Mualana Abul Kalam Azad ki Basirat aur Asri Ma’nuwiat by Arbar Mujeeb

Articles

مولانا آزاد کی بصیرت اور عصری معنویت

ابرار مجیب

مولانا آزاد کی شخصیت کے کئی پہلو ہیں۔ایک طرف وہ سیاسی رہنما ہیں ، دوسری طرف مفکر، تیسری طرف اسلامیات کے بہترین عالم، چوتھی طرف ایک عظیم صحافی ۔بظاہر مولانا کی شخصیت کے یہ تمام پہلو الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن بغور جائزہ لینے سے یہ علم ہوتا ہے کہ مولانا اور پرنور سورج میں کوئی فرق نہیں جس سے کروڑوں کرنیں نکل کر دنیا کو ضیا بار کرتی ہیں۔یہ تمام پہلو مولانا جیسے عظیم مفکر کے عملی اور علمی اظہار ہیں جو ہمیں الگ الگ نظر آتے ہیں لیکن یہ سب ایک ہی دھاگے میں پروئے قیمتی ہیرے ہیں۔غیر منقسم ہندوستان کی تاریخ میں دو شخصیتیں ایسی ہیں جنہوں نے سیاسی اور سماجی سطح پر خاص طور سے مسلمانوں کی ذہن سازی میں نمایاں کردار ادا کیا۔یہاں سرسید احمد خاں کے ترقی پسندانہ نظریات اور ان کی خدمات سے الگ مولانا آزاد اور علامہ اقبال کے نظریات کے اختلاف پر ایک نظر ڈالنا ضروری سمجھتا ہوں ۔اسلامی فکر کے دونوں ہی شارح ہیں ۔اقبال اپنی شاعری میں انقلابی اسلام کی عظمت کے گن گاتے نہیں تھکتے اور ماضی کے قصے سنا کر مسلمانوں کی روح کو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں ۔وہ مسلمان میں شاھین اور مردِ مومن تلاش کرتے ہیں ، مسلمانوں کے رزم و بزم کی یاد دلاتے ہیں اور حال کی زبوں حالی پر نوحہ کرتے ہیں ۔علامہ اقبال ہی ہیں جنہوں نے آلہ آباد کے مسلم لیگ کے اجلاس کے اپنے خطبہ صدارت میں اسلامی مملکت کا نظریہ پیش کیا تھا اور مسلمانوں کو ہندو سے الگ ایک قوم قرار دیا۔ایک اسلامی مملکت کے قیام کے سلسلے میں انہوں نے جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’مجھے تو ایسا نظر آتا ہے کہ اور نہیں تو شمال مغربی ہندوستان کے مسلمانوں کو بالآخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا پڑے گی۔ہندوستان کے مسلمان حالات اور نظریات سے مجبور تھے کہ ھندؤں سے الگ ایک ریاست قائم کریں۔ جہاں ان کی اکثریت ہواور جہاں نہ صرف اسلام کا اخلاقی نظام بلکہ اسلام کا معاشی نظام بھی آزاد ہو۔ اسلام کو بحیثیت ایک قوت کے ہندوستان میں زندہ رکھنے کے لیے الگ مسلم ریاست کا قیام ناگزیر ہے۔‘‘
علامہ اقبال مزید کہتے ہیں :
’’اگر ہم چاہتے ہیں کہ اس ملک (برصغیر )میں اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت زندہ رہے تو اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ایک مخصوص علاقے میں اپنی مرکزیت قائم کرسکے۔‘‘
غور کریں تو علامہ کا استدلال قیام ریاست اسلامیہ کے سلسلے میں یہ ہے کہ مسلمان حالات و نظریات سے مجبور تھے کہ وہ ایک اسلامی ریاست کاقیام عمل میں لائیں ، اسلام کو بحیثیت ایک قوت زندہ رکھنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایک اسلامی ریاست قائم کی جائے اور اسلام بحیثیت ایک تمدنی قوت قائم رہے اس کے لیے بھی ضروری ہے کہ ایک اسلامی ریاست کا وجود عمل میں آجائے۔اس بات سے قطع نظر کہ اسلام اور اسلامی تمدن کیا ہے اور مختلف جغرافیائی خطوں کے کلچرل اور تہذیبی وراثت نے اسلام کے عربی روپ پر کیا اثر ڈالااس بات پر غور کرنا ضروری ہے کہ صدیوں سے چلے آرہے بھائی چارہ اور آپسی محبت کی فضا میں ایک اسلامی ریاست کے قیام کا مطالبہ کتنا جائز تھا ؟ اس مطالبے نے اکثریتی طبقہ کی فکر پر کتنا منفی اثر ڈالا ہوگا۔اقبا ل اسلام کے تمدنی پہلو کی شناخت ہندوستانی مشترکہ تہذیب سے الگ کیوں کرنا چاہتے تھے۔ایک علیحدہ اسلامی ریاست کا مطالبہ اور قیام پاکستان کے کیا نتائج نکلے یہ تو ہمارے سامنے روز روشن کی طرح عیاں ہیں لیکن اسلام کے پیرو کاروں کو ایک قوم کا درجہ دینے کی قلعی بہت پہلے مولانا آزاد کھول چکے تھے۔قومیت کے تصور کو مذہب کے ساتھ وابستہ کرنا ایسی فاش غلطی تھی جس کا ازالہ تقریباّ’’ ناممکن ہے۔یہی وہ وش بیج ہے جو آج ایک تناور درخت بن گیا اور دونوں طبقوں میں منافرت کی سیاست کرنے والے اس زہریلے درخت کے پھل ہمیں پیش کررہے ہیں۔ اس معاملے میں مولانا آزاد کی دور اندیشی اور فکری نہج بالکل واضح تھی۔ ان کے مطابق مذہب کے نام پر کسی ریاست کا قیام سوائے تباہی کے اور کچھ نہیں ۔کلچر ہی وہ بنیادی پہلو ہے جو قومیت کے تصور میں سب سے اہم ہے۔زبان، لباس، خوراک ، تہوار ، کھیل ، ادب ، شاعری ، فلسفہ یہ وہ چیزیں ہیں جو کسی قوم کے کلچر کا مشترکہ حصہ ہیں نہ کہ مذہب۔اس ضمن میں مولانا آزاد اپنی مشہور زمانہ کتاب انڈیا ونس فری ڈم میں رقم طراز ہیں:
’’اسکیم(قیام پاکستان)کے تمام پہلوؤں پر غور کرنے کے بعد ،میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجموعی اعتبار سے ہندوستان کے لیے ہی نہیں ، مسلمانوں کے لیے خاص طور پر مضرت رساں ہے۔اور واقعہ یہ ہے کہ جتنے مسئلے حل کرتی ہے اس سے زیادہ مسئلے پیدا کرتی ہے۔‘‘
مولانا کی اس گہری فکری بصیرت سے سرسری صرف نظر کرنا ممکن نہیں ہے ۔خاص طور سے جب ہم آج کی صورت حال کا جائزہ لیتے ہیں اور یہ دیکھتے ہیں کہ برصغیر میں مسلمان تین حصوں میں منقسم زبوں حالی اور کس مپرسی کا شکار ہے۔ پاکستان جو اسلامی قومیت کے تصور پر بنا ،یکجا نہ رہ سکا اور کلچر و زبان کے نام پر یہی اسلامی پاکستان دو حصوں میں منقسم ہوگیا ۔ ایک نئے ملک کا وجود عمل میں آیا جس نے مذہبی بنیادوں پر نہیں کلچرل اور زبان کی بنیاد پر اپنے وجود کے جواز کو ساری دنیا سے تسلیم کروا لیا۔ایک اہم بات جو مولانا آزاد نے لکھی ہے وہ یہ کہ :
’’مجھے اس بات کا اعتراف کرنا چاہئے کہ پاکستان کی اصطلاح ہی میری طبیعیت کے خلاف ہے۔اس کا مطلب تو یہ نکلتا ہے کہ دنیا کے کچھ حصے ناپاک ہیں ۔جب کہ کچھ پاک ہیں۔پاک اور ناپاک میں علاقوں کی یہ تقسیم غیر اسلامی ہے اور راسخ العقیدہ برہمنیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے جو انسانوں اور ملکوں کو مقدس اور نجس میں بانٹتی ہے۔‘‘
مولانا آزاد کی فکری بصیرت جس میں اسلامی تعلیمات کی روشنی شامل ہے اس کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم جب غور کرتے ہیں تو یہ نتیجہ نکالنے میں مشکل نہیں ہوتی کہ پاکستان کی اصطلاح کے تعلق سے مولانا کی رائے غیر واجب نہیں بلکہ عین اسلامی فکر کے مطابق ہے۔ ایک طرف اسلامی تعلیمات میں زمین خدا کی ہے اور اس کا کوئی حصہ پاک اور کوئی ناپاک نہیں ہوسکتا ۔ ساری زمین پاک ہے اور اتنی
پاک کہ بلا کسی تردد نماز اداکی جاسکتی ہے ۔مسئلہ یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات کو جدید منظر نامے میں رکھ کر سمجھنے کے لیے جس بصیرت کی ضرورت ہے وہ نہ اب ہے نہ اس وقت تھی ، گوکہ اس وقت اقبال اور جناح جیسے جید عالم اور فلاسفر موجو د تھے۔اگر بعض لوگ اس کی سمجھ رکھتے بھی تھے تو مصلحتا’’ سیاسی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے آگے بڑھ جاتے تھے۔ پاک اور ناپاک سرزمین کی ذیلی بحث سے آگے مولانا آزاد نے یہ پیش گوئی کردی تھی کہ مذہب کے بجائے کلچر انسانوں کو ایک ڈور میں باندھنے میں اہم رول ادا کرتا ہے۔زبان نمایاں رول ادا کرتی ہے۔ ایک اردو بولنے والاپشتو زبان بولنے والے سے اس قدر قربت محسوس نہیں کرسکتا جتنا اردو یا ہندی بولنے والے سے ۔ایک بنگالی اردو والے سے اتنا نزدیک نہیں ہوسکتا جتنا ایک بنگالی سے چاہے وہ بنگالی ہندو ہی کیوں نہ ہو۔ پاکستان بننے کے بعد ہم سب نے اس کا انجام دیکھا۔کس طرح زبان اور کلچر نے مذہبی قومیت کے تصور کو غلط ثابت کردیا اور بنگلہ دیش وجود میں آگیا۔مولانا آزاد کی دور اندیشی اس بات میں مضمر ہے کہ وہ غیر منقسم ہندوستان میں مسلمان اور ہندو کو کاندھے سے کاندھاملا کر ملک کی ترقی میں بے مثال رول ادا کرتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے۔وہ برصغیر کا مستقبل ہندو مسلم اخوت میں دیکھتے تھے ۔ عصری صورت حال پر غور کریں تو ہم دیکھتے ہیں تقسیم کے نتیجے میں جو دو ملک وجود میں آئے وہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ۔ آزادی کے بعد ہندوپاک کے درمیان تین جنگیں ہوچکیں اور لاکھوں انسان لقمہ ء اجل بن گئے ۔خود پاکستان دو حصوں میں منقسم ہوگیا۔ ہندوستان میں ہندو مسلم منافرت کو ہوا دی گئی اور سیاسی روٹی سینکی جانے لگی ۔ فسادات کا ایک نا مختتم سلسلہ شروع ہوگیا۔ تصور کریں اگر مولانا آزاد کی خواہش کے مطابق ہندوپاک کا بٹوارہ نہ ہوا ہوتا تو اس کا سب سے زیادہ فائدہ کس کو پہنچتا۔ بلاشبہ مسلمانوں کو ۔ ایک عظیم ملک کا حصہ ہونے کی وجہ سے غیر منقسم ہندوستان کے مسلمان زیادہ خوش حال ہوتے ۔ ساتھ ہی سیاسی اور سماجی سطح پر بھی ان کی اہمیت زیادہ ہوتی کیوں کہ آبادی کے تناسب کے لحاظ سے بھی مسلمان چالیس فیصد سے کم نہیں ہوتے۔آج منقسم برصغیر میں مسلمانوں کی حالت دگر گوں ہے۔ پاکستان میں دہشت گردی اور بنگلہ دیش میں راسخ العقیدگی نے اپنی جڑیں جما لی ہیں۔ہندوستان میں مسلمان بعض سیاسی وجوہات کی بنا پر غربت اور بے روزگار ی کا شکار ہیں۔ ان کی وفاداری سخت گیر ہندو جماعتوں کی نظر میں مشکوک ہے۔مولانا آزاد مستقبل کی اس پریشاں حالی کے اشاروں کو سمجھ رہے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان بننے کی پرزور مخالفت کی ۔ہندو مسلم اتحاد کے سلسلے میں مولانا آزاد کے خیالات کو سمجھنے کے لیے ان کی تقریر کا ایک مختصر اقتباس ملاحظہ فرمائیں :
’’۔۔۔۔آج اگر فرشتہ آسمان کی بلندیوں سے اتر آئے اور کھڑا ہوکر اعلان کردے کہ سورا ج چوبیس گھنٹے کے اندر مل سکتا ہے بشرطیکہ ہندوستان ہندو مسلم اتحاد سے دست بردار ہوجائے تو میں سوراج سے دست بردار ہوجاؤں گا۔مگر اس سے دست بردار نہ ہوں کیوں کہ اگر سوراج ملنے میں تاخیر ہوئی تو یہ ہندوستان کا نقصان ہوگا۔ لیکن ہمارا اتحاد جاتا رہا تو عالمِ انسانیت کا نقصان ہوگا۔‘‘
مولانا کی مندرجہ بالا گفتگو کے پس منظر میں غور کریں تو سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوراج یا حکومت کرنے کی آزادی یا وسیع تناظر میں آزادی ہے کیا؟ اس آزادی کا کسی ملک کے رہنے والوں کے درمیان اتحاد سے کیا رشتہ ہے ۔ کیا آزادی بغیر اتحاد کے قائم رہ سکتی ہے؟آزادی کے کے لیے پہلی شرط کیا ہے؟ ان بنیادی سوالوں پر غور کریں تو یہ بات صاف ہوتی نظر آتی ہے کہ غلامی کی اسیر کوئی قوم اس وقت آزادی حاصل نہیں کرسکتی جب تک وہ متحد نہیں ہو۔ ایک بکھری ہوئی آپس میں برسر پیکار قوم غلام بنانے والوں سے آزادی کس طرح حاصل کرسکتی ہے ۔ اس لیے مولانا آزاد کی نظر میں آزادی کے لیے پہلی شرط اتحاد ہے۔ہندو مسلم اتحاد ، یہ دو مذاہب کے ماننے والے اگر متحد نہیں ہوتے تو آزادی کا خٰواب دیوانے کا خواب بن کر رہ جاتا۔دوسری طرف مولانا آزادکی اس اہم گفتگو میں یہ بات بھی پوشیدہ ہے کہ آزادی کے حصول کے لیے اتحاد ضروری ہے تو اسے مستقل قائم رکھنے کے لیے بھی ہندو مسلم اتحاد قائم کرنا ضروری ہے۔ایک آزاد معاشرے میں مذہبی گروہ اگر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجائیں تو ایک ہی آزادی باقی رہ جاتی ہے اور وہ آزادی ہے جنون کی ، پاگل پن کی ، قتل و غارت گری کی ۔غور کریں کہ مولانا آزاد فرشتے کے اس اعلان کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں جس میں سوراج کی بشارت دی جارہی ہے بلکہ وہ ہندو مسلم اتحاد کو اولیت دیتے ہیں ۔ ذرا ہمارے عہد کے منظر نامے پر غور کریں اور مولانا آزاد کے ہندو مسلم اتحاد کی اہمیت کو سامنے رکھیں ۔
تقسیم ہند ، آزادی اور فسادات کے یک انسانیت سوز دورکے بعد ہم دیکھتے ہیں دو ملک ایک پاکستان جو اسلامی جمہوریہ کہلایا ، ظاہر ہے کہ یہ ایک تھیوکریٹک اسٹیٹ بنا جس میں مذہب کو اولیت حاصل ہے جبکہ ہندوستان ایک غیر مذہبی ، جمہوری ، سوشلسٹ ملک بنا۔نظریاتی سطح پر ممالک تو بن گئے لیکن ہندوستان میں بھی تقسیم ہند کے بعد بعض ہندو انتہا پسند جماعت مسلم مخالفت کی بنیاد پر سیاست میں قدم جمانے لگیں ۔ یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے بٹوارے میں مسلمانوں کا ہاتھ تھا۔تاریخی واقعات مثلا’’ بابر سے بابری مسجد کا تعلق جوڑ کر رام جنم بھومی کی تحریک ، مختلف تاریخی شہروں کے ناموں کی تبدیلی اور ہر بات کو ہندومسلم تنازعہ بنانے کی روش ۔ ایک سیاسی ماحول ایسا بن گیا جہاں ہندوستانی مسلمانوں کی توہین کے بغیر ہندوستانی سیاست آگے بڑھ ہی نہیں سکتی ۔آج کے پس منظر میں مولانا آزاد کی پیش گوئیاں بہت بامعنی نظر آتی ہیں ۔میں پہلے ہی کہہ چکا ہوں کہ مولانا آزاد نے پاکستان کے قیام کی صورت میں اس قسم کی صورت حال کے پیدا ہونے کی وضاحت بہت پہلے کردی تھی ۔ اس کے باوجود مولانا نے تقسیم کے فورا’’بعد مسلمانوں کی ہجرت کی مخالفت کرتے ہوئے جامع مسجد سے وہ تاریخی تقریر کی تھی جس میں زو ر اس بات پر تھا کہ تم اپنی ثقافتی اور تاریخی وراثت کو کس کے بھروسے چھوڑ کر جارہے ہو۔ مولانا آزاد کا یہ خیال بھی تھا کہ مہاجروں کو پاکستان میں پہلے سے بسے سندھی ، پنجابی ، بلوچی اور پختون مسلمان وہ عزت نہیں دیں جو عزت انہیں آزاد ہندوستان میں حاصل ہے۔مولانا نے اپنی تاریخیٰ تقریر میں کہا تھا:
’’یہ دیکھو، مسجد کے بلند مینار اچک کر سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کے صفحات کو کہاں گم کردیا ، ابھی کل کی بات ہے کہ جمنا کے کنارے تمہارے قافلے نے وضو کیا تھااور آج تم ہو کہ تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف محسوس ہوتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اتر گئے ۔پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا۔ بجلیاں آئیں تو اس پر مسکرائے ، بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا، صرصر اٹھے تو اس کا رخ پھیر دیا۔آندھیاں آئیں تو ان سے کہا تمہارا راستہ یہ نہیں ۔ یہ ایماں کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریبانوں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے اور خدا سے اس درجہ غافل ہوگئے جیسے اس پر کبھی ایمان ہی نہیں تھا۔‘‘اس جوشیلی تقریر اور آزاد کی تھرتھرا دینے والی آواز کا تصور کریں تو مجلس میں موجود حاضرین پر اس کے اثر کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔اگر اسے منطقی سطح پر دیکھیں تو یہ تقریر بے مغز جذباتیت سے بھرپور ہے۔اس تقریر سے کوئی علمی خزانہ یا کوئی ایسا لائحہ عمل تیار نہیں کیا جاسکتا جو مستقبل کے اندھیرے میں رہنما بن سکے۔یہ ایک ہنگامی صورت حال میں کی گئی انتہائی جذباتی تقریر تھی۔ لوگ اپنی طنابیں کھول کر ایسی زمینوں کی طرف رخت سفر باندھ رہے تھے جنہیں انہوں نے کبھی دیکھا نہیں ۔ جہاں کے موسموں کی سختی یا نرمی سے وہ واقف نہیں تھے۔جہاں کی ہواؤں کو وہ جانتے نہیں تھے ، جہاں کے لوگ اجنبی تھی۔ لوگ رخت سفر باندھ رہے تھے اپنے بزرگوں کے مزاروں ، اپنی تاریخی عمارتوں ، اپنے علمی وراثت کو چھوڑ کر۔ ایسی صورت حال میں لوگوں کو علمی منطق سے روکنا ممکن نہیں تھا۔ یہ آزاد کا جینئس تھا کہ انہوں نے ایک جذباتی ، دل کو گرما دینے والی تقریر کی اور جانے والوں کے قدم رک گئے۔آج ہندوستان میں موجود مسلمانوں کی بڑی تعداد ہمیں آزاد کی کوششوں کی یاد دلاتی ہے۔دوسری طرف ہجرت کرکے جانے والے ہندوستانی مسلمان آج پاکستان میں جس قسم کی منافرت اور لسانی عصبیت سے گزر رہے ہیں اس سے چشم پوشی نہیں کی جاسکتی ۔ اس بات کی پیش گوئی آزاد نے بہت واضح طور پر کی تھی۔
مختلف حوالوں سے دراصل ہم مولانا آزاد کی آج کے عہد میں فکری معنویت پر غور کررہے ہیں ۔ان مذہبی افکار کے تعلق سے طویل گفتگو ہوسکتی جس میں زمانے اور حالات کے مطابق دینی احکام کو دیکھنے اور سمجھنے کا عمل ملتا۔جس نے ترجمان القران گہرائی سے پڑھا وہ پہلی جلد سورۃ فاتحہ کی تشریح سے اندازہ لگا سکتا ہے کہ کس طرح مولانا آزاد نے اس سورۃ کے حوالے قرآن الحکیم کی روح کو ہمارے سامنے پیش کردیا ہے۔ سورۃ فاتحہ کی تشریح اور تفسیر کے حوالے سے انہوں نے انسانی زندگی کے تمام پہلوؤں کو ہمارے سامنے پیش کردیا ۔ہماری معاشی زندگی ، اخلاقی زندگی ، سماجی زندگی ، دوسرے مذاہب سے ہمارے رشتے ،جدید دنیا میں مسلمانوں کا رول ، علم اور عمل کے اصول و ضوابط۔غرض کہ قران الحکیم کو سامنے رکھتے ہوئے آزاد نے ہمیں وہ آئینہ دکھایا جس میں جدید دنیا میں ایک مسلمان کو راسخ العقید گی کی بجائے وسیع القلبی ، جمود کی جگہ تحرک اور جہالت کی جگہ علم کے فروغ پر توجہ دینی چاہئے۔غور کیجئے آج مسلم معاشرہ کہاں کھڑا ہے۔علم کی اس بدلتی دنیا میں ہمارا مقام کیا ہے۔معاشی سطح پر دنیا کے منظرنامے پر ہم کہاں ہیں۔ عورتوں کے سماجی مقام کا تعئین ہم کیسے کررہے ہیں۔زندگی کی ہر سطح پر آخر ہم پیچھے کیوں ہیں ۔ ظاہر ہے ایک طرف ہم دین کی بنیادی تعلیم کی وسعت کو راسخ العقیدگی کی عینک میں قید کرنے کی کوشش کرتے ہیں دوسری طرف سائنس اور ٹیکنالوجی اور جدید علوم کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں۔ مولانا آزاد کی بصیرت کو بروئے کار لاتے ہوئے اگر ہم اپنا سفر شروع کریں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی ترقی یافتہ قوموں میں ہم اپنا مقام حاصل نہ کرسکیں۔اس معاملے میں سرسید اور آزاد ہم نوا نظر آتے ہیں۔خود آزادی کے بعد مولانا آزاد ہندوستانی ریاست کے دس سالوں تک وزیر تعلیم رہے اور جدید ہندوستان کے تعلیمی نظام کا جو جدید روپ آج ہمیں نظر آرہا ہے وہ مولانا آزاد کی فراست اور فکر کا نتیجہ ہی ہے۔آئی آئی ٹی سے لے کر عظیم یونیورسیٹیوں کے قیام تک مولانا آزاد کے تصور تعلیم کے حقیقی روپ کے جلوے نظر آتے ہیں۔
اس مختصر مضمون میں مولانا آزاد کی فکری معنویت اور اس معنویت کی عصری اہمیت کا پوری گہرائی سے جائزہ لینا ممکن نہیں ۔ یہ موضوع ایک مکمل کتاب کا متقاضی ہے لیکن مختصرا’’مولانا آزاد کی فکر میں تعلیم ، اتحاد، اورجدید فکر سے ہم آہنگی کی بڑی اہمیت ہے ۔ اگر انپہلوؤں کو ساتھ لے کر ہم آگے بڑھیں تو کوئی وجہ نہیں کہ دنیا کی دوڑمیں ہم پیچھے رہ جائیں۔
———————————————————————————————–
جناب ابرار مجیب اردو کے ممتاز افسانہ نگار اور نقاد ہیں

Maulana Abul Kalam Azad ka Safar E A akhirat by Aagha Shorish Kashmiri

Articles

مولانا ابوالکلام آزاد کا سفر آخرت

آغا شورش کاشمیری

مولانا آزاد (رحمۃ اللہ علیہ) محض سیاست داں ہوتے تو ممکن تھا حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ، لیکن شدید احساسات کے انسان تھے ، اپنے دور کے سب سے بڑے ادیب، ایک عصری خطیب، ایک عظیم مفکر اور عالم متجر، ان لوگوں میں سے نہیں تھے ، جو اپنے لئے سوچتے ہیں ، وہ انسان کے مستقبل پر سوچتے تھے ، انہیں غلام ہندوستان نے پیدا کیا اور آزاد ہندوستان کیلئے جی رہے تھے ، ایک عمر آزادی کی جدوجہد میں بسر کی اور جب ہندوستان آزاد ہوا تو اس کا نقشہ ان کی منشا کے مطابق نہ تھا، وہ دیکھ رہے تھے کہ ان کے سامنے خون کا ایک سمندر ہے ، اور وہ اس کے کنارے پر کھڑے ہیں ، ان کا دل بیگانوں سے زیادہ یگانوں کے چرکوں سے مجروح تھا، انہیں مسلمانوں نے سالہا سال اپنی زبان درازیوں سے زخم لگائے اور ان تمام حادثوں کو اپنے دل پر گذارتے رہے ۔

آزادی کے بعد یہی سانچے دس سال کی مسافت میں ان کیلئے جان لیوا ہو گئے ، 12/فروری 1958ء کو آل انڈیا ریڈیو نے خبر دی کہ مولانا آزاد علیل ہو گئے ہیں ، اس رات کابینہ سے فارغ ہو کر غسل خانے میں گئے ، یکایک فالج نے حملہ کیا اور اس کا شکار ہو گئے ، پنڈت جواہر لال نہرو اور رادھا کرشنن فوراً پہنچے ڈاکٹروں کی ڈار لگ گئی، مولانا بے ہوشی کے عالم میں تھے ، ڈاکٹروں نے کہاکہ 48 گھنٹے گذرنے کے بعد وہ رائے دے سکتیں گے کہ مولاناخطرے سے باہر ہیں یا خطرے میں ہیں ۔
ادھر آل انڈیا ریڈیو نے براعظم میں تشویش پیدا کر دی اور یہ تاثر عام ہو گیا کہ مولانا کی حالت خطرہ سے خالی نہیں ہے ہر کوئی ریڈیو پر کان لگائے بیٹھا اور مضطرب تھا، مولانا کے بنگلہ میں ڈاکٹر راجندرپرساد (صدر جمہوریہ ہند)، پنڈت جواہرلال نہرو وزیراعظم، مرکزی کابینہ کے ارکان، بعض صوبائی وزرائے اعلیٰ اور اکابر علماء کے علاوہ ہزا رہا انسان جمع ہو گئے ، سبھی پریشان تھے 19!فروری کو موت کا خدشہ یقینی ہو گیا۔
کسی کے حواس قائم نہ تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو رفقاء سمیت اشکبار چہرے سے پھر رہے تھے ، ہر کوئی حزن و ملال کی تصویر تھا۔ ہندوستان بھر کی مختلف شخصیتیں آ چکی تھیں ۔
جب شام ہوئی ہر امید ٹوٹ گئی۔ عشاء کے وقت سے قرآن خوانی شروع ہو گئی، مولانا حفیظ الرحمن سیوہارویؒ، مولانا محمد میاں ؒ، مفتی عتیق الرحمنؒ، سید صبیح الحسنؒ، مولانا شاہد فاخریؒ اور بیسیوں علماء وحفاظ تلاوت کلام الہیٰ میں مشغول تھے ۔

آخر ایک بجے شب سورہ یٰسین کی تلاوت شروع ہو گئی اور 22/فروری کو 2:15 بجے شب مولانا کی روح قفس عنصری سے پرواز کرگئی۔
(انا ﷲ وانا الیہ راجعون)

اس وقت بھی سینکڑوں لوگ اضطراب میں کھڑے تھے ، جوں ہی رحلت کا اعلان ہوا تمام سناٹا چیخ و پکار سے تھرا گیا۔
دن چڑھے تقریباً 2 لاکھ انسان کوٹھی کے باہر جمع ہو گئے ۔ تمام ہندوستان میں سرکاری وغیر سرکاری عمارتوں کے پرچم سرنگوں کر دئیے گئے ، ملک کے بڑے بڑے شہروں میں لمبی ہڑتال ہو گئی، دہلی میں ہو کا عالم تھا حتی کہ بینکوں نے بھی چھٹی کر دی ایک ہی شخص تھا جس کیلئے ہر مذہب کی آنکھ میں آنسو تھے ، بالفاظ دیگر مولانا تاریخ انسانی کے تنہا مسلمان تھے ، جن کے ماتم میں کعبہ و بت خانہ ایک ساتھ سینہ کوب تھے ، پنڈت جواہر لال نہرو موت کی خبر سنتے ہی دس منٹ میں پہنچ گئے اور بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے انہیں یاد آ گیا کہ مولانا نے آج ہی صبح انہیں “اچھا بھائی خدا حافظ “کہا تھا۔

ڈاکٹروں نے 21 کی صبح کو ان کے جسم کی موت کا اعلان کر دیا اور حیران تھے کہ جسم کی موت کے بعد ان کا دماغ کیونکر 24 گھنٹے زندہ رہا۔
ڈاکٹر بدھان چندر رائے (وزیراعلیٰ بنگال) نے انجکشن دینا چاہا تو مولانا نے آخری سہارا لے کر آنکھیں کھولیں اور فرمایا “ڈاکٹر صاحب اﷲ پر چھوڑئیے ” ۔ اس سے پہلے معالجین کے آکسیجن گیس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا: “مجھے اس پنجرہ میں کیوں قید کر رکھا ہے ؟ اب معاملہ اﷲ کے سپرد ہے “۔
میجر جنرل شاہ نواز راوی تھے کہ تینوں دن بے ہوش رہے ، ایک آدھ منٹ کیلئے ہوش میں آئے ، کبھی کبھار ہونٹ جنبش کرتے تو ہم کان لگاتے کہ شاید کچھ کہنا چاہتے ہیں ، معلوم ہوتا ہے کہ آیات قرآنی کا ورد کر رہے ہیں ، پنڈت نہرو کے دو منٹ بعد ڈاکٹر راجندر پرساد آ گئے ان کی آنکھوں میں آنسو ہی آنسو تھے ، آن واحد میں ہندوستانی کابنیہ کے شہ دماغ پہنچ گئے ، ہر ایک کا چہرہ آنسوؤں کے پھوار سے تر تھا اور ادھر ادھر ہچکیاں سنائی دے رہی تھیں ۔
مسٹر مہابیر تیاگی سراپا درد تھے ، ڈاکٹر رادھا کرشنن نے آبدیدہ ہو کر کہا :
“ہندوستان کا آخری مسلمان اٹھ گیا، وہ علم کے شہنشاہ تھے ” ۔
کرشن مین سکتے میں تھے ، پنڈت پنٹ یاس کے عالم میں تھے ، مرار جی دیسائی بے حال تھے ، لال بہادر شاستری بلک رہے تھے ڈاکٹر ذا کرحسین کے حواس معطل تھے ۔ مولانا قاری طیب غم سے نڈھال تھے ، مولانا حفظ الرحمن کی حالت دیگر گوں تھی، ادھر زنانہ میں مولانا کی بہن آرزو بیگم تڑپ رہی تھیں ….
اب کوئی آرزو نہیں باقی

ان کے گرد اندرا گاندھی، بیگم ارونا آصف علی اور سینکڑوں دوسری عورتیں جمع تھیں ۔ اندرا کہہ رہی تھیں “ہندوستان کا نور بجھ گیا”
اور ارونا رورہی تھیں “ہم ایک عظمت سے محروم ہو گئے “۔

پنڈت نہرو کا خیال تھا کہ مولانا تمام عمر عوام سے کھینچے رہے ان کے جنازہ میں عوام کے بجائے خواص کی بھیڑ ہو گئی۔ لیکن جنازہ اٹھا تو کنگ ایڈورڈ روڈ کے بنگلہ نمبر 4 کے باہر 2 لاکھ سے زائد عوام کھڑے تھے اور جب جنازہ انڈیا گیٹ اور ہارڈنگ برج سے ہوتا ہوا دریا گنج کے علاقہ میں پہنچا تو 5 لاکھ افراد ہو چکے تھے ، صبح 4 بجے میت کو غسل دیا گیا اور کفنا کر 9 بجے صبح کوٹھی کے پورٹیکو میں پلنگ پر ڈال دیا گیا۔

سب سے پہلے صدر جمہوریہ نے پھول چڑھائے ، پھر وزیراعظم نے اس کے بعد غیر ملکی سفراء نے کئی ہزار برقعہ پوش عورتیں مولانا کی میت کو دیکھتے ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگیں ، ان کے ہونٹوں پر ایک ہی بول تھا
“مولانا آپ بھی چلے گئے ، ہمیں کس کے سپرد کیا ہے ؟”۔
ہندو دیویاں اور کنیائیں مولانا کی نعش کو ہاتھ باندھ کر پرنام کرتی رہیں ۔ ایک عجیب عالم تھا چاروں طرف غم و اندوہ اور رنج و گریہ کی لہریں پھیلی ہوئی تھیں ۔

پنڈت جواہر لال نہرو کی بے چینی کا یہ حال تھا کہ ایک رضا کار کی طرح عوام کے ہجوم میں گھس جاتے اور انہیں بے ضبط ہجوم کرنے سے روکتے ، پنڈت جی نے یمین ویسار سکیورٹی افسروں کو دیکھا تو ان سے پوچھا :
“آپ کون ہیں ؟”
“سکیورٹی افسر”۔
“کیوں “۔
“آپ کی حفاظت کیلئے “۔
“کیسی حفاظت؟ موت تو اپنے وقت پر آکے رہتی ہے، بچا سکتے ہو تو مولانا کو بچا لیتے ؟”

شری پربودھ چندر راوری تھے کہ پنڈت جی نے یہ کہا اور بلک بلک کر رونے لگے ، ان کے سکیورٹی افسر بھی اشکبار ہو گئے ، ٹھیک پون بجے میت اٹھائی گئی، پہلا کندھا عرب ملکوں کے سفراء نے دیا، جب کلمہ شہادت کی صداؤں میں جنازہ اٹھا تو عربی سفراء بھی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے ، جوں ہی بنگلہ سے باہر کھلی توپ پر جنازہ رکھا گیا تو کہرام مچ گیا، معلوم ہوتا تھا پورا ہندوستان روہا ہے مولانا کی بہن نے کوٹھی کی چھت سے کہا :
“اچھا بھائی خدا حافظ”۔

پنڈت پنٹ نے ڈاکٹر راجندر پرساد کا سہارا لیتے ہوئے کہا :
“مولانا جیسے لوگ پھر کبھی پیدا نہ ہوں گے اور ہم تو کبھی نہ دیکھ سکیں گے “۔

مولانا کی نعش کو کوٹھی کے دروازہ تک چارپائی پر لایا گیا، کفن کھدر کا تھا، جسم ہندوستان کے قومی پرچم میں لپٹا ہوا تھا، اس پر کشمیری شال پڑا تھا اور جنازہ پر نیچے دہلی کی روایت کے مطابق غلاف کعبہ ڈالا گیا تھا۔ پنڈت نہرو، مسٹر دھیبر صدر کانگریس، مولانا حفظ الرحمن سیوہاروی، جنرل شاہ نواز، پروفیسر ہمایوں کبیر، بخشی غلام محمد اور مولانا کے ایک عزیز جنازہ گاڑی میں سوار تھے ۔
ان کے پیچھے دوسری گاڑی میں صدر جمہوریہ ہند ڈاکٹر راجندر پرساد اور ڈاکٹر رادھا کرشنن نائب صدر کی موٹر تھی۔ ان کے بعد کاروں کی ایک لمبی قطار تھی جس میں مرکزی وزراء، صوبائی وزرائے اعلیٰ، گورنر اور غیر ملکی سفراء بیٹھے تھے ۔
ہندوستانی فوج کے تینوں چیفس جنازے کے دائیں بائیں تھے ۔ تمام راستہ پھولوں کی موسلادھار بارش ہوتی رہی۔ دریا گنج سے جامع مسجد تک ایک میل کا راستہ پھولوں سے اٹ گیا۔ جب لاش لحدتک پہنچی تو ایک طرف علماء و حفاظ قرآن مجید پڑھ رہے تھے دوسری طرف اکابر فضلاء سرجھکائے کھڑے تھے ۔

اس وقت میت کو بری فوج کے ایک ہزار نوجوانوں ، ہوائی جہاز کے تین سو جانبازوں اور بحری فوج کے پانچ سو بہادروں نے اپنے عسکری بانکپن کے ساتھ آخری سلام کیا، مولانا احمد سیعد دہلوی صدر جمعیت علماء ہند نے 2:50 پر نماز جنازہ پڑھائی، پھر لحد میں اتارا، کوئی تابوت نہ تھا اور اس طرح روئے کہ ساری فضاء اشکبار ہو گئی، تمام لوگ رو رہے تھے اور آنسو تھمتے ہی نہ تھے ، مولانا کے مزار کا حدود اربعہ “بوند ماند” کے تحت درج ہے ۔

مختصر … یہ کہ جامع مسجد اور لال قلعہ کے درمیان میں دفن کئے گئے ، مزار کھلا ہے ، اس کے اوپر سنگی گنبد کا طرہ ہے اور چاروں طرف پانی کی جدولیں اور سبزے کی روشیں ہیں ۔ راقم جنازہ میں شرکت کیلئے اسی روز دہلی پہنچا، مولانا کو دفنا کر ہم ان کی کوٹھی میں گئے کچھ دیر بعد پنڈت جواہر لال نہرو آ گئے اور سیدھا مولانا کے کمرے میں چلے گئے پھر پھولوں کی اس روش پر گئے ، جہاں مولانا ٹہلا کرتے تھے ، ایک گچھے سے سوال کیا:
“کیا مولانا کے بعد بھی مسکراؤ گے ؟”۔
راقم آگے بڑھ کر آداب بجا لایا کہنے لگے : “شورش تم آ گئے ؟ مولانا سے ملے ؟”
راقم کی چیخیں نکل گئیں ۔
مولانا ہمیشہ کیلئے رخصت ہو چکے تھے اور ملاقات صبح محشر تک موقوف ہو چکی تھی۔

***

بشکریہ تعمیر نیوز

Maulana Abul Kalam Azad aur Maoseeqi

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد اور موسیقی

ثاقب اکبر

مولانا ابوالکلام آزاد کی سیاسی حیثیت تو اپنے مقام پر مسلم ہے لیکن ان کے مقام علمی کا  کوئی  بھی انکار نہیں کرتا۔ ایک بڑا طبقہ انھیں امام الہند کے نام سے بھی یاد کرتا ہے۔ مشرب کے لحاظ سے ان کو جدید رجحانات رکھنے والا اہل حدیث کہا جاسکتاہے۔ برصغیر میں اور بھی ایسے اکابر گزرے ہیں جن کو اس فہرست میں شامل کیا جاسکتا ہے جن میں مولانا جعفر شاہ پھلواروی اورمولانا محمد حنیف ندوی شامل ہیں لیکن شاید ان سب میں مولانا ابوالکلام آزاد کا مرتبہ زیادہ بلند ہے۔ ترجمان القرآن کے نام سے ان کے تفسیری مطالب تین جلدوں میں شائع ہو چکے ہیں۔ ادب کی دنیا میں بھی ان کو ایک شہ سوار کی حیثیت حاصل ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کو موسیقی سے بھی خاصی دلچسپی رہی ہے۔
موسیقی کا مسئلہ علماء کے مابین خاصی اہمیت کا حامل رہا ہے۔ مختلف مکاتب فکر کے زیادہ تر علماء موسیقی کو مطلقاً حرام قرار دیتے رہے ہیں۔البتہ اس کے لیے وہ ‘‘غنا’’ کا کلمہ استعمال کرتے ہیں۔ علماء کی ایک تعداد اس حرمت میں سے دو استثناء ات کی قائل ہے۔ ایک شادی بیاہ کے موقع پر لڑکیوں کا آپس میں گیت گانا اور دوسرا حدی خوانی یعنی شتر بانوں کا اونٹوں کے کاروانوں میں گانا۔ یہ دونوں امور چونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دور میں رائج تھے اور آپؐ نے ان سے منع نہیں کیا بلکہ بعض روایات کے مطابق شادی بیاہ کے موقع پر دلہن کی سکھیوں کے گیت کی آواز نہ آنے پر استعجاب بھی کیا۔
جہاں تک موسیقی کے آلات کا تعلق ہے تو اس کو بھی مطلقاً حرام قرار دینے والے علماء بڑی تعداد میں موجود ہیں البتہ عموماً ‘‘دف’’ کو اس سے مستثنیٰ کیا جاتا ہے کیونکہ ان علماء کے نزدیک رسول اللہؐ کے زمانے میں اس کا رواج تھا اور جب آنحضرتؐ مدینہ منورہ میں پہلی مرتبہ داخل ہو رہے تھے تو مدینے کی لڑکیاں آپؐ کے استقبال کے لیے دف بجا کر یہ گیت گا رہی تھیں‘‘ طلع البدر علینا۔ وجب الشکر علینا’’۔
بہرحال ایسے علماء بھی ہیں جو گائیکی کی بعض دیگر صورتوں کو بھی جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح صوفیاء کا ایک گروہ ‘‘سماع’’ کو جائز قرار دیتا ہے۔ ہمارے ہاں جو مذہبی حوالے سے قوالیوں کا رواج ہے وہ اسی جواز سے استفادے کی ایک شکل ہے۔
البتہ کم تعداد میں ایسے علماء بھی ہیں جو موسیقی کی دو صورتوں کے قائل ہیں ،ایک حلال اور دوسری حرام۔ اس مسئلے کی کچھ تفصیلات ہیں جسے ہم کسی اور موقع پر اٹھا رکھتے ہیں کیونکہ آج ہمیں مولانا ابوالکلام آزاد کے ذوق موسیقی پر کچھ عرض کرنا ہے۔
موسیقی کے ساتھ ان کی وابستگی،رغبت بلکہ انتہائے شوق کا یہ عالم ہو گیا تھا کہ وہ ایک مکتوب میں لکھتے ہیں
’’ میں آپ سے ایک بات کہوں، میں نے بار ہا اپنی طبیعت کو ٹٹولا ہے، میں زندگی کی احتیاجوں میں ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا ، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘
موسیقی کے سحر میں مولانا ایسے گرفتار تھے کہ اپنی اس جاذبیت کو بیان کرتے ہوئے وہ پڑھنے والے کے قلب و نظر کو بھی جذب کرلیتے ہیں۔ چنانچہ جوانی کے اس دور کا تذکرہ کرتے ہوئے کہ جب وہ موسیقی کے انتہائی دلدادہ ہو چکے تھے، لکھتے ہیں:
’’آگرہ کے سفر کا اتفاق ہوا، اپریل کا مہینہ تھا اور چاندنی کی ڈھلتی ہوئی راتیں تھیں۔ جب رات کا پچھلا پہر شروع ہونے کو ہوتا تو چاند پردۂ شب ہٹا کر یکایک جھانکنے لگتا۔ میں نے خاص طور پر کوشش کر کے یہ انتظام کررکھا تھا کہ رات کو ستار لے کر تاج محل چلا جاتا اور اس کی چھت پر جمنا کے رخ بیٹھ جاتا، پھر جونہی چاندنی پھیلنے لگتی ستار پر کوئی گیت چھیڑ دیتا اور اس میں محو ہوجاتا، کیا کہوں اور کس طرح کہوں کہ فریب تخیل کے کیسے کیسے جلوے انہی آنکھوں کے آگے گزر چکے ہیں۔ رات کا سناٹا، ستاروں کی چھاؤں، ڈھلتی ہوئی چاندنی اور اپریل کی بھیگی ہوئی رات، چاروں طرف تاج کے ستارے سر اٹھائے کھڑے تھے، برجیاں دم بخود بیٹھی تھیں، آپ یاد کریں یا نہ کریں مگر یہ واقعہ ہے کہ اس عالم میں، میں نے بارہا برجیوں سے باتیں کی ہیں۔‘‘
مولانا نے اپنے مختلف مکتوبات میں بتایا ہے کہ انھوں نے کب کب اور کس کس سے موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ ان کو خاص ستار سے رغبت ہو گئی تھی اور اس پر ان کی انگلیاں خوب رواں تھیں۔ ان کے والد صاحب کے ایک مرید جو موسیقی کے استاد تھے، آزاد نے انھیں بھی چپکے سے اپنا استاد کر لیا تھا اور گوشہ نشینی میں ان سے کئی برس تک فیض موسیقی حاصل کرتے رہے، اس کا نام مسیتا خاں تھا۔ اس دور میں اپنی کیفیت وہ اس شعر کے ذریعے بیان کرتے ہیں:
عشق می ورزم و امید کہ ایں فن شریف
چوں ہنر ہائے دگر موجبِ حرماں نشود
موسیقی سے اپنی رغبت کے لیے وہ دلیل بھی ذکر کرتے ہیں۔ کہتے ہیں:
’’مقصود اس اشتعال سے صرف یہ تھا کہ طبیعت اس کوچہ سے نا آشنا نہ رہے کیونکہ طبیعت کا توازن اور فکر کی لطافت بغیر موسیقی کی ممارست کے حاصل نہیں ہو سکتی۔ جب ایک خاص حد تک یہ مقصد حاصل ہو گیا تو پھر مزید اشتعال نہ صرف غیر ضروری تھا بلکہ موانع کار کے حکم میں داخل ہو گیا تھا۔ البتہ موسیقی کا ذوق اور تاثر جو دل کے ایک ایک ریشے میں رچ گیا تھا، دل سے نکالا نہیں جاسکتا تھا اورآج تک نہیں نکلا:
جاتی ہے کوئی کش مکش اندوہ عشق کی
دل بھی اگر گیا، تو وہی دل کا درد تھا
حسن آواز میں ہو یا چہرے میں، تاج محل میں ہو یا نشاط باغ میں، حسن ہے اور حسن اپنا فطری مطالبہ رکھتا ہے۔ افسوس اس محروم ازلی پر جس کے بے حس دل نے اس مطالبہ کا جواب دینا نہ سیکھا ہو۔‘‘
مولانا آزاد کو دنیا کے مختلف خطوں کی موسیقی کے مزاج کا علم تھا۔ وہ عربوں کی موسیقی سے بھی اسی طرح آشنا تھے جیسے ہندوستان کی موسیقی سے۔ وہ اہل مغرب کی موسیقی میں نئے نئے تجربات سے بھی واقف تھے۔ انھوں نے موسیقی پر لکھی گئی کئی ایک قدیم کتب اچھی طرح سے پڑھ رکھی تھیں۔ وہ بعض مذہبی امور میں بھی موسیقیت کو تلاش کر لیتے تھے۔ ان کے چند کلمات ملاحظہ فرمائیے:
’’بچپنے میں حجاز کی مترنم صداؤں سے کان آشنا ہو گئے تھے۔ صدر اول کے زمانے سے لے کر جس کا حال ہم کتاب الاغانی اور عقد الفرید وغیرہ میں پڑھ چکے ہیں، آج تک حجازیوں کا ذوق موسیقی گیر متغیر رہا۔ یہ ذوق ان کے خمیر میں کچھ اس طرح پیوست ہو گیا تھا کہ اذان کی صداؤں تک کو موسیقی کے نقشوں میں ڈھال دیا۔ آج کل کا حال معلوم نہیں لیکن اس زمانے میں حرم شریف کے ہر منارہ پر ایک موذن متعین تھا اور ان سب کے اوپر شیخ الموذنین ہوتا۔ اس زمانے میں شیخ الموذنین شیخ حسن تھے اور بڑے ہی خوش آواز تھے۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ رات کی پچھلی پہر میں ان کی ترحیم کی نوائیں ایک سماں باندھ دیا کرتی تھیں۔‘‘
ہمارے کئی ایک فقہاء نے لکھا ہے کہ بھدی اور بے سری آواز میں اذان دینا مکروہ ہے۔ ظاہر ہے کہ ایک خوبصورت اور مترنم آواز میں دی گئی اذان کی تاثیر کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ ایسی اذانیں بھی گاہے سنائی دیتی ہیں جو مسجد کی طرف کھینچنے کے بجائے دور بھاگنے پر اکسا رہی ہوتی ہیں۔
مولانا ایک مقام پر مصر کے شیخ احمد سلامہ حجازی کا تذکرہ کرتے کرتے ایک مغنیہ کا ذکر ان الفاظ میں چھیڑتے ہیں:
اس زمانے میں مصر کی ایک مشہور ’’عالمہ‘‘ طاہرہ نامی باشندہ طنطا تھی۔ ’’عالمہ‘‘ مصر میں مغنیہ کو کہتے ہیں، یعنی موسیقی کا علم جاننے والی، ہمارے علماء کرام کو اس اصطلاح میں غلط فہمی نہ ہو، یورپ کی زبانوں میں یہی لفظ (Alma) ہو گیا ہے۔ شیخ سلامہ بھی اس عالمہ کی فن دانی کا اعتراف کرتا تھا۔ وہ خود بھی بلائے جان تھی، مگر اس کی آواز اس سے بھی زیادہ آفت ہوش و ایمان تھی۔ میں نے اس سے بھی شناسائی باہم پہنچائی اور عربی موسیقی کے کمالات سنے۔ دیکھیے اس خانماں خراب شوق نے کن کن گلیوں کی خاک چھنوائی۔
جانا پڑا رقیب کے در پر ہزار بار
اے کاش جانتا نہ تری رہگزر کو میں
اس زمانے میں مصر کی مغنیہ ام کلثوم کا بھی طوطی بولتا تھا۔ مولانا ان کے بھی دل باختہ ثابت ہوئے، لکھتے ہیں:
جس زمانے کے یہ واقعات لکھ رہا ہوں، اس سے کئی سال بعد مصر میں ام کلثوم کی شہرت ہوئی اور اب تک قائم ہے۔ میں نے اس کے بے شمار ریکارڈ سنے ہیں اور قاہرہ، انگورہ، طرابلس الغرب، فلسطین اور سنگاپور کے ریڈیو سٹیشن آج کل بھی اس کی نواؤں سے گونجتے رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جس شخص نے ام کلثوم کی آواز نہیں سنی ہے وہ موجودہ عربی موسیقی کی دلآویزیوں کا اندازہ نہیں کر سکتا۔
مولانا موسیقی اور شاعری کی باہمی الفت و التفات کا ذکر بھی خوبصورت انداز سے کرتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ موسیقی اور شاعری ایک ہی حقیقت کے دو مختلف جلوے ہیں اور ٹھیک ایک ہی طریقہ پر ظوہر پذیر ہوتے ہیں۔ موسیقی کا مولف الحان کے اجزا کو وزن و تناسب کے ساتھ ترکیب دے دیتا ہے اسی طرح شاعر بھی الفاظ ومعانی کے اجزا کو حسن وترکیب کے ساتھ باہم جوڑ دیتا ہے۔
توحنا بستی و من معنی رنگیں بستم
جو حقائق شعر میں الفاظ و معانی کا جامہ پہن لیتے ہیں وہی موسیقی میں الحان و ایقاع کا بھیس اختیار کر لیتے ہیں۔ نغمہ بھی ایک شعر ہے لیکن اسے حرف و لفظ کا بھیس نہیں ملا۔ اس نے اپنی روح کے لیے نواؤں کا بھیس تیار کرلیا ہے۔
موسیقی کے حوالے سے مولانا کے ارشادات اور تجربات لکھتے چلے جائیں تو ایک کتاب چاہیے۔ہم نے مشتے نمونہ از خروارے کے طور پر کچھ ذکر کردیا ہے۔ آخر میں مولانا کے کمال علم و فضل کا اعتراف کرنے والے چند مشاہیر کی آراء نذر قارئین کرتے ہیں:
علامہ اقبال ؒ کے نزدیک پورے برصغیر میں صرف ابوالکلام مجتہدانہ حیثیت کے اہل تھے۔
مولانا ظفر علی خاں کے نزدیک اجتہاد میں ابوالکلام آزاد ایک منفرد مقام کے حامل تھے۔چنانچہ وہ ایک شعر میں اپنی اس رائے کا یوں اظہار کرتے ہیں:
جہان اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو اس میں جستجو تو پوچھ بوالکلام سے
مولانا سید مودودی کے نزدیک ابوالکلام اور اقبال اس دور کے دماغ تھے۔
مولانا حسرت موہانی کے نزدیک ابوالکلام آزاد نثر اور خطابت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔وہ زبان شعر میں یوں رطب اللساں ہیں:
جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
جس زمانے میں سب تھے مہر بلب
ایک گویا تھا      بوالکلام آزاد
علامہ سید سلیمان ندوی کہتے ہیں :
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نوجوان مسلمانوں میں قرآن پاک کا ذوق مولانا ابوالکلام آزاد کے ‘‘الہلال’’اور ‘‘البلاغ’’ نے پیدا کیا۔
آغا شورش کاشمیری مرحوم نے ابوالکلام آزاد کی وفات پر ایک شہرہ آفاق نظم کہی جس کا مطلع یوں ہے:
عجب قیامت کا حادثہ ہے،کہ اشک ہے آستیں نہیں ہے
زمیں کی رونق چلی گئی ہے، اْفق پہ مہر مبیں نہیں ہے
حسن ختام کے لیے ہم یہ مصرعہ پیش کرتے ہیں:
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا

بشکریہ تجزیات ڈاٹ کام

Abul Kalam Azad, Unki Gunagun Khidmaat aur Urdu Sahafat by Nadeem Ansari

Articles

ابو الکلام آزاد، ان کی گو نا گوں خدمات اور اُردو صحافت

مولانا ندیم انصاری

امام الہندمولانا ابو الکلام آزاد ملک و قوم کی وہ عظیم ہستی ہیں، جن کا نام تاریخِ ہند اور تاریخِ ادب اردو میں محبِ قوم و زبان کی حیثیت سے کسی تعارف کا محتاج نہیں۔مولانا ابو الکلام آزادکا اصلی نام ’احمد‘، تاریخی نام ’محی الدین‘ ،کنیت ’ابوالکلام‘اورتخلص’ آزادؔ‘تھا۔ ان کی ولادت 11نومبر 1888ء کو مکہ مکرمہ کے محلہ ’قدوہ‘ میں ہوئی۔مولانا کا مادری وطن مدینہ منورہ اور آبائی وطن دہلی ہے۔ عرب ماں نے عرب ماحول میں اپنے لختِ جگر کی پرورش کی اور اس طرح اُنھیں مادری زبان عربی اور اجداد کی زبان اردو کا عطیہ من جانب اللہ عطا ہوا۔مولانا کے والد1857ء کے ہنگامے کے بعد دل برداشتہ ہوکرمکہ مکرمہ چلے گئے تھے اور جب آزادؔ گیارہ سال کے تھے، اس وقت ملک واپس آئے اور کلکتہ میں سکونت اختیار کی۔آزادیِ ہند کے بعد مولانا آزاد مرکزی حکومت میں پہلے وزیرِ تعلیم نام زد کیے گئے۔آگے ہم مولاناکی شخصیت و دیگر تصنیفات پر اجمالی اور صحافت پر قدرے تفصیلی معلومات پیش کریں گے۔

مولانا کی شخصیت کا تعارف کرواتے ہوئے پنڈت جوہر لعل نہرو نے کہا تھا:

مولانا کو دیکھ کر مجھے اکثر وہ فرانسیسی قاموسی یاد آجاتے ہیں جو انقلابِ فرانس سے کچھ عرصے پہلے وہاں موجود تھے۔ تاریخِ اقوامِ ماضیہ میں ان کا درک و بصیرت یقیناً حیرت انگیز ہے اور پھر یہ وسیع علم ان کے دماغ میں عجیب ضبط و ترتیب کے ساتھ موجود ہے۔ ان کا ذہن مدلّل، با ضابطہ اور سُلجھا ہوا ہے اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انھوں نے منطق و فلسفےکے کسی قدیم اسکول میں تعلیم حاصل کی ہے۔ ان کا عام رویہ معقولیت پسند ہے۔ بہ ایں ہمہ ان میں ایک ایسا انسان موجود ہے جو علم کے پہاڑوں کو نرم و نازک بنا کر بلند مگر خُشک ظرافت پیش کرتا ہے۔ـ

مولانا ابوالکلام آزاد بہ یک وقت باکمال مفسرِ قرآن، جادو بیان خطیب، عمدہ انشا پرداز،بے مثال صحافی اور بلند قامت سیاست داںتھے ۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگریس کے ہم نوا رہے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد بھی موجود تھا۔ یہی سبب ہے کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی، علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا نے ہی آگے بڑھ کر اس معاملے میں مزاحمت کی۔مولانا عالی دماغ کے حامل شخص تھے۔ انھیں یہ غم ستاتا رہا کہ ان سے جیسا استفادہ کیا جا سکتا تھا، وہ نہیں کیا گیا۔ایک مقام پر فرماتے ہیں:

افسوس ہے زمانہ میرے دماغ سے کام لینے کا کوئی سامان نہ کر سکا۔ غالب کو تو صرف اپنی ایک شاعری ہی کا رونا تھا، نہیں معلوم میرے ساتھ قبر میں کیا کیا جاے گا۔۔۔بعض اوقات سوچتا ہوں تو طبیعت پر حسرت و الم کا ایک عجیب عالَم طاری ہو جاتا ہے۔ مذہب، علوم و فنون، ادب، انشا پردازی، شاعری کوئی وادی ایسی نہیں ہے جس کی بے شمار نئی راہیںمبدأ فیاض نے مجھ نامراد کے دماغ پر نہ کھول دی ہوں ۔۔۔لیکن افسوس جس ہاتھ نے فکر و نظر کی ان دولتوں سے گراں بار کیا، اس نے شاید سر و سامانِ کار کے لحاظ سے تہی دست رکھنا چاہا۔ میری زندگی کا سارا ماتم یہ ہے کہ اس عہد اور محل کا آدمی نہ تھا، مگر اس کے حوالے کر دیا گیا۔

قلمی چہرہ

شورش کاشمیری کے بیان کے مطابق قامت میانہ، بدن اکہرا، رنگ سرخ و سفید، نجیب الطرفین، ذات‘ سیادت، پیشہ‘ وزارت، خلوت کا شیدائی، خطابت میں یگانہ، صحافت میں منفرد، سیاست میں یکتا، عالمِ متبحّر، زبردست مجتہد، حسن چہرہ میں ہو یا آواز میں‘ اس کی دل پذیری پر جی جان سے فدا– دماغ یوروپی، طبیعت عجمی، دل عربی، وجود ہندوستانی– ایسے تھے مولانا ابو الکلام آزادؔ۔

مولانا نے اپنی حیاتِ مستعار میں گو نا گوں علمی خدمات انجام دی ہیں۔ مضمونِ ہذا میں ہم صحافت کا قدرے تفصیلی جایزہ لیں، لیکن اس سے قبل ان کی دیگر خدمات کا مختصر تعارف سپردِ قلم کرتے ہیں۔

تفسیرترجمان القرآن

قرآن کریم جو کہ انسانیت کی فلاح و بہبود کا ضامن ہے، مولانا نے شبانہ روز مطالعے کے بعد اس کی ترجمانی کا نازک فریضہ انجام دیا۔ نومبر 1930ء میں انھوں نے لکھا تھا:

قرآن مجید کامل ستائیس برس سے میرے شب و روز کے فکر و نظر کا موضوع رہا ہے۔ ایک ایک سورت، ایک ایک مقام، ایک ایک آیت اور ایک ایک لفظ پر میں نے وادیاں قطع کی ہیں اور مرحلوں پر مرحلے طے کیے ہیں۔

مولانا کا قرآن مجید کی ترجمانی و تفسیر لکھنے کا ارادہ تو عرصے سے تھا، لیکن انھیں اس کا موقع نہیں مل سکا۔ جس کا سبب  سیاسی زندگی کی شورشیں تھیں۔مولانا نے اپنی قرآنی خدمات کے متعلق ’ترجمان القرآن‘ کے دیباچے میں لکھا ہے کہ قرآن کے درس و مطالعے کی تین مختلف ضرورتیں ہیں اور میں نے اُنھیں تین کتابوں میں منقسم کر دیا ہے؛ (۱) مقدمۂ تفسیر (۲) تفسیر ’البیان‘ (۳) ترجمان القرآن۔مقدمۂ تفسیر ؛ قرآن کے مقاصد و مطالب پر اصولی مباحث کا مجموعہ ہے اور اس میںکوشش کی گئی ہے کہ مطالبِ قرآن کے جوامع و کلیات مدون ہو جائیں۔ تفسیر ’البیان‘ فکر و مطالعہ کے لیے ہے اور ’ترجمان القرآن‘ قرآن کی عالمگیر تعلیم و اشاعت کے لیے۔

’ترجمان القرآن‘کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے سعید احمد اکبرآبادی نے لکھا ہے:

مولانا ابوالکلام آزاد نے اردو ادب کے چمن میں حسن و انشا و بیان کے جو پھول کھلائے ہیں، یوں تو وہ سب ہی سدا بہار ہیں، لیکن مستقل تصنیف کی حیثیت سے قرآن مجید کی تفسیر ترجمان القرآن مولانا کی تمام علمی اور ادبی تحریروں میں شاہ کار کی حیثیت رکھتی ہے۔ قلم کی توانائی، اجتہادِ فکر، وسعتِ نظر و مطالعہ اور جذبۂ تحقیق و تدقیق، مولانا کی یہ وہ خصوصیات ہیں جو اُن کی ہر علمی و ادبی تحریر میں نظر آتی ہیں۔ لیکن مولانا کی یہ خصوصیات اس کتاب میں جا بجا نمایاں ہیں اور اس بنا پر اردو زبان کے علمی ذخیرے میں اس کو امتیازی مقام حاصل ہے۔

سیرت النبیﷺ

مولانا آزادنے باقاعدگی سے مستقلاً کوئی سیرت کی کتاب تو نہیں لکھی، البتہ’الہلال‘ اور ’ البلاغ ‘ میں سیرۃ النبیﷺ کے مختلف پہلوؤں پر مختلف اوقات میں متعدد مقالات لکھ کر شائع کیے تھے اور ہر سال ربیع الاول کے موقع پر ضرور ایک دو مقالے تحریر کیا کرتے اور لوگوںکے استفسارات پر بھی تفصیلی جواب سے نوازتے تھے۔ مولانا نے دیگر انبیاے کرام علیہ السلام ، خصوصاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کے تعلق سے بھی بہت کچھ لکھ کر سیرت کے موضوع پر  قیمتی سرمایہ جمع کر دیا تھا۔ایسی ہے بعض مضامین و مقالات کو ترتیب واضافوں کے ساتھ غلام رسول مہرؔ نے ’رسولِ رحمت‘کے نام سے شایع کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

میں نے سیرتِ طیبہ کے مقالے ترتیب سے رکھے او ان کی فہرست مرتب کی تو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ رسولِ اکرمﷺ کی ذاتِ بابرکات کے متعلق نہایت قیمتی سرمایہ یک جا ہو گیا ہے۔ پھر مولانا کا اندازِ بیان ایسا تھا کہ جو کچھ زبانِ قلم پر آتا، دامنِ دل کو یقین و اعتماد کے گلہاے رنگارنگ سے بھر دیتا اور رشک و تذبذب کی خلش کے لیے کوئی گنجایش باقی نہ رہتی۔

شاعری

مولانا صرف نثر کے ہی بے تاج بادشاہ نہیں،انھیں شعر گوئی کا ملکہ بھی حاصل تھا۔گھر میں علم و ادب کے چرچے رہے، بڑے بھائی مولانا ابو نصر یٰسین آہؔ شاعر تھے، کچھ اُن کی دیکھا دیکھی اور کچھ فطری موزونیت کے سبب وہ بھی شعر کہنے لگے۔ ہاں آگے چل کر انھوں نے نثر کو ہی وسیلۂ اظہار بنایا۔مولانا  کی ایک غزل بہ طور نمونہ پیش ہے، جس میں روایتی شاعری کا رنگ غالب ہے۔

کوئی اسیر گیسوئے خم دار قاتل ہو گیا

ہائے کیا بیٹھے بٹھائے تجھ کو اے دل ہو گیا

اُس نے تلواریں لگائیں ایسے کچھ انداز سے

دل کا ہر ارماں فدائے دستِ قاتل ہو گیا

کوئی نالاں کوئی گرریاں کوئی بسمل ہو گیا

اس کے اٹھتے ہی دِگر گوں رنگِ محفل ہو گیا

قیس مجنوں کا تصور بڑھ گیا جب نجد میں

ہر بگولہ دشتِ لیلیٰ کا محمل ہو گیا

انتظار اُس گُل کا اس درجہ کیا گُلزار میں

نور آخر دیدۂ نرگس کا زائل ہو گیا

یہ بھی قیدی ہو گیا آخر کمندِ زلف کا

لے اسیروں میں ترے آزادؔ شامل ہو گیا

تذکرہ

1916ء میں مولانا جب رانچی (بہار) میں نظر بند تھے اور ان کی عمر تقریباً تیس سال تھی، اس وقت ایک کتاب بنام ’تذکرہ‘تصنیف کی ۔ جس کے آغاز میں آبائی و خاندانی حالات، پھر جدِ امجد شیخ جلال الدین کے تفصیلی حالات، بعدہ عہدِ شیر شاہی اور سلیم شاہی کے اولیاء اللہ اور آخر میں امام احمد ابن حنبل، علامہ ابن تیمیہ اور مجددِ الف ثانی رحمہم اللہ کا تذکرہ ہے۔اس کا پہلا ایڈیشن 1919ء میں البلاغ پریس، کلکتہ سے شایع ہوا۔ یہ اردو ادب کا ایک شاہکار ہے۔

غبارِ خاطر

دوسری عالمی جنگ کے موقع پر یعنی اگست 1942ء میں جب مولانا آزاد کانگریس کے صدر تھے، 8تاریخ کی شب کو بمبئی میں انڈین نیشنل کانگریس کا ایک خاص جلسہ منعقد ہوا، جس کے آخری حصے یعنی 9اگست کو علی الصبح حکومت نے بشمول دیگر سرکردہ رہنماؤں کے مولانا آزاد کو بھی احمد نگر کے قلعے میں محبوس کر دیا گیا۔ مختلف مقامات پر تبدیلی کے بعد اس قید و بند سےبالآخر 15جون 1945ء میں رہا کیے گئے۔غبارِ خاطر اسی زمانے کی یادگار اور مولانا کی آخری تصنیف ہے، جو ان کی زندگی ہی میں شایع ہوئی۔مالک رام کے مطابق یہ چند متفرق مضامین کا مجموعہ ہے، جنھیں خطوط کی شکل دے دی گئی ہے۔

سیاست

مولانا ابو الکلام آزاد ایک دور اندیش و مخلص سیاسی لیڈر اور رہنما بھی تھےانھوں نے نامساعد بلکہ مخالف حالات میں اپنی صاحیتوں کو بروئے کارلاکر گو نا گوں کارہاے نمایاں انجام دیے ہیں۔ ہندستان کی جنگِ آزادی کا خواب جب شرمندۂ تعبیر ہوا، اس وقت ایک اہم المیہ یہ درپیش تھا کہ ملک کو دو حصوں میں پاکستان اور ہندستان کی شکل میں منقسم ہونا پڑا گو بہت سے مسلمان اکابرین بھی اس کے مخالف تھے، لیکن آخر کار ملک دو حصوں میں تقسیم ہو کر رہا۔ سردار پٹیل اور پنڈت نہرو کے پُر زور اصرار پر مہاتما گاندھی نے بھی بادلِ ناخواستہ ہتھیار ڈال دیے اور یہ عرضی منظور کر لی گئی۔ اُس وقت مسلمانوں کے مستقبل کو اپنی فہم و فراست کی نظر سے دیکھ کر مولانا آزاد نے جامع مسجد دہلی کے منبر سے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے یہ رقت آمیز اور پُراز بصیرت خطبہ دیاتھا:

کیا تمھیں یاد ہے کہ میں نے تم کو سمجھانا چاہا تو تم نے میری زبان پر تالے لگا دیے، میں نے قلم اٹھایا تو تم نے میرے ہاتھ قلم کر دیے، میں نے آگے بڑھنا چاہا تو تم نے میرے پیر پابندِ زنجیر کر دیے، میں نے پلٹنا چاہا ، تم نے میری پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا۔ پھر بھی میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں کہ تم اس مسجد کے میناروں کوکس کے حوالے کرکے جانا چاہتے ہو؟ کیا تم کو یقین ہے کہ وہاں (پاکستان میں) تم کو وہی ملے گا، جس کے تم مستحق ہو؟ ہرگز نہیں، اس لیے تم یہیں رہو اور حالات کا پامردی سے مقابلہ کرو۔

آج ستّر سال بعد بھی امام الہند کے ایک ایک جملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ کس طرح ایک اجتہادی خطا کی بنا پر مسلمان ایک ایسی کشتی میں سوار ہو گئے، جس کا کوئی ناخدا نہیںاور خود انھوں نے ملک میں اپنا وقار و وزن ہلکا بنا دیا۔مولاناکے مطابق اگر ملک متحد ہندستان کی شکل میں آزاد ہوتا تو ملک کے تمام صوبوں کو تین زمروں؛ A،Bاور C میں منقسم کیا جاتا۔ حکومت وفاقی طرز کی ہوتی، مرکز کے پاس امورِ خارجہ ، دفاع اور مواصلات کے محکمے ہوتے۔ صوبائی حکومتیں خود مختار یونٹوں کی شکل میں کام کرتیں، جس صوبے میں ہندو یا مسلم‘ جس کی اکثریت ہوتی، اُ س صوبے میں اُسی کا وزیرِ اعلیٰ منتخب کیا جاتا، بقیہ یونٹوں میں آبادی کے تناسب سے یہ مرحلہ طے پاتا۔ سرکاری ملازمتیں تعلیمی، اداروں اور اسمبلیوں میں نمائندگی بھی آبادی کے متناسب ہوتی، لیکن ایسا ہو نہ سکا اور مولانا کو اپنوں اور غیروں کی انتہائی مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑا۔

بقول مجیب خیرآبادی ؎

دشمنوں کو اپنایا، دوستوں کے غم کھائے

پھر بھی اجنبی ٹھہرے، پھر بھی غیر کہلائے

معلوم ہوا امام الہند مولانا ابو الکلام آزاد کی ہمہ جہت شخصیت میں متعدد و مختلف کمالات پوشیدہ تھے۔جن سے صَرفِ نظر کرتے ہوئے محض ان کی صحافت پر گفتگو کرنا آسان نہیں۔ پھر اُن کی صحافت بھی موجودہ دور کی سی نہ تھی، جو صحافت کے بجائے کہ سفاہت کے مترادف ہے۔ مولانا کے مطالعے کی وسعت، جمالیاتی ذوق اور فضل و کمال کے متنوع امتزاج نے ان کی شخصیت کی شش جہات کو روشن کر دیا تھا۔ اس پر طرّہ یہ کہ ان کی صحافتی بوالعجمی وبو قلمونی ہرگز اس کی اجازت نہیں دیتی کہ اس سے سرسری طور پر گزرا جائے۔ ’نیرنگِ عالم‘، ’لسان الصدق‘، ’المصباح‘، ’الندوہ‘، ’الہلال‘، اور ’البلاغ‘ وغیرہ ان کی اعلیٰ صحافت کے ان مٹ نقوش ہیں۔ مولانا آزاد نےصحافت کے توسط سے قومی و بین الاقوامی مسائل پر مجاہدانہ تحریریں لکھنے کے علاوہ قارئین کی ذہبی و اخلاقی اصلاح پر بھی توجہ مبذول رکھی اور اس کے لیے ادب و انشا کو وسیلۂ اظہار بنایا۔

ہندستان کی صحافتی تاریخ میںمولانا ابو الکلام آزادکا مقام بہت بلند ہے۔ خاص طور سے ان کے شاہ کار ’الہلال‘کی حیثیت ایک مینارۂ نور کی  ہے۔مولانا نےایک طرف جہاں ’الہلال‘ کے ذریعہ خوابِ غفلت میں ڈوبے ہوئے ہندستانی سماج کو بیدارکیا، وہیں تحریکِ آزادی کے کارواں کو بھی مہمیز کیا۔مولانا نے اپنی صحافت کے ذریعے نہ صرف قومی و ملّی جذبات کی ترجمانی کی بلکہ عالمی مسائل کا احاطہ بھی کیا۔ انھوں نے مذہبی، ادبی، سیاسی اور صحافتی مختلف النوع خدمات انجام دیںاور مسلم قوم کو احساس کم تَری سے نجات دلانے کی بھرپور کوشش کی۔ ان کی صحافت نے درحقیقت اُردو صحافت کو ایک نیا معیار و اعتبار عطا کیا۔اگر یہ کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کہ مولانا ابو الکلام آزاد کی صحافت ایسی تھی جسے خود انھوں نے ایجاد کیا اور وہ اُن ہی کے ساتھ ختم ہو گئی۔

مولانا آزاد ایک ایسے علمی خانوادے سے تعلق رکھتے تھے، جہاں صحافت کی حیثیت گھر کی لونڈی کی سی تھی۔ بچپن سے ہی انھوں نے ملک کے کونے کونے سے نکلنے والے اخبارات و رسائل کا مطالعہ کرنا شروع کر دیا تھا اور ابھی ان کی عمر صرف 11برس کی تھی کہ انھوں نے ایک رسالہ’نیرنگِ عالم‘ شایع کرنا شروع کر دیا، لیکن یہ اخبار جلد ہی بند ہو گیا۔ اس کے بعد مولانا کا تعلق ’المصباح‘، ’احسن الاخبار‘، ’تحفۂ محمدیہ‘، ’خدنگِ نظر‘، ’لسان الصدق‘، ’الندوہ‘، ’وکیل‘ اور ’دا ر السلطنت‘ وغیرہ جرائد سے رہا۔ وہ ’مخزن‘ اور دیگر اخبار ورسائل میں بھی برابر لکھتے رہے۔ ’الہلال‘ سے قبل مولانا کو تقریباً متعدد اخبارات و رسائل کی ادارت کا تجربہ ہو چکا تھا، لیکن سچ بات یہ ہے کہ ان کی صحافتی زندگی کا آغاز اور عروج ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ کی اشاعت ہے۔

مولانا آزاد کے نزدیک صحافت ایک مقدس پیشہ تھی جسے وہ بے لوثی اور بے غرضی کے ساتھ اپنانے کے داعی تھے۔ جو لوگ اس پیشے کو خود غرضی اور مطلب پرستی کے ہاتھوں بدنام کرتے ہیں، مولانا نے ان پر سخت تنقید کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباؤ سے آزاد ہونا چاہیے اور چاندی اور سونے کا تو سایہ بھی اس کے لیے سمِ قاتل ہے، جو اخبار نویس رئیسوں کی ضیافتوں اور امیروں کے عطیوں کو قومی اعانت، قومی عطیہ اور اسی طرح کے فرضی ناموں سے قبول کرلیتے ہیں، وہ بہ نسبت اس کے کہ اپنے ضمیر اور نورِ ایمان کو بیچیں‘ بہتر ہے کہ دریوزہ گری کی جھولی گلے میں ڈال کر اور قلندروں کی کستتی کی جگہ اور قلم دان لے کے رئیسوں کی ڈیوڑھیوں پر گشت لگائیں اور ہر گلی کوچہ ’کام ایڈیٹر کا‘ کی صدا لگا کر خود اپنے تئیں فروخت کرتے رہیں۔

مولانا صحافت کو کسی بھی دباؤ میں آنے کو سخت نقصان دہ گر دانتے تھے، جس سے کسی دانا و بینا کو انکار نہیں ہو سکتا۔ وہ ایسے صحافیوں کو ایک دھبّا سمجھتے تھے جو کسی انسان یا جماعت سے کچھ حاصل ہونے کے سبب قلم کی حق بیانی سے منحرف ہو جائے۔ مولانا صحافت کو خدا کے عظیم الشان فرض یعنی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا وسیلہ سمجھتے تھے۔خود اُنھیں ایک موقع پر ایک رئیس کی طرف سے ایک چیک نذر کیے جانے پر انھوں نے یہ کہہ کر اسے لوٹا دیا:

ہمارے عقیدے میں تو جو اخبار اپنی قیمت کے سوا کسی انسان یا جماعت سے کوئی اور رقم لینا جائز رکھتا ہو‘ وہ اخبار نہیں بلکہ اس فن کے لیے ایک دھبّا اور سر تاسر عار ہے۔ ہم اخبار نویسوں کی سطح کو بہت بلندی پر دیکھتے ہیں اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرضِ الٰہی ادا کرنے والی جماعت سمجھتے ہیں۔ پس اخبار نویس کے قلم کو ہر طرح کے دباو سے آزاد ہونا چاہیے۔

مولانا کی صحافت کے ادوار

مولانا آزادکی صحافت کو تاریخی اعتبار سے مندرجۂ ذیل چار ادوارمیں تقسیم کیا جاسکتا ہے؛پہلا دور جو 1889-1903ءکا زمانہ ہے،یہ تجربے اور مشق کا دور ہے۔ جس میں انھوں نے مختلف اخبارات و رسائل کے ذریعے میدانِ صحافت کی سیاحت کی۔ دوسرا دور وہ ہے،جب ان کی عمر تقریباً 20 سال ہوئی تو ان کی طبیعت ناساز رہنے لگی، جس کے چلتے کچھ وقت کے لیے وہ صحافت سے کنارہ کش ہو گئے۔ لیکن یہ وقفہ ’الہلال‘صورت میں نمودار ہوا، جس نے صحافت کے نور کو عام کیا۔نہ صرف مولانا آزاد بلکہ اردو صحافت کا عظیم کارنامہ ہے۔ اسے ان کی صحافت کا تیسرا دور شمار کرنا چاہیے۔اس دور میں چھبیس ہزار کی اس کی تاریخی اشاعت نے سب کو اپنا گرویدہ بنا لیا اور علامہ اقبالؔ تک نے اس کے لیے خریدار فراہم کیے۔’الہال‘ نے موضوعات کا بے مثال تنوع پیش کیا،جس میں مذہب، سیاسیات، معاشیات، نفسیات، عمرانیات، جغرافیہ، تاریخ و سوانح اورمسائل حاضرہ نیز ادب وغیرہ سب ہی کچھ موجود تھا۔مولانا کی صحافت کا چوتھا اور آخری دور رانچی میں نظربندی اور رسل رسائل کے منقطع ہو جانے کا دور ہے، جس میں انھوں نے تصنیف و تالیف کو خصوصی مشغلہ بنایا۔اسی زمانے میں ان کے دل کا غبار بصورت ’غبارِ خاطر‘ منظرِ عام پر آیا اور وہ خود اپنا ’تذکرہ‘ لکھنے پر مائل ہوئے۔یہ وہ ادبی و صحافتی اثاثہ ہے، جن سے براہ ِ راست محظوظ ہوئے بغیر ان کی قدر و قیمت کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

نیرنگِ عالَم

یہ دراصل ایک ماہانہ ’گلدستہ‘ تھا،جس میں شعری کلام شایع ہوتا تھا۔ مولانا نے فقط گیارہ سال کی عمر یعنی نومبر 1899ء میںاسے ہریسن روڈ پر واقع ہادی پریس، کلکتہ سے جاری کیا۔ اس کے غالباًآٹھ شمارے شایع ہوئے، جو ان کی عمر کے لحاظ سے ہمیں حیرت میں ڈالنے کے لیے کافی ہیں۔

خدنگِ نظر

1897ء میں منشی نوبت راے نے لکھنؤ سے ایک ماہنامہ بنام ’خدنگِ نظر‘ نکالنا شروع کیا تھا، جس میں ابتداء ً صرف منظوم کلام شایع ہوتا تھا۔ 1900ء سے جب اس میں مضامین شایع ہونا شروع ہوئے تو اس نثری حصے کی ترتیب مولانا کے سپرد کی گئی۔

المصباح

تقریباً بارہ سال کی عمر یعنی22جنوری 1901ءکو مولانا نے مصر کے ایک اخبار’مصباح الشرق‘ کی تقلید میں ہفتہ وار ’المصباح‘ نکالنا شروع کیا، جس میں پہلا مضمون ’عید‘لکھا۔ یہ اس قدر مقبول ہوا کہ متعدد اخبارات نے اسے شایع کیا۔ ’المصباح‘نے تین چار ماہ جاری رہ کر دم توڑ دیا۔

احسن الاخبار

1901ء میں سید احمد حسن نے کلکتہ سے ’احسن الاخبار‘نامی ایک ہفتہ وار جریدہ جاری کیا تھا۔مولانا اس میں جنوری 1902ء سے منسلک ہوئے اور تقریباً دو سال تک اس کی ترتیب کی خدمات انجام دیں۔ اس میں مولانا کے متعدد مضامین بھی شایع ہوئے اور اسی زمانے میں انھوں نے مصر، قسطنطنیہ، طرابلس اور تیونس وغیرہ کے اخبارات کا مطالعہ کیا۔جس کے زیرِ اثر انھوں نے مصر کے اخبارات ’الہلال‘ اور ’المنار‘کی طرح اپنے جریدوں کے نام ’الہلال‘ اور ’البلاغ‘ رکھے۔

لسان الصدق

ماہ نامہ ’لسان الصدق‘اس کا پہلا شمارہ 20نومبر 1903ء کو شایع ہوا تھا، جب کہ مولانا کی عمر فقط پندرہ سال تھی۔ اس زمانے میں بھی مولانا کی سنجیدگی و متانت کا یہ عالم تھا کہ ان کی تحریروں سے متاثر ہو کر ’انجمن حمایتِ اسلام، پنجاب‘کے اصحاب نے  1904ء کے سالانہ اجلاس میں مدیرِ لسان الصدق کو خطاب کی دعوت دی۔ یکم اپریل 1904ء کو مولانا نے اس اجلاس میں ’تبلیغِ اسلام کا طریقِ کار‘کے موضوع پر تقریر کی۔ ’لسان الصدق‘ بھی تقریباً اٹھارہ ماہ جاری رہ کر بند ہو گیا۔اس رسالے کی خصوصیات پر روشنی ڈالتے ہوئے مولانا آزاد نے لکھا تھا کہ ’لسان الصدق‘ میں ذیل کی خصوصیتیں ایسی جمع ہو گئی ہیں، جن کی نظیر اُردو کے عام رسائل میں نہیں مل سکتیں:(۱) نئے نتیجہ، لٹریری اور تفریحی ترک کرکے صرف کارآمد علمی مضامین اس میں شایع کیے جائیں گے (۲) مضامین کے علاوہ ایک سلسلہ مشاہیر الشرق کا قایم کیا جاے گا، جس میں انیسویں صدی کے مشرقی افاضل اور مشاہیر کے حالات مع تصویر شایع کیے جائیں گے(۳) مشاہیر الشرق کے علاوہ اور تاریخی اور سائنٹفک مضامین انگریزی رسائل کی طرز پر با تصویر شایع کیے جائیں گے(۴) سائنس کی مختلف شاخوں پر دلچسپ مضامیں لکھے جائیں گے اور اُن کے مرتَّب سلسلے ماہوار شایع ہوں گے(۵) ملک کے وہ مشہور مصنف جن کی تحریرات مستقل تصانیف کے علاوہ عام اخبارات و رسائل میں بہت کم شایع ہوتی ہیں، ان کی پاکیزہ تحریریں اس رسالے میں نظر آئیں گی۔

رسالے کی مذکورہ بالا خصوصیات کو پڑھیے اور مولانا کی عمر پر نظر رکھیے تو انتہائی حیرت ہوتی ہے کہ پندرہ سولہ سال کا لڑکا کیسےاصول و ضوابط کی سنجیدہ باتیں کرتا ہے۔

ابو سلمان شاہ جہاں پوری کے بیان کے مطابق لسان الصدق مولانا آزاد کی ادارت میں نکلنے والا پہلا رسالہ تھا جو علمی، ادبی، تعلیمی اور معاشرتی اصلاح اور ترقی کے اہم مقاصد کے تحت جاری کیا گیا تھا اور پہلے پرچے سے لے کر آخری پرچے تک اس کے تمام مضامین اور ان کا ایک ایک لفظ ان مقاصد کا ترجمان اور ان کے حصول کا محرک ثابت ہوا۔ اس کے مقاصد کی اہمیت کے اعتراف سے اس وقت کی ادب و صحافت کی پوری دنیا گونج اٹھی تھی۔ اس کے موضوعات کی اہمیت، مضامین کی افادیت، اسلوب کی دل ربائی اور ترتیب و تدوین کے حسن نے وقت کے تمام اہلِ ذوق کو اپنی طرف متوجہ کر لیا تھا۔ لسان الصدق کے اجرا سے مولانا کے پیشِ نظر زبان و ادب اور تنقید میں ذوق کی تسکین و تربیت اور معاشرتی اصلاح کے جن مقاصد کا حصول تھا، ان کا ہر جز جس طرح اس وقت لائقِ توجہ تھا، اسی طرح آج بھی ان کی اہمیت اور افادیت مسلّم ہے۔

الندوہ

1905ء میں مولانا شبلی نعمانی نے مولانا آزاد کو لکھنؤ آنے اور ماہ نامہ ’الندوہ‘کی ترتیب و تدوین میں شریک ہونے کی دعوت دی۔ یہ خالص علمی و تحقیقی مجلّہ اور دارالعلوم، ندوۃ العلماء لکھنؤ کا آرگن تھا اور اس وقت مولانا کی عمر تقریباً سترہ سال تھی۔جس سے مولانا آزاد کے فضل و کمال کا اندازہ لگانا آسان ہے کہ شبلی نعمانی جیسے محقق و مصنف نے انھیں ایسی اہم ذمّے داری سونپنے کا فیصلہ کیا۔مولانا آزاد ان کی دعوت پر اکتوبر 1905ء سے مارچ 1906ء تک چھے ماہ ’الندوۃ‘ میں خدمات انجام دیتے رہےاور پھر کسی سبب علاحدہ ہو گئے۔

ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاں پوری کے بیان کے مطابق ماہ نامہ ’الندوہ‘ ندوۃ العلما، لکھنؤ کا علمی ترجمان تھا اور ندوے کی روحِ رواں علامہ شبلی کی خواہش تھی کہ ابوالکلام اس کے معاون مدیر بننے کی ذمّے داری قبول کریں۔ سبب یہ تھا کہ طرفین میں کئی برس پہلے ملاقاتیں ہو چکی تھیں۔ نیز شبلی، آزاد کے جاری کردہ ’نیرنگِ عالم‘ (گلدستہ)، ’المصباح‘ اور ’لسان الصدق‘ وغیرہ کے ذریعے ان کے غیر معمولی علمی ذوق اور دقیقہ رس مزاج سے بہ خوبی واقف ہو چکے تھے۔ ’خدنگِ نظر‘ میں ابوالکلام کے شایع ہونے والے مضامین بھی ان کی نظر سے گزر چکے تھے۔ وہ ایک موقع پر آزاد سے کہہ چکے تھے’تمھارا ذہن و دماغ تو عجائبِ روزگار میں سے ہے‘۔ مختصر یہ کہ آزاد نے شبلی سے اپنی غیر معمولی عقیدت اور مؤخر الذکر کے اصرار کے پیشِ نظر اکتوبر 1905ء میں ’الندوہ‘کے معاون مدیر کی حیثیت سے ذمّے داری سنھبالی اور قریباً چھے سات ماہ تک اس کی ادارت کے فرائض انجام دیتے رہے۔

وکیل

’الندوہ‘سے علاحدہ ہونے پر امرتسر سے شیخ غلام محمد نے انھیں ’وکیل‘کی ادارتی ذمّے داری سپرد کی، جس کی مقبولیت میں مولانا نے اپنی صلاحیتوں و محنتوں سے خوب اضافہ کیا۔ لیکن اس دوران بھائی–  مولوی ابوالنصر غلام یاسین جو عراق میں سیاحت کی غرض سے گئے ہوئے تھے– کا انتقال ہو جانے کے سبب انھیںاپریل سے نومبر( 1906ء) فقط آٹھ ماہ میں امرتسر کو خیر باد کہنا پڑا۔ اگست 1907ء میں ایک بار پھر وہ اس خدمت پر مامور کیے گئے، لیکن ناسازگیِ طبیعت کے سبب تقریباً ایک سال میں جولائی یا اگست 1908ء کو علاحدہ ہو گئے۔

دارالسلطنت

یہ کلکتہ سے شایع ہونے والا ایک ہفت روزہ اخبار تھا، جس کے مالک و مدیر عبدالہادی تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اس کی اشاعت موقوف ہو گئی تھی۔ 1907ء میں ان کے صاحب زادے محمد یوسف نے اسے دوبارہ جاری کیا اور اسی زمانے میں قلیل عرصے کے لیے مولانا نے اس کی ادارت سنبھالی۔

الہلال اور البلاغ

اس کے بعد مولانا نے ’الہلال‘ جاری کیا، جو کہ ملتِ اسلامیہ کے جذبے کے تحت نکالاگیاتھا۔ اِ س کا اپنا پریس ، انتظامی اور ادارتی عملہ تھااور مولاناآزاد اُس کے تمام امور کے نگراں اور مدیرِ مسئول تھے۔ اس کے بعد’ البلاغ‘جاری کیاگیا،جو گویا کہ ’الہلال‘ ہی کا دوسرا نام تھا۔

’الہلال‘ کا پس منظر بیان کرتے ہوئے مولانا نے لکھا تھا کہ ۱۹۰۸ء میں کلکتہ چھوڑنے سے پہلے میں سیاسی خیالات کے اعتبار سے انقلابی سرگرمیوں کی طرف مائل ہو چکا تھا۔۔۔عرب اور ترک انقلابیوں سے تعلقات ہونے کا یہ نتیجہ نکلا کہ میرے سیاسی عقائد راسخ ہو گئے۔۔۔اب میرے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ ہندستانی مسلمانوں میں سیاسی بیداری کی ایک نئی تحریک شروع کی جائے۔۔۔میں کچھ دنوں تک غورکرتا رہا کہ مجھے اس کے لیے کیا طریقہ اختیار کرنا اور کیا پروگرام بنانا چاہیے۔ میں اس نتیجے پر پہنچا کہ ہمیں اپنے خیالات پبلک تک پہنچا کر اپنی موافقت کے لیے رائےعامّہ پیدا کرنا چاہیے اور اس کے لیے ایک اخبار جاری کرنا ضروری تھا۔۔۔[اسی مقصد سے میں نے ایک اخبار نکالنے کی ٹھانی اور] میں نے فیصلہ کیا کہ میرا اخبار طباعت کے اعتبار سے بھی دیدہ زیب ہوگا اور دعوت و اسلوبِ بیان کے اعتبار سے بھی ایسا ہوگا کہ پڑھنے والوں کے دل جوش و جذبات سے لبریز ہو جائیں۔ میں نے اسے لیتھو کے بجاے ٹائپ میں نکالنے کا فیصلہ کیا۔ اس عزم کے مطابق میں نے الہلال پریس قایم کیا اور 1912ء میں ’الہلال‘ کے نام سے ایک ہفتہ وار اخبار جاری کیا۔ اس کا پہلا نمبر 13جولائی کو نکلا تھا۔ اس کی اشاعت سے اُردو صحافت کی تاریخ کا ایک نیا دور شروع ہوتا ہے۔ اس اخبار کو قلیل مدت کے اندر بے نظیر ہر دل عزیزی حاصل ہوئی۔ پبلک کے لیے صرف اس کی اعلیٰ طباعت باعثِ کشش نہ تھی، بلکہ اس سے زیادہ قومیت کا وہ جذبہ تھا، جس کی وہ دعوت دیتا تھا۔ ’الہلال‘ نے عوام میں ایک انقلابی تحریک پیدا کر دی اور لوگوں میں وہ ایسا مقبول ہوا اور اس کی طلب کا جذبہ تین مہینوں کے اندر اندر اس کے تمام ابتدائی نمبروں کو دوبارہ شایع کرنا پڑا، اس لیے کہ ہر نیا خریدار چاہتا تھا کہ اس کے پاس اس کے ابتدائی نمبروں کا بھی مکمل سیٹ ہو۔

مختصر یہ کہ’ الہلال‘ نے بہت جلدشان دار مقبولیتِ عام حاصل کر لی۔جس کی وجہ ترقی پسند سیاسی تخیلات، معقول مذہبی ہدایات اور عمدہ و سنجیدہ ادبی شہ پارے کا شامل ہونا تھا۔مولانا کا یہ کارنامہ حکومت کی آنکھ میں ابتدا سے ہی کھٹکتا رہا اور اس کی طرف فقط دو مہینے یعنی 18ستمبر1912ء کو دو ہزار روپے کی ضمانت طلب کی گئی، جو ادا کر دی گئی۔لیکن الٰہ آباد کے ایک انگریزی روزنامے ’پانئیر‘کی طرف سے لکھے جانے والے ایک سخت مضمون کی پاداش میں سابقہ رقم ضبط کر کے مزید دس ہزار روپے کی ضمانت طلب کی، جس کی عدم استطاعت کے سبب 8نومبر 1914ء میں بیس شمارے مکمل کرکے اسے موقوف کرنا پڑا۔

تقریباً سال بھر کے بعد 12نومبر 1915ء کو مولانا نے نئے نام ’البلاغ‘ سے ایک رسالے کا اجرا کیا، جو کہ ’الہلال‘نقشِ ثانی تھا۔ لیکن یہ بھی فقط پانچ ماہ جاری رہ کر مارچ 1916ء کو حکومت کے عتاب کا شکار ہو کر بند کر دیا گیا۔

پھر تقریباً بارہ سال کے بعد ’الہلال‘کے دورِ ثانی کا آغاز ہوا اور 10جون 1927ء کو اس دور کا پہلا شمارہ شایع کیا گیا۔جس میں مولانا شبلی نعمانی،مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا عبد السلام ندوی اور مولانا عبد اللہ عمادی وغیرہ کی قلمی کاوشیں شایع ہوتی تھیں اور اس کی ترتیب وغیرہ کے ذمّے دار مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی تھے لیکن اس بار بھی بیس شمارے شایع ہو کر 9دسمبر 1927ء کو بند کر دیا گیا۔

پروفیسر سید سفارش حسین لکھتے ہیں:

الہلال کا انداز بالکل نرالا تھا اور اس کا اندازِ تخاطب سب سے انوکھا۔ دل کی گہرائیوں سے نکلی ہوئی بات کو دل کی گہرائیوں ہی میں پہنچ کر قرار آنا تھا۔ اس کے صفحات تلخ حقیقتوں سے لبریز تھے اور اس کی ایک ایک سطر نشتر کا حکم رکھتی تھی، پھر بھی پڑھنے والا ایسا محسوس کرتا گویا وہ بھی یہی کہنا چاہتا تھا۔ اس کا طرزِ تنقید، اس کا طریقۂ اعتراض اور اس کی حق گوئی، جذبۂ مخالفت کو ابھارنے کے بجائے لوگوں کے دلوں کوگرمیِ عمل سے گرماتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ الہلال نے جتنی کم مدت میں لوگوں کے ذہن، معتقدات اور رجحانات میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی، اس کی دوسری مثال ممکن نہیں۔ الہلال کے بعد البلاغ نے اس کی جگہ لی، لیکن کم مایہ قوم کی کم نصیبی کہ جلد ہی وہ اِن جواہر ریزوں سے محروم ہو گئی۔

نیز امداد صابری کے مطابق مولانا کی ادارت میں الہلال نے ہندستان کے عوام کو انگریزوں کے خلاف جد و جہد کی ہی دعوت نہیں دی تھی بلکہ انھیں یہ بھی بتایا کہ انگریز سامراج کے خلاف ان کی جد و جہد تمام آزاد پسند اقوام کی جد و جہد کا ایک جزو ہے۔ اس طرح الہلال نے ہندستان کے مجاہدینِ آزادی کے ذہنی افق کو وسعت بخشی اور ان کے عزائم اور ارادوں کو پختگی دی۔

پیغام

مولانا نے23ستمبر 1921ء کو کلکتہ سے ’پیغام‘نامی ایک رسالہ جاری کیا تھا، جس کی ترتیب مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی کے سپرد کی گئی تھی۔ اس میںمولانا نے معرکہ آرا تحریریں شایع کی ہیں، لیکن دیگر ملکی و سیاسی ذمّے داریوں کے سبب وہ اس جانب کماحقہ توجہ نہیںدے سکے۔اسی سال 17 نومبر کو شہزادہ ’ویلز‘ہندستان آیا، جس کا ’پیغام‘نے بایکاٹ کیا اور بالآخر مولانا آزاد اور مرتب مولانا ملیح آبادی 9فروری 1922ء کو عدالتی فیصلے کے بعد جیل چلے گئے، اور  ’پیغام‘بند کر دیا گیا۔ اس کا آخری شمارہ 16دسمبر 1921ء کو شایع ہوا۔

علاوہ ازیں روزنامہ اقدام، مخزن،ماہ نامہ ریویو، تحفہ احمدیہ، رسالہ محمدیہ اور ماہ نامہ الجامعہ(عربی) میں بھی مولانا نے صحافتی خدمات انجام دی ہیں۔مولانا کے نزدیک صحافت ترسیل و ابلاغ کے ساتھ رائے سازی و رہنمائی کا بھی وسیلہ تھا لیکن ان کی سیمابی طبیعت کسی ایک جگہ ٹھہر کر کام کرنے کا موقع نہ دیتی تھی۔

****

مولانا ندیم انصاری شعبہ اردو، اسماعیل یوسف کالج ، جوگیسوری ، ممبئی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔ آپ مندرجہ ذیل میل ای میل پر ان سے رابطہ کرسکتے ہیں
bin.yameen86@gmail.com

Maulana Abulkalam Azad ka Swanahi Khaka by Haseeb Ahmad Haseeb

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد رح کا سوانحی خاکہ اور تفسیری منہج

حسیب احمد حسیب

بر صغیر پاک و ہند کے اہل علم کی ایک طویل فہرست ہے کہ جو مروجہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کا بھی خاص درک رکھتے تھے اور انہوں نے علوم دینیہ کے حوالے سے جدید انداز میں کام بھی کیا گو کہ ایسے احباب کی تفردات بھی بے شمار ہیں لیکن انکے علمی کام سے انکار بھی ممکن نہیں .
اسی فہرست کا ایک درخشندہ ستارہ مولانا ابو الکلام آزاد رح بھی تھے لیکن افسوس کے آپ کے علمی کمالات آپ کی سیاسی فکر کے پیچھے پوشیدہ ہو گئے اور خاص کر پاکستان کی سیاسی فضاء اور تقسیم کے قضیے کے تناظر میں مولانا آزاد رح کی علمی حیثیت کے ساتھ جو تعصب برتا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے اسی حوالے سے مولانا اصلاحی مرحوم رح کو ایک تحریر بھی لکھنا پڑی .
مولانا پر بے جا تنقید
پاکستان اور ہندوستان کے متعدد مخلصین نے ہمیں کراچی کے ایک معاصر کے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جو معاصر مذکور کی مارچ کی اشاعت میں ’’پردہ اٹھنے کے بعد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ پورا مضمون نہایت ہی توہین آمیز اور حد درجہ دل آزار ہے۔ یہ معاصر مولانا مرحوم کے متعلق اسی قسم کا ایک دل آزار مضمون اس سے پہلے بھی شائع کر چکا ہے۔ مولانا آزاد معاصر مذکور کی نظر میں جیسے کچھ بھی ہوں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس جا پہنچے! وفات پا جانے والوں سے متعلق ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہے کہ اگر ان کی کچھ بھلائیاں ہمارے علم میں ہوں تو ان کا ذکر کریں، ورنہ کم از کم ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ مولانا کے وفات پا چکنے کے بعد ان کا پردہ اٹھانے کی سعی میں سرگرم ہیں، ان کے سینے ہمارے نزدیک خوف خدا سے بالکل خالی ہیں۔ وہ اپنے اس رویہ سے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ اسی دنیا میں ان کے پردے چاک کرے۔
مولانا آزاد مکہ میں نہیں پیدا ہوئے کھیم کرن میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ کوئی بڑے عالم نہیں تھے، بلکہ مسجد کو رہن رکھنے والے اور بدعتی آدمی تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان تحقیقات سے اقامت دین کے اس نصب العین کو کیا تقویت پہنچ رہی ہے جس کے یہ حضرات کل تک علم اٹھائے پھر رہے تھے! مولانا آزاد میں جو بڑائیاں اور خوبیاں تھیں، وہ یہ نہیں تھیں کہ وہ بہت بڑے باپ کے بیٹے یا کسی بہت بڑی درس گاہ سے نسبت رکھنے والے تھے، بلکہ یہ ساری خوبیاں ان کی ذاتی خوبیاں تھیں اور وہ اتنی شان دار تھیں کہ ان کے بدتر سے بدتر حاسد بھی ان کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ مولانا آزاد نے دوسروں کی نسبت سے خود شرف حاصل نہیں کیا، بلکہ اپنی نسبت سے دوسروں کو شرف بخشا۔
مولانا کی عربی دانی کی بحث بھی ایک غیر ضروری اور غیر مفید بحث ہے۔ اور اگر یہ بحث کچھ مفید بھی ہے تو بہرحال ان لوگوں کے اٹھانے کی نہیں ہے جو خود عربی، فارسی، انگریزی، ہر چیز سے بے بہرہ ہیں۔
مولانا پر یہ طنز بھی ہمارے نزدیک ابھی قبل ازوقت ہے کہ ’بھارت میں گائے کے ذبیحہ کی ممانعت سے لے کر توہین رسول تک کے اندوہناک واقعات رونما ہو گئے، مگر حزب اللہ کے موسس امام الاحرار مولانا محی الدین المکنی بابی الکلام الدہلوی دم سادھے بیٹھے رہے!‘
مولانا پر یہ طنز اس وقت موزوں رہے گا جب یہ حضرات بھارت کے کفرستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامستان میں، جو سو فی صد مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، کچھ کر کے دکھا سکیں۔ ابھی تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن حضرات کو اپنے ناخن تدبیر کی جولانیوں پر بڑا ناز تھا، رشتہ میں ایک ہی گرہ پڑ جانے سے، وہ اس طرح چکرا گئے ہیں کہ گرہ کھولنے کے بجاے سر کھجانے میں مصروف ہیں :
اس بے بسی میں یارو، کچھ بن پڑے تو جانیں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
بہرحال، مولانا مرحوم کے متعلق اس طرح کی بحثیں جو لوگ چھیڑ رہے ہیں، ان کے ظرف کے متعلق کوئی اچھی راے نہیں قائم کی جا سکتی۔ مولانا آزاد ان حضرات کے نزدیک واقدی کی طرح کذاب ہیں۔ لیکن ان کی یہی ایک خوبی ان حضرات کی تمام خوبیوں پر بھاری ہے کہ ان کی ذات پر جب بھی اس قسم کے شریفانہ حملے کیے گئے تو انھوں نے ان کا نوٹس نہیں لیا، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اپنے اس قسم کے کرم فرماؤں کے ساتھ ان کی مشکلات میں انھوں نے نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کی طبیعت میں بڑی بلندی تھی اور اس بلندی کی وجہ سے وہ لوگوں کی حاسدانہ باتوں کی کبھی پروا نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظمت و شہرت عطا فرما دی تھی کہ ان کو اپنی شہرت و عظمت کی تعمیر کے لیے دوسروں کی شہرت پر حملہ کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی۔
مولانا آزاد جیسے لوگوں پر اگر کسی کو بحث کرنی ہو تو ان کے افکار و نظریات پر کرے۔ اس لیے کہ اس طرح کے لوگوں کے افکار و نظریات سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ مولانا آزاد کے بعض افکار و نظریات سے ہمیں بھی اختلاف ہوا ہے اور ہم نے اپنے اس اختلاف کا اپنی تحریروں میں اظہار بھی کیا ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود ہماری نظروں میں ا ن کی عزت و عظمت کبھی کم نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے اور ان کی ذات پر اس قسم کے ’شریفانہ‘ حملے کرنے والوں کو توفیق دے کہ یہ اپنے زبان و قلم کی صلاحیتیں کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کریں اور دوسروں کا پردہ اٹھانے کے بجاے اپنا پردہ قائم رکھنے کی کوشش کریں!
معاصر موصوف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا مرحوم کے سارے تربیت یافتہ ملحد اور بے دین ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ مولانا بھی ایک ملحد و بے دین تھے۔ یہ نکتہ اگر صحیح ہے تو کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسی نکتہ کی روشنی میں ان بزرگوں کے متعلق کیا راے قائم کی جائے جن کے فیض تربیت کا یہ مظاہرہ معاصر موصوف نے کیا ہے اور جن کو اپنے صفحات میں وہ ہم رتبۂ ابن تیمیہ و شاہ ولی اللہ قرار دیتا رہا ہے۔
(مقالات اصلاحی ۲/ ۴۰۸، بہ حوالہ ماہنامہ میثاق لاہور۔ اپریل ۱۹۶۰ء)
مولانا آزاد سوانحی خاکہ
ابوالکلام محی الدین احمد آزاد : (پیدائش 11 نومبر 1888ء – وفات 22 فروری 1958ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ مولانا 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپنمکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔
مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگرس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ 22 فروری 1958ء کو انتقال ہوا۔
مولانا کی سیاسی فکر
فروری ۱۹۲۰ء ؁ مین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد نے ائمہ کے اقوال کی روشنی میں نظامِ خلافت کی تعریف کی ہے:
”مسلمانوں کی ایسی حکومت جو ارکانِ اسلام کو قائم رکھے، جہاد کا سلسلہ و نظام درست کرے، اسلامی ملکوں کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے اور ان کاموں کے لیے فوجی قوت کی ترتیب اور لڑائی کا سامان وغیرہ جوکچھ مطلوب ہو، اُس کاانتظام کرے، مختصر یہ کہ اسلام کا خلیفہ وہ حکمران ہوسکتاہے جواسلام و ملت کے لیے دفاع و جہاد کی خدمت انجام دے سکے۔”12
مسئلہ خلافت: ص126
ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں :
”عثمانی ترک نہ تو عرب پرقانع ہوئے نہ ایران و عراق پر، نہ شام و فلسطین کی حکومت اُن کو خوش کرسکی، نہ وسط ایشیاکی بلکہ تمام مشرق سے بے پروا ہوکر یورپ کی طرف بڑھے۔ اُس کے عین قلب (قسطنطنیہ) کو مسخر کرلیا اور اور اس کی اندورنی آبادیوں تک میں سمندر کی موجوں کی طرح در آئے حتیٰ کہ دارالحکومت آسٹریا کی دیوار اُن کے جولانِ قدم کی ترکتازیوں سے بارہا گرتے گرتے بچ گئی۔ ترکوں کا یہ وہ جرم ہے جو یورپ کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کاکوئی موجودہ حکمران خاندان اس جرم (فتح یورپ) میں اُن کا شریک نہیں ہے۔ اس لیے ہرحکمران مسلمان اچھا تھا جو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا مگر یہ ترک وحشی و خونخوار ہے اس لیے کہ یورپ کا طلسم سطوت اُس کی شمشیر بے پناہ سے ٹوٹ گیا۔”13
مسئلہ خلافت، ص116
مولانا کا تصور قومیت
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
ترجمان القرآن
انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ
آغا شورش کاشمیری “ابوالکلام آزاد” جو مولانا کی سوانح عمری ہے کہ صفحہ نمبر 482 میں رقمطراز ہیں
“مولانا محمد علی جوہر سے تو راقم شخصی نیاز نہیں رہا کہ ان کی رحلت کے وقت راقم ساتویں یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن مولانا ظفر علی خاں سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، خیبر سے مانڈلے تک ان کے ساتھ شریکِ سفر رہا۔ ہندوستان کی سیاست اور مختلف شخصیتوں کے بارے میں جب بھی اُن سے بات چیت ہوتی تو ان نجی محفلوں میں قلم و زبان کی تیزی سے پرہیز کرتے۔ ان کے تبصرے نہایت نپے تُلے اور لگے بندھے ہوتے۔ کئی دفعہ مولانا آزادؒ کا ذکر آیا تو ان کے متعلق نہایت وقیع رائے ظاہر کی۔ ایک دفعہ کہیں سفر پر جا رہے تھے عملہ نے اصرار کیا تو جاتے جاتے ایک طویل نظم بالبداہت ارشاد فرمائی، مطلع تھا
؎
مجھے بھی انتساب ہے ادب کے اس مقام سے
ملی ہوئی ہے جس کی حد قدم گہ نظام سے
دسواں یا گیارھواں شعر تھا؎
جہاں اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو جستجو تو پوچھ ابوالکلام سے
راقم ہمراہ تھا۔ استفسار کیا۔
“مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق آپ نے جو شعر کہا ہے وہ محض قافیہ کی بندش ہے یا فی الواقعہ آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں”:
فرمایا:
“جو کچھ میں کہا ، وہ لفظاََ ہی نہیں منعاََ بھی درست ہے”
عرض کیا”
“کیا مولانا ابوالکلام تفسیرِ قرآن میں اسلاف کے پیرو اور اس عہد کے مجتہد ہیں”؟
فرمایا:
“بالکل، اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا ہے ، وہ زمانہ کی فکری تحریکوں کو بخوبی سمجھتے اور قرآن کو ہر زمانے کی پچیدگیوں کا حل قرار دے کر انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ۔ وہ قرآن کی ابدی دعوت پر نظامِ کائنات کی اساس رکھتے ہیں۔ ان پر بفضلِ ایزدی علم القرآن کے اس طرح کھلے ہیں کہ ان کے لیے کوئی سی راہ مسدود و منقطع نہیں۔ اُن کی آواز قرآن کی آواز ہے۔”
راقم:”مولانا کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی خوبی کیا ہے؟ اور کونسا پہلو ہے جو دوسرے تراجم او تفاسیر کے مقابلے میں منفرد ہے؟”
مولانا:
“اُن کے ترجمہ و تفسیر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن ہی کی زبان میں خطاب کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کے الفاظ الوہیت اور نبوت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور یہ صرف اللہ کی دین ہے۔ دوسرے تراجم جو اب تک ہندوستان میں ہوئے ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں لغوی ترجمہ ہیں، ان میں قرآن کے شکوہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ عربی الفاظ کا ترجمہ اردو الفاظ میں کیا گیا ہے ، مطالب کی طاقت و پہنائی اوجھل ہو گئی ہے۔ آزادؔ کی تفسیر محض مقامی و محض اسلامی نہیں، بین الاقوامی و بین الملی ہے۔ وہ الہیاتی زبان میں کائنات کو خطاب کرتے ہیں۔”
راقم: “ادب میں اُن کا مقام کیا ہے؟”
مولانا:
“فی الواقعہ وہ ایک سحر طراز ادیب ہیں، ان کا قلم تلوار ہے، وہ قرنِ اول کے غزوات کی چہرہ کشائی کرتے، اور عصرِ حاضر کی رزم گاہوں میں مسلمانوں کی فتح مندیاں ڈھونڈتے ہیں۔
ان کا اسلوبِ بیان بے مثال ہے آدمی ان کے الفاظ سے مسحور ہوتا اور مطالب میں ڈوب جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ نکتہ آفرینی کے اعتبار سے اس وقت ہندوستان بھر میں اپنی نظیر نہیں رکھتے ۔ قلم کی نزاکت اور قلم کی طاقت مبدء فیاض نے ان کے لیے ارزاں کر دی ہے”
راقم: اُن کی زبان عوام کے لیے مشکل ہے:؟
مولانا:
“کوئی زبان مشکل نہیں ہوتی، سوال ہمارے علم کا ہے کہ ہم کس حد تک اس سے بہرہ یاب ہیں۔ ان کی زبان قرآن کی زبان ہے، جو قرآن نہیں جانتے یا اس کی زبان سے نا بلد ہیں ان کے لیے ان کی زبان فی الواقعہ مشکل ہے، ورنہ وہ آبشار کی طرح بہتی ہوئی اور چاندی کی طرح کھلی ہوئی زبان لکھتے ہیں، وہ ہمارے عظیم ماضی کی زبان و بیان کے وارث ہیں۔”
راقم:
“اُن کے عوام سے کٹ کے رہنے کی وجہ کیا ہے؟
“ہر طبیعت کا ایک اسلوب ہوتا ہے ان کی طبیعت عوام گریز واقع ہوئی ہے”
۔
مولانا لکھتے ہیں ۔
‘ خدا کی سچائی ، اس کی ساری باتوں کی طرح ، اس کی عالمگیر بخشش ہے ۔ وہ نہ تو کسی خاص زمانے سے وابستہ کی جاسکتی ہے ، نہ کسی خاص نسل و قوم سے ، اور نہ کسی خاص مذہبی گروہ بندی سے ۔تم نے اپنے لیے طرح طرح کی قومیتیں اور اور جغرافیائی اور نسلی حد بندیاں بنالی ہیں ، لیکن تم خدا کی سچائی کے لیے کوئی ایسا امتیاز نہیں گھڑ سکتے ، اس کی نہ تو کوئی قومیت ہے ، نہ نسل ہے ، نہ جغرافیائی حد بندی ،نہ جماعتی حلقہ بندی ۔وہ خدا کے سورج کی طرح ہر جگہ چمکتی اورنوع انسانی کے ہر فرد کو روشنی بخشتی ہے ۔ اگر تم خدا کی سچائی کی ڈھونڈھ میں ہو تو اسے کسی ایک ہی گوشے میں نہ ڈھونڈھو ۔ وہ ہر جگہ نمودار ہوئی ہے اور ہر عہد میں اپنا ظہور رکھتی ہے ۔ تمہیں زمانوں کا ،قوموں کا ، وطنوں کا ، زبانوں کا اور طرح طرح کی گروہ بندیوں کا پرستار نہیں ہونا چاہیے۔صرف خدا کا اور اس کی عالمگیر سچائی کا پرستار ہونا چاہیے اس کی سچائی جہاں کہیں بھی آئی ہو اور جس بھیس میں بھی آئی ہو ، تمہاری متاع ہے اور تم اس کے وارث ہو ۔
(ترجمان القرآن جلد اول ص 411 )۔
مالک رام ترجمان القرآن میں پیش کیے گئے ترجمہ پر اپنی کتاب ‘ کچھ ابوالکلام کے بارے میں ‘ میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کرتے ہیں :
‘ یہ ترجمہ ادبی لحاظ سے بھی اتنا حسین اور برجستہ ہے کہ اسے ادبی تخلیق کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا ۔افسوس کہ اس پہلو سے کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔ مثال کے طور پر صرف سورہ فاتحہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو :
اللہ کے نام سے جو الرحمان الرحیم ہے ۔
ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے جوتمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے ۔ جورحمت والاہے ، اور جس کی رحمت تمام مخلوقات کو اپنی بخششوں سے مالا مال کررہی ہے ، جو اس دن کا مالک ہے ، جس دن کاموں کابدلہ لوگوں کے حصے میں آئیگا۔ (خدایا!) ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تو ہی ہے ، جس سے (اپنی ساری احتیاجوں میں ) مدد مانگتے ہیں ۔ (خدایا !) ہم پر سعادت کی سیدھی راہ کھول دے ، وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہوئی جن پر تونے انعام کیا ۔ ان کی نہیں جو پھٹکارے گئے ۔ اور نہ ان کی جو راہ سے بھٹک گئے ۔
اس پر ترجمہ کا گمان ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی مصنف نے اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسے اصل میں لکھا ہی اس طرح ہو ۔'(ص83 )
ترجمان القرآن کی تحریر کا مقصود
مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) نے جب قرآن مجید کو اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا تو ان کے پیش نظر تین طرح کے کام تھے:
۱۔ مقدمۂ تفسیر، البصائر
۲۔ البیان فی مقاصد القرآن
۳۔ ترجمان القرآن
مقدمۂ تفسیر کے تحت مولانا قرآن حکیم کے مقاصد و مطالب پر اصول و مباحث کا مجموعہ مرتب کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے کم از کم بارہ ابواب، نہ صرف لکھے جا چکے تھے، بلکہ چھپ بھی گئے تھے۔ ان بارہ ابواب کے صفحات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔۲؂ مولانا نے ’’تذکرہ‘‘ میں ایک مقام پر لکھا ہے:
’’شرح حقیقت تحریف شریعت علی الخصوص فتنتین عظمتین یونانیت و عجمیت کے لیے مقدمہ تفسیر باب بست ویکم اور تفسیر فاتحہ الکتاب کو دیکھنا چاہیے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ۱۹۵)
’’البیان‘‘ کے نام سے مولانا آزاد قرآن مجید کی ایک مکمل تفسیر لکھنا چاہتے تھے۔ ’’البلاغ‘‘ میں جب اس کا اشتہار شائع ہوا تو اس کے الفاظ یہ تھے:
’’اس تفسیر کے متعلق صرف اس قدر ظاہر کر دینا کافی ہے کہ قرآن حکیم کے حقائق و معارف اور اس کی محیط الکل معلمانہ دعوت کا موجودہ دور جس قلم کے فیضان سے پیدا ہوا ہے، یہ اسی قلم سے نکلی ہوئی مفصل اور مکمل تفسیر القرآن ہے۔‘‘۳؂
مولانا نے ایک اور مقام پر بھی ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ میں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ مقام منجملہ روح الروح معارف کتاب و سنت، وحقیقت الحقائق قرآن و شریعت کے ہے جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ تفسیر البیان میں ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی تشریح و توضیح ملے گی اور اس سے بھی زیادہ مقدمہ تفسیر موسوم بہ ’’البصائر‘‘ میں بہ عنوان حقیقت ایمان و کفر۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ ۷۶۔۱۷۵)
مولانا نے ہفتے کے سات دنوں کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ تین دن ’’البلاغ‘‘ کی تدوین و ادارت کے لیے وقف تھے، دو دن ترجمے کے لیے اور دو دن تفسیر کے لیے۔ اپنی گرفتاری کے باعث مولانا جس طرح اپنے مسودات سے محروم ہوئے، اس کی تفصیل انھوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے دیباچے میں بیان کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شاہکار مکمل صورت میں ہمارے سامنے نہ آسکے۔
خدمت قرآن کے حوالے سے جو چیز مولانا کا تعارف بنی، وہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ہے۔ مولانا نے اپنے الفاظ میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا تعارف کراتے ہوئے ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ سے اس کا فرق واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ‘‘ اور ’’البیان‘‘ زیر ترتیب ہیں۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
تاہم جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھا اور مولانا کی سیاسی سرگرمیاں ان کے علمی کاموں میں حائل ہوتی گئیں، اس کام کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ’’البیان‘‘ جب سامنے نہ آ سکی تو ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی میں بعض مقامات پر اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی جلد میں جن مقامات پر محض مختصر حواشی لکھے گئے تھے، دوسری جلد میں انھی مقامات کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ اس ترمیم کے باوجود مولانا کے نزدیک ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اصل امتیاز اس کا ترجمہ ہے، مولانا لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
ترجمے کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کی دوسری خوبی، مولانا کے نزدیک اس کے نوٹ ہیں۔ ’’ان کی ہر سطرتفسیر کا ایک پورا صفحہ، بلکہ بعض حالتوں میں ایک پورے مقالے کی قائم مقام ہے۔‘‘
’’ترجمان القرآن‘‘ کی وجہ تالیف خود مؤلف کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ترجمان القرآن تفسیری مباحث کے ردوکد میں نہیں پڑتا صرف یہ کرتا ہے کہ اپنے پیش نظر اصول و قواعد کے ماتحت قرآن کے تمام مطالب ایک مرتب و منظم شکل میں پیش کر دے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہو جاتا ہے۔
مولانا آزاد چونکہ ایک صاحب طرز ادیب تھے، اس بنا پر’’ ترجمان القرآن‘‘ ان کے انشا کا بھرپور مظہر ہے، تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمۂ تفسیر ہی کی تتبع کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی راے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی راے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مصنف ترجمان القرآن کی یہ دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنۂ فرنگ کے عہد میں اسی طرزوروش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے پسند کیا تھا اور جس طرح انھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا، اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب ترجمان القرآن کے مصنف نے فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسول کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل و فلسفہ سے سمجھنا چاہیے۔‘‘(ابوسلمان شاہجہانپوری، ابوالکلام آزاد(بحیثیت مفسر و محدث)۲۱۔۲۲)
ترجمان القرآن کے نمایاں اوصاف
تفسیر سوره فاتحہ
مولانا کی ترجمان القرآن کا خاصہ سوره فاتحہ کی مفصل تفسیر ہے کہ جو ٢٠٣ صفحات کی ضخیم جلد پر مشتمل ہے مولانا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے تحت لکھتے ہیں ہدایت کے چار درجات ہیں
١. وجدانی ہدایت
٢. حواسی ہدایت
٣. عقلی ہدایت
٤. وحی الہی سے مستنبط ہدایت
اور پھر اس بحث میں پہلی تین ہدایتوں کو ناکافی قرار دے کر وحی الہی کی فوقیت کو مظبوط دلائل سے ثابت کرتے ہیں (٧٢)
خلافت کی بحث
مولانا کی خاص بحث مسلمانوں میں احیائی روح کو بیدار کرنا ہے اور اس حوالے سے خلافت کی بحث انکی تفسیر قرآنی میں جا باجہ ملتی ہے مولانا جہاد کی تعریف کرتے ہوے اس کے دو درجات متعیّن فرماتے ہیں
١. اقدامی جہاد
٢. دفاعی جہاد
اقدامی جہاد کو مولانا فرض کفایہ قرار دیتے ہیں (١٠٤)
اور دفاعی جہاد انکے نزدیک فرض عین ہے (١٠٥)
خلافت میں قرشیت کی شرط
علماء امت کا موقف خلافت میں قرشیت لازم ہونے کا ہے
ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں کی لعنت: مسند احمد، مسند ابو داؤد
مات قریش کے معاملے میں علمائے امت کا مسلک:
“اور وہ سب (مکتبہ ہائے فکر)اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قریشی النسل ہونا لازمی ہے: الفارق بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی (429ہجری)
“اہل سنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئیہ کا مذہب یہ ہے کہ امات جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں۔ ۔ ۔ ۔ اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہو اس شخس کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ وہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ ۔: الفصل فی املل و انحل از (452ہجری)ابن خرم
تمام امت اس امر پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیںہے” عبدالکریم شہرستانی (548 ہجری)
ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہوں اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں: امام نسفی (537 ہجری)
امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اسکو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے” قاضی عیاض (544 ہجری)
مولانا آزاد اور سید مودودی رح نے اس مسلے سے اختلاف کیا ہے مولانا اپنی معروف کتاب ” مسلہ خلافت”
میں بھی “ شرط قرشیت “ کے عنوان کے تحت اس سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں .
ذولقرنین کی تاریخی تحقیق :-
مولانا نے جدید جغرافیائی تحقیق اور تاریخی حوالوں سے ذولقرنین کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور انکے بعد کے زیادہ تر مفسرین نے اس مسلے میں انہی کا اتباع کیا ہے .
مولانا کی تحقیق کے مطابق ذولقرنین فارس کا شہنشاہ ” سائرس ” ہے
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
دوسری جانب مولانا یاجوج و ماجوج کے حوالے سے پڑی گرد کو بھی صاف کرتے ہیں اور منطقی دلائل سے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یاجوج ماجوج در اصل قدیم کاکیشین منگول قبائل ہیں .
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
ناسخ منسوخ کی بحث اور مولانا آزاد کا علمی استدلال : –
ناسخ و منسوخ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جس پر متعدد مستشرقین اور دور جدید میں انکے پیروکاروں کی جانب سے تنقید آتی رہی ہے مولانا نے اس مسلے کو اتنی خوبی سے صاف کیا ہے کہ کسی ابہام و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی .
مولانا تفسیری نوٹ میں اس کی تشریح یوں کرتے ہیں …
ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور یوں ہوا کہ یا تو ” نسخ ” کی حالت طاری ہوئی یا ” نسیان ”
” نسخ ” یہ ہے کہ یب بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بات آ گئی ،
” نسیان ” کے معنی بھول جانے کے ہیں ،
پس بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پچھلی شہریت کسی نہ کسی شک میں موجود تھی لیکن احوال و ظروف بدل گئے تھے یا اس کے پیروؤں کی عمل کی روح معدوم ہو گئی اسلیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آئے –
بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بلکل فراموش ہو گئی اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا پس لا محالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی سنت الہی یہ ہے کہ نسخ شریعت ہو نسیان شریعت ہر نئی تعلیم پچھلی ے بہتر ہوتی ہے یا کم از کم اسی مانند ہوتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے ناکہ تنزل و تشکل
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)

مولانا کے افکار پر اعتراضات

١، سید مودودی رح کا اعتراض :-

۰۳ مارچ ۲۶۹۱ ء کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے مریم جمیلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
”۰۲۹۱ ء ۔ ا۲۹۱ ء کے زمانے تک مولانا ابوالکلام آزاد احیائے اسلام اور تحریک خلافت کے پرجوش حمایتیوں میں شامل تھے مگر اس کے بعد مولانا اپنے اس موقف کے متضاد قول فعل کی تکرار کرتے ہیں ۔ اس یک لخت تبدیلی پر بعض افراد کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں ،ایسے لوگ آنکھیں ملتے ہوئے انہیں دیکھتے کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں یا کوئی بالکل نئی شخصیت ! اب ابوالکلام سو فی صد ایک ہندوستانی قوم پرست کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جو ہندوﺅں مسلمانوں کو ایک قوم کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ابوالکلام بعض ہندو فلسفیوں کے پیش کردہ ”وحدت ادیان“ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاءکو پوری طرح اپنی فکر کا حصہ بنالیتے ہیں ۔ ابوالکلام کے ان افکار تازہ کا نقش ان کی تفسیر قرآن میں صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ “

مولانا یوسف بنوری رح کا اعتراض :-

سوره فاتحہ کے متعلق ان کی تفسیر خوب مفصل و مبسوط شایع ہوئی میں نے بھی اس کو خوب شوق سے لیا اور پڑھنا شروع کیا اور سوره فاتحہ کی مکمل تفسیر پڑھی اور پھر مختلف آیات کی تفسیر دیکھی تب اس شدت اشتیاق کی لو جو میرے دل میں جل رہی تھی وہ بجھ گئی اور میں انگشت بدنداں رہ گیا اور افسوس کرتا یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ تفسیر نہ طبع ہوتی تو زیادہ بہتر تھا اسلئے کہ اس کے مطالعے سے قبل ان کی قدر و منزلت میرے قلب میں جاگزیں تھی اس مطالعے سے میں نے بھانپ لیا کہ خواہشات اور محض عقل کی کارفرمائی ان کو مختلف وادیوں میں لے گئی ہے اور اس اوہام پرستی نے موصوف کو کہیں کا نہ چھوڑا اور میں نے جانچ لیا کہ اس خود رائی اور اعجاب نے موصوف کو تقلید سے بے بہرہ کیا اور اور آخر صراط مستقیم سے ورے ورے شاہراہ باطل پہ گامزن کر دیا –

وكلّ يدّعي وصلا بليلى
وليلى لا تقرّ لهم بذاك

اصول تفسیر و علوم القرآن ، مصنف مولانا یوسف بنوری رح ، مکتبہ البینات ، صفحہ : ١١٢

مولانا کے حوالے سے تحریر کا اختتام علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھے تھے:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے


بشکریہ اردو ویب ڈاٹ آرگ

Maulana Abulkalam Azad aur Unnki Khud Aitmadi by Noor us Sabah

Articles

مولانا ابوالکلام اور ان کی قوت ارادی از نور الصباح

نور الصباح

مولانا ابولکلام آزاد ایک عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیت کے ساتھ ساتھ مفسر، محدث، انشاء پرداز، ادیب، تاریخ داں، سیاست داں،قومی و ملی رہنما،ماہر تعلیم اور مجاہد آزادی بھی تھے ۔مختلف ادیبوں نے ان کی ایک ایک خوبیوں کا جائزہ لیا ہے۔کسی کو وہ ادیب وانشاء پرداز نظر آئے،کسی نے ان کو تاریخی پس منظر میں دیکھا ،کسی نے سیاسی حلقوں میں،کسی نے ان کو آزادی کاعظیم مجاہد بتایا ، کسی نے ان کو قومی وملی رہنما کا درجہ دیا ، کسی نے ان کو تعلیمی نظریہ ساز کے پردے میں پیش کیا تو کسی نے ان کو مفسرو محدث کے روپ میں پیش کیا۔مگر ان کی اتنی ساری خوبیوں کی وجہ کیا تھی؟اس پر اب تک خامہ فرسائی نہیں کی گئی جب کہ وہ بھی ایک انسان ہی تھے ،جس طرح اللہ نے عام انسانوں کو عقل و فراست اور ذہانت سے نوازا اسی طرح انھیں بھی ،جس طرح عام انسانوں کی زندگیاں مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں اسی طرح ان کی بھی زندگی نشیب وفراز اور کشمکش کا مجموعہ تھی بلکہ انھیں اسیری کے درمیان ایسی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو شاید ہی کسی ادیب نے کیا ہو ،پھر بھی انھوں نے ہمت و حوصلہ نہیں ہارا ور اپنی قوت ارادی کے عمدہ استعمال سے اپنا ایک الگ راستہ بنایا اپنے کام میں منہمک رہے جو ’’غبارخاطر‘‘ کی شکل میں ایک حسین گلستاں کے طور پر دنیائے ادب میں نمودار ہوا۔
ان کو اتنے اعلیٰ وارفع مقام تک پہنچانے میں ان کی قوت ارادی،قوت استقلال،عزم مصمم،ہمت وحوصلہ اور جہد مسلسل ہے جس نے زنداں میں بھی ان کو اپنے فیصلے پر قائم رکھا اور ان کی قوت ارادی کو پابند سلاسل ہونے سے بچائے رکھا۔ انھوں نے غبارخاطر جیسی کتاب لکھ کر فلسفہ زندگی،جہد مسلسل،قوت ارادی، مذہب، عقیدہ، تحقیق، خوشی، تفکر و تدبر جیسی چیزوں سے پردہ اٹھایا اور عوام کو اس سے آشنا کیا کہ انسان کس طرح اپنے فیصلہ پر قائم رہ کر زندگی کی مشکلات سے گزر کر اپنی خوشیوں کو حیات بخش سکتا ہے،لیکن اس کے ساتھ اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قوت ارادی کے لیے قوت متخیلہ ضروری ہے اور قوت متخیلہ کے لیے خودشناسی ضروری ہے اور خودشناسی کے لیے خود آگہی کا ہونا لازمی ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں جو انسان کو متحرک رکھنے پر قادر ہیں ۔یہی ساری چیزیں مولانا ابوالکلام کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں جو انھیں ہمیشہ متحرک و مصروف رکھتی تھیں۔
مولانا کی قوت ارادی کا عالم یہ تھا کہ وہ قید خانے کی زندگی میں بھی فرحت و انبساط کے اوقات تلاش کرلیتے تھے۔ان کے صعوبت بھرے لمحات بھی شگفتہ مزاجی و خندہ روی کے قالب میں اس طرح ڈھل گئے تھے گویا وہ کوئی ساعت محصور نہ ہوبلکہ روح پرور گھڑی ہوکہ نیلگوں آسماں اور خورشید جہاں تاب کی درخشندگی سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔وہ ایک ادنیٰ سے کام میں بھی خوشیوں کو تلاش کرلیتے تھے ۔وہ زندگی کو چینی وفرانسیسی زاویہ نگاہ سے دیکھتے تھے کہ:۔
’’خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
گویا زندگی محض اپنی نہیں ہے بلکہ دوسروں کی امانت ہے اگر کوئی ایک انسان رنجیدہ ہوگا تو اس سے دوسروں کی مسکراہٹ بھی غائب ہوجائے گی اور یہ معاشرتی طور پر ایک غیر اخلاقی چیز ہے کہ ہم اپنے رنج و الم سے دوسروں کی خوشیوں کو کافور کریں۔کیوں کہ زندگی ایک آئینہ خانہ کے مانند ہوتی ہے جس میں ہر فرد کے ہزاروں،سیکڑوں چہرے نظر آتے ہیں،اگر کوئی ایک چہرہ بھی رنجیدہ خاطر ہوگیا تو سارے چہرے غبار آلود ہوجائیں گے جس طرح مضراب کے تار کو انگلیاں جب چھیڑتی ہیں تو اس کی جھنجھناہٹ کا وقفہ تا دیر قائم رہتا ہے بالکل اسی طرح کسی ایک شخص کی مغمومیت سے پورے افراد خانہ پر غمزدہ آثار کے سائے پڑ جائیں گے تو یہ ایک طرح سے اخلاقی ذمہ داری ہوئی کہ ہم اپنی وجہ سے کسی کو رنج نہ دیں بلکہ ہرحال میں خوش رہنے کی کوشش کریں اور مولانا آزاد بھی اسی نظریہ پر عمل کرتے تھے کیوں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اس بات سے واقف نہیں ہے کہ ہماری غم یا خوشی کی ساعتیں کتنی دیر تک ہمارے ساتھ رہیں گی اس لیے ہمیں چھوٹی سے چھوٹی خوشیوں سے خوش ہونا چاہیے ،کیوں کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ خوشی کا یہ موج ترنم کب تک قائم رہے گا اور غم کے سیلاب کس وقت آدبوچیں گے۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے،یہاں ہرچہرے کاعکس بیک وقت سینکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔اگر ایک چہرے پر غبار آجائے توسینکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیں گے۔ہم میں سے ہرفرد کی زندگی محض ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے۔وہ پورے مجموعہ کاحادثہ ہے۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
مولانا اپنی ذہانت،قابلیت اورعزم مصمم کی بدولت مشکل سے مشکل ترین راہ میں بھی زندگی کو جینے کا سلیقہ سیکھ لیے تھے۔اورہمیشہ ہر حال میں خوشی اور فرحت وانبساط کے لباس میں ملبوس رہتے ، ان خوشیوں سے ان کامقصدعوام کو،اپنے اطرا ف وجوانب اور عزیزواقارب کی مسکراہٹ کو قائم رکھنا تھا ،کیوں کہ اس میں اعلیٰ اخلاق کی صفات پوشیدہ تھیں۔وہ اپنی خوشیوں کو اپنے قرب وجوار میں نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرتے تھے،اس طرح وہ اپنے دل کو ہمیشہ متحرک اور زندہ رکھتے تھے۔ایسا کرنے کے لیے وہ خود کو لغوباتوں اور لہولعب کی چیزوں میں مصروف نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ اس طرح سے اپنے قلب و روح کو امید سے زندہ اور کام سے تابندہ رکھتے تھے،اس کے لیے وہ کسی ایک چیز پر قانع ہوکر خلوت نشینی اختیار نہیں کرلیتے تھے بلکہ اضطراب کو ترجیح دیتے تھے اور کوئی ایسا مقصد حیات تلاش کرتے تھے کہ وہ بلائے جاں ہو جو انھیں ہمیشہ مضطرب رکھے اور اس کے تعاقب میں انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔ان کے نزدیک اگر زندگی میں اضطراب شامل نہ ہو محض سکون ہی سکون ہو تو ایسی زندگی کو یکسانیت کے زمرے میں شمار کرکے موت سے تعبیر کی جاسکتی ہے۔اگراپنے وجودکی عدم وجودیت کا خوف ہو تو اس کے لیے ہمیں مشکلوں اور زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر ناامید نہیں ہونا چاہیے بلکہ دنیا کو کارزار حیات اور اپنے وجود کو ایک جنگجو سپاہی سمجھ کر معرکہ آرائی کے لیے تیار رہنا چاہیے اگر وہ مقابلہ کی مشکلات کے خوف سے پیچھے ہٹ جائے تو کسی چیز کو پانے کی جستجو ہی باقی نہیں رہ جائے گی۔اور اگر کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسے کھودینے کے اندیشہ سے گوشہ نشینی اختیار کرلے تو وہ اس وقت تک ان خوشیوں سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے کچھ کھونے کا بھی احساس نہ ہو۔کیوں کہ کسی بھی انسان کو اگر اپنی زندگی کا وہ مقصد حاصل ہوگیا جس کی اسے خواہش تھی اور وہ اسی پر قانع ہو کر بیٹھ گیا تو پھر دنیاکی نظروں سے پوشیدہ ہوجائے گا،لہٰذا کسی بھی انسان کو کچھ کھوئے جانے کے خوف کے بنا اور کسی چیز کو پانے کی جستجومیں ہر میدان میں کامیابی کا علم نصب کرنا چاہیے ایسا کرنے کے لئے ہمت وحوصلہ اوراضطراری کیفیت کے ساتھ ساتھ صبرواستقلال بھی ضروری ہے۔اس ضمن میں ان کی گرفتاری کے وقت کی کیفیت کومدنظررکھا جائے تو اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی دلنشیں سفرپر اپنے محبوب کی ہمراہی میں ہوں:۔
’’کار باہر نکلی تو صبح مسکرا رہی تھی۔سامنے دیکھا توسمندر اچھل اچھل کر ناچ رہا تھا۔نسیم صبح کے جھونکے احاطہ کی روشنی میں پھرتے ہوئے ملے۔یہ پھولوں کی خوشبو چن چن کر جمع کررہے تھے۔اورسمندر کو بھیج رہے تھے کہ اپنی ٹھوکروں سے فضا میں پھیلاتا رہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۵۶)
یہ سکون واطمینان کے آثاران کی قوت ارادی اور خودشناسی کی وجہ سے تھے کیوں کہ انھوں نے زندگی کا مقصد پالیا تھا،وہ کسی ایک ہی مقصد فکر تک محدود نہیں ہونا چاہتے تھے،بلکہ وہ ہر میدان میں طبع آزمائی کرتے اور خود کو حالات سے مقابلہ آرائی کے لیے تیار بھی رکھتے،وہ تمام مشکلات کو بآسانی ضبط کرلیتے تھے،وہ حواس پر قابو رکھتے اور اپنے گردوپیش سے ہی جینے کا ہنر فراہم کرلیتے تھے ،وہ ہمیشہ اپنے دل کی دنیا کو آباد رکھتے اور مختلف حالات و تبدیلیوں کے لیے خود کو اس طرح تیاررکھتے کہ خارجی ماحول کا انتشار اگرچہ ان کے اعصاب پر اثرانداز ہوتا مگر داخلی دنیا کو اس سے محفوظ رکھتے۔وہ ہمیشہ معتدل راستہ اپناتے تھے ،کبھی بھی تذبذب کا شکار نہ ہوئے نہ تو کبھی اپنے قائم کردہ فیصلہ پر متشکک ہوئے اور نہ ہی اپنے وضع کردہ اصولوں سے کبھی بدعملی برتی،وہ لوگوں کو جن اصولوں پر عمل کی تلقین کرتے تھے بذات خود وہ اس پر عمل کرتے تھے،نہ تو انھوں نے خود کو کبھی تقدیرکے حوالے کیا بلکہ تقدیر پر بھروسہ کرناان کے نزدیک کم ہمتی کا نام تھاجسے عوام کی دماغی لغات تقدیر کا نام دے کر اپنی زندگی کے تئیں غوروفکر اور کسی بھی نئے راستے کی جستجو سے رخ موڑ کرمنظر سے ہی روپوش ہوجاتی ہے،ایسی زندگی ان کے نزدیک تعطل اور فرار کی زندگی ہے بلکہ وہ اندھیرے میں بھی سورج کی شعاعوں کو تلاش کرلیتے تھے اور ظلمت کو دور کرنے کے خواہاں رہتے تھے،جیسا کہ انھوں نے اکتوبر۱۹۴۷ کے اپنے ایک خطبہ میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:۔
’’عزیزوں!تبدیلیوں کے ساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے،بلکہ اب تیار ہوجاؤ ،ستارے ٹوٹ گئے،لیکن سورج تو چمک رہاہے،اس سے کرنیں مانگ لواور اندھیری راہوں میں بچھادو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے‘‘(مولانا ابولکلام آزاد ایک تجزیاتی مطالعہ، مر تب مفتی عطاء الرحمن قاسمی ، ص:۴۸۹)
گویا وہ مشکل حالات کے لئے ہمیشہ تیار رہتے کبھی بھی ان حالات کو خود پر طاری نہیں کیا اور نہ ہی گوشہ نشینی اختیار کی بلکہ اپنی ذہانت و فراست سے اس سے نبردآزماہوتے اور مسئلے کا حل تلاش کرلیتے کیوں کہ ان کے نزدیک خوشی و غم ایک احساس کا نام تھاجو حیاتیات انسانی کے اندر موجود ہے اگر انسانی زندگی مسائل کے بوجھ تلے رنج والم کی زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو وہ زندگی زخمی زخمی ہوجائے گی اور اگر مسائل کے حل کے لئے جدوجہد اور مسلسل سرگرم عمل رہے تو خوشیاں اس کے قدموں تلے ہوں گی اور ایسی لطیف زندگی کے علاوہ کوئی بھی چیز لذیذ نہیں ہوسکتی ۔اس ضمن میں انھوں نے عربی کا ایک مقولہ رقم کیا ہے’’حمضوامجالسکم‘‘کہ اپنی مجلسوں کا ذائقہ بدلتے رہو،گویا ایک چیز کے ختم ہوجانے سے تقدیر پر صبر کرکے بیٹھنا نہیں چاہئے بلکہ تلخیوں کا گھونٹ پی کردوسری راہ گزرمیں طبع آزمائی کرنی چاہیے تبھی زندگی کے اصل لطف سے بھی ہم واقف ہوسکتے ہیں۔اس کے پس پردہ اگر حالات حاضرہ کا مشاہدہ کیا جائے تو موجودہ نسل پریشان حال اور تباہ کن دہانے پر پہنچ کر اپنی زندگی اور والدین و بھائی بہن جیسے قریبی رشتوں سے بیزارمعیشت کے پیچھے سرگرداں ہے ایسی معیشت جو اسے خود اپنی بھی زندگی سے بیزار کر رہی اور ایسے علم کے پیچھے سراسیمگی کا شکار ہے جو اسے دین ودنیا سے تو خود سے بھی بیزار کرکے مایوسی و رنجیدگی کے گڈھے میں پہنچا رہا ہے ،مولاناآزاد علم و معیشت کے تئیں مقصدیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک ایسے علم کے لیے صرف ڈگری تک محدود ہونا ہی علم نہیں تھا بلکہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی واضح مقصد ہوناچاہیے۔اب اس سلسلے میں انتہائی غوروفکر کی ضرورت ہے کہ وہ مقصد کیا ہے؟اورکیسا ہونا چاہیے؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کامقصد محض عمدہ تعلیم،اچھی ملازمت کا حصول اور معیار زندگی کومعراج کمال کی تکمیل کی پیہم سعی کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایام گزشتہ سے گردش کرتا ہوا موجودہ عہد کی نسلوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ٹھہرا،اور اس مسئلہ لاینحل کے لئے تمام دانشوران علم وفن سرگرداں نظر آتے ہیں جس کے جواب پر مذاہب عالم کی تمام بنیادی تعلیمات کی تعمیرات بھی مبنی ہیں۔یہی فلسفہ زندگی مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مفکر و مدبر کے لیے بھی ایک للکار بن کر ابھرا،انھوں نے فلسفہ زندگی کی گرہوں کو سلجھانے کے لیے مقصد زندگی کو اہم بتایا اور وہ مقصد محض ایک ہی نکتہ نظر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں وسعت،پھیلاؤ اور کشادگی ہونی چاہیے جو مختلف علوم وفنون کے لبادے میں وقتا فوقتا ظاہرہوتے رہیں جو ہمیشہ زندگی کو متحرک رکھے اور اپنی تکمیلت کے لیے ہمیشہ مضطرب بھی رکھے جو ایسا انگارہ ہو کہ کبھی بجھنے کا نام نہ لے،جو شورش ومستی کے جذبات سے لبریز ہو،جو ہنگامہ خیز ہو،جس کی تکمیل کے لیے قلب وروح سیمابی کیفیت کا حامل اور مائل اضطراب ہو۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ایک ایسا بلائے جاں مقصد،جس کے پیچھے انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔جودوڑنے والوں کو ہمیشہ نزدیک بھی دکھائی دے اور ہمیشہ دور بھی ہوتارہے۔نزدیک اتنا کہ جب چاہیں ہاتھ بڑھاکر پکڑ لیں اور دور اتنا کہ اس کی گرد راہ کا بھی سراغ نہ پاسکیں۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۸۳)
درج بالا اقتباس سے مولانا آزاد کا فلسفہ زندگی سامنے آتا ہے جو مقصدیت سے مملوہو،جوتحریک کا منبع اورمسلسل حرکت وعمل اور جہدمسلسل کا خزینہ ہو۔ان کے نظریہ کے مطابق کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسی پر قناعت نہیں کرنا چاہیے بلکہ کوئی نہ کوئی مقصد حیات کا ہدف ہونا چاہیے بصورت دیگر حالت سکون کی زندگی موت کے زمرے میں شمار ہونے لگے گی،کیوں کہ زندگی مسلسل جہد عمل کا نام ہے اور دنیا امتحان گاہ ہے جواس امتحان گاہ میں کامیابی کے منازل طے کرکے کہیں ٹھہر گیا تو پھر اس امتحان گاہ سے خارج ہوگیاگویا وہ کالعدم ہوگیا۔میدان زیست میں کسی بھی کامیابی یا ناکامی کے بعد ہمیشہ ایک نئی جستجو اور نئے عزم کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے،زندگی کا مدعا یہ ہے کہ وہ مقصدی اوراضطراری ہو ورنہ مقصد ختم تو زندگی ختم۔زندگی ایک ایسے دریا کے مانند ہے جس کے اندر اسی وقت تک تموج رہتا ہے جب تک لہریں طغیانیوں کی زد میں ہوتی ہیں ورنہ ایک خاموش اور کبھی نہ ختم ہونے والے سناٹے کی دبیز چادروں میں لپٹا ہوتا ہے۔ زندگی کو موت سے تعبیر کرنے کی مثال فارسی کے ایک شعر میں پیش کی ہے:۔
موجیم کہ آسودگی ماعدم ماست
مازندہ از انیم کہ آرام نہ گیریم
(ترجمہ:ہم توسمندر کی لہروں کی طرح ہیں جن کا سکون ان کی موت سے وابستہ ہے ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہمیں کوئی آرام حاصل نہ ہو)
مولانا آزاد ایسی بلند پرواز تخیل کے مالک تھے کہ وہ تصور میں ہی مستقبل کے نشیب وفراز اور معاشرتی حسن وقبح کو دیکھ لیتے تھے ان کا ذہن اتنا فکر رسا تھا کہ دبیز فولادی چادر میں بھی سوراخ کرکے مقصدیت کی تہوں تک پہنچ جاتا تھا مگر اس کے لیے وہ اپنے ذہن کو سکون کی چادر اور دل کو موت کے کفن سے محفوظ رکھتے ہوئے ہمیشہ خاردار راہوں کا انتخاب کرتے تھے تاکہ آیندہ آنے والی دشواریوں کا آسانی کے ساتھ سامنا کرنے کا امکان ہوسکے۔وہ ہمیشہ سنگلاخ راستوں کے ہی مسافر رہے۔فرماتے ہیں:۔
’’کوئی اپنا دامن پھولوں سے بھرنا چاہتا ہے،کوئی کانٹوں سے،اور دونوں میں کوئی بھی پسند نہیں کرے گا کہ تہی دامن رہے۔جب لوگ کامجوئیوں اور خوش وقتیوں سے پھول چن رہے تھے،تو ہمارے حصے میں تمناؤں اور حسرتوں کے کانٹے آئے انھوں نے پھول چن لیے اور کانٹے چھوڑ دیے۔ہم نے کانٹے چن لیے اور پھول چھوڑ دیے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۴)
مولانا آزاد فطری طور پر متحرک تھے ۔وہ خودکار اور خودمختارتھے ۔وہ خود غوروفکر کرتے اس کے بعد منصوبہ بناتے اور اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے،ان کے نزدیک زندگی کی مختلف شاخیں تھیں وہ کسی نہ کسی شاخ کو اپنا آشیانہ بنا لیتے اور اس کی جڑوں کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتے جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہداور قوت استقامت کو خاطر نشاں رکھتے۔وہ کسی نہ کسی کام میں مستغرق رہتے ۔ان کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے کسی بھی کام کو کل پر نہیں ٹالا۔ان کا یہ طرز عمل عوام کے لیے سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو قوت ارادی اور ہمت وحوصلہ بخشنے والا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکلات میں محصور ہو مگر اسے ہمت وحوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیوں کہ اس طرح وہ مایوسیوں و ناامیدیوں کے درمیان پھنس کر تنہائی اختیار کرلیتاہے ،اس طرح افسردگی کی چادر میں لپٹ کر بیٹھ جانے سے دنیا کی نظروں میں ہمارا وجود ہی ختم ہوجائے گا اور ہم ایک خاک پریشاں کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائیں گے،جس طرح کسی درخت سے کٹی ہوئی ٹہنی پر کسی بھی موسم کا اثر نہیں ہوتا نہ تو موسم بہار ہی اس میں روح ڈال سکتا ہے ،نہ تو موسم خزاں کا ہی اس پر کچھ اثر ہوگا،حتیٰ کہ تمام موسم اس کے لیے سرد ہوں گے ،وہ موسم بہار کی شادابی اور موسم سرما کی تبدیلی سے محروم ہوگی،گلستاں میں جب رنگ برنگ پھول اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کھلتے ہیں تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں،وہ ہر ایک کی دل کا سرور،آنکھوں کی ٹھنڈک اور جسم کی تراوت کا سامان بن جاتے ہیں،اور مالی بھی اس کی بقا کے لیے ہمیشہ نگہبانی کے لیے معمور ہوتا ہے ،لیکن جیسے ہی موسم خزاں کی آمد آمد ہوتی ہے وہی نگہبان گلچیں بن جاتا ہے ،ان پھولوں کو ڈالیوں سے جبراجدا کردیا جاتا ہے ،ان مرقع حسن اور رعنائی کے پیکر کو توڑ مروڑ کر گھانس کے تودہ کے مانند نذر آتش کرنے کے لیے بے سروسامان پھینک دیا جاتا ہے۔بالکل اس طرح انسانی زندگی بھی ہے ،اگر اس کا دل زندہ ہے تو امیدوبیم کے چراغ روشن ہوتے رہیں گے ،اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہمیشہ متحرک اور دنیا کی نظروں میں سرسبزوشاداب رہے گا،ورنہ وہ بھی انھیں پھولوں کے مانند معاشرے سے کسی عضومعطل کی طرح کانٹ کر پھینک دیا جائے گا۔جس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں جو لوگوں کے لیے ایک بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔مولانا ابوالکلام کی چند سطریں ملاحظہ ہوں:۔
’’انسانی زندگی کا بھی بعینہ یہی حال ہوا۔سعی وعمل کا جو درخت پھل پھول لاتا ہے اس کی رکھوالی کی جاتی ہے۔جو بیکار ہوتا ہے اسے چھانٹ دیا جاتا ہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۴۶)
گویا ان کے نزدیک زندگی کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس زندہ رہنے کی کوئی وجہ ہو،کوئی واضح نصب العین ہو،اور ہماری تمام تر کوششوں کا صرف ایک ہی مرکز ہو،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہے ؟ کیا اس کی تکمیلیت کی جاسکتی ہے؟تو اس کا جواب ہاں میں ہی ہے۔کیوں کہ اللہ نے تمام انسان کو قوت فیصلہ،ذہانت اور قوت استدلال سے نوازا ہے،اگر ہر انسان اپنی ذہانت کو عمدہ طریقے سے استعمال میں لاکر ہمت وحوصلہ کے ساتھ سنگلاخ راستوں اور خاردار راہوں کی پرواہ کیے بغیر اسی کے پیچھے مسلسل لگا رہے تو اس کا مقصد پورا ہوسکتا ہے علاوہ ازیں وہ کٹی ہوئی شاخ کے مانند بیکار ہوکر رہ جائے گا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہوا ہے’’فاماالزبد فیذہب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘(کہ جوچیز نافع ہوتی ہے وہ باقی رکھی جاتی ہے۔جو بیکار ہوگئی وہ چھانٹ دی جاتی ہے)لہٰذا مولانا آزاد اپنی خلوت نشینی میں بھی اپنے دل وذہن کو کسی نہ کسی مقصد حیات سے روشن و متحرک رکھتے تھے اور کسی بھی صعوبت کی پرواہ کئے بغیر اس کی تکمیل کے لیے مسلسل عمل متحرک رہتے تھے،اس ضمن میں ان کی اس عادت کو پیش کرنا ضروری ہے جو بچپن سے ہی ان کی فطرت کا خاصہ بن گئی تھی ،وہ ہمیشہ صبح کو تین بجے اٹھتے اور اپنا نیا سبق یاد کرتے اس عادت کو انھوں نے اپنی زندگی کا معمول بنالیا تھا،اس سحر خیزی کی عادت انھیں ان کے والد مولانا محمد خیرالدین سے ورثے میں ملی تھی ۔یہ عادت انھیں گیارہ سال کی عمر سے ایسی لگی کہ اگر والدین اور بہنیں ان کی صحت کے خیال سے انھیں جگاتے نہیں تھے تو وہ پورے دن پشیمان رہتے تھے ۔وہ چپکے سے دوسرے دن اٹھتے اور شمع دان روشن کرکے اپنا سبق یاد کرتے،کیوں کہ صبح کے وقت سارا عالم محو خواب ہوتا ہے اور ساری چیزیں خاموشیوں کے پردے میں پوشیدہ ہوتی ہیں ،اسی عادت کو انھوں نے ہمیشہ برقرار رکھا حتیٰ کہ قلعہ احمد نگر کی اسیری کے درمیان بھی اس عادت کو قائم رکھا کیوں کہ ان کے نزدیک حال تھا ہی نہیں بلکہ وہ ماضی اور مستقبل پر ہی یقین رکھتے تھے اور اپنی اسی طبعی فطرت کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہتے تھے اس کی ایک مثال زنداں خانہ کے ایک صبح کی ہے جب وہ صبح کے تین بجے سوکر اٹھے تو ان کے قلم میں روشنائی نہیں تھی ،یہاں اپنے حال کو ماضی میں تبدیل نہ کرنے کے لیے ان کی ترکیب مرکب کی صناعی دیکھی جاسکتی ہے:۔
’’صبح کے ساڑھے تین بجے ہیں۔اس وقت لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو معلوم ہوا سیاہی ختم ہورہی ہے۔
ساتھ ہی خیال آیا کہ سیاہی کی شیشی خالی ہوچکی ہے۔نئی شیشی منگوانی تھی مگر منگوانا بھول گیا۔میں نے سوچاتھوڑا پانی کیوں نہ ڈال دوں؟یکایک چائے دانی پر نظر پڑی۔میں نے تھوڑی سی چائے فنجان میں اونڈیلی اور قلم کا من اس میں ڈبو کر پچکاری چلادی پھر اسے اچھی طرح ہلادیا۔کہ روشنائی کی دھوؤن پوری طرح نکل آئے اور اب دیکھئے روشنائی کی جگہ چائے کے تندوتیز عرق سے اپنے نفسہائے سرد صفحہ قرطاس پر نقش کررہاہوں۔‘‘(غبار خاطر،ص:۱۷۱)
مولانا کو صبح میں اٹھنے کے ساتھ ساتھ چائے کابھی ذوق تھا جب تک وہ لکھتے رہتے چائے کی چسکی لیتے رہتے تھے جس کو انھوں نے اپنی ذہانت سے روشنائی بنانے کی ترکیب میں استعمال کیا ۔انھوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کو کبھی بھی ملتوی نہیں کیا ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے ،نہ تو بھی انھوں نے اپنے اس روح پرور وقت کو کھویا ،بلکہ وہ اس عالم تنہائی اور خلوت سے اسقدر لطف اندوز ہوتے کہ ان کے تخیل کی پرواز نجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی،وہی تنہائی ان کی جولانی فطرت کو ہوا دیتی اور یہ ہوا بادسموم کے مانند اتنی گرم ہوتی کہ اس سے چنگاریاں پھوٹنے لگتیں اور یہ چنگاریاں ان کی فطرت کی پہنائیوں میں اس طرح پیوست ہوجاتیں کہ اوقات شب وروز میں سے کسی بھی وقت ماند نہ پڑتیں اورمسلسل انھیں قوت محرکہ عطا کرتی رہتیں۔
اسی طرح ان کی فن موسیقی کا عالم تھا کہ صرف ایک شوق نے ان کو اس فن کا ماہر بنادیا جب کہ وہ اس کی مصطلحات سے بالکل ہی نابلد تھے ۔قصہ فن موسیقی یہ ہے کہ کتاب بینی کا شوق انھیں ایک کتب فروش خدابخش کی لائبریری تک کھینچ کر لے جاتا اسی شوق جنوں میں ان کے ہاتھ فقیراللہ سیف خاں کی راگ درپن کا ایک خوشخط نسخہ لگ گیا جس کو دیکھ کرعالیہ کے پرنسپل مسٹر ڈینسن راس نے ان سے کہا کہ ہندوستان کا فن موسیقی انتہائی مشکل فن ہے۔تمہیں اس کے مطالب سمجھ میں نہیں آئیں گے تو مولانا کتاب لی اور کہا کہ ’’جو کتاب بھی لکھی جاتی ہے وہ اس لیے لکھی جاتی ہے کہ لوگ اسے پڑھیں اور سمجھیں ۔میں بھی اسے پڑھوں گا تو سمجھ لوں گا‘‘ یہ ان کی خود اعتمادی تھی کہ انھوں نے وہ کتاب لی اور ان کی طلبی مبارزت کو قبول کیا۔اس کے لئے انھیں مختلف گلیوں کی خاک چھاننی پڑی،کیوں کہ یہ کتاب ان کے لیے واقعی چیلینج سے مملو ثابت ہوئی ۔زمانہ طالب علمی سے ہی وہ کتاب فہمی کے اتنے خوگر ہوئے تھے کہ وہ کسی بھی کتاب کو پڑھتے اس کے مطالب کی تہہ تک پہنچ جاتے،مگر موسیقی کا فن اتنا مشکل طلب واقع ہوا کہ ان کے مطالب نے انھیں الجھنوں ودشواریوں میں مبتلا کردیا ،ان کو سمجھنے کے لیے انھوں نے اپنے خاندانی مذہبی حالات کے مخالف میستا خاں سے تعاون حاصل کیا جس کاخاندانی پیشہ ہی موسیقی تھا ،آگرہ کے سفر میں تاج محل کی چھت پر رات کی چاندنی میں مضراب کے تاروں پر ان کی انگلیوں کاپیچ وخم پورے ماحول کو رقص و سرود کے سانچے میں ڈھال دیتا۔اسی اثنا میں لکھنؤ میں کرسچین کالج کے سامنے کرایہ کے ایک مکان میں ایک ٹوٹی ہوئی چھت پر علم ہیئت کے شوق میں ساری رات گزار دیتے۔مصر کے سفر میں ایک رقاصہ سے اس غرض سے رسم وراہ بڑھائی کہ اس سے عربی موسقی کے کمالات سنیں،اس کے لیے انھیں ان کوچہ و بازار میں قدم رکھنا پڑا پھر بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹے بلکہ جس میدا ن میں بھی قدم رکھا اس کو کمال تک پہنچا دیا،وہ خود فرماتے ہیں:۔
’’میری عمر سترہ برس سے زیادہ نہ ہوگی۔لیکن اس وقت بھی طبیعت کی افتاد یہی تھی کہ جس میدان میں قدم اٹھائیے،پوری طرح اٹھایئے اور جہاں تک راہ ملے بڑھتے ہی جائیے۔کوئی کام بھی ہو،لیکن طبیعت کبھی اس پر راضی نہیں ہوئی کہ ادھورا کرکے چھوڑ دیا جائے جس کوچہ میں بھی قدم اٹھایا۔اسے پوری طرح چھان کر چھوڑا۔ثواب کے کام بھی کئے تو وہ بھی پوری طرح کئے۔گناہ کے کام کئے تو انھیں بھی ادھورا نہ چھوڑا۔طبیعت کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا کہ جہاں کہیں جایئے ناقصوں اور خام کاروں کی طرح نہ جایئے رسم و راہ رکھیئے تو راہ کے کاملوں سے رکھیئے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۵۸۔۳۵۷)
اسی طرح انھوں نے اپنے موروثی مذہب پر قناعت نہ کرکے مذہب،فلسفہ اور سائنس کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ،جبکہ اس میں بھی بہت سی مشکلات سامنے آئیں اور کچھ ایسے اختلافات سامنے آئے کہ جس نے انھیں متحیر اور متشکک کرنے کے ساتھ ساتھ لرزانی اورمتذبذبانہ کیفیت میں بھی مبتلا کیا مگر پھر بھی وہ اس راستے سے واپس نہیں آئے اور نہ ہی خود کو ملحد و منکر کی جماعت میں شامل کیا بلکہ اپنی قوت ارادی،محنت شاقہ،قوت حوصلہ اور قوت استقامت سے ایسے مذہب سے واقفیت ہوئی جو حقیقت سے منسلک تھا اور جس کو ناتجربہ کا ر،ناقص العلم مذہب کے پرستاروں نے غلط طریقے سے نشر کر رکھا تھا۔مولانا آزاداس حقیقی مذہب کے علوم کی پیاس میں اس سفر پر نکل پڑے اور سیراب ہوکر واپس ہوئے ۔علمااور مذہب کے تئیں وہ اس نتیجے پر پہنچے:۔
’’علم عالم محسوسات سے سروکار رکھتا ہے۔مذہب ماوراء محسوسات کی خبر دیتا ہے۔دونوں میں دائروں کا تعددہوا۔مگر تعارض نہیں ہوا۔جو کچھ محسوسات سے ماوراء ہے ہم اسے محسوسات سے معارض سمجھ لیتے ہیں اور یہیں سے ہمارے دیدہ کج اندیش کی ساری درماندگیاں شروع ہوجاتی ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۰)
مذکورہ بالا اقتباس ان کی سیمابی فطرت اور تلاش و جستجو کا شاہد ہے کہ وہ مذہب کی غلط ترویج و اشاعت پر عمل پیرا نہ ہوکر اس کی حقیقت کے پیچھے سرگرداں رہے اور علم و مذہب کی باریکیوں،غلط عقائد اور نزاعی مذہب کی گرہوں کو کھولا اور دونوں کے فرق کو واضح کرکے ان دونوں کو مختلف شکلوں کا رنگ دیا اور تاحیات اس پر کاربند رہے۔اسی طرح ’’چڑیا چڑے‘‘ کی کہانی پر ایک مضمون لکھ کر ان کی قوت ارادی کو پیش کرکے عوام کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ اگر کسی کے ارتقاء کی راہیں مسدود کرنے کی کوششیں کی جائیں تو انھیں مسدود راہوں کا سہارا لے کراپنی بلندی کی معراج بنالینی چاہیے۔قلعہ احمد نگر کے قیدیوں کو جو کمرے دیے گئے تھے وہ شہتیروں کے بنے ہوئے تھے چونکہ اس کی عمارت انتہائی قدیم تھی اس لیے چڑیوں نے جا بجا اس میں گھونسلے بنا رکھے تھے۔مولانا آزاد کے کمرے کے ایک گوشے میں چڑیوں نے اپنے آشیانے کی کچھ یوں تعمیر کی کہ ان کا لکھنا پڑھنا دشوار ہوگیا،جس کی وجہ سے مولانا آزاد اور چڑیوں کے درمیان معرکہ آریاں شروع ہوگئیں پھر بھی ان ننھے حملہ آوروں نے میدان کارزار کو پیٹھ نہیں دکھائی ،آخر کار مولانا نے ایک ترکیب نکالی اور بانس کے ذریعہ ان لوگوں کا بھگا دیا پھر وہی بانس اسی گھونسلے کے دہانے پر رکھ دیا ،پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ان چڑیوں کی چہچہاہٹ کی باد صرصر کی طرح فضامیں گونجنے لگی ،یہاں تک کہ اسی ہتھیار کو ان لوگوں نے اپناآلہ بنا رکھا ہے جس کے خوف سے میدان کو چھوڑنا پڑا تھا۔فرماتے ہیں:۔
’’تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹھک کے رہ گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں۔جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔بانس کا سرا جو بالکل گھونسلے سے لگا ہوا تھا ۔گھونسلے میں جانے کے لئے اب دہلیز کا کام دینے لگاہے۔تنکے چن چن کر لاتے ہیں اور اس نوتعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے میں بچھاتے جاتے ہیں ساتھ ہی چوں چوں بھی کرتے جاتے ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۰۵۔۳۰۴)
درج بالا اقتباس سے انھوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ تو ایک نازک سے پرندے تھے جنھوں نے اپنی قوت ارادی سے اپنے مقصد کی تکمیل کی جن کے پاس ایک چھوٹی سی چونچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں محض ارادے کی پختگی نے ان کو اپنے مقصد پر حاوی رکھا تو انسانوں کو تو اللہ نے فہم و فراست کے ساتھ ساتھ اور بھی چیزوں سے نوازا ہے جس کو وہ اپنے کام میں لا سکتا ہے ۔مگر اس کے لئے شرط ہے کہ اس کے اندر ایک پختہ عزم،ولولہ اور جوش ہو تو وہ کمرہ تو کیا پوری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔حکیم اشمیدس کا مقولہ اس بات پر صادق آتا ہے کہ’’مجھے فضا میں کھڑے ہونے کی جگہ دے دو۔میں کرہ ارض کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں گا‘‘مولانا آزاد نے جس قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بدرجہ اتم ان کی اندر موجود تھی ۔وہ انتہائی صبروتحمل اور استقامت کے ساتھ جنون کی حد تک اپنے کام میں منہمک رہتے ۔وہ اپنے کام کو اس طرح انجام دیتے گویا وہ کوئی کام نہیں بلکہ ان کی محبوبہ ہو اور وہ اس کے عشق میں اسقدر گرفتار ہوں کہ اس سے آزادی کی کوئی بھی صورت نظر نہ آتی ہو ۔وہ کسی بھی کام کے لیے قدم اٹھاتے اس کو انجام تک پہنچاتے چاہے اس میں کتنی ہی دشواریاں ہوں ،نہ تو اس سے تغافل برتتے اور نہ ہی ان دشواریوں کا شکوہ کرتے۔


نورالصباح شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی ہونہار ریسرچ اسکالر ہیں

Iqbal ka Paighaam By Abdul Hai

Articles

اقبال کا پیغام

عبدالحی

اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے

اقبال کی مشہور و معروف نظم ’خضر راہ‘ سے لیا گیا یہ مصرع اپنے آپ میں گہرے اور وسیع مفاہیم رکھتا ہے۔ یہ مصرع اور اس طرح کے سینکڑوں مصرعے اقبال کی نظموں ، غزلوں میں بکھرے پڑے ہیں۔ شاعر اور حضرت خضر کے درمیان ہونے والے مکالمے پر مشتمل یہ نظم ہمیں زندگی میں جدو جہد کرنے اور کوشش کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔ ہمیں دوسروں کے بھروسے نہیں رہنا چاہیے بلکہ اپنی دنیا خود پیدا کرنی چاہیے، اگر ہمیں کامیابی حاصل کرنی ہے تو قوت عمل سے کام لینا ہوگا۔
آل احمد سرور نے اسی نظم کے حوالے سے کہا تھا کہ اقبال کا فن پہلی دفعہ اپنی بلندی پر نظر آتا ہے۔ یہی نہیں بلکہ وہ اس نظم کو اردو شاعری کا عہد نامہ جدید کہتے ہیں وہیں مسعود حسین خاں نے اسے اردو شاعری کی حیات آفریں اور مثبت آواز سے تعبیر کیا ہے اور وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ اقبال کا یہی انداز سخن ہے جس کے بارے میں سجاد انصاری نے لکھا تھا کہ اگر قرآن اردو میں نازل ہوتا تو اقبال کی نظم یا ابوالکلام کی نثر کا پیرایہ اختیار کرتا۔حالانکہ کلیم الدین احمد کو اسی نظم میں ڈھیر ساری کمیاں بھی نظر آئیں لیکن عبدالمغنی نے اپنی کتاب میں کلیم الدین احمد کی اس تنقید کا مفصل اور بھرپور جواب دیا ہے۔
اقبال کے اولین شعری مجموعے ’بانگ درا‘ میں آٹھ طویل نظمیں ہیں جن میں ’خضر راہ‘ ایک ہے۔ ( دیگر نظمیں یہ ہیں تصویر درد، گورستان شاہی، شکوہ، جواب شکوہ، شمع اور شاعر، والدہ مرحومہ کی یاد میں، طلوع اسلام)
ان تمام نظموں میں اقبال قوم و ملت کو سنوارنے اور انھیں سیدھی راہ پر لانے کی کوشش میں زیادہ کامیاب نظر آتے ہیں، جس طرح کے استعارے اور تشبیہات انھوں نے استعمال کیے ہیں انھیں پڑھ کر کسی بھی شخص کے خون میں روانی پیدا ہو جائے گی۔
علامہ اقبال نے اپنی شاعری کے ذریعہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ ساری دنیا میں پھیلے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو قرآن پاک اور احادیث نبوی کی تعلیمات دی ہیں۔ اقبال کا کمال فن یہ ہے کہ وہ ایک مصرعے میں ایسی باتیں کہہ جاتے ہیں جس پر پوری کتاب بھی کم پڑ جائے۔ علامہ قبال بر صغیر ہی نہیں بلکہ دنیا میں پیدا ہونے والے اہم مفکرین میں سے ایک ہیں۔ ان کے تمام فکری اور علمی موضوعات کا احاطہ کسی ایک شخص کے بس کی بات نہیں۔ اقبال کی شاعری اور ان کی فکر کے حوالے سے مختلف شخصیات نے اپنے اپنے انداز میں اقبال کو سمجھنے کی کوشش کی ہے لیکن کوئی بھی اقبال کی فکر کو مکمل طور پر سمجھنے اور اس کی تفہیم کرنے کا دعویٰ نہیں کر سکتا۔
اقبال کی فکر کی صحیح اور حقیقی تفہیم تب ہی ممکن ہے جب اقبال کی شاعری کو پڑھنے والے مشرق و مغرب کے مختلف علوم و فنون سے آشنا ہوں کیوں کہ اقبال کی شاعری میں ان علوم و فنون کا جا بجا ذکر ملتا ہے۔ اقبال جب کوئی شعر کہتے ہیں تو وہ محض ایک شعر نہیں ہوتا بلکہ ایک جہان معنی اس کے پس منظر میں موجود رہتا ہے۔ ان کی شاعری اوران کی فکر کا محور قرآن و حدیث ہوتے ہیں۔ وہ بھلے ہی دنیا کے کسی فلسفی، شاعر، مفکر کا حوالہ دیں لیکن قرآن و حدیث ہی ان کے پیش نظر رہتے ہیں۔ اقبال یہ بھی چاہتے ہیں کہ دنیا کی دیگر اقوام نے جس طرح ترقی حاصل کی ہے اسی طرح مسلم قوم بھی عروج کی نئی داستان رقم کرے۔ اس لیے اقبال دوسری تہذیبوں اور مذاہب کی تعلیمات دیتے ہوئے نہیں گھبراتے کیوں کہ حضور اکرم ؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ تمھیں اچھائی اور نیکی جہاں سے ملے حاصل کرو۔
انسانی زندگی حرکت و عمل کا دوسرا نام ہے۔ ہمارا مذہب اسلام بھی حرکت و عمل کی دعوت دیتا ہے۔ علامہ اقبال نے بھی اسلام کی اس بنیادی روح کو سمجھتے ہوئے ملت اسلامیہ کو حرکت و عمل کی دعوت دی۔ اسلامی تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ جب بھی ملت اسلامیہ نے اپنے زور بازو اور خدا سے بھروسہ توڑا ہے اسے نقصانات و ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاتاریوں کا حملہ ہو یا پھر مغربی ممالک کی پیش قدمی۔ تاتاریوں کے حملے نے اسلام کی مرکزی اکائی کو ختم کر دیا۔ مسلمانوں کے کتب خانوں کو ان کی کتابوں کو نذر آتش کر دیا گیا۔ لاکھوں مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ لیکن اس کے بعد بھی مسلمانوں میں وہ بنیادی تعلیمات موجود تھیں جس نے روم ،مصر اور اندلس کو فتح کرایا تھا۔ ان حملوں سے ایک سبق لیتے ہوئے دنیا بھر کے مسلمانوں نے ایک ہو کر پھر سے اسلام کا پرچم بلند کیا لیکن 18ویں صدی تک آتے آتے اسلام کی یہ اکائی بھی دم توڑ گئی کیوں کہ مغربی معاشرہ، صنعتی و سرمایہ دارانہ انقلاب اور سائنسی رویوں نے ایک ساتھ مل کر عالم اسلام کو دنیا کے مختلف حصوں میں نقصان پہنچانے کی کوشش کی اور اس میں اسے کامیابی ملی۔ تاتاریوں نے ظلم و بربیت کا ننگا ناچ تو کیا لیکن وہ اسلام کی روح کو نقصان نہ پہنچا سکے لیکن مغربی معاشرے نے وہ کام کر دیا جو تاتاریوں کی تلوار نہ کر سکی۔ ان تمام صورتحال نے مسلمانوں کو مایوسی اور نا امیدی کی گہری دلدل میں دھکیل دیا۔ اس صورتحال سے مسلمانوں کو باہر نکالنے میں اردو ادب کے حوالے سے پہلا نام سر سید احمد خاں کا آتا ہے۔ انھوں نے مغربی تہذیب و تمدن کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا اور مسلمانوں کو پھر سے ترقی یافتہ بنانے کی کوشش کا آغاز کیا۔ سر سید کی ان کوششوں کا ذکر یہاں بے محل ہوگا۔ مختصر یہ کہ سر سید نے مغربی تہذیب کی یلغار سے نکلنے کی یہ صورت بتائی کہ مسلمانوں کو جدید تعلیم اور سائنس کی طرف راغب کیا جائے اور اس کوشش میں وہ مذہب کو بھی سائنسی کے تناظر میں دیکھنے لگے جس سے مسلمانوں میں خلفشار پیدا ہوا اور خود ان پر کفر کے فتوے لگے۔
بیسویں صدی پوری دنیا میں نئے ہنگامے اور نئے انقلابات لے کر آئی۔ دنیا کے سیاسی نقشے میں کئی ردو بدل ہوئے اور دنیا نے پہلی جنگ عظیم کا سامنا کیا۔ ہندوستان بھی نئی تبدیلیوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ان تبدیلیوں اور نفسا نفسی کے عالم میں اقبال وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے ان رویوں کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کی کوشش کی اور مسلمانوں کی بے بسی اور گمراہی کو دور کرنے کی کوشش کی اور فلسفہ خودی ، عشق و عقل، مرد مومن ،حرکت و عمل جیسے تصورات پیش کیے اور قرآن و احادیث کی روشنی میں مسلمانوں کے تمام مسائل کا حل تلاش کیا اور ایک نئی تعبیر پیش کی۔پہلی جنگ عظیم کے بعد ہندوستان میں رولٹ ایکٹ،گاندھی جی کی عدم تعاون کی تحریک، جنرل ڈائر کا مارشل لا اور قتل عام جیسے واقعات سے ملک میں افراتفری کا ماحول تھا اور ایسے وقت میں ہی اقبال نے یہ نظم تحریر کی اور ہمیں خواب خرگوش سے جگانے کی کوشش کی۔خضر راہ کے حوالے سے راشد حمید لکھتے ہیں :
علامہ اقبال نے اپنے تخلیقی رویوں کا اظہار شاعری کے ذریعے کیا اور ابتداً وہ مروج اصول و ضوابط کے مطابق شعر کہتے رہے لیکن بہت جلد وہ اس سلسلے کو خدا حافظ کہہ آئے اور نئے رنگ اور نئی تخلیقی اپج کے ساتھ سامنے آئے۔ خضر راہ علامہ اقبال کے انقلاب آفریں فلسفے کا بنیادی نکتہ ہے۔ انھوں نے اس نظم میں اسلام کے حرکی کردار پر گفتگو کی۔ علامہ اقبال اس حوالے سے غور و فکر کرنے اور نتائج نکالنے میں یوں کامیاب او ر کامگار ٹھہرے کہ انھوں نے تاریخ کا جو تہذیبی مطالعہ کر رکھا تھا اور اسلام کے جس تصور تاریخ سے وہ آگاہ تھے، اس کے پس منظر میں انھوں نے ایک نیا زاویۂ نگاہ وضع کیا اور اس کی تدوین اور ترتیب و تہذیب کی بنا پر وہ کچھ ایسے نئے رویے سامنے لائے کہ جن کے مسلم امہ پر نہایت دور رس اثرات مرتب ہوئے۔(بحوالہ : اقبال کا تصور تاریخ۔ راشد حمید)
اسلامی تعلیمات گواہ ہیں کہ اس مذہب میں کس قدر رواداری اور وسعت ہے۔ تعصب اور تنگ نظری کی اسلام میں کبھی کوئی گنجائش نہیں۔یہاں تک کہ دوسرے مذاہب کے ماننے والوں پر بھی لعن طعن کی سخت ممانعت کی گئی ہے لیکن خود اسلام کے پیروکار ہی اپنے دینی بھائیوں سے تعصب رکھنے لگے تو اقبال کو شکوہ کرنا پڑا۔
یوں تو سید بھی ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤ تو مسلماں بھی ہو
اور جب مسلمان ذاتی مفادات میں اس قدر محو ہو جاتے ہیں مطالب قرآن کو بھی ذاتی مفاد کے رنگ میں ڈھال لیا تو اقبال کہتے ہیں ۔
خود بدلتے نہیں، قرآں کو بدل دیتے ہیں
ہوئے کس درجہ فقیہان حرم بے توفیق
بیسویں صدی میں جہاں دنیا ترقی کے نئے ذینے چڑھ رہی تھی، وہیں مذہب اسلام میں نئے قصے سر اٹھا رہے تھے۔ ہر کوئی اپنی فکر کو صحیح ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا۔ مذہب جیسے ذاتی جاگیر بن کر رہ گیا تھا۔ ان حالات میں اقبال فرماتے ہیں۔
تعصب چھوڑناداں دہر کے آئینہ خانے میں
یہ تصویر بھی ہیں تیری جن کو سمجھا ہے برا تو نے
اقبال ایک بالغ نظر شاعر ہیں۔ انھوں نے نہ صرف مشرق کی تعلیمات اور فلسفے کو پڑھا ہے بلکہ فلسفہ مغرب بھی ان کے دل و دماغ میں بھی ہوا ہے۔ وہ علم کو مضامین یا علاقائیت سے پرے سمجھتے ہیں اور جہاں اس سے انھیں کچھ بھی حاصل ہوتا ہے وہ لے لیتے ہیں۔ وہ تاریخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ فلسفہ ان کے حافظے میں ہے۔ اقتصادیات سے انھیں گہرا شغف ہے۔ دنیا کے نئے رجحانات و ریوں سے بھی واقفیت ہے، جمہوریت، اشتراکیت، شہنشاہیت غرض ہر طرز حکومت سے وہ آشنا ہیں۔ یہی نہیں قدیم ہندوستانی ، چینی، یونانی، فلسفہ و نظریات سے بھی واقف ہیں۔ انھوں نے دنیا کی مختلف اقوام کا مشاہدہ کر کے جو نتائج بر آمد کیے ہیں اسے شاعری کے سانچے میں ڈھال دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری صرف غزل، قصیدہ یا مرثیہ نہیں ہے بلکہ انسان کے دکھوں کا مداوا کرنے کا ایک حل ہے، انسان کی آزادی خوشی اور طمانیت ان کی شاعری کا مقصد ہے۔ اقبال اپنے علم، تجربے اور تدبر کی مدد سے ایک راہ عمل ترتیب دیتے ہیں اور یہ بتاتے ہیں کہ انسان کی تمام پریشانیوں کا حل اس کے عمل میں پنہاں ہے۔ اگر انسان سچے دل سے کوشش کرے تو منزل مقصود کو پا سکتا ہے۔ بس اسے اپنے عمل کے تئیں خود اعتماد رہنا ہوگا۔ اپنے زور بازو پر یقین کامل رکھنا ہوگا اور اللہ پر پورا بھروسہ رکھنا ہوگا۔پھر چاہے پہاڑ ہوں یا بحر ظلمات سبھی جگہ فتح و کامرانی ہمارے قدم چومے گی۔ابو الحسن علی ندوی لکھتے ہیں :
’’اقبال کو اس بات پر بھی یقین ہے کہ جب تک اس جہان نو کی امامت و قیادت مرد مومن کے ہاتھوں میں نہیں آتی اس وقت تک یہ انسانیت ان فرنگی مقامروں کے ہاتھوں ہلاکت و بربادی سے دو چار ہوتی ہی رہے گی۔ ضرورت ہے کہ مرد مومن اٹھے اور ایک جہان نو کے بانی کی حیثیت سے موجودہ بیمار انسانیت کے دکھوں کا مداوا بن کر اٹھے ایک نئی زندگی اور توانائی عطا کرے۔‘‘( نقوش اقبال۔ علی میاں ندوی، ص۔132)
خضر راہ کے اس مصرع کے حوالے سے علامہ قبال کا یہ پیغام ہے کہ اگر انسان فنا ہو جانا چاہے تو بے لگام زندگی گزارے اور اگر انسان چاہتا ہے کہ باقی رہے تو اصول اورقاعدے کے تحت زندگی بسر کرے۔ اسی میں انسان کی بھلائی ہے۔ زندگی کا دوسرا نام عمل ہے اور اگر انسان کو زندہ رہنا ہے تو اسے اپنی دنیا آپ پیدا کرنی ہوگی اور اس دنیا کے لیے عمل ضروری ہے۔ اور عمل ہی انسان کو حیات بخشتا ہے۔میں اپنے اس مضمون کا اختتام عزیز احمد کے ان جملوں پر کرتا ہوں۔
اقبال کا سارا کلام پڑھنے کے بعد ایک سیدھی سادی بات جو ایک عام آدمی کی سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں اور قوتوں کو پہچانے اور ان سے کام لے۔ خدا اور اس کے رسول ؐ سے عشق رکھے۔ اسلامی تعلیمات کی حرکی روح کو سمجھے اور اس پر عمل کرے تو وہ حقیقت میں خدا کا جانشین بن سکتا ہے اور اپنی تقدیر کا آپ مالک بن سکتا ہے۔ (عزیز احمد)، کلیات اقبال، اقبال اکادمی۔

مشرق سے ہو بیزار نہ مغرب سے حذر کر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خود کشی
رستہ بھی ڈھونڈ ، خضر کا سودا بھی چھوڑ دے
یورپ کی غلامی پہ رضا مند ہوا تو
مجھ کو تو گلہ تجھ سے ہے، یورپ سے نہیں ہے
***

Iqbal: Azamat E Insani ka Hudi Khwan by Dr. Jamal Rizvi

Articles

اقبال: عظمتِ انسانی کا حُدی خواں

ڈاکٹر جمال رضوی

علامہ اقبال کا شمار ان برگزیدہ شخصیات میں ہوتا ہے جنھوں نے انسانی معاشرے کو کئی سطحوں پر متاثر کیا ہے ۔ اقبال کے سلسلے میں ایک بدیہی حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کے افکار و خیالات کی معنویت کو کسی مخصوص عہد یا حالات کا پابند نہیں بنایا جا سکتا۔یہ ضرور ہے کہ اقبال کی شاعری کی نمود میں بعض مخصوص حالات و واقعات سے اثر پذیری کو بنیادی حیثیت حاصل ہے تاہم اقبال نے ان مخصوص حالات و واقعات کی شعری تعبیر کچھ اس انداز میں کی ہے کہ ہردور کا انسانی سماج اس سے استفادہ کر سکتا ہے ۔اردو ادب میں اقبال کی شناخت ایک ایسے شاعر کے طور پر ہے جو حیات و کائنات کے متعلق ایک واضح فکری نظام کے تحت شعر کے تخلیقی مراحل کو طے کرتا ہے۔اس نظام فکر کی بنیاد بلاشبہ وہ اسلامی تعلیمات ہیں جن سے اقبال کو عبد و معبود شناسی کا ایسا ادراک حاصل ہوا جس نے انھیں اس روئے زمین کی زیب وزین کے امین حضرت انسان کی عظمت و رفعت کی آگہی عطا کی۔اقبال کی شاعری کا کل سرمایہ ان کی فکر و نظر کے ارتقا کی روداد ہے۔ اس روداد میں کئی ایسے مراحل آتے ہیں جو بعض امور میں اقبال کے زاویۂ نظر سے اختلاف کی گنجائش پیدا کرتے ہیں لیکن اس کے باوصف اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ ان کی شاعری میں سماجی و سیاسی انسلاکات کی متغیر کیفیت کے باوجود عظمت انسانی کی نقش گری کا رجحان ہر دور میں تقریباً یکساں نظر آتا ہے۔
اقبال کی ۶۱؍سالہ زندگی(پیدائش ۹؍نومبر ۱۸۷۷ء۔وفات ۲۱؍اپریل ۱۹۳۸ء)میں مذہب، ادب اور سیاست کے مثلث نے انھیں فکری بالیدگی عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ۶۱؍ سال کا یہ دورانیہ نہ صرف بر صغیر کی تاریخ بلکہ اسلامی تاریخ میں ایسے تغیرپذیر حالات کا مظہر ہے جس کے سبب اقبال کے افکار و نظریات میں تبدیلی کا وہ عمل نظر آتا ہے جو ان کی فکر کی ہمہ گیریت کو ایک مخصوص سیاسی و سماجی دائرے سے آزاد کر کے اسے عرص�ۂ کائنات پر محیط کر دیتا ہے۔یورپ کے سفر سے قبل اقبال کی شاعری کا انداز اور اس سفر سے واپسی کے بعد ان کی شاعری کے موضوعات اور ایک حد تک طرز بیان میں تبدیلی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔اقبال کی شاعری میں اس تبدیلی پر بعض ارباب نقد و نظر اس لیے معترض ہیں کہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں جیسی نظم کا خالق اپنی فکر کو ایک مخصوص دائرے میں اس قدر محصور کر لیتا ہے کہ اسے اسلام اور مسلمان کے علاوہ کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اعتراض کرنے والوں کے نزدیک یہ اقبال کی فکر کی محدودیت کی علامت ہے جبکہ بڑھتی عمر کے ساتھ ان کے اندر ایسی فکری پختگی پیدا ہونی چاہیے جو ترانۂ ہندی سے بھی بہتر نظم کی تخلیق کا سبب بنتی۔اقبال نے اپنے افکار و نظریات میں پیداہوئی اس تبدیلی کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے سبب کی وضاحت بھی کی ہے ۔ انھوں نے بیسویں صدی کے عالمی انسانی معاشرہ میں رائج وطن پرستی اور قوم پرستی کے اس تصور کو اس کا سبب قرار دیا ہے جو جغرافیائی حدود کا اس قدر پابند ہے کہ اس کے باہر کی دنیا سے اسے کوئی سروکار نہیں۔جب ان کی فکر نوع انساں کی عظمت کے نشانات تلاش کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے تو اقوام عالم کے مابین مختلف قسم کے امتیازات کی ایسی سنگین شکل نظر آتی ہے جو اس عظمت کو پاش پاش کر دینے کے درپے ہے۔حیات اقبال سے وابستہ اس دور کی ایک دلچسپ سچائی یہ بھی ہے کہ اس زمانے میں دنیامیں امن و آشتی کے قیام کی پائیداری کو یقینی بنانے کی جس قدر کوشش ہو رہی تھی جنگ اور غارت گری کا عفریت اسی قدر انسانی معاشرہ کو اپنے مہیب سایہ میں لے رہا تھا۔گزرتے وقت کے ساتھ یہ سایہ دراز ہوتا جارہا تھاجس کا ایک بڑا سبب مختلف قسم کے امتیازات کے سبب انسانی برادری کے درمیان تفریق و انتشار کی وہ کیفیت تھی جسے نام نہاد ترقی پذیر دنیا کے فرمانروا سیاست اور سماج اور بعض اوقات مذہب کی وہ ترقی یافتہ صورت قرار دے رہے تھے جو انسانی ارتقا کے سفر کی ضامن ہے۔ قومیت اور وطنیت کا یہ تصور حب جاہ کے خواہاں افراد کے لیے وہ نسخۂ کیمیا تھا جو ان کی خواہش کی تکمیل کی راہ کو قدرے آسان بنا دیتا ہے لیکن ساتھ ہی یہ اتحاد انسانی کے لیے ایسا خطرہ ہے جس سے انسانی عظمت کے زائل ہونے کا اندیشہ قوی ہو جاتا ہے۔ان حالات میں اقبال عظمت انسانی کی بقا کے لیے اسلام کے اس نظام حیات کی تائید کو ضروری قرار دیتے ہیں جو حریت و مساوات کی راہ میں رنگ و نسل کے امتیازات سے ماورا نوع انساں کو ایک مرکز اتحاد پر مجتمع کرنے کا ذریعہ ہے ۔ اپنے اس نقطۂ نظر کی وضاحت کرتے ہوئے انھوں نے لکھا ہے:
’’ اسلام ایک قدم ہے نو ع انسانی کے اتحاد کی طرف۔ یہ ایک سوشل نظام ہے جو حریت و مساوات کے ستونوں پر کھڑا ہے ۔پس جو کچھ
میں اسلام کے متعلق لکھتا ہوں اس سے میری غرض محض خدمتِ بنی نوع ہے اور کچھ نہیں اور میرے نزدیک عملی نقطۂ خیال سے صرف
اسلام ہی Humanitarian Ideal کو Acheive کرنے کا ایک کارگر ذریعہ ہے۔ باقی ذرائع محض فلسفہ ہیں۔ خوشنما
ضرور ہیں مگر ناقابل عمل۔‘‘ (مکتوب بنام سید محمد سعید الدین جعفری مشمولہ خطوط اقبال صفحہ ۱۶۶؍ مرتبہ رفیع الدین باشمی)
اقبال کے خط کا یہ اقتباس شاعری میں ان کے فکری سروکار کو واضح کرتا ہے۔ وہ اسلامی تعلیمات کی اساس پر استوار اپنے فکری نظام کو نوع انساں کے درمیان اتحاد کا ایک وسیلہ قرار دیتے ہیں اور اس کے ذریعہ ہی وہ عظمت انسانی کے اس تصور کو آشکار کرنے کی سعی کرتے ہیں جوخلقت کائنات کا سبب ہے۔اقبال کی شاعری میں موضوعی سطح پر اس طرز فکر میں ان کے اس خاندانی پس منظر کو نظر اندا ز نہیں کیا جا سکتا جو ان کی ذہنی تربیت میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔اقبال کی شخصیت کا مطالعہ اس اعتبار سے بھی اہمیت رکھتا ہے کہ اسلامی تعلیمات سے رچے بسے گھریلو ماحول سے باہر نکل کر جب وہ تعلیمی مراحل بتدریج طے کرتے ہیں تو یہاں ایک بالکل مختلف بلکہ گھریلو ماحول سے متضاد صورتحال ان کے سامنے ہوتی ہے۔مابعد الطبعیات فلسفے کا ارتقا کے موضوع پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے کے باوصف وہ مذہب کے تئیں اپنے پختہ افکار میں کسی قسم کی تشکیک میں مبتلا نہیں ہوئے۔مذہب اور فلسفہ کے درمیان تفاوتِ توجیہی یقینی امر ہے۔ اگر چہ دونوں حیات و کائنات کے اسرار ہائے سربستہ کی گرہ کشائی کا کام انجام دیتے ہیں تاہم عملی و عقلی استنباط دونوں کے مابین ایک واضح فرق قایم کرتا ہے۔اقبال کے افکار میں مذہب اور فلسفہ سے استفادہ کی وہ شکل نظر آتی ہے جو حیات و کائنات کی ماہیت و افادیت کو دریافت کرنے کی ایسی راہ روشن کرتی ہے جو انسانی عظمت کے پرنور چراغوں سے منور ہے۔وہ کائنات کی خلقت کے سبب کا سراغ پانے کی سعی کے عمل میں ان حقائق سے واقف ہوتے ہیں جو انھیں نوع انساں کی تخلیق کے راز سے متعارف کراتی ہے۔
عطا ہوئی ہے تجھے روز وشب کی بیتابی
خبر نہیں کہ تو خاکی ہے یا کہ سیمابی
سنا ہے خاک سے تیری نمو د ہے لیکن
تری سر شت میں ہے کوکبی و مہتابی
جمال اپنا اگر خواب میں بھی تو دیکھے
ہزار ہوش سے خوشتر تری شکر خوابی
گراں بہا ہے ترا گریۂ سحر گاہی
اسی سے ہے ترے نخل کہن کی شادابی
تری نوا سے ہے بے پردہ زندگی کا ضمیر
کہ تیرے ساز کی فطرت نے کی ہے مضرابی (نظم ’ فرشتے آدم کو جنت سے رخصت کرتے ہیں‘)
اس روئے زمین پر ورودِ آدم کے پس منظر میں لکھی گئی اس مختصر سی نظم میں اقبال نے انسانی عظمت کو اس انداز سے نمایاں کیا ہے کہ جنت سے اخراج اس کی فضیلت کا سبب ٹھہرتا ہے۔ اقبال عالم بے کاخ و کو سے عالم رنگ و بو میں آدم کی آمد کو کن فیکون کا حاصل تسلیم کرتے ہوئے نوع انسان سے اس بھرم کے باقی رکھنے کا تقاضا کرتے ہیں جو تخلیق کائنات کے اہم مقصد کی بنیاد ہے۔اقبال کی شاعری اسی نظام فکر کی ترجمان ہے جو اس بنیاد کے مستحکم کرنے کی تدبیر سے آشنا کرتی ہے اور اس کا مدار عرفانِ ذات کا وہ اہم نکتہ ہے جو نوع انساں کو دنیا و مافیہا کے ان اسرار و رموز کو دریافت کرنے پر آمادہ کرتا ہے جن سے خود اسے اپنی حقیقت و رفعت کو جاننے میں مدد ملتی ہے۔لیکن اس مقام تک رسائی کچھ ایسی آسان بھی نہیں کہ مدتوں ایک عمل پیہم کے بعد اس کے آثار ہویدا ہوتے ہیں۔ اس مقام تک پہنچنے کی خواہش کی تکمیل میں کئی ایسے مراحل بھی آتے ہیں جو دلسوزی اور جاں سوزی کی سخت و دشوار گزار راہوں سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ان راہوں پرثبات قدم سے ہی عظمت انسانی کے امکان روشن ہوتے ہیں لیکن تاریخ انسانی میں کئی ایسے ابواب بھی نظر آتے ہیں جبکہ نوع انساں کے قدموں کی لغزش نہ صرف منزل سے اس کی محرومی کا سبب بنی بلکہ اس کی کوتاہیِ عزم و عمل نے اس راہ کو مزید پیچیدہ اور مشکل بنا دیا۔اقبال اس سفر کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے انسان کے قلب و نظر کو حقیقت یزدانی کے نور سے معمور ہونے پر اصرا ر کرتے ہیں اور اس کے لیے وہ ان برگزیدہ و بابرکت شخصیات کے کردار و عمل کو منبعِ فیضان قرار دیتے ہیں جنھوں نے اپنی حیات ارضی کو اس عظیم مقصد کے لیے وقف کر دیا تھا۔ اس مقام پر وہ اسلام کے عہد رفتہ کی درخشاں تاریخ کے صفحات پر ثبت ان جلیل القدر نا موں کے حوالے سے اپنے افکار کی ترجمانی کرتے ہیں جن کی زندگی حیات ارضی کی کامیابی و کامرانی کی ایک روشن مثلا ل ہے۔
اقبال نے شاعری میں اپنی فکری جہت کی وضاحت کرتے ہوئے بارہا یہ کہاہے کہ قرآن و احادیث ہی میری شاعری کے موضوعات کا ماخذہے اور میں ان کے حوالے سے ہی عصر حاضر کے مسائل و معاملات کا تجزیہ کرتا ہوں۔بیسویں صدی میں مادی ترقی کے ہوش ربا مظاہر سے مبہوت انسانی معاشرہ میں اس طرز فکر کو اگر اقبال کی قدامت پسندی اور ماضی پرستی سے تعبیر کیا گیا تو یہ کوئی حیرت کی بات نہ تھی۔چونکہ اقبال نے اپنے مافی الضمیر کی ترجمانی کے لیے ادب کو بطور وسیلہ اختیار کیا تھا لہٰذا اس ضمن میں اس دور کی ادبی صورتحال کو بھی پیش نظر رکھنا ہوگا۔اس زمانے کا ادبی منظرنامہ تخلیق ادب کے نظریاتی و اصولی مباحث میں دوباہم متضاد رویہ سے عبارت ہے۔ایک ادب برائے زندگی کا قائل اور دوسرا ادب برائے ادب کا گرویدہ ۔ان حالات میں گرچہ معاصر سیاسی و سماجی حالات کے سبب ادب اور زندگی کے ربط باہم کو مستحکم بنانے کی شعوری کوشش اہل ادب کے یہاں نظر آتی ہے تاہم اس کوشش میں کئی سارے ایسے قدیم معاشرتی تصورات شکست و ریخت سے دوچار ہوئے جو ماقبل انسانی و سماجی اخلاقیات کی اساس تھے۔ اس کے علاوہ اہل ادب کے نزدیک مذہبی اقدار کی نوعیت اور اس کی افادیت کے تصورات پر بھی مادی ترقی کی سحر انگیزی اثر انداز ہوئی۔ اپنے گرد و اطراف میں افکار و افعال کی اس قدرے پیچیدہ صورتحال کے درمیان اقبال نے اپنے لیے ایسی شاہراہ کا انتخاب کیا جس نے دنیا و عقبیٰ کے متعلق ان کی فکر کوایک واضح سمت عطا کی۔ان کی شاعری میں فکر و فلسفہ کے مرکب سے جو قصر تعمیر ہوتا ہے اس کے ہر ستون پر عظمت انسانی کے چراغ روشن نظر آتے ہیں۔شاعری میں اپنے منفرد طرز بیان اور موضوعات کی تخصیص کے متعلق انھوں نے لکھا ہے :
’’ الفاظ کے انتخاب میں لکھنے والا (شاعر)اپنی حسِّ موسیقیت سے کام لیتا ہے اور مضامین کے انتخاب میں اپنے فطری
جذبات کی پیروی پر مجبور ہوتا ہے۔ اس امر میں کسی دوسرے شخص کے مشورے پر خواہ وہ کتنا ہی نیک مشورہ کیوں نہ ہو ، عمل
نہیں کیا جا سکتا۔‘‘ (مکتوب بنام سید محمد سعید الدین جعفری مشمولہ خطوط اقبال صفحہ ۱۶۵؍ مرتبہ رفیع الدین باشمی)
(خطوط اقبال)
اقبال کے اس بیان سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ انھوں نے شاعری میں جن موضوعات کو برتا ہے ان سے اقبال کا رابطہ صرف خارجی سطح پر ہی نہیں ہے بلکہ وہ موضوعات بجائے خود ان کی شخصیت کی تعمیرو تشکیل میں جزو لاینفک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ان کی شاعری کا خاص وصف غور وفکر کی راہوں کو روشن کرنا ہے ۔ انسانی معاشرہ میں شاعری کے اس افادی پہلو پر ان کی بھر پور نگاہ تھی اسی لیے وہ شاعر کو محض تخیلات کا پابند تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے بلکہ ان کے نزدیک شاعر کا منصب اس قدر بلند و ارفع ہے جو اپنے کلام سے خوابیدہ سماج میں بیداری کی رمق پیدا کر سکتا ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں جابجا شاعر کی ذات سے منسوب اس قدر کا اظہار کیا ہے ۔ ان کے اس موقف کی وضاحت درج ذیل اس مختصر سی نظم سے ہو جاتی ہے جس کا عنوان ہی شاعر ہے ؂
قوم گویا جسم ہے، افراد ہیں اعضائے قوم
منزل صنعت کے رہ پیما ہیں دست و پائے قوم
محفلِ نظمِ حکومت چہرۂ زیبائے قوم
شاعرِ رنگیں نوا ہے دیدۂ بینائے قوم
مبتلائے درد کوئی عضو ہو ، روتی ہے آنکھ
کس قدر ہمدرد سارے جسم کی ہوتی ہے آنکھ
شاعر کی شخصیت کے لیے آنکھ کی یہ تمثیل معنویت کی کئی جہتوں کی حامل ہے ۔یہ جہات انسانی زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ہیں تاہم اس کا محور و مرکز عظمت انسانی کے وہ مظاہر ہیں جو گردش ایام کے اثرات سے محفوظ رہتے ہوئے تا ابد کے لیے جاودانی حاصل کر لیتے ہیں۔اقبال کے یہاں انسان کامل کے تصور کے ڈانڈے انہی مظاہر سے ملتے ہیں۔ یہ تصور ہی اقبال کواس مشت خاک میں تسخیر کائنات کاولولہ و جوش دکھاتا ہے اور وہ بے اختیار کہہ اٹھتے ہیں ؂
منظر چمنستاں کے زیبا ہوں کہ نازیبا
محرومِ عمل نرگس، مجبورِ تماشا ہے
رفتار کی لذت کا احساس نہیں اس کو
فطرت ہی صنوبر کی محرومِ تمنا ہے
تسلیم کی خوگر ہے جو چیز ہے دنیا میں
انسان کی ہر قوت، سرگرمِ تقاضا ہے
اس ذرہ کو رہتی ہے وسعت کی ہوس ہردم
یہ ذرہ نہیں، شاید سمٹا ہوا صحرا ہے
چاہے تو بدل ڈالے ہیئت چمنستاں کی
یہ ہستی دانا ہے ، بینا ہے توانا ہے (نظم ’انسان‘)
چمنستاں کی ہیئت کو بدل ڈالنے کی توفیق اسی صورت میں اس مشت خاک کا مقدر بنتی ہے جبکہ وہ اپنی ذات میں پوشیدہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے مصروف عمل رہے۔اقبال کی شاعری میں انسانی عظمت کا تصور ان کے نظام فکر کی اس فلسفیانہ تعبیر سے وابستہ ہے جس میں عمل پیہم اور یقین محکم کو نمایاں مقام حاصل ہے۔ ان کے نزدیک اگر انسان عمل کی قوت اور یقین کی دولت سے محروم ہے تو وہ زندگی کے ان تقاضوں کی تکمیل نہیں کر سکتا جن سے کامیابی و کامرانی کے راستے ہموار ہوتے ہیں۔اقبال انسان کی حیات ارضی کی کامیابی کا دار و مدار اس کے مسلسل سرگرم عمل رہنے میں دیکھتے ہیں اور اس کے لیے وہ اپنی شاعری میں ان حوالوں سے بھی کام لیتے ہیں جو عقائد کی رو سے گرچہ ان کی فکر سے متضاد نظر آتے ہیں تاہم جہد و عمل کے ذریعہ حصول مقصد کا ایک مثالی نمونہ ہیں۔ فکر اقبال کا یہ اجتہادی انداز ابلیس کے کردار کو بھی ایک علامت کے طور پر پیش کر کے نوع انساں کو اس سے جہد و عمل کی تحریک حاصل کرنے کا پیغام دیتا ہے۔اس کردار کے ذریعہ وہ تقدیر پر قانع رہنے کے بجائے تدبیر کے میدان میں زور آزمائی کی تلقین کرتے ہیں۔وہ بارگاہِ یزدی سے ابلیس کے نکالے جانے کو اس کی درماندگی کے بجائے اس کی بلند حوصلگی قرار دیتے ہیں اور اس جراتِ بیباکانہ کو اس کے اندر پوشیدہ جہد و عمل کی قوت کو بروئے کار لانے کا وسیلہ تسلیم کرتے ہیں۔اقبال نے اپنی کئی نظموں میں ابلیس کے کردار کے اس پہلو کو نمایاں کیا ہے ۔ اس سلسلے کی ان کی نظم ’ مکالم�ۂ جبریل و ابلیس‘ ایک شاہکار ہے۔ اس نظم میں انھوں نے جہد و عمل کی قوت سے سرشار ابلیس کو اپنے مقصد کی حصول یابی میں اس قدر سرگرم عمل دکھایا ہے کہ وہ ہر مشکل اور خطرے کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اپنے مقصد سے رو گردانی اسے کسی طوربھی قبول نہیں حتیٰ کہ وہ اپنے قدرے آسودہ و لذت بخش ماضی سے بھی اپنے حال کو بہتر قرار دیتا ہے۔اس نظم کے ذریعہ اقبال اس اہم نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ مسائل و مشکلات سے نبر د آزمائی میں ہی شخصیت کے جوہر نمایاں ہوتے ہیں۔موضوع کی اس انفرادیت کے علاوہ اس نظم کا اسلوب بھی اقبال کے کمال شاعری کا بین ثبوت ہے۔جبریل و ابلیس کے مکالموں سے اس نظم کے تار و پود کچھ اس انداز میں بنے گیے ہیں کہ اس کا آہنگ براہ راست دل پر اثر انداز ہوتا ہے۔اس نظم کا آخری اقتباس جو ابلیس کے مکالمے کی صورت میں ہے اس میں اقبال نے شورشِ ابلیس کو دنیا کی حرکت و عمل کا سبب قرار دیا ہے گرچہ اس کا مقصد نیک نہ ہو تاہم یہ ابلیس کو ہمہ وقت آمادۂ عمل رکھتا ہے ۔ اس نظم کے ذریعہ اقبال نے عزم و عمل کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے اس لطیف پہلو کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ اگر دل جہد و عمل کی قوت سے تہی ہو تو کسی نیک مقصد سے وابستگی بھی اپنی اہمیت کھو دیتی ہے۔وہ جہد و عمل کی اس قوت کے نمو پانے کے لیے طوفانِ حوادث سے مقابلہ آرائی کو ضروری قرار دیتے ہیں ؂
ہے مری جرات سے مشت خاک میں ذوق نمو
میرے فتنے جامۂ عقل و خرد کا تار و پو
دیکھتا ہے تو فقط ساحل سے رزمِ خیر و شر
کون طوفاں کے طمانچے کھا رہا ہے؟ میں کہ تو؟
خضر بھی بے دست و پا، الیاس بھی بے دست وپا
میرے طوفاں یم بہ یم، دریا بہ دریا ، جو بہ جو
گر کبھی خلوت میسر ہو تو پوچھ اللہ سے
قصۂ آدم کو رنگیں کر گیا کس کا لہو
میں کھٹکتا ہوں دلِ یزداں میں کانٹے کی طرح
تو فقط اللہ ہو، اللہ ہو،اللہ ہو
اقبال نے اس نظم کے علاوہ اپنی دیگر تخلیقات میں بھی ابلیس کے کردار کو جہد و عمل کا ایک استعارہ بنا کر پیش کیا ہے۔وہ اس کردار کے ذریعہ نہ صرف نوع انساں کے دلوں میں جذبۂ عمل کی حرارت پیدا کرنے کے خواہاں ہیں بلکہ عصر حاضر کی انسانی تہذیب کی اس مصنوعی چکا چوند پر بھی طنزکرتے ہیں جو بنامِ ارتقا انسانوں کے طرز حیات میں ان مضرت رساں عوامل کی آمیزش کرتی ہے جن سے شیرازۂ حیات کے منتشر ہو جانے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔’ابلیس کی مجلس شوریٰ‘ میں اقبال نے عہد نو کے انسانی معاشرے میں مذہب و سیاست پر مادہ پرستی کی اس ملمع کاری کو ہدف بنایا ہے جو در حقیقت ابلیسی منصوبے کو بتدریج کامیابی سے ہمکنار کرتی نظر آتی ہے۔اقبال کی یہ نظم خصوصی طور پر ان کے سیاسی شعور کی پختگی کا ثبوت فراہم کرتی ہے ۔ انھوں نے اس نظم میں ابلیس کے مشیروں کی تعدا د کا جو تعین کیا ہے وہ گرچہ ان کی شعری ضرورت کا تقاضا رہا ہو لیکن اس پہلو کو اگر دوسری عالمی جنگ کے بعد بین الاقوامی سیاست کے بدلے ہوئے رنگ و آہنگ کے پس منظر میں دیکھا جائے تو اس کی معنویت دو چند ہو جاتی ہے۔
اقبال از آدم تا ایندم انسانی تاریخ کو ارتقا کا ایک ایسا سلسلہ قرار دیتے ہیں جو بطن گیتی و افلاک میں پوشیدہ ان اسرار نہانی کی گرہ کشائی کرتا ہے جن کے ذریعہ وہ اپنی عظمت و سربلندی کی سبیل کرتا ہے لیکن اس مرتبہ تک پہنچنے کے لیے وہ راز ہستی سے شناسائی کو لازمی قرار دیتے ہیں۔عظمت انسانی کے متعلق فکر اقبال کی موثر ترجمانی کے طور پر ان کی نظم سرگزشت آدم کو پیش کیا جا سکتا ہے ؂
سنے کوئی مری غربت کی داستاں مجھ سے
بھلایا قصۂ پیمانِ اولیں میں نے
لگی نہ میری طبیعت ریاض جنت میں
پیا شعور کا جب جام آتشیں میں نے
رہی حقیقت عالم کی جستجو مجھ کو
دکھایا اوجِ خیال فلک نشیں میں نے
ملا مزاج تغیر پسند کچھ ایسا
کیا قرار نہ زیر فلک کہیں میں نے
نکالا کعبے سے پتھر کی مورتوں کو کبھی
کبھی بتوں کو بنایا حرم نشیں میں نے
کبھی میں ذوق تکلم میں طور پر پہنچا
چھپایا نور ازل زیر آستیں میں نے
کبھی صلیب پہ اپنوں نے مجھ کو لٹکایا
کیا فلک کو سفر چھوڑ کر زمیں میں نے
کبھی میں غار حرا میں چھیا رہا برسوں
دیا جہاں کو کبھی جام آخریں میں نے
سنایا ہند میں آکر سرود ربانی
پسند کی کبھی یوناں کی سرزمیں میں نے
دیار ہند نے جس دم مری صدانہ سنی
بسایا خط�ۂ جاپان و ملک چیں میں نے
بنایا ذروں کی ترکیب سے کبھی عالم
خلافِ معن�ئ تعلیمِ اہل دیں میں نے
لہو سے لال کیا سیکڑوں زمینوں کو
جہاں میں چھیڑ کے پیکار عقل و دیں میں نے
سمجھ میں آئی حقیقت نہ جب ستاروں کی
اسی خیال میں راتیں گزار دیں میں نے
ڈرا سکیں نہ کلیسا کی مجھ کو تلواریں
سکھایا مسئل�ۂ گردش زمیں میں نے
کشش کا راز ہویدا کیا زمانے پر
لگا کے آئین�ۂ عقل دور بیں میں نے
کیا اسیر شعاعوں کو ، برق مضطر کو
بنا دی غیرت جنت یہ سرزمیں میں نے
مگر خبر نہ ملی آہ راز ہستی کی
کیا خرد سے جہاں کو تہِ نگیں میں نے
ہوئی جو چشم مظاہر پرست وا آخر
توپایا خان�ۂ دل میں اسے مکیں میں نے
اس نظم میں دور قدیم سے عصر حاضر تک کی انسانی تاریخ کے ہر وہ اہم حوالے آگیے ہیں جو انسانی تہذیب و ثقافت، مذہب و معاشرت کے مختلف مراحل کی وہ روداد بیان کرتے ہیں جن سے انسانی سفر ارتقا کی داستان مرتب ہوتی ہے۔یہ طرز فکر اقبال کی شاعری میں عمومی حیثیت رکھتا ہے کہ وہ مختلف النوع موضوعات کے حوالے سے عظمت انسانی کی ترجمانی کا ایسا پہلو دریافت کر لیتے ہیں جو ان کے تصور حیات کی تائید کرتے ہوئے انسانی فضیلت کے نقوش اجاگر کرتا ہے۔اقبال نے ان نقوش کی درخشندگی و تابندگی کے لیے ان اقدار حیات کی پابندی کو لازمی قرار دیا ہے جن سے معاشرہ میں محبت ، اخوت اور اتحاد و یگانگت کی روایت کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔اقبال کا سرمایۂ کلام اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ اس روئے زمین پر آمد آدم کو اس عظیم مقصد کی تعبیر تصور کرتے تھے جو اس دنیا کی زینت و زیبائش سے وابستہ ہے۔یہ ضرور ہے کہ وہ اس زینت و زیبائش کے لیے کارزار حیات کے ان دشوار گزار مرحلوں سے گزرنے کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں جن سے خود شناسی و خداشناسی تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ اقبال نے اپنی شاعری میں خودی کے جس تصور کی ترجمانی کی ہے وہ دراصل ان دشوار گزار مرحلوں سے سرخرو گزرنے میں نوع انساں کی معاونت کرتا ہے اور اس سے حوصلہ و تقویت حاصل کرنے کے بعد انسان کی عظمت و رفعت اوجِ ثریا سے ہمکنار نظر آتی ہے۔اقبال نے انسانی تہذیب و تمدن کا جو تصور اپنی شاعری میں پیش کیا ہے اس میں ان عارضی مفاہمتوں اور سیاسی مصلحتوں کا گزر نہیں جو بنام ارتقا انسانوں کے ذریعہ انسانوں کے ہی استحصال کو روا رکھنے کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ان کے نزدیک جدید دنیا کے مسائل کی ایک وجہ وہ نام نہاد تہذیبی ارتقا کا مفروضہ ہے جس نے نوع انساں کے افکار و افعال میں انتشار و خلفشار برپا کر دیا ہے اور اس اضطراب آمیز کیفیت کو اس مادی ترقی نے دو چند کرد یا ہے جس کے سبب انسانی اخلاقیات سے صالح عناصر عنقا ہوتے جا رہے ہیں۔ اقبال کی انسان شناسی ان کے اس مخصوص نظام فکر کی مرہون ہے جس کی اساس اسلام کی انسانیت نواز تعلیمات ہیں۔اقبال کی شاعرانہ عظمت کی ایک دلیل یہ بھی ہے کہ وہ اپنے دور کے مسائل و معاملات پر گہری نظر رکھنے کے ساتھ ہی آئندہ کے انسانی سماج کو درپیش ممکنہ مسائل سے کماحقہ واقفیت رکھتے تھے۔چونکہ ان کی شخصیت شاعر اور مفکر کے مرکب سے تعمیر ہوئی تھی لہٰذا ان کی فکر میں ایسی آفافیت و ہمہ گیریت کا ہونا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے۔
عظمت انسانی کے بنیادی موضوع کی ترجمانی میں اقبال نے جن دیگر ضمنی موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے ان کی سیاسی ، معاشرتی اور معاشی تعبیر میں ان کے نقطۂ نظر سے اختلاف کے امکان کو سر دست مسترد نہیں کیا جا سکتا بلکہ یہ امکان اس وقت مزید قوی ہو جاتا ہے جبکہ معاصر انسانی معاشرہ میں جدید تعلیمی افکار کے سبب مذہبی اقدار پر انسانی ذہن کی اس یلغار سے متاثر ہو کر کلام اقبال کا مطالعہ کیا جائے جو کہ مذہبی تعلیمات و احکامات کو انسانی ارتقا کے لیے غیر مفید تصور کرتا ہے۔اس کے باوجود کلام اقبال کی مقبولیت کا ایک بڑا راز یہ ہے کہ ہر مکتب فکر سے وابستہ افراد کو اس میں اپنی تسکین قلب کا سامان ملتا ہے اور اگر نظریاتی سطح پر اختلاف کے باوصف اقبال کی شاعری اپنے اندر ایسی جاذبیت و تاثیر رکھتی ہے تو اس کا واحد سبب یہ ہے کہ اس میں عظمت انسانی کی ترجمانی انتہائی دل پذیر اور موثر انداز میں کی گئی ہے۔
*****

Allama Iqbal aur Hubbulwatni by Dr. Ahmad Ali Johar

Articles

علامہ اقبال اور حب الوطنی

ڈاکٹر احمد علی جوہر

علامہ اقبال دنیا کے نابغہ روزگار شاعر ہیں۔ ان کا کلام شعری جمالیات کا مرقع ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دلوں کی آواز ہے۔ اس عظیم المرتبت شاعر کی پیدائش بروز جمعہ، ۹/نومبر ۱۸۷۷ء کو سیالکوٹ میں ہوئی۔ علامہ اقبال کے مورث اعلی کشمیری برہمن تھے جو علم و دانش میں یگانہ عصر تھے۔ ان کے والد کا نام شیخ نور محمد اور والدہ کا نام امام بی بی تھا۔ والدہ مذہبی اور خداترس خاتون تھیں اور والد غیرمعمولی صوفی بزرگ تھے۔ اس طرح تصوف اور شریعت دونوں نے اقبال کی ابتدائی زندگی میں ان کی کردارسازی میں اہم رول ادا کیا تھا۔
علامہ اقبال نے ابتدائی تعلیم مولانا میرحسن صاحب کی درسگاہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد وہ اسکاچ مشن ہائی اسکول سیالکوٹ میں داخل کرائے گئے جہاں انھوں نے ایف۔اے تک کی تعلیم مکمل کی۔ علامہ اقبال نے ۱۸۹۷ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن اور ۱۸۹۹ء میں ایم۔اے امتیازی نمبروں سے پاس کیا۔ اس کالج میں پروفیسر تھامس آرنلڈ نے انھیں فلسفہ پڑھایا جن سے وہ بے حد متاثر ہوئے۔ ایم۔اے کے بعد کچھ دنوں تک علامہ اقبال نے اورینٹل کالج لاہور اور گورنمنٹ کالج لاہور میں عربی اور فلسفہ کے شعبہ میں تدریسی خدمات انجام دیں۔
۱۹۰۵ء میں علامہ اقبال اعلی تعلیم کے حصول کے لیے یورپ کے سفر پہ روانہ ہوئے۔ یورپ میں انھوں نے ٹرینٹی کالج سے فلسفہ کی ڈگری، کیمبرج یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری اور جرمنی کی میونخ یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی۔ ٹرینٹی کالج میں علامہ اقبال کے استاد پروفیسر آرنلڈ، پروفیسر میکٹگرٹ، پروفیسر براؤن اور پروفیسر نکلسن تھے۔ ان اساتذہ نے انھیں کافی متاثر کیا۔ ۱۹۰۸ء میں علامہ اقبال اپنے وطن ہندوستان واپس آئے۔ ۱۹۳۴ء تک وہ وکالت سے منسلک رہے۔ ۱۹۲۳ء میں انگریز حکومت نے ان کو’سر‘ کا خطاب عطا کیا۔ ۱۹۲۶ء میں وہ پنجاب قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے۔ ۱۹۳۵ء میں پنجاب یونیورسٹی نے انھیں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا۔ دنیا کے اس عظیم شاعر نے بروز جمعرات، ۲۱/اپریل ۱۹۳۸ء کو اپنی زندگی کی آخری سانس لی۔
علامہ اقبال ایک بڑے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ بلند پایہ سماجی مفکر و دانشور اور فلسفی تھے۔ ان کی فلسفیانہ اور سماجی شخصیت کی تعمیر میں اسلامی تاریخ و تہذیب اور مشرقی و مغربی علوم و فنون کے مطالعہ نے اہم کردار ادا کیا تھا۔ علامہ اقبال مشرق و مغرب دونوں سے متاثر تھے۔ مولانا جلال الدین رومیؔ کی متصوفانہ شخصیت اور ان کی فکر و نظر نے ان کے ذہن و قلب کو شدید طور پر متاثر کیا تھا۔ رومیؔ کے علاوہ جن اسلامی مفکروں، درویشوں اور علماء و حکماء سے علامہ اقبال متاثر ہوئے تھے، ان میں بابا طاہر عریاں، محی الدین ابن عربی، ابن طفیل، فخرالدین رازی، امام غزالی، محمود وشستری، ابن خلدون، شاہ ولی اللہ، شیخ احمد سرہندی، مجدد الف ثانی، قاضی ابوبکر باقلانی، علی پاشا، حلیم ثابت، ابن مسکویہ اور البیرونی وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ علامہ اقبال کو اپنے ہم عصر مغربی فلسفیوں میں برگساں، ولیم جیمس، نطشے، گوئٹے، میکٹگرٹ، ہالڈن، شوپنہار، آئنسٹائن، وہائٹ ہیڈ اور برٹرنڈ رسل کے نظریات و تصورات نے بھی بے حد متاثر کیا تھا۔ علامہ اقبال کے سیاسی تصورات پر قدیم یونانی مفکرین اور جدید مغربی مفکرین علی الخصوص ارسطو، ہابس، لاک اور روسو کے اثرات کی جھلک بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ ان کے سماجی تصورات کی رو ابن خلدون کے فکری دھاروں سے مل جاتی ہے۔
علامہ اقبال ایسے شاعر ہیں جو صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں بقول اقبالؔ :
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
علامہ اقبال کی شاعری کا دائرہ انتہائی وسیع ہے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے ذریعے ہر بزم و انجمن کو اپنی جانب متوجہ کیا اور بچے، بوڑھے، مرد و عورت، غرض ہر طبقے کو متاثر کیا۔ آج بھی ان کا کلام زبان زدِ خواص و عوام ہے۔ علامہ اقبال اعلی اخلاقی قدروں اور انسانی عظمتوں کے شاعر ہیں۔ ان کی شاعری کے گوناگوں پہلو ہیں۔ ان متنوع پہلوؤں میں ان کی شاعری کا ایک تابناک پہلو ان کی حب الوطنی ہے۔ علامہ اقبال ایک سچّے اور پکّے محبّ وطن شاعر تھے۔ وہ مذہبی رواداری کے پُرزور حامی اور ہندوستانی فلاسفروں اور سنتوں کے مدح خواں تھے۔ انھوں نے اپنی شاعری کے شروعاتی دور میں چند بہت ہی متاثرکن اور جذبہ حب الوطنی سے بھرپور نظمیں لکھیں۔ ایسی نظموں میں ’’ہمالہ‘‘، ’’ترانہ ہندی‘‘، ’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘، اور ’’نیاشوالہ‘‘ وغیرہ قابل ذکر ہیں۔ نظم’’ہمالہ‘‘ میں شاعر علامہ اقبال نے ہندوستان کی قدیم تہذیب، اس کے دلفریب مناظر اور اس کی عظمت رفتہ کا گن گایا ہے۔
اے ہمالہ!اے فصیلِ کشورِ ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں
’’ترانہ ہندی‘‘ علامہ اقبال کی وطن پرستانہ شاعری کا اعلی ترین نمونہ ہے۔ اس نظم سے مادرِ وطن سے ان کی شدید محبت کا بہت ہی پرتاثیر اظہار ہوتا ہے
سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمار
ہم بلبلیں ہیں اس کی یہ گلستاں ہمارا
غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں
سمجھو وہیں ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا
اس نظم میں علامہ اقبال نے مذہبی ہم آہنگی اور قومی اتحاد کا نغمہ یوں گایا ہے۔
مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا
ہندی ہیں ہم، وطن ہے ہندوستاں ہمارا
مہاتما گاندھی نے ایک خط میں ’’ترانہ ہندی‘‘ کی تعریف اس طرح کی تھی۔
’’جب ان (اقبال) کی مشہور نظم ’ہندوستاں ہمارا‘ پڑھی تو میرا دل بھر آیا اور بڑودا جیل میں تو سینکڑوں بار میں نے اس نظم کو گایا ہوگا۔ اس نظم کے الفاظ مجھے بہت ہی میٹھے لگے اور یہ خط لکھتا ہوں تب بھی وہ نظم میرے کانوں میں گونج رہی ہے‘‘۔
ایک موقع پر مہاتما گاندھی نے ’’ترانہ ہندی‘‘ کی زبان کو ہندوستان کی قومی زبان کا نمونہ قرار دیا تھا۔ وہ لکھتے ہیں۔
’’کون ایسا ہندوستانی دل ہے جو اقبالؔ کا ’ہندوستاں ہمارا‘ سن کر دھڑکنے نہیں لگتا اور اگر کوئی ایسا دل ہے تو میں اسے اس کی بدنصیبی سمجھوں گا۔ اقبالؔ کے اس ترانے کی زبان ہندی یا ہندوستانی ہے؟ یا اردو ہے؟ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ ہندوستان کی قومی زبان نہیں ہے‘‘۔
’’ہندوستانی بچوں کا قومی گیت‘‘ علامہ اقبال کی ایسی نظم ہے جس میں حب وطن کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ اس میں علامہ اقبال نے ملک کی وحدت اور یکجہتی کا گیت گایا ہے۔
چشتی نے جس زمیں میں پیغام حق سُنایا
نانک نے جس چمن میں وحدت کا گیت گایا
اس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے وطن ہندوستان کے اوصاف اور اس کی عظمت کو بڑے دلآویز انداز میں نمایاں کیا ہے۔ حب الوطنی کے حوالے سے ’’نیاشوالہ‘‘ علامہ اقبال کی انتہائی معروف اور موثر نظم ہے جس میں حب وطن کے جذبہ کا اظہار بہت ہی پُرتاثیر انداز میں ہوا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال ہندوؤں اور مسلمانوں، دونوں کی آپسی رنجش اور مذہبی اختلافات کو تج کر، باہمی اتحاد و اتفاق اور یگانگت کے ساتھ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔
سچ کہہ دوں اے برہمن! گر تو بُرا نہ مانے
تیرے صنم کدوں کے بت ہوگئے پُرانے
اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بُتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
دراصل جب ہندوستان کی آزادی کی تحریک چل رہی تھی تو انگریز ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان مذہبی اختلافات پیدا کرکے انھیں آپس میں لڑا رہے تھے۔ ہندوستانیوں کے یہ آپسی جھگڑے حصولِ آزادی کی راہ میں بہت بڑی رکاوٹ ثابت ہورہے تھے جس سے علامہ اقبال بے حد متردد تھے۔ اس دیر و حرم کے جھگڑوں سے تنگ آکر علامہ اقبال ایک ایسے شوالے کی بنیاد رکھنا چاہتے تھے جس میں دیروحرم کا کوئی امتیاز باقی نہ ہو۔
تنگ آکے میں نے آخر دیر و حرم کو چھوڑا
واعظ کا وعظ چھوڑا، چھوڑے ترے فسانے
سونی پڑی ہوئی ہے مدّت سے دل کی بستی
آ، اک نیا شوالہ اس دیس میں بنا دیں
اس نظم میں علامہ اقبال وطن کی محبت میں اس درجہ سرشار نظر آتے ہیں کہ انہیں خاکِ وطن کا ہر ذرہ دیوتا نظر آتا ہے۔
پتھر کی مورتوں میں سمجھا ہے تو خدا ہے
خاکِ وطن کا مجھ کو، ہر ذرہ دیوتا ہے
اس نظم کا خلوص اور اس کا جوش آج بھی اردو زبان میں وطنی شاعری کا بلند ترین نقطہ ہے۔ اس نظم کے بارے میں پروفیسر یوسف سلیم چشتی لکھتے ہیں:
’’شاعری کے اعتبار سے یہ نظم اقبالؔ کے دورِ وطن پرستی کا بہترین نمونہ ہے۔ …. شاعر نے وطن کی عظمت کا نقش دلوں پر قائم کرنے کے لیے اپنی تمام شاعرانہ قوتوں کو صرف کردیا ہے۔ اکثر ناقدین اقبالؔ کا خیال ہے کہ ہندو مسلم اتحاد پر یہ اقبالؔ کی بہترین نظم ہے‘‘۔ (۱)
علامہ اقبال کے حب وطن کے شدیدجذبہ کو ’’بچوں کی دعا‘‘، ’’صدائے درد‘‘ اور ’’تصویر درد‘‘ جیسی نظموں میں بھی محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نظم ’’بچوں کی دعا‘‘ میں علامہ اقبال نے اپنے وطن ہندوستان کے سجنے سنورنے اور اس میں پھول کی طرح سے زندگی گزارنے کی تمنا کی ہے۔
ہو مرے دم سے یوں ہی مرے وطن کی زینت
جس طرح پھول سے ہوتی ہے چمن کی زینت
نظم ’’صدائے درد’’ میں علامہ اقبال اپنے وطن عزیزمیں رونما ہونے والے مسلسل فرقہ وارانہ اختلافات پر مضطرب و بے چین ہیں۔
جل رہا ہوں، کل نہیں پڑتی کسی پہلو مجھے
ہاں ڈبو دے، اے محیطِ آبِ گنگا تو مجھے
نظم ’’تصویرِ درد‘‘ دراصل وطن ہندوستان کے درد و غم کی تصویر ہے۔ اس نظم میں وطن کی جڑوں کو کھوکھلا کرنے والے عناصر جیسے ہندوستانی قوموں کے درمیان باہمی نفاق و آویزش،افتراق و انتشار، تنگ نظری و تنگ دلی اور بدگمانی کا تذکرہ بڑا ہی غمناک ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے اپنے وقت میں وطن کی موجودہ صورت حال کی اندوہناک تصویر اس دردناک انداز میں پیش کی تھی۔
رُلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے ترا فسانہ سب فسانوں میں
اور حال کے آئینے میں مستقبل کے اندیشے کی پیشین گوئی اس طرح کی تھی۔
نہ سمجھوگے تو مٹ جاؤگے اے ہندوستاں والو!
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں
ان دونوں نظموں کے ذریعے علامہ اقبال اہل وطن کو فرقہ پرستی، تعصب و تنگ نظری اور شقاوت و سنگ دلی سے دور رہنے کی تلقین کرتے ہیں اور قومی اتحاد اور باہمی محبت پر زور دیتے ہیں۔ علامہ اقبال چاہتے ہیں کہ اہلِ وطن اپنی عظمتوں کے شناسا ہوں، فکر میں بلندی پیدا کریں، ذہنی پستی کے قعر سے نکلیں اور اعلیٰ انسانی اقدار کے حامل ہوں۔ علامہ اقبال کی یہ ابتدائی نظمیں حب الوطنی کے جذبہ سے لبریز ہیں۔ مولانا صلاح الدین احمد علامہ اقبال کے ابتدائی دور کی شاعری کے تعلق سے رقم طراز ہیں:
’’ جب ہم اقبالؔ کی ابتدائی شاعری کا جائزہ لیتے ہیں تو قدرت اور عورت کے حسن کی پرستش کے بعد جو جذبہ سب سے پہلے نظر آتا ہے وہ وطن کی پرستش ہے‘‘۔
علامہ اقبال نے اپنی ان نظموں کے ذریعے جذبۂ حب الوطنی کو فروغ دیا جس سے آزادی کی قومی جدوجہد کو بڑی تقویت حاصل ہوئی۔ علامہ اقبال نے کبھی وطن کی محبت کے جذبے کو فراموش نہیں کیا۔ ان کے دورِ آخر کے کلام میں بھی حب الوطنی کا گہرا رنگ موجود ہے۔ ’’جاویدنامہ‘‘ ۱۹۳۲ء میں شائع ہواہے۔ اس میں بھی جذبۂ حب الوطنی کا خوبصورت اظہار ملتا ہے۔ اس نظم میں علامہ اقبال نے ہندوستانی سنت وشوامتر کو بڑے احترام سے یاد کیا ہے۔ اس میں انھوں نے ہندوستان کی روح کا خوبصورت روپ بھی بیان کیا ہے لیکن اس کی غلامی پر آنسو بھی بہایا ہے۔ اس نالہ و شیون علامہ اقبال کے قوت جگر کی جھلک صاف نظر آتی ہے۔ ’ضربِ کلیم‘ میں دو نظمیں ’’گلہ‘‘ اور ’’شعاعِ امید‘‘ ہیں۔ دیکھئے ان میں وطن کی محبت کے لئے علامہ اقبال کا دل کس طرح دھڑک رہا ہے۔
معلوم کسے ہند کی تقدیر کہ اب تک
بیچارہ کسی تاج کا تابندہ نگیں ہے
جاں بھی گروِ غیر، بدن بھی گروِ غیر
افسوس کہ باقی نہ مکاں ہے، نہ مکیں ہے
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضا کو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
’ارمغانِ حجاز‘ میں بھی وطن کی محبت اور اس کو آزاد دیکھنے کی خواہش کا اظہار موجود ہے۔
شبِ ہندی غلاماں را سحر نیست
بایں خاک آفتابے را گذر نیست
(ہندی غلاموں کی شب تاریک سحر آشنا نہیں ہے، گویا اس سرزمین پر آفتاب کا گذر ہی نہیں ہوتا۔ وطن کی غلامی سے علامہ اقبال کس قدر نالاں ہیں، یہ شعر اسی باطنی کرب کی عکاسی کرتا ہے۔ علامہ اقبال کو اپنے وطن سے اس قدر گہرا لگاؤ اور شدید محبت ہے کہ انھوں نے یہاں کی مقدس و برگزیدہ ہستیوں کو بڑی عقیدت و محبت سے یاد کیا ہے۔ دیکھئے انھوں نے ’رام‘ کو کس جوشِ عقیدت سے یاد کیا ہے۔
ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز
اہلِ نظر سمجھتے ہیں اس کو امامِ ہند
گرونانک کو یوں خراجِ عقیدت پیش کیا ہے۔
پھر اٹھی آخر صدا توحید کی پنجاب سے
ہند کو اک مردِ کامل نے جگایا خواب سے
ان کے علاوہ علامہ اقبال نے سوامی رام تیرتھ، شنکرآچاریہ، بھرتری ہری، شیو، گوتم بدھ اور عارفِ ہندی کا تذکرہ بڑے احترام اور عقیدت و محبت سے کیا ہے جو علامہ اقبال کے وطن سے گہری محبت کی دلیل ہے۔ معروف شاعر علی سردار جعفری علامہ اقبال کی حب الوطنی پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’اقبال کے یہاں حب الوطنی ایمان کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کی شاعری میں سامراج دشمنی کی لَے شعلہ نوائی کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ہندوستان کی آزادی کا جذبہ خونِ بہار کی طرح ان کے اشعار میں رواں دواں ہے‘‘۔ (۲)
علامہ اقبال کے اشعار میں حب الوطنی کے جذبے کا اظہار بہت ہی خوبصورت اور موثر انداز میں ہوا ہے۔ علامہ اقبال کے کلام میں حب الوطنی کا جذبہ جس طرح پایا جاتا ہے، اس معاملہ میں ہندوستان کے بہت ہی کم شاعر ان کے مقابل نظر آتے ہیں۔ علامہ اقبال کا کلام آج بھی ہمیں انسانیت اور حب الوطنی کے مقدس جذبے کا درس دیتا ہے اور ہمارے جذبہ حب وطن کو تحریک دیتا ہے۔
***
(۱) پروفیسر یوسف سلیم چشتی، شرحِ بانگِ درا، ص:۳۱۹۔
(۲) علی سردار جعفری، اقبال شناسی، مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی، ۱۹۷۶ء، ص:۱۱

Iqbal ki Ghazal Goey ki Chan Infaradi Pahloo by Roshni Khan

Articles

اقبال کی غزل گوئی کے چند انفرادی پہلو

روشنی خان

اردوغزل پر حالی کی سخت ترین تنقید کے باوجود اس صنف کا نہ تو مملکت شعر سے دیس نکالا ہوسکا اور نہ ہی شائقین ادب کے درمیان اس کی مقبولیت میں کمی آئی۔اردو کی شعری روایت میں بارہا ہدف ملامت بننے کے باوجود یہ صنف آج بھی نہ صرف اپنی جلوہ سامانی سے ایوان شاعری کو درخشندگی عطا کر رہی ہے بلکہ بعض حیثیتوں سے یہ دنیا کی ان زبانوں کی شاعری کے مابین امتیازی شان کی حامل ہے جن کا حوالہ دینے کا رواج اردو تنقید میں ایک فیشن کے طور پر رائج ہو چکا ہے۔اردو غزل کا تخلیقی سفر جن مراحل سے گزر کر عصر حاضر تک پہنچا ہے اس میں ایک طبقہ ان شعرا کا ہے جو غزل کے روایتی مضمون کے اسیر رہے اور فکر و خیال کی سطح پر کسی جدت کو برتنے سے اجتناب کرتے رہے۔ایسے شاعروں کو بجا طور پر حالی کی زبان میں اسلاف کے چبائے ہوئے نوالوں کی جگالی کرنے والے شعرا کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی غزل کی دنیا میں ایسے شاعر بھی نظر آتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے اس صنف کو موضوع و معنی کے نئے جہانوں سے متعارف کرایا۔ اقبال کا شمار بھی اردو کے ایسے غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جن کی غزلیں اسلوب بیان اور مضمون کی تازہ کاری کی نمایاں مثال ہیں۔ اقبال کی مشق سخن کا آغاز غزل کے ذریعہ ہوا اور ان کی شاعری کا تدریجی ارتقا اس حقیقت کی وضاحت کرتا ہے کہ ابتدا میں روایتی طرز کو اختیار کرنے والا یہ شاعر غزل کو وہ نیا آہنگ عطا کرتا ہے جو آج تک صرف اس سے ہی مخصوص ہے۔ اقبال کی ابتدائی دور کی غزلوں میں زبان اور مضمون پر اردو غزل کے اس روایتی انداز کا پرتو صاف نظر آتا ہے جسے امیر اور داغ نے اپنے دور میں مقبولیت عطا کی تھی۔بانگ درا میں شامل بیشتر غزلوں میں شاعری کے اسی رنگ کو دیکھا جا سکتا ہے تاہم اس کے بعد بال جبریل کی اشاعت ہوئی تو اہل نقد و نظر نے یہ تسلیم کیا کہ اقبال نے غزل کو نئے تخلیقی امکانات سے روشناس کرنے میں اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو اس طور سے استعمال کیا ہے کہ غزل کو عرض مدعا کی تنگ دامانی کے الزام سے بری کر دیا۔
اقبال کی شاعرانہ عظمت جن حوالوں سے ترتیب پاتی ہے ان میں ایک حوالہ اردو غزل کو نئی تخلیقی جہت عطا کرنے کا بھی ہے۔وہ شاعری کو حیات و کائنات کے متعلق ایک خاص نصب العین کے اظہار کا وسیلہ سمجھتے ہیں اور اس اظہار میں اس سلیقہ مندی کو ملحوظ رکھنے کی کوشش پر بھی خاص توجہ رہی جس کے بغیر شاعری کو فنی اعتبار و وقار حاصل نہیں ہوپاتا۔اپنے اس تخلیقی رویہ کا اظہار انھوں نے کچھ اس طور سے کیا ہے
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرف تمنا جسے کہہ نہ سکے روبرو
اقبال شاعری میں برہنہ گفتاری کو مستحسن نہیں سمجھتے تھے بلکہ اس فن سے وابستہ ان تقاضوں کی تکمیل بھی ان کے پیش نظر تھی جو شاعری کو فن کا مرتبہ عطا کرتی ہے۔ بانگ درا کی غزلوں میں واردات قلب و نظر کی ترجمانی جس روایتی پیرائے میں ہوئی اس میں معاصر شعری ماحول سے اثر پذیری کا انداز نمایاں ہے لیکن اس کے بعد کی غزل کا ارتقائی سفر جن منزلوں سے ہمکنار ہوا وہ ان کی ریاضت فن کا ثبوت فراہم کرتا ہے ۔ ان کی شاعری اور شخصیت کا سرسری مطالعہ بھی اس حقیقت کو واضح کر دیتا ہے کہ وہ زندگی میں تقلید و جمود کی بجائے اجتہاد اور حرکت و عمل کو ترجیح دیتے تھے اور اس سلسلہ میں ان کا مطمح نظر خوب سے خوب تر کی تلاش کے رویہ کی عکاسی کرتا ہے۔ انھوں نے بڑے واضح طور پر کہا کہ :
تقلید کی روش سے تو بہتر ہے خودکشی
رستہ بھی ڈھونڈ، خضر کا سودابھی چھوڑ دے
اس شعر کو اگر اردو غزل کے تخلیقی مزاج کے سیاق میں دیکھا جائے تو کہا جا سکتا ہے کہ تقلید کو خود کشی کے مترادف قرار دے کر اگر ایسے اجتہادی اقدام کیے جائیں جو غزل کی تہذیب سے یکسر مختلف ہوں تو شاعر غزل کے فارم میں جو کچھ بھی پیش کرے گا وہ سب کا سب فنی معیار پر پورا اترے، اس کا دعویٰ بہرحال نہیں کیا جا سکتا۔ اقبال کے ساتھ بھی کسی حد تک یہ معاملہ ضرور ہا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب اہل زبان نے ان کی غزلوں میں زبان کے استعمال پر اعتراض کیے تو انھوں نے بڑی انکساری سے یہ اعتراف کر لیا کہ وہ شاعری سے زیادہ اپنے اس پیغام کی ترسیل کو فوقیت دیتے ہیں جو خواب آلود ذہنوں میں بیداری کی رمق پیدا کر سکے۔جب شاعری کسی بڑے مقصد کے تحت تخلیقی شاہراہ پر محو سفر ہوتی ہے تو اس طرح کے مراحل کا درپیش آنا فطری بات ہے۔لیکن اقبال کے فراہم کردہ اس جواز کی بنیاد پر ان کی غزلوں کو فنی معیار سے یکسر خارج بھی نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ اگر ایک طرف وہ اپنے پیغام کی ترسیل سے کوئی مفاہمت کرنے کو تیار نہ تھے تو دوسری جانب انھوں نے غزل میں برہنہ گفتاری سے بھی حتیٰ الامکان گریز کیا ہے۔انھوں نے اردو غزل کی روایتی زبان کو نئے معنوی جہات سے روشناس کیا اور بعض فرسودہ موضوعات کو بالکل نئے انداز میں نظم کر کے غزل کے تخلیقی کینوس کو وسعت عطا کی۔
بانگ درا کے بعد بال جبریل کی غزلوں میں اقبال کا وہ اجتہادی رنگ پورے آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوا جس نے اردو غزل کے روایتی حصار کو توڑ کر اس کے لیے نئے تخلیقی امکانات کے آثار پیدا کیے۔اقبال کی غزل گوئی کے اس ارتقائی سفر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروفیسر شمیم حنفی نے لکھا ہے:
’’اقبال کی غزل نے جس ذائقے کا احساس دلایا تھا بال جبریل کی غزلوں تک پہنچتے پہنچتے ایک واضح شکل اختیار کر لیتا ہے چنانچہ اس
دور کی غزلیں ان کی نظم کے مزاج سے زیادہ قریب ہیں ۔ یہ دور اقبال کے فکری اور تخلیقی تنوع کا دور ہے کہ اب اقبال اپنی ادبی روایت
کے امکانات کی تسخیر کے بعد بہ ذات خود شعر کی ایک نئی روایت کا سرچشمہ بن چکے تھے۔‘‘
(اقبال اور عصر حاضر کا خرابہ ، شمیم حنفی صفحہ ۹۹؍ غالب اکیڈمی نئی دہلی، ۲۰۱۰ء)
پروفیسر شمیم حنفی نے اقبال کی غزل گوئی کے حوالے سے جس تخلیقی رویہ کی طرف اشارہ کیا ہے اس کا اعتراف کم و بیش ہر شارح ادب نے کیا ہے۔اقبال کے یہاں شعر کی اس نئی روایت کا معاملہ کچھ ایسا بھی نہیں ہے کہ انھوں نے غزل کی تہذیب کو بالکل ہی نظر انداز کر دیا ہو اور اس صنف کو برتنے میں ان فنی لوازم کا لحاظ ہی نہ رکھا ہو جو غزل کو غزل بناتے ہیں۔انھوں نے اپنے مخصوص پیغام کے اظہار کے لیے غزل کا فارم اختیار کرتے ہوئے اس کے فنکارانہ لوازم کی پاسداری کو بھی ملحوظ رکھا۔ غزل کے تخلیقی مزاج میں رمز و ایما کی کارفرمائی نہ صرف یہ کہ شعر کو صوتی حسن عطا کرتی ہے بلکہ فکری سطح پر کئی جہات سے ہمکنار کرتی ہے۔اقبال کی غزلوں میں بھی اس فنی رویہ کو بہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے لیکن اس التزام کے ساتھ کہ مضمون کی جدت بھی آشکار ہو اور غزل کے فنی تقاضوں کی تکمیل پر بھی کوئی حرف نہ آئے۔ انھوں نے غزل کی روایتی لفظیات کو معنی و مفہوم کا نیا پیکر عطا کیا اس لیے ان کی غزلوں میں استعمال ہونے والی زبان کو روایتی پس منظر میں دیکھنے سے یہ غلط فہمی پیدا ہو سکتی ہے کہ ان کے یہاں بھی بیشتر وہی باتیں دہرائی گئی ہیں جن کو اسلاف بارہا غزل میں بیان کر چکے ہیں۔اس سلسلے کی سب سے نمایاں مثال عشق کے مضمون کو برتنے کے حوالے سے دی جا سکتی ہے ۔ اقبال کی غزلوں میں جس عشق کا بیان ہے وہ ماقبل شعرا کے اس عشق سے یکسر مختلف ہے جو انسان کو محرومی و یاسیت کی فضاوں کا اسیر بنا دیتا ہے اور وہ کارزار حیات میں نبرد آزما ہونے کی بجائے گوشہ نشینی کو اپنا شیوہ بنا لیتا ہے۔انھوں نے اردو غزل کے روایتی عشق کے تصور کو نئے رنگ میں پیش کیا ہے اور اسے زندگی کی کامرانی و فتح مندی کا موثر وسیلہ قرار دیا بلکہ اس سے بھی آگے یہ تسخیر کائنات کا جوش و ولولہ پیدا کرنے میں ایک اہم محرک کے طور پر اقبال کی غزلوں میں نظر آتا ہے۔ اقبال کے نظام فکر میں عشق کی عقل پر جو فوقیت نظر آتی ہے وہ اس کی واضح دلیل ہے کہ جب جذب�ۂ عشق سے سرشار انسان زندگی کی راہوں پر گامزن ہوتا ہے تو کامیابی و کامرانی کا ایک لامتناہی سلسلہ اس کا استقبال کرتا ہے۔بال جبریل کی غزلوں میں جس عشق کی ترجمانی کی گئی ہے وہ دراصل یہی عشق ہے جو انسان کو بے خطر آتش نمرود میں کود پڑنے کی تحریک و ترغیب عطا کرتا ہے:
عشق سے پیدا نوائے زندگی میں زیر و بم
عشق سے مٹی کی تصویروں میں سوز دم بہ دم
آدمی کے ریشے ریشے میں سما جاتا ہے عشق
شاخ گل میں جس طرح باد سحر گاہی کا نم
عشق کی ایک جست نے کر دیا قصہ تمام
اس زمین و آسماں کو بے کراں سمجھا تھا میں
عشق کے تصور کو نئے معنی و مفہوم سے روشناس کرانے میں اقبال نے تاریخ و تہذیب کے ان حوالوں سے استفادہ کیا ہے جو انسانی فضیلت کا نشان امتیاز ہیں۔ اقبال کی غزلوں میں عشق کو جو مرکزی مقام حاصل ہے وہ ایسی انسانی فضیلت کے اظہار کا وسیلہ ہے جس کی بنا پر وہ مسجود ملائک رہا ہے۔اس عشق سے بہرہ ور ہونے کے بعد حیات کو وہ جاودانی حاصل ہوتی ہے کہ جسے وقت کی گردش بھی مضمحل نہیں پاتی۔
عشق کے علاوہ خودی کا تصور بھی اقبال کے شعری نظام میں اہمیت کا حامل ہے۔اقبال سے قبل اردو شاعری میں اس تصور کوبیشتر منفی معنوں میں استعمال کیا گیا اور بیشتر شاعروں نے خود ی کو تکبر و انانیت کا ہم معنی قراردیا لیکن اقبال نے اسے زندگی کی ایسی مثبت قدر کے طور پر پیش کیا ہے جو انسانی صفات کو جلا بخشتی ہے اور جس کے بغیر زندگی کا کارواں منزل مقصود تک پہنچنے میں سرخرو نہیں ہو پاتا۔اقبال نے خودی کو ایک باقاعدہ فلسف�ۂ حیات کے طور پر اپنی شاعری میں برتا ہے اور ان کی غزلوں میں اس قبیل کے اشعار جا بجا نظر آتے ہیں جن میں اس فلسفہ کی ترجمانی مختلف حوالوں اور سیاق کے ساتھ ہوتی ہے:
حیات کیا ہے؟ خیال و نظر کی مجذوبی
خودی کی موت ہے اندیشہ ہائے گوناں گوں
اقبال نے خودی کے اس فلسفہ کے ذریعہ وحد ت الوجود کے اس نظریہ کی تردید کی جو انسان کو تقدیر کا محکوم بناتا ہے جس کے سبب بے عملی اور مسائل حیات کے روبرو سپر اندازی کا رویہ اس کی شخصیت کا جزو بن جاتا ہے۔اقبال کی غزلوں میں خودی کا تصور اس حرکی قوت کا استعارہ ہے جو مشت خاک کو آسمانوں کی سیر کرنے اور ستاروں پر کمندیں ڈالنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔اگر چہ اس تصور کی بسیط ترجمانی بیشتر ان کی نظموں میں ہوئی ہے لیکن غزلوں میں بھی اکثر ایسے اشعار نظر آتے ہیں جن میں اس تصور کو انسانی فضیلت کے سیاق میں پیش کیا گیا ہے۔اقبال کی خودی کا تصور تو اس قدر بلند و بالا ہے کہ جس نے آدم کو فرشتوں سے بھی آگے لے جا کر خدا کے روبرو سوال و جواب کے لائق بنادیا۔جنت سے نکالے جانے کے واقعے کو سزا نہیں بلکہ جزا تصور کرتے ہوئے خدا کو بھی انتظار کراتا ہے لیکن یہ گفتگو اور لہجے کی بیباکی غیر مہذب یاطبیعت پر گراں نہیں گزرتی۔مثلاً:
باغ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار کر
تونے یہ کیا غضب کیا مجھ کو بھی فاش کر دیا
میں ہی تو ایک راز تھا سین�ۂ کائنات میں
ہوئی نہ عام جہاں میں کبھی حکومت عشق
سبب یہ ہے کہ محبت زمانہ ساز نہیں
اقبال کی غزلوں میں مضامین کی جدت و ندرت ان کے اس نظام فکر کو آشکار کرتی ہے جس میں حیات و کائنات کے متعلق ایک واضح تصور ملتا ہے اور اس تصور میں اگر کوئی چیز شرف و فضیلت کی حامل ہے تو وہ عظمت انسانی ہے ۔ایسا نہیں کہ اقبال سے قبل اردو غزل کا دامن اس قسم کے موضوع سے یکسر خالی رہا ہو لیکن جن شعرا کے یہاں اس قسم کے موضوعات ملتے ہیں ان کے یہاں حیات و کائنات کے متعلق ایسا واضح فکری نظام اکثر مفقود رہا ہے۔اردو غزل کے طرز بیان کو کسی حد تک کلاسیکی شعری روایت سے مربوط رکھتے ہوئے اقبال نے موضوعی اعتبار سے اس کے خزینہ میں جو اضافہ کیا وہ ان کی فنکارانہ انفرادیت کو واضح کرتا ہے۔
اقبال کی شاعری حیات و کائنات کا احاطہ کرتی ہے جس میں ایسی ہمہ گیری ہے جو حب الوطنی کے جذبات سے ہم وطنوں کو گرماتی ہے تو فلسف�ۂ خودی دے کر ایک مردہ قوم میں نئی جان پھونکنے اور عقل و منطق کے ساتھ ساتھ عشق کی رہنمائی میں زندگی کا راز تلاش کرتی ہے ۔ان کی شاعری حرکت و عمل اور سخت کوشی کا درس دیتے ہوئے بنی نوع انسان اور ان پہلوؤں کا احاطہ کرتی ہے جو حیات انسانی کا محور ہیں۔
*****
روشنی خان شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔