کرشن چندر اردو کے مشہور و معروف افسانہ نگار ہیں۔ ان کی پیدائش 23/ نومبر1914کو وزیر آباد، ضلع گجرانوالہ، پنجاب (پاکستان) میں ہوئی تھی۔ ان کے والد گوری شنکر چوپڑا میڈیکل افسر تھے۔ انھوں نے کرشن چندر کی تعلیم کا خاص خیال رکھا۔ کرشن چندر نے چونکہ تعلیم کا آغاز اردو اور فارسی سے کیا تھا اس لئے اردوزبان و ادب پر ان کی گرفت کافی تھی۔ابتدائی تعلیم پونچھ(جموں کشمیر) میں ہوئی۔ 1930کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے لاہور آگئے اور فورمین کرسچن کالج میں داخلہ لیا۔1934میں پنجاب یونیورسٹی سے انگریزی میں ایم۔اے کیا۔
کرشن چندر کی ادبی زندگی صحیح معنوں میں ”ادبی دنیا“ لاہور سے شروع ہوئی۔ جہاں صلاح الدین احمد نے ان کی بہت حوصلہ افزائی کی۔ اسی زمانے میں کرشن چندر کو آل انڈیا ریڈیو، لاہور میں ملازمت مل گئی اور سال بھر میں دہلی اور پھر لکھنؤ تبادلہ ہوگیا۔لکھنؤ اس زمانے میں ترقی پسند تحریک کا مرکز تھا۔ لکھنؤ کے قیام کے دوران ہی انھیں شالیمارپکچرز کی طرف سے مکالمے لکھنے کی دعوت ملی اور وہ ریڈیو کی ملازمت سے استعفیٰ دے کر پونہ چلے گئے۔بعد میں مستقل طور پر ممبئی میں سکونے اختیار کرلی اور یہیں کے ہوکر رہ گئے۔
کرشن چندر نے پنجاب اور کشمیر کی رومان پرورآب و ہوا میں ہوش سنبھالا اس لیے ابتدائی دور کے اکثر افسانوں اور ناولوں میں سماجی حقیقت نگاری اور طبقاتی شعور کا عنصر کم کم نظر آتا ہے اور رومانیت کا عنصر زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ لیکن دھیرے دھیرے جب ان کے ذہن نے پختگی اختیار کی اور سماجی معاملات سے ان کا سابقہ پڑا تو لہجے میں تبدیلی آئی اور اس میں حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ طنز کا عنصر بھی شامل ہوتا چلا گیا۔
کرشن چندرنے اپنے افسانوں میں اس دور کے معاشی، سیاسی اور سماجی صورت حال کی خامیوں، مثلاً بیجا رسم و روایات، مذہبی تعصبات، آمرانہ نظام اور تیزی سے اْبھرتے ہوئے دولت مند طبقے کے منفی اثرات وغیرہ جیسے موضوعات کو شامل کیا۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آخر میں تحریر کئے گئے ان کے زیادہ تر افسانوں میں زندگی کے اعلیٰ معیار اور اس کے اقدار پر بحث کی گئی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ انہیں پڑھنے اور پسند کرنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ان کی کئی تصنیفات، مثلاً ’کالو بھنگی‘، ’مہالکشمی کا پل‘ اور ’ایک گدھے کی سرگزشت‘ وغیرہ قارئین کے ذہن پر تادیر اپنا تاثر قائم رکھتے ہیں۔ کرشن چندر اپنے ہمعصر افسانہ نگاروں سے کسی حد تک مختلف تھے۔ کرشن چندر کو زبان پر جو عبور حاصل تھا اور ان کی خوبصورت اور آرائشی زبان قاری کو آغاز میں ہی اپنی گرفت میں لے لیتی ہے اور افسانہ کے آخر تک اس سے باہر نکلنے کا موقع نہیں دیتی۔کرشن چندر کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ہوئے معروف نقاد گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:
”کرشن چندر اردو افسانے کی روایت کا ایک ایسا لائق احترام نام ہے جو ذہنوں میں برابر سوال اٹھاتا رہے گا۔ ان کے معاصرین میں سعادت حسن منٹو اور راجندر سنگھ بیدی بے حد اہم نام ہیں۔ یہ حقیقت ہے کہ کرشن چندر ۰۶۔۵۵۹۱ء تک اپنا بہترین ادب تخلیق کر چکے تھے۔ ان کا نام پریم چند کے بعد تین بڑے افسانہ نگاروں میں آئے گا“(افسانہ بیسوی صدی میں۔ از: مہدی جعفر۔ ص: ۹۳۱۔ معیار پبلی کیشنز، دہلی۔۳۰۰۲ء)
کرشن چندر کے افسانوں کو مدنظر رکھتے ہوئے بلامبالغہ اس بات کا اعتراف کیا جا سکتا ہے کہ وہ نہ صرف محبت کے جذبہ اور احساس کو پورے انہماک اور حساسیت کے ساتھ اپنی کہانیوں میں پیش کرتے تھے بلکہ سماجی برائیوں کو بھی انتہائی کامیابی کے ساتھ قارئین کے سامنے رکھتے تھے۔ وہ ترقی پسند تحریک سے وابستہ تھے اور اسی لئے عام انسان کے حقوق کی بات کرتے تھے۔ ان کے دل میں امیروں کے تئیں بغاوت اور بدلے کا جذبہ تھا۔
’زندگی کے موڑ پر‘ اور ’بالکونی‘ جیسے رومانی افسانے نہ صرف جذباتی ہیں بلکہ قاری کو سوچنے پر بھی مجبور کرتے ہیں۔ جہاں ایک طرف ’زندگی کے موڑ پر‘ افسانہ پنجاب کی قصباتی زندگی کی انتہائی رومانی شبیہ پیش کرتا ہے، وہیں ’بالکونی‘ کشمیر کی خوبصورتی اور آب و ہوا کا عکاس ہے۔ کرشن چندر کے یہ رومانی افسانے دوسرے افسانہ نگاروں کے ذریعہ لکھے گئے افسانوں سے قدرے مختلف ہیں کیونکہ وہ ان افسانوں میں بھی روز مرہ کے عمل کے اندر سماجی عنصر کی تلاش کر لیتے ہیں۔ گویا کہ کرشن چندر کے رومانی افسانوں کی دنیا اردو افسانے کی روایتی رومانی دنیا نہیں ہے۔ اس ضمن میں محمد حسن عسکری نے تحریر کیا ہے کہ:
”اب رہی وہ رومانیت جسے عام طور پر کرشن چندر سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس کے وہ افسانے جنہیں رومانی کہا جاتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لئے اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ یہ افسانے رومانی ہیں، تب بھی کرشن چندر کی رومانیت دوسروں سے کافی مختلف ہے۔ وہ رومان کی تلاش میں ہجرت کر کے مالدیپ نہیں جاتا بلکہ یہ کوشش کرتا ہے کہ روز مرہ کی زندگی میں رومان کے امکانات ہیں یا نہیں۔ درحقیقت یہ افسانے رومانی نہیں ہیں بلکہ رومان کے چہرے سے نقاب اٹھاتے ہیں“۔(افسانہ بیسوی صدی میں۔ از: مہدی جعفر۔ ص:۱۴۱۔ معیار پبلی کیشنز، دہلی۔۳۰۰۲ء)
کرشن چندر نے ہندوستان کی تقسیم کے موقع پر ہونے والے فرقہ وارانہ فسادات کو بنیاد بنا کر بھی کئی افسانے لکھے جن میں ’اندھے‘، ’لال باغ‘، ’جیکسن‘، ’امرتسر‘ اور ’پیشاور ایکسپریس‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں کرشن چندر نے اس وقت کی سیاست کے عوام مخالف کرداروں پر بلاجھجک اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سیاسی برائیوں سے پیدا شدہ ماحول پر ضرب لگاتے ہوئے انسانی رشتوں اور جذبات کو اہمیت دی ہے۔ وہ ان افسانوں میں فرقہ واریت کی اصل ذہنیت اور صورت حال کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لئے انسانیت پر مبنی سماجی نظام کی تعمیر پر زور دیتے ہیں۔
کرشن چندر کے شاہکار افسانوں میں ’کالو بھنگی‘ کافی اہمیت رکھتا ہے۔ اس کہانی میں انہوں نے چھوٹی ذات سے تعلق رکھنے والے کالو بھنگی کے ذریعہ پسماندہ طبقات کی پریشان حال زندگی اور ان کے مسائل سے روشناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے۔ اس کہانی میں صرف کالو بھنگی کی پریشانیوں اور جدوجہد کو ہی پیش نہیں کیا گیا ہے بلکہ پورے سماج کی پست ذہنیت کو بھی ظاہر کیا گیا ہے۔
کرشن چندر کی تقریباً ۰۸کتابیں شائع ہوئیں۔ حالانکہ انھوں نے ناول، افسانے، ڈرامے، رپورتاژ، مضامین گویا کہ نثرکی کماحقہ‘ اصناف میں طبع آزمائی کی تاہم ان کی بنیادی شناخت ایک افسانہ نگار کی ہے۔ان کے ناولوں میں شکست، جب کھیت جاگے، اور آسمان روشن ہے قابلِ ذکر ہیں لیکن کوئی ناول زیادہ کامیاب نہ ہوا۔ کرشن چندر دراصل بسیار نویس اور زود نویس تھے اور اسی چیز نے ان کے فن کو نقصان پہنچایا۔ان کی مقبولیت رومانیت اور سبک و رواں نثر کی وجہ سے تھی جس میں گویا ایک طرح کی جادو اثری تھی۔ ان کے بہترین افسانے ان کی رومان پسندی، حسن کاری، فطرت پرستی، انسان دوستی اور بہتر سماج کی آرزو مندی کے سبب زندہ رہیں گے۔
کرشن چندرنے کئی فلموں کی کہانیاں، منظرنامے اور مکالمے تحریر کئے۔ ’دھرتی کے لال‘، ’دل کی آواز‘، ’دو چور‘، ’دو پھول‘، ’من چلی‘، ’شرافت‘ وغیرہ ایسی فلمیں ہیں جنہوں نے کرشن چندر کی صلاحیتوں کو فلم ناظرین کے سامنے پیش کیا۔کرشن چندر کا انتقال8/ مارچ 1977 کو ممبئی میں ہوا۔
٭٭٭
یہ تحریر ڈاکٹر قمر صدیقی، ممبئی کی ہے۔
Krishan Chandar: Life and Work
Articles
کرشن چندر: حیات اور خدمات
---
Rajindar Singh Bedi: Life and Work
Articles
راجندر سنگھ بیدی: حیات اور خدمات
---
اردو کے معروف فکشن نگار راجندر سنگھ بیدی غیرمنقسم پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکامیں 1915 میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزرے۔ اس زمانے کی روایت کے مطابق انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اردو میں حاصل کی۔1931میں میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد ڈی۔اے۔وی کالج لاہور سے انٹر میڈیٹ کیا۔گھرکے معاشی حالات بہت اچھے نہ تھے اس وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کا گریجویشن کرنے کا خواب شرمندہئ تعبیر نہ ہوسکا۔1932 سے طالب علمی کے زمانے میں ہی انگریزی، اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے تھے۔
راجندر سنگھ بیدی کے معاشی حالات چونکہ اچھے نہ تھے۔لہٰذا محض18سال کی عمر میں انھوں نے لاہور پوسٹ آفس میں 1933میں بطورکلرک ملازمت اختیار کرلی۔یہ ملازمت ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو راس نہیں آرہی تھی اوروہ بہتر ملازمت کی تلاش میں تھے۔ 1941میں انھیں آل انڈیا ریڈیو، لاہور کے اردو سیکشن میں ملازمت مل گئی۔ آل انڈیا ریڈیو کے ادبی ماحول میں ان کی صلاحیتیں دھیرے دھیرے نکھرنے لگیں۔ اس دوران انھوں نے ریڈیو کے لیے متعددڈرامے تحریر کیے۔ ان ڈراموں میں ”خواجہ سرا“ اور ”نقل مکانی“ بہت مشہور ہوئے۔ بعد ازاں ان دونوں ڈراموں کو ملاکر انھوں نے 1970 میں فلم ”دستک“ بنائی۔
1943میں راجندر سنگھ بیدی لاہور کے مہیشوری فلم سے وابستہ ہوگئے۔ اس ملازمت میں ڈیڑھ سال رہنے کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو واپس آگئے۔ ریڈیو واپسی پر انھیں جموں میں تعینات کیا گیا جہاں وہ 1947 تک رہے۔1947میں ملک کی تقسیم ہوئی اور بیدی کا خاندان ہندوستان کی ریاست پنجاب کے فاضلکہ میں آباد ہوگیا۔ البتہ بیدی پاکستان سے نقل مکانی کرکے ممبئی آگئے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئے۔ڈی ڈی کیشپ کی نگرانی میں بننے والی فلم ”بڑی بہن“ بطور مکالمہ نگار ہندوستان میں بیدی کی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم1949 میں ریلیز ہوئی۔ ان کی دوسری فلم ”داغ“ تھی جسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور فلم انڈسٹری میں بیدی کی شناخت قائم ہوگئی۔ ”داغ“1952میں ریلیز ہوئی تھی۔
1954 میں بیدی نے امرکمار، بلراج ساہنی اور گیتا بالی کے ساتھ مل کر ”سِنے کو آپریٹیو“ نامی فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی نے پہلی فلم ”گرم کوٹ“ بنائی جو بیدی کے ہی مشہور افسانہ ”گرم کوٹ“ پر مبنی تھی۔ اس فلم میں بلراج ساہنی اور نروپارائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھاجبکہ امرکمار نے ہدایت کاری کی خدمات انجام دی تھیں۔اس فلم کے ذریعے راجندر سنگھ بیدی کو پہلی بار اسکرین پلے تحریر کرنے کا موقع ملا۔ سِنے کو آپریٹیو نے دوسری فلم ”رنگولی“ بنائی جس میں کشور کمار، وجنتی مالا اور درگا کھوٹے نے مرکزی کردار ادا کیے اور امرکمار نے ڈائریکشن دیا۔ اس فلم میں بھی اسکرین پلے راجندر سنگھ بیدی نے ہی تحریر کیا تھا۔
اپنی ذاتی فلم کمپنی کے باوجود بیدی نے مکالمہ نگاری جاری رکھی اور متعدد مشہور فلموں کے ڈائیلاگ تحریر کیے۔ جن میں سہراب مودی کی فلم ”مرزا غالب“ (1954)، بمل رائے کی فلم ”دیو داس“(1955)اور ”مدھومتی“(1958) امرکمار اور ہریکیش مکرجی کی فلمیں ”انورادھا“ (1960)، ”انوپما“(1969)، ”ستیم“ (1966)، ”ابھیمان“ (1973) وغیرہ شامل ہیں۔
1970میں فلم ”دستک“ کے ساتھ انھوں نے ہدایت کاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں سنجیو کمار اور ریحانہ سلطان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ موسیقی کار مدن موہن تھے۔ ”دستک“ کے علاوہ انھوں نے مزید تین فلموں ”پھاگن“ (1973)، ”نواب صاحب“ (1978) اور ”آنکھوں دیکھی“(1978) میں ہدایت کاری کے جوہر دکھائے۔
راجندر سنگھ بیدی کے ناول ”ایک چادر میلی سی“ پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلم بن چکی ہے۔ پاکستان میں 1978 میں ”مٹھی بھر چاول“ کے عنوان سے جبکہ ہندوستان میں ”ایک چادر میلی سی“ کے ہی نام سے1986میں۔ اس طرح وہ برصغیر ہند و پاک کے واحد فکشن نگار ہیں جن کی ایک ہی کہانی پر دونوں ممالک میں یعنی ہندوستان اور پاکستان میں فلم بن چکی ہے۔بیدی کے افسانے ”لاجونتی“ پر نینا گپتا2006میں ایک ٹیلی فلم بھی بنا چکی ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کی شادی خاندانی روایت کے مطابق کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی بیوی گھریلو خاتون تھیں اور بیدی نے تا عمر ان کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک رکھا۔حالانکہ اداکارہ ریحانہ سلطان کے ساتھ معاشقے کی خبریں بھی گرم ہوئیں تاہم بیدی کی ازدواجی زندگی پر اس کے کچھ خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ بیدی کی شخصیت میں امن پسندی، صلح کل اور محبت و رواداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہی محبت واپنائیت ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا سبب بنی۔ بیدی کی صرف ایک اولاد تھی جس کا نام نریندر بیدی تھا۔ جوان ہوکر نریندر بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے اور بطور فلم ڈائریکٹر اور فلم ساز انھوں نے خوب نام کمایا۔ان کی مشہور فلموں میں ”جوانی دیوانی“(1972)، ”بے نام“ (1974)، ”رفو چکر“ (1975) اور ”صنم تیری قسم“ (1982) وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ نریندر بیدی1982 میں انتقال کرگئے۔ بیٹے کی اس ناگہانی موت کے صدمے سے راجندر سنگھ بیدی ابھر نہ سکے اور نریندر کی موت کے دو سال بعد1984میں وہ بھی دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
راجندر سنگھ بیدی کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کے کل چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ”دانہ و دام“(1936)اور ”گرہن“ (1942) آزادی سے پہلے شائع ہوچکے تھے۔”کوکھ جلی“(1949)، ”اپنے دکھ مجھے دے دو“(1965)، ”ہاتھ ہمارے قلم ہوئے“(1974)اور ”مکتی بودھ“ (1982) آزادی کے بعد منظر عام پر آئے۔ ڈراموں کے دو مجموعے ”بے جان چیزیں“(1943) اور ”سات کھیل“ (1974) بھی شائع ہوئے۔ ان کا ناولٹ ”ایک چادر میلی سی“1962میں شائع ہوا۔ انھیں 1965 میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جبکہ1972میں حکومتِ ہند نے پدم شری کا خطاب عطا کیا۔ 1978میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔
راجندر سنگھ بیدی کو کردار نگاری اور انسانی نفسیات کی مرقع کشی میں کمال حاصل تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقت نگار تھے۔اگرچہ انھوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا، وہ قدرِ اول کی چیز ہے۔ بیدی کسی فیشن یا فارمولے کے پابند نہیں تھے۔ ان کے افسانوں میں مشاہدے اور تخیل کی آمیزش ملتی ہے۔ انسانی نفسیات پر گہری نظر کی وجہ سے ان کے کردار صرف سیاہ و سفید کے خانوں میں بند نہیں، بلکہ انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ اس تعلق سے پروفیسر شمس الحق عثمانی رقم طراز ہیں:
”راجندر سنگھ بیدی کے فن کے ان اجزا و عناصر….. ان کی پُر جہد زندگی……. اور ان کی پُر گداز شخصیت کے تارو پود کو ایک دوسرے کے قریب رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے وجود کے جن لطیف ترین اجزا کے تحفظ و ارتفاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی زندگی میں پیش کیا، ان اجزا نے انھیں گہرا ایقان اور عمیق بصیرت عطا کی…….اسی ایقان اور بصیرت نے اُن کے پورے فن میں وہ عرفانی کیفیت خلق کی ہے جس کے وسیلے سے راجندر سنگھ بیدی اپنے ارد گرد سانس لینے والے افراد کو شناخت کرتے اور کراتے رہے۔ افراد کی شناخت کا یہ عمل دراصل کائنات شناسی کا عمل ہے کیونکہ راجندر سنگھ بیدی کا فن، آدمی کے وسیلے سے ہندوستانی معاشرے…… ہندوستانی معاشرے کے وسیلے سے آدمی……..اور ہندوستانی آدمی کے وسیلے سے پورے انسانی معاشرے کی شناخت کرتا ہے۔“(ممبئی کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتگان۔ مرتب: پروفیسر صاحب علی۔ ص: ۶۰۱۔ ناشر: شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی)
راجندر سنگھ بیدی کی کہانیوں میں رمزیت، استعاراتی معنویت اور اساطیری فضا ہوتی ہے۔ ان کے کردار اکثر و بیشتر محض زمان و مکاں کے نظام میں مقید نہیں رہتے بلکہ اپنے جسم کی حدود سے نکل کر ہزاروں لاکھوں برسوں کے انسان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ یوں تو ان کے یہاں ہر طرح کے کردار ملتے ہیں لیکن عورت کے تصور کو ان کے یہاں مرکزیت حاصل ہے۔ عورت جو ماں بھی ہے، محبوبہ بھی، بیوی بھی اور بہن بھی۔ ان کے یہاں نہ تو کرشن چندر جیسی رومانیت ہے اور نہ منٹو جیسی بے باکی۔ بلکہ ان کا فن زندگی کی چھوٹی بڑی سچائیوں کا فن ہے۔ فن پر توجہ بیدی کے مزاج کی خصوصیت ہے۔ ان کے افسانوں میں جذبات کی تیزی کے بجائے خیالات اور واقعات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے زندگی کی گہری ///معنویت ہوتی ہے۔
(یہ تحریر ڈاکٹر قمر صدیقی کی ہے)
Sadat Hasan Manto: Life and Work
Articles
سعادت حسن منٹو: حیات اور خدمات
ڈاکٹر قمر صدیقی
سعادت منٹو کی ولادت لدھیانہ کے سبرمالہ ضلع کے پاپرودی گاؤں میں 11/مئی1912 میں ہوئی۔ والد کانام میاں غلام حسن تھا جو حکومت پنجاب کے محکمہئ انصاف میں سب جج کے عہدے پر فائز تھے۔ منٹو کی والدہ سردار بیگم، میاں غلام حسن کی دوسری بیوی تھیں۔ منٹو کومیٹرک کا امتحان مسلم ہائی اسکول، امرتسر سے پاس کرنے میں چار برس لگ گئے۔ تین بار فیل ہوئے اور آخر کار1931 میں یہ امتحان درجہ سوم میں پاس کیا۔ اردو کے مضمون میں برابر فیل ہوتے رہے تھے، چوتھی بار میٹرک تو پاس ہوگئے لیکن اردو کے مضمون میں فیل ہی رہے۔ انٹر کے طالبِ علم کی حیثیت سے پہلے ہندو سبھا کالج امرتسر میں داخلہ لیا اور اُس کے بعد ایم اے او کالج، امرتسر چلے گئے۔ انٹر تو نہ کرسکے البتہ1935میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی پہنچ گئے۔ لیکن تپ دق کا مریض ہونے کی وجہ سے یونیورسٹی حکام نے انھیں کیمپس کے حدود میں رہنے سے منع کردیا۔ منٹو ایک بار پھر امرتسر واپس آگئے اور غازی عبد الرحمن کے اخبار ”مساوات“ میں مترجم کی حیثیت سے نوکری کرلی۔ یہی وہ زمانہ ہے جب منٹو نے عبدالباری علیگ کی حوصلہ افزائی کے طفیل 1933میں وکٹر ہیگو کے ناول The Last Days of Condemnکا ترجمہ ”سرگزشتِ اسیر“ کے نام سے اور آسکر وائلڈ کے ایک ڈرامے کا حسن عباس کے اشتراک سے ”ویرا“ کے عنوان سے کیا۔ منٹو کے تراجم اردو میں مقبول ہوئے اور انھوں نے ایک طرح سے راتوں رات شہرت حاصل کرلی۔ اِس شہرت سے منٹو کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ آل انڈیا ریڈیو، دہلی میں بطور اسکرپٹ ایڈیٹر ملازم ہوگئے۔ اسی شہرت کے چلتے انھیں منورنجن پکچرز کی فلم ”بنجارہ“ لکھنے کا موقع بھی ملا۔ تاہم فلم مکمل ہونے سے پہلے ہی یہ ادارہ بند ہوگیا اور فلموں میں لکھنے کا شوق منٹوکو ممبئی لے آیا۔ ممبئی کی فلم نگری کو شروع میں بطور فلم رائٹر منٹو کچھ زیادہ متاثر نہ کرسکے لہٰذا وہ ہفتہ وار فلمی اخبار ”مصور“ سے بطور ایڈیٹر منسلک ہوگئے۔اسی ہفتہ وار اخبار سے منسلک رہتے ہوئے منٹو نے دھواں، کالی شلوار، بو، کھول دواور ٹھندا گوشت جیسے افسانے تحریر کیے۔ ان افسانوں میں فحش نگاری کو بنیاد بناکر انجمن ترقی پسند مصنفین نے منٹو کو انجمن سے بے دخل کردیااور حکومت نے بھی منٹو پر مقدمے قائم کیے۔ مئی1938میں منٹو کا نکاح کشمیری خاندان کی ایک سادہ سی لڑکی صفیہ سے ہوا۔ شادی کے بعد منٹو ’سنے ٹون فلم کمپنی‘ سے منسلک ہوگئے اور اس کمپنی کے لیے انھوں نے فلم ’اپنی نگریا‘ لکھی۔ یہ فلم 1940 میں ریلیز ہوئی۔ فلم سوپر ہٹ ہوئی اور منٹو کی مالی مشکلات کچھ دنوں کے لیے حل ہوگئیں۔ ابھی فلم انڈسٹری میں منٹو کے قدم جم ہی رہے تھے کہ وہ جنوری 1948 میں لاہور ہجرت کرگئے۔ ایک بارپھر اُن کی معاشی حالت ڈانواں ڈول ہوگئی۔ اُن کا قلم رواں رہا لیکن معاشی مسائل تھے کہ الجھتے گئے۔ اِس پر مزید ستم یہ کہ اُن کی مخصوص سنک اور شراب کی لت نے انھیں کہیں کا نہ رکھا۔دو بار ذہنی امراض کے شفا خانے میں بھی داخل ہونا پڑا۔ معاشی اور ذہنی پریشانیوں نے ازدواجی زندگی پر بھی تلخ اثرات مرتب کیے تاہم اُن کی صابر و شاکر بیوی صفیہ نے ان تمام تلخیوں کا بڑی پامردی سے مقابلہ کیا۔ آخری وقت میں منٹو کو اپنی بیوی کی اِس عظمت کا احساس ہوا اور 18/ جنوری1955کو مرتے وقت منٹو نے اُن سے کہا: ”اب یہ ذلت ختم ہوجانی چاہیے۔“ منٹو نے اپنا ادبی سفر وکٹر ہگو، اوسکر وائلڈ، چیکوف اور میکسم گورکی کی تخلیقات کے تراجم سے شروع کیا۔منٹو کاپہلا مطبوعہ افسانہ ”تماشا“ تھا جو ہفت روزہ ”خلق“ امرتسر میں 1933 میں شائع ہوا۔ جلیانوالہ باغ کے پس منظر میں لکھے گئے اس افسانے کو منٹو نے ’ابنِ آدم‘ کے قلمی نام سے لکھا تھا۔ منٹو کی ابتدائی تخلیقات پر ترقی پسندرویے اور رجحانات کے اثرات نمایاں ہیں۔ انھوں نے سماجی حقیقت پسندی اور کمیونزم کے اثرات بھی قبول کیے۔منٹو نے انسانی نفسیات اورتقسیم کے بعد گرتی ہوئی قدروں کو اپنا موضوع بنایا۔ کہیں کہیں پر منٹو نے انسانی زندگی کے معاشی مسائل کو بھی موضوع بنایا ہے۔غرض کہ انسانی وجود اور بقا کا شاید ہی کوئی ایسا جزو رہا ہو گا جسے منٹو کے نوکِ قلم نے نہ چھوا ہو۔ انھوں نے طوائفوں کے حالات تحریر کرتے ہوئے جنسی غلامی کے موضوع کو لافانی بنا دیا۔منٹوکو اپنی بصیرت اور بصارت دونوں کے لیے ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ سعادت حسن منٹو کے بیش تر افسانے تھیم پر مبنی ہیں۔منٹوکا افسانوی عمل کسی سماجی یا ادبی گروہ کا حلیف بننے سے انکار کرتا اورایک نیااور منفرد تھیم تخلیق کرتا ہے۔اس امر کی ایک عمدہ مثال ان کا افسانہ جانکی ہے۔واحد متکلم کے ”نقطہئ نظر“میں لکھے گئے اس افسانے کا موضوع ”عورت کی محبت“ ہے اور تھیم یہ ہے:”عورت ایک آزاد و خود مختار وجود ہے۔وہ محبت کے فیصلے آزادانہ طور پر کرتی ہے اور اپنی ہر محبت میں پر خلوص ہوتی ہے۔“ واضح رہے کہ موضوع اور تھیم میں فرق ہوتا ہے اور اس فرق کا لحاظ اکثر نہیں رکھا گیا۔کسی افسانے کا موضوع ایک عام سچائی،رویہ،قدر،مسئلہ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔اس لیے موضوع سے کسی افسانے کے امتیاز کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔اس کے مقابلے میں تھیم کے ذریعے اس امتیاز کی طرف اشارہ ممکن ہے۔لہٰذا افسانے میں موضوع ”عام“ ہے،جبکہ تھیم خاص۔یہ دوسری بات ہے کہ ہر خاص تھیم میں ایک عمومی صداقت یا اصول بننے کا امکان ہوتا ہے۔افسانہ جانکی کے علاوہ بھی منٹو کے بیشتر افسانے اِس رجحان کے حامل نظر آتے ہیں۔ مثال کے طور پر افسانہ ’ہتک‘ کا موضوع جسم فروشی جیسی لعنت پر طنز ہے جبکہ اِس کا تھیم عورت کی عظمت ہے۔ اس تعلق سے پروفیسر گوپی چند نارنگ نے تحریر کیا ہے کہ: ”جو چیز منٹو کے تخلیقی ذہن میں اضطراب پیدا کرتی ہے۔ وہ خریدی اور بیچی جاسکنے والی جنس نہیں بلکہ انسانی روح کا وہ درد و کرب ہے جو جسم کو بکاؤ مال بنانے سے پیدا ہوتا ہے یعنی انسانی عظمت کا سودا اور بے بسی اور بے چارگی کا گھاؤ جو وجود کو کھوکھلا اور زندگی کو لغو بنا دیتا ہے۔ مال کے دام تو لگائے جا سکتے ہیں لیکن انسانی روح کی عظمت کے دام نہیں لگائے جا سکتے۔“(جدیدیت کے بعد:منٹو کی نئی قرأت۔ از: پروفیسرگوپی چند نارنگ۔ص ۰۱۳۔) منٹو کے افسانوں میں انسانی نفسیات کا گہرا شعور نظر آتا ہے۔انسانی زندگی کی صورتحال اور فطرت نگاری کے علاوہ ان کے یہاں جو ایک اور اہم موضوع ملتا ہے وہ سماجی اور معاشی ناہمواری کی کوکھ سے جنم لینے والے مسائل ہیں۔ یہ مسائل انسانی دکھوں اور آشوب کی سب سے بڑی وجہ ہیں۔ اس کے علاوہ جنسی ناآسودگی بھی منٹو کا من پسند موضوع ہے۔ تقسیم ہند کے بعد جو ہولناک فسادات کی کہانیاں منظرعام پر آئیں وہ بھی منٹو کے افسانوں میں جا بجا ملتی ہیں۔ منٹو براہ راست ابلاغ میں یقین رکھتے تھے اور حقیقت پسندانہ اسلوب نگارش ان کے افسانوں کا طرہئ امتیاز ہے۔لیکن وہ موپساں کی طرح انسانوں کی بے بسی اور بے کسی پر خاموشی سے ماتم کناں نہیں ہوتے بلکہ مروجہ سماجی اور معاشی نظام کے جسم پر بڑی سفاکی سے تنقید اور طنز کے کوڑے برساتے نظر آتے ہیں۔ان کے اکثر افسانوں کا کلائمکس بھی بہت حیران کن ہوتا ہے اور قاری کوبہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ آج اکیسویں صدی میں اْ ن کے بے مثال افسانے ٹھنڈا گوشت،کالی شلوار، دھْواں، ’جانکی ، ٹوبہ ٹیک سنگھ، نیا قانون، بابو گوپی ناتھ اور ”بو“ وغیرہ نہ صرف زندہ ہیں بلکہ اردو کے افسانوی منظر نامے کو مسلسل متاثر کررہے ہیں۔ منٹواردو کے ایک رجحان ساز نہیں بلکہ تاریخ ساز افسانہ نگار ہیں۔
Prem Chand: Life and Work
Articles
پریم چند : حیات اور خدمات
ڈاکٹر قمر صدیقی
پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔31/ جولائی1880کو اترپردیش کے مردم خیز شہر بنارس سے چار پانچ میل دورایک چھوٹے سے گاؤں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اسی نام سے کچھ تحریریں بھی قلمبند کیں۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گاؤں میں ہوئی۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔ پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔1902میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ملتفت ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ”اسرارِ معبد“ کے نام سے لکھنا شروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔ اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ”زمانہ“کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ 1908 میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ”سوزِ وطن“ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔”سوزِ وطن“ تک کی بیشتر تحریریں پریم چند نے نواب رائے قلمی نام سے تحریر کی تھیں۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔ یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو افسانے کو ابتدائی دور میں ہی کچھ ایسے افسانہ نگار مل گئے جو ایک دوسرے سے قطعی مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پریم چند ایک رجحان کی ترویج کر رہے تھے، راشد الخیری دوسرے اورسجاد حید ر تیسرے نظریے و رجحان کے علمبردار تھے۔ لیکن پریم چند کی مقصدیت راشد الخیری کی اصلاح پسندی اور یلدرم کی رومانیت پر بازی لے گئی۔مقصدیت اور اصلاح کے پہلو نے پریم چند کے فن کو اتنا غیر معمولی بنادیا کہ وہ اردو افسانے کے سچے بنیاد گزار تسلیم کیے گئے۔ راشد الخیری اور سجاد حیدریلدرم کے رجحانات کی نیاز فتح پوری، مجنوں گوکھپوری، مہدی الافادی اور قاضی عبدالغفار کے بعد کوئی خاص تقلید نہ ہوئی۔ جبکہ پریم چند کی مقصدیت کا سدرشن، علی عباس حسینی، اعظم کریوی وغیرہ نے تتبع کیا اور ان بعد کے افسانہ نگاروں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھانے میں معاونت کی۔اسی لیے سمجھا جانے لگا کہ پریم چند اردو افسانے کے موجد ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے گئے ہیں۔ پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”سوز وطن“ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ”واردات“ اور ”زادراہ“ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور1909 سے لے کر1920کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور1920 سے1932تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی1932ء سے1936تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔ پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ”سوز وطن“ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں میں داستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔1909 سے1920تک پریم چند ”مہوبا“ کے مقام پر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے۔ جہاں کے کھنڈرات نے شایدانہیں ہندوؤں کی عظمت ِ رفتہ کی یاد دلائی۔ غالباً اسی لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ حالیؔ کی طرح انہیں اپنے افسانوں کے ذریعہ ہندوقوم کی ماضی کی شان و شوکت اجاگرکرنا چاہیے۔ چنانچہ ”رانی سارندھا“1911 میں اور1912میں ”راجہ ہردول“ اور ”آلھا“ جیسے افسانے اسی جذبے کے تحت لکھے گئے۔ ان تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے بعد اپنے دوسرے دور میں پریم چند نے قومی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل، بے جوڑ شادی، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔ تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، ستیہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندے ملک کی آزادی کے لیے پرجوش تھے۔ پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ قدرے واضح طور پر جھلکتا ہے۔ افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ”پوس کی رات“،”سواسیر گہیوں“ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔”سوز وطن“ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر،بوڑھی کاکی، دو بیل، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ”کفن“جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔ آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں۔کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔
Sajjad Haider Yaldaram : Life and Work
Articles
سجاد حیدر یلدرم : حیات اور کارنامے
ڈاکٹر قمر صدیقی
سجاد حیدر یلدرم 1880میں بنارس میں پیدا ہوئے جہاں ان کے والد سیّد جلال الدین حیدر مجسٹریٹ کے عہدے پر فائز تھے۔ یلدرم کا خاندان پڑھا لکھا اور لبرل خاندان تھا۔ آبائی وطن قصبہ نہٹور، ضلع بجنور، اتر پردیش تھا۔ ۷۵۸۱ء کی جنگِ آزادی میں یلدرم کے دادا امیر احمد علی نے بھی انگریزوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا تھا۔ لہٰذا اس کی پاداش میں جاگیریں ضبط ہوئیں اور خاندان کی نئی نسل کو انگریزی پڑھنی اور سرکاری ملازمتیں کرنی پڑیں۔ان کے اہل خاندان سرکاری ملازمتوں میں اچھے عہدوں پر فائز رہے۔ یلدرم اور ان کے بھائیوں نے ابتدائی تعلیم بنارس ہی میں حاصل کی۔ بعد میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اے۔ایم۔او کالج،علی گڑھ میں داخل کیے گئے۔1901میں یلدرم نے بی۔اے کیا اور پورے صوبے میں سیکنڈ آئے۱؎۔ یلدرم نے علی گڑھ میں بڑی بھرپور زندگی گزاری۔ یونین کے سکریٹری اور صدر بھی رہے۔ مولانا محمد علی اور مولانا حسرت موہانی ان کے کلاس فیلو تھے۔علی گڑھ کالج کے زمانے میں انھوں نے حسرت موہانی پر ایک نظم ”مرزا پھویا“ لکھی تھی۔ اس زمانے میں علی گڑھ کی علمی رفعت قابل رشک تھی۔ ایک سے بڑھ کر ایک نابغہ روزگار اساتذہ علی گڑھ کالج سے منسلک تھے۔ قرۃ العین حیدر نے اس تعلق سے لکھا ہے: ”علی گڑھ ان دنوں گویا آکسفورڈ کا ماڈل بنا ہوا تھا۔ تھیوڈر بک پرنسپل تھے۔ آرنلڈ اور نکلسن انگریزی کے استاد تھے۔ پروفیسر چکرورتی اور ڈاکٹر ضیا الدین ریاضی پڑھاتے تھے۔ مولوی عباس حسین عربی کے استاد تھے اور مولانا شبلی فارسی پڑھایا کرتے تھے۔ یلدرم فارسی میں بہت اچھے تھے لہٰذا شبلیؔ کے پسندیدہ شاگردوں میں تھے۔“ (”خیالستان“‘ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ ص: ۱۵۲) زمانہئ طالب علمی سے ہی یلدرم کو ترکی سے ذہنی لگاؤ تھا۔ حاجی اسمعٰیل خان رئیس دتاولی جنھیں اردو اور ترکی زبان کا اچھا ذوق تھا۔ان کی صحبت میں یلدرم نے ترکی زبان میں مہارت بہم پہنچائی۔ بی۔ اے کے بعد ایل۔ایل۔ بی کررہے تھے کہ اس درمیان برطانوی فارن آفس نے علی گڑھ کے پرنسپل کو بغداد کے قونصل خانے کے لیے ترکی زبان کا ترجمان مہیا کرانے کے لیے لکھا۔ کسی پروفیسر نے یلدرم سے اس کا ذکر کیا۔ انھوں نے درخواست دی اور تقرر ہوگیا۔ بغداد میں یلدرم کا قیام کئی سال رہا۔ بالآخر ان کا جی بھر گیا اوروہ چھٹی لے کرہندوستان آگئے۔ ہندوستان واپس آجانے کے بعد پھر بغداد جانے کی خواہش نہ ہوئی۔ لہٰذا حکومت نے ان کاتقرر اس زمانے میں کابل کے معزول شدہ امیر یعقوب علی خان کے پولیٹیکل افسر کے طور پر کردیا۔امیر یعقوب کا قیام اُن دنوں مسوری میں تھا۔ امیر کابل کے انتقال کے بعد یلدرم کی خدمات یو۔پی سول سروس میں منتقل کردی گئیں۔ 1920میں ایم۔اے۔او، کالج (علی گڑھ) کو یونیورسٹی کا درجہ ملا۔ اس وقت مسلم یونیورسٹی کے پہلے رجسٹرار کی حیثیت سے اُن کی خدمات حاصل کی گئیں۔1929 میں وہ دوبارہ یو۔پی سول سروس میں واپس آگئے۔ دوران ملازمت انڈومان و نکوبار جزائر میں تبادلہ ہوا اور غازی پور اور اٹاوے میں بھی تعینات ہوئے۔1935 میں خرابیِ صحت کی وجہ سے وقت سے پہلے ریٹائر منٹ لے لیا۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ یلدرم کو ترکی زبان و ادب سے علی گڑھ کالج کے زمانے سے ہی دلچسپی تھی۔ بغداد کے زمانہئ قیام میں ان کی اس دلچسپی کو اور جلا ملی۔1902 میں انھوں نے احمد حکمت کے ایک ناول ”ثالث بالخیر“ کا ترجمہ کیا۔اس وقت یلدرم کا نوجوانی کا زمانہ تھا۔ اسی زمانے میں انھوں نے ”مخزن“ میں لکھنا شروع کیا۔ یلدرم کے افسانوی رجحان میں جس طرح کی رومانیت کا غلبہ تھا وہ بڑی حد تک مغربی اور ترکی رومانیت تھی۔ یلدرم سے پہلے اردو فکشن میں عورت کاکردار بہت نمایاں اور روشن نہیں تھا۔ انھوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے ایک ایسے رجحان کو متعارف کرانے کی کوشش کی جس میں رتن ناتھ سرشار کی سپہر آرا محض چلمن سے جھانکتی نظر نہ آئے بلکہ وہ مردوں کے دوش بدوش ان کے ہمراہ چل سکے۔ انھوں نے اپنے افسانوں کے نسوانی کرداروں کو لکھنؤ اور دلی کی حویلیوں کی چار دیواری سے نکال کر بمبئی کے ساحل پر کھلی ہوا میں سانس لینے کی ادا سکھائی۔ بغداد کے بعد یلدرم کا تبادلہ قسطنطنیہ کے برطانوی سفارت خانے میں ہوا۔ یہاں وہ ترکی ادب میں پیدا ہونے والی نئی تحریکوں سے متعارف ہوئے اور ینگ ترک پارٹی کے ساتھ منسلک ہوکر انقلاب میں عملی حصہ بھی لیا۔ اس ضمن میں قرۃ العین حیدر نے تحریر کیا ہے: ”یلدرم کی یہ انقلاب پرستی رومانیت کے جذبے کی وجہ سے پیدا نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے بہت بڑا خطرہ مول لے کر ینگ ترک پارٹی کے ساتھ کام کیا۔ پھر لطف یہ کہ بعد میں ساری عمر کبھی بھولے سے اس کا ذکر نہ کیا۔ میرے خیال میں اُن کی جگہ کوئی اور ہوتا تو سنسنی خیز شہرت حاصل کرنے کے لیے بعد میں ہمیشہ کے واسطے لیڈر قوم اور غازی وغیرہ بن جاتا۔“ (”خیالستان“‘ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ ص: ۹۵۲) یلدرم کی شادی ۲۱۹۱ء میں نذرِ زہرا بیگم (نذرِ سجاد) سے ہوئی۔ نذرِ زہرا بیگم اپنے زمانے کی معروف قلمکار تھیں۔۸۰۹۱ء میں بچوں کے مشہور اخبار ”پھول“ کی ایڈیٹر رہیں۔ یہ رسالہ شمس العلما ممتاز علی کے ”دار الاشاعت پنجاب“ لاہور سے شائع ہوتا تھا۔ان کا مشہور ناول ”اخترالنسا بیگم“ 1910میں شائع ہو چکا تھا جب ان کی عمر صرف سولہ سال تھی۔شادی سے قبل ہی ان کی تحریریں ’نیرنگِ خیال‘، ’زمانہ‘، ’تمدن‘، ’ادیب‘، ’انقلاب‘ اور ’الناظر‘ جیسے رسائل میں شائع ہوتی تھیں۔ 1935 میں یلدرم حج بیت اللہ کی سعادت سے سرفراز ہوئے۔1938میں بیمار ہوئے۔ ان کی آنکھ کے عین اوپر کاربنکل نکلا تھا۔ ان کے چھوٹے بھائی نے آپریشن کیا جو اپنے زمانے میں مشہور ڈاکٹر تھے۔ آپریشن کامیاب رہا لیکن صحت کمزور ہوتی جارہی تھی۔ کمزوری اور نقاہت کے باوجود ہر مصروفیت کو خندہ پیشانی سے قبول کرتے تھے۔ بالآخر6/ اپریل1943ء کو رات دو بجے حرکتِ قلب بند ہوجانے سے انتقال ہوا۔ انتقال سے قبل تک وہ علمی و ادبی سرگرمیوں میں مصروف رہے۔ لکھنؤ کے عیش باغ کے قبرستان میں سپرد خاک کیے گئے۔ سجاد حیدر یلدرم نے اپنی تحریروں کے ذریعے جس نوع کے رجحان کو فروغ دینے کی کوشش کی اس میں عورتوں کی تعلیم اور مساوات کو اولیت حاصل ہے۔ اس تعلق سے انھوں نے نہ صرف قلمی بلکہ عملی سطح پر بھی اقدامات کیے۔ خود اپنے خاندان کی بے شمار لڑکیوں کی خاطر یونیورسٹیوں کی اعلیٰ ترین ڈگریوں کے حصول کے لیے اس زمانے میں کوشاں رہے جب مسلمان لڑکیوں کو اسکول بھیجنا بھی معیوب سمجھا جاتا تھا۔ افسانہ نگاری کے حوالے سے یلدرم اردو زبان میں ایک نئے اور دلنواز اسلوبِ بیان کے موجد تھے۔ان کا شمار اردو کے اولین افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ”خیالستان“ یلدرم کی رومانیت اور تخیل کا بہترین عکس ہے۔ خیالستان میں انشائیے، تراجم اور مختصر افسانے شامل ہیں۔ گویا صنف نثر کی تین اصناف کے مجموعہ کا نام ”خیالستان“ ہے۔ ان شہ پاروں میں کچھ ترکی ادب سے اخذ و ترجمہ ہیں اور بعض طبع زاد ہیں۔ ان میں سجاد حیدر یلدرم کا رومانی انداز فکرو بیان جادو جگا رہا ہے۔یلدرم علی گڑھ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل اور تہذیب یافتہ تھے۔ ان کی ادبی زندگی علی گڑھ سے پیدا ہوئی۔ انہیں سرسید اور علی گڑھ سے بے حد عقیدت اور غایت درجہ انس تھا۔ مگر اس کے باوجود یلدرم نے اپنی افسانوی تحریروں میں اس تحریک کی خشک حقیقت پسند ی اور بے نمکی کے خلاف ردعمل کا اظہار کیا۔ اس مقصد کے لیے یلدرم کے سامنے سب سے اہم مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنے افسانے کے لیے کوئی ایسا موضوع تلاش کریں جو دلچسپ بھی ہو اور زندگی کے ساتھ اس کا گہرا رابطہ بھی ہو۔ محض خیال اور خواب کی دنیا نہ ہو بلکہ اس میں اپنے عہد کی جھلک نظرآئے۔ اس مقصد کے پیش نظر یلدرم نے بطور خاص محبت اور عورت کو اپنے افسانوں کا موضوع بنایا۔چونکہ عورت، مرد کی بہترین رفیق ہے اس لیے یلدرم کے نزدیک اس کے ساتھ وہی سلوک ہونا چاہیے جو بہترین رفیق کے لیے موزوں اور مناسب ہے۔ یلدرم اس بات کے بھی قائل تھے کہ عورت کے بغیر مرد کی زندگی ادھوری اور نامکمل ہے۔عورت یلدر م کے ہاں عیاشی اور گناہ کا مظہر نہیں، لطافت اور زندگی کی صحت مند تصور کی علامت ہے۔٭٭٭ ۱؎ یہ بیان قرۃ العین حیدر کا ہے۔ مشمولہ ”خیالستان“ ص: ۸۴۲۔ مرتب: ڈاکٹر سیّد معین الرحمن۔ قرۃ العین حیدر کے اس بیان پر مرتب نے فٹ نوٹ لگاکر مشتاق احمد زاہدی کا بیان نقل کیا ہے کہ یلدرم تمام الہ آباد یونیورسٹی میں چوتھے نمبر تھے۔ اس زمانے میں علی گڑھ کالج الہ آباد یونیورسٹی سے منسلک تھا۔
Life and Work of Rashidul Khairi
Articles
راشد الخیری : حیات اور کارنامے
ڈاکٹر قمر صدیقی
راشد الخیری جنوری ۸۶۸۱ء میں پیدا ہوئے۔ والد کا نام حافظ عبد الواحد اور دادا کانام مولانا عبد القادر تھا۔ والدہ کا نام امیر بیگم بی بی رشید الزمانی تھا۔ یہ نواب فضل رسول خاں کی بیٹی تھیں۔ دادیہال کی طرف سے راشد الخیری کا خاندان علما و مشائخ میں شمار ہوتا تھا اور ننھیال کی طرف سے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفر سے رشتہ داری تھی۔ گویا ایں خانہ تمام آفتاب است۔ راشد الخیری کے والد حافظ عبد الواجد خاندان کے پہلے شخص تھے جنھوں نے خاندانی روایت سے انحراف کرکے انگریزی تعلیم حاصل کی اور سرکاری ملازمت کی۔البتہ ملازمت کبھی جم کر نہ کرسکے۔ آخری ملازمت نواب آف حیدرآباد کی تھی جہاں وہ بندوبست کے مہتمم کے عہدے پر فائز تھے۔ راشد الخیری کی والدہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں۔ تاہم انھں تاریخی واقعات، بادشاہوں کے حالات، سبق آموز کہانیاں اور اردو اشعار خوب یاد تھے۔ وہ گاہے بہ گاہے ان اشعار و واقعات کو راشد الخیری کو سناتی تھیں۔ اس طرح بچپن ہی سے گھریلو تربیت کے باعث خوفِ خدا اور عظمتِ رسولؐ کا نقش دل پر ایسا بیٹھا کہ ساری زندگی جاہلانہ و باطلانہ نظریات اور رسم و رواج کے خلاف جہاد بالقلم کرتے رہے۔ راشد الخیری کی ابتدائی تعلیم ان کے دادا مولانا عبد القادر کی نگرانی میں ہوئی۔ چونکہ ان کے والد بہ سلسلہ ملازمت باہر رہتے تھے اس لیے راشد الخیری کی تربیت کی ساری ذمہ داری ان کے دادا نے ادا کی۔ قرآن کریم اپنی دادی بڑی استانی کی نگرانی میں مکمل کی اور فارسی کی تعلیم بھی گھر پر ہی ہوئی۔ بعد ازاں دلی کے عربک اسکول میں داخل ہوئے لیکن انگریزی کے علاوہ کسی مضمون میں دلچسپی نہ تھی لہٰذا اسکول سے اکثر غائب رہنے لگے۔ اسکول میں اساتذہ کا بہت احترام کرتے تھے۔ اردو فارسی کے استاد خواجہ الطاف حسین حالی تھے۔ وہ راشد الخیری کی علمی لیاقت سے بہت خوش تھے۔ حالی کے علاوہ اسکول کے ہیڈ ماسٹر خواجہ شہاب الدین اور انگریزی کے استاد مرزا احمد بیگ بھی ان سے خوش تھے۔ اس کے باوجود اسکول میں ان کا جی نہ لگتا تھا۔ گھر کے تمام بزرگوں کی تاکید اور دباؤ کے باوجود نویں جماعت سے اسکول جانا چھوڑ دیا۔ یہ صورت حال تمام اہل خانہ کے لیے تشویس ناک تھی۔ باب اور دادا کا انتقال ہوچکا تھا لہٰذا ان کی دادی اور والدہ ان حالات کے مدنظر بہت پریشان ہوئیں۔ اس دوران ڈپٹی نذیر احمد جو کہ راشدالخیری کے پھوپھا تھے حیدآباد (دکن) سے دہلی آئے۔ راشدلخیری کی دادی نے راشد الخیری کو ان کی نگرانی میں دے دیا۔ ڈپٹی نذیر احمد نے انھیں پڑھنے لکھنے کا سلیقہ سکھایا۔جب ڈپٹی نذیر احمدحیدر آبادجانے لگے تو انھوں نے راشد الخیری کے چچا خان بہادر ڈپٹی عبد الحامد کو خط لکھ اپنے پاس بلانے کی سفارش کی۔ ان کے چچا ان دنوں اورئی(یو پی) میں ملازم تھے۔ انھوں نے راشد الخیری کو وہاں بلا لیا اور ان کا داخلہ گورنمنٹ اسکول میں کرادیا۔لیکن یہاں بھی ان کا دل اسکول میں نہ لگا۔ کچھ دنوں بعد چچا کا تبادلہ اناؤ ہوگیا اور وہ چچا کے ساتھ اناؤ چلے گئے۔ اس طرح ان کا باقاعدہ تعلیمی سلسلہ منقطع ہوگیا۔اس کے بعد انھوں نے جو صلاحیت اور لیاقت حاصل کی وہ ذاتی مطالعہ کی بنیاد پر کی۔ راشد الخیری کی بہن زاہدہ بیگم کی شادی کے بعد ان کی والدہ کو راشد الخیری کی شادی کی فکر دامن گیر ہوئی۔ ان کی والدہ نے اپنے پڑوسی عبد الرحیم کی بیوہ کی بیٹی فاطمہ خانم سے ان کی شادی طے کردی۔ ۵/ جنوری ۰۹۸۱ء کو حافظ سیّد محمد، امام جامع مسجد نے نکاح پڑھایا۔ راشد الخیری کی چار اولادیں راشدہ بیگم، رازق الخیری، واجدہ بیگم اور صادق الخیری نے لمبی حیات پائی البتہ ایک بیٹا عبد الخالق اٹھارہ سال کی عمر میں بیماری کی وجہ سے انتقال کرگیا۔ راشدہ بیگم سب سے بڑی تھیں اور والد سے قریب بھی۔ ۵۱۹۱ء میں ان کی شادی عبد الغفور سے ہوئی۔ رازق الخیری ان کے بعد تھے۔ بی۔اے تک تعلیم حاصل کی۔ ۳۲۹۱ء میں ان کی شادی خاتون اکرم سے ہوئی جو نئی نسل کی معروف ادیبہ تھیں۔ لیکن دوسال بعد ہی خاتون اکرم کا انتقال ہوگیا۔ دوسری شادی ۹۲۹۱ء میں آمنہ نازلی سے ہوئی۔رازق الخیری نے راشد الخیری کی زندگی میں ہی عصمت، بنات اور جوہرِ نسواں کی ادارت کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں۔ لکھنے پڑھنے کا ذوق ورثے میں ملا تھا۔ تقریباً ۸کتابوں کے مصنف تھے۔ ہجرت کے بعد عصمت اور بنات کوپاکستان سے باقاعدگی سے شائع کرتے رہے۔ واجدہ بیگم کی تعلیم گھر پر ہی ہوئی اور وہ باسلیقہ خاتون تھیں۔ ان کی شادی سردار محمد خاں کے ساتھ ہوئی۔ صادق الخیری سب سے چھوٹے تھے۔ ۷۳۹۱ء میں فلسفہ میں ایم۔ اے کیا۔ افسانے اور تنقیدی مضامین لکھتے تھے۔ ترقی پسند ادیبوں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ تقریباً ۹کتابوں کے مصنف تھے۔ شادی کے چند ماہ بعد راشد الخیری کو ان کے چچا عبد الحامد جو کہ اناؤ میں ڈپٹی کلکٹر تھے کی کوششوں سے محکمہ بندو بست میں کلرک کی ملازمت مل گئی۔ لیکن یہ ملازمت راشد الخیری کے مزاج سے مناسبت نہیں رکھتی تھی اور دفتری کاموں میں ان کی طبیعت نہیں لگتی تھی۔ دوران ملازمت ان کی دوکتابیں ”صالحات“ اور ”منازل السائرہ“ شائع ہوکر مقبول ہوچکی تھیں۔ لہٰذا ان کی طبیعت تحریر و تصنیف کی طرف زیادہ مائل رہتی تھی۔ گھریلو وجوہات کی بنا پر بھی دور دراز تبادلے پر بھی انھیں تامل ہوتا تھا۔اس لیے کہیں جم کر ملازمت نہیں کی۔ ان کی آخری ملازمت دلی کے پوسٹل آڈٹ آفس میں تھی۔جب انھوں نے رسالہ ”عصمت“ جاری کیاتو سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے رسالے میں ان کا نام شائع ہونے میں قانونی دشواری پیش آئی لہٰذا۰۱۹۱ء میں ملازمت سے استعفیٰ دے کر اپنے آپ کو پوری طرح اردو زبان و ادب کے لیے وقف کردیا۔وہ اردو کے ان چند خوش قسمت مصنفوں میں تھے جن کی کتابیں کثیر التعداد ہونے کے ساتھ ہی قبول عام کی سند حاصل کر چکی تھیں۔ راشد الخیری کا انتقال ۶۳۹۱ء میں ہوا۔ اردو افسانے کے تعلق سے جو تحقیق اب تک سامنے آئی ہے اُس کے نزدیک راشد الخیری کے افسانہ ”نصیر اور خدیجہ“ مطبوعہ رسالہ ”مخزن“، لاہور، شمارہ ۳، جلد ۶، دسمبر ۳۰۹۱ء کو اولیت حاصل ہے۔ یہی افسانہ راشد الخیری کی کتاب ”مسلی ہوئی پتیاں“ کی اولین اشاعت ۷۳۹۱ء، مطبوعہ عصمت بک ڈپو، دہلی کے صفحہ ۸۲تا۲۳میں ”بڑی بہن کا خط“ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ڈاکٹر نجیب اختر نے راشد الخیری پر جومونوگراف دہلی اردو اکادمی کے لیے تحریر کیا ہے اس میں انھوں نے اس تعلق سے اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے: ”راشد الخیری کے دو طبع زاد افسانے ”نصیر اور خدیجہ“ اور ”بدنصیب کا لال“ دسمبر۳۰۹۱ء سے اگست۵۰۹۱ء تک شائع ہوچکے تھے۔ یلدرم کے دو افسانے ”دوست کا خط“ اور ”غربت وطن“ اکتوبر۶۰۹۱ء میں شائع ہوئے۔ سلطان حیدر جوش کا ”نابینا بیوی“ دسمبر ۷۰۹۱ء میں اور پریم چند کا پہلا افسانہ ”عشق دنیا اور حب وطن“ اپریل۸۰۹۱ء میں شائع ہوا۔ یہاں اس بات کی وضاحت مناسب ہوگی کہ پریم چند کے جس افسانے (دنیا کا سب سے انمول رتن) کو اردو پہلا افسانہ شمار کیا جاتا رہا وہ ۸۰۹۱ء میں شائع ہوا اور تاریخی اعتبار سے اردو کے طبع زاد افسانوں میں اس کا نمبر گیارہواں ہے۔“ اس طرح یہ واضح ہوجاتا ہے کہ راشد الخیری اردو کے اولین افسانہ نگار ہیں۔ افسانہ نگاری سے پہلے وہ بطور ناول نگار اردو میں اپنی شناخت قائم کرچکے تھے۔ راشد الخیری کے افسانے کے مطالعے سے ہمیں احساس ہوتا ہے کہ یہ ایک نوع کے مقصدی اور اصلاحی لہر کے حامل ہیں۔ ظاہر ہے کہ راشد الخیری کی شخصیت اور کارنامے میں مقصدیت کو اولیت حاصل تھی اور وہ افسانے کے ذریعے بھی اصلاح معاشرہ کا کام لینا چاہتے تھے۔ لہٰذا ان کے افسانے میں اصلاحی اسلوب حاوی نظر آتا ہے۔انھوں نے اردو افسانے میں متوسط طبقے کے مسائل، عورتوں کی تعلیم و تربیت اور حقوق نسواں کے لیے آواز بلند کرنے کے رجحان کو جلا بخشی۔
Rafia Sbabnam Abidi by Shaikh Hasina
Articles
پروفیسر رفیعہ شبنم عابدی
شیخ حسینہ

رفیعہ شبنم عابدی کی پیدائش مہاراشٹر کے بمبئی کے علاقے میں بی۔ آئی۔ ٹی بلاکس نامی کالونی میں ۷؍دسمبر ۱۹۴۳ کو ہوئی یہ گھرانہ بڑا ہی معزز گھرانہ ہے۔ رفیعہ کے جد اعلیٰ سید محمد مدنی جو کہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے عالم دین تھے جن کا سلسلہ اٹھارہویں پشت میں امام جعفر صادق سے جا ملتا ہے۔ وہ مدینے سے ایران ہوتے ہوئے ہندوستان تشریف لائے اور ہندوستان آکر یہاں رشد و ہدایت میں اپنے آپ کو مصروف کر لیا، تبلیغ دین اور انسان دوستی کا درس عام کرنے کی خاطر مہاراشٹر کے مختلف علاقوں کا دورہ کرتے ہوئے پونہ ضلع کے ایک قصبہ ’’ منچر‘‘ میں آ گئے اور یہ جگہ انھیں ایسی بھائی کہ ہمیشہ کے لئے یہیں سکونت اختیار کر لی۔ یہاں مراٹھا سرداروں کا تسلط تھا۔ اس دور میں جن سیدوں کو جاگیر اور انعام و اکرام سے نوازا گیا ان میںرفیعہ شبنم عابدی کے آبا و اجداد بھی شامل تھے۔ اسی باعث اس خاندان کو ’’ انعام دار خاندان ‘‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ آگے جاکر ان کے چار بیٹے ہوئے ان چاروں نے بھی ’’منچر‘‘ ہی میں سکونت اختیار کی۔ اس بارے میں رفیعہ شبنم عابدی نے لکھا ہے کہ :
’’ وہ ایک درویش صفت عالم دین تھے۔ اور ہندوستان کے مختلف علاقوں میں علم بانٹتے بانٹتے کسی نیک ساعت میں مہاراشٹرا کے ضلع پونے کے ایک قصبے منچر ( جسے ایرانی سپاہی پہلے ہی مینو چر بمعنی جنت نشاں کا لقب دے چکے تھے۔) پہنچے، یہ جگہ خد اجانے کیوں انھیں ایسی بھائی کہ بستی کے عین قلب میں کافی اونچائی پر اپنا حجرہ بنا کر تا دم آخر بستی والوں پر علم و عرفان کی بارش برساتے رہے۔ پھر ان کے چار بیٹے مستقل طور پر یہیں بس گئے ۔ میری رگوں میں اسی قبیلے کا خون دوڑرہا ہے جسے آج بھی سادات جعفری منچر کے نام سے جوڑا جاتاہے۔‘‘ ۲؎
رفیعہ کے والد صاحب کی جائے پیدائش بھی منچر ہی ہے۔ لیکن تعلیم مکمل کرنے کے بعد تلاش معاش میں وہ بمبئی آگئے۔ اور پھر انھوں نے بمبئی ہی میں مستقل سکونت اختیار کر لی۔ رفیعہ کے والد سجاد علی منچری ایک اچھے شاعر، ادیب اور ماہر ریاضیات تھے۔ شاکر لقب کرتے تھے۔ شاعری میں انھیں بالواسطہ دبستان داغ سے نسبت تھی انھوں نے شاعری کی تقریباً ہر ایک صنف شاعری میں طبع آزمائی کی اور کامیاب رہے۔ وہ پرائمری ٹیچرز ٹریننگ کالج میں لکچرر تھے بعد میں صدر مدرس کے مقام پر فائز ہوئے۔ ان دنوں جب مہاراشٹر ریاست عمل میں نہیں آئی تھی اور سرکاری اداروں کا وجود نہ تھا سجاد علی منچری درسی کتابوں کی ترتیب اور تیاری بڑی ذمہ داری سے نبھایا کرتے تھے۔ تحتانوی اور ثانوی دونوں جماعتوں کی سائنس اور ریاضی کتابیں بڑی مشقت اور عرق ریزی سے تیار کیا کرتے ا ور یہ سلسلہ ہنوز ریاست مہاراشٹر کے قیام میں آنے اور ٹیکسٹ بک کمیٹی و بال بھارتی اداروں کے شروع ہونے تک جاری و ساری رہا۔
رفیعہ کی والدہ سیدہ زینب بھی ایک نہایت ہی دلکش اور سادہ طبیعت کی مالک خاتون تھیں اور اس دور میں جب لڑکیوں ک تعلیم معیوب و معتوب سمجھی جاتی تھی سیدہ زینب نہ صرف قرآن مجید اور دینی تعلیم سے آراستہ تھیں بلکہ روزنامہ انقلاب کا مطالعہ ان کا معمول تھا۔ ساتھ ہی مولوی نذیر احمداور راشد الخیری وغیرہ کے ناول پڑھ کر ادب کے مطالعہ سے بھی فیض یاب ہو اکرتیں ۔ ایک اچھی گھریلو عورت کی تما م ذمہ داریاں اور بچوں کی پرورش و پرداخت ان کے اولین فریضے تھے۔ صوم و صلوٰۃ کی بھی پابندتھیں۔
ایسے علم و ادب کے دلدادہ والدین کے گھر میں رفیعہ نے اپنی زندگی کی پہلی سانس لی۔بی۔ آئی۔ ٹی بلاکس نامی یہ کالونی جہاں رفیعہ پید اہوئیں۔ اس دور میں تعلیم یافتہ اور سلجھے ہوئے لوگوں سے آباد تھی۔ ایک ایسی صاف ستھری میں جو ہر طرح کی گراوٹوں کمیوں اور خامیوں سے پاک صاف تھی۔ شعبہ حیات کے لگ بھگ تما م ذی علم و با شعور افراد جیسے ڈاکٹر، انجینئر، ماہر تعلیم، وکیل، پروفیسرز ،شعر و ادبا تمام کے تمام نے ا س بستی کو اپنے وجود سے معمور کیے ہوئے تھے۔ اس کالونی میں ایک لائبریری تھی جو وہاں کے مکینوں کی ادبی ذوق و شوق کا منہ بولتاثبوت تھی۔ جہاں مختلف موضوعات پر نہ صرف ادبی بلکہ مذہبی کتب کا گنج بیکراں موجود تھا۔ رفیعہ کے لئے ادبی شخصیات اور ان کی بیش قیمتی خدمات کو سمجھنے کے لئے لائبریری نے بڑا اہم کردار نبھایا ہے۔ اسی کالونی میں ’’ انجمن باشندگان بی آئی ٹی بلاکس‘‘ نامی ادبی تنظیم کا قیام عمل میں آیا تھا جو یہاں کے علم دوست شخصیات کی کاوشوں کا نتیجہ تھا۔ ا س سوسائٹی کے صدر رفیعہ کے والد صاحب ہی تھے ۔ اس انجمن کے ذریعہ ہر سال ادبی، سماجی، اور ثقافتی پروگراموں کے علاوہ مشاعرے بھی منعقد کیے جاتے تھے۔ جن میں اس دور کے مشہور و معروف شعرا مثلاً کیفی اعظمی، شکیل بدایونی، اعجاز صدیقی، احسن دانا پوری، خمار بارہ بنکوی، منیر الہ آبادی وغیرہ شرکت کیا کرتے تھے۔ رفیعہ کے ادبی ذوق کو جلا بخشنے میں ان تمام شعرا نے بھی بڑا بڑاخاص رول نبھایا۔ بچپن ہی سے مطالعہ کے شوق اور ان تما م شعرا و ادبا کی محبت او رشفقت کے باعث رفیعہ کے شعر و ادب کی طرف اٹھتے قدم روز بروز اور زیادہ مستحکم ہوتے چلے گئے۔ رفیعہ کے گھر میں ا س وقت کے تمام ادبی جرائد آیا کرتے تھے ، آجکل ، افکار، اصلاح، ماہ نو، نقوش، نگارا ایسے جریدوں کی بھر مار تھی۔ شعری مجموعے بھی منگوائے جاتے ا س کے علاوہ عروض و اصطلاحات پر مبنی کتابیں وغیرہ بھی گھر ہی میں موجود تھیں۔ رفیعہ نے کم سنی کی عمر سے ہی ،متذکرہ بالا تما باتوں سے استفادہ کرنا شروع کر دیا تھا۔ اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کے اندر ایک شاعرہ نے انگڑائی لی اور شبنم کی صورت میں وہ تمام دنیا سے متعارف ہوئیں۔
سجاد علی منچری کی یہاں کل نو اولادیں ہوئیں۔ رفیعہ ان میں چوتھے نمبر پر ہیں۔ ، منچری صاحب کی پانچ بیٹیوں او رچار بیٹوں نے ادبی ذوق ورثہ میں پایا تھا۔ رفیعہ کو علاحدہ کریں تو باقی تمام بھائی بہن بے حد جدت پسند اور خوش طبع تھے۔ ا س کے بر خلاف رفیعہ کافی سنجیدہ مزاج، اور بے حد حساس تھیں اور الگ تھلگ اپنی دنیا میں مگن رہنا جیسے ان کی عادت بن گئی تھی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ دن بہ دن ان کی حساس طبیعت اور سنجیدہ مزاجی نے انھیں بے انتہا گہری سوچ و فکر اور عمیق مشاہدہ کرنے کی صلاحیت عطاکی، انھوںنے ایک ایک موضوع پر سنجیدگی سے غور و خوض کر ناشروع کر دیا۔ اسی علاحدہ اور نرالی طبیعت نے انھیں احساس کمتری کا شکار بھی بنادیا تھا ۔لیکن اس میں مبتلا ہوکر رہنے کی بجائے اپنے سنجیدہ فن کی گہری بصیرت سے شعر و ادب کو ایک نرالا رنگ و روپ عطاکیا۔ اسی نئے رنگ سے انھوں نے خیالات و تصورات کا ایک نیا جہاں بسایا اور دنیا کو یہ احساس دلایا کہ وہ بالکل’’ منفرد و مختلف‘‘ ہیں۔ بچپن میں بہن بھائیوں میں جب بھی شعرگوئی کا مقابلہ ہوا کرتا تو سب سے بہترین غزل کہنے کا انعام رفیعہ ہی کے حصے میں آتا۔ اس طرح یہ کہا جا سکتاہے کہ ان کے تخلیقی سفرکی شروعات ان کے گھر آنگن سے ہی ہوتی ہے۔
با قاعدہ ان کے تعلیمی سفر کا آغاز بمبئی میونسپل کارپوریشن کے زیر نگرانی چلنے والے امام باڑہ گرلز اسکول سے ہوا۔ جہاں انھیں پانچویں جماعت میں داخل کروا یا گیا۔ ان کے شعری سفر کی ابتداء بھی یہیں سے ہوتی ہے۔ ا س اسکول کے محرک انسپکٹر آف ایجوکیشن سید ابو محمد طاہر تھے۔ انھوں نے طلبہ کے اندر موجود ادبی صلاحیتوں کو ابھارنے کے لئے نظم خوانی کا ایک سلسلہ شروع کیا تھا۔ رفیعہ نے اسی سلسلے کے تحت طاہر صاحب کی عقیدت میں نظمیں کہناشروع کیں۔ بقول رفیعہ شبنم عابدی :
’’ہماری کلاس ماڈل کلاس قرا ردی گئی تھی۔ میں چونکہ کلاس میں مانیٹر تھی لہٰذا مجھے ہی ا س کاسرخیل بنایا گیا۔ میرا کام یہ تھا کہ کسی بھی استاد شاعر کی نظم از بر کرکے تحت اللفظ میں بآواز بلند سناؤں اور ٹیپ کا بند یا مصرعہ دوسرے دہرائیں۔ بس اسی دوران کب کسیے ایک مشاعرہ نے میرے ا ندر انگڑائی لی اور میں نے طاہر صاحب کی عقیدت میں نظمیں کہنا شروع کیں۔ ظاہر ہے بچکانہ نظمیںمثلاً :
جب بھی طاہر جناب آتے ہیں
ہم کو جغرافیہ پڑھاتے ہیں
کبھی نظموں کی با ت کرتے ہیں
کبھی کچھ شعر بھی سناتے ہیں
کبھی کرتے ہیں کچھ سوال عجیب
کچھ طریقے نئے سکھاتے ہیں‘‘۳؎
مذکورہ تمام باتوں کا نتیجہ یہ کلا کہ رفیعہ کو پانچویں جماعت ہی میں آزادؔ، نظیرؔ، اقبالؔ اور حالیؔ جیسے شعرا کی نظمیں ازبر ہو نے لگیں بعد ازاں رفیعہ نے نوویں جماعت کے لئے انجمن اسلام سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول بلاسس روڈ میں داخلہ لیا اس اسکول کے نظم و ضبط نے انھیں خاصہ متاثر کیا ۔ یہاں وسیع لائبریری تھی جس نے رفیعہ کے مطالعہ کو علم و ادب کے بسیط میدان سے آشنا کروایا اور رفیعہ کے مطالعہ کو تقویت بخشی۔ انھوں نے پریم چند، کرشن چندر، علی عباس حسینی، خواجہ احمد عباس اور عصمت چغتائی کی کئی کہانیاں اور افسانوں کے مجموعے پڑھ ڈ الے جس کی بدولت ان کا رجحان افسانہ نگاری کی طرف ہو گیا۔ اس دور میں ’’انقلاب ‘‘ نے رفیعہ کے علم و ادب کے ذوق کو پروان چڑھانے تخلیقی سفر کو صحیح سمت و راہ مہیا کرانے میں اہم کردار نبھایا۔ ’’ ہفت رنگ‘‘ کے نام سے انقلاب میں انور اشفاق کا ترتیب کردہ ایک صفحہ نکلتا تھا۔ رفیعہ ’’ ہفت رنگ قلم کار‘‘ سوسائٹی کے گرلز سیکشن کی برسوں سیکریٹری رہیں۔ رفیعہ جب تک سیف طیب جی اسکول میںزیر تعلیم رہیں ان کا رجحان شاعری سے زیادہ نثر کی طرف رہا۔ نوویں جماعت میں انھوں نے اپنا پہلا افسانہ ’’ آنکھ جو دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں‘‘ جس میں انھوں نے اپنے ایک آنکھوں دیکھے حادثے کو بیان کیا ہے۔یہ افسانہ روز نامہ انقلاب میں ’’بچوں کی دنیا‘‘ میں شائع ہوا، اسی دور میں پہلی دفعہ روزنامہ انقلاب میں رفیعہ کی غزل خواتین کے صفحہ’’ عالمِ نسواں‘‘ میں چھپی۔ مطلع ملاحظہ فرمایئے:
روکا تو بہت موجوں نے مگر ہم دامنِ ساحل پا ہی گئے
اک کوشش پیہم کرتے رہے اور جادۂ منزل پا ہی گئے
اسی زمانہ میں ’’ ماہ نامہ شمع ( دہلی) میں ایک اور غزل شائع ہوئی مطلع کچھ اس طرح تھا:
جو غم سے دور ہو ، وہ زندگی اچھی نہیں لگتی
تڑپ جب تک نہ شامل ہو ہنسی اچھی نہیں لگتی
شاعری کا یہ ورثہ ان کے والد صاحب کی طرف سے ملا مگر شاعری میںوہ اپنے والد صاحب کی شاگردی اختیا رنہ کر سکیں ، غالباً اپنے والد صاحب کو اپنا کلام دکھانے میں شرم مانع آجاتی ہو گی۔ مگر انھوں نے اپنے کلام پر نہ ہی کبھی کسی سے اصلاح لی اور نہ کسی کی شاگردی اختیار کی بس اپنی راہیں خود ہی تلاشتی رہیں۔
۱۹۶۰ء کے آس پاس جب تانیثیت کی تحریک بھی زور شور سے چل پڑی تھی۔ اسی دور میں رفیعہ شبنم منچری کے نام سے رومانی و سماجی کہانیاں لکھنے لگیں تھی۔ اس وقت وہ سب سے زیادہ ’’ واجدہ تبسم‘‘ کے رومانی افسانوں کا مطالعہ کیا کرتیں۔ اسی سے متاثر ہوکر ’’ جب دل ہی ٹوٹ گیا‘‘ اور ’’ میں پاگل میرا منوا پاگل‘‘ یہ دو رومانی ناول بھی لکھے۔ ۱۹۶۰ء سے ۱۹۷۰ء تک ماہنامہ بیسویں صدی میں رومانی کہانیاںلکھتی رہیں۔
اسکول کی تعلیم مکمل کرلینے کے بعد انھوں نے صوفایہ گرلز کالج میں داخلہ لیا اور انٹر میڈیٹ میں امتیازی نمبروں سے کامیاب ہوئیں۔ یہاںڈاکٹر فصیح الدین صدیقی اور محترمہ خیر النسا باقر مہدی جیسے باصلاحیت اساتذہ کی رہنمائی نے رفیعہ کے تخلیقی سفر کو رہنمائی عطا کی۔ انھوں نے صوفایہ کالج سے۱۹۶۵ء میں بی اے آنرز کیا پھر پروفیسر نجیب اشرف ندوی کی نگرانی میں ایم اے مکمل کر لیا۔ سینٹ جوزف کالج بمبئی سے پروفیسر نظام الدین گوریکر کے زمانے میں فارسی ایم اے اوّل درجے سے کامیاب ہوئیں۔ پی ایچ ڈی کی ڈگری ’’ ہندوستان میں شیعیت اور عزا داری‘‘ کے عنوان پر بمبئی یونیورسٹی سے ڈاکٹر آدم شیخ کی نگرانی میں حاصل کی ۔ اس کے بعد ان کی تحقیقی و تنقیدی کتاب ’’ ملّا وجہی اور انشائیہ‘‘ کے لئے بمبئی یونیورسٹی نے انھیں ڈی لٹ کی ڈگری سے نوازا۔
رفیعہ نے جیسے ہی بی اے آنرز کامیاب کیا تو انھیںکے اسکول یعنی سیف طیب جی گرلز ہائی اسکول میں لکچرر کے طور پر متعین کر دیا گیا۔ ایسااس لئے بھی ہوا کہ طالب علمی کے دور میں رفیعہ اس اسکول میں تما م اساتذہ کی ہر دل عزیز طالبہ تھیں۔ دوسرے ان میں قابلیت بھی بے پناہ تھی۔ اس ملازمت کو ابھی دو برس ہوئے تھے کہ ان کی شادی ’’ سید حسن اختر عابدی‘‘ سے ۱۹۶۷ء میں ہو گئی۔ عابدی صاحب اتر پردیش ضلع مراد آباد کے ’’نو گاواں سادات‘‘ کے ایک معزز گھرانے کے چشم وچراغ ہیں۔ مائیکے کی طرح سسرال بھی عالم ، فاضل اور ذی فہم با شعور لوگوں سے بھرا ہوا تھا۔ عابدی صاحب خود بھی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے معاشیات میں بی۔ اے کرکے بمبئی یونیورسٹی پوسٹ گریجویٹ کرنے کے بعد بمبئی کے میو نسپل کارپوریشن میںمحکمہ تعلیم سے منسلک ہو گئے۔ اتناہی نہیں عابدی صاحب کو شعر و شاعری سے بھی خاصہ لگاؤ رہا ہے۔ اچھا شعری ذوق رکھتے ہیں۔ ’’شعلہ‘‘ تخلص کرتے ہیں۔ عابدی صاحب کو شعر و شاعری کا یہ رنگ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرنے وقت آل احمد سرور، خورشید الاسلام، معین احسن جذبی، خلیل الرحمٰن اعظمی جیسے اعلیٰ شعری شعور اور ادبی ذوق رکھنے والے استادوں کی شفقت اور صحبتو ںکا نتیجہ ہے۔ عابدی صاحب کے چند اشعار دیکھئے ـ:
ہو گئیں سب حقیقتیں جھوٹی
اب تو کاغذ کی ناؤ چلتی ہے
آگ سے کھیلتے ہو کیوں شعلہؔ
یہ جلاتی ہے اور جلتی ہے
۔۔۔
اگلے تصورات کو بالکل فضول کر
دنیا کی انگلیاں اٹھیں کچھ ایسی بھول کر
کب تک جئیں گے یوں ہی فرشتوں کی زندگی
اپنے اصول توڑ ، مجھے بے اصول کر
شعلہ تو نذر کر دے غزل زندگی کے نام
اپنی سخن وری کی نہ قیمت وصول کر
اسی شعر فہمی اور ذی علمی کے باعث عابدی صاحب رفیعہ کی تمام شعری تخلیقات کے اولین سامع اور ناقد بھی رہے ہیں۔ رفیعہ خود اس بات کا اقرارکچھ اس طرح کرتی ہیں :
’’ وہ میری شعری تخلیقات کے نہ صرف اولین سامع اور ناقد ہیں بلکہ محرک بھی ہیں میری نوے فیصدی شاعری ان ہی کی ذات کے ارد گرد گھومتی ہے۔ کوئی بات ، کوئی رمز، کوئی کنایہ، کوئی واقعہ، کوئی حادثہ، جو ان کی زندگی سے ہوتا ہوا مجھ تک پہنچتا ہے۔ شعر بن جاتاہے۔‘‘ ۴؎
عابدی صاحب کی یہ خوبی ہے کہ انھوں نے خود کو پس منظر میں رکھا اور رفیعہ کو آگے بڑھنے اور لکھنے پڑھنے میں مکمل تعاون کرتے رہے۔ شادی کے بعد رفیعہ نے ادبی مشاغل ترک کردینے کا تہیہ کر لیا تھامگر شفیق و مہربان مانند دوست شوہر کی سرپرستی اور اعتبار کا نتیجہ تھا کہ رفیعہ نے یہ کامیابیاں اور کامرانیاں حاصل کیں اور ایک فرماں بردار نصف بہتر کی طرح نہ صرف ان کی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے تعلیم مکمل کی بلکہ امور خانہ داری کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کے فرائض بھی تقریباً ۳۸ سال تک بے حد ذمہ داری اور خندہ پیشانی سے نبھاتی رہیں ساتھ ساتھ ان کاتخلیقی سفر بھی جاری رہا۔
انجمن اسلام طیب جی اسکول میں لکچرر تھیں اسی دوران رفیعہ کا تقرر برہانی کالج ( مجگاؤں) میں اردو اور فارسی کی لکچرر کے طور پر ہوا۔ یہاں تقریباً چھ برس تک وہ لکچرر شپ کے فرائض انجام دیتی رہیں۔ ۱۹۸۱ میں ان کا تقرر مہاراشٹرا کالج آف آرٹس سائنس اینڈ کامرس میں بحیثیت ریڈر ہوا۔ یہاں اول تو فارسی درس و تدریس اور بعد ازاں صدر شعبۂ اردو کی حیثیت سے تقریباً بیس برس کے طویل عرصہ تک منسلک رہیں اور مہاراشٹرا کالج کو علم و ادب کا گہوارہ بنادیا۔ آخر کار ۲۰۰۱ء میں ان کی اعلیٰ صلاحیتوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے بمبئی یونیورسٹی میں کرشن چندر چئیر پر بحیثیت پروفیسر اور صدر شعبۂ اردو فائز ہوئیں اور دو سال بعد یعنی ۳۱؍ دسمبر ۲۰۰۳ء کو ملازمت سے سبکدوش ہوئیں اس طرح رفیعہ تقریباً ۳۸ سال درس و تدریس کے پیشہ سے وابستہ رہیں اور اپنی گراں قدر ادبی خدمات سے اپنے طلبہ کو سرفراز کرتی رہیں۔
رفیعہ شبنم عابدی کی پانچ اولادیں ہیں۔ دو بیٹیاں اور تین بیٹے۔ سب سے بڑی دختر شاداب سید ہیں رضوی کالج باندرہ میں درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ ہیں۔ ان کی دوسری بیٹی سیماب سید جو کہ دوبئی میں مقیم ہیں۔ دونوں بیٹوں کو شعر و شاعری سے گہرا شغف ہے۔ ۔ بیٹیوں میں سید دانش رضا بھی شاعر ی کا شغل فرماتے ہیں۔ دوسرے بیٹے شارق رضا کو نہ صرف شعر و و ادب سے لگاؤ ہے بلکہ اچھی خاصی شاعری بھی کر لیتے ہیں۔ یہ دونوں متحدہ امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا میں مقیم ہیں اور سب سے چھوٹے فرزند سید محمد کاشف کینیڈا میں بر سر روزگار ہیں۔ انھیں البتہ شعر و شاعری سے کوئی لگاؤ نہیں ہے۔ تما م بھائیوں بہنوں میں شاداب سید بڑی بیٹی ہونے کی حیثیت سے نہ صرف اپنی والدہ کے بے حد قریب ہیں بلکہ جذباتی و شعوری دونوں طور پر شاداب کا رشتہ رفیعہ سے بے حد گہر اہے۔
رفیعہ شبنم عابدی کا نام بیسیویں صدی کی اہم خواتین قلم کاروں میں بے حد نمایاں رہا ہے۔ آزادی کے بعد جن خواتین شاعرات نے اپنے فن کا لوہا منوایا اور اپنی مختلف پہچان و منفرد شناخت قائم کی اس میں ادا جعفری، شفیق فاطمہ شعریٰ ترنم ریاض، ساجدہ زیدی، زاہدہ زیدی، عذرا پروین، رخسانہ جبین اورشہناز نبی وغیرہ کے نام اہم ہیں ۔ نقادوں کا یہ کہنا ہے کہ یہ مختصر سی فہرست رفیعہ شبنم عابدی کے نام کے بغیر بالکل مکمل نہیں ہوسکتی۔ ان کی انہی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ہندوستان کے کئی سرکاری اور دیگرنیم سرکاری اداروں کی طرف سے انھیں اب تک کل ۲۸ چھوٹے و بڑے اعزازار سے نوازا جا چکا ہے۔
انعامات و اعزازات:
آل انڈیا روبی ادبی ایوارڈبرائے طرحی غزل (۱۹۶۸ء)، مہاراشٹرا اردو اکادمی ممبئی، بہار اردو اکادمی، پٹنہ، اتر پردیش اردو اکادمی لکھنؤ، کلچرل اکاڈمی بنگلور، مغربی بنگال اور اردو اکادمی، نیتاجی سبھاش چندر بوس سمرتی سمّان دہلی برائے صحافت (۱۹۹۰ء) مائیناریٹیز ایجوکیشنل فیڈریشن ایوارڈ برائے بہترین مدرس، کالج اور یونیورسٹی ٹیچر ایوارڈس(۱۹۹۸ء) رضوی ایجوکیشل فاؤنڈیشن ، ثانی زہراؐ ایوارڈ برائے نمایاں ادبی خدمات (۲۰۰۰ء) اور دیگر چھوٹے بڑے انعام و اکرام ، اس کے علاوہ مختلف تنظیموں اور اداروں کی رکن نامزد ہوئیں۔ ساہتیہ اکاڈمی دہلی میں پریلیمنری ایڈوائزر کی حیثیت سے دوبار شامل ہوئیں۔بمبئی یونیورسٹی میں صدر شعبۂ اردو کے عہدے پر ہوتے ہوئے مختلف کمیٹیوں کی رکن بھی رہ چکی ہیں۔
فی الحال رفیعہ شبنم عابدی اپنے شوہر کے ہمراہ اندھیر ی( مغرب) سات بنگلہ کی گلشن کالونی میں سن رائز اپارٹمنٹ میں رہتی ہیں۔ مالک ایزدی سے دعاہے کہ انھیں درازی عمر اور تندرستی عطا کرے تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی ان کی شخصیت سے فیض یاب ہوتی رہیں۔
شخصیت :
میرے کردار کو کیا قتل کرے گی دنیا
میں جہاں بھی رہی بیدار ضمیروں میں رہی
کہتے ہیں کہ انسان کہ شخصیت پر بچپن کے حالات و واقعات گہرے اثرات مرتب کرتے ہیں۔ رفیعہ شبنم عابدی چونکہ ایک اعلیٰ ادبی گھرانے میں پید اہوئیں انھیں علم و ادب کا خزانہ ورثہ میں ملا۔ رفیعہ کے بھائی بہن انھیں خاموش طبع ہونے سنجیدہ مزاجی اورسبھی سے الگ تھلگ رہنے کی وجہ سے ’’ کونے کی مکھی‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ مگریہ کونے کی مکھی در اصل ایسا گوہر نایاب نکلی جس نے سوچ کی گہرائی و گیرائی میں غوطہ زن ہوکر بڑی متانت کے ساتھ اپنی تازہ گہری فکر کو شاعری ، تنقید اور تحقیق کی صورت میں پرت در پرت اپنی شخصیت کے نہاں خانوں کو لوگوں کے سامنے ایسے شگفتہ و شاداب لب و لہجے میں پیش کیا کہ ہر کوئی ان کے مشاہدے کا قائل ہو گیا۔ اور انھیں ادب میں ایک اعلیٰ و افضل مقام پر بیٹھا دیا۔
ا س پراثر شخصیت کو سامنے دیکھنے کا موقع مجھ نا چیز کو اس وقت ملا جب شعبۂ اردو ممبئی یونیورسٹی کے زیر اہتمام منعقدہ سیمیناربہ عنوان ’’ فراق گورکھپوری فن اور شخصیت‘‘ کا کلیدی خطبہ موصوفہ نے پیش کیا اور ان کی شخصیت کا اولین تاثر ایساتھا جس کا بیان میری ناقص عقل کے بیان سے بالاتر ہے۔ ایک تو شخصیت معمر، پر وقار، اور اوپر سے تقریر کا انداز ایسا بے مثال کہ دل چاہ رہا تھاکہ وہ بولتی ہی چلی جائیں اور میری تمام حسیات منجمد ہو کہ سماعت تک محدود ہو جائے۔ تاکہ میں انھیں سنتی چلی جاؤں۔ یہ مبالغہ بالکل بھی نہیں ہے۔ میں ان کی تعریف وتوصیف بھلاکیا بیان کر سکوں گی۔ بہر حال آج ان کی شخصیت کسی تعریف ، توصیف اور کسی سرٹیفکٹ کی محتاج نہیں ہے۔ اس بات کا اعتراف ان کے سخن شناس خود بھی کرتے ہیں۔
ان کا چہرہ علم و ادب سے ان کی آشنائی کا بین ثبوت معلوم ہوتاہے کسی کی بات سنتے وقت ان کے چہرے پر سوچ و فکر کی گہری لکیریں صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔ ایسامحسوس ہوتاہے کہ گویا کسی گہرے تخیل سے ابھر کربس اب یا تب کوئی علم و دانش سے بھرا جملہ ان کے لبوں سے ادا ہوگا۔ اس سے زیادہ دلچسپ اور خوبصورت ان کی بڑی گہری آنکھیں سونے پر سہاگہ کا کام کرتی ہیں۔ بقول عابدی صاحب یہ آنکھیں جن سے ہوش مندی اور ذہانت جھانکتی ہے۔ جو اچھے اور برے کی تمیز کرنا جانتی ہیں ناک ستواں نہ سہی مگر ان کی پر وقار شخصیت کے اعتبار سے وقاربھر ناک ان کے چہرے پر بہت جچتی ہے۔ آنکھوں میں ہلکی سی کاجل کی لکیر اور لب ساری کی مناسبت سے کسی ہلکے رنگ کی لپ اسٹک سے مزین ، جن لبوں سے ہمہ وقت مقدس الفاظ نکل کر مدِّ مقابل کے حواسوں پر چھا جاتے ہیں لب و لہجہ بے حد مترنم اور آوازکا اتار چڑھاؤ کسی دھیمی موسیقی کا گمان کراتا ہے۔ رفیعہ بونے قد کی ہیں۔ گندمی رنگ ، خوش پو شاک او رہلکے گھنگھریالے دراز گیسو، کم عمر اور چھوٹے انھیں عزت و احترام سے رفیعہ آپا کہہ کر پکارتے ہیں تو بڑی محبت و اپنائیت سے بڑے عمدہ طریقے سے اور بڑی خندہ پیشان ی سے ملتی ہیں۔ حتیٰ کہ مزاج ایسا صلح پسند ہے اپنے دشمنوں کو بھی فوراً معاف کر دیتی ہیں۔انھیں کی زبانی سنیئے:
میں اپنے دشمنوں سے بھی بدلہ نہ لے سکی
نفرت مرے مزاج کا حصہ کبھی نہ تھی
ان کی سار ی خوبیاں انھیں ایک عمدہ ، ہندوستانی عورت کے حسن کی عمدہ مثال بنا دیتی ہے اور یہ صرف حلیہ کی حد تک ہی نہیں بلکہ عملی طور پر بھی وہ ہندوستانی عورت کا سچا روپ ہیں۔ تانیثی اور نسائی شاعرہ ہونے کے باوجود کافی conservative واقع ہوئی ہیں، یہاں وہ ’’ خاتون خانہ ہو وہ صبا کی پری نہ ہو‘‘۔ ا س بات کی قائل نظر آتی ہیں۔ ا سکے باوجود اپنے حقوق آگہی اور ان کا جائز استعمال کرنے سے وہ کبھی چونکتی نہیں ہیں
’’ ہر چند کہ آزادیِ فکر و فن کی قائل ہوں مگر آزادیِ نسواں کا مفہوم میرے نزدیک وہ نہیں جو ہماری بیشتر شاعرات کے یہاں دکھائی دیتاہے۔ مجھے مرد سے کوئی شکایت نہیں کہ وہ عورت پر ظلم کیوں کرتا ہے۔ مجھے عورت سے شکایت ہے کہ وہ مرد کے ظلم کیوں سہتی ہے۔ اپنے آپ کو مظلوم کیوں تصور کرتی ہے۔ ‘‘ ۵؎
بعض اوقات یہ احتجاجی لہجہ ہلکی سی کرختگی اختیار کر جاتاہے۔ پھر وہی ان کا ازلی اعتدال پسند رویہ اسے تھپکی دے کر پر سکون کر دیتا ہے۔ ان کا یہی رویہ انھیں مردوزن میں یکساں مقبول کرتاہے۔ اور یہ بات بھی اپنی جگہ درست ہے کہ مذہب کی پاسدار اور عورتوں کی بے جا آزادی کے خلاف سہی لیکن بعض اوقات ان روایتوں سے انحراف کرتی نظر آتی ہیں اور یہی کشمکش ان کی حیات و شخصیت کے ساتھ ساتھ شاعری کی بھی شناخت معلوم ہوتی ہے۔
شہر میں ، دشت میں، گلزار میں کب جاتی ہے
میری آواز مرے گھر میں ہی دب جاتی ہے
۔۔۔
ایک لمحہ بھی اگر سیر کو باہر نکلوں
شہر میں ڈھونڈھنے لگتا ہے مجھے گھر میرا
درون خانہ افراد کے تاثرات سے ان کی شخصیت کاجو تاثر نکلتا ہے۔ وہ کچھ ایساہے کہ وہ نہایت ہی شوہر پرست، سلیقہ شعار بیوی ، اپنے بچوں کی خواہشات پر ممتا نچھاور کرنے والی ماں اور ایک ایسی بہو جو اپنی ساس کی گہری سہیلی اور بہو کی دوست و غم گسار ساس ہیں۔ شاداب سیدلکھتی ہیں:
’’ میں نے اپنی ماں کی شکل میں ایک ایسی عورت کو دیکھا جو بہو بنی تو ساس اپنے سارے دکھڑے ، حال دل راز بیاں کرنے کے لئے اس کا انتظار کرتی اور بچپن کی پکی سہیلیوں کی طرح بیٹھ کر ایک دوسرے کا درد بانٹا جاتا۔ سسر کے ساتھ عربی، فارسی زبان و ادب کے علاوہ مذہبی موضوعات پر گفتگو ہوتی۔ ممی وہ ماں ہے جو بیٹیوں کو رخصت کرتی ہے تو اس نصیحت کے ساتھ کہ ساس کو اپنی ماں سمجھنا اور نندوں اور دیوروں کو بھائی بہن۔ اور جب بہو بیاہ کر لاتی ہیں توبیٹوں کے سر پر اپناہاتھ رکھ کر قسم لیتی ہیں کہ تمھارا سلوک اپنے ساس سسر کے ساتھ بالکل والدین جیساہوگا۔ جو درجہ والدین کا ہے وہی بیوی کے والدین کا ہوگا ۔‘‘ ۶؎
رفیعہ کی شخصیت کا یہ خاصہ ہے کہ وہ رشتے نبھاناخوب جاتی ہیں۔ شاید اسی باعث ان کے بہو بیٹے انھیں کو اپنا آئیڈیل تصور کرتے ہیں۔ ویسے تو انھیں غصہ جلدی نہیں آتا مگر جب کوئی بات طبیعت کے منافی ہو جائے اور ناگوار محسوس ہو، وہ بھی خاص طور سے اپنے خود کے بچوں کے تعلق سے تو انھیں غصہ ضرور آتا ہے۔ اور مزے کی بات یہ ہے کہ غصہ میں احتجاج انگریزی زبان میں کرتی ہیں اور فر فر انگریزی کے کچھ اس طرح کے جملے ان کے منھ سے نکلتے ہیں مثلاً :
I cannot tolarate all these things, I hate this, I don’t like nonsense,
وغیرہ وغیرہ جن سے سب سے زیادہ محبت کرتی ہیں انھیں سے تغافل برتتی ہیں مگر ان کی طبیعت میں کچھ اس طرح کی نرمی موجود ہے کہ اپنے دشمنوں تک سے زیادہ دنوں تک ناراض نہیں رہ سکتیں۔ تو اپنے بچوں سے کب تک ناراضگی مناسکتی ہیں۔ ان کی ۳۸ سے ۳۹ سالہ کامیاب ازدواجی زندگی کی بنیاد بھی ان کا اعتدال پسند رویہ ہی ہے۔ اور ا س معتدل رویے کی باعث انھوں نے اپنے شوہر، بچوں امور خانہ داری اور شعر و ادب
ان تمام خانوں کو صحیح ڈھنگ سے پر کرنے کی مکمل سعی کی اور کامیاب بھی ٹھہریں۔
ان کی انصاف پسند طبیعت اور صلح رحمی والے رویہ کا کئی لوگ فائدہ اٹھا تے ہیں۔ خاص کر شعر و ادب میں اتنا بلند مقام ہونے کی وجہ سے ان کے کئی دشمن بھی ہیں لیکن حریفوں کوحسن و سلوک سے زیر کرناان کے دلوں پر حکومت کرنے کی ضد ان میں بدرجہ اتم موجودہے۔ سچ تویہ ہے کہ لڑنا جھگڑنا ان کی سرشت میں ہے ہی نہیں۔ اور اگر کسی سے لڑائی ہو بھی جائے تو لڑتے لڑتے انھیں رونا آ جاتاہے۔ اور اسی کے بارے میں سوچ سوچ کر جان ہلکان کر دیتی ہیں یہاں تک کہ بیمار ہو جاتی ہیں پھر تمام بچے اور عابدی صاحب کوئی نہ کوئی الٹی سیدھی حرکتیں کرکے ان کا جی بہلائے رکھنے اور دھیان بٹانے رکھنے کی سعی میں جٹ جاتے ہیں۔
زندگی اور ادب کے متعلق رفیعہ کے چند اصول ہیں وہ چاہتی ہیں کہ جہاں بھی جاؤں کامیاب ٹھہروں۔ ان کی اس ضد نے انھیں گھر آنگن سے لے کر ادبی دنیا کی بسیط وادیوں تک میں کامرانیاں عطا کیں۔ گھر میں مکمل طور پر ایک روایتی گھریلو عورت کا کردار نبھایا ایک ایسی خاتون خانہ جس نے اپنے گھریلو کام اور ادبی مصروفیات کے با وجود اپنے بچوں کوصحیح طریقہ زندگی سکھانے میں کوئی دقیقہ فرو گذاشت نہ کیا تو وہیں ادب کے تئیں مکمل خدمات انجام دیتی رہیں دوست و احباب کے حلقۂ میں کوئی علیل ہوا تو اس کی عیادت و غم گساری کے لئے جانا بھی از حد ضروری خیال کرتی ہیں۔ انھیں دیکھ کر اور ان کے علم و عمل کے قصے سن کر یہ گمان ہونے لگتاہے کہ آیا یہ عورت کوئی عورت ہی ہے یا جادو گرنی جوہمہ وقت ہر کام کرنے پر یونہی آمادہ رہتی ہے۔ مگر ہر وقت کا م کو کرنے کے لئے تیار رہنے والی یہ شخصیت بعض اوقات عجلت میں بہت سے کام بگاڑ بھی دیتی ہے۔ ہاں یہ حقیقت ہے یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ ان کی شخصیت کا ایک چھوٹا سا منفی پہلو ہے۔ کہ وہ عجلت پسند ہیں۔ اسی باعث جب کچھ کام بگڑ جاتے ہیں تو ندامت او رپچھتاوا بھی محسوس کرتی ہیں۔
فیاض احمد فیضی جو رفیعہ کو اپنے بچپن سے جانتے ہیں وہ ا س مسحور کن شخصیت اور ان کی مداح کچھ اس انداز میں کرتے ہیں کہ :
’’ رفیعہ شبنم کی دیانت داری کے بارے میںکیا عرض کروں انھیں زندگی میں بد دیانتی کے بہت کم مواقع نصیب ہوئے۔ لیکن جہاں بھی ملے وہ ان سے یوں دامن بچا کر نکل گئیں جیسے آج کل کے سیاستدان سچ بولنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی عادت نہ بگڑ جائے۔ رفیعہ شبنم کو میں نے کبھی کبھی جھوٹ بولتے سنا ہے۔ لیکن وہ سب بڑے بے ضرر قسم کے جھوٹ ہو اکرتے ہیں۔ ‘‘ ۷؎
اس سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ کسی بھلے کی خاطر وہ جھوٹ بھی کہہ سکتی ہے۔ واقعی وہ ان کی حساس اس طبیعت اب تک ان پر چھائی ہوئی ہے۔ یا ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب ا س طبیعت نے انھیں اتنی مہارت عطاکر دی ہے کہ لفظوں کے بغیر صرف حسیات سے ہی وہ لوگوں کے دکھ جان لیتی ہیں۔
بڑا سکون، بڑا سکھ ہے اس کے سائے میں
وہ ایک پیڑ جو برگد کی چھاؤں جیسا ہے
استاد کی حیثیت سے بھی رفیعہ کی شخصیت اتنی ہی اہم اتنی ہی پر اثر رہی ہے۔ آج بھی ان کے شاگرد انھیں بے انتہا عقیدت و احترام کے ساتھ نہ صرف آنکھوں پر بٹھاتے ہیں بلکہ ان ہی کے نقش پا پر چلنے کی کوشش بھی کرتے ہیں۔ اس ضمن میںاعجاز احمدلکھتے ہیں:
’’ بقول شخصے : معلم اس جوہری کی مانند ہوتاہے جو ایک بے ڈول پتھر کو تراش کر نگینہ بنادیتا ہے۔ ہماری استاد بالکل اسی طرح کی جوہری ہیں۔ جوہم جیسے کم اور ناقص العلم طلبہ کو تراش کر انھیں کامیاب زندگی گزارنے میں بڑی مدد دیتی ہیں۔ اور ان کے پڑھانے کا انداز بہت ہی خوبصورت ہے۔ وہ پڑھائی کے دوران اپنے حسنِ عمل سے بچوں کے ذہنوں میں رچ بس جاتی ہیں۔‘‘ ۸؎
رفیعہ شبنم عابدی کی ہمہ جہت، ہمہ رنگ شخصیت اور ا س میں نہاں و پوشیدہ ، خوبیوں کی قوس قزح کو چند ایک صفحوں میں سمیٹنا بالکل ناممکن امرہے ۔ او رمجھ جیسی ناقص العلم، ناقص العقل طالب علم کے بیان سے باہر بھی۔ ان کی شایان شان پذیرائی کرنے کاحق تو ادب کے جیالے اور متوالے بھی اب تک ادا کرنے سے قاصر ہیں۔ البتہ تریاق کی خصوصی پیش کش ’’ شناخت رفیعہ شبنم عابدی نمبر سے ان کی شاعری اور شخصیت کے کئی باطنی پہلو ہر خاص و عام کے سامنے آ گئے ہیں۔
حواشی
۱۔اردو میں نسائی ادب کا منظر نامہ: مرتبہ نیر جہاں جولائی ۲۰۱۴ ص ۹۱
۲۔ماہنامہ شاعرممبئی: شمارہ مارچ ۲۰۱۰ ص ۲۹
۳۔ایضاََ ص ۱۲
۴۔ایضاََ ص ۱۲
۵۔ ماہنامہ تریاق ممبئی: رفیعہ شبنم عابدی نمبرجون ۲۰۱۷ ص۳۵
۶۔ایضاََ ص ۷۲
۷۔ ایضاََ ص ۵۷
۸۔ ایضاََ ۶۲
Albert Camus
Articles
Ismat Chughtai
Articles
عصمت چغتائی
عصمت چغتائی
عصمت چغتائی اردو ادب کی تاریخ میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ ناول، افسانہ اور خاکہ نگاری کے میدان میں انھوں نے گراں قدر خدمات انجام دی ہیں۔ سب سے اہم یہ کہ انھوں نے اردو میں ایک بے باک تانیثی رویے اور رجحان کا آغاز کیا اور اسے فروغ بھی دیا۔ عصمت۲۱؍ اگست۱۹۱۵ء کو اترپردیش کے مردم خیز شہربدایوں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد مرزا نسیم بیگ چغتائی ڈپٹی کلکٹر تھے ۔ لہٰذا ان کا تبادلہ ہوتا رہتا تھا۔ اسی سبب سے ان کا بچپن جودھ پور (راجستھان) میں گزرا۔ انھوں نے علی گڑھ گرلس کالج سے گریجویشن کرنے کے بعد بی ٹی (بیچلر آف ٹیچنگ) کیا۔ تحصیل علم کے بعد بدایوں کی ایک گرلس کالج میں ملازمت اختیارکی۔ وہ ۱۹۴۲ء میں انسپکٹر آف اسکول کی حیثیت سے بمبئی پہنچیں۔ شاہد لطیف سے ان کی شادی ہوئی جو تھوڑے سے ابتدائی دنوں کو چھوڑکر ہمیشہ جی کا جنجال بنی رہی۔ فلم، صحافت اور ادب ان کی سرگرمیوں کا مرکز و محورہیں۔ ان کا انتقال ممبئی میں ۲۴؍ اکتوبر۱۹۹۱ء کو ہوا۔ انھیں ان کی وصیت کے مطابق بمبئی کے چندن واڑی سری میٹوریم میں سپرد برق کیا گیا۔
عصمت چغتائی بڑی آزاد خیال اور عجیب و غریب خاتون تھیں۔اُن کی شخصیت اور انسانی رشتوں اور ان رشتوں کے ساتھ عصمت کے رویے اور تعلق کو درشانے کے لیے ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے کچھ مختصر واقعات نقل کیے جائیں جنھوں نے عصمت کے ساتھ کچھ وقت گزارا تھا۔ مثال کے طور پر مشہور افسانہ نگار اوپندر ناتھ اشک اپنے ایک مضمون میں ساحر لدھیانوی کے گھر فراق کے اعزاز میں دئے گئے ایک ڈنر جس میں عصمت کے شوہر شاہد لطیف بھی تھے کا ذکر کرتے ہوئے عصمت کے کردار کی یہ تصویر کھینچتے ہیں:
’’سبھی مرد عورتیں پی رہے تھے۔ عصمت نے ایک آدھ پیگ پینے کے بعد ہاتھ میں گلاس تھامے اسے گھماتے ہوئے بہ آواز بلند کہا۔۔۔ ’’میر اجی چاہتا ہے میں ایک حرام کا بچہ جنوں ، لیکن شاہد زہر کھا لے گا‘‘۔۔۔ مجھے اس ریمارک سے خاصہ دھکا لگا تھا۔ کوئی عورت پی کر بھی ایسا ریمارک نہیں کس سکتی۔ جب تک کہ اپنے شوہر کی بے راہ روی یا کمزوری سے اس کے دماغ میں یہ خیال نہ پیدا ہوا ہو یا پھر شوہر کے علاوہ وہ کسی اور مرد کونہ چاہتی ہو۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: اوپیندر ناتھ اشک۔ ص: ۲۲۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
عصمت کو قریب سے دیکھنے اور جاننے والوں میں قرۃ العین حیدر بھی ہیں۔ انھوں نے عصمت کی وفات سے متاثر ہو کر لیڈی چنگیز خان کے عنوان سے جو مضمون قلم بند کیا تھا اس میں عصمت کی آزاد خیالی کو اس واقعے کی روشنی میں پیش کیا :
’’ان کی بڑی بیٹی نے بنگلور میں سول میریج کر لی اور اطلاع دی کہ اس کی ساس سسر مذہبی رسوم کی ادائیگی بھی چاہتے ہیں آپ بھی آ جائیے۔ بنگلور سے واپس آکے عصمت آپا نے اپنے خاص انداز میں نہایت محظوظ ہوتے ہوئے سنایا کہ صبح صبح میں اٹھ گئی۔ سارا گھر سو رہا تھا۔ ان کا پنڈت آگیا۔ اب وہ بے چارہ ایک کمرے میں پریشان بیٹھا تھا۔ کہنے لگا مہورت نکلی جا رہی ہے اور یہاں کوئی ہے ہی نہیں۔ میں پوجا کیسے شروع کروں۔ میں نے کہا اے پنڈت جی آپ کیوں فکر کرتے ہیں۔ میں پوجا شروع کروائے دیتی ہوں۔ بس میں بیٹھ گئی اور میں نے پوجا شروع کروا دی۔ میں نے حیران ہوکے پوچھا بھلا اپ نے پوجا کس طرح کروائی۔ کہنے لگیں۔ اے اس میں کیا تھا۔ پنڈت نے کہا۔ میں منتر پڑھتا ہوں آگ میں تھوڑے تھوڑے چاول پھینکتے جائیے۔ میں چاول پھینکتی گئی۔ اتنے میں گھر کے اور لوگ بھی آ گئے۔ بس۔ ‘‘
(’’عصمت چغتائی۔ دوزخی کی باتیں ‘‘از: قرۃ العین حیدر۔ ص:۳۷۔ ماہنامہ شاعر جنوری ۱۹۹۲ء )
یہ ہے عصمت چغتائی کی سیرت وشخصیت ،کردار اور ان کی فکر کا محور۔ وہ بہت آزاد خیال تھیں۔ وہ تاش دلچسپی سے کھیلتیں اور لگاتار سگریٹ پیتی تھیں۔ انھیں مے نوشی کا بھی شوق تھا۔ ان کے سینے میں مردوں یا اپنے حریفوں سے انتقام کی آگ ہمیشہ جلتی رہی۔ جس سے نفرت ہوئی اس کو کبھی معاف نہیں کیا۔ دراصل انھوں نے اپنے بچپن ہی میں اس بات کو شدت سے محسوس کیا تھا کہ اچھی سے اچھی بیٹی نالائق سے نالائق بیٹے سے کم ترہی سمجھی جاتی ہے چنانچہ ان کی اپنے کسی بھائی سے کبھی نہیں نبھی۔ ہر بھائی سے لڑائی جھگڑے میں ہی ان کا بچپن گزرا۔ بچپن کا یہ نقش ان کے بڑھاپے تک پتھر کی لکیر بنا رہا اور مردوں سے بیر رکھنا ان کی فطرت ثانیہ بن گیا۔ وہ انتقام کی اسی آگ میں ہمیشہ جلتی رہیں۔ یہاں تک کہ مرنے کے بعد خود جل کر راکھ ہو گئیں۔ عصمت چغتائی کی سوچ کا تانا بانا انھیں حادثات و واقعات سے تیار ہوا ہے۔ انھوں نے ترقی پسندی کے انتہائی عروج کے زمانے میں قلم سنبھالا اور اپنے باغی لب و لہجے سے مردوں کی صفوں میں ہل چل مچا دی ۔ساتھ ہی یہ یقین دلانے کی بے باکانہ کوشش بھی کی کہ عورت اپنی محدودیت کے باوجود لامحدود ہے اور مرد سے کسی طرح کم نہیں ہے۔
عصمت چغتائی نے ضدی، ٹیڑھی لکیر، ایک بات، معصومہ، جنگلی کبوتر، سودائی، انسان اور فرشتے، عجیب آدمی اور ایک قطرۂ خون جیسے مشہور ناول لکھے۔ باغیانہ خیالات پر مشتمل ایک ناولٹ دل کی دنیا تحریر کیا۔ اپنے افسانوں کے مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں شائع کروائے۔ دھانی بانکپن اور شیطان جیسے معروف ڈرامے قلمبند کیے اور تاویل، سودائی اور دوزخی جیسے بے مثال خاکے لکھے۔ ان کی یہ وہ تخلیقات ہیں جو ناول، افسانہ، ڈراما اور خاکہ نگاری کی تاریخ میں اہمیت کی حامل ہیں۔
ناول نگاری کی طرح افسانہ نگاری میں بھی عصمت کا ایک منفرد مقام ہے۔ ان کے افسانوی مجموعے چوٹیں ، چھوئی موئی، دو ہاتھ اور کلیاں کو بہت مقبولیت ملی۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں رشید جہاں کی قائم کردہ روایت کو بلندیوں پر پہنچایا اور عورت کے مسائل کی پیش کش میں رقت آمیز اور رومانی طرز کو بدل کر ایک بے باک، تلخ لیکن جرأت آمیز اسلوب کو رائج کیا۔ عصمت نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے گھروں میں بولی جانے والی جس ٹھیٹھ اردو اور کٹیلے طنزیہ لہجے کو اپنایا وہ ان کی انفرادیت کا ضامن بن گیا۔ انھوں نے زیادہ تر متوسط اور نچلے طبقے کی خواتین کے مسائل اور ان کی نفسیات پر لکھا جس پر انھیں گہرا عبورحاصل تھا۔ ان کے زیادہ تر افسانے ایک ایسے المیے پر ختم ہوتے ہیں جو حقیقت سے بہت قریب ہوتے ہیں۔ انھوں نے اردو افسانے کو سچ بولنا سکھایا اور عورت کے چھوٹے سے چھوٹے مسئلے کو کہانی کا موضوع بنایا۔ چوتھی کا جوڑا، بہو بیٹیاں ، سونے کا انڈا، چھوئی موئی، بھول بھلیاں ، ساس، لحاف، بے کار، کلو کی ماں ، اف یہ بچے، چارپائی، جھوٹی تھالی، میرا بچہ، ڈائن، ایک شوہر کی خاطر، سالی، سفر میں ، تل، لال چیونٹے، پیشہ ور، ننھی کی نانی وغیرہ ان کے مشہور اور یادگار افسانے ہیں۔ ان افسانوںمیں انھوں نے ایک مخصوص قسم کی فضا تخلیق کی ہے جو فضا گھر اور گھریلو زندگی سے تعلق رکھتی ہے۔ ان افسانوں میں عورت کا تصور اس کی بدنصیبی سے وابستہ نظر آتا ہے۔ اس کی پوری زندگی تلخیوں اور پریشانیوں میں گھری معلوم ہوتی ہے اور آخر میں وہ ان دکھوں کی تاب نہ لا کر اپنی جان دے دیتی ہے۔ عصمت کے زیادہ تر افسانے ایک خاص طبقے اور خصوصی طور پر عورت کے گھریلو ا ور جنسی تعلقات کے اردگرد گھومتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں یکسانیت کا پہلو ابھر کر سامنے آتا ہے جو قاری کے لیے کبھی کبھی اکتاہٹ کا سبب بھی بن جاتا ہے۔
عصمت صرف جنس اور عورت کے مسائل تک محدود نہیں تھیں۔ ان کے افسانے:جڑیں ، کافر، دو ہاتھ اور ہندوستان چھوڑ دو وغیرہ گہرے تاریخی اور معاشرتی شعور کے آئینہ دار ہیں۔ انھوں نے دو ہاتھ میں محنت کس طبقے کی اہمیت اجاگر کیا ہے۔ دراصل عصمت کا دور ترقی پسندی کا دور تھا جس میں سماجی نا انصافیوں کے ساتھ جدوجہد کرتے ہوئے آزادی، انصاف اور ترقی کا ساتھ دیا گیا۔ یوں انھوں نے سماج کے ہر مسئلے اور طبقے پر لکھا لیکن یہ ایک مسلمہ سچائی ہے کہ عورت کی نفسیات اور جنس کے موضوع ہی ان کے نزدیک اہمیت کے حامل تھے۔
عصمت ناول نگار اور افسانہ نگار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک کامیاب ڈراما نگار بھی تھیں انھوں نے اپنے ڈراموں میں حقیقت نگاری پر زور دیا۔ ان کے ڈراموں میں ایک بات اور نیلی رگیں بہت مشہور ہیں۔ ان کے علاوہ سانپ، دھانی بانکپن اور انتخاب بھی ان کے اچھے ڈرامے ہیں۔ ان کے ڈراموں کے کردار ہماری زندگی کے کردار ہیں۔ ان کی زبان صاف، سادہ اور دل کش ہے۔
عصمت کے تحریر کیے ہوئے خاکے تاویل، سودائی اور دوزخی کے نام سے شائع ہوئے۔ ان خاکوں میں دوزخی کو ادبی دنیا میں کافی مقبولیت ملی۔ جب یہ ماہنامہ ساقی (دہلی) میں شائع ہوا تو منٹو کی بہن نے کہا کہ ’’سعادت یہ عصمت کیسی بے ہودہ عورت ہے کہ اپنے موئے بھائی کو بھی نہیں بخشا۔ کمبخت نے کیسی کیسی فضول باتیں لکھی ہیں۔ اس وقت منٹو نے اپنی بہن سے کہا تھا کہ اقبال اگر تم مجھ پر ایسا ہی مضمون لکھنے کا وعدہ کروتو میں ابھی مرنے کو تیار ہوں۔
بلاشبہ عصمت کی تحریریں موضوعات، اسلوب، کردار اور لب و لہجے کے اعتبار سے تانیثی حسیت اور تانیثی شعور کے اظہار کا پہلا معتبر تجربہ ہیں۔ اس اعتبار سے یہ تانیثیت کی پہلی اور مستند دستاویزات ہیں۔
Waheed Akhtar
Articles
وحید اختر
وحید اختر
متاز شاعر اور نقاد وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں وہ منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کو نہ صرف اپنی شعری خدمات عطاکیں بلکہ اپنے مضامین کے ذریعے بھی انھوں نے جدیدیت کی تعبیر و تشریح کی کوشش کی۔ انھوں نے جدید طرز کے مرثیے لکھ کر اس صنف کا دائرہ وسیع کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے منسلک رہے۔ 13 دسمبر 1996 کو دہلی میں انتقال ہوا۔
