Interview of Shamsur Rahman Farooqui by Nadeem Ahmad

Articles

فن ، زندگی کا تابع ہوتا ہے

شمس الرحمن فاروقی

ندیم احمد:جمالیاتی قدروں کے علاوہ کیا ادب اور آرٹ کی تاریخ میں کسی ایسی قدر کا تصور ممکن ہے جو کلاسیکی اور جدید ادب کی تحریک یا فنکاری پر حاوی نہ ہو، لیکن بہت بڑی حد تک اس میں تخلیقی روح بند ہو؟
شمس الرحمن فاروقی: کسی بھی قدر کو، فن کی قدر کو یہ ممکن نہیں ہے اسے ہم کسی بھی ادبی اصول کی روشنی میں دیکھے بغیر یہ طے کرلیں کہ اس کے اندرتخلیق کی روح بند ہے۔ خود تخلیق کی روح کا فقرہ نہایت گمراہ کن ہے اور میرے خیال میں تخلیق کی روح کا بندہونا اور بھی گمراہ کن ہے۔ گویا فن پارہ کوئی بوتل ہے جس کو آپ کھول دیں تو روح باہر آجائے گی۔ بہر حال بنیادی بات یہ ہے کہ تخلیق ہمیشہ کسی نہ کسی فنی معیار کی ہوتی ہے، چاہے وہ فنی معیار پرانے زمانے کا ہو یا نئے زمانے کا ہو۔
ندیم احمد: زندگی کی جستجو ، نئے توازن اور نئے آہنگ کی تلاش فنکار کو بودلیئر کے Etoile(ستارہ) اور Toile (بادبان)کا سفر کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ لیکن فنکار کو یہ نیا توازن پوری طرح حاصل نہ ہونے کی صورت میں زندگی کی تلاش موت کی خواہش میں تبدیل ہوجاتی ہے تو کیا اس کا مطلب یہ ہوا کہ ادب اور آرٹ موت کا اعلان کرتا ہے؟
شمس الرحمن فاروقی: توازن کی تلاش تو ہرفنکار کے لیے کوئی بڑی ،بہت بڑی تلاش نہیں ہوتی ہے۔اول تو فرانسیسی ادیبوں کی مثال دینا اور وہ بھی خاص مخصوص حالات کے اندر مثال دینا اردو زبان کے آج کے حالات کو دیکھتے ہوئے کوئی مناسب نہیں معلوم ہوتا لیکن بہر حال اگر آپ نے بودلیئر کی مثال دی ہے تو آپ کو پھر ریمو کا خیال بھی آنا چاہئے جس کی یہاں اصولاً توازن سے انکار بنیاد ہے شاعری کی اور فن کی بھی ۔ توازن ہو یا عدم توازن ہو جن چیزوں کو ہم جانتے ہیں، فنکار کو دراصل اپنے اندرونی تصورات کا ، تجربات کا اور اپنی ذات میں جو کچھ گذررہی ہے، باہر سے جو کچھ اس کو حاصل ہورہا ہے اس کو جس طرح ممکن ہوسکتا ہے بیان کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر کوئی توازن کی تلاش بھی کرتا ہے تو وہ توازن الفاظ اور خیالات میں ہوگا۔ اس طرح سے نہیں ہوگا کہ زندگی میں ایک نیا توازن لایا جائے۔ اکثر توزندگی کے توازن سے گھبرا کرکے فن کار یا شاعر کسی اور طرف بھاگنا چاہتا ہے۔ میرؔ نے کہا تھا:
ہم مست میں بھی دیکھا کوئی مزہ نہیں ہے
ہشیاری کے برابر کوئی نشہ نہیں ہے
ظاہر بات ہے کہ آپ دیکھ رہے ہیں کہ یہاں توازن سے انکار کیا جارہا ہے یا ایک نئے توازن کی بات کی جارہی ہے۔
ندیم احمد:انسانی اور اخلاقی تعلقات کی سماج میں جو اقدار رائج ہیںان کو شبہ کی نظر سے دیکھنے اور ان کے متعلق اپنی بے اطمینانی کا اظہار کرنے کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ فنکار اخلاقی مسئلوں اور اقدار کے الجھیڑوں سے یکسر کنارہ کشی اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن نظریہ اخلاقیات سے جان بچا کر بھاگناایک بہت بڑا فنی مسئلہ بھی پیدا کرتا ہے جو اپنے وسیع تر مفہوم میں نفسیاتی اور حیاتیاتی بھی ہے۔ اخلاقی اقدار و معیار چھوڑنے کو تو چھوڑ دئے جائیں لیکن فن پارے کی تخلیق کے لیے کوئی نہ کوئی معیار تو ہونا چاہئے، وہ کون فراہم کرے گا؟ اخلاقیات کو تو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ایسی صورت میں فنکار کون سا نظریہ اخلاقیات ڈھونڈنے کی کوشش کرے جس سے وہ خود مطمئن ہو اور دوسروں کو بھی مطمئن کرسکے؟
شمس الرحمن فاروقی: اول تو یہ کہنا درست نہیں ہے کہ اخلاقیات کو ہم بہت پیچھے چھوڑ آئے ہیں۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اخلاقیات کا تصور اب ویسا نہیں،اب دنیا میں کئی طرح کی اخلاقیات رائج ہیں، اور بعض بنیادی باتوں پر اتفاق ہونے کے باوجود اخلاقیات کے نام پر بہت ساری غیر اخلاقی چیزیں بھی ہورہی ہیں۔ لیکن اخلاقی تصورات کی روشنی میں کبھی بھی فن پارے کی خوبی یا خرابی نہیں طے ہوتی ہے۔اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کسی فن پارے کو ہم اخلاقی طورپر خراب بھی سمجھیں لیکن پھر بھی ہم اس کے لیے کوشش کریں اور یہ دیکھیں کہ بطور فن پارے کے ، بطور فن کے اور بطور اظہار فن کے اس میں جو خوبصورتیاں ہیں وہ ان نام نہاد غیر اخلاقی تصورات یا اقدار پر حاوی ہوجاتی ہیں۔ آپ کو یاد ہی ہوگا کہ عسکری صاحب نے لکھا بھی ہے کہ سجاد انصاری ایک زمانے کے بڑے ہونہار ، بڑے اچھے، ابھرتے ہوئے فنکار تھے ان کا جو ڈرامہ تھا’جزا‘ وہ برنارڈ شا کے ڈرامے کی بنیاد پر لکھا گیا تھا لیکن یہ کہ نئے انداز ، نئی طرح سے لکھا گیا تھا۔ اس میں ساری بحث بھی انسان ، گناہ کی اور ثواب کی، اچھائی کی برائی اور خدا آپ کا مواخذہ کرتا ہے، یہ سب اس کی چیزیں ایسی تھیں جو آپ بہت سخت مذہب کی بنیاد پر دیکھیںتو شاید اعتراض کے قابل ٹھہرے۔ لیکن انسانی روح میں جو کشمکش ہے ،انسان کے ذہن میں جو کشمکش ہے۔ا چھے اور برے کی ، تقدیر کی اور جبر کی ان سب کو دیکھتے ہوئے اس ڈرامہ میں ایسے سوال اٹھائے گئے ہیں جن سے کہ کم از کم ہمیں ایک طرح سے معاملہ کر نا پڑے گا۔ بہرحال خیر، مگر یہ بات ہوئی کہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ، اردو ڈپارٹمنٹ میں اس کو رکھا جائے بطور ایک درسی کتاب کے تومولانا عبدالماجد دریابادی کو جب یہ معلوم ہوا تو انھوں نے اس پر سخت اعتراض کردیا۔ اور سرور صاحب نے اس اعتراض کونہیں مانا۔ اور انھوں نے ، جس کو بورڈ آف اسٹڈیز کہتے ہیں اس کے جلسے میں انھوں نے کہا کہ ہمارا شعبہ ادب کا شعبہ ہے۔ ہم ادبی چیزیں ادبی معیار دیکھ کر پڑھانا چاہتے ہیں۔اگر اس میں کچھ چیزیں ایسی ہیں جو اخلاقی طور پر نامناسب ہیں  تو ہم ان کا تذکرہ کردیں گے طالب علم کو سمجھادیں گے۔ لیکن محض اس بنا پر کہ کسی ایک شخص کو، یا کسی ایک فرقہ کو یا کسی ایک طبقے کو اس کی باتیں پسند نہیں ہیں، ہم اس کتاب کو یا اس فن پارے کو نصاب سے خارج کردیں یہ مناسب نہیں ہے۔ بالکل ایسی ہی بات 1955-1956میں ہوئی جب عسکری صاحب نے طلسمِ ہوشربا کا انتخاب شائع کیا جو بہت دلچسپ انتخاب ہے اور اب بھی اسے بہت اچھا کہنا چاہئے کہ جس میں معاشرے کی عکاسی کے جو رنگ تھے انھوں نے دکھائے تھے۔ اس کے پہلے ایڈیشن میں برصغیر کے مشہور مصور اورافسانہ نگار اور بعد میں سیاست داں حنیف رامے نے تصویریں بنائی تھیں۔ تو ان تصویروں میں بعض تصویروں کو عریاں اور مخرب الاخلاق قرار دیا گیا۔ اور اس بنا پر اس کتاب کی مخالفت کی گئی اور سرور صاحب نے اگرچہ پھر کوشش کی کہ اسے کورس میں آنے دیا جائے لیکن کامیابی نہیں ہوئی، اور وہ کتاب نصاب سے خارج کردی گئی۔ بعد میں وہ کتاب اردو اکیڈمی لکھنؤ نے چھاپی۔ تصویریں اس میں نہیں ہیں۔مطلب میرے کہنے کا یہ ہے ان تمام باتوں کا لب لباب یہ نکلتا ہے کہ فن پارے کو کسی اخلاقی یاکسی غیر فنی معیار کا تابع قرار دینا ظاہر بات ہے یہ سیاسی طور پر اس طبقہ کو جو کہ طاقت کا حامل ہے اور جو چاہتا ہے کہ طاقت حاصل ہو اسے، (اس کے لیے) یقیناً یہ چیز بڑی اچھی ہے کہ وہ ادب کو اپنی بیان کردہ اخلاقیات کا تابع بنانے کی کوشش کرے۔ ہمارے لیے یہ کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں ہے اور اخلاقیات کا کامیاب ہوجانا یا ناکام ہوجانایہ ادب کی کامیابی یا ناکامی کی کوئی دلیل نہیں ہوسکتی۔
ندیم احمد: ادب اور آرٹ انسانی زندگی کا ایک حصہ ہے مگر بعض لوگ ادب اور آرٹ کو زندگی کے شعبوں سے الگ ایک مستقل ہستی سمجھتے ہیں۔ ایک ایسی ہستی جو بجائے خودقابل قدر بھی ہے اپنی حدود کے اندر آزاد اور خود مختار بھی۔ یہ لوگ زندگی کو ادب اور آرٹ کا تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں،زندگی کے کسی اہم شعبے کو باکل آزاد چھوڑ دینا اور اس پر کسی قسم کی اقدار عائد نہ کرنا کہاں تک درست ہے۔ میرے خیال میں ڈی ایچ لارنس جیسے بھاری بھرکم آدمی کے بارے میں ٹی ایس ایلیٹ کا یہ کہنا کہ ’’فنکار تو بہت زبردست ہے مگر شیطان نے لوگوں کو گمراہ کرنے کے لیے اسے دنیا میں بھیجا ہے‘‘ محض تنقیدی بیان نہیں بلکہ ادب اور آرٹ کی اخلاقی معیاروں سے مکمل آزادی کے متعلق سوچنے کا عمل بھی ہے جو آگے چل کر ایلیٹ سے یہ بھی کہلواتا ہے کہ’’ ادبی نقاد کے پاس کسی دینیاتی نظام کا ہونا لازمی ہے‘‘۔ تو اس سلسلے میں آپ کے خیالات کیا ہیں؟ ادب اور آرٹ کی مکمل آزادی کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: یہ بات جو آپ نے کہی ہے کہ زندگی کو ادب اور آرٹ کا تابع بنانے کی کوشش کرتے ہیں، میں سمجھا نہیں کہ اس کا مطلب کیا ہے کہ زندگی اور ادب یا آرٹ الگ الگ تو نہیں ہے۔ لیکن زندگی کا تابع بنانے کا مطلب یہی نکلتا ہے۔ یہ ضرورہے کہ جیسا کہ آپ نے بعد میں ایلیٹ کا اور کیا نام ہے اس کا آپ نے لیا ہے کہ ایلیٹ نے لارنس کے بارے میں کہا کہ وہ فنکار تو بہت زبردست ہے لیکن دنیا میں وہ لوگوں کو گمراہ کررہا ہے۔ تو پھر وہی بات ہوئی، اخلاقی معاملہ ہوا کہ ایلیٹ اس بات کو مانتا ہے کہ لارنس بہت بڑا فنکار ہے، بہت بڑا ناول نگار ہے، لیکن چونکہ لارنس کے خیالات سے اس کو اتفاق نہیں ہے لہٰذا اس کی بنا پر وہ اس کو کہتا ہے کہ لارنس دنیا کو گمراہ کررہا ہے۔ ورنہ صحیح معنوں میں دیکھئے تو جس بناء پر کہ لارنس کو گمراہ کن بتارہا ہے، وہ جنسی آزادی وغیرہ کا جو ذکر ہے تواس پورے معاشرے میں جو تبدیلی آئی ہے، مغرب میں وہ ساری کی ساری تھوڑے ہی مغرب کی مرہونِ منت ہے توبیچارہ لارنس کیا کرے گا۔ اس سے پہلے بھی لوگ لکھ چکے ہیں ، اس طرح کی چیزیں جن کو کہ لوگوں نے فحش قرار دیا ہے۔ ہمارے پاس غنا کے بارے میں کتنی بار کہا جاچکا ہے کہ ا س سے ہوشیار رہیں۔ ہمارے ادبیات کے بارے میں لوگ کہتے ہیں ، اس میں بہت زیادہ فحش چیزیں ہیں۔ تو ان سے کون سا اخلاق میں زوال آگیا یا بداخلاقی پھیل گئی۔ فرائڈ کے خیالات نے مغرب کی دنیا میں انقلاب پیدا کردیا اور پھر یہ کہ خود بھی کچھ ترقیاں ایسی ہوگئیں ، مانع حمل چیزیں ایسی آگئیں سامنے جن کی بنا پر جنسی آزادی ممکن ہوسکی۔ اور جنسی عمل میں حصہ لینے والے مرد وعورت کو خطرہ نہ رہا تولیدکا، تو صاحب یہ چیزیں تھیں جن سے کہ یہ چیزیں آئیں اگر آپ اسے مغرب کی بے حیائی اور فحاشی اور عریانی وغیرہ کہئے توبے چارہ لارنس توبہت چھوٹا سا آدمی، اس کی کون سنتا ہے تو یہ سب محض کہنے کی باتیں ہیں۔ زندگی آرٹ کے تابع تو ہوسکتی نہیں بلکہ آرٹ کو زندگی کا تابع بہرحال ہونا پڑتا ہے۔ بس یہی آپ کہہ لیجئے کہ آخر ہم لوگ سمجھتے ہیں آج جو گندی چیزیں ہورہی ہیں، آج بھی ہورہی ہیں،پہلے بھی ہوتی رہی ہیں۔ جعفر زٹلی کے زمانے میں آپ دیکھ لیجئے۔ جعفر زٹلی یعنی اردو کی پہلی اور واحد نثرجو ہے شمالی ہند میں وہ جعفر زٹلی کی نثر ہے۔ وہ اتنی فحش ہے کہ جس کوپڑھنا پڑھانا بہت مشکل ہے۔ ہمارے عزیز دوست الوک رائے جو ہندی کے پروفیسر ہیں دلی میں ، بہت لائق آدمی ہیں اور آپ سب جانتے ہی ہوں گے کہ پریم چند کے بیٹے ہیں اور انھوں نے پریم چند کی کتاب کے خلاف اپنی کتاب لکھی ہے۔ تووہ چاہتے تھے کہ اردو میں ایسی نثر جمع کی جائے جس میں کہ مذہبی طور پر نہیںبلکہ غیر مذہبی طور پر بہت سی چیزیں معاشرے کے بارے میں ہوں ، وہ کہتے ہیں ہم لوگوں نے اسے بھلادئے ہیں۔ پرانی اردو کو ہم لوگوں نے بالکل بھلادیا ہے۔ پرانی اردو میں غیر مذہبی اور آزاد رسوم تھے ۔بہرحال مجھ سے انھوں نے کچھ مدد مانگی میں نے اپنے ایک ہم کارجو اردو کے صاحب تھے ان کو اس میں لگادیا کہ آپ ڈھونڈئے ان چیزوں کو میںنے ان کو نشاندہی کی کہ فلاں چیزیں فلاں چیزیں ڈھونڈئے یہ ملیں گی۔ پھر میں نے ان سے کہا کہ بھئی شمالی ہند میں غیر مذہبی نثرجو ایسی ملتی ہے سب سے پہلی تو وہ جعفر زٹلی کی نثر ہے۔ جو صفحہ تھا میں نے ان کو دیا۔انھوں نے اس کو پڑھ کر سر پکڑ لیا۔ حالانکہ وہ بہت لائق آدمی ہیں لیکن ان کی بھی ہمت نہیں پڑی کہ اس کو اپنے انتخاب میں شامل کرسکیں۔ توآج جو ہم اپنے یہاں فحاشی اور برائی دیکھ رہے ہیں وہ پہلے بھی تھی۔ دنیا میں ایسا ہوتا ہی رہتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ زندگی کو ہم فن کا تابع بناتے ہیں، ہمیشہ فن زندگی کا تابع ہوتا ہے۔زندگی جیسی ہوتی ہے فن ویسا ہی بنتا ہے۔
ندیم احمد: ایک ایسے دور میں جب لوگ انگریزی شاعری کو شیکسپیئر اور رومانی شاعروں کا مجموعہ سمجھنے لگے تھے ایلیٹ نے لوگوں کو قول و عمل دونوں کے ذریعہ سے احساس دلایا کہ انگریزی شاعری کی روایت جوچوسر سے لے کر ٹینی سن تک آتی ہے بہت وسیع و عریض ہے اور اس روایت سے پوری طرح واقفیت حاصل کئے بغیر بڑا ادب یا بڑی شاعری نہیں پیدا ہوسکتی۔ آپ کے خیال میں اردو ادب پر اس تصور کا اطلاق کن تصرفات کے ساتھ ہوتا ہے اور ان باتوں کو آپ کس طرح سے محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: میں سمجھتا ہوں کہ اردو والوں کے لیے غیر ضروری ہے یہ بحث کرنا کہ چوسر اور ٹینی سن تک کون سی روایت آتی ہے۔ یہ تو ایک بہت معمولی بات ہے ۔ افسوس یہ کہ ہم لوگوں کو یہ بڑی نئی بات معلوم ہوتی ہے کہ ایلیٹ نے کہا۔ آپ نے کچھ چیزیں بیان نہیں کیں ایلیٹ نے کہا تھا کہ وہی فن پارہ سب سے نیا ہوتا ہے جسے کہ اس کے بنانے والے کو پرانے فن پاروں کا پورا پورا احساس و عرفان ہوتا ہے، وہی نئی شاعری پیدا کرسکتا ہے۔ایلیٹ نے کہی یہ بات ، ہم لوگوں نے اس کو پڑھا توہم لوگوں نے یہاںبہت خوشیاں منائیں۔ لیکن افسوس یہ کہ اردو میں ہم لوگ اس بات سے انکار کرتے رہے۔ ہم لوگوں کو یہ بتایا گیا کہ صاحب اب آپ کی پرانی شاعری ، روایت غیر ضروری نہیں تو بیکار تو ہے ہی اور اس کے بغیر ہم لوگ شاعری کرسکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے، بلکہ ضروری ہے کہ انقطاع پیدا کیا جائے ۔اس میں جب بعض لوگوںنے ایلیٹ کا قول پڑھا تو بہت چونکے ، ارے صاحب ایسا بھی ہوتا ہے۔ حالانکہ یہ سامنے کی بات ہے۔ یہ ہمارے یہاں بہت پہلے کہا جاچکا ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ متنبی کا جو استاد تھا،جن کے پاس متنبی گیا کہ شعر کہنا ہے اور میں نے بہت کچھ پڑ ھ لیا، مجھے اب اجازت دیجئے کہ شعر کہنا شروع کروں تو انھوں نے کہا ابھی نہیں ابھی تم جاکر دس ہزار شعر یاد کرکے آؤ پرانے استادوں کے۔ اور صاحب وہ گئے اپنی محنت کی اور یاد کرکے آئے۔ اور اب ان سے کہا خلق احمر، خلق احمر استاد کا نام تھاتو متنبی نے جاکر ان سے کہا کہ استاد اب میں نے آپ کا حکم پورا کرلیا ہے اور دس ہزار شعر یاد کرلئے ہیں۔ تو کہا جاؤ ان کو بھلا کر آؤ۔ کہا کیا مطلب۔ کہا ہاں جاؤ بس اس کو بھلاؤ، یاد تو تم نے کرلیا، اب خود تم ان کو اپنے حافظے سے محو کردو۔ خیر اب چونکہ متنبی کو شعر کہنے کا اور شاعر بننے کا بے انتہا شوق تھا اوراس نے کہا چلئے آپ کا حکم مانتے ہیں۔ پھر وہ شہر چھوڑا، پتہ نہیں کسی غار میں گیا، جنگل میں گیا اور پتہ نہیں کہاں گیا دل لگایا اور پوری طرح ان اشعار کو ذہن سے محو کردیا۔ پھر آکے اس نے خلق احمر سے کہا استاد میں نے وہ اشعار بھلادئے۔تب جاکر استاد نے کہا۔ ہاں اب تم شعر کہہ سکتے ہو۔ تو یہ بہت سامنے کی بات ہے۔ ہمارے یہاں تو ہمیشہ سے ہوتا رہا ۔ اب یہ ہوا کہ ہمارے یہاں چونکہ یہ کہہ دیا گیا کہ ہمارا سب شعر مولاناحالیؔ کا مسدس میں جو مصرعہ ہے یہ’’یہ شعر وحکایات کا ناپاک دفتر حقیقت میں سنڈاس سے ہے بدتر‘‘ اب ایسا بھی چل گیا کہ صاحب ہم لوگوں نے کہا سب کو القطع ہی کردو۔ تو یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے ہمارے لیے۔ یہ آپ کو ممکن ہے کہ ایلیٹ کیا کہتے ہیں،اس قول کو آپ بہت بڑی دریافت سمجھیں، دریافت تو نہیں ہے، اچھی بات ہے۔ لیکن اس میں کوئی ہمارے لیے نئی بات نہیں ہے۔
ندیم احمد:’’طلسم ہوشربا‘‘ اور ’’الف لیلیٰ‘‘ جیسی داستانیں ، حافظؔ اور میرؔ کی شاعری اور خسروؔ جیسے فنکار پیدا کرنے والی قوم آج تخلیق سے ڈر رہی ہے۔ اس میں شبہ نہیں کہ تخلیق ایک دہشت ناک عمل ہے اور اگر یہ ایک بے ضرر کھیل نہ معلوم ہو تو فنکار اس کے پاس بھی نہ پھٹکے۔ لیکن آج ہم اس بے ضرر کھیل کو کھیلنے کی کوشش اور خواہش سے بھی محروم نظر آتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی:ارے صاحب نہ تخلیق چٹان پر بیٹھتی ہے، نہ دہشت ناک عمل ہے۔ تخلیق سے ڈر کوئی نہیں رہا ہے۔ ڈرائے ضرور جارہے ہیں تخلیق کار۔ لیکن اب کتنا ڈرجائیں یہ ان کی مرضی پر منحصر ہے۔ اور ڈرانے والے بہت سے لوگ ہیں جو نئے نئے فلسفے لے کر آتے ہیں۔ کوئی ساختیات لے کے آتا ہے کوئی پسِ ساختیات لے کے آتا ہے۔ کوئی مابعد جدیدیت لے کے آتا ہے کوئی جدیدیت لے کے آتا ہے، کوئی ترقی پسندی لاتا ہے۔ اور اس کے ڈنڈے سے ہانکنا شروع کرتا ہے تو کوئی مانتا نہیں ان باتوں کو۔ شعر تو لوگ وہی کہتے ہیں، افسانہ تو وہی کہتے ہیں جو ان کو اچھا لگتا ہے۔ تو اس کو اتنا ڈرامہ بناکر مت رکھئے۔ یہ ہے کہ جو بات کہنے والی تھی، جو آپ نے نہیں کہی، جو کہنا چاہئے تھی آپ کو جو آج کے تخلیق کار ہیں اگر وہ ڈر رہے ہیں توڈرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ بہت کچے اور کمزور ہیں ۔ وہ پوری طرح سے تخلیق کے فن سے آگاہ نہیں ہیں۔ اس کو کہتے ہیں کہ وہ اشیا ء کو تخلیق کی آنکھ سے دیکھنے پر قادر نہیں ہیں۔ وہ موٹی آنکھ سے دیکھتے ہیں، جس آنکھ سے کہ میں دیکھتا ہوں۔ اس سے دیکھتے ہیں کہ جس آنکھ سے عام آدمی دیکھتا ہے۔ دیکھئے ورڈزورتھ جیسا بھی تھا آپ نے پڑھا ہی ہو گالیکن ایک بات وہ بڑے پتے کی کہہ گئے تھے کہ صاحب شاعر وہ ہوتا ہے جو عام لوگوں کی طرح سے ہے لیکن اس کا سوچنے اور دیکھنے اور محسوس کرنے کا طریقہ عام لوگوں سے الگ ہوتا ہے۔ اور ہم لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ جو عام لوگ سوچ رہے ہیں ، جو اخبارات میں لکھا جارہا ہے، ٹی وی پر آرہا ہے اسی کو فوراً افسانہ بنادو،ا سی کو نظم بنادو۔ تو اس طرح سے نہیں ہوسکتا ہے نہ۔
ندیم احمد: انسانی تخیل حقیقت کو افسانہ بناتا ہے اور افسانہ بن جانے کے بعد ہی حقیقت میں معنی پیدا ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ادب اور آرٹ کی بڑی شخصیتوں کو حقیقت کی نسبت افسانوں سے زیادہ شغف رہا ہے۔ کیا آپ کو ایسا لگتا ہے کہ پچھلے 50سال کی مدت میں ہم نے جو ادب پیدا کیا ہے یا جس قسم کا ادب ہم آج پیدا کررہے ہیں اس میں انسانی تخیل کا عمل اور ردِّعمل ایسے افسانے تخلیق کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جن پر حقیقت کا دھوکا ہو اور جو حقیقت سے زیادہ جاندار ہوں؟
شمس الرحمن فاروقی: بھئی یہ عمل اور ردِ عمل یہ دونوں کیوں لگارہے ہیں آپ۔ ایک توالفاظ کا کم استعمال کرو بھائی۔ اتنا سمجھاتا ہوں تم سب لوگوں کو کہ الفاظ کی قدروقیمت گنو، قدروقیمت سمجھو۔ ان کو پیسے کی طرح گنتے رہا کرو۔ کم ہوگئے تو کہاں خرچ کئے، اب سو روپے کا، پانچ سو روپے کا ، ہزار روپے کا نوٹ بازار میں لے کر جاتے ہو، واپس آتے ہو تو اس کو گنتے ہو کہ کتنا بچ گیا،چار روپے، آٹھ آنے، بارہ آنے بچے ہیں۔اور کہاں کہاں خرچ کئے گئے۔ لفظ کے بارے میں ایسا کچھ نہیں ہے، جو جی میں آئے لکھتے چلے جاتے ہو، خیر چھوڑو وہ الگ بات ہے۔ لیکن اس وقت اصل بات یہ ہے کہ حقیقت سے زیادہ جاندار ہونے سے کیا مراد ہے تمہاری۔ حقیقت کسے کہتے ہیں آخر؟ جو حقیقت شعر میں بیان ہوئی یا افسانے میں بیان ہوتی ہے وہ اس معاملے میں یقیناً جاندار ہوتی ہے کہ وہ ہمیشہ سے موجود رہتی ہے۔ اور حقیقتیں جتنی بھی ہیں وہ تاریخ میں ہیں یا وہ فلسفے میں ہیں ، کسی جگہ صحیح ، کسی جگہ صحیح نہیںہیں۔ تخلیق میں سچائی جو ہوتی ہے اگر آپ اس سے اس سچائی کا تقاضہ نہ کریں کہ صاحب آم کا پھل میٹھا ہوتا ہے لیکن جب کچا ہوتا ہے تو بڑا کھٹا ہوتا ہے۔ اس طرح کی باتیں جو آج کل شاعری میں لکھی جارہی ہیں ۔ اس طرح کے تقاضے اس سے نہ کریں آپ ،توتخلیق یقینا سچی ہوتی ہے، زیادہ جاندار ہوتی ہے کیونکہ رہتی ہے۔ ارے بھائی ہم توکتنی بار کہہ چکے ہیں کہ کئے نقاد زندہ رہے اور کئے شاعر زندہ رہے آپ گن لیجئے۔ ایک شعر لوگوں کا زندہ رہ جاتا ہے۔ ایک افسانہ زندہ رہ جاتا ہے۔ توتخلیق توجاندار ہمیشہ ہوتی ہے ۔
ندیم احمد: ہمارے یہاں بہت سے ایسے فنکار ہیں جو دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر تخلیقی سفر میں کچھ دور چلنے کے بعد ان کی سانسیں پھولنے لگیں اور دیکھتے دیکھتے مسلسل چلنے کا عمل تھک کر بیٹھ جانے کے بعد ایک آسان عمل میں تبدیل ہوگیا۔ ان تجربات سے کیا ہم یہ نتیجہ اخذکرسکتے ہیں کہ تخلیقی سفر میں چلنا اور چلتے رہنا ہی سب کچھ ہوتا ہے، پہنچنا نہ پہنچناسب برابر ہے۔
شمس الرحمن فاروقی: جو آپ کہہ رہے ہیں کہ صاحب بہت سے فنکار ہیں دور تک مار کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے مگر کچھ دور چلنے کے بعد ان کی سانسیں پھولنے لگیں۔ تو میں نے کہا ہے آپ سے کہ بھئی بنیادی بات یہ ہے کہ اگرآپ مفاہمت کرلیں گے، اگر آپ اپنے فن سے یا دنیا سے یا معاشرے سے سمجھوتا کرلیں گے ۔ میں وہی لکھوں گا جوآپ کواچھا لگتا ہے، کہ میں وہی لکھوںگا جو محفوظ ہے، جس میں کوئی خطرہ نہیں ہے، میں وہی لکھوں گا جس کو پڑھ کر لوگ کہیں کہ ہاں صاحب ٹھیک ہے، آپ اچھا کہتے ہیں، آپ نیک آدمی ہیں تو یہ بات ہے نہ۔ اچھا دوسری بات یہ ہے کہ فنکار کے لیے یہ کوئی ضروری نہیں ہے کہ وہ زندگی بھر لکھتارہے۔ بھئی ایسا بھی توہوتا ہے نہ کہ لوگ جلد مرجاتے ہیں۔ تو کیا مطلب ہے کہ جو کچھ انھوں نے لکھا ہے، جو کم لکھا ہے انھوں نے ، اب تاباںؔ جوانی میں مرگئے، تو کیا تاباںؔ کو ہم شاعر نہیں مانیں گے کیونکہ وہ جوانی میں مرگئے اور ہم میرؔ کو اس لیے شاعر مانیں گے کہ وہ بہت دن تک زندہ رہے۔ ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ہاں بھئی اگرتاباںؔ زندہ رہتے تواگر خدا معلوم زندہ رہتے تو ممکن ہے کہ اور خراب شعر کہتے یا اچھے شعر کہتے۔ توشاعر یا تخلیق کار کی ایک اپنی اندر کی عمر بھی تو ہوتی ہے نہ۔ اس اندر کی عمر کو کیوں نہیں دیکھتے ہو۔ اس اندر کی عمر کو گھٹانے اور بڑھانے والی چیزیں اس کے اندر بھی ہوتی ہیں، اس کے معاشرے میں بھی ہوتی ہیں۔ مثلاً پڑھتا نہیں اگر وہ مان لو۔ اب پڑھے بغیر توکبھی شعر ہوتا نہیں ہے، افسانہ ہوتا نہیں ہے، ناول ہوتا نہیں ہے، پڑھوگے نہیں توکہاں سے لکھوگے۔ ہم سے ابھی ایک صاحب کہنے لگے کچھ دن پہلے کی بات ہے، ہندی کی محفل تھی۔ میں ہندی والوں میں اکثر بلالیا جاتاہوں۔ توایسے باتیں ہونے لگیں۔افسانے کے بارے میں: کہنے لگے صاحب ہم لوگ کیا کریں۔ہم لوگ تووہی لکھتے ہیں جو کہ ہم سنتے ہیں۔ تو میں نے کہا بھائی ہمارے زمانے میںتو یہ قول تھا کہ ہم وہی لکھتے ہیں جو ہم پڑھتے ہیں۔ توظاہر بات ہے سننے کی بات کروگے، بازار کی زبان سنو گے تو وہی لکھوگے ، اس میں کتنا دم پھر۔ آخر کتنی اچھی بات کہی جناب آڈن نے کہ’’عام زبان جو ہے اس میں شاعری نہیں ہوسکتی۔‘‘ ہم مثلاً ٹیکسی میں بیٹھ رہے ہیں۔ ہم کہہ رہے ہیں کہ ہمیں ایئرپورٹ جانا ہے اس میں تو شاعری ممکن نہیں ہے۔ اس میں اطلاع ممکن ہے کہ ائیر پورٹ جانا ہے، کئے گھنٹے میں پہنچیں گے وغیرہ وغیرہ۔ تو زبان کو آپ اس کے تخلیقی عمل سے نہیں استعمال کریں گے تو جیسے یہ کہ میں نے آپ سے کہا ، بہت سے لوگ معاہدہ کرلیتے ہیں کہ بھئی ہم کوئی تکلیف نہیں پہنچائیں گے آپ کو، کوئی بری بات نہیں کہیں گے، کوئی ایسی چیز نہ کریں گے کہ جس سے آپ کے ضمیر کو جناب چونکنا پڑے۔ تویہ بھی ہوسکتا ہے۔
ندیم احمد: موت وحیات، جسم وروح، خیر و شر، عدم اور وجود جیسے مسائل کا ذکرتو ہمارے ادب میں خوب ملتا ہے لیکن مجموعی طورپر یہ مسائل جس انسان سے متعلق ہیں اس کے بارے میں کسی گہرے انکشاف کی کمی ہمارے ادب میں صاف نظر آتی ہے۔ میرؔ کو الگ کردیں تو شاید ہی ہماراکوئی فنکارملارمےؔ اور والیریؔ کے آس پاس بھی پہنچے۔
شمس الرحمن فاروقی: ارے بھائی کاہے کے لیے، اول توہمار ی عمر ہی کتنی ہے۔ اگر آپ ملارمےؔ او روالیریؔ کو اتنے بڑے شاعر مانتے ہیں کہ دنیا کے سب سے بڑے شاعروں میں سے ہیں تو چلئے میں بھی مان لیتا ہوں، ملارمے ؔکے بارے میں کچھ شک بھی رکھا جاسکتا ہے لیکن چلئے بہرحال شاعر وہ بھی فرانسیسی کاہے۔تو اب میرؔ کے برابررکھ رہے ہیں کم سے کم آپ، توآپ کی عمر ہی کتنی ہے۔ ابھی توجمعہ جمعہ آٹھ دن آپ کو ہوئے ہیں۔ پانچ چھ سو برس آپ کی کل تاریخ ہے۔ اب پانچ چھ سو برسوں میں آپ نے ایک عدد میرؔ پیدا کرلیا تو کیا کم پیدا کرلیا؟ ویسے آپ کے یہاں صرف میرؔ نہیں ہیں۔ آپ کے یہاںتویعنی آپ صرف بڑے لوگوں کا نام لیجئے تو بھی پانچ سات آدمی ایسے ہیں جن کا بڑے فخر سے آپ نام لے سکتے ہیں۔ غالبؔ کا نام لینا پڑے گا آپ کومیر انیسؔ کا نام لینا پڑے گا آپ کو، اقبالؔ کا نام لینا پڑے گا، نظیرؔ اکبر آبادی کا نام لینا پڑے گا،سوداؔ کا نام لینا پڑے گا، دکنی میں بہت کم جانتاہوں لیکن جہاں تک میں نے سنا ہے اور پڑھا ہے نصرتیؔ کا نام ہم کو لینا پڑے گا، وجہیؔ کا نام لینا پڑے گا۔ تو یہ سب بڑے شاعر ہیں، ان کو دنیا میں کسی بھی جگہ بٹھادیجئے یہ شرمندہ نہیں ہوں گے۔ہم سے ایک دفعہ ہمیں یاد ہے ایک دفعہ ایک جلسے میں ہمارے دوست بہت بڑے نقاد ، اللہ جنت نصیب کرے وہ مرحوم ہوگئے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرؔ کوئی بڑے شاعر تھوڑی ہیں۔ ہم نے کہا بھائی ہم توابھی آج ہی ایک انگریزی رسالے میں ایک مضمون پڑھ آئے ہیں کہ ہیلین کوپر جو کہ معمولی شاعر ہے انگریزی کا ، اسے قرار دیا گیا کہ جینئس تھا۔ تو وہاں تو یہ عالم ہے کہ ان کے یہاں جو درجہ دوم کے شاعر ہیں ان میں بھی ایک معمولی حیثیت رکھنے والے شاعر کو وہ لوگ جینئس کہہ رہے ہیں۔ اور ہم لوگ اپنے منہ سے اپنے بڑے شاعر کو کہہ رہے ہیں کہ وہ بڑا شاعر نہیںتھا۔ تواصل میں ہوتا یہی ہے نہ، کہ اپنی دہی کو کھٹا نہیں کہنا چاہئے پہلے اپنے شاعر کو اپنے آدمی کو دیکھو، بڑا سمجھو اسے ، قدر کرو اس کی پھر اس کے بعد آگے جاؤ۔ ٹھیک ہے والیری بڑا شاعر ہے۔ ہم سے زیادہ والیری کو کون پڑھا ہوگایا عسکری سے زیادہ کس نے پڑھا ہوگا۔ عسکری صاحب تو زندگی بھر بودلیئر اور والیری کو پڑھتے ہی رہ گئے۔ پھر بھی وہ بیدلؔ کے جتنے قائلؔ تھے، جتنے میرؔ کے قائل تھے آپ کو خوب معلوم ہے۔ آپ خود ہی عسکری کے بہت اچھے اسٹوڈینٹ ہیں ، آپ جانتے ہیں۔
ندیم احمد: ہمارے زمانے کے بعض فنکاروں نے زندگی کا اظہار کرنے کے بجائے اظہار کے عمل اور اظہار کے ذرائع کو اظہار کا موضوع بنایا ہے۔ آپ کے خیال میں یہ رویہ کہاں تک درست ہے۔ کیا ادب اور آرٹ کے لیے یہ رویہ کسی صحت مند مستقبل کی طرف اشارہ کرتا ہے؟
شمس الرحمن فاروقی: کیا مطلب ہے بھئی اس کا۔ اظہار کا عمل کون بیان کرسکتا ہے؟ اظہار کے ذرائع جوہیں، اس کے موضوع کو کون بیان کرسکتا ہے؟ اظہار کے ذرائع کیا ہیں؟ ریڈیو ہے ٹی وی ہے۔ ارے بھائی! ہر ادیب کی اپنی محدود پرواز ہے۔ جہاں تک پہنچتا ہے پہنچتا ہے۔ اچھا اب اس زمانے میں چونکہ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں، تم خوب جانتے ہو، ضمیر اکثر حد تک لوگوں کا یا تو بے کار ہوگیا ہے یا مردہ ہوگیا ہے یا تھا ہی نہیں شاید۔ اب یہ ہے کہ جو چیز چل جائے تو لوگ اس کو مان لیتے ہیں، اس کو شروع کرنے لگتے ہیں، اس کو بڑھانے لگتے ہیں آگے۔ تو یہ کوئی اچھی بات نہیں ہے لیکن ہے، یہ ہورہا ہے۔ مگرمیں ان چیزوں سے ڈرتا نہیں ہوں۔ میں یہ کہتا ہوں کہ جو بہت بڑی خوبی ہمارے یہاں اردو کے معاشرے میں ہے جو کہ دوسرے معاشروں میں بہت دیر سے آئی کہ جتنا یہ معاشرہ اپنی خود آگاہی رکھتا ہے ،جتنا شعور اس کو اپنے بارے میں ہے، اتنا انگریزی ونگریزی والوں کو بہت بعد میں شعور ہوا۔ یعنی بیسویں صدی کے بارے میں جو شروع میں کتاب لکھی گئی ، بہت مشہور کتاب ہوئی ایلیٹ نام ہے ان کا، تین لیکچر دئے انھوں نے ، بڑے مشہور ہوئے اس زمانے میں کہ بیسویں صدی کے ادب کی کیا خصوصیات ہیں؟ تو پہلے انھوں نے یہی بیان کیا کہ صاحب پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ بہت خود آگاہ صدی ہے۔ اجی اگر وہ ہمارے یہاں آکر دیکھتے تو کل سے شاعری شروع ہوئی ہے اور آج جناب لوگ تذکرے لکھ رہے ہیں۔ تذکروں میں شعراء کے نام لکھ رہے ہیں۔ ان کے حالات بیان کررہے ہیں۔ تنقید ان کی کررہے ہیں، ان کا چیستاں کررہے ہیں۔ جھگڑے نمٹا رہے ہیں۔ جتنا ہم لوگ خود آگاہ تھے، اتنا بھلا وہ لوگ کیا خود آگاہ ہوںگے۔ تو اس لیے ٹھیک ہے ۔ ہورہاہے بھئی، کھوٹا سکہ چل رہا ہے، فریبی چل رہے ہیں۔ غلط سلط بھی ہورہا ہے۔ اور میں تو خود ہی کہتاہوں کہ ہورہا ہے اس سے مجھے کوئی خوف نہیں ہے۔ جس چیز سے مجھے خوف ہے، جس چیز کا ذکر نہیں کیا ہے آپ نے اب تک کہ ہم لوگ اپنی زبان کو بھولتے جارہے ہیں۔ ہم لوگ زبان ہندی پڑھ کر آتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہندی ، اردو میں گرامر چونکہ ایک ہی ہے، تو زبان بھی ایک ہی ہوگی۔ اسی کو ہم لکھنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم یہ دیکھتے ہی نہیں کہ جو ہندی کا محاورہ ہے ، اردو میں نہیں ہے یا ہندی میں کسی اور معنی میں ہے، اردو میں کسی اور معنی میں ہے، تو زبان اتنی خراب ہماری ہوگئی ہے۔ جب آپ کے پاس اردو کے جو اتنے اچھے الفاظ ہیں ، جب اسی کو استعمال نہ کریں گے تو اردو میں آپ اچھا اد ب کیسے لکھئے گا؟
ندیم احمد: انسانی زندگی کے متعلق ہر نظرئے کو چند دائمی اور مستقل اقدار فرض کرنا پڑتی ہیں۔ مارکسیت کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔ لیکن مارکسیوںکے یہاں مسئلہ یہ تھا کہ انھوں نے اپنے لیے دائمی اقدار بھی معاشی عوامل سے ہی اخذ کئے تھے۔ جدیدیت کو اگر ایک نظریہ تسلیم کریںتو آپ کے خیال میں وہ کون سے عوامل ہیں جن سے جدیدیت نے اپنی دائمی اقدار مستعار لیے ہیں۔
شمس الرحمن فاروقی: بھئی سب سے پہلی بات تو جدیدیت یہی کہتی رہی تھی کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کے اقدار کون سے ہیں۔ آپ کے مارکسی اقدار ہوں تو بڑی اچھی بات ہے۔ ہم نے تو یہاںتک لکھا، میں نے کہ صاحب اگر مان لیجئے کہ کوئی ایسا نظریہ ہو کسی ناول میں جو میرے اصولوں کے بالکل سراسر منافی جاتا ہو تو بھی اگر وہ ناول اچھا ہے تواچھا کہا جائے گا۔ آخر آپ کے سامنے مثال موجود ہے کہ دانتے کا جناب عالی مشہور طربیہ خدا وندیDevine Comedy ، ہم لوگوں نے بھی خوب پڑھا وڑھا اس کو، ترجمے اس کے کئے گئے ٹوٹے پھوٹے جیسے بھی ہوسکتے ہیں۔ آپ کو خوب معلوم ہے اس میں اسلام کے بارے میں اور پیغمبراسلام ؐکے بارے میں کتنی خراب خراب باتیں لکھی گئی ہیں۔ تواگر دائمی اقدار کو پوچھتے ہو توکون سی اقدار اس میںا یسی ہیں جو تمہارے لیے اچھی ہوں۔ تواقدار وقدار نہیں ہوتی اصل میں۔ اقدارتو یہ ہوتی ہیں کہ آدمی کیا کررہا ہے۔ آدمی کے پاس جو خزانہ ہے اب اس نے آپ کو معلوم ہے کہ دانتے نے حضرت شیخ اکبر ابنِ عربی سے اٹھایا توحۃ المسیحا سے کچھ چیزیں اٹھائیں، اور اس نے اس کو اٹھاکرکے اپنے اوپر اتباع کردیا۔ اور اس سے پوری کہانی تیار کرلی انھوں نے اپنی۔یعنی فیضان حاصل کیا اسلام سے اور سب سے زیادہ برا بھلا اس نے اسلام کو کہا۔ تواقدار تو دراصل فنی اقدار ہوتی ہیں نا۔ فن کی اقدار ہوتی ہیں۔
ندیم احمد:1960ء کے بعد ہمارے یہاں جدیدیت کا جو میلان سامنے آیا اس کا اردو کی اصل روایت سے کس حد تک رشتہ تھا۔ جدیدیت کے زیرِِ اثر جو لوگ اردو ادب کے منظر نامے پر ابھرے انہوں نے اردو کی اصل روایت کو اپنی تخلیق میں کس طرح محفوظ کیا ہے اور کیا ہے بھی یا نہیں؟
شمس الرحمن فاروقی: اس میں ظاہر ہے کہ سب سے پہلے یہ بحث کرنا چاہئے ہم لوگوں کوکہ اردو کی اصل اور بنیادی روایت کیا ہے۔ اگر مان لیجئے کہ اصل بنیادی روایت سے مراد لی جائے اردو غزل کی شاعری تومثنوی کہاں جائے گی، قصیدہ کہاں جائے گا، داستانیں کہاں جائیں گی؟ تواس طرح سے ہم لوگوں کے ذہن میں جو تصور ہوتا ہے عام طور پر اور اس کو ہم لوگ اصل روایت یا بنیادی روایت کہتے ہیں تودراصل ایک ذاتی سوچ اور انتخاب کی بنیاد پر ہوتا ہے۔ عام طورپر لوگوں سے پوچھئے تووہ بنیادی اور اصل روایت کا جب ذکر کریں گے صاحب، بہت دور چلے گئے تو نظیر اکبرؔآبادی کا نام لیں گے۔ لیکن فقیرمحمدگویاؔ کا نام نہیں لیںگے مثال کے طور پر ۔ ہجویات یوں ہی بھول جائیں گے۔ تو ادب میں جو کچھ ہوچکا ہے ان سب کو روایت میں شامل سمجھنا چاہئے۔ اور دیکھنا یہ چاہئے جو کچھ ہوا ہے اس کا ادب کے بارے میں کیا تصور اور کیا نظریہ تھا اور جدیدیت کا سب سے بڑا کارنامہ یہی تھا کہ اس نے ادب کے بارے میں جو تصورپہلے رائج تھا، پچھلے پچاس ساٹھ برس میں رائج ہوگیا تھا حالیؔ کے زیرِ اثر، ترقی پسندوں کے زیرِاثر، تھوڑا بہت اقبالؔ کے زیرِ اثر کہ ادب کو کسی خاص مقصد کے تحت حاصل کرنے کے لیے کوشاں ہونا چاہئے یا جولوگ کوشاں ہیں ان کے ہاتھ مضبوط کرناچاہئے۔ یعنی ادب میں، ادبی اقدار اور فنی اقدار کو پسِ پشت ڈالا جائے یا نہ ڈالا جائے تواتنا ضرور دیکھا جائے کہ فنی اقدار اور ادبی اقدار اس وقت تک کارآمد ہیں جب تک وہ سماجی یا سیاسی تبدیلی کی راہ میں معاون ہیں یا ان لوگوں کے زیرِاثر ہیں جو کہ سماجی یا سیاسی تبدیلی لانا چاہتے ہیں۔
اس میں مشکل یہ آپڑی تھی کہ سماجی تبدیلی اور سیاسی تبدیلی سے مراد وہ تبدیلی نہیںتھی جو سرسیّد نے، محمد حسین آزاد نے لی تھی وہ کچھ اور تھی اور یہ مراد سجاد ظہیر نے یا احتشام حسین صاحب نے لی وہ کچھ اور تھی تواس جھگڑے میں بہت سارا ادب ہمارا، ہمارے لیے خطرے میں پڑگیا اور کبھی کسی نے ، ادب کے کسی حصے کو غیر صحت مند روایت کہا، کسی نے کہا صاحب یہ روایت ہے ہی نہیں وغیرہ وغیرہ۔ تو دوکام کئے بہر حال بڑے جدیدیت نے۔ ایک یہ کہا کہ سارا ادب روایت میں شامل ہے۔ روایت کوئی ایسی چیز نہیں ہے کہ جس کو آپ کاٹ چھانٹ کر الگ کردیں اور کہیں صاحب یہ روایت میں ہے ہی نہیں یا یہ ہے لیکن خراب تھا، اس کو ہم کاٹے دیتے ہیں، نکالے دیتے ہیں۔ دوسری بات اس نے یہ کہی کہ اس روایت کے پیچھے جو دراصل تصور ہے ادب کا وہ زیادہ ضروری ہے کہ اس کو ہم سمجھیں اور اپنائیں۔یہ نہیں کہ ہم ادب کے لیے باہر سے کوئی مقصد لاکے تعمیر کریںیا کہ داخل کریں۔ تواپنی اپنی حد تک سب لوگوں نے کیا اس کو۔ پرانے لوگوں کے انداز بھی اختیار کئے، پرانے انداز میں نیا رنگ بھی ڈالا۔ بعض لوگوں نے اپنے کو بالکل ہی نیا بنانے کی کوشش کی۔ لیکن پھر معلوم ہوا صاحب یہ نئی چیزیں پہلے ہو بھی چکی ہیں، کسی نہ کسی طورپر ۔ توغزل کے میدان میں خاص کر ہم دیکھتے ہیں۔ اب رہ گیا جو نئے میدان ہیں وہ افسانے کا اور نظم کا ، جو نئے میدان اس معنی میں ہیں کہ ان کے لیے کوئی بہت لمبی روایت اردو میں نہیں موجود تھی۔ تو وہاں زیادہ آزادی کی گنجائش نظر آتی ہے۔ تو اس میں یہ سوال پوچھنا مشکل ہے کہ کس روایت کو اور کہاں تک اس کو اختیار کیا گیا ۔ وہاں تو ظاہر بات ہے کہ روایت بن رہی تھی بلکہ اب بھی بن رہی ہے۔ بہت پہلے مرحوم خلیل الرحمن اعظمی نے کہا تھا کہ ابھی بڑی شاعری کے واقعی جو اظہارات ہیں ان کو پیدا ہونے میں وقت لگے گا۔
ندیم احمد: بعض لوگوں کا جن میںعسکری بھی شامل ہیں یہ خیال ہے کہ جدیدیت مذہب ہو یا اخلاقی معاشرتی زندگی ، ہرجگہ آخری معیار فرد اور اس کے تجربے کو ہی سمجھتی ہے۔ یعنی جدیدیت کی اصل روح یہی انفرادیت پسندی ہے۔ عسکری صاحب نے اپنی کتاب’’جدیدیت یا مغربی گمراہیوں کی تاریخ کا خاکہ‘‘ میں جدیدیت کو ابلیسیت بتاتے ہوئے یہاں تک کہا کہ پچھلے پانچ سو سال میں مغرب نے گمراہی کی جتنی بھی شکلیں پیدا کی ہیں۔ وہ سب اسی انفرادیت پرستی کے بیج سے نکلی ہوئی شاخیں ہیں۔ عسکری صاحب والی گفتگو (مطبوعہ’شب خون‘شمارہ؟‘) میں آپ نے اس بارے میں کچھ اشارے کیے ہیں ؟
شمس الرحمن فاروقی: تویہ عسکری صاحب سے پوچھنے کا سوال ہے۔مجھ سے آپ کیوں پوچھتے ہیں؟ میں نے تو اس بات کو بہت بارسمجھادیا ہے کہ عسکری صاحب جدیدیت سے مراد لیتے ہیںInlightmentیعنی روشن فکری کا وہ زمانہ، خاص کر جو سترہویں صدی کے آخر سے شروع ہوتا ہے اور بڑی حد تک دوسری جنگ عظیم تک آتے آتے ختم ہوجاتا ہے۔ لیکن تب تک اس نے اپنی تمام تر نقصان دہ اور اچھی اور بری چیزیں سب ظاہر کردی تھیں۔ اچھا اس روشن فکری کی مخالفت کرنے والوں میں عسکری صاحب نئے نہیں ہیں۔ اس کی مخالفت کرنے والوں میں اسحاق برلن صاحب جیسے لوگ شامل ہیں، جنھوں نے کہ پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ا س کی مخالفت کرنے والوں میں سیّد حسین نصر بھی شامل ہیں، انھوں نے بھی پوری ایک کتاب لکھی ہے۔ توعسکری صاحب کا ایک نظریہ اس معاملہ میں اکیلا نہیں تھا۔ اور جدیدیت ہے، جس کے سلسلے کو ہم مغرب سے بھی جوڑتے ہیں۔اس میں اندھی انفرادیت کا احساس نہیں ہے۔ بلکہ یہ کہ فرد کی ذات اپنی جگہ ایک وجود رکھتی ہے، ایک کائنات رکھتی ہے۔ اور فرد کی ذات کو اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔
ندیم احمد: جب بعض حلقوں کی طرف سے جدیدیت پر یہ اعتراض کیا گیا کہ اس نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا ہے تو اس میلان کے ہمنواؤں نے جن میں آپ بھی پیش پیش تھے یہ کہہ کر اس کا دفاع کیا کہ جدیدیت قاری سے اپنے ابلاغ کی سطح کو بلند کرنے کا مطالبہ کرتی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جدیدیت بہت چھوٹے مکان بنانے کے بجائے ایک بڑا محل تعمیر کرنے پر ایمان رکھتی ہے۔ جدیدیت کے میرِ کارواں کی حیثیت سے ان باتوں کو آپ کس طرح دیکھتے ہیں؟
شمس الرحمن فاروقی:ظاہر بات ہے کہ یہ کہنا چاہئے تھا کہ جدیدیت قاری کو اہمیت دیتی ہے اور اس کو نظر اندازنہیں کرنا چاہتی۔ اور اس کو نگاہ ترحم اور مربیانہ انداز میں نہیں دیکھتی۔ یہ کہنا غلط ہے کہ اس کو پسِ پشت ڈال دیا گیا۔ بلکہ یہ کہنا چاہئے کہ جدیدیت نے قاری کے ساتھ وہ مربیانہ رویہ نہیں رکھا جو پہلے لوگ رکھتے تھے کہ ہر بات کو تین دفعہ کھول کے جب تک نہ بیان کریں،ان کو یقین نہیں آتا کہ قاری سمجھ سکتا ہے۔ قاری کی ناک پکڑ کر جب تک اس کو چلائیںنہیں وہ چلے گا نہیں۔ جب تک قاری کی گردن میں ہاتھ ڈال کردوڑائیں گے نہیں وہ دوڑے گا نہیں۔ کیا شاعری اور کیا افسانہ دونوں میں عام طور پر یہ بات مشہور تھی کہ صاحب ہم کوہر بات کو بہت صاف صاف نتیجہ بیان کرکے کہنا ہے یعنی قاری بے چارہ ایک بچّہ ہے۔ ایک ناسمجھ ، نافہم جاہل، اگر جاہل نہیں توکم سے کم ایک گنوار قسم کا آدمی ہے، جو ادب کی باریکیوں سے واقف نہیں ہوسکتا۔ لہٰذا ہر بات ہم کھول کھول کے کہیں۔ تو یہ اور بات ہے کہ ہم قاری کو مربیانہ نگاہ سے دیکھیں اس کے اوپر ایک نگاہِ ترحم ڈالیں کے بھئی اچھا۔آپ تو بچے ہیں، آپ تو سمجھتے نہیں،لو یہ ہم سمجھائیں دیتے ہیں آپ کو، ہم نے کیا کہا تھا اس افسانے میں۔ اور ایک یہ ہے کہ ہم افسانہ لکھیں یا شعر کہیں اور اس میں اپنی باتوں کو پورے استدلال سے پیش کریں۔ لیکن ہر جملے اور ہر لفظ اور ہر افسانے اور ہر شعر کی کنجی نہ پیش کردیں کہ لیجئے صاحب یہ کنجی لے جائیے اس سے آپ کا معاملہ حل ہوجائے گا۔ بلکہ ہم اس سے توقع کریں کہ وہ خود اپنی تخلیقی قوت کو استعمال میں لاتے ہوئے ، اس کو پڑھے گا، فن کو پڑھے گا اور اس کے معنی تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ورنہ جدیدیت کے بارے میں یہ الزام یا یہ نعرہ کہ اس نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا ، یہ محض ایک فارمولا ہے جیسے بہت سے فارمولے لگائے گئے۔ جدیدیت سماج سے کٹی ہوئی تھی یا کٹی ہوئی ہے،‘‘ جدیدیت نے سماج کو نظر انداز کردیا۔ جدیدیت میں سماجی ذمہ داری کا لفظ گالی کی طرح استعمال ہونے لگا‘ جدیدیت کو ہر طرح کی وابستگی سے انکار ہے،اس طرح کے بہت سے فارمولے ، بہت سے نعرے دیے گئے۔ جو کہ ایک طرح سے جذباتی طور پر خوف پیدا کرنے والے تھے۔ اور اصل چیز کیا تھی وہ کسی نے بھی غور نہیں کیا۔ لہٰذا چل پڑا یہ۔ کچھ لوگ اب بھی کہتے ہیں کہ صاحب جدیدیت نے قاری اور ادب کے درمیان کوئی پل نہیں چھوڑا ، ہم پل بنا رہے ہیں۔ اب ذرا ان سے کوئی جاکر پوچھے کہ جدیدیت ہی کے نام پر آخر’’شب خون ‘‘چالیس سال تک چلتا رہا۔ اور دنیا کے ہر گوشے میںجہاںاردو پڑھی جاتی ہے’شب خون ‘ پڑھا جاتا رہا۔ اور اس کے پڑھنے والے سب پڑھے لکھے اور ادب فہم لوگ ہیں۔ تو جدیدیت نے ان لوگوں کو کہاں سے پیدا کردیا۔ اگر جدیدیت نے قاری کو پسِ پشت ڈال دیا تھا تو یہ لوگ کہاں سے آگئے؟ جدیدیت کے جو بڑے نام میں ہیںپاکستان میں، ہندوستان میں ان کا کلام بار بارچھپتا ہے،ان کے افسانوں کی، ان کی نظموں کی، ان کی غزلوں کی پذیرائی ہوتی ہے۔ مطالعہ ان کا ہوتا ہے ، تو کیوں آخر ہورہا ہے یہ۔ کیا ایسے ہی ہورہا ہے کہ لوگ ان کو سمجھ نہیں رہے ہیں؟


ندیم احمد نئی نسل کے اہم ناقد اور شاعر ہیں۔ فی الحال شعبہ اردو ، کلکتہ یونیورسٹی میں استاذ ہیں۔ یہ انٹرویو انھوں نے رسالہ اردو چینل کے لیے تقریباً دس بارہ سال قبل لیا تھا جو اردو چینل کے انٹرویو نمبر میں شامل بھی ہے۔ اِس انٹرویو میں بعض ایسے مباحث بھی ہیں جو آج بھی اپنی معنویت رکھتے ہیں لہٰذا اسے اِس ویبسائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔

Iqbal for Children

Articles

اقبال برائے اطفال

نصرت شمسی

Interview Mohammad Alvi by Farhan Haneef Warsi

Articles

پاکستان میں نئے لب و لہجے کی تلاش پہلے شروع ہوئی

محمد علوی

فرحان حنیف: علوی صاحب! اپنے بارے میں کچھ بتائیں۔ میں نے سنا ہے ، آپ کا تعلق کسی روحانی خانوادے سے بھی ہے۔
محمدعلوی: ہاں۔ آپ نے بالکل ٹھیک سنا ہے۔ احمد آباد میں نہرو پل کے مشرقی سرے پر واقع خان پور سیّد واڑے میں حضرت شاہ وجیہہ الدین علوی الحسینی الگجراتی ۔ؒ ۔۔کا مزار آج بھی مرجع الخلائق ہے۔ آپ اپنے وقت کے ایک بڑے عالم اور خدا رسیدہ بزرگ تھے۔ میرا تعلق آپؒ کے گدّی نشینوں کے خاندان سے ہے اور میرے بڑے بھائی سیّد احمد علوی درگاہ شریف کے حالیہ سجادہ نشین ہیں۔ میرے والد صاحب کانام سیّد بڑا صاحب میاں علوی تھا۔ ایک اور دلچسپ بات آپ کو بتانا چاہوں گا کہ میرے آباء و اجداد نے پورے بھڑوچ ضلع میں مذہب اسلام کی تبلیغ کی ہے اور کئی دیہات اور کئی گائوں کے باشندوں کو حلقۂ اسلام میں داخل کیا ہے۔ میں 10؍ اپریل 1927ء کو احمد آباد میں پیدا ہوا اور صرف ساتویں جماعت تک میں نے تعلیم حاصل کی ہے۔
فرحان حنیف: کیا آپ کو اپنا اولین شعر یادہے؟ یہ بھی بتایئے کہ آپ نے پڑھنے لکھنے کی شروعات کس طرح کی ؟
محمدعلوی: پہلا شعر تو اب یاد نہیں ہے۔البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ والد نے آٹھ نو سال کی عمر میں بغرضِ تعلیم مجھے دہلی کے جامعہ میں داخل کیا تھا۔ وہیں دورانِ تعلیم میں نے بچوں کے ایک مشاعرے میں حصّہ لیتے ہوئے کبوتر پر ایک نظم کہی تھی۔ جج حضرات نے میری اس نظم کو پسند کیا اور بطور اوّل انعام مجھے مولوی اسماعیل میرٹھی کی تصانیف کے مکمل سیٹ سے نوازا۔ دوسری جنگِ عظیم کا آغاز ہوتے ہی میں واپس احمد آباد آگیا۔ اب مجھے ایک مقامی اسکول میں بھیجا گیا۔ مجھے پڑھنے میں بالکل دلچسپی نہیں تھی۔ اسکول کا ناغہ کرکے دوستوں کے ساتھ کھیل میں مصروف رہتا یا پھر شرارتیں کرتا۔
میرے دوست اور کزن مظہر الحق علوی (انگریزی کے سو(100) ناولوں کے مترجم) کے والد کو مطالعہ کا شوق تھا اور ان کے پاس تاریخی کتابوں کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ مظہر الحق علوی، وارث علوی اور میں نے مل کر صادق سردھنوی کی تمام کتابیں پڑھ ڈالیں۔ تیرتھ رام فیروز پوری کے تراجم بھی پڑھے۔ احمد آباد میں اس وقت کلیم بک ڈپو ہوا کرتا تھا ، وہاں سے لیکر ہم تینوں نے شفیق الرحمن کی ’’حماقتیں‘‘ اور احمد ندیم قاسمی کی ’’بگولے‘‘ نامی کتابیں پڑھیں۔ مذکورہ دونوں کتابوں کا مطالعہ کرتے ہی ہم نے خود میں ایک طرح کی تبدیلی محسوس کی۔ ان دنوں نظیرؔ اکبرآبادی کی کلیات بھی پڑھی اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اس میں موجود تخلیقات میں جہاں گالیاں آتی تھیں وہاں ڈاٹ ڈاٹ ڈاٹ ہوتا تھا، ہم تینوں ان خالی جگہوں کو مناسب گالیاں لکھ کر پر کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی، سعادت حسن منٹو، علی سردار جعفری اور کیفی اعظمی کی تصانیف اور تخلیقات بھی برابر پڑھنے لگے۔ ترقی پسند تحریک ان دنوں شباب پر تھی۔ اس وقت ہم لوگ اٹھارہ سال کے رہے ہوں گے۔ میں 1946ء کی بات کر رہاہوں۔ ترقی پسند تحریک نے ہم تینوں کو متاثر کیا اور ہم نے اس تحریک سے جڑنے کا فیصلہ کیا۔احمد آباد میں ہم نے بڑی محنت کی اور ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم کی۔ 1947ء میں احمد آباد میں ترقی پسند تحریک کی پہلی کانفرنس منعقد کی۔ اس کانفرنس میں جوش ملیح آبادی، علی سردار جعفری، کیفی اعظمی، نیاز حیدر، مجاز لکھنوی، ممتاز حسین اور ساحر لدھیانوی نے بھی شرکت کی تھی۔ ان دنوں مشاعروں کی فضا گرم تھی اور سامعین علی سردار جعفری، کیفی اعظمی اور نیاز حیدر کی نظموں اور اشعار پر اچھل کر داد دیتے تھے۔ داد پانے کے اس جوش نے کچھ ایسا اثر کیا کہ میں نے بھی انہی کے رنگ میں شاعری کا آغاز کردیا۔
ان دنوں احمدآباد سے ممبئی کا کرایہ آٹھ دس روپے ہی تھا۔ وارث علوی اور میں سجاد ظہیر صاحب کے مکان پر منعقدہ میٹنگوں میں شریک ہونے لگے۔ کرشن چندر چار بنگلہ(اندھیری) کے ایک بوسیدہ بنگلے میں مقیم تھے۔ ساحر لدھیانوی، ممتاز مفتی، میراجی، مجاز لکھنوی اور نیاز حیدر اس بنگلے کے اوپری حصّے میں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے۔ دن بھر سبھی آوارہ گردی کرتے اور شام ہوتے ہی یہاں جمع ہوجاتے۔ وارث علوی اور میں بھی وہاں پہنچ جاتے ۔بڑی ہماہمی رہتی۔ جیل کی باتوں یا پھر مجروحؔ سلطان پوری کی غزلوں کا دور چلتا۔ مجھے بھی ان دنوں مدنپورہ، بھمڑی اور مالیگائوں کے کئی مشاعروں میں پڑھنے کا موقع ملا۔ وارث علوی اور میں نے 1949ء میں بھمڑی کانفرنس میں بھی حصّہ لیا۔
بھمڑی کانفرنس کے بعد ترقی پسند تحریک کا جادو ختم ہونے لگا اور کچھ میرا بھی موڈ تبدیل ہوگیا۔ میں نے فراقؔ گورکھپوری ، سیف الدین سیفؔ، مجاز ؔلکھنوی، مخدومؔ محی الدین اور ناصرؔ کاظمی کی شاعری کا مطالعہ کیا۔ حلقۂ اربابِ ذوق کے تمام مصنفین کو پڑھا ۔ میراجیؔ کو بھی توجہ سے پڑھا۔ اس مطالعے کا اثر یہ ہوا کہ میں نے 1949ء میں مجازؔ لکھنوی کی زمین میں ایک غزل لکھی جو ’’ادبِ لطیف‘‘ میں شائع ہوئی۔ اس وقت میرا اپنا کوئی لہجہ نہیں بنا تھا۔ وہ غزل تھی:
غمِ جاناں کو ابھی اور ابھر جانا تھا
زہر بن کے مری رگ رگ میں اتر جانا تھا
آج تو ان کی نگاہوں میں بھی تھا لطف و کرم
آج تو گردشِ دوراں کو ٹھہر جانا تھا
ان کا آنا بھی تھا ہنگامۂ محشر کی مثال
ان کا جانا بھی قیامت کا گزر جانا تھا
اس دور میں، میں نے زیادہ تر غزلیں لکھیں جو’ ادبِ لطیف‘، ’صبا‘ اور’ تحریک‘ وغیرہ میں چھپتی رہیں۔ ان غزلوں میں سیف الدین سیفؔ اور ناصرؔ کاظمی کا بھی رنگ شامل تھا۔ شاید 1952ء تک میں اس قسم کی شاعری کرتا رہا۔ بڑی ہلکی پھلکی سی غزلیں لکھتا رہا۔ 1952ء کے بعد میں شاعری چھوڑ کر کاروبار اور دیگر عیاشیوں میں مصروف ہوگیا۔
فرحان حنیف: آپ شاعری سے کب تک روٹھے رہے؟
محمدعلوی: ہاں بتاتا ہوں۔1959ء تک یہ جمود طاری رہا۔1959ء میں دوبارہ شاعری نے اپنی طرف کھینچا اور پہلی مرتبہ میں نے چار پانچ نظمیں لکھ کر ’’سوغات‘‘ کے لیے محمود ایاز صاحب کو روانہ کردیں۔ خوش قسمتی سے محمود ایاز صاحب کو وہ نظمیں اچھی لگیں اور انھوں نے نام مخفی رکھ کر شہر یار سے ان نظموں پر تاثرات لکھوائے اور ’’سوغات‘‘ کے ’’جدید نظم نمبر‘‘ میں ان نظموں کو شامل کیا۔ قارئین نے اور ادبی حلقے نے ان نظموں کو سراہا اور اس طرح نظمیں لکھنے کا آغاز ہوا۔ 1959ء سے 1962ء تک میں زیادہ تر پاکستانی رسائل ادبِ لطیف، نصرت، نقوش، سویرا، نیادور اور سات رنگ وغیرہ میں چھپتا رہا۔ 1963ء میں محمود ایاز صاحب نے میرا پہلا شعری مجموعہ ’’خالی مکان‘‘ شائع کیا۔ یہ جدید شاعری کا پہلا شعری مجموعہ تھا۔ حالانکہ ان دنوں خلیل الرحمن اعظمی، شہر یار، بلراج کومل، باقر مہدی، بشیر بدر، بمل کرشن اشک، قاضی سلیم، شاذ تمکنت اور وحید اختر جدید شاعری میں اپنی چھاپ چھوڑ چکے تھے ، لیکن شائع ہونے والا پہلا مجموعہ ’’خالی مکان‘‘ ہی تھا۔
فرحان حنیف: کیا’’خالی مکان ‘‘ کے بعد آپ نے حسبِ مزاج پھر خاموشی اختیار کرلی؟
محمدعلوی: (ہنستے ہوئے) جی ہاں۔ 1967ء میں الہ آباد سے شمس الرحمن فاروقی نے ’’شب خون‘‘ جاری کیا ____ فاروقی صاحب مجھے’’شب خون‘‘ کے ساتھ ایک رقعہ بھی روانہ کرتے جس میں نظمیں بھیجنے کی فرمائش ہوتی۔ لہٰذا 1967ء میں ایک بار پھر شاعری کا موڈ بنایا اور چند مہینوں میں اتنی شاعری کی کہ فاروقی صاحب نے 1968ء میں دوسرا شعری مجموعہ ’’آخری دن کی تلاش‘‘ شائع کیا۔
فرحان حنیف: ’’آخری دن کی تلاش‘‘ کے بعد شاعری یا موڈ کو پکڑنے کی تلاش کب شروع ہوئی؟
محمدعلوی: (زوردار قہقہہ ) اس بار یہ خاموشی1975-76تک چھائی رہی۔ بس کاروبار میں الجھا رہا۔ میں احمدآباد میونسپل کارپوریشن کا اے گریڈ کا کانٹریکٹر تھا۔ خوب دولت کمائی، کبھی کلب میں جاکر رمی کھیلتا، کبھی گھر والوں کے ساتھ پکچر دیکھنے چلا جاتا، کبھی دہلی جاکر دوستوں سے ملتا، کبھی ممبئی چلاآتا اور ٹیکسی لے کر ندافاضلی کو ڈھونڈتا، ندا کہاں ہے، کیسا ہے۔ باقر مہدی سے بھی خوب جمتی تھی۔ بہرحال 1975-76تک کچھ نہیں کہا،اور جب کہنا شروع کیا تو ایک نشست میں کئی کئی نظمیں اور غزلیں کہہ ڈالیں۔ 1978ء میں بلراج مینرا نے’’تیسری کتاب‘‘ شائع کی۔ اس کے بعد پھر گیپ آگیا ۔ 1992ء میں چوتھی کتاب’’ چوتھا آسمان‘‘ منظر عام پر آئی اور ساہتیہ اکیڈمی نے اسے ایوارڈ سے نوازا۔ 1995ء میں اردو ساہتیہ اکیڈمی گجرات نے ’’رات اِدھر اُدھر روشن‘‘ کلیات چھاپی اور اس کے بعد سے ایک بار پھر جمود طاری ہے۔ کبھی کبھار ایک آدھ نظم ہوجاتی ہے۔ گجرات بھوکمپ پر ایک نظم لکھی تھی ’’زلزلہ‘‘:
آنے سے پہلے کم سے کم
ایک خط تو بھیج دیا ہوتا
یا ٹیلی فون کیا ہوتا
ہم تیرا سواگت کرنے کو
گھر سے سڑکوں پر آجاتے
گھر یوں نہ ہم کو کھا جاتے
فرحان حنیف: علوی صاحب۔۔!۔۔ آپ ترقی پسند تحریک سے بھی منسلک رہے، اور آپ کا شمار جدید لب و لہجہ کے اہم شاعروں میں بھی ہوتا ہے، آپ نے ان دونوں تحریکوں کو کس روپ میں محسوس کیا؟
محمدعلوی: 1947ء کے بعد اردو کے مجموعی فکری نظام میں ایک تبدیلی آگئی تھی اور ترقی پسندوں نے اس تبدیلی کو۔ شکستِ خواب سے تعبیر کیا تھا، اور پھر جب فیض احمد فیضؔ کا یہ مصرعہ سامنے آیا:
؎۔۔یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
تواس شکستگی کو خود ترقی پسندوں نے بھی قبول نہیں کیا۔بہرحال اس تبدیلی سے انڈر کرنٹ تجسّس اور احساس کا ایک ماحول بنا اور ہندوستان سے قبل پاکستان میں نئے لب و لہجے کی تلاش شروع ہوگئی۔ پاکستان میں حلقۂ اربابِ ذوق کے سبب ہیئت کی تبدیلی ، نئے الفاظ کی تلاش، نئے پیکر اور نئی علامتوں کی کھوج کا آغاز ہوا۔ اِدھر ہندوستان میں ترقی پسند جوشؔ ملیح آبادی کی رہنمائی میں سرگرمِ عمل رہے۔ یہاں اجتماع سے بات کی جارہی تھی اور وہاں فرد کو بنیاد بناکر بات کی جارہی تھی۔ پاکستان میں مختارؔ صدیقی، ضیاءؔ جالندھری، یوسف ظفرؔ، قیوم نظرؔ اور میراجیؔ کی آوازیں حاوی تھیں۔ اگر دیکھاجائے تو جدید شاعری جو ہندوستان میں آئی ، وہ ترقی پسند اور حلقۂ اربابِ ذوق کے ملاپ کے ردِّ عمل میں آئی۔ اچھا اِدھر علی سردار جعفری کے اپنے ہیئتی تجربے بھی تھے۔ ترقی پسندوں میں فرد کی نفی کی جارہی تھی اور حلقۂ اربابِ ذوق میں سماج کی نفی کی جارہی تھی۔
جدید شاعری نے اپنے ورثے میں فرد اور سماج کا ایک متبادل روپ دینے کی سعی کی ہے۔ ناصرؔ کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی، ابنِ انشاء، منیر ؔنیازی، عزیز حامدمدنیؔ، سلیمؔ احمد ،انتظار حسین اور باقر مہدی جدیدیت کے اہم نام ہیں۔ایک اور شاعر ہیں ڈاکٹر راہی معصوم رضاؔ انھیں کیوں نظر انداز کیا گیا مجھے نہیں معلوم۔ آرزوؔ لکھنوی نے ’’سنہری بانسری‘‘لکھتے وقت یہ احتیاط برتی تھی کہ اس میں فارسی اور عربی کے ثقیل الفاظ نہ ہوں، عام بول چال کے الفاظ ہوں:
اس نے بھیگے ہوئے بالوں سے جو جھٹکا پانی
جھوم کے آئی گھٹا ٹوٹ کے برسا پانی
اب یہ شعر لب ولہجے کے لحاظ سے بہت خوبصورت ہے ، مگر اس کا مفہوم کیا اخذ کریں گے؟آرزوؔ لکھنوی تو کلاسک میں سے ہیں اور ادب میں ان کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے لب و لہجے کو مانجھا، صاف کیااور اسے عام بول چال کی زبان سے نزدیک کیا۔ ایک طرف جدید شاعری میں کئی چہرے ہیں۔ایک چہرہ وہ ہے جو اس زبان میں بات کرتا ہے جو عام بول چال کی زبان ہے۔ عام بول چال کی زبان میںشاعری کا جادو جگانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔آج پاکستان میں جو زبان استعمال ہورہی ہے وہ وہی کلاسیکی زبان ہے۔
فرحان حنیف: اب تو جدیدیت کے ختم ہونے کی بات کی جارہی ہے۔ خاص طور سے مابعد جدیدیت کے حوالے سے۔ علوی صاحب آپ کے تاثرات کیا ہیں؟
محمدعلوی: وارث علوی کا ’’ذہن جدید‘‘ میں ایک مضمون شائع ہوا تھا جس میں انھوں نے اس قسم کی باتوں کو تنقیدی اچھل کود سے تعبیر کیا تھا۔ ہر عہد کی اچھی شاعری جدید ہوتی ہے۔ اردو شاعری ہرعہد میں اپنے سماج کے حالات اور اس کے اتار چڑھائو کا ساتھ دیتی رہی ہے۔ کچھ لوگوں کا یہ بھی کہناہے کہ جدید شاعری تنہائی کا شکار ہے یا اقدار کی شکست کا نوحہ ہے وغیرہ وغیرہ۔ آپ عمیقؔ حنفی کی شاعری کو کس خانے میں رکھیںگے؟ محمد علوی کی شاعری کا بڑا حصّہ کس خانے میں رکھیں گے؟ میں نے رام اور ایودھیا دونوں پر نظم لکھی ہے۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں ایک عہد ختم ہوگیا۔ غالبؔ کی شاعری اچھی شاعری ہے اور وہ آج بھی جدید ہے۔ جوشاعری وقت کے ساتھ پرانی ہوجاتی ہے وہ نہ جدید ہوتی ہے اور نہ ہی قدیم ، وہ صرف بری شاعری ہوتی ہے۔ شہریار، محمد علوی اور ندا فاضلی جدیدیت یا مابعد جدیدیت سے نہیں، بلکہ اپنی شخصیت اور شاعری سے پہچانے جاتے ہیں۔
———————————-

 

Nqah o Naqshab by Sultan Haider Josh

Articles

نقش و نقشاب

سلطان حیدر جوش

Simba A Famous Arabic Cartoon Series by Dr. M. Shahid

Articles

سمبا

ڈاکٹر محمد شاہد

Aakhri Aadmi A Short Story by Intezar Hussain

Articles

آخری آدمی

انتظار حسین

الیاس اس قریے میں آخری آدمی تھا۔ اس نے عہد کیا تھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور میں آدمی ہی کی جون میں مروں گا۔ اور اس نے آدمی کی جون میں رہنے کی آخر دم تک کوشش کی۔
اور اس قریے سے تین دن پہلے بندر غائب ہو گئے تھے۔ لوگ پہلے حیران ہوئے اور پھر خوشی منائی کہ بندر جو فصلیں برباد اور باغ خراب کرتے تھے نابود ہو گئے۔ پر اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا کرتا تھا یہ کہا کہ بندر تو تمہارے درمیان موجود ہیں مگر یہ کہ تم دیکھتے نہیں۔ لوگوں نے اس کا برا مانا اور کہا کہ کیا تو ہم سے ٹھٹھا کرتا ہے اور اس نے کہا کہ بے شک ٹھٹھا تم نے خدا سے کیا کہ اس نے سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کیا اور تم نے سبت کے دن مچھلیوں کا شکار کیا اور جان لو کہ وہ تم سے بڑا ٹھٹھا کرنے والا ہے۔
اس کے تیسرے دن یوں ہوا کہ الیعذر کی لونڈی گجر وم الیعذر کی خواب گاہ میں داخل ہوئی اور سہمی ہوئی الیعذر کی جورو کے پاس الٹے پاؤں آئی۔ پھر الیعذر کی جورو خواب گاہ تک گئی اور حیران و پریشان واپس آئی۔ پھر یہ خبر دور دور تک پھیل گئی اور دور دور سے لوگ الیعذر کے گھر آئے اور اس کی خواب گاہ تک جا کر ٹھٹھک ٹھٹھک گئے کہ الیعذر کی خواب گاہ میں الیعذر کی بجائے ایک بڑا بندر آرام کرتا تھا اور الیعذر نے پچھلے سبت کے دن سب سے زیادہ مچھلیاں پکڑی تھیں۔
پھر یوں ہوا کہ ایک نے دوسرے کو خبر دی کہ اے عزیز الیعذر بندر بن گیا ہے۔ اس پر دوسرا زور سے ہنسا۔ “تو نے مجھ سے ٹھٹھا کیا۔” اور وہ ہنستا چلا گیا، حتٰی کہ منہ اس کا سرخ پڑ گیا اور دانت نکل آئے اور چہرے کے خد و خال کھینچتے چلے گئے اور وہ بندر بن گیا۔ تب پہلا کمال حیران ہوا۔ منہ اس کا کھلا کا کھلا رہ گیا اور آنکھیں حیرت سے پھیلتی چلی گئیں اور پھر وہ بھی بندر بن گیا۔
اور الیاب ابن زبلون کو دیکھ کر ڈرا اور یوں بولا کہ اے زبلون کے بیٹے تجھے کیا ہوا ہے کہ تیرا چہرا بگڑ گیا ہے۔ ابن زبلون نے اس بات کا برا مانا اور غصے سے دانت کچکچانے لگا۔ تب الیاب مزید ڈرا اور چلا کر بولا کہ اے زبلون کے بیٹے! تیری ماں تیرے سوگ میں بیٹھے، ضرور تجھے کچھ ہو گیا ہے۔ اس پر ابن زبلون کا منہ غصے سے لال ہو گیا اور دانت کھینچ کر الیاب پر جھپٹا۔ تب الیاب پر خوف سے لرزہ طاری ہوا اور ابن زبلون کا چہرہ غصے سے اور الیاب کا چہرہ خوف سے بگڑتا چلا گیا۔ ابن زبلون غصے سے آپے سے باہر ہوا اور الیاب خوف سے اپنے آپ میں سکڑتا چلا گیا اور وہ دونوں کہ ایک مجسم غصہ اور ایک خوف کی پوت تھے آپس میں گتھ گئے۔ ان کے چہرے بگڑتے چلے گئے۔ پھر ان کے اعضا بگڑے۔ پھر ان کی آوازیں بگڑیں کہ الفاظ آپس میں مدغم ہوتے چلے گئے اور غیر ملفوظ آوازیں بن گئے۔ پھر وہ غیر ملفوظ آوازیں وحشیانہ چیخ بن گئیں اور پھر وہ بندر بن گئے۔
الیاسف نے کہ ان سب میں عقل مند تھا اور سب سے آخر تک آدمی بنا رہا۔ تشویش سے کہا کہ اے لوگو! ضرور ہمیں کچھ ہو گیا ہے۔ آؤ ہم اس شخص سے رجوع کریں جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا ہے۔ پھر الیاس لوگوں کو ہمراہ لے کر اس شخص کے گھر گیا۔ اور حلقہ زن ہو کے دیر تک پکارا کیا۔ تب وہ وہاں سے مایوس پھرا اور بڑی آواز سے بولا کہ اے لوگو! وہ شخص جو ہمیں سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کیا کرتا تھا آج ہمیں چھوڑ کر چلا گیا ہے۔ اور اگر سوچو تو اس میں ہمارے لئے خرابی ہے۔ لوگوں نے یہ سنا اور دہل گئے۔ ایک بڑے خوف نے انہیں آ لیا۔
دہشت سے صورتیں ان کی چپٹی ہونے لگیں۔ اور خد و خال مسخ ہو تے چلے گئے۔ اور الیاسف نے گھوم کر دیکھا اور بندروں کے سوا کسی کونہ پایا۔ جاننا چاہئے کہ وہ بستی ایک بستی تھی۔ سمندر کے کنارے۔اونچے برجوں اور بڑے دروازوں والی حویلیوں کی بستی، بازاروں میں کھوے سے کھوا چھلتا تھا۔ کٹورا بجتا تھا۔ پر دم کے دم میں بازار ویران اور اونچی ڈیوڑھیاں سونی ہو گئیں۔ اور اونچے برجوں میں عالی شان چھتوں پر بندر ہی بندر نظر آنے لگے اور الیاسف نے ہر اس سے چاروں سمت نظر دوڑائی اور سوچا کہ میں اکیلا آدمی ہوں اور اس خیال سے وہ ایسا ڈرا کہ اس کا خون جمنے لگا۔ مگر اسے الیاب یاد آیا کہ خوف سے کس طرح اس کی صورت بگڑتی چلی گئی اور وہ بندر بن گیا۔ تب الیاسف نے اپنے خوف پر غلبہ پا یا اور عزم باندھا کہ معبود کی سوگند میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا ہوں اور آدمی ہی کی جون میں مروں گا اور اس نے ایک احساسِ برتری کے ساتھ اپنے مسخ صورت ہم جنسوں کو دیکھا اور کہا۔ تحقیق میں ان میں سے نہیں ہوں کہ وہ بندر ہیں اور میں آدمی کی جون میں پیدا ہوا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں سے نفرت کی۔ اس نے ان کی لال بھبوکا صورتوں اور بالوں سے ڈھکے ہوئے جسموں کو دیکھا اور نفرت سے چہرہ اس کا بگڑنے لگا مگر اسے اچانک زبان کا خیال آیا کہ نفرت کی شدت سے صورت اس کی مسخ ہو گئی تھی۔ اس نے کہا کہ الیاسف نفرت مت کر کہ نفرت سے آدمی کی کایا بدل جاتی ہے اور الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے نفرت سے کنارہ کیا اور کہا کہ بے شک میں انہی میں سے تھا اور اس نے وہ دن یاد کئے جب وہ ان میں سے تھا اور دل اس کا محبت کے جوش سے منڈنے لگا۔ اسے بنت الاخضر کی یاد آئی کہ فرعون کے رتھ کی دودھیا گھوڑیوں میں سے ایک گھوڑی کی مانند تھی۔ اور اس کے بڑے گھر کے در سرو کے اور کڑیاں صنوبر کی تھیں۔ اس یاد کے ساتھ الیاسف کو بیتے دن یاد آ گئے کہ وہ سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے مکان میں عقب سے گیا تھا اور چھپر کھٹ کے لئے اسے ٹٹولا جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور اس نے دیکھا لمبے بال اس کی رات کی بوندوں سے بھیگے ہوئے ہیں اور چھاتیاں ہرن کے بچوں کے موافق تڑپتی ہیں۔ اور پیٹ اس کا گندم کی ڈیوڑھی کی مانند ہے اور پاس اس کے صندل کا گول پیالہ ہے اور الیاسف نے بنت الاخضر کو یاد کیا اور ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیر اور صندل کے گول پیالے کے تصور میں سرو کے دروں اور صنوبر کی کڑیوں والے گھر تک گیا۔ ساس نے خالی مکان کو دیکھا اور چھپر کھٹ پر اسے ٹٹولا۔ جس کے لئے اس کا جی چاہتا تھا اور پکارا کہ اے بنت الاخضر! تو کہاں ہے اور اے وہ کہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ دیکھ موسم کا بھاری مہینہ گزر گیا اور پھولوں کی کیاریاں ہری بھری ہو گئیں اور قمریاں اونچی شاخوں پر پھڑپھڑاتی ہیں۔ تو کہاں ہے؟ اے اخضر کی بیٹی! اے اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر آرام کرنے والی تجھے دشت میں دوڑتی ہوئی ہرنیوں اور چٹانوں کی دراڑوں میں چھپے ہوئے کبوتروں کی قسم تو نیچے اتر آ۔ اور مجھ سے آن مل کہ تیرے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ الیاسف بار بار پکارتا کہ اس کا جی بھر آیا اور بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا۔
الیاسف بنت الاخضر کو یاد کر کے رویا مگر اچانک الیعذر کی جورو یاد آئی جو الیعذر کو بندر کی جون میں دیکھ کر روئی تھی۔ حالانکہ اس کی ہڑکی بند ھ گئی اور بہتے آنسوؤں میں اس کے جمیل نقوش بگڑتے چلے گئے۔ اور ہڑکی کی آواز وحشی ہوتی چلی گئی یہاں تک کہ اس کی جون بدل گئی۔ تب الیاسف نے خیال کیا۔ بنت الاخضر جن میں سے تھی ان میں مل گئی۔ اور بے شک جو جن میں سے ہے وہ ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا کہ اے الیاسف ان سے محبت مت کر مبادا تو ان میں سے ہو جائے اور الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا اور الیاسف نے ہرن کے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کو فراموش کر دیا۔
الیاسف نے محبت سے کنارہ کیا اور اپنے ہم جنسوں کی لال بھبوکا صورتوں اور کھڑ ی دم دیکھ کر ہنسا اور الیاسف کو الیعذر کی جورو یاد آئی کہ وہ اس قریے کی حسین عورتوں میں سے تھی۔ وہ تاڑ کے درخت کی مثال تھی اور چھاتیاں اس کی انگور کے خوشوں کی مانند تھیں۔ اور الیعذر نے اس سے کہا تھا کہ جان لے کہ میں انگور کے خوشے توڑوں گا اور انگور کے خوشوں والی تڑپ کر ساحل کی طرف نکل گئی۔
الیعذر اس کے پیچھے پیچھے گیا اور پھل توڑا اور تاڑ کے درخت کو اپنے گھر لے آیا اور اب وہ ایک اونچے کنگرے پر الیعذر کی جوئیں بن بن کر کھاتی تھی۔ الیعذر جھری جھری لے کر کھڑا ہو جاتا اور وہ دم کھڑی کر کے اپنے لجلجے پنجوں پر اٹھ بیٹھی۔ اس کے ہنسنے کی آواز اتنی اونچی ہوتی کہ اسے ساری بستی گونجتی معلوم ہوئی اور وہ اپنے اتنی زور سے ہنسنے پر حیران ہوا مگر اچانک اسے اس شخص کا خیال آیا جو ہنستے ہنستے بندر بن گیا تھا اور الیاسف نے اپنے تئیں کہا۔ اے الیاسف تو ان پر مت ہنس مبادا تو ہنسی کی ایسا بن جائے اور الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔
الیاسف نے ہنسی سے کنارہ کیا۔ الیاسف محبت اور نفرت سے غصہ اور ہمدردی سے رونے اور ہنسنے سے ہر کیفیت سے گزر گیا اور ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے بے تعلق ہو گیا۔ ان کا درختوں پر اچکنا، دانت پیس پیس کر کلکاریاں کرنا، کچے کچے پھلوں پر لڑنا اور ایک دوسرے کو لہو لہان کر دینا۔ یہ سب کچھ اسے آگے کبھی ہم جنسوں پر رلاتا تھا، کبھی ہنساتا تھا۔ کبھی غصہ دلاتا کہ وہ ان پر دانت پیسنے لگا اور انہیں حقارت سے دیکھتا اور یوں ہوا کہ انہیں لڑتے دیکھ کر اس نے غصہ کیا اور بڑی آواز سے جھڑکا۔ پھر خود اپنی آواز پر حیران ہوا۔ اور کسی کسی بندر نے اسے بے تعلقی سے دیکھا اور پھر لڑائی میں جٹ گیا۔ اور الیاسف کے تئیں لفظوں کی قدر کی جاتی رہی۔ کہ وہ اس کے اور اس کے ہم جنسوں کے درمیان رشتہ نہیں رہے تھے اور اس کا اس نے افسوس کیا۔ الیاسف نے افسوس کیا اپنے ہم جنسوں پر، اپنے آپ پر اور لفظ پر۔ افسوس ہے ان پر بوجہ اس کے وہ اس لفظ سے محروم ہو گئے۔ افسوس ہے مجھ پر بوجہ اس کے لفظ میرے ہاتھوں میں خالی برتن کی مثال بن کر رہ گیا۔ اور سوچو تو آج بڑے افسوس کا دن ہے۔ آج لفظ مر گیا۔ اور الیاسف نے لفظ کی موت کا نوحہ کیا اور خاموش ہو گیا۔
الیاسف خاموش ہو گیا اور محبت اور نفرت سے، غصے اور ہمدردی سے، ہنسنے اور رونے سے در گزرا۔ اور الیاسف نے اپنے ہم جنسوں کو نا جنس جان کر ان سے کنارہ کیا اور اپنی ذات کے اندر پناہ لی۔ الیاسف اپنی ذات کے اندر پناہ گیر جزیرے کے مانند بن گیا۔ سب سے بے تعلق، گہرے پانیوں کے درمیان خشکی کا ننھا سا نشان اور جزیرے نے کہا میں گہرے پانیوں کے درمیان زمین کا نشان بلند رکھو ں گا۔
الیاسف اپنے تئیں آدمیت کا جزیرہ جانتا تھا۔ گہرے پانیوں کے خلاف مدافعت کرنے لگا۔ اس نے اپنے گرد پشتہ بنا لیا کہ محبت اور نفرت، غصہ اور ہمدردی، غم اور خوشی اس پر یلغار نہ کریں کہ جذبے کی کوئی رو اسے بہا کر نہ لے جائے اور الیاسف اپنے جذبات سے خوف کرنے لگا۔ پھر جب وہ پشتہ تیار کر چکا تو اسے یوں لگا کہ اس کے سینے کے اندر پتھری پڑ گئی ہے۔ اس نے فکر مند ہو کر کہا کہ اے معبود میں اندر سے بدل رہا ہوں تب اس نے اپنے باہر پر نظر کی اور اسے گمان ہونے لگا کہ وہ پتھری پھیل کر باہر آ رہی ہے کہ اس کے اعضاء خشک، اس کی جلد بد رنگ اور اس کا لہو بے رس ہوتا جا رہا ہے۔ پھر اس نے مزید اپنے آپ پر غور کیا اور اسے مزید وسوسوں نے گھیرا۔ اسے لگا کہ اس کا بدن بالوں سے ڈھکتا جا رہا ہے۔ اور بال بد رنگ اور سخت ہوتے جا رہے ہیں۔ تب اسے اپنے بدن سے خوف آیا اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔ خوف سے وہ اپنے اندر سمٹنے لگا۔ اسے یوں معلوم ہوا کہ اس کی ٹانگیں اور بازو مختصر اور سر چھوٹا ہوتا جا رہا ہے تب اسے مزید خوف ہوا اور اعضاء اس کے خوف سے مزید سکڑنے لگے اور اس نے سوچا کہ کیا میں بالکل معدوم ہو جاؤں گا۔
اور الیاسف نے الیاب کو یاد کیا کہ خوف سے اپنے اندر سمٹ کر وہ بندر بن گیا تھا۔ تب اس نے کہا کہ میں اندر کے خوف پر اسی طور غلبہ پاؤں گا جس طور میں نے باہر کے خوف پر غلبہ پایا تھا اور الیاسف نے اندر کے خوف پر غلبہ پا لیا۔ اور اس کے سمٹتے ہوئے اعضاء دوبارہ کھلنے اور پھیلنے لگے۔ اس کے اعضاء ڈھیلے پڑ گئے۔ اور اس کی انگلیاں لمبی اور بال بڑے اور کھڑے ہونے لگے۔ اور اس کی ہتھیلیاں اور تلوے چپٹے اور لجلجے ہو گئے اور اس کے جوڑ کھلنے لگے اور الیاسف کو گمان ہوا کہ اس کے سارے اعضاء بکھر جائیں گے تب اس نے عزم کر کے اپنے دانتوں کو بھینچا اور مٹھیاں کس کر باندھا اور اپنے آپ کو اکٹھا کرنے لگا۔
الیاسف نے اپنے بد ہیئت اعضاء کی تاب نہ لا کر آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اسے لگا کہ اس کے اعضاء کی صورت بدلتی جا رہی ہے۔
اس نے ڈرتے ڈرتے اپنے آپ سے پوچھا کہ میں میں نہیں رہا۔ اس خیال سے دل اس کا ڈھہنے لگا۔ اس نے بہت ڈرتے ڈرتے ایک آنکھ کھولی اور چپکے سے اپنے اعضاء پر نظر کی۔ اسے ڈھارس ہوئی کہ اس کے اعضاء تو جیسے تھے ویسے ہی ہیں۔ اس نے دلیری سے آنکھیں کھولیں اور اطمینان سے اپنے بدن کو دیکھا اور کہا کہ بے شک میں اپنی جون میں ہوں مگر اس کے بعد آپ ہی آپ اسے پھر وسوسہ ہوا کہ جیسے اس کے اعضاء بگڑتے جا رہے ہیں اور اس نے پھر آنکھیں بند کر لیں۔
الیاسف نے آنکھیں بند کر لیں اور جب الیاسف نے آنکھیں بند کیں تو اس کا دھیان اندر کی طرف گیا اور اس نے جانا کہ وہ کسی اندھیرے کنویں میں دھنستا جا رہا ہے اور الیاسف کنویں میں دھنستے ہوئے ہم جنسوں کی پرانی صورتوں نے اس کا تعاقب کیا۔ اور گزری راتیں محاصرہ کرنے لگیں۔ الیاسف کو سبت کے دن ہم جنسوں کا مچھلیوں کا شکار کرنا یاد آیا کہ ان کے ہاتھوں مچھلیوں سے بھر ا سمندر مچھلیوں سے خالی ہونے لگا۔ اور اس کی ہوس بڑھتی گئی اور انہوں نے سبت کے دن بھی مچھلیوں کا شکار شروع کر دیا۔ تب اس شخص نے جو انہیں سبت کے دن مچھلیوں کے شکار سے منع کرتا تھا کہا کہ رب کی سو گند جس نے سمندر کو گہرے پانیوں والا بنایا اور گہرے پانیوں کی مچھلیوں کا مامن ٹھہرایا سمندر تمہارے دستِ ہوس سے پناہ مانگتا ہے اور سبت کے دن مچھلیوں پر ظلم کرنے سے باز رہو کہ مباد ا تم اپنی جانوں پر ظلم کرنے والے قرار پاؤ۔ الیاسف نے کہا کہ معبود کی سوگند میں سبت کے دن مچھلیوں کا شکار نہیں کرو ں گا اور الیاسف عقل کا پتلا تھا۔ سمندر سے فاصلے پر ایک گڑھا کھودا اور نالی کھود کر اسے سمندر سے ملا دیا اور سبت کے دن مچھلیاں سطحِ آب پر آئیں تو تیرتی ہوئی نالی کی راہ گڑھے پر نکل گئیں۔ اور سبت کے دوسرے دن الیاسف نے اس گڑھے سے بہت سی مچھلیاں پکڑیں۔ وہ شخص جو سبت کے دن مچھلیاں پکڑنے سے منع کرتا تھا۔ یہ دیکھ کر بولا کہ تحقیق جس نے اللہ سے مکر کیا اللہ اس سے مکر کرے گا۔ اور بے شک اللہ زیادہ بڑا مکر کرنے والا ہے اور الیاسف یہ یاد کر کے پچھتایا اور وسوسہ کیا کہ کیا وہ مکر میں گھر گیا ہے۔ اس گھڑی اسے اپنی پوری ہستی ایک مکر نظر آئی۔ تب وہ اللہ کی بارگاہ میں گڑگڑایا کہ پیدا کرنے والے نے تو مجھے ایسا پیدا کیا جیسے پیدا کرنے کا حق ہے۔ تو نے مجھے بہترین کینڈے پر خلق کیا۔ اور اپنی مثال پر بنایا۔ پس اے پیدا کرنے والے تو اب مجھ سے مکر کرے گا اور مجھے ذلیل بندر کے اسلوب پر ڈھالے گا اور الیاسف اپنے حال پر رویا۔ اس کے بنائے پشت میں دراڑ پڑ گئی تھی اور سمندر کا پانی جزیرے میں آ رہا تھا۔
الیاسف اپنے حال پر رویا اور بندروں سے بھری بستی سے منہ موڑ کر جنگل کی سمت نکل گیا کہ اب اس بستی اسے جنگل سے زیادہ وحشت بھری نظر آتی تھی۔ اور دیواروں اور چھتوں والا گھر اس کے لئے لفظ کی طرح معنی کھو بیٹھا تھا۔ رات اس نے درخت کی ٹہنیوں پر چھپ کر بسر کی۔
جب صبح کو وہ جاگا تو اس کا سارا بدن دکھتا تھا اور ریڑھ کی ہڈی درد کرتی تھی۔ اس نے اپنے بگڑے اعضاء پر نظر کی کہ اس وقت کچھ زیادہ بگڑے بگڑے نظر آ رہے تھے۔ اس نے ڈرتے ڈرتے سوچا کیا میں میں ہی ہوں اور اس آن اسے خیال آیا کہ کاش بستی میں کوئی ایک انسان ہوتا کہ اسے بتا سکتا کہ وہ کس جون میں ہے اور یہ خیال آنے پر اس نے اپنے تئیں سوال کیا کہ کیا آدمی بنے رہنے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ آدمیوں کے درمیان ہو۔ پھر اس نے خود ہی جواب دیا کہ بیشک آدم اپنے تئیں ادھورا ہے کہ آدمی آدمی کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ اور جو جن میں سے ہے ان کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ اور جب اس نے یہ سوچا تو روح اس کی اندوہ سے بھر گئی اور وہ پکارا کہ اسے بنت الاخضر تو کہا ں ہے کہ تجھ بن میں ادھورا ہوں۔ اس آن الیاسف کو ہرن کے تڑپتے ہوئے بچوں اور گندم کی ڈھیری اور صندل کے گول پیالے کی یاد بے طرح آئی۔
جزیرے میں سمندر کا پانی امنڈا چلا آ رہا تھا اور الیاسف نے درد سے صدا کی۔ کہ اے بنت الاخضر اے وہ جس کے لئے میرا جی چاہتا ہے۔ تجھے میں اونچی چھت پر بچھے ہوئے چھپر کھٹ پر اور بڑے درختوں کی گھنی شاخوں میں اور بلند برجیوں میں ڈھونڈوں گا۔ تجھے سرپٹ دوڑ تی دودھیا گھوڑیوں کی قسم ہے۔ قسم ہے کبوتروں کی جب وہ بلندیوں پر پرواز کرے۔ قسم ہے تجھے رات کی جب وہ بھیگ جائے۔ قسم ہے تجھے رات کے اندھیرے کی جب وہ بدن میں اترنے لگے۔ قسم ہے تجھے اندھیرے اور نیند کی۔ اور پلکوں کی جب وہ نیند سے بوجھل ہو جائیں۔ تو مجھے آن مل کہ تیرے لئے میراجی چاہتا ہے اور جب اس نے یہ صدا کی تو بہت سے لفظ آپس میں گڈ مڈ ہو گئے جیسے زنجیر الجھ گئی ہو۔ جیسے لفظ مٹ رہے ہوں۔ جیسے اس کی آواز بدلتی جا رہی ہو اور الیاسف نے اپنی بدلتی ہوئی آواز پر غور کیا اور زبلون اور الیاب کو یاد کیا کہ کیوں کر ان کی آوازیں بگڑتی چلی گئی تھیں۔ الیاسف اپنی بدلتی ہوئی آواز کا تصور کر کے ڈرا اور سوچا کہ اے معبود کیا میں بدل گیا ہوں اور اس وقت اسے یہ نرالا خیال سوجھا کہ اے کاش کوئی ایسی چیز ہوتی کہ اس کے ذریعے وہ اپنا چہرہ دیکھ سکتا۔ مگر یہ خیال اسے بہت انہونا نظر آیا۔ اور اس نے درد سے کہا کہ اے معبود میں کیسے جانوں کہ میں نہیں بد لاہوں۔


 

Urdu Fiction Tafheem, Tabeer aur Tanqeed

Articles

اردو فکشن تفہیم ، تعبیر اور تنقید

شہناز رحمن

Tariqa E Nizamat by Mohammad Mahdi Al Qasmi

Articles

طریقہ نظامت

محمد مہدی القاسمی

Kaleem E Ajam by Seemab Akbarabadi

Articles

سمیاب اکبر آبادی ۔۔۔۔۔ کلیمِ عجم

سمیاب اکبر آبادی

Kafka By Nayyer Masood

Articles

کافکا کے افسانے