Intekhab E Kalam Sauda

Articles

انتخابِ کلام سودا

مرزا محمد رفیع سودا

 

گل پھینکے ہے اوروں کی طرف بلکہ ثمر بھی

اے خانہ بر انداز چمن کچھ تو ادھر بھی

کیا ضد ہے مرے ساتھ خدا جانے وگرنہ

کافی ہے تسلی کو مری ایک نظر بھی

اے ابر قسم ہے تجھے رونے کی ہمارے

تجھ چشم سے ٹپکا ہے کبھو لخت جگر بھی

اے نالہ صد افسوس جواں مرنے پہ تیرے

پایا نہ تنک دیکھنے تیں روئے اثر بھی

کس ہستئ موہوم پہ نازاں ہے تو اے یار

کچھ اپنے شب و روز کی ہے تج کو خبر بھی

تنہا ترے ماتم میں نہیں شام سیہ پوش

رہتا ہے سدا چاک گریبان سحر بھی

سوداؔ تری فریاد سے آنکھوں میں کٹی رات

آئی ہے سحر ہونے کو ٹک تو کہیں مر بھی


وے صورتیں الٰہی کس ملک بستیاں ہیں

اب دیکھنے کو جن کے آنکھیں ترستیاں ہیں

آیا تھا کیوں عدم میں کیا کر چلا جہاں میں

یہ مرگ و زیست تجھ بن آپس میں ہنستیاں ہیں

کیونکر نہ ہو مشبک شیشہ سا دل ہمارا

اس شوخ کی نگاہیں پتھر میں دھنستیاں ہیں

برسات کا تو موسم کب کا نکل گیا پر

مژگاں کی یہ گھٹائیں اب تک برستیاں ہیں

لیتے ہیں چھین کر دل عاشق کا پل میں دیکھو

خوباں کی عاشقوں پر کیا پیش دستیاں ہیں

اس واسطے کہ ہیں یہ وحشی نکل نہ جاویں

آنکھوں کو میری مژگاں ڈوروں سے کستیاں ہیں

قیمت میں ان کے گو ہم دو جگ کو دے چکے اب

اس یار کی نگاہیں تس پر بھی سستیاں ہیں

ان نے کہا یہ مجھ سے اب چھوڑ دخت رز کو

پیری میں اے دوانے یہ کون مستیاں ہیں

جب میں کہا یہ اس سے سوداؔ سے اپنے مل کے

اس سال تو ہے ساقی اور مے پرستیاں ہیں


باطل ہے ہم سے دعویٰ شاعر کو ہم سری کا

دیوان ہے ہمارا کیسہ جواہری کا

چہرہ ترا سا کب ہے سلطان خاوری کا

چیرہ ہزار باندھے سر پر جو وہ زری کا

منہ پر یہ گوشوارہ موتی کا جلوہ گر ہے

جیسے قران باہم ہو ماہ و مشتری کا

آئینہ خانے میں وہ جس وقت آن بیٹھے

پھر جس طرف کو دیکھو جلوہ ہے واں پری کا

جز شوق دل نہ پہنچوں ہرگز بہ کوئے جاناں

اے خضر کب ہوں تیری محتاج رہبری کا

جو دیکھتا ہے تجھ کو ہنستا ہے قہقہے مار

اے شیخ تیرا چہرہ مبدا ہے مسخری کا

طالب ہیں سیم و زر کے خوبان ہند سوداؔ

احوال کون سمجھے عاشق کی بے زری کا


مقدور نہیں اس کی تجلی کے بیاں کا

جوں شمع سراپا ہو اگر صرف زباں کا

پردے کو تعین کے در دل سے اٹھا دے

کھلتا ہے ابھی پل میں طلسمات جہاں کا

ٹک دیکھ صنم خانۂ عشق آن کے اے شیخ

جوں شمع حرم رنگ جھلکتا ہے بتاں کا

اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن

جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا

دکھلائیے لے جا کے تجھے مصر کا بازار

لیکن نہیں خواہاں کوئی واں جنس گراں کا

ہستی سے عدم تک نفس چند کی ہے راہ

دنیا سے گزرنا سفر ایسا ہے کہاں کا

سوداؔ جو کبھو گوش سے ہمت کے سنے تو

مضمون یہی ہے جرس دل کی فغاں کا


ہندو ہیں بت پرست مسلماں خدا پرست

پوجوں میں اس کسی کو جو ہو آشنا پرست

اس دور میں گئی ہے مروت کی آنکھ پھوٹ

معدوم ہے جہان سے چشم حیا پرست

دیکھا ہے جب سے رنگ کفک تیرے پاؤں میں

آتش کو چھوڑ گبر ہوئے ہیں حنا پرست

چاہے کہ عکس دوست رہے تجھ میں جلوہ گر

آئینہ دار دل کو رکھ اپنے صفا پرست

آوارگی سے خوش ہوں میں اتنا کہ بعد مرگ

ہر ذرہ میری خاک کا ہوگا ہوا پرست

خاک فنا کو تاکہ پرستش تو کر سکے

جوں خضر مست کھائیو آب بقا پرست

سوداؔ سے شخص کے تئیں آزردہ کیجیے

اے خود پرست حیف نہیں تو ہوا پرست


Intekhab E Kalam Ameer Minai

Articles

انتخابِ کلام امیر مینائی

امیر مینائی


سرکتی جائے ہے رخ سے نقاب آہستہ آہستہ

نکلتا آ رہا ہے آفتاب آہستہ آہستہ

جواں ہونے لگے جب وہ تو ہم سے کر لیا پردہ

حیا یک لخت آئی اور شباب آہستہ آہستہ

شب فرقت کا جاگا ہوں فرشتو اب تو سونے دو

کبھی فرصت میں کر لینا حساب آہستہ آہستہ

سوال وصل پر ان کو عدو کا خوف ہے اتنا

دبے ہونٹوں سے دیتے ہیں جواب آہستہ آہستہ

وہ بے دردی سے سر کاٹیں امیرؔ اور میں کہوں ان سے

حضور آہستہ آہستہ جناب آہستہ آہستہ


2

ہوئے نامور بے نشاں کیسے کیسے
زمیں کھا گئی آسماں کیسے کیسے

تری بانکی چتون نے چن چن کے مارے
نکیلے سجیلے جواں کیسے کیسے

نہ گل ہیں نہ غنچے نو بوٹے نہ پتے
ہوئے باغ نذرِ خزاں کیسے کیسے

یہاں درد سے ہاتھ سینے پہ رکھا
وہاں ان کو گزرے گماں کیسے کیسے

ہزاروں برس کی ہے بڑھیا یہ دنیا
مگر تاکتی ہے جواں کیسے کیسے

ترے جاں نثاروں کے تیور وہی ہیں
گلے پر ہیں خنجر رواں کیسے کیسے

جوانی کا صدقہ ذرا آنکھ اٹھاؤ
تڑپتے ہیں دیکھو جواں کیسے کیسے

خزاں لوٹ ہی لے گئی باغ سارا
تڑپتے رہے باغباں کیسے کیسے

امیرؔ اب سخن کی بڑی قدر ہو گی
پھلے پھولیں گے نکتہ داں کیسے کیسے


3

جو کچھ سوجھتی ہے نئی سوجھتی ہے

میں روتا ہوں، اس کو ہنسی سوجھتی ہے

 

تمہیں حور اے شیخ جی سوجھتی ہے

مجھے رشک حور اک پری سوجھتی ہے

 

یہاں تو میری جان پر بن رہی ہے

تمہیں جانِ من دل لگی سوجھتی ہے

 

جو کہتا ہوں ان سے کہ آنکھیں ملاؤ

وہ کہتے ہیں تم کو یہی سوجھتی ہے

 

یہاں تو ہے آنکھوں میں اندھیر دنیا

وہاں ان کو سرمہ مسی سوجھتی ہے

 

جو کی میں نے جوبن کی تعریف بولے

تمہیں اپنے مطلب کی ہی سوجھتی ہے

 

امیر ایسے ویسے تو مضموں ہیں لاکھوں

نئی بات کوئی کبھی سوجھتی ہے

———————————————
4

دل نے جب پوچھا مجھے کیا چاہئے؟

درد بول اٹھا ۔ تڑپنا چاہئے

 

حرص دنیا کا بہت قصہ ہے طول

آدمی کو صبر تھوڑا چاہئے

 

ترک لذت بھی نہیں لذت سے کم

کچھ مزا اس کا بھی چکھا چاہئے

 

ہے مزاج اس کا بہت نازک امیر!

ضبطِ اظہارِ تمنا چاہئے

———————————————
5

یہ چرچے، یہ صحبت، یہ عالم کہاں

خدا جانے ، کل تم کہاں، ہم کہاں

جو خورشید ہو تم تو شبنم ہیں ہم

ہوئے جلوہ گر تم تو پھر ہم کہاں

حسیں قاف میں گوکہ پریاں بھی ہیں

مگر اِن حسینوں کا عالم کہاں

الٰہی ہے دل جائے آرام غم

نہ ہوگا جو یہ جائے گا غم کہاں

کہوں اُس کے گیسو کو سنبل میں کیا

کہ سنبل میں یہ پیچ یہ خم کہاں

وہ زخمی ہوں میں، زخم ہیں بے نشاں

الٰہی لگاؤں میں مرہم کہاں

زمانہ ہوا غرق طوفاں امیر

ابھی روئی یہ چشم پُرنم کہاں​


6

کچھ خار ہی نہیں مرے دامن کے یار ہیں

گردن میں طوق بھی تو لڑکپن کے یار ہیں

سینہ ہو کشتگان محبت کا یا گلا

دونوں یہ تیرے خنجر آہن کے یار ہیں

خاطر ہماری کرتا ہے دیر و حرم میں کون

ہم تو نہ شیخ کے نہ برہمن کے یار ہیں

کیا پوچھتا ہے مجھ سے نشاں سیل و برق کا

دونوں قدیم سے مرے خرمن کے یار ہیں

کیا گرم ہیں کہ کہتے ہیں خوبان لکھنؤ

لندن کو جائیں وہ جو فرنگن کے یار ہیں

وہ دشمنی کریں تو کریں اختیار ہے

ہم تو عدو کے دوست ہیں دشمن کے یار ہیں

کچھ اس چمن میں سبزۂ بیگانہ ہم نہیں

نرگس کے دوست لالہ و سوسن کے یار ہیں

کانٹے ہیں جتنے وادئ غربت کے اے جنوں

سب آستیں کے جیب کے دامن کے یار ہیں

گم گشتگی میں راہ بتاتا ہے ہم کو کون

ہے خضر جن کا نام وہ رہزن کے یار ہیں

چلتے ہیں شوق برق تجلی میں کیا ہے خوف

چیتے تمام وادیٔ ایمن کے یار ہیں

پیری مجھے چھڑاتی ہے احباب سے امیرؔ

دنداں نہیں یہ میرے لڑکپن کے یار ہیں

Intekhab E Kalam Kaleem Aajiz

Articles

انتخابِ کلام کلیم عاجز कलीम आजिज़

کلیم عاجز

 

میرے ہی لہو پر گزر اوقات کرو ہو

مجھ سے ہی امیروں کی طرح بات کرو ہو

دن ایک ستم ,ایک ستم رات کرو ہو

وہ دوست ہو دشمن کو بھی تم مات کرو ہو

ہم خاک نشیں تم سخن آرائے سر بام

پاس آ کے ملو دور سے کیا بات کرو ہو

ہم کو جو ملا ہے وہ تمہیں سے تو ملا ہے

ہم اور بھلا دیں تمہیں کیا بات کرو ہو

یوں تو کبھی منہ پھیر کے دیکھو بھی نہیں ہو

جب وقت پڑے ہے تو مدارات کرو ہو

دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ

تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

بکنے بھی دو عاجزؔ کو جو بولے ہے بکے ہے

دیوانہ ہے دیوانے سے کیا بات کرو ہو

मेरे ही लहू पर गुज़र-औक़ात करो हो

मुझ से ही अमीरों की तरह बात करो हो

दिन एक सितम , एक सितम रात करो हो

वो दोस्त हो दुश्मन को भी तुम मात करो हो

हम ख़ाक-नशीं तुम सुख़न-आरा-ए-सर-ए-बाम

पास के मिलो दूर से क्या बात करो हो

हम को जो मिला है वो तुम्हीं से तो मिला है

हम और भुला दें तुम्हें क्या बात करो हो

यूँ तो कभी मुँह फेर के देखो भी नहीं हो

जब वक़्त पड़े है तो मुदारात करो हो

दामन पे कोई छींट ख़ंजर पे कोई दाग़

तुम क़त्ल करो हो कि करामात करो हो

बकने भी दो ‘आजिज़’ को जो बोले है बके है

दीवाना है दीवाने से क्या बात करो हो


2

مری صبح غم بلا سے کبھی شام تک نہ پہنچے

مجھے ڈر یہ ہے برائی ترے نام تک نہ پہنچے

مرے پاس کیا وہ آتے مرا درد کیا مٹاتے

مرا حال دیکھنے کو لب بام تک نہ پہنچے

ہو کسی کا مجھ پہ احساں یہ نہیں پسند مجھ کو

تری صبح کی تجلی مری شام تک نہ پہنچے

تری بے رخی پہ ظالم مرا جی یہ چاہتا ہے

کہ وفا کا میرے لب پر کبھی نام تک نہ پہنچے

میں فغان بے اثر کا کبھی معترف نہیں ہوں

وہ صدا ہی کیا جو ان کے در و بام تک نہ پہنچے

وہ صنم بگڑ کے مجھ سے مرا کیا بگاڑ لے گا

کبھی راز کھول دوں میں تو سلام تک نہ پہنچے

مجھے لذت اسیری کا سبق پڑھا رہے ہیں

جو نکل کے آشیاں سے کبھی دام تک نہ پہنچے

انہیں مہرباں سمجھ لیں مجھے کیا غرض پڑی ہے

وہ کرم کا ہاتھ ہی کیا جو عوام تک نہ پہنچے

ہوئے فیض مے کدہ سے سبھی فیضیاب لیکن

جو غریب تشنہ لب تھے وہی جام تک نہ پہنچے

جسے میں نے جگمگایا اسی انجمن میں ساقی

مرا ذکر تک نہ آئے مرا نام تک نہ پہنچے

تمہیں یاد ہی نہ آؤں یہ ہے اور بات ورنہ

میں نہیں ہوں دور اتنا کہ سلام تک نہ پہنچے

मिरी सुब्ह-ए-ग़म बला से कभी शाम तक पहुँचे

मुझे डर ये है बुराई तिरे नाम तक पहुँचे

मिरे पास क्या वो आते मिरा दर्द क्या मिटाते

मिरा हाल देखने को लब-ए-बाम तक पहुँचे

हो किसी का मुझ पे एहसाँ ये नहीं पसंद मुझ को

तिरी सुब्ह की तजल्ली मिरी शाम तक पहुँचे

तिरी बे-रुख़ी पे ज़ालिम मिरा जी ये चाहता है

कि वफ़ा का मेरे लब पर कभी नाम तक पहुँचे

मैं फ़ुग़ान-ए-बे-असर का कभी मो’तरिफ़ नहीं हूँ

वो सदा ही क्या जो उन के दर-ओ-बाम तक पहुँचे

वो सनम बिगड़ के मुझ से मिरा क्या बिगाड़ लेगा

कभी राज़ खोल दूँ मैं तो सलाम तक पहुँचे

मुझे लज़्ज़त-ए-असीरी का सबक़ पढ़ा रहे हैं

जो निकल के आशियाँ से कभी दाम तक पहुँचे

उन्हें मेहरबाँ समझ लें मुझे क्या ग़रज़ पड़ी है

वो करम का हाथ ही क्या जो अवाम तक पहुँचे

हुए फ़ैज़-ए-मय-कदा से सभी फ़ैज़याब लेकिन

जो ग़रीब तिश्ना-लब थे वही जाम तक पहुँचे

जिसे मैं ने जगमगाया उसी अंजुमन में साक़ी

मिरा ज़िक्र तक आए मिरा नाम तक पहुँचे

तुम्हें याद ही आऊँ ये है और बात वर्ना

मैं नहीं हूँ दूर इतना कि सलाम तक पहुँचे


3

یہ آنسو بے سبب جاری نہیں ہے

مجھے رونے کی بیماری نہیں ہے

نہ پوچھو زخم ہائے دل کا عالم

چمن میں ایسی گل کاری نہیں ہے

بہت دشوار سمجھانا ہے غم کا

سمجھ لینے میں دشواری نہیں ہے

غزل ہی گنگنانے دو کہ مجھ کو

مزاج تلخ گفتاری نہیں ہے

چمن میں کیوں چلوں کانٹوں سے بچ کر

یہ آئین وفاداری نہیں ہے

وہ آئیں قتل کو جس روز چاہیں

یہاں کس روز تیاری نہیں ہے

ये आँसू बे-सबब जारी नहीं है

मुझे रोने की बीमारी नहीं है

पूछो ज़ख़्म-हा-ए-दिल का आलम

चमन में ऐसी गुल-कारी नहीं है

बहुत दुश्वार समझाना है ग़म का

समझ लेने में दुश्वारी नहीं है

ग़ज़ल ही गुनगुनाने दो कि मुझ को

मिज़ाज-ए-तल्ख़-गुफ़्तारी नहीं है

चमन में क्यूँ चलूँ काँटों से बच कर

ये आईन-ए-वफ़ादारी नहीं है

वो आएँ क़त्ल को जिस रोज़ चाहें

यहाँ किस रोज़ तय्यारी नहीं है


4

سینے کے زخم پاؤں کے چھالے کہاں گئے

اے حسن تیرے چاہنے والے کہاں گئے

خلوت میں روشنی ہے نہ محفل میں روشنی

اہل وفا چراغ وفا لے کہاں گئے

بت خانے میں بھی ڈھیر ہیں ٹکڑے حرم میں بھی

جام و سبو کہاں تھے اچھالے کہاں گئے

آنکھوں سے آنسوؤں کو ملی خاک میں جگہ

پالے کہاں گئے تھے نکالے کہاں گئے

برباد روزگار ہمارا ہی نام ہے

آئیں تماشا دیکھنے والے کہاں گئے

چھپتے گئے دلوں میں وہ بن کر غزل کے بول

میں ڈھونڈھتا رہا مرے نالے کہاں گئے

اٹھتے ہوؤں کو سب نے سہارا دیا کلیمؔ

گرتے ہوئے غریب سنبھالے کہاں گئے

सीने के ज़ख़्म पाँव के छाले कहाँ गए

हुस्न तेरे चाहने वाले कहाँ गए

ख़ल्वत में रौशनी है महफ़िल में रौशनी

अहल-ए-वफ़ा चराग़-ए-वफ़ा ले कहाँ गए

बुत-ख़ाने में भी ढेर हैं टुकड़े हरम में भी

जाम-ओ-सुबू कहाँ थे उछाले कहाँ गए

आँखों से आँसुओं को मिली ख़ाक में जगह

पाले कहाँ गए थे निकाले कहाँ गए

बर्बाद-ए-रोज़गार हमारा ही नाम है

आएँ तमाशा देखने वाले कहाँ गए

छुपते गए दिलों में वो बन कर ग़ज़ल के बोल

मैं ढूँढता रहा मिरे नाले कहाँ गए

उठते होऊँ को सब ने सहारा दिया ‘कलीम’

गिरते हुए ग़रीब सँभाले कहाँ गए


Intekhab E Kalam Nida Fazli

Articles

निदा फ़ाज़ली انتخابِ کلام ندا فاضلی

ندا فاضلی

 

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

کہیں زمین کہیں آسماں نہیں ملتا

تمام شہر میں ایسا نہیں خلوص نہ ہو

جہاں امید ہو اس کی وہاں نہیں ملتا

کہاں چراغ جلائیں کہاں گلاب رکھیں

چھتیں تو ملتی ہیں لیکن مکاں نہیں ملتا

یہ کیا عذاب ہے سب اپنے آپ میں گم ہیں

زباں ملی ہے مگر ہم زباں نہیں ملتا

چراغ جلتے ہیں بینائی بجھنے لگتی ہے

خود اپنے گھر میں ہی گھر کا نشاں نہیں ملتا

कभी किसी को मुकम्मल जहाँ नहीं मिलता

कहीं ज़मीन कहीं आसमाँ नहीं मिलता

तमाम शहर में ऐसा नहीं ख़ुलूस हो

जहाँ उमीद हो इस की वहाँ नहीं मिलता

कहाँ चराग़ जलाएँ कहाँ गुलाब रखें

छतें तो मिलती हैं लेकिन मकाँ नहीं मिलता

ये क्या अज़ाब है सब अपने आप में गुम हैं

ज़बाँ मिली है मगर हम-ज़बाँ नहीं मिलता

चराग़ जलते हैं बीनाई बुझने लगती है

ख़ुद अपने घर में ही घर का निशाँ नहीं मिलता


2

دنیا جسے کہتے ہیں جادو کا کھلونا ہے

مل جائے تو مٹی ہے کھو جائے تو سونا ہے

اچھا سا کوئی موسم تنہا سا کوئی عالم

ہر وقت کا رونا تو بے کار کا رونا ہے

برسات کا بادل تو دیوانہ ہے کیا جانے

کس راہ سے بچنا ہے کس چھت کو بھگونا ہے

یہ وقت جو تیرا ہے یہ وقت جو میرا ہے

ہر گام پہ پہرا ہے پھر بھی اسے کھونا ہے

غم ہو کہ خوشی دونوں کچھ دور کے ساتھی ہیں

پھر رستہ ہی رستہ ہے ہنسنا ہے نہ رونا ہے

آوارہ مزاجی نے پھیلا دیا آنگن کو

آکاش کی چادر ہے دھرتی کا بچھونا ہے

दुनिया जिसे कहते हैं जादू का खिलौना है

मिल जाए तो मिट्टी है खो जाए तो सोना है

अच्छा सा कोई मौसम तन्हा सा कोई आलम

हर वक़्त का रोना तो बे-कार का रोना है

बरसात का बादल तो दीवाना है क्या जाने

किस राह से बचना है किस छत को भिगोना है

ये वक़्त जो तेरा है ये वक़्त जो मेरा है

हर गाम पे पहरा है फिर भी इसे खोना है

ग़म हो कि ख़ुशी दोनों कुछ दूर के साथी हैं

फिर रस्ता ही रस्ता है हँसना है रोना है

आवारा-मिज़ाजी ने फैला दिया आँगन को

आकाश की चादर है धरती का बिछौना है


3

سفر میں دھوپ تو ہوگی جو چل سکو تو چلو

سبھی ہیں بھیڑ میں تم بھی نکل سکو تو چلو

کسی کے واسطے راہیں کہاں بدلتی ہیں

تم اپنے آپ کو خود ہی بدل سکو تو چلو

یہاں کسی کو کوئی راستہ نہیں دیتا

مجھے گرا کے اگر تم سنبھل سکو تو چلو

کہیں نہیں کوئی سورج دھواں دھواں ہے فضا

خود اپنے آپ سے باہر نکل سکو تو چلو

یہی ہے زندگی کچھ خواب چند امیدیں

انہیں کھلونوں سے تم بھی بہل سکو تو چلو

सफ़र में धूप तो होगी जो चल सको तो चलो

सभी हैं भीड़ में तुम भी निकल सको तो चलो

किसी के वास्ते राहें कहाँ बदलती हैं

तुम अपने आप को ख़ुद ही बदल सको तो चलो

यहाँ किसी को कोई रास्ता नहीं देता

मुझे गिरा के अगर तुम सँभल सको तो चलो

कहीं नहीं कोई सूरज धुआँ धुआँ है फ़ज़ा

ख़ुद अपने आप से बाहर निकल सको तो चलो

यही है ज़िंदगी कुछ ख़्वाब चंद उम्मीदें

इन्हीं खिलौनों से तुम भी बहल सको तो चलो


4

اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے ادھر کے ہم ہیں

پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے

اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں

وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے

کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں

چلتے رہتے ہیں کہ چلنا ہے مسافر کا نصیب

سوچتے رہتے ہیں کس راہ گزر کے ہم ہیں

ہم وہاں ہیں جہاں کچھ بھی نہیں رستہ نہ دیار

اپنے ہی کھوئے ہوئے شام و سحر کے ہم ہیں

گنتیوں میں ہی گنے جاتے ہیں ہر دور میں ہم

ہر قلم کار کی بے نام خبر کے ہم ہیں

अपनी मर्ज़ी से कहाँ अपने सफ़र के हम हैं

रुख़ हवाओं का जिधर का है उधर के हम हैं

पहले हर चीज़ थी अपनी मगर अब लगता है

अपने ही घर में किसी दूसरे घर के हम हैं

वक़्त के साथ है मिटी का सफ़र सदियों से

किस को मालूम कहाँ के हैं किधर के हम हैं

चलते रहते हैं कि चलना है मुसाफ़िर का नसीब

सोचते रहते हैं किस राहगुज़र के हम हैं

हम वहाँ हैं जहाँ कुछ भी नहीं रस्ता दयार

अपने ही खोए हुए शाम सहर के हम हैं

गिनतियों में ही गिने जाते हैं हर दौर में हम

हर क़लमकार की बे-नाम ख़बर के हम हैं


5

جتنی بری کہی جاتی ہے اتنی بری نہیں ہے دنیا

بچوں کے اسکول میں شاید تم سے ملی نہیں ہے دنیا

چار گھروں کے ایک محلے کے باہر بھی ہے آبادی

جیسی تمہیں دکھائی دی ہے سب کی وہی نہیں ہے دنیا

گھر میں ہی مت اسے سجاؤ ادھر ادھر بھی لے کے جاؤ

یوں لگتا ہے جیسے تم سے اب تک کھلی نہیں ہے دنیا

بھاگ رہی ہے گیند کے پیچھے جاگ رہی ہے چاند کے نیچے

شور بھرے کالے نعروں سے اب تک ڈری نہیں ہے دنیا

जितनी बुरी कही जाती है उतनी बुरी नहीं है दुनिया

बच्चों के स्कूल में शायद तुम से मिली नहीं है दुनिया

चार घरों के एक मोहल्ले के बाहर भी है आबादी

जैसी तुम्हें दिखाई दी है सब की वही नहीं है दुनिया

घर में ही मत उसे सजाओ इधर उधर भी ले के जाओ

यूँ लगता है जैसे तुम से अब तक खुली नहीं है दुनिया

भाग रही है गेंद के पीछे जाग रही है चाँद के नीचे

शोर भरे काले नारों से अब तक डरी नहीं है दुनिया


Majrooh Sultanpuri ke Muntakhab Ashaar

Articles

مجروح سلطان پوری کے منتخب اشعار

مجروح سلطان پوری

مجروح سلطانپوری(مرحوم) نے پروفیسر مغنی تبسم صاحب (مدیر شعروحکمت) کے اصرار پر اپنے پچاس اشعار منتخب کئے تھے ۔جو کسی وجہ سے شعرو حکمت میں شائع نہیں ہو پائے۔ہم قارئین ِ اردوچینل کی خدمت وہ انتخاب پیش کررہے ہیں۔ ادارہ

1

جنونِ دل نہ صرف اتنا کہ اک گل پیرہن تک ہے
قد وگیسو سے اپنا سلسلہ دارو رسن تک ہے

2

ختم شورِ طوفاں تھا دور تھی سیاہی بھی
دم کے دم میں افسانہ تھی مری تباہی بھی

3

شمع بھی اجالا بھی میں ہی اپنی محفل کا
میں ہی اپنی منزل کا راہبر بھی راہی بھی

4

کہاں وہ شب کہ ترے گیسوﺅں کے سائے میں
خیا لِ صبح سے ہم آستیں بھگو دیتے

5

بچا لیا مجھے طوفاں کی موج نے ورنہ
کنارے والے سفینہ مرا ڈبو دیتے

6

کہیں ظلمتوں میں گھر کر ،ہے تلاشِ دستِ رہبر
کہیں جگمگا اٹھی ہیں مرے نقش ِ پا سے راہیں

7

کبھی جادئہ طلب سے جو پھرا ہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں باہیں

8

دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن، جوشِ بہار
رقص کرنا ہے تو پھر پاﺅں کی زنجیر نہ دیکھ

9

میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا

10

یہ آگ اور نہیں ، دل کی آگ ہے ناداں
چراغ ہو کہ نہ ہو، جل بجھیں گے پروانے

11

دستِ منعم مری محنت کا خریدار سہی
کوئی دن اور میں رسوا سرِ بازار سہی

12

اہل ِ تقدیر ! یہ ہے معجز ئہ دستِ عمل
جو خزف میں نے اٹھایا وہ گہر ہے کہ نہیں

13

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ ، ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے

14

سر پر ہوائے ظلم چلے ، سو جتن کے ساتھ
اپنی کلاہ کج ہے اسی بانکپن کے ساتھ

15

سر خیِ مے کم تھی میں نے چھو لئے ساقی کے ہونٹ
سر جھکا ہے ، جو بھی اب اربابِ میخانہ کہیں

16

اے فصلِ جنوں ہم کو پئے شغلِ گریباں
پیوند ہی کافی ہے اگر جامہ گراں ہے

17

میں ہزار شکل بدل چکا، چمن ِ جہاں میں سن اے صبا
کہ جو پھول ہے ترے ہاتھ میں، یہ مرا ہی لختِ جگر نہ ہو

18

شبِ ظلم نرغہ  راہزن سے پکارتا ہے کوئی مجھے
میں فرازِ دار سے دیکھ لوں کہیں کاروانِ سحر نہ ہو

19

سرشک ، رنگ نہ بخشے تو کیوں ہو بارِ مژہ
لہو حنا نہیں بنتا تو کیوں بدن میں رہے

20

بے تیشہ  نظر نہ چلو راہِ رفتگاں
ہر نقشِ پا بلند ہے دیوار کی طرح

21

سوئے مقتل کہ پئے سیرِ چمن جاتے ہیں
اہلِ دل جام بکف سر بہ کفن جاتے ہیں

22

جو ٹھہرتی تو ذرا چلتے صبا کے ہمراہ
یوں بھی ہم روز کہاں سوئے چمن جاتے ہیں

23

روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروح
ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

24

سیلِ رنگ آہی رہے گا ، مگر اے کشتِ چمن
ضربِ موسم توپڑی بندِ بہاراں تو کھلا

25

ہم بھی ہمیشہ قتل ہوئے اور تم نے بھی دیکھا دور سے لیکن
یہ نہ سمجھنا ہم کو ہوا ہے ،جان کا نقصاں تم سے زیادہ

26

اسیرِ بندِ زمانہ ہوں صاحبانِ چمن
مری طرف سے گلوں کو بہت دعا کہئے

27

یہی ہے جی میں کہ وہ رفتہ تغافل وناز
کہیں ملے تو وہی قصہ  وفا کہئے

28

رہے نہ آنکھ تو کیوں دیکھئے ستم کی طرف
کٹے زبان تو کیوں حرفِ نا سزا کہئے

29

ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیا ہ رات چلے

30

پھر آئی فصل کہ مانندِ برگِ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے

31

بلا ہی بیٹھے جب اہلِ حرم تو اے مجروح
بغل میں ہم بھی لئے اک صنم کاہات چلے

32

مانا شبِ غم ، صبح کی محرم تو نہیں ہے
سورج سے ترا رنگِ حنا کم تونہیں ہے

33

چاہے وہ کسی کا ہو لہو دامنِ گل پر
صیاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے

34

اب کا رگہِ دہر میں لگتا ہے بہت دل
اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے

35

کرو مجروح تب دار و ر سن کے تذ کرے ہم سے
جب اس قامت کے سائے میں تمہیں جینے کا ڈھنگ آئے

36

اس باغ میں وہ سنگ کے قابل کہانہ جائے
جب تک کسی ثمر کو مر ا دل کہا نہ جائے

37

میرے ہی سنگ و خشت سے تعمیرِ بام ودر
میرے ہی گھر کو شہر میں شامل کہا نہ جائے

38

برقِ تپیدہ بادِ صبا ، شعلہ اور ہم
ہیں کیسے کیسے اس کے گرفتار دیکھئے

39

ساز میں یہ شورشِ غم لائے مطرب کس طرح
اُس کی دھن پابندِ نے نغمہ ہمارا نے شکن

40

دیکھئے کب تک بلائے جاں رہے اک حرفِ شوق
دل حریصِ گفتگو اور چشمِ خوباں کم سخن

41

مصلوب ہوا کوئی سرِ راہ تمنا
آوازِ جرس پچھلے پہر تیز بہت ہے

42

میں ہم آغوشِ صنم تھا مگر اے پیرِ حرم
یہ شکن کیسے پڑی آپ کے پیراہن میں

43

مجھ سے کہا جبریلِ جنوں نے یہ بھی وحیِ الٰہی ہے
مذہب تو بس مذہبِ دل ہے باقی سب گمراہی ہے

44

سنگ تو کوئی بڑھ کے اٹھاﺅ شاخِ ثمر کچھ دور نہیں
جسکو بلندی سمجھے ہو ان ہاتھوں کی کوتاہی ہے

45

ہم ہیں کعبہ، ہم ہیں بتخانہ، ہمی ہیں کائنات
ہوسکے تو خود کو بھی اک بار سجد ا کیجئے

46

پاکبازی میں ہیں نورِ عارض لالہ رخاں
ہیں سیہ کاری میں کحلِ نرگسِ مستانہ ہم

47

شبِ انتظار کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی
کبھی اک چراغ بجھا دیا کبھی اک چراغ جلا دیا

48

ہٹ کے روئے یار سے تزیینِ عالم کر گئیں
وہ نگاہیں جن کو اب تک رائگاں سمجھا تھا میں

49

نظارہ ہائے دہر بہت خوب ہےں مگر
اپنا لہو بھی سرخیِ شام وسحر میں ہے

50

وہ بعدِ عرضِ مطلب ،ہائے رے شوقِ جواب اپنا
کہ خاموش تھے اور کتنی آوازیں سنیں میں نے
٭٭٭

بحوالہ : ”اردو چینل“ (مجروح سلطان پوری نمبر) جلد 4، شمارہ ستمبر 2001

Intekhab E Kalam Shakeeb Jalali

Articles

انتخابِ کلام شکیب جلالی

شکیب جلالی

 

 

آ کے پتھر تو مرے صحن میں دو چار گرے

جتنے اس پیڑ کے پھل تھے پس دیوار گرے

ایسی دہشت تھی فضاؤں میں کھلے پانی کی

آنکھ جھپکی بھی نہیں ہاتھ سے پتوار گرے

مجھے گرنا ہے تو میں اپنے ہی قدموں میں گروں

جس طرح سایۂ دیوار پہ دیوار گرے

تیرگی چھوڑ گئے دل میں اجالے کے خطوط

یہ ستارے مرے گھر ٹوٹ کے بے کار گرے

کیا ہوا ہاتھ میں تلوار لیے پھرتی تھی

کیوں مجھے ڈھال بنانے کو یہ چھتنار گرے

دیکھ کر اپنے در و بام لرز جاتا ہوں

مرے ہم سایے میں جب بھی کوئی دیوار گرے

وقت کی ڈور خدا جانے کہاں سے ٹوٹے

کس گھڑی سر پہ یہ لٹکی ہوئی تلوار گرے

ہم سے ٹکرا گئی خود بڑھ کے اندھیرے کی چٹان

ہم سنبھل کر جو بہت چلتے تھے ناچار گرے

کیا کہوں دیدۂ تر یہ تو مرا چہرہ ہے

سنگ کٹ جاتے ہیں بارش کی جہاں دھار گرے

ہاتھ آیا نہیں کچھ رات کی دلدل کے سوا

ہائے کس موڑ پہ خوابوں کے پرستار گرے

وہ تجلی کی شعاعیں تھیں کہ جلتے ہوئے پر

آئنے ٹوٹ گئے آئنہ بردار گرے

دیکھتے کیوں ہو شکیبؔ اتنی بلندی کی طرف

نہ اٹھایا کرو سر کو کہ یہ دستار گرے


2

جہاں تلک بھی یہ صحرا دکھائی دیتا ہے

مری طرح سے اکیلا دکھائی دیتا ہے

نہ اتنی تیز چلے سرپھری ہوا سے کہو

شجر پہ ایک ہی پتا دکھائی دیتا ہے

برا نہ مانیے لوگوں کی عیب جوئی کا

انہیں تو دن کا بھی سایا دکھائی دیتا ہے

یہ ایک ابر کا ٹکڑا کہاں کہاں برسے

تمام دشت ہی پیاسا دکھائی دیتا ہے

وہیں پہنچ کے گرائیں گے بادباں اب تو

وہ دور کوئی جزیرہ دکھائی دیتا ہے

وہ الوداع کا منظر وہ بھیگتی پلکیں

پس غبار بھی کیا کیا دکھائی دیتا ہے

مری نگاہ سے چھپ کر کہاں رہے گا کوئی

کہ اب تو سنگ بھی شیشہ دکھائی دیتا ہے

سمٹ کے رہ گئے آخر پہاڑ سے قد بھی

زمیں سے ہر کوئی اونچا دکھائی دیتا ہے

کھلی ہے دل میں کسی کے بدن کی دھوپ شکیبؔ

ہر ایک پھول سنہرا دکھائی دیتا ہے


3

خموشی بول اٹھے ہر نظر پیغام ہوجائے
یہ سناٹا اگر حد سے بڑھے کہرام ہوجائے

ستارے مشعلیں لے کر مجھے بھی ڈھونڈنے نکلیں
میں رستہ بھول جائوں جنگلوں میں شام ہوجائے

میں وہ آدم گزیدہ ہوں جو تنہائی کے صحرا میں
خود اپنی چاپ سن کر لرزہ بر اندام ہوجائے

مثال ایسی ہے اس دورِ خرد کے ہوش مندوں کی
نہ ہو دامن میں ذرہ اور صحرا نام ہوجائے

شکیب اپنے تعارف کے لیے بات کافی ہے
ہم اس سے بچ کے چلتے ہیں جو رستہ عام ہوجائے


 

4

 

ہم جنس اگر ملے نہ کوئی آسمان پر

بہتر ہے خاک ڈالیے ایسی اڑان پر

آ کر گرا تھا کوئی پرندہ لہو میں تر

تصویر اپنی چھوڑ گیا ہے چٹان پر

پوچھو سمندروں سے کبھی خاک کا پتہ

دیکھو ہوا کا نقش کبھی بادبان پر

یارو میں اس نظر کی بلندی کو کیا کروں

سایہ بھی اپنا دیکھتا ہوں آسمان پر

کتنے ہی زخم ہیں مرے اک زخم میں چھپے

کتنے ہی تیر آنے لگے اک نشان پر

جل تھل ہوئی تمام زمیں آس پاس کی

پانی کی بوند بھی نہ گری سائبان پر

ملبوس خوش نما ہیں مگر جسم کھوکھلے

چھلکے سجے ہوں جیسے پھلوں کی دکان پر

سایہ نہیں تھا نیند کا آنکھوں میں دور تک

بکھرے تھے روشنی کے نگیں آسمان پر

حق بات آ کے رک سی گئی تھی کبھی شکیبؔ

چھالے پڑے ہوئے ہیں ابھی تک زبان پر


5

کنار آب کھڑا خود سے کہہ رہا ہے کوئی

گماں گزرتا ہے یہ شخص دوسرا ہے کوئی

ہوا نے توڑ کے پتہ زمیں پہ پھینکا ہے

کہ شب کی جھیل میں پتھر گرا دیا ہے کوئی

بٹا سکے ہیں پڑوسی کسی کا درد کبھی

یہی بہت ہے کہ چہرے سے آشنا ہے کوئی

درخت راہ بتائیں ہلا ہلا کر ہاتھ

کہ قافلے سے مسافر بچھڑ گیا ہے کوئی

چھڑا کے ہاتھ بہت دور بہہ گیا ہے چاند

کسی کے ساتھ سمندر میں ڈوبتا ہے کوئی

یہ آسمان سے ٹوٹا ہوا ستارہ ہے

کہ دشت شب میں بھٹکتی ہوئی صدا ہے کوئی

مکان اور نہیں ہے بدل گیا ہے مکیں

افق وہی ہے مگر چاند دوسرا ہے کوئی

فصیل جسم پہ تازہ لہو کے چھینٹے ہیں

حدود وقت سے آگے نکل گیا ہے کوئی

شکیبؔ دیپ سے لہرا رہے ہیں پلکوں پر

دیار چشم میں کیا آج رت جگا ہے کوئی


شکیب جلالی

 

اردو شاعر۔ اصل نام۔ سید حسن رضوی۔ یکم اکتوبر 1934ء کو اتر پردیش کے علی گڑھ کے ایک قصبے سیدانہ جلال میں پیدا ہوئے۔انہوں نے اپنے شعور کی آنکھیں بدایوں میں کھولیں جہاں ان کے والد ملازمت کے سلسلے میں تعینات تھے۔ لیکن والدہ کی حادثاتی موت نے سید حسن رضوی کے ذہن پر کچھ ایسا اثر ڈالا کہ وہ شکیب جلالی بن گئے۔ انہوں نے 15 یا 16 سال کی عمر میں شاعر ی شروع کر دی اور شاعری بھی ایسی جو لو دیتی تھی جس میں آتش کدے کی تپش تھی۔ شکیب جلالی پہلے راولپنڈی اور پھر لاہور آ گئے یہاں سے انہوں نے ایک رسالہ ” جاوید “ نکالا۔ لیکن چند شماروں کے بعد ہی یہ رسالہ بند ہو گیا۔ پھر ”مغربی پاکستان“ نام کے سرکاری رسالے سے وابستہ ہوئے۔ مغربی پاکستان چھوڑ کر کسی اور اخبار سے وابستہ ہو گئے۔
خودکشی
تعلقاتِ عامہ کے محکمے میں بھی انہیں ایک ذمہ دارانہ ملازمت مل گئی۔ لیکن وہ ان سب چیزوں سے مطمئن نہیں تھے۔ ان کی شاعری ویسے ہی شعلہ فشانی کرتی رہی اور پھر احساسات کی اس تپش کے آگے انہوں نے سپر ڈال دی اور محض 32 سال کی عمر میں سرگودھا اسٹیشن کے پاس ایک ریل کے سامنے کود کر خودکشی کر لی اور اس طرح شعلوں سے لہلہاتے ہوئے ایک شاعر کا خاتمہ ہو گیا۔ موت کے بعد ان کی جیب سے یہ شعر ملا:
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہیں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ

 

 

 

 

 

Intekhab E Kalam Balraj Komal

Articles

انتخابِ کلام بلراج کومل

بلراج کومل

 

صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے

 

صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے

میں ساعت سرشار میں

لاکھوں دعائیں

خوبصورت آرزوئیں

پیش کرتا ہوں

صبا ممنون ہے

لیکن زباں ہے

کچھ نہیں کہتی

صبا اب روز و شب

دیوار و در تن پر سجاتی ہے

اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے

لمس فرش مرمریں سے

پاؤں کی تزئین کرتی ہے

وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں

چمکتے نیلگوں آکاش کے

نغمے نہیں گاتی

صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی

صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ

در روزن میں آویزاں

حسیں نازک بدن

روشن منور ساحلوں پر اب نہیں بہتی

صبا لب کھولتی ہے مسکراتی ہے

صبا سرگوشیوں میں

اب کسی سے کچھ نہیں کہتی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گریہ سگاں

جب کتے رات کو روتے ہیں

تو اکثر لوگ سمجھتے ہیں

کچھ ایسا ہونے والا ہے

جو ہم نے اب تک سوچا تھا نہ ہی سمجھا تھا

جو ہونا تھا وہ کب کا لیکن ہو بھی چکا

یہ شہر جلا

اس شہر میں روشن ہنستے بستے گھر تھے کئی

سب راکھ ہوئے

اور ان کے مکیں

کچھ قتل ہوئے

کچھ جان بچا کر بھاگ گئے

جو با عصمت تھیں

رسوائی کی خاک اوڑھ کے راہ گزر پر بیٹھی ہیں

کچھ بیوہ ہیں

کچھ پابستہ رشتوں کی وحشت سہتی ہیں

کچھ ادھ ننگے بھوکے بچے

دن بھر آوارہ پھرتے ہیں

ہر جانب مجرم ہی مجرم

ان میں سے کچھ ہیں پیشہ ور

کچھ سیکھ رہے ہیں جرم کے فن کے راز نئے اسرار نئے

جو ہونا تھا یہ سچ ہے اس میں سے تو بہت کچھ ہو بھی چکا

لیکن شاید کچھ اور بھی ہونے والا ہے

کتے تو آخر کتے ہیں

دن بھر کچرے کے ڈھیروں پر

وہ مارے مارے پھرتے ہیں

جب رات اترنے لگتی ہیں

آنے والے دشمن موسم کی دہشت سے

سب مل کر رونے لگتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزلیں

دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا

اب کے برس بھی رات کا منظر وہی رہا

نومید ہو گئے تو سبھی دوست اٹھ گئے

وہ صید انتقام تھا در پر وہی رہا

سب لوگ سچ ہے با ہنر تھے پھر بھی کامیاب

یہ کیسا اتفاق تھا اکثر وہی رہا

یہ ارتقا کا فیض تھا یا محض حادثہ

مینڈک تو فیل پا ہوئے اژدر وہی رہا

سب کو حروف التجا ہم نذر کر چکے

دشمن تو موم ہو گئے پتھر وہی رہا


2

کھویا کھویا اداس سا ہوگا

تم سے وہ شخص جب ملا ہوگا

قرب کا ذکر جب چلا ہوگا

درمیاں کوئی فاصلہ ہوگا

روح سے روح ہو چکی بد ظن

جسم سے جسم کب جدا ہوگا

پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر

سامنے کوئی مسئلہ ہوگا

ہر حماقت پہ سوچتے تھے ہم

عقل کا اور مرحلہ ہوگا

گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے

پھول آنگن میں جل چکا ہوگا

کل کی باتیں کرو گے جب لوگو

خوف سا دل میں رونما ہوگا


Intekhab E Kalam Khumar Barabankvi

Articles

انتخابِ کلام خمار بارہ بنکوی

خمار بارہ بنکوی

اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کو بارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔

1

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے

ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

مرے راہبر مجھ کو گمرہ نہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بلا نوش کہ تو اور توبہ

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے


2

مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا

تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر

کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا

واعظ سلام لے کہ چلا مے کدے کو میں

فردوس گم شدہ کا پتا یاد آ گیا

برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی

اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا

مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم

لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ

کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا


3

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں

محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

ہوائیں چلیں اور نہ موجیں ہی اٹھیں

اب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں

قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے

خمارؔ اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں


4

ہنسنے والے اب ایک کام کریں

جشن گریہ کا اہتمام کریں

ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں

پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

مجھ کو محرومیٔ نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

آ چلیں اس کے در پہ اب اے دل

زندگی کا سفر تمام کریں

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ

ہم انہیں کس طرح سلام کریں


5

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا

دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا

جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے

دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے

پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا

آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ

اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

Intekhab E Kalam Nooh Naarvi

Articles

انتخابِ کلام نوح ناروی

نوح ناروی

 

نوح ناروی : (18 ستمبر، 1879ء – 10 اکتوبر، 1962ء ) –  مشہور کہنہ مشق شاعر، داغ دہلوی کے جانشین تھے۔ ان کی ولادت  ریاست اترپردیش ، رائے بریلی ضلع، سلون تحصیل کے بھوانی پور گاؤں میں ہوئی، جو ان کا نانہال تھا۔

نانا کا نام شیخ علم الہدیٰ صاحب تھا اور آپ یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم مختلف حضرات سے پائی جن میں اہم نام حافظ قدرت علی صاحب و مولوی یوسف علی صاحب ۔ بعد ازاں حاجی عبدالرحمن صاحب جائسی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ فارسی اور عربی تعلیم کے لئے میر نجف علی صاحب استاذ رہے۔ آپ کو انگریزی پڑھنے کا موقع بھی ملا۔

شعر و سخن کا شوق میر نجف علی صاحب کی صحبت مکی وجہ سے پیدا ہوا۔ آپ ابتداء میں شرف تلمذانہیں سے کیا کرتے تھے۔ پھر آپ جناب امیر مینائی سے کلام کا اصلاح لیا کرتے تھے۔ جناب جلال لکھنوی سے بھی شرف تلمذ رہا ۔ اور آخر میں فصیح الملک حضرت داغ دہلوی کے شاگرد ہوگئے۔ 1903ء کو حیدرآباد تشریف لے گئے۔

کلاسیکی غزل کی آبیاری کرنے والوں میں نوح ناروی صاحب نام بھی شامل ہے، جنہوں نے نہایت ہی عمدہ اور خوبصورت شعر تخلیق کئے۔

ان کی مشہور غزل جس کو پنکج ادھاس نے گایا اور غزل گائکی دنیامیں اپنا مقام دائم کرلیا۔

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں
جب طبیعت کسی پہ آتی ہے
موت کے دن قریب ہوتے ہیں۔

نوح ناروی بلاشبہ اپنے عہد کے بہت بڑے شاعر تھے۔ جس کا اعتراف جدید نسل بھی بڑے ہی شان سے کرتی ہے۔


1

شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا

ہر بات مجھے ہر کام مجھے دشوار ہوئی دشوار ہوا

ساقی کی نشیلی آنکھوں سے ساری دنیا سارا عالم

بدمست ہوئی بدمست ہوا سرشار ہوئی سرشار ہوا

ہے نام دل مضطر جس کا کہتے ہیں جسے سب جان حزیں

مرنے کے لئے مٹنے کے لئے تیار ہوئی تیار ہوا

اظہار محبت بھی ہے غضب اظہار محبت کون کرے

حجت ان سے جھگڑا مجھ سے ہر بار ہوئی ہر بار ہوا

دنیا میں بہار اب آ پہنچی مے خانے کا در بھی کھل جائے

ایک ایک گلی ایک ایک مکاں گل زار ہوئی گل زار ہوا

کیوں رحم وہ ظالم کرنے لگا کیوں موت یہاں تک آنے لگی

الفت سے مری صورت سے مری بیزار ہوئی بیزار ہوا

حسرت اپنی ارماں اپنا آزار اپنا تکلیف اپنی

ہم درد بنی ہم درد بنا غم خوار ہوئی غم خوار ہوا

ملنے سے تنفر تھا جس کو آغوش میں اب وہ سوتا ہے

تقدیر مری اقبال مرا بیدار ہوئی بیدار ہوا

مقتل میں جفائیں ڈھانے پر مقتل میں جفائیں سہنے پر

قاتل کی نظر بسمل کا جگر تیار ہوئی تیار ہوا

اے نوحؔ یہ کیا سوجھی تم کو طوفان اٹھایا کیوں تم نے

ساری دنیا سارا عالم بیزار ہوئی بیزار ہوا


2

ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے

بت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہے

وقت پر کام نہ آیا دل ناشاد کبھی

ٹوٹ کر یہ بھی اسی شوخ سے جا ملتا ہے

وہ جو انکار بھی کرتے ہیں تو کس ناز کے ساتھ

مجھ کو ملنے میں نہ ملنے کا مزا ملتا ہے

یہ کدورت یہ عداوت یہ جفا خوب نہیں

مجھ کو مٹی میں ملا کر تمہیں کیا ملتا ہے

نوحؔ ہم کو نظر آیا نہ یہاں بت بھی کوئی

لوگ کہتے تھے کہ کعبہ میں خدا ملتا ہے


3

کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے

ملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہے

کیا چشم عنایت کا تری مجھ کو بھروسہ

لڑ لڑ کے ملی ہے کبھی مل مل کے لڑی ہے

کیا جانئے کیا حال ہمارا ہو شب ہجر

اللہ ابھی چار پہر رات پڑی ہے

تلوار لیے وہ نہیں مقتل میں کھڑے ہیں

اس وقت مرے آگے مری موت کھڑی ہے

جینے نہیں دیتے ہیں وہ مرنے نہیں دیتے

اے نوحؔ مری جان کشاکش میں پڑی ہے


4

کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں

ہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیں

ہم کہاں جاتے ہیں یہ بھی ہمیں معلوم نہیں

بادۂ عشق سے مخمور چلے جاتے ہیں

گرچہ آپس میں وہ اب رسم محبت نہ رہی

توڑ جوڑ ان کے بدستور چلے جاتے ہیں

بیٹھے بیٹھے جو دل اپنا کبھی گھبراتا ہے

سیر کرنے کو سر طور چلے جاتے ہیں

قیس و فرہاد کے مرنے کا زمانہ گزرا

آج تک عشق کے مذکور چلے جاتے ہیں


5

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

جب طبیعت کسی پر آتی ہے

موت کے دن قریب ہوتے ہیں

مجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا

آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں

ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے

ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں

عشق میں اور کچھ نہیں ملتا

سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں

نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے
کہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں

Qaisarul Jafri ka Muntakhab kalam

Articles

قیصر الجعفری کا منتخب کلام

قیصر الجعفری

 

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر

تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں

اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا

ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں

خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی

آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں


2

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے

تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو

کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے

وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب

خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں

وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ

کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے


3

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری

میں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری

لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریں گے شاید

سب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری

اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتی

آخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری

اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھے

میری ہر چیخ مرے عہد کے اس پار گری

خود کو اب گرد کے طوفاں سے بچاؤ قیصرؔ

تم بہت خوش تھے کہ ہمسائے کی دیوار گری


4

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو

شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن

آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا

جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں

شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے

شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے


5

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا

کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے

وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

مرے خلوص کی صیقل گری بھی ہار گئی

وہ جانے کون سا پتھر تھا آئینہ نہ ہوا

میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے

یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

شعور چاہئے ترتیب خار و خس کے لیے

قفس کو توڑ کے رکھا تو آشیانہ ہوا

ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی

یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانہ ہوا

کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصرؔ

پھر اس کے بعد محبت کا حادثہ نہ ہوا