Intekhab E Kalam Hasrat Azeemabadi

Articles

انتخابِ کلام حسرتؔ عظیم آبادی

حسرتؔ عظیم آبادی

 

 

عزیزو تم نہ کچھ اس کو کہو ہوا سو ہوا
نپٹ ہی تند ہے ظالم کی خو ہوا سو ہوا

خطا سے اس کی نہیں نام کو غبار ملال
میں رو رو ڈالا ہے سب دل سے دھو ہوا سو ہوا

ہنسے ہے دل میں یہ نا دردمند سب سن سن
تو دکھ کو عشق کے اے دل نہ رو ہوا سو ہوا

ستم گرو جو تمہیں رحم کی ہو کچھ توفیق
ستم کی اپنے تلافی کرو ہوا سو ہوا

تو کون ہے کہ ہو ملنے سے غیر کے مانع
دل اس کو ہاتھ سے اپنے نہ کھو ہوا سو ہوا

نہ سرگزشت مری پوچھ مجھ سے کچھ اے بخت
تو اپنے خوابِ فراغت میں سو ہوا سو ہوا

محبت ایک طرح کی نری سماجت ہے
میں چھوڑوں ہوں تری اب جستجو ہوا سو ہوا

بیان حال سے رکتا ہے حسرت اب یارو
نہ پوچھو اس سے نہ کچھ تم کہو ہوا سو ہوا
٭٭٭

ہے یاد تجھ سے میرا وہ شرح حال دینا
اور سن کے تیرا اس کو ہنس ہنس کے ٹال دینا

کر کر کے یاد اس کی بے حال ہوں نہایت
فرصت ذرا تو مجھ کو تو اے خیال دینا

اس زلف کج کے عقدے ہرگز کھلے نہ مجھ پر
کیوں اس کو شانہ کر کے ایک ایک بال دینا

میں مدعا کو اپنے محمل کہوں ہوں تجھ سے
گوش دل اپنا ایدھر صاحب جمال دینا

اس عمر بھر میں تجھ سے مانگا ہے ایک بوسہ
خالی پڑے نہ پیارے میرا سوال دینا

دیکھے ہے دور سے تو کہتا ہے بے مروت
یہ کون آ گھسا ہے اس کو نکال دینا

قابو ہے تیرا حسرت مت چھوڑ مدعی کو
دشمن کو مصلحت نیں ہرگز مجال دینا
٭٭٭

اس زلف سے دل ہو کر آزاد بہت رویا
یہ سلسلہ¿ الفت کر یاد بہت رویا

رحم اس کو نہ تھا ہرگز ہر چند بحال سگ
اس کوچے میں میں کر فریاد بہت رویا

مظلومی مری اور ظلم دیکھ اس بت کافر کا
رحم آیا ستم کے تئیں بے داد بہت رویا

دل غم سے نہ ہو خالی رونے سے مرا لیکن
تا ہو مرے رونے سے وہ شاد بہت رویا

اس عشق کی مجبوری ناصح پہ کھلی جب سے
کر منع محبت کا ارشاد بہت رویا

انجام محبت کا بوجھا تھا مگر اس کو
جب دل لگا شیریں سے فرہاد بہت رویا

ہے تازہ گرفتاروں کی فریاد کو کیا رقت
شب نالہ مرا سن کر صیاد بہت رویا

سنگیں دلی اس بت کی میں جس سے کہی حسرت
ہر چند دل اس کا تھا فولاد بہت رویا
٭٭٭

اب تجھ سے پھرا یہ دل ناکام ہمارا
اس کوچے میں کم ہی رہے گا کام ہمارا

ہے سخت مرے درپئے جاں تیرا غم ہجر
جاناں سے کہے جا کوئی پیغام ہمارا

جاگیر میں ہے غیر کی وہ بوسہ¿ لب گو
قائم رہے یہ منصب دشنام ہمارا

ہونے نہیں پاتے یہ مرے دیدہ¿ تر خشک
دولت سے تری تر ہے سدا جام ہمارا

دو دن میں کسی کام کا رہنے کا نہیں تو
کچھ تجھ سے نکل لے کبھی تو کام ہمارا

اک روز ملا عالم مستی میں جو ہم سے
تنہا بت بدمست مے آشام ہمارا

شمشیر علم کر کے لگا کہنے رکھوں ٹھور
بدنام تو کرتا پھرے ہے نام ہمارا

ایام کے ہر ذکر سے اور فکر سے فارغ
یا عشق ہے ورد سحر و شام ہمارا

ہوتا نہ فریبندہ ¿دل کاش کے حسرت
آغاز میں یہ عشق بد انجام ہمارا
٭٭٭

دامن ہے میرا دشت کا دامان دوسرا
میری طرح نہ پھاڑے گریبان دوسرا

یک رنگ ہوں میں اس گل رعنا کے عشق میں
بلبل نہ ہوں کہ ڈھونڈوں گلستان دوسرا

تھا ہی غم فراق ملا اس میں درد رشک
مفلس کے گھر میں آیا یہ مہمان دوسرا

تیری حیائے چشم سا دیکھا نہیں رقیب
یاں احتیاج کیا ہے نگہبان دوسرا

عریاں تنوں کے سر پہ تری خاک کو رہے
در کارواں نہیں سر و سامان دوسرا

کیجے ضمیر خاک کو آدم کی چھان اگر
اس شکل کا بن آوے نہ انسان دوسرا

جوع البقر رکھے یہ شیخ شکم پرست
اک خوان کھا کہے ہے کہاں خوان دوسرا

سیر عجب رکھے ہے تری جلوہ گاہ ناز
اس لطف کا کہاں ہے خیابان دوسرا

نقد دل اس کو دینا ہے حسرت ثواب و فرض
اس زلف سا نہ ہوگا پریشان دوسرا
٭٭٭

 

Intekhab E Kalam Sher Mohammad Khan Emaan

Articles

انتخابِ کلام شیر محمد خاں ایمان

شیر محمد خاں ایمان

 

زندگی شکل خواب کی سی ہے

موج گویا سراب کی سی ہے

کہہ صبا وہ کھلی ہے زلف کہاں

تجھ میں بو مشک ناب کی سی ہے

گھر میں آنے سے اس پری رو کے

روشنی ماہتاب کی سی ہے

کیوں نہ دیوانہ اس بدن کا ہوں

جس میں خوشبو گلاب کی سی ہے

کچھ نہ کچھ رات شغل میں گزری

آج صورت حجاب کی سی ہے

کیوں چھپاتا ہے شب کی بے خوابی

بو دہن میں شراب کی سی ہے

میری نظروں میں تیرے بن ساغر

شکل چشم پر آب کی سی ہے

میرا ہم سایہ سوچتا تھا یہی

آج شب اضطراب کی سی ہے

کون دل سوختہ ہے گرم طپش

بو یہاں کچھ کباب کی سی ہے

رگ جاں پر ہے کون ناخن زن

کچھ صدا یاں رباب کی سی ہے

چلئے ایمانؔ بزم یار سے گھر

یاں طرح کچھ جواب کی سی ہے

٭٭٭

عالم میں حسن تیرا مشہور جانتے ہیں

ارض و سما کا اس کو ہم نور جانتے ہیں

ہرچند دو جہاں سے اب ہم گزر گئے ہیں

تس پر بھی دل کے گھر کو ہم دور جانتے ہیں

جس میں تری رضا ہو وہ ہی قبول کرنا

اپنا تو ہم یہی کچھ مقدور جانتے ہیں

سو رنگ جلوہ گر ہیں گرچہ بتان عالم

ہم ایک تجھی کو اپنا منظور جانتے ہیں

لبریز مے ہیں گرچہ ساغر کی طرح ہر دم

تس پر بھی آپ کو ہم مخمور جانتے ہیں

کچھ اور آرزو کی ہرگز نہیں سمائی

از بس تجھ ہی کو دل میں معمور جانتے ہیں

ایمانؔ جس کے دل میں ہے یاد اس کی ہر دم

ہم تو اسی کی خاطر مسرور جانتے ہیں

٭٭٭

پہنچا ہے آج قیس کا یاں سلسلہ مجھے

جنگل کی راس کیوں نہ ہو آب و ہوا مجھے

آنا اگر ترا نہیں ہوتا ہے میرے گھر

دولت سرا میں اپنے ہی اک دن بلا مجھے

وہ ہووے اور میں ہوں اور اک کنج عافیت

اس سے زیادہ چاہیے پھر اور کیا مجھے

پیدا کیا ہے جب سے کہ میں ربط عشق سے

بیگانہ جانتا ہے ہر ایک آشنا مجھے

کافر بتوں کی راہ نہ جا آ خدا کو مان

پیر خرد نے گرچہ کہا بارہا مجھے

پر کیا کروں کہ دل ہی نہیں اختیار میں

اس خانما خراب نے عاجز کیا مجھے

پہلے ہی اپنے دل کو نہ دینا تھا اس کے ہاتھ

ایمانؔ اب تو کوئی پڑی ہے وفا مجھے

٭٭٭

کس روز الٰہی وہ مرا یار ملے گا

ایسا بھی کبھی ہوگا کہ دل دار ملے گا

جوں چاہیئے ووں دل کی نکالوں گا ہوس میں

جس دن وہ مجھے کیف میں سرشار ملے گا

اک عمر سے پھرتا ہوں لیے دل کو بغل میں

اس جنس کا بھی کوئی خریدار ملے گا

مل جائے گا پھر آپ سے یہ زخم جگر بھی

جس روز کہ مجھ سے وہ ستم گار ملے گا

یہ یاد رکھ اے کافر بدکیش قسم ہے

مجھ سا نہ کوئی تجھ کو گرفتار ملے گا

ایمانؔ نہ کہتا تھا میں تجھ سے یہ ہمیشہ

جو شوخ ملے گا سو دل آزار ملے گا

٭٭٭

قصہ تو زلف یار کا طول و طویل ہے

کیوں کر ادا ہو عمر کا رشتہ قلیل ہے

گنجائش دو شاہ نہیں ایک ملک میں

وحدانیت کے حق کی یہی بس دلیل ہے

مشہد پہ دل کے دیدۂ گریاں پکار دے

پیاسا نہ جا بنام شہیداں سبیل ہے

نظریں لڑانے میں وہ تغافل ہے خوش نما

جس طرح سے پتنگوں کے پنجوں میں ڈھیل ہے

ایمانؔ کیا بیاں کروں اس شہسوار کا

حاضر جلو کے بیچ جہاں جبرئیل ہے

 ٭٭٭

Intekhab E Kalam Sirajuddin Khan Aarzoo

Articles

انتخابِ کلام سراج الدین خان آرزو ( استاد میر تقی میر)

خان آرزو

 

آتا ہے صبح اٹھ کر تیری برابری کو

کیا دن لگے ہیں دیکھو خورشید خاوری کو

دل مارنے کا نسخہ پہونچا ہے عاشقوں تک

کیا کوئی جانتا ہے اس کیمیا گری کو

اس تند خو صنم سے ملنے لگا ہوں جب سے

ہر کوئی جانتا ہے میری دلاوری کو

اپنی فسوں گری سے اب ہم تو ہار بیٹھے

باد صبا یہ کہنا اس دل ربا پری کو

اب خواب میں ہم اس کی صورت کو ہیں ترستے

اے آرزو ہوا کیا بختوں کی یاوری کو

٭٭٭

فلک نے رنج تیر آہ سے میرے زبس کھینچا

لبوں تک دل سے شب نالے کو میں نے نیم رس کھینچا

مرے شوخ خراباتی کی کیفیت نہ کچھ پوچھو

بہار حسن کو دی آب اس نے جب چرس کھینچا

رہا جوش بہار اس فصل گر یوں ہی تو بلبل نے

چمن میں دست گلچیں سے عجب رنج اس برس کھینچا

کہا یوں صاحب محمل نے سن کر سوز مجنوں کا

تکلف کیا جو نالہ بے اثر مثل جرس کھینچا

نزاکت رشتہ الفت کی دیکھو سانس دشمن کی

خبردار آرزوؔ ٹک گرم کر تار نفس کھینچا

٭٭٭

Intekhab E Kalam Ashraf Ali FughaN

Articles

انتخابِ کلام اشرف علی فغاں

اشرف علی فغاں

 

ڈرتا ہوں محبت میں مرا نام نہ ہووے

دنیا میں الٰہی کوئی بدنام نہ ہووے

شمشیر کوئی تیز سی لینا مرے قاتل

ایسی نہ لگانا کہ مرا کام نہ ہووے

گر صبح کو میں چاک گریبان دکھاؤں

اے زندہ دلاں حشر تلک شام نہ ہووے

آتا ہے مری خاک پہ ہم راہ رقیباں

یعنی مجھے تربت میں بھی آرام نہ ہووے

جی دیتا ہے بوسہ کی توقع پہ فغاںؔ تو

ٹک دیکھ لے سودا یہ ترا خام نہ ہووے

٭٭٭

ہرگز مرا وحشی نہ ہوا رام کسی کا

وہ صبح کو ہے یار مرا شام کسی کا

اس ہستئ موہوم میں ہرگز نہ کھلی چشم

معلوم کسی کو نہیں انجام کسی کا

اتنا کوئی کہہ دے کہ مرا یار کہاں ہے

باللہ میں لینے کا نہیں نام کسی کا

ہونے دے مرا چاک گریباں مرے ناصح

نکلے مرے ہاتھوں سے بھلا کام کسی کا

٭٭٭

حیف دل میں ترے وفا نہ ہوئی

کیوں تری چشم میں حیا نہ ہوئی

یار نے نامہ بر سے خط نہ لیا

میری خاطر عزیز کیا نہ ہوئی

رہ گیا دور تیرے کوچہ سے

خاک بھی میری پیش پا نہ ہوئی

کٹ گئی عمر میری غفلت میں

کچھ تری بندگی ادا نہ ہوئی

دود دل تیری زلف تک پہنچے

آہ یاں تک مری رسا نہ ہوئی

چشم خوں خوار سے فغاںؔ دیکھا

دل بیمار کو شفا نہ ہوئی

٭٭٭

دیکھیے خاک میں مجنوں کی اثر ہے کہ نہیں

دشت میں ناقۂ لیلیٰ کا گزر ہے کہ نہیں

وا اگر چشم نہ ہو اس کو نہ کہنا پی اشک

یہ خدا جانے صدف بیچ گہر ہے کہ نہیں

ایک نے مجھ کو ترے در کے اپر دیکھ کہا

غیر اس در کے تجھے اور بھی در ہے کہ نہیں

آخر اس منزل ہستی سے سفر کرنا ہے

اے مسافر تجھے چلنے کی خبر ہے کہ نہیں

توشۂ راہ سبھی ہم سفراں رکھتے ہیں

تیرے دامن میں فغاںؔ لخت جگر ہے کہ نہیں

٭٭٭

اے تجلی کیا ہوا شیوہ تری تکرار کا

مر گیا آخر کو یہ طالب ترے دیدار کا

کیا بنائے خانۂ عشاق بے بنیاد ہے

ڈھل گیا سر سے مرے سایہ تری دیوار کا

روز بہ ہوتا نظر آتا نہیں یہ زخم دل

دیکھیے کیا ہو خدا حافظ ہے اس بیمار کا

نو ملازم لعل لب کو لے گئے تنخواہ میں

بے طلب رہتا ہے یہ نوکر تری سرکار کا

دیکھ نئیں سکتا فغاںؔ شادی دل آفت طلب

یہ کہاں سے ہو گیا مالک مرے گھر بار کا

٭٭٭

Inteekhab E Kalam Shah Mubarak Aabro

Articles

انتخابِ کلام شاہ مبارک آبرو

شاہ مبارک آبرو

 

تمہارے لوگ کہتے ہیں کمر ہے

کہاں ہے کس طرح کی ہے کدھر ہے

لب شیریں چھپے نہیں رنگ پاں سیں

نہاں منقار طوطی میں شکر ہے

کیا ہے بے خبر دونوں جہاں سیں

محبت کے نشے میں کیا اثر ہے

ترا مکھ دیکھ آئینا ہوا ہے

تحیر دل کوں میرے اس قدر ہے

تخلص آبروؔ بر جا ہے میرا

ہمیشہ اشک غم سیں چشم تر ہے

٭٭٭

آج یاروں کو مبارک ہو کہ صبح عید ہے

راگ ہے مے ہے چمن ہے دل ربا ہے دید ہے

دل دوانہ ہو گیا ہے دیکھ یہ صبح بہار

رسمسا پھولوں بسا آیا انکھوں میں نیند ہے

شیر عاشق آج کے دن کیوں رقیباں پے نہ ہوں

یار پایا ہے بغل میں خانۂ خورشید ہے

غم کے پیچھو راست کہتے ہیں کہ شادی ہووے ہے

حضرت رمضاں گئے تشریف لے اب عید ہے

عید کے دن رووتا ہے ہجر سیں رمضان کے

بے نصیب اس شیخ کی دیکھو عجب فہمید ہے

سلک اس کی نظم کا کیوں کر نہ ہووے قیمتی

آبروؔ کا شعر جو دیکھا سو مروارید ہے

٭٭٭

گناہ گاروں کی عذر خواہی ہمارے صاحب قبول کیجے

کرم تمہارے کی کر توقع یہ عرض کیتے ہیں مان لیجے

غریب عاجز جفا کے مارے فقیر بے کس گدا تمہارے

سو ویں ستم سیں مریں بچارے اگر جو ان پر کرم نہ کیجے

پڑے ہیں ہم بیچ میں بلا کے کرم کرو واسطے خدا کے

ہوئے ہیں بندے تری رضا کے جو کچھ کے حق میں ہمارے کیجے

بپت پڑی ہے جنہوں پے غم کی جگر میں آتش لگی الم کی

کہاں ہے طاقت انہیں ستم کی کہ جن پہ ایتا عتاب کیجے

ہمارے دل پہ جو کچھ کہ گزرا تمہارے دل پر اگر ہو ظاہر

تو کچھ عجب نہیں پتھر کی مانند اگر یتھا دل کی سن پسیجے

اگر گنہ بھی جو کچھ ہوا ہے کہ جس سیں ایتا ضرر ہوا ہے

تو ہم سیں وہ بے خبر ہوا ہے دلوں سیں اس کوں بھلائے دیجے

ہوئے ہیں ہم آبروؔ نشانے لگے ہیں طعنے کے تیر کھانے

ترا برا ہو ارے زمانے بتا تو اس طرح کیوں کہ جیجے

آیا ہے صبح نیند سوں اٹھ رسمسا ہوا

جامہ گلے میں رات کے پھولوں بسا ہوا

٭٭٭

کم مت گنو یہ بخت سیاہوں کا رنگ زرد

سونا وہی جو ہووے کسوٹی کسا ہوا

انداز سیں زیادہ نپٹ ناز خوش نہیں

جو خال حد سے زیادہ بڑھا سو مسا ہوا

قامت کا سب جگت منیں بالا ہوا ہے نام

قد اس قدر بلند تمہارا رسا ہوا

دل یوں ڈرے ہے زلف کا مارا وہ پھونک سیں

رسی سیں اژدہے کا ڈرے جوں ڈسا ہوا

اے آبروؔ اول سیں سمجھ پیچ عشق کا

پھر زلف سیں نکل نہ سکے دل پھنسا ہوا

٭٭٭

کماں ہوا ہے قد ابرو کے گوشہ گیروں کا

تباہے حال تری زلف کے اسیروں کا

ہر ایک سبز ہے ہندوستان کا معشوق

بجا ہے نام کہ بالم رکھا ہے کھیروں کا

مرید پیٹ کے کیوں نعرہ زن نہ ہوں ان کا

برا ہے حال کہ لاگا ہے زخم پیروں کا

برہ کی راہ میں جو کوئی گرا سو پھر نہ اٹھا

قدم پھرا نہیں یاں آ کے دست گیروں کا

وہ اور شکل ہے کرتی ہے دل کو جو تسخیر

عبث ہے شیخ ترا نقش یہ لکیروں کا

سیلی میں جوں کہ لٹکا ہو آبروؔ یوں دل

سجن کی زلف میں لٹکا لیا فقیروں کا

٭٭٭

یہ سبزہ اور یہ آب رواں اور ابر یہ گہرا

دوانہ نہیں کہ اب گھر میں رہوں میں چھوڑ کر صحرا

اندھیری رات میں مجنوں کو جنگل بیچ کیا ڈر ہے

پپیہا کوکلا کیوں مل کے دے ہیں ہر گھڑی پہرا

گیا تھا رات جھڑ بدلی میں ظالم کس طرف کوں تو

تڑپ سیں دل مرا بجلی کی جوں اب لگ نہیں ٹھہرا

وہ کاکل اس طرح کے ہیں بلا کالے کہ جو دیکھے

تو مر جا ناگ اس کا آب ہو جا خوف سیں زہرا

ایسی کہانی بکٹ ہے عشق کافر کی جو دیکھے

تو روویں نہ فلک اور چشم ہو جاں ان کی نو نہرا

رواں نہیں طبع جس کی شعر تر کی طرز پانے میں

نہیں ہوتا ہے اس کوں آبروؔ کے حرف سیں بہرا

٭٭٭

Intekhab E Kalam Meer Abdulhai TabaN

Articles

انتخابِ کلام میر عبد الحئی تاباں

میر عبد الحئی تاباں

 

نہ کوئی دوست اپنا ، یار اپنا ، مہرباں اپنا
سناو¿ں کس کو غم اپنا ، الم اپنا ، فغاں اپنا

نہ طاقت ہے اشارے کی ، نہ کہنے کی ، نہ سننے کی
کہوں کیا میں ، سنوں کیا میں ، بتاو¿ں کیا بیاں اپنا

بہت چاہا کہ آوے یا ر ، یا اس دل کو صبر آوے
نہ یار آیا ، نہ صبر آیا ، دیا جی میں نداں اپنا

قفس میں بند ہیں ، بے بال و پر ہیں ، سخت بے پر ہیں
نہ گلشن دیکھ سکتے ہیں ، نہ اب وہ آشیاں اپنا

ہوا ہوں گم میں لشکر میں پری رویاں کی ہے ظالم
کہاں ڈھونڈوں ، کسے پوچھوں نہیں پاتا نشاں اپنا

مجھے آتا ہے رونا اپنی تنہائی پہ اے تاباں
نہ یار اپنا ، نہ دل اپنا ، نہ تن اپنا ، نہ جاں اپنا
٭٭٭

اک بار سر پہ ٹوٹ پڑی آ بلائے عشق
پوچھوں میں کس طبیب سے یارو دوائے عشق

یارو ، مرے طریق کو کیا پوچھتے ہو تم
شیدائے درد و رنج ہوں اور مبتلائے عشق

کرتا ہے مجھ کو جرمِ محبت سے سنگ سار
پھر پوچھتا ہے کیوں رے تجھے دوں سزائے عشق

یارب میں چوٹِ عشق سے ہوں سخت بے قرار
اے کاش اور رنج تو دیتا سوائے عشق

مانند گردِ باد میری مشتِ خاک کو
لے کر گئی کدھر کو اوڑا کر ہوائے عشق

کیا جانے کیا کرے گی وہ خانہ خرابیاں
تاباں کو بے طرح سے لگی ہے ہوائے عشق
٭٭٭

بچتا ہی نہیں ہو جسے آزارِ محبت
یارب کوئی نہ ہووے گرفتارِ محبت

کہتے ہیں میری نبض کے تئیں دیکھ کر بتاں
جینے کا نہیں آہ یہ بیارِ محبت

عاشق تو بہت ہوویں گے پر مجھ سا نہ ہوگا
دیوانہ و اندوہ و غم خوارِ محبت

ہر چند چھپاوے گا یہ تاباں نہ چھپے گا
ظاہر ہے ترے چہرے سے آثارِ محبت
٭٭٭

میں ہوکے ترے غم میں ناشاد بہت رویا
راتوں کے تئیں کرکے فریاد بہت رویا

گلشن سے جو وہ لایا بلبل نے دیا جس کو
قسمت کے اوپر اپنی صیاد بہت رویا

حسرت میں دیا جس کو محنت میں نہ ہوئی راحت
میں حال ترا سُن کر فرہاد بہت رویا

نشتر جو چبھایا تھا پر خون نہ نکلا تھا
کر فصد مری آخر فصّاد بہت رویا

کر قتل مجھے اُن نے عالم میں بہت ڈھونڈا
جب مجھ سا نہ پایا تو جلاد بہت رویا

جب یار مرا بگڑا خط آنے سے تاباں
تب حسن کو میں اُس کے کر یاد بہت رویا
٭٭٭

آشنا ہوچکا ہوں میں سب کا
جس کو دیکھا سو اپنے مطلب کا

آ کبھو تو مری طرف کافر
میں ترستا ہوں دیکھ تو کب کا

ہیں بہوت جامہ زیب پر ہم نے
کوئی دیکھا نہیں تری چھب کا

جب میں آیا عدم سے ہستی میں
آہ روتا ہی میں رہا تب کا

میرے روزِ سیاہ کو وہ جانے
دکھ سہا جس نے ہجر کی شب کا

بلبلو کیا کرو گے اب چھٹ کر
گلستاں تو اُجڑ چکا کب کا

اے طبیبو سوائے وصل کبھو
کچھ بھی درماں ہے عشق کے تپ کا

ہم تو تاباں ہوئے ہیں لا مشرب
مجملہ دیکھ سب کے مذہب کا
٭٭٭

Intekhab E Kalam Shakir Naji

Articles

انتخابِ کلام شاکر ناجی

شاکر ناجی

 

 

خیال چھوڑ کہ دنیا ہے خواب کی مانند
تمام خوبی ہے اوسکی سراب کی مانند

نہ کھو تو عمر کوں غفلت میں عیشِ دنییا سیں
کہ روز و شب ہے یہ دھوکا سراب کے مانند

اگر جو موجِ حوادث کی ہے خبر تجھ کوں
نہ کھول چشمِ طرب کوں حباب کی مانند

لیا ہے دل کے کبوتر کوں گھیر کر میرے
تیری دو چشمِ سیہ نے عقاب کی مانند

زبس کہ ہجر میں اوس گل بدن کے روتے ہیں
نین سے جاری ہیں انجھواں گلاب کی مانند
٭٭٭

اگر نسیم ہو قاصد رواں کروں کاغذ
وہ گل بدن سے کہے جا میرا بیاں کاغذ

نہیں ہے حاجتِ شرحِ فراقِ چہرہ و دل
کہ پیچ و تاب کرے گا میرا عیاں کاغذ

ہوا ہے دل کا چمن تازہ پیﺅ کا نامہ دیکھ
مگر ہے عشق کے گلشن کا باغباں کاغذ

جو شمع رُو ی کی جدائی کا شرح کچھ لکھوں
سیاہی مل کے کرے شور اور فغاں کاغذ

حیات اوس گلِ رنگیں کی میں لکھا ناجی
ہوا ہے صفحہ¿ گلزار بوستاں کاغذ

٭٭٭

روٹھا ہے اب وہ یار جو ہم سیں جدا نہ تھا
یوں بے وفا ہوا کہ گویا آشنا نہ تھا

تب جور عشق کس کے بلا کی نظر میں تھی
جب تک پری رُخاں کا یہ دل مبتلا نہ تھا

قامت کوں دیکھ یار کی زاہد تو تب گرا
آہ جگر کا ہاتھ میں اوسکے عصا نہ تھا

قرآں کی سیرِ باغ پہ جھوٹی قسم نہ کھا
سیپارہ کیوں ہے غنچہ اگر تو ہنسا نہ تھا

یوں لعل لب کوں بند کیا مجھ طرف ستیں
گویا تو ہم سے بولتا پیارے سدا نہ تھا

ناجی کے پاس چھوڑ کے اے سنگ دل صنم
کیا گئے تم سمجھ کے ہمارا خدا نہ تھا
٭٭٭

ماہ رُو جب سپید پوش ہوا
ہر طرف چاندنی کا جوش ہوا

موتی آکر لگا تھا کان اوسکے
دُد دُر اوسکو کہے سیں گوش ہوا

کھلکھلا کے جو اس دہن سے ہنسا
غنچہ گلزار میں خموش ہوا

جنّے دیکھا اوسے نظر بھر کے
پھر کر اس کو نہ اپنا ہوش ہوا

مجھ سے افسردہ دل کو اے ناجی
اب سجن کا مقال گوش ہوا
٭٭٭

رنگینی اوپر اپنی تھا باغ باغ لا لا
دیکھا جو لال چہرا تیرا ہے داغ لالا

سوزِ خمار پاکر گلشن میں ملتجی ہوں
مجھ کوں بلاوتا ہے ہر گل ایاغ لا لا

نار خلیل کا ہے پرتو ہی جب کہا یا
وحدت کی انجمن کا روشن چراغ لا لا

جو ہے شہیدِ ہجراں اس پردہ¿ زمیں میں
خونی کفن کا اوسکے دے ہے سراغ لا لا
٭٭٭

 

Intekhab E Kalam Asrarul Haq Mjaz Luckhnavi

Articles

انتخابِ کلام اسرارالحق مجازلکھنوی

اسرارالحق مجازلکھنوی

 

کچھ تجھ کو خبر ہے ہم کیا کیا اے شورش دوراں بھول گئے

وہ زلف پریشاں بھول گئے وہ دیدۂ گریاں بھول گئے

اے شوق نظارہ کیا کہئے نظروں میں کوئی صورت ہی نہیں

اے ذوق تصور کیا کیجے ہم صورت جاناں بھول گئے

اب گل سے نظر ملتی ہی نہیں اب دل کی کلی کھلتی ہی نہیں

اے فصل بہاراں رخصت ہو ہم لطف بہاراں بھول گئے

سب کا تو مداوا کر ڈالا اپنا ہی مداوا کر نہ سکے

سب کے تو گریباں سی ڈالے اپنا ہی گریباں بھول گئے

یہ اپنی وفا کا عالم ہے اب ان کی جفا کو کیا کہئے

اک نشتر زہر آگیں رکھ کر نزدیک رگ جاں بھول گئے


تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے

اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے

ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے

یاں ہم نے زباں ہی کھولی تھی واں آنکھ جھکی شرما بھی گئے

آشفتگیٔ وحشت کی قسم حیرت کی قسم حسرت کی قسم

اب آپ کہیں کچھ یا نہ کہیں ہم راز تبسم پا بھی گئے

روداد غم الفت ان سے ہم کیا کہتے کیوں کر کہتے

اک حرف نہ نکلا ہونٹوں سے اور آنکھ میں آنسو آ بھی گئے

ارباب جنوں پر فرقت میں اب کیا کہئے کیا کیا گزری

آئے تھے سواد الفت میں کچھ کھو بھی گئے کچھ پا بھی گئے

یہ رنگ بہار عالم ہے کیوں فکر ہے تجھ کو اے ساقی

محفل تو تری سونی نہ ہوئی کچھ اٹھ بھی گئے کچھ آ بھی گئے

اس محفل کیف و مستی میں اس انجمن عرفانی میں

سب جام بکف بیٹھے ہی رہے ہم پی بھی گئے چھلکا بھی گئے


ساقی گلفام باصد اہتمام آ ہی گیا

نغمہ بر لب خم بہ سر بادہ بہ جام آ ہی گیا

اپنی نظروں میں نشاط جلوۂ خوباں لیے

خلوتی خاص سوئے بزم عام آ ہی گیا

میری دنیا جگمگا اٹھی کسی کے نور سے

میرے گردوں پر مرا ماہ تمام آ ہی گیا

جھوم جھوم اٹھے شجر کلیوں نے آنکھیں کھول دیں

جانب گلشن کوئی مست خرام آ ہی گیا

پھر کسی کے سامنے چشم تمنا جھک گئی

شوق کی شوخی میں رنگ احترام آ ہی گیا

میری شب اب میری شب ہے میرا بادہ میرے جام

وہ مرا سرو رواں ماہ تمام آ ہی گیا

بارہا ایسا ہوا ہے یاد تک دل میں نہ تھی

بارہا مستی میں لب پر ان کا نام آ ہی گیا

زندگی کے خاکۂ سادہ کو رنگیں کر دیا

حسن کام آئے نہ آئے عشق کام آ ہی گیا

کھل گئی تھی صاف گردوں کی حقیقت اے مجازؔ

خیریت گزری کہ شاہیں زیر دام آ ہی گیا


یہ جہاں بارگہ رطل گراں ہے ساقی

اک جہنم مرے سینے میں تپاں ہے ساقی

جس نے برباد کیا مائل فریاد کیا

وہ محبت ابھی اس دل میں جواں ہے ساقی

ایک دن آدم و حوا بھی کیے تھے پیدا

وہ اخوت تری محفل میں کہاں ہے ساقی

ہر چمن دامن گل رنگ ہے خون دل سے

ہر طرف شیون و فریاد و فغاں ہے ساقی

ماہ و انجم مرے اشکوں سے گہر تاب ہوئے

کہکشاں نور کی ایک جوئے رواں ہے ساقی

حسن ہی حسن ہے جس سمت بھی اٹھتی ہے نظر

کتنا پر کیف یہ منظر یہ سماں ہے ساقی

زمزمہ ساز کا پائل کی چھناکے کی طرح

بہتر از شورش ناقوس و اذاں ہے ساقی

میرے ہر لفظ میں بیتاب مرا شور دروں

میری ہر سانس محبت کا دھواں ہے ساقی


خود دل میں رہ کے آنکھ سے پردا کرے کوئی

ہاں لطف جب ہے پا کے بھی ڈھونڈا کرے کوئی

تم نے تو حکم ترک تمنا سنا دیا

کس دل سے آہ ترک تمنا کرے کوئی

دنیا لرز گئی دل حرماں نصیب کی

اس طرح ساز عیش نہ چھیڑا کرے کوئی

مجھ کو یہ آرزو وہ اٹھائیں نقاب خود

ان کو یہ انتظار تقاضا کرے کوئی

رنگینی نقاب میں گم ہو گئی نظر

کیا بے حجابیوں کا تقاضا کرے کوئی

یا تو کسی کو جرأت دیدار ہی نہ ہو

یا پھر مری نگاہ سے دیکھا کرے کوئی

ہوتی ہے اس میں حسن کی توہین اے مجازؔ

اتنا نہ اہل عشق کو رسوا کرے کوئی


Intekhab E Kalam Meer Sooz

Articles

انتخابِ کلام سید محمد میر سوز

میر سوز

 

اہلِ ایماں سوز کو کہتے ہیں کافر ہوگیا
آہ یارب رازِ دل ان پر بھی ظاہر ہوگیا

میں نے جانا تھا صحیفہ عشق کا ہے میرے نام
واہ یہ دیوان بھی نقلِ دفاتر ہوگیا

ناصحا بیزار دل سوزی سے تیری دور ہو
دل کو کیا روتا ہے لے جی بھی مسافر ہوگیا

درد سے محفوظ ہوں، درماں سے مجھ کو کام کیا
بار خاطر تھا جو میرا یار شاطر ہوگیا

کیا مسیحائی ہے تیرے لعل لب میں اے صنم
بات کے کہتے ہی دیکھو سوز شاعر ہوگیا

———————

 

آنکھ پھڑکی ہے یار آتا ہے
جان کو بھی قرار آتا ہے

دل بھی پھر آج کچھ دھڑکنے لگا
کوئی تو دل فگار آتا ہے

مجھ سے کہتا ہے سنیو او بدنام
تو یہاں بار بار آتا ہے

تیرے جو دل میں ہے سو کہہ دے صاف
مجھ سے کیا کچھ اُدھار آتا ہے

اب کے آیا تو سب سے کہہ دوں گا
لیجو میرا شکار آتا ہے

سوز کا منہ مگر نہیں دیکھا
روز سو تجھ سے مار آتا ہے​

————————

 

ناصح تو کسی شوخ سے دل جا کے لگا دیکھ
میرا بھی کہا مان محبت کا مزا دیکھ

کچھ اور سوال اس کے سوا تجھ سے نہیں ہے
اے بادشہِ حُسن تو سوے فقرا دیکھ

ہر چند میں لائق تو نہیں تیرے کرم کے
لیکن نظرِ لطف سے ٹک آنکھ اُٹھا دیکھ

پچھتائے گا آخر کو مجھے مار کے اے یار
کہنے کو تو ہر ایک مخالف کے نہ جا کے دیکھ

اس بُت نے نظر بھر کے نہ دیکھا مجھے اے سوز
ہر چند کہا میں نے کہ ٹک بہرِ خدا دیکھ​

—————————-

 

دل بتوں سے کوئی لگا دیکھے
اس خدائی کا تب مزا دیکھے

کس طرح مارتے ہیں عاشق کو
ایک دن کوئی مار کھا دیکھے

راہ میں کل جو اس نے گھیر لیا
یعنی آنکھیں ذرا ملا دیکھے

مجھ سے شرما کے بولتا ہے کیا
اور جو کوئی آشنا دیکھے

اپنی اس کو خبر نہیں واللہ
سوز کو کوئی جا کے کیا دیکھے​

———————-

 

خدا کو کفر اور اسلام میں دیکھ
عجب جلوہ ہے خاص و عام میں دیکھ

جو کیفیت ہے نرگس کی چمن میں
وہ چشمِ ساقی گلفام میں دیکھ

نظر کر زلف کے حلقے میں اے دل
گل خورشید پھولا شام میں دیکھ

خبر مجھ کو نہیں کچھ مرغ دل کی
تو اے صیاد اپنے دام میں دیکھ

پیالا ہاتھ سے ساقی کے لے سوز
طلسم جم کو تو اس جام میں دیکھ​​

Intekhab E Kalam Inamullah Khan Yaqeen

Articles

انتخابِ کلام انعام اللہ خان یقین

انعام اللہ خان یقین

 

نہیں معلوم اب کی سال مے خانے پہ کیا گزرا

ہمارے توبہ کر لینے سے پیمانے پہ کیا گزرا

برہمن سر کو اپنے پیٹتا تھا دیر کے آگے

خدا جانے تری صورت سے بت خانے پہ کیا گزرا

مجھے زنجیر کر رکھا ہے ان شہری غزالوں نے

نہیں معلوم میرے بعد ویرانے پہ کیا گزرا

ہوئے ہیں چور میرے استخواں پتھر سے ٹکرا کے

نہ پوچھا یہ کبھی تو نے کہ دیوانہ پہ کیا گزرا

یقیںؔ کب یار میرے سوز دل کی داد کو پہنچے

کہاں ہے شمع کو پروا کہ پروانہ پہ کیا گزرا


یہ وہ آنسو ہیں جن سے زہرہ آتش ناک ہو جاوے

اگر پیوے کوئی ان کو تو جل کر خاک ہو جاوے

نہ جا گلشن میں بلبل کو خجل مت کر کہ ڈرتا ہوں

یہ دامن دیکھ کر گل کا گریباں چاک ہو جاوے

گنہ گاروں کو ہے امید اس اشک ندامت سے

کہ دامن شاید اس آب رواں سے پاک ہو جاوے

عجب کیا ہے تری خشکی کی شامت سے جو تو زاہد

نہال تاک بٹھلاوے تو وہ مسواک ہو جاوے

دعا مستوں کی کہتے ہیں یقیںؔ تاثیر رکھتی ہے

الٰہی سبزہ جتنا ہے جہاں میں تاک ہو جاوے


مصر میں حسن کی وہ گرمئ بازار کہاں

جنس تو ہے پہ زلیخا سا خریدار کہاں

فیض ہوتا ہے مکیں پر نہ مکاں پر نازل

ہے وہی طور ولے شعلۂ دیدار کہاں

عیش و راحت کے تلاشی ہیں یہ سارے بے درد

ایک ہم کو ہے یہی فکر کہ آزار کہاں

عشق اگر کیجئے دل کیجئے کس سے خالی

درد و غم کم نہیں اس دور میں غمخوار کہاں

قیدی اس سلسلۂ زلف کے اب کم ہیں یقیںؔ

ہیں دل آزار بہت جان گرفتار کہاں


پڑ گئی دل میں ترے تشریف فرمانے میں دھوم

باغ میں مچتی ہے جیسے فصل گل آنے میں دھوم

تیری آنکھوں نے نشے میں اس طرح مارا ہے جوش

ڈالتے ہیں جس طرح بد مست مے خانہ میں دھوم

چاند کے پرتو سے جوں پانی میں ہو جلوے کا حشر

تیرے منہ کے عکس نے ڈالی ہے پیمانے میں دھوم

ابر جیسے مست کو شورش میں لاوے دل کے بیچ

مچ گئی اک بار ان بالوں کے کھل جانے میں دھوم

بوئے مے آتی ہے منہ سے جوں کلی سے بوئے گل

کیوں یقیںؔ سے جان کرتے ہو مکر جانے میں دھوم


کار دیں اس بت کے ہاتھوں ہائے ابتر ہو گیا

جس مسلماں نے اسے دیکھا وہ کافر ہو گیا

دلبروں کے نقش پا میں ہے صدف کا سا اثر

جو مرا آنسو گرا اس میں سو گوہر ہو گیا

کیا بدن ہوگا کہ جس کے کھولتے جامہ کا بند

برگ گل کی طرح ہر ناخن معطر ہو گیا

آنکھ سے نکلے پہ آنسو کا خدا حافظ یقیںؔ

گھر سے جو باہر گیا لڑکا سو ابتر ہو گیا

————————–