Critical Analysis of Makhdoom

Articles

مخدوم محی الدین کے مجموعہ کلام ”گل تر“ پر تنقید و تبصرہ

ڈاکٹر نوشاد احمدسنجری

مخدوم محی الدین کا دوسرا مجموعہئ کلام”گل تر“ ۱۶۹۱ء میں شائع ہوا۔اس مجموعے کے عنوان گل تر سے ظاہر ہے کہ یہ سرخ سویرا سے مختلف ہے اور اس میں انقلابی شاعری کے بعد رومانی کیفیات کا اظہار بھی ملتا ہے۔ جیسا کہ اس دور کے دوسرے شعراء کے یہاں انقلاب اوررومان کا امتزاج نظر آتا ہے۔اس مجموعے کے تعلق سے خود مخدوم نے لکھا ہے کہ ان کے دیرینہ قارئین جب گل تر پڑھیں گے تو غالباً انہیں فوراً اس کی مختلف نوعیت کا احساس ہوگاور ان کا ذہن نئے کلام کا سرخ سویراکے جانے بوجھے اشعار سے موازنہ بھی کرنے لگے گا۔ نئے مجموعے کا کلام اپنی سج دھج اورنفس مضمون کے اعتبار سے سرخ سویرا کی نظموں سے مختلف ہے۔ان میں جن حقائق کی تصویرکشی کی گئی ہے وہ بالکل دوسرے ہیں۔ شاعر اپنی شاعرانہ عمر میں گویا کئی عمریں گزارتا ہے۔ جب اس کی معلومات میں اضافہ ہوتا ہے تو شعور میں پختگی آتی ہے،احساسات اور جذبات بدلتے ہیں۔ ٹھیک ویسے ہی جیسے مخدوم کے احساسات بدلے۔
مخدوم صاحب لکھتے ہیں کہ گل تر کے مطالعہ کے بعدبعض ناپختہ ذہن اس وقت بھی سوچتے تھے اور آج بھی یہ خیال کریں گے کہ مخدوم اپنے آپ سے برگشتہ یا اپنے نظریات سے منحرف ہوگئے ہیں۔جب کہ ایسا نہیں ہے۔کیوں کہ مخدوم نے خود کہا ہے کہ شاعر اپنی عمرمیں کئی عمریں گزارتا ہے۔مخدوم نے گل تر کی نظمیں اور غزلیں انتہائی مصروفیتوں میں لکھیں۔ کہتے ہیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ میں لکھنے پرمجبورکیاجارہا ہوں۔سماجی تقاضے پراسرار طریقے پر شعر لکھواتے رہے ہیں۔زندگی ہر لحظہ نیا طور نئی برق تجلی ہے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے میں نے کچھ لکھا ہی نہیں۔سرخ سویراکے بعدمخدوم کے یہاں طویل خاموشی پائی جاتی ہے۔ امیرعارفی نے ایک انٹرویو میں مخدوم سے جاننے کی کوشش کی کہ سرخ سویرا کے بعد قید،چارہ گر،چاندتاروں کا بن جیسی خوبصورت نظموں کے ذریعہ آپ کی خاموشی ٹوٹی پھر آپ آج کل غزلیں کیوں کہہ رہے ہیں۔
بقول مخدوم غزلیں کہنے کی کوئی خاص وجہ نہیں ہے۔داخلی محرکات جمع ہوتے ہوتے ایک دن غزل کی صورت میں بہہ نکلے۔ایک شعر دیکھیے:
کھٹ کھٹا جاتا ہے زنجیر درمیخانہ
کوئی دیوانہ کوئی آبلہ پا آخرشب
اس غزل کی تمام علامتیں سیاسی ہیں۔مخدوم کی انقلابی شاعری میں بھی جمالیاتی عنصر زیادہ ہیں۔گل تر کی نظموں چارہ گر، رقص وغیرہ کو دیکھئے کہاں سے شروع ہوتی ہیں کہاں سے ختم۔ آج عشق اورانقلاب ایک دوسرے میں سموئے ہوئے ہیں۔
مخدوم کا پہلا مجموعہ سرخ سویرا ۴۴۹۱ء پھر بساط رقص ۶۶۹۱ء تک ان کے کلام میں بتدریج رومانیت کم ہورہی ہے اور انقلاب یا حالات سے بغاوت کا جذبہ زیادہ کارفرما ہے۔سرخ سویرا اور بساط رقص کے درمیان گل تر ہی ایسامجموعہ ہے جس میں نظموں کے مقابلہ میں غزلیں زیادہ ہیں۔ ان میں بھی تلخیئ ایام زیادہ ہے۔
الٰہی یہ بساط رقص اور بھی بسیط ہو
صدائے تیشاکامراں ہو کوہکن کی جیت ہو
یہاں کوہکن مزدورکی علامت ہے اورصدائے تیشہ مزدور کی محنت۔ اس سے مراد یہ ہے کہ مزدور کو اس کی محنت کا صلہ ملے اورمزدور ایک کامیاب زندگی گزارے۔
مجموعہ کلام گل تر کی اشاعت اگست ۱۶۹۱ء میں ہوئی۔ گل تر اپنی کیفیت اور اسلوب دونوں کے اعتبار سے سرخ سویرا سے مختلف ہے۔گل تر سے پہلے مخدوم محی الدین نے ایک بھی غزل نہیں لکھی تھی۔ گل تر میں آہنگ شعر کی ایسی مثال ملتی ہے جو شاید فیض اور جوش کے علاوہ کہیں اورنہ ملے جس طرح فیض نے نقش فریادی کے بعد طویل خاموشی اختیار کی اور پھر دست صبا کا تحفہ پیش کیا ٹھیک ویسے ہی ۷۱سال کی مسلسل خاموشی کے بعد مخدوم نے گل تر کا تحفہ پیش کیا۔ سرخ سویرا اور گل تر کے اسلوب میں کچھ زیادہ ہی فرق معلوم پڑتا ہے۔
گل تر کی نمائندہ رومانی نظموں میں چارہ گر،آج کی رات نہ جا، جان غزل کے علاوہ دو انگریزی نظموں کے تراجم فاصلے اور ہم دونوں قابل ذکر ہیں۔ حیدرآباد کی ممتاز انگریزی شاعر راجکماری اندرادھن راجگیر کی دونظمیں Both of us yearning کے آزاد ترجمے مخدوم نے کیے۔گل تر سے متعلق خود مخدوم کا خیال ہے کہ گل تر کی شاعری سرخ سویرا سے مختلف ہے۔دیکھئے:
”یہ فرق میری نظر میں ایک نیاپن ہے۔جو عمر تجربہ خودعہد حاضر کی نوعیت کیاپنے ماسبق ہونے کانتیجہ ہے جو سماجی اور شعوری ارتقا کی نشان دہی کرتا ہے۔پھربھی انسان دوستی اور سمٹا ہوا جمالیاتی اثر قدرمشترک ہیں۔“
گل تر کی نظم فاصلے ایک آئیڈیل کی تلاش ہے۔شاعر اس آئیڈیل کی آواز دل کی گہرائیوں میں پاتا ہے۔وہ اس کوکوئی نام نہیں دے پاتا۔شاعرکے اندر کا جذباتی پن اس کو بدستور روشنی دے رہا ہے لیکن زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی ہے۔نظم کے چندبند دیکھیے:
زندگی نوک سناں
زندگی مثل سناں،جسم میں جاں میں اترجاتی ہے
پیار کٹ جاتے ہیں کٹ جاتی ہے جان
حسن کی جوئے خنک عشق کے شعلوں کی لپک
بغض و نفریں و ملامت کے سب ہی کوہ گراں
بال کی طرح سے کٹ جاتے ہیں
زندگی نوک سناں

“Sword it strikes to kill all those it loves and all those it hates like the facess of eve it changes and varies.Like a split personality it lives a double life.”
Indra Dhan Rajgir
“Yearnings and other poems”
Hyderabad, 1963.
نظم ”ہم دونوں“ محبت کا ایک ابدی نغمہ ہے۔محبت جسم و لمس سے ماورا بھی ہوسکتی ہے۔ ایک نگاہ کرم تازیست مسرتوں کا سرچشمہ ہوسکتی ہے۔نظم چارہ گر، گل تر کی سب سے مقبول نظموں میں سے ایک ہے۔چارہ گر کے دوبدن انگنت بدن ہیں جو پیار کی آگ میں جل چکے اورجلتے رہیں گے۔نظم آج کی رات نہ جا لمحہئ غنیمت کوجکڑلینے کی شاعرانہ تفسیر ہے۔دیکھیے:
زندگی لطف بھی ہے زندگی آزار بھی ہے
ساز و آہنگ بھی زنجیر ی جھنکاربھی ہیزندگی دید بھی ہے حسرت دیداربھی ہے
زہر بھی آب حیات لب رخساربھی ہے
نظم کانشاطیہ لب ولہجہ مخدوم کے انداز فکر کی نمائندگی کرتا ہے۔نظم جان غزل محبت کی پراعتماد تصویر ہے۔چند بند یکھیے:
اے دل نارسا آج اتنا مچل
مست آنکھوں کی جھیلوں میں کھلنے لگیں آنسوؤں کے کنول
مل گیا راہ میں اجنبی موڑ پرکوئی جان غزل
دل کی سنسان گلیوں میں کچھ دیر کچھ دور تک
آج تو ساتھ چل
٭
سرخ سویرا جیسے عاشق اورمحبوب گل تر اوربساط رقص کی رومانی نظموں میں نظر نہیں آتے۔ مشاہدہ اورتجربہ شاعر کو وسعت نظر بخشتا ہے۔ یہی وسعت نظر ”گل تر“ اور”بساط رقص“ میں نظر آتی ہے۔جان غزل کا یہ مصرعہ دیکھیے:
آج تویادآئیں نہ دنیا کے غم
آج دل کھول کر مسکرا چشم نم
کتنا بھاری تھا یہ زندگی کا سفر
یہ انداز اس جان غزل کی دین ہے جو اجنبی موڑپر مل گیا ہے زندگی کے بھاری ہونے کا احساس اس بات کی جانب اشارہ ہے کہ شاعر کن راستوں سے ہوکر یہاں تک آیا ہے۔نظم پیارکی چاندنی کو ہم رومانی نظم نہیں کہہ سکتے کیوں کہ اسکاڈکشن سیاسی اندازلیے ہوئے ہے۔جرم، چشم، اہل ہوس، ابن آدم، سردار وغیرہ لیکن آخری شعرکا لہجہ رومانی معلوم ہوتاہے:
دل بڑھاتی رہیں ہاتھ کی نرمیاں
پیارکی چاندنی جگمگاتی رہی
یہ بند عالمی اخوت اوریک جہتی کی یاد دلاتا ہے۔احساس کی رات بھی اسی قبیل کی ایک خوبصورت نظم ہے۔دیکھیے:
مجھے ڈر ہے کہ کہیں سرد نہ ہوجائے یہ احساس کی رات
نرغے طوفان حوادث کے ہوس کی یلغار
جسم کا جان کا پیمان وفا کیا ہوگا!
تیرا کیا ہوگا اے مضراب جنوں
یہ دہکتے ہوئے رخسار
یہ مہکتے ہوئے لب
یہ دھڑکتا ہوا دل
شفق زیست کی پیشانی کا رنگیں قشقہ
کیا ہوگا
مرے دل اور دھڑک، شاخ گل
اورمہک اورمہک اورمہک
احسا س کی رات رومان اور حقیقت کا ملاجلا تاثر پیش کرتی ہے۔اس نظم کا محرک کہیں ایٹم کی تباہ کن طاقت تو نہیں تیسری جنگ عظیم کا خوف تو نہیں، نظم سب کا خواب خواب کے ریزہ ریزہ ہوجانے کی کرب ناک حقیقت ہے۔عالمی اشتراکی تنظیم و تحریک کے زیروبم کو غم جاناں کے استعاروں میں پیش کیا گیاہے۔دیکھیے ایک بند:
آپ میں اک گرمیئ احساس ہوتی تھی
نہیں معلوم وہ کیا ہوگئی
یہاں آپ خود شاعر ہے۔یہاں نظم کا تھم تھم کر بڑھنا، رکنا مصرعوں کے ارکان کا ڈرامائی انداز سے کم اور زیادہ ہونا ایک خاص قسم کی زیرلب خودکلامی اور سوچ کی فضا پیداکرتا ہے۔
گل تر کے بعدمخدوم محی الدین کی کلیات بساط رقص ۶۶۹۱ء میں منظرعام پر آئی۔ اس میں شاعر کی ذہنی روش گل تر جیسی ہی ہے۔آخر کی نظموں میں بھی تازگی، اظہار و اسلوب رنگ وآہنگ، پیکر تراشی، تازگی وغیرہ نمایاں خصوصیات ہیں۔ نظم خواہش اسی نوع کی ایک مثال ہے۔

اسی سلسلے کی ایک نظم وصال ہے جس پراکتوبر ۳۶۹۱ء درج ہے:
چمک دمک جھنکار امر ہے
یار امر ہے
پیار امر ہے
اس میں اچانک دوکرخت مصرعے آجاتے ہیں
دولت خاں کی دیوڑھی کے کھنڈروں میں
بڈھاناگ کھڑا روتا ہے
اس کی کیا ضرورت آن پڑی بقول مخدوم:
”ان دومصرعوں کے بغیر بھی میری نظم مکمل ہوجاتی۔لیکن ذرا سوچیے ان دومصرعوں سے بات کہاں سے کہاں چلی گئی۔ایک مرد اورعورت کے وصال میں آج بھی سماجی رکاوٹیں ہیں۔ دولت خاں کی ڈیوڑھی وہ مردہ روایتیں ہیں جو ان روحوں کے ملنے پر آج خوش نہیں ہو سکتیں بلکہ آنسو بہاسکتی ہیں کیوں کہ زمانے نے ان کی قوت جبر کو روند ا ہے۔“
”وقت بے درد مسیحا“ ایک خوبصورت رومانی نظم ہے، جو ۵۶۹۱ء میں لکھی گئی۔ اس نظم میں محبت کا دکھ ایک طلسم کی طرح پھیلتا چلاجاتا ہے۔اس نظم میں ایک کسک ملتی ہے جودوسری نظموں میں نہیں ہے:
قبر سے اٹھ کے نکل آئی ملاقات کی شام
ہلکا ہلکا سا وہ اڑتا ہوا گالوں کا گلال
بھینی بھینی سی وہ خوشبو کسی پیراہن کی
٭
آخرمیں مخدوم کی واسوخت یکم مئی ۹۶۹۱ء کولکھی گئی یعنی ان کی وفات سے چندماہ پہلے۔ اس میں مخدوم کے داخلی جذبات و تجربات ابھرکر آئے ہیں۔
تیری دیوار کے سایوں نے نہیں پہچانا
ایک ایسا بھی زمانہ ہے کہ اب آنے لگا
خوشنما یادوں کے ڈھانچوں سے ملاقات ہوئی
چہرہ ٹوٹا ہوا آئینہ نظر آنے لگا

تیری باتیں تھیں کہ پھولوں کی مہکتی چمکار
جی تیری باتوں سے کیا بات ہے گھبرانے لگا
گیان سے دھیان سے پوجا تھا کسی صورت کو
آنکھ کھولی تو کوئی اور نظر آنے لگا
دل کے تہہ خانوں میں بارود بچھی ہو جیسے
ایک اک سانس پہ دل ہے کہ سلگ جانے لگا
دشت کے پھولوں نے جب پاس بٹھایا ہم کو
عرش ٹوٹا ہوا تارہ سانظر آنے لگا
اس جنونی کو ذرا دھوپ سے روکو مخدوم
چھوڑ کر چھاؤں ’گل تر‘ کی کہاں جانے لگا
یہ انداز مخدوم کا نہیں تھا۔دل کے تہہ خانوں میں بارود کا بچھنا شاعر کی دل شکستگی کی کھلی تفسیر ہے۔شاعر اب گل تر کی چھاؤں کو چھوڑکر جانا چاہتا ہے۔یہ وہی گل تر ہے جو شاعر کواعتماد وفا اور اعتبار محبت کا درس دیتا ہے۔
بساط رقص کی آخری رومانی نظم ’رُت‘ مخدوم کے ہارجانے کی مثال ہے۔یہ نظم ۹۶۹۱ء میں واسوخت کے بعد ہبلی میں کہی گئی۔ اس نظم میں شاعر اپنی طبیعت کے خلاف مایوس ہے اورشہر وفا سے ہجرت چاہتا ہے۔لیکن گل تر میں مخدوم نے کل ۱۲ غزلیں کہیں ان غزلوں میں غزل کے سارے بنیادی عنصرپائے جاتے ہیں،دیکھیے:
پھر چھڑی رات بات پھولوں کی
رات ہے یا برات پھولوں کی
یہ مہکتی ہوئی غزل مخدوم
جیسے صحرا میں رات پھولوں کی
٭
مخدوم نے ایک طویل عمر انقلابی جدوجہد میں گزاری تھی۔ اسی لیے ترقی پسند شاعری میں آرہے بدلاؤ کو بڑی شدت سے محسوس کیا اور اپنے محسوسات کو اسی شدت کے ساتھ اپنی آخری غزل میں پیش کیا۔
یہ خواب ہے کہ حقیقت نظارہ ہے کہ فریب
یقیں بھی ٹوٹا ہے طرزگماں بھی ٹوٹی ہے

سیاست دل آئینہ چور تو تھی
سیاست دل آہنگراں بھی ٹوٹی ہے
شکست و ریخت زمانے کی خوب ہے مخدوم
خودی تو ٹوٹی تھی خوئے بتاں بھی ٹوٹی ہے
مخدوم کی غزلیں ترقی پسند غزل کی بہترین ترجمانی کرتی ہیں۔ مخدوم محی الدین کے مجموعہ کلام سرخ سویرا اور گل تر کا اگر تجزیاتی مطالعہ کیاجائے تو دونوں میں واضح فرق معلوم پڑتا ہے۔ مجموعہ کلام سرخ سویرا ابتدائی جوش کا نتیجہ اورگل تر تپ کر کندن بن جانے کا ثمرہ ہے۔ گل تر میں جو فکری عنصر ہے سرخ سویرا کی اکثرنظموں میں ناپید دکھائی دیتا ہے۔مخدوم نے خود اس بات کا اعتراف کیا اورانھوں نے کہا تھاکہ قاری سرخ سویرا اور گل ترمیں جو فرق محسوس کریں وہ بالکل درست ہے۔گل تر پڑھنے کے بعد ذہن سرخ سویرا سے موازنہ کرے گا اور گل تر میری ذہنی پختگی کا ثبوت فراہم کرے گا۔ لیکن سرخ سویرا کی اہمیت بھی کم نہیں ہے۔ آج بھی سرخ سویرا نوجوان شاعروں کے لیے مشعل راہ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ISSN No. 2320-639X (Urdu Channel is a ugc approved research journal)

Drama, Mukhtasar Afsana aur Makhdoom

Articles

ڈرامہ، مختصر افسانہ اور مخدوم

ڈاکٹر نوشاد احمد سنجری

مخدوم نے تین ڈرامے لکھے تھے ”ہوش کے ناخن، مرشد اورپھول بن، ہوش کے ناخن“ جارج برنارڈشا کے ڈرامے وڈورس ہاؤزز سے ماخوذ ہے۔ان کا دوسرا ڈرامہ مرشد ان کا طبع زاد ڈرامہ ہے۔داؤد اشرف نے لکھا ہے:
”یہ مخدوم کا لکھا ہوا ایک طبع زاد ایک ایکٹ کا ڈرامہ ہے جو مرشد ساگر ٹاکیج کے اسٹیج پر پیش کیا گیا جس میں مرشد کا رول مخدوم نے ادا کیا تھا۔ حضورنظم، ریزیڈنٹ مہاراجہ کشن پرساد اور شاہی خاندان کے چند افراد خلاف پروگرام اچانک عین وقت پر تھیٹر پہنچ گئے۔“۲؎
یہ مخدوم کا آخری ڈرامہ تھا، پھول بن چیخوف کے ڈرامہ ”چیری آرچرڈ“کا اردو روپ تھا۔یہ تین ایکٹ پر مشتمل تھا۔ یہ زمردمحل کے اسٹیج پر پیش کیا گیا تھا۔بقول مرزا ظفرالحسن کے:
”اس کے بعد دکن کی تمثیلی سرگرمیاں بالکل ختم ہوگئیں، نہ کسی نے کوئی نئی شمع روشن کی اورنہ ہمارے جلائے ہوئے چراغوں میں کوئی روشنی رہی۔“
یہ ڈرامہ نایاب ہے کس طرح تلف ہوا یہ مخدوم کے قریبی دوست بھی نہیں جانتے ایک اندازے کے مطابق مصنف نے اس لیے ضائع کردیا ہو کہ یہ اسٹیج پربری طرح ناکام رہا تھا۔
مخدوم جن شخصیتوں سے متاثر تھے ان میں ٹیگورکا نام سب سے اہم ہے۔ڈرامہ ہوش کے ناخن کے ناظرین میں گرودیو بھی تھے۔مخدوم کی اداکاری سے متاثر ہوکر انھیں شانتی نکیتن آنے کی دعوت دی۔سروجنی نائیڈو جو مخدوم کو اپنا بیٹا کہتی تھیں نے مخدوم کو ٹیگور سے ملوایا۔۳؎
اس کتاب کو مخدوم نے بیالیس عنوانات میں تقسیم کیاہے۔چنداہم عنوانات دیکھے۔بنگال کا نشاۃ ثانیہ،خاندان، تعلیم،شاعری کی ابتدائی،ادبی زندگی کاآغاز، لندن کا سفر، ڈرامے مذہبی شاعری، ناول نویسی، تقسیم بنگال، عالمگیرشہرت کاراز،نوبل انعام، گاندھی اور ٹیگور وغیرہ وغیرہ،مخدوم کی یہ تصنیف تجزیاتی نہیں تعارفی ہے۔ تنقیدی نہیں معلوماتی ہے۔
ٹیگور کے اندر دو شخصیتیں چھپی ہوئی تھیں ایک وہ ٹیگور جسے دنیا کا ہر عیش حاصل تھا،جس کی پرورش اس طرح ہوئی جیسے کوئی آسمانی مقدس مخلوق ہو۔جس کی طبیعت اس قدر شرمیلی ہو کہ ہم جماعت سے بات کرتے ہوئے بھی بیربہوٹی بن جائے، جس کے خدوخال اس قدر شفاف جیسے باریک قلم کی تحریر ہو چنانچہ اسکول میں دوسرے لڑکوں نے بہت دنوں تک پہنچانا ہی نہیں کہ ٹیگور لڑکا ہے یا لڑکی۔ ٹیگور کی دوسری شخصیت ایک انقلابی کی تھی،ایسا انقلابی جو صوفی بھی تھا مگر یزدان کے فلسفے کی نفی کرتا تھا۔وہ گاندھی جی کے چرخے کو ترقی کا معکوس سمجھتا تھا۔ وہ جلیاں والا باغ میں ہندوستانیوں پر جو مظالم ٹوٹے، ان ظالموں کا بھی سیاست دان تھا جنھوں نے ظلم کی انتہا کردی۔ وہ شانتی اوراہنسا کا پجاری تھا، ہر دل عزیز پجاری۔
”پھول اورپتھر“ یہ افسانہ ۰۳۹۱ء میں لکھا گیا، لیکن اشاعت ۸۳۹۱ء میں ہوپائی ۴؎ یہ پتھر اور کلیوں کے درمیان ایک مکالمہ ہے۔اس میں کلیاں پتھر کے بے مصرف ہونے کا مذاق اڑاتی ہیں۔ پتھر غم کی حالت میں سیاہ پڑجاتا ہے۔ایک پاگل نے یہ سیاہ پتھر اٹھالیا اور اسے ایک مورت بنائی۔زمین نے اس مورت کو آسمانی دیوی قراردیا۔ پاگل نے خوشی سے سرشار ہوکر کلیوں کو اس مورت کے چرنوں میں ڈال دیا،کلیوں کی آنکھیں کھل گئیں اورکلیاں مسکرانے لگیں۔
”کھوئے ہوئے تارے“ یہ افسانہ دو فرشتوں ہیلائل اورجفائل اورایک شاعر اور اس کی محبوبہ کے اطراف گھومتا ہے۔ یہ فرشتے آسمان پر کھیل رہے تھے اتفاق سے دوتارے زمین پر گرپڑتے ہیں۔ آسماں کے حکمران نے اطلاع پاتے ہی غضب ناک ہوکر فرمایا کہ جب تک وہ تارے آسمان پر نہ پہنچ جائیں فرشتے معتوب رہیں گے۔ فرشتے زمین پر آکر شاعر سے اجازت لے کر اس کی محبوبہ کی آنکھوں میں جھانکتے ہیں۔ ان تاروں کی چمک نہ پاکر واپس لوٹ جاتے ہیں۔ حالانکہ محبوبہ کی آنکھوں میں وہی دوتارے تھے جس پر شاعرنے تعجب کیا بھلا کس طرح فرشتوں نے نہیں پہچانا؟محبوبہ نے کہا کہ جب فرشتے میری آنکھوں میں جھانک رہے تھے تو میں نے تمہارے بوسہ اولین کا تصور کیا۔اس طرح میری آنکھوں کی چمک اور بڑھ گئی جو آسمانی گم شدہ تاروں میں نہ تھی۔
”آدم کی اولاد“۵؎: مختصرخاکہ ایک دن حوا کوایک فرشتے نے یہ خبر دی کہ خدائے کائنات زمین پر اترنے والا ہے۔خدانے نہایت رحیم اندازمیں آدم کا حال پوچھا۔ خدا نے بچوں کو طلب کیا،حوا نے تین بچوں کو پیش کیا باقی کوجانوروں کے حجرے میں چھپادیا۔خدا نے کہا ایک قاضی ہوگا دوسراسپہ سالار تیسرا مہاجن۔ حوا نے باقی بچوں کو پیش کیا خدا نے کہا پہلے کے تینوں نے سب لے لیا۔آئندہ ہم اپنی آمد پر بتائیں گے۔
”پاپن“: خد اکے حضور کہتی ہے میں نے پیٹ کے لیے جسم کا بیاپار کیابوڑھی ہوگئی تو قانون نے آگھیرا۔ اگر میں نہ ہوتی تودنیا کی بہو بیٹیوں کی عصمت کا ضامن کون ہوتا۔ پاپن کے ہونٹ کانپ رہے تھے اس کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ خدا کی عدالت میں سناٹا طاری تھا۔
”سویت یونین کی بالشویک پارٹی“: یہ کتاب انگریزی ایڈیشن کا ترجمہ ہے۔ مترجمین کے نام ہیں:نورالحسن، عبدالحلیم،مخدوم محی الدین،احتشام حسین۔
”گوئٹے کے مکتوبات“ ۶؎ اٹھارہویں صدی کا جرمن شاعر گوئٹے نہایت حسن پرست اور عشقباز تھا۔شادی بیاہ کی رسمی،سماجی اورقانونی پابندیاں اس کے لیے مضحکہ خیز تھیں۔ وہ اپنے ان خیالات کو نوجوانوں میں پھیلا کر داد کا متمنی رہتا تھا۔۶۶۷۱ء میں جب وہ سترہ برس کا تھا تو ”کیشین سیان“ نامی لڑکی اس کی نگاہ انتخاب کا ہدف بنی اور اس نے نومبر ۸۶۷۱ء میں پہلا محبت نامہ بھیجا پھر اس طرح کے محبت نامے اس نے کئی لڑکیوں کو بھیجے۔ ۲۹۷۱ء میں گوئٹے کی زندگی میں کوسٹانی واپس آئی جس سے گوئٹے کی کئی اولادیں ہوئیں۔بعد کو زمانے کے سخت رویے سے تنگ آکر ۶۰۸۱ء میں ’وپس‘سے شادی کرلی۔اس شادی کے بعد اس کا شعلہ ہوس مدھم نہیں ہوا، میناہرزاٹ پھر گوئٹے کے لیے لذت جسم و جان بن گئی۔ جس کا ’کرسٹانی وپس‘ کو بے حد صدمہ ہوا ۶۰۸۱ء میں گوئٹے نے فاؤسٹ کی تکمیل کی جو آج بھی شہرہ آفاق ہے۔مخدوم نے ان خطوط کا ترجمہ بہ سلسلہ ملازمت کیا تھا اوریقینا نواب صاحب کی اینگلو انڈین محبوبہ مغرور مسرور ہوئی ہوگی۔ ظاہر ہے گوئٹے کے ماحول و آب و ہوا اور فضا کو مخدوم نے ہندوستانی رنگ دیا ہوگا۔
”بگھی کے پیچھے چھوکرا”: بگھی کے پیچھے چھوکرا مخدوم کے دس ہلکے پھلکے مضامین کا مجموعہ ہے۔ابتدائی تین مضامین اپنے ملک کی تہذیب کے آئینہ دار ہیں۔ پہلا مضمون نظام شاہی حیدرآباد کی تہذیب کا نمونہ ہے۔ مخدوم اپنے بچپن کویاد کرتے ہیں۔جہاں امراا و ررؤسا کے بچے بگھی میں اسکول آیا کرتے تھے۔ یہاں بگھیاں ایک یا دو گھوڑوں کی ہوا کرتی تھیں۔کوچوان کے ساتھ ایک نوکر آگے بیٹھا ہوا اورپیچھے دوجوان باضابطہ وردی میں کھڑے ہوئے ہٹوبچو کی آواز لگاتے ہوئے امیربچوں کی حفاظت کرتے تھے۔پیدل بچے ایسی بگھیوں کی کھوج میں رہتے تھے،جس کے پیچھے جوان کھڑے نہ ہوں۔لپک کر پیچھے کے تختے پرلٹک جاتے تھے۔راستے میں چل رہے بچے اپنا یہ فرض سمجھتے کہ کوچوان کو آگاہ کریں کہ ”بگھی کے پیچھے چھوکرا“ کوچوان سامنے سے بیٹھے بیٹھے اپنی لمبی چابک زور سے چلاتا لٹکتے ہوئے بچے کبھی مار سے بچ جاتے کبھی زد میں آکر اتر کر بھا گ جاتے۔مخدوم کہتے ہیں میرے لیے بھی ایسی سواری عام تھی۔
مخدوم کا بچپن اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شروع سے ہی ان کا انگریز حکومت اور نظام شاہی سے نفرت تھی۔ پہلی جنگ عظیم میں انگریزوں کی فتح پر اسکول میں ننھے ننھے فلیگ بچوں کی قمیصوں پر لگائے گئے۔مخدوم نے اپنے جھنڈے کونیچے گرادیا اور مٹھائی کھانے میں مشغول ہوگئے۔
دوسرامضمون مشاعرے ہے۔اس میں مشاعرے کے فوائد کے ساتھ ساتھ ان کے نقائص پربھی توجہ دلائی گئی ہے۔تحفے(قلم) رنگاچاری آرٹسٹ کی یاد سے شروع ہوتا ہے۔جو تلنگانہ جدوجہد میں گرفتار بھی ہوا او رمارابھی گیا۔روپوشی کے دنوں میں رنگاچاری نے مخدوم کو اپنا ’قلم پار کر‘ تحفہ میں دیاان دنوں مخدوم کے پاس قلم نہ تھا۔ مخدوم نے اس قلم کو بڑے جتن سے رکھا۔روپوشی کے دنوں میں ہی وہ قلم غائب ہوگیا، پھر قلم مل جاتا ہے خیرمضمون کافی لمبا ہے اوربھی کئی مضمون ہیں مخدوم کے جس میں انھوں نے اپنے بیرونی ملکوں کے سفر کے دوران کے مشاہدے بیان کیے ہیں۔
مخدوم کے نقدونظر: مخدوم باقاعدہ کوئی نقادنہیں تھے لیکن تخلیق کارضرور تھے اوریہی وجہ ہے کہ ادب اور شعر کے متعلق بڑی نپی تلی رائے رکھتے تھے۔آج سے تقریباً ۵۶ سال پہلے کا یہ خط مخدوم ۷؎ کے نقطہئ نقد و نظر کی وضاحت کرتا ہے کہ وہ ادب اور آرٹ کو پروپیگنڈہ سمجھتے ہیں تو کیوں۔ پروپیگنڈہ کا لفظ غلط فہمی پید اکرتاہے۔لیکن مخدوم کی یہ عبارت کئی گتھیوں کو سلجھانے میں مدد دیتی ہے۔
”کون سا آرٹ پروپیگنڈہ نہیں رہا کیا تم یورپ کے کلیساؤں کو محبت سے یونان کی آزادی کی فطرت پرستی سے،ایلورااور اجنتا کی برہنیت، جنسیات اور گوتمیت کے معاشرتی فلسفے سے علیحدہ کرسکتے ہو۔ یورپ کے رقص خانوں اورتھیٹروں میں اور خود تمہارے تغزلی ادب میں جنسی معمولات کی ہنگامہ خیز تبلیغ اور تشہیر کے سوا کیا ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ طرز بیان میں فرسودگی بڑھاپا محسوس ہو۔یہ سمجھو کہ آرٹسٹ کی بقا کی صلاحیت سلب ہوچکی ہے وہ مررہا ہے یہ سچ ہے کہ کوئی بالجبر آرٹ پیدانہیں کرسکتا۔فرد تو فرد مملکت بھی مجبور ہے یہ سمجھنا کہ آرٹ پروپیگنڈہ سے ماورا وقائم بالذات وجود ہے میں تو نہیں مانوں گا۔“
خورشید احمد جامی کے مجموعہ کلام رخسار سحر پر مخدوم کا پیش لفظ ان کے نقد و نظرکو سمجھنے میں مدددیتا ہے مخدوم نے اپنے مقدمے میں ان کی ذہنی ارتقاء کا جائزہ لیا ہے اوراس نتیجے پرپہنچے ہیں کہ جامی کی غزل میں نہ وہ منہ در منہ باتیں ہیں جس کے نماندے فراق اکیلے ہیں ۸؎ اورنہ وہ سپاٹ پن جو کئی مشہور شاعروں کا طرہ امتیاز ہے۔جامی خلوت پسند شاعر تھے اوران کا الگ حلقہئ احباب تھا۔ وہ زمانے کی کشاکش حیات سے آنکھ ملانے کاجگر رکھتے تھے۔مخدوم نے لکھا ہے کہ جامی ان شاعروں میں معلوم ہوتا ہے جو اپنی صبح انقلاب سے ہمکنار ہوکر بھی اس سے دورہی رہے گا اس کا قصور ان پیغمبروں کا سا نظر آتا ہے جو اپنی امت کی افتادہ حالی کا حل نہ پاکر خدا سے لڑ بیٹھے تھے۔

اقبال متین کے پہلے افسانوی مجموعے اجلی پرچھائیاں پرمخدوم نے اپنی رائے دی ہے۔ دیکھیے ”اقبال متین اپنے گردوپیش کی زندگی سے واقعات اور کردار چنتا ہے۔ ندرت بیان اور تیز قوت مشاہدہ کی مدد سے ان میں ایسا رنگ بھرتا ہے کہ معمولی واقعات و کردار غیرمعمولی و دلکش بن جاتے ہیں۔ ”اجنبی بیمار“ اور ”دام ہر موج“ اس کی مشہور ومعروف کہانیوں میں چندکہانیاں ہیں۔ جس میں زندگی کے حسن اور اس کی ڈھکی چھپی قباحتوں اور فرد اور سماج کی کشمکش کی نقاشی اور پردہ کشائی بڑی چابکدستی سے کی گئی ہے۔“

ISSN No. 2320-639X (Urdu Channel is a ugc approved research journal)

اینڈرائیڈ فون میں موجود 8 خفیہ فیچرز

Articles

-

آپ اینڈرائڈ سمارٹ فون کے بہت سے فیچرز سے واقف ہوں گے لیکن بہت سے ایسے بھی ہیں جن کے بارے میں عام صارف کو معلوم نہیں ہوتا، یا ان پر کبھی توجہ نہیں دی جاتی۔آئیے آج ہم کو ان خفیہ فیچرز سے متعلق بتاتے ہیں Do Not Disturb ’ڈوناٹ ڈسٹرب‘ ایک ایسا ہی فیچر ہے جسے ایکٹیویٹ کر کے آپ اپنے فون کو بتا سکتے ہیں کہ کس کی کال رسیو کرنی ہے۔اور کس کا میسج۔ آپ جسے چاہیں اور جب چاہیں خود کو ڈسٹرب کرنے سے روک سکتے ہیں۔ اس فیچر کو آن کرنے کے لئےآپ پہلے Settings میں جائیں، پھر Sound ، اور پھر Do Not Disturb کو سلیکٹ کریں۔ اس آپشن میں Priority Only Settings کو منتخب کریں۔ یہاں آپ منتخب کرسکتے ہیں کہ کون آپ کو کال کرسکتا ہے اور یہ بھی منتخب کرسکتے ہیں کہ کون آپ کو میسج کرسکتا ہے۔ Smart Lock ’سمارٹ لاک‘ کے فیچر کو استعمال کرتے ہوئے آپ اپنے موبائل فون کو کسی بھی جگہ آٹو میٹک طریقے سے ان لاک کرسکتے ہیں۔ اس کے لئے آپ  یعنی پہلے سیٹنگز، پھر سکیورٹی اور پھر سمارٹ لاک کا انتخاب کریں۔ یہاں آپ On body detection, Trusted Places, Trusted Devices, Trusted face, Voic میں سے کسی بھی آپشن کو منتخب کر سکتے ہیں۔ آپ Trusted Places کو منتخب کرکے ان جگہوں کے بارے میں بتاسکتے ہیں جہاں آپ کا فون خود کار طریقے سے ان لاک ہو جائے۔ Personalised ad ’پرسنلائزڈ ایڈ‘ کے آپشن کو استعمال کرنے کے لئےکو منتخب کریں۔ اب جو پاپ اپ ونڈو آپ کے سامنے آئے اس پر OK کلک کردیں۔ اب گوگل کی جانب سے آپ کو پرسنلائزڈ اشتہارات نہیں دکھائے جائیں گے۔ Instant Heart Rate اگر آپ اپنے موبائل فون کے ذریعے دل کی دھڑکن کی پیمائش کرنا چاہتے ہیں تو پلے سٹور سے انسٹنٹ ہارٹ ریٹ (Instant Heart Rate) ایپ کو انسٹال کرلیں۔ اب اس ایپ کو اوپن کریں اور اپنے فون کے کیمرے پر انگلی رکھیں۔ چند ہی سیکنڈ میں یہ ایپ آپ کے دل کی دھڑکن کیرفتار سکرین پر ظاہر کردے گی۔ Screen Magnifier کمزور بصارت والوں کے لئے سکرین میگنیفائر کا فیچر بے حد فائدہ مند ہے۔ اس کے لئے Settings>Accessibility میں جائیں اور Magnification Gestures کو منتخب کریں۔ اب آپ انگلی سے سکرین کے کسی بھی حصے پر تین بار ٹیپ کریں گے تو آپ کی مرضی کے مطابق اس کا سائز بڑا ہوجائے گا۔ Guest Mode اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ اپنا فون کسی کو دیں اور وہ آپ کے پرائیویٹ ڈیٹا تک رسائی حاصل نہ کرسکے تو گیسٹ موڈ آن کرلیں۔اگر آپ فون کے اوپری حصے میں دی گئی نوٹیفکیشن بار کو نیچے کریں تو اپنے avatar کو منتخب کرنے پر تین آپشنز آپ کے سامنے آجائیں گے۔ اس میں سے ایڈ گیسٹ (Add Guest) کو منتخب کرنے سے آپ کا فون گیسٹ موڈ میں آجائے گا۔ اب کوئی اور شخص آپ کے موبائل کو استعمال کرے گا تو آپ کے میسجز اور ایپس تک رسائی حاصل نہیں کرسکے گا۔ Invert Colors اگر آپ اندھیرے میں اپنے فون کیسکرین پر کچھ پڑھنا چاہتے ہیں یہ فیچر بہت فائدہ مند ثابت ہوتا کیونکہ اس کے آن ہونے پر سکرین پر زیادہ دیر تک نظر جمانے کے باوجود آپ آنکھوں پر دباؤ محسوس نہیں کریں گے۔ اس کے لئے آپ کا انتخاب کریں اور اس آپشن کو آن کر لیں۔ یقیناً مذکورہ فیچرز سے آپ کی معلومات میں اضافہ ہوا ہوگا۔

16 Performance of Mobile Phone Volume Buttons

Articles

موبائل فون کے والیم بٹن کے 16 کمالات

-

اسمارٹ فون کا والیم بٹن صرف آواز کو بڑھانے یا کم کرنے کے لیے ہی استعمال نہیں ہوتا بلکہ اسے مزید کئی آپشنز کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے، مثلاً اسکرین ٹرن آف، فلیش اور اسکرین کی روشنی (برائٹنس )بڑھانا،وغیرہ وغیرہ۔ اگر آپ والیم بٹن کو ایک سے زائد مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے بس ایک ایپ ڈاؤن لوڈ کرنی پڑے گی۔ پلے اسٹور نے فری ایپ ’’بٹن میپر‘‘ انسٹال کریں اور ضروری اجازت دینے کے بعد ایپ قابل استعمال ہوجائے گی۔ نئے اسکرین پیج کھلنے پر’گو‘ کا آپشن ہوگا جس پر کلک کرنے سے اگلے پیج پر رسائی مانگی جائے گی جسے آن کرنے پر والیم اپ اور والیم ڈاؤن کے آپشنز دیے جائیں گے۔ ملٹی پل فیچرز استعمال کرنے کے لیے جس بٹن کو آپ استعمال کرنا چاہتے ہیں اس کا انتخاب کریں۔ اس کے بعد تین آپشنز نظر آئیں گے جس میں سنگل ٹیپ، ڈبل ٹیپ اورلانگ پریس شامل ہیں۔ اس میں کسی ایک کا انتخاب کرنے پرنئے اسکرین پیج پر16 آپشنزدستیاب ہوں گے جسے والیم بٹن سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ جب آپ کسی ایک آپشن کو منتخب کریں گے جیسے فلیش آپشن تو والیم بٹن دبانے سے فلیش آن ہوجائے گی۔ اسی طرح آپ پسندیدہ آپشنز کا انتخاب کرکے والیم بٹن سے اسے آن یا آف کرسکتے ہیں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تا کہ دوسرے لوگ بھی اس سے فائدہ اُٹھا سکیں۔

When Mobile phone restart is necessary

Articles

موبائل فون ری اسٹارٹ کرنا کب ضروری ہوتا ہے

-

بیشتر افراد اپنے اسمارٹ فون سست ہونے پر اسے ری اسٹارٹ کرتے ہیں اور اپنے موبائل میں درپیش مسئلے کو حل کرنے کے لئے طرح طرح کے جتن کرتے ہیں۔

ٹیکنالوجی سے وابستہ ماہرین نے لوگوں کو کئی ایسی تجاویز بتائی ہیں جن پر عمل کرکے ہم اپنے اسمارٹ فونز کی زندگی بڑھانے کے ساتھ ساتھ اپنے پیسوں کی بھی بچت کرسکتے ہیں۔

اسمارٹ فونز کی حفاظت کے لئے آپ کو یہ معلوم ہونا بے حد ضروری ہے کہ اسمارٹ فون کو ری اسٹارٹ کرنا کتنا ضروری ہے اور اسے کب ری اسٹارٹ کرنا چاہئے؟

نئے آنے والے اسمارٹ فونز میں ری اسٹارٹ کرنے کا پیغام بھی موصول ہوتا ہے اور ایسا ہونا ضروری بھی ہے۔

ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق اسمارٹ فون کا استعمال کرنے والے ہر فرد کو اپنے موبائل کو ہفتے میں ایک مرتبہ کم سے کم ایک منٹ تک بند کرنے کے بعد دوبارہ کھولنا چاہئے۔

ایک ہفتے کے دوران کم از کم ایک مرتبہ اسمارٹ فون کو بند کرکے کھولنا چاہئے، اس کے بے شمار فوائد ہیں، ایسا کرنے سے اسمارٹ فون کی میموری، بیٹری اور اس کی کارکردگی میں بہتری آتی ہے۔

لاس اینجلس کے ٹیکنالوجی کنسلٹنٹ بوب موتامیدی کا کہنا ہے کہ ہمارے اسمارٹ فونز میں بے شمار ایپلیکیشن بیک گراؤنڈ پر چل رہی ہوتی ہیں اور اس سے فون کی بیٹری اور میموری اثرانداز ہوتی ہے، فون کو ری اسٹارٹ کرنے سے یہ تمام ایپلیکیشن بند ہوجاتی ہیں جس سے فون کی کارکردگی بہتر ہوتی ہے اور وہ پہلے سے بہتر رفتار کے ساتھ کام کرنے لگتا ہے۔

Ali Sardar Jafri ki Manzil

Articles

علی سردار جعفری کی منزل ایک جائزہ

ڈاکٹر معزہ قاضی

!‘‘

ہندوستان میں تلک کو چھے سال کی قید پر مزدوروں کی ہڑتال، جلیان والا باغ کے حادثے کے بعد انگریزی حکومت کے خلاف ہڑتالیں ، دھرنے اور جلوس، ولایتی مال کا بائیکاٹ ، ہزاروں کی تعداد میں مزدوروں ، طالب علموں اور کارکنوں کی گرفتاریوں سے اردو ادب بھی متاثر ہو رہا تھا ۔ ۱۹۳۵ء میں سجاد ظہیر نے داکٹر محمد دین تاثیر ، ملک راج آنند ، ڈاکٹر جیوتی گھوش اور پرمود سین کے ساتھ مل کر ایک ادبی حلقہ کو وجود بخشا جس نے ہندوستانی ترقی پسند ادیبوں کی ایسو سی ایشن کے نام سے ایک انجمن تشکیل کی ۔ ۱۹۳۵ ء کے آخر میں سجاد ظہیر لندن سے ہندو ستان لوٹے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے نام سے باقاعدہ تنظیم قائم کی ۔
لکھنؤ میں منعقدہ پہلی کانفرنس میں ترقی پسند کانفرنس میں ترقی پسند مصنفین کا اعلان نامہ منظور کیا گیا جس کی چند سطریں حسب ذیل ہیں :
ہم اس انجمن کے ذریعے ہر اس جذبے کی ترجمانی کریں گے جو ہمارے وطن کو ایک نئی اور بہتر زندگی کی راہ دکھائے ۔ اس کام میں ہم اپنی اور غیر ملکیوں کی تہذیب اور تمدن سے فائدہ اٹھائیں گے ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ہندوستان کا نیا ادب ہماری زندگی کے بنیادی مسائل کے اپنا موضوع بنائے۔ یہ بھوک ، افلاس ، سماجی پستی اور غلامی کے مسائل ہیں ۔ ہم ان تمام آثار کی مخالفت کریں گے جو ہمیں لاچاری ، پستی اور توہم پرستی کی طرف لے جا رہے ہیں ۔ ۱ ؎
لہذا ادب برائے ادب کے بر خلاف ادب برائے زندگی کو اپنا مقصد بنا لیا گیا ۔ ترقی پسند تحریک سے پہلے اردو میں پریم چند کے زیر اثر اصلاحی اور حقیقت نگاری کے افسانے ملتے ہیں ۔ انھوں نے عام انسانی مسائل ، غربت اور افلاس کی زندگی اور معاشی استحصال کے خلاف اپنی آواز بلند کرتے ہوئے انسانی نابرابری کے خلاف جہاد کا علم بلند کیا۔پریم چند سے متاثر افسانہ نگاروں میں اعظم کریوی ، علی عباس حسینی ، سدرشن اور سہیل عظیم آبادی تھے ۔ پریم چند نے ترقی پسند تحریک کے پہلے جلسے میں اپنے صدارتی کلمات میں حسن کے معیار کو بدلنے کی جو بات کی تھی وہ ترقی پسند تحریک کا ایک بنیادی منشور بن گئی اور ہمارے ادیبوں اور شاعروں نے سماج کے ان سلگتے ہوئے مسائل کو پیش کرنا شروع کیا ۔ اس میں پریم چند کا تتبع کرنے والوں میں کئی افسانہ نگار تھے ۔ شاید یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ ان افسانہ نگاروں نے نہ صرف پریم چند کے اثرات قبول کئے بلکہ اس میں وسعت پیدا کی ۔ کرشن چندر ، اوپیندر ناتھ اشک ، راجندر سنگھ بیدی ، عصمت چغتا ئی وغیرہ کا تعلق اسی توسیع شدہ حقیقت پسندانہ افسانے سے ہے ۔
عتیق احمد صاحب نے ان افسانہ نگاروں کے علاوہ جن ناموں کا ذکر کیا ہے ، ان میں سردار جعفری اور اخترالایمان کے نام نمایاں ہیں ۔ بقول عتیق صاحب :
اختر الایمان کے افسانے بھی تعداد میں اتنے ہی قلیل تھے جتنے کہ سردار جعفری کے ہے ۔ لیکن وہ صرف ساقی (دہلی) کے صفحات میں مقید ہو کر رہ گئے اور اب شاید تقسیم ہندوستان کے بعد کی نسل اخترالایمان کے اس ادبی پہلو سے بالعموم با خبر بھی نہیں ۔ ۲ ؎
علی سردار جعفری ایک ممتاز اور کثیرالجہات ادبی رہنما تھے جنھوں نے افسانوی دنیا میںخود کو ڈھالنے کی کوشش کی اور افسانے کو ہی ابتدا ء ً اپنا ذریعہ ٔ اظہار بنایا لیکن کوئی بھی فن ، اگر مزاج کے ہم آہنگ نہ ہو تو پروان نہیںچڑھتا ۔ جعفری صاحب نے بھی مروجہ روایت کے تحت افسانے لکھے تاہم انہیں یہ محسوس ہوا کہ ان کا مزاج اور ان کی ادبی تخلیقی صلاحیت افسانہ نگاری سے زیادہ شاعری سے ہم آہنگ ہے ، لہٰذا انھوں نے افسانہ نگاری کو خیرباد کہہ دیا اور شاعری کو اپنایا ۔سردار جعفری کی ادبی زندگی کا ابتدائی زمانہ ایک طرح سے کشمکش کا زمانہ محسوس ہوتا ہے ۔ کشمکش یعنی افسانہ یا شاعری ۔ اس کشمکش میں شاعری جیت گئی۔ جعفری صاحب نے بھی ایک انٹرویو میں رام لعل کے سو ال کا جواب دیتے ہوئے کہا تھاکہ وہ اپنا شمار ناکام افسانہ نگاروں میں کرتے ہیں ۳؎ لیکن ان کے افسانے آج بھی توجہ طلب ہیں۔ انھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز ترقی پسند نظریات پر قائم کرتے ہوئے عام رواج کے تحت ایک ڈرامہ اور چند افسانے سپرد قلم کیے جو مجموعے کی شکل میں منزل کے نام سے حلقۂ ادب لکھنؤ کی جانب سے ۱۹۴۰ء یا ۱۹۴۱ ء میں شائع ہوا ۔ اس مجموعے منزل میں چھے نثر پارے ہیں جن میں سب سے پہلا نثر پارہ ان کا یک بابی ڈرامہ سپاہی کی موت ہے ۔ اس کا موضو ع بھی ان کے دوسرے ڈرامے یہ کس کا خون ہے سے ملتا جلتا ہے ۔ اس ڈرامے کے علاوہ منزل میں علی سردار جعفری کے پانچ افسانے ہیں جن کے نام منزل ، بارہ آنے ، پاپ ، مسجد کے زیر سایہ اور آدم زاد ہیں ۔
یک بابی ڈرامہ’ سپاہی کی موت‘ میں انھوں نے اکتوبر ۱۹۱۶ ء کی ایک شام کا منظر پیش کیا ہے جس میں فرانس کی مشرقی سرحد پر ایک چھوٹے سے اسکول کو فوجی اسپتال میں تبدیل کیا گیا ہے جہاں ایک ہندوستانی سپاہی ہندوستانی وارڈ میں جگہ نہ ہونے کی وجہ سے انگریزی وارڈ میں نیم بے ہوشی کی حالت میں پڑا ہے ۔ اس کے سر پر لگی گولی نکالنے سے اس کی جان بچ سکتی ہے ۔ ایک فرانسیسی نرس سے وہ دھیمے دھیمے لہجے میں اپنی بیوی اور چھوٹے سے بیٹے کی باتیں کرتا ہے ۔ گاؤں کو یاد کرتا ہے ۔ اسے اس بات کی فکر ہے کہ اس کی بیوی سوچتی ہوگی کہ وہ اسے بھول گیا ۔ سپاہی آپریشن کے انتظار میں ہے ۔ گھر پہنچنے کی جلدی ہے ۔لیکن ڈاکٹر کے حکم پر نرس کو با دلِ نا خواستہ سپاہی کو صرف اس لیے زہر دینا پڑتا ہے کہ زخمی انگریز سارجنٹ کو انگریزی وارڈ میں جگہ مل سکے ۔جگہ ملنے کے بعد بھی سارجنٹ مو ت کی نیند سو جاتا ہے ۔
’ منزل‘ ایک اونچے جاگیردار خاندا ن کی پڑھی لکھی ، خوبصورت اور اپنے انقلابی خالہ زاد بھائی عظمت کے خیالات سے متا ثر لڑکی فاطمہ کی کہانی ہے ۔ عظمت انگریزوں کا دشمن اور کٹر کانگریسی ہے جس کی وجہ سے فاطمہ کے واالد نے اسے گھر سے نکال دیا ۔ عظمت کی انقلابی سوچ سے فاطمہ مکمل طور پر اتفاق کرتی ہے ۔اس کی شادی ضلع کے ڈپٹی کمشنر اشفاق سے ہوتی ہے ۔ بیٹے شفیق کو سنبھالنے والی عورت دلاری کو بچے کے سونے کے کڑے چرانے کے الزام میں سزا ہو جاتی ہے ۔ مسجد کے معاملے پر فائرنگ سے فاطمہ کو اشفاق کی درندگی کا احساس ہوتا ہے ۔ حالات سے باخبر ہونے پر فاطمہ کے انقلابی ذہن میں ہلچل شروع ہوتی ہے اور وہ بوڑھی ماما اور بچے کے ساتھ نکل پڑتی ہے جہاں وہ تینوں بندوق کی گولیوں کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ صبح گھر پہنچ کر اشفاق کو پتہ چلتا ہے کہ رات ہی سے فاطمہ، بچے اور بوڑھی ماما کے ساتھ غائب ہے ۔ وہ معاملے کی تہہ تک پہنچتا ہے ۔ فاطمہ اسے زخمی حالت میں اسپتال میں ملتی ہے جبکہ بچے کی لاش کی خبر بھی مل جاتی ہے۔ فاطمہ کو چھے مہینے کی سزا خود اشفاق کو سنانی پڑتی ہے ۔اس وقت اسے خود سے نفرت محسوس ہوتی ہے ۔جیل میں دلاری فاطمہ کو پہچان لیتی ہے اور دیگر خواتین کے پوچھنے پر اس سے سوال کرتی ہے :
’’کیا صاحب نے تمھیں نہیں بچایا ؟‘‘
تو ان عورتوں کے کان کھڑے ہو گئے ۔
فاطمہ نے جواب دیا : ’’یہ ان کے اختیار سے باہر تھا ۔‘‘
سب عورتوں نے یک زبان ہو کر کہا : ’’ظلم تو حکومت کرتی ہے ۔ حاکم بے چارے کیا کریں ۔‘‘
فاطمہ نے تنک کے کہا : ’’پھر وہ حاکم بنتے ہی کیوں ہیں !‘‘
’آدم زاد‘ ایک ایسی بیاہتا جھناکا کی کہانی ہے جس کی شادی ہوئے آٹھ برس گزر چکے تھے ۔ شوہر کی صورت صرف ایک مرتبہ دیکھی تھی ۔ شادی کے فوراً بعد ہی اس کا شوہر گاؤں کے دیگر جوانوں کے ساتھ فوج میں شامل ہو کر میدان جنگ میں اترا اور انہیں کی طرح وہ بھی جنگ کے خاتمے کے بعد بھی لوٹ کر نہ آیا ۔ جھناکا کو نہ تو سسرال والوں نے پوچھا اور نہ ہی ماں باپ نے کہ خود ان ہی کے گزر بسر کے لالے پڑے ہوئے تھے ۔ ایسے میں لاپتہ شوہر کی بیوی کی دیہات میں کیا حیثیت ؟ اور جب اس نے ننھے سے وجود کو جنم دیاذہن میں سوالات کلبلانے لگے کہ بچے کو پانچ سیر دھان دینے وا لے چودھری کے لڑکے کے سر تھوپے یا گھسیٹے کے ، گیہوں نبانے کے بہانے گھر بلانے والے عیدو کے متھے تھوپے یا اس آدمی کے ، جو چودھری کے گھر آیا تھا اور ایک روپیہ دے گیا تھا ۔گاؤں والوں کو جب معلوم ہوا کہ جھناکا کو جلندھر نہیں تھا بلکہ بچے کی پیدائش کے آثار تھے تب عیدو ، فقیرا ، مولوی عنایت محمد ، پنڈت کیدار ناتھ اور چودھری سب ہی نے فیصلہ صادر کر دیا کہ وہ گاؤں میں نہیں رہ سکتی۔ جھناکا نے بھری پنچایت میں اپنا گھونگھٹ الٹ دیا اور :
جھناکا نے مغرور نگاہوں سے سارے مجمع کا دیکھا اور کہنے لگی
’’ چودھری یہاں کون ہے جو گنگا نہیں نہایا ! ‘‘
رخساروں پر خون کی ایک لہر دوڑ گئی۔ گھونگھٹ خود بخود چہرے پر آگیا ۔
جھناکا بچے کو گود میں لے کر چل دی۔
مجمع میںسے ہر شخص اسے اپنا بچہ سمجھ رہا تھا ۔
یک بابی ڈرامے ’سپاہی کی موت ‘ میں تعصب اور نسلی برتری کی ایک گھناونی تصویر نے عالم انسانیت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا لیکن اسی کے ساتھ ایک احساس بھی جنم لیتا ہے جو اس سپاہی کی بیوہ اور معصوم بچے کے درد سے آشنا ہے ۔ ’آدم زاد‘ میں جنگ کے ایسے اثرات جن میں گھروں کی عزت چند سیر چاول اور گیہوں کے لیے داؤ پر لگتی ہے اور پھر ایسے حالات میں جنم لینے والے بچے ، جنھیں دنیا میں لانے والے غیور مرد اپنانے سے گریز کرتے ہیں او ر ’منزل‘ میں حکومت سنبھالنے کی خاطر عوام سے جنگ کرنے اور انصاف کی گدے پر بیٹھ کر بے بس و لاچار اور نہتی عوام کو گولیوں سے بھون دینے اور زخمیوں کو جیلوں میں ٹھونسنے والے حاکم بھی معاشرے کی خرابیوں کے ذمہ دار اور جنگ کا ہی ایک حصہ ہوتے ہیں جبکہ جنگ خود معاشرے کی برائیوں کی ذمہ دار ہوتی ہے ۔ کئی سپاہیوں کی بیواؤں اور ان کے بچوں کے دلوں میں بسا ہوا درد ، کئی بیویوں کے ٹوٹتے انتظاراور سرمایہ داروں ، حاکموں اور مردوں کے ہاتھوں عوام ، غریبو ں اور عورتوں کے استحصال کو جعفری صاحب نے اپنی شاعری کا بھی موضوع بنایا ۔ ان کی غزل کا شعر غریب عوام کی زندگی کی تصویر پیش کرتا ہے :
؎کتنی آشاؤں کی لاشیں سوکھتیں دل کے آنگن میں
کتنے سورج ڈوب گئے ہیں چہروں کے پیلے پن میں
’پاپ‘ اندرا کی کہانی ہے جو ماں کے مرنے کے بعداپنے سوتیلے باپ کے ساتھ زندگی گزارتی ہے ۔ وہ نہایت شریف اور خدمت گزار لڑکی ہے لیکن ایک رات نشے میں دھت سوتیلے باپ ہی کی ہوس کا شکار ہو کر ایک بچی کی ماں بن جاتی ہے ۔یہاں سے اس کی زندگی میں موڑ آجاتا ہے اور نوجوانوں کی دل لگی کا سامان بن جاتی ہے ۔اس کی ملاقات ایک مسلمان لڑکے سے ہوتی ہے ۔ اندرا پورا یقین ہو جاتا ہے کہ وہ اس سے شادی کرے گا ۔ حاملہ ہونے پر جب وہ شادی کی بات کرتی ہے تو وہ لڑکا مذہب کا فرق بتا کر اسے ٹالنے کی کوشش کرتا ہے ۔ لڑکے کا جواب سن کر اندرا حسرت بھری ، آنسوؤں سے بھیگی آنکھوں سے کہتی ہے :
’’ تمھارا مذہب تمھیں میری جان بچانے سے روکتا ہے ، اچھا

یہ ایک جملہ اندرا کی بے بسی اور ڈھیر ہوتے ہوئے وجود کی مکمل تصویر پیش کرتا ہے ۔
’مسجد کے زیر سایہ‘ ایک ایسی ماں کی کہانی ہے جو کہیں کام نہ ملنے پراپنے بھوکے بچے کو لیے گلیوں سڑکوں پربھیک مانگتی پھرتی ہے ۔ باورچیوں کی دکانوں ، ہوٹلوں سے گرم گرم کبابوں اور روٹیوں کی خو شبو سے بچہ اور بلک رہا تھا ۔ ٹریم سے کسی شخص نے ایک پیسہ زمین پر پھینکا اور سارے فقیر اس پر ٹوٹ پڑے ۔ کسی طرح ماں کے ہاتھ پیسہ لگا لیکن بچہ گود سے گر نے لگا ۔ بچے کو سنبھالنے لگی توایک فقیر پیسہ جھولی میں ڈال کر چل دیا ۔ بچہ نہ تو سنبھالا جائے ، نہ پھینکا جائے ۔آخر وہ دیوانہ وار مسجد کی سیڑھیو ں کی طرف دوڑی اور ایک خوا نچے سے پانی میں بھیگے ہوئے بڑے دونوں مٹھیوں میں بھر کر بھاگی ۔ کئی آدمی اس کے پیچھے دوڑے ۔ اس نے آدھے بڑے اپنے منہ میں بھر لیے اور آدھے بچے کی طرف اچھال دیے۔ لوگوں نے اس کی پٹائی یہ کہہ کہہ کرکی کہ :
’’گورنمنٹ کو اس کا انتظام کرنا چاہیے ۔‘‘
’’ اسمبلی میں اس کے متعلق قانون پاس کرنے کی ضرورت ہے ۔‘‘
’’جو بھیک مانگے اسے سزا ملنی چاہیے ۔‘‘
لیکن بچہ سارے ہنگامے سے دور مٹی سے بھرے بڑے اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے سمیٹنے کی کوشش کر رہا تھا ۔
افسانے’ بارہ آنے ‘ کا کباڑی رات کے وقت کباڑ خانے کے عقبی کمرے میں تاڑی خانہ اور اوپری کمرے میں قحبہ خانہ چلاتا ہے جہاں مزدوری نہ پانے والی فاقہ کش کسانوں اور گھروں کی بیٹیاں مجبوراً بارہ آنے میں جسم فروشی پر مجبور ہو جاتی ہیں ۔ جمنا اس کہانی کاکردار ہے جسے رامی اپنے ساتھ اس قحبہ خانے پر لے آتی ہے ۔ آنسو بھری آنکھوں سے وہ رامی سے لوٹنے کی اجازت تو مانگتی ہے لیکن قرض کے بوجھ سے اپنے باپ کے جھکی ہوئی کمر اور ماں کے غمزدہ اور جھریوں بھرے چہرے ، بہن بھائی اور اپنے اس دیہات کے خیال سے جہاں آمدنی کی کوئی صورت نہیں ، اگلے دن آنے کا ارادہ کر لیتی ہے ، اس بات سے بے خبر کہ دو مزدور، ایک لنگڑا اور ایک کانا اس کے پیچھے آ رہے ہیں ۔
سردار جعفری نے ان تینوں افسانوں میں معاشرے کی خرابیوں اور اخلاقی مسائل کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ اندرا نے سوال اٹھایا ہے مذہب پر لیکن اس سوال کے تیر کی نوک کا رخ مذہب سے زیادہ اس لڑکے کی جانب ہے جس نے ایک مجبور اور بے بس لڑکی کا استحصال کرتے وقت مذہب کو یاد نہ کیا لیکن اسے اپنانے کے لیے مذہب کا فرق یاد آیا ۔ مذہب کی تعلیمات کو اپنے شوق و ہوس میں تو بھول گیا لیکن اندراکو زندہ در گور کرتے وقت اسے مذہب یاد آ گیا ۔کیا یہی مذہب ہے ؟ مسجد علامت ہے سکون کی ، برابری کی ، زندگی کے متوازن اصولوں کی ۔ مسجد ، جہاں امیری غریبی ، محمود و ایاز اور بندہ و بندہ نواز کا فرق مٹ جاتا ہے ۔ عبادت ، ذریعہ ہے خدا تک پہنچنے کا اور خدا کی تعلیمات پر عمل کرنے کا ۔ اسی مسجد کے زیر سایہ ایک بھوکے بچے کی ماں بڑے چرانے پر مجبور ہے ۔ایک طرف اس خدا کا گھر ہے جو مساوات ، بھوکے پیٹ کو بھرنے اور برہنہ تن کو ڈھانکنے کا حکم دیتا ہے اور دوسری طرف بچے کی بھوک ، جسے ماں دور کرنا چاہتی ہے ۔ سردار جعفری نے معاشرے کی ایسی کمزوری کی طرف اشارہ کیا ہے جس پربڑے بڑے لوگوں کی بڑی بڑی باتیں ، فلاح و بہبودی ، نیکی ، غربا و مساکین کی مدد ، بہو بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کی باتیں ہی باتیں ہوتی ہیں جبکہ حقیقتاً سب بے معنی ہے ۔
سردار جعفری نے جہاں زندگی کے مختلف پہلوؤں اور معاشرے کی خامیوں کی طرف اشارہ کیا ہے وہیں انھوں نے عورت کی پختگی اور سماج سے لڑنے کی ہمت کی بھی داد دی ہے ۔ پھر وہ’ آدم زاد ‘ کی جھناکا ہو جو زندگی کے طوفانوں سے لڑنا جانتی ہے اور چودھری کے لڑکے کو تڑخ کر جواب دیتی ہے کہ :
’’ بھیا چلوریا تھکت ہے ، ڈگریا ناہیں تھکتی ۔‘‘
یا’ منزل‘ کی فاطمہ جو ان حاکموں پر چوٹ کرتی ہے جو حکومت کے ہاتھوں مجبور ہو جاتے ہیں :
’’ اگر حکومت ظالم ہے تو حاکم کیوں بنتے ہیں۔‘‘
یہ کہہ کر وہ نہ صرف انگریزی حکومت کے ظلم کے خلاف آواز اٹھاتی ہے بلکہ اس ظالم حکومت کے لیے اپنی خدمات پیش کرکے ظالم حاکم بننے پر طنز کرتی ہے ۔سردار جعفری نے اپنی تمثیلی نظم’ نئی دنیا کو سلام ‘ میں مریم کا پیکر بعد میں تراشاجبکہ پہلے ہی سے ان کے یہاں عورت کا تصور نہایت صاف ستھرا اور نکھراہوا سا رہا ہے ۔ان کی نظر میں عورت محض حسن و جوانی کا پیکر اور خلوت کی ساتھی نہیں بلکہ وہ نا انصافی کے خلاف احتجاج کی علامت بھی ہے ، چاہے وہ احتجاج کسی مرد کے خلاف ہو ، معا شرے کے خلاف ہو یاپھر حکومت کے خلاف ۔اسی تصور کو انھوں نے اپنے چند افسانوں کے پیکر میں ڈھالنے کی اولین کوشش کی ہے جو بعد میں ان کی نظموں میں مکمل وجود پا گیا اور وہ کہہ اٹھے کہ عورت :
ع تبسم نہیں صرف ، تلوار بھی ہے
بقول سردار جعفری ، انھوں نے ایشیائی افلاس کے بد ترین نمونے دیکھے ہیں ۔ دیہاتوں میں ایسی غربت دیکھی کہ لاکھوں آدمی چوبیس گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا کھاتے ہیں ۔ ۱۹۳۳ء میں ان کی عمر بیس برس تھی ۔اتنی کم عمری میں انھوں نے سرمایہ داروں کو غریبوں کا استحصال اور حق تلفی کرتے دیکھا ۔ کسانوں کی پیٹھوں پر لدی اینٹیں ، پیڑوں پر بالوں سے لٹکی عورتیں ، کسان عورتوں کی کسی معمولی جرم کی پاداش میں برہنگی اور پتلی سوکھی ٹا نگیں اور برے سے پیٹ والے بیمار بچے دیکھے ۔ یہ تمام معاشرتی خرابیاں جن کی ذمہ دار جنگ بھی ہے اور یہی تمام باتیں انھیں پریشان کرتی رہیں ۔ ۴ ؎ ممبئی یونیورسٹی میں ۲۴،۲۵ دسمبر کو سردار جعفری کی فن اور شخصیت پر منعقدہ قومی سیمینار میں ڈاکٹر انور ظہیرانصاری ( بڑودہ ) نے کہا تھا :
’’ سردار جعفری نے یہ افسانے جس سن میں لکھے ہیں اس وقت ان کی عمرغالباً ۲۳ یا ۲۴ برس ہوگی ۔ اس عمر میں ان کی سوچ اور نظر کتنی گہری تھی ، اس کا اندازہ ان کے افسانوں سے ہوتا ہے ۔‘‘
سردار جعفری کی پیدائش ۱۹۱۳ ء کی ہے اور یہ افسانے ۱۹۳۶ء سے ۱۹۳۸ ء کے درمیان لکھے گئے ہیں ۔ اس لحاظ سے ان کی عمر ۲۳ برس ہوگی ۔ اس عمر میں اتنی گہری نظر اور اتنا وسیع مشاہدہ معمولی بات نہیں ہے جبکہ عمر کا یہ دور لا ابالی اور کھلنڈرے پن کا ہوتا ہے ۔بعد میں جب انھوں نے شاعری کو اپنا مطمح نظر بنایا تب انھوں نے اپنے اسی مشاہدے اور نظر کی گہرائی اور گیرائی کو اشعار کا نہایت خوبصورت جامہ پہنایا اور زخمی ماحول کی آسودہ منزل کے لیے صدا بلند کی :
؎ زخمی سرحد ، زخمی قومیں ، زخمی انساں ، زخمی ملک
حرف حق کی صلیب اٹھائے کوئی مسیح تو آئے اب
سردار جعفری کے ان افسانوں میں زندگی کے کئی رنگ دکھائی دیتے ہیں ۔ معاشرے کی خرابیاں تو ہیں ہی ، استحصال تو ہو رہا ہے لیکن کون کس کا استحصال کر رہا ہے ؟ کہیں حاکم رعایا کا تو کہیں مرد عورت کا اورکہیں احساس برتری کمزور و ناتواں کا ۔ان سب سے بڑھ کر کہیں تو خود عورت ، عورت کا استحصال کرتی ہے تو کہیں غریب خود غریب کا ۔استحصال تو کل بھی ہو رہا تھا ، آج بھی ہو رہا ہے لیکن ترقی پسند مصنفین کے اعلان نامے کے مطابق جس منزل کی بات سردار جعفری نے اپنے پیش لفظ میں کی ہے ، اگر وہاں تک پہنچ گئے تو شاید معاشرے میں کچھ سدھار دکھائی دے ۔ ان کا خواب انقلاب لانا ہے ، ان کا خواب اسی آسودہ منزل تک پہنچنا ہے ۔ بقول سردار جعفری :
’’ یہ افسانے ہندوستان کی اس تحریک کی پیداوار ہیں جس نے زندگی کا تصور بدل دیا ہے ۔اس لیے ان میں اس تلخی کا احساس باعث تعجب نہیں جو درمیانی طبقہ کی طبع نازک پر گراں گذرے گی ۔ مگر اس کو کیا کیا جائے کہ ہمارا موجودہ نظام زندگی کچھ ایسا ہی ہے ۔‘‘ ۵؎
علی سردار جعفری کے افسانے موجودہ نظام کے ناسوروں کا مداوا چاہتے ہیں۔ ان کا خواب ایک ایسی دنیا کا ہے جو اس نظام میں پل رہی قابل نفرت چیزوں سے پاک ہو اور اس خوشگوار دنیا تک پہنچنے کے لیے راہ میں حائل تمام رکاوٹوں کو روندنا ہے ۔ یہی ان کی منزل ہے جسے انھوں نے آنے والے انقلاب کے نام معنون کیا ہے ۔
٭٭٭
حواشی :
۱؎ سردار جعفری : ترقی پسند ادب ، مطبوعہ یونین پرنتنگ پریس ، ۱۹۵۰ء اور ۱۹۵۷ء ، دہلی ۔ ص ۲۴
۲؎ عتیق احمد : سردار جعفری کے افسانے ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۵۵۸
۳؎ رام لعل : سردار جعفری سے گفتگو ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۴۵
۴؎ سردار جعفری : خود نوشت ، افکار : سردار جعفری نمبر ، زیر اہتمام افکار فاؤنڈیشن ، نومبر دسمبر ۱۹۹۱ء ، کراچی ۔ ص ۶۴۴
۵؎ سردار جعفری : پیش لفظ ، منزل ، مطبوعہ حلقہ ادب لکھنؤ ۔ ص۵

Meer Anees by Mohammad Raza

Articles

میر انیس از دیدگاہ بزرگان

محمد رضا ایلیاؔ

میر،غالب،انیس،اقبال، جوش ،فراق اور فیض اردو شاعری کے اہم ترین نام ہیں۔ انیس نے مرثیہ کی صنف میں جس طرح اپنی خود ساختہ صلا حیت کا لو ہا منوایا ہے وہ مرتبہ دوسرے کسی اور شاعر کو نصیب نہیں ہوا۔
میرانیس نے اپنی شاعری کا آغاز غزل سے کیا تھا اور کم عمری ہی میںاپنی صلا حیت کا جوہر دکھا نے شروع کر دیئے تھے۔ لیکن والد کی ہدایت پر کہ’’ اپنی آخرت کیلئے کچھ کرو‘‘ انیس نے غزل کو خدا حافظ کہا اوراپنا سارا کلام صحن کی حوض میں پھینک دیا جو یقینا اردو شاعری پر ستم تھا۔ اسکے بعد انیس نے ساری شاعری اہلبیت علیہم السلام کیلئے وقف کردی اور پھر مڑ کر غزل کی طرف نہیں دیکھا۔ یہی وجہ ہے کہ انیس کے مرثیوں میں تغزل بدرجہ اتم موجود ہے اور اسی چیز نے انیس کے مرثیوں کو جلا بخشی ہے۔
میر انیس کی پیدائش کے حوالے سے دو روایات موجود ہیںپہلی یکم جنوری ۱۸۰۲ء کی اور دوسری ۱۸۰۳ء کی تاہم زیادہ تر محققین نے ۱۸۰۳ء ہی کو درست قرار دیا ہے۔ انیس کے سن وفات پر تمام محققین کا اتفاق ہے اور انکی وفات ۱۸۷۴ء میں بہتر تہتر برس کی عمر میں ہوئی۔ میر انیس اتر پردیش میںضلع فیض آباد کے محلہ ’’گلاب باڑی‘‘ میں پیدا ہوئے ۔ انیس کے والد میر خلیق اور دادا میر حسن( مثنوی سحر البیان اور بدر منیر کے خالق) اپنے عہد کے معروف شعرا میں شمار ہوتے تھے۔آپ کے مو رث اعلیٰ میر امامی شاہجہاں کے عہد میں ایران سے ہندوستان آئے تھے اور اپنے علم و فضل کی بدولت اعلیٰ منصب پر فائز رہے ۔ ان کی زبان فارسی تھی لیکن ہندوستانی اثرات کے سبب دو نسلوں کے بعد ان کی اولا د فصیح و بلیغ اردو زبان بولنے لگی ۔
مسعود حسن رضوی نے میر انیس کاخاکہ یوں کھینچا ہے :
’’میر انیس قدرے دراز قامت ، ٹھوس ، اور متناسب جسامت کے مالک تھے ، خوبصورت کتابی چہرہ ، بڑی بڑی آنکھیں ، صراحی دار گردن ، ذرا بڑی مو نچھیں اور با ریک داڑھی کہ جو دور سے تر شی ہوئی محسوس ہو ۔میر انیس کا یہ سراپا سامعین کو شعر کے ساتھ ساتھ ان کی شخصیت کا بھی گر ویدہ بنا دیتا تھا ۔ انیس کا پسندہ لباس دو پلی ٹو پی ، لمبا گھیر دار کر تااور شکن دار پا جامہ تھے کہ یہی اس زمانے کے شرفاء اور ذی علم افراد کا لبا س ہوا کر تا تھا ۔ ‘‘
انیس کے بیٹے میر نفیس کے نواسے میر عارف کی ایک تحریری یاداشت سے پتہ چلتا ہے کہ۱۸۵۷ء کے بعد انیس نے محلہ سبزی منڈی چوک لکھنؤ کے عقب میں واقع رہائش گاہ میں۱۹۷ بند یعنی ایک ہزار ایک سو بیاسی مصرعوں کا یہ مرثیہ ’’ جب قطع کی مسافت شب آفتاب نے ‘‘ایک ہی رات میں تحریر کیا اور گھر کے عشرے میں پڑھا جو انیس کے شاہکار مراثی میں سے ایک ہے۔
انیس نے اپنی آخری آرام گاہ کے لیے۲۳ جولائی۱۸۷۱ء کو ایک وسیع زمین گھر کے قریب ہی تدفین کی خاطر ۱۰۰ روپے میں خرید لی تھی۔ ۱۸۷۴ء میں ۲۴ رمضان المبا ک کو انیس بیمار ہوئے اور ابتدا میں ہونے والا بخار مرض الموت کا سبب بن گیا اور اس طرح یکم دسمبر۱۸۷۴ء کو بوقت مغرب یہ آفتاب شاعری ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔غفران مآب کی امام بارگاہ میں محترم سید بندے علی نے ا نیس کی نماز جنازہ پڑھائی اور انہیں سبزی منڈی چوک میں اپنے ہی گھر کے باغ میں سپرد خاک کیا گیا۔ زندگی کے آخری ایام میںایک سلام میر انیس کہہ رہے تھے مگر وہ پورا نہ ہو سکا اور ان کی روح معبود حقیقی سے جاملی وہ کلام مجھے محترم علی احمد دانش سے ایک ملاقات میں دستیاب ہوا جس کی اصل کا پی ان کے پاس ہے اس سلام کا فوٹو میں نے اپنے مو بائل سے لے لیا تھا اور میں شکر گزار ہوں محترم علی احمد دانش کا جو انہوں نے کلام کے علا وہ میر انیس کا قلم اور ان کی ٹوپی وغیرہ کی زیا رت کرائی اور بہت باتیں میر انیس کے متعلق بتائیں جو میرے لیے بہت زیا دہ کارگز ثابت ہوئیں ۔ وہ سلام ملاحظہ ہو
عمر بھر کے آشنا نا آشنا ہوجائیں گے
قبر تک پہنچا کے ہم کو سب جدا ہو جائیں گے
تا لحد دنیا میں ہے فقر و غنا کا امتیاز
قبر میں یکساں سب ہی شاہ و کدا ہو جائیں گے
پھیر کر منھ مجھ سے جس دم سب جدا ہو جائیں گے
میرے مونس خود علی مرتضیٰ ہوجائیں گے
کثرت عصیاں سے کیا ڈر ہے کہ خالق ہے رحیم
مرحلے آسان سب روز جزا ہوجائیں گے
رائیگاں کیا جائیں گے اشک غم سبط رسولؐ
کشت ایماں کے لیے وجہ بقا ہوجائیں گے
اکبر مہر کی صورت دیکھ کر کہتے تھے شاہ
یہ جواں ہوکر شبیہ مصطفی ہوجائیں گے
طے کروں گا دم میں بے خوف و خطر راہ صراط
ہادی و حامی علی مرتضیٰ ہوجائیں گے
اب نہ رؤ ائے سکینہ کہتی تھی زنداں میں ماں
پاس بابا کے چلیں گے جب رہا ہو جائیں
دستور زما نہ کے مطابق انیس نے بھی اپنی شا عری کا آغاز غزل سے کیا تھا ۔ ان کے والد میر خلیق مر ثیہ کی طرح غزل کے بھی استاد ما نے جا تے تھے فیض آباد میں جب تک رند اور رشک کے قیام کے باوجود ۔ میر انیس اپنی غزلوں پر اصلا ح اپنے والد ہی سے لیتے تھے ۔ پہلے حزیں تخلص تھا ۔شیخ امام بخش نا سخ کی فرمائش پر تبدیل کر کے انیس اختیار کیا ۔ انیس فارسی نظم و نثر لکھنے پر بھی قادر تھے عربی ، فارسی ، قرآن و حدیث و تاریخ کے علا وہ فنون شہسواری و سپہ گری کی تعلیم بھی نامی اور قابل فخر اسا تذہ میر نجف علی فیض آبادی ور مفتی حیدر عباس سے حا صل کی ۔
رفعت عبا س زیدی ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۹ کے عالمی اخبا ر میں یوں رقم طراز ہیں :
’’میر ببر علی انیس کے بارے میں میں صرف یہ کہوں گا کہ میں ان کا عا شق ہوں اور میرا اپنا نظریہ یہ ہے کہ انیس دنیا کے تمام شا عروں پر بھاری ہیں ۔ ان کے مر ثیے تو لا جواب ہیں ہی اور ان پہ کچھ لکھنا اتنی مختصر حیات میں ممکن نہیں لیکن میں آج ان کی غزلوں کے اشعار سے آپ کو با خبر کر نا چاہوں گا۔سب سے پہلے میں ان کی زندگی کا وہ پہلا شعر پیش کر رہاہوں جو انہوں نے آٹھ برس کی عمر میں اپنے والد کے دوست معروف شا عر شیخ امام بخش نا سخ کے سامنے سنا یا جس پر ناسخ ششد ر رہ گئے اور پیشنگوئی کر دی ۔ایک دن آئے گا کہ انیس کی زبان اور شا عری کی عالمگیر شہرت ہو گی یہ بچہ سلطنت شعر کابادشاہ بنے گا۔ ‘‘
وہ شعر ملا حظہ فر مائیں :
کھلا باعث یہ اس بیداد کے آنسو نکلنے کا
دھواں لگتا ہے آنکھوں میں کسی کے دل کے جلنے کا
محمد حسین آزاد انیس کی غزل گوئی کے بارے میں لکھتے ہیں :
’’ ابتدا میں انہیں بھی غزل کا شوق تھا ۔ ایک موقع پر کہیں مشا عرے میں گئے اور غزل پڑھی اور وہاں بڑی تعریف ہوئی شفیق باپ سن کر تو بہت با غ با غ ہوئے مگر ہو نہار فرزند سے پو چھا کل رات کو کہاں گئے تھے ۔ انہوں نے حال بیان کیا خلیق نے غز ل سنی اور فر مایا اب اس غزل کو سلام کرو اور اس شغل میں زور طبع صرف کرو جو دین و دنیا کا سر مایہ ہے ۔ سعادت مند بیٹے نے اس دن سے قطع نظر کی اور غزل مذکورہ کی طرح میں سلام کہا ۔‘‘ ( آب حیات ص ۵۱۹، محمد حسین آزاد )
شروع شروع میں میر انیس مرثیہ پڑھنے کے لیے ہر سال لکھنؤ آتے رہے مگر جنگ آزادی کی تباہی کے بعد وہ لکھنؤ چھوڑ کر کچھ عرصہ کاکوری میں مقیم رہے پھر امن و امان کے بعد لکھنؤ واپس تشریف لائے اور محلہ سبزی منڈی میں رہائش اختیار کی۔سن ۱۸۴۳ء میں انیسؔ چالیس برس کی عمر میں جب لکھنؤ آئے تھے تو مرزا دبیر کا طوطی بول رہاتھا ہر جگہ پر دبیر کے قصیدے پڑھے جاتے تھے ۔یہ بات قابل ذکر ہے کہ مر زا دبیر کو کلام کے سمجھنے کی صلاحیت کچھ خا ص لو گوں تک محدود تھی ۔ جیسے علما ء ، اسا تذہ ،، ادبا، طلاب یا وہ جو اردو ، فارسی اور عربی کا علم رکھتے ہوں ایک سادہ عام آدمی ان کے کلام کو سمجھ نہیں سکتا تھا کیوں کہ ان کی شا عری میں عر بی، فارسی اور اردو تینوں زبانوں کے ملے جلے الفاظ پائے جاتے تھے ۔
وہیں اس ماحول میں انیس نے جن الفاظ کا اپنے کلام میں استعمال کیا وہ عام فہم تھے ۔ انیس نے پہلے لکھنؤکے ماحول کابھر پور جائزہ لیا اور انہوں نے اردو زبان و ادب کو عا م فہم مر ثیہ کی شکل میں ایک نایاب اور بیش بہا تحفہ دیا ۔ بعض لو گوں میں یہ مغالطہ پیدا ہو گیا ہے کہ انیس جب لکھنؤ آئے تو انہوں نے لکھنؤ کے زبان و ادب ، تہذیب و ثقافت (گہوارۂ اردو زبان و ادب )سے کسب فیض کیاجب کہ یہ بالکل غلط ہے میر انیس نے اپنے خاندان اور اپنے گھر کی زبان، طرز زندگی سب کچھ مر ثیہ کی شکل میں اہل لکھنؤ کوبطور تحفہ عطا کیا جس کی وجہ آج لکھنؤ پہنچانا جاتا ہے ۔ اہل لکھنؤ یہ فخر نہ کریں کہ لکھنؤ نے انیس کوشناخت دی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انیس نے لکھنؤ کوایک پہچان دی اور وہ سر مایہ جو وہ فیض آباد سے لائے تھے لکھنؤ کے سپرد کر دیا۔ یہ بات اچھی طرح یاد رکھنی چاہئے کہ انیس ۴۰ سال کی عمر کے بعد فیض آباد سے لکھنؤ وارد ہوئے تھے۔ ان تمام باتوںکا اعتراف کر تے ہوئے مولانا آزاد کچھ اس طرح بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں ملا حظہ کیجئے
’’جس طرح انیس کا کلام لاجواب تھا اسی طرح ہی ان کا پڑھنا بھی بے مثال تھا ۔ ان کے گھرانے کی زبان اردو معلیٰ کے لحاظ سے تمام لکھنؤ میں سند تھی ۔ان کے ذریعہ ہماری نظم کو قوت اور زبان کو وسعت حاصل ہوئی ۔ انیس کا کہنا تھا کہ نہ لکھنؤ کا ان کی زبان سے کوئی تعلق ہے اور ان کی زبان کا لکھنؤ سے کوئی تعلق ہے ۔ (مر ثیہ میں جو زبان استعمال ہوئی ہے )یہ ان کے گھر کی زبان ہے ۔ ‘‘
نجم سبطین اپنے ایک مضمون ’’ شاعری اور کربلا ‘‘میں انیس کے معمولات کا ذکر کر تے ہوئے تحریر کر تے ہیں :
’’ انیس کا معمول تھا کہ شب بھر جا گتے اور مطالعہ و تصنیف میں مصروف رہتے تھے ۔ ان کے پاس دوہزار سے زائد قیمتی اور نایاب کتب کے ذخیرے موجود تھے ۔ نماز صبح پڑھ کر کچھ گھنٹے آرام کر تے تھے ۔ بعد دوپہر بیٹوں اور شا گروں کے کلام کی اصلا ح کر تے تھے ۔ محفل احباب میں عقائد اور علوم وعر فانیات پر گفتگو کرتے تھے ۔میر انیس کے نواسے میر سید علی کا بیان ہے کہ میر انیس کے متعلق آئینہ لے کر مشق مرثیہ خوانی کر نے روایت بالکل غلط ہے نہ کہ کمال ادائیگی دیکھ کر کچھ لوگوں نے از خود یہ سمجھ لیا تھا کہ آئینے کے رو برو مشق کر تے ہوں گے ۔ ‘‘
سعادت خاں نا صرمیر انیس کی غزل کے بارے میں اپنے خیالا ت کا یوں اظہار کرتے ہیں :
’’ عالم شباب میں چندے مشق غزل گوئی رہی ۔ ‘‘ ( تذکرہ خوش معرکہ زیبا ص ، ۳۰۵ ، سعادت خاں ناصر ۔)
آزاد کے مذکورہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب لکھتے ہیں :
’’ اس جملے ( اب اس غزل کو سلام کر و) کے دو معنی ہو سکتے ہیں ایک یہ کہ اس زمین میں سلام کہو اور دوسرے یہ کہ اب غزل گوئی ترک کرو۔ سعادت مند فرزند نے ان دونوں معنوں میں والد محترم کے حکم کی تعمیل کی یہ کسی نے نہیں لکھا کہ وہ کون سی غزل تھی لیکن میر انیس کی ایک غزل کے چند اشعار اور اس طرح میں ایک سلام ملتا ہے ۔ غزل کے اشعار حسب ذیل ہیں۔ ان سے اندازہ ہو تا ہے کہ شاید یہ وہی غزل ہو ۔ ‘‘
اشارے کیا نگہ ناز دلربا کے چلے
ستم کے تیر چلے نیچمے قضا کے چلے
پکار ے کہتی تھی حسرت سے لاش عاشق کی
صنم کدھر کو ہمیں خاک میں ملا کے چلے
مثال ماہیٔ بے آب موج تڑپا کی
حباب پھوٹ کے روئے جو تم نہا کے چلے
اس طرح میں سلام کے چو دہ اشعار ہیں ان میں سے چند ملا حظہ کیجئے
گنہ کا بو جھ جو گردن پہ ہم اٹھا کے چلے
خدا کے آگے خجا لت سے سر جھکا کے چلے
مقام یوں ہوا اس کار گاہ دنیا میں
کہ جیسے دن کو مسافر سرا میں آکے چلے
ملا جنہیں انہیں افتادگی سے اوج ملا
انہیں نے کھائی ہے ٹھوکر جو سر اٹھا کے چلے
ملی نہ پھولوں کی چادر تو اہل بیت کرام
مزار شاہ پہ لخت جگر چڑھا کے چلے
اس سلام کا مقطع بہت مشہور ہوا تھا :
انیس دم کا بھروسا نہیں ٹھہر جاؤ
چراغ لے کے کہاں سامنے ہوا کے چلے (۱)
(۱) انیسیات ص ۱۶۲،۱۶۳، پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب ، اتر پر دیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱ء
ڈاکٹر نیر مسعود نے بھی اپنی کتاب میں ان ہی اشعار سے غزل اور سلام کا حوالہ دیا ہے جو انیس کی غزل گوئی ترک کرنے سے تعلق رکھتے ہیں قیاس بھی یہی کہتا ہے کہ یہی میر انیس کی آخری غزل ہو گی ۔ تاہم بقول ادیب صا حب :
’’ البتہ میر صا حب کے سلاموں میں ایسے بہت سے اشعار ملتے ہیں جو غزل کا باعث ہوسکتے ہیں ۔‘‘
(انیس ص ۴۲ ، پر وفیسر نیر مسعود رضوی ، قومی کا ؤنسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۔ ۲۰۰۲۔ )
ادیب صا حب کے آخری جملے سے ذہن اس طرف جاتا ہے کہ انیس کے بعض سلاموں میں تغزل کے اشعار شاید پہلے ان کی غزلوں کے اشعار رہے ہوں جنہیں بعد میں انہوں نے سلام کے پیکر میں ڈھال دیا ہو۔ اس خیال کے ابھرنے کا سبب یہ ہے کہ انیس کے کئی سلام اس زما نے کی غزلوں کی طرح نظر آتے ہیں ۔ ان غزلوں کے کئی اشعار سلام کے شعر معلوم ہوتے ہیں ۔ مثلاً
ہمراہ آہ سرد بہیں اشک گرم بھی
باراں کا لطف خوب ہے ٹھنڈی ہوا کے ساتھ
میر انیس کا ایک مشہور سلام ہے :
بین اے مجرئی قاسم کی دلہن کیا جا نے
بیا ہی اک شب کی رنڈاپے کا چلن کیا جانے
اسی زمین میں طالب علی عیشی کی غزل ہے ۔ اس غزل کا مقطع ہے
کیوں نہ کم ربتہ غزل اپنی سمجھو عیشی
نافع کی قدر کو آہوئے ختن کیا جانے
انیس کے مصرعے بھی عیشی کی غزل کے مصرعوں کے طرح اچھے تغزل کے نمونے ہیں ۔ مثلاً
چھد گیا کس کا جگر تیر فگن کیا جانے
مرغ بے بال بھلا سیر چمن کیا جانے
انیس کے زمانے میں شعر گوئی کے دو انداز عام تھے۔ ایک انداز تو وہی قدیمی تھا جس کی روش سے میر تقی میر کو ’’خدائے سخن‘‘ تسلیم کیا گیا تھا، لیکن اس انداز کو دہلوی شعرا سے منسوب کیا جاتا تھا۔یعنی تغزل میں داخلی افکار کی پیشکش جسے عرف عام میں فصاحت کہا جاتا ہے۔ دوسرا انداز وہ تھا جسے لکھنؤ میں ناسخ اور ان کے شاگردوں اور پیرو کار وں نے شہرت کے بام عروج پر پہنچایا تھا اور اس انداز میں الفاظ کی شعبدہ بازی اور صناعی کو زیادہ دخل حاصل تھا۔ انیس کے فن کو پوری طرح سمجھنے کے لیے یہ جاننا بے حد ضروری ہے کہ انیس کی شعری شخصیت اس دکھاوے کا رد عمل ہے جس شاعری کا اس زمانے میں لکھنؤ میں دور دورہ تھا۔ انیس کا رویہ اس سے بالکل مختلف ہے۔ انیس صرف دعویٰ نہیں کرتے بلکہ اس پر عمل بھی کرتے ہیں۔
یہ فصاحت یہ بلاغت یہ سلاست یہ کمال
معجزہ گر نہ اسے کہیے تو ہے سحر جمال
انیس کی غزلوں میں سلام کے اچھے اشعار کی نایابی اور سلاموں میں اچھے تغزل کے اشعار دیکھ کر یہ خیال ہو تاہے کہ میر انیس نے جب غزل چھو ڑ دی تو اچھے مصرعے یا اشعار اپنے سلاموں میں کھپا لیے ہوں گے ۔ لیکن اس خیال کی کوئی دوسری شہادت موجود نہیں ہے اور راقم کا خیال بس خیال ہی ہے ۔ میر انیس کی غزل گوئی چھوڑنے کی وجہ جو اوپر بیان کی گئی ہے یعنی والدمحترم کے حکم کی تعمیل لیکن اس کا اصل سبب بقول ادیب صا حب :
وہ غیر معمولی ملکہ شاعری تھا جس کا اظہار غالب نے یوں کیا ہے ۔
بہ قدر شوق نہیں ظرف تنگنائے غزل
کچھ اور چاہئے وسعت مرے بیاں کے لیے
بعض غزل گو شا عروں کے سلسلے میں میر انیس کے چند جملے جو آزاد کے حوالے سے درج کیے جاتے ہیں ملا حظہ کیجئے ذوق کے بارے میں آزاد نے انیس کی رائے جاننا چاہی ۔
انیس کا جواب تھا :
’’ فر مایا کہ میاں سید میر کے بعد پھر دلی میں ایسا شاعر کون ہوا ہے ۔ ‘‘
(آب حیات ص نمبر ۵۴۸۔ محمد حسین آزا د)
آزادہی کا بیان ہے کہ انہوں نے میر انیس کے سامنے ذوق کا یہ مطلع پڑھا :
کوئی آوارہ تیر ے نیچے اے گردوں نہ ٹھہرے گا
مگر تو بھی اگر چاہے کہ میں ٹھہر وں نہ ٹھہرے گا
میر انیس نے یہ مصرعہ دو بارہ پڑھوا یا اور کہا
’’ صا حب کمال کی بات یہ ہے کہ لفظ جس مقام پر اس نے بٹھایا ہے اس طرح پڑھا جائے تو ٹھیک ہوتا ہے نہیں تو شعر رتبے سے گر جاتا ہے ۔‘‘
(آب حیات ص نمبر ۴۷۵ ۔ محمد حسین آزاد )
اس سلسلے میں چند واقعات کا ذکر سید امجد علی اشہری نے بھی کیا ہے جسے من و عن نقل کیا جاتا ہے ۔ ملاحظہ کیجئے
میر قربان علی سالک شاگر د مر زا غالب اپنی بیاض میں ۱۸۶۱ ء کی یادداشت لکھتے ہیں :
’’ دو مہینے سے لکھنؤ میں وارد ہوں دلی میں مر زا غالب اور استادذوق کی ہوائیں دیکھتا سنتا تھا مگر یہاں میر انیس اور مر زا دبیر کی معرکہ آرائی کا عالم نرالا ہے ۔ مر زا غالب کو یگانہ فن کے لفظ سے یاد کیا اور ذوق و مومن کی نسبت فرمایا ذوق شاہی دربار کے شاعر اور مومن اپنی طبیعت کے بادشاہ ہیں پھر حکیم مو من خاں کا یہ شعر پڑھا :
نہ کچھ شوخی چلی باد صبا کی
بگڑنے میں بھی زلف اس کی بنا کی
پڑھنے کے بعد ایک چپ سی لگ گئی جیسے کوئی حسین صور ت سامنے ہے اور ہوا اس کی زلف اڑا رہی ہے اور میر صا حب اس کو دیکھ کر کلام کے مزے لے رہے ہیں ۔ ایک روز فر مانے لگے دلی کا کچھ کلام سناؤ میں نے مرزا غالب کی یہ غزل پڑھی ۔
باز یچہ اطفال ہے دنیا میرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تما شا میرے آگے
ایماں مجھے روکے ہے تو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ میرے پیچھے ہے کلیسا میرے آگے
پھر اپنی غزل پڑھی اس کا ایک شعر یہ ہے :
دنیا میں مجھے خاک اڑانے نے ڈبویا
ہر بار نکل آتا ہے دریا میرے آگے
اس شعر پر فرمایا خوب کہا ہے ۔ یہ کہہ کر فر ما نے لگے لکھنؤ والے ’’روکے ہے‘‘ ،’’کھینچے ہے‘‘ نہیں بولتے ہیں ۔ (حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء )
انیس نے ہر لفظ کو اس کے مقام استعمال پر رکھ دیا ۔انہوں نے لفظ کو بر محل اور بہتر محل پراستعما ل کیا ہے تب جاکے الفاظ اورزیا دہ با معنی ہو گئے ۔منظر نگاری میں ان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا ہے ۔ اہل زبان و ادب کو ان کے سامنے سر بہ سجو د ہو نا پڑے گا۔ انیس اردو ادب کو الفاظ کابر محل استعمال کر نا بتا گئے ۔ الطاف حسین حالیؔ انیسؔ کو فر دوسی کا ہم پلہ بتاتے ہیں :
’’الفاظ کو خوش سلیقگی اور شائستگی سے استعمال کرنے کو اگر معیار کمال قرار دیا جائے تو بھی میر انیس کو اردو شعرا ء میں سب سے برتر ماننا پڑیگا۔ میر انیس کے ہر نقطہ اور ہر محاورہ کے آگے ہر اہل زبان کو سر جھکا نا پڑتا ہے۔ اگر انیس چوتھی صدی ہجری میں ایران میں پیدا ہوتے اور اسی سوسائٹی میں پروان چڑھتے جس میں فردوسی پلا بڑھا تھا وہ ہرگز فردوسی سے پیچھے نہ رہتے۔ ‘‘
سید شریف الحسن شریف العلما کے ایک خط کا حوالہ سید مسعود حسن رضوی نے دیا ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :
’’ سید شریف العلما اپنے خط مو رخہ ۱۶؍ ذی الحجہ ۱۲۸۷ ھ ؍ ۲۱؍ ما رچ ۱۸۷۱ء میں لکھتے ہیں کہ حیدر آباد میں ایک دن میر انیس نے میر تقی میر کے یہ دوشعر پڑھے ۔
تیری گلی میں ہم نہ چلیں اور صبا چلے
یو نہی خدا جو چاہے تو بندے کا کیا چلے (۱)
(۱) یہ شعر میر کا نہیں درد کا ہے ۔ ادیب ، انیسیات ص ۱۶۴ ۔
تھمتے تھمتے تھمیں گے آنسو
رونا ہے کچھ ہنسی نہیں ہے
اس مو قع پر شریف العلما کو سہوہوا ہے ۔ پہلا شعر میر تقی میر کا نہیں بلکہ خواجہ میر درد کا ہے ۔
اس طرح کا ایک اور واقعہ میر انیس کے ایک معتقد مولوی میر حامد علی نے میر انیس کے سامنے یہ شعر پڑھا
روشن ہے اس طرح دل ویراں میں داغ ایک
اجڑے نگر میں جیسے جلے ہے چراغ ایک
میر صاحب لیٹے تھے یہ سن کر اٹھ بیٹھے ایک اف کی اور فر مایا کہ اب میں بڑھا پے میں ایسے شعروں کی تاب نہیں لا سکتا اس سن میں ایسے تیر نہیں کھا سکتا پھر میر صا حب نے اس شعرکے سلسلے میں فرمایا کہ پرانے زما نے میں جب کسی بستی پر شاہی عتاب نازل ہوتا تھا تو وہ بستی ویران کر دی جاتی تھی اور اس میں کسی نمایاں مقام پر ایک چراغ جلا دیا جا تا تھا ۔‘‘ (انیسیات ص ۱۶۴، ۶۵۔ سید مسعود حسن رضوی ادیب ، اترپردیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱۔)
سید علی حیدر نظم طبا طبائی شرح دیوان غالب میں رقمطرا ز ہیں :
’’ میر انیس کے سامنے ایک صا حب نے یہ مصرع پڑھا
چیختے چیختے بلبل کی زباں سوکھ گئی
میر صاحب نے یہ مصرع لگایا
عرق گل ہے مناسب اسے دینا صیا د
اس کا چر چا لکھنؤ میں ہوا اکثر لوگوں نے طبع آزمائی کی ۔‘‘ (شرح دیوان غالب ۱۸۵ ، سید علی نظم حیدر طبا طبائی ۔)
غالب کے نزدیک مر ثیہ گوئی میں میر انیس اور دبیر جیسا کوئی نہ پیدا ہوا تھا نہ ہوگاکتنی دور اندیشی تھی غالب کے اندر یہ بات اس دور میں خوب سے خوب تر سمجھی اور پرکھی بھی جا تی ہے ۔ غالب چونکہ میر انیس سے پا نچ سال بڑے تھے ۔ پھر انہوں نے اس طرح کا اعتراف کیا ہے :
’’اردو زبان نے انیس اور دبیر سے مرثیہ گو پیدا نہیں کئے۔ ایسے مرثیہ گو نہ ہوئے ہیں نہ پیدا ہونگے۔ انیس کا مرتبہ نہایت بلند ہے‘‘ ؔ(یاد گارِ غالب۔واقعات انیس)۔
’’ میر انیس کے مقابلہ میں کسی اور کا مرثیہ کہنا میر انیس نہیں خود مرثیہ کا منہ چڑھانا ہے۔ آج لکھنؤ اور دلی میں میر انیس کی مرثیہ گوئی کو معجزہ کلام مانا جاتا ہے ۔‘‘(حیات انیس امجد اشہری )
غالب نے لکھنؤ کے مجتہد عباس صاحب کے کہنے پر ایک مرثیہ کہنا شروع کیا۔ لیکن تین بند کہنے کے بعد یہ کہہ کر قلم رکھدیا کہ مرثیہ کہنا میرے بس کی بات نہیں۔ غالب کے کلام میں انیس کی تشبیہات، تلمیحات اور استعارے موجود ہیں۔ یہ عظمتِ غالب کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ غالب میں استفادہ کرنے کی صلاحیت عالم کی طرح بدرجہ اتم موجود تھی۔ میر انیس کے یہاں دوسرے شعراء کی قدر دانی غیر معمولی حد تک موجود تھی۔ میر انیس اور غالب ایک دوسرے کے کلام سے خوب واقف تھے اور ایک دوسرے کے دلدادہ تھے۔ میر انیس عمر میں غالب سے پانچ برس چھوٹے تھے اور انکا انتقال غالب سے پانچ سال بعد ہوا۔ غالب کے انتقال پر میر انیس کی ایک رباعی
گلزارِ جہاں سے باغِ جنت میں گئے
مرحوم ہوئے جوارِ رحمت میں گئے
مدّاحِ علی کا مقام اعلیٰ ہے
غالب اسد اللہ کی خدمت میں گئے
افضل حسین ثابت مصنف حیا ت دبیر نے اپنے خط بنام حامد علی بیر سٹر مورخہ ۱۶؍ اپریل ۱۹۱۲ ، میں میر انیس کا یہ مطلع نقل کیا ہے ۔
نہ روکا ہم کو پھولوں نے چلے خالی ہی گلشن سے
گلوں سے خار ہی بہتر کہ لپٹے آکے دامن سے (۱)
(۱) یادگار حامد ص ۱۸۴،افضل حسین ثابت )
یہ چند اشعار بھی بقول سید مسعود حسن رضوی، میر انیس سے منسوب کیے جاتے ہیں :
دل لے لیا ہے یار نے مٹھی میں بند ہے
کھلتا نہیں پسند ہے یا نا پسند ہے
جب مسیحا دشمن جان ہو تو ہو کیوں کر علاج
کون رہبر ہو سکے جب خضر بہکا نے لگے
رکھ کے منھ سو گیا ان آتشیں رخساروں پر
دل کو چین آیا تو نیند آگئی انگاروں پر
مبصرین کا خیال ہے کہ شیکسپیئر کے زمانہ میں وہ سہولتیں مہیا نہیں تھیں جو چار سو سال بعد برنارڈ شاء کے زمانہ میں عام تھیں اسلئے شیکسپیئر کے یہاں منظر کشی اس تفصیل کے ساتھ نظر نہیں آتی جو تفصیل برنارڈ شاء کے یہاں موجود ہے۔ اس کے برعکس انیس کی منظر کشی برنارڈ شاء سے بڑھ کر ہے۔ تینوں کے یہاں کردار خود بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مصنف بولتے ہوئے نظر نہیں آتے۔
میر انیس سے منسوب غزل کے اشعار کا بر محل استعمال دوسروں کے اشعار غزل میں لکھنوی اور دہلوی زبان کا فرق اچھے اشعار کی کھل کر تعریف اور مندرجہ روایات کے آئینہ میں یہ بات پورے وثوق سے کہی جا سکتی ہے کہ میر انیس میں غزل کہنے اور مزاج غزل سے منصفی کر نے کا پورا ہنر موجود تھا۔
خواجہ حیدر علی آتش کو اخلاقی شاعری کا بادشاہ کہا گیا ہے۔ وہ ایسی سچائیوں کا آئینہ بھی بنتے ہیں کہ سننے والوں نے انہیں خرزجاں بنایا ہے۔ آتش جب بھی کسی شخصیت پر تبصرہ کر تے ہیں تو محض سر سری طور پر نہیں بلکہ حقیقت بیانی سے کرتے ہیں ۔ جیسا کہ انہوں نے میر انیس کے بارے میں کہا:
’’کون بیوقوف کہتا ہے کہ تم محض مرثیہ گو ہو۔ واللہ باللہ تم شاعر گر ہو اور شاعری کا مقدس تاج تمہارے سر کے لئے موزوں بنایا گیا ہے۔خدا مبارک کرے بھئی اس میدان میں کوئی تمہارا مقابلہ نہیں کرسکتا۔ انیس کے مرثیہ پر سیکڑوں غزلوں کے دیوان صدقے کئے جا سکتے ہیں۔‘‘(اساتذہ کے تاثرات ۔ ظفر جعفری )
شیکسپیئر اور جارج برنارڈ شا ء مفروضی اور افسانوی کرداروں پر اپنی خدا داد صلاحتو ں کو کام میں لاتے تھے۔انیس و دبیر اصلی کرداروں کی بات اور ان پر جو گزری ان تما م حالات اور واقعات کی منظر کشی کرتے تھے۔میر انیس حق پر جان قربان کرنے والوں کی بات کرتے تھے ۔میر انیس سورج تھے ان کا مقابلہ مغربی ڈرامہ نگاروں سے تقابل کر نا سر ا سر غلط ہے ۔ میر انیس یقینی طور پر ’’ الہامی شاعر‘‘ہیں اور انہوں نے یقینی طور پر ’’ تائید غیبی ‘‘ کی مدد سے صرف اور صرف ایک اصلی کردار اور اسکے خاندان کی مشکلات اور اسکی حق کی خاطر باطل سے لڑائی اور اپنی اور اپنے سارے خاندان کی قربانی کی منظر کشی کی۔کہاں انیس اور کہاں ہومر، ورجل ، شیکسپیئر اور برنارڈ شاء جنھوں نے دماغی قلابا زیاں کھا کر کئی خاندانوںپر اپنا قلم اٹھایا اور انکے افسانوں کی منظر کشی کی۔؟میر انیس کا مقام مندرجہ بالا تمام افسانہ نگاروں اور ڈرامہ نگاروں سے بر تر ہے۔ اور ’’ بین الاقوامی سطح ‘‘سے بالا تر ہے ۔اگر مشاہیر ادب انیس کا موازنہ فردوسی، ہومر یا شیکسپیئر سے نہ کرتے تو ابولکلام آزاد یہ کہتے ہوئے نظرنہ آتے ہیں :
’’دنیائے ادب کو اردو ادب کی جانب سے میر انیس کے مرثیے اور مرزا غالب کی غزلیں تحفہ تصور کی جائیں۔ ادبیبات اردو اور اردو زبان کو قصرگمنامی سے نکال کر مراثی انیس نے بین الاقوامی سطح پر پہنچا دیا۔‘‘
شمس العلما ء امداد امام اثرایسے شاعر ہیں جنہوںنے اردو تنقید کی زبوں حالی کا احساس دلایا۔ان کی تنقیدی تحریریں اردو میں انقلابی نوعیت پیدا کی ہیں۔ انہوں نے روایتی ادب سے اپنی بے چینی کا اظہار کیا۔ اثر اخلاقیاتی شاعری کو بہتر ین شاعری تسلیم کر تے ہیں۔ ان کے خیال میں شاعری کو اخلاق آموزی کا ایک بہتریں ذریعہ ہونا چاہے لیکن وہیں جب میر انیس کی شا عری کی بات آتی ہے تو یا تقابل کی بات آتی ہے تو امداد اثر کچھ اس طرح اپنے خیالات کا اظہار کر تے ہیں ؛
’’شعرائے نامی یعنی ہومر ورجل اور فردوسی میں ابو ا لشعرا ہومر ہی ہے۔ جس کے ساتھ انیس کا موازنہ صورت رکھتا ہے۔ ورنہ ورجل جو ہومر کا تتبع ہے انیس کا ہرگز ہم پایہ نہیں قرار دیا جا سکتا اور نہ انکی ہم پائیگی کا استحقاق فردوسی کو حاصل ہے۔ انیس کو فردوس ہند کہنا انیس کی ایک بڑی ناقدر شناسی ہے۔ راقم کی دانست میں انیس کی کریکٹر نگاری ہومر کی کریکٹر نگاری سے بڑھی معلوم ہوتی ہے۔ بلا شبہ و شک میر انیس وہ الہامی شاعر ہیں کہ تائیدغیبی بغیر انیس کا کمال کوئی بنی آدم پیدا نہیں کرسکتا۔ انیس کا موید من اللہ ہونا ایک امریقینی ہے۔‘‘
اگر ہم غور و خوص کریں تو معلوم ہو گا کہ انیس کی شاعری کے دو اہم عنا صر یہ ہیں کہ انھو ں نے مرثیے کو مقامی رنگ میں رنگ دیا۔جسکی وجہ سے مرثیہ فن کے اظہا ر کا ذریعہ بنا اور صرف ایک مسلک کا نمائندہ بن کر محدود نہیں رہ گیا۔دوسرا عنصر بھی شاید اسی کی تو سیع ہے ا و ر وہ یہ ہے کہ اگرچہ و اقعۂ کر بلا ایک مخصو ص دور میں پیش آیا مگر انیس کی شاعری نے اس واقعے کے تمام افراد کو زمان و مکان کی قیو د سے آزاد کر دیا۔غور و فکر کی دعوت دیتے ہوئے اکبر الہ آبادی کہتے ہیں :
’’ انیس کے کلام پر غور کرنا ذوق فہمی، نکتہ سنجی اور زبان شناسی کا فائدہ دیتا ہے۔‘‘
انیس سے پہلے مرثیہ صرف مذہبی و اعتقادی صنف نظم سمجھا جاتا تھا۔ اس میں کوئی نمایاں ادبی اہمیت پیدا نہیں ہوئی تھی۔ یہ فخر انیس کا حصہ ہے کہ اردو زبان میں ایسے نئے اور پر مغز باب کاحسن کمال سے اضافہ کیاجس کا ثانی ملنا دشوار کن امر ہے ۔ مرثیے سے پیکری حیثیت سے جو قوت و اثر لطافت و تازگی، سلاست و روانی انیس نے پیدا کردی وہ اب تک متقدموں سے ممکن نہ ہوئی تھی۔انیس کے اوپر خدا وند کریم کا خاص کرم تھا ۔ ان کے اوپر الہام ہو تا تھا ۔ جب شعر کہتے تھے یا پڑھتے تھے تو گویا ایسا محسوس ہو تا تھا جیسے کوئی ان سے کہہ رہا ہو کہ اے انیس اب یہ اس طرح کا شعر کہو اب اس طرح کے شعر کہو انیس کو الہامی شا عر مانتے ہوئے ڈپٹی نظیر احمد کہتے ہیں ـ:ـ
’’ حق تعالیٰ نے ایک اردو شاعر انیس کو کیسی قدرت عطا فرمائی اور اس کے قلب پاک کو کیا نور بخشا ہے کہ وہ خاصان خدا کے ارواح پاک کی باتوں کو اس پاک وصاف طریقے سے نظم کرتا ہے کہ معلوم ہوتا ہے بلکہ یقین ہوجاتا ہے کہ وہی ارواح پاک بول رہی ہیں اور یہ بات بغیر الہام کے غیر ممکن ہے۔ اسلئے میری رائے میں اور شعراء دنیا میں آکر اپنے کسب علوم سے نامور ہوتے گئے۔ لیکن میر انیس وہیں سے شاعر بناکر بھیجے گئے تھے اور مدارجِ اعلیٰ پر فائز ہوئے۔بہر عنوان مناظر کی نقاشی، میدانِ جنگ کی مصوری محبت کے علاوہ جرأت، ایثار، شرافت،انصاف، حق پسندی،حق گوئی جیسے بلند انسانی جذبوں کی مرقع کشی کے باب میں انیس کے مرثئے ایلیڈ،اینیڈ، رامائن،مہا بھارت اور شاہنامہ مقتدر اور مہتم بالشان لفظوں کے شاہکار میں جن سے اردو شاعری کا اخلاقی و تمدنی درجہ بہ مراتب بلند اور بہ منازل اہم ہوجاتا ہے۔ ‘‘(صحیفہ تاریخ اردو از سیّد محمد مخمور رضوی اکبرآبادی )
انیس نے جو سب سے اہم کام کیا وہ یہ ہے زبا ن اور تہذیب کا تحفظ جیسے کہ جوش اور نظیر کا نام انکی لفظیا ت کے حوالے سے بہت لیا جاتا ہے۔ انیس نے ایک مخصو ص تہذیب اور زبان،محاورے اور روزمرّہ کو اپنے مراثی کے ذریعے محظو ظ کرکے اردو ادب اور زبان کی ایک بہت بڑی خدمت کی ہے۔ یہ کام صرف مرثیے جیسی ہی صنفِ سخن کی بدولت ہی ممکن تھا۔ ہو سکتا ہے کوئی یہ بات کہے کہ غز ل نے بھی یہی کام کیا ہے یقیناکیا ہے مگر غزل میں اجمال ہوتا ا ور مرثیے میں تفصیل اور تفصیل مرثیے کا ایک مستحکم عنصر ہے۔
رام بابو سکسینہ رائے دہندگان میں اپنا نام کچھ اس انداز میں درج کر تے ہیں :
’’ انیس کی شاعری جذبات حقیقی کا آئینہ تھی اور جس نیچرل شاعری کا آغاز حالی اور آزاد کے زمانے سے ہوا، اس کی داغ بیل انیس نے ڈالی تھی انیس نے مرثیہ کو ایک کامل حربہ کی صورت میں چھوڑا جس کا استعمال حالی نے نہایت کامیابی سے کیا۔‘‘
پروفیسر آل احمد سرور فرماتے ہیں کہ،
’’ انیس کی شاعرانہ عظمت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ انیس نے سلاموں اور مرثیوں میں وہ شاعری کی ہے جن میں بقول حالی حیرت انگیز جلوئوں کی کثرت ہے جن میں زبان پرفتح ہے جو شاعر کی قادر الکلامی جذبے کی ہر لہر اور فن کی ہر موج کی عکاسی کر سکتی ہے۔ جس میں رزم کی ساری ہماہمی اور بزم کی ساری رنگینی لہجے کا اْتار چڑھائو اور فطرت کا ہر نقش نظرآتا ہے ان کا یہ دعویٰ کس طرح بیجا نہیں ۔‘‘(غبار خا طر ، وہاب اعجا ز خان)
میرانیس کے ہاں مرثیوں میں قصیدے کی شان و شوکت، غزل کا تغزل ، مثنوی کا تسلسل ، واقعہ اور منظر نگاری اور رباعی کی بلاغت سب کچھ موجود ہے۔ میر انیس نے روز مرہ کی زبان کو استعمال کیا ہے ۔ الفاظ بر محل کی ان کی خو بیوں میں شامل ہے ۔ چاہئے وہ جزیا ت نگاری ہو یامنظر نگاری ہر ایک میں اساتدانہ مہارت نظر آتی ہے ۔ جیسا کہ مولانا شبلی انیس کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’ ان کا کلام صیح و بلیغ ہے۔ زبان صحیح اور روز مرہ بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے۔ انتخاب الفاظ مضمون اور موضوع کے لحاظ سے ہوتا ہے۔ جزئیات نگاری میں اْستادانہ مہارت ، جذبا ت کے بیان کا خاص سلیقہ ، منظر نگاری اور مظاہر قدرت کے بیان میں زور تشبیہات اور استعارات میں جدت اور ندرت ہے۔‘‘
اے دیار لفظ و معنی کے، رئیس ابن رئیس
اے امینِ کربلا، باطل فگار و حق نویس
ناظم کرسی نشین و شاعر یزداں جلیس
عظمتِ آل محمّد کے مؤرخ، اے انیس
تیری ہر موجِ نفس، روح الامیں کی جان ہے
تو مری اردو زباں کا، بولتا قرآن ہے
جوش ملیح آبادی
حواشی وحوالہ جات
(۱) انیسیات ، مسعود حسن رضوی
(۲)ایک مضمون ۔رفعت عبا س زیدی ۱۳؍ دسمبر ۲۰۰۹ کے عالمی اخبا ر بلا گ
(۳) آب حیات ص ۵۱۹، محمد حسین آزاد
(۴) نجم سبطین اپنے ایک مضمون ’’ شاعری اور کربلا ‘‘
(۵) تذکرہ خوش معرکہ زیبا ص ، ۳۰۵ ، سعادت خاں ناصر ۔
(۶)انیسیات ص ۱۶۲،۱۶۳، پر وفیسر مسعود حسن رضوی ادیب ، اتر پر دیش اردو اکا دمی لکھنؤ ۱۹۸۱ء
(۷)انیس ص ۴۲ ، پر وفیسر نیر مسعود رضوی ، قومی کا ؤنسل برائے فروغ اردو زبان دہلی ۔ ۲۰۰۲۔
(۸)آب حیات ص نمبر ۵۴۸۔ محمد حسین آزا د
(۹) میر قربان علی سالک شاگر د مر زا غالب اپنی بیاض ، ۱۸۶۱ ء
(۱۰)حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء
(۱۱)سید شریف الحسن شریف العلما کا ایک خط
(۱۲)سید علی حیدر نظم طبا طبائی شرح دیوان غالب
(۱۳)حیات انیس امجد اشہری
(۱۴)یاد گارِ غالب۔واقعات انیس
(۱۵)یادگار حامد ص ۱۸۴،افضل حسین ثابت
(۱۶)اساتذہ کے تاثرات ۔ ظفر جعفری
(۱۷)صحیفہ تاریخ اردو از سیّد محمد مخمور رضوی اکبرآبادی
(۱۸)غبار خا طر ، وہاب اعجا ز خان
(۱۹)حیات انیس ص ۲۵۵، ۲۵۶ ، امجد علی اشہری ۱۹۰۷ ء
(۲۰) ایک ملا قات احمد علی دانش کے ساتھ

مضمون نگار سے رابطہ
محلہ پورہ رانی ،نزد،ا قراء پبلک اسکول، قصبہ مبارک پور ،ضلع اعظم گڑھ
9369521135

Fan E Reportaz Nigari

Articles

فن رپو رتاژنگاری :ایک مطالعہ

محمدرضا (ایلیاؔ)

تحریر کی وسا طت سے پیش آمدہ واقعات و حا د ثات کوعلمی و فنی کمالات سے قارئین کے دل و دماغ میں اتار دینے کے ہنر کو رپورتاژکہتے ہیں ۔ حقیقت پر مبنی رپورتاژنگاری کو پر کشش الفاظ ، نرالے انداز ،انو کھے طرز میں تحریر کرنا اس کی بنیادی اوراساسی اصولوں میں شمار کیا جا تا ہے ۔ان سب باتوں کے لیے لازمی ہے کہ ماضی کے تذکرے کامطالعہ کرنے کے بعدا س میں حالا ت حا ضرہ کی بول چال اور محاورات کو حسن و خوبی کے ساتھ شامل کر لیا جائے ۔ اگر رپورتاژ کے مفہوم کو وصی اللہ کھو کھر کی مرتب کر دہ قاموس ’’ جہانگیر اردو لغت‘‘ کے توسط سے سمجھنے کی کو شش کریں تو وہ تحریر کرتے ہیں کہ
’’ چشم دید واقعات کا ایسا بیان جو حقیقت کو مسخ کیے بغیر پر تخیل ادب کی تعریف میں آسکے ۔‘‘ اسے رپورتاژ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دراصل لفظ رپورتاژ فرانسیسی زبان کے لفظ ’’Rapportage‘‘ کی تارید ہے جس کے معنی خفیہ رپورٹ کے ہیں ۔(۱)
وہیں دوسری طرف ہم اگر’’ آن لائن اردو لغات‘‘ ملا حظہ کریں تو اس میں رپورتاژ کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتا ہے :
’’ رپو رتاژ سب سے پہلے ۱۹۶۳ میں ’’ جدید کے دو تنقید ی جا ئز ہ ‘‘ میں مستعمل ملتا ہے ۔ انگریزی زبان ’’Reportage‘‘ سے اردو میں تصرف کے ساتھ داخل ہوا ۔ عربی رسم الخط میں بطور اسم مستعمل ہے ۔ رپو رتاژ اسم معرفہ ۔ مذکر ہے ۔ (۲)
لا نگ مین یونیورسل ڈکشنری میں لا نگ نے رپورتاژ کی تعریف یوں کی ہے ۔
’’خبرنگاری کا عمل۔ ایسی تحریر جس کا مقصد سانحہ کی حقیقی تصویر پیش کر نا ہو ۔ ‘‘(۳)
ڈیوڈگرامبس نے لٹریری کمپینئن ڈکشنری میں رپورتاژ کا مطلب کچھ اس طرح لکھاہے :
’’ایسی خبر نویسی یا حالات حاضرہ کی اصل رپورٹنگ جو براہ راست مشاہدے ؍ دستاویزی حیثیت ، حادثات یا حالات ، خبرنویسی یا نیو ز اسٹوری پر مبنی ہو ۔ ‘‘(۴)
علی سر دا ر جعفری ’’رپو رتاژ ‘‘کے بارے میں اپنے تاثرات کااس انداز میں اظہار کر تے ہیں:
’’یہ صنف ادب رپورتاڑ بالکل نئی ہے۔ لیکن بے انتہا اہم ہے۔ یہ صحافت اور افسانہ کی درمیانی کڑی ہے۔ اور اس سے ہمارے ادب کو بے انتہا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ رپورتاڑ ہمارے مقاصد کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے ذریعہ سے ہم بڑے بڑے کام لے سکتے ہیں ‘‘۔۵
کتاب ’انتخاب سجاد حیدر یلدرم‘کی مرتبہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’ رپورتاژ ایک فرانسیسی لفظ ہے اور چند سال سے اردومیں مستعمل ہو چکا ہے ۔ رپورتاژ میں رپو رٹر بیرونی حقائق کے ساتھ ساتھ ادبی رنگ میںاپنے ذاتی تاثرات کو بھی پیش کر تا ہے جب کہ رپورٹ یا سفر نامہ محض حقائق پر مشتمل ہو تا ہے ۔(۶)
جس وقت ؍ زمانے میںقلمکار تحریر کر رہا ہے اس وقت کی بولی جانے والی زبان کا بھی استعمال اچھی رپورتاژ نگاری کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن جو ہم زبان استعمال کریں وہ عام فہم ہو نے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے الفاظ کے ساتھ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ واقعات اور حادثات میں متروک الفاظ و کلمات کا بکثرت استعمال کریں ۔غیر مستعمل الفاظ سے پر ہیز کرتے ہوئے مستعمل اور ایسے جدید الفاظ کی مدد سے تزئین کا ری کریں جو گزرے ہوئے وقت کی عکا سی کرتاہو ۔
رپو رٹر کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ سامنے کی بات نیز سطحی باتوں کے ذریعہ فوراً نتیجہ اخذکر لیتا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں سچائی جب اس کے برعکس ہوتی ہے تو رپو رٹر س معذرت کر کے بات کو ختم کر دیتے ہیں ۔ اب تو عام سی بات ہو گئی ہے کہ تازہ رپورٹ کے مطابق یوں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مگر رپورتاژنگار کا صرف یہ کام نہیں ہے کہ وہ واقعات و حادثات کو سطحی نظر سے دیکھ کر فیصلہ کر دے بلکہ گزرے ہوئے واقعات ، لمحات کی تہہ تک جائے اور ہر ہر نکات کو عمدہ طریقہ سے تحقیق کر کے تجزیہ کرے۔ یہ بات بھی ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ جو تجزیہ ہم کر رہے ہیں اس کو سادگی کے پیراہن میںبالکل نہ پرو ئیں بلکہ اچھے ، پر لطف اوردل کو موہ لینے والے انداز میں پیش کریں۔ بات کی تہہ تک جانے کے بعد ہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے جیسے کہ رنگ لا تی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد ۔ ’حنا ‘رپورٹر کے مثل ہے اور گھسنے کے بعد جو رنگ آتا ہے وہ رپو رتاژ ہے ۔
جملے کی ہیرا پھیری سے ،تخیلات کی تبدیلی سے بہت کچھ بدل جا تا ہے ۔ایک واقعہ ، ایک ہی منظر کو الگ الگ انداز میں پیش کر کے اپنی تحریر کے رنگ دو بلا بنا سکتے ہیں ۔ ہاں توآپ متوجہ ہیں ! دیکھئے یہ وہ عجیب منظر !
۰ خونخوار شیر ہرن کا شکارنہیں کر سکتا ۔یہ اس کی عاجزی کی علا مت ہے ۔
۰ چالاک ہرن نے برق رفتاری سے اپنی تیز رفتار چوکڑی کی مدد سے شیر کو مات دے دی ۔
۰ شیر نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا ۔ جس کا فائدہ ہرن کو جیون دان کی شکل میں ملا ۔
۰ شیراپنے لنچ کے لیے دوڑ رہاتھا اس لیے ہا ر گیا ۔ ہرن اپنی زندگی کے لیے بھاگ رہا تھا اس لیے وہ جیت گیا ۔
۰ ہرن کی زندگی کے سامنے شیر کی بھوک نے دم توڑ دیا ۔
یہاںاگر غورکیا جائے تو واقعہ ایک ہے مگر بیان اوررپورٹر کا انداز بالکل مختلف اور برعکس ہے ۔ مختلف رپورتاژوں نے واقعات کی صداقت کو نظریات ، تخیلات کے ذریعہ اپنے اپنے دلچسپ انداز میں پیش کر کے قارئین ، ناظرین کو با ندھے رکھا ۔اب عوام کے اوپر منحصر ہے کہ کس کو کس انداز میں پسند کر تا ہے ۔
ڈاکٹر احتشام حسین کے نزدیک صنف رپور تاژ ادب کا حصہ تو ہے مگر اس کی شکل و صورت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے ۔ تاجور سامری کی رپورتاژ ’’ جب بندھن ٹوٹے‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں :
’’رپو رتاژ کو ہم واقعات کی ادبی اور محاکا تی رپو رٹ کہہ سکتے ہیں ۔ادب کی شکل نہ تو واضح ہے اور نہ اتنی پرانی کہ اس کے حدود تعین کیے جائیں گے ۔ ‘‘(۷)
لکھنؤکی تاریخ ،واقعات ، حادثات، بلندی اور تنزلی کے مناظر کو بہت سے لوگوں نے قلمبند کیا مگر بعض کو شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھا جا تا ہے نیز کچھ خاص تحریر ایسی ہیں جن کو مکمل پڑھے بغیر سکون نہیں ملتا، کچھ تو ایسی ہیں جن میں بوریت کا احساس ہو نے لگتا ہے جب کہ وہ عمدہ اور تحقیقی ہوتیں ہیں ۔ تاریخ لکھنؤ میں ’’ گزشتہ لکھنؤ‘‘ کے حوالے مر زا جعفر حسین نے لکھا اور ان کا انداز کچھ اور ہے ۔ یہی تاریخ لکھنؤاور اجڑتا ہوا اودھ کو’’ یادوں کی برات‘‘ میں جو ش ملیح آباد ی کی تحریر کا مطالعہ کریں تو ان کا انداز بالکل دلکش ہے۔ زیادہ تر لو گوں کو پسند بھی آتا ہے کیونکہ انہوں نے تحریر کو نوک جھونک ،نرالے انداز کے ساتھ لکھا ہے ۔ یہی حال رپورتاژکا ہے ہمیں اس انداز میں لکھنا چاہئے کہ رپورتاژ مکمل ہوجائے تشنگی بھی باقی رہے نتیجہ تصور کی منزل میں نہ ہو بلکہ تصدیق ہو جائے۔
ڈاکٹرخلیق انجم ’’اردو میں رپورتاژنگاری ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’اردومیں با قاعدہ رپورتاژنگاری کا ارتقاترقی پسند مصنفین کے ہاتھوں ہوا ۔ سجادظہیر نے ’روشنائی ‘میں لکھاترقی پسند مصنفین کے ان جلسوں کی تفصیلی روداد اور ان کی فضا کو حمید اختر بڑی خوبی کے ساتھ قلم بند کر تے تھے ۔ ہر جلسہ میں وہ بحیثیت سکریٹری انجمن کے گزشتہ ہفتے کی روداد پڑھتے تھے ۔ عام طور سے سکریٹری کی رپورٹ ایک خشک اور رسمی سی چیز ہوتی ہے لیکن حمید اختر نے ان رپورٹوں میں بھی ادبی رنگ پیدا کر دیا اور اس طرح غالباً وہ ایک نئی ادبی صنف کے مو جد سمجھے جا سکتے ہیں ۔‘‘(۸)
رپورتاژ کو حا دثات، گزرے ہوئے واقعات کا ثمرہ کہا جا تا ہے ۔ اس کا مطلب یوں سمجھ لیجئے کہ حیات انسانی کے ہر پہلو واقعہ ، حا دثہ اور رنج و غم خو شی و فرحت کو آنکھوں دیکھا حال کی اس طرح منظر کشی کر نا کہ جذبات کی پوری طرح سے ترجمانی ہوجائے ۔ منظر یا ما حول کا نقشہ دلکش انداز میںاجا گر ہو جائے ۔رپو رتاژ کے لیے یہ لا زمی ہے کہ فروعی اطلاعات کو چھو ڑتے ہوئے اصول اطلا عات کو لفظ بہ لفظ ،ہو بہو یعنی جس طرح ، جس شکل میں ، جس وقت ، جس ساعت ، جس لمحہ میں دیکھئے اس کو بعینہ بیان کرے تبھی صحیح معنی میں رپو رتاژ کا حق ادا ہو گا۔ یا یوں کہا جائے تو کوئی مبا لغہ آرائی نہیں ہو گی کہ رو نما ہو نے والے واقعہ و حادثہ میں شمہ بھر بھی تبدیلی کے بغیر بیان کر دے ۔
شرر نے اجتما ع کی اس رودادکے بارے میں لکھا جو ۹؍ مئی بروز یک شنبہ ۱۸۸۷ ء کو قیصر باغ لکھنؤ کے تاریخی میدان میں انجمن دار السلام کی جانب سے منعقد ہوا تھا ۔ جس میں شرر کے مطابق بیس سے پچیس ہزار لو گوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے آنکھوں دیکھے مناظرزمانہ حال میں لکھا۔ ایک اقتبا س ملا حظہ ہو :
’’ان پر شوق آنکھوں نے کیا دیکھا ، ایسا کچھ دیکھا کہ آنکھوں کو تمنا رہ گئی ، نہیں دیکھا ، نہیں دیکھ رہی ہیں ۔ ہم ایک وجد کے عالم میں جھوم رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان خطیبوں کی معجز بیانیاں دلوںمیں آگ لگائے دیتی ہیں ۔ ایک طرف جناب منشی امتیاز احمد صا حب جوش و خروش کے ساتھ تقریر کر رہے ہیں ، غصے میں ابھر نے والے خون کی طرح اسلامی جو ش رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے اور بے ساختہ وجد میں آکر مسلمانوں کے پر جوش ہجوم سے سبحان اللہ ، جزاک اللہ ۔ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے ہیں ۔ دوسری جانب مر زا محمد ہا دی رسوا صا حب اپنی عالمانہ تقریر سے ایک بہت بڑی جما عت کو اسلام کا جان فروش خادم بنائے دیتے ہیں ۔ ‘‘(۹)
رپورتاژ نگار وںکو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہر گز ہر گز یہ نہ دیکھے کہ اس کی رپورتاژنگاری سے عوام یا زما نہ یا آئندہ وقت میں اس کے اثرات کیا مر تب ہوں گے ۔ ہمت مر داں مدد خدا کے اصول پر چلتے ہوئے حق بیانی اور علمی لیا قت ، فنی صلاحیت ، تحریر ی مہا رت ، قلمی قوت سے گزشتہ مناظر کو رقم کر دے ۔ رپو رتاژ کے لیے سب سے عمدہ اور حالات حا ضرہ میں بخوبی سمجھی جانے والی مثال کمنٹری ہے ۔ تمام شا ئقین ریڈیو ؍ٹی وی پر بر سوں سے سنتے چلے آر ہے ہیں ۔ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والا ہر انسان کمنٹری کو سنتا ہے مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ کمنٹری کو ہم انتی غور سے کیوں سنتے ہیں ؟اس کی طرف ہمارا رجحان اتنا زیا دہ کیوں ہے ؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ کمانٹیٹر ایسے انداز میں اور موجودہ وقت کے کچھ طنز و مزاح کے ساتھ ، تاریخ میں اس سے متعلق گزرے ہوئے واقعات کو شامل کر تے ہوئے کمنٹری کر تا ہے یہ اس کی حسن بیانی ہے ۔جبکہ اگر آپ غور کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کھلاڑی تو اپنے سادہ انداز میں کھیل رہا ہے اس طرح کا کچھ مظاہر ہ نہیں کر رہاہے مگر کمانٹیٹر کھلاڑیوںکے حرکات و سکنات کو پر لطف انداز میں پیش کر تا ہے اور سامعین اور ناظرین خوشی سے جھوم جا تے ہیں ۔ رپور تاژنگاری کے فن کو سمجھنے کے لیے کمنٹری بہترین مثال ہے ۔
ترقی پسندوں نے رپورتاژکے فن کو بہت دلچسپ بنا کر پیش کیا اور اس فن کو ایک با قاعدہ صنف کی حیثیت دی گئی ۔جنہوں نے رپورتاژ لکھے ان کی با قاعدہ طور پر ماہنا مہ رسالے ؍ جریدے میںاشاعت ہوئی بعدمیں جو طویل رپو رتاژ تھے وہ کتابی شکل میں منظر عام پر آگئے ۔ اس بات کی تائید میں ہم عبدالعزیز کی کتاب کو بطور ثبو ت پیش کر سکتے ہیں ۔ اس کے مقدمے میں کچھ یوں تحریر ہے :
’’ سید سجاد ظہیر ، کر شن چند ، ابراہیم جلیس ، تاجور سامری ، عادل رشید ،فکر تونسوی ، جمنا داس اختر ، انور عظیم ، پرکاش پنڈت ، عصمت چغتائی ، خواجہ احمد عبا س، شاہد احمد دہلوی ، قرۃ العین حید ر اور نئے لوگوں میں قاضی عبد الستار ، سید ضمیر حسن دہلوی نے اہم مختصر ،طویل رپورتاژ لکھے جو مختلف رسائل مثلاً ’’شاہراہ‘‘ ، ماہنامہ ’’کتاب ‘‘ وغیرہ میں شایع ہوئے ۔طویل رپورتاژ مثلاً ’’ پو دے ‘‘ ، ’’ خزاں کے پھول ‘‘ ، ’’ جب بندھن ٹو ٹے ‘‘ ، ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ وغیرہ علیحدہ کتابی صورت میں سامنے آئے ۔ ‘‘(۱۰)
قرۃ العین حیدر کے رپو رتاژ ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو اک بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ میدان جنگ کے مختلف واقعات اور اس کی ہولنا کیاں ، اقتدار کی عروجیت و شکست کے ہی مناظر نہیں پیش کیے ہیں ، بلکہ جنگ کے اختتام پر کیا اثرات مر تب ہو تے ہیں اس میں موجود ہیں۔ اس کے علا وہ دیگر متعدد مو ضوعات ہیں جس پر رپو رتاژ لکھے گئے ہیں مثلاًخشک سالی ، آسمانی آفات ، زلزلہ ، وبائی بیماری وغیرہ وغیرہ میں جو تباہ کاریاں وجود میں آتی ہیں ان پر بھی رپورتاژ لکھے گئے اور لکھے جا رہے ہیں ۔
با مقصد رپو رتاژ نگار کی خوبی یہ ہو تی ہے کہ زما ن و مکان کا تعین اس انداز میں پیش کیا جائے کہ جو حقیقت بعض کی نظر وں میںنہیں تھی وہ سب پر عیاں ہو جائے ۔ رپو رتاژنگار رپو رتاژ لکھنے کا سبب ہی یہی ہو تا ہے کہ وہ اپنی نظروں کے سامنے گزرئی ہوئی صداقت کو دوسرے تک پہنچا سکے جو اس کے متلا شی ہیں ۔ یعنی عینی شاہدخیالوں میں اس مقام تک پہنچ چکا ہو تا ہے جہاں وہ واقعہ یا سانحہ رو نما ہوچکا ہو تا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بعض لو گوںکا خیال ہے کہ تاریخی تر تیب بھی رپورتاژ کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ اسی سلسلے میں کشمیری لال ذاکر ’’ یہ صبح زندہ رہے گی ‘‘ میں رقمطراز ہیں :
’’ میں روزنامچہ یا تاریخ نہیں لکھ رہا ہوں کہ تاریخ وار اپنی روداد تحریر کروں ، میں تو صرف ایک رپورتاژ لکھ رہا ہوں ۔ اس میں تاریخوں کی اتنی اہمیت نہیںہے، جنتی شخصیات کی اور میر ے تاثر ات کی ہے ۔ لہٰذا تاریخوں پر میری توجہ کم رہے گی ۔(۱۱)
مگر سچ تو یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی اطلاع مو صول ہو تی ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے اور اسے وہ تلا ش کر نے کی پو ری کو شش کرنے میں مصروف ہو جا تا ہے کہ یہ واقعہ یا سانحہ کب اور کس جگہ رو نما ہوا ہو گا۔ قاری کے مطالعہ میں تیزی آجا تی ہے اور وہ بے چین سا رہتا ہے جب تک اسے زمان اور مکان کا پتا نہ مل جائے ۔ اگر اسے اطمینان بخش جواب مل جا تا ہے وہ پر سکون حا لت میںواپس آجا تا ہے ۔ اگر اسے وہ چیز دستیاب نہیں ہو تی تو وہ عالم تصور میں چلا جا تا ہے ۔ اسے قصہ یا کہانی سے تشبیہ دینے لگتاہے ٹھیک اسی وقت رپو رتاژ کا مقصد پامال ہو جا تا ہے ۔ جب سجا د ظہیر کا رپو رتاژ جسے ’’ یا دیں ‘‘ کے نام سے جا نا جا تا ہے اور اس کو اردو کا پہلا رپو رتاژ مانا جا تاہے ۔ اس کا آغاز ہی تاریخ سے ہو تا ہے ملا حظہ ہو۔
’’ ۱۹۳۵ ء عجب سال تھا ۔ میں اس زما نے میں لندن میں اپنی طالب علمی کے آخری دن گزار رہا تھا ۔ ‘‘(۱۲)
جبکہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’چندسال قبل ایک اردو روزنامے میں شعبہ اردو کے ڈاکٹر رفیق حسین نے لکھا تھا کہ اگرچہ کر شن چند ر کے ’’پو دے ‘‘ کو اردو کا پہلا نا ول رپورتاژ کہا جاتا ہے لیکن یلدرم کے ’’ سفر بغداد ‘‘ کو جو ۱۹۰۴ء میں شایع ہوا ، اردو کا اولین رپورتاژ کہنا زیا دہ صحیح ہو گا ۔ زیا رت قاہرہ و قسطنطنیہ ۱۹۱۱ ء یلدرم کا دوسرا رپورتاژ تھا ۔‘‘ (۱۳)
اس کے علا وہ اگر آپ اظہار اثر کومطالعہ میں لائیں تویہ بھی تاریخ کو اہمیت دیتے ہوئے قاری کو بھر وسہ دلا نے اور ان کے اعتماد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے رپورتاژ ’’ تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ‘‘ کی ابتدا کر تے ہوئے کچھ اس انداز میں مصروف تحریر ہیں :
’’ اور آخر ہندوستان کی دلہن دلی کا دل ۱۷؍ اپریل ۱۹۷۶ کو جگمگا اٹھا ۔ دلی کا یہ دل جدید و قدیم تہذیبوں کا گنگا جمنی سنگم ، بستی نظام الدین کا علا قہ ہے ۔ ‘‘(۱۴)
رپور تاژ نگار کوکسی بھی رپورتاژرقم کر نے سے پہلے صرف قوت سامعہ پر نور ایقان نہیں کر نا چاہئے بلکہ بصیرت پر اعتماد کرنے کے لیے نفسیاتی بصیرت کی مدد لینی چاہئے ۔کیونکہ موجودہ وقت میں برقی رو کے ذریعے جو آواز فضا میں گونجتی ہے اس کو سننے کے لیے ایک خاص قسم کا آواز گیر آلہ ہو تا ہے ۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سما عت پر نہیں بصارت سے کام لینا چاہئے ۔ جیساکہ طلعت گل اپنی کتاب ’’ اردو میں پورتاژ کی روایت ‘‘ میں تحریر کر تی ہیں :
’’ رپو رتاژ نگار اپنے کانوں پر بھر وسہ نہیں کر تا ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور دل سے محسوس کرتا ہے کچھ لو گوں کا خیال ہے کہ آنکھوں سے دیکھنے کے علا وہ سنے سنائے واقعات و حادثات پر بھی رپورتاژ لکھا جا سکتا ہے ۔یہ درست نہیں کیونکہ رپورتاژمیں مصنف کا موضوع سے براہ راست تعلق بنیا دی حیثیت رکھتا ہے اور رپو رتاژ کا بیان مستند مانا جا تا ہے ۔ ‘‘(۱۵)
محققین کے مطابق رویت حقیقتاًنظروں سے نہیں عقل سے ہوتی ہے ۔ حواس خمسہ میںبصارت بھی شامل ہے جو بعض دفعہ دھو کادے جا تی ہے ۔ مثلاً اگر کسی بلند مقام یا پہاڑ کی اونچائی سے کسی انسان کو دیکھیں تو وہ ما چس کی ڈبیا کے ما نند نظر آئے گا تو کیا رپو رتاژ نگار اس کو بعینہ رقم کر دے جب کہ اس نے خو داپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل نے محسوس کیا ہے ۔ جی نہیں بلکہ یہاں پر عقل سے کام لینا پڑے گا۔ یا یوں کہا جائے تو زیا دہ بہتر ہو گا کہ یہاں پرعقلی بصارت کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭٭٭

حوالہ جات
۱……جہانگراردو لغت ، وصی اللہ کھو کھر ،ص۸۰۹
۲……http://urdulughat.info/words/3304
۳……Longman universial Dictionary 1982, Page -826
۴……Literacy Companion Dictionary By Savid Grambs 1984 Words about words- Page 313
۵……علی سردار جعفری۔ پیش لفظ۔ خزاں کے پھول۔ از عادل رشید۔ص ۱۱
۶…… انتخاب سجاد حیدر یلدرم ۔مرتبہ ثریا حسین ۔ ص ۲۰
۷……تارجور سامری ، جب بندھن ٹوٹے ۔ تعارف احتشام حسین ص۵
۸……مقدمہ ۔ اردومیں رپو رتاژ نگاری۔ ص،۷
۹…… دلگداز۔ اپریل ۱۸۸۸۔ ص ۵۹
۱۰……اردومیں رپورتاژنگاری ،عبد العزیز ، ص ۸
۱۱…… یہ صبح زندہ رہے گی ، کشمیری لال ذاکر ؔ ص ،۲۲
۱۲……یا دیں ۔ سجا د ظہیر ۔
۱۳…… انتخاب سجاد حیدر ۔ ص ۲۰
۱۴…… تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ۔ اظہار اثر
۱۵…… اردو میں رپو رتاژ کی روایت ۔طلعت گل ص ۲۷۔ اپریل ۱۹۹۲

مضمون نگار سے رابطہ کریں
پورہ رانی ، نزد اقرا پبلک اسکول ،مبارک پور ، اعظم گڑھ
رابطہ نمبر 9369521135=
ای میل : sameersm141@gmail.com

Kab Hum Aap Paraye Hain by Shams Wadood

Articles

کب ہم آپ پرائے ہیں؟

شمس ودود

ہندوستانی زبان، ہندوستانی تہذیب اور یہ لب ولہجہ عصرحاضر کے دانشوروں کو ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے، لیکن اب بھی اس کے افق سے کچھ ستارے جو اپنی روشنی سے یہ اعلان کرتے ہیں۔ اعلان ہی نہیں بلکہ سناٹے میں نقارے کے مانند گونج اٹھتے ہیں اور ہماری بصارت خیرہ ہو اٹھتی ہے۔ تاریخ نے چونکہ ہمیں بھاری بھرکم اژدر نما پیش کیا ہے۔ لہذا اس بھاری بھرکم وجود کے ساتھ متحرک ہونے پر ہمیں گامزن کئے بغیر نہیں رہتا۔
میری مراد آلوک یادو سے ہے، جن کا شعری مجموعہ اسی کے نام منظرعام پر آچکا ہے اور ہر قاری کو چندھیائے بغیر نہیں رہتا۔ علی سردار جعفری اردو (ہندوستانی) زبان کو ناگری رسم الخط میں تبدیل کرتے کرتے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان سے پہلے پریم چند دونوں زبانوں اور ان کے رسم الخط یعنی اردو۔۔۔نستعلیقی رسم الخط اور ہندی۔۔۔ ناگری رسم الخط میں قاری سے روبرو ہوئے، نیز دیگر اشخاص نے بھی ایسی کوششیں کیں جو کبھی مثبت رہیں اور کبھی منفی، لیکن ہم جسے ہندوستانی لب و لہجہ کہہ رہے ہیں یا کہتے اور سمجھتے آئے ہیں، اس کے وجود پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اور آج حالت یہ ہے کہ زیر نظر شعری مجموعہ ہندی(ناگری) رسم الخط سے نستعلیقی رسم الخط میں منتقل ہوکر بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں خالص ہندی کے کچھ الفاظ شعر کو سمجھنے میں کچھ دشواریاں پیدا کرتے ہیں، لیکن وہ بھی ہماری کم نظری ہی کو ثابت کرتے ہے۔ (ہماری سے مراد میں اور جو لوگ اپنے آپ کو اس فریم میں فٹ پاتے ہیں۔ بقیہ حضرات اس زمرے میں نہیں آتے ہیں(
برسوں سے تسلیم شدہ وحشی صنف غزل میں واقعی وحشیانہ پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ جبھی تو اس صنف کو برتنے اور اس صنف میں شاعری کرنے والے کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی اردوداں خانوادے ہی سے تعلق رکھے، بلکہ اس صنف کو صرف لب و لہجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر وہ شخص (شاعر) چاہے جس خطہ ارض کا باسی ہو، غزل اسے اپنائے بغیر نہیں رہتی۔
غزل کہنے کیلئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے تقریبا تمام آلوک یادو کے یہاں پائی جاتی ہیں۔ خواہ ردیف و قافیہ کا انتخاب ہو یا ہر شعر ایک مکمل واقعہ، بیان کی ندرت ہو یا شعریت و نغمگی۔۔۔ ہر وہ چیز ان کی غزلوں میں موجود ہے، جسے ملاکر غزل کا قالب ڈھلتا ہے۔ روایتوں کے ذریعے قاری تک اپنا پیغام پہنچانا ہو یا مٹتی تہذیب کی عکاسی ہو ۔۔۔ آلوک یادو انہیں اس طرح بیان کر جاتے ہیں کہ بندہ سانس روک کر اس جگہ ٹھہر کے غور کرنے پہ مجبور ہوجائے۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں:۔
پھر اسے بے وفا کہہ دیا ؍ ہائے ہم نے یہ کیا کہہ دیا
ہر ستم اس کا نعمت سمجھ ؍ یار کو جب خدا کہہ دیا۔
ہوائیں ساونی جو پڑھ سکو تم ؍ انہیں پہ آنسووں نے خط لکھے ہیں۔
جئے ہیں درد اور آنسو پئے ہیں ؍ کہاں روتا، ترا کاندھا نہیں تھا۔
نہ ہوتی عشق میں حاصل جو لذت غم بھی ؍ تو کرتا کیا یہ مرا قلب زار، سمجھا کرو۔
بے خطا ہوکے بھی مانگی ہے معافی ہم نے؍ اپنے رشتے کو اسی طرح بچائے رکھا۔
جس کے ہونے کی دعا مانگی خدا سے ہم نے؍ دربدر ہم کو وہی لخت جگر کرتا ہے۔
سراپا ترا،کیا قیامت نہیں ہے؍ ادھر حشر سی دل کی حالت نہیں ہے۔
کھا کر قسم تمہاری نشیلی نگاہ کی؍ ہر روز توبہ کرتے رہے مئے کشی سے ہم۔
اس کی ہرچیزمری، عشق کیآغاز میں تھی؍ لیکن آج اس نے مری جاں بھی پرائی لکھ دی۔
پیار کا دونوں پہ آخر جرم ثابت ہوگیا؍ یہ فرشتے آج جنت سے نکالے جائیں گے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟؍ کسی نے کردیا کیا آج ذکر حق پھر سے؟
جڑیں چاہتی ہیں ٹھہرنے کو مٹی؍ ہتھیلی پہ سرسوں اگائیں گے کیسے؟
یہ اس کا ہم، پیار میں ڈھل جائے تو اچھا؍ رسی تو جلی، بل بھی نکل جائے تو اچھا۔
مندرجہ بالا اشعار میں جابجاان روایتوں کا ذکر ملتا ہے جو اس معاشرے میں پل کر جوان ہوئیں یا پھر شاعری میں ان کا ذکر بھی ہوتا ریا ہے۔ انسان کے حقیقی ضزبوں کی عکاسی بھی، اور تجربے کی بھٹی میں تپے خیالات بھی، محبت کی باتیں بھی اور رشتوں کی حقیقت بھی، الغرض قاری کو اپنے ذوق کے مطابق یا ہم ایسے طالب علم کو اپنے ذوق کے مطابق چیزیں ان غزلوں میں دستیاب ہیں۔
عام طور پر چھوٹی بحر میں شاعری کرنا لیکھ سے ذرا ہٹ کے اور مشکل تصور کیا جاتا ہے، لیکن آلوک یادو کا یہ امتیاز ہے کہ وہ چھوٹی بحر میں اچھی شاعری کرتے ہیں اور اپنی بات بھی مکمل کہتے ہیں، جس میں کہیں پر بھی کجی محسوس نہیں ہوتی۔؎
آپ سے ہر خوشی ہوگئی ؍ سرجھکا، بندگی ہوگئی۔
غزلوں میں محبوب کے عارض و گیسو، لب و رخسار کے ذکر پہ ہی تنقید کا ایک نیا باب اور ادب میں نئے طرز اظہار کا در کھلا تھا۔ جہاں سے نظم اور جدید اردو تنقید کا آغاز ہوتا ہے۔ اس تفصیل سے قطع نظر۔۔۔ آلوک یادو نے بعض روایتوں اور اساطیر الاولین کو ایسی چوٹ دی ہے کہ دانتوں تلے انگلیاں چلی جائیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔
دینے والے نے اتنا دیا ؍ حسرتوں میں کمی ہوگئی۔
ترے ان لبوں کو میں تشبیہ کیا دوں ؍ کہ پھولوں میں ایسی نزاکت نہیں ہے۔

مذکورہ بالا اشعار میں پہلا شعر غالب کے اس شعر کا رد محسوس ہوتا ہے۔؎
ہزاروں خواہشیں ایسی، کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔
پھر دوسرا اور تیسرا شعر میر کے مشہور شعر ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے ؍ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔ یا کلاسیکی شاعری اور ان کی روایتوں کی کاٹ ہے، جن پہ ناقدوں نے ایک زمانے تک بحث کیا ہے۔ یہاں کسی کو کم تر یا برتر دکھانا ہرگز نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہر زمانے کی اپنی ضرورتیں اور روایتیں ہوتی ہیں۔ سو گردش ایام کے بقدر شاعری بھی اپنا رخ تبدیل کرتی ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے، اپنے استعارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ضروریات زندگی تبدیل نہیں ہوتی ہے، لیکن کسی حد تک ان کی نوعیت ضرور بدل جاتی ہے۔
بحر، وزن اور قافیہ و ردیف کی آمیزش اور لفظوں کی ہیرا پھیری سے شاعری تو ہوسکتی ہے، لیکن ایک ایک شعر میں عمر بھر کا تجربہ بیان کرجانے کا فن ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ اگلے زمانے میں کسی انسان کو اس وقت تک تجربہ کار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، جب تک کہ اس کے بالوں میں سفیدی، ہاتھوں میں لرزش اور کمر میں خم نہ آجائے۔ لیکن اس دور میں بڑھاپے کا تجربہ بیان کرنے والے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ کبھی کبھی تو ان میں اور ان کی شاعری میں کوئی مناسبت ہی نظر نہیں آتی۔ پھر بھی ان کی بات تسلیم کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔ شاید اس لئے کہ جب فن کامل ہو، تو فن کار کی عمر نہیں پوچھی جاتی۔؎
جب کسی نے سر بزم دیکھا نہیں ؍ کسمساتی رہیں کانچ کی چوڑیاں۔
زندگی بھر کسی کی زمیں پہ سجے ؍ پھول تھے ہم کہیں کے، کہیں پہ سجے
ٹھوکروں میں رہے، سنگ تھے جب تلک ؍ خاک بن کر کسی کی جبیں پر سجے۔
جب بھی چھونے چلا، عکس دھندھلا گیا ؍ جیسے ہو جھیل میں چاند سی زندگی۔
آنکھ سے آنسو چرا لے گیا لیکن وہ شخص ؍ بے گہر سیپ یہیں چھوڑ گیا ہے صاحب۔
بنا کر پاوں کی بیڑی کو گھنگھرو، زندگانی؍کرے گی رقص جب تک درد سا زندہ رہے گا۔
وہ پیاس اپنی بڑھانا چاہتا ہے ؍ لب دریا پھر آنا چاہتا ہے۔
اس دور کی ہر اک چیز انوکھی ہے، یہاں ہر شخص اپنا رہبر بھی ہے اور رہزن بھی، روایتیں اور قدریں سب بدل گئیں۔ جہالت کتابوں میں سمائی ہے۔ درندے رحم کررہے ہیں، انسان درندگی پہ آمادہ ہے۔ ہر جگہ، ہر رشتے اور ہر تعلق کے معنی ہونے چاہئے۔ اس ماحول میں شاعر اپنا طرز نہ بدلے تو اور کیا کرے۔؎
کر لیں گے خود تلاش،کہ منزل ہے کس طرف؍ اکتا گئے ہیں یار،تری رہبری سے ہم۔
جرم تھا عشق،سزا ملنی تھی تاعمر کی قید؍ فیصلے میں مرے حاکم نے جدائی لکھ دی۔
جان دینے میں سربلندی ہے ؍ جان کا مول سر بھی ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا اشعار میں شاعر ہر بار بنے بنائے سانچے کو توڑتا ہے۔ احساسات و خیالات کا رقص اور تجربے کی الٹ موجود ہے۔ بے مثل اور ہر وہ کام جو شاید کبھی نہ ہوا ہو، ان کا ذکر بلکہ ایک آپ بیتی کی شکل میں نظر آتا ہے جو جگ بیتی بھی ہے۔
آلوک یادو کا ایک رنگ ایسا بھی ہے جو میر و غالب اور قدیم شعری روایات کی تردید کرتا ہے۔ اس کے علاوہ طنز کا ایسا اچھوتا اور نادر تجربہ پیش کرتے ہیں کہ قاری نہ چاہتے ہوئے بھی ان اشعار کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس میں ایک انوکھاپن یہ بھی ہے کہ وہاں جمود نہیں بلکہ حرکت ہوتی ہے اور تخیلات کا قافلہ تھمتا نہیں بلکہ اس کے سارے کل پرزے متحرک نظر آتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔؎
میں دل کی بات کرتا تھا تمہیں دنیا کی چاہت تھی؍ تومجھ کوچھوڑکربھی تم، نہ ہو پائے زمانے کے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟ ؍ کسی نے کر دیا کیا آج ذکر حق پھر سے۔
کسی سے روٹھ گئے یا کسی کا دل توڑا ؍ جبیں آگیا کیوں آپ کی عرق پھر سے۔
پھول سے جسم، بوجھ بستوں کا ؍ کیا ہے تعلیم، تربیت کیا ہے؟
جہاں ایک طرف اردو داں طبقے کو آلوک یادو کے ہندی زبان کے الفاظ پہ اعتراض ہو سکتا ہے، اور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زبان بوجھل ہو رہی ہے، لیکن اپنی ہی کہی ہوئی بات پھر نہ دہراتے ہوئے اخیر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ مندرجہ بالا چار اشعار تین مختلف غزلوں کے ہیں، جو زبان کی سطح پہ اعلی نمونے میں شامل کئے جانے کے قابل ہیں۔ اسلئے جہاں ہندی الفاظ کا استعمال ہے، وہیں اردو زبان کی شگفتگی بھی پائی جاتی ہے، اور اس طرح ایک توازن قائم ہوجاتا ہے جوکم از کم میری نظر میں ہی سہی ہندوستانی لب و لہجہ کی عکاسی ضرور کرتے ہے، اور یہی وہ آمیزش ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ؎
کب ہم آپ پرائے ہیں؟
ایک ہی ماں کے جائے ہیں

I am Bombay by Haider Shamsi

Articles

میں شہرِممبئی ہوں ذرا دیکھ مجھے بھی!

حیدر شمسی


حیدر شمسی
میں شہرِبمبئی ہوں۔ میرا شمار دنیا کے مشہور ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لوگ مجھے الگ الگ ناموں سے جانتے ہیں۔کوئی مجھے پیار سے بمبئی کہتا ہے تو کوئی بامبے کہہ کر پکارتا ہے۔میں سات بڑے اور چند چھوٹے چھوٹے جزائرکا مجموعہ ہوں ۔ فلمی دنیا میں میری ایک الگ شناخت ہے۔ دنیا مجھے فلم سٹی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ فلمی گیتوں میں میرا نام متعدد جگہ سننے میں آتا ہے۔ یہ ہے بمبئی یہ ہے بمبئی میری جان،ای ہے بمبئی نگریا تو دیکھ ببوا، بمبئی سے آیا میرا دوست اور بمبئی ہم کو جم گئی چند مثالیں ہیں۔1996ء تک میرا نام بامبے رہا پھر ممبا دیوی کے حوالے سے ممبئی ہوا۔ کئی دہائیوں سے میں نے اپنے قدم صحافت میں بھی جمائے ہیں۔ مجھ سے منسوب ممبئی ٹائمزاور ممبئی میرر ایسے اخبارات ہیں جو عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ میں سال کے بارہ مہینے سیاحوں کو اپنی آغوش میں لئے رہتی ہوں جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ سمندر نے مجھے تین طرف سے گھیر رکھا ہے۔یہاں کا ساحلِ سمندر چوپارٹی مشہور تفریح گاہ ہے جہاں کی پانی پوری کو لوگ برسوں نہیں بھول پاتے۔پانی پوری کھاتے کھاتے انگلیوں کا دانتوں کے درمیان دب جانا لوگوں کو ہمیشہ پانی پوری کی یاد دلاتا رہتاہے۔
میں دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہوں ۔اسی لیے لوگ مجھے عروس البلاد کے نام سے بھی پکارتے ہیںتاہم بمبئی کے لوگوں کی تیز رفتارزندگیوں نے ان کے دلوں سے میری خوبصورتی کے نشانات مٹا دیے ہیں۔میں سیّاحوں کے لیے جنت یاخوابوں کا شہر ہوںلیکن اہل بمبئی کیلئے بس ایک مصروف ترین جگہ ۔میرے ہر ساحل پر شام الگ الگ منظر پیش کرتی ہے ۔یہ منظر لوگوںکے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتاہے ۔جس نے مجھے ایک بار قریب سے دیکھ لیاتووہ بار بارمجھ سے ملنے کا متمنی ہوتا ہے۔ میں شہر ہوں دن میں خواب دیکھنے والوں کا، فلمی ادا کاروں کا، مزدوروں کا،مچھواروں کا اور کروڑ پتی تاجروں کا۔میں سب کو اپنے دامن میں پناہ دیتی ہو ۔یہاـںکوئی بھوکا نہیں سوتا ۔ لوگوں کا سفر فٹ پاتھ سے شروع ہوتا ہے اور ترقیوں کے ثریا تک جا پہنچتا ہے۔یہاں لوگ فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر سونے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔میری گود میں بسنے والوں کا سب سے بڑا سرمایہ اُن کے سر پر چھت ہے۔ کسی زمانے میں جب کوئی مجھ سے جدا ہو کر وطن کو لوٹتا تھا تو گاؤں والے اسے اس طرح گھیر لیتے تھے گویاوہ کسی دوسرے سیّارے کی مخلوق ہے۔ لوگ میرے بارے میں بڑے تجسّس سے پوچھتے تھے جیسے میں دنیا کاآٹھواں عجوبہ ہوں۔
۱۵۳۴ء سے ۱۶۶۱ء تک پرتگالیوں نے مجھ پر راج کیا۔ انھوں نے مجھے بومبے کی جگہ پرتگالی میں Bombaimنام دیا۔پرتگالی بنیادی طور پر اپنے رومن کیتھولک دھرم کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے لہٰذا عیسائی راہبوں اور عیسائی تنظیموں نے کئی کیتھولک چرچ یہاں قائم کیے۔۱۵۳۴ء میں انھوں نے ماہم میںسینٹ مائیکل چرچ قائم کیا جو آج تک موجود ہے اور اسے یہاں کا سب قدیم چرچ مانا جاتا ہے۔۱۶۶۲ء میںبرگنزاکی شادیـ ـ’کنگ چارلس دوم‘سے ہوئی۔ برگنزاکے والدین نے اسے کافی جہیز دیا جس میں میں بھی شامل تھی۔چارلس دوم کو مجھ پر حکومت کرنے میں کوئی دقت نہیں تھی لیکن اس زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میںکافی عروج پر تھی لہٰذا ایسٹ انڈیانے مجھے چارلس دوم سے کرایہ پر لے لیا ۔
۱۸۵۷ء میں جان ولسن نے میرے نام سے’بمبئی یونیورسٹی ‘قائم کی ۔ پھر اس کے بعد سے لوگوں نے اپنی تعلیمی لیاقت بتانے سے پہلے میرا نام لیناشروع کردیا کہ صاحب میںبمبئی یونیورسٹی سے بی۔ اے ہوں ، ایم۔ اے ہوں،پی ۔ایچ۔ڈی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ میراشمار دنیا کے چند ایسے اہم شہروں میں ہوتا ہے جہاںہمہ وقت طیاروں کی آمدورفت جاری رہتی ہے ۔یہاں۲؍ ایئر پورٹ ہیں۔ ایک نیشنل ایئر پورٹ جسے ڈومیسٹک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے اوردوسرا انٹر نیشنل ائیر پورٹ جسے چھتر پتی شیواجی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے نام سے جا نا جاتا ہے ۔میری بولی بھی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے جس کا استعمال فلمی ڈائیلاگ میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔یہ بمبیّا لینگویج (بمبییا ہندی/اردو)کے نام سے جانی جاتی ہے جس کا استعمال عام طور پر بازاروں میں ، لوکل ٹرینوںمیں، ہوٹلوں میں، بسوں میں ہوتاہے۔یہ بولی نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔ اس میں الفاظ کافی کم ہیں۔ ویسے اس بولی کو مہذب نہیں سمجھا جاتالیکن چونکہ اس سے ممبئی کی شناخت ہوتی ہے اس لئے لوگ بولتے ہیں ۔چند جملے اور الفاظ بطور مثال حاضر خدمت ہیں۔
۱۔ وَٹ لے اِدھر سے ۔ یا سومڑی میں وَٹ لے ۔ (کسی سے چھٹکارا پانے کے لیے)
۲۔ دیڑھ شانے۔ (اوور اسمارٹ بولنے کے لیے بطور طنز )
۳۔ کدھر جا ریلا ہے؟ (کہاں جا رہا ہے ؟)
۴۔ بس کیا یار۔ (کیا یہی دوستی ہے!)
۵۔ لوچا ہوگیا۔ (گڑ بڑی ہوگئی)
۶۔ پتلی گلی سے نکل لے۔ (خاموشی سے چلا جا)
۷۔ چل ہوا آنے دے۔ (میرے راستے سے ہٹ جا / میرے کام میں مداخلت مت کر)
۸۔ ہول دے رہا ہے کیا؟ (ڈرا رہا ہے کیا؟)
۹۔ ہری پتّی۔ ایک بیلو۔ ( سو کی نوٹ)
۱۰۔ بول بچّن ۔ (بڑی بڑی باتیں جس میں کوئی دم نہ ہو)
۱۱۔ ٹائم کھوٹی مت کر۔ (وقت برباد مت کر)
۱۲۔ بنٹائے۔ (دوست)
میرے علاقوں کے نام بھی بڑے نرالے ہیں ۔آیئے میں آپ کو ان کی سیر کراؤں۔ بن پانی کا ’دھوبی تلائو‘ دیکھئے۔بھنڈی کا دور دور تک پتہ نہیں لیکن آپ میرا مشہور بازار’بھنڈی بازار گھومئے۔بن چونے کی بھٹّی ’چونا بھٹّی‘ دیکھئے ،دور دور تک کہیں ٹانکی کا پتہ نہیں پر’دو ٹانکی ‘ دیکھئے۔بن چرچ کا ’چرچ گیٹ ‘دیکھئے۔
میری لوکل ٹرینوں میں سفر کرنا جوئے شیٖر لانے کے مترادف ہے۔یہ لوکل ٹرینیں میرے دل کی دھڑکن ہیں۔ یہ صبح ۴؍ بجے سے رات ۲؍ بجے تک چلتی ہیں ۔مگر نہ تو یہ تھکتی ہیں اور نہ تھکان کا شکوہ کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے بمبئی کی لوکل ٹرین میں سفر نہیں کیا اس نے بمبئی دیکھی ہی نہیں۔اس میں الگ الگ ڈبے ہوتے ہیں۔فرسٹ کلاس ، سیکنڈ کلا س اور عورتوں کے لیے مخصوص کلاس ۔ کچھ ڈبوں میں معذوروں اور بزرگوں کیلئے بھی جگہ مختص ہوتی ہے۔یہ ٹرینیںصرف چند سیکنڈکے لیے ہر اسٹیشن پہ رکتی ہیں۔
۲۴؍ اپریل۱۹۷۳ء میںدادر(بمبئی ) کے نرمل نرسنگ ہوم میں ایک بچے نے جنم لیا ۔ وہ بچہ رمیش تینڈولکر (مراٹھی ناولسٹ )کا لخت جگر ہے اور میری آنکھوں کا تارا ۔ اس نے چھوٹی سی عمر میں بلّا سنبھالا ۔ نہ صرف میرا بلکہ ہندوستان کا نام روشن کر دیا ۔اسے آپ سچن تینڈولکر کے نام سے جانتے ہیں ۔ سچن نے ۱۹۸۹ء میںپہلا انٹرنیشنل میچ پاکستان کے خلاف کراچی میں کھیلا ۔ان کی عمر جب ۱۶ ؍ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک آئے۔ میرا سر فخر سے اونچا ہوگیا کہ میں نے ہندوستان کو ایک بہترین کرکٹر دیا۔
کئی فلمی اداکاروں کی جائے پیدائش میں ہی ہوں ۔ان میں سے ایک نام مینا کماری کا ہے جنہیں ’ملکہ جذبات ‘کہا جاتاتھا۔ مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا ۔وہ ایک بہترین ادا کارہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی پیدائش ۱؍ اگست۱۹۳۳ء میںدادر (بمبئی )میں ہوئی۔ مشہور ادا کارہ مدھو بالا مینا کماری کی فین تھیں وہ کہتی تھیں کہ ’’مینا کماری کی آوازدوسری ہیروئین کی بہ نسبت کافی پُر کشش ہے ۔‘‘۳۱؍ مارچ ۱۹۷۲ء میںوہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں تا ہم اپنی با کمال ادا کاری کی بدولت وہ آج تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

حیدر شمسی،گوونڈی، ممبئی ۔موبائیل : 09773473150