Mujhe kin logon se chidh hai

Articles

مجھے کن لوگوں سے چڑھ ہے

شمس الرحمن فاروقی

مجھے سب سے زیادہ چڑ ھ ان لوگو ں سے ہے جو خود کو یا کسی اورکو ”اردو نواز“کہتے ہیں۔بھلا بتائیے اردو ہم کو نوازتی ہے کہ ہم اردو کو نوازتے ہیں؟یہ ہماری خوش نصیبی ہے کہ اردو جیسی خوبصورت ،طاقتوراورتوانگر زبان ہم کوملی۔اگر ہم صحیح اردو لکھ سکیں تو یہ ہماری سعادت ہے۔افسوس کہ ہم میں سے اکثر کوصحیح زبان لکھنے کا سلیقہ نہیں،اچھی زبان تو اور بات ہے
۔
”اردو نوازوں“کے بعد مجھے سب سے زیادہ چڑھ ان لوگوں سے ہے جو خود کو اردو کا حامی اور ہمدرد بتاتے ہیں،لیکن اس کے بارے میں معذرت آمیز اور دفاعی رویہ اختیار کرتے ہیں۔یہ لوگ کہتے ہیں ،ہاںصاحب اردو اچھی زبان تو ہے ،لیکن اس کا رسم الخط ٹھیک نہیں ۔اس میں املا کے اصول متعین نہیں ۔اس کے رسم الخط میں ہزاروں خوبیاں ہوں گی ۔لیکن یہ سائنسی نہیں ہے۔اس میں ایک ہی آواز کو ادا کرنے کے لیے کئی کئی علامتیں ہیں۔اور اس کے لکھنے کا طریقہ ایسا ہے کہ اس کے ذریعے تمام آوازیں ادا نہیں ہو سکتیں۔

”اردو دوستوں “کا یہ گروہ دراصل اردو کادشمن ہے۔کیوں کہ کسی زبان کے بولنے والوں میں احساس شکست اور احساس کمتری پیدا کرنا،اور ساتھ ساتھ اس کی دوستی کا بھی دم بھرنا ،خاص کر ایسے دور میں جب اس اس پر پیغمبری وقت آپڑا ہو اس کے ساتھ سراسر دشمنی اور ظلم نہیں تو اور کیا ہے؟ارے صاحب اس وقت ضرورت تو اس بات کی ہے کہ اگر اردو کے رسم الخط اور املا سے آپ مطمئن نہ بھی ہوں تو خاموش رہیںتاکہ دشمنوں کو یہ کہنے کا موقع نہ ملے کہ دیکھئے ہم تو غیر ہیں ، خود اردو کے اپنے اس کے بارے میں کہتے کہ اس میں فلاں فلاں عیب ہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ اگر آپ اردو کے رسم الخط اور املا سے مطمئن ہیںتو بہ بانگ دہل اس اطمینان کا اظہار کریں۔اردو املا اور رسم الخط کی خوبیاں ظاہر کریں،یا کم سے کم اتنا کریں کہ جن رسوم الخط کو اردو کے مقابلے میں بہتر بتایا جاتا ہے،ان کی خرابیاں اور کمیاں ظاہر کریں۔

ایک صاحب نے فرمایا ہے کہ جب ان سے کہا گیا کہ آپ الفاظ کا تلفظ ظاہر کرنے کے لیے دیوناگری رسم الخط کا سہارا کیوں لیتے ہیں؟کیا اردو اس پر قادر نہیں ہے کہ تلفظ کو ظاہرکرسکے؟تو وہ خاموش ہوگئے،کیوں کہ بات ”چبھتی ہوئی تھی“میں پوچھتا ہوں کہ آپ خاموش کیوں ہوئے،اور کس طرح آپ نے فیصلہ کیا کہ بات ”چبھتی ہوئی تھی“؟ ٹھیک ہے اردو کا رسم الخط ناقص ہے۔کس زبان کا رسم الخط ناقص نہیں ہے ؟رسم الخط کے بارے میں ارسطو یا کس ابن سینا نے کہا ہے کہ اسے کامل ہونا چاہیے ؟اور دیوناگری رسم الخط میں کون سی ایسی خوبی ہے جو اردو میں نہیں ہے؟اگر آپ زیر زبر پیش کا التزام کرلیں (جو غیرضروری اورفضول ہے)تو دیوناگری کا جواب پید ا کرلیں گے ۔لیکن زیر زبرپیش کاالتزام غیر ضروری ہے ،اسی لیے تو اردو نے اسے ترک کیا۔اگر دیوناگری میں دِل،دَل اور دُل کو الگ الگ طرح لکھا جائے تو اردو میں بھی ایسا ممکن ہے لیکن اردو والوں نے زیر زبر پیش کے اس التزام کو ترک کیا۔اس کے بجائے خوبصورتی اور مختصر نویسی کو اختیار کیا۔جس چیز کو ہم اردو والے ناپسند کرکے چھوڑ چکے ہیں اس کی خاطر آپ دیوناگری کو اردو سے بہتر قرار دے رہے ہیں۔یہ کون سی عقل مندی اور کون سی اردو دوستی ہے؟
پھر سیکڑوں ،بلکہ ہزاروں لفظ ایسے ہیں جن کو دیوناگری رسم الخط ادا نہیں کرسکتا۔کچھ مثالیں میں”ہماری زبان“ میں پیش کرچکا ہوں۔اردو میں آدھے زیر اورآدھے پیش والے ہزاروں لفظ ہیں،جن کو دیوناگری میں ظاہر نہیں کیا جا سکتا ۔ وسطی ہمزہ والا کوئی لفظ دیوناگری کے بس کا نہیں۔یہاں تک کہ ”ٹھیٹ“پراکرت الفاظ مثلاً ”گئے“ ”لئے“ ”کئی“ ”بیٹھے“ وغیرہ سینکڑوں الفاظ دیوناگری رسم الخط کی دسترس میں نہیں ۔بعض حالات میں بیکار آواز اردو میں جس طرح ادا ہوتی ہے، مثلاً ”احمد“”تہ دار“”مہتاب“اس کی دیو ناگری ادا کرنے سے قاصر ہے۔کہاں تک مثالیں پیش کروں ؟اردو یعنی کھڑی بولی کی آواز وں کے لیے دیوناگری بالکل ناکافی ہے۔اور کیوں نہ ہو ،دیوناگری رسم الخط کھڑی بولی ،یعنی اردو کے لیے بناہی نہیں ہے،لہٰذا خود ہندی زبان کے الفاظ اس رسم الخط میںمکمل طور پر ادا نہیں ہوسکتے۔

پھر دیوناگری والے کس بات پر نازاں ہیں اور اردو والے کس بات پر محجوب ہیں؟اور یہ کہاں لکھا ہوا ہے کہ رسم الخط حرف تہجی والے الفاظ کا تلفظ پوری طرح ظاہر کرنے کے لیے وجود میں آیا ہے؟یہ تو صرف ان زبانوں میں ممکن ہے جہاں تصویر ی نظام ہے اورحرف تہجی والا رسم الخط نہیں ہے۔اردو رسم الخط کی غیر قطعیت کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ زبان کی سیکڑوں آوازیں چند ہی علامتوں کے ذریعے ادا ہوجاتی ہیں۔رسم الخط آوازوں کا نظام نہیں ہے،علامتوں کا نظام ہے
۔
ایک اور صاحب نے فرمایا کہ صاحب اردو ہماری بڑی پیاری زبان ہے لیکن اس میں ایک ہی آواز کو ادا کرنے کے لیے کئی کئی علامتیں ہیں ،بچوں کو بڑی زحمت ہوتی ہے۔خدا معلوم وہ صاحب کبھی بچے تھے کہ نہیں،میں ضرور بچہ تھا۔اور مجھے کبھی کوئی زحمت نہیں ہوئی۔نہ مجھے اس بات کی فکر ہوئی کہ ”ظ“ اور”ن“”بھی“زن“ہے اور ”ز“ اور’ ’ن“ ”بھی“زن“ہے تواس میں میرے لیے بڑی آزمائش اور ابتلا کاسامان ہے ۔مجھے تو اس میںبھی کوئی زحمت نہیں ہوئی کہ ”زر،زمین ،زن“کے اور معنی ہیں،اور”موٹرزن سے نکل گئی“میں ”زن“کے اور معنی ہیں۔خدا معلوم ان صاحب کو بچپن میں اس بات سے تکلیف ہوئی کہ نہیں کہ اردو میں ایسے بہت سے لفظ ہیںجن کے معنی بدل جاتے ہیں لیکن تلفظ اور املا نہیں بدلتا”نقب زن“والا”زن“اور ہے ، ”پیرزن“ والی ”زن“ اور ہے اور ”موٹر کی زن“ والی ”زن“ کچھ اور ہے۔وہ صاحب جو ”ذ“”ظ“”ض“اور ”ز“میں سے صرف ایک کو رکھ کر باقی کی گردن زنی چاہتے ہیں،وہ بھی کیوں نہیں کہتے کہ ایسے تمام الفاظ جن کا املا اور تلفظ ایک ہے لیکن معنی مختلف ہیں۔ان کو بھی اردو سے نکال دیا جائے،کیوں کی ایسے الفاظ کے باعث بھی بچوں اور کمزورذہن والوں کی طبیعت میں”خلفشار“پیدا ہوتا ہے؟پھر وہ یہ بھی کیوں نہیں کہتے کہ م،ل،ک کو ملا کے ملک Country ،مِلکProperty ، مَلِکking اور مَلکAngelبنانے سے کیا فائدہ ؟ایک کو رکھ لیجئے اورباقیوں کے لیے دوسرے الفاظ گڑھ لیجئے؟
اچھا پھر اس بات میں برائی کیا ہے کہ ایک ہی آواز کے لیے بہت سی علامتیں ہوں؟آپ شاید انگریزی کے پرستار ہیں،ذرا وہا ں کا حال ملاحظہ کر لیجئے ۔صرف دو آوازوں کا ذکر کرتا ہوں۔
”ش“اس کے لیے انگریزی میں مندرجہ ذیل حرف استعمال ہوتے ہیں:

S جیسے SUGAR

T جیسے SATIATE

TI جیسے NATION

CH جیسے NONCHALANT

C جیسے APPRECIATE

SH جیسے SMASH

CI جیسے SPECIAL

X جیسے LUXURY

SCH جیسے SCHEDULE

SCI جیسے OMNISCIENT

SI جیسے TENSION

SSI جیسے PASSION

ممکن ہے ایک آدھ اور بھی ہوں،مثال کے لیے اتنے کافی ہوںگے۔

”چ“اس کے لیے انگریزی میں حسب ذیل علامتیں ہیں:

CH جیسے CHEST

TCH جیسے CATH

TSCH جیسے KITSCH (تلفظ کچ)

C جیسے CONCERTO (تلفظ کنچار ٹو)

T جیسے NATURE
پھر ہمارے معترض صاحب کے بچوں کو انگریزی پڑھنے میں کیوں ”خلفشار “نہیں ہوتا ؟وجہ ظاہر ہے ،معترض صاحب اور ان کے بچے ”اردو نواز“لیکن”انگریزی پرست“ہیں۔واضح رہے کہ ابھی میں نے صرف ”ش“اور”چ“کا نقشا کھینچا ہے۔اگر خدانخواستہ ساری آوازوں کا گوشوار ہ بناﺅں تو ”کتاب “کی آدھی ضخامت ناکافی ہو۔
رسم الخط اور حروف تہجی کے لیے بات آگئی ہے تو والٹر آنگ کی کتاب سے چند اقتباسات پیش کرنے کا دل چاہتا ہے۔اپنی کتابOrality and Literacyمیں والٹر آنگ Walter ongنے لکھا ہے کہ حروف تہجی ایک ہی بار ایجاد ہوئے۔کوئی۰۰۵۱۔ق۔م میں سامیوں نے سامی رسم الخط ایجاد کیا جو حروف تہجی پر مبنی تھا(اس سے پہلے کے تمام رسم الخط کم و بیش تصویر ی تھے ۔جیسا کہ چینی اب بھی ہے۔)دنیا کے تمام حروف تہجی ،عبرانی،اگایتی ،یونانی، رومانی، روسی، عربی ،تامل،ملیالم،کوریائی کسی نہ کسی جہت سے اسی قدیمی سامی نظام سے اتقا کرکے وجود میں آتے ہیں۔”والٹر آنگ کا کہنا ہے کہ وہ زبانیں جو مصوتوں کو ظاہر کرنے والے حروف نہیں استعمال کرتیں،اگرچہ”ان کے الفاظ صرف مصمتوں کی مدد سے لکھے جاتے ہیں۔“والٹر آنگ مزید کہتا ہے کہ حروف تہجی اگرچہ تصویر ی تحریرPictogram سے برآمد ہوئے ہیں لیکن اب ان کا تعلق اشیا سے بطور اشیا نہیں ہے۔”حروف تہجی خود صورت کو شے کی طرح پیش کرتا ہے ،اور صورت کی بے ثبات پذیر دنیا کو مکان کی بے آواز اور نیم مستقل دنیا میں بدل دیتا ہے۔“اس کے برخلاف چینی رسم الخط ہے،جس میں چالیس ہزار پانچ سو پینتالیس Characters(تصویری علامات،ہیں،کیوں کہ ہر علامت مستقل لفظ ہے اور کسی شے کو ظاہر کرتی ہے)
رسم الخط اور حروف تہجی پر اس مختصر نظریاتی بحث سے یہ انداز ہ ہوگیا ہوگا کہ ہمارا رسم الخط ہماری زبان کے لیے مناسب ہے
۔
مجھے ان لوگوں سے بھی چڑھ ہے،جو اردو کے زوال کا رونا روتے ہیں لیکن خوداپنے بچوں کو اردو نہیں پڑھاتے۔انھیں اپنے گھر میں اردو کا زوال ،سارے ملک میں اردو کا زوال معلوم ہوتا ہے۔خود لوگوں نے تو اردو کے نام پر اعزاز و اکرام ،دولت اور شہرت سے جھولی بھری اب”اردو نوازی“کا دم بھرتے ہیں۔لیکن اردو پڑھنے کے لیے ترغیب ایسے بچوں کو دلاتے ہیں جن کے گھر میں کھانے کو نہیں۔ایسے گھروں کے بچے اگر اردو پڑھیں تو واقعی قربانی دے کر پڑھیں۔اور وہ ایسا کرتے بھی ہیں۔لیکن ہمارے شیر قالی صرف ڈکارتے ہیں،کچھ گرہ سے دیتے نہیں ۔ایک بہت بڑے ترقی پسندپروفیسر نے فرمایا کہ میں اپنے بچوں کو اردو کس طرح پڑھاتا؟میرے گھر کے پاس کوئی ایسا اسکول تھا ہی نہیںیہ اور بات ہے کہ انگریزی اسکول میں پڑھنے کے اعزاز کی خاطر وہ اپنے بچوں کو میلوں دور کسی مہنگے اسکول میں بھیج سکتے ہیں ۔کیوںکہ انگریزی پڑھنا تو عزت کی بات ہے۔اردو پڑھ کر جتنی عزت ملتی ہے وہ ہمارے محترم بزرگ نے خود ہی وصو ل کرلی،اب بچے کے لئے کیا رہ گیاتھا؟یہ تو حکومت کی نا اہلی ہے کہ اس نے دروازے پر اردو کی اسکول کھول کر نہ دیا۔اور اگر دروازے پر اسکول ہوتا بھی تومیں اپنے بچے کو وہاں کس طرح بھیجتا ؟وہاں کا معیار تعلیم ایسا تو تھا نہیں کہ میرے بچے کے شایان شان ہوتا۔ایک بزرگ اور محترم اور عظیم ترقی پسند خاتون ادیب نے ارشاد فرمایا کہ میںاپنے بچوں کو اردو کس طرح پڑھواتی جب ان اسکولوں میں تہذیب و تمیز سکھائی نہیں جاتی،اور پھر وہ اسکول میرے گھر سے دور بھی بہت ہیں
۔
ظاہر ہے ایسے لوگوں کی نظر میںاردو زبان اور اردوتہذیب داہنے ہاتھ سے کھانا کھانے اور روزانہ دانت مانجنے سے کم اہم ہیں۔کیوں کہ یہ چیزیں تو کسی اسکول میں سکھائی نہیں جاتیں۔انھیں تو گھر ہی میں سیکھنا پڑتا ہے۔اردو سیکھنے کے لیے البتہ اسکول جانا ضروری ہے اور اسکول جاکر اماں باوانے اردو سیکھ ہی لی،فرض کفایہ ادا ہوگیا
۔
کئی برس ہوئے حکومت یوپی نے غلطی سے مجھے یوپی اردو اکیڈمی کا رکن نامزد کردیا۔محض مجلس عام کا، جہاں میں کوئی ”شرانگیز“کاروائی نہ کر سکتا تھا۔جلسہ میں ،میں نے یہ تجویز پیش کی کہ وہ تمام لوگ مجلس عام سے مستعفی ہوجائیں جن کے بچے اردو نہیں پڑھتے ۔مجلس عام میں نیتا بھی تھے اور مولوی بھی ،پروفیسر بھی تھے اور صحافی بھی،کانگریسی بھی تھے اور کمیونسٹ بھی،سب نے ایک زبان ہو کر میری تجویز کی مخالفت کی۔ان کا کہنا تھا کہ ان کے بچے اردو پڑھیں یا نہ پڑھیں،اس کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں کہ اردوکا اصل ہمدرد کون ہے ،ان کی مراد شاید یہ بھی تھی کہ اردو کے اصل ہمدردتو ہم لوگ ہیںجو اردو والوں کو وظیفے بانٹتے ہیں۔اور انعام واکرام کی بارش کرتے ہیں ۔ہمارے بچے اردو کیسے پڑھ سکتے ہیں؟نہ تو اردو کے اسکول ہیں اور نہ انھیں فرصت ہی ہے کہ دس دس مضمون اسکول میں پڑھیں ،گھر پر گاڑی بھر ہوم ورک لائیں اور پھر اردو بھی پڑھیں۔
میری تجویز بلاتفاق رائے مسترد ہوگئی اور اس سال کے بعدمجھے یوپی اردو اکیڈمی کی رکنیت کا اعزاز پھر نہ بخشا گیا۔لیکن اکیڈمی سے مجھے کوئی شکایت نہیں،اکیڈمی والے اگر اپنے بچو ںکو پڑھانے لگیں گے تو قوم کو اردو پڑھانے کا وقت انھیں کہاں ملے گا؟

مجھے ان لوگوں سے بھی چڑھ ہے جنھوں نے تعلیمی اداروں کو جہالت ،بدیانتی اور اور کاہلی کی پناہ گاہ بنا رکھا ہے۔ایک ریسرچ اسکالر میرے پاس تشریف لائے،کہا کہ فلاں موضوع پر کام کررہا ہوں۔آپ سے مشورہ درکار ہے، میں نے پوچھا آپ کے سپروائزر کون صاحب ہیں۔انھوں نے اب تک آپ کو کیا ہدایت دی ہیں؟جواب ملا ،انھوںنے کہا ،کہ میاں مجھے اس موضوع سے دلچسپی نہیں،اور فرصت بھی نہیں۔تمھارے جو جی میں آئے کرو۔مجھے کیوں پریشان کرتے ہومجھے تعجب تو نہ ہوا ،لیکن افسوس ضرور ہوا۔اب چند برسوں سے افسوس بھی نہیں ہوتا ۔ایک پی۔ایچ۔ڈی مقالہ خدا معلوم کس غلطی سے میرے پاس رائے کے لیے آگیا۔میں نے پڑھ کر بہت سوچا کہ کیا کروں۔بہر حال ،دیانت داری نے مجبور کردیا کہ( اگرچہ مقالہ نگار سے میرے مراسم تھے)لیکن میں یہ لکھو ںکہ مقالہ ڈگری کے لائق نہیں ہے۔ اسے دوبارہ لکھا جائے۔چنانچہ میں نے یہی رائے بھیج دی۔

چند دنوں بعدا ن کو ڈگری مل گئی۔
ایک صاحب نے جوش میں پر مضمون لکھا ۔نظم ”ذاکر سے خطاب“پر انھوں نے یوں رائے زنی کی کہ یہ نظم ذاکر نامی ایک شخص کے بارے میںہے جو بہت ریاکار دنیا دار اور جھوٹا تھا (وہ رسالہ جس میں یہ مضمون ہے،کچھ دن ہوئے لکھنو ¿سے شائع ہوا ہے)

ایک صاحب نے بمل کرشن اشک کی کتاب ”میں فقیر اور وہ“(مطبوعہ۹۷۹۱ئ)پر حال ہی میں تبصرہ لکھا ۔ انھوں نے ہر جگہ بمل کرشن اشک کا نام ”بمل کمار اشک“تحریر فرمایا۔اشک کو مرے آج چھ سال ہورہے ہیں ۔اپنی زندگی ہی میں وہ جدیدشعراءکی صف اوّل میں شمار ہوتے تھے اور جب وہ اللہ کو پیارے ہوئے اس وقت ان کی شاعری کی عمر کم سے کم پچیس سال تھی۔تبصرہ نگار فرماتے ہی کہ اگریہ کتاب ”بمل کماراشک“کاپہلامجموعہ ہے توخاصاکامیاب ہے۔

”ذاکر سے خطاب“کو ذاکر نامی کسی شخص سے خطاب بتانے والے صاحب تدریس کا پیشہ فرماتے ہیں۔ جس رسالے میں”بمل کمار اشک“پر تبصرہ چھپا ہے اس کے مدیر بھی پروفیسر ،محقق نقاد سب کچھ ہیں۔ممکن ہے دونوں مدیران نے مضمون پڑھا نہ ہو اور یوں ہی چھاپ دیا ہو ۔لیکن لکھنے والے؟
ایک اور استاد مکرم جن کو ترقی پسند تنقید کی قیادت کا دعویٰ ہے،انکشاف فرماتے ہیں کہ راشد کا مجموعہ ”لا__انسان“الہٰ آباد سے چھپا۔ان کی تحقیق یہ بھی ہے کہ میراجی نے ”اس نظم میں“نامی اپنی کتاب میںاپنی مشکل نظموں کی تشریح لکھی ہے اور وہ تشریح بھی ایسی ہے کہ اچھے اچھے چکرا جائیں۔واضح رہے کہ راشد کا کوئی مجموعہ الہٰ آباد سے نہیں چھپا۔یہ بھی وضح رہے کہ ”اس نظم میں “مختلف شعراءکی نظموں پر میراجی کے مختصر مضامین کا مجموعہ ہے۔اس میں میرا جی نے اپنی نظموں کی تشریح نہیں کی ہے۔استاد مکرم کا نکشاف البتہ ایسا ہے کہ اچھے اچھے چکرا جائیں۔

اےک بہت بڑے ترقی پسند پروفےسر صاحب نے ساہتےہ اکاڈمی کی انسا ئےکلو پےڈےا کے لےے اردو تنقےد پر مقالہ لکھا۔اس مےں ان کا انکشاف ہے کہ اس وقت جدےد اردو تنقےد مےں سب سے نماےاں نام ہےں سمےع الحق اور تارا چرن رستوگی۔ےہ لوگ کون ہےں اور انھوں نے کےا تنقےد لکھی ہے،اس معلومات کے لےے پروفےسر موصوف سے رجوع کرنا بےکار ہے ۔کےوں کہ تحقےق کے معنی ہی آج کل ےہی ہےں اےسی چےزوں کو بےان کرنا جن کا وجود ان کے درےافت کنندہ کے ذہن مےں بھی نہ ہو۔اسی لےے تو پروفےسر عالی گہرنے”کلےات سودا“(جلد اوّل)کے دےباچہ مےں دوبار لکھا ہے کہ اس مےں نسخہ رچرڈ جانسن کے املا کی خصوصےات بجنسےہ برقرار رکھی گئی ہےں ،جب کہ حقےقت حال ےہ ہے کہ پوری کتاب جدےد املا مےں شائع ہوئی ہے ۔جہاں تک سوال خود آپ کی زبان کا ہے ،تو اس کا حال ےہ ہے کہ چند صفحات کا دےباچہ ہے ،اور اس مےں بھی استاد والا نثراد لغزشوں اور بھونڈے طرز تحرےر سے دامن نہےں بچا سکے ہےں۔محض اےک مثال ملاخطہ ہو:
۔
ان کی سلےقہ مندی اور شوقےن مزاجی کا ثبوت ان کی سگ پروری کے شوق مےں بھی ملتا ہے ۔طرح طرح کے کتے پالتے تھے اور انھےں بڑے اہتمام سے حاصل کرتے ان کی دےکھ بھال کرتے تھے
۔

(۱) سلےقہ مندی اور سگ پروری کا تعلق واضح نہےں ہوا ۔اگر کتاپالنا سلےقہ مندی ہے تو بنجاروں سے زےادہ سلےقہ مند کوئی نہےں ۔

(۲) ”شوقےن مزاج“اےک مخصوص طبقے کے لوگوں کے لےے بولا جاتا ہے۔ےہاں اس کا محل نہےں ۔

(۳) ”شوقےن مزاجی“کے بعد”سگ پروری کا شوق“کہنا بھونڈا اور فضول ہے ۔صرف” سگ پروری “کافی تھا۔

(۴)”ان کی سگ پروری“کی جگہ ”ان کے سگ پروری“کہنا چاہئے تھا۔کےوں کہ ”شوقےن مزاجی“کا ثبوت’ ’شوق“ مےں ہے ،نہ کہ ”سگ پروری“مےں مثلاً”فلاں کو اس کے شراب کے شوق نے مارا ”نہ ،کہ“فلاں کو اس کی شراب کے شوق نے مارا“موصوف کی عبارت ہے :” ثبوت ان کی سگ پروری کے شوق مےں ملتا ہے ۔“ےعنی ”ثبوت “کا ربط”شوق سے ہے اور شوق مذکر ہے ۔ہاں اگر”کے شوق“کا فضول فقرہ نہ ہوتا تو ”کی“درست تھا:ان کی شوقےن مزاجی کا ثبوت ان کی سگ پروری مےں ملتا ہے ۔“

(۵)”پالتے تھے“پہلے لکھا ہے ،پھر لکھا ہے”بڑے اہتمام سے حاصل کرتے تھے“پھر لکھا ہے”ان کی دےکھ بھال کرتے تھے ۔“ترتےب غلط ہے اور مقدمات غلط ہےں ۔ظاہرہے کہ حاصل پہلے کرتے ہوں گے،پھر پالتے ہوں گے ۔ نہ کہ پالتے پہلے تھے اور حاصل بعد مےں کرتے تھے۔”حاصل کرنے“کے لےے”اہتمام“کا لفظ نا مناسب ہے۔”اہتمام“اس وقت ہوتا ہے جب کوئی چےز ہاتھ آجاتی ہے ۔حاصل کرنے کے لےے سعی ہوتی ہے اور حاصل کرنے کے بعد اہتمام ۔ےوں کہنا تھا کہ”ان کا بڑا اہتمام کرتے تھے۔“ جب کہ”پالنے “کا ذکر کردےا تو پھر دےکھ بھال کرنے کا ذکر محض تکرار ہے۔ظاہر ہے کہ دےکھ بھال کے بغےر پالنا ممکن نہےں۔ہاں ےہ کہہ سکتے تھے کہ”ان کی دےکھ بھال خود کرتے تھے “لےکن اس کے لےے ثبوت درکار تھا۔(وےسے ےہ تقرےباً پوری عبارت ثبوت کی محتاج ہے۔)
ایک یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کے لیے جن موضوعات پر کام ہواہے یا ہورہا ہے ان کی فہرست حال میں شائع ہوئی ہے۔ اکثر موضوعات ایسے ہیں جو مختصر مضمون کے بھی متحمل نہیں ہوسکتے ۔ پی ایچ ڈی کا مقالہ تو بڑی بات ہے مشتے نمونہ از خروارے ملاحظہ ہو
:
(۱) امیر الدین وجد ، حیات اور شاعری (۲) عرفان اسلام پوری ، حیات اور شاعری (۳) حکیم عبد الحمید شیدا سہسرامی ، حیات و خدمات (۴) عبد الباری ساقی ، حیات و خدمات (۵) قوس حمزہ پوری ، حیات اور کارنامے (۶)ماہنامہ نگار کے ۵۲ سال (۷) الیاس اسلام پوری ، حیات اور کارنامے (۸) بہاءالدین کلیم ، حیات اور شاعری (۹)ناوک حمزہ پوری ، شخصیت اور خدمات (۰۱) باسط خان اور ان کی خدمات (۱۱) آزادی کے بعد اردو کے غیر مسلم شعراء(۲۱) اردو کے چند سماجی ناولوں کا تنقیدی مطالعہ۔
مادام دا استائیل کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ اپنے سامنے کسی کو بولنے نہ دیتی تھی اور اس کی گفتگو بے حد دل کش اور محسور کن ہوتی تھی لیکن کولرج کی گفتگو کے سیل بے پایاں کے سامنے اسے بھی سکوت اختیار کرنا پڑا۔ کولرج بے چارے کی نظر سے اگر ہماری یونیورسٹیوں کے تحقیقی مقالوں کی فہرست گزرتی تو وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہوجاتا

ایک صدر شعبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ طالب علم ان کے پاس پی ایچ ڈی میں داخلہ کا فارم منظوری کے لیے لایا۔ موضوع تھا ”قمر رئیس“ استاد نے پوچھا بھائی تم قمر رئیس صاحب کے کس پہلو پر کام کروگے ، یہ تو بتاﺅ ۔ طالب علم نے کچھ سوچ کر کہا” سر ، قمر رئیس ، بحیثیت شاعرکیسا موضوع رہے گا؟“ صدر شعبہ کا بیان ہے کہ میں نے فوراً منظوری دے دی ، کیا کرتا ، پی ایچ ڈی کی ڈگری نوکری کے لیے ضروری ہے ، یہ ضروری نہیں کہ مقالہ کسی قابل ذکر موضوع پر ہو۔ اور اس میں قابل مطالعہ باتیں لکھی جائیں۔
میرے پاس ہر ہفتہ کسی نہ کسی جگہ سے خط آتا ہے کہ میں فلاں موضوع پر پی ایچ ڈی کررہا ہوں کررہی ہوں۔ ایک سوال نامہ منسلک ہے ، براہ کرم اس کا جواب فوراً بھیج دیں تاکہ میں اپنا مقالہ مکمل کرسکوں۔ سوالات کا معیار طفلانہ ہوتا ہے، اس بات پر اتنا رنج نہیں ہوتا جتنا اس بات پر ہوتا ہے کہ اب پی ایچ ڈی کی methodologyیہ ہوگئی ہے کہ ہر شخص کو خط لکھ کر اس سے کچھ اناپ شناپ لکھوا لو اور مقالہ تیار کرلو۔ نہ غور کرنا ہے ، نہ مطالعہ کرنا ہے، نہ اتنی زحمت کرنا ہے کہ جس شخص کوموضوع پر درک ہے اس کے پاس چلے جاﺅ اور بالمشافہ تبادلہ ¿ خیال کرلو۔ خیال ہو تب تو تبادلہ ¿ خیال ہو۔ یہاں تو سب کی اوپری منزل کرائے کے لیے خالی ہے۔
مجھے ان لوگوں سے بھی چڑھ ہے جو دس پانچ افسانوں یا منظومات پر مشتمل مجموعہ چھپواکر صاحبِ تصنیف بن بیٹھے ہیں اور پھر ہر کس و ناکس سے توقع اور تقاضا کرتے ہیں کہ ان پر توصیفی مضمون لکھے۔ مجھے ان لوگوں سے اور زیادہ چڑھ ہے جو ایسے لوگوں کی فرمائش پوری کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی تعداد ہمارے درمیان بڑھتی جارہی ہے جو اچھی خاصی حیثیت رکھنے کے باوجود اپنانام چھپا ہوا دیکھنے کے لیے اس قدر بے قراررہتے ہیں کہ ہر کسی کی فرمائش پوری کردیتے ہیں۔ اور اس سلسلے میں کسی اصول یا نظریے کی پابندی اپنے اوپر حرام سمجھتے ہیں۔ ایک صاحب کو یہ خبط ہے کہ ان سے بڑا نقاد کوئی پیدا نہ ہوگا اور اس کو ثابت کرنے کے لیے وہ اپنی ہی تعریف میں خود بیان لکھتے ہیں اور اسے دوسروں کے نام سے چھپواتے ہیں۔ ان کی تحریر ژولیدہ بیانات ، مغربی ادب کے ادھ کچرے حوالوں ، بے موقع ناموں اور بے تکی بے پر کی باتوں کا ایسا مجموعہ ہوتی ہے کہ شیکسپیئر کا فاتر العقل مسخرا بھی ان کا خالق ہونا پسند نہ کرے۔ لیکن اس کو کیا کیجئے کہ ان کے دوست ان کی تعریف میں انھیں کے لکھے ہوئے نثری قصائد اپنے نام سے شائع کرتے ہیں ، نقاد موصوف نے ابھی مالیگاﺅں کے کسی شاعر کی تعریف میں زمین آسمان ایک کرتے ہوئے ہم غریبوں پر یہ حقیقت آشکار کی ہے کہ شاعر موصوف میں مابعد جدیدیت Post Modernismکی جلوہ گری ہے۔ نقاد موصوف کو یہ گمان ہے کہ مابعد جدیدیت کوئی ایسی چیز ہے جو جدیدیت کے بعد وجود میں آئی ۔ یہی غلط فہمی دو پروفیسر صاحبان کو بھی ہے ۔ان کو کون سمجھائے کہ مابعد جدیدیت کی اصطلاح ابھی مغرب میں پوری طرح مقبول نہیں ہوئی ہے اور اس کے واضع مصری نثراد امریکی پروفیسر اہاب حسن نے خود لکھا ہے کہ ۰۲۹۱ءبلکہ اس سے پہلے کی کچھ تحریروں میں بھی Post Modernismکی جلوہ فرمائی ملتی ہے۔ یعنی اہاب حسن کے مطابق Post Modernismکا تصور زمانی نہیں بلکہ ذہنی ہے۔ (پھر بھی ہمارے پروفیسر یہ کہتے ہوئے پائے گئے ہیں کہ مغرب میں مابعد جدیدیت کا دور ہے لیکن اردو والے اب تک جدیدیت کے چکّر میں پڑے ہوئے ہیں)

غرض یہ کہ کہاں تک فہرست بناﺅں کہ مجھے کن کن چیزوں سے چڑھ ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اب مجھے اپنے آپ سے چڑھ ہونے لگی ہے اور یہ کہتے ہوئے شرم آنے لگی ہے کہ میں اردو کا دیب ہو۔
گر مسلمانی ازیں است کہ حافظ دارد
آہ اگر از پئے امروز بود فردائے

Urdu Zabaan ki Riwayat aur Kabeer

Articles

اردو زبان کی روایت اور کبیر

ڈاکٹرقمر صدیقی

کبیر کی تعلیمات کا بنیادی مقصد زندگی کی سچائیوں کا ادراک حاصل کرنا تھا۔ وہ بنیادی طور شاعر نہیں
تھے بلکہ انھیں ایک سماجی مصلح یا زیادہ سے زیادہ صوفی یا سنت کہا جاسکتا ہے۔ البتہ اپنے افکار و خیالات کی ترویج کے لیے انھوں نے شاعری کو ذریعہ بنایا۔ چونکہ وہ بھگتی اور صوفیانہ افکار سے متاثر تھے لہٰذا ان کا کلام بھی بھگتی اور صوفیانہ رنگ سے مملو ہے۔اسی بھگتی اور تصوف کے رنگ کی وجہ سے کبیر کی تعلیمات زندگی کی فہم اور ادراک کا حوالہ بن گئیں۔زندگی کے سارے روشن و تاریک پہلو ان
کی شاعری میں یوں منکشف ہوتے ہیںگویا ساجد و مسجود ایک دوسرے کے روبرو معلوم ہوں:

لالی تیرے لال کی ، جِت دیکھو تِت لال

لالی دیکھن میں گئی ، میں بھی ہوگئی لال
کبیر اپنی بھگتی میں اس مقام پر ہیں جو فکر و تردد اور غم سے آزاد ہے۔فکر و تردد جیسے محسوسات دل میں اس وقت پیدا ہوتے ہیں جب دل بھید بھاﺅ کی آلائش میں لتھڑا ہوا ہو۔ دراصل بھگت اور بھگوان کے درمیان دوری ہی اس بھید بھاﺅ کی جڑ ہے ۔جبکہ کبیرکا تو یہ حال ہے کہ ”پھوٹا کنبھ جل، جل ہی
سمانا“۔ گویا کبیر کے نزدیک عبد و معبود کا رشتہ بہتے ہوئے جل کی مانند نہیں ہے بلکہ اس رشتے کی معراج لہروں میں سماجانا ہے:

کہنا تھا سو کہہ دیا ، اب کچھ کہا نہ جائے

ایک رہا دوجا گیا ، دریا لہر سمائے
ڈاکٹر تارا چند نے اپنی کتاب Infulances of Islam on Indian Culture میں تحریر کیا ہے کہ ”کبیر نے مسلم صوفیا کی صحبت میں کافی وقت صرف کیا“ اور ”کبیر کے خیالات و جذبات پر صوفی درویشوں اور فارسی شعرا کی پوری چھاپ پائی جاتی ہے“۔ڈاکٹر تاراچند نے پند نامہ ، فرید الدین عطار، جلال الدین رومی، شیخ سعدی کی مثالیں دے کر کبیر سے ان کا موازنہ بھی پیش کیا اور ساتھ ہی ابنِ سینا، منصور حلاج اور بعض دوسرے صوفیا کے کبیر پر اثرات کا ذکر
بھی کیا ہے۔
خود کبیر کی شاعری بھی اس کی غماز ہے۔ ان کی شاعری میں فارسی کے بعض مشہور شعرا کے جذبات و خیالات اس طرح جاگزیں ہیں کہ اکثر جگہوں پر ترجمہ کا
گمان ہوتا ہے۔ مثلاً عمر خیام کی رباعی ہے کہ :

ایں کوزہ گراں کہ دست بر گل دارند

عقل و خرد و ہوش براں بگمارند

مشت و لکدد طمانچہ تاچندزنند

خاکِ بدہاں شاں چہ می پندا رند
]وہ کوزے بنانے والے کمہار( جن کے ہاتھ مٹی، گارے سے سنے ہوئے ہیں اور اس پر اپنی عقل ، ذہن اور ہوش کو لگائے ہوئے ہیں) کب تک اس پر مکّے ، لات اور چپت مارتے رہیں گے۔ ان کے منہ میں خاک ، وہ اس مٹی کو کیا سمجھتے ہیں۔ یہ مٹی عظیم تر باصلاحیت شخصیات کی خاک ہے۔ انھیں اس کی ایسی درگت نہیں کرنی چاہئے۔[

اب کبیر کا یہ دوہا دیکھئے:

ماٹی کہے کمہار سے تو کا روندے موہے

ایک دن ایسا ہوئے گا میں روندوں گی توہے
حافظ کا ایک مصرعہ ”ہر کسے پنچ روزہ نوبت اوست“]ہر شخص کی نوبت پانچ دن کی ہے[ ضرب المثل کی طرح مشہور ہے۔ کبیر نے حافظکے اس مصرعہ سے جگہ جگہ
استفادہ کیا ہے۔ دو مثالیں پیش ہیں:

۱) کبیرا نوبت آپنی دس دن لیہو بجائے

۲) چار دن اپنی نوبت چلی بجائے
اسی طرح فردوسی کا شعر ہے:
چہ بندی تو دل بر سرائے فسوں
کہ ہردم ہمیں آید آواز کوس
]تو اس رنج و الم سے بھری دنیا سے کیوں دل لگاتا ہے۔ یہاں تو ہروقت چل چلاﺅ اور کوچ کے نقارے کی آواز آتی ہے۔ ]

کبیر کے یہاں یہی مضمون اس رنگ میں نظر آتا ہے۔
کبیرا سریر سرائے ہے کیا سوئے سکھ چین
سُو انس نگارہ کوچ کا باجت ہے دن رین

اسی طرح مولانا روم اور شیخ سعدی کے مندرجہ ذیل اشعار سے کبیر نے جس طرح استفادہ کیا ہے وہ بھی قابلِ ذکر ہے۔
چشم بند و لب ببند و گوش بند

گر نہ بینی سر حق برمن بہ خند

]آنکھ ، ہونٹ، کان بند یعنی دَم کو روکے رکھ ، تجھے اُس کا دیدار ہوجائے گا اور اگر نہ ہوتو مجھ پر ہنس۔[
دیکھ ری دیکھ تجھ سہی تیرا دھانی ، دم کو روک دیدار پاوے
دم کو روک ار ، مول کو بند کر چاند سورج دھر ایک آوے

دل بدست آور کہ حج اکبر ست

از ہزاراں کعبہ یک دل بہتر ست

]کسی کا دل جیت لینا حج اکبر کے مانند ہے اور ہزاروں کعبوں سے ایک دل کی اہمیت زیادہ ہے۔[
ستّر کعبے یک دل بھیتر جو کر جانیں کوئی

شیخ سعدی ہی کا ایک شعر ہے جس کا مطلب کچھ یوں ہے کہ جب تک انسان منہ سے کچھ بولتا نہیں ہے تب تک اس کی شخصیت کے بارے میں صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا:

تا مرد سخن نہ گفتہ باشد

عیب و ہنرش نہفتہ باشد

اب کبیر کے یہاں دیکھئے کیسی یکسانیت ہے۔

بولیاں پیچھے جانیئے جو جاکو بیوہار

کبیر کے یہاں فارسی کی صوفیانہ شاعری کے اثرات بہت نمایاں ہیں۔ نہ صرف یہ کہ زبان و بیان بلکہ خیالات میں بھی کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔ مندرجہ بالا مثالوں کے علاوہ بھی ایسی متعدد مثالیں موجود ہیں جس میں کبیر کی شاعری میں صوفیانہ افکار و خیالات کی گونج بہت واضح ہے۔ مثلاً مشہور صوفیانہ خیال ہے کہ موت کے انتظار میں غفلت نہیں برتنی چاہئے کیونکہ اس سے پردہ دور ہوجاتا ہے اور قطرہ سمندر میں مل جاتا ہے۔ مشہور فارسی شاعر ابو سعید کے مندرجہ ذیل کلام میں اسی خیال کا اظہار ملتا ہے۔

دل خستہ و سینہ چاک می بایدشد

وزہستی خویش پاک می بایدشد

آں بہ کہ بخود پاک شویم اول کار

چوں آخر کار خاک می بایدشد

کبیر نے اس خیال کو کچھ اس طرح دہرایا ہے:

جیون تے مر بھلو مرجانے کوئے

مرنے پہلے جے مرے کل اجر اور ہوئے

حالانکہ قدیم ہندوستانی عقائد کے ساتھ ادب و ریاضت میں بھی موت کو نظر انداز کرنے کا رجحان ملتا ہے لیکن اس کے برعکس کبیر نے مسلم صوفیوں کا طرز اختیار کرتے ہوئے موت کو سود مند کہا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان کے خیالات و افکارپر مسلم صوفیا کا اثر کس درجہ تھا۔کبیر کے یہاں مسلم صوفیا کے افکار مثلاً کسی کی دل آزاری کی ممانعت اور دکھے دلوں کی آہ کے نتیجہ میں عذاب کی بشارت وغیرہ کا عموماً ذکر ملتا ہے۔ شیخ سعدی کے ایک شعر

چراغے کہ بیوآں زنے بر فروخت

بسے دیدہ باشی کہ شہرے بسوخت

کو کبیر نے کچھ اس ڈھنگ سے کہا ہے:

دربل کو نہ ستائیے جاکی موٹی ہائے

بنا جیوں کی سانس سوں ، اوہ بھسم ہوئے جائے

ایک اور ہندی شعر میں بھی اسی طرح کا خیال پیش کیا ہے:

دکھیا کو تم جن کلپاﺅ کہ دکھیا دیہہ روئے

دکھیا کے جو مکھیا سنہہ جڑے دیہی کھوئے

اوپر کبیر کی شاعری پر فارسی شعرا کے افکار و خیالات کے ساتھ ساتھ فارسی زبان کے اثرات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ خود اردو زبان اور اردو شاعری کے آغاز و ارتقا میں بھی کبیر کی شاعری کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ اس ضمن میں کبیر سے منسوب مندرجہ ذیل ریختہ کو جس میں ردیف اور قافیہ کی پابندی بھی روا رکھی گئی بطور مثال پیش کیا جاسکتا ہے۔

سنتا نہیں دہن کی خبر ان حد باجا باجتا

رسمند مندر گاجتا باہر سنے تو کیا ہوا

گانجا افیم و پوستا بھنگ اور شرابیں پیوتا

اک پریم رس چاکھا نہیں علمی ہوا تو کیا ہوا

کاسی گیا اور دوارکا تیرتھ شکل بھرمت پھرے

گانٹھی نہ کھولی کپٹ کی تیرتھ گیا تو کیا ہوا

پوتھی کتابیں باچتا اوروں کو نت سمجھاوتا

نرکوٹی محل کھوجے نہیں بک بک مرا تو کیا ہوا

قاضی کتابیں کھوجتا کرتا نصیحت اور کو

محرم نہیں اس حال سے قاضی ہوا تو کیا ہوا

شطرنج ، چوپڑ ، گنجفہ اک مزد ہے بد رنگ کی

بازی نہ لائی پریم کی کھیلا جوا تو کیا ہوا

جوگی و گنبر سے بڑا کپڑا رنگے رنگ لال سے

واقف نہیں اس رنگ سے کپڑا رنگا تو کیا ہوا

جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں ریختہ موسیقی کی ایک اصطلاح ہے اور موسیقی میں اب بھی اس کا رواج تھوڑا بہت باقی ہے۔ مخدوم علاﺅالدین اس کی تعریف یوں بیان کرتے ہیں: ”ریختہ کا اطلاق ایسے سرود پر ہوتا تھا جس میں ہندی اور فارسی کے اشعار یا مصرعے یا فقرے جو مضمون و تال اور راگ کے اعتبار سے متحد ہوتے تھے اور ترتیب دیئے جاتے تھے۔ “ اس کی مثال میں امیر خسرو کی وہ غزل پیش کی جاتی ہے جس کا مطلع ہے:

زحال مسکیں مکن تغافل درائے نیناں بنائے بتیاں

چوں تاب ہجراں ندرام اے جاں نہ لیہو کاہے لگائے چھتیاں

کبیر کے یہاں زبان اور خیال دونوں سطحوں پر ہند +اسلامی روایت کا ابتدائی نقش جھلکتا نظرآتا ہے جس نے آگے چل کر اردوزبان کی صورت برصغیر ہندو پاک کی تہذیبی زندگی کو ثروت مند کیا۔گذشتہ سطور میں فارسی شعرا اور کبیر کے خیالات میں مماثلت پر بحث آچکی ہے اسی طرح زبان کے ارتقا کے سلسلے میں عرب علما مثلاً جاحظ، ابن قتیبہ، ابن رشیق ، جرجانی اور خلدون وغیرہ نے بڑی دیدہ ریزی دکھائی ہے۔ خلدون اور جاحظ نے خیال کے مقابلے لفظ کو اولیت دی ہے ۔ مثلاً: خلدون (۲۳۷ تا ۸۰۸ئ)نے اپنے مشہور زمانہ مقدمہ میں نقل کیا ہے:

”یاد رکھئے ! شاعری یا مضمون نگاری کا تعلق الفاظ سے ہوتا ہے، معانی سے نہیں۔اس سلسلے میں معنی الفاظ کے تابع ہوتے ہیں اور الفاظ ہی اصل ہوتے ہیں۔ لہٰذا شاعر یا مضمون نگار جو اپنے اندر ملکہ پیدا کرنا چاہتا ہے وہ اپنی پوری پوری توجہ الفاظ پر رکھتا ہے۔زبان پر گفتگو میں صرف الفاظ ہوتے ہیں اور معنی دلوں میں ہوتے ہیں۔اس لیے شاعری وغیرہ کا تعلق الفاظ سے ہوتا ہے معنی سے نہیں۔اس کے علاوہ معنی تو ہرشخص کے پاس ہوتے ہیں اور حسب منشا ہر فکر کے مسخر ہوتے ہیں۔ان کے سلسلے میں کسی فن کی ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ البتہ موزوں عبارت لانے کے لیے اور مناسب الفاظ استعمال کرنے کے لیے فن کی لاحق ہوتی ہے۔الفاظ گویا معنی کے سانچے ہیں ، جیسے برتن جن سے دریا سے پانی نکالا جاتا ہے۔سونے ، چاندی، سیپ، شیشے اور مٹی کے ہوتے ہیں اور پانی ایک ہی ہوتا ہے۔معنی بھی ایک ہی ہوتا ہے ، مگر زبان میں عمدگی اور بلاغت مختلف کلاموں میں اختلا ف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے کہ کون سا کلام مقاصد کے زیادہ مطابق ہے اور کون سا کم۔جو تراکیب و اسالیبِ کلام سے نا آشنا ہوتے ہیں اور انھیں زبان کے ملکہ کے تقاضوں کے مطابق پیش نہیں کرسکتے اور کلام پھسپھسا لاتے ہیں ، وہ بمنزلہ ایک اپاہج کے ہیں جو کھڑے ہونے کا تو قصد کرتا ہے مگر پاہج ہونے کی وجہ کھڑا نہیں ہوسکتا۔“
(مقدمہ ابنِ خلدون ۔ ص: ۵۱۴۔ مترجم : مولانا راغب رحمانی۔ ناشر: نفیس اکیڈمی، کراچی۔ ۱۰۰۲ئ)
ابنِ خلدون ہی طرح جاحظ بھی کلام میں لفظ کی فوقیت کا حامی ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:

”معنی تو پیش پا افتادہ ہوا کرتے ہیں، اسے تو عربی ، عجمی ، دیہاتی ، شہری سب جانتے ہیں۔ دراصل اہمیت اوزان کی ، اچھے الفاظ کے استعما ل کی اور زبان کے سہل المخرج ہونے (وغیرہ وغیرہ) کی ہے۔ بیشک شعر ایک صنعت ہے اور تصویر کشی کا ذریعہ ہے۔“
(مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت۔ ص: ۴۶)

یہاں غور کرنے کا نکتہ یہ ہے کہ کبیر کے یہاں بھی لفظ کی حرمت و احترام کا وہی احساس نظر آتا ہے جو مذکورہ عرب علماکا ہے۔ کبیر زبان کے تعلق سے

اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتے ہیں:

”کبیر نے سادھوﺅں سے کہا کہ شبدوں کی سادھنا کیجئے یعنی الفاظ پر عبور حاصل کرنے کے لیے ریاض ضروری ہے۔ لفظوں کی گہرائی و گیرائی تک پہنچنا ہے تو اس کے لیے ممکنہ سعی کیجئے۔ الفاظ کو موتیوں کی طرح لڑی میں پرونا، ان سے ہار یا مالا تیار کرنا ہنر مندی کی دلیل ہے۔کبیر کے نزدیک الفاظ کا درست استعمال ایک طرح کی روشنی اور انبساط کی حصولیابی کا وسیلہ ہے۔“
(اردو چینل ، جلد ۹، شمارہ۱ ۔ مئی ۶۰۰۲ء۔ ص:۹۲۱)

محمود شیرانی نے اپنی کتاب ”پنجاب میں اردو“ میں رقم کیا ہے:” ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کچھ عرصہ بعد ریختہ نے موسیقی سے نکل کر عمومیت حاصل کرلی اور اس کا اطلاق ایسے کلام منظوم پر ہونے لگا جس میں دو زبانوں کا اتحاد ہواور دوسرے الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ ریختہ ایسی نظم ہوتی تھی جس میں ہندی ، فارسی کے اشعار یا فقرے متحد ہوتے تھے۔“ یہی ریختہ آگے چل کر اردو کہلایا۔ شیرانی صاحب اپنی اسی کتاب میں تحریر کرتے ہیں:” ریختہ سے مراد اگرچہ ولی اور سراج کے ہاں نظم اردو ہے لیکن دہلویوں نے بالآخر اس کو زبان اردو کے معنی دے دیئے اور یہ معنی قدرتاً پیدا ہوگئے اس لیے کہ ان ایام میں اردو زبان کا تما م تر سرمایہ نظم ہی میں تھا۔ جب نثر پیدا ہوگئی تو یہی اصطلاح اس پر ناطق آگئی اس طرح ریختہ قدرتاً اردو زبان کانام ہوگیا۔“

کبیر کا تعلق اودھی علاقے سے تھا۔ شمس الرحمن فاروقی نے لکھا ہے کہ ” شیخ عبد القدوس گنگوہی (1455ءتا 1538ئ) اور سنت کبیر (وفات1518ئ)کے پہلے کسی صوفی نے ”ہندی /ہندوی“ کو شمال میں ادبی اظہار کا ذریعہ نہیں بنایا لیکن شیخ گنگوہی اور نہ کبیر نے اس خالص کھڑی میں لکھا جو ترقی کرکے آج کی اردو بنی ۔ شیخ گنگوہی کی زبان پر برج حاوی ہے اور کبیر کی زبان میں اودھی اور بھوجپوری کے عناصر نمایاں ہیں۔“ لیکن ان باتوں کے باوجود بھی ہم کہہ سکتے ہیں کہ کبیر کی شاعری میں جو زبان استعمال ہوئی ہے وہ اس زمانے کی عوامی زبان تھی اور ظاہر ہے کیا شمال ، کیا جنوب اس دور کے ہندوستان میں جو لسانیاتی جگل بندی کا رواج شروع ہوا تھا اس کے نتیجے میں پورے ملک میں اردو کا جادو سر چڑھنے لگاتھا۔ اس زبان نے اپنا رنگ جمانا شروع کردیا تھا اور عوام میں یہ زبان تیزی سے مقبول ہورہی تھی۔ گو کہ اس وقت اردو کے خد و خال بہت واضح نہیں ہوئے تھے۔ کبیر نے بھی اپنی شاعری کے لیے اسی عام فہم اور عوام فہم زبان و سہارا لیا تھا ۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ کبیر کی شاعری اردو سے کتنی قریب ہے اوراسے سمجھنا آج بھی اتنا دشوار نہیں ہے

Urdu ke Ibtedayee Afsana Nigaarh

Articles

اردو کے ابتدائی افسانہ نگار

قمر صدیقی

اردو افسانے کے آغاز اور اولیت کو لے کر خاصے اختلافات رہے ہیں۔ حالانکہ اردو افسانے کا سفر کچھ ایسا طویل بھی نہیں ہے کہ یہ تحقیق کے لیے کوئی بہت بڑا چیلنج ہو۔لیکن اردو افسانے کے ساتھ معاملہ یہ ہوا کہ ہمارے زیادہ تر محققین کولسانی کھکھیڑیں سلجھانے اور قدیم ترین متون کی تدوین و ترتیب نے اتنی فرصت ہی نہیں دی کہ وہ اس سمت بھی توجہ کرتے یا شاید افسانہ (یاتخلیقی ادب) ان کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھا۔ خیر اس صورتِ حال کے مدنظر اردو افسانے کی روداد لکھنے کی ذمہ داری محققین کے بجائے ناقدین نے اپنے سرلی اور اس ضمن میں پہلا قدم ہی غلط پڑا۔

1955کے ’’نقوش‘‘ کے افسانہ نمبر میں شائع ایک بحث میں پروفیسر وقار عظیم نے پریم چند کو اردو کا پہلا افسانہ نگار قرار دیا۔ پروفیسر احتشام حسین نے بھی اسی طرح ’’کتاب‘‘ (لکھنؤ) میں شائع ایک بحث میں سجاد حیدر یلدرم اور پریم چند دونوں کو اردو کا اولین افسانہ نگار تسلیم کرتے ہوئے فرمایا : ’’ہم کو جو ابتدائی افسانہ نگار ملتے ہیں ، ان میں دو نام نمایاں طور پر نظر آتے ہیں ۔ ایک سجاد حیدر یلدرم کا اور دوسرا پریم چند کا۔‘‘ سجاد حیدر یلدرم کو اردو کا پہلا افسانہ نگار تسلیم کرنے والوں میں پروفیسر احتشام حسین اکیلے نہیں ہیں۔ پطرس بخاری اور ڈاکٹر معین الرحمن بھی ان کے ہمنوا ہیں۔ ابو الفضل صدیقی نے (’’سیپ‘‘ ، کراچی 1980) سلطان حیدر جوش کو اردو کا پہلا افسانہ نگار قرار دیا ہے تو ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی نے خواجہ حسن نظامی کو۔

اردو افسانے کے محض اگیارہ دہائیوں کے قلیل مدت کے سفر کی تاریخ کے تعلق سے اس طرح کا تضاد افسوس ناک بھی ہے اور عبرت آموز بھی۔ در اصل یہ پورا معاملہ غیر سائنسی طریقۂ تحقیق اور ذاتی ترجیحات اور تعصبات کا غماز ہے۔ وگرنہ اردو کے وہ ابتدائی ادبی مجلے جنھوں نے اول اول افسانے شائع کیے ان کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے اور آج بھی وہ ہندوستان کی چیدہ چیدہ لائبریروں میں دستیاب ہیں ۔مثلاً ’زمانہ ‘ (کانپور) ، ’معارف‘ (علی گڑھ)، ’ مخزن‘ (لاہور اور دہلی) ، ’اردوئے معلی‘ (علی گڑھ) وغیرہ۔

ڈاکٹر مسعود رضا خاکی وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے 1965میں ’’ اردو افسانے کا ارتقا‘‘ کے موضوع پر اپنے پی ایچ ڈی کے مقالے میں راشد الخیری کے افسانے ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ (مطبوعہ مخزن 1903) کو اردو کا پہلا افسانہ قرار دیا۔ پھر پروفیسر مرزا حامد بیگ نے ’مخزن‘ (لاہور، شمارہ 3، جلد 6، بابت دسمبر 1903 صفحہ نمبر 27تا 31) سے راشد الخیری کا یہ افسانہ حاصل کرکے 1991میں ’’فنون‘‘ (لاہور) میں شائع کروادیا اور اس کے بعد سے راشد الخیری کے افسانے ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ کو اردو کا پہلا افسانہ تسلیم کرلیا گیا۔ 1997میں مظہرامام نے معروف پاکستانی رسالہ ’’آئندہ‘‘ (کراچی) میں بہار کے دو افسانہ نگاروں کا ذکر کرتے ہوئے ثابت کیا کہ علی محمود ( پہلا طبع زاد افسانہ ’’چھاؤں‘‘ ، ’مخزن‘۔لاہور ۔ بابت اپریل 1904) اور وزارت حسین اورینی( پہلا طبع زاد افسانہ ’’افسانۂ حرماں یعنی مرگِ محبوب‘‘ ،’ اردوئے معلی‘ ۔علی گڑھ۔ بابت جون 1905)بھی اردو کے ابتدائی افسانہ نگاروں میں شامل ہیں۔
اردو کے قدیم ادبی مجلّوں مثلاً مخزن، اردوئے معلی، زمانہ اور عصمت وغیرہ کی فائلیں دیکھنے کے بعد اردو کے اولین افسانہ نگاروں کی فہرست اس طرح مرتب ہوتی ہے۔

۱۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’نصیر اور خدیجہ‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) دسمبر 1903

۲۔ علی محمود ، افسانہ ’’چھاؤں ‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) جنوری 1904

۳۔ علی محمود ، افسانہ ’’ایک پرانی دیوار‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور) اپریل 1904

۴۔ وزارت حسین اورینی ، افسانہ ’’ افسانۂ حرماں یعنی مرگِ محبوب‘‘ ، مطبوعہ ’’اردوئے معلی‘‘ (علی گڑھ) جون 1905

۵۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’بدنصیب کا لال‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور) اگست 1905

۶۔ سجاد حیدر یلدرم ، افسانہ ’’ دوست کا خط‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (لاہور ) اکتوبر 1906

۷۔ سجاد حیدر یلدرم ، افسانہ’’غربت و وطن‘‘ ، مطبوعہ ’’اردوئے معلی‘‘ (علی گڑھ) اکتوبر 1906

۸۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’عصمت و حسن‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) اپریل تا مئی1907(دو قسطوں میں)

۹۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’ رویائے مقصود‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن ‘‘(دہلی) اکتوبر 1907

۱۰۔ سلطان حیدر جوش ، افسانہ ’’نابینا کی بیوی‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) دسمبر 1907

۱۱۔ پریم چند ، افسانہ ’’ عشق دنیا اور حب وطن ‘‘ ، مطبوعہ ’’زمانہ ‘‘ (کانپور) اپریل 1908

۱۲۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’ نند کا خط بھاوج کے نام‘‘ ، مطبوعہ ’’عصمت‘‘ (دہلی) جون 1908

۱۳۔ راشد الخیری ، افسانہ ’’شاہین و درّاج‘‘ ، مطبوعہ ’’مخزن‘‘ (دہلی) جون 1908

۱۴۔ پریم چند ، افسانہ ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ مشمولہ ’’سوزِ وطن‘‘ جون 1908(طبع اول ۔ دہلی)

اس طرح اردو کے پہلے افسانہ نگار راشد الخیری قرار پاتے ہیں۔ دوسرے علی محمود، تیسرے وزارت حسین اورینی ، چوتھے سجاد حیدر یلدرم ، پانچویں سلطان حیدر جوش اور چھٹے پریم چند ۔ مندرجہ بالا شواہد کی روشنی میں پریم چند کا افسانہ ’’دنیا کا سب سے انمول رتن‘‘ جسے اردو کا پہلا افسانہ تسلیم کیا جاتا رہا ہے ، تاریخی اعتبار سے اردو کے طبع زاد افسانوں میں اس کانمبرچودھواں ہے۔
دیگر حضرات جن کے سر اولیت کا تاج رکھا جاتا رہا ہے ان میں سدرشن کا اولین افسانہ ’’ سدا بہار پھول‘‘ 1912کی تخلیق ہے۔ جبکہ خواجہ حسن نظامی کا اولین افسانہ ’’ بہرا شہزادہ‘‘ ، ’’ہمایوں‘‘ کے جنوری 1913کے شمارے میں شائع ہوا۔ نیاز فتح پوری کا افسانہ ’’ایک پارسی دوشیزہ کو دیکھ کر ‘‘ ، ’’تمدن‘‘( دہلی) اور ’’نقاد‘‘ (آگرہ) دونوں رسالوں میں جنوری 1913میں شائع ہوا۔ اس طرح سدرشن، خواجہ حسن نظامی اور نیاز فتح پوری اردو کے افسانوی منظر نامے پر اس وقت نمودار ہوئے جب اردو افسانے کا سورج طلوع ہوکر کسی قدر روشنی بکھیرنے لگا تھا۔ البتہ چودھری محمد علی ردولوی کا معاملہ ذرا الگ ہے۔ معلوم حقائق کی بناکر کہا جاسکتا ہے کہ انھوں نے افسانہ نگاری کا آغاز یلدرم اور پریم چند کے ساتھ کیا لیکن چونکہ وہ اعلیٰ سرکاری منصب پر فائز تھے لہٰذاکچھ اپنی سماجی حیثیت اور کچھ اپنے مزاج کی بنا پر انھوں نے رسائل کے مدیران کو افسانہ اشاعت کے لیے بھجوانے میں تامل برتا لیکن ان کی اس تساہلی کے باوجود انھیں اردو افسانے کے اولین معماروں میں شمار نہ کرنا بہت بڑی نا انصافی ہوگی۔

Tehzeebi Tabdeeliyon ke Daur me Adab ka Kirdaar

Articles

تہذیبی تبدیلیوں کے دور میں ادب کا کردار

قمر صدیقی

اگر یہ کہاجائے کہ کرۂ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ :

’’انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔‘‘

بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح حقیقت یہ ہے کہ آج ہر جگہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی حکمرانی ہے۔ گھر ہو یا دفتر ، علم ہو یا علاج، معیشت ہو یا ثقافت اور فن ہو یا تفریح ………ہر شعبۂ حیات میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل صاف نظر آتا ہے اورلطف کی بات یہ ہے کہ مختلف ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے مزید نئی نئی ٹیکنالوجیزسامنے آرہی ہیں ، بلکہ دیوندر اِسّر کے لفظوں میں تو ساری دنیا گھر کے آنگن میں سمٹ آئی ہے اور آنگن پھیل کر ساری دنیا کی وسعت سے ہم کنار ہورہا ہے۔ الیکٹرانک مشینوں کو کہیں سے بھی ہدایتیں دی جاسکتی ہیں اور انھیں حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ جب ہم گھر پہونچیں گے تو سب کچھ ہماری ضرورت اور ہدایت کے مطابق تیار ہوچکا ہوگا۔ پہلے زمانے کا شاعر دیواروں سے باتیں کرتا تھا ، اب دیواریں شاعروں سے باتیں کریں گی۔ شاید ہمارے غم و انبساط میں بھی شریک ہوں گی!۔ذہین ،مکین ہی نہیں ذہین، مکان بھی ہوں گے۔ حساس دل بے حس تجربہ گاہوں میں تیار کئے جائیں گے اور منجمد سڑکیں متحرک ہوجائیں گی۔ انسان حادثات سے بچ جائے گا۔ کاریں آپ کو ڈرائیو کریں گی اور الیکٹرانک آلات آنے والے خطرات سے آپ کو آگاہ ۔ دل کا دورہ ہو یا سڑک حادثہ ،اس پیش خبری کے باعث ٹل جائے گا۔ کلوننگ سے پیدا ڈولی کوبھول جائیے، اب بھیڑیں فیکٹریوں میں تیار ہوں گی۔ جینیٹک انجینئرنگ کی مددسے صرف چار بھیڑوں سے اتنی مقدار میں انسولین تیار کی جاسکے گی جو دنیا بھر کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے کافی ہوگی۔ کمپیوٹر انسانی ذہن کے حامل ہوں گے اور انسان کمپیوٹر کی مانند کام کریں گے۔ انسان اور حیوان کے اعضا ایک دوسرے کے جسم میں منتقل کیے جارہے ہیں۔ ذی روح اور غیر ذی روح میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تبدیلی کا ایک ریلا ہمارے شب وروز کو اپنے زور میں بہائے لیے جارہا ہے اور اس بہاؤ میں عا لمیت ، قومیت، مقامیت، رنگ، نسل ، ذات ، طبقہ، فرقہ، مذہب اور جنس کے علاوہ مغرب اور مشرق کے تفاوت کے ساتھ ساتھ نہ جانے کن کن علوم ، بشریات ، سماجیات ، تاریخ ، فلسفہ ، سیاست اور جانے کیا کچھ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگا ہے۔تہذیبی اور تکنیکی سوچ ایک نئی حسیت کی پرورش کررہی ہے۔ میڈیا یعنی ٹی وی ، کمپیوٹر وغیرہ اس سوچ کو پھیلانے کے ہتھیار ہیں۔ میڈیا کے ذریعے اطلاعات کی برق رفتار ترسیل نے بڑی سہولیات پیدا کردی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اطلاعات کی اس ترسیل کے ساتھ محض خبروں یا خبروں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہی کی ترسیل نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ اپنے ساتھ اپناخیال اور اپنی فکر بھی لاتے ہیں ۔ اس خیال اوراس فکر کے رد و قبول کے اختیار کے ساتھ ساتھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے اتنے تواتر اورشدت کے ساتھ مختلف طرح کے اقدار و خیالات ہم تک پہنچ رہے ہیں کہ ایک طرح کی ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ہماری اقدار سے مختلف اقدار ٹکرا رہی ہیں۔ اس ٹکراؤ کی وجہ سے یہ انتشار اور بحران تہذیب کے باطن میں اتر گیا ہے۔

چونکہ معاشرے میں تبدیلیاں بڑی سرعت کے ساتھ رونما ہورہی ہیں لہٰذاان تبدیلیوں کے اثرو نفوذ کے تعلق سے کوئی حتمی پیشن گوئی ممکن نہیں لیکن یہ تو کہا ہی جاسکتا ہے کہ یہ تہذیبی اتھل پتھل گلوبلائزیشن کی یک رخی تہذیب اور تیسری دنیا کی تہذیبی رنگا رنگی کے مابین جاری ثقافتی سرد جنگ کا نتیجہ ہے۔ برٹش ماہرِ سماجیات اسٹورٹ ہال نے اس صورتِ حال کا تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :

’’ گلوبلائزثقافت کی سب سے اہم خصوصیت اس کے یک رخے پن کی صلاحیت ہے۔یہ تہذیبوں کی تکثیریت کو ایک بڑے ڈھانچے میں سمولیتی ہے۔ ایسی ثقافت خود کو ہمیشہ مرکز میں رکھتی ہے اور باقی سب کو حاشیے پر رکھتی ہے یا غیر Otherکی شکل میں پیش کرتی ہے۔‘‘

گلوبلائز ثقافت کے اس دور میں ہمارے لیے مشکل یہ ہے کہ مغرب سے طرز زندگی درآمد کرنے کا مسئلہ ایک خطرے کی صورت اختیار کرگیا ہے ۔ اس تہذیبی درآمدات کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ ہم خود اپنی تہذیب سے منقطع ہوگئے ہیں۔ مشرقی تہذیبوں کے لیے مغرب کی یہ ثقافتی یلغار یک سطحی نہیں ہے بلکہ ایشائی تہذیب کو ایک ایسی چومکھی تہذیبی جنگ کا سامنا ہے جس کی داغ بیل انگریزی سامراج کے زمانے میں ہی پڑ چکی تھی۔ ہم میں سے بہتوں کو حیرت ہوگی کہ کارل مارکس بھی ہندوستانی تہذیب پر انگریزی تہذیب کے غلبے کا کھلا حمایتی تھا ۔ 25؍ جون 1952ء کے ’’نیویارک ڈیلی ٹریبون ‘‘ میں ’’ہندوستان میں برٹش حکومت‘‘ کے عنوان سے شائع شدہ اُس کی تحریر کا یہ اقتباس ملاحظہ ہو:

’’ ہندوستانی معاشرے کی بالکل کوئی تاریخ نہیں ہے۔ کم ازکم کوئی معلوم تاریخ نہیں ……..انگلستان کو ہندوستان میں دوہرا فریضہ انجام دینا ہے۔ ایک تخریبی اور دوسرا نو اصلاحی۔ قدیم ایشیائی معاشرے کو فنا کرنے اور مغربی سماج کی بنیاد رکھنے کا…….انگلستان کی مداخلت نے ہندوستان کے ان چھوٹے چھوٹے نیم وحشی ، نیم مہذب گروہوں کی معاشی بنیادوں کو تہس نہس کرکے ایسے سب سے بڑے سماجی انقلاب کو رونما کیا اور سچ تو یہ ہے کہ ایشیا میں جس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ ‘‘

کارل مارکس کے اس بیان کو ہم آج کے افغانستان ، عراق اور لیبیا پر بھی منطبق کرسکتے ہیں۔ وہاں جمہوریت اور آزادی کے نام پر ظلم کا جو ننگا ناچ کھیلا گیا ۔ اس نے سائنس و ٹیکنالوجی کی اس برتری والی دنیا کو عہد قدیم کی وحشی دنیا کے مقابل لاکھڑا کردیاہے۔

دراصل تہذیبی آدان پردان کے قدیم اور روایتی سلسلے کو مغربی اقوام کی طاقت پرستی اور تعصب نے پوری دنیا کے لیے ایک تہذیبی بحران میں تبدیل کردیا ہے۔ سائنس اور ٹیکنالوجی نے جو معروضیت ، تعقل پسندی اور ترقی کا جواز پیش کیا ہے انسانی فکر و احساس اس سے بے نیازی نہیں برت سکتا۔ ظاہر ہے کہ کمپیوٹر ، انٹر نیٹ ، میڈیا اور انسانیت کو فیض پہنچانے والی دوسری ٹیکنالوجیز سے کوئی انسان آنکھ موڑنا پسند نہیں کرے گا، لیکن ٹیکنالوجی کوکسی مخصوص تہذیب کو وسعت دینے کے لیے استعمال کرنا شاید ہی کسی کو قابلِ قبول ہو۔ لہٰذا ایک طرف تو ساری دنیا میں ایک مخصوص تہذیب کورواج دینے کی کوشش کی جارہی ہے اور دوسری طرف امریکی مفسر سیموئیل ہٹینگ ٹن ’’تہذیبوں کے تصادم ‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ یہ ایک خطرناک صورتِ حال ہے۔

ایسی صورتِ حال میں ادب کو کون سا رول ادا کرنا ہے؟ اور تبدیلی کے اس عمل میں ادیب کا کردار کیا ہونا چاہئے یہ طے کرنا تو خیر مشکل ہے۔ لیکن اتنا تو طے ہے کہ تبدیلی کے اس عمل میں ادب اور ادیب دونوں کا کردار بہت اہم ہوتا ہے اور اگر ادیب کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہوجائے تو وہ یقیناً اپنے دور کا امیر خسرو، میر و غالب، آتش و مصحفی، نظیر و انیس ، حالی و داغ، اقبال و فیض بن جاتا ہے۔ ان تمام نابغۂ روزگارشخصیات کی تخلیقی جودت یہ تھی کہ انھوں نے روحِ عصر کو اپنے اندر سمویا اور تخلیقی تجربہ کشید کیا۔ادب خارجی واقعات کا محرر نہیں، سو وہ واقعات کی تہہ میں خوابیدہ اسرار و تجربات کو اظہار کے سانچوں میں لازوال کرتا ہے۔ گویا اس کا منصب وقت اور عارضی کو ابدی اور لافانی میں ڈھالنا ہے۔ اس طرح وہ معاشرے کا واحد رکن ہے جو ہر طرح کے موسم اور حالات میں اعلیٰ انسانی اقدار کی پاسداری پر متمکن ہے کیونکہ ادیب جغرافیائی حدود میں زندہ رہتے ہوئے بھی عالمی اور آفاقی وجود رکھتا ہے۔

Numbardaar ka Nela

Articles

سیّد محمد اشرف کے ناول ”نمبر دار کا نیلا

پروفیسر صاحب علی

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں اردو میں یکے بعد دیگرے کئی ناول لکھے گئے۔ ان میں کچھ مقبول ہوئے توکچھ کو قبولیت کا شرف حاصل نہ ہوسکا۔کچھ ناولوں پر دیر تک گفتگو ہوئی مثلاً جوگندرپال کا ناول ”خوب رو“ ، مظہر الزماں خاں کا ناول ”آخری داستان گو“ ، حسین الحق کا ناول ”فُرات“، غضنفر کا ناول ”پانی“ ، علی امام نقوی کا ناول” تین بتّی کے راما“ اور سیّد محمد اشرف کا ناول ”نمبر دار کا نیلا“ وغیرہ ۔یوں تو مذکورہ بالا تمام ناول اہمیت کے حامل ہیں تاہم اشرف کا ناول ”نمبردار کا نیلا“اپنے موضوع ، ٹریٹمنٹ اور کردار نگاری اور زبان و بیان کے حوالے سے ، خصوصاً جانور کو بطور کردار پیش کرنے کے لحاظ سے زیادہ توجہ اور گفتگو کا تقاضا کرتا ہے۔
سیّد محمد اشرف اپنے ننھیال سیتاپور میں ۷۵۹۱ءمیں پیدا ہوئے۔ اتر پردیش کے ضلع ایٹہ کا قصبہ مارہرہ شریف ان کا آبائی وطن ہے۔ سیّد محمد اشرف ان دنوں انکم ٹیکس کے شعبے میں کمشنر کے عہدے پر فائز ہیں۔ اب تک ان کے دوافسانوی مجموعے ”ڈار سے بچھڑے“ اور ”بادِصبا کا انتظار“ شائع ہوکر منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کا ایک ناول ”نمبردار کا نیلا“ ۷۹۹۱ءمیں شائع ہوا تھا۔

فکشن میںسیّد محمد اشرف کی شروعاتی پہچان جانوروں کے پیرائے اظہار سے قائم ہوئی لیکن ان کا طرز نگارش محض جانوروں تک محدود نہیں ہے۔ ان کے یہاں ایسے کئی کامیاب افسانے ہیں جن میں جانور نہیں ہیں۔ مثلاً کعبے کا ہرن، دوسرا کنارہ اور چمک وغیرہ۔ اشرف کوکچھ ان کے خاندانی پس منظر اور کچھ ان کے فکشن میںموجود مخصوص تہذیب و معاشرہ کی وجہ سے مذہبی تمدن کا فکشن نگار بھی قرار دینے کی کوشش کی گئی لیکن اس طرح کی کوششوںکے خلاف ’لکڑ بگھا ہنسا‘ اور ’نمبر دار کا نیلا‘ جیسی تخلیقات دیوار بن گئیں۔پھر یہ کہا گیا کہ اُن کی فن کاری کا محور علامتی تکنیک ہے، تو یہاں بھی اشرف کا افسانہ ’قربانی کا جانور‘ ایک رکاوٹ بن کر کھڑا ہوگیا۔ آخر سیّد محمد اشرف کے فن کا بنیادی رویہ کیا ہے؟ ان کے دونوں مجموعوں ”ڈار سے بچھڑے“ ، ”بادِ صبا کا انتظار“ اور ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کے مطالعہ کے بعد ان کے فن کے تعلق سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ بنیادی طور پر وہ اپنے عہد کے فرد اور معاشرے کی زوال پذیری کے نباض اور ناقد ہیں۔ اشرف کے فن کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ وہ جس موضوع کا انتخاب کرتے ہیں اسی کی مناسبت سے کردار ، زبان اور ماحول بھی خلق کرتے ہیں۔انھوں نے فکشن میں عصری سچائیوں کے لیے علامت اور استعاروں کے درمیان سے راہ نکالی ہے۔ان کے فکشن میں معاشرہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ اپنے منفرد تکنیکی و اسلوبیاتی انداز کی وجہ سے وہ اپنے دیگر معاصرین سے ممتاز نظر آتے ہیں۔
جیساکہ اوپر مذکور ہوا ہے کہ اشرف کے طرز نگارش کو کچھ کچھ جانوروں سے بھی شغف ہے اور اشرف کا کمال یہ ہے وہ جانوروں کی خصلتوں میں انسانی کردار کا منظر پیش کرتے ہیں۔ اس لیے شاید کچھ لوگوں کوگمان گزرتا ہے کہ اشرف جانوروں کو آدمی کی طرح ٹریٹ کررہے ہیں۔لیکن اشرف نے کوئی نئی پنچ تنتر نہیں مرتب کی ہے بلکہ وہ فکشن کے ذریعے انسانوں میں بسی ہوئی جانوروں کی جبلتوں کا پردہ فاش کرتے ہیں۔ناول ”نمبر دار کا نیلا“ ایک ایسا ہی ناول ہے جس میں انسان یعنی ٹھاکر اودل سنگھ اور جانور یعنی نیلا کی جبلتیں ایک دوسرے میں مدغم ہوگئی ہیں۔ ناول کچھ اس طرح شروع ہوتا ہے۔

گاﺅں کے لوگ لاٹھی اور ڈنڈے کے ساتھ ارہر کے کھیت کے گرد نیلا کو پکڑنے کے لیے جمع ہیں۔ لیکن نیلا تمام لوگوں کو جُل دے کر آبادی کی طرف بھاگ جاتا ہے۔نیلا دراصل نیل گائے کا نر بچہ ہے جسے گاﺅں کے نمبر دار ٹھاکر اودل سنگھ نے پالا ہے۔ نیلا کو پالنے کی وجہ یہ ہے کہ ایک دفعہ ٹھاکر کے مکان میں چوری ہوجاتی ہے اورٹھاکر کے دل میں خیال پیدا ہوتا ہے کہ مکان کی حفاظت کے لیے کچھ ایسا انتظام کیا جائے کہ جس کی دہشت سے لوگ ٹھاکر کے مکان کی طرف بُری نگاہ ڈالنے کی ہمت نہ کرسکیں۔ ٹھاکر نیلے کو بڑی دلجمعی سے پالتا ہے۔ اس کے کھانے پینے کا خاص خیال رکھتا ہے ۔ اسے چارہ اور سانی کے علاوہ تیل ، بادام اور کھوے کے لڈّو کھلاتا ہے۔اِس کھان پان سے نیلے کی صحت بہت اچھی ہوجاتی ہے ساتھ ہی اس کی روایتی جبلتوں میںکئی تبدیلیاں پیدا ہوجاتی ہےں۔ فطری طور پر جانور انسان سے خوف کھاتا ہے لیکن نیلے کے دل میں ٹھاکر اور اس کے اہلِ خانہ ، جن سے وہ مانوس ہے، کے علاوہ انسانوں کا کوئی خوف باقی نہیں رہتا۔ یہ گاﺅں کے لوگوں کو پریشان کرنا شروع کردیتاہے۔ ابتدا میں لوگ ٹھاکر کے پاس نیلا کی شکایتیں لے کر آئے لیکن ٹھاکر اپنی مکاری اور عیاری سے نیلا کو بے قصور اور گاﺅں والوں کو ہی قصور وار ثابت کردیتا ۔ٹھاکر نے نیلے کو گائے کی نسل کا جاندار بتا کر نیلے کے تئیں لوگوں کے دل میں عقیدت بھی پیدا کرنے کی کوشش کی لیکن گاﺅں والے نیلا سے بیزار تھے وہ نیلا کی عقیدت سے نہیںبلکہ ٹھاکر کی عیاری و مکاری اور رعب و دبدبے کی وجہ سے خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔

اس درمیان کہانی میں ایک اہم موڑ آتا ہے۔ ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا اونکارپڑوس میں رہنے والی کمہار کی یتیم لڑکی کے ساتھ بدسلوکی کرتا ہے۔ حالانکہ اونکار نے سازش تو بہت گہری تیار کی تھی تاہم کچھ عرصے بعد کمہار کی لڑکی کو معلوم ہوجاتا ہے کہ اس کے ساتھ بدسلوکی کرنے والا ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا اونکارہے۔وہ اپنے بہنوئی کو سب حقیقت بتاتی ہے اور اس کا بہنوئی ایک منصوبے کے تحت اونکار کو قتل کردیتا ہے۔یہاں سے ٹھاکر کا زوال شروع ہوتا ہے۔دراصل ٹھاکر کا چھوٹا بیٹا مقتول اونکار اس کے بُرے کاموں میں اس کا شریک تھا۔ ٹھاکر کو نیلا میں اونکار کی جھلک محسوس ہوتی ہے۔نیلا اب پوری طرح جوان ہوچکا ہے اور اس کی شرارتیں اب گاﺅں سے نکل کر قصبے تک پہنچ گئی ہیں۔ نیلے کی اس خونخواری کے پیش نظر انتظامیہ کو فکر ہوتی ہے ۔ ٹھاکر چونکہ بااثر شخصیت کا مالک ہے اور شہر کی میونسپلٹی کا چیئر مین بھی ہے لہٰذا وہ معاملے کو دبانے کی کوشش کرتا ہے۔ اُدھر نیلا کی وحشیانہ حرکتیں دراز ہوتی چلی جاتی ہیں۔ آخر کار عوام اور انتظامیہ کے دباﺅ میں آکر ٹھاکر نیلے کو مارنے کے لیے بظاہر تو راضی ہوجاتا ہے لیکن اندر اندر اسے بچانے کی ترکیب بھی کرتا رہتا ہے۔ وہ نیلے کو ارہر کے کھیت میں چھپا دیتا ہے۔ لوگوں کو کسی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ نیلا ارہر کے کھیت میں چھپا ہے۔ لوگ اسے پکڑنے کے لیے کھیت کے گرد گھیرا ڈالتے ہیں۔ نیلا کوخطرے کا احساس ہوجاتا ہے اور وہ وہاں سے بھاگتا ہے۔ لوگوں کی اس پکڑ دھکڑ میں وہ زخمی ہوجاتا ہے اور زخمی ہوجانے کے بعد مزید خونخوار ہوجاتا ہے۔وہ بھاگ کر سیدھا ٹھاکر کے مکان کی طرف جاتا ہے۔ چونکہ اس کی ایک آنکھ زخمی ہوچکی تھی اور اس پر وحشت بھی سوار تھی لہٰذا اسی وحشت کے عالم میںوہ ٹھاکر کے بڑے لڑکے پرتاب کو ختم کردیتا ہے۔ اس درمیان ٹھاکر اور دوسرے لوگ بھی بھاگتے ہوئے آجاتے ہیں ۔ابھی نیلے کی وحشت اور خونخوای کم نہ ہوئی تھی۔ ٹھاکر جیسے ہی آگے بڑھا نیلے نے اُسے بھی لہولہان کردیا اور اس کی لاش کو کچلتے ہوئے کنّی کاٹ کر ٹوٹی دیوار کے راستے فرار ہوگیا۔
مذکورہ بالا ناول جس کا خلاصہ ابھی پیش کیا گیا ہے اس کی اہمیت و عظمت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ صف اول کے ناقد شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول کے تعلق سے کلام کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :
”بیشک اتنا عمدہ فکشن اردو تو کیا انگریزی میں بھی میں نے بہت دن سے نہیں دیکھا۔“
(رسالہ ”سوغات“ ۔ شمارہ:۱۱)

ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کی پہلی خصوصیت اس کی زبان ہے اور کسی فن پارے کی کیفیت و قدر ناپنے کا پہلا پیمانہ زبان ہی ہوتا ہے۔ شاعری کے حوالے سے زبان کی اہمیت مسلم ہے ۔ اسی طرح فکشن کے جملہ اصناف ناول ، افسانہ یا ڈراما وغیرہ اور ان کے اجزائے ترکیبی مثلاً پلاٹ ، کردار اور بیانیہ وغیرہ یہ سارے کے سارے زبان کے رہینِ منت ہوتے ہیں۔ ناول یا افسانے کو فکشن نگار جس پلاٹ کی مدد سے تیار کرتا ہے ، وہ پلاٹ لفظوں سے تیار ہوتا ہے۔ جو کردار پیش کرتا ہے ان میں زندگی کا رنگ لفظوں کی مدد سے بھرتا ہے اور کہانی کو بیانیہ کے جس ٹریک پر چلاتا ہے وہ ٹریک بھی لفظوں کی مدد سے ہی تیار ہوتا ہے۔ گویا یہ کہ اظہار کے تمام نثری و شعری ذرائع کا وجود زبان کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا ادب کے تخلیقی اظہار میں زبان کی حیثیت کلیدی ہوتی ہے۔ اس ضمن میں مشرق کے قدیم تنقیدی مباحث سے بھی روشنی حاصل کی جاسکتی ہے۔مثال کے طور پر عباسی دور کے معروف ناقد ابو عثمان جاحظ کی یہ رائے ملاحظہ فرمائیں:

”اظہار کا انحصار معنی پر نہیں ہوتا بلکہ لفظ پر ہوتا ہے۔اس لیے کہ معانی تو تمام لوگوں کو معلوم ہوتے ہیں۔ اصل حسن الفاظ کا انتخاب ، ان کی ترتیب اور ان کے قالب میں پوشیدہ ہے۔ “
(اردو تنقید کی روایت اور مشرقی شعریات ۔ ص: ۲۹)
ظاہر ہے آج مابعد جدید تصور نقد میں متن کی Close Readingاور تحریر اساس تنقید کے حوالے سے جاحظ کا مذکورہ بالا لفظ اساس نظریہ معنویت کے نئے دروازے وا کرتا ہے تاہم جاحظ نے آگے چل کر متن اور معنی کی اس بحث میں ایک اور اہم نکتہ پیش کیا ہے۔:

”عمدہ معانی ہمیشہ عمدہ الفاظ کے متقاضی ہوتے ہیں۔“
(اردو تنقید کی روایت اور مشرقی شعریات ۔ ص: ۲۹)

دراصل متن اور مفہوم یا لفظ اور معنی کی اس بحث اہمیت کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ جب کوئی خیال یا تجربہ صفحہ ¿ قرطاس پر منتقل ہوتا ہے تو یہ منتقلی لفظوں کی مدد سے ہی ممکن ہوتی ہے۔لہٰذا خیال یا تجربہ کو اچھا ادب یا کم سے کم ادب بنانے میں مصنف یا شاعر کی زباندانی کا رول بڑی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اور آپ کے لکھے ہوئے خطوط محض خطوط کے زمرے میں آتے ہیں اور غالب کے لکھے ہوئے خطوط ادب بن جاتے ہیں۔سیّد محمد اشرف کی فکشن نگاری کا اختصاص یہ ہے کہ وہ زبان کے خلاقانہ استعمال پر قدرت رکھتے ہیں۔لہٰذاان کے ناول ”نمبر دار کا نیلا“ کا مطالعہ کریں تو زبان و بیان کی کئی خوبیاں ہمیں متوجہ کرتی ہیں۔مثلاً:

” پَو پھٹنے والی تھی ۔ بیر کے درختوں میں تیتر بولا۔ نیک شگون لے کر ٹھاکر نے جھمن کی سوکھی کلائیوں میں قدرے اطمینان سے دوڑتے ہوئے خون کی رفتار کو محسوس کیااور ہاتھ کے آزاد ہونے کا جو واحد فائدہ جھمن کی سمجھ میں آیا وہ یہ کہ اب اطمینان سے جھک کر دونوں ہاتھ جوڑ سکتا تھا، اس نے یہی کیا۔“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۲۲)

مندرجہ بالا پیراگراف میں منظر کو پینٹ کرنے میں زبان کو خلاقی سے استعمال کیا گیا ہے۔ بیر کے درختوں میں تیتر کے بولنے کی رعایت کودو سطحوں پر استعمال کیا گیا ہے۔ مرغ کی بانگ صبح کے اعلان نامہ تسلیم کی جاتی ہے لیکن عمومی طور پر صبحیں پرندوں کی چہچہاہٹ سے معمور ہوتی ہیں ۔یہاں دو رعایتیں ایک ساتھ جمع ہوگئی ہیں۔ اوّل پو پھٹنے اور تیتر کے بولنے رعیایت اور دوم صبح صادق کے وقت تیتر کی آواز سنائی دینے سے نیک شگونی کی رعایت۔ اس طرح کی رعایت لفظی و معنوی کا بہ یک وقت استعمال نثر میں خال خال ہی نظر آتا ہے۔ ایک دوسرا پیرا گراف ملاحظہ ہو۔

”لالٹین بجھ گئی تھی۔ چاندنی جالی دار کھڑکی سے چھن چھن کر آرہی تھی۔ بھابھی نے دیکھا کہ اسے بے قابو کرنے والا ابھی تک کھڑا اسے غور سے دیکھ رہا ہے اور ہولے ہولے ہانپ رہا ہے۔ وہ پیش آنے والے واقعے سے بے چین ہوکر بندھے بندھے تڑپنے لگی۔ اس کی ساڑی گھٹنوں تک اوپر سرک آئی تھی اور مدھم چاندنی میں اس کی پنڈلیاں دیوالی کی موٹی موٹی موم بتیوں کی طرح چمک رہی تھیں۔ “
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۹۳)

صدیوں پہلے معروف فارسی مفکر اور عالم رشید الدین وطواط نے تشبیہہ کے تعلق سے شعرا کو مشورہ دیا تھا کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے کہ مشبہ کو کسی ایسی چیز سے تشبیہہ دی جائے جس کا وہم و گمان میں بھی وجود نہ ہو۔ حالانکہ تشبیہہ کی خوبی و خامی کو پرکھنے کے لیے اب وطواط کے طریقے پر ذرا کم توجہ دی جاتی ہے لیکن یہ سچ ہے کہ اس کے پیمانے سے کھرے اور کھوٹے کی پرکھ خاصی آسان ہوجاتی ہے۔ مثال کے طور پر مذکورہ بالا اقتباس میں غیر شعوری طور پر اشرف نے پنڈلیوںکے لیے دیوالی کی موٹی موٹی موم بتیوںکی تشبیہہ استعمال کرکے وطواط کے خیالات کی تقلید کی ہے۔ واقعے کی منظر کشی میں لالٹین اور چاندنی کی موجودگی تشبیہہ کی ترسیل میں معاونت کرتی ہیں۔ پھر کردار کا ہندو مذہب سے متعلق ہونا تشبیہہ کو اور روشن کردیتا ہے۔

”وہ اگہن کا آسمان تھا اور اگہن کا آسمان نیلا ہوتا ہے۔ وہ ایسا موسم تھا کہ جاڑا تیز ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ اس لیے اس موسم میں جاڑا تیز ہونا شروع ہوگیا تھا۔ وہ سب بڑے برگد کے نیچے بیٹھے تھے کیونکہ اتنی بڑی پنچایت کے لیے گھر چھوٹا پڑتا تھا۔ برگد پر بہت سارے پرندے بیٹھے تھے اور بہت شور مچا رہے تھے کیوں کہ پرندے برگد پر بہت شور مچاتے ہیں۔ٹھاکر خاموش تھے کیونکہ انھیں معلوم تھا کہ کبھی کبھی خاموش رہنا بولنے سے زیادہ چیختا ہوا محسوس ہوتا ہے۔ وہ سرجھکائے ہوئے بیٹھے تھے کیونکہ اس پوز کے بھی کچھ خاص فائدے ہیں۔ اس وقت اچانک پنچوں نے بولنا بند کردیا سارے میں سنّاٹا چھا گیا“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۶۵)

ابھی جو اقتباس آپ نے ملاحظہ فرمایا وہ زبان اور بیان کی کئی خوبیوں سے معمور ہے۔ پورے پیراگراف میں اشرف نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ پہلے وہ ایک بیان دیتے ہیں اور پھر اُس کا جواز پیش کرتے ہیں۔ اس طرح کی زبان لکھنے میں مشکل ضرور پیش آتی ہے لیکن اگر لکھنے کا سلیقہ و قرینہ ہوتو ایسی زبان بلاغت کا اعجاز بن جاتی ہے۔ کیونکہ اس سے زبان میں سلاست و روانی پیدا ہوتی ہے اور رعایت کا لطف بھی۔ اس کے علاوہ اس پیراگراف میں زبان کے حسن کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ اس میں اشرف نے شور (یعنی ہرندوں کا شور)اور سنّاٹے (یعنی ٹھاکر اور پنچوں کی خاموشی) کا Contrasبھی پیش کیا ہے۔
مذکورہ بالا پیراگرافس زبان کے خلاقانہ استعمال پر دال ہیںاور یہ ثابت کرتے ہیں کہ اشرف کے یہاں زبان و بیان کا سچا اور صحیح شعور ہے۔ ناول” نمبر دار کا نیلا“ تقریباً 130صفحات کا مختصر ناول ہے۔ اس ناول میں اقتدار کی ہوس اور اس کی بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے انسان کی خود غرضی اور سفاکی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ کہانی تو بظاہر سیدھی سادی ہے کہ گاﺅں کا نمبردار ٹھاکر اودل سنگھ اپنی حویلی میں چوری کے بعد اپنی املاک کی حفاظت کی غرض سے نیل گائے کے بچہ پالتاہے:
” انھوں نے فیصلہ کیا جو بچہ بچ گیا ہے، اسے وہ پالیں گے کیونکہ اول تو یہ گو ¿ ماتا ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ بڑا ہوکر اپنے سینگوں سے لہو لہان کرکے انھیں اپنے کھروں سے کچل سکتا ہے۔تیسرے یہ کہ اسے کھلانے پلانے کا کوئی خاص خرچہ نہیں ہوگا۔ کبھی کبھی اپنے کھیتوں کا چارا بھی کھالیا کرے گا۔“
(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)

نیل گائے جیسے جنگلی جانور کو سدھانا یا پالتو بنانا آسان نہیں ہوتا۔ خصوصاً ناول میں اس طرح کی سیچویشین Situation پیدا کرنے کے بعد اسے نبھانا پانا بہت مشکل امر ہوتا ہے تاہم اشرف یہ مشکل مرحلہ بہ آسانی سر کرلیتے ہیں کیونکہ جانور ان کے فکشن کا اختصاصی موضوع ہے اور وہ جانوروں کی حرکات و سکنات اور ان کی نفسیات سے کماحقہ‘ آگاہی رکھتے ہیں۔ علاوہ ازیں ٹھاکر اودل سنگھ کا جو کردار انھوں نے خلق کیا ہے، اس کی نفسیات اور نیلا کی نفسیات میں خوبصورت تا ل میل بھی پیدا کیا ہے۔لہٰذا نیلا کو سدھانے کے طریقے کا بیان کس عمدگی سے ہوا ہے ملاحظہ فرمائیں:
”شروع شروع میں بہت دقتیں پیش آئیں۔ اول تو یہ کہ وہ وحشی تھا۔ کسی طرح بندھنے پر راضی نہیں ہوتا تھا۔ پہلے اسے بھوکا رکھا گیا۔ بھوک نے اس کی وحشت کو کم کیا۔ پھر اسے خوب پیٹ بھر کر ضرورت سے زیادہ غذا دی گئی تب خوش خوری نے اس کی وحشت کو بظاہر ختم کردیا۔“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)
یہ ناول دیہی پس منظر میں قلمبند کیا گیا علامتی ناول ہے ۔ تمام کردار زبان اور ٹیکنیک کے لحاظ سے عمدہ تاثر پیش کرتے ہیں۔ ناول میں سب سے بھرپور کردار ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کا ہے۔ ناول میں کردار نگاری کے تعلق سے عموماً اس کلیہ پر عمل کیا جاتا ہے کہ کردار ہماری جانی پہچانی دنیا کے ہوں اور ان کے پاﺅں اپنی دھرتی پر مضبوطی سے جمے ہوئے اور وہ اسی دنیا کی فضا میں سانس لیتے ہوں۔ ای ۔ایم فوسٹر نے ناول میں دو طرح کے کرداروں کا ذکر کیا ہے۔ ایک Flatاور دوسرا Round۔ اس نے Flatکیریکٹر کی پہچان یہ بتائی ہے کہ ایسے کردار وں کی خصوصیات جانی پہچانی ہوتی ہیں اور یہ جب بھی ناول میں سامنے آتے ہیں تو اپنی انھی چند جانی پہچانی خصوصیات کے ساتھ آتے ہیں اور آسانی سے پہچان لیے جاتے ہیں۔ ان میں کسی قسم کی کوئی تبدیلی و ترقی نہیں ہوتی ۔ یہ ایک طرح سے جامد صفت ہوتے ہیں۔ اگر کبھی ان کی متعینہ خصوصیات بدل جائیں تو ان کی پہچان مشکل ہوجاتی ہے اور ان کی شخصیت فنا ہوجاتی ہے۔ان میں پیچیدگی اور گہرائی کم ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف Round کیریکٹر میں پیچیدگی اور گہرائی کے ساتھ بدلنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔یہ ناول نگار کے اشارے پر چلنے والی کٹھ پتلیاں نہیں ہوتے بلکہ یہ خودکار طریقے سے بڑھتے اور ترقی کرتے نظر آتے ہیں۔ فوسٹر کے ان خیالات کی روشنی میں ”نمبر دار کا نیلا“ کے دونوں مرکزی کردار ٹھاکر اودل سنگھ اور نیلا کا مطالعہ کریں تو ٹھاکر اودل سنگھ کی شخصیت میں Flatکردار کی صورت ظاہر ہوتی ہے جبکہ نیلا Roundکیریکٹر کی صورت میںہمارے سامنے آتا ہے۔

ناول میں جب جب اور جہاں جہاں ٹھاکر اودل سنگھ نظر آتا ہے وہ اپنے ، اقتدار کی ہوس ، خود غرضی اور سفاکی کے جذبے کی تصویر بن کر نظر آتا ہے۔ وہ ایسی شخصیت کا مالک ہے کہ جو اپنی بالا دستی قائم رکھنے کے لیے کسی حد تک بھی جاسکتا ہے۔ ناول میں کہیں بھی اس کی نگاہ اپنے مقاصد سے ہٹتی نظر نہیں آتی۔ نیلا کے پالنے سے لے کر اس کے خونخوار ہوجانے تک ٹھاکر اودل سنگھ کے پیش نظر صرف اس کے مقاصد ہی ہوتے ہیں۔ اشرف نے ٹھاکر کی شخصیت کو ابتدا سے لے کر آخر تک ایک سی رکھا ہے۔ ناول کی بُنت میں ٹھاکر کا کردار کچھ اس طرح فٹ (Fit) کیا گیا ہے کہ اس کے Growthیا نمو کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ وہ شروع سے آخر تک Flatکردار کی نمائندگی کرتا نظر آتا ہے۔ مثلاً :
” انھوں نے فیصلہ کیا جو بچہ بچ گیا ہے، اسے وہ پالیں گے کیونکہ اول تو یہ گو ¿ ماتا ہوتا ہے ۔ دوسرے یہ کہ یہ بڑا ہوکر اپنے سینگوں سے لہو لہان کرکے انھیں اپنے کھروں سے کچل سکتا ہے۔(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۷۱)

”ٹھاکر صاحب نے زور سے آواز دے کر اپنے چھوٹے بیٹے اونکار کو بلایا۔ اس کی آنکھوں میں رات کی شراب کا خمار تھا، نیلے کو آزاد دیکھ کر اس کا خمار ٹوٹا ۔ اس نے حیرت سے اپنے باپ کو دیکھا۔ باپ نے چہرے پر کسی غیر ضروری جذبے کو لائے بغیر مضبوط آواز میں دھیمے دھیمے کہا: ”ایسے ہی جھمن کو رام کیا تھا بیتے سال“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۳۲)

”ٹھاکر صاحب مسکراتے رہے۔ اس درمیان اپنے بیٹوں اور ان کے ساتھیوں کی مدد سے وہ مجمع میں یہ شوشہ چھوڑ چکے تھے کہ نیلے کو دھتورا کھلا کر وقتی طور پر پاگل کرنے والا کوئی اور نہیں ان کے قریبی مخالف محمود صاحب کا بیٹا ہے جو اپنے جرم کا اقرار انچارچ تھانہ کے سامنے کرچکا ہے۔“(نمبر دار کا نیلا۔ ص: ۱۷)


”تم مورکھ ہو پرتاپ! اس کا مطلب تم اس وچار کے آدمی ہوکہ گڑھی میں یا حویلی میں پہلے چور کو آنے کی چھوٹ دے دو۔ جب وہ آجائے تو چونک کر اسے پکڑ لو۔ ارے مورکھ! کوشش یہ ہونا چاہیے اور یہی کوشش میں نے کی تھی کہ ایسا نقشہ بن جائے کہ کوئی گڑھی اور حویلی میں گھسنے کا خیال بھی من میں نہ لائے“(نمبر دار کا نیلا۔ ص:۹۰۱)

ناول کے مذکورہ بالا اقتباسات کسی خاص مقصد کے تحت تلاش کرکے جمع نہیں کیے گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان کی اقتباسات کی مدد سے ٹھاکر اودل سنگھ کی شخصیت کا جو خاکہ ابھر کر سامنے آتا ہے اس میں اس کی ہوس طمع ، خود غرضی، سفاکی اور مکاری کے جذبات واضح ہیں۔ پورے ناول میں ٹھاکر کا کردار ان جذبات کی عکاسی کرتا ہے۔ گویا یہ کہ سیّد محمد اشرف نے ناول میں ٹھاکر کو بطور Flatکردار برتا ہے۔ اگر ٹھاکر کی شخصیت سے عیاری ، سفاکی ، خود غرضی اور ہوس کے جذبات منہا کردیئے جائیں تو ناول میں اس کی شخصیت صفر ہوکر رہ جائے گی بلکہ خطرہ تو یہ ہے کہ ناول ہی ناکام اور بے ڈول ہوجائے گا۔
اس برعکس ناول کا دوسرا مرکزی کردار نیلا پیچیدگی کا حامل ہے اور ناول میں شروع سے آخر تک ہر جگہ موجودگی درج کراتا ہے۔ دراصل غور کریں تو اس ناول میں مرکزی کردار نیلا ہی ہے اور باقی سارے کردار اس کے اِرد گرد اپنا عمل اور ردِّعمل کرتے نظر آتے ہیں۔ البتہ ٹھاکر اودل سنگھ کا کردار بقیہ دیگر کرداروں کے مقابل قدرے واضح اور ابھرا بھرا سا ہے۔ جیسا کہ پہلے واضح کیا گیا ہے کہ Roundکردار کی پیچیدگی اور گہرائی کے ساتھ بدلنے اور ترقی کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ ناول میں نیلاکا کردار اس پر صادق آتا ہے۔ حالانکہ نیلا کے کردار میں یہ پیچیدگی اور بدلاﺅ ناول میں آخر میں بہت شدت کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے لیکن غور کریں تو اس ترقی اور بدلاﺅ کے امکانات نیلا کے کردار میں پہلے سے موجود تھے۔خصوصاً اس کی جبلیاتی تبدیلیوں سے اس کا احساس کیا جاسکتا ہے۔ مثلاً:
”اب تو کبھی کبھی ایسا بھی ہونے نگا کہ چور تو چور جو لوگ حویلی یا گڑھی میں اپنا حق لینے آتے جیسے گیہوں کاٹنے والے اپنی مزدوری کا گٹھا یا چھت پر مٹی ڈالنے والے مزدور اپنے حصے کا اناج تو ان پر بھی نیلا دوڑ پڑتا۔“ (ص:۵۲)


”ٹھاکر اودل سنگھ کسی سوچ میں پڑگئے۔ نیلے کو شہر کا راستہ تو بتایا ہی نہیں گیا تھا۔ یہ اپنے آپ کیسے آگیا؟پھر بھی انھیں دل ہی دل میں بہت خوشی محسوس ہوئی جیسے نیلے کا یہ کارنامہ ان کی ذاتی کارکردگی ہو‘(ص: ۳۵)

”اچانک وہ اپنی جگہ سے اچھلا اور تیزی سے بھاگتا ہوا جیپ سے بھی آگے نکل گیا اور راستے میں ملنے والے ہر خوانچے کو کھدیڑتا ، ہر آدمی کو ریلتا، ہر دوکان کو سینگوں سے ڈھکیلتا حویلی کی طرف بھاگا۔ راستے میں اس نے اڈّے کی مسجد سے نکلتے ہوئے بڈھے ملاجی پر کاری وار کیا۔ وہ جاکر سامنے پکّی دوکان کے چبوترے سے ٹکرائے اور سر کی چوٹ کھا کر وہیں تڑپ تڑپ کر ٹھنڈے ہوگئے۔“(ص۷۶)


مذکورہ بالا تمام پیراگراف نیلے کی پل پل بدلتی فطرت کے عکاس ہیں۔ پہلے نیلا ٹھاکر کی حویلی میں اجنبی لوگوں کو دیکھ کر ان پر دوڑ پڑتا تھا ۔ پھر کچھ عرصہ بعد نیلا اتنا ہوشیار ہوجاتا ہے کہ بغیر راستے کی پہچان کرائے آپے آپ سے ٹھاکر کے شہر والے مکان تک پہنچ جاتا ہے اور تیسرے پیراگراف میں نیلا خونخوار ہوچکا ہے۔ دراصل یہ تینوں پیراگراف نیلا کے اس Round کیریکٹر کی نشاندہی کرتے ہیں جو ناول کے اختتام میں اپنی شدت کو پہنچتا ہے۔ ملاحظہ ہو:
” نیلا اُس وقت گڑھی میں تھا، حالانکہ در حقیقت وہ اس وقت قصبے میں تھا۔ وہ آموں اور امرودوں اور بیروں اور جامنوں کے ہر باغ میں تھا۔ قصبے کا ہرفرد سمجھ رہا تھا کہ نیلا کہیں اور نہیں خود اس کے دروازے سے لگا کھڑا ہے۔ بس دروازہ کھلا اور “(ص ۶۰۱)
”اس رات ایک ساتھ۲۱ وارداتیں ہوئیں۔ قصبے کے کونے والے محلے کے ایک ہی خاندان کے تین گھروں کے دروازے ٹوٹے ہوئے پائے گئے۔ بزریا کی پانچ دوکانوں کے شٹر ٹیڑھے ہوگئے تھے اور اندر کی جنس دوکانوں میں چاروں طرف بکھری ہوئی ملی تھی۔ تین پولیس والوں پر پیچھے سے کسی جانور نے اندھیرے میں حملہ کیا جو بڑے نالے کی پلیا پر بیٹھے اونگھ رہے تھے۔ میونسپل بورڈ میٹنگ کا ہال کا دروازہ توڑ کر پندرہ کرسیوں کو سینٹے کے قلم کی طرح ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا تھا۔ جو وارداتیں کچی زمین پر ہوئی تھیں وہاں جانوروں کے کھروں کے نشان پائے گئے تھے“(ص: ۵۲۱)

اور آخر میں تو نیلا بالکل ہی انوکھے روپ میںسامنے آتا ہے:
”میں کچھ کہوں گا تو کہا جائے گا کہ میں نیلے کی حمایت میں بول رہا ہوں۔ آپ یقین کیجئے میں نے رات کو چیخ پکار کے بعد اپنی کھڑکی سے تین نیلے اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے۔ “ ٹھاکر نے رات کا منظر یاد کیا اور جھر جھری لے کر بولے۔“(ص:۱۳۱)

ناول کے آخری صفحات سے ماخوذ ان اقتباسات کا مطالعہ کرنے سے یہ احساس ہوتا ہے کہ نیلے کا کردار خود بخود Grow کر رہا ہے ۔ناول نگار نے اس کردار کو جس راستے پر ڈالا تھا اُس پر یہ آپے آپ چلنے لگا ہے۔ ای۔ ایم۔ فوسٹر کے بیان کردہ Roundکیریکٹر کی بھی یہی خاصیت ہوتی ہے کہ وہ خودکار طریقے سے بدلنے اور ترقی کرنے صلاحیت رکھتاہے۔ نیلے کی گڑھی کے ساتھ دیگر جگہوں پر موجودگی ، بہ یک وقت۲۱ دکانوں پر حملہ ٹھاکر کا ایک ساتھ تین نیلے دیکھنا اس پر دلالت کرتا ہے نیلے کا کردار اپنی ابتدا سے کتنا الگ اور کتنا بدل گیا ہے۔ ناول کے دونوں مرکزی کرداروںکی دو متضاد صفت یعنی Flatاور Round کے ساتھ موجودگی سیّد محمد اشرف کی فن کا ری و مشاقی کا نمونہ ہے۔

غرض کہ ”نمبر دار کا نیلا“ علامتی پیرایہ ¿ اظہا ر میں فرد اور سماج کے زوال کا نوحہ پیش کرتا ہے۔ ناول میں علامتی انداز کے باعث اس کی تفہیم ایک سے زیادہ سطحوں پر کی جاسکتی ہے۔دو سطحیں تو بالکل سامنے کی ہیںیعنی یہ ناول آج کے عہد کی سیاست میں وحشت و بربریت کی مثال بھی ہے اور انسان کے اندر موجود ازلی ہوس و خود غرضی اور مکاری و سفاکی پر تازیانہ بھی۔ اس کے علاوہ ناول کی تفہیم باطنی و خارجی دونوں سطحوں پر ممکن اور مکمل ہے۔

Najeeb Mehfooz

Articles

معنی کے طرزِ وجود کا فکشن نگار: نجیب محفوظ

قمر صدیقی

نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمعروف عربی جریدے ’المجلہ الجدید‘، مصر سے شروع کیا تھا۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں ترقی پسند نظریات سے نجیب کی وابستگی کا اعلان نامہ تھیں۔اگرچہ ابتدائی دورمیں شائع ہونے والی ان کی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں تحریر کی گئی تھیں تاہم اُن کہانیوں میں بھی مارکسی اثرات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب نجیب محفوظ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سائنس، سوشلزم اور برداشت میں یقین کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں نجیب سر رئیلسٹ فکشن نگاری کی طرف ملتفت ہوگئے ۔بعض ناقدین نے سر ریئلزم سے نجیب کے اس التفات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ حتیٰ کہ انھیں قنوطیت پسند فکشن نگار کے لقب سے بھی نوازا گیا:
’’نجیب محفوظ نے اپنی سوشلسٹ آیڈیالوجی سے ہٹ کر گہری قنوطیت کی راہ اختیار کر لی اور اپنے ارد گرد برے شکون کا دائرہ کھینچ لیا۔‘‘
( ایڈرورڈ بون ۔ ٹائمس لٹریری سپلیمنٹ۔ ص: ۹دسمبر ۔ ۱۹۹۰ء)

لیکن نجیب اپنے اِس اسلوب پر کاربند رہے۔بطور ایک سر رئیلسٹ فکشن نگار انھوں نے اپنی کہانیوں میں تصوف اور مابعدالطبعیاتی تجربات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش کی۔انہوں نے اپنی گویائی وہاں سے شروع کی جہاں سائنس خاموش ہوجاتی ہے۔ آگے چل کر انھوں نے ایسی کہانیاں تحریر کہیں جن میں سائنسی سماجیات اور روحانیت کسی حدتک آپس میں ہم آغوش ہیں۔1945ء میں شائع ہونے والا ان کا پہلا ناول ’خان الخلیلی‘ اسی کشمکش کی عکاس ہے۔اِس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب محفوظ کو عرب دنیا میں ایک ناول نگار کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔ البتہ اُن کے ملک مصر میں انھیں ایک ممتاز فکشن نگار کی حیثیت اُس وقت حاصل ہوئی جب ۱۹۵۷ء میں تین ہزار صفحات پر مشتمل اُن کی مشہور رزمیہ تصنیف ’’قاہرہ سے متعلق تین سلسلہ وار ڈرامے‘‘کی اشاعت ہوئی۔ یہ رزمیہ دراصل تین سلسلے وار ناول ہیں۔ پہلے ناول کا نام ہے ’ محل کی سیر Walk Palace The ، دوسرے ناول کا نام ہے ’ خواہشات کا محل‘ Palace of Desir اور تیسرے ناول کا نام ہے ’چینی کی گلی ‘ Sugar Street ۔تین ہزار صفحات کا احاطہ کرنے والے اس رزمیے میں قاہرہ کی مڈل کلاس زندگی کے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مذکورہ رزمیے کی اشاعت کے بعد نجیب کو مصر میں نوجوان نسل کا ایک بڑا ناول نگار قرار دیا جانے لگا۔ البتہ عرب دنیا سے باہر نجیب کی شناخت ۱۹۶۰ء کے بعد قائم ہونی شروع ہوئی جب ان کی تصنیفات کے انگریزی، فرانسیسی ، جرمن ، اردو اور روسی زبانوں میں تراجم ہونے شروع ہوئے۔ نجیب کی اِس شہرت کو ۱۹۸۸ء میں ادب کا نوبل پرائز ملنے کے بعد گویا پَر لگ گئے اور وہ پوری دنیا میں عظیم ناول نگار تسلیم کیے جانے لگے۔
نجیب محفوظ روایتی فکشن نگار نہیں ہے اور روایتی ذہن کے ساتھ نجیب کی تحریروں کی قرأت عموماً ترسیل کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔ دراصل نجیب معنی کی ترسیل کا نہیں بلکہ معنی کے طرزِ وجود (یعنی Ontology) کا فکشن نگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں مثلاً شوگر اسٹریٹ وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں باب در باب معنی کی تعمیر نہیں بلکہ معنی کے انہدام کے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔دراصل اس ناول میں معنی خیزی کا منبع اِس کے قصے سے ماورا ،اِس کے اجزا کے باہمی ارتباط کا مرہون منت ہے۔ نجیب نے جن جگہوں، عمارات اور اشخاص کا ذکر اِس ناول میں کیا ہے غور کریں تووہ اِس ناول کی بافت یا فریم سے باہر اپنی اُس معنویت سے محروم ہوجاتے ہیں ، جو انھیں مذکورہ ناول میں حاصل ہے۔ یعنی ناول سیاق سے باہر قاہرہ وہ قاہرہ نہیں رہتا جو کہ ناول میں ہے۔ یا پھر کردار اور معاشرہ کے تعلق سے گفتگو کریں تو اس ناول میں جو ایک بھرا پُرا خاندان ہے اُس کی معنویت کا تعین ناول کے فریم اور اُس کے متن سے باہر شایدہی ممکن ہوسکے۔ لہٰذا ناول شوگر اسٹریٹ کو اس کے متن سے باہر نکل کر سمجھ پانا قدرے مشکل ہے۔
اسی طرح نجیب کا ایک پیچیدہ افسانہ ’’وقت اور مقام‘‘ ہے۔ اس افسانے میں پیچیدگی شاید اس لیے در آئی ہے کیوں کہ افسانے میں ایک ہی سطح پر دو زمانوں کو پیش کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ جس میں مابعد از طبیعات اور سائنسی سماجیات آپس میں کھل مل گئی ہیں۔افسانہ کا قصہ کچھ یوں ہے کہ راوی ،اس کا ایک بھائی اور ایک بہن مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے آبائی مکان کو فروخت کرکے وہ ایک آرام دہ فلیٹ میں منتقل ہوجائیں۔ اس بیچ راوی اپنے آبائی مکان میں ایک میٹا فیزکل تجربے سے گزرتا ہے۔ اسے ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو اس کا ہم شکل ہے ۔ ایک بوڑھا شخص راوی کے اُس ہم شکل کو ایک صندوقچی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ چونکہ اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے اس لیے وہ اِس صندوقچی کو کسی مناسب مقام پر دفن کردے اور وقت آنے پر اسے نکال کر اس میں لکھی ہدایات پر عمل کرے۔ راوی کو یہ سب خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم تلاش کے بعد راوی وہ جگہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جہاں واقعی صندوقچی دفن ہوتی ہے۔اُس کے تحیر کا ٹھکانہ نہیں رہتا اور وہ اپنے بھائی اور بہن کے مکان فروخت کرنے کے فیصلے سے خود کو الگ کرلیتا ہے۔ وہ صندوقچی کھول کر اُس میں پڑے کاغذ کے پرزے کی ہدایت پر عمل کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ ‘‘ خط میں پیر عارف البلقانی کے گھر کا پتہ بھی درج ہے۔ راوی خط پڑھ کر عارف البلقانی کے مکان کو تلاش کرتا ہوا پتے تک پہنچتا ہے۔ وہ مکان پولیس کی نگرانی میں ہے ۔ راوی کے وہاں پہنچنے پر اُسے گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔مکان میں پہلے سے ہی ایک شخص قید ہے ۔ پولیس راوی کواُس کا گرگا تسلیم کرکے جیل میں ٹھونس دیتی ہے۔
اس طرح کے افسانوں کے لیے جس نوع کی فن کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے تعلق سے پروفیسر قاضی افضال حسین نے تحریر کیا ہے کہ :
’’اگر بالکل سادہ غیر تنقیدی زبان میں کہیں تو افسانہ جھوٹ کو سچ کر دکھانے کا فن ہے، اس لیے نہیں کہ اس میں بیان کردہ واقعات ’’سچے‘‘ نہیں ہوتے ؍ ہوسکتے بلکہ اس اعتبار سے کہ افسانہ نگار ، ہر وہ فنی تدبیر استعمال کرتا ہے جس سے وہ اپنے قاری کو یقین دلا سکے کہ وہ افسانہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ سچا واقعہ سنا رہا ہے اور اگر اس نے افسانے کی تشکیل کے لیے کوئی خاص زمانی یا مکانی عرصہ منتخب کیا ہے، جس کا تعلق ماضی بعید سے ہوتو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ افسانے کے خیالی بیانیہ کو تاریخی واقعہ کی شکل دے کر قاری کو یہ یقین دلا دے کہ وہ ’’فرضی‘‘ کہانی نہیں سنا رہا ، ایک خاص انداز سے تاریخ بیان کررہا ہے۔ اس نوع کے تاریخی افسانے کی سب سے آسان ترکیب یہ ہوتی ہے کہ بیان میں ماضی کے ایک زمانے میں ایک مخصوص جگہ، موجود افراد ؍ تعمیرات کے اسمائے خاص اور لوگوں کو پیش آنے والے واقعات کا حوالہ شامل کردیا جائے۔ اِن اسماء یا واقعات کا شدید حوالہ جاتی کردار بیان کی افسانویت ، یعنی اُس کی لسانی تشکیل ہونے پر دبیز پردے ڈال دیتا ہے۔ قاری پر افسانہ نگار کے اس فریب کا راز نہیں کھلتا اور ہم ایک صاف ’’جھوٹ‘‘ کو بے ملاوٹ ’’صداقت ‘‘ سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

(تحریر اساس تنقید۔ از: پروفیسر قاضی افضال حسین۔ ص: ۲۵۳۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ۔ ۲۰۰۹ء)

افسانے کی بُنت میں نجیب نے مذکورہ بالا فنی چالاکیوں سے کام لیتے ہوئے ایک ایسا بیانیہ خلق کیا ہے جس میں جگہ جگہ سر ریئلزم کے رنگوں کی چھاپ بھی نظر آجاتی ہے۔ ایک نامانوس اور تحیر خیز کیفیت سے شروع ہونے والے اس افسانے کا اختتام مانوس مگر ناپسندیدہ ماحول پر ہوتاہے۔ مثلاًافسانے کا ابتدائی حصہ ہے کہ :
’’ ہماری بیٹھک نجانے کہاں کھو گئی اور اس کی جگہ ایک لمبے چوڑے دالان نے لے لی۔ جس کا دوسرا سرا چوک کی موٹی سفید دیوار تک جا پہنچا تھا۔ دالان میں کہیں گول گول اور کہیں دوج کے شکل میں گھاس اُگی ہوئی تھی اور درمیان میں ایک کنواں تھا ۔ کنویں سے کچھ فاصلے پر کھجور کا ایک اونچا درخت تھا۔ میں دو احساسات کے بیچ جھولنے لگا۔ کبھی لگتا کہ کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ کبھی لگتا کہ ان میں کچھ بھی میرے لیے ان دیکھا نہیں ہے۔مدھم ہوتی ہوئی روشنی سورج کے غروب ہونے کا اشارہ کرنے لگی اور اس کے ساتھ ہی کنویں اور کھجور کے درخت کے بیچ ایک ادھیڑ آدمی بھی آن کھڑا ہوا جو قطعی میری پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی اُس ادھیڑ شخص کو ایک چھوٹی سی صندوقچی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ :’’اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اسے زمین میں گہرا گاڑ کر چھپا دے۔ صحیح وقت آنے پر نکالنا۔‘‘

(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۹۸۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء
)
خواب اور واہمے کے درمیان کی کیفیت کے اِس ابتدائی بیانیے کے بعد اس

افسانے کا اختتام بھی ملاحظہ فرمانے کی زحمت کریں :
’’خاموشی کی دبیز چادر ہم پر چھاگئی۔ میں نے نئے مکان میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی ، بہن کا تصور کیا اور پرانے مکان میں بنے ہوئے گڑھے ، کنویں اور کھجور کا بھی۔ ساری چیزیں میرے سامنے اس طرح پیش ہوئیں جیسے میں اس کے اندر ہوتے ہوئے بھی ان کو باہر سے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔ مگر کوئی میری او‘ر نہیں گھوما ۔کسی نے خاموشی نہیں توڑی۔‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۲۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )

افسانے کے ابتدائی اور اختتامی حصوں کو پڑھنے کے بعد یہ بات کسی قدر واضح ہوتی ہے کہ افسانے کی تفہیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اُسے پہلے سے رائج تصورات کی مدد سے ہی سمجھا جاسکے۔ ہر بڑا فن پارہ اکثر اپنے پیش رو طریقۂ تفہیم کی نفی بھی کرتا ہے اور اپنی ترسیل کی نئی روایت کی بافت بھی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ متن ہمیشہ ایک شفاف میڈیم کے طور پر سامنے آئے جیسا کہ حقیقت پسند افسانے میں پہلے سے موجود سچائی کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے سامنے آتا ہے۔ اِس افسانے کا متن بھی سبب اور نتیجے والی افسانے کی روایتی منطق سے انکار کرتے ہوئے اپنی پیچیدگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ البتہ سبب اور نتیجے کے عمل اور فیصلے کے لیے قاری کو راوی کے جبر سے آزاد کردیتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا دونوں پیراگراف کی مدد سے افسانے کی تعبیر اور تشریح کی تمام تر کوششوں کے لیے قاری آزاد ہے۔مثال کے طور پر افسانے کو ایک ایسی ناصحانہ تحریر کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے محض تخیل کی مدد سے کیے گئے عمل کا نتیجہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ یا اگر پورے متن کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے اور اس مطالعہ میں مصر کی سماجی اور سیاسی صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے تو یہ افسانہ ایک ایسی انڈر گراؤنڈ تحریک کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اُس وقت کی مصری حکومت کے طرز عمل سے نالاں ہے۔ راوی کے لاشعور میں اُس تحریک کے تئیں ہمدردی کے جذبات موجود ہیں لہٰذا اسے اس طرح کا خواب دکھائی دیتا ہے۔ خود افسانے کے متن میں بھی اِس کے شواہد موجود ہیں۔ مثلاً خط میں تحریر کیے جملے کی نوعیت ملاحظہ ہو:

’’ اپنا مکان مت چھوڑ ، کیوں کہ یہ قاہرہ میں سب سے خوبصورت ہے اور پھر اہلِ ایمان کے لیے تو بس یہی ایک مکان ہے۔ یہی ایک محفوظ مقام ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ تو اُن کے مکان میں جا۔ ‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۰۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )
مصر کے سماجی اور خاص طور سے سیاسی حالات کو نگاہ میں رکھیں تو حکومت سے اختلاف، ایسی ہی علامتی کہانی کے ذریعے ممکن تھا۔ لہٰذا اس افسانے کی ایک یہ بھی تفہیم ممکن ہے۔

Memarandaar Musanfeen

Articles

معماران دارالمصنفین

ڈاکٹر خورشید نعمانی

مولانا شبلی نعمانی دارالمصنفےن کے تخئےل کے خالق تھے اس تخےل کو حقےقت کا عملی جامہ پہنانے والوں مےں مولانا حمےدالدےن فراہی ،مولاناسےد سلےمان ندوی،مولانا عبدالسلام ندوی،اور مولانا مسعود علی ندوی،جےسی قدآور شخصےتےں کارفرما تھےں۔ےہ شخصےتےں دارالمصنفےن کے اصل معماروں مےں سے ہےں لےکن اس کے علمی و ادبی و عملی کارنامے اس کی تاسےس سے آج تک مختلف رفقا کی انتھک کوششوں کا نتےجہ ہےں۔رفقا مےں وہ شخصےتےں زےادہ اہم ہےں جنہوں نے اس ادارہ سے عمر بھر کا پےمان وفا باندھا۔ان کی خدمات امر ہےں۔بعض رفقا تربےت پاکر اور مختصر عرصہ تک ےہاں تک مقےم رہ کر رخصت ہوگئے۔ذےل مےں ان تمام رفقا کے حالات اور ان کی تصانےف کا اجمالاََ ذکر کےا جاتا ہے تاکہ ےہ اندازہ ہوسکے کہ دارالمصنفےن نے صرف کتابےں ہی شائع نہےں کےں بلکہ نوجوانوں کی ذہنی و علمی و ادبی تربےت بھی کی۔
مندرجہ ذےل چار شخصےتوں کو دارالمصنفےن کا معمار ہونے کا شرف حاصل ہے اس لیے ان ہی سے ابتدا کی جاری ہے۔

۱)مولانا حمےدالدےن فراہی (۲۶۸۱ء ۔ ۰۳۹۱ئ)

مولانا حمےدالدےن فراہی مولانا شبلی کے ماموں زادبھائی اور عزےز شاگرد تھے،اردو فارسی و عربی کی تعلےم کے بعد انگرےزی تعلےم بھی حاصل کی اور بی اے کی ڈگری لی۔وہ فطرتاََنہاےت ذہےن ،طباع اور دقےقہ رس تھے لےکن ساتھ ہی ساتھ انتہائی خاموش طبےعت کے مالک ،تنہائی پسند اور گوشہ نشےن تھے۔
۷۹۸۱ءمےں وہ مدرسہ اسلام کراچی مےں مدرس مقرر ہوئے اور کئی سال ےہاں ملازمت کی،مولانا عبےداللہ سندھی سے ان کی ملاقاتےں بھی ےہےں ہوئےں۔دونوں مےں قرآن پاک کے درس اور غور و فکر کا ذوق مشترک تھا۔ےہےں سے ۳۰۹۱ءمےں ان کا فارسی دےوان شائع ہوا،مولانا شبلی کی توجہ خاص سے ان کے ےہاں قرآن پاک کے نظم وبلاغت کے موضوع مےں انہماک پےدا ہوا آپ نے جمھرة البلاغہ نامی رسالہ لکھا جس کا خلاصہ مولانا شبلی نے اپنے قلم سے الندوہ کے دسمبر۵۰۹۱ءمےں شائع کےا۔کراچی کے بعد وہ علی گڑھ کالج مےں عربی کے پروفےسر مقرر ہوئے۔

مولانا حمےدالدےن فراہی کے ذاتی فضل وکمال اور مولانا شبلی سے تعلق خاص کے سبب علی گڑھ کے علمی حلقہ سے ان کے گوناگوں روابط ہوگئے۔مولانا حبےب الرحمٰن خاں شےروانی سے ان کے مراسم خاص ہوگئے وہ مولانا کی نکتہ دانی کے اس درجہ قائل ہوگئے قرآنی مشکلات کے حل مےں ان سے وہ مشورہ لےنے لگے ۔علی گڑھ کے قےام ہی کے زمانے مےں انہوں نے اقسام القرآن لکھی جو کہ اپنی نوعےت کی اےک منفرد تصنےف تھی۔۸۰۹۱ءمےں مولانا فراہی علی گڑھ سے الہ آباد منتقل ہوگئے اور ےہاں مےورکالج(الہ آباد ےونےورسٹی)مےں عربی کے پروفےسر ہوگئے۔کالج کے درس کے علاوہ باقی وقت تالےف و تصنےف مےں صرف کرتے۔ےہےں سے انہوں نے سورہ مرےم کی تفسےر شائع کی۔مولانا فراہی کے قےام الہ آباد کے دوران کے اہل برادری مےں اےک نئے عربی مدرسہ کی قےام کی تحرےک پےدا ہوئی مولانا شبلی اور مولانا حمےدالدےن فراہی نے اس تحرےک کی عنان اپنے ہاتھ مےں لی اور ۰۱۹۱ءمےں اعظم گڑھ مےں سرائے مےر نامی جگہ پر اےک مدرسہ کی بنےاد رکھی اور مولانا اسکے پہلے ناظم مقرر ہوئے۔

اوآخر۳۱۹۱ءمےں جب مولانا شبلی نے ندوہ کی معتمدی سے استعفیٰ دےا تو اپنی دےرےنہ آرزو ےعنی اےک دارالمصنفےن کاخےال ان کے ذہن مےں پھر آےا ،پھر اگست ۴۱۹۱ءمےں اپنے عزےز بھائی مولوی محمد اسحٰق کی وفات پر وہ اعظم گڑھ آگئے اور ےہےں قےام طے کےا،دارالمصنفےن کے لیے زمےن وبنگلہ وقف کےا اور عزم وےاس کے عالم کشمکش مےں مولانا حمےدالدےن کو ۴۱ اکتوبر ۴۱۹۱ءکولکھا۔
”افسوس ہے کہ سےرت پوری نہ ہوسکی اور کوئی نظر نہےں آتا کہ اس کام کو پورا کرسکے۔ اور اگر دارالمصنفےن قائم ہوا تو تمہارے سواکون چلائے گا۔“۱

۸۲ اکتوبر۴۱۹۱ءکو اپنے آخری خط مےں لکھتے ہےں:

”برادرم وقت تو ےہ تھا کہ ہم چند لوگ ےکجا ہوتے اور کچھ کام کرتےسےد سلےمان ندوی بھی تعلق موجود ۳ پر راضی نہےں ،ذرا سا اشارہ ہو تو مرے پاس آئےں،مےں خود روک رہا ہوں“۲
اس خط کی تحرےر کے تےن ہی ہفتہ کے بعد مولانا شبلی نے ۸۱ نومبر ۴۱۹۱ءکو انتقال کےا۔مولانا حمےدالدےن وفات سے اےک دن ،اور سےد سلےمان ندوی دو دن قبل ان کے پاس پہنچ گئے تھے۔سےد صاحب کو حکم دےا۔

”سب چھوڑ کر سےرت “مولانا حمےدالدےن پہنچے تو سکوت طاری ہوچکا تھا،آنکھےں کھول کر صرف بھائی کی طرف دےکھا اور چپ ہوگئے بقول سےد سلےمان ندوی:

”اس خاموش نگاہ حسرت مےں وصےتوں اور فرمائشوں کے ہزاروں معنی پوشےدہ تھے جس کو اہل حق ہی سمجھ سکتے ہےں۔“۴ مولانا شبلی نے انتقال سے قبل جو دو خط مولانا حمےدالدےن کو لکھے تھے وہی مرحوم کی زندگی کا آخری نصب العےن بن گےا۔مولانا شبلی کے انتقال کے تےسرے دن مولانا حمےدالدےن فراہی نے ان کے ارشد تلامذہ کی اےک مےٹنگ بلائی اور ان کی اےک مختصر سی مجلس نعمانےہ بنالی جس کا مقصد مولانا شبلی کے ادھورے کاموں کی تکمےل تھی۔وہ مجلس عاملہ کے صدر نشےن اپنی زندگی کے آخری اےام تک رہے۔مولانا سےد سلےمان ندوی۔ناظم علمی اور مولانا مسعود علی ندوی ناظم انتظامی ،مولانا مسعود علی نے ان کاموں کی تکمےل کے بعد دارالمصنفےن مےں قےام کرنا بھی منظور کےا۔

مولانا شبلی کے انتقال کے بعد مولانا فراہی حےدرآباد چلے گئے۔وہ پہلے شخص تھے، جنہوں نے عصری علوم و فنون کی اردو زبان مےں تعلےم کی تجوےز پےش کی،اس کا خاکہ تےار کےا۔ان کاخےال تھا کہ دےنےات کی تعلےم عربی مےں ہو اور باقی تمام علوم ےہاں تک کہ اصول فقہ بھی اردو مےں پڑھا جائےں۔جامعہ عثمانےہ مےں کتابوں کے ترجمہ اور اصطلاحات وضع کرنے کا جو کام شروع ہوااس مےں مولانا کے مفےد مشورے بھی شامل ہےں۔مولانا حبےب الرحمٰن خاں شےروانی جو جامعہ کے پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے تو اپنے والانامہ مےں فرماتے ہےں:

”جامعہ عثمانےہ کی بنےاد رکھنے والوں مےں مولانا کے ہاتھ بھی تھے“۱
حےدرآباد مےں قےام مےں خرد نامہ ےعنی مواعظ سلےمان کی تکمےل کی اور چھپوائی پھر”اسباق الخو“کے نام سے عربی صرف وہ نحو کی آسان صورت مےں اردو مےں دو رسالے مرتب کئے”الرائی الفصےح “تصنےف کی اور تفسےر کے بعض مقدمات لکھے اور درس قرآن کا اےک حلقہ قائم کےا۔مولانا کا قےام حےدرآباد مےں ۹۱۹۱ءتک رہا وہاں سے اعظم گڑھ آگئے اور ےہاں مدرستہ الصلاح سرائے مےر کی خدمت مےں لگ گئے ۔۰۳۹۱ءمےں انتقال کےا۔

مولانا شبلی مولانا حمےد الدےن فراہی کو بہت عزےز رکھتے تھے۔مکاتےب شبلی جلد دوم مےں ان کے نام ۷۷خطوط اس بات کے غماز ہےں،سےد سلےمان ندوی رقم طراز ہےں۔
”اپنے ماموں زاد بھائی اور شاگرد مولوی حمےدالدےن صاحب مرحوم سے نہاےت خلوص تھا اور ان کو ہر بات مےں اپنے اوپر ترجےح دےتے تھے ۔کابل سے ترجمہ ابن خلدون کی تحرےک ہوئی تو انہےں کا نام پےش کےا ،علی گڑھ کی عربی پروفےسر ی کے لیے نواب محسن الملک نے لکھا تو انہےں کے لیے کوشش کی اور وہ اسی کوشش سے وہاں کے پروفےسر مقرر ہوئے۔دارلعلوم ، حےدرآباد کی پرنسپلی کے لیے مولانا شبلی کا انتخاب ہوا تو انہوں نے ےہ جگہ مولوی حمےدالدےن صاحب کو دلادی،ان کی فارسی سخن سنجی ،نکتہ آفرےنی اور آخر مےں ان کی قرآن فہمی کے بے حد معترف تھے،مسائل کی تحقےق مےں ان سے مشورے کرتے تھے،ان کے فارسی کلام کی نسبت کہتے تھے کہ ےہ زبان ہے،ان کی مذہبی و علمی وعملی شےفتگی اور پابندی کی بنا پر ان کو دروےش کہتے تھے اور تھے بھی وہ اےسے ہی،عقےدةََ اور عملاََ نمونہ سلف رحمتہ اللہ تعالیٰ ،دےندار،عبادت گزار،تہجد گزار،متقی،متوکل،صابر و قانع،متواضع و خاکسار،غرض مجموعہ اوصاف۔۲

مولانا حمےدالدےن فراہی کے بارے مےں مولانا عبدالماجد درےا آبادی کا ےہ بےان قابل ملاخطہ ہے:
”بڑے سنجےدہ اور مفکر قسم کے آدمی تھے جو کچھ پڑھا وہ محنت اور شوق دونوں سے پڑھا اس لیے
ادےبات فارسی و عربی مےں اپنے معاصرےن سے بازی لے گئے اور ممکن ہے کہ مولانا شبلی سے بھی ،فارسی اور عربی دونوں پر بے تکلف قدرت اہل زبان کی طرح رکھتے تھے۔فارسی مےں شاعر ،صاحب دےوان اور عربی مےں کلام جاہلےت کے گوےا حافظ تھے۔کراچی اور الہ آباد مےں عربی و فارسی کے استاد تھے اور پھر آخر مےں برسوں حےدرآباد کے دارلعلوم نظامےہ کے صدر ےا پرنسپل ،لکھنﺅ مےں مولانا شبلی کے ےہاں ملاقات ہوئی ،آدمی کم سخن و کم آمےز تھے مےں اس وقت ملحد اور وہ سخت دےندار ،البتہ۷۱۹۱ءےا ۸۱۹۱ءمےں حےدر آباد مےں مہےنوں ان کا ساتھ رہا،ہر مسئلے مےں عجب عجب نکتہ آفرےنےاں کرتے ،عثمانےہ ےونےورسٹی کی بنےاد ےں پڑ رہی تھےں،مجلس وضع مصلحات مےں شرےک رہے اور بحث و مباحثے مےں اچھا خاصہ حصہ لےتے۔۱
مولانا سےد سلےمان ندوی نے مولانا حمےدالدےن فراہی کے انتقال پر جوفےات لکھے اور خون کے آنسو روئے ہےں اس کا اےک اقتباس نذر ناظرےن کےا جاتا ہے۔
”آہ۔مولانا حمےد الدےن فراھی“

اس عہد کا ابن تےمےہ ۱۱ نومبر ۰۳۹۱ء(۹۱ جمادی الثانی ۹۴۳۱ئ)اس دنےا سے رخصت ہوگےا جس کی مشرقی و مغربی جامعےت عہدِ حاضر کا معجزہ تھی،عربی کا فاضل ےگانہ ،انگرےزی کا گرےجوےٹ ،زہدوورع کی تصوےر،فضل وکمال کامجسمہ ،فارسی کا بلبل شےراز،عربی کا سوق عکاظ ، اےک شخصےت منفرد،اےک جہان دانش،اےک دنےائے معرفت،اےک کائنات علم،اےک گوشہ نشےن مجمع کمال اےک بے نواسلطان ہنر،علوم ادےبہ کا ےگانہ،علوم عربےہ کا خزانہ ،علوم عقےلد کا ناقد،علوم دےنےہ کاماہر،علوم القرآن کا واقف اسرار،قرآن پاک کا دانائے راز،دنےا کی دولت سے بے نےاز ،اہل دنےا سے مستعفی ،انسانوں کے ردوقبول اور عالم کی داد وتحسےن سے بے پرواہ، گوشہ علم کا متکلف اور اپنی دنےا کا آپ بادشاہ،افسوس کہ ان کا علم،ان کے سےنہ سے سفےنہ مےں بہت کم منتقل ہوسکا۔۲

۲)سےد سلےمان ندوی (۴۸۸۱۔۳۵۹۱)

مولانا سےد سلےمان ندوی کا شمار دارالمصنفےن کے اصل معماروں مےں سے ہوتا ہے اور قےام دارالمصنفےن کے بعد وہ اس کے رہنما،نفس ناطقہ اور روح رواں رہے،دارالمصنفےن اور سےد سلےمان ندوی لازم و ملزوم ہے۔مہدی حسن افادی نے انہےں بجا طور پر”امن سےد الطائفہ“کہا کرتے تھے۔

سےد سلےمان ندوی ۲۲نومبر ۴۸۸۱ءکو دسنہ ،ضلع پٹنہ مےں پےدا ہوئے ،سےد صاحب کے والد سےد ابوالحسن طبےب حاذق تھے،ابتدائی تعلےم اپنے وطن مےں پائی ،اسلام پور،پھلواری شرےف اور مدرسہ امدادےہ دربھنگہ مےں بھی تھوڑے تھوڑے عرصہ تک تعلےم حاصل کرنے کے بعد۱۰۹۱ءمےں دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو ¿ مےں داخل ہوئے۔ےہاں سات سال دور تعلےم کی تکمےل کی اور ےہےں سے ان کے علمی و ادبی ذوق کی نشونما اور ترقی ہوئی۔۵۰۹۱ءمےں جب مولانا شبلی ندوہ کے معتمد تعلےم ہوکر لکھنو ¿ آئے تو انہوں نے اس جوہر قابل کو اپنے دامن تربےت مےں لے لےا اور۷۰۹۱ءمےں تعلےم سے فراغت کے بعد وہ وہےں علم کلام اور جدےد عربی ادب کے استاد مقرر ہوئے۔اس زمانہ مےں”دروس الادب“کے نام سے دو عربی رےڈرےں لکھےں جو کہ کافی مقبول ہوئی۔۹۰۹۱ءمےں الندوہ مےں ان کے دو مضامےن ”خواتےن اسلام کی شجاعت“اور اسلامی رسدخانے“کو بڑی مقبولےت حاصل ہوئی۔۰۱۹۱ءمےں عربی کے جدےد الفاظ کی اےک ڈکشنری ”لغات جدےدہ“شائع ہوئی۔اس سال سےرةالنبی کی تالےف مےں وہ مولانا شبلی کے لٹرےری اسٹنٹ کی حےثےت سے بھی کام کرتے رہے۔۱۱۹۱ءسے ۲۱۹۱ءتک وہ الندہ کی ادارت کے فرائض انجام دےتے رہے۔۳۱۹۱ءمےں سےد صاحب مولانا آزاد کے مشہور اخبار ”الہلال“کلکتہ کے اسٹاف مےں شامل ہوگئے۔ اگست ۳۱۹۱ءمےں کانپور کی مسجد کے انہدام کا واقعہ پےس آےا اور انہوں نے اس سے متاثر ہوکر ۲۱ اگست ۳۱۹۱ءکو ”الہلال“مےں ”مشہداکبر“کے عنوان سے اےک دردانگےز مضمون لکھا،حکومت وقت نے ”الہلال“کے اس پرچہ کو ضبط کرلےا،اس سال کے آخر مےں مولانا شبلی کی اےما پر انہوں نے دکن کالج پونہ کی عربی و فارسی کی پروفےسری قبول کرلی۔ان مشاغل کے ساتھ قےام پونہ کے زمانہ مےں اےک اہم تصنےف”ارض القرآن“شروع کی پہلی جلد ترتےب دی اور دوسری جلد کا مواد فراہم کےا۔مولانا شبلی نے سےد صاحب کو خاص طور سے تالےف و تصنےف کے لئے تےار کےا تھا اس لئے جب ان کا وقت آخر ہوا تو سےد صاحب کو تار د ے کر اعظم گڑھ بلاےا اور سےرةالنبی ۔مکمل کرنے کی وصےت کی،استاد کی وصےت کے مطابق۵۱۹۱ءمےں انہوں نے مولانا مسعود علی انتظامی تعاون اور مولانا عبدالسلام کے علمی اشتراک سے دارالمصنفےن کی بنےاد ڈالی ۔ےہ گوےا بغداد کے دارلحکومت کا تخےل ہندوستان کے اےک شہر اعظم گڑھ کی سر زمےن پر نمودار ہوا۔سےد صاحب نے اپنی تصنےف”ارض القرآن “کی پہلی جلد کی اشاعت سے دارالمصنفےن کے کام کی ابتدا کی۔جب ےہ کتاب شائع ہوئی اہل علم کے حلقہ مےں پسندےدگی کی نظر سے دےکھی گئی اور اس سے دارالمصنفےن کے کام کی نوعےت اور سےد صاحب کی تحقےقات اور ان کے علم و نظر کی وسعت کا اندازہ ہوا۔

اس سال انجمن ترقی اردو کا سالانہ اجلاس پونہ مےں ہوا جس کی صدارت سےد صاحب نے کی اس مےں انہوں نے جو خطبہ صدارت پڑھا آگے چل کر اردو کی تارےخ پر تحقےق کرنے والوں کے دلےل راہ بنا۵۱۹۱ءسے ۶۱۹۱ءتک انہوں نے مولانا عبدالباری فرنگی محل کے ساتھ سےاسی تحرےکات مےں بھی حصہ لےا۔
جولائی ۶۱۹۱ء(رمضان المبارک)مےں رسالہ”معارف“کا پہلا شمارہ ان کی ادارت مےں نکلا۔ےہ دارالمصنفےن کا علمی و ادبی آرگن تھا۔معارف اردو کا واحد علمی و ادبی رسالہ ہے جو تارےخ اشاعت سے اب تک بلا ناغہ شائع ہورہا ہے اور اس کی اشاعت مےں کبھی تاخےر نہےں ہوئی۔معارف کی روشنی سے علم کی دنےا آج تک منور ہے۔معارف کی ادارت کے علاوہ وہ استاد مرحود کو مسودات اور سےرةالنبی کی ترتےب و تبوےب مےں بھی مشغول رہے۔دارالمصنفےن کے رفقا کے لیے لائحہ عمل اور اس کے مربےوں اور ہمدردوں کا حلقہ بھی پےدا کرتے رہے۔

۷۱۹۱ءمےں ان کی کتاب”حےات امام مالک“شائع ہوئی ان کو امام مالک سے خاص عقےدت اور ان کی موطاصحےحےن مےں زےادہ پسند تھی گوآخر عمر مےں جزوی مسائل مےں بھی امام ابو حنےفہ کے مسلک کے پابند ہوگئے تھے لےکن امام مالک سے عقےدت قائم رہی۔

۸۱۹۱ءمےں اپنے استاذمرحوم کی سےرةالنبی جلد اول مرتب کرکے ملک کے سامنے پےش کی اس سال ان کی محققانہ کتاب”ارض القرآن“کی دوسری جلد بھی شائع ہوئی۔۰۲۹۱ءمےں مولانا محمد علی کی سرکرگی مےں وفد خلافت مےں لندن کا سفر کےا،لندن جانے سے قبل علامہ شبلی کی سےرةالنبی کی دوسری جلد چھپنے کے لیے دے دی اس کا دےباچہ لندن سے لکھ کر بھےجا ،پہلی جلد نبوت کے پر آشوب غزاوت پر مشتمل تھی۔دوسری جلد نبوت کے سہ سالہ امن کی زندگی کی تارےخ ہے۔ابھی لندن ہی مےں تھے کہ ان کی کتاب ”سےرة عائشہؓ “ شائع ہوئی۔ڈاکٹر اقبال نے ےہ کتاب پڑھی اور سےد صاحب کو تحرےر کےا۔

”سےرة عائشہؓ کے لئے سراپاسپاس ہوں ،ےہ ہدےہ سلےمانی نہےں سرمہ سلےمانی ہے اس کتاب کو پڑھنے سے مےرے علم مےں بہت اضافہ ہوا،خدا تعالیٰ جزائے خےر دے۔“

۲۲۹۱ءتک دارالمصنفےن کی شہرت کو چار چاند لگ گئے تھے ۔۴۲۹۱ءمےں سےرةالنبی جلد سوم شائع ہوئی اس مےں معجزہ کی حقےقت اور اس کے امکان ،وقع پر فلسفہ قدےم،علم کلام اور فلسفہ جدےدہ اور قرآن مجےد کے نقطہ ¿ ہائے نظر سے مبسوط کےا اور اس کے بعد مکالمہ وحی،نزول ملائکہ ،عالم روےا،معراج اور شرح صدر کا بےان ہے اس کی ترتےب،واقعات کی تفتےش و تلاش اور مسائل و نظرےات کی بحث و تحقےق مےں جو محنت وکاوش اور دےدہ رےزی کی گئی ہے اس سے ان کا علمی پاےہ بلند ہوا ۔

۴۲۹۱ءمےں وفد حجاز کی قےادت کی اور مصر کا سفرکےا،اسی سال”خطبات مدراس“شائع ہوئی۔۹۲۹۱ءمےں ہندوستانی اکادمی ،الہ آباد کے زےر اہتمام عرب و ہند کے تعلقات پر لکچر دئےے۔۱۲۹۱ءمےں بمبئی مےں ”عربوں کی جہاز رانی“پر شعبہ تعلےم کی سرپرستی مےں چار خطبے دئےے۔ ۲۳۹۱ءمےں سےرةالنبی کی جلد چہارم شائع ہوئی جس مےں دکھاےا گےا ہے کہ ”نبوت محمدی“نے دنےا مےں عظےم الشان اسلام کا فرض انجام دےا ۔۴۳۹۱ءمےں ان کی مشہور تصنےف”خےام“شائع ہوئی۔اس سال وہ حکومت افغانستان کی دعوت پر تعلےمی مشوروں کے لیے افغانستان گئے۔ ۴۳۹۱ءہی مےں تارےخ ہند کی تدوےن کی اک بڑی اسکےم مرتب کی اور دسمبر ۴۳۹۱ءکے معارف مےں ےہ تجوےز پےش کی کہ ۵۱ جلدوں مےں تارےخ ہند قلمبند کی جائے گی۔

۵۳۹۱ءمےں ان کی مشہور تالےف سےرةالنبی جلد پنجم کی اشاعت ہوئی اس کا موضوع ”عبادات“ہے۔۶۳۹۱ءمےں سےرةالنبی جلد ششم شائع ہوئی اس مےں اسلام کی اخلاقی تعلےمات کی تفصےل ہے۔ےہ سےر ت کے سلسلہ کی بڑی اہم جلد ہے۔

۹۳۹۱ءمےں ان کی کتاب”نقوش سلےمانی “شائع ہوئی جو ان کی تحرےروں اور مقدموں کا مجموعہ ہے جو اردو زبان و ادب سے متعلق ان کے قلم سے نکلے ےہ گوےا پچھلی چوتھائی صدی کی ادبی تحرےکوں کا اےک مرقع ہے۔اسی سال بچوں کے لیے ”رحمت عالم“لکھی گئی جس مےں سلےس اور آسان زبان مےں آنحضرت کی سےرت پاک ہے۔

۰۴۹۱ءکے نومبر مےں علی گڑھ مسلم ےونےورسٹی نے انہےں ڈی لٹ کی اعزازی ڈگری سے نوازا،اسی سال وہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی سے بےعت ہوئے اور ان مےں اےک روحانی انقلاب پےدا ہوا۔۲۴۹۱ءمےں انہوں نے اپنے استاذ مولانا شبلی کی سوانح ”حےات شبلی“ شائع کی جو ۶۴۸ صفحات کی کتاب ہے۔ےہ ضخےم کتاب اےک شخص کی سوانح عمری ہی نہےں بلکہ مسلمانان ہند کے پچاس برس کے علمی،ادبی ،سےاسی،تعلےمی،مذہبی اور قومی واقعات کی تارےخ بھی ہے۔سےد صاحب کی ےہ آخری تصنےف ہے۔سےرةالنبی کی ساتوےں جلد کے صرف دو باب ہی لکھ پائے تھے کہ انتقال ہوگےا۔

۶۴۹۱ءمےں رےاست بھوپال کے دارالقضا کے نگراں ہوکر بھوپال چلے گئے اور ۶۴۹۱ءسے اکتوبر۹۴۹۱ءتک وہاں ”قاضی القضاة“کے عہدہ پر سرفراز ہے،وہےں سے حج بےت اللہ کے لئے روانہ ہوگئے۔واپسی پرچند روزہ قےام کے بعد۰۵۹۱ءمےں وہ پاکستان ہجرت کرگئے جہاں ۲۲ نومبر۳۵۹۱ءکو انتقال کےا۔
سےد صاحب کی جامعےت:سےد سلےمان ندوی کی جامعےت سے متعلق علامہ اقبال کی ےہ رائے ملاخطہ ہو۔”آج سےد سلےمان ندوی ہماری علمی زندگی کے سب سے اونچے زےنے پر ہےں۔وہ عالم ہی نہےں امےر العلماہےں ،مصنف ہی نہےں رئےس المصنفےن ہےں،ان کا وجود علم و فضل کا اےک درےا ہے جس سے سےکڑوں نہرےں نکلی ہےں اور ہزاروں سوکھی کھےتےاں سےراب ہوئی ہےں۔“۱

علامہ اقبال سےد سلےمان ندوی کی عملی فضےلت کے کس قدر قائل ہے اس جملہ سے اس کا اندازہ ہوسکتا ہے ۔”علو م اسلام کے جوئے شےر کا فرہاد آج ہندوستان مےں سوا سےد سلےمان ندوی کے اور کون ہے“۱
مولانا سےد سلےمان ندوی کی شخصےت بڑی جامع تھی ان کے افکار وخےالات نہاےت بلند اور ان کے کاموں کا دائرہ بڑا وسےع تھا۔ان کی تصنےفات سے ان کے موضوعات کے تنوع کا اندازہ لگاےا جاسکتا ہے۔ان کی معلومات کی وسعت اور تلاش و تحقےق کے بارے مےں ان کے شاگرد رشےد اور سےرت نگار مولانا شاہ معےن الدےن احمد ندوی رقم طراز ہےں۔

”مطالعہ کی کثرت اور نادر کتابوں کی تلاش وجستجو نے ان کے دماغ کو مستقل کتب خانہ اور متنوع علمی معلومات کا خزانہ بنا دےا تھا۔ان کی کوئی گفتگو علمی معلومات سے خالی نہ ہوتی تھی،ان کی صحبت سے جو قےمتی معلومات حاصل ہوجاتی تھےں وہ بہت سی کتابوں کے مطالعہ سے حاصل نہےں ہوسکتی تھےں۔جس موضوع پر قلم اٹھاتے ،معلومات کی وسعت اور تحقےق و تنقےد کا پورا حق اداکرتے اور ان کوئی گوشہ تشنہ نہ چھوڑتے ،مذہبی مباحث سے قطع نظر ادب و تارےخ ان کا خاص دائرہ تھا خالص علمی و تارےخی موضوع پر انہوں نے جو کچھ لکھ دےا ہے اس پر مشکل ہی سے اضافہ ہوسکتا ہے۔۲

اےک دوسری جگہ پر سےد صاحب کی جامعےت اور مقبولےت کے بارے مےں لکھتے ہےں:
”سےد صاحب کی اےک بڑی خصوصےت قدےم و جدےد کی جامعےت اور ہر طبقہ مےں ان کی مقبولےت تھی۔وہ اگر چہ قدےم تعلےم کے نمائندے تھے اور ان کی تعلےم و تربےت تمام تر پرانے ماحول مےں ہوئی تھی لےکن ان کے قلب مےں بڑی وسعت تھی،وہ جدےد خےالات اور رحجانات اور اس کے طرےقوں سے پوری طرح واقف تھے۔وہ ان سے بھڑکتے نہ تھے بلکہ ان کو صحےح راستہ پر لگانے کی کوشش کرتے تھے۔اس لحاظ سے وہ قدےم و جدےد کا سنگم تھے۔“۳

سےد صاحب کے حالات مےں”معارف“کا اےک خاص نمبر شائع ہوچکا ہے اور ان کی سوانح عمری ”حےات سلےمان مولانا شاہ معےن الدےن احمدندوی ،دارالمصنفےن اعظم گڑھ سے شائع ہوچکی ہے۔
مکاتےب شبلی جلد دوم مےں مولانا سےد سلےمان ندوی کے نام ۲۸ مکتوب ہےں۔
۳)مولانا عبدالسلام ندوی(۲۸۸۱ئ۔۵۹۱ئ)

دارالعلوم ندوة العلما نے اپنے دور کمال مےں جو نامور فرزند پےداکئے ان مےں اےک مولانا مولانا عبدالسلام ندوی بھی تھے ان مےں شعر و ادب اور لکھنے پڑھنے کا ذوق ابتدا ہی سے تھا۔چنانچہ مولانا شبلی کی جوہر شناس نگاہ نے اسی زمانہ مےں انکی صلاحےتوں کا اندازہ کرلےا تھا۔ان کو فطری لگاو ¿ شعر و ادب سے تھا لےکن مذہبےات سے لے کر شعر و ادب تک ہر موضوع پر لکھنے کی ےکساں قدرت تھی۔چنانچہ ان کے مضامےن جس قدر متنوع ہےں وہ مشکل سے کسی دوسرے اہل قلم کے مضامےن مےں نکل سکتے ہےں۔

مولانا عبدالسلام ندوی ۲۸۸۱ءمےں اعظم گڑھ کے اےک گاو ¿ں علاﺅ الدےن پٹی مےں پےدا ہوئے ابتدائی تعلےم حقانی مکتب مےں پانے کے بعد وہ کانپور ،آگرہ اور مدرسہ چشمہ ¿ رحمت غازی پور سے فےضےاب ہوئے۔متوسطات سے تعلےم حاصل کرنے کے بعد ۶۰۹۱ءمےں وہ دارالعلوم ندوةالعلمالکھنو ¿ مےں داخل ہوئے اور فراغت کے بعد ۰۱۹۱ءمےں وہےں عربی ادب کے استاذ مقرر ہوئے۔

مولانا شبلی نے ان کے متعلق پےشن گوئی کی تھی کہ وہ آگے چل کر اےک اچھے مصنف ہوں گے ان کا پہلا مضمون مئی ۶۰۹۱ءکے الندوہ مےں تناسخ پر مولانا شبلی کی اصلاح کے بغےر ان کے تعرےفی نوٹ کے ساتھ شائع ہوا۔اسی سال ان کو الندوہ کا اسٹنٹ اےڈےٹر بھی مقرر کر دےا،۲۱۹۱ءمےں وہ مولانا ابوالکلام آزاد کی دعوت پر”الہلال“کلکتہ کے اسٹاف مےں شامل ہوگئے۔مولانا شبلی کے انتقال کے بعد جب دارالمصنفےن قائم ہوا تو وہ اعظم گڑھ آئے اور اس ادارہ سے عمر بھر کا پےمان وفا باندھا۔وہ دارالمصنفےن کے رکن اعظم اور مولانا سےد سلےمان ندوی اور مولانا مسعود علی ندوی کی طرح اس کے تےسرے معمار اعظم بھی ہےں۔
مولانا کا انتقال ۴ اکتوبر ۶۵۹۱ءکو دارالمصنفےن مےں ہوا اور اپنے استاذ مولانا شبلی مرحوم کے مزار سے متصل ہی سپرد خاک ہوئے۔

مولانا عبدالسلام ندوی کی مشہور تصانےف کے نام ےہ ہےں۔
۱)سوہ ¿ صحابہ(دو جلدےں)(۲) اسوہ ¿ صحابےات(۳)سےرت عمر بن عبدالعزےز ؒ(۴)تارےخ اخلاق اسلامی(۵)تارےخ فقہ اسلامی(۶) شعر الہند(دو جلدےں)(۷) امام رازی (۸) حکمائے اسلام (دو جلدےں)(۹)اقبال کامل(۰۱)ابن خلدون(۱۱)انقلاب الامم

Maulana Azad aur Allama Shibli Nomani

Articles

مولانا آزاد اور علامہ شبلی نعمانی

پروفیسر ظفراحمدصدیقی

مولاناابوالکلام آزاد بلاشبہ نابغہ ¿ روزگار تھے۔ ان کی غیرمعمولی ذہانت و ذکاوت، مسحورکن خطابت، بے مثال انشاپردازی، اس کے ساتھ ہی دانش وری اور سیاسی بصیرت کو اب مسلّمات کا درجہ حاصل ہے۔ ان کی وسعت ِمطالعہ، قوتِ حافظہ اور جامعیت بھی عجیب و غریب تھی۔ اسلامیات، شعروادب، تاریخ و جغرافیہ اور طب جیسے متنوع اور مختلف الجہات علوم و فنون سے وہ نہ صرف واقف تھے، بلکہ ان کی جزئےات بھی اکثر و بیشتر انھیں مستحضر رہتی تھیں۔ اردو، فارسی اور عربی تینوں زبانوں پر انھیں کامل عبور تھا۔ انگریزی کتابوں کے مطالعے میں بھی انھیں کوئی زحمت محسوس نہیں ہوتی تھی۔

مولانا آزاد کے خاندان، آباو اجداد، مولد و منشا، سالِ ولادت اور تعلیمی مراحل جیسے احوال و کوائف پر بڑی حدتک ابہام و غموض کا پردہ پڑا ہوا ہے اور تھوڑی بہت معلومات جو اُن امور سے متعلق ہم تک پہنچ سکی ہیں وہ انتہائی محیرالعقول ہیں۔ بہرحال جناب مالک رام کی تحقیق کے مطابق ۸۸۸۱ءکو اگر ان کا سالِ ولادت تسلیم کرلیا جائے تو وہ علامہ شبلی نعمانی سے اکتیس سال چھوٹے تھے۔ انھوںنے علامہ کے نام پہلا خط ۱۰۹۱ءمیں لکھا۔ اس وقت ان کی عمر محض تیرہ سال تھی۔ دوسری جانب علامہ شبلی اس وقت اپنی عمر کی ۴۴ویں منزل میں تھے۔ ان کی تصانیف میں مسلمانوں کی گذشتہ تعلیم، المامون، سیرةالنعمان، رسائل شبلی اور الفاروق منظرعام پر آچکی تھیں۔ اس لحاظ سے وہ ملک کے طول و عرض میں ہرطرف مشہور ہوچکے تھے اور قیامِ علی گڑھ کا دور ختم کرکے ناظم سررشتہ ¿ علوم و فنون کی حیثیت سے ریاست حیدرآباد سے وابستہ اور شہر حیدرآباد میں مقیم تھے۔ اِدھر مولانا آزاد کا یہ حال تھاکہ باوجود کم سنی وہ نصابی و درسی تعلیم سے گزرکر اب علوم جدیدہ کی جانب متوجہ ہوچکے تھے۔ اس سلسلے میں پہلے انھوںنے انگریزی، عربی اور فارسی سے اردو میں ترجمہ کی ہوئی کتابوں کا مطالعہ کیا۔ اس کے بعد ان کی خواہش ہوئی کہ عربی میں ترجمہ شدہ علومِ جدیدہ کی کتابوں سے استفادہ کریں۔ غالباً وہ علامہ شبلی کی تصانیف سے واقف تھے۔ اس لےے انھیں خیال آیاکہ اس سلسلے میں علامہ ان کی مدد کرسکتے ہیں۔ چنانچہ ”آزاد کی کہانی“ میں فرماتے ہیں:

اب مصر و شام کی کتابوں کا شوق ہوا۔ مولانا شبلی کو ایک خط لکھا اور ان سے دریافت کیاکہ علومِ جدیدہ کے عربی تراجم کون کون ہیں اور کہاں کہاں ملیںگے؟ انھوںنے دو سطروں میں یہ جواب دیاکہ مصرو بیروت سے خط و کتابت کیجےے۔۱

جنوری ۳۰۹۱ءمیں علامہ شبلی انجمن ترقی اردو کے پہلے سکریٹری مقرر ہوئے۔ اسی سال کے آخر میں مولاناآزاد نے کلکتہ سے ”لسان الصدق“ جاری کیا۔ یہ علمی و ادبی رسالہ تھا۔ یہ علامہ شبلی سے مولانا آزاد کے غائبانہ تعارف اور قربت کا ذریعہ بنا۔ کیونکہ مولانا اس میں انجمن سے متعلق خبریں، رپورٹیں اور اس کی کارگزاریوں کی تفصیلات وغیرہ شائع کرتے رہتے تھے، جو علامہ شبلی انھیں وقتاًفوقتاً بھیجتے رہتے تھے۔ اس سلسلے میں مولانا کی دلچسپی اور مستعدی کو دیکھ کر علامہ نے کچھ دنوں بعد انھیں انجمن کے ارکان انتظامیہ میں شامل کرلیا اور لسان الصدق کو ایک طرح انجمن کا ترجمان بنالیا۔ یہ سلسلہ ۴۰۹۱ءمیں اس وقت تک جاری رہا جب تک کہ علامہ انجمن کی ذمے داریوں سے سبک دوش نہ ہوگئے۔ اس پورے عرصے میں ان دونوں شخصیتوں کے درمیان مراسلت کا سلسلہ تو جاری رہا، لیکن ملاقات کی نوبت نہیں آئی۔

مولانا آزاد کی علامہ شبلی سے پہلی ملاقات غالباً ۴۰۹۱ءکے اواخر یا ۵۰۹۱ءکے اوائل میں بمبئی میں ہوئی۔ اب مولانا سولہ سال کے تھے اور علامہ کی عمر ۷۴ سال تھی۔ اس دوران ان کی تصانیف میں الغزالی، علم الکلام، الکلام اور سوانح مولانا روم بھی شائع ہوچکی تھیں۔ اس پہلی ملاقات میں جو لطیفہ پیش آیا، اس کا بیان مولانا آزاد کی زبانی ملاحظہ ہو۔ فرماتے ہیں:

مولانا شبلی سے میں ۴۰۹۱ءمیں سب سے پہلے بمبئی میں ملا۔ جب میں نے اپنا نام ظاہر کیا تو اس کے بعد آدھہ گھنٹے تک اِدھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اور چلتے وقت انھوںنے مجھ سے کہا تو ابوالکلام آپ کے والد ہیں؟ میںنے کہا نہیں میں خود ہوں۔۲

علامہ شبلی کے لےے دراصل باعث ِاستعجاب یہ تھاکہ یہ کم سن لڑکا ’لسان الصدق‘ جیسے علمی و ادبی رسالے کا مدیر کیوںکر ہوسکتاہے؟ علامہ ان دنوں دو تین ہفتے تک بمبئی میں قیام پذیر رہے۔ اس دوران مولانا کی ان سے بار بار ملاقاتیں ہوتی رہیں۔ ان ملاقاتوں میں علامہ ان سے حددرجہ متاثر ہوئے۔ چنانچہ مولانا فرماتے ہیں:
”جب چند دنوں میں گفتگو و صحبت سے انھیں میرے علمی شوق کا خوب اندازہ ہوگیا تو وہ بڑی محبت کرنے لگے۔ بار بار کہتے کہ مجھے ایک ایسے ہی آدمی کی ضرورت ہے۔ تم اگر کسی طرح حیدرآباد آسکو تو ”الندوہ“ اپنے متعلق کرلو اور وہاں مزید مطالعہ و ترقی کا بھی موقع ملے گا۔۳
اسی سلسلے میں مزید فرماتے ہیں:

سب سے زیادہ مولانا شبلی پر میرے شوقِ مطالعہ اور وسعت ِمطالعہ کا اثر پڑا۔ اس وقت تک میرا مطالعہ اتناوسیع ہوچکا تھاکہ عربی کی تمام نئی مطبوعات اور نئی تصنیفات تقریباً میری نظر سے گزر چکی تھیں اور بہتیر کتابیں ایسی بھی تھیںکہ مولانا ان کے شائق تھے اور انھیں معلوم نہ تھاکہ چھپ گئی ہیں، مثلاً محصل امام رازی۔۴
انھیں ملاقاتوں کے دوران فن مناظرہ سے متعلق ایک صاحب کی کج بحثی کا جواب دیتے ہوئے مولاناآزاد نے جب ایک مدلل تقریر کی تو اسے سن کر علامہ نے فرمایا:
تمہارا ذہن عجائب روزگار میں سے ہے۔ تمھیں تو کسی علمی نمائش گاہ میں بہ طورایک عجوبے کے پیش کرنا چاہےے۔۵

فروری ۵۰۹۱ءمیں علامہ شبلی حیدرآباد کی ملازمت سے مستعفی ہوکر ندوةالعلماءکے معتمد ِتعلیمات کی حیثیت سے لکھنو ¿ آگئے۔ اس وقت علامہ کی پیش کش اور اصرار کی بناپر ’الندوہ‘ کے نائب مدیر بن کر مولاناآزاد نے بھی لکھنو ¿ کا قیام اختیار کیا۔ اس طرح انھیں علامہ کے ساتھ مسلسل قیام اور ان کی علمی و ادبی صحبتوں سے مستفید ہونے کا موقع ہاتھ آیا۔ لکھنو ¿ میں مولانا کے قیام اور ’الندوہ‘ کی ادارت کا زمانہ ستمبر ۵۰۹۱ءسے مارچ ۶۰۹۱ءتک متعین کیا گیاہے۔ ان صحبتوں میں وہ علامہ سے کس قدر متاثر ہوئے،اس کا بیان خود انھیں کی زبانی ملاحظہ ہو۔ مولانا حبیب الرحمن خاں شروانی کے نام خط میں لکھتے ہیں:

”آپ کی غزل پر علامہ شبلی رحمةاﷲ علیہ کی تحسین بڑی سے بڑی سند ہے جو اس عہد میں مل سکتی تھی۔ علامہ مرحوم کی یاد میں آپ کو کتنا برمحل شعر یاد آیا:

و لیس من اﷲ بمستنکر

ا ¿ن یجمع العالم فی واحد

خواجہ حالی مرحوم نے کیا خوب کہاہے:

بہت لگتا ہے جی صحبت میں ان کی

وہ اپنی ذات میں اک انجمن ہیں

فی الحقیقت مولانا مرحوم کی ذات نبوغ و کمالات کے رنگارنگ مظاہر کا ایک عجیب مجموعہ تھی اور جیساکہ فارسی میں کہتے ہیں سرتاسر مغز بے پوست تھی۔ بہ مشکل کوئی مہینہ ایسا گزرتا ہے کہ ان کی یاد ناخن بہ دل نہ ہوتی ہو۔ وہ کیا گئے کہ علم و فن کی صحبتوں کا سرتاسر خاتمہ ہوگیا۔ مولانا مرحوم سحرخیزی کے عادی تھے۔ والد مرحوم کی سحرخیزی نے مجھے بھی بچپن سے اس کا عادی بنا دیاہے۔ اس اشتراکِ عادت نے ایک خاص رشتہ ¿ انس پیدا کردیا تھا۔ جب کبھی یکجائی ہوتی تو صبح چاربجے کا وقت ہوتا۔ چائے کا دور چلتا اور علم و فن اور شعر وادب کے چرچے رہتے۔ ہروادی میں وہ اپنے ذوق و فکر کی ایک خاص اور بلندجگہ رکھتے تھے اور یہ کتنی بڑی خوبی تھی کہ باوجود ملّا یا نہ طلب علم کے ملّائیت کی پرچھائےں بھی ان پر نہیں پڑی تھی۔ خشکی ِطبع جو اس راہ کے مہالک و آفات میں سے ہے، انھیں چھوبھی نہیں گئی تھی۔ شاعری کے ذوق و فہم کا جو اعلیٰ مرتبہ ان کے حصے میں آیا تھا، اس کی تو نظیر ملنی دشوار ہے۔“ (مورخہ ۶۲اکتوبر ۰۴۹۱ئ)

مولانا آزاد کے قیامِ لکھنو ¿ کے حوالے سے جناب ضیاءالدین اصلاحی نے لکھاہے کہ علامہ شبلی نے اپنے سرسے ادارتِ الندوہ کا بوجھ کم کرنے کے علاوہ ”مولانا آزاد کی علمی تربیت کے خیال سے بہ اصرار انھیں لکھنو ¿ بلایا۔“ اس بیان پر استدراک کرتے ہوئے ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری کہتے ہیں:

حقیقت یہ ہے کہ ان کی تعلیم کا دور ختم ہوچکا تھا اور مطالعہ و نظر کے جس مقام پر تھے، تربیت حاصل کرنے کے خیال سے بے پروا ہوچکے تھے۔۶

راقم حروف کے خیال میں یہ استدراک بالکل درست ہے۔ خود علامہ شبلی نے اس سلسلے میں مہدی اِفادی کے نام خط میں یہ الفاظ تحریر کےے ہیں:

آزاد کو تو آپ نے مخزن وغیرہ میں ضرور دیکھا ہوگا۔ قلم وہی ہے، معلومات یہاں رہنے سے ترقی کرگئے ہیں۔ (مورخہ ۶مارچ ۶۰۹۱ئ)۷

مارچ ۶۰۹۱ءکے بعد ’الندوہ‘ کی ادارت سے مولانا کا تعلق باقی نہ رہا۔ اوائل مئی ۶۰۹۱ءتک وہ لکھنو ¿ میں قیام پذیر رہے۔ اس کے بعد ”وکیل“ کے مدیر ہوکر امرتسر چلے گئے۔ لیکن علامہ شبلی سے ان کا ربط و تعلق علامہ کی آخرحیات تک باقی رہا۔

بعض اہلِ علم نے اپنی تحریروں میں یہ تاثر دیاہے کہ مولانا آزاد اگرچہ علامہ کے باضابطہ شاگرد نہ تھے، لیکن اخذو استفادے کے لحاظ سے وہ ان کے شاگرد معنوی ضرور تھے۔ ہمارے خیال میں یہ تاثر درست نہیں۔ بلکہ اس باب میں سب سے متوازن اور حقائق پر مبنی راے ڈاکٹرابوسلمان شاہ جہاںپوری کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

ایک طرف بے پایاں شفقت تھی اور دوسری جانب عقیدت و احترام اور سعادت کا اظہار تھا۔ یہ ابوالکلام کی انفرادیت تھی کہ ان کا رویہ روایتی شاگرد کے بجاے برابری کا نظر آتا ہے۔ یہ حضرت شبلی کی عظمت ہے کہ انھوںنے اپنے اس خرد کی عزتِ نفس کا ہمیشہ خیال رکھا اور ابوالکلام کی یہ سعادت مندی تھی کہ انھوںنے اپنے بزرگ کے علمی مقام کا ہمیشہ اعتراف و احترام کیا۔۸

یہاں ڈاکٹر شاہ جہاں پوری کی تائید میں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ علامہ شبلی اپنے مکاتیب میں عام طورپر مولانا آزاد کو ”آپ“ کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ اس کے برخلاف سیدسلیمان ندوی اور اپنے دیگر تلامذہ کو ہمیشہ ”تم“ کے صیغے سے خطاب کرتے ہیں۔

ڈاکٹرشاہ جہاں پوری نے مولانا آزاد اور علامہ شبلی کے درمیان ربط و یگانگت کے اسباب اور اس کی مختلف جہات پر بھی بہت عمدہ گفتگو کی ہے۔ لکھتے ہیں:

شبلی اور ابوالکلام کے تعلقات کی پائیداری کی وجہ اس کے سوا کچھ اور نہ تھی کہ دونوں بے غرض اور ذاتی مفاد و مصالح سے ناآشنا تھے اور دونوں ایک دوسرے کے فضائل و کمالات کے قدرداں اور ذوقِ علمی اور مطالعہ و نظر کی وسعت و گیرائی کے معترف تھے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ دونوں ہم ذوق و ہم فکر تھے۔ ادب، مذہب، تاریخ، تعلیم، سیاست میں دونوں کا نقطہ ¿ نظر یکساں یا قریب قریب تھا۔ ندوةالعلما دونوں کی توجہ کا مرکز تھا۔ سیرةنبوی کے منصوبے میں ابوالکلام شبلی کے مشیرومعاون تھے اور الہلال کی تعلیمی، سیاسی اور اصلاحی تحریک میں شبلی آزاد کے ممدومعاون تھے، بلکہ الہلال کی سیاسی تحریک کے فروغ اور اس کے رنگ کونمایاں کرنے میں آزاد کی تحریروں ہی کا نہیں، شبلی کی سیاسی و تاریخی منظومات کا حصہ بھی ہے۔۹

یہیں سے ان حضرات کے نقطہ ¿ نظر کی بھی تردید ہوجاتی ہے جو یہ سمجھتے ہیںکہ مولاناآزاد کی سیاسی فکر علامہ شبلی سے ماخوذ تھی، کیونکہ یہاں بھی معاملہ اخذ و استفادے کا نہیں، بلکہ مسلک و مشرب کے اتحاد اور فکرونظر کی ہم آہنگی کا تھا۔

یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ خطوطِ شبلی موسوم بہ مولانا آزاد کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ عمر کے خاصے تفاوت کے باوجود علامہ شبلی اور مولانا آزاد کے درمیان دوستانہ بے تکلفی بھی تھی۔ مثال کے طورپر ان خطوط سے چند اقتباسات ملاحظہ ہوں:
(الف)

اب کی مولوی خلیل الرحمن وغیرہ نے جلسہ ¿ انتظامیہ میں میری علاحدگی کی تجویز پیش کی۔ اس لےے کہ جب سے میں ندوے میں آیا، لوگوں کی توجہ کم ہوگئی اور ندوہ کو نقصان پہنچ رہاہے۔ کیوں آپ بھی اس راے سے متفق ہیں یا نہیں؟ افسوس کہ ان کے ووٹ نہیں آئے، ورنہ بمبئی میں آکر ٹھکانہ ملتا اور خوب صحبت رہتی۔ ماہ و اختر سب وہیں ہیں، افق ذرا بدل گیاہے۔

ہاں اور سنی، افتخارعالم صاحب مولوی نذیراحمد کی لائف لکھ کر انھی آلودہ ہاتھوںسے حیاتِ شبلی کو چھونا چاہتے ہیں، اجازت اور حالات مانگے ہیں۔ میںنے لکھ دیاہے کہ ظاہری حالات تو ہرجگہ سے مل جائےںگے، لیکن عالم السرائر خدا کے سوا ایک اور بھی ہے، وہاں سے منگوائےے۔ بھئی بتا تو نہ دوگے۔ (مورخہ ۵۱جون ۹۰۹۱ئ)۰۱
(ب)

برادرم!

جس قدر آپ کی عنایت و محبت کا یقین زیادہ ہوتا جاتاہے، اسی قدر آپ کی نکتہ سنجی اور نقادی کی طرف سے بے اعتباری بڑھتی جاتی ہے کہ آپ میری صحبت کو لطف انگیز اور نسبتہً دوسرے کے مقابلے میں قابلِ ترجیح سمجھتے ہیں۔

مٹیابرج کا شانِ نزول بالکل سمجھ میں نہ آیا، ذرا کھول کر لکھےے۔ دونوں مکانوں کا فاصلہ اس قدرکہ ایک ہی وقت میں گویا دو ملک میں رہتا۔ پھر وہاں کی ویرانی، دلچسپی کا کوئی سامان نہیں۔
بے شبہ میری خواہش ہے کہ چند روز دنیا سے الگ بسر کروں، ایسی حالت میں ایک تصنیف بھی انجام پائے۔ لیکن متصل دن رات تو وحشت کدے میں بسر نہیں ہوسکتی۔ شیعوں کے عملی فلسفے کی کوئی صورت پیدا ہو تو البتہ ممکن ہے۔ (مدرخہ ۵دسمبر ۹۰۹۱ئ)۱۱

(ج)
جنوری میں آپ کہیں اور چلے جائےںگے، دسمبر میں آو ¿ں اور دوچار روز رہ کر چلاجاو ¿ں۔ شباب ہوتا تو ایسی جست و خیز ممکن تھی۔ اب تو بہرجاکہ نشستم وطن شد، وہ زمانہ بتائےے کہ آکر ایک آدھ مہینہ رہ سکوں، گوبار خاطر بن جاو ¿ں۔
برج خاکی پر قبضہ ہوجائے تو لکھےے گا۔ ہاں ایک روایت تھی کہ ماہ تمام بنگال کے افق پر نکلا۔ تلاش سے شاید پتہ لگ جائے۔ (مورخہ ۰۱دسمبر ۹۰۹۱ئ)۲۱
(د)

برادرم!

میں بخیریت پہنچا۔ مغل سرا میں گاڑی نہ صرف بدلی، بلکہ مجھ کو پل صراط کی مصیبتیں جھیلنی پڑی کلکتہ کی پُرلطف گھڑیاں، اب دیکھےے کب نصیب ہوں۔ (مورخہ ۹جون ۰۱۹۱ئ)۳۱
”آپ کو اب زیادہ مولویت کی صورت میں رہنا چاہےے۔ اس سے بہت اچھے اچھے کام لے سکتے ہیں۔“ (مورخہ۲۱جون ۰۱۹۱ئ)۴۱

(ہ)
برادرم!

اچھا کہیں نہیں جاو ¿ںگا:

ع بندہ را فرماں نباشد، ہرچہ فرمائی بر آنم
لیکن کیا شبلی کو رابعہ کا درجہ مل سکتاہے۔ لیس الذکر کالا ¿نثیٰ۔ ماسٹردین محمد وطن گئے تھے اور سخت جانگزاخبر لائے۔ یعنی بدرِکامل حیدرآباد سے دلّی پہنچ کر غروب ہوگیا۔ مرتبہ ¿ ابراہیمی کہاں سے ہاتھ آئے کہ ”لا اُحب الآفلین“ کہہ سکوں۔ (مورخہ ۵۱اکتوبر ۰۱۹۱ئ)۵۱
ان خطوط میں شوخی، بے تکلفی اور دوستانہ چھیڑچھاڑ کا جو انداز ہے وہ شرح و بیان کا محتاج نہیں۔
مولانا آزاد نے علامہ شبلی سے تمام تر عقیدت و محبت کے باوجود ان پر بعض تنقیدیں بھی کی ہیں۔ مثلاً ”تذکرہ“ میں ایک جگہ لکھتے ہیں:
اﷲتعالیٰ مولانا مرحوم کو اعلیٰ علّیین میں جگہ دے، ان کی طبیعت میں ایک خاص بات یہ تھی کہ کوئی معاملہ ہو، وہ اس کی ابتدا ہمیشہ شک اور تردد سے کیا کرتے تھے۔ اس چیز نے ان کی عملی زندگی کو بھی (یعنی کاروبار و انتظامات کی زندگی کو) بہت نقصان پہنچایا اور وہ کوئی عملی کام جم کر نہ کرسکے۔ ندوہ کے معاملے میں جو اُلجھاو ¿ لوگوں نے ڈالے، وہ ان کے اسی ضعف ِیقین و عدم جزم و صلابت ِارادہ کا نتیجہ تھا، ورنہ ان سے مخالفت کرنے والوں میں ایک شخص بھی ایسا نہ تھا جو ان کو ان کی جگہ سے ہٹاسکتا۔۶۱

مولانا آزاد کے ذاتی کتب خانے میں دس گیارہ ہزار کتابیں تھیں۔ یہ اب انڈین کونسل فارکلچرل ریلیشنز، آزاد بھون، نئی دہلی کے کتب خانے کا حصہ ہیں۔ مولانا کی عادت تھی کہ وہ زیرِمطالعہ کتاب پر جہاں ضرورت محسوس کرتے حواشی لکھ دیتے تھے۔ جناب سید مسیح الحسن نے، جو ایک عرصے تک اس کتب خانے کے مرتب و منتظم رہے تھے، ان حواشی کو ”حواشیِ ابوالکلام“ کے نام سے مرتب کرکے شائع کردیاہے۔ اس میں علامہ شبلی کی دس کتابوں پر بھی مولانا کے حواشی موجود ہیں۔ ان میں مولانا نے جگہ جگہ علامہ سے اختلاف کیاہے اور بعض مقامات پر ان کا لہجہ سخت بھی ہوگیاہے۔ ان کے مطالعے سے اندازہ ہوتاہے کہ علامہ شبلی سے محبت و عقیدت اور ربط و تعلق کے باوجود بہت سے مذہبی، تاریخی، علمی اور ادبی مسائل میں وہ علامہ سے اختلاف رکھتے تھے اور اس کے اظہار میں بھی انھیں کچھ باک نہ تھا۔ علامہ کی جن کتابوں پر مولانانے حواشی لکھے ہیں، ان کے نام یہ ہیں:
سیرةالنعمان، جلد اوّل سیرةالنعمان، جلددوم
الغزالی رسائل شبلی، (نسخہ ¿ اوّل)
رسائل شبلی، (نسخہ ¿ دوم) شعرالعجم، جلد اوّل
مقالاتِ شبلی، جلد اوّل مقالاتِ شبلی، جلد دوم
مقالاتِ شبلی، جلدہفتم مضامینِ عالم گیر
ان میں سب سے زیادہ مبسوط حواشی سیرةالنعمان کی دونوں جلدوں پر ہیں، اس کے بعد ”مضامینِ عالم گیر“پر۔ اس کے علاوہ مولانا سیدسلیمان ندوی کی ”حیات ِشبلی“ پر تحریر کردہ بہت سے حواشی کا تعلق بھی علامہ شبلی کی سیرت و شخصیت سے ہے۔ مولاناآزاد اور علامہ شبلی کے فکری اختلافات کو جاننے کے لےے ان حواشی کا مطالعہ بھی ازبس ضروری ہے۔ آئندہ صفحات میں اس کی ایک مثال ملاحظہ ہو۔ علامہ شبلی نے ائمہ ¿ مجتہدین اور محدثین کے درمیان فرق کرتے ہوئے سیرةالنعمان میں یہ الفاظ تحریر کےے ہیں:

مجتہدین جس چیز پر فخر کرسکتے ہیں، وہ دقت ِنظر، قوتِ استنباط، استخراجِ مسائل اور تفریعِ احکام ہے۔ لیکن محدثین کے گروہ کے نزدیک یہی باتیں عیب و نقص میں داخل ہیں۔

اس پر مولانا آزاد کا حاشیہ حسب ِذیل ہے:

مصنف کی یہ پوری بحث یکسر مغالطہ ہے۔ اس سے بڑھ کر کذب علی وجہ الارض کیا ہوسکتا ہے کہ ائمہ ¿ حدیث کی نسبت یہ کہا جائے کہ دقت ِنظر، قوتِ استنباط، استخراجِ مسائل، درایت و تفکر ان کے نزدیک نقص رہا۔ جس شخص نے صرف تراجم ابوابِ فقیہہ ¿ بخاری وغیرہ ہی پر نظر ڈالی ہے، وہ کیونکر اس خیال کا تصور بھی کرسکتاہے۔ اور پھر جس شخص نے تصنیفاتِ ابنِ حزم، ابنِ عقیل، ابنِ تیمیہ و ابنِ قیّم وغیرہ کو دیکھا ہے تو وہ اس خیال کی تکذیب پر حلف شرعی اُٹھا سکتاہے۔ اصل یہ ہے کہ اس تمام معاملے کے اسباب ہی اور ہیں اور ان کو صاحب ِحجةاﷲ نے واشگاف لکھ دیاہے۔ مو ¿لف کی اس پر نظر ہے، مگر افسوس کہ مغالطہ دینے کی کوشش کی ہے۔ اگر مصنف نے اسی جملے پر غور کیا ہوتاکہ ”فروعِ احکام کی تفریع کرتے تھے۔“ تو اصل عُقدہ حل ہوجاتا، یعنی بنیاد اپنے قراردادہ یا ائمہ ¿ کوفہ کے کلیات پر رکھتے نہ کہ احادیث پر۔۷۱
حاصلِ کلام یہ ہے کہ مولانا آزاد اور علامہ شبلی دونوں ایک دوسرے سے متاثر ضرور ہوئے، لیکن دونوں نے اپنی اپنی انفرادیت بھی قائم رکھی۔

حواشی:

۱۔ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، مولانا ابوالکلام آزاد ( بہ روایت عبدالرزاق ملیح آبادی) دہلی، ۸۵۹۱ئ، ص:۷۵۲

۲۔ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، ص:۲۱۲

۳۔ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، ص:۱۱۳

۴۔ آزاد کی کہانی خود آزاد کی زبانی، ص:۲۱۳

۵۔ شبلی معاصرین کی نظر میں، مرتبہ ظفراحمد صدیقی، اترپردیش اردو اکادمی، لکھنو ¿، ۵۰۰۲ئ، ص:۴۸۱

۶۔ مضامینِ الندوہ۔ لکھنو ¿، مرتبہ ڈاکٹرابوسلمان شاہ جہاںپوری، اسلام آباد (پاکستان) ۷۰۰۲ئ، ص:۱۴

۷۔ مکاتیب ِشبلی، جلددوم، مرتبہ سیدسلیمان ندوی، دارالمصنّفین، اعظم گڑھ، ۲۱۰۲ئ، ص:۵۷۱

۸۔ مضامین الندوہ۔ لکھنو ¿، ص:۴۶

۹۔ مضامین الندوہ۔ لکھنو ¿، ص:۴۶۔۵۶

۰۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، مرتبہ سید سلیمان ندوی، دارالمصنّفین، اعظم گڑھ، ۰۱۰۲ئ، ص:۱۵۱۔۲۵۱

۱۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، ص:۳۵۲

۲۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، ص:۵۵۲

۳۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، ص:۷۵۲

۴۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، ص:۸۵۲

۵۱۔ مکاتیب ِشبلی، حصہ اوّل، ص:۱۶۲

۶۱۔ تذکرہ، مولانا ابوالکلام آزاد، مرتبہ مالک رام، ساہتیہ اکادمی، دہلی ۸۰۰۲ئ، ص:۴۰۲۔۵۰۲

۷۱۔ حواشی ابوالکلام آزاد، مرتبہ سیدمسیح الحسن، اردو اکادمی، دہلی ۸۸۹۱ئ، ص:۷۶۲

Irfan-e-Jamaal ka Shayar – Irfan Siddiqui

Articles

عرفانِ جمال کاشاعر: عرفان صدیقی

ڈاکٹر رشید اشرف خان

عرفان صدیقی اترپردیش کے تاریخی شہر بدایوںمیں۸جنوری۹۳۹۱ءکوپیداہوئے تھے۔معروف فکشن نگارسیدمحمداشرف کے مضمون ” عرفان صدیقی کی شاعری میں سوانحی اشارے“ کے درج ذیل اقتباس سے ضلع بداےوںکی ادبی وتاریخی اہمیت واضح ہوجاتی ہے:
”بداےوں،فردفریدپیانظام الدین اولیاکابدایوں،صوبے دارالتمش کابداےوں،مورخ عبدالقادر بداےونی کابداےوں،سلطان العارفین اورشاہ ولایت جیسے تاجدارانِ ولایت کابداےوں،شاہ فضل رسول اور حضرت تاج الفحول جیسے بادشاہانِ علم و معرفت کا بدایوں، فانی ، شکیل، آل احمد سرور، اداجعفری ، جیلانی بانواور اسعد بدایونی جیسے اصحاب قلم کا بدایوں اور عرفان صدیقی کا بدایوں۔ امیر خسرو اس محترم شہر کی خاک کو اپنے پیر مرشد کی نسبت سے سرمہ¿ چشم کے استعار ے بیان کرتے ہیں“
( نیا دور لکھنو¿ عرفان صدیقی نمبراکتوبر ۔ نومبر۰۱۰۲ءص ۳۶۱)
عرفان صدیقی کی ولادت ایک علمی خانوادہ میں ہوئی جس میں مذہب اور شعر گوئی کی روایت کئی پشتوں سے چلی آرہی تھی۔ ان کے پردادا مولانا محمد انصا ر حسین حمیدی زلالی بدایونی شمس العلما خواجہ الطاف حسین حالی کے شاگرد تھے اور دادا مولوی اکرام احمد شاد صدیقی ،مولانا سید علی احسن مارہروی( عرف شاہ میاں تلمیذ داغ دہلوی )کے شاگرد تھے۔ عرفان کے والد مولوی سلمان احمد صدیقی ہلالی بدایونی ایک وکیل اور صاحب طرز ادیب وشاعر تھے۔ان کی والدہ ¿ مرحومہ رابعہ خاتون کوبھی شعر وادب سے خاص انسیت تھی اور خودشعربھی کہتی تھیں۔
عرفان صدیقی نے ابتدائی تعلیم اپنے آبائی وطن ضلع بدایوں کے محلہ ”سُوتھا“میں اپنے گھر میں حاصل کی ۔پھر کرسچین ہائر سکنڈری اسکول بدایوں سے میٹرک کا امتحان ۳۵۹۱ءمیں پاس کیا۔ حافظ صدیق میسٹن اسلامیہ انٹر کالج بدایوں سے انٹر میڈیٹ ، بریلی کالج بریلی سے ۷۵۹۱ءمیں بی۔اے اور ۹۵۹۱ءمیں ایم۔اے کیا۔ انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ماس کمیونی کیشن سے صحافت کا ڈپلوما کیا ۔ ۲۶۹۱ءمیں حکومت ہند کے محکمہ¿ اطلاعات و نشریات اور وزارت دفاع کے مختلف شعبوں میں اطلاعات، خبر نگاری اور رابطہ¿ عامّہ کی مختلف ذمہ داریوں کو انجام دیتے رہے ۔ ڈپٹی پرنسپل انفارمیشن افسر کے عہدے سے ۸۹۹۱ءمیں وظیفہ یاب ہوئے اور لکھنو¿ میں آخری دم تک قیام رہا۔
جنوری ۹۳۹۱ءمیں اس دنیاے رنگ و بو میں قدم رکھنے کے بعد عرفان صدیقی نے اس وقت شعر کہنا شروع کیا جب وہ مشکل سے ۴۱۔۵۱ برس کے تھے۔عرفان صدیقی کے کلیات ”دریا“ جو ۹۹۹۱ءمیں کراچی پاکستان سے شائع ہواکا بالاستعیاب مطالعہ کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کی شاعری کے کئی ادوار تھے۔۴۵۹۱ءتک ان کی مشق سخن کا ابتدائی دور کہا جاسکتا ہے۔اس دورکا بیشتر کلام ان کے پہلے مجموعے میں ملے گا جو ”کینوس“ کے عنوان سے ۸۷۹۱ءمیں شائع ہوا تھا۔
”کینوس“ میں عموماََ غزلوں کی تعداد زیادہ ہے کیوں کہ غزل گوئی عرفان کی پہلی پسند تھی لیکن اس مجموعے میں چند نظمیں بھی شامل ہیںجو بطور خاص غور وفکر کی متقاضی ہیں۔ وہ نظم جس میں”سفر کی زنجیر“ کی سرخی قائم کی گئی ہے، خصوصی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس پوری نظم میں عرفان صدیقی نے اپنا تہذیبی اور ادبی پس منظر پیش کیا ہے اور اپنے وطن بدایوں کی عظمت و رفعت کو بیان کیا ہے ۔اس نظم کو مجموعہ ¿ کلام کینوس کا ابتدائیہ قرار دیا گیا ہے۔نظم کا آغاز غالب کے ایک شعر سے ہوتا ہے:
”شوق اس دشت میں دوڑائے ہے مجھ کوکہ جہاں
جادہ ، غیر از نگہہ دیدہ¿ تصویر نہیں“
جلتی دوپہر میں پیڑی کا پُر اسرار درخت
جس سے لپٹا ہوا ، گزری ہوئی صدیوں کا طلسم
پہلوئے خاک میں آسودہ کوئی مرد شہید
طاق میں رات کے افسردہ چراغوں کا دھواں
یہ گلی گنج شہیداں کی طرف جاتی ہے
مصحفی نے جو کہا ہے تمھیں معلوم نہیں
سرمہ¿ چشم ہے یہ خاک تو خسرو کے لیے
ہم اسی مٹی سے اگنے کے لیے آئے ہیں
اس نظم کو پڑھ کر جہاں ایک طرف یہ اندازہ ہوتا ہے کہ عرفان صدیقی نے استعارہ بدوش نظم اور تلمیح آمیز مصرعوں کی صورت میں اپنے وطن اور اپنے اسلاف کا تذکرہ کیا ہے وہیں ان کے شعور جمالیات نے بھی اپنی کارفرمائی شروع کردی ہے۔ کیوں کہ ہیگل Hegelجمالیات کے لفظ کو فنون لطیفہ کے فلسفے کے مفہوم میں استعمال کرنے پر اصرار کرتا ہے چنانچہ نظم مذکور کے اشعار میں حسب ذیل مصرعے اسی احساس جمال کے آئینہ دار ہیں:
میں کہاں کے رکوں گا ؟مجھے معلوم نہیں
حسن کب تجزیہ¿ ذات میں ڈھل پائے گا
ظلمتیں ، روشنیاں ، سلسلہ¿ شام وسحر
سب تماشا ہے تو تقریب تماشا کیا ہے؟
حلقہ در حلقہ پُر اسرار سفر کی زنجیر
دیکھتے جاو¿ کہ تم نے ابھی دیکھا کیا ہے
ان اشعار میںشاعر نے علامتوں اور اشاریوں کے سہارے اپنے احساس جمال کی بڑی کامیاب ترجمانی کی ہے۔ آخر مصوری بھی تو ایک فن لطیف ہی ہے جو رنگوں کی شکل میں جنت نگاہ بن جایا کرتا ہے اور شاعرانہ مصور ی ایسے ہی رنگین خیالات کو محاکات یا شاعرانہ مصوری کا لباس پہنا دیتے ہیں۔یہی شعور جمال کی ایک پُرکشش فن کاری ہے۔
”کینوس“ بظاہر شاعر کے ابتدائی کلام کا مجموعہ ہے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شروع ہی سے عرفان کا شعور جمال کافی بالغ اور پُر جوش تھا۔ عموماََ ہمارے شعرا کے یہاں حسن پرستی تو ہوتا ہے مگر شعور جمال نہیں ،جب کہ حسن پرستی ، شعور جمال کا صرف ایک جزو یا Elementہے نہ کہ کل۔ کینوس میں شامل غزلوں کی چند مثالیں دیکھیے:
کہیں کسی کے بدن سے ، بدن نہ چھو جائے
اس احتیاط میں خواہش کا ڈھنگ سا کچھ ہے
چلو زمیں نہ سہی آسمان ہی ہوگا
محبتوں میں بہر حال تنگ سا کچھ ہے
ان دو اشعارمیں شاعر نے نفسیات انسانی کی ہلکی سی جھلک دکھلائی ہے۔پہلے شعر میں وہ کہنا چاہتا ہے کہ میرا جذبہ¿ شوق اور شعور جمال دونوں ہی بیک وقت مجھ پر حاوی ہیں یعنی میں صرف Beauty is to See, Not to touchوالے فارمولے پرعمل کرنا چاہتا ہوںاور سی جذبے کے ساتھ میں بوسہ بہ پیام کے بجائے لب بہ لب والی ملاقات کا خواہاں ہوں۔
کینوس میں بعض غزلیں ایسی بھی ملتی ہیںجو یقینا پردیس میں کہی گئی ہیں۔ وطن سے دوری ، شدید احساس غریب الوطنی ، تنہائی اور بیتے ہوئے دنوں کی چبھتی یادیں،ان باتوں نے شاعر کے دل ودماغ میں ایک ہلچل سی مچا رکھی ہے:
بڑھا کے ربط وفا اجنبی پرندوں نے
وہ ہنس اپنے وطن کو پلٹ گیا آخر
دنیا کا دستور ہے کہ وہ ظاہری واقعات و حوادث ، خوش آیند باتوں اور امید افزا ماحول کا فوری طور پر اثر لیتی ہے لیکن شاعر وہ بھی جمالیاتی ذوق رکھنے والا عرفان صدیقی جیسا شاعر واقعات و حوادث کی بنیاد ،خوش آیند باتوں اور امید افزا ماحول کی اصل حقیقت کو جانتا ہے تب کہیںاس موادکو موضوع ِ گفتگو بناتا ہے۔ سانحہ¿ کربلا کو گزرے چودہ سو سال سے زیادہ کا عرصہ ہوا لیکن عرفان کی نگاہوں میں وہ آج بھی تازہ ہے۔صرف سانحہ نہیں بلکہ اس کی جزئیات بھی موجود ہے۔ شاید اسی لیے انھوں نے کہا تھا:
تم،جو کچھ چاہو،وہ تاریخ میں تحریر کرو
یہ تو نیزہ ہی سمجھتا ہے کہ سر میں کیا تھا؟
جمالیاتی نقطہ¿ نظر سے عرفان صدیقی کے کلام کا مطالعہ کرتے وقت اس نکتے کو یاد رکھنا چاہیے کہ جمالیات کا حقیقی ظہور اس وقت ہوا جب فنون لطیفہ یعنی فن تعمیر،فن موسیقی، فن شاعری، فن رقاصی، فن سنگ تراشی اور فن مصوری وغیرہ کا ارتقا ہوچکا تھا۔
مذکورہ بالا تمام فنون کے آغاز میں فن کار کا احساس جمال حسن پرستی بڑی حد تک زیریں لہر کی طرح شعور میں وجود تھا لیکن پختہ جمالیاتی شعور تکمیل فن کے بعد ہی جلوہ گر ہوا۔اجنتا ایلورا اور تاج محل کا مجرد مشاہدہ جمالیات نہیں بلکہ ان عمارتوں کو دیکھ کر جو مسرت حاصل ہو تی ہے دراصل وہی مطالعہ¿ جمالیات ہے۔
اس تمہید اور وضاحت کے بعد ہم سمجھ سکتے ہیں کہ عرفان صدیقی کی شاعری میں جمالیاتی رنگ کہاں کہاں اور کیسے کیسے رونما ہواہے۔ اس عنصر نے ان کے کلام میں کس کس طرح تازگی ، جدت ، انفرادیت اور اثر انگیزی کے جوہر پیدا کردیے ہیں؟ کبھی اپنی بے چین روح اور مضطرب جوان دل کی نفسیاتی کیفیت کو پیش کرتے کرتے اپنے احساس جمال کو درد تنہائی کا مداوا بنایا ہے۔ مثلاََ:
بند کمرے میں پراگندہ خیالوں کی گھٹن
اور دروازے پہ اک آوازِ پا جیسے ، ہوا
پانیوں میں ڈوبتی جیسے رُتوں کی کشتیاں
ساحلوں پر چیختی کوئی صدا ، جیسے ہوا
کتنا خالی ہے یہ دامن ، جس طرح دامانِ دشت
کچھ نہ کچھ تو دے اسے میرے خدا ، جیسے ہوا
محولہ¿ بالااشعار میں بند کمرہ، پراگندہ خیالوں کی گھٹن، دروازہ، رتوں کشتیاں، چیختی صدا،دامن اور دشت وغیرہ ایسے الفاظ وتراکیب کا برجستہ و بر محل استعمال اور” ہوا“ جیسی غیر مرئی شے سے ردیف کا کام لینا اگر عرفان کی جمالیاتی تخلیق کا نادرو نایاب رنگ سخنوری نہیں تو پھر کیا ہے۔ غور کیجیے کہ شاعر کا اپنے رب کو یہ مشورہ دینا کہ دامانِ دشت کو کسی اور چیز سے بھرنا نہیں چاہتا تو کم ازکم ہوا جیسی ہلکی پھلکی چیز سے ہی بھردے۔بظاہر یہ مشورہ کتنا مضحکہ خیز لیکن بہ باطن کس درجہ اہم شاعرانہ مشورہ ہے جو بغیر ایک لطیف تصور ِجمال کے سوچا ہی نہیں جاسکتا۔
عرفان صدیقی کی شاعری کا دوسرا دور ان کے دوسرے مجموعہ کلام” شب درمیاں“ سے شروع ہوتا ہے جو ۴۸۹۱ءمیں مرتب ہوا تھا۔ اس مجموعے میں سب سے پہلی چیز جو ہمارے دامن دل کو اپنی طرف کھینچتی ہے وہ ایسے اشعار ہیں جو افتتاحیہ کی سرخی کے تحت کہے گئے ہیں۔ آغاز یوں ہوتاہے:
مجھ کو لکھنا اگر آجائے تو کیا کیا لکھوں
کبھی اپنا کبھی دنیا کا سراپا لکھوں
گویا شاعر کوکچھ انہونی یا اچھوتی بات کہنے کا خواہش مند ہے لیکن وہ بڑے پس وپیش اور تذبذب میں ہے کہ آخر لکھے تو کیا لکھے۔ قلم اٹھانے کے بعد بھی اس کے لیے یہ فیصلہ کرنا دشوار ہے کہ آپ بیتی لکھے یا جگ بیتی؟اس کو اس تلخ حقیقت کا بخوبی اعتراف ہے کہ:
جو مرا دکھ ہے وہ، ہر شخص کا دکھ لگتا ہے
میں کسے غیر کہوں اور کسے اپنا لکھوں؟
بہ الفاظ دیگر شاعر غمِ جاناں کے ساتھ غمِ دوراں کو بھی اپنے سینے سے لگائے رکھنا چاہتا ہے۔ اس خیال کے ذہن میں آتے ہی شاعر اپنی ذات کی طرف سے نظریں ہٹا کر کائنات کا جائزہ لینے لگتا ہے تو اسے محسوس ہوتا ہے کہ کائنات تو اپنی ذات سے بڑھ کر سیکڑوں اورہزاروں نئے موضوعات کا خزانہ ہے۔وہ کسی منشور یا(Prism) کی طرح اپنی فکرکی جمالیاتی خوردبین یا ذرہ بین(Microscope)کو گھماتا ہے تو رنگ برنگے جلوے اس کی نگاہ احساس کے سامنے آتے ہیںمثلاََ:
ریت پر دھوپ ، کوئی عکس تو دکھلائے کہ میں
ایک بوسہ سر پیشانیِ صحرا لکھوں
بوسہ کسی چیز یا انسان کے جسم پر لیا جاتا ہے یا ہوا میں اڑایا جاتا ہے لیکن اس شعر کو پڑھ کر ہمارے علم میں یہ اضافہ بھی ہوا کہ بوسہ سر پیشانیِ صحرا کا بھی لیا جاسکتا ہے۔ یقینا یہ ایک بالکل نیا اور عجوبائی بیان ہے جوشاعر کے ذہن کی خالص جمالیاتی سوچ سے تعلق رکھتا ہے۔شاعر کو ہر اس چیز میں جمالیاتی حسن نظر آتا ہے جو اس کے خیالات کو شعر کہنے پر اکساتی ہے خواہ وہ مناظر فطرت ہوں ، پرندے ہوں یا ماضی کی حسین یادیں ہوں۔ ”شب درمیان“ کے اشعار دیکھیے:
چڑیوں ، پھولوں ، مہتابوں کا
مرا منظر نامہ خوابوں کا
یہی بستی میرے پُرکھوں کی
یہی رستہ ہے سیلابوں کا
اگرعرفان صدیقی اپنی غزل کے مطلع میں محض چڑیوں، پھولوں اور مہتابوں کا ذکربھی کردیتے تو غزل میں کافی رعنائی پیدا ہوجاتی لیکن ان چیزوں کو خوابوں کا منظر نامہ کہہ دینے سے شعر کہیں سے کہیں پہنچ گیااسی طرح پُرکھوں کی بستی اور سیلابوں کا تذکرہ لاجواب ہے۔
شعور جمال کا ایک انعام چشم بصیرت کا کھل جانا یعنی قبل ازوقت آنے والے یا وقوع پذیر حالات کی آہٹ مل جانا بھی ہے۔جس طرح گھوڑا میلوں دور سے سانپ کے وجود کو محسوس کرکے اپنے پاو¿ں پٹخنے لگتا ہے یا آلہ¿ زلزلہ شناسی زلزلہ آنے سے پہلے اس کے وقت اور محل وقوع سے ہمیں آگاہ کردیتاہے وہی حالت اس شاعر کی ہے جسے اللہ نے غیر معمولی شعور جمال ودیعت فرمایا ہو۔ عرفان صدیقی کے حسب ذیل اشعار اس حقیقت کے ترجمان ہیں:
اگلے دن کیا ہونے والا تھا ، یہ اب تک یاد ہے
انتظار صبح میں وہ سارے گھر کا جاگنا
آخری امید کا مہتاب جل بجھنے کے بعد
میرا سوجانا ، مرے دیوار و در کا جاگنا
مذکورہ بالا اشعار میں انتظار صبح اور مرے دیوارودرکا جاگنااسی دور اندیشی اور پیش بینی کی طرف اشارا کرتے ہیںجس کا ایک صحت مند اور مثالی احساس جمال شاعر سے مطالبہ کرتا ہے۔دیگر بہت سے اجزاے شعور جمال کی طرح آزادیِ فکر ونظر اور تلاش ہم سفر بھی اس کی تکمیل میں از بس ضروری بلکہ لازمی ہے۔ ”شب درمیان“ کی پانچ اشعار پر مشتمل ایک غزل جو عرفان صدیقی نے اپنے دیرینہ حبیب مرحوم شہر یار کے نام معنون کی ہے، ہمارے دعوے کی انتہائی خوبصورت دلیل کہی جاسکتی ہے:
دلوں سے درد کا احساس گھٹتا جاتا ہے
یہ کشتگاں کا قبیلہ ، سمٹتا جاتا ہے
کھلے پروں پہ فضا تنگ ہوتی جاتی ہے
اور آسمان زمینوں میں بٹتا جاتا ہے
ہزار قرب کے امکان بڑھتے جاتے ہیں
مگر وہ ہجر کا رستہ جو کٹتا جاتا ہے
ان اشعار کا خلاصہ یہ ہے کہ شاعر کے ساتھ ساتھ پہلے بہت سے ایسے ہم خیال اور ہم جذبہ شعرا تھے جنھوں نے مبتلائے درد عشق میں اپنی جانیں دے دیں اور جانباز صرف گنتی کے رہ گئے۔جغرافیائی تقسیم نے ہمیں اپنے ہم نواو¿ں سے دور کردیا۔سچ پوچھو تو مستقل ہجرت وجدائی نے ہمیں ان تکالیف کا عادی بنادیا ہے۔ درد فرقت میں ہمیں لذت ملنے لگی۔اب اگر کوئی ہم سے پرانے احباب کے ساتھ مل بیٹھنے پر اکساتا ہے تو ہمیں وحشت سی ہونے لگتی ہے یہ ایک نفسیاتی کیفیت ہے جو ہمیں شعور جمال نے عطا کی ہے ۔ گویا اب ہم غالب کے اس شعر کو سمجھے ہیںکہ:
عشرت قطرہ ہے ، دریا میں فنا ہوجانا
درد کا حد سے گزرنا ہے دوا ہوجانا
اطالوی مفکر کُروچے(Bendetto Croce) نے( جو اٹلی میں نیپلز کے پاس ایک قریہ میں ۶۶۸۱ءمیں پیدا ہوا )فلسفہ¿ جمالیات کے بارے میں بہت کچھ لکھا ۔ اظہاریت اس کے یہاں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اس اظہاریت(Expressionalism)کو کُروچے کے جمالیات کی اساس سمجھنا چاہیے۔ وہ کہتا ہے کہ دیکھنا یہ چاہیے کہ شاعر یاا دیب کے اظہارفن کا انداز کیسا ہے۔
اس قول کی روشنی میں جب ہم عرفان صدیقی کے کلام پر عمومی نقطہ¿ نظر سے اور شب درمیان کی غزلوں پر خصوصی زاویہ¿ نگاہ سے غور کرتے ہیںتو اس نتیجہ پر پہنچتے ہیں کہ ان کے یہاں اظہار جذبات وخیالات پر مکمل گرفت موجود ہے ۔ اس گرفت کا بدیہی ثبوت یہ ہے کہ وہ اظہار کے بیشتر وسائل سے کام لیتے ہیںاور لفظ ومعنی کے انتہائی دلکش ادغام سے اپنی ایک ایسی غیر معمولی شعری کائنات کے خالق بن جاتے ہیںجوان کے وضع کردہ اصولوں کے منفرد معیار کوقائم رکھ سکے۔ہم بڑی حیرت انگیز نگاہوں سے دیکھتے ہیںکہ ان کی شاعری خود اپنے ہی وضع کردہ اصولوںکے سانچوںمیں اتنی مہارت کے ساتھ ڈھلی ہے کہ وہ ہمارے سامنے فکری میلانات ورجحانات کے رنگ برنگے مرقعے پیش کردینے پر قادر ہے ۔نمونے کے طور پر یہ اشعار ملاحظہ کیجیے:
عقدہ¿ جاں بھی رمزِ جفرہے ، جتنا جتنا غور کیا
جو بھی جواب تھا میرا پنہاں، میرے حرف سوال میں تھا
تیغ ستم کے گرد ہمارے خالی ہاتھ حمائل تھے
اب کے برس بھی ایک کرشمہ ،اپنے دست کمال میں تھا
علم جفر کا ایک اصول یہ بھی ہے کہ چند نمایاں سوال کیے جاتے ہیں جن کا جواب پوشیدہ طور پر ملتا ہے۔ شاعر اپنے عقدہ¿ جاں یعنی زندگی کے بارے میں کچھ جاننے کا خواہش مند ہے۔ جواب غیب سے ملتا ہے لیکن چند علامتوں کے ذریعہ۔مختصریہ کہ شاعر جو جاننا چاہتا ہے اس کا جواب بھی اتنا ہی نا معلوم ہے جتنا مبہم کہ اس کا سوال تھا ۔ یہ ایک معمہ ہے۔شاعر کے نزدیک معمہ بنانا اور پہیلیاں بجھا کر سننے والے کو حیرت واستعجاب میں مبتلا کردینابھی اس کے شعور جمال کی تشنگی کو مٹا دیتا ہے۔ مذکورہ¿ بالا دونوں اشعار اپنے اپنے رنگ میں اسی قبیل کے فن پارے ہیں۔
عرفان صدیقی کی شاعری کا تیسرا دور اپنی تمام تر خصوصیات وامتیازات کے ساتھ ان کے تیسرے مجموعہ¿ کلام ” سات سمٰوات“میں جلوہ فگن ہے جو ۲۹۹۱ءمیں شائع ہوا تھا ۔ سات سمٰوات کا مطالعہ کرتے وقت قاری کے دل میں جو کیفیت پیدا ہوتی ہے وہ اپنے مقام پر عجیب وغریب ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے تمثال گری (Visualisation)کے جس ہنر کے ساتھ کینوس اور شب درمیان میں شامل سخنوری کے جوہر دکھائے تھے وہ ان کی مسلسل جمالیاتی ریاضت کے نتیجہ میں نقطہ¿ کمال تک پہنچ گئے ہیںاور اس تیسرے مجموعے سات سمٰوات سے ثابت ہوتا ہے کہ شاعر نے اپنا وہ رنگ بالآخر پا ہی لیا ہے جس کا وہ متلاشی تھا۔یہ مجموعہ اپنے قاری پر یہ راز افشا کرتا ہے کہ اب شاعر نے ساتوں آسمانوں میںبکھری ہوئی ساری آفاقیت کو اپنے شعور جمال کی مدد سے شعری استعارہ بنانے میں کامیابی حاصل کرلی ہے ۔ خاک، ہوا، چاند، سورج، ستارے، شفق ، قوسِ قُزح ، بادل ، برق وباراں،شبنم اور کہکشاںغرض کہ تمام اجرام فلکی کے حوالے بار بار ان کے اشعارمیں ملتے ہیںاور ہر بار نئے مفاہیم کی طرف اشارا کرتے ہیں:
یاد آتی ہوئی خوشبو کی طرح زندہ ہم
کسی گزرے ہوئے موسم کے نمایندہ ہم
اڑ گئے آنکھ سے سب لمحہ¿ موجود کے رنگ
ہوگئے نقش گر رفتہ و آیندہ ہم
اس اندھیرے میں کہ پل بھر کا چمکنا بھی محال
رات بھر زندہ و رخشندہ و تابندہ ہم
ان اشعار میں ’خوشبو کی طرح زندگی‘ تشبیہ کی ندرت کا اشاریہ ہے۔’ گزرے ہوئے موسم‘ خوشگوار ماضی ہے۔ دوسرا شعر اس حقیقت کا غماز ہے کہ فی الحال ہم دنیا میں مشہور و معروف نہ سہی لیکن ہمارا ماضی بے حد شاندار اور مستقبل ہمارے نرالے ذوق کا آئینہ ہے۔ہم مایوسی میں بھی رجائیت ، حوصلہ مندی اور امید پیدا کرلیتے ہیںیہی ہماری زندگی اورپر جوش و بامقصد فعالیت اور سرگرمیوں کا راز سر بستہ ہے جس سے ہماری موجودہ نسل قطعاََ ناواقف ہے۔
موجودہ زمانے کے بد مذاق ماحول اور تہذیبی وتمدنی زوال کا تقاضہ تو یہ تھا کہ عرفان صدیقی کی شاعری فانی کی غزل یا میر انیس کا مرثیہ بن جاتی لیکن ان کی جمال آشنا فکر نے یہاں بھی ایک نئے انداز کی شان دکھائی ہے ۔ نئی تشبیہات ، جدید ترین علامات واستعارات، خود ساختہ الفاط اور تازہ بہ تازہ شعری اصطلاحات کے نئے طرزاحساس نے ان کی شاعری کو جو اچھوتا آہنگ بخشا اس میں میر وغالب کی شعری روایت بھی موجود ہے اور وہ روایت بھی جو شاعری کے نئے اور پائیدار معیار بھی قائم کرتی ہے۔
اب عرفان جمال کا شاعر ، عرفان صدیقی کے آخری شعری شاہکار”عشق نامہ“ جو ۷۹۹۱ءمیں چھپا تھاعرفان کی شاعری کے تعلق سے ان کے ایک قریبی دوست سید عقیل حیدر لکھتے ہیںکہ:
”عرفان صدیقی ، دوسرے شاعروں کی طرح کسی غزل کو ایک نشست میں مکمل کرنے کے قائل نہیں تھے بلکہ ایک ایک شعر پر کئی کئی گھنٹے اور کئی کئی دن تک غور کرتے۔ مثال کے طور پر ان کے مشہور مطلع کا ثانی مصرعہ” نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے“ انھوں نے یوں ہی روانی میںایک دن کہہ کر کسی کاغذ پر تحریر کرلیا تھا لیکن مطلع کے لیے انھوں نے مصرعہ¿ اولیٰ قریب چھ ماہ کی کوششوں کے بعد لگانے میں کامیابی حاصل کی“
(ماہ نامہ نیادور لکھنو¿ عرفان صدیقی نمبر اکتوبر ۔نومبر۰۱۰۲ءص ۳۶)
مطلع اس طرح سے ہے:
اٹھو ، یہ منظر شب تاب دیکھنے کے لیے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لیے©©
مذکورہ غزل کاپہلا شعر جسے بیت الغزل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا ۔حریف یا رقیب کا ذکر تو اکثر شعرا کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن عرفان کے اس شعر میں کہ ایک ایسا شخص جو اپنے حریف کی موت کو دیکھنے کے لیے خود اپنی جان گنوا بیٹھتاہے۔ ایسی نظیر شاید ہی کسی شعرا کے یہاں نظر آئے:
عجب حریف تھا ، میرے ہی ساتھ ڈوب گیا
مرے سفینے کو غرقاب دیکھنے کے لیے
”عشق نامہ“ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ عرفان نے سراپاے محبوب کی تجسیم(Personification)کے بجائے ،جمال محبوب کے نقش کو کافی گہرائی عطا کی ہے اور اس مقصد کے حصول کی خاطر انھوں نے بجائے پیار کی تجسیم نہ کرتے ہوئے محبوب کے سراپا کو اس کے عمل سے مربوط کردیا یہ ان کی غیر معمولی ہنر مندی ہی کہی جائے گی مثلاََ ”ستارہ ادا“ کی ترکیب وضع کرکے اسے محبوب کے ساتھ تواتر کے ساتھ استعمال کرنا جس میں حسن ، فاصلہ اور فنا پذیری کی صفت بھی شامل ہے:
عجب ہے میرے ستارہ ادا کی ہم سفری
وہ ساتھ ہو تو بیاباں میں رت جگا ہوجائے
عشق نامہ کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ انھوں نے اپنے محبوب کے لیے بانوئے شہر کی خوبصورت ترکیب وضع کی ہے:
ناقہ¿ حسن کی ہم رکابی کہاں؟ خیمہ¿ ناز میں باریابی کہاں؟
ہم تو آئے بانوئے کشوردلبری پاسداروںمیں ہیں، ساربانوں میں ہیں
مختصر یہ کہ ”عشق نامہ“ عرفان صدیقی کے دیگر تمام شعری مجموعوں سے بہ اعتبار کیفیت و کمیت مختلف ہے اور اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ مرحوم نے کلاسیکی شعری روایات کو جدید ترین آہنگ شاعری کے امتزاج سے ایک نئی شعری ”بوطیقا“ مرتب کردی ہے جو صدیوں تک اس عظیم اور طبع زاد شاعر کی یاد دلاتی رہے گی۔
عرفان صدیقی مرحوم کی شاعرانہ فتوحات ذکرکرتے ہوئے ہم ان کے مجموعہ کلام ”ہواے دشت ماریہ“کو یکسر فراموش نہیں کرسکتے ۔ یہ مجموعہ منقبتوں ، سلاموں اور نوحوںپر مشتمل ہے جسے ادارہ¿ تمدن اسلام(کراچی پاکستان) نے ۸۹۹۱ءمیں شائع کیاتھا ۔ یہ ایک وقیع ترمجموعہ ہے کیونکہ اس میں تاثر، عقیدت ، سبق آموزی اور شعریت سبھی کچھ بہ یک وقت اکٹھا ہوگئے ہیں۔ پاکیزگیِ جذبات ، حق گوئی اور ظلم وستم کے خلاف مہذب احتجاج کی حیثیت سے یہ مجموعہ ہمیں ایک بالکل نئے عرفان صدیقی سے متعارف کراتا ہے۔بے شک ہواے دشت ماریہ میں سرکار دوعالم صلعم ، ان کے اہل بیت علی الخصوص مسلمانوں کے خلیفہ¿ چہارم حضرت علی کے چھوٹے فرزند حضرت امام حسین اور ان خانوادے پر کربلاے معلی میں ہونے والے مظالم کا پُردرد تذکرہ ہے لیکن اس تذکرہ میں بھی عرفان صدیقی کی فکر نَو نے ہزاروںنئے گوشے پیدا کیے ہیںجو انھیں کا حصہ تھے:
دل ِ سوزاں پہ جیسے دست شبنم رکھ دیا دیکھو
علیؑ کے نام نے زخموں پہ مرہم رکھ دیا دیکھو
۔۔۔۔
گلوئے خشک میںسوکھی پڑی ہے پیاس کی نہر
خبر نہیں کہ ہے پانی کا ذائقہ کیسا
یہ لوگ دست جفا سے کسے پکارتے ہیں
یہ بازگشت سناتی ہے مرثیہ کیسا
مذکورہ اشعارکی پوری نظم میں اگرچہ واضح طور پر سانحہ¿ کربلا کی جملہ جزئیات باالترتیب بیان نہیں کی گئی ہے پھر بھی چیدہ چیدہ اشعار میں بڑافنکارانہ ربط پایا جاتا ہے۔ اگر غور کیا جائے تو بے ربطی میں ربط بھی تذکرہ¿ جمال کا ایک انداز ہے۔ہر شعر میں یا تو سوالیہ طرز ہے یا علامت استفہام کی کیفیت موجود ہے ۔استعاروں کے تسلسل میں سبھی اشعار کو معنی آفریں بنادیا ہے۔علم بیان کی اصطلاح میں اسے خوش فضائی کہا جاسکتا ہے۔
عرفان صدیقی کے تعلق سے ایک سب سے اہم یہ ہے کہ ان کے احباب اور شناساو¿ ں کی روایت کے مطابق نہ تو انھیں اخبار ورسائل میں اپنا کلام چھپوانے کا شوق تھا نہ مشاعروں میں کلام سنانے کا۔ ان کی بیشتر غزلوں میں مقطع کہنے کا التزام بھی نہ تھا ۔ وہ تو ایک قلندر صفت انسان تھے ۔ بلا شبہ ان میں احساس خودداری اور حفظ مراتب بہت تھا۔ ہوائے دشت ماریہ کی یہ خصوصیت ہے کہ اس میں شامل ایک نظم (جو عرفان کی مشہور ترین نظموں میں شمار ہوتی ہے)ان کے تخلص سے شروع ہوتی ہے:
دست تہی میں ، گوہر نصرت کہاں سے لائے؟
عرفان! تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے؟
پانی نہ پائیں ساقیِ کوثر کے اہلِ بیت
موج فرات اشک ندامت کہاں سے لائے؟
مذکورہ بالا سلام کے سلسلے میں ڈاکٹر نیّر مسعود رضوی نے ایک عجیب وغریب واقعہ بیان کیا ہے ۔ اس وقعہ کو یہاں بیان کرنانامناسب نہ ہوگا۔ نّیر مسعود لکھتے ہیں:
”مجھے اردو صاحب دل ، مذہبی شاعر مرحوم وفا ملک پوری یاد آرہے ہیں۔ وہ عرفان صدیقی سے اچھی طرح واقف نہیں تھے ۔ میں نے انھیں یہ سلام سنایا:
عرفان!تم یہ درد کی دولت کہاں سے لائے؟
پورا سلام مرصع ہے لیکن وفا خاموش بیٹھے سنتے رہے۔ میں نے سلام ختم کرکے حیرت سے ان کی طرف دیکھا تو معلوم ہوا، چپکے چپکے رو رہے ہیں ۔ کہنے لگے :صاحب میںنے پورا سلام سنا ہی نہیں۔ میں تو اس کے ایک ہی شعر میں کھو کر رہ گیا :
پانی نہ پائیں ساقیِ کوثر کے اہلِ بیت
موج فرات اشک ندامت کہاں سے لائے؟
عرفان صدیقی بہت جلد مذہبی شاعروں کی صف اول میں آگئے“
( مضمون : عرفان صدیقی ، کینسر، آخری ملاقاتیں۔مشمولہ نیادور لکھنو¿ اکتوبر۔نومبر ۰۱۰۲ءص ۸۸)
اس مضمون میں ہماری بنیادی Themeیہ تھی کہ عرفان صدیقی کی شاعری کی بنیاد جمال عاشقی پر ہے یعنی وہ زندگی کے جس شعبہ کو بھی اپنی شاعری کا موضوع بناتے ہیںاس میں فن جمالیاتAesthetics Artکی کارفرمائی کے جلووں ست ضرور کام لیتے ہیں۔ابن آدم کی سب سے بڑی دولت کا نام احساس جمال ہے اوریہ احساس جمال کسی بھی شکل میں ظاہر ہوسکتا ہے کیوں کہ اظہاریت ہی اس کا کامیاب ترین وسیلہ ہے۔ عرفان صدیقی نے اس وسیلے سے اپنی مٹھی بھر شاعری سے جمال عاشقی کا مرقع چغتائی تیار کردیا ہے۔
۵۱۶۱اپریل ۴۰۰۲ءکی درمیانی شب میں لکھنو¿ میں عرفان صدیقی اس دار فانی سے کوچ کرگئے۔ شاید اسی لیے انھوں نے کہا تھاکہ:
بجھ رہی ہیں میری شمعیں ، سورہے ہیں میرے لوگ
ہورہی ہے صبح ، قصہ مختصر کرتا ہوں میں

Iqbaal Sanaash

Articles

آلِ احمد سرور بحیثیت اقبال شناس

قاضی عبیدالرحمن ہاشمی

آلِ احمد سرور ہمارے ان معدودے چند ادیبوں میں ہیں، جنھوں نے اپنی زندگی کے لمحہ ¿ آخر تک شعر و ادب سے گہرا سروکار رکّھا اور اپنی تحریرو ںکے ذریعہ اپنی ایک منفرد پہچان بنائی۔ آزاد، حالی، شبلی، امداد امام اثر اور عبدالرحمان بجنوری وغیرہ کی وساطت سے اردو تذکرہ اور تنقید کی جو روایت ان تک پہنچی تھی اس کی توسیع کا فریضہ انھوں نے اس انداز سے انجام دیا کہ مغربی تنقیدی معیاروں سے واقفیت کے باوجود اپنے معتدل مزاج اور متوازن طبیعت کے باعث مشرقی اندازِ نقد و نظر کو بالقصد ہمیشہ اپنی ترجیحات میں شامل رکھا اور تنقید میں معروضی محاکمہ اور محاسبہ سے شاذ و نادر ہی سروکار رکھا، چنانچہ ایک خصوصیت جو عموماً انشاپردازی سے علاقہ رکھتی ہے اس کے خوگر ہوتے چلے گئے، اغلب ہے کہ اس طرز کا محرک کسی حد تک رشید احمد صدیقی کی تحریریں بھی رہی ہوں، بہرنوع یہی تنقیدی اسلوب سرور صاحب کا نشانِ امتیاز اور بنیادی شناخت کا وسیلہ بن گیا، جس کی دفاع وہ اس طرح کرتے رہے کہ تنقید اپنے پیرایہ ¿ بیان اور لسانی اظہار کے لحاظ نہ صرف یہ کہ تخلیق سے کم رتبہ نہیں ہے بلکہ اپنے اندر لطف و لذت اور ذہنی رغبتوں کا وہی سامان رکھتی ہے جو تمام بہترین نثری تحریروں کا طرہ ¿ امتیاز ہے۔ جو اوّلین صورت میں مسرت اور پھر بصیرت کی ضامن ہوتی ہیں۔
اب جب کہ پہلے کے مقابلے میں اردو میں بھی تنقید کا تصور زیادہ سنجیدہ اور عالمی تناظر میں متن پر مبنی انتہائی ذمہ دارانہ Academicکارگزاری بن گیا ہے اور عمومیت ایک جرمِ عظیم بنتی جارہی ہے، تو سرور صاحب کی قدرے انشائیہ نما تنقیدی تحریروں کا علمی جواز مشکل ہے، جن میں متجسس ذہن میں ابھرنے والے سوالات کا حل ڈھونڈنے میں خاصی دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

موجودہ موضوع کے سیاق میں ان تمہیدی کلمات کا جواز یہ ہے کہ گرچہ سرور صاحب اقبال کے فکر و فن پر مسلسل لکھتے رہے ہیں، لیکن مسئلہ یہاں بھی وہی ہے کہ انھوں نے گرچہ عقیدت کی عینک لگا کر اقبال کو شاعر ملت ثابت کرنے کے لےے مولویانہ طرز استدلال سے ہرگز کام نہیں لیا ہے، لیکن اقبال کی تخلیقی و فنّی بصیرت کے سرچشموں کا سراغ لگانے کے لےے اور شاعر کے نفس کی آنچ سے پگھلتی اور تحلیل ہوتی ہوئی لفظیات و علائم کی منطق کو بھی سمجھنے سمجھانے اور ان کے اندرون میں جھانکنے کی کچھ خاص کوشش نہیں کی ہے، جس کے بہت مستحسن عملی نمونے ہیں قاضی افضال حسین کے بعض مطالعات اقبال میں دیکھنے کو مل جاتے ہیں۔
چنانچہ یہ بات تو بالکل واضح ہے کہ سرور صاحب نے مطالعہ اقبال میں متنی تجزےے اور استفسار سے قطعاً گریز کیا ہے اور بیشتر ان کی فکری و فنّی صلاحیتو ںکے بارے میں اپنے مجموعی تاثر پر ہی اکتفا کیا ہے، تاہم اس سے یہ نتیجہ ہرگز نہیں نکالنا چاہےے کہ وہ اقبال فہمی سے قاصر ہیں یا شاعرانہ زبان و بیان کی نزاکتوں، رموز و علایم اور غرض و غایت سے بے خبر ہیں۔ ایسا ہرگز نہیں ہے، شاعری میں ان فنّی لوازم کی ضرورت و ماہیت کا انھیں بھرپور شعور ہے، تاہم اپنے مزاج اور ایک خاص نوع کی ذہنی تربیت جو انھیں اپنے بزرگوں سے ورثہ میں ملی تھی، اس سے وہ انحراف نہیں کرنا چاہتے تھے۔ بغاوت کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا، تاہم یہ حقیقت ہے کہ اقبال پر ہی لکھی گئی سرور صاحب کی رنگین نثر کے غائر مطالعہ سے کچھ جستہ جستہ فقروں کو ضرور علاحدہ کیا جاسکتا ہے جن سے اقبال کے فنّی سروکار، مرتعش فکر اور برگزیدگی کے نقوش ابھرتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔

مثال کے طور پر سرور صاحب اپنے ایک مضمون ’اقبال کی معنویت‘ میں اقبال کی ہمہ جہت شخصیت کے مختلف پہلوو ¿ں پر روشنی ڈالتے ہیں، جن میں اُن کا فن شعر بھی شامل ہے، فرماتے ہیں:
”اقبال کے فن کی معنویت کیا ہے، اس سلسلے میں پہلی بات تو یہ کہنا ہے کہ فن لفظ کے ذریعہ سے ذات کو کائنات بنانے کا نام ہے اور حسن کی طرح فن بھی ہزار شیوہ ہوتا ہے اور ہمارا فرض ہے کہ فن کے حسن کو اس کے ہر رنگ میں پہچانیں۔“
آگے چل کر فرماتے ہیں:
”اقبال کی شاعری روایت سے ایک گہرا رشتہ رکھتی ہے اور پھر بھی ان کی اپنی ایک آواز، اپنا ایک لہجہ اور اپنی ایک دنیا ہے۔ اقبال حالی کے راستے پر چلے مگر ان کے مرشد اوّل غالب ہیں۔ اردو غزل غالب کے اثر سے حدیث دل سے آگے بڑھ کر زندگی کا ورق بن چکی تھی، مگر اقبال نے اسے صحیفہ ¿ کائنات بنا دیا۔ اقبال شاعری میں رمز و ایما کی اہمیت کو جانتے ہیں اور برہنہ حرف نہ گفتن کو کمال گویائی جانتے ہیں مگر اُس پردہ ¿ مینا کو پسند کرتے ہیں جس میں مے مستور بھی ہو اور عریاں بھی۔“

ان اقتباسات کی روشنی میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ شاعری کی زبان کے بارے میں سرور صاحب کا موقف واضح ہے اور یقینا رمزیت و ایمائیت ہی اعلا فن کار اور فن کاری کے بنیادی وسائل ہیں، جن سے اقبال نے بھی کام لےے ہیں۔ علاوہ ازیں سرور صاحب کا اقبال کے تعلق سے یہ دعویٰ کہ فن ذات کو کائنات بننے کا نام ہے یا اقبال کی شاعری روایت سے گہرا رشتہ رکھتی ہے، ایسے بلیغ اشارے ہیں جن سے ایلیٹ کے معروف تصورات Escape or Detachment from Personality اور Tradition & Poetry کے مباحث کی گونج بھی صاف سنائی دیتی ہے۔

ایک اور مضمون ’خطابت، شاعری اور اقبال‘ میں سرور صاحب فرماتے ہیں:
”ایلیٹ نے شاعری کی تین آوازوں کا ذکر کیا ہے، غنائی، خطابیہ اور ڈرامائی۔ اقبال کے یہاں یہ تینوں آوازیں ملتی ہیں، لیکن دوسری آواز یعنی خطابیہ زیادہ ہے، اس میں اقبال نے شاعری کے اعلیٰ نمونے پیش کےے ہیں— مشرقی شاعری خطابت کی روایت سے آزاد نہیں ہوسکتی، اس لےے کہ اس کا تعلق ایک وسیع حلقہ سے رہے گا۔ اس کے ذریعہ یہ لفظ میں کائنات اور لمحے میں ابدیت دیکھتی دکھاتی رہے گی۔“
آگے چل کر فرماتے ہیں:

”اچھی شاعری خطابت کے آداب ضرور رکھتی ہے۔ اقبال وہ طائر ہیں جس کی آنکھ پرواز میں بھی نشیمن پر رہتی ہے۔ یہ صاف اور واضح طور پر مقصدی شاعری ہے، مگر شاعری ہے اور اعلا درجہ کی شاعری ہے، دانشوری نے اسے تب و تاب عطا کی ہے، اپنی فنّی روایت کے بطن سے ابھری ہے اور اُس نے تجربے بھی کےے ہیں۔“
ان عمومی بیانات میں بھی کچھ تنقیدی اشارے موجود ہیں۔ گرچہ تکرار خیال بھی ہے اور بسااوقات یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ تخلیقی تجربے کی حقیقی معنویت کو کامل غور و فکر کے بعد تحلیل و تجزےے سے برآمد کرنے کے بجائے سرور صاحب شاید پہلے سے کوئی Frame Work بنا لیتے ہیں اور پھر اُس خاکے میں رنگ آمیزی کے لےے اشعار تلاش کرتے اور فیصلہ صادر کرتے ہیں، جس کی وجہ سے نتائج اکثر ذہن کو پوری طرح کم ہی مطمئن کرپاتے ہیں، تاہم یہ ان کی مجبوری ہے اور اُن سے اس کے برعکس کوئی مطالبہ مناسب نہیں ہے۔ ان کے کئی مضامین مثلاً دانشور اقبال، ’اقبال اور نئی مشرقیت‘ یا ’جدید اور مشرقی اقبال‘ وغیرہ میں اسی Strategy اور کلّیہ سازی کی طرف اُن کا واضح میلان نظر آتا ہے۔

تاہم اس امر کا اعادہ ضروری معلوم ہوتا ہے کہ تفصیلات سے قطعِ نظر اجزا میں کہیں کہیں سرور صاحب کی تنقیدی ژرف نگاہی خاکستر میں پوشیدہ چنگاری کی مانند اپنی چمک دکھا دیتی ہے اور ان کی عبقریت کا قایل ہونا پڑتا ہے، یوں بھی سرور صاحب Cliches کے ذریعہ اپنی آگہی کو طشت ازبام کرنے سے زیادہ، خود کو مخفی رکھنے میں یقین رکھتے ہیں۔ چنانچہ سرور صاحب کے مضمون ’اقبال اور اردو نظم‘ کو جب ہم اس توقع کے ساتھ پڑھتے ہیں کہ مجموعی طور پر اس سے اقبال کی نظموں کی بُنت (Craftsmanship)، تعمیریت (Architectonics) اور شاعر کے تخلیقی شعور کے بارے میں کسی اہم نکتے کا انکشاف ہوگا تو بلاشبہ مایوسی ہوتی ہے، لیکن مضمون کی قرا ¿ت کے دوران سرور صاحب کی فطانت کے کچھ کوندے ضرور لپک جاتے ہیںجن سے بصیرت میں اضافہ ہوتا ہے وہ فرماتے ہیں:

”اقبال کی مختصر اور طویل نظموں کی تعداد کیفیت اور کمیت دونوں کے لحاظ سے اتنی ہے کہ وہ اب تک نظم کے سب سے بڑے شاعر کہے جاسکتے ہیں۔ انھوں نے اردو نظم کو وسعت، گہرائی، بُعد اور فکری رفعت عطا کی ہے، اِس سے انکار کفر ہوگا۔ انھوں نے گرچہ غزل کو بھی صحیفہ ¿ کائنات بنایا، مگر دراصل وہ نظم کے شاعر ہیں۔“
سرور صاحب اقبال کی نظموں کے حوالے سے آگے چل کر بہت پتے کی بات کہتے ہیں۔ فرماتے ہیں:
”بال جبریل میں لینن خدا کے حضور میں، فرشتوں کا گیت، فرمانِ خدا فرشتوں کے نام۔ اگرچہ الگ الگ نظمیں ہیں، مگر ان میں ایک ربط مل جائے گا، طارق کی دعا اور مسجد قرطبہ، قیدخانے میں معتمد کی فریاد، عبدالرحمان اوّل کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت اور ہسپانیہ میں بھی ایک رشتہ ہے۔ گویا نظموں میں ایک آزاد رشتے، ہیئتوں کے تنوع اور موضوعات کی رنگارنگی، تینوں اقبال کی امتیازی خصوصیات ہیں۔“

ان اقتباسات میں سرور صاحب کی نظر اقبال کی نظموں میں پوشیدہ جس معنوی اور ہیئتی ربط کی جانب گئی ہے، وہ یقینا توجہ کے قابل ہے۔ اسی مضمون میں سرور صاحب کا یہ کہنا کہ نظم ’لالہ ¿ صحرا‘ ایک مکمل علامتی نظم ہے اور اس کی علامت شاہین سے زیادہ فکرانگیز اور بصیرت افروز ہے۔ اس دعویٰ میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، لیکن صرف بیان کافی نہیں، ثبوت بھی ضروری ہے۔اقبال کو نظم کا سب سے بڑا شاعر کہنے کے بعد سرور صاحب نے اقبال کی غزل کو بھی گفتگو کا موضوع بنایا ہے۔ پہلے غزل کے فن پر روشنی ڈالتے ہوئے فرماتے ہیں:
”غزل کی ہیئت میں بحر، قافیہ، ردیف کی مدد سے ایک تجربہ، ایک واردات، ایک حسین لمحہ، ایک دلنواز نکتہ، ایک پراثر لے، ایک حرفِ شیریں، ایک شرارِ معنوی، ایک نغمہ ¿ معرفت، ایک تابناکی ¿ خیال، ایک شعلہ ¿ جوالہ، ایک درد کی لہر، ایک من کی موج، ایک جلوے کی کائنات پیش کی جاتی ہے، لیکن جو کچھ کہا جاتا ہے، اس سے زیادہ خیال کے لےے چھوڑ دیا جاتا ہے۔“

یہ پورا اقتباس جو مرصّع نثر کا اعلا نمونہ ہے اس میں غزل کے آرٹ سے متعلق جس اہم نکتے کی طرف متوجہ کیا گیا ہے، اس کا تعلق بالکل آخری فقرہ سے ہے جس میں منطقی خلاو ¿ں (Elipses) کی طرف ا شارہ کیاگیا ہے۔ گرچہ مجموعی طور پر یہ ہر قابلِ ذکر شعری تجربے کی اہم خصوصیت ہے لیکن غزل کا آرٹ تو سراسر اخراجِ الفاظ سے ہی عبارت ہے اور اختصار (Brevity) اس کا بنیادی جوہر ہے۔
غزل پر عمومی تبصرے کے بعد سرور صاحب اقبال کی غزل کے اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہیں، فرماتے ہیں:

”اقبال کی غزل میں سوز بھی ہے اور مستی بھی جمال بھی ہے اور جلال بھی، فکر کا عنصر بھی ہے اور جذبے کا گودا بھی، دلو ںکی کشاد بھی اور نشریت بھی، سازِ، طرب بھی اور فریاد کی ٹیس بھی۔ ان کی مخصوص اصطلاحوں کی وجہ سے یا موڈ کی وحدت کی وجہ سے، بعض اوقات، نظم کی شان ضرور پیدا ہوگئی ہے، مگر جذبے کی آنچ عمومی طور پر انھیں غزل کی زبان کی زبان سے، دور نہیں جانے دیتی۔“
یہاں بھی دیگر باتوں کے ماسوا جس میں Paraphrasing بھی شامل ہے، موڈ کی وحدت کی طرف اشارہ جس کے سبب اقبال کی غزلوں میں، نظم کی شان ہوگئی ہے، وہ نکتہ ہے،جس کی طرف خود فاروقی صاحب نے بھی اشارہ کیا ہے۔

آگے چل کر غزل میں اقبال کی انفرادیت نشان زد کرتے ہوئے سرور صاحب نے بے حد کارآمد باتیں کی ہیں، فرماتے ہیں:

”مجموعی طور پر (اقبال) کی غزل کا آہنگ شیریں بھی ہے اور رقصاں بھی۔ تلمیحات، تراکیب، استعارات، تشبیہات کی کثرت، باوجود ہیرے کی طرح ترشے ہوئے خیال اور فن پر قدرت کی وجہ سے، ان کی غزلوں کے الفاظ میں زبان پر وہ فتح اور اقلیم معنی پر وہ اقتدار ملتا ہے، جو بڑی شاعری کی پہچان ہے۔“
اقبال کی غزلوں بلکہ اُن کی مجموعی شاعری کی انفرادیت اور امتیاز کو شاید اس سے بہتر طور پر بیان نہیں کیا جاسکتا ہے۔

سرور صاحب کی اقبال شناسی کے ضمن میں مزید زیادہ تفصیل میں جانے سے گریز کرتے ہوئے صرف ان کے مضمون ’اقبال کا فن- ایک عمومی جائزہ‘ کے حوالے سے چند معروضات پیش کرکے اپنی بات ختم کرنا چاہوں گا۔
اقبال کی غزلوں اور نظموں میں فنی تدابیر کے مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے، سرور صاحب فرماتے ہیں:
”اقبال چونکہ غزل کی روایت سے یکسر بلند نہیں ہوسکے، ان کے ہاں طویل نظمیں دراصل خوبصورت ٹکڑوں کا ایک گلدستہ ہوتی ہیں۔ یہاں یہ بھی نہیں بھولنا چاہےے کہ ایڈگر ایلن پو تو اس بات پر ایمان رکھتا ہے کہ طویل نظم کوئی چیز نہیں، یہ مختصر نظموں کاایک مجموعہ ہے۔ اقبال کی وجہ سے اردو نظم جوان ہوئی اور اس میں جوانی کی لغزشیں بھی ہیں، مگر اقبال نے غزل کی دنیا میں جو انقلاب برپا کردیا اور اسے عظمت، گہرائی اور برگزیدگی عطا کی، اس کا اعتراف ضروری ہے۔ اقبال کے ہاں شاعری کی پہلی اور دوسری آوازوں کا تو بھرپور نقش ہے مگر تیسری آواز بھی جبریل و ابلیس میں پورے طنطنے کے ساتھ ملتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ ان کے یہاں منظوم فلسفہ بھی ہے۔ مگر خطیبانہ شاعری، مفکرانہ شاعری Epigrammaticشاعری سب کے اعلا نمونے ملتے ہیں۔“
اس سے قطعِ نظر کہ ایلیٹ کی بتائی ہوئی شاعری کی تین آوازوں کا عفریت سرور صاحب کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑتا، اس سے انکار نہیں ہوسکتا کہ اس اقتباس میں بھی سرور صاحب کی اعلا تنقیدی بصیرت اور تفکر کے ارتعاشات موجود ہیں، چنانچہ اقبال کی طویل نظموں کو خوبصورت ٹکڑوں کا گلدستہ کہہ کر، دبے لفظوں میں شاید وہ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ طویل نظم جس فکری تسلسل، مرتکز تخیل، تحمل، تخلیقی تگ و تاز اور ریاضت کی متقاضی ہوتی ہے، اقبال کی نظمیں اُن Parametersپر پوری نہیں اترتیں۔ سرور صاحب جس پائے کے ادیب اور نقاد ہیں، انھیں یہ فیصلہ کرنے کا حق حاصل ہے، ہر چند کہ اقبال کی طویل نظموں کے سلسلے میں اسلوب صاحب نے دلائل کے ساتھ اس کے برعکس بھی اپنا نقطہ ¿ نظر پیش کیا ہے، تاہم اس سے اقبال کی شاعرانہ عظمت کی ادنیٰ تحقیق نہیں ہوتی۔

آخر میں صرف یہی عرض کرنا چاہوں گا کہ سرور صاحب ایک صاحب طرز ادیب اور دانشور ہونے کی حیثیت سے تنقید میں تمام تر زبان و بیان کی تخصیص کے باوجود، اسے ادبی اور جمالیاتی نثر کا ہی ایک ناگزیر حصہ تصور کرتے ہیں، اس کی ضرورت، وقعت اور اہمیت کا اعتراف بھی کرتے ہیں، لیکن شاید اس کی بقا اور عافیت اسی میں سمجھتے ہیں کہ وہ ’ادب‘ کے حصار ہی میں رہے، حاشیہ پر نہ چلی جائے، اس لےے کہ Marginalised ہونے کی صورت میں سرور صاحب جیسے نقاد اور تنقید کا عظیم خسارہ ہے۔
جیسا کہ دیکھا گیا، سرور صاحب اقبال کی عہدساز شخصیت اور تخلیقی کمالات کے حددرجہ معترف اور قائل ہیں، لیکن اپنی شاعرانہ افتاد طبع اور تاثراتی تنقیدی روےے کے باعث اقبال کے اعلا مابعدالطبیعیاتی تفکر کے عرفان و ادراک کے باوجود ان کے تنقیدی محاکمہ میں تجزیہ، تقابل اور احتساب کے ذریعہ فنی وتخلیقی رمزیت کی گرہ کشائی کرنے سے قاصر بیشتر شاعرانہ خیالات کی بازآفرینی سے ہی سروکار رکھتے ہیں۔ تاہم اس سے انکار ناممکن ہے کہ ان کے بعض تنقیدی اشارے اکثر صورتوں میں عقل کو مہمیزکرتے ہیں۔ جن سے یقینا اقبال شناسی کے نئے دریچے کھلتے اور اقبال فہمی کے مزید امکانات روشن ہوتے ہیں۔