Josh ki Naz’m Kisaan by Dr. Jamal Rizvi

Articles

جوشؔ کی نظم’ کسان‘

ڈاکٹر جمال رضوی

جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے بڑی بے اعتنائی سے کام لیا ہے۔اس سلسلے میں ناقدین کا رویہ اگر معاندانہ نہیں تو منصفانہ بھی نہیں رہا۔ جوشؔ فہمی کے ذیل میں ارباب نقد و نظر کے درمیان دو گروہ نمایاں نظر آتے ہیں ۔ایک گروہ جو جوشؔ کی شاعرانہ صلاحیت کا گرویدہ ہے تو دوسرا جوشؔ کی شاعری کے معائب و نقائص کی نشاندہی کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔تعریف وتنقیص کا یہ سلسلہ جوشؔ کے فن سے تجاوز کرکے ان کی شخصیت کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتا ہے ۔جوشؔ کی شعری تفہیم میں ناقدین کے اس رویہ کا ایک بڑا سبب خود جوش ؔکی شخصیت رہی ہے۔ جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے بڑی بے اعتنائی سے کام لیا ہے۔اس سلسلے میں ناقدین کا رویہ اگر معاندانہ نہیں تو منصفانہ بھی نہیں رہا۔ جوشؔ فہمی کے ذیل میں ارباب نقد و نظر کے درمیان دو گروہ نمایاں نظر آتے ہیں ۔ایک گروہ جو جوشؔ کی شاعرانہ صلاحیت کا گرویدہ ہے تو دوسرا جوشؔ کی شاعری کے معائب و نقائص کی نشاندہی کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔تعریف وتنقیص کا یہ سلسلہ جوشؔ کے فن سے تجاوز کرکے ان کی شخصیت کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتا ہے ۔جوشؔ کی شعری تفہیم میں ناقدین کے اس رویہ کا ایک بڑا سبب خود جوش ؔکی شخصیت رہی ہے۔
جوشؔ کی سوانح سے واقفیت رکھنے والے اس کی تائید کریں گے کہ جوشؔکے مزاج میں سنجیدگی ،استحکام اور غوروفکر کم اور لا ابالی پن ،جذباتیت اور اشتعال زیادہ تھا۔وہ جس نسبی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی پرورش جس ماحول میں ہوئی تھی اس کے اثرات آخر عمر تک ان کی شخصیت پر نظر آتے ہیں۔جوشؔ نے اپنی شاعری میں غریبوں اور مزدوروں کی حمایت میں گرچہ بہت کچھ کہا لیکن وہ اپنے خاندان کے جاگیردارانہ پس منظر کے حصار سے پوری طرح آزاد نہ ہو سکے تھے۔ یہ ایک نمایاں سبب ہے کہ ان کی انقلابی نظموں اور سماجی موضوعات پر لکھی گئی نظموں میں بعض اوقات ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو حقیقت سے قریب ہونا تودور کی بات ہے بعید از قیاس ہوتی ہیں ۔ وہ کسی موضوع کا جو مخصوص خاکہ اپنے ذہن میں مرتب کرلیتے تھے اسے ہی اشعار کے سانچے میں ڈھال دیتے تھے اور اس پر ان کی توجہ کم ہوتی تھی کہ موضوع کے متعلقات میں اصلیت ہے یا نہیں۔دوسرے یہ کہ جوشؔ کی شخصیت پر نرگسیت کا غلبہ اس حد تک رہا کہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ خود پسندی ان کے مزاج کا حصہ بن گئی تھی۔اس کا دوسرا اثر یہ ہوا کہ ناقدین ادب جوشؔ کی شاعری کے معائب و کمیاں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نکالنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوشؔ کی ان تخلیقات کو بھی در خور اعتنا نہیںسمجھا گیا جو موضوع اور طرز کے اعتبار سے انفرادیت کی حامل ہیں۔نظم ’کسان‘ کا شمار بھی جوشؔ کی ایسی تخلیقات میں ہوتا ہے جو موضوع کے اعتبار سے انفرادی مقام رکھتی ہے۔
نظم ’کسان‘ کو جوشؔ کی چند اہم نظموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔لیکن عصر ِ حاضر کے بعض ناقدین اسے ایک ناکام اور غیر موثر نظم قرار دیتے ہیں جس میں جوش ؔنے صرف الفاظ کی بازی گری کے مظاہرپیش کئے ہیں۔ ان ناقدین کا اعتراض ہے کہ جس طرح جوشؔ کی بیشتر شاعری میں الفاظ کے استعمال پر ماہرانہ قدرت کا رجحان نظر آتا ہے ویسے ہی اس نظم کو بھی جوشؔ نے الفاظ کا گورکھ دھندہ بنا دیا ہے۔ تفہیم جوشؔ کے سلسلے میں ایسے ناقدین بھی نظر آتے ہیں جوانھیں سرے سے شاعر ہی نہیں تسلیم کرتے۔ایسے ناقدین کا ماننا ہے کہ جوشؔ کے یہاں افکار کی وسعت نہیں ہے اور وہ کسی معمولی سے موضوع کو کثرت الفاظ سے ایسا طول دیتے ہیں کہ بعض اوقات وہ موضوع بجائے خود مبہم ہو جاتا ہے۔ ان ناقدین کا اصرار یہ بھی ہے کہ چونکہ تند مزاجی اور تنک مزاجی جوشؔ کی شخصیت میںجزو لاینفک کی صورت شامل تھی اس لئے وہ کسی واقعہ کو اگر اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں تو اس میں سطحی قسم کے جذبات کی فراوانی ہوتی ہے ا ور اس وجہ سے ان کے یہاں موضوعات گرچہ آفاقی اہمیت کے حامل ہیں لیکن جب وہ شعر کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان میں تاثر کی کمی کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔بعض ناقدین جوشؔ کی نظم کسان کو بھی اسی زمرے میں رکھتے ہیں ۔ان ناقدین کا اس نظم پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ جوشؔ نے حسب ِ عادت اس میں بھی الفاظ کے استعمال کا کرتب دکھایا ہے اور منفرد و انوکھے اشعارات و تشبیہات وضع کرنے کی ان کی کوشش نے اس نظم کو بے کیف و بے اثر بنا دیا ہے۔نظم کے آغاز میں جوشؔ نے کسان کی شخصیت کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس کے مطابق کھیتوں میں حل چلانے والا یہ کسان فطرت کا ایسا ماہر نباض ہے جو بس ایک نظر آسمان کی جانب دیکھ کر موسم کا مزاج اور آئندہ اس میں ہونے والی تبدیلی کا پتہ چلا لیتا ہے وہی کسان نظم کے اختتام پر بھوک و افلاس محرومی اور مایوسی کی تصویر بن جاتا ہے۔کسی شاعر کے متعلق کسی تنقید نگارکے نظریہ میں تبدیلی صحت مند تنقید ی طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ عمل نقاد کے نظر اور نظریہ میں وسعت اور ہمہ گیریت کا ثبوت ہے۔لیکن جوشؔ کے معاملے میں ناقدین کا رویہ بعض اوقات غیر معتدل اور شدت پسندانہ رہا ہے۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ جوشؔ کی شاعری پر گفتگو کے وقت بیشتر ناقدین نے بعض نظریاتی تحفظات قائم کرلیے جس سے باہر دیکھنے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔اس کا ایک سبب جوشؔ کی بیباکی ،انانیت اور بعض دفع ان کی خود پسندی رہی اور دوسرے ان کے خدا و مذہب سے متعلق نظریات، جن کی وجہ سے بعض کے نزدیک وہ کافر و ملحد تک ہو گئے تھے۔اس کے علاوہ پاکستان ہجرت کے بعد وہاں کی ادبی دنیا میں ان کا جو مخصوص حلقۂ احباب تھا وہ بھی اس ضمن میں ایک اہم سبب بنا۔ خلیق انجم نے ’جوشؔ ملیح آبادی :تنقیدی جائزہ‘ کے حرف آغاز میں جوشؔ کی شخصیت اور فن کے متعلق جن اہم نکات کا ذکر کیا ہے اس کے حوالے سے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی تخلیق کار اوراس کے فن پر گفتگو میںمسلکی اختلاف کو بھی ایک اہم حوالے کے طور پر مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔جوشؔ کے سلسلے میں یہ رویہ ناقدین کے یہاں کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔
اس مضمون میں چونکہ سردست جوشؔ کی نظم کسان کے متعلق چند باتیں عرض کرنا مقصود ہے لہٰذا اس نظم کے متعلق جو سب سے اہم اور قابلِ غورحقیقت ہے وہ یہ کہ جوشؔ نے جس زمانے میں کسان ،مفلس اور محنت کش خاتون کو شاعری کا موضوع بنایا تھا اس عہد تک اردو شاعری محبوبِ فتنہ گرکی عشوہ گری اور شبستانِ جاناں سے باہر قدم رکھنے کا حوصلہ عموماً اپنے اندر نہیں پیدا کر سکی تھی ۔ایسے دور میں جوشؔ نے ۱۹۲۹ء میں یہ نظم لکھ کر اپنی شاعری کے سماجی سروکار کی طرف اشارہ کیا تھا۔اس اعتبار سے اردو شاعری میں جوشؔ کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر فضل امام نے لکھا ہے:
’’جوشؔ کی انقلابی شاعری کا یہ سب سے نمایاں کارنامہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے ’’کسان‘‘ اور اس کے ’’ھل‘‘ کو موضوع ِ شاعری بنایا ۔ اس کے قبل کسی بھی شاعر نے غریب ،مفلس ،سیاسی رتھ کے پہیوں میں کچلے ہوئے ’’کسان‘‘ اور اس کے ’’ھل‘‘ کو منہ نہیں لگایا تھا۔جوشؔ کی اس طرح کی موضوعاتی نظموں میں ھندوستان کے گائوں اور دور دراز علاقے کی جمالیات کے مرقعے بھی نگاہوں میں کھپ جاتے ہیں اور ایک اپنے پن کا  احساس دلوں میں انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔‘‘    (انتخابِ کلیات ِ جوشؔ ص ۲۳)
جوشؔ نے معاشرہ کے استحصال زدہ کردار کو نظم کا موضوع بنا کر شاعری کی سماجی وابستگی کو ترجیح تو دی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موضوع کے برتنے میں انھیں کس حد تک کامیابی ملی؟ نظمیہ شاعری کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ شاعر جس موضوع پر اظہارِ خیال کرے اس کا ایک واضح خاکہ مرتب ہونے کے علاوہ اس کے متعلقات اور دیگر امکانی پہلو بھی ایک حد تک عیاں ہوجائیں۔اس حوالے سے جوشؔ کی یہ نظم عمومی طور پر کامیاب نظم نہیں کہی جا سکتی لیکن انھوں نے کسان کے حوالے سے انسانی سماج کے جس مخصوص پہلو کو نمایاں کرنے کی کوشش کی اس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے۔ تاہم اس نظم کے حوالے سے ان کی شاعری پر جو اعتراضات کئے گئے ان میں ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ نظم کسان کی شخصیت کا واضح تاثر قائم کرنے میں ناکام ہے۔نظم میں کسان کی شخصیت حرکت و عمل سے بیگانہ نظر آتی ہے۔ وہ وقت اور حالات سے نبردآزما ہونے کے بجائے ان پر اکتفا کرتا ہے اور جس شخصیت میں جوش و جذبہ کا اظہار موجِ دریا کے تموج کی طرح ہونا چاہئے وہ مایوسی اور محرومی کی تصویر نظرآتاہے۔کسان اپنے بیوی بچوں کی فاقہ کشی پر کڑھتا تو ہے لیکن اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوئی تدبیر کرتا نظر نہیں آتا ۔جوشؔ کے شاعرانہ افکار کے حوالے سے اس نظم پر ایسے اعتراضات عموماًکیے جاتے ہیں۔
اس نظم پر دوسرا اعتراض جوشؔ کی شاعری پر بیشتر ناقدین کی آرا میں عمومی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اعتراض شاعری کے فن کے حوالے سے ہے۔اس نظم کے متعلق یہ بھی کہا گیا کہ جوشؔ نادر تشبیہات و استعارات اور بعض دفع حیرت انگیز تراکیب وضع کرنے کے چکر میں موضوع کومبہم اورکبھی کبھی بے معنی بنا دیتے ہیں۔یہ عمل ان کی شاعری کو طول دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تاثر کا فقدان بھی اس کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ الفاظ کے کثرت استعمال کی وجہ سے فکر میں وسعت پیدا ہونے کے بجائے موضوع میں تکرار کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔رشید حسن خان نے نظم کسان کے حوالے  سے جوشؔ کی شاعری کے اس طرز کے متعلق لکھا ہے:
’’ان کی ایک اور مشہور نظم ہے ’’کسان‘‘ اس میں ’’ہل’’ کے لئے جو تشبیہیں لائی گئی ہیں اور ’کسان‘‘ کو جن صفات سے متصف کیا گیا ہے،ان میں بجائے خود کیسی ہی اور کتنی ہی خوبیاں ہوں مگر وہ ’’ہل‘‘ اور ’’کسان‘‘ کی اصل شکل و صورت کو اس قدر بدل دیتی ہیں کہ ان دونوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔لوہے سے بنے ہوئے ہل کو دیکھئے اور پھر ان تشبیہوں کے آرائش کدے کو دیکھئے جہاں رنگ و بو کی موجیں اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔شاعر کے بے محابا ذوق تشبیہ تراشی کی تسکین ہو جاتی ہے، لفظوں کا ہجوم بھی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے،لیکن اصل موضوع کا چہرہ مہرہ بگڑ جاتا ہے۔‘‘           (جوش ملیح آبادی :تنقیدی جائزہ ص۱۷۲)
اس نظم پر اعتراض کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہل‘‘ کے لئے جو تشبیہیں استعمال کی گئی ہیں اور کسان کو جن خطابات سے نوازا گیا ہے وہ غیر موزوں ہیں۔اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ نظم کا آخری حصہ جس میں کسان کے فاقہ زدہ بچوں کا ذکر ہے،وہ سابقہ جزو پر پھبتی معلوم ہوتا ہے۔ بقول رشید حسن خاں آخری حصہ غیر موثر اور کمزور اس لئے ہے کہ جوشؔ نظم کے اس جزو میں مرصع کاری کا وہ کارنامہ انجام نہیں دے سکے جو اس کے قبل کے حصوں میں نظر آتا ہے۔
عموماً نظم جب کسی موضوع پر لکھی جاتی ہے تو مرکزی موضوع کی توضیح و تشریح کے وقت اکثر نظم کے مختلف اجزا کا آہنگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کسی صورت حال یا مخصوص کیفیت کو بیان کرنے کے لئے شاعر جن الفاظ کا استعمال کرتا ہے اگر ان کا صوتی آہنگ اس صورتحال یا کیفیت کی ترجمانی مکمل طور پر نہ کرسکے تو ایسی شاعری بے اثر کہلاتی ہے۔اس اعتبار سے مختلف اجزاسے ترتیب پانے والی کسی نظم کے مختلف حصوں میں صوری اختلاف ہو توبھی ایسی شاعری کو ناقص تب تک نہیںقرار دیا جا سکتا جب تک اس میں معنوی سطح پر انتشار نہ ظاہر ہو۔چونکہ جوشؔ کی یہ نظم بھی ایک مرکزی موضوع کے تحت ظاہری طور پر ۵؍ حصوں سے تشکیل پاتی ہے اور ہر جزو کسی خاص صورتحال ،منظر، واقعہ یا کیفیت کو بیان کرتا ہے ،لہٰذا بیان کے حسبِ موزوں لفظیات کا استعمال شاعری کی فنی نزاکتوں سے شاعر کی واقفیت کو ثابت کرتا ہے۔
نظم کے ابتدائی حصے میں غروبِ آفتاب کے وقت کا منظر بیان کر کے خوشگوار تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۹؍ اشعار پر مشتمل اس حصے میں جوشؔ نے فطرت کی منظر کشی اپنے اسی مخصوص انداز میں کی ہے جس کی وجہ سے انھیں ’’شاعرِ فطرت‘‘ بھی کہا گیا۔یہ حصہ نظم کا تمہیدی حصہ ہے اس لئے جوشؔ نے فطرت کے ایک حسین منظر کو بیان کرکے نظم میں فرحت بخش تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ منظر کی واضح تصویرنہیں پیش کرسکے ۔منظر کی پیشکش میں حقیقت بیانی کے بجائے بے ربط تخیل کا غلبہ اس حد تک ہے کہ منظر کے مختلف لوازم میں تضاد نمایاں ہے۔مطلع میں شفق اور غروب ِ آفتاب کا ذکر یہ ظاہر کرتا ہے کہ آفتاب مکمل طور پر روپوش نہیں ہوا ہے بلکہ غروب کا عمل جاری ہے۔نظم کا پہلالفظ ’’جھٹپٹے‘‘ بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابھی مکمل تاریکی نہیں پھیلی ہے۔ لیکن اسی حصہ میں ایسے مصرعے بھی ہیں جو رات ہونے کا پتہ دیتے ہیں ۔ ’’ تیرگی میں کھیتوں کے درمیاں کا فاصلا‘‘ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا اس لیے تاریکی کا ذکر عین فطری ہے ۔تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر نظم کے چوتھے حصہ میں شفق کا ذکر کیوں کر کیا گیا کیونکہ رات کی تاریکی اور شفق کی سرخی کا تصور بیک وقت ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ ’’ بام گردوں پر کسی کے روٹھ جانے کی شان‘‘ جیسے مصرعے محض طول کلام کے لئے لکھے گئے ہیں۔جوش ؔکو شاید یہ گمان تھا کہ خوبصورت الفاظ جمع کر دینے سے کوئی منظر خوشنما ہو جاتا ہے۔اگر کسی حد تک اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے منظرسے اصلیت مفقود ہو جاتی ہے۔اس طرح یہ منظر بقیہ نظم کی تو ضیح کے لئے موثر پس منظر کا کام دینے کی بجائے غیر موثر آغاز کے طور پر پوری نظم کو ایک حد تک متاثر کرتاہے۔
تمہید کے بعد والے جزو میں کسان کی شخصیت بیان کی گئی ہے۔یہ جزو نظم کے بقیہ جزو سے زیادہ طویل ہے اور جوشؔ نے کسان کی ذات کو دنیا کی حرکت و عمل کا موجب قرار دیا ہے۔۲۲؍ اشعار پر مشتمل اس جزو میں جوشؔ نے کسان کو تہذیب و تمدن اور انسانی ارتقا کا علم بردار بتایا ہے۔جوشؔ نے کسان کی شخصیت کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے جو طرز بیان اختیار کیا ہے اس میں فکر کی سنجیدگی کے بجائے تخیل کی چاشنی زیادہ نظر آتی ہے۔ بعض دفع یہ تخیل نظم کے مرکزی موضوع سے بے ربط سا محسوس ہوتا ہے اور کسان کی شخصیت کے خدوخال اور اس کے طرزِ حیات کا بیان ایک حد تک مبہم ہو جاتا ہے۔اس حصے میں بھی بعض اشعار ایسے ہیں جو اضافی محسوس ہوتے ہیں اور جنھیں حذف کر دیاجائے تو بھی نظم کی بنت کاری پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔اس جزو کے آغاز میں کسان کو خطابات سے نوازتے ہوئے اختصار سے کام لیا جا سکتا تھا لیکن طول بیانی چونکہ جوشؔ کی شاعری میں پسندیدہ روش اور غالب رجحان کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس موقع پر بھی اس کے مظاہر نظر آتے ہیں۔اس حصے میں جوشؔ نے جس قدرجزیات نگاری سے کام لیا ہے وہ نظم کی روانی کو متاثر کرتی ہے۔کسان کی محنت و مشقت کو نوع آدم کی بقا کا ضامن بتایا گیا ہے۔کائنات کی رنگینی اور تابانی ،معاشرہ کی مختلف سر گرمیاں اور انسانی تمدن کے سلسلے کا مدار کسان کی ذات پر ہے۔اس میں کلام نہیں کہ معاشرتی نظام کے ڈھانچے کو مضبوط و مستحکم بنانے میں کسان کلیدی رول ادا کرتا ہے اور انسانی تمدن کی تاریخ اس کی رہین منت ہے لیکن جوشؔ کسان کی صفات بیان کر تے وقت بعض ایسی باتیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو گرچہ ایک حد تک حقائق کا درجہ رکھتی ہیں لیکن ان کے اظہار کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ نظم کے مرکزی خیال سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس نظم میں کسان کے حوالے سے جوشؔ نظامِ حکومت اور اربابِ اقتدار کوہدف تنقید بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن الفاظ کی مرصع کاری انھیں مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہونے دیتی۔
کسان جو کہ ارتقا کا پیشوا اور تہذیب کا پروردگار ہے،جو ماہرآئینِ قدرت اور ناظم بزم جہاں ہے ،وہی کسان محنت و مشقت کے باوجود اپنے بیوی بچوں کے لئے پیٹ بھر کھانے کا انتظام نہیں کر پاتا۔جوشؔ نے سرمایہ داری کو کسان اور اس کے بیوی بچوں کی فاقہ کشی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن کسان کی شخصیت کا بیان کرتے وقت وہ ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں :
مانگتا ہے بھیک تابانی کی جس سے روئے شاہ
جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز ووقار
کرتی ہے دریوزئہ تابش کلاہِ تاجدار
ع سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کی  ع جس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرورِ شہریار
ان مصرعوں میں کسان کی شخصیت کو جس تاثر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اس کے بعد یہ تصور دشوار ہوجاتا ہے کہ حاکم و بادشاہ جس کے حضور گدا کی حیثیت رکھتے ہوں،جو تخریبی قوتوں کو سرنگوں کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتا ہو اور جس کی قوت و طاقت شہریاروں کے لئے باعث غرور ہو ایسا شخص اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بھی انتظام نہیں کر سکتا۔جوش ؔمعاشرہ میں کسان کی اہمیت اور اس کی جاں فشانی کو صاحبان اقتدار کے جاہ و حشم کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہیں لیکن درج بالا مصرعوں میں جس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے جو تاثر پیدا ہوتا ہے وہ بالکل مختلف ہے۔آخر کے دو مصرعوں میں بیان کا انداز اس قدر موضوع سے بے ربط ہے کہ ان میں بیان کردہ شخصیت کسان کے بجائے کسی فوجی کی نظر آتی ہے۔ اس حصہ کے آخری دو شعروں سے کسان کی شخصیت کا ایک حد تک اصلی روپ نظر آتا ہے:
دھوپ کے جھلسے ہوئے رخ پر مشقت کے نشاں
کھیت سے پھیرے ہوئے منہ ،گھر کی جانب ہے رواں
ٹوکرا سر پر ،بغل میں پھاوڑا، تیوری پر بل
سامنے بیلوں کی جوڑی،دوش پر مضبوط ہل
اس کے بعد نظم کا جو تیسرا جزو ہے وہ ’ہل‘ کے بیان پر مشتمل ہے۔۸؍ اشعار میں جوشؔ نے ہل کا جو بیان کیا ہے اس میں بھی رنگین بیانی سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔یہ رنگین بیانی ہل کو ایک آہنی آلہ کے بجائے کسی نرم و ناز ک سی شئے کے روپ میں منعکس کرتی ہے۔اس رنگین بیانی کی انتہا یہ ہے کہ ہل پر شفق کی لالی پڑنے سے جو چمک پیدا ہوتی ہے وہ ہلالِ عید کی درخشانی کی طرح ہے۔ہل کے بیان پر مشتمل یہ جزو مکمل طور پر اصلیت سے عاری نہیں ہے بلکہ اس میں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں شعری جمالیات کے ساتھ ساتھ حقیقت کا پر تو نمایاں ہے:
خوشنما شہروں کا بانی ،راز فطرت کا سراغ
خاندانِ تیغ جوہر دار کا چشم و چراغ
دھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظام
شامِ زیرِ ارض کو صبح درخشاں کا پیام
ڈوبتا ہے خاک میں جو روح دوڑاتا ہوا
مضمحل ذروں کی موسیقی کو چونکاتا ہوا
اس نظم کی تخلیق کے مقصد کو مدِ نظر رکھیں ،جس کا اظہار نظم کے اختتامی حصے میں ہوا ہے تو یہ جزو اضافی ہی نہیں بلکہ ایک حد تک غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک حد تک اس لئے کہ جوشؔ جس امیجری کو پس منظر کے طور پر استعما ل کرکے کسان کی حرماںنصیبی کو نمایاںکرنا چاہتے ہیںاس اعتبار سے یہ جزو اپنے بیان کا جواز رکھتا ہے۔کسان کے دھوپ سے جھلسے ہوئے چہرے پر مشقت کے نشان کا ذکر کرنے کے بعد جب وہ ہل کی تابش میں ہلال عید کی درخشانی کا بیان کرتے ہیں تو نظم کی تخلیق کے اصل مقصد کو بہت حد تک نمایاں کردیتے ہیںجس کا بھر پور اظہار نظم کے آخری دو حصوں میں ہوا ہے۔۷؍ اشعار پر مشتمل یہ دو حصے ہی دراصل اس نظم کی تخلیق کے اصل محرک کی حیثیت رکھتے ہیں۔
نظم کے اختتام سے قبل والے حصے میں سیاست کے حوالے سے انگریز حکومت کو ہدف بنایا گیا ہے۔اس حکومت کاا صل مقصد ہی ہندوستان کی زیادہ سے زیادہ دولت کو اپنے ملک منتقل کرنا تھا۔کسان اس حقیقت سے واقف تو ہے لیکن سیاسی رتھ کے پہیوں سے اپنی مشقت کو محفوظ رکھنے کا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ ان غیر ملکیوں کے ظلم سے نجات پانے کے لئے اگر وہ اثر و رسوخ رکھنے والے ہم وطنوں کے پاس جاتا ہے تو وہ بھی اس کا خون چوسنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اربابِ اقتدار کے ذریعہ کسان کے استحصال کو بیان کرتے ہوئے جوشؔ نے کہا :
اس سیاسی رتھ کے پہیوں پر جمائے ہے نظر
جس میں آجاتی ہے تیزی کھیتیوں کو روند کر
اپنی دولت کو جگر پر تیر غم کھاتے ہوئے
دیکھتا ہے ملک دشمن کی طرف جاتے ہوئے
اس نظم کے آخری حصے میں کسان کے تشویش ناک حالات کے حوالے سے سرمایہ داری کے مظالم کا ذکر کیا گیا ہے۔اس طرح جوشؔ نے جس سماجی خاکہ کو پیش کیا ہے اس میں صاحبِ اختیار افراد کے ہاتھوں محنت کش ،غریب انسانوں کے استحصال کو مرکزی حیثیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ جوش ؔنے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ استحصال کرنے والی قوتوں کے نزدیک رنگ و نسل ،قوم و مذہب کوئی معنی نہیں رکھتے۔اسی لئے ایک طرف اگر انگریز حاکم کسانوں کا استحصال کرتا ہے نو اس کے ساتھ ہی ملکی سرمایہ دار بھی کسان کو مختلف حیلوں حوالوں سے پریشان کرتا رہتا ہے۔اس حصے میں جوشؔ نے سرمایہ داری کی شقاوت اور ظالمانہ رویہ کو اس مخصوص انداز میں بیان کیا ہے جو ان کی انقلابی شاعری کی انفرادی شناخت ہے۔اس بیان میں لفظوں کا طمطراق،طرزِ بیان میں جوش و ولولہ سرمایہ داری کی ہیبت ناکی کو پورے تاثر کے ساتھ پیش کرتا ہے :
تیری آنکھوں میں ہیں غلطاں وہ شقاوت کے شرار
جس  کے آگے خنجر چنگیز کی مڑتی ہے دھار
بیکسوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں تیرے ہاتھ
کیا چبا ڈالے گی او کمبخت ساری کائنات
ظلم اور اتنا!کوئی حد بھی ہے اس طوفان کی
بوٹیاںہیں تیرے جبڑوں میں غریب انسان کی
اس کے بعد تین شعر جن پر نظم کا خاتمہ ہوتا ہے،ان میں سرمایہ داروں کی اس منافقت کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے انسانیت سوز رویہ کو دین و مذہب کے حوالے سے جائز ٹھہرانے کی تاویلات پیش کرتے ہیں۔غریبوں پر مظالم کرنے والا یہ طبقہ معاشرہ میں امن و امان کو قائم رکھنے کی حمایت بھی کرتا ہے۔جوشؔ نے سرمایہ داری کے حوالے سے صاحبِ اختیار طبقہ کے اس دو رخے پن کو نمایاں کیاہے جوایک طرف انسانیت سوزکام کرتا ہے اور دوسری جانب قیام امن کا بھی خواہاں نظر آتا ہے۔
جوشؔ نے اس نظم میں صرف کسان کی ذات کو ہی پیش ِ نظر نہیں رکھا بلکہ اس کے کردار کو ایک حوالے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ارباب اقتدار اور سرمایہ داروں کوہدف تنقید بنایا ہے۔یہ نظم جس شعر پر ختم ہوئی ہے وہ جوشؔ کی فکرکے مثبت رویہ کی ترجمانی کرتا ہے:
ہاں سنبھل جا اب کہ زہر ے اہل دل کے آب ہیں
کتنے طوفاں تیری کشتی کے لئے بیتاب ہیں
یہ شعر دراصل تاریکی میں امید کی ایک کرن کی مانند غریب و نادار انسانوں کے مایوس کن حالات کے تبدیل ہونے کا اشاریہ ہے۔اس نظم کی تخلیق سے جوشؔ کے خاندانی پس منظر کی وابستگی بھی ایک سطح پر ہے۔ان کی پیدائش ملیح آباد کے ایک بڑے زمیندار اور سرمایہ دار گھرانے میں ہوئی تھی۔ان کی پر ورش بھی بہت نازو نعم میں ہوئی لیکن ان کے سینے میں جو دل دردمند دھڑکتا تھا وہ غریبوں اور کسانوں پر زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ذریعہ کیے جانے والے مظالم سے کڑھتا رہتا تھا۔اس نظم کے وجود میں آنے کے اسباب وہ حالات تھے جو وہ اپنے گردو اطراف دیکھا کرتے تھے اور جس کا بیان انھوں نے ’یادوں کی برات‘ میں بھی کیا ہے۔
یہ نظم کمزور انسانوں سے جوش ؔکی دردمندی کو ظاہر کرتی ہے اور اس حقیقت کو بھی بیان کر تی ہے جو بڑی حد تک آج بھی اس ملک کا مقدر ہے۔یہ ضرور ہے کہ خیال اور جذبات میں تفاوت اس نظم کے تاثر کو پوری طرح نمایاں نہیں ہونے دیتا اور بعض مقامات پر جذبہ کا فقدان شعر کو کوری لفاظی بنا دیتا ہے۔ اس موضوع کو بیان کرنے کے لئے جو بر جستگی اور بے ساختگی درکار تھی اس کے بجائے حسین تشبیہات اور استعارات نے پوری نظم پر ایک رومانی کیفیت طاری کردی ہے۔بہر حال جوشؔ کو اس معاملہ میں ضرور انفرادیت حاصل ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے کسان اور اس کے ہل کے حوالے سے اپنے عہد کی استحصالی قوتوں کو ہدف بنایا۔ انھوں نے فطرت کے رمز شناس کسان کی بھوک و افلاس کے ذریعہ سسٹم پر جو لعنت و ملامت کی ہے وہی اس نظم کا اصل مدعا ہے۔


ڈاکٹر جمال رضوی شعبہ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔تنقید اور صحافت ان کا خاص میدان ہے۔ ایک کتاب ’سخن شناسی ‘ شائع ہوکر اردو حلقے میں مقبول ہوچکی ہے۔

Josh Malihabadi ki Marsia Nigari by Dr. Jamal Rizvi

Articles

جوشؔ ملیح آبادی کی مرثیہ نگاری

ڈاکٹر جمال رضوی

بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً اہل ادب کی اس سہل انگاری میں مضمر ہے کہ اردو مرثیہ نے میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے بعد کوئی ترقی نہیںکی۔ بلاشبہ یہ اکابرین فن مرثیہ نگاری میں درجہ ٔ کمال پر نظر آتے ہیں لیکن یہ مان لینا کہ ان باکمال مرثیہ نگاروں کے بعد اردو مرثیہ کی ترقی کی رفتار معدوم پڑگئی ، حقیقت حال سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً اہل ادب کی اس سہل انگاری میں مضمر ہے کہ اردو مرثیہ نے میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے بعد کوئی ترقی نہیںکی۔ بلاشبہ یہ اکابرین فن مرثیہ نگاری میں درجہ ٔ کمال پر نظر آتے ہیں لیکن یہ مان لینا کہ ان باکمال مرثیہ نگاروں کے بعد اردو مرثیہ کی ترقی کی رفتار معدوم پڑگئی ، حقیقت حال سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
بیسویں صدی میں جبکہ اردو شعر و ادب میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اردو مرثیہ نے بھی روایتی طرز بیان سے آزاد ہو کر فکر و فن کے نئے گوشوں تک رسائی حاصل کی اور یہ جرات مندانہ اور اجتہادی کارنامہ جوشؔ نے انجام دیا۔ ہر چند کہ جوش ؔ کی ایسی تخلیقات جن میں واقعہ ٔ کربلا یا امام حسین ؑ کی شخصیت کو ایک مرکزی موضوع کے طور پر بیان کیا گیا ہے،کے متعلق ناقدین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ تخلیقات اردو مرثیہ کی جدید شکل ہیں اور بعض اسے صرف رثائی نظم کہنا پسند کرتے ہیں۔حالانکہ ایسی تخلیقات کے متعلق جوشؔ ایک واضح  تخلیقی نظریہ رکھتے تھے جس کا ذکر آئندہ سطور میں ہوگا، یہاں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ان تخلیقات نے اردو مرثیہ کے کارواں کو آگے بڑھانے میں بہر حال اہم کردار ادا کیا۔جس طرح اردو شاعری کی دیگر اصناف میں فکر و فن کی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوئیں اسی طرح اردو مرثیہ میں بھی یہ تبدیلیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں اور مرثیہ کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اگر اس نکتے کو مد نظر رکھا جائے تو بجا طور پرجوشؔ کی یہ تخلیقات مرثیہ کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ انھوں نے کل ۹؍ مراثی کہے جن میں ۸؍مکمل اور ایک نامکمل مرثیہ شامل ہے ۔ ان مراثی اور جوش ؔ کے کچھ سلام کو یکجا کر کے ۱۹۸۱ء میں ضمیر اختر نقوی نے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس میں شامل مراثی کے عنوان ہیں، آوازۂ حق،حسین ؑ اور انقلاب، موجد و مفکر، وحدت انسانی، طلوع فکر، عظمت انسان (قلم)، آگ، زندگی اور موت(محمد ؐ وآلِ محمدؐ کی نظر میں)، پانی۔ اس کے علاوہ انھوں نے عظمت خاک کے عنوان سے بھی ایک مرثیہ کہاتھا جو کہ نایاب ہے۔ضمیر اختر نقوی نے جوشؔ کے مراثی کی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ جوشؔ نے پانی کے بعد کوئی مرثیہ نہیں کہا لیکن اس سے قبل انہوں نے وفاداری کے عنوان سے ایک مرثیہ شروع کیا تھا لیکن چار بند سے زیادہ نہ کہہ سکے۔ اس کے علاوہ ایک مرثیہ حضرت زینب ؑ کے خطبہ سے متعلق تھا اور یہ بھی نامکمل رہا۔ ان مراثی کے متعلق ضمیر اختر نقوی نے لکھا ہے’ یہ دونوں مرثیے نامکمل ہیں اگر تکمیل پانے کے بعد دونوں مرثیے منظر عام پر آتے تو خیال ہے کہ جوشؔ کے شاہکار مرثیہ ثابت ہوتے۔‘
۱۹۲۰ء میں جوشؔ نے مرثیہ ’آوازہ ٔ حق‘ لکھ کر اردو مرثیہ کو طرز انیسؔ و دبیرؔ کے حصار سے آزاد کر کے اس کے لیے ایک جداگانہ شاہ راہ متعین کی جس پر چل کر جدید اردو مرثیہ ارتقا کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہوا۔ عددی اعتبار سے جوشؔ کے مراثی گرچہ کم ہیں لیکن یہ حقیقت مکمل طور سے واضح ہے کہ جدید مرثیہ کا تخلیقی منشور جوشؔ کے مرثیوں سے ہی مرتب ہوتا ہے ۔ اس طرح اردو مرثیہ نگاری میں جوشؔ ایک تاریخ ساز مرثیہ نگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جوشؔ نے جب مرثیہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا تو اس صنف میں قدیم روایات کا اتباع کرنے کے بجائے منفرد طرز ایجاد کی۔ انہوں نے مرثیہ کا رشتہ براہ راست عصری مسائل سے جوڑ کر مرثیہ نگاری کے تخلیقی کینوس کو وسعت عطا کی۔ یہ ضرور ہے کہ آوازہ ٔ حق میں جوشؔ نے کلاسیکی مرثیہ کے اجزائے ترکیبی کے بعض جزو مثلاً رجز، جنگ اور بین سے استفادہ کیا لیکن مرثیہ کے آخری حصے میں انھوں نے عصری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے قوم کو اسوہ ٔ شبیری سے درس لینے کا جو پیغام دیا ہے وہ اس صنف سے متعلق ان کے تخلیقی رویہ واضح کرتا ہے۔ اس مرثیہ کے درج ذیل دو بند جوشؔ کی مرثیہ نگاری کے فکری منشور کو سمجھنے میں معاون ہوں گے۔
قربان ترے نام کے ائے میرے بہادر
توجانِ سیاست تھا تو ایمانِ تدبر
معلوم تھا باطل کے مٹانے کا تجھے گُر
کرتا ہے تری ذات پہ اسلام تفاخر
سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ صداقت کا سبق تھا
تلوار کے نیچے بھی وہی بعرہ ٔ حق تھا
شعلے کو سیاہی سے ملایا نہیں تونے
سر کفر کی چوکھٹ پہ جھکایا نہیں تونے
وہ کون سا غم تھا جو اٹھایا نہیں تونے
بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا نہیں تونے
دامانِ وفا گھر کے شریروں میں نہ چھوڑا
جو راستہ سیدھا تھا وہ تیروں میں نہ چھوڑا
اس مرثیہ کے آخر میں بین کے مسلسل ۹؍ بند لکھنے کے بعد اس کا رشتہ براہ راست قومی مسائل سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ ۹۲؍ بند پر مشتمل اس مرثیہ کے بند نمبر ۸۹؍ میں جلیاں والا باغ کے سانحہ اور تحریک خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور خون ناحق کی لافانی تاثیر اور نام یزید کے درگور ہوجانے سے افراد قوم کو حق پرستی کے لیے جانیں نثار کردینے کا پیغام دیا ہے۔
ائے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ
اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ؑ ابن علی ؑ ہو
جوش ؔ نے آوازہ ٔ حق میں امام حسین ؑ کی شخصیت کو جس انداز میں بیان کیاہے اس میں مظلومیت کے بجائے مجاہدانہ شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جوشؔ کی انقلابی شاعری کا مجموعی جائزہ لیں تو اس میں ہیرو کا جو تصور ہے وہ بہت کچھ ایسی ہی شخصیت کے مماثل نظر آتا ہے جو حق و صداقت کی بقا کی خاطر اسی طرح جرات مندی اور عزم و حوصلے کا اظہار کرے جیسا کہ امام حسین ؑ نے معرکہ ٔ کربلا میں کیا تھا۔جوشؔ نے جس دور میں مرثیہ نگاری شروع کی تھی وہ دور ملک میں انگریزوں کی حکومت کا دور تھا ۔ برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جوشؔ قوم میں اسی ثبات و عزم کے خواہاں ہیں جو انھیں امام حسین ؑ کی شخصیت میں نظر آیا۔ عزم حسین ؑ کا تصور ہی وہ واحد ذریعہ تھا جس سے جوشؔ خود اپنے دل میں ہمت و عزم پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی اس کی تحریک عطا کر سکتے تھے۔ اس تاثر اور تصور کو انہوں نے اپنے مرثیوں میں کامیاب انداز میں پیش کیا ہے۔یہ جذبہ صرف ان کے مرثیوں میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ امام حسین ؑ کی شخصیت کے انقلابی رخ کا پرتو جوش کی بیشتر انقلابی شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔ جوشؔ کی شاعری میں نوع انسانی کے لیے جو صبر، استقامت، جاں فروشی اور پیغام عزم و عمل ہے اس کے پس پردہ امام حسین ؑ کی شخصیت کا سیاسی مطالعہ کارفرما ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے مرثیے آوازہ ٔ حق میں امام حسین ؑ کے لیے جان ِ سیاست جیسی ترکیب استعمال کر کے کیا تھا۔  مذہب و خدا کے نظریہ کے حوالے سے جوشؔ کی شاعری میں جو تشکیکی رجحان نظر آتا ہے ، ان کے بعض اشعار میں وجود خدا کے متعلق جو سوالیہ نشان نظر آتا ہے ان سب کے باوصف یہ حقیقت ہے کہ جوشؔ ، امام حسین ؑ کی شخصیت سے انتہا درجے تک متاثر تھے اور کسی بھی دور میں امام حسین ؑ سے ان کی شیفتگی میں کمی نہیں آئی۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنی ایک رباعی میں اس طرح کیا ہے۔
اوہام کو ہر قدم پر ٹھکراتے ہیں
ادیان سے ہرگام پر ٹکراتے ہیں
لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حسین ؑ
ہر اہل خرابات بھی جھک جاتے ہیں
جوش ؔ کی یہ والہانہ عقیدت جذباتی نوعیت کی نہیں ہے بلکہ جوشؔ اپنی شاعری کے ذریعہ جو پیغام دینا چاہتے تھے اس کے ابلاغ کے لیے امام حسین ؑ کے علاوہ کوئی اور کردار انہیں متاثر نہ کر سکا۔ جوش کے مرثیے، تاریخ مرثیہ نگاری میں وہ مفرد آواز ہیں جن میں واضح سیاسی شعور نظر آتا ہے۔ اس سے ایک طرف جوشؔ نے واقعہ ٔ کربلا کے حوالے سے جنگ آزادی میں فتح یابی حاصل کرنے کا پیغام دیا تو دوسری جانب کربلا کے کینوس کو وسیع تر تناظر میں پیش کر کے اس میں آفاقیت کا عنصر شامل کیا۔
جوشؔ نے ہندوستان قیام کے دوران دومرثیے آوازہ ٔ حق ۱۹۲۰ء اور حسین ؑ اورا نقلاب ۱۹۴۱ء میں کہے۔ ان دونوں مرثیوں کی تخلیق ایک مخصوص نقطہ ٔ نظر کے تحت ہوئی ۔ یہ مراثی آزادی سے قبل کی تصنیف ہیں جن میں انگریز حکومت کی مخالفت اور ملکی عوام میں قوت عزم و عمل کو بیدار کرنے کا جذبہ بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ جوشؔ نے آوازہ ٔ حق میں گوکہ روایتی مرثیہ کے چند اجزائے ترکیبی سے بھی استفادہ کیا لیکن آخر کے تین بند میں عصر حاضر کے سیاسی و سماجی موضوعات کا بیان کر کے انہوں نے آئندہ کے لیے اس صنف سے متعلق اپنے تخلیقی رجحان کی طرف اشارہ کر دیا اور ان کے اس رجحان کا مکمل اظہار حسین ؑ اور انقلاب میں ہوا۔ اس مرثیہ کے ابتدائی حصے میں جوشؔ نے اعلان امر حق کی راہ میں پیدا ہونے والی دشواریوں کا ذکر کیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اس پر خطر راہ پر چلنے کا حوصلہ رکھنے والا ہی دراصل انسانیت کا سچا ہمدرد ہوتا ہے ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات میں نیکی اور سچائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امام حسین ؑ کی ذات کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ جب اسلامی معاشرہ میں پرانے رسم و رواج اور جہالتوں کے سائے میں پلنے والے اوہام کے ہاتھوں قیامتیں نازل ہو رہی تھیں اس وقت امام حسین ؑ نے حق کی حمایت میں جو صعوبتیں برادشت کیں ان کی وجہ سے ہی اسلام میں انسانی قدروں کا وجود باقی ہے۔اس دشورا گزار مرحلے سے گزرنے والے پر جو مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے جوشؔ نے کہا
ہوتا ہے جو سماج میں جویائے انقلاب
ملتا ہے اس کو مرتد و زندیق کا خطاب
پہلے تواس کو آنکھ دکھاتے ہیں شیخ و شاب
اس پر بھی وہ نہ چپ ہوتو پھر قوم کا عتاب
بڑھتا ہے ظلم و جور کے تیور لیے ہوئے
تشنیع و طعن و دشنہ و خنجر لیے ہوئے
او ر بالخصوص جب ہو حکومت کا سامنا
رعب و شکوہ و جاہ و جلالت کا سامنا
شاہانِ کج کلاہ کی ہیبت کا سامنا
قرنا و طبل و ناوک و راعت کا سامنا
لاکھوں میں ہے وہ ایک کروڑوں میں فرد ہے
اس وقت جو ثبات دکھائے وہ مرد ہے
اس کے بعد جوشؔ نے برطانوی حکومت کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے اس سے آزادی حاصل کرنے کا پیغام دیا ہے اور اس کے لیے امام حسین ؑ کے سے عزم و استقلال کو ضروری بتایا ہے۔ اس مرثیہ میں جوشؔ نے اپنی تمام تر توجہ امام حسین ؑ کے کردار پر مرکوز رکھی ہے لیکن بعض مقامات پر اس جہاد عظیم میں شریک دیگر مقدس شخصیات کا بھی ذکر کیا ہے،خصوصی طور سے شب عاشور کے بیان کے ذیل میں جناب زینب، علی اصغر اور جناب زین العابدین کے علاوہ انصار حسین کے جذبہ ٔ ایثار و قربانی کا ذکر بڑے سوز و گداز کے ساتھ کیا ہے۔
جوشؔ کی مرثیہ نگاری کا دوسرا دور ان کی پاکستانی زندگی پر مشتمل ہے۔ اس دوران جوشؔ نے کل ۷؍ مرثیے کہے۔ اس دور کے تمام مرثیوں میں خدمت نوع بشر، واقعہ ٔ کربلا کا سیاسی و سماجی پس منظر، قوم کی بے عملی، مردہ ضمیری، انسانی معاشرہ پر ملوکیت اور جبر شاہی کے مہلک اثرات اور عصر حاضر میں حسین ؑ کی ضرورت یہ اجزا قدر مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دور کے تمام مرثیوں کے لیے جوشؔ نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جس میں وہ فلسفیانہ انداز میں موضوع کی مناسبت کے حوالے سے عظمت انسان کے نقوش و نشانات کی نشان دہی کر سکیں۔ موجد و مفکر، وحدت انسانی، موت و زندگی، قلم، آگ اور پانی جیسے موضوعات ان کی فکر کے فلسفیانہ رخ کی وضاحت کرتے ہیں۔اس دور کے تمام مرثیوں میں جوشؔ نے امام حسین ؑ کی شخصیت کو ایک ایسے خادم انسانیت کے طور پر پیش کیا ہے جس نے اپنی جان نثار کر کے بقائے انسانیت کویقینی بنایا۔جوشؔ موجد و مفکر میں انسانی تمدن کے ارتقا اور سائنسی ایجادات کے افادی پہلوؤں کی قصیدہ خوانی کریں یا وحدت انسانی میں عالم انسانی کو اتحاد و محبت و اخوت کا درس ان کا مقصود اصلی ہو، ان ذیلی موضوعات کو براہ راست رثائی فضا سے مربوط کرتے وقت گریز کے موقع پر انہوں نے امام حسین ؑ کے کردار کے حوالے سے جو اشاراتی انداز اختیار کیا ہے اس سے ان کے تخلیقی موقف کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ امام حسین ؑ کی ذات کو ہردور کے انسان کے لیے مخزن ہدایت اور خادم انسانیت کے طورپر پیش کرتے ہیں۔
تھا انہیں آبائے انسانی میں اک مرد جلیل
قبلہ ٔ عالم، امام عصر، امیر بے عدیل
اعتبار موج کوثر، آبروئے سلسبیل
فخر اسمٰعیل، جانِ مصطفیؐ ، نازِ خلیل ؑ
محور گیتی و گردوں مرکز دنیا و دیں
مہبطِ آواز حق ، مخدوم جبریل امیں
جوشؔ کے مراثی پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان میں مرثیت نہیں ہوتی اور وہ غم انگیز اور الم ناک فضا بھی نہیں ملتی جو مرثیہ کا تقاضا ہے۔ دراصل یہ اعتراض روایتی مرثیہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مرثیہ جب روایتی اجزا کے حصار سے آزاد ہو ا تو بینیہ اور بکائیہ جزو بھی مختلف انداز میں نظم ہوئے۔ جوشؔ جب مصائب کا بیان کرتے ہیں تو شہدائے کربلا کی شہادت کے تفصیلی بیان کے برعکس اجمالی طور پر غم انگیز تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خصوصی توجہ اس بات پر دیتے ہیں کہ شہادت کی فلسفیانہ توضیح کے ذریعہ عزم وعمل کے جذبہ کو مہمیز کریں۔ مثلاً
جوئے خوں میں جو دلیروں کے سفینے آئے
چند پیاسے جو لہو موت کا پینے آئے
مرد جب سر سے کفن باندھ کے جینے آئے
شہریاری کو پسینے پہ پسینے آئے
نبض آقائی ابلیس ہوس چھوٹ گئی
فقر کی ضرب سے شاہی کی کمر ٹوٹ گئی
اللہ، اللہ جہاں کوب حسینی اصحاب
جن کے دریائے شجاعت میں دو عالم غرقاب
اکبر ؑ و ابن مظاہر کا نہیں کوئی جواب
وہ لڑکپن کی جوانی یہ بڑھاپے کا شباب
دونوں جاں باز تھے دونوں ہی جری کیا کہنا
مشعل ِ شام و چراغِ سحری کیا کہنا
جوشؔ کے مرثیوں میں بکا و بین کے متعلق ایک واضح نقطہ ٔ نظر ملتا ہے۔ جوشؔ کے مرثیوں میں شہادت حسین ؑ یا اس کے بعد کے بیان سے افسردگی و یاس کے جذبات نہیں ابھرتے بلکہ کامرانی و فتح مندی کا باب کھلتا ہے۔یہی سبب ہے کہ جوشؔ کے مراثی میں مایوسی کی فضا نہیں ہے بلکہ ایک پرجوش اور ولولہ آمیز ماحول ملتا ہے جو زندگی کی باطل کی قوتوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔وہ مرثیہ میں بین کے متعلق ایک واضح تخلیقی نظریہ رکھتے تھے جس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ہلال نقوی سے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’ مرثیہ گو کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بکا پر تان ٹوٹے ، لکھتے وقت کوئی مصرع یا بند رقت قلب کا آجائے تو وہ اور بات ہے لیکن اس کی نیت یہ نہ ہو کہ رلا کر اٹھائے بلکہ جھنجھوڑ کر اٹھائے ۔ باطل سے ٹکرانے کی حرارت، سلطان جابر کے سامنے حرف حق کہنے کی جرات اور جذبہ تاسی حسین ؑ، ان چیزوں کا پیدا کرنا مرثیہ گو شاعر کا فرض ہونا چاہئے۔‘ جوشؔ کے اس بیان سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جوشؔ شہادت حسین ؑ پر گریہ و شیون کے مخالف ہیں بلکہ وہ مصائب امام پر بہائے گئے آنسوؤں میں شرار زندگی دیکھنے کے خواہاں تھے۔
جوشؔ نے مرثیہ نگاری میں مقصدیت کے تصور کو استحکام عطا کیا۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے انگریز حکومت کی مخالفت کو مطمح نظر بنا کر مرثیے کہے تو ان کی پاکستان ہجرت کے بعد بھی ان کے مرثیوں میں عصری روح اپنے تمام تر سماجی و سیاسی اور معاشی حوالوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جوشؔ نے واقعہ ٔ کربلا کو محض ایک رسمی اور روایتی بیان کے طورپر نہیں پیش کیا بلکہ بیسویں صدی کے سماج میں اس صنف کی افادیت پر خصوصی توجہ دی ۔ انہوں نے جس بے باکی اور صاف گوئی کے ساتھ استحصالی قوتوں کو للکارا ہے ، ان کی یہ جرات مندانہ بیباکی پاکستان کے سیاسی تناظر میں اس لیے قابل ذکر ہے کہ وہاں کے سیاسی نظام اور حکومت کے رعب کے سبب پاکستان کے کئی اہل قلم حضرات نے مصلحت کوشی اور تملق پسندی کی راہ اختیار کر لی تھی ۔ جوشؔ کی بیباکی اور بلند آہنگی نے نئی نسل کے جدید مرثیہ نگاروں کے قلم کو طاقت اور فکر کو توانائی عطا کی ۔جوشؔ نے مرثیہ نگاری میں جس نئے تخلیقی موڈ کی طرح ڈالی تھی اس نے بیشتر جدید مرثیہ نگاروں کو متاثر کیا اور ہند و پاک کے بہت سے جدید مرثیہ نگاروں کے یہاں جوشؔ کا پرتو واضح طور پر نظر آتا ہے۔


ڈاکٹر جمال رضوی شعبہ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔تنقید اور صحافت ان کا خاص میدان ہے۔ ایک کتاب ’سخن شناسی ‘ شائع ہوکر اردو حلقے میں مقبول ہوچکی ہے۔

Ismat Chughtai Ahtejaj … by Rafia Sarfaraz

Articles

عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی ، ایک جائزہ

رفیعہ سرفراز

اُردو ادب سے وابستگی کے بعد عصمت چغتائی  کے افسانوں سے نصابی سا ربط رہا ۔
بہت زیادہ غور و فکر کا موقعہ نہ مل سکا،  کچھ نصابی مجبوریاں اور کچھ ادب سے انٹرٹینمنٹ کا کام لینے کا رویہ آڑے رہا،  اس دوران ڈاکٹر فرزانہ کوکب جو ہماری ٹیچر ہی نہیں  کڑکتی دھوپ میں  سایہِ مہرباں کا سا درجہ رکھتی ہیں سے عقیدت محبت اور خلوص کا تعلق  رہا ۔ لیکن ادب اور خاص طور  پر عصمت چغتائی کے فن کے حوالے سے وہ اِدراک و شعور نصیب نہ ہو سکا جو ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسسز عصمت چغتائی  روایت شکنی سے روایت سازی تک، کے مطالعے کے دوران میرا نصیب بنا
میں  نے سر قاضی عابد کی بکس پہ اپنے مختصر مطالعہ و جائزہ میں  بھی لکھا تھا کہ یہ میری طالب علمانہ کاوش ہے لہذا اسے تنقیدی مضمون نہ سمجھا جائے
یہی گزارش اب بھی ہے کہ میرا یہ حاصل مطالعہ جانبدارانہ ہوگا کیونکہ میڈم سے میرا احترام محبت و عقیدت کا رشتہ ہے ان سطور میں،  میں  اپنا مطالعہ اور وہ شعور پیش کر رہی ہوں  جس کا اِدراک مجھے اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ہوا
یہ کتاب فکشن ہاوس نے شائع کی،  قیمت اس مہنگائی کے دور میں  مناسب اور کتابت و سرورق خوبصورت اور عنوان،  عصمت چغتائی روایت شکنی سے روایت سازی تک اس سے بھی زیادہ پرکشش اور قاری کو متوجہ کر دینے والا ۔
انتساب میڈم نے اپنے بچوں  اور شوہر کے نام کیا ہے جو ہماری یونیورسٹی کی روایت ہے اس سے قبل سر قاضی عابد بھی اپنی ایک کتاب کو اپنی شریکِ حیات کے نام معنون کر چکے ہیں ۔ یہ ہمارے مشرقی کلچر کی روایت بھی ہے۔
کتاب کا پیش لفظ سر قاضی نے لکھا ان کے بقول باغی اور مضطرب روحیں ایک دوسرے کی تلاش میں  سفر کرتی ہیں  گویا عصمت کا میڈم فرزانہ سے ایک باغیانہ اور روایت شکنی کی نسبت سے ایک تعلق ہے اور وہ ان باغیانہ روایات کی امین ٹھہریں  جس کی ابتدا عصمت کر چکی ہیں ۔
کتاب کا تعارف قاضی جاوید صاحب نے لکھا اور بڑے اختصار کے ساتھ عصمت کے ادبی مقام و مرتبہ اور اس پہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب کے تھیسسز و تجزیاتی مطالعے کا ذکر کیا پسں ورق پہ معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی راہے اس کتاب کی علمی حثیت کو وقار بخش رہی ہے
،حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا،  میں  میڈم نے اپنےاس تحقیقی مقالے میں  عصمت کے فن کے تذکرے کے ساتھ یونیورسٹی، شعبہ اُردو اور دوران تھیسسز تعاون کرنے والے مہربانوں کا ذکر شکریے اور محبت کے ساتھ کیا ۔
باب اول میں  عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے ۔
عصمت خانم،  منی بیگم،  بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں  کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا  یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں  عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، کاغذی ہے پیراہن سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی  نے کی جس کا حوالہ اس باب میں  موجود ہے ۔بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانےکی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا
 21 جولائی1915 سے 24 اکتوبر 1991 تک عصمت کی زندگی اس کی باغیانہ روش کی عکاس رہی حتی کہ اس وفات کے بعد  یہ ہنگامہ کچھ اور تیز ہوگیا
کیونکہ انھوں  نے اپنی لاش کی تدفین کے بجائے  جلانے کی وصیت کر دی تھی
زندگی بھر ہنگاموں  کے ساتھ جینے والی بقول جگدیش چندرودھان  موت کے بعد بھی ہنگاموں  کا موجب بنی رہی۔
باقاعدگی سے عصمت نے طالب علمی کے دور سے لکھنا شروع کیا  پھر افسانے ڈرامے ناول، ناولٹ اور خاکے لکھتی چلی گئی،  ڈاکٹر محمد  اشرف اس حوالے سے عصمت کو بسیار نویس کہتے ہیں،
انکی شخصیت کے مختلف پہلوؤں  کا ذکر کرتے ہوئے  میڈم فرزانہ کوکب لکھتی ہیں ۔
وہ محبت میں  احساسِ ملکیت کے خلاف تھیں،  عشق  میں  سستے جذبے اور جذباتی پن کی قائل بھی نہ تھیں ، عصمت عشق کو ایک فعال جذبہ بنانا چاہتی تھیں ، عشق ان کے نزدیک زندگی یا مقاصدِ زندگی کی انتہائی  منزل تھا
عصمت کو مفتوح ہونا پسند نہ تھا وہ برابر کا تعلق رکھنا چاہتی تھیں ۔عصمت کی شخصیت کا سب سے اہم اور لائقِ تحسین  پہلو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی تھیں کھلے عام تھیں ڈنکے کی چوٹ پہ یہ تھیں ۔
دوسرے باب میں افسانہ نگاری  پہ ایک جامع بحث کے بعد میڈم فرزانہ کوکب نے عصمت کے فن پہ کچھ یوں رائے دی ہے، عصمت کے پاس موضوعات  کا جتنا تنوع ہے اور جس طرح کے کردار انھوں نے پیش کیئے ہیں اور ان کی  اسلوبیاتی خصوصیات اور انفرادیت، ان سب کے باوجود  ناقدین نے سب سے زیادہ ان کے حوالے سے جس لفظ کا ڈھنڈورہ پیٹا وہ لفظ فحش نگاری ہے۔اور یہ الزام ان کی ہر تخلیق پہ لگا لیکن اس کے باوجود اس کے فن کو پذیرائی  اور اعتبار نصیب ہوا اس لیے کہ اس نے منافقت کے بجائے  اس معاشرے کا کچا چٹھا  بیان کیا ۔۔۔
تیسرا باب ناول نگاری پہ ہے،
اس سلسلے میں  میڈم فرزانہ کوکب نے بہت سے تجزیہ نگاروں  اور ناقدین کی آرا عصمت کے فن پر پیش کی ہیں۔ عصمت کے فنِ ناول نگاری پہ  ڈاکٹر حیات افتخار اپنی رائے  کچھ یوں دیتے ہیں،  عصمت چغتائی  پہلی ناول نگار  خاتون ہیں  جنھوں نے پہلے پہل اپنے ناولوں  میں  نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کیا انھوں  نے عورتوں کے جنسی و نفسیاتی مسائل  کو خود انھی کے نقطہ نظر سے ظاہر کیا اور جنسی گھٹن اور مردوں  کی بد عنوانی پہ قلم اُٹھایا۔
عصمت نے کل چھ ناول تخلیق کیئے ۔ضدی،  ٹیڑھی لکیر،  معصومہ،  سودائی،  جنگلی کبوتر اور واقعہ کربلا پر مبنی ناول قطرہ خون،  ان صفحات میں  ان ناولوں  کے کرداروں  کا نفسیاتی  تجزیہ اس فن کے ماہرین کی آرا اور ان کی کتب کے اقتباسات کے ذریعے کیا گیا ہے۔
عصمت معاشرے کی کمزوریوں  پہ بے دھڑک قینچی چلا دیتی ہے  یہ خیال کیئے بغیر کہ اس کی کاٹ کس دل پہ پڑتی ہے یا کس جان کا نقصان ہوتا ہے،
جس کا اظہار ان کے ناولوں  اور افسانوں میں  جا بجا ملتا ہے اس باب میں  ان تشبیہات  کے کئی حوالے بھی موجود ہیں
اس باب کے آخر میں  ان کے کربلا پہ لکھے ناول،  قطرہ خون، کے حوالے سے ان کی چند سہوا کی گی غلطیوں  کے تذکرے کے ساتھ  یہ موضوع سمٹ جاتا ہے۔
باب چہارم   عصمت کے ناولٹ،  خاکہ نگاری،  ڈراموں ، رپورتاژ اور آپ بیتی پہ ہے ابتدائی  سطور میں  ناولٹ اور ناول کے فرق کو بیان کرنے بعد ان کے مشہور ناولٹوں دل کی دنیا،  باندی،  عجیب آدمی کے تجزیے پر مشتمل ہے اور تمام کردار سماجی تضادات کی عکاسی کر رہے ہیں،  میرا دوست میرا دشمن، کے نام سے منٹو اور دوزخی کے نام سے منٹو پہ لکھے دو اہم خاکوں میں  سے منٹو کے حوالے سے عصمت کے خاکے پہ میڈم اپنا تجزیہ کچھ یوں پیش کرتی ہیں ۔
عصمت  چغتائی  جہاں  اس حقیقت کی قائل ہیں  کہ کسی بھی شخصیت کی خاص نفسیاتی  تشکیل میں  اس دنیا اور اہلِ دنیا کا بھی ایک خاص کردار ہوتا ہے اس طرح  وہ یہ بھی مانتی ہیں  کہ کسی بھی حساس شخص کی موت میں  دنیا اور اہلِ دنیا کی بے حسی اور ناقدری کا بہت دخل ہوتا ہے،
باب پنجم کے صفحات نہایت اہم ہیں  جہاں  میڈم فرزانہ کوکب اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے  رقم طراز ہیں کہ
تکنیک اور فن کے اعتبار سے سے دو یا تین ناولوں اور ناولٹوں کے علاوہ شاید عصمت چغتائی  کے کسی ناول کو بہت اعلیٰ  پائے کا نہ کہا جاسکے مگر عصمت کے مخصوص طرزِ فکر اور زبان و بیان کی انفرادیت کے باعث  یہ اُردو ناولوں  کے خزینہ میں  اچھا اضافہ قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔ ان کے بقول اُردو ادب میں  عصمت کی شخصیت جتنی بلند ہے اتنی متنازعہ،
آگے بڑھتے ہوئے  میڈم فرزانہ عصمت کے بارے لکھتی ہیں بیسویں  صدی کی خواتین لکھاریوں  کا ذکر عصمت چغتائی  کے ناولوں  اور افسانوں کو شامل کیئے  بغیر  لکھنا ممکن نہیں،  عصمت ایک صاحبِ طرز اور عہد ساز ادیبہ ہیں ان کے بعد آنے والے ادیبوں  نے ان کی جراءت و بے باکی کی پیروی کرنے کی کوشش کی ، جب تک دنیا میں  اُردو اَفسانہ زندہ رہے گا عصمت چغتائی  کی بطور ادیبہ اہمیت و ناموری زندہ حقیقت کے طور پہ موجود رہے گی،  ماخذ و کتابیات کی تفصیلی فہرست  کے ساتھ اس کتاب کی تکمیل ہو جاتی ہے۔عصمت چغتائی  کی شخصیت اور فن پر بہت سا مواد اور حوالہ  جات کا اس کتاب میں  جمع ہو جانا کئی حوالوں اور ماخذ کی تلاش سے قارئین کو بے نیاز کر دیتا ہے
ادب کا ذوق اور عصمت کے فن سے دلچسپی رکھنے والوں  کے لیے یہ کتاب ایک بڑا سرمایہ ہے،  اللہ میڈم  فرزانہ کے قلم کو روانی اور انھیں  طویل عمر عطا کرے اور ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں  پہ قائم  رکھے . وہ ہمارے شعبے کا وقار اور ادبی دنیا کامعتبر نام ہیں

How to Write A Short Story by Mansha Yaad

Articles

افسانہ کیسے لکھیں؟

منشا یاد

(انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام نوجوانوں قلم کاروں کی منعقدہ ورکشاب سے خطاب 2008)

عزیر طالبات!!!!

سب سے پہلے تو میں اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو مجھے یہاں آ کر اور یہ جان کر ہو ئی کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی جیسے ملک کے نہایت اعلیٰ اور مقتدر ادارے میں آپ جیسے طلباء موجود ہیں جو افسانہ لکھنا اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔شاہد آپ کو معلوم ہو کہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر نوجوانوں افسانہ نگاروں کو کسی معاوضے کے بغیر فنی اور تکنیکی مشورے دینے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں نوجوان لکھنے والے اکثر مجھے اپنے افسانے بھجواتے اور سوالات کرتے رہتے ہیں ان سوالات اور مشکلات کو سامنے رکھ کر جو نوجوان طلباء کو پیش آتی رہتی ہیں میں نے فن افسانہ نگاری کے بارے میں ابتدائی اور بنیادی معلومات پر مشتمل کچھ نوٹس مرتب کئے ہیں ۔ آپ کے سامنے بھی انہی پر بات ہو گی کسی بھی فن میں کوئی نیا تجربہ کرنے سے پہلے اس فن کی مبادیات اور نصابی باتوں سے آگاہ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ آخر میں اگر وقت ملا تو آپ کے سوالوں کے بارے میں الگ سے بات کریں گے ۔

افسانہ یا کہانی کیا ہے:

آپ جانتے ہیں کہ کہانی سے انسان کا بہت قدیمی ساتھ ہے شاید تب سے جب اس نے بولنا سیکھا تھا یا شاید اس سے بھی پہلے جب وہ زمین پر لکیریں کھینچ کر اور اشاروں سے اپنے ساتھیوں کو شکار کے وقت پیش آنے والے واقعات بتاتا ہو گا مظاہر فطرت یا کسی عجیب و غریب جانور کو پہلی بار دیکھ کر اپنی حریت اور خوف کا اظہار کرتا ہو گا ۔پھر جب یہ انداز ہوا کہ بعض لوگ کوئی واقعہ لطیفہ یا سرگزشت زیادہ دلچسپ طریقے سے بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو قصہ گوئی یا قصہ خوانی ایک آرٹ تصور ہونے لگا ۔ پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا جو اگلے وقتوں کی یادگار ہے ۔پھر قصہ اور کہانی نظم کی صورت میں کہا اور گایا جانے لگا ۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ ہمارے ہاں بسوں میں گا کر چھوٹے چھوٹے دلچسپ قصے بیچے جاتے تھے ۔ شاہد اب بھی کہیں کہیں بیچے جاتے ہوں ۔ جب انسان نے لکنا پڑھنا سیکھ لیا تو کہانی نثری اسلوب میں لکھی جانے لگی اور ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور حکاتیوں ،تمثیلوں ،لوک کہانیوں ،مثنویوں اور منظوم داستانوں کی صورت مسلسل آگے بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ یہ نثری ادب کی ایک اہم شاخ قرر پائی ۔

یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ کہانیوں تہذیب و ثقافت کی اہم ترین عکاس اور مظہر (important aspect of culture) ہوتی ہے ۔ انسانی تہذیبیں کہانیوں میں پیش ہی نہیں ہوتیں ان سے شناخت بھی ہوتی ہیں ۔حکاتیوں، روایتوں اور تمثیلوں کی صورت یہ تفریح اور تعلیم کا قدیم ترین اور اولین ترین انسانی وسیلہ اظہار ہیں ۔ قدیم مصر، میسو پوٹیمیا (عراق)، یونان ،چین اور انڈیا میں ان کا خاصا سرمایہ موجود ہے، قدیم ترین زمانے کی کہانیوں اساطیر اور بعض اوقات عقاید کا روپ اختیار کرلیتی ہیں ۔ مذاہب میں بھی قصہ اور کہانی کے ذریعے تبلیغ اور اصلاح کا کام لیا گیا ۔ بدھ کی جاتک کہانیاں مشہور ہیں ۔ قرآن پاک میں بھی دیگر قصوں کے علاوہ حضر ت یوسف کا قصہ موجود ہے جس احسن القصص کہا گیا ہے ۔

مختصر کہانیاں (افسانے) ناول کے مقابلے میں مختصر اور کم پیچیدگی کی حامل ہوتی ہیں اور عام طور سے کسی ایک واقعہ، ایک پلاٹ، ایک سیٹنگ، تھوڑے کرداروں اور وقت کے کم دورانیہ تک محدود ہوتی ہیں ۔لیکن ان کا تاثر گہرا اور دیرپا ہو سکتا ہے ۔

بیانیہ :(Narrative)

بیانیہ کا لفظ کہانی کے مترادف یا ہم معنی (synonym)کے طور پر برتا جاتا ہے۔
کہانی کے اس اسلوب کو جس میں فرضی یا حقیقی سلسلہ واقعات کو کسی خاص ترتیب سے فنی یا ادبی روپ دیا جائے بیانیہ کہتے ہیں ۔ یہ تحریری، زبانی، نثر اصناف اور فکشن کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے ۔ اس میں عوماً مصنف (ادیب، مقرر یا خطیب) قاری یا سامع سے بلاواسط اور براہ راست مخاطب ہوتا ہے ۔
بیانیہ کی اقسام:

بیانیہ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ یا اصطلاح ہے، وسیع تر معنوں میں بیانیہ کا اطلاق تمام افسانوی تحریروں پر ہوتا ہے ۔ یہ بلاغت (Rhemtorical modes) کے ذریعوں یا وسلیوں (modes)
میں سے ایک ہے
فکشن (fiction):

فکشن (fictionn) ایسی تصوراتی یا فرضی تحری رکو کہتے ہیں جوفیکٹس (facts) کے برعکس حقیقی اور سچی نہ ہو (لیکن یہ لازم نہیں ہے) ۔ اس کا مقصد لکھنے والے پیغام یا نقطۂ نظر دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے یا یہ فقط وقت گزاری اور تفریح کیلئے بھی ہو سکتی ہے ۔عام طور پر قصہ ،کہانی ،حکایت ،فسانچہ ،ناول ،ناولٹ ،تمثیل ،ڈراما وغیرہ فکشن کی مختلف شکیں ہیں ۔ (تا ہم صرف یہی شکلیں نہیں) وقت کے ساتھ ساتھ اس میں سکرین پلیز ،وڈی وفلمیں ،کارٹوں کتابیں ،آڈیو وڈیو بکس وغیرہ بھی شامل ہو گئی ہیں ۔

نان فکشن (non-fiction):

فکشن کے برعکس ایسی تحریریں جن کو سچائی کے دعوے کے ساتھ پیش کیا جائے (چاہے وہ سچی ہوں یا نہ ہوں) نان فکشن کہلاتی ہیں ۔
عام طور پر تاریخ (ہسٹری)، علمی مضامین ،ڈاکو میٹریز ،سائنسی مقالات ،سوالخ عمریاں ،نصابی کتب ،فوٹوز ،وڈیو گیمز، کمپیوٹر گیمز ،بلیو پرنٹس ،سفر نامے ،صحافتی تحریریں وغیرہ نان فکشن کی ذیل میں آتے ہیں ۔سادگی ،سچائی اور صفائی (clarity) اس کی اہم ترین خصوصیات ہیں ۔

افسانہ (SHORT STORY):

اردو میں فکشن کیلئے افسانہ کی اصطلاح رائج ہے جس میں فکشن یا افسانوی ادب کی دیگر ساری انواع (modes) قصہ ،کہانی ،ناول ،ناولٹ ،مختصر افسانچے ،اور سکرین پلے سب ہی شامل تھے لیکن آہستہ آہستہ لفظ صرف شارٹ سٹوری (مختصر کہانی) کیلئے استعمال ہونے لگا ہمارے ہاں کہانی کا لفظ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ۔لیکن بعض لوگ (میرے سمیت) کہانی اور افسانے میں فرق روا رکھتے ہیں اس طرح کہانیاں واقعہ نگاری کے قریب ہوتی ہیں ۔یہ سیدھی ،سادہ اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں جیسے سچی کہانیوں اور تین عورتیں تین کہانیاں وغیرہ ۔ اس کے برعکس جس کہانی میں لکھنے والا زیب داستان اور معنوں گہرائی کیلئے اپنا فن ،فکر ،تخیل ،تجزیہ اور نقطہ نظر شامل کر کے اسے خلاقانہ اور فنی پیش کش بنادے اسے فسانہ کہیں گے اسی لیے عام گفتگو ،میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے تو معمولی سی بات کا افسانہ بنا دیا ہے ۔ یوں تو انسائے لطیف یا نثری نظم کی طرح کے پلاٹ ،کردار اور کہانی پن کے بغیر بھی افسانے لکھے گئے اور اینٹی سٹور پز بھی لیکن میرے نزدیک افسانے میں کہانی یا کہانی کے عنصر کا ہونا ضروری ہے ۔ دلچسپی یعنی ریڈایلبٹی ،اختصار ،ایجاز اور وحدت تاثر اس کی اہم خصوصیات ہیں ۔

افسانے کی تریف:
ایک مغربی دانشور نے افسانے (مختصر کہانی ) کی ایک مختصر تعریف یوں کی کہ ایک مختصر کہانی ایسی کہانی ہے جو مختصر ہو۔
(a short story a story which is short)
لیکن سوال یہ ہے کہ کتنی مختصر ؟ وقت اور دورانیے پر ماہرین کا ہمیشہ اختلاف رہا اور یہ کہانی کو پہچاننے کا کوئی اچھا پیمانہ ثابت نہیں ہوا ۔ایک امریکی نقاد w.b.pitkin نے بھی نہایت اختصاد سے کام لیتے ہوئے کہا کہ
The Short story is a narrative drama with a single effiect

ظاہر ہے ایسی تعریفیں ،آسان اور دلچسپ ضرور ہیں لیکن مکمل نہیں ۔ایک اور نسبتاً جامع رائے ملا خطہ ہو:

سچی بات یہ ہے کہ افسانے کی ایسی کوئی مخصر ،جامع اور ہر لحاظ سے مکمل کرنا جس میں اس کی ساری خصوصیات سما جائیں آسان نہیں ہے ۔ ہر بار کچھ نہ کچھ رہ جاتا ہے ۔تا ہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
’’زندگی کے کسی ایک پہلو ،ایک واقعہ ایک جذبہ ،ایک احساس ،ایک خیال ،ایک تاثر ،ایک مقصد یا ایک ذہنی کیفیت کو ایجاز و اختصار کے ساتھ کہانی کی شکل میں اس خلاقاہ اور فنی طریقے سے بیان کرنا کہ اس میں اتحاد تاثر پیدا ہو جائے جو پڑھنے والے کے جدذبات و احساسات پر اثر انداز ہو ،افسانہ کہلاتا ہے‘‘

افسانے کا مقصد:
افسانے کا مقصد تفریح اور وقت گزاری بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ حیات انسانی کا عکاس اور نقاد بھی ہوتا ہے ۔آپ نئے لوگوں اور جگہوں سے تعارف حاصل کرتے ہیں ۔ ان سب لوگوں سے ملتے ہیں مگر ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ آپ ان لوگوں کی زندگی گزار سکتے ہیں جنہیں آپ نے دور سے دیکھا ہے ۔ اس طرح آپ اپنے آپ سے باہر نکل کر دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں اور آپ کہانیوں کے ذریعے دنیا اور لوگوں کو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے لگتے ہیں ۔ آپ کو زندگی کے بہت سے گر معلوم ہوتے ہیں اور آپ اپنی زندگی اور دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔

مختصر افسانہ کا موضوع (theme):
افسانے کا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہو تا ۔ زندگی اور سوسائٹی (بلکہ کا ئنات) سے متعلق کوئی بھی واقعہ ،جذبہ ،احساس ،تجربہ ،کیفیت ،مشاہدہ ،نفسیاتی ،فکری یا روحانی نکتہ افسانے کا موضوع بن سکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں افسانہ جس مقصد ،اصلاحی یا فکری پیغام ،خیال یا تھیم (آئیڈیا) کی خاطر لکھا گیا وہی اس کا موضوع تھیم ہو گی لیکن یہ نامحسوس طریقے سے اس میں مستور ہوگا ۔ادبی محفوں اور تنقیدی بحثوں میں ہم اکثر افسانے کے موضوع کے تعین کی کوشش کرتے ہیں ۔

ایک بات کا یہ ذکر یہاں ضرورت ہے کہ حقیقت پسندی کے موجود دور میں بعض لوگوں کو خیال ہے کہ کردار کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج کی نئی نسل میں ہر جگہ پلاٹ ،سسپنس اور جدوجہد (ACTION) کی کہانیوں مقبول ہیں اور ڈراموں ،فلموں اور ڈائجسٹوں کو بھی ان کی ضرورت رہتی ہے ۔ان میں کردار بہر حال موجود ہوتا ہے مگر کردار کے نفسیاتی مطالعہ کی بجائے اب ہم تھیمز (آئیڈیاز) کے زمانے میں ہیں ۔ جو کردار نگاری اور مخص قصہ گوئی سے زیادہ اہم ہے ۔ بے شک تھیم کو بھی کردار اور پلاٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن موضوع یا تھیم خود اپنا پلاٹ اور کردار تخلیق کر لیتی ہے ۔

افسانے کے بنیادی اجزاء (elements of fiction):
افسانے کے بنیادی اجزاء یا عناصر کے بارے میں مختلف ماہرین ،فکشن کے اساتذہ اور لکھنے والوں کی آراء میں اختلاف پایا جا تا ہے ۔بعض کے نزدیک فکشن کے تین اجزاء پلاٹ ،کردار اور سیٹنگ (جگہ اور فضا) اہم تر ہیں ۔ بعض کے خیال میں اس میں نکتہ نظر (پوائنٹ آف ویو) کو بھی شامل ہونا چاہیے کہ افسانہ کسی کردار کے پوائنٹ آف ویو سے لکھا جا رہا ہے ۔ بعض ماہرین فن کا خیال ہے کہ مکالمہ بھی بے حد اہم جزو ہے ۔مرکزی خیال یا تھیم اور ٹیکنیک یا سٹائل کو بھی بعض ماہرین اہم تصورکر تے ہیں ۔ ان پانچ اجزاء میں سے کردار ’’کون‘‘ ،پلاٹ ’’کیا اور کیوں ‘‘سیٹنگ’’ کب اور کہاں ‘‘اور سٹائل ’’کیسے‘‘ہے ۔تھیم کو آپ وی مرکزی خیال کہہ سکتے ہیں جس کے گرد لکھنے والا کہانی بنتا ہے ۔

ایک دوسرے دانشور اور ماہرین کے نزدیک افسانے کے اہم اجزائے ترکیبی (Elements) درج ذیل ہیں :
1 -پلاٹ – ۲۔ کردار ۳۔سینٹگ یا فضا ۴۔ نقطہ نظر ۵۵ اسلوب نگارش ،موڈ اور زبان وبیان ۶ ۔ موضوع ۷ علامت نگاری ،تمثیل اور عکس

پلاٹ:
پلاٹ افسانے یا کہانی کا بنیادی جزو ہے ۔یہ کہانی کا خاکہ ہے یہ واقعات ،سلسلہ واقعات اور جدوجہد یا عمل کو ترتیب دینے کا نام ہے ،جس سے کہانی میں معنی اور اثر پیدا ہوتا ہے ۔یہ واقعات مرکزی کرادر کو پیش آنے والے تصادم یا مشکلات سے پیدا ہوتے ہیں جو یا تو بیرونی عناصر جیسے موسم ،زلزلہ ،بیماری یا موت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں یا کسی دوسرے کردار کی مخالفت ،لالچ ،مفاد پرستی اور بے وفائی کی وجہ سے، چوں کہ مرکزی کردار ان تصادمات سے نپٹنے کیلئے جدوجہد کرتا ہے اس لیے پلاٹ وجود میں آتا ہے ۔پلاٹ سادہ، پیچیدہ ،ڈھیلا ڈھالا اور غیر منظم ہو سکتا ہے ۔ بعض کہانیوں میں مصنف یہ واقعات منطقی ربط کے ساتھ سلسلہ وار جیسے کہ وہ پیش آئے بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔لیکن بعض کہانیوں میں فلیش بیک کی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے پہلے پیش آ چکے واقعات بعد میں بیان کیے جا سکتے ہیں ۔
قریب سے دیکھیں تو پلاٹ عمل اور ردعمل پر مشتمل ہوتا ہے ذرا دور سے دیکھیں تو پلاٹ کا ایک آغاز ایک درمیان اور ایک انجام ہوتا ہے ،پلاٹ کو عام طور پر ایک قوس سے ممشتل کیا جاتا ہے ،منظر یا سین بھی اس کا حصہ ہے ۔منظر ڈرامے کا عنصر ہے ،ہم سب ہر لمحہ کسی منظر میں ہو تے ہیں اور فلم کی سٹلز کی طرح منظروں میں حرکت کرتے ہیں ،افسانے کی بیانیہ ساخت عام طور پر کلائمکس کے حوالے سے ہوتی ہے ۔
ایک روایتی افسانے میں آہستہ آہستہ مرکزی کردار کیلئے واقعات میں الجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا ہونے لگتی ہیں جو انتہائے تصادم یا نقطہ عروج (کلائمکس) پر جا پہنچ جاتی ہیں ۔کلائمکس کے بعد سلجھاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے ۔اور آخر کار معاملات جن کے سدھرنے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہوتی ، سلجھ جاتے یا ہمیشہ کے لیے بگڑ جاتے ہیں اور افسانے کا اختتام ہو جاتا ہے

کردار یا کردار کی پیش کش (characterisation):
کردار کو افسانے کا نہایت بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے ۔یہ کہانی کے اندر جدوجہد میں مصروف شخص یا اشخاص ہو تے ہیں ۔لیکن یہ انسانی کرداروں کے علاوہ بھی ہو سکتے ہیں ۔کرداروں کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں ۔
۱۱۔بیان کنندہ (جس کے پوائینٹ آف ویو سے کہانی یا واقعات کو دیکھا اور بیان کیا جاتا ہے) یہ کہانی کا مرکزی کردار بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ بھی ۔
۲۔ کہانی کا مرکزی کردار (Protagonist) جیسے فلم یا ڈرامے کا ہیرو
۳۔مرکزی کردار کا حریف (Antagonist)
۴۔ ادنیٰ کردار (Minor Character) کہانی کو آگے بڑھانے والے مددگار اور کم اہمیت کے حامل کردار ۔
۵۔مزاحم کردار (Foil Character) جو مرکزی کردار کے ارادوں اور عمل میں مزاحم ہوں ۔
۔ماحول یا فضا (setting):
سیٹنگ کا کہانی کے مقام (جگہ) ،وقت اور زمانے سے تعلق ہے ۔یہ جگہ حقیقی یا فرضی بھی ہو سکتی ہے اور ہماری دنیا کے علاوہ کائنات کا کوئی دوسرا مقام بھی ہو سکتا ہے، علامہ اقبال کی مشہور نظم ’’حقیقت حسن ‘‘میں ایک بہت خوبصورت ڈراما ہے جو بیک وقت زمین اور افلاک پر کھیلا گیا۔
۔ بیان کنبدہ اور نقطہ نظر کردار ((Pilot of view character):
ہر کہانی بیان اپنے کنندہ کا نقطہ نظر پیش کرتی اور اسی کے نقطہ نظر سے لکھی جاتی ہے وہی واقعات کو سنتا ،دیکھتا اور محسوس کرتا اور ہمیں اپنے نقطہ نظر سے چیزوں کے بارے میں بتاتا ہے ۔بیان کنندہ خود لکھنے والا بھی ہو سکتا ہے اور کہانی کا کوئی دوسرا کردار بھی ،نقطہ نظر مختلف طریقوں سے پیش کیا جا سکتا ہے ۔بیان کنندہ کے لئے زیادہ تر صیغہ متکلم (میں یا ہم) اور صیغہ غائب (وہ) استعمال کیا جاتا ہے شاز ہی صیغہ حاضر (تم)۔ اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق یہ کسی ناقابل اعتبار کردار کے ذریعے بھی بیان ہو سکتی ہے اور شعور کی روکی تکنیک کے ذریعے بھی ۔جس میں جیسے جیسے خیالات ذہن میں آتے جاتے ہیں انہیں داخلی مونو لاگ (خود کلامی) اور تلازمہ خیال (مونتاج) کے ذریعے پیش کر دیا جاتا ہے۔

۔اسلوب نگارش ،موڈ اور زبان و بیان ((style,tone&language):
کہانی کے اجزائے ترکبی میں اسلوب بھی ایک اہم جزو ہے ۔
افسانے میں جس انداز یا سلیقے سے قصہ بیان کیا جاتا ہے اور شعوری یا غیر شعوری طور پر ادیب جس قسم کی زبان ،انداز بیان ،گرامر ،فقروں کے ساخت ،لطیفیات ،پیراگرافنگ اور لب و لہجہ (ڈکشن) اختیار کرتا ہے اور اس کے اسٹائل یا اسلوب پر دلالت کرتا ہے ۔عام طور پر ہر لکھنے والا اسلوب کے حوالے سے الگ پہچان رکھتا ہے ۔

ٹیکنیک (TECHNIQUE):
مصنف کہانی کے واقعات کو جس طریقے ،سلیقے اور فنی ترتیب سے پلاٹ میں پیش کرتا ہے اسے ٹیکنیک کہتے ہیں ۔ ہر موضوع اور مواد کے مطابق اس کی ایک بہتری ٹیکنیک موجود ہوتی ہے اسے دریافت کر لینا ایک اچھے ادیب کا کام ہے ۔مواد کے تقاضوں کے مطابق موزوں تر ٹیکنیک سے افسانے کا تاثر گہرا ہو جاتا ہے ۔عموماً بیانیہ تکنیک استعمال کی جاتی ہے جس میں واحد غائب یا واحد متکلم و اقعات بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔خطوط کے ذریعے بھی واقعات بیان ہوتے ہیں جو سادہ مگر دلچسپ ٹیکنک ہے ۔ڈائری اور روزنامچے کے ذریعے بھی واقعات نگاری کی جاتی ہے ،سادہ بیانیہ کے علاوہ علامتی ،استعاراتی اور تمثیلی ٹیکنیکوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

زبان و بیان:
افسانہ لکھنے کیلئے مناسب تعلیم اور مطالعہ ضروری ہے ۔ اس کیلئے لکھنے والے کا اچھا انشاپرداز ہونا ضروری ہے وہ عام علمی اور ادبی الفاظ و اصطلاحات کا مفہوم جانتا ہو اسے فکشن کی مخصوص زبان اور لہجے کا علم ہو ۔ اسے کہانی کہنے کے فن سے دلچسپی اور آگاہی ہو ۔اس میں دیکھے ہوئے مناظر ،اشخاص اور باتوں کو ہو بہو لفظی تصویروں میں دوبارہ دیکھانے کی صلاحیت ہو ۔

جدیدر ججانات:
نئے علمی موضوعات اور نظریات کی روشنی میں افسانے میں ہر دور میں اور ہر سطح پر تبدیلیاں آتی رہیں ۔یہ کسی صنف ادب کے ارتقا کے لیے ضروری بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی مقام پر جمود کا شکار نہ ہو اور فکر ،موضوع ،ٹیکنیکی ،اسالیب اور نئے رجحانات سے خود کو دور یا بے خبر نہ رکھے ۔چنانچہ ساٹھ کی دہائی میں اردو افسانہ بھی نئے رجحانات سے روشناس ہوا ۔ اور علامتی ،استعارتی اور تجریدی افسانے لکھنے جانے لگے ۔ایسے افسانے کو علامتی افسانے کہا جاتا ہے ۔

علامت نگاری (Symbolism):
جب کوئی لفظ یا چیز اپنے لغوی معنوں کے علاوہ وسیع تر اور مخصوص معنوں بھی استعمال ہو تو اسے علامت کہتے ہیں۔ لفظ کے معنی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک لغوی اور ظاہری اور دوسرے باطنی جن کا کوئی مخصوص پس منظر ہوتا ہے یا اس ہے کوئی معاشرتی ،تہزیبی ،اساطیری ،مذہبی یا ادبی حوالہ یا واقعہ وابستہ ہوتا ہے اس طرح لفظ یا چیز کو استعمال کرنے سے جو جسے وسیع تر مفہوم حاصل ہوتا ہے اسے علامتی مفہوم کہتے ہیں اور علامتوں کو برتنے کے اسلوب کو علامت نگاری یا سمبلزم ۔

تمثیل نگاری (Allegory):
تمثیل کا لفظ مثل سے لیا گیا ہے ۔ایک ایسی حکایت یا کہانی جو کسی دوسری سیاسی ،مذہبی ،اخلاقی یا فلسفانہ صورت حال کی مثل ہو اور اس پر پوری طرح منطبق ہو سکے ۔دوسرے لفظوں میں یہ اپنی اصل کہانی کے علاوہ ایک علامتی مفہوم بھی رکھتی ہو۔ علامتوں کی طرح تمثیلیں بھی شخصی ،معاشرتی ،تمدنی ،اساطیری اور عالمی ہو سکتی ہیں ۔

تجریدیت (Abstractness):
یہ اصلاح مصوری سے ادب میں آئی ہے ۔ تجسیم کے برعکس یہ اشاراتی انداز بیان ہے ۔عام طور پر ایسی کہانیوں پلاٹ ،موضوع اور کرداروں کے بغیر ہوتی ہیں ۔واقعات اور تاثرات کو اشاروں کنایوں سے بیان کیا جاتا ہے اس لیے اکثر ابلاغ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔

شعور کی رو (Stream of Consciousness):
جیسے جیسے خیالات لکھنے والے کے ذہن میں آتے ہیں وہ انہیں داخلی مونولاگ یا خود کلامی کے انداز میں لکھتا چلا جاتا ہے ،تلازمہ خیال بھی اس کا ایک انداز ہے ۔بات سے بات پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور مجموعی طور پر تحریر میں ایک تاثر ساپیدا ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ساٹھ کہ دہائی میں اردو افسانے میں علامت نگاری کا جو رجحان عام ہوا تھا اسے عوام اور بعض نقادوں نے فوری طور پر قبول نہیں کیا تھا کیوں کہ نئے تجربوں کے دور میں جیسا کہ بالعموم ہوتا ہے اور اردو افسانہ بھی افراط و تفریط کا شکار ہوا اور اینٹی سٹوری اور کہانی کے بغیر انشائے لطیف یا نثری نظموں کی طرح کے افسانے بھی لکھے گئے لیکن آہستہ آہستہ ان نئے تجر بات میں پیچدگی اور اعتدال آتا گیا اورقارئین بھی وقت کے ساتھ ساتھ نئے انداز کی کہانیوں سے مانوس ہونے لگے ۔ستر کی دہائی تک آتے آتے اردو افسانے میں سارے اسالیب ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے اور ایک نہایت معتدل اور متوازن اسلوب غالب آگیا جس میں قصہ یا کہانی پن تو موجود ہوتا ہے مگر اسے نئے انداز سے پیش کیا جاتا ہے، افسانوں میں جدت اب صرف اسلوب تک محدود نہیں بلکہ معنی کے لحاظ سے بھی نئے خیالات کو افسانے کا معضوع بنایا جاتا ہے۔

میں بے حد شکر گزار ہوں ۔ آپ سب کا کہ آپ لوگوں نے اتنی توجہ اور دلچسپی سے میری باتیں سنیں اور مٰں ممنوں ہوں آپ کے اساتذہ اور منتظمین کا بھی جنہوں نے مجھے یہاں آنے اور مستقبل کے ادیبوں سے مخاطب ہونے کا موقع فر اہم کیا ۔
———————————————————

Nazm Tabaatabaii ki Sharh E Diwan E Ghalib

Articles

نظم طباطبائی کی شرح دیوان غالب

پروفیسر ظفر احمد صدیقی

نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی نکتہ سنجی و سخن فہمی سے بھی انھیں بہرۂ وافر ملا تھا۔ اس لیے انھوں نے مشرقی شعریات کو ذہن میں رکھ کر یہ شرح تصنیف کی ہے۔ نیز مختلف اشعار کی شرح کے دوران سخن فہمی کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ مشرقی شعریات سے واقفیت اور اس کے اطلاق و انطباق میں وہ بسا اوقات حالی و شبلی سے آگے نکل گئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ و معنی کی معرکہ آرا بحث کو لیجیے۔ حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۴ء) میں ابن خلدون کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی نکتہ سنجی و سخن فہمی سے بھی انھیں بہرۂ وافر ملا تھا۔ اس لیے انھوں نے مشرقی شعریات کو ذہن میں رکھ کر یہ شرح تصنیف کی ہے۔ نیز مختلف اشعار کی شرح کے دوران سخن فہمی کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ مشرقی شعریات سے واقفیت اور اس کے اطلاق و انطباق میں وہ بسا اوقات حالی و شبلی سے آگے نکل گئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ و معنی کی معرکہ آرا بحث کو لیجیے۔ حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۴ء) میں ابن خلدون کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
ابن خلدون اسی الفاظ کی بحث کے متعلق کہتے ہیں کہ انشا پردازی کا ہنر نظم میں ہو یا نثر میںمحض الفاظ میں ہے، معانی میں ہرگز نہیں۔ معافی صرف الفاظ کے تابع ہیں اور اصل الفاظ ہیں۔۔۔ الفاظ کو ایسا سمجھو جیسا پیالہ اور معانی کو ایسا سمجھو جیسا پانی۔ پانی کو چاہے سونے کے پیالے میں بھر لو اور چاہو چاندی کے پیالے میں اور چاہو کانچ یا بلور یا سیپ کے پیالے میں، پانی کی ذات میں کچھ فرق نہیں آتا۔
پھر اس سے اختلاف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
مگر ہم ان کی جناب میں عرض کرتے ہیں کہ حضرت اگر پانی کھاری یا گدلا یا بوجھل یا ادہن ہوگا، یا ایسی حالت میں پلایا جائے گا جب کہ اس کی پیاس مطلق نہ ہو تو خواہ سونے یا چاندی کے پیالے میں پلائیے، خواہ بلور اور پھٹک کے پیالے میں وہ ہرگز خوش گوار نہیں ہوسکتا اور ہرگز اس کی قدر نہیں بڑھ سکتی۔
یہی بحث شبلی نے بھی شعر العجم میں اٹھائی ہے۔ البتہ ان کا نقطۂ نظر حالی سے مختلف ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ ہی پر ہے۔ گلستاں میں جو مضامین اور خیالات ہیں، ایسے اچھوتے اور نادر نہیں۔ لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب اور تناسب نے ان میں سحر پیدا کردیا ہے۔ ان ہی مضامین اور خیالات کو معمولی الفاظ میں ادا کیا جائے تو سارا اثر جاتا رہے گا۔
اب یہی بحث طباطبائی کے یہاں ملاحظہ ہو۔ انھوں نے اپنے دعوے کو نہایت مدلّل ، مستحکم اور دل نشیں پیرائے میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی حالی کا نام لیے بغیر ان کے خیالات کا رد بھی کیا ہے۔ یہ بہت عمدہ بحث ہے، اس لیے طوالت کے باوجود مکمل طور پر نقل کی جاتی ہے:
ابن رشیق کہتے ہیںاکثر لوگوں کی راے یہی ہے کہ خوبیِ لفظ میں معنی سے زیادہ اہتمام چاہیے۔ لفظ قدر و قیمت میں معنی سے بڑھ کر ہے۔ اس سبب سے کہ معنی خلقی طور سے سب کے ذہن میں موجود ہیں۔ اس میں جاہل و ماہر دونوں برابر ہیں۔ لیکن لفظ کی تازگی اور زبان کا اسلوب اور بندش کی خوبی ادیب کا کمال ہے۔ دیکھو مدح کے مقام میں جو کوئی تشبیہ کا قصد کرے گا، وہ ضرور کرم میں ابر، جرأت میں ہِزَبر، حسن میں آفتاب کے ساتھ ممدوح کو تشبیہ دے گا۔ لیکن اس معنی کو اگر لفظ و بندش کے اچھے پیرائے میں نہ ادا کر سکا تو یہ معنی کوئی چیز نہیں۔ غرض کہ یہ مسلّم ہے کہ معانی میں سب کا حصہ برابر ہے اور سب کے ذہن میں معانی بہ حسبِ فطرت موجود ہیں اور ایک دوسرے سے معنی کو ادا کرتا رہتا ہے۔ کسی کاتب یا شاعر کو معنی آفریں یا خلّاقِ مضامین جو کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو معانی کسی کے قلم سے نہ نکلے تھے وہ اس نے بیان کیے۔ اور یہ شبہہ کرنا کہ ہر مضمون کے چند محدود پہلو ہوتے ہیں، جب وہ تمام ہو چکتے ہیں تو اس مضمون میں تنوع کی گنجائش نہیں رہتی، اب بھی اگر اس کی چتھاڑ کیے جائیں گے تو بجائے تنوع تکرار و اعادہ ہونے لگے گا، صحیح نہیں۔ تفنن و تنوع کی کوئی حد نہیں۔ مثلاً دو لفظوں کا ایک مضمون ہم یہاں لیتے ہیں: ’’وہ حسین ہے‘‘ اس میں ادنا درجے کا تنوع یہ ہے کہ لفظ حسین کے بدلے اس کے مرادف جو الفاظ مل سکیں انھیں استعمال کریں۔ مثلاً وہ خوبصورت ہے۔ وہ خوش جمال ہے۔ وہ خوش گِل ہے۔ وہ سندر ہے۔ اس کے اعضا میں تناسب ہے۔ حسن اس میں کوٹ کوٹ کے بھرا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد بہ دلالتِ قرینۂ مقام ذرا معنی میں تعمیم کر دیتے ہیں۔ مثلاً وہ آشوب شہر ہے۔ کوئی اس کا مقابل نہیں۔ اس کا جواب نہیں ۔ اس کا نظیر نہیں۔ وہ لاثانی ہے۔ وہ بے مثل ہے۔ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون میں ذرا تخصیص کر دیتے ہیں، لیکن ویسی ہی تخصیص جو محاورے میں قریب قریب مرادف کے ہوتی ہے۔ کہتے ہیں: وہ خوش چشم ہے۔ وہ خوب رو ہے۔ وہ موزوں قد ہے۔ وہ خوش ادا ہے۔ وہ نازک اندام ہے۔ وہ شیریں کار ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون کو تشبیہ میں ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس کا رخسار گلاب کی پنکھڑی ہے۔ وہ سیمیں تن ہے۔ اس کا رنگ کندن سا چمکتا ہے۔ اس کا قد بوٹا سا ہے۔ شمع اس کے سامنے شرماتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون کو استعارے میں ادا کرتے ہیں۔ مثلاً آفتاب سے اس طرح استعارہ کرتے ہیں: اس کے دیکھے سے آنکھوں میں چکا چوند آجاتی ہے۔
چاند سے استعارہ : وہ نقاب الٹے تو چاندنی چھٹک جائے۔
چراغ سے استعارہ     : اندھیرے میں اس کے چہرے سے روشنی ہو جاتی ہے۔
شمع سے استعارہ :  اس کے گھونگھٹ پر پردۂ فانوس کا گماں ہے۔
برق طور سے استعارہ:  موسیٰ اسے دیکھیں تو غش کر جائیں۔
آئینے سے استعارہ :  جدھر وہ مڑتا ہے، ادھر عکس سے بجلی چمک جاتی ہے۔
پھر اسی مضمون کو کنائے میں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً:
رنگ کی صفائی سے کنایہ :  وہ ہاتھ لگائے میلا ہوتا ہے۔
تناسب اعضا سے کنایہ :  وہ حسن کے سانچے میں ڈھلا ہے۔
خدا نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔
رنگ کی چمک سے کنایہ :  اس کے چہرے کی چھوٹ پڑتی ہے۔
چہرے کی روشنی سے کنایہ :  اس کے عکس سے آئینہ دریائے نور ہوجاتا ہے۔
دل فریبی حسن سے کنایہ :  بشر اسے دیکھ کر تلملا جاتا ہے۔
اس کے بعد تازگیِ کلام کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ خبر کو انشا کردیں:
اللہ رے تیرا حسن۔ تو اتنا خوب صورت کیوں ہوا؟ سچ بتا تو انسان ہے یا پری؟ کہیں تو حور تو نہیں؟ حور نے یہ شوخی کہاں پائی؟ تو خدائی کا دعوا کیوں نہیں کرتا؟ وغیرہ وغیرہ
پھر دیکھیے مرادفات میں کس قدر تنوع ہے اور کس قدر تازگیِ لفظ و محاورہ کو اس میں دخل ہے۔ تعمیم کے کتنے مراتب ہیں؟ تخصیص کے کس قدر درجے ہیں؟ تشبیہ کی کتنی صورتیں ہیں؟ استعارے کے کتنے انداز ہیں؟ کنایہ کی کتنی قسمیں ہیں؟ انشا کے کس قدر اقسام ہیں؟ پھر ان سب کے اختلاف ترتیب و اجتماع کو کسی مہندس سے پوچھیے تو معلوم ہو کہ ایک حسن کے مضمون میں تقریباً ’’لَا تُعَدُّ وَلَا تُخصٰی‘‘ پہلو نکلتے ہیں۔
اس گفتگو سے ایک طرف تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ مضمون واحد کو اسالیب متعددہ کے ذریعے پیش کرنے کا مشرقی تصور کیا ہے۔ دوسری جانب طباطبائی کے اندازِ فکر، قوت استدلال اور مشرقی شعریات میں رسوخ کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔
مشرقی انداز نقد کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی شعر میں لفظی و معنوی صنعتوں کی نشان دہی کر دی جائے۔ لیکن در حقیقت مشرقی تنقید کا امتیاز کسی متن میں موجود وجوہِ بلاغت کی دریافت اور پھر اس کی دل نشیں تعبیر ہے۔ فنی محاسن کی نشان دہی اس کا ایک ذیلی حصہ ہے۔ طباطبائی نے شرح غالب میں اس کے بہت سے عملی نمونے پیش کیے ہیں۔ ذیل میں بعض مثالیں ملاحظہ ہوں۔ غالبؔ کہتے ہیں:
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟ طباطبائی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
(۱) (ایک طائر چمن اور نشیمن سے جدا ہو کر اسیر ہوگیا ہے۔) اس مضمون پر فقط ایک لفظ ’’قفس‘‘ اشارہ کر رہا ہے۔
(۲)(اس نے اپنی آنکھوں سے باغ میں بجلی گرتے ہوئے دیکھی ہے اور قفس میں متردد ہے کہ نہ جانے میرا آشیانہ بچا یا جل گیا۔) اس تمام معانی پر فقط ’’کل‘‘ کا لفظ دلالت کررہا ہے۔
(۳) ( ایک اور طائر جو اس کا ہم صفیر و ہمدم ہے، وہ سامنے کسی درخت پر آکر بیٹھا ہے اور اسیر قفس نے اس سے رودادِ چمن کو دریافت کرنا چاہا ہے۔ مگر اس سبب سے کہ اسی کا نشیمن جل گیا ہے طائر ہم صفیر مفصل حال کہتے ہوئے پس و پیش کرتا ہے کہ اس آفتِ اسیری میں نشیمن کے جلنے کی خبر کیا سنائوں؟) اس تمام مضمون پر فقط یہ جملہ دلالت کرتا ہے کہ ’مجھ سے کہتے نہ ڈر ہمدم۔‘
(۴) علاوہ اس کثرت معانی کے اُس مضمون نے جو دوسرے مصرعے میں ہے تمام واقعے کو کیسا دردناک کردیا ہے۔ یعنی جس گرفتارِ قفس پر ایک ایسی تازہ آفت و بلاے آسمانی نازل ہوئی ہے، اس نے کیسا اپنے دل کو سمجھا کر مطمئن کر لیا ہے کہ باغ میں ہزاروں آشیانے ہیں، کیا میرے ہی نشیمن پر بجلی گری ہوگی؟
یہ حالت ایسی ہے کہ دیکھنے والوں کا اور سننے والوں کا دل کڑھتا ہے اور ترس آتا ہے اور یہ ترس آجانا وہی اثر ہے جو شعر نے پیدا کیا ہے۔ غرض کہ یہ شعر ایک مثال ہے دو بڑے جلیل الشان مسئلوں کی جو کہ آداب کا تب و شاعر میں اہم اصول ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ کہ ’’خَیْرُ الْکَلَامِ مَاقَلَّ وَ دَلَّ‘‘اور دوسرا مسئلہ یہ کہ ’’اَلشِّعْرُ کَلَامٌ یَنْقَبِضُ بِہِ النَّفْسُ وَیَنْبَسِطْ‘‘
اس سلسلے کی دوسری مثال ملاحظہ ہو۔ غالبؔ کہتے ہیں:
غالب ترا احوال سنادیں گے ہم ان کووہ سن کے بلالیں یہ اجارہ نہیں کرتے
اس کی شرح میں طباطبائی لکھتے ہیں:
شعر تو بہت صاف ہے، لیکن اس کے وجوہِ بلاغت بہت دقیق ہیں۔ بیچ والوں کا یہ کہنا (سنا دیں گے ہم ان کو) اس کے معنی محاورے کی رُو سے یہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح، کسی نہ کسی موقع پر ان کے مزاج کو دیکھ کر باتوں باتوں میں یا ہنسی ہنسی میں تیرا حال ان کے گوش گذار کردیں گے، اتنا ذمہ ہم کرتے ہیں۔ یعنی صاف صاف کہنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ غرض کہ یہ سب معانی اس لفظ سے مترشح ہیں، اس وجہ سے کہ اس کا موقع استعمال یہی ہے اور بہ التزام اس سے معشوق کا غرور اور تمکنت اور رعب و نازک مزاجی اور خود بینی و خودرائی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ فرض کرو اگر مصنف نے یوں کہا ہوتا کہ (کہہ دیں گے ہم اُن سے) تو اکثر ان معانی میں سے فوت ہوگئے ہوتے اور یہ کہنا کہ (اجارہ نہیںکرتے) اس کے کہنے کا موقع جب ہی ہوتا ہے جب کوئی نہایت ہی مصر ہو اور کہے کہ جس طرح بنے میرے ان کے ملاپ کرادو، نہیں تو تم سے شکایت رہے گی۔ غرض کہ اس فقرے نے عاشق کے اصرارِ بے تابانہ کی تصویر کھینچی ہے۔ ایک تو کلام کا کثیرالمعنی ہی ہونا وجوہِ بلاغت میں سے بڑی وجہ ہے، پھر اس پر یہ ترقی کہ اُدھر معشوق کی تمکنت و ناز اِدھر عاشق کی بے تابی و اصرار کی دونوں تصویریں بھی اس شعر میں جھلکی دکھا رہی ہیں۔
مشرقی شعریات میں مناسب الفاظ کی بھی خاص اہمیت ہے۔ طباطبائی نے درج ذیل شعر کی شرح میں اس پر اچھی روشنی ڈالی ہے:
وفا کیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟ یہ شعررنگ و سنگ میں گوہر شاہوار ہے۔ ایک نکتہ یہ خیال کرنا چاہیے کہ یہاں مخاطب کے لیے دو لفظوں کی گنجائش وزن میں ہے۔ ایک تو (بے وفا) دوسرے (سنگ دل) اور بے وفا کا لفظ بھی مناسبت رکھتا ہے معناً و لفظاً۔ اس سبب سے کہ اولِ شعر میں وفا کا لفظ گذر چکا ہے اور سنگ دل کا لفظ بھی معناً وہی مناسبت رکھتا ہے اور لفظاً بھی ویسی ہی مناسبت ہے، اس سبب سے کہ آخرِ شعر میں سنگِ آستاں کا لفظ  موجود ہے۔ لیکن مصنف نے لفظ  بے وفا کو ترک کیا اور سنگ دل کو اختیار کیا۔ باعثِ رجحان کیا ہوا؟ باعثِ ترجیح یہاں نزدیکی ہے۔ اور لفظ بے وفا کو وفا سے بہت دوری تھی۔
اہل بلاغت کے نزدیک انشا کو خبر پر ترجیح حاصل ہے۔اسی طرح کنایہ تصریح پر فوقیت رکھتا ہے۔ ان دونوں اصولوں کی توضیح شعرِ ذیل کی شرح میں ملاحظہ ہو:
کیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کونہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو؟
محبت سے غم خوار کی شفقت مراد ہے۔ اس شعر میں مصنف کی انشا پردازی داد طلب ہے۔ کیا جلد خبر سے انشا کی طرف تجاوز کیا ہے۔ (کیا غم خوار نے رسوا) بس اتنا ہی جملہ خبر یہ ہے اور باقی شعر انشا ہے، یعنی (لگے آگ اس محبت کو) کو سنا ہے اور دوسرا مصرع سارا ملامت و سرزنش ہے۔ دوسرا امر وجوہِ بلاغت میں سے مضمون سے تعلق رکھتا ہے، یعنی اپنے غم دل کی حالت بہ کنایہ ظاہر کی ہے، جس کے سننے سے غم خوار ایسا بے تاب و مضطر ہوا کہ اس کے اضطراب سے راز عشق فاش ہوگیا۔
انشا و خبر کے حوالے سے شعر ذیل کی شرح بھی لائقِ توجہ ہے:
مر گیا پھوڑ کے سر غالبِ وحشی ہے ہےبیٹھنا اس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس اوپر یہ بیان گذر چکا ہے کہ خبر سے زیادہ تر انشا میں لطف ہے، یعنی ’’اِنْشَاء اَوْقَعْ فِی الْقَلْبِ‘‘ہے۔ اسی سبب سے جو شاعر مشّاق ہے، وہ خبر کو ہی انشا بنا لیتا ہے۔ اس شعر میں مصنف نے خبر کے پہلو کو ترک کر کے شعر کو نہایت بلیغ کردیا، یعنی دوسرا مصرع اگر یوں ہوتا (بیٹھا کرتا تھا جو آکر تری دیوار کے پاس) یا اس طرح سے ہوتا (ابھی بیٹھا تھا جو آکر تری دیوار کے پاس) تو یہ دونوں صورتیں خبر کی تھیں۔ اور (ہے ہے بیٹھنا اس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس) جملہ انشائیہ ہے۔ اور (وہ) کا اشارہ اس مصرعے میں اور بھی ایک خوبی ہے جو اُن دونوں میں نہیں ہے۔
طبا طبائی کی یہ شرح اس قسم کے نادر نکات و مباحث سے بھری ہوئی ہے۔ شعر ذیل کی شرح میں انھوں نے ایجاز ، اطناب اور مساوات کے حوالے سے بھی بہت عمدہ گفتگو کی ہے:
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب اور تو غریب نواز
اس شعر میں(کچھ غضب نہ ہوا) کثیرالمعنی ہے۔ اگر اس جملے کے بدلے یوں کہتے کہ (مہربانی کی) تو لفظ و معنی میں مساوات ہوتی ایجاز نہ ہوتا اور اگر اس کے بدلے یوں کہتے کہ (مرا خیال کیا) تو مصرعے میں اطناب ہوتا، لطفِ ایجاز نہ ہوتا۔ یعنی اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا، مرا خیال کیا) اطناب ہے۔ اور اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا تو مہربانی کی) مساوات ہے۔ اور اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا) ایجاز ہے۔ اس سبب سے کہ یہ جملہ کہ ( کچھ غضب نہ ہوا) معنیِ زائد پر دلالت کرتا ہے۔ اس جملے کے توفقط یہی معنی ہیں کہ (کوئی بے جا بات نہیں ہوئی) لیکن معنی زائد اس سے یہ بھی سمجھ میں آتے ہیں کہ معشوق اس سے بات کرنا، امر بے جا سمجھے ہوئے تھا یا اپنے خلافِ شان جانتا تھا اور اس کے علاوہ یہ معنی بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اس کے دل میں معشوق کی بے اعتنائی و تغافل کے شکوے بھرے ہوئے ہیں۔ مگر اس کے ذرا بات کر لینے سے اس کو اب امید التفات پیدا ہوگئی ہے۔ اور اُن شکوئوں کو اس خیال سے ظاہر نہیں کرتا کہ کہیں خفا نہ ہوجائے۔ اس آخری معنی پر فقط لفظ غضب نے دلالت کی کہ اس لفظ سے بوے شکایت آتی ہے اور اس کے دل کے پر شکوہ ہونے کا حال کھلتا ہے۔ بہ خلاف اس کے اگر یوں کہتے کہ (مجھ کو پوچھا تو مہربانی کی) تو یہ جتنے معنی زائد بیان ہوئے، ان میں سے کچھ بھی نہیں ظاہر ہوتے۔ فقط (مہربانی کی) میں جو معنی ہیں وہ البتہ نئے ہیں، جیسے کہ وہ لفظ نئے ہیں۔ اور اگر یوں کہا ہوتا کہ (مجھ کو پوچھا مرا خیال کیا) تو نہ تو کچھ معنی زائد ظاہر تھے نہ کوئی اور نئے معنی بڑھ گئے تھے۔ یعنی (مرا خیال کیا) کے وہی معنی ہیں جو (مجھ کو پوچھا) کے معنی ہیں یا دونوں جملے قریب المعنی ہیں۔ غرض کہ (مرا خیال کیا) میں لفظ نئے ہیں اور معنی نئے نہیں۔ اس کے علاوہ ان دونوں مصرعوں میں شرط و جزا مل کر ایک ہی جملہ ہوتا ہے اور اس مصرعے میں دو جملے ہیں، اس سے ظاہر ہوا کہ اس مصرعے میں کثیراللفظ و قلیل المعنی ہونے کے سبب اطناب ہے اور مصنف کے مصرعے میں قلیل اللفظ اور کثیرالمعنی ہونے کے سبب ایجاز ہے اور جو مصرع باقی رہا اس میں لفظ و معنی میں مساوات ہے۔
اس سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہ کی خوبی و عمدگی سے متعلق بھی طباطبائی کی ایک عبارت نقل کردی جائے۔ غالبؔ کا شعر ہے:
اچھا ہے سرانگشت حنائی کا تصوردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
سرانگشت کا منہدی سے لال ہوکر لہو کی ایک بوند ہو جانا کیا اچھی تشبیہ ہے۔ دیکھو تشبیہ سے مشبہ کی تزئین و تحسین اکثر مقصود ہوتی ہے۔یہ غرض یہاں کیسی حاصل ہوئی کہ سرانگشت کی خوب صورتی آنکھ سے دکھا دی۔ دوسری خوبی اس تشبیہ میں یہ ہے کہ جس انگلی کی پور لہو کی بوند برابر ہو، وہ انگلی کس قدر نازک ہوگی اور کنایہ ہمیشہ تصریح سے بلیغ ہوتا ہے۔ پھر یہ حسن کہ وجہِ شبہ یہاں مرکب بھی ہے۔ یعنی بوند کی سرخی اور بوند کی شکل ان دونوں سے مل کر وجہِ شبہ کو ترکیب حاصل ہوئی ہے اور ترکیب سے تشبیہ زیادہ بدیع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اداتِ تشبیہ کے حذف و ترک سے تشبیہ کی قوت بڑھ جاتی ہے۔ مصنف نے بھی حذف ہی کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نئی تشبیہ ہے، کسی نے نظم نہیں کی۔ پھر یہ شانِ مشاقی دیکھیے کہ نئی چیز پا کر اس پر اکتفا نہ کی۔ اسی تشبیہ میں سے ایک بات یہ نکالی کہ دل میں ایک بوند تو لہو کی دکھائی دی۔ پھر کجا تصور کجا لہو کی بوند؟ دونوں میں کیسا بونِ بعید ہے اور تباین طرفین سے تشبیہ میں حسن اور غرابت زیادہ ہوجاتی ہے۔ (تو) کی لفظ نے مقامِ کلام کو کیساظاہر کیا ہے۔ یعنی یہ شعر اس شخص کی زبانی ہے جس کا لہو سب خشک ہوچکا ہے اور وہ اپنے دل کو ایک خیالی چیز سے تشبیہ دے رہا ہے۔ ترکیب وجہِ شبہ کے متعلق یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ جس طرح بوند کے معنی میں ٹپک پڑنا داخل ہے، یہی حال تصور کا خیال سے اتر جانے میں ہے، گوطرفین تشبیہ متحرک نہیں ہیں۔ غرض کہ یہ نہایت غریب و بدیع و تازہ تشبیہ ہے۔
طباطبائی کی یہ شرح اس قسم کے نادر نکات و مباحث سے بھری پڑی ہے، جب کہ دوسری شارحین غالب نے ان امور سے تعرض نہیں کیا ہے۔
اس شرح کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ مشرقی شعریات کے وہ اصول و نکات جو ہند ایرانی شعری روایات سے ماخوذ ہیں یا جو انیسویں صدی کے اواخر میں لکھنوی اساتذۂ سخن کے درمیان مروّج تھے یا جو خود طباطبائی کی ایجاد ہیں ان پر بھی اس طرح سے روشنی پڑتی ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کا ایک خاکہ پیش کیا جاتا ہے:
٭معنی شاہدِ کلام کی جان ہے اور محاورہ اس کا جسم نازنین ہے اور گہنا اس کا بیان و بدیع ہے۔ (غزل ۱۶۸؍شعر ۶)٭مضمونِ عالی وجہِ خوبیِ شعر ہے۔ (غزل ۲۲۰؍ش ۱)٭معانی میں نازک تفصیل ہمیشہ لطف دیتی ہے۔ (غ ۱۸۴؍ش۲)٭ندرتِ مضمون اور محاکات لطفِ شعر کے اسباب میں ہے۔ (غ۱۸۰؍ش۲)٭حسنِ بندش اور بے تکلفیِ اداتکلفِ معانی کو بڑھا دیتی ہے۔ (غ۔۱۷۹؍ش۵)٭محاورے کا حسن اور بندش کی ادا مضمونِ مبتذل کو تازہ کر دیتی ہے۔ (غ۱۷۵؍ش۲)٭بندش کے حسن اور زبان کے مزے کے آگے اساتذہ ضعفِ معنی کو بھی گوارا کر لیتے ہیں۔ (غ۱۶۱؍ش۱)٭دونوں مصرعوں کی بندش میں ترکیب کا تشابہ حسن پیدا کرتا ہے۔ (غ۲۰۳؍ش۷۔۸)٭ترکیب کے تشابہ اور الفاظ کے تقابل سے حسن پیدا ہوتا ہے۔ (غ۲۰۶؍ش۴)٭کلام میں کئی پہلو ہونا کوئی خوبی نہیں بلکہ سست و ناروا ہے۔ ہاں معانی کا بہت ہونا بڑی خوبی ہے اور ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ (غ۲۱۶؍ش۸)٭خوبی کثرتِ معنی سے پیدا ہوتی ہے نہ احتمالاتِ کثیر سے۔ (غ۹۶؍ش۵)٭شعر میں بیتی ہوئی زیادہ مزہ دیتی ہے۔ (غ۱۷۹؍ش۴)٭گل و بلبل اور شمع وپروانہ کا ذکر شعر میں جبھی تک حسن دیتا ہے، جب کوئی تمثیل کا پہلو اس میں صاف نکلے ۔(غ۲۰۰؍ش۳)٭بتوں کا ذکر اسی شعر میں اچھا معلوم ہوتا ہے، جہاں حسینوں سے استعارہ ہو، نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ (غ۲۳۲؍ش۶)٭تشبیہ مبتذل میں زیادتی معنی سے بلاغت بڑھ جاتی ہے۔ (غ۱۱۱؍ش۳)٭جس تشبیہ میں معنیِ میرورت ہوں، جو وجہ شبہ کے گھٹانے یا بڑھانے سے پید ا ہوگئے ہوں، وہ تشبیہ نہایت لذیذ ہوتی ہے اور سننے والے کے ذہن میں استعجاب کا اثر پیدا کرتی ہے۔ (غ۱۵۹؍ش۷)٭مبالغے میں افراط کہ مضمونِ غیر عادی و محال پیدا ہو جائے بہ اتفاقِ ائمۂ فن عیب قبیح ہے۔ (غ۱۹۶؍ش۲)٭مبالغہ جبھی تک حسن رکھتا ہے، جب تک واقعیت و امکان اس میں پایا جائے۔ (غ۱۹۳؍ش۲)٭جہاں مبالغہ کرنے کے بعد کوئی نقشہ کھنچ جاتا ہے، وہ مبالغہ زیادہ تر لطیف ہوتا ہے۔ خصوصاً جہاں وہ نقشہ بھی معمولی نہ ہو، بلکہ نادر و بدیع شکل پیدا ہو۔ (غ۱۹۶؍ش۲)٭جہاں محض ضلع بولنے کے لیے محاورے میں تصرف کرتے ہیں، وہاں ضلع برا معلوم ہوتا ہے اور جب محاورہ پورا اترے تو یہی ضلع بولنا حسن دیتا ہے۔ (غ۱۳۲؍ش۱)٭شعر میں یہ کہنا کہ ایسا ہو ویسا ہو، شعر کو سست کردیتا ہے۔ (غ۱۵۰؍ش۲)٭ایک ہی مطلب کو جب بار بار کہو تو اس میں افراط و تفریط پیدا ہو جاتی ہے۔ (غ۶۱؍ش۴)٭جس شعر سے کوئی شوخی معشوق کی نکلے، وہی شعر غزل کا اچھا شعر ہوتا ہے۔ (غ۹۸؍ش۳)٭غزل میں اخلاقی مضامین قافیے کی مجبوی سے کہے جاتے ہیں۔ (غ۲۱۰؍ش۴) معانی و بیان و بدیع کے اصولوں کی طرح مذکورہ بالا اصولوں کو بھی طباطبائی نے اپنے شرح میں برت کر دکھایا ہے اور ان کی روشنی میں غالبؔ کی تحسین کی ہے یا ان پر گرفت کی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر جگہ طباطبائی سے اتفاق کریں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس اندازِ نظر اور طریقِ کار کی بنا پر یہ شرح دوسری شرحوں سے ممتاز ہوگئی ہے۔ یہ ہم پر بحث و نظر کا دروازہ کھولتی ہے اور ہمارے اندر سخن فہمی کا ذوق پیدا کرتی ہے۔
طباطبائی کے کچھ لسانی مختارات بھی ہیں۔ ان میں بیشتر اواخر انیسویں صدی کے لکھنوی شعرا کے درمیان مقبول و مروّج تھے اور بعض وہ ہیں جن کا سر چشمہ طباطبائی کا اپنا مذاقِ سخن اورافتاد طبع ہے۔ ذیل میں اس کا بھی ایک خاکہ ملاحظہ ہو:
٭عربی فارسی لفظوں میں محاورۂ عام کا تتبع خطا ہے۔ (غ۲۰۴؍ش۵)٭ہندی لفظوں کی ترکیب فارسی الفاظ کے ساتھ درست نہیں۔ (غ۱۰۹؍ش۶)٭(اگر) درست ہے اور (گر) اہل لکھنؤ کے درمیان متروک ہے۔ (غ۱۴۹؍ش۱۰)٭(غلطی) کا لفظ ہندی ہے۔ فارسی ترکیب میں اس کو لانا اور فارسی کی جمع بنانا اور فارسی اضافت اس کو دینا صحیح نہیں۔ (غ۱۰۹؍ش۶)٭ترکیب اردو میں فارسی مصدر کا استعمال سب نے مکروہ سمجھا ہے۔ (غ۱۹۳؍ش۳)٭اردو میں اضافت ثقل رکھتی ہے۔ (غ۱۹۵؍ش۴)٭تین اضافتوں سے زیادہ ہونا عیب میں داخل ہے۔ (غ۱۹۵؍ش۴)٭عربی مصدر کو بہ معنی مفعول استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ مثلاً مطلب حصول ہوا۔ راز افشا ہوا۔ وغیرہ۔٭محاورے میں قیاسِ نحوی کو کوئی دخل نہیں۔ (غ۱۱۷؍ش۴)٭(کیونکر) کے مقام پر (کیونکے) اب ترک ہوگیا ہے۔ (غ۱۱۷؍ش۱۰)٭فارسی عربی کے جتنے لفظ ذو وجہین ہیں، ان میںمحاورۂ اردو کا اتباع کرنا ضرور ہے۔ مثلاً پیہم اور پئے ہم۔ (غ۱۲۴؍ش۱)٭ترکیب فارسی میں نحو فارسی کا اتباع ضرور ہے۔ (غ۱۳۹؍ش۶)٭(کشور ہندوستان) میں جس طرح کا اعلان نون ہے یہ لکھنؤ کے غزل گویوں میں ناسخؔ کے وقت سے متروک ہے۔ (غ۱۳۹؍ش۶)٭عربی لفظ میں عجم کا تصرف نا مقبول ہے۔ (غ۲۰۴؍ش۵)٭فارسی کا واوِ عطف اردو میں جبھی لاتے ہیں، جب مفرد کا مفرد پر عطف ہو اور دونوں لفظ فارسی ہوں۔ جیسے دل و دیدہ۔ ورنہ فارسی کا واوِ عطف لانا درست نہیں۔ جیسے دل و آنکھ۔ (غ۲۲۹؍ش۴)٭دو ہندی جملوں کے درمیان فارسی حرف عطف کے لانے سے لکھنؤ کے شعرا احتراز کرتے ہیں۔ مثلاً دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہ۔ (غ۲۲۹؍ش۴)٭لکھنؤ کے شعرا فارسی لفظ کے آخر سے حرفِ علت کا گر جانا جائز نہیں سمجھتے۔ مثلاً خاموشی کی (ی)۔ ناسخ کے زمانے سے یہ امرمتروک ہے۔ (غ۱۳۲؍ش۹)٭(کسی سے طرف ہونا) اب متروک ہے۔ (غ۱۳۴؍ش۳)
ان لسانی مختارات میں بھی رد و قبول کی ہر جگہ گنجائش موجود ہے۔ لیکن یہ بہر حال اس شرح کا امتیاز ہے کہ اس میں کلامِ غالب کے لیے انھیں محک و معیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اواخر انیسویں صدی کے لکھنوی لسانی مذاق کی ان سے نمائندگی ہوتی ہے۔
اس شرح کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ طباطبائی نے اس میں مختلف مناسبتوں سے اردوصرف ونحوکے قواعد پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس سے ان کے نکتہ رس ذہن اور جدت پسند طبیعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
(الف)
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
چھٹنا اور چھوٹناایک ہی معنی پر ہے۔ الف تعدیہ بڑھانے کے بعد ٹ کا ڑ کر دینا فصیح ہے۔ یعنی چھڑانا فصیح ہے اور چھٹانا غیر فصیح ہے۔ اور چھوڑنا اور چھڑانا دونوں متعدی ہیں چھوٹنا سے۔ چھوڑنا متعدی بہ یک مفعول ہے جیسے پھوٹنا سے پھوڑنا اور ٹوٹنا سے توڑنا اور چھڑانا متعدی بہ دو مفعول ہے۔ بعض متتبعینِ زبانِ دہلی کے کلام میں چھٹوانا دیکھنے میں آیا ہے۔ اہل لکھنؤ اس طرح نہیں کہتے۔
(ب) اسی غزل سے ایک دوسری مثال دیکھیں:
منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہاہوئی معزولیِ انداز و ادا میرے بعد
(کے)اس شعر میں اضافت کے لیے نہیں ہے، ورنہ (کا) ہوتا، جیسے کہتے ہیں کوئی اس منصب کا مستحق نہ رہا۔ بلکہ یہ (کے) ویسا ہی ہے جیسا میرا انیسؔ مرحوم کے اس مصرعے میں:
ع سرمہ دیا آنکھوں میں کبھی نور نظر کے
اس مصرعے پر لوگوں کو شبہہ ہوا تھا کہ میر صاحب نے غلطی کی ،یعنی (کی) کہنا چاہیے تھا۔ اسی طرح کہتے ہیں: ان کے منہدی لگا دی۔ جو لوگ نحوی مذاق رکھتے ہیں وہ اس بات کو سمجھیں گے کہ ایسے مقام پر (کے) حرف تعدیہ ہے۔ اور اسی بنا پر میں برقؔ کے اس مصرعے کو غلط نہیں سمجھتا جو مرثیے میں انھوں نے کہا تھا اور اعتراض ہوا تھا:
ع داڑھی میں لال بال تھے اس بدنہاد کے
اور اسی دلیل سے انیسؔ کا مصرع بھی صحیح ہے اور میرؔ کا یہ مصرع بھی:
ع آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے
غلط نہیں ہے۔ اور آتشؔ کا یہ شعر بھی صحیح ہے:
معرفت میں اس خداے پاک کےاڑتے ہیں ہوش و حواس ادراک کے
(ج) اسی طرح کی یہ مثال بھی قابل توجہ ہے:
غالب گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
ایک عجیب نحوی طلسم زبانِ اردو میں یہ ہے کہ مصنف نے جہاں پر (کی) کو صرف کیا ہے، یہاں محاورے میں (کے) بھی کہتے ہیں۔ مگر قیاس یہی چاہتا ہے کہ (کی)کہیں۔ اسی طرح سے لفظ (طرف) جب اپنے مضاف الیہ پر مقدم ہو تو (کی) کہنا صحیح نہ ہوگا۔ مثلاً:
ع پھینکی کمندِ آہ طرف آسمان کے
اس مصرعے میں (کی) کہنا خلافِ محاورہ ہے۔ اور پھر لفظ (طرف) مؤنث ہے۔ اگر اس لفظ کو مؤخر کر دو تو کہیں گے آسمان کی طرف اور اگر مقدم کر دو تو کہیں گے طرف آسمان کے۔ غرض کہ ایک لفظ جب مقدم ہو تو مذکر ہو جائے، مؤخر ہو تو مؤنث ہو جائے۔ اسی کی نظیر نذر کرنا بھی ہے۔
(د) ایک جگہ اردو میں جمع بنانے کے قاعدے پر مفصل اظہارِ خیال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
سادہ پُر کار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں
اردوے معتبر میںجمع بنانے کا یہ ضابطہ ہے کہ اگر لفظ حروف معنویہ میں سے کسی حرف کے ساتھ متصل ہے تو واو اور نون کے ساتھ جمع کریں گے۔ اور حروف معنویہ سات ہیں: نے ۔ کو۔ میں۔ پر۔ تک ۔ سے ۔ کا۔ جیسے مردوں نے ۔ عورتوں کو الخ۔
اور اگر منادیٰ ہے تو فقط واو سے جمع بنائیں گے جیسے یارو۔ لوگو۔ اور اگر لفظ ندا سے اور حروف معنویہ سے مجرد ہے تو یا مذکر ہے یا مؤنث۔ اگر مذکر ہے اور اس کے آخر میں ہاے مختفی یا الفِ تذکیر ہے تو فقط امالہ کر کے جمع بناتے ہیں۔ جیسے حوصلہ اور حوصلے۔ لڑکا اور لڑکے۔ اور اگر یہ دونوں حرف آخر میں نہیں ہیںتو مفرد و جمع میں مذکر کے کچھ امتیاز نہیں کرتے۔ جیسے ایک مرد آیا۔ کئی مرد آئے۔ اور اگر لفظ مؤنث ہے اور آخر میں اس کے کوئی حرفِ علت یا ہاے مختفی نہیں ہے تو ی۔ ن سے جمع بناتے ہیں۔ جیسے راہیں۔ آنکھیں۔ اور اگر آخر میں الف تصغیر ہے تو فقط نون سے جمع بنتی ہے۔ جیسے لٹیاں، بڑھیاں۔ اور اگر آخر میں ہاے مختفی یا الف اصلی یا واو ہے تو ہمزہ۔ ی۔ ن بڑھا کر جمع بنائیں گے۔ جیسے خالائیں۔ بیوائیں۔ گھٹائیں۔ آرزوئیں۔ آبروئیں۔ اور اگر آخر میں ی ہے تو اس صورت میں البتہ الف۔ ن کے ساتھ جمع کرتے ہیں۔ جیسے لڑکیاں۔ بجلیاں۔
(ہ) اسی طرح ایک جگہ فارسی و عربی الفاظ کی تذکیر و تانیث کا ضابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ضابطہ یہ ہے کہ فارسی یا عربی کا جو لفظ اردو میں بولا نہ جاتا ہو، اوّل اس کے معنی پر نظر کرتے ہیں۔ اگر معنی میں تانیث ہے تو بہ تانیث ، اگر تذکیر ہے تو بہ تذکیر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے اس کے ہم وزن اسما جو اردو میں بولے جاتے ہیں، اگر وہ سب مؤنث ہیں تو اس لفظ کو بھی مؤنث سمجھتے ہیں۔ اگر اس وزن کے سب اسما مذکر ہیں تو اس لفظ کو بھی بہ تذکیر بولتے ہیں۔ اسی بنا پر لفظ ابرو کہ محاورۂ اردو میں داخل نہیں ہے، شعرا اکثر مذکر باندھا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ آنسو اور بازو اور چاقوجس میں ایسا واوِ معروف ہے سب مذکر ہیں۔ لیکن ابرو کے معنی کا جب خیال کیجیے تو بھوں مؤنث لفظ ہے۔ اس خیال سے مؤنث بھی باندھ جاتے ہیں۔
طباطبائی نے نحو اردو کے یہ قواعد کسی کتاب سے نقل نہیں کیے ہیں۔ بلکہ الفاظ و کلمات اور ان کے استعمالات و تصریفات میں غور کر کے بر آمد کیے ہیں، اس لیے انھیں نوادراتِ طباطبائی میں شمار کرنا چاہیے، جو اس شرح کے ذریعے محفوظ ہو گئے ہیں۔
طباطبائی معانی و بیان و بدیع کے علاوہ عروض ،قافیہ، تصوف، منطق، فلسفہ اور لغت میں بھی دستگاہ رکھتے تھے۔ شرحِ کلامِ غالب کے دوران انھوں نے ان تمام علوم و فنون سے استفادہ کیا ہے اور موقع بہ موقع ان سب کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کی بھی بعض مثالیں ملاحظہ ہوں:
(الف) شعر ذیل سے متعلق علم عروض کی رُو سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہر چند ہر ایک شے میں تو ہےپر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے
…(سی) کی ی جس جگہ واقع ہوئی ہے، یہ مقام حرف متحرک کا ہے، یعنی مفعولُ، مفاعلن، فعولن میں مفاعلن کے میم کی جگہ ی واقع ہوئی ہے اور ی ساکن ہے، تو گویا مفاعلن کے میم کو مصنف نے ساکن کرلیا ہے، یعنی مفعول، مفاعلن کے بدلے مفعولم، فاعلن اب ہوگیا ہے، جسے مفعولن، فاعلن سمجھنا چاہیے۔ یہ ز حاف گو اردو و فارسی میں نامانوس معلوم ہوتا ہے، مگر سب لایا کرتے ہیں۔ نسیم لکھنوی کی مثنوی اسی وزن میں ہے اور جابہ جا اس زحاف کو لائے ہیں:
تھا اک کحّالِ پیرِ دیریںعیسیٰ کی تھیں جس نے آنکھیں دیکھیں
(ب) اب قافیے کی ایک بحث ملاحظہ ہو۔ درج ذیل شعر کے بارے میں رقم طراز ہیں:
آمدِ سیلابِ طوفانِ صداے آب ہےنقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
…دوسری بحث اس شعر میں قافیے کے اعتبار سے ہے، یعنی اس مصرعے میں:
ع نقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سےضرورہے کہ دال کو زیر دیں اور جادے سے کہیں۔ اس لیے کہ سے۔ میں۔ پر۔ تک ۔کو۔ نے ۔کا یہ سات حروف معنویہ زبانِ اردو میں ایسے ہیں کہ جس لفظ میں ہائے مختفی ہو، اسے زیر دیتے ہیں۔ غرض اس مصرعے میں تو جادہ کی دال کو زیر ہے اور اس کے بعد کا جو شعر ہے، اس میں کہتے ہیں:
ع شیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے یہاں بادہ اضافتِ فارسی کی ترکیب میں واقع ہے اور موج کا مضاف الیہ ہے۔ اب اس پر ترکیبِ اردو کا اعراب یعنی سے کے سبب سے زیر نہیں آسکتا۔
(ج) بعض اشعار کی شرح صوفیانہ انداز سے کی ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ ہوں:
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں نقاب استعارہ ہے حجابِ قدس سے، اور آئینہ اس میں علم ما یکون و ما کان ہے۔ اور آرائشِ جمال سے فارغ نہ ہونا تفسیر کل یوم ہو فی شان ہے۔
تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلف ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں اس شعر میں مذاقِ تصوف ہے، یعنی جس طرح ہر شے آگ میں گر کر آگ ہو جاتی ہے اسی طرح عارف کو شاہدِ حقیقی کے ساتھ اتحاد حاصل ہو جاتا ہے اور نہیں تو ایک مشتِ خس ہے جس کا وطن عدم اور غربت امکان ہے۔ اور امکان پر جس طرح عدم سابق ہے، اسی طرح اسے عدم لاحق بھی ہے کہ امکان وجود بین العدمین کا نام ہے۔ جو ممکن عدم سے آیا ہے وہ عدم میں چلا بھی جائے گا۔ بس حیاتِ ابدی اس میں ہے کہ واجب الوجود سے ملحق ہو جائے اور فنا فی الذات ہو کر ترانۂ انا ولا غیری بلند کرے۔
(د) درج ذیل شعر کی شرح اہل منطق کے طرز پر کی ہے:
ہم موحّد ہیں ، ہمارا کیش ہے ترکِ رسومملتیں جب مٹ گئیں اجزاے ایماں ہو گئیں
ہم موحد ہیں یعنی وحدتِ مبدأ کے قائل ہیں اور اس کی ذات کو واحد سمجھتے ہیں۔ اور واحد وہ جس میں نہ تو اجزاے مقداری ہوں جیسے طول و عرض وغیرہ، اور نہ اجزاے ترکیبی ہوں جیسے ہیولیٰ اور صورت، اور نہ اجزاے ذہنی ہوں جیسے جنس و فصل۔ غرض کہ اس کا علم محض سلبیات کے ذریعے حاصل ہے جیسے کہیں کہ اس کا شریک نہیں ہے، وہ جسم نہیں ہے، وہ مرئی نہیں ہے، وہ عاجز نہیں ہے، وہ جاہل نہیں ہے، وہ حادث نہیں ہے۔ وہ علتِ موجبہ نہیں ہے۔ یہی سلبیات کہ ان کے اعتقاد سے اور سب ملتیں باطل و محو ہو جاتی ہیں، عین اجزاے توحید ہیں۔
(ہ) اب کچھ لغوی تحقیقات ملاحظہ ہوں:
تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہوگئیں بنات کے لفظ سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ عرب ان کو لڑکیاں سمجھتے ہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ جنازہ اٹھانے والے کو عرب ابن النعش کہتے ہیں اور ابن النعش کی جمع بنات النعش ان کے محاورے میں ہے۔ جس طرح   ابن آویٰ  اور   ابن العرس جب جمع کریں گے   بنات آویٰ اور        بنات العرس کہیں گے اسی طرح بیربہٹی کو مثلاً   ابن المطر کہیں گے اور اس کی جمع   بنات المطر بنائیں گے۔
عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
گوعشرت و صحبت کے ایک ہی معنی ہیں لیکن فارسی والوں نے عشرت کو خوشی و نشاط کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس سبب سے یہ اضافت صحیح ہو جائے گی۔ طبیعی کو طبیعت سے اسم منسوب بنا لیا ہے۔ لیکن قاعدہ یہ ہے کہ ’’فَعِیْلَۃٌ ‘‘ کے وزن پر جو لفظ ہو اس کا اسم منسوب ’’فَعَلِیْ‘‘ہوتا ہے جیسے حنیفہ سے حنفی۔ مگر فارسی گو توالیِ حرکات کو ثقیل سمجھ کر (ب) کو ساکن کر دیتے ہیں۔ غرض کہ طبیعی کو بعض شعراے لکھنؤ صحیح نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے کہ نہ تو یہ مضاعف ہے جیسے حقیقی، نہ اجوف جیسے طویلی، پھر کیوں (ی) کو نہ گرائیں۔
یا لگا کر خضر نے شاخِ نباتمدتوں تک دیا ہے آبِ حیات
خضرکا نام دو طرح سے نظم میں ہے۔ بہ سکونِ ضاد اور ب کسرِ ضاد خجِل و خشِن کے وزن پر۔ مصنف نے یہاں خَضِر باندھا ہے اور اسے دیکھ کر ان کے متبعین نے دھوکا کھایا۔ وہ سمجھے استاد نے خِضَر باندھ دیا اور اس شعر کو سند قرار دے کر نظر و اثر کے قافیے میں خِضَر باندھنے لگے۔ یہ غلط ہے اور متبعین کی خطا ہے۔
رہروِ راہِ خلد کا توشہطوبیٰ و سدرہ کا جگر گوشہ
موسیٰ و عیسیٰ و طوبیٰ و دنییٰ و عقبیٰ و ہیولیٰ و لیلیٰ کو امالہ کر کے قدمانے الف کو (ی) کر دیا ہے اور دونوں طرح نظم کیا ہے۔ یہ دیکھ کر متاخرین اہلِ فارس نے جو عربی سے بیگانہ تھے، غضب کا دھوکا کھایا ہے۔ جن الفاظِ عربی میں اصیل (ی) ہے اس کو بھی الف مقصورہ سمجھے اور دونوں طرح نظم کرنے لگے۔ مثلاً تجلّی و تسلّی و تماشی و تحاشی کو تسلّا و تجلّا و تماشا و بے تحاشا کہنے لگے۔
مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جامعیت اور تبحر و کمال کی جو شان طباطبائی میں نظر آتی ہے، وہ غالبؔ کے کسی دوسرے شارح میں موجود نہیں۔ اس لیے ان کی شرح بھی دیگر شرحوں کے درمیان ممتاز ہے۔
طباطبائی کی جامعیت اور فضل و کمال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ شرح کے لیے غالبؔ کا کوئی شعر اٹھاتے ہیں تو ایک استاد فن کی طرح مختلف زاویوں سے اس پر غور و خوض کرتے ہیں۔ اب اگر صرف ونحویا روز مرہ و محاورہ یا معانی و بیان یا عروض و قافیہ یا مختاراتِ اہلِ لکھنؤ وغیرہ کسی لحاظ سے اس میں انھیں کوئی سقم نظر آتا ہے تو وہ بے محابا اپنی راے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ان کے طرزِ کلام کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طباطبائی ایک کہنہ مشق استاد ہیں اور غالبؔ ایک تازہ واردِ بساطِ سخن۔ بہ طورِ مثال چند بیانات ملاحظہ ہوں:
٭ ردیف محاورے سے گری ہوئی ہے ۔ (کیوں ہے گردِرہِ جولانِ صبا ہو جانا)٭ دوسرے مصرعے کی بندش میں گنجلک بہت ہوگئی ہے۔ (کہ پشتِ چشم سے جس کے نہ ہووے مہر عنواں پر)٭ جگر تسلّی نہ ہوا، خلافِ محاورہ ہے۔ (جگرِ تشنۂ آزار تسلّی نہ ہوا)٭ شعلے کی طرف خطاب کرنا بے لطفی سے خالی نہیں۔ (ترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع)٭ اس مضمون میں کچھ غزلیت نہیں ہے۔ قصیدے کا مطلع تو ہوسکتا ہے۔ (جادۂ رہ خور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع)٭ اردو میں خالی تماشا کہہ دینا محاورہ نہیں ہے۔ (تماشا کہ اے محوِ آئینہ داری)٭ سخت فارسی کا محاورہ ہے نہ کہ اردو کا۔ (زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جانِ اسد)٭ ہم ہی اور تم ہی کی جگہ ہمیں اور تمھیں محاورہ ہے۔  (ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن)٭ اس شعر میں نہایت تعقید ہے۔ (یہ نیش ہو رگِ جاں میں فرو تو کیونکر ہو)٭ آرزو خرامی کی ترکیب باعثِ عبرت ہے۔  (حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی)٭ ہو جیو خود ہی واہیات ہے۔ مصنف مرحوم نے اس پر اور طرّہ کیا کہ تخفیف کر کے ہو جو بنالیا۔ (بے خودی بستر تمہید فراغت ہو جو)٭ اس شعر میں دیکھا قافیۂ شائگاں ہے۔ اسے مفت کا قافیہ کہتے ہیں اور سست سمجھتے ہیں۔ (اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے)٭ بازار اس شعر میں بہت ٹھنڈا لفظ ہے۔ (گرم بازارِ فوج داری ہے)٭ سب تشبیہیں لطیف ہیں، لیکن حاصل شعر کا دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ (جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی)٭ دونونِ متعاقب عیب تنافر رکھتے ہیں اور دو دالیں بھی جمع ہوگئی ہیں۔ (جو نہ نقدِ داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی)
٭ لفظ ’سراسر‘ براے بیت ہے۔ (خطِ پیالہ سراسر نگاہِ گل چیں ہے)٭ پہلے مصرعے میں گنجلک ہے اور دوسرے میں تنافر اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی خوب نہیں اورمضمون بھی کچھ نہیں۔ (جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے)٭ لفظ نیلی فام اس شعر میں محض براے بیت ہے۔ (ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے)٭ مطلب بہ مشکل ان الفاظ سے نکلتا ہے۔ (یہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے)٭ ناخن سے جگر کھودنا محاورے سے گرا ہوا ہے۔ (پھر جگر کھودنے لگا ناخن)٭ یہ محض ادعاے شاعرانہ ہے جس کے لیے تعلیل کی ضرورت ہے۔  (خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے)٭ گفتار میں آنا بات چیت کرنے کے معنی پر اردو کا محاورہ نہیں ہے، ترجمہ ہے۔ (جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے)٭ ’اے وہ‘ کا لفظ اس میں بہت رکیک ہے۔ اہل زبان ہی اس کو سمجھیں گے۔ (اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی)٭ ’کرنا‘ اِس سرے پر اور ’گلہ‘ اُس سرے پر ثقل سے خالی نہیں۔ (کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ)٭ تو الیِ اضافات و رکیک تکلفات اس شعر میں بھرے ہوئے ہیں۔ شوخیِ دنداں نہایت مکروہ لفظ ہے۔ (عرض نازِ شوخیِ دنداں براے خندہ ہے)٭ یہ مضمون سراسر غیر واقعی ہے اور امورِ عادیہ میں سے نہیں ہے۔ اس سبب سے بے مزہ ہے۔(چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن)٭ اس قدر تصنع اور مضمون کچھ نہیں۔ (موے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے)٭ لفظ پرسش ہاے پنہانی سے مصنف کا مطلب جو ہے، وہ نہیں نکلتا۔  (جانتا ہے محوِ پرسش ہاے پنہانی مجھے)٭ اس شعر میں مجھے کا لفظ مجھ کو کے معنی پر ہے۔۔ اور مصنف نے مطلوب کی جگہ پر مطلب باندھا ہے۔غرض کہ ردیف ربط نہیں کھاتی۔ یوں ہونا چاہیے تھا: آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مرا (آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے)٭ لفظ ’طرب انشا‘ میں دونوں لفظ عربی ہیں اور ترکیب فارسی ہے۔ عجب نہیں کہ انھوں نے طرب افزاے التفات کہا ہو۔ (افسردگی نہیں طرب انشاے التفات)
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ان اعتراضات کا باعث و منشا طباطبائی کا وفورِ علم اور دقّتِ نظر ہے، نہ کہ غالبؔ کی تنقیص و مخالفت۔ کیوں کہ اسی شرح میں انھوں نے ایک جگہ میرؔ و سوداؔ پر بھی اعتراضات کی بوچھار کر دی ہے۔ البتہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے بہت سے اعتراضات خود پسندی اور احساسِ ہمہ دانی کے زعم میں بھی کر دیے ہیں۔ اس باب میں ان کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ انھوں نے عہدِ غالبؔ اور محاورۂ دہلی کو محک و معیار بنانے کے بجاے اواخر انیسویں صدی کے مختاراتِ اہل لکھنؤ اور خود اپنے ذوقِ سخن کو قولِ فیصل کا درجہ دے دیا ہے۔ تا ہم معائبِ سخن کے سلسلے میں طباطبائی کو بالکلیہ نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی آرا بہر حال قابل غور اور لائقِ استفادہ ہیں۔

Allama Semab Akbarabadi by Zahida Hamid Iqbal

Articles

علامہ سیماب اکبرآبادی، شخصیت اور ادبی خدمات

زاہدہ حامد اقبال صدیقی

Allama Semab Akbarabadi

بیسویں صدی کے اوائل میں کائناتِ اردو ادب میں ایسے کئی روشن ستارے نمودار ہوئے جو اپنی وسعتوں میں ایک پوری کہکشاں سمیٹے ہوئے تھے ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی، جلال لکھنوی، ریاض خیر آبادی، مضطر خیرآبادی، عزیز لکھنوی، اکبرالہ آبادی، برج نرائن چکبست، حسرت موہانی، آغا شاعر قزلباش، بے خود دہلوی، صفی لکھنوی، جلیل مانکپوری، نوح ناروی، احسن مارہروی، وحشت کلکتوی، شاد عظیم آبادی، ظفر علی خان، تاجور نجیب آبادی، آرزو لکھنوی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، برجموہن دتاتریہ کیفی، نیاز فتح پوری، یاس یگانہ چنگیزی، ماہرالقادری اور ایسے ہی کئی لافانی نام کہ جنھوں نے اس پورے عہد کو اردو ادب کا عہدِ زریں بنادیا، لیکن یہ فہرست سیماب اکبرآبادی کے نام کے بغیر ہرگز مکمل نہیں ہوسکتی۔
علاّمہ سیماب اکبرآبادیؒ کا اصل نام شیخ عاشق حسین صدیقی تھا، وہ 5 جون 1882 ء کو اکبر آباد (آگرہ) میں علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا شیخ محمد حسین صدیقی عالمِ دین اور واعظ و نعت خواں تھے، شاعر بھی تھے مگر عام طرزِ شاعری سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی، کئی کتابوں کے مصنف تھے گلدستۂ عطّار،مجموعۂ شہادت اور کراماتِ غوثیہ ان کی مقبول تصانیف ہیں۔ سیماب کی ابتدائی تعلیم مروّجہ دستور کے مطابق عربی فارسی اور اردو سے شروع ہوئی، قرآن و حدیث کا درس اپنے والد سے لیا۔ مولانا محمد حسین اجمیر میں ٹائمز آف انڈیا پریس کی شاخ کے مینیجر تھے، اجمیر ہی میں گورنمینٹ کالج کے برانچ انگلش اسکول میں سیماب کو شریک کروادیا لیکن بچپن ہی سے فطری موذونیت اور شعری میلان کے سبب انھیں زمانۂ طالبِ علمی ہی میں زبان و بیان اور عروض پر خاصہ عبور حاصل ہوگیا تھا اور وہ امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے جواب بھی منظوم لکھتے تھے۔ اپنے والد سے چھُپ چھُپا کر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے والد کو جب پتہ چلا تو انھوں نے کئی احکامات اور پابندیوں کے ساتھ مشاعروں کی اجازت دے دی۔ اس دوران انھوں نے سنسکرت اور ہندی زبانیں بھی سیکھ لیں۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں سیماب تخلص اختیار کر لیا تھا۔
ابھی سیماب ایف اے کے آخری سال ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھریلو اخراجات کی پوری ذمے داری ان کے کاندھوں پر آپڑی لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور مختلف ملازمتیں اختیار کیں جن میں ریلوے کی ملازمت بھی شامل ہے۔
1898 ء میں سیماب اکبرآبادی فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے۔ داغ کے دو ہزار سے زائد شاگردوں میں علاّمہ اقبال اور ان کے بعد علاّمہ سیماب کو جو شہرتیں ملیں کسی اور کو میسّر نہ ہوئیں۔1899 ء میں حضرت حاجی وارث علی شاہؒ (دیوہ شریف) کے ہاتھوں پر بیعت کا شرف حاصل ہوا اور اسی نسبت سے کبھی کبھی وارثی تخلص بھی استعمال کرتے تھے۔
1923 ء میں انھوں نے آگرہ میں ایک علمی ادبی اور اشاعتی ادارے قصرالادب کی کی بنیاد ڈالی جس کے تحت کتابوں کی اشاعت کے علاوہ کئی اخبارات و رسائل بھی جاری کئے جن میں ماہنامہ پیمانہ، پندرہ روزہ ثریّا، ہفت روزہ پرچم ہفت روزہ تاج اور ماہنامہ شاعر قابلِ ذکر ہیں۔ماہنامہ شاعر 1930 ء میں جاری ہوا، جلد ہی اس کی ادارت سیماب نے اپنے فرزند اور جانشین اعجاز صدیقی کے سپرد کردی، شاعر تا حال ممبئی سے جاری ہے اور اپنی اشاعت کے 88برس مکمل کر چکا ہے، اعجاز صدیقی کے فرزندان افتخار امام صدیقی، ناظر نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی اس ادبی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
علاّمہ سیماب اکبر آبادی نے تقریباً سبھی مروّجہ اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی اور 300 سے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ وہ نظم کو غزل پر فوقیت دیتے تھے اور نظم میں ہیئت کے کئی تجربے بھی کیےوہ بلا شبہ جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ان کی نظموں کے مقابلے غزلوں کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تصانیف میں وحیِ منظوم، الہامِ منظوم، کلیمِ عجم، سدرۃ المنتہی، لوحِ محفوظ، نیستاں، کارِ امروز، سازو آہنگ، شعرِ انقلاب، عالم آشوب، نفیرِ غم، سرودِ غم ،رازِ عروض اور دستور الاصلاح شامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کا مکمل منظوم ترجمہ وحیِ منظوم ہے اس کے علاہ مولانا رومی کی مشہور مثنوی کا مکمل منظوم ترجمہ الہامِ منظوم بھی ان کا ایک نہایت اہم کارنامہ ہے۔
داغ دہلوی کے شاگردوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ تھی اور شاید ان سے قبل اردو شاعری کی تاریخ میں اتنے شاگرد کسی استاد کے نہیں ہوئے لیکن یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیماب اپنے استاد سے بھی کہیں آگے نکل گئے، ان کے تین ہزار سے زیادہ شاگر دہوئے، چند مشہور نام یہ ہیں: اعجاز صدیقی، ساغر نظامی، راز چاند پوری، بسمل سعیدی، شفا گوالیاری، قمر نعمانی، مختار صدیقی، مخمور جالندھری، سراج الدین ظفر، الطاف مشہدی، صبا متھراوی، خموش سرحدی، شہ زور کاشمیری، ضیا فتح آبادی، طُرفہ قریشی، آغاز برہانپوری، منظر صدیقی، جالب مظاہری، مبشر علی صدیقی، حبیب اشعر، مفتوں کوٹوی، علیم اختر مظفر نگری، رونق دکنی، مفتوں کوٹوی وغیرہ۔ سیماب کے کئی تلامذہ کے بہت سے شاگرد آج نامورانِ ادب میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً انور شعور، مخمور سعیدی، یعقوب راہی، عبدالاحد ساز وغیرہ، یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے اگر اس پر باقاعدہ تحقیقی کام کیا جائے۔
علاّمہ سیماب نے مشاعروں کو وقتی تفریح بنانے کی شدید مخالفت کی اور مشاعروں میں علمی ادبی موضوعات پر مشتمل صدارتی خطبوں کو رواج دیا۔ شاعری میں فحش موضوعات، شراب اور اس کے متعلقات اور تعیّش پرستی کی بھی مخالفت کی نیز شعرِ مہذّب کو رواج دیا۔ انھوں نے ادبی نظریات اور زبان کے برتاؤ کی بنیاد پر آگرہ اسکول کا تصوّر دیا، شعرِ مہذّب کو رواج دیا غزل میں فحش نگاری اور اخلاق سوز موضوعات کی مخالفت کرتے ہوئے فکر، فلسفہ، نفسیات اور احوالِ واقعی کو جگہ دی، عربی اور فارسی کی بوجھل تراکیب اور فرسودہ استعاروں سے اجتناب کیا، انھیں جدید غزل کے ابتدائی نقوش کہا جاسکتا ہے۔
1948 ء میں وہ اپنی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں لاہور تشریف لے گئے، قصد تھا کہ کام مکمل ہوتے ہی لوٹ آئیں گے، وہاں سے شدیدعلالت کے سبب کراچی منتقل ہوئے ، اس دوران بھی ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور تاج کمپنی کی فرمائش پر سیرت النبویﷺ تحریر کی اس کے علاوہ کئی احادیث کے منظوم ترجمے بھی کیے۔ انھوں نے کراچی میں اپنی نوعیت کا اوّلین انسٹی ٹیوٹ جامعہ ادبیہ قائم کیا جس کے نصاب میں اردو صرف و نحو، فنِ شاعری، نثر نگاری اور صحافت کی تربیت شامل تھی، یہ جامعہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکا اور مروّجہ اکیڈمک اسکول ہوگیا مگر اردو شاعری اور اردو صحافت کی تدریس کا اسےسب سے پہلا ادارہ کہا جاسکتا ہے۔
کراچی میں ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور 31 جنوری 1951 ء کواردو ادب کا یہ عظیم مجدّد اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا۔کراچی کے قائد آباد علاقے میں تدفین ہوئی اور قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ کروایا گیا:
کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے
یہ علامہ سیماب کی حیات اور خدمات کا ایک مختصر سا جائزہ ہے، ان پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے، برِ صغیر کے چھے ریسرچ اسکالرس ان پر کام کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرچکے ہیں لیکن اب بھی ان کی شخصیت اور کاموں کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر کام کیا جانا چاہیے، خود ان ہی کے بقول
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
————————————–

 

علاّمہ سیماب اکبرآبادی کے منتخب اشعار

یہ کس نے شاخِ گل لاکر قریبِ آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سحر ہوگی تو پھر ہوں گے افق سے ضو فگن ہم بھی
کہ سورج کی طرح ڈوبے ہیں اے شامِ وطن ہم بھی

پھیلے تو یوں کہ چھا گئے کُل کائنات پر
سمٹے تو اس قدَر کہ رگِ جاں میں رہ گئے

مِری نگاہ میں ہے ایک زندہ مستقبل
میں اپنے ماضیِ مردہ کا سوگوار نہیں

بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں

وحدت و کثرت کے جلوے خلقتِ انساں میں دیکھ
ایک ذرّہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا

دل ہے چراغ خانۂ مفلس، نہ توڑ اسے
پھر غم کی رات آئی تو ہم کیا جلائیں گے

ہم اپنے سر کہاں اچھا بُرا الزام لیتے ہیں
مقدّر خود بناتے ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں

امید و عزم میرے کارواں کی شاہراہیں ہیں
جو ہو مایوس منزل سے، وہ میرا ہم سفر کیوں ہو
کھینچی ہے مصوّر نے عجب شان سے تصویر
جیسے کوئی میری ہی طرف دیکھ رہا ہے

بظاہر ہیں یہی اسباب دنیا سے نہ ملنے کے
کسی سے ہم نہیں ملتے، کسی سے دل نہیں ملتا

مبارک تجھ کو اپنی خود رَوی، لیکن یہ سنتا جا
کہ دنیا اپنے رستے پر لگا لیتی ہے انساں کو

تضحیک و التفات میں رہنے دے امتیاز
یوں مسکرا نہ دیکھ ، ہاں مسکرا کے دیکھ

بہت محتاط ہوکر لطف اٹھائے عمرِ فانی کے
ذرا سی زندگی جی کھول کر برباد کیا کرتے

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آرہا ہوں میں

بڑھا لیتے ہیں خود دشواریاں منزل کی گِن گِن کر
قدم اٹھنے سے پہلے میٖلِ منزل دیکھنے والے

فقط احساسِ آزادی سے آزادی عبارت ہے
وہی دیوار گھر کی ہے وہی دیوار زنداں کی

غزل ہی کہہ لی سنانے کو حشر میں سیمابؔ
پڑے پڑے یونہی تنہا لحد میں کیا کرتے

دنیا سے اِک افسانہ کہنے کو تھے، پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ، افسانے سے کیا کہیئے
کچھ وقت کٹ گیا تھا تِری یاد کے بغیر
ہم پر تمام عمر وہ لمحے گراں رہے

دیوانگیِ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے

کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے

اُڑ رہے ہیں گَردِ بربادی میں کچھ اوراقِ دل
ان میں وہ صفحہ نہ ہو جس پر تِری تصویر تھی

تجھے کر لیتے ہیں یوں اپنی مصیبت میں شریک
تیری تصویر پہ کچھ اشک گرا لیتے ہیں

دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
اِک آئینہ تھا، ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

دنیا ہے خواب، حاصلِ دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

محبت میں اِک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر

Mualana Abul Kalam Azad ki Basirat aur Asri Ma’nuwiat by Arbar Mujeeb

Articles

مولانا آزاد کی بصیرت اور عصری معنویت

ابرار مجیب

مولانا آزاد کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ایک طرف وہ سیاسی رہنما ہیں ، دوسری طرف مفکر، تیسری طرف اسلامیات کے بہترین عالم، چوتھی طرف ایک عظیم صحافی ۔بظاہر مولانا کی شخصیت کے یہ تمام پہلو الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن بغور جائزہ لینے سے یہ علم ہوتا ہے کہ مولانا اور پرنور سورج میں کوئی فرق نہیں جس سے کروڑوں کرنیں نکل کر دنیا کو ضیا بار کرتی ہیں۔یہ تمام پہلو مولانا جیسے عظیم مفکر کے عملی اور علمی اظہار ہیں جو ہمیں الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی دھاگے میں پروئے قیمتی ہیرے ہیں۔غیر منقسم ہندوستان کی تاریخ میں دو شخصیتیں ایسی ہیں جنہوں نے سیاسی اور سماجی سطح پر خاص طور سے مسلمانوں کی ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہاں سرسید احمد خاں کے ترقی پسندانہ نظریات اور ان کی خدمات سے الگ مولانا آزاد اور علامہ اقبال کے نظریات کے اختلاف پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔اسلامی فکر کے دونوں ہی شارح ہیں ۔اقبال اپنی شاعری میں انقلابی اسلام کی عظمت کے گن گاتے نہیں تھکتے اور ماضی کے قصے سنا کر مسلمانوں کی روح کو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ مسلمان میں شاھین اور مردِ مومن تلاش کرتے ہیں ، مسلمانوں کے رزم و بزم کی یاد دلاتے ہیں اور حال کی زبوں حالی پر نوحہ کرتے ہیں ۔علامہ اقبال ہی ہیں جنہوں نے آلہ آباد کے مسلم لیگ کے اجلاس کے اپنے خطبہ صدارت میں اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تھا اور مسلمانوں کو ہندو سے الگ ایک قوم قرار دیا۔ایک اسلامی مملکت کے قیام کے سلسلے میں انہوں نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ہندوستان کے مسلمان حالات اور نظریات سے مجبور تھے کہ ھندؤں سے الگ ایک ریاست قائم کریں۔ جہاں ان کی اکثریت ہواور جہاں نہ صرف اسلام کا اخلاقی نظام بلکہ اسلام کا معاشی نظام بھی آزاد ہو۔ اسلام کو بحیثیت ایک قوت کے ہندوستان میں زندہ رکھنے کے لیے الگ مسلم ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔‘‘
علامہ اقبال مزید کہتے ہیں :
’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک (برصغیر )میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے۔‘‘
غور کریں تو علامہ کا استدلال قیام ریاست اسلامیہ کے سلسلے میں یہ ہے کہ مسلمان حالات و نظریات سے مجبور تھے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کاقیام عمل میں لائیں ، اسلام کو بحیثیت ایک قوت زندہ رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایک اسلامی ریاست قائم کی جائے اور اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت قائم رہے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایک اسلامی ریاست کا وجود عمل میں آجائے۔اس بات سے قطع نظر کہ اسلام اور اسلامی تمدن کیا ہے اور مختلف جغرافیائی خطوں کے کلچرل اور تہذیبی وراثت نے اسلام کے عربی روپ پر کیا اثر ڈالااس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ صدیوں سے چلے آرہے بھائی چارہ اور آپسی محبت کی فضا میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کتنا جائز تھا ؟ اس مطالبے نے اکثریتی طبقہ کی فکر پر کتنا منفی اثر ڈالا ہوگا۔اقبا ل اسلام کے تمدنی پہلو کی شناخت ہندوستانی مشترکہ تہذیب سے الگ کیوں کرنا چاہتے تھے۔ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا مطالبہ اور قیام پاکستان کے کیا نتائج نکلے یہ تو ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں لیکن اسلام کے پیرو کاروں کو ایک قوم کا درجہ دینے کی قلعی بہت پہلے مولانا آزاد کھول چکے تھے۔قومیت کے تصور کو مذہب کے ساتھ وابستہ کرنا ایسی فاش غلطی تھی جس کا ازالہ تقریباّ’’ ناممکن ہے۔یہی وہ وش بیج ہے جو آج ایک تناور درخت بن گیا اور دونوں طبقوں میں منافرت کی سیاست کرنے والے اس زہریلے درخت کے پھل ہمیں پیش کررہے ہیں۔ اس معاملے میں مولانا آزاد کی دور اندیشی اور فکری نہج بالکل واضح تھی۔ ان کے مطابق مذہب کے نام پر کسی ریاست کا قیام سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں ۔کلچر ہی وہ بنیادی پہلو ہے جو قومیت کے تصور میں سب سے اہم ہے۔زبان، لباس، خوراک ، تہوار ، کھیل ، ادب ، شاعری ، فلسفہ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی قوم کے کلچر کا مشترکہ حصہ ہیں نہ کہ مذہب۔اس ضمن میں مولانا آزاد اپنی مشہور زمانہ کتاب انڈیا ونس فری ڈم میں رقم طراز ہیں:
’’اسکیم(قیام پاکستان)کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجموعی اعتبار سے ہندوستان کے لیے ہی نہیں ، مسلمانوں کے لیے خاص طور پر مضرت رساں ہے۔اور واقعہ یہ ہے کہ جتنے مسئلے حل کرتی ہے اس سے زیادہ مسئلے پیدا کرتی ہے۔‘‘
مولانا کی اس گہری فکری بصیرت سے سرسری صرف نظر کرنا ممکن نہیں ہے ۔خاص طور سے جب ہم آج کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمان تین حصوں میں منقسم زبوں حالی اور کس مپرسی کا شکار ہے۔ پاکستان جو اسلامی قومیت کے تصور پر بنا ،یکجا نہ رہ سکا اور کلچر و زبان کے نام پر یہی اسلامی پاکستان دو حصوں میں منقسم ہوگیا ۔ ایک نئے ملک کا وجود عمل میں آیا جس نے مذہبی بنیادوں پر نہیں کلچرل اور زبان کی بنیاد پر اپنے وجود کے جواز کو ساری دنیا سے تسلیم کروا لیا۔ایک اہم بات جو مولانا آزاد نے لکھی ہے وہ یہ کہ :
’’مجھے اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ پاکستان کی اصطلاح ہی میری طبیعیت کے خلاف ہے۔اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ دنیا کے کچھ حصے ناپاک ہیں ۔جب کہ کچھ پاک ہیں۔پاک اور ناپاک میں علاقوں کی یہ تقسیم غیر اسلامی ہے اور راسخ العقیدہ برہمنیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے جو انسانوں اور ملکوں کو مقدس اور نجس میں بانٹتی ہے۔‘‘
مولانا آزاد کی فکری بصیرت جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی شامل ہے اس کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم جب غور کرتے ہیں تو یہ نتیجہ نکالنے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستان کی اصطلاح کے تعلق سے مولانا کی رائے غیر واجب نہیں بلکہ عین اسلامی فکر کے مطابق ہے۔ ایک طرف اسلامی تعلیمات میں زمین خدا کی ہے اور اس کا کوئی حصہ پاک اور کوئی ناپاک نہیں ہوسکتا ۔ ساری زمین پاک ہے اور اتنی
پاک کہ بلا کسی تردد نماز اداکی جاسکتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید منظر نامے میں رکھ کر سمجھنے کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہے وہ نہ اب ہے نہ اس وقت تھی ، گوکہ اس وقت اقبال اور جناح جیسے جید عالم اور فلاسفر موجو د تھے۔اگر بعض لوگ اس کی سمجھ رکھتے بھی تھے تو مصلحتا’’ سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔ پاک اور ناپاک سرزمین کی ذیلی بحث سے آگے مولانا آزاد نے یہ پیش گوئی کردی تھی کہ مذہب کے بجائے کلچر انسانوں کو ایک ڈور میں باندھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔زبان نمایاں رول ادا کرتی ہے۔ ایک اردو بولنے والاپشتو زبان بولنے والے سے اس قدر قربت محسوس نہیں کرسکتا جتنا اردو یا ہندی بولنے والے سے ۔ایک بنگالی اردو والے سے اتنا نزدیک نہیں ہوسکتا جتنا ایک بنگالی سے چاہے وہ بنگالی ہندو ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان بننے کے بعد ہم سب نے اس کا انجام دیکھا۔کس طرح زبان اور کلچر نے مذہبی قومیت کے تصور کو غلط ثابت کردیا اور بنگلہ دیش وجود میں آگیا۔مولانا آزاد کی دور اندیشی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اور ہندو کو کاندھے سے کاندھاملا کر ملک کی ترقی میں بے مثال رول ادا کرتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔وہ برصغیر کا مستقبل ہندو مسلم اخوت میں دیکھتے تھے ۔ عصری صورت حال پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں تقسیم کے نتیجے میں جو دو ملک وجود میں آئے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ۔ آزادی کے بعد ہندوپاک کے درمیان تین جنگیں ہوچکیں اور لاکھوں انسان لقمہ ء اجل بن گئے ۔خود پاکستان دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ ہندوستان میں ہندو مسلم منافرت کو ہوا دی گئی اور سیاسی روٹی سینکی جانے لگی ۔ فسادات کا ایک نا مختتم سلسلہ شروع ہوگیا۔ تصور کریں اگر مولانا آزاد کی خواہش کے مطابق ہندوپاک کا بٹوارہ نہ ہوا ہوتا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچتا۔ بلاشبہ مسلمانوں کو ۔ ایک عظیم ملک کا حصہ ہونے کی وجہ سے غیر منقسم ہندوستان کے مسلمان زیادہ خوش حال ہوتے ۔ ساتھ ہی سیاسی اور سماجی سطح پر بھی ان کی اہمیت زیادہ ہوتی کیوں کہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بھی مسلمان چالیس فیصد سے کم نہیں ہوتے۔آج منقسم برصغیر میں مسلمانوں کی حالت دگر گوں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اور بنگلہ دیش میں راسخ العقیدگی نے اپنی جڑیں جما لی ہیں۔ہندوستان میں مسلمان بعض سیاسی وجوہات کی بنا پر غربت اور بے روزگار ی کا شکار ہیں۔ ان کی وفاداری سخت گیر ہندو جماعتوں کی نظر میں مشکوک ہے۔مولانا آزاد مستقبل کی اس پریشاں حالی کے اشاروں کو سمجھ رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان بننے کی پرزور مخالفت کی ۔ہندو مسلم اتحاد کے سلسلے میں مولانا آزاد کے خیالات کو سمجھنے کے لیے ان کی تقریر کا ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’۔۔۔۔آج اگر فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور کھڑا ہوکر اعلان کردے کہ سورا ج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردار ہوجاؤں گا۔مگر اس سے دست بردار نہ ہوں کیوں کہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا۔ لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو عالمِ انسانیت کا نقصان ہوگا۔‘‘
مولانا کی مندرجہ بالا گفتگو کے پس منظر میں غور کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوراج یا حکومت کرنے کی آزادی یا وسیع تناظر میں آزادی ہے کیا؟ اس آزادی کا کسی ملک کے رہنے والوں کے درمیان اتحاد سے کیا رشتہ ہے ۔ کیا آزادی بغیر اتحاد کے قائم رہ سکتی ہے؟آزادی کے کے لیے پہلی شرط کیا ہے؟ ان بنیادی سوالوں پر غور کریں تو یہ بات صاف ہوتی نظر آتی ہے کہ غلامی کی اسیر کوئی قوم اس وقت آزادی حاصل نہیں کرسکتی جب تک وہ متحد نہیں ہو۔ ایک بکھری ہوئی آپس میں برسر پیکار قوم غلام بنانے والوں سے آزادی کس طرح حاصل کرسکتی ہے ۔ اس لیے مولانا آزاد کی نظر میں آزادی کے لیے پہلی شرط اتحاد ہے۔ہندو مسلم اتحاد ، یہ دو مذاہب کے ماننے والے اگر متحد نہیں ہوتے تو آزادی کا خٰواب دیوانے کا خواب بن کر رہ جاتا۔دوسری طرف مولانا آزادکی اس اہم گفتگو میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ آزادی کے حصول کے لیے اتحاد ضروری ہے تو اسے مستقل قائم رکھنے کے لیے بھی ہندو مسلم اتحاد قائم کرنا ضروری ہے۔ایک آزاد معاشرے میں مذہبی گروہ اگر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں تو ایک ہی آزادی باقی رہ جاتی ہے اور وہ آزادی ہے جنون کی ، پاگل پن کی ، قتل و غارت گری کی ۔غور کریں کہ مولانا آزاد فرشتے کے اس اعلان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں سوراج کی بشارت دی جارہی ہے بلکہ وہ ہندو مسلم اتحاد کو اولیت دیتے ہیں ۔ ذرا ہمارے عہد کے منظر نامے پر غور کریں اور مولانا آزاد کے ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت کو سامنے رکھیں ۔
تقسیم ہند ، آزادی اور فسادات کے یک انسانیت سوز دورکے بعد ہم دیکھتے ہیں دو ملک ایک پاکستان جو اسلامی جمہوریہ کہلایا ، ظاہر ہے کہ یہ ایک تھیوکریٹک اسٹیٹ بنا جس میں مذہب کو اولیت حاصل ہے جبکہ ہندوستان ایک غیر مذہبی ، جمہوری ، سوشلسٹ ملک بنا۔نظریاتی سطح پر ممالک تو بن گئے لیکن ہندوستان میں بھی تقسیم ہند کے بعد بعض ہندو انتہا پسند جماعت مسلم مخالفت کی بنیاد پر سیاست میں قدم جمانے لگیں ۔ یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے بٹوارے میں مسلمانوں کا ہاتھ تھا۔تاریخی واقعات مثلا’’ بابر سے بابری مسجد کا تعلق جوڑ کر رام جنم بھومی کی تحریک ، مختلف تاریخی شہروں کے ناموں کی تبدیلی اور ہر بات کو ہندومسلم تنازعہ بنانے کی روش ۔ ایک سیاسی ماحول ایسا بن گیا جہاں ہندوستانی مسلمانوں کی توہین کے بغیر ہندوستانی سیاست آگے بڑھ ہی نہیں سکتی ۔آج کے پس منظر میں مولانا آزاد کی پیش گوئیاں بہت بامعنی نظر آتی ہیں ۔میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مولانا آزاد نے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس قسم کی صورت حال کے پیدا ہونے کی وضاحت بہت پہلے کردی تھی ۔ اس کے باوجود مولانا نے تقسیم کے فورا’’بعد مسلمانوں کی ہجرت کی مخالفت کرتے ہوئے جامع مسجد سے وہ تاریخی تقریر کی تھی جس میں زو ر اس بات پر تھا کہ تم اپنی ثقافتی اور تاریخی وراثت کو کس کے بھروسے چھوڑ کر جارہے ہو۔ مولانا آزاد کا یہ خیال بھی تھا کہ مہاجروں کو پاکستان میں پہلے سے بسے سندھی ، پنجابی ، بلوچی اور پختون مسلمان وہ عزت نہیں دیں جو عزت انہیں آزاد ہندوستان میں حاصل ہے۔مولانا نے اپنی تاریخیٰ تقریر میں کہا تھا:
’’یہ دیکھو، مسجد کے بلند مینار اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیا ، ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمہارے قافلے نے وضو کیا تھااور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے ۔پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو اس پر مسکرائے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا، صرصر اٹھے تو اس کا رخ پھیر دیا۔آندھیاں آئیں تو ان سے کہا تمہارا راستہ یہ نہیں ۔ یہ ایماں کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔‘‘اس جوشیلی تقریر اور آزاد کی تھرتھرا دینے والی آواز کا تصور کریں تو مجلس میں موجود حاضرین پر اس کے اثر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اگر اسے منطقی سطح پر دیکھیں تو یہ تقریر بے مغز جذباتیت سے بھرپور ہے۔اس تقریر سے کوئی علمی خزانہ یا کوئی ایسا لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاسکتا جو مستقبل کے اندھیرے میں رہنما بن سکے۔یہ ایک ہنگامی صورت حال میں کی گئی انتہائی جذباتی تقریر تھی۔ لوگ اپنی طنابیں کھول کر ایسی زمینوں کی طرف رخت سفر باندھ رہے تھے جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا نہیں ۔ جہاں کے موسموں کی سختی یا نرمی سے وہ واقف نہیں تھے۔جہاں کی ہواؤں کو وہ جانتے نہیں تھے ، جہاں کے لوگ اجنبی تھی۔ لوگ رخت سفر باندھ رہے تھے اپنے بزرگوں کے مزاروں ، اپنی تاریخی عمارتوں ، اپنے علمی وراثت کو چھوڑ کر۔ ایسی صورت حال میں لوگوں کو علمی منطق سے روکنا ممکن نہیں تھا۔ یہ آزاد کا جینئس تھا کہ انہوں نے ایک جذباتی ، دل کو گرما دینے والی تقریر کی اور جانے والوں کے قدم رک گئے۔آج ہندوستان میں موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمیں آزاد کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے۔دوسری طرف ہجرت کرکے جانے والے ہندوستانی مسلمان آج پاکستان میں جس قسم کی منافرت اور لسانی عصبیت سے گزر رہے ہیں اس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔ اس بات کی پیش گوئی آزاد نے بہت واضح طور پر کی تھی۔
مختلف حوالوں سے دراصل ہم مولانا آزاد کی آج کے عہد میں فکری معنویت پر غور کررہے ہیں ۔ان مذہبی افکار کے تعلق سے طویل گفتگو ہوسکتی جس میں زمانے اور حالات کے مطابق دینی احکام کو دیکھنے اور سمجھنے کا عمل ملتا۔جس نے ترجمان القران گہرائی سے پڑھا وہ پہلی جلد سورۃ فاتحہ کی تشریح سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ کس طرح مولانا آزاد نے اس سورۃ کے حوالے قرآن الحکیم کی روح کو ہمارے سامنے پیش کردیا ہے۔ سورۃ فاتحہ کی تشریح اور تفسیر کے حوالے سے انہوں نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ہمارے سامنے پیش کردیا ۔ہماری معاشی زندگی ، اخلاقی زندگی ، سماجی زندگی ، دوسرے مذاہب سے ہمارے رشتے ،جدید دنیا میں مسلمانوں کا رول ، علم اور عمل کے اصول و ضوابط۔غرض کہ قران الحکیم کو سامنے رکھتے ہوئے آزاد نے ہمیں وہ آئینہ دکھایا جس میں جدید دنیا میں ایک مسلمان کو راسخ العقید گی کی بجائے وسیع القلبی ، جمود کی جگہ تحرک اور جہالت کی جگہ علم کے فروغ پر توجہ دینی چاہئے۔غور کیجئے آج مسلم معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔علم کی اس بدلتی دنیا میں ہمارا مقام کیا ہے۔معاشی سطح پر دنیا کے منظرنامے پر ہم کہاں ہیں۔ عورتوں کے سماجی مقام کا تعئین ہم کیسے کررہے ہیں۔زندگی کی ہر سطح پر آخر ہم پیچھے کیوں ہیں ۔ ظاہر ہے ایک طرف ہم دین کی بنیادی تعلیم کی وسعت کو راسخ العقیدگی کی عینک میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدید علوم کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ مولانا آزاد کی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے اگر ہم اپنا سفر شروع کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں ہم اپنا مقام حاصل نہ کرسکیں۔اس معاملے میں سرسید اور آزاد ہم نوا نظر آتے ہیں۔خود آزادی کے بعد مولانا آزاد ہندوستانی ریاست کے دس سالوں تک وزیر تعلیم رہے اور جدید ہندوستان کے تعلیمی نظام کا جو جدید روپ آج ہمیں نظر آرہا ہے وہ مولانا آزاد کی فراست اور فکر کا نتیجہ ہی ہے۔آئی آئی ٹی سے لے کر عظیم یونیورسیٹیوں کے قیام تک مولانا آزاد کے تصور تعلیم کے حقیقی روپ کے جلوے نظر آتے ہیں۔
اس مختصر مضمون میں مولانا آزاد کی فکری معنویت اور اس معنویت کی عصری اہمیت کا پوری گہرائی سے جائزہ لینا ممکن نہیں ۔ یہ موضوع ایک مکمل کتاب کا متقاضی ہے لیکن مختصرا’’مولانا آزاد کی فکر میں تعلیم ، اتحاد، اورجدید فکر سے ہم آہنگی کی بڑی اہمیت ہے ۔ اگر انپہلوؤں کو ساتھ لے کر ہم آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی دوڑمیں ہم پیچھے رہ جائیں۔
———————————————————————————————–
جناب ابرار مجیب اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور نقاد ہیں

Maulana Abul Kalam Azad ka Safar E A akhirat by Aagha Shorish Kashmiri

Articles

مولانا ابوالکلام آزاد کا سفر آخرت

آغا شورش کاشمیری

مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متجر، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا، وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے سامنے خون کا ایک سمندر ہے ، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں ، ان کا دل بیگانوں سے زیادہ یگانوں کے چرکوں سے مجروح تھا، انہیں مسلمانوں نے سالہا سال اپنی زبان درازیوں سے زخم لگائے اور ان تمام حادثوں کو اپنے دل پر گذارتے رہے ۔

آزادی کے بعد یہی سانچے دس سال کی مسافت میں ان کیلئے جان لیوا ہو گئے ، 12/فروری 1958ء کو آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ مولانا آزاد علیل ہو گئے ہیں ، اس رات کابینہ سے فارغ ہو کر غسل خانے میں گئے ، یکایک فالج نے حملہ کیا اور اس کا شکار ہو گئے ، پنڈت جواہر لال نہرو اور رادھا کرشنن فوراً پہنچے ڈاکٹروں کی ڈار لگ گئی، مولانا بے ہوشی کے عالم میں تھے ، ڈاکٹروں نے کہاکہ 48 گھنٹے گذرنے کے بعد وہ رائے دے سکتیں گے کہ مولاناخطرے سے باہر ہیں یا خطرے میں ہیں ۔
ادھر آل انڈیا ریڈیو نے براعظم میں تشویش پیدا کر دی اور یہ تاثر عام ہو گیا کہ مولانا کی حالت خطرہ سے خالی نہیں ہے ہر کوئی ریڈیو پر کان لگائے بیٹھا اور مضطرب تھا، مولانا کے بنگلہ میں ڈاکٹر راجندرپرساد (صدر جمہوریہ ہند)، پنڈت جواہرلال نہرو وزیراعظم، مرکزی کابینہ کے ارکان، بعض صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اکابر علماء کے علاوہ ہزا رہا انسان جمع ہو گئے ، سبھی پریشان تھے 19!فروری کو موت کا خدشہ یقینی ہو گیا۔
کسی کے حواس قائم نہ تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو رفقاء سمیت اشکبار چہرے سے پھر رہے تھے ، ہر کوئی حزن و ملال کی تصویر تھا۔ ہندوستان بھر کی مختلف شخصیتیں آ چکی تھیں ۔
جب شام ہوئی ہر امید ٹوٹ گئی۔ عشاء کے وقت سے قرآن خوانی شروع ہو گئی، مولانا حفیظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا محمد میاں ؒ، مفتی عتیق الرحمنؒ، سید صبیح الحسنؒ، مولانا شاہد فاخریؒ اور بیسیوں علماء وحفاظ تلاوت کلام الہیٰ میں مشغول تھے ۔

آخر ایک بجے شب سورہ یٰسین کی تلاوت شروع ہو گئی اور 22/فروری کو 2:15 بجے شب مولانا کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
(انا ﷲ وانا الیہ راجعون)

اس وقت بھی سینکڑوں لوگ اضطراب میں کھڑے تھے ، جوں ہی رحلت کا اعلان ہوا تمام سناٹا چیخ و پکار سے تھرا گیا۔
دن چڑھے تقریباً 2 لاکھ انسان کوٹھی کے باہر جمع ہو گئے ۔ تمام ہندوستان میں سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں کے پرچم سرنگوں کر دئیے گئے ، ملک کے بڑے بڑے شہروں میں لمبی ہڑتال ہو گئی، دہلی میں ہو کا عالم تھا حتی کہ بینکوں نے بھی چھٹی کر دی ایک ہی شخص تھا جس کیلئے ہر مذہب کی آنکھ میں آنسو تھے ، بالفاظ دیگر مولانا تاریخ انسانی کے تنہا مسلمان تھے ، جن کے ماتم میں کعبہ و بت خانہ ایک ساتھ سینہ کوب تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو موت کی خبر سنتے ہی دس منٹ میں پہنچ گئے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے انہیں یاد آ گیا کہ مولانا نے آج ہی صبح انہیں “اچھا بھائی خدا حافظ “کہا تھا۔

ڈاکٹروں نے 21 کی صبح کو ان کے جسم کی موت کا اعلان کر دیا اور حیران تھے کہ جسم کی موت کے بعد ان کا دماغ کیونکر 24 گھنٹے زندہ رہا۔
ڈاکٹر بدھان چندر رائے (وزیراعلیٰ بنگال) نے انجکشن دینا چاہا تو مولانا نے آخری سہارا لے کر آنکھیں کھولیں اور فرمایا “ڈاکٹر صاحب اﷲ پر چھوڑئیے ” ۔ اس سے پہلے معالجین کے آکسیجن گیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “مجھے اس پنجرہ میں کیوں قید کر رکھا ہے ؟ اب معاملہ اﷲ کے سپرد ہے “۔
میجر جنرل شاہ نواز راوی تھے کہ تینوں دن بے ہوش رہے ، ایک آدھ منٹ کیلئے ہوش میں آئے ، کبھی کبھار ہونٹ جنبش کرتے تو ہم کان لگاتے کہ شاید کچھ کہنا چاہتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنی کا ورد کر رہے ہیں ، پنڈت نہرو کے دو منٹ بعد ڈاکٹر راجندر پرساد آ گئے ان کی آنکھوں میں آنسو ہی آنسو تھے ، آن واحد میں ہندوستانی کابنیہ کے شہ دماغ پہنچ گئے ، ہر ایک کا چہرہ آنسوؤں کے پھوار سے تر تھا اور ادھر ادھر ہچکیاں سنائی دے رہی تھیں ۔
مسٹر مہابیر تیاگی سراپا درد تھے ، ڈاکٹر رادھا کرشنن نے آبدیدہ ہو کر کہا :
“ہندوستان کا آخری مسلمان اٹھ گیا، وہ علم کے شہنشاہ تھے ” ۔
کرشن مین سکتے میں تھے ، پنڈت پنٹ یاس کے عالم میں تھے ، مرار جی دیسائی بے حال تھے ، لال بہادر شاستری بلک رہے تھے ڈاکٹر ذا کرحسین کے حواس معطل تھے ۔ مولانا قاری طیب غم سے نڈھال تھے ، مولانا حفظ الرحمن کی حالت دیگر گوں تھی، ادھر زنانہ میں مولانا کی بہن آرزو بیگم تڑپ رہی تھیں ….
اب کوئی آرزو نہیں باقی

ان کے گرد اندرا گاندھی، بیگم ارونا آصف علی اور سینکڑوں دوسری عورتیں جمع تھیں ۔ اندرا کہہ رہی تھیں “ہندوستان کا نور بجھ گیا”
اور ارونا رورہی تھیں “ہم ایک عظمت سے محروم ہو گئے “۔

پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ مولانا تمام عمر عوام سے کھینچے رہے ان کے جنازہ میں عوام کے بجائے خواص کی بھیڑ ہو گئی۔ لیکن جنازہ اٹھا تو کنگ ایڈورڈ روڈ کے بنگلہ نمبر 4 کے باہر 2 لاکھ سے زائد عوام کھڑے تھے اور جب جنازہ انڈیا گیٹ اور ہارڈنگ برج سے ہوتا ہوا دریا گنج کے علاقہ میں پہنچا تو 5 لاکھ افراد ہو چکے تھے ، صبح 4 بجے میت کو غسل دیا گیا اور کفنا کر 9 بجے صبح کوٹھی کے پورٹیکو میں پلنگ پر ڈال دیا گیا۔

سب سے پہلے صدر جمہوریہ نے پھول چڑھائے ، پھر وزیراعظم نے اس کے بعد غیر ملکی سفراء نے کئی ہزار برقعہ پوش عورتیں مولانا کی میت کو دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں ، ان کے ہونٹوں پر ایک ہی بول تھا
“مولانا آپ بھی چلے گئے ، ہمیں کس کے سپرد کیا ہے ؟”۔
ہندو دیویاں اور کنیائیں مولانا کی نعش کو ہاتھ باندھ کر پرنام کرتی رہیں ۔ ایک عجیب عالم تھا چاروں طرف غم و اندوہ اور رنج و گریہ کی لہریں پھیلی ہوئی تھیں ۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی بے چینی کا یہ حال تھا کہ ایک رضا کار کی طرح عوام کے ہجوم میں گھس جاتے اور انہیں بے ضبط ہجوم کرنے سے روکتے ، پنڈت جی نے یمین ویسار سکیورٹی افسروں کو دیکھا تو ان سے پوچھا :
“آپ کون ہیں ؟”
“سکیورٹی افسر”۔
“کیوں “۔
“آپ کی حفاظت کیلئے “۔
“کیسی حفاظت؟ موت تو اپنے وقت پر آکے رہتی ہے، بچا سکتے ہو تو مولانا کو بچا لیتے ؟”

شری پربودھ چندر راوری تھے کہ پنڈت جی نے یہ کہا اور بلک بلک کر رونے لگے ، ان کے سکیورٹی افسر بھی اشکبار ہو گئے ، ٹھیک پون بجے میت اٹھائی گئی، پہلا کندھا عرب ملکوں کے سفراء نے دیا، جب کلمہ شہادت کی صداؤں میں جنازہ اٹھا تو عربی سفراء بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ، جوں ہی بنگلہ سے باہر کھلی توپ پر جنازہ رکھا گیا تو کہرام مچ گیا، معلوم ہوتا تھا پورا ہندوستان روہا ہے مولانا کی بہن نے کوٹھی کی چھت سے کہا :
“اچھا بھائی خدا حافظ”۔

پنڈت پنٹ نے ڈاکٹر راجندر پرساد کا سہارا لیتے ہوئے کہا :
“مولانا جیسے لوگ پھر کبھی پیدا نہ ہوں گے اور ہم تو کبھی نہ دیکھ سکیں گے “۔

مولانا کی نعش کو کوٹھی کے دروازہ تک چارپائی پر لایا گیا، کفن کھدر کا تھا، جسم ہندوستان کے قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، اس پر کشمیری شال پڑا تھا اور جنازہ پر نیچے دہلی کی روایت کے مطابق غلاف کعبہ ڈالا گیا تھا۔ پنڈت نہرو، مسٹر دھیبر صدر کانگریس، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، جنرل شاہ نواز، پروفیسر ہمایوں کبیر، بخشی غلام محمد اور مولانا کے ایک عزیز جنازہ گاڑی میں سوار تھے ۔
ان کے پیچھے دوسری گاڑی میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر کی موٹر تھی۔ ان کے بعد کاروں کی ایک لمبی قطار تھی جس میں مرکزی وزراء، صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر اور غیر ملکی سفراء بیٹھے تھے ۔
ہندوستانی فوج کے تینوں چیفس جنازے کے دائیں بائیں تھے ۔ تمام راستہ پھولوں کی موسلادھار بارش ہوتی رہی۔ دریا گنج سے جامع مسجد تک ایک میل کا راستہ پھولوں سے اٹ گیا۔ جب لاش لحدتک پہنچی تو ایک طرف علماء و حفاظ قرآن مجید پڑھ رہے تھے دوسری طرف اکابر فضلاء سرجھکائے کھڑے تھے ۔

اس وقت میت کو بری فوج کے ایک ہزار نوجوانوں ، ہوائی جہاز کے تین سو جانبازوں اور بحری فوج کے پانچ سو بہادروں نے اپنے عسکری بانکپن کے ساتھ آخری سلام کیا، مولانا احمد سیعد دہلوی صدر جمعیت علماء ہند نے 2:50 پر نماز جنازہ پڑھائی، پھر لحد میں اتارا، کوئی تابوت نہ تھا اور اس طرح روئے کہ ساری فضاء اشکبار ہو گئی، تمام لوگ رو رہے تھے اور آنسو تھمتے ہی نہ تھے ، مولانا کے مزار کا حدود اربعہ “بوند ماند” کے تحت درج ہے ۔

مختصر … یہ کہ جامع مسجد اور لال قلعہ کے درمیان میں دفن کئے گئے ، مزار کھلا ہے ، اس کے اوپر سنگی گنبد کا طرہ ہے اور چاروں طرف پانی کی جدولیں اور سبزے کی روشیں ہیں ۔ راقم جنازہ میں شرکت کیلئے اسی روز دہلی پہنچا، مولانا کو دفنا کر ہم ان کی کوٹھی میں گئے کچھ دیر بعد پنڈت جواہر لال نہرو آ گئے اور سیدھا مولانا کے کمرے میں چلے گئے پھر پھولوں کی اس روش پر گئے ، جہاں مولانا ٹہلا کرتے تھے ، ایک گچھے سے سوال کیا:
“کیا مولانا کے بعد بھی مسکراؤ گے ؟”۔
راقم آگے بڑھ کر آداب بجا لایا کہنے لگے : “شورش تم آ گئے ؟ مولانا سے ملے ؟”
راقم کی چیخیں نکل گئیں ۔
مولانا ہمیشہ کیلئے رخصت ہو چکے تھے اور ملاقات صبح محشر تک موقوف ہو چکی تھی۔

***

بشکریہ تعمیر نیوز

Maulana Abul Kalam Azad aur Maoseeqi

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد اور موسیقی

ثاقب اکبر

مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی حیثیت تو اپنے مقام پر مسلم ہے لیکن ان کے مقام علمی کا  کوئی  بھی انکار نہیں کرتا۔ ایک بڑا طبقہ انھیں امام الہند کے نام سے بھی یاد کرتا ہے۔ مشرب کے لحاظ سے ان کو جدید رجحانات رکھنے والا اہل حدیث کہا جاسکتاہے۔ برصغیر میں اور بھی ایسے اکابر گزرے ہیں جن کو اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے جن میں مولانا جعفر شاہ پھلواروی اورمولانا محمد حنیف ندوی شامل ہیں لیکن شاید ان سب میں مولانا ابوالکلام آزاد کا مرتبہ زیادہ بلند ہے۔ ترجمان القرآن کے نام سے ان کے تفسیری مطالب تین جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ادب کی دنیا میں بھی ان کو ایک شہ سوار کی حیثیت حاصل ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو موسیقی سے بھی خاصی دلچسپی رہی ہے۔
موسیقی کا مسئلہ علماء کے مابین خاصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے زیادہ تر علماء موسیقی کو مطلقاً حرام قرار دیتے رہے ہیں۔البتہ اس کے لیے وہ ‘‘غنا’’ کا کلمہ استعمال کرتے ہیں۔ علماء کی ایک تعداد اس حرمت میں سے دو استثناء ات کی قائل ہے۔ ایک شادی بیاہ کے موقع پر لڑکیوں کا آپس میں گیت گانا اور دوسرا حدی خوانی یعنی شتر بانوں کا اونٹوں کے کاروانوں میں گانا۔ یہ دونوں امور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رائج تھے اور آپؐ نے ان سے منع نہیں کیا بلکہ بعض روایات کے مطابق شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کی سکھیوں کے گیت کی آواز نہ آنے پر استعجاب بھی کیا۔
جہاں تک موسیقی کے آلات کا تعلق ہے تو اس کو بھی مطلقاً حرام قرار دینے والے علماء بڑی تعداد میں موجود ہیں البتہ عموماً ‘‘دف’’ کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے کیونکہ ان علماء کے نزدیک رسول اللہؐ کے زمانے میں اس کا رواج تھا اور جب آنحضرتؐ مدینہ منورہ میں پہلی مرتبہ داخل ہو رہے تھے تو مدینے کی لڑکیاں آپؐ کے استقبال کے لیے دف بجا کر یہ گیت گا رہی تھیں‘‘ طلع البدر علینا۔ وجب الشکر علینا’’۔
بہرحال ایسے علماء بھی ہیں جو گائیکی کی بعض دیگر صورتوں کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح صوفیاء کا ایک گروہ ‘‘سماع’’ کو جائز قرار دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جو مذہبی حوالے سے قوالیوں کا رواج ہے وہ اسی جواز سے استفادے کی ایک شکل ہے۔
البتہ کم تعداد میں ایسے علماء بھی ہیں جو موسیقی کی دو صورتوں کے قائل ہیں ،ایک حلال اور دوسری حرام۔ اس مسئلے کی کچھ تفصیلات ہیں جسے ہم کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں کیونکہ آج ہمیں مولانا ابوالکلام آزاد کے ذوق موسیقی پر کچھ عرض کرنا ہے۔
موسیقی کے ساتھ ان کی وابستگی،رغبت بلکہ انتہائے شوق کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ وہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں
’’ میں آپ سے ایک بات کہوں، میں نے بار ہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے، میں زندگی کی احتیاجوں میں ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا ، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘
موسیقی کے سحر میں مولانا ایسے گرفتار تھے کہ اپنی اس جاذبیت کو بیان کرتے ہوئے وہ پڑھنے والے کے قلب و نظر کو بھی جذب کرلیتے ہیں۔ چنانچہ جوانی کے اس دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ جب وہ موسیقی کے انتہائی دلدادہ ہو چکے تھے، لکھتے ہیں:
’’آگرہ کے سفر کا اتفاق ہوا، اپریل کا مہینہ تھا اور چاندنی کی ڈھلتی ہوئی راتیں تھیں۔ جب رات کا پچھلا پہر شروع ہونے کو ہوتا تو چاند پردۂ شب ہٹا کر یکایک جھانکنے لگتا۔ میں نے خاص طور پر کوشش کر کے یہ انتظام کررکھا تھا کہ رات کو ستار لے کر تاج محل چلا جاتا اور اس کی چھت پر جمنا کے رخ بیٹھ جاتا، پھر جونہی چاندنی پھیلنے لگتی ستار پر کوئی گیت چھیڑ دیتا اور اس میں محو ہوجاتا، کیا کہوں اور کس طرح کہوں کہ فریب تخیل کے کیسے کیسے جلوے انہی آنکھوں کے آگے گزر چکے ہیں۔ رات کا سناٹا، ستاروں کی چھاؤں، ڈھلتی ہوئی چاندنی اور اپریل کی بھیگی ہوئی رات، چاروں طرف تاج کے ستارے سر اٹھائے کھڑے تھے، برجیاں دم بخود بیٹھی تھیں، آپ یاد کریں یا نہ کریں مگر یہ واقعہ ہے کہ اس عالم میں، میں نے بارہا برجیوں سے باتیں کی ہیں۔‘‘
مولانا نے اپنے مختلف مکتوبات میں بتایا ہے کہ انھوں نے کب کب اور کس کس سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کو خاص ستار سے رغبت ہو گئی تھی اور اس پر ان کی انگلیاں خوب رواں تھیں۔ ان کے والد صاحب کے ایک مرید جو موسیقی کے استاد تھے، آزاد نے انھیں بھی چپکے سے اپنا استاد کر لیا تھا اور گوشہ نشینی میں ان سے کئی برس تک فیض موسیقی حاصل کرتے رہے، اس کا نام مسیتا خاں تھا۔ اس دور میں اپنی کیفیت وہ اس شعر کے ذریعے بیان کرتے ہیں:
عشق می ورزم و امید کہ ایں فن شریف
چوں ہنر ہائے دگر موجبِ حرماں نشود
موسیقی سے اپنی رغبت کے لیے وہ دلیل بھی ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں:
’’مقصود اس اشتعال سے صرف یہ تھا کہ طبیعت اس کوچہ سے نا آشنا نہ رہے کیونکہ طبیعت کا توازن اور فکر کی لطافت بغیر موسیقی کی ممارست کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب ایک خاص حد تک یہ مقصد حاصل ہو گیا تو پھر مزید اشتعال نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ موانع کار کے حکم میں داخل ہو گیا تھا۔ البتہ موسیقی کا ذوق اور تاثر جو دل کے ایک ایک ریشے میں رچ گیا تھا، دل سے نکالا نہیں جاسکتا تھا اورآج تک نہیں نکلا:
جاتی ہے کوئی کش مکش اندوہ عشق کی
دل بھی اگر گیا، تو وہی دل کا درد تھا
حسن آواز میں ہو یا چہرے میں، تاج محل میں ہو یا نشاط باغ میں، حسن ہے اور حسن اپنا فطری مطالبہ رکھتا ہے۔ افسوس اس محروم ازلی پر جس کے بے حس دل نے اس مطالبہ کا جواب دینا نہ سیکھا ہو۔‘‘
مولانا آزاد کو دنیا کے مختلف خطوں کی موسیقی کے مزاج کا علم تھا۔ وہ عربوں کی موسیقی سے بھی اسی طرح آشنا تھے جیسے ہندوستان کی موسیقی سے۔ وہ اہل مغرب کی موسیقی میں نئے نئے تجربات سے بھی واقف تھے۔ انھوں نے موسیقی پر لکھی گئی کئی ایک قدیم کتب اچھی طرح سے پڑھ رکھی تھیں۔ وہ بعض مذہبی امور میں بھی موسیقیت کو تلاش کر لیتے تھے۔ ان کے چند کلمات ملاحظہ فرمائیے:
’’بچپنے میں حجاز کی مترنم صداؤں سے کان آشنا ہو گئے تھے۔ صدر اول کے زمانے سے لے کر جس کا حال ہم کتاب الاغانی اور عقد الفرید وغیرہ میں پڑھ چکے ہیں، آج تک حجازیوں کا ذوق موسیقی گیر متغیر رہا۔ یہ ذوق ان کے خمیر میں کچھ اس طرح پیوست ہو گیا تھا کہ اذان کی صداؤں تک کو موسیقی کے نقشوں میں ڈھال دیا۔ آج کل کا حال معلوم نہیں لیکن اس زمانے میں حرم شریف کے ہر منارہ پر ایک موذن متعین تھا اور ان سب کے اوپر شیخ الموذنین ہوتا۔ اس زمانے میں شیخ الموذنین شیخ حسن تھے اور بڑے ہی خوش آواز تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رات کی پچھلی پہر میں ان کی ترحیم کی نوائیں ایک سماں باندھ دیا کرتی تھیں۔‘‘
ہمارے کئی ایک فقہاء نے لکھا ہے کہ بھدی اور بے سری آواز میں اذان دینا مکروہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک خوبصورت اور مترنم آواز میں دی گئی اذان کی تاثیر کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ ایسی اذانیں بھی گاہے سنائی دیتی ہیں جو مسجد کی طرف کھینچنے کے بجائے دور بھاگنے پر اکسا رہی ہوتی ہیں۔
مولانا ایک مقام پر مصر کے شیخ احمد سلامہ حجازی کا تذکرہ کرتے کرتے ایک مغنیہ کا ذکر ان الفاظ میں چھیڑتے ہیں:
اس زمانے میں مصر کی ایک مشہور ’’عالمہ‘‘ طاہرہ نامی باشندہ طنطا تھی۔ ’’عالمہ‘‘ مصر میں مغنیہ کو کہتے ہیں، یعنی موسیقی کا علم جاننے والی، ہمارے علماء کرام کو اس اصطلاح میں غلط فہمی نہ ہو، یورپ کی زبانوں میں یہی لفظ (Alma) ہو گیا ہے۔ شیخ سلامہ بھی اس عالمہ کی فن دانی کا اعتراف کرتا تھا۔ وہ خود بھی بلائے جان تھی، مگر اس کی آواز اس سے بھی زیادہ آفت ہوش و ایمان تھی۔ میں نے اس سے بھی شناسائی باہم پہنچائی اور عربی موسیقی کے کمالات سنے۔ دیکھیے اس خانماں خراب شوق نے کن کن گلیوں کی خاک چھنوائی۔
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہگزر کو میں
اس زمانے میں مصر کی مغنیہ ام کلثوم کا بھی طوطی بولتا تھا۔ مولانا ان کے بھی دل باختہ ثابت ہوئے، لکھتے ہیں:
جس زمانے کے یہ واقعات لکھ رہا ہوں، اس سے کئی سال بعد مصر میں ام کلثوم کی شہرت ہوئی اور اب تک قائم ہے۔ میں نے اس کے بے شمار ریکارڈ سنے ہیں اور قاہرہ، انگورہ، طرابلس الغرب، فلسطین اور سنگاپور کے ریڈیو سٹیشن آج کل بھی اس کی نواؤں سے گونجتے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس شخص نے ام کلثوم کی آواز نہیں سنی ہے وہ موجودہ عربی موسیقی کی دلآویزیوں کا اندازہ نہیں کر سکتا۔
مولانا موسیقی اور شاعری کی باہمی الفت و التفات کا ذکر بھی خوبصورت انداز سے کرتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ موسیقی اور شاعری ایک ہی حقیقت کے دو مختلف جلوے ہیں اور ٹھیک ایک ہی طریقہ پر ظوہر پذیر ہوتے ہیں۔ موسیقی کا مولف الحان کے اجزا کو وزن و تناسب کے ساتھ ترکیب دے دیتا ہے اسی طرح شاعر بھی الفاظ ومعانی کے اجزا کو حسن وترکیب کے ساتھ باہم جوڑ دیتا ہے۔
توحنا بستی و من معنی رنگیں بستم
جو حقائق شعر میں الفاظ و معانی کا جامہ پہن لیتے ہیں وہی موسیقی میں الحان و ایقاع کا بھیس اختیار کر لیتے ہیں۔ نغمہ بھی ایک شعر ہے لیکن اسے حرف و لفظ کا بھیس نہیں ملا۔ اس نے اپنی روح کے لیے نواؤں کا بھیس تیار کرلیا ہے۔
موسیقی کے حوالے سے مولانا کے ارشادات اور تجربات لکھتے چلے جائیں تو ایک کتاب چاہیے۔ہم نے مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر کچھ ذکر کردیا ہے۔ آخر میں مولانا کے کمال علم و فضل کا اعتراف کرنے والے چند مشاہیر کی آراء نذر قارئین کرتے ہیں:
علامہ اقبال ؒ کے نزدیک پورے برصغیر میں صرف ابوالکلام مجتہدانہ حیثیت کے اہل تھے۔
مولانا ظفر علی خاں کے نزدیک اجتہاد میں ابوالکلام آزاد ایک منفرد مقام کے حامل تھے۔چنانچہ وہ ایک شعر میں اپنی اس رائے کا یوں اظہار کرتے ہیں:
جہان اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو اس میں جستجو تو پوچھ بوالکلام سے
مولانا سید مودودی کے نزدیک ابوالکلام اور اقبال اس دور کے دماغ تھے۔
مولانا حسرت موہانی کے نزدیک ابوالکلام آزاد نثر اور خطابت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔وہ زبان شعر میں یوں رطب اللساں ہیں:
جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
جس زمانے میں سب تھے مہر بلب
ایک گویا تھا      بوالکلام آزاد
علامہ سید سلیمان ندوی کہتے ہیں :
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان مسلمانوں میں قرآن پاک کا ذوق مولانا ابوالکلام آزاد کے ‘‘الہلال’’اور ‘‘البلاغ’’ نے پیدا کیا۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ابوالکلام آزاد کی وفات پر ایک شہرہ آفاق نظم کہی جس کا مطلع یوں ہے:
عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے، اْفق پہ مہر مبیں نہیں ہے
حسن ختام کے لیے ہم یہ مصرعہ پیش کرتے ہیں:
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

بشکریہ تجزیات ڈاٹ کام

Abul Kalam Azad, Unki Gunagun Khidmaat aur Urdu Sahafat by Nadeem Ansari

Articles

ابو الکلام آزاد، ان کی گو نا گوں خدمات اور اُردو صحافت

مولانا ندیم انصاری

امام الہندمولانا ابو الکلام آزاد ملک و قوم کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کا نام تاریخِ ہند اور تاریخِ ادب اردو میں محبِ قوم و زبان کی حیثیت سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مولانا ابو الکلام آزادکا اصلی نام ’احمد‘، تاریخی نام ’محی الدین‘ ،کنیت ’ابوالکلام‘اورتخلص’ آزادؔ‘تھا۔ ان کی ولادت 11نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ کے محلہ ’قدوہ‘ میں ہوئی۔مولانا کا مادری وطن مدینہ منورہ اور آبائی وطن دہلی ہے۔ عرب ماں نے عرب ماحول میں اپنے لختِ جگر کی پرورش کی اور اس طرح اُنھیں مادری زبان عربی اور اجداد کی زبان اردو کا عطیہ من جانب اللہ عطا ہوا۔مولانا کے والد1857ء کے ہنگامے کے بعد دل برداشتہ ہوکرمکہ مکرمہ چلے گئے تھے اور جب آزادؔ گیارہ سال کے تھے، اس وقت ملک واپس آئے اور کلکتہ میں سکونت اختیار کی۔آزادیِ ہند کے بعد مولانا آزاد مرکزی حکومت میں پہلے وزیرِ تعلیم نام زد کیے گئے۔آگے ہم مولاناکی شخصیت و دیگر تصنیفات پر اجمالی اور صحافت پر قدرے تفصیلی معلومات پیش کریں گے۔

مولانا کی شخصیت کا تعارف کرواتے ہوئے پنڈت جوہر لعل نہرو نے کہا تھا:

مولانا کو دیکھ کر مجھے اکثر وہ فرانسیسی قاموسی یاد آجاتے ہیں جو انقلابِ فرانس سے کچھ عرصے پہلے وہاں موجود تھے۔ تاریخِ اقوامِ ماضیہ میں ان کا درک و بصیرت یقیناً حیرت انگیز ہے اور پھر یہ وسیع علم ان کے دماغ میں عجیب ضبط و ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔ ان کا ذہن مدلّل، با ضابطہ اور سُلجھا ہوا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے منطق و فلسفےکے کسی قدیم اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا عام رویہ معقولیت پسند ہے۔ بہ ایں ہمہ ان میں ایک ایسا انسان موجود ہے جو علم کے پہاڑوں کو نرم و نازک بنا کر بلند مگر خُشک ظرافت پیش کرتا ہے۔ـ

مولانا ابوالکلام آزاد بہ یک وقت باکمال مفسرِ قرآن، جادو بیان خطیب، عمدہ انشا پرداز،بے مثال صحافی اور بلند قامت سیاست داںتھے ۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہم نوا رہے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد بھی موجود تھا۔ یہی سبب ہے کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا نے ہی آگے بڑھ کر اس معاملے میں مزاحمت کی۔مولانا عالی دماغ کے حامل شخص تھے۔ انھیں یہ غم ستاتا رہا کہ ان سے جیسا استفادہ کیا جا سکتا تھا، وہ نہیں کیا گیا۔ایک مقام پر فرماتے ہیں:

افسوس ہے زمانہ میرے دماغ سے کام لینے کا کوئی سامان نہ کر سکا۔ غالب کو تو صرف اپنی ایک شاعری ہی کا رونا تھا، نہیں معلوم میرے ساتھ قبر میں کیا کیا جاے گا۔۔۔بعض اوقات سوچتا ہوں تو طبیعت پر حسرت و الم کا ایک عجیب عالَم طاری ہو جاتا ہے۔ مذہب، علوم و فنون، ادب، انشا پردازی، شاعری کوئی وادی ایسی نہیں ہے جس کی بے شمار نئی راہیںمبدأ فیاض نے مجھ نامراد کے دماغ پر نہ کھول دی ہوں ۔۔۔لیکن افسوس جس ہاتھ نے فکر و نظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا، اس نے شاید سر و سامانِ کار کے لحاظ سے تہی دست رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد اور محل کا آدمی نہ تھا، مگر اس کے حوالے کر دیا گیا۔

قلمی چہرہ

شورش کاشمیری کے بیان کے مطابق قامت میانہ، بدن اکہرا، رنگ سرخ و سفید، نجیب الطرفین، ذات‘ سیادت، پیشہ‘ وزارت، خلوت کا شیدائی، خطابت میں یگانہ، صحافت میں منفرد، سیاست میں یکتا، عالمِ متبحّر، زبردست مجتہد، حسن چہرہ میں ہو یا آواز میں‘ اس کی دل پذیری پر جی جان سے فدا– دماغ یوروپی، طبیعت عجمی، دل عربی، وجود ہندوستانی– ایسے تھے مولانا ابو الکلام آزادؔ۔

مولانا نے اپنی حیاتِ مستعار میں گو نا گوں علمی خدمات انجام دی ہیں۔ مضمونِ ہذا میں ہم صحافت کا قدرے تفصیلی جایزہ لیں، لیکن اس سے قبل ان کی دیگر خدمات کا مختصر تعارف سپردِ قلم کرتے ہیں۔

تفسیرترجمان القرآن

قرآن کریم جو کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے، مولانا نے شبانہ روز مطالعے کے بعد اس کی ترجمانی کا نازک فریضہ انجام دیا۔ نومبر 1930ء میں انھوں نے لکھا تھا:

قرآن مجید کامل ستائیس برس سے میرے شب و روز کے فکر و نظر کا موضوع رہا ہے۔ ایک ایک سورت، ایک ایک مقام، ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پر میں نے وادیاں قطع کی ہیں اور مرحلوں پر مرحلے طے کیے ہیں۔

مولانا کا قرآن مجید کی ترجمانی و تفسیر لکھنے کا ارادہ تو عرصے سے تھا، لیکن انھیں اس کا موقع نہیں مل سکا۔ جس کا سبب  سیاسی زندگی کی شورشیں تھیں۔مولانا نے اپنی قرآنی خدمات کے متعلق ’ترجمان القرآن‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ قرآن کے درس و مطالعے کی تین مختلف ضرورتیں ہیں اور میں نے اُنھیں تین کتابوں میں منقسم کر دیا ہے؛ (۱) مقدمۂ تفسیر (۲) تفسیر ’البیان‘ (۳) ترجمان القرآن۔مقدمۂ تفسیر ؛ قرآن کے مقاصد و مطالب پر اصولی مباحث کا مجموعہ ہے اور اس میںکوشش کی گئی ہے کہ مطالبِ قرآن کے جوامع و کلیات مدون ہو جائیں۔ تفسیر ’البیان‘ فکر و مطالعہ کے لیے ہے اور ’ترجمان القرآن‘ قرآن کی عالمگیر تعلیم و اشاعت کے لیے۔

’ترجمان القرآن‘کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے سعید احمد اکبرآبادی نے لکھا ہے:

مولانا ابوالکلام آزاد نے اردو ادب کے چمن میں حسن و انشا و بیان کے جو پھول کھلائے ہیں، یوں تو وہ سب ہی سدا بہار ہیں، لیکن مستقل تصنیف کی حیثیت سے قرآن مجید کی تفسیر ترجمان القرآن مولانا کی تمام علمی اور ادبی تحریروں میں شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔ قلم کی توانائی، اجتہادِ فکر، وسعتِ نظر و مطالعہ اور جذبۂ تحقیق و تدقیق، مولانا کی یہ وہ خصوصیات ہیں جو اُن کی ہر علمی و ادبی تحریر میں نظر آتی ہیں۔ لیکن مولانا کی یہ خصوصیات اس کتاب میں جا بجا نمایاں ہیں اور اس بنا پر اردو زبان کے علمی ذخیرے میں اس کو امتیازی مقام حاصل ہے۔

سیرت النبیﷺ

مولانا آزادنے باقاعدگی سے مستقلاً کوئی سیرت کی کتاب تو نہیں لکھی، البتہ’الہلال‘ اور ’ البلاغ ‘ میں سیرۃ النبیﷺ کے مختلف پہلوؤں پر مختلف اوقات میں متعدد مقالات لکھ کر شائع کیے تھے اور ہر سال ربیع الاول کے موقع پر ضرور ایک دو مقالے تحریر کیا کرتے اور لوگوںکے استفسارات پر بھی تفصیلی جواب سے نوازتے تھے۔ مولانا نے دیگر انبیاے کرام علیہ السلام ، خصوصاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعلق سے بھی بہت کچھ لکھ کر سیرت کے موضوع پر  قیمتی سرمایہ جمع کر دیا تھا۔ایسی ہے بعض مضامین و مقالات کو ترتیب واضافوں کے ساتھ غلام رسول مہرؔ نے ’رسولِ رحمت‘کے نام سے شایع کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

میں نے سیرتِ طیبہ کے مقالے ترتیب سے رکھے او ان کی فہرست مرتب کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ رسولِ اکرمﷺ کی ذاتِ بابرکات کے متعلق نہایت قیمتی سرمایہ یک جا ہو گیا ہے۔ پھر مولانا کا اندازِ بیان ایسا تھا کہ جو کچھ زبانِ قلم پر آتا، دامنِ دل کو یقین و اعتماد کے گلہاے رنگارنگ سے بھر دیتا اور رشک و تذبذب کی خلش کے لیے کوئی گنجایش باقی نہ رہتی۔

شاعری

مولانا صرف نثر کے ہی بے تاج بادشاہ نہیں،انھیں شعر گوئی کا ملکہ بھی حاصل تھا۔گھر میں علم و ادب کے چرچے رہے، بڑے بھائی مولانا ابو نصر یٰسین آہؔ شاعر تھے، کچھ اُن کی دیکھا دیکھی اور کچھ فطری موزونیت کے سبب وہ بھی شعر کہنے لگے۔ ہاں آگے چل کر انھوں نے نثر کو ہی وسیلۂ اظہار بنایا۔مولانا  کی ایک غزل بہ طور نمونہ پیش ہے، جس میں روایتی شاعری کا رنگ غالب ہے۔

کوئی اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا

ہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا

اُس نے تلواریں لگائیں ایسے کچھ انداز سے

دل کا ہر ارماں فدائے دستِ قاتل ہو گیا

کوئی نالاں کوئی گرریاں کوئی بسمل ہو گیا

اس کے اٹھتے ہی دِگر گوں رنگِ محفل ہو گیا

قیس مجنوں کا تصور بڑھ گیا جب نجد میں

ہر بگولہ دشتِ لیلیٰ کا محمل ہو گیا

انتظار اُس گُل کا اس درجہ کیا گُلزار میں

نور آخر دیدۂ نرگس کا زائل ہو گیا

یہ بھی قیدی ہو گیا آخر کمندِ زلف کا

لے اسیروں میں ترے آزادؔ شامل ہو گیا

تذکرہ

1916ء میں مولانا جب رانچی (بہار) میں نظر بند تھے اور ان کی عمر تقریباً تیس سال تھی، اس وقت ایک کتاب بنام ’تذکرہ‘تصنیف کی ۔ جس کے آغاز میں آبائی و خاندانی حالات، پھر جدِ امجد شیخ جلال الدین کے تفصیلی حالات، بعدہ عہدِ شیر شاہی اور سلیم شاہی کے اولیاء اللہ اور آخر میں امام احمد ابن حنبل، علامہ ابن تیمیہ اور مجددِ الف ثانی رحمہم اللہ کا تذکرہ ہے۔اس کا پہلا ایڈیشن 1919ء میں البلاغ پریس، کلکتہ سے شایع ہوا۔ یہ اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔

غبارِ خاطر

دوسری عالمی جنگ کے موقع پر یعنی اگست 1942ء میں جب مولانا آزاد کانگریس کے صدر تھے، 8تاریخ کی شب کو بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کا ایک خاص جلسہ منعقد ہوا، جس کے آخری حصے یعنی 9اگست کو علی الصبح حکومت نے بشمول دیگر سرکردہ رہنماؤں کے مولانا آزاد کو بھی احمد نگر کے قلعے میں محبوس کر دیا گیا۔ مختلف مقامات پر تبدیلی کے بعد اس قید و بند سےبالآخر 15جون 1945ء میں رہا کیے گئے۔غبارِ خاطر اسی زمانے کی یادگار اور مولانا کی آخری تصنیف ہے، جو ان کی زندگی ہی میں شایع ہوئی۔مالک رام کے مطابق یہ چند متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، جنھیں خطوط کی شکل دے دی گئی ہے۔

سیاست

مولانا ابو الکلام آزاد ایک دور اندیش و مخلص سیاسی لیڈر اور رہنما بھی تھےانھوں نے نامساعد بلکہ مخالف حالات میں اپنی صاحیتوں کو بروئے کارلاکر گو نا گوں کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ہندستان کی جنگِ آزادی کا خواب جب شرمندۂ تعبیر ہوا، اس وقت ایک اہم المیہ یہ درپیش تھا کہ ملک کو دو حصوں میں پاکستان اور ہندستان کی شکل میں منقسم ہونا پڑا گو بہت سے مسلمان اکابرین بھی اس کے مخالف تھے، لیکن آخر کار ملک دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہا۔ سردار پٹیل اور پنڈت نہرو کے پُر زور اصرار پر مہاتما گاندھی نے بھی بادلِ ناخواستہ ہتھیار ڈال دیے اور یہ عرضی منظور کر لی گئی۔ اُس وقت مسلمانوں کے مستقبل کو اپنی فہم و فراست کی نظر سے دیکھ کر مولانا آزاد نے جامع مسجد دہلی کے منبر سے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ رقت آمیز اور پُراز بصیرت خطبہ دیاتھا:

کیا تمھیں یاد ہے کہ میں نے تم کو سمجھانا چاہا تو تم نے میری زبان پر تالے لگا دیے، میں نے قلم اٹھایا تو تم نے میرے ہاتھ قلم کر دیے، میں نے آگے بڑھنا چاہا تو تم نے میرے پیر پابندِ زنجیر کر دیے، میں نے پلٹنا چاہا ، تم نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ پھر بھی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم اس مسجد کے میناروں کوکس کے حوالے کرکے جانا چاہتے ہو؟ کیا تم کو یقین ہے کہ وہاں (پاکستان میں) تم کو وہی ملے گا، جس کے تم مستحق ہو؟ ہرگز نہیں، اس لیے تم یہیں رہو اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرو۔

آج ستّر سال بعد بھی امام الہند کے ایک ایک جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ایک اجتہادی خطا کی بنا پر مسلمان ایک ایسی کشتی میں سوار ہو گئے، جس کا کوئی ناخدا نہیںاور خود انھوں نے ملک میں اپنا وقار و وزن ہلکا بنا دیا۔مولاناکے مطابق اگر ملک متحد ہندستان کی شکل میں آزاد ہوتا تو ملک کے تمام صوبوں کو تین زمروں؛ A،Bاور C میں منقسم کیا جاتا۔ حکومت وفاقی طرز کی ہوتی، مرکز کے پاس امورِ خارجہ ، دفاع اور مواصلات کے محکمے ہوتے۔ صوبائی حکومتیں خود مختار یونٹوں کی شکل میں کام کرتیں، جس صوبے میں ہندو یا مسلم‘ جس کی اکثریت ہوتی، اُ س صوبے میں اُسی کا وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا جاتا، بقیہ یونٹوں میں آبادی کے تناسب سے یہ مرحلہ طے پاتا۔ سرکاری ملازمتیں تعلیمی، اداروں اور اسمبلیوں میں نمائندگی بھی آبادی کے متناسب ہوتی، لیکن ایسا ہو نہ سکا اور مولانا کو اپنوں اور غیروں کی انتہائی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بقول مجیب خیرآبادی ؎

دشمنوں کو اپنایا، دوستوں کے غم کھائے

پھر بھی اجنبی ٹھہرے، پھر بھی غیر کہلائے

معلوم ہوا امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی ہمہ جہت شخصیت میں متعدد و مختلف کمالات پوشیدہ تھے۔جن سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے محض ان کی صحافت پر گفتگو کرنا آسان نہیں۔ پھر اُن کی صحافت بھی موجودہ دور کی سی نہ تھی، جو صحافت کے بجائے کہ سفاہت کے مترادف ہے۔ مولانا کے مطالعے کی وسعت، جمالیاتی ذوق اور فضل و کمال کے متنوع امتزاج نے ان کی شخصیت کی شش جہات کو روشن کر دیا تھا۔ اس پر طرّہ یہ کہ ان کی صحافتی بوالعجمی وبو قلمونی ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ اس سے سرسری طور پر گزرا جائے۔ ’نیرنگِ عالم‘، ’لسان الصدق‘، ’المصباح‘، ’الندوہ‘، ’الہلال‘، اور ’البلاغ‘ وغیرہ ان کی اعلیٰ صحافت کے ان مٹ نقوش ہیں۔ مولانا آزاد نےصحافت کے توسط سے قومی و بین الاقوامی مسائل پر مجاہدانہ تحریریں لکھنے کے علاوہ قارئین کی ذہبی و اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ مبذول رکھی اور اس کے لیے ادب و انشا کو وسیلۂ اظہار بنایا۔

ہندستان کی صحافتی تاریخ میںمولانا ابو الکلام آزادکا مقام بہت بلند ہے۔ خاص طور سے ان کے شاہ کار ’الہلال‘کی حیثیت ایک مینارۂ نور کی  ہے۔مولانا نےایک طرف جہاں ’الہلال‘ کے ذریعہ خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہندستانی سماج کو بیدارکیا، وہیں تحریکِ آزادی کے کارواں کو بھی مہمیز کیا۔مولانا نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف قومی و ملّی جذبات کی ترجمانی کی بلکہ عالمی مسائل کا احاطہ بھی کیا۔ انھوں نے مذہبی، ادبی، سیاسی اور صحافتی مختلف النوع خدمات انجام دیںاور مسلم قوم کو احساس کم تَری سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی صحافت نے درحقیقت اُردو صحافت کو ایک نیا معیار و اعتبار عطا کیا۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت ایسی تھی جسے خود انھوں نے ایجاد کیا اور وہ اُن ہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔

مولانا آزاد ایک ایسے علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں صحافت کی حیثیت گھر کی لونڈی کی سی تھی۔ بچپن سے ہی انھوں نے ملک کے کونے کونے سے نکلنے والے اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا اور ابھی ان کی عمر صرف 11برس کی تھی کہ انھوں نے ایک رسالہ’نیرنگِ عالم‘ شایع کرنا شروع کر دیا، لیکن یہ اخبار جلد ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد مولانا کا تعلق ’المصباح‘، ’احسن الاخبار‘، ’تحفۂ محمدیہ‘، ’خدنگِ نظر‘، ’لسان الصدق‘، ’الندوہ‘، ’وکیل‘ اور ’دا ر السلطنت‘ وغیرہ جرائد سے رہا۔ وہ ’مخزن‘ اور دیگر اخبار ورسائل میں بھی برابر لکھتے رہے۔ ’الہلال‘ سے قبل مولانا کو تقریباً متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کا تجربہ ہو چکا تھا، لیکن سچ بات یہ ہے کہ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز اور عروج ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کی اشاعت ہے۔

مولانا آزاد کے نزدیک صحافت ایک مقدس پیشہ تھی جسے وہ بے لوثی اور بے غرضی کے ساتھ اپنانے کے داعی تھے۔ جو لوگ اس پیشے کو خود غرضی اور مطلب پرستی کے ہاتھوں بدنام کرتے ہیں، مولانا نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے اور چاندی اور سونے کا تو سایہ بھی اس کے لیے سمِ قاتل ہے، جو اخبار نویس رئیسوں کی ضیافتوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی اعانت، قومی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کرلیتے ہیں، وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نورِ ایمان کو بیچیں‘ بہتر ہے کہ دریوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر اور قلندروں کی کستتی کی جگہ اور قلم دان لے کے رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور ہر گلی کوچہ ’کام ایڈیٹر کا‘ کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔

مولانا صحافت کو کسی بھی دباؤ میں آنے کو سخت نقصان دہ گر دانتے تھے، جس سے کسی دانا و بینا کو انکار نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسے صحافیوں کو ایک دھبّا سمجھتے تھے جو کسی انسان یا جماعت سے کچھ حاصل ہونے کے سبب قلم کی حق بیانی سے منحرف ہو جائے۔ مولانا صحافت کو خدا کے عظیم الشان فرض یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وسیلہ سمجھتے تھے۔خود اُنھیں ایک موقع پر ایک رئیس کی طرف سے ایک چیک نذر کیے جانے پر انھوں نے یہ کہہ کر اسے لوٹا دیا:

ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سوا کسی انسان یا جماعت سے کوئی اور رقم لینا جائز رکھتا ہو‘ وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کے لیے ایک دھبّا اور سر تاسر عار ہے۔ ہم اخبار نویسوں کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرضِ الٰہی ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں۔ پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباو سے آزاد ہونا چاہیے۔

مولانا کی صحافت کے ادوار

مولانا آزادکی صحافت کو تاریخی اعتبار سے مندرجۂ ذیل چار ادوارمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛پہلا دور جو 1889-1903ءکا زمانہ ہے،یہ تجربے اور مشق کا دور ہے۔ جس میں انھوں نے مختلف اخبارات و رسائل کے ذریعے میدانِ صحافت کی سیاحت کی۔ دوسرا دور وہ ہے،جب ان کی عمر تقریباً 20 سال ہوئی تو ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی، جس کے چلتے کچھ وقت کے لیے وہ صحافت سے کنارہ کش ہو گئے۔ لیکن یہ وقفہ ’الہلال‘صورت میں نمودار ہوا، جس نے صحافت کے نور کو عام کیا۔نہ صرف مولانا آزاد بلکہ اردو صحافت کا عظیم کارنامہ ہے۔ اسے ان کی صحافت کا تیسرا دور شمار کرنا چاہیے۔اس دور میں چھبیس ہزار کی اس کی تاریخی اشاعت نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور علامہ اقبالؔ تک نے اس کے لیے خریدار فراہم کیے۔’الہال‘ نے موضوعات کا بے مثال تنوع پیش کیا،جس میں مذہب، سیاسیات، معاشیات، نفسیات، عمرانیات، جغرافیہ، تاریخ و سوانح اورمسائل حاضرہ نیز ادب وغیرہ سب ہی کچھ موجود تھا۔مولانا کی صحافت کا چوتھا اور آخری دور رانچی میں نظربندی اور رسل رسائل کے منقطع ہو جانے کا دور ہے، جس میں انھوں نے تصنیف و تالیف کو خصوصی مشغلہ بنایا۔اسی زمانے میں ان کے دل کا غبار بصورت ’غبارِ خاطر‘ منظرِ عام پر آیا اور وہ خود اپنا ’تذکرہ‘ لکھنے پر مائل ہوئے۔یہ وہ ادبی و صحافتی اثاثہ ہے، جن سے براہ ِ راست محظوظ ہوئے بغیر ان کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

نیرنگِ عالَم

یہ دراصل ایک ماہانہ ’گلدستہ‘ تھا،جس میں شعری کلام شایع ہوتا تھا۔ مولانا نے فقط گیارہ سال کی عمر یعنی نومبر 1899ء میںاسے ہریسن روڈ پر واقع ہادی پریس، کلکتہ سے جاری کیا۔ اس کے غالباًآٹھ شمارے شایع ہوئے، جو ان کی عمر کے لحاظ سے ہمیں حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔

خدنگِ نظر

1897ء میں منشی نوبت راے نے لکھنؤ سے ایک ماہنامہ بنام ’خدنگِ نظر‘ نکالنا شروع کیا تھا، جس میں ابتداء ً صرف منظوم کلام شایع ہوتا تھا۔ 1900ء سے جب اس میں مضامین شایع ہونا شروع ہوئے تو اس نثری حصے کی ترتیب مولانا کے سپرد کی گئی۔

المصباح

تقریباً بارہ سال کی عمر یعنی22جنوری 1901ءکو مولانا نے مصر کے ایک اخبار’مصباح الشرق‘ کی تقلید میں ہفتہ وار ’المصباح‘ نکالنا شروع کیا، جس میں پہلا مضمون ’عید‘لکھا۔ یہ اس قدر مقبول ہوا کہ متعدد اخبارات نے اسے شایع کیا۔ ’المصباح‘نے تین چار ماہ جاری رہ کر دم توڑ دیا۔

احسن الاخبار

1901ء میں سید احمد حسن نے کلکتہ سے ’احسن الاخبار‘نامی ایک ہفتہ وار جریدہ جاری کیا تھا۔مولانا اس میں جنوری 1902ء سے منسلک ہوئے اور تقریباً دو سال تک اس کی ترتیب کی خدمات انجام دیں۔ اس میں مولانا کے متعدد مضامین بھی شایع ہوئے اور اسی زمانے میں انھوں نے مصر، قسطنطنیہ، طرابلس اور تیونس وغیرہ کے اخبارات کا مطالعہ کیا۔جس کے زیرِ اثر انھوں نے مصر کے اخبارات ’الہلال‘ اور ’المنار‘کی طرح اپنے جریدوں کے نام ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ رکھے۔

لسان الصدق

ماہ نامہ ’لسان الصدق‘اس کا پہلا شمارہ 20نومبر 1903ء کو شایع ہوا تھا، جب کہ مولانا کی عمر فقط پندرہ سال تھی۔ اس زمانے میں بھی مولانا کی سنجیدگی و متانت کا یہ عالم تھا کہ ان کی تحریروں سے متاثر ہو کر ’انجمن حمایتِ اسلام، پنجاب‘کے اصحاب نے  1904ء کے سالانہ اجلاس میں مدیرِ لسان الصدق کو خطاب کی دعوت دی۔ یکم اپریل 1904ء کو مولانا نے اس اجلاس میں ’تبلیغِ اسلام کا طریقِ کار‘کے موضوع پر تقریر کی۔ ’لسان الصدق‘ بھی تقریباً اٹھارہ ماہ جاری رہ کر بند ہو گیا۔اس رسالے کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا آزاد نے لکھا تھا کہ ’لسان الصدق‘ میں ذیل کی خصوصیتیں ایسی جمع ہو گئی ہیں، جن کی نظیر اُردو کے عام رسائل میں نہیں مل سکتیں:(۱) نئے نتیجہ، لٹریری اور تفریحی ترک کرکے صرف کارآمد علمی مضامین اس میں شایع کیے جائیں گے (۲) مضامین کے علاوہ ایک سلسلہ مشاہیر الشرق کا قایم کیا جاے گا، جس میں انیسویں صدی کے مشرقی افاضل اور مشاہیر کے حالات مع تصویر شایع کیے جائیں گے(۳) مشاہیر الشرق کے علاوہ اور تاریخی اور سائنٹفک مضامین انگریزی رسائل کی طرز پر با تصویر شایع کیے جائیں گے(۴) سائنس کی مختلف شاخوں پر دلچسپ مضامیں لکھے جائیں گے اور اُن کے مرتَّب سلسلے ماہوار شایع ہوں گے(۵) ملک کے وہ مشہور مصنف جن کی تحریرات مستقل تصانیف کے علاوہ عام اخبارات و رسائل میں بہت کم شایع ہوتی ہیں، ان کی پاکیزہ تحریریں اس رسالے میں نظر آئیں گی۔

رسالے کی مذکورہ بالا خصوصیات کو پڑھیے اور مولانا کی عمر پر نظر رکھیے تو انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ پندرہ سولہ سال کا لڑکا کیسےاصول و ضوابط کی سنجیدہ باتیں کرتا ہے۔

ابو سلمان شاہ جہاں پوری کے بیان کے مطابق لسان الصدق مولانا آزاد کی ادارت میں نکلنے والا پہلا رسالہ تھا جو علمی، ادبی، تعلیمی اور معاشرتی اصلاح اور ترقی کے اہم مقاصد کے تحت جاری کیا گیا تھا اور پہلے پرچے سے لے کر آخری پرچے تک اس کے تمام مضامین اور ان کا ایک ایک لفظ ان مقاصد کا ترجمان اور ان کے حصول کا محرک ثابت ہوا۔ اس کے مقاصد کی اہمیت کے اعتراف سے اس وقت کی ادب و صحافت کی پوری دنیا گونج اٹھی تھی۔ اس کے موضوعات کی اہمیت، مضامین کی افادیت، اسلوب کی دل ربائی اور ترتیب و تدوین کے حسن نے وقت کے تمام اہلِ ذوق کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ لسان الصدق کے اجرا سے مولانا کے پیشِ نظر زبان و ادب اور تنقید میں ذوق کی تسکین و تربیت اور معاشرتی اصلاح کے جن مقاصد کا حصول تھا، ان کا ہر جز جس طرح اس وقت لائقِ توجہ تھا، اسی طرح آج بھی ان کی اہمیت اور افادیت مسلّم ہے۔

الندوہ

1905ء میں مولانا شبلی نعمانی نے مولانا آزاد کو لکھنؤ آنے اور ماہ نامہ ’الندوہ‘کی ترتیب و تدوین میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ یہ خالص علمی و تحقیقی مجلّہ اور دارالعلوم، ندوۃ العلماء لکھنؤ کا آرگن تھا اور اس وقت مولانا کی عمر تقریباً سترہ سال تھی۔جس سے مولانا آزاد کے فضل و کمال کا اندازہ لگانا آسان ہے کہ شبلی نعمانی جیسے محقق و مصنف نے انھیں ایسی اہم ذمّے داری سونپنے کا فیصلہ کیا۔مولانا آزاد ان کی دعوت پر اکتوبر 1905ء سے مارچ 1906ء تک چھے ماہ ’الندوۃ‘ میں خدمات انجام دیتے رہےاور پھر کسی سبب علاحدہ ہو گئے۔

ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری کے بیان کے مطابق ماہ نامہ ’الندوہ‘ ندوۃ العلما، لکھنؤ کا علمی ترجمان تھا اور ندوے کی روحِ رواں علامہ شبلی کی خواہش تھی کہ ابوالکلام اس کے معاون مدیر بننے کی ذمّے داری قبول کریں۔ سبب یہ تھا کہ طرفین میں کئی برس پہلے ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ نیز شبلی، آزاد کے جاری کردہ ’نیرنگِ عالم‘ (گلدستہ)، ’المصباح‘ اور ’لسان الصدق‘ وغیرہ کے ذریعے ان کے غیر معمولی علمی ذوق اور دقیقہ رس مزاج سے بہ خوبی واقف ہو چکے تھے۔ ’خدنگِ نظر‘ میں ابوالکلام کے شایع ہونے والے مضامین بھی ان کی نظر سے گزر چکے تھے۔ وہ ایک موقع پر آزاد سے کہہ چکے تھے’تمھارا ذہن و دماغ تو عجائبِ روزگار میں سے ہے‘۔ مختصر یہ کہ آزاد نے شبلی سے اپنی غیر معمولی عقیدت اور مؤخر الذکر کے اصرار کے پیشِ نظر اکتوبر 1905ء میں ’الندوہ‘کے معاون مدیر کی حیثیت سے ذمّے داری سنھبالی اور قریباً چھے سات ماہ تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

وکیل

’الندوہ‘سے علاحدہ ہونے پر امرتسر سے شیخ غلام محمد نے انھیں ’وکیل‘کی ادارتی ذمّے داری سپرد کی، جس کی مقبولیت میں مولانا نے اپنی صلاحیتوں و محنتوں سے خوب اضافہ کیا۔ لیکن اس دوران بھائی–  مولوی ابوالنصر غلام یاسین جو عراق میں سیاحت کی غرض سے گئے ہوئے تھے– کا انتقال ہو جانے کے سبب انھیںاپریل سے نومبر( 1906ء) فقط آٹھ ماہ میں امرتسر کو خیر باد کہنا پڑا۔ اگست 1907ء میں ایک بار پھر وہ اس خدمت پر مامور کیے گئے، لیکن ناسازگیِ طبیعت کے سبب تقریباً ایک سال میں جولائی یا اگست 1908ء کو علاحدہ ہو گئے۔

دارالسلطنت

یہ کلکتہ سے شایع ہونے والا ایک ہفت روزہ اخبار تھا، جس کے مالک و مدیر عبدالہادی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اس کی اشاعت موقوف ہو گئی تھی۔ 1907ء میں ان کے صاحب زادے محمد یوسف نے اسے دوبارہ جاری کیا اور اسی زمانے میں قلیل عرصے کے لیے مولانا نے اس کی ادارت سنبھالی۔

الہلال اور البلاغ

اس کے بعد مولانا نے ’الہلال‘ جاری کیا، جو کہ ملتِ اسلامیہ کے جذبے کے تحت نکالاگیاتھا۔ اِ س کا اپنا پریس ، انتظامی اور ادارتی عملہ تھااور مولاناآزاد اُس کے تمام امور کے نگراں اور مدیرِ مسئول تھے۔ اس کے بعد’ البلاغ‘جاری کیاگیا،جو گویا کہ ’الہلال‘ ہی کا دوسرا نام تھا۔

’الہلال‘ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مولانا نے لکھا تھا کہ ۱۹۰۸ء میں کلکتہ چھوڑنے سے پہلے میں سیاسی خیالات کے اعتبار سے انقلابی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو چکا تھا۔۔۔عرب اور ترک انقلابیوں سے تعلقات ہونے کا یہ نتیجہ نکلا کہ میرے سیاسی عقائد راسخ ہو گئے۔۔۔اب میرے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ ہندستانی مسلمانوں میں سیاسی بیداری کی ایک نئی تحریک شروع کی جائے۔۔۔میں کچھ دنوں تک غورکرتا رہا کہ مجھے اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا اور کیا پروگرام بنانا چاہیے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمیں اپنے خیالات پبلک تک پہنچا کر اپنی موافقت کے لیے رائےعامّہ پیدا کرنا چاہیے اور اس کے لیے ایک اخبار جاری کرنا ضروری تھا۔۔۔[اسی مقصد سے میں نے ایک اخبار نکالنے کی ٹھانی اور] میں نے فیصلہ کیا کہ میرا اخبار طباعت کے اعتبار سے بھی دیدہ زیب ہوگا اور دعوت و اسلوبِ بیان کے اعتبار سے بھی ایسا ہوگا کہ پڑھنے والوں کے دل جوش و جذبات سے لبریز ہو جائیں۔ میں نے اسے لیتھو کے بجاے ٹائپ میں نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس عزم کے مطابق میں نے الہلال پریس قایم کیا اور 1912ء میں ’الہلال‘ کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا۔ اس کا پہلا نمبر 13جولائی کو نکلا تھا۔ اس کی اشاعت سے اُردو صحافت کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس اخبار کو قلیل مدت کے اندر بے نظیر ہر دل عزیزی حاصل ہوئی۔ پبلک کے لیے صرف اس کی اعلیٰ طباعت باعثِ کشش نہ تھی، بلکہ اس سے زیادہ قومیت کا وہ جذبہ تھا، جس کی وہ دعوت دیتا تھا۔ ’الہلال‘ نے عوام میں ایک انقلابی تحریک پیدا کر دی اور لوگوں میں وہ ایسا مقبول ہوا اور اس کی طلب کا جذبہ تین مہینوں کے اندر اندر اس کے تمام ابتدائی نمبروں کو دوبارہ شایع کرنا پڑا، اس لیے کہ ہر نیا خریدار چاہتا تھا کہ اس کے پاس اس کے ابتدائی نمبروں کا بھی مکمل سیٹ ہو۔

مختصر یہ کہ’ الہلال‘ نے بہت جلدشان دار مقبولیتِ عام حاصل کر لی۔جس کی وجہ ترقی پسند سیاسی تخیلات، معقول مذہبی ہدایات اور عمدہ و سنجیدہ ادبی شہ پارے کا شامل ہونا تھا۔مولانا کا یہ کارنامہ حکومت کی آنکھ میں ابتدا سے ہی کھٹکتا رہا اور اس کی طرف فقط دو مہینے یعنی 18ستمبر1912ء کو دو ہزار روپے کی ضمانت طلب کی گئی، جو ادا کر دی گئی۔لیکن الٰہ آباد کے ایک انگریزی روزنامے ’پانئیر‘کی طرف سے لکھے جانے والے ایک سخت مضمون کی پاداش میں سابقہ رقم ضبط کر کے مزید دس ہزار روپے کی ضمانت طلب کی، جس کی عدم استطاعت کے سبب 8نومبر 1914ء میں بیس شمارے مکمل کرکے اسے موقوف کرنا پڑا۔

تقریباً سال بھر کے بعد 12نومبر 1915ء کو مولانا نے نئے نام ’البلاغ‘ سے ایک رسالے کا اجرا کیا، جو کہ ’الہلال‘نقشِ ثانی تھا۔ لیکن یہ بھی فقط پانچ ماہ جاری رہ کر مارچ 1916ء کو حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر بند کر دیا گیا۔

پھر تقریباً بارہ سال کے بعد ’الہلال‘کے دورِ ثانی کا آغاز ہوا اور 10جون 1927ء کو اس دور کا پہلا شمارہ شایع کیا گیا۔جس میں مولانا شبلی نعمانی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا عبد اللہ عمادی وغیرہ کی قلمی کاوشیں شایع ہوتی تھیں اور اس کی ترتیب وغیرہ کے ذمّے دار مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی تھے لیکن اس بار بھی بیس شمارے شایع ہو کر 9دسمبر 1927ء کو بند کر دیا گیا۔

پروفیسر سید سفارش حسین لکھتے ہیں:

الہلال کا انداز بالکل نرالا تھا اور اس کا اندازِ تخاطب سب سے انوکھا۔ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات کو دل کی گہرائیوں ہی میں پہنچ کر قرار آنا تھا۔ اس کے صفحات تلخ حقیقتوں سے لبریز تھے اور اس کی ایک ایک سطر نشتر کا حکم رکھتی تھی، پھر بھی پڑھنے والا ایسا محسوس کرتا گویا وہ بھی یہی کہنا چاہتا تھا۔ اس کا طرزِ تنقید، اس کا طریقۂ اعتراض اور اس کی حق گوئی، جذبۂ مخالفت کو ابھارنے کے بجائے لوگوں کے دلوں کوگرمیِ عمل سے گرماتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ الہلال نے جتنی کم مدت میں لوگوں کے ذہن، معتقدات اور رجحانات میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی، اس کی دوسری مثال ممکن نہیں۔ الہلال کے بعد البلاغ نے اس کی جگہ لی، لیکن کم مایہ قوم کی کم نصیبی کہ جلد ہی وہ اِن جواہر ریزوں سے محروم ہو گئی۔

نیز امداد صابری کے مطابق مولانا کی ادارت میں الہلال نے ہندستان کے عوام کو انگریزوں کے خلاف جد و جہد کی ہی دعوت نہیں دی تھی بلکہ انھیں یہ بھی بتایا کہ انگریز سامراج کے خلاف ان کی جد و جہد تمام آزاد پسند اقوام کی جد و جہد کا ایک جزو ہے۔ اس طرح الہلال نے ہندستان کے مجاہدینِ آزادی کے ذہنی افق کو وسعت بخشی اور ان کے عزائم اور ارادوں کو پختگی دی۔

پیغام

مولانا نے23ستمبر 1921ء کو کلکتہ سے ’پیغام‘نامی ایک رسالہ جاری کیا تھا، جس کی ترتیب مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے سپرد کی گئی تھی۔ اس میںمولانا نے معرکہ آرا تحریریں شایع کی ہیں، لیکن دیگر ملکی و سیاسی ذمّے داریوں کے سبب وہ اس جانب کماحقہ توجہ نہیںدے سکے۔اسی سال 17 نومبر کو شہزادہ ’ویلز‘ہندستان آیا، جس کا ’پیغام‘نے بایکاٹ کیا اور بالآخر مولانا آزاد اور مرتب مولانا ملیح آبادی 9فروری 1922ء کو عدالتی فیصلے کے بعد جیل چلے گئے، اور  ’پیغام‘بند کر دیا گیا۔ اس کا آخری شمارہ 16دسمبر 1921ء کو شایع ہوا۔

علاوہ ازیں روزنامہ اقدام، مخزن،ماہ نامہ ریویو، تحفہ احمدیہ، رسالہ محمدیہ اور ماہ نامہ الجامعہ(عربی) میں بھی مولانا نے صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔مولانا کے نزدیک صحافت ترسیل و ابلاغ کے ساتھ رائے سازی و رہنمائی کا بھی وسیلہ تھا لیکن ان کی سیمابی طبیعت کسی ایک جگہ ٹھہر کر کام کرنے کا موقع نہ دیتی تھی۔

****

مولانا ندیم انصاری شعبہ اردو، اسماعیل یوسف کالج ، جوگیسوری ، ممبئی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل میل ای میل پر ان سے رابطہ کرسکتے ہیں
bin.yameen86@gmail.com