Moen Ahsan Jazbi by Sharib Rudaulvi

Articles

ایک کم سخن، کم گو، کم آمیز شاعر

پروفیسر شارب ردولوی

جذبیؔ اپنے ہم عصراردو شعرا میں سب سے کم سخن ، کم گو اور کم آمیز شاعر ہیں۔ وہ ہمیشہ ہی سب سے الگ نظر آئے ۔ دنیاوی اعتبار سے اپنی کم آمیزی کی وجہ سے جتنے بھی نقصان ہو سکتے تھے وہ انھوں نے برداشت کیے لیکن کبھی شکایت نہیں کی ، سوائے ا یک طنزیہ قصیدے کے ۔ سب میں رہنے کے با وجود وہ کبھی کھلے نہیں ۔ کم ایسے دروںبیں ہوں گے جوخود سے بھی نہیں کھلتے۔ ان کے یہاں احتیاط کی ایک عجیب تہذیب ہے ۔ یہ تہذیب ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر ہمیشہ چھائی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بھی اظہار سے ہچکچاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پارہ ہائے قلب و جگر وہ پھول ہیں کہ جو کبھی مر جھانے والے نہیں ہیں ۔ لیکن تہذیب احتیاط انھیں کہنے نہیں دیتی کہ کہیں یہ تعلّی نہ ہو جائے، کہیں لو گ اسے خود ستائی نہ سمجھ لیں ۔ کوئی اسے ادّعا نہ قرار دے اس لیے یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں : جذبیؔ اپنے ہم عصراردو شعرا میں سب سے کم سخن ، کم گو اور کم آمیز شاعر ہیں۔ وہ ہمیشہ ہی سب سے الگ نظر آئے ۔ دنیاوی اعتبار سے اپنی کم آمیزی کی وجہ سے جتنے بھی نقصان ہو سکتے تھے وہ انھوں نے برداشت کیے لیکن کبھی شکایت نہیں کی ، سوائے ا یک طنزیہ قصیدے کے ۔ سب میں رہنے کے با وجود وہ کبھی کھلے نہیں ۔ کم ایسے دروںبیں ہوں گے جوخود سے بھی نہیں کھلتے۔ ان کے یہاں احتیاط کی ایک عجیب تہذیب ہے ۔ یہ تہذیب ان کی زندگی اور شاعری دونوں پر ہمیشہ چھائی رہی ۔ یہاں تک کہ وہ اپنے بارے میں بھی اظہار سے ہچکچاتے ہیں ۔ وہ اپنی جگہ پر محسوس کرتے ہیں کہ ان کے پارہ ہائے قلب و جگر وہ پھول ہیں کہ جو کبھی مر جھانے والے نہیں ہیں ۔ لیکن تہذیب احتیاط انھیں کہنے نہیں دیتی کہ کہیں یہ تعلّی نہ ہو جائے، کہیں لو گ اسے خود ستائی نہ سمجھ لیں ۔ کوئی اسے ادّعا نہ قرار دے اس لیے یہ کہہ کر خاموش ہو جاتے ہیں :
چمن کی نذر ہیں یہ پارہ ہائے قلب و جگر
یہ پھول وہ ہیں کہ شاید کبھی نہ مرجھائیں
کم گو اتنے کہ کوئی سال مشکل سے ہی ہو گا جس میں چار چھ سے زیادہ غزلیں کہی ہوں ۔ ’’گدازِ شب‘‘ میں بعض سال ایسے بھی ہیں جس کی کو ئی غزل ہی شامل نہیں ہے ۔
جذبیؔ ؔ کو سمجھنے کے لیے ان کے اس مزاج اور اس تہذیب احتیاط کو اچھی طرح سمجھے بغیر ان کی شاعری کے بارے میں کسی نتیجے پر پہنچنا مشکل ہے ۔ جذبیؔؔ ایک ترقی پسند شاعر اور اردو کے ایک منفرد غزل گو کی حیثیت سے مشہور ہیں ۔ لیکن ان کے یہاں زبان و بیان ، اظہار اور موضوع کے انتخاب کے سلسلے میں ایسا محتاط رویہ ملتا ہے جو ان کے ہم عصر شاعروں میں بہت کم ہے ۔ دوسرے الفاظ میں وہ اپنے تہذیبی روایت سے اسی طرح وابستہ رہے ہیں کہ ترقی پسندی کے اس عہد میں بھی جس میں الفاظ کی گھن گرج اور موضوعات کی بلند آہنگی اپنے عروج پر تھی ، ان کے لب و لہجے کی متانت اور سنجیدگی میں بھی کوئی فرق نہیں آیا ۔
جذبیؔ ؔ کی شاعری اس عہد کی نصف صدی سے زائد کو محیط ہے ۔ گداز شب کی پہلی غزل 1929ء کی ہے ۔ اس طرح ان کا ۶۵ سال کا یہ شعری سفر کافی اہم ہے ۔ یہ 65 سال ہندوستان کی ادبی ، تہذیبی اور سیاسی زندگی کے اہم ترین سال ہیں ۔ جنگِ عظیم کے اثرات اور ان کے ر د عمل کے علاوہ بیشتر بڑی سماجی ، سیاسی اور ادبی تحریکات اسی عہد میں پروان چڑھیں ۔ اکتوبر انقلاب سے لے کر آزادی اور تقسیم ملک تک اس نصف صدی میں نہ جانے کتنے نشیب وفراز دیکھے ۔ ادبی افق پر ترقی پسندی کا عروج بھی دیکھا۔ فرائڈ کی دروں بینی کی مقبولیت بھی دیکھی اور فرانسیسی علامت نگاری کے ساتھ رومانیت اور جدیدیت کا فروغ بھی ۔یہ عہد صرف اردو ہی نہیں ، پورے ہندوستانی ادب میں زبردست تبدیلیوں کا عہد رہا ہے ۔ یہ تبدیلیاں موضوع، مواد ، اظہار، بیان، الفاظ ، زبان ہر چیز میں آئیں ۔
جذبیؔؔ کی شاعری کا ابتدائی زمانہ فانی، جگر اور اصغر کا زمانہ تھا ۔ جس میں جگر کی طوطی اردو شاعری میں 1960ء تک بولتا رہااور ان کی غنائیت، رومانویت اور نغمگی کا اثر ان کے بعد بھی بہت عرصے تک باقی رہا ۔ فانیؔ کی یاسیت اور حرماں نصیبی انسان کو مایوسی کا شکار بنانے والی ذاتی شکستوں اور نا کامیوں کے باوجود تیزی سے تبدیل ہوتے ہوئے حالات کا زیادہ دنوں ساتھ نہیں دے سکی اور انسان نے جینے کے لیے نئی آرزوؤں اور امنگوں کو سہارا بنایا ۔ اصغرؔ بھی جگرؔ کی نغمگی کے سامنے بہت دور تک نہیں چل سکے ۔ اس زمانے پر سب سے گہرا رنگ انھیں تین شاعروں کا نظر آتاہے۔ اقبال اور جوش ؔ کا ذکر اس جگہ اس لیے مناسب نہیں تھا کہ وہ اردو شاعری کی دو الگ آوازیں ہیں اور ان کا حلقہ اثر بالکل مختلف ہے ۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ جذبیؔ کی شاعری پر فانی ؔ کا اثر ہے ، لیکن یہ درست نہیں۔ ان کی 1929ء اور1930ء کی غزلوں میں حزن انگیزی یا غم و یاس کی ایسی کیفیت نہیں ہے جسے فانیؔ کا اثر قرار دیا جا سکے ۔ یوں تو غم کی نفسیات یہ ہے کہ وہ دوسرے جذبات کے مقابلے میں زیادہ زود اثر اور پر اثر ہوتا ہے۔ لیکن جذبیؔؔ نے غم و افسردگی کا اس طرح اظہار اس زمانے میں بھی نہیں کیا جب وہ فانیؔ سے قریب تھے۔ ان کی اس وقت کی غزلوں کے چند اشعار دیکھئے :
ہو نہ ہو دل کو  ترے حسن سے کچھ نسبت ہے
جب اٹھا درد  تو کیوں میںنے  تجھے یاد کیا (۱۹۲۹ء)
سکوں نہیں ،نہ سہی درد انتظار تو ہے
ہزار  شکر کو ئی دل کا غم گسار تو ہے (۱۹۳۰ء)
مزے ناکامیوں کے اس سے پوچھو
جسے کہتے ہیں  سب گم  کردہ منزل (۱۹۲۹ء)
تر ے جلوؤں کی حد ملی تو کب
ہو گئی جب  نظر  بھی لا محدود (۱۹۲۹ء)
طالبِ تسکین و ہمدردی تھے بیزارانِ زیست
ہم فریبِ جوشِ الفت یاد کر کے ہنس دئے        (۱۹۳۰ء)

چاک ہی کرنا ہے  تو دامانِ  وحشت چاک کر
ورنہ کیا ہے دامنوں میں ، کیا گریبانوںمیں ہے (۱۹۳۰ء)
اس زمانے کی غزلوں کے یہ چند اشعار ، اس کے باوجود کہ ان میں دردِ ناکامی بھی ہے اور دردِ انتظار بھی۔ فانیؔ کی تہذیبِ غم سے کوئی تعلق نہیں رکھتے ۔ سوائے اس ایک غزل کے جو 1933ء کی چار اشعار کی غزل ہے :
مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو یا وہ دنیا اب خواہشِ دنیا کون کرے
جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے
جو یقینا اس طرح فانیؔ کے رنگ میں ڈوبی ہوئی ہے کہ اگر مقطع بدل کر فانیؔ کے کلام میں شامل کر دیا جائے تو پڑھنے والوں کو اندازہ کرنا مشکل ہو جائے کہ وہ فانیؔ کی غزل نہیں ہے ۔ جذبیؔؔ کا درد وہ درد ہے جو ہر محبت کرنے والا محسوس کرتا ہے ۔ یہ صحیح ہے کہ جذبیؔؔ کی یہ غزلیں روایتی غزلیں ہیں ۔ ان کے بعض اشعار میں روایتی شکوہ و شکایت کا انداز بھی موجود ہے ۔ لیکن انھیں اشعار سے جذبیؔؔ کی انفرادیت اور شائستگی ِ جنوں کا احساس بھی ہوتاہے ۔ ان غزلوں میں اس عہد کی مخصوص رومانویت ہے، لیکن اس میں جذبیؔؔ کا لب و لہجہ ان کے ہم عصر شعراسے مختلف ہے ۔
ڈاکٹر محمد حسن نے جذبیؔؔ کو ’’ سلگتی ہو ئی آتشِ رفتہ‘‘ کا شاعر کہا ہے ۔ یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ انھوں نے ’’ آتشِ رفتہ‘‘ کی ترکیب کیوں وضع کی ۔ صرف سلگتی ہو ئی آتش کا شاعر کیوں نہیںکہا ۔ حالانکہ ان کی ساری شاعری سلگتی ہوئی آتش بھی نہیں ہے ۔ ان کے یہاں تو زندگی سانس لیتی ہوئی محسوس ہو تی ہے اور زندگی کبھی یکساں نہیں رہتی ۔ وہ کبھی شبنم کی طرح خنک، شفافTransparantہے۔ کبھی کہر کی طرح دھندلی اور کبھی سلگتی ہو ئی آتش جیسے جذبیؔؔ کی تہذیب شعلہ نہیں بننے دیتی :
یوںبڑھی ساعت بہ ساعت لذّتِ دردِ فراق
رفتہ رفتہ میں نے خود کو دشمنِ جاں کردیا
کھنیچ کر اک آہ زیر لب کسی کی بزم میں
مختصر افسانۂ شب ہائے ہجراں کردیا

یہی زندگی مصیبت یہی زندگی مسرت
یہی زندگی حقیقت یہی زندگی فسانہ

مرے قہقہوں کی ز د پر کبھی گردشیں جہاں کی
مرے آنسوؤں کی زد میں کبھی تلخیِ زمانہ
جذبیؔؔ غزل کے شاعر ہیں ۔ انھوں نے نظمیں ضرور کہی ہیں ۔ لیکن ان کی نظموںمیںبھی غزل کی سی نغمگی اور حلاوت ہے ۔ اسی لیے ان کی بیشتر نظموں پر مسلسل غزل کا گمان ہوتا ہے کیونکہ وہ غزل کی غنائیت ، نرمی اور کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہیں ۔
جذبیؔؔ اپنی ابتدائی شاعری یا یوں کہئے کہ1936ء اور 1937ء کی شاعری تک اصغرؔ اور جگرؔ کی شعری روایت کے شاعر نظر آتے ہیں ، لیکن ترقی پسند تحریک کی ابتدا کے بعد رفتہ رفتہ وہ اس سے قریب ہوتے گئے ۔ ترقی پسند مصنفین سے وابستگی کے بعد ان کی فکر اور لب و لہجے میں فرق ضرور آیا لیکن ان دنوں ترقی پسندی کی جو شناخت تھی ، اس لب ولہجے کو انھو ںنے کبھی نہیں اپنایا۔یوں بھی اگر دیکھا جائے تو ترقی پسند مصنفین میں دو طرح کے ادیب تھے ۔ ایک وہ جنھوں نے سیاسی لب و لہجہ اپنایا اور ادب کو سیاسی مقاصد کی تکمیل کے لیے استعمال کرنے پر زور دیا ۔ چونکہ یہ اندازاس وقت بہت مقبول تھا ۔ اس لیے اس زمانے کی شاعری میں بعض ایسے لوگوں کے یہاں سیاسی بلند آہنگی ملے گی جن کا کوئی تعلق ترقی پسند تحریک سے نہیں تھا اور وہ پھر اس بات کے دعویدار ہوتے تھے کہ ان کے کلام میں بھی حالات حاضرہ کا حوالہ ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ خود جگر ؔ صاحب نے کہہ دیا :
شاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کل
دوسرے وہ شعرا اور ادیب تھے جو ترقی پسند مصنفین سے واضح نظریاتی وابستگی رکھنے کے با وجود سیاسی بلند آہنگی سے دور رہے ۔ فیض، مجاز،جاں نثار،اختر الایمان، جذبیؔ ؔ ان میں سر فہرست ہیں ۔ شعر و ادب میں سیاسی بلند آہنگی کے خلاف سجاد ظہیر نے بار بار ٹو کا اور اپنے مضامین میں صاف طور پر لکھاکہ :
’’ انقلاب کے اس خونی تصور میں رومانیت جھلکتی ہے ۔ یہ ایک طرح ادبی دہشت انگیزی ہے۔ یہ ایک ذہنی اور جذباتی بلوہ ہے ۔‘‘
اس سے زیادہ سخت بات اور کیا کہی جا سکتی تھی ۔ در اصل یہ رویہ ان لوگوں کا تھا جو Party Activistتھے اور ان کے پہلو بہ پہلو وہ لوگ تھے جنھیں نو ترقی پسند کہہ سکتے ہیں ۔ جن کے متشددانہ رویے سے بعض بہت اچھے ادیب تحریک سے بد دل ہو گئے ۔ سجاد ظہیر نے بڑی اچھی بات کہی تھی کہ انقلاب کو اگر سمجھنا ہو تو اس کے لیے بہت سی اچھی کتابیں ہیں ___شاعری کا کام انقلاب کو سمجھانا یا وعظ دینا نہیں ہے۔ انھو ں نے لکھا تھا :
’’ شاعر کا پہلا کام شاعری ہے ۔ وعظ دینا نہیں ہے ۔ اشتراکیت و انقلاب کے اصول کو سمجھانا نہیں۔ اصول سمجھنے کے لیے کتابیں موجود ہیں ۔ اس کے لیے ہم کو نظمیں نہیں چاہئیں ۔ شاعر کا تعلق جذبات کی دنیا سے ہے ۔ اگر وہ اپنے تمام ساز و سامان ، تمام رنگ و بو، تمام ترنم و موسیقی کو پوری طرح کام میں نہیں لا ئے گا ۔ اگر فن کے اعتبار سے اس میں بھونڈا پن ہو گا ۔ اگر وہ ہمارے احساسات کو لطافت کے ساتھ بیدار کرنے سے قاصر ہو گا تو اچھے سے اچھے خیال کا وہی حشر ہو گا جو دانے کا بنجر میں ہو تا ہے ۔‘‘
ظاہر ہے کہ شاعر کی پہلی دنیا اس کے جذبات اور محسوسات کی دنیا ہے اور دوسری دنیا خارج کی دنیا ہے ۔ ان دونوں کو الگ نہیں کیا جا سکتا ۔ اس لیے کہ سماج، روایت ، ماحول ، تجربے اور مشاہدے کا تعلق خارجی دنیا سے ہے اور یہ فن کار کے جذباتی رد عمل کو متاثر کرتے ہیں ۔ جذبیؔؔ اس راز سے بہت اچھی طرح واقف ہیں بلکہ جذبیؔؔ اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں جو رسم عاشقی کی تہذیب ہے ۔ جہاں سکوت ،سخن سے زیادہ بہتر ہے اور جہاں گلابی کو بھی خونِ دل میں ڈھالنا پڑتا ہے ۔ اسی لیے1943ء میں شائع ہونے والے اپنے مجموعے’ فروزاں‘ کے دیباچے میں جو کہ ان کے نقطۂ نظر کو سمجھنے کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے ، جن نکات سے بحث کی گئی ہے وہ بہت اہم ہیں ۔ انھوں نے ایک جگہ لکھا ہے کہ :
’’ ایک شاعر کی حیثیت سے ہمارے لیے جو چیز سب سے زیادہ اہم ہے وہ زندگی یا زندگی کے تجربات ہیں ۔ لیکن کو ئی تجربہ اس وقت تک مو ضوع سخن نہیں بن سکتا جب تک اس میں شاعر کے جذبے کی شدت او ر احساس کی تازگی یا یقین نہ ہو جائے ۔‘‘( فروزاں )
اس مقدمے کی روشنی میں جذبیؔؔ کی شاعری کا مطالعہ کیا جائے تو محسوس ہو گا کہ جذبیؔ کی شاعری کی تعریف دو چیزوں یعنی جذبے کی شدت اور احساس کی تازگی میں پوشیدہ ہے ۔ جذبیؔ کی پوری شاعری جذبے کی شدت اور احساس کی تازگی کی شاعری ہے ۔ شاید اسی لیے جذبیؔ کم گو ہیں ۔ اس لیے کہ کوئی بھی تجربہ، مشاہدہ ، یہاں تک کہ حادثہ جب تک جذبے کی شدت میں نہیں ڈھل جاتا اسے نظم نہیں کرتے ۔
جذبی نے ایسی بہت سی نظمیں لکھی ہیں جو وقتی موضوعات پر ہیں ۔ کسی دوست کے بارے میں یا کسی دوست کے انتقال پر، اور یہ وہ شخصیتیں اور موضوعات ہیں جن پر اس عہد کے بیشتر شعرا نے نظمیں لکھیں ۔ سب سے پہلے مجازؔ پر ان کی نظم دیکھئے ۔ مجاؔز جذبی کے ہم جماعت تھے ۔ ایک عرصے تک ساتھ رہے تھے اور دوست تھے۔ دوسرے مجاز ؔ اس زمانے کے بڑے محبوب شاعر تھے اور ان کے انتقال پر بہت سے لوگوں نے نظمیں لکھیں ۔ لیکن جذبی نے مجازؔ سے اتنی قربت اور محبت کے با وجود فوراً نظم نہیں لکھی ۔ مجازؔ کا انتقال1955ء میں ہوا اور جذبی نے تین سال بعد نظم لکھی ۔ اگر وہ اسی وقت نظم لکھتے تو شاید ا س میں جذباتی شدت زیادہ ہوتی ، لیکن جذبی ؔ اپنے شدت جذبات کو مرثیہ یا نوحہ نہیں بنانا چاہتے تھے ۔ وہ اس کے احساس کی تازگی میں ڈھل جانے اور ان آنسوؤں کے گلابی رنگ میں تبدیل ہو جانے کا انتظار کرتے رہے۔ اس پوری نظم میں کہیں مجازؔ کا نام نہیں آیا ہے اور نہ مجازؔ کی موت اور ان سماجی حالات کا ذکر ہے ، جس کا مجازؔ کے انتقال کے بعد مضامین، تقاریر، اور نظموں میں بہت ذکر رہا ۔ مجازؔ پر جذبی کی نظم صحیح معنوں میں ایک نازک احساس ہے :
آج اک جادۂ پُر پیچ کا راہی گم ہے
ایک حریفِ المِ لامتناہی گم ہے
اک دہکتا ہوا شعلہ نہیں میخانے میں
اک مہکتی ہوئی سرشار نگاہی گم ہے
حسن والوں کی جبینوں کا اجالا اوجھل
عشق والوں کے نصیبوں کی سیاہی گم ہے
اس نظم کے پہلے حصے کے ہر مصرعے میں کسی چیز کے گم ہو جانے کا ذکر ہے اور اس خوبصورتی سے کہ ہر استعارہ مجازؔ کی طرف اشارہ کر رہا ہے ۔ کھوئی ہوئی چیز کا تلاش کرنا انسانی فطرت ہے اور اگر وہ کوئی قیمتی چیزہے تو ہر اس جگہ اس کی تلاش کی جا تی ہے جہاں ملنے کا امکان ہو ۔ نظم کے دوسرے حصے میں جذبیؔ اس شاعرِ گم شدہ کو تلاش کرتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں اس کا احسا س دلاتے ہیں کہ مجازؔ ان چیزوں میں اب بھی زندہ ہے :
جن کے سینوں میں ہے تابانیِ صد ماہ تمام
ظلمتِ دہر ذرا ایسے ہلالوں میں تو دیکھ
پوجے جاتے ہیں کہاں حسن و وفا کے اصنام
اے مرے شیخِ حرم اپنے شوالوں میں تو دیکھ
دلِ صد پارۂ مظلوم کی آہوں میں تو ڈھونڈ
شہریاروں کے غضب ناک خیالوں میں تو ڈھونڈ
ناخنِ عقل و جنوں آج بھی عاجز جن سے
ایسے عقدوں سے تو پوچھ ایسے سوالوں میں تو دیکھ
اسی طرح کی ایک نظم’ جرمِ بے گناہی‘ ہے ۔ یہ نظم بھی ایک ایسے حادثے سے متعلق ہے جس پر بہت سی نظمیں لکھی گئیں اور ان سیاسی و سماجی حالات اور اس کے ذمہ داروں کے خلاف نظموں میں خوب شعلہ بیانی کی گئی ۔ یہ وہ موقع تھا جب راولپنڈی سازش کیس کے تحت سجاد ظہیر اور فیض کو سزا دی گئی ۔ اس موقع پر بھی جذبی نے پوری نظم میں صرف استعارے اور علامت سے کام لیا ہے ۔ نہ کہیں نعرۂ انقلاب ہے نہ فغاں و زاری ۔ نظم کا ہر مصرع ایک خوبصورت اشارہ اور ایک پر کشش تصویر ہے :
شمیم گل سے پریشاں ہے باغباں کا دماغ
یہی خطا ہے مگر بادِ صبح گاہی کی
اور اس شعر کا تو جواب نہیں ہے ۔ اسے جتنی دیر پڑھا جائے اس کی تہہ داری، معنویت ایک نیا لطف دیتی ہے :
نفس میں رندوں کے اتنی ہے بوئے بادۂ شوق
کہ محتسب کو نہیں فکر اب گواہی کی
اسی طرح تقسیم، فیض و سجاد کی گرفتاری پر، نیا سورج وغیرہ ایک خاص موقع یا واقعہ سے متاثر ہو کر لکھی گئی نظمیں ہیں ، لیکن ان میں ہر نظم واقعہ کے بیان کے بجائے جذبے کا ایک نیا احساس اور نئی کیفیت بن کر سامنے آتی ہے اور یہی جذبی کی انفرادیت ہے ۔
جذبی ؔ کی نظم ہو یا غزل اس کی سب سے بڑی خصوصیت اس کا گہرا اور لطیف تاثر ہے جو جذبے کی اوپری سطح کے بجائے اندرونی سطح میں ایسا لطیف ارتعا ش پیدا کرتا ہے جس کو محسوس تو کیا جا سکتا ہے ، بیان کرنا مشکل ہے ۔ اس لیے کہ وہ براہ راست کوئی بات نہیں کرتے بلکہ ان مقامات کو چھو کر گزر جاتے ہیں ، جو لطیف احساسات کو بیدار کرتے ہیں اور ایک اچھی غزل کی یہی خصوصیت بھی ہے کہ وہ اشارہ کرتی ہے ، تفصیل بیان نہیں کرتی ۔ اشارہ جتنا بلیغ ہوگا شعر میں اتنی ہی معنوی وسعت و تہہ داری ہوگی ۔ ان کی غزلوں کے یہ چند شعر ملاحظہ کیجئے :
ان بجلیوں کی چشمک۔ِ باہم تو دیکھ لیں
جن بجلیوں سے اپنا نشیمن قریب ہے

یہ دل کا داغ جو چمکے تو کیسی تاریکی
اسی گھٹا میں چلیں ہم اسی گہن میں چلیں

غمِ حیات بجا ہے مگر غمِ جاناں
غمِ حیات سے بڑھ کر نہیں تو کچھ بھی نہیں
وہ حرف جسے ہے منصور و دار کو نسبت
لبِ جنوں پہ مکرر نہیں تو کچھ بھی نہیں

کہیں عذابِ جفا ہے کہیں نشاطِ وفا
یہیں کہیں سے تماشائے روز گار کریں

بنتی نہیں ہے بات مگر صاحبانِ عقل
پھرتے ہیں ہم سے اہل ِ جنوں کا چلن لیے

اس افق کو کیا کہئے نور بھی دھندلکا بھی
بارہا کرن پھوٹی بارہا غبار آیا

آؤ نہ دل کے داغ جلالیں کہ صبح ہو
اختر شماریِ شبِ آلام کیا کریں

کوئی تو قاتلِ نادید کا پتہ دے گا
ہم اپنا زخم زمانے کو لاؤ دکھلائیں
جذبیؔ کے یہاں جس تہذیب درد کا ذکر شروع میں کیا گیا تھا ، ان اشعار میں اس تہذیبِ درد کے تغزل اور جذبے کے احساس میں تبدیل ہونے کی کیفیت کو محسوس کیا جا سکتا ہے ۔ یہ اشعار مختلف کیفیتوں کو پیش کرتے ہیں ۔ ان میں بعض اشارے زندگی کے حادثات اور حالات سے متعلق بھی ہیں ۔ لیکن جذبی نے انھیں بڑی فن کاری سے پیش کیا ہے ۔ اسی لیے وہ محدود یا یک رخے مطالب کے اشعار نہیں ہیں بلکہ اس میں معنی کی کئی سطحیں پوشیدہ ہیں ۔
یہ اشعار ارد و غزل میں اپنے عہد کی ایک نئی آواز اور نئے لب و لہجے کا پتہ دیتے ہیں۔ حالانکہ ان میں جن اصطلاحات ، علامات اور استعاروں کا استعمال کیا گیا ہے ۔ وہ سب اردو غزل میں بہت عام ہیں ۔ بجلی، نشیمن، گھٹا، غمِ حیات، غمِ جاناں ، منصور و دار، اہلِ جنوں ، داغِ دل، قاتل ،زخم وغیرہ کا ذکر غزل میں بار بار ہو تا رہا ہے ۔ لیکن ان روایتی اصطلاحات اور علامتوں کو جذبی نے ایسی معنویت اور تہہ داری دی ہے کہ ان پر جتنا غور کرتے جائیں ، شعر کی تہیں کھلتی جاتی ہیں ۔ یہی جذبیؔ کا فن ہے ۔

Moen Ahsan Jazbi’s Poetry by Prof. S.R. Kidwai

Articles

دیکھو تو وہ حریف ِ شبِ تار کیا ہوئے

پروفیسرصدیق الرحمن قدوائی

گذشتہ نصف صدی کی اردو شاعری کی تاریخ پر جن لوگوں کا نقش ثبت ہو چکا ہے ، ان میں جذبیؔ صاحب کا نام نمایاں ہے ۔ میری عمر کے لوگوں کے کان جب شاعری کے آہنگ سے آشنا ہو ئے تو وہ جذبیؔ اور مجاز کا عہد تھا ۔ رسالوں اور مشاعروں نے ان کی مقبولیت کو عروج تک پہنچا دیا تھا ۔ فیض، اخترالایمان، سردار جعفری، کیفی ابھی اتنے نمایاں نہیں تھے گو کہ ان سے بھی اہلِ ذوق واقف تھے ۔ کسی عہد کو کسی شاعر کے نام سے منسوب کرنا ، بڑی ذمہ داری اپنے سر لینا ہے ۔ جس عہد میں فانی، اصغر، یگانہ، حسرت او ر جگر سے لے کر جوش ؔو فراقؔ تک موجود ہوں اسے جذبیؔ کا عہد کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے ___ دراصل وہ جو ترقی پسندی کا عہد قرار پایا اس کی آمد آمد کی آہٹیں سب سے یادہ نمایاں اور با شوکت اس زمانے میں اگر پہلے پہل ملتی ہیں تو وہ جذبیؔؔ اور مجازؔ ہیں اور پھر اردو شاعری میں ترقی پسندی کے آغاز اس کے عروج اور اس کے نشیب و فراز کی ساری صفا ت بھی ان کے یہاں ملتی ہے ۔ گذشتہ نصف صدی کی اردو شاعری کی تاریخ پر جن لوگوں کا نقش ثبت ہو چکا ہے ، ان میں جذبیؔ صاحب کا نام نمایاں ہے ۔ میری عمر کے لوگوں کے کان جب شاعری کے آہنگ سے آشنا ہو ئے تو وہ جذبیؔ اور مجاز کا عہد تھا ۔ رسالوں اور مشاعروں نے ان کی مقبولیت کو عروج تک پہنچا دیا تھا ۔ فیض، اخترالایمان، سردار جعفری، کیفی ابھی اتنے نمایاں نہیں تھے گو کہ ان سے بھی اہلِ ذوق واقف تھے ۔ کسی عہد کو کسی شاعر کے نام سے منسوب کرنا ، بڑی ذمہ داری اپنے سر لینا ہے ۔ جس عہد میں فانی، اصغر، یگانہ، حسرت او ر جگر سے لے کر جوش ؔو فراقؔ تک موجود ہوں اسے جذبیؔ کا عہد کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے ___ دراصل وہ جو ترقی پسندی کا عہد قرار پایا اس کی آمد آمد کی آہٹیں سب سے یادہ نمایاں اور با شوکت اس زمانے میں اگر پہلے پہل ملتی ہیں تو وہ جذبیؔؔ اور مجازؔ ہیں اور پھر اردو شاعری میں ترقی پسندی کے آغاز اس کے عروج اور اس کے نشیب و فراز کی ساری صفا ت بھی ان کے یہاں ملتی ہے ۔
جذبیؔ کے شاعری کے پورے دور پر نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ بالکل ابتدا میں یعنی 1932ء سے 1933ء تک انھوں نے روایت کے مطابق اساتذہ کے رنگ میں غزلیں کہیں ۔ ان میں ان کی کو ئی انفرادیت نہیں ملتی مگر چونکہ غزلیں نک سک سے درست تھیں اور اس اہتمام اور ان آداب کے مطابق کہی گئی تھیں جن سے کلاسیکیت عبارت ہے اور ساتھ ہی ساتھ غمِ ہجر، آرزوئے وصل،مستی مئے، معصومیِ عشق ، شوخیِ حسن کے قصے، مترنم زمینوں اور خوش آہنگ قافیوں میں ڈھل کر آتے تھے ، اس لیے بہر حال اپنا جادو جگاتے تھے ۔ اور اس بنا پر ابتدا ہی سے انھیں عام طور ے سراہا گیا ۔ شروع شروع کی ان کی غزلوں میں کوئی فکری جہت، جذباتی گہرائی وغیرہ تو نہیں پھر بھی ان میں سے ایک ایسے شخص کا مزاج جھلکتا ہے جو ٹھہر ٹھہر کر، سوچ سوچ کر محتاط آواز میں کہتا ہے ۔ وہ شہرت کی جلد بازی کا شکار نہیں بلکہ شاعری ا س کی شخصیت کا تقاضا ہے اور وہ اپنے آپ کو تلاش کرنے اور اپنی آواز کو پہچاننے کی کو شش کر رہا ہے ۔ یہ دور جذبیؔ کے یہاں خود شناسی کی خواہش کے فروغ کا دور ہے اور اس خواہش نے نہ صرف جذبیؔ سے غزل کے اچھے شعر کہلوائے بلکہ کچھ ایسے مبہم سے نقش بھی بنائے جو آگے چل کر واضح ہوتے چلے گئے ۔ مثلاً’ منزل‘ کا لفظ ان کے یہاں شرو ع ہی سے ملتا ہے اور آخر تک بار بار آتا ہے ۔ ابتدا میں خود شاعر منزل سے آشنا نہیں ۔ مگر کسی نہ کسی منزل کی چاہت ضرور رکھتا ہے ۔ یہ منزلِ بے نام وصلِ محبوب سے لے کر بہتر زندگی کے خواب تک کچھ بھی ہو سکتی ہے ۔ غزل میں ابہا م کی گنجائش ہر شاعر کو راس آتی ہے ۔ چنانچہ یہاں جذبیؔ بھی اس کا سہارا لیتے ہیں ۔ جس منزل کا نشان خود ان کی نظروں میں صاف نہیں ، اسے فی الحال مبہم ہی رہنا تھا ، مگر منزل کی تمنا ہے کہ پھر بھی بڑھتی جاتی ہے اور ناکامی و نا مرادی کا اندیشہ بھی دامن پکڑے ہوئے ہے کہ اس منزلِ موہوم کا سفر بھی شروع ہو چکا ہے :
مزے ناکامیوں کے اس سے پوچھو
جسے کہتے ہیں سب گم کردہ منزل
مگر اس دور میں بھی آثارِ منزل دھندلے ہی سے سہی ، کبھی کبھی نظر ضرور آتے ہیں :
دلِ ناکام تھک کے بیٹھ گیا
جب نظر آئی منزل مقصود
تھی حقیقت میں وہی منزل مقصود جذبیؔؔ
جس جگہ تجھ سے قدم آگے بڑھایا نہ گیا
چنانچہ منزل کی دھن میں سفر جا ری ہے ۔ وہ اس جستجو کی راہ میں بیگانہ و بے زار کبھی نہیں ہوئے ۔ شاید یہی وجہ ہے ان کی سرشت کو بعد کے دور میں ترقی پسندی کی رجائیت راس آتی ہے :
اللہ رے بے خودی کہ چلا جا رہا ہوں میں
منزل کو دیکھتا ہوا کچھ سوچتا ہوا
گرا پڑتا ہوں کیوں ہر ہر قدم پر
الٰہی آگئی کیا پاس منزل
’ منزل‘ ہی کی طرح درد و غم اور اس کے تلازمات ان کے ہاں شروع سے آخر تک ملتے ہیں :
دنیا لرز گئی دلِ ایذا پسند کی
نا آشنائے درد جو درد آشنا ہوا
ساقیا شیشوں میں تیرے ہے نہ پیمانوں میں ہے
وہ خمارِ تشنگی جو دل کے ارمانوں میں ہے
اپنی ہستی کی حقیقت کیا میں دنیا پھونک دوں
کا ش مل جائے وہ سوزِغم جو پروانوں میں ہے
کیا کیا تم نے کہ دردِ دل کا درماں کر دیا
میری خود داری کا شیرازہ پریشاں کردیا
یہاں غم محض غم نہیں بلکہ ایک ’’ قدر‘‘ بن گیا ہے جس سے شاعرایک لگاؤ محسوس کرتا ہے ۔ پروانوں کا سا سوزِ غم پانے کی تمنّا ، دردِ دل کے درماں سے خوداری کا شیرازہ پریشاں ہونا ۔ شراب سے زیادہ خمار ِ تشنگی جو دل کے ارمانوں کی بدولت ہے ۔ یہ وہ غم نہیں ہو سکتا جس سے کوئی جان چھڑانے کی کوشش کرے بلکہ ایک حرکی جذبہ ہے جوشاعر کو اپنی ہستی کی محرومیوں سے بہت آگے لے جاتا ہے ۔ غم کے اس عنصر کو بھی آگے چل کر ترقی پسندی نے جلا بخشی اور اسے ایک جہت ملی ۔ مگر اس سے پہلے کے اشعار جذبیؔ کے تخلیقی سفر کے تسلسل کی نشان دہی کرتے ہیں :
مختصر یہ ہے کہ ہمدم ہم نے فرطِ شوق میں
اپنی ہستی کو بھی وقفِ دردِ پنہاں کردیا
عیش سے کیوں خو ش ہوئے کیوں غم سے گھبرایا کئے
زندگی کیا جانے کیا تھی اور کیا سمجھا کئے
مگر اس دور میں ان کے یہاں ایسے اشعار بھی ملتے ہیں جن میں عشق کی سرمستیاں بھی ہیں اور ایک گہری سوچ میں کھڑے ہو ئے مگر سر گرم ذہن کی کار فرمائیاں بھی ۔ یہی کیفیت یہاں آرزو اور تمنا جیسے الفاظ میں ڈھل کر آتی ہے :
اس طرح ہو گئی ہے تکمیل جستجو کی
ہر سمت دیکھتا ہوں تصویر آرزو کی
جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے
غرض کہ جذبیؔ کے اس مشق سخن کے دور نے انھیں خود ان کی آواز سے آشنا کیا اور انھیں ایسے الفاظ و تلازمات دیئے جس سے ان کے اظہار کو ایک جہت ملی اور ان کے لہجے کا گداز و ترنم لفظوں کی خوش آہنگی بڑھتے بڑھتے ان کی پہچان بن گئی اور جذبیؔ کا نام اس عہد کی غز ل سے منسوب ہوتا چلا گیا ۔
1934ء کے آس پاس جذبیؔ نظم کی طر ف آئے ان کی شروع کی نظموں کی رومانی فضا اس عہد کے دوسرے نو جوان شعرا کی طرح زمانے اور ذہن کی تبدیلی کا پتہ دیتی ہے ۔ یہی تبدیلی ان سب لوگوں کے یہاں نظر آتی ہے ، جو ترقی پسند تحریک کی طرف مائل ہوئے ۔ ایک بہتر زندگی کے خواب انھیں سر مست و سرشار رکھتے ہیں ۔ مگر گرد و پیش کی حقیقتیں ان کے احساس کو گھائل بھی کرتی رہتی ہیں ۔ اب جذبیؔ محسوس کرنے لگتے ہیں کہ :
رنگ صہبا اور ہے صہبا کی مستی اور ہے
ذکرِ پستی اور ہے احساسِ پستی ہے
خوابِ ہستی اور ہے تعبیر ہستی اور ہے
بھول جا اے دوست وہ رنگیں زمانے بھول جا
ان کی اس زمانے کی مشہور نظم ہے ’’ فطرت ایک مفلس کی نظر میں ‘‘ جس سے پتہ چلتا ہے کہ اب ترقی پسند تحریک نے ان کی وہ منزل بھی متعین کر دی ہے ، جس کی تلاش انھیں پریشان رکھتی تھی اور وہ غم جو پہلے مبہم سا تھا جسے نا کامیِ عشق یا ہجر یار اور سوزِ پروانہ سے دنیا کو پھونک دینے کی تمنا نے اور نہ جانے کن کن باتوں نے جنم دیا ہو گااسے اب ترقی پسندی کا نظریہ اپنی سمت لے چلتاہے ۔ ان کی مذکورہ نظم کا آخری شعر ایک زمانے میں بہتوں کی زبان پر تھا ، اردو نظموں کے ان اشعار میں سے ایک ہے جو بھلائے نہیں جا سکے :
جب جیب میں پیسے بجتے ہیں جب پیٹ میں روٹی ہوتی ہے
اس وقت یہ ذرہ ہیرا ہے اس وقت یہ شبنم ہوتی ہے
ان کی اس زمانے کی ایک اور نظم جسے مجاز ؔ کی آوارہ کی طرح اردو نظم کے پورے خزانے میں ایک اضافہ قرار دیا جا سکتا ہے اور مدتوں یاد رکھی جائے گی وہ ہے ’موت ‘ عام طور سے موت کا تصور آتے ہی بیزاری ہزار سمتوں سے دل و دماغ پر وار کرنے لگتی ہے ۔ مگر جذبیؔ کی اس نظم میں موت اپنے سارے بھیانک پن اور زندگی کے سارے سلسلوں کے انقطاع کے ساتھ ظہور کرنے کے باوجود زندگی سے چشمک کرتی ہے اور ہار ہار جاتی ہے۔ موت کے تصور کے ساتھ جذبیؔ کے احساس کا یہ کھیل بڑا دلکش ہے ۔ موت ٹلنے والی نہیں ۔ وہ زندگی کا راستہ روکے کھڑی ہے ۔ مگر زندگی اپنی ساری تلخیوں اور غموں کے ساتھ ا س کا سامنا کرتی ہے ۔ وہ اپنے غم خانے میں دھوم مچانے، ایک اور جامِ مئے تلخ چڑھانے ، خود کو سنبھالنے ، آنکھ مل لینے اور ہوش میں آنے پر جب اصرار کرتی ہے تو زندگی کی خوش گواریاں ایک توانائی کے ساتھ ’موت‘ کے سامنے آتی ہیں :
وہ مر ا سحر،  وہ اعجاز، کہاںہے ۔لانا
میری کھوئی ہوئی آواز کہاں ہے لانا
وہ  مرا ٹوٹا ہوا ۔ساز کہاں ۔ہے۔ لانا
اک ذرا گیت بھی اس سا ز پہ گا لوں تو چلوں
’’ کھوئی ہوئی آواز‘‘ اور ’’ ٹوٹا ہوا ساز‘‘ اپنے جلو میں ایک دنیا لیے ہوئے ہے جو خواہ کتنی خراب و خستہ کیوں نہ ہو ، بے معنی و بے کار نہیں ۔ پھر اس بے مثال نظم کے یہ بند :
میں تھکا ہارا  تھا اتنے  میں جوآئے بادل
کسی متوالے نے چپکے سے بڑھا دی بوتل
اف وہ رنگین ۔پر اسرار  خیالوں  کے محل
ایسے  دو چار محل اور بنا لوں  تو چلوں
میری آنکھوں میں ابھی تک ہے  محبت کا غرور
میرے ہونٹوں پہ ابھی تک ہے صداقت کا غرور
میرے ماتھے پہ ابھی تک ہے  شرافت کا غرور
ایسے وہموںسے ذرا خود کو نکالوں تو چلوں
رنگین و پر اسرا رخیالوں کے محل کچھ تو بن چکے اور کچھ ابھی بنانے ہیں ۔ محبت کا، صداقت کا اور شرافت کا غرور ابھی تک ختم نہیں ہوا بلکہ ایسے نہ جانے کتنے وہم ہیں جن سے ابھی نکلنا ہے ۔ ابھی دامن جھٹک کر الگ ہونے کی گھڑی نہیں آئی کہ موت آکر کھڑی ہو گئی ۔ یہ نظم جذبیؔ کے کمال فن کی سب سے اچھی مثال ہے ۔ جب بھی پڑھی جائے ، ایک نیا اور بالکل الگ تاثر چھوڑتی ہے ، جو ایک اعلیٰ تخلیق کی صفت ہوتی ہے ۔ وہ زمانہ جو اردو شاعری میں بلند آہنگ، چیختی چنگھاڑتی نظموں کا ہے ، پس جذبیؔ کے آس پاس سے ہو کر گزر جاتا ہے ۔ ان کی سانس زیادہ پھولتی ہوئی نہیں ملتی اور وہ نظمیں بھی جو خالص نجی تجربات و تاثرات کی بنا پر کہی گئی ہیں ، جذبیؔ کی شخصیت کو پورے وقار اور خلوص کے ساتھ جلو ہ گر کرتی ہیں ۔ مجاز ؔ’ جرم بے گناہی ‘ ، آل احمد سرور کے نام ، میرا ما حول، فیض اور سجاد ظہیر کی سزا کے فیصلے کو سن کرلکھی گئی نظمیں نظر انداز نہیں کی جا سکتیں ۔ ان نظموں کے بعض حصے دہرائے جانے کے لائق ہیں :
راہ ادب کے مسافر کا ہم سفر ہو کون
بجز خلوص و صداقت بجز جنون و وفا
بجز سلاسل و زنداں بجز عذاب و سزا
یہ راہِ غم مرے مخدوم سے کوئی پوچھے
یہ فیضؔ کے لبِ معصوم سے کوئی پوچھے    ( آل احمد سرور کے نام )
یا  زمانہ سازی کے انداز سیکھ لو جذبیؔؔ
یہاں خلوص گدازِ ہنر کی قیمت کیا ( میرا ماحول)
اور پھر مجاز ؔ سے متعلق نظم جو اس شعر سے شرو ع ہو کر :
آج اک جادۂ پر پیچ کا راہی گُم ہے
اک  حریفِ المِ لا متناہی۔ گُم ہے
یہاں ختم ہوئی ہے :
اے شبِ تیر ہ و تاریک کے مارے جذبیؔؔ
صبح نا پید کے  موہوم اجالوں میں تو دیکھ
یہ اپنے ہم عصر اور دوست کی مو ت پر مخلصانہ خراج عقیدت ہی نہیں ، اردو کی ان بہت اچھی نظموں میں ہے جو ایسے موقعوں پر کہی گئی ہیں ، مجازؔ سے جذبیؔ کے تعلق کو سب ہی جانتے ہیں ۔ ایسے میں غم کی اضطراری کیفیات کا حاوی ہونا کو ئی غیر معمولی با ت نہ ہوئی ۔ مگر یہاں جذبیؔ کی تخلیقی شخصیت تجربے کی الم ناکی کو جس طرح تحلیل کرنے کے بعد ان کے مزاج سے ہم آہنگ ہو کر فن پارے کو ظہور میں لاتی ہے  اسے اپنے تخلیقی عمل کے بارے میں جذبیؔ کے اس دعوے کی تصدیق ہوتی ہے کہ:
’’ تجربہ تخلیق کی منزل تک پہنچنے کے لیے صرف تحلیل و تجزیے کے مراحل سے نہیں گزرتا بلکہ شاعر کے مزاج سے بھی ہم آہنگ ہوتا ہے ۔‘‘( پیش گفتار : انور صدیقی ’ گذار شب‘)
ایک مدت تک جذبیؔ غزل سے زیادہ نظم کے ہی شاعر رہے اور اس زمانے میں وہ اپنی نظموں کی وجہ سے ہی مقبول رہے ۔ سچ پوچھئے تو اس دور کی غزلوں میں بھی فنی اعتبار سے نظم کا انداز حاوی ہے اور بعض غزلوں کو تو نظم ہی سمجھنا پڑتا ہے ۔ مثلاً وہ غزل جس کا مطلع ہے :
ابھی زمین حسیں ہے نہ آسمان حسیں
ابھی بنی ہی کہاں ہے مری بہشتِ بریں
اور دوسرا شعر:
ابھی ہے ذوق جنوں اپنا مصلحت آگیں
ادھر بھی ایک نظر اے نگارِ خطۂ چیں
یہ نظمیں ترقی پسند ادبی نقطۂ نظر کی منھ بولتی مثالیں ہیں ۔ یہ جذبیؔ کے فن کے ارتقا کی ایک اہم منزل ہے۔ اب نظم کی تکنیک ان کو بہت راس آتی ہے ۔ کیونکہ اب احساس ، نقطۂ نظر اوررویہ سب چند موضوعات پر مرتکز ہو جاتے ہیں ۔ جن سے و ہ کچھ عرصے تک تجاو ز نہیں کر سکے ۔’’ جاگ اے نسیم‘خندۂ گلشن قریب ہے ‘‘ ’’ چلو تلا شِ گل و لالہ وسمن کو چلیں ‘‘ اور ان کے علاوہ بھی کئی غزلیں ہیں جو اس عہد کی یاد گار ہیں ۔ بعد کے دور میں لفظ کے مقابلے میں لہجہ زیادہ قابل غور ہے ۔ دیوانگی، شوق، تیشہ،سنگ ِ گراں، ریگِ بیاباں ، سموم، نسیمِ چمن غزل کے مانوس استعارے ہیں ۔ جن کے ذریعے جذبیؔ اپنی سیاسی و سماجی فکر کا اظہار کرتے ہیں ۔ یہاں معانی کا نیا پن اگر ہے تو صرف لہجے کے سبب ۔ سموم کا نسیم سے ہار ماننا اور معرکہ ہا ئے چمن لہجے کے ذریعے جس خیال کو پیش کیا گیا ہے وہ ترقی پسندوں سے پہلے نہیں تھا ۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ آزادی کے بعد خصوصاً 1951-52ء کے قریب ترقی پسند شعرا غزل پر زیادہ سے زیادہ بھروسہ کرنے لگتے ہیں ۔ اشتراکی سیاست اور اندرونی نظریاتی اختلافات اور ہندو پاک کے حالات کچھ ایسا رخ اختیار کرتے ہیں کہ پہلے کی طرح سوالات اور ان کے جوابات واضح نہیں رہ جاتے ۔ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ فضا دھندلی دھندلی نظر آنے لگتی ہے ۔ شاعری میں اس کے اظہار کے لیے غزل کا ابہام کام آتاہے ۔ اب نجی غم جو پہلے قربان کر دیا گیا تھا ، کبھی کبھی ابھرنے لگتا ہے ۔ سیاست اور سماج کے پیدا کیے ہوئے حالات کا غم بھی نجی غم بن کر نئے گل کھلاتا ہے ۔ غز ل اس عہد انتشار میں ترقی پسندوں کی سب سے زیادہ محفوظ اور سائے دار پناہ گاہ بن جاتی ہے ۔ اب عقیدوں کی رسی کو مضبوطی کے ساتھ پکڑے رہنے کے باوجود آس نراس بہ یک وقت نظر آتے ہیں ۔ غم اب پہلے سے زیادہ جانکاہ ہے کیونکہ آزادی اور جد و جہد کے امکانات سے متعلق سارے مفروضات برہم ہونے لگتے ہیں ۔ اس زمانے میں فنی اعتبار سے جذبیؔ نے بہت اچھی غزلیں کہیں ۔ ان میں پہلے سے زیادہ پختگی ہے ۔ سوچتے ہوئے ذہن کا محتاط رد عمل اور ماضی کا احتساب ہے ۔ اہلِ کارواں سے گلے شکوے ہیں ۔ خواب سحر اور روشنی کی تمنامیں تاریکیوں سے ہر لمحے بر سر پیکار رہنے کے بجائے طرح طرح کے سوالات ہیں :
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں
افسردگیِ ضبطِ الم آج بھی سہی
لیکن نشاطِ ضبطِ مسرت کہاں سے لائیں
ہر لحظہ تازہ تازہ بلاؤں کا سامنا
نا آزمودہ کار کی جرأت کہاں سے لائیں
سب کچھ نصیب ہو بھی تو اے شورشِ حیات
تجھ سے نظر چرانے کی عادت کہاں سے لائیں

کوچۂ یار میں اب جانے گذر ہو کہ نہ ہو
وہی وحشت وہی سودا وہی سر ہو کہ نہ ہو
ہجر کی رات تھی امکانِ سحر سے روشن
جانے اب اس میں وہ امکان ِ سحر ہو کہ نہ ہو
اب غزل میں نظم اورمسلسل غزل کا انداز نہیں بلکہ اشعار میں غزل کی روایت کے مطابق تنوع ہے ۔ لہجہ بہت سنبھلا ہوا مگر اس پورے گداز کے ساتھ جس میں المیے کا حزن حاوی نہیں بلکہ وہ ایک غرور و تمکنت سے ہم کنار ہے :
دانائے  غم نہ۔ محرمِ  رازِ حیات ہم
دھڑ کا رہے ہیں پھر بھی دلِ کائنات ہم
بیمِ خزاں  سے کس کو  مفر۔ تھا  مگر نسیم
کرتے رہے گلوں سے نکھرنے کی بات ہم
ڈھونڈا کئے ہیں راہِ ہوس رہروانِ شوق
دیکھا  کئے ہیں ۔لغزشِ پائے ثبات ہم
’’ منزل‘‘ جو ایسا لگتا تھا کہ مل گئی ہے ۔ اب جلوۂ محبوب کی طرح تڑپاتی ہے، ترساتی ہے۔مگر اس طرف جانے والی راہیں مو ہوم ہیں :
ہم گمرہانِ شوق کا عالم نہ پوچھئے
منزل سے دور بھی سرِ منزل رہے ہیں ہم
کیسے بتائیں کون سی منزل نظر میں ہے
آوارگانِ جادۂ بے نام کیا کریں
اور اب جذبیؔ کے اشعار میں کہاں، کیوں، کیسے، کدھر جیسے الفاظ زیادہ آنے لگتے ہیں ۔ سوالات کی ہر طر ف سے بوچھار ہے ۔ سیاست، انقلاب، آزادی کا حشر جوبھی ہوا ہو ، شاعر کی زبان گنگ نہیں ہو تی:
گستاخیِ نگاہِ تمنا کدھر گئی
تعزیر درد کے وہ سزا وار کیا ہوئے

ڈھونڈو تو کچھ ستارے ابھی ہوں گے عرش پر
دیکھو تو وہ حریفِ شبِ تار کیا ہو ئے

کوئی تو قاتلِ نا دیدہ کا پتہ دے گا
ہم اپنے زخم زمانے کو لا ؤ دکھلائیں

اداسیوں کے سوا دل کی زندگی کیا ہے
کسے بتائیں کہ خوابوں کی بر ہمی کیا ہے

خاموش ہیں کیوں نالہ کشانِ شبِ ہجراں یہ تیرہ شبی آج بھی کچھ کم تو نہیں ہے
جذبیؔ ؔ کا کلام مقدار کے اعتبار سے تو کم ہے مگر معیار کے اعتبار سے کم نہیں ۔ اس پر ان کے عہد اور ان کی شخصیت کی مہریں بہت صاف نظر آتی ہیں ۔ ان کا یہ کہنا مبالغہ نہیں :
گلشن میں جوشِ گل تو بگولے ہیں دشت میں
اہلِ جنوں جہاں بھی رہے آن سے رہے

Dr. Rehan Ansari Shaks aur Shakhsiat

Articles

ڈاکٹر ریحان انصاری : شخص اور شخصیت

کاشف شکیل

 

لکھ دیجیے گا یہ میری لوح مزار پر
انسانیت کے درد کو انسان  لے گیا
زندگی کی کتاب کا ہر صفحہ اپنے چہرے پر مختلف نقوش رکھتا ہے۔ کتاب زیست کے بعض‌ صفحات کے نقوش اس قدر جاذب ہوتے ہیں کہ وہ آئندہ صفحات پر اثر انداز ہوئے بغیر نہیں رہتے۔
سن 2018 کے ستمبر کی بات ہے۔ ایک دن میں مہاراشٹر کالج میں اپنے کلاس روم میں تھا۔ پروفیسر اظفر صاحب کا اردو کا لکچر تھا۔ سر نے کلاس سے روانہ ہوتے وقت ہم لوگوں سے کہا کہ گھر جانے سے قبل ایک بار آپ سب لوگ آڈیٹوریم ضرور جاؤ۔ وہاں خطاطی پر محاضرہ ہو رہا ہے۔
یہ سن کر میں سیدھا آڈیٹوریم پہنچا۔ سب سے پہلے محاضر کا چہرہ دیکھا تو فیصلہ نہیں کر سکا کہ یہ بزرگ نما جوان ہیں یا جوان نما بزرگ۔ سنجیدہ شخصیت، چہرے پر علمی وقار، نگاہوں میں خود اعتمادی، میانہ قد، صحتمند جسم کہ پچاس پچپن برس کی عمر میں بھی آثار شباب ہویدا، مجسم سادگی، پیکر خلوص، پینٹ شرٹ زیب تن کیے ہوئے، تراشیدہ ریش، ہونٹوں پر ہلکی مونچھوں کا غلاف، لبوں کے گلاب بوئے تبسم سے معطر، آنکھوں پر عینک۔ بالوں کا رنگ ایسا کہ شب جانے کو ہے اور صبح آنے‌ کو، نہ کامل سیاہ نہ بالکل سفید، سر کے بال قدرے خزاں آلود ہوگیے تھے اس لیے پیشانی نے سر پر اپنا قبضہ بڑھا لیا تھا۔ سجدوں کے نور سے روشن جبین۔
ڈاکٹر صاحب اپنے محاضرے میں  مگن تھے۔ بڑی خوش اسلوبی سے خوش نویسی کے گر سکھلا رہے تھے۔
میں تھوڑی دیر آڈیٹوریم میں رہا اور لکچر سے مستفید ہوا۔ یہ پہلا موقع تھا جب میں نے ڈاکٹر صاحب کو دیکھا۔
کچھ دنوں بعد یکم اکتوبر کو اچانک ناسازی طبع کی بنا پر مجھے ایک پرائیویٹ ہاسپٹل میں ایڈمٹ ہونا پڑا۔ اسی دن میں نے اپنے معالج ڈاکٹر کے رویے سے متاثر ہوکر ایک تحریر لکھی جس کا عنوان تھا “ڈاکٹروں کی ڈکیتی”. میں نے اسے فیسبک پر اپنی ٹائم لائن پر نشر کیا۔ کچھ دیر بعد میں نے دیکھا کہ اس پر ڈاکٹر ریحان انصاری صاحب کا ایک طویل تبصرہ ہے جس میں بہت سی اہم باتوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ میں نے ڈاکٹر صاحب کا شکریہ ادا کیا۔ بعدہ میسینجر کال کے ذریعے آپ سے لمبی گفتگو ہوئی اور آپ نے بھیونڈی میں اپنی کلینک پر آنے کی دعوت دی۔
دعوت میں خلوص تھا سو طبیعت بے ساختہ تیار ہوگئی اور قدم شوق کی منزل طے کرنے لگے۔
اگلے روز جب میں آپ کی کلینک پہنچا تو آپ نے بڑے تپاک سے مجھے گلے لگا لیا۔ ایسا لگا کہ ساری محبتیں سینہ بسینہ انڈیل رہے ہوں۔
 گفتگو کا مشفقانہ انداز بڑا من موہنا تھا۔ چائے نمکین سے ضیافت کی۔ کلینک ہونے کی بنا پر بیماروں کی ایک لمبی قطار تھی۔ اس بنا پر میں نے مختصر سی گفتگو کے بعد رخصت چاہی تاکہ مریضوں کو پریشانی نہ ہو۔ مگر آپ نے باصرار مجھے روکے رکھا اور کہا کہ ایسا کرتے ہیں کہ بات بھی ہوتی رہے اور مریضوں سے بھی نمٹتے رہیں۔
ڈیڑھ دو گھنٹے ملاقات کا دورانیہ رہا۔ اس میں ڈھیر ساری باتیں ہوئیں۔ آپ نے اپنے تجربات کا حاصل بتایا۔ میدان طب کے پیچ و خم سمجھائے۔ حالات حاضرہ کو بھی موضوع سخن بنایا۔ اپنے مشاہدات، تجزیات اور تجربات کے بیکراں سمندر کے ساحل کا نظارہ کروایا۔
تذکرۃ الرجال چھیڑا تو مجاہد تعلیم مولانا مختار احمد ندوی بانی جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں کا ذکر خیر کیا۔ ان کی زیر ادارت نکلنے والے مجلہ “البلاغ” میں طب و صحت کے تحت آپ کا جو مستقل کالم تھا اس سلسلے میں بھی آپ نے بتایا۔ ادبا و شعراء کے تذکرے ہوئے۔ آپ نے ایک نیا انکشاف کیا کہ آپ اردو رسم الخط اور خطاطی پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ (شاید آپ اس موضوع پر پی ایچ ڈی کرنے والے دنیا کے پہلے فرد ہیں۔)
آپ نے میری بڑی حوصلہ افزائی کی۔ خامیوں کی اصلاح کے ساتھ عمدہ نصیحتوں سے بھی نوازا۔
ہمہ صفت موصوف کسے کہتے ہیں یہ ڈاکٹر ریحان انصاری صاحب سے ملاقات پر پتہ چلا۔
اس پہلی باقاعدہ ملاقات کے بعد تعلقات پختہ تر ہوتے گیے۔ فیسبک کے ذریعے لگ بھگ روزآنہ اس تعلق کی تجدید ہوتی رہی۔ میری فیسبک پوسٹوں پر آپ کے حوصلہ افزا تبصرے مجھے‌ ناقابل بیان خوشی دے جاتے۔
 میری والدہ کی طبیعت خراب تھی۔ کئی ڈاکٹرس سے رجوع کیا مگر فائدہ نہ ہوا۔ آپ کی کلینک پہنچا آپ نے انھیں دواؤں کے ساتھ کچھ اذکار بھی بتائے اور تقریبا بیس منٹ تک صحت کے حوالے سے نصیحت بھی کی۔ الحمدللہ کافی افاقہ ہوا۔ بعدہ والدہ کی صحت کا جب بھی کوئی مسئلہ ہوا میں نے آپ کو فون کیا اور آپ نے اس کا حل بتایا۔ ابھی دس پندرہ روز قبل ہی میری اور والدہ کی ان سے تفصیلی گفتگو ہوئی اور آپ نے حکیمانہ مشورے بھی دیے۔ میں آپ کا یہ احسان بطور خاص کبھی فراموش نہیں کرسکتا۔
بارہ جنوری 2019 کی شام پانچ بجے اچانک خبر موصول ہوئی کہ ڈاکٹر ریحان انصاری ہمارے درمیان نہیں رہے۔ خبر تھی یا ہزاروں واٹ کا کرنٹ۔ عجیب سا جھٹکا محسوس ہوا۔ دل نے کان کو جھٹلایا۔ دماغ نے مزید تصدیق چاہی۔ کئی افراد سے رابطہ کیا۔ فیسبک اور واٹساپ دیکھا۔ بالآخر اس تلخ حقیقت کو قبول کرنا پڑا کہ واقعی ڈاکٹر ریحان انصاری نے جہان فانی کو الوداع کہہ دیا ہے۔ حواس پر قابو پاتے ہوئے اناللہ وانا الیہ راجعون پڑھی۔
اب میں تھا اور مرے آنسو۔ حلق خشک اور اشک رواں، دھڑکن تیز اور آہ بلب۔
اک روشنی تھی کہ ساتھ گئی آفتاب کے۔
گھر والوں کو خبر دی تو پورے گھر پر افسردگی کا عالم طاری ہوگیا اور ان کی تازہ یادیں ذہن کے پردے پر نمودار ہوگئیں۔
خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔
لاریب آپ اپنے عہد کے منفرد شخص تھے۔ آپ ایک اچھے صحافی، بہترین ادیب ، حاذق طبیب ، دانا مصنف ، ماہر خطاط،  خوش نویس کاتب ، با بصیرت حکیم ، غیر جانبدار تجزیہ نگار اور بے لوث مجاہد اردو ہونے کے ساتھ کامل معنوں میں انسان تھے۔ اس حیثیت سے کہ بشمول تواضع و انکساری، شفقت و محبت، ہمدردی و غمگساری اور اخوت و بھائی چارگی جملہ اوصاف حمیدہ سے متصف تھے۔ صوم و صلاۃ کے پابند اور باشرع ہونے کے ساتھ انسانی اقدار کا بے حد پاس و لحاظ کرتے تھے۔
ایسا کہاں سے لائیں کہ تجھ سا کہیں جسے
آپ کا ایک اہم کارنامہ یہ ہے کہ آپ فیض نستعلیق فونٹ کے خالق ہیں۔ آپ نے چار سالہ شبانہ روز جہد مسلسل کے بعد اس فونٹ کو تخلیق کیا۔ اور اس کا نام اپنے کیلی گرافی کے استاد خطاط الہند فیض مجدد لاہوری صاحب کے نام پر “فیض لاہوری نستعلیق فونٹ” رکھا۔ اس طرح سے آپ نے عروس اردو کو ایک نیا جامہ عطا کیا۔
آپ نے ہر ممکن سطح پر مذہب، قوم اور اردو کی خدمت کی۔ کتابیں تصنیف کیں، کالمز لکھے، تدریس کی، محاضرے دیے، وقت کا صحیح ترین استعمال کیا۔
شانتی نگر بھیونڈی میں آپ کا مطب تھا جہاں گزشتہ 27 سالوں سے خدمت خلق کر رہے تھے۔ حق گوئی و بےباکی کو اپنا آئین بنا رکھا تھا۔ حکومت وقت پر سخت تنقید کرتے تھے۔ جو دیکھتے تھے وہی بولنے کے عادی تھے۔
آپ کے پسماندگان میں تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔
بلاشبہ علم و ادب کی مجلسیں آپ کو کبھی فراموش نہ کر سکیں گی، آپ ہمیشہ یاد رہیں گے، آپ ہمیشہ یاد آتے رہیں گے۔
جب بھی خطاطی اور رسم الخط کا نام آئے گا آپ کا ذکر ضرور ہوگا۔
اللہ آپ کی بال بال مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔
ورق تمام ہوا مدح اب بھی باقی ہے
سفینہ چاہیے اس بحر بیکراں کے لیے

Qasida E Ghalib ka Tajazia by Dr. Zakir Khan Zakir

Articles

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں (قصیدۂ غالب : در منقبتِ حضرت علیؓ)

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکرؔ

 

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں
ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں
بے دلی ہاے تماشا کہ نہ عبرت ہے نہ ذوق
بیکسی ہاے تمنا کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
ہرزہ ہے نغمۂ زیر و بم ہستی و عدم
لغو ہے آئینۂ فرق جنون و تمکیں
نقشِ معنی ہمہ خمیازۂ عرضِ صورت
سخنِ حق ہمہ پیمانۂ ذوقِ تحسیں
لاف دانش غلط و نفعِ عبادت معلوم
دُردِ یک ساغرِ غفلت ہے چہ دنیا و چہ دیں
مثلِ مضمونِ وفا باد بدست تسلیم
صورتِ نقش قدم خاک بہ فرق تمکیں
عشق بے ربطیِ شیرازۂ اجزاے حواس
وصل زنگارِ رخ آئینۂ حسنِ یقیں
کوہ کن گر سنہ مزدورِ طرب گاہِ رقیب
بے ستوں آئینۂ خوابِ گرانِ شیریں
کس نے دیکھا نفس اہلِ وفا آتش خیز
کس نے پایا اثر نالۂ دل ہاے حزیں
سامعِ زمزمۂ اہلِ جہاں ہوں لیکن
نہ سر و برگِ ستایش نہ دماغِ نفریں
کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً باللہ
یک قلم خارجِ آدابِ وقار و تمکیں
نقشِ لاحول لکھ اے خامۂ ہذیاں تحریر
یاعلی عرض کر اے فطرتِ وسواس قریں
مظہر فیضِ خدا ،جان و دلِ ختمِ رسل
قبلۂ آلِ نبی کعبۂ ایجادِ یقیں
ہو وہ سرمایۂ ایجاد جہاں گرمِ خرام
ہر کفِ خاک ہے واں گردۂ تصویرِ زمیں
جلوہ پرواز ہو نقشِ قدم اس کا جس جا
وہ کفِ خاک ہے ناموسِ دو عالم کی امیں
نسبتِ نام سے اس کی ہے یہ رتبہ کہ رہے
ابداً پشتِ فلک خم شدۂ نازِ زمیں
فیضِ خُلق اس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے اسد
بوئے گل سے نفسِ بادِ صبا عطر آگیں
بُرّشِ تیغ کا اس کی ہے جہاں میں چرچا
قطع ہوجائے نہ سر رشتۂ ایجاد کہیں
کفر سوز اس کا وہ جلوہ ہے کہ جس سے ٹوٹے
رنگِ عاشق کی طرح رونقِ بت خانۂ چیں
جاں پناہا ! دل و جاں فیض رسانا! شاہا
وصی ختمِ رسل تو ہے بہ فتواے یقیں
جسمِ اطہر کو ترے دوش پیمبر منبر
نام نامی کو ترے ناصیۂ عرش نگیں
کس سے ممکن ہے تری مدح بغیر از واجب
شعلۂ شمع مگر شمع پہ باندھے آئیں
آستاں پر ہے ترے جوہرِ آئینۂ سنگ
رقمِ بندگئ حضرتِ جبریلِ امیں
تیرے در کے لیے اسبابِ نثار آمادہ
خاکیوں کو جو خدا نے دیے جان و دل و دیں
تیری مدحت کے لیے ہیں دل و جاں کام و زباں
تیری تسلیم کو ہیں لوح و قلم دست و جبیں
کس سے ہوسکتی ہے مداحئ ممدوح خدا
کس سے ہوسکتی ہے آرائشِ فردوسِ بریں
جنس بازارِ معاصی اسد اللہ اسدؔ
کہ سوا تیرے کوئی اس کا خریدار نہیں
شوخئ عرض مطالب میں ہے گستاخِ طلب
ہے ترے حوصلۂ فضل پہ از بس کہ یقیں
دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسن قبول
کہ اِجابت کہے ہر حرف پہ سو بار آمیں
غم شبیر سے ہو سینہ یہاں تک لبریز
کہ رہیں خون جگر سے مری آنکھیں رنگیں
طبع کو الفت دُلدل میں یہ سرگرمئ شوق
کہ جہاں تک چلے اس سے قدم اور مجھ سے جبیں
دل الفت نسب و سینۂ توحید فضا
نگہِ جلوہ پرست و نفسِ صدق گزیں
صرف اعدا ،اثرِ شعلہ و دُود دوزخ
وقف احباب گل و سنبل فردوسِ بریں

تجزیہ
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکرؔ
نعتیہ شاعری کی طرح منقبتی شاعری کی ابتدا بھی عربی سے ہوتی ہے ، سب سے پہلی منقبت حضرت امام زین العابدینؓ کی شان میں کی گئی جس کا شرف، فرزدقؔ کو حاصل ہوا۔بقول محمود الٰہی:
’’فرزدقؔ سے عربی میں منقبتی شاعری کا آغاز ہوتا ہے۔ سب سے پہلے حضرت امام زین العابدینؓ کی منقبت میں اس نے شاندار میمیہ قصیدہ لکھا جوآن کی آن میں سارے عرب میں پھیل گیا اور اس کی شہرت میں آج تک کوئی کمی نہیں ہوئی۔‘‘
(اردو قصیدہ نگاری کا تنقیدی جائزہ،ص ۹۴۔ دوسرااڈیشن:۱۹۹۵ء ؁۔اترپردیش اردو اکادمی،لکھنؤ)
فارسی کے ذریعے اردو شاعری میں یہ صنف صوفیائے کرام کے ہاتھوں فروغ پائی اور اردو شاعری کے ابتدائی زمانے ہی سے مثنویوں اور قصائد میں اس کے نقوش ملتے ہیں۔مثنویوں میں تو یہ چلن عام تھا کہ حمد،نعت اور منقبت ہی سے آغاز کیا جاتاتھا۔ غالبؔ کا قصیدہ جس کی ابتدا ’’دہر،جز جلوۂ یکتائیِ معشوق نہیں‘‘مصرعے سے ہوتی ہے،حضرت علیؓ کی مدح میں ہے۔ جوکہ دیوانِ غالب،مرتب:کالی داس گپتا رضاؔ کی تاریخی ترتیب کے مطابق 1821کی تخلیق ہے۔پہلے دس شعر تشبیب کے ہیں اس کے بعد دو شعر گریز کے،اُنیس شعر منقبتِ علیؓ میں اور باقی دو شعر عقیدت مندانہ اظہار کے خاتمہ پر ہے۔ اس طرح اس قصیدے میں کل ۳۳؍شعرہیں۔
قصیدے کا اصل موضوع تو مدح یا ہجوہے لیکن یہ صنف مدح یاہجوسے زیادہ تشبیب کے لیے شہرت رکھتی ہے۔ تشبیب کی اصطلاح ابتدا میں صرف عشقیہ تمہید کے لیے رائج تھی ، بعد میں اس کا اطلاق قصیدے کی تمہید کے سبھی موضوع پر ہونے لگا۔قصیدے کے فن پر جب بھی بات ہوتی ہے تو سب سے زیادہ تشبیب کے موضوع پر ہی زورِ قلم صرف کیا جاتا ہے ۔مدح میں ممدوح کے مرتبے کے لحاظ سے جو بھی خیال باندھا جاتاہے وہ زیادہ ندرت آگیں نہیں ہوتا کیوں کہ نعت و منقبت،یا کسی حاکم یا وہ شخصیت جس سے مداح محبت و عقیدت رکھتا ہو،یا پھر صلہ وانعام، کی غرض سے مدح کرتا ہو، ایک حد سے آگے تجاوز نہیں کرسکتا۔ بس الفاظ اور اپنی قادرالکلامی سے وہ خیال کے اظہار میں خوش بیانی اور اپنی جولانیِ طبع کا مظاہرہ کرتا ہے۔جب کہ تشبیب میں موضوعاتی تنوع کی فراوانی ہوتی ہے۔قصیدے کی کامیابی کا دارومدار عمدہ تشبیب پر ہوتاہے۔محمود الٰہی نے غالبؔ کی ہر تشبیب کوایک’’تیرِ نیم کش‘‘ کہا ہے۔ غالبؔ کے اس قصیدے کی تشبیب کا پہلا ہی شعر سامع یا قاری کو اپنی جانب متوجہ کرلیتا ہے ، پوری تشبیب،گریز کے ساتھ ملاحظہ ہو:
دہر، جز جلوۂ یکتائیِ معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے، اگر حسن نہ ہوتا خودبیں؟
بے دلی ہائے تماشہ،کہ نہ عبرت ہے‘ نہ ذوق

بے کسی ہائے تمنا، کہ نہ دنیا ہے نہ دیں
ہرزہ ہے، نغمۂ زیروبمِ ہستی وعدم

لغو ہے، آئینۂ فرقِ جنون وتمکیں
نقشِ معنی ہمہ، خمیازۂ عرضِ صورت

سخنِ حق ہمہ، پیمانۂ ذوقِ تحسیں
لافِ دانش غلط، و نفعِ عبادت معلوم

دردِ یک ساغرِ غفلت ہے، چہ دنیا،وچہ دیں
مثلِ مضمونِ وفا، بادبدستِ تسلیم

صورتِ نقشِ قدم، خاک بہ فرقِ تمکیں
عشق، بے ربطیِ شیرازۂ اجزاے حواس

وصل، زنگارِ رخِ آئینۂ حسنِ یقیں
کوہ کن، گُرسنہ مزدورِ طرب گاہِ رقیب

بے ستوں، آئینۂ خوابِ گرانِ شیریں
کس نے دیکھا ، نفسِ اہلِ وفا آتش خیز؟

کس نے پایا، اثرِ نالۂ دِلہائے حزیں؟
سامعِ زمزمۂ اہلِ جہاں ہوں، لیکن

نہ سرو برگِ ستائش، نہ دماغِ نفریں
کس قدر ہرزہ سرا ہوں کہ عیاذاً بااللہ!

یک قلم خارجِ آدابِ وقارو تمکیں
نقشِ’’لاحول‘‘ لکھ، اے خامۂ ہذیاں تحریر

’’یاعلی‘‘ عرض کر، اے فطرتِ وَسواس قریں
اس تشبیب میں تصوفانہ مضمون باندھا گیا ہے اور تصوف کے ایک خاص رجحان کی نمائندگی اس میں ندرت کے ساتھ پیش کی گئی ہے۔ پہلے شعر میں تصوف کا وہ فلسفہ ہے جس کے مطابق اللہ کو جب اپنے دیدار کی تمنا ہوئی تو اس نے دنیا کو آئینہ بنایا جس میں وہ اپنا عکس دیکھنا چاہتا تھا۔ یہ دنیا اللہ کی وحدت کی تجلی کے سوا کچھ نہیں اوریہ تجلی اس کی وحدانیت پردلال دیتی ہے۔ یہ دنیا اس کے مظاہر میں سے ہے جس میں اس کی ذات اور صفات جھلکتی ہے،اپنی نمائش اور آرائش کے لیے اس نے دنیا کا آئینہ بنایا جس میں وہ اپنا دیدار کرتاہے۔ اگر اس میں خودبینی کاجذبہ نہ پیدا ہوا ہوتا تویہ عالم نہیں بنایا گیا ہوتا۔ دوسرے شعر میں کہتے ہیں کہ بے دلی اور بے کسی ہم میں اس قدر بڑھ گئی ہے کہ اس کے کائنات کے دیدار کی تمنا ہمارے اندر مرگئی ہے۔ یہ دنیا عبرت کے لیے اور اللہ کی جلوہ گری کے لیے انسان کو دعوتِ نظارہ دیتی ہے ۔تماشہ سے مراد یہاں نظارہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے دیدار کی جو تمنا ہے وہ ہمارے اندر مرگئی ہے۔ نہ ہم پوری طرح سے دنیا ہی میں مکمل ہیں اور نہ ہی نا دین میں۔ تیسرے شعر میں زیر، عدم کے لیے اور بم، ہستی کے لیے استعمال ہوا ہے۔ ’’زیرو بم ‘‘موسیقی،نغمہ یا سرتال کی اصطلاح ہے ،جوآوازموٹی اور آہستہ سے نکلتی ہے اسے زیرکہتے ہیں اور جو اونچی تان ہوتی ہے اسے بم کہتے ہیں۔ اسی مناسبت سے یہ لفظ لایا گیا ہے کہ یہ دنیا ،یہ کائنات ہو نہ ہو، اس کے اندر جو نغمگی پیدا ہوتی ہے،یا اس کو جاننے کا جو دعویٰ ہے کہ ہم اس کے زیروبم اور اس کی موسیقیت کو سمجھتے ہیں ، یہ وحدت الوجود کا ایک نظریہ ہے جسے تصوف کی اصطلاح میں تسبیحِ قولی کہتے ہیں،اس کی دو قسمیں ہیں ، جو وحدت الوجود کے قائل ہیں وہ قولی تسبیح پر یقین رکھتے ہیں، ان کا ماننا ہے کہ جو کچھ زمین وآسمان میں ہے وہ اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں، غالبؔ اسی نظریے کے قائل ہیں۔اور جو وحدت الشہود کے ماننے والے ہیں تسبیحِ حالی کومانتے ہیں۔ غالبؔ کہتے ہیں جو لوگ نغمگی کا دعویٰ کر رہے ہیں،اس کے نغمات کو سمجھ رہے ہیں یہ بکواس کر رہے ہیں ان کا دعویٰ غلط اور بے بنیاد ہے۔اسی طرح جنون وتمکین میں جو فرق ہے اس کی آئینہ داری بھی بے بنیاد اور لغو ہے جنون سے مراد عاشق یعنی عشقِ خداوندی کا قائل ،تمکین سے مراددل اور دماغ،تمکنت سے مرادفلسفہ یعنی اہل دنیا،یہ دونوں اہل نظرجوفرق پیدا کرتے ہیں، یعنی جو دین اور دنیا میں فرق ہے،اور جو آئینہ داری کرتے ہیں یعنی تفریق و امتیاز کرتے ہیں یہ سب کے سب بکواس اور غلط کرتے ہیں۔
چوتھے شعر میں،’’ نقشِ معنی ‘‘یعنی اس دینا کی معلومات کے نقوش ’’ خمیازۂ عرضِ صورت‘‘یعنی یہ سب ظاہری ہیں۔ مطلب یہ کہ سمندر میں جو جھاگ اٹھتا ہے وہ سمندر کا حصہ تو ہوتا ہے لیکن پانی نہیں ہے۔سخن حق کی جوبات ہے وہ تو ظاہری بات ہے ،یہاں خمیازہ کی مناسبت سے پیمانۂ ذوقِ تحسیں جو لایا گیا ہے اس سے یہ مراد ہے کہ ہمارا حسن شناسی کا جو پیمانہ ہے وہ بھی غیر معتبر ہے۔ پانچویں شعرمیں ’’لافِ دانش‘‘ ، دانش یعنی عقل مندی، دنیاوی علوم اورلاف یعنی بکواس ،بے کار کا دعویٰ کرنا ، یعنی عقل مندی اور دنیاوی علوم پر جو عبورکا دعویٰ ہے وہ بھی غلط ہے ۔عبادت اور دین داری کے نفع کی معلومات کا دعویٰ بھی غلط ہے، چاہے دین ہو یا دنیا ان سب کے علم کا دعویٰ لا علمی کے جام کی تلچھٹ ہے۔ چھٹے شعر میں’’بادبدستِ تسلیم‘‘ یعنی تسلیم کے دست پر ہوا،یعنی ہوا ہرچیز کو اڑادیتی ہے،غالبؔ کا فلسفہ یہ ہے کہ دنیا میں وفانام کی کوئی چیز نہیں ہے۔ کوئی وفادار نہیں ہے۔ ’’مثلِ مضمونِ وفا‘‘ جہاں لفظ وفا لاتے ہیں وہاں وہ معنی یا مضمون کی بات کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کی رضا یا رغبت کے سامنے،تسلیم ہونا یا ایمان لے آنایہ بالکل جھوٹی بات ہے، لہٰذا اللہ سے بھی وفاداری کا سوال پیدا نہیں ہوتایہ سب دعوے غلط ہیں۔ اورتمام دنیاوی علوم و فلسفے کے سر پر خاک ،قدموں کے نقش کی طرح۔یعنی قدم اٹھنے کے بعد خالی نقش رہ جاتا ہے جس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی، یہ غالبؔ کا خاص فلسفہ ہے۔ یعنی جو صورت نظر آرہی ہے وہ حقیقت میں نہیں ہے یہ اس کا نقش ہے۔ ساتویں شعر میں عقل و شعور کے تمام اجزا کی شیرازہ بندی یہاں کتاب کی مناسبت سے لایا گیاہے جس طرح کتاب کی طباعت ہوتی ہے تو آٹھ آٹھ صفحے کے جز بنائے جاتے ہیں اور ان جز کو دھاگے کی مدد سے سلنے کو شیرازہ بندی کہتے ہیں ۔ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہمارے عشق کی کتاب کے شیرازے اکھڑ چکے ہیں ان میں کوئی ربط ہی نہیں ہے۔ یعنی ہمارے عقل و شعور کے اجزاکے بکھر جانے کا نام عشق ہے۔یعنی یہ عشق نہیں ہے اور وصل بھی نہیں ہے اللہ سے عشق کا دعوی بھی غلط ہے۔وصل تب ہوگا جب ہمارے دل کا آئینہ بالکل صاف ہو۔ آئینے پر لگا ہوا مسالہ زنگار کہلاتا ہے جس میں صورت نظرآتی ہے اس میں تلچھٹ پڑی ہونے کی وجہ سے صورت نہیں دیکھ پارہے ہیں۔ وہ صورت نظرنہیں آرہی ہے اس لیے وصل نہیں ہو پارہاہے۔ حسنِ یقین سے مراد یہاں ایمان ہے۔ یعنی ہمارے دل کے آئینے کا زنگار اتنا دھندلا ہو چکا ہے کہ اس میں ذاتِ حقیقی کا چہرہ نظرنہیں آرہاہے۔ آٹھویں شعر میں رقیب سے مراد یہاں خسروپرویز سے ہے۔ طرب گاہ یعنی اس کا محل، گُرسنہ یعنی بھوکا،ہوس پرست، اور کوہ کن،پہاڑ کاٹنے والا یعنی فرہاد۔ یہاں یہ کہا گیا ہے کہ فرہاد شیریں سے سچی محبت نہیں کرتا تھا بلکہ پرویز کے عالی شان محل میں مزدوری کرنے کا بھوکا تھا، اس کے دربار میں رہنا چاہتا تھا،اور بے ستوں سے مراد وہ پہاڑ جس پہ خسرو کا محل قائم تھا۔ اس کے بعد ’’آئینۂ خوابِ گرانِ شیریں‘‘ یہاں ایہام ہے۔ یہاں شیریں کا لفظ گہرا خواب کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور فرہاد کی محبوبہ شیریں کے لیے بھی۔یعنی یہاں بھی بیداری نہیں ،غفلت ہی غفلت ہے۔ نویں شعر میں یہ کہا گیا کہ اہل وفا کے نفس کو کس نے شعلہ انگیز دیکھا ہے ، اہل وفا جھوٹے ہیں وفا اس دنیا میں نہیں ہے۔ اور دل دکھے غم زدہ دلوں کے نالوں سے اثر کس نے پایا ہے؟ یعنی یہ بھی جھوٹے ہیں۔ دسویں شعرمیں، چاہے وہ صوفی ہوں ،فلسفی ہوںیا دانشور ، چاہے عاشقِ الٰہی ہوں، میں ان لوگوں کے زمزمے کو سن رہاہوں، لیکن میں خلوص اور محبت سے نہیں سن رہا ، نہ ہی ان لوگوں کی تعریف ستائش کرنے کا مجھے شوق ہے اوردماغ ان لوگوں سے نفرت کررہاہے۔ یعنی میرے نزدیک ان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے کہ میں اس کو قبول کروں یا مسترد کروں، یعنی ان سے لا تعلق ہوں۔ غالبؔ کی اس تشبیب میں جتنے شعر ہیں سبھی کا لب لباب یہ ہے کہ دینا کی کسی شے میں خلوص وفا نہیں ہے،سب جھوٹی ہیں۔ کیوں کہ انھیں علیؓ سے اپنی محبت وعقیدت کا اظہار کرنا ہے اس لیے بے ثباتیِ دنیا اور یہاں کی ہر شے سے بیزاری کا ذکر کررہے ہیں۔
اب یہاں اچانک انھیںیہ خیال آیا کہ حضرت علیؓ کے آداب کو میں نے خارج کیا ہے یعنی غلطی اور گستاخی کی ہے اور ہرزہ سرائی یعنی بکواس کیے جارہاہوں اللہ مجھے معاف کرے۔اور میری فطرت میں جو وسوسے آرہے ہیں وہ شیطان کی وجہ سے آرہے ہیں ،لہٰذا،یاعلیؓ، عرض کرکے، لاحول کا نقش لکھ دوں تاکہ شیطان بھاگ جائے اور حضرت علیؓ کی یاد میں دل پختہ ہوجائے۔اس کے بعد حضرت علیؓ کی مدح شروع کرتے ہیں اور انیسویں شعر میں حضرت علیؓ کی سواری ’’دُلدُل‘‘ کی الفت میں اپنی طبع کو اس طرح سرگرمِ شوق رکھنا چاہتے ہیں کہ جہاں تک اس سے قدم بڑھائے جاسکیں، وہاں تک وہ سجدہ کرتے چلیں گے، یعنی حضرت علیؓ سے بے انتہا محبت وعقیدت ہے انھیں۔
جہاں تک غالبؔ کے قصائد کی بات ہے وہ اس میدان میں بھی اپنے ہم عصروں سے الگ راہ نکالے ہوئے ہیں۔ ان کے اس قصیدے میں برجستگی اور آمد کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔ اس قصیدے کے کئی شعر ایسے ہیں جس میں اردو کے تفاعیل کا استعمال با لکل نہیں ہوا ہے ۔صرف عربی اور فارسی الفاظ کو ترکیبی صورت میں پرویا گیا ہے۔ اس کے باوجود بھی مصرعوں کی روانی میں کوئی رخنہ نہیں آتا اور خیال کی بلندی، معنی ومفہوم کی تفہیم میں کوئی خلل واقع نہیں ہوتا۔ہاں کہیں کہیں پر یہ محسوس ہوتا ہے کہ وہ جوشِ محبت و عقیدت میں جذباتی ہوکر منقبت کی حد عبور کرکے حمداورنعت کی حدود میں داخل ہوگئے ہیں، ملاحظہ فرمائیں:
جلوہ پرداز ہو، نقشِ قدم اس کا ، جس جا

وہ کفِ خاک ہے ناموسِ دوعالم کی امیں
فیضِ خلق اُس کا ہی شامل ہے کہ ہوتا ہے سدا

بوئے گل سے، نفسِ بادِصبا، عطرآگیں
دے دعا کو مری وہ مرتبۂ حسنِ قبول

کہ اِجابت کہے ہر حرف پہ سوبار’’آمیں‘‘
غالبؔ کے عقیدے کا تعلق کس مسلم فرقے سے تھا وہ اس منقبت میں صاف جھلک رہا ہے۔ پچیسویں شعر میں انھوں نے حضرت علیؓ کی مدحت میں دل وجاں، کام وزباں اور تسلیم کے لیے لوح وقلم اور دست وجبیں، سب کچھ وقف کردیا توپھر حمد ونعت کے لیے ان کے پاس بچا ہی کیاہے۔ خود کو یکتا سمجھنے والے غالبؔ بھی دیگر شعرا کی طرح اپنے اعتقاد کی خول سے باہر نہیں نکل پائے۔ اس کے باوجود بھی ان کی عظمت اپنی جگہ مسلم ہے جس میں کوئی شک نہیں۔
***

Josh ki Naz’m Kisaan by Dr. Jamal Rizvi

Articles

جوشؔ کی نظم’ کسان‘

ڈاکٹر جمال رضوی

جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے بڑی بے اعتنائی سے کام لیا ہے۔اس سلسلے میں ناقدین کا رویہ اگر معاندانہ نہیں تو منصفانہ بھی نہیں رہا۔ جوشؔ فہمی کے ذیل میں ارباب نقد و نظر کے درمیان دو گروہ نمایاں نظر آتے ہیں ۔ایک گروہ جو جوشؔ کی شاعرانہ صلاحیت کا گرویدہ ہے تو دوسرا جوشؔ کی شاعری کے معائب و نقائص کی نشاندہی کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔تعریف وتنقیص کا یہ سلسلہ جوشؔ کے فن سے تجاوز کرکے ان کی شخصیت کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتا ہے ۔جوشؔ کی شعری تفہیم میں ناقدین کے اس رویہ کا ایک بڑا سبب خود جوش ؔکی شخصیت رہی ہے۔ جوش ؔکی شاعری پر گفتگو کے سلسلے میں ناقدین کے یہاں معتدل رجحان کے بجائے عموماً ایسی شدت پسندی نظر آتی ہے جو شاعر کے فنکارانہ خدوخال کو نمایاں کرنے کے برعکس اس میں پیچیدگی اور الجھائو پیدا کردیتی ہے۔اردو ناقدین کا یہ رویہ کبھی جوشؔ کو فن کے اعلیٰ مدارج پر پہنچا دیتا ہے اور کبھی اس قدر کمتردرجے کا شاعر بنا دیتا ہے جو فکرو فن کی نزاکتوں اور تقاضوں سے نا بلد نظر آتا ہے۔ اردو ادب میں جوش ؔکی حیثیت متنازعہ فیہ شاعر کی رہی ہے۔جوش ؔکے فن کا تجزیہ کرتے وقت ارباب ِ ادب نے بڑی بے اعتنائی سے کام لیا ہے۔اس سلسلے میں ناقدین کا رویہ اگر معاندانہ نہیں تو منصفانہ بھی نہیں رہا۔ جوشؔ فہمی کے ذیل میں ارباب نقد و نظر کے درمیان دو گروہ نمایاں نظر آتے ہیں ۔ایک گروہ جو جوشؔ کی شاعرانہ صلاحیت کا گرویدہ ہے تو دوسرا جوشؔ کی شاعری کے معائب و نقائص کی نشاندہی کرنے پر آمادہ نظر آتا ہے۔تعریف وتنقیص کا یہ سلسلہ جوشؔ کے فن سے تجاوز کرکے ان کی شخصیت کو بھی اپنے دائرے میں لے لیتا ہے ۔جوشؔ کی شعری تفہیم میں ناقدین کے اس رویہ کا ایک بڑا سبب خود جوش ؔکی شخصیت رہی ہے۔
جوشؔ کی سوانح سے واقفیت رکھنے والے اس کی تائید کریں گے کہ جوشؔکے مزاج میں سنجیدگی ،استحکام اور غوروفکر کم اور لا ابالی پن ،جذباتیت اور اشتعال زیادہ تھا۔وہ جس نسبی سلسلے سے تعلق رکھتے تھے اور ان کی پرورش جس ماحول میں ہوئی تھی اس کے اثرات آخر عمر تک ان کی شخصیت پر نظر آتے ہیں۔جوشؔ نے اپنی شاعری میں غریبوں اور مزدوروں کی حمایت میں گرچہ بہت کچھ کہا لیکن وہ اپنے خاندان کے جاگیردارانہ پس منظر کے حصار سے پوری طرح آزاد نہ ہو سکے تھے۔ یہ ایک نمایاں سبب ہے کہ ان کی انقلابی نظموں اور سماجی موضوعات پر لکھی گئی نظموں میں بعض اوقات ایسی چیزیں نظر آتی ہیں جو حقیقت سے قریب ہونا تودور کی بات ہے بعید از قیاس ہوتی ہیں ۔ وہ کسی موضوع کا جو مخصوص خاکہ اپنے ذہن میں مرتب کرلیتے تھے اسے ہی اشعار کے سانچے میں ڈھال دیتے تھے اور اس پر ان کی توجہ کم ہوتی تھی کہ موضوع کے متعلقات میں اصلیت ہے یا نہیں۔دوسرے یہ کہ جوشؔ کی شخصیت پر نرگسیت کا غلبہ اس حد تک رہا کہ وہ کسی کو بھی خاطر میں نہیں لاتے تھے۔اس کا اثر یہ ہوا کہ خود پسندی ان کے مزاج کا حصہ بن گئی تھی۔اس کا دوسرا اثر یہ ہوا کہ ناقدین ادب جوشؔ کی شاعری کے معائب و کمیاں ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر نکالنے لگے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جوشؔ کی ان تخلیقات کو بھی در خور اعتنا نہیںسمجھا گیا جو موضوع اور طرز کے اعتبار سے انفرادیت کی حامل ہیں۔نظم ’کسان‘ کا شمار بھی جوشؔ کی ایسی تخلیقات میں ہوتا ہے جو موضوع کے اعتبار سے انفرادی مقام رکھتی ہے۔
نظم ’کسان‘ کو جوشؔ کی چند اہم نظموں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔لیکن عصر ِ حاضر کے بعض ناقدین اسے ایک ناکام اور غیر موثر نظم قرار دیتے ہیں جس میں جوش ؔنے صرف الفاظ کی بازی گری کے مظاہرپیش کئے ہیں۔ ان ناقدین کا اعتراض ہے کہ جس طرح جوشؔ کی بیشتر شاعری میں الفاظ کے استعمال پر ماہرانہ قدرت کا رجحان نظر آتا ہے ویسے ہی اس نظم کو بھی جوشؔ نے الفاظ کا گورکھ دھندہ بنا دیا ہے۔ تفہیم جوشؔ کے سلسلے میں ایسے ناقدین بھی نظر آتے ہیں جوانھیں سرے سے شاعر ہی نہیں تسلیم کرتے۔ایسے ناقدین کا ماننا ہے کہ جوشؔ کے یہاں افکار کی وسعت نہیں ہے اور وہ کسی معمولی سے موضوع کو کثرت الفاظ سے ایسا طول دیتے ہیں کہ بعض اوقات وہ موضوع بجائے خود مبہم ہو جاتا ہے۔ ان ناقدین کا اصرار یہ بھی ہے کہ چونکہ تند مزاجی اور تنک مزاجی جوشؔ کی شخصیت میںجزو لاینفک کی صورت شامل تھی اس لئے وہ کسی واقعہ کو اگر اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیں تو اس میں سطحی قسم کے جذبات کی فراوانی ہوتی ہے ا ور اس وجہ سے ان کے یہاں موضوعات گرچہ آفاقی اہمیت کے حامل ہیں لیکن جب وہ شعر کی صورت اختیار کرتے ہیں تو ان میں تاثر کی کمی کا احساس شدت سے ہوتا ہے۔بعض ناقدین جوشؔ کی نظم کسان کو بھی اسی زمرے میں رکھتے ہیں ۔ان ناقدین کا اس نظم پر ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ جوشؔ نے حسب ِ عادت اس میں بھی الفاظ کے استعمال کا کرتب دکھایا ہے اور منفرد و انوکھے اشعارات و تشبیہات وضع کرنے کی ان کی کوشش نے اس نظم کو بے کیف و بے اثر بنا دیا ہے۔نظم کے آغاز میں جوشؔ نے کسان کی شخصیت کا جو خاکہ پیش کیا ہے اس کے مطابق کھیتوں میں حل چلانے والا یہ کسان فطرت کا ایسا ماہر نباض ہے جو بس ایک نظر آسمان کی جانب دیکھ کر موسم کا مزاج اور آئندہ اس میں ہونے والی تبدیلی کا پتہ چلا لیتا ہے وہی کسان نظم کے اختتام پر بھوک و افلاس محرومی اور مایوسی کی تصویر بن جاتا ہے۔کسی شاعر کے متعلق کسی تنقید نگارکے نظریہ میں تبدیلی صحت مند تنقید ی طرزِ عمل کی طرف اشارہ کرتی ہے اور ساتھ ہی یہ عمل نقاد کے نظر اور نظریہ میں وسعت اور ہمہ گیریت کا ثبوت ہے۔لیکن جوشؔ کے معاملے میں ناقدین کا رویہ بعض اوقات غیر معتدل اور شدت پسندانہ رہا ہے۔
جیسا کہ شروع میں عرض کیا گیا کہ جوشؔ کی شاعری پر گفتگو کے وقت بیشتر ناقدین نے بعض نظریاتی تحفظات قائم کرلیے جس سے باہر دیکھنے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔اس کا ایک سبب جوشؔ کی بیباکی ،انانیت اور بعض دفع ان کی خود پسندی رہی اور دوسرے ان کے خدا و مذہب سے متعلق نظریات، جن کی وجہ سے بعض کے نزدیک وہ کافر و ملحد تک ہو گئے تھے۔اس کے علاوہ پاکستان ہجرت کے بعد وہاں کی ادبی دنیا میں ان کا جو مخصوص حلقۂ احباب تھا وہ بھی اس ضمن میں ایک اہم سبب بنا۔ خلیق انجم نے ’جوشؔ ملیح آبادی :تنقیدی جائزہ‘ کے حرف آغاز میں جوشؔ کی شخصیت اور فن کے متعلق جن اہم نکات کا ذکر کیا ہے اس کے حوالے سے بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ اب کسی تخلیق کار اوراس کے فن پر گفتگو میںمسلکی اختلاف کو بھی ایک اہم حوالے کے طور پر مدِ نظر رکھا جاتا ہے۔جوشؔ کے سلسلے میں یہ رویہ ناقدین کے یہاں کچھ زیادہ ہی نظر آتا ہے۔
اس مضمون میں چونکہ سردست جوشؔ کی نظم کسان کے متعلق چند باتیں عرض کرنا مقصود ہے لہٰذا اس نظم کے متعلق جو سب سے اہم اور قابلِ غورحقیقت ہے وہ یہ کہ جوشؔ نے جس زمانے میں کسان ،مفلس اور محنت کش خاتون کو شاعری کا موضوع بنایا تھا اس عہد تک اردو شاعری محبوبِ فتنہ گرکی عشوہ گری اور شبستانِ جاناں سے باہر قدم رکھنے کا حوصلہ عموماً اپنے اندر نہیں پیدا کر سکی تھی ۔ایسے دور میں جوشؔ نے ۱۹۲۹ء میں یہ نظم لکھ کر اپنی شاعری کے سماجی سروکار کی طرف اشارہ کیا تھا۔اس اعتبار سے اردو شاعری میں جوشؔ کی فضیلت کا ذکر کرتے ہوئے پروفیسر فضل امام نے لکھا ہے:
’’جوشؔ کی انقلابی شاعری کا یہ سب سے نمایاں کارنامہ ہے کہ اس نے سب سے پہلے ’’کسان‘‘ اور اس کے ’’ھل‘‘ کو موضوع ِ شاعری بنایا ۔ اس کے قبل کسی بھی شاعر نے غریب ،مفلس ،سیاسی رتھ کے پہیوں میں کچلے ہوئے ’’کسان‘‘ اور اس کے ’’ھل‘‘ کو منہ نہیں لگایا تھا۔جوشؔ کی اس طرح کی موضوعاتی نظموں میں ھندوستان کے گائوں اور دور دراز علاقے کی جمالیات کے مرقعے بھی نگاہوں میں کھپ جاتے ہیں اور ایک اپنے پن کا  احساس دلوں میں انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔‘‘    (انتخابِ کلیات ِ جوشؔ ص ۲۳)
جوشؔ نے معاشرہ کے استحصال زدہ کردار کو نظم کا موضوع بنا کر شاعری کی سماجی وابستگی کو ترجیح تو دی لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ موضوع کے برتنے میں انھیں کس حد تک کامیابی ملی؟ نظمیہ شاعری کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ شاعر جس موضوع پر اظہارِ خیال کرے اس کا ایک واضح خاکہ مرتب ہونے کے علاوہ اس کے متعلقات اور دیگر امکانی پہلو بھی ایک حد تک عیاں ہوجائیں۔اس حوالے سے جوشؔ کی یہ نظم عمومی طور پر کامیاب نظم نہیں کہی جا سکتی لیکن انھوں نے کسان کے حوالے سے انسانی سماج کے جس مخصوص پہلو کو نمایاں کرنے کی کوشش کی اس میں وہ بہت حد تک کامیاب رہے۔ تاہم اس نظم کے حوالے سے ان کی شاعری پر جو اعتراضات کئے گئے ان میں ایک بڑا اعتراض یہ ہے کہ نظم کسان کی شخصیت کا واضح تاثر قائم کرنے میں ناکام ہے۔نظم میں کسان کی شخصیت حرکت و عمل سے بیگانہ نظر آتی ہے۔ وہ وقت اور حالات سے نبردآزما ہونے کے بجائے ان پر اکتفا کرتا ہے اور جس شخصیت میں جوش و جذبہ کا اظہار موجِ دریا کے تموج کی طرح ہونا چاہئے وہ مایوسی اور محرومی کی تصویر نظرآتاہے۔کسان اپنے بیوی بچوں کی فاقہ کشی پر کڑھتا تو ہے لیکن اس صورتحال کو تبدیل کرنے کی کوئی تدبیر کرتا نظر نہیں آتا ۔جوشؔ کے شاعرانہ افکار کے حوالے سے اس نظم پر ایسے اعتراضات عموماًکیے جاتے ہیں۔
اس نظم پر دوسرا اعتراض جوشؔ کی شاعری پر بیشتر ناقدین کی آرا میں عمومی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ اعتراض شاعری کے فن کے حوالے سے ہے۔اس نظم کے متعلق یہ بھی کہا گیا کہ جوشؔ نادر تشبیہات و استعارات اور بعض دفع حیرت انگیز تراکیب وضع کرنے کے چکر میں موضوع کومبہم اورکبھی کبھی بے معنی بنا دیتے ہیں۔یہ عمل ان کی شاعری کو طول دیتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی تاثر کا فقدان بھی اس کی وجہ سے ہو جاتا ہے۔دوسرے یہ کہ الفاظ کے کثرت استعمال کی وجہ سے فکر میں وسعت پیدا ہونے کے بجائے موضوع میں تکرار کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔رشید حسن خان نے نظم کسان کے حوالے  سے جوشؔ کی شاعری کے اس طرز کے متعلق لکھا ہے:
’’ان کی ایک اور مشہور نظم ہے ’’کسان‘‘ اس میں ’’ہل’’ کے لئے جو تشبیہیں لائی گئی ہیں اور ’کسان‘‘ کو جن صفات سے متصف کیا گیا ہے،ان میں بجائے خود کیسی ہی اور کتنی ہی خوبیاں ہوں مگر وہ ’’ہل‘‘ اور ’’کسان‘‘ کی اصل شکل و صورت کو اس قدر بدل دیتی ہیں کہ ان دونوں کو پہچاننا مشکل ہو جاتا ہے۔لوہے سے بنے ہوئے ہل کو دیکھئے اور پھر ان تشبیہوں کے آرائش کدے کو دیکھئے جہاں رنگ و بو کی موجیں اٹھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں۔شاعر کے بے محابا ذوق تشبیہ تراشی کی تسکین ہو جاتی ہے، لفظوں کا ہجوم بھی آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے،لیکن اصل موضوع کا چہرہ مہرہ بگڑ جاتا ہے۔‘‘           (جوش ملیح آبادی :تنقیدی جائزہ ص۱۷۲)
اس نظم پر اعتراض کرتے ہوئے رشید حسن خاں نے مزید لکھا ہے کہ ’’ہل‘‘ کے لئے جو تشبیہیں استعمال کی گئی ہیں اور کسان کو جن خطابات سے نوازا گیا ہے وہ غیر موزوں ہیں۔اس کے علاوہ ان کا کہنا ہے کہ نظم کا آخری حصہ جس میں کسان کے فاقہ زدہ بچوں کا ذکر ہے،وہ سابقہ جزو پر پھبتی معلوم ہوتا ہے۔ بقول رشید حسن خاں آخری حصہ غیر موثر اور کمزور اس لئے ہے کہ جوشؔ نظم کے اس جزو میں مرصع کاری کا وہ کارنامہ انجام نہیں دے سکے جو اس کے قبل کے حصوں میں نظر آتا ہے۔
عموماً نظم جب کسی موضوع پر لکھی جاتی ہے تو مرکزی موضوع کی توضیح و تشریح کے وقت اکثر نظم کے مختلف اجزا کا آہنگ ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔کسی صورت حال یا مخصوص کیفیت کو بیان کرنے کے لئے شاعر جن الفاظ کا استعمال کرتا ہے اگر ان کا صوتی آہنگ اس صورتحال یا کیفیت کی ترجمانی مکمل طور پر نہ کرسکے تو ایسی شاعری بے اثر کہلاتی ہے۔اس اعتبار سے مختلف اجزاسے ترتیب پانے والی کسی نظم کے مختلف حصوں میں صوری اختلاف ہو توبھی ایسی شاعری کو ناقص تب تک نہیںقرار دیا جا سکتا جب تک اس میں معنوی سطح پر انتشار نہ ظاہر ہو۔چونکہ جوشؔ کی یہ نظم بھی ایک مرکزی موضوع کے تحت ظاہری طور پر ۵؍ حصوں سے تشکیل پاتی ہے اور ہر جزو کسی خاص صورتحال ،منظر، واقعہ یا کیفیت کو بیان کرتا ہے ،لہٰذا بیان کے حسبِ موزوں لفظیات کا استعمال شاعری کی فنی نزاکتوں سے شاعر کی واقفیت کو ثابت کرتا ہے۔
نظم کے ابتدائی حصے میں غروبِ آفتاب کے وقت کا منظر بیان کر کے خوشگوار تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔۹؍ اشعار پر مشتمل اس حصے میں جوشؔ نے فطرت کی منظر کشی اپنے اسی مخصوص انداز میں کی ہے جس کی وجہ سے انھیں ’’شاعرِ فطرت‘‘ بھی کہا گیا۔یہ حصہ نظم کا تمہیدی حصہ ہے اس لئے جوشؔ نے فطرت کے ایک حسین منظر کو بیان کرکے نظم میں فرحت بخش تاثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ وہ منظر کی واضح تصویرنہیں پیش کرسکے ۔منظر کی پیشکش میں حقیقت بیانی کے بجائے بے ربط تخیل کا غلبہ اس حد تک ہے کہ منظر کے مختلف لوازم میں تضاد نمایاں ہے۔مطلع میں شفق اور غروب ِ آفتاب کا ذکر یہ ظاہر کرتا ہے کہ آفتاب مکمل طور پر روپوش نہیں ہوا ہے بلکہ غروب کا عمل جاری ہے۔نظم کا پہلالفظ ’’جھٹپٹے‘‘ بھی اس کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ ابھی مکمل تاریکی نہیں پھیلی ہے۔ لیکن اسی حصہ میں ایسے مصرعے بھی ہیں جو رات ہونے کا پتہ دیتے ہیں ۔ ’’ تیرگی میں کھیتوں کے درمیاں کا فاصلا‘‘ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ سورج مکمل طور پر غروب ہو گیا اس لیے تاریکی کا ذکر عین فطری ہے ۔تو سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ پھر نظم کے چوتھے حصہ میں شفق کا ذکر کیوں کر کیا گیا کیونکہ رات کی تاریکی اور شفق کی سرخی کا تصور بیک وقت ممکن نہیں ہے۔اس کے علاوہ ’’ بام گردوں پر کسی کے روٹھ جانے کی شان‘‘ جیسے مصرعے محض طول کلام کے لئے لکھے گئے ہیں۔جوش ؔکو شاید یہ گمان تھا کہ خوبصورت الفاظ جمع کر دینے سے کوئی منظر خوشنما ہو جاتا ہے۔اگر کسی حد تک اس کو صحیح بھی مان لیا جائے تو اس کے ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ ایسے منظرسے اصلیت مفقود ہو جاتی ہے۔اس طرح یہ منظر بقیہ نظم کی تو ضیح کے لئے موثر پس منظر کا کام دینے کی بجائے غیر موثر آغاز کے طور پر پوری نظم کو ایک حد تک متاثر کرتاہے۔
تمہید کے بعد والے جزو میں کسان کی شخصیت بیان کی گئی ہے۔یہ جزو نظم کے بقیہ جزو سے زیادہ طویل ہے اور جوشؔ نے کسان کی ذات کو دنیا کی حرکت و عمل کا موجب قرار دیا ہے۔۲۲؍ اشعار پر مشتمل اس جزو میں جوشؔ نے کسان کو تہذیب و تمدن اور انسانی ارتقا کا علم بردار بتایا ہے۔جوشؔ نے کسان کی شخصیت کی اہمیت کو نمایاں کرنے کے لیے جو طرز بیان اختیار کیا ہے اس میں فکر کی سنجیدگی کے بجائے تخیل کی چاشنی زیادہ نظر آتی ہے۔ بعض دفع یہ تخیل نظم کے مرکزی موضوع سے بے ربط سا محسوس ہوتا ہے اور کسان کی شخصیت کے خدوخال اور اس کے طرزِ حیات کا بیان ایک حد تک مبہم ہو جاتا ہے۔اس حصے میں بھی بعض اشعار ایسے ہیں جو اضافی محسوس ہوتے ہیں اور جنھیں حذف کر دیاجائے تو بھی نظم کی بنت کاری پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔اس جزو کے آغاز میں کسان کو خطابات سے نوازتے ہوئے اختصار سے کام لیا جا سکتا تھا لیکن طول بیانی چونکہ جوشؔ کی شاعری میں پسندیدہ روش اور غالب رجحان کی حیثیت رکھتی ہے اس لئے اس موقع پر بھی اس کے مظاہر نظر آتے ہیں۔اس حصے میں جوشؔ نے جس قدرجزیات نگاری سے کام لیا ہے وہ نظم کی روانی کو متاثر کرتی ہے۔کسان کی محنت و مشقت کو نوع آدم کی بقا کا ضامن بتایا گیا ہے۔کائنات کی رنگینی اور تابانی ،معاشرہ کی مختلف سر گرمیاں اور انسانی تمدن کے سلسلے کا مدار کسان کی ذات پر ہے۔اس میں کلام نہیں کہ معاشرتی نظام کے ڈھانچے کو مضبوط و مستحکم بنانے میں کسان کلیدی رول ادا کرتا ہے اور انسانی تمدن کی تاریخ اس کی رہین منت ہے لیکن جوشؔ کسان کی صفات بیان کر تے وقت بعض ایسی باتیں بھی بیان کر جاتے ہیں جو گرچہ ایک حد تک حقائق کا درجہ رکھتی ہیں لیکن ان کے اظہار کا جو طریقہ اختیار کیا گیا ہے وہ نظم کے مرکزی خیال سے ہم آہنگ نہیں ہے۔ اس نظم میں کسان کے حوالے سے جوشؔ نظامِ حکومت اور اربابِ اقتدار کوہدف تنقید بنانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن الفاظ کی مرصع کاری انھیں مقصد میں پوری طرح کامیاب نہیں ہونے دیتی۔
کسان جو کہ ارتقا کا پیشوا اور تہذیب کا پروردگار ہے،جو ماہرآئینِ قدرت اور ناظم بزم جہاں ہے ،وہی کسان محنت و مشقت کے باوجود اپنے بیوی بچوں کے لئے پیٹ بھر کھانے کا انتظام نہیں کر پاتا۔جوشؔ نے سرمایہ داری کو کسان اور اس کے بیوی بچوں کی فاقہ کشی کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے لیکن کسان کی شخصیت کا بیان کرتے وقت وہ ایسی باتیں بھی کہہ جاتے ہیں :
مانگتا ہے بھیک تابانی کی جس سے روئے شاہ
جس کے ماتھے کے پسینے سے پئے عز ووقار
کرتی ہے دریوزئہ تابش کلاہِ تاجدار
ع سرنگوں رہتی ہیں جس سے قوتیں تخریب کی  ع جس کے کس بل پر اکڑتا ہے غرورِ شہریار
ان مصرعوں میں کسان کی شخصیت کو جس تاثر کے ساتھ پیش کیا گیا ہے اس کے بعد یہ تصور دشوار ہوجاتا ہے کہ حاکم و بادشاہ جس کے حضور گدا کی حیثیت رکھتے ہوں،جو تخریبی قوتوں کو سرنگوں کرنے کا عزم و حوصلہ رکھتا ہو اور جس کی قوت و طاقت شہریاروں کے لئے باعث غرور ہو ایسا شخص اپنے اور اپنے بیوی بچوں کے لئے دو وقت کی روٹی کا بھی انتظام نہیں کر سکتا۔جوش ؔمعاشرہ میں کسان کی اہمیت اور اس کی جاں فشانی کو صاحبان اقتدار کے جاہ و حشم کا ایک بڑا سبب قرار دیتے ہیں لیکن درج بالا مصرعوں میں جس طرح کے الفاظ استعمال کئے گئے ہیں ان سے جو تاثر پیدا ہوتا ہے وہ بالکل مختلف ہے۔آخر کے دو مصرعوں میں بیان کا انداز اس قدر موضوع سے بے ربط ہے کہ ان میں بیان کردہ شخصیت کسان کے بجائے کسی فوجی کی نظر آتی ہے۔ اس حصہ کے آخری دو شعروں سے کسان کی شخصیت کا ایک حد تک اصلی روپ نظر آتا ہے:
دھوپ کے جھلسے ہوئے رخ پر مشقت کے نشاں
کھیت سے پھیرے ہوئے منہ ،گھر کی جانب ہے رواں
ٹوکرا سر پر ،بغل میں پھاوڑا، تیوری پر بل
سامنے بیلوں کی جوڑی،دوش پر مضبوط ہل
اس کے بعد نظم کا جو تیسرا جزو ہے وہ ’ہل‘ کے بیان پر مشتمل ہے۔۸؍ اشعار میں جوشؔ نے ہل کا جو بیان کیا ہے اس میں بھی رنگین بیانی سے زیادہ کام لیا گیا ہے۔یہ رنگین بیانی ہل کو ایک آہنی آلہ کے بجائے کسی نرم و ناز ک سی شئے کے روپ میں منعکس کرتی ہے۔اس رنگین بیانی کی انتہا یہ ہے کہ ہل پر شفق کی لالی پڑنے سے جو چمک پیدا ہوتی ہے وہ ہلالِ عید کی درخشانی کی طرح ہے۔ہل کے بیان پر مشتمل یہ جزو مکمل طور پر اصلیت سے عاری نہیں ہے بلکہ اس میں ایسے اشعار بھی ہیں جن میں شعری جمالیات کے ساتھ ساتھ حقیقت کا پر تو نمایاں ہے:
خوشنما شہروں کا بانی ،راز فطرت کا سراغ
خاندانِ تیغ جوہر دار کا چشم و چراغ
دھار پر جس کی چمن پرور شگوفوں کا نظام
شامِ زیرِ ارض کو صبح درخشاں کا پیام
ڈوبتا ہے خاک میں جو روح دوڑاتا ہوا
مضمحل ذروں کی موسیقی کو چونکاتا ہوا
اس نظم کی تخلیق کے مقصد کو مدِ نظر رکھیں ،جس کا اظہار نظم کے اختتامی حصے میں ہوا ہے تو یہ جزو اضافی ہی نہیں بلکہ ایک حد تک غیر ضروری معلوم ہوتا ہے۔ایک حد تک اس لئے کہ جوشؔ جس امیجری کو پس منظر کے طور پر استعما ل کرکے کسان کی حرماںنصیبی کو نمایاںکرنا چاہتے ہیںاس اعتبار سے یہ جزو اپنے بیان کا جواز رکھتا ہے۔کسان کے دھوپ سے جھلسے ہوئے چہرے پر مشقت کے نشان کا ذکر کرنے کے بعد جب وہ ہل کی تابش میں ہلال عید کی درخشانی کا بیان کرتے ہیں تو نظم کی تخلیق کے اصل مقصد کو بہت حد تک نمایاں کردیتے ہیںجس کا بھر پور اظہار نظم کے آخری دو حصوں میں ہوا ہے۔۷؍ اشعار پر مشتمل یہ دو حصے ہی دراصل اس نظم کی تخلیق کے اصل محرک کی حیثیت رکھتے ہیں۔
نظم کے اختتام سے قبل والے حصے میں سیاست کے حوالے سے انگریز حکومت کو ہدف بنایا گیا ہے۔اس حکومت کاا صل مقصد ہی ہندوستان کی زیادہ سے زیادہ دولت کو اپنے ملک منتقل کرنا تھا۔کسان اس حقیقت سے واقف تو ہے لیکن سیاسی رتھ کے پہیوں سے اپنی مشقت کو محفوظ رکھنے کا اس کے پاس کوئی راستہ نہیں ہے کیونکہ ان غیر ملکیوں کے ظلم سے نجات پانے کے لئے اگر وہ اثر و رسوخ رکھنے والے ہم وطنوں کے پاس جاتا ہے تو وہ بھی اس کا خون چوسنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔ اربابِ اقتدار کے ذریعہ کسان کے استحصال کو بیان کرتے ہوئے جوشؔ نے کہا :
اس سیاسی رتھ کے پہیوں پر جمائے ہے نظر
جس میں آجاتی ہے تیزی کھیتیوں کو روند کر
اپنی دولت کو جگر پر تیر غم کھاتے ہوئے
دیکھتا ہے ملک دشمن کی طرف جاتے ہوئے
اس نظم کے آخری حصے میں کسان کے تشویش ناک حالات کے حوالے سے سرمایہ داری کے مظالم کا ذکر کیا گیا ہے۔اس طرح جوشؔ نے جس سماجی خاکہ کو پیش کیا ہے اس میں صاحبِ اختیار افراد کے ہاتھوں محنت کش ،غریب انسانوں کے استحصال کو مرکزی حیثیت کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس کے ذریعہ جوش ؔنے یہ بھی بتانے کی کوشش کی ہے کہ استحصال کرنے والی قوتوں کے نزدیک رنگ و نسل ،قوم و مذہب کوئی معنی نہیں رکھتے۔اسی لئے ایک طرف اگر انگریز حاکم کسانوں کا استحصال کرتا ہے نو اس کے ساتھ ہی ملکی سرمایہ دار بھی کسان کو مختلف حیلوں حوالوں سے پریشان کرتا رہتا ہے۔اس حصے میں جوشؔ نے سرمایہ داری کی شقاوت اور ظالمانہ رویہ کو اس مخصوص انداز میں بیان کیا ہے جو ان کی انقلابی شاعری کی انفرادی شناخت ہے۔اس بیان میں لفظوں کا طمطراق،طرزِ بیان میں جوش و ولولہ سرمایہ داری کی ہیبت ناکی کو پورے تاثر کے ساتھ پیش کرتا ہے :
تیری آنکھوں میں ہیں غلطاں وہ شقاوت کے شرار
جس  کے آگے خنجر چنگیز کی مڑتی ہے دھار
بیکسوں کے خون میں ڈوبے ہوئے ہیں تیرے ہاتھ
کیا چبا ڈالے گی او کمبخت ساری کائنات
ظلم اور اتنا!کوئی حد بھی ہے اس طوفان کی
بوٹیاںہیں تیرے جبڑوں میں غریب انسان کی
اس کے بعد تین شعر جن پر نظم کا خاتمہ ہوتا ہے،ان میں سرمایہ داروں کی اس منافقت کا ذکر کیا گیا ہے جو اپنے انسانیت سوز رویہ کو دین و مذہب کے حوالے سے جائز ٹھہرانے کی تاویلات پیش کرتے ہیں۔غریبوں پر مظالم کرنے والا یہ طبقہ معاشرہ میں امن و امان کو قائم رکھنے کی حمایت بھی کرتا ہے۔جوشؔ نے سرمایہ داری کے حوالے سے صاحبِ اختیار طبقہ کے اس دو رخے پن کو نمایاں کیاہے جوایک طرف انسانیت سوزکام کرتا ہے اور دوسری جانب قیام امن کا بھی خواہاں نظر آتا ہے۔
جوشؔ نے اس نظم میں صرف کسان کی ذات کو ہی پیش ِ نظر نہیں رکھا بلکہ اس کے کردار کو ایک حوالے کے طور پر استعمال کرتے ہوئے ارباب اقتدار اور سرمایہ داروں کوہدف تنقید بنایا ہے۔یہ نظم جس شعر پر ختم ہوئی ہے وہ جوشؔ کی فکرکے مثبت رویہ کی ترجمانی کرتا ہے:
ہاں سنبھل جا اب کہ زہر ے اہل دل کے آب ہیں
کتنے طوفاں تیری کشتی کے لئے بیتاب ہیں
یہ شعر دراصل تاریکی میں امید کی ایک کرن کی مانند غریب و نادار انسانوں کے مایوس کن حالات کے تبدیل ہونے کا اشاریہ ہے۔اس نظم کی تخلیق سے جوشؔ کے خاندانی پس منظر کی وابستگی بھی ایک سطح پر ہے۔ان کی پیدائش ملیح آباد کے ایک بڑے زمیندار اور سرمایہ دار گھرانے میں ہوئی تھی۔ان کی پر ورش بھی بہت نازو نعم میں ہوئی لیکن ان کے سینے میں جو دل دردمند دھڑکتا تھا وہ غریبوں اور کسانوں پر زمینداروں اور سرمایہ داروں کے ذریعہ کیے جانے والے مظالم سے کڑھتا رہتا تھا۔اس نظم کے وجود میں آنے کے اسباب وہ حالات تھے جو وہ اپنے گردو اطراف دیکھا کرتے تھے اور جس کا بیان انھوں نے ’یادوں کی برات‘ میں بھی کیا ہے۔
یہ نظم کمزور انسانوں سے جوش ؔکی دردمندی کو ظاہر کرتی ہے اور اس حقیقت کو بھی بیان کر تی ہے جو بڑی حد تک آج بھی اس ملک کا مقدر ہے۔یہ ضرور ہے کہ خیال اور جذبات میں تفاوت اس نظم کے تاثر کو پوری طرح نمایاں نہیں ہونے دیتا اور بعض مقامات پر جذبہ کا فقدان شعر کو کوری لفاظی بنا دیتا ہے۔ اس موضوع کو بیان کرنے کے لئے جو بر جستگی اور بے ساختگی درکار تھی اس کے بجائے حسین تشبیہات اور استعارات نے پوری نظم پر ایک رومانی کیفیت طاری کردی ہے۔بہر حال جوشؔ کو اس معاملہ میں ضرور انفرادیت حاصل ہے کہ انھوں نے سب سے پہلے کسان اور اس کے ہل کے حوالے سے اپنے عہد کی استحصالی قوتوں کو ہدف بنایا۔ انھوں نے فطرت کے رمز شناس کسان کی بھوک و افلاس کے ذریعہ سسٹم پر جو لعنت و ملامت کی ہے وہی اس نظم کا اصل مدعا ہے۔


ڈاکٹر جمال رضوی شعبہ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔تنقید اور صحافت ان کا خاص میدان ہے۔ ایک کتاب ’سخن شناسی ‘ شائع ہوکر اردو حلقے میں مقبول ہوچکی ہے۔

Josh Malihabadi ki Marsia Nigari by Dr. Jamal Rizvi

Articles

جوشؔ ملیح آبادی کی مرثیہ نگاری

ڈاکٹر جمال رضوی

بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً اہل ادب کی اس سہل انگاری میں مضمر ہے کہ اردو مرثیہ نے میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے بعد کوئی ترقی نہیںکی۔ بلاشبہ یہ اکابرین فن مرثیہ نگاری میں درجہ ٔ کمال پر نظر آتے ہیں لیکن یہ مان لینا کہ ان باکمال مرثیہ نگاروں کے بعد اردو مرثیہ کی ترقی کی رفتار معدوم پڑگئی ، حقیقت حال سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔ بیسویں صدی کے اردو مرثیہ کو نئی تخلیقی جہتوں سے آشنا کرنے والوں میں جوشؔ کا نام نمایاں طور پر قابل ذکر ہے۔ اس کے باوجود جوشؔ شناسی کے ذیل میں ارباب ادب جوشؔ کی مرثیہ نگاری سے بہت کم واقف ہیں۔ جوشؔ اردو شاعری کے ایوان میں شاعر انقلاب و شاعر شباب کی حیثیت سے ایک بلند و بالا ستون کی حیثیت رکھتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی حقیقت ہے کہ بحیثیت مرثیہ نگار جوش ؔ ایک عہد ساز اور منفرد مقام کے حامل ہیں۔ جوشؔ کی شاعری کی اس جہت سے ناواقفیت کا سبب عموماً اہل ادب کی اس سہل انگاری میں مضمر ہے کہ اردو مرثیہ نے میرانیسؔ اور مرزا دبیرؔ کے بعد کوئی ترقی نہیںکی۔ بلاشبہ یہ اکابرین فن مرثیہ نگاری میں درجہ ٔ کمال پر نظر آتے ہیں لیکن یہ مان لینا کہ ان باکمال مرثیہ نگاروں کے بعد اردو مرثیہ کی ترقی کی رفتار معدوم پڑگئی ، حقیقت حال سے چشم پوشی کے مترادف ہوگا۔
بیسویں صدی میں جبکہ اردو شعر و ادب میں بڑی تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں اردو مرثیہ نے بھی روایتی طرز بیان سے آزاد ہو کر فکر و فن کے نئے گوشوں تک رسائی حاصل کی اور یہ جرات مندانہ اور اجتہادی کارنامہ جوشؔ نے انجام دیا۔ ہر چند کہ جوش ؔ کی ایسی تخلیقات جن میں واقعہ ٔ کربلا یا امام حسین ؑ کی شخصیت کو ایک مرکزی موضوع کے طور پر بیان کیا گیا ہے،کے متعلق ناقدین کے درمیان اختلاف رائے پایا جاتا ہے۔ بعض کے نزدیک یہ تخلیقات اردو مرثیہ کی جدید شکل ہیں اور بعض اسے صرف رثائی نظم کہنا پسند کرتے ہیں۔حالانکہ ایسی تخلیقات کے متعلق جوشؔ ایک واضح  تخلیقی نظریہ رکھتے تھے جس کا ذکر آئندہ سطور میں ہوگا، یہاں یہ عرض کرنا مقصود ہے کہ ان تخلیقات نے اردو مرثیہ کے کارواں کو آگے بڑھانے میں بہر حال اہم کردار ادا کیا۔جس طرح اردو شاعری کی دیگر اصناف میں فکر و فن کی سطح پر تبدیلیاں رونما ہوئیں اسی طرح اردو مرثیہ میں بھی یہ تبدیلیاں واضح طور پر نظر آتی ہیں اور مرثیہ کی تاریخ کا ذکر کرتے ہوئے اگر اس نکتے کو مد نظر رکھا جائے تو بجا طور پرجوشؔ کی یہ تخلیقات مرثیہ کے زمرے میں شمار ہوتی ہیں۔ انھوں نے کل ۹؍ مراثی کہے جن میں ۸؍مکمل اور ایک نامکمل مرثیہ شامل ہے ۔ ان مراثی اور جوش ؔ کے کچھ سلام کو یکجا کر کے ۱۹۸۱ء میں ضمیر اختر نقوی نے کتابی شکل میں شائع کیا تھا۔ اس میں شامل مراثی کے عنوان ہیں، آوازۂ حق،حسین ؑ اور انقلاب، موجد و مفکر، وحدت انسانی، طلوع فکر، عظمت انسان (قلم)، آگ، زندگی اور موت(محمد ؐ وآلِ محمدؐ کی نظر میں)، پانی۔ اس کے علاوہ انھوں نے عظمت خاک کے عنوان سے بھی ایک مرثیہ کہاتھا جو کہ نایاب ہے۔ضمیر اختر نقوی نے جوشؔ کے مراثی کی کتاب میں ذکر کیا ہے کہ جوشؔ نے پانی کے بعد کوئی مرثیہ نہیں کہا لیکن اس سے قبل انہوں نے وفاداری کے عنوان سے ایک مرثیہ شروع کیا تھا لیکن چار بند سے زیادہ نہ کہہ سکے۔ اس کے علاوہ ایک مرثیہ حضرت زینب ؑ کے خطبہ سے متعلق تھا اور یہ بھی نامکمل رہا۔ ان مراثی کے متعلق ضمیر اختر نقوی نے لکھا ہے’ یہ دونوں مرثیے نامکمل ہیں اگر تکمیل پانے کے بعد دونوں مرثیے منظر عام پر آتے تو خیال ہے کہ جوشؔ کے شاہکار مرثیہ ثابت ہوتے۔‘
۱۹۲۰ء میں جوشؔ نے مرثیہ ’آوازہ ٔ حق‘ لکھ کر اردو مرثیہ کو طرز انیسؔ و دبیرؔ کے حصار سے آزاد کر کے اس کے لیے ایک جداگانہ شاہ راہ متعین کی جس پر چل کر جدید اردو مرثیہ ارتقا کی نئی منزلوں سے ہمکنار ہوا۔ عددی اعتبار سے جوشؔ کے مراثی گرچہ کم ہیں لیکن یہ حقیقت مکمل طور سے واضح ہے کہ جدید مرثیہ کا تخلیقی منشور جوشؔ کے مرثیوں سے ہی مرتب ہوتا ہے ۔ اس طرح اردو مرثیہ نگاری میں جوشؔ ایک تاریخ ساز مرثیہ نگار کی حیثیت رکھتے ہیں۔ جوشؔ نے جب مرثیہ نگاری کے میدان میں قدم رکھا تو اس صنف میں قدیم روایات کا اتباع کرنے کے بجائے منفرد طرز ایجاد کی۔ انہوں نے مرثیہ کا رشتہ براہ راست عصری مسائل سے جوڑ کر مرثیہ نگاری کے تخلیقی کینوس کو وسعت عطا کی۔ یہ ضرور ہے کہ آوازہ ٔ حق میں جوشؔ نے کلاسیکی مرثیہ کے اجزائے ترکیبی کے بعض جزو مثلاً رجز، جنگ اور بین سے استفادہ کیا لیکن مرثیہ کے آخری حصے میں انھوں نے عصری مسائل کا ذکر کرتے ہوئے قوم کو اسوہ ٔ شبیری سے درس لینے کا جو پیغام دیا ہے وہ اس صنف سے متعلق ان کے تخلیقی رویہ واضح کرتا ہے۔ اس مرثیہ کے درج ذیل دو بند جوشؔ کی مرثیہ نگاری کے فکری منشور کو سمجھنے میں معاون ہوں گے۔
قربان ترے نام کے ائے میرے بہادر
توجانِ سیاست تھا تو ایمانِ تدبر
معلوم تھا باطل کے مٹانے کا تجھے گُر
کرتا ہے تری ذات پہ اسلام تفاخر
سوکھے ہوئے ہونٹوں پہ صداقت کا سبق تھا
تلوار کے نیچے بھی وہی بعرہ ٔ حق تھا
شعلے کو سیاہی سے ملایا نہیں تونے
سر کفر کی چوکھٹ پہ جھکایا نہیں تونے
وہ کون سا غم تھا جو اٹھایا نہیں تونے
بیعت کے لیے ہاتھ بڑھایا نہیں تونے
دامانِ وفا گھر کے شریروں میں نہ چھوڑا
جو راستہ سیدھا تھا وہ تیروں میں نہ چھوڑا
اس مرثیہ کے آخر میں بین کے مسلسل ۹؍ بند لکھنے کے بعد اس کا رشتہ براہ راست قومی مسائل سے جوڑ دیا گیا ہے ۔ ۹۲؍ بند پر مشتمل اس مرثیہ کے بند نمبر ۸۹؍ میں جلیاں والا باغ کے سانحہ اور تحریک خلافت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور خون ناحق کی لافانی تاثیر اور نام یزید کے درگور ہوجانے سے افراد قوم کو حق پرستی کے لیے جانیں نثار کردینے کا پیغام دیا ہے۔
ائے قوم وہی پھر ہے تباہی کا زمانہ
اسلام ہے پھر تیر حوادث کا نشانہ
کیوں چپ ہے اسی شان سے پھر چھیڑ ترانہ
تاریخ میں رہ جائے گا مردوں کا فسانہ
مٹتے ہوئے اسلام کا پھر نام جلی ہو
لازم ہے کہ ہر فرد حسین ؑ ابن علی ؑ ہو
جوش ؔ نے آوازہ ٔ حق میں امام حسین ؑ کی شخصیت کو جس انداز میں بیان کیاہے اس میں مظلومیت کے بجائے مجاہدانہ شان نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔ جوشؔ کی انقلابی شاعری کا مجموعی جائزہ لیں تو اس میں ہیرو کا جو تصور ہے وہ بہت کچھ ایسی ہی شخصیت کے مماثل نظر آتا ہے جو حق و صداقت کی بقا کی خاطر اسی طرح جرات مندی اور عزم و حوصلے کا اظہار کرے جیسا کہ امام حسین ؑ نے معرکہ ٔ کربلا میں کیا تھا۔جوشؔ نے جس دور میں مرثیہ نگاری شروع کی تھی وہ دور ملک میں انگریزوں کی حکومت کا دور تھا ۔ برطانوی سامراج سے آزادی حاصل کرنے کے لیے جوشؔ قوم میں اسی ثبات و عزم کے خواہاں ہیں جو انھیں امام حسین ؑ کی شخصیت میں نظر آیا۔ عزم حسین ؑ کا تصور ہی وہ واحد ذریعہ تھا جس سے جوشؔ خود اپنے دل میں ہمت و عزم پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ قوم کو بھی اس کی تحریک عطا کر سکتے تھے۔ اس تاثر اور تصور کو انہوں نے اپنے مرثیوں میں کامیاب انداز میں پیش کیا ہے۔یہ جذبہ صرف ان کے مرثیوں میں ہی نظر نہیں آتا بلکہ امام حسین ؑ کی شخصیت کے انقلابی رخ کا پرتو جوش کی بیشتر انقلابی شاعری میں دکھائی دیتا ہے۔ جوشؔ کی شاعری میں نوع انسانی کے لیے جو صبر، استقامت، جاں فروشی اور پیغام عزم و عمل ہے اس کے پس پردہ امام حسین ؑ کی شخصیت کا سیاسی مطالعہ کارفرما ہے جس کا اظہار انہوں نے اپنے پہلے مرثیے آوازہ ٔ حق میں امام حسین ؑ کے لیے جان ِ سیاست جیسی ترکیب استعمال کر کے کیا تھا۔  مذہب و خدا کے نظریہ کے حوالے سے جوشؔ کی شاعری میں جو تشکیکی رجحان نظر آتا ہے ، ان کے بعض اشعار میں وجود خدا کے متعلق جو سوالیہ نشان نظر آتا ہے ان سب کے باوصف یہ حقیقت ہے کہ جوشؔ ، امام حسین ؑ کی شخصیت سے انتہا درجے تک متاثر تھے اور کسی بھی دور میں امام حسین ؑ سے ان کی شیفتگی میں کمی نہیں آئی۔ اس کا اظہار انہوں نے اپنی ایک رباعی میں اس طرح کیا ہے۔
اوہام کو ہر قدم پر ٹھکراتے ہیں
ادیان سے ہرگام پر ٹکراتے ہیں
لیکن جس وقت کوئی کہتا ہے حسین ؑ
ہر اہل خرابات بھی جھک جاتے ہیں
جوش ؔ کی یہ والہانہ عقیدت جذباتی نوعیت کی نہیں ہے بلکہ جوشؔ اپنی شاعری کے ذریعہ جو پیغام دینا چاہتے تھے اس کے ابلاغ کے لیے امام حسین ؑ کے علاوہ کوئی اور کردار انہیں متاثر نہ کر سکا۔ جوش کے مرثیے، تاریخ مرثیہ نگاری میں وہ مفرد آواز ہیں جن میں واضح سیاسی شعور نظر آتا ہے۔ اس سے ایک طرف جوشؔ نے واقعہ ٔ کربلا کے حوالے سے جنگ آزادی میں فتح یابی حاصل کرنے کا پیغام دیا تو دوسری جانب کربلا کے کینوس کو وسیع تر تناظر میں پیش کر کے اس میں آفاقیت کا عنصر شامل کیا۔
جوشؔ نے ہندوستان قیام کے دوران دومرثیے آوازہ ٔ حق ۱۹۲۰ء اور حسین ؑ اورا نقلاب ۱۹۴۱ء میں کہے۔ ان دونوں مرثیوں کی تخلیق ایک مخصوص نقطہ ٔ نظر کے تحت ہوئی ۔ یہ مراثی آزادی سے قبل کی تصنیف ہیں جن میں انگریز حکومت کی مخالفت اور ملکی عوام میں قوت عزم و عمل کو بیدار کرنے کا جذبہ بنیادی جزو کی حیثیت رکھتا ہے۔ جوشؔ نے آوازہ ٔ حق میں گوکہ روایتی مرثیہ کے چند اجزائے ترکیبی سے بھی استفادہ کیا لیکن آخر کے تین بند میں عصر حاضر کے سیاسی و سماجی موضوعات کا بیان کر کے انہوں نے آئندہ کے لیے اس صنف سے متعلق اپنے تخلیقی رجحان کی طرف اشارہ کر دیا اور ان کے اس رجحان کا مکمل اظہار حسین ؑ اور انقلاب میں ہوا۔ اس مرثیہ کے ابتدائی حصے میں جوشؔ نے اعلان امر حق کی راہ میں پیدا ہونے والی دشواریوں کا ذکر کیا ہے اور یہ پیغام دیا ہے کہ اس پر خطر راہ پر چلنے کا حوصلہ رکھنے والا ہی دراصل انسانیت کا سچا ہمدرد ہوتا ہے ۔ انہوں نے اسلامی تعلیمات میں نیکی اور سچائی کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے امام حسین ؑ کی ذات کے حوالے سے یہ بیان کیا ہے کہ جب اسلامی معاشرہ میں پرانے رسم و رواج اور جہالتوں کے سائے میں پلنے والے اوہام کے ہاتھوں قیامتیں نازل ہو رہی تھیں اس وقت امام حسین ؑ نے حق کی حمایت میں جو صعوبتیں برادشت کیں ان کی وجہ سے ہی اسلام میں انسانی قدروں کا وجود باقی ہے۔اس دشورا گزار مرحلے سے گزرنے والے پر جو مصیبتیں نازل ہوتی ہیں ان کا ذکر کرتے ہوئے جوشؔ نے کہا
ہوتا ہے جو سماج میں جویائے انقلاب
ملتا ہے اس کو مرتد و زندیق کا خطاب
پہلے تواس کو آنکھ دکھاتے ہیں شیخ و شاب
اس پر بھی وہ نہ چپ ہوتو پھر قوم کا عتاب
بڑھتا ہے ظلم و جور کے تیور لیے ہوئے
تشنیع و طعن و دشنہ و خنجر لیے ہوئے
او ر بالخصوص جب ہو حکومت کا سامنا
رعب و شکوہ و جاہ و جلالت کا سامنا
شاہانِ کج کلاہ کی ہیبت کا سامنا
قرنا و طبل و ناوک و راعت کا سامنا
لاکھوں میں ہے وہ ایک کروڑوں میں فرد ہے
اس وقت جو ثبات دکھائے وہ مرد ہے
اس کے بعد جوشؔ نے برطانوی حکومت کے مظالم کا ذکر کرتے ہوئے اس سے آزادی حاصل کرنے کا پیغام دیا ہے اور اس کے لیے امام حسین ؑ کے سے عزم و استقلال کو ضروری بتایا ہے۔ اس مرثیہ میں جوشؔ نے اپنی تمام تر توجہ امام حسین ؑ کے کردار پر مرکوز رکھی ہے لیکن بعض مقامات پر اس جہاد عظیم میں شریک دیگر مقدس شخصیات کا بھی ذکر کیا ہے،خصوصی طور سے شب عاشور کے بیان کے ذیل میں جناب زینب، علی اصغر اور جناب زین العابدین کے علاوہ انصار حسین کے جذبہ ٔ ایثار و قربانی کا ذکر بڑے سوز و گداز کے ساتھ کیا ہے۔
جوشؔ کی مرثیہ نگاری کا دوسرا دور ان کی پاکستانی زندگی پر مشتمل ہے۔ اس دوران جوشؔ نے کل ۷؍ مرثیے کہے۔ اس دور کے تمام مرثیوں میں خدمت نوع بشر، واقعہ ٔ کربلا کا سیاسی و سماجی پس منظر، قوم کی بے عملی، مردہ ضمیری، انسانی معاشرہ پر ملوکیت اور جبر شاہی کے مہلک اثرات اور عصر حاضر میں حسین ؑ کی ضرورت یہ اجزا قدر مشترک کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس دور کے تمام مرثیوں کے لیے جوشؔ نے ایسے موضوعات کا انتخاب کیا جس میں وہ فلسفیانہ انداز میں موضوع کی مناسبت کے حوالے سے عظمت انسان کے نقوش و نشانات کی نشان دہی کر سکیں۔ موجد و مفکر، وحدت انسانی، موت و زندگی، قلم، آگ اور پانی جیسے موضوعات ان کی فکر کے فلسفیانہ رخ کی وضاحت کرتے ہیں۔اس دور کے تمام مرثیوں میں جوشؔ نے امام حسین ؑ کی شخصیت کو ایک ایسے خادم انسانیت کے طور پر پیش کیا ہے جس نے اپنی جان نثار کر کے بقائے انسانیت کویقینی بنایا۔جوشؔ موجد و مفکر میں انسانی تمدن کے ارتقا اور سائنسی ایجادات کے افادی پہلوؤں کی قصیدہ خوانی کریں یا وحدت انسانی میں عالم انسانی کو اتحاد و محبت و اخوت کا درس ان کا مقصود اصلی ہو، ان ذیلی موضوعات کو براہ راست رثائی فضا سے مربوط کرتے وقت گریز کے موقع پر انہوں نے امام حسین ؑ کے کردار کے حوالے سے جو اشاراتی انداز اختیار کیا ہے اس سے ان کے تخلیقی موقف کی وضاحت ہوتی ہے کہ وہ امام حسین ؑ کی ذات کو ہردور کے انسان کے لیے مخزن ہدایت اور خادم انسانیت کے طورپر پیش کرتے ہیں۔
تھا انہیں آبائے انسانی میں اک مرد جلیل
قبلہ ٔ عالم، امام عصر، امیر بے عدیل
اعتبار موج کوثر، آبروئے سلسبیل
فخر اسمٰعیل، جانِ مصطفیؐ ، نازِ خلیل ؑ
محور گیتی و گردوں مرکز دنیا و دیں
مہبطِ آواز حق ، مخدوم جبریل امیں
جوشؔ کے مراثی پر اکثر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان میں مرثیت نہیں ہوتی اور وہ غم انگیز اور الم ناک فضا بھی نہیں ملتی جو مرثیہ کا تقاضا ہے۔ دراصل یہ اعتراض روایتی مرثیہ کی بنیاد پر کیا جاتا ہے۔ مرثیہ جب روایتی اجزا کے حصار سے آزاد ہو ا تو بینیہ اور بکائیہ جزو بھی مختلف انداز میں نظم ہوئے۔ جوشؔ جب مصائب کا بیان کرتے ہیں تو شہدائے کربلا کی شہادت کے تفصیلی بیان کے برعکس اجمالی طور پر غم انگیز تاثر قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور خصوصی توجہ اس بات پر دیتے ہیں کہ شہادت کی فلسفیانہ توضیح کے ذریعہ عزم وعمل کے جذبہ کو مہمیز کریں۔ مثلاً
جوئے خوں میں جو دلیروں کے سفینے آئے
چند پیاسے جو لہو موت کا پینے آئے
مرد جب سر سے کفن باندھ کے جینے آئے
شہریاری کو پسینے پہ پسینے آئے
نبض آقائی ابلیس ہوس چھوٹ گئی
فقر کی ضرب سے شاہی کی کمر ٹوٹ گئی
اللہ، اللہ جہاں کوب حسینی اصحاب
جن کے دریائے شجاعت میں دو عالم غرقاب
اکبر ؑ و ابن مظاہر کا نہیں کوئی جواب
وہ لڑکپن کی جوانی یہ بڑھاپے کا شباب
دونوں جاں باز تھے دونوں ہی جری کیا کہنا
مشعل ِ شام و چراغِ سحری کیا کہنا
جوشؔ کے مرثیوں میں بکا و بین کے متعلق ایک واضح نقطہ ٔ نظر ملتا ہے۔ جوشؔ کے مرثیوں میں شہادت حسین ؑ یا اس کے بعد کے بیان سے افسردگی و یاس کے جذبات نہیں ابھرتے بلکہ کامرانی و فتح مندی کا باب کھلتا ہے۔یہی سبب ہے کہ جوشؔ کے مراثی میں مایوسی کی فضا نہیں ہے بلکہ ایک پرجوش اور ولولہ آمیز ماحول ملتا ہے جو زندگی کی باطل کی قوتوں کے خلاف لڑنے کا حوصلہ عطا کرتا ہے۔وہ مرثیہ میں بین کے متعلق ایک واضح تخلیقی نظریہ رکھتے تھے جس کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے ہلال نقوی سے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا ’ مرثیہ گو کا مقصد یہ نہیں ہونا چاہئے کہ بکا پر تان ٹوٹے ، لکھتے وقت کوئی مصرع یا بند رقت قلب کا آجائے تو وہ اور بات ہے لیکن اس کی نیت یہ نہ ہو کہ رلا کر اٹھائے بلکہ جھنجھوڑ کر اٹھائے ۔ باطل سے ٹکرانے کی حرارت، سلطان جابر کے سامنے حرف حق کہنے کی جرات اور جذبہ تاسی حسین ؑ، ان چیزوں کا پیدا کرنا مرثیہ گو شاعر کا فرض ہونا چاہئے۔‘ جوشؔ کے اس بیان سے یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ جوشؔ شہادت حسین ؑ پر گریہ و شیون کے مخالف ہیں بلکہ وہ مصائب امام پر بہائے گئے آنسوؤں میں شرار زندگی دیکھنے کے خواہاں تھے۔
جوشؔ نے مرثیہ نگاری میں مقصدیت کے تصور کو استحکام عطا کیا۔ اپنے ابتدائی دور میں انہوں نے انگریز حکومت کی مخالفت کو مطمح نظر بنا کر مرثیے کہے تو ان کی پاکستان ہجرت کے بعد بھی ان کے مرثیوں میں عصری روح اپنے تمام تر سماجی و سیاسی اور معاشی حوالوں کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ جوشؔ نے واقعہ ٔ کربلا کو محض ایک رسمی اور روایتی بیان کے طورپر نہیں پیش کیا بلکہ بیسویں صدی کے سماج میں اس صنف کی افادیت پر خصوصی توجہ دی ۔ انہوں نے جس بے باکی اور صاف گوئی کے ساتھ استحصالی قوتوں کو للکارا ہے ، ان کی یہ جرات مندانہ بیباکی پاکستان کے سیاسی تناظر میں اس لیے قابل ذکر ہے کہ وہاں کے سیاسی نظام اور حکومت کے رعب کے سبب پاکستان کے کئی اہل قلم حضرات نے مصلحت کوشی اور تملق پسندی کی راہ اختیار کر لی تھی ۔ جوشؔ کی بیباکی اور بلند آہنگی نے نئی نسل کے جدید مرثیہ نگاروں کے قلم کو طاقت اور فکر کو توانائی عطا کی ۔جوشؔ نے مرثیہ نگاری میں جس نئے تخلیقی موڈ کی طرح ڈالی تھی اس نے بیشتر جدید مرثیہ نگاروں کو متاثر کیا اور ہند و پاک کے بہت سے جدید مرثیہ نگاروں کے یہاں جوشؔ کا پرتو واضح طور پر نظر آتا ہے۔


ڈاکٹر جمال رضوی شعبہ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں۔تنقید اور صحافت ان کا خاص میدان ہے۔ ایک کتاب ’سخن شناسی ‘ شائع ہوکر اردو حلقے میں مقبول ہوچکی ہے۔

Ismat Chughtai Ahtejaj … by Rafia Sarfaraz

Articles

عصمت چغتائی، احتجاج اور بغاوت کے آرٹ کی بانی ، ایک جائزہ

رفیعہ سرفراز

اُردو ادب سے وابستگی کے بعد عصمت چغتائی  کے افسانوں سے نصابی سا ربط رہا ۔
بہت زیادہ غور و فکر کا موقعہ نہ مل سکا،  کچھ نصابی مجبوریاں اور کچھ ادب سے انٹرٹینمنٹ کا کام لینے کا رویہ آڑے رہا،  اس دوران ڈاکٹر فرزانہ کوکب جو ہماری ٹیچر ہی نہیں  کڑکتی دھوپ میں  سایہِ مہرباں کا سا درجہ رکھتی ہیں سے عقیدت محبت اور خلوص کا تعلق  رہا ۔ لیکن ادب اور خاص طور  پر عصمت چغتائی کے فن کے حوالے سے وہ اِدراک و شعور نصیب نہ ہو سکا جو ان کے پی ایچ ڈی کے تھیسسز عصمت چغتائی  روایت شکنی سے روایت سازی تک، کے مطالعے کے دوران میرا نصیب بنا
میں  نے سر قاضی عابد کی بکس پہ اپنے مختصر مطالعہ و جائزہ میں  بھی لکھا تھا کہ یہ میری طالب علمانہ کاوش ہے لہذا اسے تنقیدی مضمون نہ سمجھا جائے
یہی گزارش اب بھی ہے کہ میرا یہ حاصل مطالعہ جانبدارانہ ہوگا کیونکہ میڈم سے میرا احترام محبت و عقیدت کا رشتہ ہے ان سطور میں،  میں  اپنا مطالعہ اور وہ شعور پیش کر رہی ہوں  جس کا اِدراک مجھے اس کتاب کے مطالعہ کے دوران ہوا
یہ کتاب فکشن ہاوس نے شائع کی،  قیمت اس مہنگائی کے دور میں  مناسب اور کتابت و سرورق خوبصورت اور عنوان،  عصمت چغتائی روایت شکنی سے روایت سازی تک اس سے بھی زیادہ پرکشش اور قاری کو متوجہ کر دینے والا ۔
انتساب میڈم نے اپنے بچوں  اور شوہر کے نام کیا ہے جو ہماری یونیورسٹی کی روایت ہے اس سے قبل سر قاضی عابد بھی اپنی ایک کتاب کو اپنی شریکِ حیات کے نام معنون کر چکے ہیں ۔ یہ ہمارے مشرقی کلچر کی روایت بھی ہے۔
کتاب کا پیش لفظ سر قاضی نے لکھا ان کے بقول باغی اور مضطرب روحیں ایک دوسرے کی تلاش میں  سفر کرتی ہیں  گویا عصمت کا میڈم فرزانہ سے ایک باغیانہ اور روایت شکنی کی نسبت سے ایک تعلق ہے اور وہ ان باغیانہ روایات کی امین ٹھہریں  جس کی ابتدا عصمت کر چکی ہیں ۔
کتاب کا تعارف قاضی جاوید صاحب نے لکھا اور بڑے اختصار کے ساتھ عصمت کے ادبی مقام و مرتبہ اور اس پہ ڈاکٹر فرزانہ کوکب کے تھیسسز و تجزیاتی مطالعے کا ذکر کیا پسں ورق پہ معروف مورخ ڈاکٹر مبارک علی کی راہے اس کتاب کی علمی حثیت کو وقار بخش رہی ہے
،حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا،  میں  میڈم نے اپنےاس تحقیقی مقالے میں  عصمت کے فن کے تذکرے کے ساتھ یونیورسٹی، شعبہ اُردو اور دوران تھیسسز تعاون کرنے والے مہربانوں کا ذکر شکریے اور محبت کے ساتھ کیا ۔
باب اول میں  عصمت کے حالات زندگی و شخصیت کا ذکر ہے ۔
عصمت خانم،  منی بیگم،  بغیر اطلاع کے پیدا ہوجانے اور بہن بھائیوں  کے مہترانی کے نال کاٹنے ہر بھنگن کی لونڈیا کی داستان خود عصمت کی زبانی بیان ہوئی ہے۔ ہلاکو کے بھائی چغتائی خان سے نسبی تعلق رکھنے والا  یہ خاندان ادب سے ہمیشہ آشنا رہا اس باب میں  عصمت کے خاندانی حالات اور بچپن کے واقعات کا زیاد تر مواد عصمت کی خود نوشت، کاغذی ہے پیراہن سے لیا گیا ہے۔ عصمت کی علمی تربیت اس کے بھائی عظیم بیگ چغتائی  نے کی جس کا حوالہ اس باب میں  موجود ہے ۔بچپن سے ہی عصمت میں سوال اُٹھانےکی جراءت اور اپنی نسائی حثیت کا احساس دلانے بل کہ احتجاج کرنے کا رجحان تھا
 21 جولائی1915 سے 24 اکتوبر 1991 تک عصمت کی زندگی اس کی باغیانہ روش کی عکاس رہی حتی کہ اس وفات کے بعد  یہ ہنگامہ کچھ اور تیز ہوگیا
کیونکہ انھوں  نے اپنی لاش کی تدفین کے بجائے  جلانے کی وصیت کر دی تھی
زندگی بھر ہنگاموں  کے ساتھ جینے والی بقول جگدیش چندرودھان  موت کے بعد بھی ہنگاموں  کا موجب بنی رہی۔
باقاعدگی سے عصمت نے طالب علمی کے دور سے لکھنا شروع کیا  پھر افسانے ڈرامے ناول، ناولٹ اور خاکے لکھتی چلی گئی،  ڈاکٹر محمد  اشرف اس حوالے سے عصمت کو بسیار نویس کہتے ہیں،
انکی شخصیت کے مختلف پہلوؤں  کا ذکر کرتے ہوئے  میڈم فرزانہ کوکب لکھتی ہیں ۔
وہ محبت میں  احساسِ ملکیت کے خلاف تھیں،  عشق  میں  سستے جذبے اور جذباتی پن کی قائل بھی نہ تھیں ، عصمت عشق کو ایک فعال جذبہ بنانا چاہتی تھیں ، عشق ان کے نزدیک زندگی یا مقاصدِ زندگی کی انتہائی  منزل تھا
عصمت کو مفتوح ہونا پسند نہ تھا وہ برابر کا تعلق رکھنا چاہتی تھیں ۔عصمت کی شخصیت کا سب سے اہم اور لائقِ تحسین  پہلو یہ ہے کہ وہ جو کچھ بھی تھیں کھلے عام تھیں ڈنکے کی چوٹ پہ یہ تھیں ۔
دوسرے باب میں افسانہ نگاری  پہ ایک جامع بحث کے بعد میڈم فرزانہ کوکب نے عصمت کے فن پہ کچھ یوں رائے دی ہے، عصمت کے پاس موضوعات  کا جتنا تنوع ہے اور جس طرح کے کردار انھوں نے پیش کیئے ہیں اور ان کی  اسلوبیاتی خصوصیات اور انفرادیت، ان سب کے باوجود  ناقدین نے سب سے زیادہ ان کے حوالے سے جس لفظ کا ڈھنڈورہ پیٹا وہ لفظ فحش نگاری ہے۔اور یہ الزام ان کی ہر تخلیق پہ لگا لیکن اس کے باوجود اس کے فن کو پذیرائی  اور اعتبار نصیب ہوا اس لیے کہ اس نے منافقت کے بجائے  اس معاشرے کا کچا چٹھا  بیان کیا ۔۔۔
تیسرا باب ناول نگاری پہ ہے،
اس سلسلے میں  میڈم فرزانہ کوکب نے بہت سے تجزیہ نگاروں  اور ناقدین کی آرا عصمت کے فن پر پیش کی ہیں۔ عصمت کے فنِ ناول نگاری پہ  ڈاکٹر حیات افتخار اپنی رائے  کچھ یوں دیتے ہیں،  عصمت چغتائی  پہلی ناول نگار  خاتون ہیں  جنھوں نے پہلے پہل اپنے ناولوں  میں  نسوانی کرداروں کا نفسیاتی تجزیہ پیش کیا انھوں  نے عورتوں کے جنسی و نفسیاتی مسائل  کو خود انھی کے نقطہ نظر سے ظاہر کیا اور جنسی گھٹن اور مردوں  کی بد عنوانی پہ قلم اُٹھایا۔
عصمت نے کل چھ ناول تخلیق کیئے ۔ضدی،  ٹیڑھی لکیر،  معصومہ،  سودائی،  جنگلی کبوتر اور واقعہ کربلا پر مبنی ناول قطرہ خون،  ان صفحات میں  ان ناولوں  کے کرداروں  کا نفسیاتی  تجزیہ اس فن کے ماہرین کی آرا اور ان کی کتب کے اقتباسات کے ذریعے کیا گیا ہے۔
عصمت معاشرے کی کمزوریوں  پہ بے دھڑک قینچی چلا دیتی ہے  یہ خیال کیئے بغیر کہ اس کی کاٹ کس دل پہ پڑتی ہے یا کس جان کا نقصان ہوتا ہے،
جس کا اظہار ان کے ناولوں  اور افسانوں میں  جا بجا ملتا ہے اس باب میں  ان تشبیہات  کے کئی حوالے بھی موجود ہیں
اس باب کے آخر میں  ان کے کربلا پہ لکھے ناول،  قطرہ خون، کے حوالے سے ان کی چند سہوا کی گی غلطیوں  کے تذکرے کے ساتھ  یہ موضوع سمٹ جاتا ہے۔
باب چہارم   عصمت کے ناولٹ،  خاکہ نگاری،  ڈراموں ، رپورتاژ اور آپ بیتی پہ ہے ابتدائی  سطور میں  ناولٹ اور ناول کے فرق کو بیان کرنے بعد ان کے مشہور ناولٹوں دل کی دنیا،  باندی،  عجیب آدمی کے تجزیے پر مشتمل ہے اور تمام کردار سماجی تضادات کی عکاسی کر رہے ہیں،  میرا دوست میرا دشمن، کے نام سے منٹو اور دوزخی کے نام سے منٹو پہ لکھے دو اہم خاکوں میں  سے منٹو کے حوالے سے عصمت کے خاکے پہ میڈم اپنا تجزیہ کچھ یوں پیش کرتی ہیں ۔
عصمت  چغتائی  جہاں  اس حقیقت کی قائل ہیں  کہ کسی بھی شخصیت کی خاص نفسیاتی  تشکیل میں  اس دنیا اور اہلِ دنیا کا بھی ایک خاص کردار ہوتا ہے اس طرح  وہ یہ بھی مانتی ہیں  کہ کسی بھی حساس شخص کی موت میں  دنیا اور اہلِ دنیا کی بے حسی اور ناقدری کا بہت دخل ہوتا ہے،
باب پنجم کے صفحات نہایت اہم ہیں  جہاں  میڈم فرزانہ کوکب اس ساری بحث کو سمیٹتے ہوئے  رقم طراز ہیں کہ
تکنیک اور فن کے اعتبار سے سے دو یا تین ناولوں اور ناولٹوں کے علاوہ شاید عصمت چغتائی  کے کسی ناول کو بہت اعلیٰ  پائے کا نہ کہا جاسکے مگر عصمت کے مخصوص طرزِ فکر اور زبان و بیان کی انفرادیت کے باعث  یہ اُردو ناولوں  کے خزینہ میں  اچھا اضافہ قرار دیئے جا سکتے ہیں ۔ ان کے بقول اُردو ادب میں  عصمت کی شخصیت جتنی بلند ہے اتنی متنازعہ،
آگے بڑھتے ہوئے  میڈم فرزانہ عصمت کے بارے لکھتی ہیں بیسویں  صدی کی خواتین لکھاریوں  کا ذکر عصمت چغتائی  کے ناولوں  اور افسانوں کو شامل کیئے  بغیر  لکھنا ممکن نہیں،  عصمت ایک صاحبِ طرز اور عہد ساز ادیبہ ہیں ان کے بعد آنے والے ادیبوں  نے ان کی جراءت و بے باکی کی پیروی کرنے کی کوشش کی ، جب تک دنیا میں  اُردو اَفسانہ زندہ رہے گا عصمت چغتائی  کی بطور ادیبہ اہمیت و ناموری زندہ حقیقت کے طور پہ موجود رہے گی،  ماخذ و کتابیات کی تفصیلی فہرست  کے ساتھ اس کتاب کی تکمیل ہو جاتی ہے۔عصمت چغتائی  کی شخصیت اور فن پر بہت سا مواد اور حوالہ  جات کا اس کتاب میں  جمع ہو جانا کئی حوالوں اور ماخذ کی تلاش سے قارئین کو بے نیاز کر دیتا ہے
ادب کا ذوق اور عصمت کے فن سے دلچسپی رکھنے والوں  کے لیے یہ کتاب ایک بڑا سرمایہ ہے،  اللہ میڈم  فرزانہ کے قلم کو روانی اور انھیں  طویل عمر عطا کرے اور ان کا سایہ تا دیر ہمارے سروں  پہ قائم  رکھے . وہ ہمارے شعبے کا وقار اور ادبی دنیا کامعتبر نام ہیں

How to Write A Short Story by Mansha Yaad

Articles

افسانہ کیسے لکھیں؟

منشا یاد

(انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی ،اسلام آباد کے زیر اہتمام نوجوانوں قلم کاروں کی منعقدہ ورکشاب سے خطاب 2008)

عزیر طالبات!!!!

سب سے پہلے تو میں اس خوشی کا اظہار کرنا چاہتا ہوں جو مجھے یہاں آ کر اور یہ جان کر ہو ئی کہ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی جیسے ملک کے نہایت اعلیٰ اور مقتدر ادارے میں آپ جیسے طلباء موجود ہیں جو افسانہ لکھنا اور اس کے بارے میں معلومات حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔شاہد آپ کو معلوم ہو کہ میں نے اپنی ویب سائٹ پر نوجوانوں افسانہ نگاروں کو کسی معاوضے کے بغیر فنی اور تکنیکی مشورے دینے کا اعلان کر رکھا ہے اور اس سلسلے میں نوجوان لکھنے والے اکثر مجھے اپنے افسانے بھجواتے اور سوالات کرتے رہتے ہیں ان سوالات اور مشکلات کو سامنے رکھ کر جو نوجوان طلباء کو پیش آتی رہتی ہیں میں نے فن افسانہ نگاری کے بارے میں ابتدائی اور بنیادی معلومات پر مشتمل کچھ نوٹس مرتب کئے ہیں ۔ آپ کے سامنے بھی انہی پر بات ہو گی کسی بھی فن میں کوئی نیا تجربہ کرنے سے پہلے اس فن کی مبادیات اور نصابی باتوں سے آگاہ ہونا ضروری ہوتا ہے ۔ آخر میں اگر وقت ملا تو آپ کے سوالوں کے بارے میں الگ سے بات کریں گے ۔

افسانہ یا کہانی کیا ہے:

آپ جانتے ہیں کہ کہانی سے انسان کا بہت قدیمی ساتھ ہے شاید تب سے جب اس نے بولنا سیکھا تھا یا شاید اس سے بھی پہلے جب وہ زمین پر لکیریں کھینچ کر اور اشاروں سے اپنے ساتھیوں کو شکار کے وقت پیش آنے والے واقعات بتاتا ہو گا مظاہر فطرت یا کسی عجیب و غریب جانور کو پہلی بار دیکھ کر اپنی حریت اور خوف کا اظہار کرتا ہو گا ۔پھر جب یہ انداز ہوا کہ بعض لوگ کوئی واقعہ لطیفہ یا سرگزشت زیادہ دلچسپ طریقے سے بیان کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں تو قصہ گوئی یا قصہ خوانی ایک آرٹ تصور ہونے لگا ۔ پشاور کے معروف قصہ خوانی بازار کا نام آپ نے ضرور سنا ہوگا جو اگلے وقتوں کی یادگار ہے ۔پھر قصہ اور کہانی نظم کی صورت میں کہا اور گایا جانے لگا ۔ ابھی زیادہ عرصہ نہیں ہوا کہ ہمارے ہاں بسوں میں گا کر چھوٹے چھوٹے دلچسپ قصے بیچے جاتے تھے ۔ شاہد اب بھی کہیں کہیں بیچے جاتے ہوں ۔ جب انسان نے لکنا پڑھنا سیکھ لیا تو کہانی نثری اسلوب میں لکھی جانے لگی اور ایک نئے دور میں داخل ہوئی اور حکاتیوں ،تمثیلوں ،لوک کہانیوں ،مثنویوں اور منظوم داستانوں کی صورت مسلسل آگے بڑھتی رہی ۔ یہاں تک کہ یہ نثری ادب کی ایک اہم شاخ قرر پائی ۔

یہ بات یاد رکھنا چاہیے کہ کہانیوں تہذیب و ثقافت کی اہم ترین عکاس اور مظہر (important aspect of culture) ہوتی ہے ۔ انسانی تہذیبیں کہانیوں میں پیش ہی نہیں ہوتیں ان سے شناخت بھی ہوتی ہیں ۔حکاتیوں، روایتوں اور تمثیلوں کی صورت یہ تفریح اور تعلیم کا قدیم ترین اور اولین ترین انسانی وسیلہ اظہار ہیں ۔ قدیم مصر، میسو پوٹیمیا (عراق)، یونان ،چین اور انڈیا میں ان کا خاصا سرمایہ موجود ہے، قدیم ترین زمانے کی کہانیوں اساطیر اور بعض اوقات عقاید کا روپ اختیار کرلیتی ہیں ۔ مذاہب میں بھی قصہ اور کہانی کے ذریعے تبلیغ اور اصلاح کا کام لیا گیا ۔ بدھ کی جاتک کہانیاں مشہور ہیں ۔ قرآن پاک میں بھی دیگر قصوں کے علاوہ حضر ت یوسف کا قصہ موجود ہے جس احسن القصص کہا گیا ہے ۔

مختصر کہانیاں (افسانے) ناول کے مقابلے میں مختصر اور کم پیچیدگی کی حامل ہوتی ہیں اور عام طور سے کسی ایک واقعہ، ایک پلاٹ، ایک سیٹنگ، تھوڑے کرداروں اور وقت کے کم دورانیہ تک محدود ہوتی ہیں ۔لیکن ان کا تاثر گہرا اور دیرپا ہو سکتا ہے ۔

بیانیہ :(Narrative)

بیانیہ کا لفظ کہانی کے مترادف یا ہم معنی (synonym)کے طور پر برتا جاتا ہے۔
کہانی کے اس اسلوب کو جس میں فرضی یا حقیقی سلسلہ واقعات کو کسی خاص ترتیب سے فنی یا ادبی روپ دیا جائے بیانیہ کہتے ہیں ۔ یہ تحریری، زبانی، نثر اصناف اور فکشن کیلئے ہی استعمال ہوتا ہے ۔ اس میں عوماً مصنف (ادیب، مقرر یا خطیب) قاری یا سامع سے بلاواسط اور براہ راست مخاطب ہوتا ہے ۔
بیانیہ کی اقسام:

بیانیہ ایک وسیع مفہوم رکھنے والا لفظ یا اصطلاح ہے، وسیع تر معنوں میں بیانیہ کا اطلاق تمام افسانوی تحریروں پر ہوتا ہے ۔ یہ بلاغت (Rhemtorical modes) کے ذریعوں یا وسلیوں (modes)
میں سے ایک ہے
فکشن (fiction):

فکشن (fictionn) ایسی تصوراتی یا فرضی تحری رکو کہتے ہیں جوفیکٹس (facts) کے برعکس حقیقی اور سچی نہ ہو (لیکن یہ لازم نہیں ہے) ۔ اس کا مقصد لکھنے والے پیغام یا نقطۂ نظر دوسروں تک پہنچانا ہوتا ہے یا یہ فقط وقت گزاری اور تفریح کیلئے بھی ہو سکتی ہے ۔عام طور پر قصہ ،کہانی ،حکایت ،فسانچہ ،ناول ،ناولٹ ،تمثیل ،ڈراما وغیرہ فکشن کی مختلف شکیں ہیں ۔ (تا ہم صرف یہی شکلیں نہیں) وقت کے ساتھ ساتھ اس میں سکرین پلیز ،وڈی وفلمیں ،کارٹوں کتابیں ،آڈیو وڈیو بکس وغیرہ بھی شامل ہو گئی ہیں ۔

نان فکشن (non-fiction):

فکشن کے برعکس ایسی تحریریں جن کو سچائی کے دعوے کے ساتھ پیش کیا جائے (چاہے وہ سچی ہوں یا نہ ہوں) نان فکشن کہلاتی ہیں ۔
عام طور پر تاریخ (ہسٹری)، علمی مضامین ،ڈاکو میٹریز ،سائنسی مقالات ،سوالخ عمریاں ،نصابی کتب ،فوٹوز ،وڈیو گیمز، کمپیوٹر گیمز ،بلیو پرنٹس ،سفر نامے ،صحافتی تحریریں وغیرہ نان فکشن کی ذیل میں آتے ہیں ۔سادگی ،سچائی اور صفائی (clarity) اس کی اہم ترین خصوصیات ہیں ۔

افسانہ (SHORT STORY):

اردو میں فکشن کیلئے افسانہ کی اصطلاح رائج ہے جس میں فکشن یا افسانوی ادب کی دیگر ساری انواع (modes) قصہ ،کہانی ،ناول ،ناولٹ ،مختصر افسانچے ،اور سکرین پلے سب ہی شامل تھے لیکن آہستہ آہستہ لفظ صرف شارٹ سٹوری (مختصر کہانی) کیلئے استعمال ہونے لگا ہمارے ہاں کہانی کا لفظ بھی انہی معنوں میں استعمال ہوتا ۔لیکن بعض لوگ (میرے سمیت) کہانی اور افسانے میں فرق روا رکھتے ہیں اس طرح کہانیاں واقعہ نگاری کے قریب ہوتی ہیں ۔یہ سیدھی ،سادہ اور حقیقت پر مبنی ہوتی ہیں جیسے سچی کہانیوں اور تین عورتیں تین کہانیاں وغیرہ ۔ اس کے برعکس جس کہانی میں لکھنے والا زیب داستان اور معنوں گہرائی کیلئے اپنا فن ،فکر ،تخیل ،تجزیہ اور نقطہ نظر شامل کر کے اسے خلاقانہ اور فنی پیش کش بنادے اسے فسانہ کہیں گے اسی لیے عام گفتگو ،میں بھی لوگ کہتے ہیں کہ فلاں نے تو معمولی سی بات کا افسانہ بنا دیا ہے ۔ یوں تو انسائے لطیف یا نثری نظم کی طرح کے پلاٹ ،کردار اور کہانی پن کے بغیر بھی افسانے لکھے گئے اور اینٹی سٹور پز بھی لیکن میرے نزدیک افسانے میں کہانی یا کہانی کے عنصر کا ہونا ضروری ہے ۔ دلچسپی یعنی ریڈایلبٹی ،اختصار ،ایجاز اور وحدت تاثر اس کی اہم خصوصیات ہیں ۔

افسانے کی تریف:
ایک مغربی دانشور نے افسانے (مختصر کہانی ) کی ایک مختصر تعریف یوں کی کہ ایک مختصر کہانی ایسی کہانی ہے جو مختصر ہو۔
(a short story a story which is short)
لیکن سوال یہ ہے کہ کتنی مختصر ؟ وقت اور دورانیے پر ماہرین کا ہمیشہ اختلاف رہا اور یہ کہانی کو پہچاننے کا کوئی اچھا پیمانہ ثابت نہیں ہوا ۔ایک امریکی نقاد w.b.pitkin نے بھی نہایت اختصاد سے کام لیتے ہوئے کہا کہ
The Short story is a narrative drama with a single effiect

ظاہر ہے ایسی تعریفیں ،آسان اور دلچسپ ضرور ہیں لیکن مکمل نہیں ۔ایک اور نسبتاً جامع رائے ملا خطہ ہو:

سچی بات یہ ہے کہ افسانے کی ایسی کوئی مخصر ،جامع اور ہر لحاظ سے مکمل کرنا جس میں اس کی ساری خصوصیات سما جائیں آسان نہیں ہے ۔ ہر بار کچھ نہ کچھ رہ جاتا ہے ۔تا ہم یہ کہا جا سکتا ہے کہ:
’’زندگی کے کسی ایک پہلو ،ایک واقعہ ایک جذبہ ،ایک احساس ،ایک خیال ،ایک تاثر ،ایک مقصد یا ایک ذہنی کیفیت کو ایجاز و اختصار کے ساتھ کہانی کی شکل میں اس خلاقاہ اور فنی طریقے سے بیان کرنا کہ اس میں اتحاد تاثر پیدا ہو جائے جو پڑھنے والے کے جدذبات و احساسات پر اثر انداز ہو ،افسانہ کہلاتا ہے‘‘

افسانے کا مقصد:
افسانے کا مقصد تفریح اور وقت گزاری بھی ہو سکتا ہے لیکن یہ حیات انسانی کا عکاس اور نقاد بھی ہوتا ہے ۔آپ نئے لوگوں اور جگہوں سے تعارف حاصل کرتے ہیں ۔ ان سب لوگوں سے ملتے ہیں مگر ان کے بارے میں کچھ نہیں جانتے ۔ آپ ان لوگوں کی زندگی گزار سکتے ہیں جنہیں آپ نے دور سے دیکھا ہے ۔ اس طرح آپ اپنے آپ سے باہر نکل کر دوسرے کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہیں اور آپ کہانیوں کے ذریعے دنیا اور لوگوں کو زیادہ بہتر طریقے سے جانتے لگتے ہیں ۔ آپ کو زندگی کے بہت سے گر معلوم ہوتے ہیں اور آپ اپنی زندگی اور دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کر سکتے ہیں ۔

مختصر افسانہ کا موضوع (theme):
افسانے کا کوئی مخصوص موضوع نہیں ہو تا ۔ زندگی اور سوسائٹی (بلکہ کا ئنات) سے متعلق کوئی بھی واقعہ ،جذبہ ،احساس ،تجربہ ،کیفیت ،مشاہدہ ،نفسیاتی ،فکری یا روحانی نکتہ افسانے کا موضوع بن سکتا ہے ۔ دوسرے لفظوں میں افسانہ جس مقصد ،اصلاحی یا فکری پیغام ،خیال یا تھیم (آئیڈیا) کی خاطر لکھا گیا وہی اس کا موضوع تھیم ہو گی لیکن یہ نامحسوس طریقے سے اس میں مستور ہوگا ۔ادبی محفوں اور تنقیدی بحثوں میں ہم اکثر افسانے کے موضوع کے تعین کی کوشش کرتے ہیں ۔

ایک بات کا یہ ذکر یہاں ضرورت ہے کہ حقیقت پسندی کے موجود دور میں بعض لوگوں کو خیال ہے کہ کردار کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے لیکن سچی بات یہ ہے کہ آج کی نئی نسل میں ہر جگہ پلاٹ ،سسپنس اور جدوجہد (ACTION) کی کہانیوں مقبول ہیں اور ڈراموں ،فلموں اور ڈائجسٹوں کو بھی ان کی ضرورت رہتی ہے ۔ان میں کردار بہر حال موجود ہوتا ہے مگر کردار کے نفسیاتی مطالعہ کی بجائے اب ہم تھیمز (آئیڈیاز) کے زمانے میں ہیں ۔ جو کردار نگاری اور مخص قصہ گوئی سے زیادہ اہم ہے ۔ بے شک تھیم کو بھی کردار اور پلاٹ کی ضرورت ہوتی ہے لیکن موضوع یا تھیم خود اپنا پلاٹ اور کردار تخلیق کر لیتی ہے ۔

افسانے کے بنیادی اجزاء (elements of fiction):
افسانے کے بنیادی اجزاء یا عناصر کے بارے میں مختلف ماہرین ،فکشن کے اساتذہ اور لکھنے والوں کی آراء میں اختلاف پایا جا تا ہے ۔بعض کے نزدیک فکشن کے تین اجزاء پلاٹ ،کردار اور سیٹنگ (جگہ اور فضا) اہم تر ہیں ۔ بعض کے خیال میں اس میں نکتہ نظر (پوائنٹ آف ویو) کو بھی شامل ہونا چاہیے کہ افسانہ کسی کردار کے پوائنٹ آف ویو سے لکھا جا رہا ہے ۔ بعض ماہرین فن کا خیال ہے کہ مکالمہ بھی بے حد اہم جزو ہے ۔مرکزی خیال یا تھیم اور ٹیکنیک یا سٹائل کو بھی بعض ماہرین اہم تصورکر تے ہیں ۔ ان پانچ اجزاء میں سے کردار ’’کون‘‘ ،پلاٹ ’’کیا اور کیوں ‘‘سیٹنگ’’ کب اور کہاں ‘‘اور سٹائل ’’کیسے‘‘ہے ۔تھیم کو آپ وی مرکزی خیال کہہ سکتے ہیں جس کے گرد لکھنے والا کہانی بنتا ہے ۔

ایک دوسرے دانشور اور ماہرین کے نزدیک افسانے کے اہم اجزائے ترکیبی (Elements) درج ذیل ہیں :
1 -پلاٹ – ۲۔ کردار ۳۔سینٹگ یا فضا ۴۔ نقطہ نظر ۵۵ اسلوب نگارش ،موڈ اور زبان وبیان ۶ ۔ موضوع ۷ علامت نگاری ،تمثیل اور عکس

پلاٹ:
پلاٹ افسانے یا کہانی کا بنیادی جزو ہے ۔یہ کہانی کا خاکہ ہے یہ واقعات ،سلسلہ واقعات اور جدوجہد یا عمل کو ترتیب دینے کا نام ہے ،جس سے کہانی میں معنی اور اثر پیدا ہوتا ہے ۔یہ واقعات مرکزی کرادر کو پیش آنے والے تصادم یا مشکلات سے پیدا ہوتے ہیں جو یا تو بیرونی عناصر جیسے موسم ،زلزلہ ،بیماری یا موت کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں یا کسی دوسرے کردار کی مخالفت ،لالچ ،مفاد پرستی اور بے وفائی کی وجہ سے، چوں کہ مرکزی کردار ان تصادمات سے نپٹنے کیلئے جدوجہد کرتا ہے اس لیے پلاٹ وجود میں آتا ہے ۔پلاٹ سادہ، پیچیدہ ،ڈھیلا ڈھالا اور غیر منظم ہو سکتا ہے ۔ بعض کہانیوں میں مصنف یہ واقعات منطقی ربط کے ساتھ سلسلہ وار جیسے کہ وہ پیش آئے بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔لیکن بعض کہانیوں میں فلیش بیک کی تیکنیک استعمال کرتے ہوئے پہلے پیش آ چکے واقعات بعد میں بیان کیے جا سکتے ہیں ۔
قریب سے دیکھیں تو پلاٹ عمل اور ردعمل پر مشتمل ہوتا ہے ذرا دور سے دیکھیں تو پلاٹ کا ایک آغاز ایک درمیان اور ایک انجام ہوتا ہے ،پلاٹ کو عام طور پر ایک قوس سے ممشتل کیا جاتا ہے ،منظر یا سین بھی اس کا حصہ ہے ۔منظر ڈرامے کا عنصر ہے ،ہم سب ہر لمحہ کسی منظر میں ہو تے ہیں اور فلم کی سٹلز کی طرح منظروں میں حرکت کرتے ہیں ،افسانے کی بیانیہ ساخت عام طور پر کلائمکس کے حوالے سے ہوتی ہے ۔
ایک روایتی افسانے میں آہستہ آہستہ مرکزی کردار کیلئے واقعات میں الجھنیں اور پیچیدگیاں پیدا ہونے لگتی ہیں جو انتہائے تصادم یا نقطہ عروج (کلائمکس) پر جا پہنچ جاتی ہیں ۔کلائمکس کے بعد سلجھاؤ کا عمل شروع ہوتا ہے ۔اور آخر کار معاملات جن کے سدھرنے کی بظاہر کوئی امید نہیں ہوتی ، سلجھ جاتے یا ہمیشہ کے لیے بگڑ جاتے ہیں اور افسانے کا اختتام ہو جاتا ہے

کردار یا کردار کی پیش کش (characterisation):
کردار کو افسانے کا نہایت بنیادی جزو قرار دیا گیا ہے ۔یہ کہانی کے اندر جدوجہد میں مصروف شخص یا اشخاص ہو تے ہیں ۔لیکن یہ انسانی کرداروں کے علاوہ بھی ہو سکتے ہیں ۔کرداروں کی کئی قسمیں ہو سکتی ہیں ۔
۱۱۔بیان کنندہ (جس کے پوائینٹ آف ویو سے کہانی یا واقعات کو دیکھا اور بیان کیا جاتا ہے) یہ کہانی کا مرکزی کردار بھی ہو سکتا ہے اور اس کے علاوہ بھی ۔
۲۔ کہانی کا مرکزی کردار (Protagonist) جیسے فلم یا ڈرامے کا ہیرو
۳۔مرکزی کردار کا حریف (Antagonist)
۴۔ ادنیٰ کردار (Minor Character) کہانی کو آگے بڑھانے والے مددگار اور کم اہمیت کے حامل کردار ۔
۵۔مزاحم کردار (Foil Character) جو مرکزی کردار کے ارادوں اور عمل میں مزاحم ہوں ۔
۔ماحول یا فضا (setting):
سیٹنگ کا کہانی کے مقام (جگہ) ،وقت اور زمانے سے تعلق ہے ۔یہ جگہ حقیقی یا فرضی بھی ہو سکتی ہے اور ہماری دنیا کے علاوہ کائنات کا کوئی دوسرا مقام بھی ہو سکتا ہے، علامہ اقبال کی مشہور نظم ’’حقیقت حسن ‘‘میں ایک بہت خوبصورت ڈراما ہے جو بیک وقت زمین اور افلاک پر کھیلا گیا۔
۔ بیان کنبدہ اور نقطہ نظر کردار ((Pilot of view character):
ہر کہانی بیان اپنے کنندہ کا نقطہ نظر پیش کرتی اور اسی کے نقطہ نظر سے لکھی جاتی ہے وہی واقعات کو سنتا ،دیکھتا اور محسوس کرتا اور ہمیں اپنے نقطہ نظر سے چیزوں کے بارے میں بتاتا ہے ۔بیان کنندہ خود لکھنے والا بھی ہو سکتا ہے اور کہانی کا کوئی دوسرا کردار بھی ،نقطہ نظر مختلف طریقوں سے پیش کیا جا سکتا ہے ۔بیان کنندہ کے لئے زیادہ تر صیغہ متکلم (میں یا ہم) اور صیغہ غائب (وہ) استعمال کیا جاتا ہے شاز ہی صیغہ حاضر (تم)۔ اس کے علاوہ ضرورت کے مطابق یہ کسی ناقابل اعتبار کردار کے ذریعے بھی بیان ہو سکتی ہے اور شعور کی روکی تکنیک کے ذریعے بھی ۔جس میں جیسے جیسے خیالات ذہن میں آتے جاتے ہیں انہیں داخلی مونو لاگ (خود کلامی) اور تلازمہ خیال (مونتاج) کے ذریعے پیش کر دیا جاتا ہے۔

۔اسلوب نگارش ،موڈ اور زبان و بیان ((style,tone&language):
کہانی کے اجزائے ترکبی میں اسلوب بھی ایک اہم جزو ہے ۔
افسانے میں جس انداز یا سلیقے سے قصہ بیان کیا جاتا ہے اور شعوری یا غیر شعوری طور پر ادیب جس قسم کی زبان ،انداز بیان ،گرامر ،فقروں کے ساخت ،لطیفیات ،پیراگرافنگ اور لب و لہجہ (ڈکشن) اختیار کرتا ہے اور اس کے اسٹائل یا اسلوب پر دلالت کرتا ہے ۔عام طور پر ہر لکھنے والا اسلوب کے حوالے سے الگ پہچان رکھتا ہے ۔

ٹیکنیک (TECHNIQUE):
مصنف کہانی کے واقعات کو جس طریقے ،سلیقے اور فنی ترتیب سے پلاٹ میں پیش کرتا ہے اسے ٹیکنیک کہتے ہیں ۔ ہر موضوع اور مواد کے مطابق اس کی ایک بہتری ٹیکنیک موجود ہوتی ہے اسے دریافت کر لینا ایک اچھے ادیب کا کام ہے ۔مواد کے تقاضوں کے مطابق موزوں تر ٹیکنیک سے افسانے کا تاثر گہرا ہو جاتا ہے ۔عموماً بیانیہ تکنیک استعمال کی جاتی ہے جس میں واحد غائب یا واحد متکلم و اقعات بیان کرتا چلا جاتا ہے ۔خطوط کے ذریعے بھی واقعات بیان ہوتے ہیں جو سادہ مگر دلچسپ ٹیکنک ہے ۔ڈائری اور روزنامچے کے ذریعے بھی واقعات نگاری کی جاتی ہے ،سادہ بیانیہ کے علاوہ علامتی ،استعاراتی اور تمثیلی ٹیکنیکوں کو استعمال کیا جاتا ہے ۔

زبان و بیان:
افسانہ لکھنے کیلئے مناسب تعلیم اور مطالعہ ضروری ہے ۔ اس کیلئے لکھنے والے کا اچھا انشاپرداز ہونا ضروری ہے وہ عام علمی اور ادبی الفاظ و اصطلاحات کا مفہوم جانتا ہو اسے فکشن کی مخصوص زبان اور لہجے کا علم ہو ۔ اسے کہانی کہنے کے فن سے دلچسپی اور آگاہی ہو ۔اس میں دیکھے ہوئے مناظر ،اشخاص اور باتوں کو ہو بہو لفظی تصویروں میں دوبارہ دیکھانے کی صلاحیت ہو ۔

جدیدر ججانات:
نئے علمی موضوعات اور نظریات کی روشنی میں افسانے میں ہر دور میں اور ہر سطح پر تبدیلیاں آتی رہیں ۔یہ کسی صنف ادب کے ارتقا کے لیے ضروری بھی ہوتا ہے کہ وہ کسی مقام پر جمود کا شکار نہ ہو اور فکر ،موضوع ،ٹیکنیکی ،اسالیب اور نئے رجحانات سے خود کو دور یا بے خبر نہ رکھے ۔چنانچہ ساٹھ کی دہائی میں اردو افسانہ بھی نئے رجحانات سے روشناس ہوا ۔ اور علامتی ،استعارتی اور تجریدی افسانے لکھنے جانے لگے ۔ایسے افسانے کو علامتی افسانے کہا جاتا ہے ۔

علامت نگاری (Symbolism):
جب کوئی لفظ یا چیز اپنے لغوی معنوں کے علاوہ وسیع تر اور مخصوص معنوں بھی استعمال ہو تو اسے علامت کہتے ہیں۔ لفظ کے معنی دو طرح کے ہوتے ہیں ایک لغوی اور ظاہری اور دوسرے باطنی جن کا کوئی مخصوص پس منظر ہوتا ہے یا اس ہے کوئی معاشرتی ،تہزیبی ،اساطیری ،مذہبی یا ادبی حوالہ یا واقعہ وابستہ ہوتا ہے اس طرح لفظ یا چیز کو استعمال کرنے سے جو جسے وسیع تر مفہوم حاصل ہوتا ہے اسے علامتی مفہوم کہتے ہیں اور علامتوں کو برتنے کے اسلوب کو علامت نگاری یا سمبلزم ۔

تمثیل نگاری (Allegory):
تمثیل کا لفظ مثل سے لیا گیا ہے ۔ایک ایسی حکایت یا کہانی جو کسی دوسری سیاسی ،مذہبی ،اخلاقی یا فلسفانہ صورت حال کی مثل ہو اور اس پر پوری طرح منطبق ہو سکے ۔دوسرے لفظوں میں یہ اپنی اصل کہانی کے علاوہ ایک علامتی مفہوم بھی رکھتی ہو۔ علامتوں کی طرح تمثیلیں بھی شخصی ،معاشرتی ،تمدنی ،اساطیری اور عالمی ہو سکتی ہیں ۔

تجریدیت (Abstractness):
یہ اصلاح مصوری سے ادب میں آئی ہے ۔ تجسیم کے برعکس یہ اشاراتی انداز بیان ہے ۔عام طور پر ایسی کہانیوں پلاٹ ،موضوع اور کرداروں کے بغیر ہوتی ہیں ۔واقعات اور تاثرات کو اشاروں کنایوں سے بیان کیا جاتا ہے اس لیے اکثر ابلاغ کا مسئلہ پیدا ہو جاتا ہے ۔

شعور کی رو (Stream of Consciousness):
جیسے جیسے خیالات لکھنے والے کے ذہن میں آتے ہیں وہ انہیں داخلی مونولاگ یا خود کلامی کے انداز میں لکھتا چلا جاتا ہے ،تلازمہ خیال بھی اس کا ایک انداز ہے ۔بات سے بات پیدا ہوتی چلی جاتی ہے اور مجموعی طور پر تحریر میں ایک تاثر ساپیدا ہو جاتا ہے۔

یاد رہے کہ ساٹھ کہ دہائی میں اردو افسانے میں علامت نگاری کا جو رجحان عام ہوا تھا اسے عوام اور بعض نقادوں نے فوری طور پر قبول نہیں کیا تھا کیوں کہ نئے تجربوں کے دور میں جیسا کہ بالعموم ہوتا ہے اور اردو افسانہ بھی افراط و تفریط کا شکار ہوا اور اینٹی سٹوری اور کہانی کے بغیر انشائے لطیف یا نثری نظموں کی طرح کے افسانے بھی لکھے گئے لیکن آہستہ آہستہ ان نئے تجر بات میں پیچدگی اور اعتدال آتا گیا اورقارئین بھی وقت کے ساتھ ساتھ نئے انداز کی کہانیوں سے مانوس ہونے لگے ۔ستر کی دہائی تک آتے آتے اردو افسانے میں سارے اسالیب ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے اور ایک نہایت معتدل اور متوازن اسلوب غالب آگیا جس میں قصہ یا کہانی پن تو موجود ہوتا ہے مگر اسے نئے انداز سے پیش کیا جاتا ہے، افسانوں میں جدت اب صرف اسلوب تک محدود نہیں بلکہ معنی کے لحاظ سے بھی نئے خیالات کو افسانے کا معضوع بنایا جاتا ہے۔

میں بے حد شکر گزار ہوں ۔ آپ سب کا کہ آپ لوگوں نے اتنی توجہ اور دلچسپی سے میری باتیں سنیں اور مٰں ممنوں ہوں آپ کے اساتذہ اور منتظمین کا بھی جنہوں نے مجھے یہاں آنے اور مستقبل کے ادیبوں سے مخاطب ہونے کا موقع فر اہم کیا ۔
———————————————————

Nazm Tabaatabaii ki Sharh E Diwan E Ghalib

Articles

نظم طباطبائی کی شرح دیوان غالب

پروفیسر ظفر احمد صدیقی

نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی نکتہ سنجی و سخن فہمی سے بھی انھیں بہرۂ وافر ملا تھا۔ اس لیے انھوں نے مشرقی شعریات کو ذہن میں رکھ کر یہ شرح تصنیف کی ہے۔ نیز مختلف اشعار کی شرح کے دوران سخن فہمی کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ مشرقی شعریات سے واقفیت اور اس کے اطلاق و انطباق میں وہ بسا اوقات حالی و شبلی سے آگے نکل گئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ و معنی کی معرکہ آرا بحث کو لیجیے۔ حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۴ء) میں ابن خلدون کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں: نظم طباطبائی کی شرحِ دیوانِ اردوے غالب ۱۳۱۸ھ مطابق ۱۹۰۰ء میں پہلی بار شایع ہوئی۔ اس سے پہلے دیوانِ غالب کی جس قدر شرحیں لکھی گئی تھیں وہ جزوی شروح تھیں۔ طباطبائی پہلے شخص ہیں جنھوں نے غالبؔ کے متداول دیوان کی مکمل شرح لکھی ہے۔ اس اولیت کے علاوہ کئی اور پہلوئوں کے لحاظ سے بھی یہ شرح اہمیت کی حامل ہے۔ ان میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس کے مصنف عربی و فارسی کے متبحر عالم اور ان دونوں زبانوں کی شعری روایت اور اصولِ نقد سے پوری طرح واقف تھے۔ اس کے ساتھ ہی نکتہ سنجی و سخن فہمی سے بھی انھیں بہرۂ وافر ملا تھا۔ اس لیے انھوں نے مشرقی شعریات کو ذہن میں رکھ کر یہ شرح تصنیف کی ہے۔ نیز مختلف اشعار کی شرح کے دوران سخن فہمی کے عمدہ نمونے پیش کیے ہیں۔ یہاں یہ وضاحت بے محل نہ ہوگی کہ مشرقی شعریات سے واقفیت اور اس کے اطلاق و انطباق میں وہ بسا اوقات حالی و شبلی سے آگے نکل گئے ہیں۔ مثال کے طور پر لفظ و معنی کی معرکہ آرا بحث کو لیجیے۔ حالی نے مقدمۂ شعر و شاعری (۱۸۹۴ء) میں ابن خلدون کے حوالے سے اس کا ذکر کیا ہے۔ چنانچہ لکھتے ہیں:
ابن خلدون اسی الفاظ کی بحث کے متعلق کہتے ہیں کہ انشا پردازی کا ہنر نظم میں ہو یا نثر میںمحض الفاظ میں ہے، معانی میں ہرگز نہیں۔ معافی صرف الفاظ کے تابع ہیں اور اصل الفاظ ہیں۔۔۔ الفاظ کو ایسا سمجھو جیسا پیالہ اور معانی کو ایسا سمجھو جیسا پانی۔ پانی کو چاہے سونے کے پیالے میں بھر لو اور چاہو چاندی کے پیالے میں اور چاہو کانچ یا بلور یا سیپ کے پیالے میں، پانی کی ذات میں کچھ فرق نہیں آتا۔
پھر اس سے اختلاف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
مگر ہم ان کی جناب میں عرض کرتے ہیں کہ حضرت اگر پانی کھاری یا گدلا یا بوجھل یا ادہن ہوگا، یا ایسی حالت میں پلایا جائے گا جب کہ اس کی پیاس مطلق نہ ہو تو خواہ سونے یا چاندی کے پیالے میں پلائیے، خواہ بلور اور پھٹک کے پیالے میں وہ ہرگز خوش گوار نہیں ہوسکتا اور ہرگز اس کی قدر نہیں بڑھ سکتی۔
یہی بحث شبلی نے بھی شعر العجم میں اٹھائی ہے۔ البتہ ان کا نقطۂ نظر حالی سے مختلف ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
حقیقت یہ ہے کہ شاعری یا انشا پردازی کا مدار زیادہ تر الفاظ ہی پر ہے۔ گلستاں میں جو مضامین اور خیالات ہیں، ایسے اچھوتے اور نادر نہیں۔ لیکن الفاظ کی فصاحت اور ترتیب اور تناسب نے ان میں سحر پیدا کردیا ہے۔ ان ہی مضامین اور خیالات کو معمولی الفاظ میں ادا کیا جائے تو سارا اثر جاتا رہے گا۔
اب یہی بحث طباطبائی کے یہاں ملاحظہ ہو۔ انھوں نے اپنے دعوے کو نہایت مدلّل ، مستحکم اور دل نشیں پیرائے میں پیش کیا ہے۔ ساتھ ہی حالی کا نام لیے بغیر ان کے خیالات کا رد بھی کیا ہے۔ یہ بہت عمدہ بحث ہے، اس لیے طوالت کے باوجود مکمل طور پر نقل کی جاتی ہے:
ابن رشیق کہتے ہیںاکثر لوگوں کی راے یہی ہے کہ خوبیِ لفظ میں معنی سے زیادہ اہتمام چاہیے۔ لفظ قدر و قیمت میں معنی سے بڑھ کر ہے۔ اس سبب سے کہ معنی خلقی طور سے سب کے ذہن میں موجود ہیں۔ اس میں جاہل و ماہر دونوں برابر ہیں۔ لیکن لفظ کی تازگی اور زبان کا اسلوب اور بندش کی خوبی ادیب کا کمال ہے۔ دیکھو مدح کے مقام میں جو کوئی تشبیہ کا قصد کرے گا، وہ ضرور کرم میں ابر، جرأت میں ہِزَبر، حسن میں آفتاب کے ساتھ ممدوح کو تشبیہ دے گا۔ لیکن اس معنی کو اگر لفظ و بندش کے اچھے پیرائے میں نہ ادا کر سکا تو یہ معنی کوئی چیز نہیں۔ غرض کہ یہ مسلّم ہے کہ معانی میں سب کا حصہ برابر ہے اور سب کے ذہن میں معانی بہ حسبِ فطرت موجود ہیں اور ایک دوسرے سے معنی کو ادا کرتا رہتا ہے۔ کسی کاتب یا شاعر کو معنی آفریں یا خلّاقِ مضامین جو کہتے ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ جو معانی کسی کے قلم سے نہ نکلے تھے وہ اس نے بیان کیے۔ اور یہ شبہہ کرنا کہ ہر مضمون کے چند محدود پہلو ہوتے ہیں، جب وہ تمام ہو چکتے ہیں تو اس مضمون میں تنوع کی گنجائش نہیں رہتی، اب بھی اگر اس کی چتھاڑ کیے جائیں گے تو بجائے تنوع تکرار و اعادہ ہونے لگے گا، صحیح نہیں۔ تفنن و تنوع کی کوئی حد نہیں۔ مثلاً دو لفظوں کا ایک مضمون ہم یہاں لیتے ہیں: ’’وہ حسین ہے‘‘ اس میں ادنا درجے کا تنوع یہ ہے کہ لفظ حسین کے بدلے اس کے مرادف جو الفاظ مل سکیں انھیں استعمال کریں۔ مثلاً وہ خوبصورت ہے۔ وہ خوش جمال ہے۔ وہ خوش گِل ہے۔ وہ سندر ہے۔ اس کے اعضا میں تناسب ہے۔ حسن اس میں کوٹ کوٹ کے بھرا ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ اس کے بعد بہ دلالتِ قرینۂ مقام ذرا معنی میں تعمیم کر دیتے ہیں۔ مثلاً وہ آشوب شہر ہے۔ کوئی اس کا مقابل نہیں۔ اس کا جواب نہیں ۔ اس کا نظیر نہیں۔ وہ لاثانی ہے۔ وہ بے مثل ہے۔ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون میں ذرا تخصیص کر دیتے ہیں، لیکن ویسی ہی تخصیص جو محاورے میں قریب قریب مرادف کے ہوتی ہے۔ کہتے ہیں: وہ خوش چشم ہے۔ وہ خوب رو ہے۔ وہ موزوں قد ہے۔ وہ خوش ادا ہے۔ وہ نازک اندام ہے۔ وہ شیریں کار ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون کو تشبیہ میں ادا کرتے ہیں اور کہتے ہیں: وہ چاند کا ٹکڑا ہے۔ اس کا رخسار گلاب کی پنکھڑی ہے۔ وہ سیمیں تن ہے۔ اس کا رنگ کندن سا چمکتا ہے۔ اس کا قد بوٹا سا ہے۔ شمع اس کے سامنے شرماتی ہے۔ وغیرہ وغیرہ۔ پھر اسی مضمون کو استعارے میں ادا کرتے ہیں۔ مثلاً آفتاب سے اس طرح استعارہ کرتے ہیں: اس کے دیکھے سے آنکھوں میں چکا چوند آجاتی ہے۔
چاند سے استعارہ : وہ نقاب الٹے تو چاندنی چھٹک جائے۔
چراغ سے استعارہ     : اندھیرے میں اس کے چہرے سے روشنی ہو جاتی ہے۔
شمع سے استعارہ :  اس کے گھونگھٹ پر پردۂ فانوس کا گماں ہے۔
برق طور سے استعارہ:  موسیٰ اسے دیکھیں تو غش کر جائیں۔
آئینے سے استعارہ :  جدھر وہ مڑتا ہے، ادھر عکس سے بجلی چمک جاتی ہے۔
پھر اسی مضمون کو کنائے میں بیان کرتے ہیں۔ مثلاً:
رنگ کی صفائی سے کنایہ :  وہ ہاتھ لگائے میلا ہوتا ہے۔
تناسب اعضا سے کنایہ :  وہ حسن کے سانچے میں ڈھلا ہے۔
خدا نے اسے اپنے ہاتھ سے بنایا ہے۔
رنگ کی چمک سے کنایہ :  اس کے چہرے کی چھوٹ پڑتی ہے۔
چہرے کی روشنی سے کنایہ :  اس کے عکس سے آئینہ دریائے نور ہوجاتا ہے۔
دل فریبی حسن سے کنایہ :  بشر اسے دیکھ کر تلملا جاتا ہے۔
اس کے بعد تازگیِ کلام کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ خبر کو انشا کردیں:
اللہ رے تیرا حسن۔ تو اتنا خوب صورت کیوں ہوا؟ سچ بتا تو انسان ہے یا پری؟ کہیں تو حور تو نہیں؟ حور نے یہ شوخی کہاں پائی؟ تو خدائی کا دعوا کیوں نہیں کرتا؟ وغیرہ وغیرہ
پھر دیکھیے مرادفات میں کس قدر تنوع ہے اور کس قدر تازگیِ لفظ و محاورہ کو اس میں دخل ہے۔ تعمیم کے کتنے مراتب ہیں؟ تخصیص کے کس قدر درجے ہیں؟ تشبیہ کی کتنی صورتیں ہیں؟ استعارے کے کتنے انداز ہیں؟ کنایہ کی کتنی قسمیں ہیں؟ انشا کے کس قدر اقسام ہیں؟ پھر ان سب کے اختلاف ترتیب و اجتماع کو کسی مہندس سے پوچھیے تو معلوم ہو کہ ایک حسن کے مضمون میں تقریباً ’’لَا تُعَدُّ وَلَا تُخصٰی‘‘ پہلو نکلتے ہیں۔
اس گفتگو سے ایک طرف تو یہ معلوم ہو جاتا ہے کہ مضمون واحد کو اسالیب متعددہ کے ذریعے پیش کرنے کا مشرقی تصور کیا ہے۔ دوسری جانب طباطبائی کے اندازِ فکر، قوت استدلال اور مشرقی شعریات میں رسوخ کا اندازہ بھی ہوتا ہے۔
مشرقی انداز نقد کا مفہوم عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کسی شعر میں لفظی و معنوی صنعتوں کی نشان دہی کر دی جائے۔ لیکن در حقیقت مشرقی تنقید کا امتیاز کسی متن میں موجود وجوہِ بلاغت کی دریافت اور پھر اس کی دل نشیں تعبیر ہے۔ فنی محاسن کی نشان دہی اس کا ایک ذیلی حصہ ہے۔ طباطبائی نے شرح غالب میں اس کے بہت سے عملی نمونے پیش کیے ہیں۔ ذیل میں بعض مثالیں ملاحظہ ہوں۔ غالبؔ کہتے ہیں:
قفس میں مجھ سے رودادِ چمن کہتے نہ ڈر ہمدمگری ہے جس پہ کل بجلی وہ میرا آشیاں کیوں ہو؟ طباطبائی اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
(۱) (ایک طائر چمن اور نشیمن سے جدا ہو کر اسیر ہوگیا ہے۔) اس مضمون پر فقط ایک لفظ ’’قفس‘‘ اشارہ کر رہا ہے۔
(۲)(اس نے اپنی آنکھوں سے باغ میں بجلی گرتے ہوئے دیکھی ہے اور قفس میں متردد ہے کہ نہ جانے میرا آشیانہ بچا یا جل گیا۔) اس تمام معانی پر فقط ’’کل‘‘ کا لفظ دلالت کررہا ہے۔
(۳) ( ایک اور طائر جو اس کا ہم صفیر و ہمدم ہے، وہ سامنے کسی درخت پر آکر بیٹھا ہے اور اسیر قفس نے اس سے رودادِ چمن کو دریافت کرنا چاہا ہے۔ مگر اس سبب سے کہ اسی کا نشیمن جل گیا ہے طائر ہم صفیر مفصل حال کہتے ہوئے پس و پیش کرتا ہے کہ اس آفتِ اسیری میں نشیمن کے جلنے کی خبر کیا سنائوں؟) اس تمام مضمون پر فقط یہ جملہ دلالت کرتا ہے کہ ’مجھ سے کہتے نہ ڈر ہمدم۔‘
(۴) علاوہ اس کثرت معانی کے اُس مضمون نے جو دوسرے مصرعے میں ہے تمام واقعے کو کیسا دردناک کردیا ہے۔ یعنی جس گرفتارِ قفس پر ایک ایسی تازہ آفت و بلاے آسمانی نازل ہوئی ہے، اس نے کیسا اپنے دل کو سمجھا کر مطمئن کر لیا ہے کہ باغ میں ہزاروں آشیانے ہیں، کیا میرے ہی نشیمن پر بجلی گری ہوگی؟
یہ حالت ایسی ہے کہ دیکھنے والوں کا اور سننے والوں کا دل کڑھتا ہے اور ترس آتا ہے اور یہ ترس آجانا وہی اثر ہے جو شعر نے پیدا کیا ہے۔ غرض کہ یہ شعر ایک مثال ہے دو بڑے جلیل الشان مسئلوں کی جو کہ آداب کا تب و شاعر میں اہم اصول ہیں۔ ایک مسئلہ تو یہ کہ ’’خَیْرُ الْکَلَامِ مَاقَلَّ وَ دَلَّ‘‘اور دوسرا مسئلہ یہ کہ ’’اَلشِّعْرُ کَلَامٌ یَنْقَبِضُ بِہِ النَّفْسُ وَیَنْبَسِطْ‘‘
اس سلسلے کی دوسری مثال ملاحظہ ہو۔ غالبؔ کہتے ہیں:
غالب ترا احوال سنادیں گے ہم ان کووہ سن کے بلالیں یہ اجارہ نہیں کرتے
اس کی شرح میں طباطبائی لکھتے ہیں:
شعر تو بہت صاف ہے، لیکن اس کے وجوہِ بلاغت بہت دقیق ہیں۔ بیچ والوں کا یہ کہنا (سنا دیں گے ہم ان کو) اس کے معنی محاورے کی رُو سے یہ ہیں کہ کسی نہ کسی طرح، کسی نہ کسی موقع پر ان کے مزاج کو دیکھ کر باتوں باتوں میں یا ہنسی ہنسی میں تیرا حال ان کے گوش گذار کردیں گے، اتنا ذمہ ہم کرتے ہیں۔ یعنی صاف صاف کہنے کی جرأت نہیں رکھتے۔ غرض کہ یہ سب معانی اس لفظ سے مترشح ہیں، اس وجہ سے کہ اس کا موقع استعمال یہی ہے اور بہ التزام اس سے معشوق کا غرور اور تمکنت اور رعب و نازک مزاجی اور خود بینی و خودرائی بھی ظاہر ہوتی ہے۔ فرض کرو اگر مصنف نے یوں کہا ہوتا کہ (کہہ دیں گے ہم اُن سے) تو اکثر ان معانی میں سے فوت ہوگئے ہوتے اور یہ کہنا کہ (اجارہ نہیںکرتے) اس کے کہنے کا موقع جب ہی ہوتا ہے جب کوئی نہایت ہی مصر ہو اور کہے کہ جس طرح بنے میرے ان کے ملاپ کرادو، نہیں تو تم سے شکایت رہے گی۔ غرض کہ اس فقرے نے عاشق کے اصرارِ بے تابانہ کی تصویر کھینچی ہے۔ ایک تو کلام کا کثیرالمعنی ہی ہونا وجوہِ بلاغت میں سے بڑی وجہ ہے، پھر اس پر یہ ترقی کہ اُدھر معشوق کی تمکنت و ناز اِدھر عاشق کی بے تابی و اصرار کی دونوں تصویریں بھی اس شعر میں جھلکی دکھا رہی ہیں۔
مشرقی شعریات میں مناسب الفاظ کی بھی خاص اہمیت ہے۔ طباطبائی نے درج ذیل شعر کی شرح میں اس پر اچھی روشنی ڈالی ہے:
وفا کیسی؟ کہاں کا عشق؟ جب سر پھوڑنا ٹھہراتو پھر اے سنگ دل تیرا ہی سنگِ آستاں کیوں ہو؟ یہ شعررنگ و سنگ میں گوہر شاہوار ہے۔ ایک نکتہ یہ خیال کرنا چاہیے کہ یہاں مخاطب کے لیے دو لفظوں کی گنجائش وزن میں ہے۔ ایک تو (بے وفا) دوسرے (سنگ دل) اور بے وفا کا لفظ بھی مناسبت رکھتا ہے معناً و لفظاً۔ اس سبب سے کہ اولِ شعر میں وفا کا لفظ گذر چکا ہے اور سنگ دل کا لفظ بھی معناً وہی مناسبت رکھتا ہے اور لفظاً بھی ویسی ہی مناسبت ہے، اس سبب سے کہ آخرِ شعر میں سنگِ آستاں کا لفظ  موجود ہے۔ لیکن مصنف نے لفظ  بے وفا کو ترک کیا اور سنگ دل کو اختیار کیا۔ باعثِ رجحان کیا ہوا؟ باعثِ ترجیح یہاں نزدیکی ہے۔ اور لفظ بے وفا کو وفا سے بہت دوری تھی۔
اہل بلاغت کے نزدیک انشا کو خبر پر ترجیح حاصل ہے۔اسی طرح کنایہ تصریح پر فوقیت رکھتا ہے۔ ان دونوں اصولوں کی توضیح شعرِ ذیل کی شرح میں ملاحظہ ہو:
کیا غم خوار نے رسوا، لگے آگ اس محبت کونہ لاوے تاب جو غم کی وہ میرا رازداں کیوں ہو؟
محبت سے غم خوار کی شفقت مراد ہے۔ اس شعر میں مصنف کی انشا پردازی داد طلب ہے۔ کیا جلد خبر سے انشا کی طرف تجاوز کیا ہے۔ (کیا غم خوار نے رسوا) بس اتنا ہی جملہ خبر یہ ہے اور باقی شعر انشا ہے، یعنی (لگے آگ اس محبت کو) کو سنا ہے اور دوسرا مصرع سارا ملامت و سرزنش ہے۔ دوسرا امر وجوہِ بلاغت میں سے مضمون سے تعلق رکھتا ہے، یعنی اپنے غم دل کی حالت بہ کنایہ ظاہر کی ہے، جس کے سننے سے غم خوار ایسا بے تاب و مضطر ہوا کہ اس کے اضطراب سے راز عشق فاش ہوگیا۔
انشا و خبر کے حوالے سے شعر ذیل کی شرح بھی لائقِ توجہ ہے:
مر گیا پھوڑ کے سر غالبِ وحشی ہے ہےبیٹھنا اس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس اوپر یہ بیان گذر چکا ہے کہ خبر سے زیادہ تر انشا میں لطف ہے، یعنی ’’اِنْشَاء اَوْقَعْ فِی الْقَلْبِ‘‘ہے۔ اسی سبب سے جو شاعر مشّاق ہے، وہ خبر کو ہی انشا بنا لیتا ہے۔ اس شعر میں مصنف نے خبر کے پہلو کو ترک کر کے شعر کو نہایت بلیغ کردیا، یعنی دوسرا مصرع اگر یوں ہوتا (بیٹھا کرتا تھا جو آکر تری دیوار کے پاس) یا اس طرح سے ہوتا (ابھی بیٹھا تھا جو آکر تری دیوار کے پاس) تو یہ دونوں صورتیں خبر کی تھیں۔ اور (ہے ہے بیٹھنا اس کا وہ آکر تری دیوار کے پاس) جملہ انشائیہ ہے۔ اور (وہ) کا اشارہ اس مصرعے میں اور بھی ایک خوبی ہے جو اُن دونوں میں نہیں ہے۔
طبا طبائی کی یہ شرح اس قسم کے نادر نکات و مباحث سے بھری ہوئی ہے۔ شعر ذیل کی شرح میں انھوں نے ایجاز ، اطناب اور مساوات کے حوالے سے بھی بہت عمدہ گفتگو کی ہے:
مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوامیں غریب اور تو غریب نواز
اس شعر میں(کچھ غضب نہ ہوا) کثیرالمعنی ہے۔ اگر اس جملے کے بدلے یوں کہتے کہ (مہربانی کی) تو لفظ و معنی میں مساوات ہوتی ایجاز نہ ہوتا اور اگر اس کے بدلے یوں کہتے کہ (مرا خیال کیا) تو مصرعے میں اطناب ہوتا، لطفِ ایجاز نہ ہوتا۔ یعنی اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا، مرا خیال کیا) اطناب ہے۔ اور اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا تو مہربانی کی) مساوات ہے۔ اور اس مصرعے میں (مجھ کو پوچھا تو کچھ غضب نہ ہوا) ایجاز ہے۔ اس سبب سے کہ یہ جملہ کہ ( کچھ غضب نہ ہوا) معنیِ زائد پر دلالت کرتا ہے۔ اس جملے کے توفقط یہی معنی ہیں کہ (کوئی بے جا بات نہیں ہوئی) لیکن معنی زائد اس سے یہ بھی سمجھ میں آتے ہیں کہ معشوق اس سے بات کرنا، امر بے جا سمجھے ہوئے تھا یا اپنے خلافِ شان جانتا تھا اور اس کے علاوہ یہ معنی بھی پیدا ہوتے ہیں کہ اس کے دل میں معشوق کی بے اعتنائی و تغافل کے شکوے بھرے ہوئے ہیں۔ مگر اس کے ذرا بات کر لینے سے اس کو اب امید التفات پیدا ہوگئی ہے۔ اور اُن شکوئوں کو اس خیال سے ظاہر نہیں کرتا کہ کہیں خفا نہ ہوجائے۔ اس آخری معنی پر فقط لفظ غضب نے دلالت کی کہ اس لفظ سے بوے شکایت آتی ہے اور اس کے دل کے پر شکوہ ہونے کا حال کھلتا ہے۔ بہ خلاف اس کے اگر یوں کہتے کہ (مجھ کو پوچھا تو مہربانی کی) تو یہ جتنے معنی زائد بیان ہوئے، ان میں سے کچھ بھی نہیں ظاہر ہوتے۔ فقط (مہربانی کی) میں جو معنی ہیں وہ البتہ نئے ہیں، جیسے کہ وہ لفظ نئے ہیں۔ اور اگر یوں کہا ہوتا کہ (مجھ کو پوچھا مرا خیال کیا) تو نہ تو کچھ معنی زائد ظاہر تھے نہ کوئی اور نئے معنی بڑھ گئے تھے۔ یعنی (مرا خیال کیا) کے وہی معنی ہیں جو (مجھ کو پوچھا) کے معنی ہیں یا دونوں جملے قریب المعنی ہیں۔ غرض کہ (مرا خیال کیا) میں لفظ نئے ہیں اور معنی نئے نہیں۔ اس کے علاوہ ان دونوں مصرعوں میں شرط و جزا مل کر ایک ہی جملہ ہوتا ہے اور اس مصرعے میں دو جملے ہیں، اس سے ظاہر ہوا کہ اس مصرعے میں کثیراللفظ و قلیل المعنی ہونے کے سبب اطناب ہے اور مصنف کے مصرعے میں قلیل اللفظ اور کثیرالمعنی ہونے کے سبب ایجاز ہے اور جو مصرع باقی رہا اس میں لفظ و معنی میں مساوات ہے۔
اس سلسلۂ گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ تشبیہ کی خوبی و عمدگی سے متعلق بھی طباطبائی کی ایک عبارت نقل کردی جائے۔ غالبؔ کا شعر ہے:
اچھا ہے سرانگشت حنائی کا تصوردل میں نظر آتی تو ہے اک بوند لہو کی
اس کی شرح میں لکھتے ہیں:
سرانگشت کا منہدی سے لال ہوکر لہو کی ایک بوند ہو جانا کیا اچھی تشبیہ ہے۔ دیکھو تشبیہ سے مشبہ کی تزئین و تحسین اکثر مقصود ہوتی ہے۔یہ غرض یہاں کیسی حاصل ہوئی کہ سرانگشت کی خوب صورتی آنکھ سے دکھا دی۔ دوسری خوبی اس تشبیہ میں یہ ہے کہ جس انگلی کی پور لہو کی بوند برابر ہو، وہ انگلی کس قدر نازک ہوگی اور کنایہ ہمیشہ تصریح سے بلیغ ہوتا ہے۔ پھر یہ حسن کہ وجہِ شبہ یہاں مرکب بھی ہے۔ یعنی بوند کی سرخی اور بوند کی شکل ان دونوں سے مل کر وجہِ شبہ کو ترکیب حاصل ہوئی ہے اور ترکیب سے تشبیہ زیادہ بدیع ہو جاتی ہے۔ اسی طرح اداتِ تشبیہ کے حذف و ترک سے تشبیہ کی قوت بڑھ جاتی ہے۔ مصنف نے بھی حذف ہی کیا ہے۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ نئی تشبیہ ہے، کسی نے نظم نہیں کی۔ پھر یہ شانِ مشاقی دیکھیے کہ نئی چیز پا کر اس پر اکتفا نہ کی۔ اسی تشبیہ میں سے ایک بات یہ نکالی کہ دل میں ایک بوند تو لہو کی دکھائی دی۔ پھر کجا تصور کجا لہو کی بوند؟ دونوں میں کیسا بونِ بعید ہے اور تباین طرفین سے تشبیہ میں حسن اور غرابت زیادہ ہوجاتی ہے۔ (تو) کی لفظ نے مقامِ کلام کو کیساظاہر کیا ہے۔ یعنی یہ شعر اس شخص کی زبانی ہے جس کا لہو سب خشک ہوچکا ہے اور وہ اپنے دل کو ایک خیالی چیز سے تشبیہ دے رہا ہے۔ ترکیب وجہِ شبہ کے متعلق یہ بات بھی غور کرنے کی ہے کہ جس طرح بوند کے معنی میں ٹپک پڑنا داخل ہے، یہی حال تصور کا خیال سے اتر جانے میں ہے، گوطرفین تشبیہ متحرک نہیں ہیں۔ غرض کہ یہ نہایت غریب و بدیع و تازہ تشبیہ ہے۔
طباطبائی کی یہ شرح اس قسم کے نادر نکات و مباحث سے بھری پڑی ہے، جب کہ دوسری شارحین غالب نے ان امور سے تعرض نہیں کیا ہے۔
اس شرح کا دوسرا امتیاز یہ ہے کہ مشرقی شعریات کے وہ اصول و نکات جو ہند ایرانی شعری روایات سے ماخوذ ہیں یا جو انیسویں صدی کے اواخر میں لکھنوی اساتذۂ سخن کے درمیان مروّج تھے یا جو خود طباطبائی کی ایجاد ہیں ان پر بھی اس طرح سے روشنی پڑتی ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کا ایک خاکہ پیش کیا جاتا ہے:
٭معنی شاہدِ کلام کی جان ہے اور محاورہ اس کا جسم نازنین ہے اور گہنا اس کا بیان و بدیع ہے۔ (غزل ۱۶۸؍شعر ۶)٭مضمونِ عالی وجہِ خوبیِ شعر ہے۔ (غزل ۲۲۰؍ش ۱)٭معانی میں نازک تفصیل ہمیشہ لطف دیتی ہے۔ (غ ۱۸۴؍ش۲)٭ندرتِ مضمون اور محاکات لطفِ شعر کے اسباب میں ہے۔ (غ۱۸۰؍ش۲)٭حسنِ بندش اور بے تکلفیِ اداتکلفِ معانی کو بڑھا دیتی ہے۔ (غ۔۱۷۹؍ش۵)٭محاورے کا حسن اور بندش کی ادا مضمونِ مبتذل کو تازہ کر دیتی ہے۔ (غ۱۷۵؍ش۲)٭بندش کے حسن اور زبان کے مزے کے آگے اساتذہ ضعفِ معنی کو بھی گوارا کر لیتے ہیں۔ (غ۱۶۱؍ش۱)٭دونوں مصرعوں کی بندش میں ترکیب کا تشابہ حسن پیدا کرتا ہے۔ (غ۲۰۳؍ش۷۔۸)٭ترکیب کے تشابہ اور الفاظ کے تقابل سے حسن پیدا ہوتا ہے۔ (غ۲۰۶؍ش۴)٭کلام میں کئی پہلو ہونا کوئی خوبی نہیں بلکہ سست و ناروا ہے۔ ہاں معانی کا بہت ہونا بڑی خوبی ہے اور ان دونوں باتوں میں بڑا فرق ہے۔ (غ۲۱۶؍ش۸)٭خوبی کثرتِ معنی سے پیدا ہوتی ہے نہ احتمالاتِ کثیر سے۔ (غ۹۶؍ش۵)٭شعر میں بیتی ہوئی زیادہ مزہ دیتی ہے۔ (غ۱۷۹؍ش۴)٭گل و بلبل اور شمع وپروانہ کا ذکر شعر میں جبھی تک حسن دیتا ہے، جب کوئی تمثیل کا پہلو اس میں صاف نکلے ۔(غ۲۰۰؍ش۳)٭بتوں کا ذکر اسی شعر میں اچھا معلوم ہوتا ہے، جہاں حسینوں سے استعارہ ہو، نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ (غ۲۳۲؍ش۶)٭تشبیہ مبتذل میں زیادتی معنی سے بلاغت بڑھ جاتی ہے۔ (غ۱۱۱؍ش۳)٭جس تشبیہ میں معنیِ میرورت ہوں، جو وجہ شبہ کے گھٹانے یا بڑھانے سے پید ا ہوگئے ہوں، وہ تشبیہ نہایت لذیذ ہوتی ہے اور سننے والے کے ذہن میں استعجاب کا اثر پیدا کرتی ہے۔ (غ۱۵۹؍ش۷)٭مبالغے میں افراط کہ مضمونِ غیر عادی و محال پیدا ہو جائے بہ اتفاقِ ائمۂ فن عیب قبیح ہے۔ (غ۱۹۶؍ش۲)٭مبالغہ جبھی تک حسن رکھتا ہے، جب تک واقعیت و امکان اس میں پایا جائے۔ (غ۱۹۳؍ش۲)٭جہاں مبالغہ کرنے کے بعد کوئی نقشہ کھنچ جاتا ہے، وہ مبالغہ زیادہ تر لطیف ہوتا ہے۔ خصوصاً جہاں وہ نقشہ بھی معمولی نہ ہو، بلکہ نادر و بدیع شکل پیدا ہو۔ (غ۱۹۶؍ش۲)٭جہاں محض ضلع بولنے کے لیے محاورے میں تصرف کرتے ہیں، وہاں ضلع برا معلوم ہوتا ہے اور جب محاورہ پورا اترے تو یہی ضلع بولنا حسن دیتا ہے۔ (غ۱۳۲؍ش۱)٭شعر میں یہ کہنا کہ ایسا ہو ویسا ہو، شعر کو سست کردیتا ہے۔ (غ۱۵۰؍ش۲)٭ایک ہی مطلب کو جب بار بار کہو تو اس میں افراط و تفریط پیدا ہو جاتی ہے۔ (غ۶۱؍ش۴)٭جس شعر سے کوئی شوخی معشوق کی نکلے، وہی شعر غزل کا اچھا شعر ہوتا ہے۔ (غ۹۸؍ش۳)٭غزل میں اخلاقی مضامین قافیے کی مجبوی سے کہے جاتے ہیں۔ (غ۲۱۰؍ش۴) معانی و بیان و بدیع کے اصولوں کی طرح مذکورہ بالا اصولوں کو بھی طباطبائی نے اپنے شرح میں برت کر دکھایا ہے اور ان کی روشنی میں غالبؔ کی تحسین کی ہے یا ان پر گرفت کی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہم ہر جگہ طباطبائی سے اتفاق کریں۔ لیکن اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس اندازِ نظر اور طریقِ کار کی بنا پر یہ شرح دوسری شرحوں سے ممتاز ہوگئی ہے۔ یہ ہم پر بحث و نظر کا دروازہ کھولتی ہے اور ہمارے اندر سخن فہمی کا ذوق پیدا کرتی ہے۔
طباطبائی کے کچھ لسانی مختارات بھی ہیں۔ ان میں بیشتر اواخر انیسویں صدی کے لکھنوی شعرا کے درمیان مقبول و مروّج تھے اور بعض وہ ہیں جن کا سر چشمہ طباطبائی کا اپنا مذاقِ سخن اورافتاد طبع ہے۔ ذیل میں اس کا بھی ایک خاکہ ملاحظہ ہو:
٭عربی فارسی لفظوں میں محاورۂ عام کا تتبع خطا ہے۔ (غ۲۰۴؍ش۵)٭ہندی لفظوں کی ترکیب فارسی الفاظ کے ساتھ درست نہیں۔ (غ۱۰۹؍ش۶)٭(اگر) درست ہے اور (گر) اہل لکھنؤ کے درمیان متروک ہے۔ (غ۱۴۹؍ش۱۰)٭(غلطی) کا لفظ ہندی ہے۔ فارسی ترکیب میں اس کو لانا اور فارسی کی جمع بنانا اور فارسی اضافت اس کو دینا صحیح نہیں۔ (غ۱۰۹؍ش۶)٭ترکیب اردو میں فارسی مصدر کا استعمال سب نے مکروہ سمجھا ہے۔ (غ۱۹۳؍ش۳)٭اردو میں اضافت ثقل رکھتی ہے۔ (غ۱۹۵؍ش۴)٭تین اضافتوں سے زیادہ ہونا عیب میں داخل ہے۔ (غ۱۹۵؍ش۴)٭عربی مصدر کو بہ معنی مفعول استعمال کرنے سے احتراز کرنا چاہیے۔ مثلاً مطلب حصول ہوا۔ راز افشا ہوا۔ وغیرہ۔٭محاورے میں قیاسِ نحوی کو کوئی دخل نہیں۔ (غ۱۱۷؍ش۴)٭(کیونکر) کے مقام پر (کیونکے) اب ترک ہوگیا ہے۔ (غ۱۱۷؍ش۱۰)٭فارسی عربی کے جتنے لفظ ذو وجہین ہیں، ان میںمحاورۂ اردو کا اتباع کرنا ضرور ہے۔ مثلاً پیہم اور پئے ہم۔ (غ۱۲۴؍ش۱)٭ترکیب فارسی میں نحو فارسی کا اتباع ضرور ہے۔ (غ۱۳۹؍ش۶)٭(کشور ہندوستان) میں جس طرح کا اعلان نون ہے یہ لکھنؤ کے غزل گویوں میں ناسخؔ کے وقت سے متروک ہے۔ (غ۱۳۹؍ش۶)٭عربی لفظ میں عجم کا تصرف نا مقبول ہے۔ (غ۲۰۴؍ش۵)٭فارسی کا واوِ عطف اردو میں جبھی لاتے ہیں، جب مفرد کا مفرد پر عطف ہو اور دونوں لفظ فارسی ہوں۔ جیسے دل و دیدہ۔ ورنہ فارسی کا واوِ عطف لانا درست نہیں۔ جیسے دل و آنکھ۔ (غ۲۲۹؍ش۴)٭دو ہندی جملوں کے درمیان فارسی حرف عطف کے لانے سے لکھنؤ کے شعرا احتراز کرتے ہیں۔ مثلاً دل مدعی و دیدہ بنا مدعا علیہ۔ (غ۲۲۹؍ش۴)٭لکھنؤ کے شعرا فارسی لفظ کے آخر سے حرفِ علت کا گر جانا جائز نہیں سمجھتے۔ مثلاً خاموشی کی (ی)۔ ناسخ کے زمانے سے یہ امرمتروک ہے۔ (غ۱۳۲؍ش۹)٭(کسی سے طرف ہونا) اب متروک ہے۔ (غ۱۳۴؍ش۳)
ان لسانی مختارات میں بھی رد و قبول کی ہر جگہ گنجائش موجود ہے۔ لیکن یہ بہر حال اس شرح کا امتیاز ہے کہ اس میں کلامِ غالب کے لیے انھیں محک و معیار کے طور پر استعمال کیا گیا ہے اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اواخر انیسویں صدی کے لکھنوی لسانی مذاق کی ان سے نمائندگی ہوتی ہے۔
اس شرح کی ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ طباطبائی نے اس میں مختلف مناسبتوں سے اردوصرف ونحوکے قواعد پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ اس سے ان کے نکتہ رس ذہن اور جدت پسند طبیعت کا اندازہ ہوتا ہے۔ چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
(الف)
حسن غمزے کی کشاکش سے چھٹا میرے بعدبارے آرام سے ہیں اہل جفا میرے بعد
چھٹنا اور چھوٹناایک ہی معنی پر ہے۔ الف تعدیہ بڑھانے کے بعد ٹ کا ڑ کر دینا فصیح ہے۔ یعنی چھڑانا فصیح ہے اور چھٹانا غیر فصیح ہے۔ اور چھوڑنا اور چھڑانا دونوں متعدی ہیں چھوٹنا سے۔ چھوڑنا متعدی بہ یک مفعول ہے جیسے پھوٹنا سے پھوڑنا اور ٹوٹنا سے توڑنا اور چھڑانا متعدی بہ دو مفعول ہے۔ بعض متتبعینِ زبانِ دہلی کے کلام میں چھٹوانا دیکھنے میں آیا ہے۔ اہل لکھنؤ اس طرح نہیں کہتے۔
(ب) اسی غزل سے ایک دوسری مثال دیکھیں:
منصب شیفتگی کے کوئی قابل نہ رہاہوئی معزولیِ انداز و ادا میرے بعد
(کے)اس شعر میں اضافت کے لیے نہیں ہے، ورنہ (کا) ہوتا، جیسے کہتے ہیں کوئی اس منصب کا مستحق نہ رہا۔ بلکہ یہ (کے) ویسا ہی ہے جیسا میرا انیسؔ مرحوم کے اس مصرعے میں:
ع سرمہ دیا آنکھوں میں کبھی نور نظر کے
اس مصرعے پر لوگوں کو شبہہ ہوا تھا کہ میر صاحب نے غلطی کی ،یعنی (کی) کہنا چاہیے تھا۔ اسی طرح کہتے ہیں: ان کے منہدی لگا دی۔ جو لوگ نحوی مذاق رکھتے ہیں وہ اس بات کو سمجھیں گے کہ ایسے مقام پر (کے) حرف تعدیہ ہے۔ اور اسی بنا پر میں برقؔ کے اس مصرعے کو غلط نہیں سمجھتا جو مرثیے میں انھوں نے کہا تھا اور اعتراض ہوا تھا:
ع داڑھی میں لال بال تھے اس بدنہاد کے
اور اسی دلیل سے انیسؔ کا مصرع بھی صحیح ہے اور میرؔ کا یہ مصرع بھی:
ع آنکھوں میں ہیں حقیر جس تس کے
غلط نہیں ہے۔ اور آتشؔ کا یہ شعر بھی صحیح ہے:
معرفت میں اس خداے پاک کےاڑتے ہیں ہوش و حواس ادراک کے
(ج) اسی طرح کی یہ مثال بھی قابل توجہ ہے:
غالب گر اس سفر میں مجھے ساتھ لے چلیںحج کا ثواب نذر کروں گا حضور کی
ایک عجیب نحوی طلسم زبانِ اردو میں یہ ہے کہ مصنف نے جہاں پر (کی) کو صرف کیا ہے، یہاں محاورے میں (کے) بھی کہتے ہیں۔ مگر قیاس یہی چاہتا ہے کہ (کی)کہیں۔ اسی طرح سے لفظ (طرف) جب اپنے مضاف الیہ پر مقدم ہو تو (کی) کہنا صحیح نہ ہوگا۔ مثلاً:
ع پھینکی کمندِ آہ طرف آسمان کے
اس مصرعے میں (کی) کہنا خلافِ محاورہ ہے۔ اور پھر لفظ (طرف) مؤنث ہے۔ اگر اس لفظ کو مؤخر کر دو تو کہیں گے آسمان کی طرف اور اگر مقدم کر دو تو کہیں گے طرف آسمان کے۔ غرض کہ ایک لفظ جب مقدم ہو تو مذکر ہو جائے، مؤخر ہو تو مؤنث ہو جائے۔ اسی کی نظیر نذر کرنا بھی ہے۔
(د) ایک جگہ اردو میں جمع بنانے کے قاعدے پر مفصل اظہارِ خیال کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
سادہ پُر کار ہیں خوباں غالبؔہم سے پیمانِ وفا باندھتے ہیں
اردوے معتبر میںجمع بنانے کا یہ ضابطہ ہے کہ اگر لفظ حروف معنویہ میں سے کسی حرف کے ساتھ متصل ہے تو واو اور نون کے ساتھ جمع کریں گے۔ اور حروف معنویہ سات ہیں: نے ۔ کو۔ میں۔ پر۔ تک ۔ سے ۔ کا۔ جیسے مردوں نے ۔ عورتوں کو الخ۔
اور اگر منادیٰ ہے تو فقط واو سے جمع بنائیں گے جیسے یارو۔ لوگو۔ اور اگر لفظ ندا سے اور حروف معنویہ سے مجرد ہے تو یا مذکر ہے یا مؤنث۔ اگر مذکر ہے اور اس کے آخر میں ہاے مختفی یا الفِ تذکیر ہے تو فقط امالہ کر کے جمع بناتے ہیں۔ جیسے حوصلہ اور حوصلے۔ لڑکا اور لڑکے۔ اور اگر یہ دونوں حرف آخر میں نہیں ہیںتو مفرد و جمع میں مذکر کے کچھ امتیاز نہیں کرتے۔ جیسے ایک مرد آیا۔ کئی مرد آئے۔ اور اگر لفظ مؤنث ہے اور آخر میں اس کے کوئی حرفِ علت یا ہاے مختفی نہیں ہے تو ی۔ ن سے جمع بناتے ہیں۔ جیسے راہیں۔ آنکھیں۔ اور اگر آخر میں الف تصغیر ہے تو فقط نون سے جمع بنتی ہے۔ جیسے لٹیاں، بڑھیاں۔ اور اگر آخر میں ہاے مختفی یا الف اصلی یا واو ہے تو ہمزہ۔ ی۔ ن بڑھا کر جمع بنائیں گے۔ جیسے خالائیں۔ بیوائیں۔ گھٹائیں۔ آرزوئیں۔ آبروئیں۔ اور اگر آخر میں ی ہے تو اس صورت میں البتہ الف۔ ن کے ساتھ جمع کرتے ہیں۔ جیسے لڑکیاں۔ بجلیاں۔
(ہ) اسی طرح ایک جگہ فارسی و عربی الفاظ کی تذکیر و تانیث کا ضابطہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ضابطہ یہ ہے کہ فارسی یا عربی کا جو لفظ اردو میں بولا نہ جاتا ہو، اوّل اس کے معنی پر نظر کرتے ہیں۔ اگر معنی میں تانیث ہے تو بہ تانیث ، اگر تذکیر ہے تو بہ تذکیر اس لفظ کو استعمال کرتے ہیں۔ دوسرے اس کے ہم وزن اسما جو اردو میں بولے جاتے ہیں، اگر وہ سب مؤنث ہیں تو اس لفظ کو بھی مؤنث سمجھتے ہیں۔ اگر اس وزن کے سب اسما مذکر ہیں تو اس لفظ کو بھی بہ تذکیر بولتے ہیں۔ اسی بنا پر لفظ ابرو کہ محاورۂ اردو میں داخل نہیں ہے، شعرا اکثر مذکر باندھا کرتے ہیں۔ اس لیے کہ آنسو اور بازو اور چاقوجس میں ایسا واوِ معروف ہے سب مذکر ہیں۔ لیکن ابرو کے معنی کا جب خیال کیجیے تو بھوں مؤنث لفظ ہے۔ اس خیال سے مؤنث بھی باندھ جاتے ہیں۔
طباطبائی نے نحو اردو کے یہ قواعد کسی کتاب سے نقل نہیں کیے ہیں۔ بلکہ الفاظ و کلمات اور ان کے استعمالات و تصریفات میں غور کر کے بر آمد کیے ہیں، اس لیے انھیں نوادراتِ طباطبائی میں شمار کرنا چاہیے، جو اس شرح کے ذریعے محفوظ ہو گئے ہیں۔
طباطبائی معانی و بیان و بدیع کے علاوہ عروض ،قافیہ، تصوف، منطق، فلسفہ اور لغت میں بھی دستگاہ رکھتے تھے۔ شرحِ کلامِ غالب کے دوران انھوں نے ان تمام علوم و فنون سے استفادہ کیا ہے اور موقع بہ موقع ان سب کے حوالے سے گفتگو کی ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کی بھی بعض مثالیں ملاحظہ ہوں:
(الف) شعر ذیل سے متعلق علم عروض کی رُو سے گفتگو کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
ہر چند ہر ایک شے میں تو ہےپر تجھ سی تو کوئی شے نہیں ہے
…(سی) کی ی جس جگہ واقع ہوئی ہے، یہ مقام حرف متحرک کا ہے، یعنی مفعولُ، مفاعلن، فعولن میں مفاعلن کے میم کی جگہ ی واقع ہوئی ہے اور ی ساکن ہے، تو گویا مفاعلن کے میم کو مصنف نے ساکن کرلیا ہے، یعنی مفعول، مفاعلن کے بدلے مفعولم، فاعلن اب ہوگیا ہے، جسے مفعولن، فاعلن سمجھنا چاہیے۔ یہ ز حاف گو اردو و فارسی میں نامانوس معلوم ہوتا ہے، مگر سب لایا کرتے ہیں۔ نسیم لکھنوی کی مثنوی اسی وزن میں ہے اور جابہ جا اس زحاف کو لائے ہیں:
تھا اک کحّالِ پیرِ دیریںعیسیٰ کی تھیں جس نے آنکھیں دیکھیں
(ب) اب قافیے کی ایک بحث ملاحظہ ہو۔ درج ذیل شعر کے بارے میں رقم طراز ہیں:
آمدِ سیلابِ طوفانِ صداے آب ہےنقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سے
…دوسری بحث اس شعر میں قافیے کے اعتبار سے ہے، یعنی اس مصرعے میں:
ع نقشِ پا جو کان میں رکھتا ہے انگلی جادہ سےضرورہے کہ دال کو زیر دیں اور جادے سے کہیں۔ اس لیے کہ سے۔ میں۔ پر۔ تک ۔کو۔ نے ۔کا یہ سات حروف معنویہ زبانِ اردو میں ایسے ہیں کہ جس لفظ میں ہائے مختفی ہو، اسے زیر دیتے ہیں۔ غرض اس مصرعے میں تو جادہ کی دال کو زیر ہے اور اس کے بعد کا جو شعر ہے، اس میں کہتے ہیں:
ع شیشے میں نبضِ پری پنہاں ہے موجِ بادہ سے یہاں بادہ اضافتِ فارسی کی ترکیب میں واقع ہے اور موج کا مضاف الیہ ہے۔ اب اس پر ترکیبِ اردو کا اعراب یعنی سے کے سبب سے زیر نہیں آسکتا۔
(ج) بعض اشعار کی شرح صوفیانہ انداز سے کی ہے۔ دو مثالیں ملاحظہ ہوں:
آرائشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوزپیشِ نظر ہے آئینہ دائم نقاب میں نقاب استعارہ ہے حجابِ قدس سے، اور آئینہ اس میں علم ما یکون و ما کان ہے۔ اور آرائشِ جمال سے فارغ نہ ہونا تفسیر کل یوم ہو فی شان ہے۔
تھی وطن میں شان کیا غالبؔ کہ ہو غربت میں قدربے تکلف ہوں وہ مشتِ خس کہ گلخن میں نہیں اس شعر میں مذاقِ تصوف ہے، یعنی جس طرح ہر شے آگ میں گر کر آگ ہو جاتی ہے اسی طرح عارف کو شاہدِ حقیقی کے ساتھ اتحاد حاصل ہو جاتا ہے اور نہیں تو ایک مشتِ خس ہے جس کا وطن عدم اور غربت امکان ہے۔ اور امکان پر جس طرح عدم سابق ہے، اسی طرح اسے عدم لاحق بھی ہے کہ امکان وجود بین العدمین کا نام ہے۔ جو ممکن عدم سے آیا ہے وہ عدم میں چلا بھی جائے گا۔ بس حیاتِ ابدی اس میں ہے کہ واجب الوجود سے ملحق ہو جائے اور فنا فی الذات ہو کر ترانۂ انا ولا غیری بلند کرے۔
(د) درج ذیل شعر کی شرح اہل منطق کے طرز پر کی ہے:
ہم موحّد ہیں ، ہمارا کیش ہے ترکِ رسومملتیں جب مٹ گئیں اجزاے ایماں ہو گئیں
ہم موحد ہیں یعنی وحدتِ مبدأ کے قائل ہیں اور اس کی ذات کو واحد سمجھتے ہیں۔ اور واحد وہ جس میں نہ تو اجزاے مقداری ہوں جیسے طول و عرض وغیرہ، اور نہ اجزاے ترکیبی ہوں جیسے ہیولیٰ اور صورت، اور نہ اجزاے ذہنی ہوں جیسے جنس و فصل۔ غرض کہ اس کا علم محض سلبیات کے ذریعے حاصل ہے جیسے کہیں کہ اس کا شریک نہیں ہے، وہ جسم نہیں ہے، وہ مرئی نہیں ہے، وہ عاجز نہیں ہے، وہ جاہل نہیں ہے، وہ حادث نہیں ہے۔ وہ علتِ موجبہ نہیں ہے۔ یہی سلبیات کہ ان کے اعتقاد سے اور سب ملتیں باطل و محو ہو جاتی ہیں، عین اجزاے توحید ہیں۔
(ہ) اب کچھ لغوی تحقیقات ملاحظہ ہوں:
تھیں بنات النعش گردوں دن کو پردے میں نہاںشب کو ان کے جی میں کیا آئی کہ عریاں ہوگئیں بنات کے لفظ سے یہ دھوکا نہ کھانا چاہیے کہ عرب ان کو لڑکیاں سمجھتے ہیں، بلکہ بات یہ ہے کہ جنازہ اٹھانے والے کو عرب ابن النعش کہتے ہیں اور ابن النعش کی جمع بنات النعش ان کے محاورے میں ہے۔ جس طرح   ابن آویٰ  اور   ابن العرس جب جمع کریں گے   بنات آویٰ اور        بنات العرس کہیں گے اسی طرح بیربہٹی کو مثلاً   ابن المطر کہیں گے اور اس کی جمع   بنات المطر بنائیں گے۔
عشرتِ صحبتِ خوباں ہی غنیمت سمجھونہ ہوئی غالبؔ اگر عمر طبیعی نہ سہی
گوعشرت و صحبت کے ایک ہی معنی ہیں لیکن فارسی والوں نے عشرت کو خوشی و نشاط کے معنی میں استعمال کیا ہے۔ اس سبب سے یہ اضافت صحیح ہو جائے گی۔ طبیعی کو طبیعت سے اسم منسوب بنا لیا ہے۔ لیکن قاعدہ یہ ہے کہ ’’فَعِیْلَۃٌ ‘‘ کے وزن پر جو لفظ ہو اس کا اسم منسوب ’’فَعَلِیْ‘‘ہوتا ہے جیسے حنیفہ سے حنفی۔ مگر فارسی گو توالیِ حرکات کو ثقیل سمجھ کر (ب) کو ساکن کر دیتے ہیں۔ غرض کہ طبیعی کو بعض شعراے لکھنؤ صحیح نہیں سمجھتے۔ اس وجہ سے کہ نہ تو یہ مضاعف ہے جیسے حقیقی، نہ اجوف جیسے طویلی، پھر کیوں (ی) کو نہ گرائیں۔
یا لگا کر خضر نے شاخِ نباتمدتوں تک دیا ہے آبِ حیات
خضرکا نام دو طرح سے نظم میں ہے۔ بہ سکونِ ضاد اور ب کسرِ ضاد خجِل و خشِن کے وزن پر۔ مصنف نے یہاں خَضِر باندھا ہے اور اسے دیکھ کر ان کے متبعین نے دھوکا کھایا۔ وہ سمجھے استاد نے خِضَر باندھ دیا اور اس شعر کو سند قرار دے کر نظر و اثر کے قافیے میں خِضَر باندھنے لگے۔ یہ غلط ہے اور متبعین کی خطا ہے۔
رہروِ راہِ خلد کا توشہطوبیٰ و سدرہ کا جگر گوشہ
موسیٰ و عیسیٰ و طوبیٰ و دنییٰ و عقبیٰ و ہیولیٰ و لیلیٰ کو امالہ کر کے قدمانے الف کو (ی) کر دیا ہے اور دونوں طرح نظم کیا ہے۔ یہ دیکھ کر متاخرین اہلِ فارس نے جو عربی سے بیگانہ تھے، غضب کا دھوکا کھایا ہے۔ جن الفاظِ عربی میں اصیل (ی) ہے اس کو بھی الف مقصورہ سمجھے اور دونوں طرح نظم کرنے لگے۔ مثلاً تجلّی و تسلّی و تماشی و تحاشی کو تسلّا و تجلّا و تماشا و بے تحاشا کہنے لگے۔
مذکورہ بالا تفصیلات کی روشنی میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ جامعیت اور تبحر و کمال کی جو شان طباطبائی میں نظر آتی ہے، وہ غالبؔ کے کسی دوسرے شارح میں موجود نہیں۔ اس لیے ان کی شرح بھی دیگر شرحوں کے درمیان ممتاز ہے۔
طباطبائی کی جامعیت اور فضل و کمال کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ جب وہ شرح کے لیے غالبؔ کا کوئی شعر اٹھاتے ہیں تو ایک استاد فن کی طرح مختلف زاویوں سے اس پر غور و خوض کرتے ہیں۔ اب اگر صرف ونحویا روز مرہ و محاورہ یا معانی و بیان یا عروض و قافیہ یا مختاراتِ اہلِ لکھنؤ وغیرہ کسی لحاظ سے اس میں انھیں کوئی سقم نظر آتا ہے تو وہ بے محابا اپنی راے کا اظہار کر دیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر ان کے طرزِ کلام کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ طباطبائی ایک کہنہ مشق استاد ہیں اور غالبؔ ایک تازہ واردِ بساطِ سخن۔ بہ طورِ مثال چند بیانات ملاحظہ ہوں:
٭ ردیف محاورے سے گری ہوئی ہے ۔ (کیوں ہے گردِرہِ جولانِ صبا ہو جانا)٭ دوسرے مصرعے کی بندش میں گنجلک بہت ہوگئی ہے۔ (کہ پشتِ چشم سے جس کے نہ ہووے مہر عنواں پر)٭ جگر تسلّی نہ ہوا، خلافِ محاورہ ہے۔ (جگرِ تشنۂ آزار تسلّی نہ ہوا)٭ شعلے کی طرف خطاب کرنا بے لطفی سے خالی نہیں۔ (ترے لرزنے سے ظاہر ہے ناتوانیِ شمع)٭ اس مضمون میں کچھ غزلیت نہیں ہے۔ قصیدے کا مطلع تو ہوسکتا ہے۔ (جادۂ رہ خور کو وقتِ شام ہے تارِ شعاع)٭ اردو میں خالی تماشا کہہ دینا محاورہ نہیں ہے۔ (تماشا کہ اے محوِ آئینہ داری)٭ سخت فارسی کا محاورہ ہے نہ کہ اردو کا۔ (زمانہ سخت کم آزار ہے بہ جانِ اسد)٭ ہم ہی اور تم ہی کی جگہ ہمیں اور تمھیں محاورہ ہے۔  (ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن)٭ اس شعر میں نہایت تعقید ہے۔ (یہ نیش ہو رگِ جاں میں فرو تو کیونکر ہو)٭ آرزو خرامی کی ترکیب باعثِ عبرت ہے۔  (حاصل سے ہاتھ دھو بیٹھ اے آرزو خرامی)٭ ہو جیو خود ہی واہیات ہے۔ مصنف مرحوم نے اس پر اور طرّہ کیا کہ تخفیف کر کے ہو جو بنالیا۔ (بے خودی بستر تمہید فراغت ہو جو)٭ اس شعر میں دیکھا قافیۂ شائگاں ہے۔ اسے مفت کا قافیہ کہتے ہیں اور سست سمجھتے ہیں۔ (اثر فریادِ دل ہائے حزیں کا کس نے دیکھا ہے)٭ بازار اس شعر میں بہت ٹھنڈا لفظ ہے۔ (گرم بازارِ فوج داری ہے)٭ سب تشبیہیں لطیف ہیں، لیکن حاصل شعر کا دیکھو تو کچھ بھی نہیں۔ (جو نہ نقدِ داغِ دل کی کرے شعلہ پاسبانی)٭ دونونِ متعاقب عیب تنافر رکھتے ہیں اور دو دالیں بھی جمع ہوگئی ہیں۔ (جو نہ نقدِ داغ دل کی کرے شعلہ پاسبانی)
٭ لفظ ’سراسر‘ براے بیت ہے۔ (خطِ پیالہ سراسر نگاہِ گل چیں ہے)٭ پہلے مصرعے میں گنجلک ہے اور دوسرے میں تنافر اور دونوں مصرعوں میں ربط بھی خوب نہیں اورمضمون بھی کچھ نہیں۔ (جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال اچھا ہے)٭ لفظ نیلی فام اس شعر میں محض براے بیت ہے۔ (ہتھکنڈے ہیں چرخِ نیلی فام کے)٭ مطلب بہ مشکل ان الفاظ سے نکلتا ہے۔ (یہ بھی حلقے ہیں تمھارے دام کے)٭ ناخن سے جگر کھودنا محاورے سے گرا ہوا ہے۔ (پھر جگر کھودنے لگا ناخن)٭ یہ محض ادعاے شاعرانہ ہے جس کے لیے تعلیل کی ضرورت ہے۔  (خاک میں عشاق کی غبار نہیں ہے)٭ گفتار میں آنا بات چیت کرنے کے معنی پر اردو کا محاورہ نہیں ہے، ترجمہ ہے۔ (جس بزم میں تو ناز سے گفتار میں آوے)٭ ’اے وہ‘ کا لفظ اس میں بہت رکیک ہے۔ اہل زبان ہی اس کو سمجھیں گے۔ (اے وہ مجلس نہیں خلوت ہی سہی)٭ ’کرنا‘ اِس سرے پر اور ’گلہ‘ اُس سرے پر ثقل سے خالی نہیں۔ (کرنے گئے تھے اس سے تغافل کا ہم گلہ)٭ تو الیِ اضافات و رکیک تکلفات اس شعر میں بھرے ہوئے ہیں۔ شوخیِ دنداں نہایت مکروہ لفظ ہے۔ (عرض نازِ شوخیِ دنداں براے خندہ ہے)٭ یہ مضمون سراسر غیر واقعی ہے اور امورِ عادیہ میں سے نہیں ہے۔ اس سبب سے بے مزہ ہے۔(چپک رہا ہے بدن پر لہو سے پیراہن)٭ اس قدر تصنع اور مضمون کچھ نہیں۔ (موے شیشہ دیدۂ ساغر کی مژگانی کرے)٭ لفظ پرسش ہاے پنہانی سے مصنف کا مطلب جو ہے، وہ نہیں نکلتا۔  (جانتا ہے محوِ پرسش ہاے پنہانی مجھے)٭ اس شعر میں مجھے کا لفظ مجھ کو کے معنی پر ہے۔۔ اور مصنف نے مطلوب کی جگہ پر مطلب باندھا ہے۔غرض کہ ردیف ربط نہیں کھاتی۔ یوں ہونا چاہیے تھا: آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مرا (آرزو سے ہے شکستِ آرزو مطلب مجھے)٭ لفظ ’طرب انشا‘ میں دونوں لفظ عربی ہیں اور ترکیب فارسی ہے۔ عجب نہیں کہ انھوں نے طرب افزاے التفات کہا ہو۔ (افسردگی نہیں طرب انشاے التفات)
اس میں کوئی شبہہ نہیں کہ ان اعتراضات کا باعث و منشا طباطبائی کا وفورِ علم اور دقّتِ نظر ہے، نہ کہ غالبؔ کی تنقیص و مخالفت۔ کیوں کہ اسی شرح میں انھوں نے ایک جگہ میرؔ و سوداؔ پر بھی اعتراضات کی بوچھار کر دی ہے۔ البتہ اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ انھوں نے بہت سے اعتراضات خود پسندی اور احساسِ ہمہ دانی کے زعم میں بھی کر دیے ہیں۔ اس باب میں ان کا سب سے کمزور پہلو یہ ہے کہ انھوں نے عہدِ غالبؔ اور محاورۂ دہلی کو محک و معیار بنانے کے بجاے اواخر انیسویں صدی کے مختاراتِ اہل لکھنؤ اور خود اپنے ذوقِ سخن کو قولِ فیصل کا درجہ دے دیا ہے۔ تا ہم معائبِ سخن کے سلسلے میں طباطبائی کو بالکلیہ نظر انداز بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ان کی آرا بہر حال قابل غور اور لائقِ استفادہ ہیں۔

Allama Semab Akbarabadi by Zahida Hamid Iqbal

Articles

علامہ سیماب اکبرآبادی، شخصیت اور ادبی خدمات

زاہدہ حامد اقبال صدیقی

Allama Semab Akbarabadi

بیسویں صدی کے اوائل میں کائناتِ اردو ادب میں ایسے کئی روشن ستارے نمودار ہوئے جو اپنی وسعتوں میں ایک پوری کہکشاں سمیٹے ہوئے تھے ان میں اقبال کے ساتھ ساتھ فانی بدایونی، جلال لکھنوی، ریاض خیر آبادی، مضطر خیرآبادی، عزیز لکھنوی، اکبرالہ آبادی، برج نرائن چکبست، حسرت موہانی، آغا شاعر قزلباش، بے خود دہلوی، صفی لکھنوی، جلیل مانکپوری، نوح ناروی، احسن مارہروی، وحشت کلکتوی، شاد عظیم آبادی، ظفر علی خان، تاجور نجیب آبادی، آرزو لکھنوی، جوش ملیح آبادی، حفیظ جالندھری، جگر مرادآبادی، برجموہن دتاتریہ کیفی، نیاز فتح پوری، یاس یگانہ چنگیزی، ماہرالقادری اور ایسے ہی کئی لافانی نام کہ جنھوں نے اس پورے عہد کو اردو ادب کا عہدِ زریں بنادیا، لیکن یہ فہرست سیماب اکبرآبادی کے نام کے بغیر ہرگز مکمل نہیں ہوسکتی۔
علاّمہ سیماب اکبرآبادیؒ کا اصل نام شیخ عاشق حسین صدیقی تھا، وہ 5 جون 1882 ء کو اکبر آباد (آگرہ) میں علمی ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد مولانا شیخ محمد حسین صدیقی عالمِ دین اور واعظ و نعت خواں تھے، شاعر بھی تھے مگر عام طرزِ شاعری سے انھیں کوئی دلچسپی نہیں تھی، کئی کتابوں کے مصنف تھے گلدستۂ عطّار،مجموعۂ شہادت اور کراماتِ غوثیہ ان کی مقبول تصانیف ہیں۔ سیماب کی ابتدائی تعلیم مروّجہ دستور کے مطابق عربی فارسی اور اردو سے شروع ہوئی، قرآن و حدیث کا درس اپنے والد سے لیا۔ مولانا محمد حسین اجمیر میں ٹائمز آف انڈیا پریس کی شاخ کے مینیجر تھے، اجمیر ہی میں گورنمینٹ کالج کے برانچ انگلش اسکول میں سیماب کو شریک کروادیا لیکن بچپن ہی سے فطری موذونیت اور شعری میلان کے سبب انھیں زمانۂ طالبِ علمی ہی میں زبان و بیان اور عروض پر خاصہ عبور حاصل ہوگیا تھا اور وہ امتحانات میں پوچھے گئے سوالات کے جواب بھی منظوم لکھتے تھے۔ اپنے والد سے چھُپ چھُپا کر مشاعروں میں شرکت کرنے لگے تھے والد کو جب پتہ چلا تو انھوں نے کئی احکامات اور پابندیوں کے ساتھ مشاعروں کی اجازت دے دی۔ اس دوران انھوں نے سنسکرت اور ہندی زبانیں بھی سیکھ لیں۔ زمانۂ طالبِ علمی ہی میں سیماب تخلص اختیار کر لیا تھا۔
ابھی سیماب ایف اے کے آخری سال ہی میں تھے کہ والد کا انتقال ہوگیا اور گھریلو اخراجات کی پوری ذمے داری ان کے کاندھوں پر آپڑی لہٰذا تعلیم ادھوری چھوڑنی پڑی اور مختلف ملازمتیں اختیار کیں جن میں ریلوے کی ملازمت بھی شامل ہے۔
1898 ء میں سیماب اکبرآبادی فصیح الملک مرزا داغ دہلوی کے شاگرد ہو گئے۔ داغ کے دو ہزار سے زائد شاگردوں میں علاّمہ اقبال اور ان کے بعد علاّمہ سیماب کو جو شہرتیں ملیں کسی اور کو میسّر نہ ہوئیں۔1899 ء میں حضرت حاجی وارث علی شاہؒ (دیوہ شریف) کے ہاتھوں پر بیعت کا شرف حاصل ہوا اور اسی نسبت سے کبھی کبھی وارثی تخلص بھی استعمال کرتے تھے۔
1923 ء میں انھوں نے آگرہ میں ایک علمی ادبی اور اشاعتی ادارے قصرالادب کی کی بنیاد ڈالی جس کے تحت کتابوں کی اشاعت کے علاوہ کئی اخبارات و رسائل بھی جاری کئے جن میں ماہنامہ پیمانہ، پندرہ روزہ ثریّا، ہفت روزہ پرچم ہفت روزہ تاج اور ماہنامہ شاعر قابلِ ذکر ہیں۔ماہنامہ شاعر 1930 ء میں جاری ہوا، جلد ہی اس کی ادارت سیماب نے اپنے فرزند اور جانشین اعجاز صدیقی کے سپرد کردی، شاعر تا حال ممبئی سے جاری ہے اور اپنی اشاعت کے 88برس مکمل کر چکا ہے، اعجاز صدیقی کے فرزندان افتخار امام صدیقی، ناظر نعمان صدیقی اور حامد اقبال صدیقی اس ادبی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں۔
علاّمہ سیماب اکبر آبادی نے تقریباً سبھی مروّجہ اصنافِ ادب میں طبع آزمائی کی اور 300 سے زائد کتابیں تصنیف و تالیف کیں۔ وہ نظم کو غزل پر فوقیت دیتے تھے اور نظم میں ہیئت کے کئی تجربے بھی کیےوہ بلا شبہ جدید اردو نظم کے بنیاد گزاروں میں تھے لیکن یہ عجیب بات ہے کہ ان کی نظموں کے مقابلے غزلوں کو زیادہ شہرت حاصل ہوئی۔ ان کی تصانیف میں وحیِ منظوم، الہامِ منظوم، کلیمِ عجم، سدرۃ المنتہی، لوحِ محفوظ، نیستاں، کارِ امروز، سازو آہنگ، شعرِ انقلاب، عالم آشوب، نفیرِ غم، سرودِ غم ،رازِ عروض اور دستور الاصلاح شامل ہیں۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ قرآن مجید کا مکمل منظوم ترجمہ وحیِ منظوم ہے اس کے علاہ مولانا رومی کی مشہور مثنوی کا مکمل منظوم ترجمہ الہامِ منظوم بھی ان کا ایک نہایت اہم کارنامہ ہے۔
داغ دہلوی کے شاگردوں کی تعداد دو ہزار کے لگ بھگ تھی اور شاید ان سے قبل اردو شاعری کی تاریخ میں اتنے شاگرد کسی استاد کے نہیں ہوئے لیکن یہ بھی ایک اتفاق ہے کہ اس معاملے میں سیماب اپنے استاد سے بھی کہیں آگے نکل گئے، ان کے تین ہزار سے زیادہ شاگر دہوئے، چند مشہور نام یہ ہیں: اعجاز صدیقی، ساغر نظامی، راز چاند پوری، بسمل سعیدی، شفا گوالیاری، قمر نعمانی، مختار صدیقی، مخمور جالندھری، سراج الدین ظفر، الطاف مشہدی، صبا متھراوی، خموش سرحدی، شہ زور کاشمیری، ضیا فتح آبادی، طُرفہ قریشی، آغاز برہانپوری، منظر صدیقی، جالب مظاہری، مبشر علی صدیقی، حبیب اشعر، مفتوں کوٹوی، علیم اختر مظفر نگری، رونق دکنی، مفتوں کوٹوی وغیرہ۔ سیماب کے کئی تلامذہ کے بہت سے شاگرد آج نامورانِ ادب میں شمار کیے جاتے ہیں مثلاً انور شعور، مخمور سعیدی، یعقوب راہی، عبدالاحد ساز وغیرہ، یہ فہرست بہت طویل ہو سکتی ہے اگر اس پر باقاعدہ تحقیقی کام کیا جائے۔
علاّمہ سیماب نے مشاعروں کو وقتی تفریح بنانے کی شدید مخالفت کی اور مشاعروں میں علمی ادبی موضوعات پر مشتمل صدارتی خطبوں کو رواج دیا۔ شاعری میں فحش موضوعات، شراب اور اس کے متعلقات اور تعیّش پرستی کی بھی مخالفت کی نیز شعرِ مہذّب کو رواج دیا۔ انھوں نے ادبی نظریات اور زبان کے برتاؤ کی بنیاد پر آگرہ اسکول کا تصوّر دیا، شعرِ مہذّب کو رواج دیا غزل میں فحش نگاری اور اخلاق سوز موضوعات کی مخالفت کرتے ہوئے فکر، فلسفہ، نفسیات اور احوالِ واقعی کو جگہ دی، عربی اور فارسی کی بوجھل تراکیب اور فرسودہ استعاروں سے اجتناب کیا، انھیں جدید غزل کے ابتدائی نقوش کہا جاسکتا ہے۔
1948 ء میں وہ اپنی کتابوں کی اشاعت کے سلسلے میں لاہور تشریف لے گئے، قصد تھا کہ کام مکمل ہوتے ہی لوٹ آئیں گے، وہاں سے شدیدعلالت کے سبب کراچی منتقل ہوئے ، اس دوران بھی ان کی ادبی خدمات کا سلسلہ جاری رہا اور تاج کمپنی کی فرمائش پر سیرت النبویﷺ تحریر کی اس کے علاوہ کئی احادیث کے منظوم ترجمے بھی کیے۔ انھوں نے کراچی میں اپنی نوعیت کا اوّلین انسٹی ٹیوٹ جامعہ ادبیہ قائم کیا جس کے نصاب میں اردو صرف و نحو، فنِ شاعری، نثر نگاری اور صحافت کی تربیت شامل تھی، یہ جامعہ زیادہ عرصے تک قائم نہیں رہ سکا اور مروّجہ اکیڈمک اسکول ہوگیا مگر اردو شاعری اور اردو صحافت کی تدریس کا اسےسب سے پہلا ادارہ کہا جاسکتا ہے۔
کراچی میں ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری تھا کہ اچانک ان پر فالج کا شدید حملہ ہوا اور 31 جنوری 1951 ء کواردو ادب کا یہ عظیم مجدّد اپنے مالکِ حقیقی سے جاملا۔کراچی کے قائد آباد علاقے میں تدفین ہوئی اور قبر کے کتبے پر ان کا یہ شعر کندہ کروایا گیا:
کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے
یہ علامہ سیماب کی حیات اور خدمات کا ایک مختصر سا جائزہ ہے، ان پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے اور لکھا جارہا ہے، برِ صغیر کے چھے ریسرچ اسکالرس ان پر کام کرکے ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کرچکے ہیں لیکن اب بھی ان کی شخصیت اور کاموں کے بہت سے ایسے پہلو ہیں جن پر کام کیا جانا چاہیے، خود ان ہی کے بقول
بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں
————————————–

 

علاّمہ سیماب اکبرآبادی کے منتخب اشعار

یہ کس نے شاخِ گل لاکر قریبِ آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سحر ہوگی تو پھر ہوں گے افق سے ضو فگن ہم بھی
کہ سورج کی طرح ڈوبے ہیں اے شامِ وطن ہم بھی

پھیلے تو یوں کہ چھا گئے کُل کائنات پر
سمٹے تو اس قدَر کہ رگِ جاں میں رہ گئے

مِری نگاہ میں ہے ایک زندہ مستقبل
میں اپنے ماضیِ مردہ کا سوگوار نہیں

بھرے گی ان کو میرے بعد لاکھوں رنگ سے دنیا
خلائیں چھوڑ دی ہیں میں نے کچھ اپنے فسانے میں

وحدت و کثرت کے جلوے خلقتِ انساں میں دیکھ
ایک ذرّہ اس قدر پھیلا کہ دنیا ہو گیا

دل ہے چراغ خانۂ مفلس، نہ توڑ اسے
پھر غم کی رات آئی تو ہم کیا جلائیں گے

ہم اپنے سر کہاں اچھا بُرا الزام لیتے ہیں
مقدّر خود بناتے ہیں، خدا کا نام لیتے ہیں

امید و عزم میرے کارواں کی شاہراہیں ہیں
جو ہو مایوس منزل سے، وہ میرا ہم سفر کیوں ہو
کھینچی ہے مصوّر نے عجب شان سے تصویر
جیسے کوئی میری ہی طرف دیکھ رہا ہے

بظاہر ہیں یہی اسباب دنیا سے نہ ملنے کے
کسی سے ہم نہیں ملتے، کسی سے دل نہیں ملتا

مبارک تجھ کو اپنی خود رَوی، لیکن یہ سنتا جا
کہ دنیا اپنے رستے پر لگا لیتی ہے انساں کو

تضحیک و التفات میں رہنے دے امتیاز
یوں مسکرا نہ دیکھ ، ہاں مسکرا کے دیکھ

بہت محتاط ہوکر لطف اٹھائے عمرِ فانی کے
ذرا سی زندگی جی کھول کر برباد کیا کرتے

مرکز پہ اپنے دھوپ سمٹتی ہے جس طرح
یوں رفتہ رفتہ تیرے قریب آرہا ہوں میں

بڑھا لیتے ہیں خود دشواریاں منزل کی گِن گِن کر
قدم اٹھنے سے پہلے میٖلِ منزل دیکھنے والے

فقط احساسِ آزادی سے آزادی عبارت ہے
وہی دیوار گھر کی ہے وہی دیوار زنداں کی

غزل ہی کہہ لی سنانے کو حشر میں سیمابؔ
پڑے پڑے یونہی تنہا لحد میں کیا کرتے

دنیا سے اِک افسانہ کہنے کو تھے، پھر سوچا
دنیا ہے خود افسانہ، افسانے سے کیا کہیئے
کچھ وقت کٹ گیا تھا تِری یاد کے بغیر
ہم پر تمام عمر وہ لمحے گراں رہے

دیوانگیِ عشق بڑی چیز ہے سیمابؔ
یہ اس کا کرم ہے جسے دیوانہ بنا دے

قفس کی تیلیوں میں جانے کیا ترکیب رکھی ہے
کہ ہر بجلی قریبِ آشیاں معلوم ہوتی ہے

کہانی میری رودادِ جہاں معلوم ہوتی ہے
جو سنتا ہے اسی کی داستاں معلوم ہوتی ہے

کہانی ہے تو اتنی ہے فریبِ خوابِ ہستی کی
کہ آنکھیں بند ہوں اور آدمی افسانہ ہوجائے

اُڑ رہے ہیں گَردِ بربادی میں کچھ اوراقِ دل
ان میں وہ صفحہ نہ ہو جس پر تِری تصویر تھی

تجھے کر لیتے ہیں یوں اپنی مصیبت میں شریک
تیری تصویر پہ کچھ اشک گرا لیتے ہیں

دل کی بساط کیا تھی نگاہِ جمال میں
اِک آئینہ تھا، ٹوٹ گیا دیکھ بھال میں

دنیا ہے خواب، حاصلِ دنیا خیال ہے
انسان خواب دیکھ رہا ہے خیال میں

محبت میں اِک ایسا وقت بھی آتا ہے انساں پر
ستاروں کی چمک سے چوٹ لگتی ہے رگِ جاں پر