INTEKHAB E KALAM IRFAN JAFRI

Articles

عرفان جعفری


انتخابِ کلام عرفان جعفری

انتخابِ کلام عرفان جعفری

غزلیں
ہوئی جو ہم پہ عنایت سنبھال رکھی ہے
بڑے جتن سے یہ تہمت سنبھال رکھی ہے
ہمیں غریب نہ سمجھو بہت امیر ہیں ہم
تمہارے درد کی دولت سنبھال رکھی ہے
کوئی ملال نہ شکوہ دعائیں سب کے لیے
یہ خاندانی روایت سنبھال رکھی ہے
مرا یہ جسم تو ہے سرکشی پہ آمادہ
فصیلِ جاں نے بغاوت سنبھال رکھی ہے
تری کشش ترے گیسو ترے لب و رخسار
ہمیں نے ایسی قیامت سنبھال رکھی ہے
کبھی جو سرد سا موسم بہت ستائے تو
ترے بدن کی حرارت سنبھال رکھی ہے
٭٭٭
ہری فصل کیسے جھلس گئی کہاں کاشتکار چلے گئے
یہ ندی بھی خود میں سمٹ گئی سبھی آبشار چلے گئے
یہ تو جگنوﺅں کا نصیب تھا کوئی فیض ان کو نہ مل سکا
جو سجانے آئے تھے رہگزر وہ پسِ غبار چلے گئے
وہ تھی شاہزدے کی منتظر یہی خواب اس کی سزا ہوا
اسے پھینک کر کسی دشت میں سبھی شہہ سوار چلے گئے
مجھے خاص کوئی شغف نہیں کہیں میکدہ جو قریب ہو
بھلا یہ بھی کوئی خطا ہوئی جو کبھی کبھار چلے گئے
مرا عیب تھا کہ نصیب تھا کہ یہ دوستوں کا فریب تھا
مری التجا بھی نہیں سنی مرے غم گسار چلے گئے
نہ میں قید ہوں نہ رہا ہوا مری سلطنت مری جیل ہے
میں ظفر کے ایسا ہوں تاج ور سبھی اختیار چلے گئے
وہ جو مختصر سی کتاب تھی جنھیں یاد تھی وہ ورق ورق
اسے پانیوں میں ہی پھینک کر وہ ندی کے پار چلے گئے
٭٭٭
ہونے تھے جتنے کھیل مقدر کے ہوگئے
ہم ٹوٹی ناﺅ لے کے سمندر کے ہوگئے
آوارگی سمٹ کے در و بام بن گئی
لو ہم بھی شہر چھوڑ کے اب گھر کے ہوگئے
اب کون آکے مجھ سے کھلونوں کی ضد کرے
بچے جواں ہوئے تو برابر کے ہوگئے
خوشبو ہمارے ہاتھ کو چھو کر گزر گئی
ہم سب کو پھول بانٹ کے پتھر کے ہوگئے
٭٭٭
جب سے ترے مزاج میں چاہت نہیں رہی
ہم کو بھی تیرے در کی ضرورت نہیں رہی
پتھراﺅ جسم و جان پہ حد سے گزر گیا
پھر یوں ہوا کہ درد میں شدت نہیں رہی
تم نے بھی اپنے آپ کو محدود کرلیا
ہم کو بھی انتظار کی عادت نہیں رہی
دل کی شکستگی کو زمانہ گزر گیا
اس حادثے پہ اب کوئی حیرت نہیں رہی
اچھا ہوا جو تم سے تعلق نہیں رہا
دن رات سوچنے کی اذیت نہیں رہی
دن کی تھکان رات کو بستر پہ لے گئی
تم کو بھی یاد کرنے کی فرصت نہیں رہی
٭٭٭
یہ رہگزارِ شوق بھی کتنی طویل ہے
گھر سے چلے تھے سوچ کے دوچار میل ہے
اب اور غم ملے نہ ملے کوئی غم نہیں
اس میکدے میں تشنہ لبی خود کفیل ہے
ظلم و ستم نے مصر پہ قبضہ جمالیا
موسیٰ کے انتظار میں دریائے نیل ہے
اتنا نہ خرچ کیجئے رکھئے سنبھال کر
آنکھوں میں آنسوﺅں کا ذخیرہ قلیل ہے
مرغابیوں کی ڈار نے یہ تو بتا دیا
جنگل میں آس پاس ہی گہری سی جھیل ہے
مجھ کو لگا کہ درد کی بارش کرے گا وہ
اک زخم دے کے رہ گیا کیسا بخیل ہے
٭٭٭
ترا خیال ہے یا روشنی کی بوچھاریں
تمام رات چمکتی ہیں گھر کی دیواریں
بس ایک پل کے لیے تجھ کو میں نے سوچا تھا
مرے وجود سے آنے لگی ہیں مہکاریں
ہرایک سانس کا جزیہ چکا دیا ہم نے
کوئی بتائے کہ اب زندگی پہ کیا واریں
کچھ اس طرح سرِ مقتل کیا ہے رقصِ جنوں
ہمارے بعد بھی گونجا کریں گی جھنکاریں
یہ رات ٹوٹ کے جب تک بکھر نہیں جاتی
نئی سحر پر لٹکتی رہیں گی تلواریں
یہ زندگی ہے کہ عرفان جنگلوں کا سفر
دعا کرو کہ مسافر نہ حوصلہ ہاریں
٭٭٭
نظمیں

اورنگ زیب کے مزار پر ایک لمحہ

تم جو اک سطوتِ شاہانہ کے مالک تھے کبھی
ابھی دلی تو ابھی ارضِ دکن
رات دن گھوڑے پہ سرگرمِ سفر رہتے تھے
تپتے صحراﺅں میں خیموں میں بسر کرتے تھے
ایک فرمان سے قسمت پہ لگاتے تھے مہر
پھر بھی شاہی میں فقیرانہ ادا رکھتے تھے
تم کو اپنے لیے ہوسِ جاہ نہ تھی
مسندِ شاہی کو
دولت کی کوئی چاہ نہ تھی
تم تو وہ تھے جو گزارے کے لیے
نانِ جویں کی خاطر
ٹوپیاں سی کے ، صحیفے کی کتابت کرکے
پس انداز کیا کرتے تھے
شکر ادا کرتے تھے
تم تو وہ تھے کہ جہاں اپنے قدم رکھتے تھے
بس وہیں فتح کے نقارے بجا کرتے تھے
آج یہ حال ہے
تمہاری قبر ہے
جس پر نہیں ہے چھت یا سائبان کوئی
قریب اس کے وہیں
مرشد کی خانقاہ بھی ہے
اور تمہاری قبر کے ماتھے پہ
رکھا ہے
لکڑی کا مقفل ڈبہ
جس میں ڈالے گئے سکوں کی کھنک
دور تلک جاتی ہے
جس کو سنتے ہیں جب
ہم جیسی سماعت والے
دکھ کی اک لہر سی رگ رگ میں ابھر آتی ہے
روح کا کرب چھلک اٹھتا ہے
اور اسی کرب کی گہرائی سے
ایک پرچھائیں ابھر آتی ہے
اور کہتی ہے کہ :”یہ لکڑی کا مقفل ڈبہ
وقفہ¿ شب کی طرح حائل ہے
یہ میری قوم کا ماضی ہے،
نہ مستقبل ہے
یہ جو ہٹ جائے اگر
نورِ سحر
نورِ سحر
نورِ سحر ہے آگے“
٭٭٭

خمیازہ

دن کے لمحے چکھو
اور تھوک دو
رات میں ذائقوں کے سپنے بنو
پھیکے پھیکے پلوں
میں جیتے رہو
شکایت مت کرو
لذتیں ڈھونڈتے رہو
کہاں سے آئیں گی؟
جو تھوڑی سی چینی تھی
کہیں گر گئی
جو تھوڑا سا نمک تھا بچ گیا تھا
بارش میں بہہ گیا
٭٭٭

یومِ پیدائش

میں
جسم لیے پھرتا تھا
لیکن اس میں جان نہ تھی
میری پیاری پیاری بیٹی
جس دن تم نے جنم لیا تھا
مجھ میں روح سمائی تھی
اس کے بعد کسی سے اپنی
اتنی عمر بتاتا ہوں
جتنے برس کی تم ہوتی ہو
سننے والے ہنستے ہیں
چہرہ میرا دیکھ دیکھ کے
حیرت سے سب تکتے ہیں
سب کو میں ان دیکھا کرکے
چپکے سے مسکاتا ہوں
٭٭٭