Ghazal : Tarjumanul AS’R BY DR. ZAKIR KHAN ZAKIR

Articles

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل کی پشت برسہا برس کی تاریخ اور عظیم روایتوں کے بوجھ کو سنبھالے ہوئے ہے۔دنیا کی تمام اصنافِ سخن میں غزل کی طرح مقبولیت کسی اور صنفِ سخن کو حاصل نہیں ہوئی۔وہ تمام شعراء جنھوں نے غزل کو عروج بخشا، سماج اور معاشرے نے انھیں بھی اوجِ ثریّا پر پہنچا دیا۔غزل عہدِ حاضر کے تقاضوں کو حتیٰ المقدور پورا بھی کرتی ہے اور انتہائی شاندار روایتوںکو نا صرف برقرار رکھتی ہے بلکہ اپنی شناخت بھی قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ اردو غزل ہی ہے جو کبھی محبوب و معشوق کے دلوں کی آواز ہوا کرتی تھی جس سے عاشقی کے تار جھنجھنا اٹھتے تھے آج یہی غزل رومانیت،محبوبیت اور اعشاریت کو پیکر بنا لینے کے باوجود عہدِ حاضر میں ہونے والی تمام تر تبدیلیوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ حالات سازگار نہ ہو تو شاعر کے دل سے نکلی ہوئی آواز غزل کے شعر کا پیکر بنتی ہے اور یہ کہہ اٹھتی ہے
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول ساز گار نہیں
حالی اور اقبال نے غزل کو حدیثِ دلبراں سے صحیفہء کائنات بنایاہے۔ آج غزل کے پاس شاعر انقلاب، شاعرِ شباب، امامِ یاسیئت، فردوسیہء اسلام ،شاعرِ مزدور، یگانہء روزگار، شاعرِ رومان، شاعرِ مشرق، جانشینِ داغ اور رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی عظیم روایات ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو آرائشِ خم وکاکل اور اندیشہ ہائے درودراز ہماری زندگی کے محور ہیں اور یہی غزل کی بساط بھی، ادب ہماری زندگی کی عکاسی کرتا ہے بقول ڈاکٹر قمر رئیس”احساسات کی بے نام پرچھائیاں اپنی ذات اور تجربات کے تناظر میں واضح روپ اختیار کرتی ہیں تو غزل کی تہہ داریاں بڑھ جاتی ہیں”یہ غزل کی ہمہ جہتی کا اعتراف ہی ہے۔ لفظیات اور اسالیب و الائم تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن بنتے ہیں تب شعر کے پیکر میں ڈھلتے ہیں۔ انسان جس قدر نہاں خانہء دل میں نظر ڈالتا ہے اتنا ہی نیا ہوتا اسکا ایمان تازہ ہوتاہے۔
بے گھری کا دکھ اور لامکانی کا غم روزِ آفرینش سے ہی اولادِ آدم کی میراث ہے۔ اسی سبب اس کو روح کو قرار نہیں، اسے دکھ ہوتا ہے کہ آرزومند آنکھیں، بشارت طلب دل اور دعائوں کو اٹھتے ہوئے ہاتھ بے ثمر ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے شاعری کو پیمبری اور شاعر کو قوم کی آنکھ کہا ہے جو دکھ پر چینخ اٹھتی ہے ، ہر کرب پر چھلک پڑتی ہے تب ہی تو امیر مینائی بھی کہتے ہیں
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اسی خیال کو انیسؔ اپنے انداز میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہردم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینے کو
فرقہ وارانہ فسادات ہمارے اس دور کا المیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد سانحے کے تناظر میں نظم کا جیالا شاعر کیفی ؔ ،غزل ہی کے پیرائے میں کہتا ہے
اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا چلن تم سکھا تو چلے
اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پائوں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بتا تو چلے
بیلچے لائو کھودو زمیں کی تہیں
مَیں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
آل احمد سرور کہتے ہیں کہ “مَیں غزل کو اردو شاعری کی آبرو سمجھتا ہوں، ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب میں ڈھلی ہوئی ہے”غزل حسن و عشق کی داستان بھی ہے اور کاکل و رخسار کا قصّہ بھی، یہ ہجرووصال کی کہانی بھی ہے اور غمِ روزگار کی حکایت بھی، بیک وقت مسرت و شادمانی کا نغمہ بھی ہے اور یاس و حرماں نصیبی کا تذکرہ بھی۔ وہ کون سا عصری جذبہ ہے جو شرمندہء اظہار نہیں؟ وہ کون سا احساس ہے غزل نے جس کی ترجمانی نہ کی ہو؟ہمارے دکھ سکھ، ارمان و آرزومندی کی موثر عکاسی غزل کے اشعار ہی سے ہوتی ہے۔ افتخار عارف کہتا ہے کہ
ہوس لقمہء تر کھا گئی لہجوں کا جلال
اب کسی حرف کو حرمت نہیں ملنے والی
یا
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
غزل نے عہدحاضر کے ہر تقاضے کو چھوا ہے۔ آج غزل دامنِ محبوبیت سے نکل کر سسکتی، چینختی، چلّاتی انسانیت کی غمازی بھی کرتی ہے۔ وہ بھوک اور افلاس پر، جنگ و جدال پر، رونے چینخنے اور چلّانے پر ، اناج پر، پیاز پر، بدحالی اور بے قراری پر، غرض انسانی زندگی کے جتنے مسائل ہیں اسے غزل نے پگڈنڈیوں سے نکال کر شاہراہِ عظیم پر لے آیا ہے۔ اپنے لوچ، اپنی گہرائی و گیرائی، تاثر اور تاثیر کی بنا پر غزل نے ان مسائل میں ایک نئی روح، ایک نئی تحریک اور ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔
ہم غزل کو صرف غزل ہی کی طرز پر دیکھتے ہیں یہی ہماری اصل بھول ہے۔ غزل نے ہمیشہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کا حق ادا کیا اور ہر اعتبار سے ببانگِ دہل نعرہء انقلاب بلند کیا ہے۔ وہ غریبوں کی جھونپڑیوں سے سسکنے والی صدائوں کو ایوانوں میں پہنچانے کاکام کرتی ہے۔ غریبوں اور مزدوروں کو احترامِ زندگی سکھاتے ہوئے کہتی ہے
سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
وزراء کا طمطراق، زندگی کے نشیب و فراز، اہلِ امن کی امن پسندیاں، مذہبی عقائد، اسلاف کی روایات، اقدار کی پامالی، اخلاق کا فقدان، اندھے عقائد اور ہماری توہم پرستیوں جیسے موضوعات پر غزل لب کشائی کرتے ہوئے کہتی ہے
لوگ پیپل کے درختوں کو خدا کہنے لگے
مَیں تو بس دھوپ سے بچنے کو یہاں آیا تھا
وہ لوگ جو اپنے آپ کو صاحبِ ثروت وزیروں اور درندہ صفت امیروں کی صف میں کھڑا کرتے ہیں، جن کے لیے انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں، وہ لوگ جن کے نزدیک بیوائوں کے آنسوئوں کی کوئی قیمت نہیں، جو مظلوم کی آہوں پر اپنے کان بند کرلیتے ہیںاور انسانیت کو اپنے پیروں تلے کچل دیتے ہیں۔ غزل ان سے مخاطب ہوکر کہتی ہے
عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے
یہ ہوا کتنے چراغوں کو بجھا دیتی ہے
غزل نے عصرِ حاضر کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ اس نے مجبوریوں کا ذکرکیا، بے ایمانیوں کو سڑکوں پر لایا، بدکاریوں کا پردہ فاش کیا، مزدوروں کو صف آرا کیا، حکومتوں کو تبدیل کیا، رشوت ستانی کے خلاف آواز میں آواز ملائی اور شیطانیت سے برسرِپیکار رہی ہے۔ غرض دورِ حاضر کے ہر شعبہ ہائے حیات پر غزل نے حقیقت بیانی سے کام لیا۔ نفرت کے خلاف محبت کے میٹھے راگ الاپے ہیں۔ خوشی مسرت اور انسانیت کے نغمے گائے ہیں۔
غزل نے اہلِ سیاست کو سیاست کا گردیا، اہلِ علم کو سچی علمیت سے آگاہ کیا، مجبوروں اور بے کسوں کی دادرسی کرتے ہوئے حقیقت کو اس انداز سے آشکار کیا کہ پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی اشکبار ہوجائیں۔
جس طرح لوگ الگ الگ طرزِ فکر اور روش اختیار کرتے گئے، غزل اسی طرح اپنا انداز اور لب و لہجہ بدلتی گئی۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی۔ روز اوّل ہی سے ادب مختلف تحریکوں کا حصّہ رہا ہے اور غزل ہر تحریک کا بساط بھر ساتھ دیتی رہی ہے۔غزل کی عظیم روایات ہماری میراث ہیں، اس کی بقا و پرورش ہماری ادبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Articles

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا تعلق Austro Asiaticلسانی خانوادے کی شاخ Mundaکی ذیلی شاخ Hoاور Mundariسے ہے۔ یہ ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہندوستان میں یہ جھارکھنڈ، آسام، بہار، اڑیسہ ، تری پورہ، میزورم اور مغربی بنگال کے مخصوص علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد 2011کی مردم شماری کے مطابق 63لاکھ ہے۔ اس کا رسم الخط Ol Chikiکہلاتا ہے اور اس کی ایک ذیلی اسلوب یا بولی Mahaliبھی ہے جو خاصی تعداد میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میںGregory David Shelton Andersonاس بابت تحریر کرتے ہیں کہ:
”سنتھالی زبان کا تعلق لسانی خانوادے Mundaسے ہے۔ یہ زبان ہندوستان کے وسط مشرق اور شمال مشرق کے جھارکھنڈ، آسام، بہار ، اڑیسہ اور تریپورہ وغیرہ میں بولی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں پچاس لاکھ، بنگلہ دیش میں دس لاکھ اور نیپال میں تقریباً پچاس ہزار تھی۔“(1)
انیسویں صدی تک سنتھالی زبان صرف ایک بولی کی حیثیت رکھتی تھی۔ تاریخ، کہانیاں، گیت وغیرہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری تک منتقل ہوتے رہے۔ یورپی نو آبادیات کاروں نے اپنی انتظامی ضرورتوں کے تحت جب ہندوستانی زبانوں میں دلچسپی لینی شروع کی تو اسی دلچسپی کے نتیجے میں سنتھالی زبان کو تحریر کرنے کے لیے دیوناگری اور رومن رسم الخط کا استعمال کیا جانے لگا۔1860کے بعد یورپی بیورکریٹس اورمشنری نے سنتھالی زبان کی ڈکشنری ، تراجم ، لوک کہانیاں ، صرف و نحواور سنتھالی حروف تہجی پر خاصا کام کیا۔ 1970میں پنڈت رگھوناتھ مورمونے سنتھالی زبان کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھنے کاآغاز کیا۔ یہ رسم الخط سنتھالی بولنے والے اڑیہ اورسنگھ بھوم علاقے میں پہلے سے رائج تھا۔ البتہ مذکورہ رسم الخط کو تمام سنتھالی بولنے والی آبادی نے قبول نہیں کیا ۔ مثال کے طور پر جھارکھنڈ میں درس و تدریس کے لیے دیوناگری رسم الخط اور بنگال میں بنگالی رسم الخط مستعمل ہے۔ علاوہ ازیں اس زبان کے بیشتر مخطوطات رومن رسم الخط میں ہیں لہٰذا تحقیق کے شعبے میں رومن رسم الخط کی اہمیت آج مسلم ہے۔
ہندوستان میں آنے والے آسٹری قبائل اپنے آغاز سے باہم اتحاد و اختلاط کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں سُونتی کمار چٹرجی تحریر کرتے ہیں کہ :
”ہندوستان آنے والے اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنے والے آسٹری قبائل —-بے شک وہ دوسری نسلوں ، منگولوں، دراوڑین اور شاید حبشیوں کے ساتھ مخلوط ہوگئے تھے—– کول (یا منڈا) اقوام میں (جیسے سنتھال، منڈا، ہوا(hos) ، کوروا، بھومجی(Bhumijee) کرکو (Karku) سورا (soras)یا سوا را (Savaras)، گدابا(Gudabas) وغیرہ۔“(2)
ہندوستان میں آسٹرو ایشائی زبانوں کی قدامت اور پھیلاﺅ سے متعلق کے۔اے نیل کنٹھ شاستری نے تحریر کیا ہے کہ:
”آسٹرو ایشائی زبانوں میں منڈا زبانیں ہیں جن میں دکن کے شمالی مشرقی علاقوں میں کھریا، جوانگ، سُوار اور گُڈا نیز مدھیہ پردیش کے شمالی مغربی اضلاع کی کرُو کی زبانیں شامل ہیں۔ اگرچہ ہندآریائی خزانہ¿ الفاظ پر مُنڈا زبان کا اثر نمایاں ہے لیکن دراوڑ زبان سے جو الفاظ لیے گئے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے کہ دراوڑ گروپ کی زبانوں کی ابتدا آسٹرو ایشائی زبانوں سے نسبتاً زیادہ جدید ہے۔ چنانچہ آسٹرو ایشائی زبانوں کے لیے عام طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ دراوڑ زبان سے پہلے کی زبانیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی زمانے میں مُنڈا زبانیں پورے شمال ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ کیونکہ ہمالیہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یعنی پنجاب سے بنگال تک کے علاقے میں جو متعدد مخلوط زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب کی بنیاد یہی زبانیں ہیں۔“ (3)
ہندوستان میں سنتھالی بولنے والوں کی آمد سے متعلق مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ البتہ زمانہ¿ قدیم سے ہندوستان میں ان کی موجودگی ثابت ہے۔ اس تعلق ممتاز مورخ رومیلا تھاپر نے تحریر کیا ہے کہ :
”ہڑپااورموہن جوداڑو ، وادیِ سندھ کی باقیات کا ایسا ثبوت ہے جس کے ذریعے ہندوستان میں آریوں کی آمد اور ان کی تہذیب کے پھیلاﺅ سے پہلے کی زندگی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ آریوں سے قبل ہندوستانی تہذیب میں اپنی موجودگی درج کرانے والے مختلف نسلی گروہوں کی شناخت مشکل ہے تاہم ماہرین ایسے چھ گروہوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
۱۔ Negritos
۲۔ Proto – Australoids
۳۔ Mongoloid
۴۔ دراوڑی (جس نے بعد میں آرین تہذیب سے مطابقت پیدا کی)
۵۔Western Brachy Cephals
۶۔Nordics
کھدائی میں ملی انسانی ہڈیوں کی تحقیق سے یہاں Proto Australoids، دراوڑی،Alpineاور Mongoloidتہذیبوں کے آثار ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ تسلیم کیا جاتا ہے مذکورہ بالا انسانی نسلیں ہندوستان میں پوری طرح آباد تھیں اور Proto-Australoid گروہ ہندوستان کی آبادی کی بنیاد میں شامل تھا۔ ان کی زبان Austric linguisticخواندے سے تعلق رکھتی تھی جس کی ایک شاخ Mundaہے جس سے مختلف قبائلی زبانیں نکلی ہیں۔“(4)
اسی طرح L.O. Skrefsudکے مطابق سنتھالی ایران، منگولیا، افغانستان فتح کرتے ہوئے ہندوستان کے شمال مغربی علاقے میں داخل ہوئے اور پنجاب کو اپنا مسکن بنایا۔آریوں کی آمد کے بعد وہ مسلسل پیچھے ہٹتے گئے حتیٰ کہ چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع میں آباد ہوگئے۔ اس کے برعکس Colonel Daltonکے مطابق سنتھالی شمال مشرق سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع سے ہوتے ہوئے دریائے دامودر کے کنارے پھیل گئے۔Colonel Daltonنے اپنے اس نظریے کی تائید میں سنتھالی زبان، رسم و رواج اور تہذیب اور شمال مشرق کے دیگر قدیم قبائل کی رسم و رواج اور تہذیب میں پائی جانے والی مطابقت کو پیش کیا ہے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ برصغیرہند و پاک کے دیگر قبائل کے علی الرغم سنتھالیوں نے اپنی تہذیبی شناخت کو حتیٰ المقدور برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ متعدد مرتبہ ہجرت ، مغلوں اور یورپی اقوام کے حملوں کے باوصف سنتھالیوں کی سماجی زندگی مقامی زبان و تہذیب کے تحفظ سے عبارت ہے۔ اُن کی تہذیب کی عکاسی گھروں کی دیواروں پر مزین مصوری کے نمونوں اور لوک کہانیوں میں اپنے آبا و اجداد کو دیو مالائی شخصیت کے طور پر پیش کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان قصوں کے دو دیومالائی کردار ’پلچو ہرم‘ اور پلچو بھودی‘ معروف ہیں۔ سنتھالی موسیقی اور رقص کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر تہذیبوں کی طرح سنتھالی تہذیب مقامی اور مغربی تہذیب سے بہت زیادہ تو متاثر نہیں ہوئی لیکن یہاں عیسائی میشنری کی وجہ سے تعلیم عام ہوئی لہٰذا عیسائیت کے اثرات مرتب ہونے لازمی تھے۔ البتہ ان کے روایتی موسیقی اور رقص میں ابھی تک پرانی خو بو باقی ہے۔ یہ موسیقی ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ اپنا رقص پیش کرنے کے لیے عموماًسنتھالی دو طرح کی ڈھول استعمال کرتے ہیں۔جنھیں مقامی زبان میں Tamakاور Tumdahکہا جاتا ہے۔ بانسری سنتھالیوں کا پسندیدہ ساز ہے۔ یہ سب سے ا ہم روایتی ساز تسلیم کیا جاتا ہے جو سنتھالیوں کے نوسٹلجیائی جذبات بر انگخیت کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہاں کی موسیقی اور رقص کا گہرا تعلق مذہبی رسومیات سے ہے۔ خاطر نشان رہے کہ سنتھالیوں کے مذہبی عقائد پر ہندو مت اور عیسائی مشنریوں کے اثرات واضح ہیں۔بہرکیف سنتھالی موسیقی اور رقص ہر دو کا مذہبی عقائد، رسوم اور تہواروں سے گہرا تعلق ہے۔حتیٰ کہ گیت اور موسیقی کے سُر ، تال کے نام بھی مذہبی تہواروں سے ماخوذ ہیں۔ مثال کے طور پر Sohariکا گیت ہے جسے Sohariتہوار کے موقع پر گایا جاتا ہے۔
سنتھالی سماج ذات پات کے نظام سے مبرّا ہے اور یہاں پیدائش کے اعتبار سے کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا ۔ یہ لوگ عموماً مافوق الفطرت عناصر اور اجداد کی روحوں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنی دعاﺅں اور قربانیوں میں اپنے اجدادکی روحوں کو بطور خاص یاد کرتے ہیں۔ سنتھالی اسے Bongaکہہ کر پکارتے ہیں۔ اس تعلق سے کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ لفظ Bongaدراصل Bhagaیا Bhagvanسے مشتق ہے۔ سنتھالیوں میں سماجی نظم و ضبط اور پنچایتی طریقہ Manjhi-Paragana کہلاتا ہے ۔ یہ مقامی لوگوں کے ذریعہ چلایا جاتا ہے اور اس کا مقصد علاقے کی سماجی اور معاشی اصلاح کے لیے فیصلے کرنا ہوتا ہے۔
ہندوستان کے لسانی منظر نامے میں اردو زبان کی حیثیت کلید بردار کی ہے۔ گجرات سے میزروم اور کنیا کماری سے کشمیر تک اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ لگ بھگ سبھی ہندوستانی زبانیں کسی نہ کسی طور اردو سے متاثر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ایسی زبانوں میں بھی اردو کے الفاظ نظر آجاتے ہیں جس کا اردو سے دور دور تک کوئی لسانی یا تہذیبی ربط نہیں ملتا ہے۔ سنتھالی بھی ایسی ہی زبان ہے اور اس کے لغت پر سرسری نگاہ ڈالنے پر ہی ایسے متعدد الفاظ مل جاتے ہیں جو خالص اردو کے ہیں۔ مثال کے طور پر لگ بھگ تمام پھلوں کے نام یہاں وہی مروج ہیں جو اردو میں۔ امرود، انار، اخروٹ، انجیر وغیرہ ۔علاوہ ازیں بچہ اور بابا(بمعنی والد) بھی یہاں رائج ہے۔ مذکروہ الفاظ کے علاوہ سنتھالی لغت کے صرف حصہ¿ ’الف‘ کے سرسری مطالعے سے  مندرجہ ذیل الفاظ پیش کیے گئے ہیں۔
سنتھالی                /                      اردو
اَجار                         آزار (بمعنی تکلیف)
اَرسی                                             آرسی
اَخر                                                    اَخر
الم گلم                                             الم غلم
اَکل                                                      عقل
اَرج                                                 عرض
اَملہ                                                    عملہ
اندھا                                                   اندھا
اول                                                       اوّل
بچھرا                                                 بچھڑا
اَواج                                                      آواز
بابر                                    بابر(بمعنی رسّی)

ایسا نہیں ہے سنتھالی زبان پرصرف اردو ، ہندی یا دیگر ہندوستانی زبانوں نے اپنے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ سنتھالی کے الفاظ بھی بشمول اردو ہندوستان کی دیگر زبانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف ایک مثال لفظ ”ٹھاکر“ کی پیش کی جاتی ہے۔ یہ لفظ سنتھالی زبان سے ہندوستان کی دیگر زبانوں میں آیا اور مستعمل ہوگیا ۔ اس تعلق سے احمد جاوید کی تحریر ملاحظہ ہو:
”عموماً اردو لغات میں ’ٹھاکر‘ کو ہندی کا لفظ قرار دیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں، بنیادی طور پر ’ٹھاکر‘ اسٹرک(کول) خاندان کا لفظ ہے۔ یہ غیر آریائی لفظ سنتالی یا سنتھالی زبان سے دیگر ہندوستانی زبانوں میں آیا ہے۔ “
ہندوستان کی لسانی تکثیریت میں Austro Asiaticخاندان سے متعلق دوسری کئی زبانیں اپنی بقا کی جد وجہد میں مصروف ہیں لیکن سنتھالی زبان اپنی داخلی قوت اور اپنے بولنے والوں بے پناہ محبت کے سہارے آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ۔ اس تعلق سے قیصر شمیم نے تحریر کیا ہے کہ:
” اسٹرو ایشیاٹک خاندان ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کا قدیم ترین لسانی خاندان ہے ۔اس خاندان کی چار زبانوں یعنی Khemr، ویت نامی، کھاسی اور سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ دو سو سے زائد زبانیں خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مون( Mon)زبان جس میں تحریر کی روایت ساتویں صدی میں موجود تھی اس خطرہ کا شکار ہے۔ نکوبار جزائر میں اسی خاندان کی زبانیں پو، (Pu،Powahat،Taihlong ،Tatet،Ong، Lo’ong، Tehnu، Laful،Nancowry) وغیرہ کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ وہاں ایک انوکھی زبان Shompen بھی ہے جس کے بولنے والے 1981 میں 223افراد تھے۔
اس لسانی گروہ کی تقریباً18زبانیں جن کے بولنے والے کئی لاکھ افراد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، اڑیسہ، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں جو ہر طرف سے ہند آریائی زبانوں کا دباﺅ جھیل رہے ہیں۔ ان میں سنتھالی کوچھوڑ کر سب زوال پذیر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ سنتھالی میں مزاحمت کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ مگر بقیہ منڈا زبانوں کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔“
سنتھالی ادب ، خاص طور سے شاعری میں رقص کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ سنتھالی رقص کے حوالے سے اردو میں منیب الرحمن کی نظم ”سنتھالی ناچ“ ایک زمانے میں کافی مشہور ہوئی تھی۔ بہرکیف سنتھالی زبان میں ادب اور شاعری کی روایت کافی پختہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بیشتر ادبی تخلیقات رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ نہ ہوسکیں اور باہر کی دنیا سنتھالی کی تخلیقی جودت سے نہ آشنا رہی۔ 1970کے بعد جب سنتھالی کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھا جانے لگا تو اس زبان کا ادب بھی شائع ہونے لگا۔ سنتھالی کے ممتاز لکھنے والوں میں Majhi Ramdas Tudu Rouska کا شمار ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز بیسیوں صدی کے بالکل ابدائی برسوں سے کیا تھا۔ کلکتہ یونیورسٹی نے 1951 میں سنتھالی زبان و تہذیب کے لیے ان کی خدمات کے مد نظر ڈی لٹ کی ڈگری تفویض کی۔ سنتھالی زبان و تہذیب سے متعلق ان کی کتاب کو اپنے تعارف و تبصرے کے ساتھ معروف ماہر لسانیات سُونیتی کمار چٹرجی نے شائع کیا تھا۔
سنتھالی زبان میں Sadhu Ram Chand Murmu کو مہاکوی یا ملک الشعرا کا درجہ حاصل ہے۔انکی شاعری سنتھالی بولنے والے تمام علاقے میں یکساں طور سے مقبول ہے۔ جبکہ سادھو رام کا آبائی تعلق ضلع مدنا پور، مغربی بنگال سے ہے۔ ان کا شاعری بنیادی طور پر اصلاحی اور باغیانہ شاعری ہے ۔شاعری کے علاوہ انھوں نے ڈرامے اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ ان کی شعری اور نثری تخلیقات انتقال کے بعد شائع ہوئیں۔
سنتھالی زبان کے ایک اور مشہور شاعر Sarada Prasad Kisku ہیں ۔پیشے کے اعتبار سے اسکول ٹیچر ساردا پرساد کا تعلق بھی مغربی بنگال سے ہے ۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی سنتھالی زبان کی ترویج و اشاعت میں لگا دی۔ ان کے علاوہ جو شعرا ادبا سنتھالی زبان و ادب میں اہم مقام کے حامل ہیں ان میں شیام سندر ہمبھروم، ٹھاکر پرساد مُرمو، گماستا پرساد سورین، ربی لال ماجھی، بابو لال مُرمی آدی باسی اور بھگوان مُرمو وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ سنتھالی زبان صحافت کے میدان میں بھی اپنی شناخت درج کرا رہی ہے۔ تین ماہنامے ، دو ماہی اور ایک پندرہ روزہ رسائل کے علاوہ تقریباً آدھا درجن رونامے بھی اس زبان میں شائع ہورہے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سنتھالی ایک ترقی پذیر زبان ہے اوراس کے بولنے والے اس کی ترویج و اشاعت میں اسی طرح تعاون کرتے رہے تو یہ زبان ہندوستان کی لسانی تکثیریت کو مزید منور و مجلا کرے گی۔
حواشی
۱۔https://www.britannica.com/topic/Santali-language
۲۔ ہند آرائی اور ہندی۔ مصنف، سُنیتی کمار چٹرجی۔ صفحہ نمبر 38
۳۔جنوبی ہند کی تاریخ ۔ مصنف کے ۔ اے۔ نیل کنٹھ شاستری ۔ صفحہ نمبر۔ 77,78
۴۔History of India Vol.1, Page.26, Rumila Thapar

 

Cenima ka Ishq

Articles

سینما کا عشق

پطرس بخاری

سینما کا عشق

“سینما کا عشق” عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی موسیقی اور تاریکی میں جو ارمان انگیزی ہے میں اس کا قائل نہیں۔ میں تو سینما کے معاملے میں اوائل عمر ہی سے بزرگوں کا مورد عتاب رہ چکا ہوں لیکن آج کل ہمارے دوست مرزا صاحب کی مہربانیوں کے طفیل سینما گویا میری دکھتی رگ بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں اس کا نام سن پاتا ہوں بعض درد انگیز واقعات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس سے رفتہ رفتہ میری فطرت ہی کج بین بن گئی ہے۔ اول تو خدا کے فضل سے ہم کبھی سینما وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کو ذرا دخل نہیں یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے جو کہنے کو تو ہمارے دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے ان کی دوستی سے جو نقصان ہمیں پہنچے ہیں کسی دشمن کے قبضہ قدرت سے بھی باہر ہوں گے۔

جب سینما جانے کا ارادہ ہو ہفتہ بھر پہلے سے انہیں کہہ رکھتا ہوں کہ کیوں بھئی مرزا اگلی جمعرات سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کوئی ہرج واقع نہ ہو لیکن وہ جواب میں عجب قدر نا شناسی سے فرماتے ہیں:

“ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اور پھر کبھی ہم نے تم سے آج تک ایسی بےمروتی بھی برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور ہم نے تمہارا ساتھ نہ دیا ہو؟”

ان کی تقریر سن کر میں کھسیانا سا ہو جاتا ہوں۔ کچھ دیر چپ رہتا ہوں اور پھر دبی زبان سے کہتا ہوں:

“بھئی اب کے ہو سکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟”

میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار ہو جاتا ہے۔ خیر میں بھی بہت زور نہیں دیتا۔ صرف ان کو بات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں:

“کیوں بھئی سینما آج کل چھ بجے شروع ہوتا ہے نا؟”

مرزا صاحب عجیب معصومیت کے انداز میں جواب دیتے ہیں۔ “بھئی ہمیں یہ معلوم نہیں۔”

“میرا خیال ہے چھ ہی بجے شروع ہوتا ہے۔”

“اب تمہارے خیال کی تو کوئی سند نہیں۔”

“نہیں مجھے یقین ہے چھ بجے شروع ہوتا ہے۔”

“تمہیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟”

اس کے بعد آپ ہی کہئے میں کیا بولوں؟

خیر جناب جمعرات کے دن چار بجے ہی ان کے مکان کو روانہ ہو جاتا ہوں اس خیال سے کہ جلدی جلدی انہیں تیار کرا کے وقت پر پہنچ جائیں۔ دولت خانے پر پہنچتا ہوں تو آدم نہ آدم زاد۔ مردانے کے سب کمروں میں گھوم جاتا ہوں۔ ہر کھڑکی میں سے جھانکتا ہوں ہر شگاف میں سے آوازیں دیتا ہوں لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی آخر تنگ آ کر ان کے کمرے میں بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں دس منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ پنسل سے بلاٹنگ پیپر پر تصویریں بناتا رہتا ہوں پھر سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور باہر ڈیوڑھی میں نکل کر ادھر اُدھر جھانکتا ہوں۔ وہاں بدستور ہو کا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آ جاتا ہوں اور اخبار پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ ہر کالم کے بعد مرزا صاحب کو ایک آواز دے لیتا ہوں۔ اس امید پر کہ شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سو رہے تھے تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں۔ یا نہا رہے تھے تو شاید غسل خانے سے باہر نکل آئے ہوں۔ لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں میں سے گونج ہر واپس آ جاتی ہے آخرکار ساڑھے پانچ بجے کے قریب زنانے سے تشریف لاتے ہیں۔ میں اپنے کھولتے ہوئے خون پر قابو میں لا کر متانت اور اخلاق کو بڑی مشکل سے مد نظر رکھ کر پوچھتا ہوں:

“کیوں حضرات آپ اندر ہی تھے؟”

“ہاں میں اندر ہی تھا۔”

“میری آواز آپ نے نہیں سنی؟”

“اچھا یہ تم تھے؟ میں سمجھا کوئی اور ہے؟”

آنکھیں بند کر کے سر کو پیچھے ڈال لیتا ہوں اور دانت پیس کر غصے کو پی جاتا ہوں اور پھر کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں:

“تو اچھا اب چلیں گے یا نہیں؟”

“وہ کہاں”؟

“ارے بندۂ خدا آج سینما نہیں جانا؟”

“ہاں سینما۔ سینما۔ (یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں) ٹھیک ہے۔ سینما۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھے یاد نہیں آتی اچھا ہوا تم نے یاد دلایا ورنہ مجھے رات بھر الجھن رہتی۔”

“تو چلو پھر اب چلیں۔”

“ہاں وہ تو چلیں ہی گے میں سوچ رہا تھا کہ آج ذرا کپڑے بدل لیتے۔ خدا جانے دھوبی کم بخت کپڑے بھی لایا ہے یا نہیں۔ یار ان دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔”

اگر قتل انسانی ایک سنگین جرم نہ ہوتا تو ایسے موقع پر مجھ سے ضرور سرزد ہو جاتا لیکن کیا کروں اپنی جوانی پر رحم کھاتا ہوں بےبس ہوتا ہوں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ: “مرزا بھئی للہ مجھ پر رحم کرو۔ میں سینما چلنے کو آیا ہوں دھوبیوں کا انتظام کرنے نہیں آیا۔ یار بڑے بدتمیز ہو پونے چھ بج چکے ہیں اور تم جوں کے توں بیٹھے ہو۔”

مرزا صاحب عجب مربیانہ تبسم کے ساتھ کرسی پر سے اٹھتے ہیں گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اچھا بھئی تمہاری طفلانہ خواہشات آخر ہم پوری کر رہی دیں۔ چنانچہ پھر یہ کہہ کر اندر تشریف لے جاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آؤں۔

مرزا صاحب کے کپڑے پہنے کا عمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار ہوتا قانون کی رو سے انہیں کبھی کپڑے اتارنے ہی نہ دیتا۔ آدھ گھنٹے کے بعد وہ کپڑے پہنے ہوئے تشریف لاتے ہیں۔ ایک پان منہ میں دوسرا ہاتھ میں، میں بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ دروازے تک پہنچ کر مڑ کر جو دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب۔ پھر اندر آ جاتا ہوں مرزا صاحب کسی کونے میں کھڑے کچھ کرید رہے ہوتے ہیں۔ “ارے بھئی چلو۔”

“چل تو رہا ہوں یار، آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟”

“اور یہ تم کیا کر رہے ہو؟”

“پان کے لیے ذرا تمباکو لے رہا تھا۔”

تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے جاتے ہیں۔ میں ہر دو تین لمحے کے بعد اپنے آپ کو ان سے چارپانچ قدم آگے پاتا ہوں۔ کچھ دیر ٹھہر جاتا ہوں وہ ساتھ آ ملتے ہیں تو پھر چلنا شروع کر دیتا ہوں پھر آگے نکل جاتا ہوں پھر ٹھہر جاتا ہوں۔ غرض یہ کہ گو چلتا دوگنی تگنی رفتار سے ہوں لیکن پہنچتا ان کے ساتھ ہی ہوں۔

ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوتے ہیں تو اندھیرا گھپ، بہتیرا آنکھیں جھپکتا ہوں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز دیتا ہے۔ “یہ دروازہ بند کر دو جی!” یا اللہ اب جاؤں کہاں۔ رستہ، کرسی، دیوار، آدمی، کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم بڑھاتا ہوں تو سر ان بالٹیوں سے جا ٹکراتا ہے جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکی رہتی ہیں، تھوڑی دیر کے بعد تاریکی میں کچھ دھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جہاں ذرا تاریک تر سا دھبہ دکھائی دے جائے۔ وہاں سمجھتا ہوں خالی کرسی ہو گی خمیدہ پشت ہو کر اس کا رخ کرتا ہوں، اس کے پاؤں کو پھاند کر اس کے ٹخنوں کو ٹھکرا۔خواتین کے گھنٹوں سے دامن بچا۔ آخرکار کسی گود میں جا کر بیٹھتا ہوں وہاں سے نکال دیا جاتا ہوں اور لوگوں کے دھکوں کی مدد سے کسی خالی کرسی تک جا پہنچتا ہوں مرزا صاحب سے کہتا ہوں: “میں نہ بکتا تھا کہ جلدی چلو خوامخواہ میں ہم کو رسوا کروا دیا نا! گدھا کہیں کا!” اس شگفتہ بیانی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ کی کرسی پر جو حضرت بیٹھے ہیں اور جن کو مخاطب کر رہا ہوں وہ مرزا صاحب نہیں کوئی اور بزرگ ہیں۔ اب تماشے کی طرف متوجہ ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ فلم کون سا ہے اس کی کہانی کیا ہے اور کہاں تک پہنچ چکی ہے اور سمجھ میں صرف اس قدر آتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت جو پردے پر بغلگیر نظر آتے ہیں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں گے۔ اس انتظار میں رہتا ہوں کہ کچھ لکھا ہوا سامنے آئے تو معاملہ کھلے کہ اتنے میں سامنے کی کرسی پر بیٹھے ہوئے حضرات ایک وسیع و فراخ انگڑائی لیتے ہیں جس کے دوران میں کم از کم دو تین سو فٹ فلم گزر جاتا ہے۔ جب انگڑائی کو لپیٹ لیتے ہیں تو سر کو کھجانا شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے نہیں ہٹاتے بلکہ بازو کو ویسے خمیدہ رکھتے ہیں۔ میں مجبوراً سر کو نیچا کر کے چائے دانی کے اس دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے راستہ نکال لیتا ہوں اور اپنے بیٹھنے کے انداز سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیا ہوں اور چوروں کی طرح بیٹھا ہوا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہیں کرسی کی نشست پر کوئی مچھر یا پسو محسوس ہوتا ہے چنانچہ وہ دائیں سے ذرا اونچے ہو کر بائیں طرف کو جھک جاتے ہیں۔ میں مصیبت کا مارا دوسری طرف جھک جاتا ہوں۔ ایک دو لمحے کے بعد وہی مچھر دوسری طرف ہجرت کر جاتا ہے چنانچہ ہم دونوں پھر سے پینترا بدل لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دل لگی یوں ہی جاری رہتی ہے وہ دائیں تو میں بائیں اور وہ بائیں تو میں دائیں ان کو کیا معلوم کہ اندھیرے میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دل یہی چاہتا ہے کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر ان کے آگے جا بیٹھوں۔ اور کہوں کہ لے بیٹا دیکھوں تو اب تو کیسے فلم دیکھتا ہے۔

پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ہے: “یار تم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ اب ہمیں ساتھ لائے ہو تو فلم تو دیکھنے دو۔”

اس کے بعد غصے میں آ کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور قتل عمد، خودکشی، زہر خورانی وغیرہ معاملات پر غور کرنے لگتا ہے۔ دل میں، میں کہتا ہوں کہ ایسی کی تیسی اس فلم کی۔ سو سو قسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا۔ اور اگر آیا بھی تو اس کم بخت مرزا سے ذکر تک نہ کروں گا۔ پانچ چھ گھنٹے پہلے سے آ جاؤں گا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پر اچھلتا رہوں گا! بہت بڑے طرے والی پگڑی پہن کر آؤں گا اور اپنے اوور کوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیلا کر لٹکا دوں گا! بہرحال مرزا کے پاس تک نہیں پھٹکوں گا!

لیکن اس کم بخت دل کو کیا کروں۔ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ کر پاتا ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتا ہوں اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے کہ کیوں بھئی اگلی جمعرات سے سینما چلو گے نا؟

marhoom ki yaad men by Pitras Bukhari

Articles

مرحوم کی یاد میں

پطرس بخاری

مرحوم کی یاد میں

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہو جائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالات میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے۔ لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔ دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے۔ اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے سے گزر جاۓ کہ گرد و غبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلّی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکل لیتا ہوں جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔ اور اس غرض سے اُس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آ جائے۔

میں کچھ دیر تک آہیں بھرتا رہا۔ مرزا صاحب نے کچھ توجہ نہ کی۔ آخر میں نے خاموشی کو توڑا اور مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر کہا۔

“مرزا صاحب۔ ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟”

مرزا صاحب بولے۔ “بھئی کچھ ہو گا ہی نا آخر۔”

میں نے کہا۔ “میں بتاؤں تمہیں؟”

کہنے لگے۔ “بولو”۔

میں نے کہا۔ “کوئی فرق نہیں۔ سنتے ہو مرزا؟ کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور حیوانوں میں۔۔۔ کم از کم مجھ میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں! ہاں ہاں میں جانتا ہوں تم مین میخ نکالنے میں بڑے طاق ہو۔ کہہ دو گے۔ حیوان جگالی کرتے ہیں، تم جگالی نہیں کرتے۔ ان کے دم ہوتی ہے۔ تمہاری دم نہیں۔ لیکن ان باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ان سے تو صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں لیکن ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں۔ وہ بھی پیدل چلتے ہیں اور میں بھی پیدل چلتا ہوں۔ اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ جواب نہیں۔ کچھ ہے تو کہو۔ بس چپ ہو جاؤ۔ تم کچھ نہیں کر سکے۔ جب سے میں پیدا ہوا ہوں اور اس دن سے پیدل چل رہا ہوں۔

پیدل۔۔ تم پیدل کے معنی نہیں جانتے۔ پیدل کے معنی ہیں سینۂ زمین پر اس طرح سے حرکت کرنا کہ دونوں پاؤں میں ایک ضرور زمین پر رہے۔ یعنی تمام عمر میرے حرکت کرنے کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ایک پاؤں زمین پر رکھتا ہوں اور دوسرا اٹھاتا ہوں۔ دوسرا رکھتا ہوں پہلا اٹھاتا ہوں۔ ایک آگے ایک پیچھے، ایک پیچھے ایک آگے۔ خدا کی قسم اس طرح زندگی سے دماغ سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ حواس بیکار ہو جاتے ہیں۔ تخیل مر جاتا ہے۔ آدمی گدھے سے بدتر ہو جاتا ہے۔”

مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران میں کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بے وفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے از حد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔ گویا میں اپنی جو تکالیف بیان کر رہا ہوں وہ محض خیالی ہیں یعنی میرا پیدل چلنے کے خلاف شکایت کرنا قابل توجہ ہی نہیں۔ یعنی میں کسی سواری کا مستحق ہی نہیں۔ میں نے دل میں کہا۔ “اچھا مرزا یوں ہی سہی۔ دیکھو تو میں کیا کرتا ہوں۔”

میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرا دیا لیکن میرے تبسم کا میں زہر ملا ہوا تھا۔

جب مرزا سننے کے لیے بالکل تیار ہو گیا تو میں نے چبا چبا کر کہا۔

“مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔”

یہ کہہ کر میں بڑے استغنا کے ساتھ دوسری طرف دیکھنے لگا۔

مرزا پھر بولے۔ “کیا کہا تم نے؟ کیا خریدنے لگے ہو؟”

میں نے کہا۔ “سنا نہیں تم نے۔ ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔ موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذرا کند ذہن ہو، اس لیے میں نے دونوں لفظ استعمال کر دئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے”۔

مرزا بولے۔ “ہوں”۔

اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھر سگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور لے جاتا تھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔

تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے۔ “ہوں”۔

میں سوچا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھا، مرزا کچھ بولے۔ تاکہ مجھے معلوم ہو، کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا۔ “ہوں”۔

میں نے کہا۔ “مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے ا سکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی ا سکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام “ہوں” سے آگے نہیں بڑھتا۔ تم جلتے ہو۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔”

مرزا صاحب کہنے لگے۔ “نہیں یہ بات تو نہیں، میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحب زادے خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کے لیے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وغیرہ کا بندوبست تو بخوبی ہو جائے گا۔ لیکن روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟”

یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا۔ “میں اپنی کئی قیمتی اشیاء بیچ سکتا ہوں۔”

مرزا بولے۔ “کون کون سی مثلاً؟”

میں نے کہا۔ “ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “چلو دس آنے تو یہ ہو گئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی طرح ہو جائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔”

اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے روک دیا جائے۔ چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ لوگ روپیہ کہاں سے لاتے ہیں۔ بہت سوچا۔ آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگ چوری کرتے ہیں۔ اس سے ایک گونہ اطمینان ہوا۔

مرزا بولے۔ “میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائسیکل لے لو۔”

میں نے کہا۔ وہ روپیہ کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔”

کہنے لگے۔ “مفت”۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ “مفت وہ کیسے؟”

کہنے لگے۔ “مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ البتہ تم احسان قبول کرنا گوارا نہ کرو تو اور بات ہے۔”

ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں، اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی، بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسا۔ اور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہو جانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا۔ “کس کی؟”

مرزا بولے۔ “میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔”

میں نے کہا۔ “پھر کہنا پھر کہنا!”

کہنے لگے۔ بھئی ایک بائیسکل میرے پاس ہے جب میری ہے، تو تمہاری ہے، تم لے لو۔”

یقین مانئے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بےغرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کر لی، سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں۔

میں نے کہا۔ “مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کے لیے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کر دو گے۔ میں ہمیشہ تم کو از حد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتا رہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے۔ لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کر دیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں، مجھے معاف کر دو۔”

میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قریب تھا کہ میں مرزا کے ہاتھ بوسہ دیتا اور اپنے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے اس کی گود میں سر رکھا دیتا، لیکن مرزا صاحب کہنے لگے۔

“واہ اس میں میری فیاضی کیا ہوتی، میرے پاس ایک بائیسکل ہے، جیسے میں سوار ہوا، ویسے تم سوار ہوئے۔”

میں نے کہا۔ “مرزا، مفت میں نہ لوں گا، یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “بس میں اسی بات سے ڈرتا تھا، تم حساس اتنے ہو کہ کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتے حالانکہ خدا گواہ ہے، احسان اس میں کوئی نہیں۔”

میں نے کہا۔ “خیر کچھ بھی سہی، تم سچ مچ مجھے اس کی قیمت بتا دو۔”

مرزا بولے۔ “قیمت کا ذکر کر کے تم گویا مجھے کانٹوں میں گھسیٹنے ہو اور جس قیمت پر میں نے خریدی تھی، وہ تو بہت زیادہ تھی اور اب تو وہ اتنے کی رہی بھی نہیں۔”

میں نے پوچھا۔ “تم نے کتنے میں خریدی تھی؟”

کہنے لگے، “میں نے پونے دو سو روپے میں لی تھی، لیکن اُس زمانے میں بائیسکلوں کا رواج ذرا کم تھا، اس لیے قیمتیں ذرا زیادہ تھیں۔”

میں نے کہا۔ “کیا بہت پرانی ہے؟”

بولے۔ “نہیں ایسی پرانی بھی کیا ہوتی، میرا لڑکا اس پر کالج آیا جایا  کرتا تھا، اور اسے کالج چھوڑے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج کل کی بائیسکلوں سے ذرا مختلف ہے، آج کل تو بائیسکلیں ٹین کی بنتی ہے۔ جہنیں کالج کے سرپھرے لونڈے سستی سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ پرانی بائیسکلوں کے ڈھانچے مضبوط ہوا کرتے تھے۔”

“مگر مرزا پونے دو سو روپے تو میں ہرگز نہیں دے سکتا، اتنے روپے میرے پاس کہاں سے آئے، میں تو اس سے آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “تو میں تم سے پوری قیمت تھوڑی مانگتا ہوں، اول تو قیمت لینا نہیں چاہتا لیکن۔۔۔”

میں نے کہا۔ “نہ مرزا قیمت تو تمہیں لینی پڑے گی۔ اچھا تم یوں کرو میں تمہاری جیب میں کچھ روپے ڈال دیتا ہوں تم گھر جا کے گن لینا، اگر تمہیں منظور ہوئے تو کل بائیسکل بھیج دینا ورنہ روپے واپس کر دینا، اب یہاں بیٹھ کر میں تم سے سودا چکاؤں، یہ تو کچھ دکان داروں کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔”

مرزا بولے۔ “بھئی جیسے تمہاری مرضی، میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ قیمت ویمت جانے دو لیکن میں جانتا ہوں کہ تم نہ مانو گے۔”

میں اٹھ کر اندر کمرے میں آیا، میں نے سوچا استعمال شدہ چیز کی لوگ عام طور پر آدھی قیمت دیتے ہیں لیکن جب میں نے مرزا سے کہا تھا کہ مرزا میں تو آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا تو مرزا اس پر معترض نہ ہوا تھا، وہ بیچارہ تو بلکہ یہی کہتا تھا کہ تم مفت ہی لے لو، لیکن مفت میں کیسے لے لوں۔ آخر بائیسکل ہے۔ ایک سواری ہے۔ فٹنوں اور گھوڑوں اور موٹروں اور تانگوں کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ بکس کھولا تو معلوم ہوا کہ ہست و بود کل چھیالیس روپے ہیں۔ چھیالیس روپے تو کچھ ٹھیک رقم نہیں۔ پینتالیس یا پچاس ہوں، جب بھی بات ہے۔ پچاس تو ہو نہیں سکتے۔ اور اگر پینتالیس ہی دینے ہیں تو چالیس کیوں نہ دئے جائیں۔ جن رقموں کے آخر میں صفر آتا ہے وہ رقمیں کچھ زیادہ معقول معلوم ہوتی ہیں بس ٹھیک ہے، چالیس روپے دے دوں گا۔ خدا کرے مرزا قبول کر لے۔

باہر آیا چالیس روپے مٹھی میں بند کر کے میں نے مرزا کی جیب میں ڈال دئے اور کہا۔ “مرزا اس کو قیمت نہ سمجھنا۔ لیکن اگر ایک مفلس دوست کی حقیر سی رقم منظور کرنا تمہیں اپنی توہین معلوم نہ ہو تو کل بائیسکل بھجوا دینا”۔

مرزا چلنے لگے تو میں نے پھر کہا کہ مرزا کل ضرور صبح ہی صبح بھجوا دینا رخصت ہونے سے پہلے میں نے پھر ایک دفعہ کہا۔ “کل صبح آٹھ نو بجے تک پہنچ جائے، دیر نہ کر دینا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ اور دیکھو مرزا میرے تھوڑے سے روپوں کو بھی زیادہ سمجھنا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ اور تمہارا بہت بہت شکریہ، میں تمہارا بہت ممنون ہوں اور میری گستاخی کو معاف کر دینا، دیکھو نا کبھی کبھی یوں ہی بے تکلفی میں۔۔۔ کل صبح آٹھ نو بجے تک۔۔۔ ضرور۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔”

مرزا کہنے لگے۔ “ذرا اس کو جھاڑ پونچھ لینا اور تیل وغیرہ ڈلوا لینا۔ میرے نوکر کو فرصت ہوئی تو خود ہی ڈلوا دوں گا، ورنہ تم خود ہی ڈلوا لینا”۔

میں نے کہا۔ “ہاں ہاں وہ سب کچھ ہو جائے گا، تم کل بھیج ضرور دینا اور دیکھنا آٹھ بجے تک ساڑھے آٹھ سات بجے تک پہنچ جائے۔ “اچھا۔۔۔ خدا حافظ!”

رات کو بستر پر لیٹا تو بائیسکل پر سیر کرنے کے مختلف پروگرام تجویز کرتا رہا۔ یہ ارادہ تو پختہ کر لیا کہ دو تین دن کے اندر اندر اردگرد کی تمام مشہور تاریخی عمارات اور کھنڈروں کو نئے سرے سے دیکھ ڈالوں گا۔ اس کے بعد اگلے گرمی کے موسم میں ہو سکا تو بائیسکل پر کشمیر وغیرہ کی سیر کروں گا۔ صبح صبح کی ہوا خوری کے لیے ہر روز نہر تک جایا کروں گا۔ شام کو ٹھنڈی سڑک پر جہاں اور لوگ سیر کو نکلیں گے میں بھی سڑک کی صاف شفاف سطح پر ہلکے ہلکے خاموشی کے ساتھ ہاتھی دانت کی ایک گیند کی مانند گزر جاؤں گا۔ ڈوبتے ہوئے آفتاب کی روشنی بائیسکل کے چمکیلے حصوں پر پڑے گی تو بائیسکل جگمگا اُٹھے گی اور ایسا معلوم ہو گا جیسے ایک راج ہنس زمین کے ساتھ ساتھ اُڑ رہا ہے۔ وہ مسکراہٹ جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ابھی تک میرے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی، بارہا دل چاہا کہ ابھی بھاگ کر آؤں اور اسی وقت مرزا کو گلے لگا لوں۔

رات کو خواب میں دعائیں مانگتا رہا کہ خدایا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہو جائے۔ صبح اٹھا تو اٹھنے کے ساتھ ہی نوکر نے یہ خوشخبری سنائی کے حضور وہ بائیسکل آ گئی ہے۔ میں نے کہا۔ “اتنے سویرے؟”

نوکر نے کہا۔ “وہ تو رات ہی کو آ گئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے”۔

میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوا دینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپے لے لیے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔

نوکر سے کہا۔ “دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جا رہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہو جائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جا رہے ہیں اور دیکھو صاف کر دینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے”۔

جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ “چل چل چنبیلی باغ میں” گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔

برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب و غریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ “کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟”

نوکر بولا۔ “حضور یہ بائیسکل ہے”۔

میں نے کہا۔ “بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟”

کہنے لگا۔ “مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے لیے”۔

میں نے کہا۔ “اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟”

کہنے لگا۔ “یہی تو ہے”؀۔

میں نے کہا۔ “کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟”

کہنے لگا۔ “جی ہاں”۔

میں نے کہا۔ “اچھا” اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟”

“اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟”

“تو یہ میلی کیوں ہے؟”

نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔

“اور تیل لایا؟”

“ہاں حضور لایا ہوں”۔

“دیا”؟

“حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے”۔

“کیا وجہ ہے؟”

“حضور دھُروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں”۔

رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہو گیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ “حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھر بہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔”

میں نے کہا۔ “اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے”۔

آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں قسم کی  آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑ کھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑ چڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہو جاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہو رہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔

اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذرا تیز ہوئی تو فضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہے تھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھر کے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑ کھڑڑ کے بیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس لیے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کر لی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔

اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہو گئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتاً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے لیے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمر دہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھکیلیوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔

گدی کا نیچا ہو جانا از حد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس لیے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کر لوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہو گیا۔

دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہو گیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہو گا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔

ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہو گئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ “دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے”۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔

لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہو جاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہو جاتا۔

جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کر لی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑ کھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کر کے کہا۔”ذرا اس کی مرمت کر دیجئے”۔ ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔ “کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا”؟

میں نے کہا۔ “بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کر کے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟”

مستری نے کہا۔ “مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کر دوں؟”

میں نے کہا۔ “ہاں، وہ بھی ٹھیک کر دو”۔

کہنے لگا۔ ” اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرا لیں تو اچھا ہو”۔

میں نے کہا۔ “اچھا کر دو”۔

بولا۔ “یوں تھوڑا ہو سکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔”

“اور پیسے کتنے لو گے؟”

کہنے لگا۔ “بس چالیس روپے لگیں گے”۔

ہم نے کہا۔ “بس جی جو کام تم سے کہا ہے کر دو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔”

تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کر کے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔”

میں نے کہا۔ “بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے لیے؟”

بولا۔ “جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہو گی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔”

میں نے کہا۔ “واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔”

مستری نے کہا۔ “ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔”

میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہو گئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ لیے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس لیے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جا بجا درد ہو رہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کر کے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہو جاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقد کرتا جس میں مرزا کی مکاری، بے ایمانی اور دغا بازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کر دیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مر جاتا۔

میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہو سکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوا اسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔

دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ “بائیسکل” ہے۔

دکاندار کہنے لگا۔ “پھر؟”

میں نے کہا۔ “لو گے”۔

کہنے لگا۔ “کیا مطلب؟”

میں نے کہا۔ “بیچتے ہیں ہم۔”

دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کر سکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ “کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟”

ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ “کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہو گا؟”

کہنے لگا۔ “وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟”

میں نے کہا۔ “اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔”

کہنے لگا۔ “اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟”

میں نے کہا۔ “پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟”

دکاندار بولا۔ “اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔”

جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟”

میں نے کہا۔ “تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے لیے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟”

کہنے لگا۔ “تو کیا لیں گے آپ؟”

میں نے کہا۔ “تم ہی بتاؤ۔”

کہنے لگا۔ “سچ مچ بتاؤں؟”

میں نے کہا۔ “اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟”

کہنے لگا۔ “تین روپے دوں گا اس کے۔”

میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔

“او صنعت و حرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تو نے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بے زبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے لیے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کر سکتا۔”یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہو گیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔

مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گا کہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آ لگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بے تکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت و شنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گرد و پیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل الگ ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جا پہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہو گیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشا و کلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔

جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جا رہے ہو؟ تمہارا ارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کا ہے کو لے جا رہے ہو؟

سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔

لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ “بس حضرت غصہ تھوک ڈالئے۔” ایک دوسرے صاحب بولے۔ “بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔” ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جا رہے تھے۔ میری طرف اشارا کر کے کہنے لگے۔ “دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔”

لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ و تاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہو گیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جا پہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہو کر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کر کے اس بے پروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہو گیا۔

سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ “اندر آ جاؤ”۔

میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کیے بغیر کیسے داخل ہو سکتا ہوں۔”

باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:

“مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بے نیاز ہو چکا ہوں۔”

گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔

Lahur ka Geography

Articles

لاہور کا جغرافیہ

پطرس بخاری

لاہور کا جغرافیہ

تمہید

تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے دلائل و براہین سے اس کے وجود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنے کی اب ضرورت نہیں کہ کُرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آ کر ٹھہر جائے پھر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجئے۔ جہاں یہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لاہور، لاہور ہی ہے، اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا، تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔

محل وقوع

ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔ اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہے کہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔ ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس لیے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تخلص کرتے ہیں، اور اس میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

حدود اربعہ

کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلباء کی سہولت کے لیے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا۔ جس کا دار الخلافہ پنجاب ہو گا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

آب و ہوا

لاہور کی آب و ہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں، جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے، میونسپلٹی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ بلکہ ہمدردانہ غور و خوض کی مستحق ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بلکہ جہاں تک ہو سکے کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے لیے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جا بجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے لیے مرکز کھول دئے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔

بہم رسائی آب کے لیے ایک ا سکیم عرصے سے کمیٹی کے زیر غور ہے۔ یہ ا سکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنے ہاتھ کے لکھئے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہو چکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت پیش آ رہی ہے اس لیے ممکن ہے تحقیق و تدقیق میں چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہو گا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہو گی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے لیے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کر کے جا بجا نل لگوا دئے ہیں۔ فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزانہ ٹپکتے ہیں۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے، کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو، شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔

ذرائع آمد و رفت

جو سیاح لاہور تشریف لانے کا ارادہ رکھے ہوں، ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر ہو سکیں۔ جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیر شاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی قسم کا رد و بدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گڑھے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔ جنھوں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ دئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں اُلٹتے ہیں۔ اور عظمت رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔

بعض لوگ زیادہ عبرت پکڑنے کے لیے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا لیتے ہیں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ دیتے ہیں۔ اصطلاح میں اس کو تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔

اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اور زین کس کر کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناسپتی گھوڑا شکل و صورت میں دم دار تارے سے ملتا ہے۔ کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے، حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے۔ اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتا ہے۔ تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہو سکے۔

قابل دید مقامات

لاہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں ہر عمارت کی بیرونی دیواریں دہری بنائی جاتی ہیں۔ پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتے ہیں اور پھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کر دیا جاتا ہے، جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا جاتا ہے۔ شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیر معروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں۔ مثلاً “اہل لاہور کو مژدہ” “اچھا اور سستا مال” اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے، جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثلاً “گریجویٹ درزی ہاؤس” یا “اسٹوڈنٹوں کے لیے نادر موقع”، یا “کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا۔” رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔ دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے۔ اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اُس کھڑکی پر کسی مشہور لیڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بیان کر دئے ہیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کی فلم کے محاسن گنوا رکھے ہیں۔ یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر نئی دریافت یا ایجاد یا انقلاب عظیم کی ابتلا چشم زدن میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی ہے۔ اس لیے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہچاننے میں خود شہر کے لوگوں کو بہت دقت پیش آتی ہے۔

لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے خود دیوار پر نقش کر دئے جاتے ہیں۔ یہ دقت بہت حد تک رفع ہو گئی ہے، ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس لیے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے تک وہاں اہالیان لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جہاں بحروف جلی “محمد علی دندان ساز” لکھا ہے وہ اخبار انقلاب کا دفتر ہے۔ جہاں “بجلی پانی بھاپ کا بڑا ہسپتال” لکھا ہے، وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔ “خالص گھی کی مٹھائی” امتیاز علی تاج کا مکان ہے۔ “کرشنا بیوٹی کریم” شالامار باغ کو، اور “کھانسی کا مجرب نسخہ” جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔

صنعت و حرفت

اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سے بڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں۔ عام نمبر میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ نصیب ہوتا ہے اور فن تنقید ترقی کرتا ہے۔

لاہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریذیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس لیے فی الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ انجمنوں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں اس لیے بسا اوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظر وسیع رہتا ہے۔ تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آ سکتی ہے۔ چنانچہ سامعین کو بہت سہولت رہتی ہے۔

 

پیداوار

لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔

طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں، قسم اولی جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پر پہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گرد و نواح میں:

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ آتا ہے

شمعیں کئی ہوتی ہیں، لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کر کے اپنے پاس رکھ چھوڑتے ہیں، اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے، اس لیے ہندوستان کا تخت و تاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لیے نکلتے ہیں اور جود و سخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوراک انہیں راس نہیں آتی اس لیے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر ادب اور اخلاق اور آواگون اور جمہوریت پر با آواز بلند تبادلہ، خیالات کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظرئیے پیش کرتے رہتے ہیں، صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لیے علی الصبح پانچ چھ ڈنڈ پیلتے ہیں، اور شام کو ہاسٹل کی چھت پر گہری سانس لیتے ہیں، گاتے ضرور ہیں، لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے تھے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اور تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔

پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے، لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کے لیے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کر سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں۔

طبعی حالات

لاہور کے لوگ بہت خوش طبع ہیں۔

سوالات

لاہور تمہیں کیوں پسند ہے؟ مفصل لکھو۔

لاہور کس نے دریافت کیا اور کیوں؟ اس کے لیے سزا بھی تجویز کرو۔

میونسپل کمیٹی کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھو۔

Kutte by Pitras Bukhari

Articles

کتے

پطرس بخاری

کتے

پطرس بخاری

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سر کھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجیے دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجیے دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی، یہ کتے کیا کرتے ہیں؟

کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دیدیا۔
ایک آدھ منٹ کی بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ دیا۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔

اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ” آرڈر آرڈر” پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پردھان کی کبھی کوئی سنتا ہے؟ اب ان میں سے کسی سے پوچھیے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جا کر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے اور پھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔

اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اسکا ذکر ہی جانے دیجیے اسکے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بار ہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جوں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے کتنے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی ” بخ ” کر دی اور پھر منہ بند کر کے کھڑا ہو گیا۔

ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر ” بخ ” کر دی۔ چوکیداری کی چوکیداری اور موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سُر۔ نہ سر نہ پیر، تان پہ تان لگائے جاتے ہیں۔ بیتالے کہیں کے نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہچانتے ہیں،گلا بازی کیے جاتے ہیں۔

گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں۔ لیکن ہم سے قسم لے لیجیے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی سیتا گرہ سے منہ موڑا ہو۔

شاید آپ اسکو تعلی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر دوستوں نے صلاح دی کہ رات کے وقت لاٹھی چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہیے کہ دافع بلیات ہے لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غالب پا جاتی ہے کہ آپ اگر ہمیں اسوقت دیکھیں تو یقینا یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔

شاید آپ اسوقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش کروں تو کھرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبعیت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اتر جائیگی اسکی جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔

بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجے چھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آ رہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نو مشقی کا عالم بھی ہے اسلیے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بے سرے بھی ہو گئے تو کوئی یہی سمجھے گا کہ انگریزی موسیقی ہے، اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا، ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے چھڑی کی گردش دھیمی دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول، زاویے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھی تھرتھرا کر خاموش ہو گئی لیکن کیا مجال جو ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔ گویا ایک بے آواز لے ابھی تک نکل رہی ہے۔

طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔ چونکہ ہم طبعاً ذرا محتاط ہیں۔ اس لیے آج تک کتے کے کاٹنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا ہے۔ یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس سرگزشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا۔ تاریخی مصرعہ دعائیہ ہوتا کہ ” اس کتے کی مٹی سے بھی کتا گھاس پیدا ہو”

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مصر ہیں سمجھ لیجیے کہ ہم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور پھر ان کتوں کے بھونکنے کے اصول بھی تو کچھ نرالے ہیں۔ یعنی ایک تو متعدی مرض ہے اور پھر بچوں اور بوڑھوں سب ہی کو لاحق ہے۔ اگر کوئی بھاری بھرکم اسنفد یار کتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کیلئے بھونک لے تو ہم بھی چاروناچار کہہ دیں کہ بھئی بھونک۔ ( اگرچہ ایسے وقت میں اسکو زنجیر سے بندھا ہونا چاہیے۔ )

لیکن یہ کم بخت دو روزہ، سہہ روزہ، دو دو تین تین تولے کے پلے بھی تو بھونکنے سے باز نہیں آتے۔ باریک آواز ذرا سا پھیپھڑا اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش دم تک پہنچتی ہے اور پھر بھونکتے ہیں چلتی موٹر کے سامنے آ کر گویا اسے روک ہی تو لیں گے۔ اب اگر یہ خاکسار موٹر چلا رہا ہو تو قطعا ہاتھ کام کرنے سے انکار کر دیں لیکن ہر کوئی یوں انکی جان بخشی تھوڑا ہی کر دیگا؟ کتوں کے بھونکنے پر مجھے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انکی آواز سوچنے کے تمام قوی معطل کر دیتی ہے۔

صا جب کسی دکان کے تختے کے نیچے سے انکا ایک پورا خفیہ جلسہ باہر سڑک پر آکر تبلیغ کا کام شروع کر دے تو آپ ہی کہیے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں؟ ہر ایک کی طرف باری باری متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ کچھ انکا شور، کچھ ہماری صدائے احتجاج ( زیرلب) بے ڈھنگی حرکات و سکنات ( حرکات انکی، سکنات ہماری) اس ہنگامے میں دماغ بھلا خاک کام کر سکتا ہے؟ اگرچہ یہ مجھے بھی نہیں معلوم کہ اگر ایسے موقع پر دماغ کام کرے بھی تو کیا تیر مار لے گا؟

بہر صورت کتوں کی یہ پرلے درجے کی ناانصافی میرے نزدیک ہمیشہ قابل نفرین رہی ہے۔ اگر انکا ایک نمائندہ شرافت کے ساتھ ہم سے آ کے کہہ دے کہ عالی جناب، سڑک بند ہے تو خدا کی قسم ہم بغیر چون و چرا کیے واپس لوٹ جائیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔

ہم نے کتوں کی درخواست پر کئی راتیں سڑک ناپنے میں گزار دی ہیں لیکن پوری مجلس کا یوں متفقہ و متحدہ طور پر سینہ زوری کرنا ایک کمینہ حرکت ہے۔ ( قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر انکا کوئی عزیز و محترم کتا کمرے میں موجود ہو تو یہ مضمون بلند آواز سے نہ پڑھا جائے مجھے کسی کی دل شکنی مطلوب نہیں)

خدا نے ہر قوم میں نیک افراد بھی پیدا کیے ہیں۔ کتے اسکے کلیے سے مستنثنیٰ نہیں۔ آپ نے خدا ترس کتا بھی ضرور دیکھا ہو گا۔ اسکے جسم میں تپسیا کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ جب چلتا ہے تو مسکینی اور عجز سے گویا بار گناہ کا احساس آنکھ نہیں اٹھانے دیتا۔ دم اکثر پیٹ کیساتھ لگی ہوتی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ غوروفکر کیلئے لیٹ جاتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ شکل بالکل فلاسفروں کی سی اور شجرہ دیو جانس کلبی سے ملتا ہے۔ کسی گاڑی والے نے متواتر بگل بجایا، گاڑی کے مختلف حصوں کو کھٹکھٹایا، لوگوں سے کہلوایا، خود دس بارہ دفعہ آوازیں دیں تو آپ نے سر کو وہیں زمیں پر رکھے سرخ مخمور آنکھوں کو کھولا۔ صورتحال کو ایک نظر دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔

کسی نے ایک چابک لگا دیا تو آپ نہایت اطمینان کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر ایک گز پرے جا لیٹے اور خیالات کے سلسلے کو جہاں سے وہ ٹوٹ گیا تھا وہیں سے پھر شروع کر دیا۔ کسی بائیسکل والے نے گھنٹی بجائی، تو لیٹے لیٹے ہی سمجھ گئے کہ بائیسکل ہے۔ ایسی چھچھوری چیزوں کے لیے وہ راستہ چھوڑ دینا فقیری کی شان کیخلاف سمجھتے ہیں۔

رات کے وقت یہی کتا اپنی خشک، پتلی سی دم کو تا بحد مکان سڑک پر پھیلا کر رکھتا ہے۔ اس سے محض خدا کے برگزیدہ بندوں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ جہاں آپ نے غلطی سے اس پر پاؤں رکھ دیا۔ انہوں نے غیظ وغیب کے لہجہ میں آپ سے پرسش شروع کر دی۔” بچہ فقیر کو چھیڑتا ہے، نظر نہیں آتا ہم سادھو لوگ یہاں بیٹھے ہیں”۔ بس اسی فقیر کی بددعا سے اسی وقت رعشہ شروع ہو جاتا ہے۔ بعد میں کئی راتوں تک یہی خواب نظر آتے رہتے ہیں کہ بیشمار کتے ٹانگوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور جانے نہیں دیتے۔ آنکھ کھلتی ہے تو پاؤں چار پائی کی ادوان میں پھنسے ہوتے ہیں۔

اگر خدا مجھے کچھ عرصے کیلئے اعلیٰ قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا فرمائے، تو جنون انتقام میرے پاس کافی مقدار میں ہے، رفتہ رفتہ سب کتے علاج کیلئے کسولی پہنچ جائیں۔

ایک شعر ہے۔
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
یہی وہ خلاف فطرت شاعری ہے جو ایشیا کیلئے باعث ننگ ہے، انگریزی میں ایک مثل ہے کہ ” بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے ” یہ بجا سہی، لیکن کون جانتا ہے کہ ” ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کر دے، اور کاٹنا شروع کر دے۔
———

Mutala-e- Chakbast Ki Ek Nai Jehat

Articles

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

ڈاکٹرجمال رضوی

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

پنڈت برج نرائن چکبستؔ کا شمار نشاۃ الثانیہ کی اردو شاعری کے قابل ذکر شعرا میں ہوتا ہے۔ عددی اعتبار سے چکبستؔ کا شعری سرمایہ گرچہ مختصر ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے قوم پرستی اور حب وطن کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا اور اس موضوع کی تشریح و توضیح مختلف حوالوں سے کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ انسان کی کامیابی و کامرانی کا راز وطن کی ترقی میں مضمر ہے۔ چکبستؔ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے لیکن انھوں نے غزلیں اور رباعیات بھی کہی ہیں۔چکبست ؔ کی شاعری اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات و مسائل کا بیانیہ ہے لیکن انھوں نے ان موضوعات کو جس انداز میں برتا ہے ایک حد تک ان کی معنویت آج بھی باقی ہے ۔ چکبستؔ کا شمار اردو کے ان چند شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے قلیل سے شعری سرمایہ کے باوصف نمایاں شہرت حاصل کی۔چکبستؔ کی زندگی کے شب و روز بھی محض ۴۴؍ برس کی مدت پر محیط ہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے اگر ان کی عمر طویل ہوتی تو ان کا شعری سرمایہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا۔ چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کا آغاز نظم گوئی سے ہوا۔ انھوں نے مشق سخن کا آغاز ۱۸۹۴ء میں اس نظم سے کیا تھا جو کشمیری پنڈتوں کی سوشل کانفرنس کے چوتھے اجلاس میں پڑھی گئی تھی جبکہ پہلی غزل انھوں نے ۱۹۰۸ء میں کہی تھی۔ اردو کی شعری روایت پر نظر ڈالیں تو ایسے شعرا بہت کم تعداد میں ملیں گے جن کی شاعری کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا ہو۔ بیشتر شعرا ، شاعری کا آغاز عموماً غزل سے کرتے ہیں اور بعد ازاں شاعری کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ غالباً یہی سبب ہے کہ اردو شعرا کا ذکر کرتے ہوئے بیشتر نے اس طرح کے روایتی جملے لکھے ہیں کہ ’’ شاعری کا آغاز غزل گوئی سے ہوا اور بعد میں نظمیں بھی لکھیں ۔‘‘ چکبستؔ کے بارے میں بھی ادبی تاریخ کے بعض مرتبین نے اسی روایت کو باقی رکھا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اردو ادب کی تاریخ مرتب کرنے والوں میں نورالحسن نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے اور ان کی کتاب ’’ تاریخ ادب اردو‘ کو مستند کتاب مانا جاتا ہے۔نقوی صاحب نے بھی چکبستؔ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ چکبستؔ نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں مگر جلد ہی طبیعت کا اصلی رجحان غالب آگیا۔ وہ نظم گوئی کی طرف متوجہ ہو گیے اور وطن پرستی کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔‘‘ ؎۱اسی طرح چکبستؔ کی جائے پیدائش بھی مذکورہ کتاب میں غلط درج ہے لیکن جو عبارت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلطی مرتب کی نہیں کاتب کی ہے۔ عبارت اس طرح ہے:’’ برج نرائن کے بزرگوں کا وطن لکھنؤ تھا لیکن ان کی ولادت ۱۸۸۲ء میں لکھنؤ میں ہوئی ۔‘‘ ؎۲
چکبستؔ کی شاعری میں موضوعات کا تنوع نہیں ہے لیکن زبان و بیان پر ان کی ماہرانہ قدرت انھیں اردو کے چند نمایاں شعرا میں جگہ دیتی ہے۔ ان کی شاعری پر انیسؔ اور غالبؔ کا رنگ بہت گہرا ہے اور بعض مقامات پر آتشؔ کا پرتو بھی نظر آتا ہے۔ بعض ناقدین نے تو چکبستؔ کو انیسؔ و غالبؔ کا خوشہ چیں تک کہا ہے۔ پروفیسر شبیہ الحسن نے اپنے مضمون ’’ مرانیسؔ کی خوشہ چینی اور ان کے خوشہ چین‘ میں چکبستؔ کو واضح طور پر انیسؔ کا خوشہ چیں قرار دیتے ہوئے لکھا ہے’’ چکبستؔ کی منظر نگاری ہر چند کہ انیسؔ کی منظر نگاری کے مقابلے میں کارچوب کی الٹی سمت ہے لیکن اسلوب و خاکہ میر انیسؔ کا ہی رکھتی ہے۔‘‘ ؎۳میرانیسؔ کی منظر نگاری کے علاوہ انیسؔ کی شاعری کے رزمیہ عنصر نے بھی چکبستؔ کو بہت گہرائی تک متاثر کیا تھا اور چکبستؔ کی بعض نظموں میں اس کی باز گشت صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شعری اسلوب کے معاملے میں بھی چکبستؔ، انیسؔ و غالبؔ سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ خصوصاً ان کی نظموں میں بعض مصرعوں میں ہوبہو انیسؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ نظمیہ شاعری میں چکبستؔ نے صرف اسلوب کی سطح پر ہی انیسؔ سے استفادہ نہیں کیا بلکہ ہیئت بھی بیشتر وہی اختیار کی جو انیسؔ کے مرثیوں کی ہے۔غزلوں میں چکبستؔ نے بیشتر غالبؔ سے استفادہ کیا ہے اور کئی غزلیں ان کی زمین میں کہی ہیں جس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
چکبستؔ کے سیاسی و سماجی تصورات سے اختلاف کے باوصف اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حب وطن اور قوم پرستی ان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ ان کی زندگی تصنع اور ظاہر پرستی سے مبرا تھی اور ان کی شخصیت کو بجا طور پر مشرقی اقدار حیات کا آئینہ دار کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف شاعری بلکہ عملی طور پر بھی اصلاح معاشرہ کے لیے صالح کوششیں کیں۔ چکبستؔ کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عمر بھر سرگرم عمل رہے ۔ جہاں تک ان کے سیاسی و سماجی تصورات کی بات ہے تو اس میں اتنا عمق اور وسعت نہیں جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی و ثقافتی ملک کے لیے بہت زیادہ کار آمد ثابت ہو۔وہ ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت کے مخالف تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر انگریز ہندوستانیوں کے استحصال سے باز آجائیں اور ملکی نظام ہندوستانیوں کے سپرد کردیں تو ان کے یہاں رہنے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ سیاست اور سماج کے متعلق ان کا نظریہ بہت سیدھا اور سپاٹ تھا جو کہ بیسویں صدی کے پیچیدہ ہندوستانی معاشرہ کے لیے بہت موزوں نہیں کہا جا سکتا۔
چکبستؔ ہندوستان کے قومی وثقافتی تشخص پر فخر کرنے کے ساتھ ہی نئی تہذیب کے صالح اور کار آمد عناصر کو بھی قبول کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ نئے زمانے کی ان ایجادات سے بھی استفادہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے جو کہ انسانی تمدن کی تاریخ میں ترقی کے نئے باب وا کریں۔ وہ صنعتی انقلاب اور سائنسی ایجادات کے مثبت پہلوؤں پر زور دیتے تھے ۔ اس معاملے میں ان کا انداز فکر اکبر ؔ الہ آبادی سے مختلف تھا۔ اکبرؔ نے مغربی تہذیب کی پروردہ عریانیت اور فحاشی کو ہدف بنانے کے علاوہ ان تمام چیزوں کی مخالفت کی جو مغرب کے ذریعہ ہندوستان میں آئی تھیں اور انگریزی تعلیم بھی ان میں شامل تھی۔چکبستؔ نے نہ صرف جدید تعلیم کے حصول پر زور دیا بلکہ ان فرسودہ روایات کی پرزور مخالفت بھی کی جن سے ترقی کی راہ مسدود ہوتی تھی۔ بحیثیت شاعر چکبستؔ کو اردو کے ان شعرا میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کے شعری افکار کا محور وطن پرستی اور قوم پرستی ہے۔ چکبستؔ کی شعری کائنات کی تشکیل میں ان دو اجزا کے علاوہ جو تیسرا عنصر ہے وہ مظاہر قدرت کا بیان ہے۔چکبستؔ کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے حالیؔ اور آزادؔ کی ان اصلاحی کوششوں کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا جن کی وجہ سے اردو شاعری اسلوب اور موضوع ہر دو اعتبار سے نیا قالب اختیار کر رہی تھی ۔ ان اصلاحی کوششوں میں آورد، تصنع اور مبالغہ کو معیوب قرار دیا گیا تھااور ایسی شاعری کو بہتر اور معیاری کہا گیا تھا جس میں انسان اور سماج کا حقیقی عکس نظر آئے۔ چکبست ؔ کی شاعری انسانی سماج کا حقیقی عکس نظر تو آتا ہے لیکن انھوں نے جس مخصوص زاویہ سے معاشرہ کا مشاہدہ کیا تھا اسے مجموعی حقیقت نہیں کہا جا سکتا ۔
شاعر کی حیثیت سے چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی مشق سخن کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا۔ ۱۸۹۴ء میں ۱۲؍ برس کی عمر میں انھوں نے ایک نظم ’ حب قومی‘ کے عنوان سے لکھی تھی ۔ اس نظم میں وطن پرستی اور قومی یکجہتی پرزور دیتے ہوئے کشمیری افراد کو تلقین کی گئی ہے کہ اتحاد و اتفاق سے ہی زندگی کامیاب و کامراں ہوتی ہے۔ یہ نظم گرچہ چکبستؔ کی پہلی کاوش ہے لیکن اس کے بعض اشعار فن شاعری سے ان کی کماحقہ واقفیت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں ۔ مثلاً:
لطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں
برخلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے
نخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میں
قابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہے
نظموں کی بہ نسبت غزلیہ شاعری کی طرف چکبستؔ کی توجہ تاخیر سے ہوئی۔ ان کی پہلی غزل ۱۹۰۸ء کی ہے ۔اس طرح نظم نگاری میں تقریباً ۱۵؍ برس تک مختلف موضوعات کو ضبط قلم میں لانے کے بعد وہ غزل کی طرف متوجہ ہوئے۔ نظم اور غزل کے علاوہ چکبستؔ نے رباعیات بھی کہی ہیں ۔ چکبستؔ کا مجموعہ ٔ کلام ’صبح وطن‘ کے نام سے ۱۹۲۶ء میں ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا تھا جس پر سر تیج بہادر سپرو نے مقدمہ لکھا تھا۔ ان کے مجموعہ ٔ کلام کی اشاعت کے سلسلے میں ڈاکٹر عطیہ نشاط نے چکبستؔ کے ڈراما’ کملا‘ کے مقدمے میں اور سرراس مسعود نے ’انتخاب زریں‘ میں لکھا ہے کہ اس کی اولین اشاعت ۱۹۱۸ء میں ہوئی تھی۔ اس مجموعے میں شامل کلام اور چکبستؔ کی دیگر شعری تخلیقات کو یکجا کر کے کالی داس گپتا رضاؔ نے ۱۹۸۱ء میں ’کلیات چکبستؔ‘ شائع کیا تھا۔ اس کلیات میں نظموں کی تعداد ۴۵؍، غزلیں ۴۴؍ اور ۱۰؍ رباعیات شامل ہیں۔
کلیات چکبستؔ میں شامل ۱۰؍ رباعیات میں سے ایک رباعی ان کی وکالت کے ابتدائی دنوں کے حالات کی ترجمانی کرتی ہے:
کرسی سے عیاں جنبش یک پائی ہے
میز ایسی ہے گویا کہ پڑی پائی ہے
منشی کا ہے خطرہ نہ موکل کا گزر
آفس بھی عجب گوشہ ٔ تنہائی ہے
ایک رباعی میں پنڈت رتن ناتھ سرشار کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چکبستؔ نے لکھا ہے:
سرشارِ فصح و نکتہ پرور نہیں رہا
سرمایہ ٔ نازِ اہل جوہر نہیں رہا
اعجاز قلم کے جس کے سب قائل تھے
وہ نثر کا اردو کی پیمبر نہیں رہا
غالباً یہ رباعی ۱۹۰۲ء کی تخلیق ہے کیوں کہ اسی سن میں سرشار کا انتقال حیدرآباد میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ باقی ۸؍رباعیوں میں دنیا کی بے ثباتی ، زندگی میں عزم وعمل کی اہمیت، قوم کی ناعاقبت اندیشی ، معاشرتی زندگی میں حلم، مروت، خلق و اخلاص اور محبت کی ضرورت کو موضوع بنایا ہے۔چکبستؔ کی غزلوں میں بھی بیشتر یہی موضوعات نظر آتے ہیں۔ان کی غزلوں پر غالبؔ اور آتشؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ انھوں نے کئی غزلیں ان شعرا کی زمین میں کہی ہیں۔ چکبستؔ کی غزلوں کی زبان پر کلاسیکی شعرا کا رنگ غالب ہے لیکن موضوع کے اعتبار سے ان کی غزلیں ماقبل اور معاصرین شعرا کے درمیان اپنی انفرادیت قائم کرتی ہیں۔چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا روایتی تصور نظر نہیں آتا بلکہ یہ وہ عشق ہے جو انسان کو کچھ ایسا کارہائے نمایاں کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو اس کے ، اس کی قوم اور اس کے وطن کی سرخروی کا ضامن بنے۔
چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا بیان وطن اور قوم سے محبت کے حوالے سے ہی بیشتر ہوا ہے۔ ان کی غزلوں میں جس عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ محبوب کے قرب کا خواہاں ہونے کے بجائے وطن کی محبت سے سرشار اور کی ترقی و نیک نامی کا متمنی ہے۔ اگر کسی غزل میں چکبستؔ نے قیس و فرہاد اور لیلیٰ و شریں کا ذکر کیا بھی ہے تو وہ روایتی اندا ز میں ہے۔ اس قبیل کے اشعار اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ شاعر اردو کی شعری روایت کو نبھانے کی غرض سے عشق کا بیان ان تمثیلات کے حوالے سے کر رہا ہے۔ چکبستؔ نے وطن اور قوم سے وابستہ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار جن اشعار میں کیا ہے وہاں ان کی تخلیقیت اپنے فطری پن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ چکبستؔ کو خود اپنی بھی پروا نہیں رہتی :
قوم کا غم مول لے کر دل کا یہ عالم ہوا
یاد بھی آتی نہیں اپنی پریشانی مجھے
چکبستؔ کی بیشتر غزلوں میں یہی تخلیقی رجحان نظر آتا ہے۔
انسان کی حیات اور موت کے متعلق چکبستؔ کا وہ مشہور شعر جوان کی شاعری میں ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی غالبؔ کی زمین میں ہے ۔یہ غزل ۱۹۰۹ء کی تخلیق ہے۔ اس غزل کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کا جواب معلوم ہوتا ہے بلکہ چکبستؔ نے غالبؔ کے خیال کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ آدمی کا انسان ہونا کوئی مشکل امر نہیں ہے اس کے لیے بس کچھ صفات کو اپنی ذات کا جزو بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن خیال کی جو سطح غالبؔکے مطلعے میں ہے چکبستؔ اس سطح تک نہیں پہنچ پائے۔ چکبستؔ کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ زندگی اور معاملات زندگی کے بارے میں ایک مثالی تصور قایم کر لیتے تھے اور پھر اسی تصور کو شعری پیکر عطا کر دیتے تھے۔بعض اوقات ان کے قایم کردہ تصورات انسان کی ذات اور اس کے متعلقات سے بالکل برعکس بھی ہوتے ہیں اور یہی کچھ اس غزل کے مطلعے میں بھی ہے۔پہلے غالبؔ کی غزل کا مطلع دیکھیے:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اب چکسبتؔ کا مطلع ملاحظہ ہو:
دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہ ٔ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
غالبؔ کا مطلع فطرت انسانی کی نیرنگیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ چکبستؔ کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کی معنویت اور بہ ظاہر سادہ سے شعر میں خیال کی نزاکت اور تہہ داری کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ چکبستؔ نے انسان ہونے کے لیے جن صفات کا ذکر کیا ہے ان سے متصف اشخاص بھی اکثر ایسے کام کر گزرتے ہیں جو انسانیت کے منافی ہوتے ہیں۔ غالبؔ نے مصرعہ ٔ اولیٰ میں ’ہر کام‘ کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی اعمال کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا۔ غالبؔ نے اس شعر کے ذریعہ ان اسباب و محرکات کے اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو مختلف حالات کے تحت انسان کی شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔
چکبستؔ کی غزلوں میں اصلاح ذات و معاشرہ اور قوم و وطن پرستی کے علاوہ جو موضوع اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ منظر نگاری خصوصاً مظاہر قدرت کی عکاسی ہے۔ ان کی غزلوں کے علاوہ نظموں میں بھی یہ موضوع اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اس قبیل کی شاعری سے ان کی مشاہداتی قوت کا پتہ چلتا ہے ۔ وہ جس منظر کو بیان کرتے ہیں اس کی واضح تصویر نظروں میں پھر جاتی ہے۔ انھوں نے غزلوں میں اکثر ایسے اشعار کہے ہیں جو کسی منظر کو بیان کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ان کی غزل جس کی ردیف ہی ’ بہار ‘ ہے قابل ذکر ہے۔ یوں تو اس غزل کے تمام شعر بہار کی مختلف کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن ذیل کے شعر کو منظریہ شاعری میں امیجری کی بہترین مثال کہا جا سکتا ہے:
عکسِ مہ قطرہ ٔ شبنم میں ہے شبنم گل پر
پردہ ٔ شب میں چمک اٹّھی ہے تقدیر بہار
بہار کے حوالے سے صبح کے سماں کا بیان اردو کے اکثر شعرا کے یہاں ملتا ہے لیکن رات کے حوالے سے یہ ذکر چکبستؔ کی انفرادیت ہے۔ حالیؔ نے شاعر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مطالعہ ٔ کائنات کے جس نکتے کو اپنے مقدمے میں بیان کیا ہے وہ چکبستؔ کی اس قبیل کی شاعری میںجابجا نظر آتا ہے۔ چکبستؔ کی غزلوں کو اردو کی کلاسیکی شعری روایت کی ایک کڑی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کا ڈھانچہ انھیں لوازم سے تعمیر ہوتا ہے جو فارسی شاعری کے ذریعہ اردو میں آئے تھے۔ چکبستؔ کی غزلوں کی تفہیم کے لیے اردو غزل کی روایت ، اس روایت سے وابستہ تصورات اور ان تصورات کی ترجمانی کرنے والی مخصوص زبان سے واقفیت ضروری ہے۔
چکبست ؔ کی اصل شہرت ان کی نظموں کی وجہ سے ہے ۔ ان کی نظموں کو ہندوستان کی قومی شاعری میں نماماں مقام حاصل ہوا۔یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ چکبستؔ کی شاعری کا آغازہی موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا ۔ صنف نظم سے ان کی رغبت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انھوں نے شاعری کے ذریعہ جن مقاصد کے حصول کو نصب العین بنایا تھا اس کے لیے وہی شاعری موزوں ہو سکتی تھی جس میں اپنی بات کو اشاروں اور کنایوں میں کہنے کے بجائے تشریح و توضیح کے ساتھ بیان کیا جائے۔ چکبستؔ کی شاعری بحیثیت مجموعی مقصدی شاعری ہے لیکن نظموں میں یہ رنگ نسبتاً زیادہ نمایاں ہے۔ان کی نظمیہ شاعری کے بین السطور شاعری سے متعلق حالیؔ کے اس تصور کو محسوس کیا جا سکتا ہے جس کی رو سے شاعری گرچہ براہ راست یا قصداً اخلاق کی تربیت یا سماج کی اصلاح کا فریضہ نہیں انجام دیتی لیکن معیاری شاعری کے ذریعہ ان مقاصد کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔ ہر چند کہ شاعر معلم اخلاق نہیں ہوتا لیکن سماج کے ایک فرد کی حیثیت سے ملک و معاشرہ سے وہ بالکل لاتعلق ہو کر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس اعتبار سے چکبستؔ کے یہاں یہ شعوری کوشش نظر آتی ہے کہ ملک و معاشرہ سے مسلسل ربط قائم رکھتے ہوئے وہ ان کی بہتری کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ اپنی پہلی نظم ’ حب قومی‘ میں چکبستؔ نے قوم سے اپنے والہانہ لگاؤ کا ذکر بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے ۔ اس کے بعد دوسری تصنیف ’ جلوہ ٔ صبح‘ (۱۸۹۸ء)میں صبح کی آمد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔ اس نظم میں چکبستؔ نے جس کمال فن کے ساتھ جزئیات نگاری کو برتا ہے وہ ان کی مشاہداتی قوت اور پھر خیالات و جذبات کی موزوں زبان میں شعری تجسیم کی بہترین مثال ہے۔یہ نظم مسدس کی ہیئت میں ہے اور اس کے بعض بند اس صبح کا منظر پیش کرتے ہیں جو انیسؔ کے مرثیوں میں نظر آتی ہے۔ ذیل کے دو بند میں چکبستؔ نے مصرعوں کی ترتیب و تنظیم میں جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے افکار پر انیسؔ کے اثر کی واضح عکاسی کرتے ہیں:
والشمس تھا کندہ شہ خاور کے نگیں پر
واللیل کا باقی تھا نشاں بھی نہ کہیں پر
تھی مہر کی پھیلی جو ضیا چرخ بریں پر
آنے لگا رہ رہ کے وہی نور زمیں پر
ذروں کا ستارہ بھی چمکتا نظر آیا
پیمانہ ٔ خورشید چھلکتا نظر آیا
وہ صبح کا عالم وہ چمن زار کا عالم
مرغانِ ہوا نغمہ زنی کرتے تھے باہم
ہنگام سحر بادِ سحر چلتی تھی پیہم
آرام میں سبزہ تھا تہ چادر شبنم
ہر سمت بندھی نعرہ ٔ بلبل کی صدا تھی
غنچوں کی نسیم سحری عقدہ کشا تھی
اس نظم میں چکبستؔ نے جو استعارے اور تراکیب استعمال کی ہیں وہ بھی طرز انیسؔ سے اثرپذیری کا صاف پتہ دیتی ہیں۔ صبح صادق کے وقت آسمان کا دامن ستاروں سے خالی ہونے کا نقشہ کھینچتے ہوئے چکبستؔ نے ایک نادر ترکیب’ خرمن انجم‘ استعمال کی ہے۔ یہ ترکیب نظم کے پہلے بند کی بیت کے مصرعہ ٔ ثانی میں آئی ہے اور مصرعہ ٔ اولیٰ میں نور سحر کی آمد کو بجلی سے تشبیہ دے کر چکبستؔ نے خرمن انجم کی ترکیب کی معنویت کو واضح کردیا ہے:
جب زنگِ شبِ آئینہ ٔ ہستی ہوا دور
ہنگام سحر کون و مکاں ہوگیے پرنور
تبدیل ہوئی صورت کوہ شب دیجور
چمکا وہ تجلّے سحر سے صفت طور
بجلی کی طرح چرخ پر نور سحر آیا
آنکھوں کو نہ پھر خرمن انجم نظر آیا
’جلوۂ صبح‘ کے بعد چکبستؔ کی دوسری اہم نظم ’ مرقع ٔ عبرت‘ ہے ۔ یہ نظم بھی ۱۸۹۸ء کی تخلیق ہے۔ کلیات چکبستؔ کے مرتب کالی داس گپتا رضا کے مطابق اس نظم کے ۵۲؍ بند اکتوبر ۱۹۰۵ء کے ’زمانہ‘ میں شائع ہوئے تھے اور پھر جب یہ نظم ’ صبح وطن‘ میں شائع ہوئی تو اس میں ۹؍ بندوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ نظم خصوصی طور سے انجمن نوجوانانِ کشمیر کی کانفرنس کے لیے کہی گئی تھی۔ اس طویل نظم کا آغاز بہت کچھ انیسؔ کے طرز پر ہے جس میں شاعر اپنے سخن کی مقبولیت کی خواہش کرتے ہوئے اپنی قادرالکلامی کے مستند ہونے کا ذکر کرتا ہے۔اس کے بعد کشمیر کے خوبصورت مناظر کو بیان کرتے ہوئے چکبستؔ نے اپنی قوم اور خصوصاً نوجوانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نظم میں چکبستؔ نے ان کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے جنھیں اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں کو اپنا مستقر بنانا پڑا تھا۔ ان نوجوانوں کی بے عملی پر طنز کرتے ہوئے چکبستؔ نے کہا تھا کہ عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے حالات و مسائل سے آگاہی اور ان کے تدارک کے لیے مخلصانہ سعی کرنا لازمی ہے۔ کسی قوم کی حالت زار کو تبدیل کرنے کے لیے دولت کو لازمی قرار دیتے ہوئے چکبستؔ نے کئی بندوں میں دولت کے مثبت و منفی استعمال سے انسانی سماج کو ہونے والے فوائد اور نقصانات بیان کیے ہیں ۔اس طرز کے دو بند ذیل میں ملاحظہ کریں:
۱۔ کوشش کبھی زر دار کی جاتی نہیں بے سود
رہتا ہے سدا سایہ فگن طالع ٔ مسعود
انسان کی نیت میں اگر شر نہ ہو موجود
زر ہاتھ میں اس کے ہے کلید در مقصود
کب گوہر امید کو رولا نہیں اس نے
تھا کون سا در بند جو کھولا نہیں اس نے

۲۔ لیکن وہ زر و مال نہیں قابل تحسیں
انساں کو بنا دے جو شکم پرور و خود بیں
زردار وہ ہے جس میں شرافت کے ہوں آئیں
ہو بزم ِ محبت کے لیے باعثِ تزئیں
سرسبز رہے قوم، یہ انعام ہو اس کا
باراں کی طرح فیض کرم عام ہو اس کا
اس نظم کے علاوہ اور بھی کئی نظمیں چکبستؔ نے مذکورہ کانفرنس میں پڑھنے کے لیے کہی تھیں۔ان نظموں کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے احیا کے لیے بہت فکر مند تھے اور اس کے لیے وہ شاعری کے علاوہ عملی طور پربھی کوشش کرتے رہتے تھے۔انھوں نے کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر بہت سے کام کیے۔
چکبستؔ کی نظمیہ شاعری کے سرمایہ میں ایسی نظموں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے جس میں شاعر نے وطن سے اپنی محبت کا اظہا ر کیا ہے۔ اس قبیل کی نظموں میں سیاسی و سماجی حوالوں نیز تاریخ ہند کی سربرآوردہ شخصیات کا ذکر کرنے کے علاوہ منظریہ شاعری کے بھی بہترین نمونے پیش کیے ہیں۔وطن پرستی کے جذبات کی عکاسی کرنے والی ۲؍ایسی نظمیں بھی چکبستؔ کے شعری سرمایہ میں شامل ہیں جو خصوصی طور سے بچوں کے لیے کہی تھی۔ ان نظموں کے عنوانات ‘وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک‘ اور ’ہمارا وطن دل سے پیارا وطن‘ ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کے لیے ایک نظم ’ پھول مالا‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ اس میں بھی زبان کے استعمال میں چکبستؔ نے فنکارانہ مہارت کا اظہار کیا ہے لیکن اپنی مشہور زمانہ نظم ’رامائن کا ایک سین‘ میں وہ کردار اور حالات کے حسب حال زبان کا استعمال کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس نظم پر بارہا یہ اعتراض کیا گیا کہ اس نظم کی تخلیق کے دوران چکبستؔ پوری طرح انیسؔ کے فنکارانہ طلسم میں اسیر نظر آئے۔ انھوں نے رام چندر جی کے بن باس پر جانے اور اپنی والدہ سے رخصت ہونے کا جو منظر بیان کیا ہے اس میں رام کے اجودھیا چھوڑ کر جانے سے زیادہ مراثی ٔ انیسؔ میں گروہ حسینی کے کسی جوان کے میدان کارزار میں جانے کا تاثر زیادہ نمایاں ہے۔
چکبستؔ کی سنجیدہ شاعری میں اکثر مقامات پر مزاح کا رنگ نظر آتا ہے۔ اس رنگ کے ہونے کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیشتر نظموں میں سماج یا انسانی رویہ کو ہدف بنایا اور پھر اس کے اظہار کے لیے جو طرز اختیار کیا اس میں طنز کے ساتھ ساتھ مزاح بھی ہے۔ لیکن چکبستؔ نے باقاعدہ طور پر ظریفانہ رنگ میں ایک نظم ’ لارڈ کرزن سے جھپٹ‘ کہی تھی۔ یہ نظم ادوھ پنچ کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین کی فرمائش پر کہی گئی تھی۔ اس نظم میں چکبستؔ نے لارڈ کرزن کی قابلیت پر سوال کرتے ہوئے اسے انگریزی حکومت کا ایک ناائل افسر قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شخصیات پر ان کی نظمیں خصوصاً مسز اینی بسنٹ کے نام، مہادیو گووند رانا ڈے، گوپال کرشن گوکھلے اور بشن نرائن درؔ پر لکھی گئی نظمیں فکر و فن ہر دو لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری کے متعلق بعض ارباب ادب کی رائے ہے کہ حالیؔ وآزادؔ کی اصلاحی کوششوں کا رنگ ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے تخلیق شعر کا جو انداز اختیار کیا تھا اس پر بھی حالیؔ کے مقدمہ ٔ شعر و شاعری میں بیان کردہ شعری اصولوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ شعر و ادب کے ایسے رمز شناسوں کا اصرار ہے کہ بہترین اور معیاری شاعری کے لیے حالیؔ نے سادگی، جوش اور اصلیت کی جو شرط قایم کی ہے وہ چکبستؔ کے کلام میں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن چکبستؔ کی شاعری کے سلسلے میں اسے کلیہ نہیں قرار دیا جا سکتا کیوں کہ بعض نظموں میں اگر یہ لوازم نظر آتے ہیں تو دیگر کئی میں اس کے برعکس تصنع اور مبالغہ شاعر کے مافی الضمیر کے ترسیلی عمل کو متاثر کرتا ہے۔ چکبستؔ نے حب قوم اور وطن پرستی کے موضوع کو مختلف حوالوں سے نظموں میں بیان کیا ہے اور اس موضوع کا تقاضا بھی یہ تھا کہ اس کی شعری تجسیم میں ان لوازم کو مد نظر رکھا جائے لیکن اس مرحلے پر چکبستؔ اکثر جذباتی ہیجان کا شکار ہو گیے ہیں جس کی وجہ سے شاعری میں بیان کردہ حقائق بھی اصلی لگنے کے بجائے بناوٹی محسوس ہوتے ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری میں جوش کی فراوانی تو ایک حد تک ہے لیکن اصلیت اور سادگی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ قوم اور وطن کی محبت پر آمادہ کرنے والے اشعار میں انداز بیان پر جوش ہونا ضروری بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اصلیت اور سادگی بھی لازمی ہوتی ہے۔ ان میں سادگی کا تعلق بڑی حدتک اسلوب شاعری سے ہوتا ہے ۔ شاعر کا طرز بیان ہی شعر کو سادہ یا پرتکلف بناتا ہے ۔ اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ چکبستؔ نے جس شعری ماحول میں تربیت پائی تھی وہاں شاعری میں سادگی کو بہت زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ غدر کے بعد لکھنؤ کے حالات یکسر تبدیل ہو گیے تھے اور شاعری میں بھی وہ روایتیں اب باقی نہیں رہی تھیں جو کہ اس دبستان کا امتیاز سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن اس عہد میں بھی شاعری کو بڑی حد تک مرصع سازی سمجھا جاتا تھا۔ یہی سبب ہے کہ چکبستؔ اور ان کے معاصرین لکھنوی شعرا کے یہاں بھی شعر میں ظاہری حسن پیدا کرنے کے لیے نادر تشبیہیں، استعارات اور تراکیب و ضع کرنے کا رجحان نظر آتا ہے ۔ چکبستؔ کی شاعری بھی اس رجحان سے متاثر نظر آتی ہے وہ کسی ایک خیال کو بیان کرتے وقت مختلف زاویہ سے اس کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور اس کے لیے وہ تشبیہ، استعارہ اور تمثیل کا سہارا لیتے ہیں جن کی وجہ سے شعر میں ظاہری حسن تو پیدا ہوتا ہے لیکن سادگی اور اثر پذیری متاثر ہونے کے علاوہ بعض اوقات شاعر کے بیان میں تضاد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی دو نظموں خاک ہند (۱۹۰۵ء)اور فریاد قوم(۱۹۱۴ء)کا ذکر بطور خاص کیا جا سکتا ہے۔ ان نظموں میں چکبستؔ نے وطن اور قوم کے حالات بیان کرتے ہوئے تاریخ ہند کی جن چند اہم شخصیات کا ذکر کیا ہے ان میں مغل حکمراں اکبر بھی شامل ہے۔ پہلی نظم میں وہ اکبر کو ہندوستان میں محبت و الفت کو رواج دینے والے حکمراں کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن دوسری نظم میں جس انداز میں اکبر کا ذکر ہے وہ اولذکر کے برعکس نظر آتا ہے۔
ان نظموں سے چکبستؔ کے تاریخی شعور کی عدم پختگی کا بھی اظہار ہوتاہے۔ وہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے نمایاں کارناموں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہند کی عظمت کو صرف اپنے ہم مسلک حکمرانوں سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ عمل ایک طرح سے تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور ہندوستان جیسے ملک کی ترقی کے خواہاں شاعر کے افکار کی محدودیت اور تنگ نظری اسے سچا محب وطن بنانے کے بجائے ایک ایسے شاعر کے طور پر منعکس کرتی ہے جو ہذہبی عقیدت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ ان کی نظموں میں جوش اور ولولہ تو ہے لیکن اکثر ان کا حقائق سے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ان کی نظم ’گائے‘(۱۹۱۲ء) ہے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گائے ایک مقدس جانور ہے اور اس کے وجود سے ایک ماں کی محبت و شفقت ظاہر ہوتی ہے ۔ ہندو اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پراس کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ یہاں مذہبی عقیدے سے بحث نہیں چکبستؔ کی ا س نظم میں دوچیزوں کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ گائے کا ذکر کرتے ہوئے بعض مقامات پر اس قدر مبالغہ آرائی کی گئی ہے کہ وہ گائے کے بجائے ایسی مخلوق نظر آتی ہے جس کے مرتبے کا اندازہ ذہن انسانی کے حدود سے باہر ہے ۔گائے نے نوع انساں کو کس طرح فائدہ پہنچایا اس نظم میں اسے بیان کرنے کے علاوہ چکبستؔنے گائے سے خود کے مستفید ہونے کا ذکر اس قدر مبالغہ آمیز زبان میں کیا ہے جس کا حقیقت سے تعلق بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بند ملاحظہ ہو:
میرے دل میں ہے محبت کا تری سرمایا
ماں کے دامن سے ہے بڑھ کر مجھے تیرا سایا
یاد ہے فیض طبیعت نے جو تجھ سے پایا
عین قسمت جو ترا نام زباں پر آیا
اس حلاوت سے داعوائے سخن گوئی ہے
دودھ سے تیرے لڑکپن میں زباں دھوئی ہے
درج بالا بند کے دوسرے مصرعے میں چکبستؔ کا مبالغہ غلو کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اس نظم سے متعلق جو دوسری اہم بات ہے وہ یہ کہ گرچہ نے چکبستؔ نے براہ راست مسلمانوں کو ہدف نہیں بنایا ہے لیکن نظم کے بین السطور میں اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ گائے کے ذبیحہ کے متعلق انگریزوں کے ذریعہ پیدا کیے گیے تنازع کے دام میں پوری طرح گرفتار ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے انگریزوں نے اس تنازع کو بھی استعمال کیا تھا۔
چکبست ؔنے غزلوں اور نظموں میں جس طرح کے موضوعات منتخب کیے ان کا بیشتر تعلق سماج اور سیاست سے رہا ہے۔ انھوں نے ان موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش بھی کی لیکن ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر میں وہ وسعت نہیں تھی جو کہ ہندوستان جیسے تکثیری ملک کے لیے ضروری ہے۔شاعری کو اعتبار تبھی حاصل ہوتا ہے جب شاعر ایسے تحفظات سے بالاتر ہو کر کسی بھی موضوع یا مسئلے کے تمام تر پہلوؤں کا غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لے۔اس ضمن میں چکبستؔ کے ہی ہمعصر اقبال ؔ کا ذکر کیا جا سکتا ہے جن کی شاعری کا بنیادی موضوع گرچہ مسلمانوں کے حالات و مسائل تھے لیکن انھوں نے قوم کے علاوہ وطن کا ذکر بھی اسی انداز میں کیا ہے اور خاص طور سے ہندوستانی تہذیب و تمدن سے وابستہ ان کے شعری افکار میںعصبیت یا جانب داری نہیں نظر آتی ۔چکبست ؔسیاست کا بھی اتنا پختہ شعور نہیں رکھتے تھے جتنا کہ اکبر آلہ آبادی اور حسر ت موہانی کے یہاں نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی محبت کے نغمے تو گاتے ہیں لیکن ان نغموں میں بھی صرف ایک مخصوص قوم اور اس کے کارناموں کا ذکر ہی بیشتر ہوتا ہے۔ افکار کی یہ محدودیت شاعری کی اثر پذیری کو بھی متاثر کرتی ہے اور پھر یہ شاعری قاری کے جذبات کو گہرائی تک متاثر کرنے کے بجائے اوپر اوپر سے گزر جاتی ہے۔ چکبستؔ نے اپنی فکر و نظر میں وسعت کو راہ دی ہوتی تو بلاشبہ ان کی شاعری کے اثرات لافانی ہوتے۔
————–
ؔؔؔؔؔؔ ؎۱ تاریخ ادب اردو، نورالحسن نقوی صفحہ ۱۵۹؍
ؔؔ ؎۲ ایضاً صفحہ ۱۵۸؍
؎۳ انیسؔ شناسی ، مرتبہ گوپی چند نارنگ صفحہ ۱۹۳؍

Writing in today’s time by Intezar Husain

Articles

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعہ¿ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعہ¿ عزت ہے مگر خود شاعری عزت کی چیز نہیں رہی اور میں سوچتا ہوں کہ خازن تو لوگ غالب کے زمانے میں بھی بنتے ہوں گے اور اس پر خوش ہوتے ہوں گے۔ عہدوں اور مراتب اور ہاتھی اور بگھی کی سواری کی فکریں اوروں کو بھی تھیں اور خود غالب کو بھی ستاتی تھیں۔ اسی قسم کی فکریں سر سیّد اور اکبر کے زمانے میں بھی آدمی کی جان کے ساتھ لگی ہوئی ہوں گی۔ لیکن کبھی عقائد کے اثر و رسوخ نے اور کبھی قومی تحریکوں نے ہمارے معاشرہ میں ایسی پنچائتی فکریں پیدا کردیں کہ نجی فکریں محض نجی بن کر رہ گئیں۔ وہ معاشرہ پر حاوی نہیں ہوپائیں ۔ پچھلے سو برس سے ہمیں بڑی فکر یہ چلی آتی تھی کہ ہم نے صدیوں کے فکر و عمل سے جو سچائیاں دریافت کی ہیں اور جو، اب ہماری زندگی ہیں ،ان سچائیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔اس قسم کے فکر کے یہ معنی ہیں کہ لوگ اپنی نجی ضرورتوں کے ساتھ بلکہ ان سے بڑھ کر کسی اجتماعی ضرورت میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس یقین کی بدولت وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر کسی اجتماعی مقصد سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت کو ایمان کہاجاتا ہے اور ٹی ایسایلیٹ کا یہ کہنا ہے کہ جو قوم ایمان سے محروم ہے وہ اچھی نثر پیدا نہیں کرسکتی مگر اس میں نثر کی کیا تخصیص ہے۔ ایک بے ایمان قوم اچھی نثر نہیں پیدا کرسکتی تو اچھی شاعری کیا پیدا کرے گی۔ویسے اس بیان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے معاشرہ میں اچھے نثر نگار یا شاعر سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ ہوتے تو ہیں مگر وہ ایک موثر ادبی رجحان نہیں بن سکتے اور ادب ایک معاشرتی طاقت نہیں بن پاتا۔

ہم لکھنے والے ایک بے ایمان معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں۔ ذاتی منفعت اس معاشرہ کا اصل الاصول بن گئی ہے اور موٹر کار ایک قدر کا مرتبہ حاصل کرچکی ہے۔ جب اصل الاصول ذاتی منفعت ہوتو دولت کمانے کے آسان نسخوں کے لیے دوڑ دھوپ روحانی جد و جہد کا سارنگ اختیار کرجاتی ہے۔ عام لوگ موٹر کار کی چابی کی آرزو میں صابون کی ٹکیاں خریدتے ہیں اور معمے حل کرتے ہیں اور اہلِ قلم حضرات انعاموں کی تمنا میں کتابیں لکھتے ہیں۔ جن کے قلم کو زنگ لگ چکا ہے وہ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کے لیے یا ادبیوں کی بہبود کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں اور ادارے والے تو روز افزوں ترقی کرتے ہیں مگر ادب ، زبان اور کلچر دن بدن تنزل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کی کوشش میں زیرِ آسمان ترقی کی نئی راہیں نکلتی ہیں اور ستاروں سے آگے کے جہان دریافت کیے جاتے ہیں۔

ایسے عالم میں جو ادیب افسانہ اور شعر لکھتا رہ گیا ہے وہ وقت سے بہت پیچھے ہے ۔ اس کے لیے لکھنا بنفسہ عشق کا امتحان بن جاتا ہے۔
ٍ
جب سب سچ بول رہے ہوں تو سچ بولنا ایک سیدھا سادا معاشرتی فعل ہے لیکن جہاں سب جھوٹ بول رہے ہوں وہاں سچ بولنا سب سے بڑی اخلاقی قدر بن جاتا ہے۔اسے مسلمانوں کی زبان میں شہادت کہتے ہیں اور شہادت اسلامی روایت میں ایک بنیادی اور مطلق قدر کا مرتبہ رکھتی ہے۔ جب ایک معاشرہ تخلیق کے فریضہ کو فریضہ سمجھنا ترک کردے اور اسے ترقی کا ذریعہ سمجھے تو جو شخص اس فریضہ کو ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے وہ گویا شہادت پیش کرتا ہے۔

لفظ خود ایک شہادت ہے ۔ جس انسان نے پہلی مرتبہ لفظ بولا تھا اس نے تخلیق کی تھی پھر یہ تخلیق فعل و عمل میں شیر و شکر ہوگئی اور زبان ایک معاشرتی فعل بن گئی۔ ادب معاشرتی عمل میں پیوست تخلیقی جوہر کی تلاش ہے۔ صدیوں کے قول و عمل ، دکھ درد اور خارجی و داخلی مہمات کے وسیلہ سے جو سچائیاں دریافت کی جاتی ہیں اور بعد میں اقدار کہلاتی ہیں۔ ان کی کارفرمائی سے معاشرتی عمل تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ جب تک ایک معاشرہ ان اقدار میں ایمان رکھتا ہے اور ان کی بدولت تخلیقی طور پر فعال رہتا ہے اس کا اس تخلیقی عمل کی تلاش پر بھی ایمان رہتا ہے۔ یعنی ادب بنفسہ اس کے لیے ایک قدر کا، ایک عظیم سچائی کا مرتبہ رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے میر و غالب اپنے اپنے زمانے میں ہماری قدروں کے امین بھی تھے اور خود اپنی اپنی جگہ بھی ایک قدر کا مرتبہ رکھتے تھے ۔ان کی عظمت میں کچھ ان کے تخلیقی جوہر کا حصہ ہے اور کچھ اس معاشرہ کے تخلیقی جوہر کا جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔بڑا ادیب فرد کے تخلیقی جوہر اور معاشرہ کے تخلیقی جوہر کے وصال کا حاصل ہوتا ہے۔ بڑا ادیب ہمارے عہد میں پیدا نہیں ہوسکتا ، اس لیے کہ یہ عہد اپنا تخلیقی جوہر کھو بیٹھا ہے اور ان اقدار پر اس کا ایمان برقرار نہیں ہے جو اس کی تاریخ کا حاصل ہیں۔ اسے اپنے تخلیقی جوہر کی تلاش میں بھی کوئی معنی نظر نہیں آتے۔ صُمً بُکمً عُمیً فہم لایرجِعونَ۔ یہ لوگ کرکٹ کی کمنٹری سنتے ہیں، موٹر کار اور غیر ملکی وظیفوں کی باتیں کرتے ہیں، ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے۔

آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ ایک بہرے، گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔ مگر وہ غالب اور میر سے زیادہ اہم فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس لیے کہ وقت نے اسے ایسی قدر کا امین بنا دیا ہے جو اس کی تاریخ کی سب سے اہم قدر ہے۔ آج لکھنا شہادت کا مرتبہ رکھتا ہے۔لکھنا آج اُس ایمان کا اعادہ ہے کہ موٹر کار حاصل کرنے کی چٹیک سے بھی زیادہ اہم کوئی چٹیک ہے۔ شعر اور افسانہ بے شک معاشرتی سطح پر معنی کھو بیٹھیں اس کے باوجود ایک سنجیدہ بلکہ مقدس مشغلہ ہیں۔ لکھنا آج غالب کے زمانے سے بھی بڑی سچائی ہے۔ اس لیے کہ آج کا جھوٹ غالب کے زمانے کے جھوٹ سے زیادہ سنگین ہے۔ اُس جھوٹ کو غیر قوم کی حاکمیت نے پیدا کیا تھا۔ یہ جھوٹ ہم نے آپس میں جھوٹ بول کر اپنی کوکھ سے جنا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے، اچھا ادب تقسیم سے پہلے تخلیق ہوگیا اور اچھے شاعر 1857ءسے پہلے گزر گئے وہ شخص جھوٹا ہے۔ وہ اس لیے جھوٹا ہے کہ یہ کہہ کر وہ آج کے ادب یعنی آج کے جھوٹ اور سچ سے آنکھ چرانا چاہتا ہے۔ نقاد اور پروفیسر اور تہذیبی اداروں کے سربراہ جھوٹ بولتے رہیں لیکن اگر کوئی ایسی سبھا ہے جہاں جیتے جاگتے ادیب بیٹھتے ہیں تو اس کا درد سر اولاً آج کا ادب ہونا چاہیے۔ اگر آج کی تحریر کے کوئی معنی ہیں تو میر اور غالب کی شاعری کے بھی کوئی معنی ہیں۔ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے یا بے معنی لکھا جارہا ہے تو پھر میراور غالب کے معنی بھی کتنے دن باقی رہیں گے مگر آج لکھنا کیا معنی رکھتا ہے۔ آج کا ادب اگر وہ صحیح اور سچے معنوں میں آج کا ادب ہے تو وہ آج کے چالو معاشرتی معیارات کا ترجمان نہیں ہوسکتا۔ وہ تو اس قدر کو واپس لانے کی کوشش ہوگی جسے ہمارا معاشرہ گم کر بیٹھا ہے۔ آج کا ادب معاشرہ کا نہیں تاریخ کا ترجمان ہے۔ گویا اس کے وسیلہ سے نہ آپ خازن بن سکتے ہیں ، نہ آپ کو موٹر کار نصیب ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادیبوں کی تو اتنی بہتات ہے کہ پانچ سو تک گنتی پہنچ گئی ہے مگر لکھنے والا اکیلا رہ گیا ہے۔ زمانے کی قسم آج کا لکھنے والا خسارے میں ہے اور بے شک ادب کی نجات اسی خسارے میں ہے۔ یہ خسارہ ہماری ادبی روایت کی مقدس امانت ہے۔
٭٭٭

Riyaz Khirabadi Ki Khumriya Shaeri By Prof. Saheb Ali

Articles

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری

پروفیسر صاحب علی

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری
پروفیسر صاحب علی

یہ بات پورے وثوق اور بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر ریاض خیرآبادی کی منفرد رنگ سخن میں شرابور ممتاز شاعری نہ ہوتی تو اردو شاعری کا ایک مکمل و دل نشین باب غائب ہوجاتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاض تکلفاََ شاعر ہرگز نہ بنے تھے بلکہ وہ پیدائشی شاعر تھے۔ باوجودیہ کہ انھوں نے تلمیذ غلام ہمدانی مصحفی امروہوی یعنی تدبیر الدولہ ، مدبر الملک، بہادر جنگ منشی سید مظفر علی اسیر امیٹھوی (۱۸۰۱تا ۱۸۸۲) اور منشی امیر احمد مینائی (۱۸۲۹ تا ۱۹۰۰) سے استفادہ کیا لیکن اپنی ندرت فکر ، مطالعۂ کائنات اور قوت اختراع کی مدد سے رفتہ رفتہ وہ خود درجۂ استادی پر فائز ہوگئے۔

اردو شاعری میں خمریہ شاعری کی روایت بہت قدیم ہے ۔ اس کے اولین نمونے ہمیں قلی قطب شاہ کے یہاںملتے ہیں ۔اردو شاعری میں کم وبیش سبھی کلاسیکی شعرا کے یہاں خمریہ شاعری کا رنگ کسی نہ کسی روپ میں نظر آجاتا ہے۔اس تعلق سے غالب اور جگر کے نام خصوصی طور سے لیے جاسکتے ہیںلیکن ریاض خیرآبادی اردوزبان وادب کے واحد شاعرہیںجنھیں اردو شاعری میںخمریات کے فن کو روشناس کرانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ضمن میں رئیس احمد جعفری کا یہ قول نہایت سبق آموز ہے:

’’ ریاض نے شراب کے مضمون کو اردو زبان میں اپنا لیا ہے۔ جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں ، ان کے یہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی، وہ ادائے بیان وہ جذباتی و ندرت نہیں ملے گی جو ریاض کے یہاں نظر آتی ہے‘‘
(رند پارسا، ص۱۵۱)

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری کے ذیل میں سب سے پہے ہم شراب مجازی کا ذکر کریں گے ۔ شراب مجازی دراصل وہ شراب ہے جو دنیا کے کونے کونے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ شراب ہے جسے علمائے دین اپنی اصطلاح فقہ میں ام الخبائث کہتے ہیںلیکن اردو کے مشہور شاعر علی سکند رجگر مرادآبادی نے اس کے بارے میں کہا ہے ؎

اے محتسب نہ پھینک ، مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے

ریاض نے شراب مجازی کا ذکر کرتے ہوئے اکثر اسے شباب سے وابستہ کردیا ہے ۔ اس طرح شعر کو پڑھنے میں دو آتشے کا مزہ ملتا ہے ۔اس امتزاج شراب وشباب کو ریاض خیرآبادی نے اپنے بڑھاپے میں بھی قائم رکھا۔اس کا سب سے اہم سبب ریاض کاماضی یعنی گورکھپورکی رنگین محفلیں اوران کی حرماں نصیبی تھا۔خمریہ شاعری کے ضمن میں ریاض کے یہاں شراب پہلے معمولی ضرورت رہتی ہے پھر رفتہ رفتہ احتیاج کی شکل اختیار کرلیتی ہے جہاں اس کے بغیر گزر ہی نہ ہوسکے۔ ریاض کے یہ اشعار اسی کیفیت کے غماز ہیں ؎

چھیڑ ساقی کی ہے، دیتا جو نہیں جام ریاض
توبہ کی ہے نہ کبھی ہم نے قسم کھائی ہے
آیا جو محتسب تو بنی رزم ، بزم مے
مجروح خم ، شہید ہمارا سبو ہوا

درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎

شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کی خمریہ شاعری کے ضمن میں سب سے پہلے شراب مجازی کا ذکر کرسکتے ہیں جس کے دلدادہ مرزا غالب، اختر شیرانی، مجاز، جگر، ساحر، کیفی، جوش اور بہت سے دوسرے شعرا وادبا تھے ۔ ریاض خیرآبادی شراب مجازی کے اس علت سے کوسوں دور تھے لیکن کمال تو یہ ہے کہ انھوں نے شراب مجازی کا ذکر بھی اپنے اشعار میں کچھ اس طرح کیا ہے گویاوہ بہت ہی بڑے استاد شرابی ہوں ۔ شراب مجازی کا ذکر کرتے وقت وہ اسے محبوب کے شباب سے ملادیتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح وہ شراب کی تلخی و زود اثری کو شباب کی لذت و کیفیت سے ترتیب دے کر ایک کیف مرکب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ریاض فرماتے ہیں ؎

اس کے آغاز جوانی کا کہوں کیا عالم؟
کچھ سے نشّہ سا تھا نشّے میں وہ چور نہ تھا
حقیقت بھی یہی ہے کہ نام نہاد شراب مجازی کو نہ کبھی انھوں نے منہ لگایا اور نہ یہ شراب ان کے مافی الضمیر کی مکمل عکاسی کرتی تھی ورنہ وہ ایسا کیوں کہتے کہ ؎
وہ چیز اور تھی وہ نشّہ اور تھا ساقی
مرے شباب کا بنتی ہے کیوں جواب شراب
ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی شراب مجازی کی شاعری کے حوالے سے ایک نہایت درجہ قابل تعریف بات یہ ہے کہ شراب مجازی سے نفرت کرنے کے باوجود محض اپنی تخیل اور منفرد قوت اختراع سے یا برسوں کے مشاہدے سے کام لیتے ہوئے ریاض نے اتنی کامیابی اور صفائی سے تمام لوازم شراب خواری پر روشنی ڈالی ہے کہ بڑے سے بڑا استاد شرابی انھیں اپنا پیر مغاں بنانے پر تیار ہوجائے گا۔درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎
شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی خمریاتی شاعری کا دوسرا روپ شراب حقیقی کا ذکر ہے ۔ اسے ہم شراب عرفان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ریاض کی غزلوں کا ایک معتد بہ حصہ شراب حقیقی یا شراب معرفت الٰہی سے لبریز ہے۔ریاض نے درج ذیل شعر میں شراب کا استعمال بطور کنایہ مہارت کے ساتھ کیا ہے۔ اس عارفانہ شعر کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ؎
تجھے مے فروش خبر بھی ہے کہ مقام کون ہے کیا ہے شے
یہ رہ حرم میں دوکان مے تو یہاں سے اپنی دوکاں اٹھا
ریاض نے شراب حقیقی کے ذریعے عارفانہ شاعری کے جو اعلیٰ نمونے پیش کیے ہیں اس کی عظمت اور تقدس سے انکار ممکن نہیں۔ ریاض رضواں میں شامل بعض غزلیں ایسی ہیںجس میںاسلامی تاریخ مثلاََ حضور صلی علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعات، فتح مکہ اور حوض کوثرکا ذکر بڑے ہی موثر انداز میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے :
اہلِ حرم بھی آکے ہوئے تھے شریک دور
کچھ اور رنگ آج مری مے کشی کا تھ
نسخہ بیاض ساقیِ کوثر سے مل گیا
گھر بیٹھے اب تو بادۂ کوثر بنائیں گے
ریاض فطرتاََ بہت شوخ اور زندہ دل واقع ہوئے تھے ۔ بات میں بات پیدا کرنا اور سنجیدہ معاملات کو اپنی خمریہ شاعری کا موضوع بنانا بھی انھیں بہت اچھا لگتا تھا۔شراب فطرت سے اپنی پیاس بجھانا یہ ایک بالکل اچھوتا لیکن دلچسپ انداز فکر ہے۔ ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انوکھی اور عالمگیر ہے کہ بہت سے ایسے اشعار ہیں جو زبان زد خاص و عام ہوچکے ہیں ۔ اکثر اشعار ایسے ہیں جنھیں بر محل سمجھ کر ہر جگہ لوگ اس طرح پڑھتے ہیں کہ انھیںیہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شعر کس شاعر کا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں ؎

جہاں ہم خشت خم رکھ دیں ، بنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹک دیں ، چشمۂ زم زم نکلتا ہے
ارے واعظ ، کہاں کا لا مکاں ، عرش بریں کیسا
چڑھی ہوتی جو کچھ ، تو ہم خدا جانے کہاں ہوتے

ریاض خیرآبادی کی شاعری کا ایک اور وصف ان کی زبان کا تھا ۔ خمریات تو بلا شبہ ان کی عالمگیر شناخت تھی لیکن زبان کا خوب صورت استعمال اور مضمون کے لحاظ سے ان کے فنی محاسن ، یہ ایسی خوبی تھی جس کا جواب نہ تو ریاض کی زندگی میں ممکن تھا اور نہ آج تک ممکن ہوسکا، افسوس کہ یہ لطیف اور وجد آور فنی محاسن تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ نہ تو مکمل طریقے پر ان کا شمار کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی خاطر خواہ وضاحت ممکن ہے ۔جس طرح غالب کا کلام ان کی شوخی ِکلام کے لیے معروف ہے ۔اس سے کہیں زیادہ نادر شوخیاں ریاض خیرآبادی کے یہاں مل جاتی ہیں۔ شوخی کا مفہوم کیا ہے اس کا حسن استعمال ہم بڑی آسانی سے کلام ریاض میں تلاش کرلیتے ہیں ؎
کوئی منھ چوم لے گا اس نہیں پر
شکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر
بلائیں بن کے ، وہ آئیں ہمیں پر
دعائیں ، جو گئیں عرش بریں پر

اس میں کوئی شک نہیں کہ شراب وشباب کے بعد ریاض خیرآبادی کے کلام میں شوخی و سرمستی کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں رجائی اور صحت مند جذبات کی فراوانی محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر اعجاز حسین (سابق صدر شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی)ریاض کے شوخیِ کلام کے تعلق سے لکھتے ہیںکہ:
’’ ریاض صاحب کی عشقیہ شاعری میں شوخی کے ساتھ پر لطف طنز مزید شرارت اور حقیقت آمیز معاملات کی دنیا نظر آتی ہے‘‘
( مختصر تاریخ ادب اردو، ادارۂ فروغ اردو لکھنؤ ۱۹۶۵،ص۲۴۵ )
اس قول کی صداقت ریاض خیرآبادی کے حسب ذیل اشعارمیں ملتی ہے:

بوسے گن کر کبھی لیتے نہیں معشوقوں کے
ہمیں گنتی نہیں آتی نہ حساب آتا ہے
کتنے بوسے لیے اس بت کے بتا دیں کاتب
میں تو سنتا ہوں فرشتوں کو حساب آتا ہے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ریاض خیرآبادی اپنے خاندانی ماحول اور خود اپنی فطری ذہنیت کے حساب سے ایک رند
پارسا تھے ۔ خمریہ شاعری تو بس ان کا ایک اسلوب ادا اور پیرایۂ اظہار تھا جس نے ان کے کلام پر انفرادیت کی مہر ثبت کردی ہے۔ رئیس احمد جعفری نے ایک انتہائی دلچسپ اور بلیغ ترکیب’’ رند پارسا‘‘ وضع کرکے ریاض خیرآبادی کی فطرت اور ان کی شاعری کا عطر مجموعہ پیش کردیا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ تذکرۂ شراب وکباب غزلیات ریاض کا طرۂ امتیاز ہیں ۔ بلا مبالغہ ان کی کم ازکم 75 فیصد غزلیں مے خواری کی تفصیلات سے پُرہیں۔ شراب اور اس کے متعلقات پرکم وبیش ہرشاعر نے کچھ نہ کچھ ضرور لکھا ہے لیکن ریاض نے اسے اپنا مستقل موضوع بنایاہے حد تو یہ ہے کہ جب وہ کبھی میکدہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس انداز سے کہ لفظ لفظ سے شراب ناب چھلکی پڑتی ہے ؎
جمع ہوجائیں گے مے نوش قیامت میں جہاں
حشر کا شور وہاں قلقل مینا ہوگا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی سے مراد نہ توFrench Liquor نہ مرزا غالب کیEnglish Tomبلکہ یہ بادۂ عرفان الٰہی یا صوفی صافیوں کی شراب ہے۔ دراصل یہی وہ شراب ہے جو خوش نصیب ایمانداروں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔ فارسی اور اردو کے اکثر شعرا تذکرۂ بادہ و میکدہ کو اپنے ساقی ناموں کا موضوع بناتے ہیں۔

کلام ریاض پر عمیق نظریں ڈالیں تو ان کی مختلف غزلوں میں شراب حقیقی کے ایمان افروز مناظر ہماری آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے موجود ہیں۔ان کے مجموعۂ کلام ریاض رضواں کی تمہید ان ایمان پرور شراب حقیقی کے حوالواں سے ہوتی ہے ؎

کیا تجھ سے مرے مست نے مانگا مرے اللہ
ہر موج شراب اٹھ کے بنی ہاتھ دعا کا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی یعنی شراب معرفت کا مقام نہایت بلند وبالا ہے ۔ انھوں نے رسول اکرم سے اپنی عقیدت اور تخلیقی قوت سے شراب حقیقی کے ذریعے اپنی پوری حمدیہ و نعتیہ شاعری کے جو نادرو نایاب نمونے پیش کیے ہیں اس کی نظیراردو کی خمریہ شاعری میں بہت کم لوگوں کے یہاںملے گی۔ ان کے نعتیہ کلام میں ایسے بے شمار اشعار موجود ہیںجن میںخود ریاض کی اپنی ذات پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ مثال کے طورپر ریاض رضواں میں شراب حقیقی کے زائیدہ یہ اشعار بھی بڑے کیف آور ہیں ؎
گئے ساتھ شیخ حرم کے ہم ، نہ کوئی ملا نہ لیے قدم
نہ تو خم بڑھا ، نہ سبو جھکا ، جو اٹھا تو پیر مغاں اٹھا
ملتی ہے درِ ساقیِ کوثر سے یہ خدمت
اس طرح کوئی پیر مغاں ہو نہیں سکتا

ریاض کا فیصلہ ہے کہ بغیر توفیق الٰہی کے کسی بڑے سے بڑے عابد وزاہد کی پیشانی سے نور توحید ضوفشاں نہیں ہوا کرتا۔مئے توحید کی سچی جھلک دیکھنی ہو توریاض کے یہ اشعارجو معرفت الٰہی کے جذبے سے سرشار ہیںدیکھئے ذیل کے دونوں اشعار میں ریاض نے ایسی بات کہی ہے جو شراب معرفت کا اصل مفہوم سمجھنے والا ہی کہہ سکتا ہے ؎
پی کر بھی جھلک نور کی منھ پر نہیں آتی
ہم رندوں میں جو صاحب ایماں نہیں ہوتا
بنائے کعبہ پڑتی ہے جہاں ہم خشت خم رکھ دیں
جہاں ساغر پٹک دیں چشمۂ زم زم نکلتا ہے

شراب فطرت بھی ریاض کے فلسفۂ خمریات کا ایک اچھوتا اور دلچسپ پہلو ہے ۔ اس شراب کے مختلف روپ ان کے غزلیہ اشعار میں نظر آتے ہیں جہاں شاعر نے مناظر قدرت کی براہ راست یا بالواسطہ عکاسی کی ہے ۔ غور کیجیے تو یہاں وہ انگریزی زبان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر ولیم ورڈز ورتھ ،ہمارے شعرا اسمٰعیل میرٹھی، نظیر اکبرآبادی، حامداللہ افسر، درگا سہائے سرور اور شفیع الدین نیر کے ہم پایہ قرار پاتے ہیںکیونکہ انھوں نے مناظر قدرت ، باغ وبہار، جھیلوں پہاڑوں،چاند تاروں، موسموں کی آمد ورفت ، انسانوں کے مختلف النوع جذبات ، چرند پرند اور نفسیات انسانی کی شاعرانہ ترجمانی کی ہے۔ان چیزوں کے بیان میںبھی ریاض کی آنکھوں سے شراب کی عینک نہیں چھٹی۔اسے ان کے خمریاتی شعور کی معراج سمجھنا چاہیے۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے ؎

در کھلا صبح کو پَو پھٹتے ہی میخانے کا
عکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

اس شعر میںقدرتی منظر تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ کئی صنائع و بدائع لفظی و معنوی کا بے ساختہ اور بڑا فن کارانہ استعمال بھی ملتا ہے ۔ پہلے مصرعے میں صنعت محاکات کی بڑی خوب صورت کیفیت ہے۔ ’’ پَو پھٹنا‘‘ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بہت تڑکے شاعر کا کاروبار مشاہدہ شروع ہوا۔ فارسی کا بہت عمدہ ہم معنی شعر بے ساختہ یاد آتا ہے کہ ؎
چُو صبح دم ہمہ مردم بہ کاروبار ، رَوَند
بلا کشان محبت ، بہ کوئے یار روند
مصرعۂ ثانی میں صبح کا گول اور سرخ سورج شاعر کو چھلکتے ہوئے پیمانے کی یا د دلاتاہے ۔ یہ پسند یقینا شاعر کے شدید شعور جمال کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انو کھی اور عالمگیر ہے کہ موسم بہار میں ابر سیاہ کے ٹکڑے خوشامدانہ انداز میں ریاض خیرآبادی کو دعوت مے نوشی دیتے ہیں ۔ یہ موسم بہار کا معجزہ ہے کہ شاعر کو پانی پی کر بھی نشہ سا محسوس ہوتا ہے۔سچ پوچھیے تو ریاض کا کلام شروع سے آخر تک شراب و شباب،رنگینی اور حسن و عشق کاایک جزو لاینفک ہے جو ان کی عملی زندگی کوتمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کرتا ہے ۔ اول تو ان کے سبھی مادی عشق کامیاب نظر آتے ہیں اور اگر کبھی ہجر وفراق یا رقیب رو سیاہ کا سامنا بھی ہوا تو انھوں نے اس کا اظہار معنی خیز تبسم سے کیا۔ ان کا معشوق مثالی یا خیالی ہزگز نہیں بلکہ انہی کی طرح گوشت پوست والا انسان ہے جس کی صرف جنس بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ ریاض کی عشقیہ شاعری میں کسی حد تک دبستان لکھنؤ کا خاص رنگ شامل ہے ۔
٭٭٭

Sanat-e-Ghair Manqootah Mein Manzoom Seeratunnabi

Articles

صنعتِ غیر منقوطہ میں منظوم سیرت النبی

ڈاکٹر رشید اشرف خان

اسلام ایک ایسا نو ر تھا جس کی کرنیں عرب کی سر زمینِ حجازسے پھوٹیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم کو منورکرگئیں اور آج تقریباََ ڈیڑھ ہزار سال کی مدت کے درمیان دنیا کے ہرمکتبۂ فکر کے علما اور شعرا نے سیرتِ نبوی کو اپنا موضوع بنایا اور ہزاروں کی تعداد میں اپنی یا د گار تحریریں نظم ونثر کے پیرائے میں چھوڑی ہیں۔

اس تاریخی حقیقت سے کوئی صاحب علم انکار نہیں کر سکتاکہ جس طرح مختلف دنیوی علوم کو سمجھنے کے لیے مشکل کتابوں کی لغتِ اصطلاحات ،تراجم ، تفسیر یا زندہ استاذ کی مدد درکار ہوتی ہے اسی طرح کلام اللہ کوبخوبی سمجھانے والااور اس کی عملی تشریح کرنے والا بھی کوئی چاہئے۔ اس مقصد کے حصول کا واحد قابل قبول اور سا ئنٹفک وسیلہ سوا اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم حضور کی سیرتِ طیبہ سے بھر پور استفادہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت کی زندگی میں براہ راست اور آپ کے وصال کے بعد ، آپ کے اہلِ بیت ،آئمہ صحابۂ کرام اور محدثین ومؤرخین نے بالواسطہ آپ کی سیرت پاک اور اعمال و اقوال کو کتابوں کی شکل میں محفوظ کرلیا۔ ہر خطۂ زمین میں سیکڑوں زبانوں میں یہ اسلامی ادب لکھ لیا گیا اس کی تبلیغ وتشہیر کی گئی نیز اس پر مباحثے ،مناظرے ، محاکمے اور مصاحبے ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ قران حکیم کی صحیح قرأت اس کے مطالب کی صحت مند تفہیم اور تبلیغ کے لیے آپ کی سیرت مبارک بے حد مفید ، نا گزیر اور سبق آموز قرار پائی ۔ دیگر زبانوں سے قطع نظر صرف اردو زبان میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں پر نظر ڈالئے تو آپ کو کئی مشہور کتابیں ملیں گی ۔ سر ولیم میور لفٹننٹ گورنر کی گستاخانہ کتابLife of Mohammad کے جواب میں لکھی ہوئی سر سید احمد خاں کی کتاب ’’ خطبات احمدیہ‘‘ کو بھلا کون بھلا سکتا ہے ؟ اسی طرح ہم شمس العلما مولانا شبلی نعمانی کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جنھوں نے ۱۹۱۳ء میں بڑے روحانی جوش وسر مستی کے ساتھ ’’ سیرت النبی‘‘ لکھنے کا کام شروع کیا۔ اسی ضمن میں مولانا شبلی نے لکھاتھا کہ:

عجم کی مدح کی ، عباسیوں کی داستاں لکّھی

مجھے چندے، مقیمِ آستانِ غیر ہونا تھا

مگر اب لکھ رہا ہوں سیرتِ پیغمبرِ خاتم

خدا کا شکر ہے ، یوں خاتمہ با لخیر ہونا تھا

اور واقعی خاتمہ بالخیر ہوا۔ وہ سیرت النبی کی پہلی جلد ختم کرکے دوسری جلد لکھ رہے تھے کہ ۱۸ نومبر ۱۹۱۴ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ وصیت کے مطابق ان کے لائق اور فرماں بردار شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی نے چھ جلدوں میں سیرت نگاری کی۔

اسلام کے تعلق سے اردو شاعری میں ’’ مدوجزر اسلام‘‘ (مسدس حالی )کا مرتبہ ہی کچھ اور ہے ۔ یہ مسدس مولانا حالی ؔ نے سر سید کی دوستانہ فر مائش پر ۱۸۷۹ء میں تصنیف کیا تھا۔قدرے تفصیلی مسدس حالی پر گفتگو نہ کرتے ہوئے صرف ایک بند پیش کرتا ہوں جس کا تعلق حضور کی سیرت پاک سے ہے:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بَر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروںکا ملجا ، ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولا

نبیِ رحمت کی منظوم سیرت پاک کا ایک اور نادر نمونہ ’’ شاہنامہ اسلام ‘‘ بھی ہے جسے ابو الاثر حفیظ جالندھری نے نظم کرکے دنیاے ادب پر اپنا سکہ جمایا تھا ۔ حفیظ جالندھری کی تاریخ ولادت ۱۴ جنوری ۱۹۰۰ء بمقام جالندھر اور تاریخ وفات ۲۱ دسمبر ۱۹۸۲ء بمقام لاہور ہے۔

’’شاہنامہ اسلام‘‘ کا آغاز ایک خوبصورت اور وجد آور سلام سے ہوتا ہے جس کے اشعار آج تک خوش عقیدہ اربابِ ادب اور فرزندان توحید جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں:

سلام اے آمنہ کے لعل ، اے محبوب سبحانی

سلام اے فخر موجودات ، فحرِ نوع انسانی

سلام اے ظلّ رحمانی ، سلام اے نور یزدانی

ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوح پیشانی

ترا در ہو مرا سر ہو ، مرا دل ہو ترا گھر ہو

تمنا مختصر سی ہے ، مگر تمہید طولانی

چار جلدوں پر مشتمل ’’شاہنامہ اسلام ‘‘ کی پہلی جلد جو مثنوی کی شکل میں تھی ۱۹۲۹ء میں پہلی بار منظر عام پر آئی تھی ۔ حفیظ جالندھری نے اپنی نظم کے لیے بحر ہزج مثمن سالم ( مفاعی لن ، مفاعی لن ، مفاعی لن ، مفاعی لن )کا انتخاب کیاہے جو عموماََ رزمیہ شاہناموں میں استعمال نہیں کی جاتی۔اردو میں حفیظ جالندھری کی یہ تصنیف پیرایۂ نظم میں اپنے موضوع پر پہلی کتاب تھی جس نے علم وادب کی دنیا میں شاہکار تصنیف و تخلیق کا مرتبہ ومقام حاصل کیا۔ ’’شاہنامہ اسلام ‘‘ کے بعد ایک مدت تک اس موضوع پر کوئی کام نہیں ہو ا لیکن انیسویں صدی میں اسی(۸۰) کی دہائی میںسیرت النبی کے موضوع پر ایک علمی کارنامہ پاکستان کی سر زمین سے وجود میں آیا ۔ پاکستان کے عالم مولانا ولی رازیؔکی فضیلت آفریں نورانی تالیف ’’ ہادیِ عالم‘‘ کے نام نامی کو فراموش نہیں کرسکتے۔یہ نثری تصنیف جو بے نقط اور سلسلۂ سیر مقدس میں اپنے انداز کی وجہ سے منفرد مرتبہ کی مالک ہے ۔مثال کے طور پر یہ اقتباس دیکھیے:

’’اس دور کی عام رسم رہی کہ مکہ کے سرداروں کے سارے لڑکے کسی دائی کے حوالے ہوں اور گاؤں کی کھلی ہوا کے عادی ہوں۔ رسول اکرم کی والدۂ مکرمہ کا ارادہ ہوا کہ رسم ِ مکہ کی رُو سے ولد مسعود کسی دودھ والی کے حوالے ہواور وہاں کا ماحول رسول اللہ کو سادگی کا عادی کرے‘‘
(ہادیِ عالم صفحہ نمبر ۴۵)

ہندوستان کی مشہور درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے اجتماع میںیہ سعادت، مقام دریاباد ، پوسٹ دودھارا ، ضلع بستی(یوپی) متوطن مولانا صادق علی قاسمی کے نصیب میں تھی کہ اجتماع کے دوران مولانا صادق صاحب کے کرم فرما مولانا عبدالرحیم صاحب کی ایما پر مولانا صادق نے یہ طے کیا کہ وہ مولانا رازی ؔ کی کتاب ’’ ہادیِ عالم ‘‘ کے نثری اور بے نقط متن کو لبا س نظم پہنائیں گے اور وہ بھی صنعت غیر منقوطہ کی مدد سے۔بظاہر یہ ایک بڑا چیلنج تھا لیکن جوش ایمانی اور فضل ربانی نے یہ مشکل بہر حال آسان کردی اور مولانا نے ۱۲۱ صفحات پر مشتمل پہلی جلد تخلیق کی۔جس کا تعلق مکی دور اور اسلامی معرکے سے ہے۔ ارباب علم اس بات کو بہ خوبی جانتے ہیں کہ اردو حروف تہجی میں غیر منقوط حرف کی تعداد بہت ہی کم ہے اور اس تنگ دامنی کے ساتھ شعری حدود وقیود کی پابندی، اسلوب اور زبان وبیان کی چاشنی کو بر قرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیرت النبی کے تقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے مولانا صادق نے ’’ داعیِ اسلام ‘‘ لکھ کر جو نادرو نایاب تحفہ اہل اسلام اور اردو ادب کو دیا ہے اس کی نظیرپوری تاریخ اسلام اوردنیاے اردوادب میں نہیں ملتی۔اس کا اعتراف مذہبی علوم میں دسترس رکھنے والی بر گزیدہ شخصیات کے علاوہ زبان وادب کے ماہرین نے بھی کیا ہے ۔ مولانا صادق علی کی مذکورہ تصنیف کی تقریظ ممتاز عالمِ دین اور زبان وبیان کے نبا ض قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھی تھی ۔تقریظ کے درج ذیل اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا صادق کی اس علمی وادبی کاوش کی تعلیم یافتہ طبقہ میں بھر پور پذیرائی ہوئی تھی ۔فضیلت الاستاذ قاضی اطہر مبارک پوری کی حسبِ ذیل تقریظ کا اقتباس ملاحظہ فرمایئے:

’’ صنعت بے نقط میں دس پانچ سطر یا صفحہ دو صفحہ لکھنا زیادہ مشکل نہیں اور نظم ونثر میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیںمگر اس تنگ دائرے میں رہ کر منظوم کتاب لکھنا دشوار سے دشوار تر کام ہے ۔اس کی پہلی مثال ’’ داعیِ اسلام ‘‘نامی کتاب ہے جس کو دارالعلوم دیوبند کے بوریہ نشین فاضل نے نظم میں لکھا ہے جس کے سامنے اردو زبان کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں کو اعتراف و عقیدت کے ساتھ سر نگوں ہونا چاہیے‘‘
داعیِ اسلام صفحہ نمبر ۱۴؎

ٍ دور مغلیہ میں تاریخ ہندوستان گواہ ہے کہ جلال الدین محمد اکبر کے نورتنوں میں فیضی ؔ نے قران مجید کی غیر منقوطہ تفسیر ’’ سواطع اللہام ‘‘ فارسی نثر میں لکھی جسے ایک کمال سمجھاگیا تھا اسی طرح دور موجودہ میں مولانا محمد ولی رازی نے اپنی کتاب ’’ ہادیِ عالم ‘‘ غیر منقوطہ نثر میں پیش کی لیکن مولانا صادق بستوی نے غیر منقوطہ اور منظوم سیرت النبی تخلیق فرما کر ادب میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا ہے ۔ مثال کے طور پر داعی اسلام کے چند اشعار ملاحظہ فرمایئے جس کا تعلق وحی اول کی آمد سے ہے:

رہی عمرِ مکرّم ساٹھ کم سوسال داعی کی

حرا کی گود سے آمد ہوئی وحیِ الٰہی کی

کہا ! کرکے سلام اس کو کہو ، امرِ الٰہی ہے

کہا ! اُمّی ہوں ، ڈر کر ، حاکمِ کُل کی گواہی ہے

اب ہم اختصار کے ساتھ اس عہد ساز سیرتِ پاک ’’ داعی اسلام ‘‘ کی چند علمی وفنی خوبیوں کا ذکر کریں گے ۔یہ کتاب داعی اسلام کے صرف دور اول ( ماحول مکہ اور اسلامی معرکوں تک) کا احاطہ کرتی ہے ۔اس کتاب کے مطالعے سے مولانا کی فطرت ذہانت ،غیر معمولی قوت آخذہ اور الفاظ ولغات پر عبورکاپتہ چلتا ہے۔اکثر مقامات پر حقیقت اور شاعری کا اتنا دلکش امتزاج ہوجاتا ہے کہ اس پر منجانب اللہ الہام کا گمان گزرتاہے مثلاََیہ اشعار:

سلام اس کو کہ اک اُمّی ، مگر اک ہادیِ کامل

مطہّر اور طاہر ، اک رسول اک حاکمِ عادل

اسی دم لا الٰہ کہہ کے الّااللہ کہہ ڈالا

اسی لمحہ محمد کو رسول اللہ کہہ ڈالا

مولانا صادق نے اس کتاب میں عربی ، فارسی اور اردو الفاظ کے علاوہ ہندی اور کھڑی بولی کا بھی بے تکلفانہ استعمال کیا ہے ۔بس اس امر کا خیال رکھا ہے کہ کہیں نقطہ نہ آنے پائے ۔اس بارے میں ضرورتِ شعری یاPoetic Liscence سے بھی کام لیا ہے یعنی حرکات و سکونات کو بھی حسب مرضی کم اور زیادہ کردیاہے۔دوسری زبانوں کے الفاظ کے استعمال کے ضمن میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:

’’ شاعر نے عربی وفارسی کے علاوہ ہندی اور مقامی بولیوں کے الفاظ بھی ایسی چابک دستی سے استعمال کیے ہیں جو اس نظم کے مزاج سے اس طرح ہم آہنگ ہوگئے ہیں کہ کہیں جھول محسوس نہیں ہوتااگرچہ دو ایک جگہ ان کا استعمال کھٹکتا ہے پھر بھی کلام کی سادگی اور سلاست وروانی میں کہیں فرق نہیں آتا‘‘
داعیِ اسلام صفحہ نمبر ۲۴؎

’داعیِ اسلام‘‘ کی زبان و بیان کے متعلق گوپی چند نارنگ کے درج بالا خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس منظوم و غیر منقوط سیرت النبی میں سلاست و روانی نمایاں خصوصیت ہے ۔چند اشعار جو بطور مثال اوپرپیش کیے گئے ہیںان سے ہی بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظم کے تخلیقی عمل سے گزرتے ہوئے شاعر نے مفہوم کی ادائیگی کے لیے کسی طرح کے تخلیقی جبر کو خود پر مسلط نہیں کیا ۔ہر چند کہ جس طرز کی یہ نظم ہے اس میں ایک ایک شعر کے لیے تفحص الفاظ کی انتہائی دشوار کن منزکوں سے گزرنا پڑتا ہے جس کا عکس تصنیف پر واضح طور پر نظر آتا ہے ۔لیکن ’’داعیِ اسلام ‘‘ از ابتدا تا انتہاسلاست وروانی کی بہترین مثال ہے۔اس کے علاوہ مقامی بولیوں کے غیر منقوط الفاظ کا فن کارانہ استعمال لسانیاتی سطح پر مولانا صادق علی صاحب کی بالغ النظری کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

مولانا صادق صاحب نے ’’ داعیِ اسلام‘‘ کی شکل میں جو تاریخی اور مثالی تخلیق پیش کی ہے اس کے لیے بیک وقت کم از کم دو علوم پر مکمل پر مکمل دسترس درکار تھی۔موضوع کے اعتبار سے مذہبی تاریخ سے واقفیت اور اسلوب کے اعتبار اردو زبان پر مکمل دسترس کے علاوہ شعری تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری تھا۔ اس حوالے سے کہا جاسکتاہے کہ مولانا ان دو نوں مراحل سے بہ حسن وخوبی گزرے ہیں ۔ ان کی یہ شعری کاوش اردو کے ادبی سرمائے کا بیش قیمت شاہکار ہے جس پر اردو شعر وادب کو ہمیشہ ناز رہے گا۔