Shaad Shanasi by Feroz Muzaffar

Articles

شاد شناسی

انجینئر فیروز مظفر

Aain E Tabeer

Articles

آئینہِ تعبیر

ڈاکٹر محبوب ثاقب

Nazeerein by Imran Akif Khan

Articles

نظیریں

عمران عاکف خان

Titli Rani by Mahboob Hasan

Articles

تتلی رانی

محبوب حسن

The Ideology or Manifestation is not necessary: Saba Ikram

Articles

نظریئے یا منشور ضروری نہیں

صبا اکرام

اختر سعیدی: وہ کیا محرکات تھے جنھوں نے آپ کو ادب کی طرف راغب کیا؟
صبا اکرام: میرے آبائی وطن ہزاری باغ میں میرا ایک ہندو دوست تربھون تھا جو ’’تیرشت‘‘ تخلص کرتا تھا اور ہندی میں کویتائیں لکھتا تھا۔ دو ایک بار وہ مجھے اپنے ہمراہ کوی سمیلن میں لے گیا ، لہٰذا مجھ میں بھی شعر کہنے کی خواہش جاگی ، اور میں نے ایک غزل کہہ ڈالی۔ اسے اپنے یہاں کے ایک سینئر شاعر قمر امروہوی (قمر احمد صدیقی) کو دکھایا تو انھوں نے اس کی نوک پلک درست کردی۔ وہ غزل بہار سے نکلنے والے رسالے ’’شاخِ گل‘‘ میں شائع ہوگئی۔ پھر تو شعر کہنے کا سلسلہ ایسا شروع ہوا کہ آج تک جاری ہے۔
اختر سعیدی: آپ بنیادی طور پر شاعر ہیں ، نثر کی طرف آنے کے اسباب کیا ہیں؟
صبا اکرام: 60کی دہائی کے اوائل میں جب میں نے شاعری شروع کی ، اس کے تھوڑے دنوں بعد ہی ’’شب خون‘‘ الہ آباد سے نکلنے لگا، ڈاکٹر وزیر آغا کے رسالے ’’اوراق‘‘ کا اجراء بھی اسی زمانے میں ہوا۔ اس کے ساتھ ہی جدیدیت کے چرچے بھی ہونے لگے اور بحث و مباحثے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ اس میں شرکت نثر کے ذریعے ہی ممکن تھی، لہٰذا اُس دور کے بیشتر لکھنے والوں کی طرح مجھے بھی گاہے بگاہے رسالوں کے صفحات پر اپنے خیالات کے اظہار کے لیے نثر کا سہارا لینا پڑا۔ ویسے باضابطہ طور پر نثر لکھنے کی جانب اُس وقت راغب ہوا ، جب ڈاکٹر وزیر آغا نے ’’اوراق‘‘ کے لیے جدید افسانے پر سلسلہ وار مضامین لکھنے کا مشورہ دیا۔ ان مضامین کا مجموعہ حال ہی میں ’’جدید افسانہ چند صورتیں‘‘ کے نام سے منظرِ عام پر آیا ہے۔
اختر سعیدی:جدیدیت سے متاثر ہونے کی بنیادی وجہ کیا ہے؟
صبا اکرام:در اصل میں نے جب لکھنا شروع کیا تو ہر طرف جدیدیت کی باتیں ہونے لگی تھیں ۔ ہمارے شہر میں تو خیر کوئی اور نہ تھا، مگر قریب ہی رانچی میں پرکاش فکری ، وہاب دانش، اختر یوسف، شاہد احمد شعیب، صدیق مجیبی وغیرہ جیسے اہم جدید شعراء سامنے آچکے تھے۔ پٹنہ پہنچا تو وہاں جدید شاعروں اور افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود تھی، جس میں وہاب اشرفی ، ظفر اوگانوی، علیم اللہ حالی، ظہیر صدیقی، نور الہدیٰ سیّد ، ارمان نجمی، شکیب ایاز اور اسلم آزاد وغیرہ شامل تھے ، لہٰذا میرا اس مرکزی دھارے میں شامل ہوجانا ایک فطری عمل تھا۔
اختر سعیدی:آ پ کا نظریۂ جدیدیت کیا ہے؟
صبا اکرام:جدیدیت سے میری مراد وہ جدیدیت یا ’’جدید‘‘ ہرگز نہیں ، جسے آزاد اور حالی نے مقصدی اور اصلاحی ادب کی اصطلاح کے طور پر استعمال کیا تھا۔ میں تو اس جدیدیت کا ماننے والا ہوں ، جسے اس کے بنیادی معماروں ، یعنی ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ادب میں رواج دیا ۔ وہ جدیدیت کسی نظریے یا منشور کو ضروری نہیں سمجھتی اور آزاد روی کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔ آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ دنوں جب ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کراچی آئے تو آپ کے انٹرویو اور دیگر کئی جگہوں پر سوالات کے جواب میں انھوں نے صاف لفظوں میں کہا کہ جدیدیت کوئی تحریک نہیں ، بلکہ ایک ’’رویہ‘‘ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا اسے اگر ایک تحریک کہتے ہیں تو اس سے مراد ایک خالص ادبی تحریک ہے ، جس میں بقول ان کے وسعت اور کشادگی اور تخلیقی سطح اور تہذیبی نکھار کے ساتھ سماجی شعور بھی شامل ہے۔
اختر سعیدی:جدید فکشن پر تنقید لکھنے کا خیال کیسے آیا؟
صبا اکرام:جیسا کہ میں نے آپ کو بتایا کہ ڈاکٹر وزیر آغا نے اس طرف آنے کا مشورہ دیا ، مگر یہ بھی سچ ہے کہ جیسے بہت سارے کام آدمی دوسروں کے بہکاوے میں آکرکر بیٹھتا ہے ، تو مجھے بھی اس جانب دھکیلنے والوں میں میرے فکشن گروپ کے دوست یعنی مرحوم شہزاد منظر ، علی حیدر ملک اور اے۔ خیام تھے۔ اُس زمانے میں ہمارے دوست ممتاز احمد خان بھی پابندی سے فکشن گروپ کی نشستوں میں شریک ہوتے تھے۔ اُن سے کہا گیا کہ ناول کی تنقید کا شعبہ خالی ہے، تم اِدھر آجائو۔ سو وہ بھی آج تک ناول کی تنقید میں لگے ہوئے ہیں۔
اختر سعیدی:کہاجاتا ہے کہ جدید افسانہ موضوعات کے اعتبار سے اب تکرار کا شکار ہے؟ کیا آپ اس خیال سے متفق ہیں؟
صبا اکرام:نہیں ایسا نہیں ہے، بلکہ یہاں تک پہنچتے پہنچتے تو جدید افسانے نے اپنے موضوعات کا دائرہ اتنا وسیع کیا ہے کہ افغانستان ، فلسطین اور عراق کے حوالے سے بھی موضوعات خوبصورتی سے اس کے دامن میں سمٹ آئے ہیں اور تازگی کی خوشبو بکھیرتے ہیں۔ کراچی کی حد تک دیکھئے تو شہر آشوب کو جس فنکارانہ انداز میں اے۔ خیام ، نجم الحسن رضوی، شمشاد احمد ، مبین مرزا، شمیم منظر نے اپنے افسانوں میں پیش کیا ہے ، وہ بھی موضوعاتی اعتبار سے تازگی کا احساس دلاتے ہیں۔
اختر سعیدی:آپ کی نظر میں جدیدیت کے حوالے سے کون سے نقاد اہم ہیں؟
صبا اکرام:اس حوالے سے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی کو بہت اہم سمجھتا ہوں۔ یہ دونوں اپنے ملکوں میں جدیدیت کے بانی سمجھے جاتے ہیں۔
اختر سعیدی:جدیدیت اور ترقی پسندی میں بنیادی فرق کیا ہے؟
صبا اکرام:ترقی پسندی ایک خاص نظریے اور مقصد یعنی ہندوستان کو انگریزی سامراج کے چنگل سے آزاد کرانے اور ادب میں اشتراکی سوچ کو پروان چڑھانے کے لیے ایک مضبوط تحریک کی صورت میں سامنے آئی تھی، جبکہ جدیدیت کسی منشور کے بغیر آزادانہ طور پر ذات اور کائنات کو سمجھنے کی کوشش کا نام ہے۔ جدیدیت ارد گرد کے ماحول میں کھو جانے کی بجائے روح کی گہرائیوں میں اترتی ہے۔
اختر سعیدی:کراچی میں جدید افسانے کی صورتِ حال کیا ہے؟
صبا اکرام:کراچی میں تو جدید افسانہ نگاروں کی ایک کہکشاں موجود ہے، جس میں اسد محمد خان، زاہدہ حنا، محمود واجد، علی حیدر ملک، اے۔ خیام، احمد ہمیش، شمشاد احمد، فردوس حیدر، احمد زین الدین، آصف فرّخی اور مبین مرزا جیسے جانے پہچانے کہانی کار شامل ہیں۔ اب تو کراچی میں نئی نسل سے تعلق رکھنے والے افسانہ نگاروں کی بھی پوری کھیپ سامنے آچکی ہے، جس میں آصف ملک، شہناز شورو، نسیم انجم، آفاق سمیع اور امین الدین جیسے ذہین اور باصلاحیت لکھنے والے شامل ہیں۔
ہاجرہ مسرور گوکہ کافی عرصے سے خاموش ہیں ، مگر ان کی شہر میں موجودگی بھی نئے افسانہ نگاروں کے لیے تقویت کا باعث ہے۔ اب تو خیر سے ڈاکٹر انور سجاد بھی کراچی میں رہنے لگے ہیں۔ وہ اردو افسانے میں علامت نگاری اور تجریدیت کے بانیوں میں سے ہیں۔
اختر سعیدی:کیا یہ درست ہے کہ علامت نگاری نے قاری کو اردو افسانے سے دور کیا؟
صبا اکرام:بھئی ، اردو افسانے میں علامت نگاری کے نمونے تو بہت پہلے کرشن چندر، احمد علی اور ممتاز شیریں کے یہاں سامنے آچکے تھے۔ دراصل نقصان علامت نگاری سے نہیں ، بلکہ نا پختہ کار اور جعلی علامت نگاروں سے پہنچا ہے۔
اختر سعیدی:آپ نثری نظم کابانی کسے سمجھتے ہیں ۔ اردو میں اس کے کیا امکانات ہیں؟
صبا اکرام:میں نثری نظم کے موضوع پر اپنے ایک مضمون میں جو ’شب خون‘‘ میں شائع ہوچکا ہے، یہ کہہ چکاہوں کہ اس کے نمونے یوں تو کسی اور حوالے سے اردو میں سامنے آتے رہے ہیں، مگر پہلی بار اس کو اِسی نام سے احمد ہمیش نے پیش کیا۔ یہ نظمیں ’’شب خون‘‘ میں ہی شائع ہوئی تھیں۔ویسے پاکستان میں اس کو تحریک کی شکل دینے میں قمر جمیل پیش پیش تھے۔ وہ افضال احمد سیّد ، عذرا عباس، انور سین راے، ذی شان ساحل جیسے نثری نظم لکھنے والوں کو سامنے لائے۔
اختر سعیدی:اردو ادب کا ایک دور اقبال کے ساتھ، دوسرا دور فیض کے ساتھ ختم ہوا۔ شاعری کے موجودہ دور کو آپ کس تناظر میں دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:شاعری کے اعتبار سے موجودہ دور کسی ایک نام سے نہیں ، بلکہ کئی ناموں سے پہچانا جائے گا۔ جن میں سرِ فہرست نظم کے حوالے سے وزیر آغا اور غزل کے حوالے سے ظفر اقبال، جون ایلیا اور عرفان صدیقی کے نام ہوں گے۔
اختر سعیدی:مجموعی اعتبار سے کراچی کی ادبی صورتِ حال کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
صبا اکرام:ایسا لگتا ہے کہ یہ شہر ادبی اعتبار سے کنگال ہوتا جارہا ہے۔ مجنوں گورکھپوری گئے، اختر حسین رائے پوری اور ممتاز حسین بھی چلے گئے۔ سلیم احمد اور شمیم احمد بھی رخصت ہوئے، قمر جمیل ، محمد خالد اختر اور جون ایلیا بھی انتقال کرگئے۔تحقیق اور تنقید کے حوالے سے بڑے ناموں میں ہمارے درمیان اب ڈاکٹر جمیل جالبی اور ڈاکٹر محمد علی صدیقی کی موجودگی تقویت کا باعث ہے۔
اختر سعیدی:کیا اردو تنقید کے حوالے سے آپ پاکستان اور بھارت کے درمیان کوئی فرق دیکھتے ہیں؟
صبا اکرام:مشرقی شعریات کی جانب بھارت میں جھکائو نظر آتا ہے، جبکہ ہمارے یہاں مغربی تنقیدی اصولوں اور نئے علوم سے استفادے کا رجحان زیادہ ہے۔ ڈاکٹر وزیر آغا مغرب میں نئی تنقید ی تھیوری کے حوالے سے اکثر اپنے مضامین میں بحث کرتے نظر آتے ہیں۔ نئے علوم سے اردو کو متعارف کرانے والوں میں ڈاکٹر محمد علی صدیقی کا نام بھی اہم ہے۔
بھارت میں ساختیات اور پس ساختیات اور پھر مابعد جدیدیت کا بڑا چرچا رہا ہے۔ اسے تحریک بنانے کی کوشش میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ پیش پیش رہے۔ کراچی میں اس حوالے سے کچھ سرگرمیاں رہی ہیں اور خاص طور سے ڈاکٹر فہیم اعظمی نے اپنے ماہنامے ’’صریر‘‘ میں اس پر خود بھی لکھا اور دوسروں سے بھی مضامین لکھوائے۔ ضمیر علی بدایونی اور رئوف نیازی نے تو اس موضوع پر پوری کتاب لکھی۔
قمر جمیل نے بھی ’’ دریافت‘‘ میں اس پر مضامین شائع کیے۔ ویسے ساختیات اور پس ساختیات کو بطور علم سمجھنے سمجھانے میں ڈاکٹر وزیر آغا اور ڈاکٹر انور سدید بھی پنجاب میں پیش پیش رہے۔ آغا صاحب کی کتاب اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔ پنجاب میں ان کے علاوہ کسی نے بھی اس موضوع کی طرف دھیان نہیں دیا۔ ڈاکٹر فہیم اعظمی کے انتقال کے بعد ’’صریر‘‘ بھی بند ہوچکا ہے اور اس کے ساتھ ہی کراچی میں اس پر بحث مباحثے بھی ختم ہوگئے۔ بھارت میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور ان کے کچھ ساتھی اسے تحریک بنانے کی کوششوں میں اب تک لگے ہوئے ہیں، مگر کچھ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔
اختر سعیدی:ایک زمانے میں شکایت تھی کہ اردو کے نقاد غزل کی زلفوں کے اسیر ہوگئے ہیں اور افسانے کو مسلسل نظر انداز کیا جارہا ہے۔ اب کیا صورتِ حال ہے؟
صبا اکرام:گذشتہ دو تین دہائیوں کے دوران تو خاصے لوگ فکشن کی تنقید کی جانب راغب ہوئے۔ ہمارے ڈاکٹر شمس الرحمن فاروقی نے ایک پوری کتاب ’’افسانے کی حمایت میں ‘ کے عنوان سے لکھی۔ پھر مہدی جعفر اور وارث علوی نے بھی وہاں افسانے پر کئی کتابیں لکھ ڈالیں۔ یہاں شہزاد منظر فکشن کے نقادکی حیثیت سے سب سے نمایاں رہے۔ انھوں نے ’’جدید اردو افسانہ‘‘ ، ’’علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ‘‘ اور ’’اردو افسانے کے پچاس سال‘‘ جیسی اہم کتابیں لکھیں۔ جن کے مطالعے کے بغیر اردو افسانے ، بالخصوص جدید افسانے کو سمجھنا مشکل ہے۔ یوں تو پاکستان میں افسانے کی تنقید ڈاکٹر انور سدید ، ڈاکٹر انوار احمد، علی حیدر ملک، رشید امجد، مرزا حامد بیگ اور سلیم آغا قزلباش نے بھی لکھی ہے ، مگر شہزاد منظر کی پہچان ہی ایک فکشن کے نقاد کی تھی۔ یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ ابھی حال میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کی ڈگری علامہ اقبال یونیورسٹی سے اسد فیض کو ملی ہے۔ ہزاری باغ (بھارت) میں ڈاکٹر جلیل اشرف کی نگرانی میں شہزاد منظر پر پی ایچ ڈی کا مقالہ تکمیل کے قریب ہے۔

———————————————————————

Interview of Jameel Jalibi

Articles

معاشرہ عبوری اور تشکیلی دور سے گذرر ہا ہے

جمیل جالبی

طاہر مسعود: ڈاکٹر صاحب! آج آپ جس مقام پر ہیں، اس کے پیچھے آپ کا مطالعہ ، محنت اور ڈسپلن کارفرما ہے۔آپ اپنے بارے میں ہمیں تفصیل سے بتائیں۔ اپنے زمانۂ طالب علمی کے بارے میں ، ان موضوعات اور ان ادیبوں کے بارے میں جنھیں آپ نے پڑھا۔ ان دوستوں اور شہروں کے متعلق جن کے ساتھ اور جہاں آپ رہے اور ہاں ان اساتذہ کے بارے میں بھی جنھوں نے آپ کی ذہنی تعمیر میں حصہ لیا؟
جمیل جالبی:آپ کے اس سوال کا جواب دینے کے لیے مجھے اپنے ماضی میں بہت دور تک جھانکنا پڑے گا۔ میں نہیں کہہ سکتا کہ وہ ساری باتیں جو اب دھندلی پڑچکی ہیں، اس وقت واپس آئیں گی یا نہیں، کیونکہ یادوں کو بھی بعض دفعہ واپس لانے کے لیے شعوری کوشش کرنی پڑتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ جب کوئی بچہ پیدا ہوتا ہے تو اپنے رجحانات ساتھ لے کر پیدا ہوتا ہے اور وقت اور حالات سازگار ہوں تو یہ رجحانات پروان چڑھ جاتے ہیں۔ مجھے یاد ہے جب میں بہت چھوٹا تھا تو میری پٹائی اکثر اس بات پر ہوتی تھی کہ میں کاپیاں پھاڑ کر ان سے کتاب بناتا تھا اور دوپہر کو جب سب لوگ سوجاتے تھے غسل خانے میں چھپ کر کاپیوں کے ورق علیحدہ کرکے ان سے کتاب بناتا اور اپنے کورس کی کتاب اس پر نقل کرکے اپنانام نمایاں طریقے سے لکھ دیتا:’’محمدجمیل خان‘‘۔ اس سے اباجی بہت خوش ہوتے تھے لیکن ہمارے اسکول کے ہیڈ ماسٹر مسٹر فانسس جو عیسائی ہوگئے تھے، انھیں میری اس قسم کی سرگرمیوں سے سخت شکایت رہتی تھی اور وہ اباجی سے اکثر شکایت کرتے تھے کہ یہ کاپیاں پھاڑ دیتا ہے۔ گویا کتاب لکھنے یا مصنف بننے کا رجحان شعوری طور سے موجودتھا۔ اسی زمانے میں ہمارے ایک استاد تھے مولوی اسمٰعیل صاحب، پڑھے لکھے آدمی تھے، بہت ہی بوڑھے۔ مجھے یاد ہے لیکن بچوں کو تو ہر شخص بوڑھا لگتا ہے، ممکن ہے وہ اتنے بوڑھے نہ ہوں، لیکن وہ بہت بوڑھے تھے اورآنکھوں سے بھی بالکل معذور تھے۔ ان سے ہم نے اردو اور فارسی پڑھی۔ وہ اتنے اچھے طریقے سے پڑھاتے تھے کہ ان کی سنائی ہوئی کہانیاں ہمیں فوراً یاد ہوجاتی تھیں۔ وہ محبت بھی کرتے اور ناراض ہوتے تو مار بھی دیتے تھے۔ مارنا جو تھا وہ محبت کے اظہار کا ایک طریقہ تھا۔ وہ خود مولوی اسمٰعیل میرٹھی کے شاگرد تھے۔ ان ہی مولوی صاحب سے ہم نے صحتِ زبان و بیان اور اچھی عبارت لکھنے کا انداز سیکھا۔
طاہر مسعود: آپ کے بہت سے شاعراور ادیب دوست، جن کے ساتھ آپ نے ادبی کیریئر کا آغاز کیا۔ ان میں سے بہت سے سفر کی ابتدا ء میں آپ سے آگے تھے لیکن آہستہ آہستہ وہ پیچھے جانے لگے۔ یہاں تک کہ آپ ان سے بہت آگے نکل گئے۔ گویا دیکھیں تو ایک طرح سے خرگوش اور کچھوے کی دوڑ تھی جس میں جیت بالآخر کچھوے کے حصے میں آئی؟
جمیل جالبی: ہاں پتہ نہیں ، وہ پیچھے رہ گئے یا ہم جیت گئے لیکن مجھے یہ معلوم تھا کہ میں جو کچھ کررہا ہوں وہ ٹھیک ہے۔ مجھ میں اور سلیم احمد میں ایک بات مشترک رہی کہ آدمی کو آدمی کی حیثیت سے نہیں اس کے کام کے حوالے سے پہچانا جانا چاہئے کہ وہ وہ آدمی ہے جس نے فلاں کتاب لکھی ہے، اب آپ اتنا کام کیوں کرتے ہیں؟ چھوڑیں ! ‘‘ میں نے انھیں جواب دیا کہ: ’جب ہم پچیس تیس برس بعد بوڑھے ہوجائیں گے تو نئی نسل ہم سے مل کر کہے گی۔ ہاں آپ کا نام تو بہت سنا ہے مگر آپ نے کام کیا ہے؟ لہٰذا نئی نسل سے ڈرتے رہنا چاہئے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آنے والی نسل آپ کو پہچانے تو آپ کو چاہئے کہ آپ ان کے ورثے میں شامل ہوں۔ ان کے لیے کوئی کام کرکے چھوڑ جائیں۔ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپ ٹوڈیٹ رکھنے کی کوشش کی ہے اور ہر اس چیز سے وابستگی اختیار کی ہے جس کا تعلق ادب سے رہا ہو اور یہ چیز میں نے عسکری صاحب سے سیکھی۔
طاہر مسعود:: تاریخ ادب اردو لکھنے کے لیے آپ نے کس نوعیت کی تیاری کی؟ اور اس کے لیے آپ کوکن دشواریوں سے گذرنا پڑا؟
جمیل جالبی:ادب کی تاریخ لکھنے کے لیے کئی چیزیں بنیادی حیثیت رکھتی ہیں مثلاً آپ کا ادب کا مطالعہ وسیع ہونا چاہئے، جس ملک کے ادب کی تاریخ لکھ رہے ہیں، آپ کو اس ملک کی تاریخ سے واقف ہونا چاہئے، اس کی تہذیب سے ، زبان کی میراث سے آگاہی ہونی چاہئے۔ لسانی نقطۂ نگاہ اور قواعد کے پہلوؤں پر بھی گرفت ہونی چاہئے۔ فلسفہ بھی آنا چاہئے، نثر بھی لکھنی آنی چاہئے، زمان ومکان کا شعور بھی ضروری ہے یعنی آپ کو معلوم ہونا چاہئے کہ ایک ادب پارے کی کس دور میں کیا اہمیت ہے؟ جب میں نے تاریخ ادب اردو کا کام شروع کیا تو مجھے کوئی دقت نہیں ہوئی۔ میں نے لسانیات کا بھی مطالعہ کیااور تاریخ کو ادب سے اور ادب کو تاریخ سے ملادیا۔ میں نے ادیبوں اور شاعروں کا مطالعہ اس انداز سے کیا جس انداز سے ان کا مطالعہ کیا جانا چاہئے ، مثلاً میر ؔکے دماغ کی ساخت ،کس قسم کی شاعری وجود میں آئی ۔ میر اثرؔ کے تنقید ی مطالعے کا انداز جدا ہے۔ سوداؔ اور قائمؔ کے مطالعے کی نوعیت جدا ہے۔ جب آپ پڑھیں گے تو دیکھیں گے کہ ہر ادیب و شاعر کی انفرادیت کے خدوخال سامنے آجاتے ہیں۔
طاہر مسعود: اردو کے نئے ادب پر گذشتہ پندرہ برس سے پژمردگی ، اضمحلال اور لاتعلقی کی کیفیت چھاگئی ہے اور ادبی سرگرمیوں سے قطع نظرادب میں کوئی اہم اور قابلِ قدر کام ہوتا نظر نہیں آرہا ہے۔ اس کے کیا اسباب ہیں؟
جمیل جالبی:اس کی ایک وجہ تو یہ ہے ہمارا ادیب اور تخلیقی ذہن بے سمتی اور بے جہتی کا شکار ہے۔ اس کے پاس تخلیقی سطح پر ایسا نظام خیال یاWorld View نہیں ہے جس سے تخلیقی قوتیں پرورش پاتی ہوں اور اپنا راستہ متعین کرتی ہوں۔ ہم ایک عبوری دور سے گذررہے ہیں اور عبوری دور ہمیشہ تخلیقی سطح پر بحران کو جنم دیتا ہے اور بحران کے اظہار کی سطح پر بھی اور احساس کی سطح پر بھی تخلیقی قوتوں کو اپنی اصلی شکل میں نہیں آنے دیتا۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ 25سال سے ہم اچھی صلاحیتوں کے باوجود وہ ادب تخلیق کرنے میں کامیاب نہیں رہے جو ہمیں تخلیق کرنا چاہئے تھا۔ ہمارے یہاں ابھی بنیادی مسائل ہی طے نہیں ہوئے۔ ہمیں کہاں جانا ہے؟ ہماری منزل کون سی ہے؟ ابھی ہم اس میں الجھے ہوئے ہیں وہ نقطۂ نظر جو ادیبوں کو لکھنے پر اکساتا تھا۔ وہ شاید بے معنی ہوگیا ہے۔ ان سب مسائل نے ذہنی طور پر ادیبوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا ہے۔ ادب زندگی کی نئی اکائی تخلیق کرتا ہے۔ ہمارا ادب فی الحال اس وحدت اور اس اکائی کو تخلیق کرنے میں ناکام رہا ہے۔
طاہر مسعود:کہا جاتا ہے کہ نیا ادیب معاشرے اور اس کے مسائل سے پورے طور پر ہم آہنگ نہیں ہے۔ وہ زندگی کے عمومی مسائل پر لکھنے کو سطحیت سے تعبیر کرتا ہے اور آفاقی باتیں کہنے ہی کو اپنے ادبی اور تخلیقی عمل کا حصہ سمجھتا ہے۔ کیا زندگی کی چھوٹی چھوٹی حقیقتیں ، ارد گرد کا ماحول اور ان سب چیزوں کو نظر انداز کرکے کوئی اعلیٰ ادب پیدا کیا جاسکتا ہے؟
جمیل جالبی: جیسا میں نے عرض کیا تھا کہ معاشرہ عبوری اور تشکیلی دور سے گذررہا ہے۔ اس وقت ادیب ان مسائل کو جو معاشرہ کے باطن میں موجود ہے، پورے طور سے گرفت میں نہیں لاسکا۔ عبوری دور بڑا سفاک ہوتا ہے۔ اس دور کو سمجھنے اور اسے ایک شکل دینے کے لیے بڑی پیغمبرانہ غور و فکر کی ضرورت ہے۔ یہ اتنے بڑے مسائل ہیں کہ ان کو سمجھنے کے لیے بہت بڑے تاریخی شعور کی ضرورت ہے اور جب میں تاریخی شعور کی بات کررہا ہوں تو اس میں اپنی روایت، اپنی تاریخ اور اس روایت کا سارا ماضی شامل ہے۔ساتھ ہی ساتھ اس تاریخی شعور کی مدد سے ہم عہدِ جدید کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسا زندہ جیتا جاگتا نظامِ خیال اور تصور حقیقت تخلیق کرسکتے ہیں جس سے فکر کے نئے چشمے پھوٹیں گے اور تخلیقی قوتیں پھر سے بیدار ہوجائیںگی۔ یہ بات جو میں کہہ رہا ہوں اس کے پیچھے یہ فلسفہ موجود ہے کہ جب تک تنقید تخلیق کے لیے راستہ ہموار نہیں کرے گی،اس وقت تک تخلیق اسی طرح راستہ ٹٹولتی رہے گی اور تنقید کے معنی کتابوں کی رونمائی میں مقالہ پڑھنا نہیں ہے بلکہ اس میں علم و فکر کے ساتھ نئے سرے سے نظامِ خیال کی تلاش یا اس کی تشکیل نو کرنے کے مسائل ہیں۔ اقبالؔ نے اس سمت میں قدم اٹھایا تھا ان سے پہلے سر سید احمد خاں نے اس تلاش میں اپنا نقطۂ نظر قائم کیا تھا ۔اس وقت ہمیں پھر سے ایک سر سید اور اقبالؔ کی ضرورت ہے ۔
طاہر مسعود: آپ محقق بھی ہیں اور نقاد بھی ۔کیا آپ ان چند نقادوں کا ذکر کریں گے جن سے آپ متاثر ہوئے ؟
جمیل جالبی:وہ نقاد جنھوں نے نظامِ خیال کی تشکیل کے سلسلے میں کام کیا ہے ۔ ان میں سب سے بڑا نام محمد حسن عسکری کا ہے آپ ان سے اتفاق کریں یا اختلاف ،لیکن انھوں نے اس سمت میں کام کیا ہے او رجو آئندہ یا ہمارے دور میں اس حوالے سے کام کرے گا وہ عسکری صاحب کو رد یا قبول کرتے ہوئے نظر انداز کرنے کی غلطی نہیں کر سکتا ۔
طاہر مسعود:آپ نے حسن عسکری سے اختلاف کا ذکر کیا۔کچھ عرصے سے عسکری صاحب کے خلاف ادبی محاذ پر چند افراد سر گرمِ عمل ہیں ۔اس سلسلے میں ایک ادبی رسالے میں ان کے نظریات کے خلاف ایک جارحانہ مضمون شائع ہوا ہے جس پر ایک اخبار میں کافی لے دے ہوئی ۔آپ کے خیال میں اس کا پس منظر کیا ہے اور کس حد تک ادب کے حق میں مفید ہے؟
جمیل جالبی:اصل میں عسکری صاحب کے خلاف جو مضامین لکھے گئے ہیں ۔ ان میں بنیادی حوالہ اس کتاب کا تھا جو جدیدیت (مغربی گمراہیوں کا خاکہ ) کے نا م سے عسکری صاحب کی وفات کے ایک سال بعد شائع ہوئی ۔یہ کتاب عسکری صاحب نے اپنی وفات سے سات آٹھ سال پہلے لکھی تھی لیکن شائع نہیں کرائی تھی ۔یہ کتاب دار العلوم کراچی کے جدید نصاب کے اشارات کے طور پرلکھی گئی تھی تاکہ دار العلوم کے نئے طالب علم مغرب کی ان گمراہیوں سے اچھی طرح واقف ہو سکیں ،جو جدیدیت کے نام سے پوری دنیامیں پھیلائے جا رہے ہیں ۔یہ صرف نوٹس تھے اور اساتذہ کو ان نوٹس کی مدد سے اپنا لکچر تیار کرنا ہوتا تھا۔کچھ عرصہ عسکری صاحب خود بھی دار العلوم کے طلبہ کو یہ مضمون پڑھاتے رہے تھے۔اگر عسکری صاحب زندہ ہوتے اور اس کتاب کو شائع کرتے تو یقین ہے ان باتوں کی جنھیں اشاروں میں بیان کیا گیا ہے، اپنے مخصوص انداز میں وضاحت کرتے ۔ اس کے ساتھ وہ خطوط جو عسکری صاحب نے مدیر’’ شب خون‘‘ الہ آبادکے نام لکھے جو بعد میں ’’شب خون‘‘ میں شائع کردئیے گئے اگراس کتاب کے ساتھ ان خطوط کو بھی شامل کردیا جاتا تو بہت سی غلط فہمیاں دور ہوجاتیں۔ عسکری صاحب نے اسلام کے حوالے سے تحقیق ، غور و فکر اور وسیع مطالعے کے بعد ایک راستہ تلاش کرنے کی کوشش کی تھی ۔ ادب ہمیشہ ان کا بنیادی حوالہ رہا ہے اور مغربی ادب کے بارے میں نہ صرف ہم سب سے زیادہ جانتے تھے بلکہ خود بہت سے مغربی ادیبوں سے بھی زیادہ جانتے تھے۔ ان کے خلاف جو کچھ لکھا جارہا ہے، وہ بہت اچھی علامت ہے۔ فکر وخیال کے گھنے اور خاردار جنگل میں راستہ بنانے کے لیے بڑی محنت کرنی پڑتی ہے اور عسکری صاحب کی تحریروں نے ہمیں موافقت یا مخالفت پر اکسا کر راستہ تلاش کرنے کے شعور کو ابھارا۔ خدا عسکری صاحب کی مغفرت فرمائے اور انھیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے۔
طاہر مسعود: آپ حسن عسکری مرحوم اور اردو ادب کے دیگر نقادوں کی علمی ، ادبی اور تخلیقی ایپروچ میں کون سا بنیادی فرق محسوس کرتے ہیں اور کن اسباب کی بنا پر انھیں دیگر نقادوں پر ترجیح دیتے ہیں؟
جمیل جالبی:عسکری صاحب ایک نظامِ خیال کی تشکیل نو کی کوشش کررہے تھے اور یہ بنیادی کام تھا۔ دوسرے نقاد یا تو پہلے سے بنے بنائے فلسفہ یا نظامِ خیال کے حوالے سے ادب کا مطالعہ کرتے ہیں یا پھر اس نظریے کی وضاحت کرتے ہیں۔ عسکری صاحب توخود نظامِ خیال کی تشکیل نوکے عمل میں مصروف تھے۔ عسکری صاحب اور دوسرے نقادوں میں یہی بنیادی فرق ہے یعنی کوئی نفسیاتی تنقید لکھ رہا ہے یعنی نفسیات کے موجودہ علم کو بنیاد بنا کر ادب اور ادیب کا مطالعہ کررہا ہے۔ کوئی جمالیاتی تنقید کو لے کر کروچے کے فلسفۂ حیات کو بنیاد بنا کر مطالعہ کررہا ہے۔ کوئی سماجی تنقید میں مارکس اور اینگلز کے نظریۂ پیداوار اور مادی جدلیت کوبنیاد بنا کر ادب اور زندگی کا مطالعہ کررہا ہے، لیکن ان میں سے کوئی نقاد ایسا نہیں ہے جو موجودہ دنیا کے حوالے سے اپنے معاشرے اور عالمِ انسانیت کے لیے کسی نئے نظامِ خیال کی تلاش یا تشکیل نو کے سلسلے میں سرگرداں ہو۔
طاہر مسعود: ہمارے یہاں شاعری کے مقابلے میں فکشن کو زیادہ فروغ حاصل نہیں ہوسکا اور ہماری زبان اور ادب نے جتنے بڑے شاعر پیدا کئے اتنے بڑے افسانہ نگار جنم نہیں لے سکے۔ آپ کے ذہن میں اس کا کیا تجزیہ ہے؟
جمیل جالبی: شاعری ہماری تہذیب کی روح اور باطن میں موجود ہے۔ یہ ہماری روایت کا حصہ ہے اس لئے شاعری پر تنقید کی ایک طویل روایت موجود ہے۔ انیسویں صدی کے وسط تک وہ موضوعات جن پر آج نثر کو ذریعۂ اظہار بنایا جاتا ہے۔ ہمارے یہاں نظم میں بیان کئے جاتے تھے نثر ویسے بھی ہمارے یہاں کم لکھی گئی۔ شمال میں پہلی نثری تصنیف ’’کربل کتھا ‘‘ہے ورنہ عام طور پر قصے کہانیاں ، داستانیں سب نظم میں لکھی جاتی تھیں اور مثنویوں میں بھی قصوں کو بیان کیا جاتا تھا۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ نظم یا شاعری ہمارے مزاج سے قریب رہی ہے اور نثر کا ارتقا بعد کی بات ہے اور ہمارے یہاں دیر سے شروع ہوا۔ برخلاف اس کے ناول کی صنف ہمارے ادب میں انگریزوں کے اقتدار میں قابض ہونے کے بعد داخل ہوئی اور ظاہر ہے کہ یہ روایت ابھی نئی ہے۔ پھر ایک بات اور،مشرقی شاعری کی روایت کا تعلق ایک طرف اپنی روایت سے رہا ہے ساتھ ساتھ علم و فصاحت و بلاغت سے یہ سخن کی روایت ہے۔ برخلاف اس کے مغرب کے ادب کا تعلق ارسطو کی ’بوطیقا‘ سے ہے۔ ہم اب تک تہذیبی ، تاریخی یا کسی اپنی وجہ سے روایت کو ترک کرکے بوطیقا سے اپنا معنوی یا روحانی رشتہ نہیں جوڑ سکے ہیں۔’’بوطیقا‘‘ سے مغرب میں فکشن کی روایت شروع ہوئی ہے اور ہم خوش قسمتی یا بدقسمتی سے یہ نہیں سمجھ پائے کہ بوطیقا سے ہمارا دودھیالی رشتہ ہے یاننھیالی۔
طاہر مسعود:آپ نے بدیسی ادب اور خصوصاً شاعری کے موضوع پر تنقیدی مضامین کے تراجم کئے ہیں اور مغرب میں فکشن پر لکھی جانے والی تنقید کو اردو زبان کا جامہ پہنانے کی جانب ذرا کم توجہ کی ہے حالانکہ یہ اس اعتبار سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا کہ شاعری کے موضوع پر ہمارے یہاں تراجم کا سلسلہ پہلے اور آج بھی جاری ہے کیا آپ کے آئندہ منصوبوں میں فکش کے تنقیدی مضامین کے ترجمے کا منصوبہ شامل تھا؟
جمیل جالبی: فکشن کے سلسلے میں چند چیزیں ’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ میں شامل ہیں لیکن اس میں چونکہ مغرب کی ڈھائی ہزار سال کی فکر کا احاطہ کیا گیا تھا اس لئے اس کا بڑا حصہ انیسویں صدی تک کی فکر کا احاطہ کرتا ہے۔ بیسویں صدی کے سلسلے میںکتاب کی ضخامت کو دیکھتے ہوئے میں نے یہ طے کیا بیسویں صدی کی تنقید ایک جلد میں شائع ہونی چاہئے۔ اس لئے فکشن اور ادبی فکر و مسائل کے تعلق کے سلسلے کی بہت سی اہم تحریریں میں نے دوسری جلد کے لئے مخصوص کردیں۔ بیسویں صدی میں چونکہ فکشن کی تنقید بہت زیادہ لکھی گئی اور یہ جلد مکمل نہ ہوسکی، اس لئے آپ کو یہ کمی محسوس ہوتی ہے مثلاً اگر میں دوسری جلد کا منصوبہ نہ بناتا تو ، ڈی ایچ لارنس کو اس جلد میں شامل کرلیتا۔ جس نے فکشن کے سلسلے میں ہنری جیمس کی طرح اعلیٰ درجے کی تنقید لکھی اسی لئے میں نے ورجینا وولف کے مضمون ’’ماڈرن ناول‘‘ کو بھی دوسری جلد کے لئے روک لیا تھا۔ یہ مضامین اور اس کی فہرست میرے پاس ہے اگر کوئی نوجوان ہمت کرے اور اس کام کو کردے تو اردو ادب کی بڑی خدمت ہوگی میں اس کی مدد اور تعاون کے لئے تیار رہوں گا۔
طاہر مسعود:’’ارسطو سے ایلیٹ تک‘‘ میں بعض ایسے مضامین کا بھی آپ نے ترجمہ کیا ہے جن کا پہلے ترجمہ ہوچکا تھا، ا س کا سبب کیا ہے؟
جمیل جالبی:۔مثلاً؟
طاہر مسعود: مثلاً ارسطو کی بوطیقا کا۔ اس کا ترجمہ عزیز احمد مرحوم کرچکے ہیں۔ اسی طرح غالباً چند ایک مضامین کا ترجمہ ہادی حسین مرحوم نے بھی پہلے کیا ہوا تھا۔؟
جمیل جالبی:’’بوطیقا‘‘ بہت اہم کتاب ہے عزیز احمد کا ترجمہ مجھے پسند نہیں رہا۔ اس لئے میں نے اس کا اردو ترجمہ کیا۔ ہادی حسین نے جن مضامین کا ترجمہ کیا ہے وہ آزاد ترجمہ ہے انھوں نے مضامین اور کتابوں کا خلاصہ اپنے الفاظ میں پیش کردیا ہے جبکہ میں نے ترجمہ کی کوشش کی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ بوطیقا کے دوبارہ ترجمہ کئے جانے کا جواز موجود تھا۔
طاہر مسعود: ہمارے یہاں غیر ملکی ادب کے ترجمے کی رفتار بہت سست ہے۔ انفرادی سطح پر ادیب اور نقاد تو ترجمہ کرتے رہتے ہیں لیکن سرکاری سطح پر اس اہم کام کو تیز کرنے کے لئے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا جارہا ہے۔ آپ اس سلسلے میں کسی ایسے قومی ادارے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے جو صرف ترجمے کا کام انجام دے۔
جمیل جالبی:انگریزی میں دوسری زبانوں کی ہر اچھی کتاب کا ترجمہ عام طور پر جلدی ہوجاتا ہے اور انگریزی زبان کے ادیب دوسری زبانوں کے ادب سے باخبر رہ کر اپنے ذہنی تناظر کو وسیع سے وسیع تر کرتے رہتے ہیں۔ ایسے قومی ادارے کی فوری ضرورت ہے جو ترجمے کرائے اور ان کی اشاعت کا انتظام کرے۔ یہ نہایت ضروری اور فوری نوعیت کا مفید کام ہے۔


یہ انٹرویورسالہ’ اردو چینلُ کے انٹرویو نمبر میں شامل ہے

 

Selected Poetry of Ghulam Rabbani Taban`

Articles

انتخاب کلام غلام ربانی تاباں

غلام ربانی تاباں

کمال بے خبری کو خبر سمجھتے ہیں
تری نگاہ کو جو معتبر سمجھتے ہیں

فروغ طور کی یوں تو ہزار تاویلیں
ہم اک چراغ سر رہ گزر سمجھتے ہیں

لب نگار کو زحمت نہ دو خدا کے لیے
ہم اہل شوق زبان نظر سمجھتے ہیں

جناب شیخ سمجھتے ہیں خوب رندوں کو
جناب شیخ کو ہم بھی مگر سمجھتے ہیں

وہ خاک سمجھیں گے راز گل و سمن تاباںؔ
جو رنگ و بو کو فریب نظر سمجھتے ہیں


 

گلوں کے ساتھ اجل کے پیام بھی آئے
بہار آئی تو گلشن میں دام بھی آئے

ہمیں نہ کر سکے تجدید آرزو ورنہ
ہزار بار کسی کے پیام بھی آئے

چلا نہ کام اگرچہ بہ زعم راہبری
جناب خضر علیہ السلام بھی آئے

جو تشنہ کام ازل تھے وہ تشنہ کام رہے
ہزار دور میں مینا و جام بھی آئے

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگا گئے تاباںؔ
رہ حیات میں ایسے مقام بھی آئے


 

ہر موڑ کو چراغ سر رہ گزر کہو
بیتے ہوئے دنوں کو غبار سفر کہو

خوں گشتہ آرزو کو کہو شام میکدہ
دل کی جراحتوں کو چمن کی سحر کہو

ہر رہ گزر پہ کرتا ہوں زنجیر کا قیاس
چاہو تو تم اسے بھی جنوں کا اثر کہو

میری متاع درد یہی زندگی تو ہے
نا معتبر کہو کہ اسے معتبر کہو

یہ بھی عروج رنگ کا اک معجزہ سہی
پھولوں کی تازگی کو فروغ شرر کہو

دانش‌ وران حال کا تاباںؔ ہے مشورہ
ہر منظر جہاں کو فریب نظر کہو


 

بستی میں کمی کس چیز کی ہے پتھر بھی بہت شیشے بھی بہت
اس مہر و جفا کی نگری سے دل کے ہیں مگر رشتے بھی بہت

اب کون بتائے وحشت میں کیا کھونا ہے کیا پایا ہے
ہاتھوں کا ہوا شہرہ بھی بہت دامن نے سہے صدمے بھی بہت

اک جہد و طلب کے راہی پر بے راہروی کی تہمت کیوں
سمتوں کا فسوں جب ٹوٹ گیا آوارہ ہوئے رستے بھی بہت

موسم کی ہوائیں گلشن میں جادو کا عمل کر جاتی ہیں
روداد بہاراں کیا کہئے شبنم بھی بہت شعلے بھی بہت

ہے یوں کہ طرب کے ساماں بھی ارزاں ہیں جنوں کی راہوں میں
تلووں کے لیے چھالے بھی بہت چھالوں کے لیے کانٹے بھی بہت

کہتے ہیں جسے جینے کا ہنر آسان بھی ہے دشوار بھی ہے
خوابوں سے ملی تسکیں بھی بہت خوابوں کے اڑے پرزے بھی بہت

رسوائی کہ شہرت کچھ جانو حرمت کہ ملامت کچھ سمجھو
تاباںؔ ہوں کسی عنوان سہی ہوتے ہیں مرے چرچے بھی بہت

—————————————-

Nishan E Zindagi Poetic Collection by Nishan Siddiqui

Articles

نشانِ زندگی

نشان صدیقی

Selected Poetry of Faiz Ahmad Faiz

Articles

انتخابِ کلام فیض احمد فیض

فیض احمد فیض

آج بازار میں پا بہ جولاں چلو

چشم نم جان شوریدہ کافی نہیں
تہمت عشق پوشیدہ کافی نہیں
آج بازار میں پا بہ جولاں چلو
دست افشاں چلو مست و رقصاں چلو
خاک بر سر چلو خوں بداماں چلو
راہ تکتا ہے سب شہر جاناں چلو
حاکم شہر بھی مجمع عام بھی
تیر الزام بھی سنگ دشنام بھی
صبح ناشاد بھی روز ناکام بھی
ان کا دم ساز اپنے سوا کون ہے
شہر جاناں میں اب با صفا کون ہے
دست قاتل کے شایاں رہا کون ہے

رخت دل باندھ لو دل فگارو چلو
پھر ہمیں قتل ہو آئیں یارو چلو

——————————————————————–

شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں

موتی ہو کہ شیشہ جام کہ در
جو ٹوٹ گیا سو ٹوٹ گیا
کب اشکوں سے جڑ سکتا ہے
جو ٹوٹ گیا سو چھوٹ گیا

تم ناحق ٹکڑے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

شاید کہ انہیں ٹکڑوں میں کہیں
وہ ساغر دل ہے جس میں کبھی
صد ناز سے اترا کرتی تھی
صہبائے غم جاناں کی پری

پھر دنیا والوں نے تم سے
یہ ساغر لے کر پھوڑ دیا
جو مے تھی بہا دی مٹی میں
مہمان کا شہپر توڑ دیا

یہ رنگیں ریزے ہیں شاید
ان شوخ بلوریں سپنوں کے
تم مست جوانی میں جن سے
خلوت کو سجایا کرتے تھے

ناداری دفتر بھوک اور غم
ان سپنوں سے ٹکراتے رہے
بے رحم تھا چومکھ پتھراؤ
یہ کانچ کے ڈھانچے کیا کرتے

یا شاید ان ذروں میں کہیں
موتی ہے تمہاری عزت کا
وہ جس سے تمہارے عجز پہ بھی
شمشاد قدوں نے رشک کیا

اس مال کی دھن میں پھرتے تھے
تاجر بھی بہت رہزن بھی کئی
ہے چور نگر یاں مفلس کی
گر جان بچی تو آن گئی

یہ ساغر شیشے لعل و گہر
سالم ہوں تو قیمت پاتے ہیں
یوں ٹکڑے ٹکڑے ہوں تو فقط
چبھتے ہیں لہو رلواتے ہیں

تم ناحق شیشے چن چن کر
دامن میں چھپائے بیٹھے ہو
شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں
کیا آس لگائے بیٹھے ہو

یادوں کے گریبانوں کے رفو
پر دل کی گزر کب ہوتی ہے
اک بخیہ ادھیڑا ایک سیا
یوں عمر بسر کب ہوتی ہے

اس کار گہ ہستی میں جہاں
یہ ساغر شیشے ڈھلتے ہیں
ہر شے کا بدل مل سکتا ہے
سب دامن پر ہو سکتے ہیں

جو ہاتھ بڑھے یاور ہے یہاں
جو آنکھ اٹھے وہ بختاور
یاں دھن دولت کا انت نہیں
ہوں گھات میں ڈاکو لاکھ مگر

کب لوٹ جھپٹ سے ہستی کی
دوکانیں خالی ہوتی ہیں
یاں پربت پربت ہیرے ہیں
یاں ساگر ساگر موتی ہیں

کچھ لوگ ہیں جو اس دولت پر
پردے لٹکاتے پھرتے ہیں
ہر پربت کو ہر ساگر کو
نیلام چڑھاتے پھرتے ہیں

کچھ وہ بھی ہیں جو لڑ بھڑ کر
یہ پردے نوچ گراتے ہیں
ہستی کے اٹھائی گیروں کی
ہر چال الجھائے جاتے ہیں

ان دونوں میں رن پڑتا ہے
نت بستی بستی نگر نگر
ہر بستے گھر کے سینے میں
ہر چلتی راہ کے ماتھے پر

یہ کالک بھرتے پھرتے ہیں
وہ جوت جگاتے رہتے ہیں
یہ آگ لگاتے پھرتے ہیں
وہ آگ بجھاتے رہتے ہیں

سب ساغر شیشے لعل و گہر
اس بازی میں بد جاتے ہیں
اٹھو سب خالی ہاتھوں کو
اس رن سے بلاوے آتے ہیں

———————————————————————

صبح آزادی (اگست 47)
یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
یہ وہ سحر تو نہیں جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں تاروں کی آخری منزل
کہیں تو ہوگا شب سست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا سفینۂ غم دل
جواں لہو کی پر اسرار شاہراہوں سے
چلے جو یار تو دامن پہ کتنے ہاتھ پڑے
دیار حسن کی بے صبر خواب گاہوں سے
پکارتی رہیں باہیں بدن بلاتے رہے
بہت عزیز تھی لیکن رخ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینان نور کا دامن
سبک سبک تھی تمنا دبی دبی تھی تھکن

سنا ہے ہو بھی چکا ہے فراق ظلمت و نور
سنا ہے ہو بھی چکا ہے وصال منزل و گام
بدل چکا ہے بہت اہل درد کا دستور
نشاط وصل حلال و عذاب ہجر حرام
جگر کی آگ نظر کی امنگ دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثر ہی نہیں
کہاں سے آئی نگار صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغ سر رہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانیٔ شب میں کمی نہیں آئی
نجات دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی

———————————————————————

ایرانی طلبا کے نام
یہ کون سخی ہیں
جن کے لہو کی
اشرفیاں چھن چھن، چھن چھن،
دھرتی کے پیہم پیاسے
کشکول میں ڈھلتی جاتی ہیں
کشکول کو بھرتی ہیں
یہ کون جواں ہیں ارض عجم
یہ لکھ لٹ
جن کے جسموں کی
بھرپور جوانی کا کندن
یوں خاک میں ریزہ ریزہ ہے
یوں کوچہ کوچہ بکھرا ہے
اے ارض عجم، اے ارض عجم!
کیوں نوچ کے ہنس ہنس پھینک دئے
ان آنکھوں نے اپنے نیلم
ان ہونٹوں نے اپنے مرجاں
ان ہاتھوں کی بے کل چاندی
کس کام آئی کس ہاتھ لگی
اے پوچھنے والے پردیسی
یہ طفل و جواں
اس نور کے نو رس موتی ہیں
اس آگ کی کچی کلیاں ہیں
جس میٹھے نور اور کڑوی آگ
سے ظلم کی اندھی رات میں پھوٹا
صبح بغاوت کا گلشن
اور صبح ہوئی من من، تن تن،
ان جسموں کا چاندی سونا
ان چہروں کے نیلم، مرجاں،
جگ مگ جگ مگ، رخشاں رخشاں
جو دیکھنا چاہے پردیسی
پاس آئے دیکھے جی بھر کر
یہ زیست کی رانی کا جھومر
یہ امن کی دیوی کا کنگن!

——————————————————————-

Water Selection of Important Writings on Water Crisis

Articles

پانی: پانی کے مسئلے پر منتخب تحاریر

قمر صدیقی