Articles
Total 1802 Articles
جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعۂ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلا پایہ کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانہ کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان...
پورا پڑھیںمختار احمد (م۔ ناگ) نے مغربی وِدربھ کے ضلع ناگپور کے ایک غریب اور کثیر عیال ہیڈ کانسٹیبل کے یہاں جنم لیا تھا۔ اُس کے والد نے ایمان داری میں گزر بسرکی تھی اور وہ اپنے خاندان کو غریبی کی ظلمت سے نہ نکال سکے تھے۔ پہلی کلاس ہی میں مختار احمد نے چار سال لگا دیے تھے، اس لیے کہ ہر سال کسی نہ کسی سبب سے اُس کے والد کا تبادلہ ہو جانے کی وجہ سے وہ امتحان ہی نہیں دے پاتا تھا۔ اُس نے لکھا ہے کہ ’پولیس کالونی میں کوئی گھریلو تقریب ہوتی تو ہمارے کپڑے،...
پورا پڑھیںایک عہد کی episteme دوسرے عہد میں بدل جاتی ہے۔ episteme سے مراد ہے علمیاتی زمرہ یعنی کسی عہد کے مباحث، مسائل، توقعات، تعصبات، علمیاتی موقف وغیرہ۔ علمیاتی افق کوئی منجمد شے نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے اور ایک دور اپنی توقعات و تعصبات کے ساتھ دوسرے دور میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے عہد کی episteme کی سب سے بڑی پہچان ideology سے بیزاری تھی اور آئیڈیولوجی سے مراد وہ سیاسی آمریت تھی جس کا نفاذ پارٹی کرتی تھی۔ اس episteme کے بدلنے کے بعد نہ صرف آئیڈیولوجی...
پورا پڑھیںمقدر حمید کا پہلا افسانوی مجموعہ ’زربیل‘ ۸۹ کے اواخر میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ جس میں ڈیڑھ درجن کہانیاں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق آٹھویں دہائی میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں میں کیا جاسکتا ہے۔ اردو فکشن کا باشعور قاری اس حقیقت سے واقف ہے کہ آٹھویں دہائی تک آتے آتے اردو افسانہ دو اہم ادبی رجحانات سے گزر چکا تھا جنھیں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے رجحان سے پہچانا جاتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کی اپنی اپنی خصوصیات تھیں جن پر برسوں بحثیں ہوئی ہیں اور دفتر کے...
پورا پڑھیںبنکروں کی بستی اور ہندوستان کا مانچسٹر کہلانے والا شہر بھیونڈی کے واجد محلہ میں پیدا ہونے والے مشتاق مومن اپنے افسانوں کے خوبصورب اسلوب سے پہچانے جاتے ہیں ۔انھوں نےاپنی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے ممبئی کا رُخ کیا اور اسماعیل یوسف کالج ، جوگیشوری ممبئی میں داخلہ لیا ۔یہیں سے ان کی ادبی سرگرمیاں شروع ہوئیں ۔ حالانکہ۱۹۸۴ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ رت جگوں کا زوال ‘‘ منظر عام پر آیا لیکن ان کے افسانے رسائل و جرائد میں پہلے سے شائع ہورہے تھے اور مشتاق مومن کا شمار ۱۹۷۰ کے بعد کے...
پورا پڑھیںعلی امام نقوی کے افسانوں کا فنی تجزیہ کیا جائے تو جو عناصر خاص طور پر متوجہ کرتے ہیں ان میں واقعہ کی فنی بُنت کاری، فضاکی تخلیق اور کردار نگاری کے ساتھ مکالمہ سازی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو چھوتے ہیں اسے محدود نہیں رکھتے یعنی وقوع کو صرف واقعہ کی طرح بیان نہیں کردیتے بلکہ اس میں ایک اکائی پیدا کر دیتے ہیں جس سے خیال اور واقعہ مل کر افسانہ بنتا ہے۔ اس بنا پر افسانے میں ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس میں کردار خود بخود فطری طریقے سے...
پورا پڑھیںانور قمر ، بیسویں صدی کے سترویں اور اپنی عمر کے انتیسویں برس میں بطور افسانہ نگار ادبی دنیا سے متعارف ہوئے۔ان کا پہلا افسانہ بعنوان ’نروان‘۱۹۷۰ء میں رسالہ ’تحریک‘ میں شائع ہواتھا۔ اس کے آٹھ برس بعدان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’چاندنی کے سپرد‘ ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ۲۰۰۸ء تک مزید تین افسانوی مجموعے شائع ہوئے، ’چوپال میں سنا ہوا قصہ‘ ۱۹۸۴ء میں ، ’کلر بلائنڈ‘ ۱۹۹۰ء میں اور ’جہاز پر کیا ہوا‘ ۲۰۰۸ء میں۔ان چار مجموعوں میں تقریباً ۶۰؍ افسانے شامل ہیں جن کا موضوعاتی تنوع افسانہ نگار کی قوت مشاہدہ کی پختگی اور...
پورا پڑھیںاردو ادب میں جدیدیت کا میلان دوسرے میلانات کی طرح مغرب کے زیرِ اثر وجودمیں آیا اور وسیع معنویت کے ساتھ اردو افسانے میں پھیلنے لگا۔ جدیدیت ایک ایسا تخلیقی رویہ ہے جو روایتی انداز کو ردّ کرتا ہے اور ماضی کے مقابلے میں حال کے تقاضوں کو پورا کرنے اور عصری مسائل کو پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ وحید اختر کے حسبِ ذیل اقتباس سے اس کی پوری وضاحت ہوتی ہے: ’’اپنے عہد کی زندگی کا سامنا کرنے اور اسے تمام امکانات و خطرات کے ساتھ برتنے کا نام جدیدیت ہے۔ ہر عہد میں جدیدیت ہم...
پورا پڑھیںممبئی کے افسانہ نگاروں کا مجموعی رویہ جدیدیت سے ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت پسندانہ اسلوب سے رغبت کا رہا ہے۔ انور خان ان میں سب سے نمایاں ہیں۔ان کا افسانہ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ بہت مشہور ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ ، ’فنکاری‘، ’ کتاب دار کا خواب‘ ، ’یاد بسیرے‘ اور ’فرار‘ جیسے افسانے ان کے شاندار تخلیقی سفر کا اشاریہ ہیں۔ انور خان کے افسانوں کا بنیادی رویہ علامتی ہے اور ابہام کا خلاقانہ استعمال افسانوں کی معنوی تہوں کو مجلا کرتا ہے۔ وارث علوی نے انور خان کی اس...
پورا پڑھیں۱۹۶۰ کے آس پاس اردو میں علامتی و تجریدی افسانے کا چلن عام ہوا۔ یہ اتنا حاوی رجحان تھا کہ کم و بیش اردو کا ہر قابلِ ذکر افسانہ نگار ادب میں اپنے وجود کی بقا کے لیے علامت و تجرید کا سہارا لینے پر مجبور ہوا۔ افسانوں میں تجرید پیدا کرنے کے لیے کہانی کے بنیادی صنفی عناصر یعنی پلاٹ ، کردار، واقعہ اور فضا کی ناگزیریت سے انکار کیا گیا اور منجھی ہوئی مانوس اور مربوط زبان کے بجائے نسبتاً ناہموار اور کھردری زبان کے ذریعے پر اسرار فضا کی تخلیق کی سعی کی گئی۔ اس کے جواز...
پورا پڑھیں