علامہ اقبال ؔ اپنے عہد کے ایک عظیم شاعر، بلندپایہ فلسفی ، ممتازمفکراوربے مثل مدبّرہیں۔ ان کا شمارجدید اردو نظم کے اہم شعرا میں ہوتا ہے ۔ ان کی شاعری میں فکرکی وحدت بھی ہے اور بلا کی ہمہ گیری بھی ۔ اقبال کی طبیعت بچپن ہی سے شعرگوئی کی طرف مائل تھی لہٰذا سید میر حسن کی سرپرستی اور صحبت نے ان کے دل میں شعرکہنے کا شوق پیدا کیا۔ ۱۸۹۴ء میں داغ دہلوی کے حلقۂ تلامذہ میں شامل ہوئے اور۱۸۹۶ء میں انھوں نے اس رشتے کا ذکر فخر کے ساتھ کیا ہے :
مجھے بھی فخر ہے شاگردیِ داغِ سخنداں کا
ادبی دنیا میں اقبال کی شناخت ایک قدآور شاعر، ماہر فن اور عظیم فلسفی کی حیثیت سے ہے ۔ان کے فلسفہ اور فکروفن پر جس قدر اظہارِخیال کیا گیا ہے ایسی نظیر بمشکل ملے گی۔ آج بھی فکرِاقبال ،نقادوں اور دانشوروں کے لیے نہ صرف ایک اہم موضوع ہے بلکہ سرمایۂ ادب بھی ہے اور ذخیر�ۂ انمول بھی۔ اقبال اپنے فن اور فکرکے اعتبارسے تمام انسانیت کے سچے ہمدرد اور قوم وملت کے پاسبا ں تھے ۔ انھوں نے اپنی زندگی کے کئی اہم سال جرمنی میں صَرف کیے اور وہیں سے پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ چونکہ وہ شاعر تھے لہٰذا یہ فطری بات تھی کہ جرمن ادبیات ان کے اوپر اثرانداز ہوتے خصوصاً جرمن شاعری ،چنانچہ اقبال جرمن ادب سے اپنا دامن نہیں بچاسکے ۔ اہم بات یہ تھی کہ وہاں مشرقی تحریک، ادب میں ایک نمایاں مقام حاصل کرچکی تھی، حافظؔ ،سعدیؔ ، رومیؔ اوردیگرایرانی شعراکے خیالات اورادبی روایات جرمن ادبیات پر اثر انداز ہوئے اوران کی پیروی بھی ہوئی۔ بایں سبب جرمن شاعری کایہ رجحان اقبال کے لیے بالخصوص بڑاپرکشش تھا لہٰذا انھوں نے اس کا گہرائی سے مطالعہ کیا۔گوئٹے کی شاعری سے وہ سب سے زیادہ متاثر ہوئے ۔ بقول یوسف حسین خاں:
’’اقبال کو فارسی اوراردوکاجو ورثہ ملا اسے اس نے اپنے جذب دروں سے کچھ سے کچھ بنادیا اس نے زندگی کے توانا اورمتحرک تصورات کو نئے قالب میں ڈھال کراپنی شاعری کی صورت گری کی۔ وہ فارسی اوراردو کی روایات کے علاوہ مغربی علم وحکمت سے بھی متاثرہوا ۔چونکہ اس کاذہن فعّال اورتخلیقی تھا،اس نے مغربی افکارپرمشرقی روحانیت کاغازہ بڑی چابک دستی سے مل دیا۔اس طرح اس نے جو مرکب بنایااس میں چونکہ خود اس کے خونِ جگرکی آمیزش تھی اس لیے ہم اسے اس کی مخصوص روحانی تخلیق کہہ سکتے ہیں۔‘‘(اقبال کافن :یوسف حسین خاں،ص ۲۵۔۲۶)
علامہ اقبال ؔ ایک پیامی شاعرہیں وہ بھٹکے ہوئے راہی کو اس کی منزل کاپتہ دیناچاہتے ہیں یہی سبب ہے کہ انہوں نے فنِ شاعری کو وسیلۂ اظہار بنایا۔ اقبالؔ نے اپنے دل کی آواز کوزیادہ اہمیت دی اوراسے اپنی شاعری کے ذریعے بروئے کار لاتے ہوئے اپنی قوم کو جھنجھوڑنے کا کام کیاہے اور درسِ عمل کا پیغام بھی دیاہے۔ انھوں نے شاعری کومحض حصولِ مسرت کاذریعہ نہیں سمجھابلکہ زندگی کو بہتربنانے اورسنوارنے کا وسیلہ بھی قرار دیا ہے۔رجائیت اقبال کی شاعری کا ایک اہم پہلوہے لہٰذا امید کا دامن اپنے ہاتھ سے کبھی نہیں چھوڑتے اورنہ ہی مایوس ہوتے ہیں۔ اردو شعروادب میں اپنی فنی بصیرت سے جو جواہر ریزے بخشے ہیں ان میں ان کی نظموں کا اہم حصہ ہے۔ ان کی نمائندہ نظموں میں ’’شعاعِ امید‘‘کا بھی شمار ہوتاہے جو موضوع ، ہیئت اور معنوی اعتبارسے کئی اختصاص کی حامل ہے۔اس نظم میں اقبال ؔ نے ترکیب بندہیئت کاانتخاب کیاہے اوربحر بھی مترنم استعمال کی ہے ۔لفظوں کے انتخاب و تکرار سے موسیقیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ نورالحسن نقوی ’شعاعِ امید‘ کے فنی محاسن پر روشنی ڈالتے ہوئے رقم طرازہیں :
’’فن کار شاعری کے فن میں کامل دستگاہ رکھتاہو تو اس کے قلم سے چھوکرفلسفہ وپیغام بھی مکمل شعر بن جاتاہے۔ اقبال کی نظم’’شعاعِ امید‘‘ اس کازندہ ثبوت ہے ۔ یہ ایک چھوٹی سی دل آویز نظم ہے ۔ اس کی دل کشی کا راز یہ ہے کہ رمزیت واشاریت ، احساس کی شدت ، تخیل کی بلند پروازی ، پیرایۂ بیان کی دل آویزی اوران کے سوا بھی جتنے فنی وسائل ممکن ہیں شاعرنے ان سب کو انتہائی سلیقے کے ساتھ استعمال کیاہے ، خیال کیساہی اچھوتا کیوں نہ ہوقاری کی توجہ کو صرف ایک بارجذب کرسکتاہے اورشعاعِ امیدکامرکزی خیال ایسااچھوتابھی نہیں لیکن اس نظم کوجتنی بارپڑھیے اتنی بارپہلے سے سوالطف حاصل ہوتاہے۔‘‘
(اقبال شاعرومفکر: نورالحسن نقوی ، ص :۲۳۱)
اقبال کی نظم’’ شعاعِ امید‘‘کی تجزیاتی قرأت کے ذریعے اس کے اصل فکری سرچشموں تک رسائی کی کوشش کی جاسکتی ہے ۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ میں جس نوع کے خیالات کا اظہار کیاگیا ہے اس کا جزوی اظہار ان کی دوسری نظموں جیسے ’’ساقی نامہ ‘‘ اور ’’شاہین‘‘ وغیرہ میں بھی موجود ہے۔ البتہ ’’شعاعِ امید‘‘ کا کینوس زیادہ وسیع، متنوع اورہمہ گیرہونے کے ساتھ ساتھ حیات بخش بھی ہے ۔تکنیک کا تنوع بھی اس نظم میں جابجا نظر آتاہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘میں اقبال نے جن کرداروں کو اپنے پیام کا وسیلہ بنایا ہے ان میں سب سے اہم کردار ایک شوخ اورسیماب صفت کرن ہے۔ اقبال نے سورج اوراس کی شعاعوں کی زبان سے جو پیغام ادا کرایا ہے وہ اچھوتا اور لا فانی ہے۔ ’’شعاعِ امید ‘‘ ایک اہم موضوع ہے اقبال سے پہلے بھی شعرانے اس موضوع کو برتاہے۔اقبال کا اختصاص یہ ہے کہ ان کی نظم میں استعارے اور تشبیہیں حسب حال اور توانا ہیں۔اس نظم میں کل تین بند ہیں ، پہلااوردوسرا بندچار چار اشعار اور تیسرا بند نو اشعار پر مشتمل ہے۔ ’’شعاعِ امید‘‘ شاعرکاپیامِ امید ہے جس میں تمثیلی پیرایۂ اظہار اختیار کیا گیا ہے۔
سورج دنیا کے عجیب وغریب چکر کو دیکھ کر اب مایوس ہوچکاہے وہ دنیا میں جتنا زیادہ اجالا پھیلانے کی کوشش کرتاہے اس کا اندھیرا اتناہی بڑھتاجارہا ہے۔ وہ اپنی شعاعوں سے مخاطب ہے کہ ایک زمانے سے تم گردآلود فضاؤں میں دنیا کو منور کرنے کی خاطر اپنا گھربار چھوڑ کر دربدر کی ٹھوکریں کھاتی پھررہی ہو، تمھاری کوششیں سب بے سود ہیں ۔نہ ریت کے ذروں میں پہلی سی چمک ہے اورنہ گل ولالہ میں پہلی سی دل آویزی وکشش باقی ہے۔ آخر کار سورج ناامید ہوکراپنی شعاعوں کو حکم دیتا ہے کہ اس تاریک دنیا کے ویرانے درو بام سے لوٹ آؤ اور پھرسے میرے پرنور سینے میں سماجاؤ۔
سورج نے دیا اپنی شعاعوں کو یہ پیغام
دنیاہے عجب چیز! کبھی صبح، کبھی شام
مدت سے تم آوارہ ہوپہنائے فضا میں
بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بے مہریِ ایام
نے ریت کے ذروں پہ چمکنے میں ہے راحت
نے مثلِ صبا طوفِ گل و لالہ میں آرام
پھر میرے تجلّی کدۂ دل میں سماجاؤ
چھوڑو چمنستان و بیابان و در و بام
دوسرے بند میں شعاعیں سورج کے حکم کوبجالاتی ہیں اور دنیا کوچھوڑ کر اپنے بچھڑے ہوئے آقاسے ہم آغوش ہوجاتی ہیں۔تمام شعاعیں یک زبان ہوکرمغرب ومشرق کی شکایت کرتی ہیں اورکہتی ہیں کہ مغرب میں اجالاممکن نہیں کیونکہ مشینوں کے دھوئیں یعنی صنعت کاری اورمادہ پرستی سے ان کے دل مردہ اورزنگ آلود ہوچکے ہیں ۔ مشرقی ممالک پر بھی اس کے اثرات صاف نظرآرہے ہیں، مشرقی قوم بھی فرنگیوں کے طرح بے عملی اوربے راہ روی کاشکار ہے جس سے ان کے اندر مایوسی کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔مغربی اور مشرقی عوام کے حالات اور کردارسے بیزار شعاعیں سورج سے کہتی ہیں کہ اب ہمارا دنیا میں چمکنا بے سود اور بے معنی ہے، لہٰذا ہمیں اپنے پاس بلالو اور اپنے سینے میں چھپالو۔
آفاق کے ہرگوشے سے اٹھتی ہیں شعاعیں
بچھڑے ہوئے خورشید سے ہوتی ہیں ہم آغوش
اک شورہے مغر ب میں اجالا نہیں ممکن
افرنگ مشینوں کے دھوئیں سے ہے سیہ پوش
مشرق نہیں گو لذتِ نظارہ سے محروم
لیکن صفتِ عالمِ لاہوت ہے خاموش
پھرہم کواسی سینۂ روشن میں چھپالے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش
تیسرے بند میں شاعرنے ایک ایسی شوخ کرن کا ذکر کیاہے جو سورج کے پاس لوٹنا نہیں چاہتی۔امید کی یہ شوخ کرن ابھی مایوس نہیں ہے اور وہ آرام کرنابھی نہیں جانتی ہے، وہ چاہتی ہے کہ اسے اپنی ذمے داری پوری کرنے کاموقع دیاجائے۔ ساری کرنیں ناامید و نامراد ہوکر اپنے مرکزکی طرف لوٹ جاتی ہیں مگریہ شوخ کرن اپنے ہاتھوں سے امید کا دامن نہیں چھوڑتی ۔ وہ مشرقی ممالک خصوصاً ہندوستان کو اپنے نور سے منور کرنا چاہتی ہے ۔یہ شوخ کرن کوئی اور نہیں خود علامہ اقبال کی ذات ہے۔ علامہ اقبال شاعری کے ذریعے اپنی قوم کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنا چاہتے ہیں ۔چنانچہ یہ شوخ کرن سرزمینِ ہند کو کسی صورت میں چھوڑنے کو تیار نہیں ، وہ ہندوستان کی تاریک فضاؤں کوروشن اور گہری نیند سوئے ہوئے ہندوستانیوں کو بیدار کرنے کاعزم کرتی ہے۔اس کے بعد ’’شعاعِ امید‘‘ خاکِ ہند کی عظمت کا ذکر کرتی ہے اور اپنی امیدوں کا مرکز قرار دیتی ہے۔ یہی وہ سرزمین ہے جسے اقبال نے اپنے آنسوؤں سے سیراب کیاہے ،اسی خاکِ ہند نے چاندستاروں کوروشنی بخشی ہے اور یہاں کے کنکرپتھر، موتیوں سے بیش قیمت ہیں ۔ اس سرزمین پربڑے بڑے شاعر، علما اور مفکرین نے جنم لیاہے، مگراب یہاں خاموشی ہے ، یہ خاموشی اس بات کو عیاں کرتی ہے کہ ہندوستانی قوم ہندو اور مسلمان دونوں ہی خوابِ غفلت کا شکار ہیں ۔ برہمن بت خانے کے دروازے پر سورہا ہے اور مسلمان اپنی تقدیراور قسمت پر آنسو بہارہا ہے۔یہاں یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ علامہ اقبالؔ نے صرف ہندوؤں اور مسلمانوں کو ہی مخاطب کیاہے د راصل انھوں نے ساری انسانیت کو مخاطب کیا ہے اور قومیت و وطن کے نام پر انسانیت کو تقسیم کرنے کی مخالفت کی ہے ۔ آخری شعر میں شاعر سورج کی شوخ کرن کی زبان سے یہ پیغام دیتا ہے کہ مشرق اور مغرب میں کوئی امتیاز نہیں ، فطرت یہاں کی تاریکی ختم کرکے ساری دنیا میں روشنی پھیلاناچاہتی ہے، یعنی دنیاکے تمام آلام ومصائب اورہرطرح کی خرابیوں کودور کرکے خوشیاں بھردیناچاہتی ہے۔
اک شوخ کرن ، شوخ مثالِ نگہ حور
آرام سے فارغ صفتِ جوہرِ سیماب
بولی کہ مجھے رخصتِ تنویر عطا ہو
جب تک نہ ہومشرق کاہراک ذرہ جہاں تاب
چھوڑوں گی نہ میں ہند کی تاریک فضاکو
جب تک نہ اٹھیں خواب سے مردانِ گراں خواب
خاور کی امیدوں کا یہی خاک ہے مرکز
اقبالؔ کے اشکوں سے یہ خاک ہے سیراب
چشم مہ و پرویں ہے اسی خاک سے روشن
یہ خاک کہ ہے جس کا خزف ریزہ در ناب
اس خاک سے اٹھے ہیں وہ غواصِ معانی
جن کے لیے ہربحرِ پر آشوب ہے پایاب
جس سازکے نغموں سے حرارت تھی دلوں میں
محفل کا وہی سازہے بیگانۂ مضراب
بت خانے کے دروازے پہ سوتا ہے برہمن
تقدیر کو روتا ہے مسلماں تہ محراب
مشرق سے ہو بیزار، نہ مغرب سے حذرکر
فطرت کا اشارہ ہے کہ ہر شب کو سحر کر
علامہ اقبال اپنی نظم’’شعاعِ امید ‘‘ کے ذریعہ اپنی قوم وملت کو اس امر کی جانب راغب کرناچاہتے ہیں کہ انسان کو کبھی ناامید اور مایوس نہیں ہوناچاہیئے کیونکہ مذہب اسلام میں ناامیدی کفر ہے اورانسان جیسی امید رکھتاہے اسی کے مطابق فیصلے بھی صادرہوتے ہیں ۔ اقبال گہری بصیرت کے مالک تھے ، ان کے فکروعمل کا کوئی گوشہ مخفی نہ تھا، انھوں نے بڑی جرأت کے ساتھ اسلامی تصوف کی ترجمانی کی اورمغربی تہذیب کی خرابیوں اوراس کے انجام کی نشان دہی بھی کی۔
’’شعاعِ امید ‘‘ اقبال کی ایک مشہور نظم ہے ۔اس نظم کو اگر ہم اقبال کا فنی اور فکری شاہکار کہیں توبے جانہ ہوگا۔ اس میں اقبال بحیثیت شاعر، فنکار اور مفکر اپنے فن کے عروج پر ہیں۔یہ نظم تصویرکشی ، منظرنگاری ، محاکات اور وطن پرستی کے گہرے جذبات سے نہ صرف معمور ہے بلکہ اس میں شاعر کی قادرالکلامی ، فن پر کامل دستگاہ ، جزئیات نگاری پر فنکارانہ دسترس اوراس کے دل وروح کے سوزوگدازبھی اجاگر ہوئے ہیں۔اس لحاظ سے اگر غورکریں تو اس نظم میں میرانیسؔ جیسی منظرنگاری بھی ہے ، میرؔ جیسی جذبات نگاری بھی اور غالبؔ جیسی معنی آفرینی بھی۔ان پہلوؤں کے پیش نظر اگر ہم اقبال کے کلام کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ ان کے یہاں استاذشعرا کی تمام خوبیاں یک جا ہوگئی ہیں ۔
ناقدین ادب نے علامہ اقبال کی نظم ’’شعاعِ امید‘‘کی نہ صرف سراہناکی ہیں بلکہ اس کے مختلف اجزا اور اس کی خصوصیات کی وضاحت بھی کی ہیں ۔ کلیم الدین احمد اقبال کی شاعری کے زیادہ قائل نہی مگر انہیں بھی اعتراف ہے کہ’’ شعاعِ امید‘‘ ایک کامیاب تخلیقی تجربہ ہے ۔ نظم کی تعریف کرتے ہوئے لکھاہے:
’’کیسی حسین وپاکیزہ نظم ہے ! یہاں ارتقائے خیال ہے ، اشعار میں ربط وتسلسل ہے ۔ خیالات میں ابتدا ، عروج اور پھر انتہا بھی ہے ۔ یہ صحیح معنوں میں نظم ہے ، غزل نے نظم کابھیس نہیں بدلاہے ۔ خیالات میں تخیل کارنگ ہے ، طرزِ ادا سادہ اور پاکیزہ ہے ۔ باربار پڑھنے سے اس کی دل کشی میں کمی نہیں ، اضافہ ہوتاہے ۔ کاش اقبال اس قسم کی نظمیں اور لکھتے۔‘‘(بحوالہ: اقبال شاعرومفکر، ص ۲۳۹)
اقبال کی نظم’شعاعِ امید ‘‘کاشمار ان کی بہترین نظموں میں ہوتاہے ۔ اس کے الفاظ اور آہنگ نے اسے ایسا دلکش بنا دیاہے کہ باربار پڑھنے کو جی چاہتا ہے ۔نظم کا ربط وتسلسل شروع سے آخر تک برقرار رہتا ہے اور اشعار صوری اورمعنوی ہر دو اعتبارسے آپس میں اس طرح مربوط وپیوست ہیں کہ ذرابھی اِدھراُدھرکرنے کی گنجائش نہیں پائی جاتی ۔ روانی اورسلاست ایسی کہ اکثراشعار فوراً یاد ہوجاتے ہیں۔ ایسامعلوم ہوتاہے کہ سورج اور اس کی شعاعوں کی گفتگو بالکل فطری ہے ۔سادگی، جوش،اصلیت اورنغمگی ایسی کہ کوئی پڑھے تو خود بخود گنگنانے لگے۔
***
ڈاکٹر محمد زبیر نے ممبئی میں اردو تحقیق کے موضوع پر پی ایچ ڈی کی ہے۔ نوجوان لکھنے والوں میں توجہ سے پڑھے جاتے ہیں۔
Allama Iqbal ki Nazm “Shua E Ummed” Aik Mutala by Dr. Mohd. Zubair
Articles
علامہ اقبال ؔ کی نظم’’شعاعِ امید ‘‘
ڈاکٹرمحمد زبیر
Iqbal Aur Nawjawan by Dr. Zakir Khan Zakir
Articles
اقبال اور نوجوان
ڈاکٹر ذاکر خان
حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ اقبال کی شاعری میں اپنے مزاج کے مطابق پہلو تراش کر ان کے فلسفے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں۔
یوں توعلامہ اقبال نے ہر عمر کے شخص کو اپنی شخصیت اور شاعری کا اسیر بنایا ہے لیکن خودی، تلقینِ حرکت و عمل، خیالِ شاہین و عقاب اور طائرِ لاہوتی جیسی اصطلاحیں بطورِ خاص نوجوانوں کے لیے استعمال کی ہیں۔
اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932، میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ
“میں ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں خواتین اور لڑکوں کے ثقافتی ادارے تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں جن کا سیاست سے تعلق نہ ہو”
ان کا بڑا مقصد نوجوانوں کی خوابیدہ روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ اسلام نے انسانی ثقافتی اور مذہبی تاریخ میں کیا کارنامے انجام دیے اور مستقبل میں مزید کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے زورِ بازو پر انحصار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی راہیں خود طے کریں ۔ نوجوانوں کی تن آسانی، عیش و عشرت، مغرب کی اندھی تقلید انہیں کچوکے لگاتی رہتی تھی۔ مغربیت کے بڑھتے اثرات کا اندازہ اقبال بہت پہلے ہی لگا چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوانوں میں خودی بیدار کرنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ جان لیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جزو ہے۔ ان کہ یہاں ، یاس و حسرت، محرومی و ناامیدی اور بزدلی و کم ہمتی کا کوئی وجود نہیں۔ وہ یقیں محکم، عمل پیہم ، ثابت قدمی، اولعزمی، بلند حوصلگی، بلند پروازی پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی نظم “ایک نوجوان کے نام”میں وہ کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اوصاف کو اور اپنی خودی کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اس کی مکمل نشو نما بھی کرتے رہیں ۔ لفظ خودی سے اقبال کی مراد تکبر یا غرور نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں خودی نام ہے احساس کی بیداری کا، جذبۂ خودداری کا، اپنی ذات و صفات کے ادراک کا، عرفانِ نفس کا، خود شناسی کا، خود بینی کا، خود آگاہی کا خدا آگاہی کا، اور لا الہ الا اللہ کے راز۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید خودی کی تلوار کو آب دار بناتی ہے اور خودی توحید کی محافظ ہے۔ نظم ساقی نامہ میں اقبال فرماتے ہیں کہ
یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئ کائنات
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند
اندھیرے اجالے میں ہے تابناک
من و تو میں پیدا من و تو سے پاک
اسی نظم میں اقبال نیرنگئ زمانہ میں الجھے ہوئے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں یہاں کی ہر چیز فانی ہے ثبات صرف خدا کی ذات کو ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری جانیں ہیں۔ دنیاوی زندگی ،دائمی زندگی کے لیے صرف اور صرف ایک تربیت گاہ ہے۔یہ ہماری منزل نہیں بلکہ خودی تک پہنچنے اور اس سے روشناس ہونے کا ایک ذریعہ ہے ۔ اقبال کے مطابق دنیاوی زندگی وہ فرصت ہے جس میں خودی کو عمل کے لا انتہا مواقع میسر آتے ہیں۔ اس میں موت اس کا پہلا امتحان ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اسے اپنے اعمال و افعال کی شیرازہ بندی میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ لہذا خودی کی فنا اور بقا کا انحصار عمل پر موقوف ہے۔ خودی کو باقی رکھنے کے بعد ہی بلاامتیاز ہم من و تو کا احترام کر سکیں گے کیوں کہ بقائے دوام کے حصول کا انحصار ہماری مسلسل جدو جہد پر ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں
خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں
بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر
طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر
علامہ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان خودی کے راز کو پاکر مثلِ شاہین اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔انقلاب آفرین ہستی وہ ہوتی ہے جو زمانے کو نئی سوچ دے ، پرانے الفاظ اور خیالات کو مفاہیم کے نئے جہان عطا کرے۔ اقبال سے قبل بھی ہمیں دیگر زبانوں کے شعری سرمائے میں مختلف پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے پرندے کا انتخاب کیا جو آسمانوں پر نظریں رکھنے کے باوجود اپنے اندر درویشی کی صفت رکھتا ہے۔اقبال کے یہاں شاہین وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے یہاں بلبل اور شیلے کے یہاں سکائی لارک کی ہے۔ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سب سے بھی بالاتر ہے۔ اقبال جمال سے زیادہ جلال پسند کرتے ہیں۔ انہیں ایسے پرندوں میں کوئی دلچسپی نہیں جو صرف جمالیاتی اہمیت رکھتے ہوں یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہوں۔آپ کے یہاں شاہین ایک مسلم نوجوان کی علامت ہے۔اس لیے وہ نوجوانوں کو اس شاہین کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جو کبھی مردار نہیں کھاتا۔ انہیں ایک ایسے شاہین کی تلاش ہے جو بلند پروازہو۔ ایک ایسا شاہین جو کبھی باز ، کبھی عقاب، کبھی طائرِ لاہوتی بن آسمان کی وسعتوں کو مسخر کردے۔ایک ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے۔ ایک ایسا شاہین جو مشرق سے مغرب تک آسمانوں پر اپنی بادشاہت قائم کردے۔ ایک ایسا شاہین جو اپنے لیے جہانِ تازہ تلاش کرے، افکارِ تازہ کی نمو کرے۔
اقبال کے نزدیک شاہین کے علاوہ کوئی پرندہ نوجوانوں کے لیے قابلِ تقلید نہیں ہے۔ بالِ جبرئیل کی نظم ” شاہین” میں اقبال یو ں گویا ہوتے ہیں کہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہوں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کا یہ کارنامہ یقیناً یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ایک ایسے انسان یا نوجوان کا آئیڈیل ہمارے سامنے پیش کیا جو بقول ظ انصاری مستقبل کی ترقی یافتہ دنیا بنانے اور سجانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایسے ہی نوجوان کو اقبال نے کہیں شاہین، کہیں طائرِ لاہوتی، کہیں مردِ مومن اور کہیں ایسا مسلمان کہا ہے جس کی خودی صورتِ فولاد ہے۔ جو بیک وقت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی۔ اسی نوجوان کو حرکت و عمل کا درس دے کر اقبال برسہا برس کے سکوت، جمود اور خاموشی کو توڑنا چاہتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو مغرب اور مغرب زدہ تہذیب سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ حرکت و عمل کے ذریعے صدیوں کی زخم خوردہ انسانیت کے تنِ مردہ میں روح پھونکنا چاہتے تھے۔وہ عوام الناس کو ظلمت و الحاد کے گڑھوں سے اوپر اٹھا کر ان کے ہاتھوں میں ایمان و یقین کی مشعلیں دینا چاہتے تھے۔ اقبال کے نزدیک کائنات اپنے ہونے کا اظہار مسلسل تبدیلیوں کی صورت میں کرتی ہے۔ یہاں کسی شے، کسی منظر، کسی احساس، کسی قوم اور کسی بھی معاشرتی صورت حال کو قرار نہیں ہے۔ وہ ’’مرغ و ماہی ‘‘ ہوں یا ’’ ماہ و انجم‘‘ یہاں کی ہر شے’’ راہی‘‘ اور ہر چیز’’ مسافر‘‘ ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کا بیشتر حصہ حرکت و تغیر کی اصلیت کو واضح کرتا ہے۔ وہ کائنات کے اصول یعنی حرکت و تغیر کو نوجوانوں کے حق میں ہمیشہ نیک شگون قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حرکت زندگی کی پہچان اور سکون یا جمود موت کی شناخت ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے روائتی انداز فکر میں بھی حرکت کو برکت کہا جاتا ہے۔ علامہ نے اس نکتے کی وضاحت بڑے موثر اور بھر پور انداز سے کی ہے۔ مثلاً وہ خضر کی زبانی بندہ مزدور کو یہ پیغام دلواتے ہیں۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اس شعر میں علامہ بزم جہاں کے نئے انداز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نیا انداز وہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں جو ہمارے اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں۔ علامہ ہمیں ان حالات کا صحیح شعور اوروقوف پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال اس دنیاوی زندگی کو مکمل حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔وہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نوجوان کے اپنے عمل میں مضمر امکانات کو بروئے کار لانے پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔ اقبال اپنی تمام تر امنگیں اور آرزوئیں نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے طبقے کو ہدف بناتے ہیں جس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ اقبال کا نوجوان مصلحتوں کے دائرے میں زندگی گزارنے کو غلامی تصور کرتا ہے،بقول اقبال
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
علامہ اقبال کی شاعری ،ان کا فلسفہ اور اس میں پوشیدہ رموز آج نہ صرف اہلِ اردو یا اہلِ مشرق کے لیے مینارۂ نور ہیں بلکہ دنیا بھر میں دیگر زبانوں کی یونیورسٹیاں بھی اقبال کے فن سے فیضیاب ہو رہی ہیں۔ اقبال کسی ایک خطے ،کسی ایک علاقے یا کسی ایک سرزمین کے شاعر نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت آفاقی ہے کائناتی ہے۔ شاعرِ مشرق جیسا خطاب بھی اقبال کے بہت معمولی نظر آتا ہے کیوں کہ وہ تو شاعرِ ہستی ہیں، شاعرِ گیتی ہیں۔
***
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نوجوان شاعر، مترجم اور ابھرتے ہوئے نقاد اور نور الاسلام ہائی جونیئر کالج ، گوونڈی میں انگریزی کے استاد ہیں۔
Allama Iqbal ki Aalmi Maqboliat by Dr. Syed Ahmad Qadri
Articles
علّامہ اقبالؔ کی عالمی مقبولیت از ڈاکٹر سید احمد قادری
ڈاکٹر سید احمد قادری

اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اقبالؔ کی شخصیت اور ان کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کی بڑی بڑی ہستیوں مثلاً جسٹس امیر علی ، شمس العلماء مولوی سید علی بلگرامی ، سر شیخ عبدالقادر ، مولانا غلام رسول مہر ، نواب بھوپال حمید اللہ خاں ، سیٹھ محمد جمال ، سر محمد اسمٰعیل ، مہاراجہ کشن پرشاد ، سر اکبر حیدری ، نظام حیدر آباد، ڈاکٹر عبداللہ چغتائی ، سر سید احمد خاں کے پوتے سر راس مسعود ، سر سکندر حیات ، لالہ لالجپت رائے ، ڈاکٹر لمعہ حیدر آبادی ،ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب ، سرندر سنگھ مجیٹھا ، منوہر لال چودھری ، سر چھوٹو رام ، میاں عبدالحی ، جسٹس عبدالرشید ، جسٹس دین محمد، جسٹس بخشی ، ٹیک چند ، جے ڈی پینی ، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس ، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جناح ، مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو وغیرہ نے اقبالؔ کی عظمت کا صدق دل سے اعتراف کیا ہے ۔اس بات پر ان تمام حضرات کو فخر تھا کہ اقبال ؔ بھی ان کی طرح ہندوستانی ہیں ۔ اقبالؔ کی قدرومنزلت کا اندازہ ان کے انتقال کے بعد چند تعزیتی پیغامات سے بھی ہوتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں۔
رابندر ناتھ ٹیگور لکھتے ہیں:
’’ ہمارے ادب میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کے پُر ہونے میں ایک جان لیوا زخم مندمل ہونے کی مانند بہت عرصہ لگے گا ۔ ہندوستان جس کی آج دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے ایسے شاعر کی وفات سے اور بھی قلّاش ہوگیا ہے جس کی شاعری عالمگیر اور آفاقی شہرت کی حامل تھی۔‘‘مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
’’ یہ سوچ کے ناقابل بیان صدمہ دل پہ گزرتا ہے کہ اب اقبال ؔہم میں موجود نہیں رہے ۔جدید ہندوستان اردو کا ان سے بڑا شاعر پیدا نہیں کر سکے گا ۔ ان کی فارسی شاعری بھی جدید فارسی ادب میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔ ان کی وفات سے تنہا ہندوستان کو نہیں بلکہ پورے مشرق کو نقصان پہونچا ہے ، ذاتی طور پر مجھے اس بات کا انتہائی قلق ہے کہ میرا ایک دیرینہ دوست مجھ سے بچھڑ گیا۔‘‘نیتا جی سبھاش چندر بوس نے کہا تھا :
’’ سر محمد اقبالؔ کی رحلت کے یہ معنی ہیں کہ ہندوستانی ادب کے آسمان پر جو ستارے روشن تھے ان میں سے درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا ۔ صف اوّل کے شاعر اور نقاد ہونے کے علاوہ سر محمد اقبالؔ ایک منفرد کردار کے بھی حامل تھے ۔ ان کی رحلت سے ہم سب کو جو عظیم نقصان پہونچا ہے اسے شدت کے ساتھ سارے ملک میں محسوس کیا جائے گا۔
محمد علی جناح نے اقبالؔ کی عظمت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا تھا :
’’اگر میں ہندوستان میں اسلامی حکومت کو قائم ہوتا دیکھنے کے لئے زندہ ر ہوں اور اس وقت مجھ سے کہا جائے کہ ایک طرف اس اسلامی حکومت کے رئیس اعلیٰ کا عہدہ ہے اور دوسری طرف اقبالؔ کی تصنیفات تو میں تصنیفات کو ترجیح دوں گا۔‘‘مہاتما گاندھی لکھتے ہیں:
’’ ڈاکٹر اقبال کے بارے میں کیا لکھوں ۔میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب ان کی مشہور نظم ’’ ہندوستان ہمارا ‘‘ پڑھی تو میرا دل بھر آیا۔ بڑودہ جیل میں تو سینکڑوں بار اس نظم کو گایا ہوگا ۔ اس نظم کے الفاظ مجھے بہت ہی میٹھے لگے اور یہ خط لکھتا ہوں تب بھی وہ نظم میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔‘‘
یہ غیر منقسم ہندوستان کی چند اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات کے اقتباسات ہیں ۔ ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہہ کر در گزر کردیں کہ ہندوستانیوں کو ہندوستانی شاعر سے انسیت و محبت تو ہوگی ہی ۔ لیکن میں اس سے قبل بھی عرض کرچکا ہوں کہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف دنیا کے بہت سارے ممالک نے کیا ہے ۔ ان میں ازہر یونیورسیٹی قاہرہ کے شیخ الجامعہ ، مصر کے ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل ، محمد علی پاشا ، شہزادہ ولی عہد مانگرول ، روم کے ڈاکٹر اسکارپا پروفیسر جنٹلی ، ڈاکٹر نکلسن، مسولینی ، اٹلی کے پرنس کیتانی بیرن ، فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی ، پیرس کے میگ نون برگساں ، اسپین کے پروفیسر آسین ، افغانستان کے نادر شاہ سردار صلاح الدین سلجوقی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان حضرات اور ان کے علاوہ دیگر عالموں ، مدبروں ، فلسفیوں ، مفکروں ، شاعروں ، ادیبوں اور ناقدین نے وقتاً فوقتاً اقبالؔ کی پر بہار شخصیت اور ان کی پُر اثر شاعری سے متاثر ہوکر اس کا اعتراف صدق دل سے کیا ہے ۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں کے خیالات اس طرح ہیں ۔ اقبالؔ کے فلسفہ کے استاد پروفیسر تھامس آرنلڈ فرماتے ہیں:
’’ایسا شاگرد استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا سکتا ہے۔‘‘ روم کے ڈاکٹر اسکارپا کہتے ہیں:
’’ایسے اچھوتے نادر اور پُر از حقائق خیالات کا آدمی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
اقبالؔ جب قاہرہ پہونچے تو ان کے قیام کے دوران مصر کے مشہور بزرگ سید محمد قاضی ابوالعزائم اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ان سے ملنے آئے ، اس موقع پر علّامہ اقبالؔ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’ آپ نے کیوں تکلیف کی میں خود آپ کی زیارت کے لئے آپ کے پاس چلا آتا‘‘ اقبالؔ کی اس بات پر قاضی صاحب فرمانے لگے: ’’ خواجہ دوجہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ جس نے دین سے تمسک حاصل کیا ہوتو اس کی زیارت کے لیے جاؤگے تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
مسولینی نے خاص طور پر ڈاکٹر اسکارپا کے ذریعہ اقبالؔ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے اقبال نے قبول کرلیا تھا ۔ اور 27؍ نومبر1933ء کو ملاقات کے دوران اقبال کی زبان سے ایک پیغام سنا تو وہ انگشت بدنداں رہ گیااور کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اور میز پر ہاتھ پٹکتا ہوا چلّانے لگا۔
“What an excellent idea : What an excellent idea”
دنیا کے مشہور فلسفی اور مفکر ’’برگساں‘‘ نے جب اقبالؔ کی زبانی یہ حدیث سنی کہ ’’لا تسبرّالدھر انّ الدھر ھو اللہ۔‘‘(زمانے کو برا مت کہو کہ زمانہ خود خدا ہے )تو وہ جو گٹھیا کا مریض تھا اور کرسی کے بغیر اِدھراُدھر ہل ڈُل نہیں سکتا تھا ، کرسی چھوڑ کر آگے بڑھا اور علّامہ اقبال سے پوچھنے لگا:
’’کیا یہ واقعی حدیث ہے۔‘‘
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ برگساں اپنی بیماری کی وجہ کر بالکل گوشہ نشیں ہوگیا تھا اور کسی سے ملتا جلتا نہیں تھا ۔لیکن اقبال سے ملنے کے لئے ،اس نے خاص طور اہتمام کیا۔
یہ تمام باتیں ایسی ہیں ،جو علاّمہ اقبالؔ کی بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کا مظہر ہیں ۔لیکن باوجود اس کے اردو کے معروف ناقد کلیم الدین احمد کا اقبال کے متعلق یہ خیال ہے کہ_ ’’اقبال کا علمی ادب میں کوئی مقام نہیں۔‘‘
اور ان کے بعد اسی ہندوستان کے مشہور شاعر فراق ؔگورکھپوری فرماتے ہیں کہ _
’’اخلاقی یا روحانی حیثیت سے اثر انداز ہونے والی شخصیت کی فہرستوں میں بھی ڈھونڈنے سے ڈاکٹر اقبال کا نام نہیں ملے گا۔‘‘ مگر اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ’’دنیا کے بڑے بڑے شاعروں کے یہاں جو خوبیاں ہیں ، وہ اقبال کے یہاں بھی موجود ہیں ۔‘‘ لیکن کلیم الدین احمد کے اس خیال کو کہ_’’اقبال کا عالمی ادب میں کوئی مقام نہیں‘‘تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اقبال کے کلام کا عرب کے ڈاکٹر عبدالوہاب عزائم ، عراق کے امیر نورالدین ، شام کے عمیر الامیری ، مصر کے صادی شعلان، یمن کے ابین زہیری وغیرہ اپنے اپنے ملک کی ترقی یافتہ زبانوں میں ترجمہ نہیں کرتے یا پھر دنیا کی بڑی زبانوں میںاقبال پر کتابیںنہ لکھی جاتیں۔ بقول ڈاکٹر عالم خوندیری :
’’ ان کی (اقبالؔ کی) پہلی قابلِ ذکر اور معرکۃ الآراء شعری فکری تخلیق ’’اسرار خودی‘‘ منظر عام پر آئی تو اس نے اپنے دور کے سب سے زیادہ مستند اور عظیم مغربی مستشرق کو اس حد تک متاثر کیا کہ انھوں نے اس کی اشاعت کے دو برس بعد اس کا انگریزی ترجمہ شائع کردیا۔‘‘
نکلسن فرماتے ہیں :
’’ اقبالؔ صرف اپنے عصر کی آواز نہیں بلکہ اپنے دور سے آگے بھی ہیں اور ساتھ ہی اپنے زمانے میں بر سر جنگ بھی۔‘‘
اس کے بعد نکلسن کے شاگرد اور جانشیں آرتھر آربیری نے اقبالؔ کی چند شعری تخلیقات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ،جو 1947ء میں شائع ہوا اور بعد ازاں آرتھرآر بیری نے ’’رموز زبور عجم ‘‘ و ’’ شکوہ اور جواب شکوہ‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ کے انگریزی ترجمے دنیا کے سامنے پیش کئے ۔ پھر براؤن نے بھی فارسی ادب پر کتاب لکھی ۔ ’’بوزانی‘‘ نے جاوید نامہ کو اطالوی قالب میں ڈھالا ۔ اور اقبالؔ اور دانتے کا موازنہ بھی کیا ۔یورپ کی دوسری اہم زبان دلندیزی میں بھی’’جاوید نامہ‘‘ کا نثری ترجمہ MEYEVOVITCHنے کیا ۔انہوںنے اقبالؔ کے خطبات کا بھی فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا ۔MEYEVOVITCHکے علاوہ LUCECLALIDEنے بھی اقبالؔ کو روشناس کرایا ۔ اور فرانسیسی ترجمے کا پیش لفظ مشہور و ممتاز مستشرق ’’مسینون ‘‘ نے لکھا ۔
بون یونیورسیٹی کے ماہر اسلامیات پروفیسر اناماری شِمل نے اقبالؔ کی بعض تخلیقات کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا ۔اقبالؔ پر پروفیسر شِمل کی بہترین تصنیف Gabriels Wingہے۔ان زبانوں کے علاوہ مشرقی یورپ اور سوویت یونین کی زبانوں میں بھی مثلاً چیک زبان میں چیک عالم ’’یان مارک‘‘ اور روسی زبان میں روسی عالم ’’انی کیار‘‘ نے بھی اقبالؔ کی تخلیقات کا ترجمہ کیا ، یہ سارے حقائق علّامہ اقبالؔ کی عالمی شہرت ، عظمت اور مقبولیت کے واضح ثبوت ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭مضمون نگار اردو کے معروف نثر نگار ہیں۔ ان کا پتہ ۷نیو کریم گنج، گیا (بہار )انڈیا
Kalam E Iqbal Mein Aurat aur Maan by M. Aslam Ghazi
Articles
کلام اقبال میں عورت اور ماں
محمد اسلم غازی
علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔ علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔ علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کو اپنے کھوئے ہوئے مرتبہ و وقار کو حاصل کرنے کے لیے اسلام و قرآن سے مکمل وابستگی کا پیغام دیا ہے۔ یہ پیغام کہیں مجمل ہے اور کہیں مفصل۔ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مسلمانوں کی کمزوریاں اجاگر کی ہیں اور ان کے تدارک کے طریقے بتائے ہیں۔ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں میں ’’ماں‘‘ اہم ترین مرتبہ رکھتی ہے۔ چنانچہ یہ ممکن نہ تھا کہ اقبالؒ اس اہم پہلو کو نظر انداز کردیتے۔ انہوں نے امت کی زبوں حالی دور کرنے کے لیے’’امومت صالحہ‘‘ پر بہت زور دیا ہے۔ یعنی ملت کو ایسی نیک مائوں کی اشد ضرورت ہے جو نیک ، تعلیم یافتہ، باپردہ، ذمہ دار اور اپنے بچوں، خاوند اور خاندان سے محبت کرنے والی ہوں۔ ان کے مجموعہ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ میں ’’عورت‘‘ اور اس سے متعلق موضوعات پر 9؍عدد مختصر نظمیں ہیں جو ان کے اس پیغام کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کی تعلیم ضروری ہے لیکن شمع محفل بننے کی بجائے اسے ایک ذمہ دار گھریلو خاتون بننا چاہیے۔ جس کی گود میں نئی نسلیں پروان چڑھیں۔ انہوں نے خالی گود عورتوں اور بے روزگار مردوں کو مغربی تہذیب کے بد ثمرات میں شمار کیا ہے۔ ماں اور اس سے متعلق موضوع پر اقبال کے مجموعۂ کلام ’’بانگ درا‘‘میں دو نظمیں ملتی ہیں (1) ماں کا خواب (2) والدہ مرحومہ کی یاد میں۔(1) ماں کا خواب ایک ماخوذ نظم ہے جس کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ یہ کہاں سے ماخوذ ہے؟ یہ بچوں کے لیے ہے۔ اس کی زبان اتنی سادہ اور آسان ہے کہ کلام اقبال کے مشہور شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اس کی تشریح و توضیح کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ نظم بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ خصوصاً ’’مائوں‘‘ کے لیے تو اس میں بڑا سبق ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس نظم کے ذریعہ بھی ایک پیغام دیا ہے۔ اس نظم میں معٰنی کے دو پہلو ہیں: (الف) یہ اُن مائوں کے لیے ہے جو اپنے ان لڑکوں کو بھی سینے سے لگائے رکھنا چاہتی ہیں جو قرآن کی زبان میں باپ کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو پہونچ جاتے ہیں۔(سورۃ الصّٰفّٰت:آیت۱۰۲) یہ نظم بتاتی ہے کہ ایسے بچے ترقی کی دوڑ میں دوسروں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی مائوں کی بے جا محبت اور غیر ضروری احتیاط کی وجہ سے بیرونی دنیا سے ناواقف محض رہ جاتے ہیں۔ (ب) اس نظم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مائوں کو اپنے بچوں کے انتقال پر بہت رونے اور نوحہ و ماتم کرنے کی بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات نوحہ و ماتم سے منع کرتی ہیں لیکن خاموشی سے آنسو بہانے سے منع نہیں کرتیں۔ آنحضورؐ کے فرزند ابراہیمؓ صغر سنی میں وفات پاگئے تھے۔ تدفین کے وقت آپؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ کسی نے کہا ’’یا رسول اللہؐ آپ بھی رورہے ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’آنکھیں روتی ہیں لیکن دل اللہ کی مشیت پر راضی ہے۔ ‘‘ مسلمانوں میں یہ خیال عام ہے کہ میت پر نوحہ اور ماتم کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی خیال کو استعاراتی انداز میں نظم کیا ہے کہ بچے کی جدائی پر ماں کے رونے اور نوحہ و ماتم کرنے سے دوسری دنیا میں بچے کے ہاتھ میں جو چراغ ہے وہ بجھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ اعزہ یا کسی کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی نوحہ کوئی کرے اور اس کا عذاب میت کو ہو یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔ (2) نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ علامہ اقبالؒ نے اپنی والدہ کی موت سے متاثر ہوکر کہی تھی۔ اس نظم میں بھی انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اسلامی فلسفۂ موت و حیات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صبروتحمل کے اعلیٰ جذبات کی تلقین کی ہے۔ تیرہ(۱۳) بندوں پر مشتمل یہ نظم ارتقائی مراحل سے گذرتی ہے۔ پہلے بند میں کائنات کا پا بند تقدیر ہونے کی وجہ سے اس کو مجبور محض بتایا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں، کائنات کا ذرّہ ذرّہ ، آسمان، سورج، چاند ، ستارے غرض کائنات کی ہر تخلیق Programmed ہے۔ اُن کی اپنی کوئی مرضی نہیں بلکہ وہ مقدر کا لکھا پورا کرتے ہیں۔ دوسرے بند میں کہا گیا ہے کہ انسان کو جب اپنی بے بسی کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر اسے زندگی کی رعنائیاں بے کار لگتی ہیں۔ وہ تقدیر سے سمجھوتا کرلیتاہے۔ اُس کا دل پتھر ہوجاتا ہے۔ علم و حکمت اُس کی گریہ وزاری پر روک لگاتی ہیں۔ نہ حیران ہوتا ہے، نہ ہنسی آتی ہے اور نہ ہی گریہ وزاری کرتا ہے۔ تیسرے بند میں اقبالؒ اس بے بسی سے آزاد ہونے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ والدہ کی یاد نے ماضی و حال کے فاصلے ختم کر کے انہیں عہدِ طفلی تک پہنچا دیا۔ یہاں سے تدریجاً اس نظم کو کلائمیکس Climax کی طرف لے جاتے ہیں۔ ناامیدی سے امید کی طرف قاری کو اپنے ساتھ لے جانے میں اقبالؒ کو ملکہ حاصل ہے۔ چوتھے بند میں کہتے ہیں کہ میرے چرچے ہر طرف ہیں۔ میرے کلام کی قدردانی ایک عالم میں ہے۔ مگر ماں کی یاد آتے ہی یہ ساری حیثیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماں کی تربیت نے انہیں عروج بخشا۔ پانچویں بند میں ماں کی یاد میں زندگی کے مختلف ادوار تازہ ہوجاتے ہیں۔ چھٹے بند میں فرماتے ہیں کہ دنیا گویا ماتم کدہ ہے۔ موت جیسے ہوا کی طرح مسلسل بہہ رہی ہے۔زندگی اپنے اندر کس قدر آلام و مصائب لیے بیٹھی ہے غریب کا گھر ہو کہ محلات شاہی، موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ کائنات میں موت ہی موت کا دور دورہ ہے۔ ساتویں بند میں اقبال اسلام کا فلسفۂ حیات بیان کرتے ہیں۔ انسان ہمیشہ زندہ و جاوید رہتا ہے۔ موت اس کے جسم کو آتی ہے روح کو نہیں۔ ؎ جاوداں پیہم رواں ہردم جواں ہے زندگی یہ زندگی امتحان کا دور ہے جو ختم ہوجائے گا تو اس کے بعد دائمی زندگی بہرحال شروع ہوگی۔ زندگی کا انجام خاک میں مل جانا نہیں ہے۔ یہ ایسا گوہر ہے جو ٹوٹ کر بکھر نہیں جائے گا۔ آٹھویں بند میں کہتے ہیں کہ قدرت کو خود زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اُس نے ہر تخلیق میں زندگی کے تحفظ کا ذوق پیدا کردیا ہے۔ اصل میں خوب سے خوب تر کی جستجو ہے جو فطرت کو عمل فنا پر مجبور کرتی ہے۔ مٹانا، بنانا، بنا کر پھر مٹادینا اور پھر خوب تر بنانا۔ آخرت کی زندگی مکمل ترین زندگی ہوگی۔ نویں بند میں انسان کی عظمت کا بیان کرتے ہیں۔ عظیم الشان کائنات اور اجرام فلکی جن کی زندگی لامحدود ہے اور انسان کا یہ عالم ہے کہ وہ ان پر کمندیں پھینک رہا ہے۔ یہ آسمان تو انسانی آرزوئوں اور تمنائوں کے مقابلے میں صرف ایک نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے انسان کی عظمت فرشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ اصل میں انسان ہی اس کائنات کی جان ہے۔ اگر وہ نہ ہوتو زندگی کا یہ ساز بے کار ہے۔ دسویں بند میں موت پر فتح پاتی ہوئی زندگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اس مضمون کو نقطہ عروج پر لے جاتے ہیں۔ کیسے موت کے پردے سے زندگی جنم لیتی ہے؟ بیج کو زمین میں دفن کرنا گویا اس کی موت ہے مگر مٹی کے اندر بیج میں دبی ہوئی زندگی اپنے نمو کے لیے بیتاب رہتی ہے۔ جس کی فطرت میں خودنمائی اور خودافزائی ہے وہ خود کو آشکار کرکے رہے گا۔ یعنی موت تجدید زندگی ہے۔ یہ پیغام ہے بیداری و شعور کا اور ایک دوسری ابدی زندگی کا۔ گیارہویں بند میں والدہ مرحومہ کی فرقت سے ان کے دل پر کسی حد تک پھر غمگینی طاری ہوتی ہے اور موت کو لادوا کہتے ہیں۔ موت سے جو زخم لگ جاتے ہیں اُن کو وقت کے مرہم سے شفا نہیں ہوتی۔سکون کی حالت سے انسان محروم ہی رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ مضطرب رہتا ہے کیوں کہ اُس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہے۔ لیکن دل میں یہ احساس بھی رہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا نہیں ہوجاتا۔ اس لیے اسے کچھ تسلّی ہوجاتی ہے۔ بارہویں بند میں اقبال حیات دائمی کے فسلفے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر صبح طلوع ہونے والا سورج مردہ کائنات کو زندگی بخشتا ہے۔ پھول کھلتے ہیں، بلبل نغمہ سرا ہوتی ہے۔ ہر نئی صبح نئی زندگی کا پیام لے کر آتی ہے اور کائنات کو دلہن بنا دیتی ہے۔ خوشیاں ہی خوشیاں چاروں طرف ہوتی ہیں۔ اس بند میں انسان کے لیے یہ پیغام ہے کہ آئین کائنات یہی ہے کہ ہر شام کی صبح ہوتی ہے۔ توکیا انسان کے تاریک مرقد کی صبح نہیں ہوگی؟ آخری بند میں والدہ کی یاد پھر سے اقبالؒ کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے جس سے چاروں طرف کا ماحول روشن (سیمیں) ہوجاتا ہے۔ ان یادوں کو انہوں نے مختلف کیفیتوں سے تشبیہ دی ہے جیسے کعبہ میں دُعائوں کا تسلسل وغیرہ۔ آخرت کو زندگی کی اصل جولان گاہ قرار دیا ہے۔ اگر دنیا کی زندگی میں کچھ نہ کریں تو آخرت کی کھیتی میں ہمارے پلّے کوئی فصل نہیں آئے گی۔ آخر میں والدہ کی پاک و صاف زندگی کو یاد کرکے دُعائیہ شعر پر نظم کا اختتام کیا ہے۔ نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ ان کی ایک اور نظم ’’خضر راہ‘‘ کی طرح ایک موضوع کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرکے اُن کا احاطہ کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور بتدریج انسان کو مایوسی سے چھٹکارا دلا کر ایک روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔
Tare Wajood pa Jabtak na Hoo by Dr. Saleem Khan
Articles
ترے وجود پر جب تک نہ ہو نزول کتاب ۰۰۰۰
ڈاکٹر سلیم خان
علا مہ اقبال کے کچھ اشعار پڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں ان کے الہامی ہونے کا گمان گذرتا ہے مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’’سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے‘‘ تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ہے جو ان کے کانوں میں کچھ بول رہا ہے اور جو کچھ وہ سن رہے ہیں ہم سے بول رہے ہیں ۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرمایا تھا ۔میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ہاں بعض مقاصد رکھتا ہوں جن کے بیان کیلئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کرلیا ہے ۔ اس لئے ہمیں ان کی شاعری کو محض شاعری نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ وہ رازدروں کا خوبصورت اظہار ہے جس کا عالم الغیب نے انہیں محرم بنایا تھا اقبال اس رازکا پردہ کچھ اس طرح فاش کرتے ہیں کہ
میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ
کہ میں ہوں محرم ناز دورنِ مہ خانہ
اللہ بزرگ و برتر نے کائناتِ ہستی میں حضرتِ انسان کی تخلیق احسن تقویم پر کی اوردیگر مخلوقات کواس کے آگے مسخّر کردیا ۔گویا نباتات و جمادات سے لیکر چرند و پرند بلکہ ستارے اورسیارے ،سورج و چاند سبھی کو انسانوں کی خدمت پر معمور فرما دیا اور انسانوں کو ایک قلیل متاع حیات دے کر اس دنیا میں مختصر سی مدت کیلئے بھیج دیا نیزاس کے لئے مختلف حالات مقدر کر دئیے ۔ روز و شب کا نہایت انوکھانظام تشکیل فرماکراس کے بطن سے نت نئے حادثات رونما کرنے کا انتظام کیا جن سے انسان آئے دن دوچار ہوتا رہتا ہے ۔بقول اقبال
سلسلۂ روز و شب ، نقش گرِ حادثات
سلسلۂ روز و شب ، اصلِ حيات و ممات
انسانی زندگی کے اس سہانے سفر کو دلچسپ بنانے کی خاطر خالق کون ومکاں نے پیش آنے والے سارے مراحل کوطے فرما کر ان پرغیب کا پرجائے گادہ ڈال دیااور خود بھی عالمِ غیب چھپ گیا اور اپنی نشانیاں جابجابکھیر دیں جن کی مدد سے انسان ازخود اپنے مالک وآقا کی معرفت حاصل کرسکتاتھالیکن اس مہم میں آسانی کیلئے رحمٰن و رحیم نےانسانی نفس کو ہموار فرمایا اس کا تقویٰ اور فجور اس کے اندرالہام فرمادیا۔اس کو علم وعرفان کی نعمت سے سرفرازکیا اور اپنے بر گزیدہ پیغمبروں کا سلسلہ جاری فرماکر اپنے احسانات کا اتمام فرما دیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا کھیل کیوں رچایا گیا؟اقبال اس کی دو وجوہات بیان فرماتے ہیں
سلسلۂ روز و شب ، تارِ حريرِ دو رنگ
جس سے بناتي ہے ذات اپني قبائے صفات
سلسلۂ روز و شب ، سازِ ازل کي فغاں
جس سے دکھاتی ہے ذات زير وبم ممکنات
اولاًدن اوررات کےان سیاہ و سفید دھاگوںسے انسان اپنی صفات کا لباس بنتا ہے۔اُسے آزادی ہے جیسا چاہے لباس زیب تن کر لے جو صفات چاہے اختیار کر لے۔اسی کے ساتھ ساتھ اس روز و شب کی کشمکش انسانوں کو اس کے اندر پوشیدہ قوت عمل سے بھی آگاہ کرتی ہے جن کی مدد سے انسان نا ممکن کو ممکن کے سانچے میں ڈھالتا ہے اور ثقافتی و سائنسی ارتقاء پررواں دواں ہے ۔اس مرحلہ میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہےکہ آخر اس ارتقاء کی غرض و غایت کیا ہے؟
تجھ کو پرکھتا ہے يہ ، مجھ کو پرکھتا ہے يہ
سلسلۂ روز و شب ، صيرفي کائنات
اللہ رب العزت کا فرمان ہے ’ہم نے موت وحیات کو اس لئے تخلیق کیا تاکہ یہ دیکھیں تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہےـ ‘آزمائش کی خاطر یہ سب کیا گیا۔ انسانوں کو پرکھا جارہا تاکہ خود اسے اس بات کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جاسکے کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانا چاہتا ہے یا جہنم رسید کرنا چاہتا ہے۔ ہادیٔ برحق رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے ،ہر روزسارے نفوس اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں اور پھر اس سودے کے عوض کوئی اپنے آپ کو جہنم کی آ گ سے بچا لیتا ہے تو کوئی اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا دیتا ہے۔گویا انسان اپنے نفس کو بیچ کر جو مہلتِ عمل حاصل کرتا وہی اس کی متاع حیات ہے ۔
تو ہو اگر کم عيار ، ميں ہوں اگر کم عيار
موت ہےتيري برأت، موت ہے ميري برأت
اس بیش بہا خزانے کی اگر وہ ناقدری کرتا ہے اور اسے ضائع کر دیتا ہے تو گویا اپنے آپ کو مٹا دیتا ہے اور اگر اس کا بیجا استعمال کرتا ہے تب تو گویا وہ اپنے آپ کو غضب کا مستحق بنا لیتا ہے۔انسانی زندگی کودینارودرہم میں نہیں ناپا جاتا اس کا سکہ رائج الوقت کچھ اور نہیں وقت ہے اسی اکائی میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اسی کسوٹی پر اسے پرکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنے وقت کا استعمال کیسے کیا ۔اس صیرفیٔ کائنات پر اس کے فلاح و خسران کا دارومدار ہے ۔
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات ، کارِ جہاں بے ثبات!
انسانی زندگی کو عام طور پر ماضی ، حال اور مستقبل کے خانوں میں تقسیم کر کے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو ان تینوں کی سرحدیں ایک دوسرے کے اندر اس طرح پیوست ہیں کہ ان کو جدا کرنا ایک امرِ محال ہے ۔انسان دو پہیوں کی سواری ہے اس کا اٹھنے والا قدم جب زندگی کے ایک پرانےلمحے کو ماضی کے نہاں خانے میں پھینک رہا ہوتاہے اسی وقت دوسرا قدم مستقبل کے خزانے سے ایک نیا لمحہ اچک رہا ہوتا ہے ۔گویا انسان بیک وقت ماضی اور مستقبل سے نبرد آزما ہوتا ہےاور اس کے درمیان اس کا حال نہ جانے کہاں غائب ہو جاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک وقت خاص تک جاری رہتا ہے اور اسے اچانک پتہ چلتا ہےکہ اس کے مستقبل کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ماضی کا گو شوارہ بند کیا جاچکا ہے ۔وہ خدا وہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مقررہ مدت اس کے پاس اور بھی ہے لیکن اس کے بعد بھی تم شک کرتے ہو ۔ (انعام۲)
اس آیت میں دو عدد مقررہ مدت کا ذکر کیا گیا ہے جب پہلی گھڑی آن کھڑی ہوتی ہے تو انسانی زندگی کی بساط وقتی طور پر لپیٹ دی جاتی ہے ایسے میں اس کے احباب و اقارب بادلِ ناخواستہ اسے کفن میں لپیٹ کر بڑے احترام کے ساتھ قبر کے حوالے کر دیتےہیں اور اس دارِفانی میں آخری گھر کا دروازہ ایک اوروقت ِمقررہ کیلئے بند کردیا جاتا ہے اس پر تختی تو لگتی ہے لیکن قفل نہیں لگایا جاتا اس لئے کہ نہ لوٹنے کا امکان ہوتا ہے اور نہ لٹنے کا اندیشہ ۔اس کے شب وروز بے حقیقت قرار پاتے ہیں اور اس کے کارہائے نمایاں دارِ فانی میں بے معنیٰ ہو جاتے ہیں۔
تيرے شب وروز کی اور حقيقت ہے کيا
ايک زمانے کي رَو جس ميں نہ دن ہے نہ رات
گردش لیل ونہارہی کی مانند زمانے کی رفتار بھی ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی ۔اکثر و بیشتروقت کا پہیہ اس قدر سست رفتار ہوتا ہے کہ لوگوں کو گمان ہونے لگتا ہے گویا سب کچھ ٹھہرا ہوا ہے ۔لیکن پھر یہ کال چکر اچانک تیزی سے گھومنے لگتا ہے ۔افرادکی طرح اقوام کی مدت عمل بھی مقرر ہوتی ہے ان کو عطا ہونے والا غلبہ اور اقتدار بھی محدود مدّت کے لئے ہوتا ہے اور جب اس کے اختتام کاوقت آدھمکتا ہے اس میں ذرہ برابر تعجیل و تاخیر نہیں ہوتی اور دیکھتے دیکھتے اچھے اچھوں کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور وہ بے یارو مددگار بنا دئیے جاتے ہیں۔گزشتہ قوموں کے کھنڈرات کو نشانِ عبرت بنا کر پاک پروردگار نے بعدوالوںکے لئے محفوظ کر دیا ہے تاکہ لوگ ہوشیار ہو جائیں اور اپنی باغیانہ روش کی اصلاح کریں۔
اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا
نقشِ کُہن ہو کہ نَو ، منزلِ آخر فنا
ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب اس قصہ کو تمام کر دیا جائے گااور سارے نشان مٹا دئیے جائیں گے ۔ یقیناً وہ دن آ کر رہے گا جب اس جہانِ فانی کو تہس نہس کر دیا جائیگا تو کیا اس روز سب کچھ ختم ہو جائیگا ؟ جی ہاں ساری چیزیں مٹا دی جائیں گی سوائے ایک کے باقی رہ جائیگی ۔انسان کا وہ عمل جو اس نے آگے بھیجا ہوگا ۔اور اس کے بعد قائم ہونے والے دائمی جہان میں عمل ِ خیر ہی انسان کا واحد سرمایہ ہوگا وہی اس کے نجات کی واحد سبیل ہوگی بقول اقبال:
ہے مگر اس نقش ميں رنگِ ثباتِ دوام
جس کو کيا ہو کسي مردِ خدا نے تمام
علامہ اقبال کے یہ بصیرت افروزاشعار ان کی دینی بصارت کا راز کھولتےہیں حالانکہ انہیں کسی روایتی درسگاہ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا اس کے باوجودعالم الغیب و الشہادہ نےجہانِ ہستی کےسر بستہ راز ان پر آشکار کر دئیے ۔اس لئے انہوں نے زندگی کا سفر کچھ اس طرح کیا کہ ان کے داہنے ہاتھ میں ماضی کا چراغ تو تھا بائیں ہاتھ میں مستقبل کی امید ۔ لیکن قدم زمانۂ حال میں جمے ہوئے تھے ۔ ان کی نگاہ میں ایک طرف برہان ِحق پایا جاتاتھا تو دوسری جانب ان کی نظر باطل کی فتنہ سامانیوں پر ہوتی تھی ۔ وہ ایک کان سے الہامِ خوش بیان سے استفادہ کرتے تھے اور دوسرا کان مغرب کے فلسفہ پر دھرتے تھے ۔ان کا ذہن انسانیت کے دکھ درد کا مداوا تلاش کرنے میں مصروف ِ عمل ہوتا تھا اور معرفتِ خداوندی سے معمورقلب دیدارِ الٰہی کے لئے بے قرار رہتا تھا۔
اقبال کے آہنگ و بیان میں پائی جانے والی آفاقیت کی وجہ یہی فطری توازن تھا ۔وہ کبھی اپنے آپ سے خودکلام ہوتے تو کبھی اپنے رب سے ہم کلام دکھائی دیتے ہیں ۔کبھی امت کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف ہوتے تو کبھی عالم ِ انسانیت کو انجام ِبدسےخبردار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔دور حاضر کے حالات کو سمجھنے اور بدلنے کے لئے اسی نور ِ بصیرت کی ضرورت ہے ایسے میں حکیم الامت کی دعا بے ساختہ زبان پر آجاتی ہے ۔
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کر دے
Iqbal ka Aik Aham Shaeri Muharrik by Qazi Jamal Husain
Articles
اقبال کا ایک اہم شعری محرک
پروفیسر قاضی جمال حسین

اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید، رسالت اور قرآن کریم کی تعلیمات پر استوار ہے اور یہی تصور پوری دنیا میں مسلمانوں کے ملی اتحاد کا سبب ہے۔ مغرب نے قومیت اور وطن پرستی کے تصور کو ، اپنے سیاسی اغراض کے سبب ، جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کی تفریق سے وابستہ کرکے بلادِ اسلامیہ کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔علامہ اقبال کے کلام کا معتد بہ حصہ، مختلف پیرایوں میں اسی رنج کا اظہار ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک بار پھر یکجا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ اپنی شاعری اور نثری تحریروں میں علامہ اقبال نے جمہوریت، قومیت، فسطائیت اور اشتراکیت کے پردے میں چھپے ہوئے خطروں سے ملت اسلامیہ کو بار بار آگاہ کیا ہے۔ مسلم کانفرنس منعقدہ لاہور ۱۹۳۲ء کے خطبۂ صدارت میں اقبال نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ: اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید، رسالت اور قرآن کریم کی تعلیمات پر استوار ہے اور یہی تصور پوری دنیا میں مسلمانوں کے ملی اتحاد کا سبب ہے۔ مغرب نے قومیت اور وطن پرستی کے تصور کو ، اپنے سیاسی اغراض کے سبب ، جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کی تفریق سے وابستہ کرکے بلادِ اسلامیہ کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔علامہ اقبال کے کلام کا معتد بہ حصہ، مختلف پیرایوں میں اسی رنج کا اظہار ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک بار پھر یکجا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ اپنی شاعری اور نثری تحریروں میں علامہ اقبال نے جمہوریت، قومیت، فسطائیت اور اشتراکیت کے پردے میں چھپے ہوئے خطروں سے ملت اسلامیہ کو بار بار آگاہ کیا ہے۔ مسلم کانفرنس منعقدہ لاہور ۱۹۳۲ء کے خطبۂ صدارت میں اقبال نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ:
’’میں یورپ کے پیش کردہ نیشنل ازم کا مخالف ہوں اس لیے کہ مجھے اس تحریک میں ’مادیت‘ اور الحاد کے جراثیم نظر آتے ہیں اور یہ جراثیم میرے نزدیک دورِ حاضر کی انسانیت کے لیے شدید ترین خطرات کا سرچشمہ ہیں‘‘ (بحوالہ نقوش اقبال صفحہ ۲۵۳ ، ایڈیشن فروری ۲۰۰۶)
ترکی میں خلافت کے خاتمے کا ایک بڑا سبب بھی وطنیت کا یہی مغربی تصور تھا جس کی زد پر تمام ایشیائی اقوام تھیں۔ اندلس، الجزائر، طرابلس، فلسطین اور مراکش کی جو سلطنتیں ، طویل عرصہ تک مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں رفتہ رفتہ ان کی قلمرو سے نکلنے لگیں۔ اس کے اسباب جہاں مسلمانوں کی تن آسانی، خانہ جنگی اور عیش کوشی تھی وہیں ایک بڑا سبب وطنیت کا وہ نیا تصور بھی تھا جس کی بنیاد جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کے امتیاز پر تھی۔ اقبال کی شہرۂ آفاق نظم ’’خضرِ راہ‘‘ میں ’’دنیائے اسلام‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت خضر کا جواب، مغرب کے ان سیاسی حیلوںکو آشکارا کرتا ہے۔
لے گئے تثلیت کے فرزندمیراثِ خلیل
خشتِ بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز
ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے ، ہیں آج مجبور نیاز
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز
ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر
جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والاگہر
تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈکر اسلاف کاتب و جگر
اسی طرح ’’سرمایہ و محنت‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت خضر کا یہ جواب بھی توجہ طلب ہے:
ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات
کٹ مرانا داں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹواگیا نقد حیات
قومیت کے اسلامی تصور کو علامہ اقبال نے بار بار اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی تاریخ کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ عظمت رفتہ پر حسرت و یاس کے بجائے، بازیابی کا حوصلہ پیدا ہوسکے۔ اسلامی شوکت اور غلبہ کی تاریخ اقبال کی شاعری کا ایک اہم محرک ہے بلکہ خود ان کے بیان کے مطابق ان کی شاعری دراصل اسلاف کی سرگزشت سے عبارت ہے :
میں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغمیری تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی جستجو (نظم۔ ذوق و شوق)
اور یہی وجہ ہے کہ اقبال کے کلام میںان تاریخی مقامات کا ذکر نہایت جذباتی انداز میں ہوا ہے جہاں اسلامی حکومت کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ قرطبہ ، قسطنطنیہ، ترک، فلسطین ، طرابلس اور غرناطہ کو اقبال اپنے کلام میں ایک ناقابل فراموش یادگار کے طور پر جگہ دیتے ہیں۔ ان مقامات کے بیان میں اقبال نے جو پیرایہ اختیار کیا ہے اور جس طرح کی صفات(Adjectives)استعمال کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملت کے افراد میں آج کن خصوصیات کے آرزو مند ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی و تہذیبی بالادستی کا مضمون ان کے کلام میں شوکت و دبدبہ کی عجب کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ خصوصاً اندلس میں مسلمانوں کی فتوحات اور تہذیبی مظاہر کی عظمت کے پیش نظر ان کی آرزو یہ تھی کہ کاش، مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی وہی شان پھر پیدا ہوتی جو فاتح اندلس، طارق بن زیاد کی شخصیت کا امتیاز ہے، اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شہر قیروان کا وائسرائے تھا، طارق بن زیاد انھیں موسیٰ بن نصیر کا آزاد کردہ بربر غلام تھا، موسیٰ بن نصیر نے طارق کی بہادری اور عسکری تنظیم کی غیر معمولی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسے مراقش کی اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کردیا تھا۔ موسیٰ بن نصیر نے طارق کو جس وقت اسپین پر حملے کا حکم دیا، مورخین کے بیان کے مطابق اس کے پاس کل ۷ ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج تھی جس میں بربر نسل کے نو مسلم زیادہ اور عرب کم تھے۔ طارق کے پاس کل ۴ کشتیاں تھیں جن میں سوار ہوکر اسلامی فوج کئی بار میں افریقہ سے ہسپانیہ کے ساحل پر پہنچی۔ طارق کی قیادت میں اسلامی لشکر جس پہاڑی پر اترا، اس کا نام Lion’s Rockیا قلۃ الاسدتھا بعد میں اس پہاڑی کو جبل الطارق یا جبرالٹر کہا جانے لگا۔ شاہِ اندلس کو شکست فاش ہوئی۔ کہتے ہیں کہ دریا عبور کرنے کے بعد طارق نے کشتیوں کو جلادینے کا حکم دیا تھا تاکہ فوج کے دل میں واپسی کا موہوم خیال بھی باقی نہ رہے۔ جان کو بچانے کی تدابیر، دراصل احساسِ شکست کا نقطۂ آغاز ہے۔ کشتیاں جلانے کے بعد فوج سے طارق نے جو بات کہی اور جس خود اعتمادی اور اولولعزمی کا مظاہرہ کیا وہی جذبہ علامہ اقبال کی شاعری کا مرکزی حوالہ ہے۔
’’ایّھا الناس، این المفر، البحرمن ورائکم، والعدو امالکم، ولیس لکم واللہ الا الصدق والبصر‘‘(لوگو، کوئی راہِ فرار نہیں، پیچھے سمندر اور سامنے دشمن ہے۔ یہی سچائی اور صبر کا جذبہ ہی واحد راستہ ہے۔ فتح کے علاوہ زندہ بچنے کی کوئی صورت نہیں۔) ۷۱۱ء میں طارق بن زیاد کی یہ فتح صدیوں تک قائم رہنے والی، پائیدار اسلامی حکومت کا نقطۂ آغاز ہے۔
علامہ اقبال کی نظم ’’طارق کی دعا‘‘ کا سب سے زیادہ اہم اور لائق توجہ پہلو شاعر کی وہ ہم احساسی (Empathy)اور طارق کے جذبات سے شاعر کی وہ ہم آہنگی ہے جو اس نے تاریخی کردار طارق بن زیادہ سے قائم کی ہے۔ گمان میں نہیں گزرتا کہ شاعرانہ صداقت نے کس ہنر مندی سے تاریخی صداقت کی جگہ لے لی ہے۔ یہ نظم کل دس اشعار پر مشتمل ہے۔ ان دس شعروں میں حوصلہ مندی اور شوق شہادت کو مسلمانوں کا امتیاز قرار دیا گیا ہے۔ اور آخری شعر میں طارق کی زبان سے اقبال نے اپنی آرزو کا اظہار کیا ہے :
عزائم کو سینوں میں بیدار کردےنگاہِ مسلماں کو تلوار کردے
نظم کی لفظیات، اس کا صوتی آہنگ اور لہجہ قاری کی رگوں میں خون کی گردش کو تیز کردیتا ہے۔ نظم کے اشعار ہیں :
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تونے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیئت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خونِ عرب سے
دریا عبور کرنے کے بعد، طارق نے کشتیوں کے جلا ڈالنے کا جو بے مثال تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا، اسے علامہ اقبال کے شاعرانہ تخیل نے ایک اور موقع پر نہایت ڈرامائی انداز میں پیش کیا ہے۔ فتح مندی اور غلبہ کے یقین سے سرشار، طارق کا یہ اقدام ، علامہ اقبال کے فکری نظام سے اس درجہ ہم آہنگ ہے کہ اقبال اس واقعہ میںشامل مرد مومن کی تصویر دیکھتے ہیں۔ علامہ اقبال، انسانوں کے خود ساختہ جغرافیائی حدود کو توڑ کر، پورے عالم کو اس مثال مردِ مومن کی مملکت تصور کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو کہ طارق بن زیاد کے پردے میں ، خود علامہ اقبال کی رگوں میں، خون کی رفتار کس قدر تیز ہوگئی ہے:
طارق چوں بر کنارۂ اندلس سفینہ سوخت
گفتند کارِ توبہ نگاہِ خرد خطا ست
خندید ودست خویش بہ شمشیر مرد و گفت
ہر ملک ملکِ ماست، کم ملک خدائے ماست
طارق کے لبوں پر نمودار ہونے والے اس خفیف سے تبسم میں، اعتماد، عزم اور یقین کی جو سرشاری نظر آتی ہے یہی اقبال کی شاعری کا بنیادی سروکار ہے۔ اسے اقبال نے مختلف پیرایوں میں باربار بیان کیا ہے :
درویش خدامست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
علامہ کے سفر اندلس کی تقریب یہ تھی تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے علامہ اقبال کو انگلستان جانا تھا، یہ کانفرنس ۱۷؍نومبر ۱۹۳۲ء کو شروع ہونے والی تھی لیکن اقبال کانفرنس سے ایک ماہ قبل ۱۷؍اکتوبر کو ہی لاہور سے روانہ ہوگئے، ان کا خیال تھا کہ کانفرنس سے پہلے یورپ کے بعض علمی مراکز میں چند دنوں قیام کریں گے۔ گول میز کانفرنس سے فارغ ہوکر اقبال پہلے فرانس اور پھر ہسپانیہ گئے۔ وہاں انھوں نے میڈرڈ یونیورسٹی میں ’’ہسپانیہ اور عالم انسان کے ذہنی ارتقا‘‘ کے موضوع پر لکچر بھی دیا۔ یہاں ان کی ملاقات پروفیسر اسیں(Prof. Miguel Asin) مصنف ’’ڈیوائن کمیڈی اور اسلام‘‘ سے بھی ہوئی۔ جس نے اطالوی شاعر دانتے کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ڈیوائن کمیڈی‘‘ پر آنحضرت کے سفر معراج سے متعلق احادیث کے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ ہسپانیہ سے اقبال اٹلی تشریف لے گئے اور یہاں ان کی ملاقات مسولینی سے ہوئی۔ لیکن اس سفر میں ہسپانیہ سے جو جذباتی وابستگی اقبال نے محسوس کی وہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ نظر نہیں آتی۔ اندلس کے جتنے گہرے نقوش ان کے دل و دماغ پر مرتب ہوئے اس کا کسی قدر اندازہ ، اسپین کے پس منظرمیں کہی گئی نظموں کی تعداد اور اشعار کی کیفیت سے ہوجاتا ہے۔ اقبال نے ایک نظم ’’دعا‘‘ کے عنوان سے کہی ہے۔ یہ نظم بھی مسجد قرطبہ میں کہی گئی ہے۔ نظم کی داخلی ساخت میں اقبال کی حسرت اور دلی آرزو کا رنگ صاف جھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ 750برس سے بھی زیادہ عرصہ تک مسلمانوں کی شاندار حکومت کے بعد ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زوال نے انھیں کتنا غم زدہ کیا ہے۔ نظم کے آخر میں اشعار میں گم شدہ عظمت کی یاد، بازیابی کی دعا کا رنگ اختیار کرلیتی ہے:
چشم کرم ساقیا دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سبو، خلوتیوں کے کدو
تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں میرے لیے چار سوں
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنا جسے کہہ نہ سکیں رو برو
آخری شعر کا ’’حرفِ تمنا‘‘ اپنے مخصوص سیاق و سباق میں گم شدہ سلطنت و شوکت کو پالینے کی حسرت کا شاعرانہ اظہار ہے۔ جسے برملا اور بے محابہ کہنے میں شاعر کو اس لیے بھی عذر ہے فلسفہ و شعر دونوں کا پیرایۂ اظہار ایمائی اور استعاراتی ہوتا ہے فلسفیانہ مضامین اور شاعرانہ تجربہ دونوں ہی برہنہ گفتاری کے متحمل نہیں ہوتے۔
اندلس کے حوالے سے اقبال کی ایک اور نظم ’’عبدالرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت ‘‘ بھی لائق توجہ ہے۔ عبدالرحمن، اندلس میں اموی سلطنت کا بانی ہے۔ سیاسی حالات کے نتیجے میں اسے شام سے نکلنا پڑا مصر و مراکش ہوتا ہوا وہ اندلس آگیا اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور حسن تدبیر سے اندلس میں اس نے اپنی مضبوط حکومت قائم کی۔ اس نے اپنے لیے مسجد قرطبہ کے پاس ہی ایک محل بھی تعمیر کروایا جس کے باغ میں اس نے کھجور کا ایک درخت ایسا بھی لگایا جس کی گٹھلی اس کے وطن ملک شام کی تھی۔ ایک روز کھجور کا یہ درخت دیکھ کر اس کے دل میں وطن کی یاد تازہ ہوگئی۔ عبدالرحمن چونکہ شاعر بھی تھا اس لیے اس نے اسی کیفیت میں بے ساختہ چند اشعار بھی کہے۔ علامہ اقبال کی یہ نظم عبدالرحمن الداخل کے عربی اشعار کا آزاد ترجمہ ہیں۔ لیکن نظم کے دوسرے بند میں زمان و مکان کے اپنے مخصوص تصور سے اقبال نے پہلے بند کی مایوسی اور افسردگی کو ایک نیا تناظر فراہم کردیا ہے۔ پہلے بند میں شاعر کھجور کے درخت سے مخاطب ہے کہ ہم دونوں وطن سے بہت دور ہیں اور پردیس میں ناموری کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ لیکن دوسرے بند میں وطن سے دوری کو ایک نیا موڑ دے کر، جغرافیائی حدود پر مبنی وطن کے محدود تصور کو مسترد کرتے ہیں نظم اس شعر پر ختم ہوتی ہے :
مومن کی جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
اسی سلسلہ کی ایک اور نظم ’’قید خانہ میں معتمد کی فریاد‘‘ کے عنوان سے بال جبرئیل میں شامل ہے۔ اندلس میں اسلامی حکومت جب خانہ جنگی اور طوائف الملوکی کے سبب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی تو یہ ریاستیں آپس میں برسرِ پیکار ہوگئیں۔ ان میںایک سلطنت اشبیلیہ (Seville)کی تھی قرطبہ اسی ریاست میں شامل تھا۔ اشبیلیہ کا بادشاہ المعتمد علی اللہ تھا جس نے ۱۰۶۸ء سے ۱۰۹۱ء تک تقریباً ۲۳ برس حکومت کی۔ معتمد نے اسلامی حکومتوں کو اکٹھا کرنے اور اپنی حکومت کو عیسائی بادشاہ الفانسو کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مراکش کے بادشاہ یوسف بن تاشقین سے مدد طلب کی۔ بعض مسلم حکمرانوں نے اندیشہ ظاہر کیا (اور یہ اندیشہ بعد میں سچ ثابت ہوا) کہ اس طرح بعد میں یوسف خود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہماری سلطنتوں پر قابض ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں معتمد کا جواب یہ تھا کہ سوروں کا ریوڑ چرانے کے بجائے میں اونٹوں کا چرواہا بننا زیادہ پسند کروں گا۔ مراکش کے حاکم یوسف بن تاشقین نے ۱۰۹۱ء میں معتمد کو مراکش بلوا کر قید کردیا۔ معتمد نے زندگی کے باقی دن قید و بند کی صعوبت میں گزارے، معتمد عربی کا شاعر بھی تھا اس نے اپنی اسیری کے جذبات کو اشعار میں بیان کیا ہے۔ اقبال کی یہ نظم معتمدکے انھیں عربی اشعار کا ترجمہ کہی جاسکتی ہے۔
اقبال کے نظام افکار کے سیاق و سباق میں اس نظم کی معنویت یہ ہے کہ فولادی زنجیروں میں جکڑے، مجبور، معتمد کے دل میں نیزہ اور تلوار و روم کی یادیں اسیری میں بھی تازہ ہیں۔ فولاد سے معتمد کی یہ دلچسپی اقبال کے قوت و شوکت کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔ معتمد کے اس قابل رحم انجام کا سبب، عشق کی آگ کا سرد پڑ جانا اور سوزِ ایمانی کا رخصت ہوجانا ہے۔ (۸)آٹھ مصرعوں کی یہ مختصر نظم ملاحظہ ہو :
اک فغان بے شرر سینے میں باقی رہ گئی
سوز بھی رخصت ہوا جاتی رہی تاثیر بھی
مرد حُر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آج
میں پشیماں ہوں، پشیماں ہے میری تدبیر بھی
خود بخود زنجیر کی جانب کھینچا جاتا ہے دل
تھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھی
جو مری تیغ دو دم تھی، اب مری زنجیر ہے!
شوخ و بے پروا ہے کتنا خالق تقدیر بھی
تدبیر و تقدیر دونوں کی ناکامی کا افسوس کرنے کے باوجود، نظم کا کلیدی شعر معتمد کی بہادری کو بھی نمایاں کرتا ہے۔
خود بخود زنجیر کی جانب کھینچا جاتا ہے دل
تھی اس فولاد سے شاید مری شمشیر بھی۔
باطل کو زیر کرنے کے علاوہ، فولاد میں کیا منافع ہیں؟ اس کا قدر اندازہ سورہ ’حدید‘ کی آیت ’’و انزلنا الحدید فیہ باش شدید و منافع للناس‘‘ سے کیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلہ کی ایک اور نظم ’’ہسپانیہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہسپانیہ میں قیام کے دوران اور مختلف تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد اقبال کے دل میں جو جذبات پیدا ہوئے۔ یہ نظم انھیں کا شاعرانہ اظہار ہے۔ اندلس میں مسلمانوں کے آمد کا تذکرہ کرکے اقبال نے یورپ میں اسلامی فتوحات کی یاد تازہ کردی ہے۔ سرزمین پر انھیں چشم تخیل سے سجدوں کے نشان نظر آتی ہیں ا ور صبح کی ٹھنڈی ہواؤں میں اذان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ اقبال ایک بار پھر اندلس میں اسلامی حکومت کا خواب دیکھتے ہیں:
پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حنا کی
باقی ہے ابھی رنگ مرے خونِ جگر میں
کیوں کر خس وخاشاک سے دب جائے مسلماں
مانا وہ تب و تاب نہیں ا س کے شرر میں
غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے ولیکن
تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضر میں
غرناطہ اندلس میں اسلامی حکومت کی آخری نشانی ہے۔ یہاں کا حاکم ابوعبداللہ اسلامی حمیت سے عاری ایک پست حوصلہ شخص تھا۔ چنانچہ ۱۴۹۲ء میں قصر الحمرا کی کنجیاں عیسائی بادشاہ فرڈی ننڈ اور اس کی ملکہ ازابلا کے حوالے کرکے وہ غرناطہ سے رخصت ہوگیا۔سقوط غرناطہ کے بعد، ہسپانیہ کی اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ۷۱۱ء میں طارق بن زیاد کی آمد سے لے کر ۱۴۹۲ء میں سقوط غرناطہ تک ۷۸۰ برس، ہسپانیہ پر مسلمانوں کی روح بے چین ہو اٹھی۔ چنانچہ نظم بے چینی کے اس تاثر پر ختم ہوتی ہے:
دیکھا بھی دکھایا بھی، سنایا بھی سنا بھی
ہے دل کی تسلی نہ نظریں نہ خبریں
اس سلسلہ کا سب سے عظیم شاہکار اور نہ صرف اقبال بلکہ اردو کی مایہ ناز تخلیق، مسجد قرطبہ کے بغیر اقبال کے اس شعری محرک کا تذکرہ ناتمام ہوتا۔ فلسفیانہ افکار اور آفاقی صداقتوں کے سبب یہ نظم ’نوائے سروش سے کم نہیں، اس مسجد کی بنیاد عبدالرحمن اوّل نے رکھی تھی جو ہسپانیہ میں اموی سلطنت کا بانی ہے۔ برسوں تک اس مسجد میں اضافے ہوتے رہے۔ ابوعامر المنصور نے اس کی تعمیر مکمل کی۔ مسجد کی شوکت و شکوہ کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں ۱۴۱۷ ستون ہیں۔ اسلامی فن تعمیر کے اس شاہکار میں اقبال نے درو دیوار کے پس پردہ کیا کچھ دیکھا؟ اور ان کے ردِّ عمل کی سطح کیا تھی؟ اس کا اندازہ نظم کے ایک ایک مصرعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظم اقبال کے فلسفۂ حیات کا جوہر اور ان کے افکار کا آئینہ خانہ ہے۔ نظم کی ساخت یہ ہے کہ نظم کل ۸ بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند ۱۶مصرعوں پر۔ہر بند کا پندرہواں اور سولہواں مصرعہ غزل کے مطلع کی طرح ہم ردیف ہم قافیہ ہے۔ جبکہ بند کا پہلا اور دوسرا مصرعہ ہم قافیہ ہے۔ باقی مصرعوں میں غزل کے اشعار کی طرح ایک ایک مصرعہ کے فصل سے قافیہ کا التزام رکھا گیا ہے۔نظم اپنی اس مخصوص ہیئت کی وجہ سے غایت درجہ خوش آہنگ اور مترنم ہوئی ہے۔ نظم کی بحر میں، ارکان کے درمیان سکوت کا خفیف سا واقعہ خوش خرام موجوں کی طرح، ابھرنے اور ڈوبنے کا خاص پیٹرن (Pattern) بناتا ہے اور قاری اسی آہنگ کے سہارے، جذبے اور خیال کے بہاؤ میں ’ڈوبتا، ابھرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ نظم کا یہ نغمہ بھی قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہے۔
نظم کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ نظم جس ماورائی فضا اور فلسفیانہ سطح سے شروع ہوتی ہے، طوالت کے باوجود نظم کی یہ فضا آخری مصرعے تک برقرار رہتی ہے۔ بلکہ نظم کا ہر بند ایک نیا افق دریافت کرتا ہے۔ توحید اور ایمان علامہ اقبال کے نزدیک ایسی الوہی کیفیت ہے، جس کے بیان سے جملہ لسانی تعبیرات عاجز ہیں۔ عشق، خون جگر اور شوق کی تعبیر اسی بے پایاں کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اختیار کی گئی ہیں۔ اندلس کے حوالے سے نظم کا توجہ طلب حصہ وہ مصرعے ہیں جن میں عربی شہسواروں کو، ان کی سخت کوشی شوقِ شہادت اور خلق عظیم کے سبب یاد کیا گیا ہے:
کعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں
آہ وہ مردانِ حق ! وہ عربی شہسوار
حامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیں
جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں
جن کے لہو کی طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل وگرم اختلاط ، سادہ و روشن جبیں
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نوائوں میں ہے
لیکن شاندار ماضی کی یادوں سے فقط خوش ہولینے یا سقوط سلطنت سے افسردہ ہونے کے بجائے اقبال ایک رجائی پہلو اختیار کرتے ہیں نظم کے ساتویں بند میں دنیا کی بڑی انقلابی تحریکات کو یاد کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے حق میں چشم تخیل سے گنبد نیلوفر کے رنگ ملانے کا دلکش نظارہ دیکھنے لگتے ہیں۔ نظم کے آخری بند کے اشعار ہیں :
آب روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب
یقین کی حدوں کو چھوتی ہوئی اقبال کی خواہش یہ تھی کہ انقلاب چونکہ قانون قدرت ہے اس لیے امت مسلمہ جو آج مغلوب اور سرنگوں ہے، بہت جلد غالب اور سربلند ہوگی۔ اسلام اپنے عقیدۂ توحید اور سخت کوشی کے سبب دنیا میں قیادت کے لیے آیا ہے۔
نظم اس بیان پر ختم ہوتی ہے کہ ایسے تمام تہذیبی مظاہر اور سبھی نغمے جن کی تخلیق میں خون جگر شامل نہ ہو، نقش ناتمام ہیں۔ نظم کے پہلے بند میں یہ بات کہی گئی تھی کہ :
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات کارِ جہاں بے ثبات
آخری بند میں اس بے ثباتی کا سبب بیان کرکے اقبال نے نظم میں ایک نامیاتی وحدت پیدا کردی ہے۔ یہاں پہونچ کر نظم اپنی ابتدا، نقطۂ عروج اور انجام کا، ایک پورا دائرہ مکمل کرتی ہے :
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سووائے خام خون جگر کے بغیر
علامہ اقبال کے شعور میں اندلس اس درجہ جاگزیں ہے کہ اس پس منظر میں انھوں نے کئی نظمیں کہی ہیں کیوں کہ مسلمانوں کی شوکت، اقتدار اور غلبہ کی عملی تصویریں انھیں مسلمانوں کے بعد حکومت میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کا تمام کلام اپنی بنیادی فکر میں اسی عظمتِ رفتہ کی بازیافت سے عبارت ہے۔ان پرانی تصویروں میں نئے نئے دلکش رنگ بھر کر علامہ اقبال قوم میں بے باکی اور اولوالعزمی کی وہی حرارت ایک بار پھر پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے کبھی زمیں کانپ اٹھتی اور پہاڑ تھراتے تھے۔ یورپ کی مادہ پرستی اور علم و دانش کی پرفریب چکاچوند سے ہوشیار رہنے کی تلقین اقبال نے جس کثرت سے کی ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ فتح اندلس کی تاریخ میں اسلام کی سربلندی اور سرخروئی کے علاوہ ، اقبال کو یورپ کی شکست اور پسپائی کے خواب کی تعبیر بھی نظر آتی ہے۔ شعری محرک کی حیثیت سے اندلس کے انتخاب میں یہ نکتہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے:
وہ سجدہ روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں ممبر و محراب
سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے
دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب
ہوائے قرطبہ شاید ہے یہ اثر تیرا
مری نوا میں ہے سوز و سرودِ عہد شباب
Iqbal Ka Tasawwar E Fuqr o Darweshi by Prof. Saheb Ali
Articles
اقبال کا تصورِ فقر و درویشی
پروفیسر صاحب علی

مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ بادی النظر میں اقبال کے فکر پر بیک وقت مشرقی و مغربی مفکرین کے اثرات صاف محسوس کیے جاسکتے ہیں لیکن ذرا باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو اقبال کے فکر و فلسفہ کا بنیادی رویہ قرآن اور سنّتِ رسول ؐ کے اتباع اور بلادِ مشرق کے ممتاز دانشوروں جلال الدین رومی اور مجدد الف ثانی ؒ وغیرہ کے افکار و خیالات سے استفادہ کا ہے۔ مثلاً اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘ بادی النظر میں نطشے کے ’’سپر مین‘‘ کا تتبع محسوس ہوتا ہے لیکن اقبال کے’’ مردِ مومن‘‘ میں جو درمندی اور تنوع ہے وہ نطشے کے ’’سپر مین‘‘ میں نہیں۔ نطشے کا ’’سپر مین‘‘ اخلاقی خوبیوں کو کمزوری پر محمول کرتا ہے اور خیر و شر کو محض اضافی قدر گردانتا ہے جبکہ اقبال کے ’’مردِ مومن ‘‘ کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘ ،’لا‘ کے ساتھ ’الّا‘ کا بھی قائل ہے اور ایمان اور یقین کے اِس اعلیٰ ترین جوہر کو خلق کرنے میں اقبال نے مشرقی خصوصاً اسلامی فکر و فلسفہ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نطشے کے ’’سپر مین‘‘ کے برخلاف اقبال کے ’’مردِ مومن‘‘ کی قوت کا سرچشمہ محض جسمانی قوت نہیں بلکہ انسان کی روحانی اور اخلاقی قوت ہے۔ اقبال نے ’’مردِ مومن کے لیے اپنی شاعری میں ’’شاہین‘‘ کا استعارہ استعمال کیا ہے مثلاً
کیا میں نے اس خاک داں سے کنارہ
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خدمت خوش آئی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربتِ غازیانہ
یہ پورپ ، یہ پچھم ‘ چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
متعدد نظموں میں اقبال نے ’’شاہین‘‘ کو مختلف زاویے سے پیش کیا ہے گویا ’’شاہین‘‘ اقبال کا محبوب پرندہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ’’شاہین ‘‘ اقبال کے فکر و فلسفہ کا کلیدی استعارہ ہے۔ اقبال نے اپنے فکر و فلسفہ کی اکائی کے طور پر ’’شاہین‘‘ کو اس لیے استعارہ بنایا ہے کیونکہ ’’ اس کی غیرت ، خود داری ، تیز نگہی ، خلوت پسندی انھیں بے حد عزیز ہے۔ یہ بلند پرواز کی علامت ہے۔ جس کے پروں کے نیچے ساری دنیا ہے، آشیاں بندی جس کے لیے باعثِ ذلّت ہے۔ شاہین میں بحیثیت مجموعی تین خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں جو اقبال کے فسلفیانہ افکار پر محیط ہیں ۔ ’’عمل‘‘ ، ’’خودی‘‘ اور ’’فقر‘‘۔(اقبال کی شعری و فکری جہات۔ از : عبد الحق ۔ صفحہ ۲۳۳) علامہ اقبال کے کلام میں خودی کی بلندی ، عشق کی روحانی کیفیت اور حرکت و عمل کے ایک پہلو کا نام فقر بھی ہے۔ ظاہری نظر سے فقر افلاس کا نام ہے مگر اقبال کے یہاں فلسفیانہ اصطلاح میں یہ ترکِ نفس ہے، تیاگ ہے۔ دنیا کی احتیاج سے بلند ہونا ہے۔ جس میں فقر ہو اسے اقبال نے اصطلاحاً قلندر یا درویش بھی کہا ہے ۔ اسی قلندری اور درویشی میں ہی سکندری یعنی فاتح ہونے کا راز ہے۔
اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم نہیں اسکندری سے
قلندر روحانیت کا مالک ، دنیا سے بے نیاز اور جبر کا فاتح ہے۔ اقبال کی نظر میں انسان کی بلندی کی معراج یہی قلندری ہے۔ جس میں قلندری ہو وہ قوموں کا قائد بن سکتا ہے اور اس کے ہاتھوں دوسروں کو غلامی سے نجات ملتی ہے۔ ’’جاوید نامہ‘‘ میں جن ہستیوں کا ذکر ہے ان میں درویش سوڈانی یعنی مہدی سوڈانی بھی شامل ہے۔ جس نے برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی اور شہادت پائی۔ ایسے تارک نفس درویشوں سے بڑے بڑے جابر ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی بے غرضی قوموں میں آزادی کی روح پھونک دیتی ہے۔ مثنوی’’ اسرارِ خودی‘‘ میں ہے:
از شکوہ بوریا لرزد سریر
یعنی ایسے درویش کے بوریے سے عظمت کے تخت بھی لرزتے ہیں ۔ اسی طرح نظم ’’قلندر کی پہچان‘‘ میں قلندر کی عظمت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
کہتا ہے زمانے سے یہ درویش جواں مرد
جاتا ہے جدھر بندۂ حق تو بھی ادھر جا
ہنگامے ہیں میرے تری طاقت سے زیادہ
بچتا ہوا بہ نگاہِ قلندر سے گزر جا
میں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُو تو اتر جا
توڑا نہیں جادو مری تکبیر نے تیرا
ہے تجھ میں مکر جانے کی جرأت تو مکر جا
اقبال کے تصورات شاعری میں ’’فقر‘‘ ایک بنیادی تصور ہے ۔ خصوصاً اقبال کے وہ تصورات جو فرد کے ارتقا اور انفرادی سیرت سے متعلق ہیں وہ اسی تصورِ ’’فقر‘‘ سے مملو ہیں ۔ اقبال کا مردِ مومن ہو ، مردِ درویش ہویا اس مردِ مومن کا احساسِ خودی ، یہ سب منصبِ فقر کے احساس کے ہم معنی ہیں۔ تصور ِ فقر کا جلوہ اقبال کے ابتدائی کلام میں بھی کسی نہ کسی طور ظاہر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ’’بانگِ درا‘‘ کی بعض نظموں میں اس تصور کا عکس کسی نہ کسی صورت جھلکتا نظر آتا ہے:
بندۂ مومن کا دل بیم دریا سے پاک ہے
قوتِ فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
جیسے جیسے اقبال کا شعری سفر اپنی منزلیں طے کرتا جاتا ہے یہ تصور واضح اور روشن ہونے لگتا ہے۔ بلکہ ’’پیامِ مشرق‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ تک آتے آتے اقبال کے تصورِ فقر میں ایک نوع کی برّاقی اور تیزی پیدا ہوجاتی ہے۔ مولانا صلاح الدین احمد تحریر کرتے ہیں ’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فقر اس کے ہاتھ میں ایک تلوار کی مانند ہے جس سے وہ کائنات کو تسخیر کیا چاہتا ہے۔‘‘ (تصوراتِ اقبال ۔ صفحہ ۵۹)
علامہ اقبال کے نزدیک فقر کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جو بہادر کو بزدل بنادیتی ہے اور دوسری قسم شاہانہ تمکنت عطا کرتی ہے اور انسان مردِ کامل بنتا ہے ۔ مثلاً ’’بالِ جبریل‘‘ میں شامل نظم ’’فقر‘‘ ملاحظہ فرمائیں:
اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیتِ اکسیری
اک فقر ہے شبّیری اس فقر میں ہے میری
میراثِ سلیمانی ، سرمایۂ شبّیری
اس نظم میں اقبال نے فقر کے دو رویوں کا موازنہ پیش کیا ہے۔ ایک وہ جو پست ہمتی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا وہ رویہ ہے جس سے قلب انسانی پر اسرارِ جہانگیری منکشف ہوتے ہیں۔’’ یہاں تضاد، حیات کے اثبات اور اس کے انکار کے درمیان ہے۔ ’’اسرارِجہانگیری‘‘ سے مراد ہوس اور خواہشاتِ دنیاوی کے بھنور میں اپنے آپ کو ڈال دینے سے نہیں ہے بلکہ موجودات کے وجدانی ادراک سے ہے اور نخچیری سے مراد ترغیبات کے سامنے سپر اندازی نہیں ہے۔ اسی طرح خاصیتِ اکسیری سے غرض یہ ہے کہ صحیح اور صالح قسم کا فقر ، فرد کی کجروی اور بے بصری سے دور رکھ کر ہمیں اشیا کا عرفان بخشتا ہے ۔اسی طرح ایک لفظ ’’شبّیری ‘‘ میں دنیاوی لذات سے بے رغبتی ، کردار کی صلابت اور اس کے ساتھ نظر کی پختگی رضائے الہیٰ کے سامنے بہ تمام کمال سرنگوں ہونے کا جذبہ اور روحانی اہتزاز کا وہ تجربہ شامل ہے جس سے تصوف اور فقر عبارت ہیں۔(اقبال آئینہ خانے میں ۔ از : ڈاکٹر اسلوب احمد انصاری۔ صفحہ نمر: ۵۰)
اقبال کا تصورِ ’’فقر و درویشی‘‘ در اصل رہبانیت یا مردم بیزاری نہیں بلکہ یہ دل و نظر کی عفّت و طہارت سے عبارت ہے۔ جس کے ذریعہ انسان جسمانی اور ارضی زندگی کی ترغیبات ترک کرکے انفس و آفاق پر غلبہ اور تفوق حاصل کرنے کی طرف رجوع ہو:
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر ، فقر ہے شاہوں کا شاہ
اقبال نے اپنے تصورِ فقر میں ظاہری شان و شوکت اور جاہ و حشم کی در پردہ نفی کرکے نفسی اور روحانی طمانیت کو سراہا ہے۔ یہی روحانی طمانیت فقر کا حاصل اور اس کا اصل جوہر ہے وگرنہ گدائی اور فقر میں تمیز مشکل ہے:
جو فقر ہوا تلخیٔ دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
اقبال کے شاعرانہ افکار میں فقر کی اہمیت کو اس طرح بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے علم و فقر کو متضادات کے طور پر بھی سامنے لایا ہے:
علم کا مقصود ہے پاکیٔ عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفّتِ قلب و نظر
علم فقیہہ و حکیم ، فقر مسیح و کلیم
علم ہے جویائے راہ ، فقر ہے دانائے راہ
فقر مقامِ نظر ، علم مقامِ خبر
فقر میں مستی ثواب ، علم میں مستی گناہ
اقبال کو علم ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں لیکن ان کے نزدیک نفس و روح کی کائنات بھی کچھ اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ علم اور فقر کے مابین کیفیاتی فرق کے ماسوا فقر کے مفہوم میں وقت کے ساتھ جو تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اقبال کا ذہن اس سے بھی غافل نہیں ہے۔دولتِ فقر کے کھوجانے کا غم اس کے لیے باعثِ اضطراب ہے۔ مثلاً یہ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مومن پہ گراں ہیں یہ شب و روز
دین و دولت قمار بازی
ناپید ہے بندۂ عمل مست
باقی ہے فقط نفس درازی
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقیری
جس فقر کی اصل ہے حجازی
مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری
اقبال کے نزدیک ’’فقر ‘‘ محض فکری آماجگاہ نہیں بلکہ یہ انسان کی عملی زندگی کا حصّہ ہے۔ اقبال نے ’’فقر ‘‘کو جمالِ الہیٰ کا ایک کرشمہ گردانا ہے۔ اس ضمن میں ’’فقر و ملوکیت‘‘ کے یہ اشعار توجہ طلب ہیں:
فقر جنگاہ میں بے ساز دیراق آتا ہے
ضرب کاری ہے اگر سینے میں بے قلبِ سلیم
اُس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصہّ فرعون و کلیم
اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھاگئی روحِ فرنگی کو ہوائے زردسیم
نظم میں ’’بے سازدیراق‘‘ کہنے کے باوجود ‘ فقر ، مسکینی و محرومی نہیں بلکہ ایک انقلابی قوت ہے جو اشیائے عالم کی شیرازہ بندی کرنا چاہتی ہے۔ ’’ حق و باطل کی جنگ میں ’’فقر‘‘ حق کی قوت ہے اور اس کے مدِّ مقابل ملوکیت ایک طاغوتی قوت ہے۔ جسے یہ شکست دے کر زیر کرنا چاہتی ہے۔‘‘( اقبال آئینہ خانے میں ۔ از : ڈاکٹر اسلوب احمد انصاری۔ صفحہ نمر: ۵۰)’’ہوائے زرد سیم‘‘ کو جو قوت متوازن کرسکتی ہے وہ فقر کی قوت ہے اُس سے ایسے نفسی انقلاب اور اندرونی تغیر کی بنیادپڑتی ہے جس سے انسان کے اندازِ نظر کو مثبت انداز سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔٭٭٭
Bhusawal mein shaeri Nashist
Articles
*بھساول میں 'پرورش لوح و قلم' کے عنوان سے شاندار طرحی نشست کا کامیاب انعقاد
وسیم عقیل شاہ
*روایت سے انحراف کر کے معیاری شاعری کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی : احمد
بھساول 27 اکتوبر : عنیق فاؤنڈیشن بھساول اور خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ضلعی سطح پر ایک طرحی نشست کا انعقاد 27 اکتوبر کو بھساول کے عکاشہ فرنیچرز میں بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ـ حافظ مشتاق ساحل نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا تو رئیس فیضپوری نے نعت رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محفل کو پر نور کر دیا ـ سلیم خان فیضپوری نے تحریک صدارت پیش کی اور تالیوں کی گونج میں احمد کلیم فیضپوری کی صدارت کی تائید کی گئی ـ خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے روح رواں صغیر احمد نے اس تقریب کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ہذا کی جانب سے یہ چوتھا ادبی جلسہ ہے جو حسب معمول علاقہ خاندیش میں اردو زبان و ادب کی اشاعت و ترویج کے مقاصد لیے ہوئے ہے ـ صغیر احمد کے مطابق ادارہ “خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن” کا دائرہ کار پورے خاندیش پر محیط ہے لہٰذا ادارے کی جانب سے صرف جلگاؤں، بھساول ہی نہیں بلکہ خاندیش کے مختلف علاقوں میں بھی ادبی سرگرمیاں منعقد کی جاتی رہیں گی ـ بعد ازاں اس طرحی مصرع پر کہ *’رگوں میں خون نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے ‘* رئیس فیضپوری ،شکیل حسرت، ساحر نصرت، ساعد جیلانی، حفیظ مینا نگری، رحیم رضا، ڈاکٹر قاضی رفیق راہی، شکیل انجم مینا نگری، اخلاق نظامی، وقار صدیقی، حافظ مشتاق ساحل، اقبال اثر، رفیق پٹوے اور اشراق راویری جیسے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ـ بطور مبصر ڈاکٹر غیاث عثمانی، قیوم اثر اور شکیل میواتی نے خاندیش کے موجودہ شعری منظر نامے پر گفتگو کی اور پیش کیے گئے شعراء کے کلام کے معنی و ابعاد کی نئی پرتیں سامعین کے سامنے رکھیں ـ فنی اعتبار سے بھی تینوں ہی مبصرین نے اپنے خیالات کا اظہار نہایت ہی جامع اور پر تاثر انداز میں کیا ـ اپنے خطبہ صدارت میں احمد کلیم فیضپوری نے ادبی نشستوں کے متواتر انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور ایسی محفلوں کو وقت کی اشد ضرورت بتاتے ہوئے اس نشست کو یادگار نشست قرار دیا ـ علاوہ ازیں موصوف نے شاعری میں روایت کی اہمیت پر خاص زور دیا ـ آپ نے مزید کہا کہ بلا شبہ خاندیش نے اردو کو بہت اچھے شاعر دیے ہیں جن کے چند اشعار آج بھی زبان زد ہیں ـ اسی حوالے سے آپ نے خاندیش کے سابقہ نمائندہ شاعر ایمان بیاولی، قمر بھساولی، سیف بھساولی اور مرزا مصطفی آبادی کو خصوصیت سے یاد کیا ـ اس تقریب میں عبدالرشید قاسمی،مشتاق کریمی، حنیف خان اسماعیل عرف ملو سیٹھ، حاجی انصار اور ندیم مرزا کے علاوہ ضلع بھر سے ادب دوست سامعین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ـ رسم شکریہ عنیق فاؤنڈیشن کے صدر شکیل حسرت نے جبکہ نظامت کے فرائض مشہور ناظم مشاعرہ ہارون عثمانی نے بحسن و خوبی انجام دیے ـوے)
Tagore, Iqbal Aur Hindustan by Dr. Qamar Siddiqui
Articles
ٹیگور ، اقبال اور ہندوستان
قمر صدیقی

رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کا مشہور زمانہ ترانہ ’’جن گن من ادھینائک جے ہے‘‘ اور ڈاکٹر اقبال کا نغمہ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔ اقبال اور ٹیگور کے افکار و نظریات بعض سطحوں پر مطابقت رکھتے ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ : ’’ تخلیقِ انسانی کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں مکمل ہو۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سعی کا وہ سلسلہ ہے جس کا تعلق کَل انسانیت کی تکمیل سے ہے۔ یہ دنیا صرف مادی ہی نہیں ہے بلکہ اس مادی دنیا میں انسان کا عقلی ،اخلاقی اور اعتدالِ حسن کے لحاظ سے مکمل ہونا، اس عالم کی تخلیق کا مقصد معلوم ہوتا ہے۔ انسان کے اندر کوئی چیز ہمیشہ اس کو یہی کہتی رہتی ہے کہ آگے بڑھو اور ترقی کرو اور انسان ہونے کی حیثیت سے مکمل بنو۔‘‘(انسان کا مذہب ، از : رابندر ناتھ ٹیگور۔ رسا لہ ندیم، گیا۔ اگست ۱۹۳۱ء) اقبال نے اس خیال کو شعر کے قالب میں ڈھال کر یوں پیش کیا ہے:
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فَیکون
رابندر ناتھ ٹیگور اور اقبال کے تقابلی مطالعہ میں یہ پہلو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ دونوں ہندوستان کے اولین بڑے شاعر ہیں جنھیں نو آبادیاتی غلبے کا احساس سب سے پہلے ہوا بلکہ سب سے پہلے انھوں نے اس کے خلاف قلم بھی اٹھایا۔ گوکہ نوآبادیاتی غلبے کے خلاف ہندوستانی شاعروں میں پہلی آواز اکبر الہ آبادی تھی لیکن چونکہ ٹیگور اور اقبال نے یورپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اوریہ یورپ کے اجتماعی فکر و فلسفہ سے کماحقہ‘ آگاہی رکھتے تھے اس لیے اکبر کی بہ نسبت ٹیگور اور اقبال کے یہاں یہ موضوع زیادہ ہمہ گیریت کے ساتھ برتا گیا ہے۔ اقبال اور ٹیگور کا دور وہ دور تھا جب پوری دنیا میں ایک نوع کا خلفشار مچا ہوا تھا۔ یورپ کا صنعتی و حرفتی انقلاب اور پھر پہلی جنگِ عظیم نے ساری دنیا میں ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی۔ خصوصاً ہندوستان کو یورپ کے لیے قربان گاہ بنایا جارہا تھا۔ قومیں مٹ رہی تھیں اور نئی قومیں ابھر رہی تھیں۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہندوستان اور ایشیا کے دوسرے ممالک اپنی سیاسی انفرادیت کے ساتھ اپنی قومی اور اخلاقی انفرادیت بھی کھو رہے تھے۔ ہندوستان جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا ، مغربی تہذیب اس پر غلبہ حاصل کرتی نظر آرہی تھی۔ نوآبادیاتی نظام کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ جس قوم پر غلبہ حاصل کرتی ہے سب سے پہلے اس کی تہذیب پر حملہ آور ہوتی ہے اور مغلوب تہذیب دھیرے دھیرے غالب تہذیب میں ضم ہونے لگتی ہے۔ ٹیگور اور اقبال کی شاعری کا مجموعی رویہ اس تہذیبی غلبے سے مزاحمت کا ہے۔ لیکن انھیں یہ بھی احساس ہے کہ ہندوستانی تہذیب جتنی قدیم ہے اتنی ہی توانا بھی ہے اور نہ جانے کتنی تہذیبیں یہاں آئیں اور ہندوستانی تہذیب کا حصہ بن گئیں۔ یہی رنگارنگی اور کثرت میں وحدت ہندوستانی تہذیب کا طرّہ امتیاز ہے۔اقبال کہتے ہیں:
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سُنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے
اور غزل کے یہ اشعار ہندوستان میں انگریزی سامراج کے زوال کے حوالے کچھ سوال بھی کھڑے کرتے ہیں:
اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحرِ فرنگیانہ
تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
ٹیگور کی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کا یہ بند بھی شاید اس کی ترجمانی کرتا ہے:
آریا ، دراوڑ، چینی ، شک، ہون ، پٹھان اور مغل
یہاں سب ایک جسم کا حصّہ ہوگئے
آج مغرب نے دروازہ کھولا ہے ، اپنی سوغاتوں کا
وہ دیں گے اور لیں گے ، ملائیں گے اور ملیں گے
لوٹ کر نہیں جائیں گے ، اس عظیم بحرِ ہند کے ساحل سے
(بھارت کا سفر ، گیتانجلی ، انتخاب از: ساہتیہ اکادمی۔ صفحہ نمبر ۲۱۷)
اقبال کی شاعری میں سب سے زیادہ نمایاں اور قابلِ قدر پیغام عمل کا پیغام ہے۔ ان کی شاعری میں جتنے بھی استعارے اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں براہِ راست یا بالراست ان کا تعلق عمل سے ہے۔ چاہے وہ ’شاہین ‘ ہو، یا اقبال کا مردِ مومن ہر جگہ حرکت اور عمل کا پیغام ہے۔ گویا اقبال کی شاعری کا اصل جوہر حرکت یا عمل سے عبارت ہے۔اقبال کی نظم ’’شاہین ‘‘ کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورپ یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
اسی طرح ایک غزل کے ان اشعار میں حرکت و عمل کا پیغام اس طرح پیش کیا گیا ہے:
تو ابھی رہ گزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشادِ شرق و غرب
تیغِ ہلال کی طرح عیشِ نیام سے گزر
اقبال حرکت و عمل کو زندگی اور سکون کو موت قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن ان کی نظم ’’زندگی‘‘ کے یہ اشعاربھی توجہ چاہتے ہیں:
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ، پیہم دواں ، ہردم جواں ہے زندگی
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹّی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
خام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تو
پختہ ہوجائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تو
اقبال کی تعلیم وتربیت مغرب کی درسگاہوں میں ہوئی لیکن وہ مغربی تعلیم و تہذیب سے مرعوب نہیں ہوئے ۔ انھوں نے جدید مغربی افکار و نظریات کو مغرب و مشرق کے علوم و نظریات کی روشنی میں دیکھا تو اس کا مصنوعی پن ظاہر ہوگیا۔ انھوں نے دیکھا کہ مغرب کے جدید افکار جن کی پوری دنیا میں تبلیغ کی جارہی ہے وہ مشرقی فکر و فلسفہ کے گنجِ گراں مایہ کے سامنے خش و خاشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ چنانچہ انھوں نے ایشیا والوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی اور خود اعتمادی کا درس دیا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ مادیت، مغرب پرستی اور مغرب زندگی کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سیلاب جو تیزی سے ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اقبال کی شاعری اس کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی ۔ اور اقبال کی شاعری کا سب سے بڑا اور حقیقی کارنامہ یہی ہے۔ اقبال کی شاعری جہاں یورپ کی مادیت پرستی کے سیلاب کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہوگئی تھی وہیں ٹیگور کی شاعری یورپ میں ہندوستانی فکر و فلسفہ کی تبلیغ و ترسیل کا اہم ذریعہ بن کر ابھری۔ جس طرح اقبال کی شاعری ایک انوکھے اور جداگانہ اسلوب کی حامل ہے اسی طرح ٹیگور کی شاعری بھی منفرد اسلوب اور زبان و بیان کے تجربات سے عبارت ہے۔ ٹیگور کی شاعری تخیل کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔ وہ فطرت کے رموز سے آگاہ ہیں اور کائنات کے عمیق ترین مسائل سے بحث کرتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں ظاہری نہیں بلکہ باطنی ، جسمانی نہیں بلکہ روحانی مقاصد پیشِ نظر رکھتے ہیں۔مثلاً ان کی ایک نظم ’’تصویر‘‘ کا یہ آخری حصّہ ملاحظہ ہو: کسی بیتے ہوئے وقت میں تمھیں پایا تھا
پھر رات کو کھو دیا
اس کے بعد اندھیرے میں ، اکثر تمھیں پایا کرتا ہوں
تصویر نہیں ہو، تم صرف تصویر نہیں ہو
(نظم ’’تصویر‘‘ انتخاب ،از۔ ساہتیہ اکادمی ، صفحہ نمبر ۲۲۷)
ہمایوں کبیر نے ٹیگور کی مجموعی فکر کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :’’ ٹیگور نے دنیا کو محض ایک ایسا رنگ منچ نہیں تسلیم کیا ہے جہاں انسان زندگی بتانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ انھوں نے اسے ایک ممتا بھری ماں کے روپ میں بھی دیکھا ہے جو زندگی اور زندگی کے مسائل کے حل تلاش کرتے انسان کی نگرانی کرتی ہے۔‘‘ (رابندر ناتھ کی نظمیں ۔ انتخاب : ہمایوں کبیر ۔ ساہتیہ اکادمی ۔ صفحہ نمبر ۱۳) ٹیگور کی عالم گیر مقبولیت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انھوں نے دنیا کو محض ایک تماشائی یا سنیاسی کی طرح نہیں دیکھا ہے بلکہ اس کے تمام رنگوں میں شامل رہ کر اسے اپنی شاعری میں برتا ہے۔ سروجنی نائیڈو نے ٹیگور کے انتقال پر جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے ٹیگور کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے:
’’ رابندر ناتھ ٹیگور کی اہمیت کیا تھی ؟ دنیا تغزل ، موسیقی اور حسن سے لبریز ہے۔ تو پھر ٹیگور میں وہ کونسی خوبی تھی ، جس کی بنا پر وہ دنیا کے ہزاروں انسانوں کا محبوب تھا؟ وہ بنگا ل میں پیدا ہوا ۔ اس کے دماغ اور جسم کے تمام تاثرات بنگال کے ممون ہیں۔ اس کی تمام شاعری بنگال کے دریائوں کے مناظر ، پھولوں ، دیہاتی زندگی اور ساون کے گہرے بادلوں سے بھری پڑی ہے ۔ اس کی شاعری کے تمام عناصر اپنے ملک کے محتاج ہیں اس کے باوجود بھی وہ تمام دنیا کا شاعر تھا۔ اس کی شاعری کی زبان سے بہت کم لوگ واقف تھے مگر یہ رفتہ رفتہ لاکھوں انسانوں کے دلوں کی زبان بن گئی ۔ آخر اس کا راز کیا تھا؟ اس کا پیغام کیا تھا؟ بنی نوع انسان کی محبت اور انسانوں کے جذبہ خدمت سے گہرا عشق ہی اس کی زندگی کا راز تھا۔‘‘ (از: رسالہ ندیم ،گیا۔ اکتوبر ۱۹۴۱ء ۔ مترجم خواجہ عبد القیوم)
یہی جذبۂ عشق و محبت اور انسانیت ٹیگور کی شاعری کا بنیادی رویہ ہے۔ بنی نوع انسان کے تئیں یہی احترام ٹیگور کی بین الاقوامی مقبولیت کا راز ہے ۔اپنی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کے آخری بند میں وہ کہتے ہیں:
اے آریا ، غیر آریا آئو ، ہندو مسلمان آئو
آج آئو ، سب انگریز کرسچن آئو
من کو پاک کر آئو ، برہمن سب کے ہاتھ پکڑو
اے بچھڑوں آئو، من کے سب بوجھ اتار دو
ماں کی ممتا کی چھائوں میں جلد آئو
سب کے لمس سے پاک کیے مقدس جل سے
اس عظیم بحرِ ہند کا ساحل
اس کا گھاٹ ابھی بھرا نہیں ہے۔
ٹیگور کا رویہ مغرب ہویا مشرق سب کے لیے یگانگت کا ہے۔ ٹیگور کی جنگ روحانی جنگ ہے اور یہ انسان کے لیے ہے ۔ ان کا مقصد انسانوں کو اُن بندھنوں سے آزاد کرانا ہے جو اس نے اپنے اطراف بُن لیے ہیں۔ ٹیگور کے نزدیک روحانی آزادی ہی اصل آزادی ہے۔
ہر زمانہ اپنی ضرورتوں کے مطابق ایک بڑا شاعر پیدا کرتا ہے ۔ جو لوگوں کو صحیح راستہ پر چلنے کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز کے ہندوستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے بیک وقت دو ایسے شاعر پیدا کیے ۔ ان میں سے ایک ایشیا کو جد جہد کا پیغام دیتا ہے اور دوسرا یورپ کو صلح و امن و آشتی کا اور یہ دو شاعر اقبال اور ٹیگو رہیں۔
٭٭٭
Asrarul Haq Majaz by Prof. Muniuddin Jinabade
Articles
اسرارالحق مجاز بازتفہیم
پروفیسر معین الدین جینا بڑے

مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ جدید اردو شاعری کی روایت میں شاید ہی کسی کے یہاں Confessional Poetryکی اتنی مثالیں مل جائیں جتنی مجاز کے یہاں ہیں۔ شاید ہی کسی کے مجموعۂ کلام میں اعترافیہ نوعیت کی شاعری کا وہ تناسب مل پائے جو مجاز کے یہاں ملتا ہے۔ آج کی رات، بتانِ حرم،نذرِ دل، مجبوریاں، نورا، دلّی سے واپسی، بربطِ شکستہ، تعارف، طفلی کے خواب، شکوۂ مختصر،گریز، ایک غمگین یاد، عشرتِ تنہائی، عیادت، مادام، آج بھی، شرارے، اعتراف، الہ آباد سے اور آج۔یہ تو میں نے بیس بائیس نظموں کے عنوان مثال کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ چھوٹا سا مجموعہ ہے۔ گنتی کی نظمیں ہیں تناسب کا فیصد بغیر کسی خاص زحمت سے معلوم کیاجاسکتا ہے۔ یہ حساب کتاب بعد میں بھی ہو سکتا ہے سرِ دست ان کی غزلوں سے دو ایک مثالیں اس نوع کی شاعری کی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوںگا ؎مری بربادیوں کا ہم نشینوتمھیں کیا خود مجھے غم نہیں ہے
الجھنوں سے گھبرائے میکدے میں در آئےکس قدر تن آساں ہے ذوقِ رائیگاں اپنا
یہ میری دنیا یہ میری ہستینغمہ طرازی صہبا پرستی
اعترافیہ شاعری میں شاعرکی ذات خالص شخصی اور نجی حوالوں سے شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ شخصی اور نجی حوالے گفتنی بھی ہو سکتے ہیں اور ناگفتنی بھی۔ اس نوع کے شاعروں میں اعصاب زدگی قدرِ مشترک کا درجہ رکھتی ہے۔ انگریزی ادب میں اس کی عمدہ مثال مشہور شاعرہ سیلویاپلاتھ کے یہاں ملتی ہے جس کی اعصاب زدگی اسے خودکشی تک لے گئی۔ اس نوع کے شاعروں کے لیے ان کی ذات ان کے لیے کسی نہ کسی صورت میں مسئلہ بنی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو نجی حوالوں سے شعر میں ڈھالنے سے کتراتے نہیں۔ ایسے شاعروں پر گفتگو ان کی شخصیت کے حوالے ہی سے ممکن ہے۔ مجاز کی شخصیت کا نمایاں وصف ان کا تصنع اور ریاکاری سے پاک ہونا ہے۔ انگریزی میں وہ جو کہتے ہیں کہ ان کے یہاں Pretentionsبہت ہیں،یہ بات مجاز کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اگر اس وصف سے فائدہ اٹھایاجائے تو یہ خوبی قرار پاتا ہے بصورت دیگر جی کا روگ بن کر آدمی کو لے ڈوبتا ہے۔ مجاز کے ڈوبنے کی روداد دردناک بھی ہے اور عبرتناک بھی۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں روداد کی تفصیل سے نہیں سبب سے سروکار ہے۔ تاہم روداد کا اجمال اور سبب کا خلاصہ دونوں ایک ہیں اور وہ یہ کہ اسرارالحق، مجاز سے لپٹ گئے؛لپٹے کیا، چمٹ گئے۔ ایسے چمٹے کہ الگ ہونے کا نام نہ لیا۔ مجاز تو پھر مجاز ہے حق کے اسرار کی تاب کہاں تک لاپاتا؛ اپنے ساتھ اسرار کو بھی لے ڈوبا! تخلیقی شخصیت میں فرد اور فن کار کا باہمی رشتہ تخلیق کے اسرار سے کم پُراسرار اور پیچیدہ نہیں ہوتا۔ یہ رشتہ اتنا پُراسرار اور ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بحیثیت مجموعی معاشرے کی نظر میں فن کار کی ذات کبھی طلسم تو کبھی مِتھ یا پھر معمے کی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ساعتِ تخلیق میں شخصیت کے یہ دونوں پہلو(یعنی فرد اور فن کار) سائی کک پرسنالٹی کی وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ تخلیق کا دورانیہ اس عرصۂ وحدت کی طوالت کو محیط ہوتا ہے۔ عام حالات میں جو حالتِ ثنویت ہوتی ہے؛ ان دونوں کے بیچ آنکھ مچولی کا کھیل چلتا ہے۔ ایک فعال ہوتا ہے تو دوسرا مجہول۔ کون کتنا فعال اور کس حد تک مجہول ہوگا، اس کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ کلیہ ممکنات کی رو سے دو امکانات پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ کہ فرد کی حیثیت فعال عنصر کی ہو اور فن کار شخصیت کا مجہول پہلو بنے رہنے پر قانع رہے۔ دوسرا امکان اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ فن کار فعال حیثیت اختیار کرنے پر اصرار کرے اور فرد کو مجہول بناکر رکھ دے۔معاشرتی زندگی کے سیاق میں پہلی صورت معمول یا رول کا حکم رکھتی ہے تو دوسرا امکان معمول سے انحراف قرارپاتا ہے۔ معمول سے انحراف کی حالتِ ثنویت میں فرد جب فن کار کے مقابل مجہول حیثیت اختیار کرکے اس کے تابع ہوجاتا ہے تومعاشرے کی نظر میں اس کی حیثیت تابع مہمل کی سی ہوجاتی ہے۔ تابع مہمل کے ساتھ دل لگی کی جا سکتی ہے، دل نہیں لگایاجاسکتا۔ اس کے ساتھ وقت گزاراجاسکتا ہے، زندگی نہیں بتائی جا سکتی ہے۔ اسے سنجیدہ گفتگو میں شریک کیا جا سکتا ہے کہ وہ صرف ہنسی مذاق اور دل بہلانے کی چیز نہیں ہوتا لیکن اس کی ذات کو زندگی کے سنجیدہ معاملات کا اہل نہیں سمجھا جا سکتا۔ فرد جب تخلیقی شخصیت کا فعال عنصر ہوتا ہے تو فن کار اس کی عزت و توقیر کا سبب بنتا ہے صورتِ واقعہ اس کے برعکس ہو تو اسے فن کار کی وجہ سے برداشت کیا جا تا ہے اور برداشت کی ایک حد تو بہرحال ہوتی ہے۔ اس حد کے آگے اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ ہوتا ہے۔ پوئٹک پرسوناسوشل ریئلم میں آپریٹ کرنے لگ جائے تو حقیقت اور فینتاسی کی حدیں گڈمڈ ہونے لگتی ہیں۔ مجاز ہوں یا میراجی دونوں اس گڈمڈ والے گھپلے کا شکار ہوئے۔ اس گھپلے کی سنگینی کا احساس اعزا و اقارب کو اس وقت ہوتا ہے جب پوئٹک پرسونا سوشل ریئلم میں اپنے تصرفِ بے جا سے دست بردارہونے پر کسی صورت راضی نہیں ہوتا۔ میراجی نے یہ کہہ کر علاج سے انکار کردیا تھا کہ پھر میں لکھ نہیں سکوںگا۔ اخترالایمان سمجھاتے رہے کہ لکھتے تو آپ اپنی ذہانت سے ہیں لیکن وہ نہیں مانے بالآخر جبر اور حکمت سے کام لینا پڑا ۔مجاز کے معاملے میں بھی حیلے بہانے ہی سے کام نکالا گیا۔ میراجی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سردست ہم مجاز پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مجاز کی زندگی اور شاعری ایک دوسرے کا عکس ہیں۔دونوںکا محورجذبہ ہے۔ فکر کا پہلو دونوں طرف دبتا ہوا نظر آتا ہے۔ جذباتی آدمی چاہے بھی تو تصنع اور ریاکاری سے کام نہیں لے سکتا۔ بعض اوقات اس کی جذباتیت بیوقوفی کی حدوں کو چھوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اسے زمانہ سازی نہیں آتی کہ وہ زمانہ شناس نہیں ہوتا۔اس کے عاقبت نا اندیش ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں۔ جوش نے اس ایک جملے میں کہ مجاز آدمیGenuineہے، دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ آدمی کھرا ہے اور دوسری یہ کہ بیوقوف بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں یہ قیمت چکائے بغیر کوئی کھرا آدمی بن بھی نہیں سکتا۔ جوش زمانہ شناس اور زمانہ ساز دونوں تھے۔ ایسا آدمی اب مردم شناس بھی ہوتا ہے۔ یادوں کی برات میں جابجا راست گوئی سے برأت کا مظاہرہ کرنے والے جوش سے بہتر اس نکتے کو بھلا کون سمجھ سکتا تھاجو اس نے اس ایک جملے میں بیان کیا ہے۔ رہی بات ایک جملے میں دو باتوں کی تو کون نہیں جانتا کہ پہلودار گفتگو اودھ کا نراج اور اردو تہذیب کی شناخت سے عبارت رہی ہے۔ تصنع اور ریاکاری سے پاک مجاز کا منظوم ذاتی تعارف، تعارف کم اور کنفیشن زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے شخص کا کنفیشن جس کے یہاں فکر کا پہلو دب رہا ہے۔ پورا تعارف تو نہیں چند اشعار پر ہم توجہ مرکوز کرتے ہیں۔مندرجہ ذیل اشعار اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں ؎خوب پہچان لو اسرار ہوں میںجنسِ الفت کا طلب گار ہوں میںعشق ہی عشق ہے دنیا میریفتنۂ عقل سے بیزار ہوں میںعیب جو حافظ و خیام میں تھاہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میںکفر و الحاد سے نفرت ہے مجھےاور مذہب سے بھی بیزار ہوں میںزندگی کیا ہے گناہِ آدمزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں جس ترتیب سے یہ اشعار درج ہوئے ہیں، اسی ترتیب سے ان پر غور کرتے ہیں۔ جنسِ الفت کا طلب گار کون نہیں ہوتا لیکن اس طلب کو یوں واشگاف انداز میں زبان پر نہیں لایاجاتا۔ عاشقانہ نیازمندی کاPretentionاس لطیف جذبے سے وابستہ کثافت کی تطہیر کا ایک حیلہ بھی ہے۔ شاعر اس تکلف کا روادار نہیں۔ عقل فی نفسہٖ فتنہ نہیں ہوتی۔ عقل جب عقلِ سلیم نہیں بن پاتی تو فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے۔ عقل سلیم کی حیثیت دل کے پاسبان کی ہوا کرتی ہے۔ اس کے ہوتے عشق عشق ہوتا ہے ورنہ تو جو کچھ ہوتا ہے، اسے ہوس کے علاوہ کچھ اور نام نہیں دیا جا سکتا عقل سلیم کے ہونے یا نہ ہونے سے بات بنتی یا بگڑتی ہے۔ عقل سلیم ہے تو عشق ہے، نہیں تو فسادِ گندم۔ اپنی میخواری کے جواز کی خاطر اعتذا رکے طور پرحافظ و خیام کا سہارا لینا جرأتِ رندانہ کے فقدان کے ساتھ اصل حقیقت سے واقف نہ ہونے کی خبر دیتا ہے۔ استعارے کو لغوی معنی کی سطح پر کھینچ لانا غیر شاعرانہ حرکت ہے اور اصل حقیقت کی طرف اکبر ان الفاظ میں اشارہ کرچکے ہیں ؎رنگ حافظ پہ بہک جاتے ہیں ارباب مجازیہ نہیں سمجھتے و ہ بادہ پرستی کیا تھی زندگی کو گناہ آدم اور اپنے وجود یا ہستی کو مجسم گناہ سمجھنے کی مریضانہ فہم روحانی دیوالیہ پن کی اپج ہے۔ اس اپج پر عقل سلیم ماتم کرتی ہے تو فساد گندم کے لبوں پر مربیانہ مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔تثلیث کے عقیدے اور ازلی گناہ کے تصور پر استوار فلسفے اور مابعدالطبیعاتی فکر کے علمبردار کلیسا کی استحصالی حکمت عملی نے یوروپ کے آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کردیا۔ یہ تاریخی حقیقت غیریوروپی آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کرنے کا جواز یا سبب نہیں بن سکتی۔ ان تعارفی اشعار میںاگر احتجاج ہے تو یہ احتجاج برائے احتجاج ہے۔ شاعر کے اس موقف کو فکروتدبر کی پشت پناہی حاصل نہیں۔ فکروتدبر کے مقابلے میں جذبے اور احساس کے غیرمتوازن تناسب کی وجہ سے مجاز کی شخصیت میں ایک آنچ کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ پختہ کارشخصیت کے تیور کچھ اور ہوتے ہیں۔ فرد کی مجہول حیثیت نے مجاز کی شخصیت کے ارتقا کے امکانات کو پوری طرح ختم کردیا۔ اسرارالحق کو اس حقیقت کا احساس تھا نہ ادراک۔ وہ پوئٹک پرسونا کی مقبولیت کے اسیر رہے۔ ایسے اسیر رہے کہ اس اسیری کو وجہ افتخار سمجھ کر سدا اس پر نازاں بھی رہے۔تعارف کے نو دس برس بعد نظم’آج بھی‘ کے بین السطور میں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، وہ اس پر فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گزرنے کو وقت گزرگیا لیکن آج بھی مجازوہی ہے جو دس برس پہلے تھا۔ ان دس برسوں میں ہونے کو تو بہت کچھ ہوا؛ اگر کچھ نہیں ہوا تو بس اتنا کہ ایک نوجوان کی زندگی میں جن باتوں کو جس طرح ہونا چاہیے، ان میں سے ایک بھی اس طرح مجاز کے یہاں نہ ہوئی۔ان کی زندگی میں محرومیوں کی مستقل نوعیت ان دس برسوس میں پوری طرح مستحکم ہوگئی۔ اس صورتحال کی المناکی سے انکار نہیں لیکن صورتحال کا یہ افسوسناک پہلو ہمارے نزدیک زیادہ اہم ہے کہ ان محرومیوں کے صلے میں غم کی دولتِ بیدار اسرارالحق کے حصے میں نہ آسکی۔ زندگی محرومیوں اور ناکامیوں کا دوسرا نام ہے کہ کسی کو مکمل جہاں کبھی نہیں ملا۔ محرومیاں اور ناکامیاںبجائے خود مسئلہ نہیں ہوتیں۔ فرد کا رویہ طے کرتا ہے کہ وہ مسئلہ بنیںگیں یا نہیں۔ارادوں کے ٹوٹنے سے جب آدمی رب کو پہچاننے لگتا ہے تو محرومیاں اور ناکامیاں شخصیت کے ارتفاع کا حیلہ بن جاتی ہیں۔ مجاز کی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ وہ غم کی دولت سے محروم رہے۔ وہ غم جو جوانی کو لطف خواب سے جگاتا ہے۔ وہ غم جو مضراب بن کر شباب کے ساز کو بیدار کرتا ہے۔ اس محرومی کی وجہ سے یہ ہوا کہ ارادے ایک ایک کرکے ٹوٹتے رہے اور ان کے ساتھ مجاز کا باطن ریزہ ریزہ ہوتا رہا۔ باطن کے انہدام کا یہ عمل مجاز کے یہاں بڑی سرعت کے ساتھ انجام پاگیا۔ منظوم تعارف کو لکھے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجاز اندر سے پوری طرح ڈھہ چکے تھے۔’ آواراہ‘ کے ٹیپ کے مصرعے کے سیاق میں آخر ی بند تک پہنچتے پہنچتے فرسٹریشن اور جھلاہٹ کا انتہا کو چھولینا اس حقیقت کا غماز ہے کہ(جگر کے الفاظ میں)شاعر کا سینہ خالی اور آنکھیں ویران ہیں۔ وہ شکست خوردہ تو ہے ہی اس نے شکست کو تسلیم بھی کرلیا ہے اور اس اعتراف شکست میں ایک طرح کی قطعیت اور حتمیت پائی جاتی ہے۔ یہ قیامت کسی جہاںدیدہ ادھیڑ یا پختہ عمر کے آدمی پر نہیں، اس لڑکے پر ٹوٹی ہے جس کی عمر بمشکل25یا26برس ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں آدمی کو لوہو کی لالی پر ناز ہوتا ہے۔ اس کے اندر وقت سے لوہا لینے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اپنا کس بل آزمانے اور زمانے سے پنجہ لڑانے کے لیے وہ ہر دم آمادہ رہتا ہے۔ مجاز کی جو دو چار نظمیں آج ان کی ادبی معنویت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ رات اور ریل، مجبوریاں، نوجوان خاتون سے اور نذرِ علی گڑھ جیسی نظم’ آوارہ ‘کے بعد ان سے نہ ہوپائی۔ یہ حقیقت بھی توجہ طلب ہے کہ ترقی پسند موضوعات پر مجاز کی اچھی نظمیں بھی آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ وہ نظمیں ہیں—نوجوان سے، نوجوان خاتون سے،طفلی کے خواب، نذر دل اور انقلاب۔’ بول او ری او دھرتی بول‘ نظم نہیں، گیت ہے جو مجاز نے’ آوارہ ‘کے بعد لکھا ۔ جذبے اور احساس کے اثاثے پر گزارا کرنے والے شاعر کے لیے ’آوارہ‘ کے بعد جذبہ مسئلے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ نظم اعتراف کے درج ذیل ٹیپ کے شعر اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ نظم جس مصرعے سے شروع ہوتی ہے، اسی پر ختم بھی ہوتی ہے اور وہ مصرع ہے عاب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟اب ٹیپ کے شعر ملاحظہ کیجیے ؎مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہےمیں نے خود اپنے کیے کی سزا پائی ہے
میری ہر فتح میں ہے ایک عزیمت پنہاںہر مسرت میںہے رازِ غم و حسرت پنہاں
وہ گدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لاؤںاب وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں
اب میں الطاف و عنایت کا سزاوار نہیںمیں وفادار نہیں ہاں وفادار نہیں
اب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟
قطعہ کی شعری ہیئت میں لکھی نظم ’گریز ‘جذبے سے فرار کا اعلان کررہی ہے ؎یہ جاکر کوئی بزمِ خوباں میں کہہ دوکہ اب درخورِ بزمِ خوباں نہیں میںمبارک تمھیں قصر و ایواں تمھارےوہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میںجوانی بھی سرکش محبت بھی سرکشوہ زندانیِ زلفِ پیچاں نہیں میںتڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکنوہ زخمیِ پیکانِ مژگاں نہیں میںدھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکنوہ نوحہ گرِ دردِ ہجراں نہیں میںبہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامیرہین لبِ شکر افشاں نہیں میںشراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکنوہ غرقِ شراب و شبستاں نہیں میںقسم نطق کی شعلہ افشانیوں کیکہ شاعر تو ہوں، اب غزل خواں نہیں میںیہ آخری شعر مجاز نے آشوبِ ذات کے سیاق میں کہا ہے۔ جگر نے یہی بات کہی تھی لیکن سیاق آشوبِ زمانہ کا تھا ؎فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کلشاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کلمجاز نے یہ بات آشوب زمانہ کے سیاق میں نہیں کہی کیونکہ پہلے شعر میں وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ اب وہ درخورِ بزمِ خوباں نہیں رہے۔ شکوۂ مختصر سات اشعار کی نظم ہے۔اس کے شروع کے چھ اشعار ایک مہذب، متمدن اور شریف النفس انسان کی اعترافیہ شاعری کا عمدہ نمونہ بننے کے پورے امکانات اپنے اندر رکھتے ہیں؛بات آخری شعر پر آکر ٹھہر تی ہے کہ دیکھیں یہ صاحب اس عالی ظرفی کو کیسے نبھاتے ہیں ؎مجھے شکوہ نہیں دنیا کی ان زہرہ جبینوں سےہوئی جن سے نہ میرے شوقِ رسوا کی پذیرائیمجھے شکوہ نہیں ان پاک باطن نکتہ چینوں سےلبِ معجز نما نے جن کے مجھ پر آگ برسائیمجھے شکوہ نہیں تہذیب کے ان پاسبانوں سےنہ لینے دی جنھوں نے فطرت شاعر کو انگڑائیمجھے شکوہ نہیں افتادگانِ عیش و عشرت سےوہ جن کو میرے حالِ زار پر اکثر ہنسی آئیمجھے شکوہ نہیں ان صاحبان جاہ و ثروت سےنہیں آئی میرے حصے میں جن کی ایک بھی پائیاور اب وہ آخری شعر ؎زمانے کے نظام زنگ آلودہ سے شکوہ ہےقوانینِ کہن، آئینِ فرسودہ سے شکوہ ہےیہ آخری شعرنظم کا حصہ نہیں بن پایا۔اس سے انکار نہیں کہ انسانی تاریخ استحصال کی روداد ہے لیکن استحصال کا نظام کسی خاص فرد کو اذیتِ خاص میں مبتلا کرنے کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا ہے۔ اب اگر کوئی ترقی پسند ہمیں یہ باور کرانا چاہے کہ شروع کے چھ شعروں کو اعترافیہ شاعری کے ذیل میں رکھ کر نہ دیکھا جائے تو مشکل یہ ہے کہ ایسا کوئی قرینہ بھی تو نہیں کہ ہم ان چھ شعروں کو آر کے لکشمن کے Common Manسے منسوب کرسکیں۔ ہمارے ترقی پسندوں کے ذہن کی نکتہ رسی کے ہم بھی قائل ہیں اور ہمیں یہ اطمینان بھی ہے کہ ادب کی مارکسی جمالیات بھی ادبی متن میں قرینے سے صرفِ نظر کرنے کا تقاضہ نہیں کرتی۔ ’مادام‘ غزل کی ہیئت میں دس اشعار کی نظم ہے۔ شروع کے نو شعروں میں اپنی وارفتگیِ شوق کا بیان ہے۔ نظم جب اس شعر پر ختم ہوتی ہے ؎میری وارفتگیِ شوق مسلم لیکنکس کی آنکھیں ہیں زلیخا کا حسیں خواب لیےتو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے یہاں وصفِ یوسفی کے زوال کا اعتراف کررہے ہیں۔ یہ کوئی دورازکار تاویل نہیں، سیدھی سی بات ہے۔ وصفِ یوسفی سلامت ہو تو ایک کیا کئی زلیخاؤں کی آنکھوں میں خواب جاگ اٹھتے ہیں۔خواب اگر نہیں جاگ رہے ہیں تو اس میں کسی زلیخاکا قصور نہیں۔ نظم آج میں تو انھوںنے خود ہی کہہ دیا کہ عیاں بہ ایں عالم غرورِ یوسفیت بھی نہیں آوارہ کے بعد جب جذبہ مسئلہ بن گیا تو بقائے حیات کی جبلت Survival Instinctکے عین مطابق مجاز نے عورت کے تصور میں پناہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جیتی جاگتی عورت مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتی ہے بالکل اسی طرح جیسے جیتا جاگتا مرد مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی فی نفسہٖ مسئلہ نہیں ہوتا۔ دراصل کسی بھی Actuality ء کے ساتھDealکرنے کے کچھGround rule یعنی ارضی قاعدے ہوتے ہیں۔ ان ارضی قاعدوں کو سمجھ نہ پانے یا برت نہ پانے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے برعکس تصور چاہے عورت کا ہو یا مرد کا، اس میں عافیت ہی عافیت ہوتی ہے۔ مجاز کی نظم’کس سے محبت ہے‘ کے تعلق سے یہ غلط فہمی عام ہے کہ اس کا موضوع عورت ہے۔ اس کے پہلے بند میں واضح الفاظ میں اور بعد کے بندوں میں بھی کچھ اسی قسم کا تاثر پایاجاتا ہے ؎بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہےمیں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہےسراپا رنگ و بو ہے پیکرِ حسن و لطافت ہےبہشتِ گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کییہ بند اور اس نظم کے کچھ درمیانی بند ہمارے یہاں Misquoteہوتے رہے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ آخر آخر تک بدن چرائے رہنا نظم کاصنفی مزاج ہے۔ نظم کھلتی ہے تو آخری بند یا آخری مصرعے میں۔ذرا اس نظم کا آخری بند ملاحظہ کیجیے ؎کوئی میرے سوا اس کا نشاں پا ہی نہیں سکتاکوئی اس بارگاہِ نازتک جا ہی نہیں سکتاکوئی اس کے جنوں کا زمزمہ گا ہی نہیں سکتاجھلکتی ہیں مرے اشعار میں جولانیاں اس کیشروع کے دس بند تصور میں ابھرتی عورت کی پرچھائیاں ہیں۔ یہ آپ کے تصور میں ابھرنے والی عورت کی پرچھائیاں ہیں اسی لیے آپ کے علاوہ کوئی اور اس کا نشاں نہیں پاسکتا۔ تصور میں ابھرنے والی پرچھائی پرچھائی ہی ہوتی ہے۔اس نظم کا موضوع عورت کا ذاتی /نجی تصور ہے جسے شاعر کا دماغ/تخیل خلق کررہا ہے کہ وہ اس کی نفسیاتی ضرورت ہے۔ M. L. Rosenthalجس نے اپنے مضمونPoetry As A Confessionمیں 1959میں اعترافیہ شاعری کی اصطلاح پہلی بار استعمال کی ہے۔ اس نوع کی شاعری کی معالجاتی قدر (Theraputic Value)کا معترف ہے۔ The Nationکے ستمبر1959کے شمارے میں Robert Lowellکی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:” Robert Lowell seems to regard it [poetry] more as soul’s therapy. The use of poetry for the most naked kind of confession grows apace in our day.”1. یہ معاجلاتی قدر مجاز کے یہاں بھی کارفرما ہے ۔ اسے مجاز کی جرأ ت رندانا ہی کہیے کہ اردو کو ایک جدید confessional poet فراہم ہوا ۔ ٭٭٭ 1. First Published in The Nation, 19th September,1959. Reprinted in Rosenthal,M.L. Our Life In Poetry, 1991. p.109
