
(لفظوں کی تہذیب کے حوالے سے)
علم اور علمی شخصیتوں کی تاریخ کے علاوہ شبلی نے جن موضوعات پر داد تحقیق دی ہے ان کا سب سے موزوں عنوان ’’ شعر و ادب کی تنقید ‘‘ ہے اور شعر و ادب کی تنقید خاص طور سے ’’ شعر العجم ‘‘ اور ’’ موازنۂ انیس و دبیر ‘‘ کی نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی سے اردو میں تنقیدی اور تقابلی مطالعے اور موازنے کی روایت کو اعتبار و استحکام حاصل ہونے کے ساتھ خود شبلی کی علمی فکری وراثت کو بھی امتیاز حاصل ہوا ہے۔ وہ امتیاز یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جہاں ان کے ذہن و ظرف کی وسعت، منتخب کیے ہوئے موضوعات کی اہمیت، ارتباط لفظ و معنی کی لطافت اور اسلوب نگارش کی ندرت کا اعتراف بڑھتا جارہا ہے، حتیٰ کہ مرزا خلیل احمد بیگ کے بقول یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ
’’ آج جدید لسانیات اور اسلوبیات کی روشنی میں اسلوب کی تشکیل و توضیح کا جو کام جاری ہے اس کی جڑیں بلاشبہ ’’ شعر العجم ‘‘ میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
وہیں معاندین شبلی کی کم از کم ان تحریروں کا بھرم ٹوٹ رہا ہے جو شبلی کی اجلی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ صرف لفظوں کی تہذیب یا ان کے محل استعمال کے حوالے سے بھی یہ واضح کرنا مشکل نہیں ہے کہ شبلی کی تحریروں میں شاید ہی کہیں کوئی ایسا لفظ استعمال ہوا ہو جس کے محل استعمال کے بارے میں کوئی سوال اٹھایا جاسکے۔ لیکن معاندین شبلی کی تحریروں میں ایسے الفاظ کی شناخت بہت آسان ہے جو اپنے استعمال کرنے والوں کی بدنیتی کے ساتھ بے خبری و بے بصری کا بھی رونا رو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی مثال مولوی عبدالحق کی ہے جنھوں نے محمد امین زبیری کے ترتیب دیے ہوئے شبلی کے خطوط کے مجموعے ’’خطوط شبلی ‘‘ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ
’’ مولٰنا شبلی کی تصانیف کو ابھی سے لونی لگنی شروع ہوگئی ہے۔ زمانہ کے ہاتھوں کوئی نہیں بچ سکتا۔ ‘‘ ۲؎
’’لونی لگنے ‘‘ کا مطلب وہ شور، کھار یا نمکین مٹی کا لگنا ہے جو دیواروں سے جھڑتی ہے اور کتاب میں لگنے کے بعد اس کو پڑھے جانے کے لائق نہیں چھوڑتی۔ لونی ان ہی کتابوں کو لگتی ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اس لیے شبلی کی تصانیف کو لونی لگنے کے طعنے کے پس منظر میں یہ سوال ہر شخص پوچھ سکتا ہے کہ جس کی کتاب ’’ المامون ‘‘ پر سر سید احمد خاں نے ۱۸۸۷ء میں یعنی جب شبلی کی عمر ۲۹،۳۰ سال تھی، مقدمہ لکھ کر ان کی مورخانہ بصیرت اور سادہ و شگفتہ طرزِ تحریر کی تحسین کی ہو، حالی نے جس کی دانشوری کی یہ کہہ کر داد دی ہو کہ
ادب اور مشرقی تاریخ کا ہو دیکھنا مخزن
تو شبلی سا وحید عصر و یکتائے زمن دیکھیں
جس کی کتاب ’’ شعر العجم ‘‘ کو پروفیسر برائون کی کتاب ’’ تاریخ ادبیات ایران ‘‘ کا ماخذ بننے کا شرف حاصل ہوا ہو، عالم خوند میری کے بقول جو ہماری تہذیبی میراث کا حصہ ہو اور جس کے ایک وارث ابوالکلام آزاد ہوں اور دوسرے علامہ اقبال، عالم اسلام میں جس کی تصانیف میں دلچسپی کا اظہار اور ان کے ترجمے کی ضرورت پر اصرار، جس کی زندگی ہی میں کیا جانے لگا ہو اور آج جن کے تراجم انگریزی، عربی، فارسی، پشتو، ترکی اور ہندوستان کی کئی علاقائی زبانوں میں کیے جاچکے ہوں، اس کی تصانیف کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کو لونی لگنا شروع ہوگئی ہے، لونی لگنے کے مفہوم سے ناآشنائی اور اس لفظ کے محل استعمال سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ شبلی کی تصانیف کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے لکھا گیا مولوی عبدالحق کا یہ جملہ ان ہی کے ایک خطبے کی ان سطور کی روشنی میں ناقابل اعتناء ہے کہ
’’ لفظ ایک بڑی قوت ہے اس کا برمحل استعمال خیالات میں قوت پیدا کرتا ہے جو اس گر سے واقف نہیں اور لفظ کے سبھی برمحل استعمال کو نہیں جانتا اس کا بیان اکثر ناقص، ادھورا اور بے جان ہوتا ہے۔ ‘‘
دوسری مثال ڈاکٹر وحید قریشی کی ہے جنھوں نے اپنی کتاب ’’ شبلی کی حیات معاشقہ ‘‘ میں نفسیاتی جائزے کے نام پر شبلی کے بارے میں بعض ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے ان کے ذہن کی کجی کے ساتھ مطالعے کی کمی کا بھی اظہار ہوتا ہے مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ ان کی نرگسیت ان کے دینوی مشاغل، علمی مشاغل، شاعری اور عورتوں کے عشق، لڑکوں کے عشق سب میں کارفرما نظر آتی ہے۔ ‘‘ ۳؎
یا یہ کہ
’’ ۔۔۔۔۔ حسن و عشق کی رنگینیوں میں تلاش کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جس کے تین مرکز تھے ابوالکلام کی ذات، عطیہ بیگم اور تیسرے مدراس کی کوئی ہستی۔ ‘‘ ۴؎
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہتی کہ وحید قریشی نے ’’ نرگسیت ‘‘ کی اصطلاح سنی تو ضرور تھی مگر اس کے حقیقی مفہوم سے واقف نہیں تھے۔
اردو میں جس انگریزی لفظ کا ترجمہ ’’ نرگسیت ‘‘ کیا جاتا ہے وہ Narcissism ہے اور اس سے مراد خود پسندی، خود ستائی، جذبۂ محبوبیت، خود لذتی اور وہ ذہنی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھتا اور اسی میں محو رہتا ہے۔ یہ مفہوم یونانی اساطیر سے ماخوذ ہے جس کے مطابق یونان میں ’’نرگس ‘‘ نام کا ایک شخص گذرا ہے جو اپنے حسن پر اتنا نازاں تھا کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ ’’ ریکو ‘‘ نام کی ایک پری اس پر فریفتہ ہوگئی لیکن ’’ نرگس ‘‘ نے اس کو ٹھکرا دیا۔ ’’ ریکو ‘‘ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اور گھل گھل کر مرگئی۔ اس کی زندگی ختم ہوگئی لیکن چونکہ اس کی موت اذیتناک کرب کا نتیجہ تھی اس لیے مرنے کے بعد بھی اس کی چیخ فضا میں گونجتی رہی۔ انتقام کی دیوی کو ’’ ریکو ‘‘ پر رحم آیا اور اس نے ’’ نرگس ‘‘ کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ سزا کے طور پر ’’ نرگس ‘‘ کو پانی کے ایک چشمے کے کنارے کھڑا کردیا گیا جس میں وہ اپنا عکس دیکھتا رہا اور بالآخر اپنے آپ پر عاشق ہوگیا۔ یہی عشق اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور وہ بھی گھل گھل کر مرگیا۔ جس جگہ وہ دفن ہوا وہاں ایک پھول کھلا اور اس پھول کو ’’ نرگس ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔
علم نفسیات کی اصطلاح کے طور پر اس لفظ کو جن لوگوں نے استعمال کیا ان میں Alfred Binet کا نام بہت اہم ہے جس نے ۱۸۸۷ء میں Narcissism یعنی نرگسیت کی اصطلاح استعمال کی۔ ۱۸۹۸ء میں Havelock Ellis نے Narcissus Like Self Absorption جیسے جملے کے ذریعہ نرگسیت کے اصطلاحی مفہوم میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ۱۸۹۹ء میں Paul Nacke نے اس لفظ کا استعمال ان مردوں کے لیے کیا جو دوسروں یا جنس مخالف کے جسم کے بجائے خود اپنے جسم سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اور ۱۹۱۴ء میں یعنی جس سال شبلی کا انتقال ہوا فرائڈ کا مضمون On Narcissism شائع ہوا جس میں اس نے نفسیاتی اعتبار سے اس لفظ یا اصطلاح کو وسیع تر مفہوم عطا کرتے ہوئے اس کو پرائمری اور سیکنڈری Narcissm میں تقسیم کرکے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ نرگسیت کی ابتدائی شکل یہ ہے کہ انسان تمام تر جنسی قوتوں کو اپنے اندر مرکوز کرلے جبکہ اس کے بعد کی یا ترقی یافتہ نرگسیت یہ ہے کہ انسان جنسی تلذذ کی تمام صورتیں خود اپنی ذات میں تلاش کرے۔ فرائڈ کے شارحین کے لفظوں میں
Primary narcissism is a natural and necessary investment of one’s sexual energy in oneself, a sexual version of ordinary self-interest. Whereas secondary narcissism is a defensive reaction of withdrawing one’s sexual interest from other people and focusing it exclusively on oneself.
فرائڈ کے برعکس Karen Horney نے نرگسیت کو ذات سے برگشتگی کا اظہار قرار دیا ہے۔ اس کی نظر میں ایسا شخص ظلم، نمائش اور عریانیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
اس لفظ یا اصطلاح کا استعمال ایسی ذہنی بیماری کے لیے بھی کیا جاتا ہے جس کا خاصہ Lack Of Empathy ہے۔ ان مفاہیم کی روشنی میں شبلی کی شخصیت میں کوئی ایسی علت یا علامت نظر نہیں آتی جس کے سبب ان پر نرگسیت کا الزام عائد کیا جاسکے۔ انھوں نے نہ تو اپنی ذات سے برگشتگی کا اظہار کیا نہ ہی ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنسی تلذذ کی صورتیں وہ اپنی ذات میں تلاش کرتے تھے۔ وہ کسی طرح کی ذہنی بیماری اور خود پسندی میں بھی مبتلا نہیں تھے۔ خود پسندی میں مبتلا ہوتے تو بڑوں، چھوٹوں اور ہم عمر ادبیوں شاعروں کی مدح و ستائش نہ کرتے۔ اس لیے یہی کہا جاسکتا ہے اور یہی سچ بھی ہے کہ شبلی اپنی نو عمری میں اپنی عمر سے چالیس سال بڑے سرسید کی طرف متوجہ ہوئے، ادھیڑ عمر میں اپنی عمر سے ۳۰ سال چھوٹی عطیہ میں دلچسپی لی یا ابوالکلام آزاد ان کی توجہ کا مرکز بنے جو عمر میں ان سے ۳۱ سال چھوٹے تھے تو اس کی وجہ علمی شخصیتوں میں ان کی دلچسپی اور ان کی قدر دانی تھی۔ اس قدر دانی میں جمالیاتی احساس یا حسن پسندی کے جذبے کی فروانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شبلی حسن و نفاست اور جوہر قابل کے دلدادہ تھے اور جہاں کہیں کوئی جوہر قابل دکھائی دیتا تھا اس پر فدا ہوجاتے تھے، ایم مہدی حسن کے بقول
’’ مولانا (شبلی) ادبی حیثیت سے اس کا (حسن کا) نہایت صحیح مذاق رکھتے تھے۔ عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ ان کی حکیمانہ شوخیاں سرمایۂ ادب ہوتی تھیں۔ ‘‘ ۵؎
لیکن جمالیاتی احساس یا کسی علمی شخصیت کے تصورات و نگارشات یا جوہر ذاتی میں جلوئہ حسن دیکھنے کی شبلی کی وضع کو نرگسیت سے تعبیر کرنا کور ذوقی اور نرگسیت کے مفہوم سے ناآشنائی ہے۔ سید شہاب الدین وسنوی نے اپنی کتاب ’’ شبلی، معاندانہ تنقید کی روشنی ‘‘ میں نرگسیت کی تفہیم میں دیڑھ صفحہ صرف کیا ہے مگر اس میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے Men who were sexually excited by their own bodies rather than someone’s else’s کے مفہوم کی وضاحت ہوتی ہو۔ اس مفہوم سے واقفیت کے بغیر وحید قریشی کے اس الزام کی تردید نہیں ہوسکتی جو انھوں نے عطیہ اور ابوالکلام کا نام لے کر شبلی پر عائد کیا ہے۔ یہاں اس لفظ کی تفہیم کی کوشش اس لیے کی گئی ہے کہ اس تفہیم سے وحید قریشی کے الزام کی لغویت پوری طرح واضح ہوجائے۔
تیسری مثال پروفیسر ظہور الدین کے ایک مضمون کے اس جملے میں ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ شبلی نے شعر العجم کی اس (پہلی) جلد کی تالیف کے دوران سب سے زیادہ استفادہ لٹریری ہسٹری سے کیا۔ بسا اوقات تو انھوں نے برائون کے دلائل کے محض ترجمہ کرنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔۔۔۔ ‘‘ ۶؎
اس قسم کی کچھ باتیں ناصر عباس نیر نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھی ہیں اور ان تحریروں کے سبب شبلی کے کسی مضمون سے استفادہ کرنے، ترجمہ کرنے یا سرقہ کرنے کے مفاہیم ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئے ہیں۔ شبلی انگریزی کے اسکالر نہیں تھے۔ ان کے کسی مداح نے بھی ان کے انگریزی داں ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ایسی صورت میں ان پر یہ الزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کسی انگریزی تحریر کا سرقہ یا ترجمہ کیا۔ انگریزی تحریروں کے اردو، عربی، فارسی ترجموں سے ان کے استفادہ کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ضروری بھی تھا کہ اس کے بغیر اس موضوع کا حق نہیں ادا کیا جاسکتا تھا جس پر شبلی لکھ رہے تھے اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام بھی صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے کئی مصنفین کی اصل یا ترجمہ کی ہوئی تحریروں کو پیش کرنے کے بعد اپنا تنقیدی نقطۂ نظر پیش کیا ہے اور تنقیدی نقطہ نظر کا اصل جوہر یا دوسرے لفظوں میں ادب کی اعلیٰ قدروں سے ان کی وابستگی، نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی اور تربیت یافتہ ادبی مذاق سے آگہی اس وقت سامنے آئی ہے جب شبلی نے کسی تخلیق کار یا اس کے تخلیقی شاہکار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ فردوسی اور عمر خیام وغیرہ پر ان کی تنقیدی نگارشات اور جملے اس کی دلیل ہیں۔ اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام اسی صورت میں قابل اعتناء ہوسکتا تھا جب ان کے تنقیدی جائزے یا اخذ کیے ہوئے نتیجے میں کسی اور کی تحریر کی نشاندہی کی جاتی۔ پروفیسر ظہور الدین اور ناصر عباس نیر کی کئی تحریریں استفادہ، ترجمہ اور سرقہ جیسے لفظوں میں حد فاصل قائم رکھنے میں ناکام رہنے کے علاوہ اس لیے بھی ناقابل اعتناء ہیں کہ ان میں شبلی کے مآخذ اور دلائل پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، اخذ کیے ہوئے نتائج پر نہیں۔
شبلی کی علمی فکری وراثت میں ان کا اسلوب نگارش بھی شامل ہے جس میں لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے معنوی مناسبت کے علاوہ صوتی مناسبت کا بھی التزام ہے۔ وہ اس حد تک لفظوں کے احترام کے قائل تھے کہ لفظوں کے اصراف سے ہی نہیں ان کے بے جا استعمال سے بھی گریز کرتے تھے۔ وہ فلسفیانہ موضوعات پر مضمون لکھ رہے ہوں یا علمی اور ادبی موضوعات پر، لفظوں کی اس تہذیب سے ان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جو جمالیاتی احساس اور علمی وقار سے عبارت ہے اور جس میں لطافت، متانت، سلاست اور لفظ کی کفایت کے ساتھ وضاحت، صراحت، قطعیت اور جامعیت بھی ہے۔ مثال کے طور پر پیش ہے ’’ شعر العجم ‘‘ سے ایک مختصر اقتباس :
’’ اس عالم میں شاعر کی تاریخ زندگی عجیب دلچسپیوں سے بھری ہوتی ہے۔ بلبل نے اسی عالم میں اس سے زمزمہ سنجی کی تعلیم پائی ہے۔ پروانے اس کے ساتھ کے کھیلے ہیں۔ شمع سے رات بھر وہ سوز دل کہتا رہا۔ نسیم سحری کو اکثر اس نے قاصد بنا کر محبوب کے یہاں بھیجا ہے۔ بارہا اس نے غنچہ کی عین اس وقت پردہ دری کی جب وہ معشوق کا تبسم چرا رہا تھا۔ واقعات عالم پر جب وہ عبرت کی نظر ڈالتا ہے تو ایک ایک ذرہ ناصح بن کر اس کو اخلاق اور موعظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس عالم میں وہ گور غریباں میں جا نکلتا ہے تو بوسیدہ ہڈیاں اعلانیہ اس سے خطاب کرتی ہیں۔ عالم شوق میں وہ پھول ہاتھ میں اٹھا لیتا ہے تو اس کو صاف معشوق کی خوشبو آتی ہے۔ ‘‘ ۷؎
شبلی کی اس نثر میں زمزمہ سنجی، شمع، پروانہ، سوز دل، نسیم سحری، معشوق کا تبسم، بوسیدہ ہڈیاں جیسے الفاظ اور تراکیب میں ارتباط لفظ و معنی کے ساتھ ارتباطِ صوت و حرف کی بھی خوبصورت مثالیں موجود ہیں اور ان کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراکیب و الفاظ بنے ہی تھے اس موقع و مقام کے لیے جہاں شبلی نے انہیں استعمال کیا ہے۔ معاندین شبلی کی تحریروں، خاص طور سے شبلی کی شخصیت کو داغدار یا ان کی علمی حیثیت کو ٹھیس پہنچانے کے لیے لکھی گئی تحریروں میں لفظ و معنی کے ارتباط اور الفاظ و تراکیب کے استعمال کی وہ تہذیب جو شبلی کی علمی فکری وراثت کے علاوہ اردو نثر کی بھی روح ہے، نہ صرف یہ کہ موجود نہیں ہے بلکہ اس میں استعمال کیے ہوئے بعض لفظ ’’ اسقاطِ لفظ ‘‘ کی مثال بن گئے ہیں۔
حواشی
۱ٍ۔ ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ, شبلی کا تصور لفظ و معنی , مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی ۱۹۹۴ء, ص ۱۰۰
۲۔ مولوی محمد امین زبیری, خطوطِ شبلی, لاہور, ص ۳۶
۳۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور , ص ۳۲
۴۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور, ص ۴۱
۵۔ مہدی بیگم, مکاتیب مہدی, ص ۷
۶۔ پروفیسر ظہور الدین, شبلی : شعر العجم جلد اول کی روشنی میں, مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی , ص ۱۱۲
۷۔ شبلی نعمانی, شعر العجم
