
رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کا مشہور زمانہ ترانہ ’’جن گن من ادھینائک جے ہے‘‘ اور ڈاکٹر اقبال کا نغمہ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔ اقبال اور ٹیگور کے افکار و نظریات بعض سطحوں پر مطابقت رکھتے ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ : ’’ تخلیقِ انسانی کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں مکمل ہو۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سعی کا وہ سلسلہ ہے جس کا تعلق کَل انسانیت کی تکمیل سے ہے۔ یہ دنیا صرف مادی ہی نہیں ہے بلکہ اس مادی دنیا میں انسان کا عقلی ،اخلاقی اور اعتدالِ حسن کے لحاظ سے مکمل ہونا، اس عالم کی تخلیق کا مقصد معلوم ہوتا ہے۔ انسان کے اندر کوئی چیز ہمیشہ اس کو یہی کہتی رہتی ہے کہ آگے بڑھو اور ترقی کرو اور انسان ہونے کی حیثیت سے مکمل بنو۔‘‘(انسان کا مذہب ، از : رابندر ناتھ ٹیگور۔ رسا لہ ندیم، گیا۔ اگست ۱۹۳۱ء) اقبال نے اس خیال کو شعر کے قالب میں ڈھال کر یوں پیش کیا ہے:
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فَیکون
رابندر ناتھ ٹیگور اور اقبال کے تقابلی مطالعہ میں یہ پہلو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ دونوں ہندوستان کے اولین بڑے شاعر ہیں جنھیں نو آبادیاتی غلبے کا احساس سب سے پہلے ہوا بلکہ سب سے پہلے انھوں نے اس کے خلاف قلم بھی اٹھایا۔ گوکہ نوآبادیاتی غلبے کے خلاف ہندوستانی شاعروں میں پہلی آواز اکبر الہ آبادی تھی لیکن چونکہ ٹیگور اور اقبال نے یورپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اوریہ یورپ کے اجتماعی فکر و فلسفہ سے کماحقہ‘ آگاہی رکھتے تھے اس لیے اکبر کی بہ نسبت ٹیگور اور اقبال کے یہاں یہ موضوع زیادہ ہمہ گیریت کے ساتھ برتا گیا ہے۔ اقبال اور ٹیگور کا دور وہ دور تھا جب پوری دنیا میں ایک نوع کا خلفشار مچا ہوا تھا۔ یورپ کا صنعتی و حرفتی انقلاب اور پھر پہلی جنگِ عظیم نے ساری دنیا میں ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی۔ خصوصاً ہندوستان کو یورپ کے لیے قربان گاہ بنایا جارہا تھا۔ قومیں مٹ رہی تھیں اور نئی قومیں ابھر رہی تھیں۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہندوستان اور ایشیا کے دوسرے ممالک اپنی سیاسی انفرادیت کے ساتھ اپنی قومی اور اخلاقی انفرادیت بھی کھو رہے تھے۔ ہندوستان جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا ، مغربی تہذیب اس پر غلبہ حاصل کرتی نظر آرہی تھی۔ نوآبادیاتی نظام کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ جس قوم پر غلبہ حاصل کرتی ہے سب سے پہلے اس کی تہذیب پر حملہ آور ہوتی ہے اور مغلوب تہذیب دھیرے دھیرے غالب تہذیب میں ضم ہونے لگتی ہے۔ ٹیگور اور اقبال کی شاعری کا مجموعی رویہ اس تہذیبی غلبے سے مزاحمت کا ہے۔ لیکن انھیں یہ بھی احساس ہے کہ ہندوستانی تہذیب جتنی قدیم ہے اتنی ہی توانا بھی ہے اور نہ جانے کتنی تہذیبیں یہاں آئیں اور ہندوستانی تہذیب کا حصہ بن گئیں۔ یہی رنگارنگی اور کثرت میں وحدت ہندوستانی تہذیب کا طرّہ امتیاز ہے۔اقبال کہتے ہیں:
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سُنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے
اور غزل کے یہ اشعار ہندوستان میں انگریزی سامراج کے زوال کے حوالے کچھ سوال بھی کھڑے کرتے ہیں:
اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحرِ فرنگیانہ
تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
ٹیگور کی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کا یہ بند بھی شاید اس کی ترجمانی کرتا ہے:
آریا ، دراوڑ، چینی ، شک، ہون ، پٹھان اور مغل
یہاں سب ایک جسم کا حصّہ ہوگئے
آج مغرب نے دروازہ کھولا ہے ، اپنی سوغاتوں کا
وہ دیں گے اور لیں گے ، ملائیں گے اور ملیں گے
لوٹ کر نہیں جائیں گے ، اس عظیم بحرِ ہند کے ساحل سے
(بھارت کا سفر ، گیتانجلی ، انتخاب از: ساہتیہ اکادمی۔ صفحہ نمبر ۲۱۷)
اقبال کی شاعری میں سب سے زیادہ نمایاں اور قابلِ قدر پیغام عمل کا پیغام ہے۔ ان کی شاعری میں جتنے بھی استعارے اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں براہِ راست یا بالراست ان کا تعلق عمل سے ہے۔ چاہے وہ ’شاہین ‘ ہو، یا اقبال کا مردِ مومن ہر جگہ حرکت اور عمل کا پیغام ہے۔ گویا اقبال کی شاعری کا اصل جوہر حرکت یا عمل سے عبارت ہے۔اقبال کی نظم ’’شاہین ‘‘ کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورپ یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
اسی طرح ایک غزل کے ان اشعار میں حرکت و عمل کا پیغام اس طرح پیش کیا گیا ہے:
تو ابھی رہ گزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشادِ شرق و غرب
تیغِ ہلال کی طرح عیشِ نیام سے گزر
اقبال حرکت و عمل کو زندگی اور سکون کو موت قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن ان کی نظم ’’زندگی‘‘ کے یہ اشعاربھی توجہ چاہتے ہیں:
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ، پیہم دواں ، ہردم جواں ہے زندگی
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹّی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
خام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تو
پختہ ہوجائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تو
اقبال کی تعلیم وتربیت مغرب کی درسگاہوں میں ہوئی لیکن وہ مغربی تعلیم و تہذیب سے مرعوب نہیں ہوئے ۔ انھوں نے جدید مغربی افکار و نظریات کو مغرب و مشرق کے علوم و نظریات کی روشنی میں دیکھا تو اس کا مصنوعی پن ظاہر ہوگیا۔ انھوں نے دیکھا کہ مغرب کے جدید افکار جن کی پوری دنیا میں تبلیغ کی جارہی ہے وہ مشرقی فکر و فلسفہ کے گنجِ گراں مایہ کے سامنے خش و خاشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ چنانچہ انھوں نے ایشیا والوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی اور خود اعتمادی کا درس دیا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ مادیت، مغرب پرستی اور مغرب زندگی کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سیلاب جو تیزی سے ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اقبال کی شاعری اس کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی ۔ اور اقبال کی شاعری کا سب سے بڑا اور حقیقی کارنامہ یہی ہے۔ اقبال کی شاعری جہاں یورپ کی مادیت پرستی کے سیلاب کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہوگئی تھی وہیں ٹیگور کی شاعری یورپ میں ہندوستانی فکر و فلسفہ کی تبلیغ و ترسیل کا اہم ذریعہ بن کر ابھری۔ جس طرح اقبال کی شاعری ایک انوکھے اور جداگانہ اسلوب کی حامل ہے اسی طرح ٹیگور کی شاعری بھی منفرد اسلوب اور زبان و بیان کے تجربات سے عبارت ہے۔ ٹیگور کی شاعری تخیل کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔ وہ فطرت کے رموز سے آگاہ ہیں اور کائنات کے عمیق ترین مسائل سے بحث کرتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں ظاہری نہیں بلکہ باطنی ، جسمانی نہیں بلکہ روحانی مقاصد پیشِ نظر رکھتے ہیں۔مثلاً ان کی ایک نظم ’’تصویر‘‘ کا یہ آخری حصّہ ملاحظہ ہو: کسی بیتے ہوئے وقت میں تمھیں پایا تھا
پھر رات کو کھو دیا
اس کے بعد اندھیرے میں ، اکثر تمھیں پایا کرتا ہوں
تصویر نہیں ہو، تم صرف تصویر نہیں ہو
(نظم ’’تصویر‘‘ انتخاب ،از۔ ساہتیہ اکادمی ، صفحہ نمبر ۲۲۷)
ہمایوں کبیر نے ٹیگور کی مجموعی فکر کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :’’ ٹیگور نے دنیا کو محض ایک ایسا رنگ منچ نہیں تسلیم کیا ہے جہاں انسان زندگی بتانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ انھوں نے اسے ایک ممتا بھری ماں کے روپ میں بھی دیکھا ہے جو زندگی اور زندگی کے مسائل کے حل تلاش کرتے انسان کی نگرانی کرتی ہے۔‘‘ (رابندر ناتھ کی نظمیں ۔ انتخاب : ہمایوں کبیر ۔ ساہتیہ اکادمی ۔ صفحہ نمبر ۱۳) ٹیگور کی عالم گیر مقبولیت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انھوں نے دنیا کو محض ایک تماشائی یا سنیاسی کی طرح نہیں دیکھا ہے بلکہ اس کے تمام رنگوں میں شامل رہ کر اسے اپنی شاعری میں برتا ہے۔ سروجنی نائیڈو نے ٹیگور کے انتقال پر جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے ٹیگور کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے:
’’ رابندر ناتھ ٹیگور کی اہمیت کیا تھی ؟ دنیا تغزل ، موسیقی اور حسن سے لبریز ہے۔ تو پھر ٹیگور میں وہ کونسی خوبی تھی ، جس کی بنا پر وہ دنیا کے ہزاروں انسانوں کا محبوب تھا؟ وہ بنگا ل میں پیدا ہوا ۔ اس کے دماغ اور جسم کے تمام تاثرات بنگال کے ممون ہیں۔ اس کی تمام شاعری بنگال کے دریائوں کے مناظر ، پھولوں ، دیہاتی زندگی اور ساون کے گہرے بادلوں سے بھری پڑی ہے ۔ اس کی شاعری کے تمام عناصر اپنے ملک کے محتاج ہیں اس کے باوجود بھی وہ تمام دنیا کا شاعر تھا۔ اس کی شاعری کی زبان سے بہت کم لوگ واقف تھے مگر یہ رفتہ رفتہ لاکھوں انسانوں کے دلوں کی زبان بن گئی ۔ آخر اس کا راز کیا تھا؟ اس کا پیغام کیا تھا؟ بنی نوع انسان کی محبت اور انسانوں کے جذبہ خدمت سے گہرا عشق ہی اس کی زندگی کا راز تھا۔‘‘ (از: رسالہ ندیم ،گیا۔ اکتوبر ۱۹۴۱ء ۔ مترجم خواجہ عبد القیوم)
یہی جذبۂ عشق و محبت اور انسانیت ٹیگور کی شاعری کا بنیادی رویہ ہے۔ بنی نوع انسان کے تئیں یہی احترام ٹیگور کی بین الاقوامی مقبولیت کا راز ہے ۔اپنی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کے آخری بند میں وہ کہتے ہیں:
اے آریا ، غیر آریا آئو ، ہندو مسلمان آئو
آج آئو ، سب انگریز کرسچن آئو
من کو پاک کر آئو ، برہمن سب کے ہاتھ پکڑو
اے بچھڑوں آئو، من کے سب بوجھ اتار دو
ماں کی ممتا کی چھائوں میں جلد آئو
سب کے لمس سے پاک کیے مقدس جل سے
اس عظیم بحرِ ہند کا ساحل
اس کا گھاٹ ابھی بھرا نہیں ہے۔
ٹیگور کا رویہ مغرب ہویا مشرق سب کے لیے یگانگت کا ہے۔ ٹیگور کی جنگ روحانی جنگ ہے اور یہ انسان کے لیے ہے ۔ ان کا مقصد انسانوں کو اُن بندھنوں سے آزاد کرانا ہے جو اس نے اپنے اطراف بُن لیے ہیں۔ ٹیگور کے نزدیک روحانی آزادی ہی اصل آزادی ہے۔
ہر زمانہ اپنی ضرورتوں کے مطابق ایک بڑا شاعر پیدا کرتا ہے ۔ جو لوگوں کو صحیح راستہ پر چلنے کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز کے ہندوستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے بیک وقت دو ایسے شاعر پیدا کیے ۔ ان میں سے ایک ایشیا کو جد جہد کا پیغام دیتا ہے اور دوسرا یورپ کو صلح و امن و آشتی کا اور یہ دو شاعر اقبال اور ٹیگو رہیں۔
٭٭٭
