Fan E Reportaz Nigari

Articles

فن رپو رتاژنگاری :ایک مطالعہ

محمدرضا (ایلیاؔ)

تحریر کی وسا طت سے پیش آمدہ واقعات و حا د ثات کوعلمی و فنی کمالات سے قارئین کے دل و دماغ میں اتار دینے کے ہنر کو رپورتاژکہتے ہیں ۔ حقیقت پر مبنی رپورتاژنگاری کو پر کشش الفاظ ، نرالے انداز ،انو کھے طرز میں تحریر کرنا اس کی بنیادی اوراساسی اصولوں میں شمار کیا جا تا ہے ۔ان سب باتوں کے لیے لازمی ہے کہ ماضی کے تذکرے کامطالعہ کرنے کے بعدا س میں حالا ت حا ضرہ کی بول چال اور محاورات کو حسن و خوبی کے ساتھ شامل کر لیا جائے ۔ اگر رپورتاژ کے مفہوم کو وصی اللہ کھو کھر کی مرتب کر دہ قاموس ’’ جہانگیر اردو لغت‘‘ کے توسط سے سمجھنے کی کو شش کریں تو وہ تحریر کرتے ہیں کہ
’’ چشم دید واقعات کا ایسا بیان جو حقیقت کو مسخ کیے بغیر پر تخیل ادب کی تعریف میں آسکے ۔‘‘ اسے رپورتاژ سے تعبیر کرتے ہیں ۔ دراصل لفظ رپورتاژ فرانسیسی زبان کے لفظ ’’Rapportage‘‘ کی تارید ہے جس کے معنی خفیہ رپورٹ کے ہیں ۔(۱)
وہیں دوسری طرف ہم اگر’’ آن لائن اردو لغات‘‘ ملا حظہ کریں تو اس میں رپورتاژ کا تذکرہ مندرجہ ذیل الفاظ میں ملتا ہے :
’’ رپو رتاژ سب سے پہلے ۱۹۶۳ میں ’’ جدید کے دو تنقید ی جا ئز ہ ‘‘ میں مستعمل ملتا ہے ۔ انگریزی زبان ’’Reportage‘‘ سے اردو میں تصرف کے ساتھ داخل ہوا ۔ عربی رسم الخط میں بطور اسم مستعمل ہے ۔ رپو رتاژ اسم معرفہ ۔ مذکر ہے ۔ (۲)
لا نگ مین یونیورسل ڈکشنری میں لا نگ نے رپورتاژ کی تعریف یوں کی ہے ۔
’’خبرنگاری کا عمل۔ ایسی تحریر جس کا مقصد سانحہ کی حقیقی تصویر پیش کر نا ہو ۔ ‘‘(۳)
ڈیوڈگرامبس نے لٹریری کمپینئن ڈکشنری میں رپورتاژ کا مطلب کچھ اس طرح لکھاہے :
’’ایسی خبر نویسی یا حالات حاضرہ کی اصل رپورٹنگ جو براہ راست مشاہدے ؍ دستاویزی حیثیت ، حادثات یا حالات ، خبرنویسی یا نیو ز اسٹوری پر مبنی ہو ۔ ‘‘(۴)
علی سر دا ر جعفری ’’رپو رتاژ ‘‘کے بارے میں اپنے تاثرات کااس انداز میں اظہار کر تے ہیں:
’’یہ صنف ادب رپورتاڑ بالکل نئی ہے۔ لیکن بے انتہا اہم ہے۔ یہ صحافت اور افسانہ کی درمیانی کڑی ہے۔ اور اس سے ہمارے ادب کو بے انتہا فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کی نوعیت کو دیکھتے ہوئے میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ رپورتاڑ ہمارے مقاصد کے لیے بہت ضروری ہے۔ اس کے ذریعہ سے ہم بڑے بڑے کام لے سکتے ہیں ‘‘۔۵
کتاب ’انتخاب سجاد حیدر یلدرم‘کی مرتبہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’ رپورتاژ ایک فرانسیسی لفظ ہے اور چند سال سے اردومیں مستعمل ہو چکا ہے ۔ رپورتاژ میں رپو رٹر بیرونی حقائق کے ساتھ ساتھ ادبی رنگ میںاپنے ذاتی تاثرات کو بھی پیش کر تا ہے جب کہ رپورٹ یا سفر نامہ محض حقائق پر مشتمل ہو تا ہے ۔(۶)
جس وقت ؍ زمانے میںقلمکار تحریر کر رہا ہے اس وقت کی بولی جانے والی زبان کا بھی استعمال اچھی رپورتاژ نگاری کے لیے ضروری ہے ۔ لیکن جو ہم زبان استعمال کریں وہ عام فہم ہو نے کے ساتھ ساتھ روز مرہ کے الفاظ کے ساتھ ہو۔ ایسا نہ ہو کہ واقعات اور حادثات میں متروک الفاظ و کلمات کا بکثرت استعمال کریں ۔غیر مستعمل الفاظ سے پر ہیز کرتے ہوئے مستعمل اور ایسے جدید الفاظ کی مدد سے تزئین کا ری کریں جو گزرے ہوئے وقت کی عکا سی کرتاہو ۔
رپو رٹر کو اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ سامنے کی بات نیز سطحی باتوں کے ذریعہ فوراً نتیجہ اخذکر لیتا ہے جبکہ آنے والے دنوں میں سچائی جب اس کے برعکس ہوتی ہے تو رپو رٹر س معذرت کر کے بات کو ختم کر دیتے ہیں ۔ اب تو عام سی بات ہو گئی ہے کہ تازہ رپورٹ کے مطابق یوں ہے وغیرہ وغیرہ ۔ مگر رپورتاژنگار کا صرف یہ کام نہیں ہے کہ وہ واقعات و حادثات کو سطحی نظر سے دیکھ کر فیصلہ کر دے بلکہ گزرے ہوئے واقعات ، لمحات کی تہہ تک جائے اور ہر ہر نکات کو عمدہ طریقہ سے تحقیق کر کے تجزیہ کرے۔ یہ بات بھی ضرور سمجھ لینا چاہئے کہ جو تجزیہ ہم کر رہے ہیں اس کو سادگی کے پیراہن میںبالکل نہ پرو ئیں بلکہ اچھے ، پر لطف اوردل کو موہ لینے والے انداز میں پیش کریں۔ بات کی تہہ تک جانے کے بعد ہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے جیسے کہ رنگ لا تی ہے حنا پتھر پہ گھس جانے کے بعد ۔ ’حنا ‘رپورٹر کے مثل ہے اور گھسنے کے بعد جو رنگ آتا ہے وہ رپو رتاژ ہے ۔
جملے کی ہیرا پھیری سے ،تخیلات کی تبدیلی سے بہت کچھ بدل جا تا ہے ۔ایک واقعہ ، ایک ہی منظر کو الگ الگ انداز میں پیش کر کے اپنی تحریر کے رنگ دو بلا بنا سکتے ہیں ۔ ہاں توآپ متوجہ ہیں ! دیکھئے یہ وہ عجیب منظر !
۰ خونخوار شیر ہرن کا شکارنہیں کر سکتا ۔یہ اس کی عاجزی کی علا مت ہے ۔
۰ چالاک ہرن نے برق رفتاری سے اپنی تیز رفتار چوکڑی کی مدد سے شیر کو مات دے دی ۔
۰ شیر نے صحیح وقت کا انتخاب نہیں کیا ۔ جس کا فائدہ ہرن کو جیون دان کی شکل میں ملا ۔
۰ شیراپنے لنچ کے لیے دوڑ رہاتھا اس لیے ہا ر گیا ۔ ہرن اپنی زندگی کے لیے بھاگ رہا تھا اس لیے وہ جیت گیا ۔
۰ ہرن کی زندگی کے سامنے شیر کی بھوک نے دم توڑ دیا ۔
یہاںاگر غورکیا جائے تو واقعہ ایک ہے مگر بیان اوررپورٹر کا انداز بالکل مختلف اور برعکس ہے ۔ مختلف رپورتاژوں نے واقعات کی صداقت کو نظریات ، تخیلات کے ذریعہ اپنے اپنے دلچسپ انداز میں پیش کر کے قارئین ، ناظرین کو با ندھے رکھا ۔اب عوام کے اوپر منحصر ہے کہ کس کو کس انداز میں پسند کر تا ہے ۔
ڈاکٹر احتشام حسین کے نزدیک صنف رپور تاژ ادب کا حصہ تو ہے مگر اس کی شکل و صورت ابھی تک واضح نہیں ہو سکی ہے ۔ تاجور سامری کی رپورتاژ ’’ جب بندھن ٹوٹے‘‘ کے تعارف میں لکھتے ہیں :
’’رپو رتاژ کو ہم واقعات کی ادبی اور محاکا تی رپو رٹ کہہ سکتے ہیں ۔ادب کی شکل نہ تو واضح ہے اور نہ اتنی پرانی کہ اس کے حدود تعین کیے جائیں گے ۔ ‘‘(۷)
لکھنؤکی تاریخ ،واقعات ، حادثات، بلندی اور تنزلی کے مناظر کو بہت سے لوگوں نے قلمبند کیا مگر بعض کو شوق اور دلچسپی کے ساتھ پڑھا جا تا ہے نیز کچھ خاص تحریر ایسی ہیں جن کو مکمل پڑھے بغیر سکون نہیں ملتا، کچھ تو ایسی ہیں جن میں بوریت کا احساس ہو نے لگتا ہے جب کہ وہ عمدہ اور تحقیقی ہوتیں ہیں ۔ تاریخ لکھنؤ میں ’’ گزشتہ لکھنؤ‘‘ کے حوالے مر زا جعفر حسین نے لکھا اور ان کا انداز کچھ اور ہے ۔ یہی تاریخ لکھنؤاور اجڑتا ہوا اودھ کو’’ یادوں کی برات‘‘ میں جو ش ملیح آباد ی کی تحریر کا مطالعہ کریں تو ان کا انداز بالکل دلکش ہے۔ زیادہ تر لو گوں کو پسند بھی آتا ہے کیونکہ انہوں نے تحریر کو نوک جھونک ،نرالے انداز کے ساتھ لکھا ہے ۔ یہی حال رپورتاژکا ہے ہمیں اس انداز میں لکھنا چاہئے کہ رپورتاژ مکمل ہوجائے تشنگی بھی باقی رہے نتیجہ تصور کی منزل میں نہ ہو بلکہ تصدیق ہو جائے۔
ڈاکٹرخلیق انجم ’’اردو میں رپورتاژنگاری ‘‘ کے مقدمہ میں لکھتے ہیں :
’’اردومیں با قاعدہ رپورتاژنگاری کا ارتقاترقی پسند مصنفین کے ہاتھوں ہوا ۔ سجادظہیر نے ’روشنائی ‘میں لکھاترقی پسند مصنفین کے ان جلسوں کی تفصیلی روداد اور ان کی فضا کو حمید اختر بڑی خوبی کے ساتھ قلم بند کر تے تھے ۔ ہر جلسہ میں وہ بحیثیت سکریٹری انجمن کے گزشتہ ہفتے کی روداد پڑھتے تھے ۔ عام طور سے سکریٹری کی رپورٹ ایک خشک اور رسمی سی چیز ہوتی ہے لیکن حمید اختر نے ان رپورٹوں میں بھی ادبی رنگ پیدا کر دیا اور اس طرح غالباً وہ ایک نئی ادبی صنف کے مو جد سمجھے جا سکتے ہیں ۔‘‘(۸)
رپورتاژ کو حا دثات، گزرے ہوئے واقعات کا ثمرہ کہا جا تا ہے ۔ اس کا مطلب یوں سمجھ لیجئے کہ حیات انسانی کے ہر پہلو واقعہ ، حا دثہ اور رنج و غم خو شی و فرحت کو آنکھوں دیکھا حال کی اس طرح منظر کشی کر نا کہ جذبات کی پوری طرح سے ترجمانی ہوجائے ۔ منظر یا ما حول کا نقشہ دلکش انداز میںاجا گر ہو جائے ۔رپو رتاژ کے لیے یہ لا زمی ہے کہ فروعی اطلاعات کو چھو ڑتے ہوئے اصول اطلا عات کو لفظ بہ لفظ ،ہو بہو یعنی جس طرح ، جس شکل میں ، جس وقت ، جس ساعت ، جس لمحہ میں دیکھئے اس کو بعینہ بیان کرے تبھی صحیح معنی میں رپو رتاژ کا حق ادا ہو گا۔ یا یوں کہا جائے تو کوئی مبا لغہ آرائی نہیں ہو گی کہ رو نما ہو نے والے واقعہ و حادثہ میں شمہ بھر بھی تبدیلی کے بغیر بیان کر دے ۔
شرر نے اجتما ع کی اس رودادکے بارے میں لکھا جو ۹؍ مئی بروز یک شنبہ ۱۸۸۷ ء کو قیصر باغ لکھنؤ کے تاریخی میدان میں انجمن دار السلام کی جانب سے منعقد ہوا تھا ۔ جس میں شرر کے مطابق بیس سے پچیس ہزار لو گوں نے شرکت کی ۔ انہوں نے آنکھوں دیکھے مناظرزمانہ حال میں لکھا۔ ایک اقتبا س ملا حظہ ہو :
’’ان پر شوق آنکھوں نے کیا دیکھا ، ایسا کچھ دیکھا کہ آنکھوں کو تمنا رہ گئی ، نہیں دیکھا ، نہیں دیکھ رہی ہیں ۔ ہم ایک وجد کے عالم میں جھوم رہے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ان خطیبوں کی معجز بیانیاں دلوںمیں آگ لگائے دیتی ہیں ۔ ایک طرف جناب منشی امتیاز احمد صا حب جوش و خروش کے ساتھ تقریر کر رہے ہیں ، غصے میں ابھر نے والے خون کی طرح اسلامی جو ش رگوں میں دوڑتا پھرتا ہے اور بے ساختہ وجد میں آکر مسلمانوں کے پر جوش ہجوم سے سبحان اللہ ، جزاک اللہ ۔ اللہ اکبر کے نعرے بلند ہو رہے ہیں ۔ دوسری جانب مر زا محمد ہا دی رسوا صا حب اپنی عالمانہ تقریر سے ایک بہت بڑی جما عت کو اسلام کا جان فروش خادم بنائے دیتے ہیں ۔ ‘‘(۹)
رپورتاژ نگار وںکو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ ہر گز ہر گز یہ نہ دیکھے کہ اس کی رپورتاژنگاری سے عوام یا زما نہ یا آئندہ وقت میں اس کے اثرات کیا مر تب ہوں گے ۔ ہمت مر داں مدد خدا کے اصول پر چلتے ہوئے حق بیانی اور علمی لیا قت ، فنی صلاحیت ، تحریر ی مہا رت ، قلمی قوت سے گزشتہ مناظر کو رقم کر دے ۔ رپو رتاژ کے لیے سب سے عمدہ اور حالات حا ضرہ میں بخوبی سمجھی جانے والی مثال کمنٹری ہے ۔ تمام شا ئقین ریڈیو ؍ٹی وی پر بر سوں سے سنتے چلے آر ہے ہیں ۔ کرکٹ میں دلچسپی رکھنے والا ہر انسان کمنٹری کو سنتا ہے مگر کبھی آپ نے غور کیا کہ کمنٹری کو ہم انتی غور سے کیوں سنتے ہیں ؟اس کی طرف ہمارا رجحان اتنا زیا دہ کیوں ہے ؟ اس کا جواب صرف یہ ہے کہ کمانٹیٹر ایسے انداز میں اور موجودہ وقت کے کچھ طنز و مزاح کے ساتھ ، تاریخ میں اس سے متعلق گزرے ہوئے واقعات کو شامل کر تے ہوئے کمنٹری کر تا ہے یہ اس کی حسن بیانی ہے ۔جبکہ اگر آپ غور کریں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ کھلاڑی تو اپنے سادہ انداز میں کھیل رہا ہے اس طرح کا کچھ مظاہر ہ نہیں کر رہاہے مگر کمانٹیٹر کھلاڑیوںکے حرکات و سکنات کو پر لطف انداز میں پیش کر تا ہے اور سامعین اور ناظرین خوشی سے جھوم جا تے ہیں ۔ رپور تاژنگاری کے فن کو سمجھنے کے لیے کمنٹری بہترین مثال ہے ۔
ترقی پسندوں نے رپورتاژکے فن کو بہت دلچسپ بنا کر پیش کیا اور اس فن کو ایک با قاعدہ صنف کی حیثیت دی گئی ۔جنہوں نے رپورتاژ لکھے ان کی با قاعدہ طور پر ماہنا مہ رسالے ؍ جریدے میںاشاعت ہوئی بعدمیں جو طویل رپو رتاژ تھے وہ کتابی شکل میں منظر عام پر آگئے ۔ اس بات کی تائید میں ہم عبدالعزیز کی کتاب کو بطور ثبو ت پیش کر سکتے ہیں ۔ اس کے مقدمے میں کچھ یوں تحریر ہے :
’’ سید سجاد ظہیر ، کر شن چند ، ابراہیم جلیس ، تاجور سامری ، عادل رشید ،فکر تونسوی ، جمنا داس اختر ، انور عظیم ، پرکاش پنڈت ، عصمت چغتائی ، خواجہ احمد عبا س، شاہد احمد دہلوی ، قرۃ العین حید ر اور نئے لوگوں میں قاضی عبد الستار ، سید ضمیر حسن دہلوی نے اہم مختصر ،طویل رپورتاژ لکھے جو مختلف رسائل مثلاً ’’شاہراہ‘‘ ، ماہنامہ ’’کتاب ‘‘ وغیرہ میں شایع ہوئے ۔طویل رپورتاژ مثلاً ’’ پو دے ‘‘ ، ’’ خزاں کے پھول ‘‘ ، ’’ جب بندھن ٹو ٹے ‘‘ ، ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ وغیرہ علیحدہ کتابی صورت میں سامنے آئے ۔ ‘‘(۱۰)
قرۃ العین حیدر کے رپو رتاژ ’’ ستمبر کا چاند ‘‘ کا مطالعہ کیا جائے تو اک بات اور واضح ہو جاتی ہے کہ میدان جنگ کے مختلف واقعات اور اس کی ہولنا کیاں ، اقتدار کی عروجیت و شکست کے ہی مناظر نہیں پیش کیے ہیں ، بلکہ جنگ کے اختتام پر کیا اثرات مر تب ہو تے ہیں اس میں موجود ہیں۔ اس کے علا وہ دیگر متعدد مو ضوعات ہیں جس پر رپو رتاژ لکھے گئے ہیں مثلاًخشک سالی ، آسمانی آفات ، زلزلہ ، وبائی بیماری وغیرہ وغیرہ میں جو تباہ کاریاں وجود میں آتی ہیں ان پر بھی رپورتاژ لکھے گئے اور لکھے جا رہے ہیں ۔
با مقصد رپو رتاژ نگار کی خوبی یہ ہو تی ہے کہ زما ن و مکان کا تعین اس انداز میں پیش کیا جائے کہ جو حقیقت بعض کی نظر وں میںنہیں تھی وہ سب پر عیاں ہو جائے ۔ رپو رتاژنگار رپو رتاژ لکھنے کا سبب ہی یہی ہو تا ہے کہ وہ اپنی نظروں کے سامنے گزرئی ہوئی صداقت کو دوسرے تک پہنچا سکے جو اس کے متلا شی ہیں ۔ یعنی عینی شاہدخیالوں میں اس مقام تک پہنچ چکا ہو تا ہے جہاں وہ واقعہ یا سانحہ رو نما ہوچکا ہو تا ہے ۔ اس کے ساتھ ہی بعض لو گوںکا خیال ہے کہ تاریخی تر تیب بھی رپورتاژ کے لیے ضروری نہیں ہے ۔ اسی سلسلے میں کشمیری لال ذاکر ’’ یہ صبح زندہ رہے گی ‘‘ میں رقمطراز ہیں :
’’ میں روزنامچہ یا تاریخ نہیں لکھ رہا ہوں کہ تاریخ وار اپنی روداد تحریر کروں ، میں تو صرف ایک رپورتاژ لکھ رہا ہوں ۔ اس میں تاریخوں کی اتنی اہمیت نہیںہے، جنتی شخصیات کی اور میر ے تاثر ات کی ہے ۔ لہٰذا تاریخوں پر میری توجہ کم رہے گی ۔(۱۱)
مگر سچ تو یہ ہے کہ جب کسی شخص کو کوئی اطلاع مو صول ہو تی ہے تو اس کے ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے اور اسے وہ تلا ش کر نے کی پو ری کو شش کرنے میں مصروف ہو جا تا ہے کہ یہ واقعہ یا سانحہ کب اور کس جگہ رو نما ہوا ہو گا۔ قاری کے مطالعہ میں تیزی آجا تی ہے اور وہ بے چین سا رہتا ہے جب تک اسے زمان اور مکان کا پتا نہ مل جائے ۔ اگر اسے اطمینان بخش جواب مل جا تا ہے وہ پر سکون حا لت میںواپس آجا تا ہے ۔ اگر اسے وہ چیز دستیاب نہیں ہو تی تو وہ عالم تصور میں چلا جا تا ہے ۔ اسے قصہ یا کہانی سے تشبیہ دینے لگتاہے ٹھیک اسی وقت رپو رتاژ کا مقصد پامال ہو جا تا ہے ۔ جب سجا د ظہیر کا رپو رتاژ جسے ’’ یا دیں ‘‘ کے نام سے جا نا جا تا ہے اور اس کو اردو کا پہلا رپو رتاژ مانا جا تاہے ۔ اس کا آغاز ہی تاریخ سے ہو تا ہے ملا حظہ ہو۔
’’ ۱۹۳۵ ء عجب سال تھا ۔ میں اس زما نے میں لندن میں اپنی طالب علمی کے آخری دن گزار رہا تھا ۔ ‘‘(۱۲)
جبکہ ثریا حسین رپورتاژکی وضاحت کر تی ہوئی تحریر کرتی ہیں ـ:
’’چندسال قبل ایک اردو روزنامے میں شعبہ اردو کے ڈاکٹر رفیق حسین نے لکھا تھا کہ اگرچہ کر شن چند ر کے ’’پو دے ‘‘ کو اردو کا پہلا نا ول رپورتاژ کہا جاتا ہے لیکن یلدرم کے ’’ سفر بغداد ‘‘ کو جو ۱۹۰۴ء میں شایع ہوا ، اردو کا اولین رپورتاژ کہنا زیا دہ صحیح ہو گا ۔ زیا رت قاہرہ و قسطنطنیہ ۱۹۱۱ ء یلدرم کا دوسرا رپورتاژ تھا ۔‘‘ (۱۳)
اس کے علا وہ اگر آپ اظہار اثر کومطالعہ میں لائیں تویہ بھی تاریخ کو اہمیت دیتے ہوئے قاری کو بھر وسہ دلا نے اور ان کے اعتماد کو پائے تکمیل تک پہنچانے کے لیے اپنے رپورتاژ ’’ تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ‘‘ کی ابتدا کر تے ہوئے کچھ اس انداز میں مصروف تحریر ہیں :
’’ اور آخر ہندوستان کی دلہن دلی کا دل ۱۷؍ اپریل ۱۹۷۶ کو جگمگا اٹھا ۔ دلی کا یہ دل جدید و قدیم تہذیبوں کا گنگا جمنی سنگم ، بستی نظام الدین کا علا قہ ہے ۔ ‘‘(۱۴)
رپور تاژ نگار کوکسی بھی رپورتاژرقم کر نے سے پہلے صرف قوت سامعہ پر نور ایقان نہیں کر نا چاہئے بلکہ بصیرت پر اعتماد کرنے کے لیے نفسیاتی بصیرت کی مدد لینی چاہئے ۔کیونکہ موجودہ وقت میں برقی رو کے ذریعے جو آواز فضا میں گونجتی ہے اس کو سننے کے لیے ایک خاص قسم کا آواز گیر آلہ ہو تا ہے ۔ ہمارے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ سما عت پر نہیں بصارت سے کام لینا چاہئے ۔ جیساکہ طلعت گل اپنی کتاب ’’ اردو میں پورتاژ کی روایت ‘‘ میں تحریر کر تی ہیں :
’’ رپو رتاژ نگار اپنے کانوں پر بھر وسہ نہیں کر تا ۔ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور دل سے محسوس کرتا ہے کچھ لو گوں کا خیال ہے کہ آنکھوں سے دیکھنے کے علا وہ سنے سنائے واقعات و حادثات پر بھی رپورتاژ لکھا جا سکتا ہے ۔یہ درست نہیں کیونکہ رپورتاژمیں مصنف کا موضوع سے براہ راست تعلق بنیا دی حیثیت رکھتا ہے اور رپو رتاژ کا بیان مستند مانا جا تا ہے ۔ ‘‘(۱۵)
محققین کے مطابق رویت حقیقتاًنظروں سے نہیں عقل سے ہوتی ہے ۔ حواس خمسہ میںبصارت بھی شامل ہے جو بعض دفعہ دھو کادے جا تی ہے ۔ مثلاً اگر کسی بلند مقام یا پہاڑ کی اونچائی سے کسی انسان کو دیکھیں تو وہ ما چس کی ڈبیا کے ما نند نظر آئے گا تو کیا رپو رتاژ نگار اس کو بعینہ رقم کر دے جب کہ اس نے خو داپنی آنکھوں سے دیکھا اور دل نے محسوس کیا ہے ۔ جی نہیں بلکہ یہاں پر عقل سے کام لینا پڑے گا۔ یا یوں کہا جائے تو زیا دہ بہتر ہو گا کہ یہاں پرعقلی بصارت کی ضرورت ہے ۔
٭٭٭٭٭

حوالہ جات
۱……جہانگراردو لغت ، وصی اللہ کھو کھر ،ص۸۰۹
۲……http://urdulughat.info/words/3304
۳……Longman universial Dictionary 1982, Page -826
۴……Literacy Companion Dictionary By Savid Grambs 1984 Words about words- Page 313
۵……علی سردار جعفری۔ پیش لفظ۔ خزاں کے پھول۔ از عادل رشید۔ص ۱۱
۶…… انتخاب سجاد حیدر یلدرم ۔مرتبہ ثریا حسین ۔ ص ۲۰
۷……تارجور سامری ، جب بندھن ٹوٹے ۔ تعارف احتشام حسین ص۵
۸……مقدمہ ۔ اردومیں رپو رتاژ نگاری۔ ص،۷
۹…… دلگداز۔ اپریل ۱۸۸۸۔ ص ۵۹
۱۰……اردومیں رپورتاژنگاری ،عبد العزیز ، ص ۸
۱۱…… یہ صبح زندہ رہے گی ، کشمیری لال ذاکر ؔ ص ،۲۲
۱۲……یا دیں ۔ سجا د ظہیر ۔
۱۳…… انتخاب سجاد حیدر ۔ ص ۲۰
۱۴…… تر قی پسند مصنفین کی کل ہند کا نفر نس ۔ اظہار اثر
۱۵…… اردو میں رپو رتاژ کی روایت ۔طلعت گل ص ۲۷۔ اپریل ۱۹۹۲

مضمون نگار سے رابطہ کریں
پورہ رانی ، نزد اقرا پبلک اسکول ،مبارک پور ، اعظم گڑھ
رابطہ نمبر 9369521135=
ای میل : sameersm141@gmail.com

Kab Hum Aap Paraye Hain by Shams Wadood

Articles

کب ہم آپ پرائے ہیں؟

شمس ودود

ہندوستانی زبان، ہندوستانی تہذیب اور یہ لب ولہجہ عصرحاضر کے دانشوروں کو ڈوبتا ہوا محسوس ہو رہا ہے، لیکن اب بھی اس کے افق سے کچھ ستارے جو اپنی روشنی سے یہ اعلان کرتے ہیں۔ اعلان ہی نہیں بلکہ سناٹے میں نقارے کے مانند گونج اٹھتے ہیں اور ہماری بصارت خیرہ ہو اٹھتی ہے۔ تاریخ نے چونکہ ہمیں بھاری بھرکم اژدر نما پیش کیا ہے۔ لہذا اس بھاری بھرکم وجود کے ساتھ متحرک ہونے پر ہمیں گامزن کئے بغیر نہیں رہتا۔
میری مراد آلوک یادو سے ہے، جن کا شعری مجموعہ اسی کے نام منظرعام پر آچکا ہے اور ہر قاری کو چندھیائے بغیر نہیں رہتا۔ علی سردار جعفری اردو (ہندوستانی) زبان کو ناگری رسم الخط میں تبدیل کرتے کرتے اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان سے پہلے پریم چند دونوں زبانوں اور ان کے رسم الخط یعنی اردو۔۔۔نستعلیقی رسم الخط اور ہندی۔۔۔ ناگری رسم الخط میں قاری سے روبرو ہوئے، نیز دیگر اشخاص نے بھی ایسی کوششیں کیں جو کبھی مثبت رہیں اور کبھی منفی، لیکن ہم جسے ہندوستانی لب و لہجہ کہہ رہے ہیں یا کہتے اور سمجھتے آئے ہیں، اس کے وجود پر کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ اور آج حالت یہ ہے کہ زیر نظر شعری مجموعہ ہندی(ناگری) رسم الخط سے نستعلیقی رسم الخط میں منتقل ہوکر بھی اپنا ایک مقام رکھتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ کہیں کہیں خالص ہندی کے کچھ الفاظ شعر کو سمجھنے میں کچھ دشواریاں پیدا کرتے ہیں، لیکن وہ بھی ہماری کم نظری ہی کو ثابت کرتے ہے۔ (ہماری سے مراد میں اور جو لوگ اپنے آپ کو اس فریم میں فٹ پاتے ہیں۔ بقیہ حضرات اس زمرے میں نہیں آتے ہیں(
برسوں سے تسلیم شدہ وحشی صنف غزل میں واقعی وحشیانہ پن کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ جبھی تو اس صنف کو برتنے اور اس صنف میں شاعری کرنے والے کیلئے یہ ضروری نہیں ہے کہ وہ کسی اردوداں خانوادے ہی سے تعلق رکھے، بلکہ اس صنف کو صرف لب و لہجہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ پھر وہ شخص (شاعر) چاہے جس خطہ ارض کا باسی ہو، غزل اسے اپنائے بغیر نہیں رہتی۔
غزل کہنے کیلئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، ان میں سے تقریبا تمام آلوک یادو کے یہاں پائی جاتی ہیں۔ خواہ ردیف و قافیہ کا انتخاب ہو یا ہر شعر ایک مکمل واقعہ، بیان کی ندرت ہو یا شعریت و نغمگی۔۔۔ ہر وہ چیز ان کی غزلوں میں موجود ہے، جسے ملاکر غزل کا قالب ڈھلتا ہے۔ روایتوں کے ذریعے قاری تک اپنا پیغام پہنچانا ہو یا مٹتی تہذیب کی عکاسی ہو ۔۔۔ آلوک یادو انہیں اس طرح بیان کر جاتے ہیں کہ بندہ سانس روک کر اس جگہ ٹھہر کے غور کرنے پہ مجبور ہوجائے۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں:۔
پھر اسے بے وفا کہہ دیا ؍ ہائے ہم نے یہ کیا کہہ دیا
ہر ستم اس کا نعمت سمجھ ؍ یار کو جب خدا کہہ دیا۔
ہوائیں ساونی جو پڑھ سکو تم ؍ انہیں پہ آنسووں نے خط لکھے ہیں۔
جئے ہیں درد اور آنسو پئے ہیں ؍ کہاں روتا، ترا کاندھا نہیں تھا۔
نہ ہوتی عشق میں حاصل جو لذت غم بھی ؍ تو کرتا کیا یہ مرا قلب زار، سمجھا کرو۔
بے خطا ہوکے بھی مانگی ہے معافی ہم نے؍ اپنے رشتے کو اسی طرح بچائے رکھا۔
جس کے ہونے کی دعا مانگی خدا سے ہم نے؍ دربدر ہم کو وہی لخت جگر کرتا ہے۔
سراپا ترا،کیا قیامت نہیں ہے؍ ادھر حشر سی دل کی حالت نہیں ہے۔
کھا کر قسم تمہاری نشیلی نگاہ کی؍ ہر روز توبہ کرتے رہے مئے کشی سے ہم۔
اس کی ہرچیزمری، عشق کیآغاز میں تھی؍ لیکن آج اس نے مری جاں بھی پرائی لکھ دی۔
پیار کا دونوں پہ آخر جرم ثابت ہوگیا؍ یہ فرشتے آج جنت سے نکالے جائیں گے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟؍ کسی نے کردیا کیا آج ذکر حق پھر سے؟
جڑیں چاہتی ہیں ٹھہرنے کو مٹی؍ ہتھیلی پہ سرسوں اگائیں گے کیسے؟
یہ اس کا ہم، پیار میں ڈھل جائے تو اچھا؍ رسی تو جلی، بل بھی نکل جائے تو اچھا۔
مندرجہ بالا اشعار میں جابجاان روایتوں کا ذکر ملتا ہے جو اس معاشرے میں پل کر جوان ہوئیں یا پھر شاعری میں ان کا ذکر بھی ہوتا ریا ہے۔ انسان کے حقیقی ضزبوں کی عکاسی بھی، اور تجربے کی بھٹی میں تپے خیالات بھی، محبت کی باتیں بھی اور رشتوں کی حقیقت بھی، الغرض قاری کو اپنے ذوق کے مطابق یا ہم ایسے طالب علم کو اپنے ذوق کے مطابق چیزیں ان غزلوں میں دستیاب ہیں۔
عام طور پر چھوٹی بحر میں شاعری کرنا لیکھ سے ذرا ہٹ کے اور مشکل تصور کیا جاتا ہے، لیکن آلوک یادو کا یہ امتیاز ہے کہ وہ چھوٹی بحر میں اچھی شاعری کرتے ہیں اور اپنی بات بھی مکمل کہتے ہیں، جس میں کہیں پر بھی کجی محسوس نہیں ہوتی۔؎
آپ سے ہر خوشی ہوگئی ؍ سرجھکا، بندگی ہوگئی۔
غزلوں میں محبوب کے عارض و گیسو، لب و رخسار کے ذکر پہ ہی تنقید کا ایک نیا باب اور ادب میں نئے طرز اظہار کا در کھلا تھا۔ جہاں سے نظم اور جدید اردو تنقید کا آغاز ہوتا ہے۔ اس تفصیل سے قطع نظر۔۔۔ آلوک یادو نے بعض روایتوں اور اساطیر الاولین کو ایسی چوٹ دی ہے کہ دانتوں تلے انگلیاں چلی جائیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔
دینے والے نے اتنا دیا ؍ حسرتوں میں کمی ہوگئی۔
ترے ان لبوں کو میں تشبیہ کیا دوں ؍ کہ پھولوں میں ایسی نزاکت نہیں ہے۔

مذکورہ بالا اشعار میں پہلا شعر غالب کے اس شعر کا رد محسوس ہوتا ہے۔؎
ہزاروں خواہشیں ایسی، کہ ہر خواہش پہ دم نکلے
بہت نکلے مرے ارمان، لیکن پھر بھی کم نکلے۔
پھر دوسرا اور تیسرا شعر میر کے مشہور شعر ؎ نازکی اس کے لب کی کیا کہیئے ؍ پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے۔ یا کلاسیکی شاعری اور ان کی روایتوں کی کاٹ ہے، جن پہ ناقدوں نے ایک زمانے تک بحث کیا ہے۔ یہاں کسی کو کم تر یا برتر دکھانا ہرگز نہیں بلکہ مقصود یہ ہے کہ ہر زمانے کی اپنی ضرورتیں اور روایتیں ہوتی ہیں۔ سو گردش ایام کے بقدر شاعری بھی اپنا رخ تبدیل کرتی ہے۔ ہر دور کے اپنے تقاضے، اپنے استعارے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ضروریات زندگی تبدیل نہیں ہوتی ہے، لیکن کسی حد تک ان کی نوعیت ضرور بدل جاتی ہے۔
بحر، وزن اور قافیہ و ردیف کی آمیزش اور لفظوں کی ہیرا پھیری سے شاعری تو ہوسکتی ہے، لیکن ایک ایک شعر میں عمر بھر کا تجربہ بیان کرجانے کا فن ہر کسی کو میسر نہیں ہوتا۔ اگلے زمانے میں کسی انسان کو اس وقت تک تجربہ کار تسلیم نہیں کیا جاتا تھا، جب تک کہ اس کے بالوں میں سفیدی، ہاتھوں میں لرزش اور کمر میں خم نہ آجائے۔ لیکن اس دور میں بڑھاپے کا تجربہ بیان کرنے والے ایسے نوجوان موجود ہیں کہ کبھی کبھی تو ان میں اور ان کی شاعری میں کوئی مناسبت ہی نظر نہیں آتی۔ پھر بھی ان کی بات تسلیم کئے بغیر نہیں رہا جاسکتا ہے۔ شاید اس لئے کہ جب فن کامل ہو، تو فن کار کی عمر نہیں پوچھی جاتی۔؎
جب کسی نے سر بزم دیکھا نہیں ؍ کسمساتی رہیں کانچ کی چوڑیاں۔
زندگی بھر کسی کی زمیں پہ سجے ؍ پھول تھے ہم کہیں کے، کہیں پہ سجے
ٹھوکروں میں رہے، سنگ تھے جب تلک ؍ خاک بن کر کسی کی جبیں پر سجے۔
جب بھی چھونے چلا، عکس دھندھلا گیا ؍ جیسے ہو جھیل میں چاند سی زندگی۔
آنکھ سے آنسو چرا لے گیا لیکن وہ شخص ؍ بے گہر سیپ یہیں چھوڑ گیا ہے صاحب۔
بنا کر پاوں کی بیڑی کو گھنگھرو، زندگانی؍کرے گی رقص جب تک درد سا زندہ رہے گا۔
وہ پیاس اپنی بڑھانا چاہتا ہے ؍ لب دریا پھر آنا چاہتا ہے۔
اس دور کی ہر اک چیز انوکھی ہے، یہاں ہر شخص اپنا رہبر بھی ہے اور رہزن بھی، روایتیں اور قدریں سب بدل گئیں۔ جہالت کتابوں میں سمائی ہے۔ درندے رحم کررہے ہیں، انسان درندگی پہ آمادہ ہے۔ ہر جگہ، ہر رشتے اور ہر تعلق کے معنی ہونے چاہئے۔ اس ماحول میں شاعر اپنا طرز نہ بدلے تو اور کیا کرے۔؎
کر لیں گے خود تلاش،کہ منزل ہے کس طرف؍ اکتا گئے ہیں یار،تری رہبری سے ہم۔
جرم تھا عشق،سزا ملنی تھی تاعمر کی قید؍ فیصلے میں مرے حاکم نے جدائی لکھ دی۔
جان دینے میں سربلندی ہے ؍ جان کا مول سر بھی ہوتے ہیں۔
مندرجہ بالا اشعار میں شاعر ہر بار بنے بنائے سانچے کو توڑتا ہے۔ احساسات و خیالات کا رقص اور تجربے کی الٹ موجود ہے۔ بے مثل اور ہر وہ کام جو شاید کبھی نہ ہوا ہو، ان کا ذکر بلکہ ایک آپ بیتی کی شکل میں نظر آتا ہے جو جگ بیتی بھی ہے۔
آلوک یادو کا ایک رنگ ایسا بھی ہے جو میر و غالب اور قدیم شعری روایات کی تردید کرتا ہے۔ اس کے علاوہ طنز کا ایسا اچھوتا اور نادر تجربہ پیش کرتے ہیں کہ قاری نہ چاہتے ہوئے بھی ان اشعار کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اس میں ایک انوکھاپن یہ بھی ہے کہ وہاں جمود نہیں بلکہ حرکت ہوتی ہے اور تخیلات کا قافلہ تھمتا نہیں بلکہ اس کے سارے کل پرزے متحرک نظر آتے ہیں۔ چند مثالیں ملاحظہ کریں۔؎
میں دل کی بات کرتا تھا تمہیں دنیا کی چاہت تھی؍ تومجھ کوچھوڑکربھی تم، نہ ہو پائے زمانے کے۔
خفا خفا سے ہیں آخر جناب ناصح کیوں؟ ؍ کسی نے کر دیا کیا آج ذکر حق پھر سے۔
کسی سے روٹھ گئے یا کسی کا دل توڑا ؍ جبیں آگیا کیوں آپ کی عرق پھر سے۔
پھول سے جسم، بوجھ بستوں کا ؍ کیا ہے تعلیم، تربیت کیا ہے؟
جہاں ایک طرف اردو داں طبقے کو آلوک یادو کے ہندی زبان کے الفاظ پہ اعتراض ہو سکتا ہے، اور یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ زبان بوجھل ہو رہی ہے، لیکن اپنی ہی کہی ہوئی بات پھر نہ دہراتے ہوئے اخیر میں بس اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ مندرجہ بالا چار اشعار تین مختلف غزلوں کے ہیں، جو زبان کی سطح پہ اعلی نمونے میں شامل کئے جانے کے قابل ہیں۔ اسلئے جہاں ہندی الفاظ کا استعمال ہے، وہیں اردو زبان کی شگفتگی بھی پائی جاتی ہے، اور اس طرح ایک توازن قائم ہوجاتا ہے جوکم از کم میری نظر میں ہی سہی ہندوستانی لب و لہجہ کی عکاسی ضرور کرتے ہے، اور یہی وہ آمیزش ہے جو اس بات کا ثبوت فراہم کرتی ہے کہ ؎
کب ہم آپ پرائے ہیں؟
ایک ہی ماں کے جائے ہیں

I am Bombay by Haider Shamsi

Articles

میں شہرِممبئی ہوں ذرا دیکھ مجھے بھی!

حیدر شمسی


حیدر شمسی
میں شہرِبمبئی ہوں۔ میرا شمار دنیا کے مشہور ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ لوگ مجھے الگ الگ ناموں سے جانتے ہیں۔کوئی مجھے پیار سے بمبئی کہتا ہے تو کوئی بامبے کہہ کر پکارتا ہے۔میں سات بڑے اور چند چھوٹے چھوٹے جزائرکا مجموعہ ہوں ۔ فلمی دنیا میں میری ایک الگ شناخت ہے۔ دنیا مجھے فلم سٹی کے نام سے جانتی اور پہچانتی ہے۔ فلمی گیتوں میں میرا نام متعدد جگہ سننے میں آتا ہے۔ یہ ہے بمبئی یہ ہے بمبئی میری جان،ای ہے بمبئی نگریا تو دیکھ ببوا، بمبئی سے آیا میرا دوست اور بمبئی ہم کو جم گئی چند مثالیں ہیں۔1996ء تک میرا نام بامبے رہا پھر ممبا دیوی کے حوالے سے ممبئی ہوا۔ کئی دہائیوں سے میں نے اپنے قدم صحافت میں بھی جمائے ہیں۔ مجھ سے منسوب ممبئی ٹائمزاور ممبئی میرر ایسے اخبارات ہیں جو عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ میں سال کے بارہ مہینے سیاحوں کو اپنی آغوش میں لئے رہتی ہوں جس کی ایک خاص وجہ یہ ہے کہ سمندر نے مجھے تین طرف سے گھیر رکھا ہے۔یہاں کا ساحلِ سمندر چوپارٹی مشہور تفریح گاہ ہے جہاں کی پانی پوری کو لوگ برسوں نہیں بھول پاتے۔پانی پوری کھاتے کھاتے انگلیوں کا دانتوں کے درمیان دب جانا لوگوں کو ہمیشہ پانی پوری کی یاد دلاتا رہتاہے۔
میں دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں سے ایک ہوں ۔اسی لیے لوگ مجھے عروس البلاد کے نام سے بھی پکارتے ہیںتاہم بمبئی کے لوگوں کی تیز رفتارزندگیوں نے ان کے دلوں سے میری خوبصورتی کے نشانات مٹا دیے ہیں۔میں سیّاحوں کے لیے جنت یاخوابوں کا شہر ہوںلیکن اہل بمبئی کیلئے بس ایک مصروف ترین جگہ ۔میرے ہر ساحل پر شام الگ الگ منظر پیش کرتی ہے ۔یہ منظر لوگوںکے دلوں پر گہرے نقوش چھوڑ جاتاہے ۔جس نے مجھے ایک بار قریب سے دیکھ لیاتووہ بار بارمجھ سے ملنے کا متمنی ہوتا ہے۔ میں شہر ہوں دن میں خواب دیکھنے والوں کا، فلمی ادا کاروں کا، مزدوروں کا،مچھواروں کا اور کروڑ پتی تاجروں کا۔میں سب کو اپنے دامن میں پناہ دیتی ہو ۔یہاـںکوئی بھوکا نہیں سوتا ۔ لوگوں کا سفر فٹ پاتھ سے شروع ہوتا ہے اور ترقیوں کے ثریا تک جا پہنچتا ہے۔یہاں لوگ فٹ پاتھ پر اخبار بچھا کر سونے میں ذرا سی بھی شرم محسوس نہیں کرتے ۔میری گود میں بسنے والوں کا سب سے بڑا سرمایہ اُن کے سر پر چھت ہے۔ کسی زمانے میں جب کوئی مجھ سے جدا ہو کر وطن کو لوٹتا تھا تو گاؤں والے اسے اس طرح گھیر لیتے تھے گویاوہ کسی دوسرے سیّارے کی مخلوق ہے۔ لوگ میرے بارے میں بڑے تجسّس سے پوچھتے تھے جیسے میں دنیا کاآٹھواں عجوبہ ہوں۔
۱۵۳۴ء سے ۱۶۶۱ء تک پرتگالیوں نے مجھ پر راج کیا۔ انھوں نے مجھے بومبے کی جگہ پرتگالی میں Bombaimنام دیا۔پرتگالی بنیادی طور پر اپنے رومن کیتھولک دھرم کی تبلیغ کرنا چاہتے تھے لہٰذا عیسائی راہبوں اور عیسائی تنظیموں نے کئی کیتھولک چرچ یہاں قائم کیے۔۱۵۳۴ء میں انھوں نے ماہم میںسینٹ مائیکل چرچ قائم کیا جو آج تک موجود ہے اور اسے یہاں کا سب قدیم چرچ مانا جاتا ہے۔۱۶۶۲ء میںبرگنزاکی شادیـ ـ’کنگ چارلس دوم‘سے ہوئی۔ برگنزاکے والدین نے اسے کافی جہیز دیا جس میں میں بھی شامل تھی۔چارلس دوم کو مجھ پر حکومت کرنے میں کوئی دقت نہیں تھی لیکن اس زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی ہندوستان میںکافی عروج پر تھی لہٰذا ایسٹ انڈیانے مجھے چارلس دوم سے کرایہ پر لے لیا ۔
۱۸۵۷ء میں جان ولسن نے میرے نام سے’بمبئی یونیورسٹی ‘قائم کی ۔ پھر اس کے بعد سے لوگوں نے اپنی تعلیمی لیاقت بتانے سے پہلے میرا نام لیناشروع کردیا کہ صاحب میںبمبئی یونیورسٹی سے بی۔ اے ہوں ، ایم۔ اے ہوں،پی ۔ایچ۔ڈی ہوں وغیرہ وغیرہ۔ میراشمار دنیا کے چند ایسے اہم شہروں میں ہوتا ہے جہاںہمہ وقت طیاروں کی آمدورفت جاری رہتی ہے ۔یہاں۲؍ ایئر پورٹ ہیں۔ ایک نیشنل ایئر پورٹ جسے ڈومیسٹک ایئر پورٹ کہا جاتا ہے اوردوسرا انٹر نیشنل ائیر پورٹ جسے چھتر پتی شیواجی انٹر نیشنل ایئر پورٹ کے نام سے جا نا جاتا ہے ۔میری بولی بھی ایک منفرد شناخت رکھتی ہے جس کا استعمال فلمی ڈائیلاگ میں بھی کیا جاتا رہا ہے۔یہ بمبیّا لینگویج (بمبییا ہندی/اردو)کے نام سے جانی جاتی ہے جس کا استعمال عام طور پر بازاروں میں ، لوکل ٹرینوںمیں، ہوٹلوں میں، بسوں میں ہوتاہے۔یہ بولی نوجوانوں میں کافی مقبول ہے۔ اس میں الفاظ کافی کم ہیں۔ ویسے اس بولی کو مہذب نہیں سمجھا جاتالیکن چونکہ اس سے ممبئی کی شناخت ہوتی ہے اس لئے لوگ بولتے ہیں ۔چند جملے اور الفاظ بطور مثال حاضر خدمت ہیں۔
۱۔ وَٹ لے اِدھر سے ۔ یا سومڑی میں وَٹ لے ۔ (کسی سے چھٹکارا پانے کے لیے)
۲۔ دیڑھ شانے۔ (اوور اسمارٹ بولنے کے لیے بطور طنز )
۳۔ کدھر جا ریلا ہے؟ (کہاں جا رہا ہے ؟)
۴۔ بس کیا یار۔ (کیا یہی دوستی ہے!)
۵۔ لوچا ہوگیا۔ (گڑ بڑی ہوگئی)
۶۔ پتلی گلی سے نکل لے۔ (خاموشی سے چلا جا)
۷۔ چل ہوا آنے دے۔ (میرے راستے سے ہٹ جا / میرے کام میں مداخلت مت کر)
۸۔ ہول دے رہا ہے کیا؟ (ڈرا رہا ہے کیا؟)
۹۔ ہری پتّی۔ ایک بیلو۔ ( سو کی نوٹ)
۱۰۔ بول بچّن ۔ (بڑی بڑی باتیں جس میں کوئی دم نہ ہو)
۱۱۔ ٹائم کھوٹی مت کر۔ (وقت برباد مت کر)
۱۲۔ بنٹائے۔ (دوست)
میرے علاقوں کے نام بھی بڑے نرالے ہیں ۔آیئے میں آپ کو ان کی سیر کراؤں۔ بن پانی کا ’دھوبی تلائو‘ دیکھئے۔بھنڈی کا دور دور تک پتہ نہیں لیکن آپ میرا مشہور بازار’بھنڈی بازار گھومئے۔بن چونے کی بھٹّی ’چونا بھٹّی‘ دیکھئے ،دور دور تک کہیں ٹانکی کا پتہ نہیں پر’دو ٹانکی ‘ دیکھئے۔بن چرچ کا ’چرچ گیٹ ‘دیکھئے۔
میری لوکل ٹرینوں میں سفر کرنا جوئے شیٖر لانے کے مترادف ہے۔یہ لوکل ٹرینیں میرے دل کی دھڑکن ہیں۔ یہ صبح ۴؍ بجے سے رات ۲؍ بجے تک چلتی ہیں ۔مگر نہ تو یہ تھکتی ہیں اور نہ تھکان کا شکوہ کرتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ جس نے بمبئی کی لوکل ٹرین میں سفر نہیں کیا اس نے بمبئی دیکھی ہی نہیں۔اس میں الگ الگ ڈبے ہوتے ہیں۔فرسٹ کلاس ، سیکنڈ کلا س اور عورتوں کے لیے مخصوص کلاس ۔ کچھ ڈبوں میں معذوروں اور بزرگوں کیلئے بھی جگہ مختص ہوتی ہے۔یہ ٹرینیںصرف چند سیکنڈکے لیے ہر اسٹیشن پہ رکتی ہیں۔
۲۴؍ اپریل۱۹۷۳ء میںدادر(بمبئی ) کے نرمل نرسنگ ہوم میں ایک بچے نے جنم لیا ۔ وہ بچہ رمیش تینڈولکر (مراٹھی ناولسٹ )کا لخت جگر ہے اور میری آنکھوں کا تارا ۔ اس نے چھوٹی سی عمر میں بلّا سنبھالا ۔ نہ صرف میرا بلکہ ہندوستان کا نام روشن کر دیا ۔اسے آپ سچن تینڈولکر کے نام سے جانتے ہیں ۔ سچن نے ۱۹۸۹ء میںپہلا انٹرنیشنل میچ پاکستان کے خلاف کراچی میں کھیلا ۔ان کی عمر جب ۱۶ ؍ سال کی تھی۔ یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک آئے۔ میرا سر فخر سے اونچا ہوگیا کہ میں نے ہندوستان کو ایک بہترین کرکٹر دیا۔
کئی فلمی اداکاروں کی جائے پیدائش میں ہی ہوں ۔ان میں سے ایک نام مینا کماری کا ہے جنہیں ’ملکہ جذبات ‘کہا جاتاتھا۔ مینا کماری کا اصل نام ماہ جبیں بانو تھا ۔وہ ایک بہترین ادا کارہ اور شاعرہ تھیں ۔ ان کی پیدائش ۱؍ اگست۱۹۳۳ء میںدادر (بمبئی )میں ہوئی۔ مشہور ادا کارہ مدھو بالا مینا کماری کی فین تھیں وہ کہتی تھیں کہ ’’مینا کماری کی آوازدوسری ہیروئین کی بہ نسبت کافی پُر کشش ہے ۔‘‘۳۱؍ مارچ ۱۹۷۲ء میںوہ اس دارِ فانی سے کوچ کر گئیں تا ہم اپنی با کمال ادا کاری کی بدولت وہ آج تک لوگوں کے دلوں میں زندہ ہیں۔

حیدر شمسی،گوونڈی، ممبئی ۔موبائیل : 09773473150

Half Month in Mumbai by Imran Akif

Articles

ممبئی میں آدھا مہینہ

عمران عاکف خان


عمران عاکف خان

تمھارے شہر کی مٹی لگی ہے پیروں میں
ہمارے شہر کے رستے خوشی سے پاگل ہیں
دوپہر کا ایک وقت ۔میرے کمرے کی کنڈی کھٹکنے لگی۔
’’جی آجائے ،کون؟‘‘
’’سر ڈاک!!‘‘
دروازہ کھلا اور میسنجر ایک بند لفافہ مجھے د ے کر ریسوینگ شیٹس پر سائن لینے لگا۔میں نے سائن کر کے لفافہ چاک کیا تو اس میں ساہتیہ اکادمی ،نئی دہلی کا ایک لیٹر تھا۔بیڈ پر آکر اسے میں اوپر سے نیچے تک پڑھنے لگا۔اس کا لب لبا ب یہ تھا کہ ساہتیہ اکادمی،نئی دہلی نے مجھے ریسرچ اسکالرس کے لیے دیے جانے والے ٹراول گرانٹ Travel Grantکے لیے منتخب کیا ہے۔اب مجھے اکادمی پہنچ کر اس بات کی تصدیق کرانی ہے کہ میں اس گرانٹ اور ٹراو ل کے لیے راضی ہوں یا۔۔۔
میں تو راضی تھا۔مقررہ تاریخ میں اکادمی پہنچا اور ضروری تفصیلات متعدد شیٹس میں فُل فِل کر کے چلا آیا۔مجھ سے جب پوچھا گیا کہ میں کس شہر جانا چاہوں گا تو میں نے کلکتہ اور ممبئی کا نام بطور آپشن پیش کیا ۔’’ممبئی مناسب رہے گا‘‘——– فیصلہ ہوا اور پھر 26نومبر 2018کی ایک صبح جواہر لال نہرو یونیورسٹی کے ریلوے کاؤنٹر سے نئی دہلی۔ممبئی راجدھانی کا ریٹرن ٹکٹ لیا۔ٹکٹ 10جنوری2019(روانگی) اور 25جنوری 2019(واپسی) کی دروں کا تھا۔
دنوں کا کارواں گزرتا ہی ہے۔اپنے ساتھ دکھوں ،غموں،خوشیوں،مسرتوں ،افراد،علمی ادبی خزانوں بلکہ سب کچھ لیتا ہوا گیا۔پھر ممبئی روانگی کا وقت آیا۔ شام4:00 کا وقت، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کا پلٹ فارم نمبر۔3،راجدھانی ایکس پریس ممبئی سفر کے لیے حوصلے جمع کررہی تھی ۔میں اپنی نشست ،A4 13 LBپر بیٹھ گیا۔ٹرالی بیگ سیٹ کے نیچے رکھا اور پیٹھ والا بیگ ہنگرز میں لٹکاکر کچھ ضروری چینجز کیے ،اس کے بعد پر و فیسر ظفر احمد صدیقی کی کتاب ’’افکارو شخصیات ‘‘ کھول کر پڑھنے لگا۔کمپارٹمنٹ کا عملہ ’’ریل نیر Rail Neer ‘‘ پانی کی بوتل اور کچھ اسٹاٹر ٹائپ کی چیزوں سے مسافروں کی تواضع کرتا گیا۔جن میںگھی میں تلے پاپ کورن popcornاور sunfistکمپنی کے بسکٹ تھے۔دن کا ابھی کچھ وقت باقی تھا اور ٹرین چلنے میں بھی دس منٹ باقی تھے۔ وقت مقررہ پرایک ہلکا سا جھٹکا ہو ا اور نہایت بے آواز ی اور خراماں روی سے راجدھانی ایکسپریس چل پڑی۔ابھی مشکل سے 100-150میٹر چلی ہوگی کہ محاذی پلیٹ فارمس سے کلکتہ راجدھانی ایکسپریس اور تراوندپورم راجدھانی ایکسپریس کسی بل کھاتے نانگ کی مانند نکلتی چلی گئیں۔ان کی رفتار نسبتاً تیز بھی تھی اور انداز بھی ۔شیواجی برج تک آتے آتے کلکتہ راجدھانی کسی ڈرے سہمے بچے کی مانند ایک سائڈ ہو ئی ہی تھی کہ پلول ۔غازی آباد لوکل EMUماحول میں ارتعاش مچاتی چلی گئی۔اس کی پوں پاں،اس کی کھٹ کھٹ،اس کی سٹک سٹک ،اس کی ٹنٹناہٹ اور جارحانہ انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی سے لڑنے جارہی ہے یا کہیں سے لڑبھڑ کر آئی ہے۔اب تِلَک برج آگیا تھا۔ممبئی راجدھانی کی چال بھی تیز ہو گئی ۔تاہم ابھی برق رفتاری چھوڑیے،ہوا رافتاری بھی نہ آئی تھی ۔پرگتی میدان،پاؤر اسٹیشن،راجیو گاندھی اسٹیڈیم اور پھر حضرت نظام الدین،یہاں کم رفتاری مزید کم ہوئی ،اوکھلا،تغلق آباد،بدرپور ،فرید آباد ٹاؤن،فرید آباد اولڈ۔یہ سب اسٹیشن اور ان کے نام آسانی سے دیکھے پڑھے جارہے تھے۔پھر پتا نہیں کیا ہوا ،راجدھانی کو غصہ آگیا۔اس نے پورے بدن کو جھرجھرایا اور سرپٹ دوڑنے لگی۔اب تو بجلی،ہوا،نگاہ سب کی رفتار اس کے سامنے فیل تھی۔بلبھ گڑھ اور ہوڈل کب گزرگئے پتا ہی نہ چلا۔ہاں بس گیہوں کے ہرے بھر ے کھیت حد نگاہ تک پھیلے نظر آرہے تھے۔گندم کی اس قدر پیداوار سے اندازہ ہوتا تھا کہ اس سال ہریانہ کے کسان گندم کی کاشت میں تمام ریاستوں سے بازی لے جائیں گے۔گو ابھی فصل روئیدگی کے مرحلے سے گزررہی تھی مگر اس کا جوش و جذبہ اور اٹھان کسانوں کے دلوں میں امنگوں،آشاؤں اور یقین کو ضرور بڑھا رہی ہوگی۔پلول گزرا،کوسی نکلی،چھاتئی پار ہوا ۔مغرب کی اذان ہورہی تھی کہ متھرا کے مندروں کے گھنٹے اور سنکھ راجدھانی کی شیشہ پلائی دیوار وں سے ٹکرارہے تھے۔جگہ جگہ عقیدت مند ہاتھوں میں کلس اور مورتیں اٹھائے قصیدے گاتے ہوئے ریلیاں نکال رہے تھے۔(ان کا روز کا معمول ہے اور عبادت کا ایک طریقہ بھی) جنم استھان کے آس پاس کے مندروں اور ان میں پوجا پاٹ کا نظارہ قابل دید تھا۔ ایک جگہ ہلکی سی جھلک پڑی کہ ایک عقیدت مند آگ منہ لے کر چھلانگیں لگا رہا ہے۔(یہ عمل، مراد یا منت پوری ہونے پر کیا جاتا ہے)متھرا اسٹیشن پر ٹرین کی رفتار کچھ دھیمی ہوئی مگر پھر اسے غصہ آیا اور کھٹ کھٹ ،پوں پاں،پیں،ہٹو رے ،ہٹو رے ،جیسی آوازیں آنے لگیں۔
شام اندھیروں کے عفریت کے قبضے میں آکر کہیں سسکیاں لے رہی تھی۔ کاینات پر اندھیرے پوری طرح قابض ہوگئے ۔اب کسی کی کیا مجال کہ ان سے مقابلہ کرے۔کہیں کہیں بجلی کے دم پر جلنے والی اسٹریٹ لائٹس،چوراہوں کی فوکس لائٹس اور گھروں میں جلتے CFL بلب یا آکاشیاںظلمات گزیدہ رات میں ٹمٹماتے چراغوں کی مانند لگ رہی تھیں۔سردی بڑھنے لگی۔راجدھانی کا ہوٹ اے سیA/c خراب تھا اس لیے کولڈاے سیA/c اندر سے جمائے دے رہا تھا۔مگر کمپارٹمنٹ کے عملے کی جانب سے ملنے والی سلیپنگ چادریں،تکیے اور کمبلوں نے مسافروں کو اس سے نجات دلائی۔اب تک عملہ صرف چائے/کافی پر ہی ٹرخا رہا تھا کہ اب ڈنر کا آرڈ لینے آگیا۔عملے کے افراد کا طریقہ بھی انو کھا تھا۔پہلے سیٹ کنفرم کرنے کے بعد ویج،نان ویج کی تصدیق کی پھر ۔’’اوکے باس/سر ‘‘کہتے ہوئے چلے گئے۔تھوڑی دیر بعد متعلقہ کھانا آیا۔ کھانا کیا تھا ؟بس تھا ۔کھایا گیا اور پھر پردے کھینچ دیے گئے۔مین لائٹس آف اور ڈیم لائٹس آن ہو گئیں۔ٹرین اسی طرح رواں دواں،سفر اسی طرح قطع زن اور ماحول اپنی ہی انا اور سرمستی میں مغرور مغرور۔کمپارٹمنٹ میں اب خراٹوں کا شور یا کبھی کبھی کسی کمسن بچے کے رونے کی آواز۔کچھ لوگ سپنے بھی دیکھ رہے ہوں گے اور کچھ بے خوابی کی تکلیف سے کرارہ رہے ہوں گے۔
ایک جگہ ٹرین رُکی،پتا چلا کہ بڑودہ آگیا۔’’ارے کوٹا اور رتلام کب گزرگئے؟‘‘ کچھ سرگوشیاں ہوئیں۔(حالاں کہ راجدھانی کی رفتارکے متعلق سب ہی جانتے ہیں مگر فطرت کا کیا کریں،انسان گھبراجاتا ہے اور ہونی پر مشکل سے یقین کرتا ہے،جسے کیے بغیر کوئی چارہ ہی نہیں ہوتا)راجدھانی پھر چل پڑی ۔اب اس کی اگلی منزل سورت تھی۔سورت ریاست کا گجرات کا ایک خوب صورت شہر اور کپڑے ،سونے چاندی کی مصنوعات کے لیے مشہور و معروف ۔ تاریخ گجرات کے مطابق ایسٹ انڈیا کمپنی نے اپنی پہلی کمپنی ،اسی شہر میں کھولی تھی۔یہ شہر ساحل لوکھات پر بسا ہے۔یہاں سے بہتی تاپتی ندی شہر کو دوحصوں میں تقسیم کرتی ہوئی بحر ہند میں جاگرتی ہے۔تاپتی کے داہنے کنارے پر شہر راندھیر آباد ہے۔اب وہ سورت کا محلہ بن چکا ہے تاہم ایک زمانے میں علاحدہ ہوا کرتا تھا۔راندھیر مدرسوں،مسجدوں،خانقاہوں اور پرشکوہ مکانات و بلاد کا کا شہر ہے۔چاروں طرف سے خوب صورت قدرتی نظاروں سے گھرا،اندرونی صفائی اور پاکیزگی سے دمکتا ہوا اور گلیوں میں سکون و سادگی کے نمونے پیش کرتا ہوا بہت خوب لگتا ہے۔جب ہلکی ہلکی گرمیاں ہوں،تاپتی کے ساحل پراُگے کھجوروں کے درختوں کے سائے میں خودرؤ گھاس پر بیٹھیے تو ایسا لگتا ہے جیسے وقت تھم سا گیا ہے۔جیسے ماحول کی دیوی ہلکے ہلکے مسکرارہی ہے،کائنات جیسے رقص کرنے کو بے تاب ہے۔
اماں اٹھو،پاپا اٹھو سورت آگیا‘‘ایک نوعمر لڑکی کی آواز نے چونکا دیا۔وہ آوارگی نہیں تھی،اس لیے میں نے پوچھا بھی نہیں۔بس سحر تھا جو ٹوٹ گیا تھا ۔لڑکی کے والد ین ہڑبڑا کر اٹھے او رجلدی جلدی سامان سمیٹا ۔اس جلدی کے باوجود بھی جب وہ آخری سامان کھینچ رہے تھے،راج دھانی رینگ پڑی تھی ۔جلدی میں اور جلدی کا منظر دیکھنے کو ملا۔سیکنڈوں میں ہی ریل فاسٹ ہو گئی ۔اب اس کی منزل بوری ولی تھی اور پھر ممبئی سینٹرل۔صبح کے سوا آٹھ بج رہے تھے جب راجدھانی ایکس پریس ،ممبئی سینٹر ل کے پلیٹ فارم نمر ۔4پر پہنچی۔یہی اس کا آخری اسٹوپ تھا ۔اب اسے شام کو ہی ریٹرن ہونا تھا اس کیے اس طرح لمبی لمبی ہو گئی جیسے دن بھر کا تھکا ماندہ مزدور یا کسان گھر آتے ہی لمبا لمبا ہوجاتا ہے اور اس کے گھر والے کچھ دیر کے لیے پریشان سے ہوجاتے ہیں پھر انھیں یقین ہوجاتا ہے کہ یہ تو روٹین کا حصہ ہے۔تمام مسافر نہایت اطمینان سے کمپارٹمنٹس سے نکل رہے تھے۔ایک ایک سامان اور چیز دیکھ رہے تھے۔اب کوئی جلد بازی یا حیرانی نہیں تھی۔میں نے بھی سامان اٹھایا اور ممبئی سینٹر ل اسٹیشن کی عمارت سے نکل کر متعدد دروازوں والے مشرقی گیٹ کی جانب چل پڑا جو ملٹی پرپس ہے۔یعنی داخلہ و خارجہ ،پارسل بکنگ اور ریسوینگ کا کام اسی سے لیا جارہا تھا۔
اسٹیشن کی عمارت کے بالکل سامنے ممبئی میٹرول ریل کارپوریشن MMRTCکے قد آدم نیلے نیلے بورڈس لگے تھے ۔جن سے اندازہ ہوتا تھا کہ میٹروکا کام جاری و ساری ہے۔اسٹیشن کے سامنے کا کشادہ راستہ ایک تنگ سڑک بن کر رہ گیا تھا جس سے خلقت اژدہام کی صورت آجا رہی تھی۔ میں بھی اسی بھیڑ کا حصہ بنے دھیرے دھیرے سامان گھسیٹتا ہوا ایک چوراہے پر آکھڑا ہوا ۔پیدل چلنے والے ہر عمر و جنس کے افراد سینکڑوں کی تعداد میں ایک طرف جارہے تھے اور ایک طرف سے آرہے تھے۔ان کی بھانت بھانت کی بولیاں،لنگو اور تلفظ کے نئے نئے انداز سننے کے قابل تھے۔کاش یہ لفظ بولتے بھی ہوتے تو میںضرور وہ آوازیں ان میں شامل کرتا اور اپنے قارئین کو سناتا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ شہر چاہے ممبئی ہو کراچی،ڈھاکہ ہو یا کاٹھمنڈو،لندن ہو یا نیو یارک یا کوئی اور ٹیکسی والوں میں ایک قدر مشترک ہے۔کسی کو اگر دیکھا کہ سامان لیے کھڑا ہے تو نفسیاتی/فطری طور یہ بات ان کے ذہن میں آئے گی کہ یہ ہماری جستجو میں ہے۔ اورکچھ سوچے سمجھے بغیر فوراً پہنچیں گے اور پھر اپنے دھندے کی بات۔مجھے بھی اس حالت میں دیکھ کرکئی ٹیکسی ڈرائیوروں نے آآکر پوچھا:
’’باس کہاں جانا مانگتا!‘‘
’’کہا ں جانے کا؟‘‘
’’ہمارا ٹیکسی میں آؤ!‘‘
(بھوج پوری،مراٹھی،گجراتی،راجستھانی کتنی ہی زبانوں میں یہ سوال کیے جاتے تھے اور جواب بھی ان میں ہی دیا جاتا ۔)
مجھے دراصل اپنے ایک میزبان کا انتظار تھا ۔اس لیے میں نے انھیں اپنے طور پر منع کردیا ۔وہ بڑبڑاتے جاتے رہے۔ پھرتقریباً آدھے گھنٹے کے بعد میں ان ہی ٹیکسیوں میں سے ایک میں سامان لا دکر محمد علی روڈ کے قریب واقع کولسا اسٹریٹ جارہا تھا جہاں کسی مینار کی طرح کھڑی32منزلہ عمارت ’’ریپڈ ہائٹس‘‘ کا فلورنمبر 9میری منزل تھا۔آدھے گھنٹے بعد جب مجھے ٹیکسی نے کولسا انٹر پر چھوڑا تو وہاں مولوی محمد فیروز قاسمی نے مجھے ہاتھوں ہاتھ لیا اور اپنے ساتھ مذکورہ فلورپر لے گئے۔دن اب صبح کی مدت سے باہر نکل چکا تھا۔گھڑی کی سوئیاں گیارہ بجا رہی رہیں تھیں ۔شاید اتنی ہی سیکنڈ بھی ہوں گی،میں نے دیکھا نہیں۔
مولانا فیروز صاحب مجھے ناشتہ کرانے لے گئے،موصوف نے بھی ابھی تک نہیں کیا تھا۔قریب ہی واقع ایک ہوٹل میں قیمہ پراٹھا،آملیٹ اور چائے ۔کیا شاندار ناشتہ تھا او رپر تکلف بھی۔اس کے بعد نماز جمعہ کی تیاریاں ہونے لگیں ۔نماز جمعہ پڑھنے کا ارادہ جامعہ اسلامیہ دارالعلوم امدادیہ واقع بھنڈی بازار میں تھا ۔ مولانا نازش ہماقاسمی(نعیم اختر) اور دیگر غائبانہ احباب سے ملاقات بھی متوقع تھی۔چند ضروری کام کر نے کے بعد میں اور مولوی فیروز احمد قاسمی نماز کے لیے پیدل ہی چل پڑے۔محمد علی روڈ پر آکر سامنے ایک مینارہ مسجد تھی ۔اسی کی ملگیوں میں مشہور زمانہ’ سلیمان عثمان مٹھائی والے‘ فرم کی دکانیں تھیں اور سامنے ’زمزم سوئیٹس‘ کی دکانیں تھیں ۔ان کے طفیل چند اور مٹھائی والے بھی اپنی مٹھاس بیچنے کی کوششو ںمیں مصروف ہیں ۔ایک گلی سے گزرکر دوسری گلی سے ہوتے ہوئے ہم لوگ دارالعلوم امدادیہ کے درجہ ششم کی کلاس میں روم پہنچے اور وہیں نماز ادا کی۔نماز کے بعد مولوی فیروز قاسمی تو اپنے کام سے چلے گئے اور مولانا نازش ہماقاسمی کے ہاتھ میں میرا ہاتھ تھا۔وہ اپنے دوستوں اور احباب سے تعارف کراتے ہوئے مجھے کئی گلیوں سے گزار کر ’میمن ٹائمز ‘کے آفس لے گئے ۔یہیں دوپہر کا کھانا کھایا گیاجو بریانی اور چپاتی و سالن پر مشتمل تھا۔اس کے بعد آفس کا کام شروع ہو گیا اور میں گیسٹ ویٹنگ لابی میں بیٹھ گیا۔آفس کے اونر اور دنیا بھر میں مشہورofficer فرم کے مالک عالی جناب اقبال میمن صاحب تشریف لائے۔مولانا قاسمی نے ان سے میرا تعار ف کرایا :
’’سر یہ عمران ہے ،میرا دوست،جے این یو سے آیا ہے!‘‘
’’اوہ جے این یو ،کنہیا،شہلا رشید ،وہی جے این یو نا‘‘
’’جی‘‘
اس کے بعد انھوں نے اپنے سامنے والی ریورس چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا اور اردلی کو ’بہت اچھی‘ گرین ٹی لانے کا آرڈ پلیس کیا۔اس کے بعد وہ مجھ سے ممبئی آنے کا سبب،میرا موجودہ مشغلہ اور پی ایچ ڈی وغیرہ کے متعلق باتیں کرنے لگے۔اسی دوران میں چائے آگئی ۔باتیں بھی ہوتی رہیں ۔جن میں تعلیم،سماج،سیاست،کچھ فکریں،کچھ لمحے،کچھ کچھ اور کچھ نہ کچھ تھا۔پھر جب میں نے دیکھا کہ اب باتیں تقریباً ختم ہو چلی ہیں اور یوں ہی تکمے لگ رہے ہیں تو ان سے رخصت کی اجازت چاہی۔انھوں نے ایک لمحے سوچے بغیر اجازت دے دی۔میں پھر لابی میں آگیا۔چوں کہ آج دیر شام تک مجھے مولانا قاسمی کے ساتھ ہی رہنا تھا۔
مولانا نازش ہماقاسمی ایک اچھے اور ملٹی ٹیلنٹ قسم کے صحافی ہیں ۔ممبئی اردو نیوز سے وابستہ ہیں اور اس کے کئی مخصوص صفحات کو اپنی قلمی و فکری صلاحیتوں سے سجائے رکھتے ہیں۔فیس بک پر ان کا سلسلہ ’’منکوووول‘‘ حالات حاضرہ پر اس قدر پھبتی کستا ہے کہ بس کہنے ہی کیا!ان کا ایک سلسلہ ’’ہاں میں ۔۔۔۔ہوں‘‘ بھی ہے ۔(خالی جگہ میں کسی شخص،عہدے،کتاب،واقعے کا نام ہوتا ہے)
مولانا قاسمی نے’ میمن ٹائمز‘ میں اپنا کام ختم کیا اور پھر ہم دونوں ’میمن ٹائمز‘ ٹاور سے اتر کر پھر ان ہی گلیوں سے گزرنے لگے۔ایک جگہ چائے پی پھر مین روڈ یعنی محمد علی روڈ پر آگئے ۔یہاں سے ہمیں ناگپاڑہ جانا تھا ۔جو تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر تھا مگر ہم نے یہ راستہ پیدل ہی پار کرنے کا من بنایا کیوں کہ محمد علی روڈ ایک مشہور ترین علاقہ ہے ۔یہیں مکتبہ جامعہ،ممبئی لٹریری ہاؤس، مج گاؤں ہاؤس،لیڈر پریس کے کمپاؤنڈ میں ماضی کے ادبا و شعرا کے ابتدائی نقوش کا گواہ دوکمروں کا گھر ، یعنی ظ۔ انصاری ثم باقر مہدی کا گھر،قومی آواز ،ممبئی ایڈیشن کا دفتر اور کئی تاریخی عمارات و مقامات واقع ہیں۔ہم لوگ ایم اے روڈ کے فٹ پاتھ سے گزررہے تھے تو چاندتارے چھاپ ہرے ہرے جھنڈے ہوا میں لہرا لہرا کر عجیب سے مسرت آگیں ماحول بنا رہے تھے۔
مکتبہ جامعہ ،پرنسس بلڈنگ،بھنڈی بازار ،ممبئی :
میں کیاکہوں مکتبہ جامعہ کی ممبئی کے ادبی حلقوں اور ادیبوں میں کیا اہمیت ہے۔آپ ندافاضلی کی کتاب’’دیواروں کے بیچ‘‘ کے الفاظ میں پڑھیے۔انھوں نے جو اور جیسا لکھا ہے،برسوں کے بعد میں نے اس مرکز کو ایسا ہی پایا۔ندا کے الفاظ ہیں:
بمبئی کے بھنڈی بازار کے علاقے میں مکتبہ جامعہ ایک ایسا مرکز ہے جہاں بمبئی کے سارے زمینی فاصلے سمٹ کر ایک کتابوں کی دکان بن جاتے ہیں ۔یہاں چھوٹے بڑے ہر شاعر سے ملاقات ہوجاتی۔اس کے جنرل مینیجر شاہد علی خاں ہیں۔(شاہد علی خاں اب مکتبہ جامعہ کی ملازمت سے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنا ذاتی ادارہ ’نئی کتاب پبلشرز،نئی دہلی اور سہ ماہی رسالے ’نئی کتاب‘ نئی دہلی،کے مدیر اعلا ہیں)ادیبی کے اختلافات سے دور صبح سے شام تک ان کی مسکراہٹ سب کے لیے یکساں ہوتی ہے۔
ندا آگے بھی بہت کچھ کہتے گئے ہیں اور یادوں کا ایک سیل رواں بہتا گیا ہے۔مکتبہ جامعہ کی رونقیں اب بھی وہی ہیں۔سرشام وہاں ادیب ا ب بھی جمع ہوتے ہیں اور ۔مگر اب جنرل مینیجر شاہد علی خاں نہیں کوئی اور ہیں اور جو بھی ہیں،وہ مکتبہ جامعہ کی ان ہی قدروں کے پاسبان اور امین ہیں ۔میری ایک شاندار ادبی شام بھی سہ ماہی ’’نیاورق ‘‘ کے مدیر شاداب رشید،افسانہ نگار اشتیاق سعید اور ناول نویس و مترجم عبدالباری ایم۔کے ۔کے ساتھ یہیں گزری تھی ۔چائے،باتیں ،علم،ادب،فن،فکر،ادب لطیف ،ادب جلیل ،کتنی ہی باتیں ہیں جو آج بھی ذہن تازہ میں موجود ہیں ۔
ندا فاضلی نے ’دیواروں کے بیچ میں‘‘ یہاں ایک مکان کا ذکر کیا ہے جو بوہروں کے مذہبی پیشوا سید برہان الدین نے ظ۔ انصاری کو دیا تھا پھر کسی طرح سے یہ باقرمہدی کے قبضے میں آگیا۔اس مکان کی ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کا احوال سطور زیریں میں پڑھیے:
اس کمرے کی بمبئی میں ایک طویل ادبی تاریخ ہے۔آج کے کئی کھاتے پیتے ادیب اپنے اسٹرگل کے دنوں میں اسی کمرہ کی چھت کے ذریعے بمبئی کے کھلے آسمان سے نبردآزما رہے ہیں۔جاں نثار نے صفیہ اختر کے خطوط کا مسودہ’’زیرلب ‘‘کے نام سے یہیں ترتیب دیا ہے۔ان کی خوب صورت نظم ’’آخری ملاقات‘‘اسی کمرہ میں ان کے تیز بخار کی دین ہے۔اختر الایمان کی شاعری سے باقر مہدی کی دلچسپی یہیں کی دیواروں سے ان کے خاموش مکالموں کا رد عمل ہے۔اسد بھوپالی کے کئی کامیاب فلمی گیتوں کے مکھڑوں نے یہیں جنم لیا ہے۔راجندربیدی کے افسانوں،ظ۔انصاری کے جملوں کی انفرادی لٹک،مجروح کی غزلوں اور سردارو کیفی کی نظموں سے محظوظ ہونے کے بعداب یہ کمرہ نئے اسٹرگلوں کاسامع بنا ہوا ہے۔
’’جمعیۃ علما ہند ،مہاراشٹر ا(م) کا دفتر بھی یہیں واقع ہے۔‘‘مولانا قاسمی نے چلتے چلتے بتایا۔
’’واہ بہت خوب!‘‘ میرے منہ سے نکلا ہی تھا کہ دفتر آگیا اور مولانا قاسمی گلاس ڈورکھول کر داخل ہو گئے ۔میں نے بھی ان کی تقلید کی۔نماز عصر کی جماعت بالکل تیار تھی۔وضوتک کے لیے تھوڑی سی مہلت ملی پھر نماز قائم ہوگئی۔بعد نماز دفتر کے ارکان سے ملاقات ہوئی اور ملاقات کا لازمہ چائے بھی پی گئی۔یہاں سے بیس منٹ بعد ہم لوگ ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے آفس واقع ناگپاڑہ اسٹیشن چل پڑے۔
ممبئی اردو نیوز کا دفتر:
ناگپاڑہ کے بلاسس روڈ پر واقع ’اوزون بزنس سنٹر‘ نزد مہارشٹر کالج کے گیارہویں فلور پر جب آپ لفٹ سے نکلیں گے تو پہلی نظر ’’ممبئی اردو نیوز‘‘ کے جگمگاتے سائن بورڈ پرپڑے گی ۔اس کے بعدناک کی سیدھ میں اخبار کا پرشکوہ اور اعلا و نایاب فرنیچر سے سجا دھجا ،جدید ٹیکنالوجی اور اعلا صحافتی قدروں سے لیس دفتر ، اس کا عملہ ،مدیران اور مخصوص صفحات کے ذمے داران نہایت شائستگی سے بیٹھے لیلائے صحافت کی زلفیں سنوارنے میں مصروف ملیں گے ۔ملک اور حکومت کی رگ جاں کو تقویت پہنچاتے صحافی ایسے لگتے تھے جیسے وہ وطن کی رگوں میں روح بھی پھونک رہے ہوں ۔پھونک ہی رہے تھے۔
’’ممبئی اردو نیوز‘‘ میں یوں تو کئی ایسے حضرات ہیں جو ملنسار بھی ہیں اور خورد نواز بھی تاہم ڈاکٹر شکیل رشید کا ایک اپنا ہی مقام اور انداز ہے۔میں نے کئی گھنٹے ان کے پاس بیٹھ کر گزارے ۔علمی و فکری باتوں کے علاوہ صحافت و سماج بھی ہمارا موضوع گفتگو رہا اور پھر جب آفس سے چھٹی کے بعدمولانا نازش ہماقاسمی کے ساتھ مرزا غالب چوک پر واقع ایک فوڈنگ ہوٹل میں کھانا کھا کر ۔میں محمد علی روڈ آگیا اور وہ اپنے اپنے ٹھکانوں کی جانب چل دیے۔
’ریپڈ ہائٹس‘ پہنچ کر جیسے ہی موبائل کا فیس بک اپلی کیشن کھولا تو ٹائم لائن پر ’’ماہنامہ تریاق ‘‘ کے سالنامے کا سرنامہ وائر ل ہوتاہوا ملا ۔اس کے زیریں کمنٹ باکس میں کمنٹس کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ناظرین اپنی اپنی پسند کے کمنٹس کررہے تھے۔ایک میں نے بھی کیا۔پھر خیال آیا کہ مدیر رسالہ میر صاحب حسن سے بات کروں اور انھیں بتاؤں کہ میں ممبئی آیا ہوں۔جیسے ہی ان کو بتایا انھوں نے پرتپاک ریپلائی۔اس کے بعد فونک ٹاکس ہونے لگیں۔خیر خیریت کے بعد انھوں نے کیادوسرے دن اپنے آفس واقع ایم۔کے ہائٹس، کرلا ملاقات کے لیے مدعو کیا۔انھوں نے مجھے ٹرین ،پلیٹ فارم نمبر اور روٹ کے متعلق سمجھا کر بتایا تھا کہ ان دنوں معروف افسانہ نگار اور سابق آئی اے ایس آفیسر،پرتپال سنگھ بے تاب بھی ممبئی آئے ہوئے ہیں ،ان سے بھی کل ملاقات متوقع ہے لہٰذا آفس سے ان کے گھر واقع ورسوا ،ملاقات کے لیے چلنا ہے۔ وہیں سے فلم رائٹر اور افسانہ نگار و شاعر مراق مرزا سے بھی ملاقات کے لیے چلنا ہے۔رات میں ہی آنے والے پورے دن کا شیڈول طے ہو گیا ۔پھر ملاقات تک کے رخصت کی اجازت لے دے کر دونوں جانب سے فون کٹ گئے۔
میرا پہلا لوکل ٹرین کا سفر،ماہنامہ تریاق کا آفس اور کرلا :
دوسرے دن پوچھتا پوچھاتا او ربتانے والوں کے مطابق لیفٹ رائٹ ’مارتا‘ ہوا ،مسجد بند رر یلوے اسٹیشن کی طرف چلا تو عجیب سا ہی منظر دیکھنے کو ملا ۔دورسے ہی ایک ہجوم چلا آرہا تھا۔ہجوم میں شامل افراد کی بدحواسی سے پتا چل رہا تھا کہ یہ حالیہ گزرنے والی ٹرینوں کے مسافر ہیں ۔ہجوم ایسا لگ رہا تھا جیسے کسی جلوس،ریلی،اجتماع یا ست سنگ سے چھوٹ کر آیا ہے۔ میں اسی ہجوم سے ٹکراتا ہوا مسجد بندر اسٹیشن پہنچا اور کاؤنٹر سے کرلا کا ٹکٹ لے کر پلیٹ فارم نمبر ۔3سے مشہور زمانہ ’ممبئی لوکل‘ ٹرین پکڑی۔صبح کا وقت اور جلد بازی ،صبح کا وقت اور ممئی کی لوکل،صبح کا وقت اور ممبئی۔ان تینوں کا مجموعہ ہے’’بھیڑ‘‘ ——–مسجد بندرسے کرلا تک ہر اسٹیشن پر یہی نظارادیکھنے کو ملا۔ممبئی لوکل کی ایک اچھی بات یہ ہے کہ ہر اسٹیشن آنے سے پہلے کمپیوٹرائزڈ وائس میں مراٹھی،ہندی اور انگلش میں اس کا اعلان کیا جاتا ہے ،اسی طرح اسکرین پر بھی مذکور ہ زبانوں میں نام رول ہوتے رہتے ہیں۔اس سے نئے مسافر کو اپنے اسٹیشن پر اترنے میں دقت نہیں ہوتی،ہاں یہ بات الگ ہے کہ وہ دروازوں پر لٹکی،جھٹکی اور ٹھسا ٹھس کھڑی بھیڑ کی وجہ سے اتر ہی نہ پائے اور اگر کسی طرح اتر بھی سکے تو پِس کر ہی رہ جائے۔خدا کا شکر ہے کہ میں اس کولہو سے صحیح سلامت نکل کر کرلا اسٹیشن پر اتر گیا اور پھر باہر آکر پیدل ہی ایم ۔کے ہائٹس کی جانب چل پڑا۔
ماہنامہ تریاق اپنی عمر کے آٹھویں برس میں داخل ہو چکاہے۔اس کے مدیر اعلا ضمیر کاظمی اور مدیر و معانین میں میرصاحب حسن ،حنیف قمر،سید فیض الحسن اور دیگر علم و ادب کا ستھرا ذوق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔یہاں میر صاحب حسن اور حنیف قمر سے ملاقات ہوئی۔بہت سی باتیں ہوئیں اور دوپہر کا کھانا بھی ساتھ ہی کھایا گیا۔وہاں سے ہم لوگ پرتپال سنگھ بے تاب کے مکان پر پہنچے ۔ یہاں سردار جی نے قہوے اور سوئٹس سے مہمانوں کی ضیافت کی ۔تعارف،رسمی گفت و شنید اور ایک دوسرے کے عادی ہوجانے کے بعد حنیف قمر نے ماہنامہ تریاق کے آئندہ شمارے کے لیے سردارجی کا ادبی انٹرویو لیا ۔باتیں ادب سے لے کر ادب تک تھیں ۔کچھ شکوے تھے اور کچھ مشورے ،کچھ جدو جہد کی نصیحتیں تھیں اور کچھ اہل زبانان و سرکاروں کی، زبان اردو کے تئیں سرد مہری کے قدیم فسانے ۔انٹرویو کے بعد ورسوا سوسائٹی کو آس پاس سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ساحل سمند ر پر کھجور اور تاڑ کے اونچے اونچے درختوں کے درمیان وہ سوسائٹی ایک خوشگوار تاثر ابھاررہی تھے۔ شوخ و چنچل ہواؤں نے تو اونچے درختوں کے پتوں سے ٹکرا کر فسوں زار سماں بنا دیا تھا۔وہ دن کا وقت تھا اس لیے اچھا لگ رہا تھا۔رات میں ممکن ہے سرسراتی ہوا ،ہیبتیں طاری کردیتی ہو ۔ورسوا سوسائٹی کے راستے میں آنے والے بہت سے مکانوں اور فلیٹس کے مکینوں کے متعلق مجھے بتایا گیا کہ یہاں فلمی دنیا میں آنے والے اسٹرگلرافراد رہتے ہیں ۔ان میں سے کچھ تو منزل مراد پاجاتے ہیں اور کچھ تلاش منزل میں ہی سرگرداں رہتے ہیں۔
سردارجی سے رخصت کے بعد اب اگلی منزل مراق مرزا کا گھر تھا ۔وہ علاقہ کس قدر سنسان اور اداس تھا۔ممکن ہے فلیٹس کے اندر جنتیں آباد ہوں ،مگر باہر تو ———میں نے جب اس عالم و کیف کا ذکر میر صاحب حسن سے کیا تو انھوں نے ’پروین بابی ‘ کی المناک موت اور آخری وقت کا قصہ سنا کر ان مکانوں او رمکینوں کی اصلیت کا ایک آئینہ دکھا دیا۔ویسے ایک جانب ممبئی کی بھیڑ اور رہنے سہنے کی تنگی،مکانوں کا ایک دوسرے سے چپک کر کھڑا ہونا ،دوسری جانب ورسوا ،باندرہ اور کچھ دیگر علاقوں کی بے انتہا کشادگی اور آدم و آدم زاد کی نایافتگی ،بہت سے سارے سوال کھڑے کرتی ہے۔مراق مرزا سے تقریباًدو گھنٹے ملاقات رہی ۔اس ملاقات میں شعر،ادب،فکشن اور دیگر اصناف ادب کے بعد پھر ممبئی کے ادبی ماحول اور ادیبوں کی سرگرمیوں پر تان ٹوٹی ۔میں سنا کیا،وہ کہتے رہے۔بلکہ ہم سب مہمان سنا کیے،ہم سب کہتے رہے۔تقریباً آٹھ بجے شب رخصت کی اجازت ملی۔اب ہم تینوں کو الگ الگ جانا تھا لہٰذا ایک بہت اچھا فیصلہ کیا گیا کہ ممبئی میٹرو ریل کے ذریعے کسی ایسی جگہ اترا جائے جہاں سے میرا اسٹیشن قریب ہو ۔اس طرح مجھے ممبئی میٹرو ریل میں سوارہونے کا موقع ملا تھا نیزدلّی میٹرو ریل اور ممبئی میٹروریل کا تقابل کرنے کا بھی۔جو میں نے کیا بھی اور دلّی میٹرو کو بوجوہ ممبئی میٹرو سے اچھا پایا۔’’بھیڑ!‘‘ یہ تو خیر ممبئی کا مسئلہ ہی نہیں بلکہ اس کے جسم و جاں میں بسا ایک مستقل عنصر ہے۔پلیٹ فارمس اور اسٹیشنوں کی تعمیر میں استعمال شدہ میٹریل او ردیگر حفاظتی اسباب کا نقص نمایاں تھا ۔میں نے کئی چیزیں ممبئی میٹرومیں ایسی محسوس کی جو ناقابل رقم بھی ہیں اور آئندہ کے لیے چوکنّا رکھنے والی بھی۔ہم لوگ تقریبا 10اسٹیشن پار کر کے یاری روڈ اسٹیشن پر اترے ۔وہاں سے حنیف قمر ہم سے جد ا ہو گئے ۔میں اور میرصاحب حسن آٹو کے ذریعے کرلا پہنچے ۔درمیان میں ممبئی کی انتظامی صورت حالی،پانی،سیلاب،بارش،عام طرز رہائش اور بہت سی باتیں میں نے ان پوچھیں جن سے میر ی معلومات میں بھی اضافہ ہوا اور آنے والے دنوں میں ممبئی میں گزارنے جانے والے ایام میں مصلحت ،آگاہی اورخردمندی کے اسباب بھی مہیا ہوئے۔
رات کے پونے دس بج رہے تھے جب میں مسجد بندر اسٹیشن پہنچا۔اب نہ بھیڑ تھی اور نہ گہماگہمی کا عالم ۔بس چند بھٹکے ہوئے لوگ تھے ۔ممبئی پوری طرح جاگ رہی تھی۔سڑکوں پر جشن کا سا ماحول تھا ،ہاں فٹ پاتھ سونے پڑے تھے اور ان کی سنسناہٹ کا موقع اٹھا کر چند دھاڑی مزدوراینٹوں کا مصنوعی چولہا بنا کر لکڑیوں سے کھا نا بنا رہے تھے۔کوئی ان میں آٹا گوندھ رہا تھا تو کوئی سبزی کاٹ رہا تھا اور کوئی برتن صاف کررہا تھا۔خلق خدا ان کے پاس سے ،ان کے حال سے بے خبر گزرتی جارہی تھی۔
کرلا کا سنسار ہوٹل:
20جنوری کو جب کرلا میں ،مشاہیر ادب کے ساتھ ایک محفل میں شریک ہوا تو چائے ایک محفل میں معروف محقق و مضمون نگار سید احمد قادری اور مجھے افسانہ نگار اشتیاق سعید نے اسٹیشن کے قریب واقع ’’سنسار‘‘ہوٹل کے متعلق بتایا کہ ’’سنسار ہوٹل‘‘ اور ممبئی کے ادب و ادیبوں کے مابین گہرا اور تاریخی رشتہ ہے۔ایک زمانہ تھا جب یہاں سردارجعفری، نقش لائل پوری،ندا فاضلی، صبا فاضلی،مہدی باقر،کیفی اعظمی ،راجندر سنگھ بیدی وغیرہ ادبا و شعرا جمع ہوتے تھے اور گھنٹوں اس کی مخصوص نشست پر بیٹھے رہتے ۔اس ہوٹل کا مالک ایک سدن(ساؤتھ انڈین شخص) تھا۔ گو وہ اردو زبان و ادب سے نابلد تھا مگران ادیبوں کے علمی و دابی مباحثوں،شعرووسخن اور نئی تخلیقات پر تجزیاتی گفتگو سے کہیں نہ کہیں اس کے ذہن و دماغ میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ یہ ضرور بڑے لوگ ہیں اور کسی نیک مشن میں مصروف ہیں ۔لہٰذا ان کے لیے ہوٹل میں نہایت سلوک سے پیش آیا جائے اور ان کے لیے ’’ادھار‘‘ کا رواج بھی شروع ہونا چاہیے۔وہ اس نے کیا اور اس کا ہوٹل آج لفظوں میں تحریر ہورہا ہے۔
ممبئی میں تیسرا دن:
آج اتوار تھا اور صبح اپنی تمام جولانیوں سمیت نمود ارہو رہی ۔جیسے جیسے سورج عمودی سمت میں پرواز کرتاجارہا تھا، ممبئی جاگتی اور متحرک ہوتی جارہی تھی۔کل شام اور رات کے کچھ پہروں تک تھمنے والی گردی اب پھر سے سراٹھا رہی تھی۔گو سڑکوں پر آفیسرز کی گاڑیاں اور بھیڑ تو نہیں تھی مگر اب اس خلا کو سڑکوں پر سنڈے بازار لگانے والے اور ان کی سیر کرنے والے بھررہے تھے۔سیلس ورکرس کی آوازیں،وہی آوازیں جو دہلی،لاہور،کراچی اور ڈھاکہ کے اس طرح کے بازاروں میں مختلف ٹونس،جملوں،فقروں اور اندازوں سے لگائی جاتی ہیں۔عورتوں کو خاص طور سے لبھانے کی کوششیں اور انھیں لال ،پیلے،ہرے،گلابی،چمپئی ،ہر طرح کے باغ دکھانے کے انداز۔تاہم اتنا ضرور تھا کہ مہنگی سے مہنگی چیز بھی بارگننگ کے بعد اونے پونے میں بلکہ کوڑیوں کے بھاؤ مل رہی تھی۔اب یہ مت پوچھیے کہ ان سامانوں کے چلن کی مدت کیا رہی ہوگی اور انھوں نے کب تک اپنے خریدنے والے کا ساتھ دیا ہوگا۔
میں ایک کرانہ مارکیٹ میں چلا گیا۔گاؤں کی عورتیں کھیتوں کی دالیں،دوتین طرح کے ثابت چنے، موم پھلیاں،تیل،تیلہن،کچھ ہاتھ سے بنے کپڑے،ناریل ،گیہوں کی کچی بالیں ،گرم مصالحے ،سوکھی لال مرچیں ،ہری مرچیں،کچھ مدت تک سلامت رہنے والی سبزیاں،آٹا اور ثابت اناج وغیرہ تو وہاں تھا ہی،مراٹھا عورتوں کا ڈیل ڈول ،بڑی بڑی آنکھیں اور ان میں نمایاں کیچڑ،دوپٹہ آدھے سر تک کسا ہوا ،لکڑی کے پٹروں پر ان کا بیٹھنا اور ان سے سامان خریدنے والوں سے تیزتیز آواز میں ان کا بولنا،کہیں مردوں کا بھی ان کی نقلیں کرنا یہ سب اس پر مستزاد تھا۔میں دورتک یہ سب دیکھتا چلا گیا ۔پھر ان ہی قدموں واپس آگیا۔آتے وقت میرے ہاتھ میں بھی کچھ شاپرس تھے۔اس کے بعد میں نے وہ پورادن اپنے کمرے میں ہی گزارا۔شام کو جب موسم خوشگوار ہو گیا تو میں پھر ممبئی کی سڑکوں پر آوارہ گردی کرنے کے لیے نکل گیا۔صبح کا لگنے والا بازار اب تک شباب کی منزلوں سے بھی آگے نکل گیا تھا ۔لنک روڈ،سردار ولبھ بھائی پٹیل مارگ،حضرت علی علیہ السلام چوک،محمد علی روڈ،نل بازار کی گلیاں اس طرح بھری ہوئی تھیں جس طرح کھیت کی نالیاں زوردار فصل سے بھری بھری نظر آتی ہیں۔وہ تو بلڈنگیں اور مکان ہی بلند بلند تھے ورنہ وہ تو انسانوں کی اس بھیڑ میں دب ہی جاتے۔آتے جاتے لوگ،ٹریفک کا اژدہام،برقع پوش انڈونیشن اور مقامی ہر عمر کی خواتین ،بچوں کو گود میں اٹھائے شوہر اور بڑے بیٹے،اگر آج رجب علی بیگ سرور زندہ ہوتے تو وہ ممبئی کی اس بھیڑ کو دیکھ کر الٹ پلٹ ہی ہوجاتے۔انھیں اس وقت سمجھ میں آتا کہ اصل بھیڑ کیا ہوتی ہے اور دھکا مکی کا حقیقی مطلب کیا ہے۔ان کی سانس پھنس پھنس جاتی اور وہ چند دنوں میں ہی دمے کے مریض ہوجاتے۔
ممبئی میں جہاں میرا قیام تھا ،وہ ڈونگری کے قریب کھڑک کا علا قہ اور اس کی بھی گلی ’’ٹن ٹن پورہ‘‘ تھا —– –یہیں پر چھوٹے اور بڑے لال دروازے کے پاس ایک درگاہ ہے۔جسے عبد الرحمان شاہ کی درگاہ بتایا جاتا ہے۔ان ہی دنوں بزرگ موصوف کا‘ عرس شریف‘ تھا۔جس کے لیے مین روڈ سے لے کر چھوٹے بڑے لال دروازے اور کھڑک پولیس چوکی کے تمام علاقے کو رنگ برنگی برقی پھلجھڑیوں اور قمقموں سے سجا دیا گیاتھا۔عرس کی تقریبات کا سلسلہ تقریباً چھے روزرہتا ہے ،ان چھے دنوں میں ہر دن کوئی نہ کوئی تقریب ہوتی ہے اور سرِشام ہی پورا ایریا روشنیوں سے جگمگا اٹھتا ہے۔عقیدت مند اپنے اپنے طو رپر یہ تقریب مناتے ہیں۔چھوٹے لال دروازے پر دونوں جانب لوہے شیر کھڑے کر دیے جاتے ہیں اور ان کے بالکل محاذ میں پانچ پانچ فٹ کے مصنوعی فوار ے پانی برساتے رہتے ہیں۔گلیوں میں عقیدت مند شبیہ گنبد خضرا لے کر جدید ترین ڈی جے ساؤنڈ اور جھنکار کی آواز پر ترانے،منقبتیں اور مدحیں بجاتے گاتے نکلتے ہیں۔پورا علاقہ شور سے بھر جاتا ہے ،نیند و چین الگ خراب ہوتا ہے۔
ایک شام جب میں اپنے دن بھر کے کاموں سے فارغ ہوکر اور لوکل کے دھکوں سے آزاد ہوکر’ سٹی ہائٹ ‘ بلڈنگ کے سامنے سے گزررہا تھا،ایک ہنگام میری راہ میں حائل ہوگیا۔شاہ صاحب کے عراس عقیدت مند پوری گلی روکے ،آئیشر اور فورس کے ٹرکس پر ڈی جے ساؤنڈس لگا کر چل رہے تھے۔ایک منقبت خواں open challenge کررہا تھا ۔ہاتھ ہلا ہلا کر دعوت دے رہا تھا کہ ہے کوئی اس سے اچھا گانے والا،حالاں کہ اس سے اچھا پھٹے بانس بھی گالیتے۔مگر بھیا،جس کی چونّی چل گئی ،چل گئی۔اس کی تو کھوٹی اٹھنّی چل رہی تھی ۔
عرس ختم ہونے کے بعد ایک دل دوز منظر دیکھا۔وہی شبیہ گنبد خضرا ،جسے چوم چوم کر اور جس سے لپٹ لپٹ کر عقید ت مند کہہ رہے تھے:
ہم گنبد حضرا کے کبوتر،ہماری فدا ہے جاں اس پر
اور
گنبد خضرا ہماری آبرو،ہماری آرزو
ہم طلب گاراس کے،وہ ہے ہماری جستجو
وہی شبیہ گنبد خضرا گلی کے کوڑے دان میں پڑی تھی۔اس کے آس پاس گھروں کے کوڑے سے بھرے شاپرز اورتھیلیاں پڑی ہوئی تھیں ،دوسری گندگیاں الگ تھیں۔اب میں اس بے حرمتی پر افسوس جتا کر ہیروگیری نہیں کروں گا ،چوں کہ اس پر افسوس کرنا میرا ایمان اور فرض تھا،محبت رسول اور عقیدت محمدی کا تقاضا تھا،جو میں نے کیابھی۔شکر ہے کہ دودن کے بعد شبیہ کو وہاں سے ہٹا دیا گیا۔
انجمن اسلام ،ممبئی
ممبئی عظمیٰ میں میرا چوتھا دن اور انجمن اسلام کریمی لائبریری و انجمن ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری کی سیر ،شمیم طارق صاحب سے ایک یادگار ملاقات ——–اب آگے۔۔۔
انجمن اسلام ممبئی،ممبئی کی مسلم امہ کا ایک اپنا ادارہ ،ایک اپنا ٹرسٹ اور ایک اپنا مقام وشعار۔جس کے زیر اہتمام میں ممبئی بھر میں اردواسکول،ٹیکنکل اسکول،سائنس اسکول اور متعدد ادارے مصروف عمل ہیں ۔اسی طرح دو لائبریریاں ،انجمن اسلام کریمی لائبریری،اور انجمن اسلام ریسرچ انسٹی ٹیوٹ لائبریری بھی باحثین اور محققین کے لیے ایک بے مثال ذخیرے کی حیثیت رکھتی ہے۔ انجمن اسلام کا کیمپس سکرٹریٹ ایریے میں عین چھترپتی شیواجی ٹرمینل کے بالکل سامنے دادابھائی نوروجی روڈ پر واقع ہے۔اس کی عمارت انگریزی طرزو عہد کی یاد گار اور اسی کی طرح کی مضبوطی لیے بلند وجود و سراپے کے ساتھ کھڑی ہے ۔ تاریخ کے جھرونکوں میں جھانکیں تو پتا چلتا ہے کہ انجمن کا سنگ بنیاد بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں31مارچ 1890میں،میں رکھا گیا اور اس کا افتتاح لارڈ ہاریس بہادر گورنر بمبئی کے ہاتھوں 1893میں عمل میں آیا۔انجمن کی مکمل تاریخ اس کے صدر دروازے دائیں جانب نصب پتھر سے معلوم ہوتی ہے۔جس کی عبارت یہ ہے:
الحمدللّٰہ والمنۃ
کہ این عمارت کہ مدرسہ مبارکہ انجمن اسلام است دراین زمان دولت اعلٰحضرت پادشاہا انکلستان و قیصر ہندوستان ملکۂ معظمہ الشان وکتوریہ مساعی انجمن اسلام و اعانت اہل اسلام بنا شدہ سرکار عظمت مداردارالحکومۃ مسبی علاوہ بر بخشش یک قطعہ زمین کران کہ بھاکہ این عمارت برآن قائمست بہ مبلغ سی و ہشت ہزار روپیہ امداد فرمودہ سنک اساسشن بتاریخ نہم شعبان ۱۳۷۰؁ھ ہزارو سیصد و ہفت ہجری مطابق بتاریخ سی و یکم مارچ۱۸۹۰؁ء ہزارو ہشتصدونود عیسوی بدست نوّاب مستطاب لاردری بہادر گورنرنھادہ شدہ و پس ازاختتام تعمیر رسم افتتاحش بتاریخ دہم و ماہ شعبان ۱۳۱۰؁ہزارو سیصد دہ ہجری مطابق بتاریخ بیست و ہفتم فپروری ۱۸۹۳؁ء ہزارو ہشتصد و نودسہ عیسوی بدست نوّاب حشتماب لارد ھاریس بہادر گورنربمبئی بسمت وقوع پذیر رفتہ معماریش بعھدہ کفایت کارپرواز ان پبلک ورکس دپارتمنت مفوِّض بودہ و بر مبلغ یک لک و سی دنہ ہزار روپیہ بانجام رسیدہ خداوند بیزوال از حوادث لیل و نھار نکاہش داردو آنراوسیلہو جبر حال و ترقی مسلمانان کرداند
امین اللّٰھم آمین
صدر انجمن بدرالدین طیب جے
پیشکاران عبداللہ مھر علی دھرمے
فحقلے شیخ احمد
انجمن اسلام کے سامنے سے گزرنے والا دادابھائی نوروجی روڈ نہایت صاف ستھرا روڈ ہے۔روڈ کا ڈیوائڈر بہت اچھی باغبانی اور خصوصی توجہ دہی کا مظہر ہے۔یہ روڈ حج ہاؤس کے آگے سے سید مخدوم ماہمی پل اور محمد علی روڈ میں تبدیل ہوجاتا ہے اور ایک طرف سے منترالیہ(سکٹریٹ)سے ہوتے ہوئے گیٹ آف انڈیا اور وکٹوریہ کی جانب نکل جاتا ہے۔اس روڈ پر انجمن اسلام کے علاوہ دوسری تاریخی عمارات بھی موجود ہیں۔
جمعرات،ایک چھٹی اور ایلی فنٹا کی سیر:
ممبئی میں میرے سحر،شام اور شب یوں ہی گزررہے تھے کہ میرے ایک دیرینہ دوست شاداب علی زیدی کا فون آیا کہ عمران جمعرات کو خالی رکھیے،اس دن میری چھٹی ہے،کہیں گھومیں گے،یا تم جہاں کہو ——– جب انھوں نے عمران پر یہ ذمے داری ڈالی تو الہڑ اور سرپھرے عمران نے اپنی چلاتے ہوئے’ ایلی فنٹا‘ کی سیر کرنے کا کہہ دیا۔جسے انھوں نے منظور کرلیا۔جمعرات آئی اور ہم دونوں دوپہر کا کھانا کھا کر گیٹ وے آف انڈیا پہنچے۔وہاں سے انجن اسٹیمر کا 200روپے کا ٹکٹ لیا اور اسٹیمر کے اوپر والے پورشن میں پہنچ گئے۔تقریباً سوا گھنٹے کا سمندر ی سفر ہم دونوں نے کھڑے کھڑے ہی طے کیا ۔کیوں کہ تمام نشستوں پر پہلے ہی قبضہ ہوچکا تھا۔جیسے ہی اسٹیمر نے ساحل ممبئی کو خیر آباد کہا اور کچھ ہی دور چلا کہ کبوتر کے جثے اور شکل وہیئت کے سفید رنگ کے پرندے کیاؤں کیاؤں کی آوازیں نکالتے ہوئے اسٹیمر کے اوپر منڈرانے لگے۔سیاح انھیں چپس ،موم پھلی کے دانے،مکئی کے دانے اور جانے کیا کیا کھلانے لگے۔طریقہ یہ تھا کہ ان چیزوں کو پانی کی طرف اچھالا جاتا اور اڑتے پرندے چشم زدن میں اسے کسی لیجنڈری کیچ کیپر کی طرح کیچ کرتے ۔مجھ سمیت ہر ایک اُن کی اس ادا پر انگشت بدنداں تھا۔میں نے بھی اپنا چپس پاکٹ کھولا اور انگلیوں کے آخری سرے پر چپس اٹکا کر اوپر کیا،دوتین پرندے جھپٹے ،مگر ان میں سے کامیاب ایک ہی ہوپایا۔میرے دیکھا دیکھی اب دوسرے بھی ایسا ہی کررہے تھے۔پلٹ کر جھپٹنے اور جھپٹ کر پلٹنے نیز لہو گرم رکھنے کے بہانے کی تعبیر اس وقت سامنے موجود تھی۔یہ کھیل تماشا جاری رہا اور ہمارا اسٹیمر ایلی فنٹا پہنچ کر لنکر انداز ہوگیا۔
ایلی فنٹا سمندر کے بیچوں بیچ ہندوستانی سرحد میں واقع ایک پہاڑی جزیرہ ہے۔قدیم زمانوں میں اسے بدھسٹوں نے اپنی عبادت کے لیے آباد کیاتھا۔پھر انگریزی عہد میں یہاں یونین جیک لہرایا گیا اور موجودہ دنوں میں اسے ہندوستانی سیاح آآکر دیکھتے ہیں۔اسٹیمر سے اتر نے کے بعدپہاڑ پر پیدل بھی جاتے ہیں اورٹوائے ٹرین کی سہولت بھی موجود ہے۔کئی مقامات پر ٹکٹس لے کر ہم دونوں پانچ سو سیڑھیاں چڑھ کر پہاڑیوں پر چڑھتے چلے گئے ۔سیڑھوں کے دونوں کناروں پر ہنڈ کرافٹ اور آرٹی فیشیئل مصنوعات کی دکانیں لگی ہوئی ہیں ۔جن کی وجہ سے راستہ تنگ سا ہوگیا ہے۔پورا پہاڑ سوکھے درختوںاور جھاڑیوں سے ڈھکا ہوا ہے۔یہ کتنا عجیب واقعہ ہے کہ سمندر کے بیچوں بیچ رہنے کے باوجود پہاڑ پر کے درخت پانی مانگ رہے تھے۔ان کے ہاتھ اور منہ اوپر اٹھے ہوئے تھے جیسے آسمان کے خدا سے پانی مانگ رہے ہوں ۔ ان کے ساتھ ساتھ ان پر بسنے والی مخلوق بھی پیاسی تھی ،اچھلتے کودتے بندر بھی پیاسے تھے اور سیاحوں سے بوتلیں چھین چھین پر پانی پی رہے تھے۔ ایک بندر نے ہمارے سامنے ہی ایک عورت سے بوتل چھینی اور پاس کے درخت پر جاکر اوک(چُلّو) سے پانی پینے لگا(بندر کبھی منہ لگا کر کوئی چیز نہیں کھاتا،وہ ہمیشہ ہر چیز ہاتھ سے کھاتا ہے) مگر اس عمل میں پانی اس کے پیٹ میں کم اور زمین پر زیادہ گررہا تھا۔اس وقت ایک محاورہ بناکہ’’بندرکیا جانے پانی کیسے پیا جاتا ہے‘‘ —– —
پہاڑ کے درختوں اورمخلوق کی طرح پانی تو ہم لوگ بھی مانگ رہے تھے۔ایک دوکان دار سے بوتل لی ،اس نے 20 روپے کی بوتل 50میں دی۔اس وقت سمجھ میں آیا کہ موقع کا فائدہ کیسے اٹھایا جاتا ہے اور مافیا گیری کیا چیز ہوتی ہے۔حلق تو سوکھ ہی رہے تھے ،لہٰذا اس کی مکار آنکھوں اور لٹیرے ہاتھوں کی نذر سو روپے کا نوٹ کر نا ہی پڑا۔ہم لوگ تقریباً تین گھنٹے وہاں رہے اور جب تھکے ہارے دوبارہ اسٹیمر سے گیٹ آف انڈیا کی جانب بڑھ رہے تھے،افق مغرب سورج کو اپنی آنکھ میں پوری طرح اتار چکا تھااور کاینات نے سیاہ سیاہ چادر اوڑھ لی تھی ۔تاہم شہر جگمگا رہا تھا اورسڑکیں روشنیوں میں نہا رہی تھیں۔اب ہم لوگ تھے اور ممبئی کی سڑکیں اور ٹیکسیاں ۔ان میں سے ایک ٹیکسی لے کر ہم لوگ بھنڈی بازار آگئے ۔یہاں سے ہم دونوں کے راستے الگ ہوتے تھے لہٰذا کسی آئندہ اگلی طویل ملاقات کا وعدہ کرکے ہم لوگ سلام اور ہینڈ شیک کرکے جدا ہوگئے ۔

18جنوری 2019 —– ماٹونگا میں ایک شام
ممبئی ،جو اقوام عالم اور بالخصوص ہندوستانی قوموں کا صدیوں سے مسکن رہا ہے۔یہ کہنے اور بتانے کی چنداں ضرورت نہیں کہ ممبئی میں کتنی قومیں آئیں اور کب کب ؟اس لیے کہ اس کا پتا ہمیں ممبئی کے علاقوں میں بسنے والے افراد اور انسانوں سے ہوجاتا ہے ۔وہ کہاں سے آئے اور کب؟ یہ تو بہت معمولی سا سوال اور بات ہے اہم اور ضروری بات یہ ہے کہ انھوں نے یہاں آکر بھی اپنی شناخت،سنسکرتی،اقدار اور شعار نہیںبدلے نیز وہ ان پر سختی سے کاربندبھی ہیں اور مقامی ماحول کے ساتھ اپنے کلچر کو شامل کرکے انھوں نے ہم آہنگی کے تصور کو نیا عنوان بخشاہے۔
ماٹونگا ،ممبئی کا ایک ایسا ہی علاقہ ہے جس میں دوردراز تک ساؤتھ انڈین آباد ہیں ۔ان کا تعلق کرناٹکا،آندھرا اور ماضی کی میسور،ارکاٹ وغیرہ ریاستوں سے ہے۔یہاںمیرے آنے کا سبب یہ تھا کہ یہاں کے ’’میسو رہال‘‘ میں لیجنڈری افسانہ نگار سعادت حسن منٹوکی برسی پر ایک پروگرام ’’منٹو :ایک سیاہ حاشیہ‘‘ کے عنوان سے منعقد کیا گیا تھا ۔جس کے آرگنائزرس میں اسلم پرویز(ممبئی) شاداب رشید (مدیر :سہ ماہی نیاورق) اور ان کے رفقا تھے۔پروگرام سے قبل حسب روایت ہال کی دیوارو ںپر چاروں طرف منٹو اور ان کے افسانچوں کے مجموعے’’سیاہ حاشیے‘‘ پر مبنی پینٹنگس آویزاں کردی گئی تھیں۔جنھوں نے مذکورہ پروگرام کی وقعت و معنویت دوچند کردی۔
میسور ایسو سی ایشن ،ممبئی کا’’میسور ہال‘‘اردو اسٹیج ڈراموں کے لیے معروف ہے۔گویہاں دوسری زبانوں کے پروگرام اور مختلف ایونٹس بھی ہوتی ہیں تاہم اردو ڈراموں،پلیز ، ڈاکیومنٹریزاور بائیو پکس کے لیے اس نے خصوصی مقام حاصل کر لیا ہے۔سہ منزلہ عمارت پر مشتمل ’میسو رہال‘ کا محل وقوع ماٹونگا(مشرق) کے ماٹونگا سرکل سے جانب مغرب ہے۔یہ پورا علاقہ ماٹونگا اسٹیشن سے ہی جنوبی ہندوستان کا خطہ محسوس ہونے لگتا ہے ۔اسی طرح کے مکانات،رہن سہن،لباس و پوشاک،تہذیب و کلچر،بولی ٹھولی،مارکیٹس ،موسم و ہوا ،عام مناظر،سب ایسے ہی ہیں ۔ ایسا لگتا ہے جیسے ہم ساؤتھ کے کسی شہر میں گھوم رہے ہیں ۔سڑکوں کی دونوںجانب گل مہر کے پیڑ لگے ہیں جن پر اس وقت کونپلیں کھل رہی تھیں اور جب ایک ماہ بعد میں یہ سطور لکھ رہا ہوں،ان کا عالم شوق دیکھنے کے قابل ہوگا۔وہ رنگ برنگے اور شوخ رنگ پھولوں سے لدے پھندے ہوں گے اور ناظرین و شائقین کی پردید آنکھوں کے لیے باعث تسکین بنے ہوں گے۔
بھاگ دوڑوالی ممبئی کے افراد ثقافتی،ادبی و تہذیبی پروگرامس کو بہت شوق سے دیکھتے ہیں اور اگلی ایونٹ تک گزشتہ ایونٹ کی تمام باتیں یاد رکھتے ہوئے آپس میں ڈسکشن بھی کرتے رہے ہیں تاکہ وہ خوب صورت یادیں اور لمحات وقت کے تیز رفتار اور بے سمت دھارے کی نذر ہوکر ان کے ذہنوں سے محو نہ ہو جائیں ۔
میسور ہال اوڈی (آڈیٹوریم) میں ایک ہزار افرا دکے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔شائقین و ناظرین میں اعلا و متوسط افراد کے علاوہ کالج و یونیورسٹیز کے طلبا و طالبات بھی بڑی تعداد میں شریک ہوتے ہیں ۔
دو دن ناسک میں
اہیونت گڑھ کی بلندو بالا پہاڑیوں سے جب دائیں جانب نیچے اترتے ہیں تو اس کے دامن میں ذرا دور ایک ایسے آباد اور خوش حال شہر کو پاتے ہیں جس کا شمار ہندوستان کے ٹاپ ٹین سیاحتی مقامات میں ہوتا ہے۔اس کے علاوہ بھی شہر ناسک متعدد خوبیوں کا مالک ہے۔
اسی نہایت برق رفتاری سے ترقی کرتے اور خوب صورت ضلع ناسک کے مستقر (ہیڈکوارٹر) ’شہر ناسک‘ کا ذکر ہے اوربیاں میرا۔ شہر مذکور کوحالیہ دنوں حکومت ہند نے ڈیموسٹک ایئر پورٹ کا تحفہ عنایت کیا ہے۔ جس کے بعد ریلوے اور سڑک کے علاوہ ملک کے دیگر خطوں سے اس کا فضائی رابطہ بھی ہوگیا۔نیشنل ہائی وے نمبر۔3آگرہ ٹو ممبئی پر ،ممبئی سے 153کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر ناسک(ناشک روڈ) پانڈؤں کی گپھاؤں ،بدھسٹوں کے مذہبی مقامات اور ہندومت کی قدیم روایات اورآستھاؤں،پرفضا مقامات پر واقع پر شکوہ منادر اور ان کی برکتوں سے مالا مال ہے۔جنگلوں میں کیسلس ،ریزورٹس ،،فارم ہاؤسز، کی رعنائی وزیبائی کے علاوہ قدرت نے بھی اسے اپنی نعمتوں کی خصوصی توجہات سے مالا مال کیا ہے اور دریائے گوداوری کا میٹھا پانی، اسے نصیب کیاہے۔متعدد نہروں اور ندیوں کے کنارے آباد یہ شہر چاروں طرف سے پہاڑیوں اور سرسبزو شاداب میدانی علاقوں کا آئینہ نما بنا ہوا ہے۔اس شہر سے میرا رشتہ یہ ہے کہ یہاں میری روحانی ماں ،معروف شاعرہ رئیسہ خمار آرزو رہتی ہیں۔مادر محترم سے میری ملاقات فیس بک کے ذریعے ہوئی تھی جو ہوتے ہوتے یہاں تک پہنچی کہ میں آج ناسک میں اپنے گزرے دو دنوں کا حال لکھ رہا ہوں ۔یہ دودن میںنے مادر محترم کی رہائش گاہ پر ہی گزارے تھے۔یہ دودن میرے لیے دوقرن (دو صدیوں) کے برابر ہیں۔
میں دس بجے ناشک روڈ اسٹیشن پر اترا ،وہاں سے شیئرنگ آٹو سے دوارکا پہنچا ۔جیسے ہی ایک مخصوص مقام پر اترا،مادرمہربان اسکوٹی لیے منتظر ملیں۔وہاں سے ہم دونوں رہائش گاہ پہنچے۔اب دوپہر ہونے والی تھی اور لنچ کا بھی وقت تھا ۔لہٰذا کچھ دیر بعد چینجگ،فریشنیس اور چنداں آرام کے بعد لنچ کیا گیا۔بعد ازاں ہم لوگ پانڈوؤں کی غاریںدیکھنے کے لیے چل پڑے۔اونچے پہاڑ پر قدیم زمانوں کی بنی ہوئی یہ غاریں محکمۂ آثار قدیمہ ہند کے زیر اہتمام ہیں۔پانچ سو سیڑھیوں کی مسافت طے کرنے کے بعد جب ہم لوگ وہاں پہنچے تو شہر ناسک ہمارے سامنے تھال میں سجے پھولوں کی مانند نظر آرہا تھا۔ہمارے پیچھے پہاڑ تھا اور سامنے دونوں اطراف میں پھیلے میدانی علاقے تھے۔ان کی بھوری بھوری ریت اور ان پر اگے درخت و چھوٹے چھوٹے پودے کاینات کی رعنائی و صفااور افروزی کا نشان بنے ہوئے تھے۔
پہاڑوں کی بلندیوں سے اترنے کے بعد میدان میں بدھ پرنما کا مٹھ تھا ۔جس کے چاروں طرف فوارے دار گارڈنس اور پھول دارچمن بندیاں تھیں ۔مٹھ کے گنبد میں آوازیں گونجتی ہیں ۔مٹھ میں بیچوں بیچ بدھ کی پر شوکت سنہرے رنگ کی مورت نصب ہے ،اس کے سامنے عقیدت مند خواتین و مرد دوزانو ہوکر بیٹھے تھے ۔ہم لوگ وہاں چند ساعات ہی رہے ۔یہاں سے ہم گنگا پورڈیم کی طرف گئے جو دریائے کاویر ی کے اوپر بنا ہے اور اس کا شمار ہندوستان کے چند اہم ترین ڈیمس میں ہوتا ہے۔یہاں پہنچے تو دریاکے کنارے حسب معمول و اندازہ مندر بنے ہوئے تھے۔جن کے چڑھاؤں کی مالائیں اتار کر دریا میں ہی پھینکی جارہی تھیں۔اس مقام پر دریا میں پانی بہت کم تھا بس پتھر ہی پتھرنظر آرہے تھے۔حالاں کہ بقول مادر محترم ،ہم لوگ جہاں کھڑے تھے،وہاں طغیانی کے دنوں میںبیس بیس فٹ کی بلندی سے پانی گزرتا ہے۔انھوں نے کچھ ماہ قبل ایسی ہی طغیانی کی ویڈیو بھی دکھا ئی جسے دیکھ کر بالکل بھی اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ یہ اسی جگہ کی ہے جہاں اب نہایت آرام اور بے خوفی سے ہم سیر کررہے ہیں۔یہاں بھی ہم چند ساعات رہ کر پھر آگے بڑھے تو ایک مقام پر بوٹنگ کلب کا سائن بورڈ نظر آیا۔مادر محترم نے اسکوٹی ادھر موو کی اورچنگی بانوں کو انٹری فیس دے کر ہم لوگ گوداوری کے گھاٹ پر آگئے ۔یہاں اسکوٹر بوٹنگ کے بعد چپّو بوٹنگ
بھی کی گئی ۔گہرے گہرے اور میٹھے پانیوں میں اس وقت کا سیر کرنا کتنا اچھا لگ رہا تھا۔شام سرمئی آنچل کی طرح کاینات پر پھیل چکی تھی اور ماحول و موسم خوشگوار ہوتا جارہا تھا ۔اس کے بعد ہماری اگلی منزل ایک ایسا مقام تھا جہاں درگاہ اور مندر ایک ساتھ بنے ہوئے ہیں تاہم درگاہ، مندر سے بالائی حصے میں واقع ہے۔لیکن ان کا راستہ ایک ہی ہے۔یہ ایک فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا منظر تھا ،جسے میں تو دیکھا کیا۔
اب تک دن کا اجالا رات کے سیاہ دھبوں سے داغ دار ہو چکا تھا ،اس کا مطلب یہ تھا کہ اب ہمیں گھر چلنا چاہیے ۔لہٰذا وقت کا اشارہ سمجھ کر ہم لوگ ان ہی راستوں سے واپس گھرآنے لگے۔شہر میں شام جوان ہورہی تھی اور ناسک کے کالج کی روڈ کی رونقیں بڑھتی جارہی تھیں۔کالج روڈ،شہر کا وسطی علاقہ اور خوب صورت بھی ہے ،یہاں ریستوراں،کافی ہاؤسز،کیفے ،اسنیکس اسٹال،ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر ،نوکر پیشہ افراد کی رہائشیں اور بھی بہت کچھ دیکھنے کوہے۔یہاں کے ایک معروف و صاف ستھرے کیفے میں مادر محترم نے مجھے کافی پلائی جو’ واقعی ‘بہت اچھی تھی۔ کافی آنے سے پہلے میں نے نظریں گھما گھما کر اس پورے منظر کو اپنی آنکھوں اور ذہن و دماغ کے گوشوں میں بسایا ،ان کے متعلق یافت و دریافت بھی ہوتی رہی۔
اب شام پوری طرح گھر چکی تھی ،شہر کی سڑکیں اور ماڈرن علاقے روشنیوں سے جگمگا اٹھے تھے اور گھر واپس آنے والے صبح کے نکلے افراد ہجوم در ہجوم گھروں کو واپس ہو رہے تھے لہٰذا اسموتھ ٹریفک لازمی تھا ۔مادر محترم نے رہائش گاہ پر مجھے سرپرائز دینے کے لیے ایک شعر ی نشست کا انعقاد کیا جس کے متعلق مجھے کچھ علم نہیں تھا اور نہ ہی تیاری، مگر میں نے عین وقت پر شاہد آفرید کی طرح شاٹس کھیلے اورایونٹ کی کامیابی میں پوری حصے داری نبھائی۔تقریباً تین گھنٹے تک چلنے والی یہ نشست بہت ہی خوب تھی۔رات گزرتی اور گہری ہوتی جارہی تھی ۔جس کے بعد روشن روشن صبح نمودار ہونے کے لیے جانے کب سے بے تاب تھی، مگر اسے ابھی کچھ اور گھنٹے انتظار کرنا تھا اور ظلمات بھری رات کو قطع کرناتھا۔قانون قدرت کے مطابق سحر طلوع ہوئی اور رات کی پرتیں چھٹیں ،سورج عمودی سمتوں میں پرواز کرتا ہی چلا گیا اور خلق خدا اپنے معمول کے کاموں میں مصروف ہوگئی۔اب دن تھا لہٰذا ضروریات سے فارغ ہونے کے بعد ناشتہ کیا گیا اور دوپہر کا کھانا کہیں باہر کھانے کا پلان بنا کر میں اور مادر محترم لانگ ڈرائنگ پر چل پڑے۔اسکوٹی شہر سے نکلتے ہی سرپٹ دوڑنے لگی ۔کشادہ دو رویہ شاہراہ ،دور تک پھیلے کھیت اور سڑک کے دونوں طرف بنے فارم ہاؤسز،ریزورٹس ،ٹرانزٹ ہاؤسز،مندر،گئوشالائیں،نکیتن وغیرہ قائم ہیں جن سے وہ سنسان سڑک، آباد ہوگئی ہے۔تاہم وہاں ایک طرح کی سنسنی پھر بھی باقی ہے۔
چالیس کلومیٹر چل کر اب اسکوٹی کا منہ اس پہاڑ کی جانب موڑدیا گیا جس کی سب سے اونچی چوٹی پرمکتی دھام مندر واقع ہے ۔یہ مندر سطح زمین سے تقریبا بیس کلومیٹر کی بلندی پر عقیدت مندوں کی عقیدتوں کا مرکز بنا ہوا ہے ۔وہاں تک پہنچنے کے لیے ون وے ٹائپ سڑک بنی ہے جو بلندیوں پر جاتے جاتے ٹوٹ پھوٹ کر باعث تکلیف و آزار بنی ہوئی ہے۔جب راستہ بہت زیادہ خراب آنے لگا تو عافیت اسی میں سمجھی گئی کہ اب واپس ہوا جائے، لہٰذا ایسا ہی کیا گیا اور اب ہم اسی راستے سے واپس آرہے تھے ۔سہ پہر تک ہم لوگ ناسک کے مسلم اکثریتی محلے میں تھے ۔جہاں دن کا کھانا کھانے کا پلان تھا ۔یہاں شان داراور اعلا فرنیچر سے لیس’ ہوٹل جہاں گیر ‘ میں کھانا کھایا گیا ۔ناسک کا مسلم اکثریتی محلہ ایشیا کے عام مسلم محلوں کی طرح ہی ہے۔جگہ جگہ دیواروں پرمختلف مذہبی پروگراموں اور عرس کے پوسٹرس چسپاں تھے۔گلیوں میں چاندتاروں کی اور مسلم سیاسی پارٹیوں کی چھوٹی چھوٹی جھنڈیوں کی جھالریں کٹی پھٹی حالت میں لٹکی ہوئی تھیں۔کہیں کہیں کوڑا کچرا بھی تھا اور راستے تنگ تنگ سے ،ان پر جگہ جگہ ٹھیلے اور ٹھیلوں پر دودوتین تین دن پرانے سامان،پھل فروٹ وغیرہ۔کھانا کھانے کے بعد ہم قریبی راستے سے گھر واپس آگئے۔چوں کہ آج مجھے ممبئی واپس بھی جانا تھا ،اس لیے ہر کام میں جلدی ہی کی جارہی تھی ۔گھر پہنچنے کے بعد مادرمحترم نے ایک شاندار چائے بنائی جو ہم دونوں نے فلیٹ کی بالکنی میں بیٹھ کر پی۔بالکنی سے شہر اور قومی شاہراہ کا منظر بہت ہی نمایاں نظر آرہا تھا ۔کتنا پیارا لگ رہا تھا وہ فضائی منظر جب شہرکے راستوں اور قومی شاہراہ پر چلنے پھرنے والی گاڑیاں ایسی لگ رہی تھیں جیسے کسی انڈسٹری کی مشین میں خام سامان آٹومیٹک دھیرے دھیرے سرکتا ہے۔اونچے ٹاوروں پر کلرڈ اشتہارات دور تک پھیلے ہوئے تھے۔آسمان بھی صاف تھا ،ہاں! بادلوں کے چند آوارہ ٹکڑے ضرور کہیں کہیں نظر آرہے تھے۔شام جیسے جیسے گھِر رہی تھی،ہوا میں خنکی بھی تیز ہوتی جارہی تھی ،لہٰذا چائے ختم کرنے ،دیرتک باتیں کرنے اور نظاروں سے لطف اندوز ہونے کے بعد اب ہال میں ہی آنا مناسب سمجھا۔پھر تھوڑی دیر بعد میں اپنا سامان سمیٹ رہا تھا ۔سامان سمیٹنے کے پونے گھنٹے بعد مادر محترم نے مجھے شہر کی ایک معزز شخصیت جناب آصف کمانڈو سے ملایا اور اس کے بعد دوارکا آٹو اسٹینڈسے ماؤں اور بزرگوں کی طرح سر پر ہاتھ پھیر کر سی آف کیا۔میں ان کی دعائیں،دودن کی محبتیں،ہزار برسوں کی نوازشیں لے کر ناشک روڈ اسٹیشن پہنچا اور وہاں سے ’الہ آباد۔ممبئی‘ٹرین میں سوار ہو کر بارہ بجے کے قریب ممبئی پہنچ گیا۔
ممبئی یونیورسٹی کیمپس میں ایک پورادن:
23جنوری کی صبح ہوئی ،جو تمام صبحوں کی مانند تھی مگر اس صبح میں میرے لیے خاص بات یہ رہی کہ اس دن میں نے ایک بار پھر ممبئی یونیورسٹی جانے کا فیصلہ کیا اور جن اساتذہ سے پہلی وزٹ میں ملاقات نہ ہوسکی،ان سب سے اس بار ملاقات کا عزم کیا۔راستہ وہی تھا۔مسجد بندر ٹو کرلا اسٹیشن،وہی لوکل ٹرین اور وہی اس کی بھیڑ،وہ گہماگہمی اور وہی سب کچھ ۔یہ میں ہی جانتا ہوں کہ کیسے کیسے کرلا اسٹیشن پر اترا ،بلکہ کچھ دیر تک تو مجھے لگا بھی نہیں کہ میں اتر گیا ہوں ،مگر واقعی میں اتر گیا تھا ۔اگژٹ وے سے باہر آیا ۔اب تک’’بیسٹ ‘‘ ورکر س کی دس دن تک جاری رہنے والی ہڑتال،سی ۔ایم فڑنویس کی یقین دہانی کے بعدختم ہوچکی تھی۔میرا بہت من کرتا تھا کہ ممبئی کی بسوں میں بیٹھوں،اس سے بھی زیادہ مجھے ڈبل ڈیکر میں بیٹھنے کا شوق تھا ۔اللہ پاک کا شکرو احسان کہ مجھے یہ موقع مل گیا۔میں کرلا سے ممبئی یونیورسٹی،ودّیا نگری اسی سے گیا اور اسی سے آیا۔
کیمپس میں داخل ہوا تو انٹری گیٹ پر درخت کی منڈیر پر بیٹھے گاندھی جی کے تین بندروں سے ملاقات ہوئی جو اسی طرح بیٹھے تھے (ایک منہ بند کیے ہوئے،ایک آنکھ بند کیے ہوئے ،ایک کانوں پر ہاتھ رکھے ہوئے) گاندھی کے بندروں سے بائیں جانب سے اردو ڈیپارٹمنٹ کا راستہ جاتا ہے ،جو ودیا نگری ریسیڈینس اور گرین شیڈ سے ہوتے ہوئے ’فیروز شاہ مہتا بھون‘ کے فرسٹ فلور پر واقع ہے۔
میں ڈیپارٹمنٹ کی گیلری میں بیٹھا ہوا تھا اور دوپہر کا وقت ڈھلتا جارہا تھا ۔ڈاکٹر قمر صدیقی تشریف لائے ۔ڈاکٹر قمر صدیقی جو ایک بہترین شاعر اور اس سے بھی زیادہ بہترین ایڈیٹر ،محقق و ناقد ہیں ۔ان کی ادارت میں برسوں سے جاری ’ماہنامہ اردو چینل‘ اہل علم و نظر اور اصحاب فکر کا پسندیدہ رسالہ ہے ۔اس سے بڑی بات یہ ہے کہ یہ ہے کہ وہ سال کے تمام دن فیس بک کے 40 ،وہاٹس ایپ کے 250 گروپس اور انسٹاگرام کے کتنے ہی فالوروز کو پی ڈی ایف کتابوں کا تحفہ پیش کرتے رہتے ہیں ۔ان کے خزانے میں پانچ سے سو زائد نایاب و نادر کتب کی پی ڈی ایف موجود ہیں جو اپنے وجود اور علمیت کا بیان آپ خودہیں۔
ڈاکٹر قمر صدیقی صاحب سے ابھی گفتگو اور بات چیت جارہی تھی کہ شعبے کے دوسرے اساتذہ تشریف لائے جن میں ڈاکٹر رشید اشرف خان(ساہتیہ اکادمی،یوا انعام یافتہ) ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر اور ڈاکٹر محمد زبیرکے نام مجھے یاد ہیں ۔ابھی ان سے بھی سلام اور تعارف ہورہا تھا کہ صدر شعبۂ اردو ،پرو فیسر صاحب علی ڈاکٹر اسلم پرویز (وائس چانسلر اردو یونیورسٹی،حیدرآباد) کے ساتھ ڈیپارٹمنٹ میں تشریف لائے۔ڈاکٹر قمر صدیقی نے ،جو اب تک مجھ سے مانوس ہوچکے تھے،انھیں میرے بارے میں بتایا۔وہ بہت خوش ہوئے اور کچھ دیر بیٹھے رہنے کے لیے کہہ کر وی سی صاحب کو سی آف کرنے ،ممبئی ائیر پورٹ چلے گئے۔اس دوران میں ڈاکٹر قمر صدیقی چندرفقا کے ساتھ مجھے کھانا کھلانے لے گئے ۔ہم لوگوں نے کھانا کیمپس کےICSSR گیسٹ ہاؤس میں ہی کھایا۔کھانا بہت پر تکلف اور نیازمندی کا نمونہ تھا ۔کھانا کھانے کے بعد ہم لوگ پھر ڈیپارٹمنٹ آگئے۔شام پھر گھررہی تھی اور اندھیرے دن کی مملکت کی جانب اس طرح بڑھ رہے تھے جیسے طاقت ور دشمن فوجیں کسی پر امن و خوش حال چھوٹی سی ریاست کی جانب بڑھتی ہیں ۔مگر ہم لوگ اندر چیمبر میں تھے ۔کیا پتا تھا کہ باہر کیا ہوا۔صدر شعبہ صاحب ایک بار پھر آئے اور آنے والے دنوں کے لیے ڈیپارٹمنٹ اور اساتذہ کی ذمے داریاں تقسیم کرنے اورکچھ ہدایات دینے لگے۔میں وہاں بیٹھا سب کچھ دیکھا کیا اور سنا کیا۔
ساڑھے آٹھ بجے کا عمل تھا جب میں ڈیپارٹمنٹ آف اردو ،یونیورسٹی آف ممبئی،یا ممبئی ودّیا پیٹھ کے کالینا کیمپس سے نکل رہا تھا ۔جیسے ہی بس اسٹینڈ پر آیا ، دس منٹ بعد ایک ڈبل ڈیکر بس کرلا جانے والی ملی جو ایک روح فرسا جام سے نکلتے ہوئے کرلا اسٹیشن پہنچی ۔اسٹیشن اور ٹرینوں میں اب بھی وہی بھیڑ کا عالم تھا ، تاہم صبح سے تو کچھ کچھ کم ہی تھا۔میں اپنے مقررہ اسٹیشن پر پہنچا اور پھر دن بھر کی تھکان اتارنے کے لیے کمرے میں سوگیا۔رات بہتی ہی جارہی ہوگی۔
الوداع ممبئی،تجھے اللہ رکھے۔۔۔!
اب ممبئی سے میرے چل چلاؤ کے دن تھے لہٰذا کچھ ضروری شاپنگ کرنے کے بعد میں بکھرے سامان کو سمیٹنے لگا ۔پھر ایک دن اور گزار کر جمعے کے روز ہوٹل سے چیک آؤٹ کردیا۔نماز جمعہ مولانا فیروز قاسمی کے ساتھ’ نل بازار‘ کی ایک شافعی مسلک مسجد میں ادا کی اور پھر کچھ دیر آرام کرنے کے بعد سب دوستوں اور چاہنے والوں سے رخصت لے کر ممبئی سینٹر ل اسٹیشن آگیا جہاں دہلی کی جانب کوچ کرنے والی راجدھانی ایکس پریس تمام حوصلوں اور جذبوں کے ساتھ کھڑی ہوئی مسافروں کا انتظارکررہی تھی،بلکہ مسافروں کا کیوں،اپنے وقت مقرر ہ کا انتظار کررہی تھی ۔چنانچہ جیسے ہی وقت مقررہ کا آخرسکنڈ ہوا،وہ ایک جھٹکے سے ساتھ پلیٹ فارم نمبر 4کو الواداع کہنے لگی۔دادر کے بعد اس کی اسپیڈ کچھ تیز ہوگئی اور ’بوری ولی‘ آتے آتے ریل ہوا سے باتیں کرنے لگی۔یہاں اس کا اسٹوپ تھا،جو چند منٹو ں(دو یا تین،نا کہ نومنٹ)کا تھا ۔یہاں سے سورت،بڑودہ،رتلام،کوٹہ ہوتے ہوئے جب صبح کو متھرا ،کوسی،پلول کے جنگلوں سے گزررہی تھی تو وہی کھیت تھے،وہی ان کے گیہوں اور وہی ہریالی، وہی کہرا آلود موسم بھی ،صبح کا سورج دبکا چھپکا سا نکل رہا تھا۔ممبئی میں تو کچھ اور ہی رُت تھی اور یہاں سردیاں عروج پر ۔خیر 8:15کا وقت تھا جب راجدھانی ایکس پریس نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم نمبر ایک پر لمبے لمبے سانس کھینچ رہی تھی ۔مسافر اتررہے تھے اور قلیوں کی وہی راویتی آوازیں آرہی تھیں۔اب دہلی تھی ،جس کی میں نس نس سے واقف ہوں اور و ہ میری،اور میں۔
ممبئی کا سفر کیسا رہا ؟کیسے گزرا وہ آدھا مہینہ اور کیوں کر؟ ان تین مختصر سوالوں کا جواب ہے یہ سفر نامہ ’ممبئی میں آدھا مہینہ ———‘
حوالے:
(1) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ،ص:148
(2) فاضلی ندا،دیواروں کے بیچ،نئی دہلی،معیار پبلی کیشنز،نومبر 1992 ص:148، ص:151-52

مضمون نگار کا ایک میل ایڈرس:
imranakifkhan@gmail.com

Patras ke Mazameen

Articles

مرید پور کا پیر

پطرس بخاری

مرید پور کا پیر

پطرس بخاری

اکثر لوگوں کو اس بات تعجب ہوتا ہے کہ میں اپنے وطن کا ذکر کبھی نہیں کرتا۔ بعض اس بات پر بھی حیران ہیں کہ میں اب کبھی اپنے وطن کو نہیں جاتا۔ جب کبھی لوگ مجھ سے اس کی وجہ پوچھتے ہیں تو میں ہمیشہ بات کو ٹال دیتا ہوں۔ اس سے لوگوں کو طرح طرح کے شبہات ہونے لگتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے وہاں اس پر ایک مقدمہ بن گیا تھا اس کی وجہ سے روپوش ہے۔ کوئی کہتا ہے وہاں کہیں ملازم تھا، غبن کا الزام لگا، ہجرت کرتے ہی بنی۔ کوئی کہتا ہے والد اس کی بدعنوانیوں کی وجہ سے گھر میں نہیں گھسنے دیتے۔ غرض یہ کہ جتنے منہ اتنی باتیں۔ آج میں ان سب غلط فہمیوں کا ازالہ کرنے والا ہوں۔ خدا آپ پڑھنے والوں کو انصاف کی توفیق دے۔
قصہ میرے بھتیجے سے شروع ہوتا ہے۔ میرا بھتیجا دیکھنے میں عام بھتیجوں سے مختلف نہیں۔ میری تمام خوبیاں اس میں موجود ہیں اور اس کے علاوہ نئی پود سے تعلق رکھنے کے باعث اس میں بعض فالتو اوصاف نظر آتے ہیں۔ لیکن ایک صفت تو اس میں ایسی ہے کہ آج تک ہمارے خاندان میں اس شدت کے ساتھ کبھی رونما نہیں ہوئی تھی۔ وہ یہ کہ بڑوں کی عزت کرتا ہے۔ اور میں تو اس کے نزدیک بس علم و فن کا ایک دیوتا ہوں۔ یہ خبط اس کے دماغ میں کیوں سمایا ہے؟ اس کی وجہ میں یہی بتا سکتا ہوں کہ نہایت اعلیٰ سے اعلیٰ خاندانوں میں بھی کبھی کبھی ایسا دیکھنے میں آ جاتا ہے۔ میں شائستہ سے شائستہ دو زمانوں کے فرزندوں کو بعض وقت بزرگوں کا اس قدر احترام کرتے دیکھا، کہ ان پر پنچ ذات کا دھوکا ہونے لگتا ہے۔
ایک سال میں کانگریس کے جلسے میں چلا گیا۔ بلکہ یہ کہنا صحیح ہو گا کہ کانگریس کا جلسہ میرے پاس چلا آیا۔ مطلب یہ کہ جس شہر میں، میں موجود تھا وہیں کانگریس والوں نے بھی اپنا سالانہ اجلاس منعقد کرنے کی ٹھان لی۔ میں پہلے بھی اکثر جگہ اعلان کر چکا ہوں، اور اب میں ببانگ دہل یہ کہنے کو تیار ہوں کہ اس میں میرا ذرا بھی قصور نہ تھا۔ بعض لوگوں کو یہ شک ہے کہ میں نے محض اپنی تسکین نخوت کے لیے کانگریس کا جلسہ اپنے پاس ہی کرا لیا لیکن یہ محض حاسدوں کی بدطینتی ہے۔ بھانڈوں کو میں نے اکثر شہر میں بلوایا ہے۔ دو ایک مرتبہ بعض تھیٹروں کو بھی دعوت دی ہے لیکن کانگریس کے مقابلے میں میرا رویہ ہمیشہ ایک گمنام شہری کا سا رہا ہے۔ بس اس سے زیادہ میں اس موضوع پر کچھ نہ کہوں گا۔
جب کانگریس کا سالانہ جلسہ بغل میں ہو رہا ہو تو کون ایسا متقی ہو گا جو وہاں جانے سے گریز کرے، زمانہ بھی تعطیلات اور فرصت کا تھا چنانچہ میں نے مشغلۂ بیکاری کے طور پر اس جلسے کی ایک ایک تقریری سنی۔ دن بھر تو جلسے میں رہتا۔ رات کو گھر آ کر اس دن کے مختصر سے حالات اپنے بھتیجے کو لکھ بھیجتا تاکہ سند رہے اور وقت ضرورت کام آئے۔
بعد کے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ بھتیجے صاحب میرے ہر خط کو بےحد ادب و احترام کے ساتھ کھولتے، بلکہ بعض بعض باتوں سے تہ ظاہر ہوتا ہے کہ اس افتتاحی تقریب سے پیشتر وہ باقاعدہ وضو بھی کر لیتے۔ خط کو خود پڑھتے پھر دوستوں کو سناتے۔ پھر اخباروں کے ایجنٹ کی دکان پر مقامی لال بجھکڑوں کے حلقے میں اس کو خوب بڑھا چڑھا کر دہراتے پھر مقامی اخبار کے بےحد مقامی ایڈیٹر کے حوالے کر دیتے جو اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ چھاپ دیتا۔ اس اخبار کا نام”مرید پور گزٹ” ہے۔ اس کا مکمل فائل کسی کے پاس موجود نہیں، دو مہینے تک جاری رہا۔ پھر بعض مالی مشکلات کی وجہ سے بند ہو گیا۔ ایڈیٹر صاحب کا حلیہ حسب ذیل ہے۔ رنگ گندمی، گفتگو فلسفیانہ، شکل سے چور معلوم ہوتے ہیں۔ کسی صاحب کو ان کا پتہ معلوم ہو تو مرید پور کی خلافت کمیٹی کو اطلاع پہنچا دیں اور عند اللہ ماجور ہوں۔ نیز کوئی صاحب ان کو ہرگز ہرگز کوئی چندہ نہ دیں ورنہ خلافت کمیٹی ذمہ دار نہ ہو گی۔
یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اس اخبار نے میرے ان خطوط کے بل پر ا یک کانگریس نمبر بھی نکال مارا۔ جو اتنی بڑی تعداد میں چھپا کہ اس کے اوراق اب تک بعض پنساریوں کی دکانوں پر نظر آتے ہیں۔ بہرحال مرید پور کے بچے بچے نے میری قابلیت، انشاء پردازی، صحیح الدماغی اور جوش قومی کی داد دی۔ میری اجازت اور میرے علم کے بغیر مجھ کو مرید پور کا قومی لیڈر قرار دیا گیا۔ ایک دو شاعروں نے مجھ پر نظمیں بھی لکھیں۔ جو وقتاً فوقتاً مرید پور گزٹ میں چھپتی رہیں۔
میں اپنی اس عزت افزائی سے محض بے خبر تھا۔ سچ ہے خدا جس کو چاہتا ہے عزت بخشتا ہے، مجھے معلوم تھا کہ میں اپنے بھتیجے کو محض چند خطوط لکھ کر اپنے ہم وطنوں کے دل میں اس قدر گھر کر لیا ہے۔ اور کسی کو کیا معلوم تھا کہ یہ معمولی سا انسان جو ہر روز چپ چاپ سر نیچا کئے بازاروں میں سے گزر جاتا ہے مرید پور میں پوجا جاتا ہے۔ میں وہ خطوط لکھنے کے بعد کانگریس اور اس کے تمام متعلقات کو قطعاً فراموش کر چکا تھا۔ مرید پور گزٹ کا میں خریدار نہ تھا۔ بھتیجے نے میری بزرگی کے رعب کی وجہ سے بھی برسبیل تذکرہ اتنا بھی نہ لکھ بھیجا کہ آپ لیڈر ہو گئے ہیں۔ میں جانتا ہوں کہ وہ مجھ سے یوں کہتا تو برسوں تک اس کی بات میری سمجھ میں نہ آتی بہرحال مجھے کچھ تو معلوم ہوتا کہ میں ترقی کر کے کہاں سے کہاں پہنچ چکا ہوں۔
کچھ عرصے بعد خون کی خرابی کی وجہ سے ملک میں جا بجا جلسے نکل آئے جس کسی کو ایک میز، ایک کرسی اور گلدان میسر آیا اسی نے جلسے کا اعلان کر دیا۔ جلسوں کے اس موسم میں ایک دن مرید پور کی انجمن نوجوانان ہند کی طرف سے میرے نام اس مضمون کا ایک حظ موصول ہوا کہ آپ کے شہر کے لوگ آپ کے دیدار کے منتظر ہیں۔ ہر کہ دمہ آپ کے روئے انور کو دیکھنے اور آپ کے پاکیزہ خیالات سے مستفید ہونے کے لیے بےتاب ہیں۔ مانا ملک بھر کو آپ کی ذات با برکات کی از حد ضرورت ہے۔ لیکن وطن کا حق سب سے زیادہ ہے۔ کیونکہ “خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر۔۔۔” اسی طرح کی تین چار براہین قطعہ کے بعد مجھ سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ آپ یہاں آ کر لوگوں کو ہندو مسلم اتحاد کی تلقین کریں۔
خط پڑھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی۔ لیکن جب ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کیا تو رفتہ رفتہ باشندگان مرید پور کی مردم شناسی کا قائل ہو گیا۔
میں ایک کمزور انسان ہوں اور پھر لیڈری کا نشہ ایک لمحے ہی میں چڑھ جاتا ہے۔ اس لمحے کے اندر مجھے اپنا وطن بہت ہی پیارا معلوم ہونے لگا۔ اہل وطن کی بےحسی پر بڑا ترس آیا۔ ایک آواز نے کہا کہ ان بیچاروں کی بہبودی اور رہنمائی کا ذمہ دار تو ہی ہے۔ تجھے خدا نے تدبر کی قوت بخشی ہے۔ ہزارہا انسان تیرے منتظر ہیں۔ اُٹھ کہ سینکڑوں لوگ تیرے لیے ماحضر لئے بیٹھے ہو گے۔ چنانچہ میں نے مرید پور کی دعوت قبول کر لی۔ اور لیڈرانہ انداز میں بذریعہ تار اطلاع دی، کہ پندرہ دن کے بعد فلاں ٹرین سے مرید پور پہنچ جاؤں گا، اسٹیشن پر کوئی شخص نہ آئے۔ ہر ایک شخص کو چاہئے کہ اپنے اپنے کام میں مصروف رہے۔ ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔
اس کے بعد جلسے کے دن تک میں نے اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ اپنی ہونے والی تقریر کی تیاری میں صرف کر دیا، طرح طرح کے فقرے دماغ میں صبح و شام پھرتے رہے۔
“ہند اور مسلم بھائی بھائی ہیں۔”
“ہندو مسلم شیر و شکر ہیں۔”
“ہندوستان کی گاڑی کے دو پہیے۔ اے میرے دوستو! ہندو اور مسلمان ہی تو ہیں۔”
“جن قوموں نے اتفاق کی رسی کو مضبوط پکڑا، وہ اس وقت تہذیب کے نصف النہار پر ہیں۔ جنہوں نے نفاق اور پھوٹ کی طرف رجوع کیا۔ تاریخ نے اس کی طرف سے اپنی آنکھیں بند کر لی ہیں۔ وغیرہ وغیرہ۔”
بچپن کے زمانے میں کسی درسی کتاب میں “سنا ہے کہ دو بیل رہتے تھے اک جا” والا واقعہ پڑھا تھا۔ اسے نکال کر نئے سرے سے پڑھا اور اس کی تمام تفصیلات کو نوٹ کر لیا۔ پھر یاد آیا، کہ ایک اور کہانی بھی پڑھی تھی، جس میں ایک شخص مرتے وقت اپنے تمام لڑکوں کو بلا کر لکڑیوں کا ا یک گٹھا ان کے سامنے رکھ دیتا ہے اور ان سے کہتا ہے کہ اس گٹھے کو توڑو۔ وہ توڑ نہیں سکے۔ پھر اس گٹھے کو کھول کر ایک ایک لکڑی ان سب کے ہاتھ میں دے دیتا ہے۔ جسے وہ آسانی سے توڑ لیتے ہیں۔ اس طرح وہ اتفاق کا سبق اپنی اولاد کے ذہن نشین کرتا ہے۔ اس کہانی کو بھی لکھ لیا، تقریر کا آغاز سوچا۔ سو کچھ اس طرح کی تمہید مناسب معلوم ہوئی کہ:
“پیارے ہم وطنو!”
گھٹا سر پہ ادبار کی چھا رہی ہے
فلاکت سماں اپنا دکھلا رہی ہے
نحوست پس و پیش منڈلا رہی ہے
یہ چاروں طرف سے ندا آ رہی ہے
کہ کل کون تھے آج کیا ہو گئے تم
ابھی جاگتے تھے ابھی سو گئے تم
ہندوستان کے جس مایۂ ناز شاعر یعنی الطاف حسین حالی پانی پتی نے آج سے کئی برس پیشتر یہ اشعار قلمبند کئے تھے۔ اس کو کیا معلوم تھا، کہ جوں جوں زمانے گزرتا جائے گا، اس کے المناک الفاظ روزبروز صحیح تر ہوتے جائیں گے۔ آج ہندوستان کی یہ حالت ہے۔۔۔ وغیرہ وغیرہ۔
اس کے بعد سوچا کہ ہندوستان کی حالت کا ایک دردناک نقشہ کھینچوں گا، افلاس، غربت، بغض وغیرہ کی طرف اشارہ کروں گا اور پھر پوچھوں گا، کہ اس کی وجہ آخر کیا ہے؟ ان تمام وجوہ کو دہراؤں گا، جو لوگ اکثر بیان کرتے ہیں۔ مثلاً غیرملکی حکومت، آب و ہوا، مغربی تہذیب۔ لیکن ان سب کو باری باری غلط قرار دوں گا، اور پھر اصل وجہ بتاؤں گا کہ اصل وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے، آخر میں اتحاد کی نصیحت کروں گا اور تقریر کو اس شعر پر ختم کروں گا کہ:
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے گل پکار میں چلاؤں ہائے دل
دس بارہ دن اچھی طرح غور کر لینے کے بعد میں نے اس تقریر کا ایک خاکہ سا بنایا۔ اور اس کو ایک کاغذ پر نوٹ کیا، تاکہ جلسے میں اسے اپنے سامنے رکھ سکوں۔ وہ خاکہ کچھ اس طرح کا تھا،
(۱)  تمہید اشعار حالی۔ (بلند اور دردناک آواز سے پڑھو۔)
(۲) ہندوستان کی موجودہ حالت۔
(الف) افلاس
(ب‌) بغض
(ج‌) قومی رہنماؤں کی خود غرضی
(۳) اس کی وجہ۔
کیا غیرملکی حکومت ہے؟ نہیں۔
کیا آب و ہوا ہے؟ نہیں۔
کیا مغربی تہذیب ہے؟ نہیں۔
تو پھر کیا ہے؟ (وقفہ، جس کے دوران میں مسکراتے ہوئے تمام حاضرین جلسہ پر ایک نظر ڈالو۔)
(۴)  پھر بتاؤ، کہ وجہ ہندوؤں اور مسلمانوں کا نفاق ہے۔ (نعروں کے لیے وقفہ۔)
اس کا نقشہ کھینچو۔ فسادات وغیرہ کا ذکر رقت انگیز آواز میں کرو۔
(اس کے بعد شاید پھر چند نعرے بلند ہوں، ان کے لیے ذرا ٹھہر جاؤ۔)
(۵) خاتمہ۔ عام نصائح۔ خصوصیات اتحاد کی تلقین، شعر
(اس کے بعد انکسار کے انداز میں جا کر اپنی کرسی پر بیٹھ جاؤ۔ اور لوگوں کی داد کے جواب میں ایک ایک لمحے کے بعد حاضرین کو سلام کرتے رہو۔)
اس خاکے کو تیار کر چکنے کے بعد جلسے کے دن تک ہر روز اس پر نظر ڈالتا رہا اور آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر بعد معرکہ آرا فقروں کی مشق کرتا رہا۔ نمبر ۳ کے بعد کی مسکراہٹ کی خاص مشق بہم پہنچائی۔ کھڑے ہو کر دائیں سے بائیں اور بائیں سے دائیں گھومنے کی عادت ڈالی تاکہ تقریر کے دوران میں آواز سب تک پہنچ سکے اور سب اطمینان کے ساتھ ایک ایک لفظ سن سکیں۔
مرید پور کا سفر آٹھ گھنٹے کا تھا۔ رستے میں سانگا کے اسٹیشن پر گاڑی بدلنی پڑتی تھی۔ انجمن نوجوان ہند کے بعض جوشیلے ارکان وہاں استقبال کو آئے ہوئے تھے۔ انہوں نے ہار پہنائے۔ اور کچھ پھل وغیرہ کھانے کو دئے۔ سانگا سے مرید پور تک ان کے ساتھ اہم سیاسی مسائل پر بحث کرتا رہا۔ جب گاڑی مرید پور پہنچی تو اسٹیشن کے باہر کم از کم تین ہزار آدمیوں کا ہجوم تھا۔ جو متواتر نعرے لگا رہا تھا۔ میرے ساتھ جو والنٹیئر تھے، انہوں نے کہا، “سر باہر نکالئے، لوگ دیکھنا چاہتے ہیں۔” میں نے حکم کی تعمیل کی۔ ہار میرے گلے میں تھے۔ ایک سنگترہ میرے ہاتھ میں تھا، مجھے دیکھا تو لوگ اور بھی جوش کے ساتھ نعرہ زن ہوئے۔ بمشکل تمام باہر نکلا۔ موٹر پر مجھے سوار کرایا گیا۔ اور جلوس جلسہ گاہ کی طرف پایا۔
جلسہ گاہ میں داخل ہوئے، تو ہجوم پانچ چھ ہزار تک پہنچ چکا تھا۔ جو ایک آواز ہو کر میرا نام لے لے کر نعرے لگاتا رہا تھا۔ دائیں بائیں، سرخ سرخ جھنڈیوں پر مجھ خاکسار کی تعریف میں چند کلمات بھی درج تھے۔ “مثلاً ہندوستان کی نجات تمہیں سے ہے۔” “مرید پور کے فرزند خوش آمدید۔” “ہندوستان کو اس وقت عمل کی ضرورت ہے۔”
مجھ کو اسٹیج پر بٹھایا گیا ہے۔ صدر جلسہ نے لوگوں کے سامنے مجھے سے دوبارہ مصافحہ کیا اور میرے ہاتھ کو بوسہ دیا اور پھر اپنی تعارفی تقریر یوں شروع کی:
“حضرات! ہندوستان کے جس نامی اور بلند پایہ لیڈر کو آج جلسے میں تقریر کرنے کے لیے بلایا گیا ہے۔۔۔”
تقریر کا لفظ سن کر میں نے اپنی تقریر کے تمہیدی فقروں کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس وقت ذہن اس قدر مختلف تاثرات کی آماجگاہ بنا ہوا تھا، کہ نوٹ دیکھنے کی ضرورت پڑی۔ جیب میں ہاتھ ڈالا تو نوٹ ندارد۔ ہاتھ پاؤں میں یک لخت ایک خفیف سی خنکی محسوس ہوئی۔ دل کو سنبھالا کہ ٹھہرو، ابھی اور کئی جیبیں ہیں گھبراؤ نہیں رعشے کے عالم میں سب جیبیں دیکھ ڈالیں۔ لیکن کاغذ کہیں نہ ملا۔تمام ہال آنکھوں کے سامنے چکر کھانے لگا، دل نے زور زور سے دھڑکنا شروع کیا، ہونٹ خشک ہوتے محسوس ہوئے۔ دس بارہ دفعہ جیبوں کو ٹٹولا۔ لیکن کچھ بھی ہاتھ نہ آیا جی چاہا کہ زور زور سے رونا شروع کر دوں۔ بےبسی کے عالم میں ہونٹ کاٹنے لگے، صدر جلسہ اپنی تقریر برابر کر رہے تھے۔
مرید پور کا شہر ان پر جتنا بھی فخر کرے کم ہے ہر صدی اور ہر ملک میں صرف چند ہی آدمی ایسے پیدا ہوتے ہیں، جن کی ذات نوع انسان کے لیے۔۔۔”
خدایا اب میں کیا کروں گا؟ ایک تو ہندوستان کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس سے پہلے یہ بتانا ہے، کہ ہم کتنے نالائق ہیں۔ نالائق کا لفظ تو غیر موزوں ہو گا، جاہل کہنا چاہئے، یہ ٹھیک نہیں، غیر مہذب۔
“ان کی اعلیٰ سیاست دانی، ان کا قومی جوش اور مخلصانہ ہمدردی سے کون واقف نہیں۔ یہ سب باتیں تو خیر آپ جانتے ہیں، لیکن تقریر کرنے میں جو ملکہ ان کو حاصل ہے۔۔۔”
ہاں وہ تقریر کا ہے سے شروع ہوتی ہے؟ ہندو مسلم اتحاد پر تقریر چند نصیحتیں ضرور کرنی ہیں، لیکن وہ تو آخر میں ہیں، وہ بیچ میں مسکرانا کہاں تھا؟
“میں آپ کو یقین دلاتا ہوں، کہ آپ کے دل ہلا دیں گے، اور آپ کو خون کے آنسو رلائیں گے۔۔۔”
صدر جلسہ کی آواز نعروں میں ڈوب گئیں۔ دنیا میری آنکھوں کے سامنے تاریک ہو رہی تھی۔ اتنے میں صدر نے مجھ سے کچھ کہا مجھے الفاظ بالکل سنائی نہ دئے۔ اتنا محسوس ہوا کہ تقریر کا وقت سر پر آن پہنچا ہے۔ اور مجھے اپنی نشست پر سے اٹھنا ہے۔چنانچہ ایک نامعلوم طاقت کے زیر اثر اٹھا۔ کچھ لڑکھڑایا، پھر سنبھل گیا۔ میرا ہاتھ کانپ رہا تھا۔ ہال میں شور تھا، میں بیہوشی سے ذرا ہی دور تھا۔ اور نعروں کی گونج ان لہروں کے شور کی طرح سنائی دے رہی تھی جو ڈوبتے ہوئے انسان کے سر پر سے گزر رہی ہوں۔ تقریر شروع کہاں سے ہوتی ہے؟ لیڈروں کی خود غرضی بھی بیان کرنی ہے۔ اور کیا کہنا ہے؟ ایک کہانی بھی تھی بگلے اور لومڑی کی کہانی۔ نہیں ٹھیک ہے دو بیل۔۔۔”
اتنے میں ہال میں سناٹا چھا گیا۔ لوگ سب میری طرف دیکھ رہے تھے۔ میں نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور سہارے کے لیے میز کو پکڑ لیا میرا دوسرا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا، وہ بھی میں نے میز پر رکھ دیا۔ اس وقت ایسا معلوم ہو رہا تھا، جیسے میز بھاگنے کو ہے۔ اور میں اسے روکے کھڑا ہوں۔ میں نے آنکھیں کھولیں اور مسکرانے کی کوشش کی، گلا خشک تھا، بصد مشکل میں نے یہ کہا۔
“پیارے ہم وطنو!”
آواز خلاف توقع بہت ہی باریک اور منحنی سی نکلی۔ ایک دو شخص ہنس دئے۔ میں نے گلے کو صاف کیا تو اور کچھ لوگ ہنس پڑے۔ میں نے جی کڑا کر کے زور سے بولنا شروع کیا۔ پھیپھڑوں پر یک لخت جو یوں زور ڈالا تو آواز بہت ہی بلند نکل آئی، اس پر بہت سے لوگ کھل کھلا کر ہنس پڑے۔ ہنسی تھمی، تو میں نے کہا۔
“پیارے ہم وطنو!”
اس کے بعد ذرا دم لیا، اور پھر کہا، کہ:
“پیارے ہم وطنو!”
کچھ نہ آیا، کہ اس کے بعد کیا کہنا ہے۔ سینکڑوں باتیں دماغ میں چکر لگا رہی تھیں، لیکن زبان تک ایک نہ آتی تھی۔
“پیارے ہم وطنو!”
اب کے لوگوں کی ہنسی سے میں بھنا گیا۔ اپنی توہین پر بڑا غصہ آیا۔ ارادہ کیا، کہ اس دفعہ جو منہ میں آیا کہہ دوں گا، ایک دفعہ تقریر شروع کر دوں، تو پھر کوئی مشکل نہیں رہے گی۔
“پیارے ہم وطنو! بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہندوستان کی آب و ہوا خراب یعنی ایسی ہے، کہ ہندوستان میں بہت سے نقص ہیں۔۔۔ سمجھے آپ؟ (وقفہ۔۔۔) نقص ہیں۔ لیکن یہ بات یعنی امر جس کی طرف میں نے اشارہ کیا ہے گویا چنداں صحیح نہیں۔” (قہقہہ)
حواس معطل ہو رہے تھے، سمجھ میں نہ آتا تھا، کہ آخر تقریر کا سلسلہ کیا تھا۔ یک لخت بیلوں کی کہانی یاد آئی، اور راستہ کچھ صاف ہوتا دکھائی دیا۔
“ہاں تو بات دراصل یہ ہے، کہ ایک جگہ دو بیل اکٹھے رہتے تھے، جو باوجود آب و ہوا اور غیر ملکی حکومت کے۔” (زور کا قہقہہ)
یہاں تک پہنچ کر محسوس کیا، کہ کلام کچھ بے ربط سا ہو رہا ہے۔ میں نے کہا، چلو وہ لکڑی کے گٹھے کی کہانی شروع کر دیں۔
“مثلاً آپ لکڑیوں کے ایک گٹھے کو لیجئے لکڑیاں اکثر مہنگی ملتی ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ ہندوستان میں افلاس بہت ہے۔ گویا چونکہ اکثر لوگ غریب ہیں، اس لئے گویا لکڑیوں کا گٹھا یعنی آپ دیکھئے نا۔ کہ اگر۔” (بلند اور طویل قہقہہ)
“حضرات! اگر آپ نے عقل سے کام نہ لیا تو آپ کی قوم فنا ہو جائے گی۔ نحوست منڈلا رہی ہے۔ (قہقہے اور شور و غوغا۔۔۔ اسے باہر نکالو۔ ہم نہیں سنتے ہیں۔)
شیخ سعدی نے کہا ہے۔ کہ:
چو از قوم یکے بیدانشی کرد
(آواز آئی کیا بکتا ہے۔) خیر اس بات کو جانے دیجئے۔ بہرحال اس بات میں تو کسی کو شبہ نہیں ہو سکتا۔ کہ:
آ عندلیب مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ہائے دل پکار میں چلاؤ ہائے گل
اس شعر نے دوران خون کو تیز کر دیا، ساتھ ہی لوگوں کا شور بھی بہت زیادہ ہو گیا۔ چنانچہ میں بڑے جوش سے بولنے لگا:
“جو قومیں اس وقت بیداری کے آسمان پر چڑھی ہوئی ہیں، ان کی زندگیاں لوگوں کے لیے شاہراہ ہیں۔ اور ان کی حکومتیں چار دانگ عالم کی بنیادیں ہلا رہی ہیں۔ (لوگوں کا شور اور ہنسی اور بھی بڑھتی گئی۔) آپ کے لیڈروں کے کانوں پر خود غرضی کی پٹی بندھی ہوئی ہے۔ دنیا کی تاریخ اس بات کی شاہد ہے، کہ زندگی کے وہ تمام شعبے ۔۔۔”
لیکن لوگوں کا غوغا اور قہقہے اتنے بلند ہو گئے کہ میں اپنی آواز بھی نہ سن سکتا تھا۔ اکثر لوگ اُٹھ کھڑے ہوئے تھے۔ اور گلا پھاڑ پھاڑ کر کچھ کہہ رہے تھے۔ میں سر سے پاؤں تک کانپ رہا تھا۔ ہجوم میں سے کسی شخص نے بارش کے پہلے قطرے کی طرح ہمت کر کے سگریٹ کی ایک خالی ڈبیا مجھ پر پھینک دی۔ اس کے بعد چار پانچ کاغذ کی گولیاں میرے اردگرد اسٹیج پر آگیں، لیکن میں نے اپنی تقریر کا سلسلہ جاری رکھا۔
“حضرات! تم یاد رکھو۔ تم تباہ ہو جاؤ گے! تم دو بیل ہو۔۔۔”
لیکن جب بوچھاڑ بڑھتی ہی گئی ، تو میں نے اس نامعقول مجمع سے کنارہ کشی ہی مناسب سمجھی۔ اسٹیج سے پھلانگا، اور زقند بھر کے دروازے میں باہر کا رخ کیا، ہجوم بھی میرے پیچھے لپکا۔ میں نے مڑ کر پیچھے نہ دیکھا۔ بلکہ سیدھا بھاگتا گیا۔ وقتاً فوقتاً بعض نامناسب کلمے میرے کانوں تک پہنچ رہے تھے۔ ان کو سن کر میں نے اپنی رفتار اور بھی تیز کر دی۔ اور سیدھا اسٹیشن کا رخ کیا، ایک ٹرین پلیٹ فارم پر کھڑی تھی میں بے تحاشہ اس میں گھس گیا، ایک لمحے کے بعد وہ ٹرین وہاں سے چل دی۔
اُس دن کے بعد آج تک نہ مرید پور نے مجھے مدعو کیا ہے۔ نہ مجھے خود وہاں جانے کی خواہش پیدا ہوئی ہے۔

Freedom Fighter Maulana Habibur Rahman Ludhianvi

Articles

عظیم مجاہد آزادی رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی

ڈاکٹر  احمد علی جوہر 

رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی جنگ آزادی کے ایک عظیم مجاہد تھے۔ وہ غیر منقسم ہندوستان کے ان سیاسی رہنماؤں میں سے ایک تھے جن کے نام انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ ان کا شمار مولانا ابوالکلام آزاد, شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی, مفتی اعظم حضرت علامہ کفایت اللہ, حکیم اجمل خاں, ڈاکٹر انصاری, نقیب انقلاب سید عطاء اللہ شاہ بخاری اور مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمٰن سیوہاروی وغیرہ کے ممتاز رفیقوں میں ہوتا ہے۔ ان کی شخصیت جدوجہد آزادی کی نمایاں ترین شخصیت تھی جن سے جدوجہد آزادی کی نمایاں اور شان دار روایات وابستہ ہیں۔ ملک میں جب سیاسی بیداری کی روشنی پھیلی, مختلف فرقوں و جماعتوں نے برطانوی سامراج کے خلاف اعلیٰ پیمانے پر منصوبے بنائے اور منظم طریقے سے تحریکیں چلائیں, اس وقت مجاہدین آزادی کی قیادت جن بہادر اور جری رہنماؤں نے کی ان میں رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی کا نام سرفہرست ہے۔ ان کے ذکر کے بغیر تحریک آزادی کی کوئی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔
رئیس الاحرار حضرت مولانا حبیب الرحمٰن لدھیانوی نے لدھیانہ کے مشہور علماء و مجاہدین کے گھرانے میں آنکھیں کھولیں۔ وہ بروز اتوار 11/صفر 1310ھجری مطابق 3/ جولائی 1892ء کو مفتی اعظم پنجاب حضرت مولانا محمد ذکریا صاحب کے گھر پیدا ہوئے جو اپنے وقت کے صاحب نسبت بزرگ اور بڑے پایہ کے عالمِ دین تھے۔ مولانا حبیب الرحمٰن کے گھر کا ماحول علمی, مذہبی, اخلاقی اور انقلابی تھا۔ ان کی علمی اور اخلاقی تربیت بہت اعلیٰ پیمانے پر ہوئی تھی جس کے نتیجہ میں بہت جلد ان کی شخصیت اعلیٰ کردار کی حامل ہوگئی۔ وہ بلا کے ذہین تھے۔ بچپن ہی میں انھیں دینی و عصری علوم پر دسترس حاصل ہوگیا۔ وہ صاف دماغ اور روشن فکر کے مالک تھے اور بااصول اور وضع دار شخصیت رکھتے تھے۔ ان کی ذہانت و ذکاوت اور قوت فیصلہ کی پختگی ضرب المثل تھی۔ الجھے ہوئے مسائل و معاملات کو سلجھانے میں انھیں کمال حاصل تھا۔ نازک اور مشکل وقت میں ان کی دیدہ وری کی عجیب شان ہوتی تھی۔ فکری رہنمائی میں ان کا جواب نہیں تھا۔ وہ اس دور میں غزالی کا دماغ اور ابن خلدون کی زبان لےکر پیدا ہوئے تھے۔ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے ایک خط میں اس بات کا اقرار کیا کہ
مولانا حبیب الرحمن اپنے افکار میں ایک منفرد حیثیت کے مالک تھے۔ وہ بہت ہی سوچ سمجھ کر کسی بات کا فیصلہ کرتے تھے۔ لیکن جب فیصلہ کرلیتے تو دنیا کی کوئی طاقت نہ تھی جو ان کے فیصلہ کو بدل دیتی”
مولانا حبیب الرحمن کے سیاسی افکار کی خوبی یہ تھی کہ اس میں تعصب اور تشدد کو کہیں دخل نہ تھا۔ ان کی فکر مستقبل کی نشان دہی کرتی تھی۔ وہ عزم صمیم کے پہاڑ,  اور حق و صداقت کے علم بردار تھے۔ ذہانت و فراست, سیاسی بصیرت, جرات و دلیری اور بہادری ان کی شخصیت کی ممتاز خصوصیات تھیں۔ وہ ایک نرالی شان اور آن بان کے لیڈر, رہنما اور قوم کے قائد تھے۔ وہ اپنی پرتاثیر تقریروں کی بنا پر سارے غیرمنقسم ہندوستان میں مشہور ہوگئے تھے۔ وہ اعلیٰ انسانی اوصاف کے حامل اور مجسمہ اخلاق تھے۔ جو بھی ان کے پاس آتا, ان کا ہوکر رہ جاتا۔ ان کی شخصیت ایک ایسے مکتب خیال کی حیثیت رکھتی تھی جہاں ہندو, مسلمان, سکھ شرنارتھی, کمیونسٹ, سوشلسٹ, کانگریسی, ملحد و مومن سبھی آتے اور ان کے منجھے دھلے افکار سے استفادہ کرتے تھے۔ ان کے ماننے والے کمیونسٹوں میں بھی تھے اور جن سنگھ اور ہندو مہاسبھا میں بھی۔ وہ الجمعیة, نئی دنیا, پرتاپ اور ملاپ کے دفتروں میں ایک انجمن کی حیثیت رکھتے تھے۔ وہ ملک کے مسلمہ لیڈر تھے۔ علماء, قومی رہنماؤں, وزیروں اور سیاست دانوں غرض ہر طبقے میں انھیں عزت و عظمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا اور ان کی رائے کو بڑی وقعت دی جاتی تھی۔ مہاتما گاندھی, مولانا آزاد, پنڈت نہرو, ڈاکٹر راجندر پرشاد, ڈاکٹر ذاکر حسین اور اس وقت کے دیگر تمام سیاستداں دل سے ان کی قدر کرتے تھے اور ان کے مشوروں کو گوش و ہوش سے سنتے تھے۔ ان کی سیاسی بصیرت, فہم و فراست اور دوربینی کے سب لوگ قائل تھے۔ دراصل مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی سیاست میں گہرے رسوخ کے حامل تھے۔ وہ عمومی سیاسیات اور بین الاقوامی معاملات دونوں میں ذی اثر تھے اور ہر بنیادی مسئلہ میں ان کی ایک نکھری ہوئی رائے ہوتی تھی۔ ان کی شخصیت کا انتہائی تابناک پہلو یہ تھا کہ وہ ہندو, مسلمان اور سکھ غرض تمام طبقوں میں یکساں مقبول تھے اور ان کے دلوں میں محبوب و ہردلعزیز شخصیت کی حیثیت رکھتے تھے۔ دراصل مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی بڑے پایہ کے سیاستداں ہوتے ہوئے بھی زبردست انسان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندو مسلم اور دیگر مذاہب کے لوگ ان کی سیاسی اور مذہبی شخصیت سے بےحد متاثر ہوئے۔ ان کی باتیں مسلم اور غیرمسلم دونوں کے جذبات کو اپیل کرتی تھیں۔ ہمارے ملک میں اس پایہ کے سیاستداں کم پیدا ہوئے ہیں۔
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی برسوں مجلسِ احرار ہند کے صدر رہے جو ملک کی مقبول ترین جماعت تھی۔ اس جماعت میں ہر مکتب خیال کے رہنماؤں کا اجتماع, دین و سیاست کا امتزاج, عوام سے تعلق, احرار کے رہنماؤں کا جذبہ حریت و جہاد اور انگریز دشمنی, احرار کارکنوں اور رہنماؤں کی جرات و ہمت ان ہی کی قیادت و رہنمائی اور کاوشوں کا نتیجہ تھی۔ اس جماعت کے ذریعے رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی نے ملک کے بگڑے ہوئے حالات میں ہندوستان کی جو خدمات کیں وہ کسی سے مخفی نہیں۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی اس وقت جنگ آزادی کے میدان میں کود پڑے جب ملک پر پوری طرح انگریزوں کا تسلط قائم ہوچکا تھا۔ ایسے وقت میں انہوں نے شہر کے ایک بڑے جلسہ کو خطاب کرتے ہوئے برطانوی حکومت کے خلاف ایسی مدلل اور جذبات انگیز تقریر فرمائی کہ ان کی تقریر سے انگریز سامراج کے خلاف عوام کے جذبات بھڑک گئے اور پورے شہر میں ہیجان پیدا ہوگیا ۔ 1921ء سے 1947ء تک انگریزی سامراج نے انہیں کئی بار گرفتار کیا۔ انہوں نے تیرہ سال چھ ماہ کی عمر جیلوں میں گزاری۔ جیلوں کی زندگی بھی انہوں نے عجیب نرالی شان سے بسر کی بقول جگر :
یوں بسر کی زندگی ہم نے اسیری میں جگر
ہر طریقہ داخلِ آدابِ زنداں ہوگیا
تحریک آزادی کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ جب تحریک آزادی کے مصائب اور مشکلات کو دیکھ کر بڑے بڑے اولوالعزم اور اصحابِ بصیرت لیڈروں کے قدم ڈگمگا گئے, اس وقت مرد مجاہد مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ڈٹے رہے اور ان کے پائے ثبات میں کوئی لغزش نہیں آئی۔ ان کی قیادت و رہنمائی میں مجلسِ احرار کے کارکن جرات اور بہادری کے ساتھ انگریزوں کے مقابلے میں سینہ سپر اور سربکف ہوکر آزادی کے راستے پر گامزن ہوئے۔ ملک کی آزادی کے لئے تحریک احرار نے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی قیادت میں جس قدر قربانیاں دیں, تاریخ کے اوراق ان سے روشن ہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انگریز تحریک احرار کے خوف سے ملک چھوڑ گیا تو شاید غلط نہ ہوگا۔
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ایک سچے محب وطن, عظیم انقلابی قائد, وطن پرور اور ملک کے بہی خواہ تھے۔ ملک کی آزادی میں ان کا زبردست حصہ تھا۔ انہوں نے ہمیشہ جمہوری قدروں پر زور دیا۔ انہوں نے تمام ہندوستانیوں کو ہمیشہ اس کی تلقین کی کہ وہ فرقہ پرستی کو ترک کریں اور اپنے مذہب کی صحیح تعلیمات پر گامزن ہوں اور سچے ہندو, مسلمان اور سکھ کی طرح سچے ہندوستانی بنیں۔ یہی صحیح جمہوریت ہے اور صحیح عافیت کا راستہ ہے۔ ان کی بڑی خواہش تھی کہ ملک میں اقوام آپس میں لڑنے جھگڑنے کی بجائے آزادی کی نعمت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے متفق اور متحد ہوجائیں۔ ملک میں سرمایہ دارانہ نظام کی بجائے لوک راج قائم ہو اور اس ملک کی باگ ڈور غریب اور دیانت دار عوام کے ہاتھ میں ہو تاکہ لوگوں کو عدل و انصاف اور سکھ چین مل سکے۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی دوسرے مجاہدین آزادی سے منفرد و ممتاز حیثیت رکھتے تھے۔ وہ قوت عمل کے قائل تھے۔ ان کے ہاں منصوبے اور پلانوں کی حیثیت دوسرے درجہ کی تھی۔ انہوں نے صرف گفتار ہی سے کام نہیں لیا بلکہ اپنے کردار اور قربانیوں سے پوری ہندوستانی قوم کو عملی زندگی کا راستہ دکھایا۔ انہوں نے ہر لمحہ ملک و قوم کی خدمات میں صرف کیا۔
یہ رتبہ بلند ملا جس کو مل گیا
ہر مدعی کے واسطے دارو رسن کہاں
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی زندگی قربانیوں اور جاں کاہیوں کا مرقع تھی۔ انہوں نے وطن اور اس کے عوام کی خدمت کو سب سے بڑی عبادت سمجھا۔ ان کی زندگی ہندوستان کے سیاسی مفکرین کو ایک نئے اور غیرجانبدارانہ غور سے فکر کی دعوت دیتی ہے۔ وہ چالیس سال تک بھرپور سیاسی بصیرت اور عظیم منفرد شعور کے ساتھ وطنِ عزیز کی جدوجہد آزادی اور اس کے عروج و ترقی کی تحریک میں جانباز سرفروش اور بے غرض حوصلہ مند کی حیثیت سے ممتاز قومی رہنماؤں کی صف میں شریک رہے۔ رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی شخصیت تحریک آزادی کی جلیل القدر شخصیت تھی جسے ہمارے عظیم سیاستدانوں, صحافیوں اور علماء و ادباء نے اس طرح یاد کیا ہے۔ پنڈت جواہر لال نہرو رقم طراز ہیں:
“مولانا حبیب الرحمن کی وفات سے ملک ہی کا نقصان نہیں ہوا, بلکہ میرا ذاتی نقصان بھی ہوا ہے۔ وہ ہندو, مسلمان, سکھ سب ہی کے محترم رہے۔ وہ ایک جواں مرد کی حیثیت سے ہماری آزادی کی تحریک میں یاد کئے جاتے رہیں گے”
راجندر پرشاد لکھتے ہیں:
“مولانا حبیب الرحمن صاحب لدھیانوی کا شمار ہمارے نامی سماجی اور سیاسی کارکنوں میں ہوتا ہے”
ملک کے مشہور اخبار نویس شری رنبیر نے مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی شخصیت کے تعلق سے اپنے تاثرات کا اظہار اس طرح کیا ہے۔
“جہان فانی سے جانا سب کو ہے, لیکن جب ملک کا خدمت گار جاتا ہے تو لاکھوں آنکھیں پرنم ہوجاتی ہیں۔ ہزاروں دل چلا اٹھتے ہیں۔ مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی ایسے ہی سجن تھے۔ انھوں نے جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے وقت اپنے سامنے رکھا تھا وطن آزاد ہونا چاہئے, ہندوستانیوں کو ایک متحد قوم بن کر آگے بڑھنا چاہئے۔ اس کے لئے وہ جیون بھر لڑتے رہے, جدوجہد کرتے رہے۔”
مہاشہ کرشن (ایڈیٹر روزنامہ پرتاپ )لکھتے ہیں :
“وہ جتنے راسخ الاعتقاد مسلمان تھے اتنے ہی سچے نیشنلسٹ, ان کی قوم پرستی حقیقی تھی نمائشی نہیں۔ ہرسوال کو وہ قوم پرستی کے زاویہ سے دیکھتے تھے اور ان مسائل سے جو بظاہر فرقہ وارانہ نظر آتے تھے, ایسا خوبصورت قوم پرورانہ پہلو نکالتے تھے کہ سننے والے عش عش کر اٹھتے تھے۔ آزمائش کے کئی مواقع آئے لیکن ان کے پائے ثبات میں لغزش نہ آئی”
عتیق الرحمن عثمانی رقم طراز ہیں :
“ملک کو آزاد کرانے کی سعی و جدوجہد میں جن ہستیوں نے جان کی بازی لگائی تھی ان میں رئیس الاحرار ایک خاص مقام رکھتے تھے۔ وطن کے اس جاں باز سپاہی کی جوانی کا بہترین حصہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے میں گزرا۔ جنگ آزادی کا کوئی قابل ذکر محاذ ایسا نہ تھا جس میں مولانا مرحوم اپنے حصے کی ہنگامہ خیزیوں اور فکرانگیزیوں کے ساتھ پیش پیش نہ رہے ہوں”
مجاہد ملت حضرت مولانا حفظ الرحمن صاحب نے ان کی شخصیت کا ذکر اس طرح کیا ہے:
“رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن صاحب اپنے سیاسی شعور, جوشِ عمل, اولوالعزمی اور جدوجہد کے امتیاز سے ہمیشہ نمایاں رہے۔ تحریک آزادی میں سرگرم حصہ لیا اور اس راہ میں بارہا قیدوبند کی شدید صعوبتیں برداشت کیں”
مولانا عبدالرزاق صاحب ملیح آبادی لکھتے ہیں :
“مجاہد جلیل رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی جہاد آزادی کے جلیل القدر سپاہ سالار تھے۔ مرحوم جوان تھے کہ جنگ آزادی کا بگل بجا اور وہ مردانہ وار میدانِ کارزار میں کود پڑے, انتہائی مصائب, ناقابلِ بیان کڑیاں جھیلیں لیکن چتون کبھی میلی نہ ہونے پائی, راہِ حق میں بڑی بڑی منزلیں طے ہوگئیں”
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی کی شخصیت جدوجہد آزادی کی عظیم ترین شخصیت تھی جس کی نئے ہندوستان کو بہت ضرورت تھی۔ ایسی ہی عظیم شخصیتوں کے متعلق شاعر مشرق علامہ اقبال نے کہا تھا۔
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
رئیس الاحرار مولانا حبیب الرحمن لدھیانوی 2/ستمبر 1956ء کو اگرچہ چل بسے مگر وہ اپنے عظیم کارناموں کی بدولت آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔ ان کی شخصیت  ہماری تحریک آزادی کی تاریخ کا وہ روشن باب ہے جس پر ہمارے ملک و قوم کو بجاطور پر ناز  ہے
Maulana Abulkalam Azad, Maulana Syed Husain Ahmad Madni, Maulana Kefaitullah, Maulana Mohammad Ali Johar, Syed Ataullah Shah Bukhari, Maulana Hifzurrahman Seharvi

Jazbi ki Jamaliaat by Dr. Rasheed Ashraf Khan

Articles

جذبی کی جمالیات

رشید اشرف خاں

جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی لفظ (Aisthetikes)سے اخذ کرکے انگریزی زبان میں(Aesthetics)بنالیا گیا ۔ فارسی میں اسے زیبائی شناسی اور ہندی میں رس سدّھانت یا رس شاستر کہتے ہیں۔ ’’جمال ‘‘ بذات خود عربی زبان کا لفظ ہے ۔عام طور پر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ ’’جمال‘‘ اور ’’حسن‘‘ ایک دوسرے کے مترادف یا ہم معنی الفاظ ہیں۔بے شک کسی حد تک ان میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے وہ لازمی طور پر ہم معنی نہیں ہیں ۔ مثلاََ فارسی زبان کا یہ شعر: جمالیات فلسفہ کی ایک شاخ ہے جسے یونانی لفظ (Aisthetikes)سے اخذ کرکے انگریزی زبان میں(Aesthetics)بنالیا گیا ۔ فارسی میں اسے زیبائی شناسی اور ہندی میں رس سدّھانت یا رس شاستر کہتے ہیں۔ ’’جمال ‘‘ بذات خود عربی زبان کا لفظ ہے ۔عام طور پر یہ فرض کرلیا جاتا ہے کہ ’’جمال‘‘ اور ’’حسن‘‘ ایک دوسرے کے مترادف یا ہم معنی الفاظ ہیں۔بے شک کسی حد تک ان میں مماثلت پائی جاتی ہے لیکن مفہوم کے اعتبار سے وہ لازمی طور پر ہم معنی نہیں ہیں ۔ مثلاََ فارسی زبان کا یہ شعر:
جمال ہم نشیں، درمن اثر کرد
وگر نہ من ہمان خاکم،کہ ہستم
ڈاکٹر معین احسن جذبیؔ کا میدان حیات21؍اگست 1912ء سے شروع ہوکر 13؍ فروری 2005ء یعنی تقریباََ 93 برس تک پھیلا ہوا تھا۔ ان کے لائق فرزند ،پروفیسر سہیل احسن جذبی نے اپنے والد مرحوم کا کلیات 2006ء میں ساہتیہ اکادمی نئی دہلی سے شائع کروایا بیشتر نظموں اور غزلوں کے نیچے سنِ تخلیق بھی دے دیا ہے جس سے بہ آسانی اندازہ ہوجاتا ہے کہ کون سی غزل یا نظم کب کہی گئی تھی۔ان کی پہلی غزل جو انھوں نے شوکت علی خان فانیؔ بدایونی کو 1929ء میں آگرے میں سنائی تھی اسی مختصر سی غزل کایہ شعر جذبیؔ کی جمالیاتی حِس(Sense of Beauty) کا غمازہے:
حسن ہوں میں کہ عشق کی تصویر
بے خودی، تجھ سے پوچھتا ہوں میں
اسی دور کے کلام میں جب ان کا عنفوان شباب تھا ان کاذہن جمال پسند پوری طرح بے دار تھا اور ایسا ہونا امر فطری تھا۔اس دور کے کچھ اور اشعاردیکھیے:
تیرے جلوؤں کی حد ملی تو کب
ہوگئی جب نظر بھی لا محدود

آہ کی دل نے ، نہ پھر شکوۂ بیداد کیا
جب سے شرمیلی نگاہوں نے کچھ ارشاد کیا
ہو نہ ہو دل کو ، ترے حسن سے کچھ نسبت ہے
جب اٹھا درد تو کیوں میں نے تجھے یاد کیا
مذکورہ بالا اشعار کو پڑھ کر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ’’ جمالیات‘‘ کا پہلا زینہ رجائیت اور سر خوشی کی کیفیت ہے۔ اس کیفیت میں مبتلا ہو کر جذبیؔ کی طرح ہر حساس شاعر زندگی کے روشن رخ کو دیکھتا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ ہر لمحہ’’ حالتِ سُکر‘‘ میں ہے ۔ اس کے نو خیز دل ودماغ پر نشہ سا طاری ہے سوتے جاگتے وہ کچھ خواب سے دیکھتا ہے۔رنگین اور سہانے خواب:
تمھارے جلوؤں کی رنگینیوں کا کیا کہنا
ہمارے اجڑے ہوئے دل میں اک بہار تو ہے

تمھارے حسن کے جلوؤں کی شوخیاں توبہ
نظر تو آتے نہیں ،دل پہ چھا ئے جاتے ہیں
ہزار حسن کی فطرت سے ہو کوئی آگاہ
نگاہِ لطف کے سب ہی فریب کھاتے ہیں
جذبیؔ جیسے جیسے بلوغت کی منزل کی طرف بڑھنے لگے کبھی شعوری طور پر اور کبھی لا شعوری طور پر وہ روشنی ، تحرک اور حرکت کے تجربات سے دو چار ہونے لگے ۔ اب ان کے خیالات اور محسوسات اکہرے اور سپاٹ نہیں رہ گئے بلکہ ایسا لگتا ہے کہ ان کے سبھی فلسفیانہ افکار و خیالات تجربات کے سانچوں میں ڈھل کر آئے ہیں ۔ مثالیں دیکھئے:
پھول چننا بھی عبث ، سیرِبہاراں بھی فضول
دل کا دامن ہی جو کانٹوں سے بچایا نہ گیا
مختصر یہ ہے ہماری داستانِ زندگی
اک سکونِ دل کی خاطر عمر بھر تڑپا کیے
جن لوگوں نے کلام جذبی کے سبھی مجموعوں( فروزاں، گداز شب، سخن مختصر) کو اسی قدر باریک بینی سے اور احساس لذت یابی کے ساتھ پڑھاہے جیسے وہ میرؔ،غالبؔ اور اقبالؔ کو پڑھتے ہیں تو انھوں نے خاکسار کی طرح یہ ضرورمحسوس کیا ہوگا کہ جذبیؔ کا رشتہ جمالیات سے مختلف النوع اور ہزار شیوہ ہے۔ جذبیؔ کے تجربوں کی داستان جمالیاتی وجدان سے شروع ہوئی تھی اور اس داستان کا اختتام وجدانی ، حسّی اور پیکری انکشافات پر ہوا۔ ان کے اشعار کی روشنی میں آپ میرے معروضات کو زیادہ بہتر طریقے پر سمجھ سکیں گے۔جذبیؔ کے کلام کو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ان کا احساس جمال انھیں اپنے افکارو خیالات میں تلاش ذات پر اکساتا رہتا ہے:
ان بجلیوں کی چشمک باہم تو دیکھ لیں
جن بجلیوں سے اپنا نشیمن قریب ہے

مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں جینے کی تمنا کون کرے
یہ دنیا ہو، یا وہ دنیا ،اب خواہشِ دنیا کون کرے
جب کشتی ثابت  و  سالم تھی ، ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے

جذبیؔ اپنے فلسفہ جمالیات کے سہارے یہ بھی ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ اگر انسان کی آنکھ کھلی رہتی ہے تو اس کے حواس خمسہ بیدار ہوجاتے ہیں ۔ یہ آنکھ ( جو بصارت کا سر چشمہ ہے) اپنی روشنی کے ساتھ تمام خوشبوؤں ،تمام لذتوں اورتمام محسوسات تک پہنچ جاتی ہے اسی کے ساتھ وہ مسرت ، غم ، محبت اور طاقت سب کو دیکھتی ہے ۔ یہی روشنی ہے جو پہلے تو تصورات کے چھوٹے بڑے خاکے بناتی ہے پھر ان خاکوں میں معنویت اور نئی معنویت کے رنگ بھرتی ہے۔ چند نمونے دیکھئے:
ہم بھی تو سن رہے تھے ، رعنائیِ گلستاں
بادِ خزاں سے جو کچھ کلیوں نے آرزو کی

ہزار بار کیا عزم ترک نظّارہ
ہزار بار مگر دیکھنا پڑا مجھے
ان کے بھیگے ہوئے بالوں میں جو ہے عالم کیف
کچھ وہی کیف مرے دیدۂ نمناک میں ہے

وہ ایک لمحہ ، وہ ایک ساعت، ہوا تھا جب ان سے عہدِ الفت
اسے بھی کیا اے خداے راحت ،شریک خواب و خیال کرلیں

اس میں کوئی شک نہیں کہ بنیادی طور پر جذبیؔ ایک غزل گو شاعر تھے اور اسی حیثیت سے وہ معروف بھی ہوئے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انھوں نے غزل کی روایتی لفظیات ، علامات اور استعاروں کو دوسرے ترقی پسند معاصرین سے پہلے معنوی وسعت بخشی ۔ انھوںنے مضامین غزل کے کینوس (Canvas) کو پہلے سے کہیں زیادہ وسیع کیا ۔ لیکن جب ہم فلسفۂ جمالیات کے نقطۂ نظرسے ان کی نظموں کا مطالعہ کرتے ہیں تو وہ بھی اپنا ایک منفرد رنگ کی حامل نظر آتی ہے۔ مثلاََان کی نظم پر غور کیجیے جس کا عنوان ہے ’’ گل‘‘
اے گلِ رنگیں قبا ، اے غازۂ روے بہار
تو ہے خود اپنے جمال حسن کی آئینہ دار
ہائے وہ تیرے تبسم کی ادا وقت سحر
صبح کے تارے نے اپنی جان تک کردی نثار
شرم کے مارے ، گلابی ہے ادھر روے شفق
شبنم آگیں ہے ادھر پیشانیِ صبحِ بہار
خامشی تیری ادا ہے ، سادگی فطرت میں ہے
پھر بھی جو تیرا حریف حسن ہے ، حیرت میں ہے

مذکورہ نظم کی ابتدا ہی میں فطرت سے لگا و ٔ ، حسن پرستی اور تخئیل آفرینی کے خوب صورت عناصر کس قدر پر کشش اور قابل دید ہیں۔ شاعر نے اپنی لفظیات اور حسن تخئیل کی مدد سے مظاہر فطرت کو الگ الگ شخصیت اور تجسیم سے نوازا ہے ۔ یہ وصف رومان اور جمالیت کی جان ہے۔
’’ رازو نیاز‘‘ جذبیؔ کی ایک ایسی نظم ہے جس میں حسن و عشق کی دلکش کیفیات کا بیان تو ہے ہی لیکن شاعر نے اپنے جمالیاتی حس کی مدد سے ایک نادر و نایاب گمان بھی پیدا کیا ہے ۔ اس کانظریہ یہ ہے کہ محبوب کو آزمانے کے دلچسپ بہانے خواہ جس طرح بھی تراشے جائیں لیکن سچ تو بس یہ ہے کہ محبوب کاحسن وادا، شاعر ہی کے والہانہ عشق کی رہین منت ہے:
ترے گیسوؤں کو پریشان کرکے
تجھے رشک سنبل بنایا ہے میں نے
ترے رخ پہ چھڑکا ہے خونِ تمنا
ترے رخ کا غازہ بنایا ہے میں نے
اگر میں بنا ہوں محبت کا دریا
تجھے ماہ تاباں بنایا ہے میں نے
سَتا کر، جَلاکر ، رُلاکر ، ہنساکر
تجھے مدتوں آزمایا ہے میں نے

مذکورہ نظموں کے علاوہ کئی ایسی نظمیں ہیں جو جذبیؔ کے شعور جمالیات کی نمائندگی کرتی ہیں ۔ ان میں بعض کے عنوانات ہیں مطربہ، حسن برہم، طوائف،نیا سورج ، مجاز، موت وغیرہ۔
اپنی ڈگر آپ بنانے کے مقدس جنون کے نتیجے میں ان کے ہم عصر نقادوں نے ان کی طرف وہ توجہ مبذول نہ کی جو جذبی ؔ کا حق تھا لیکن جب انصاف پسند ، حقیقت بیں اور مردم شناس ادب نوازوں کو اپنی کم نگاہی اور بے بصیری کا احساس ہوا تو جذبیؔ شناسی کا دور شروع ہوا ۔1994ء میں جذبیؔ کو اقبال سمّان سے نوازا گیا۔خدا بخش اورینٹل لائبریری پٹنہ نے جذبیؔ پر سیمینار منعقد کیا ۔ بقول اکبر الہ آبادی  ع
نگاہیں کامِلوں پر پڑ ہی جاتی ہیں زمانے کی
درحقیقت اب معین احسن جذبیؔ کو حیات نو ملی ہے جو پہلے سے کہیں زیادہ روشن ، عالم گیر اور پائیدار ہے ۔اگرچہ ازراہ انکسار اس شاعر دردآشنا نے کہا تھا:
مجھے کمال کا دعویٰ نہیں ہے اے جذبیؔ
کہ میں ہوں گرد رہ کاروانِ اہل کمال

Jazbi ki Shairi Kainaat by Qamar Siddiqui

Articles

جذبی کی شعری کائنات

قمر صدیقی

معین احسن جذبی کا شعری کینواس مختلف رنگوں سے مزّین ہے اور اِن میں احساس کی تازگی اور جذبے کی شدت کا رنگ سب سے گہرا ہے۔ یہی جذبات و احساسات کی شدت انھیں اپنے دیگر ترقی پسند معاصر شعرا سے منفرد کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جذبی کا شعری رویہ 1936ء میں ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی مستحکم ہوچکا تھا۔ وہ اپنی مشہور غزل ’’ مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے‘‘1933ء میں نہ صرف لکھ چکے تھے بلکہ اس غزل کے حوالے سے اُن کی شناخت بھی قائم ہوچکی تھی۔ ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز کے بعد، تحریک سے ان کی واضح وابستگی کا پتہ ہمیں نظم ’’فطرت ایک مفلس کی نظر میں ‘‘سے ملتا ہے۔ یہ نظم 1937ء میں تحریر کی گئی تھی۔ اس کے بعدان کے یہاں ترقی پسند نظریات سے وابستگی دھیرے دھیرے پختہ ہوتی گئی۔ البتہ 1942ء کے بعد جذبی کے شعری اظہار میں ترقی پسند نظریات کی بندش ڈھیلی پڑتی نظر آتی ہے۔ 1943ء کی ایک مشہور غزل جس کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہے: معین احسن جذبی کا شعری کینواس مختلف رنگوں سے مزّین ہے اور اِن میں احساس کی تازگی اور جذبے کی شدت کا رنگ سب سے گہرا ہے۔ یہی جذبات و احساسات کی شدت انھیں اپنے دیگر ترقی پسند معاصر شعرا سے منفرد کرتی ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ جذبی کا شعری رویہ 1936ء میں ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہی مستحکم ہوچکا تھا۔ وہ اپنی مشہور غزل ’’ مرنے کی دعائیں کیوں مانگوں، جینے کی تمنا کون کرے‘‘1933ء میں نہ صرف لکھ چکے تھے بلکہ اس غزل کے حوالے سے اُن کی شناخت بھی قائم ہوچکی تھی۔ ترقی پسند تحریک کے باقاعدہ آغاز کے بعد، تحریک سے ان کی واضح وابستگی کا پتہ ہمیں نظم ’’فطرت ایک مفلس کی نظر میں ‘‘سے ملتا ہے۔ یہ نظم 1937ء میں تحریر کی گئی تھی۔ اس کے بعدان کے یہاں ترقی پسند نظریات سے وابستگی دھیرے دھیرے پختہ ہوتی گئی۔ البتہ 1942ء کے بعد جذبی کے شعری اظہار میں ترقی پسند نظریات کی بندش ڈھیلی پڑتی نظر آتی ہے۔ 1943ء کی ایک مشہور غزل جس کا یہ شعر زبان زد خاص و عام ہے:
اے موجِ بلا ! ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
مذکورہ شعر کے علاوہ جس میں ہلکی سے نظریاتی وابستگی کا احساس ہوتا ہے پوری غزل پر کلاسیکی لہجہ حاوی ہے۔ ہرچند کہ 1943ء سے 1956ء تک جذبی کے کلام میں ترقی پسند تحریک سے نظریاتی وابستگی کسی نہ کسی صورت نظر آجاتی ہے البتہ اِس کی لو کا دھیما پن صاف محسوس کیا جاسکتا ہے۔ منزل تک ، میرے سوا، نیاسورج وغیرہ نظموں اور اُس دور کی غزلوں کے مطالعے سے اس امر کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔ البتہ اُس دور میں کلاسیکی تہذیب سے مربوط دھیما دھیما مگر خوش آہنگ لہجہ جو جذبی کی اصل شناخت ہے بہت صاف اور روشن نظر آتا ہے:
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں
ہے آج بھی نگاہِ محبت کی آرزو
پر ایسی اک نگاہ کی قیمت کہاں سے لائیں

کوچۂ یار میں اب جانے گزر ہو کہ نہ ہو
وہی وحشت ، وہی سودا ، وہی سر ہو کہ نہ ہو
جانے اک رنگ سا اب رخ پہ ترے آئے نہ آئے
نفسِ شوق سے گل شعلۂ تر ہو کہ نہ ہو

یہ دل کا داغ جو چمکے تو کیسی تاریکی
اسی گھٹا میں چلیں ہم اسی گہن میں چلیں

شمیم زلف و گلِ تر نہیں تو کچھ بھی نہیں
دماغِ عشق معطر نہیں تو کچھ بھی نہیں
غم حیات بجا ہے ، مگر غم جاناں
غمِ حیات سے بڑھ کر نہیں تو کچھ بھی نہیں
مذکورہ بالا اشعار اس احساس کے غماز ہیں کہ اُن کا خالق اردو غزل کی روایت سے کماحقہ‘ واقفیت ہی نہیں رکھتا بلکہ اُسے اِس روایت کے ساتھ چلنے کا سلیقہ بھی آتا ہے۔اپنے تخلیقی مزاج اور ذہنی ہم آہنگی کے سبب جذبی مشرقی شعریات اور اردو کے شعری آداب و رسوم کے دلدادہ تھے۔ تاہم ایک جنیوئین شاعر ہونے کی وجہ سے ان کی بالغ نظری اور ان کا مشاہدہ کائناتی تھا۔ اگر 1936ء میں ترقی پسند تحریک کا باقاعدہ آغاز نہ بھی ہوا ہوتا تب بھی جذبی کا تجسس سے بھرپور خلاقانہ ذہن اور شگفتہ لہجہ صبح نو کی نوید کا ایسا ہی پیامبر ہوتا جیسا کہ وہ آج ہے:
ان بجلیوں کی چشمک باہم کو دیکھ لیں
جن بجلیوں سے اپنا نشیمن قریب ہے
یہ دل کا داغ جو چمکے تو کیسی تاریکی
اسی گھٹا میں چلیں ہم اسی گہن میں چلیں

جب کبھی کسی گل پر اک ذرا نکھار آیا
کم نگاہ یہ سمجھے موسمِ بہار آیا
اِس افق کو کیا کہیے ، نور بھی دھندلکا بھی
بارہا کرن پھوٹی ، بارہا غبار آیا

دنیا سنے تو قصۂ غم ہے بہت طویل
ہاں تم سنو تو قصۂ غم مختصر بھی ہے
مذکورہ بالا اشعار اشاراتی و علامتی طور پر اپنے عہد کے معاصر رویوں و رجحانات کے ترجمان تو ہیں ہی تاہم یہ اشعار اردو غزل کی بہت ہی توانا شعری روایت سے رنگ و روشنی اخذ کرتے ہوئے بھی معلوم ہوتے ہیں۔ پرانے چراغوں کی مدد سے نئے چراغ روشن کرنے کا یہ عمل جذبی کے یہاں اس ہنر مندی سے برتا گیا ہے کہ شیشے میں بال پڑنے کا احتمال بھی نظر نہیں آتا۔غور کریں تو یہ اشعار روایتی لفظیات مثلاً بجلی ، بجلیوں کی چشمک باہم اور نشیمن، دل کا داغ اور اس داغ کی روشنی کی وجہ سے تاریکی و گہن کی فضا میں رفت کا اہتمام ، گل و نگاہ ، نکھار و بہار ، افق ، نور ، دھندلکا اور پھر کرن اور غبار ، قصۂ غم کا طولانی ہونا اور اسی قصۂ غم کا اختصار وغیرہ سے منور ہیں۔ اس طرح کی لفظیات کے ساتھ مشکل یہ ہوتی ہے کہ امتداد زمانہ اور کثرتِ استعمال کی وجہ سے یہ اپنا آب و رنگ کھو دیتے ہیں۔ جذبی کی فنکاری یہ ہے کہ انھوں نے ایسے بے آب و رنگ لفظیات کو اپنے جوہر ذاتی کے ذریعے ایک نئے اور انوکھے شعری تجربے میں ڈھال دیا ہے۔لغت اور شاعری میں یہی فرق ہے کہ لغت میں لفظ جامد ، ٹھہرا ہوا اور کم امکان نظر آتا ہے جبکہ شعر میں وہی لفظ معنی کے نت نئے دروازے وا کرتا ہے۔
جذبی کی شعری کائنات میں جذبے اور رنگ کی فراوانی کم تو نہیں ہے لیکن اس کی حدیں متیعن ہیںالبتہ یہ جس مقدار میں بھی ہیں اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ہیں۔ شاید جذبی نے ایک محدود دائرے میں رہتے ہوئے اپنی پرواز کی وسعتیں خود ہی طے کرلی تھیں۔ یہ حدیں قدیم شعری روایت سے آگہی و آشنائی ، زندگی کی تلخیوں میں عزم و حوصلے کے جذبے کی نمو کو قدرے جمالیاتی و حسی ادراک کے ساتھ پیش کرنے سے عبارت ہیں:
عذابِ درد پہ نازاں ہیں اہل درد مگر
نشاطِ درد میسر نہیں تو کچھ بھی نہیں
ابھی سموم نے مانی کہاں نسیم سے ہار
ابھی تو معرکہ ہائے چمن کچھ اور بھی ہیں

ہوائے گرم ! کچھ مہلت دے ان معصوم غنچوں کو
کہ تھوڑی دیر تو نظارۂ رنگِ جہاں کرلیں

وہ خراشِ دل جو اے جذبی مری ہمراز تھی
آج اسے بھی زخم بن کر مسکرانا آگیا ہے
جذبی کی کلاسیکی شعریات سے وابستگی اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ ہنگامی اور سیاسی شاعری کی حیثیت سے نہ صرف واقف تھے بلکہ اس کی وقعت اور قدر و قیمت بھی پہچانتے تھے۔ لہٰذا انھوں نے اپنے لیے ایک ایسے راستے کا انتخاب کیا جس کی فضا کلاسیکیت کی خوشبوسے معطر ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ ادب میں جذبی کا مقام و مرتبہ اور اعتبارترقی پسند تحریک کے طفیل نہیں بلکہ ترقی پسند تحریک کا اعتبارو استناد جذبی جیسے شعرا سے قائم ہے۔

Jazbi ka Fan by Qazi Jamal Husain

Articles

جذبی کا فن

پروفیسر قاضی جمال حسین

جذبی کا پورا کلام توجہ سے پڑھنے کے بعد قاری آسانی سے یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ شاعر کسی مخصوص سیاسی نظریے کا نہ تو پابند ہے نہ ہی اپنی جانبداریوں کے حق میں ،فن کے تقاضوں سے مفاہمت پر آمادہ ہے۔جذبی کی شاعری میں کوئی خیال ‘اس طور پر نظم ہوتا ہے کہ شاعری کا منصب مجروح نہ ہو اور بیش تر صورتوں میں خیال ،شعر کے پیکر میں ڈھل کر قاری کی اپنی واردات بن جاتا ہے ۔ترقی پسند تصورات کو نظم کرنے میں بھی جذبی نے خیال کی‘شعری وسائل سے ہم آہنگی کو نظر انداز نہیں کیا ہے ۔جذبی کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے گل و بلبل کے علائم کو نہ تو مسترد کیا نہ ہی غمِ جاناں کو غمِ روزگار سے کمتر سمجھا ۔ان کا موقف یہ ہے کہ : جذبی کا پورا کلام توجہ سے پڑھنے کے بعد قاری آسانی سے یہ رائے قائم کرلیتا ہے کہ شاعر کسی مخصوص سیاسی نظریے کا نہ تو پابند ہے نہ ہی اپنی جانبداریوں کے حق میں ،فن کے تقاضوں سے مفاہمت پر آمادہ ہے۔جذبی کی شاعری میں کوئی خیال ‘اس طور پر نظم ہوتا ہے کہ شاعری کا منصب مجروح نہ ہو اور بیش تر صورتوں میں خیال ،شعر کے پیکر میں ڈھل کر قاری کی اپنی واردات بن جاتا ہے ۔ترقی پسند تصورات کو نظم کرنے میں بھی جذبی نے خیال کی‘شعری وسائل سے ہم آہنگی کو نظر انداز نہیں کیا ہے ۔جذبی کا امتیاز یہ ہے کہ انھوں نے گل و بلبل کے علائم کو نہ تو مسترد کیا نہ ہی غمِ جاناں کو غمِ روزگار سے کمتر سمجھا ۔ان کا موقف یہ ہے کہ :
حکایت گل و بلبل پہ خندہ زن ہیں وہی
جو شامِ ہجرنہ صبح وصال سے گزرے
غمِ دوراں بڑی حقیقت سہی لیکن شیشہ و ساغر کا فریب اس تلخ حقیقت کو گوارا بنانے کے لیے ضروری ہے :
غمِ حیات بجا ہے مگر غمِ جاناں
غمِ حیات سے بڑھ کر نہیں تو کچھ بھی نہیں
حقیقت غمِ دوراں کے ساتھ اے ناصح
فریب شیشہ و ساغر نہیں تو کچھ بھی نہیں
ترقی پسند شعرا میں جذبی صاحب کی شناخت یہ ہے کہ غم دوراں کی حقیقت کا عرفان ہونے کے ساتھ ہی انھیں فریبِ حقیقت کی دلکشی کا بھی اعتراف ہے۔اس فریب کو وہ فن کے لیے ضروری تصور کرتے ہیں ۔ترقی پسند تحریک کی کل ہند کانفرنس کے خطبۂ صدارت میں منشی پریم چند نے شعر و ادب کے لیے جو نیا منشورپیش کیا اس میں حقیقت پسندی اور افادیت پر اصرار کرتے ہوئے انھوں نے یہ بات بھی کہی کہ:
’’جب ادب پر دنیا کی بے ثباتی غالب ہو اور ایک ایک لفظ یاس،شکوۂ روزگار اور معاشقہ میں ڈوبا ہوا ہو تو سمجھ لیجئے کہ قوم جمودکا شکار ہوچکی ہے اور اس میں سعی و اجتہادکی قوت باقی نہیںرہی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ادب دل بہلانے کی چیز نہیں ہے۔دل بہلانے کے سوا اس کا کچھ اور مقصد بھی ہے۔وہ اب محض عشق و عاشقی کے راگ نہیں الاپتا بلکہ حیات کے مسائل پر غور کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اس کو(ادب کو) ان مسائل سے دلچسپی ہے، جن سے سوسائٹی کے افراد شاعر ہوتے ہیں‘‘ (’’نیا ادب‘‘؍اپریل ۱۹۳۹ء، ص۔۵۳)
ترقی پسند شاعر اور ادیب اس منشور پر عمل کرنے میں اتنے پرجوش اور سرگرم تھے کہ سب کچھ بدل دینا چاہتے تھے ۔انھیں حسن کا معیار بدلنے کی عجلت تھی۔اس صورت حال کا کسی قدر اندازہ سجاد ظہیر کے اس بیان سے ہوتا ہے کہ کانفرنس ختم ہونے کے بعد شام کو تھکے ماندے سبھی لوگ گھر آئے کھانا کھاکر سب بے تکلفی سے باتیں کر رہے تھے کہ پریم چند نے نوجوان ترقی پسندوں کی حرکتوں پر نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا:
’’بھئی یہ تم لوگوں کا جلدی سے انقلاب لانے کے لیے تیز تیز چلنا مجھے بہت پسند آتا ہے لیکن میں ڈرتا ہوں کہ کہیں تم بے تحاشا دوڑنے لگے تو ٹھوکر کھاکر منہ کے بل گر نہ پڑو اور میں ٹھہرا بوڑھا آدمی ۔تمہارے ساتھ اگر میںبھی دوڑا اور گرا تو مجھے بہت چوٹ آجائے گی ۔یہ کہہ کر انھوں نے بڑی زور کا قہقہہ لگایا۔ہم سب بھی ان کے ساتھ ہنسنے لگے۔‘‘(روشنائی ۔ص ۱۱۲)
یہ زمانے کی روتھی ،سبھی رجعت پسندی کے مقابلہ میں ترقی پسند بننے کے لیے ایک دوسرے پر سبقت لے جانا چاہتے تھے ۔ان حالات میں جذبی صاحب کا متوازن رویہ ان کی سلامت روی کا ثبوت ہے۔اپنے پہلے مجموعے کی دوسری اشاعت (۱۹۵۱ء)میں ’’چند باتیں‘‘کے عنوان سے جذبی نے اپنے شاعرانہ موقف پر کھل کر اظہار خیال کیا ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کی پہلی وفاداری اشتراکی خیالات کے بجائے شاعری کے فن سے تھی۔۱۹۵۰ ء کے آس پاس جب ترقی پسندی کا سورج نصب النہار پہ تھا جذبی کے یہ خیالات حیرت انگیز معلوم ہوتے ہیں۔
۱)ہم میں سے اکثر ترقی پسندی کی رومیں ادب کے تقاضوں کو بھول گئے ہیں،چنانچہ اس دوران میں جوادب پیدا ہوا ہے اسے ہم مشکل سے ادب کہہ سکتے ہیں۔
۲)ہمارے بعض ترقی پسند شاعر کسی سیاسی جماعت سے منسلک ہیں۔یہ حضرات اپنی جماعتی وفاداری کی رو میں صرف وہی دیکھتے اور سوچتے ہیں جو ان کی جماعت دیکھتی اور سوچتی ہے۔اس وجہ سے ایک قسم کا ادبی انتشار پیدا ہوتا ہے۔
۳)ادھرکچھ ترقی پسند شاعروں میں ایک رحجان پیدا ہونے لگا ہے جو بڑی حد تک تنگ نظری پر مبنی ہے۔ہمارے شاعر اور ادیب یہ سمجھنے لگے ہیں کہ حسن و عشق کاذکر ترقی پسندی کے مذہب میں وہ گناہ ہے جو شاید ہی بخشا جائے ۔ترقی پسندی صرف سیاست کا نام ہے۔
۴)رہے حسن و عشق کے خالص انفرادی جذبات ،سو ان کے متعلق صرف اتنا عرض کروںگا کہ ازل سے آج تک یہ دلوں کو گر ما رہے ہیں اور گرماتے رہیں گے۔
اس پس منظر میں چند باتیں جذبی کی عشقیہ شاعری کے حوالے سے:
غزل کی روایت کو رجعت پسندی کہہ کر مسترد کرنے کے بجائے جذبی نے کلاسیکی شعریات کو پیش نظر رکھا ہے اور کلاسیکی مضامین میں معنی کی نئی جہتیںدریافت کی ہیں ،شعر سنئے:
دہانِ زخم جو منہ پھیر لیں تو کیا معلوم
تبسم لبِ قاتل رہے رہے نہ رہے
معاًغالب کا مشہورشعر ذہن میں تازہ ہوجاتا ہے  ؎
مشکل کہ تجھ سے راہِ سخن واکرے کوئی
پہلے دہانِ زخم تو پیدا کرے کوئی
تبسم ،لب، دہان اور منہ کی رعایت کے علاوہ زخم اور قاتل کی مناسبت نے بھی جذبی کے شعر میں کلاسیکی شان پیدا کردی ہے اور ان کی نئی جہت یہ ہے کہ قاتل کاتبسم،عاشق کے کھلے ہوئے زخم کا رہینِ منت ہے، اگر یہ زخم مندمل ہوگیا تو قاتل کے لبوں پر بھی تبسم باقی نہیں رہے گا ۔عاشق کا زخمِ دل مرتبہ اور منزلت میں قاتل کے تبسم سے فزوںتر ہے۔اس غزل کا ایک اور شعر ہے جس میں ساحل کا روایتی استعارہ سیاق و سباق کی وجہ سے نئی معنویت اختیار کرلیتا ہے :
یہ سوچتے ہوئے طوفاں میں ڈال دی کشتی
کہ پھر اشارۂ ساحل رہے رہے نہ رہے
ساحل کا استعارہ ،سکون ،تحفظ اور دل و جان کی سلامتی کے مفاہیم کا احاطہ کرتا ہے لیکن معاملاتِ عشق کے سیاق و سباق میں یہی ساحل، معشوق کی دلنوازی اور رخصتِ بے باکی کی سرحد وں سے جا ملتا ہے۔عاشق اپنے جرأت مندانہ اقدام سے ڈرتا ہے اور جھجھکتا ہے کہ خدا معلوم کیا صورت پیش آئے گی۔اسی پس و پیش میں عاشق پیش آنے والے طوفان کا خطرہ مول لے لیتا ہے کہ خود ساحل کا خاموش اشارہ اسے پیش قدمی کا حوصلہ عطا کرتا ہے :
یہ سوچتے ہوئے طوفان میں ڈال دی کشتی
کہ پھر اشارہ ساحل رہے رہے نہ رہے
طوفان اور ساحل کی دلالتوںمیں معنی کے یہ امکانات شاعر کے پیرایہ ٔبیان اور غزل کی روایت سے پیدا ہوئے ہیں۔
غالب کا مشہور شعر ہے  :
جب کرم رخصت بے باکئی و گستاخی ہے
کوئی تقصیر بجز خجلتِ تقصیر نہیں
دل کے زخم اور محبت کے داغ غزل کی روایت میں نئے نہیں لیکن جذبی کی شاعری میں ان زخموں نے جا بجا بہار کی کیفیت اور داغوں نے چراغاں کا منظر پیدا کردیا ہے ۔ فقط تین شعر ملاخطہ ہوں :
دل کے زخموں کی تم بھی سیر کرو
اس چمن کے گلاب ہیں کیا کیا
ہر داغ دل میں عکسِ رخ گل بدن لیے
بیٹھے ہیں اہل عشق چمن در چمن لیے
آؤ نہ دل کے داغ جلا ئیں کہ صبح ہو
اختر شماریِ شبِ آلام کیا کریں
پہلے شعر میں ردیف غزل کا فقط نصاب پورا نہیں کرتی بلکہ متکلم کے نشاط بے پایاں کو نمایاں کرکے معنی کی توسیع بھی کرتی ہے۔عاشق دل کے زخموں سے افسردہ ہونے کے بجائے ،سرشاری کی عجیب کیفیت سے دوچار ہے۔عاشق گلابوں کے اس باغ کی سیر کے لیے معشوق کو بھی بلاتا ہے کہ ایسے خوش رنگ ،شاداب اور ہنستے ہوئے گلاب کہیں اور دیکھنے کو نہ ملیں گے۔
دوسرے شعر میں دل کا ہر داغ معشوق کے عکس رخ سے لالہ زار بنا ہوا ہے۔داغوں کی ایسی کثرت ہے کہ عاشق کا دل چمن در چمن کا منظر پیش کرتا ہے چونکہ یہ عکس ایک گل بدن کا ہے اس لیے چمن در چمن کا جواز بھی شعر کے متن ہی میں موجود ہے۔
آخری شعر میں داغِ دل لو دے اٹھتے ہیں اور تیرہ و تار شبِ غم میںاختر شماری کا فضول کام کرنے کے بجائے عاشق داغوں کی روشنی سے اپنی بزم چراغاں کرلیتا ہے ۔’آئو نہ دل کے داغ جلالیں‘ میں خود کلامی کا اندازہ، شعر میں ڈرامائی کیفیت پیدا کر رہا ہے۔
اس طرح مختلف فنی تدابیر سے کام لے کر جذبی صاحب نے روایتی عشقیہ مضامین میں بھی کوئی نئی جہت دریافت کرلی ہے اور ہجر و وصال کے پامال قصے میں خیال کا نیا پہلو روشن کردیا ہے۔
جذبی کا ایک اور پسندیدہ طریقہ کاراضافتوں کا برمحل استعمال ہے۔مرکب توصیفی اور اضافی کی بہت سی مثالیں ان کے اشعار سے پیش کی جاسکتی ہیں۔اکثر تراکیب میں ایک سے زائد اضافتیں استعمال کرکے جذبی نے تو الئیِ اضافات سے بھی کام لیا ہے۔اضافتوں کے اس طرح استعمال سے ان کے کلام میں ایک طرح کی شائستگی اورSophisticationپیدا ہوگیا ہے اور زبان عوامی سطح سے بلند ہوکر اشرافیہ طبقہ کے خیالات کی ترجمان بن گئی ہے۔ہندی الاصل الفاظ یا عام بول چال کی زبان چونکہ تراکیب کے صوتی آہنگ اور معنوی پیچیدگی کی متحمل نہیں ہوسکتی اس لیے تراکیب کے استعمال سے اسالیبِ اظہار میں ترفع پیدا ہوجاتا ہے۔ترکیب میں استعمال ہونے والا ہر لفظ ایک مخصوص معنی پر دلالت کرتا ہے اور ترکیب کی صورت میں خیال اپنے مضاف الیہ سے مل کر ایک دوسرے خیال کوبھی معنی میں شامل کرلیتا ہے۔اس طرح خیال پیچیدہ اور لطیف تر ہوجاتا ہے ۔خیالات کا یہ مجموعہ اپنی دلالتوں اور معنوی انسلاکات کے سبب ، آسانی سے گرفت میں نہیں آتا اور زبان اشرافیہ طبقہ کی نمائندہ بن جاتی ہے۔جذبی نے اضافتوںکے استعمال سے زبان کو رواںاور خوش آہنگ بنانے کے علاوہ معنی کی سطح پر بھی بہت سے کام لیے ہیں۔ایک سے زائد اضافتوں پر مشتمل مرکبات کی چند مثالیں ملاخطہ ہوں :
وہ خوش خرامیِ آوارگانِ راہِ وفا
جہاں سے دار و رسن کے مقام آتے ہیں
ہر جورِ نارواکے مقابل رہے ہیں ہم
وجۂ شکستِ شیوۂ قاتل رہے ہیں ہم
گستاخیِ نگاہِ تمنّا کدھر گئی
تعزیرِ درد کے وہ سزاوار کیا جائے
صبر آزما رہ شوقِ نظارہ کہاں گیا
منت کشانِ سایۂ دیوار کیا ہوئے
افسردگیِ ضبطِ الم آج بھی سہی
لیکن نشاطِ ضبطِ مسرت کہاں سے لائیں
ان اشعار کا آہنگ اور خیال کی نزاکت،توالئی اضافات کی رہین منت ہے۔جذبی کی ایک اور پسندیدہ فنی تدبیر’بعض لفظوں کی تکرارہے‘۔Adjectives Adverbs یا حروف استفہام کی تکرار سے جذبی نے حسب دلخواہ احساس کی شدت کو بڑھانے یا جذبے کے وفور کو کم کرنے کا کام بڑی ہنر مندی سے لیا ہے۔ظاہر ہے میٹھا درد اور میٹھا میٹھا درد یا چپ رہنا اور چپ چپ رہنا ایک ہی معنی پر دلالت نہیں کرتے۔ان کے معنی اور ان سے قائم ہونے ولانقش یکسر مختلف ہوتا ہے۔اب جذبی کے یہ مصرعے سنئے :
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں
دل میں دبی دبی سے قیامت کہاں سے لائیں
زخم گل تجھ کو مہکنا ہے تو ہنس ہنس کے مہک
دھندلی دھندلی سی نظر آتی ہے کچھ پرچھائیاں
یہ چپ چپ نرگس کی کلیاں کیا جانیں کیسی کلیاں ہیں
نالۂ بے تاب لب تک آتے آتے رہ گیا۔
ایک وہ راہ کہ ہر کام پہ بس پھول ہی پھول
تری بلندیٔ فطرت کی نرم نرم ضیا
صاف محسوس ہوتا ہے کہ کوئی مصور احساس کے مختلف رنگوں کو ،تکرار ِ الفاظ کے ذریعہ کہیں ہلکا تو کہیں گہرا کر رہا ہے۔’’بس پھول ہی پھول‘‘کہنے سے پھولوں کی کثرت اور رنگوں کا وفورخود بخود پیش نظر میں ابھرتا ہے اسی طرح ’’نرم نرم ضیا‘‘سے محض حسی اور بصری پیکر ہی ہم آغوش نہیں ہوتے بلکہ روشنی کی شدت ازخود خوشگوار حد تک کم ہوجاتی ہے۔
بلا شبہ جذبی نے کئی ترقی پسند نظمیں کہی ہیں،غزلوں میں بھی کہیں کہیں ترقی پسندانہ خیالات کا اظہار ہوا ہے لیکن ایسے موقعوں پر جذبی کے قلم کا وہ ہنر نظر نہیں آتا جو ان کے عشقیہ اشعار میں دیکھنے کو ملتا ہے ۔نیا سورج ،چشم سوال،طوائف،اے کاش اور فطرت ایک مفلس کی نظر میں جذبی کی اچھی نظمیں ہیں کہ ان میں افلاس،بھوک اور آزادی کے خواب کو فن کے پیکر میں ڈھال دیا گیا ہے لیکن ان نظموں میں خیال ،احساس سے اس درجہ ہم آہنگ نہیں ہوتا کہ دونوں کی حدیں تحلیل ہوجائیں۔یہ نظمیں قاری کے دل میں اس طرح نہیں اترتیں کہ جمالیاتی تجربہ بن کر اس کے باطن میں ارتعاش پیدا کردیںاور قاری ان خیالات کو دل کی آواز سمجھ کر پکاراٹھے کہ ’’یہ میں میرے دل میںہے‘‘۔
جذبی کی ترقی پسند نظموں پر سب سے بہتر تبصرہ خود جذبی کا وہ شعر ہے جس میں صبا کی زبانی گلوں کو یہ پیغام بھیجا گیا ہے کہ کسی سبب سے ان دنوں اگر ہم رنگ و بو کا ذکر نہیں کرتے تو معاملات عشق میں اس عارضی وقفہ کو لا تعلقی پر محول نہ کریںاور ہر گز بدگمان نہ ہوں۔گلوں سے ربط اور ان کی محبت فطری اورلازوال جذبہ ہے۔اجتماع کے مسائل ،زمانے کا دکھ اور زندگی کے حقائق وہ اسباب ہیں جو شاعر جذبی کو منصب عشق سے بر طرف کرکے مقصدی شاعری کی تخلیق پر مامور کردیتے ہیں ۔شعر ملاخطہ ہو :
صبا گلوں سے یہ کہنا کہ بد گمان نہ ہوں
کسی سبب سے جوہم ذکر رنگ و بو نہ کریں
’’کسی سبب ‘‘کاپیرایۂ بیان ان اسباب کی تخفیف اور تحقیرپر دلالت کرتا ہے ۔مزید توجہ طلب نکتہ یہ ہے کہ لاتعلق ہوکربھی شاعر گلوں کو اپنی طرف سے بدگمان نہیں دیکھ سکتا ۔اس لیے وہ آج بھی انھیں اپنی محبت کا یقین دلاتا ہے۔
جذبی کے اشعار میں پیرایہ ٔبیان کی شائستگی اور لہجے کی شناخت نے انھیں ترقی پسند شعرا میں بہت ممتاز کردیا ہے۔آواز وں کے ہجوم میں بھی جذبی کی آواز اپنی نرمی اورمدھم سروں کی وجہ سے آسانی سے پہچانی جاسکتی ہے۔یقین ہے کہ وقت کے ساتھ ان اشعار کی منزلت میں اضافہ ہوگا اورمختصر سرمایۂ سخن کی قدر وقیمت کے مزید امکانات روشن ہونگے ۔

Jazbi ki Fankari by Fuzail Jafri

Articles

جذبی کی فن کاری

فضیل جعفری

معین احسن جذبی ؔسے متعلق بطور تمہید جو دو چار قسم کے حقائق بیان کیے جا سکتے ہیں ، ان سے شعر و ادب کا ہر سنجیدہ طالب علم واقف ہے ۔ مثال کے طور پریہ کہ جذبی کی نوجوانی کا زمانہ کم و بیش وہی تھا  جو جنگ ِ آزادی کے شباب کا دور تھا ۔ اسی طرح وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے با قاعدہ ممبر یا عہدے دارنہ رہے ہوں، لیکن ان کا حلقہ وہی تھا جن سے فیض، مخدوم، سردار جعفری ، جاں نثار اختر اور مجاز وغیرہ وابستہ تھے ۔ جذبی نے بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ترقی پسند تحریک کے زیر اثرخاصی تعداد میں سیاسی اشعار لکھے ہیں ۔ ان کے یہاں دار و رسن کا بھی ذکر ہے اور اجڑے ہوئے چمن کا بھی۔انھوں نے بھی فطرت اور دنیا کے دلکش نظاروں کو ایک مفلس کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کا دل بھی ’’ کاکلِ گیتی‘‘ کو سنوارنے کی خواہش سے معمور رہا ہے ۔ لیکن ان تمام باتوں کے با وجود انھوں نے عملی سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا ۔ باکل اسی طرح انھوں نے اپنے آپ کو ادبی ہنگاموں اور معرکہ آرائیوں سے بھی ہمیشہ دور رکھا ۔ معین احسن جذبی ؔسے متعلق بطور تمہید جو دو چار قسم کے حقائق بیان کیے جا سکتے ہیں ، ان سے شعر و ادب کا ہر سنجیدہ طالب علم واقف ہے ۔ مثال کے طور پریہ کہ جذبی کی نوجوانی کا زمانہ کم و بیش وہی تھا  جو جنگ ِ آزادی کے شباب کا دور تھا ۔ اسی طرح وہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے با قاعدہ ممبر یا عہدے دارنہ رہے ہوں، لیکن ان کا حلقہ وہی تھا جن سے فیض، مخدوم، سردار جعفری ، جاں نثار اختر اور مجاز وغیرہ وابستہ تھے ۔ جذبی نے بھی اپنے ساتھیوں کی طرح ترقی پسند تحریک کے زیر اثرخاصی تعداد میں سیاسی اشعار لکھے ہیں ۔ ان کے یہاں دار و رسن کا بھی ذکر ہے اور اجڑے ہوئے چمن کا بھی۔انھوں نے بھی فطرت اور دنیا کے دلکش نظاروں کو ایک مفلس کی نظر سے دیکھنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کا دل بھی ’’ کاکلِ گیتی‘‘ کو سنوارنے کی خواہش سے معمور رہا ہے ۔ لیکن ان تمام باتوں کے با وجود انھوں نے عملی سیاست میں کبھی حصہ نہیں لیا ۔ باکل اسی طرح انھوں نے اپنے آپ کو ادبی ہنگاموں اور معرکہ آرائیوں سے بھی ہمیشہ دور رکھا ۔
جذبی ؔ صاحب علی گڑھ یونیورسٹی کے شعبۂ اردو سے برسوں وابستہ رہے ۔ لیکن انھوں نے اپنے ارد گرد وفا دار شاگردوں اور مداحوں کا کو ئی ایسا گروہ جمع نہیں کیا جو ان کی شاعرانہ عظمت جا ڈھول بجاتا پھرتا ۔ در اصل وہ شرو ع سے ہی ایک کم گو،حلیم الطبع، منکسر المزاج اور گوشہ گیر قسم کے آدمی رہے ہیں ۔ ان خصوصیات کی پرچھائیاں ان کی شاعری میں بھی جا بجا بکھری ہوئی دکھائی دیتی ہیں ۔ اس حقیقت سے بھی ہر شخص آگا ہ ہے کہ انھوں نے اپنے فوری پیش روؤں، اپنے ہم عصروں اور اپنے بعد آنے والے تمام اہم شاعروں کے مقابلے میں بہت کم لکھا ہے ۔ یہ تمام باتیں اپنی جگہ سچ ہیں ، لیکن یہ بھی سچ ہے کہ جذبی کسی بھی دور میں نہ صرف یہ کہ گمنام نہیں رہے بلکہ ہر دور میں ان کا شمار صف اول کے غزل گو شعرا میں ہو تا رہا ہے ۔ گذشتہ ۵۰۔ ۶۰ برس کے دوران ہونے والی تمام تر نظریاتی اُکھاڑ پچھاڑ کے باوجود ان کے قارئین کا ایک الگ اور خاصا وسیع حلقہ رہا ہے ۔ جذبیؔ کے کئی اشعار مثلاً:
میری ہی نظر کی مستی سے سب شیشہ و ساغر رقصاں تھے
میری ہی نظر کی گرمی سے سب شیشہ و ساغر ٹوٹ گئے
اس حرص و ہوس کی دنیا میںہم کیا چاہیں ہم کیا مانگیں
جو چاہا ہم کو مل نہ سکا، جو مانگا وہ بھی پا نہ سکے
کیا تجھ کو پتہ کیا تجھ کو خبر دن رات خیالوں میں اپنے
اے کاکلِ گیتی ہم تجھ کو جس طرح سنوارا کرتے ہیں
اے موجِ بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
پھر عشرتِ ساحل یاد آئی پھر شورشِ طوفاں بھول گئے
نیرنگیٔ دوراں کے مارے نیرنگیِ دوراں بھول گئے
ہر منزل تھی دل کی منزل ، جب دل کو غمِ منزل نہ رہا
ہر کوچہ ، کوچۂ جاناں تھا ، جب کوچۂ جاناں بھول گئے  آج سے دہائیوں پہلے جس طرح زبان زدِ خاص و عام تھے ، بالکل اسی طرح آج بھی ہیں ۔ جذبی کے یہاں متاثر کرنے والے اور قاری کے دل کے اندر تک اتر کر اپنے لیے علاحدہ گوشہ بنا لینے والے اور بھی ایسے درجنوں اشعار مل جاتے ہیں جو ہمیں جذبی کا نام سنتے ہی یاد آجاتے ہیں اور جنھیں یاد کرنے کے لیے قطعاً ذہن پر زور دینے کی کو ئی ضرورت نہیں پڑتی ، لیکن جیسا کہ آپ نے دیکھا منقولہ بالا سبھی اشعار طویل بحروں والی غزلوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ طویل بحروں میں غزل نگاری بجائے خود ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ اسے جذبی کا طرۂ امتیاز سمجھنا چاہئے کہ انھوں نے طویل بحروں میں جتنی زیادہ اور جتنی کامیاب غزلیں لکھی ہیں ان کی نظیر ہمارے زمانے کے شاعروں میں شاذ و نادر ہی نظر آئے گی ۔ فیض ؔ اور مجازؔ نے اگر چہ طویل بحروں میں کچھ غزلیں ضرور کہی ہیں ، لیکن وہ ان کی پہچان نہیں بن سکیں ۔ یوں بھی اردو شاعری میں سراج اورنگ آبادی ، میر تقی میر اور شاد عظیم آبادی کے علاوہ دوسرے شعرانے طویل بحروں پر کوئی خصوصی توجہ نہیں دی ۔
اس میدان میں جذبی کی نمایاں کا میابی کی بنیاد ی وجہ صرف یہی نہیں کہ ان کی ذہنی تربیت میں کلاسیکی شعری روایات کا بڑا عمل دخل رہا ہے کہ وہ گہرے تفکر اور مدھم لہجے والے شاعر ہیں ۔ اس طرح کے اشعار قاری کے ذہن کو متحرک کرنے کے علاوہ نہایت ہی نرم روی کے ساتھ ساتھ زینہ بہ زینہ اس کے شعور کا حصہ بن جاتے ہیں ۔ ان اشعار میں جذباتی خلوص اور ذہنی ایمان داری کے ساتھ وہ بے مثال غنائیت بھی ملتی ہے جو پڑھنے والے کو محض متاثر ہی نہیں کرتی بلکہ جس کے سحر سے وہ تا دیر آزاد نہیں ہو سکتا ۔ ان اشعار میں پایا جانے والا غیر رسمی اور مدھم بہاؤ ایک الگ ہی کیفیت رکھتا ہے ۔
منقولہ بالا سبھی اشعار جذبی کی قادرالکلامی اور شعری تکنیک پر ان کی مضبوط گرفت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں ۔ میں نے اوپر جو شعر نقل کیے ہیں ان کے مطالعے سے ہم جو نتیجہ اخذ کر سکتے ہیں وہ یہ کہ جذبی نے کمال چابکدستی سے ہر شعر میں ( بلکہ پوری کی پور ی غزلوں میں ) لفظوں ، فقروں اور آوازوں کو کچھ اس طرح تقسیم کر دیا ہے کہ ان میں ایک عجیب و غریب اور نشاط افزوں معنوی ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے ۔ کیونکہ یہ ساری غنائی اکائیاں ایک دوسرے سے الگ ہونے کے باوجود ایک ہی لڑی میں پروئی ہوئی ہیں اس لیے ان میں شدت تاثر اور وحدت ِ تاثر دونوں کا پیدا ہو جانا ایک فطری امر ہے ۔
جذبی نے ایک جگہ اپنے شاعرانہ نظریے کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہــ’’ ایک شاعر کی حیثیت ہمارے کے لیے جو چیز سب سے اہم ہے وہ زندگی یا زندگی کے تجربات ہیں ، لیکن کوئی تجربہ اس وقت تک موضوعِ سخن نہیں بنتا جب تک اس میں شاعر ہونے کے جذبے کی شدت اور احساس کی تازگی کا یقین نہ ہو جائے ۔‘‘
جذبیؔ کی بیشتر شاعری میں یہ دونوں خصوصیتیں پوری توانائی کے ساتھ اجاگر ہوئی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے یہاں مجروح جذبات ،ذہنی تناؤ، احساساتی کشمکش اور ہجر و وصال کی کیفیات ہی نہیں بلکہ اجتماعی، سیاسی اور معاشرتی مسائل بھی معصومیت اور شعریت کی تجسیم بن کر ابھرتے ہیں ۔ ان کا نفیس سلیقہ مند شعری لہجہ نا زک ترین احساسات و جذبات کے تحفظ کا فرض بھی ادا کرتا ہے اور ان کی از سر نو تخلیق کا محرک بھی بن جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں جذبی کو بھی اپنے ترقی پسند ہم عصروں کی طرح سنجیدہ سماجی اور سیاسی مسائل سے گہری دلچسپی ہے لیکن چونکہ ان کی شعری جمالیات بنیادی طور سے انفرادی احساسات و تجربات کی پروردہ ہے ، اس لیے ان کے یہاں سیاسی اور سماجی مسائل کا اظہار بھی وسیع تر شعری تناظر میں ہو تا ہے ۔ مثال کے طور پر ان کا یہ مشہور شعر:
اے موجِ بلا ان کو بھی ذرا دو چار تھپیڑے ہلکے سے
کچھ لوگ ابھی تک ساحل سے طوفاں کا نظارہ کرتے ہیں
بہ ظاہر ہنگامی سیاسی حالات کا رد عمل ہے ۔ لیکن ذرا گہرائی میں جا کر دیکھیں تو پتہ چلتا ہے کہ اس کا مجموعی تناظر کہیں زیادہ وسیع ہے ۔ 1943ء میں لکھنے جانے والے اس شعر میں در اصل اس دور کی پوری تاریخ سمٹ آئی ہے ۔ اس شعر میں ہمیں واضح طور پر دو زمانے نظر آتے ہیں ۔ ایک تو وہ ’ حال‘ ہے جو موجود ہے ، لیکن جس کے وجود سے ہم بے خبر ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ طوفان میں گھرے ہوئے لوگ بھی طوفان کی شدت اور اس کے دور رس مضر نتائج سے بے خبری کے المیے کا شکار ہیں ۔
دوسرے زمانے کا تعلق مستقبل سے ہے ۔ جب تک ان بے حس اور بے خبر لوگوں کو شدید قسم کا جھٹکا نہ لگے ، نہ تو انھیں لمحۂ موجود کی المناکیوں کا احساس ہوسکتا ہے اور نہ ہی یہ مستقبل کی پہنائیوں کو شناخت کر سکتے ہیں ۔ طوفانی ’’ تھپیڑے‘‘ ہی انھیں خواب اور بے عملی کی دنیا سے نکال کر حقائق سے دوچار کر سکتے ہیں ۔ مختصر یہ کہ اس شعر کی سطح پر جتنا نظر آتا ہے اس سے کہیں زیادہ بین السطور میں پوشیدہ ہے ۔ ان دو مصرعوں کو اگر ہم دوسری جنگ عظیم کے دوران ہندوستانی سیاق و سباق میں دیکھیں تو بہت زیادہ بامعنی اور واضح ہو جاتی ہے ۔
جذبی نے حالات اور ماحول کے تعلق سے جا بہ جا اپنی بے اطمینانی اور نا راضگی کا اظہار کیا ہے ۔ لیکن ان کے اشعار میں احتجاجی لَے نظر نہیں آتی ۔ انھوں نے ہمیشہ احتجاج پر تحمل ، برد باری اور درد مندی کو ترجیح دی ہے ۔ واضح رہے کہ بسا اوقات احساس محرومی اور شدید مایوسی کا براہ راست رد عمل ہوتا ہے جبکہ بردباری اور درد مندی امید اور یقین کے توانا مظاہر ہیں ۔ جذبی کی شاعر ی میں جو داخلی توانائی ملتی ہے وہ ان کی اسی درد مندی کا نتیجہ ہے ۔
اب جذبی کی ایک خاص مشہور و مقبول غزل کے یہ تین اشعار ملا حظہ ہوں ۔جن کے توسط سے ان کی ایک اور اہم فن کارانہ خصوصیت کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے:
بیتے ہوئے دنوں کی حلاوت کہاں سے لائیں
اک میٹھے میٹھے درد کی راحت کہاں سے لائیں
ڈھونڈیں کہاں وہ نالۂ شب تاب کا جمال
آہِ سحر گہی کی صباحت کہاں سے لائیں
افسردگیِ ضبطِ الم آج بھی سہی
لیکن نشاطِ ضبطِ مسرت کہاں سے لائیں
گیارہ اشعار پر مشتمل اس غز ل میں پہلے مصرعے سے لے کر آخری مصرعے تک موضوعات کے تنوع کے باوجودایک خاص طرح کے داخلی تسلسل کا احساس نا گزیر ہے ۔ جذبی ؔ کی ایک درجن سے زیادہ ہی کچھ اور غزلیں مل جاتی ہیں جن میں یہی تسلسل پایا جاتا ہے۔ بات یہ ہے کہ جن شاعروں کے یہاں بھی احساسات و جذبات کا کوئی با قاعدہ نظام ہوتا ہے اور جو شعوری طور پر خوردہ فروشی سے احتراز کرتے ہیں ۔ ان کے یہاں اس طرح کا تسلسل خود بہ خود پیدا ہوجاتا ہے ۔ یہ ایک سوچا سمجھا شعری عمل ہے اور اسے متعلقہ شاعر کی محض قادر الکلامی پر محمول نہیں کیا جا سکتا ۔
مندرجہ بالا اشعار کی پہلی قرأت سے ہی بات صاف ہو جاتی ہے کہ شاعر نہ صرف اپنے تجربات کا براہ راست لیکن تخلیقی اظہار کر رہا ہے بلکہ وہ شعر کے میڈیم سے اپنے ماضی کی بازیافت بھی کر رہا ہے ۔ شاعر کا مقصد مہ و سال کی گرد میں گم ہو جانے والی ان حقیقتوں کو از سر نو دریافت کرنا ہے جن کا تعلق اس کی زندگی اور اس کے ماحول سے ہے اور جو اس کی کئی دہائیوں پر محیط زندگی کے تجربات کا حاصل ہیں۔ ’ نالۂ شب تاب کاجمال‘اور آہِ سحر گہی کی صباحت جیسے بصری پیکر اس بات کا ثبوت ہیں کہ اس کے ذہن میں ماضی کا وہ زندہ تصور پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے جس کے بغیر حال اور مستقبل مکمل نہیں ہو سکتے ۔ ردیف’ کہاں سے لائیں ‘ کا انتخاب بھی بہت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے ۔یہاں تمام اشعار نقل کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ بس اتنا کہنا کافی ہو گا کہ ان سبھی اشعار کا تعلق تخلیق کار کی زندگی سے بھی ہے اور اجتماعی مسائل سے بھی ۔ شاعر یکے بعد دیگرے مختلف اشعار میں ایسے سوالات قائم کرتا ہے جن کا حل اس کے پاس نہیں ہے یا یہ کہ غزل کی رمزیت واضح جواب کی متحمل نہیں ہو سکتی ۔ اس طرح پوری غزل میں ماضی اور حال کے درمیان جذباتی ہی نہیں ، ایک طرح کی ثقافتی کشمکش بھی پیدا ہو گئی ہے ۔ آخری شعر :
سب کچھ نصیب بھی ہو تو اے شورشِ حیات
تجھ سے نظر چرانے کی عادت کہاں سے لائیں
میں جذبیؔبڑی نرمی اور سادگی کے ساتھ پورے ماحول کی عکاسی کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔ ایک طرف اگر ان اشعار کا خود سوانحی اسلوب ذاتی یادوں کی باز یافت کا سبب بن جاتا ہے تو دوسری طرف ان کے ذریعے عصری زندگی کی تضادات کو بھی نمایاں کردیا گیا ہے ۔ پوری غزل کا جو لب و لہجہ ہے اس کی وجہ سے مونو لاگ والی کیفیت پیدا ہو گئی ہے ۔ شاعر نے ان اشعار میں جا بہ جا اپنی ذاتی اذیتوں کو اجتماعی مسائل سے جوڑ دیا ہے وہ اس کی فن کارانہ قوت کا ثبوت ہے ۔ اس طرح ایسے اشعار وہی شخص لکھ سکتا ہے جو شخصی واقعات کو غیر شخصی انداز میں بیان کرنے کی جرأت اور صلاحیت رکھتا ہو ۔ جذبی زمانے اور حالات کی مناسبت سے نظر نہیں چراتے لیکن ان کے اظہار میں اس احتیاط سے ضرور کام لیتے ہیں جس کے بغیر شعر اور غیر شعر کے درمیان کوئی فاصلہ نہیں رہ جاتا ۔ وہ انسانی وجود اور اس کے متعلقات کے درد کو محسوس تو بڑی شدت کے ساتھ کرتے ہیں لیکن انھیں بیان کرتے وقت نرمی اور دانشورانہ معروضیت سے کام لیتے ہیں ۔
کلام جذبی کے مطالعے سے ایک اور اہم نکتہ جو سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ ان کی شاعری پر کلاسیکی، رومانوی یا ترقی پسندی ، غرض کوئی لیبل تنہا اور پوری طرح چسپاں نہیں ہو تا ۔ در حقیقت ان کی شاعری کلاسکیت، رومانویت اور ترقی پسندیت تینوں کا ایک قابل قدر اور منفرد امتزاج ہے ۔ کلاسیکیت نے انھیں وسیع تر پیمانے پر عام انسانوں سے محبت کرنا سکھایا ہے ۔ اس محبت میں نہ تو مذہب و ملت کی کوئی تخصیص ہے نہ طبقات کی اور نہ ہی مر د و عورت کی ۔ اس اعتبار سے جذبی دوسرے ترقی پسندوں سے مختلف ہیں ۔ کیونکہ مرکزی دھارے والی ترقی پسند شاعری میں عام انسانوں سے نہیں بلکہ صرف مخصوص طبقوں سے محبت اور انسیت کا اظہار ملتا ہے ۔ جذبی نے اجتماعیت میں انفرادیت کی تلاش کا گُر بھی کلاسیکی اقدار سے ہی سیکھا ہے ۔
رومانویت کا تقاضہ یہ ہے کہ شاعر اپنی بیشتر توجہ اپنی ذات پر مبذول اور صرف کر دے جو شاعر رومانویت کے متاثر ہونے کے بجائے ’’ رومانویت زدہ ‘‘ ہو جاتے ہیں ان کے یہاں فطری طور پر خود ترحمی کا جذبہ در آتا ہے ۔ خدا کا شکر ہے کہ جذبی نے کسی دور میں اور کسی بھی موڑ پر اپنے آپ کو خود ترحمی کا شکار نہیں ہونے دیا ۔ ترقی پسندی کے بارے میں صرف ایک جملے میں یہاں یہ کہہ دینا کافی ہوگا کہ اس کا بنیادی پیغام غریبوں اور مظلوموں کی حمایت اور ان کے جابرانہ استحصال کے خلاف آواز بلند کرنا تھا ۔ جذبی ؔ کے یہاں یہ تینوں رویے ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر بلکہ یوں سمجھئے کہ شیر و شکر ہو کر ایک اکائی بن گئے ہیں ۔ جذبی کی شاعری میں کلاسیکی بلوغت بھی ہے جو انھیں حیات و کا ئنات کا معروضی اور ہمدردانہ مطالعہ کرنے کی دعوت دیتی ہے ۔ احساسات کی وہ شدت بھی ہے جو رومانویت کی دین ہے اور لمحاتی نوعیت والے وہ اشعار بھی ہیں جو ان کے عصری شعور کا مظہر ہیں ، لیکن جنھیں ان کے شعری شعور اور انفرادی فکر نے عصریت سے آگے کی چیز بنا دیا ہے ۔ کسی شعوری کوشش کے بغیر اس طرح کے براہ راست ، لیکن نازک اور دلوں میں اتر جانے والے شعر کہنا جذبی کی خلاقانہ قدرت اور تکنیکی مہارت کا ثبوت ہیں :
عذابِ درد پہ نازاں ہیں اہلِ درد مگر
نشاطِ درد میسر نہیں تو کچھ بھی نہیں

یہ دل شکستہ سہی،بے نوا سہی پھر بھی
حریفِ چنگ و جوابِ رباب ہے کہ نہیں

زندگی ہے تو بہر حال بسر بھی ہو گی
شام آئی ہے تو آنے دو سحر بھی ہو گی
یہ اور ایسے بہت سے اچھے اور کامیاب شعر کہنے کے باوجود جذبی نے اپنی شہرت اور عظمت کا ڈھنڈورا نہیں پیٹا ۔یہ شعر:
مجھے کمال کا دعویٰ نہیں ہے اے جذبیؔ
کہ میں ہوں گردِ رہِ کاروانِ اہلِ کمال
وہی شاعر کہہ سکتا ہے جسے اپنے کمال کا احساس بھی ہو ، اپنے آپ پر اعتماد بھی۔ لیکن جو فن کارانہ منکسر المزاجی کا دامن بھی ہاتھ سے نہ جانے دے۔