Khuda Hafiz Zubair Saheb

Articles

زبیرصاحب ، خدا حافظ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

 

زبیر رضوی جیسی متنوع شخصیت ذرا کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جدید شعرا کی جھرمٹ کا روشن ترین ستارہ، ہندوستانی ڈراما کا ایک مستند نقاد اور محقق، اردو کی ادبی صحافت کا ایک رجحان ساز مدیر، فائن آرٹ کا مبصر اور اسپورٹس کامینٹیٹروغیرہ وغیرہ گویا ان کی شخصیت رنگوں کا ایک کولاژ تھی کہ جس کا ہر رنگ اپنی جگہ مجلا اور مکمل تھا۔ میر کے لفظوں میں کہیں تو :ــ’’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ‘‘ زبیر صاحب کی طبیعت کا یہ تنوع جب ایک نکتے پر مرکوز ہوتا تو ’’ذہنِ جدید‘‘بن جاتا تھا۔ اس رسالے کا ہر شمارہ اُن کی ہمہ جہتی کا تعارف بن کر ابھرتا ۔ اداریہ کی بے باکی سے لے کر فلم ، موسیقی، ڈراما، پینٹنگ کی تجزیاتی رپورٹنگ تک ہر ہر صفحے پر ان کے باریک بیں مزاج کا نقش صاف جھلکتا ۔ادبی صحافت میں ہم بلا تکلف نیاز فتح پوری، محمد طفیل ، محمود ایاز ،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے ساتھ ان کا نام لے سکتے ہیں۔ذہنِ جدید کا ہرشمارہ خاص ہوتا تھا۔ خاص اس لیے کہ اس میں ادب کے معاصر رویے اور رجحانات کے علاوہ لگ بھگ سو صفحات عالمی ادب ، تھیٹر، مصوری، سنگیت، فلم ، کارٹون اور فوٹو گرافی وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان موضوعات پر بیشتر بلکہ کبھی کبھی تمام تحریریں زبیر صاحب کے زورخیز قلم کا نتیجہ ہوتی تھیں۔ خیر عالمی ادب کے نمائندہ تخلیق کاروں کا تعارف و تبصرہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں تاہم موسیقی ، مصوری، فلم ،کارٹون اور فوٹو گرافی پر تواتر سے لکھنا آسان نہیں ہے ۔ یہ زبیر صاحب کی فنونِ لطیفہ سے والہانہ دلچسپی ہی تھی جو ان سے اس نوع کا مشکل کام کروا لیا کرتی تھی۔
بطور شاعرزبیر رضوی نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ وہ ان چند ایک جدید شعرا میں تھے جن کی مقبولیت علمی اور ادبی حلقے کے علاوہ عوامی مشاعروں میں بھی خوب تھی۔ ’ یہ ہے میرا ہندوستان‘ جیسی مقبول نظم کے خالق زبیر رضوی کی جب ’پرانی بات ہے‘ سیریز کی نظمیں شائع ہوئیں تو ان نظموں کو جدید شاعری میں ایک اضافہ تسلیم کیا گیا۔یہ نظمیں اپنے داستانوی اسلوب اور ہند+اسلامی تہذیب کے پس منظر کی وجہ سے خاصی مقبول بھی ہوئیں۔نظموں کی زبان غیر آرائشی ہے اور ان نظموں کی ایک خاصیت پیکر تراشی بھی ہے۔ پیکر تراشی کا عمل نظموں کے آغاز سے ہی جاری ہوجاتا ہے اور اختتام تک پہنچے پہنچتے بعض پیکر علامت اور بعض استعاروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ لہٰذا جب نظم ختم ہوتی ہے تو قاری ایک مانوس دنیا میں رہتے ہوئے بھی حیرت انگیز احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ ’پرانی بات ہے‘سیریز کی نظموں کے تعلق سے خود زبیر رضوی نے ایک بار کہا تھا کہ :’’میں شاعری کو ایک ایسا جھوٹ سمجھتا ہوں جس کے توسط سے سچ کو پایا جاتا ہے۔ میں نے ایسا کرتے ہوئے اس سارے سچ کو بھی اپنا ورثہ سمجھا جو مجھ سے پہلے کی گئی شاعری میں دمکتا چمکتا رہا تھا۔ میرے نزدیک اس کرۂ ارض پر انسان کا وجود سب سے بڑا عجوبہ اور کرشمہ ہے اس لیے میرا تعلق انسان کی جہاں بانی اور جہاں سازی اس کی آفاقیت اور بے پناہی ، اس کی سرشت اور رشتوں کی پیچیدگی کے عمل سے بڑا گہرا ہے۔ میں امروہے جیسے ایک قصبے سے سفر کرتا ہوا نوابی شہر حیدر آباد تک پہنچا تھا اور پھر دلّی میرے قیام کا آخری پڑاؤ بن گئی اور یوں شہر اور مدنیت کے تضاد، ٹکراؤ، انسان کا مشینی عمل اس کی مادیت پرستی اور زندگی کی آسائشوں کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے کو استعمال کرنے کی قوت کو میری تخلیقی فکر میں ایک بیکرانی ملی۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ مجھ میں وہ قدیم بھی کنڈلی مار کے بیٹھا رہا تھا جس کی جڑیں ہزاروں برسوں کی تاریخ و تہذیب میں پیوست تھیں۔ میرا یہ قدیم، ظلمت پسند نہیں تھا اس میں انسان کے لیے ایسی ہی برکتیں ، نعمتیں تھیں جو خود انسان نے اپنی گمراہیوں سے گنوا دیں۔ یہ تاریخی اور تہذیبی ملال میری نظموں کے سلسلے ’ پرانی بات ہے ‘ میں ایک حکائی شعری لہجہ بن کر ابھرا ہے ، مدنیت کے سلسلے میں میرے رویے کی بڑی واضح مثالیں میرے چوتھے شعری مجموعے ’دھوپ کا سائبان ‘ میں شامل ہیں۔ یہ میری آہنگ سے آزاد نظموں کا مجموعہ ہے اور اس وقت یہ ساری نظمیں کاغذ پر منتقل ہوتی چلی گئی تھیں جب ’ پرانی بات ہے ‘ جیسی پابند نظمیں لکھنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ اب جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ آہنگ سے ماورا اپنا تخلیقی اظہار چاہتا ہے۔ اس لیے ان نظموں کی ہیئت میرے ارادے سے کہیں زیادہ اپنے شعری اظہار کا تقاضا تھا۔ ‘‘
زبیر رضوی کی غزلوں میں ایک نوع کی تحیر خیزی نظر آتی ہے۔ بالکل سامنے کی باتوں کو غزل کا موضوع بنانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ جدید شعرا میں یہ وصف محمد علوی کا اختصاص ہے تاہم علوی کے شعروں میں موضوع کو برتتے ہوئے ایک طرح کی بذلہ سنجی (wit) نظر آتی ہے جبکہ زبیر صاحب کے یہاں witکے بجائے باوقار سنجیدگی کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:
کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے
تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں
پہلے مصرعے میں راشتہ اور دامن ، پھر الجھنے اور ٹوٹنے کی اور دوسرے مصرعے میں نکلنے اور بازار کی مناسبتوں کے لطف سے قطع نظر ایک کہنہ مضمون میں واقعہ نگاری کے اسلوب نے گویا جان ڈل دی ہے۔ یہ زبیر رضوی کا خاص رنگ ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا
ہماری راہ میں بس نقش پا ہمارا تھا
پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا
نہ جانے کون تھا جو سامنے سے گزرا تھا
میں اس محفل کی روشن ساعتوں کو چھوڑ کر گم ہوں
اب اتنی رات کو دروازہ اپنا کون کھولے گا
ادھر کھلی کوئی کھڑکی نہ کو ئی دروازہ
جہاں سے آگ کا منظر دکھائی دیتا ہے
فلابئیر نے کہا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ میں ان دنوں جو کچھ لکھ رہا ہوں اسے کبھی بھی مقبولیت حاصل نہ ہو گی لیکن میرے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ لکھنے والا خود اپنے لیے لکھے ، حسن آفرینی کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘ تخلیقی آزادی کی اساس یہی ہے کہ تخلیق کار شہرت و دولت کوموخر جانے اور سرشاری و حسن آفرینی کو مقدم۔ زبیر صاحب نے ہمیشہ تخلیقی آزادی کو غیر معمولی اہمیت دی اور ادب میں تنقید کی بالادستی ختم کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ظاہر ہے بغیر کسی جذباتی رشوت، سمجھوتے اور لالچ کے انھوں نے نہ صرف اپنا ادبی سفر جاری رکھا بلکہ کامیاب بھی ہوئے۔
آج زبیر رضوی کاہمارے در میان سے جانا اردو شاعری کے علاوہ اردو کی مجلاتی صحافت کا ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ یہ سوچ کر ہی دل سی پارہ ہورہا ہے کہ بڑی زبان کا زندہ رسالہ ’’ذہنِ جدید‘‘ اب پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ خیر زبیر صاحب ، خدا حافظ۔

—————————————————————-

Life of Shamsur Rahman Farooqui

Articles

شمس الرحمن فاروقی کے سوانحی حالات

ڈاکٹر رشید اشرف خان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنے یادگار’’مرثیۂ دہلی مرحوم‘‘ لکھتے وقت کہا تھا:
چپّے چپّے پہ ہے یاں ، گوہریکتا تہ خاک
دفن ہوگا نہ کہیں ، اتنا خزانہ ہرگز
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک نا بغۂ روزگار یا Geniusہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ عبقری ، نابغے اور جینیئس بنا نہیں کرتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور یہ کام دستِ مشیّت میں ہوتا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ قسمت ، حالات ، ماحول اور ذاتی کوشش کو بھی بڑی حد تک اس میں دخل ہے۔
موضع کوریا پار ، ضلع اعظم گڑھ ( موجودہ ضلع مئو) کا نام روشن کرنے والے ادیب، شاعر، دانشور،معلم ، ناقد، مترجم اور صحافی شمس الرحمن فاروقی اسی کوریا پار کے رہنے والے ہیں۔کوریا پار کی تاریخ فاروقی کے والدمحترم کے ان جملوں سے واضح ہوجا تی ہے:
’’کوریا پار کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک بزرگ جن کانام ’’ کوڑیا شاہ ‘‘ تھا انھیں کے نام سے یہ موضع کوڑیا پار کے نام سے مشہور ہوا۔ ان بزرگ کے بارے میں ایک تاریخی اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ چودھویں صدی کے آخر میں ۱۳۸۸ء میں جب فیروز شاہ تغلق کا انتقال ہواتو دہلی کی بد امنی اور طوائف الملوکی سے عاجز آکر وہاں کے مشائخ اور علما دہلی چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ چنانچہ ابراہیم لودھی کی تخت نشینی ہوئی تو بزرگ کوڑیا شاہ ، اعظم گڑھ پہنچے اور کوڑیا پار میں آباد ہوگئے ‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی کے آبا واجداد ہندوستان میں فاروقی شیوخ شیخ عبداللہ ابن حضرت عمر فاروق ابن خطّاب کی نسل سے ہیں ۔وہ سب کے سب امر با المعروف اور نہی عن المنکر کے اصول پر تا حیات سختی سے قائم رہے۔ ان کے اکابر حضرت شاہ مولانا اشرف علی تھانوی اور بعد میں ان کے خلیفۂ رشید حضرت شاہ مولانا وصی اللہ کے باقاعدہ مریدین میں سے تھے۔ تذکرہ علماے اعظم گڑھ (مولفہ مولانا حبیب الرحمان قاسمی) میں شمس الرحمن فاروقی کے دادا حکیم مولوی محمد اصغر صاحب کا ذکر خیر بڑے اچھے الفاظ میں ملتا ہے۔ دادیہالی بزرگوں میں مذہبی کٹّر پن تھا اور اس میں کسی قسم کا جھوٹ یا مصالحت کی کوئی گنجائش قطعی نہیں تھی۔اس کے برعکس نانہال میں مذہبی رواداری بھی تھی۔نانا مرحوم بھی پابند صوم وصلوۃ تھے لیکن میلاد کی محفلیںبڑے ذوق وشوق سے منعقد کراتے اور نذر و نیاز میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔فاروقی صاحب کی نانی ضلع بلیا کے ایک معروف گاؤں قاضی پور کی رہنے والی تھیں۔ اس پورے قاضی خاندان میں علوم دینیہ کی شان دار روایت برسوں سے چلی آرہی تھی۔ اپنے دادیہال اور نانیہال کا تعارف پیش کرتے ہوئے فاروقی لکھتے ہیں:
’’ میری نانی حضرت چراغ دہلوی کے خاندان کی تھیں اور ان کے گھر میں بھی علم کے ساتھ ساتھ مذہب کا چرچاتھا ۔ میرے دادا کا گھرانا حضرت مولانا تھانوی کا مرید تھا ۔ میرا نا نیہال تقریباََ سب کا سب حضرت مولانا احمد رضاخاں بریلوی کے حلقۂ ارادت میں تھا۔‘‘۲؎
فاروقی کے والد کانام مولوی خلیل الرحمن فاروقی تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں پیدا ہوئے اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ انہوں نے عربی فارسی پڑھی ، بی۔اے کیا، ایم۔اے سال اوّل کا امتحان دیا جس میں فیل ہوگئے۔ اس کے بعد ایل ۔ٹی کیا۔ ۱۹۳۹ء میں محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے اور سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ ڈپٹی انسپکٹر مدارس اسلامیہ بنادیے گئے جہاں سے ۱۹۷۰ء میں وظیفہ یاب ہوئے۔ انگریزی بہت اچھی جانتے تھے اور بے تکان لکھتے تھے لیکن انگریزی بولتے نہیں تھے۔ عام طور پر ان کالباس پتلون پر شیروانی یا کڑاکے کی سردیوں میں پتلون اور شیروانی پر بڑا کوٹ زیب تن کرتے تھے۔
ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد مولوی خلیل الرحمن فاروقی نے الہ آباد کے محلہ راجہ پور میں ایک عمارت ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے بنوائی ۔ عبادت وریا ضت اور تبلیغ دین کے لیے خود کو وقف کردیا ۔اپنی سوانح عمری (خود نوشت) ’’ قصص الجمیل فی سوانح الخلیل ‘‘ مرتب کی لیکن یہ کتاب شمس الرحمن فاروقی نے ۱۹۷۳ء میں چھپوائی کیو نکہ ۱۳فروری ۱۹۷۲ء کو ۶۲ سال کی عمر میں خلیل الرحمن فاروقی صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
۳۰ستمبر ۱۹۳۵ء کو کالا کانکر ہاؤس ، پرتاپ گڑھ (یوپی) میں شمس الرحمن فاروقی کی ولادت ہوئی جہاں ان کے نانا خان بہادر محمد نظیر صاحب اسپیشل منیجر کورٹ آف وارڈس تھے اور جس مکان میںان کا قیام تھا وہ مہاراجہ پرتاپ گڑھ کی کوٹھی تھی۔ان کی ولادت سے سارے خاندان میں بہت خوشی ہوئی۔ اس لیے کہ وہ دو لڑکیوں یعنی دوبہنوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔شمس الرحمن فاروقی کے کل سات بھائی اور دو بہنیں ہیں جن میں فاروقی بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔
غیر ضروری نہ ہوگا اگر ہم اس موقع پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ شمس الرحمن فاروقی کے نام کے سلسلے میں کیسے کیسے تماشے ہوئے ۔ دراصل فاروقی کے بڑے والد محمد عبداللہ فاروقی کے بڑے صاحب زادے شمس الہدیٰ المتخلص بہ قیسیؔ الفاروقی اس تماشے کا سبب تھے۔ فاروقی لکھتے ہیں:
’’ مجھے قیسیؔ الفاروقی میں الف لام کا دم چھلّا غیر ضروری اور بے جا تصنع لگتا تھا ۔لیکن قیسی ؔ الفاروقی نے میری ادبی زندگی کو بہر حال متا ثر کیا ۔ میں نے اپنا قلمی نام ’’ شمسی رحمانی اعظمی‘‘ اختیار کیا اس لیے کہ خلیل الرحمن اعظمی میرے ممتاز ہم وطن تھے ۔اور ’’ رحمانی‘‘ اس لیے کہ ان دنوں ’’ رحمانی ‘‘ نام والے کئی لکھنے والے معروف تھے۔اور ’’ شمسی ‘‘ اس لیے کہ یہ سب ملا کر ’’شمس الرحمن ‘‘کالازمی نتیجہ تھا ۔( میرے خیال میں) قیسی ؔ صاحب نے مجھے اعظمی ترک کرنے کی صلاح دی جو میں نے قبول کرلی۔ کچھ دن میرا نام ’’شمسی رحمانی ‘‘ ہی رہا ۔ پھر مجھے یہ مقفّیٰ نام اور لفظ’’ رحمن ‘‘ کا بگاڑ بہت برا لگنے لگا اور میں سیدھا سادہ شمس الرحمن فاروقی بن گیا۔‘‘۱؎
شمس الر حمن فاروقی نے اپنی تعلیم کی ابتدا روایت کے مطابق عربی وفارسی سے کی تھی۔ انھیں کوریا پار میں مولوی محمد شریف صاحب نے پڑھایا تھا۔اس کے بعد آپ اعظم گڑھ کے ایک مکتب میں داخل کردیے گئے اس مکتب کانا م باغ پر پیٹو تھا۔ یہاں انھیں دینی تعلیم دی گئی۔ نانیہالی رسم کے مطابق فاروقی کی تسمیہ خوانی ( رسم بسم اللہ) چار برس چار مہینے کی عمر میں ہوئی تھی اور دوسال بعد ناظرہ قرآن پاک ختم کر لیا تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد فاروقی کا داخلہ ویسلی ہائی اسکول اعظم گڑھ میں درجہ پنجم میںکرایا گیاجہا ں سے انھوں نے درجہ نہم تک کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۸ء میں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول گورکھپور میں داخل ہوئے اور۱۹۴۹ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے میاں صاحب جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھپور میں داخل ہوئے۔ یہاں خوش قسمتی سے انھیں بڑے لائق و فائق اور شفیق اساتذہ سے سابقہ ہوا۔ان کے سب سے زیادہ پسندیدہ استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم تھے جن کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’ انگریزی کے استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی اور تبحّر علمی اور پھر اچھے طالب علموں سے ان کی دلچسپی اور ان کی مسلسل ہمت افزائی کے ذریعے چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایئر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کو بھی انہوں نے ہمیشہ تحسین کی نگا ہوں سے دیکھا ۔ اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا ۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ لیکن باریک بینی سے مملوہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا‘‘۱؎
فاروقی کے دیگر اساتذہ میں مسٹر پی ، آئی کورئین( انگریزی) پرنسپل حامد علی خاں (انگریزی صرف و نحو کے استاد) اردو کے استاد منظور علی صاحب اور شمس الآفاق صاحب تھے۔
انٹر میڈیٹ پاس کرنے کے بعد فاروقی نے مہارانا پر تاپ کالج گورکھپور میں بی۔اے میں داخلہ لیاجہاں انہوں نے جغرافیہ، اقتصادیات اور مغربی فلسفے کی تاریخ پڑھی۔ کانٹ ، ہیگل اور افلاطون نیز فرائڈ وغیرہ سے واقفیت حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں بی۔اے کرنے کے بعد فاروقی انگریزی ادب میں ایم۔ اے کرنے کی غرض سے الہ آباد پہنچے۔ ۱۹۵۵ء کا سال فاروقی کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوا۔انھوں نے نہ صرف فرسٹ ڈیویژن میں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا بلکہ پوری یونی ورسٹی میں اول مقام کے حق دار پائے گئے اور بطور اعزاز انہیں دو گولڈ میڈل بھی ملے۔
الہ آباد میں فاروقی کے سب سے محبوب استاد پروفیسر ایس۔سی ۔دیب صاحب تھے (جو احتشام حسین ، محمد حسن عسکری اور سید اعجاز حسین کے بھی محبوب استاد رہے ہیں)جن کے بارے میں فاروقی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ دیب صاحب سے میںنے بہت کچھ سیکھا۔علی الخصوص یونانی المیہ نگاروں کی عظمت و وقعت اور کولرج کی باریک بینیاں مجھ پر دیب صاحب کے ذریعے منکشف ہوئیں ۔دیب صاحب کی تعلیم خاصی قدامت پرستا نہ تھی لیکن وہ بر انگیخت(Provoke (بہت کرتے تھے اس واسطے ان کے کلاس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات سننے کو مل جاتی تھی جو بعد میں ایک پورے نظام فکرمیںDevelopہوسکتی تھی‘‘ ۱؎
دیب صاحب کے علاوہ فاروقی کے بالواسطہ خاص استاد میں پروفیسر پی۔ ای دستور ، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن ، پروفیسر پی ۔سی گپت، پروفیسر وائی سہائے اور پروفیسر فراقؔ تھے۔فاروقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین ،پروفیسر سید احتشام حسین اور ڈاکٹر سید مسیح الزماں کو بھی اپنا استاد سمجھتا ہوں البتہ محمد حسن عسکری کو فاروقی بطور خاص عزیز رکھتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں فاروقی نے لکھا ہے :
’’ عسکری کو پڑھ کر میرے تو چھکے چھوٹ جاتے تھے کہ میں تو اتنا علم رکھتا ہی نہیں ہوں اور نہ اس طرح لکھ سکتا ہوںتو پھر میں تنقید کیا کرسکوں گا ؟ تو میں اس وقت سے عسکری صاحب کا قائل اور مداح ہوں ۔ ان کا عقیدت مند رہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میں ہر جگہ ان سے متفق نہیں ہوں مگر ان کا حلقہ بگوش تو یقینا ہوں۔‘‘۲؎
مذکورۂ بالا عظیم ہستیوں کے علاوہ جن کو فاروقی نے اپنا ذہنی رہنما مان لیا تھایا جن سے لاشعوری طور پر ان کی ادبی تخلیق و تحقیق کی راہیں روشن ہوئیں،میری مراد ان مفکرین و مصنفین سے ہے جن سے اوائل عمر ہی سے فاروقی نے استفادہ کیا ۔ کہیں براہ راست اس استفادے کا اعلان کیا اور کہیں ان کے خیا لات و نظریات کو اپنے دل ودماغ میں جذب کرکے ان کی وضاحت یا تنقید وتردید کی مثلاََ
1-Thomas Hardy, 2-Bertrand Russell, 3-A.C. Ward, 4-Andre Gid, 5-William Shakespeare,
تھامس ہارڈی (Thomas Hardy)کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں:
’’ بی۔ اے میں نام لکھایا ہی تھا کہ ہارڈی کے ناولوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ۔ ہارڈی کے نام سے تو میں مجنوں صاحب کے مختصر ناولوں(یا ہندوستانی رنگ اور اردو زبان میں ہارڈی کے بعض ناولوں کی تلخیص) کے ذریعہ آشنا ہوچکا تھا لیکن انگریزی میں پڑھنے کی نوبت نہیں آئی ۔ انگریزی میں اس کا ایک ناول پڑھا تھاکہ مجھ پر یہ بات بالکل عیاں ہوگئی کہ ہارڈی کے ناولوں کی تشکیک ،محزونی، دنیا میں انصاف اور نیکی کے فقدان کا احساس ، انسانی زندگی کے المیاتی ابعاد ۔ غرض کہ ہارڈی تھا کہ مجھے اپنی دنیا میں کھینچے لیے جارہا تھا‘‘ ۱؎
فاروقی اپنی افتاد مزاج اور کچھ اہل خانہ کی عملی تربیت کی بنا پر بہت ہی متین ، سنجیدہ اور بردبار انسان ثابت ہوئے ہیں۔ بچوں کے کھیل کود سے انھیں زیادہ دلچسپی نہیں بلکہ صاف ستھری اورپُر سکون زندگی زیادہ پسند ہے۔ وہ انتہائی با اصول ،پابند وقت اور وسیع المطالعہ شخص رہے ہیں۔مختلف موضوعات پر کتا بیں حاصل کرناانھیں پڑھنا اور جو کچھ پڑھا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ان کی فطرت ثانیہ رہی ہے۔
جن لوگوں نے شمس الرحمن فاروقی کو قریب سے دیکھا ہے یا جنھیں فاروقی سے مختلف حیثیتوں سے ملنے جلنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ باوجود خاموش طبع ، کم آمیز اور گوشہ نشین رہنے کے وہ بڑے زندہ دل ، ملنسار اور خوش مزاج انسان ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع اور متنوع ہے ۔ ڈاک خانہ کی شاندار ملازمت ،شب خون کی اشاعت ،اندرون وطن اور بیرون وطن کے اسفار نیز ان کی کتابوں ، تقریروں ، علمی وادبی لکچرز اور عظیم شخصیتوں سے میل ملاقات کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ قریبی اعزہ سے لے کر دور دراز رہنے والے صاحبان ذوق ان کے مداح اور قصیدہ خواں ہیں۔حد تو یہ ہے کہ کچھ حضرات ان کے نظریات یا ذاتی اسباب کی بنا پر ان کے مخالف بھی ہیں لیکن اپنے تئیں مصلحتاََ یا مجبوراََ ان کے دوست کہلانا پسند کرتے ہیں۔
راقم الحروف اس بات کا دعوے دار نہیںہے کہ وہ فاروقی کے سبھی دیرینہ اور موجودہ احباب سے واقف ہے کہ وہ ہر دوست کی کیفیت ِ مزاج اور مو صوف سے قربت کی نوعیت کا کما حقہ جائزہ لے سکے۔ ان کے بعض قریبی اعزہ کی زبانی نیز ان کی تصانیف اور رسائل کی مدد سے جو معلومات حاصل ہوسکی صرف ربط بیان کے لیے ان کا انتہائی اختصار کے ساتھ تذکرہ کرتا ہے۔اس ضمن میں لا شعوری طور پر اگر کوئی فروگذاشت واقع ہو تو ازراہ کرم آپ اسے راقم کی کم علمی پر محمول فرمائیں یا پھر اس امر کو ’’ دروغ برگردنِ راوی‘‘ کے خانے میں ڈال دیں۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے انگریزی ادب کا عمیق مطالعہ کرکے ۱۹۵۵ء میں الہ آباد یونی ورسٹی سے ایم۔ اے کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں نہ صرف یہ کہ کامیابی حاصل کی بلکہ ان کا نام Toppersمیں تھا ۔ اس یونی ورسٹی کے شعبۂ انگریزی کی غیر تحریری روایت رہی ہے کہ فرسٹ کلاس طالب علموں میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے امید وار کو شعبہ میں از خود لکچرشپ مل جایا کرتی تھی کیوں کہ اسے شعبہ کے لیے ایک طرۂ امتیاز سمجھاجاتا تھا ، لیکن برا ہو تنگ نظری ، عصبیت اور دھاندلی کا کہ اتنی شاندار لیاقت رکھنے اور میرٹ لسٹ میں آنے کے باوجود اس قاعدے قانون کو فراموش کرکے ساتویں اور آٹھویں پائیدان تک آنے والوں کو لکچر شپ دے دی گئی۔ ظاہر ہے کہ ارباب اقتدار کی اس حرکت مذبوحی کو دیکھ کر فاروقی کو سخت کوفت ہوئی لیکن وہ ایک با حوصلہ نوجوان تھے لہٰذا ہمت نہیں ہارے ۔ انہیں یہ حکیمانہ قول یا د تھا کہ’’ اگر کوئی تمھیں لیموں دے تو اسے فوراََ لیموں کے شربت میں بدل دو‘‘ ۔ان کا اسی سال ستیش چندرڈگری کالج یوپی میں بحیثیت لکچرر تقر ر ہوگیالیکن جب انھیں شبلی کالج ، اعظم گڑھ نے دعوت دی تو موصوف علامہ شبلی نعمانی سے منسوب اس کالج کی طرف بصد شوق مڑ گئے اور ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۸ء تک وہاں انگریزی پڑھاتے رہے۔
۱۹۵۸ء ہی کی بات ہے کہ فاروقی نے ہندوستان کے سب سے باوقار پیشے کے لیے مقابلہ جاتی امتحان آئی ۔اے۔ ایس) (I.A.S. میں شرکت کی اور خوش قسمتی سے پہلی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔انٹر ویو میں کامیابی کے بعد انھوں نے انڈین پوسٹل سروس جوائن کیا۔ ملازمت کے دوران وہ حکومت ہند کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے ۔مثلاََ:
۱۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، بہار (پٹنہ) ۲۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، اترپردیش (لکھنؤ) ۳۔ ڈپٹی ڈائرکٹر پوسٹل مٹیریلس ، پی اینڈ بورڈ (نئی دہلی)۴۔ جوائنٹ سکریٹری ، ڈیپارٹمنٹ آف نان کنونشل انرجی سورسس ہند (نئی دہلی)
اپنی عمر عزیز کے ۳۶ سال بلا تفریق مذہب وملت کمال فرض شناسی ودیانت داری کے ساتھ ملازمت سے ۳۱ جنوری ۱۹۹۴ء کو سبک دوش ہوئے۔جس زمانے میں فاروقی ملازمت میں تھے، ان کے مخلص دوست ڈاکٹر نیر مسعود لکھتے ہیں :
’’فاروقی کانپور میں تعینا ت تھے ایک دن لکھنؤ آئے کسی سخت الجھن میں مبتلا تھے کہنے لگے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ملازمت سے استعفٰی دے دوں۔ ان سے جب اس فیصلے کا سبب پوچھا تو بتایا کہ ان کے پی ۔ایم۔ جی صاحب ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔انہیں یہ خیال ہونے لگا ہے کہ فاروقی، محکمے میں مسلمانوں کو زیادہ بھرتی کر رہے ہیں۔میںنے پوچھا کیا یہ حقیقت ہے؟ ’’ہاں کسی حد تک‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ میرے کاموں میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ بالکل مجھ سے کلر کوں والا برتاؤ کرتے ہیں۔ دیر تک دل کا بخار نکالنے کے بعد واپس چلے گئے۔ اگلی بار آئے تو بہت خوش تھے۔ کہنے لگے۔ اس نے مجھے کلرک سمجھ لیا تھا تو میں نے بھی کلرکوں والی حرکتیں شروع کردیں ۔ اس کے ہر آرڈر میں طرح طرح کی قانونی قباحتیں نکال دیتا تھا اور باربار آرڈر میں تبدیلیاں کراتا تھا۔ عاجز آکر اس نے کہہ دیا ۔ مسٹر فاروقی ، آپ جو مناسب سمجھئے وہ کیجیے۔‘‘۱؎
۲۶ دسمبر ۱۹۵۵ء کوشمس الرحمن فاروقی کی شادی ضلع الہ آبا کے قصبہ پھول پور کے ایک زمیندار گھرانے میں سید عبد القادر کی بڑی لڑکی جمیلہ خاتون سے ہوئی ۔جمیلہ خاتون الہ آباد یونی ورسٹی کی ایک ہونہاراورذہین طالبہ تھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک باحوصلہ، ذمہ داراور خوش اخلاق خاتون بھی تھیں۔ وہ الہ آبا د کے حمیدیہ اور قدوائی گرلزکالج جیسے مؤقر ادارے کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔فاروقی کی دو لڑکیاں ہیں۔۱۔مہر افشاں، ۲۔ باراں رحمن
(۱) مہر افشاں (پیدائش ۱۹۵۷) ایم۔اے (تاریخ) ڈی فل ( تاریخ) اردو فارسی سے واقف ہیں ۔اردو فارسی سے انگریزی میں اور انگریزی سے اردو میں کئی تراجم کیے ہیں۔ پنسلوانیا یونی ورسٹی میں مہمان پروفیسر رہ چکی ہیں۔ ابتدائی تعلیم کونونٹ میں حاصل کی۔ پرائمری درجات سے ایم ۔اے تک اول درجے سے کامیابی حاصل کی۔ فی الحال امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی میں درس وتدریس کا کام انجام دے رہی ہیں۔
(۲) باراں رحمن ( پیدائش ۱۹۶۵ء) بی۔ایس سی ، ایم۔اے پی ایچ ڈی (انگریزی) اوراردو فارسی سے واقف ہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔
فاروقی کی شریک حیات محترمہ جمیلہ فاروقی جو حقیقی معنوں میں ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ اور ((Morale-Boosterدل بڑھانے والی خاتون تھیں ،اس دنیاے آب وگل میں تقریباََ ۵۲ برس تک ان کے ساتھ رہیں۔جمیلہ فاروقی اچانک بیمارپڑ گئیں۔خیال تھا کہ الہ آباد کے ڈاکٹر انھیںسنبھال لیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ انھیںدہلی کے مشہور بترا ہسپتال میں داخل کیا گیا،کئی ڈاکٹر شب وروز ان کی نگہداشت میں جی توڑ کوشش کر رہے تھے لیکن علالت ایسی تھی کہ کسی طرح افاقہ ممکن نہ تھا۔آخر طے پایا کہ بیگم فاروقی کو الہ آباد لایا جائے۔ مشیت ایزدی میں کیا چارہ ہے ۔آخر کار دہلی سے الہ آبا واپس لائی گئیں جہاں ۱۹؍اکتوبر ۲۰۰۷ء (بروز جمعہ) کو تمام اہل خانہ کو وہ داغِ مفارقت دے گئیں،جس کا اندازہ فاروقی کے ان اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

اس کو وداع کرکے ، میں بے قرار رویا
مانند ابر تیرہ ، زار و قطار رویا
طاقت کسی میں غم کے ، سہنے کی اب نہیں ہے
اک دل فگار اٹھا ، اک دل فگار رویا
اک گھر تمام گلشن ، پھر خاک کا بچھونا
میں گور سے لپٹ کر دیوانہ وار رویا
تجھ سے بچھڑ کے میں بھی اب خاک ہوگیا ہوں
تربت پہ تیری آکر ، میرا غبار رویا
٭٭٭
شمس الرحمن فاروقی کو ان کے چالیس سے زائد اردو انگریزی تصانیف اور کارناموں پر ہندوستان کی کم وبیش سبھی اکیڈمیوں اور ادبی اداروں نے انعامات سے سرفراز کیاہے۔علاوہ ازیں ان کی ادبی قدر قیمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بر صغیر کا سب سے بڑاادبی ایوارڈ’’سرسوتی سمان‘‘جو مالیت کے لحاظ سے بھی سب سے بڑاہے، شمس الرحمن فاروقی کو ’شعر شور انگیز‘‘ کے لیے ملا۔فاروقی اردو کے پہلے ادیب ہیں جنھیں سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔
شمس الرحمن فاروقی بنیادی طور پر ایک دانشور ہیں ۔ان کی عالمانہ تصانیف کو پڑھ کر نیز’’شب خون‘‘ جیسے معیاری رسالے کی ترتیب و تزئین کو دیکھ کر ہر کس وناکس اردو اور فارسی ادبیات پر ان کی گرفت کی تعریف کرتا ہے۔رسالہ’’شب خون ‘‘ جون ۲۰۰۵ء تک یعنی کم وبیش چالیس سال تک شائع ہوتا رہا۔اگرچہ اس میں بحیثیت مدیر ،پرنٹر اور پبلشر عقیلہ شاہین کا نام درج ہوتا تھا ، لیکن ترتیب و تہذیب کے ذمہ دار فاروقی تھے اور وہی دراصل پورے رسالے کی نگرانی کرتے تھے۔ ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد وہ از اول تا آخر اسے سجاتے سنوارتے تھے۔ تقریباََ ۸۰ صفحات پر مشتمل اس رسالے میںاعلیٰ درجہ کے طبع زاد نثری مضامین کے علاوہ مختلف زبانوں کے تراجم اور ادبی مباحث بھی ہوتے تھے۔ منظومات کے علاوہ چند مستقل عنوانات مثلاََ ’’سوانحی گوشے ‘‘،’’ کہتی ہے خدا خلق‘‘ا ور ابتدائیہ میں ادب عالیہ کا کوئی تعارفی مضمون ضرور ہوتا تھا۔ اس رسالے کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ نہ تو کوئی مضمون قسطوں میں چھپتاتھا اور نہ مختلف الگ الگ صفحات پر ۔ صحت کی خرابی اور دوسرے نا گزیر اسباب کی بنا پر فاروقی نے جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء میں دوجلدوں پر مشتمل آخری شمارہ نکال کر’’شب خون‘‘ بند کردیا۔
یہ بات تو اپنی جگہ بالکل طے ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک پیدائشی فنکار ہیں لہٰذا یہ ایک بدیہی امر ہے کہ مطالعۂ کتب ، مشاہدۂ کائنات،خامہ فرسائی ، علمی وادبی مباحث، نزدیک و دور کے اسفار،خطابت اور صحافت ہی ان کے میدان عمل یا کارگاہِ غور وفکر ہیں۔
شعر گوئی اور سخن فہمی فاروقی کو وراثتاََ اپنے بزرگوں سے ملی ہے۔لیکن ان کا کلام سنجیدہ مزاج اور فلسفیانہ خیالات رکھنے والے عالم ودانا سامعین و ناظرین میں نسبتاََ زیادہ مقبول ہے جس کا احساس خود فاروقی کو بھی ہے۔چنانچہ اپنے ایک شعری مجموعہ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’انگریزی زبان کے ایک معروف شاعر ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کے ایک دوست نے ان سے کہا کہ تمھاری شاعری اتنی مشکل ہے کہ اسے مشکل سے دولوگ سمجھ سکتے ہیں۔ ایلیٹ نے جواب دیا کہ میں انھیں دو لوگوں کے لیے لکھتا ہوں۔‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی اردو زبان کے ایک سچے عاشق بھی ہیں اور وکیل بھی۔اکثر اردو کے نادان دوست یا مخالفین مخلص یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اردو رسم الخط بدل دیا جائے تو یہ زبان اور ہردلعزیز ہو جائے گی ۔ فاروقی اس تجویز کے سخت خلاف ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ہماری زبان کی بدنصیبی ہی کہی جائے گی کہ اس کا رسم الخط بدلنے کی تجویزیں با ر با ر اٹھتی ہیں ، گویا رسم الخط نہ ہوا کوئی ایسا داغ بدنامی ہوا کہ اس سے جلد از جلد چھٹکارا پانابہت ضروری ہو۔کبھی اس کے لیے رومن رسم خط تجویز ہوتا ہے ، کبھی دیونا گری ۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ رسم خط میں تبدیلی کی بات کہنے والے اکثر خود اہل اردو ہی ہوتے ہیںجس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے ۲۰۰۵ء میں پروفیسر گیان چند جین کی بدنام زمانہ کتاب ’’ایک بھاشا، دو لکھاوٹ ،دو ادب ‘‘ کے عنوان سے شائع کی تھی ۔ ۳۰۰ صفحات سے کچھ اوپر ضخامت رکھنے والی اس کتاب میں جملہ ۱۴ ابواب ہیں ۔ فاروقی نے اس کتاب کے ایک ایک جزو پر خالص عالمانہ بحث کی ہے اور آنجہانی ڈاکٹر جین کے ایک ایک معاندانہ دعوے کی تردید کی ہے۔فاروقی کا یہ محاکمہ خالص منطقی استدلال پر مبنی ہے ورنہ موصوف یہ نہ لکھتے کہ:
ــ’’ یہ کتاب اردو ہندی تنازع پر نہیں ،بلکہ ہندو مسلم تنازع پر لکھی گئی ہے بلکہ ہندو مسلم افتراق کو ہوا دینے اور ابناے وطن کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے کے لیے لکھی ہے۔‘‘۱؎
پوری کتاب کا حرف بہ حرف تجزیہ کرنے کے بعد فاروقی نے اپنے تبصرے کا اختتام یوں کیا ہے:
’’ یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے شائع کی ہے۔ یہ ادارہ اردو اشاعت کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ اس کے مالک جمیل جالبی کے بھائی ہیں۔ وہی مشہور محقق اور ادبی مؤرخ جمیل جالبی جن کے معتقد ہمارے فاضل مصنف بھی ہیں اور جن کو انھوں نے اپنی کتاب ’’ اردو کی ادبی تاریخیں ‘‘ لکھ کر معنون کی ہے کہ جمیل جالبی ’’ادبی تاریخ کے سب سے اچھے اہل قلم ‘‘ ہیں ۔ حیرت ہے کہ اردوکے صریحاََ خلاف جھوٹ اور اغلاط اور تعصب سے بھری ہوئی یہ کتاب ایک اردو ادارہ سے کیسے اور کیوں شائع ہوئی‘‘ ۲؎
فاروقی کی ایک حیثیت مورخ اردو زبان وادب کی بھی ہے ۔ اس کا بین ثبوت ان کی تحریر کردہ کتاب ’’ اردو کا ابتدائی زمانہ، ادبی تہذیب وتاریخ کے پہلو‘‘ہے یہ کتاب جو دو سو صفحات پر مشتمل ہے اس کا پہلا ایڈیشن اجمل کمال نے ۱۹۹۹ء میں ’’آج کی کتابیں‘‘ نامی ادارہ واقع صدر ، کراچی پاکستان سے شائع کیا تھا ۔ یہی کتاب بہ زبان انگریزی آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس سے چھپ چکی ہے وہاں اس کی سرخی ہے:
Establishing New Facts about Urdu Language & Literature
Shamsur Rahman Faruqi’s
EARLY URDU LITERARY CULTURE AND HISTORY
Published by Oxford University Press
شمس الرحمن فاروقی نے اندرون ملک اور بیرون ملک کی متعددیونی ورسٹیوں اور جلسوںمیںشرکت کی جہاں انہوں نے مختلف ادبی موضوعات پرعالمانہ لکچر دیے اور جلسوں سے بھی خطاب کیا۔طوالت کی خاطر میں صرف بیرون ممالک کے اسفا ر کا سرسری جائزہ پیش کروںگا۔ شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بار ۱۹۸۷ء میں برطانیہ اور امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوںنے وسکالنسن یونی ورسٹی میں بین الاقوامی ادبی کانفرس میں شرکت کی اور شکاگو یونی ورسٹی میں لکچر دیے۔۱۹۸۰ء میں پاکستان کے شہر لاہور اور کراچی کے ادبی جلسوںسے خطاب کیا ۔۱۹۸۴ء میں امریکا اور کناڈا کا سفرکیا اورٹو رنٹو میں بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد برٹش کولمبیا یونی ورسٹی (وین کور) کیلی فورنیا یونی ورسٹی(برکلے) اور وسکالنسن یونی ورسٹی میں جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۴ء ہی میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کے SAARCکانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۵ء میں سوویت یونین ماسکو میں ہندوستانی سائنس نمائش میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔۱۹۸۶ء میں دوبارہ پاکستان کا سفر کیا اور اسلام آباد میں SAARC(دیہی توانائی) میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۶ء میں امریکا اور کناڈا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چھ امریکی شہروں میں ہندوستانی شاعری میلہ اور ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۷ء میں خلیجی ممالک دوحہ، قطر میں ہند پاک جلسوں میں شرکت کی۔۱۹۸۸ء میں برطانیہ اور امریکا گئے جہاں لندن کے ایک ادبی جلسے سے خطاب کیا علاوہ ازیں پنسلوانیا ، فلاڈلفیا اور کولمبیا یونی ورسٹی نیو یارک میں لکچر دیے۔۱۹۸۹ء میں خلیجی ممالک دوحہ ،قطرہندپاک جلسوں میںشرکت کی،واپسی میں کراچی کے ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۹ء میں پنسلوانیا یونی ورسٹی امریکا میں اردو ادب پر تقاریر کیں۔ ۱۹۹۰ء میں جدید اردو کلاسیکی ادب پر شکاگو میں لکچر دیے۔۱۹۹۳ء میں پنسلوانیا ، شکاگو اور کولمبیا یونی ورسٹیوں میں اپنے خطبات پیش کیے۔۱۹۹۳ء میں مغربی یورپ بلجیم اور ہالینڈ کا سفر کیا۔۱۹۹۳ء میں بنکاک،نیوزی لینڈ اور سنگاپور کا سفر کیا جہاں انہوں نے پوسٹل انتظامیہ کی دولت مشترکہ کانفرنس منعقدہ نیوزی لینڈ میں ہندوستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی اور ’’ آب ِحیات‘‘ کے انگریزی ترجمے میں بحیثیت مشیر ۱۹۹۳ء میں کولمبیا میں کام کیا اور کناڈا کے شہر ٹورنٹو میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا۔۱۹۹۵ء انگریزی ترجمے کے ماہر مشیرکی حیثیت سے کولمبیا میں کام کیا اور کیلیفورنیا ،برکلے اور کنکورڈیا کی یونی ورسٹیوں میں ادبی جلسوں میں خطاب کیا۔۱۹۹۵ء میں لندن اور بریڈ فورڈ میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا اور آکسفورڈ لائبریری میں نایاب کتابوں کا مطالعہ کیا۔ ۱۹۹۶ء میں عبرانی یونی ورسٹی یروشلم میں تین لکچر کلاسیکل اردو غزل کی شعریات پر دیے۔نومبر ۱۹۹۶ء میں فاروقی کو ہیبرو یونیورسٹی اسرائیل نے ’’ہندوستانی شعریات ‘‘ کے موضوع پر لکچر کی دعوت دی جس کا معاوضہ کافی خطیرتھا پھربھی فاروقی نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیا ۔ فاروقی نے اسرائیلی دعوت نامے کومسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ انسان دوستی کو نام ونمود اور اعزازات پر مقدم سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس عمل سے فلسطین کے ان مظلوموں اور ناداروں کی ایک طرح سے حمایت بھی کی جو صیہونی ظلم واستبداد کا آئے دن نشانہ بنتے ہیں۔
چونکہ اس تصنیف کا مقصد شمس الرحمن فاروقی کی فکشن نگاری عموماََ اور ان کے مشہور ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کا مطالعہ خصوصاََ پیش کرنا ہے۔لہٰذا گزشتہ چند صفحات میں ان کے سوانحی حالات اختصار کے ساتھ پیش کیے گئے ہیںتاہم اس نکتہ کو پیش نظررکھا گیا ہے کہ فاروقی کی پیدائش سے اب تک کی زندگی کا محاکمہ اس ترتیب سے کیا جائے کہ ان کی گھریلو ، علمی اور عملی زندگی کے وہ اہم واقعات وحالات ضبط تحریر میں آجائیںجو کہ ان کی پرورش و پرداخت اور ذہنی نشو ونمامیں اہمیت کے حامل ہیں۔ان کی شخصیت کے مطالعے کے بعد یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود انھوں نے اردوزبان و ادب پر جو اختصاص حاصل کیا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو سکا۔صرف اردو ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر اہم زبانوں اور ان کے ادب سے کما حقہ واقفیت فاروقی کو عبقری شخصیت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ انھیں ابتداے عمر ہی سے مطالعے کا شوق تھا۔رفتہ رفتہ یہ شوق ان کے مزاج اور شخصیت کا ایک دائمی جز بن گیا۔ انھوں نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ اپنی محنت وریا ضت کے دم پر کیا ۔ادب میں تحقیق، تنقید اور تخلیق غرض کہ ہر شعبے میں انہوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔
٭ ٭ ٭

 

Novel Kai Chand They Sa’ar E Asman

Articles

ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں کے تشکیلی عناصر

ڈاکٹر رشید اشرف خان

’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا تخلیق کردہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ناول نگار نے ہزاروں دریا سمو دیے ہیں ۔ اس شاہکار ادب پارے کو پڑھ کر اردو کے مشہور و معروف ادیب انتظار حسین نے فاروقی سے کہا تھا کہ’’ آپ آدمی ہیں کہ جن؟‘‘
یقینا مؤکل ، شمس الرحمن فاروقی کے تابع ہیں جن سے وہ جب چاہیں ، جیسا چاہیں کام لے لیتے ہیں۔ویسے تو اس ناول کی کہانی کو دراز تر کرنے میں درجنوں کردار ، مقامات ، واقعات اور حادثات سبھی شریک ہیں لیکن سب سے زیادہ نمایاں رول ، جگت استاد ، فصیح الملک نواب میرزا خاں داغ دہلوی کی والدۂ گرامی، وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم زہرہؔ دہلوی کا ہے۔ وزیر خانم کا نام زبان پر آتے ہی اردوکے معروف استاد شاعر ثمرؔ ہلّوری کا یہ شعر یاد آجاتا ہے:
ازل سے تا ابد ، نا محرمِ انجام ہے شاید
محبت ، اک مسلسل ابتدا کا نام ہے شاید
غیر ضروری نہ ہوگا کہ اگران عناصر پر بھی گفتگو کی جائے جن کے اشتراک سے ایک ناول کی تشکیل عمل میں آتی ہے ۔اسی مقصد کے تحت ذیل کی سطو ر میں ناول کے چند تخلیقی عناصر پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
زبانی بیانیہ
بیانیہ یاNarration ایک مخصوص انداز ہے جس سے اردو ادب کی نظم ونثر کی قرأت اور بلند خوانی دونوں میں مدد لی جاتی ہے:
’’ بیانیہ سے مراد صرف ناول یا وہ فکشن نہیں جس کے بنیادی نمونے ہنری فیلڈنگ اٹھارویں صدی اور ہنری جیمس نے انیسویں صدی میں قائم کیے۔ ناول یا فکشن ایک طرح کا بیانیہ ہے ،لیکن ناول کو بیانیہ کا واحد معیار یا واحد اصول ساز نہیں کہہ سکتے ۔ دوسرے الفاظ میں ، ہر بیانیہ کو ناول ،فکشن کے چوکھٹے میں رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیے‘‘۱؎
بیانیہ اور زبانی بیانیہ میں فرق ہے۔داستان میں ناول کے بر خلاف الگ ضوابط اور رسومیات ہوتے ہیں۔یعنی داستان کا مطالعہ آزادعلومیہFree disciplineکی حیثیت سے کیا جاتا ہے ۔شاید اس مخصوص disciplin کا نتیجہ تھا کہ جس زمانے میں ہمارے وطن اور بیرون وطن میں ناول کا بول بالا تھاتو ادب کے ماہرین نے بالاتفاق یہ مان لیا تھا کہ ناول کے ہوتے ہوئے کسی اور نثری بیانیہ کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے۔بہت سے اہل علم آج بھی داستان کو ناول کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔منظوم شکل میں جو داستا نیں لکھی گئیں یا قصہ خوانی کے دوران جو مثنویاں جوڑ دی گئیں انھیں ترنم سے یا گا کر پڑھا جاتا ہے اس کے برعکس ناول میں اگر اشعار نقل بھی کیے جاتے ہیںتو انھیں گاکر نہیں پڑھا جاتا۔جیسا کہ ’’کئی چاند تھے سرِآسماں ‘‘ میں اکثر مقامات پر ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جو زبانی بیانیہ کے ذیل میں آتے ہیں۔ مثلاََ جب ولیم فریزر کے قتل کے الزام میں نواب شمس الدین احمد خاں پر فردجرم عائد کرکے انگریزوں نے انھیں پھانسی دے دی تو وزیر خانم کی دنیا ہی اجڑ گئی ۔ وہ چپکے چپکے روتی اور دل ہی دل میں نوحے کے انداز میں یہ اشعار پڑھتی تھی:
شربتے از لب لعلش نہ چشیدیم و برفت
روئے مہ پیکراو سیر نہ دیدم و برفت
گوئی از صحبت مانیک بتنگ آمدہ بود
بار بربست و بہ گردش نہ رسیدیم و برفت
اسی طرح ایک مقام پر جب کریم خاں کی گرفتاری کے بعد دلا ورلملک نواب شمس الدین احمد خاں کو کمپنی بہادر کے افسران ،فیروزپور جھرکہ سے دہلی طلب کرنے کے لیے ایک خط روانہ کرتے ہیں۔خط کو پڑھ کر نواب شمس الدین خاں کی زندگی میں طوفان آجاتا ہے ۔وہ اندرون خانہ جاکر اپنی بیگمات اور بچوں سے ملتے ہیں ۔انھیں دلاسہ دیتے ہیں اور بادل ناخواستہ ایک ایک سے رخصت ہوتے ہیں۔شہر فیروز پور کے سبھی عوام وخواص گریہ وزاری کرکے انھیں الوداع کہتے ہیں اور روضہ خوان سیدنا امام حسن کے شہید فرزند حضرت قاسم کا یہ نوحہ پڑھتے ہیں:
آں دم عروس ہے ہے ، رو رو کہے زناں سوں
جاتے ہیں واہ ویلا تنہا ستم گراں سوں
ملنا جو پھر کہاں ہے ، وا حسرتا جہاں سوں
کرکے چلے اندھارا ، دن کو چو شام قاسم
مذکورۂ بالا نمونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں کہ اشعار گاکرہی پڑھے جائیںاگرچہ بعض حالات میں وہ ترنم سے خواندگی کے متقاضی محسوس ہوتے ہیں ۔اس سلسلہ میں ایک بات اور بھی قابل وضاحت ہے:
’’طویل یا مختصر بیانیہ نظموں کو گاکر یا پڑھ کر سنانے کا رواج مغرب میں بھی اتنا ہی مقبول اور اتنا ہی قدیم ہے ،جتنا مشرق میں۔ اور مغرب کی بعض عظیم ترین نظموں کی تنقید اسی وقت بامعنی قرار دی جاسکی جب اس نکتہ کو ملحوظ رکھا گیا۔ مثلاََ ہومرؔ کی ایلیڈ اور اوڈیسی اور ان کی طرح مشرقی نظموں مثلاََ مثنوی کے بھی عناصر یہی دو ہیں یعنی رزم اور بزم‘‘۱؎
داستان کو بیانیہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس کے سننے والے سامعین ہواکرتے ہیں۔اب تو خیر داستا نیں ، کتابی شکل میں یا فلم کے پردے پر آنے لگیں لیکن دور قدیم میںیہ سننے ہی کی چیز تھی البتہ ناول نویس سنانے کے لیے نہیں بلکہ پڑھوانے کے لیے لکھتا ہے۔دور حاضر میں بھلا کس میں اتنی صلاحیت ہے کہ فاروقی کے مذکورہ ناول کو حرف بہ حرف ازبر کرکے عوام کے مجمع میں سنا سکے۔یہ اور بات ہے کہ ناول نویس کے ذہن میں کچھ مفروضہ سامعین ہوں ،پر ضروری نہیں کہ وہ سامنے موجود ہوں۔
داستانی عناصر
ناول کے مصنف شمس الرحمن فاروقی ،قاری یا ناقد کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہ تصنیف کسی حیثیت سے داستان کے زمرے میں آتی ہے۔لیکن اس حقیقت سے کیسے انکار کردیا جائے کہ اس میں ’’داستانی عناصر‘‘ کا شائبہ بھی نہیں ہے۔فن داستان گوئی ، افسانہ نگاری اور ناول نویسی کے اختصاصی مبصر وقار عظیم کا یہ محاکمہ توجہ طلب ہے:
’’چھوٹی بڑی، سب داستانوں میں دلچسپی پیدا کرنے کاایک طریقہ تو یہ ہے کہ قصے کو جہاں تک ممکن ہو طول دیا جائے تاکہ پڑھنے والا زیادہ سے زیادہ عرصے تک حقیقت کی دنیا بھول کر ، رومان اور تخیل کی دنیا کی سیر کرے ۔کہانی کو طویل بنانے کے لیے ہمارے داستان نویسوں نے عموماََ یہ انداز اختیار کیا ہے کہ وہ اصل قصے کے ساتھ’’ ضمنی قصے‘‘ بڑھا کر پڑھنے والے کی توجہ اور انہماک کے لیے نئی نئی باتیں نکالتے رہتے ہیں‘‘۱؎
اس بیان کی روشنی میں اگر ہم جائزہ لیں تو کہانی کا مرکزی کردار الملقب بہ شوکت محل کی داستان حیات بیان کرتے وقت بنی ٹھنی، وسیم جعفر، تعلیم،مہاداجی سندھیا،مہاکالی وغیرہ کو اگرچہ اصل قصے میں انتہائی ہنر مندی سے جوڑ دیا گیا ہے لیکن بغور دیکھئے تو یہ سب چیزیں اضافی نظر آتی ہیں۔بنی ٹھنی کے حسن وجمال، اس کے اعضا وجوارح کی متناسب بناوٹ اور مہا راول گجندر پتی سنگھ مرزاکی چھوٹی جوان بیٹی من موہنی، عرف رادھا ،عرف بنی ٹھنی کی تصویر کشی فاروقی نے بہت تفصیل سے کی ہے۔
’’بنی ٹھنی‘‘ کی اس تفصیل کا داستانی عنصر یہ تھا کہ راجپوتانے کے علاقہ کشن گڑھ میں واقع گاؤں ’’ہندل پروا ‘‘ کے باشندے میاں مخصوص اللہ ایک شبیہ ساز تھے۔نہ جانے کس طرح انھیں یہ توفیق ہوئی کہ بے خیالی میں انھوں نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کی شبیہ بنادی۔ مخصوص اللہ اور ان کے گاؤں والوں کی شامت ہی تھی کہ بنی ٹھنی کے خد وخال مہاراول گجندر پتی مرزا کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے بالکل مل گئے۔مہاراول یہ سوچ کر آپے سے باہر ہوگیا کہ میری بیٹی کو کسی نا محرم نے دیکھ لیا اور اب میری جگ ہنسائی ہوگی ۔چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کو نہایت سفاکی سے قتل کردیا ۔مگر قدرت کے کھیل نیارے ہوتے ہیں ۔ مخصوص اللہ کے پرپوتے یوسف سادہ کار کے گھر میں وزیر خانم پیدا ہوگئی جو شکل وصورت میں بنی ٹھی کی ہم شکل یاTru-copy تھی۔اس قسم کے آوا گون۔دوسرے جنم یاRe-incarnation کے فارمولے کیا اس ناول کے داستانی عنصر کی غمازی نہیں کرتے؟داستانی عنصر کی ایک اور مثال بڑی دلچسپ ہے:
’’یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہر بیانیہ ماضی یا حال یا مستقبل میں واقع ہوتا ہے لیکن داستان کی صفت یہ ہے کہ اس میں مستقبل کی باتیں بسا اوقات پہلے ہی منکشف کردی جاتی ہیں۔مختصراََ یا مطولاََ ۔۔۔اور پھر سارے واقعات اپنے وقت پر دوبارہ بیان ہوتے ہیں۔تجسس کی وہ نوعیت باقی نہیں رہتی جو عام ناولاتی فکشن میں نظر آتی ہے‘‘۱؎
ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘کی ابتدا ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی، ماہر امراض چشم کی یاد داشتوں سے ہوتی ہے لیکن ایک مضحکہ خیز پہلو اس حوالے میں یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا وجود محض خیالی ہے۔ان کانام بھی مستعار ہے یعنی شمس الرحمن فاروقی کے والد مرحوم مولوی خلیل الرحمن اور دادا حکیم مولوی اصغر فاروقی کے ناموں کا مرکب ہے۔یہ التزام شاید فاروقی نے بڑی دوراندیشی سے کیا ہے اس سے موصوف کی ذہنی اپج اور درّاکی کا نمونہ سامنے آتا ہے۔
ڈرامائی پہلو
ڈراما ایک ایسی صنف ادب ہے جس میں منظر بدل جاتے ہیں ،مکالموں پر توجہ دی جاتی ہے، روشنی اور آواز کے اتار چڑھاؤ پر دھیان دیا جاتا ہے۔جذبات نگاری اور موسیقی کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔اگر موضوع تاریخی یا سماجی ہے تو زمان ومکاں اور ماحول، زبان، لہجہ ،کردار اور آغاز و اختتام پیش نظر رہتا ہے ۔اکثر خود کلامی ،طنز ومزاح یا لکچر بازی کا بھی التزام رہتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ بنیادی طور پر ایک ناول ہے جس میں بیک وقت داستان، ڈراما اور ناول سبھی رنگ نظر آتے ہیں۔ناول کے مطالعہ کے دوران ہمیں ڈرامائی پہلوؤ ں سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔پہلا ڈرامائی پہلو وہاں نظر آتا ہے جب لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر اور ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی پہلی تفصیلی ملاقات ہوتی ہے۔دونوں دریائے ٹمیز کے کنارے اتوار کو اس مقام پر ملتے ہیں جہاں پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔اسی طرح ناول کی ابتدا میں جب مخصو ص اللہ کی شبیہ سازی کی وجہ سے پورے گاؤ ں والوںکے سرپر موت کے بادل منڈلانے لگتے ہیںاوروہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ایک اور درد انگیز ڈرامائی موقع وہ بھی ہے جب صاحب عالم مرزا فتح الملک بہادر عرف مرز افخرو، ولی عہد سوم ایک مختصر سی علالت کے بعد انتقال کرجاتے ہیںاور چھوٹی بیگم (وزیر خانم) جنھیں مرزا فخرو کی بیگم بننے کے بعد شوکت محل کا خطاب ملا تھا بیوہ ہوجاتی ہیں تو مرزا فخرو کے چہلم کے تیسرے دن بعد ان کی سوتیلی ماں اور بہادر شاہ ظفر کی منظور نظر زینت محل وزیر خانم کو بلواکر کہتی ہیں:
’’ چھوٹی بیگم ،ہمیں تمھاری بیوگی پر بہت افسوس ہے لیکن تم تو ایسے سانحوں کی عادی ہوچکی ہو ۔ اسے بھی سہ جاؤگی‘‘۱؎
کافی دیر تک دونوں کی تلخ وتند گفتگو کے بعد زینت محل نے بڑی بے رحمی سے وزیر خانم کو قلعہ سے نکل جانے کا حکم صادر کردیا۔
تاریخی پس منظر
شمس الرحمن فاروقی نے ناول کے آخر میں یہ اعلان کیا ہے کہ:
’’یہ بات واضح کردوں کہ اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کاحتی الامکان مکمل اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھا رویں ، انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب ، انسانی اور تہذیبی وادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا‘‘۲؎
فاروقی کے اس اعلان کی تائید کرتے ہوئے اگر مان بھی لیتے ہیںکہ یہ ناول بنیادی طور پرتاریخی نہیںہے۔اس زاویہ نظر سے ہم اس کتاب سے چند نمایاںمثالیں پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح تاریخ لکھتے وقت مورخ قدیم تاریخی ماخذسے استفادہ کرتا ہے اور ہرپیچیدہ مسئلے کو دروغ بر گردن راوی کے فارمولے کے ذریعے قابل اعتماد ویقین بنا دیتاہے۔ اس طرح اگرچہ فاروقی نے اپنی کتاب پر تاریخیت کی مہر ثبت نہیں کی لیکن کتابیات کی سرخی کے تحت قریب قریب سبھی ایسی کتابوں کے حوالے دیے ہیں جن کے استناد میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ناول میں گزشتہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے واقعات کو زیادہ سے زیادہ جاندار اور پراثر بنانے کے لیے فاروقی نے روسی ناول کی تکنیک Docu-Fictionکا استعمال کیا ہے۔اس ضمن میںانھوں نے نہایت باریک بینی کے ساتھ انگریز افسران کی ذاتی ڈائریوں ، روزنامچوں اور خطوط کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے:
’’یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محقق فاروقی ، ناول نگار فاروقی کو پوری طرح کمک پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا اس میں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے دیکھتے ہیں‘‘۱؎
اس ناول کا اطلاق اگرچہ سو فیصد تاریخیت پر نہیں ہوتا لیکن اسی عنصر تاریخیت نے ناول میں دلکشی اور سنجیدگی پیدا کردی ہے ۔شاید اسی لیے مظہر جمیل نے لکھا ہے :
’’ناول میں جو تاریخی و نیم تاریخی مواد استعمال ہواہے اس کی حیثیت خواہ تحقیق کی رو سے بہت زیادہ مستند نہ ٹھہرتی ہولیکن طریق اظہار کے ذریعہ بیانیہ اپنا اعتماد قائم کرنے میں کا میاب رہا ہے کیونکہ اس سے ایک مانوس فضا اور التباس حقیقت کا مضبوط تاثر قائم ہوا ہے‘‘۲؎
کئی چاند تھے سرِآسماں کی ورق گردانی کرتے وقت کئی ایسی باتیں سامنے آتی ہیںجن کا تعلق اٹھا رویں اور انیسویں صدی کی تاریخ سے ہے اور جن کی صحت کا آسانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مثلاََحسیب اللہ قریشی عرف سلیم جعفر سچ مچ ایک مشہور ومعروف ادیب، نقاد اور عروضی تھے ۔انھوں نے نظیر اکبرآبادی کا ایک مبسوط انتخاب ’’گلزار نظیر‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔اسی سلسلے میں لاہور میں ۳۰؍جون ۱۷۹۲ء کو دو ہفتوں کے لیے مینا بازار لگا ۔مخصوص اللہ شبیہ ساز کے بیٹے یحییٰ بڈگامی کو اسی مینا بازار میں بصد اعزاز بلایا گیا تھا ،یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔اس ضمن میں یہ تاریخی واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد سے ایک بیٹا تھا جو آگے چل کر فصیح الملک نواب مرزاخاںداغؔ دہلوی کے نام سے مشہور ہوا ۔
مذہبی حوالے
جس طرح شاعری کی صنف مثنوی میں عمومی طورپر دو طرح کی مثنویاں ہوتی ہیں۔ رزمیہ اور بزمیہ۔ پھر آگے چل کر شاعراپنی شعوری جدت طرازیوں اور اختراع پردازیوںکے جوہر دکھانے کی کوشش کرتا ہے توکبھی مثنوی درس اخلاق کا صحیفہ بن جاتی ہے اور کبھی حسن وجمال کا مرقع ، کبھی سوانح اور آپ بیتی کا دفتر بن جاتی ہے اور کبھی داستانوں کا افسوں۔اکثر نمائش علم کا میدان قرار پاتی ہے اور کبھی عرفانیت اور روحانیت کی مبلغ۔ داستانوں میں با لخصوص مذہبی حوالوں اور تعلیمات کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں،جب کہ افسانہ اور ناولوں میں ان حوالوں کی گنجائش کم سے کم رہتی ہے۔قاری ذہنی تفریح اور جذباتی لطف کے لیے ناول پڑھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ ناول نگار کے انداز نگارش کا مزہ لینے کے لیے،عمدہ جاسوسی ناول علمی ترقی ، زبان وبیان کی چاشنی یا جذبۂ تحیر وتجسس کی تسکین کے لیے ایسے ناولوں کا مطالعہ کرتا ہے۔وقت گزاری اور منھ کا مزا بدلنے کے لیے بھی ناول پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ امر بڑا حیرت افزا ہے کہ فاروقی کا ناول گاگر میں ساگرAll in one کی بہترین مثال ہے۔اس میں تاریخ بھی ہے، تہذیبی پس منظر بھی ہے،مکالمے بھی ہیں،محبت بھی ہے نفرت بھی ہے، مکاریاں بھی ہیں ،شرافت و وضع داری بھی ہے، جنسیت بھی ہے نفسیاتی کیفیات بھی ہیں۔شاعری بھی اور فنون لطیفہ کی لطافت بھی ہے اوران سب سے بڑھ کر مذہبی حوالے بھی ہیں۔فاروقی لکھتے ہیں کہ:
’’ بڑی بیگم کو ایام صبا ہی سے اللہ رسول سے بے حد لگاؤ تھا۔ سات برس کے سن سے اس کی نماز قضا نہ ہوئی ،نو سال کی ہوئی توپابندی سے روزے رکھنے لگی ۔ کلام مجید کی کئی سورتیں، بہت سی حدیث پاک، قصص الا نبیا کے کتنے ہی اجزا ،سب اسے ازبر تھے۔پردے کی سخت پابند، کھیل تماشوں سے اسے کچھ لگاؤ نہ تھایہاں تک کہ بسنت کی بہار بھی نہ دیکھتی‘‘۱؎
جب ناول کے اسٹیج پر وزیر خانم نمودار ہوتی ہے تو بزرگوں کی روایت کے مطابق اسے اپنے والد محمد یوسف سادہ کار کے ہمراہ عرس مبارک کے ایام میں مہرولی شریف خواجہ قطب شاہ کی درگاہ فلک بارگاہ سے واپس آتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ محمدیوسف سادہ کار اور اس کے اہل خاندان مذہبی خیالات رکھتے تھے۔
فاروقی نے شعوری طور پر اس ناول میں مذہبی حوالوں کا التزام رکھا ہے۔فاروقیوں کا حوالہ بڑی چابکدستی سے داکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی دیا ہے اس سے وہ قارئین پر یہ راز آشکار کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ اعظم گڑھ(یا مئو) میں رہنے والے فاروقی (جس میں موصوف بھی حسن اتفاق شامل ہیں) ممکن ہے کہ ان کے آبا واجداد برہان پوری فاروقیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔
جب ۸؍اکتوبر ۱۸۳۵ ء بروز پنچ شنبہ ۸ بجے دن نواب شمس الدین خاں کوپھانسی دینے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔اس وقت کا ایک اندوہ گیں لیکن عجیب وغریب منظر دیکھئے:
’’تختۂ دار پر چڑھنے سے پہلے شمس الدین احمد نے کلمۂ توحید اور پھر کلمۂ شہادت پڑھا ۔انھوں نے جلادوں سے ان کی سرگوشی کے لہجہ میں ان کی ذات اور مذہب پوچھا۔جواب سن کر جو اسی طرح زیر لب دیا گیا تھا، نواب شمس الدین احمد نے آہستہ سے خود کلامی کے لہجہ میں کہا ۔اللہ جانے میرے ڈھیر کو مسلمان کے ہاتھ کی مٹی نصیب ہوگی کہ نہیں ۔اس لیے میں خود ہی اپنی مٹی کی دعا پڑھ لوں‘‘۱؎
اسی طرح آغا مرزا تراب علی رفاعی جب ہاتھیوں اور گھوڑوں کی خریداری کے لیے رام پور سے کافی دور سون پور (بہار)جاتے ہیں۔تب وزیر خانم اور راحت افزا دونوں باری باری آغا مرزا کو امام ضامن باندھتی ہیں۔آغا مرزا بھی اپنے بچوں کو دعائیں اورانھیں ’’اللہ کی امان‘‘ میں دے کر گھر سے نکل جاتے ہیں۔
اسی ناول میں ٹھگوں کے حوالے سے دیوی بھوانی ،کسّی اور بہت سے ایسے الفاظ و مصطلحات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان ٹھگوں کے نزدیک ایک سخت ظالمانہ عقیدہ اور مذہب ہے۔
سیاسی حالات
فاروقی کا تحریر کردہ ’’کئی چاندتھے سرِآسماں‘‘ ایک ایسا وسیع وعریض ناول ہے جو دیگر باتوں کے علاوہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں کار فرما سیاسی حالات کابھی بطور خاص احاطہ کرتا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی منظم ملک کی زندگی میں جہاں اور بہت سے عوامل کام کرتے ہیں وہاں سیاسی حالات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سات سمندر پار سے آئے ہوئے افرنگیوںنے کس طرح ہندوستان کو رفتہ رفتہ اپنا غلام بنا لیا۔’’سیاست افرنگ ‘‘کے عنوان سے علامہ اقبال نے محض چار مصرعوں میںبہت پتے کی بات کہی ہے:
تری حریف ہے یارب ، سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس۱؎
مذکورہ ناول ۱۸۵۶ء تک کے زمانے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔اپنی مقصد بر آوری کے لیے سب سے پہلے انگریز وں نے ہندوستان کی مختلف زبانیں سیکھیں۔عوام تو عوام،افسران بالا مثلاََگورنر جنرل، ریزیڈنٹ اور سفرا ،انگریز ہونے کے باوجود عمدہ ادبی فارسی میں گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ اشعار پڑھتے اور خطابت بھی کرتے تھے۔مثال کے طور پر جب جنرل لارڈ لیک نواب احمد بخش خاں شاہ عالم کی فوج میں شامل ہوئے تو ان کی قیمتی خدمات کے صلہ میں فیروز پور جھرکہ اور الور کے علاقے انھیں بطور انعام ملے تھے ۔ انھیں کی میواتی بیگم سے نواب شمس الدین احمد خاں تھے۔انگریزوں نے فارسی واردو میں خصوصی طور پر ایسا درک حاصل کرلیا تھا کہ غیر ملکی لہجہ ہونے کے باوجود وہ ان زبانوں سے بڑی حد تک بے تکلف ہوگئے تھے۔یہ مشق وہ کسی ادبی معیار کو قائم کرنے کے لیے کم اور سیاسی مقاصدکے حصول کے تحت زیادہ کرتے تھے۔مثال کے طور پرجب نواب یوسف علی خاں والیِ رام پور کی دعوت پر وزیر خانم انگریز ریزیڈنٹ ،ولیم فریزر کی کو ٹھی پر پہنچی اور دربان نے پکار کر وزیر خانم کی آمد کی خبر دی تو ولیم فریزر باہر آیا اور بولا:
’’ اہلاََ و سہلاََ۔ اے آمدنت باعث دل شادی ما۔
حضور نواب صاحب کلاں بہادر ، کنیزک شما و دعاگوئے شما
دیدہ ودل فرش راہ ، اندر تشریف لے چلیں‘‘
انگریزوں کی زبان دانی کی ایک بہترین مثال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب فریزر کی کوٹھی پر شعری نشست کے دوران فریزرنے مرزا غالبؔ سے کہا :
’’کہ میں نے فرنچ لیکور کا انتظام کیا لیکن شرط نئی غزل کی ہے ۔مرزا صاحب نے مسکراتے ہوئے بوتل کھولی اور کہا منھ میں تو پانی بھر اآرہا ہے لیکن اسے چندے کھلا چھوڑتا ہوں کہ ہوا خوردہ ہوجائے لیکن یہ شرابیں ایسی ہیں کہ سانس لینے کا تقاضا کرتی ہیں۔وللہ مرزا نوشہ ۔آپ کی انھیں باتوں پر تو ہم فدا ہیں۔ولیم فریزر ہنس کر بولا۔آداب مَے نوشی کوئی آپ سے سیکھے‘‘۱؎
ہندوستان میں اپنی ناپاک سیاسی تماشوں کی بساط بچھانے والے انگریز وںکی ایک مثال مرزا فخرو (جن کا پورا نام میرزا محمد سلطان فتح الملک شاہ بہادر عرف مرزا غلام فخرالدین عرف مرزا فخرو تھا)کے ساتھ تاریخی ساز باز ہے۔مرزا فخرو اور انگریز کے مابین یہ طے ہوا کہ اگر مرزا فخرو اپنے والد کے بعد حسب ذیل شرائط پوری کرتے ہیں تو انھیں ولی عہد نامزد کیا جائے گا:
’’ ۱۔ مرزا فخرو جب بھی گورنر سے ملیں تو برابری کے رشتے سے ملیں۔
۲۔ شاہی زمینوں کا بندوبست حکومت بر طانیہ کے ہاتھوں میں ہوگا۔
۳۔ سلاطین مغلیہ کو قلعۂ معلی میں رہنے کا حق نہ ہوگا۔
۴۔ ولی عہد بہادر کے لیے دوامی حکم ہے کہ وہ لال قلعہ خالی کرکے
قطب صاحب چلے جائیں۔‘‘۲؎
مرزا اسدللہ خاں غالب بھی اسی عہد کے ایک نمائندہ شاعر وادیب تھے۔وہ ایک بیدار مغز اور فیصلہ کن ذہن کے دور اندیش بھی تھے لیکن انسانی کمزوریاں اور کمیاں ان میں بھی تھیں۔وہ صرف خیالی دنیا میں رہنے والے محض شاعر بھی نہ تھے۔جیسا کہ خواجہ احمد فاروقی نے لکھا ہے کہ:
’’غالب ؔ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اب بچی کھچی فصل طاقت کا خاتمہ بہت قریب ہے۔چنانچہ غالبؔ نے اپنے مستقبل کو قلعۂ معلی کے نئے حکمرانوں سے وابستہ کرنے کی کوشش تیز کردی اور ملکۂ وکٹوریہ کی تعریف میں ایک قصیدہ فارسی میں لکھ کر لارڈ ایلن کے ذریعہ انگلینڈ روانہ کیا‘‘۱؎
اسی طرح ناول میں بھی انگریزوں کی سیاسی ریشہ دوانیاں اور ملکی نظام میں ان کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو مختلف کرداروں کو عمل اور رد عمل کے سبب پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔اس ناول کا بنیادی مقصد گرچہ ہندوستانی معاشرہ میں مقبول ہنداسلامی تہذیب کے گونا گوںمظاہر کو نمایاں کرنا ہے لیکن جس عہد کے واقعات کو ناول نگار نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہے ان میں ملک کی ہر لحظہ تبدیل ہوتی سیاسی بساط کی جھلکیاںبھی واضح نظر آتی ہیں۔اس طرح یہ ناول شمس الرحمن فاروقی کے پختہ سیاسی شعور اور سیاست وسماج کی وابستگی میں پوشیدہ اسرار جاننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ہندوستانی معاشرے کی جزئیات
تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ با مزہ و بے مزہ لذتوں کی ایسی حکایت بے پایاں ہے جس کی درازی کا کوئی اُور چھور نہیںہے۔جب بھی ایک قوم دوسری قوم سے ٹکراتی ہے تو دونوں اقوام میں شعوری و لا شعوری طور پر کچھ لین دین ہوتاہے۔اس لین دین کی نوعیتیں جدا گانہ ہو سکتی ہیںلیکن بہر صورت اس کے نتائج بڑے دور رس اور مستحکم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ زبان ، لباس ، روز مرہ کا رہن سہن ، معاش ،تعلیم،تجارت،ثقافت، سیاست اور تہذیب و تمدن میں واقع ہوتی ہے۔
فاروقی نے کسی نہ کسی حیثیت سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے حوالے سے آخری دور مغلیہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور عروج کی جزئیات کو بخوبی پیش کیا ہے :
’’تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ مغلوں کے زوال آمادہ دور میں اور اس کے بعد بھی اکبری بائی ایسی پیشہ وروں کی کیسی قدر ومنزلت تھی۔امیر وامرا اپنے بچوں کی تربیت دلانے کے لیے ان خواتین کے پاس بھیجا کرتے،یہ بچے یہاں آداب واخلاق سیکھتے ۔ملنے ملانے کے طور طریقوں کے علاوہ علم وادب میں بھی ہنر مندی پیدا کرتے،وزیر خانم کے بچپن کا ایک حصہ اپنی نانی کی رفاقت میں گزراتھا‘‘۱؎
اگرچہ انگریز ،صاحبان عالی شان بن کر انگلستان سے ہندوستان آئے تھے لیکن اپنی عیاریوں ، مکاریوں اور ہندوستانیوں کی فطری بزدلی ،آرام طلبی ،عیاشی ،آپسی رنجش اور بغض و حسد سے فائدہ اٹھا کر وہی غیر ملکی مداخلت کاررفتہ رفتہ ہمارے حاکم اور تقدیر ساز بن گئے۔بہ ظاہر اپنی حکمت عملی اور چالبازیوں سے کام لیتے ہوئے وہ ہمارے برسوں پرانے اور تاریخی سماج میں درانداز ہوگئے لیکن ان کے احساس برتری اور ہندوستانیوں کو ہر لحاظ سے کمتر اور بے وقوف سمجھنے کی فطرت میں قطعاََ فرق نہ آیا۔ہمارے ناول کی ہیروئن وزیر خانم اپنی ضد ، ناعاقبت اندیشی اور غلط جوش جوانی میں ایک انگریز افسر مارسٹن بلیک کے دام محبت میں گرفتا ر ہوگئی۔اہل خاندان کے سمجھانے بجھانے کے باوجود بغیر نکاح کیے اس انگریزسے منسلک ہوکر دہلی کو چھوڑ کر جے پو ر (راجپوتانہ) چلی گئی۔وہاں دونوں ’’زن و شو‘‘ کی طرح رہنے لگے۔ایک بیٹے اوربیٹی کی ماں بھی بن گئی۔لیکن مارسٹن بلیک کی انگریزیت میں ذرہ برابر فرق نہ آیا:
’’وزیر تو یہ دیکھتی تھی کہ مارسٹن بلیک کے گھر میںچوریاں بہت ہوتی تھیں۔مارسٹن بلیک ان چھوٹی موٹی چوریوں سے کسی بڑے مالی نقصان میںتو نہ آتالیکن الجھتا اور جھنجھلاتا بہت تھا۔وہ کبھی کبھی چڑ چڑا کے وزیر سے یہ بھی کہہ گزرتا تم ہندوستانی ہوتے بڑے چور اور بے ایمان ہو‘‘ ۱؎
جب انگریز ریزیڈنٹ دہلی،ولیم فریزر نے ایک مرتبہ اپنی کوٹھی میں ایک شعری نشست رکھی تھی اور نشست کا صدر نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔعرف مرزا نوشہ کو بنایاتو ان کے پہلو میں مظفرالدولہ ناصر الملک مرزا سیف الدین حیدرخاں بہادر کو بٹھایا۔ناصر الملک ، مبارز الدولہ مختارالملک نواب حسام الدین حیدر خاں بہادر کے بڑے بیٹے تھے۔مالک رام( ماہرِغالبیات) لکھتے ہیں:
’’ یہ بھی معلوم ہے کہ میرزا غالبؔ کے تعلقات نواب حسام الدین حیدر خاں کے خاندان سے نہایت ابتدائی زمانے سے تھے اور ان کے صاحب زادے ناظر حسین مرزا ان کے بچپن کے ہمجولی تھے اور یہ خاندان بھی کٹر شیعہ تھا۔اس لیے عین ممکن ہے کہ ان کے اثرات نے مجموعی طور پر مل کر میرزا کو بھی شیعیت کی طرف مائل کردیا ہو‘‘۲؎
فاروقی نے ناظر حسین مرزا کا نام نہیں لکھا لیکن بہر حال ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’میرزا غالب کو تشیع کی طرف مائل کرنے میں لڑکپن کی اس دوستی کو بہت دخل تھا‘‘
ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر خانم کے کردار میں بچپن ہی سے ایک قسم کا باغیانہ پن تھا۔یہ باغیانہ پن علامت ہے اس بات کی کہ اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی سے ہی ہندوستانی عورت میں یہ خصوصیت پیدا ہونی شروع ہو چکی تھی کہ وہ آزاد خیال ہو ،اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے اور اپنی تقدیر کو بنائے یا بگاڑے۔ ہوسکتا ہے یہ اثرانگریزی تعلیم اور انگریزوں کی صحبت کا بھی تھا۔دراصل اس کی سوچ میں تہذیبی بغاوت تھی۔وزیر خانم تو خیر اس ناول کا مرکزی کردار ہے لیکن اس سے منسلک دوسرے کرداروں کے آئینے میں بھی ہم اس عہد کے تہذیبی اور معاشرتی رویوں کو بہ آسانی سمجھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے معاشرہ میں عورت کا کیا مقام تھا۔
جزئیات نگاری کا ایک نمونہ اس وقت سامنے آتا ہے جب صاحب عالم و عالمیان مرزا فخرو بہادر ولی عہد سوم نے وزیر خانم کی تصویر دیکھ لی اور ان پر فریفتہ ہوکر انھوں نے سوچا کہ اپنے معزز دوست اور مشہور عالم شیخ امام بخش صہبائی کو بلا کر اس معاملہ میں پیغام رسانی کا وسیلہ بنائیں۔لہٰذا:
’’اگلی صبح کو مولوی صہبائی ابھی چاشت کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ صاحب عالم و عالمیان کا ایک چوبدار ایک کوزے میں ٹھنڈا دودھ اورایک کوری ہانڈی میں گرم گلاب جامنیںاور دوسری ہانڈی میںمال پُوے لے کر مولوی صاحب کے دروازے پر پہنچاکہ صاحب عالم نے ناشتہ بھجوایا ہے اور ارشاد فرمایاہے کہ مولانا صاحب حویلیِ مبارک میں صاحب عالم و عالمیان کے ایوان خاص میں تشریف لے آویں‘‘۱؎
زیر نظر ناول کے چند ابتدائی صفحات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس مقام پر پہنچتے ہیں جب بنی ٹھنی کی تصویر بنانے والا مخصو ص اللہ اپنے آبائی وطن سے شہر بدر ہونے کے بعد جب بارہ مولہ(کشمیر) پہنچتا ہے ۔وہ وہاں کی جنت نظیر وادیوں کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنے آبائی پیشہ شبیہ سازی کا ڈول ڈالنا چاہتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہـ:
’’وہ کشن گڑھ قلم کی مصوری کے لیے رنگ بنانا بھول گیا تھا۔اور کیسے نہ بھولتا ،ان اطراف میں نہ تو وہ جڑی بوٹیاں تھیں ، نہ وہ پتھر اور پانی ،نہ وہ کیڑے مکوڑے،اور سب سے بڑھ کر نہ وہ دیویوںجیسی قد آور اور سنہرے تامڑے رنگ کے ہاتھ پاؤں والی حسین لڑکیاںجن کے ہتھوڑے کی ایک ضرب سے لاجَورد یا زبرجَد کا بظاہرمٹ میلا ،ڈلا تین ٹکڑے ہوجاتا ۔ پھر بڑے پتھر کو وہ آہستہ آہستہ ہلکے پانی میں دیر تک اس طرح سے گھستی رہتیں کہ ان کا سقیم و عقیم حصہ گھس کر زائل ہوجاتا اور نیلے نافرمان والے رنگوں جیسی تتلی یا مصری اسکیرب جیسے فیروزی کیڑے کا رنگ نمایاں ہوجاتا۔کشمیر کی نازک انگلیوں اور لچک دار کلائیوں میں وہ صلابت نہ تھی ۔مخصوص اللہ نے کچھ دن لکڑی پر نقش ونگار بنانے کا کام کیا۔ اور حق یہ ہے کہ خوب کیا‘‘۱؎
ان تمام مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ناول نگاری کا ایک خاص اسلوب جزئیات کا حوالہ بھی ہوتا ہے ۔جزئیات کی مدد سے مصنف اپنے مافی الضمیر کو بھی بخوبی واضح کرسکتا ہے بلکہ وہ اسی کے ساتھ پلاٹ اور کرداروں کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافے کرسکتا ہے۔
سماجی اقدار اور دہلوی کلچر
ہر ملک ،ہر زمانہ اور ہر حالت کے مطابق ہی سماجی قدریں بنتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ہزار برس پہلے تشکیل شدہ سماجی قدریں آج بھی جوں کی توں برقرار رہیں۔مثال کے طور پر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران ہندوستان میں ہزاروں سماجی قدریں تھیں ان کے چند نمونے ہم کو زیر مطالعہ ناول میں جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔ہوسکتا ہے یہ قدریں اس زمانے میں سکۂ رائج الوقت ہو ں لیکن آج قابل مذمت یا قابل اعتنا نہ ہوں۔
جس زمانے کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اسی زمانے میں نوابین اور رؤساایک آدھ شادی اپنے ’’کفو‘‘ یا خاندان میں کرتے تھے اور بہت سی عورتوں کو بے نکاحی یا خانگی بنا کر رکھتے تھے۔اس زمانے میں یہ کوئی عیب نہ تھا۔شرفا اور امرا اپنے بچوں کو طوائفوں کے کوٹھے پر بھیجتے تھے تاکہ وہاں ادب ،تہذیب اور شائستگی کا سبق لیں۔
سماجی اقدار کی ایک بہترین مثال ہندو مسلم اتحاد تھا۔دیکھئے کہ پنڈت نند کشور کس طرح مسلمانوں میں شیر وشکرہیں ۔طہارت اور پاکیزگی کا کس قدر خیال کرتے ہیں۔زبان کا کوئی مذہب نہ تھا ۔مسلمان عربی فارسی کے ساتھ ساتھ سنسکرت ،ہندی،علم نجوم اور عربی بھی سیکھتے تھے۔شیعہ سنی میں شادیاں ہوتی تھیں اور میاں بیوی اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے۔مرزا غالبؔ کی بیگم (امراو ٔ بیگم) سنی تھیںاور وزیر خانم کے شوہر آغامرزا تراب علی رفاعی نے شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے اپنا نکاح پڑھوایا تھا۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں دہلوی کلچر کی چند مثالیں یہ ہیں کہ ہر ڈیوڑھی پر چوبدار ، لٹھیت ،برچھیت اور دربان ملازم ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی ملنے آتا تو وہ آنے والے کو روک کر آواز لگاتے ۔تب اسے اندر جانے کی اجازت ملتی تھی۔ہر گھر میں مامائیں، اصیلیں ،کنیزیں، باندیاں اور مختلف کاموں کے لیے ملازمائیں رکھی جاتی تھیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ سب اہتمام رئیسوں اور افسران کے گھروں میں ہوتے تھے۔
ملازم اپنے آقا ، خاتون خانہ اور مہمانوں کو بات بات میں تین سلام اور سات سلام کرتے اورخاص مہمانوں کو وہی جوتیاں پہناتے تھے۔مہانوں کی تواضع شربت ،پان ، عطر، گلاب اور بھنڈے(حقے) سے کی جاتی تھی۔جب کہیں سے کوئی ہرکارہ یا پیغامبر آتا تھا تو اسے انعام دیے بغیر واپس کرنا معیوب سمجھاجاتا تھا۔شب میں مالک یا مالکن سے شب بخیر اور صبح کو ’صبا حکم‘ خیر کہا جاتا تھا۔ خواتین بگھی یا نالکی میں آتی جاتی تھیں۔لیکن اب امرا و رؤسا کے یہاں بھی ایسا اہتمام نہیں کیا جاتا۔یہ تبدیلی بلا شبہ بدلتے وقت کا نا گزیر تقاضا ہے جسے نظر انداز کرکے یا اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پرانے طور طریقوں کے مطابق ہی زندگی بسر کرنے کو عقل مندی بہر حال نہیں کہا جاسکتا ۔لیکن یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ گزرے وقتوں کے طرز معاشرت سے مکمل طور پر عملی نہ سہی لیکن ذہنی وابستگی عصر حاضر کے سماجی ارتقا کی سچی تصویر مرتب کرنے میں معاون ہوتی ہے۔رسم ورواج میں تبدیلی ،انسانی روابط کی بدلتی نوعیت اور وسیع تناظر میں آداب معاشرت کا اختلاف اُسی طور پر بہتر سمجھا جاتا ہے جب تبدیلی کے با وصف انسانی قدروں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہو۔
یہ ناول جس عہد کے سماج کو پیش کرتا ہے اس میں اور موجودہ معاشرہ کی اقدار کا موازنہ مقصود نہیں لیکن فاروقی نے ناول میں بیان کردہ زمانے کی سماجی اقدار اور کلچر کی جزئیات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جسے پڑھنے کے بعد عہد حاضر کے سماج کی خوبیاں اور خامیاں از خود نمایاں ہوجاتی ہیں۔
فنون لطیفہ کے حوالے
فن لطیف یاFine Art اس ہنر مندی یا لیاقت خصوصی کو کہتے ہیںجس کا تعلق ہمارے نازک ترین احساسات اور شدید جذبات سے ہو ۔اس فن کی تشکیل میں ندرت، حیرت افروزی ، جمال آفرینی ، اکملیّت اور سکون دل ودماغ کی شمولیت لازمی اجزائے ترکیبی ہیں۔جہاں تک مجھے ذاتی طور پرعلم ہے کہ فاروقی ایک مستند اور صاحب دیوان شاعر ہیں۔ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر قبولیت عام حاصل کرچکے ہیں۔ممکن ہے کہ ان میں ’’لے‘‘ کا مادہ بھی ہولیکن موصوف اپنا کلام ترنم سے کبھی نہیں پڑھتے ۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حسِ موسیقی یاMusic Sense سے بڑی حد تک متصف ہیں۔
کئی چاند تھے سرِ آسماں کے متن کو ذہن میں رکھیں تو شمس الرحمن فاروقی ایک حقیقی عالم نظر آتے ہیں ۔قبائے دانشوری ان کے جسم پر پوری طرح جامہ زیبی کی قسم کھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔جہاں تک فنون لطیفہ کا تعلق ہے وہ کم وبیش سبھی سے گہری دلچسپی رکھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ان کا علم سرسری نہیں بلکہ گہرا ہے۔اس اجمالی بیان کی تفصیل یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ ناول کے آغاز ہی سے ان کے علوم کے نمونے سامنے آنے لگتے ہیں۔
اصل کہانی کے مقدمہ کے طور سب سے پہلے ہماری نظر مخصو ص اللہ کی طرف جاتی ہے جو مفلوک الحال انسان تھے لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں قوسِ قزحRainbowاور انگلیوں میں صبح اور چاندنی کی روشنیاں، بادلوں اور دھندلکوں کی سیا ہیاں ہیں۔مخصو ص اللہ جیسا کوئی لاجواب شبیہ ساز نہ تھا۔مگر جو کہتے ہیں نہ کہ’’ اے روشنیِ طبع تو بَرمَن بلا شدی! ‘‘یہی شبیہ سازی ،صرف مخصو ص اللہ کو کیا،پورے ہند ل پروا گاؤں کو لے ڈوبی۔
ہندل پروا سے ہجرت کرنے کے بعد مخصو ص اللہ بڈگام(کشمیر) میں سکونت اختیار کرتا ہے ۔ایک دن اچانک یا شیخ العالم ! کا نعرہ لگا کر وہ گھر سے غائب ہوجاتاہے۔ اس کی ملاقات بڈگام کی بڑی مسجد میں ایک ایسے خدا ترس ، رحم دل اور ماہر فن بزرگ سے ہوتی ہے جو قالین بافی(Carpet Weaving) کے استاد ہیں۔اس فن کو وہ تعلیم کے نام سے پکارتے ہیں۔آٹھ سال کی مدت میں شدید محنت و ریا ضت کے نتیجہ میں مخصو ص اللہ کشمیر کا سب سے بڑا تعلیم نگار مان لیا جاتا ہے۔اس وقت اس کی فن کاری کے نمونے ہندوستان کے علاوہ ایران و کاشان تک پہنچ چکے تھے۔
مخصو ص اللہ کے دونوں پوتے داؤد اور یعقوب بھی فن موسیقی میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ایک مشہور صاحب ثروت تاجر حبیب اللہ بٹ نے اپنے گھر میں منعقد ہونے والی محفل موسیقی میں شرکت کے لیے دونوں بھائیوں کو بحیثیت فن کار خصوصی طور پر مدعو کیا ۔محفل موسیقی کے آغاز کا نقشہ فاروقی نے کس طرح کھینچا ہے:
’’دونوں بھائیوں کے ہاتھ میں طاؤس، ایک ایک سنتور نواز،اور دف نواز دائیں اور بائیں۔ تین نوجوان سمر قندی سہ تار لیے ہوئے پیچھے کچھ الگ کھڑے ہوئے تھے۔سنتور نواز کے پیچھے ایک سنتور،اور ایک بزرگ نَے نواز نے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی نے ،لیکن بید کی نہیں پیتل کی۔طاؤس اور سہ تار کو ہم آہنگ کرنے کی مشقیں جاری تھیں ۔ دف نواز اور سنتورنواز ابھی خاموش تھے۔حبیب اللہ بٹ نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا ۔ حکم ہو تو محفل کا آغاز کیا جائے۔درایں اثنا سہ تاروں کی صدا میں سنتور کی گنگناہٹ شامل ہوکر بلند ہوئی۔ محمد داؤد نے راگ چاندنی کدارا میں الاپ شروع کیا۔یعقوب نے انترے سے استھائی میں قدم رکھا‘‘۱؎
مذکورۂ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخصو ص اللہ ،اس کا بیٹا محمد یحییٰ بڈگامی ، اور اس کے دونوں سپوت ہنر وارانہ ذہن اور جمالیاتی احساس رکھتے تھے۔شبیہ سازی ، قالین بافی اور علم موسیقی سے فطری رغبت میرے اس دعوے کی دلیل ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ناول کا بالا ستیعاب مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں فنون لطیفہ سے دلچسپی اور اس میں مہارت ِ تامّہ اس خاندان کے قریب قریب ہر فرد کی موروثی شناخت تھی۔آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ محمد یوسف جو یعقوب بڈگامی اور جمیلہ کا بیٹا تھا وہ بڑا ہوکر سادہ کار یعنی کپڑوں پر بیل بوٹے اور رنگ برنگے ڈیزائن بنانے والے ایک فن کار کے روپ میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ یوسف سادہ کار تک صرف مرد ہی اس خاندان میں فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن یوسف کی تینوں بیٹیاں (انوری خانم، عمدہ خانم اور وزیر خانم) بھی کسی حد تک آر ٹسٹک ذہن کی مالک تھیں یعنی اس شجرہ کی عورتوں میں بھی یہ اثر نفوذکرگیا۔بہت ممکن ہے کہ اپنی نانی ڈیرہ دارنی اکبری بائی فرخ آبادی کی تربیت اور ان کے گھریلوماحول کے زیر اثر یہ جمالیاتی احساس اور فنون لطیفہ کی طرف رجحان کارفرما ہوگیا ہو۔ عمدہ خانم ( منجھلی بیگم) طبیعت کی متین تھی ۔اکبری بائی کی صحبت میں رہ کر اسے نستعلیق گفتگو،بذلہ سنجی ، بات بات پر شعر خوانی ، بیگماتی رکھ رکھاؤ خوب آگئے تھے۔موزوں طبع تھی۔ خود شعر کہتی تھی ۔ ماہؔ تخلص تھا۔زمانے کے نئے سنگیت کی طرزوں ، خیال اور دادرا سے بھی خوب واقف تھی۔پیشے کے طور پر نہیں بلکہ شوق پورا کرنے کے لیے اس فن کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔وزیر خانم (چھوٹی بیگم) بچپن ہی سے نانی کے عشرت کدہ میں گھسی رہتی تھی۔ وہاں اس نے تھوڑا بہت گانا بجانا بھی ضرور سیکھ لیا تھا۔ گلا اس کا شروع ہی سے اچھا تھا۔ نانی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اسے بعض معمولی راگ راگنیاں بھی بخوبی یاد ہوگئی تھیں ۔یمن ، بسنت ، بہار ، باگیسری پھر بہت کچھ دادرا۔ کھتریوں اور چرواہوں کی دھنیں جیسے چیتی ، بنارسی ، ٹھمری وغیرہ۔
فنون لطیفہ کا ایک نادرو نایاب نمونہ اس وقت سامنے آتاہے جب ڈاکٹر وسیم جعفر نے اپنے انتقال سے پہلے ایک لفافہ اور کوئی پچاس اوراق پر مشتمل ایک کتاب ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کے لیے چھوڑی تھی ۔کتاب کوئی جنّاتی کارخانہ معلوم ہوتی تھی۔ اس میں سے طرح طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔
پلاٹ
پلاٹ کو ترتیب ماجرا بھی کہتے ہیں۔قصہ گوئی میں خواہ وہ افسانہ ہو یا ناول ، پلاٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔پلاٹ کی عدم موجودگی میں افسانے یا ناول کی تخلیق کرنے کا امر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔عہد حاضر میں بہت سے افسانہ نویسوں اور ناول نگاروںنے محض جدت اور ذہانت کے زعم میں بغیر پلاٹ کے بھی کہا نیاں لکھی ہیںاور داد وتحسین بھی حاصل کی ہے لیکن سچ پوچھئے تو یہ صرف جدت برائے جدت اور داد برائے داد ہے،نہ تو ہر کس وناکس بغیر پلاٹ کے کہانی لکھ سکتا ہے اور نہ ہی ہر شخص کی سمجھ میں یہ کہانی آسکتی ہے۔پروفیسر وقار عظیم نے لکھا ہے کہ:
’’ پلاٹ، واقعات یا تاثرات کو ایک فنی ترتیب دیتا ہے۔اسی فنی ترتیب میںقصہ کی ابتدااور انجام کے درمیان ایک منطقی ربط کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ قصہ میں وحدت تا ثر قائم رہے‘‘۱؎
سب سے پہلے پلاٹ کی تعریف اور وضاحت کرتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسے پہلے پہل زمانۂ قدیم میں یونانیوں نے اتنی اہمیت دی تھی چنانچہ ارسطو نے اپنی عالم گیر شہرت یافتہ کتاب بو طیقا میں ڈراما کے اہم ترین اجزائے ترکیبی میں شمار کیا تھا ،اس کے نزدیک پلاٹ المیہ ڈرامے کی جان تھا ۔آگے چل کر یہ طے پایا گیا کہ کم ازکم ناول میں ضروری نہیں کہ مکھی پر مکھی بٹھا دی جائے یا ٹی وی سیریل کی طرح کڑی سے کڑی ملائی جائے۔اس اصول کے تحت جب آپ’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کا فنی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ ناول کا مقصد نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی کی والدہ وزیر خانم کو مستقل طور پر محل اصلی یاFocusمیں رکھنا ہے اس کے باوجودناول میں تجارتی وقفے نہ سہی ادبی وقفے ضرور موجود ہیں اس سے یک رنگی ویک نوائی (Monotony) سے قاری کو بڑی حد تک نجات حاصل ہوتی ہے ۔یہ زمانۂ موجودہ میں ریڈیو اور ٹی وی کی جدید ترین تکنیک ہے۔
مثال کے طور پر پہلے تو ہم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی ماہر امراض چشم سے ملاقات کرتے ہیں۔موصوف کے لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر ،پی،ایچ ڈی ۔ ایف آر ایچ ایس وغیرہ سے مل کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے کسی آنے والے ڈرامے کا کتنا شاندار ابتدائیہ کیا ہے۔ہمارا تجسس وہیں سے شروع ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر وسیم جعفر کی پردادی، وزیرخانم کون تھیں اور کیسی تھیں؟
اصل کہانی کا آغاز محمد یوسف سادہ کار کے بیان سے ہوتا ہے۔وہ اپنے اصل وطن اور بزرگوں کا مختصراََ تعارف کراتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آبا واجداد کس لیے وطن سے ہجرت کرکے راجپوتانے سے بارہ مولہ (کشمیر) جابسے؟ اس بیان کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد اور متفرق واقعات سامنے آتے ہیں جن کا بظاہر ایک دوسرے سے کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا لیکن دو باتیں ایسی ہیں جو ہمارے تجسس اور دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہر واقعہ اپنے مقام پر مکمل ہے دوسرے وزیر خانم ایک زیریں لہر کی طرح اس دریا ئے واقعات میں ہر جگہ موجود ہے۔بالآخر ہم مارسٹن بلیک تک پہنچتے ہیں جہاں سے قصہ بڑی حد تک سلسلہ وار بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پنڈت نند کشور، راحت افزا،بھرمارو،کسّی،مہاکالی وغیرہ کہانی کاجز ہوتے ہوئے بھی کہانی سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔
تکنیکی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ناول کا پلاٹ سادہ بھی ہے اور پیچیدہ بھی لیکن غیر منظم ہرگز نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس میں یقینی طور پر وحدت تاثر کی کیفیت پائی جاتی ہے جو بہرحال ایک نیم تہذیبی، نیم تاریخی اور رومانی ناول کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
کردار نگاری
پلاٹ کی تعمیر میں کردار کا بہت اہم رول ہوتا ہے ۔کرداروں کاتعارف قرین مصلحت ہم آپ سے اس مقالے کے آغاز میں کراچکے ہیںجہاں موجودہ ناول میں بکھرے ہوئے متعدد افراد کے جغرافیائی وجود کو پیش کرتے ہوئے ان کی اہم حرکات و سکنات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لیکن ناول کے تشکیلی عناصر پر گفتگو کے دوران مناسب ہے کہ کردار نگاری پر بھی مختصراََ اظہار خیال کیا جائے۔اس ضمن میں جو سب سے اہم اور بنیادی بات ہے وہ یہ کہ ناول نگار نے گو کہ بیشتر کردار ایسے منتخب کیے ہیں جو کہ ہندوستان کی سیاسی، ادبی اور ثقافتی تاریخ میں ایک علاحدہ شناخت رکھتے ہیں لیکن شمس الرحمن فاروقی نے ان کی پیش کش میں ناول نگاری کے فن کو ملحوظ رکھا ہے۔ناول کے مرکزی اور ضمنی کرداروں کی نفسیاتی کشمکش اور ذہنی و جذباتی رویہ کی عکاسی اس انداز میں کی گئی ہے کہ وہ کسی ضابطہ بند ارتقائی عمل سے نہ گزرتے ہوئے اپنے عہد اور زمانے سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنی ذات سے اپنے عہد کے سماج کو متاثربھی کرتے ہیں۔بلاشبہ وزیر خانم کا کردار ایسا کردار ہے جسے اردو ناول نگاری کی تاریخ کے چند اہم کرداروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ناول کے اس مرکزی کردار کے علاوہ دیگر کردار بھی اپنے عہد کی تہذیب و معاشرت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسا منظر نامہ مرتب کرتے ہیں جو ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم دور تسلیم کیا جاتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ میں فاروقی نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کی دہلی کی تہذیبی ، معاشرتی اور انسانی زندگی کے ہر پہلوکو اس کے تما م تر جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے اس کی سب بڑی مثال وزیر خانم کا جیتا جاگتا کردار ہے۔وزیر خانم کا کردار ناول نگا ر کی حقیقت پسندی اور آزمودہ کار ہونے کی بھر پور دلالت کرتا ہے۔وزیر خانم کے اندر بچپن ہی سے مذہبی بغاوت کا جذبہ تھا۔ علم وآگہی کے ساتھ ساتھ سلجھاہوا ادبی ذوق بھی رکھتی تھی۔اس کے باوجود بھی اس کے مزاج میں شو خی اوربے باکی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔غالباََ اس کی وجہ اس کی نانی اکبری بائی کی صحبت کا اثر تھا ۔یوں سمجھئے کہ وہ انیسویں صدی کی ترقی پسند تھی۔ بالآخر یہی ترقی پسندی ، شوخی اور بے باکی اس کی زندگی کی تباہی کا سبب تھی۔
مارسٹن بلیک، بھلے ہی وزیر خانم کی رضامندی سے اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا اور وہ اس کے ساتھ جے پور میں بڑی شادمانی سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔مارسٹن بلیک کوایک ہندوستانی بیوی سے دوبچے بھی پیدا ہوئے اس کے باوجودبھی اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ہندوستانیوں کے خلاف نفرت کی جگہ تھی اور یہ نفرت کسی حد تک وزیرخانم کے لیے بھی تھی۔
انگریز ریزیڈنٹ ولیم فریزر کا کردا ر یک رخا کردار ہے ۔وہ اپنی مطلق العنانیت اور بربریت کے لیے مشہور تھا۔دیگر ہندوستانی عورتوں کی طرح وزیر خانم کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ فریزر کی کوٹھی پر شعر ی نشست کے دوران عورت ذات کی چھٹی حس نے وزیرخانم کو اشارہ دے دیا تھا کہ ولیم فریزر محض اپنی بدنظری اور بد چلنی کی خاطر وزیر خانم پر بری نگاہ ڈال چکا تھاتو دوسری طرف نواب شمس الدین احمد خاں جن کے چہرے سے امارت کی رعونت اور تجربے کی پختگی کے آثار نمایاں تھے ،وزیر خانم کے حسن وجمال پر فریفتہ ہو گئے۔ خود وزیر خانم بھی نواب شمس الدین کو اپنے دل میں بسانے کا خواب دیکھنے لگی۔
مذکورہ ناول میں نواب شمس الدین احمد خاں والیِ فیروز پور جھرکہ اور لوہارو کاکردار خودداری،نیکی،شرافت ، انسانیت اور ہندوستانی تہذیب کی خاطر خواہ نمائندگی کرتاہے علاوہ ازیںبائی جی، پنڈت نند کشور،مرزاغالبؔ،امام بخش صہبائی،ذوق ؔ دہلوی ،حکیم احسن اللہ خاں ،مرزا داغؔ،کریم خاں ، انیامیواتی،حبیبہ اور راحت افزاکا شمار گرچہ ثانوی،ضمنی اور اضافی کرداروں میں ہوتا ہے لیکن ان کرداروں کی پیش کش کوفاروقی نے نہایت چابکدستی سے برتاہے کہ یہ ناول کا اہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ڈاکٹر محمد یٰسین لکھتے ہیں:
’’ناول نگاری میں واقعات اور کرداروں کو نمایاں کرنے کے لیے،واقعیت کے ساتھ حسین دروغ گوئی کا بھی سہارا لیا جاتاہے‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی نے اس شاہکار ناول میں شاید ہی کہیں ’حسین دروغ گوئی‘ کے حربے سے کام لیاہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاروقی نے زیب داستاں کے لیے ابتدا میں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی (ماہر امراض چشم)کی نام نہاد یاد داشتوں کا سہارا لے کر انھوں نے خود اس غائب راوی اور وسیم جعفر کی تشریح کردی ہے۔رہ گیا اس ناول کا اصل متن تو بلاخوف وتردید کہا جاسکتا ہے کہ اس میں تاریخی حقائق کم سے کم ہیں تو حسین دروغ گوئی کی آمیزش بھی خال خال ہے۔اس ناول کو جہاں تک میں نے سمجھا ہے اور بہت حد تک ممکن ہے کہ اس میں منظر کشی اور مبالغہ آرائی کی بہتات ہے مگر کسی بھی طرح ناول یا اس کے فن پر گراں نہیں گزرتا۔
جان دار منظر نگاری
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو جام ِ جہاں نما کی طرح ہر قسم کی معلومات سے لبریز ہے ۔اسے کثیر الابعاد شیشے Prismکی طرح جیسے جیسے گھماتے جاؤ نئی نئی شکلیں نظر آئیں گی۔ناول کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس ناول کے خالق شمس الرحمن فاروقی محض ایک فکشن نگار ہی نہیں بلکہ وہ عالم گیر شہرت کے مالک ایک شاعر ، صحافی،ادبی نقاد اور دانشور بھی ہیں۔موصوف نے حقیقی معنوں میں دنیا دیکھی ہے شاید یہی سبب ہے کہ فاروقی کو ہر قسم کی منظر نگاری میں ید طولیٰ حاصل ہے۔پہلے ہم نے ان کے مختصرافسانوں میں لاجواب منظر نگاری کے خوبصورت نمونے دیکھے اور اب یہ ضخیم لیکن دلچسپ ناول ایک بڑا کینوس لے کر سامنے آتا ہے۔طوالت کی خاطر جاندار منظر نگاری کی صرف دومثالیں پیش کی جاتی ہیں۔پہلی مثال یہ ہے کہ جب کشن گڑھ (راجپوتانہ) کے گاؤں’’ ہندل پروا‘‘ کے مشہور شبیہ ساز مخصوص اللہ نے ’’بنی ٹھنی ‘‘ کی تصویر بنائی تھی جس کی وجہ سے پورے گاؤں پر مہاراول گجندر پتی سنگھ مرزا کا قہر نازل ہوا ۔ بہر حال فاروقی نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے:
’’چودہ ۔پندرہ برس کی لڑکی ۔سنگ سیاہ کی ایک شکستہ سی چوکی پر یوں بیٹھی ہوئی گویا اب اٹھے گی تو پوری جوان ہی اٹھے گی۔بھر پور جوانی اس کے عضو عضو پر دستک دے رہی تھی۔لہنگا ذرا ڈھیلا اور لمبا،لیکن گلاب کی کلی سے نازک تر ٹخنے اور گلاب کی پنکھڑی سے بھی لطیف ،گلابی لیکن زندہ پھڑکتے ہوئے رنگ کے پاؤں تھوڑے تھوڑے جھلک رہے تھے۔ایک تلوے پر ہلکا سا داغ۔ خدا معلوم تل تھا یا باغ کی کوئی پتی پاؤں کے صدقے ہوکر رہ گئی تھی۔گردن اسی طرح ایک طرف خم ۔صورت ویسی ہی نیم رخ ،لباس شوخ او ر بھڑ کیلانہیں بلکہ سفید اور گلابی اور زعفرانی،لیکن تینوں رنگ اس طرح سے بول رہے تھے کہ تصویر تھر تھراتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔گردن میں صرف ایک سادہ سونے کا ہارجس میں گوریا کے انڈے کے برابرایک انتہائی صفائی سے بیضوی کاٹے ہوئے یاقوت انجم کا آویز،کلائیوں میں صرف ایک ایک گھڑیالی کڑا۔ٹھنڈی پہاڑی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں خوش مزاجی اور الھڑپن اور نخوت کاامتزاج۔چہرے پرواضح مسکراہٹ نہیں توکوئی تشویس بھی نہیں،ایک خاموش تمکنت،خود پر کامل اعتماداور دنیا کے ہر خوف سے بیگانہ،مطمئن انداز نشست۔‘‘۱؎
فاروقی کی لاجواب منظر نگاری کا دوسرا نمونہ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کی صدارت میں ولیم فریزر کی کوٹھی پرشعری نشست کے بعد نواب شمس الدین احمد خاں نے وزیر خانم سے ملنے کی پیش کش کی جسے وزیر خانم نے دل وجان سے قبول کیا۔اس کے کچھ دنوں بعد نواب شمس الدین کی دعوت پر وزیر خانم خود ان کے گھر تشریف لے جاتی ہیں ۔وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد خاں کی غالباََ یہ تیسری ملاقات تھی۔اس دن وزیرخانم پوری تیاری کے ساتھ نواب شمس الدین احمد کے یہاں جاتی ہیں:
’’وزیر خانم نے اس دن ترکی وضع کے کپڑے پہنے تھے۔پاؤں میں آسماں رنگ کاشانی مخمل اور پوست آہو کی نکے دار شیرازی جوتیاں ، بہت پتلی ایڑی اور لمبی ڈور ، دیوار بالکل نہ تھی ،ایڑیاں کھلی ہوئی تھیں ۔ جوتیوں کی نوکیں بھی شکر خورے کی چونچ کی طرح بہت لمبی اور اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور ان کے سرے پر جنگلی مرغے کے سرخ بیر بہوٹی جیسے پَر کے طرّے تھے۔جوتیوں کے حاشیوں پر باریک بیل تھی جس میں سفید اور سنہرے پکھراج ٹکے ہوئے تھے۔آدمی جوتیوں کی چھب دیکھے تو دیکھتا رہ جائے لیکن اس کے آگے کا منظر دیکھنے کے لیے شیر کا کلیجہ اور تندوے کی بے حیائی درکار تھی‘‘۲؎
درج بالا دونوں اقتباس سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ناول نگار شمس الرحمن فاروقی ہر قسم کی منظر کشی کے فن میںمعراج کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔
ناول کی زبان
زبان کی تشکیل میں بدلتے ہوئے ماحول ، موضوع گفتگو،وقت ،علاقائیت اور تہذیب وتمدن کا بڑا ہاتھ ہوتاہے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کا احاطہ کیے ہوئے فاروقی کا یہ ناول اس پہلو پر کافی روشنی ڈالتا ہے کہ اس کی زبان کیسی ہے ؟ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں خصو صیت کے ساتھ دہلی اور اس کے قرب وجوار میں فارسی بولنے اور لکھنے کاچلن عام تھا ۔ناول کو پڑھنا شروع کیجیے تو وہیں یا تو فارسی تراکیب سے گراں بار اردوملتی ہے یا فارسی کے بر محل کلاسیکی اشعار۔مثال کے طور پرجب مرزا غالبؔ، داغؔ دہلوی سے پہلی بار ملے تو کہا کہ پوری دلّی میں تمھاری شہرت پر لگا کر اڑ رہی ہے اورتمھیںصرف مجھی سے ملنا نہیں ہورہاہے۔پھر انھوں نے یہ شعر پڑھا:
اے آتش فراقت ، دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جاں ہا خراب کردہ
صاحبزادے ! ہم آج تم سے وہی غزل سنیں گے۔اے سبحان اللہ،یہ عمر اور یہ مضمون یا بیاں؟ سچ ہے صاحب ،خدا جس کو دے۔
اسی طرح جب وزیر خانم سے ملاقات کرنے کے لیے نواب شمس الدین احمد خاںنے چوبدار کے ذریعے ملاقات کاوقت مانگا تووزیر خانم (چھوٹی بیگم) نے تڑپ کر کہا:
دیدہ و دل فرش راہ!
جس عہد کی ہم بات کررہے ہیں اس عہد کی باتوں میں علاقائی محاسن ،وہاں کی سرزمین، لوگوں کی روزمرہ زندگی،مشاغل ،مذہبی رسوم،شادی بیاہ کی رنگ رلیوں اور حسن فطرت کے حوالے کبھی براہ راست اور کبھی با لواسطہ ملتے ہیں۔مثلاََ :
۱)جی ۔جی ۔ ہاں مسافر ہی کہہ لیجیے۔یہاں غریب الدیارہوں۔
۲) بولنے والے کی آواز میں بادشاہوں جیسا اعتماد اور اولیا اللہ جیسی گیرائی تھی۔
۳) واہ بھئی سلیمہ بی بی، اتنے اچھے ہاتھ پاؤں کا بچہ اور اتنا کالا رنگ؟ گویا نشاط باغ کا کالا گلاب۔واہ جی واہ سبحان اللہ۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ موضوع کے علاوہ زبان وبیان کے اعتبار سے بھی اردو کے چند اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔فاروقی نے ناول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اردو اور فارسی کے علاوہ عربی زبان سے بھی ان کی کما حقہ واقفیت کی دلالت ہے۔اس ناول کی زبان وہ کلاسیکی اردو ہے جس کے نشان اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔آج کے اردو قاری کے لیے یہ زبان بھلے تھوڑی مشکل ہو لیکن اس کا اعتراف بہر حال کرنا پڑے گا کہ شمس الرحمن فاروقی نے قدیم اردو لغات اور محاورات سے عصر حاضر کے اردو قاری کو متعارف کرانے کا ایک بڑا ادبی فریضہ انجام دیا ہے۔ناول کی زبان، ناول کے بنیادی موضوع کے ارتقائی عمل میں معاون دیگر واقعات اور حالات کو تمام لوازم اور جزئیات کو کامیابی کے ساتھ منعکس کرتی ہے۔ناول کی زبان اس قدر شستہ اور رواں ہے کہ بیان کردہ واقعات کی تفہیم میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
یہ ناول فاروقی کی ہمہ جہت شخصیت اور مختلف النوع علوم وفنون اورکئی زبانوں پردسترس رکھنے کا تاریخی دستا ویز ہے ۔اس کا اندازہ ناول کے مطالعے سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ ناول نگار دہلی اور اس کے اطراف واکناف میں بسنے والے فرقے ،ان کے مذہب کی تہذیب وتمدن اور معاشرت سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔
فاروقی کی تحریریں اس لیے بھی پُر کشش ہوتی ہیں کہ وہ ہر قسم کے بیانیہ میں شاید غیر ارادی طور پر یا عادتاََایسے عبارتی ٹکڑے رکھ دیتے ہیں کہ ایک طرف تو ان کا مافی الضمیر پوری طرح ان کے حسب منشا واضح ہوجاتا ہے اور دوسری طرف وہ ٹکڑاقاری کی مذاق سازی کا کام بھی کرتا ہے۔مختصر یہ کی ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کی زبان، مصنف کے حاکمانہ اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔یہ اس دور کی بھر پور نمائندگی کرتی ہے اگر چہ کہیں کہیں لغت اور اس دور کے شعرا کی مدد بھی لینی پڑتی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول میں نہ صرف اس عہد کی زبان کا خاص خیال رکھا ہے بلکہ ایک ماہر سماجیات کی طرح معاشرہ کے ہر اتار چڑھاؤ پر نظر بھی رکھی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اسباب وعلل کو جاننے کی کوشش بھی کی ہے۔ان کی یہ معروضیت ناول کو اس قدر حقیقت سے قریب تر کردیتی ہے کہ اس میں بیان کیے گیے تمام واقعات کے حقیقی ہونے کا گمان گزرتا ہے گوکہ ان میںسے بیشترفاروقی کی قوت متخیلہ کی ایجاد ہیں۔
٭٭٭

Nepali Folk Tale

Articles

گیدڑ اور بھالو

نیپالی لوک ادب

 

ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔
گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع کریں۔“
بھالو نے سوچا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تب دونوں گھر کی تلاش میں نکلے۔ گاﺅں سے تھوڑے ہی دور جنگل میں جہاں لوگ لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے انھیں وہاں ایک چرواہے کا جھونپڑا نظر آیا جو کئی سالوں سے ویران تھا ۔انھوں نے بامبو سے چھت بنائی اور جھونپڑے کو اچھی طرح سے صاف کیا۔پھر انھوں نے جوئے میں جیتے ہوئے پیسوں سے ایک سانڈ خریدااور زمین جوتنا شروع کردی۔
بھالو کا سلوک گیدڑ کے ساتھ بہت اچھا تھا اور وہ بہت محنتی بھی تھالیکن بے وقوف تھا ۔دوسری طرف گیدڑ بہت چالاک تھا لیکن اسے کام سے بالکل بھی دلچسپی نہ تھی۔انھوں نے مل کر اپنی پہلی بھنٹے کی فصل تیار کرلی ۔گیدڑ کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بھالو کے ساتھ زندگی بطور کسان نہیں گذار سکتا۔
دوسرے دن صبح گیڈر نے کہادوست میںکھیت میں کام کرتا ہوں اور تم جاﺅ سانڈ کو چرا لاﺅ۔اس طرح ہم باری باری کرینگے جس سے ہمارے کام کا بوجھ ہلکا ہو جائیگا ۔
یہ طریقہ بھالو کو بہت پسند آیا وہ روزانہ صبح اٹھتا ناشتہ کرتا اور سانڈ کو چرانے نکل جاتا اور سانڈ کو چرانے چھوڑ کر اونچی جگہ جا کر بیٹھ جاتا اور دن بھر اس پہ نظر رکھتا ۔اس طرح سانڈ گھم ہو جانے اور شیر کی خوراک بننے سے بچا رہتا۔اسی دوران گیدڑ کھیت میں درخت کے سائے میں دن بھر لیٹا رہتا اس طرح فصل بڑھتی گئی۔
جب فصل کی کٹائی کا وقت آیا تب گیدڑ نے کہا”میرے دوست تم نے بہت محنت کی ہے اورکئی دنوں سے سانڈ کو چرا رہے ہو ۔ سانڈ بھی بہت صحت مند ہو گیا ہے ۔اب میری باری ہے اسے چرانے کی اب تم کھیت میں کام کرو۔
بھالو اپنی تعریف سنتے ہی راضی ہو گیا۔وہ فصل کی کٹائی کرنے لگااور گیدڑ سانڈ کو چرانے چلا گیا۔
بھالو مسلسل پورا دن کام کرتا رہتا ۔گیڈر کم محنتی تھا۔اسے گھنے جنگل میں اندر تک جانا بھی بھاری پڑتا تھا جہاں سانڈ کے لیے اچھی غذا تھی۔اسے اونچی جگہ پر چڑھنا اور سانڈ پہ نظر رکھنا بھی بھاری پڑتا تھا ۔ اور وہ دن بھر سانڈ کے ساتھ رہتا کہ کہیں گھم نہ جائے یا وہ شیر کی خوراک نہ بن جائے۔وہ میدانی علاقے میں سانڈ کو چرا تا رہتا یہ اس کے لیے آسان تھا اسے اس چیز کی پرواہ نہ تھی کہ وہاں چھوٹی چھوٹی گھاس ہے۔وہ بیری کے درخت کے نیچے لیٹا رہتا اور اسے دیکھتا رہتا۔اسے نہ ہی اٹھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سانڈ کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی۔شام میں تاخیر سے وہ گھر جاتا تاکہ اسے بھالو کے ساتھ فصل کی کٹا ئی میں مدد نہ کرنا پڑے۔
چند دنوں بعد سانڈ دبلا پڑ گیا۔اگر چہ بھالو بے وقوف تھا مگر اندھا نہیں تھا۔
اس نے ایک شام کو گیدڑ سے کہا”دوست ہمارا سانڈ اتنا دبلا کیوں ہوتا جا رہا ہے۔“
گیدڑ کے پاس جواب تیار تھا۔
” اس معاملہ میں ہم دونوں برابرنہیں ہیں دوست تم مجھ سے زیادہ اچھا چراتے ہو“۔ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”جہاں کہیں میں اسے لے جا تا ہووہاں مجھ سے پہلے لوگ پہنچ جاتے ہیں اس لیے اسے کھانے کے لیے کم مل پاتا ہے۔لیکن آج میں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرلیہے جہاں گھاس سانڈ کے گھٹنوں تک اگی ہوئی ہے۔کل میں اسے وہاں لے جاﺅں گا اور اسے پیٹ بھر کھلاﺅں گا۔“
بھالو کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ گیدڑ اچھا چرواہا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے دن صبح جب گیدڑ سانڈ کو لے جانے کے لیے اس کی رسی کھول رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ فصل کی کٹائی تقریباََ ہو چکی ہے ۔ اسی دن کا اس کو انتظار تھا ۔وہ گیڈر کو جنگل میں لے گیا مگر اسے گھنی جھاڑی میں نہیں لے گیا بلکہ بنجر ٹیلہ پر لے گیا جہاں گھاس کا نام و نشان نہ تھا۔جب سانڈ نے چرنے کے لیے اپنے سر کو جھکایا تب گیڈر نے اسے دھکا دے دیا اور وہ ٹیلہ سے نیچے گر گیا۔پھر گیدڑ بھاگتا ہوا ٹیلے سے نیچے اترا اور سانڈ کے مردہ جسم کو کھسکا کرٹیلے کے سائے میں لے آیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔
صبح کا ناشتہ گیدڑ نے سانڈ کے گوشت سے کیا۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تب اس نے سانڈ کے بچے ہوئے جسم کو پہاڑ کی غار میں چھپا دیا اور غار کے راستے کو پتھروں سے بند کردیا صرف اتنی جگہ چھوڑ دی کہ وہ خود اندر داخل ہو سکے اور سانڈ کی پونچھ سوراخ سے لٹکا کر باہر چھوڑ دی۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے ۔وہ گھر شام کو دیر سے جانا چاہتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ فصل کاٹنے میں آج بھالو کو دیر ہو جائے گی۔
گیدڑ کو دور سے اکیلا آتا دیکھ بھالو نے گیدڑ سے کہا”سانڈ کہاں ہیں؟“
گیدڑ روتے ہوئے کہنے لگا ” دوست آج بہت برا ہوا سانڈ غار کے دہانے میں پھنس گیا میں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اسے نکال نہ سکا کیوں کہ میں بہت کمزرور تھا ۔میرے دوست تم بہت طاقتور ہو ۔ کل تم میرے ساتھ چلو مجھے یقین ہے کہ تم اسے نکال لو گے۔
بھا لو تعریف سن کر نرم پڑ گیااور وہ اپنے دوست کی بات ٹال نہ سکا۔
دوسرے دن صبح گیدڑ بھالو کو لے کر غار کے پاس پہنچا ۔گیدڑ نے بھالو سے کہا تم بہت موٹے ہو تم اندر نہیں جا سکتے میں اندر جاتا ہوں اور سانڈ کو ڈھکیلتا ہوںتم باہر رہو اورباہر کی طرف کھینچو۔لیکن جب تک مت کھینچنا جب تک میں نہ کہوں۔جب میں کہوںتب تم دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت لگا کر کھینچنا ۔
بھالو راضی ہو گیا اور گیدڑ غار کے اندر چلا گیا۔اور اند رجا کر اس نے سانڈ کو باہر ڈھکیلنے کی پوری تیاری کرلی۔پھر آواز لگائی”دوست کھینچو!“
بھالو نے دونوں ہاتھوں سے پونچھ کو پکڑا اور اپنا پیر سہارے کے لیے غار پر رکھ کرپوری طاقت سے کھینچنے لگا۔جب گیدڑ کو لگا کے بھالو پوری طاقت سے کھینچ رہا ہے تب اس نے سانڈ کو باہر کی طرف ڈھکیل دیا ۔بھالو سانڈ کے وزن کو سنبھا ل نہ سکا اور لڑکھڑا کر پہاڑسے نیچے ندی میںگر گیا۔
سانڈ ہاتھ مل کر مسکرانے لگا ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تھا۔فصل پوری کٹ چکی تھی۔سانڈ کو بھی اب چرانے کی ضرورت نہیں تھی اور اب بھالو بھی نہیں تھا جو اسے غلط کام پر بولتا۔دھوکہ باز گیدڑ نے سوچا”اب جیسا میں چاہوں ویسا کر سکتا ہوں کوئی بولنے والا نہیں ہے۔“
وہ بھاگتا ہواگھر آیا ۔کلہاڑی اور باسکٹ لے کر پھر پہاڑی پر گیا تاکہ سانڈ کا بچا ہوا گوشت کھا سکے اورجو بچے اسے کاٹ کر گھر لا سکے۔گیدڑ نے گھر سے دلیابھی ساتھ لے لیا تا کہ دوپہر کا کھانا مکمل ہو جائے۔اور وہ یہ ساری چیزیں لے کر پہاڑی پر پہنچا ۔
پہنچتے ہی وہ ششدر رہ گیا۔ غار کے سامنے بھالوہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا۔
” ارے دوست “گیدڑ کو دیکھ کر بھالو نے کہا۔”سانڈ کا کیا ہوا؟“
”تم نے زیادہ زور سے کھینچ دیا “ گیدڑ نے برجستہ جواب دیا۔” تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں رہا ۔ تمہارے ساتھ ہی سانڈ بھی دریا میں گر گیا اور ڈوب گیا۔وہ دریا میں بہت زور سے گرا تھا پانی بھی بہت اوپر تک اچھلا تھا۔“
”میرے پیارے دوست“بھالوبڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا”اب ہم اس سے کبھی نہیں مل سکتے ۔ اس کے ساتھ میری بھی زندگی ختم ہوگئی !“ پھراس نے گیدڑ کی طرف دیکھ کر کہا”تم کلہاڑی اور باسکٹ اپنے ساتھ کیوں لائے ہو؟“
”میں نے سوچا کہ میں جنگل میں جا کر کچھ لکڑیاں کاٹ لاﺅں گا۔مجھے معلوم تھا کہ تم دریا سے بچ کر نکل جاﺅں گے اور تمہیں سردی پکڑ لے گی اور تم کام نہیں کر پاﺅں گے۔میں تم سے کہنے ہی والا تھا کہ تم گھر جا کر تھوڑا آرام کرلو۔“
تمہیں اپنے آپ پر رشک کرنا چاہئے کہ تمہارے بارے میں اتنا سوچنے والا تمہیں بھائی جیسادوست ملا۔پھر بھالو نے کھچڑی کی طرف دیکھ کر کہا ”تم دلیا کیوںاپنے ساتھ لائے؟“
”میں نے سوچا کہ تم تیرتے تیرتے بہت تھک گئے ہوگے اور تمہیں بہت بھوک لگی ہو گی اس لیے میں گھر جاکر تمہارے لیے کھچڑی لے کر آیا۔“
بھالو کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ خوش نظر آنے لگا۔
”میرے دوست تم لاکھوں میں ایک ہو“ اس نے چلا کر کہا اور گیدڑ کو گلے سے لگا لیا۔
گیڈر نے بھی ہنسنا شروع کر دیا ۔وہ دونوں ہنسی خوشی پہاڑ سے نیچے اتر گئے۔جب دونوں ہنستے ہنستے نڈھال ہوگئے تب انھوں نے ساتھ مل کردلیا کھایا۔پھر جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر دونوں ساتھ لائے ۔
دونوں ایک دوسرے کے اب تک دوست تھے ۔حالانکہ کسی کوبھی یقین نہیں آتا تھا کہ بے وقوف ،سخت محنتی بھالو چالاک اور کام چور گیدڑ کا دوست کیسے ہے۔

 


انگریزی سے ترجمہ:حیدر شمسی

Kalimuddin Ahmad ka Tasuwwar e shair

Articles

کلیم الدین احمدکا تصور نقد اور نقد شعر

شاکرعلی صدیقی

کلیم الدین احمد(1907ئ-1983ئ)کی تنقیدی تحریر کا باضابطہ آغاز1939ء میں گل نغمہ کے مقدمہ سے ہوا۔اسی مقدمہ میں ان کی زبان قلم سے رسوائے زمانہ جملہ غزل نیم وحشی صنف شاعری ہے  منظر عام پر آیا۔ اس بیان کی کلیدی وجہ یہ بتائی گئی کہ غزل میں ربط،اتفاق اورتکمیل کا فقدان ہے ،جس کے باعث تہذیب یافتہ ذہن کو لطف اور نہ تربیت یافتہ تخیل کو سرور حاصل ہے ۔ گل نغمہ کے تقریباً ایک سال بعد ان کی دوسری مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر1940ء میں مشتہر ہوئی۔یہ کتاب در اصل شاعری کے مختلف اصناف کی تنقید پر مبنی ہے ۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کی تیسری کتاباردو تنقید پر ایک نظر1942ء میں شیوع ہوکر متنازعہ حیثیت اختیار کر گئی۔ اس کتاب سے ادبی دنیا میں ایک طرح کی کھلبلی مچ گئی۔جس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ اردو کے پورے تنقیدی سرمائے تذکروں سے آب حیات اور حالی سے ان کے معاصر ین تک کی،تنقیدی کاوشوں کو یکسر رد کیا گیا اور یہاں تک کہ اردو تنقید کے وجود کو محض فرضی،اقلیدس کے خیالی نقطے اور معشوق کی موہوم کمر سے تعبیر کیا گیا۔جس پر ناقدین ادب نے مختلف نوعیت کے شدید تر رد عمل کیے ۔مثلاً پروفیسر نثار احمد فاروقی لطیف طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

پرو فیسر کلیم الدین احمد تو اردو میں تنقید کے وجود سے ہی منکر ہیں اور اسے معشوق کی موہوم کمر کہتے ہیں ، مگر اس(کا کیا کیا جائے ؟کہ)انکار میں اقرار بھی پوشیدہ ہے اس لیے کہ معشوق کی کمر(تو) ہوتی ہے ،بس وہ شاعر کو نظر نہیں آتی۔کلیم الدین صاحب تنقید کو کوئی فتویٰ یا حتمی فیصلہ قرار دینا چاہتے ہیں۔

سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ کلیم الدین نے اردو شعر و ادب کی اصنافی خصوصیات /امتیازات اور اس کی تنقید کو از راہ نظر یکسر رد کیا ہے یا پھر کسی ذاتی منصوبہ بند سازش کے تحت۔کیوں کہ اس سے قبل بھی مشرقی علوم و فنون پرانگشت نمائی کی جاتی رہی ہیں،کبھی مرعوبیت کی شکل میں اور کبھی حکمرانی کے رو سے ۔لہٰذا یہ نکتہ غورطلب ہے کہ آیا مشرقی(بالخصوص عربی ،فارسی اور اردو) ادب اتناہی گرا ہوا/پست قد ہے کہ اس کی تہذیبی،ثقافتی ،لسانی اور فنی قدروں کی یکسر تردید کی جائے ،تو پھر دوسری طرف ان مشرقی علوم کی رہزنی کیوں؟ یا پھر ان شہ پاروں کی تحقیق کیوں؟ اور مزید جدید ادبی تھیوریز (جن کو ہم مغرب کی دین کہتے ہیں)کی اساس کیا مشرقی تصور ادب کے ذیلی مباحث کے تحریف شدہ نظریات پر مبنی نہیں؟۔بہرحال یہ مسئلہ ہنوز تحقیق اورغور طلب ہے۔

کلیم الدین احمد کے پورے تنقیدی سرمائے کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے تنقیدی شعور و آگہی کا اطلاق ایک مخصوص نقطئہ نظر کے تحت کیا ہے ۔اس لیے ان کا تمام تنقیدی کارنامہ تین شقوں پر قائم ہے ۔ اول تو انہوں نے سب سے پہلے فن تنقید کے بنیادی مسائل اٹھائے ہیں اور پھر اصول تنقید کو مرتب کیا ہے ۔ دوم انہوں نے اپنے وضع کیے ہوئے اصولوں کا انطباق شعر و ادب پر کیا ہے ۔ سوم انہوں نے تمام شعری اصناف کا عمیق تجزیاتی مطالعہ کرکے قدر و قیمت کا تعین کیا ہے ۔ان کے اہم ادبی تصورات کو سمجھنے کے لیے مندرج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں:

ادب کی دنیا ایک ہے ، اس میں الگ الگ چھو ٹی چھوٹی دنیائیں نہیں ، خود مختار حکومتیں نہیں۔ شاعری کا مدعا اآج بھی وہی ہے جو دو ہزار برس پہلے تھا اور فنون لطیفہ کے بنیادی قوانین شاعری کی اصولی باتیں ساری دنیا میں ایک ہیں۔

ادب دماغ انسانی کی کاوشوں کا ایک آیئنہ ہے ، انسانی فطرت ہر قوم ، ہر ملک ، ہر زمانہ میں یکساں نظر آتی ہیں ۔ سطحی اختلافات تو ضرور ہیں اور ہوتے رہتے ہیں ؛لیکن حقیقت نہیں بدلتی ۔… ادب بنی نوع کی زندگی اور اس کے شعور سے وابستہ ہے ۔ نوع انسانی کی زندگی مسلسل ہے ۔ افراد فنا ہوجائیں؛ لیکن نوع کی فنا نہیں ۔ اس میں تغیر تو ضرور ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تغیر ارتقا ئی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ اسی طرح ادب میں بھی اس تسلسل کا وجود لازمی ہے ۔ “

مذکورہ اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد کا ادب کے متعلق ایک مخصوص نظریہ ہے ۔ وہ تمام ادبوں کی دنیا کو ایک تصور کرتے ہیں ۔ اس لیے ان کے ادبی تصور میں علاقایئت کے بجائے عالمیت کا غالب رحجان پایا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک ادب انسانی تجربات کا اظہار ہے ۔ ان تجربات میں جذبات اور خیالات دونوں شامل ہیں ۔ ان کا موقف یہ بھی ہے کہ کہ تجربہ میں محض زندگی کے روزمرہ حقائق داخل نہیں بلکہ اس میں احساسات بھی دخل ہیں ۔ان میں ایک قسم کی عالم گیری اوار ابدیت ہوتی ہے ۔ ادب، پائدار ادب اسی قسم کے بنیادی تجربات سے سروکار رکھتا ہے ۔ اس لیے ایک دور کا ادب کسی دوسرے دور میں بیکار ،مہمل ، فرسودہ ، ازکار رفتہ نہیں ہوجاتا بلکہ جہاں تک بنیادی اور پائدار تجربات کا سوال ہے ۔اپنی قدرو قیمت پر قائم رہتا ہے ۔  نیز ادب نام ہے تجربات کے اظہار کا ۔ یہ تجربات ایک حد تک انسان کے ماحول سے وابستہ ہیں یہ ماحول کائنات کی ہر چیز کی طرح بدلتا رہتا ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر انسانی تجربات میں بھی تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔ ماحول کا وہ سماج ہو یا خارجی ماحول ہو ،اثر کسی دور کے ادب پر ہوتا ہے اور کسی دور کے ادب کو پورے طور پر سمجھنے کے لیے اس ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔  کلیم الدین کے شعور ادب میں تجربہ خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ جس کا براہ راست تعلق انسانی ماحول سے ہے ۔ جس میں تغیر بھی ہے اور تبدل بھی ، اس لیے ان کے نزدیک شعرو ادب کی تفہیم میں ماحول کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔

کلیم الدین کے نزدیک شاعری بیش قیمتی تجربات کا موزوں ترین اظہار ہے ۔ اس اظہار میں تین بنیادی شرائط ہیں اس میں سچائی ہو، خلوص ہو اور گہرائی ہو ۔ انہوں نے اپنی کتاباردو شاعری پر ایک نظرمیں شاعری کے متعلق بہت سے بنیادی نکات اٹھائے ہیں ۔ وہ شاعری کی تعریف اس طرح کرتے ہیں :

شاعری اچھے اور بیش قیمت تجربوں کا حسین ، مکمل اور موزوں بیان ہے ۔

شاعری کی جو تعریف انہوں نے بیان کی ہے وہ مشرقی اصول شعر سے عبارت ہے ۔ عربی اور فارسی کے ناقدین نے انسانی تجربوں کے موزوں بیان کوہی شاعری تسلیم کیا ہے ؛ لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ انہوں نے اس میں مکملکی شرط لگا کر اپنے مخصوص زاویئہ نظر کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ حالاں کہ شاعری اشارات و کنایات میں اپنی بات پیش کرتی ہے ، جس کو قاری اپنے تربیت یافتہ ذہن کے ذریعہ مکمل کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری مشرقی شاعری میں ربط یا تسلسل نام کی کوئی ظاہری چیز نہیں پائی جاتی اور نہ ہی انگریزی شاعری کی طرح اس میں ابتدا ، وسط اور انتہا کا التزام ہوتا ہے ۔ کلیم الدین احمد آگے چل کر اسی نقطہ پر ٹھہر جاتے ہیں اور میر کے دو شعر کا موازنہ سلی پردوم کی ایک نیم مختصر  نظم سے کرکے یہ نتیجہ بر آمد کرتے ہیں کہ :

 میں صرف ایک بات اور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس نظم کے مختلف اجزا میں ربط و تسلسل ہے اور صرف یہی نہیں اس نظم میں خیالات و جذبات کی ابتدا ، ترقی اور انتہا ہوتی ہے اور یہاں یہ تینوں حصے بہت صاف صاف دکھائی دیتے ہیں ۔

کلیم الدین احمد کے نزدیک شاعری انسانی کامرانی کی معراج اور انسانی تہذیب و تمدن کے سر کا تاج ہے ۔وہ اسے انسان کی زندگی کی تکمیل کا بنیادی وسیلہ تصور کرتے ہیں ان کا خیا ل ہے کہ شاعری وہ طاقت ور صنف ہے جس میں انسان کی تمام تر قوتیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں ۔ اسی وجہ سے شاعری انسان کو کامل سکون عطاکرتی ہے ۔ ان کے یہاں شاعری کی ماہیت اور انسان کی زندگی میں شاعری کی قدرو قیمت کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ بہرکیف شاعری سے متعلق ان کے تمام تصورات کا خلاصہ یہ ہے کہ :

  1. شاعری میں پیش کردہ تجربات یا خیالاتقیمتی ہوں ۔
  2. خیال میں انفرادیت اور تازگی ہو ۔ نیز وہ نئے جذبات و احساسات سے پر ہوں ۔
  3. شاعری میں حسن بیان ہو ۔ ان کا موقف ہے کہ شاعری کا بنیادی تعلق آسودگء روح ہے ۔ اس لیے جن الفاظ کا پیکر اسے عطا کیا جائے وہ بھی حسین ہونے چاہیے ۔
  4. اچھی شاعری کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ مکمل بیان ہوایسا نہ ہو کہ الفاظ کے پردے سے معنی دھندلے ہوجائیں۔
  5. شاعری میں پیش کردہ تجربات کے لیے مناسب الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ مفہوم پوری طرح ادا ہوجائے ۔
  6. شاعری میں موزونیت ، نغمگی اور تناسب کا ہونا بھی ضرور ی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعری میں عمدہ اور بے بہا تجربات ہوتے ہیں ۔ اس لیے اس کی صورت گری تین عناصر ” نقوش، الفاظ ، وزن / آہنگ ” کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یہ عناصر استعارات کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ جو لازم جزو شاعری ہے ۔

شاعری کی عملی تنقید کے حوالے سے ان کی دو کتابیںاردو شاعری پر ایک نظراورعملی تنقید قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں بھی شاعری کی عملی بحثیں ملتی ہیں؛لیکن اول الذکر دونوں کتابیں شاعری تنقید میں کلیدی درجہ رکھتی ہیں۔ان کی عملی تنقید میں غزل تنقید کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ حالی کے بعد ان کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے غزل کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کے خدو خال کا تعین کیا ۔ اگرچہ ان کو غزل کی ہیت ، ریزہ خیالی اور موضوعات کے تکرار سے اتفاق نہیں تھا جس کی وجہ سے “غزل کو نیم وحشی صنف سخن ” قرار دیا ؛ لیکن انہیں غزل کی مستحکم روایت اور نزاکت کا پورا پورا احساس تھا ۔ غزل تنقید کے متعلق ان کا پہلا مضمون ” نگار ” لکھنو ، جنوری تا فروری 1942ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد انہوں نے  اردو شاعری پر ایک نظر اور  عملی تنقید جلد اول میں صنف غزل پر عملی بحث کی ۔  نگار کے مضمون میں انہوں نے غزل کے متعلق جو آرا پیش کی تھیں انہیں کو مربوط شکل میں اپنی مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر میں پیش کیا ہے ۔ اور پھر اسی روشنی میں غزل ، قطعہ ، قصیدہ اور مرثیہ جیسی معروف صنف سخن کو زیر تجزیہ لائے اور انہیں اصناف کے تحت نمائندہ شعرا مثلاً میر  ، درر ، سودا ، ذوق ، غالب ، مومن  ، میر حسن  ، نسیم  ، شوق ، انیس  اور دبیر  وغیرہ کے فن پاروں کو موضوع بحث بنایا ۔ مثلاََ:

غالب کی ایک مشہور غزل جو سات اشعار پر مشتمل ہے ،جس کا مطلع غیرلیں محفل میں بو سے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے اورمقطع  عشق نے غالب نکما کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے  اس پوری غزل کو نقل کرکے وہ لکھتے ہیں :

 اس غزل پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شعروں میں مشابہت اور مناسبت ہے ۔ سب ہم وزن ہم قافیہ اور ہم ردیف ہیں ۔ ایک شعر کے سوا سب شعر عشق اور عشق کے لوازمات سے وابستہ ہیں ۔ اس ظاہری مطابقت کی وجہ سے خیال ہوتا ہے کہ باطنی مطابقت بھی ہوگی اور ان شعروں میں معنی کے لحاظ سے ربط و تسلسل اور ارتقائے خیال بھی ہوگا؛ لیکن یہ خیال غلط ہے ۔ مختلف شعروں میں شعور ی اور غیرشعوری کوئی ربط نہیں ۔ پڑھنے والے کے ذہن میں مکمل تجربے کی تصویر اجاگر نہیں ہوتی بلکہ چند پراگندہ خیالات اور نقوش جم جاتے ہیں ۔ رقیبوں کی کامیاب قسمت ، شاعری کی خستگی ، خط لکھنے کا ارادہ ، زمزم پر مے کشی ، دل کا آنکھوں میں جاپھنسنا ، شاہ کے غسل صحت کی خبر ، شاعر کا نکما ہونا ان باتوں میں کوئی معقول مناسبت نہیں ۔ ان میں ربط و تسلسل ، وہ ارتقائے خیال نہیں جو سلی پرودوم کی نظم کے مختلف بندوں میں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ غزل میں تسلسل بیان نہیں ہوتا ، ہر شعر جداگانہ مفاہیم کا حامل ہوتا ہے ۔ اسی طرح غزل کا ہر شعر اپنے میں مکمل اور معنی میں خود مکتفی ہوتا ہے ۔ ظاہری تسلسل کے لحاظ سے غزل کے اشعار ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں ؛ لیکن ربط باہمی سے پیوست ہوتے ہیں ۔ مثلاً غزل کے اشعار میں بحور قوافی کی جھنکار اور ردیف کی تکرار باہمی ربط کی عمدہ دلیل ہے ۔ جس کی شناخت صاحب فہم یا غزل شناس ہی کرسکتا ہے ۔

غزل کے تاریخی ، تہذیبی اور صنفی خصوصیات و امتیازات سے چشم پوشی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ کلیم الدین سلی پرودوم کے نظم کی خصوصیات و امتیازات کوغالب کی غزل میں تلاش کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک مرتبہ ایک ضعیفہ اپنے گھر کے باہر سرکاری بلب کی روشنی میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ایک راہ گیر نے پوچھا بڑی بی کیا تلاش کر رہی ہو ؟ بھیا ! سوئی تلاش کر رہی ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہاں گری تھی ؟ ضعیفہ نے کہا وہ تو اندر کوٹھری میں گری تھی ۔ پھر یہاں کیوں تلاش کر رہی ہو ؟ وہاں اندھیرے کی وجہ سے سوجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اس لیے سوچا یہاں روشنی میں تلاش کرلوں ! یہی واقعہ کلیم الدین احمد کے ساتھ بھی پیش آیا کہ انگریزی شاعری کی خصوصیات و امتیازات کو اردو شاعری میں تلاش کر رہے تھے ۔ جس کے باعث اردو شاعری ان کے معیار و میزان پر پوری نہیں اتری ۔

شاعری کے عملی مباحث میں کلیم الدین احمد کی عملی تنقید سر فہرست ہے ۔ اس میں ان کا طریق نقد بالعموم یہ رہا ہے کہ شعرو ادب کے جائزے سے قبل متعلقہ جائزے کے کچھ بنیادی اصول وضع کیے ہیں ۔ بالفاظ دیگر فن پارے کی عملی تنقید سے پہلے اپنی نظری تنقید کو مستحکم کیا ہے ۔ فن پارے کو پرکھنے کے لیے انہوں نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے یہاں ان کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔ اس لیے اہم نکات کا خلاصہ آپ کے پیش نظر ہے :

اول شعر کی تفہیم کے لیے ان کے نزدیک دو شرطیں ہیں کیا اور کیسے ؟ ان کے نزدیک کیا سے مراد مضمون ہے اور کیسے سے مراد الفاظ ہیں ۔ یعنی ان کی عملی تنقید موضوع اور ہیت کے مطالعات پر مبنی ہیں ۔ وہ اس ضمن میں رقمطراز ہیں :

……..شعر کو سمجھنے ، پورے طور پر سمجھنے ، ان کی خصوصیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اس کا تجزیہ ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کیا اور کیسے کی بات اٹھائی جاتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر مقصد میں کامیابی بھی ممکن نہیں ؛اس لیے یہ تجزیہ ضروری ہے ، کیا اور کیسے کی بات ضروری ہے ۔

ہیئت / فارم کے مطالعے کے لیے ان کے یہاں چار چیزیں ہیں : اول نقوش، دوم الفاظ ، سوئم آہنگ یا وزن،چہارم لب و لہجہ ۔ ان کا موقف ہے کہ شعر کی تشکیل الفاظ کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یعنی شاعرخیال ، ذہنی نقش یا تاثر کی شکل میں کچھ کہتا ہے ۔ اگر یہ خیال یا ذہنی نقوش اعلیٰ درجہ کے ہیں اور اس میں تجربے کی باریکی ، تازگی اور گہرائی موجود ہے تو یہ شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔

شعر کے مطالعہ کادوسرا نکتہ الفاظ کی پیش کش ہے ۔ وہ لفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آئی اے رچرڈز کے نظریہ سے استفادہ کرتے ہوئے یہ حوالہ دیتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک پیکر ہوتا ہے ، اسے بولتے ہیں تو اس کی ساخت ہم منہ میں محسوس کرتے ہیں ، سنتے ہیں تو ایک خاص صوتی پیکر کا احساس ہوتا ہے ،سوچتے ہیں تو آنکھوں کو ، اندرونی آنکھوں کو اس کا صوری پیکر نظر آتا ہے ۔  ان کا خیال ہے کہ شعر مخصوص لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے ؛لیکن لفظوں کا ہر مجموعہ شعر نہیں ہوتا ہے ۔

کلیم الدین کے عملی تنقید کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ تجربات و الفاظ میں ناگزیر ربط تلاش کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعر تجربات کی پیش کش کے لیے غیر شعوری طور پر بہترین الفاظ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ انہیں عمدہ ترتیب اور مناسبت سے آراستہ کرتا ہے ۔ اس لیے ناقد کے لیے ضروری ہے کہ معنی اور جذبات سے علاحدہ ہوکر پہلے الفاظ کی طرف متوجہ ہو ؛ کیونکہ الفاظ ہی ناقد کی رہنمائی اور منزل مقصود تک لے جاتے ہیں ۔ یعنی شعر کے محاسن و معائب سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اگر چہ انہوں نے موضوعات کے حوالے سے بھی متعدد شعرا کے کلام کا جائزہ لیاہے ؛لیکن ان کی عملی تنقید کا بیشتر حصہ ہیتی مطالعات پر مبنی ہے ۔مثلاََ:

سودا کا مشہور قصیدہ جس کا مطلع  ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی  نہ ٹوٹی شیخ سے زنارتسبیح سلیمانی کی تشبیبکے متعلق وہ لکھتے ہیں :

ان شعروں میں چند اخلاقی خیالات کا بیان ہے ۔ ان میں کوئی ناگزیر ربط و تسلسل نہیں ، کوئی خاص ارتقائے خیال نہیں ۔ ان کا بیان نثر میں بھی ممکن تھا لیکن سودا نے انہیں شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے ۔ نثر میں یہ باتیں سیدھے سادے طریقے سے ہوتیں، شعر میں انہیں نقوش کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں کوئی تشبیہ یا استعارہ ہے ۔ اور یہ تشبیہ یا استعارہ صرف ایک زیور نہیں بلکہ جز وخیال ہے ۔اس کی وجہ سے خیالات کا مطلب وسیع اور پر اثر ہوجاتا ہے ۔ ہر خیال گویا ایک حسین تصویر ہے ۔ جذبات کی گرمی ، تخیل کی رنگینی ہر شعر میں موجود ہے ۔

کلیم الدین فن پارے کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے لیے فارم / ہیئت کا سہارا لیتے ہیں ۔ اگرو ہ کسی فن پارے کے خیالات کا ہی تجزیہ کیوں نہ کرتے ہوں ؛ لیکن ان کے یہاں ہیتی مطالعہ غالب رہتا ہے ۔ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اردو شاعری پر ایک نظرمیں عملی تنقید کی جو مثالیں ملتی ہیں ان میں استخراج نتائج کے باعث متن کی تفہیم میں تشنہ لبی کا احساس ہوتا ہے ۔نیزاپنے مخصوص نکتہ نظر کے تحت فن پارے کے معائب کی جستجو متن کی توضیح میں حائل رہتی ہے ۔جبکہ بعد کی تحریروں میں مثلاً  سخن ہائے گفتنی ، عملی تنقید اور اقبال ایک مطالعہ  میں شاعری کی عملی تنقید پر مبنی تمام مثالیں انکشاف متن کے لحاظ سے عمدہ اور پختہ ثبوت فراہم کرتی ہیں ۔

اسی طرح کلیم الدین نے اپنے طریقئہ نقد میں تقابل اور توازن کو ایک خاص اہمیت دی ہے ۔ ان کا بیشتر تنقیدی سرمایہ موازنہ پر مبنی ہے ۔ کبھی تو وہ موازنہ کے ذریعہ استنباط نتائج کو مستحکم کرتے ہیں اور کبھی فن پارے کے تجزیاتی مطالعہ کی اساس تقابل پر قائم کرتے ہیں۔ایک مثال سودا اور محسن کاکوری کے مشہور قصیدے کے مطلع سے ملاحظہ ہو ۔ انہوں نے ان دونوں شعرا کی تشبیب کا موازنہ موضوع کے پیش نظر جزوی طور پر پیش کیا ہے ۔ سودا کا مطلع دیکھیے :

اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستان سے عمل

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

محسن کاکوری کا مطلع :

سمت کاشی سے چلا جانب متھر بادل

برق کے کاندھے پہ لائی صبا گنگا جل

کا تقابل کرتے ہوئے وہ رقمطراز ہیں :

سودا بہار کا نقشہ پیش کرتے ہیں ، محسن کاکوری برسات کا ۔ سودا کی تشبیب سے کم سے کم بہار کی رنگینی و فراوانی کا اندازہ ملتا ہے ۔ محسن کاکوری کے اشعار سے پراگندگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور کوئی صاف مکمل نقشہ مرتب نہیں ہوتا۔ سودا میں ایک زور ہے جس نے آورد کو آمد میں تبدیل کر دیا ہے ۔ محسن کاکوری میں یہ زور موجود نہیں ۔

ان کی عملی تنقید میں موازنہ کا طریقہ ایک مخصوص حیثیت کا حامل ہے ۔ کبھی تو انہوں نے فن پارے کی توضیحی اساس تقابل پر منضبط کی ہے اور کبھی استخراجی نتائج کی تائید و تردید کے لیے تقابل کا سہارا لیا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کی عملی تنقید کا بیش تر حصہ موازنہ سے عبارت ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے یہاں شاعری تنقید میں کسی فن پارے کا کلی طور پر تقابلی مطالعہ نہیں ملتا،بلکہ جزوی طور پر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ وہ جس متن کو اپنے تجزیاتی مراحل سے گزراتے ہیں اس کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ مقاصد کی تکمیل جزوی تقابل سے پوری ہوجاتی ہے ۔ بعض مواقع میں کلیم الدین کا تقابلی مطالعہ ناقص رہتا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے وضع کردہ اصولوں کے انطباق میں نفس مضمون اور عندیہ متن کی تحریف کا لحاظ کیے بغیر فن پارے سے استدلال کرتے ہیں ۔ بہر کیف اس کے باوجوبھی ان کا تقابلی طریق نقد ، متون کی توضیح ، استنباط نتائج اور تعین قدر کے اعتبار سے صحت مند ہے ۔

بحیثیت مجموعی کلیم الدین کی عملی تنقید شعرو ادب کے متن کو بنیادی حیثیت عطا کرتی ہے ۔ ان کی تنقید کی اساس فن پارے پر مرتکز رہتی ہے ۔ وہ فن پارے کے مختلف انسلاکات اور معروضی لوازمات سے قطع نظر فنی تخلیق پر اپنی پوری توجہ صرف کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ فن کارکی قدر سنجی کے لیے اس کے معاشرتی پس منظر کا بھی مطالعہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے فن پارے کی عملی تنقید کرتے وقت متن کے مرکزی خیال اور موضوع کی نشاندہی کرکے اسے کے حسن و قبح پر زیادہ تر بحث کی ہے ۔ انہوں نے موضوع اور ہیت کو منفرد اکائی کے طور پر پرکھنے کی کوشش کی ۔ اسی طرح انہوں نے شاعری تنقید میں بعض موقعوں پر معروضی اور تجزیاتی انداز نقد سے انحراف کرتے ہوئے محض تاثراتی انداز نقد سے بھی کام لیا ہے ۔ بالفاظ دیگر ان کی عملی تنقید متن کے مخصوص معنیاتی نظام کا عمیق مطالعہ کرتی ہے ۔ کلیم الدین احمد کی عملی تنقید کا پہلا حصہ تجزیاتی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ یہاں انہوں نے وضاحت ، استدلال اور تقابل کے ذریعہ متن کی مختلف جہتوں تک رسائی حاصل کی ہیں ۔ بعض موقعوں پر زیر تجزیہ متن کے جزیاتی نکتوں کو اس قدر کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ فن پارے کی تمام تفہیمی پرتیں وا ہوگئی ہیں ۔ مثلاً جب وہ کسی غزل یا نظم کے مصرعوں کو آگے پیچھے کر کے دکھاتے ہیں یا چند مصرعوں کو حذف کر کے دکھاتے ہیں کہ یہ ضروری ہیں اور یہ غیر ضروری ! فن پارے میں الفاظ کی تکرار پر گرفت کرتے ہیں تو وہ ہیتی طریق نقد کے اعلیٰ رمز شناس معلوم ہوتے ہیں ۔

٭٭٭

Literary & Linguistic Relation Between Arabic & Urdu

Articles

عربی اور اردو کے لسانی و ادبی روابط

پروفیسر یونس اگاسکر

 

بر صغیر کے اردو بولنے ، پڑھنے او ر لکھنے والوں کی اکثریت کی اسلامی تعلیمات اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے وابستگی کے سبب عربی زبان ان کے دلوں میں الفت و احترام کے جذبات کو موجزن کر دیتی ہے مگر اسے سیکھنے اور اس پر عبور حاصل کر لینے کے لیے جن عملی و ذہنی رکاوٹوں سے دو چار ہو نا پڑتا ہے ان کی وجہ سے اردو والے عموماً عربی سے پناہ مانگتے ہیں ۔ عربی کے ایک طالب علم کی حیثیت سے میں کہہ سکتا ہوں کہ عربی کے لیے طلبہ کے دلوں میں استکراہ پیدا کرنے میں اس زبان کا اردو سے مختلف گرامر اور خصوصاً اس کی تدریس کا روایتی بلکہ دقیانوسی طریقہ ایک بڑا سبب بنتا ہے ۔ طالب علم کو گردانیں اور صیغے ذہن نشین کرانے میں اساتذہ جو سختی کرتے ہیں ، وہ طلبہ کے چمن ذہن و قلب آبیاری کی کرنے کے بہ جائے اس میں بادِ سموم پھیلانے کا کام کرتی ہے ۔ لیکن بے چارے اساتذہ بھی کیا کریں ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ Shereiz no royal road in arobicاس کے باوجود جب ہم اردو زبان کے لسانی رگ و ریشے او رادبی و روپ پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں عربی زبان ، اردو کے خون میں گردش کرتی نظر آتی ہے اور جس طرح انسان اپنے اند رخون کی گردش کو محسوس نہیں کر سکتا، اسی طرح ایک عام اردو والااپنی زبان میں شامل عربی کے الفاظ کو نہیں پکڑ سکتا جب تک کہ وہ اچھی نبض شناسی نہ سیکھ لے ۔
اردو زبان میں روز مرہ بات چیت ہو کہ علمی گفتگو ، سائنسی و تکنیکی تحقیق و تدقیق ہو کہ ادبی و شعری تنقید و تخلیق ، تذکر ہ ہو یا تجزیہ ، تعارف ہو یا تبصرہ عربی سے استعانت کے بغیرنوالہ توڑنا مشکل ہو تا ہے ۔ اردو تحریرو تقریر میں عربی کی مانوس اصطلاحات و تعبیرات یا معروف تراکیب کو تو ہم ان کی خصوصی و امتیازی حیثیت کے سبب بڑی آسانی سے پہچان لیتے ہیں ، لیکن بہت سے لفاظ و تراکیب اتنی خاموشی سے ہماری زبان میں سرایت کر گئی ہیں کہ ان کی نشان دہی کرنا بھی آسان نہیں ہو تا ۔
مجھے یہ کہتے ہوئے کوئی جھجھک نہیں محسوس ہوتی کہ ہندی کے مقابلے میں اگر اردو کی الگ شناخت فارسی سے زیادہ عربی عناصر کے سبب قایم ہوتی ہے ۔ عربی کے لسانی عناصر سے مملو تحریر کو خواہ اردو رسمِ خط میں لکھا جائے خواہ دیو ناگری لپی میں ، وہ فوراً بول پڑے گی کہ میں اردو ہوں ۔ خیر اردو ہندی کا ٹنٹا کھڑا کیے بغیر میں اس وقت ایسی تین مثالیں دینا چاہوں گا جن سے بآسانی پتا چل سکے گا کہ تمام پڑھے لکھے اردو دانوں کی تحریر و تقریر خواہ وہ عمومی ہو یا اختصاصی ، عربی کے لسانی و ادبی عناصر سے مملو ہوتی ہے ۔ یاد رہے یہ مثالیں منفرد نہیں ہیں اور اس طرح کی مثالیں کسی بھی اخبار یا رسالے سے اخذ کی جا سکتی ہیں ۔ میں نے یہ مثالیں ممبئی سے شایع ہونے والے ایک رسالے ’ اردو چینل کے تازہ شمارے سے اخذ کی ہیں جو دو روز قبل ہی مجھے موصول ہوا ہے ۔ سب سے پہلے میں مرحوم رشید حسن خاں کے ایک انٹرویو کے چند جملے پیش کروں گا ۔ ملاحظہ فرمائیں :
” ہمارے ہاں شرح نگاری کی جو قدیم روایت تھی ، اس میں کسی بھی شرح نگار نے یہ نہیں کہا کہ ایک شعر کا ایک ہی مفہوم ہوتا ہے ۔ ہمیشہ مانا گیا ایک شعر کے متعدد مفاہیم ہو سکتے ہیں لیکن وہ مفاہیم بر آمدانھیں الفاظ سے ہوں گے ، خارج سے نہیں آئیں گے اور الفاظ جن مفاہیم سے مناسبت نہ رکھتے ہوں ان کو شاعر سے منسوب نہیں کیا جا سکتااور نہ شعر سے “
اس ٹکڑے میں ’ شرح نگاری‘ کی ترکیب میں فارسی شامل ہے اور دو لفظ فارسی کے آزادانہ طور پر استعمال ہوئے ہیں ’ ہمیشہ ‘ اور ’ بر آمد‘ ۔ ان کے علاوہ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر) عربی کے ہیں ۔اب ایک اور اقتباس ملاحظہ فرمائیں جس مین قاضی محمد عدیل عباسی کے بارے میں صرف یہ اطلاع دی گئی ہے کہ انھوں نے دور طالبعلمی ہی سے تحریک آزاد ی میں حصہ لینا شروع کردیا تھا ۔
1920ءمیں بی اے پاس کیا ۔ پھر قانون کی تعلیم حاصل کر نے کے لیے ا لٰہ آباد گئے ۔ الٰہ آباد یونیورسٹی کے اسکول آف لا میں داخلہ لیا ۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ ترک موالات کی تحریک زوروں پر تھی ۔ قاضی صاحب اس تحریک سے بہت متاثر ہوئے اور جلد ہی یونی ورسٹی کو خیر آباد کہہ کر تحریک آزادی سے جڑ گئے ۔ تحریک ترکِ موالات کی حمایت میں ملک کے مختلف حصوں میں جلسے ہوتے ۔ ان جلسوں میں قاضی صاحب بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے اور تقریریں کرتے تھے ۔“
اس تحریر میں بھی صرف دو لفظوں میں فارسی کا اثر ملتا ہے ” زوروں “ اور ” خیر آباد “۔ باقی سارے الفاظ ( ہندی کے افعال و حروف سے قطع نظر ) عربی کے ہیں ۔ یعنی ایک سیدھی سادی معلوماتی تحریر میں بھی بنیادی الفاظ عربی سے ماخوذ ہیں جن کی مدد کے بغیر مصنف کا قلم آگے نہیں بڑھ سکتا ۔
اب میں تیسری مثال ایک ایسی تحریر کی دینا چاہوں گا جس میں ادب میں مستعمل اصطلاحات کی مدد سے ایک ادبی تھیوری سے متعلق کسی اردو ناقد کی پیش کردہ وضاحت کا تعارف پیش کیا گیا ہے :
” مصنف کا موقف بھی یہی ہے کہ ساسیور اور دریدا کی اس لسانی تھیوری کا نہ صرف تفصیلی مطالعہ کیا جائے بلکہ توضیحات او ر دلائل کے ساتھ اردو ادب کے تخلیقی متون پر بھی اس کا اطلاق کیا جائے جن کی نشانیاں ہمیں بڑے ناقد کے یہاں ملنے لگی تھیں ۔ ان مباحث سے پرے کی مذکورہ محتویات دیگر نظریہ ساز قبول کریں گے بھی یا نہیں ، ان کا سراغ لگانا اور صراحت کے ساتھ بیان کرنا،ایک دقت طلب مرحلہ تھا ۔“
اس اقتباس میں بھی ” نشانیاں “ ’ سراغ“ اور ” نظریہ ساز“ ان تینوں لفظوں اور ہندی کے افعال و حروف سے صرف نظر کریں تو تقریباً بیس لفظ یا ترکیبیں عربی سے ماخوذ ہیں ۔
ان تین مثالوں کا مزید تجزیہ کیے بغیر بھی یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اردو سے عربی کا لسانی و ادبی رشتہ بہت گہرا اور قریبی ہے اور اس پر گفتگو کے لیے ایک سیمنار کا انعقاد نہایت موزوں اقدام ہے ۔ یہاں البتہ ایک خطرے کی طرف اشارہ کرتا چلوں کہ عربی دنیا کی عظیم ترین زبانوں میں سے ایک ہونے او ر اردو پر اسے کئی اعتبار سے فوقیت حاصل ہونے کے سبب شرکائے مذاکرہ مرعوبیت کا شکارہ نہ ہو جائیں اور اردو کو ایک آزاد اور خود مختار زبان سمجھنے کے بہ جائے اسے عربی کی دست نگر اور خوشہ چیں کے طور پر نہ پیش کرنے لگیں ۔ ان کو ایسے میں انشاءاللہ خاں انشاکی یہ با ت یاد رکھنی چاہیے کہ کوئی لفظ خواہ عربی کا ہو، فارسی کا ہو یا ترکی کا، جب اردو میں آگیا تو اردو کا ہو گیا ۔ اب تلفظ ،معنی اور محل استعمال کے اعتبار سے وہ اردو کے چلن اور قاعدے کا پابند ہو گا ۔ انشا کے اس قول میں صرف لفظ املا کا اضافہ کر دیا جائے تو بات اور بھی مکمل ہو جائے گی ۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ عربی کے علماو اساتذہ اردو والوں کے تلفظات ، عربی الفاظ کے معانی و محلّ ِاستعمال اور ان کے املا پر تضحیک آمیز انداز میں اعتراض کرتے ہیں ۔ یہاں تک کہ انھیں جاہل ٹھہرانے میں بھی کمی نہیں کرتے ۔ ایسے ہی دو تین عربی داں علما نے ’ قاموس الاغلاط“ کے نام سے ایک چھوٹی سی فرہنگ مرتب کی تھی اور اردو کے بیش تر اہل ِ قلم کی تحریروں سے مثالیں دے کر الفاظ کو ان کے اصلی عربی معنی ، محاورے اور تلفظ کے مطابق استعمال نہ کرنے پر انھیں اعتراض بلکہ استہزا کا نشانہ بنایا تھا ۔ ایسا ہی ایک لفظ ” مشکور “ ہے ۔ جسے شاکر یا متشکر سے بدلنے کا مشورہ اردو والوں کو گذشتہ ایک صدی سے دیا جا رہا ہے جب کہ یہ لفظ شبلی اور حالی تک کی تحریروں میں ’شکر گذار ‘کے معنی میں استعمال ہوا ہے اور مولانا سید سلیمان ندوی جیسے عربی کے جید عالم نے ’ مقالاتِ سلیمانی‘ میں مشکور کی جگہ شاکر یا متشکر بولنے اور لکھنے کا مشورہ دینے والوں کے سلسلے میں اردو والوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ شکریے کے ساتھ یہ مشورہ انھیں کو لوٹا دیں ۔ میرا جی چاہتا ہے کہ کوئی صاحب اپنے مقالے میں اردو میں مستعمل ایسے تمام نہیں تو بیش تر الفاظ کو جو ’ معنی ، ’ تلفظ‘ املا اور محلِّ استعمال کے اعتبار سے قطعاً اردو کے ہو گئے ہیں ، زیر بحث لائیں اور معترضین کے ساتھ اردو کے عام قارئین کے ذہنی جالوں کو بھی صاف کریں ۔
بر صغیر میں اسلامی و مشرقی علوم و فنون خصوصاً تفسیر، حدیث، فقہ، تصوف، طب یونانی کے علاوہ فن تعمیر ، علم ہندسہ ، نقاشی،خطّاطی وغیرہ سے اردو والوں کو خاص جڑاو¿ اور لگاو¿رہا ہے ۔ چنانچہ ان شعبوں سے متعلق وہ تمام اصطلاحات و اظہارات جو عربی سے ماخوذ ہیں ، اردو میں بھی مستعمل ہیں ۔ ان مستعار عناصر کے سبب اردو کا رشتہ عربی سے کتنا گہرا اور پر معنی ہو گیا ہے ، اس پرتحقیقی و تنقیدی نگاہ ڈالنا بھی مفید ہو گا اور مجھے یقین ہے کہ شرکائے مذاکرہ میں سے کسی نہ کسی نے اس پر توجہ کی ہو گی ۔
اردو اور عربی کے درمیان لسانی و ادبی رشتے کی جڑوں کے تلاش میں تراجم کا جائزہ لینا بھی کار آمد ہو سکتا ہے ۔ صرف قرآن کے ہی تراجم کا لسانی و ادبی تجزیہ کیا جائے تو اردو کے اسلوبیاتی ارتقا کی تاریخ کا ایک مختلف باب وا ہوسکتا ہے۔ قرآن کے متعدد تراجم کا تقابلی جائزہ بھی نہایت سنجیدگی اور ارتکاز کا تقاضا کرتا ہے اور اس سے عہدہ بر آ ہونے کے لیے اردو کے ساتھ عربی پر بھی غیر معمولی عبور کی ضرور ت ہے ۔ ممکن ہے اس مجلس میں موجود علما میں کوئی عربی داں صاحب نظر اسکالر اس پہلو کو بھی لائق توجہ سمجھیں اور سیمنار کے بنیادی مو ضوع کی تکمیل میں معاون ثابت ہوں ۔
عربی سے اردو تراجم کی دنیا تو اتنی وسیع ہے کہ صرف اسی موضوع پر ایک سہ روزہ سیمنار منعقد ہو سکتا ہے اور اس کے بعد بھی شاید تشنگی باقی رہے ۔معزز سامعین ! میں نے قصداًاپنی تقریر میں محض بنیادی موضوع کے بعض پہلوو¿ں کی نشان دہی کو ملحوظ رکھا ہے۔ ممکن ہے اس سے آپ کی تشنگی رفع نہ ہوئی ہو اور آپ نے مجھ سے جو توقع وابستہ کی ہو وہ بھی پوری نہ ہوئی ہو ۔ لیکن آپ خاطر جمع رکھیں ۔ میرے بعد صدر محترم کے خطبہ¿ صدارت اور سیمنار میں شریک اہل علم کے مقالات سے آپ کے ذوق و جستجو کی سیرابی یقینا ہوگی اور آپ کے ساتھ یہ ناقص العلم بھی یہاں سے فیض یاب ہو کے چلے گا ۔
٭٭٭

Mumtaz shiireen

Articles

ممتاز شیریں: شخصیت اور فن (خطوط کے آئینے میں)

ڈاکٹر تنظیم الفردوس

ممتاز شیریں 12 ستمبر 1924ء کوہندو پور، آندھرا پردیش ، ہندوستان میں پیدا ہوئیں۔ ممتاز شیریں کے نانا ٹیپو قاسم خان نے اپنی اس نواسی کو تعلیم و تربیت کی خاطر اپنے پاس میسور بلا لیا ۔اس طرح وہ بچپن ہی میں اپنے ننھیال میں رہنے لگیں۔ ممتاز شیریں کے نانا اور نانی نے اپنی اس ہو نہار نواسی کی تعلیم و تربیت پر خصوصی توجہ دی۔ وہ خود بھی تعلیم یافتہ تھے اور گھر میں علمی و ادبی ماحول بھی میسر تھا ۔ممتاز شیریں ایک فطین طالبہ تھیں انھوں نے تیرہ (13)برس کی عمر میں میٹرک کا امتحان درجہ اول میں امتیازی حیثیت سے پاس کیا۔ ان کے اساتذہ ان کی قابلیت اور خداداد صلاحیتوں کے معترف تھے ۔1941ء میں ممتاز شیریں نے مہارانی کالج بنگلور سے بی اے کا امتحان پاس کیا ۔1942ء میں ممتاز شیریں کی شادی صمد شاہین سے ہو گئی۔ ممتاز شیریں نے 1944ء میں اپنے شوہر صمد شاہین سے مل کر بنگلور سے ایک ادبی مجلے “نیا دور” کی اشاعت کا آغاز کیا۔اس رجحان ساز ادبی مجلے نے جمود کا خاتمہ کیا اور مسائل ادب اور تخلیقی محرکات کے بارے میں چشم کشا صداقتیں سامنے لانے کی سعی کی گئی ۔صمد شاہین پیشے کے اعتبار سے وکیل تھے ۔انھوں نے وکالت کے بعد ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اس کے بعد وہ حکومت پاکستان میں سرکاری ملازم ہو گئے۔ وہ ترقی کے مدارج طے کرتے ہوئے بیورو آف ریفرنس اینڈ ریسرچ میں جوائنٹ ڈائریکٹر کے منصب پر فائز ہوئے۔ ممتاز شیریں نے زمانہ طالب علمی ہی سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا ۔ان کی سنجیدگی ،فہم و فراست ،تدبر و بصیرت اور وسیع مطالعہ نے انھیں سب کی منظور نظر بنا دیا۔ ہر جماعت میں وہ اول آتیں اور ہر مضمون میں امتحان میں وہ سر فہرست رہتیں۔ ملک کی تقسیم کے بعد ممتاز شیریں کا خاندان ہجرت کر کے کراچی پہنچا۔ کراچی آنے کے بعد ممتاز شیریں نے اپنے ادبی مجلے نیا دور کی اشاعت پر توجہ دی اور کراچی سے اس کی باقاعدہ اشاعت کاآغاز ہو گیا لیکن 1952ء میں ممتاز شیریں اپنے شوہر کے ہمراہ بیرون ملک چلی گئیں اور یوں یہ مجلہ اس طرح بند ہو ا کہ پھر کبھی اس کی اشاعت کی نوبت نہ آئی۔ ادبی مجلہ نیادور ممتاز شیریں کی تنقیدی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت تھا ۔ ممتاز شیریں نے جامعہ کراچی سے انگریزی ادبیات میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی ۔اس کے بعد وہ برطانیہ چلی گئیں اور آکسفورڈ یونیورسٹی میں جدید انگریزی تنقید میں اختصاصی مہارت فراہم کرنے والی تدریسی کلاسز میں داخلہ لیا اور انگریزی ادب کے نابغہ روزگار نقادوں اور ادیبوں سے اکتساب فیض کیااور انگریزی ادب کا وسیع مطالعہ کیا۔ ممتاز شیریں کی دلی تمنا تھی کہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں ان کی تعلیم جاری رہے اور وہ اس عظیم جامعہ سے ڈاکٹریٹ (ڈی فل ) کریں لیکن بعض ناگزیر حالات اور خاندانی مسائل کے باعث وہ اپنا نصب العین حاصل نہ کر سکیں اور انھیں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کر کے پاکستان وا پس آنا پڑا۔ اس کا انھیں عمر بھر قلق رہا۔

ممتاز شیریں نے 1942ء میں تخلیق ادب میں اپنے سفر کا آغاز کیا۔ان کا پہلا افسانہ انگڑائی ادبی مجلہ ساقی دہلی میں 1944ء میں شائع ہو ا تو ادبی حلقوں میں اسے زبردست پذیرائی ملی ۔اس افسانے میں ممتاز شیریں نے فرائڈ کے نظریہ تحلیل نفسی کو جس مو ثر انداز میں پیش نظر رکھا ہے وہ قاری کو مسحور کر دیتا ہے۔ افسانہ کیا ہے عبرت کا ایک تازیانہ ہے ۔ایک لڑکی بچپن میں اپنی ہی جنس کی ایک دوسری عورت سے پیمان وفا باندھ لیتی ہے۔ جب وہ بھر پور شباب کی منزل کو پہنچتی ہے تو اس کے مزاج اور جذبات میں جو مد و جزر پیدا ہوتا ہے وہ اسے مخالف جنس کی جانب کشش پر مجبور کر دیتا ہے۔ جذبات کی یہ کروٹ اور محبت کی یہ انگڑائی نفسیاتی اعتبار سے گہری معنویت کی حامل ہے ۔بچپن کی نا پختہ باتیں جوانی میں جس طرح بدل جاتی ہیں، ان کا حقیقت پسندانہ تجزیہ اس ا فسانے کا اہم موضوع ہے۔ مشہور افسانہ انگڑائی ممتاز شیریں کے پہلے افسانوی مجموعے اپنی نگریا میں شامل ہے ۔وقت کے ساتھ خیالات میں جو تغیر و تبدل ہوتا ہے وہ قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ بن جاتا ہے ۔یہ تجربہ جہاں جذباتی اور نفسیاتی اضطراب کا مظہر ہے وہاں اس کی تہہ میں روحانی مسرت کے منابع کا سراغ بھی ملتاہے ۔ وہ ایک مستعد اور فعال تخلیق کار تھیں ۔ان کے اسلوب کوعلمی و ادبی حلقوں نے ہمیشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا۔

اردو ادب میں حریت فکر کی روایت کوپروان چڑھانے میں ممتاز شیریں کا کردار بہت اہمیت کا حامل ہے۔وہ عجز و انکسار اور خلوص کا پیکر تھیں ۔ظلمت نیم روز ہو یا منٹو نوری نہ ناری ہر جگہ اسلوبیاتی تنوع کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ قدرت اللہ شہاب اور محمود ہاشمی کے اسلوب کو وہ قدر کی نگاہ سے دیکھتی تھیں ۔قدرت اللہ شہاب کی تصنیف “یا خدا” اور محمود ہاشمی کی تصنیف “کشمیر اداس ہے” کا پیرایۂ آغاز جس خلوص کے ساتھ ممتاز شیریں نے لکھا ہے وہ ان کی تنقیدی بصیرت کے ارفع معیار کی دلیل ہے ۔وطن اور اہل وطن کے ساتھ قلبی لگاؤ اور والہانہ محبت ان کے قلب ،جسم اور روح سے عبارت تھی ابتدا میں اگرچہ وہ کرشن چندر کے فن افسانہ نگاری کی مداح رہیں مگر جب کرشن چندر نے پاکستان کی آزادی اور تقسیم ہند کے موضوع پر افسانوں میں کانگریسی سوچ کی ترجمانی کی تو ممتاز شیریں نے اس انداز فکر پر نہ صرف گرفت کی بلکہ اسے سخت نا پسند کرتے ہوئے کرشن چندر کے بارے میں اپنے خیالات سے رجوع کر لیااور تقسیم ہند کے واقعات اور ان کے اثرات کے بارے میں کرشن چندر کی رائے سے اختلاف کیا۔ممتاز شیریں نے اردو ادب میں منٹو اور عصمت چغتائی پر جنس کے حوالے سے کی جانے والی تنقید کو بلا جواز قرار دیتے ہوئے ان کے اسلوب کو بہ نظر تحسین دیکھا۔ممتاز شیریں کا تنقیدی مسلک کئی اعتبار سے محمد حسن عسکری کے قریب تر دکھائی دیتا ہے۔ سب کے ساتھ اخلاق اور اخلاص سے لبریز ان کا سلوک ان کی شخصیت کاامتیاز ی وصف تھا ۔ان کے اسلوب کی بے ساختگی اور بے تکلفی اپنی مثال آپ ہے۔ زبان و بیان پر ان کی خلاقانہ دسترس اور اسلوب کی ندرت کے اعجاز سے انھوں نے ادب ،فن اور زندگی کو نئے آفاق سے آشنا کیا ۔ان کے ہاں فن کار کی انا، سلیقہ اور علم و ادب کے ساتھ قلبی لگاﺅ، وطن اور اہل وطن کے ساتھ والہانہ وابستگی کی جو کیفیت ہے وہ انھیں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے ۔ادب کو انسانیت کے وقاراور سر بلندی کے لیے استعمال کرنے کی وہ زبردست حامی تھیں ۔انھوں نے داخلی اور خارجی احساسات کو جس مہارت سے پیرایہ ءاظہار عطا کیا ہے وہ قابل غور ہے ۔

ممتاز شیریں کو انگریزی ، اردو ،عربی، فارسی اور پاکستان کی متعدد علاقائی زبانوں کے ادب پر دسترس حاصل تھی ۔عالمی کلاسیک کا انھوں نے عمیق مطالعہ کیا تھا۔ زندگی کے نت نئے مطالب اور مفاہیم کی جستجو ہمیشہ ان کا مطمح نظر رہا۔ اپنی تخلیقی تحریروں اور تنقیدی مقالات کے معجز نما اثر سے وہ قاری کو زندگی کے مثبت شعور سے متمتع کرنے کی آرزو مند تھیں۔ ان کی تخلیقی اور تنقیدی تحریریں ید بیضا کا معجزہ دکھاتی ہیں اور حیات و کائنات کے ایسے متعدد تجربات جن سے عام قاری بالعموم نا آشنا رہتا ہے ممتاز شیریں کی پر تاثیر تحریروں کے مطالعے کے بعد یہ سمجھتا ہے کہ یہ سب کچھ تو گویا پہلے ہی سے اس کے نہاں خانہ دل میں جا گزیں تھا ۔اس طرح فکر و خیال کی دنیا میں ایک انقلاب رونما ہو تا ہے جس کی وجہ سے قاری کے دل میں اک ولولۂ تازہ پیدا ہوتا ہے ۔ ترجمے کے ذریعے وہ دو تہذیبوں کو قریب تر لانا چاہتی تھیں۔ تراجم کے ذریعے انھوں نے اردو زبان کو نئے جذبوں، نئے امکانات، نئے مزاج اور نئے تخلیقی محرکات سے روشناس کرانے کی مقدور بھر کوشش کی ۔ان کے تراجم کی ایک اہم اور نمایاں خوبی یہ ہے کہ ان کے مطالعہ کے بعد قاری ان کے تخلیق کار کی روح سے ہم کلام ہو جاتا ہے مترجم کی حیثیت سے وہ پس منظر میں رہتے ہوئے قاری کو ترجمے کی حقیقی روح سے متعارف کرنے میں کبھی تامل نہیں کرتیں ۔ان کے تراجم سے اردو کے افسانوی ادب کی ثروت میں اضافہ ہوا اور فکر و خیال کو حسن و دلکشی اور لطافت کے اعلیٰ معیار تک پہنچانے میں کامیابی ہوئی۔افسانوی ادب کی تنقید میں ممتاز شیریں کا دبنگ لہجہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ گزشتہ آٹھ عشروں میں لکھی جانے والی اردو تنقید پر نظر ڈالیں تو کوئی بھی خاتون نقاد دکھائی نہیں دیتی ۔ممتاز شیریں نے اردو تنقید کے دامن میں اپنی عالمانہ تنقید کے گوہر نایاب ڈال کر اسے عالمی ادب میں معزز و مفتخر کردیا ۔ زندگی کی صداقتوں کو اپنے اسلوب کی حسن کاریوں سے مزین کرنے والی اس عظیم ادیبہ کے تخلیقی کارنامے تاریخ ادب میں آب زر سے لکھے جائیں گے اور تاریخ ہر دور میں ان کے فقیدالمثال اسلوب لا ئق صد رشک و تحسین کا م اور عظیم نام کی تعظیم کرے گی۔

1954ء میں ہالینڈ کے دار الحکومت ہیگ میں ایک بین الاقوامی ادبی کانفرنس کا انعقاد ہوا۔ا س عالمی ادبی کانفرنس میں عالمی ادب اور انسانیت کو درپیش مسائل کے بارے میں وقیع مقالات پیش کیے گئے ۔ممتاز شیریں کو اس عالمی ادبی کانفرنس میں پاکستان کی نمائندگی کا اعزاز حاصل ہوا۔اس عالمی ادبی کانفرنس میں ممتاز شیریں نے دنیا کے نامور ادیبوں سے ملاقات کی اور عالمی ادب کے تناظر میں عصری آگہی کے موضوع پر ان کے خیالات کو سمجھنے کی کوشش کی۔ ادب کو وہ زندگی کی تنقید اور درپیش صورت حال کی اصلاح کے لیے بہت اہم سمجھتی تھیں ۔

اپنی تخلیقی کامرانیوں سے ممتاز شیریں نے اردو دنیا کو حیرت زدہ کر دیا ۔رنگ، خوشبو اور حسن و خوبی کے تمام استعارے ان کے توانا اور ابد آشنا اسلوب میں سمٹ آئے تھے۔ ان کی تمام تحریریں قلب اورروح کی اتھاہ گہرائیوں میں اتر جانے والی اثرآفرینی سے لبریز تھیں۔ ممتاز شیریں کی درج ذیل تصانیف انھیں شہرت عام اور بقائے دوام کے دربار میں بلند مقام پر فائز کریں گی ۔

افسانوی مجموعے

  • اپنی نگریا
  • حدیث دیگراں
  • میگھ ملہار
  • ظلمت نیم روز (فسادات کے افسانے) ترتیب: ڈاکٹر آصف فرخی

تنقید

  • معیار
  • منٹو، نوری نہ ناری

مدیر

  • نیا دور (ادبی جریدہ)

تراجم

  • درشہوار (جان اسٹین بیک کا ناول دی پرل کا ترجمہ)
  • پاپ کی زندگی ( امریکی افسانوں کا مجموعہ)

ممتاز شیریں پر کتب

ملازمت

ممتاز شیریں اپنی زندگی کے آخری دنوں میں حکومت پاکستان کی وفاقی وزارت تعلیم میں بہ حیثیت مشیر خدمات پر مامور تھیں ۔

وفات

ممتاز شیریں کو 1972ء میں پیٹ کے سرطان کا عارضہ لاحق ہو گیا ۔مرض میں اس قدر شدت آگئی کہ 11 مارچ 1973ء کو پولی کلینک اسلام آباد میں وہ انتقال کر گئیں ۔ تانیثیت (Feminism) کی علم بردار حرف صداقت لکھنے والی اس با کمال ،پر عزم ،فطین اور جری تخلیق کار کی الم ناک موت نے اردو ادب کو نا قابل اندمال صدمات سے دوچار کر دیا۔


 

ممتاز شیریں: شخصیت اور فن

(خطوط کے آئینے میں)

ڈاکٹر تنظیم الفردوس

اُردو ادب میں ممتاز شیرین چند نہایت عالمانہ بصیرت کی حامل مصنفوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ وہ اُردو کے تین بہترین افسانہ نگاروں میں بے شک شامل نہ کی جائیں لیکن اس فن میں ان کی ہنرمندی، ادبی شعور، تخلیقی حساسیات اور ذہانت نے شامل ہوکر اُردو افسانے اور اس کی تنقید کو بہت کچھ دیا ہے۔ فنِ تنقید کے عمومی موضوعات کے حوالے سے بھی شیرین نے ستھرا اور اعلٰی درجے کا کام کیا اور عملی تنقید کے بہترین نمونے بھی فراہم کیے۔ ایک صحافی اور اپنے وقت کے اہم ادبی رسالے کی مدیرہ و منتظمہ کی حیثیت سے بھی انہوں نے نمایاں شناخت حاصل کی۔ اسی حیثیت میں انھوں نے عالمی افسانوی ادب کے تراجم کا سلسلہ بھی شروع کیا جو ان کی ادبی تنوع پسندی کی ایک انفرادی جہت ہے۔
اسی طرح مشاہیر، ہمعصر ادیبوں اور دوستوں کے نام اُن کے خطوط نہ صرف ان کی شخصیت کے مختلف النوع پہلووں کو اُجاگر کرتے ہیں بلکہ اپنے عصر کے حالات، ادبی تاریخ، رُجحانات، مسائل اور سرگرمیوں کا احاطہ بھی بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اِن خطوط سے ممتاز شیریں کی زندگی کے اُن گوشوں کی نقاب کشائی بھی ہوتی ہے جن کی مدد سے ان کی رواداری اور متواضع شخصیت کا علم ہوتا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ان کے جتنے خط منظرِ عام پر آنے چاہئے تھے وہ نہ آسکے جب کہ وہ برسوں ایک اہم رسالے کی ادارت کرتی رہیں۔ محض اس ایک ذمہ داری کی وجہ سے اپنے عہد کے بے شمار مشاہیرکو انھوں نے خطوط تحریر کیے ہوں گے۔ اگر وہ تمام خط سامنے آسکیں تو یقیناً ادبی دُنیا کو اُن کے افکار و تصورات کے بارے میں مزید معلومات حاصل ہوسکیں گی۔
ہر لکھنے والے کے لیے خط تحریر کرتے ہوئے نہ کوئی محّرک  ضرور ہوتا ہے اور اسی محّرک کی بنا پر مکتوب نگار اپنی حد تک مکتوب نویسی کا کوئی نہ کوئی ضابط متعین کر لیتا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ مکتوب نگار کی آواز سو فیصد ذاتی ہوتی ہے۔ حالاں کہ اپنی عملی زندگی میں وہی مکتوب نگار اپنی ایک منفرد سماجی آواز بھی رکھتا ہے اور اس کی ادبی تخلیقات میں بھی اس کی ایک علیحدہ آواز گونجتی ہے۔ لیکن خطوط میں مکتوب نگار کی آواز ایک ایسے انسان کی آواز “ایک ایسے انسان دوست کی ہوتی ہے جو عظیم فنکار ہوتے ہوئے بھی ایک عام انسان ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خلوت کدے میں اپنے چہرے اور تہہ دار تہہ شخصیت سے تمام پردے ہٹا دیتا ہے۔”۱
بے شک ایک اچھے خط کو ایسا ہی ہونا چاہیے لیکن یہ اسی وقت ممکن ہے جب مکاتیب کی تحریر کے وقت اس کی اشاعت کا کوئی منصوبہ ذہن میں نہ ہو۔ ہمارے مشہور مکتوب نگاروں کے مجموعہ مکاتیب کے حوالے سے یہ دونوں صورتیں دیکھی جاسکتی ہیں۔ کسی بھی صورت میں اگر اسلوب میں روانی، بیان میں پختگی اور ہمعصر رجحانات پر گہری نظر مکاتیب کا خاصہ ہو تو ان کی ادبی حیثیت مسلمہ ہے۔
ممتاز شیرین نے رشتہ داروں، دوستوں ہم عصروں اور ادبی دُنیا کے نامور مدیروں کو بے شمار خطوط لکھے۔ ان خطوط میں ان کے ذاتی معاملات کا بیان بھی ہے، ادبی مباحثوں پر تبصرے بھی ہیں، ادبی دُنیا کی بے مہری کے تذکرے بھی ملتے ہیں اور اپنی تصانیف پر بے لاگ تنقید کا انداز بھی دکھائی دیتا ہے۔ خصوصیت کے ساتھ افسانہ نگاری اور افسانہ نگاری کی تنقید کے حوالے سے بہت سے خطوط میں وہ اپنے ادبی موقف کا اظہار کرتی ہیں۔ یہ خطوط  زیادہ خالص اور حقیقی جذبات کی موثر نشاندہی کرتے ہیں۔
ابوبکر عباد اپنی کتاب میں ممتاز شیرین کے خطوط کو بلحاظِ موضوع چار اقسام میں تقسیم کرتے ہیں۔
۱۔        اپنے اور اپنے فن کے بارے میں
۲۔        دوسرے افراد اور ان کے رویوں سے متعلق
۳۔        ذاتی نوعیت کے
۴۔        سیاحت کے احوال و واقعات پر مشتمل۔ ۲
پہلے دو اقسام کے خطوط اکثر ادبی دوستوں، رسالوں کے مدیروں اور اپنے فن کے کھرے نقادوں کو لکھے گئے ہیں۔۔۔۔۔۔ انہی میں کچھ افراد سے نجی مراسم بھی گہرے تھے۔ لٰہذا انھیں اور بعض عزیزوں کو ذاتی حالات و معاملات پر مبنی خطوط بھی تحریر کیے گئے ہیں۔ چوتھی قسم کے خطوط میں اہم ترین خط وہ ہیں جو انھوں نے مختلف ممالک میں قیام کے دوران صمد شاہین کی بھانجی اور اپنی عزیز دوست زینت جہاں کو لکھے تھے۔ تاج سعید نے ان کے انتقال کے بعد جب “قند” کا “ممتاز شیرین نمبر” نکالنے کا منصوبہ بنایا تو صمد شاہین کی وساطت سے انھین انگریزی میں لکھے گئے ان خطوط کا اسی (۸۰) سے زائد صفحات پر مشتمل مسودہ موصول ہوا۔ جن میں سے انتخاب کے بعد ان میں کچھ کا ترجمہ کرواکے مذکورہ نمبر میں شامل کر لیا گیا۔
ان کے فن اور شخصیت کے حوالے سے اہم خطوط میں محمد سلیم الرحمٰن کے نام خطوط مشمولہ “قومی زبان” ۱۹۹۰ء ونیز “سوغات” (بنگلور( شمارہ نمبر۳، ستمبر ۱۹۹۲ء ضمیر الدین احمد کے نام مشمولہ “سوغات” (کراچی) شمارہ نمبر ۶، مارچ ۱۹۹۴ء۔ شاہد حمید کے نام مشمولہ “صحرابیں” (لاہور) ۱۹۹۲ء۔ محمود ایاز کے نام مشمولہ “سوغات” (بنگلور)، شمارہ نمبر ۳، ستمبر ۱۹۹۲ء۔ اوپندر ناتھ اشک کے نام۔ ۳ بنام نظیر صدیقی مشمولہ “نامے میرے نام آئے” کے علاوہ مدیر نقوش محمد طفیل کے نام ۴۲ خطوط “تحقیق نامہ” : جی سی یونیورسٹی، ۲۰۰۶ میں صفحہ نمرب ۳۴۵ تا ۳۸۶ میں شائع ہوئے۔ /لاہور کے خصوصی شمارہ ۲۰۰۵
اپنے افسانوں کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے بسا اوقات مبصرین کی رائے سے اتفاق کرتی ہیں، کھبی وضاحتی انداز اختیار کرتی ہیں اور کھبی ناقدین کی رائے سے قطعی عدم اتفاق کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ مثلاً محمد سلیم الرحمٰن نے ان کے مجموعے “میگھ ملہار” پرپاکستان ٹائمز میں تبصرہ کیا تھا جس کا لہجہ بے حد سخت تھا۔ ۱۹۶۳ء میں سلیم الرحمٰن کی ممتاز شیرین سے براہِ راست خط و کتابت جاری تھی تو شاید کسی موقع پر سلیم الرحمٰن نے ندامت ظاہر کی ہوگی۔ اس کے جواب میں وہ لکھتی ہیں:
“نادم ہونے کی بھی آپ نے ایک کہی۔ جب آپ نے یہ سب کچھ سچائی سے محسوس کرکے
لکھا ہے تو اس میں نادم ہونے کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی میں ان زود حِس قسم کے ادیبوں
میں سے نہیں ہوں جو ذراسی بھی تنقید کا برامان جاتے ہیں جب میں خود نقاد ہوں تو اپنی
تحریروں پر دوسروں کی تنقید کو بھی برداشت کرسکتی ہوں۔” ۴
لیکن شاہد حمید کے نام ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء کے خط میں وہ شاہد حمید کی اپنے افسانوں سے متعلق رائے کو بالکل مسترد کردیتی ہیں۔ الگ الگ افسانوں کا ذکر کرتے ہوئے ان افسانوں سے متعلق اپنے نقطہ نظر کا حوالہ دیتی ہیں اور اپنے افسانے “آئینہ” کو وقیع اور بلند قرار دیتے ہوئے لکھتی ہیں:
“دوسروں کے افسانوں پر تنقید کرتے ہوئے اگر میں معروضیت برت سکتی ہوں تو اپنے متعلق بھی مرا رویہ مختلف نہیں ہوتا۔ اور اپنے افسانوں کے بارے میں اگر میں بہت زیادہ خوش فہم نہیں (کیوں کہ برائے ادب کا مجھے کچھ اندازہ ہے) تو بدظن بھی نہیں ہوں۔ اتنی خود اعتمادی مجھ میں ہے”۔۵
اسی خود اعتمادی کا مظاہرہ وہ ضمیر الدین احمد کے نام اپنے خط میں اس انداز میں کرتی ہیں:
“آپ کو اس کی شکایت ہے کہ وقار عظیم صاحب نے “ساقی” میں میرے بارے میں مضمون میں آپ کو یونہی ذکر کردیا ہے۔ اب اسے کیا کہیے گا کہ عبادت بریلوی نے “ساقی” میں پچیس سالہ تنقید پر مضمون میں میرا سرے سے ذکر ہی نہیں کیا ہے۔ حالاں کہ بعض اونچے ادبی حلقوں میں یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ پاکستان میں دو ہی وقیع نقاد ہیں۔ ایک عسکری صاحب ایک میں۔ مجھے یہ بھی معلوم ہے کہ جان بوجھ کر مجھے نظراندازکرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس کی وجہ کا بھی اندازہ ہے کہ کیوں؟ میں لحاظ سے داد نہیں چاہتی کہ عورتوں میں میں ایک ہی نقاد ہوں۔ ادب میں عورت مرد کی تفریق کیوں لایا جائے۔ دونوں کی ادبی حیثیت ساتھ ساتھ متعین کی جاسکتی ہے۔ لیکن ایک ایسے مضمون میں جس میں ان تک کا ذکر ہو جنھوں نے صرف ایک ایک تنقیدی مضامین لکھے ہیں، میرا نام تک نہ لیا جائے تعجب خیز ہے۔” ۶
اس طرح اپنے تراجم کے سلسلے میں کئی خطوط میں تذکرہ کرتی ہیں۔ کامیوں کے ناول “اجنبی” کے ترجمے کے حوالے سے ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء نظیر صدیقی کو لکھتی ہیں:
“اس وقت میں کاموکی کتاب کا ترجمہ کر رہی ہوں۔ یہ ابھی ممکن نہیں ہوا ہے۔ مکتبہ جدید کا تقاضا ہے کہ جلد از جلد مکمل کرلوں۔ ترجمے کے علاوہ دیباچہ کے طور پر ۔۔۔۔۔۔۔ ایک سیر حاصل مضمون بھی چاہتے ہیں۔ اسی کام میں لگی ہوئی ہوں۔” ۷
لیکن محمد سلیم الرحمٰن کے نام اپنے خط میں لکھتی ہیں کہ:
“اجنبی” کا یا کسی اور کتاب کا ترجمہ نہیں کررہی۔ جن دنوں میں “اجنبی” کا ترجمہ کر رہی تھی مجھے معلوم ہوا کہ ایک اور مکتبے والے کسی اور صاحب سے اس کا ترجمہ پہلے ہی کراچکے ہیں۔” ۸
اس خط کے حاشیے میں سلیم الرحمٰن  لکھتے ہیں کہ:
“ترجمہ “بشیر چشتی” نے کیا تھا۔ ممتاز شیرین ترجمہ کرتیں تو خوب ہوتا۔ نامکمل ترجمے کا مسودہ شاید ان کاغذات میں موجود ہو۔” ۹
محمد سلیم الرحمٰن ہی کے نام ایک اور خط میں وہ “میگھ ملہار” پر ان کے کیے ہوئے تبصرے کو سراہتے ہوئے لکھتی ہیں کہ:
“آپ نے بالکل ٹھیک لکھا ہے کہ “میگھ ملہار” میں میرے فن کی سب سے نمائندہ، بہترین اور اصل تخلیق “کفارہ” ہی ہے۔ “کفارہ” میگھ ملہار” کی طرح صرف ادبی تجربہ نہیں ہے بلکہ ایک سچا تجربہ ہے۔ ایک روح کا   نہیں لکھا۔ میں نے اسے بھی ایک کیفColdbloodeallyاور Calculatinglyتجربہ۔ ویسے “میگھ ملہار” بھی نے
اور Learningاور سرشاری میں ڈوب کر لکھا تھا۔ البتہ اس افسانے میں آگے چل کر جیسا کہ آپ نے لکھا ہے،
میں توازن قائم کرنا مشکل ہوگیا۔”۱۰Creativity
اسی افسانے کے بارے میں محمود ایاز کو لکھتی ہیں:
ہو رہی ہے۔ مضامین لکھے جا رہے ہیں۔ مظفر علی سید کے اس  Controversial          “آج کل یہ کتاب خوب
مضمون کے علاوہ ڈاکٹر احسن فاروقی نے “سات رنگ” کے سالنامے کے لیے بہت تفصیلی مضمون لکھا ہے۔ “نیا  رہی اور یہ تو آپ کوRunner Upدور” میں سلیم احمد طویل مضمون لکھ رہے ہیں۔ آدم جی پرائیز کے لیے یہ کتاب
معلوم ہی ہوگا کہ بہترین افسانے کا انعام “کفارہ” کو ملا۔” ۱۱
“سوغات” (بنگلور) میں شیرین کے ایک خط کے حاشیے میں محمود ایاز نے لکھا ہے:
“مرحومہ کی خواہش پر اس کا انگریزی سے ترجمہ میں نے کیا تھا”۱۲
اگرچہ ممتاز شیرین نے اپنی بہت سی تحریروں میں اس بات کا تذکرہ کیا ہے کہ “کفارہ” بنیادی طور پرکے نام سے تحریر کیا گیا تھا۔ مگر اتفاق سے کسی مقام پر بھی انھوں نے“The Atonement”انگریزی میں
“کفارہ” کے مترجم کا ذکر نہیں کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے کئی افسانوں اور مضامین کے ترجمے لوگوں نے کیے۔ بلکہ ایک خط میں محمود ایاز ہی کو ۹ مئی ۱۹۶۳ء کو لکھتی ہیں:
“اگر اب بھی گنجائش ہو تو ایک چیز بھیج رہی ہوں۔ ایک مختصر سا انگریزی مضمون جو مجھ سے پطرس بخاری نے لکھوایا تھا۔ وہ ایک کتاب مرتب کر رہے تھے جس کے لیے انھوں نے دنیا بھر کے فلسفیوں، سائنس دانوں اور ادیبوں وغیرہ سے اس طرح کے تاثرات طلب کیے تھے۔ اس سلسلے میں انھوں نے مجھے بھی لکھا تھا۔ پھر نہیں معلوم اس کتاب کا کیا ہوا۔ شاید کتاب مرتب ہونے سے پہلے ہی پطرس بخاری صاحب وفات پاگئے۔ میں جانتی ہوں آپ بے حد مصروف ہیں لیکن مضمون چھوٹا سا ہے اگر مریم زمانی ایز ترجمے کے لیے تھوڑا سا وقت نکال سکتی ہوں تو پھر ان کے سپرد کر دیجیے۔” ۱۳
گویا محمود ایاز اور ان کی بیگم سے ترجمے کے سلسلے میں ان کی مراسلت رہا کرتی تھی۔ لیکن زینت جہاں کو کراچی سے خط میں تحریر کرتی ہیں کہ:
“تمھیں میرا افسانہ “کفارہ” پڑھنے کی بڑی خواہش تھی۔ حقیقت میں یہ افسانہ میں نے انگریزی زبان میں ۔۔۔ تخلیق کیا تھا اور اس کا ترجمہ اُردو میں “کفارہ” کی سرخی کے ساتھ کیا، انگریزی افسانہ نسبتاً زیادہ موثر ہے۔” ۱۴
مذکورہ بالا جملہ اس قدر صریح معنویت کا حامل ہے کہ اس کے سامنے “محمود ایز” صاحب کے محولہ بالا جملے کا استناد محلِ نظر معلوم ہوتا ہے۔
ان کے چند اہم خطوط میں سے ایک “اوپندرناتھ اشک” کے نام لکھا گیا ہے۔ جس کا طویل اقتباس ابوبکر عباد نے اپنی کتاب میں دیا ہے۔ اس خط سے نیا دور اور ترقی پسندوں کے مناقشے کی تفصیل معلوم ہوتی ہے۔ “نظام” میں ترقی پسند تحریک کے اجلاس کی روداد چھپی تھی جس سے معلوم ہوا کہ “قدوس صہبائی” نے “نیا دور” سمیت رجعت پسند رسائل پر پابندی کی تحریک پیش کی تھی۔ قدوس صہبائی کی ناراضگی کی وجہ بھی بیان کرتی ہیں کہ ممتاز شیریں نے صہبائی کے افسانوں پر سخت تنقید کی تھی اور “نیا دور” میں ان کے غیر معیاری افسانے کی اشاعت سے انکار کردیا تھا۔ لہٰذا قدوس صہبائی سخت ناراض ہوگئے اور ممتاز شیرین اور “نیا دور” کی مخالفت پر اتر گئے۔ راقم الحروف نے ممتاز شیرین کے کاغذات کے درمیان قدوس صہبائی کا ایک خط دیکھا ہے۔ جو درشت لہجے میں ہے۔ شیرین، اشک کے خط میں قدوس صہبائی کے بارے میں لکھتی ہیں:
“جو کچھ ہم نے محسوس کیا لکھا اور وہ برامان گئے اور اس وقت سے ہم پر بہت بگڑے ہوئے ہیں۔ اس لیے اگر “نظام” کے ہرایڈیٹوریل میں اور ان کی بائیکاٹ والی تحریک میں “نیا دور” رجعت پسند رسالوں کے لیے سرِ فہرست پیش کیا گیا تو ہمیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ البتہ جناب سجاد ظہیر کو “نیا دور” میں کون سی چیز کھٹکی ہے، نہیں معلوم۔ ” ۱۵
مدیر نقوش محمد طفیل کے نام “تحقیق نامہ” کے خصوصی شمارے میں شامل صفحہ نمبر ۳۴۵۔۳۸۶ پر ۴۲خطوط ۱۹۴۶ء سے ۱۹۶۴ء عرصے میں لکھے گئے ہیں۔ “نیا دور” کی اشاعت کے عرصے کے دوران اِن خطوط میں مضامین، افسانے، تراجم اور تصویر کے تبادلے کے موضوعات نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔ ممتاز شیرین کی ادبی و ضعداری کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ انھوں نے “نیا دور” کے لیے مخصوص کیا ہوا اپنا مضمون “کشمیر اداس ہے” کا دیباچہ نقوش میں اشاعت کے لیے بھجوادیا ہے۔ کیوں کہ طفیل صاحب کو انکار کرنا مناسب نہ تھا۔ ۱۶۔
اسی طرح سے احمد علی صاحب کا بڑی محنت سے تیار کیا ہوا ایک مضمون و قار عظیم صاحب کے پاس ترجمے کے لیے گیا۔ اطلاع ملی کہ گم ہوگیا ہے۔ کیوں کہ مضمون شیرین کے توسط سے گیا تھا لہٰذا وہ بڑی بے چینی سے مضمون کی تلاش پر اصرار کرتی ہیں۔ ۱۷
۲۳اکتوبر ۱۹۵۱ء کے خط سے بات پر افسوس کا اظہار کرتی ہیں کہ محمد طفیل صاحب نے نقوش کا “الوداعی نمبر” نکالنے کے فیصلہ کر لیا ہے۔ اس کے بعد والے خط میں قدرے تفصیل سے ان مسائل اور معاملات پر اظہارِ خیال کرتی ہیں جو اچھے ادبی رسائل کے اجرا اور تسلسل کی راہ میں حائل ہوتے ہیں۔ اسی خط میں وہ انھیں ایک مخلصانہ مشورہ دیتی ہیں:
“آپ اسے ماہانہ کی بجائے سہہ ماہی بنادیں یوں مضامین کی فراہمی میں اتنی دشواری محسوس نہ ہوگی اور پھر اچھے مضامین جمع ہوسکیں گے اور پرچہ کا معیار برقرار رہے گا۔۔۔۔۔۔ آپ “نقوش” کو سہہ ماہی بنائیں تو      پر چہ خاصا ضخیم ہوگا اور ہر پرچہ ایک “خاص نمبر” کی حیثیت رکھے گا۔ آپ کسی نہ کسی خصوصیت کے ساتھ ہر پرچہ کو خاص نمبر ہی کی طرح شائع کریں تو بہتر رہے گا۔” ۱۸
اس خط میں وہ طفیل صاحب کے استفسار پر یہ بھی بتاتی ہیں کہ میں “نقوش” کے لیے سال بھر میں کتنا لکھ سکتی ہوں اس سلسلے میں کوئی قطعی بات نہیں کہہ سکتی کیوں کہ ایک تو میں بہت کم لکھتی ہوں اور دوسرے یہ کہ “نیا دور” ہی کی ضروریات پوری ہو جائے تو کافی ہے۔۔۔۔۔ آگے چل کر خطوط سے معلوم ہوتا ہے کہ “نقوش” کی اشاعت تسلسل کے ساتھ جاری ہے اور رسالے نے اپنا معیار خوبی سے برقرار رکھا ہے۔ ان خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ طفیل صاحب سے شیرین اور صمد شاہین کے بے تکلفی پر مبنی مراسم تھے۔ اسی لیے وہ نجی احوال اور صمد شاہین کی منصبی مصروفیات کو بھی اکثر بیان کرتی ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی دیگر مصروفیات مثلاً سیر وسیاحت وغیرہ سے، بچوں کے تعلیمی مدارج سے بھی طفیل کو آگاہ کرتی رہتی ہیں۔
۱۹۵۴ء اور ۱۹۵۵ء میں تحریر کیے گئے چند خطوط سے اندازہ ہوتا ہے کہ “نقوش” کے شخصیات نمبر کے منصوبے سے شیرین کو دلچسپی رہی۔ طفیل صاحب چاہتے تھے کہ کوئی صاحبِ علم شیرین کی شخصیت پر جامع مضمون لکھ دے۔ انھوں نے خود شیرین سے ایسے کسی لکھاری کا نام تجویز کرنے کی فرمائش کی۔ انھوں نے کچھ نام اور ان کے پتے طفیل صاحب کو بھجوادیے۔ لیکن وہ خود اس مقصد کے لیے کسی سے فرمائش کرنے پر آمادہ نہ ہوئیں۔ کیوں کہ یہ ان کے خیال میں مناسب بات نہیں تھی۔ شخصیت پر مضمون لکھنے کے لیے وہ سر سری اور عمومی مراسم کو کافی نہیں سمجھتی تھیں۔ اسی لیے احمد علی پر مضمون لکھنے سے معذرت کر لیتی ہیں۔ اسی طرح اپنے حوالے سے بھی بعض اشخاص کی معذرت (مثلاً کشفی صاحب کی) کو بجا اور روا سمجھتی ہیں۔ “نقوش” شخصیات نمبر (ا) میں ممتاز شیرین پر مضمون نہ آسکا۔ ۱۹
انہی خطوط میں منٹو میموریل کمیٹی کے حوالے سے اپنی مصروفیات کا بیان کرتی ہیں اس کمیٹی میں لاہور سے نمائندگی کے لیے طفیل صاحب کے نام کی تجویز کی اطلاع بھی فراہم کرتی ہیں۔ ان کی خواہش تھی کہ منٹو کے بہترین افسانوں کا اعلٰی درجہ کا انتخاب اور فن و شخصیت پر مبنی مضامین سے سجی کتاب اہلِ ادب کی جانب سے منٹو کی ادبی خدمات کے خراجِ تحسین کے لیے آنی چاہیے۔ ۲۰
انہی دنون وہ تیزی سے منٹو پر کتاب بھی مکمل کرنا چاہتی ہیں۔ ایک خط میں طفیل صاحب کو اطلاع دیتی ہیں۔ کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ بھی ہو رہا ہے اور انگریزی و اُردو میں یہ کتاب ایک ساتھ چھپے گی۔ ۲۱
معلوم نہیں بعد میں انگریزی کتاب کا ترجمہ کہاں تک پہنچا۔ اُردو میں یہ نامکمل کتاب تو شائع ہو گئی ۲۲ اکتوبر ۱۵۵۶ء کے ایک خط میں “نقوش” شخصیات نمبر ۲ کی اشاعت کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتی ہیں کہ میں فرمائش کرکے اپنے اوپر مضمون نہیں لکھوا سکتی تھی البتہ اپنے دیور کے ایک مضمون کا تذکرہ کرتی ہیں۔ جنھوں نے عصمت چغتائی پر ان کے دیور کا مضمون دیکھ کر اپنی بھاوج یعنی ممتاز شیرین پر بڑی محنت سے مضمون لکھا تھا۔ لیکن بیجھنے سے پہلے ہی رسالہ چھپ گیا۔ لہٰذہ مضمون نگار کو افسوس ہوا۔ اپنے بارے میں لکھتی ہیں کہ “اب کے تو میں نے محسوس بھی نہیں کیا۔” ۲۲
۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء کے خط میں اپنے افسانوں کے فرانسیسی تراجم کا احوال بیان کرتے ہوئے ایملی برو نٹے کے ناول “وُدِرنگ ہائٹس” کے ترجمے کا ذکر کرتی ہیں۔ یہ ذمہ داری مکتبہ جدید والوں نے ان کے سپرد کی تھی۔ ۲۳ چند خط بنکاک میں قیام کے دوران لکھے گئے۔ جن میں “نقوش” کے “طنز و مزاح” نمبر کے لیے ستائش کے ساتھ ساتھ رفیق حسین کی افسانہ نگاری کو بھی بڑے جچے تلے انداز میں سراہا گیا ہے۔ ۲۴  ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء کے خط میں “میگھ ملہار” کی اشاعت کی اطلاع دیتی ہیں۔ اور اپنے حالیہ افسانے “کفارہ” کا خاص طور پر ذکر کرتے ہوئے لکھتی ہیں:
“اسے آپ ضرور پڑھیں۔ اس میں میں نے ان لمحات کو فنی گرفت میں لینے کی کوشش کی ہے۔ جب موت مجھ سے بہت قریب تھی۔ مجروح مامتا کے ذاتی المیے کو یہاں آفاتی حیثیت دی گئی ہے۔ مجھے یقین ہے آپ یہ افسانہ کرسکیں گے۔” ۲۵Appreciateواقع
چند خطوط میں ناسازی طبع کا احوال اور مضمون کی ترسیل میں تاخیر پر معذرت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ چند خطوط صمد شاہین کی ڈھاکہ پوسٹنگ کے دوران لکھے گئے ہیں۔
جون ۱۹۴۳ء کے چند خطوط سے “نقوش” کے آپ بیتی نمبر کی تیاری کے سلسلے میں استفسار ہے۔ اور اندازہ ہوتا ہے کہ انھیں اپنی خود نوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” کے لیے تحریک اس نمبر کی بنا پر ہوئی تھی۔ ۱۷ جنوری ۱۹۶۴ء کو انقرہ سے لکھے گئے خط میں تحریر کرتی ہیں:
“اب یہاں انقرہ پہنچتے ہی میں نے پہلا کام یہی کیا کہ پھر سے آپ بیتی لکھنی شروع کی۔۔۔۔۔۔ بہر حال مکمل کرلے ہے۔ اگر اب بھی “آپ بیتی نمبر” میں گنجائش ہے تو از راہِ کرم فوراً مطلع فرمائیں، بھیج دوں گی۔” ۲۶
بعض دیگر احباب، مدیر ان اور صاحبانِ علم کو لکھے گئے خطوط کے مقابلے پر محمد طفیل کے نام ان خطوط میں بے تکلف مراسم کی جھلک نمایاں ہے۔ اس بے تکلفی کی وجہ سے خطوط کا اسلوب رواں اور شگفتہ ہے۔ اور اس قسم کی پیچیدگی پیدا نہیں ہوتی جیسی کہ پر تکلف اور رسمی خطوط کے اسلوب میں نمایاں ہوکر ممتاز شیریں کی تحریر کے حسن کو متاثر کرتی ہے۔
ان کے خطوط کے معلوم اور مطبوعہ حصے میں سے زینت جہاں کے نام لکھے گئے بے حد اہمیت کے حامل خط انقرہ اور اسلام آباد میں آخری قیام تک کے عرصے میں ضبطِ تحریر میں لائے گئے۔ انقرہ سے لکھے گئے ان کے خطوط سوانحی بھی ہیں اور سیاحتی بھی۔ یوں تو ممتاز شیرین بنگلور سے کراچی کے سفر ہجرت کو اپنے لیے سب سے اہم سفر قراردیتی ہیں لیکن دنیا کے مختلف خطوں اور علاقوں کی سیر کے دوران ان کے اندر چھپا ہوا دلنشین اسلوب کا انشائیہ نگار نمایاں ہو جاتا ہے اور اسی نمائندگی کی بناء پر زینت جہاں کے نام لکھے گئے ان خطوط کے اکثر حصے مختلف ممالک کے جغرافیائی، تہذیبی اور سماجی سفر نامے یا سیاحت نامے بن گئے ہیں۔ اگر انھوں نے محض خارجی مناظر کے بیان پر زور دیا ہوتا تو شاید یہ محض جغرافیائی منظر نامے ہوتے لیکن ممتاز شیرین نے جغرافیائی تفصیلات کی فراہمی میں محسوسات کی شمولیت کے ذریعے ایک اچھوتا، منفرد اور اپنے گزشتہ اسالیب کے مقابلے پر زندہ تر اسلوب کا سراغ پالیا ہے۔ ان خطوط میں ہندوستان، روم، ترکی اور پاکستان کے مختلف شہروں کے بارے میں تفصیلات قلم بند کی ہیں۔ ان کے یہ مکاتیب صرف مکتوب ہی نہیں رہتے بلکہ ان میں مضمون یا انشائیے کی خصوصیات بھی پیدا ہوگئی ہیں۔ ۲۷
جب وہ ہندوستان کی سیر کرتی ہیں تو ایک جانب لکھنو اور جے پور کی دید سے محرومی کا دکھ بیان کرتی ہیں، دوسری جانب دہلی، آگرہ، علی گڑھ ، چندی گڑھ اور امرتسر کے علاوہ بہت سے دوسرے شہروں کی سیر کا لطف بیان کرتے ہوئے اس گہرے اور ابدی تاثر کا بینا کرتی ہیں جو تاج محل کے صاف، شفاف اور لطیف حسن نے ان کے ذہن پر چھوڑا اور اس کے بعد “ہمالیہ کے شاندار جاہ و جلال نے بھی مجھے بڑا متاثر کیا۔ جس کی تحیر انگیز عظمت و رفعت خدائے بزرگ وبر ترکی شانِ کبریائی کی شہادت دیتی ہے۔ اور ہم وہاں اسے بہت قریب محسوس کرتے ہیں۔” ۲۸
پہاڑوں کی یہ ہیبت و عظمت ترکی کے رفیع الشان پہاڑوں کی سیاحت کے دوران بھی قائم رہتی ہے لیکن یہاں اس عظمت میں ان پہاڑوں کے تاریخی پس منظر اور دیو مالائی مقبولیت کی شمولیت دکھائی دیتی ہے اور تفصیل بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔
پہاڑ کی سیر کو گئے۔ یہ پہاڑ یونانیPagasns          “اولمپس یونانی دیوتاوں کا استھان ہے۔ ازمیر کے مقام پر ہم
رہتا تھا اور یہیں اس پہاڑ پر اس نے عظیم رزمیہ Homerدیو مالا میں شاعری کی علامت ہے۔ ازمیر میں ہومر
تخلیق کی تھی۔ سکندر نے یہاں جو قلعہ تعمیر کیا تھا وہ ابھی تک اچھی حالت میں موجود ہے۔Illiad and Odessy
ہے۔ ٹرائے آف ہیلن ازمیرHellenic Worldتمہیں معلوم ہوگا کہ جسے اب مغربی ترکی کہتے ہیں وہ عہد سلف کی
کے بالکل قریب ہے۔ اور یہاں پہنچ کر یونانی تاریخ، یونانی دیو مالا اور یونانی ادب ہمارے سامنے آجاتے ہیں۔  ازمیر سے چند میل دور ہے۔ یہاں ہم نے یونانی اور باز نطینی تہذیب کے عظیم الشان کھنڈراتEuphesusیوفیسس
کے معبد اور اپالو کے مجسمہ کے خرابے موجود ہیں۔ میرے Diana میں Pergamumدیکھے۔ یوفیسس اور پرگیمم
کو دوبارہ زندہIpheginiaاس خط کے لفافہ پر اپالو ہی کے مجسمہ کی تصویر ہے۔ یہیں پر قربانی کی بھینٹ چڑھی
کو شہر افسوس کہا جاتا ہے۔ یہی وہ شہرِ گناہ ہے جہاں Euphesusکرکے اسے پجارن اور پروہت بنایا گیا۔۔۔۔۔۔
اصحابِ کہف نے بھاگ کر ایک غار میں پناہ لی تھی۔ شہر سے تقریباً دو میل کے فاصلے پر وہ غار ہے جہاں Mount of اصحابِ کہف (قرآن شریف کے مطابق) تین سو نوسال تک سوتے رہے۔ اس سے آگے کوہ عنادل
ہے۔ ترکی میں اب اسے بلبل ڈاگ کہا جاتا ہے۔ اس کی چوٹی پر دوشیزہ مریم نے اپنی زندگی کے Nightingales
آخری سال بسر کیے تھے۔ حضرت عیسّی کے مصلوب ہونے کے بعد سینٹ جان نامی مبلغ انجیل مریم کو ایشیائے کوچک لے آئے تھے اور مریم کا قیام وہیں رہا ہم نے دوشیزہ مریم کی مقدس قیام گاہ کی بھی زیارت کی۔” ۲۹
ایک اور خط میں ترکی کی ثقافت، رہن سہن اور لوگوں کے عمومی رجحانات مثلاً گفتگو کے آداب، اخلاقی حیثیت، خوراک اور رہائش کے طرز پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے اپنی ایک ترکی سہیلی کے خاندان اور ان کے رکھ رکھاو کا تعارف پیش کرتی ہیں۔ قدیم و جدید کے امتزاج سے نشونما پانے والی لڑکیوں اور بے ریا، زمانہ سازی سے دور نئی نسل کے ترک انھیں بڑے “بامروت، مخلص اور خوش اخلاق” نظر آتے ہیں۔ ۳۰۔
جب روم اور اٹلی کے سیر کا احوال بیان کرتی ہیں تو ان تمام تاریخی، روایتی اور اساطیری واقعات و مقامات کا تذکرہ کرتی ہیں جنھوں نے مغرب و ایشیا کے بہت سے ادبی تصورات کو متاثر کرنے کے ساتھ ساتھ اُردو ادب کو بھی وسعت بخشی ہے۔ وسعت کی نئی شکلوں کو ہم نئے نئے رموزوں اور اساطیری اشاروں کی صورت میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں اپنے ادب کی مختلف ہئیتوں میں جلوہ گر ہوتا دیکھ سکتے ہیں، زینت جہاں کو ایک خط میں روم اور نیپلز کے بارے میں تحریر کرتی ہیں:
“اٹلی کے شہر روم اور نیپلز ہم نے بارہ سال قبل بھی دیکھے تھے لیکن اس مرتبہ روم نئے روپ میں تھا۔ اس شاندار اور عظیم تاریخی شہر نے کچھ زیادہ ہی متاثر کیا۔ روم کا ذرہ ذرہ اس کی گزشتہ عظمت کے گن کاتا ہے۔
سے اور جولیس سیزر، آگسٹس اور طورجان کے فورم کے کھنڈرات سے اب بھی ماضی کیCollosseumنیرو کے
شان و شوکت جھلکتی ہے اور ان جگہوں کو دیکھے ہی ذہن ایک دم کسی داستان میں کھو جاتا ہے۔ کبھی خیال آتا ہے کہ یہی وہ جگہ ہے جہاں انٹونی نے سیزر کی میت پر اپنی مشہور عالم تقریر کی تھی۔ ” ۳۱
ایک اور خط میں شیرین یوں رقم طراز ہیں:
“انطالیہ کی سیر نے بڑا لطف دیا۔ اس کا قدرتی حسن لاجواب اور سکون بخش ہے۔ بحرِ روم کے نیلگوں پانی کا نظارہ قابل دید ہے کو کناروں کے پاس فیروزی، پھر آگے ہلکا نیلا اور رفتہ رفتہ بیچ سمندر میں گہرا نیلا   کاپہاڑی سلسلہ ہے جو ایک عجیب رنگ بخشتا ہے۔ ایسا دکھائی دیتا ہے “Tourus”دکھائی دیتا ہے۔ پس منظر میں
جیسے یہ پہاڑ سراسر سمندرہی سے اٹھے ہوں۔ ہم نے بہت سے تاریخی مقامات اور کھنڈرات بھی دیکھے۔ مثلاً
۔۔۔۔۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سے قلو پطرہ غروب آفتاب کا نظارہ کیا کرتی تھی۔” ۳۲As Pendos
سفر کے ان مراحل میں انھوں نے مختلف ممالک کی سیر کی۔ نئے نئے انداز کے لوگ دیکھے۔ جدید سے جدید شہر کے حسنِ تعمیرکو سراہا لیکن جس شہر نے انھیں سب سے زیادہ متاثر کیا۔ اس بارے میں وہ اپنے محسوسات کا آغاز ان الفاظ میں کرتی ہیں:
دنیا کے ایک قدیم ترین اور عظیم ترین اور عظیم الشان دارالحکومت استنبول کا کوئی جواب نہیں۔ اس شہر کے مختلف نام رہے ہیں۔ بازنطینہ، نیا روم، قسطنطنیہ، استنبول وغیرہ۔ اسے مہا آنند (روحانی مسرت) کا استھان کہنا چاہیے۔” ۳۳
قیام انقرہ کے دوران مختصر مدت کے لیے پاکستان جانا ہوا تو کئی شہر کی سیر کی اس کی روداد بھی زینت جہاں کے ایک خط میں کچھ یوں ہے:
“ہم مری، ایبٹ آباد، ٹیکسلہ کے علاوہ اسلام آباد کی سیر کو بھی گئے جو پاکستان کا نیا دارلخلافہ ہے اور راولپنڈی سے صرف چند میل کے فاصلے پر ہے۔ راولپنڈی میں ہم ایک بڑے بنگلے میں مقیم تھے جس کے پائیں باغ میں سرو، سورج مکھی اور رنگا رنگ گلابوں کے جھرمٹ تھے۔ چاندنی میں وہاں کے کھلے سبزہ زاروں میں بیٹھ کر سبز چائے پینے میں کیا لطف آتا تھا؟ ۔۔۔۔ میں پشاور میں تقریباً تین چار روز مشکور بھائی اور ان کے اہل و عیال کے ساتھ رہی اور وہاں تقریباً تمام قابلِ دید مقامات کی سیر کی۔ یونیورسٹی کا شاندار کمیپس، وارسک ڈیم، لنڈی کوتل، تاریخی درہ خیبر اور افغانستان کی سرحد تورخم، کیا تھا جو نہیں دیکھا۔” ۳۴
مختلف ممالک کی سیر، ملازمت کی زنجیر سے کھنچتی  ہوئی انھیں اسلام آباد لے آئی۔ یہ ایک تو آباد شہر ہے شیرین کے خیال میں تین سال کے اندر بیابان میں مکمل شہر بسا دینا کسی کمال سے کم نہیں۔۔۔۔ ان کے خیال میں:
“اسلام آباد کی خاص کشش اس کی تازہ ہوا، سبزہ اور دیہی علاقے کا فطری حسن ہے جس کے ساتھ اسے ایک جدید شہر کی تمام سہولتیں بھی مل گئی ہیں۔ فطرت یہاں اچھوتے حسن کے ساتھ موجود ہے۔ ہر طرف سے مری کی خاکستری رنگ کی پہاڑیوں سے گھرا ہوا اسلام آباد نہایت خوش کن منظر ہے۔ چناں چہ اس کے مختلف حصوں کو بھی رومانی اور اشاریاتی قسم کے نام دیے گئے ہیں۔ مثلاً روپ، پھلواری، گلشن، سنبل، کہسار، آب پارہ۔”۳۵
اس شہر میں انھیں سب سے خوبصورت آواز سنبل والی مسجد سے آنے والی اذان کی آواز محسوس ہوتی تھی۔ اگرچہ دفتری اور سرکاری ضابط بندی نے یہاں ماحول میں یکسانیت پیدا کردی تھی لیکن ان کے خیال میں “یہ  بہت پیارا شہر ہے۔ شیشے کی طرح صاف، وسیع میدانوں، سبزہ زاروں، ہواوں اور سکون کا گہوارہ۔” ۳۶
زینت جہاں کے نام انہی خطوط سے ہمیں ممتاز شیرین کے مرض الموت کے آغاز کا علم ہوتا ہے۔ جو ۱۹۷۰ء سے ہوا اور مارچ ۱۹۷۳ء میں وہ اس مرض سے ہار مان گئیں ۔۔۔۔ اسی عرصے میں ان کے اوپر ذہنی سکوت کا وہ حملہ ہوا جس نے ان کی تخلیقی صلاحتوں کو بے طرح متاثر کیا۔ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء کے ایک خط میں جب بیرونِ ملک صمد شاہین کی پھر سے تقرری کا امکان ہوا تو زینت جہاں کو لکھتی ہیں:
” کچھ عرصہ پہلے مجھے ایسا لگتا تھا جیسے لکھنے کے لیے کچھ بھی باقی نہیں رہا۔ معلوم ہوتا تھا کہ زندگی بالکل ہی رک گئی ہے۔ کوئی چونکا دینے والی یا خاص خبر باقی نہیں رہی تھی، مستقبل کے لیے کوئی خاص منصوبے نہیں تھے۔” ۳۷
لیکن اسلام آباد سے ترکِ سکونت سے قبل وہ قرب و جوار کی مکمل سیاحت کرلینا چہتی تھی اسی لیے سوات کی سیر بھی کی اور پہاڑوں کے درمیان دم بخود کردینے والے مناظر سے خوب حظ اٹھایا۔ ۳۸
دنیا ک اہم ترین مقامات کی سیر کے دوران ممتاز شیریں نے محض کھلی آنکھوں سے خارج کا مشاہدہ نہیں کیا بلکہ باطنی نگاہوں کی گہرائی کو بروئے کار لاتے ہوئے اس عظمتِ رفتہ کا مشاہدہ بھی کیا تھا۔ جس عظمت کی نشانی وہ شخصیات تھی جنھوں نے حیاتِ ابدی حاصل کرلی ہے۔ دنیا بھر کی چیدہ چیدہ جاویداں شخصیات، جو ہمارے ادب میں بھی علامت بن کر اس کی نئی معنویت کی صورت گری کر رہے ہیں۔ ادبی شخصیات کو لکھے گئے شیریں کے خطوط میں لہجے کی سنجیدگی اور بیان کی علمیت کی وجہ سے
“زبان کو اظہار کی پوری قوت رکھنے کے باوجود بہت زیادہ صحیح اور ستھری نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے مقابلے میں زینت جہاں کے نام جو خطوط ہیں ان میں زبان و بیان کی کمزوریاں نہیں ہیں۔ اندازِ بیان نہایت شگفتہ اور تاثیر ہے۔ ان خطوط کی نثر نپی تلی ہے۔ اظہارمیں ایک روانی بھی ہے اور بیان میں ایک قوت بھی۔” ۳۹
اظہار کی یہ روانی اور بیان کی یہ قوت کسی مربوط اور منضبطہ سفر نامے کی متقاضی تھیں، اس قسم کا سفرنامہ یا انشائیہ تحریر کرنے کی خواہش کا اظہار خود شیرین نے زینت جہاں سے ایک خط میں کیا تھا۔ ۳۹  لبنٰی شاہین کے تصرف میں ممتاز شیرین کے مسودات کی چھان پھٹک کے دوران ایک نامکمل سفری انشائیہ “مشرق و مغرب کے درمیان” ملا۔ اس انشائیے میں اسی اسلوب اور قوت اظہار کا تسلسل ملے گا جو مذکورہ خطوط میں دکھائی دیتا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ فرمائیں:
“رات گہری ہوچلی تھی،
فضا میں ایک بھاری سی سیٹی کی آواز گونج اٹھی۔ ساکت جہاز میں ایک حرکت، ایک تھرتھراہٹ سی پیدا ہوئی اور یہ مرمریں، شفاف، حسین اطالوی جہاز بحیرہ روم کے گہرے نیلے پانیوں کو کاٹتا ہوا نکل گیا۔
جہاز اس سرزمین کو چھوڑ رہا تھا جسے “مغرب” کہتے ہیں اور “سوئے مشرق” روانہ ہو رہا تھا۔ “مشرق” اور “مغرب”، یہ دو الفاظ سمت کا اشارہ کرنے کے علاوہ اور کتنے مہینوں کے حامل بن گئے ہیں۔ تہذیب و تمدن کا امتیاز، رنگ و نسل کا امتیاز ۔۔۔۔۔ صدیوں کی آقائی اور غلامی۔۔۔۔۔
لیکن یہ اطلالیہ تھا، اطالیہ جو یوں مغرب کا دوروزہ ہے، لیکن مشرق سے کہیں زیادہ قریب۔ اطالیہ جہاں مغربی ممالک میں گھوم پھر کر آئیں تو اچانک یوں محسوس ہوتا ہے ہم پھر مشرق میں آگئے ہیں۔
ہم سب عرشے پر کھڑے ہاتھ ہلا ہلا کر گویا نیپلز کو الودع کہہ رہے تھے۔” ۴۰
اسلوب کے اس تسلسل کو ہم کچھ اور پہلے ان کی نامکمل خودنوشت “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے” میں بھی دیکھ سکتے ہیں۔ رواں، پُر جوش اور اظہار کی قوت سے لبریز یہ اسلوب بیان جیسے جیسے بڑھتا جا رہا تھا ویسے ویسے ان کے طبعی اور جسمانی نظام میں درد کا جال پھیلتا جا رہا تھا۔ موت وہ اٹل، حتمی اور یقینی قوت تھی Fascinateجو ساٹھویں دہائی کے آخری چند برسوں میں ان کی تحریروں کے ساتھ ساتھ ان کے محسوسات کی بھی
کر رہی تھی۔
سب سے پہلے ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء کو محمد طفیل مدیر نقوش کو لکھے گئے ایک خط سے اقتباس ملاحظہ فرمائیں “باشو بھائی کی نانی اماں بستر مرگ پر تھیں۔ دو ہفتے ان کی حالت بہت خراب رہی۔ آخر چند دن ہوئے انتقال فرما گئیں۔ “انا اللہ و انا الیہ راجعون” وہ میرے لئے بالکل “آئینہ” کی نانی بی کی طرح یوں ان کی موت سے “آئینہ” کی کہانی پھر سے دہرائی گئی!
موت سے کچھ اتنی بڑی حقیقت ہے اور فنا اور اہدیت کا ایسا احساس قائم کرتی ہے کہ عام دُنیوی وقت کا احساس بھلا دیتی ہے۔ گھنٹے،دن ماہ و سال کے لیے بیرونی وقت بے حقیقت بن جاتا ہے۔” ۴۱
ان کی خود نوشت میں موت کے بیان کا یہ اسلوب دیکھیے۔
“عائشہ خانم جنھیں ہم عاشو پھوپھی بلایا کرتے تھے۔ وہ اکثر ہمیں ۔۔۔۔۔ قیامت کے آثار اور روزِ حشر کے قصے سنایا کرتی تھیں کچھ ان کی باتیں ذہن میں رہ گئی تھیں اور قرآن شریف کے وہ حصے پڑھ کر جن میں قیامت  خواب دیکھتی رہی۔۔۔۔۔ خوف کی کپکپی طاری ہے اورNightmarishکا ذکر ہے، میں مسلسل کئی دن تک قیامت کے
میں سجدہ ریزہ ہوگئی ہوں، عجب خدا ترسی کا عالم تھا۔ پھر اچانک یہ سب کچھ نظروں سے غائب ہوگیا اور ہر طرف نور ہی نور چھا گیا۔ مجھے احساس ہوا یہ نور الٰہی ہے۔ جو خیرہ کن ہونے کے باوجود انتہائی طمانیت بخش ہے۔ پھر برسوں بعد آج سے تین سال پہلے جب حقیقت میں میں نے موت کے اپنے بہت قریب محسوس کیا تھا۔ مجھے اس طمانیت بخش نور کی، اس نفسِ مطمئنہ کی جستجو تھی۔” ۴۲
اور زینت جہاں کے خطوط میں ۱۹۷۱ء کے بعد کے خطوط کے وہ حصے جب وہ اپنی بیماری، عزیزوں
سے دوری اور اپنی تنہائی کا ذکر کرتی ہیں تب بھی نفسِ مطمئنہ کی یہ جستجو ان کے اسلوب کا نمایاں حصہ ہی رہتی ہے۔ جس نے ان کے فن کو ایک مخصوص انفرادیت بخشی تھی۔ یہی انفرادیت ممتاز شیرین کی خطوط میں بھی نظر آتی ہے۔
حوالہ جات
۱۔         خطوطِ غالب، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن ترقی اردو پاکستان ۱۹۹۲ء ص ۱۲۶، ۱۲۷
۲۔        ابوبکر عباد، “ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار”، دہلی، ۲۰۰۶ء ص ۲۸۶
۳۔        ایضاً، ص ۲۹۱
۴۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحٰمن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۵۔        ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “محرابیں”، لاہور ۱۹۹۲ء ص ۱۵
۶۔        ممتاز شیرین بنام ضمیر الدین احمد بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۷
۷۔        متاز شیرین بنام نظیر صدیقی مورخہ ۲۹ جنوری ۱۹۶۳ء مشمولہ “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی
راہی، اشاعتِ ادب، روال پنڈی، ۱۹۸۴ء ص ۲۱۳
۸۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
ص ۱۹
۹۔       ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۰۔      ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء “مشمولہ قومی زبان”، اکتوبر ۱۹۹۲ء ص ۱۸
۱۱۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۲۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایز بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۸۹
۱۳۔      ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمون “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء ص
۳۱۹
۱۴۔      ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۲۰ فروری ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیریں نمبر، ستمبر،
اکتوبر ۱۹۷۳ء ص ۱۱۳
۱۵۔      ممتاز شیرین بنام اوپندرناتھ اشک، بحوالہ ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۱۶۔      ممتاز شیرین بنام محمد طفیل مورخہ ۱۲ اپریل ۱۹۵۰، مشمولہ “تحقیق نام” شعبہ اردو، جی،سی یونیورسٹی،
لاہور شمارہ ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ ء ص ۳۴۸
۱۷۔      ایضاً، مورخہ ۲۴ جنوری ۱۹۵۱ء ص ۳۵۰
۱۸۔      ایضاً، مورخہ ۱۶ جنوری ۱۹۵۲ء ص ۳۵۲
۱۹۔      ایضاً، مورخہ فروری ۱۹۵۵ء ص ۳۵۹
۲۰۔      ایضاً، ص ۳۶۰
۲۱۔      ایضاً، مورخہ ۲۰ مارچ ۱۹۵۵ء ص ۳۶۴
۲۲۔      ایضاً، مورخہ ۲۲ اکتوبر ۱۹۵۶ء ص ۳۶۴
۲۳۔      ایضاً مورخہ ۲۳ اپریل ۱۹۵۷ء ص ۳۶۸
۲۴۔      ایضاً مورخہ ۱۰ جون ۱۹۵۹ء ص ۳۷۳
۲۵۔      ایضاً مورخہ ۱۶ اگست ۱۹۶۲ء ص ۳۷۵، ۳۷۶
۲۶۔      ایضاً مورخہ ۱۸ جنوری ۱۹۶۴ء ص ۳۸۴
۲۷۔      ابوبکر عباد، ص ۲۹۱
۲۸۔      ممتاز شیرین بنام زینت جہاں مورخہ ۳۱ اکتوبر ۱۹۶۳ء مشمولہ “قند” ، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۱۴
۲۹۔      ایضاً، مورخہ ۳۱ مئی ۱۹۶۴ء ص ۱۱۴، ۱۱۵
۳۰۔      ایضاً، س ں، ص ۱۱۸
۳۱۔      ایضاً
۳۲۔      ایضاً مورخہ ۷ مارچ ۱۹۶۵ء ص ۱۱۷
۳۳۔      ایضاً مورخہ ۸ اکتوبر ۱۹۶۶ء ۱۱۹
۳۴۔      ایضاً مورخہ ۱۳ اکتوبر ۱۹۶۳ء ۱۱۴
۳۵۔      ایضاً مورخہ ۷ اپریل ۱۹۶۷ء ص ۱۲۱
۳۶۔      ایضاً مورخہ ۱۹ اپریل ۱۹۶۹ء ص ۱۲۳
۳۷۔      ایضاً مورخہ ۲۳ اگست ۱۹۷۱ء ص ۱۲۷
۳۸۔      ایضاً
۳۹۔      ابوبکر عباد، ص ۲۹۵
۴۰۔      ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ ذاتی کاغزات
۴۱۔      ممتازشیرین رین بنام محمد طفیل مورخہ ۲۴ مئی ۱۹۵۷ء، مشمولہ “تحقیق نامہ”، ص ۳۷۰
۴۲۔      ممتاز شیرین “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر، ص ۱۰۶
کتابیات
۱۔        ابوبکر عباد،:ممتاز شیرین ناقد، کہانی کار” دہلی، ۲۰۰۶ء
۲۔        غالب، “خطوطِ غالب”، حصہ اول، مرتبہ خلیق انجم، نجمن رقی اُردو پاکستان، ۱۹۹۲ء
۳۔        نظیر صدیقی، “نامے جو میرے نام آئے”، مرتبہ مصطفٰی راہی، اشاعتِ ادب، راول پنڈی، ۱۹۸۴ء
۴۔        ممتاز شیرین، “مشرق و مغرب کے درمیان” (غیر مطبوعہ)، مخزونہ لبنٰی شاہین صاحبہ کراچی
۵۔        ممتاز شیرین، “ہمیں سوگئے داستاں کہتے کہتے”، مشمولہ “قند”، ممتاز شیرین نمبر ستمبر، اکگوبر ۱۹۷۳ء
۶۔        ممتاز شیرین بنام محمد سلیم الرحمٰن مورخہ ۶ جون ۱۹۶۳ء، مشمولہ “قومی زبان”، کراچی، اکتوبر ۱۹۹۲ء
۷۔        ممتاز شیرین بنام شاہد حمید مورخہ ۱۶ ستمبر ۱۹۵۰ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور، شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء
۸۔        ممتاز شیرین بنام محمود ایاز مورخہ ۹ مئی ۱۹۶۳ء مشمولہ “سوغات”، بنگلور،شمارہ نمبر ۳، ۱۹۹۲ء۔ؤ
۹۔       ممتاز شیرین بنام زینت جہاں (مکاتیب) مشمولہ “قند” مردان، ممتاز شیرین نمبر، ستمبر، اکتوبر ۱۹۷۳ء
۱۰۔      ممتاز شیرین بنام محمد طفیل (مکاتیب) مشمولہ “تحقیق نامہ”، شعبہ اُردو، ج۔ سی یونیورسٹی، لاہور، شمارہ            ۲۰۰۵ء ۲۰۰۶ء

 

problems of Urdu teaching at University Level

Articles

یونیورسٹی سطح پر اردو تدریس کے مسائل

سیّد اقبال

 

ہم بڑے خوش نصیب ہیں کہ ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں ہماری زندگی اپنی پچھلی نسل سے قدرے بہتر ہے۔ ہم بہتر گھروں میں رہتے ہیں، اُن سے بہتر کھانا ہمیں نصیب ہے، اُن سے بہتر کپڑے میّسر ہیں اور ہماری تنخواہیں بھی اُن کے مقابلے میں زیادہ ہے۔ پچھلے پچاس برسوں کے مقابلے میں تعلیم آج کہیں زیادہ عام ہے۔حکمت کا نظام بھی قدرے بہتر ہوچلا ہے اور ہم اپنے پرکھوں کے مقابلے میں دس پندرہ سال زیادہ جی رہے ہیں،مواصلاتی نظام تو اِس قدر ترقی کرگیا ہے کہ گھر بیٹھے ہم جس سے چاہیں اور جب چاہیں منٹوں میں گفتگو کر سکتے ہیں، انٹرنیٹ نے دنیا ہماری گود میں ڈال دی ہے اور سارے عالم کی ہر طرح کی معلومات صرف ایک بٹن دباتے ہی اسکرین پر نمودار ہو جاتی ہے۔ یہی نہیں ہم اتنے پُرامن حالات میں جی رہے ہیں کہ ہمیں آزادی¿ تحریر اور آزادی¿ تقریر کا احساس تک نہیں ہوا۔اس کے باوجود ہم نہایت بدنصیب بھی ہیں کہ اب ہمیں ایک ایسے دور میں جینا پڑ رہا ہے جہاں معیشت کی حکمرانی ہے اور بازار ہماری زندگی کی کہانی لکھتے ہیں ۔سیاسی خداﺅں نے ٹکنالوجی کی مدد سے ہماری ذاتی زندگی کو ریکارڈ کرنا شروع کردیا ہے۔ لہذا کسی حکومت کے لیے صرف ایک بٹن دبا کر اس کے شہری کی پوری زندگی ، اس کی مالی حالت، اس کا بینک اکاﺅنٹ، اُس کے تعلقات، اُس کی ذاتی اہلیت، اُس کی پسندنا پسند ، یہاں تک کہ اُس کی بیماریاں اور ماضی میں کئے گئے سارے انکار کی تفصیل رکھنا نہایت آسان ہو گیا ہے۔ایک طرف مشینوں نے ہمیں فارغ اوقات کی نعمتوں سے نوازا ہے،دوسری طرف جرائم اور خودکشی کی شرح بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ انسانی تعلقات میں اتنی دراڑیں پیدا ہوگئی ہیں کہ پچاس سال میں اُن کا تصور بھی ممکن نہیں تھا۔ خاندانی نظام تو ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوا ہی تھا، ملٹی نیشنل کارپوریشن نے ہماری روایتی ہنر مندی اور چھوٹے چھوٹے فنکاروں کی روزی پر بھی قدغن لگادی ہے۔تعلیم کا حصول بھی عام ہوا ہے اور نت نئے کورسیس بھی متعارف ہوئے ہیں۔ مگر اِن تعلیمی اداروں سے علم اور ذوق و شوق غائب ہوگئے ہیں ۔ طلباءکو ڈگریاں تو درکار ہیں مگر اُس کے لئے جو محنت اور عرق ریزی درکار ہے آج مفقود ہے۔علم فن کا عروج کیا ہوتا ہے اور اُسے حاصل کرنے کے لئے کتنی تگ ودو کرنی ہوتی ہے اُس سے ہمیں کوئی دلچسپی نہیں رہ گئی ۔ آج اخلاقیات باقی ہے نہ خیر خواہی، باقی ہے تو صرف مادی ترقی مادی ترقی کی زبردست خواہش ، اور جوابدہی کے تصور سے عاری ایک ایسی زندگی جہاں ایک فرد کی اپنی حیثیت اہم ہے نہ کہ معاشرے کی اہمیت اور ترقی ۔ ظاہر ہے جس معاشرے میں بازار اہم ہو چکے ہوں ، وہاں اخلاقیات، فلسفہ ، سماجی علوم اور زبان و ادب کی اہمیت کیا ہوگی۔اس لئے ہمیں زبان و ادب کی تدریس کے مسائل پر اگر بحث کرنی بھی ہے تو موجودہ معاشرے کے تناظر میں دیکھنا ہوگا، جہاں نصاب سے لیکر اساتذہ کا تقرر اور تحقیق کا کام، طلباءکی ذہنی صلاحیتیں ، معاشرے کے انھیں عوامل سے جڑی ہوئی ہیں۔وہ عوامل جو ہمارے لئے آئیڈیل یا کتابی نہیں رہے ۔یہ بھی یاد رہے کہ ہمارے کالیجز اور یونیورسٹیوں میں ان موضوعات پر سمینار اور ورکشاپ ہوتے رہیں گے(اور ہم اُن کے حل تلاش کرنے میں ہمیشہ ناکام رہیں گے) شاید اس لئے کہ ان عنوانات پر سمینار اور ورکشاپ منعقد کرنا صدر شعبہ کی محض ذمّہ داری ہے اور مجھ ایسے کم علم کو اور نا اہل  کو اُن عنوانات پر بولنے کی دعوت دینا ، اُن کی مجبوری ۔ سچ تو یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ہمیں بھی کچھ نہ کچھ بولنے کی عادت ہو چلی ہے ہاں یہ دعا ضرور کرتے ہیں کہ “کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی”
جہاں تک نصاب کا تعلق ہے اُس کی تیاری ایک بورڈ یا کمیٹی کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جس میں اکثر و بیشتر وہی اساتذہ ہوتے ہیں جو برسہا برس سے کالجوں یا یونیورسٹیوں میں اردو پڑھا رہے ہیں ۔انھیں خوب اندازہ ہوتا ہے کہ پچھلے نصاب میں کیا کمی تھی جو اِس بار انھیں دور کرنی چاہئے۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ پچھلا نصاب پڑھاتے وقت طلباءکا رسپانس(response) کیا تھا۔اور خود انھیں کتنی پریشانیاں اٹھانی پڑی تھیں۔لہذا ایک خاموش سمجھوتے کے تحت بورڈ کے ممبران عموماً ایسا نصاب تیار کرتے ہیں جس کو پڑھانے میں انھیں زیادہ دشواری نہ ہواور اُن عنوانات پر ایک یا دو کتابیں بآسانی دستیاب ہوں۔ غرض نصاب بنانے میں فوکس(focus) استاد ہوتا ہے، نہ طالبِ علم۔ بالفاظ دیگر اپنی تساہلی اور مواد کی دستیابی ایسے نصاب کی سب سے اہم ترجیح ہوا کرتی ہے۔اور یہ تیاری بھی اتنی رواروی میں کی جاتی ہے کہ لگتا ہے موصوف نے میٹنگ سے ایک دن قبل ہی اس کا ڈرافٹ تیار کیا تھا۔اور کالج یا یونیورسٹی کی لائبریری سے مطلوبہ کتابیں حاصل کر کے اُن  کی فہرست سے نصاب کے لئے عنوانات تجویز کر لئے تھے ۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ سارے کالجوں اور شعبہ کے سارے اساتذہ کے مشورے سے نصاب تیار کیا جائے۔اور یہ تو بہت کم ہوتا ہے کہ ملک کی دیگر یونیورسٹیوں کے نصاب کو سامنے رکھ کر اپنا نصاب تیار کیا جائے۔ نتیجتاً نثر و نظم پڑھانے کے نام پر کسی شاعر اور ایک ناول نگار کو منتخب کرلیا اور شاعر کی دس بیس نظمیں اور ناول نگار کا ایک یا دو مشہور ناول تجویز کردیا۔ یہی حال کلاسیکی ادب کا ہوتا ہے۔ایک کلاسیکی شاعر اور کلاسیکی نثر و نگار غرض نصاب اس قدر مختصر ہوتا ہے کہ اگر کوئی سنجیدہ ، ایماندار اور صاحبِ علم استاد اُس ایک پرچے کو پڑھانا چاہے تو بڑی آسانی سے اُسے تین ماہ میں ختم کر سکتا ہے۔ افسوس کا مقام ہے کہ ہم اپنی سہولت کی خاطر طلباءکو ادب کے ایک بڑے حصّہ سے محروم کردیتے ہیں ۔ وہ اگر غالب کا مطالعہ کرتے ہیں تو میر اور اقبال  سے محروم ہوجاتے ہیں اور سردار جعفری کو پڑھ لیں تو فیض اور فراق سے متعارف نہیں ہو پاتے۔نظیر اوراکبر کا ذکر کیا کریں اسی طرح طلباءکی کثیرتعدادمنٹو، عصمت ،بیدی اور قرة العین حیدر کے نام تو جانتی ہی ہے ، مگر ان کی ادبی قدرو قیمت سے واقف نہیں ہو پاتی ۔ کہتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے کہ آج ایسے اساتذہ کا فقدان ہے جو کسی ایک ادیب کو پڑھانے سے قبل اردو فکشن کا احاطہ کرتے ہوئے سارے اہم ادیبوں سے طلباءکو متعارف کراتے ہیں۔ نہ ہی ایسے پڑھے لکھے اساتذہ نظر آتے ہیں جنھوں نے اردو شاعری کا عمیق مطالعہ کیا ہو۔ لکھنﺅ اور دہلی اسکول کی خوبیوں کے ساتھ ترقی پسند اور جدید شعراءکی منظومات سے بھی طلباءکو متعارف کراسکیں۔ یہاں تک کہ ایک یونیورسٹی نے بڑی خاموشی سے اپنے نصاب سے علامہ اقبال کو حذف کردیا ہے کہ اُن کے کلام کو پڑھانے والے اساتذہ مل نہیں پائے۔ شاید آپ اِس پر بھی یقین نہ کریں مگر اب شاید ہی کسی یونیورسٹی کے نصاب میں قصیدہ شامل ہو۔یہ اور بات ہے کہ اردو والے اپنے آقاﺅں کی قصیدہ خوانی میں دن رات لگے رہتے ہیں۔
اِس ضمن میں ایک اور بات قابلِ غور ہے ، ہم اردو طالبِ علموں کی محدود سوچ کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہم اپنے محبوب دائروں سے باہر نہیں نکل پاتے، کبھی غزلیں پکڑ لیتی ہیں تو کبھی کوئی خوبصورت کہانی پیروں میں بیڑیاں ڈال دیتی ہیں ۔ جبکہ عالم کاری کے اِس زمانے میں ضرورت ہے کہ ہم دیگر علوم کے سے بھی کما حقہ واقفیت حاصل کریں ۔ ہندوستان کی مختلف IIT میں انجنیئرنگ کے کورسیز کے ساتھ Humanities کا کورس بھی پڑھایا جانا چا ہیے تا کہ ایک انجنیئرکو یہ علم ہوسکے کہ انسانی سماج کیسے بنتے بگڑتے ہیں اور عالمی سیاسی بساط پر کیا کچھ ہو رہا ہے۔کیا ہم یونیورسٹی کی سطح پر اپنے نصاب میں سماجی علوم کا ایک پرچہ رکھ کر اپنے طلباءکے ذہنی افق کو وا نہیں کر سکتے؟اسی طرح ہم اردو کے قواعد اور مضمون نویسی کے پرچے میں ترجمے کا چاہے وہ دس بیس نمبر کا ہی ہو ایک سوال ضرور رکھتے ہیں ۔ وہ اساتذہ جو انگریزی میں مہارت رکھتے ہیں وہ ترجمے کے فن سے طلباءکو کو متعارف بھی کراتے ہیں ۔مگر کیا ایک یا دو سوالوں کا حل کردینا بچوں کو انگریزی زبان سے واقف کرا پاتا ہے۔کیوں نہ ہم یونیورسٹی کی سطح پر طلباءکو انگریزی کا ایک باقاعدہ نصاب پڑھائیں یا انھیں انگریزی زبان کے ساتھ ادب کے اہم شہ پاروں کے متعارف کرائیں تا کہ جب یہ ڈگریاں لیکر نکلیں تو آج طاقت کی سب سے بڑی زبان سے اُن کی شناسائی تو ہو۔جواہر لال یونیورسٹی کے ڈاکٹر نامور سنگھ نے اپنی نوعیت کا ایک انوکھا تجربہ کیا تھا۔انھوں نے پوسٹ گریجویشن کی سطح پر ہندی کے طلباءکواردو اور اردو طلباءکو ہندی کے ایک ایک پرچے سے متعارف کرایا تھا تاکہ اِس بہانے وہ ایکدوسرے کے ادب سے واقف ہوں اور یوں زبان کی سطح پر سہی دو مختلف زبان کے طلباءکی دوریاں کچھ کم ہو سکیں ۔
سچی بات تو یہ ہے کہ آپ چاہے کتنا ہی اعلیٰ اور معیاری نصاب بنالیں مگر اُسے پڑھانے والا اچھا استاد میسّر نہ ہو، تو پھر بھی وہ نصاب نرا نصاب ہی رہ جاتا ہے۔ بلکہ اکثر صورتوں میں ایک غیر معیاری ا ستاد اُس کاناس مار دیتا ہے ایسا بھی ہوا ہے کہ ایک اچھے استاد نے ایک معمولی نصاب کو اتنا دلچسپ بنا کر پڑھایا کہ طلباءکی دلچسپی کورس کے خاتمے تک باقی رہی۔ غرض زبان و ادب کے پڑھانے کے لئے ایک اچھا استاد بے حد ضروری ہے کیوں کہ وہ صرف نصاب ہی نہیں پڑھاتا زبان کی باریکیوں سے روشناس کراتا ہے اور اپنے طلباءکو ذوقِ سلیم کی اس دولت سے نوازتا ہے جس کے سہارے وہ زندگی بھر دنیائے ادب کے سفر سے لطف اندوز ہوتے ہیں ۔ان کی تدریسی صلاحیتیں ہمارے لئے مسئلہ بنی ہوئی ہےتو ہمیں تھوڑی دیر رک کر اپنے آپ سے یہ پوچھنا چاہئے کہ آخر ان کم نصیبوں کو کس نے پڑھایا تھا۔ کیا ان کے اساتذہ واقعی قد آور اساتذہ تھے ۔ کیا وہ علم و ادب سکھانے کے جنون میں مبتلا تھے؟ کیا ادب ان کا اوڑھنا بچھونا تھا؟کیا اپنے طلبا کی تربیت میں وہ دل و جان سے مصروف تھے؟ اگر اُن کے اساتذہ بھی معمولی صلاحیتوں کے افراد تھے تو پھر اُن کی اہلیت کا شکوہ کیوں کریں۔ در اصل آج اساتذہ کی وہ کھیپ ناپید ہے جن کے لئے زبان و ادب پڑھانا زندگی کا واحد مقصد ہوا کرتا تھا۔جو اپنی ساری زندگی ادب کے مطالعہ، علمی تحقیقی کام اور اپنے شاگردوں کی تربیت میں صرف کردیتے تھے۔ یہ اساتذہ اُن گھرانوں سے آئے تھے جہاں تہذیبی قدریں زندہ تھیں جہاں مادی آسائشوں اور نام و نمود کی کوئی اہمیت نہیں تھی ۔اِس لئے ساٹھ اور ستر کی دہائی تک آپ کو اردو کے ایسے اساتذہ کے نام سنائی پڑتے ہیں جو اپنے شعبوں کی شناخت تھے۔ علی گڑھ میں رشید احمد صدیقی ، خورشیدالاسلام، مسعود حسین خان، دہلی میں خواجہ احمد فاروقی، الہ باد میں اعجاز حسین ، احتشام حسین، ممبئی میں نجیب اشرف ندوی ظہیرالدین مدنی، عالی جعفری وغیرہ۔پھر زمانے نے کروٹ بدلی اور علم و تعلیم کا زوال شروع ہوا، اداروں کو گُھن لگنے لگی اور تہذیبی قدریں مدھم پڑتی گئیں ۔ لہذا بعد کی کھیپ جو آئی وہ پچھلی کھیپ سے کمتر نکلی ۔ پھر تو جو سلسلہ شروع ہوا تو علم تعلیم کے زوال کے ساتھ ساتھ دانشوری کی روایت بھی زوال پذیر ہوئی اور اساتذہ کی تقرری میں وہ سارے عوامل کام کرنے لگے جن کا تعلق کسی طورعلم و تعلیم سے نہیں تھا۔ کہیں سفارش کا سکّہ چلا تو کہیں کسی سیاسی قائد کا دباﺅ بڑھا، کہیں کسی شاگرد کو وفاداری کا صلہ دیا گیا۔تو کہیں علاقائیت کو مستحکم کیا گیا۔in-breeding کی اصلاح کا ذکر کیا کریں اقرباءپروری اور دوست نوازی نے بھی اردو کے شعبوں کو نہیں بخشا۔غرض حال یہ ہوا کہ تقرر کرنے والا تو پستہ قد تھا ہی ،جس کا تقرر کیا گیا وہ اُس سے بھی کوتاہ قد تھا۔ہارورڈ یونیورسٹی میں آج بھی جب کوئی اسامی خالی ہوتی ہے اُس کے لئے عالمی سطح پر تلاش شروع کردیتے ہیں ۔ کنیڈا کی ایک یونیورسٹی میں لکچرر شپ کے لئے وہاں کے صدر شعبہ نے ممبئی کے ایک پی۔ایچ۔ڈی کے طالبِ علم کو دعوت دی تھی۔صرف اس لئے کہ اس طالبِ علم کی پی۔ایچ۔ڈی کا مقالہ صدر موصوف نے پڑھا تھااور حیران تھے کہ اِس صاحبزادے نے اتنا معیاری مقالہ کیسے لکھ لیا۔ہمارے یہاں جب آپ شعبہ میں ایک بار داخل ہو جائیں تو پھر آپ ہر طرح کے امتحان سے بری ہو جاتے ہیں جبکہ غیر ملکی یونیورسٹیوں میں آج بھی اساتذہ کو صرف ایک سال کا کنٹریکٹ دیا جاتا ہے تاکہ ان کی صلاحیتوں کا باقاعدہ تجزیہ کرکے جس میں صدر شعبہ کی رائے، رفقائے کار کی رائے اور طلبا کی آراءاور پھر استاد کے علمی کاموں کی جانچ کے بعد ہی استاد محترم کو ان کے منصب پر باقی رکھا جاتا ہے۔ہم اِس طرح کا کوئی اصول بنائیں تو اساتذہ کی یونین ایک ہنگامہ کھڑا کردے گی۔ لہذا نا اہل سے نا اہل امیدوار بھی کالج یا یونیورسٹی کی لکچرر شپ کے لئے طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرنا اپنا پیدائشی حق سمجھتا ہے کیوں کہ اسے پتہ ہے،ایک بار اُسے تقرری کا پروانہ مل گیا پھر دنیا کی کوئی طاقت اُسے مات نہیں دے سکتی۔اب وہ سماج میں اونچے منصب پر فائز ہوگا اور چھٹے پے کمیشن کے حساب سے اچھی خاصی تنخواہ پائے گا۔ رہا پڑھنا پڑھانا ، تو نصاب ہی تو پڑھانا ہے کچھ نوٹس بنا لیں گے اور کچھ سابق طالبِ علموں سے لے لیں گے کچھ نہیں بن پڑا تو پوری کتاب زیروکس کرالیں گے۔اس دوران صدر شعبہ یا پرنسپال صاحب سے پینگیں بڑھنے لگیں تب تو سارے کام آسان ہو جائیں گے، اور کسی سے مقابلہ تو کرنا ہے نہیں ، خود کو بہتر کرنے کا جذبہ بھی عرصہ پہلے سرد ہوچکا ہے، ہاں اپنے jobکو permanent کرنے کے لئے جو لازمی قابلیت درکار ہوتی ہے جیسے orientation کورسیز اور ریفریشر کورسیز وغیرہ وہ بھی اب routine بن چکا ہے۔ اور ہر لیکچرر دیر سویر مکمل کرہی لیتا ہے۔رہی سمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت ، تو یہ آپ حضرات سے کہنے کی ضرورت نہیں ۔ یہ مرحلے بھی بڑی آسانی سے طے ہوجاتے ہیں
ہوتے نہ لیکچرر تو کئی لوگ جعفری
ساحل پہ بیچتے کہیں چھولے دہی بڑے
رہے ہمارے اساتذہ کے تحقیقی کام تو اس پر کچھ کہتے شرم آتی ہے۔کالج ہوں یا یونیورسٹی ،اردو کے شعبوں کی پی۔ایچ۔ڈی کی علمی دنیا میں کوئی وقت نہیں رہی پچھلے بیس پچیس برسوں میں اکادکا کوئی تحقیقی کام ہوگا جس نے اردو دنیا پر اپنے اثرات چھوڑے ہوں۔ورنہ یہ ایسی مشق ہو چکی ہے کہ آپ کا گائڈ آپ کے مقالے کو یہاں وہاں سے دیکھ کر یونیورسٹی میں پیش کردیتا ہے اور اپنے دوست ممتحن کو مطلع کردیتا ہے کہ بھائی مع اہل و عیال ہمارے شہر تشریف لے آئیے میرا شاگرد آپ کی مہمان نوازی کے لئے بے تاب ہے۔اب یہ لیکچرر صاحب کی ذمہ داری ہے کہ ممتحن صاحب کی آﺅ بھگت کریں ، اُن کے آرام کا خیال رکھیں انھیں اسٹیشن یا ائیرپورٹ لینے اور چھوڑنے جائیں اور انھیں یہ باور کرادیں کہ ان سے زیادہ پڑھا لکھا شخص اس قطعہءارض پر ابھی تک پیدا نہیں ہوا، مزید یہ کہ آپ نے ان کی ساری کتابیں اور مقالے پڑھ رکھے ہیں اور اپنے لکچرس میں صرف اُن سے ہی استفادہ کرتے ہیں۔ غرض یہ ڈرامہ اتنی پابندی اور اس مہارت سے کھیلا جاتا ہے کہ اب ہر مقالہ نگار کو پتہ ہے کہ اُسے اپنے گائڈ اور مہمان ممتحن کو ان کی محنت کا کتنا صلہ دینا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے اساتذہ کے مقالے یونیورسٹی لائبریریوں کے کسی کونے میں ڈال دئیے جاتے ہیں اور وہ خود بھی کالج یا یونیورسٹی کے رجسٹرار کو اُس کی رسید دے کر بھول جاتے ہیں کہ انھوں نے بھی کبھی کوئی علمی کارنامہ انجام دیا تھا۔ہاں اب یہ بات بھی کوئی راز نہیں رہ گئی کہ ایسے Ghost رائٹر بھی موجود ہیں جو مناسب حقِ محنت پر آپ کو مقالہ لکھ کر دیں گے۔ ظاہر ہے جب یونیورسٹی کا سارا نظام کرپٹ ہوچکا ہو وہاں شاطر قسم کے افراد کے لئے پی۔ایچ۔ڈی کی ڈگری کا حصول کوئی مشکل کام نہیں رہ جاتا۔ چونکہ اردو والوں کے ہاں ایسا کوئی میکانزم بھی نہیں ہے جو آزادانہ طور پر ان مقالوں کی علمی حثیت جانچ سکے۔اس لئے ان مقالوں کی اکثریت صرف پی۔ایچ۔ڈی کی لازمی قابلیت کی خانہ پُری کے کام آتی ہے جس سے تنخواہ میں اضافہ مقصود ہوتا ہے اور بس۔
مختصراً یہ کہ اردو اساتذہ میں علم کے حصول کی خواہش نہیں رہ گئی ہے اور اب وہ بھی خود کو ڈگری تفویض کرنے کی فیکٹری کا ایک فرد سمجھنے لگے ہیں ۔ انھیں اب اپنے increment کی فکر رہتی ہے۔اور اُن کی ساری سہولتوں کی جس کا وہ خود کو مستحق سمجھتے ہیں۔انھیں اس بات کی فکر نہیں کہ اردو کے طالبِ علموں کی تعداد دن بدن گھٹتی جا رہی ہے۔ انھیں اس بات کا بھی دکھ نہیں کہ شہر کے مختلف کالجوں میں اردو کے شعبے بند ہونے لگے ہیں۔ یہ تو مہاراشٹرا آندھرا پردیش ایسی ریاستیں ہیں جہاں آج بھی اردو اسکول جاری ہیںاور کالجوں اور یونیورسٹیوں کو اردو کے طلباءمل جاتے ہیں۔یہ اور بات ہے کہ ہماری اسکولی تعلیم کا حال بھی کچھ اچھا نہیں ہے۔بلکہ اسکولوں میں اردو کا معیار اس قدر ناقص ہوچلا ہے کہ اردو میں بی۔اے کرنے والے طلباءبھی ڈھنگ کا مضمون نہیں لکھ پاتے، اُن کا اِملا درست ہوتا ہے نہ تلفّظ، ادب سے شناسائی تو دور کی بات رہی، وہ تو صرف اِس لئے شعبہءاردو کا رخ کرتے ہیں کے ان کے نمبرات اتنے خراب ہوتے ہیں کہ وہ کسی اور شعبہ میں داخل ہو کر کامیاب ہو ہی نہیں سکتے۔ویسے بھی آرٹس فیکلٹی آج سارے ملک میں بحران کا شکار ہے اور ایک سروے کے مطابق آرٹس کے صرف دس فیصد طلباءہی عالمی معیار پر پورے اترتے ہیں۔(اردو والے تو شاید اس صد فیصد میں نظر بھی نہ آئیں)
بہر حال اگر ہمیں اردو کی تدریس کی بہتری کی طرف قدم بڑھانا ہے تو سب سے پہلے اسکول میں اردو کی تدریس پر دھیان دینا ہوگا۔ اپنے شعبوں میں ایسے افرادکا تقرر کرنا ہوگا جو اردو زبان و ادب کی ترویج و ترقی کو اپنی زندگی کی اہم ترجیحات سمجھتے ہوں وہ ایسے افراد ہوں جو نہ صرف خود مطالعہ کا شوق رکھتے ہوں بلکہ طلباءکو مطالعہ پر مائل کر سکتے ہوں۔جو اپنی کلاسوں میں طلبا کو صرف ادب کی اعلیٰ قدروں سے متعارف کرانے کا ہنر ہی نہ جانتے ہوں بلکہ اپنے حسن سلوک اور کردار سے انھیں متاثر بھی کریں۔ وہ طلبا کی تخلیقی صلاحیتوں کو بیدار کرنے اور انھیں تخلیقی سوچ اور تجزیہ کرنے پر بھی مائل کر سکیں اور تحریر و تقریر کے رموز و آداب سے بھی روشناس کراسکیں ۔ گو ایک مخصوص مدت میں نصاب کی تکمیل ایک استاد کی محض ذمہ داری قرار دی گئی ہے، مگر وہ چاہے تو اپنے اسی محدود وقت میں طلباءکو نصاب سے کچھ زیادہ بھی دے سکتا ہے۔ البتہ اس کے لئے ایک کھلا ذہن اور غیر جانب دارانہ اندازِ تدریس درکار ہے، جو ایک اچھا استاد چاہے تو تھوڑی سی محنت سے یقیناً حاصل کر سکتا ہے۔ ہمارے اساتذہ اسی محنت کو اپنا شعار بنالیں اور اپنے کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کرنے لگیں تو اردو کی بے رنگ اور بے کیف تدریس میں انقلاب آسکتا ہے۔ اردو تدریس کے معیار کو بہتر کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد سے نکل کر دیگر کالجوں اور یونیورسٹیوں سے رابطہ رکھیں ،جو تحقیقی کاموں میں شراکت کی صورت میں بھی ہو سکتا ہے۔اور اساتذہ اور طلباءکے Excange پروگراموں کے انعقاد میں بھی۔ لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ ہم ایک لگے بندھے ڈھرے سے ہٹ کر صرف اور صرف اردو زبان و ادب کی محبت میں انتھک محنت پر راضی ہیں؟ یہ نہ بھولئے کہ کسی شعبہ کی شناخت اس کا معیار اور اُس کی ترقی اس بات پر منحصر ہے کہ اس شعبہ نے کتنے ذہین اور با ذوق طلباءکو اپنی طرف مائل کیا ، وہاں کے اساتذہ کتنے معیاری، کتنے محنتی،کتنے جنونی اور کتنے عالم ہیں، اور وہاں کس معیار کے علمی کام ہو رہے ہیں۔
٭٭٭

The Role of Literature in Current World Scenario

Articles

موجودہ عالمی صورتِ حال میں ادب کے تقاضے

ڈاکٹر سیّد جعفر احمد

 

اکیسویں صدی کے عصری منظر نامے کی تفہیم اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتی جب تک کہ اس کے اقتصادی محرکات اور عوامل کا بھی شعور حاصل نہ کرلیا جائے۔ سچی بات یہ ہے کہ ہمارا آج کا سیاسی منظر نامہ ہمارے اقتصادی منظر نامے سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں ہے۔ اس وقت ہر طرف گلوبلائزیشن کا دور دورہ ہے اور یہ اصطلاح سکہ¿ رائج الوقت کی حیثیت اختیار کرگئی ہے۔ غور سے دیکھیں تو گلوبلائزیشن بھی کوئی نئی چیز نہیں ہے۔ دنیا نے جب سے سرمایہ دارانہ نظام کا تجربہ کیا ہے یہ گلوبلائزیشن ہمیشہ ہی افق پر لکھی ہوئی تحریر کی طرح موجود رہی ہے۔ سرمائے کی سرشت میں ہے کہ وہ پھیلتا ہے۔ اس کی طبع میں ہے کہ یہ’ رُکتی ہے تو ہوتی ہے رواں اور ‘۔ اس کے آگے بند باندھنا مشکل ہوتا ہے۔ سو گزشتہ تین چار سو سال سے سرمایہ Globalizeہونے ہی کی طرف مائل تھا اور آج اس کی بن آئی ہے، چنانچہ ملٹی نیشنل کمپنیاں دنیا پر اپنے پھریرے لہراتی پھر رہی ہیں۔ ان کمپنیوں میں ایسی کمپنیاں بھی شامل ہیں جن کے بجٹ تیسری دنیا کے کئی کئی ملکوں کے بجٹوں سے زیادہ ہیں۔ یہ حکومتوں کو بنواتی ہیں اور گراتی ہیں، آبادیوں کو تہہ تیغ کرتی ہیں، لاکھوں نفوس ان کی مصنوعات کی تجربہ گاہ بنتے ہیں۔ یہ عالمی مالیاتی نظام اور عالمی تجارت پر اثر انداز ہوتی ہیں اور انھوں نے اطلاع کو ایک صنعت بناکر اس کو بھی اپنے قبضے میں کرلیا ہے۔ پھر ان کثیر القومی کمپنیوں میں امریکی اور یورپی کمپنیوں کی اکثریت ہے۔یہ ان ملٹی نیشنل کمپنیوں کی چیرہ دستیاں ہیں جن سے آج کا نیا عالمی نظام اپنی شناخت پاتا ہے۔
اس نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن کے نتیجے میں دنیا میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔ امیر اور غریب ملکوں کے درمیان تفاوت بڑھا ہے۔ چھوٹے ملکوں کی مختاری اور آزادی جو پہلے ہی بہت محدود تھی اب تقریباً معدوم ہوچکی ہے۔ غریب ملکوں کے بالا دست طبقات تو نئے نظام کا دُم چھلا بن کر اپنی مطلب براری کرلیتے ہیں لیکن زیر دست طبقات کا کوئی پرسان حال نہیں۔ خود امیر ملکوں میں امیر اور غریب کا تضاد روز افزوں ہے۔ معاشرے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ مقامی آبادی اور تارکینِ وطن کے درمیان خلیج بڑھتی جاتی ہے جس کا مظہر آئے دن کے فرقہ وارانہ اور نسلی ہنگامے ہیں۔
گلوبلائزیشن کے سماجی اثرات سے مربوط اس کے تہذیبی اثرات ہیں۔ گلوبلائزیشن نے چھوٹی ریاستوں اور ان کے تشخص کو ہی پامال نہیں کیا ہے بلکہ اس نے چھوٹے ملکوں اور چھوٹی آبادیوں کی ثقافتوں کو بھی حرفِ غلط کی طرح مٹانے کی کوشش کی ہے۔ گلوبلائزیشن کے زیرِ اثر وہی زبان یا زبانیں برقرار رہنے کا پروانہ حاصل کرپاتی ہیں جو بڑی منڈیوں کی زبانیں ہیں۔ جو زبان بازار میں نہیں بولی جاتی یا بازار میں جس کے لیے مناسب جگہ نہیں بن سکی ، اس کا مستقبل تاریک ہوتا جاتا ہے۔ بیسیوں زبانیں پچھلے چند برسوں میں لسانی منظر نامے سے غائب ہوچکی ہیں اور بہت سی زبانیں ممکنہ مخدوش مستقبل سے دوچار ہیں۔ زبانوں کا معدوم ہوجانا شاید مملکتوں اور ریاستوں کے معدوم ہوجانے سے بھی زیادہ سنجیدہ معاملہ ہے کیونکہ زبانیں تہذیب کی امانت دار ہوتی ہیں۔ وہ ہمارے ثقافتی ورثے کا حصہ ہیں۔ ان میں ہمارے پُرکھوں کے خواب محفوظ ہوتے ہیں، وہ ہمارے خیالات میں ارتفاع پیدا کرتی ہیں، ان کے وسیلے سے ہم اپنی اُمنگوں کو آئندہ نسلوں تک پہنچاتے ہیں۔ ایک زبان کا مَر جانا بہت سے خوابوں ، ان گنت خیالوں اور بہت سی قدروں کا مَر جانا ہوتا ہے۔ گلوبلائزیشن سے آج یہی خواب ، خیال اور قدریں مَر رہی ہیں۔ ہماری تہذیب کا ایک بہت درخشاں حصہ خزاں کے پت چھڑ کی طرح شاخوں سے ٹوٹ کر ختم ہورہا ہے۔
نئے عالمی نظام اور گلوبلائزیشن نے تہذیب کی سطح پر جو دوسرا بڑا وار کیا ہے وہ ثقافتوں اور زبانوں پر حملے سے بھی سنگین ہے اور وہ ہے ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا وار۔ بظاہر اس وقت دنیا میں ایک نام نہاد اطلاعات کا انقلاب آیا ہوا ہے۔ نئی ٹیکنالوجی نے معلومات کے ذخیرے کو کہاں سے کہاں پہنچادیا ہے۔ کمپیوٹر نے انسان کے ذخیرہ¿ معلومات میں جس رفتار سے اضافہ کیا ہے خود اس رفتار کو ناپنا بھی اب کمپیوٹر کے بغیر ناممکن ہوچکا ہے۔ سیٹیلائٹس نے انسان کی رسائی ہزاروں چینلز تک کردی ہے اور خبریں جو کبھی ڈھونڈنے سے ملا کرتی تھیں اب سیلاب کی شکل میں ہمارے وجود کو غرق کرنے پر تلی نظر آتی ہیں۔ اب مسئلہ یہ ہے کہ کس خبر کو درست سمجھا جائے اور کس کو غلط، یا درست اور غلط کے درمیان جو ہزاروں رنگ ہیں ان میں سے کس رنگ پر اعتبار کیا جائے ۔میڈیا نے گلوبلائزیشن کی محرک قوتوں کے اور نئے عالمی نظام کی قیادت پر فائز حکومتوں کے ہاتھ میں ذہنوں کو کنٹرول کرنے کا ایسا آلہ فراہم کردیا ہے جس کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کو کیا رائے قائم کرنی چاہیے، ان کو کس چیز کو منتخب اور کس کو رَد کرنا چاہیے، ان کو اپنے اور اپنے اہلِ خانہ کے لیے کس قسم کے فیصلے کرنے چاہیے ، ان کو کیا پینا چاہیے ، کیا کھانا چاہیے ، کیا سوچنا چاہیے اور کون سے خواب دیکھنے چاہیے ، آج یہ سب کچھ انسان کے اپنے اختیار سے نکل کر میڈیا کو کنٹرول کرنے والے ہاتھوں میں جا چکا ہے۔ مغربی جمہوریتوں میں شہریوں کے سوچنے اور سمجھنے پر میڈیا کے ذریعے کنٹرول کا حربہ وہاں کے کارپوریٹ سیکٹر اور ریاست کا اب تک کا سب سے کارآمد حربہ ہے۔ نام چومسکی اس صورتِ حال کو Necessary Illussionsسے تعبیر کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ Water Lippmann کے اتّباع میں مغربی جمہوریت کو ’تماش بینوں‘ کی جمہوریت قرار دیتے ہیں۔ Lippmannکے خیال میں یہ ایسی جمہوریتیں ہیں جہاں بھٹکے ہوئے ہجوم رہنمائی کے طالب تو ہوتے ہیں، با اختیار ہونے کا حق نہیں رکھتے۔ چومسکی کا کہنا ہے کہ ’پروپیگنڈہ مغربی جمہوریت میں وہی حیثیت رکھتا ہے جو ایک آمرانہ ریاست میں ڈنڈے کو حاصل ہوتی ہے۔ دونوں کا کام لوگوں کو ہانکنا اور ان کو ایک خاص سمت میں لے جانا ہوتا ہے۔‘اپنی کتاب ’ذرائع ابلاغ کا کنٹرول‘ (Media Control) میں چومسکی نے بتایا ہے کہ کس طرح ووڈرو ولسن (Woodrow Wilson) کے زمانے میں صرف چھ ماہ میں ایک خاموش طبع آبادی کو ایک ہیجان اور جنگی جنون میں سرشار آبادی میں ڈھال دیا گیا اور کس طرح بش سینئر کے زمانے میں قوم کو میڈیا کے ذریعے اور پبلک ریلیشننگ کی صنعت کے ذریعے جنگ بازی کے لیے تیار کرلیا گیا۔ چومسکی اور ان جیسے دانشور غلط نہیں ہیں۔ ہم خود بھی دیکھ سکتے ہیں کہ امریکہ کی ہولناک جنگی کاروائیوں ، عراق میں اس کی انسانیت کش سرگرمیوں اور افغانستان اور دنیا کے دوسرے خطوں میں اس کی بربریت کی تہہ در تہہ تفصیلات کے منظرِ عام پر آنے کے باوجود امریکی عوام کی ایک بڑی تعداد آج بھی اپنی حکومت کے قبضہ¿ قدرت میں ہے۔
گلوبلائزیشن کا تیسرا بڑا حملہ جو بہت خاموشی اور غیر محسوس طریقے سے ہوا ہے ، وہ ہماری زبان ، ہمارے لغت بلکہ یہاں تک کہا جاسکتا ہے کہ ہماری ترقی پسند زبان اور لغت کے اغوا کی شکل میں سامنے آیا ہے۔ آج ہماری اصطلاحیں ، ہمارے نعرے، ہمارے استعارے اُن انسان دشمن اور تہذیب ناشناس قوتوں کے تصرف میں ہیں جن کے خلاف ہم جد و جہد کرتے رہے ہیں اور آج بھی کررہے ہیں۔ چنانچہ صدر بس اور ٹونی بلیئر عراق کو ’آزاد‘ کرواتے ہیں۔ امریکہ عراق اور افغانستان میں ’جمہوری آزادیاں‘ لے کر آرہا ہے۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ’حقوقِ انسانی‘ کا شور مچاتی نظر آتی ہیں۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو ’بچوں کی محنت‘ شاق گزرتی ہے۔ امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں کو بنیاد پرستی بُری لگنے لگی ہے اور وہ ’مذہبی ہم آہنگی‘ اور ’رواداری‘ کے علمبردار بن چکے ہیں۔ چھوٹے ملکوں کے کاسہ لیس حکمراں اپنے اپنے ملکوں میں ’جمہوریت کو نچلی سے نچلی سطح‘ تک پہنچانے میں مصروف ہیں اور فوجی آمریتیں ‘میانہ رَوئی اور روشن خیالی‘ کی علمبردار نظر آتی ہیں۔ الفاظ و اصطلاحات ، زبان و لغت کے اس اغوا کے بعد ہم جیسے لوگوں کے لیے اب ایک اضافی آزمائش یہ بھی قرار پاتی ہے کہ ہم کس طرح اپنی زبان اور اپنے لفظیات کی بازیافت کرتے ہیں۔
٭٭٭

Lajwanti by Rajindar Singh Bedi

Articles

لاجونتی

راجندر سنگھ بیدی

 

راجندر سنگھ بیدی ایک تعارف

قمر صدیقی

اردو کے معروف فکشن نگار راجندر سنگھ بیدی غیرمنقسم پنجاب کے ضلع سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکامیں ۱۹۱۵ء میں پیدا ہوئے۔ زندگی کے ابتدائی ایام لاہور میں گزرے۔ اس زمانے کی روایت کے مطابق انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم اردو میں حاصل کی۔۱۹۳۱ء میں میٹرک کاامتحان پاس کرنے کے بعد ڈی۔اے ۔وی کالج لاہور سے انٹر میڈیٹ کیا۔گھرکے معاشی حالات بہت اچھے نہ تھے اس وجہ سے وہ اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکے اور ان کا گریجویشن کرنے کا خواب شرمندۂ تعبیر نہ ہوسکا۔۱۹۳۲ء سے طالب علمی کے زمانے میں ہی انگریزی ، اردو اور پنجابی میں نظمیں اور کہانیاں لکھنے لگے تھے۔
راجندر سنگھ بیدی کے معاشی حالات چونکہ اچھے نہ تھے ۔لہٰذا محض۱۸سال کی عمر میں انھوں نے لاہور پوسٹ آفس میں ۱۹۳۳ء میں بطورکلرک ملازمت اختیار کرلی۔یہ ملازمت ان کی تخلیقی صلاحیتوں کو راس نہیں آرہی تھی اوروہ بہتر ملازمت کی تلاش میں تھے۔ ۱۹۴۱ء میں انھیں آل انڈیا ریڈیو ، لاہور کے اردو سیکشن میں ملازمت مل گئی۔ آل انڈیا ریڈیو کے ادبی ماحول میں ان کی صلاحیتیں دھیرے دھیرے نکھرنے لگیں۔ اس دوران انھوں نے ریڈیو کے لیے متعددڈرامے تحریر کیے۔ ان ڈراموں میں ’’خواجہ سرا‘‘ اور ’’ نقل مکانی‘‘ بہت مشہور ہوئے۔ بعد ازاں ان دونوں ڈراموں کو ملاکر انھوں نے ۱۹۷۰ء میں فلم ’’دستک‘‘ بنائی۔
۱۹۴۳ء میں راجندر سنگھ بیدی لاہور کے مہیشوری فلم سے وابستہ ہوگئے۔ اس ملازمت میں ڈیڑھ سال رہنے کے بعد وہ آل انڈیا ریڈیو واپس آگئے۔ ریڈیو واپسی پر انھیں جموں میں تعینات کیا گیا جہاں وہ ۱۹۴۷ء تک رہے۔۱۹۴۷ء میں ملک کی تقسیم ہوئی اور بیدی کا خاندان ہندوستان کی ریاست پنجاب کے فاضلکہ میں آباد ہوگیا۔ البتہ بیدی پاکستان سے نقل مکانی کرکے ممبئی آگئے اور فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوئے۔ڈی ڈی کیشپ کی نگرانی میں بننے والی فلم ’’بڑی بہن‘‘ بطور مکالمہ نگار ہندوستان میں بیدی کی پہلی فلم تھی۔ یہ فلم ۱۹۴۹ء میں ریلیز ہوئی۔ ان کی دوسری فلم ’’داغ‘‘ تھی جسے بے پناہ مقبولیت حاصل ہوئی اور فلم انڈسٹری میں بیدی کی شناخت قائم ہوگئی۔ ’’داغ‘‘۱۹۵۲ء میں ریلیز ہوئی تھی۔
۱۹۵۴ء میں بیدی نے امرکمار ، بلراج ساہنی اور گیتا بالی کے ساتھ مل کر ’’سِنے کو آپریٹیو ‘‘ نامی فلم کمپنی کی بنیاد رکھی۔ اس کمپنی نے پہلی فلم ’’گرم کوٹ‘‘ بنائی جو بیدی کے ہی مشہور افسانہ ’’گرم کوٹ‘‘ پر مبنی تھی۔ اس فلم میں بلراج ساہنی اور نروپارائے نے مرکزی کردار ادا کیا تھاجبکہ امرکمار نے ہدایت کاری کی خدمات انجام دی تھیں۔اس فلم کے ذریعے راجندر سنگھ بیدی کو پہلی بار اسکرین پلے تحریر کرنے کا موقع ملا۔ سِنے کو آپریٹیو نے دوسری فلم ’’رنگولی‘‘ بنائی جس میں کشور کمار ، وجنتی مالا اور درگا کھوٹے نے مرکزی کردار ادا کیے اور امرکمار نے ڈائریکشن دیا۔ اس فلم میں بھی اسکرین پلے راجندر سنگھ بیدی نے ہی تحریر کیا تھا۔
اپنی ذاتی فلم کمپنی کے باوجود بیدی نے مکالمہ نگاری جاری رکھی اور متعدد مشہور فلموں کے ڈائیلاگ تحریر کیے۔ جن میں سہراب مودی کی فلم ’’ مرزا غالب‘‘ (۱۹۵۴ء) ، بمل رائے کی فلم ’’دیو داس‘‘(۱۹۵۵ء)اور ’’مدھومتی‘‘(۱۹۵۸ء) امرکمار اور ہریکیش مکرجی کی فلمیں ’’انورادھا‘‘ (۱۹۶۰ء)، ’’انوپما‘‘(۱۹۶۹ء) ، ’’ستیم‘‘ (۱۹۶۶ء) ، ’’ابھیمان‘‘ (۱۹۷۳ء) وغیرہ شامل ہیں۔
۱۹۷۰ء میں فلم ’’دستک‘‘ کے ساتھ انھوں نے ہدایت کاری کے شعبہ میں قدم رکھا۔ اس فلم میں سنجیو کمار اور ریحانہ سلطان نے مرکزی کردار ادا کیے تھے جبکہ موسیقی کار مدن موہن تھے۔ ’’دستک‘‘ کے علاوہ انھوں نے مزید تین فلموں ’’پھاگن‘‘ (۱۹۷۳ء)، ’’نواب صاحب‘‘ (۱۹۷۸ء) اور ’’آنکھوں دیکھی‘‘(۱۹۷۸ء) میں ہدایت کاری کے جوہر دکھائے۔
راجندر سنگھ بیدی کے ناول ’’ایک چادر میلی سی‘‘ پر ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں فلم بن چکی ہے۔ پاکستان میں ۱۹۷۸ء میں ’’مٹھی بھر چاول‘‘ کے عنوان سے جبکہ ہندوستان میں ’’ایک چادر میلی سی‘‘ کے ہی نام سے ۱۹۸۶ء میں۔ اس طرح وہ برصغیر ہند و پاک کے واحد فکشن نگار ہیں جن کی ایک ہی کہانی پر دونوں ممالک میں یعنی ہندوستان اور پاکستان میں فلم بن چکی ہے۔بیدی کے افسانے ’’لاجونتی‘‘ پر نینا گپتا ۲۰۰۶ء میں ایک ٹیلی فلم بھی بنا چکی ہیں۔
راجندر سنگھ بیدی کی شادی خاندانی روایت کے مطابق کم عمری میں ہی ہوگئی تھی۔ ان کی بیوی گھریلو خاتون تھیں اور بیدی نے تا عمر ان کے ساتھ محبت اور رواداری کا سلوک رکھا۔حالانکہ اداکارہ ریحانہ سلطان کے ساتھ معاشقے کی خبریں بھی گرم ہوئیں تاہم بیدی کی ازدواجی زندگی پر اس کے کچھ خاص اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ بیدی کی شخصیت میں امن پسندی، صلح کل اور محبت و رواداری کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔یہی محبت واپنائیت ان کی کامیاب ازدواجی زندگی کا سبب بنی۔ بیدی کی صرف ایک اولاد تھی جس کا نام نریندر بیدی تھا۔ جوان ہوکر نریندر بھی فلم انڈسٹری سے وابستہ ہوگئے اور بطور فلم ڈائریکٹر اور فلم ساز انھوں نے خوب نام کمایا۔ان کی مشہور فلموں میں ’’جوانی دیوانی‘‘( ۱۹۷۲ء) ، ’’بے نام‘‘ (۱۹۷۴ء)، ’’رفو چکر‘‘ (۱۹۷۵ء) اور ’’صنم تیری قسم ‘‘ (۱۹۸۲ء) وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ نریندر بیدی۱۹۸۲ء میں انتقال کرگئے۔ بیٹے کی اس ناگہانی موت کے صدمے سے راجندر سنگھ بیدی ابھر نہ سکے اور نریندر کی موت کے دو سال بعد ۱۹۸۴ء میں وہ بھی دارِ فانی سے کوچ کرگئے۔
راجندر سنگھ بیدی کا شمار اردو کے صف اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کے کل چھ مجموعے شائع ہوئے۔ ’’دانہ و دام‘‘(۱۹۳۶ء)اور ’’گرہن‘‘ (۱۹۴۲ء) آزادی سے پہلے شائع ہوچکے تھے۔’’کوکھ جلی‘‘(۱۹۴۹ء)، ’’اپنے دکھ مجھے دے دو‘‘(۱۹۶۵ء) ، ’’ہاتھ ہمارے قلم ہوئے‘‘(۱۹۷۴ء)اور ’’مکتی بودھ‘‘ (۱۹۸۲ء) آزادی کے بعد منظر عام پر آئے۔ ڈراموں کے دو مجموعے ’’بے جان چیزیں‘‘(۱۹۴۳ء) اور ’’سات کھیل ‘‘ (۱۹۷۴ء) بھی شائع ہوئے۔ ان کا ناولٹ ’’ایک چادر میلی سی‘‘۱۹۶۲ء میں شائع ہوا۔ انھیں۱۹۶۵ء میں ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا جبکہ ۱۹۷۲میں حکومتِ ہند نے پدم شری کا خطاب عطا کیا۔ ۱۹۷۸ء میں غالب ایوارڈ دیا گیا۔
راجندر سنگھ بیدی کو کردار نگاری اور انسانی نفسیات کی مرقع کشی میں کمال حاصل تھا۔ وہ صحیح معنوں میں ایک حقیقت نگار تھے۔اگرچہ انھوں نے بہت زیادہ نہیں لکھا لیکن جو کچھ بھی لکھا، وہ قدرِ اول کی چیز ہے۔ بیدی کسی فیشن یا فارمولے کے پابند نہیں تھے۔ ان کے افسانوں میں مشاہدے اور تخیل کی آمیزش ملتی ہے۔ انسانی نفسیات پر گہری نظر کی وجہ سے ان کے کردار صرف سیاہ و سفید کے خانوں میں بند نہیں ، بلکہ انسانی زندگی کی پیچیدگیوں کی جیتی جاگتی تصویریں پیش کرتے ہیں۔ اس تعلق سے پروفیسر شمس الحق عثمانی رقم طراز ہیں:
’’راجندر سنگھ بیدی کے فن کے ان اجزا و عناصر ۔۔۔۔۔ ان کی پُر جہد زندگی۔۔۔۔۔۔۔ اور ان کی پُر گداز شخصیت کے تارو پود کو ایک دوسرے کے قریب رکھ کر دیکھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے وجود کے جن لطیف ترین اجزا کے تحفظ و ارتفاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے سماجی زندگی میں پیش کیا، ان اجزا نے انھیں گہرا ایقان اور عمیق بصیرت عطا کی۔۔۔۔۔۔۔اسی ایقان اور بصیرت نے اُن کے پورے فن میں وہ عرفانی کیفیت خلق کی ہے جس کے وسیلے سے راجندر سنگھ بیدی اپنے ارد گرد سانس لینے والے افراد کو شناخت کرتے اور کراتے رہے۔ افراد کی شناخت کا یہ عمل دراصل کائنات شناسی کا عمل ہے کیونکہ راجندر سنگھ بیدی کا فن ، آدمی کے وسیلے سے ہندوستانی معاشرے ۔۔۔۔۔۔ ہندوستانی معاشرے کے وسیلے سے آدمی ۔۔۔۔۔۔۔۔اور ہندوستانی آدمی کے وسیلے سے پورے انسانی معاشرے کی شناخت کرتا ہے۔‘‘
(ممبئی کے ساہتیہ اکادمی انعام یافتگان ۔ مرتب: پروفیسر صاحب علی۔ ص: ۱۰۶۔ ناشر : شعبہ اردو، ممبئی یونیورسٹی)
راجندر سنگھ بیدی کی کہانیوں میں رمزیت ، استعاراتی معنویت اور اساطیری فضا ہوتی ہے۔ ان کے کردار اکثر و بیشتر محض زمان و مکاں کے نظام میں مقید نہیں رہتے بلکہ اپنے جسم کی حدود سے نکل کر ہزاروں لاکھوں برسوں کے انسان کی زبان بولنے لگتے ہیں۔ یوں تو ان کے یہاں ہر طرح کے کردار ملتے ہیں لیکن عورت کے تصور کو ان کے یہاں مرکزیت حاصل ہے۔ عورت جو ماں بھی ہے، محبوبہ بھی ، بیوی بھی اور بہن بھی۔ ان کے یہاں نہ تو کرشن چندر جیسی رومانیت ہے اور نہ منٹو جیسی بے باکی۔ بلکہ ان کا فن زندگی کی چھوٹی بڑی سچائیوں کا فن ہے۔ فن پر توجہ بیدی کے مزاج کی خصوصیت ہے۔ ان کے افسانوں میں جذبات کی تیزی کے بجائے خیالات اور واقعات کی ایک دھیمی لہر ملتی ہے جس کے پیچھے زندگی کی گہری معنویت ہوتی ہے۔


 

لاجونتی
(تحریر: راجندر سنگھ بیدی)

’’ ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے …‘‘
(یہ چھوئی موئی کے پودے ہیں ری، ہاتھ بھی لگاؤ کمھلا جاتے ہیں)
—— ایک پنجابی گیت
بٹوارہ ہوا اور بے شمار زخمی لوگوں نے اُٹھ کر اپنے بدن پر سے خون پونچھ ڈالا اور پھر سب مل کر ان کی طرف متوجہ ہوگئے جن کے بدن صحیح و سالم تھے، لیکن دل زخمی ……
گلی گلی، محلّے محلّے میں ’’پھر بساؤ‘‘ کمیٹیاں بن گئی تھیں اور شروع شروع میں بڑی تندہی کے ساتھ ’’کاروبار میں بساؤ‘‘ ، ’’زمین پر بساؤ‘‘ اور ’’گھروں میں بساؤ‘‘ پروگرام شروع کردیا گیا تھا۔ لیکن ایک پروگرام ایسا تھا جس کی طرف کسی نے توجہ نہ دی تھی۔ وہ پروگرام مغویہ عورتوں کے سلسلے میں تھا جس کا سلوگن تھا ’’دل میں بساؤ‘‘ اور اس پروگرام کی نارائن باوا کے مندر اور اس کے آس پاس بسنے والے قدامت پسند طبقے کی طرف سے بڑی مخالفت ہوتی تھی ——
اس پروگرام کو حرکت میں لانے کے لیے مندر کے پاس محلّے ’’ملاّ شکور‘‘ میں ایک کمیٹی قائم ہوگئی اور گیارہ ووٹوں کی اکثریت سے سندرلال بابو کو اس کا سکریٹری چُن لیا گیا۔ وکیل صاحب صدر چوکی کلاں کا بوڑھا محرر اور محلّے کے دوسرے معتبر لوگوں کا خیال تھا کہ سندر لال سے زیادہ جانفشانی کے ساتھ اس کام کو کوئی اور نہ کرسکے گا۔ شاید اس لیے کہ سندرلال کی اپنی بیوی اغوا ہوچکی تھی اور اس کا نام تھا بھی لاجو —— لاجونتی۔
چنانچہ پربھات پھیری نکالتے ہوئے جب سندر لال بابو، اس کا ساتھی رسالو اور نیکی رام وغیرہ مل کر گاتے —— ’’ہتھ لائیاں کمھلان نی لاجونتی دے بوٹے…‘‘ تو سندر لال کی آواز ایک دم بند ہوجاتی اور وہ خاموشی کے ساتھ چلتے چلتے لاجونتی کی بابت سوچتا —— جانے وہ کہاں ہوگی، کس حال میں ہوگی، ہماری بابت کیا سوچ رہی ہوگی، وہ کبھی آئے گی بھی یا نہیں؟… اور پتھریلے فرش پر چلتے چلتے اس کے قدم لڑکھڑانے لگتے۔
اور اب تو یہاں تک نوبت آگئی تھی کہ اس نے لاجونتی کے بارے میں سوچنا ہی چھوڑدیا تھا۔ اس کا غم اب دُنیا کا غم ہوچکا تھا۔ اس نے اپنے دکھ سے بچنے کے لیے لوک سیوا میں اپنے آپ کو غرق کردیا۔ اس کے باوجود دوسرے ساتھیوں کی آواز میں آواز ملاتے ہوئے اسے یہ خیال ضرور آتا —— انسانی دل کتنا نازک ہوتا ہے۔ ذراسی بات پر اسے ٹھیس لگ سکتی ہے۔ وہ لاجونتی کے پودے کی طرح ہے، جس کی طرف ہاتھ بھی بڑھاؤ تو کُمھلا جاتا ہے، لیکن اس نے اپنی لاجونتی کے ساتھ بدسلوکی کرنے میں کوئی بھی کسر نہ اُٹھا رکھی تھی۔ وہ اسے جگہ بے جگہ اُٹھنے بیٹھنے ، کھانے کی طرف بے توجہی برتنے اور ایسی ہی معمولی معمولی باتوں پر پیٹ دیا کرتا تھا۔
اور لاجو ایک پتلی شہتوت کی ڈالی کی طرح، نازک سی دیہاتی لڑکی تھی۔ زیادہ دھوپ دیکھنے کی وجہ سے اس کا رنگ سنولا چکا تھا۔ طبیعت میں ایک عجیب طرح کی بے قراری تھی۔ اُس کا اضطراب شبنم کے اس قطرے کی طرح تھا جو پارہ کر اس کے بڑے سے پتّے پر کبھی ادھر اور کبھی اُدھر لڑھکتا رہتا ہے۔ اس کا دُبلاپن اس کی صحت کے خراب ہونے کی دلیل نہ تھی، ایک صحت مندی کی نشانی تھی جسے دیکھ کر بھاری بھرکم سندر لال پہلے تو گھبرایا، لیکن جب اس نے دیکھا کہ لاجو ہر قسم کا بوجھ، ہر قسم کا صدمہ حتیٰ کہ مارپیٹ تک سہ گزرتی ہے تو وہ اپنی بدسلوکی کو بتدریج بڑھاتا گیا اور اُس نے ان حدوں کا خیال ہی نہ کیا، جہاں پہنچ جانے کے بعد کسی بھی انسان کا صبر ٹوٹ سکتا ہے۔ ان حدوں کو دھندلا دینے میں لاجونتی خود بھی تو ممد ثابت ہوئی تھی۔ چونکہ وہ دیر تک اُداس نہ بیٹھ سکتی تھی، اس لیے بڑی سے بڑی لڑائی کے بعد بھی سندر لال کے صرف ایک بار مسکرادینے پر وہ اپنی ہنسی نہ روک سکتی اور لپک کر اُس کے پاس چلی آتی اور گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہہ اُٹھتی — ’’پھرمارا تو میں تم سے نہیں بولوں گی …‘‘ صاف پتہ چلتا تھا، وہ ایک دم ساری مارپیٹ بھول چکی ہے۔ گان￿و کی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مرد ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں، بلکہ عورتوں میں کوئی بھی سرکشی کرتی تو لڑکیاں خود ہی ناک پر انگلی رکھ کے کہتیں — ’’لے وہ بھی کوئی مرد ہے بھلا، عورت جس کے قابو میں نہیں آتی ……‘‘ اور یہ مار پیٹ ان کے گیتوں میں چلی گئی تھی۔ خود لاجو گایا کرتی تھی۔ میں شہر کے لڑکے سے شادی نہ کروں گی۔ وہ بوٹ پہنتا ہے اور میری کمر بڑی پتلی ہے۔ لیکن پہلی ہی فرصت میں لاجو نے شہر ہی کے ایک لڑکے سے لو لگالی اور اس کا نام تھا سندر لال، جو ایک برات کے ساتھ لاجونتی کے گان￿و۔‘‘ چلا آیا تھا اور جس نے دولھا کے کان میں صرف اتنا سا کہا تھا —— ’’تیری سالی تو بڑی نمکین ہے یار۔ بیوی بھی چٹ پٹی ہوگی۔‘‘ لاجونتی نے سندر لال کی اس بات کو سن لیا تھا، مگر وہ بھول ہی گئی کہ سندر لال کتنے بڑے بڑے اور بھدّے سے بُوٹ پہنے ہوئے ہے اور اس کی اپنی کمر کتنی پتلی ہے!
اور پربھات پھیری کے سمے ایسی ہی باتیں سندر لال کو یاد آئیں اور وہ یہی سوچتا۔ ایک بار صرف ایک بار لاجو مل جائے تو میں اسے سچ مچ ہی دل میں بسا لوں اور لوگوں کو بتادوں —— ان بے چاری عورتوں کے اغوا ہوجانے میں ان کا کوئی قصور نہیں۔ فسادیوں کی ہوس ناکیوں کا شکار ہوجانے میں ان کی کوئی غلطی نہیں۔ وہ سماج جو ان معصوم اور بے قصور عورتوں کو قبول نہیں کرتا، انھیں اپنا نہیں لیتا —— ایک گلا سڑا سماج ہے اور اسے ختم کردینا چاہیے …… وہ ان عورتوں کو گھروں میں آباد کرنے کی تلقین کیا کرتا اور انھیں ایسا مرتبہ دینے کی پریرنا کرتا ،جو گھر میں کسی بھی عورت، کسی بھی ماں، بیٹی، بہن یا بیوی کو دیا جاتا ہے۔ پھر وہ کہتا —— انھیں اشارے اور کنائے سے بھی ایسی باتوں کی یاد نہیں دلانی چاہیے جو ان کے ساتھ ہوئیں —— کیوں کہ ان کے دِل زخمی ہیں۔ وہ نازک ہیں، چھوئی موئی کی طرح —— ہاتھ بھی لگاؤ تو کمھلا جائیں گے …
گویا ’’دل میں بساؤ‘‘ پروگرام کو عملی جامہ پہنانے کے لیے محلّہ ملاّ شکور کی اس کمیٹی نے کئی پربھات پھیریاں نکالیں۔ صبح چار پانچ بجے کا وقت ان کے لیے موزوں ترین وقت ہوتا تھا۔ نہ لوگوں کا شور، نہ ٹریفک کی اُلجھن۔ رات بھر چوکیداری کرنے والے کتّے تک بجھے ہوئے تنوروں میں سر دے کر پڑے ہوتے تھے۔ اپنے اپنے بستروں میں دبکے ہوئے لوگ پربھات پھیری والوں کی آواز سُن کر صرف اتنا کہتے —— او! وہی منڈلی ہے! اور پھر کبھی صبر اور کبھی تنک مزاجی سے وہ بابو سندر لال کا پروپگینڈا سنا کرتے۔ وہ عورتیں جو بڑی محفوظ اس پار پہنچ گئی تھیں، گوبھی کے پھولوں کی طرح پھیلی پڑی رہتیں اور ان کے خاوند ان کے پہلو میں ڈنٹھلوں کی طرح اکڑے پڑے پڑے پربھات پھیری کے شور پر احتجاج کرتے ہوئے منھ میں کچھ منمناتے چلے جاتے۔ یا کہیں کوئی بچہ تھوڑی دیر کے لے آنکھیں کھولتا اور ’’دل میں بساؤ‘‘ کے فریادی اور اندوہگین پروپگنڈ ے کو صرف ایک گانا سمجھ کر پھر سوجاتا۔
لیکن صبح کے سمے کان میں پڑا ہوا شبد بیکار نہیں جاتا۔ وہ سارا دن ایک تکرار کے ساتھ دماغ میں چکّر لگاتا رہتا ہے اور بعض وقت تو انسان اس کے معنی کو بھی نہیں سمجھتا۔ پر گُنگناتا چلا جاتاہے۔ اسی آواز کے گھر کر جانے کی بدولت ہی تھا کہ انھیں دنوں، جب کہ مِس مردولا سارا بائی، ہند اور پاکستان کے درمیان اغوا شدہ عورتیں تبادلے میں لائیں، تو محلّہ ملاّ شکور کے کچھ آدمی انھیں پھر سے بسانے کے لیے تیار ہوگئے۔ ان کے وارث شہر سے باہر چوکی کلاں پر انھیں ملنے کے لیے گئے۔ مغویہ عورتیں اور ان کے لواحقین کچھ دیر ایک دوسرے کو دیکھتے رہے اور پھر سرجھکائے اپنے اپنے برباد گھروں کو پھر سے آباد کرنے کے کام پر چل دیے۔ رسالو اور نیکی رام اور سندرلال بابو کبھی ’’مہندر سنگھ زندہ باد‘‘ اور کبھی ’’سوہن لال زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے … اور وہ نعرے لگاتے رہے، حتیٰ کہ ان کے گلے سوکھ گئے ……
لیکن مغویہ عورتوں میں ایسی بھی تھیں جن کے شوہروں، جن کے ماںباپ، بہن اور بھائیوں نے اُنھیں پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔ آخر وہ مر کیوں نہ گئیں؟ اپنی عفت اور عصمت کو بچانے کے لیے انھوں نے زہر کیوں نہ کھالیا؟ کنوئیں میں چھلانگ کیوں نہ لگا دی؟وہ بُزدل تھیں جو اس طرح زندگی سے چمٹی ہوئی تھیں۔ سینکڑوں ہزاروں عورتوں نے اپنی عصمت لُٹ جانے سے پہلے اپنی جان دے دی لیکن انھیں کیا پتہ کہ وہ زندہ رہ کر کس بہادری سے کام لے رہی ہیں۔ کیسے پتھرائی ہوئی آنکھیں سے موت کو گُھور رہی ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں ان کے شوہر تک اُنھیں نہیں پہچانتے۔ پھر ان میں سے کوئی جی ہی جی میں اپنا نام دہراتی —— سہاگ ونتی —— سہاگ والی … اور اپنے بھائی کو اس جمّ غفیر میں دیکھ کر آخری بار اتنا کہتی …… تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟ میں نے تجھے گودی کھلایا تھا رے …… اور بہاری چلاّ دینا چاہتا۔ پھر وہ ماں باپ کی طرف دیکھتا اور ماں باپ اپنے جگر پر ہاتھ رکھ کے نارائن بابا کی طرف دیکھتے اور نہایت بے بسی کے عالم میں نارائن بابا آسمان کی طرف دیکھتا، جو دراصل کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور جو صرف ہماری نظر کا دھوکا ہے۔ جو صرف ایک حد ہے جس کے پار ہماری نگاہیں کام نہیں کرتیں۔
لیکن فوجی ٹرک میں مس سارابائی تبادلے میں جو عورتیں لائیں، ان میں لاجو نہ تھی۔ سندرلال نے امید وبیم سے آخری لڑکی کو ٹرک سے نیچے اترتے دیکھا اور پھر اس نے بڑی خاموشی اور بڑے عزم سے اپنی کمیٹی کی سرگرمیوں کو دوچند کردیا۔ اب وہ صرف صبح کے سمے ہی پربھات پھیری کے لیے نہ نکلتے تھے، بلکہ شام کو بھی جلوس نکالنے لگے، اور کبھی کبھی ایک آدھ چھوٹا موٹا جلسہ بھی کرنے لگے جس میں کمیٹی کا بوڑھا صدر وکیل کالکا پرشاد صوفی کھنکاروں سے ملی جُلی ایک تقریر کردیا کرتا اور رسالو ایک پیکدان لیے ڈیوٹی پر ہمیشہ موجود رہتا۔ لاؤڈاسپیکر سے عجیب طرح کی آوازیں آتیں۔ پھر کہیں نیکی رام، محرر چوکی کچھ کہنے کے لیے اُٹھتے۔ لیکن وہ جتنی بھی باتیں کہتے اور جتنے بھی شاستروں اور پُرانوں کا حوالہ دیتے، اُتنا ہی اپنے مقصد کے خلاف باتیں کرتے اور یوں میدان ہاتھ سے جاتے دیکھ کر سندر لال بابو اُٹھتا، لیکن وہ دو فقروں کے علاوہ کچھ بھی نہ کہہ پاتا۔ اس کا گلا رُک جاتا۔ اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگتے اور روہانسا ہونے کے کارن وہ تقریر نہ کر پاتا۔ آخر بیٹھ جاتا۔ لیکن مجمع پر ایک عجیب طرح کی خاموشی چھاجاتی اور سندر لال بابو کی ان دو باتوں کا اثر، جو کہ اس کے دل کی گہرائیوں سے چلی آتیں، وکیل کالکا پرشاد صوفی کی ساری ناصحانہ فصاحت پر بھاری ہوتا۔ لیکن لوگ وہیں رو دیتے۔ اپنے جذبات کو آسودہ کر لیتے اور پھر خالی الذہن گھر لَوٹ جاتے ———
ایک روز کمیٹی والے سانجھ کے سمے بھی پرچار کرنے چلے آئے اور ہوتے ہوتے قدامت پسندوں کے گڑھ میں پہنچ گئے۔ مندر کے باہر پیپل کے ایک پیڑ کے اردگرد سیمنٹ کے تھڑے پر کئی شردھالو بیٹھے تھے اور رامائن کی کتھا ہورہی تھی۔ نارائن باوا رامائن کا وہ حصّہ سنا رہے تھے جہاں ایک دھوبی نے اپنی دھوبن کو گھر سے نکال دیا تھا اور اس سے کہہ دیا —— میں راجا رام چندر نہیں، جو اتنے سال راون کے ساتھ رہ آنے پر بھی سیتا کو بسا لے گا اور رام چندر جی نے مہاستونتی سیتا کو گھر سے نکال دیا —— ایسی حالت میں جب کہ وہ گربھ وتی تھی۔ ’’کیا اس سے بھی بڑھ کر رام راج کا کوئی ثبوت مل سکتا ہے؟‘‘——نارائن باوا نے کہا —— ’’یہ ہے رام راج! جس میں ایک دھوبی کی بات کو بھی اتنی ہی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔‘‘
کمیٹی کا جلوس مندر کے پاس رُک چکا تھا اور لوگ رامائن کی کتھا اور شلوک کا ورنن سننے کے لیے ٹھہر چکے تھے۔ سندر لال آخری فقرے سنتے ہوئے کہہ اُٹھا ——
’’ہمیں ایسا رام راج نہیں چاہیے بابا!‘‘
’’چُپ رہو جی‘‘ —— ’’تم کون ہوتے ہو؟‘‘ —— ’’خاموش!‘‘ مجمع سے آوازیں آئیں اور سندر لال نے بڑھ کر کہا —— ’’مجھے بولنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔‘‘
پھر ملی جُلی آوازیں آئیں —— ’’خاموش!‘‘ —— ’’ہم نہیں بولنے دیں گے‘‘ اور ایک کونے میں سے یہ بھی آواز آئی —— ’’مار دیں گے۔‘‘
نارائن بابا نے بڑی میٹھی آواز میں کہا —— ’’تم شاستروں کی مان مرجادا کو نہیں سمجھتے سندر لال!‘‘
سندر لال نے کہا —— ’’میں ایک بات تو سمجھتا ہوں بابا — رام راج میں دھوبی کی آواز تو سنی جاتی ہے، لیکن سندر لال کی نہیں۔‘‘
انہی لوگوں نے جو ابھی مارنے پہ تلے تھے، اپنے نیچے سے پیپل کی گولریں ہٹا دیں، اور پھر سے بیٹھتے ہوئے بول اُٹھے۔ ’’سُنو ، سُنو، سُنو……‘‘
رسالو اور نیکی رام نے سندر لال بابو کو ٹہوکا دیا اور سندر لال بولے— ’’شری رام نیتا تھے ہمارے۔ پر یہ کیا بات ہے بابا جی! انھوں نے دھوبی کی بات کو ستیہ سمجھ لیا، مگر اتنی بڑی مہارانی کے ستیہ پر وشواس نہ کرپائے؟‘‘
نارائن بابا نے اپنی ڈاڑھی کی کھچڑی پکاتے ہوئے کہا — ’’اِس لیے کہ سیتا ان کی اپنی پتنی تھی۔ سندر لال ! تم اس بات کی مہانتا کو نہیں جانتے۔‘‘
’’ہاں بابا‘‘ سندر لال بابو نے کہا —— ’’اس سنسار میں بہت سی باتیں ہیں جو میری سمجھ میں نہیں آتیں۔ پر میں سچا رام راج اُسے سمجھتا ہوں جس میں انسان اپنے آپ پر بھی ظلم نہیں کرسکتا۔ اپنے آپ سے بے انصافی کرنا اتنا ہی بڑا پاپ ہے، جتنا کسی دوسرے سے بے انصافی کرنا… آج بھی بھگوان رام نے سیتا کو گھر سے نکال دیا ہے … اس لیے کہ وہ راون کے پاس رہ آئی ہے … اس میں کیا قصور تھا سیتا کا؟ کیا وہ بھی ہماری بہت سی ماؤں بہنوں کی طرح ایک چھل اور کپٹ کی شکار نہ تھی؟ اس میں سیتا کے ستیہ اور اَستیہ کی بات ہے یا راکشش راون کے وحشی پن کی، جس کے دس سر انسان کے تھے لیکن ایک اور سب سے بڑا سر گدھے کا؟‘‘
آج ہماری سیتا نردوش گھر سے نکال دی گئی ہے… سیتا … لاجونتی … اور سندر لال بابو نے رونا شروع کردیا۔ رسالو اور نیکی رام نے تمام وہ سُرخ جھنڈے اُٹھا لیے جن پر آج ہی اسکول کے چھوکروں نے بڑی صفائی سے نعرے کاٹ کے چپکا دیے تھے اورپھر وہ سب ’’سندرلال بابو زندہ باد‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے چل دیے۔ جلوس میں سے ایک نے کہا — ’’مہاستی سیتا زندہ باد‘‘ ایک طرف سے آواز آئی — ’’شری رام چندر ‘‘……
اور پھر بہت سی آوازیں آئیں— ’’خاموش! خاموش!‘‘ اور نارائن باوا کی مہینوں کی کتھا اکارت چلی گئی۔ بہت سے لوگ جلوس میںشامل ہوگئے، جس کے آگے آگے وکیل کالکا پرشاد اور حکم سنگھ محرر چوکی کلاں، جارہے تھے ، اپنی بوڑھی چھڑیوں کو زمین پر مارتے اور ایک فاتحانہ سی آواز پیدا کرتے ہوئے —— اور ان کے درمیان کہیں سندرلال جارہاتھا۔ اس کی آنکھوں سے ابھی تک آنسو بہہ رہے تھے۔ آج اس کے دل کو بڑی ٹھیس لگی تھی اور لوگ بڑے جوش کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر گا رہے ۔
’’ہتھ لائیاں کملان نی لاجونتی دے بوٹے…!‘‘
ابھی گیت کی آواز لوگوں کے کانوں میں گونج رہی تھی۔ ابھی صبح بھی نہیں ہوپائی تھی اور محلہ ملاّ شکور کے مکان 414 کی بدھوا ابھی تک اپنے بستر میں کربناک سی انگڑائیاں لے رہی تھی کہ سندر لال کا ’’گرائیں‘‘لال چند، جسے اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے سندر لال اور خلیفہ کالکا پرشاد نے راشن ڈپوے دیا تھا، دوڑا دوڑا آیا اور اپنی گاڑھے کی چادر سے ہاتھ پھیلائے ہوئے بولا—
’’بدھائی ہو سندر لال۔‘‘
سندر لال نے میٹھا گڑ چلم میں رکھتے ہوئے کہا — ’’کس بات کی بدھائی لال چند؟‘‘
’’میں نے لاجو بھابی کو دیکھا ہے۔‘‘
سندر لال کے ہاتھ سے چلم گر گئی اور میٹھا تمباکو فرش پر گر گیا —— ’’کہاں دیکھا ہے؟‘‘ اس نے لال چند کو کندھوں سے پکڑتے ہوئے پوچھا اور جلد جواب نہ پانے پر جھنجھوڑدیا۔
’’واگہ کی سرحد پر۔‘‘
سندر لال نے لال چند کو چھوڑ دیا اور اتنا سا بولا ’’کوئی اور ہوگی۔‘‘
لال چند نے یقین دلاتے ہوئے کہا —— ’’نہیں بھیّا، وہ لاجو ہی تھی، لاجو …‘‘
’’تم اسے پہچانتے بھی ہو؟‘ سندر لال نے پھر سے میٹھے تمباکو کو فرش پر سے اُٹھاتے اور ہتھیلی پر مسلتے ہوئے پوچھا ،اور ایسا کرتے ہوئے اس نے رسالو کی چلم حُقّے پر سے اُٹھالی اور بولا— ’’بھلا کیا پہچان ہے اس کی؟‘‘
’’ایک تیندولہ ٹھوڑی پر ہے، دوسرا گال پر—‘‘
’’ہاں ہاں ہاں‘‘ اور سندر لال نے خود ہی کہہ دیا ’’تیسرا ماتھے پر۔‘‘ وہ نہیںچاہتا تھا، اب کوئی خدشہ رہ جائے اور ایک دم اسے لاجونتی کے جانے پہچانے جسم کے سارے تیندولے یاد آگئے، جو اس نے بچپنے میں اپنے جسم پر بنوا لیے تھے، جو ان ہلکے ہلکے سبز دانوں کی مانند تھے جو چھوئی موئی کے پودے کے بدن پر ہوتے ہیں اور جس کی طرف اشارہ کرتے ہی وہ کمھلانے لگتا ہے۔ بالکل اسی طرح ان تیندولوں کی طرف انگلی کرتے ہی لاجونتی شرما جاتی تھی — اور گم ہوجاتی تھی، اپنے آپ میں سمٹ جاتی تھی۔ گویا اس کے سب راز کسی کو معلوم ہوگئے ہوں اور کسی نامعلوم خزانے کے لُٹ جانے سے وہ مفلس ہوگئی ہو … سندرلال کا سارا جسم ایک اَن جانے خوف، ایک اَن جانی محبت اور اس کی مقدس آگ میں پُھنکنے لگا۔ اس نے پھر سے لال چند کو پکڑ لیا اور پوچھا—
’’لاجو واگہ کیسے پہنچ گئی؟‘‘
لال چند نے کہا — ’’ہند اور پاکستان میں عورتوں کا تبادلہ ہو رہا تھا نا ۔‘‘
’’پھر کیا ہوا — ؟‘‘ سندر لال نے اکڑوں بیٹھتے ہوئے کہا۔ ’’کیا ہوا پھر؟‘‘
رسالو بھی اپنی چارپائی پر اُٹھ بیٹھا اور تمباکو نوشوں کی مخصوص کھانسی کھانستے ہوئے بولا— ’’سچ مچ آگئی ہے لجونتی بھابی؟‘‘
لال چند نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا ’’واگہ پر سولہ عورتیں پاکستان نے دے دیں اور اس کے عوض سولہ عورتیں لے لیں —لیکن ایک جھگڑا کھڑا ہوگیا۔ ہمارے والنٹیراعتراض کر رہے تھے کہ تم نے جو عورتیں دی ہیں، ان میں ادھیڑ، بوڑھی اور بیکار عورتیں زیادہ ہیں۔ اس تنازع پر لوگ جمع ہوگئے۔ اس وقت اُدھر کے والنٹیروں نے لاجو بھابی کو دکھاتے ہوئے کہا — ’’تم اسے بوڑھی کہتے ہو؟ دیکھو … دیکھو … جتنی عورتیں تم نے دی ہیں، ان میں سے ایک بھی برابری کرتی ہے اس کی ؟’’ اور وہاں لاجو بھابی سب کی نظروں کے سامنے اپنے تیندولے چُھپا رہی تھی۔‘‘
پھر جھگڑا بڑھ گیا ۔ دونوں نے اپنا اپنا ’’مال‘‘ واپس لے لینے کی ٹھان لی۔ میں نے شور مچایا — ’’لاجو — لاجو بھابی …‘‘ مگر ہماری فوج کے سپاہیوں نے ہمیں ہی مار مار کے بھگا دیا۔
اور لال چند اپنی کہنی دکھانے لگا، جہاں اسے لاٹھی پڑی تھی۔ رسالو اور نیکی رام چُپ چاپ بیٹھے رہے اور سندر لال کہیں دور دیکھنے لگا۔ شاید سوچنے لگا۔ لاجو آئی بھی پر نہ آئی… اور سندر لال کی شکل ہی سے جان پڑتا تھا، جیسے وہ بیکانیر کا صحرا پھاند کر آیا ہے اور اب کہیں درخت کی چھان￿و میں، زبان نکالے ہانپ رہا ہے۔ مُنھ سے اتنا بھی نہیں نکلتا — ’’پانی دے دو۔‘‘ اسے یوں محسوس ہوا، بٹوارے سے پہلے بٹوارے کے بعد کا تشدّد ابھی تک کارفرما ہے۔ صرف اس کی شکل بدل گئی ہے۔ اب لوگوں میں پہلا سا دریغ بھی نہیں رہا۔ کسی سے پوچھو، سانبھر والا میں لہنا سنگھ رہاکرتا تھا اور اس کی بھابی بنتو — تو وہ جھٹ سے کہتا ’’مر گئے‘‘ اور اس کے بعد موت اور اس کے مفہوم سے بالکل بے خبر بالکل عاری آگے چلاجاتا۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھ کر بڑے ٹھنڈے دل سے تاجر، انسانی مال، انسانی گوشت اور پوست کی تجارت اور اس کا تبادلہ کرنے لگے۔ مویشی خریدنے والے کسی بھینس یا گائے کا جبڑا ہٹا کر دانتوں سے اس کی عمر کا اندازہ کرتے تھے۔
اب وہ جوان عورت کے روپ، اس کے نکھار، اس کے عزیز ترین رازوں، اس کے تیندولوں کی شارع عام میں نمائش کرنے لگے۔ تشدّد اب تاجروں کی نس نس میں بس چکا ہے۔ پہلے منڈی میں مال بکتا تھا اور بھاؤ تاؤ کرنے والے ہاتھ ملا کر اس پر ایک رومال ڈال لیتے اور یوں ’’گپتی‘‘ کرلیتے۔ گویا رومال کے نیچے انگلیوں کے اشاروں سے سودا ہوجاتا تھا۔ اب ’’گپتی‘‘ کا رومال بھی ہٹ چکا تھا اور سامنے سودے ہو رہے تھے اور لوگ تجارت کے آداب بھی بھول گئے تھے۔ یہ سارا ’’لین دین‘‘ یہ سارا کاروبار پُرانے زمانے کی داستان معلوم ہو رہا تھا، جس میں عورتوں کی آزادانہ خرید و فرخت کا قصّہ بیان کیا جاتا ہے۔ از بیک اَن گنت عریاں عورتوں کے سامنے کھڑا اُن کے جسموں کو ٹوہ ٹوہ کے دیکھ رہا ہے اور جب وہ کسی عورت کے جسم کو اُنگلی لگاتا ہے تو اس پر ایک گلابی سا گڑھا پڑجاتا ہے اور اس کے اردگرد ایک زرد سا حلقہ اور پھر زردیاں اور سُرخیاں ایک دوسرے کی جگہ لینے کے لیے دوڑتی ہیں … ازبیک آگے گزر جاتا ہے اور ناقابلِ قبول عورت ایک اعترافِ شکست، ایک انفعالیت کے عالم میں ایک ہاتھ سے ازار بند تھامے اور دوسرے سے اپنے چہرے کو عوام کی نظروں سے چھپائے سِسکیاں لیتی ہے…
سندرلال امرتسر (سرحد) جانے کی تیاری کرہی رہا تھا کہ اسے لاجو کے آنے کی خبر ملی۔ ایک دم ایسی خبر مل جانے سے سندر لال گھبرا گیا۔ اس کا ایک قدم فوراً دروازے کی طرف بڑھا، لیکن وہ پیچھے لوٹ آیا۔ اس کا جی چاہتا تھا کہ وہ روٹھ جائے اور کمیٹی کے تمام پلے کارڈوں اور جھنڈیوں کو بچھا کر بیٹھ جائے اور پھر روئے، لیکن وہاں جذبات کا یوں مظاہرہ ممکن نہ تھا۔ اُس نے مردانہ وار اس اندرونی کشاکش کا مقابلہ کیا اور اپنے قدموں کو ناپتے ہوئے چوکی کلاں کی طرف چل دیا ،کیونکہ وہی جگہ تھی جہاں مغویہ عورتوں کی ڈلیوری دی جاتی تھی۔
اب لاجو سامنے کھڑی تھی اور ایک خوف کے جذبے سے کانپ رہی تھی۔ وہی سندرلال کو جانتی تھی ،اس کے سوائے کوئی نہ جانتا تھا۔ وہ پہلے ہی اس کے ساتھ ایسا سلوک کرتا تھا اور اب جب کہ وہ ایک غیرمرد کے ساتھ زندگی کے دن بِتا کر آئی تھی، نہ جانے کیا کرے گا؟ سندرلال نے لاجو کی طرف دیکھا۔ وہ خالص اسلامی طرز کا لال دوپٹہ اوڑھے تھی اور بائیں بکّل مارے ہوئے تھی … عادتاً محض عادتاً —— دوسری عورتوں میں گھل مل جانے اور بالآخر اپنے صیّاد کے دام سے بھاگ جانے کی آسانی تھی اور وہ سندرلال کے بارے میں اتنا زیادہ سوچ رہی تھی کہ اسے کپڑے بدلنے یا دوپٹہ ٹھیک سے اوڑھنے کا بھی خیال نہ رہا۔ وہ ہندو اور مسلمان کی تہذیب کے بنیادی فرق — دائیں بُکل اور بائیں بُکل میں امتیاز کرنے سے قاصر رہی تھی۔ اب وہ سندرلال کے سامنے کھڑی تھی اور کانپ رہی تھی، ایک اُمید اور ایک ڈر کے جذبے کے ساتھ —
سندر لال کو دھچکا سا لگا۔ اس نے دیکھا لاجونتی کا رنگ کچھ نکھر گیا تھااور وہ پہلے کی بہ نسبت کچھ تندرست سی نظر آتی تھی۔ نہیں ۔ وہ موٹی ہوگئی تھی — سندر لال نے جو کچھ لاجو کے بارے میں سوچ رکھا تھا، وہ سب غلط تھا۔ وہ سمجھتا تھا غم میں گُھل جانے کے بعد لاجونتی بالکل مریل ہوچکی ہوگی اور آواز اس کے منھ سے نکالے نہ نکلتی ہوگی۔ اس خیال سے کہ وہ پاکستان میں بڑی خوش رہی ہے، اسے بڑا صدمہ ہوا ،لیکن وہ چُپ رہا کیونکہ اس نے چُپ رہنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اگرچہ وہ نہ جان پایا کہ اتنی خوش تھی تو پھر چلی کیوں آئی؟اس نے سوچا شاید ہند سرکار کے دباؤ کی وجہ سے اسے اپنی مرضی کے خلاف یہاں آنا پڑا —— لیکن ایک چیز وہ نہ سمجھ سکا کہ لاجونتی کا سنولایا ہوا چہرہ زردی لیے ہوئے تھا اور غم، محض غم سے اس کے بدن کے گوشت نے ہڈیوں کو چھوڑ دیاتھا۔ وہ غم کی کثرت سے ’’موٹی‘‘ ہوگئی تھی اور ’’صحت مند‘‘ نظر آتی تھی، لیکن یہ ایسی صحت مندی تھی جس میں دو قدم چلنے پر آدمی کا سانس پھول جاتا ہے…‘‘
مغویہ کے چہرے پر پہلی نگاہ ڈالنے کا تاثر کچھ عجیب سا ہوا۔ لیکن اس نے سب خیالات کا ایک اثباتی مردانگی سے مقابلہ کیا اور بھی بہت سے لوگ موجود تھے۔ کسی نے کہا —— ’’ہم نہیں لیتے مسلمران (مسلمان) کی جھوٹی عورت ——‘‘
اور یہ آواز رسالو، نیکی رام اور چوکی کلاں کے بوڑھے محرر کے نعروں میں گُم ہوکر رہ گئی ۔ ان سب آوازوں سے الگ کالکاپرشاد کی پھٹتی اور چلاّتی آواز آرہی تھی۔ وہ کھانس بھی لیتا اور بولتا بھی جاتا۔ وہ اس نئی حقیقت، اس نئی شدھی کا شدّت سے قائل ہوچکا تھا۔ یُوں معلوم ہوتا تھا آج اس نے کوئی نیا وید، کوئی نیا پران اور شاستر پڑھ لیا ہے اور اپنے اس حصول میں دوسروں کو بھی حصّے دار بنانا چاہتا ہے… ان سب لوگوں اور ان کی آوازوں میں گھِرے ہوئے لاجو اور سندر لال اپنے ڈیرے کو جا رہے تھے اور ایسا جان پڑتا تھا جیسے ہزاروں سال پہلے کے رام چندر اور سیتا کسی بہت لمبے اخلاقی بن باس کے بعد اجودھیا لوٹ رہے ہیں۔ ایک طرف تو لوگ خوشی کے اظہار میں دیپ مالا کر رہے ہیں، اور دوسری طرف انھیں اتنی لمبی اذیّت دیے جانے پر تاسف بھی۔
لاجونتی کے چلے آنے پر بھی سندر لال بابو نے اسی شدّ و مد سے ’’دل میں بساؤ‘‘ پروگرام کو جاری رکھا۔ اس نے قول اور فعل دونوں اعتبار سے اسے نبھادیا تھا اور وہ لوگ جنھیں سندرلال کی باتوں میں خالی خولی جذباتیت نظر آتی تھی، قائل ہونا شروع ہوئے۔ اکثر لوگوں کے دل میں خوشی تھی اور بیشتر کے دل میں افسوس۔ مکان 414 کی بیوہ کے علاوہ محلہ ملاّ شکور کی بہت سی عورتیں سندرلال بابو سوشل ورکر کے گھر آنے سے گھبراتی تھیں۔
لیکن سندرلال کو کسی کی اعتنا یا بے اعتنائی کی پروا نہ تھی۔ اس کے دل کی رانی آچکی تھی اور اس کے دل کا خلا پٹ چکا تھا۔ سندرلال نے لاجو کی سورن مورتی کو اپنے دل کے مندر میں استھاپت کرلیا تھا اور خود دروازے پر بیٹھا اس کی حفاظت کرنے لگا تھا۔ لاجو جو پہلے خوف سے سہمی رہتی تھی، سندر لال کے غیرمتوقع نرم سلوک کو دیکھ کر آہستہ آہستہ کھُلنے لگی۔
سندرلال، لاجونتی کو اب لاجو کے نام سے نہیں پکارتا تھا۔ وہ اسے کہتا تھا ’’دیوی!‘‘اور لاجو ایک اَن جانی خوشی سے پاگل ہوئی جاتی تھی۔ وہ کتنا چاہتی تھی کہ سندرلال کو اپنی واردات کہہ سنائے اور سناتے سناتے اس قدر روئے کہ اس کے سب گناہ دُھل جائیں۔ لیکن سندرلال، لاجو کی وہ باتیں سننے سے گریز کرتا تھا اور لاجو اپنے کُھل جانے میں بھی ایک طرح سے سِمٹی رہتی۔ البتہ جب سندرلال سوجاتا تو اسے دیکھا کرتی اور اپنی اس چوری میں پکڑی جاتی۔ جب سندرلال اس کی وجہ پوچھتا تو وہ ’’نہیں‘‘ ’’یو نہیں‘‘ ’’اونھوں‘‘ کے سوا اور کچھ نہ کہتی اور سارے دن کا تھکا ہارا سندرلال پھر اونگھ جاتا… البتہ شروع شروع میں ایک دفعہ سندرلال نے لاجونتی کے ’’سیاہ دنوں‘‘ کے بارے میں صرف اتنا سا پوچھا تھا ——
’’کون تھا وہ؟‘‘
لاجونتی نے نگاہیں نیچی کرتے ہوئے کہا —— ’’جُمّاں‘‘ —— پھر وہ اپنی نگاہیں سندرلال کے چہرے پر جمائے کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن سندرلال ایک عجیب سی نظروں سے لاجونتی کے چہرے کی طرف دیکھ رہا تھا اور اس کے بالوں کو سہلارہا تھا۔ لاجونتی نے پھر آنکھیں نیچی کرلیں اور سندر لال نے پُوچھا ——
’’اچھا سلوک کرتا تھا وہ؟‘‘
’’ہاں۔‘‘
’’مارتا تونہیں تھا؟‘‘
لاجونتی نے اپنا سر سندر لال کی چھاتی پر سرکاتے ہوئے کہا —— ’’نہیں‘‘… اور پھر بولی ’’وہ مارتا نہیں تھا، پر مجھے اس سے زیادہ ڈر آتا تھا۔ تم مجھے مارتے بھی تھے پر میں تم سے ڈرتی نہیں تھی … اب تو نہ ماروگے؟‘‘
سندر لال کی آنکھوں میں آنسو اُمڈ آئے اور اس نے بڑی ندامت اور بڑے تاسف سے کہا —— ’’نہیں دیوی! اب نہیں … نہیں ماروں گا…‘‘
’’دیوی!‘‘ لاجونتی نے سوچا اور وہ بھی آنسو بہانے لگی۔
اور اس کے بعد لاجونتی سب کچھ کہہ دینا چاہتی تھی، لیکن سندرلال نے کہا —— ’’جانے دو بیتی باتیں۔ اس میں تمھارا کیا قصور ہے؟ اس میں قصور ہے ہمارے سماج کا جو تجھ ایسی دیویوں کو اپنے ہاں عزت کی جگہ نہیں دیتا۔ وہ تمھاری ہانی نہیں کرتا، اپنی کرتا ہے۔‘‘
اور لاجونتی کی من کی من ہی میں رہی۔ وہ کہہ نہ سکی ساری بات اور چپکی دبکی پڑی رہی اور اپنے بدن کی طرف دیکھتی رہی جو کہ بٹوارے کے بعد اب ’’دیوی‘‘ کا بدن ہوچکا تھا۔لاجونتی کا نہ تھا۔ وہ خوش تھی بہت خوش ۔ لیکن ایک ایسی خوشی میں سرشار جس میں ایک شک تھا اور وسوسے۔ وہ لیٹی لیٹی اچانک بیٹھ جاتی، جیسے انتہائی خوشی کے لمحوں میں کوئی آہٹ پاکر ایکاایکی اس کی طرف متوجہ ہوجائے …
جب بہت سے دن بیت گئے تو خوشی کی جگہ پورے شک نے لے لی۔ اس لیے نہیں کہ سندر لال بابو نے پھر وہی پرانی بدسلوکی شروع کردی تھی، بلکہ اس لیے کہ وہ لاجو سے بہت ہی اچھا سلوک کرنے لگا تھا۔ ایسا سلوک جس کی لاجو متوقع نہ تھی … وہ سندر لال کی، وہ پرانی لاجو ہوجانا چاہتی تھی جو گاجر سے لڑپڑتی اور مولی سے مان جاتی۔ لیکن اب لڑائی کا سوال ہی نہ تھا۔ سندرلال نے اسے یہ محسوس کرا دیا جیسے وہ — لاجونتی کانچ کی کوئی چیز ہے، جو چھوتے ہی ٹوٹ جائے گی… اور لاجو آئینے میں اپنے سراپا کی طرف دیکھتی اور آخر اس نتیجے پر پہنچتی کہ وہ اور تو سب کچھ ہوسکتی ہے، پر لاجو نہیں ہوسکتی۔ وہ بس گئی، پر اُجڑ گئی … سندرلال کے پاس اُس کے آنسو دیکھنے کے لیے آنکھیں تھیں اور نہ آہیں سننے کے لیے کان!… پربھات پھیریاں نکلتی رہیں اور محلہ ملاّ شکور کا سدھارک رسالو اور نیکی رام کے ساتھ مل کر اُسی آواز میں گاتا رہا ——

’’ہتھ لائیاں کملان نی، لاجونتی دے بُوٹے


 

افسانہ ’’ لاجونتی‘‘ کا تجزیہ
قمر صدیقی

راجندر سنگھ بیدی کی افسانہ نگاری کا سب سے روشن پہلو انسانی نفسیات کی تہہ میں کارفرما سماجی و تہذیبی عوامل کی رنگا رنگی ہے۔ اس رنگارنگی کا بنیادی حوالہ اجتماعیت سے نہیں فرد کی ذات سے عبارت ہے۔ فرد کی باہمی وابستگی، رفاقت ، علیحدگی اور رشتوں کی پیچیدگی ان کے افسانوں کا حاوی موضوع ہے۔ بیدی کے افسانوں میں انسانی نفسیات کو ترجیح حاصل ہے لہٰذا ان کے کردار منطقی بنیادوں کے برعکس حسیاتی و جذباتی سطح پر زیادہ فعال نظر آتے ہیں۔
انسانی زندگی کے مختلف پہلوئوں کے ساتھ ہی ساتھ بیدی کو ازدواجی زندگی کے مسائل پیش کرنے میں بھی مہارت حاصل ہے۔ ’گرم کوٹ‘، ’ اپنے دکھ مجھے دے دو‘ اور ’لاجونتی‘اس موضوع پر ان کے شاہکار افسانے ہیں۔ تقسیم ہند کے پس منظر میں لکھا گیا افسانہ ’’لاجونتی‘‘ اپنے موضوع کی انفرادیت اور اسلوب و بیان کی شفافیت کی وجہ سے اردو کے اہم ترین افسانوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ لاجونتی کا شوہر سندر لال، اس کے تئیں زیادتیاں کرتا ہے ۔ حتیٰ کے مارنے پیٹنے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ ملک کی تقسیم اور اس کے بعد کے حالات میں جس طرح بہت ساری عورتوں کا اغوا ہوا اس میں لاجونتی بھی ایک تھی۔ لاجونتی کے اغوا کے بعد سندر لال میں کئی طرح کی تبدیلیاں پید ہوئیں۔ اسے یہ احساس ہوا کہ لاجونتی کے تئیں اس کا رویہ کس قدر غلط تھا۔ اسی پشیمنانی کے احساس کے چلتے وہ بازیافت کی گئیں مغویہ عورتوں کے گھر دوبارہ بسانے کی تحریک کا روحِ رواں بن گیا۔ اسی بیچ لاجونتی کو بھی مغویہ عورتوں کی ادلا بدلی میں دوبارہ حاصل کرلیا جاتا ہے۔ لیکن اب سندر لال کا رویہ لاجونتی کے تعلق سے ایک شوہر کا نہیں بلکہ سماجی کارکن کا ہوجاتا ہے۔ وہ اُسے دیوی کہہ کر پکارتا ہے۔ اس کا پورا پورا خیال رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ تاہم لاجونتی تو بیوی بن کر رہنا چاہتی ہے۔ اُسے سندر لال کا یہ رویہ برداشت نہیں ہے لیکن سندر لال اُس کے اس جذبے سے ناآشنا ہے۔ افسانے کا آخری حصہ انسانی نفسیات کی پیچیدگیوں کو بڑی فنکاری سے پیش کرتا ہے۔ سندر لال اور لاجونتی دونوں کے جذباتی رویوں میں کارفرما سماجی و تہذیبی عوامل کو بیدی نے کمال مہارت سے پیش کیا ہے۔
راجندر سنگھ بیدی ان ذہین افسانہ نگاروں میں ہیں جومتن سے معنی برآمد کرنے کا ہنر بخوبی جانتے ہیں۔ علاوہ ازیں وہ ایک کہانی میں متعدد کہانیاں بھی پیش کرسکتے ہیں۔ افسانہ ’’لاجونتی‘‘ صرف لاجونتی اور سندر لال کی ہی کہانی ہے بلکہ ملک کی تقسیم کے بعد لاتعداد ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کی بھی کہانی ہے۔ اس میں مذکورہ دونوں کردار بھلے ہی مرکزی اہمیت رکھتے ہیں لیکن اس کے باوجود یہ کہانی ایسی ان گنت مغویہ عورتوں کی جذبات و احساسات کی بھی عکاس ہے جو اس کربناک دور سے گزریں:
’’مغویہ عورتوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جن کے شوہر ، جن کے ماں باپ، بہن اور بھائیوں نے انھیں پہچاننے سے انکار کردیا تھا۔ آخر وہ مرکیوں نہ گئیں؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انھیں کیا پتہ کہ وہ زندہ رہ کر کس بہادری سے کام لے رہی ہیں۔ کیسے پتھرائی ہوئی آنکھوں سے موت کو گھور رہی ہیں۔ ایسی دنیا میں جہاں ان کے شوہر تک انھیں نہیں پہچانتے۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۷۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
یا
’’تو بھی مجھے نہیں پہچانتا بہاری؟ میں نے تجھے گودی کھلایا تھا رے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اور بہاری چلّا دینا چاہتا پھر وہ ماں باپ کی طرف دیکھتا اور ماں باپ اپنے جگر پر ہاتھ رکھ کر نارائن بابا کی طرف دیکھتے اور نہایت بے بسی کے عالم میں نارائن بابا آسمان کی طرف دیکھتا جو دراصل کوئی حقیقت نہیں رکھتا اور صرف ہماری نظر کا دھوکا ہے۔ جو صرف ایک حد ہے جس کے پار ہماری نگاہیں کام نہیں کرتیں۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۸۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
یہاں یہ افسانہ صرف سندر لال اور لاجونتی کا قصہ نہیں بیان کررہا ہے بلکہ دکھ کی ماری اُن تمام ابلا عورتوں کی روداد پیش کررہا ہے جو وقت کی اس بھیانک ستم ظریفی کا شکار ہوئیں۔بلوائیوں کی گرفت سے رہا ہونے کے باوجودنام نہاد خاندانی ، قومی اور ملی غیرت کے نام پر ان عورتوں کو وقت کے رحم و کرم پر پل پل سسک سسک کر مرنے کے لیے چھوڑدیا گیا۔
بیدی کے افسانوں کا اسلوب اپنے دیگر معاصرین سے بالکل جداگانہ ہے۔ ان کا اسلوب اپنے کسی معاصر افسانہ نگار سے متاصدم و متاثر نہیں ہوتا۔ ان کا انداز منٹو کی طرح دوٹوک اور عصمت کی طرح بولڈ نہیں ہے اور نہ ہی کرشن چندر کی طرح شاعرانہ نثر کا حامل ۔ وہ اپنے افسانوں میں کرداروں کی نفسیات نیز اس کے گرد و پیش کے حالات و واقعات کی عکاسی میں حقیقت نگاری اور جزئیات نگاری سے کام لیتے ہیں۔ بیدی کے افسانے خاص طورسے اُن کی انسانی نفسیات کے گہرے شعور کا احساس دلاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے اُن کے افسانوں کے بیشتر کرداروں کی تفہیم جذباتی و نفسیاتی رویوں کی شناخت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ ’’لاجونتی‘‘ میں لاجونتی شوہر کے مظالم کا شکار ہے۔ لیکن اسی شوہر کا ہلکا سا التفات پاکر وہ دوبارہ اس سے پہلے سی محبت کرنے لگتی ہے۔ وہ ایک روایتی بیوی کی طرح شوہر کے تمام مظالم کو عورت کا مقدر تسلیم کرتی ہے۔ دراصل اس کی تربیت ایک ایسے معاشرے میں ہوئی ہے جہاں شوہر کی حاکمیت اور بالادستی سماجی اور کسی حد مذہبی نظریے کا درجہ رکھتی ہے:
’’ چونکہ وہ دیر تک اداس نہ بیٹھ سکتی تھی اس لیے بڑی سے بڑی لڑائی کے بعد بھی سندر لال کے صرف ایک بار مسکرا دینے پر وہ اپنی ہنسی نہ روک سکتی اور لپک کر اس کے پاس چلی آتی اور گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے کہہ اٹھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔’’ پھر مارا تو میں تم سے نہیں بولوں گی۔۔۔۔۔‘‘ صاف پتہ چلتا تھا کہ وہ ایک دم ساری مار پیٹ بھول چکی ہے۔ گائوں کی دوسری لڑکیوں کی طرح وہ بھی جانتی تھی کہ مرد ایسا ہی سلوک کیا کرتے ہیں بلکہ عورتوں میں کوئی سرکشی کرتی تو لڑکیاں خود ہی ناک پر انگلی رکھ کر کہتیں ۔۔۔۔۔’’ لے وہ بھی کوئی مرد ہے بھلا ؟ عورت جس کے قابو میں نہیں آتی۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۲۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
بیدی کا ایک اختصاص یہ بھی ہے کہ ان کے افسانوں کی بنت میں تہذیبی رنگارنگی ہوتی ہے۔ یہ رنگارنگی اُس ہندوستانی تہذیب سے عبارت ہے جو کثرت میں وحدت کی جلوسامانیاں پیش کرتی ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں کی تہذبی فضا میں مصنوعی پن نہیں جھلکتا۔ ان کے افسانے ہمارے اِرد گرد کے افسانے لگتے ہیں۔ ان کے کردار ہماری اپنی دنیا اور ہماری آس پاس کی زندگی میں چلتے پھرتے محسوس ہوتے ہیں۔وارث علوی نے بیدی کی اس خوبی ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ :
بیدی کے افسانوں میں ہندوستان کی روح جاگتی ہے۔ ان کے افسانوں میں اس دھرتی کی بوباس بسی ہوئی ہے اور اس زمین کے رسم و رواج، عقائد اور توہمات سے افسانوں کو رنگ و آہنگ ملتا ہے۔ بیدی کی کوئی کہانی مستعار نہیں معلوم ہوتی۔ کسی کہانی کی تہذیبی فضا مصنوعی نہیں لگتی۔‘‘
( راجندر سنگھ بیدی ۔ از: وارث علوی۔ ص: ۵۹ ۔ تخلیقار پبلیکشنز۔ نئی دہلی)
بیدی کے افسانوں میں ان کا تاریخی شعور اور فلسفیانہ نقطۂ نظر بھی شفافیت کے ساتھ پیش ہوا ہے۔ حالانکہ اس کا احساس متن کی ظاہری قرأت سے ذرا کم کم ہی ہوپاتا ہے لیکن جب ہم افسانے کی Close Readingکرتے ہیں تو یہ احساس بین السطور میں اپنے جلوے بکھیرتا نظر آجاتا ہے۔ ویسے بھی بیدی کے افسانوں میں اصل فن متن کی اوپری سطح پر نہیں بلکہ متن کے اندر کسی موجِ تہہ نشیں کی طرح ہلچل اور تلاطم کو پیش کرتا ہے۔
’’ آج بھگوان رام نے سیتا کو گھر سے نکال دیا۔ اس لیے کہ وہ راون کے پاس رہ آئی ہے۔ اس میں کیا قصور تھا سیتا کا؟ کیا وہ بھی ہماری بہت سی مائوں بہنوں کی طرح ایک چھل اور کپٹ کا شکار نہ تھی۔ اس میں سیتا کے ستیہ اور استیہ کی بات ہے یا راکشش راون کے وحشی پن کی جس کے دس سر انسان کے تھے لیکن ایک اور سب سے بڑا سر گدھے تھا۔‘‘
( اپنے دکھ مجھے دے دو۔ از: راجندر سنگھ بیدی ۔ص: ۱۴۔ مکتبہ جامعہ لمیٹیڈ، نئی دہلی۔ ۱۹۶۵)
زبان و بیان اور تکنیک کے اعتبار سے بیدی کا کوئی افسانہ ایسا نہیں ہے جس پر انگلی رکھی جاسکے۔ انھوں نے تقریباً ۷۰ افسانے لکھے ہیں لیکن لگ بھگ سارے ہی افسانے زبان و بیان پر بیدی کی قدرت کے غماز ہیں۔ افسانہ ’’لاجونتی‘‘بھی میں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔
بیدی کے افسانوں میں مختلف تہذیبی و تمدنی مظاہر افسانے کے فنی نظام میں اس طرح مدغم ہوجاتے ہیں کہ ان کے پختہ سماجی شعور کے ساتھ ہی ساتھ افسانے کے فن پر ان کی گرفت کا قائل ہونا پڑتا ہے۔ وہ سماجی حقیقت نگاری کے لیے علامتی و اساطیری ، استعاراتی و تخیل آفریں اسلوب کا استعمال کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے بیدی ایک رجحان ساز افسانہ نگار قرار پائے۔ بشمول افسانہ ’’لاجونتی‘‘ ان کے کئی افسانے بعد کے افسانہ نگاروں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوئے۔ خاص طور سے ان کے علامتی اور اساطیری اسلوب کی تقلید جدیدیت کے زمانے میں بہت زیادہ دیکھنے کو ملی۔ جدید افسانے کے ممتاز لکھنے والے مثلاً انتظار حسین ، اسد محمد خاں وغیرہ نے اس اسلوب سے خوب خوب استفادہ کیا۔


قمر صدیقی سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

قمر صدیقی سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060