Intekhab E Kalam Mohammad Alvi

Articles

انتخابِ کلام محمد علوی

محمد علوی

 

وقت یہ کیسا آن پڑا ہے
خطرے میں ایمان پڑا ہے

بھوکا ننگا مر رہنے کو
سارا ہندوستان پڑا ہے

اک کونے میں ہم رہتے ہیں
دوسرے میں مہمان پڑا ہے

کون سے ہم اللہ والے ہیں
پیچھے کیوں شیطان پڑا ہے

٭٭٭

ہر چند جاگتے ہیں پہ سوئے ہوئے سے ہیں
سب اپنے اپنے خوابوں میں کھوئے ہوئے سے ہیں

میں شام کے حصار میں جکڑا ہوا سا ہوں
منظر مرے لہو میں ڈبوئے ہوئے سے ہیں

محسوس ہو رہا ہے یہ پھولوں کو دیکھ کر
جیسے تمام رات کے روئے ہوئے سے ہیں

اک ڈور ہی ہے دن کی مہینوں کی سال کی
اس میں کہیں پہ ہم بھی پروئے ہوئے سے ہیں

علوی یہ معجزہ ہے دسمبر کی دھوپ کا
سارے مکان شہر کے دھوئے ہوئے سے ہیں

٭٭٭

کوئی موسم ہو بھلے لگتے تھے
دن کہاں اتنے کڑے لگتے تھے

خوش تو پہلے بھی نہیں تھے لیکن
یوں نہ اندر سے بجھے لگتے تھے

روز کے دیکھے ہوئے منظر تھے
پھر بھی ہر روز نئے لگتے تھے
ان دنوں گھر سے عجب رشتہ تھا
سارے دروازے گلے لگتے تھے

رہ سمجھتی تھیں اندھیری گلیاں
لوگ پہچانے ہوئے لگتے تھے

جھیلیں پانی سے بھری رہتی تھیں
سب کے سب پیڑ ہرے لگتے تھے

شہر تھے اونچی فصیلوں والے
ڈر زمانے کے پرے لگتے تھے

باندھ رکھا تھا زمیں نے علوی
ہم مگر پھر بھی اڑے لگتے تھے

٭٭٭

منہ زبانی قرآن پڑھتے تھے
پہلے بچے بھی کتنے بوڑھے تھے

اک پرندہ سنا رہا تھا غزل
چار چھ پیڑ مل کے سنتے تھے

جن کو سوچا تھا اور دیکھا بھی
ایسے دو چار ہی تو چہرے تھے
اب تو چپ چاپ شام آتی ہے
پہلے چڑیوں کے شور ہوتے تھے

رات اترا تھا شاخ پر اک گل
چار سو خوشبوؤں کے پہرے تھے

آج کی صبح کتنی ہلکی ہے
یاد پڑتا ہے رات روئے تھے

یہ کہاں دوستوں میں آ بیٹھے
ہم تو مرنے کو گھر سے نکلے تھے

یہ بھی دن ہیں کہ آگ گرتی ہے
وہ بھی دن تھے کہ پھول برسے تھے

اب وہ لڑکی نظر نہیں آتی
ہم جسے روز دیکھ لیتے تھے

آنکھیں کھولیں تو کچھ نہ تھا علوی
بند آنکھوں میں لاکھوں جلوے تھے

٭٭٭

سچ ہے کہ وہ برا تھا ہر اک سے لڑا کیا
لیکن اسے ذلیل کیا یہ برا کیا

گلدان میں گلاب کی کلیاں مہک اٹھیں
کرسی نے اس کو دیکھ کے آغوش وا کیا

گھر سے چلا تو چاند مرے ساتھ ہو لیا
پھر صبح تک وہ میرے برابر چلا کیا

کوٹھوں پہ منہ اندھیرے ستارے اتر پڑے
بن کے پتنگ میں بھی ہوا میں اڑا کیا

اس سے بچھڑتے وقت میں رویا تھا خوب سا
یہ بات یاد آئی تو پہروں ہنسا کیا

چھوڑو پرانے قصوں میں کچھ بھی دھرا نہیں
آؤ تمہیں بتائیں کہ علوی نے کیا کیا

٭٭٭

اور بازار سے کیا لے جاؤں
پہلی بارش کا مزا لے جاؤں

کچھ تو سوغات دوں گھر والوں کو
رات آنکھوں میں سجا لے جاؤں

گھر میں ساماں تو ہو دلچسپی کا
حادثہ کوئی اٹھا لے جاؤں

اک دیا دیر سے جلتا ہوگا
ساتھ تھوڑی سی ہوا لے جاؤں

کیوں بھٹکتا ہوں غلط راہوں میں
خواب میں اس کا پتہ لے جاؤں

روز کہتا ہے ہوا کا جھونکا
آ تجھے دور اڑا لے جاؤں

آج پھر مجھ سے کہا دریا نے
کیا ارادہ ہے بہا لے جاؤں

گھر سے جاتا ہوں تو کام آئیں گے
ایک دو اشک بچا لے جاؤں

جیب میں کچھ تو رہے گا علوی
لاؤ تم سب کی دعا لے جاؤں

٭٭٭

ایسا ہوا نہیں ہے پر ایسا نہ ہو کہیں
اس نے مجھے نہ دیکھ کے دیکھا نہ ہو کہیں

قدموں کی چاپ دیر سے آتی ہے کان میں
کوئی مرے خیال میں پھرتا نہ ہو کہیں

سنکی ہوئی ہواؤں میں خوشبو کی آنچ ہے
پتوں میں کوئی پھول دہکتا نہ ہو کہیں

یہ کون جھانکتا ہے کواڑوں کی اوٹ سے
بتی بجھا کے دیکھ سویرا نہ ہو کہیں

علوی خدا کے واسطے گھر میں پڑے رہو
باہر نہ جاؤ پھر کوئی جھگڑا نہ ہو کہیں

٭٭٭

Selected Poetry of Akhtar Muslami

Articles

اختر مسلمی کا منتخبہ کلام

اختر مسلمی

اختر مسلمی کا نام عبید اللہ اور آبائی وطن پھریہا (اعظم گڈھ) تھا۔ یکم جنوری 1928 کو اعظم گڈھ کے مردم خیز گاﺅں مسلم پٹی میں آپ کی ولادت ہوئی اسی نسبت سے خود کو مسلمی لکھتے تھے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد حافظ عطاءاللہ صاحب سے حاصل کی، بعد ازاں مزید تعلیم کے لیے انھوں نے 1938میں اپنے علاقہ کی مشہور دینی درسگاہ مدرسة الاصلاح، سرائے میر، اعظم گڈھ میں داخلہ لیا اور 11 سال کی عمر میں حفظ قرآن مکمل کیا۔ اختر مسلمی کی شاعری کی ابتدا بہت کم عمر میں ہوگئی تھی. 12 برس کی عمر میں وہ باقاعدہ شعر کہنے لگے تھے۔ مشاعروں میں اختر مسلمی کی شرکت، مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت ہوا کرتی تھی۔ اختر مسلمی کے دو شعری مجموعے ”موجِ نسیم“ (1961) اور ”موجِ صبا“ (1981) ان کی زندگی میں شائع ہوگئے تھے جب کہ تیسرا شعری مجموعہ ”جام و سنداں“ ان کی وفات کے بعد ”کلیات اختر مسلمی“ میں شامل کردیا گیا ہے جس کا پہلا ایڈیشن 2013 میں شائع ہوا۔ کلیات اختر مسلمی کا دوسرا ایڈیشن بھی 2017 میں منظرِ عام پر آچکا ہے۔ اختر مسلمی نے مادرِ علمی مدرسة الاصلاح کا ترانہ بھی لکھا جو کلیات اختر مسلمی میں اصلاحی ترانہ کے عنوان سے شامل ہے۔ 25 اپریل 1989ءکو یہ آفتاب علم و دانش ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔

 

٭٭٭

آلودہِ غبار ہے آئینہِ حیات
اے گردشِ زمانہ کوئی تازہ واردات

ذرّوں پہ خندہ زن ہو نہ خورشید کائنات
ہے اس کو کب ثبات جو ان کو نہیں ثبات

پی جاﺅ اس کو گھول کے جامِ شراب میں
حد سے گزر گئی ہو اگر تلخیِ حیات

گھبرا کے مر تو جائیں غمِ زندگی سے ہم
مر کر بھی زندگی سے نہ پائیں اگر نجات

انساں کے دل کا حال بھی کتنا عجیب ہے
مانے تو ایک بات نہ مانے تو لاکھ بات

رنگتے ہیں لوگ اس کو فسانہ کے رنگ میں
لاتا ہے کون لب پہ محبت کے واقعات

اختر زباں سے بھی نہ کرو اس سے عرضِ حال
چہرے سے جو سمجھ نہ سکے دل کی کیفیات

٭٭٭

اے دلِ بے خبر ابھی کیا ہے
جانتا بھی ہے عاشقی کیا ہے

سبب جورِ بے رُخی کیا ہے
کچھ کہو وجہِ برہمی کیا ہے

جانے والا چلا گیا اب تو
نگہِ شوق دیکھتی کیا ہے

یاد مونس ہے غم گُسار ہے دل
شامِ فرقت میں بے کسی کیا ہے

جی رہا ہوں ترے بغیر مگر
اِک مصیبت ہے زندگی کیا ہے

جُز ترے کیا طلب کروں تجھ سے
مجھ کو تیرے سوا کمی کیا ہے

پَرتوِ حُسن روئے دوست ہے یہ
ماہ و انجم میں روشنی کیا ہے

دوستی میرے بخت سے ہے تجھے
مجھ سے اے نیند دشمنی کیا ہے

اپنے بس ہی کی جب نہیں اختر
ہائے ایسی بھی زندگی کیا ہے

٭٭٭

ازل سے سر مشق جور پیہم خَدنگ آفات کا نشانہ
میں سر سے پا تک ہوں نالہِ غم سناﺅں کیا عیش کا ترانہ

سنا تو میں نے بھی ہے کہ دامِ قفس کو ٹوٹے ہوا زمانہ
تمیز لیکن نہ کرسکا میں کہ یہ قفس ہے کہ آشیانہ

عجیب الجھن میں تو نے ڈالا مجھے بھی اے گردشِ زمانہ
سکون ملتا نہیں قفس میں نہ راس آتا ہے آشیانہ

اگر ارادے میں پختگی ہے تو پھیر دوں گا رُخِ زمانہ
جہاں پہ یورش ہے بجلیوں کی وہیں بناﺅں گا آشیانہ

مصیبتوں کے گِلے عَبث ہیں فضول ہے شکوہِ زمانہ
جو مجھ سے پوچھو تو میں کہوں گا کہ ہے یہ عبرت کا تازیانہ

اسیر زنداں تھے جیسے پہلے وہی ہیں حالات اب بھی لیکن
ہے فرق اتنا کہ ہم سمجھنے لگے قفس ہی کو آشیانہ

نہ مجھ کو پروا خِزاں کی ہوتی نہ خوف صیّاد و برق ہوتا
بدل لے اے کاش کوئی اپنے قفس سے میرا یہ آشیانہ

وفا تو میری سرِشت میں ہے وفا پرستی شعار میرا
جفائیں تم اپنی دیکھو پہلے، وفائیں میری پھر آزمانہ

ہے میرا ذوق سجود اب بے نیاز دیر و حرم سے اختر
جبیں جہاں خم کروں گا ہوگا وہیں نمودار آستانہ

٭٭٭

کون ہے جو چمن میں پریشاں نہیں
باغباں پھر بھی خوش ہے پشیماں نہیں

دیکھتے ہو گلستاں میں جو روشنی
بجلیاں ہیں یہ شمعیں فروزاں نہیں

دیکھیے اس کی بے رَہ روی دیکھیے
جیسے کشتی کا کوئی نگہباں نہیں

ہم بنا کر نشیمن خطاوار ہیں!
پھونک کر گلستاں تم پشیماں نہیں

خوف طوفاں سے لرزاں ہو ساحل پہ تم
گھِر کے موجوں میں بھی میں ہراساں نہیں

جب گریباں تھا دستِ جنوں ہی نہ تھا
آج دستِ جنوں ہے گریباں نہیں

اس قدر بڑھ گئی ظلمتِ شامِ غم
آسماں پر ستارے درخشاں نہیں

کیسی اختر چمن میں بہار آگئی
بلبلیں نالہ زن ہیں غزل خواں نہیں

٭٭٭

 

آئینِ جفا ان کا سمجھے تھے نہ ہم پہلے
ہوتا ہے ستم پیچھے کرتے ہیں کرم پہلے

کیوں سیرِ گلستاں پر ہے چیں بجبیں کوئی
زنداں میں بھی رکّھا تھا میں نے ہی قدم پہلے

آباد رہیں دونوں بُت خانہ بھی کعبہ بھی
یہ بات نہ تھی تم میں اے شیخِ حرم پہلے

ہنستے ہیں گلستاں میں پھر جاکے کہیں غنچے
کرتی ہے دُعا شبنم بادیدہِ نم پہلے

ہوتی نہ اگر کُلفت کیا لطف تھا راحت میں
رہتی ہے مسرّت بھی منّت کشِ غم پہلے

کوشاں ہیں نکلنے کو یوں جاں بھی تمنّا بھی
وہ کہتی ہے ہم پہلے یہ کہتی ہے ہم پہلے

ہے نورِ حقیقت کا جویا تو مگر زاہد
اس راہ میں ملتے ہیں انوارِ صنم پہلے

برہم انھیں کرنے کی مجرم مری آنکھیں ہیں
کچھ کہہ نہ سکا اُن سے یہ ہوگئیں نم پہلے

بخشا ہے محبت نے کچھ رنگِ اثر شاید
تھا تم میں کہاں اختر یہ زورِ قلم پہلے

٭٭٭

لذّتِ درد ابھی تک دلِ نخچیر میں ہے!
ہائے کیا چیز نہاں تیرے سرِ تیر میں ہے

ناز ہے اپنی اسیری پہ دلِ ناداں کو!
جانے کیا بات تیری زلفِ گرہ گیر میں ہے

التفات آنکھوں میں چہرے پہ مروّت کی ضیا
تجھ میں وہ بات نہیں جو تری تصویر میں ہے

کیا کروں لے کے مسیحا نفسوں کے احساں
مجھ کو معلوم ہے جو کچھ مری تقدیر میں ہے

جورِ اغیار نہیں اپنوں کی بیداد تو ہے
آج بھی پاﺅں مرا حلقہ¿ زنجیر میں ہے

دیکھ صیّاد ترا عیش نہ برہم ہو جائے
اتنی تاثیر ابھی نالہِ شب گیر میں ہے

دل لیا جان بھی لی اور بھی کچھ باقی ہے
کیوں ترا ہاتھ ابھی قبضہِ شمشیر میں ہے

ایک دھوکا ہے غمِ دل کا مداویٰ اختر
نا مرادی ہی ازل سے مری تقدیر میں ہے
٭٭٭

یہ ہوائیں ٹھنڈی ٹھنڈی یہ سکون بخش سائے
رہِ عشق کے مسافر تجھے نیند آ نہ جائے

یہ چمن، یہ تم، یہ موسم، یہ حسیں گُلوں کے سائے
میرا عہد پارسائی کہیں پھر نہ ٹوٹ جائے

جسے لذّتِ اسیری ہی ازل سے راس آئے
ترے دامِ زلف پُرخم سے کہاں نکل کے جائے

مرا دل پناہ دے گا مرے دل میں سر چھپائے
ترا تیر چشمِ ساقی جو کہیں اماں نہ پائے

یہ کرم نُما نگاہیں یہ وفا نُما تبسُّم!
کوئی جیسے ہلکے ہلکے مرے دل کو گد گدائے

مرے دل پہ ہاتھ رکھ کر مجھے دینے والے تسکیں
کہیں دل کی دھڑکنوں سے تجھے چوٹ آنہ جائے

یہ خلش، یہ سوزِ پنہاں، یہ جگر کے داغ تاباں
تمھیں منصفی سے کہہ دو کوئی کیسے مُسکرائے

شبِ غم نکل پڑا تھا مرے دل سے ایک نالہ
مجھے ڈر ہے ان کو یا رب کوئی آنچ آ نہ جائے

مری شاعری سے رغبت کبھی بے سبب نہیں ہے
اسے کیا پڑی ہے اختر مرا شعر گنگنائے
٭٭٭

لوگ یوں رازِ تعلق پاگئے
تذکرہ میرا تھا تم شرما گئے

پُرسشِ غم آپ یوں فرما گئے
جام میرے ضبط کا چھلکا گئے

کیا ستم ہے آئے بیٹھے چل دیے
تم تو آکر اور بھی تڑپا گئے

کیا خبر تھی سنگ دل نکلو گے تم
ہم تو اس صورت سے دھوکا کھا گئے

ان کی زلفیں ہی نہ سلجھیں اور ہم
داستانِ زندگی دہرا گئے

اس نے دیکھا مجھ کو اس انداز سے
کچھ جبینوں پر کئی بل آگئے

ہم کو سودا عشق کا مہنگا نہیں
کھوئے کچھ اس راہ میں کچھ پاگئے

٭٭٭

کہاں جائیں چھوڑ کے ہم اُسے کوئی اور اس کے سوا بھی ہے
وہی دردِ دل بھی ہے دوستو وہی دردِ دل کی دوا بھی ہے

مری کشتی لاکھ بھنور میں ہے نہ کروں گا میں تری منَّتیں
یہ پتا نہیں تجھے ناخدا میرے ساتھ میرا خدا بھی ہے

یہ ادا بھی اس کی عجیب ہے کہ بڑھا کے حوصلہ¿ نظر
مجھے اذنِ دید دیا بھی ہے مرے دیکھنے پہ خفا بھی ہے

مری سمت محفل غیر میں وہ ادائے ناز سے دیکھنا
جو خطائے عشق کی ہے سزا تو میری وفا کا صلہ بھی ہے

جو ہجومِ غم سے ہے آنکھ نم تو لبوں پہ نالے ہیں دم بدم
اسے کس طرح سے چھپائیں ہم کہیں رازِ عشق چھپا بھی ہے

یہ بجا کہ اخترِ مسلمی ہے زمانے بھر سے برا مگر
اسے دیکھیے جو خلوص سے تو بھلوں میں ایک بھلا بھی ہے

٭٭٭

گل ولالہ ہیں نہ طیور ہیں سبھی اس چمن سے چلے گئے
ہوئے کس عذاب میں مبتلا کہ یہ خود وطن سے چلے گئے

وہ نیاز ہے، نہ وہ ناز ہے، نہ وہ سوز ہے، نہ وہ ساز ہے
یہ بتا کہ اہلِ وفا کہاں تری انجمن سے چلے گئے

نہ جفا تھی میرے لیے جفا نہ ستم کو میں نے ستم کہا
جو گماں تھے تیری اداﺅں پر مرے حسنِ ظن سے چلے گئے

نہ وہ رنگ ہے، نہ وہ نور ہے، نہ وہ دل کشی کا سرور ہے
یہ نہ جانے کس لیے روٹھ کر گل و یاسمن سے چلے گئے

ترے غم کے ساتھ چلی گئی نہ رہی وہ رونقِ زندگی
سبھی عکس حسنِ خیال کے مرے فکر و فن سے چلے گئے

کہو اُس سے اخترِ مسلمی نہ رہے گی پھر یہ ہما ہمی
جو خدا نہ خواستہ ہم کبھی تری انجمن سے چلے گئے
٭٭٭

 

 

 

 

Intekhab E Kalam Nasir Kazmi

Articles

انتخابِ کلام ناصر کاظمی

ناصر کاظمی

1
دیار دل کی رات میں چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا

وہ دوستی تو خیر اب نصیب دشمناں ہوئی
وہ چھوٹی چھوٹی رنجشوں کا لطف بھی چلا گیا

جدائیوں کے زخم درد زندگی نے بھر دیے
تجھے بھی نیند آ گئی مجھے بھی صبر آ گیا

پکارتی ہیں فرصتیں کہاں گئیں وہ صحبتیں
زمیں نگل گئی انہیں کہ آسمان کھا گیا

یہ صبح کی سفیدیاں یہ دوپہر کی زردیاں
اب آئنے میں دیکھتا ہوں میں کہاں چلا گیا

یہ کس خوشی کی ریت پر غموں کو نیند آ گئی
وہ لہر کس طرف گئی یہ میں کہاں سما گیا

گئے دنوں کی لاش پر پڑے رہو گے کب تلک
الم کشو اٹھو کہ آفتاب سر پہ آ گیا

2

کچھ یادگار شہر ستم گر ہی لے چلیں
آئے ہیں اس گلی میں تو پتھر ہی لے چلیں

یوں کس طرح کٹے گا کڑی دھوپ کا سفر
سر پر خیال یار کی چادر ہی لے چلیں

رنج سفر کی کوئی نشانی تو پاس ہو
تھوڑی سی خاک کوچۂ دلبر ہی لے چلیں

یہ کہہ کے چھیڑتی ہے ہمیں دل گرفتگی
گھبرا گئے ہیں آپ تو باہر ہی لے چلیں

اس شہر بے چراغ میں جائے گی تو کہاں
آ اے شب فراق تجھے گھر ہی لے چلیں

3
گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ

بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

خوشی کی رت ہو کہ غم کا موسم نظر اسے ڈھونڈتی ہے ہر دم
وہ بوئے گل تھا کہ نغمۂ جاں مرے تو دل میں اتر گیا وہ

نہ اب وہ یادوں کا چڑھتا دریا نہ فرصتوں کی اداس برکھا
یوں ہی ذرا سی کسک ہے دل میں جو زخم گہرا تھا بھر گیا وہ

کچھ اب سنبھلنے لگی ہے جاں بھی بدل چلا دور آسماں بھی
جو رات بھاری تھی ٹل گئی ہے جو دن کڑا تھا گزر گیا وہ

بس ایک منزل ہے بوالہوس کی ہزار رستے ہیں اہل دل کے
یہی تو ہے فرق مجھ میں اس میں گزر گیا میں ٹھہر گیا وہ

شکستہ پا راہ میں کھڑا ہوں گئے دنوں کو بلا رہا ہوں
جو قافلہ میرا ہم سفر تھا مثال گرد سفر گیا وہ

مرا تو خوں ہو گیا ہے پانی ستم گروں کی پلک نہ بھیگی
جو نالہ اٹھا تھا رات دل سے نہ جانے کیوں بے اثر گیا وہ

وہ مے کدے کو جگانے والا وہ رات کی نیند اڑانے والا
یہ آج کیا اس کے جی میں آئی کہ شام ہوتے ہی گھر گیا وہ

وہ ہجر کی رات کا ستارہ وہ ہم نفس ہم سخن ہمارا
صدا رہے اس کا نام پیارا سنا ہے کل رات مر گیا وہ

وہ جس کے شانے پہ ہاتھ رکھ کر سفر کیا تو نے منزلوں کا
تری گلی سے نہ جانے کیوں آج سر جھکائے گزر گیا وہ

وہ رات کا بے نوا مسافر وہ تیرا شاعر وہ تیرا ناصرؔ
تری گلی تک تو ہم نے دیکھا تھا پھر نہ جانے کدھر گیا وہ

 

4
آرائش خیال بھی ہو دل کشا بھی ہو
وہ درد اب کہاں جسے جی چاہتا بھی ہو

یہ کیا کہ روز ایک سا غم ایک سی امید
اس رنج بے خمار کی اب انتہا بھی ہو

یہ کیا کہ ایک طور سے گزرے تمام عمر
جی چاہتا ہے اب کوئی تیرے سوا بھی ہو

ٹوٹے کبھی تو خواب شب و روز کا طلسم
اتنے ہجوم میں کوئی چہرہ نیا بھی ہو

دیوانگئ شوق کو یہ دھن ہے ان دنوں
گھر بھی ہو اور بے در و دیوار سا بھی ہو

جز دل کوئی مکان نہیں دہر میں جہاں
رہزن کا خوف بھی نہ رہے در کھلا بھی ہو

ہر ذرہ ایک محمل عبرت ہے دشت کا
لیکن کسے دکھاؤں کوئی دیکھتا بھی ہو

ہر شے پکارتی ہے پس پردۂ سکوت
لیکن کسے سناؤں کوئی ہم نوا بھی ہو

فرصت میں سن شگفتگئ غنچہ کی صدا
یہ وہ سخن نہیں جو کسی نے کہا بھی ہو

بیٹھا ہے ایک شخص مرے پاس دیر سے
کوئی بھلا سا ہو تو ہمیں دیکھتا بھی ہو

بزم سخن بھی ہو سخن گرم کے لیے
طاؤس بولتا ہو تو جنگل ہرا بھی ہو

 

5
مسلسل بیکلی دل کو رہی ہے
مگر جینے کی صورت تو رہی ہے

میں کیوں پھرتا ہوں تنہا مارا مارا
یہ بستی چین سے کیوں سو رہی ہے

چلے دل سے امیدوں کے مسافر
یہ نگری آج خالی ہو رہی ہے

نہ سمجھو تم اسے شور بہاراں
خزاں پتوں میں چھپ کر رو رہی ہے

ہمارے گھر کی دیواروں پہ ناصرؔ
اداسی بال کھولے سو رہی ہے

 

6
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی

اے دل کسے نصیب یہ توفیق اضطراب
ملتی ہے زندگی میں یہ راحت کبھی کبھی

تیرے کرم سے اے الم حسن آفریں
دل بن گیا ہے دوست کی خلوت کبھی کبھی

جوش جنوں میں درد کی طغیانیوں کے ساتھ
اشکوں میں ڈھل گئی تری صورت کبھی کبھی

تیرے قریب رہ کے بھی دل مطمئن نہ تھا
گزری ہے مجھ پہ یہ بھی قیامت کبھی کبھی

کچھ اپنا ہوش تھا نہ تمہارا خیال تھا
یوں بھی گزر گئی شب فرقت کبھی کبھی

اے دوست ہم نے ترک محبت کے باوجود
محسوس کی ہے تیری ضرورت کبھی کبھی

 

7
یہ شب یہ خیال و خواب تیرے
کیا پھول کھلے ہیں منہ اندھیرے

شعلے میں ہے ایک رنگ تیرا
باقی ہیں تمام رنگ میرے

آنکھوں میں چھپائے پھر رہا ہوں
یادوں کے بجھے ہوئے سویرے

دیتے ہیں سراغ فصل گل کا
شاخوں پہ جلے ہوئے بسیرے

منزل نہ ملی تو قافلوں نے
رستے میں جما لیے ہیں ڈیرے

جنگل میں ہوئی ہے شام ہم کو
بستی سے چلے تھے منہ اندھیرے

روداد سفر نہ چھیڑ ناصرؔ
پھر اشک نہ تھم سکیں گے میرے

 

8
وہ ساحلوں پہ گانے والے کیا ہوئے
وہ کشتیاں چلانے والے کیا ہوئے

وہ صبح آتے آتے رہ گئی کہاں
جو قافلے تھے آنے والے کیا ہوئے

میں ان کی راہ دیکھتا ہوں رات بھر
وہ روشنی دکھانے والے کیا ہوئے

یہ کون لوگ ہیں مرے ادھر ادھر
وہ دوستی نبھانے والے کیا ہوئے

وہ دل میں کھبنے والی آنکھیں کیا ہوئیں
وہ ہونٹ مسکرانے والے کیا ہوئے

عمارتیں تو جل کے راکھ ہو گئیں
عمارتیں بنانے والے کیا ہوئے

اکیلے گھر سے پوچھتی ہے بے کسی
ترا دیا جلانے والے کیا ہوئے

یہ آپ ہم تو بوجھ ہیں زمین کا
زمیں کا بوجھ اٹھانے والے کیا ہوئے

 

9
اپنی دھن میں رہتا ہوں
میں بھی تیرے جیسا ہوں

او پچھلی رت کے ساتھی
اب کے برس میں تنہا ہوں

تیری گلی میں سارا دن
دکھ کے کنکر چنتا ہوں

مجھ سے آنکھ ملائے کون
میں تیرا آئینہ ہوں

میرا دیا جلائے کون
میں ترا خالی کمرہ ہوں

تیرے سوا مجھے پہنے کون
میں ترے تن کا کپڑا ہوں

تو جیون کی بھری گلی
میں جنگل کا رستہ ہوں

آتی رت مجھے روئے گی
جاتی رت کا جھونکا ہوں

اپنی لہر ہے اپنا روگ
دریا ہوں اور پیاسا ہوں

 

10
خواب میں رات ہم نے کیا دیکھا
آنکھ کھلتے ہی چاند سا دیکھا
کیاریاں دھول سے اٹی پائیں
آشیانہ جلا ہوا دیکھا
فاختہ سرنگوں ببولوں میں
پھول کو پھول سے جدا دیکھا
اس نے منزل پہ لا کے چھوڑ دیا
عمر بھر جس کا راستا دیکھا
ہم نے موتی سمجھ کے چوم لیا
سنگ ریزہ جہاں پڑا دیکھا
کم نما ہم بھی ہیں مگر پیارے
کوئی تجھ سا نہ خود نما دیکھا

Intekhab E Kalam Joosh Malihabadi

Articles

انتخابِ کلام جوش ملیح آبادی

جوش ملیح آبادی

شکست زنداں کا خواب

کیا ہند کا زنداں کانپ رہا ہے گونج رہی ہیں تکبیریں
اکتائے ہیں شاید کچھ قیدی اور توڑ رہے ہیں زنجیریں
دیواروں کے نیچے آ آ کر یوں جمع ہوئے ہیں زندانی
سینوں میں تلاطم بجلی کا آنکھوں میں جھلکتی شمشیریں
بھوکوں کی نظر میں بجلی ہے توپوں کے دہانے ٹھنڈے ہیں
تقدیر کے لب کو جنبش ہے دم توڑ رہی ہیں تدبیریں
آنکھوں میں گدا کی سرخی ہے بے نور ہے چہرہ سلطاں کا
تخریب نے پرچم کھولا ہے سجدے میں پڑی ہیں تعمیریں
کیا ان کو خبر تھی زیر و زبر رکھتے تھے جو روح ملت کو
ابلیں گے زمیں سے مار سیہ برسیں گی فلک سے شمشیریں
کیا ان کو خبر تھی سینوں سے جو خون چرایا کرتے تھے
اک روز اسی بے رنگی سے جھلکیں گی ہزاروں تصویریں
کیا ان کو خبر تھی ہونٹوں پر جو قفل لگایا کرتے تھے
اک روز اسی خاموشی سے ٹپکیں گی دہکتی تقریریں
سنبھلو کہ وہ زنداں گونج اٹھا جھپٹو کہ وہ قیدی چھوٹ گئے
اٹھو کہ وہ بیٹھیں دیواریں دوڑو کہ وہ ٹوٹی زنجیریں

———————————————————————

الوداع

اے ملیح آباد کے رنگیں گلستاں الوداع
الوداع اے سر زمین صبح خنداں الوداع
الوداع اے کشور شیر و شبستاں الوداع
الوداع اے جلوہ گاہ حسن جاناں الوداع
تیرے گھر سے ایک زندہ لاش اٹھ جانے کو ہے
آ گلے مل لیں کہ آواز جرس آنے کو ہے

 

آ کلیجہ میں تجھے رکھ لوں مرے ‘قصر سحر
اس کتاب دل کے ہیں اوراق تیرے بام و در
جا رہا ہوں تجھ میں کیا کیا یادگاریں چھوڑ کر
آہ کتنے طور خوابیدہ ہیں تیرے بام پر
روح ہر شب کو نکل کر میرے جسم زار سے
آ کے سر ٹکرائے گی تیرے در و دیوار سے

 

ہائے کیا کیا نعمتیں مجھ کو ملی تھیں بے بہا
یہ خموشی یہ کھلے میدان یہ ٹھنڈی ہوا
وائے یہ جاں بخش بستاں ہائے یہ رنگیں فضا
مر کے بھی ان کو نہ بھولے گا دل درد آشنا
مست کوئل جب دکن کی وادیوں میں گائے گی
یہ سبک چھاؤں ببولوں کی بہت یاد آئے گی

 

کل سے کون اس باغ کو رنگیں بنانے آئے گا
کون پھولوں کی ہنسی پر مسکرانے آئے گا
کون اس سبزے کو سوتے سے جگانے آئے گا
کون جاگے گا قمر کے ناز اٹھانے کے لیے
چاندنی راتوں کو زانو پر سلانے کے لیے

 

آم کے باغوں میں جب برسات ہوگی پر خروش
میری فرقت میں لہو روئے گی چشم مے فروش
رس کی بوندیں جب اڑا دیں گی گلستانوں کے ہوش
کنج رنگیں میں پکاریں گی ہوائیں ‘جوش جوش
سن کے میرا نام موسم غمزدہ ہو جائے گا
ایک محشر سا گلستاں میں بپا ہو جائے گا

 

صبح جب اس سمت آئے گی برافگندہ نقاب
آہ کون اس دل کشا میداں میں چھیڑے گا رباب
اس افق پر شب کو جب انگڑائی لے گا ماہتاب
چاندنی کے فرش پر لہرائے گا کس کا شباب
جگمگائے گی چمن میں پنکھڑی کس کے لئے
رنگ برسائے گی ساون کی جھڑی کس کے لئے

 

گھر سے بے گھر کر رہی ہے آہ فکر روزگار
سرنگوں ہے فرط غیرت سے اب و جد کا وقار
خلعت ماضی ہے جسم زندگی پر تار تار
پھر بھی آنکھوں میں ہے آبائی عمارت کا خمار
شمع خلوت میں ہے روشن تیرگی محفل میں ہے
رخ پے گرد بیکسی شان ریاست دل میں ہے

 

کوچ کا پیغام لے کر آ گیا مہر منیر
گھر کا گھر ہے وقف ماتم زرد ہیں برنا و پیر
رخصت بلبل سے نالاں ہیں چمن کے ہم صفیر
آ رہی ہے کان میں آواز گویاؔ و بشیرؔ
چھٹ رہا ہے ہات سے دامن ملیح آباد کا
رنگ فق ہے عزت دیرینۂ اجداد کا

 

کیا بتاؤں دل پھٹا جاتا ہے میرا ہم نشیں
آئیں گے یاں خرمن اجداد کے جب خوشہ چیں
آ کے دروازے پہ جیسے ہی جھکائیں گے جبیں
گھر کا سناٹا سدا دے گا یہاں کوئی نہیں
جود و بخشش کا کلیجہ غرق خوں ہو جائے گا
میرے گھر کا پرچم زر سرنگوں ہو جائے گا

 

آہ اے دور فلک تیرا نہیں کچھ اعتبار
مٹ کے رہتی ہے ترے جور خزاں سے ہر بہار
نوع انساں کو نہیں تیری ہوائیں سازگار
فکر دنیا اور شاعر تف ہے اے لیل و نہار
موج کوثر وقف ہو اور تشنہ کامی کے لئے
خواجگی رخت سفر باندھے غلامی کے لئے

 

آ گلے مل لیں خدا حافظ گلستان وطن
اے ‘امانی گنج کے میدان اے جان وطن
الوداع اے لالہ زار و سنبلستان وطن
السلام اے صحبت رنگین یاران وطن
حشر تک رہنے نہ دینا تم دکن کی خاک میں
دفن کرنا اپنے شاعر کو وطن کی خاک میں


 

حسن اور مزدوری

ایک دوشیزہ سڑک پر دھوپ میں ہے بے قرار
چوڑیاں بجتی ہیں کنکر کوٹنے میں بار بار

 

چوڑیوں کے ساز میں یہ سوز ہے کیسا بھرا
آنکھ میں آنسو بنی جاتی ہے جس کی ہر صدا

 

گرد ہے رخسار پر زلفیں اٹی ہیں خاک میں
نازکی بل کھا رہی ہے دیدۂ غم ناک میں

 

ہو رہا ہے جذب مہر خونچکاں کے روبرو
کنکروں کی نبض میں اٹھتی جوانی کا لہو

 

دھوپ میں لہرا رہی ہے کاکل عنبر سرشت
ہو رہا ہے کمسنی کا لوچ جزو سنگ و خشت

 

پی رہی ہیں سرخ کرنیں مہر آتش بار کی
نرگسی آنکھوں کا رس مے چمپئی رخسار کی

 

غم کے بادل خاطر نازک پہ ہیں چھائے ہوئے
عارض رنگیں ہیں یا دو پھول مرجھائے ہوئے

 

چیتھڑوں میں دیدنی ہے روئے غمگین شباب
ابر کے آوارہ ٹکڑوں میں ہو جیسے ماہتاب

 

اف یہ ناداری مرے سینے سے اٹھتا ہے دھواں
آہ اے افلاس کے مارے ہوئے ہندوستاں!

 

حسن ہو مجبور کنکر توڑنے کے واسطے
دست نازک اور پتھر توڑنے کے واسطے

 

فکر سے جھک جائے وہ گردن تف اے لیل و نہار
جس میں ہونا چاہیئے پھولوں کا اک ہلکا سا ہار

 

آسماں جان طرب کو وقف رنجوری کرے
صنف نازک بھوک سے تنگ آ کے مزدوری کرے

 

اس جبیں پر اور پسینہ ہو جھلکنے کے لیے
جو جبین ناز ہو افشاں چھڑکنے کے لیے

 

بھیک میں وہ ہاتھ اٹھیں التجا کے واسطے
جن کو قدرت نے بنایا ہو حنا کے واسطے

 

نازکی سے جو اٹھا سکتی نہ ہو کاجل کا بار
ان سبک پلکوں پہ بیٹھے راہ کا بوجھل غبار

 

کیوں فلک مجبور ہوں آنسو بہانے کے لیے
انکھڑیاں ہوں جو دلوں میں ڈوب جانے کے لیے

 

مفلسی چھانٹے اسے قہر و غضب کے واسطے
جس کا مکھڑا ہو شبستان طرب کے واسطے

 

فرط خشکی سے وہ لب ترسیں تکلم کے لیے
جن کو قدرت نے تراشا ہو تبسم کے لیے

 

نازنینوں کا یہ عالم مادر ہند آہ آہ
کس کے جور ناروا نے کر دیا تجھ کو تباہ؟

 

ہن برستا تھا کبھی دن رات تیری خاک پر
سچ بتا اے ہند تجھ کو کھا گئی کس کی نظر

 

باغ تیرا کیوں جہنم کا نمونہ ہو گیا
آہ کیوں تیرا بھرا دربار سونا ہو گیا

 

سر برہنہ کیوں ہے وہ پھولوں کی چادر کیا ہوئی
اے شب تاریک تیری بزم اختر کیا ہوئی

 

جس کے آگے تھا قمر کا رنگ پھیکا کیا ہوا
اے عروس نو ترے ماتھے کا ٹیکا کیا ہوا

 

اے خدا ہندوستاں پر یہ نحوست تا کجا؟
آخر اس جنت پہ دوزخ کی حکومت تا کجا؟

 

گردن حق پر خراش تیغ باطل تا بہ کے؟
اہل دل کے واسطے طوق و سلاسل تا بہ کے؟

 

سر زمین رنگ و بو پر عکس گلخن تا کجا؟
پاک سیتا کے لیے زندان راون تا کجا؟

 

دست نازک کو رسن سے اب چھڑانا چاہیئے
اس کلائی میں تو کنگن جگمگانا چاہیئے


 

ایسٹ انڈیا کمپنی کے فرزندوں سے خطاب

کس زباں سے کہہ رہے ہو آج تم سوداگرو
دہر میں انسانیت کے نام کو اونچا کرو
جس کو سب کہتے ہیں ہٹلر بھیڑیا ہے بھیڑیا
بھیڑیے کو مار دو گولی پئے امن و بقا
باغ انسانی میں چلنے ہی پہ ہے باد خزاں
آدمیت لے رہی ہے ہچکیوں پر ہچکیاں
ہاتھ ہے ہٹلر کا رخش خود سری کی باگ پر
تیغ کا پانی چھڑک دو جرمنی کی آگ پر
سخت حیراں ہوں کہ محفل میں تمہاری اور یہ ذکر
نوع انسانی کے مستقبل کی اب کرتے ہو فکر
جب یہاں آئے تھے تم سوداگری کے واسطے
نوع انسانی کے مستقبل سے کیا واقف نہ تھے
ہندیوں کے جسم میں کیا روح آزادی نہ تھی
سچ بتاؤ کیا وہ انسانوں کی آبادی نہ تھی
اپنے ظلم بے نہایت کا فسانہ یاد ہے
کمپنی کا پھر وہ دور مجرمانہ یاد ہے
لوٹتے پھرتے تھے جب تم کارواں در کارواں
سر برہنہ پھر رہی تھی دولت ہندوستاں
دست کاروں کے انگوٹھے کاٹتے پھرتے تھے تم
سرد لاشوں سے گڈھوں کو پاٹتے پھرتے تھے تم
صنعت ہندوستاں پر موت تھی چھائی ہوئی
موت بھی کیسی تمہارے ہات کی لائی ہوئی
اللہ اللہ کس قدر انصاف کے طالب ہو آج
میر جعفرؔ کی قسم کیا دشمن حق تھا سراجؔ
کیا اودھ کی بیگموں کا بھی ستانا یاد ہے
یاد ہے جھانسی کی رانی کا زمانہ یاد ہے
ہجرت سلطان دہلی کا سماں بھی یاد ہے
شیر دل ٹیپوؔ کی خونیں داستاں بھی یاد ہے
تیسرے فاقے میں اک گرتے ہوئے کو تھامنے
کس کے تم لائے تھے سر شاہ ظفر کے سامنے
یاد تو ہوگی وہ مٹیا برج کی بھی داستاں
اب بھی جس کی خاک سے اٹھتا ہے رہ رہ کر دھواں
تم نے قیصر باغ کو دیکھا تو ہوگا بارہا
آج بھی آتی ہے جس سے ہائے اخترؔ کی صدا
سچ کہو کیا حافظے میں ہے وہ ظلم بے پناہ
آج تک رنگون میں اک قبر ہے جس کی گواہ
ذہن میں ہوگا یہ تازہ ہندیوں کا داغ بھی
یاد تو ہوگا تمہیں جلیانوالا باغ بھی
پوچھ لو اس سے تمہارا نام کیوں تابندہ ہے
ڈائرؔ گرگ دہن آلود اب بھی زندہ ہے
وہ بھگتؔ سنگھ اب بھی جس کے غم میں دل ناشاد ہے
اس کی گردن میں جو ڈالا تھا وہ پھندا یاد ہے
اہل آزادی رہا کرتے تھے کس ہنجار سے
پوچھ لو یہ قید خانوں کے در و دیوار سے
اب بھی ہے محفوظ جس پر طنطنہ سرکار کا
آج بھی گونجی ہوئی ہے جن میں کوڑوں کی صدا
آج کشتی امن کے امواج پر کھیتے ہو کیوں
سخت حیراں ہوں کہ اب تم درس حق دیتے ہو کیوں
اہل قوت دام حق میں تو کبھی آتے نہیں
بینکی اخلاق کو خطرے میں بھی لاتے نہیں
لیکن آج اخلاق کی تلقین فرماتے ہو تم
ہو نہ ہو اپنے میں اب قوت نہیں پاتے ہو تم
اہل حق روشن نظر ہیں اہل باطن کور ہیں
یہ تو ہیں اقوال ان قوموں کے جو کمزور ہیں
آج شاید منزل قوت میں تم رہتے نہیں
جس کی لاٹھی اس کی بھینس اب کس لئے کہتے نہیں
کیا کہا انصاف ہے انساں کا فرض اولیں
کیا فساد و ظلم کا اب تم میں کس باقی نہیں
دیر سے بیٹھے ہو نخل راستی کی چھاؤں میں
کیا خدا ناکردہ کچھ موچ آ گئی ہے پاؤں میں
گونج ٹاپوں کی نہ آبادی نہ ویرانے میں ہے
خیر تو ہے اسپ تازی کیا شفا خانے میں ہے
آج کل تو ہر نظر میں رحم کا انداز ہے
کچھ طبیعت کیا نصیب دشمناں ناساز ہے
سانس کیا اکھڑی کہ حق کے نام پر مرنے لگے
نوع انساں کی ہوا خواہی کا دم بھرنے لگے
ظلم بھولے راگنی انصاف کی گانے لگے
لگ گئی ہے آگ کیا گھر میں کہ چلانے لگے
مجرموں کے واسطے زیبا نہیں یہ شور و شین
کل یزیدؔ و شمرؔ تھے اور آج بنتے ہو حسینؔ
خیر اے سوداگرو اب ہے تو بس اس بات میں
وقت کے فرمان کے آگے جھکا دو گردنیں
اک کہانی وقت لکھے گا نئے مضمون کی
جس کی سرخی کو ضرورت ہے تمہارے خون کی
وقت کا فرمان اپنا رخ بدل سکتا نہیں
موت ٹل سکتی ہے اب فرمان ٹل سکتا نہیں

———————————————————————

Intekhab E Kalam Akbar Allahabadi

Articles

انتخابِ کلام اکبر الہ آبادی

اکبر الہ آبادی

 

 

فرضی لطیفہ

خدا حافظ مسلمانوں کا اکبرؔ
مجھے تو ان کی خوشحالی سے ہے یاس
یہ عاشق شاہد مقصود کے ہیں
نہ جائیں گے ولیکن سعی کے پاس
سناؤں تم کو اک فرضی لطیفہ
کیا ہے جس کو میں نے زیب قرطاس
کہا مجنوں سے یہ لیلیٰ کی ماں نے
کہ بیٹا تو اگر کر لے ایم اے پاس
تو فوراً بیاہ دوں لیلیٰ کو تجھ سے
بلا دقت میں بن جاؤں تری ساس
کہا مجنوں نے یہ اچھی سنائی
کجا عاشق کجا کالج کی بکواس
کجا یہ فطرتی جوش طبیعت
کجا ٹھونسی ہوئی چیزوں کا احساس
بڑی بی آپ کو کیا ہو گیا ہے
ہرن پہ لادی جاتی ہے کہیں گھاس
یہ اچھی قدر دانی آپ نے کی
مجھے سمجھا ہے کوئی ہرچرن داس
دل اپنا خون کرنے کو ہوں موجود
نہیں منظور مغز سر کا آماس
یہی ٹھہری جو شرط وصل لیلیٰ
تو استعفیٰ مرا با حسرت و یاس

***

نئی تہذیب

یہ موجودہ طریقے راہیٔ ملک عدم ہوں گے
نئی تہذیب ہوگی اور نئے ساماں بہم ہوں گے

نئے عنوان سے زینت دکھائیں گے حسیں اپنی
نہ ایسا پیچ زلفوں میں نہ گیسو میں یہ خم ہوں گے

نہ خاتونوں میں رہ جائے گی پردے کی یہ پابندی
نہ گھونگھٹ اس طرح سے حاجب روئے صنم ہوں گے

بدل جائے گا انداز طبائع دور گردوں سے
نئی صورت کی خوشیاں اور نئے اسباب غم ہوں گے

نہ پیدا ہوگی خط نسخ سے شان ادب آگیں
نہ نستعلیق حرف اس طور سے زیب رقم ہوں گے

خبر دیتی ہے تحریک ہوا تبدیل موسم کی
کھلیں گے اور ہی گل زمزمے بلبل کے کم ہوں گے

عقائد پر قیامت آئے گی ترمیم ملت سے
نیا کعبہ بنے گا مغربی پتلے صنم ہوں گے

بہت ہوں گے مغنی نغمۂ تقلید یورپ کے
مگر بے جوڑ ہوں گے اس لیے بے تال و سم ہوں گے

ہماری اصطلاحوں سے زباں نا آشنا ہوگی
لغات مغربی بازار کی بھاشا سے ضم ہوں گے

بدل جائے گا معیار شرافت چشم دنیا میں
زیادہ تھے جو اپنے زعم میں وہ سب سے کم ہوں گے

گزشتہ عظمتوں کے تذکرے بھی رہ نہ جائیں گے
کتابوں ہی میں دفن افسانۂ جاہ و حشم ہوں گے

کسی کو اس تغیر کا نہ حس ہوگا نہ غم ہوگا
ہوئے جس ساز سے پیدا اسی کے زیر و بم ہوں گے

تمہیں اس انقلاب دہر کا کیا غم ہے اے اکبرؔ
بہت نزدیک ہیں وہ دن کہ تم ہوگے نہ ہم ہوں گے

***

برق کلیسا

رات اس مس سے کلیسا میں ہوا میں دو چار
ہائے وہ حسن وہ شوخی وہ نزاکت وہ ابھار
زلف پیچاں میں وہ سج دھج کہ بلائیں بھی مرید
قدر رعنا میں وہ چم خم کہ قیامت بھی شہید
آنکھیں وہ فتنۂ دوراں کہ گنہ گار کریں
گال وہ صبح درخشاں کہ ملک پیار کریں
گرم تقریر جسے سننے کو شعلہ لپکے
دلکش آواز کہ سن کر جسے بلبل جھپکے
دل کشی چال میں ایسی کہ ستارے رک جائیں
سرکشی ناز میں ایسی کہ گورنر جھک جائیں
آتش حسن سے تقوے کو جلانے والی
بجلیاں لطف تبسم سے گرانے والی
پہلوئے حسن بیاں شوخیٔ تقریر میں غرق
ترکی و مصر و فلسطین کے حالات میں برق
پس گیا لوٹ گیا دل میں سکت ہی نہ رہی
سر تھے تمکین کے جس گت میں وہ گت ہی نہ رہی
ضبط کے عزم کا اس وقت اثر کچھ نہ ہوا
یا حفیظ کا کیا ورد مگر کچھ نہ ہوا
عرض کی میں نے کہ اے گلشن فطرت کی بہار
دولت و عزت و ایماں ترے قدموں پہ نثار
تو اگر عہد وفا باندھ کے میری ہو جائے
ساری دنیا سے مرے قلب کو سیری ہو جائے
شوق کے جوش میں میں نے جو زباں یوں کھولی
ناز و انداز سے تیور کو چڑھا کر بولی
غیرممکن ہے مجھے انس مسلمانوں سے
بوئے خوں آتی ہے اس قوم کے انسانوں سے
لن ترانی کی یہ لیتے ہیں نمازی بن کر
حملے سرحد پہ کیا کرتے ہیں غازی بن کر
کوئی بنتا ہے جو مہدی تو بگڑ جاتے ہیں
آگ میں کودتے ہیں توپ سے لڑ جاتے ہیں
گل کھلائے کوئی میداں میں تو اترا جائیں
پائیں سامان اقامت تو قیامت ڈھائیں
مطمئن ہو کوئی کیوں کر کہ یہ ہیں نیک نہاد
ہے ہنوز ان کی رگوں میں اثر حکم جہاد
دشمن صبر کی نظروں میں لگاوٹ آئی
کامیابی کی دل زار نے آہٹ پائی
عرض کی میں نے کہ اے لذت جاں راحت روح
اب زمانے پہ نہیں ہے اثر آدم و نوح
شجر طور کا اس باغ میں پودا ہی نہیں
گیسوئے حور کا اس دور میں سودا ہی نہیں
اب کہاں ذہن میں باقی ہیں براق و رفرف
ٹکٹکی بندھ گئی ہے قوم کی انجن کی طرف
ہم میں باقی نہیں اب خالد جاں باز کا رنگ
دل پہ غالب ہے فقط حافظ شیراز کا رنگ
یاں نہ وہ نعرۂ تکبیر نہ وہ جوش سپاہ
سب کے سب آپ ہی پڑھتے رہیں سبحان اللہ
جوہر تیغ مجاہد ترے ابرو پہ نثار
نور ایماں کا ترے آئینۂ رو پہ نثار
اٹھ گئی صفحۂ خاطر سے وہ بحث بد و نیک
دو دلے ہو رہے ہیں کہتے ہیں اللہ کو ایک
موج کوثر کی کہاں اب ہے مرے باغ کے گرد
میں تو تہذیب میں ہوں پیر مغاں کا شاگرد
مجھ پہ کچھ وجہ عتاب آپ کو اے جان نہیں
نام ہی نام ہے ورنہ میں مسلمان نہیں
جب کہا صاف یہ میں نے کہ جو ہو صاحب فہم
تو نکالو دل نازک سے یہ شبہ یہ وہم
میرے اسلام کو اک قصۂ ماضی سمجھو
ہنس کے بولی کہ تو پھر مجھ کو بھی راضی سمجھو

***

 

اپنی گرہ سے کچھ نہ مجھے آپ دیجئے
اخبار میں تو نام مرا چھاپ دیجئے

دیکھو جسے وہ پانیر آفس میں ہے ڈٹا
بہر خدا مجھے بھی کہیں چھاپ دیجئے

چشم جہاں سے حالت اصلی چھپی نہیں
اخبار میں جو چاہئے وہ چھاپ دیجئے

دعویٰ بہت بڑا ہے ریاضی میں آپ کو
طول شب فراق کو تو ناپ دیجئے

سنتے نہیں ہیں شیخ نئی روشنی کی بات
انجن کی ان کے کان میں اب بھاپ دیجئے

اس بت کے در پہ غیر سے اکبرؔ نے کہہ دیا
زر ہی میں دینے لایا ہوں جان آپ دیجئے

***

 

غزل

غمزہ نہیں ہوتا کہ اشارا نہیں ہوتا
آنکھ ان سے جو ملتی ہے تو کیا کیا نہیں ہوتا

جلوہ نہ ہو معنی کا تو صورت کا اثر کیا
بلبل گل تصویر کا شیدا نہیں ہوتا

اللہ بچائے مرض عشق سے دل کو
سنتے ہیں کہ یہ عارضہ اچھا نہیں ہوتا

تشبیہ ترے چہرے کو کیا دوں گل تر سے
ہوتا ہے شگفتہ مگر اتنا نہیں ہوتا

میں نزع میں ہوں آئیں تو احسان ہے ان کا
لیکن یہ سمجھ لیں کہ تماشا نہیں ہوتا

ہم آہ بھی کرتے ہیں تو ہو جاتے ہیں بدنام
وہ قتل بھی کرتے ہیں تو چرچا نہیں ہوتا

***

غزل

ہنگامہ ہے کیوں برپا تھوڑی سی جو پی لی ہے
ڈاکا تو نہیں مارا چوری تو نہیں کی ہے

نا تجربہ کاری سے واعظ کی یہ ہیں باتیں
اس رنگ کو کیا جانے پوچھو تو کبھی پی ہے

اس مے سے نہیں مطلب دل جس سے ہے بیگانہ
مقصود ہے اس مے سے دل ہی میں جو کھنچتی ہے

اے شوق وہی مے پی اے ہوش ذرا سو جا
مہمان نظر اس دم ایک برق تجلی ہے

واں دل میں کہ صدمے دو یاں جی میں کہ سب سہہ لو
ان کا بھی عجب دل ہے میرا بھی عجب جی ہے

ہر ذرہ چمکتا ہے انوار الٰہی سے
ہر سانس یہ کہتی ہے ہم ہیں تو خدا بھی ہے

سورج میں لگے دھبا فطرت کے کرشمے ہیں
بت ہم کو کہیں کافر اللہ کی مرضی ہے

تعلیم کا شور ایسا تہذیب کا غل اتنا
برکت جو نہیں ہوتی نیت کی خرابی ہے

سچ کہتے ہیں شیخ اکبرؔ ہے طاعت حق لازم
ہاں ترک مے و شاہد یہ ان کی بزرگی ہے

***

غزل

آنکھیں مجھے تلووں سے وہ ملنے نہیں دیتے
ارمان مرے دل کے نکلنے نہیں دیتے

خاطر سے تری یاد کو ٹلنے نہیں دیتے
سچ ہے کہ ہمیں دل کو سنبھلنے نہیں دیتے

کس ناز سے کہتے ہیں وہ جھنجھلا کے شب وصل
تم تو ہمیں کروٹ بھی بدلنے نہیں دیتے

پروانوں نے فانوس کو دیکھا تو یہ بولے
کیوں ہم کو جلاتے ہو کہ جلنے نہیں دیتے

حیران ہوں کس طرح کروں عرض تمنا
دشمن کو تو پہلو سے وہ ٹلنے نہیں دیتے

دل وہ ہے کہ فریاد سے لبریز ہے ہر وقت
ہم وہ ہیں کہ کچھ منہ سے نکلنے نہیں دیتے

گرمئ محبت میں وہ ہیں آہ سے مانع
پنکھا نفس سرد کا جھلنے نہیں دیتے

***

غزل

صدیوں فلاسفی کی چناں اور چنیں رہی
لیکن خدا کی بات جہاں تھی وہیں رہی

زور آزمائیاں ہوئیں سائنس کی بھی خوب
طاقت بڑھی کسی کی کسی میں نہیں رہی

دنیا کبھی نہ صلح پہ مائل ہوئی مگر
باہم ہمیشہ برسر پیکار و کیں رہی

پایا اگر فروغ تو صرف ان نفوس نے
جن کی کہ خضر راہ فقط شمع دیں رہی

اللہ ہی کی یاد بہرحال خلق میں
وجہ سکون خاطر اندوہ گیں رہی

***

 

IKntekhab E Kalam Manchanda Bani

Articles

انتخابِ کلام منچندہ بانی

منچندہ بانی

1
پیہم موجِ امکانی میں
اگلا پاؤں نئے پانی میں

صفِ شفق سے مرے بستر تک
ساتوں رنگ فراوانی میں

بدن، وصال آہنگ ہَوا سا
قبا، عجیب پریشانی میں

کیا سالم پہچان ہے اُس کی
وہ کہ نہیں اپنے ثانی میں

ٹوک کے جانے کیا کہتا وہ
اُس نے سُنا سب بے دھیانی میں

یاد تری، جیسے کہ سرِ شام
دُھند اُتر جائے پانی میں

خود سے کبھی مِل لیتا ہوں میں
سنّاٹے میں، ویرانی میں

آخر سوچا دیکھ ہی لیجے
کیا کرتا ہے وہ من مانی میں

ایک دِیا آکاش میں بانی
ایک چراغ سا پیشانی میں
***
2

کوئی بھوُلی ہوئی شے طاقِ ہر منظر پہ رکھّی تھی
ستارے چھت پہ رکھّے تھے شکن بستر پہ رکھّی تھی

لرزجاتا تھا باہر جھانکنے سے اُس کا تن سارا
سیاہی جانے کن راتوں کی اُس کے در پہ رکھّی تھی

وہ اپنے شہر کے مٹتے ہوئے کردار پر چپُ تھا
عجب اک لاپتہ ذات اُس کے اپنے سر پہ رکھّی تھی

کہاں کی سیرِ ہفت افلاک ، اوپر دیکھ لیتے تھے
حسیں اُجلی کپاسی برف بال وپر پہ رکھّی تھی

کوئی کیا جانتا کیا چیز کس پر بوجھ ہے بانیؔ
ذراسی اوس یوں تو سینۂ پتّھر پہ رکھّی تھی
***
3

علی بِن متّقی رویا
وہی چپ تھا، وہی رویا

عجب آشوبِ عرفاں میں
فضا گُم تھی، کہ جی رویا

یقیں مِسمار موسم کا
کھنڈر خود سے تہی رویا

اذاں زینہ اُتر آئی
سکُوتِ باطنی رویا

خلا ہر ذات کے اندر
سُنا جس نے وہی رویا

ندی پانی بہت روئی
عقیدہ روشنی رویا

سَحر دم کون روتا ہے
علی بِن متّقی رویا
***

4

صد سوغات، سکوں فردوس ستمبر آ
اے رنگوں کے موسم، منظر منظر آ

آدھے ادُھورے لمس نہ میرے ہاتھ پہ رکھ
کبھی سپُرد بدن سا مجھے میسر آ

کب تک پھیلائے گا دُھند مرے خوں میں
جھوٹی سچی نوا میں ڈھل کر لب پر آ

مجھے پتہ تھا اِک دن لوٹ کے آئے گا تُو
رُکا ہُوا دہلیز پہ کیوں ہے اندر آ

اے پیہم پرواز پرندے، دم لے لے
نہیں اُترتا آنگن میں تو چھت پر آ

اُس نے عجب کچھ پیار سے اب کے لکھا بانیؔ
بہت دنوں پھر گھوم لیا، واپس گھر آ
***

5

غائب ہر منظر میرا
ڈھونڈ پرندے گھر میرا

جنگل میں گُم فصل مِری
ندی میں گُم پتھر میرا

دُعا مِری گُم صر صر میں
بھنور میں گُم محور میرا

ناف میں گُم سب خواب مِرے
ریت میں گُم بِستر میرا

سب بے نور قیاس مِرے
گُم سارا دفتر میرا

کبھی کبھی سب کچھ غائب
نام، کہ گُم اکثر میرا

میں اپنے اندر کی بہار
بانیؔ کیا باہر میرا
***

6

ہری، سُنہری خاک اُڑانے والا مَیں
شفق شجر تصویر بنانے والا مَیں

خلا کے سارے رنگ سمیٹنے والی شام
شب کی مژہ پر خواب سجانے والا مَیں

فضا کا پہلا پھول کھلانے والی صبح
ہَوا کے سُر میں گیت ملانے والا مَیں

باہر بھیتر فصل اُگانے والا تُو
ترے خزانے سَدا لُٹانے والا مَیں

چھتوں پہ بارش، دُور پہاڑی، ہلکی دھوپ
بھیگنے والا، پنکھ سُکھانے والا مَیں

چار دشائیں جب آپس میں گھُل مل جائیں
سنّاٹے کو دُعا بنانے والا مَیں

گھنے بنوں میں، شنکھ بجانے والا تُو
تری طرف گھر چھوڑ کے آنے والا مَیں

***
7

سیاہ خانۂ اُمّیدِ رائگاں سے نکِل
کھُلی فضا میں ذرا آ ، غبارِ جاں سے نکِل

عجیب بھِیڑ یہاں جمع ہے ، یہاں سے نکِل،
کہیں بھی چل مگر اِس شہرِ بے اماں سے نکِل

اِک اور راہ ، اُدھر دیکھ ، جا رہی ہے وہیں
یہ لوگ آتے رہیں گے ، تُو درمیاں سے نکِل

ذرا بڑھا تو سہی واقعات کو آگے
طلسم کارئ آغازِ داستاں سے نکِل

تُو کوئی غم ہے تو دل میں جگہ بنا اپنی
توُاِک صدا ہے تو احساس کی کماں سے نکِل

یہیں کہیں تِرا دشمن چھپا ہے اے بانی
کوئی بہانہ بنا ، بزمِ دوستاں سے نکِل
***
8

تمام راستہ پھُولوں بھرا ہے میرے لیے
کہیں تو کوئی دُعا مانگتا ہے میرے لیے

تمام شہر ہے دشمن تو کیا ہے میرے لیے
میں جانتا ہوں تِرا دَر کُھلا ہے میرے لیے

مجھے بچھڑنے کا غم تو رہے گا ہم سفرو
مگر سفر کا تقاضا جُدا ہے میرے لیے

وہ ایک عکس کہ پل بھر نظر میں ٹھہرا تھا
تمام عمر کا اب سلسلہ ہے میرے لیے

عجیب در گذری کا شِکار ہوں اب تک
کوئی کرم ہے نہ کوئی سزا ہے میرے لیے

گذر سکوں گا نہ اِس خواب خواب بستی سے
یہاں کی مٹّی بھی زنجیرِ پا ہے میرے لیے

اب آپ جاؤں تو جاکر اُسے سمیٹوں میں
تمام سِلسِلہ بِکھرا پڑا ہے میرے لیے

یہ حسنِ ختمِ سفر یہ طِلسم خانۂ رنگ
کہ آنکھ جھپکوں تو منظر نیا ہے میرے لیے

یہ کیسے کوہ کے اندر میں دفن تھا بانیؔ
وہ ابر بن کے برستا رہا ہے میرے لیے
***

 

Intekhab E Kalam Ismaeel Merathi

Articles

انتخابِ کلام اسماعیل میرٹھی

اسماعیل میرٹھی

حمد

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاوں تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی
اور سر پہ لاجوردی اِک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اُگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اِس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا ، خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی
کیا خوب چشمہ تو نے اے مہرباں بنایا

سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری اِن کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا اِن کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائی تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میّسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدر داں بنایا

آبِ رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آبِ رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا
٭٭٭

ہماری گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

اس مالک کو کیوں نہ پکاریں
جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

خاک کو اس نے سبزہ بنایا
سبزہ کو پھر گائے نے کھایا

کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

سبحان اللہ دودھ ہے کیساا
تازہ گرم سفید اور میٹھا

دودھ میں بھیگی روٹی میری
اس کے کرم نے بخشی سیری

دودھ دہی اور مٹھگا مسکا
دے نہ خدا تو کس کے بس کا

گائے کو دی کیا اچھی صورت
خوبی کی ہے گویا مورت

دانہ دنکا بھوسی چوکر
کھا لیتی ہے سب خوش ہو کر

کھا کر تنکے اور ٹھیڑے
دودھ دیتی ہے شام سویرے

کیا ہی غریب اور کیسی پیاری
صبح ہوئی جنگل کو سدھاری

سبزہ سے میدان ہرا ہے
جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

پانی موجیں مار رہا ہے
چرواہا چمکار رہا ہے

پانی پی کر چارہ چر کر
شام کو آئی اپنے گھر پر

دوری میں جو دن ہے کاٹا
بچہ کو کس پیار سے چاٹا

گائے ہمارے حق میں ہے نعمت
دودھ دیتی ہے کھا کے بنسپت

بچھڑے اس کے بیل بنائے
جو کھیتی کے کام میں آئے

رب کی حمد و ثنا کر بھائی
جس نے ایسی گائے بنائی
٭٭٭

صبح کی آمد

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں
بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں
پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی
میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی
میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی
میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے
خوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے
درختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے
سہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

یہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی
ادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتی
دموں کو ہلاتی پروں کو پھلاتی
مری آمد آمد کے ہیں گیت گاتی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی
تو بلبل بھی گلشن میں ہے چہچہائی
اور اونچی منڈیروں پہ شاما بھی گائی
میں سو سو طرح دے رہی ہوں دہائی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے
نسیم اور صبا کو بھی لہکا دیا ہے
چمن سرخ پھولوں سے دہکا دیا ہے
مگر نیند نے تم کو بہکا دیا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں
ہر ایک ملک میں دیس میں ہر وطن میں
کھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں
بجھاتی چلی شمع کو انجمن میں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے
سو وہ نو لکھا ہار پہنے کھڑی ہے
کہ پچھلے کی ٹھنڈک سے شبنم پڑی ہے
عجب یہ سماں ہے عجب یہ گھڑی ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں
کلولیں ہرے کھیت میں کر رہے ہیں
ندی کے کنارے کھڑے چر ہیں
غرض میرے جلوے پہ سب مر رہے ہیں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں تاروں کی چھاں آن پہنچی یہاں تک
زمیں سے ہے جلوہ مرا آسماں تک
مجھے پاو¿ گے دیکھتے ہو جہاں تک
کرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تک
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

پجاری کو مندر کے میں نے جگایا
مو¿ذن کو مسجد کے میں نے اٹھایا
بھٹکتے مسافر کو رستہ بتایا
اندھیرا گھٹایا اجالا بڑھایا
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے
کسانوں کے ہل چل پڑے منہ اندھیرے
چلے جال کندھے پہ لے کر مچھیرے
دلدر ہوئے دور آئے سے میرے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بگل اور طنبور سنکھ اور نوبت
بجانے لگے اپنی اپنی سبھی گت
چلی توپ بھی دن سے حضرت سلامت
نہیں خواب غفلت نہیں خواب غفلت
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لو ہشیار ہو جاو¿ اور آنکھ کھولو
نہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو
خدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو
بس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بڑی دھوم سے آئی میری سواری
جہاں میں ہوا اب مرا حکم جاری
ستارے چھپے رات اندھیری سدھاری
دکھائی دیے باغ اور کھیت کیاری
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭٭٭

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ
ناچیز ہوں میں غریب قطرہ
تر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگا
میں اور کی گوں نہ آپ جوگا
کیا کھیت کی میں بجھاو¿ں گا پیاس
اپنا ہی کروں گا ستیاناس
خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت
پھیکی باتوں میں کیا حلاوت
کس برتے پہ میں کروں دلیری
میں کون ہوں کیا بساط میری
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم
سرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم
کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی
کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی
اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور
ہمت کے محیط کا شناور
فیاض و جواد و نیک نیت
بھڑکی اس کی رگ حمیت
بولا للکار کر کہ آو¿!
میرے پیچھے قدم بڑھاو¿
کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان
ڈالو مردہ زمین میں جان
یارو! یہ ہچر مچر کہاں تک
اپنی سی کرو بنے جہاں تک
مل کر جو کرو گے جاں فشانی
میدان پہ پھیر دوگے پانی
کہتا ہوں یہ سب سے برملا میں
آتے ہو تو آو¿ لو چلا میں
یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ
”دشوار ہے جی پہ کھیل جانا”
ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت
کی اس نے مگر بڑی شجاعت
دیکھی جرات جو اس سکھی کی
دو چار نے اور پیروی کی
پھر ایک کے بعد ایک لپکا
قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا
آخر قطروں کا بندھ گیا تار
بارش لگی ہونے موسلا دھار
پانی پانی ہوا بیاباں
سیراب ہوئے چمن خیاباں
تھی قحط سے پائمال خلقت
اس مینہ سے ہوئی نہال خلقت
جرات قطرہ کی کر گئی کام
باقی ہے جہاں میں آج تک نام
اے صاحبو! قوم کی خبر لو
قطروں کا سا اتفاق کر لو
قطروں ہی سے ہوگی نہر جاری
چل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
٭٭٭

شفق

 

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے
طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ
سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ
ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی
بنفشی و نارنجی و چمپئی
یہ کیا بھید ہے کیا کرامات ہے
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ
بنے سونے چاندنی کے گویا پہاڑ
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ
ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ
اب آثار ظاہر ہوئے رات کے
کہ پردے چھٹے لال بانات کے
٭٭٭

رات

گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات
خدا نے عجب شے بنائی ہے رات

نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا
اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا

ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے
خموشی سی چھائی سر شام سے

لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند
زمانے کے سب کار بہوار بند

مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر
سر شام منزل پہ کھولی کمر

درختوں کے پتے بھی چپ ہو گئے
ہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے

اندھیرا اجالے پہ غالب ہوا
ہر اک شخص راحت کا طالب ہوا

ہوئے روشن آبادیوں میں چراغ
ہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ

کسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر
کہ گھر میں چین سے شب بسر

تھپک کر سلایا اسے نیند نے
تردد بھلایا اسے نیند نے

غریب آدمی جو کہ مزدور ہیں
مشقت سے جن کے بدن چور ہیں

وہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے
وہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے

نہایت خوشی سے گئے اپنے گھر
ہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کر

گئے بھول سب کام دھندے کا غم
سویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دم

کہاں چین یہ بادشہ کو نصیب
کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب
٭٭٭

 

intekhab E Kalam Qalandar Bakhsh Jura’t

Articles

انتخابِ کلام شیخ قلندر بخش جرأت

قلندر بخش جرأت

 

 

جو راہِ ملاقات تھی سو جان گئے ہم
اے خضر تصور ترے قربان گئے ہم

جمعیت حسن آپ کی سب پر ہوئی ظاہر
جس بزم میں با حال پریشان گئے ہم

اس گھر کے تصور میں جوں ہی بند کیں آنکھیں
صد شکر کہ بے منتِ دربان گئے ہم

کل واقف کار اپنے سے کہتا تھا وہ یہ بات
جرات کے جو گھر رات کو مہمان گئے ہم

کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر
جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم
٭٭٭

ہم کب از خود ترے گھر یار چلے آتے ہیں
رہ نہیں سکتے تو ناچار چلے آتے ہیں

لے خبر اس کی شتابی سے کہ عاشق کو ترے
غش پہ غش شوخ ستم گار چلے آتے ہیں

میں تو حیراں ہوں مطب ہے کہ درِ یار ہے یہ
یاں تو بیمار پہ بیمار چلے آتے ہیں

گھر میں گھبراتے ہیں بے یار تو ہم وحشی سے
سر برہنہ سرِ بازار چلے آتے ہیں

کھڑے رہ سکتے نہیں در پہ تو حیران سے واں
بیٹھ کر ہم پسِ دیوار چلے آتے ہیں

کس کے نالوں کی یہ آندھی ہے کہ شکلِ پر کاہ
آج اڑتے ہوئے کہسار چلے آتے ہیں
٭٭٭

جذبہِ عشق عجب سیر دکھاتا ہے ہمیں
اپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں

بزم میں تکتے ہیں منہ اس کا کھڑے اور وہ شوخ
نہ اٹھاتا ہے کسی کو نہ بٹھاتا ہے ہمیں

کیا ستم ہے کہ طریق اپنا رہِ عشق میں آہ
کوئی جس کو نہیں بھاتا وہ ہی بھاتا ہے ہمیں

اس ترقی میں تنزل میں ہے کہ جوں قامت طفل
آسماں عمر گھٹانے کو بڑھاتا ہے ہمیں

بند کر بیٹھے ہیں اب آنکھ جو ہم تو اللہ
نظر آتا جو نہیں سو نظر آتا ہے ہمیں

مل کے ہم اس سے جو ٹک سوویں تو دکھ دینے کو
بختِ بد خواب جدائی کا دکھاتا ہے ہمیں

ہم ہیں وہ مرغِ گرفتار کہ اپنے پر سے
وارنا جس کو کہ ہووے وہ چھڑاتا ہے ہمیں

لا کے اس شوخ ستم گر کے دو رنگی کے پیام
نہ ہنساتا ہے کوئی اب نہ رلاتا ہے ہمیں

سن سے جا بیٹھتے ہیں اس کے تصور میں ہم آہ
بزم خوباں میں کوئی پاس بلاتا ہے ہمیں

محوِ نظارہ ہوں کیا ہم کہ بہ قول جرات
اپنی جانب کوئی کھینچے لیے جاتا ہے ہمیں
٭٭٭

اب عشق تماشا مجھے دکھلائے ہے کچھ اور
کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور

ناصح کی حماقت تو ذرا دیکھیو یارو
سمجھا ہوں میں کچھ اور مجھے سمجھائے ہے کچھ اور

کیا دیدہ¿ خوں بار سے نسبت ہے کہ یہ ابر
برسائے ہے کچھ اور وہ برسائے کچھ اور

رونے دے، ہنسا مجھ کو نہ ہمدم کہ تجھے اب
کچھ اور ہی بھاتا ہے مجھے بھائے ہے کچھ اور

پیغام بر آیا ہے یہ اوسان گنوائے
پوچھوں ہوں میں کچھ اور مجھے بتلائے ہے کچھ اور

جرات کی طرح میرے حواس اب نہیں بر جا
کہتا ہوں کچھ اور منہ سے نکل جائے ہے کچھ اور
٭٭٭

مطلب کی کہہ سناو¿ں کسی بات میں لگا
رہتا ہوں روز و شب میں اسی گھات میں لگا

محفل میں مضطرب سا جو دیکھا مجھے تو بس
کہنے کسی سے کچھ وہ اشارات میں لگا

ہوتے ہی وصل کچھ خفقاں سا اسے ہوا
دھڑکا یہ بے طرح کا ملاقات میں لگا

کل رات ہم سے اس نے تو پوچھی نہ بات بھی
غیروں کی یاں تلک وہ مدارات میں لگا

آیا ہے ابر گھر کے اب آنے میں ساقیا
تو بھی نہ دیر موسم برسات میں لگا

مسجد میں سر بہ سجدہ ہوئے ہم تو کیا کہ ہے
کم بخت دل تو بزم خرابات میں لگا

گھٹّے پہ اپنے ماتھے کہ نازاں جو اب ہوئے
یہ داغ شیخ جی کے کرامات میں لگا

گر مجھ کو کارخانہِ تقدیر میں ہو دخل
روز قیام وصل کی دوں رات میں لگا

جرات ہماری بات پہ آیا نہ یاں تو آہ
کیا جانیے کسی کی وہ کس بات میں لگا
٭٭٭

Intekhab E Kalam Wamiq Jaunuri

Articles

انتخابِ کلام وامق جونپوری

وامق جونپوری

 

 

تجھ سے مل کر دل میں رہ جاتی ہے ارمانوں کی بات
یاد رہتی ہے کسی ساحل پہ طوفانوں کی بات

وہ تو کہئے آج بھی زنجیر میں جھنکار ہے
ورنہ کس کو یاد رہ جاتی ہے دیوانوں کی بات

کیا نہ تھی تم کو خبر اے کج کلاہانِ بہار
بوئے گل کے ساتھ ہی پھیلے گی زندانوں کی بات

خیر ہو میرے جنوں کی کھل گئے صدہا گلاب
ورنہ کوئی پوچھتا ہی کیا بیابانوں کی بات

کیا کبھی ہوتی کسی کی تو مگر اے زندگی
زہر پی کر ہم نے رکھ لی تیرے دیوانوں کی بات

رشتہ¿ یادِ بتاں ٹوٹا نہ ترکِ عشق سے
ہے حرم میں اب بھی زیرِ لب صنم خانوں کی بات

ہم نشیں اس کے لب و رخسار ہوں یا سیرِ گل
تذکرہ کوئی بھی ہو نکلے گی مے خانوں کی بات

بزمِ انجم ہو کہ بزمِ خاک یا بزمِ خیال
جس جگہ جاو¿ سنائی دے گی انسانوں کی بات

ابنِ آدم خوشہ¿ گندم پہ ہے مائل بہ جنگ
یہ نہ ہے مسجد کا قصہ اور نہ بت خانوں کی بات

پھول سے بھی نرم تر وامق کبھی اپنا کلام
اور کبھی تلوار ہم آشفتہ سامانوں کی بات
٭٭٭

دل کے ویرانے کو یوں آباد کر لیتے ہیں ہم
کر بھی کیا سکتے ہیں تجھ کو یاد کر لیتے ہیں ہم

جب بزرگوں کی دعائیں ہو گئیں بیکار سب
قرض خواب آور سے دل کو شاد کر لیتے ہیں ہم

تلخیِ کام و دہن کی آبیاری کے لیے
دعوتِ شیراز ابر و باد کر لیتے ہیں ہم

کون سنتا ہے بھکاری کی صدائیں اس لیے
کچھ ظریفانہ لطیفے یاد کر لیتے ہیں ہم

جب پرانا لہجہ کھو دیتا ہے اپنی تازگی
اک نئی طرزِ نوا ایجاد کر لیتے ہیں ہم

دیکھ کر اہلِ قلم کو کشتہِ آسودگی
خود کو وامق فرض اک نقاد کر لیتے ہیں ہم
٭٭٭

شمعیں روشن ہیں آبگینوں میں
داغِ دل جل رہے ہیں سینوں میں

پھر کہیں بندگی کا نام آیا
پھر شکن پڑ گئی جبینوں میں

لے کے تیشہ اٹھا ہے پھر مزدور
ڈھل رہے ہیں جبل مشینوں میں

ذہن میں انقلاب آتے ہی
جان سی پڑ گئی دفینوں میں

بات کرتے ہیں غم نصیبوں کی
اور بیٹھے ہیں شہ نشینوں میں

جن کو گرداب کی خبر ہی نہیں
کیسے یہ لوگ ہیں سفینوں میں

ہم صفیرو چمن کو بتلا دو
سانپ بیٹھے ہیں آستینوں میں
٭٭٭

نئے گل کھلے ،نئے دل بنے ،نئے نقش کتنے ابھر گئے
وہ پیمبرانِ صد انقلاب جدھر جدھر سے گزر گئے

جو شہید راہ وفا ہوئے وہ اسی خوشی میں مگن رہے
کہ جو دن تھے ان کی حیات کے غمِ زندگی میں گزر گئے

ابھی ساتھ ساتھ تو تھے مگر مجھے میرے حال پہ چھوڑ کر
مرے ہم جلیس کہاں گئے مرے ہم صفیر کدھر گئے

مری جستجو کو فقیہِ شہر بتا رہا ہے شریکِ زہر
اسے کیا خبر کہ دماغ و دل یہی زہر کھا کے نکھر گئے

ارے او ادیبِ فسردہ خو ارے او مغنیِ رنگ و بو
ابھی حاشیے پہ کھڑا ہے تو بہت آگے اہل ہنر گئے
٭٭٭

زباں تک جو نہ آئے وہ محبت اور ہوتی ہے
فسانہ اور ہوتا ہے حقیقت اور ہوتی ہے

نہیں ملتے تو اک ادنیٰ شکایت ہے نہ ملنے کی
مگر مل کر نہ ملنے کی شکایت اور ہوتی ہے

یہ مانا شیشہِ دل رونقِ بازارِ الفت ہے
مگر جب ٹوٹ جاتا ہے تو قیمت اور ہوتی ہے

نگاہیں تاڑ لیتی ہیں محبت کی اداو¿ں کو
چھپانے سے زمانے بھر کی شہرت اور ہوتی ہے

یہ مانا حسن کی فطرت بہت نازک ہے اے وامق
مزاجِ عشق کی لیکن نزاکت اور ہوتی ہے
٭٭٭

Intekhab E Kalam Joshish Azeemabadi

Articles

انتخابِ کلام جوشش عظیم آبادی

جوشش عظیم آبادی

 

 

ان دنوں وہ ادھر نہیں آتا
اپنا جینا نظر نہیں آتا

گھر بہ گھر تو پڑا پھرے ہے تو
آہ کیوں میرے گھر نہیں آتا

قاصد اس بے وفا سے یوں کہنا
لکھ تو کچھ بھیج گر نہیں آتا

گو کہ رہتا ہے یہ جرس نالاں
میرے نالوں سے پر نہیں آتا

یار راتوں کو تیرے کوچے میں
کب یہ خستہ جگر نہیں آتا

کس لئے جوشش اتنی نالہ کشی
کچھ اثر تو نظر نہیں آتا
٭٭٭

حال اب تنگ ہے زمانے کا
رنگ بے رنگ ہے زمانے کا

نہیں کوتاہ اس کا دست طلب
یہ گدا ننگ ہے زمانے کا

ایک دم چین سے نہ کوئی رہے
یہی آہنگ ہے زمانے کا

اے جفا کار دہر میں تجھ بن
کون ہم سنگ ہے زمانے کا

جھوٹ میں نے کہا ترے ہاتھوں
قافیہ تنگ ہے زمانے کا

چل نکل جلد یاں سے اے جوشش
ڈھنگ بے ڈھنگ ہے زمانے کا
٭٭٭

ہیں دل جگر ہمارے یہ مہر و ماہ دونوں
پہنچے ہیں آسماں پہ ہمراہ آہ دونوں

ہے بزم بے وفائی رونق پزیر ان سے
روشن رہیں یہ تیری چشم سیاہ دونوں

اے ترک چشم تیری خوں ریزیِ مژہ سے
پیٹیں ہیں سر گنہ گار اور بے گناہ دونوں

بیمار دل کے ہم دم اک درد و غم تھے سو بھی
بہر عیادت آتے ہیں گاہ گاہ دونوں

کوئی زلف کو کہے زلف کاکل کو سمجھے کاکل
اپنی نظر میں تو ہیں مار سیاہ دونوں

کیا شیخ کیا برہمن ہیں پھیر میں دوئی کے
گمراہ ہو گئے ہیں بھولے ہیں راہ دونوں
٭٭٭

چھوڑ دے مار لات دنیا کو
کچھ نہیں ہے ثبات دنیا کو

ہاتھ آئی ہے جس کو دولت فقر
ان نے ماری ہے لات دنیا کو

زال دنیا ہی سا ہے وہ بد ذات
جو کہے نیک ذات دنیا کو

دام الفت میں سب کو کھینچے ہے
آ گئی ہے یہ گھات دنیا کو

پشت پا مارے مسند جم پر
جو لگائے نہ ہاتھ دنیا کو

تو جو مرتا ہے اس پر اے جوشش
لے گیا کوئی ساتھ دنیا کو
٭٭٭

تجھ سے ظالم کو اپنا یار کیا
ہم نے کیا جبر اختیار کیا

مثل سیماب بے قرار رہے
ایک جا ہم نے کب قرار کیا

آنکھیں پتھرا گئیں اے سنگیں دل
یاں تلک تیرا انتظار کیا

تو جو کہتا ہے جلد آو¿ں گا
میں نے کیا تیرا اعتبار کیا

جیب توکیا ہے ناصحو ہم نے
چاک سینے کو غنچہ وار کیا

نظر آئے قیاس سے باہر
دل کے زخموں کو جب شمار کیا

تو وفا سے نہ در گزر جوشش
اس نے گو جور اختیار کیا
٭٭٭