوں ہی مسکرائی آمنہ بھی مسکرا اٹھی۔
مالتی کو ایسا محسوس ہوا کہ آمنہ یوسف سے متعلق ہمدردی کا جذبہ رکھتی ہے ۔ پھر بھی وہ دل ہی دل میں یوسف سے خوفزدہ تھی ۔ اس کا دل نفرت سے بھرا ٹھا ۔ وہ اسے ہی کیوں پسند کرتا ہے ؟ جب کہ آمنہ مجھ سے بھی زیادہ خوبصورت ہے ۔
نہیں ، اس کا سبب دوسرا ہے …… سبب… سبب یہ ہے کہ وہ……
مالتی کانپ اٹھی ۔ اف ، کس قدر ذلالت ؟ اس کا دل چاہا کہ وہ خوب چیخے مگر وہ ایسا نہ کر سکی ۔ یوسف جا چکا تھا ۔ مالتی نے آمنہ سے پانی مانگا ۔ اسے لگا کہ اب رات ہو گئی ہے ۔
دوڑتے ہجوم کی چیخیں سنائی دے رہی تھیں ۔ یہ لوگ کہاں جا رہے ہوں گے ؟ کس کو پکڑنے کے لیے ؟ کس کو جلانے کے لیے؟ یا … اگر چا چا نہیںہوتے تو نہ جانے وہ کہاں ہوتی ؟ کسی مشتعل بھیڑکا شکا ر یا …… اسے یوسف یاد آیا ۔ جب کہ مالتی نے یوسف کی شکل تک نہیں دیکھی تھی ۔ اس نے اب تک صرف اس کی آواز ہی سنی تھی اور آواز میں کتنی نفر ت تھی ۔ کیا آدمی ایسا بھی ہو سکتا ہے ؟ یہ بھی ممکن ہے کہ ہجوم میں آدمی آدمی نہیں رہتا ۔ پھر بھی آمنہ اس کی تعریف کر رہی تھی ۔ ممکن ہے کہ یوسف میٹھی باتیں کر کے آمنہ کو خوش رکھنا چاہتا ہو ۔
ٹھیک اسی وقت دروازے پر دوبارہ دستک ہوئی ۔ مالتی دروازے سے لگ کر بیٹھ گئی ۔ اور سوچنے لگی کہ کہیں وہی تو نہیں ……؟
اس بار بھی یوسف ہی تھا ، مگر اس باروہ اکیلا نہیں تھا ۔ اس کے ساتھ اس کے ہم عمر تین نوجوان تھے ۔’’ چا چا ، کیا سوچا ہے ؟‘‘ یوسف کے ساتھ آنے والے ایک نوجوان نے بات دوہرائی ۔
’’ کس کے بارے میں ! یوسف تو پھر آگیا ؟‘‘ چا چا کی آواز میں خوف تھا کیوں کہ اس بار یوسف اکیلا نہیں تھا ۔
’’ چا چا ‘‘ آپ اس لڑکی کو ہمارے حوالے کردیں ، ہمیں کچھ بھی نہیں سننا ہے ۔‘‘ اس بار آواز زیادہ اونچی تھی ۔
’’ یہ ممکن نہیں ہے ۔‘‘ چا چا نے بڑے اعتماد کے ساتھ کہا ۔
’’ چا چا ، ہم لوگ نا سننے کے لیے نہیں آئے ؟‘‘ یوسف نے کڑک کر کہا ۔ نوجوانوں کی وجہ سے اس کی ہمت بڑھ گئی تھی ۔ مالتی یوسف کی آواز سنتے ہی ساکت ہو گئی ۔ اسے لگا کہ اب اسے کسی بھی وقت غنڈوں کے حوالے کیا جا سکتا ہے ۔ آخر ضعیف چا چا کی بساط ہی کیا ہے؟ وہ بے حس و حرکت فرش پر پڑی رہی ۔ ممی ، پا پا اس کی نظروں میں تیرنے لگے ۔ وہ کتابیں خریدنے ہی کیوں آئی ؟
تم لوگ اپنے آپ کو سمجھتے کیاہو ؟ بڑے بزرگوں کے ساتھ ایسا برتاؤ کرتے ہیں ؟ چا چا چیخ پڑے ۔
اسی دوران یوسف کی امی نور بانو وہاں آئی ۔ وہ رو رہی تھی ۔ اس نے ایک ہاتھ اٹھا کر چا چا کو سلام کیا ۔ احتراماً جھکی اور بولی ’ چا چا ، میری شبنم اب تک گھر نہیں آئی ہے ۔ دوپہر سے ہی ڈریس خریدنے گئی ہے …… کیا ہوا ہوگا ؟‘‘ نور بانو کی آواز لرز رہی تھی۔
’’ شبنم ڈریس لینے کہاں گئی تھی ؟‘‘ چا چا نے پوچھا ۔
چا چا، ندی کے اس پار کے بازو کے بازار میں ۔ شبنم ہمیشہ وہاں جاتی رہتی ہے ۔ ویسے فکر کی کوئی بات نہیں تھی ، مگر آج تو طوفان برپا ہے ۔ سارا شہر جل رہا ہے ۔‘‘ ایک ماں نے اپنے دل کی عکاسی کی ۔
’’ یوسف!‘‘ اس نے اپنے بیٹے کی طرف دیکھا ۔
نور بانو ! میں خود یوسف کے ساتھ شبنم کو ڈھونڈنے جاؤں گا ۔ تم بالکل فکر مت کرو۔‘‘ اتنا کہہ کر چا چا نے اپنی بیوی کی جانب دیکھا ۔ یوسف کے ساتھ آئے ہوئے نوجوان موقع پا کر وہاں سے غائب ہو گئے۔ اب یوسف کی حالت قابلِ رحم تھی۔ اسی وقت فون کی گھنٹی بج اٹھی ۔ چا چا نے ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا ، ’ ہیلو!، کیا بک اسٹال والے سلمان چا چا ہی بول رہے ہیں ؟ میں سی جی روڈ سے نریندر راول بول رہا ہوں ۔ آپ کے پڑوس میں نور بی بی رہتی ہیں ، ان کی بیٹی شبنم… ٹھیک ۔ ان سے کہنا کہ فکر نہ کریں ۔ ان کی شبنم ہمارے گھر میں محفوظ ہے ۔وہ مزے میں ہے … لیجئے … آپ خود شبنم سے بات کر لیجئے ۔‘‘
یہ سنتے ہی ماحول تبدیل ہو گیا ۔
شبنم بولی ’’ یوسف بھیا‘ میں دنگے میں پھنس گئی تھی ۔ مگر نریندر انکل نے مجھے بچا لیا ۔ میری بالکل فکر مت کرنا۔ امن و امان ہونے پر انکل مجھے گھر چھوڑ دیں گے ۔‘‘
ساری تفصیل جان لینے کے بعد نور بی بی کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک آئے اور یوسف سر جھکائے چا چا کے پاس کھڑا ہو گیا ۔
اب یوسف مشتعل ہجوم کا حصہ نہیں تھا ۔


ترجمہ: قاسم ندیم
گجراتی کہانی

Punjabi Story by Ajeet Kaur

Articles

اب میرا انتظار کر

اجیت کور

 

پسلیوں سے ذرا سا نیچے درد کا ایک طوفان اٹھتا اور رشید دُہرا ہوجاتا۔زمین گھوم جاتی اور آسمان سے راکھ برسنے لگتی۔آخر وہ اسپتال چلاگیا۔کئی ٹیسٹ ہوئے۔’’ایک چھوٹا سا آپریشن کرنا پڑے گا۔‘‘ ڈاکٹروں نے کہا۔
’’آپریشن ؟کس کا آپریشن کرنا پڑے گا؟‘‘
’’بائی آپسی۔‘‘
’’بائی آپسی؟یعنی؟کینسر کا شک ہے کیا؟‘‘
’’نہیں،ٹیسٹ شکوں کی تصدیق کرنے کے لیے نہیں ہوتے۔ہر قسم کا شک دور کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں۔‘‘
وہ راضی ہوگیا۔’’کب آجائوں؟‘‘
’’اگلے منگل کو۔ٹھیک؟کوئی ساتھ تو آئے گا ہی۔پہلے دن جنرل وارڈ میں وہ بھی آپ کے ساتھ رہ سکتے ہیں۔‘‘
’’نہیں ،کوئی نہیںآئے گا۔میں ہی آئوں گا۔کافی نہیں؟‘‘وہ مسکرایا۔
’’آپ کی بیوی؟بچے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
وہ ہنس دیا۔’’بیوی تو پچھلے برس ہی سے اﷲ میاں کے گھر بیٹھی چرخہ کات رہی ہے اور بیٹا دور ہے، امریکہ۔‘‘
بائی آپسی ہوئی۔تقریباً چھ ہفتوں کے بعد جب وہ بائی آپسی کی رپورٹ لینے اسپتال گیاتو ڈاکٹر پھر سے اس کے بیٹے کے بارے میں پوچھنے لگے۔
’’آپ لوگ میرے بیٹے کو مجھ سے زیادہ عقل مند سمجھتے ہیں؟مجھ سے زیادہ پختہ اور طاقتور؟ آپ رزلٹ بتائیں،مجھ میں حوصلہ ہے سننے کا۔‘‘وہ مسکرایا۔
’’ڈاکٹروں نے بے حد نرم اور ملائم آواز میں اسے بتایا کہ اس کے پیٹ میں کینسر ہے۔
کینسر؟اس کے جسم میں اس بنا سلائی کے،لپٹے لپٹائے تھیلے کے اندر اس کا پیٹ آہستہ آہستہ سڑرہاتھا۔باسی گوشت کے ٹکڑے کی طرح اور اس میں لاکھوں ننھے ننھے کیڑے رینگ رہے تھے اور اسے خبر تک نہ ہوئی۔بدبو بھی نہ آئی!وہ حیران ،سوچ رہا تھا۔
بڑے ڈاکٹر نے سوچا،رشید اس بھیانک خبر کی وجہ سے خاموش ہوگیاہے۔بڑی اپنائیت سے اس نے رشید کا ہاتھ دبایا۔’’آپ میرا کہا مانئے،بیٹے کو امریکہ سے بلالیجئے۔کینسر کا علاج کرنے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔آپریشن ہوسکتا ہے۔دوائیں ہیں،بجلی کا علاج ہے، گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔آج کل تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
رشید مسکرایا،’’اگر علاج کیا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کتنی دیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
ڈاکٹر نے کہا،’’سال دو سال!کچھ زیادہ بھی شاید۔مگر دوائیں پابندی سے لینی ہوںگی۔ چیک اپ لگاتار کرواتے رہنا ہوگا۔اس کے بعد شاید درد بڑھ جائے اور آپ کو ہسپتال میں داخل ہونا پڑے۔ گھبرانے کی بات نہیں۔ہر درد کے لیے دوائیں موجود ہیں۔ویسے میری یہ صلاح ہے کہ آپ بیٹے کو بلوالیں۔دوچار ہفتوں میں ہی ہسپتال میں داخل ہوجائیں۔تاکہ ہم اپنی پوری کوشش کرسکیں۔‘‘
’’اور اگر دوائیں نہ لی جائیں؟یعنی کچھ بھی نہ کیا جائے،تو؟‘‘
’’یہ تو پھر خودکشی ہے۔‘‘
’’نہیں،میرا مطلب تھا کہ اگر مجھے پتہ ہی نہ چلتا،درد ہی نہ ہوتا،اگر ہوتا بھی تو میں اجوائن پھانکتا رہتااور آپ کے پاس نہ آتا،ٹیسٹ نہ ہوتے،تو کتنی دیر زندہ رہ پاتا؟‘‘
ڈاکٹر نے کندھے اچکائے۔گردن میں خم سا دیتے ہوئے کہا،’’چھ مہینے،پانچ مہینے،آٹھ مہینے۔کیا کہا جاسکتا ہے؟قسمت پر بھی تو ایسی باتیں ٹکی ہوئی ہیں۔‘‘
گھر پہنچ کر رشید نے اپنی زندگی کا حساب کتاب کرنا شروع کیا۔جوڑنے لگا تو سارے جواب منفی میں ہی آئے۔’’کمال ہے۔‘‘اس نے سوچا۔’’اتنے برس بیت گئے اور میںنے کبھی اس طرح سے اپنی زندگی کا بہی کھاتہ کھول کر دیکھا بھی نہیں کہ کیا کمایا اور کتنا نقصان ہواہے۔ ہے نا حیرانی کی بات؟‘‘
اچانک اسے لگا کہ وہ اور لوگوں سے زیادہ قسمت والا تھا۔نہیں؟ورنہ موت کے مقام کا کسے پہلے سے علم ہوتا ہے؟اچانک بیٹھے ہوں اور اچانک لڑھک جاتے ہوں۔بس ختم!اور ایک وہ تھا کہ اسے پتہ تھا کہ پانچ چھ مہینے اس کے پاس ہیں اور پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بعد میں سوچیں گے،بھئی!فی الحال وہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوچوں کے بہائو کو جتنا بھی روک لو ،وہ رکتا ہے کیا؟کچھ نہ سوچنے کا فیصلہ کرنے کے باوجود اس کی پوری زندگی اس کے سامنے گھومنے لگی۔مگر یار ہے نا کمال کی بات؟اتنے برس سوچا ہی نہیں کہ یہ گزررہی ہے،زندگی۔رشید خود سے باتیں کرتا رہا۔
فریدہ،میری جان،شاید تم ہی مجھے پکا ررہی ہو۔وہاں اکیلے میں دل نہیں لگتا نا تمہارا؟وہ پیار سے اپنی بیوی کے تصور سے پوچھتا۔
وہاں ،کہاں یار؟وہ تو قبر میںلیٹی ہے،آرام سے۔اما تم بھی کیا اپنے دوست رمیش کی طرح سوچتے چلے جارہے ہو۔آلتو فالتو باتیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اس کی بیٹی اوپر کہیں،بادلوں کی دوسری اور ،چاند تاروں کی دنیا میں رہ رہی ہے۔یہ تو ہندوئوں کی سوچ ہے۔کافر کہیں کا۔
اتنے برس تو وہ دفتر سے گھر اور گھر سے دفتر کا فاصلہ طے کرتا رہا تھا۔ اور دفتر میں اپنی میز سے صاحب کے کمرے کا فاصلہ۔بس!قبیلہ داری؟کہاں۔
فرماں بر داری بھی نبھائی اس نے۔اپنے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کی تھی۔چھوٹے بھائی کو پڑھایا تھا۔بہنوں کی شادیاں کی تھیں۔خود اپنے تین بچے پیدا کئے تھے،پر دو اﷲ کو پیارے ہوگئے۔ایک ہی باقی تھا،اسلم۔اسلم ڈاکٹری کی پڑھائی ختم کرکے اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکہ چلاگیا تھا۔
خود ہی بھیجا تھا میں نے۔بچوں کی خوشی میں ہی ماں باپ کی خوشی ہوتی ہے۔ہے یا نہیں؟
مگر یہ تو نہیں کہا تھا میں نے اسے کہ پھر لوٹ کے آئے ہی نہیں۔پڑھائی ختم کی اوروہیں سیٹل ہوگیا۔نالائق!چٹھی لکھی،جس میں اطلاع دی تھی کہ وہیں نوکری جوائن کررہا ہوں۔احمق! کم سے کم اجازت تو لے ہی سکتا تھا۔نہیں؟
رشید نے دفتر سے استعفیٰ دے دیا۔کسی کو کچھ نہیں بتایا،ساتھ میں کام کرنے والوں سے یہی کہا کہ وہ اب جاکر اپنے گاؤں میںرہنا چاہتا ہے۔گاؤں میں اپنا پرانا گھرہے۔پکی حویلی ہے۔ شہر کے شور میں کیا رکھا ہے صاحب!بہت ہوگیا۔اتنے برس دریا گنج کے ایک چھوٹے سے،اندھیرے سے گھر میں رہ کر بتادیئے۔اب ذرا کھلی ہوا میں سانس لوں گا۔
رمیش جو اس کے دفتر میں ساتھ والی میز پر بیٹھتا تھااور دوپہر کو کھانا بھی دونوں اکٹھا کھایاکرتے تھے،اس کا اکلوتا دوست،حیران تھا۔’’مگر رشید صاحب،وہاں اکیلے کیا کریں گے؟‘‘
’’اکیلا؟اور یہاں کیااکیلا نہیں ہوں میں؟‘‘اور وہ ہنس پڑا۔بات کو ہنسی میں اڑا دیا، ’’بھائی جان ،وہاں بھینسیں رکھوں گا،کتّے پالوں گا،بلّیاں پالوں گا۔گائوں میں کیسا اکیلاپن؟اکیلا پن تو شہر میں ہوتا ہے،ماچس کی ڈبیوں جیسے گھرو ں میں۔‘‘
’’اسلم سے پوچھ لیا؟‘‘
’’اسلم؟اس نالائق سے کیا پوچھنا؟میں اس کا باپ ہوں کہ وہ میرا باپ ہے؟‘‘رشید قہقہہ لگاکر ہنس پڑا۔اتنا کھل کر ہنستے ہوئے اسے پہلے کسی نے نہیں دیکھا تھا۔
اسلم کو سچ مچ اس نے کچھ نہیں لکھا۔ویسے بھی تو چھ مہینے میں ایک آدھ چٹھی ہی تو آتی ہے اس کی۔چھ مہینوں کی ہی تو بات ہے ساری۔اسے تو پتہ بھی نہیں چلے گاکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رشید سوچتا رہا۔
ویسے بھی یار،اگر دو چاردنوں میں ہی مرنا ہوتو لکھ دوں اسے کہ آجا اور کام نبٹاکر لوٹ جا۔ اب میں چھ مہینے پہلے کیوںاسے دکھی کروں؟کھانے پینے کی عمر ہے اس کی،نہیں؟وہ اپنے من میں خود کو ہی بچوں کی طرح سمجھاتا۔
کہوں بھی تو کیا کہوں؟کہ آ،میرے پاس بیٹھ،اینڈ واچ می ڈائنگ اے سلو دیتھ!
بھئی جانا ہی ہے تو اپنی مرضی سے جائیں گے۔نہ اسلم کے رحم پر نہ ڈاکٹروںکے رحم و کرم پر!آکر کرے گا بھی کیاآخر؟ہسپتال میں بھرتی کروادے گا،دوائیں!بدبو!ٹیکے!اور چھ آٹھ مہینے کُڑھتا رہے گاکہ بوڑھا نہ آر ہوتا ہے نہ پار!
غلط،غلط رشید میاں!بوڑھے کب سے ہوگئے آپ؟ابھی تو اچھے خاصے ہیں بھلا۔ دفتر کی کوئی بھی لڑکی ابھی تک آپ کے پاس بے تکلفی سے نہیں بیٹھتی۔جب لڑکیاں آپ سے دکھ سکھ کی باتیں کرنے لگیں اور صلاح مانگنے لگیں،تب ہی بزرگی میں قدم رکھتے ہیں،سمجھے آپ حضرت؟وہ مسکراتا۔
گھر کا سب سامان اس نے بیچ دیا۔صرف ایک بستر رکھ لیااور پہننے کے کچھ کپڑے، کچھ تکیے کے غلاف،چادریںاور تولیے۔ایک صندوق کتابوں سے بھرلیا۔دوچار برتن دوسری پیٹی میں ڈالے۔ گیس کا چولہا فروخت کرکے بازار سے اسٹو خریدا اور قندیل۔ایک جوڑی چپل اور موٹے ربڑ سول کے کینوس کے جوتے سیر کرنے کے لیے۔بڑھیا سے کاغذوں کا ایک پیکٹ، داڑھی بنانے کا سامان اور ایک چھوٹی سی بوتل پرفیوم کی۔
رشید میاں ،لگتا ہے بارات میں جارہے ہو یار۔خدا کی بارات میں۔بس،اب آنکھوں میں سرمہ بھی نہ مٹکالیناکہیں!وہ اپنے آپ سے مذاق کرتااور مسکرادیتا جیسے سچ مچ کہیں چھٹیاں منانے جارہا ہو۔پھول سا ہلکا محسوس ہوتا اسے اپنا دل اور بدن!
بیٹی بیٹے،ماں باپ،بہن بھائی یہ سب انسان کو باندھے رکھتے ہیں۔پھر گھر گھر میںمکڑی کے جال کی طرح سو ضرورت کی اور باون سو غیر ضروری چیزوں کا جال!پھر مجھے دیکھ رمیش بھائی، دیکھ حسد سے جل۔سارے مایاجال کاٹ کر پھینک دیئے ہیں۔سارے جالے جھاڑ پونچھ کرباہر پھینک دیئے ہیں۔ہے یا نہیں؟وہ دل ہی دل میں رمیش کو چیلنج دیتااور ہنستا۔
سب کچھ بیچ باچ کر اور ضرورت کی چیزیں خریدکر اس نے پیسوں کا حساب لگایا تو اسے لگا کہ اتنی بادشاہت تو اس نے زندگی بھرنہیں دیکھی تھی۔اتنے سارے پیسے بچ گئے تھے اور سارے اسے چھ سات مہینے میں اڑادینے تھے۔
واہ یار!رئیس ہوگئے ہو تم تو یار!چاہے دو گھوڑوں والی بگھی خرید لو۔کوچوان گھوڑوں کو سوٹے مارمارکر چلائے۔بید کی چھڑی ہوا میں لہراتاہوا اور تو پچھلی سیٹ پر بیٹھادنیا کے نظارے دیکھ۔زندگی میں پہلی بار رشید نے فرسٹ کلاس میں سفر کیا۔اسٹیشن سے گائوں تک ٹیکسی لے لی اور پشتینی حویلی کے سامنے اترا۔اس کی چال میں ایک عجیب سی مستی اور دل میں امنگ تھی۔حویلی کے موٹے دروازے برسوں سے بند پڑے تھے۔دروازے پر لکڑی کی نقاشی تھی جس میں پیتل کی کیلیں جڑی ہوئی تھیں۔
کتنے سال کے بعدگائوں آیا ہو ں میں؟سوچتا ہوا وہ اپنی جیب سے لمبی چابی نکالنے لگا۔ چابی تالے کے سوراخ میں ڈالی،لیکن وہ گھومی ہی نہیں۔شاید تالے کو زنگ لگ گیا ہوگا۔’’کیوں یار،ترے پیٹ میںبھی کینسر ہے۔‘‘اس نے آہستگی سے تالے سے کہا اور پھر اداس ہوگیا۔
تم بھی رشید میاں!بڑے نا معقول آدمی ہو۔گھر کے اندر پائوں رکھتے وقت کوئی اچھی بات سوچنی چاہئے اور تم ہو کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اسے بس تھوڑے سے تیل کی ضرورت ہے۔تیل؟میرے پاس تو ہے۔وہ کہاں ہے میرا وینٹی بیگ؟وینٹی بیگ؟رشید مسکرایا،’’وینیٹی!‘‘
سر میں لگانے والا خوشبودار تیل میںچابی کو ٹھیک سے بھگواکر اس نے جب تالے میں گھمائی تو تالا کھل گیا،’’تم بھی دوست دنیا کی نبض خوب پہچانتے ہو۔کسی نیتا ویتا کا سایہ پڑالگتا ہے تم پر بھی۔تیل دیے بنا بات ہی نہیں کرتے۔‘‘اس نے تالے سے مذاقاً کہا۔لکڑی کے موٹے پَلّے چرمراکر،چرچراکر کھل گئے۔ٹھہرجائو یار،ذرا دم لو۔پلاتا ہوں تیل تمہیں بھی۔شور کیوں مچائے جارہے ہو؟
شام کے سائے ڈھل رہے تھے۔ٹیکسی کی آواز سن کر محلے کے بچے گھروں سے بھاگتے ہوئے نکل آئے۔پہلے تو ذرا دور کھڑے ٹکر ٹکر دیکھتے رہے،پھر دھیرے دھیرے کھسکتے ہوئے ان کا گھیرا تنگ ہوتا گیا۔سب چپ چاپ اسے ہی دیکھتے رہے۔
اس نے کنکھیوں سے انہیں دیکھا،رشید یار،اب ان آفتوں سے دوستی نہ کرنے بیٹھ جانا۔ ورنہ رات دن تمہیں گھیرے رہیں گے۔تم یہاں مستی کرنے آئے ہو یا ان بچوں کو بہلانے پچکارنے؟اور اس نے بچوں سے نظر نہیں ملائی،تالا کھول کر وہ سامان اندر لے جانے لگا۔ٹیکسی والا کتابوں کا بھاری صندوق اٹھاکر اندر لے آیا۔اس نے اس کے پیسے ادا کئے اور بچوں کی نظروں سے بچتے اوپر پیڑوں کی شاخوں کو دیکھتے ہوئے اس نے دروازہ اندر سے بند کردیا۔
حویلی کے ایک ایک کمرے کو کھول کر وہ دیکھ رہاتھا۔ہر کمرے میں بہت سااندھیرا دُبک بیٹھا تھا۔اور اندھیرے میں باسی گرد اور باسی ہوا کی گھٹی ہوئی سانسیں گھلی ہوئی تھیں۔’’گھر بھی کیا چیز ہوتا ہے یار رشید!اس میں رہتے رہو۔اسے استعمال کرتے رہو۔دھوتے پونچھتے ،رگڑتے گھستے رہو تو اس میں سوندھی خوشبو آتی ہے۔عورت کی طرح!عورت کو پیار کرتے رہو،اس کے ساتھ سوتے ،جاگتے رہو،گھر میں روٹیاں سینکتی ہے وہ۔نئی نویلی،نرم ملائم سی پورے گھر میں چھم چھم کرتی گھومتی رہتی ہے۔اگر گھر چھوڑکر چلی جائے یا پاس رہتے ہوئے بھی نہ چھوئو تو اسی طرح بھوتوں کا ڈیرا بن جاتا ہے اس کا بدن بھی۔‘‘
رشید اداس ہوگیا۔رومال سے اس نے چوڑے پلنگ سے مٹی جھاڑی اور بیٹھ گیا۔دونوں کہنیاں گھٹنوں پر ٹیک دیں اور دونوں ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسرے میں پھنساکران پر ٹھڈی ٹکادی۔فریدہ اس کے سامنے جیسے چلنے پھرنے،ہنسنے بولنے لگی۔گوشت کی ہنڈیا میں کڑچھل گھمانے لگی۔اور تندور سے سوندھی سوندھی مہک والی روٹیاں پکانے لگی۔تندور سے نکلی تازہ گرم روٹیوں کی سوندھی خوشبوئو ں میں رشید کھو سا گیا۔
دوسرے دن صبح سویرے چڑیوں کی چہچہاہٹ نے اور کبوتروں کی غٹرغوں نے اسے جگا دیا۔ ابھی اجالا پوری طرح پھیلا نہیں تھا۔دودھیا اندھیرا دھیرے دھیرے اجالے میں تبدیل ہوتا جارہاتھا۔وہ پہلے تو نیند کی خماری میں ہی سلیپر میں پیر ٹکاکر دروازے کی اور چلنے لگا۔دو قدم ہی چلاتھا کہ اچانک رک گیا،مسکرایا۔کیوں رشید میاں دروازے کے باہر بڑا اخبار لینے جارہے ہو؟تاکہ سگریٹ سلگاکر مزے مزے سے دنیا کے حال احوال کا معائنہ کیا جاسکے؟حضور یہ دریاگنج نہیں ہے۔یہ تو اپنا گائوں ہے۔
اور آپ چودھری صاحب ذرا ہوش سنبھالیے۔جاگ جائیے،لوٹا پکڑئیے اور چلئے باہر، کھیتوں میں ،کیا کہتے ہیں۔اسے؟باہر سے خالی لوٹاہاتھ میں جھلاتا ہوا،وہ لوٹا تو بچپن کی صبحیں یاد آگئیں۔
واپسی پر کیکر کی ٹہنیاں توڑی ہوتی تھیںاور ٹہنیوں سے کانٹے چھیلنے ہوتے تھے اور چھوٹی چھوٹی داتونیں کاٹ کر گھر لانی ہوتی تھیں۔ایک داتون راستے میں مزے مزے سے چبانی ہوتی تھی۔
گھر لوٹ کر سبھی کو داتونیں بانٹنا اس کا کام ہواکرتا تھا،یہ سوچتے ہوئے رشید کا من نرم گیلی مٹی سا ہوگیا۔چاروں طرف کھیت لہلہارہے تھے۔ہوا میں خنکی تھی۔اکتوبر آدھا بیت چکا تھا، اکتوبرنومبر دسمبرجنوری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔رشید دل ہی دل میں ایک بار پھر گنتی گن رہا تھا۔ویسے یہی گنتی وہ پچھلے کچھ دنوں میں سینکڑوں بار گن چکا تھا۔
مارچ؟مارچ کا بھی بہت خوبصورت مہینہ ہوتا ہے یار رشید۔نہ سردی ،نہ گرمی۔ بہت خوشگوار ہے مارچ کا مہینہ۔نرم اور نازک۔سفر پر جانے کے لیے،کوئی بھی کام کرنے کے لیے۔ موسم کا اور وقت کا درست ہونا بہت اہم ہے،نہیں؟مرنے کے لیے بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پھر وہی مرنا!کون سا عجیب و غریب کام ہے بولیے!سارے ہی کرتے ہیں چاروں اور دن رات یہی تو!سوچ کر پھر اداس ہونے لگاوہ،زیادہ خورشید اور مریم کے لیے ،اس کے اپنے بچے جو نہیں رہے تھے اور فریدہ کے لیے ،اس کی بیوی جو اسے تنہا چھوڑکرچلی گئی تھی۔
اوئے رشید میاں،ارے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں چل دیئے،اونٹ کی طرح منہ اٹھاکر؟اپنے گھر کا موڑ تو پیچھے چھوٹ گیا اور وہ واپس گھوم گیا۔اب وہ گائوں کی گلی میں تھا۔اپنے گھر کی گلی میں۔ آتے جاتے لوگ ذرارک کراسے پہچاننے کی کوشش کرتے۔پہچان لیتے تو سلا م کرتے۔
’’کیسے آنا ہوا؟‘‘
’’بس ذرا گھر کاخیال آگیا۔‘‘
’’اچھاہے اچھا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خیر خبر لینی چاہئے۔گھر تو گھروالوں سے ہی بنتے ہیں جی، کیوں جی؟‘‘
’’سوتو ہے۔‘‘وہ مسکرادیتا۔
’’اسلم کیا کررہا ہے آج کل؟‘‘
’’ڈاکٹری۔‘‘
’’اچھااچھا۔پروردگار کابہت شکر ہے جی۔ڈاکٹری!واہ واہ!نام روشن کردیا خاندان کا۔ گائوں کا بھی تو!کبھی کبھی یہاں بھی تو آتاجاتا رہے گا۔دیکھئے نا یہاں آنکھوں کی بیماری بہت ہے۔ چالیس پار کیے نہیں کہ آنکھوں میں موتیا اترنا شروع ہوجاتا ہے۔شہروں میں تو سنا ہے موتئے کا آپریشن منٹوں میں کردیتے ہیں۔‘‘
’’اسلم تو امریکہ میں ہے۔‘‘
’’امریکہ!بلّے بلّے!خیر سے!امریکہ!‘‘
’’جب بھی آئے گا ،اسے یہاں ضرور لائو ںگا۔خدمت کرے گا آپ سب کی۔‘‘اور رشید من ہی من مسکراتا،واہ کیسی صفائی سے جھوٹ بولتے ہو!
جھوٹ!کاہے کا جھوٹ بھائی؟دوسرے کا دل رکھ لیا،جھوٹ کی کیا بات ہے۔ گھر کی کھیتی ہے سچ جھوٹ تو۔دوسرے کی پل بھر کی خوشی پر سو سچ قربان،میری جان۔
رشید نے بہت لگن سے گھر کی صفائی شروع کی۔ کتنی ہی چیزیں فالتو پڑی تھیں۔ بے شمار چیزیں جو اس بات کی گواہ تھیں کہ کبھی یہ گھر بھی انسانوں سے بھرا رہتا تھا۔
گھر کے آس پاس اس نے گلاب کے پودے لگادیئے۔حساب کرنے لگا کہ پھول کب کھلیں گے۔مارچ سے پہلے یا مارچ کے بعد؟بہت سے کبوتر پال لیے رشید نے۔سفید اور سرمئی، بھورے اور چتکبرے کبوتر۔بہت پیار کرتا ان سے۔دل ہی دل میں ان سے باتیں کرتا۔’’ذرا سانس تولو۔ کیوں شور مچارہے ہو؟صبر نہیں کرسکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
صبح اٹھتا تو کبوتروں کو ننھے بچوں کی طرح ڈانٹتا،’’شورتو اتنا مچاتے ہو کہ بس!جگادیا نا مجھے!‘‘
اسے لگتا چڑیاں اسے ہی نیند سے بیدار کرنے کے لیے گارہی تھیں،’’اکیلے آدمی،اٹھ۔ سو نے کے لیے تمام وقت پڑا ہے۔قیامت کے روز تک اور چار مہینے بعد سونا ہی تو ہے اور کرنا ہی کیا ہے۔ فی الحال تو جاگ جائو،آس پاس دیکھو۔دیکھو قدرت کے رنگ۔دیکھوآسمان کس طرح جگمگارہا ہے۔ پیڑوں کے پتے ننھے بچوں کی طرح چھوٹی چھوٹی ہتھیلیوں سے تالیاں بجابجاکرکھلکھلارہے ہیں۔ بھوری مٹی کی خوشبو آرہی ہے۔گلابوں کے پودوں میں نئی کونپلیںپھوٹ رہی ہیں۔دھوپ ہے، ہواہے،زندگی ہے۔‘‘
ایک وقت ہی ہے جو واپس نہیں آتا رشید میاںاور سب کچھ واپس آجاتا ہے۔ موسم، اندھیرے اجالے،دھوپ ،روشنی،ہوا ،پتے،پھول،فصلیں سبھی واپس آجاتے ہیںمگر وقت جو گزرگیا وہ محض ایک خواب بن جاتا ہے۔
انسان بھی تو کھاد بن جاتا ہے قبر میں لیٹے لیٹے۔مگر وہ قیامت کا دن ؟قبر میں سے اٹھنے کا دن؟یا جسے رمیش کہتاتھا دوسرا جنم؟
سب بیکار باتیں ہیںرشیدمیاں۔دل بہلانے کو گڑھی گئی ہیں۔جو لوگ آخرکو آخر ماننے کو تیار نہیں ہوتے انہیں بہلانے پھسلانے کے لیے۔
رشید جاگتاتو اسے لگتا وہ سویا توتھا ہی نہیں۔
وہ آس پاس دیکھ کر حیران ہوتا رہتا۔یہ قسم قسم کے پرندے،چڑیاں،کبوتر،مینا،بگلے اور بھی کئی۔جن کے نام اسے معلوم نہ تھے مگر جنھیں دیکھتے ہی وہ پہچان لیتاتھا۔رشید حیرانی سے انہیں دیکھ کر سوچتا۔’’یہ سب کے سب میری ہی دنیا میں رہ گئے تھے کیا؟سد اسے؟کہاں چھپے تھے سب اتنے سال؟‘‘
وہ کہاں پوشیدہ تھے یار رشید!پوشیدہ تو زندگی تونے گزاری ہے۔
اتنے سال،جب وہ گھر سے دفتراور دفتر سے گھر کا فاصلہ طے کررہا تھا۔جب وہ اپنی تنخواہ اور اخراجات کا حساب کتاب جوڑتوڑکر کھینچ تان کر بیٹھا رہا تھا۔جب وہ آفیسر کی ہر ڈانٹ سے غمزدہ اور ہر ترقی سے خوش ہوتا رہاتھا۔
جب وہ صبح اٹھ کر اخبار پڑھتا اور چائے پیتا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر خود رشید کو،مریم کو اور آخر میںفریدہ کو دیگر کئی دوستوں کو رخصت کرکے زمین کے نیچے سلاتا رہاتھا،ان تمام برسوں میں یہ تمام رنگین حسین زندگی کیسے اس کے پاس سے سرک کر گزرتی چلی گئی تھی۔خاموشی سے جشن مناتی ہوئی۔
رشید دیکھتا رہا،کبوتروں کے جوڑے کیسے گلے کی گہرائیوں میں سے پیار کے دھیمے بول بولتے ہوئے ایک دوسرے کی گردنوں کو اپنی چونچوں میں پکڑتے،پروں کو دلارتے اور کپکپی کی ننھی ننھی لہریں ان کے بدن کو تھرتھراتی رہتیں۔
تین چار آوارہ بلیّاں بھی رشید کے پاس آکررہنے لگی تھیں۔ویسے تو بلّی کبوتر کو چھوڑتی نہیں،مگر ان بلّیوں کو شاید معلوم تھا کہ اس گھر میں رہنا ہے تو کبوتروں کی جانب میلی نگاہوں سے دیکھنا بھی نہیں۔
پیٹ میں درد کے نشتر جب بھی چبھتے تو وہ درد سے بے حال ہوجاتا۔ایسے لگتا جیسے ساری کی ساری جان گڈمڈہوکر اس کے سڑتے ہوئے پیٹ کے اندر جاچھپی ہے۔مگر دواخانے جانے کے لیے اس کا دل انکار کردیتا۔
اس نے سناتھااور کتابوں میں پڑھاتھا کہ ان دوائوں سے پہلے تو انسان گنجا ہوجاتا ہے۔ چڑیا کے نوزائیدہ بچے کی طرح،جو ابھی ابھی انڈے سے باہر آیا ہو۔وہ سوچتا اور پیار سے اپنے گھنے بالوں میں انگلیاں پھیرتا،پھر بالوں سے مخاطب ہوتا۔فکر مت کرو،تم رہوگے، میرے ساتھ ہی، آخری وقت تک، دوائیوں کی ایسی کی تیسی۔
جب بھی درد بڑھتا،وہ یا تو باہر پھولوں کی کیاریوں میں دو چار قلمیں اور لگانے لگتا،یا پھر پتوں کے مرجھانے اور نئی کونپلوں کے پھوٹ آنے کے جادو کو دیکھتا رہتا۔اڑوس پڑوس کے بچوں کو بلاکر کہانیاں سنایا کرتا۔اسکول کے بچوں کا ہوم ورک کروادیتا۔کئی بار حیران ہوکر خود سے پوچھتا، ’’مگر رشید میاں،تیری ایک بات پلّے نہیں پڑی یار!تیرے پیٹ کے درد کا بچوں سے یا کبوتروں، بلّیوں سے کیا تعلق ہے،ذرا سوچ کر سمجھا تو سہی۔‘‘
اس بار درد کا طوفان اٹھا تو وہ جاکر کہیں سے رنگ برنگ طوطے خرید لایا۔ پھر کئی دن وہ ان کے لیے پنجرے بناتا رہا۔لمبے چوڑے پنجرے تیار ہوگئے تو اس میں طوطے براجمان کردیئے۔ پھر نیچے پانی کے تسلے بھرکر رکھے،دانے کے برتن،مرچی اور سب چیزوں کی روزانہ صفائی!ان سب کاموں میں دن کدھر سے چڑھتا اور کدھر ڈھلتا ،احساس ہی نہ ہوتا۔
لے بھئی،ایک اور دن کو لوٹ لیا۔بدّھو بناکر بھگادیا۔واہ رشید میاں،جواب نہیں تمہارا بھی۔وہ مسکرایا۔رات کو چاہے نیند آئے یا نہ آئے،صبح سویرے اٹھتا تو اسے لگتا وہ تو ابھی ابھی پیدا ہوا تھا۔یہ زمین،یہ کائنات بھی ابھی ابھی تعمیر ہوئی تھی ،صرف اس کے لیے۔یہ سبزہ زار، پیڑ جن میں ہوا اور دھوپ پاس پاس بیٹھ کر کانپتی رہتی۔
جب وہ گائوں آیاتھاتو گرمی کا موسم گزرچکا تھا،ہوا میں صبح و شام ہلکی ہلکی خنکی رہتی تھی۔ وہ اس میٹھی رُت میں اپنی چارپائی باہر کھلے آنگن میں ڈال کر سوتا۔یااوپر کھلی چھت پرتو آسمان کے سبھی ستارے ذراسا نیچے جھک جاتے اور اس سے باتیں کرنے لگتے۔سارا گزرا ہوا بچپن اس کی چارپائی کے سرہانے آکر بیٹھ جاتا۔
دوپہر کی دھوپ آج کل بے حد نرم ہوگئی تھی۔خرگوش کے بدن کی طرح نرم۔وہ دھوپ میں بیٹھے بیٹھے اونگھنے لگتا۔واہ میرے پروردگار۔اتنی نعمتیںدیتا ہے تو انسان کو۔اور انسان ہے کہ بس اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے کولہو کے بیل کی طرح گول دائرے میں گھومتا چلاجاتا ہے۔اگر مجھے بھی ڈاکٹر نہ بتاتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی یہ چھ مہینے والی بات نہ کہتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔تو یہ ساری خوبصورتی ،کائنات کا یہ سارا حسن،کنوارا ہی مرجاتا۔
ایک دن اس نے بھنتی کے بیٹے کا سر سہلاتے ہوئے کہا،’’بیٹا،کل اسکول سے لوٹ کر ذرا میرا ہاتھ بٹانا۔پیچھے جو مویشیوں کا کوٹھا ہے اس کی صفائی کردیں گے۔اب تو نہ کوئی گائے نہ بھینس نہ گھوڑا نہ بیل۔وہ کوٹھا یوں ہی ویران پڑا ہے۔صفائی کردیں گے تو کل کو مویشیوں کے کام آئے گا۔‘‘
ویسے وہ سوچ رہا تھا،کس کے مویشی؟کون سے مویشی؟ارے رشید میاں کوئی تو آکر رہے گا اس چھت کے نیچے۔دروازہ کھلا چھوڑجائوں گا نہ میں۔اسلم تو آکر رہنے سے رہا۔گھر ویران پڑے رہیں۔بھوتوں کا ڈیرا بن جائیں اس سے تو اچھا ہے کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن اس نے بھنتی کے بیٹے کے ساتھ مل کر صفائی کی۔صفائی کرتے ہوئے اسے اپنے بچپن کے دن یاد آتے رہے۔دودھ سے بھری بالٹیاں،مویشیوںکے گلے میں بجتی گھنٹیاں، سب کچھ یاد آتارہا۔اب یہ کوٹھا ویران پڑاتھا۔کوٹھے کی صفائی کرتے کرتے بہت تھکان ہوگئی رشید کو۔دل بھی بہت بجھا بجھا سا ہوگیاتھا۔
باہر آکر اس نے پمپ سے ہاتھ دھوئے اور دھوپ میں بچھی ہوئی چارپائی پر لیٹ گیا۔
بھنتی کا بیٹا بھی باہر آکر اس کی چارپائی کے پاس رک گیا۔
’’کیا نام ہے تیرا بیٹے؟‘‘
’’جی،شام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اچھا،اچھا شام!بتایا تھا تونے کل بھی۔میں ہی بھلکڑ ہوتا جارہا ہوں۔‘‘رشید مسکرایا۔ شام بھی مسکرایا۔کچھ دیر خاموشی رہی۔’’تو پتنگ اڑاتا ہے کبھی؟‘‘رشید نے شام سے پوچھا۔
’’پچھلے برس اڑائی تھی،بسنت کے میلے میں۔‘‘لڑکے نے نگاہیںنیچی کرکے،شرماکر جواب دیا۔
رشید نے جیب میں ہاتھ ڈالا۔پانچ روپے نکالے اور کہا،’’لے،یہ لے لے۔جاکر پتنگ اور ڈور لے آ۔یہاں آکر پتنگ اڑا۔میں دیکھوں گا۔‘‘
پھر اس نے ذرا سوچ کر ایک اور نوٹ نکالا اور لڑکے کو پکڑادیا۔’’لے اور رکھ لے۔کیا پتہ آج کل ڈور اور پتنگ کتنی مہنگی ہے؟‘‘
لڑکادوڑتا ہواگیااور پتنگ جھلاتا ہوا لوٹ آیا۔دونوں نے مل کر ڈور سے پتنگ باندھی، جھول پرکھا،ہموار کیا،پتنگ اڑنے کے لیے تیار تھی۔
’’لے تو ذرا پیچھے ہٹ،دونوںہاتھوں میں کَس کر پکڑے رکھنا ڈور کو۔میں جب اسے یہاں سے اوپر اڑائوں گا تو جلدی سے ڈور کھینچنا۔پتنگ اڑنے لگے گی۔‘‘شام پیچھے کی طرف چلنے لگا قدم در قدم۔
اچانک رشید کو لگا یہ اس کا بیٹا اسلم تھا۔برسوں کے دوسرے سرے سے اسے دیکھ رہا تھا۔ دریاگنج والے گھر میں ہی ایک دن ضد پکڑ کر بیٹھ گیا کہ ابّو ہم تو پتنگ اڑائیں گے۔بڑی منت سماجت سے کہاتھا اس کا شرٹ پکڑکر،’’ابّو،سکھادیجئے نا ہمیں بھی پتنگ اڑانا۔‘‘
اور اس نے کہاتھا،’’نادان ہے توتو،اتنی تنگ گلیوں،مکانوں پر اونچی اونچی پانی کی ٹنکیوں اور ٹیلیفون کے ایریل،پتنگ کہاں اڑائے گاتو؟‘‘
اسلم کو پیچھے ہٹاکر رشید شام کو دیکھ رہا تھا۔وہ مزیددوچارقدم پیچھے چلاگیا۔تاکہ فاصلہ زیادہ ہوجائے پتنگ کو وہ جب جھٹکا دے کر اونچا کرکے چھوڑے تو ایک ہی جھٹکے سے وہ ہوا سے باتیں کرنے لگے۔
فاصلہ کافی ہوگیاتھا۔رشید نے پتنگ کے دونوں سروں کو پکڑا اور اوپر اچھال دیا، ’’شام،جھٹکا مار۔‘‘ایڑیاں اٹھاکر اس نے پتنگ ہوا میں چھوڑ دی۔
اُس ایک ہی جھٹکے سے پیٹ میں درد کا ایک خنجر پیوست ہوگیا۔درد کا طوفان،خون کا ایک گھونٹ منہ سے باہر اور آسمان کی تمام نیلاہٹ اس کی آنکھوں میں سمٹ کر کالی ہوگئی۔
شام کا دھیان آسمان میں تیرتی،جھومتی اور رقص کرتی پتنگ کی جانب تھااور پتنگ کے آس پاس آسماں میں رشید کے گولے کبوتر تیررہے تھے اور نیچے آنگن میں طوطے گارہے تھے۔


ترجمہ: قاسم ندیم

پنجابی کہانی

Sannata a Kashmiri Story by Bansi Nirdosh

Articles

سنّاٹا

بنسی نِردوش

 

 

جب میں نے یہ سنا کہ محی الدین کی بیوی اب اس دنیا میں نہیں رہی تو نہ جانے کیوں ایک لمحے کے لیے میں نے راحت محسوس کی۔لیکن دوسرے ہی لمحے میرے دل میں ایک ٹیس سی اُٹھی۔ ہاجرہ کی بھولی بھالی صورت میری آنکھوں کے آگے ناچنے لگی۔اس کی صورت،اس کی گھنی پلکیں اور دو بڑی بڑی آنکھیں۔۔۔ ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔ !وہ چھریرے بدن کی ایک سلونی لڑکی تھی۔اگرچہ وہ خوبصورت نہیں تھی۔مگر اس میں غضب کی کشش تھی اور یہی وجہ تھی کہ شادی سے پہلے محی الدین ہاجرہ پر ہزار جان سے فدا تھا۔
شادی سے پہلے اور شادی کے بعد میں نے دونوں کی زندگی کا بڑی نزدیک سے مشاہدہ کیا تھا۔ہاجرہ میرے ہی محلے کی لڑکی تھی۔بچپن سے ہم سب ایک ساتھ کھیلتے تھے۔محی الدین سے بھی میرا بچپن سے دوستانہ تھا۔جب ہاجرہ اور محی الدین کی شادی کی بات چلی تو مجھے یقین تھا کہ یہ شادی کامیاب گرہستی کی مثال ثابت ہوگی۔لیکن میرا اندازہ غلط نکلا۔شادی کے بعد میاں بیوی میں گہرا اعتماد ،خودسپردگی اور قربانی کے جو جذبات ابھرکر آنے چاہیے تھے وہ اس جوڑے میں میں نے بالکل نہیں پائے۔ان میں آئے دن اَن بَن رہتی اور جھگڑے ہوتے۔ہاجرہ اکثر ساس اور نند کی جلی کٹی سننے کے بعد میکے چلی آتی اور محی الدین دوسرے دن ہی زبردستی اسے اپنے گھر واپس لے آتا۔
مجھے محی الدین کی یہ بے صبری پسندنہیں تھی۔میں نے کئی بار کہا بھی۔’’بھئی ،جب تم دونوں کے مزاج آپس میں ملتے نہیں ہیں تو تم اسے طلاق کیوں نہیں دیتے؟‘‘وہ میری بات سن کر ہنس دیتااور کہتا، ’’تو کیاتمہارے خیال سے مجھے ہاجرہ سے محبت نہیں ہے؟میں تو محبت میں اپنے آپ کو ختم کردینے کا قائل ہوں۔ مگر میں یہ بھی چاہتا ہوں کہ جس کے لیے میں مِٹ جائوں وہ بھی میرے جذبات کی قدر کرے۔۔۔۔۔۔۔بھائی میرے،تمہیں کیسے یقین دلائوں،یہ بھی تمہیں اتنا نہ چاہتی ہوگی جتنا میں اسے چاہتا ہوں۔‘‘
اس بات پر میں زور سے ہنس پڑا۔میری بیوی شرماگئی۔کچھ دیر رک کر محی الدین نے پھر بات کا انداز بدلا،’’خدا کی قسم،میں تو اسے پوجنا چاہتا ہوں۔جس طرح تم لوگ مندر میں کسی مورت کو پوجتے ہو۔‘‘
میری بیوی کچھ پھیلے کپڑے سمیٹ رہی تھی۔کپڑوں کی گٹھری بغل میں دباکر وہ دروازے کے پاس پہنچ کر بولی،’’اچھا تو تم بیوی نہیں پتھر کی مورت چاہتے ہو۔‘‘شوبھا کا یہ جواب سن کر میں خود دنگ رہ گیا۔محی الدین نے اس کا کیا مطلب لیا میں کہہ نہیں سکتا،کیونکہ اس بات چیت کے بعد وہ زیادہ دیر تک میرے یہاں نہیں رُکا ۔
اب چونکہ میں نے سنا،ہاجرہ مر گئی،مجھے راحت سی محسوس ہوئی کہ چلو اچھا ہوا،اس جھگڑے کا خاتمہ ہوگیا۔اب محی الدین کو نئے سرے سے اپنی زندگی گزارنے کا موقع مل جائے گا۔ ہاجرہ کے انتقال کے دوسرے دن ہی میں اس کے گھر گیا۔وہ گھرپر نہیں تھا۔میں نے اس کی ماں سے پوچھا تو اس نے روکھا سا جواب دیا۔اس کی بہن سے پوچھا تواس نے بھی ٹھیک سے جواب نہ دیا۔بس اتنا کہا کہ جاکر مزار پر دیکھئے اسے۔
’’مزار پر!مگر،اب وہاںکیا لینے گیا ہے؟‘‘میں نے حیرانی ظاہر کی۔
’’یہ تو مجھے نہیں معلوم۔‘‘اس کی ماں نے کہااورسسکیاں لینے لگی۔
میں نے ہمدردی کے لہجے میں پوچھا،’’مگر آپ رو کیوںرہی ہیں؟‘‘
’’کیا کروں بیٹا،اس موئے کو اسی دن کے لیے جینا تھا۔‘‘محی الدین کی بہن ماں کی بات کاٹ کر بیچ میں بول پڑی۔’’کل ہاجرہ کو دفناکر جب لوگ واپس آئے تو محی الدین نے مارمارکر ماں کا بھرکس نکال دیا۔‘‘
’’ارے! کیا کہہ رہی ہو تم؟ایسا پاگل پن اس نے کیا۔مگر کیوں؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’مجھے کیا معلوم،اب تم ہی سوچو بیٹا میں کیااس کی دشمن تھی۔خیر مرنے والی تو مرگئی، مگر اسے تو اپنی زندگی بسانی ہے۔‘‘
محی الدین نے جب بھی ہاجرہ کے بارے میںمجھ سے بات کی تو ہمیشہ گھٹن اور پریشانیوں کو ہی اجاگر کیا۔وہ زور دے کر کہتا،’’بھئی ساس اور نند کے ساتھ اس کی بنتی نہیں ہے تو اس کا بدلہ وہ مجھ سے کیوں لیتی ہے؟‘‘
میں روکھاسا جواب دیتا،’’بھائی ،کیوں اپنی جان مصیبت میں ڈالے ہوئے ہو۔ تمہاری برادری میں تو ایسا ہوتا ہی رہتا ہے،شادیاں ہوتی ہیں،ٹوٹتی ہیں،پھر ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم لوگوں میں ایسا نہیں ہوتا۔ہم لوگ چاہتے ہوئے بھی ایسا نہیں کرسکتے۔سماج اور برادری ہمیں اس کی اجازت نہیں دیتی۔شاید ہی ایسی کچھ مثالیں ہوں،ورنہ اپنی قسمت سے بری بھلی جیسی بھی بیوی ملتی ہے۔اسی سے نباہ کرنا پڑتاہے۔‘‘
مگر میرے اس خیال سے وہ کبھی مطمئن نہیں ہوا۔وہ پلٹ کر جواب دیتا،’’تمہاری سوچ میں خرابی ہے میرے بھائی۔ہاجرہ تو مجھے اپنی جان سے بھی زیادہ پیاری ہے،لیکن ہے ضدی اور لاپرواہ۔ اس کی یہی لاپرواہی میری امنگوں کو کچل دیتی ہے،نہیں تو اس میں اور کوئی کمی نہیںہے۔‘‘
محی الدین کا یہ عجیب برتائو میری سمجھ میں بالکل نہیں آرہا تھا۔وہ اپنی بیوی سے لڑتا تھا،کئی کئی دنوں تک اس سے بات نہیں کرتا۔مگر پھر بھی اسے طلاق دے کر الگ سے زندگی بسر کرنے کا خیال وہ برداشت نہیں کرتاتھا۔میرے دل میں یہ بات یقین کی طرح گھر کرچکی تھی کہ وہ یہ سب ناٹک کررہا ہے، اسے ہاجرہ سے کوئی لگائو یا محبت نہیں ہے۔وہ اس سے اکتا چکا ہے۔۔۔۔۔۔ ایک روز میری بیوی نے بھی اسی طرح کی بات اس سے کہی تھی،’’تم لوگ عورت کو اپنے پیر کی جوتی بھی نہیں سمجھتے۔تم لوگوں کی زندگی میں پیار نام کی کوئی چیز ہے ہی نہیں ؟‘‘
’’کیا کہتی ہو بھابھی؟‘‘اس نے غمگین ہوکر جواب دیاتھا،’’تم اور ہم میں کچھ زیادہ فرق نہیں۔ تم غلط سمجھتی ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں تو ہاجرہ کی پوجا کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’کیوں جھوٹ بولتے ہو؟جیسے میں کچھ نہیں جانتی۔‘‘میری بیوی نے جواب دیاتھا۔
یہ سوال میرے دماغ میں برابر سے گھومتارہا کہ اس کی ماں سے پوچھوں کہ ہاجرہ کیسے مری ہے؟مگر پوچھنے کی ہمت نہیں ہوئی۔دل ہی دل میں مجھے اس پر غصہ آرہاتھا۔بھلا اس بات کو بھی کوئی مانے گا کیاکہ وہ اپنی بیوی کو کتنا چاہتا تھا،اب اس کی جدائی میں پاگل ہوا جارہاہے۔محلے والے اگر اس کی پاگل حرکتیں دیکھ کر کچھ کہتے بھی ہوں گے تو غلط نہیں کہتے ہوں گے۔
نہ چاہتے ہوئے بھی میں قبرستان گیا۔محی الدین وہاں پر ایک قبر کے پاس زمین پر لکیریں کھینچ رہاتھا۔قبر پر پھیلی ہوئی تازہ مٹی میں سوندھی سوندھی خوشبوآرہی تھی۔مجھے دیکھ کر وہ دیر تک میری آنکھوں میں جھانکتا رہااور بڑے درد بھرے لہجے میں بولا،’’یارہاجرہ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔‘‘یہ کہہ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔اسکی روتی صورت دیکھ کر میرا دل ذرا بھی نہیں پگھلا۔مجھے تو اس کے اس انداز میں بھی بناوٹ کا احساس ہونے لگا ۔کوئی اور موقع ہوتا تو شاید میرے منہ سے ہنسی کا فوارہ چھوٹ پڑتا۔لیکن میں نے ضبط سے کام لیا اور کہا،’’جو ہوناتھا،وہ ہوگیا،اب رونے دھونے سے کیا فائدہ؟‘‘
’’یہ تم کہہ رہے ہو!میری تو ساری دنیا لٹ گئی۔مجھے اس کے بغیر ہر چیز کاٹنے کو دوڑتی ہے۔کچھ بھی اچھا نہیں لگتا۔‘‘اس نے کہا اور سونی نگاہوں سے مجھے دیکھنے لگا۔
’’شروع شروع میں ایسے ہی لگتاہے۔‘‘میں نے ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا اور ساتھ میں ایسی بات بھی کہہ دی جو شاید مجھے نہیں کہنی چاہیے تھی۔میں نے کہا،’’تمہاری بے چینی کی وجہ ہاجرہ کی موت نہیں بلکہ تنہائی ہے،تمہیں اب دوسری شادی کرلینی چاہیے۔‘‘
’’کیابکواس کرتے ہو؟‘‘وہ مجھے کاٹنے کو دوڑپڑا۔
’’ناراض کیوں ہوتے ہو؟‘‘میں نے سنبھل کر جواب دیا۔’’خدا نے تمہاری سن لی۔ ہاجرہ ہمیشہ کے لیے میٹھی نیند سوگئی۔اب کس بات کا ڈر!تم تو روزروز کے جھگڑے سے تنگ آگئے تھے۔‘‘
’’نہیں،نہیں میں تنگ نہیں آیاتھا۔میں تو اس کی محبت کا بھوکا تھا۔اس کے بغیر اب میری زندگی میں کچھ بھی باقی نہیں رہا۔‘‘
’’جذبات میں بہنے کی کوشش مت کرو۔‘‘میں نے دلاسہ دیتے ہوئے کہا۔
’’یہ صرف جذبات نہیں ۔‘‘اس کی آواز بھراگئی،’’میں نے اسے سمجھنے میں غلطی کی اور اس نے مجھے۔اب میں جان گیاکہ گھر کے جھمیلے میں پڑکر ہاجرہ کو کسی بات کا ہوش نہیں رہتا تھا۔ کبھی اس کے بال سلیقے سے سنوارے ہوئے نہ رہتے،کبھی کپڑے میلے ہوتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور یہی بات میرے جذبات کو کچل کر رکھ دیتی تھی۔‘‘یہ کہہ کر وہ کچھ دیر تک مزار کی اس تازہ مٹی پر جس میں ہاجرہ بڑے آرام کی نیند سورہی تھی، بڑی محبت سے ہاتھ پھیرنے لگا۔
میں اب کسی سوال جواب میں نہیں پڑنا چاہتاتھا۔پھر بھی دھیان بٹانے کے لیے میں نے کہا، ’’دراصل تم ہاجرہ سے محبت کی وہی ترنگ پاناچاہتے تھے جو شادی سے پہلے تم دونوں میں موجود تھی۔لیکن محبت صرف آزاد ماحول میں پھلتی پھولتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جہاں قدم قدم پربندشیں ہوں۔ سماجی حد بندیاں ہوں،وہاں محبت کی ترنگ کتنی ہی طاقت ور کیوں نہ ہو۔کتنی ہی امنگ بھری کیوں نہ ہو،دب کر رہ جاتی ہے اور دو جوان دلوں کے ارمانوں کا خون ہونے میں دیر نہیں لگتی۔‘‘
اس نے میری باتیں غور سے سنیں اور کہا،’’اب میں زیادہ جی نہ سکوں گا۔میں نے اپنی جگہ چن لی ہے۔یہیں پر،اسی جگہ میں نے اپنے ہاتھوں سے ہاجرہ کو منوں مٹی کے ڈھیر تلے دفن کردیا اور اب اس جگہ یہاں پر میری قبر بن جائے تو اس پر تم اپنے ہاتھوں سے مٹی ڈال دینا۔‘‘
’’کیا کہہ رہے ہو تم؟‘‘میں نے ہمدردی کے لہجے میں کہا۔میں یہ جان گیاتھا کہ اس کی آواز اس حد تک رُندھی جارہی ہے کہ اگر اس سے اور تکرار کی جائے تو شاید وہ پھوٹ پڑے۔
’’ہاں،میں سچ کہتا ہوں۔بالکل سچ کہتا ہوں۔‘‘یہ کہہ کر وہ سچ مچ بچوں کی طرح رو پڑا۔
بڑی منتوں کے بعد اسے میں گھر لے گیا۔جب میں اس کے گھر سے نکل کر گلی میں پہنچا تو اس محلّے کے ایک بزرگ نے مجھے آواز دی اور کہا،’’کیوں بھئی،محی الدین کو لے آئے؟‘‘
میںنے ’ہاں ‘کے انداز میں سرہلایا۔اُن کی بھنوئیں تن گئیں اور وہ مجھے زبردستی روکتے ہوئے بولے، ’’تم اس کے دوست ہو؟‘‘میں نے پھر ’ہاں‘میں سر کو جُنبش دی۔تب انہوں نے کہا،’’کسی نئی لڑکی پر نظر ہوگی اس کی!‘‘یہ کہہ کر وہ ہنس پڑے۔
میں نے پلٹ کر جواب دیا۔’’آپ غلط سمجھتے ہیں۔وہ تو دوسری شادی کے نام سے بھی بیزار ہے۔‘‘
’’یہ تو اس کی مکاری ہے۔کم بخت نے ایک محنتی لڑکی کا خون کردیا۔اب اس بات کو دبانے کے لیے یہ ناٹک کررہا ہے۔‘‘
’’آپ اسے ناٹک کہتے ہیں؟‘‘میں نے حیرانی سے کہا۔
’’اور نہیں تو کیا؟میں نے دنیا دیکھی ہے لڑکے۔اگر یہ ناٹک نہ کرے تو بھلا اسے دوسری بیوی کیسے ملے گی؟‘‘
’’کیوں نہیں مل سکتی؟جوان ہے اور کمائو بھی۔کوئی بھیک منگا تو نہیں ہے۔‘‘
’’کچھ بھی ہو۔‘‘اس بوڑھے نے اعتماد سے کہا،’’اب کوئی آنکھ موند کر اپنی بیٹی کو کنوئیں میں دھکیل دے یہ بات الگ ہے۔مگر پھر بھی لڑکی والے یہ تو معلوم کریں گے ہی کہ ہاجرہ مری کیسے؟کھانسی بڑھ جانے سے بھلا کوئی مرتا ہے؟‘‘
اس بوڑھے کی باتوں نے محی الدین کے بارے میں مری رائے اور پختہ کردی۔میں سوچنے لگا بھلا کھانسی بھی اتنی خطرناک بیماری ہوسکتی ہے کہ کسی کے لیے جان لیوا ثابت ہو۔وہ کہتا گیا ، میں سنتا گیا۔’’تم نہیں جانتے۔روز ہمارے نل پر پانی بھرنے آتی تھی۔روز میںنے اسے کھانستے ہوئے دیکھا۔ اس کی آنکھیں آنسوئوں میں ڈوبی دیکھیں اور اس جانور نے کبھی اس کی پرواہ تک نہیں کی اور تم اس کے دوست ہو!‘‘آخری جملہ حقارت بھراتھا۔میں وہاں سے بھاگناچاہتا تھا۔مگر بھاگ نہ سکا۔میرے قدم دھیرے دھیرے اٹھنے لگے جیسے سامنے گہرے گڑھے ہوں اور مجھے بچ بچ کر چلنا پڑرہا ہو۔
اس بوڑھے کی باتوں سے مجھ پر اتنا اثر ہوا کہ محی الدین سے قبر پر کی گئی ساری باتیں میرے دماغ سے اتر گئیں اور میں اس شک میں مبتلا ہوگیا کہ سچ مچ معمولی کھانسی کسی کی موت کا سبب نہیں بن سکتی۔ہاجرہ کن حالات میں مری ،یہ مجھے اس کے میکے والوں سے بھی معلوم نہ ہوسکا۔ ہاں، اس دن کے بعد میں محی الدین سے نہیں ملا۔ایک دن اس کی ماں میرے گھر آئی اور شکایت کی کہ میںنے اپنے دوست کو بھلادیا ۔میں نے کہا،’’نہیں،ایسی کوئی بات نہیں ہے۔دراصل،میں کام میں اتنا مصروف رہا کہ فرصت ہی نہ ملی اس سے ملنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
محی الدین کی ماں نے اپنے کالے برقعے کی جیب سے ایک تصویر نکالی اور میرے ہاتھ میں پکڑاتے ہوئے سوال کیا،’’کیسی ہے لڑکی؟‘‘
’’صورت سے تو بھلی دکھائی دے رہی ہے۔‘‘میں نے جواب دیا اور خاموش ہوگیا۔
’’ہاں،بڑی خوبصورت ہے،محی الدین کے لیے میں نے اس لڑکی کے ماں باپ سے بات پکی کردی ہے۔‘‘
’’کیا محی الدین نے یہ تصویر دیکھی ہے؟‘‘میں نے پوچھا۔
’’اس نے بھی دیکھی مگر کوئی جواب نہیں دیا۔کہنے لگا اب تو میری شادی قبر سے ہی ہوگی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب تم ہی بتائو بیٹا ایسی باتیں کب تک چلیں گی؟‘‘
میری بیوی شوبھا ناحق اس کی ہاں میں ہاں ملاتی رہی،مگر میں سب کچھ چپ چاپ سنتا رہا۔ میری اداسی دیکھ کر وہ شوبھا سے کہنے لگی،’’اب تم ہی بتائو،ہاجرہ کو مرے ہوئی کئی ہفتے بیت گئے۔ کئی گھرانے زور دے رہے ہیں۔سوچتی ہوں بہو جلدی سے گھر میں آئے۔محی الدین کا جی بھی بہل جائے گااور مجھے بھی اس بڑھاپے میں آرام مل جائے گا۔ہاجرہ گھر آئی تو نہ زندگی میں آرام پایا اور نہ دوسروں کو یہ لگا کہ اپنے گھر میں بھی بہو آگئی ہے۔دوسروں کو دیکھتی ہوں تودل رواٹھتا ہے۔ ان کے یہاں بہو آئی ہے تو جیسے سونے سے گھربھر جاتا ہے۔میرا تو بسابسایا گھر اجڑگیا۔دونوں میں نبھ نہ سکی۔خدا نے میری دعا سن لی۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘یہ سن کر میں بہت تلملایا،مگر کچھ کہہ نہ سکا۔شوبھابھی جیسے انگاروں پر لوٹ رہی تھی۔اس بڑھیا کے لیے میرے دل میں بڑی عزت تھی۔مجھے اس میں پہلے ماں کا جو روپ نظر آرہا تھا،وہ اب کہیں نہ تھا۔اب مجھے یہ عام قسم کی دنیاوی عورت نظر آنے لگی۔
جب اس نے کہا،’’بیٹا ،اب تم ہی اسے سمجھائو۔وہ تمہاری ہی بات مانے گا۔‘‘
’’ٹھیک ہے،کل نہیں تو پرسوں تک میں ضرور آئوں گا۔‘‘میں نے جواب دیا۔
مگر میں کئی دنوں تک نہیں گیا۔میںنے دل میں فیصلہ کرلیا تھا کہ اب محی الدین کی صورت بھی نہ دیکھوں گا۔مانا کہ ہاجرہ سگھڑبہو نہ تھی۔مانا کہ وہ محی الدین کے جذبات کی قدر نہ کرتی تھی۔ مانا کہ اس میں اور بھی نقص تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر وہ انسان تو تھی۔کیا وہ بازار کی ایک معمولی چیز تھی؟ جو پسند آئے تو رکھ لی ورنہ پھینک دی۔مجھے اس کی ایک ایک بات یاد آنے لگی۔ایک دن وہ میکے چلی آئی تھی۔میں نے اسے اپنی گلی میں سے گزرتے ہوئے دیکھا اور پوچھا،’’ہاجرہ ،تم پھر میکے چلی آئی؟‘‘
’’پھر کیا کروں بھائی صاحب!وہاں رہوں تو وہاں بھی چین نہیں۔یہاں بھی چین سے رہنے نہیں دیتے ہیں۔میں تو تنگ آگئی ہوں اس زندگی سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘یہ کہتے ہوئے اسے کھانسی کا دورہ پڑا تھا۔میں نے اسے سہارا دیا اور گھر کے دروازے تک لے گیا۔پھر انجان بنتے ہوئے پوچھا،’’آخر جھگڑے کی کوئی وجہ بھی تو ہو؟‘‘
’’معلوم نہیں،وہ چاہتے کیا ہیں؟ایک کولہو کے بیل کی طرح سارا دن گھر کے کام میں لگی رہتی ہوں ،اوپر سے تمہارے مہربان دوست کی جھڑکیاں بھی سنوں۔ہمیشہ یہی کہتے رہتے ہیں کہ میں پہلے کی طرح ان سے پیار نہیں کرتی ہوں۔بھلا بتائو،پیار اور کیسے کیا جاتا ہے؟گھر کا سارا کام کرنا، ساس اور نند کی ڈانٹ پھٹکار سننا،اس پر بھی وہ محبت کا ثبوت مانگتے ہیں ،میں تو بھائی صاحب امتحان دے کر ہارگئی۔اب مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔‘‘
ہاجرہ نے شاید سچی بات کہی تھی۔اس سے برداشت نہیں ہوسکا اور وہ اس دنیا سے اُٹھ گئی۔اب اس کی جگہ دوسری بہو کی تلاش ہورہی ہے۔
ان دنوں شادیوں کی بڑی دھوم دھام تھی۔کسی کسی محلے میں سہاگ گیت سننے میں آرہے تھے۔ جب میں دفتر سے لوٹا تو اپنے گھر کے دروازے پر تالا لگاہوا پایا۔پڑوسیوں نے بتایا کہ شوبھا اور ماں دونوں محی الدین کے گھر گئے ہیں۔مجھے بہت غصہ آیا۔میں نے ماں اور بیوی دونوں سے کہا تھا کہ محی الدین خود بھی اگر شادی کا دعوت نامہ دینے آئے تب بھی نہ جانا۔لیکن انہوں نے میرا کہنا نہیں مانا۔میں نے دل میں فیصلہ کیا کہ ابھی اس کے گھر جاتا ہوں اور دونوں کو بھری مجلس سے زبردستی اٹھاکر لاتا ہوں۔محی الدین روکنا بھی چاہے گا تب بھی نہیں رکوں گا۔ایک دن اس کی ماں راستے میں ملی تھی اور میں نظریںبچاکر بازو میں ہٹ گیاتھا۔
محی الدین کے گھر کی طرف میں غصے میں چل پڑا۔میری سوچ کے برخلاف وہاں سنّاٹا تھا۔نہ جانے کہاں کہاں درجنوں کتّے آنگن میں جمع ہوگئے تھے۔آس پاس کے گھروں میں خاموشی تھی۔محی الدین کے مکان کے نچلے کمرے میں عورتوں کی بھیڑ تھی۔کھڑکیاں کھلی تھیں،مگر اندھیرے میں کوئی بھی صورت ٹھیک طرح سے پہچاننا مشکل تھا۔میں گھبرایا سا مکان کے اندر چلاگیا۔ شوبھا نے مجھے آتے ہوئے دیکھ لیاتھا۔وہ کمرے سے باہر نکل آئی ننگے پائوں۔اس کی آنکھیں گیلی تھیں۔ میرا دل دھک سے رہ گیا،’’کیا بات ہے؟‘‘میں نے افسردہ ہوتے ہوئے پوچھا۔
’’تم نے سنا نہیں؟محی الدین کا انتقال ہوگیا۔‘‘وہ بولی۔
ایک لمحے کے لیے جیسے میری جان ہی نکل گئی ۔مجھ سے مزید کچھ سنا نہ گیا۔ میں دوڑتا ہوا قبرستان پہنچا۔وہاں پر بہت سارے لوگ سرجھکائے ہوئے کھڑے تھے۔محی الدین کی میت قبر میں اتاری جاچکی تھی۔قبر کی تازہ مٹی بے ترتیب پڑی تھی۔مولانا کچھ پڑھ رہے تھے۔میں نے مٹی کے ڈھیلے توڑتوڑ کر اس کی قبر پر پھیلا دیئے ،ان میں میرے آنسوبھی شامل تھے !!


ترجمہ: قاسم ندیم

کشمیری کہانی

Bharpai a Hindi Story by Rata Shuk’l

Articles

بھرپائی

رتا شکل

 

وقت کی دھند کو چیرتا ہوا وہ سیاہ آبنوسی چہرہ نہ جانے کیوں باربار سروجنی کے ذہن میں دہکتا ہوا سوال بن کر اٹک جارہاتھا،’’ببونی ہو،ہمار کو بھُلاگئی لو؟‘‘
ملکی محلہ کے جلال الدین میاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آٹھویں جماعت میں سروجنی کو اسکول کا منہ دیکھنا نصیب ہوا تھا،تب پورے گھر کے لوگ جمع ہوئے تھے۔حقّے کی پیچوان سنبھالتے پہلوان دادا جی،چوبیس گھنٹے بابوجی کے ساتھ دالان میں بیٹھ کر دونوں ٹانگیں ہلاتے،سرگوشیاں کرتے شینچر ماما،سپاری کے باریک ٹکڑوں کو سروتے سے کاٹنے کا جھوٹ موٹ سوانگ کرتی کرخدار آواز والی بینگا بوا اور دور رسوئی گھر میں چکلے بیلن کی کھٹ پٹ ،پتیلی کی کھدبد کے ساتھ اپنے آپ میں کھوئی ہوئی سزا یافتہ قیدی کی شکل میں بیٹھی اماںکی وہ فریادی شبیہ۔’’بچی تیری قسمت میں اسکول کی پڑھائی ہوگی تو بڑے میاں کا دل پسیجے گا ضرور! ہم نے مہاویر جی کو چونّی کا پرساد بھاکھ دیاہے۔‘‘
شچی نواس ماما جب دیکھو تب شنی کی ساڑھے ساتی بن کر اس گھر میں براجمان رہتے۔’’لو بھلا،ہمارے پاہُن جی تو ٹھہرے میش راشی کے۔اب انہیں کیا پتہ،بڑھتی عمر کی چھوکریوں کو منہ زور گھوڑیوں کی طرح لگام کیسے دی جاتی ہے۔ہماری چارچار بیٹیاں ہیں،مجال ہے جو کوئی کسی بات کے لیے منہ کھولنے کی جرأت کرے۔‘‘
بینگا بوا کو نیہر روگ تھا۔اماں کے پرانوں میں انہیں دیکھتے ہی ڈرکی جھرجھری سماجاتی۔ ’’جب دیکھو تب ڈولچی لیے باپ کی چوکھٹ پر حاضر!رام جانے ان کا آدمی،مرد مانس ہے یا بالکل زنخہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بواکا ہٹلری انداز کیا کمال کا ہوا کرتاتھا۔آتے ہی پورے گھر کا رائی رتی معائنہ۔ ’’بڑکی کی تین تین فراکیں ہیں۔اب سال بھرتو اس کے کپڑے لتے کا نام مت لینا۔منجھلی کے لیے نئی ہوائی چپل؟ باپ کی کمائی فالتو ہوئی ہے کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چھوٹی کی سا نس چل رہی ہے تو اس میں بڑے اسپتال کے ڈاگڈر کی کیا ضرورت ہے؟پیاز کا رس شہد میں گھول کر چٹادو۔رگھو کے لیے اسکول کی دو قمیض کافی ہیں۔نئی کتابیں کیوں بھلا؟پڑوس کے لڑکے دھیرو سے مانگ کر پڑھ لے گا نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اماں کی طرف سے ذرا بھی غلطی ہوجائے تو پہلوان دادا کے دالان میں فوراً سے پیشتر پیشی ہوتی،’’بینگا نے سب بتایا ہے،خوب فضول خرچی ہورہی ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!شیو جتن چودھری نے ٹریکٹر میں بھرکراناج بھجوادیا ہے کیا؟خبردار،گن کر روٹیاں بنائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک بھی فالتوروٹی نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ایک ہی تو کمانے والا ہے ہمارا بچوا اور مت بھمبا کی طرح چھ چھ بیٹیاں۔‘‘
ایسی گھنگھور کھینچاتانی میں اماں کے بجرنگ بلی نے سچ مچ اپنا اثر دکھایا تھا،’’تو پڑھنا چاہتی ہے؟‘‘
’’اری او سروجنی نائیڈو کی اوتار،ہم تجھی سے پوچھ رہے ہیں۔‘‘بینگا بوا کی زبان پر سرسوتی براجی تھی۔چھوکری سچ مچ دماغ والی ہے اور رام کی دیاسے اپنے علاقے میں لڑکیوں کا اسکول کھل گیا ہے۔ مگر، یہ اتنی دور جائے گی کیسے؟‘‘
سروجنی نے فوراً جواب دینے کی گستاخی کرڈالی تھی،’’چتھرو چودھری،پھینکن سنگھ، امیبا چاچا سب کی لڑکیاں ٹولی بنا کر پیدل ہی تو جاتی ہیں۔ہم بھی انہیں کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سامنے بیٹھے بزرگ غرّا اُٹھے تھے،’’چتھرو،بھینکن،امیبا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اب کل کو یہ کہوگی کہ وہ چھوکریاں نٹوا ناچ دیکھنے جاتی ہیں سو ہم بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بوا کی کنجی آنکھوں کا قرضدار ہونا پڑاتھا سروجنی کو۔’’ارے نہیں بابوجی،اپنے ملکی محلے کا جلال الدین ہے نا،اس نے ٹم ٹم بیچ کر رکشہ خریدلیا ہے۔کل ہی تو اسٹیشن پر ملاتھا۔ہماری رائے ہے کہ۔۔۔۔۔‘‘
جلال الدین کو طلب کیا گیا تھا۔کوئلے سے بھی زیادہ کالی رنگت والے جلال الدین کی چندھیائی ہوئی آنکھوں میں انوکھی کسک تھی۔’’ببونی خاطر فکر مت کریں سرکار۔آنکھ کی پُتلی ایسن حفاظت سے مدرسہ لے جائب لے آئب۔‘‘
نویں جماعت سے لے کر میٹرک تک کے وہ دن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!
جلال الدین چاچا کا چارخانے والا مٹ میلا گمچھا پھاٹک کے اس پار لہراتا۔رکشہ کی ٹن ٹن گھنٹی سنائی پڑتی اور سروجنی دونوں چوٹیاں ہلاتی بھاگ کر رکشہ میں سوار ہوجاتی۔
’’جلالو چاچا،ہم آگئے۔‘‘
’’چلیں ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’چلیے۔‘‘
بینگا بوا نے آگاہ کر رکھا تھا،’’خبردار ،اس کلوٹے کے ہاتھ کی کوئی بھی چیز بالکل مت لینا۔‘‘
سروجنی نے پہلی بار اصرارکیاتھا،’’چاچا ،آپ کے گمچھے میں کیا بندھا ہوا ہے؟‘‘
’’ارے کچھ نہیں ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں،کچھ تو ہے،بتائیے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘جلال الدین چاچا نے پوٹلی کھول دی تھی۔
’’باپ رے ،اتنے بڑے بڑے رس بھرے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں ببونی،بینگا بہن دیکھ لے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’ارے نہیں چاچا،آپ دیجئے نہ۔ہماری ساری سہیلیاں خوش ہوجائیں گی۔‘‘
بیلااور مادھوری نے سیانے پن سے تاکید کی تھی،ہم لوگ ساری پوٹلی چٹ کرگئے۔ کہیں ایسا نہ ہوکہ جلالو چاچا اپنے بال بچو ں کے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوسرے دن اس سے بھی بڑی پوٹلی حاضر تھی۔سروجنی نے اپنے ہاتھ روک لیے تھے، ’’چاچا آپ کے بال بچوں کا حصہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘گھنے کالے بادلوں کے بیچ چھپی بجلی نے قہقہہ لگایا تھا۔ ’’ارے نہیں ببونی،یہ سوغات تو تمہارے لیے ہے۔‘‘
’’لیکن اتنے سارے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
رکشہ کی چال دھیمی کرتے ہوئے جلال الدین میاں نے خلاصہ کیاتھا۔’’ملکی محلے کے دائیں بازو بڑاسا قبرستان ہے۔ہماری پردادی بڑی نیک خاتون تھیں ببونی۔ہمارے پردادا کے انتقال کے بعد سے قبرستان کے سامنے والی مسجد ہی ان کی پناہ گاہ ہوگئی تھی۔دن بھر باغیچے میں رہتیں۔ اپنے مرحوم شوہر کی قبر کو یک ٹک دیکھتی رہتیں۔یہ بیر انہیں کی اگائی ہوئی بیری کے ہیں ببونی۔ظہور بخش مولوی صاحب کی کھلی اجازت ہے،ہم جب چاہیں،جتنے چاہیں بیر وہاں سے لاسکتے ہیں۔بدلے میں تمہاری چاچی وہاں محنت مزدوری کردیتی ہیں۔لو اب یقین ہوگیانا!‘‘
دروازے پر بے وقت دستک ہوئی تھی۔شریمتی سروجنی شری منت نے دروازہ کھولا تھا۔ مڑے تڑے ادھ میلے کرتے کی ڈوریا آستین سے پیشانی پر ابھری ہوئی پسینے کی بوندوں کو باربار پونچھتا کون کھڑا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
’’آپ کس کو کھوج رہے ہیں؟‘‘
بے وقت باسی ہوچکے اس آبنوسی چہرے پر جانی پہچانی ہنسی کی بجلی کوند کر بکھر گئی تھی۔ ملکی محلے کے جلا ل الدین ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’تو کیاتم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اس نے جھک کر آداب کیا تھا۔’’آپا،میں احسان ہوں۔ان کا بڑابیٹا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کھلے دروازے کے اندر پناہ لیتے ہی احسان میاں نے سکون کی سانس لی تھی۔’’شکر ہے اﷲ تعالیٰ کا۔ہم تو کھوجتے کھوجتے پریشان ہوگئے تھے۔رکشہ والے نے ناحق دس روپے کی چپت لگادی۔‘‘
روٹی کا پہلا نوالہ توڑتے ہی احسان چہک اٹھے تھے،’’ارے آپا،ہم تو بھول ہی گئے۔ابّا نے خاص طور پر آپ کے لیے یہ چھوٹی سی سوغات اور یہ خط بھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
چٹھی کے حرف در حرف سے نَیہر کی بھولی بسری یادوں کی سب سے میٹھی تاثیر جِلا پارہی تھی۔
’’ببونی کو معلوم ہوکہ خدا کے کرم سے احسان میاں کو آپ ہی کے شہر میں نوکری مل گئی ہے۔ان کو ابھی اچھے برے کی تمیز نہیں ہے۔آپ عالم فاضل ٹھہریں،انہیں اونچ نیچ کا علم دیں گی۔‘‘
آپ کا ہی چاچا
ننھی شیلی اسکول سے لوٹی،تو احسان ماموں کے ہاتھوں سے میٹھے بیر کی پوٹلی پاکر پھولی نہیں سمارہی تھی۔’’ماں تم تو اپنے بچپن کے دنوں کی کہانی سنایا کرتی تھیں نا۔ پکے بیر کی کہانی،باغیچہ اگاتی جمیلہ دادی کی کہانی،ان بیروں کا ذائقہ بالکل ویسا ہی ہے۔‘‘
احسان میاں کے پاس بیٹھی شیلی توجہ سے سن رہی تھی،’’صرف بیر ہی کیوں،آم،مہووا، جامن، کٹہل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سارے کے سارے درخت ہوبہو ویسے ہی موجود ہیں۔اچھا بول تو بچی ہمارے ساتھ تیواری پور چلو گی؟‘‘
احسان میاں مہینہ بھر ان کے گھر رہے تھے۔
’’مدرسے کے بڑے صاحب سے بات ہوگئی ہے آپا۔اکائونٹ سیکشن کے گنیش بابو کوارٹر خالی کرکے گائوں جارہے ہیں۔ان کا وہ کوارٹر ہمارے نام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شیلی کے پاپا شری دھر واجپئی نے مذاقاً کہاتھا،’’احسان بھائی،اس بار گائوں سے لوٹو تو دلہن کو لانا مت بھولنا۔یہ عید تو وہ ہمارے ساتھ ہی گزاریں۔کیوں سروجنی؟‘‘
احسان کے ساتھ سروجنی کے بچپن کے وہ دن جیسے پھر سے لوٹ آئے تھے۔بینگا بوا کی پرانی عادت تھی،اچانک کوئی خوفناک خواب دیکھنے کے انداز میں کبھی کبھار بے حد چوکنا ہو اٹھتیں، ’’نہیں ، میٹرک کی پڑھائی بہت ہے،اس کے بعد گھر سنبھالے،رسوئی کا انتظام دیکھے۔‘‘
وظیفے کی پہلی رقم دیکھ کرسروجنی کے ننھے سے بٹوے کا دل بلیوںاچھل رہا تھا۔ایک مشت پانچ سو روپے۔’’جلالو چاچا۔‘‘
’’کیا بات ہے ببونی؟‘‘
’’ہمیں ذرا چوک تک۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابھی چلو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پہلی بار اکیلے اسنیہی پٹواری کی دکان تک جانے کی ہمت کی تھی سروجنی نے۔ بڑی والی ٹکولی کی دو پتیاں،اماں کی کلائیوں کے ناپ کی ڈھائی انچ والی لہٹی،سریش نریش کے لیے لیمن چوس کی ڈھیر ساری گولیاں اور جلالو چاچا کے لیے پالش چڑھی جستے کی صورتی دانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’ببونی،جلدی کر۔بینگا بوا کو معلوم ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان میاں نے بتایا تھا،’’آپا،وہ صورتی دانی ایک دن ہم سے کہیں گم ہوگئی تھی۔گھر بھر کی آفت آگئی تھی سمجھئے۔موم جامے کی تہہ میں پڑی تھی۔ابّا نے دھو پونچھ کر اپنی جیب میں رکھی تب کہیں سکون کی سانس لی۔ہمیشہ کہتے ہیں ببونی کی نشانی ہے،آخری دم تک ساتھ رہے گی۔‘‘
بینگا بوا بہت بیمار تھیں۔کھانے کی نالی میں کوئی اندرونی زخم تھا شاید۔دن بھر بے تحاشہ چلاتی رہتیں۔اناج کا ایک دانہ ہضم نہیں کرسکتی تھیں۔جلال الدین چاچا نے مشورہ دیا تھا،’’ناریل پانی پلایا جائے تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
بینگا بوا کو کسی نے نہیں بتایا تھا۔جلال الدین چاچا نے اپنی روزانہ ڈیوٹی باندھ رکھی تھی۔ قبرستان کے بغیچے سے پانچ کچے ناریل توڑ لاتے،تیز دھار والی چھری سے اوپر کا چھلکا نکالتے اورگمچھے سے پونچھ کر بڑی احتیاط سے تھماتے،’’لو ببونی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بینگا بہن ٹھیک ہوجائیں اور کیا؟‘‘
بینگا بوا کی انتھک خدمت کی تھی سروجنی نے۔پہلوان دادا کی پنچایت بینگا بوا کے کمرے میں جمی تھی،’’کچھ بھی کہو،جلال الدین نے رکشہ والے کا نہیں بلکہ گھر کے فرد کا دھرم نبھایا ہے۔بینگا وہ تم سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔‘‘
کیسی عجیب التجا کی تھی جلال الدین چاچا نے،’’بینگا بہن،زمانہ بدل گیاہے۔ ببونی آگے پڑھنا چاہتی ہے۔اﷲ کے کرم سے وظیفہ تو طے ہے۔مناسب سمجھیں تو ببونی کا داخلہ کالج میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اماں کی آنکھیں پہلی بار کھل کر برسنے کے لیے بیتاب تھیں۔’’ممتا کی کوئی ذات پات نہیں ہوتی جلال الدین بھیّا،پچھلے جنم میں ضرور ہمارا تمہارا کوئی گہرا ناطہ رہا ہوگا۔ایک اپنا سری نواس ہے، کہنے کو کوکھ جایا بھائی اور کرنی سات دشمنوں کی۔ہمارے بال بچو ں کے لیے تو کنس کااوتار ہی سمجھواسے۔جب دیکھو تب کاٹنے کترنے کی لت لیے سر پر سواررہتا ہے۔نہ گھر سے دتکارتے بنتا ہے،نہ ڈھنگ کے چار بول بتیانے کو جی چاہتا ہے۔‘‘
سروجنی نے یونیورسٹی کے گذشتہ ریکارڈ توڑتے ہوئے اول درجے سے بی اے پاس کیا تھا۔ سری نواس ماما اس کے لیے کیسا اوٹ پٹانگ رشتہ لے کر آئے تھے۔’’لڑکے کی سوتیلی ماں ہے تو کیا ہوا،کون سا اس کے ساتھ زندگی بھر رہنا ہے۔لڑکا مِل میں نوکری کرتا ہے،ہزاروں روپے کی پگار ہے۔ سروجنی کو بہت خوش رکھے گا۔‘‘
بینگا بوا نے بھی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔بابوجی خاموش تھے۔اماں نے اعتراض کیا تھا، ’’سوتیلی ماں،سوتیلے نند،دیور!نا،اس گھر کی بات دوبارہ یہاں نہیں چلے۔‘‘
جلال الدین چاچا کی سگی بہن بیٹہا میں بیاہی تھی۔وہ وہاں سے مصدقہ خبر لائے تھے۔ ’’لڑکا دیکھنے دکھانے میں معمولی سا ہے۔اپنی ببونی کے لائق تو ہر گز نہیں ہے۔سنا ہے کچھ بری عادتیں بھی ہیں۔ سری نواس ماما کے بہکاوے میں آکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سری نواس ماما برسوں روٹھے رہے ۔سروجنی کی پرنسپل یشودا واجپئی نے اپنے اکلوتے بیٹے شری دھر کے لیے سروجنی کو پسند کیا تھا۔’’آپ لوگوں کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑے گا۔یہ شادی نہایت سادگی سے ہوگی۔‘‘
شری دھر کے ساتھ پٹنہ جانے والی ریل گاڑی میں بیٹھی تو جلال الدین چاچا کی اداس نگاہیں بڑی خاموشی سے دور تک پیچھا کرتی چلی آئی تھیں۔’’ببونی ہماری طرف سے یہ چھوٹا سا تحفہ۔‘‘
چارخانے کے نئے گمچھے میں بندھی سلمہ تاروں والی لال چُنری اور چھوٹی سی پوٹلی میں رس بھرے بیر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شری دھر نے مذاقاًکہاتھا،’’اتنی بڑی ہوگئیں ،کیا اب بھی بیر چراکر کھانے کی عادت بنی ہوئی ہے؟‘‘
احسان میاں کو بڑے مدرسے کے کیمپس میں کوارٹر مل گیاتھا۔سری نواس ماما نے بینگا بوا کے دماغ میں شک کا بیج بودیاتھا۔’’جلال الدین کا بڑا بیٹا اکائونٹنٹ ہوگیاہے اورسروجنی کے شہر گیا ہے۔اس کا سروجنی کے گھر میں مہینوں رہنا،ساتھ کھانا پینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ سب ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
اماں کے خط سے ساری باتیں معلوم ہوئی تھیں۔’’سروجنی کو معلوم ہو کہ بینگا بوا ایک دم سے سری نواس کی باتوں میں آگئی ہیں۔تمہارے خاندان کے ساتھ احسان کا میل جول۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر کو بے حد غصہ آیاتھا۔’’انسانیت کا ناطہ ہمارے لیے سب سے بڑھ کر ہے اور پھر تمہارے میکے والوں کو ہمارے نجی معاملات میں دخل دینے کی کوئی ضرورت بھی نہیں ہے۔ تم آج ہی انہیں خط لکھ دو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان اپنی ڈیوٹی میں دن رات مصروف ہوکر رہ گئے تھے۔نوشابہ دلہن اور پیارے پیارے گول مٹول سے تین بچے۔گلشن،ارمان اور آرزو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیچ بیچ میں شیلی یوں ہی مچل اٹھتی۔’’پاپا،ہمیں احسان ماموں کے یہاں چھوڑآئیے نا!آج اتوار ہے گلشن کے ساتھ کھیلیں گے، آرزو کو جھولے میں جھلائیںگے اور ارمان کی پتنگ لوٹیں گے۔خوب مزہ آئے گا نا!‘‘
شری دھر کی ماں جی نے بتایا تھا،’’ناحق ہی خون کے رشتوں کی دہائی دیتے پھرتے ہیں لوگ! تمہیں بتائوں بہو،راون کی اشوک واٹیکابن کر رہ گئی تھی ہماری زندگی۔مانگ کو سونا پن جھیلتے اپنی سسرال کے اس آنگن میں ساس،جٹھانی کا وہ راکشس پن کیسے برداشت کیاتھا، وہ کہانی مت پوچھو۔تمہارے سسرجی کے ساتھی وکیل سہیل بھائی نے اپنے بل بوتے پر مقدمہ لڑاتھا۔ سسرال کی بے شمار دولت میں شری دھر برابر کے حصہ دار ہوئے تھے۔جٹھانی نے تو یہاں تک کہہ ڈالا تھا۔ ضرور اس رانڈ کا اس مُسلّے کے ساتھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سروجنی کو پتہ تھا۔گذشتہ نوراتری میں بوڑھے سہیل چاچا کمر پر ہاتھ رکھے ان کی ڈیوڑھی پر حاضر تھے۔’’تم نہیں پہچانوگی بہو،اپنی ساس کو خبر کردے،بلیہار گائوں کے سہیل۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر ننھے بچے کی طرح ان کی گود میں دُبک گئے تھے۔’’سہیل چاچا،یہ گٹھیا کا روگ کب سے لگابیٹھے؟اب مہینہ بھر تو یہاں سے جانے کا نام مت لیجئے۔پہلے نئی بہو کے ہاتھ کی بنی چائے پی جیئے۔اماں سے باتیں کیجئے،تب تک ہم آئوٹ ڈور کے مریضوں کو دیکھ لیتے ہیں۔‘‘
پانچوں وقت نماز کی پابندی کرنے والے سہیل چاچا آنکھ موند کر پوری یکسوئی کے ساتھ کالی جی کا بھجن گاتے تو سروجنی کا من جانے کیوں اندر سے گنگا جمنی ہواُٹھتا۔
’’یہ سب شری دھر کے والد کی صحبت کا اثر ہے بیٹا۔جھوٹ نہیں کہوں گا بیٹا،ہمارے والدین سنسکرت پڑھنے کے سخت خلاف تھے۔فارسی تہذیب کا بول بالا تھا ہمارے یہاں۔ لیکن ہمارے یار پدم دھر واجپئی نے مشورہ دیا تھا۔تم سنسکرت پڑھو،تمہارا اس جانب رجحان ہے۔دیکھ لینا سہیل تم سے بڑھ کر اس مضمون میں کوئی عالم نہیں ہوگا اس پورے گائوں میں۔‘‘
شری دھر کی ماں بتایا کرتی تھیں،’’سہیل کی دنیا ہی بدل گئی تھی۔دھرم ایمان قرآن کے ساتھ اور علم کا سارا احساس وید،پُران،شریمدبھگوت کے اندر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘آگے کی پڑھائی کے لیے کلکتہ کے ڈگری کالج میں داخلہ لینے گئے تھے۔لوٹے تو ایک بھیانک صدمہ ساتھ تھا،’’وہاں کے تِری پُنڈھاریوں نے سیدھے سیدھے مجھے خارج کردیا تھا۔‘‘
پدم دھر کے ہاتھ سے سوٹالے کر ان کے پیچھے بے تحاشہ لپکے تھے سہیل۔’’تمہاری ہی سکھائی راہ پر چلے تھے ہم۔ہاتھ آگے کرو۔ہم کہتے ہیں ہاتھ آگے کرو تم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سوٹے کی مارسے پدم دھرپل بھرکے لیے تلملا کررہ گئے تھے۔سہیل بڑبڑاتے جارہے تھے، ’’دیکھا،اس سے کہیں زیادہ چوٹ اپنی نازک روح پر جھیل آئے ہیں ہم۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! پتہ ہے تِری کے’نیتی شتکم‘سے سوال پوچھے گئے تھے۔ہم نے درست جواب دیے۔والمیکی رامائن کا شلوک غلط بول گئے تھے پنڈت۔ہم نے درست کرنا چاہا تو ہمیں پر برس پڑے۔آخر کاربورڈ کے ایک رکن نے صاف انکار کردیا۔ اس طرح کا کیس ہمارے سامنے پہلی بار آرہاہے۔ہمیں گورننگ باڈی سے خصوصی اجازت لینی ہوگی۔ ہمارے انتظام کا سوال ہے۔سنسکرت کالج کے بورڈنگ میں آپ کی رہائش نا ممکن ہے۔‘‘پدم دھر ہتھیلی کی چوٹ بھول کر سہیل کی آنکھوں میں اُمڈ آئے درد کا رِسائو خاموشی سے جھیلتے رہے۔’’تمہارا مجرم میں ہوں سہیل بھائی،جیسا بھی ہو یہ پرائسچت مجھے ہی کرنا ہوگا۔‘‘
حیدرآباد کے لا کالج میں داخلہ لینے کے لیے دونوں دوست ایک ساتھ روانہ ہوئے تھے۔ بیلہار والوں نے پدم دھر کے پورے خاندان کو پانی پی پی کر کوسا تھا،’’ذات پات،کل خاندان، سب کا بیڑا غرق۔بتائو بھلا،پنڈتوں کی نسل میں یہ کیا ہورہا ہے؟اس مشٹنڈے کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا، اس کا چھوا پانی پینا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پدم دھر کے والد شیوادھرواجپئی نے گائوں سے ہجرت کرلی تھی۔’’ملکینی انہیں بتادو، ان کے گھر میں ہمیں اپنی بیٹی نہیں بیاہنی۔آٹھوں انگ میں چندن لیپ اور رات میں ہریا کلال کے دارو کے ساتھ ساتھ اس کی کلٹا ہرارو کا سنگ۔یہی ہے ان کی پروہتائی؟تھوہے ان کے چھل کپٹ پر۔ سہیل انسان ہے۔دیکھنا ایک دن وہی ان کا محافظ بن کر ان بھوکے بھیڑیوں سے تمہارے خاندان کا بچائوکرے گا۔‘‘
کیسی آنسوئوں بھری بدائی لی تھی سہیل چاچا نے۔’’چھوٹو کی بہو شہر کی پڑھی لکھی ہے۔ جب دیکھو تب گھر میں مہابھارت شروع۔ایسے میں تمہاری چاچی جان تو قرآن کی آیتیں پڑھ کر دلی سکون حاصل کرلیتی ہیں اور ہم خود سدرشن چکر بنے اپنی کوٹھری سے چیمبر تک،احاطے سے گنگا کے کچھار تک بے مطلب بھٹکتے رہتے ہیں۔وہ بٹوارہ چاہتی ہیں اور اپنے انجینئر خاوند کے ساتھ دوبئی جاکر بس جانا چاہتی ہیں۔پیسہ کمانا ان دونوں کا شغل ہے۔یشودا بہن،اولاد کی عدالت میں والدین ہی سب سے بڑے گنہگار ٹھہرائے جاتے ہیں۔بدلتے وقت کی مار ہم سب کو جھیلنی ہے نا!پدم دھر کی بہو کو دیکھ لیا،من کی مراد پوری ہوئی۔کون جانے کب اوپر والے کا بلاوا آجائے!‘‘
شیلی کی پیدائش کے دو سال بعد سہیل چاچا نے آنکھیں موندیں تھیں۔شری دھر دیر تک گم سم بیٹھے رہے تھے۔اس روز گھر میں چولہا نہیں جلاتھا۔
سری نواس ماما پورے علاقے میں زہر پھیلاتے رہے۔’’کہنے کو میری سگی بھانجی ہے،لیکن سارا دھرم کرم بھلاکر پوری طرح سے سنسکار بھرشٹ ہوچکی ہے۔پہلے سے ہی اس کی بُری عادتیں جگ ظاہر تھیں۔اس جلال الدین کا چھوا بیر کھاتی تھی۔اس کے بچوں سے پیار کرتی تھی۔ہماری بہن ٹھہری نری گائے۔بالکل سورداس جیسی اور بہنوئی جھوٹ موٹ فقیر داس بنے سارا تماشہ دیکھتے رہے۔ہماری بیٹی ہوتی تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سری نواس ماما کی کالی کلوٹی بڑی بیٹی سات پردوں میں رکھی جاتی تھی۔میٹرک کے بعد پڑھائی لکھائی بند۔چھت پر اکیلی نہ جائے۔باغ بغیچے میں گھومنے کی قطعی اجازت نہیں۔ اپنی کوٹھری میں تھوڑی دیر بھی اکیلی بیٹھی رہتی تو گھر بھر میں کہرام مچ جایا ۔’’پھول کماری،باہر نکلو۔سب کے ساتھ آنگن میں بیٹھو۔‘‘
جٹیلا مامی بات بات پر پھول کماری کا جھونٹا پکڑ کر دوڑتی۔’’بند کوٹھری میں ساج سنگھار کررہی تھی۔کس کے لیے؟شیتل پائی کے نیچے یہ کون سی پوتھی ہے؟دیکھوں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سارنگا سدا بیرج کی پریم کہانی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اجی او پھول کے باپو سن رہے ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
اسی پھول کماری نے ایک دن سچ مچ قہر برسانے والا کام کرڈالاتھا۔
سری نواس ماما نیم پاگل کی صورت بنائے سروجنی کی چوکھٹ پر کھڑے تھے۔دھاڑیں مارکر روتے ہوئے کسی طرح انہوں نے اس کہانی کو دہرایا تھا۔’’سروجنی،ہماری توپگڑی ہی لٹ گئی۔ ہماری عزت سربازار نیلام ہوگئی۔‘‘
شری دھر نے دھیان سے ساری باتیں سنی تھیں۔’’پچیس برس کی لڑکی ،اپنی مرضی سے وہ کسی بھی لڑکے کا ہاتھ تھام سکتی ہے۔ماما جی،آپ لوگوں نے اسے پنجرے میں بند کرکے رکھاتھا۔ آج نہیں تو کل یہ ہونا ہی تھا۔‘‘
پھول کماری اور اس کا عیسائی شوہر جوزف سروجنی کے شہرآگئے تھے۔فارمیسی کی پڑھائی کرکے جوزف نے دوا کی دکان شروع کرنے کا منصوبہ بنایا تھا۔سری نواس ماما اس کے گھر کا پورا پتہ لے کر شری دھر سے مدد مانگنے آئے تھے۔
’’داماد بابو،یہاں کے ایس پی سے آپ کی دوستی ہے۔ان سے کہیے،ایک بار پھول کماری کو اس کرسچن کے گھر سے نکلواکر ہمارے حوالے کردے۔ بعد میں تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
شری دھر نے صاف انکار کردیاتھا۔’’ان دونوں کی شادی قانونی طور پر جائز ہے۔ آپ یا ہم اس میں کچھ نہیں کرسکتے۔ہماری بات مانیئے ماما جی،پھول کو معافی دے دیجئے۔ دونوں کی زندگی اچھی گزرے گی۔‘‘
مگر ماما اگیا بیتال بن کر الٹے پائوں واپس لوٹے تھے۔ جاتے جاتے سروجنی کو چھلنی کرنا نہیں بھولے تھے۔
’’تیرے کلیجے میں خوب ٹھنڈک پڑی ہوگی۔خاندان کو بٹّہ لگانے والی۔آج سے ہمارا سارا سروکار ختم اور اس کلوٹی کا پاپ تو بھگوان بھی معاف نہیں کریں گے،شنکر جی کا ترشول اس پر ٹوٹے گا۔‘‘
شری دھر نے سروجنی کی ڈھارس بندھائی تھی،’’گرجنے والے بادل ہے تمہارے ماما۔ ایسا ڈھکوسلے باز آدمی آج تک ہم نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔بھئی داددینی ہوگی پھول کماری کی ہمت کو۔اگلے اتوار اس جوڑی کا خیر مقدم ہونا چاہیے۔ہم خود چلیں گے انہیں دعوت دینے۔‘‘
احسان میاں کی ترقی ہوئی تھی۔چیف اکائونٹنٹ کا عہدہ!ارمان سائیکل کی تیز رفتار کے ساتھ آندھی کی شکل میں گیٹ میں داخل ہوا تھا۔’’پھو پھی،پھوپھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہاں ہیں آپ؟ بھئی، اتنی دور سے خوشخبری دینے کے لیے چلے آرہے ہیں ہم۔گائوں سے دادا جان آئے ہیں اورابّا نے فوراً اطلاع دینے کے لیے کہا ہے۔‘‘
دوسرے روز سانجھ کے جھُٹ پُٹے میں جلال الدین چاچا کا جھکا ہوا بدن دروازے پر حاضر تھا۔
’’کیسی ہو ببونی؟‘‘
’’ارے چاچا آپ!‘‘
سفید لٹھے کا جھک دھلاپاجامہ،ادھی کا کرتہ اور ہاتھ میں چھڑی تھامے جلال الدین کی ہنسی ویسے ہی پُر اثر تھی۔
’’آئیے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اندر آئیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیٹھیے نا چاچا!‘‘لاکھ منت سماجت کے باوجود انہوں نے صوفے پر بیٹھنا قبول نہیںکیا۔’’نہیں،نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چٹائی ہی ٹھیک ہے ببونی۔‘‘
ارمان اور شیلی بیچ بیچ میں چُہل کرتے جارہے تھے۔’’دادا جی،بجلی کی چمک والے آپ کے دانت تو ویسے ہی ہیں۔‘‘
’’ارے کہاں بچی۔وقت کی ریت چڑھ گئی۔نیچے کے سارے دانت جھڑ گئے۔‘‘
’’اور آپ کے بال۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟‘‘
’’قبرستان میں تیری دادی کے سرہانے دھر آیا ہوں۔کچھ دن باقی ہیں،وہیں جانا ہے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس لیے سوچا کہ ہماری کوئی نشانی کیوں نہ پہلے سے ہی وہاں پہنچادی جائے۔‘‘
شیلی کا بال ہٹ دیکھنے لائق تھا،’’داداجی،ہمیں قبرستان کے بھوتوں کی کہانی سنائیے نا!‘‘
’’ارے نہیں بچی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہمیں کہاں کچھ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’جھوٹ نہیں۔آپ ہماری اماں کو ڈھیر ساری کہانیاں سناچکے ہیں۔اب ہماری باری ہے۔‘‘
’’لو بھلا،کل کو یہ بچی کہے گی کہ اس کی بٹیا کو بھی کہانی سنائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘سروجنی کے ہاتھ سے کھیر کی رکابی تھامتے ہوئے جلال الدین میاں کی بوڑھی پلکوں پر نمی کی ڈھیر ساری پرتیں بچھ گئیں تھیں۔’’کس سوچ میں ڈوب گئے چاچا۔سچ مچ شیلی کے بیاہ میں آپ کو ہمارے ساتھ رہنا ہوگا، یہاں بہت کچھ سنبھالنا ہوگا۔‘‘
چارخانے کا گمچھا آنکھوں پر دھرتے ہوئے جلال الدین چاچا یکبارگی بکھرگئے۔ ’’احسان میاں کے بارے میں ایک بات بتانی تھی ببونی۔ترقی تو انہیں مل گئی ہے،لیکن وہ اندر ہی اندر کسی سازش کا شکار ہوتے جارہے ہیں۔کسی سے کچھ کہتے نہیں،لیکن پہلے والا سکون ان کے چہرے سے ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیاہے۔ہمیں ڈر ہے کہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سروجنی نے ان کی ڈھارس بندھائی،’’شری دھر دورے سے لوٹ آئیں گے تب ہم لوگ احسان بھائی سے ملیں گے،ان سے ساری باتیں صاف صاف پوچھیں گے۔آپ فکر مت کیجئے چاچا!‘‘
احسان میاں نے قبول کیا تھا،اکائونٹ سیکشن کا کالی سنگھ بہت دنوں سے پیچھے پڑاہواتھا۔ اس کے بچپن کے دوست شکونی لال نے اعلیٰ مد رسے کی بیس سالہ نوکری میں خاص عہدوں پر فائز رہتے ہوئے بڑی چالاکی سے مدرسے کی رقم کا گول مال کیا تھا۔کتابوں کی خریداری،امتحان کے پرچوں کی خرید و فروخت،تیسرے درجے کے طالبِ علم کو اول درجہ دلانے کی سازش بھری دوڑ بھاگ۔کالی سنگھ کا بہت زیادہ دبائو تھا۔’’آپ کو اپنے پرسنٹیج سے مطلب ہونا چاہیے احسان میاں! شکونی لال کے یہ تمام بل پاس ہوجائیں تو یک مشت رقم آپ کے گھر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
احسان میاں نے منع کردیاتھا۔بدنیتی بھرا کوئی کام وہ نہیں کریں گے۔چاہے جو ہوجائے۔
کالی سنگھ نے دھمکی دی تھی،’’کالو پہلوان کا نام سنا ہے نا؟اس مدرسے کے اعلیٰ حاکم کا گریبان اس کی مٹھی میں رہتا ہے۔اپنی ترقی پر اس طرح مت اترائو احسان!تمہاری یہ سیٹ بدلواکر تمہیں اندھیرے میں گم نہیں کردیا تو میرا نام نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اس وقت احسان میاں نے ذرا بھی دھیان نہیں دیاتھا،کوئی احتیاط نہیں برتی تھی۔جلال الدین میاں کے گائوں لوٹ جانے کے بعد احسان میاں پر گھات لگاکر حملہ کیا گیاتھا۔سر پر چھُرے کا گہرا گھائو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔جوزف کی دکان سے تھوڑی دور میڈیکل چوراہے پر وہ واردات ہوئی تھی۔ جوزف نے پہچان لیاتھا۔’’ارے یہ تو اپنے احسان میاں ہیں۔‘‘
احسان کوئی بھی بیان دینے سے کترارہے تھے۔’’نہیں گہرا اندھیرا تھا،کسی کو پہچاننے کا سوال ہی کہاں اٹھتا ہے۔‘‘
’’کسی پر آپ کا شک و شبہ؟‘‘
’’ہم نے کہانا،ہمارا کوئی بھی دشمن نہیں ہے۔‘‘
احسان میاں نے خود بخود فیصلہ کیاتھا،’’سر میری ڈیسک بدل دی جائے۔‘‘
’’لیکن کیوں؟‘‘
’’میری صحت ٹھیک نہیں رہتی سر،لگاتار چکر آتے رہتے ہیں۔ڈاکٹروں نے دماغی مشقت سے پرہیز۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘احسان میاں کا تبادلہ دوسرے محکمہ میں کردیاگیاتھا۔سروجنی اور شری دھر نے راحت کی سانس لی تھی۔
نوشابہ پیر بابا کے مزار پر منت مانگ کر سیدھے ان کے یہاں آئی تھی،’’انہیں سمجھائیے ببونی،رات برات گھر سے باہر نہ رہا کریں۔‘‘
’’کیوں،کیا بات ہے بھابھی،ان لوگوں نے پھر کچھ ایسی ویسی حرکت۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’نہیں ببونی،اب تو بات الٹی ہوگئی ہے۔شکونی لال مٹھائی کا ڈبہ لیے آیا تھا۔آرزو باہر نکلی تو اس نے آرزو کی کلائی پکڑلی تھی۔ہم تو سکتہ میں آگئے تھے۔کیا کریں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا نہ کریں؟‘‘
مٹھائی کا ڈبہ آنگن میں پڑی چوکی پر رکھ کر شکونی لال فوراً سے پیشتر واپس لوٹ گیاتھا۔ احسان میاں نے ایک جھٹکے میں سب کچھ طے کرلیا تھا۔شکونی لال کے آفس میں جان بوجھ کر کی گئی ان کی وہ ملاقات،دارو کے اڈے پر اپنے پیسوں سے دارو پلانا اور نشے میں دُھت شکونی لال کی دونوں کلائیوں کو توڑکر ادھ مری حالت میں چوراہے پر چھوڑتے ہوئے اطمینان سے ان کی وہ گھر واپسی۔نوشابہ کو کھٹکا لگاتھا،لیکن احسان میاں کے چہرے کا اطمینان دیکھ کر وہ خاموش رہ گئی تھی۔زندگی بہ دستور جاری تھی۔آرزو نے کالج میں داخلہ لے لیاتھا۔گلشن اور ارمان نے باری باری اسے پہنچانے اور گھر لانے کا ذمہ اٹھایا لیاتھا۔احسان اس کی شادی کے لیے بے حد فکر مند ہوچلے تھے۔’’شری دھر بھائی،آپ کی جان پہچان میں کوئی لڑکا ہوتو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
گلشن نے آکر وہ بری خبر دی تھی،’’ارمان کل رات سے غائب ہے پھوپھی!امّی اور آرزو کا روروکر بُرا حال ہوگیا ہے۔ابّا پورے شہر کا چپہ چپہ چھان آئے ہیں۔‘‘
آرزو نے چپکے سے نوشابہ کو بتایاتھا ،کالی سنگھ کے چچیرے بھائی بیرونے کالج کے احاطے میں اس کا راستہ روک لیاتھا۔’’اپنی مرضی سے ہمارے ساتھ چلو،ورنہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
آرزو کے شور مچانے پر کئی لڑکیاں جمع ہوگئیں تھیں اور بیرو وہاں سے چپ چاپ کھسک گیا تھا۔ جاتے جاتے اس نے گلشن اور ارمان کودیکھ لینے کی دھمکیاں دی تھیں۔تین دنوں بعد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیمپس کے پاس والے اجاڑکنوئیں سے ارمان کی لاش برآمد ہوئی تھی۔پچاس ساٹھ خاندان والے اس احاطے میں ایسا زبردست مجمع اس سے قبل کبھی نہیں دیکھا گیاتھا۔
احسان میاں کا دکھ آسمان چھورہا تھا۔کالی سنگھ،شکونی لال اور ان کے دوسرے ساتھی لاش کو جتنی جلدی ہوسکے ٹھکانے لگانے کے چکر میں تھے۔’’جانے والا تو چلاگیا۔اب بلاوجہ چیرپھاڑ کرواکے لاش کی بے حرمتی کس لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’گلشن اپنے ابا کو سمجھائو۔جی کڑاکے لاش کو دفنانے کی تیاری کریں۔‘‘
پولیس انسپکٹر نے کیس بنایا تھا۔’’لڑکے کو نشہ کرنے کی عادت تھی،اسی حالت میں کنوئیں کی اور گیااور پھسل کر نیچے گرپڑا۔‘‘
احسان کے کندھے پر شکونی لال کا ہاتھ تھا،’’جو ہوگیا سو ہوگیا۔تمہارے جگر کے ٹکڑے کو لوٹایا نہیں جاسکتا نا! احسان بھائی لو،یہ تھوڑے سے روپے رکھو۔ہماری جانب سے مدد کے طور پر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سینہ کوبی کرتے ہوئے نوشابہ کی آنکھوں میں خون کے قطرے تیرنے لگے۔’’ارمان کے ابّا،روپے نہیں،کالے ناگ ہیں یہ!تمہارے بیٹے کا خون ہواہے!رسولِ پاک کی قسم ،میت نہیں اٹھے گی۔پہلے سروجنی بی بی کو بلائو۔ان کے خاوند کہاں گئے۔کوئی تو انہیں بتائو،ان کے لاڈلے ارمان کو کس بے دردی سے مارا ہے ظالموں نے!‘‘
شری دھر کو دیکھتے ہی کالی سنگھ اور شکونی لال اپنے اپنے کوارٹر کی جانب کھسک لیے۔لاش کو پوسٹ مارٹم گھر لے جانے کے لیے گاڑی کی تلاش ہونے لگی۔کسی نے دبی آواز میں بتایا،کالی سنگھ نے نئی گاڑی خریدی ہے۔
جھگڑو چپراسی منہ لٹکائے لوٹ آیاتھا۔’’مردے کو لے جانے کے لیے کالی سنگھ اپنی گاڑی ہرگز نہیں دے گا۔احسان میاں سے کتنے فائدے اٹھائے ہیں اس نے۔‘‘
کالی سنگھ نے راتوں رات بیرو کو شہر سے باہر روانہ کردیاتھا۔ایس پی انل چترویدی نے آرزو کا بیان لیا تھا۔شراب کے اڈے پر اپنے ساتھیوں کے ساتھ بیرو پکڑاگیا۔ پہلی مار کے ساتھ ہی اس نے سارا سچ قبول کرلیا۔کالی سنگھ اور شکونی لال نے بیرو کے ساتھ مل کر یہ بھیانک سازش رچی تھی۔
’’احسان ہماری ترقی کے راستے کاروڑہ ہے۔ایمانداری کا سارا ٹھیکہ اس کم بخت نے اپنے اوپر لے رکھا ہے۔اس کے رہتے اوپری آمدنی کا ذریعہ ہوہی نہیں سکتا۔تو کچھ ایسا کیا جائے کہ اس کی زندگی اجیرن بن جائے۔‘‘
بیرو کا منصوبہ دوسراتھا،رات کے اندھیرے میں آرزو کو اٹھواکر نیپال اڑالے جانا۔لیکن ارمان سائے کی طرح بہن کے ساتھ رہتاتھا۔آرزو نے اس دن کے بارے میں ارمان سے اشارتاً کہاتھا۔ارمان بہن کو گھر پہنچا کر الٹے پائوں باہر چلاگیاتھا اور نوشابہ کا انتظار ہمیشہ کے لیے گھر کے گوشے گوشے میں ٹھہر کررہ گیاتھا۔
پوسٹ مارٹم رپورٹ آئینے کی طرح صاف تھی۔ارمان کے سر پر کسی ہتھیار سے وار کیاگیا تھا۔اندرونی چوٹ سے اس کی آنتیں پھٹ گئی تھیں،خون کاا ندرونی رسائو اس کی موت کا سبب بن گیا تھا۔نیم بے ہوشی کی حالت میں بیرو کے آدمی رات کے اندھیرے میں اسے اجاڑکنوئیں میںڈال آئے تھے۔
بیرو نے بتایا تھا،’’ان لوگوں کی منشا اسے جان سے مارنے کی نہیں تھی،لیکن کالی سنگھ اور شکونی لال نے للکارہ تھا،’’سنپولا ہے،بچ کر جانے نہ پائے!اس کے گھر والے زندہ نرک کی آگ میں جھلستے رہیں گے،تب پتہ چلے گا کہ کالی سنگھ سے الجھنے کا انجام کیاہوتا ہے!‘‘
سروجنی حیرت زدہ تھی۔وہی کالی سنگھ گھنٹہ بھر قبل کیسی ماتمی صورت بنائے احسان کا سب سے قریبی ہونے کا دم بھررہاتھااور شکونی لال کا رہ رہ کر اپنی آنکھوں پر رومال دھرنا۔مکّاری کی اس سے بڑھ کر دوسری کوئی مثال ہوسکتی ہے بھلا؟
شری دھر کے دوست انل چترویدی نے بڑی مستعدی سے کاروائی کی تھی۔کالی سنگھ اور شکونی کے خلاف غیر ضمانتی وارنٹ جاری کیے گئے تھے۔دونوں کو گرفتار کرنے کے لیے بڑی سرگرمی سے کھوج شروع ہوئی تھی۔بیرو اور اس کے ساتھیوں نے خود کو پولیس کے حوالے کردیا تھا۔
قبرستان تک جانے والے چند لوگوں میں شری دھر بھی تھے۔ارمان کو مٹی دے کر آدھی رات کو سب لوگ گھر لوٹے تھے۔احسان اور نوشابہ کی ڈھارس بندھانے کے لیے کسی کے پاس الفاظ نہیں تھے۔
گلشن چپکے سے سروجنی کے پاس آبیٹھاتھا،’’پھوپھی،ایک بات پوچھوں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟ آپ سب لوگوں نے ہمیں انسان بننا سکھایااور بیرو کے ماں باپ نے؟کیا اس کی پیدائش ایسی ہی بُری حرکتوں کے لیے ہوئی تھی؟کتنی بے رحمی سے ہمارے بھائی کا قتل کیا اس نے! قانون اسے بخش دے مگر ہم اسے معاف کرنے والے نہیں ہیں۔‘‘
دیر تک خاموش بیٹھے احسان میاں کی آواز کسی گہری سرنگ سے آتی ہوئی سی لگ رہی تھی، ’’اپنے آپ پر قابو رکھو بیٹے۔‘‘
’’کیسا قابو ابّو،ان شیطانوں نے ہم سے ہمارا بھائی چھین لیا اور آپ کہتے ہیں کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’آپا ،اس سرپھرے کو سمجھائیے تو۔ہمارے بچے کی موت اسی روپ میں آنی تھی۔ قسمت کا قہر ہم پر ٹوٹناتھا۔جوہوگیا،سوہوگیا۔‘‘ایک لمحہ سروجنی کو ایسا لگا تھا جیسے جلال الدین میاں قبر سے اٹھ کر ہاتھ باندھے ان کے سامنے کھڑے ہوگئے ہوں۔’’ببونی،گلشن کو سمجھائو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اﷲ ظالم کا کبھی مددگار نہیں ہوسکتا۔قیامت کے دن سب کا حساب ہوگا۔حوصلہ رکھو لوگو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!‘‘
احسان میاں اپنی رو میں بہتے جارہے تھے۔’’کالی سنگھ کا آدمی پچھواڑے کھڑا دھمکیاں دے چکا ہے۔بیان واپس لو،تھانے میں جاکر کہو کہ ارمان کو نشیلی دوائوں کی لت تھی،وہ خود بخود کنوئیں میں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
سب کچھ سن لینے کے بعد شری دھرنے فیصلہ کرلیا تھا،’’احسان بھائی،آپ لوگ مہینے بھر کے لیے گائوں چلے جائیں۔اس درمیان ہم آپ کے تبادلے کی کوشش۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
پیٹیاں اور بستر سمیٹ کر احسان میاں جیپ پر سوارہوچکے تھے۔ڈرائیور کی سیٹ پر شری دھر بیٹھے تھے۔
اچانک احسان نے ذرا تیز آواز میں کہاتھا،’’شری دھر بھائی ایک منٹ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ وہ دھیرے سے نیچے اترے تھے۔’’آپا ایک بات کہنی تھی۔ابّا نے ہمیں آپ کی پناہ میں بھیجا تھا۔ پندرہ برس بیت گئے۔قدرت کا کھیل ،ہماری واپسی اسی روپ میں ہونی تھی شاید۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اچھا چلتے ہیں،کہے سنے کی معافی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
اسی رات ایک بار پھر جلا ل الدین کو ایک دم سامنے دیکھاتھا سروجنی نے۔’’سوگئی کیا ببونی؟ ایک پتے کی بات بتانے آئے ہیں ہم!اﷲ بڑا رحم و کرم والا ہے۔سارا حساب کتاب یہیں چُکتا ہوجائے گا، دیکھ لینا تم!ہمارے ارمان کی روح قبر میں تڑپ رہی ہے۔ان قاتلوں کو کبھی چین کی نیند نصیب نہیں ہوگی۔‘‘
وہ خوفناک خبر شری دھر نے سنائی تھی۔’’بیرو ،کالی سنگھ اور شکونی لال کو پولیس جیپ میں ہزاری باغ جیل لے جایا جارہا تھا۔کیسا بھیانک حادثہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سامنے سے آتے ہوئے ٹرک کے ساتھ جیپ کی سیدھی ٹکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بیرو اورشکونی لال کی لاشیں پہچاننے کے قابل نہیں رہ گئی تھیں، کالی سنگھ اپنے لوتھڑا ہوچکے جسم کا درد بھُگتتا آخری سانسیں گن رہا تھا۔‘‘
گلشن کا پہلا خط مہینے بھر بعد ملاتھا۔
’’پھوپھی،ابا نہیں رہے۔ارمان بھائی کا صدمہ انہیں لے ڈوبا۔اپنے انتقال سے قبل ظالموں کے صفائے کی خبر سن لی تھی انہوں نے!۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔امّی کہلوار ہی ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ زندگی کے بچے کھچے دن اسی قبرستان سے لگے بغیچے کی دیکھ بھال میں گزارنا چاہتی ہیں۔آپ ہمارے لیے دعا کرتی رہیں گی۔آرزو کی شادی اور اپنی پڑھائی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔دونوں کے لیے فکر مند ہیں ہم!
ایک بات تو لکھنا بھول ہی گئے پھوپھی! ابّا کی زبان پر آخری لفظ آپ کے لیے تھے۔‘‘
کیسا عجیب سا سکون اپنی آنکھوں میں لیے احسان میاں اپنی منہ بولی بہن سروجنی کی اور مخاطب تھے،’’اﷲ کا فیصلہ دیکھ لیانا آپا!اس نے بھرپائی کردی۔اب ہم چین کی نیند سو سکیں گے۔ ارمان ہمیں بلارہے ہیں آپا،انہیں ہماری ضرورت ہے۔اچھا ،رُخصت ہوتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!


ہندی کہانی

ترجمہ: قاسم ندیم

 

Mumbai a Maliyalum Story by N.S. Madhuwan

Articles

ممبئی

این۔ایس۔ مادھون

 

بچپن کی یادوں نے دنیا کو سمجھنے میں عزیز کی مدد کی۔یقینا سبھی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا ہے۔ آدم کے علاوہ۔زمین پر آئے پہلے آدمی کے طور پر ان کا کوئی بچپن نہیں تھا۔بچپن کی یاد دلانے والی کسی بھی چیز کو عزیز آسانی سے اپنا لیتا تھا۔اسی لیے ممبئی کو وہ پسند کرتا تھا۔اسے وہ بزرگ میاں بیوی اچھے لگتے تھے جووارڈن روڈکے اس مکان کے مالک تھے جس میں وہ رہتاتھا۔اگر باذوق،سفید ہوتی مونچھیں اور شرارتی آنکھوں والے شکورصاحب اسے ایئر انڈیا کے مہاراجہ کی یاد دلاتے تو گالوں پر بڑے بڑے گڑھے لیے امّی جان اسے اس کی من پسند اداکارہ کے پی اے سی للیتا کی یاد دلاتیں۔
ہمیشہ کی طرح اس روز بھی صبح کی تازہ دُھلی دھلائی ٹیکسیوںنے عزیز کو خوشیوں سے بھر دیا۔ دوسرے شہروں سے الگ، ممبئی کی ٹیکسیاں بھاری بھرکم ایمبسیڈر نہیں تھیں۔ یہ بڑی حد تک ان چتکبری بلیوں جیسی فیاٹ تھیںجو تھپ تھپائے اور دُلارے جانے کی منتظر ہوتی ہیں۔
جیسے ہی عزیز ٹیکسی میں داخل ہوا،اس نے اخبار کھول لیا۔صفحہ اوّل کی اہم سرخیوں پر سرسری نگاہ ڈال کر اس نے اسٹاک اور شیئر والا حصہ نکال لیا۔وہ کالموں اور شماریات میں ڈوبا ہوا تھا کہ اس کا دھیان سہانی ہوامیں پھڑپھڑاتے اوراق پر گیا تب اسے احساس ہوا کہ وہ سمندر کے کنارے سفر کررہا ہے۔ عزیز نے وِنڈ اسکرین پر لگی سبز سَن فلم کو دیکھا۔ہرا سمندر بالکل نیا دکھائی دیا۔ سن فلم پر لگے ہندی اسٹیکر کو سمجھنے میں عزیز کو تھوڑا وقت لگا۔چھلانگ لگاتے باگھ پر پیلے حروف میں لکھا تھا،’’گرو سے کہو ہم ہندو ہیں۔‘‘
جیسے جیسے ٹیکسی یکے بعد دیگرے سرخ بتی پر رکتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھی،عزیز سوچ رہا تھا کہ انتخابات کے بعد ممبئی تھکا ماندہ آرام کررہا ہے۔ہاتھ کا پنجہ،کنول، تیر کمان، نائو،ریلوے انجن۔ دیواروں پر آویزاں ان نشانیوں نے پورے شہر کو پہلی جماعت والی حروف تہجی کی کتاب میں بدل دیا تھا۔سرکار میں آنے والی کسی بھی تبدیلی کا عکس سب سے پہلے سینسکس اور اسٹاک مارکیٹ کے انڈیکس پر پڑتا تھا۔مگر اس کے لیے عزیز اور اس کے ساتھی،کمپنی میں کام کرنے والے دوسرے سیلز انجینئر ، شاید نئی سرکار کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے بھی نہیں آتے۔عزیز کے دل میں یہ خیال گذشتہ روز کوندا تھا جب پردیپ پلئی نے دوپہر کے کھانے کے وقت اعلان کیاتھا،’’سرکار بدل گئی ہے۔‘‘
’’تو؟‘‘یہ تھے جیوتی پرساد شری واستو،ایک دوسرے سیلز انجینئر۔
’’کئی دوسری چیزیں بدل جائیں گی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘پردیپ پلئی نے کہا۔
گروپ میں سب سے بڑے جینت کرماکر نے پوچھا،’’تمہارا کیا مطلب ہے؟ کیا نئی سرکار ٹینڈرس کو خارج کردے گی جنہیں ہم نے اتنی مشکل سے حاصل کیا ہے؟‘‘
’’دوسری چیزوں میں۔۔۔۔‘‘پردیپ پلئی نے کہا۔عزیز کو محسوس ہواتھا کہ پلئی جان بوجھ کر اشتیاق پیدا کرنا چاہتا ہے۔جب ٹیکسی نریمن پوائنٹ پر ایک کثیر منزلہ عمارت کے سامنے رکی،جہاں عزیز کام کرتا تھا،تب تک کچھ غوروفکر کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا تھا کہ کچھ تبدیل نہیں ہوگا۔مضافاتی ٹرینیں ممبئی کو چیرتے ہوئے اب بھی دوڑرہی تھیں۔سینسکس پھر جی اٹھا تھا۔چرچ گیٹ پر اترنے والے عام مسافروں کا جم غفیر دائیں بائیں دیکھے بنا آگے بڑھتا جارہا تھا جن میں سے تقریباً آدھے لوگ کھجلی سے پریشان تھے (ہمیشہ کی طرح ہاہاہا۔۔۔) ڈبّے والوں کی سائیکلوں پر ٹفن کیرئیر چلے جارہے تھے،جن کا مقام تھا تمام لنچ پیلیس اور یہی وہ وقت تھا جب نائٹ شفٹ کے بعد دیر رات گئے سونے والے جاگتے تھے اور ان کی بیویاں گھر پر نہ ہوتیں تو گھریلو کام کرنے والی کانتا بائی یا کسی اور کو بانہوں میں بھرنے کی کوشش کرتے۔
جیسے ہی وہ دفتر میں اپنے کمرے میں پہنچااس نے ٹیبل پر اپنی پاسپورٹ سایز کی تصویروں کی جانچ کی۔سبھی پاسپورٹ سائز کی تصویروں کی طرح وہ اجنبی سی دکھائی دیں۔اس عزیز کی طرح جسے وہ ہر صبح آئینے میںدیکھتاتھا۔اس نے پاسپورٹ کے لیے فارم بھرنا شروع کیا،اس کے نیلے صفحات پر بے حد اطمینان سے۔اسے کمپنی کے نمائندے کے طور پر فرینکفرٹ میں ہورہی تجارتی نمائش کے لیے روانہ کیا جارہا تھا۔جب اس نے بھرا ہوا فارم ٹراویل ایجنٹ کے پاس بھیجا،تب اس کے ساتھی جو دوپہر کا کھانا کھانے باہر گئے ہوئے تھے لوٹ رہے تھے۔جب اس نے انہیں غیرمعمولی انداز میں تیز آواز میں باتیں کرتے سنا تو اندازہ لگایا کہ ضرور ریلائنس یا اے سی سی کے شیئروں میں کافی اچھال یا گراوٹ آئی ہوگی۔
جوں ہی جیوتی پرساد کمرے میں داخل ہوئے انہوں نے عزیز سے پوچھا،’’تم ہی بتائو عزیز۔یہ کرماکر کہتا ہے کہ نئی سرکار کا فیصلہ کہ وہ غیر ملکیوں کو نکال باہر کرے گی،غلط ہے۔ ان کے نظریات کہاں غلط ہیں؟‘‘
عزیز نے جواب دیا،’’کچھ نہیں۔سبھی ممالک ان مسافروں کو ان کے وطن واپس بھیج دیتے ہیں جن کے پاس ویزا نہیں ہوتا۔تو ہم کیوں نہ کریں ایسا؟‘‘
کرماکرنے غصے میں جواب دیا،’’یہ سیاست ہے۔تم میں سے کوئی بھی اسے نہیں سمجھتا۔‘‘
’’ہم تو صرف ایک چیز سمجھتے ہیں اور وہ ہے اسٹاک مارکیٹ۔چلو سیاسی بحث میں وقت ضائع کرنے کی بجائے ،اس کے ذریعے کچھ مال بنائیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘کمرے سے باہر جاتے ہوئے پردیپ پلئی نے کہا۔دوسرے بھی یکے بعد دیگرے اس کے پیچھے نکل گئے۔
عزیز نے آنکھوں کو آرام دینے کے لیے انہیں پل بھر کے لیے بندکردیا۔تبھی ٹراویل ایجنٹ کا فون آگیا،’’مسٹر عزیز،آپ فوراً اپنے راشن کارڈ کی زیراکس کاپی ہمارے پاس بھیج دیں۔‘‘
’’لیکن میرے پاس راشن کارڈ نہیں ہے۔‘‘
’’تو بنوالیں فوراً۔‘‘
’’ایک پاسپورٹ کے لیے کیاکیا جھیلنا پڑتا ہے!آپ کا مطلب ہے کہ مجھے راشن سے ملنے والا چاول کھانا پڑے گا۔‘‘
’’نہیں،اس کی ضرورت نہیں۔لیکن آپ کو پتے کے پروف میں راشن کارڈ کی ایک کاپی پاسپورٹ کے فارم کے ساتھ دینا پڑے گی۔‘‘
’’تب مجھے کیا کرنا ہوگا؟‘‘
’’سپلائی آفس جائیں اور وہاں ایک درخواست فارم بھریں۔کچھ دنوں بعد آپ کے گھر ایک انسپکٹر آئے گا۔آج کل ان کا بھائو ایک گاندھی چل رہا ہے۔آپ کو دو دنوں میں کارڈ مل جائے گا۔بس۔‘‘
ہر اتوار کی طرح اس دن بھی عزیز وی سی آر کے سامنے بیٹھا پرانی راج کپور کی فلمیں دیکھ رہا تھا۔ اس طرح کی ہندی فلموں کے ذریعے ہی وہ ممبئی کے آثارِ قدیمہ کی کھوج کرلیتا تھا۔ان فلموں کے ذریعے وہ تین چار دہائی پرانی ممبئی میں داخل ہوجاتا۔جب وہ بلیک اینڈ وائٹ پردے پر قلعے، فوارے، کرکٹ پویلین یا باندرہ اسٹیشن،میٹروسنیما،تاج ہوٹل اور دیگر عمارتوں کو دیکھتا تو ٹیلی ویژن کے دوسرے جانب سے ہزاروں چہروں والی موجودہ ممبئی کے بے گانے پن سے اسے راحت محسوس ہوتی۔
چھٹی کے دن کھانے کے وقت دروازے پر ہونے والی امّی جان کی معمول کے مطابق دستک اس کے لیے گھڑی کا کام کرتی تھی۔لیکن اس دن امّی جان نے وقت سے قبل ہی گیارہ بجے دروازے پر ہلکی سی دستک دی۔
’’کوئی تم سے ملنے آیا ہے۔کہتا ہے کہ سپلائی ڈپارٹمنٹ سے ہے۔‘‘انھوں نے کہا۔
’’اتوار کو؟‘‘
’’ہاں،اور اس کے ساتھ ایک دادا بھی ہے جو حکمراںپارٹی کے لیے ووٹوں کا جگاڑ کرتا ہے۔‘‘
جیسے ہی عزیز نے دروازہ کھولاسپلائی انسپکٹرنے جو عزیز کے خیال سے کافی کم عمر تھا پوچھا، ’’آپ نے راشن کارڈ کے لیے درخواست دی ہے ،ہے نا؟‘‘
’’آپ کے ساتھ یہ کون ہے؟‘‘عزیز نے جواب سے پہلے سوال کردیا۔
’’رامو دادا۔میں انہیں اپنے ساتھ گھر دکھلانے کے واسطے لے آیا۔‘‘
’’اچھا۔‘‘
’’آپ کل سپلائی آفس میں میڈم گوکھلے سے ضرور ملیں۔پرمیلا گوکھلے۔ میں آپ کو وقت پر مطلع کرنا چاہتاتھا۔اسی لیے آپ کو یوں اتوار کو پریشان کیا۔‘‘
جب عزیز نے پرمیلا گوکھلے کے آفس کے آدھے دروازے کو کھولا تو اس نے اس کے ناٹے ہونے کی توقع نہیں کی تھی۔حالانکہ ایک نظر میں وہ جوان لگتی تھی،مگر اس کی آنکھیں اس کی عمر تیس یا اس سے زیادہ بتاتی تھیں۔اس نے اسکولی لڑکیوں کی طرح دو چوٹیاں بنائی تھیں اور سفید دوپٹے میں ایک اسکولی لباس کی معصومیت تھی۔ اپنے پتلے،تیکھے سرخ ہونٹ اور موٹے چشمے سے چھوٹی دکھنے والی بھوری آنکھوں سے وہ ایک سفید چوہیا کی طرح نظر آرہی تھی۔عزیز سوچنے لگا کہ جوش میں آکر ملاقات کے دوران کہیں وہ آگے بڑھ کر اس کی پیٹھ نہ تھپتھپادے۔اس کی کھلی دراز میں گیانیشوری رکھی تھی جس کا کچھ حصہ پڑھا جاچکا تھا۔
’’مسٹر عزیز؟‘‘اس نے نرمی،بے حد نرمی سے پوچھا۔ جیسے ایک معشوق اپنے عشق کا اظہار کررہا ہو۔
’’ہاں۔‘‘
’’والد کا نام؟‘‘
’’بیرن کنجو۔‘‘
’’ماں کا نام؟‘‘
’’فاطمہ۔‘‘
’’کیا وہ حیات ہیں؟‘‘
’’نہیں،دو سال قبل ایک ماہ کے دوران ہی دونوں کا انتقال ہوگیاتھا۔‘‘
’’آپ کے پاس کوئی زمین،جائیداد ہے؟‘‘
’’نہیں۔مجھے آئی آئی ٹی میں پڑھانے اور میرے بھائی کا ابوظہبی کا ویزا دلوانے کے لیے انہیںاپنی ساری زمین فروخت کرنی پڑی۔‘‘
’’تب تو آپ کے پاس زمین کی پرانی ٹیکس کی رسیدیں ضرور ہوںگی؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’تو آپ کے پاس بھارت میں کسی زمینی جائیداد کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں۔میرا راشن کارڈ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’یہ پوچھ تاچھ اسی کے لیے ہے۔پہلے آپ کو ثابت کرنا ہوگا کہ آپ ہندوستانی ہیں۔ صرف اسی وقت ہم آپ کے راشن کارڈ کی درخواست پر غور کرسکتے ہیں۔‘‘
’’یہ تو اچھا کھیل ہے۔سوچیے ایک رات آپ کو جگایا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ثابت کیجئے آپ ایک ہندوستانی ہیں،تو آپ کیا کریں گی بہن جی؟‘‘عزیز کی آواز بلند ہوئی۔ اچانک اس نے دروازے کے اس پار بے شمار پیروں کی آہٹ سنی۔پرمیلا گوکھلے کے دفتر کی کھڑکی پر چہروں کی بھیڑ تھی۔عزیز نے پل بھر میں ہی ان چہروں کے رنگ کو اور غصے کی لہروں کو بڑھتے دیکھا ۔
’’میںانہیں اپنا نام بتادوں گی۔بس میرا نام،میرا اتہاس اور جغرافیہ دونوں ہیں۔پرمیلا گو کھلے ، مہاراشٹرین ہندو۔چت پاون برہمن۔سمجھے آپ؟‘‘جب اس نے یہ سب کہا تب بھی اس کی آواز ایک معشوق کی طرح ہی تھی۔اس کی آواز کی نرمی نے عزیز کو اندرتک خوفزدہ کردیا تھا۔
’’میں کیا کروں؟‘‘
’’اب آپ جاسکتے ہیں۔آپ کو پھر بلایا جائے گا۔تب آپ کو آنا ہوگا بھائی صاحب۔‘‘ وہ کھڑی ہوگئی۔
جب دو روز بعد عزیز پرمیلا گوکھلے سے ملا،تو اس کی پوشاک میں کوئی تبدیلی نہیں آئی تھی۔ اس کا کمرہ بھی ویسا ہی نظر آیا۔سوائے اس کے کہ اس نے اپنی دراز میں پڑی گیانیشوری کے مزید کچھ صفحات پڑھ لیے تھے۔
’’مسٹر عزیز ہم نے آپ کو کچھ اور چیزوں کے بارے میں جانکاری حاصل کرنے کے لیے بلایا ہے۔‘‘
’’ایک راشن کارڈ کے لیے اتنی بھاری پوچھ تاچھ؟اب کیا پوچھنا ہے؟جیسے کسی شادی کے مسئلے پر غوروفکر کرنا ہے؟‘‘
’’آپ کہاں پیدا ہوئے تھے؟‘‘اس نے اور بھی زیادہ اطمینان سے پوچھا۔
’’کیرالا میں۔‘‘
’’کیرالا میں کہاں؟‘‘
’’ملپّورم ضلع میں۔‘‘
’’اس ضلع کے کون سے گائوں میں؟‘‘
’’پانگ۔‘‘
’’پانگ؟پانگ کیا؟‘‘اس کی آواز پہلی بار ذرا اونچی اٹھی۔آدھے دروازے کے اس پار دکھائی دینے والے پیروں کے چلنے کی بدقسمتی دستک دینے لگی۔
’’پانگ۔جہاں میں پیدا ہواہوںاس کا نام یہی ہے۔‘‘
’’ایسا نام؟نہیں۔یہ ناممکن ہے۔ایسے نام کا بھارت میں کوئی گائوںنہیں ہوسکتا۔‘‘
’’میڈم،میں جھوٹ کیوں بولوں گا؟‘‘
’’مجھے نہیں معلوم۔خیر جو بھی ہو۔ملیالم میں پانگ کا کیا مطلب ہوتا ہے؟‘‘
’’مجھے معلوم نہیں کہ اس کا کوئی مطلب ہے بھی یا نہیں؟‘‘
’’بنا مطلب والا لفظ؟لفظوں کا احترام کیجئے۔اب بھی سمجھ میں نہیں آیا کہ کوئی پانگ وانگ نہیں ہے؟‘‘
’’پانگ ہے۔یقینی طور پر ہے۔آپ اگر چاہیں تو ملپّورم کے کلکٹر کو ٹیلی گرام بھیج کر جانچ کرسکتی ہیں۔‘‘
’’کیا آپ بھارت کے نقشے پر مجھے پانگ دکھلاسکتے ہیں؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’کیرالا کے نقشے پر؟‘‘
’’میں اعتماد کے ساتھ نہیں کہہ سکتا۔‘‘
’’پھر بھارت میں ایسی کوئی جگہ نہیں ہے۔آپ جاسکتے ہیں۔میری پوچھ تاچھ میں اب زیادہ وقت نہیں لگے گا۔‘‘
جب عزیز باہر آیا تو بھیڑ اسے راستہ دینے کے لیے دو حصوں میں بٹ گئی۔اس سے اسے یاد آیا کہ سیسل دی مِل کی’داٹین کمانڈمینٹس‘میں موسیٰؑ کو راستہ دینے کے لیے دریائے نیل کس طرح دو حصوں میں تقسیم ہوگیا تھا۔اس بار موسیٰ واپس لوٹ رہے ہیں۔بعد میں وہ آدم کے روپ میں لوٹ جائیں گے۔ معصوم،پہلی بار زمین پر آنے والے آدمؑ کی طرح،بنا کسی بچپن کے۔
عزیز اس کے بعد کچھ دنوں تک دفتر نہیں گیا۔وہ اپنے کمرے میںہی رہا۔ریڈیو آن کیے ہوئے،بے حد تیز آواز میں تاکہ وہ اپنے من کے خیالات کو نہ سن سکے۔کف پریڈ پر اس کے ایک دوست جو بحری فوج میں تھا،نے خواجہ احمدعباس کی فلم’شہراور سپنا‘کاایک ٹیپ دیا تھا۔اس پرانی فلم کو بیٹھ کرکئی بار دیکھنے کے بعد بھی،وہ اس میں سے ممبئی کی بھولی بسری یادوں کو کھودکر نکالنے میں ناکام رہا تھا۔
ایک شام سپلائی انسپکٹر اور رامو داد اآئے اور انہوں نے اپنی جیپ میں عزیزکو پرمیلا گوکھلے سے ملنے کے لیے ساتھ چلنے کو کہا۔جب وہ اپنے فلیٹ کا دروازہ بند کررہا تھا تو اس کی نگاہ خطاطی طرزِ تحریر میں شیشے کے فریم میں’بسم اﷲ‘کے سامنے چپ چاپ کھڑی امّی جان اور شکور صاحب پر پڑی۔بسم اﷲ،جو پانچ روشن شمعوں کے مانند دکھائی دیتا تھا،عربی میں عزیز کا من پسند لفظ تھا۔
اس بار پرمیلا گوکھلے کے آفس میں پہلے سے بھی زیادہ بھیڑ تھی۔کھڑکیاں چہروںکی بے چینی سے بھری ہوئی تھیں۔ایسا لگتاتھا کہ پرمیلا گوکھلے گیانیشوری کا مطالعہ مکمل کرچکی تھی۔اس نے بڑی ملائمت سے سوال کرنا شروع کیا،’’کیا 1970ء میں آپ بھارت میں تھے۔‘‘
’’میڈم اس وقت میں پیدا نہیں ہوا تھا۔‘‘
’’اچھا،1971ء میں؟‘‘
’’میں اسی سال پیدا ہوا تھا۔‘‘
’’تو آپ قبول کرتے ہیں کہ 70ء میں آپ بھارت میں نہیں تھے؟‘‘
’’یہ واقعی بے تکا سوال ہے۔میں تب پیدا نہیں ہوا تھا۔‘‘
’’کیا میں یہ درج کرلوں کہ بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ شروع ہونے سے پہلے آپ بھارت میں نہیں تھے؟‘‘
’’مجھے آپ کو کتنی بار بتانا پڑے گا کہ تب میں پیدا نہیں ہواتھا؟‘‘
’’سوال کا جواب ہاں یا نہ میں دیجئے۔‘‘پرمیلا گوکھلے کی آواز ذرا اونچی ہوئی اور عزیز کو بجلی کی کڑک جیسی سنائی دی۔کھڑکی سے نظر آرہے چہرے اور خطرناک دکھائی دینے لگے اور آدھے دروازے کے باہر قدموں کی آہٹیں مزید بڑھ گئیں۔
’’بتائیے مجھے بنگلہ دیش سے گھس پیٹھ سے پہلے یعنی 1970ء میں اور اس سے پہلے کیا آپ بھارت میں تھے؟‘‘
’’نہیں۔‘‘
’’اچھا گھس پیٹھ کے دوران؟71ء کے بعد؟‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔’’ہاں۔‘‘
کچھ دیر خاموشی رہی۔
مایوسی سے نبردآزما ہوتے ہوئے عزیزنے پوچھا،’’میرا راشن کارڈ؟‘‘
پرمیلا گوکھلے مسکرائی۔جواب میں باہر کے لوگ قہقہے لگانے لگے۔اس نے کہا،’’ میں نے اپنی رپورٹ مکمل کردی ہے۔میں اسے کل خود بھیجوں گی۔‘‘
’’کیا آپ یہ کہہ رہی ہیں کہ میں ایک گھس پیٹھیا ہوں؟‘‘
’’آپ نے خود قبول نہیں کیا؟‘‘پرمیلا کھڑی ہوگئی۔کئی ملاقاتوں سے جو ربط ہواتھا، اس نے عزیز سے ہاتھ ملایا۔
جب عزیز گھر پہنچا تو اس نے دو پولیس والوں کو عمارت کے باہر پہرہ دیتے ہوئے دیکھا۔ وہ اپنے کمرے میں گیااور دروازہ بند کرلیا۔جیسے ہی وہ پردے ہٹاکر کھڑکی کھولنے والا تھا کہ اسے احساس ہوا کہ دوسری جانب مورپنکھی پر موجود دھبوں جیسی آنکھوں والے بے شمار آدمیوں کے چہرے ہوںگے۔بے تحاشہ خوف کی گرفت میں آکر عزیز اپنا چہرہ زمین پر دبائے بستر میں گھس گیااور نومولود بچے کی طرح بنا ہلے ڈُلے پڑا رہا۔

ملیالم کہانی

ترجمہ: قاسم ندیم