اردوغزل پر حالی کی سخت ترین تنقید کے باوجود اس صنف کا نہ تو مملکت شعر سے دیس نکالا ہوسکا اور نہ ہی شائقین ادب کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔اردو کی شعری روایت میں بارہا ہدف ملامت بننے کے باوجود یہ صنف آج بھی نہ صرف اپنی جلوہ سامانی سے ایوان شاعری کو درخشندگی عطا کر رہی ہے بلکہ بعض حیثیتوں سے یہ دنیا کی ان زبانوں کی شاعری کے مابین امتیازی شان کی حامل ہے جن کا حوالہ دینے کا رواج اردو تنقید میں ایک فیشن کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔اردو غزل کا تخلیقی سفر جن مراحل سے گزر کر عصر حاضر تک پہنچا ہے اس میں ایک طبقہ ان شعرا کا ہے جو غزل کے روایتی مضمون کے اسیر رہے اور فکر و خیال کی سطح پر کسی جدت کو برتنے سے اجتناب کرتے رہے۔ایسے شاعروں کو بجا طور پر حالی کی زبان میں اسلاف کے چبائے ہوئے نوالوں کی جگالی کرنے والے شعرا کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی غزل کی دنیا میں ایسے شاعر بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس صنف کو موضوع و معنی کے نئے جہانوں سے متعارف کرایا۔ اقبال کا شمار بھی اردو کے ایسے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جن کی غزلیں اسلوب بیان اور مضمون کی تازہ کاری کی نمایاں مثال ہیں۔ اقبال کی مشق سخن کا آغاز غزل کے ذریعہ ہوا اور ان کی شاعری کا تدریجی ارتقا اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ ابتدا میں روایتی طرز کو اختیار کرنے والا یہ شاعر غزل کو وہ نیا آہنگ عطا کرتا ہے جو آج تک صرف اس سے ہی مخصوص ہے۔ اقبال کی ابتدائی دور کی غزلوں میں زبان اور مضمون پر اردو غزل کے اس روایتی انداز کا پرتو صاف نظر آتا ہے جسے امیر اور داغ نے اپنے دور میں مقبولیت عطا کی تھی۔بانگ درا میں شامل بیشتر غزلوں میں شاعری کے اسی رنگ کو دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس کے بعد بال جبریل کی اشاعت ہوئی تو اہل نقد و نظر نے یہ تسلیم کیا کہ اقبال نے غزل کو نئے تخلیقی امکانات سے روشناس کرنے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اس طور سے استعمال کیا ہے کہ غزل کو عرض مدعا کی تنگ دامانی کے الزام سے بری کر دیا۔
اقبال کی شاعرانہ عظمت جن حوالوں سے ترتیب پاتی ہے ان میں ایک حوالہ اردو غزل کو نئی تخلیقی جہت عطا کرنے کا بھی ہے۔وہ شاعری کو حیات و کائنات کے متعلق ایک خاص نصب العین کے اظہار کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور اس اظہار میں اس سلیقہ مندی کو ملحوظ رکھنے کی کوشش پر بھی خاص توجہ رہی جس کے بغیر شاعری کو فنی اعتبار و وقار حاصل نہیں ہوپاتا۔اپنے اس تخلیقی رویہ کا اظہار انھوں نے کچھ اس طور سے کیا ہے
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرف تمنا جسے کہہ نہ سکے روبرو
اقبال شاعری میں برہنہ گفتاری کو مستحسن نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس فن سے وابستہ ان تقاضوں کی تکمیل بھی ان کے پیش نظر تھی جو شاعری کو فن کا مرتبہ عطا کرتی ہے۔ بانگ درا کی غزلوں میں واردات قلب و نظر کی ترجمانی جس روایتی پیرائے میں ہوئی اس میں معاصر شعری ماحول سے اثر پذیری کا انداز نمایاں ہے لیکن اس کے بعد کی غزل کا ارتقائی سفر جن منزلوں سے ہمکنار ہوا وہ ان کی ریاضت فن کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔ ان کی شاعری اور شخصیت کا سرسری مطالعہ بھی اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ وہ زندگی میں تقلید و جمود کی بجائے اجتہاد اور حرکت و عمل کو ترجیح دیتے تھے اور اس سلسلہ میں ان کا مطمح نظر خوب سے خوب تر کی تلاش کے رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے بڑے واضح طور پر کہا کہ :
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودابھی چھوڑ دے
اس شعر کو اگر اردو غزل کے تخلیقی مزاج کے سیاق میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تقلید کو خود کشی کے مترادف قرار دے کر اگر ایسے اجتہادی اقدام کیے جائیں جو غزل کی تہذیب سے یکسر مختلف ہوں تو شاعر غزل کے فارم میں جو کچھ بھی پیش کرے گا وہ سب کا سب فنی معیار پر پورا اترے، اس کا دعویٰ بہرحال نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے ساتھ بھی کسی حد تک یہ معاملہ ضرور ہا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب اہل زبان نے ان کی غزلوں میں زبان کے استعمال پر اعتراض کیے تو انھوں نے بڑی انکساری سے یہ اعتراف کر لیا کہ وہ شاعری سے زیادہ اپنے اس پیغام کی ترسیل کو فوقیت دیتے ہیں جو خواب آلود ذہنوں میں بیداری کی رمق پیدا کر سکے۔جب شاعری کسی بڑے مقصد کے تحت تخلیقی شاہراہ پر محو سفر ہوتی ہے تو اس طرح کے مراحل کا درپیش آنا فطری بات ہے۔لیکن اقبال کے فراہم کردہ اس جواز کی بنیاد پر ان کی غزلوں کو فنی معیار سے یکسر خارج بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اگر ایک طرف وہ اپنے پیغام کی ترسیل سے کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہ تھے تو دوسری جانب انھوں نے غزل میں برہنہ گفتاری سے بھی حتیٰ الامکان گریز کیا ہے۔انھوں نے اردو غزل کی روایتی زبان کو نئے معنوی جہات سے روشناس کیا اور بعض فرسودہ موضوعات کو بالکل نئے انداز میں نظم کر کے غزل کے تخلیقی کینوس کو وسعت عطا کی۔
بانگ درا کے بعد بال جبریل کی غزلوں میں اقبال کا وہ اجتہادی رنگ پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا جس نے اردو غزل کے روایتی حصار کو توڑ کر اس کے لیے نئے تخلیقی امکانات کے آثار پیدا کیے۔اقبال کی غزل گوئی کے اس ارتقائی سفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی نے لکھا ہے:
’’اقبال کی غزل نے جس ذائقے کا احساس دلایا تھا بال جبریل کی غزلوں تک پہنچتے پہنچتے ایک واضح شکل اختیار کر لیتا ہے چنانچہ اس
دور کی غزلیں ان کی نظم کے مزاج سے زیادہ قریب ہیں ۔ یہ دور اقبال کے فکری اور تخلیقی تنوع کا دور ہے کہ اب اقبال اپنی ادبی روایت
کے امکانات کی تسخیر کے بعد بہ ذات خود شعر کی ایک نئی روایت کا سرچشمہ بن چکے تھے۔‘‘
(اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ ، شمیم حنفی صفحہ ۹۹؍ غالب اکیڈمی نئی دہلی، ۲۰۱۰ء)
پروفیسر شمیم حنفی نے اقبال کی غزل گوئی کے حوالے سے جس تخلیقی رویہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا اعتراف کم و بیش ہر شارح ادب نے کیا ہے۔اقبال کے یہاں شعر کی اس نئی روایت کا معاملہ کچھ ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے غزل کی تہذیب کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہو اور اس صنف کو برتنے میں ان فنی لوازم کا لحاظ ہی نہ رکھا ہو جو غزل کو غزل بناتے ہیں۔انھوں نے اپنے مخصوص پیغام کے اظہار کے لیے غزل کا فارم اختیار کرتے ہوئے اس کے فنکارانہ لوازم کی پاسداری کو بھی ملحوظ رکھا۔ غزل کے تخلیقی مزاج میں رمز و ایما کی کارفرمائی نہ صرف یہ کہ شعر کو صوتی حسن عطا کرتی ہے بلکہ فکری سطح پر کئی جہات سے ہمکنار کرتی ہے۔اقبال کی غزلوں میں بھی اس فنی رویہ کو بہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس التزام کے ساتھ کہ مضمون کی جدت بھی آشکار ہو اور غزل کے فنی تقاضوں کی تکمیل پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔ انھوں نے غزل کی روایتی لفظیات کو معنی و مفہوم کا نیا پیکر عطا کیا اس لیے ان کی غزلوں میں استعمال ہونے والی زبان کو روایتی پس منظر میں دیکھنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ ان کے یہاں بھی بیشتر وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جن کو اسلاف بارہا غزل میں بیان کر چکے ہیں۔اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال عشق کے مضمون کو برتنے کے حوالے سے دی جا سکتی ہے ۔ اقبال کی غزلوں میں جس عشق کا بیان ہے وہ ماقبل شعرا کے اس عشق سے یکسر مختلف ہے جو انسان کو محرومی و یاسیت کی فضاوں کا اسیر بنا دیتا ہے اور وہ کارزار حیات میں نبرد آزما ہونے کی بجائے گوشہ نشینی کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے۔انھوں نے اردو غزل کے روایتی عشق کے تصور کو نئے رنگ میں پیش کیا ہے اور اسے زندگی کی کامرانی و فتح مندی کا موثر وسیلہ قرار دیا بلکہ اس سے بھی آگے یہ تسخیر کائنات کا جوش و ولولہ پیدا کرنے میں ایک اہم محرک کے طور پر اقبال کی غزلوں میں نظر آتا ہے۔ اقبال کے نظام فکر میں عشق کی عقل پر جو فوقیت نظر آتی ہے وہ اس کی واضح دلیل ہے کہ جب جذب�ۂ عشق سے سرشار انسان زندگی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے تو کامیابی و کامرانی کا ایک لامتناہی سلسلہ اس کا استقبال کرتا ہے۔بال جبریل کی غزلوں میں جس عشق کی ترجمانی کی گئی ہے وہ دراصل یہی عشق ہے جو انسان کو بے خطر آتش نمرود میں کود پڑنے کی تحریک و ترغیب عطا کرتا ہے:
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دم بہ دم
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم
عشق کی ایک جست نے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
عشق کے تصور کو نئے معنی و مفہوم سے روشناس کرانے میں اقبال نے تاریخ و تہذیب کے ان حوالوں سے استفادہ کیا ہے جو انسانی فضیلت کا نشان امتیاز ہیں۔ اقبال کی غزلوں میں عشق کو جو مرکزی مقام حاصل ہے وہ ایسی انسانی فضیلت کے اظہار کا وسیلہ ہے جس کی بنا پر وہ مسجود ملائک رہا ہے۔اس عشق سے بہرہ ور ہونے کے بعد حیات کو وہ جاودانی حاصل ہوتی ہے کہ جسے وقت کی گردش بھی مضمحل نہیں پاتی۔
عشق کے علاوہ خودی کا تصور بھی اقبال کے شعری نظام میں اہمیت کا حامل ہے۔اقبال سے قبل اردو شاعری میں اس تصور کوبیشتر منفی معنوں میں استعمال کیا گیا اور بیشتر شاعروں نے خود ی کو تکبر و انانیت کا ہم معنی قراردیا لیکن اقبال نے اسے زندگی کی ایسی مثبت قدر کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی صفات کو جلا بخشتی ہے اور جس کے بغیر زندگی کا کارواں منزل مقصود تک پہنچنے میں سرخرو نہیں ہو پاتا۔اقبال نے خودی کو ایک باقاعدہ فلسف�ۂ حیات کے طور پر اپنی شاعری میں برتا ہے اور ان کی غزلوں میں اس قبیل کے اشعار جا بجا نظر آتے ہیں جن میں اس فلسفہ کی ترجمانی مختلف حوالوں اور سیاق کے ساتھ ہوتی ہے:
حیات کیا ہے؟ خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں
اقبال نے خودی کے اس فلسفہ کے ذریعہ وحد ت الوجود کے اس نظریہ کی تردید کی جو انسان کو تقدیر کا محکوم بناتا ہے جس کے سبب بے عملی اور مسائل حیات کے روبرو سپر اندازی کا رویہ اس کی شخصیت کا جزو بن جاتا ہے۔اقبال کی غزلوں میں خودی کا تصور اس حرکی قوت کا استعارہ ہے جو مشت خاک کو آسمانوں کی سیر کرنے اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔اگر چہ اس تصور کی بسیط ترجمانی بیشتر ان کی نظموں میں ہوئی ہے لیکن غزلوں میں بھی اکثر ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں اس تصور کو انسانی فضیلت کے سیاق میں پیش کیا گیا ہے۔اقبال کی خودی کا تصور تو اس قدر بلند و بالا ہے کہ جس نے آدم کو فرشتوں سے بھی آگے لے جا کر خدا کے روبرو سوال و جواب کے لائق بنادیا۔جنت سے نکالے جانے کے واقعے کو سزا نہیں بلکہ جزا تصور کرتے ہوئے خدا کو بھی انتظار کراتا ہے لیکن یہ گفتگو اور لہجے کی بیباکی غیر مہذب یاطبیعت پر گراں نہیں گزرتی۔مثلاً:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سین�ۂ کائنات میں
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
اقبال کی غزلوں میں مضامین کی جدت و ندرت ان کے اس نظام فکر کو آشکار کرتی ہے جس میں حیات و کائنات کے متعلق ایک واضح تصور ملتا ہے اور اس تصور میں اگر کوئی چیز شرف و فضیلت کی حامل ہے تو وہ عظمت انسانی ہے ۔ایسا نہیں کہ اقبال سے قبل اردو غزل کا دامن اس قسم کے موضوع سے یکسر خالی رہا ہو لیکن جن شعرا کے یہاں اس قسم کے موضوعات ملتے ہیں ان کے یہاں حیات و کائنات کے متعلق ایسا واضح فکری نظام اکثر مفقود رہا ہے۔اردو غزل کے طرز بیان کو کسی حد تک کلاسیکی شعری روایت سے مربوط رکھتے ہوئے اقبال نے موضوعی اعتبار سے اس کے خزینہ میں جو اضافہ کیا وہ ان کی فنکارانہ انفرادیت کو واضح کرتا ہے۔
اقبال کی شاعری حیات و کائنات کا احاطہ کرتی ہے جس میں ایسی ہمہ گیری ہے جو حب الوطنی کے جذبات سے ہم وطنوں کو گرماتی ہے تو فلسف�ۂ خودی دے کر ایک مردہ قوم میں نئی جان پھونکنے اور عقل و منطق کے ساتھ ساتھ عشق کی رہنمائی میں زندگی کا راز تلاش کرتی ہے ۔ان کی شاعری حرکت و عمل اور سخت کوشی کا درس دیتے ہوئے بنی نوع انسان اور ان پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جو حیات انسانی کا محور ہیں۔
*****
روشنی خان شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔
Iqbal ki Ghazal Goey ki Chan Infaradi Pahloo by Roshni Khan
Articles
اقبال کی غزل گوئی کے چند انفرادی پہلو
روشنی خان
Allama Iqbal ki Nazm “Shua E Ummed” Aik Mutala by Dr. Mohd. Zubair
Articles
علامہ اقبال ؔ کی نظم’’شعاعِ امید ‘‘
ڈاکٹرمحمد زبیر
علامہ اقبال ؔ اپنے عہد کے ایک عظیم شاعر، بلندپایہ فلسفی ، ممتازمفکراوربے مثل مدبّرہیں۔ ان کا شمارجدید اردو نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں فکرکی وحدت بھی ہے اور بلا کی ہمہ گیری بھی ۔ اقبال کی طبیعت بچپن ہی سے شعرگوئی کی طرف مائل تھی لہٰذا سید میر حسن کی سرپرستی اور صحبت نے ان کے دل میں شعرکہنے کا شوق پیدا کیا۔ ۱۸۹۴ء میں داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے اور۱۸۹۶ء میں انھوں نے اس رشتے کا ذکر فخر کے ساتھ کیا ہے :
مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِ سخنداں کا
ادبی دنیا میں اقبال کی شناخت ایک قدآور شاعر، ماہر فن اور عظیم فلسفی کی حیثیت سے ہے ۔ان کے فلسفہ اور فکروفن پر جس قدر اظہارِخیال کیا گیا ہے ایسی نظیر بمشکل ملے گی۔ آج بھی فکرِاقبال ،نقادوں اور دانشوروں کے لیے نہ صرف ایک اہم موضوع ہے بلکہ سرمایۂ ادب بھی ہے اور ذخیر�ۂ انمول بھی۔ اقبال اپنے فن اور فکرکے اعتبارسے تمام انسانیت کے سچے ہمدرد اور قوم وملت کے پاسبا ں تھے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال جرمنی میں صَرف کیے اور وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ چونکہ وہ شاعر تھے لہٰذا یہ فطری بات تھی کہ جرمن ادبیات ان کے اوپر اثرانداز ہوتے خصوصاً جرمن شاعری ،چنانچہ اقبال جرمن ادب سے اپنا دامن نہیں بچاسکے ۔ اہم بات یہ تھی کہ وہاں مشرقی تحریک، ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی تھی، حافظؔ ،سعدیؔ ، رومیؔ اوردیگرایرانی شعراکے خیالات اورادبی روایات جرمن ادبیات پر اثر انداز ہوئے اوران کی پیروی بھی ہوئی۔ بایں سبب جرمن شاعری کایہ رجحان اقبال کے لیے بالخصوص بڑاپرکشش تھا لہٰذا انھوں نے اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔گوئٹے کی شاعری سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ بقول یوسف حسین خاں:
’’اقبال کو فارسی اوراردوکاجو ورثہ ملا اسے اس نے اپنے جذب دروں سے کچھ سے کچھ بنادیا اس نے زندگی کے توانا اورمتحرک تصورات کو نئے قالب میں ڈھال کراپنی شاعری کی صورت گری کی۔ وہ فارسی اوراردو کی روایات کے علاوہ مغربی علم وحکمت سے بھی متاثرہوا ۔چونکہ اس کاذہن فعّال اورتخلیقی تھا،اس نے مغربی افکارپرمشرقی روحانیت کاغازہ بڑی چابک دستی سے مل دیا۔اس طرح اس نے جو مرکب بنایااس میں چونکہ خود اس کے خونِ جگرکی آمیزش تھی اس لیے ہم اسے اس کی مخصوص روحانی تخلیق کہہ سکتے ہیں۔‘‘(اقبال کافن :یوسف حسین خاں،ص ۲۵۔۲۶)
علامہ اقبال ؔ ایک پیامی شاعرہیں وہ بھٹکے ہوئے راہی کو اس کی منزل کاپتہ دیناچاہتے ہیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے فنِ شاعری کو وسیلۂ اظہار بنایا۔ اقبالؔ نے اپنے دل کی آواز کوزیادہ اہمیت دی اوراسے اپنی شاعری کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قوم کو جھنجھوڑنے کا کام کیاہے اور درسِ عمل کا پیغام بھی دیاہے۔ انھوں نے شاعری کومحض حصولِ مسرت کاذریعہ نہیں سمجھابلکہ زندگی کو بہتربنانے اورسنوارنے کا وسیلہ بھی قرار دیا ہے۔رجائیت اقبال کی شاعری کا ایک اہم پہلوہے لہٰذا امید کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں چھوڑتے اورنہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ اردو شعروادب میں اپنی فنی بصیرت سے جو جواہر ریزے بخشے ہیں ان میں ان کی نظموں کا اہم حصہ ہے۔ ان کی نمائندہ نظموں میں ’’شعاعِ امید‘‘کا بھی شمار ہوتاہے جو موضوع ، ہیئت اور معنوی اعتبارسے کئی اختصاص کی حامل ہے۔اس نظم میں اقبال ؔ نے ترکیب بندہیئت کاانتخاب کیاہے اوربحر بھی مترنم استعمال کی ہے ۔لفظوں کے انتخاب و تکرار سے موسیقیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ نورالحسن نقوی ’شعاعِ امید‘ کے فنی محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طرازہیں :
’’فن کار شاعری کے فن میں کامل دستگاہ رکھتاہو تو اس کے قلم سے چھوکرفلسفہ وپیغام بھی مکمل شعر بن جاتاہے۔ اقبال کی نظم’’شعاعِ امید‘‘ اس کازندہ ثبوت ہے ۔ یہ ایک چھوٹی سی دل آویز نظم ہے ۔ اس کی دل کشی کا راز یہ ہے کہ رمزیت واشاریت ، احساس کی شدت ، تخیل کی بلند پروازی ، پیرایۂ بیان کی دل آویزی اوران کے سوا بھی جتنے فنی وسائل ممکن ہیں شاعرنے ان سب کو انتہائی سلیقے کے ساتھ استعمال کیاہے ، خیال کیساہی اچھوتا کیوں نہ ہوقاری کی توجہ کو صرف ایک بارجذب کرسکتاہے اورشعاعِ امیدکامرکزی خیال ایسااچھوتابھی نہیں لیکن اس نظم کوجتنی بارپڑھیے اتنی بارپہلے سے سوالطف حاصل ہوتاہے۔‘‘
(اقبال شاعرومفکر: نورالحسن نقوی ، ص :۲۳۱)
اقبال کی نظم’’ شعاعِ امید‘‘کی تجزیاتی قرأت کے ذریعے اس کے اصل فکری سرچشموں تک رسائی کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ میں جس نوع کے خیالات کا اظہار کیاگیا ہے اس کا جزوی اظہار ان کی دوسری نظموں جیسے ’’ساقی نامہ ‘‘ اور ’’شاہین‘‘ وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ البتہ ’’شعاعِ امید‘‘ کا کینوس زیادہ وسیع، متنوع اورہمہ گیرہونے کے ساتھ ساتھ حیات بخش بھی ہے ۔تکنیک کا تنوع بھی اس نظم میں جابجا نظر آتاہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘میں اقبال نے جن کرداروں کو اپنے پیام کا وسیلہ بنایا ہے ان میں سب سے اہم کردار ایک شوخ اورسیماب صفت کرن ہے۔ اقبال نے سورج اوراس کی شعاعوں کی زبان سے جو پیغام ادا کرایا ہے وہ اچھوتا اور لا فانی ہے۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ ایک اہم موضوع ہے اقبال سے پہلے بھی شعرانے اس موضوع کو برتاہے۔اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ ان کی نظم میں استعارے اور تشبیہیں حسب حال اور توانا ہیں۔اس نظم میں کل تین بند ہیں ، پہلااوردوسرا بندچار چار اشعار اور تیسرا بند نو اشعار پر مشتمل ہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘ شاعرکاپیامِ امید ہے جس میں تمثیلی پیرایۂ اظہار اختیار کیا گیا ہے۔
سورج دنیا کے عجیب وغریب چکر کو دیکھ کر اب مایوس ہوچکاہے وہ دنیا میں جتنا زیادہ اجالا پھیلانے کی کوشش کرتاہے اس کا اندھیرا اتناہی بڑھتاجارہا ہے۔ وہ اپنی شعاعوں سے مخاطب ہے کہ ایک زمانے سے تم گردآلود فضاؤں میں دنیا کو منور کرنے کی خاطر اپنا گھربار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتی پھررہی ہو، تمھاری کوششیں سب بے سود ہیں ۔نہ ریت کے ذروں میں پہلی سی چمک ہے اورنہ گل ولالہ میں پہلی سی دل آویزی وکشش باقی ہے۔ آخر کار سورج ناامید ہوکراپنی شعاعوں کو حکم دیتا ہے کہ اس تاریک دنیا کے ویرانے درو بام سے لوٹ آؤ اور پھرسے میرے پرنور سینے میں سماجاؤ۔
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیاہے عجب چیز! کبھی صبح، کبھی شام
مدت سے تم آوارہ ہوپہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریِ ایام
نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرام
پھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سماجاؤ
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام
دوسرے بند میں شعاعیں سورج کے حکم کوبجالاتی ہیں اور دنیا کوچھوڑ کر اپنے بچھڑے ہوئے آقاسے ہم آغوش ہوجاتی ہیں۔تمام شعاعیں یک زبان ہوکرمغرب ومشرق کی شکایت کرتی ہیں اورکہتی ہیں کہ مغرب میں اجالاممکن نہیں کیونکہ مشینوں کے دھوئیں یعنی صنعت کاری اورمادہ پرستی سے ان کے دل مردہ اورزنگ آلود ہوچکے ہیں ۔ مشرقی ممالک پر بھی اس کے اثرات صاف نظرآرہے ہیں، مشرقی قوم بھی فرنگیوں کے طرح بے عملی اوربے راہ روی کاشکار ہے جس سے ان کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔مغربی اور مشرقی عوام کے حالات اور کردارسے بیزار شعاعیں سورج سے کہتی ہیں کہ اب ہمارا دنیا میں چمکنا بے سود اور بے معنی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے پاس بلالو اور اپنے سینے میں چھپالو۔
آفاق کے ہرگوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش
اک شورہے مغر ب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش
مشرق نہیں گو لذتِ نظارہ سے محروم
لیکن صفتِ عالمِ لاہوت ہے خاموش
پھرہم کواسی سینۂ روشن میں چھپالے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش
تیسرے بند میں شاعرنے ایک ایسی شوخ کرن کا ذکر کیاہے جو سورج کے پاس لوٹنا نہیں چاہتی۔امید کی یہ شوخ کرن ابھی مایوس نہیں ہے اور وہ آرام کرنابھی نہیں جانتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ اسے اپنی ذمے داری پوری کرنے کاموقع دیاجائے۔ ساری کرنیں ناامید و نامراد ہوکر اپنے مرکزکی طرف لوٹ جاتی ہیں مگریہ شوخ کرن اپنے ہاتھوں سے امید کا دامن نہیں چھوڑتی ۔ وہ مشرقی ممالک خصوصاً ہندوستان کو اپنے نور سے منور کرنا چاہتی ہے ۔یہ شوخ کرن کوئی اور نہیں خود علامہ اقبال کی ذات ہے۔ علامہ اقبال شاعری کے ذریعے اپنی قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ یہ شوخ کرن سرزمینِ ہند کو کسی صورت میں چھوڑنے کو تیار نہیں ، وہ ہندوستان کی تاریک فضاؤں کوروشن اور گہری نیند سوئے ہوئے ہندوستانیوں کو بیدار کرنے کاعزم کرتی ہے۔اس کے بعد ’’شعاعِ امید‘‘ خاکِ ہند کی عظمت کا ذکر کرتی ہے اور اپنی امیدوں کا مرکز قرار دیتی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے اقبال نے اپنے آنسوؤں سے سیراب کیاہے ،اسی خاکِ ہند نے چاندستاروں کوروشنی بخشی ہے اور یہاں کے کنکرپتھر، موتیوں سے بیش قیمت ہیں ۔ اس سرزمین پربڑے بڑے شاعر، علما اور مفکرین نے جنم لیاہے، مگراب یہاں خاموشی ہے ، یہ خاموشی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ ہندوستانی قوم ہندو اور مسلمان دونوں ہی خوابِ غفلت کا شکار ہیں ۔ برہمن بت خانے کے دروازے پر سورہا ہے اور مسلمان اپنی تقدیراور قسمت پر آنسو بہارہا ہے۔یہاں یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ علامہ اقبالؔ نے صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کو ہی مخاطب کیاہے د راصل انھوں نے ساری انسانیت کو مخاطب کیا ہے اور قومیت و وطن کے نام پر انسانیت کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ آخری شعر میں شاعر سورج کی شوخ کرن کی زبان سے یہ پیغام دیتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں کوئی امتیاز نہیں ، فطرت یہاں کی تاریکی ختم کرکے ساری دنیا میں روشنی پھیلاناچاہتی ہے، یعنی دنیاکے تمام آلام ومصائب اورہرطرح کی خرابیوں کودور کرکے خوشیاں بھردیناچاہتی ہے۔
اک شوخ کرن ، شوخ مثالِ نگہ حور
آرام سے فارغ صفتِ جوہرِ سیماب
بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہومشرق کاہراک ذرہ جہاں تاب
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضاکو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبالؔ کے اشکوں سے یہ خاک ہے سیراب
چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ در ناب
اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواصِ معانی
جن کے لیے ہربحرِ پر آشوب ہے پایاب
جس سازکے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی سازہے بیگانۂ مضراب
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ محراب
مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذرکر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
علامہ اقبال اپنی نظم’’شعاعِ امید ‘‘ کے ذریعہ اپنی قوم وملت کو اس امر کی جانب راغب کرناچاہتے ہیں کہ انسان کو کبھی ناامید اور مایوس نہیں ہوناچاہیئے کیونکہ مذہب اسلام میں ناامیدی کفر ہے اورانسان جیسی امید رکھتاہے اسی کے مطابق فیصلے بھی صادرہوتے ہیں ۔ اقبال گہری بصیرت کے مالک تھے ، ان کے فکروعمل کا کوئی گوشہ مخفی نہ تھا، انھوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اسلامی تصوف کی ترجمانی کی اورمغربی تہذیب کی خرابیوں اوراس کے انجام کی نشان دہی بھی کی۔
’’شعاعِ امید ‘‘ اقبال کی ایک مشہور نظم ہے ۔اس نظم کو اگر ہم اقبال کا فنی اور فکری شاہکار کہیں توبے جانہ ہوگا۔ اس میں اقبال بحیثیت شاعر، فنکار اور مفکر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔یہ نظم تصویرکشی ، منظرنگاری ، محاکات اور وطن پرستی کے گہرے جذبات سے نہ صرف معمور ہے بلکہ اس میں شاعر کی قادرالکلامی ، فن پر کامل دستگاہ ، جزئیات نگاری پر فنکارانہ دسترس اوراس کے دل وروح کے سوزوگدازبھی اجاگر ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے اگر غورکریں تو اس نظم میں میرانیسؔ جیسی منظرنگاری بھی ہے ، میرؔ جیسی جذبات نگاری بھی اور غالبؔ جیسی معنی آفرینی بھی۔ان پہلوؤں کے پیش نظر اگر ہم اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے یہاں استاذشعرا کی تمام خوبیاں یک جا ہوگئی ہیں ۔
ناقدین ادب نے علامہ اقبال کی نظم ’’شعاعِ امید‘‘کی نہ صرف سراہناکی ہیں بلکہ اس کے مختلف اجزا اور اس کی خصوصیات کی وضاحت بھی کی ہیں ۔ کلیم الدین احمد اقبال کی شاعری کے زیادہ قائل نہی مگر انہیں بھی اعتراف ہے کہ’’ شعاعِ امید‘‘ ایک کامیاب تخلیقی تجربہ ہے ۔ نظم کی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے:
’’کیسی حسین وپاکیزہ نظم ہے ! یہاں ارتقائے خیال ہے ، اشعار میں ربط وتسلسل ہے ۔ خیالات میں ابتدا ، عروج اور پھر انتہا بھی ہے ۔ یہ صحیح معنوں میں نظم ہے ، غزل نے نظم کابھیس نہیں بدلاہے ۔ خیالات میں تخیل کارنگ ہے ، طرزِ ادا سادہ اور پاکیزہ ہے ۔ باربار پڑھنے سے اس کی دل کشی میں کمی نہیں ، اضافہ ہوتاہے ۔ کاش اقبال اس قسم کی نظمیں اور لکھتے۔‘‘(بحوالہ: اقبال شاعرومفکر، ص ۲۳۹)
اقبال کی نظم’شعاعِ امید ‘‘کاشمار ان کی بہترین نظموں میں ہوتاہے ۔ اس کے الفاظ اور آہنگ نے اسے ایسا دلکش بنا دیاہے کہ باربار پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔نظم کا ربط وتسلسل شروع سے آخر تک برقرار رہتا ہے اور اشعار صوری اورمعنوی ہر دو اعتبارسے آپس میں اس طرح مربوط وپیوست ہیں کہ ذرابھی اِدھراُدھرکرنے کی گنجائش نہیں پائی جاتی ۔ روانی اورسلاست ایسی کہ اکثراشعار فوراً یاد ہوجاتے ہیں۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ سورج اور اس کی شعاعوں کی گفتگو بالکل فطری ہے ۔سادگی، جوش،اصلیت اورنغمگی ایسی کہ کوئی پڑھے تو خود بخود گنگنانے لگے۔
***
ڈاکٹر محمد زبیر نے ممبئی میں اردو تحقیق کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ نوجوان لکھنے والوں میں توجہ سے پڑھے جاتے ہیں۔
Iqbal Aur Nawjawan by Dr. Zakir Khan Zakir
Articles
اقبال اور نوجوان
ڈاکٹر ذاکر خان
حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ اقبال کی شاعری میں اپنے مزاج کے مطابق پہلو تراش کر ان کے فلسفے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں۔
یوں توعلامہ اقبال نے ہر عمر کے شخص کو اپنی شخصیت اور شاعری کا اسیر بنایا ہے لیکن خودی، تلقینِ حرکت و عمل، خیالِ شاہین و عقاب اور طائرِ لاہوتی جیسی اصطلاحیں بطورِ خاص نوجوانوں کے لیے استعمال کی ہیں۔
اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932، میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ
“میں ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں خواتین اور لڑکوں کے ثقافتی ادارے تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں جن کا سیاست سے تعلق نہ ہو”
ان کا بڑا مقصد نوجوانوں کی خوابیدہ روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ اسلام نے انسانی ثقافتی اور مذہبی تاریخ میں کیا کارنامے انجام دیے اور مستقبل میں مزید کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے زورِ بازو پر انحصار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی راہیں خود طے کریں ۔ نوجوانوں کی تن آسانی، عیش و عشرت، مغرب کی اندھی تقلید انہیں کچوکے لگاتی رہتی تھی۔ مغربیت کے بڑھتے اثرات کا اندازہ اقبال بہت پہلے ہی لگا چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوانوں میں خودی بیدار کرنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ جان لیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جزو ہے۔ ان کہ یہاں ، یاس و حسرت، محرومی و ناامیدی اور بزدلی و کم ہمتی کا کوئی وجود نہیں۔ وہ یقیں محکم، عمل پیہم ، ثابت قدمی، اولعزمی، بلند حوصلگی، بلند پروازی پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی نظم “ایک نوجوان کے نام”میں وہ کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اوصاف کو اور اپنی خودی کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اس کی مکمل نشو نما بھی کرتے رہیں ۔ لفظ خودی سے اقبال کی مراد تکبر یا غرور نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں خودی نام ہے احساس کی بیداری کا، جذبۂ خودداری کا، اپنی ذات و صفات کے ادراک کا، عرفانِ نفس کا، خود شناسی کا، خود بینی کا، خود آگاہی کا خدا آگاہی کا، اور لا الہ الا اللہ کے راز۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید خودی کی تلوار کو آب دار بناتی ہے اور خودی توحید کی محافظ ہے۔ نظم ساقی نامہ میں اقبال فرماتے ہیں کہ
یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئ کائنات
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند
اندھیرے اجالے میں ہے تابناک
من و تو میں پیدا من و تو سے پاک
اسی نظم میں اقبال نیرنگئ زمانہ میں الجھے ہوئے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں یہاں کی ہر چیز فانی ہے ثبات صرف خدا کی ذات کو ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری جانیں ہیں۔ دنیاوی زندگی ،دائمی زندگی کے لیے صرف اور صرف ایک تربیت گاہ ہے۔یہ ہماری منزل نہیں بلکہ خودی تک پہنچنے اور اس سے روشناس ہونے کا ایک ذریعہ ہے ۔ اقبال کے مطابق دنیاوی زندگی وہ فرصت ہے جس میں خودی کو عمل کے لا انتہا مواقع میسر آتے ہیں۔ اس میں موت اس کا پہلا امتحان ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اسے اپنے اعمال و افعال کی شیرازہ بندی میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ لہذا خودی کی فنا اور بقا کا انحصار عمل پر موقوف ہے۔ خودی کو باقی رکھنے کے بعد ہی بلاامتیاز ہم من و تو کا احترام کر سکیں گے کیوں کہ بقائے دوام کے حصول کا انحصار ہماری مسلسل جدو جہد پر ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں
خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں
بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر
طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر
علامہ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان خودی کے راز کو پاکر مثلِ شاہین اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔انقلاب آفرین ہستی وہ ہوتی ہے جو زمانے کو نئی سوچ دے ، پرانے الفاظ اور خیالات کو مفاہیم کے نئے جہان عطا کرے۔ اقبال سے قبل بھی ہمیں دیگر زبانوں کے شعری سرمائے میں مختلف پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے پرندے کا انتخاب کیا جو آسمانوں پر نظریں رکھنے کے باوجود اپنے اندر درویشی کی صفت رکھتا ہے۔اقبال کے یہاں شاہین وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے یہاں بلبل اور شیلے کے یہاں سکائی لارک کی ہے۔ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سب سے بھی بالاتر ہے۔ اقبال جمال سے زیادہ جلال پسند کرتے ہیں۔ انہیں ایسے پرندوں میں کوئی دلچسپی نہیں جو صرف جمالیاتی اہمیت رکھتے ہوں یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہوں۔آپ کے یہاں شاہین ایک مسلم نوجوان کی علامت ہے۔اس لیے وہ نوجوانوں کو اس شاہین کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جو کبھی مردار نہیں کھاتا۔ انہیں ایک ایسے شاہین کی تلاش ہے جو بلند پروازہو۔ ایک ایسا شاہین جو کبھی باز ، کبھی عقاب، کبھی طائرِ لاہوتی بن آسمان کی وسعتوں کو مسخر کردے۔ایک ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے۔ ایک ایسا شاہین جو مشرق سے مغرب تک آسمانوں پر اپنی بادشاہت قائم کردے۔ ایک ایسا شاہین جو اپنے لیے جہانِ تازہ تلاش کرے، افکارِ تازہ کی نمو کرے۔
اقبال کے نزدیک شاہین کے علاوہ کوئی پرندہ نوجوانوں کے لیے قابلِ تقلید نہیں ہے۔ بالِ جبرئیل کی نظم ” شاہین” میں اقبال یو ں گویا ہوتے ہیں کہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہوں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کا یہ کارنامہ یقیناً یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ایک ایسے انسان یا نوجوان کا آئیڈیل ہمارے سامنے پیش کیا جو بقول ظ انصاری مستقبل کی ترقی یافتہ دنیا بنانے اور سجانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایسے ہی نوجوان کو اقبال نے کہیں شاہین، کہیں طائرِ لاہوتی، کہیں مردِ مومن اور کہیں ایسا مسلمان کہا ہے جس کی خودی صورتِ فولاد ہے۔ جو بیک وقت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی۔ اسی نوجوان کو حرکت و عمل کا درس دے کر اقبال برسہا برس کے سکوت، جمود اور خاموشی کو توڑنا چاہتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو مغرب اور مغرب زدہ تہذیب سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ حرکت و عمل کے ذریعے صدیوں کی زخم خوردہ انسانیت کے تنِ مردہ میں روح پھونکنا چاہتے تھے۔وہ عوام الناس کو ظلمت و الحاد کے گڑھوں سے اوپر اٹھا کر ان کے ہاتھوں میں ایمان و یقین کی مشعلیں دینا چاہتے تھے۔ اقبال کے نزدیک کائنات اپنے ہونے کا اظہار مسلسل تبدیلیوں کی صورت میں کرتی ہے۔ یہاں کسی شے، کسی منظر، کسی احساس، کسی قوم اور کسی بھی معاشرتی صورت حال کو قرار نہیں ہے۔ وہ ’’مرغ و ماہی ‘‘ ہوں یا ’’ ماہ و انجم‘‘ یہاں کی ہر شے’’ راہی‘‘ اور ہر چیز’’ مسافر‘‘ ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کا بیشتر حصہ حرکت و تغیر کی اصلیت کو واضح کرتا ہے۔ وہ کائنات کے اصول یعنی حرکت و تغیر کو نوجوانوں کے حق میں ہمیشہ نیک شگون قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حرکت زندگی کی پہچان اور سکون یا جمود موت کی شناخت ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے روائتی انداز فکر میں بھی حرکت کو برکت کہا جاتا ہے۔ علامہ نے اس نکتے کی وضاحت بڑے موثر اور بھر پور انداز سے کی ہے۔ مثلاً وہ خضر کی زبانی بندہ مزدور کو یہ پیغام دلواتے ہیں۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اس شعر میں علامہ بزم جہاں کے نئے انداز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نیا انداز وہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں جو ہمارے اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں۔ علامہ ہمیں ان حالات کا صحیح شعور اوروقوف پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال اس دنیاوی زندگی کو مکمل حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔وہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نوجوان کے اپنے عمل میں مضمر امکانات کو بروئے کار لانے پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔ اقبال اپنی تمام تر امنگیں اور آرزوئیں نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے طبقے کو ہدف بناتے ہیں جس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ اقبال کا نوجوان مصلحتوں کے دائرے میں زندگی گزارنے کو غلامی تصور کرتا ہے،بقول اقبال
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
علامہ اقبال کی شاعری ،ان کا فلسفہ اور اس میں پوشیدہ رموز آج نہ صرف اہلِ اردو یا اہلِ مشرق کے لیے مینارۂ نور ہیں بلکہ دنیا بھر میں دیگر زبانوں کی یونیورسٹیاں بھی اقبال کے فن سے فیضیاب ہو رہی ہیں۔ اقبال کسی ایک خطے ،کسی ایک علاقے یا کسی ایک سرزمین کے شاعر نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت آفاقی ہے کائناتی ہے۔ شاعرِ مشرق جیسا خطاب بھی اقبال کے بہت معمولی نظر آتا ہے کیوں کہ وہ تو شاعرِ ہستی ہیں، شاعرِ گیتی ہیں۔
***
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نوجوان شاعر، مترجم اور ابھرتے ہوئے نقاد اور نور الاسلام ہائی جونیئر کالج ، گوونڈی میں انگریزی کے استاد ہیں۔
Iqbaliat Editor Dr. Tahir Hameed Tanoli
Articles
اقبالیات مدیر ڈاکٹر حمید تنولی
ڈاکٹر حمید تنولی
Isharat E Iqbal by Abdurrahman Tariq
Articles
اشاراتِ اقبال از عبد الرحمن طارق
عبد الرحمن طارق
Qabil Ajmeri ki Naz’m “Iqbal”
Articles
قابلؔ اجمیری کی نظم’’اقبال‘‘
عمران عاکف خان

عـــلامہ سر محمد اقبال ؔ کی عظمت و رفعت ان کے نام کی مانند ہی عظیم و رفیع ہے۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی عظیم و رفیع شخصیت کے آثار اس کے نام سے بھی ظاہر ہونے لگیں اورکانوں میں وہ نام پڑتے ہی وہ پیکر ہمارے سامنے آکھڑا ہو اورہم عقیدت و احترام کے جذبے سے سرشار عالم تصور میں ہی کھڑے ہوجائیں۔ چنانچہ عالم مشرق کو اس پر ناز ہے کہ اس نے 19ویں صدی میں اقبالؔ کو اپنی آغوش محبت میں پالا اور ان کے فن کو رشک عالم بنا دیا ۔قوموں نے ان سے حیات نو پائی اوراخلاق و ایمان سے بیمار سینوں میں ان کی حکمت نے کارتریاقی کیا ۔یہی وجہ ہے کہ حیات اقبالؔ سے لے کر آج تک کوئی لمحہ ایسا نہیں جاتا جب کہیں نہ کہیں ان کی آفاقی فکروں،کلام کے سوزو ساز ،ان کی دیدہ وری ،ان کی جہاندیدگی اور ان کے سمجھائے ہو ئے جہانگیری و جہاں بانی کے اصولوں پر باتیں نہ ہو تی ہوں ۔بلکہ بعض مقامات پر تو باقاعدہ ’’اقبالیات ‘‘پر لیکچر کی مجلسیں سجتی ہیں ۔ان مجلسوں میں ان کے فارسی کلام،اردو کلام ،تقاریر ،خطبات،سیاسی افکارو نظریات،سماجی ہدایات،تمدنی رہ نمائیوں اور ان کی ملت اسلامیہ کے تئیں فکر مندیوں کے متعلق غور و خوض کیا جاتا ہے ،نکات سمجھا ئے جاتے ہیں ،اپنے من میں ڈوب کر زندگانی کے مقاصد کا سراغ لگایا جاتا ہے اور بے راہ رو زندگیوں کو سنوارنے اور اقبال کی فرمودہ تلقینات پر عمل پیرا ہونے کے عہد لیے جاتے ہیں ۔
اقبال کی عظمت کیا ہے اور اقبال کون ہیں ،ان سوالوں کے جواب ہمیں کیا ملیں گے جب خود اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں،باالخصوص ان کا فلسفۂ خودی تو معرکۃ الآرا اور آفاقی قدروں کا حامل ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ ضمیر ، فطرت صالح ،صحت منداندرون اور خودی ،یہ چند عناصر مل کر جس طرح کے انسان کی تعمیر کرتے ہیں ،شاید وہی خودی کا رازداں اور خدا کا ترجماں بنتا ہے۔اگر وہ بھی نہیں تو پھر خدا جانے یہ خود ی کیا بلا ہے ۔خودی کا پرتو جب انسان میں نظر آئے تو وہ کیا بنتا ہے اور جب اس سے عاری ہوتو کیا ؟یہ واقعی فلسفیانہ بحثیں ہیں ۔یہ بحثیں اقبالؔ نے اس وقت چھیڑیں جب ایشیا مئے بے خودی میں مست تھا،اس کی قدریں اس سے چھینی جارہی تھیں، انگریزی سامراج نے اس کی گردن دبوچ رکھی تھی ۔حالات آتش فشاں بن گئے تھے۔ ایسے حالات میں خودی کی بیداری اور اسے فعال کر نااقبالؔ کا اولین فریضہ بن گیا۔یہ فریضہ انھوں نے کبھی میونخ،لندن،ہندوستان،ہسپانیہ ،ایران،کے ریگزاروں اور زمستانی ہواؤں میں ادا کیا تو کبھی پنجاب و بنگال کے کوہستانوں میں،کبھی مسجد قرطبہ کی ٹوٹی دیواروں کے سائے میں ادا کیا۔ہر عہد ،ہر موسم میں کیا۔ان کا یہ فریضہ فصل گل و لالہ کا پابندکبھی نہیں رہا ۔وہ حکم اذاں کے بہار وخزاں ہر موسم میں کاربند رہے۔اقبالؔ کی ان ہی بے لوث قربانیوں اور جانفشاں فکروں نے انھیں عالمی شہرت دلانے کے ساتھ ساتھ اقوام مشرق کا حکیم بھی بنادیا۔جس کا احسان وہ آج تک فراموش نہیں کرسکی ہیں۔
اقبالؔ تفہیم اور اقبالؔ شناسی کے سلسلے، ہماری ادبیات کا خراج ہیں ۔چنانچہ ہمارے شعرا اور ادبا نے پیام اقبالؔ کو دل کھول کر جلا بخشنے اور اسے نئی نسلوں تک پہنچانے کے لیے ایک فرض اورامانت سمجھ کر اپنے فن اور کلام میں برتاو ادا کیا ہے ۔چنانچہ ہر بڑے شاعرنے اقبالؔ کو اپنے طور پر خراج پیش کیا ہے اور ان کی ملک و ملت سوزی کا اعتراف کیا ہے جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں ،بہت حد تک کوشاں بھی۔بعض نے ان کے کلام کی شرحیں لکھیں تو بعض نے ان کی زمینوں میں طبع آزمائی کی ۔جس سے فکر اقبال تک عام قارئین اور نئی نسلوں کی رسائی ممکن ہو سکی۔
عبد الرحیم قابلؔ اجمیری (27 اگست 1931تا30،اکتوبر 1962)کا شمار بھی ان شعرا میں ہوتا ہے۔انھوں نے علامہ اقبال ؔ پر ایک شاندار نظم’’اقبال‘‘ لکھی۔یہ نظم جہاں قابلؔ اجمیری کا اقبالؔ کو ایک بے مثال نذرانۂ عقیدت ہے ،وہیں اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فکر اقبال اور اقبالیات میں خصوصی درک رکھتے تھے ۔اقبالیت اور ان کی فکر ،ان کے وجود کا حصہ بن گئی تھی ۔جس کا احساس ان کی غزلوں اور فکر انگیز نظموں میں بھی ہوتا ہے۔چنانچہ جب قابل ؔ’’اندیشۂ سودو زباں‘‘کی ترکیب اپنے اشعار اور غزلوںمیں استعمال کر تے ہیں تو ان میں اقبالؔ اور اقبالیات کا عکس جھلکتا ہے ۔اس لیے کہ ’’سودو زیاں‘‘اقبال ؔکی خاص ترکیب ہے جس کا استعمال انھوں نے اپنی متعدد پیامی نظموں میں مختلف انداز میں کیا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ کرتے چلیں :
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا!
فریب سودوزیاں لاالہ الا اللہ!!
٭٭٭
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی!
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی!!
٭٭٭
کیوں زیاکار بنوں سود فراموش رہوں!
ہم نوامیں گل ہو ںکہ خاموش رہوں!!
زیر مطالعہ نظم اختصار اور جامعیت کا نادر نمونہ ہے نیز اس کا اختصار اور جامع ہونا ہی اس کا وہ کمال ہے جو قابلؔ اجمیری کی شاعری کا خاص جوہر اور امتیازہے ۔قابل ؔ اجمیری جنھیں جدید اردوغزل کے پیش روؤں میں اہم مقام حاصل ہے،ان کا شعری وجدان اور ان کی فکری اپج، اقبالؔ کی ترجمانی اور تشریح میں نئے نکات و جہات کے دروا کر تی ہے ۔یہ نظم قابل ؔ کی کلیات اور ان کے اولین مجموعۂ کلام’’عشق انسان کی ضرورت ہے——‘‘ میں شامل ہے اس کا عنوان ’’اقبال‘‘ہے ۔انھوں نے اقبالؔ کے علاوہ ’’قائد اعظم‘‘——- ’’14اگست‘‘——–’’دریائے نیل‘‘—— ’’ایک عیدایک عہد‘‘——-’’شاعر‘‘ وغیرہ متعدد موضوعاتی نظمیںتحریرکی ہیں جو اُن کی علمیت، فردشناسی اور قومی رہ نماؤںو امور کے تئیں عقیدت تجربے ،احوال سے واقف کاری نیز ان کی فکر مندی کی دلیل ہیں ۔ سردست قابلؔ اجمیری کی نظم’’اقبال‘‘ کا متن اور اس کاتجزیہ‘‘ نذر قارئین ہے:———
اقبــــــال
وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلّی نکھار دی!
ذروں کو آفتابِ درخشاں بنا گیا!!
وہ چارہ ساز جس نے کیے تجرباتِ نو!
ہر درد کو ضمانتِ درماں بنا گیا!!
وہ باغباں جو اپنی نسیمِ خیال سے!
شامِ چمن کو صبحِ بہاراں بنا گیا!!
وہ دلربا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل!
تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا!!
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں!
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا!!
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے!
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا!!
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
یہ پوری نظم اقبالؔ کی فکر اقبال کے نظریات اور اقبالؔ کی مہمات کی ترجمان ہے۔وہ نوجواں مسلم سے کیا کیا توقعات رکھتے تھے اور اسے کس کس طرح سے بہلا تے تھے ۔اس کی بہبودی کے لیے انھوں نے کیا کیا طریقے اختیار کیے ۔کس کس طرح کی تلمیحات وہ قلزم قرآن و حدیث سے لائے ۔کبھی تو وہ اس کو لوح و قلم اور کتاب کہہ دیتے اور کبھی طائر لاہوتی گر دانتے ۔کبھی وہ اسے شاہین کہتے تو کبھی اس کی نسبت میر عرب اور ان کے جانباز سپاہیوں سے کرتے ۔کبھی وہ اسلامیان کے شاندار ماضی اور ان کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی تحریکات دیتے اور کبھی طارق بن زیاد کی شجاعت کی کہانیاں سناتے ،یہ نظم ان سب کا نچوڑ ہے۔اس نظم کو جب ہم جز جز کر کے دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ایک شعر اپنے اندر فکر اقبال کے ہزاروں نکات چھپائے ہوئے ہے۔ پہلے شعر میں جس طرح اقبالؔ کی اس کرامت کا ذکر ہے اس سے ہمارے دل یقین سے کہہ اٹھتے ہیںاس میں کوئی دورائے نہیں کہ اقبالؔ ایسے ہی دیدہ ورتھے جنھوں نے سورج کی نورانیت میں تجلّیات کی رونقیں بھردیں اور بے نام و گمنام ذروں کو اپنی فکر رسا سے درخشاں بنا دیا۔ان کی تلقین جس مسلم نو جوان نے بھی قبول کی وہ شاہین اور ھما بن گیا۔پھراس کی پرواز ستاروں سے آگے کے جہانوں تک بھی پہنچ گئی ۔وہ مہ کامل بھی بنا جس کے عروج سے انجم سہمے اور انھیں اپنا غرور ٹوٹتانظر آیا۔ اس نظم کا ہر شعر اپنی جداگانہ حیثیت بھی رکھتا ہے اور مجموعی طور پر بھی یہ نظم اقبالؔ کو بہترین خراج عقیدت ثابت ہوتی ہے۔بالخصوص اس کا نظم کا پانچواں شعر تو اقبال ؔ کے بنیادی فلسفے کا ترجمہ ہے:
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں!
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا!!
اس شعر میں نیاپن یہ ہے کہ اقبالؔ جہاں ’’خودی‘‘ کی تلاش کی تلقین دوسروں کو کرتے تھے وہیں وہ خود بھی اس کی تلاش میں ہیں ۔ یعنی انھیں بھی اس کی ضرورت ہے۔گویا’’خودی ‘‘ ایسا عنصر ہے جو ہر ایک کی ضرورت ہے اور اس سے متصف ہونا ہر کسی کے لیے ضروری ہے چاہے وہ اقبالؔ ہی کیوں نہ ہوں۔اس شعر کا دوسرا مصرع تو ارباب دل کو’’محرم یزداں ‘‘بنانے کی خبر دیتا ہے۔’’ارباب دل ‘‘ کی ترکیب ’’یزداں‘‘ کے’’ محرم‘‘ ہونے کے قبیل میں نادر ترکیب ہے اسی طرح تفویض امر بھی ہے۔چوں کہ’’ارباب دل‘‘پر ہی اکثر ذمے داریاں ، فرائض اورہوش و خرد کے امور واجب ہوتے ہیں ۔قابل ؔاجمیر ی اس حقیقت سے بہ خوبی آگاہ ہیں اور اقبالؔ بھی۔یہاں آکر دونوں کی آرا ایک ہوجاتی ہیں اسی طرح اقبال ؔکی طرح قابل ؔبھی قومی مفکر بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔’’ارباب دل‘‘سے ’’غیر ارباب دل‘‘یعنی مردہ ضمیروں کی صاف نفی ہوتی ہے۔اس سے ان کی ہی محرومی اور بدقماشی ثابت ہوتی ہے اور ان کے لیے ایک یہ خبر یعنی ’’غیر ارباب دل‘‘ہونا ایک تازیانۂ عبرت بھی ہے جو انھیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی اس نعمت سے محروم ہو، یہ تمھاری بدقسمتی ہی ہے۔ اس کی تلافی اس طرح ممکن ہے کہ ’’ارباب دل‘‘کی صف میں شامل ہو کر ’’محرم یزداں‘‘ بن جاؤ۔
جیسا کہ ماقبل میں کہا گیااس شعر سے جو نئی بات معلوم ہوتی ہے ،وہ یہ کہ اقبالؔکا فلسفی اور مفکر ہوناخود ان کے لیے بھی بہت ضروری تھا۔ نیزوہ امروز یا ماضی قریب کے مفکرین و فلسفیو ںکی مانند اس سے خود کو ہرگز مبرا نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اس حکم خداوندی یعنی ’’عرفان خودی‘‘کے خود کو اولین مستحق سمجھتے۔اسی طرح اس شعر میں ’’محرم یزداں‘‘کی ترکیب اس عہد الست کی تلقین اور اس پر ایمان کی تجدید کا استعارہ ہے جس کی مرقوم لوح، ہر انسان کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔اس کی یاد دہانی کے لیے اس معاہد یعنی خدائے لم یزل نے پچھلے زمانوں میں رسول اور نبی بھیجے پھر یہ ذمے داری امت کے حکما اور مفکرین پر عائد ہوئی۔اقبال ؔکا پیغام خودی بہت واضح اور صاف لفظوں کا بیا ن ہے بس اس احساس کی ضرورت ہے جو قابل ؔ اجمیری نے اپنے انداز میں بتایا ہے۔اس شعر میں قابلؔ نے اقبال ؔکے ان ہی اشعار کی ترجمانی کی ہے جن میں وہ فرماتے ہیں:
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی!
خودی کی خلوتوں میں کبریائی!!
زمین و آسمان و کرسی و عرش!
خودی کی رو میں ہے ساری خدائی!!
اسی طرح قابل ؔ کی اس نظم کا چھٹا شعر ملاحظہ کیجیے:
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے!
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا!!
یہ شعر اقبال کے اِن اشعار کا ترجمہ ہے:
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا!
نہ ایرانی رہے باقی نہ تورانی نہ افغانی!!
اسی طرح:—–
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر!
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی!!
اسی طرح وہ آپس میں دست وگریباں قوموں،علاقوں اور خطوں کے افراد سے مخاطب ہیں:
یوں تو سید بھی ہو ،مرزا بھی ہو افغاں بھی ہو!
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤں تو مسلماں بھی ہو!!
یہ انداز تو لرزا خیز ہی ہے:—–
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں!
کیا زمانے میں پنپے کی یہی باتیں ہیں!!
یہ اور اسی طرح کے متعدد اشعار ہیںجن میں اقبال ؔ،قوم رسول ہاشمی اور ملت کے افراد کو رنگ و نسل اورذات پات سے باز رکھ کر ایک دھارے یعنی ’’مسلمانیت‘‘میں شامل کر نا چاہتے تھے ۔قابلؔ اجمیری نے اس شعر میں اسی کی جانب اشارہ کیا ہے اور اقبالؔ کی اس جرأت رندانہ تذکرہ اسی انداز میں کیا ہے۔یہ شاعر کی بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ کسی مفکر کی فکر کو اسی کے لہجے ،اسی کے اندازاور اسی کے آھنگ میں بیان کردے ۔ اس سے وہ ترجمہ شدہ کلام بھی مضبوط ہوتا ہے اور وہ ترجمانی کا حق بھی اداہوتا ہے ۔
اس نظم کا یہ آخری شعر تو دیکھیے جو چشم بینا کی روشنی کو حسرت و افسوس سے بڑھا دیتا ہے ۔وہ اقبالؔ کی اس فکر کا ترجمان ہے جس نے انھیں آخر میں مایوس کردیا تھا :
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
یہ یقینی بات ہے کہ اقبالؔ ساری عمر اسلامیان ہند کو اتحاد و اتفاق اور ’’بانگ درا‘‘پر نظر ڈالنے کی تلقین کر تے رہے مگر اس قوم کا جذبۂ قلندرانہ کوئی لے گیا۔ان میں گفتار کے غازی تو بہت تھے مگر کردارکسی کا غازیانہ نہیں تھا۔چنانچہ اس کا نتیجہ جو نکلا ،اس کا ذکر قابل ؔ نے ان ہی کی زبانی کیا:
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
اس نظم میں قابلؔ اجمیری نے علامہ اقبالؔ کی زندگی اور ان کی کلیات کے تمام پیغامات کو سمو دیا۔وہ جو’’ بانگ درا‘‘ کی صدا لے کر اٹھے اور ’’بال جبریل‘‘میں اس کوترقی دی نیز’’ضرب کلیم‘‘میں نقطۂ عروج پر لے گئے ،وہی پیغام ’’ارمغان حجاز‘‘تک آتے آتے اپنا اثر کھوبیٹھا حالاں کہ یہاں آکر تو اس کی تپش کو اور تیز ہونا تھا اسی طرح خوابیدہ دل اس سے اور گرماتے ۔مگر ایسا نہیں ہوا اوراقبالؔ دعا کرنے لگے:
یار ب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے!
جو روح کو تڑپا دے جو قلب گر مادے!!
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل!
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے!!
پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر!
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے!!
یہ وہ لہجہ ہے جس میں اداسی اور مایوسی صاف جھلک رہی ہے ۔اس میں بجھے دل سے دعا ہے اور اسی خداسے ہے جو تبدیلیوں اور انقلابات کا حقیقی مالک ہے ۔ وہی رب العالمین ہے اور اسی کے دست قدر ت میں سب کچھ ہے ۔
قابلؔ اجمیری کی اس نظم کا آخری شعر تو پوری نظم کا حاصل ہے ۔ایسا حاصل جس کے بغیر نہ اعداد پورے ہوتے ہیں اور نہ ہندسوں کی تکمیل ممکن ہے۔یہ سبق آموز ’’حاصل ‘‘ اور اختتام قابل ؔ اجمیری کی شعری فکر اور ادبی مطالعے کی عمدہ مثال ہے اور ان کے وجدان شعرو شاعری کی دلیل بھی ہے۔
٭٭٭
مآخذو مراجع
عشق انسان کی ضرورت ہے——-قابل اجمیری۔مجلس یاد گار قابل،حیدرآباد(سندھ)1970
کلیات اقبال——— (ناشر)پرو فیسر شہرت بخاری۔اقبال اکادمی پاکستان ،لاہور۔1990
کلیات قابل اجمیری———(ناشر)ظفر قابل اجمیری۔مجلس یادگار قابل،کراچی شاخ۔دسمبر۔1990
مضمون نگار سے رابطہ:
imranakifkhan@gmail.com
259،تاپتی ہاسٹل،جواہر لال نہرویونیورسٹی،نئی دہلی۔110067
