Intekhab – e- Kalam Firaq Gorakhpuri

Articles

انتخابِ کلام فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

1

زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا

یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا

داستانِ جور بے حد خوں سے لکھتا ہی رہا

قطرہ قطرہ اشکِ غم کا بے کراں بنتا گیا

عشقِ تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں

اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا

میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو

زیبِ عنوانِ حدیثِ دیگراں بنتا گیا

بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاں

نام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا

ہم کو ہے معلوم سب رودادِ علمِ و فلسفہ

ہاں ہر ایمان و یقیں وہم و گماں بنتا گیا

میں کتاب دل میں اپنا حالِ غم لکھتا رہا

ہر ورق اک بابِ تاریخِ جہاں بنتا گیا

بس اسی کی ترجمانی ہے مرے اشعار میں

جو سکوتِ راز رنگیں داستاں بنتا گیا

میں نے سونپا تھا تجھے اک کام ساری عمر میں

وہ بگڑتا ہی گیا اے دل کہاں بنتا گیا

وارداتِ دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہے

ہر حسابِ غم حسابِ دوستاں بنتا گیا

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں

جو بھی میں کہتا گیا حسنِ بیاں بنتا گیا

وقت کے ہاتھوں یہاں کیا کیا خزانے لٹ گئے

ایک تیرا غم کہ گنجِ شائگاں بنتا گیا

سر زمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراقؔ

قافلے بستے گئے، ہندوستاں بنتا گیا

2

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلوئوں کی

چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے

فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ

تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا

نثار نرگس میگوں کہ آج پیمانے

لبوں تک آئے ہوئے تھر تھرائے ہیں کیا کیا

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی

جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

چراغ طور جلے آئینہ در آئینہ

حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا

بقدرِ ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر

نگاہِ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

کہیں چراغ، کہیں گل، کہیں دل برباد

خرامِ ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا

فسونِ غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا

ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں

چمن میں غُنچہ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا

ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا

سلوک اُچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا

نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے

دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

پیام حسن، پیام جنوں، پیام فنا

تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

تمام حسن کے جلوے تمام محرومی

بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا

فراقؔ راہ و فا میں سُبک روی تیری

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

3

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

مری نظریں بھی ایسے کافروں کی جان و ایماں ہیں

نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی

اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

نگاہِ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا

تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں

ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا

اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

حیاتِ عشق کااک اک نفس جامِ شہادت ہے

وہ جانِ ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی

مری باتیں بہ عنوانِ دگر، وہ مان لیتے ہیں

تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت

کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

اب اس کو کفر مانیں یا بلندیِ نظر جانیں

خدائے دوجہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا

عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں

ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر نقصان لیتے ہیں

ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگند کھاتی ہے

تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

رفیقِ زندگی تھی اب انیسِ وقتِ آخر ہے

ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

زمانہ وارداتِ قلب سننے کو ترستا ہے

اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر

کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

4

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

لیکن اِس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں

لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

شکوۂ جَور کرے کیا کوئی اُس شوخ سے جو

صاف قائل بھی نہیں صاف مکرتا بھی نہیں

مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست

آہ اب مجھ سے تری رنجش بیجا بھی نہیں

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

آج غفلت بھی اُن آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا

آج ہی خاطِرِ بیمار شکیبا بھی نہیں

بات یہ ہے کہ سکونِ دل وحشی کا مقام

کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں

’’ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں‘‘

تونے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

آہ یہ مجمع احباب یہ بزمِ خاموش

آج محفل میں فراقِؔ سخن آرا بھی نہیں

5

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں

شام بھی تھی دھواں دھواں حُسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں

مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری

مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں

حسنِ نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر

تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں

تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوص حُسن کا

جب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں

تیرے خرامِ ناز سے آج وہاں چمن کھِلے

فصلیں بہار کی جہاں خاک اُڑا کے رہ گئیں

پوچھ نہ اُن نگاہوں کی طرفہ کرشمہ سازیاں

فتنے سلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں

تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پر

اُن کی نگاہیں بھی ترا نام بتا کے رہ گئیں

اُف یہ زمیں کی گردشیں، آہ یہ غم کی ٹھوکریں

یہ بھی تو بختِ خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں

اور تو اہلِ درد کو، کون سنبھالتا، بھلا

ہاں، تیری شادمانیاں اُن کو رُلا کے رہ گئیں

یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاں

کھوئے ہوئے دلوں میں آج درد اُٹھا کے رہ گئیں

سازِ نشاطِ زندگی آج لرز لرز اُٹھا

کس کی نگاہیں عشق کا درد سُنا کے رہ گئیں

تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتی

تاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں

جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیں

پھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں

قلب و نگاہ کی یہ عید ، اُف یہ مآلِ قرب و دید

چرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں

پھر ہیں وہی اُداسیاں پھر وہی سونی کائنات

اہلِ طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں

کون سکون دے سکا، غم زدگانِ عشق کو

بھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں

6

شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو

بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو

یہ سکوتِ ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا

خامشی میں کچھ شکستِ ساز کی باتیں کرو

نکہت زلفِ پریشاں داستانِ شام غم

صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو

ہر رگِ دل و جد میں آتی رہے دکھتی رہے

یونہی اس کے جا و بیجا ناز کی باتیں کرو

جو عدم کی جان ہے جو ہے پیام زندگی

اُس سکوتِ راز اس آواز کی باتیں کرو

عشق رسوا ہو چلا بے کیف سا بیزار سا

آج اس کی نرگس غماّز کی باتیں کرو

نام بھی لینا ہے جس کا اک جہانِ رنگ و بو

دوستو! اس نو بہارِ ناز کی باتیں کرو

کس لئے عذرِ تغافل کس لئے الزامِ عشق

آج چرخِ تفرقہ پرواز کی باتیں کرو

کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نو رسا

کچھ فضا کچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو

جو حیاتِ جاوداں ہے جو ہے مرگِ ناگہاں

آج کچھ اُس ناز اس انداز کی باتیں کرو

عشق بے پروا بھی اب کچھ ناشکیبا ہو چلا

شوخیِ حسنِ کرشمہ ساز کی باتیں کرو

جس کی فرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراقؔ

آج اس عیسیٰ نفس دم ساز کی باتیں کرو

7

رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی

وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی

یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی، نہ ساتھ

مسافروں سے کہو اُس کی رہ گزر آئی

فضا تبسّمِ صبحِ بہار تھی لیکن

پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی

کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں

مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی

کسی کی بزمِ طرب میں حیات بٹتی تھی

امید واروں میں کل موت بھی نظر آئی

کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا

کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی

دلوں میں آج تیری یاد مدّتوں کے بعد

بہ چہرۂ متبسّم، بہ چشمِ تر آئی

نیا نہیں ہے مجھے مرگِ ناگہاں کا پیام

ہزار رنگ سے اپنی مجھے خبر آئی

فضا کو جیسے کوئی راگ چیرتا جائے

تری نگاہ دلوں میں یوں ہی اُتر آئی

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

تیرا ہی عکس سرشکِ غمِ زمانہ تھا

نگاہ میں تری تصویر سی اُتر آئی

عجب نہیں کہ چمن در چمن بنے ہر پھول

کلی کلی کی صبا جاکے گود بھر آئی

شبِ فراقؔ اُٹھے دل میں اور بھی کچھ درد

کہوں یہ کیسے تیری یاد رات بھر آئی

8

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی

سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی

سازِ نوائے درد حجاباتِ دہر ہیں

کتنی دُکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی

رکھ لی جنھوں نے کشمکشِ زندگی کی لاج

بیدر دیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی

یوں فرطِ بیخودی سے محبت میں جان دے

تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی

ہے عشق اِس تبسّمِ جاں بخش کا شہید

رنگیناں لئے ہے جو صبحِ حیات کی

چھیڑا ہے دردِ عشق نے تارِ رگِ عدم

صورت پکڑ چلی ہیں نوائیں حیات کی

شامِ ابد کو جلوۂ صبحِ بہار دے

روداد چھیڑ زندگیِ بے ثبات کی

اس بزمِ بیخودی میں وجود و عدم کہاں

چلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی

سو درد اک تبسّمِ پنہاں میں بند ہیں

تصویر ہوں فراقؔ نشاطِ حیات کی

9

رسم و راہِ دہر کیا جوش محبت بھی تو ہو

ٹوٹ جاتی ہے ہر اک زنجیر وحشت بھی تو ہو

زندگی کیا، موت کیا، دو کروٹیں ہیں عشق کی

سونے والے چونک اٹھیں گے قیامت بھی تو ہو

’’ہر چہ باداباد‘‘کے نعروںسے دنیا کانپ اٹھی

عشق کے اتنا کوئی برگشتہ قسمت بھی تو ہو

کار زارِ دہر میں ہر کیف ہر مستی بجا

کچھ شریک بیخودی رندانہ جرأت بھی تو ہو

کم نہیں اہلِ ہوس کی بھی خیال آرائیاں

یہ فناکی حد سے بھی بڑھ جائیں ہمت بھی تو ہو

کچھ اشاراتِ نہاں ہوں تو نگاہ ناز کے

بھانپ لیں گے ہم یہ محفل رشکِ خلوت بھی تو ہو

اب توکچھ اہل رضا بھی ہو چلے مایوس سے

ہر جفائے ناروا کی کچھ نہایت بھی تو ہو

ہرنفس سے آئے بوئے آتشِ سیالِ عشق

آگ وہ دل میں لہومیں وہ حرارت بھی تو ہو

یہ ترے جلوے یہ چشمِ شوق کی حیرانیاں

برقِ حسنِ یار نظارے کی فرصت بھی تو ہو

گردشِ دوراں میں اک دن آرہے گا ہوش بھی !

ختم اے چشم سیہ یہ دور غفلت بھی تو ہو

ہر دلِ افسردہ سے چنگاریاں اڑ جائیں گی

کچھ تری معصوم آنکھوںمیں شرارت بھی تو ہو

اب وہ اتنا بھی نہیں بیگانہ وجہ ملال

پرسش غم اس کو آتی ہے ضرورت بھی تو ہو

ایک سی ہیں اب تو حسن وعشق کی مجبوریاں

ہم ہوں یا تم ہو وہ عہدِ بافراغت بھی تو ہو

دیکھ کر رنگِ مزاج یار کیا کہیے فراقؔ

اس میں کچھ گنجائشِ شکر و شکایت بھی تو ہو

10

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

اُف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں

بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام

بہلائے تجھ سے چھُٹ کے طبیعت کہاں کہاں

فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے

تیرا اثر ہے اے غمِ فرقت کہاں کہاں

ہر جنبشِ نگاہ میں صد کیفِ بیخودی

بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں

راہِ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی

پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں

دل کے اُفق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری

لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں

اے نرگسِ سیاہ بتا دے ترے نثار

کس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں؟

نیرنگِ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ

یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں

بیگانگی پر اس کی زمانے سے احتراز

در پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں

فرق آ گیا تھا دورِ حیات و ممات میں

آئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں

جیسے فنا بقا میںبھی کوئی کمی سی ہو

مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں

دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھی

تیرے لئے اُٹھائی ندامت کہاں کہاں!

اب امتیازِ عشق و ہوس بھی نہیں رہا

ہوتی ہے تیری چشمِ عنایت کہاں کہاں

ہر گام پر طریق محبت میں موت تھی

اس راہ میں کھلے درِ رحمت کہاں کہاں

ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔ

ہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں

Firaq Gorakhpuri ki Tanqeed Nigari by Qamar Siddiqui

Articles

فراق کی تنقید نگاری

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

فراق گورکھپوری نے تنقید کے دو مجموعے ”اندازے“ اور ”حاشیے“ اور اردو کی عشقیہ شاعری پر ایک کتابچہ یادگار چھوڑے ہیں ۔ ان میں ’اندازے‘ تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے میں کل دس مضامین ہیں جس میں پانچ غزل یا غزل گو شعرا سے متعلق ہے۔ در اصل فراق کی تنقید اکثر و بیشتر اردو غزل کے آس پاس ہی رہی ہے۔ انھوں نے دہلی اور لکھنو¿ اسکول، داخلیت اور خارجیت، زمینوں کے انتخاب اور مطلعوں کی موزونیت کے علاوہ ریاض، مصحفی ، ذوق اور حالی وغیرہ کی شاعری کا فنی و تشریحی جائزہ پیش کیا ہے۔
’اندازے‘ کے دیباچے میں فراق گورکھپوری نے جس طرح روایت سے وابستگی اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے ترقی پسند ادب کی تحسین کی ہے وہ ان کے تنقیدی مسلک کی غمازی کرتا ہے۔ دیباچے میں انھوں نے بالکل تاثراتی انداز اپناتے ہوئے ادب اور تنقید میں میانہ روی کو مقدم گردانا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
” خوش نصیب ہیں نئی نسل والوں میں اور نئے ادب کے قدر شناسوں میں وہ لوگ جو پرانی غزلوں کے سمندر میں ڈوب کر ایسے ایسے موتی نکال لائے ہیں جن کی آب و تاب کو وقت دھندلا نہیں سکا۔ اقبال، اکبر، جوش، مجاز، زیدی اور جذبی اور ہماری نئی شاعری کے کئی اور نمائندے ہماری قدیم شاعری سے کم مستفید نہیں ہیں۔ لیکن نثر نگاروں، شاعروں اور پڑھنے والوں کی نئی نسل عجلت اور سہل پسندی کی غالباً شکار ہوئی ہے اور قدیم ادب سے منہ موڑ چکی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پرانی شاعری میں بھی بہت نئی چیزیں ہیں۔ تسلسل تاریخِ انسانی اور تاریخِ ادب کا اٹل قانون ہے۔ ماضی سے بے خبری ترقی پسندی نہیں ہے ، نہ ماضی کی قدر شناسی رجعت پسندی اور قدامت پسندی ہے۔“
فراق کی تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات بہت واضح ہیں۔ حالانکہ انھوں نے جس زمانے میں تنقید نگاری کا آغاز کیا اس وقت ناقدین کی اکثریت کا مغربی ادب کا مطالعہ زیادہ گہرا نہ تھا۔ فراق کے بیشتر معاصرین فکری طور پر آزاد، حالی اور شبلی کا تتبع کررہے تھے اور ان کی تحریروں میں اِنھیں قد آور شخصیات کا پرتو نظر آتا ہے۔ فراق نے اپنے معاصرین کے برخلاف مغربی افکار و نظریات سے استفادے پر زور دیا۔ اس ضمن میں خود فراق گورکھپوری نے تحریرکیا ہے کہ:
” میرے مذاقِ تنقید پر دو چیزوں کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔ ایک تو خود میرے وجدانِ شعری کا ، دوسرے یورپین ادب اور تنقید کے مطالعے کا۔ مجھے اردو شعرا کو اس طرح سمجھنے سمجھانے میں بڑا لطف آتا ہے، جس طرح یورپین نقاد یورپین شعرا کو سمجھاتے ہیں۔ “
مغربی تنقید سے استفادے کے اس اعتراف میں اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ فراق نے مغربی تنقید کے کس دبستان کا تتبع کیا ہے۔ فراق کی تنقیدی تحریروں کے مطالعے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کا رجحان تاثراتی تنقید کی طرف ہے۔ محولہ بالا پیراگراف میں ”وجدانِ شعری“ کی ترکیب بھی اس بات کی طرف دلالت کرتی ہے۔ ”وجدان“ ایک خوبصورت مگر پر اسرار لفظ ہے اور معنی سے گریز پائی اس لفظ کا خاصہ ہے۔ کیونکہ شاعر کا وجدان اور نقاد کا وجدان دو الگ الگ ذہنی وقوعے ہیں البتہ اس کے استعمال میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ نقاد مختلف نوع موشگافیوں کی مشقت سے بچ جاتا ہے۔ چنانچہ اردو میں وجدان تاثراتی نقادوں کا مخصوص Toolہے اور مہدی افادی سے لے کر عبد الرحمن بجنوری اور فراق گورکھپوری تک لگ بھگ تمام تاثراتی نقاد وجدان کے میزان سے شعر کو تولتے نظر آتے ہیں۔ فراق کے مجموعے ’اندازے‘ سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
” مصحفی کی انفرادیت وجدانی سطح پر اپنا کام کرتی ہے۔“
” غم آمیز وجدان میں تنوع کے اتنے امکانات نہیں ہوتے جتنے نشاط آمیز وجدان میں ہوتے ہیں۔“
کتاب میں اس نوع کے تاثراتی جملے جگہ جگہ نظر آجاتے ہیں۔ تاثراتی تنقید اپنی اسی محدودیت کی وجہ سے بیشتر محاسنِ شعری کے بیان تک محدود رہتی ہے یا اپنی ارفع صورت میں بھی یہ تشریح و توضیح سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
تاثراتی تنقید کے مغربی اصولوں کے مطابق مواد اور ہیئت پر توجہ دیئے بغیر صرف ادیب کی شخصیت کی بنیاد پر فن پارے کے حسن و قبح کا فیصلہ کرنا تاثراتی تنقید کہلاتا ہے۔ اس ضمن میں تاثراتی تنقید کے نظریہ ساز والٹر پیٹر کی رائے بھی ملاحظہ فرمالیں؛ ”تنقید نگار کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ وہ فن پارے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھے اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کردے۔“ علاوہ ازیں یورپ میں تاثراتی نقادوں کا خیال تھا کہ کسی ادبی تخلیق کے مطالعے سے نقاد کے دل و دماغ اور اس کے شعور پر جو تاثرات مرتب ہوتے ہیں ، انھیں لفظوں میں سمودیا جائے اور یہی حقیقی تنقید ہے۔ مغرب میں تاثراتی تنقید کی یہ تحریک جے ۔ای اسپنگر کے خیالات سے متاثر رہی۔ اس کا کہنا تھا کہ داخلیت اور جذباتی و تاثراتی سطح ہی تنقید کا صحیح معیار ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:
” کسی فن پارے کو دیکھ کر جو جذبات و احساسات دل پر طاری ہوتے ہوں ان کو ہو بہو بیان کردینا تاثراتی دبستان سے تعلق رکھنے والے نقاد کے نزدیک تنقید نگاری کا سب سے بڑا منصب ہے۔“
فراق کی تنقیدی تحریریں بھی مذکورہ بالا خصوصیات سے مبرا نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے فراق کی تنقید اور تنقیدی فیصلے بیشتر صورتوں میں ایسے تاثرات پر مبنی ہوتے ہیں جن کی جڑیں بچپن کی یادوں میں پیوست ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ تحریریں ملاحظہ ہوں:
” ایک زمانہ ہوا جب میں نے مولوی اسمعیل میرٹھی کی مرتب کردہ کتاب ” تزکِ اردو“ میں جو میرے نصاب میں تھی غالباً پہلے پہل مصحفی کا نام دیکھا اور سنا۔ اب میرے جذبات کا حال سنیے، سب سے قابلِ توجہ بات تو یہ تھی کہ مصحفی کا تخلص وہ لفظ تھا جس کی صورت و صوت نے فوراً مجھ پر اپنی دلکش انفرادیت کا اثر ڈالا۔“
” مجھے بچپن سے نہ جانے کیوں ذوق کا کلام نا پسند تھا۔ “
” میں نے بھی اور شاید آپ نے بھی سات آٹھ برس کی عمر میں پہلے پہل حالی کا نام سنا ہوگا۔“
کچی عمر کے ناپختہ تاثرات سے اس طرح Conditionedہوکر کوئی تنقیدی نکتہ پیدا کرنا ظاہر ہے تقریباً نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراق گورکھپوری کی تنقیدی تحریریں ہمیں کوئی راہ نہیں سجھاتیں ، کسی منزل کا پتہ نہیں دیتیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اندھیری رات میں یہاں وہاں چمکتے ہوئے جگنوﺅں کی مانند ان کی تحریروں میں بصیرت سے پُر جملے ایک ایسا جمالیاتی تاثر قائم کرتے ہیں جس کا سحر ہمارے ذہنوں پر تادیر قائم رہتا ہے۔
٭٭٭

مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

2 ZabaneN, 2 SHAIR, 1 Khayal

Articles

دو زبانیں، دو شاعر، ایک خیال

ڈاکٹر ذاکر خان

اردو اور انگریزی شعر و ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد دو باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں کہ اردو شعر وادب نے انگریزی شعر وادب کو اور انگریزی شعر و ادب نے اردو شعر و ادب کو نہ صرف متاثر کیا ہے بلکہ اس کی آبیاری کے لیے مناسب ماحول بھی فراہم کیا ہے۔دونوں ہی قسم کے شعر و ادب میں بے شمار مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی اس قسم کے شکوک و شبہات بھی ابھرنے لگتے ہیں کہ ایک زبان وادب کے فنکار نے دوسری زبان و ادب کے فنکار کی یاتو نقل کی ہے یا ادبی سرقہ کیا ہے۔کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دو مختلف زبانوں کے فنکار ایک دوسرے کے فن اور شخصیت سے بالکل ہی ناآشنا ہوں مگر دونوں کے فن میں یکساں محرّکات کارفرما ہوں، یکساں خیالات و افکار کا سیلان ہو، یکساں حالات کی عکاسی کی گئی ہو۔حقیقت یہ بھی ہے کہ انیسویں صدی تک اردو شعراء، انگریزی شعر و ادب سے تقریباً نابلد تھے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ غیر منقسم ہندستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت کے جذبات نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے تھے۔ان حالات میں ہندوستانیوں کی انا اور عزتِ نفس کبھی انہیں انگریزوں کی نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اسی طرح انگریزی ادب بھی احساسِ برتری کا شکار تھا پھر وہ کس طرح غلام ہندوستانیوں کے خیالات و افکار کی ہو بہو نقل کرتا؟لیکن اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ فورٹ ولیم کالج کے توسط سے اردو شعر و ادب انگریزوں تک برابر پہنچ رہا تھا۔اسی طرح دوسری جانب سرسید، حالی اور آزاد کی کوششوں سے انگریزی خیالات و افکار کی درآمدگی سہل ہوچکی تھی۔ کرنل ہالرائڈ اپنے مشن میں لگے ہوئے تھے اور اقبال آرنالڈ سے متاثر ہوچکے تھے۔ ان حالات میں اردو کے انگریزی پر اثرات اور انگریزی کے اردو پر اثرات مکمّل نہ سہی، کم کم، ہی پڑنے لگے تھے۔
الفاظ اور خیالات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ، ان ہی دونوں کے اختلاط سے فن پاروں کا جنم ہوتا ہے۔شاعری ایک ایسی صنف ہے جو شاعر کو خوابوں میں بھی کافکا کی طرں جھنجوڑتی ہے، ایلیٹ کی طرح سوچنے پر مجبور کرتی ،ورڈس ورتھ کی طرح خوبصورت نظاروں کی سیر کراتی ہے۔اور کولرج کی طرح چبھتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرواتی ہے۔یہی چبھتے ہوئے جذبات، اسٹیفن گل اور فراق گورکھپوری کی شاعری پر مبنی میرے مقالے کی اساس ہیں۔
فراق کا جنم گورکھپور میں ہوا جبکہ اسٹیفن گل پاکستان میں پیدا ہوئے ہندوستان میں پرورش پائی اور کنیڈا میں سکونت اختیار کی۔ فراق کی طرح اسٹیفن گل بھی شاعر اور نقاد ہیں ۔آپ تقریباً ۰۲ کتابوں کے مصنف ہیں جس میں ناول ، تنقید اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ گلِ نے اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی میں شاعری کی ہے۔ ان کی نثر اور نظم دونوں کو ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار پبلشر شائع کرچکے ہیں۔ہند و پاک کے مختلف گلوکاروں نے آپ کی شاعری کو اپنی آواز دی ہے۔
فراق اور گِل دونوںنے اپنی شاعری کی ابتدا بچپن ہی سے کردی تھی۔گل نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنی شاعری کی اساس بنایا ہے۔کے کے سری واستو دونوں کے ساتھ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
“گل نے میرے پہلے مجوعہ کلامIneluctable Stilnessکی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری شاعری میں جینت مہاپاترا کو پاتا ہوں جبکہ فراق نے ملاقات کے وقت مجھ سے کہا تھا کہ کبھی یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کے درمیان رہو جو تمہارے برابر نہ ہو تب بھی اس طرح کا برتاﺅ کرو کہ وہ تمہیں اپنے برابر نظر آنے لگے۔ فراق اپنی اس عظمت سے واقف تھے”
وہ کہتے ہیں کہ
اب اکثر چپ چپ سے رہے ہیں، یوں کبھی منہ کھولے ہیں
پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولے ہیں
اسٹیفن گِل کبھی فراق کی طرح کھل کر سامنے نہیں آئے، ان کی شاعری پوری انسانیت پر چھائی ہوئی اداسی، مایوسی اور حسرت کی ترجمان ہے۔وہ جذبات کی گہرائی تک پہنچ کر انہیں آشکار کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ
storms hid the glow with dust
when the albatross of violence
flies over the flower
(You are not There)
جنگ جدید تہذیب و تمدّن کے ماتھے پر موجود ایک بدنما داغ ہے، فراق اور گِل دونوں بھی ہمیںجنگ اور اس کی تباہ کاریوں پر فکر مند نظر آتے ہیں۔دونوں ہی جنگ کو ایسی لعنت ملامت تصور کرتے ہیںجس کے چلتے فرار کے سوا کوئی دوسری راہ نہ ہو
فراق کہتے ہیں
کاریگر، مزدور کسان
کھریال اور بگرل جوان
کاندھے سے کاندھا جوڑیں گے
دنیا پر دھاوا بولیں گے
(نئی دنیا)
دوسری جگہ فراق کچھ یوں گویا ہوتے ہیں کہ
تیرے لیے دنیا ہے، دنیا کے لیے تو ہے
ہاں خود پر نظر کر کے دنیا پر نظر کر
(ہاں اے دل افسردہ)
جب جنگ چھڑی دیشوں میں
جو بھی پڑی ہم پر ہی پڑی
بھس میں چنگی دے کر ساتھی
دیکھ جمالو دور کھڑی
(مزدوروں کاریگروں شپکاروں کی للکار)
اسٹیفن گل اس سے آگے بڑھ کر وحشیوں اور درندوںکو امن قائم کرنے دعوت دیتے ہیں۔اس سے ان کی اندرونی تڑپ کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک جنگ زدہ حالات بدلنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں
let us ask all beings
even the beast
give us their hands
let us not surrender
(Seekin the Dove of Peace)
کبھی وہ کہتے ہیں کہ
When
harmony was fused
into my mind, soul heart
and every other organ of the body
the human was created (When)
for which of those sins
offences and crime
have we lost the time to breathe
no hope, no spark
to own own your tranquil eyes (Hramony and Peace)
ہند پاک جنگ کے تناظر میں فراق نے کہا تھا کہ
ہم نے تم نے اپنی ہی بیٹیوں کا سہاگ مٹایا
اپنے بیٹوں کو خود ہی
کیا ہے یتیم
بھائی نے بھائی کے خون سے ہولی کھیلی
کیا ہمیں مل گیا گیا تمہیں مل گیا
ان ہی خیالات کو اسٹیفن گل کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ
if the nuclear bombs drop
will the dawn be born again
will the players play again
will the children swim again
تشدّد ان دونوں شعراءکو اس قدر کچوکے لگاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح کے اشعار کہنے سے روک نہ سکے
صدیوں کے بنے کام بگڑ جائیں گے
دھرتی پر عالم موت کے گر جائیں گے
اسٹیفن کہتے ہیں
the willful ghosts of sorrow
have not dissolved
nor have the fogs of ignorance
will float over the cold tombs
rather
they have grown in strength
in the gloom of violence
(New Year)
ان ہی خطوط پر T.S. Eliotکہتا ہے کہ
“گزشتہ سال کے الفاظ کا تعلق گزشتہ سال کی زبان سے ہوتا ہے، آئندہ سال کے الفاظ کسی دوسری نئی آواز کے منتظر ہوتے ہیں”
آفاقی شاعر ہونے کے ناطے اسٹیفن گل کو کسی ایسے نظام کی تلاش ہے جو سماج و معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو ختم کردے۔ وہ ایسی آواز کی حمایت کرتا ہے جسے پوری دنیا میں سنا اور سمجھا جا سکے۔وہ آواز امن اور محبت کی آواز ہو۔ وہ آواز بین الاقوامی اتحاد کی آواز ہو۔ گل کی نظمیں مختلف معنی و مفاہیم کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف النّوع جذبات کی ترسیل کا کام انجام دیتی ہیں
فراق اور گل دونوں کا شمار شاعرِ امن آشتی اور شاعرِ محبت و انسانیت میں ہوتا ہے۔دونوں ہمیں عوام الناس کے آپسی اتحاد کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔دونوں کی شاعری میں جذبات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دونوں ہی اپنی شاعری میں ماں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فراق اپنی نظم “جگنو “میں کچھ یوں کہتے ہیں کہ
وہ ماں جو دودھ بھی اپنا مجھے پلا نہ سکی
وہ ماں جو ہاتھ سے اپنے مجھے کھلا نہ سکی
وہ ماں جو میرے لیے تتلیاں پکڑ نہ سکی
جو بھاگتے ہوئے میرے بازو پکڑ نہ سکی
ان ہی یادوں کو گل کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں
images of sacrifice
message of hope
you are highly prized
the gift of this life
I owe to you
اکثر و بیشتر محبوبائیں تنہائی میں شعراءکے تخیّل پر وارد ہوتی ہیں۔ ان ہی کے جلوے کبھی تخلیقات میں اور کبھی تخلیقات سے پرے نظرآتے ہیں۔لیکن محبت کا حلقہ شاعری میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔فراق اور گل نے بھی اپنی تنہائی کے لمحات اپنی اپنی شاعری میں پیش کیے ہیں۔ دونوں کے جذبات کی مماثلت قارئین کو چونکا دینے والی ہے۔
فراق کہتے ہیں
وہ چپ چپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شبِ ماہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے کسمسانے کی راتیں
گل نے اسی خیال کو کچھ یوں باندھا ہے
In the ruin of lonesome hours
she knocks
at the doors of my dreams
and shyly sits
beside me (Haunting Melody)
نظم “ہنڈولا “میں شعور کی رو میں بہتے ہوئے فراق اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے فراق کے خواب بکھر گئے ہوں ، خواب خواب نہ بلکہ فریب نظر ہوں
مجھے گماں پرستانیت کا ہوتا تھا
ہر چیز کی وہ خواب ناک اصلیت
مرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئی
لیے ربوبیتِ کائنات کا احساس
ہرایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپ
ہراک نظارہ اک آئینہ خانہ¿ حیرت
گل، فراق اور D.H. Lawrenceکی طرح پریوں کی دنیا میں سیر کرتے ہوئے شخص اور کائنات کے درمیان کا ربط تلاش کرتے ہوئے کہتا ہے
I wish to harvest
a ripened manna of wonders
of the youthful bloom
for the courtof enlightenment
to vakidatethe claim
those outgrowths
from diversityof landscape
stem from the cosmic order
of the same source
(To Be)
گل جمہوری طرز حکومت کے حامی تھے وہ کہتے ہیں کہ
I am aware of the dangers
from the east and the west
I know I am surrounded
by the demons of repression
اسی انداز میں فراق سوشلزم کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
وہ علم کیا جو ضامنِ فردہ نہ ہو سکے
جو آئینے میں آج کے کل کو نہ دیکھ لے
Mathew Arnold نے کہا تھا کہ شاعر کو سمجھنے کے لیے شاعرانہ دل چاہیے۔ Walt Whitman کہتا ہے کہ اچھے شاعر پیدا کرنے کے لیے اچھے قارئین کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ ممکن ہو تب ہی قارئین اسٹیفن گل اور فراق کی شاعری سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ دونوں کی شاعری انسانی جذبات، خواہشات اور یاداشت کی ترجمانی کرتے ہوئے، Benedict De Spinoza کی طرح اتحاد کی تبلیغ کرتے ہوئے لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عظیم اذہان، ذات پات، سماج و معاشرہ، زبان و ادب، ملک ملّت، اور علاقوں سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بھلائی کے لیے یکساں خطوط پر سوچ سکتے ہیں


مضمون نگار نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Firaq ki Infradiat by Abdulbari Qasmi

Articles

فراق کی انفرادیت

عبد الباری قاسمی

بیسویں صدی کو ادب داں طبقہ تحریکات و رحجانات کی صدی سے تعبیر کرتا اور جانتاہے انیسویں صدی میں ادب کی فضا بالکل مختلف تھی ، مگر جوں ہی اس کا اختتام ہواا ور عقلیت پسندی کارحجان بڑھنے لگا خود بخود نئی نئی تحریکیں معرض وجود میں آنے لگیں، ان تحریکات کا اثرادب کے تمام ہی اصناف پر ہوا خواہ شاعری ہو یا نثر، اسی دور میں غزل کی کوکھ سے جدید غزل کی پیدائش ہوئی اور اہل علم کے طبقہ نے ہر چیز میں جدت و ندرت تلاش کرنے میں مصروف رکھنے کو ہی قابلیت اور مہارت کا معراج سمجھنا شروع کیا ، اسی انیسویں صدی کے اختتام سے چند سالوں قبل گھورکھ پرساد عبرت کے لکشمی منزل میں رگھوپتی سہائے فراق نے آنکھیں کھولیں ، فراق کی زندگی گلہائے رنگارنگ سے مزین رہی ہے، اگر ہم فراق کا جائزہ لیں تو ان کی زندگی ہر سطح اور ہر باب میں منفرد دکھائی دیتی ہے خواہ ان کی شاعری کا مطالعہ کریں یا ان کی نثر کاجا ئزہ لیں ، ان کی داخلی زندگی کو دیکھیں یا ان کے خارجی معاملات کو ان کی انفرادیت ہر جگہ مسلم نظر آتی ہے، فراق کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری میں کئی زبانوں ، کئی تہذیبوں اور کئی تحریکات کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے اور ان سب کے حسین امتزاج سے ان کی شاعری کی جودنیا آباد ہوتی ہے وہ انہیں بالکل مختلف اور منفرد مقام پر کھڑا کر دیتی ہے ، فراق کی شاعری کا بنیادی رنگ اور موضوع حسن و عشق ہے مگر جہا ں ان کی شاعری میں خاص طور پر غزل گوئی میں حسن پرستی اور انسان دوستی کے اعلیٰ نمونے اور قدریں ملتی ہیں تو وہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پر چھائیں بھی باہیں دراز کیے ہوئے استقبال کرتی نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ جدید غزل گو شعرا میں فراق کا نام کافی اہمیت سے لیا جاتا ہے ویسے تو فراق غزلوں میں روایت کی پاسداری اور انحراف دونوںکا عکس دکھائی دیتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں عشق ، معاملات عشق، جسم و جنس کا تصور، اشتراکی رنگ، خوبصورت ہندوستانی دیومالائی عناصر سے مزین تشبیہات وا ستعارات ، ڈرامائیت، تجسیم کاری، معنیٰ آفرینی، رعایت لفظی اور کائنات کے حسین مناظر ان تمام چیزوں کو اس خوبصورتی سے غزل کا حصہ بنایا ہے کہ خود بخود ان کی شاعری ایک نئی جہت سے آشنا ہوگئی ہے ، فراق کے فکروفن دونوں اعتبار سے انفرادیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کی تشکیل میں مشرق کی نرمی اور روحانیت اور مغرب کی جدت و آفاقیت دونوں ساتھ رہی ہیں اور انہیں دونوں کے امتزاج سے ان کی شاعری ایک نئی لے اور لہجہ سے آشنا ہوتی ہے فراق فارسی اردو ، انگلش اور ہندی جاننے کے ساتھ ساتھ سنسکرت پر بھی اچھی گرفت رکھتے تھے ، اس لیے ان کی شاعری میں ان تمام ہی زبانوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیںا ور ان کی انفرادیت صرف غزل گوئی ہی میں نہیں بلکہ نظم نگاری ، رباعی نگاری، خطوط نگاری، تنقید نگاری، دوہے اور چھند وغیرہ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
فراق کی شاعری©: فراق گورکھپوری کو تو شاعری ورثہ ہی میں ملا تھا ؛اس لیے کہ ان کے والد گورکھ پرساد عبرت بھی شاعر تھے ۔”حسنِ فطرت“ نام سے ان کی مثنوی مشہور ہے۔ اس لیے بچپن سے ہی شاعری کا مزاج تھا ، مگر فراق نے باضابطہ شاعری 1918ءاور 1919ءکے درمیان شروع کی۔ اس وقت داغ اور امیر مینائی کا ہر طرف شہرہ تھا، اس لیے فراق نے بھی امیر مینائی کے شاگردوسیم خیر آبادی کو غزلیں دکھا نا شروع کیا ، اس کے بعد ریاض خیر آبادی اور پروفیسر مہدی حسن ناصری سے بھی اصلاحیں لیں، اصل ان کی شاعری میں انقلاب 1920ءمیں آیا جب پنڈت نہرو کے ساتھ گرفتار کر کے انہیں آگرہ جیل بھیج دیا گیا تھا چوں کہ جیل جانے والے لوگوں میں بڑے بڑے ادیب ، شعرا اور دانشور حضرات تھے ، اس لیے موقع پاکر جیل میں ہی مشاعرے ہونے لگے اورفراق کی شاعری ایک نئے انداز اور نئے لہجے سے متصف ہونے لگی ، اس سے ان کی شاعری اور نکھرتی ہی چلی گئی اور انہوں نے شاعری کو روایت سے لے کر انحراف تک کا سفر کر ایا یہی وجہ ہے فراق کی شاعری میں میر، حسرت اور دیگر شعراکا بھی رنگ نظر آتا ہے اوران کا رنگ ناصر کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی جیسے جدیدیت کے شعراپر بھی دیکھنے کو ملتا ہے، فراق نے غزل گوئی کے علاوہ نظم نگاری، رباعی نگاری، دوہے اور چھند بھی کہے ہیں اور شاعری کی ہر صنف میں ان کی آواز کو پہچانا جا سکتا ہے۔
فراق کی غزل گوئی: فراق گورکھپوری نے ویسے تو شاعری کے مختلف اصناف کو برتا اور اِس میں طبع آزمائی کی ہے، مگر وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل گو شعرا میں بھی ان کا شمار ان شعرامیں ہوتا ہے جہنوں نے اپنی خلاقانہ ذہنیت ،بے انتہا علوم اور حساس مزاجوں کو استعمال کر کے غزل میں نئے نئے گوشوں کا اضافہ کیا، ان کی غزلوں میں مشرقی لے بھی نظر آتی ہے اور مغربی بھی، انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں آزادی کے بعد کے ہندوستانی فضا کی عکاسی جس خوبصورتی سے کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ اسلوب احمد انصاری جیسے ناقد نے انہیںہندوستان کی نشا¿ة ثانیہ کا ایک ممتاز نمائندہ قرار دیا ، سید محمد عقیل رضوی نے عہد آفریں ، مظہر امام نے کلاسیکی غزل کا آخری بڑا شاعر، رشید احمد صدیقی نے اردو غزل کا رمز آشنا، فتح محمد ملک نے جنوبی ایشیا کی تہذیبی دنیا میں معقولیت کی سب سے توانا آواز اور حسن عسکری نے نئی آواز سے تعبیر کیا، اس کے علاوہ بھی کچھ حضرات نے ا مام المتغزلیں اور خاتم المتغزلیں کے بھی خطاب سے فراق کو سر فراز کیا۔ پروفیسر شمیم حنفی صاحب نے فراق کے غزل کی تعداداور مقام پر اس انداز سے تبصرہ کیا ہے کہ
”1965 میں فراق صاحب نے اپنی غزلوں کا ایک اشاریہ بنوایا تھا ، اس اشاریہ کے مطابق 1965ءتک فراق صاحب نے کل چھ سو چوبیس غزلیں کہیں تھیں، 1965ءکے بعد سے 1982ءیعنی فراق صاحب کے سال وفات تک اس تعداد میں کم سے کم سو غزلوں کا اور اضافہ کر لیجیے یعنی کہ تقریباََ سو ا سات سو غزلیں ان میں زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس غزلیں ایسی ہوں گی جنہیں فراق صاحب کے واسطے سے نئی حسیت کا ترجمان قرار دیا جا سکے“(۱)
فراق کی غزلوں میں میر کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کے معاصرین شعرامیں حسرت، اصغر، جگر ، فانی اور یگانہ کا بھی، فراق کی نرمی، حلاوت، احساس کی گرمی اور جذبات کی آہستگی انہیں میر سے قریب کر دیتی ہے
بات بھی پوچھی نہ جائے گی جہاں جائیں گے ہم
تیری محفل سے اگر اُٹھے کہاں جائیں گے ہم
اس کے علاوہ ان کی غزلوں کی دوسری سب سے اہم خصوصیات ہیں کہ ان کی غزلوں میں مشرقی اور مغربی دونوں مزاجوں کا زبردست امتزاج ملتا ہے، اس لیے کہ جہاں وہ انگریزی شعرا شیلی، ورڈس ورتھ، اور کیٹس وغیرہ سے متاثر ہیں وہیں سنسکرت شاعری، سنسکرت تہذیب ، کلاسیکی اور جمالیاتی روایت پر بھی گہری نگاہ ہے، بلکہ فراق کی لفظیات ، استعارات، تشبیہات و کنایات کو سمجھنے کے لیے فارسی، اردو ، ہندی ، سنسکرت، انگریزی اور بھوجپوری کو بھی اچھی طرح جاننا ضروری ہے۔جذبات کی عکاسی کس خوبصورتی سے اس شعر میں کیا ہے
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق تو فیق ہے گناہ نہیں
فراق کی غزلوں کا رنگ ہی منفرد ہے، ان کا محبوب جہاں گوشت پوست والا انسان ہے، وہیں ان کی غزلوں میں تشبیہات وکنایات اور استعارات بھی روایتی اور تہذیبی ہیں، غرض انہوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے غزلوں میں ڈھال دیا ہے، ان کے یہاں سادگی بھی ہے اور روایت سے خوبصورتی سے انحراف، تحریکات کے اثرات بھی ہیں اور محبوب سے جدائی کے جذبات بھی۔
فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ: ویسے تو اگر ہم فراق کی غزلوں کو بغور پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ابتداہی سے وہ روایت سے انحراف کی کو شش کر رہے ہیں، مگر ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ دیکھنے کو خوب ملتا ہے، پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ
”فراق کلاسیکی اردو شاعری کا گہراثر رکھتے تھے ان کی ذہنی اور فنی تربیت میں کلاسیکیت کا بہت بڑا ہاتھ تھا “(۲)
وحید اختر نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
”فراق کی غزل کلاسیکی روایت کاعطر مجموعہ ہے،ان کی شمع سخن میں تمام اساتذہ کی آوازیں روشن ہیں “ (۳)
ابولکلا م قاسمی صاحب نے ہلکی سی الگ رائے قائم کی ہے۔
”فراق کے شعر میں بلا شبہ میر کے شعر کی بازگشت بھی موجود ہے مگر میر کے شعر میں محبوب کو ساری خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنے پر اصرار ہے جبکہ فراق محبوب کے منفرد اور آزاد و جود کی اہمیت کو واضح کر نا چاہتے ہیں۔“ (۴)
دیکھ پھر حسن کے محاسن کو
حسن کی پہلے ہر برائی دیکھ
اس شعر میں میر کو محسوس کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی نے سودا کے نزدیک قرار دیا تو کچھ لوگوں نے مومن کے اسکول کانمائندہ قرار دیا،مگر یہ حقیقت ہے کہ فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ نمایاں ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ فراقنے احساسات ، تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ایک الگ راہ نکالی۔
تشبیہات واستعارات: فراق کی غزلوں میں تشبیہات و استعارات بھی دکھائی دیتے ہیں اور کمال ہے کہ فراق کے تشبیہات و استعارات اور تلمیحات میں بھی ہندوستانی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے۔
دلوں میں تیرے تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اُٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
فراق عام طور پر رات، شب ، سناٹا، روشن وغیرہ الفاظ کو بطور تشبیہ خوب لاتے ہیں بلکہ رات“ کا تصور رتو اس قدر تنو ع سے ان کی شاعری میں ہے جس سے انداز ہوتا ہے کہ رات میں کبھی انہیں نیند ہی نہ آتی ہو
غزل کے ساز اُٹھاو¿ بڑی اداس ہے رات
نوائے میر سناو¿ بڑی اداس ہے رات
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
اسلوب احمد انصاری نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
” فراق کی تشبیہیں روایت سے کم اور ذاتی مشاہدہ سے زیادہ قریب ہیں “
ان اقتباسات سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ فراق کس طرح کے تشبیہات و استعارات کا انتخاب کرتے ہیں۔
پیکر تراشی: لفظوںکی مدد سے شاعری میں تصویر سازی کے ہنر کوپیکر تراشی سے تعبیر کیا ہے ، اس باب میں بھی فراقنے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں
سفید پھول زمیں پر برس پڑیں جیسے
فضا میں کیف سحر ہے جدھر کو دیکھتے ہیں
آگئی باد بہاری کی لچک رفتار میں
موج دریا کا تبسم بس گیا رخسار میں
رومانیت: فراق انگریزی شعرا شیلی ، ورڈس ورتھ، کیٹس اور ٹینس وغیرہ کو خوب پڑھتے تھے، اس لیے انگریزی شاعری والی رومانیت فراق کی غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، مگر اس باب میں بھی فراق کی ایک انفرادیت ہے کہ وہ انگریزی شاعری کے مناظر فطرت اور رومانیت کو ہندوستانی تہذیب میں ڈھال کر بڑی خوبصورتی سے پیش کر تے ہیں
زندگی کیا ہے اس کو آج اے دوسست
سوچ لیں اور اداس ہوجائیں
مہر بانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جابھی نہیں
موضوعات: فراق کی غزلوں کے بنیادی موضوعات حسن و عشق،انسانی جذبات و کیفیات اور جسم و جمال کی لطافتیں ہیں وہ اپنے عمدہ اور لطیف تخیل کے ذریعہ غزلوں میں ایسا رنگ بھر دیتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا
ذرا وصال کے بعد آ ئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
عشق: عشق اور معاملات عشق کا تعلق شروع سے ہی شاعری سے رہا ہے، مگر فراق کا عشق وہ ہے جو ذاتی حادثات و تجربات کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور جلد ہی انسانیت کے عشق میں ڈھل جاتا ہے، پروفیسر ممتاز حسین نے لکھا ہے کہ
” وہ (فراق) بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ میں ان چند گنے چنے شعرامیں تھے جنہوں نے اردو شاعری کے رخ کو اس کے پیش پافتادہ وہ عشقیہ شاعری سے ایک نئی شاعری کی طرف موڑ دیا جو حیات آفریں کو منقلب کرنے والی ہے۔“(۶)
ہزار بار زمانہ ادھر سے گذرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تری رہ گزر پھر بھی

عشق کی آگ ہے وہ آتش خود سوز فراق
کہ جلا بھی نہ سکوں اور بجھا بھی نہ سکو ں
محبوب: دیگر کلاسیکی شعراکی طرح فراق کے محبوب میں حقیقی و مجازی کا کوئی اختلاف نہیںہے، بلکہ ان کا محبوب خالص مجازی اسی دنیا میں رہنے ولا گوشت پوشت کا انسان ہے، فراق کو ہر وقت وصل کا غم دامن گیر رہتا ہے اور اسی وجہ سے ایسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ وصل میں بھی انہیں محرومی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔
رات آدھی سے زیادہ گئی تھی سارا عالم سوتا تھا
نام تیرا لے لے کر کوئی درد کا مارا روتا تھا
جسم وجنس: فراق نے جسم و جنس کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ میں ڈھال کرغزل میں پیش کیا ہے، یہ فراق کی ہی انفرادیت ہے، فراق نے جسم سے کائنات اور عشق سے عشقِ انسانیت کا سفر لاجواب انداز سے طے کیا ہے
ایک مدت سے تری یادبھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
ہندوستانی تہذیب کی عکاسی : فراقایک سچے محب و طن اور اپنی تہذیب سے بے انتہا محبت کرنے والے انسان تھے ، اس لیے ان غزلوں میں ہندوستانی تہذیب اوررنگ کافی نما یاں ہے خود انہوں نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ”ہندوستانی تہذیب میری غزلوں میں عشقیہ جذبات اور احساس کی نزاکتوں اور نرمیوں کا لہجہ اختیار کر لیتی ہیں۔“ اسی پہلو کو دوسری جگہ فراق نے اس انداز سے بیا ن کیا ہے کہ
” میرے و جدان پر عمر بھر ہندوستان کے قدیم ترین اور پاکیزہ ترین ادب اور دیگر فنون لطیفہ اور نظریہ¿ زندگی کا گہرے سے گہرااثر رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ بہترین فارسی شاعری، اردو شاعری ، انگریزی شاعری کے بہترین نثر و نظم کا ادب فلسفہ، اشتراکیت کی فکر یات قدیم و جدید ، یورپ کے ثقافتی خزانوں کے اثرات بھی میری غزل پر اثرا نداز ہوتے رہے ہیں میں نے اپنی غزلوں میں یہ چاہا ہے کہ اپنے ہر اہل وطن کو ہندوستا ن کے مزاج کا روح عصر اور صحت مند تصور دے دوں، میں نے یہ چاہا ہے کہ میری شاعری دھرتی کی شاعری ہے۔“(۷)
اشتراکی رنگ: فراق نے جب شاعری کی ابتدا کی تھی تو داغاور امیر کا زمانہ تھا، مگر جب عروج کا زمانہ آیا تو اشتراکی اور ترقی پسند تحریک کی شروعات بڑے زوو شور سے ہوئی، فراق بھی اس تحریک سے وابستہ ہوگئے اور شاعری کو قومیت کے نئے زنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی
زندگی کو بھی منھ دکھانا ہے
رہ چکے تیرے بے قرار بہت
بعد کے شعراپر فراق کا رنگ: جس طرح فراق نے کلاسیکی شعر اکے اثرات قبول کیے فراق کے بعد آنے والے جدید شعرا نے بھی فراق کے اثرات قبول کیے جن میں ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی اور شاذ تمکنت وغیرہ کے نام اہمیت سے لیے جاتے ہیں۔
ناصر کاظمی
تو کون ہے ترا نام ہے کیا
کیا سچ ہے کہ تیرے ہوگئے ہم
خلیل الرحمن اعظمی
ایسی راتیں بھی ہم پہ گزریں ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
ساقی فاروقی
وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے
جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا
حرفِ آخر: فراق زندگی ، فکر اور فن دونوں اعتبارسے تمام ہی چیزوں میں انفرادیت رکھنے والے شاعر ہیں، ان کی شاعری میں مشرق و مغرب دونوں مزاج کا حسین امتزاج ملتا ہے، انہوں نے کلاسیکی شعراکے اثرات قبول کیے اور اس سے انحراف کر کے ایک نئی راہ بھی نکالی ، گرچہ خلیق انجم صاحب نے کہا ہے کہ ” ان کے سامنے کوئی واضح راہ نہیں تھی“چوں کہ فراق بیک وقت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ہندوستانی تہذیب، مناظر قدرت، فطرت انسانی، زبان و ساز اور انگریزی، ہندی، فارسی ،اردو ، سنسکرت سے مل کر ایک نئی تہذیب ان کی شاعری میں رچ بس رہی تھی انہوں نے ان تمام چیزوں کو ملا کر اپنی ایک منفرد آواز بنائی ، فراق کا شمار ان جدید غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کو جدت و ندرت اور نئے آواز و آہنگ سے آشنا کیا ۔ فراق کا کمال ہے کہ انہوں نے حسن و عشق اور جسم و حسن کو بھی احساسات و ادراک میں ڈھال کر ایک نئے اور اچھوتے انداز میں پیش کیا، ان کی شاعری میں ترقی پسند تحریک اور دیگر رحجانات اور ہندوستانی دیومالائی عناصر کا بھی رنگ دکھاتی دیتا ہے، انسان دوستی کاجذبہ بھی فراق کامنفرد ہے۔ انہوں نے غزل میں بہت سی خوبصورت تشبیہات و استعارات، علائم اور لفظیات پیش کیے جس کی نظیر یں ملتی۔ ان کی شاعری میں ڈرامائی عناصر بھی بہت خوبصورت نظر آتا ہے
تارے بھی ہیں بیدار زمیں جاگ رہی ہے
پچھلے کو بھی وہ آنکھ کہیںجاگ رہی ہے
……………………………………..
حوالہ جات
(۱) فراق دیار شب کامسافر شمیم حنفی جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛ ۱۵۱
(۲)فراق دیار شب کامسافر پروفیسر عتیق اللہ جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛۴۰۱
(۳) ص؛۵۰۱
(۴)شاعری کی تنقید ابوالکلام قاسمی ص؛۱۰۱
(۵)فراق گورکھپوری اسلوب احمد انصاری مجموعہ¿ مضامین انجمن ترقی اردو دہلی
(۶)فراق اور فراق کی شاعری پروفیسر ممتاز حسین
(۷)آج کل دہلی فراق گورکھپوری ص؛۴
(۸)پچھلی رات فراق گورکھپوری ص؛۷
(۹)فراقگورکھپوری ڈاکٹر خلیق انجم انجمن ترقی اردو دہلی ص؛۳۹۱


مضمون نگار شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

abariqasmi13@gmail.com
9871523432

Intekhab – e – Kalam Qabil Ajmeri

Articles

انتخابِ کلا م قابل اجمیری

قابل اجمیری

 

1
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے
عشق انسان کی ضرورت ہے

کچھ تو دل مبتلائے وحشت ہے
کچھ تری یاد بھی قیَامت ہے

میرے محبوب مجھ سے جھوٹ نہ بول
جھوٹ صورت گِر صداقت ہے

جی رہا ہوں اس اعتماد کے سَاتھ
زندگی کو مری ضرورت ہے

حُسن ہی حُسن جلوے ہی جَلوے
صرف احساس کی ضرورت ہے

اُس کے وعدے پہ ناز تھے کیا کیا
اب در و بام سے ندامت ہے

اس کی محفل میں بیٹھ کر دیکھو
زندگی کتنی خوبصورت ہے

راستہ کٹ ہی جائے گا قابل
شوقِ منزل اگر سَلامت ہے

2
حیرتوں کے سلسلے سوزِ نہاں تک آ گئے
ہم نظر تک چاہتے تھے تم تو جاں تک آ گئے

نامرادی اپنی قسمت ، گمرہی اپنا نصیب
کارواں کی خیر ہو ہم کارواں تک آ گئے

ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے ہم فغاں تک آ گئے

زلف میں خوشبو نہ تھی یا رنگ عارض میں نہ تھا
آپ کس کی آرزو میں گلستاں تک آ گئے

رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموشِ عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے

خود تمہیں چاکِ گریباں کا شعور آ جائے گا
تم وہاں تک آ تو جاو¿ ہم جہاں تک آ گئے

آج قابل میکدے میں انقلاب آنے کو ہے
اہلِ دل اندیشہ سود و زیاں تک آ گئے

3
آسودگی شوق کا سَاماں نہ کر سکے
جلوے مِری نگاہ پہ احساں نہ کر سکے

تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیئے
لیکن علاجِ تنگئی داماں نہ کر سکے

آنکھوں سے ٹوٹتے رہے تارے تمام رات
لیکن کسی کو زینتِ داماں نہ کر سکے

شائستہِ نشاطِ ملامت کہاں تھے ہم
اچھا ہوا کہ چاک گریباں نہ کر سکے

اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے
ہم امتیازِ ساحل و طوفاں نہ کر سکے

ہم جانِ رنگ و بو ہیں گلستاں ہمیں سے ہے
یہ اور بات خود کو نمایاں نہ کر سکے

کچھ اس طرح گزر گیا طوفانِ رنگ و بو
غنچے بہار سے کوئی پیماں نہ کر سکے

ہر صبح جاگتا ہوں نئی آرزو کے سَاتھ
غم مجھ کو زندگی سے گریزاں نہ کر سکے

قابل فراقِ دوست میں دل بجھ کے رہ گیا
جینے کے حوصلے بھی فروزاں نہ کر سکے

4
بہاروں کا فسوں ٹوٹا گلستانوں کی نیند آئی
خزاں آئی کہ تیرے چاک دامانوں کو نیند آئی

سُنے کوئی تو سَاحل کا سکوت اب بھی سناتا ہے
ہمیں خاموش کر کے کتنے طوفانوں کو نیند آئی

تِرے ہی حسن کی تابانیوں میں آنکھ کھولی تھی
تِری ہی زلف کے سائے میں ارمانوں کو نیند آئی

یہ اہل بزم کیا خود شمع بھی محروم ہے اس سے
سکونِ دل کے جس عالم میں پروانوں کو نیند آئی

جنوں محوِ تجسس ہے خرد آواز دیتی ہے
نہ جانے کون سے عالم میں دیوانوں کو نیند آئی

ہمارے ساتھ ساری بزم بے آرام ہے سَاقی
صراحی کو سکوں آیا نہ پیمانوں کو نیند آئی

زمانہ دیکھ لے گا اور تھوڑی دیر باقی ہے
ہمیں نیند آ گئی قابل کے طوفانوں کو نیند آئی

5
نئے چراغ لئے شامِ بیکسی آئی
کہ دل بجھا تو ستاروں میں روشنی آئی

جنونِ شوق نے پہنچا دیا کہاں مجھ کو
نگاہِ دوست بھی اکثر تھکی تھکی آئی

ہمارے پاس کہاں آنسو¿وں کی سوغاتیں
کسی کو اپنا بنا کے بڑی ہنسی آئی

جہانِ دار و رسن ہو کہ بزمِ شعر و شراب±
ہمَارے سَامنے اپنی ہی زندگی آئی

تمہَاری یاد کو آرامِ جاں بنایا تھا
تمہَاری یاد بھی لیکن کبھی کبھی آئی

ہزار رنگ دیئے جس نے زندگانی کو
اُسی نظر سے محبت میں سَادگی آئی

مِرے خلوص کا عَالم نہ پوچھئے قابل
شکستِ جَام سے آوازِ زندگی آئی

6
اعتبار نگاہ کر بیٹھے
کتنے جلوے تباہ کر بیٹھے

آپ کا سنگِ در نہیں چمکا
ہم جبینیں سیاہ کر بیٹھے

موت پر مسکرانے آئے تھے
زندگانی تبَاہ کر بیٹھے

شمعِ امید کے اُجالے میں
کتنی راتیں سیاہ کر بیٹھے

صرف عذرِ گناہ ہو نہ سکا
ورنہ سارے گناہ کر بیٹھے

کِس توقع پہ اہل دل قابل
زندگی سے نباہ کر بیٹھے

7
ہم تِری رہگزر میں رہتے ہیں
دونوں عَالم نظر میں رہتے ہیں

تیرے در کا طواف کر کے بھی
فکرِ شام و سحر میں رہتے ہیں

زندگانی کے سب نشیب و فراز
حلقہ چشمِ تر میں رَہتے ہیں

کتنے شعلے سکونِ جَاں بن کر
نرگسِ بے خبَر میں رہتے ہیں

ڈھونڈنے پر کہَاں ملیں گے ہم
راہرو ہیں سفَر میں رہتے ہیں

لاکھ ہم خانماں خراب سہی
حادثوں کی نظرَ میں رہتے ہیں

ایک دن پوچھتی پھرے گی حَیات
اہلِ دل کِس نگر میں رہتے ہیں!

منزلِ زیست کی کشش مت پوچھ
راستے بھی سفر میں رہتے ہیں

صاحبِ درد ہو کے ہم قابل
کوچہ چارہ گر میں رہتے ہیں

8
آپ اپنے رقیب ہوتے ہیں
اہلِ دل بھی عجیب ہوتے ہیں

ہجر کی پُرخلوص راتوں میں
آپ کتنے قرَیب ہوتے ہیں

راحتوں سے گریز ، غم سے فَرار
بعض لمحے عجیب ہوتے ہیں

تم جنہیں عُمر بھر نہیں ملتے
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

اہلِ دانش کے قافلے گمُ راہ
منزلوں کے قریب ہوتے ہیں

گردشیں رک گئیں زمَانے کی
آج دو دل قریب ہوتے ہیں

اُس کے طرزِ کلام سے قابل
کتنے وحشی ادیب ہوتے ہیں

9
وہی اضطراب فراق ہے وہی اشتیاقِ وصال ہے
تری جستجو میں جو حال تھا تجھے پا کے بھی وہی حال ہے

نہ مآلِ زیست کی فکر ہے نہ تباہیوں کا خیَال ہے
مجھے صرف اس کا ملال ہے کہ تمہیں بھی میرا ملال ہے

تری آرزو ہی کا فیض ہے تیری یاد ہی کا کمال ہے
کبھی مجھ کو تیرا خیال تھا مگر آج اپنا خیال ہے

نہیں کوئی راہ نما تو کیا ہے خلاف ساری فضا تو کیا
مجھے فکرِ سو دو زیاں ہو کیوں تری یاد شاملِ حال ہے

ہے جنونِ شوق عجب جنوں نہ خلش خلش نہ سکوں سکوں
کبھی خار وجہِ نشاط ہے کبھی پھول وجہِ ملال ہے

مرا حال آج زبوں ہے کیوں مرا درد آج فزوں ہے کیوں
مرے مہرباں مرے چارہ گر تیری آبرو کا سوال ہے

10
تضادِ جذبات میں یہ نازک مقام آیا تو کیا کرو گے
میں رو رہا ہوں تو ہنس رہے ہو میں مسکرایا تو کیا کرو گے

مجھے تو اس درجہ وقتِ رخصت سکوں کی تلقین کر رہے ہو
مگر کچھ اپنے لئے بھی سوچا میں یاد آیا تو کیا کرو گے

کچھ اپنے دل پر بھی زخم کھاو¿ مرے لہو کی بہار کب تک
مجھے سہارا بنانے والو میں لڑکھڑایا تو کیا کرو گے

تمہارے جلووں کی روشنی میں نظر کی حیرانیاں مُسلّم
مگر کسی نے نظر کے بدلے دل آزمایا تو کیا کرو گے

اتر تو سکتے ہو پار لیکن مآل پر بھی نگاہ کر لو
خدا نہ کردہ سکونِ ساحِل نہ راس آیا تو کیا کرو گے

ابھی تو تنقید ہو رہی ہے مرے مذاقِ جنوں پہ لیکن
تمہاری زلفوں کی برہمی کا سوال آیا تو کیا کرو گے

ابھی تو دامن چھڑا رہے ہو ، بگڑ کے قابل سے جا رہے ہو
مگر کبھی دل کی دھڑکنوں میں شریک پایا تو کیا کرو گے

11
ترے دیار میں ہم سر جھکائے پھرتے ہیں
نگاہِ ناز کے احساں اٹھائے پھرتے ہیں

کسی کی زلف پریشاں کسی کا دامن چاک
جنوں کو لوگ تماشا بنائے پھرتے ہیں

خیالِ منزل جاناں تری دہائی ہے
ابھی نگاہ میں اپنے پرائے پھرتے ہیں

قدم قدم پہ لیا انتقام دنیا نے!
تجھی کو جیسے گلے سے لگائے پھرتے ہیں

تمہیں خبر بھی ہے یارو کہ دشتِ غربت میں
ہم آپ اپنا جنازہ اٹھائے پھرتے ہیں

نئی سحر کے اجالے بھی اجنبی نکلے!
نگاہِ شوق سے دامن بچائے پھرتے ہیں

جہاں میں آج اندھیروں کا بول بالا ہے
ہم آستیں میں ستارے چھپائے پھرتے ہیں

فراقِ دوست سلامت کہ اہل دِل قابل
نفس نفس کو زمانہ بنائے پھرتے ہیں

12
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں
زندگی آج ترا قرض چُکا دیتے ہیں

حادثے زیست کی توقیر بڑھا دیتے ہیں
اے غمِ یار تجھے ہم تو دعا دیتے ہیں

کوئے محبوب سے چپ چاپ گزرنے وَالے
عرصہ زیست میں اِک حشر اٹھا دیتے ہیں

تیرے اخلاص کے افسوں ترے وعدوں کے طلسم
ٹوٹ جاتے ہیں تو کچھ اور مزہ دیتے ہیں

ہاں یہی خاک بسر سوختہ ساماں اے دوست
تیرے قدموں میں ستاروں کو جھکا دیتے ہیں

سینہ چاکانِ محبت کو خبر ہے کہ نہیں
شہرِ خوباں کے در و بام صدا دیتے ہیں

ہم نے اُس کے لب و رخسار کو چھو کر دیکھَا
حوصلے آگ کو گلزار بنا دیتے ہیں

13
ٹوٹا نہیں ہے بند قبائے سحر ابھی
نامحرمِ جمال ہے اہلِ نظر ابھی

شاید پھر اس قدر بھی تعلّق نہیں رہے
کچھ لوگ ڈھونڈتے ہیں ترا سنگ در ابھی

کتنی حقیقتیں ہیں توجہ کی منتظر
منزل سے بے نیاز ہے ذوقِ سفر ابھی

خُوشبو روش روش ہے اُجالا ہے شاخ شاخ
گذری ہے گلستاں سے نسیمِ سحر ابھی

احباب کے فریب مُسلسل کے باوجود
کھنچتا ہے دل خلوص کی آواز پر ابھی

کچھ حُسن آ چلا تھا شبِ انتظار میں
کاش اور تھوڑی دیر نہ ہوتی سحر ابھی

انگڑائی لے رہی ہے بہاریں خیال میں
مہکی ہوئی ہے نگہتِ رخ سے نظر ابھی

دل میں مچل رہی ہے مسیحا کی آرزو
قابل نشاطِ درد نہیں معتبر ابھی

14
ازل سے مائلِ پرواز ہوں میں
تری انگڑائیوں ، کا راز ہوں میں

بڑا دلچسپ ہے انجام میرا
غرورِ دوست کا آغاز ہوں میں

ابھی مشکل سے سمجھے گا زمَانہ
نیا نغمَہ نئی آواز ہوں میں

مجھ ہی پر ختم ہیں سَارے ترانے
شکستِ ساز کی آواز ہوں میں

غمِ خود آگہی میں کھو گیَا ہوں
تمنائے نگاہِ ناز ہوں میں !

مجھے کیوں ہو غمِ انجام قابل
خراب عشرتِ آغاز ہوں میں
———————————-

مشمولہ ’’اردو چینل‘‘ شمارہ ۲۸ ۔اس شمارے کی پی ڈی ایف فائل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Cultured Poet Qabil Ajmeri by Ibadat Barelvi

Articles

مہذب اور باشعور ذہن کا شاعر قابل اجمیری

ڈاکٹر عبادت بریلوی

 

جناب قابل اجمیری اردو کے جانے پہچانے شاعر ہیں۔ نوجوان غزل گو شاعروں میں وہ خاصے مشہور ہیں جدید اردو شاعری سے دلچسپی رکھنے والے جو لف مشاعرے سنتے اور نمایاں رسائل پڑھتے ہیں ان کے لئے قابل صاحب کا نام اجنبی اور نامانوس نہیں ہے۔ انہوں نے بہت تھوڑے عرصہ میں نمایاں شہرت حاصل کی ہے اور ان کی یہ شہرت اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ان کی شاعری میں پڑھنے اور سننے والوں کیلئے دلچسپی کا خاصا سامان موجود ہے۔ اسی لئے وہ ایک حلقے میں بہت مقبول ہیں۔ مقبولیت حاصل ہونا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے تو جوہر قابل ہونا ضروری ہے۔ قابل صاحب بھی صحیح معنوں میں ایک جوہر قابل ہیں۔ اُن کا کلام پکار پکار کر ان کے بارے میں یہی کہتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور یہی سبب ہے کہ شعر و شاعری سے دلچسپی لنے والے انہیں اتنا پسند کرتے ہیں۔
یوں تو قابل صاحب نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں۔ ان کے مزاج کو غزل کے ساتھ خاص مناسبت ہے اور اسمیں شک نہیں کہ اُن کے جوہر غزل ہی میں کھلتے ہیں۔ اس صنف میں انہوں نے اپنا ایک مخصوص انداز پیدا کیا ہے۔ وہ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھتے ہیں اور اس روایت سے انہوں نے خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ اس روایت کار چاو¿ جگہ جگہ ان کے کلام میں ملتا ہے۔ لیکن اس روایت کے علاوہ بھی ان کے یہاں بہت کچھ ملتا ہے۔ وہ لکیر کے فقیر نہیں ہیں ان کے یہاں تقلید کا شائبہ بھی نہیں ہوتا وہ نئی باتیں کہتے ہیں اور نئے انداز میں کہتے ہیں۔ وہ نئے رحجانات سے آشنا میں انھیں ان رجحانات کی اہمیت کا احساس ہے وہ غزل کی صنف کو وسیع کرنے کے قائل نظر آتے ہیں اسی لئے ان کے کلام میں وسعت اور پھیلاو¿ کا احساس ہوتا ہے۔ جدّت اور اُپچ نظر آتی ہے۔ بدلتی ہوئی زندگی کے بارے میں ان کا نقطئہ نظر رجائی ہے۔ اسی لئے ان کے یہاں خاصی جولانی کا پتہ چلتا ہے۔ وہ زندگی کو بسر کرنے اور برتنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کے کلام میں عمل اور افادیت کے تصورات جگہ جگہ اُبھرتے ہیں لیکن اُن کی شاعری میں ہنگامہ پسندی نہیں ہے۔ بر خلاف اس کے خاصی مہذب اور سُتھری فضا کا احساس ہوتا ہے ان کا زاویہ نظر مفکرانہ نہیں ہے لیکن ایک عام انسان جسطرح زندگی اور اس کے معاملات و مسائل کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ قابل صاحب بھی اسی طرح دیکھتے اور سمجھتے ہیں اسی لئے ان کی شاعری میں تنّوع نظر آتا ہے جس سے خود انسانی عبادت ہے اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سب کا اظہار قابل صاحب شاعرانہ انداز میں کر سکتے ہیں یہ خوبی ان کے کلام کی شاید سب سے بڑی خوبی ہے۔ قابل صاحب کی غزلوں میں عشق کا بڑامہذب تصور ملتا ہے۔ یوں وہ حُسن و عشق کی باتیں ذرا کھلکر کم ہی کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کے یہاں وہ عام موضوعات نہ ہونے کے برابر ہیں جنکو عام طور پر دلی سے لیکر اسوقت تک غزل کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ بلکہ بادی النظر میں دیکھنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ حسن و عشق کی عام فضا سے ان کی غزلیں خالی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کے یہاں حسن و عشق کے مختلف پہلو ملتے ہیں لیکن ان میں عمومیت کا پتہ نہیں چلتا۔ ان میں سطحیت نظر آتی جن کیفیات و واردات کو انہوں نے اس سلسلہ میں پیش کیا ہے وہ ذہنی طور پر ایک مہذب اور با شعور انسان کی واردات و کیفیات ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ان موضوعات میں جدت کا پہلو سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے اور وہ انہیں افراد کو زیادہ متاثر کر سکتی ہیں جو نئی زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں جنکو اس بات کا یقین ہے کہ نئے حالات میں احساسات کے زاویوں کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ قابل صاحب کی غزلوں میں جہاں تک حسن و عشق کا تعلق ہے کچھ اس قسم کے اشعار زیادہ ہیں۔

ہم نے دیئے ہیں عشق کے تیور نئے نئے
اُن سے بھی ہوگئے ہیں گریزاں کبھی کبھی

راحتوں سے گریز ، غم سے فرار
بعض لمحے عجیب ہوتے ہیں

تم جنہیں عمر بھر نہیں ملتے
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

خوشبوئے انتظار سے مہکی ہوئی رات
قابل نہ جانے کِسکو بلاتی ہے چاندنی

کچھ حُسن آ چلا شب انتظار میں
کاش اور تھوڑی دیر نہوتی سحرا بھی

یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت
نگاہِ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے

مقامِ عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ
جہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی

دلکی دھڑکن کا اعتبار نہیں
ورنہ آواز تو تمہاری ہے

ان کے حسن ستم کا کیا کہنا
لوگ سمجھے خطا ہماری ہے

وہ خیالوں میں کہیں شعلہ کہیں شبنم بسے
ایک اندازِ کرم مختلف عالم رہے

ہمیں شہر نگاراں میں لے چلو یارو
کسی کے عشق کا آزار ہم بھی رکھتے ہیں

یہ چاک چاک گریباں یہ داغ داغ جگر
متاعِ حسرتِ دیدار ہم بھی رکھتے ہیں

رکا رکا سا تبسّم جُھکی جُھکی سی نظَر
تمہیں سلیقہ بیگانگی کہاں ہے ابھی

کوئی وعدہ نہیں امید نہیں
پھر مجھے انتظار سا کیوں ہے

بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں
تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا

یہ ظالم زمانہ دکھائیگا کیا کیا
تری آنکھ بھی آج نم دیکھتے ہیں

بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے

اپنے لب ہی نہیں سئے ہم نے
آپ کی زلف بھی سنوای ہے

ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموش عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے

تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑے
ہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئے

دلِ دیوانہ عرضِ حال پر مائل تو کیا ہوگا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہوگا

یہ اشعار جیسا کہ ان کے موضوعات سے ظاہر ہے خاصے مہذب اور با شعور ذہن کی پیداوار ہیں ان میں سے کوئی ایک شعر بھی ایسا نہیں جو جذبات و احساسات کے نئے زاویوں کو پیش نہ کرتا ہو انمیں خارجی حسن کا بیان نہیں۔ ان میں معا ملہ بندی بھی نہیں۔ یہ لذت اوت تعیش سے بھی کوئی سروکار نہیں رکھتے یہ۰ تو سب کے سب نیازِ عشق کی مختلف منزلوں کے ترجمان ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان میں انفعالی آہنگ نہیں۔ حزن حزن و یاس قنوطیت اور بیزاری کا ان میں پتہ نہیں چلتا۔ ان میں تو عشق کرنے والے کی اہمیت کا احساس چھایا ہوا ہے اسکی جو ذہنی اور جذباتی کیفیت مخصوص حالات میں ہوسکتی ہے۔ اسکی ترجمانی زیادہ نظر آتی ہے۔ اسی لئے توازن کے نئے ہونے کا احساس ہوتا ہے کبھی کبھی کسی خاص ذہنی کیفیت کے زیر اثر محبوب سے گریزاں ہو جانا نظاہر تو عجیب بات معلوم ہوتی ہے لیکن جذب صادق کے ہاتھوں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اور اسمیں شبہ نہیں کہ اس سے خود عشق کو نئے تیور ملتے ہیں۔ یہ عشق بھی عجیب ہوتا ہے اسمیں داخل ہو کر انسان کبھی بیک وقت راحتوں سے گریز اختیار کرتا ہے اور غم سے فرار بھی۔ بظاہر یہ بات بھی عجیب ہے لیکن جب عشق کی بنیاد جذب صادق ہو تو اس کیفیت کا پیدا ہونا عجیب نہیں ہوتا۔ اس عشق میں انتظار کا عالم بھی ایک لطف پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ یوں عام طور پر انتظار سے تکلیف اور پرشانی کی کیفیت وابستہ ہے لیکن اگر عشق متوازی انداز رکھتا ہو تو پھر انتظار کے لمحے بھی حسین ہوجاتے ہیں۔ یہ اور بات اسی طرح کی کیفیات جوان اشعار کا موضوع ہیں اپنے اندر ایک جدّت اور نیا پن ضرور رکھتی ہیں۔ لیکن اسمیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ نامانوس نہیں معلوم ہوتیں کیونکہ ان کی تخلیق کرنے والے نے ان میں زندگی اور اسکی عام نفسیات کو الگ نہیں کیا ہے بلکہ بڑے متوازن انداز میں ان کی ترجمانی کی ہے۔ قابل صاحب نے ایسے اشعار میں غزل کی روایت کا پورا پورا چاو¿ پیرا کیا ہے۔ اسی لئے وہ جدید ہونے کے باوجود صحیح معنول میں غزل کے شعر معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں لطافت اور نفاست کا احساس بھی ہوتا ہے وہ ہنگامہ پیرا نہیں کرتے۔ ان کے ہاتھوں ہیجان انگیزی کا وجود نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ خود مہذب ہیں اور اسی لئے تہذیب کو پیدا کرنے اور مہذب بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ قابل صاحب کے عشقیہ اشعار میں خاصا تنوع ہے۔ لیکن اس تنوع کے ہاتھوں انکی انفرادیت کو ٹھیس نہیں لگتی اس تنوع میں بھی ان کے مخصوص زاویہ نظر ایک یک رنگی کو پیدا کرتا ہے۔ بہر حال قابل کی عشقیہ شاعری میں بڑی ہی صاف اور ستھری فضا ہے اور اسمیں کسی جگہ بھی ابتدا کا پتہ نہیں چلتا وہ اس دور کے انسان کے لئے اجنبی اور نامانوس نہیں کیونکہ وہ حقیقت سے بھر پور ہے اور اس زمانہ کی جذباتی زندگی کی روح اسمیں موجود ہے ظاہر ہے ایسی شاعری تمام تر جذباتی نہیں ہو سکتی۔ قابل صاحب کی شاعری میں بھی نری جذباتیت نہیں ہے اسمیں حقیقتوں کا احساس بہت نمایاں ہے وہ عشق اور معاملات و کیفیاتِ عشق کو اس سماجی پسِ منظر میں دیکھتے ہیں جوان کے آس پاس اور گردو پیش موجود ہے اسی لئے ان کے یہاں غمِ عشق اور غمِ روزگار کا تذکرہ ساتھ ساتھ ملتا ہے لیکن اس موضوع کو انہوں نے محض رسمی اور روائتی انداز میں پیش نہیں کیا ہے۔ ان کے اس قسم کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خود ان حالات میں ہو کر گزرے ہیں۔ اسی لئے اس موضوع کو پیش کرنے میں ان کے یہاں خاصی جدت نظر آتی ہئ۔ کیسے عجیب عجیب شعر انہوں نے اس موضوع پر نکالے ہیں۔

ان کا موضوع صرف گردش دوراں اور غمِ روزگار ہی نہیں ہے بلکہ اس موضوع کا سہارا لیکر ان میں زندگی کی بعض اہم حقیقتوں کے بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے غمِ جاناں کو سینے سے لگالینے کے بعد گردش دوراں کو اماں بخشنے کا خیال عشق کے مارے ہوئے بے کسوں کی بزم میں گردش دوراں کے آبیٹھنے، کسی بات پر میخانے سے اُٹھ آنے۔ لذتِ گردشِ ایام کو صحیح طور پر محسوس کرنے، اور جنون کوچہ دلدار رکھتے ہوئے بھی غمِ جہاں کے تقاضوں کی شدت کو دیکھتے رہے اور ظالم زمانے کے ہاتھوں کسی کی آنکھ کے نم نظر آنے کا خیال اس حقیقت کو واضع کرتا ہے کہ قابل صاحب زندگی اور اس کے حالات کا گہرا شعوررکھتے ہیں اور جذباتی زندگی کو ان حقائق سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھتے اسی لئے ان کی شاعری میں ایک نئے ذہن نئے شعور کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
قابل صاحب کی غزلوں کے موضوعات محدود نہیں ہیں۔ ان کے یہاں تو موضوعات کے تنوع کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ عشق ان کی شاعری کا اہم موضوع ضرور ہے لیکن چونکہ وہ زندگی کے دوسرے پہلوو¿ں سے الگ نہیں ہے اسلئے عشقیہ موضوعات بھی ان کے یہاں خاصے پہلو دار متنوع کیفیت کے حامل نظر آتے ہیں لیکن ان کی غزلوں میں اسکے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ زندگی کے عام سیاسی اور سماجی حالات کی ترجمانی وہ بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قابل صاحب پر اپنے زمانے کے حالات کا گہرا اثر ہے وہ خود ان حالات میں سے ہو کر گزرے ہیں جن سے اس زمانے کی زندگی دو چار ہے۔ خیر ان موضوعات کو غزلوں میں پیش کرنا ایسی کوئی اہم بات نہیں ہے۔ یہ کام تو ہر شاعر کرسکتا ہے لیکن ان حالات کو شدت کے ساتھ محسوس نہ کیا جائے اور جب تک انھیں مزاج کا جزوجہ بنا لیا جائے اسوقت تک ان میں جان پیدا نہیں ہوتی۔ قابل صاحب نے ان موضوعات کو اپنے مزاج میں داخل کر لیا ہے اسی لئے وہ ان کو غزل کی صنعت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے ان موضوعات کو غزل میں کچھ اس طرح سمویا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی اور نا مونوس معلوم ہوئے یہ چند اشعار دیکھئے۔

  1. ٹھنڈے پڑے ہیں انجمن رنگ کے چراغ
  2. اک نغمہ بہار بہ طرزِ فغان سہی
  3. ذوقِ سفر جوان ہے قابل بڑھے چلو
  4. منزل بھی آج گردِ رہ کارواں سہی
  5. ہمیں تو رونق زنداں بنا دیا تم نے
  6. چمن میں صبحِ بہاراں کی بات کون کرے
  7. کسی کو رنگ سے مطلب کسی کو خشبو سے
  8. گلوں کے چاک گریباں کی بات کون کرے
  9. نہ گھبرا شبِ ہجر کی تیرگی سے
    سحر بھی نمودار ہوگی اسی سے
  10. کچھ اور بڑھ گئی ہے اندھیروں کی زندگی
  11. یوں بھی ہوا ہے جشن چراغا کبھی کبھی
    قابل صاحب کے کلام میں اس قسم کے اشعار کی تعداد خاصی ہے۔ ان میں دیکھنے کی صرف یہی بات نہیں ہے کہ یہ زندگی سے متعلق نئے موضوعات کے حامل ہیں دیکھنے کی بات تو ان میں یہ ہے کہ یہ شدید تاثر کا نتیجہ ہیں۔ شاعر نے ان کو پیش کرنے کی کاوش نہیں کی۔ بلکہ وہ تو اسکی شخصیت اور مزاج میں داخل ہیں۔ اسی لئے وہ غزل کے حدود سے باہر نہیں نکلتے۔ اس کی بندشوں کو توڑتے نہیں۔ اس کے احتسابات کا خون نہیں کرتے۔ قابل صاحب نے ان موضوعات کو غزل کا مزاج دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ جدید ہونے کے باوجود غزل کے اشعار معلوم ہوتے ہیں اور یہی اُن کا کمال ہے۔
    ایک بات قابل صاحب کے کلام میں اور بھی قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کی محرومیوں کو محسوس کرنے کے باوجود وہ زندگی سے بیزار اور مایوس نہیں ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کی کسک کو محسوس کرنے کے باوجود خاصی جولانی کا احساس ہوتا ہے اور یہ جولانی انھیں عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ چنانچہ عمل کی راہ پر آگے بڑھنے کا احساس ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ زندگی کے غم کو محسوس نہیں کرتے اس غم کی توازن کی شاعری میں ایک لہر سی دوڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن اس غم کا احساس ان کے یہاں الفعالیت کو پیدا نہیں کرتا۔ وہ زندگی سے بیزار نہیں ہوتے۔ ان پر قنوطیت طاری نہیں ہوتی۔ اسی لئے وہ ایسے شعر کہہ سکتے ہیں۔
    ذوقِ سفر جوان ہے قابل بڑھے چلو
  12. منزل بھی آج گردِ رہِ کارواں سہی

ہر قدم پہ حادثہ ، ہر آرزو بھی حادثہ
حادثے پھر بھی ہمارے حوصلوں سے کم رہے

یہاں ایک اُمنگ اور ولولے کا احساس پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے آگے بڑھنے کی خواہش اور ایک والہانہ انداز میں آگے بڑھنے کی خواہش اس پر چھا جاتی ہے اور یہ خیال اس کے دل میں جا گزیں ہو جاتا ہے کہ زندگی میں اصل چیزحوصلہ اور ولولہ ہے کہ اس کے بغیر انسان کی زندگی موت بن جاتی ہے اور اس دنیا میں کسی کام کا نہیں رہتا۔ قابل صاحب کے یہاں انسانی زندگی میں محرومیوں اور ناکامیوں کی کسک کا احساس اس کیفیت کے ساتھ شامل ضرور ہے لیکن وہ اس کے باوجود آ گے اور کچھ کرتے رہنے کے قائل ہیں۔ کہ یہی ان کے نزدیک زندگی ہے۔
قابل صاحب پخة مشق شاعر ہیںوہ غزل کے مزاج کو سمجھتے ہیںاسکو برتنے کے ٓاداب سے خوب واقفیت رکھتے ہیںانہیں غزل کوغزل بنانے کاگُر خوب آتا ہے اسی لیے ان کے یہاں ہر موضوع غزل کا موضوع معلوم ہوتا ہے بات یہ ہے کے قابل صاحب غزل کے اصول سے واقفےت ہی نہیں رکھتے وہ اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کے ان کے یہاں کوئی بات بھی ہو وہ بڑی آسانی سے غزل کا روپ اختیار کرلیتی ہے ۔ حالانکے اس سلسلے میں انہیں کسی قسم کی کاوش نہیںکرنی پڑتی۔
دیدئہ بیداران کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اسمیں جوغزلیں شامل ہیں وہ ان کے کلام کی انہیںخصوصیات کی حامل ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

٭٭٭

مشمولہ ’’اردو چینل‘‘ شمارہ ۲۸ ۔اس شمارے کی پی ڈی ایف فائل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Hayat-e- Qabil Ajmeri by Mushtaq Khanzada

Articles

حیات قابل اجمیری

مشتاق احمد خان زادہ

 

قابل محفل شعر و سخن میں ایک تابندہ ستارہ بن کر اُبھرا مگر جلدہی عدم کی ظلمتوں میں ڈوب گیا۔ اگر چہ ملک کا یہ ممتاز شاعر دنیا کی محفل سے اٹھ گیا مگر اپنی شاعری کے جواہر پارے اور اپنی زندگی کے اُن دکھوں کی یاد ہمارے لئے چھوڑ گیا جنہوں نے عمر طبعی سے بہت پہلے ہمارے متعدد جواں سال شاعروں کی زندگی میں ختم کر دیا اور کرتے رہین گے۔
قابل کی زندگی امنگوں، حوصلوں سے بھرپور شروع ہوئی اور محرومیوں، مایوسیوں میں گھر کر ختم ہوگئی۔ وہ زندگی کو روشن سے روشن تر دیکھنے کی تمنائیں پالتا رہا اور اس کی اپنی زندگی آہستہ آہستہ تاریک سے تاریک تر ہوتی چلی گئی۔ اس نے اردو شاعری کو تخلیقی قوتوں کا قیمتی سرمایہ سونپا، اپنا خون جگر پلایا۔ ایسے نادر خیالات سے نوازے جن میں اکدم روزگار کے باوجود، مستقبل کو سنوارنے کی اُمنگیں ہیں، حسن ہے، نفاست و سادگی ہے مگر زندگی نے اُسے پریشانیاں، پشیمانیاں، الجھنیں اور بے چینیاں دیں۔ وہ زندگی سے محبت مانگتا رہا، مسرت، سکون اور آسودگی چاہتا رہا مگر زندگی اس سے رفتہ رفتہ دور کھنچتی چلی گئی، یہاں تک کہ سبزہ زار زندگی کو اپنے خون جگر سے سینچنے والا یہ شاعرت بے مایہ آخر کشمکش حیات سے تنگ آ کر موت کی آغوش میں جا سویا۔
قابل جن کا اصل نام عبدالرحیم تھا۔ ہندوستان کے ضلع اجمیر کے قصبہ چرّلی میں 27 اگست 1931 کو پیدا ہوئے۔ ابھی موصوف صرف سات سال کے تھے کہ والدین کے سایہ عاطف سے محروم ہوگئے۔ یہ انکی زندگی کا پہلا المناک سانحہ تھا۔ دوسرا سانحہ جس نے انکی زندگی میں زہر گھول دیا دق کا جان لیوا مرض تھا جو انہیں چھٹپن میں والدین کی طرف سے ملا۔ انکے والد عبدالکریم اور انکی والدہ دونوں دق کے مرض میں مبتلا تھے۔
ان کے والد تقسیم ہند سے قبل تعمیرات کی ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔ موصوف بہت فرض شناس تھے۔ اس لئے خود تیز اور جھلتی ہوئی دھوپ میں گھنٹوں کھڑے رہ کر تعمیری کام کی نگرانی کرتے تھے۔ چنانچہ اس مسلسل اور صبر آزما نگہداشت کی وجہ سے انکے کمزور جسم پر انتہائی مضر اثرات پڑے۔ یہاں تک کے وہ دق کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ اُن پر دق کا پہلا حملہ ۲۳۹۱ئ میں ہوا جب قابل کی عمر صرف ایک سال تھی۔ یہ مرض اس تیزی سے بڑھا کہ ۸۳۹۱ئ میں ان کا اجمیر کے لونگیہ ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس صدمہ سے قابل کی والدہ اس قدر نڈھال ہوئیں کہ وہ بھی چند دنوں کے بعد اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں ۷۳۹۱ئ میں قابل کے چھوٹے بھائی شریف بھی دق کے مرض میں چل بسے۔ والدین کے انتقال کے بعد انکے دادا امیر بخش صاحب نے پرورش کی۔
قابل اجمیر شریف کے پیزادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خاندان کے افراد پٹھان سلطنت کے دور میں یہاں آباد ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اس خاندان کے بیشتر افراد اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز تھے۔ انہیں اعلیٰ خدمات کے صلہ میں حکومت کی طرف سے اجمیر شہر کے قرب و جوار میں بڑی بڑی جاگیریں ملی تھیں مگر امتداد زمانہ اور گردشِ حالات کی وجہ سے یہ جاگریں ختم ہوگئیں اور جب قابل نے جنم لیا تو ان کے والدین کے حصہ میں صرفدو مکانات آئے، ایک پختہ مکان تر پولیا گیٹ کے اندر محلہ اندر کوٹ میں تھا۔ دوسرا اجمیر کے قصبہ چرلی میں واقعہ تھا۔ قسمت کی ستم ظرفی دیکھئے کہ پاکستان میں قابل کو ان میں سے کسی مکان کا معاوضہ نہیں ملا۔
علمی اور رُحانی ماحول
قابل اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت تھے کہ انہیں اپنے محلے کے گردوپیش سازگار تعلیمی ماحول ملا۔ ان کی رہائش گا کے صدر دروازہ کے کچھ فاصلے پر ڈھائی دن کے جھونپڑے کی وہ عظیم الشان مسجد جسے سلطان شہاب الدین غوری نے تعمیر کروائی تھی۔ اس مسجد میں سلطان نے دینی تعلیم کے لئے ایک مثالی اور معیاری درس گاہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔ مکان کے عقبی دروازے کے سامنے خواجہ معین الدین چشتیؒ کی وہ عظیم الشان درگاہ تھی۔ جس میں جامعہ شاہجہانی اور مدرسہ نظامیہ جسے بلند پایہ تعلیمی ادارے علم کی روشنی پھیلا رہے تھے۔ مدرسہ نظامیہ کے اساتذہ ایسے بلند پایہ اور جید علماءپر مشتمل تھے جنہیں نظام دکن نے ملک کے طول و عوض سے منتخب کیا تھا´ قابل نے اپنا بچپن اسی درگاہ شریف کے علمی، ادبی اورروحانی ماحول میں گذارا، عرس شریف کے قیام میں عالم اسلام کم و بیش تمام مشاہیر اسلام، علماءاور صوفیائے کرام تشریف لاتے تھے۔ جن کی علمی اور روحانی صحبت سے بے شمار لوگ فیضیات ہوتے تھے، درگاہ کے مناظر انتہائی روح پردر تھے۔ کہیں قرا¿ت کی دل نشیں صدائیں تحلیل ہورہی ہیں، کہیں علمی خطابت کا مظاہرہ ہو رہا ہے تو کہیں محفل سماع کی ترنم ریز نغمگی دلوں کو گرما رہی ہے، قابل کا بچپن اس موحول سے بے حد متاثر ہوا۔
درگاہ معلی کے اسی ماحول میں ان کے کان شہرئہ آفاق قوالوں، نغمہ نوازوں، کی صداو¿ں اور شاعروں کے کلام سے آشنا ہوئے۔ وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے داغ کی غزلیں، بے دم کی نعتیں، سعدی حافظ شیرازی اور حضرت غوث اعظم اور حضرت امیر خسرو کا روح پرور صوفیانہ کلام سنتے رہتے تھے، بڑے بڑے شعراءکا کلام ان کے سنتے سنتے حفظ ہوگیا تھا۔ اور وہ متاثر ہو کر قوالی کی لہن میں اکثر اوقات ان اشعار کو دہراتے رہتے تھے۔ اور اپنے دادا ، دادی کو سنایا کرتے تھے۔ یہ وہ ابتدائی اثرات تھے جو آگے چل کر ان کی شاعری کا جزو اعظم بن گئے۔ ان کی شاعری میں جو غنائیت اور ترنم کے خواص بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ان کی اصل وجہ قوالیاں، نعتیں اور اشعار کی وہ ترنم ریز صدائیں تھیں جو ہمیشہ ان کے کانوں میں گونجتی رہتی تھیں۔
بچپن میں انکی زندگی پر ایک ایسی بلند پایہ شخصیت اثر انداز ہوئی جس کی بدولت انہیں تحصیل علم کا بے پناہ شوق پیدا ہوا۔ یہ شخصیت عبدالرحمن عرب کی تھی جو جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل اور عالم و خطیب تھے۔ انکی متعدد تصانیف عالم اسلام کی تمام دینی درسگاہوں میں رائج تھیں جب مدرسہ نظامیہ کی تشکیل علم میں آئی تو نظام دکن نے عبدالرحمن عرب صاحب کو عراق سے بلواکر اس مدرسہ میں بحیثیت مدرس متعین کیا۔ جب ان کا تقرر ہوا تو قابل کے دادا نے اپنے مکان کا بلائی حصہ عرب صاحب کو دیدیا۔ جہاں وہ اب تک مقیم ہیں جب عرب صاحب سوا سلف خریدنے جاتے تو قابل صاحب کو سیر کے لئے لے جاتے۔ قابل اکثر و بیشتر ان کے ساتھ درس گاہ بھی چلے جاتے تھے۔ اس طرح قابل نہ صرفستھرے تعلیمی ماحول سے آشنا ہوئے بلکہ عرب صاحب کی شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوئے۔
درگاہ شریف اجمیر کے مدرسہ نظامیہ میں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۶ سال کی عمر میں انھوں نے بغدادی قاعدہ ختم کر لیا۔ اس درگاہ کے ابتدائی مدارج کے قابل استادوں یعنی مولانا محمد ادریس صاحب اور مولانا محمد یونس صاحب کی تربیت میں قابل نے دس سال کی عمر میں صرفِ دنحو پر عبور حاصل کرنے بعد شیخ سعدی کی گلستان بوستان ختم کر لی۔ ۳۱ سال کی عمر میں وہ مدرسہ نظامیہ کے ثانی درجوں کی تعلیمات مکمل کر چکے تھے۔ اس زمانے میں ایک خاص واقعہ رونما ہوا جس کی بدولت ان کی طبیعت شاعری کی طرف مائل ہوئی۔ یہ ۰۴۹۱ئ کا ذکر ہے کہ ایک بزرگ پر سجادہ نشین صاحب کی سالانہ محفل سماع میں امجذاب کی اس قدر کیفیت طاری ہوئی کہ محفل ختم ہونے کے بوس بھی ان پر دجد قائم رہا۔ جب سب لوگ چلے گئے تو قابل اور انکے دوست معلوم کر کے موصوف کو انکے گھر چھوڑنے چلے گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ یہ بزرگ ارمان اجمیری تھے۔ جب انکو ہوش آیا تو انہوں نے قابل کو سینہ سے لگا لیا۔ ارمان صاحب اس بزرگانہ شفقت اور اس خلوص سے پیش آئے کہ قابل نے مستقلاً ان کے پاس آنا جانا شروع کر دیا۔ ارمان صاحب خود اچھے شاعر تھے۔ چنانچہ ان کی شاعری نے قابل کو اتنا متاثر کیا کہ وہ غزلیں کہنے لگے۔ جب ارمان صاحب کو معلوم ہوا کہ قابل غزلیں کہنے لگا ہے تو وہ کمال توجہ سے ان کی غزلوں کی اصلاح کرنے لگے۔ بزم ارمان کے تحت جو ہفتہ وار اور سالانہ مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے ان کا قابل کی شاعرانہ طبیعت پر خوشگوار اثرپڑا۔ ارمان صاحب سے فیض یاب ہونے کے بعد قابل نے ایک دوسری عظیم شخصیت مولانا عبدالباری معینی صاحب سے رجوع کیا۔ مولانا معینی عربی کے جید عالم اور تفسیر حدیث کے بلند پایہ محقق تھے۔ آپ حیدرآباد دکن میں عربی ادبیات اور تاریخ کے ایک ممتاز پروفیسر تھے۔ جب مولانا اجمیر شریف تشریف لائے تو انجمن ترقی اردو کا دفتر قائم ہوا۔ جس کے آپ صدر بنائے گئے۔ قابل کے ایک دوست جناب پیکر واسطی صاحب کے توسط سے مولانا نے قابل کو اپنے حلقہ تلامذہ میں شامل کر لیا۔ مولانا کے فیض صحبت سے قابل کی شاعری کو حیات نو ملی۔ مولانا باری کی اصلاح کی بدولت قابل کے کلام میں رفتہ رفتہ پختگی آتی گئی۔ مولانا کی معیت میں قابل نے پہلی دفعہ آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کی۔ اس مشاعرے میں ہندوستان کے مشہور شعراءموجود تھے۔ جن میں جگر مرادآبادی، ماہر القادری، حفیظ جالندھری، ساعر نظامی، سیماب اکبر آبادی قابلِ ذکر ہیں یہ مشاعرہ معینہ اسلامیہ ہائی اسکول کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ اور اس مشاعرے ہی سے قابل کی شخصیت پہلی بار منظر عام پر آئی۔ انکے کلما پر استاد شعراءنے اس قدر داد و تحسین کا فراخ دلی مظاہرہ کیا کہ معین نے قابل کو ایک شاعر کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔

٭٭٭

مشمولہ ’’اردو چینل‘‘ شمارہ ۲۸ ۔اس شمارے کی پی ڈی ایف فائل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Tahzeeb ka Janaza by Shams Wodood

Articles

تہذیب کا جنازہ"(انشائیہ)

شمس ودود

 خلاف معمول آج “اخلاق” صاحب اپنے متعینہ وقت سے پہلے ہی خواب غفلت سے بیدار ہوگئے, کافی تلاش و جستجو کے بعد بھی جب وقت کا صحیح اندازہ نہ ہوسکا تو بستر پہ لیٹے ہی لیٹے اپنا نیک نام زمانہ “لیپ ٹاپ” ہی آن کر دیا, متعدد جمائیاں لینے کے بعد وقت پر نظر جمی تو بڑی حیرت ہوئی, برجستہ زبان سے نکلا “ارے! یہ تو میں دو گھنٹہ پہلے ہی بیدار ہو گیا……ابھی تو دس بھی نہیں بجے ہیں”! پھر کیا تھا….. نیند نے بھی موقع کو غنیمت جانا اور فرار ہو چلی, اب “اخلاق ” صاحب بڑے ہی شش و پند میں مبتلا ہوئے کہ آیا اب کیا کیا جائے؟ ……انگلیوں سے لاشعوری طور پر حرکت ہوئی اور فیس بک (Facebook )……”کتابی چہرہ” یا “چہروں کی کتاب” …..کھول بیٹھے, اب کیا تھا….. حرکت تو سرزد ہو ہی گئی لیکن پھر حیرت و استعجاب سے ان کی آنکھیں انگریزی کے حرف “O” کا طواف کرنے لگیں, (اضطراری طور پر یہ حرکت آپ سے بھی سرزد ہو سکتی ہے……کوئی بات نہیں, تجربہ انسان کو نکھار دیتا ہے). جب حیرانگی ذرا کم ہوئی تو فیسبک پہ آئے ہوئے ایک پوسٹ کو پڑھنے لگے, پھر بھی جب اس پوسٹ کو سمجھ نہ سکے تو بآواز بلند پڑھنا شروع کر دیا (اگر چہ تنہا ہی تھے)……”ایک عرصے سے علالت میں رہنے کے بعد آج “بروز اتوار “تہذیب” (صاحب یا جناب کے بغیر) کا انتقال ہوگیا “- “انا للّٰہ وانا الیہ راجعون” تہذیب کی نعش “جامعہ ھذا” کے باہر شاہراہ سنسان پر لاوارث پڑی رہی, جس پر گھنٹوں کسی آدم زاد کی نگاہ نہیں پڑسکی”- گھبراہٹ اور تجسس کے امتزاج کے ساتھ جب “کمنٹ باکس” کھولا تو کیا دیکھتے ہیں کہ متعدد لوگوں نے تعزیتی جملے کہے ہیں- کسی نے مرحوم کی تعریف کی تھی, تو کسی نے اپنے غم کا اظہار کیا تھا اور کچھ لوگوں نے تو غم و غصہ دونوں کا اظہار کیا تھا- ایک صاحب نے لکھا تھا کہ…… “تہذیب صاحب کو میں نے کبھی دیکھا تو نہیں لیکن ان کے بارے میں سنا خوب ہے, کافی نامور شخص تھے”- ایک اور صاحب نے لکھا تھا …….”تہذیب صاحب کی ’’جامعہ ھذا “سے خوب راہ و رسم تھی, جامعہ کے قیام سے لیکر ٢٠ویں صدی تک دونوں کا بڑا گہرا تعلق رہا, لیکن نہ جانے کیوں “مغرب” کی جانب سے چلنے والی “گرم ہواؤں” نے انہیں احساس کم تری کا شکار بنا دیا اور پھر دن بدن لاغر ہوتے گئے اور آج اس دار فانی سے بھی کوچ کر گئے”- ایک اور صاحب نے تہذیب کے اعزہ و اقرباء, لاحقین و احباء کو صبر و تحمل سے ملاقات کرنے کی تجویز پیش کی, ……اسی طرح سے متعدد افراد نے کچھ نہ کچھ بطور تعزیت ضرور کہا تھا, مگر “فہم و فراست” کے سوال نہایت مضحکہ خیز اور غور طلب تھے, ان دونوں کا مشترکہ سوال یہ تھا کہ……. “تہذیب تھے کون؟ کیا مرد تھے ؟ یا زن ؟ یا……وغیرہ, ان کا ملنا جلنا کس قسم کے لوگوں سے رہتا تھا”؟ بہرکیف “اخلاق صاحب” تھے بڑے خود سر, کسی کے پاس اپنی مرضی سے گئے تو گئے, ورنہ مجال کیا کسی کی جو انہیں کچھ وقت تک اپنے پاس رکھ سکے – صبر اور تحمل سے تو ناتا ہی توڑ رکھا تھا, کہیں آتے بھی تھے تو غرض کو ساتھ لئے بغیر کبھی تشریف نہ لاتے, لیکن تہذیب کی میت پر ان کی دہلیز تک گئے- اب جب کہ پورے جامعہ میں تہذیب کے انتقال کی خبر پھیل گئی, تمام لوگ “اخلاق صاحب کے ساتھ ان کا مظاہرہ کرتے ہوئے تشریف لائے, لوگوں میں چہ می گوئیاں ہونے لگیں, ہر شخص ایک دوسرے سے تہذیب ہی کے تعلق سے گفتگو میں محو تھا, پھر کسی جانب سے رسم و رواج دونوں آتے ہوئے دکھائی دئے, پھر کیا تھا….. سب نے ملکر (بشمول مرد و زن, بوڑھے, بچے اور جوان وغیرہ) تہذیب کا پرتو الٹا, پھر رسم و رواج دونوں نے سنت سے مشورہ کر کے قبل از تدفین کے تمام مراحل سے گزار کر تہذیب کو کفن پہنایا, عطر و کافور ملا گیا – لیکن تمام لوگ اس بات لو لیکر بڑی حیرت میں تھے کہ “روح قبض ہو جانے کے باوجود بھی تہذیب کے “ماتھے کا شکن” نہ گیا اور ان کی انگلی بھی (شہادت کی) عوام کی جانب اٹھی ہوئی یوں لگ رہی تھی گویا کوئی حکم صادر کر رہے ہوں, یا “کسی کو اس کے کسی فعل پر تنبیہ کر رہے ہوں”- دوسری طرف “اخلاق” صاحب بڑے بے چین پھر رہے تھے کہ آیا “لوگوں نے تہذیب کی میت پر آنسو ہی نہیں بہایا یا روتے روتے سب کے اشک خشک ہو گئےہیں”؟ ع: دل رو رہا ہے میرا مگر آنکھ نم نہیں لیکن ایسی بے چینیوں سے اب کیا ہو سکتا تھا, اب تو مرحلہ تھا کہ میت کو چار کاندھوں پر اٹھایا جائے اور درگور کر دیا جائے, عین اسی وقت “تہذیب” کا وکیل “مروت” ایک جانب سے بھاگا بھاگا آیا اور جنازے کو روک کر لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرکے کہنے لگا کہ تہذیب صاحب کا وصیت نامہ تو سن لیجئے, جو انہوں نے مجھ سے لکھواکر “شرمندگی” کے پاس بطور امانت رکھوا دیا تھا اور ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ “میرا جنازہ اٹھنے سے پہلے یہ وصیت نامہ لوگوں کو ضرور سنا دینا”، میری تاخیر کا سبب بھی یہی ہے کہ میں “شرمندگی” کو تلاش کرنے نکل پڑا تاکہ اسے آپ لوگوں کے سامنے حاضر کر سکوں, ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر چند وقفے کے بعد جب پر تکلف انداز میں شرمندگی تشریف لائی (تھیں بھی محترمہ کھجور کے تنے کی طرح لمبی اور الف کی طرح سیدھی کہ خراما ہوتیں تو اطراف سے لوگ یہ کہنے پہ مجبور ہوجایا کرتے تھے کہ اماں! ذرا سنبھل کے ) اور لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر کے بے حد تکلف کے ساتھ وصیت نامہ پڑھنا شروع کیا جو کچھ یوں تھا کہ: – قسم تمہاری قسم ہے تم کو, نہ دینا کاندھا اٹھے گا جب بھی جنازہ میرا………!
————————————
انشائیہ نگار جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں ایم۔اے ۔ کے طالب علم ہیں۔
Email: shamswadoods9@gmail.com

 

Cultural activities of Educational Institutes

Articles

تعلیمی اداروں میں تہذیبی وثقافتی سرگرمیاں

ڈاکٹر ذاکر خان

قسط اول
انسانی زندگی اور اس کی تمام تر تہذیبی و ثقافتی قدریں دن بدن تبدیلی اور تغیر کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ اس تبدیلی اور تغیر کے اثرات سماج و معاشرے پر بھی نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ ایسے ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوستی ، اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو سازگار کیا جائے اس تعلق سے تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً منعقد کی جانے والی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
تہذیب و ثقافت انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اقوام کی عادت و اطوار، ان کا طرزِ فکر، ان کا دینی و دنیوی نظریہ، ان کے اہداف و مقاصد کسی بھی ملکی تہذیب کی اساس ہوتے ہیں۔اسی سے قوموں کی شناخت ہوتی ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں نہ ہی اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکتی ہیں اور نہ ہی وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت کر سکتی ہے۔ دنیا کی تمام بیدار قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم نے اپنی ثقافت کو بیگانہ ثقافتوں کی یلغار کا نشانہ بننے اور تباہ و برباد ہونے دیا تو نابودی اس قوم کا مقدر بن جائے گی۔ ہمیشہ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوا ہے جس کی ثقافت غالب رہی ہے ۔ اگرکسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے جدا کر دیا جائے، ان افتخارات کو ذہنوں سے محو کر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب ڈھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تب وہ قوم زندگی سے محروم ہوکر اغیار کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اوراس کی نجات کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں
تہذیب اور ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے البتہ تہذیب ثقافت سے جنم نہیں لیتی بلکہ تہذیب ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی راہ متعین کرتی ہے۔ تہذیب کسی گروہ کے عقائد کے تابع ہوتی ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ افراد کو گروہ میں قائم رکھنے کیلئے کچھ مشترک باہمی عوامل لازم ہیں اور یہ عوامل ہی دراصل عقائد کا روپ دھارتے ہیں۔ فطری طور پر یہ عوامل ان کے مذہبی اصول ہی ہوتے ہیں۔ تہذیب کو مورخین نے مذہب کے زیرِ اثر ہی گرداناہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عیسائی اور یہودی بہترین اوصاف کا منبع زبور ،تورات اور انجیل کو قرار دیتے تھے اور یہ استدلال درست بھی تھا گو متذکرہ کتب نے تحریفات کے سبب الہامی حیثیت کھو دی ہیں۔ پھر جب غیرمسلم دنیا اپنے عقائد سے بالکل اچاٹ ہو گئی تو انہوں نے تہذیب کی تعریف سے لفظ مذہب کو حذف کر دیا۔ اس کے باوجود اب بھی کچھ ڈکشنریاں ایسی ہیں جن میں تہذیب کا تعلق مذہب سے بتایا گیا ہے یا مذہب کا نام لئے بغیر اس طرف اشارہ کیا ہے
تعلیمی ادارے تہذیبی و ثقافتی قدروں کو برقرار رکھنے اور ان کی خاطر خواہ نشو نماکرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان اداروں کا یہ بھی اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی قدروں کی آبیاری کرتے رہیں۔ تعلیم کی ترسیل کے علاوہ یہ ادارے socialization and the transmission of cultural norms and values. جیسے اہم فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ socialization اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے ایک طالبِ علم اپنی ذاتی شناخت بناتے ہوئے معلومات، زبان اور ایسی سماجی صلاحتیں سیکھتا ہے جو اسے دوسروں سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔socialization کے بعد تعلیمی اداروں کی سب بڑی ذمّہ داری transmission of cultural norms and values to new generationsہے۔یعنی نسل نو میں تہذیبی اصولوں اور قدروں کو منتقل کرنا۔ تعلیمی ادارے مختلف طبقات میں بٹی ہوئی آبادی کو ایک سماج کی حیثیت عطا کرتے ہیں اور انہیں قومی شناخت سے نوازتے ہوئے ملک کا مستقبل تیار کرتے ہیں۔یہاں منعقد کی جانے والی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں سے ہمیں بطور خاص تین قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(۱)سماجی فوائد: عام طور پر اس قسم کی سرگرمیاں طلبا وطالبات کا ایک بڑا گروہ انجام دیتا ہے جس میں مختلف سماج و معاشرے سے آئے ہوئے طلبا وطالبات بھی شامل ہوتے ہیں اس طرح سے یہ سرگرمیاں طلباکوسماج و معاشرے سے ہم آہنگ بھی کرتی ہے اور دیگر قوموں اور سماجوں سے تعلقات استوار اور رشتے مضبوط کرواتی ہیں ۔ ان ہی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ میں interpersonal skills پروان چڑھتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے جذبات، ایک دوسرے کے سماجی رسم و رواج اور مذہبی عقائد سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے انہیں کی طرح سماج و معاشرے میں اور کتنے گروہ کہاں کہاں پر سرگرمِ عمل ہیں۔
(۲)عملی فوائد: اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کو ایک مقصد(common goal) کے لیے کام کرنے پر تیار کرتی ہیں۔ ان میں احساسِ ذمّہ داری(sense of responsibility)پیدا کرتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں طلبہ میں اعتماد بھر دیتی ہیں اور انہیں مشکل حالات کا سامنا کرنا سکھاتی ہیں۔ عملی فوائد میں ہم مختلف قسم کے کھیل کود کے مقابلوں کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں جس کے ذریعے طلبہ خود اپنی صحت کی دیکھ بھال کرنا، ذہنی و جسمانی طور پر چاک و چوبند اور صحت مند رہنا سیکھ جاتے ہیں۔انہیں اپنے صحت مند جسم سے محبت ہونے لگتی ہے ۔ یہی خوشحال زندگی کااوّلین اصول ہے۔
(۳)تعلیمی فوائد: عام طور پر ہرفن مولا کہلانے والے لوگ نہ صرف جلد نوکری یا روزگار حاصل کرلیتے ہیں بلکہ ماضی میں انجام دی گئی اِن سرگرمیوں کی بنا ءپر انہیں اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع دوسروں کی بہ نسبت جلد حاصل ہوجاتے ہیں۔اس طرح سے ان کے ذریعے انجام دی گئی سرگرمیاں ان کے بہتر مستقبل کی ضامن بھی بن جاتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی مختلف سرگرمیاں
تہذیب و ثقافت کو زندہ اور پائندہ رکھنے کے لیے تعلیمی ادارے مختلف قسم کی سرگرمیوں کو انجام دیتے ہیں ان سرگرمیوں کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ابتدائی ،ثانوی اور ثلاثی سرگرمیاں کہہ سکتے ہیں۔
Recitation, Simple Story Telling, Dancing, Drawing, Painting, Fancy Dress, Folk Dance, Assembly, Reading جیسی سرگرمیوں کو ابتدائی سرگرمیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے اور ان کا اطلاق پرائمری اسکولوں پر کیا جاسکتا ہے۔
Debate and discussion,School magazine, Dramatics, Study circle, Societies, Art groups, Seminar, Poetic Gathering, Scouting, Sculpture, Exhibition, Folk Songs, Students’ Council, Celebration of Religious National and Social Festivals, Organization of School Panchayat Mock Parliament, Social Study Circle, Fair, First Aid, Red Cross, Social Survey, وغیرہ کو ثانوی سرگرمیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے اور ان کا اطلاق سیکنڈری اسکولوں پر کیا جاسکتا ہے۔
National Cadet Corps (NCC), National Sports Organisation (NSO), National Service Scheme (NSS), Debate and discussion, Seminar, Conference, Social Survey وغیرہ کو ثلاثی سرگرمیاں کہہ سکتے ہیں اور ان کا اطلاق کالجوں پر کیا جاسکتا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں کچھ مخصوص قسم کی سرگرمیاں بطور خاص انجام دی جاتی ہیں مثلاً
Children’s Day, Woman’s Day, Various Religious Festivals, New year, Republic Day, Independence Day, Teachers Day, Arts and Crafts Exhibition, Inter-School Science Fest وغیرہ۔
پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں مختلف قسم کی تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں اور ان سرگرمیوں کے اختتام پر ایک مخصوص قسم کے جشن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس مختصرسے مضمون میں پورے ملک کا حوالہ دینا تقریباً ناممکن ہے لیکن عروس البلاد ممبئی اور اس کے اطراف میں واقع تعلیمی اداروں میں منائے جانے والے مخصوص دنوں یا جشن کے نام یہاں پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً
Don Bosco Institute of Technology. میں منایا جانے والا جشن Crextal
Narsee Monjee College of Commerce & Economics میں منایا جانے والا جشن ، امنگ
K. J. Somaiya College of Engineering میں منایا جانے والا جشن Symphony
Mithibai College میں منایا جانے والا جشن Kshitij
Xavier Institute of Engineering میں منایا جانے والا جشن Spandan
Veermata Jijabai Technological Instituteمیں منایا جانے والا جشن Pratibim
Anjuman i Islam میں منایا جانے والا جشنJushn e Anjuman کہلاتا ہے
جہاں تک اردو تعلیمی اداروں کا تعلق ہے ممبئی اور اس کے اطراف و اکناف میں واقع یہ ادارے تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ہمیں اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان اداروں میں سب سے نمایاں نام ڈپارٹمنٹ آف اردو یونیورسٹی آف ممبئی کاہے۔یہاں ڈپارٹمنٹ کے صدر پروفیسر صاحب علی صاحب کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی کے سبب تہذیبی و ثقافتی پروگرام تواتر کے ساتھ منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
چوں کے ممبئی میں انجمن اسلام اور انجمن خیرالاسلام کے تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے اس لیے ہمیں زیادہ تر سرگرمیاں ان ہی کے یہاں نظر آتی ہیں۔ اس معاملے میں انجمن اسلام باندرہ میں منعقد ہونے والا فی البدیہہ تقریری مقابلہ، سیف طیب جی میں منعقد کیے جانے والے ثقافتی مقابلے، انجمن اسلام سی ایس ٹی پر منعقد ہونے والے مقابلے قابلِ ذکر ہیں۔
اکبر پیربھائی کالج میں گزشتہ دودہائیوں سے جاری بیت بازی کے مقابلے نے تہذیب و ثقافت کے تنِ مردہ میں روح پھونکی ہے۔ اسی طرح کموجعفر اور برہانی کالج میں منعقد کیے جانے والے مقابلوں سے انکار ممکن نہیں۔
ممبئی کے مضافات گوونڈی شیواجی نگر میں واقع نورالاسلام اردو ہائی اینڈ جونئیر کالج تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کے معاملے میں دیگر بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے۔ اس ادارے نے پرنسپل فضل الرّحمٰن خان کی رہنمائی میں کامیابی و کامرانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اکثر و بیشتر یہاں شعری نششتیں، ادبی محفلیں اور دیگر ثقافتی مقابلے منعقد کیے جاتے رہتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ممبئی کے اطراف میں واقع بھیونڈی تہذیبی اور ثقافتی مقابلوں میں اردو کے تمام بڑے مراکز سے آگے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے اور اس کا مکمل سہرا کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے سرہے۔ جتنے مقابلے یہاں منعقد کیے جاتے ہیں شاید ہی کہیں اور منعقد کیے جاتے ہونگے۔
کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کی معرفت چلنے والے رئیس ہائی اینڈ جونئیر کالج کے پرنسپل ضیا الرّحمٰن انصاری نے ہمیں بتایا کہ ان کے یہاں باقائدگی سے حمد ، نظم، اردو ، انگریزی اور مراٹھی زبانوں میں خوش خطی اور ڈرائنگ کے مقابلے انٹر اسکول لیول پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح تقریر، قرات، جنرل نالج کوئیز، سوشل کوئیش، وغیرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔رئیس ہائی اسکول میں منعقد ہونے والا آل مہاراشٹر تقریری مقابلہ تقریباً 80 سالوں سے جاری ہے، دلیپ کمار، قادر خان اور نوتن جیسے فلمی ستارے رئیس ہائی اسکول کے مقابلوں میں بطور مہمان شامل ہوچکے ہیں۔گزشتہ چھ برسوں سے یہاں منعقد ہونے والے تقریری مقابلے میں انتظامیہ اور پرنسپل مسلم IASآفیسر کو بطور مہمان مدعو کر رہے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات ان سے ترغیب حاصل کرسکیں۔اسی سوسائٹی کے ذریعے وڈلی میں سیرت النّبی تقریری مقابلہ، مومن گرلس میں غزل سرائی، رفیع الدین فقیہ ہائی اسکول میں پرنسپل شبیر فاروقی کی رہمنائی میں تمثیلی مشاعرہ وغیرہ باقائدگی سے مننعقد کیے جا رہے ہیں۔
بھیونڈی کے دیگر ادارے بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں، صافیہ گرلس قرآن کوئیز کے لیے، نیو نیشنل ، الحمداور صلاح الدین ایوبی ہائی اسکول ادبی نششتوں کے لیے مشہور ہیں۔
سالہا سال سے ممبئی اور اطراف و اکناف ہی نہیں پورے مہاراشٹر میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں شمیم طارق صاحب کی سرپرستی میں منعقد کیا جانے والا مقابلہ¿ دینیات اور حامد اقبال صدیقی صاحب کے کوئیز ٹائمز کے ذریعے منعقد کیا جانے والا جنرل نالج کوئیز کمپیٹیشن تمام مقابلوں میں سرِ فہرست ہے۔ حامد اقبال صدیقی صاحب کے مقابلے کو اردو میڈیم کا سب سے بڑا ریئلٹی شو اور طلبا و طالبات کی سب سے بڑی تفریح قرار دیا جاسکتا ہے۔ان ہی مقابلوں نے ہماری زبان، ہماری تہذیب و ثقافت اور خود ہمیں زندہ رکھا ہے۔
(ان شا اللہ آئندہ قسط میں مہاراشٹر کے دیگر اردو تعلیمی اداروں میں منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا)

مضمون نگار سے مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

khanzkr@gmail.com

Aurat by Rasheed JahaN

Articles

عورت

رشید جہاں

ڈاکٹر رشید جہاں (25 اگست، 1905ء – 29 جولائی، 1952ء)،  اردو کی ایک ترقی پسند مصنفہ، قصہ گو، افسانہ نگار اور ناول نگار تھیں، جنہوں نے خواتین کی طرف سے تحریری اردو ادب کے ایک نئے دور کا آغاز کیا۔ وہ پیشے سے ایک ڈاکٹر تھیں۔

ڈاکٹر رشید جہاں کا تعلق علی گڑھ کے ایک روشن خیال خاندان سے تھا۔ ان کے والد شیخ عبد اللہ علی گڑھ کے مشہور تعلیم اور مصنف اور علی گڑھ خواتین کالج کے بانیوں میں سے ایک تھے، جنہیں ادب و تعلیم میں سن 1964ء میں حکومت ہند کی طرف سے پدم بھوشن ایوارڈ سے نوازا گیا تھا۔ انہوں نے علی گڑھ میں تعلیم نسواں کا پہلا اسکول اور کالج قائم کیا تھا جو آج بھی عبد اللہ گرلس کالج کے نام سے معروف ہے اور مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کا ایک ادارہ ہے۔ ان کی والدہ وحید شاہجہاں بیگم بھی بہت روشن خیال تھیں اور ایک رسالہ ’خاتون‘ نکالتی تھیں۔ جس کا مقصد مسلم خواتین میں بیداری پیدا کرنا تھا۔ ابتدائی تعلیم علی گڑھ سے حاصل کرنے کے بعد ان کا داخلہ لکھنؤ کے مشہور ازا بیلا تھوبرون کالج میں کروا دیا گیا تھا۔ وہاں دو سال تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ دہلی کے لارڈ ہارڈنگ میڈیکل کالج میں داخل ہوئیں اور وہاں سے سنہ 1934ء میں ڈاکٹر بن کر نکلیں۔ سنہ 1934ء میں ہی ان کی شادی محمود الظفر کے ساتھ ہوئی جو اردو کے ادیب ہونے کے ساتھ ساتھ امرتسر کے اسلامیہ کالج میں پرنسپل بھی تھے۔ وہیں ڈاکٹر رشید جہاں کی ملاقات فیض احمد فیض سے ہوئی اور وہ با قاعدہ ترقی پسند تحریک کی سرگرم رکن بن گئیں۔

رشید جہاں پہلی بار 1932ء میں زیر بحث آئیں جب ان کے افسانوں اور ڈرامے کا مجموعہ ‘‘انگارے’’ شائع ہوا۔ افسانہ نگاری انہوں نے اپنی شادی سے پہلے سے شروع کر دی تھی، اور سنہ 1931ء میں سجاد ظہیر کی ادارت میں ” انگارے “ کی اشاعت ہوئی تو اس میں ان کا افسانہ ’ پردے کے پیچھے ‘ اور’ دلی کی سیر ‘ شامل تھا۔ کیونکہ ان کے افسانے اس وقت کے سماج میں رائج بنیاد پرستی اور جنسی اخلاقیات کے لیے چیلنج تھے۔ ’ انگارے‘ کی اشاعت کے بعد اس کے خلاف زبردست احتجاج ہوا تھا اور جگہ جگہ اس کی کاپیاں جلا دی گئی تھیں۔ بعد میں برطانوی حکومت کی طرف سے اس پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور اس کی کاپیاں ضبط کر لی گئی تھیں۔ ڈاکٹر رشید جہاں ایک رسالہ ” چنگاری “ کی بھی مدیرہ تھیں جس کا مقصد خواتین میں ذہنی بیداری پیدا کرنا تھا۔ لکھنﺅ کے دوران میں قیام انہوں نے کئی ڈرامے لکھے اور انہیں اسٹیج بھی کیا۔ ان کا افسانوی مجموعہ ” عورت“ اور دوسرا 1937ء میں لاہور سے شائع ہوا تھا۔ دوسرا افسانوی مجموعہ ان کے انتقال کے بعد ’ شعلہ جوالہ ‘ کے عنوان سے سنہ 1968ء میں اور تیسرا ’ وہ اور دوسرے افسانے ‘ سنہ 1977ء میں شائع ہوا۔

عورت

کردار

مولوی عتیق اللہ

فاطمہ: مولوی عتیق اللہ کی بیوی

عزیز:جوان مرد۔ فاطمہ کا ایک ماموں زاد بھائی۔

قدیر:جوان مرد۔ عزیز کا چھوٹا بھائی۔

ممانی:عزیز و قدیر کی ماں۔

کرایہ دارنی:ایک عورت مع بچہ

ایک ملازم عورت

بڑی بی:عتیق اللہ کی ملازم ماما۔

ایک  اور عورت

لڑکا سات آٹھ سال کا

 

وقت:ظہر اور عصر کے درمیان۔

جگہ:فاطمہ کا گھر۔

(ایک بڑا سا دالان ہے۔ اس کے دونوں طرف تخت بچھے ہوئے ہیں۔ ان پر سفید چاندنی بچھی ہے۔ گاؤ تکیے لگے ہوئے ہیں۔ بیچ میں ایک پلنگ ہے۔ اس پر ایک بچھونا لپٹا ہوا سرہانے کی طرف رکھا ہے جس کو عتیق اللہ گاؤ تکیہ کی طرح استعمال کرتا ہے۔ پلنگ کے ایک طرف حقہ ہے  اور دوسری طرف اگالدان۔ سامنے کے تخت پر فاطمہ بیٹھی سی رہی ہے۔ پاندان تھالی کسنہ  اور بغچی اس کے چاروں طرف ہیں۔ زمین پر فرش نہیں ہے۔ دو تین پیڑھیاں پڑی ہوئی ہیں۔ دالان کی دیواروں میں جگہ جگہ طاق بنے ہوئے ہیں  اور ان پر تانبے  اور چینی کے برتن سجے ہوئے ہیں۔ الٹے ہاتھ کی طرف باہر سے اندر آنے کا دروازہ ہے اس پر ٹاٹ کا پردہ پڑا ہے  اور سیدھے ہاتھ کو پیچھے کی طرف زینہ کا دروازہ ہے۔اسٹیج کے پیچھے دو دروازے ہیں جو کمرے میں کھلتے ہیں۔ ایک دروازہ بند  ہے  اور ایک کھلا۔)

 

عتیق اللہ:(حقہ گڑگڑاتے ہوئے) میری سمجھ میں نہیں آتا کہ میری دوسری شادی کا تم پر کیا اثر پڑے گا۔ گھربار، روزمرہ کا خرچ سب کچھ تمہارے ہی ہاتھ میں رہے گا۔ میں کتنی بار کہہ بھی چکا ہوں کہ تم دونوں کا برابر خیال رکھوں گا۔۔۔ جب تمہارے بچے ہی نہ جئیں تو مجبوراً مجھ کو دوسرا نکاح کرنا پڑ رہا ہے۔

فاطمہ:(منہ اونچا کر کے) بچے نہیں جیتے تو کیا میں ان کا گلا گھونٹ کر مار ڈالتی ہوں  اور  جب اللہ میاں کی مرضی ہی نہیں ہے کہ ہمارے جیتے جاگتے بچے ہوں تو اس میں  میرا کیا بس ہے؟ اور خدا کی مرضی کے آگے چل کس کی سکتی ہے؟جو دوسری عورت کے بچے بھی مر گئے تو تم کیا کر لو گے؟

عتیق:انسان کم از کم اپنی طرف سے سب کوشش کر دیکھے۔ میری عمر اب چالیس برس کی ہو گئی  اور اب تک کوئی جیتا بچہ نہیں ہے۔ اولاد بڑھاپے کی لاٹھی ہے  اور اسی وجہ سے شریعت نے بھی یہ حکم دیا ہے کہ اگر عورت بانجھ ہویا اس کی اولاد نہ جیتی ہو تو مرد دوسری شادی کر سکتا ہے۔

فاطمہ:یہ بچے نہ جینے کی شریعت میں نے آج ہی سنی ہے !تم جو شریعت نہ بناؤ وہ کم ہے۔ میں خدانخواستہ کوئی بانجھ نہیں ہوں دس بارہ بچے پورے  اور  کچے ملا کر ہوئے اب کوئی نہیں رہا تو اس میں کون سا میرا قصور ہے کہ مجھ کو سزا دی جائے !دنیا بھرکو تم تعویذ دیتے ہو، آخر تمہارا علم کس دن کام آئے گا۔

عتیق:یہی تومیں تم کو برابر بتا رہا ہوں کہ پچھلی جمعرات کو خواب میں مجھ سے ایک بزرگ نے کہا کہ اس عورت سے تیرے جیتے بچے نہیں ہو سکتے۔ دوسری شادی کرتا کہ تیری دلی مراد بر آئے۔ جب خدا ہی کا حکم نہ ہو تو۔۔۔

فاطمہ:بنتے تو تم بڑے مولوی ہو۔ ساری دنیا تمہارا ادب کرتی ہے۔ فتویٰ لکھواتی ہے لیکن خدا کی قسم تمہارے یہ من گھڑت خواب میرا دل جلا کر خاک کر دیتے ہیں۔ اب تمہارے جھوٹ مجھ پر اثر نہیں کرتے۔ ابھی یہ کہہ رہے تھے کہ مہینوں سے ایک مرید میرے پیچھے پڑ رہا ہے کہ میری لڑکی سے شادی کر لو۔ اب جمعرات کو بزرگ بھی خواب میں کہہ گئے۔ سچ کیوں نہیں کہتے کہ وہ لڑکی بیمار تھی۔ آپ جن اتارنے گئے تھے جن تو اتر گیا۔ اب اس کی جگہ خود لینا چاہتے ہو۔(بگڑ کر) شادی کرنی ہے تو کر لو مجھ سے پوچھ کر اور کون  سا کام کرتے ہو۔ لیکن جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت؟

عتیق:(حقہ جھٹک کر) عجیب عورت ہے خاوند کو جھوٹا کہتی ہے جب ہی تو تمہارے بچے مر جاتے ہیں۔

فاطمہ:خیر اب دوسری جو۔۔۔

(ایک عورت تنگ پائجامہ میں داخل ہوتی ہے۔ میلا برقع اوڑھے ہے اس کی گود میں ایک چھوٹا بچہ ہے۔ وہ بھی ماں کی طرح میلا ہے  اور گلے میں تعویذوں کا ہار پہنے ہوئے ہے۔ عورت کو دیکھ کر فاطمہ  اور  عتیق اللہ چپ ہو جاتے ہیں۔ فاطمہ سینے لگتی ہے  اور عتیق اللہ حقہ گڑگڑاتے ہیں۔ عورت آگے بڑھ کر پہلے عتیق کو اور پھر فاطمہ کو سلام کرتی ہے  اور  پلنگ  اور  تخت کے درمیان پیڑھی پر بیٹھ جاتی ہے۔)

عتیق:کہو بچہ تو اچھا ہے۔

عورت:حضور کی مہربانی ہے۔ ابھی چھوٹے میاں کہاں اچھے ہیں۔ خوب بخار چڑھ رہا ہے چونک چونک پڑتے ہیں۔ کوئی دوسرا تعویذ تجویز کر دیجئے  اور  مولوی صاحب، بیوی نے کہا ہے کہ بڑی مہربانی ہو گی جو بچہ کو ایک دفعہ شام کو پھر دیکھ لیں۔

عتیق:(بھویں سکیڑ کر) بھئی!میں کسی کے یہاں گھڑی گھڑی  جانا تو پسند کرتا نہیں ہوں۔ خاص کر ضعیف  الاعتقاد لوگوں کے یہاں۔(حقہ کا کش لے کر)ان کے میاں بڑے انگریز بنتے ہیں۔ بھئی!اپنی بیگم صاحب سے کہہ دینا کہ اگر انھوں نے انگریزی دوا دی تو پھر ہم کچھ نہیں کر سکتے۔

عورت:اے حضور کر کیوں نہیں سکتے خدا کے حکم سے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ ہزار بیوی چلائیں۔ لیکن میاں کسی موئے ڈاکٹر  کو لے ہی آئے۔ اس نے رینڈی  کا تیل بتایا، نسخہ لکھا  اور  بدہضمی بتا گیا۔

عتیق:(طنزیہ ہنسی سے) بدہضمی!بدہضمی کی خوب کہی۔ اس پر تو سایہ ہے۔ (تھوڑی خفگی سے) بھئی ہمارا علاج کرنا تھا تو انگریزی دوا کیوں دی گئی۔ میں اب ہرگز نہیں جانے کا۔ اگر ان کا دل چاہے تو بچے کو یہیں لے آئیں۔

عورت:(پیڑھی کو آگے کھسکا کر) مولوی صاحب، دواتو ابھی نہیں دی۔ لیکن تیل تو میاں نے اپنے سامنے ہی پلا دیا تھا۔ بیوی نے یہی کہا ہے کہ آپ خفا مت ہو جائیے کیا کرتی مجبور تھی۔ میاں کے آگے کچھ نہ چلی  اور  حضور بیگم صاحبہ نے کہا ہے کہ ’’بچہ اٹھنے کے قابل نہیں ہے ورنہ میں خود آپ کو تکلیف دینے کی جرأت نہ کرتی  اور اس کو یہیں آپ کے قدموں میں لا ڈالتی۔‘‘ تکلیف تو حضور کو بہت ہو گی جب کہیں سواری لے کر حاضر ہو جاؤں۔

عتیق:اونہوں !اس معصوم بچے کی جان کی مجھ کو خود فکر ہے ورنہ میں نہ کسی کے گھر جاؤں  اور نہ ان لوگوں کا علاج کروں؟ جو میرا حکم نہیں مانتے۔ اگر  ان کافروں کی دوا پلانا تھی تو مجھے ناحق دق کیا۔

عورت:حضور اب کیا کریں؟مردوں سے بس نہیں چلتا۔ ورنہ بیوی کو تو آپ پر وہ اعتقاد ہے  اور ہونا بھی چاہئے اب دیکھئے۔(بچہ کی طرف اشارہ کرتی ہے)میرے بچے کے دانت یوں ہی آپ کے تعویذوں کی بدولت نکل رہے ہیں نہ بخار ہوا نہ آنکھیں دکھیں۔ آپ کی کرامت کی تعریف تو ہر کسی سے سن لو۔

عتیق:میری اس میں کوئی تعریف نہیں ہے۔ اللہ کا کلام ہے۔ اسی کا سب ظہور ہے۔

عورت:لیکن مولوی صاحب!ہر ایک کوئی اللہ کے کلام کو سمجھتا کب ہے؟ (پیڑھی  اور آگے کھسکا کر) اب دیکھئے نیم کی گلی میں بھی ایک مولوی ہیں۔ بس منہ نہ کھلوائیے۔۔۔

(باہر سے کوئی زور سے کنڈی کھٹکھٹاتا ہے۔)

عتیق:کون ہے؟

(کنڈی کا شور جاری رہتا ہے۔)

عتیق:(عورت سے) ذرا جا کر دیکھنا کہ کون ہے؟

(عورت بچے کو چھوڑ کر باہر جاتی ہے۔)

فاطمہ:(جلے ہوئے لہجے میں)علاج ہو ڈاکٹر  کا بدہضمی ہے۔ جلاب دیا گیا ہے۔ بخار اسی سے اتر جائے گا نام مولوی صاحب کا ہو جائے گا۔ انھیں ڈھکوسلوں سے تو لوگ تمہارے معتقد ہوتے ہیں۔۔۔

(عورت ایک خط لے کر داخل ہوتی ہے۔ فاطمہ چپ ہو جاتی ہے۔ عتیق خط لے کر پڑھتا ہے۔)

عتیق:(فاطمہ سے)لو تمہارے نام تمہاری ممانی کا خط ہے وہ آج شام کو پھر آئیں گی(عورت سے) اچھا بیٹی! اب تم جاؤ۔ مغرب سے پہلے سواری لے آنا۔

(عورت سلام کر کے بچے کو اٹھا کر رخصت ہوتی ہے۔)

عتیق:یہ تمہاری ممانی ابھی چار روز ہوئے تو آئی تھیں۔ کیا ان کو اپنے گھر کچھ کام نہیں ہے؟اب یہ ہوا نئی چلی ہے کہ عورتیں دو دن جم کر گھر نہیں بیٹھتیں۔

فاطمہ:اگر گھڑی دو گھڑی کو وہ آ جاتی ہیں۔ تو تمہارا کیا  بگاڑ جاتی ہیں؟

عتیق:ان کے لڑکے بھی ضرور آئیں گے تم کو ان سے درحقیقت پردہ کرنا چاہئے۔

فاطمہ:کیوں؟وہ دونوں مجھ سے چھوٹے ہیں دوسرے برسوں کے بعد تو اب پھر دہلی آ کر  رہنا شروع کیا ہے۔ میں تو صورتیں دیکھنے کو ترس گئی تھی۔ اب میں ان سے پردہ کروں گی؟

عتیق:تمہارے ان ماموں کے گھر کا ڈھنگ مجھ کو بالکل  پسند نہیں ہے۔ انسان گھر سے باہر رہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ اپنے پرانے طریقے چھوڑ دے  اور کرسٹان بن جائے۔ لڑکوں کو جب  دیکھو کر سٹان بنے پھر تے ہیں لڑکے تو لڑکے بڑھاپے میں تمہاری ممانی نے بھی ساڑھی باندھنی سیکھی ہے؟

فاطمہ:بڑھاپے میں تو نہیں ، ممانی جان ہمیشہ سے ساڑھی باندھتی ہیں۔ شادی ہو کروہ ماموں جان کے ساتھ پردیس چلی گئی تھیں  اور وہیں رہیں خدا جنت نصیب کرے۔ جب تک چھوٹے ماموں زندہ رہے یہ ساتھ ہی رہیں۔ ان کی ملنے والیاں بہت سی ہندو ہی تھیں۔ (بگڑ کر) تو آخر ساڑھی میں کیا برائی ہے؟

عتیق:برائی کیوں نہیں ہے !ایک تو اپنا اسلامی لباس چھوڑنا  اور پھر کافروں سے دوستی کرنا یہ کہاں کی شرافت ہے؟خیر ماں کو چھوڑو لیکن یہ ان کے دونوں صاحبزادے جو انگریزی لباس میں اینٹھتے پھر تے ہیں اس کے آخر کیا معنی ہیں؟(ذرا دیر ٹھہر کر) اول تو وہ لوگ نامحرم ہیں۔ دوسرے میری مرضی نہیں ہے کہ تم قدیر  اور عزیز کے سامنے آؤ۔

فاطمہ:تمہیں تو بس ایک بات کی ضد ہو جاتی ہے میرے بڑے ماموں ہیں ان کے بڑے لڑکے کے میں سامنے آتی ہوں وہ تمہارے دوست  اور  معتقد ہیں تو وہ بڑے محرم ہو گئے۔ تم خود ان کو بلاتے ہو اور وہ یوں بھی آتے ہیں۔ وہ نامحرم نہ ہوئے؟قدیر اور عزیز جن سے وہی رشتہ ہے وہ نامحرم ہو گئے۔ آخر مجھے بھی بتاؤ۔

عتیق:مجھے ہر بات بتانے کی ضرورت نہیں ہے شوہر کا حکم بیوی کو بغیر حیل و حجت کے ماننا فرض ہے۔ لیکن تم ہو کہ  ہر بات میں سوال و جواب کرتی ہو۔ اگر جواب چاہتی ہو توسنو۔

ان دونوں لڑکوں کے چال چلن بالکل ٹھیک نہیں ہیں ان کا ایمان نہیں رہا مذہب نہیں رہا خدا  اور  رسول کا کچھ بھی خوف ان کے دل میں نہیں ہے۔ شراب یہ پئیں ،  بد گوشت کھائیں (جوش میں اٹھ کر بیٹھ جاتے ہیں) ان سے زیادہ  اور کون بدمعاش ہو گا! دوسروں کی شریف عورتوں پر نگاہ ڈالتے ہیں کافر کہیں کے !

فاطمہ:(غصہ سے)خدا نہ کرے وہ کافر کیوں ہونے لگے۔ کسی کو کافر کہنا بڑے ثواب کا کام ہے؟تم بھی پرانے مردے اکھاڑنے لگے۔ نگاہ ڈالی؟ تمہاری بہن کہاں کی ایسی نیک ہیں !قدیر نگوڑے نے کیا نگاہ ڈالی اس کی عمری تھی یہی تو خیال کیا تھا کہ تمہاری بہن سے شادی کرے۔ شادی کرنے کی خواہش تو کوئی بری نگاہ نہیں ہے۔

عتیق:نہیں بہت اچھی نگاہ ہے گھر میں آ کر پرائی لڑکی سے جھانکا تاکی کریں یہ کہاں کی شرافت ہے؟

فاطمہ:جھانکا تاکی کس نے کی؟تمہاری بہن مانگ پٹی کر کے خود اپنا جلوہ دکھانے کھڑی ہو جاتی تھیں۔ کون سی ایسی ننھی تھیں قدیر تو سے عمر میں کچھ بڑی ہی ہیں۔ وہ تو پھر لڑکا تھا انھیں اپنی ناک کا کچھ خیال نہ ہوا۔ بچارے قدیر ہی پرکیا ہے۔ اپنے گریبان میں منہ ڈالو۔ اب خود جو کنیز فاطمہ پر لٹو ہو اور مجھ  پر بچوں کے نہ جینے کا الزام رکھتے ہو۔(بگڑ کر) اپنی برائی کسی کو نظر نہیں آتی۔

عتیق:استغفراللہ!کنیز کے والدین خود مجھ کو نجیب الطرفین سمجھ کر بہت خوشامد کے ساتھ شادی کر رہے ہیں۔

فاطمہ:ہاں تمہاری یہ نجیب الطرفینی نہ معلوم کس کس کی قسمت پھڑوائے گی۔ اسی پر تو اللہ بخشے ابا نے مجھے بھی قربان کر دیا۔۔۔ (گھرکی ماما داخل ہوتی ہے فاطمہ بغیر رکے ہوئے مڑ کراس سے بات کرنا شروع کرتی ہے۔) دیکھنا بڑی بی؟تم نے چلتے وقت نہ باورچی خانہ میں جھاڑو دی مکھیاں بھنک رہی ہیں  اور اب اتنی دیر کر کے تم آئی ہو۔

ماما:(قریب آ کر پیڑھی  پر بیٹھ جاتی ہے)ہاں بیوی!تھوڑی دیر ہو گئی۔ ذرا کی ذرا ہمسائی کے ہاں چلی گئی تھی اس کی لڑکی سسرال سے آئی ہوئی ہے۔ کم بخت باتوں میں ایسی بیٹھی کہ وقت کا دھیان نہ رہا! (تھوڑی دیر ٹھہر کر)بیوی ذرا ایک ٹکڑا پان کا دینا۔۔۔ پیسہ دو گی کچھ سودا منگانا ہے یا کھانا کہیں باہر سے آ جائے گا؟

فاطمہ:(پان دیتے ہوئے طنزاً) اسے کھانے کی تم پرواہ نہ کرو خدا تمہارے مولوی صاحب کو زندہ رکھے۔ مفت کا پلاؤ قورمہ روز حاضر ہے۔ آج ایک مرید کے ہاں شادی ہے وہاں سے آ جائے گا۔تم اس وقت سونف جو دھوپ میں سوکھ رہی ہے اس کو چن کر کوٹ دو کل چٹکی بناؤں گی۔

(ماما اٹھ کر جانے لگتی ہے۔)

فاطمہ: اور سنو بڑی بی!برتن اچھی طرح دھونا۔ باورچی خانہ میں جھاڑو بھی دینی ہے ذرا جلدی کرو۔ پھر ممانی آ جائیں گی۔

عتیق:(ڈکار لے کر)بڑی بی ذرا پانی پلاتی جانا۔۔۔

فاطمہ:(باٹ کاٹ کر) اے تم جاؤ اپنا کام کرو پانی مل جائے گا۔

(فاطمہ اٹھ کر جاتی ہے  اور کٹورے میں پانی لا کر عتیق اللہ پاس زور سے رکھ دیتی ہے  اور واپس جانے لگتی ہے۔)

عتیق:(پانی کا کٹورا ہاتھ میں لے کر) یہ قدیر دو برس سے وکالت کر رہے ہیں کچھ کما بھی لیتے ہیں؟

فاطمہ:(واپس تخت پر بیٹھ کر)کماتے نہیں تویوں ہی۔ ہر کسی کے سامنے تمہاری طرح ہاتھ تو نہیں پھیلاتے۔

عتیق:اگر کما رہے ہیں تو شادی کیوں نہیں کرتے؟

فاطمہ:شادی بھی ہو جائے گی کیا جلدی ہے۔ ابھی جوان ہے کوئی بڈھا تو نہیں ہے۔ کہتا ہے اپنی پسند کی کروں گا۔ میں تو خدا کا شکر کرتی ہوں کہ تمہاری بہن سے نہیں ہوئی۔ لڑکے کی قسمت پھوٹ جاتی۔ اب تو تمہیں بھی لالچ آتا ہو گا!

عتیق:(سیدھے بیٹھ کر) اس کافر کا کیا منہ تھا کہ میری بہن لے جاتا۔ میری زندگی میں تو ایسا  ہو نہیں سکتا تھا۔

فاطمہ:خیر وہ کافر سہی نیچ ذات سہی اس میں تو سب ہی برائیاں ہیں۔ وہ تمہاری بہن جو سیدوں میں گئی ہیں وہ کون سی سکھ میں ہیں؟

عتیق:کچھ نہیں تو ہڈی توہے پھر وہ لوگ۔۔۔

فاطمہ:اے ہے قدیر کی ہڈی اتنی بری تھی تو تم نے قدیر کے خاندان میں بیاہ کیوں رچایا تھا؟

عتیق:میں نے کیوں رچایا تھا تمہارے والد میرے اباکے اتنے معتقد تھے کہ انھوں نے خود خوشامد کر کے تمہاری شادی کی۔

فاطمہ:خیر میرے ابا جان نے تو تمہارے ، تمہارے ابا، سب کے ہاتھ پیر  جوڑ کر میری قسمت پھوڑ دی۔ اب یہ جو بیاہ رچا رہے ہو تو یہ کون سی سیدانی ہیں؟اب تو تم ماشاء اللہ چالیس برس کے ہو۔ کوئی بچہ نہیں۔ اب تو اپنی نسل کا خیال کرو۔

عتیق:آخر اس بک بک سے فائدہ؟

(فاطمہ بقچی میں سے کپڑا اٹھا کر سینے لگتی ہے۔)

عتیق:(تھوڑی، خاموشی کے بعد) یہ اوپر کے کرایہ دار کو میرا ارادہ ہے اٹھا دوں۔

فاطمہ:(تڑخ کر)کیوں؟میرا مکان ہے۔ اول تو کرایہ آتا ہے۔ دوسرے کرایہ دارنی بڑی نیک ہے۔ اچھے برے وقت کی ساتھی ہے۔ میں تو اس کرایہ دار کو کبھی نہ اٹھنے دوں گی۔

عتیق:آخر آج کل تمہیں کیا ہو گیا ہے ، ہر بات پر بحث  اور انکا رہے۔

(ایک سات آٹھ سال کا لڑکا ایک سینی خوان پوش سے ڈھکی ہوئی سرپر لے کر داخل ہوتا ہے  اور جب بولتا ہے تو جلدی جلدی)

لڑکا:سلام ملانی جی یہ بیوی نے حصہ بھیجا ہے طشتری خالی کر دو۔

فاطمہ:کہاں سے لایا ہے  اور کس بات کا ہے؟

لڑکا:پنڈت کے کوچہ سے آئی ہے۔ یہ طشتری خالی کر دو۔

فاطمہ:کرتے ہیں۔ ذرا دم لے لو آج کیا ہوا تھا جو مٹھائی آئی ہے۔

لڑکا:بہت سی بیویاں آئی تھیں۔

فاطمہ:ارے بچے !پنڈت کے کوچہ میں تو بہت سے لوگ رہتے ہیں۔ کچھ پتہ تو بتا۔

لڑکا:جی املی والے گھر سے آئی ہے۔

عتیق:آخر اس سے کیا بحث ہے !کہیں سے آئی ہو، مٹھائی سے غرض ہے کسی مرید کے ہاں سے آئی ہو گی۔۔۔ یہ طشتری تو بہت خوبصورت ہے۔ (لڑکے سے) جا اپنی بیوی سے کہنا کہ مٹھائی تو ملانی جی کے واسطے ہے  اور طشتری مولوی صاحب نے رکھ لی۔

فاطمہ:تو سینی بھی رکھ لو وہ کیوں چھوڑتے ہو وہ تو زیادہ قیمتی ہے !

لڑکا:(ڈر کر)طشتری تو بیوی نے منگائی ہے نہیں تو ماریں گی۔

عتیق:جا، جو ہم نے کہا ہے کہہ دیجو، پھر نہیں ماریں گی۔

(لڑکا چپ  کھڑا رہتا ہے ، جاتا نہیں۔)

عتیق:(زور سے) ارے جاتا کیوں نہیں؟

(لڑکا آہستہ آہستہ چلتا ہے  اور مڑ مڑ کر طشتری کو دیکھتا جاتا ہے۔)

عتیق:ذرا دکھانا کیا مٹھائی ہے۔

(فاطمہ جھک کر طشتری آگے بڑھا دیتی ہے۔ عتیق ایک ڈلی اٹھا کر کھانے لگتا ہے۔)

فاطمہ:دیکھو!ابھی تمہاری طبیعت خراب تھی، اب یہ ثقیل مٹھائی کھانے لگے۔ اب شام کو شادی کا کھانا کھاؤ گے۔ بیمار ہو گے یا نہیں؟خیر مجھے کیا !

فاطمہ:(طشتری اٹھا کر)  اور لو گے یابس۔

عتیق:(ایک  اور ڈلی لے کر)بس  اور نہیں چاہئے۔

(فاطمہ مٹھائی لے کر اندر چلی جاتی ہے۔ عتیق مٹھائی ختم کر کے اس کے ٹکڑے پلنگ پرسے چن چن  کر کھاتا جاتا ہے  اور ڈکاریں لیتا جاتا ہے۔ ایک عورت برقعہ میں لپٹی ہوئی ادھر ادھر دیکھتی داخل ہوتی ہے۔ سلام کر کے کھڑی رہتی ہے۔)

عورت:ملانی جی کہاں ہیں؟

عتیق:(چاروں طرف دیکھ کر) اندر ہیں کیوں؟

عورت:مولوی صاحب میں مرزا حیدر بیگ کے یہاں سے آئی ہوں۔ باہر بیٹھک میں چلئے تو کہوں۔

عتیق:(انگڑائی لے کر)نہیں یہیں کہو وہ تو اندر ہیں۔

(عورت پیڑھی پر بیٹھ جاتی ہے۔)

عورت:مولوی صاحب!لڑکی والے کہتے ہیں کہ آپ پیغام دے کر چپ ہو گئے آج کل ان کے ہاں ایک  اور نسبت آئی ہوئی ہے۔ لیکن پہلے آپ کے یہاں سے ہاں یانا ہو جائے تو پھر دوسرے کو جواب دیا جائے۔

عتیق:(جلدی سے بیٹھ جاتا ہے) نہیں نہیں ان سے کہنا کہ دوسری جگہ فوراً انکار کر دیں اب تک تومیں خود سوچ میں تھا کہ آیا میں دوسری شادی کروں یا نہیں۔ لیکن اب تو اس  کا کچھ سوال ہی نہیں رہا۔ مجھے خواب میں بشارت ہوئی ہے کہ دوسری شادی کر تو میں کیسے پیچھے ہٹ سکتا ہوں۔ حیدر بیگ سے کہنا کہ انشاء اللہ بہت جلد سب ٹھیک ہو جائے گا۔

(فاطمہ پیچھے سے آ جاتی ہے  اور خاموش کھڑے ہو کر سنتی ہے۔)

عورت:اللہ خوش رکھے ہمارے میاں تو خود کہتے ہیں کہ وہ عورتیں خوش قسمت ہیں جن کو آپ جیسا میاں ملے وہ یہ سن کر بہت خوش ہوں گے۔ وہ آپ کے بڑے پابند ہیں۔ کہتے ہیں کہ آپ جیسا نیک  اور خداپرست آدمی انھوں نے آج تک نہیں دیکھا۔ بیوی کہتی ہیں ہزار کچھ  ہو تو پھر سوکن ہی ہے۔

عتیق:ارے ان ے کہنا اس بات کا بالکل خیال نہ کریں میری بیوی خود میرے پیچھے پڑ رہی ہے۔ کہتی ہے کہ  اور شادی کر لو تا کہ بچے جیتے پیدا ہوں۔ ان کی بغیر مرضی کے میں خود ایسا کام نہ کرتا۔ دوسرے وہ لڑنے جھگڑنے والی بھی نہیں۔ جب اس کے بچے ہی نہ جئیں تو وہ  اور میں دونوں مجبور ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مردوں کو چار شادیوں کا حکم دیا ہے اس میں کسی کے ساتھ بے انصافی بھی نہیں ہے۔

عورت:یہی تو میاں بھی کہتے ہیں کہ جب مرد دونوں کو برابر سمجھے تو دو شادیاں کرنا تو ثواب ہے۔ مولوی صاحب اللہ رکھے وہ رہیں گی کہاں؟

عتیق:اوپر کوٹھے  پر کرایہ دار کو ہٹا کر اس کو درست کروا دوں گا۔

فاطمہ:(غصہ میں آگے بڑھ کر)کرایہ دار ہٹ جائے گا۔ مجال ہے کرایہ دار کی کہ ہٹ جائے میرے باپ کا دیا ہوا مکان ہے اس میں سے تم تو تم تمہارے جنات بھی کرایہ دار کو نہیں ہٹا سکتے  اور تم۔۔۔

عتیق:(غصہ کو دباتے ہوئے آہستگی سے) اس بک بک کی کیا ضرورت ہے؟ جو کچھ کہنا ہے مجھ سے بعد میں کہنا۔

فاطمہ:کیوں؟کیا مجھے کسی کا ڈر ہے۔۔۔

(عتیق عورت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ وہ جلدی سے چلی جاتی ہے۔)

عتیق:(تن کر) کیوں جی؟یہ تمہاری کیا حرکت ہے؟(نہایت غضبناک آواز میں)اس طرح بات کے بیچ میں کود پڑنا اس کے کیا معنی؟ کیا تمہارے ہوش و حواس بالکل خبط ہو گئے؟

فاطمہ:(بلند آواز سے) میری کیا حرکت ہے؟تمہیں جھوٹ بولتے شرم نہ آئی۔لگے الٹے چیخنے !تم اپنے کو سمجھتے کیا ہو؟میرے گھر میں بیٹھ کر ایسی باتیں کرو اور پھر یہ امید رکھو کہ میں چپ بیٹھی سنا کروں؟

عتیق:(غصہ  اور بڑھ گیا ہے) اور تم کیا چیز ہو؟بڑی بڑی نیک عورتوں پر سوکنیں آئی ہیں  اور انھوں نے اف تک نہ کی۔ اپنے خاوند کی خدمت میں عمر کاٹ دی۔(چیخ کر)تو نہایت گنہگار  اور بدترین عورت ہے۔ مجھ کو خفا کر کے اپنے لئے جہنم تیار کر رہی ہے۔

فاطمہ:(غصہ سے کانپتی ہوئی آواز میں) اور تم  خود کون سے نیک ہو تم کون سے جنت میں چلے جاؤ گے۔ ایک دوزخ نہیں مجھ کو ہزار دوزخیں منظور ہیں۔ لیکن کان کھول کر سن لو۔ اس گھر میں وہ تمہاری بیوی ہرگز نہیں گھس سکتی۔

عتیق:(طیش میں آ کر کھڑا ہو جاتا ہے)تیری بکواس بند نہیں ہو گی؟ اگر تجھ کو خدا  اور  رسول  اور اپنے خاوند کا جو تیرا مجازی خدا ہے ڈر نہیں ہے۔ توتو نہایت ذلیل بدترین  اور نجس ہستی ہے۔ تیری اس بک بک سے میں شادی روک نہ دوں گا۔ دوسرا نکاح کروں گا پر کروں گا ا ور وہ اسی گھر میں رہے گی  اور تیرا درجہ کتے سے بدتر جس قابل کہ توہے ہو گا۔

(یہ حکم لگا کر عتیق باہر کی طرف چلتا ہے۔)

فاطمہ:(چیخ کر اور آگے بڑھ کر)تو یہ بھی سنتے جاؤ، تمہاری مولویت تمہاری عزت سب خاک میں ملا دوں گی  اور تمہاری اس معشوقہ کو یہاں نہ گھسنے دوں گی۔میں کسی بھیک منگے سید کی بیٹی نہیں ہوں کہ تم سے ڈر جاؤں۔

عتیق:(مڑ کر)اے ناہنجار دوزخی عورت اگر تو بات نہیں سمجھتی تو یہ  تو سمجھتی ہے۔

(فاطمہ کے منہ پر زور سے طمانچہ مارتا ہے  اور پھر باہر کی طرف چلا جاتا ہے۔)

فاطمہ:(غصہ سے دیوانی ہو جاتی ہے  اور دانت پیس کر مولوی کا کرتا پکڑ لیتی ہے۔)مارتے ہو تو ٹھیک سے مارو خدا  اور اس کے رسول کی قسم کھا کر کہتی ہوں کہ تمہاری عزت تمہاری حقیقت خاک میں ملا کر نہ چھوڑی ہو تومیں حمید بیگ کی بیٹی نہیں کسی بھنگی کی ہوں گی۔

(عتیق کرتا چھڑا کر غصہ سے کانپتا ہوا باہر چلا جاتا ہے۔)

فاطمہ:(بے بس ہو کر)جاتے کہاں ہو۔ بڑے مولوی بنے ہیں۔ جھوٹے بے ایمان کہیں کے !

(فاطمہ ڈوپٹے میں منہ چھپا کر سسکیوں سے روتی ہے زینے پرسے کسی کے اترنے کی آواز آتی ہے !ایک عورت پہلے سر نکال کر جھانکتی ہے پھر سامنے آتی ہے۔)

کرایہ دارنی:اے ہے ملانی جی کیا ہوا؟یہ رونے کیوں لگیں؟خیر تو ہے؟

(کرایہ دارنی پاس آ کر کھڑی ہو جاتی ہے  اور بازو پکڑ کر فاطمہ کو تخت پر بٹھا دیتی ہے۔)

کرایہ دارنی:کچھ کہو تو آخر کیا بات ہے۔ آج مولوی صاحب بہت زور زور سے خفا ہو رہے تھے ! اوپر تک آواز آ رہی تھی بتاؤ تو کیا ہوا؟

فاطمہ:(سسکیاں  لے کر)دوسرا بیاہ، بیاہ کر رہے ہیں۔۔۔  اور مجھے مارا (جوش سے) اے خدا تو ایسے بے ایمانوں کو غارت کر۔۔۔

کرایہ دارنی:مارا مولوی صاحب نے !نہیں تمہیں میری قسم سچ بتانا؟

فاطمہ:(آنچل سے منہ پونچھ کر) خیر ان کو بھی پتہ چل جائے گا۔ یہ نہ سمجھ لیں کہ بن باپ بھائی کی ہے۔ جو دل چاہے گا۔۔۔

کرایہ دارنی:اے جبھی کوٹھا خالی کرنے کو کہہ رہے تھے۔ میں بھی تو کہوں آخر بات کیا ہے؟

فاطمہ:(سسکی لے کر اور آنسو پونچھ کر)کوٹھا خالی کرنے کو؟یہ کب کہا؟

کرایہ دارنی:کل رات کو ان سے کہا تھا۔

فاطمہ:ابھی تو وہ آئی بھی نہیں کہ ہاتھ اٹھنے لگا  اور جب آ جائے گی تو نہ معلوم کیا  حشر ہو گا۔ خیر انھیں بھی معلوم ہو جائے گا۔ کرایہ دار سے کہہ دینا کہ گھر خالی نہ کریں۔

کرایہ دارنی:ارے توبہ کرو ملانی جی وہ بھلا مولوی صاحب کا کہنا مانیں گے کہ تمہارا؟

(گھرکی ماما بھی آ کر کھڑی ہو جاتی ہے  اور  رحم کی نگاہ سے فاطمہ کو دیکھتی ہے۔)

ماما:آج تو مولوی صاحب پر بڑا جلال تھا۔

کرایہ دارنی:دیکھو پانچوں انگلیاں منہ پر بن رہی ہیں۔

ماما:ہاہ  اتنے بڑے مولوی ہیں  اور عورت پر ہاتھ اٹھاتے ہیں۔

(فاطمہ آنسو پونچھتی ہے۔)

کرایہ دارنی:پہلے تو کبھی نہیں مارا۔ اب یہ نئی شادی جوکر رہے ہیں خدا کی قسم مولوی ہو یا کوئی۔ مرد کے تیور بدلتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ اب کسی کو اچھا لگے یا برا ان مولوی کی باتیں تو مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتیں !

فاطمہ:(ہاتھ پھیلا کر)اے خدا یہ کہاں کا انصاف ہے؟ایک آنکھ میں تو لہر بہر  اور  دوسری میں میں  تیرا یہ قہر!تو نے ہم عورتوں کو اتنا بے بس کیوں بنایا ہے۔ (تھوڑی دیر ٹھہر کر) چاہے کچھ ہو جائے اس تھپڑ اور اس شادی کا بدلہ تومیں ضرور لوں گی، لو یہ بھی میرا قصور ہے کہ بچے مر گئے !

کرایہ دارنی:اے ہاں کوئی بھی عورت ایسی ہو گی جس کو اپنے بچوں کے مرنے کا غم نہ ہو۔ایک تو ان کا غم اٹھاؤ، دوسرے میاں کی مار کھاؤ، یہ کہاں کا انصاف ہے؟یہ تو آج صبح سے مکان ڈھونڈ رہے ہیں۔

ماما:تین بچے تو کھیلتے  مالتے چلے گئے۔ پھر تو سب ایسے ہی ہوئے۔

کرایہ دارنی:سب کو تو مولوی صاحب تعویذ دیتے ہیں۔ علاج کرتے ہیں۔ جن پکڑتے ہیں۔ بیوی کا علاج کیوں نہیں کرتے۔

فاطمہ:علاج کرتے ہیں خاک!سب ڈھکوسلے بازی ہے۔ روپیہ ٹھگنے کے ڈھنگ ہیں بدنیت مٹھائی تو مٹھائی طشتری تک کھا جاتے ہیں۔

کرایہ دارنی:تو آج میں بتاتی ہوں کہ جب میں ان سے یہی کہتی ہوں تو ہمیشہ لڑنے لگتے ہیں کہ اس میں مولوی صاحب کا کیا بس ہے۔ انھوں نے تو سب جتن کر لیے۔ جب اللہ میاں ہی کی مرضی نہیں ہے تو وہ کیا کریں۔

ماما:اے بیوی بس کرو کب تک روئے جاؤ گی۔(خود بھی آنسو پونچھتی ہے) تمہاری قسمت ہی ایسی پھوٹی ہوئی ہے۔ سوکن آئے تو آئے مار بھی کھانے لگیں۔ مولوی صاحب ایسے تو نہ تھے چیختے چلاتے تو ہمیشہ سے ہیں ہاتھ اٹھاتے پہلے کبھی نہیں دیکھا۔

(باہر سے کہار پکارتے ہیں۔)

کہار:سواری اترو الو۔۔۔ سواری اتر والو۔

(ماما آنسو پونچھ کر کھڑی ہو جاتی ہے  اور آہستہ آہستہ باہر کی طرف جاتی ہے۔)

ماما:چیخے کا ہے کو جاتا ہے آ تو رہے ہیں۔

کرایہ دارنی:جنے کون آیا ہے؟

فاطمہ:ممانی ہوں گی۔

(ممانی کلف دار خوب پھولی ہوئی ساڑھی پہنے ہوئے داخل ہوتی ہے۔ کرایہ دارنی سلام کرتی ہے وہ سر سے جواب دے کر فاطمہ کی طرف بڑھتی ہے فاطمہ اسی طرح خاموش بیٹھی رہتی ہے۔)

ممانی:کیوں بیٹی فاطمہ کیا طبیعت اچھی نہیں ہے (اور قریب آ کر) یہ رو کیوں رہی ہو کیا بات ہے؟

(فاطمہ کھڑے ہو کر ممانی سے لپٹ جاتی ہے  اور پھر سسکیوں سے رونے لگتی ہے۔)

ممانی:(کرایہ دارنی سے)خیر تو ہے کیا ہوا؟

کرایہ دارنی:مولوی صاحب نے مارا۔

ممانی:ہیں !کیا !مارا!آخر کس بات پر؟

ممانی:فاطمہ، اے بیٹی بس کرو۔ کچھ کہو تو۔

(سہارا دے کر بٹھا دیتی ہے  اور خود بھی تخت پر بیٹھ جاتی ہے۔)

(ایک مرد کی آواز باہر سے آتی ہے۔)

آواز:بڑی بی۔ بڑی بی۔ میں آ سکتا ہوں۔

ممانی:کون؟عزیز؟آ جاؤ۔

کرایہ دارنی:ذرا ٹھہرئیے۔ میں تو چلی جاؤں۔

(عزیز اندر آتا ہے لیکن غیر عورت کو دیکھ کر واپس جانے لگتا ہے۔)

ممانی:ذرا ٹھہرو ابھی پردہ ہوا جاتا ہے۔

(کرایہ دارنی جلدی سے چلی جاتی ہے۔)

ممانی:اب آ جاؤ۔

(ایک جوان لڑکا شیروانی  اور پائجامہ پہنے داخل ہوتا ہے ، آ کر کھڑا کا کھڑا رہ جاتا ہے۔)

فاطمہ:(آنسو پونچھ کر)بیٹھ جاؤ میاں یہ سامنے پلنگ تو پڑا ہے۔

عزیز:آپا جان کیا ہوا؟

فاطمہ: بھائی کیا بتاؤں جس کے باپ بھائی نہ ہوں۔ اس کی یہی بے قدری  اور  یہی حشر ہو گا۔

عزیز:اب آپ شکایتیں تو رہنے دیجئے۔ پہلے اپنی تکلیف تو بتائیے۔

(ممانی گال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔)

عزیز:(جھک کر منہ دیکھتا ہے) ہیں یہ آپ کا منہ لال کیوں ہو رہا ہے؟

فاطمہ:لال کیسے ہو رہا ہے۔ خدا کی، قسمت کی، شوہر کی سب کی مار مجھ پر ہے  اور کیا ہے۔

عزیز:آپا جان کچھ تو بتائیے؟

فاطمہ:ہوا کیا دوسری شادی کر رہے ہیں۔ کہتے ہیں تیرے بچے نہیں جیتے دوسرا بیاہ کروں گا۔

ممانی:دوسرا بیاہ؟

فاطمہ:جی ہاں دوسرا بیاہ۔  اور میرے یہ کہنے پر کہ میں اپنے  گھر میں ان کی نئی بیوی کو گھسنے نہیں دوں گی۔ بہت چیخے چلائے  اور میرے منہ پر زور سے تھپڑ مارا۔

ممانی:لو اور سنو گھر تمہارا ہے تمہارے باپ کا دیا ہوا ہے ان کو اس میں لانے کا حق ہی کیا ہے۔ ایسا ہی شوق ہے تو اور گھر لے کراس میں رکھیں۔

عزیز:ان کو دوسری شادی اس حالت میں جبکہ بیوی موجود ہے کرنے کا حق کیا ہے؟

ممانی:حق کی بات تو یہ ہے ، میاں کہ وہ مرد ہیں ان کو کون روک سکتا ہے؟ خداوند کریم، رسول پاک، شریعت، قوم، سب کی طرف سے اجازت ہے۔ ایک چھوڑ وہ ابھی تین شادیاں  اور کر سکتے ہیں۔ مصیبت تو عورتوں کی ہے۔

فاطمہ: اور پھر کہتے ہیں کہ دونوں کے ساتھ ایک سا سلوک کروں گا۔ ایک سا خیال رکھوں گا۔ ابھی تو وہ آئی بھی نہیں ہے۔

عزیز:کیا یہ بھی کہتے تھے کہ ایک سی محبت بھی کروں گا۔ خیال  اور محبت میں تو بڑا فرق ہے۔

ممانی:محبت کون برابر کر سکتا ہے؟پہلی تو ہمیشہ دل سے اتری ہوئی ہوتی ہے۔ محبت برابر کرنے کا دعویٰ تو بڑے بڑے نہیں کر سکے۔ یہ بچارے تو صرف مولوی ہیں۔

فاطمہ:یہ تو دنیا میں اپنے برابر کسی کو نہیں سمجھتے۔ کہتے ہیں کہ بڑی بڑی نیک عورتوں پر سوکنیں آئی ہیں  اور انھوں نے اف تک نہ کی۔

عزیز:(ہنس کر) غلط تھوڑے ہی کہتے ہیں عورتوں پرہی سوکنیں آتی ہیں کوئی گائے بھینس پر تو نہیں۔

فاطمہ:میاں جب عورت ہوتے تب۔۔۔

ممانی:اے  اور کیا انھیں کیا  قدر ہے عورت کی جان کو بس اتنا سمجھتے ہیں کہ کھانا کپڑا دے دیا تو بہت کیا۔ میاں بہت اللہ والے ہوئے تو ایک رات ایک بیوی کے ہاں جا رہے دوسری رات دوسری بیوی کے پاس۔ بس عورتیں نہ ہوئیں میاں کے کھلونے ہو گئیں۔ جس سے جی چاہا کھیل لیا۔ قصور کس کا ہے جو دونوں عورتیں ایکا کر لیں تو مرد کیا کر سکتا ہے؟

عزیز:مردان دونوں کو چھوڑ کر تیسری شادی کر سکتا ہے۔

ممانی:دوسے میرا مطلب کوئی دوسے تھوڑا ہی ہے۔ میرا مطلب عورتوں سے ہے۔اصل بات یہ ہے کہ ہم ہیں ہی بدقسمت جب اللہ ہی نے مرد کو بڑا رتبہ دیا ہے تو۔۔۔

فاطمہ:رہنے بھی دو ممانی جان!اپنے مطلب کی یہ سب کتابیں مردوں نے لکھی ہیں ، مذہبوں کے بنانے والے شریعتیں  اور قانون بنانے والے سب مرد ہی تو تھے۔ مردوں کی آسانی کی سب باتیں لکھ گئے۔ عورتوں کے دلوں کی انھیں کیا خبر عورت ہوتے تو سمجھتے۔

ممانی: توبہ کرو بیٹی توبہ!اپنے غصہ میں کفر تو نہ بکو!وہ لوگ اللہ کے پیارے تھے ہماری کیا مجال ہے کہ ہم ان کے فعلوں یا حرکتوں کو جانچیں  اور  پرکھیں وہ بے گناہ  اور پاک ہستیاں تھیں اب انھوں نے جو کیا تو خیر۔ یہ دوسرے مردوں کی۔۔۔

عزیز:یہ تو نہایت بے انصافی کی بات ہے اماں جان کہ آپ مولوی صاحب کو حقوق کی ادائیگی کے لیے برا کہتی ہیں۔ میں تو ان کی بہت تعریف کرتا ہوں۔۔۔

ممانی:تمہارا کیا ہے تم جو نہ کہو۔۔۔

(باہر سے کنڈی کھٹکتی ہے  اور ساتھ ہی ایک مرد کی آواز آتی ہے۔)

آواز:کیا میں آ سکتا ہوں؟

عزیز:لیجئے آپا جان قدیر بھائی بھی آ گئے۔

(اٹھ کر پردہ کھولتا ہے۔)

عزیز:آ جاؤ قدیر بھائی میدان بالکل صاف ہے۔

(قدیر سوٹ میں داخل ہوتا ہے۔)

قدیر:آداب عرض آپا جان کیوں کیا بات ہے سب چپ کیوں ہو گئے۔ کیا میری برائی ہو رہی تھی۔ جبھی تو میرے کان بھی جل رہے ہیں۔

عزیز:نہیں تمہارا ذکر نہیں تھا۔ یہاں تو مولوی صاحب کی تعریف ہو رہی تھی کم از کم میں تو کر رہی رہا تھا۔

قدیر:یہ تو نہایت دلچسپ بات ہے۔ کیوں کیا آج کل مولوی صاحب پھر کوئی پیش گوئیاں فرما رہے ہیں۔

فاطمہ:پیش گوئیاں تو نہیں ہاں خواب ضرور دیکھا ہے۔

قدیر:شکر ہے کہ معراج کی ہمت نہ ہوئی۔

ممانی:تم دونوں بھائیوں کو ہر وقت ہنسی مذاق سوجھتا ہے کبھی تو کسی دوسرے کی مصیبت کا خیال کیا کرو۔

قدیر:مصیبت۔ مصیبت کس پر پڑی؟

ممانی:بہن پر سوکن آ رہی ہے  اور تمہیں ہنسی کی سوجھ رہی ہے۔

قدیر:واللہ مجھ کو بالکل خبر نہیں تھی بہت افسوس کی بات ہے۔ لیکن یہ خبر تو بالکل نئی ہے۔ ابھی تو پچھلے ہفتے جب میں آیا تھا تو اس کا کوئی ذکر نہ تھا۔

فاطمہ:مجھے خود تین دن ہوئے انھوں نے بتایا۔

قدیر:تو مولوی صاحب کی برات کب ہے؟کیا گھوڑے پر سوار ہو کر دلہن لینے جائیں گے۔ معاف کیجئے آپا جان میں بغیر ہنسے نہیں رہ سکتا۔ (خوب ہنستا ہے) اب کس خوش قسمت کو یہ عہدہ مل رہا ہے۔

فاطمہ:ان کے ایک مرید کی لڑکی ہے۔

قدیر:اچھا تو پھر سب کچھ بتائیے۔

ممانی:بتائیے کیا۔ پہلے تم ہنس تولو۔ شادی کریں گے بیوی کو اسی گھر میں رکھیں گے۔ اس نے منع کیا کہ میرا گھر ہے میں یہاں آنے نہ دوں گی تو اسے مارا۔

قدیر:مارا!سچ بتائیے آپا جان۔ اب ان کی یہ ہمت بھی ہو گئی کہ آپ پر ہاتھ اٹھانے لگے  اور تعجب ہے کہ آپ جیسی غیرت مند عورت نے ان کی مار کس طرح کھا لی۔

فاطمہ:کیا کرتی میاں !زبردست کا ٹھینگا سرپر۔ کیا میں بھی مارتی؟

عزیز:کیوں نہیں !اس میں شبہ نہیں کہ مولوی صاحب کشتی میں جیت جاتے لیکن پھر بھی دو ایک ہاتھ آپ کو بھی آزما لینے چاہئے تھے۔

ممانی:پھر تمہارا وہی مذاق۔

قدیر:اماں جان آپ بھی کمال کرتی ہیں۔ یہ مذاق کی بات ہے؟میں تو نہایت سنجیدگی سے بات کر رہا ہوں  اور آپ اس کو مذاق میں لئے جاتی ہیں۔ آپا جان مولوی صاحب کی اس قسم کی مردانہ حرکات پر کون بغیر ہنسے رہ سکتا  ہے۔ لیکن یہ سوچ کر بہت غصہ آ رہا ہے کہ آپ کیوں ایسی بے بس صورت بنا کر رونے بیٹھ گئیں۔

فاطمہ: بھائی میں بے والی وارث عورت ان کا کیا کر سکتی ہوں۔

قدیر:بے والی وارث!آپ کوئی بچہ توہے نہیں کہ آپ کو سہارے کی ضرورت ہو جب تک انسان اپنے اوپر بھروسہ نہیں کرتا  اور اپنا وارث آپ نہیں بن جاتا دنیا میں کوئی اس کی مدد نہیں کر سکتا۔

ممانی:خیر میاں !یہ سب کہنے کی باتیں ہیں۔ ایک پردہ نشین، شریف عورت بغیر وارث مرد کے کیا کر سکتی ہے؟

فاطمہ:ہاں ممانی جان ذرا آپ ہی انصاف سے کہئے۔

قدیر:اس میں برا ماننے کی بات نہیں ہے۔ آپ سے جو ہمدردی مجھ کو ہے اس کو بیان کر کے اس ہمدردی کے جوش کو کھونا ہے ، لیکن آپ ہی بتائیے کہ آپ کیا کریں گی؟کیا آپ یہ چاہتی ہیں کہ میں بھی اماں جان  اور  عزیز کی طرح آپ کے ساتھ مل کر رونے لگوں؟

عزیز:تم میرا نام نہ لو۔ میں تو بچارے مولوی صاحب کے لئے لڑ رہا تھا کہ آخر وہ کیوں نہ دوسری شادی کریں میرا خود چار بیویاں رکھنے کا ارادہ ہے۔

ممانی:اے ہے تمہارے ایسے فقرے مجھے ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ پہلے تمہیں ایک جڑ جائے تو جاننا!

قدیر:آپا جان، آپ سب سے پہلے یہ بتائیے کہ آپ کرنا کیا چاہتی ہیں  اور  ہم کس طرح آپ کی مدد کر سکتے ہیں؟

فاطمہ:میں یہ نہیں چاہتی کہ وہ میرے گھر میں قدم رکھے۔ ان کا جہاں جی چاہے رکھیں۔(گود پھیلا کر) یا اللہ اس کے بھی بچے اس طرح ہو ہو کر مریں۔ جیسا کہ میرے اوپر بچوں کی موت کا الزام تھوپا ہے انھیں بھی تو کچھ خبر ہو۔

قدیر:یہ کوسنے کاٹنے سے تو کچھ ہوتا نہیں ہے کام کی بات کیجئے۔ بس آپ اتنا ہی چاہتی ہیں کہ وہ یہاں نہ آئے؟فرض کیجئے کہ انھوں نے آپ کو کہنا نہ مانا تو آپ کیا کریں گی۔

ممانی:بچاری کیا کرے گی،  یہی نہ کہ رو دھوکر بیٹھ رہے گی۔

فاطمہ:میں رو دھو کر نہ بیٹھوں گی۔ میں ساری دنیا سارے محلہ کو شور مچا کر بتا دوں گی کہ یہ مظلوم پر کیسا ظلم کر رہے ہیں۔

قدیر:اس سے کیا ہو گا۔ وہ گھر پر رہنے ہی لگے گی۔ آپ کا شور چالیس گز تک بھی نہ پہنچے گا۔

فاطمہ:(جوش سے) کیا عدالت، کچہری سب ختم ہو گئے۔ کیا کوئی ایسا قانون نہیں ہے کہ میں اسے اپنے مکان میں گھسنے نہ دوں !

قدیر:جی ہاں قانون توہے۔ کیونکہ یہ آپ کا ذاتی مکان ہے۔ آپ اس کو یہاں آنے سے روک سکتی ہیں۔ کیوں آپ کی ہمت بھی کچہری جانے کی ہو گی؟

فاطمہ:اگر یہ اس کو یہاں لے آئے ، تو خدا کی قسم سب کچھ کر کے دکھا دوں گی۔

ممانی:(ڈر کر)بیٹی خدا کا نام بے کار نہ لو ابھی غصہ ہے۔ جب ہوش میں آؤ گی تو رنج ہو گا۔ دوسرے شریفوں کے ہاں کچہری عدالت نہیں ہوتے۔

قدیر:نہیں ہوتے تواب ہونے چاہئیں۔ اماں جان آپ کیوں ان کی ہمت کو پست کئے دیتی ہیں؟

ممانی:ہمت پست کئے دیتی ہوں؟تم کہاں کے ایسے بزرگ نکلے ہو۔ ابھی تو فاطمہ کی ماں جیتی بیٹھی ہیں وہ اتنی ناراض ہوں گی کہ خدا کی پناہ  اور  سچی بات تو یہ ہے کہ کچہری عدالت کے تومیں بھی خلاف ہوں۔

عزیز:اماں جان۔ کون کچہری عدالت بلا ضرورت کے کرتا ہے؟ ابھی آپ کی دوکان کا کرایہ نہ ملے تو آپ نالش کریں گی یا نہیں؟

ممانی:اے لڑکو!کیا  تمہارا دماغ پھر گیا ہے؟ کیا سچ مچ بہن کو عدالت چڑھاؤ گے؟

قدیر:ہم نہیں چڑھائیں گے ، ہاں ، اگر آپا جان ہماری مدد مانگیں گی توہم ان کی ہر ہر طرح مدد کریں گے ! اور آپ کی طرح کہ بیٹی روکر صبر کر لو نہیں کہیں گے۔ اچھا یہ بحث تو رہی۔ اب یہ بتائیے کہ ان کے دل میں ایک دم شادی کرنے کی کیونکر سمائی؟

فاطمہ:کہتے ہیں کہ اللہ کی مرضی نہیں ہے کہ میرے بچے جئیں خواب میں کوئی بزرگ کہہ گئے ہیں کہ دوسری کر جب تیرے بچے جئیں گے۔

قدیر:یہ مولویت بھی کیا آسان پیشہ ہے بچے نہ جئیں اپنے قصور سے  اور  اللہ کا حکم ہو گیا!

فاطمہ:اب تین تو پل پلا کر ایک دم چیچک کی نذر ہو گئے۔دو دن میں گود جھاڑ کر کھڑی ہو گئی۔

قدیر:وہ بھی انھیں کی مہربانی ٹیکے نہ لگوانے دیئے ہوں گے۔

فاطمہ:ٹیکے ان غریبوں کے کہاں لگے تھے انگریزی دوا تو اس گھر میں آ نہیں سکتی۔ لیکن یہ بعد کے یا تو مرے ہوئے پیدا ہوئے۔ یا تو پیدا ہوتے ہی مر جاتے ہیں۔یہ تو میری قسمت کا قصور ہے  اور میرے ہی گناہ سامنے آتے ہیں۔

قدیر:قسمت بے چاری کو آپ اتنا نہ روئیے۔  اور نہ کوئی گناہ آپ نے کئے  اور  نہ گناہ کرنے کا موقع آپ کو ملا۔ آپ کو اتنے بچوں کی موت کا باعث بھی یہی مولوی صاحب ہیں۔ آج میں یہی بتانے کو حاضر ہوا تھا۔ اس دن جو آپ کا خون  ڈاکٹر  اقبال نے لیا تھا اس کا جواب آ گیا ہے۔ اس کے متعلق تنہائی میں کہوں گا۔

فاطمہ:تنہائی کی کیا ضرورت ہے؟ممانی جان سے یا عزیز سے کیا کوئی پردہ ہے۔

قدیر:خیر آپ کی مرضی، صرف یہ کہنا چاہتا تھا کہ میرے دوست ڈاکٹر  اقبال کہہ رہے تھے کہ اگر آپ کا علاج ہو تو جیتا بچہ ہو سکتا ہے بشرطیکہ مولوی صاحب کا علاج بھی ساتھ ہو۔

فاطمہ:وہ تو انگریزی علاج ہرگز نہیں کریں گے۔ ہاں چھپ چھپا کر میں کروا لیتی۔ لیکن اب وہ دوسرا بیاہ کر رہے ہیں میری وہ سنیں گے لیکن میاں کو آخر بیماری کیا ہے؟

قدیر:جی اس کو گرمی کی بیماری کہتے ہیں۔

فاطمہ:کیا کہا قدیر میاں !یہ نجس بیماری مجھ کو!نہیں میاں کچھ غلطی ہو گئی ہو گی۔ میرے تو پشتوں میں بھی یہ بیماری نہیں ہے۔

قدیر:آپ کونہ سہی مولوی صاحب کوہو گی۔

ممانی:توبہ کرو توبہ!مولوی ہیں ہزار ظلم کریں ، مولوی لوگ ایسا کام نہیں کرتے۔

عزیز:کیا آپ سب مولویوں کے پیچھے پیچھے پھر تی ہیں؟

فاطمہ:یقین تو مجھے بھی نہیں آتا۔

قدیر:اب یقین آپ نہ کریں تو دوسری بات ہے۔ مولوی صاحب کا مجھے علم نہیں ان کے خون کا معائنہ ہوا نہیں ہے۔ لیکن آپ کو یہ بیماری ضرور ہے۔

فاطمہ:میاں مجھے کہاں سے لگ گئی۔

قدیر:میرے خیال میں تو مولوی صاحب سے ہی لگی ہو گی۔

فاطمہ:(ایک دم جوش سے) قدیر میاں اگر تمہاری بات ٹھیک ہو گی  اور  میرے بچوں کے خون کے ذمہ دار ہوں گے۔ تومیں چاہے عمر بھر  سڑک پر بھیک ہی کیوں نہ مانگوں ان کو ان کی نئی نویلی دلہن کو مزہ چکھا دوں گی۔ ممانی جان آپ میرے زیوروں کا صندوقچہ لیتی جائیے۔ نہ معلوم مجھے کب ضرورت پڑ جائے  اور یہ مکانوں  اور دوکانوں کے کاغذات بھی۔

ممانی:اے بیٹی یہ بہت ذمہ داری کی بات ہے تم اپنی ماں کے پاس لے جا کر رکھو اور۔۔۔

فاطمہ:ممانی جان آپ اماں کو جانتی ہیں۔ وہ ان کے آگے میری کب سنتی ہیں جو یہ کہتے ہیں وہ کرتی ہیں۔ کوئی بیٹیوں سے کیا محبت کرے گا۔ جو وہ داماد سے کرتی ہیں اگر یہ کہیں گے کہ تو جائداد دوسری عورت کے نام لکھ دے تواماں کہیں گی لکھ دے۔ ان کاتو یہ کہنا ہے کہ مرو اور بھرو۔

قدیر:آپا جان، اگر آپ کو میرا بھروسہ  ہو تومیں رکھنے کو تیار ہوں اماں بھی پھوپھی جان سے کم تھوڑی ہیں یہ بھی یہی کہیں گی کہ مرو اور بھرو۔

فاطمہ:میاں خدا تمہیں خوش رکھے ابھی اندر سے جا کر لاتی ہوں۔

(چلی جاتی ہے۔)

ممانی:قدیر تمہیں کیا ہو گیا ہے پرائے معاملہ میں تم کیوں پڑتے ہو مولوی صاحب ویسے ہی تمہارے دشمن ہیں اب تم کوئی بچہ تو ہو نہیں۔۔۔

عزیز:اماں جان جب وہ مدد مانگ رہی ہیں تو یہ انسانیت کے خلاف ہے کہ ان کی مدد نہ کی جائے۔

ممانی: اور باتیں بڑی انسانیت کی کرتے ہو۔ اس کی ماں زندہ ہیں بڑے ماموں زندہ ہیں۔ چچا  اور  ان کی اولاد موجود ہے تمہیں بیچ میں دخل دینے کی کیا ضرورت ہے۔

قدیر:ان کی اماں ، ماموں ، چچا، آپ سب آخر میں یہی کریں گے کہ اسی دوزخ میں دھکا دے دیں گے۔ جب وہ اپنے گھر میں مولوی صاحب کی نئی بیوی کا آنا نہیں چاہتیں  اور یقیناً مولوی صاحب اس کو یہاں لا کر رکھیں گے تو پھر کیوں نہ ان کی مدد کی جائے۔

ممانی: اور جو کل عتیق اللہ نے دعویٰ کر دیا کہ میری بیوی کو بھگا کر لے گئے؟

قدیر:بیوی کوئی ایسی بچہ نہیں ہے۔ چوری سے جانے کی کوئی ضرورت نہیں ہم کیوں لے جائیں گے ہاں اگر وہ خود آئیں گی توہم اپنا دروازہ بند نہیں کریں گے۔

ممانی:تم دونوں بھائی جو کبھی میرا کہنا مان لو یہی نئی روشنی ہے۔ اچھا چپ رہو وہ آ رہی ہے۔

(فاطمہ صندوقچہ لے کر واپس آتی ہے۔)

فاطمہ:لو میاں زیور روپیہ جو کچھ بھی ہے یہ ہے  اور کچھ اماں کے پاس ہے۔

قدیر:(صندوقچہ اٹھا کر) یہ تو پتھر ہے کیا اس میں سونے کی اینٹیں بھری ہیں۔

فاطمہ:نہیں میاں ، سونے کی اینٹیں کہاں سے آئیں اب آپ لوگ لے ہی جائیے۔ آتے ہی ہوں گے۔ عزیز کل صبح پھر ہوتے جانا کچھ کاغذات  اور  دینے ہیں۔

ممانی۔:بیٹی میری ہمت تولے جانے کی ہے نہیں۔

قدیر:اماں جان میں آپ کی ڈولی میں رکھے دیتا ہوں آپ لے کرچلی ہی جائیے۔

(صندوقچہ لے کر چلا جاتا ہے۔)

ممانی:یہ بھی تم لوگوں کی کوئی بات ہے۔

عزیز:اماں جان اب دیکھئے وہ آ گئے تو یہ صندوقچہ بھی جائے گا  اور ان کا زیور دوسری کومل جائے گا۔ ابھی تو آپ کہہ رہی تھیں کہ مصیبت میں کام نہیں آتے۔

(قدیر واپس آ جاتا ہے ممانی کھڑی ہو جاتی ہیں۔)

ممانی:اچھا بیٹی اب آج کل بڑے بوڑھوں کی سنتا کون ہے۔ خدا کرے خوش رہو۔ اللہ عتیق کا دل پھیر دے  اور میں ساتھ خیر کے تمہاری امانت تمہیں سونپ جاؤں۔ یہ بڑے ذمہ داری کا کام ہے۔

(مولوی عتیق اللہ کھنکھارتا  ہوا داخل ہوتا ہے سب خاموش ہو جاتے ہیں۔)

عتیق:السلام علیکم۔

قدیر و عزیز:آداب عرض!

عتیق:تو کیا مجھ کو دیکھ کر آپ سب واپس جانے لگے۔

ممانی:نہیں اب جاہی رہے تھے۔ جب آپ آئے تومیں خدا حافظ ہی کہہ رہی تھی۔

(لڑکوں کی طرف دیکھ کر منہ بناتی ہے جس کا مطلب ہے کہ تمہیں خدا سمجھے۔)

قدیر:میں تو صرف  آپا جان کے معالج کی طرف سے آیا تھا۔ اب معافی چاہتا ہوں۔ آداب عرض ہے آپا جان، (عتیق سے)آداب عرض۔

عزیز:آداب عرض۔

ممانی:(فاطمہ کو گلے لگا کر چپکے سے) بیٹی جو کچھ بھی کرنا سوچ سمجھ کر کرنا۔

(علاوہ عتیق کے سب لوگ باہر جاتے ہیں۔ فاطمہ دروازے تک جاتی ہے وہاں سب پھر ایک دوسرے سے رخصت ہوتے ہیں۔ فاطمہ واپسی پر بلا عتیق اللہ کی طرف دیکھے ہوئے دوسری طرف چلتی ہے۔)

عتیق:آج ہی میں نے تم سے کہا تھا کہ ان دونوں بھائیوں کے سامنے نہ ہونا تم نے میری حکم عدولی کیوں کی؟

(فاطمہ کھڑی ہو کر غصہ سے مولوی صاحب کو گھور کر دیکھتی ہے  اور  بلا جواب دیئے پھر سے چلنا شروع کر دیتی ہے۔)

عتیق:یہ قدیر کس معالج  کا ذکر کر رہا تھا؟مجھے نہیں معلوم تھا کہ تمہیں کوئی بیماری ہے  اور بلا میری اجازت لئے تمہاری کس طرح مجال ہوئی۔

فاطمہ:(کھڑی ہو کر) مجھے کون سی بیماری ہے وہی جوتم نے لگائی ہے  اور  تمہیں ہو جو میرے معصوم بچوں کے قاتل ہو۔ خونی کہیں کے !جس سے میرا دل چاہے گا علاج کرواؤں گی۔ اب مجھے کوئی نہیں روک سکتا۔ بہت تمہارے حکم مان لئے۔

عتیق:یہ کیا بدزبانی ہے !یہ ذرا اپنے دو ماموں زاد بھائیوں کے زور پر نہ رہنا  اور  آج سے یہ لوگ میرے گھر پر گھس تولیں۔

فاطمہ:تمہارا گھر!کبھی پشتوں میں بھی گھر دیکھے تھے۔ بھک منگے کہیں کے ! جب تک میں زندہ ہوں۔ یہ لوگ مجھ سے نہیں چھوٹ سکتے۔ تم چھٹ جاؤ یہ نہیں چھٹیں گے۔ بڑے آئے۔۔۔

عتیق:(طیش میں)قسم ہے مجھے اپنے پروردگار کی تجھے اس بدزبانی کا مزہ نہ چکھایا ہو تو بات کیا ہے۔ تم سخت سے سخت سزا کے قابل ہو، منحوس عورت، تجھے ابھی تک عبرت نہیں ہوئی، تجھے وہ سزا دی  ہو کہ تو بھی یاد کرے۔۔۔

(عتیق غصہ میں بھرا ہوا تخت سے اتر کر چلنا شروع کر دیتا ہے۔ سیدھا ہاتھ مارنے کے لئے اونچا اٹھائے ہوئے فاطمہ کی طرف بڑھتا ہے۔)

فاطمہ:(غصہ ضبط کرتے ہوئے دانت پیس کر) ذرا سنبھل کے میں کہتی ہوں کہ بیٹھ جاؤ اگر اپنی عزت کی خیر چاہتے ہو!اگر  اس دفعہ تم نے ہاتھ اٹھایا۔۔۔  تومیں ذمہ دار نہیں ہوں۔

(فاطمہ بھی ایک دو قدم آگے بڑھتی ہے۔ عتیق ایک سیکنڈ تو کھڑا رہتا ہے۔ اس کا سیدھا ہاتھ آہستہ آہستہ نیچے گرتا ہے پھر دو قدم پیچھے لے کر واپس تخت یا پلنگ  پر بیٹھ جاتا ہے۔)

فاطمہ:(عتیق کے تخت پر بیٹھنے کے بعد) بڑے مرد بنتے ہیں۔۔۔ چلے ہیں دوسرا بیاہ کرنے !

(دوسری طرف چلتی ہے۔)

(پردہ گرتا ہے)