ADAB AUR INSAN BY IQBAL MAJEED

Articles

ادب اور انسان

اقبال مجید

اقبال مجید

کہتے ہیں کہ ہر عہد کے اپنے مخصوص ادبی رجحانات ہوا کرتے ہیں اور بقول احتشام حسین انہی رجحانات کے تحت اس عہد کی ادبی اور استعاراتی کائنات بھی مرتب ہوا کرتی ہے۔ سب جانتے ہیں کہ ترقی پسند تحریک اس وقت وجود میں آئی جب نظریہ سازی کا دنیا میں چلن اور بول بالا تھا۔ مارکس کے نظریے نے لینن اور اسٹالن کو پید اکیا۔ سرمایہ داری کے نظریے نے فورڈ جیسے صنعت کار کو۔ مغائرت کے نظریے نے ہپّی نوجوانوں کی نسل کو اور گاندھی کے نظریے نے عدم تشدد پر اکتفا کرنے والے محکوم بیداروں کو پیدا کیا۔ یہی نہیں دنیا کے کالونائزر اپنی اپنی نوآبادیوں کے تحفظ ، بقا اور استحکام کے لیے قدم قدم پر نظریہ سازی میں لگے تھے۔ جب نظریہ پیدا ہوتا ہے تو اپنے تحفظ اور بقا کے لیے اس کی نفی کرنے والی ہر شے کے خلاف جارحیت کا مظاہرہ کرتا ہے چاہے وہ آرٹ ہو یا ادب ، سائنس ہو یا فلسفہ۔ ایک اندازے کے مطابق سجاد ظہیر ساٹھ فیصد پارٹی کی سرگرمیوں میں مصروف رہتے اور چالیس فیصدترقی پسند ادبی تحریک کے کاموں میں۔ میرے خیال میں کسی کو یہ خوش فہمی نہ ہوگی کہ پنڈت نہرو نے سجاد ظہیر کو کانگریس کی آئیڈیالوجی کو پچھاڑنے اور اس کے برسوں کے کیے دھرے پر پانی پھیرنے اور ملک میں کمیونسٹ حکومت کے قیام کے لیے پاکستان سے ہندوستان بلایا تھا بلکہ جد و جہد آزادی میں کھدّر پہن کر آنند بھون میں اپنے ساتھ کام کرنے کے لیے اور فراق وغیرہ کی طرح جیل جانے کے لیے بلایا تھا۔ سجاد ظہیر کے لیے پہلے نظام حکومت کو بدلنا اور اس انقلاب کے ذریعے سماجی مسائل کو ٹھیک کرنا کتنا دشوار تھا اس کا جواب ہمیں ملک میں کمیونسٹ پارٹی کی تاریخ اور سجاد ظہیر کی سوانح حیات سے مل جائے گا۔ لیکن آج ہم سجاد ظہیر کے عہد میں نہیں ہیں۔ ہمارے دیکھے ہوئے بیشتر خواب بکھر چکے ہیں۔ ماضی قریب کی تاریخ کے کُوبَڑ جو کبھی ہمیں پہاڑ جیسے لگتے تھے ، عہدِ حاضر کے کوبڑوں کے مقابلے میں بچکانے ہوچکے ہیں۔ نوعِ انسان کی بربریت کے تازہ منظر نامے نے چارلس لائل (Charles Lyell) کی کتاب Principles of Geologyکے ان خیالات کی تصدیق شروع کردی ہے۔
The most significant and dimunitive of species have each slaughtered their thousands why not we lords of creation do the same.
اس منظر نامے کو دیکھ کر دنیا کے مہذب انسانوں کے ختم ہوجانے کی چارلس ڈارون کی پیشن گوئی یاد آجاتی ہے۔ جس نے کہا تھا:
At some future period not very distant as measured in centuries, the civilized races of man will almost certainly eterminate and replace through out the world the savage races.
اس منطر نامے میں بھولے بھالے مولانا حسرت موہانی کی ترقی پسندی داستانِ پارینہ بن چکی ہے۔ روس کے انہدام اور سرد جنگ کے خاتمے کے بعد طاقتوروں نے اپنے اقتدار کی توسیع کے لیے جس طرح Proxy Wrasلڑی ہیں اور حفظِ ماتقدم کے نام پر سائنس اور ٹیکنالوجی کی برتری کے صدقے میں طاقت کا جس پیمانے پر ننگا ناچ ناچا ہے اور جس انداز میں انسانیت اور انسانوں کا قتلِ عام کیا ہے اس کی مثال تاریخ میں نہ ملے گی۔
اب Genetic Scienceنے یہ بات پایہ¿ ثبوت کو پہنچا دی ہے کہ سی آئی اے کے خون میں قدرتی طور پر سب سے زیادہ سرگرم رہنے والے خود پسند اور خود غرض جینس نے اپنی بقا کے لیے کہاں کہاں اور کون کون سے ظالمانہ کارنامے انجام دیئے ہیں۔ پریم چند کی معصوم ترقی پسندی کو یہ بات معلوم نہیں تھی کہ سی آئی اے نے مختلف ممالک میں اپنی نگرانی میں غیر قانونی افیون کی کاشت کروا کر پھر اسے ہیروئن بنانے والی فیکٹریوں میں آخری شکل دے کر اربوں ڈالر کی جو ناجائز دولت پیدا کروائی تھی وہ دولت اس نے مختلف ممالک میں اپنے ہی پیدا کیے ہوئے اور پالے پوسے ہوئے دہشت گردوں کو چوری چھپے اسلحہ فراہم کرنے پر خرچ کی۔ کیونکہ امریکن کانگریس سے درپردہ لڑی جانے والی Proxy Wars کے لیے قانونی فنڈ حاصل کرنا حکومت کے لےے مشکل ہوتا جارہا تھا۔ صرف اتنا ہی نہیں بلکہ سی آئی اے نے امنِ عالم کو سب سے بڑا نقصان پہنچایا وہ یہ تھا کہ اس نے تشدد کو پیدا کرنے، اس کے ذریعے دہشت پھیلانے، پرائیویٹ ملیشیاﺅں کو منظم اور مسلح کرنے اور پھر ممولے کو شہباز سے لڑانے کے خصوصی فن اور مہارت پر اپنی سب سے بڑی عالمی اجارہ داری قائم کی اور لاکھوں مظلوموں اور بے گناہوں کو موت کے گھاٹ اتارا اور آج بھی اتار رہی ہے۔
اب ذرا عہدِ حاضرکے ایک اور المناک پہلو پر نظر ڈالیے۔ علم و آگہی کی نئی صورتِ حال نوعِ بشر کو جس طرح خوف زدہ کیے ہے وہ ہمارے لیے کافی تشویشناک ہے۔ جیسے جیسے علم بڑھ رہا ہے انسان فطرت، تاریخ اور روح کی قوت کی جانب سے مشکوک اور بیزار ہوتا جارہا ہے۔ کرسچن سالمن نے ناول کے فن پر اپنے خیالات درج کرتے ہوئے وجود کی اس ناگوار اور ناقابلِ برداشت صداقت کی طرف یوں اشارہ کیا ہے:
”سائنس اور ٹیکنالوجی میں معجزاتی انکشافات اور ایجادات کرنے کے بعد فطرت کے مالک اور مختار انسان کو اچانک یہ احساس ہوا کہ وہ کسی چیز کا مالک نہیں ہے، نہ فطرت پر (جو کرہ¿ ارض سے بتدریج معدوم ہورہی ہے) اس کا اختیار ہے ، نہ تاریخ پر (جو اس کے قابو سے نکل چکی ہے) اور نہ ہی خود پر (کہ وہ روح کے غیر منطقی تازیانے پر عمل کررہا ہے) لیکن اگر خدا کائنات سے رخصت ہوچکا ہے اور آدمی خود اپنا مالک اور مختار نہیں رہا تو پھر مالک و مختار کون ہے؟ کرہ¿ ارض بغیر کسی مالک اور مختار کے خلا میں گردش کررہا ہے؟ یہ ہے وجود کی ناقابلِ برداشت صداقت“
دوسری جانب ہمارے ٹی وی چینلوں کے چھوٹے پردے کو کرسچن سالمن کی اس بکواس سے کچھ لینا نہیں ہے۔ وہاں مقابلوں اور انعامات کے ذریعے عام لوگوں کو کروڑ پتی بنانے کی ایک ہوڑ سی لگی ہوئی ہے۔ اگر ٹوائین بی جیسے عالموں کے یہ خیالات درست ہیں کہ تمدن کی ترقی کی سیڑھی پر انسان ایک قدم اوپر چڑھتا ہے تو اکثر دو قدم نیچے پھسل بھی جایا کرتا ہے اور یہ کمبخت انسان شہد کی مکھی کی طرح Conditioned Social Insectنہیں ہے کہ پھولوں سے شہد کشید کرکے اسے چھتے میں جمع کرنے کے عمل میں ہی ساری زندگی کاٹ دے کیونکہ انسان ہر دن اپنی منتخب کی ہوئی زندگی کو اپنے ہی ہاتھوں ملیامیٹ کرکے نئی زندگی منتخب کرتا ہے۔ تو کیا وہ ہردم بدلتے ہوئے Choicesیعنی انتخابات کا اسیر ہے اور ان کے بغیر ایک پل نہیں رہ سکتا اور یہی نہیں اس کے انتخاب میں گلوکار غلام علی اور بارود دونوں شامل ہیں۔ وہ ان میں کس کو کب قبول کرکے ، دوسرے کو مسترد کردے یہ قیاس لگانا مشکل ہے۔ کیونکہ کبھی کبھی وہ غلام علی سے بارود کا اور بارود سے غلام علی کا کام لینے کی بھی تمنا کرتا ہے۔
اب ذرا ایک اور حقیقت پر نظر ڈالیے جس کو ادراک کی افزائش نے خاصا پیچیدہ کردیا ہے، وہ یہ کہ فرد اور جماعت سے ہر نظام اقدار کے کچھ مطالبات ہوتے ہیں۔ فرد یا جماعت بے چاری ان مطالبات کی تکمیل کے لیے اپنی تمام تر قوتوں اور صلاحیتوں کو مسلسل خرچ کرتی رہتی ہے یہاں تک کہ فرد دوسرے کاموں کے لیے کھوکھلا ہوکر رہ جاتا ہے۔ پھر اسے یہ خیال آتا ہے کہ آخر ہم نے ایک فرد کی حیثیت سے کسی مخصوص نظامِ اقدار سے اپنا رشتہ کیوں قائم کیا تھا اور اس نے ہمیں کیا دیا اور کیا ہمارے اس رشتے کی کوئی معنویت اور مقصد تھا؟ بس یہیں پر یہ احساس بھی جاگتا ہے کہ کیا معنویت اور مقصدیت وہ چیز ہے جس کا ہماری ذات سے کچھ لینا دینا نہیں اور ہمیں صرف اسی حقیقت کو حقیقت مانتے رہنا چاہیے جو سماج اور ریاست کے ذریعے ہم پر لاد دی جائے تو کیا اس سے الگ ہٹ کر بھی کسی ترقی پسند فکر کا امکان ہے اور کیا وہ ترقی پسند فکر صرف کھلے اور آزاد معاشرے میں ہی ممکن ہے؟ اگر ہاں تو کیا ایسا کوئی آٹومیٹک تھرما میٹر ایجاد ہوسکتا ہے کہ جب معاشرے میں آزادی کا پارہ چڑھنے لگے یا کھلا پن زیادہ ہونے لگے تو وہ اسے سطح اعتدال پر لے آئے۔
جس دنیا میں ہم رہ رہے ہیں اس سے ہمارا بامعنی اور با مقصد رشتہ کیا ہے؟ اپنے پڑوسیوں سے، اپنے رشتوں کو با معنی اور بشر نواز بنانے کے لیے ہم آخر کن نئے اور موثر تخلیقی اوزاروں سے کام لیں۔ دنیا جیسا چاہتی ہے اگر ہم اسی طرح چلتے رہیں تو وہ کسی حد تک خوش رہتی ہے اور ہماری طرف بے فکر ہوجاتی ہے اور اگر ہم اپنے مفادات کی حفاظت میں کسی طور بھی مقابلہ آرائی پر اتر آئیں تو وہ ہمیں مٹا دینے کے درپے ہوجاتی ہے کیونکہ جیسا جو کچھ چل رہا ہوتا ہے اس میں ہم رخنہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مثلاً سوشلسٹ انقلاب نے جو کچھ جیسا چل رہا تھا اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی۔ اس طرح بعض دانشوروں کے خیال میں ہماری تہذیب کی کہانی Status quoمیں رخنہ اندازیوں کی کہانی ہے تو پھر ہمارے موجودہ علم کے پاس اس سوال کا کیا جواب ہے کہ ہم نے کتنا کھو کر کتنا پایا؟ کیونکہ علم جس پر آج کی دنیا کو بہت ناز ہے اور جسے سب سے بڑی طاقت مانا جاتا ہے، اس کے معاملات بھی خاصے غور طلب ہیں۔ اگر علم میں بالا دستی کا مقصد طاقت میں بالا دستی حاصل کرنا ہے کہ علم ہی اصل طاقت ہے اور اس کے حاصل ہوجانے کے بعد اس طاقت کا مقصد اسے مظلوموں ، بے گناہوں ، ناداروں ، کمزوروں اور کم علموں کے خلاف استعمال کرکے خود کو مزید طاقتور بنانا ہے تو پھر لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایسی طاقتور نسل اپنی حاصل کی ہوئی طاقت سے کسی کم طاقتور کے لیے دست بردار ہونا کیوں چاہے گی تو پھروہ صورت آخر کیا ہوگئی؟ کب ہوگی اور کیسے ہوگی کہ علم طاقت کا مترادف نہ بن کر بشر نوازی کا مترادف بن جائے۔ ہماری نمود کی کہانی میر تقی میر یہ کہہ کر پہلے ہی سنا چکے ہیں:
مری نمود نے مجھ کو کیا برابر خاک
میں نقش پا کی طرح پائمال اپنا ہوں
تو گویا نقشِ پا بنیں گے بھی اور پامال بھی ہوں گے۔ یہ انسان جو کچھ بھی ہے اور جیسا بھی ہے اور یہ ہزار شیوہ زندگی جو کچھ بھی ہے اور جیسی بھی ہے، انسان کو انھیں تِلوں سے تیل نکالنا ہے۔ اگر انسانی ذہن کی تکمیل میں نقص ہے تو ہمیں بہرحال اسے اس کی خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنا ہوگا۔ اس ذہن سے ہم خواب دیکھتے ہیںاور یہ طے ہے کہ جانوروں اور انسانوں کے دیکھے ہوئے خوابوں میں فرق صرف اتنا ہے کہ انسان اپنے خوابوں کو کسی حد اور کچھ دیر کے لیے آدھی ادھوری حقیقت میں ہی سہی Translate کرلینے کی قوت رکھتا ہے جبکہ یہ قیمتی وصف جانوروں میں نہیں ہے اور بغیر خوابوں کے نہ پچھلی ترقی پسندی ایک قدم آگے بڑھ سکی تھی اور نہ جدید ترقی پسندی بڑھ سکتی ہے۔ یہ سوچ کر کہ ’مری تعمیر میں مضمر ہے اک صورت خرابی کی‘ ہاتھ پر ہاتھ رکھے تو نہیں بیٹھا رہا جاسکتا۔
٭٭٭

ANWAR KHAN KI FANKARI BY DR. JAMAL RIZVI

Articles

انور خاں کی فنکاری

ڈاکٹرجمال رضوی

انور خاں کی فنکاری
ڈاکٹرجمال رضوی
ادب کی تخلیق کے اسباب و محرکات میں جس ایک نکتے کو متفقہ طور پر قبول کیا گیا ہے وہ یہ کہ موجودات و مظاہرات عالم کو جاننے اور سمجھنے کا عمل جب تک کیوںاور کیسے سے نہ شروع ہو تب تک ادب کی تخلیق کے امکان روشن نہیں ہو سکتے۔یوں اگر عمومی طور پر دیکھا جائے تو تہذیب و تمدن کے ارتقا میں بھی اس کیوںاور کیسے نے کلیدی کردار اد ا کیا ہے۔ہزاروں برس کو محیط انسانی تاریخ جن مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے عصر حاضر تک پہنچی ہے،اور آگے بھی جہاں تک اس کاسفر جاری رہے گا ،اسے کامیابی کی منزلوں سے ہمکنار کرنے میں انسان کے اس استفسار اور جستجو کی اہمیت کو بہر طور قبول کیا جائے گا۔اس مقام پر یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ دنیا کا ہر انسان خواہ اس کا تعلق کسی بھی پس منظر سے ہو ،وہ اس استفسار اور جستجوسے بالکل اس قدر بے نیاز بھی نہیں ہوتا کہ اس کا ذہن حیات و کائنات کی نیرنگیوں میں پوشیدہ حقیقت کو دریافت کرنے کی کبھی کوئی کوشش ہی نہ کرتا ہو۔لیکن اس کوشش میں کسی ایک منزل یا نتیجہ خیز مقام تک پہنچنے میںکئی کڑے کوس طے کرنے پڑتے ہیں لہٰذا اکثریت فرار کی وہ راہ اختیار کر لیتی ہے جو اس کوشش سے وابستہ کرب کے بجائے آسودگی و اطمینان کی اس پناہ گاہ تک جاتی ہے جہاں مختلف قسم کی پابندیاں اور مجبوریاں اس کیوںاور کیسے پر حاوی ہو جاتی ہیں اور پھر اس کوشش کے جاری رہنے کا مظاہرہ تو کیا جاتا ہے لیکن اس مظاہرے سے صداقت کا عنصر مفقود ہو جاتا ہے۔عام انسان اور تخلیقی ذہن رکھنے والوںمیںبنیادی فرق اسی صداقت کی بنیاد پر قایم ہوتا ہے۔تخلیقی ذہن اپنے حال سے آسودہ و مطمئن ہونے کے بجائے زندگی کے ہر معاملے میں اپنے افکار و خیالات کو ان سوالوں کے ذریعہ توانا ومتحرک بنائے رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔ادب کی تخلیق سے وابستہ افراد کی فکر کو وسعت اور تخیل کو بلندی تحقیق و جستجو کے لیے آمادہ کرنے والی اس قوت سے حاصل ہوتی ہے جہاں سے دانشوری کے چشمے پھوٹتے ہیں۔چونکہ ہر عہد کاانسانی معاشرہ اپنی تہذیبی روایات ، معاشی معاملات اور سیاسی صورتحال کی بنا پر ایک دوسرے سے مختلف ہوتا ہے لہٰذا اس اختلاف سے ادب کا تخلیقی رویہ بھی ایک حد تک متاثر ہو تا ہے۔ اگر اس حوالے سے اردو ادب کا جائزہ لیا جائے تو اس کے ابتدائی دور سے اب تک رواں اس کے تخلیقی دھارے میں فکر و خیال اور اسلوب و ہیئت کی جو رنگا رنگی نظر آتی ہے وہ ہر عہد کے اپنے مخصوص مزاج کی ترجمانی کرتی ہے۔اگر بات خصوصی طور سے اردو افسانہ نگاری کی، کی جائے تو ایک صدی سے کچھ برس زیادہ پرانی اس صنف میں زبان و بیان اور موضوع کے جو تجربات ہوئے ان کے پیچھے بھی بیشتر یہی اسباب کارفرما رہے۔اس مضمون میںجس افسانہ نگار کے فن پر گفتگو مقصود ہے اس کا دور اردو کے افسانوی ادب میںموضوع اور طرز اظہار میںتجربات کا دور رہا ہے۔ان تجربات نے اردو کے افسانوی کینوس کو وسعت تو عطا کی لیکن اس وسعت کی بعض جہتیں اعتبار و وقار سے محروم رہیں۔اس محرومی کا خاص سبب بعض فیشن زدہ افسانہ نگاروں کا دوسروں سے منفرد اور نمایاںنظر آنے کا وہ رویہ تھا جس میںفنی ریاضت اور اس کے تئیں اخلاص کی مقدار بہت کم تھی۔ ایسی صورت میں افسانوں کے نام پر تخلیقات کا ذخیرہ تو جمع ہو گیا لیکن اس ذخیرے میںسب کچھ ایسا نہیں ہے جو ادب کی اس صنف کی قدر وقیمت میںاضافہ کرتا ہو۔چونکہ انور خاں بھی اسی زمانے میں بطور افسانہ نگار اردو کے ادبی حلقہ میں متعارف ہوئے اس لیے ان کے یہاں بھی بعض ایسی تخلیقات نظر آتی ہیں جو افسانہ نگار کی تخلیقیت پر چھائی یکسانیت اور اکتاہٹ کو نمایاں کرتی ہیں۔لیکن اس انداز اور مزاج کے حامل افسانے ان کے کل تخلیقی سرمایہ میںبرائے نام ہیں۔ان کے بیشتر افسانوں کو ادبی اعتبار حاصل ہوا یہی سبب ہے کہ ۱۹۸۰ء کے بعد کے افسانہ نگاروں کا تذکرہ انور خاں کے بغیر ادھورا سا محسوس ہوتا ہے ۔انور خاں کے افسانے کئی اعتبار سے قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ ان میں زبان و بیان کا اچھوتا انداز، موضوعات کو برتنے کا منفرد تخلیقی رویہ اور اختصار میںجامعیت کی وہ کیفیت ہے کہ ہر سطر معنی خیزی سے معمورنظر آتی ہے ۔فن کی سطح پر یہ وہ عناصرہیںجو انور خاں کو اپنے معاصرین سے منفرد اور اردو کے افسانوی ادب میں نمایاں مقام عطا کرتے ہیں۔
انور خاں کے فنکارانہ امتیازات پر مزیدکچھ کہنے سے پیشتر ادب کی تخلیق کے اسباب و محرکات کے سلسلے میں جو گفتگو سطور بالا میںپیش کی گئی اس کے حوالے سے ان کے ایک خط کا اقتباس یہاں درج کر نا مناسب معلوم ہوتا ہے۔انور خاںنے یہ خط ۱۹۶۴ء میں انور قمر کے نام لکھاتھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب کہ انور خاں کا افسانے کی تخلیقی دنیا سے رابطہ بھی قایم نہیںہوا تھا۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ راستے اور کھڑکیاں ۱۹۷۶ء میںپہلی بار شائع ہوا تھا۔اس افسانوی مجموعے کی اشاعت سے ۸؍برس قبل لکھا گیا یہ خط ان کے اس ذہنی رویہ کو ظاہر کرتا ہے جو ادب کی تخلیق کے اسباب مہیاکرتا ہے۔وہ اپنے اور اپنے گرد و اطراف کے حالات کے سیاق میںکچھ ایسے سوالات قایم کرتے ہیں جن کے جواب حاصل کرنے کی کوشش ہی فکر و خیال کو حیات و کائنات کی گہرائی و گیرائی کا جائزہ لینے پر آمادہ کرتی ہے۔ان کے الفاظ ہیںـ’’ میںجاننا چاہتا تھا، دنیا میںیہ اونچ نیچ کیوںہے؟ نیکی کیا ہے؟ بدی کیا ہے؟ نیکی کیوںکی جائے؟ بدی کیوں نہ کی جائے؟ اس دنیا میںمیری حقیقت کیا ہے؟ خود اس دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ میںکیا کرسکتا ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میںکیا کروں؟ ‘‘۔اس دنیا اور دنیا کی حرکت و رفتار کی بقا کے ضامن حضرت انسان اور اس کی حیات سے وابستہ اقدار کے متعلق یہ استفسارات نہ صرف انور خاں کی ذہنی سطح کا پتہ دیتے ہیں بلکہ یہ ایک اشاریہ ہیں ان افسانو ں کے تخلیقی نہج کا جن کی بنا پر انھیں اردو افسانہ نگاری میںنمایاں مقام حاصل ہوا۔ان سوالوں کے جواب حاصل کرنے کے عمل میںوہ افسانے وجود میںآئے جو انسانی سماج کے دلچسپ، حیرت انگیز، امید افزا اور کبھی مایوس کن و درد ناک حقائق سے روبرو کراتے ہیں۔یہا ںاک ذرا اس پہلو پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے کہ خط کے منقولہ اقتباس میںصرف استفسار ہی نہیں ہے بلکہ اس استفسار میںروایت پرستی کے بجائے ایک نئی راہ بنانے کی خواہش صاف نظر آتی ہے۔بدی کیوںنہ کی جائے، یہ بظاہر ایک چھوٹا سا اور معمولی سوال ہے لیکن اس سے دو باتیںواضح ہوتی ہیں۔ پہلی یہ کہ معاصر سماج میںنیکی اور بدی کے تصور سے انور خاں کا عدم اتفاق اور دوسرے یہ کہ اگر نیکی اپنے تمام تران مصدقہ حوالوںکے ساتھ جن کا تعلق سماجی اخلاقیات ، مذہبی عقائد اور تہذیبی روایات سے ہوتا ہے ،رائج ہو تو بھی کیا یہ ضروری ہے کہ اسی راہ پر چلا جائے اور کسی دوسرے راستے کی تلاش نہ کی جائے؟اسے معاشرتی اقدار سے بغاوت کے بجائے انسانی سماج سے ان کے اس بے پایاں خلوص کے طور پر دیکھنا چاہیے جو مسائل و مصایب میںگھرے انسانوں کی کس مپرسی اور محرومی پر جھنجھلا کر ایک نئی سمت دریافت کرنے کاعندیہ ظاہر کرتا ہے۔
انور خاں کے بیشتر افسانوں میںانسانی رویہ کا یہی انوکھاپن نظر آتا ہے ۔اس رویہ کو انسان کی خود پسندی، خود نمائی،تصنع اور ظاہر پرستی سے تعبیر کیا گیا ، اور اس لیے کیاگیاکہ یہ رویہ تہذیب و معاشرت کے مصدقہ ضابطوں اور طور طریقوں سے بالکل مختلف ہے۔یہ اختلاف اس حد تک بڑھتا ہے کہ جذبات کی نوعیت میںحیرت انگیز اور عبرت ناک قسم کی تبدیلی پیداہوجاتی ہے۔انور خاں کاافسانہ’ شاندار موت کے لیے‘ اس کی واضح مثال ہے۔افسانے کامرکزی کردار اس انسانی نفسیات سے بالکل میل نہیںکھاتا جو خوشی اور غم کے روایتی تصور کے ساتھ زندگی گزارتا ہے بلکہ اس افسانے میںموت جیسی کرب آمیز حقیقت کو بھی ایک جشن کے اہتمام میںتبدیل کر دیا گیاہے۔ڈائنا اس افسانے کا مرکزی کردار ہے ۔بستر مرگ پر لیٹی ڈائنا جس طرح اپنی موت کے جشن کا خاکہ تیار کرتی ہے وہ بظاہر اس کے شہرت پسند اور تصنع آمیز مزاج کو نمایاں کرتا ہے لیکن اس کے ساتھ ہی دنیوی شان و شوکت سے اس کی بے انتہا لگاوٹ کو بھی ظاہر کرتا ہے۔یہ افسانہ پہلی قرات میںمکمل طور پر خیالی اور مثالی نظر آتا ہے کہ جس صورتحال کی عکاسی اس میں کی گئی ہے اس کا وقوع ہونا بہت حد تک بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے۔لیکن افسانے کی تخلیق کا زمانہ، اس زمانے کا طرز معاشرت، انسانی سماج کی ترجیحات اور زندگی کرنے کے طور طریقوں کو پیش نظر رکھ کر اگر اس افسانے کو پڑھا جائے تو اس کا اعتراف کرنا پڑے گا کہ انور خاں نے عیاری اور مکاری کی دبیز تہہ میں پوشیدہ اس انسانی حقیقت کو دریافت کر لیا ہے جو سنگدلی اور سفاکیت کا آمیزہ ہے۔یہ سنگدلی اور سفاکیت جب تہذیب و تمدن کے خلعت سے آراستہ ہو کر پرشکوہ انداز میں معاشرہ میں ظہور کرتی ہے تو ڈائنا جیسے کردار وجود میں آتے ہیں۔انور خاں کے بیشتر افسانوں کے کردار وں کی فطرت اور نفسیات میں یہ حیرت انگیز قسم کے مظاہر نظر آتے ہیں۔
انور خاں کی فنکاری کا قابل ذکر وصف یہ ہے کہ وہ کرداروں کی تخلیق میں ان کے معاشرتی اور تہذیبی پس منظر سے وابستہ ان عناصر کو منتخب کرتے ہیں جو بہ ظاہر غیر معمولی اورایک بے رنگ سی حقیقت نظر آتے ہیں لیکن یہ معاشرتی اور تہذیبی عناصر انسانی شعور و عمل کو اس انداز سے متاثر کرتے ہیں کہ اس کی شخصیت بہ یک وقت کئی متضاد رنگوں کا ایسا مرقع بن جاتی ہے جس میں کسی ایک رنگ کی واضح دریافت اور اس دریافت کی بنا پر شخصیت کی کوئی شناخت قایم آسان نہیں ہوتا۔ڈائنا کے کردار کا انوکھا پن انہی عناصر کا پروردہ ہے جو انسان کے افکار و رویہ کو ایسا انداز عطا کرتے ہیں جس سے یقین و اعتبارکا مرحلہ حیرت و تاسف کا نہج اختیار کر لیتا ہے۔ افسانوی کرداروں کے باطن کو کھنگالنا اور ان جذبوں کو دریافت کرنا جو ان کے عمل و رد عمل کا محرک بنتے ہیں، اور پھر اس حوالے سے ایک عہد اور نظام معاشرت سے وابستہ ان حقائق کی جانب اشارہ کرنا جو اقدار کی نوعیت طے کرنے میںموثر کردار ادا کرتے ہیں،ایک فطری تخلیقی روش کے طور پر انور خاں کے افسانوں میں عموماً نظر آتی ہے جوان کی فنکاری کو صداقت اور دیانت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ان کے یہاں زبان کے استعمال پرفنکارانہ عبور، افسانے میں دلچسپی اور حیرت زدگی کے عنصر کو شروع سے آخر تک برقرار رکھنا اور اس کے ساتھ ہی اختصار میں جامعیت کا وہ اندازجو افسانوی کرافٹ کو فنکاری کا معیاری نمونہ بنا دیتا ہے،ان کی تخلیقات کو انفرادی و امتیازی شناخت عطا کرتا ہے ۔ ان کا کوئی بھی افسانہ اتنا طویل نہیں ہے کہ جس کو پڑھنے کے لیے باقاعدہ قصد کیا جائے بلکہ اس معاملے میں ان کے افسانے مختصر ہونے کے ساتھ ہی ایک ایسی کشش اپنے اندر رکھتے ہیں کہ شروع سے آخر تک قاری کو باندھے رکھتے ہیں۔ افسانے کومختصر رکھتے ہوئے اس طرح مکمل کرنا کہ موضوع کی ترسیل کا پہلو تشنہ نہ رہے ،کمال فنکاری کا واضح ثبوت ہوتا ہے۔اگر فنکار شعوری طور پر مختصر افسانہ لکھنے کا ارادہ کرے اور موضوع کے ساتھ اس کا ٹریٹمنٹ ایسا ہمہ گیر اور معروضی نہ ہو جو کہ ترسیل کے عمل کو بہ خوبی انجام تک پہنچا سکے تو اس کی تخلیق فنی اعتبار سے کمزور مانی جاتی ہے۔اگر چہ انور خاں کے افسانوں کے موضوعات میں تنوع اور وسعت ہے تاہم انھوں نے ان کی پیشکش کا وہ انداز اختیار کیا ہے کہ صرف چند صفحات میں ہی وہ اپنی بات مکمل کر لیتے ہیں۔اس مرحلے سے سرخرو گزرنے میں ان کی لسانی تونگری ان کی معاونت کرتی ہے ۔وہ زبان کے استعمال کا ایسا سلیقہ اختیار کرتے ہیں جس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ الفاظ کے لسانی مزاج اور تہذیبی سیاق سے پوری واقفیت رکھتے ہیں۔ان کی زبان میں دو باتیں خاص طور سے اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں۔پہلی یہ کہ یہ زبان اثر و تاثر سے تہی دامن نہیں ہے اور دوسری یہ کہ اس کے مزاج میں حسب موقع متاثر کن تبدیلی کو بہ آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔انھوں نے نہ صرف موضوع کی ترسیل کو فکشن کے تقاضوں اور معیار سے ہم آہنگ کرنے کی سعی کی بلکہ زبان کے معاملے میں بھی ان کی جز رسی کے مظاہر جابجا نظر آتے ہیں۔اس ضمن میں ان کے کچھ افسانوںسے مثالیں پیش کی جاتی ہیں جو اس دعوے کی توثیق کرتی ہیں کہ وہ ایسی زبان لکھنے پر قادر تھے جو افسانے کی فضا بندی اور کہانی کے ارتقائی عمل کی فطری تکمیل کے ساتھ ہی موضوع کے پس منظر اور پیش منظر کو بھر پور تاثر کے ساتھ منعکس کرتی ہے۔الفاظ کے انتخاب کا یہ سلیقہ چند منتخب افسانہ نگاروں کے یہاں ہی ملتا ہے اور انور خاں ان میں سے ایک تھے۔ان کے افسانوں میں بعض مقامات پر ایسے مختصر جملے بھی نظر آتے ہیں جو محض ایک یا دو سطروں پر مشتمل ہوتے ہیں لیکن ان سے پورے افسانے کا موڈ اور موضوع کی نوعیت کو بہ آسانی سمجھا جا سکتا ہے۔
۱۔ ’’ہائے ہائے، ہائے ہائے۔‘‘ منحنی پسلیوں کے پنجروں سے دل خراش آہیں پھڑ پھڑاتی ہوئی نکلیں اور فضا میں تیر گئیں۔ (فن کاری)
۲۔ہر چیز تھم گئی ہے۔چوراہے پر سے گزرتی بسیں،گاڑیاں،راہ گیر،سب وقت کے فرسودہ فریم میں تصویر کی مانند ساکت ہو گیے ہیں۔صرف شام اتررہی ہے دھیرے دھیرے گلی کوچوں میں،عمارتوں پر،ٹیلی گراف کے تاروں پر، اپنے گھروں کو رواںہوتے انسانوں کے جم غفیر پر۔ (شام رنگ)
۳۔گلی کوچے،عمارتیں، سڑکیں، لگتا ہے شور سے پھٹ پڑیں گے اور میں اپنے دوستوں کے نرغے سے باہر نکل آؤں گا۔ مگر کچھ بھی تو نہیں ہوتا۔بس جہاں تک نظر جاتی ہے شام اترتی دکھائی دیتی ہے۔ ملگجی،ملول،مایوس،تاسف اور محجوب۔ (ایضاً)
۴۔ہر چیز کے متعلق وہ رائے رکھتا ہے، صحیح رویہ اختیار کرتا ہے ، اور صحیح لوگوں سے ملتا ہے۔حال ہی میں اس نے شہر کے مناسب ترین علاقے میں مناسب ترین فلیٹ خریدا ہے ۔صحیح سے اس کی مراد ہوتی ، سماج کے اعلا ترین طبقے کے بہترین لوگوں کا طرز عمل۔ اس لیے وہ کبھی غلط نہیں ہوتا۔ویسے بھی وہ شماریات کا ماہر ہے۔ (اپنائیت)
انور خاں کے افسانوںسے درج کی گئی ان مثالوں میں زبان کا استعمال عبارت کے اختصار میں معنی کی وسعت کو آشکار کرتا ہے۔ان کے افسانوی بیانیہ کا یہ انداز موضوع کی افسانوی تشکیل میں مضمر ان پہلوؤں کی جانب اشارہ کرتا ہے جو افسانوی کرداروں کے عمل و رد عمل نیز کسی واقعہ کے رونما ہونے والے اسباب و محرکات کی جانب ذہن کو مبذول کرتے ہی۔اس عمل سے گزرتے ہوئے وہ بعض اوقات صرف ایک جملے سے اس کیفیت یا صورتحال کو منعکس کر دیتے ہیں جو افسانے کی تشکیل میں کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔اس ضمن میں پہلی مثال ان کے افسانے ’فن کاری ‘ سے لی گئی ہے۔ یہ افسانہ موضوع اور اس کے اظہار ہر دو اعتبار سے قابل ذکر ہے۔یہ افسانہ ٹریٹمنٹ کے اعتبا ر سے ’شاندار موت کے لیے ‘ سے کافی مماثلت رکھتا ہے۔جس طرح موت کی حیرت انگیز خواہش ڈائنا کے خیال و احساس کو عام انسانی رویہ کے بالکل برعکس رنگ میں ڈھال دیتی ہے اسی طرح ’فنکاری ‘ میں بے روزگار نوجوانوں کا اضطراب اور احتجاج انھیں فنکاری کی اس راہ پر ڈال دیتا ہے جو مسئلے کا کوئی موثر حل تلاش کرنے کے بجائے اس سے عارضی مفاد حاصل کرنے کا انھیںعادی بنا دیتی ہے۔ موت کا جشن منانے کی ڈائنا کی عجیب و غریب خواہش گرچہ صرف اس کی ذات تک محدود ہے لیکن اس قسم کی خواہش کے پیدا ہونے میں اس سماجی رویہ کو یکسر مسترد نہیں کیا جا سکتا جس کے سبب اس کی نفسیات میں ایسی پیچیدگی در آئی کہ وہ اپنی موت کو جشن طرب میں تبدیل کرنے کا خاکہ تیار کرنے پر آمادہ ہوئی ۔ڈائنا کی حیرت انگیز خواہش مرگ اس کے دل میں دبے ہوئے ان جذبات کو نمایاں کرتی ہے جو خود نمائی اور شہرت کو عزت و تکریم کا ذریعہ سمجھتے ہیں۔فنکاری میں بھی اسی رویہ کا اظہار ہے لیکن یہاں خود نمائی کے اسباب مہیا کرنے والا سماج کا مقتدر طبقہ مسائل زدہ انسانوں کی ناداری اور محرومی کو اپنے ذوق تماشہ کی تسکین کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔بے روزگار نوجوان اس تماشے میں اپنا عارضی پارٹ ادا کرنے کے بعد پھر اسی مقام پر آجاتے ہیں جہاں محرومی اور مایوسی ان کا دائمی مقدر ہوتی ہے۔ سماج اور انسان کا باہمی ربط جب پیچیدگی کی اس منزل پر پہنچ جائے تو انسان کا وجود داخلی سطح پر اس قدر منتشر ہو جاتا ہے کہ پھر وہ اذیت میں لذت کے امکان تلاش کرنے لگتا ہے۔فنکاری میں بے روزگار نوجوانوں کا فنکارانہ احتجاج اسی امکان کی ایک صورت ہے ۔سماج کو بدلنے کا عزم لے کر اٹھنے والا نوجوانوں کا یہ گروہ مسئلے کا موثر تدارک تلاش کرنے کے بجائے وہ راستہ اختیار کرتا ہے جو بالآخر پورے سماج کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتا ہے۔ اس افسانے کے ابتدائی حصہ سے پیش کی گئی درج بالا مثال افسانے کی فضا بندی کرنے کے ساتھ ہی ان ممکنہ صورتوں کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جن سے افسانے کا تانا بانا بنا گیا ہے۔
انور خاں کی فنکاری کاانفرادی پہلو یوں بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ افسانوی کینوس پر جن رنگوں کا استعمال کرتے ہیں وہ موضوع کی افسانوی تقلیب میںمتاثرکن کردار ادا کرتے ہیں۔افسانہ ’شام رنگ‘ سے جو دو مثالیں پیش کی گئیں ان سے افسانوی کینوس پر رنگوں کے استعمال کا یہی ہنر نمایاں ہوتا ہے۔بعض اوقات یہ رنگ نقش گری میںمتضاد کیفیت کے حامل ہونے کے باوجود تصویر کو اس طور سے ترتیب دیتے ہیں کہ تصویر کا ہر زاویہ ان رنگوں کے فنکارانہ استعمال کا معیاری نمونہ نظر آتا ہے۔اس افسانے کا عنوان جمود اور محجوبیت کااستعارہ ہے ۔ افسانے میں جمود اور محجوبیت کا خارجی ماحول کردار کے داخلی انتشار و اضطراب سے ہم آہنگ ہو کر وہ منظرنامہ ترتیب دیتا ہے جس پر کردار کی جذباتی کشمکش کے مختلف رنگ نمایاں نظر آتے ہیں۔یہ رنگ اس کی ذات کے کرب، وجود کی حقیقت کو دریافت کرنے کے عمل،احساس محرومی ،انسانی رویہ کی بوالعجبی اور آسودگی و سکون کی خواہش سے عبارت ہیںجو انسان کو ایک نئی دنیا کے آباد ہونے کی تمنا میں محو رکھتے ہیں۔ یہ افسانہ شہری معاشرہ میں ایک مستقل رجحان کی حیثیت حاصل کر چکے اس انسانی رویہ کو ظاہر کرتا ہے جس کے سبب انسانوں کے درمیان باہمی روابط پر مصنوعیت اس قدر غالب آجاتی ہے کہ برسوں کے شناسا چہرے بھی بعض اوقات اجنبی لگنے لگتے ہیں۔افسانے کا مرکزی کردار خود افسانہ نگار ہے جوبڑے شہروں میں انسانوں کے درمیان مصنوعی دوستی سے پیدا ہونے والے کرب کا اظہارواحد متکلم اور کہیں کہیںخود کلامی کے انداز میں کرتا ہے۔اس مرکزی کردار کے علاوہ افسانے میں ایک اور کردار نظر آتا ہے جسے انور خاں نے زید کا نام دیا ہے۔ اس کردار کا ظہور افسانے میں بہت کم مدت کے لیے ہوتا ہے اور چونکہ افسانے میں بیانیہ کا ایسا انداز اختیار کیا گیا ہے جس سے وثوق کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ واقعی ایک دوسرا کردار ہے جس سے افسانہ نگار محو گفتگو ہے۔ اس لیے زید کے اس کردار کو مرکزی کردار کا ہم زاد یا ضمیر کہہ سکتے ہیں جو افسانوی ماجرے میں مرکزی کردار کے ایک دوست کی امیج کے طور پر سامنے آتا ہے۔ افسانہ نگار نے اس کردارکے رویہ کو دوستانہ روابط کے درمیان پیدا ہونے والی اس سنگدالانہ بیگانگی کی صورت میں پیش کیا ہے جو عصر حاضر کے انسانی معاشرہ کا معمول بن گئی ہے ۔انور خاں نے شام کے ملگجی رنگ کے حوالے سے انسانی رویہ میں جذبہ و احساس کے مبہم اور غیر واضح پن کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ شام کی آمد افسانے کے مرکزی کردار کو بہ یک وقت دو متضاد صورتوں سے متاثر کرتی ہے۔ایک جانب سکوت اور جمود اور دوسری طرف شور و اضطراب۔انور خاں نے ان دو صورتوں کی تعبیر بڑے فنکارانہ انداز سے کی ہے جس میں سکوت اور جمود خارجی مظاہر سے وابستہ ہیں اور شور و اضطراب کی کیفیت کردار کے باطن میں کچوکے لگا رہی ہے۔اس افسانے کے محولہ بالا دونوں اقتباس اس متصادم کیفیت کا برملا اظہار ہیںجو کردار کو یقین اور غیر یقینی کے بھنور میں الجھائے ہوئے ہے۔دوسرے اقتبا س میں افسانے کا مرکزی کردارشام کے وقت اپنے اطراف میںبرپا شور اور ہنگامے سے جھنجھلا کر دوستوں کے نرغے سے نکل بھاگنے کی خواہش کا اظہار کر کے انسانی رشتوںمیں محبت اور اخلاص کے اس فقدان کی طرف اشارہ کرتا ہے جو دیرینہ تعلقات کو بھی غیر مستحکم اور رسمی بنا دیتا ہے۔یہ افسانہ انسانوں کے درمیان اجنبیت کے احساس سے پیدا ہونے والے اس کرب کو نمایاں کرتا ہے جو داخلی طور پر انسانی وجود کو رفتہ رفتہ مسمار کر دیتا ہے ۔افسانے کا اختتام انور خاں کی رجائیت کو واضح کرتا ہے جو ایسے کرب ناک حالات میں بھی خوشگوار تبدیلی کی امید کو پوری طرح زائل نہیں ہونے دیتی اور رشتوں کے اس کھیل میں بہت کچھ کھو دینے کے باوجود کچھ نیا حاصل کرنے کی امید افسانہ نگار کے انسانی اخلاص اور درد مندی کو نمایاں کرتی ہے۔
انور خاں کے افسانوں میں انسانی روپ بہروپ کے ایسے مظاہر نظر آتے ہیں جو دوسروں کو فریب دینے کے ساتھ ہی خود اس کی ذات کے لیے ایک پیچیدہ مسئلہ بن جاتے ہیں۔اس مسئلے سے الجھتے رہنا اور اس الجھن کے سبب پیدا ہونے والی اذیت کو برداشت کرنا اس کا مقدر ہو جاتا ہے۔ انھوں نے اپنے افسانوی کرداروں کے ذریعہ انسانی رویہ کے اس عارضی پن اور غیر یقینی کیفیت کو نمایاں کرنے کی کوشش کی ہے جو اقدار حیات کا کوئی واضح تصور پیش کرنے کے بجائے تہذیبی اور اخلاقی انحطاط کی روداد بیان کرتی ہے۔انور خاں نے ان افسانوں میں اپنے عصر کی ان حقیقتوں کو آئینہ کیا ہے جن کا تعلق سماجی، معاشی، تہذیبی اور اخلاقی قدروں میں تبدیلی کے اس انداز سے ہے جس نے انسان کے وجود کو جذبات سے عاری کر دیا ہے۔انسان کا یہ تبدیل شدہ روپ مصنوعات کی منڈی میں ایک شے محض کی حیثیت رکھتا ہے ۔یہی سبب ہے کہ انسان سماجی وقار اور اعتبار حاصل کرنے کے لیے اپنی ذات کو دنیوی چمک دمک والے اس خول میں مقید کر دیتا ہے جو معاشرے میں تعظیم اور احترام حاصل کرنے کی اس کوتر غیب دیتا ہے۔ حالانکہ اس خول میں پوشیدہ اس کا حقیقی وجود اضطراب و افسردگی کی ایک مسلسل کیفیت میں مبتلا رہتا ہے۔ اپنی ذات کے تئیں ا نسان کا یہ عمل جدید معاشرے کا وہ المیہ ہے جس نے انسانی رشتوں کے تقدس کو بڑی حد تک مجروح کر دیا ہے۔ایسے داخلی جبر سے مسلسل گزرتے ہوئے اس کا وجود ان خدشات و تحفظا ت کے تصوراتی آسیب کا شکار ہوجاتا ہے جو زندگی کو فطری انداز میں جینے سے اسے محروم رکھتے ہیں۔یہ آسیب انسان کے مزاج میں وہ سفلہ پن پیدا کر دیتا ہے کہ اگر وہ کسی دوسرے کو اس جبر سے آزاد دیکھتا ہے تو اس کے وجود کا ہی منکر ہو جاتا ہے ۔افسانہ ’شام رنگ‘ کے علاوہ ’اپنائیت‘ میں بھی انسان کی ذات سے وابستہ اسی کرب کو پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں بھی شہری معاشرہ اور اس میں پرورش پانے والے چند دوستوں کی کہانی بیان کی گئی ہے اور ساتھ ہی اس کہانی میں صارفی کلچر کے سبب انسانی مزاج میں پیدا ہونے والی اس تبدیلی کو نمایاں کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو صحیح اور غلط کے درمیان فرق کی بنیاد انسانی اقدار کے بجائے اقتصادی معیار کو قرار دیتی ہے۔یہ افسانہ ،افسانہ نگار کی اپنے عہد اور معاشرے سے اس وابستگی کو ظاہر کرتا ہے جو سماج کی رفتار کا بغور مشاہدہ کرنے سے قایم ہوتی ہے ۔ اس مشاہدے میں تبدیلی اور تغیر کا ہر مرحلہ افسانہ نگار کو ان انسانی و تہذیبی رویوں کا پتہ دیتا ہے جو اس عہد اور سماج کی شناخت میں کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔تبدیلی اور تغیر کا یہ عمل خارجی سطح سے گزر کر جب انسان کے داخل میں سرایت کر جاتا ہے تو پھر اس کا ہر عمل نمائشی اور خلوص و صداقت سے خالی ہو جاتا ہے ۔افسانہ اپنائیت کا وہ کردار جو اپنے دوستوں کے درمیان اپنی معاشی فضیلت کا اظہار کرتا ہے دراصل اسی نمائشی انسانی رویہ کا مظہر ہے ۔تشہیریت کے اس دور میں جبکہ ہر شے نمائش کی زد پر ہے خواہ اس کا تعلق سماج و تہذیب سے ہو، مذہب سے ہو ،سیاست سے ہو یا کہ انسانی اخلاقیات سے ہوایسے ماحول میں انسانوں کے مابین رشتوں میں صداقت اور سادگی کی تلاش کار لاحاصل ہے۔چونکہ یہ نمائش عالمی سطح پر ایک عام رجحان میں تبدیل ہو چکی ہے لہٰذا اگر کوئی چیز اس کے دائرے سے باہر نظر آتی ہے تو وہ تضحیک و تفریح کا ہدف بنتی ہے۔اگر چہ اس کا الگ ہونا صداقت اور سچائی پر ہی کیوں نہ مبنی ہو لیکن چونکہ وہ عام انسانی مزاج کے برعکس ہے اس لیے دنیا آسانی سے اسے قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی ۔ انور خاں کا ایک مختصر ترین افسانہ ’شاٹ‘ انسان کے اس نمائشی پن کا ایسا اظہار ہے جو تصنع اور صداقت کی کشاکش میں الجھے ہوئے وجود کو حیرت اور مایوسی کے اس مقام تک لے جاتی ہے جہاں اسے سب کچھ بے حقیقت نظر آنے لگتا ہے۔
انور خاں کے افسانوں میں شہری زندگی کے پر تصنع ماحول کے ساتھ ہی گاؤں کی سادہ زندگی کا عکس بھی ملتا ہے ۔افسانہ’ شاٹ‘میں مامی کا غائبانہ تعارف اوراس تعارف کے حوالے سے گاؤں کی انسانی زندگی میں اخلاص و سادگی کا اظہار یہ ظاہرکرتا ہے کہ انور خاں انسانی قدروںکی پامالی سے بچنے کا واحد راستہ انسان کی اس سادہ اور فطری زندگی میں دیکھتے ہیں جو رشتوں کے تقدس اور احترام کو بہر صورت برقرار رکھنے سے عبارت ہے۔انور خاں کے افسانوں کو اگر موضوعی تناسب کے لحاظ سے دیکھیں تو بیشتر وہ شہری معاشرہ کو ہی افسانے کا موضوع بناتے ہیں کہ اس معاشرہ کا انسان اپنی ذات میں ایسا عجائب گھر لیے پھرتا ہے جس کے مظاہر بعض اوقات حواس باختگی کا سبب بن جایا کرتے ہیں۔شہر ی زندگی کی چکاچوندمیں گم انسانی وجود اپنے باطن کی تاریکی سے الجھتے رہنے کے سبب خلفشار کی ایسی دائمی کیفیت میں مبتلا ہو جاتا ہے کہ اپنے اطراف کی ہر شے اسے ایک فریب نظر آنے لگتی ہے۔چونکہ وہ خود ایک مجسم فریب ہوتا ہے لہٰذا دوسروں کو یقین کی نظر سے دیکھنا اسے گوارہ نہیں ہوتا۔ انور خاں نے انسانی وجود پر طاری اس فریب زدگی کو مختلف صورتوں میں پیش کیا ہے جو کبھی مذہب، کبھی سیاست اور کبھی معاشی جبر کے حوالوں کے ساتھ منعکس ہوتی ہیں۔ اس ضمن میں ان کے دو افسانے ’ہوا‘ اور ’برف باری‘ کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔یہ افسانے نہ صرف موضوع کے لحاظ سے منفرد ہیں بلکہ افسانوی دنیا میں برتے جانے والے معاصر لسانی تجربات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ افسانہ ’ ہوا ‘ تمثیلی پیرائے میں لکھا گیا ہے جس میں انور خاں نے بیل اورمینڈک کی تمثیل سے اس انسانی رویہ کو پیش کیا ہے جو اپنے وجود پر فریب کا خول چڑھانے پر اس لیے آمادہ ہو جاتا ہے کہ یہ بناوٹی پن اس کے نزدیک ترقی اور کامیابی کے حصول کا وسیلہ ہے۔ یہ کوشش عارضی طمانیت کے اسباب مہیا کرتی ہے لیکن جب بناوٹی پن کے اس فشار سے جب اس کے وجود کی حقیقت پوری طرح معدوم ہونے لگتی ہے تو وہ پھر اپنے اسی اصلی رنگ میں آنے کی تمنا کرتا ہے جو اس کی حقیقی شناخت ہے۔افسانے میں ’ہوا ‘ کو معاصر سماج میںرائج اس تہذیبی رویہ کا استعارہ کہہ سکتے ہیں جو انسان کو اپنی حقیقت سے فراموش کر نقالی پر آمادہ کرتی ہے ۔ہر چندکہ اس کا یہ عمل بجائے خود اس کی ذات کے لیے ایسا مسئلہ بن جاتا ہے کہ وہ دوبارہ پھر وہی روپ حاصل کرنے کی خواہش کرتا ہے جس سے اس کے وجود کا فطری پن برقرار رہے۔اس افسانے میں انور خاں نے سیاست اور مذہب کے علاوہ اس دانشوری پر بھی گہرے طنز کیے ہیں جو اپنی فہم و فراست کو سماجی رتبہ حاصل کرنے کا وسیلہ سمجھتی ہے ۔یہ دانشوری حیات و کائنات کے حقیقی ادراک سے عاری صرف اپنے ذہن کے پروردہ خام تصورات کو دنیا کی حقیقت سمجھنے پر اکتفا کرتی ہے ۔یہ تصورات اس ’ہوا ‘ کے اثر کا نتیجہ ہوتے ہیں جو وجود کی حقیقت پر نقلی پن کا ملمع چڑھا دیتی ہے۔اس’ ہوا‘کے اثر سے مینڈکوں کا بیل میں تبدیل ہو جانا اور پھر کچھ مدت کے بعد اپنی تبدیل شدہ حالات پر افسوس کا اظہار اور پھر سے اپنے اصلی روپ کو حاصل کرنے کی خواہش کو تمثیل کے پیرائے میں بیان کرکے انورخاں نے انسانی رویہ میں شامل اس مکر وفریب کو نمایاں کیا ہے جو عارضی مفاد اور دنیوی شان و شوکت کے حصول کے لیے کسی بھی حد تک جانے کا راستہ اختیار کر لیتی ہے۔ اس افسانے کے مختلف مقامات سے درج کی گئیں مندرجہ ذیل چند سطور اس صورتحال کی موثر ترجمانی کرتی ہیں۔
’’میرے پاس کئی ڈگریاں ہیں‘‘۔
’’ میں اونچی ذات کا مینڈک ہوں۔‘‘
’’معاشیات ، اقتصادیات، نفسیات، فلسفہ، تاریخ اور ادب پر میں نے بہت ساری کتابیں پڑھ رکھی ہیں۔‘‘
’’میں سماج کے اونچے طبقے کے لوگوں سے خلط ملط رکھتا ہوں۔‘‘
’’میں انٹلکچول ہوں۔‘‘
’’خوب خوب۔۔۔۔اسلام مکمل نظام حیات ہے ۔ خوب سانس لو ، جس قدر قوت سے سانس کھینچ سکتے ہو ، کھینچو۔‘‘
’’ اگر پیٹ پھٹ جائے تو۔‘‘
’’شہید کہلاؤ گے شہید۔ اور آزادی میں بحر بیکراں ہے زندگی۔ حکیم فروغ اسلام گنگناتے اور قہقہے لگاتے زمین برابر کرتے گزر گیے۔‘‘
سائرن کی آواز کے عقب میں دو موٹر سائیکلیں زن سے گزریں اور ان کے پیچھے کار میں ایک عظیم الجثہ مینڈک سفید کرتا اور ٹوپی پہنے ہوئے گزرا۔
ان سطور میں مذہب، سیاست اور جھوٹی دانشوری کو ہدف بناتے ہوئے انور خاں نے مینڈک کی روایتی تمثیل سے استفادہ کیا ہے تاہم اس تمثیل کو انفرادیت عطا کرنے کے لیے ’ہوا‘ کے ذریعہ اپنے وجود کو تبدیل کرنے کا پہلو برآمد کر کے اس میں مزید دلچسپی اور طنز پیدا کر دیا ہے۔افسانہ ’برف باری‘ میں انور خاں نے قدرت تجریدی انداز اختیار کر کے مرکزی کردار کے حوالے سے فریب اور حقیقت کے تصادم میں اسیر انسان کی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بیان کیا ہے۔ کردار کی یہ نفسیاتی کشمکش اسے تنہائی پسند بنا دیتی ہے اور اس تنہائی میں وہ حتی المقدرو اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔اس کی یہ کوشش اسے خیال و افکار کی اس بھول بھلیاں میں لے جاتی ہے جہاں وہ اپنی ذات کے حوالے سے تہذیب و تمدن، معاشرتی اقدار اور انسانی رویہ اور رشتوں میں الجھ کر اس حقیقت کو دریافت کرنے کی سعی کرتا ہے جو آفاقیت کی حامل ہو۔ دراصل عرفان ذات کا موضوع انور خاں کے بیشتر افسانوں میں اپنے عصری سماج و تہذیب کے سیاق میں نظر آتا ہے ۔ان کا یہ تخلیقی رویہ ان کے اس تجسس کو نمایاں کرتا ہے جو کسی مظہر اور آثار کے خارجی روپ میں پوشیدہ اس حقیقت کو دریافت کرنے کا خوگر ہے جو انسانی معاشرہ کی صورت اور ہیئت کو مختلف انداز میں متاثر کرتی ہے۔
انور خاں نے انسانی معاشرہ کو متاثر کرنے والے تقریباً ہر اس رویہ کا فنکارانہ تجزیہ کرنے کی کوشش کی جو سماجی و تہذیبی دھارے کو متاثر کرتے ہیں۔اس کے لیے انھوں نے جو طرز بیان اختیار کیا وہ بظاہر سادہ لیکن در حقیقت معنی خیزی کی کئی جہتوں سے معمور ہے ۔انھوں نے اپنے افسانوں میں خصوصی طور سے حقیقت اور مصنوعیت کے اس تضاد کو پیش کیا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی قدروں میں پیچیدگی اور انتشار کی کیفیت پیدا کرتا ہے ۔وہ زندگی کی ان صداقتوں کو دریافت کرنے کی کوشش کرتے ہیں جن پر انسانیت کا تصور قایم ہوتا ہے اور اس کے لیے وہ روایت پرستی کی راہ اختیار کرنے کے بجائے ان نئی راہوں پر سفر کرنے کا عزم کرتے ہیں جو ہر لحظہ تبدیل ہوتی دنیا میں نئی منزل کی بشارت دیتی ہیں۔یہ منزل وہ ہے جو دنیا کی تہذیب و تمدن کے ارتقائی سفر میں انسانی قدروں کی بقا کو یقینی بناتی ہے ۔ انور خاں کی فنکاری کا نمایاں وصف دراصل اسی منزل کی جانب ان کا وہ فکری سفر ہے جو مختلف افسانوں کی شکل میں ظاہر ہوا ہے ۔


NAIYYAR MASOOD KE AFSANY BY QAMAR SIDDIQUI

Articles

’نیّر مسعود کے افسانے طاﺅس چمن کی مینا‘ کی تکنیک

قمر صدیقی

قمر صدیقی

’نیّر مسعود کے افسانے طاﺅس چمن کی مینا‘ کی تکنیک

 

نیّر مسعود اردو افسانے میں کئی حیثیت سے ممتاز مرتبے کے حامل ہیں۔ انھوں نے اردو افسانے میں علامتی بیانے کا ایک نیا در کھولا۔بیان کے ہنر پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے انھوں نے زبان کے تفاعل اور جملوں یافقروں کی نثری ساخت کوبھی اہمیت دی۔ بیانیہ میں شعری برتاﺅ سے شعوری انحراف کرتے ہوئے نیر مسعود نے افسانوی بیانیہ کو نثری خصوصیات سے متصف کیا۔ ان کے افسانوں میں خواب ، سرّیت، خواہش اور احساس کو واضح ترجیح حاصل ہے۔ جبکہ کئی افسانوں میں میجک رئیلزم کی کارفرمائی بھی نظر آتی ہے۔ نیّر مسعود کے فن کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کی میجک رئیلزم کی بنیاد سرّیت پر استوار ہے جس کی وجہ سے افسانوں میں قاری کو پیچیدگی نظر آتی ہے۔ ”شیشہ گھاٹ“، ” عطرِ کافور“ ، ”نصرت“ اور ”مراسلہ“ جیسے افسانے اس کی مثال ہیں۔ اِن افسانوں میں بلا کی Readability ہے اور ان کی فنی کی وقعت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا ہے تاہم یہ افسانے تفہیم کی سطح پر ذرا مشکل ہی سے کھلتے ہیں۔ اس کے برعکس ”طاﺅس چمن کی مینا“ کی ترسیل عام قاری تک ہوجاتی ہے۔
افسانے کے فن کی توضیح کرتے ہوئے پروفیسر قاضی افضال حسین نے لکھا ہے کہ:
” اگر بالکل سادہ غیر تنقیدی زبان میں کہیں تو افسانہ جھوٹ کو سچ کردکھانے کا فن ہے۔ اس لیے نہیں اس میں بیان کردہ واقعات ”سچے“ نہیں ہوتے /ہوسکتے بلکہ اس اعتبار سے کہ افسانہ نگار ، ہر وہ فنی تدبیر استعمال کرتا ہے جس سے وہ اپنے قاری کو یقین دلا سکے کہ وہ افسانہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ سچا واقعہ سنا رہا ہے اور اگر اس نے افسانے کی تشکیل کے لیے کوئی خاص یا مکانی عرصہ منتخب کیا ہے ، جس کا تعلق ماض؟ی بعید سے ہوتو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ افسانے کے خیالی بیانیہ کو تاریخی واقعہ کی شکل دے کر قاری کو یقین دلا دے کہ وہ ”فرضی“ کہانی نہیں سنا رہا ، ایک خاص انداز سے تاریخ بیان کررہا ہے۔
(تحریر اساس تنقید۔ از: پروفیسر قاضی افضال حسین۔ ص: ۳۵۲۔ ایجوکیشنل بک ہاﺅس، علی گڑھ۔ ۹۰۰۲ئ)
اس طرح کے تاریخی افسانے کے لیے ایک ترکیب یہ ہے کہ ماضی کے کسی زمانے کا تعین کرکے جگہ ، اس عہد کے مخصوص افراد ، تعمیرات، اسمائے خاص اور لوگوں کو پیش آنے والے واقعات کو بطور حوالہ شامل کردیا جائے۔مذکورہ اسما یا واقعات کا شدید حوالہ جاتی کردار بیان کی افسانویت کی پردہ پوشی کرتا ہے اور قاری افسانے کو ایک مکمل سچا واقعہ سمجھ کر پڑھتا ہے۔ اس نوع کی سب سے روشن مثال ڈراما انار کلی ہے۔ جس کی افسانویت کواکثر کم پڑھے لکھے لوگ آج بھی سچ سمجھتے ہیں۔ عہد حاضر میں نیر مسعود اور شمس الرحمن فاروقی نے اس طرز کے افسانے لکھے ہیں۔ نیّر مسعود کا افسانہ ”طاﺅس چمن کی مینا “ اس نوع کا ایک منفرد اورمتنوع افسانہ ہے۔ یہ افسانہ اپنی فنی خوبیوں کے سبب پچھلی ایک دہائی سے اردو میں بہت زیادہ موضوع بحث رہنے والے افسانوں میں سے ایک ہے۔
افسانہ ”طاﺅس چمن کی مینا“ تاریخ اور تہذیب کے پس منظر میں اپنے قصے کو پیش کرتا ہے۔ افسانے کا راوی کالے خان جو کہانی کا مرکزی کردار بھی ہے ، صیغہ¿ واحد حاضر میں پوری کہانی بیان کرتا ہے۔ کہانی کچھ اس طرح ہے کہ کالے خان کی بیوی انتقال کے وقت ایک چھوٹی سی بچی چھوڑ جاتی ہے جس کا نام فلک آرا ہے۔ بیوی کی ناگہانی موت سے کالے خان ذہنی طور پر پریشان ہوجاتا ہے ۔ اسی پریشانی کے عالم میں اسے گھومتا دیکھ کرشاہی جانوروں کے داروغہ نبی بخش نے اس پر رحم کھا کر اسے قیصر باغ کے طاﺅس چمن میں ملازمت دلا دی۔ ملازمت ملنے کے بعد وہ اپنی بچی کی طرف ملتفت ہوتا ہے۔ بچی کالے خان سے ایک پہاڑی مینا لانے کی ضد کرتی ہے۔ لیکن کالے خان کے معاشی حالات ایسے نہیں ہیں کہ وہ بچی کی اس خواہش کو پوری کرسکے۔ کیونکہ بیوی کی وفات کے بعد سے وہ بے روزگار تھا لہٰذا تنخواہ کا پیش تر حصہ قرض کی ادائیگی کی نذر ہوجاتا تھا۔ اس درمیان اسے اطلاع ملتی ہے کہ سلطان عالم طاﺅس چمن کے لیے ایک ایجادی قفس بنوا رہے ہیں جس میں پرندے رکھے جائیں گے۔ ایجادی قفس تیار ہوجاتا ہے۔ اس میں چالیس پہاڑی مینائیں رکھی جاتی ہیں۔ اُدھر کالے خان کی بچی کی ضد روز بروز بڑھتی جاتی ہے۔وہ سوچتا ہے کہ قفس میں کل چالیس مینائیں ہیں لیکن ان کا شمار کرنا مشکل ہے کہ پوری چالیس ہیں یا ان میں سے ایک کم ہے۔ لہٰذا بچی کی معصومانہ خواہش کی خاطر کالے خان ایجادی قفس کی ایک مینا جس کا نام سلطان عالم نے فلک آرا رکھا ہے چُرا لاتا ہے۔چونکہ یہ مینا کالے خان کی بچی کی ہم نام تھی اس لیے اِس مینا سے اسے پہلے ہی سے کچھ کچھ انسیت تھی۔ایک روز سلطان عالم ایجادی قفس کی طرف چلے آتے ہیں اور میناﺅں کو دیکھ کر محسوس کرلیتے ہیں ان میں فلک آرا نہیں دکھائی دے رہی ہے۔ وہ داروغہ نبی بخش سے سوال کرتے ہیں ۔ داروغہ انھیں بتاتے ہیں کہ وہ انھیں میناﺅں میں کہیں چھپی ہوگی اور سلطان عالم مطمئن ہوکر چلے جاتے ہیں۔ لیکن کالے خان کا اطمینان رخصت ہوجاتا ہے ۔ وہ مینا فلک آرا کو اپنے گھر سے واپس لاکر ایجادی قفس میں ڈال دیتا ہے۔ ایک روز سلطان عالم پورے اہتمام سے کچھ انگریزوں کو اپنا ایجادی قفس اور اس کی میناﺅں کے کرشمے دکھانے لاتے ہیں۔ ان کے ساتھ پرندوں کو پڑھانے والے میر داﺅد بھی ہیں جنھوں نے ان میناﺅں کو گانا سکھایا ہے۔مینائیں میر داﺅد کے پڑھائے اشعار گاتی ہیں لیکن دیگر میناﺅں کے برخلاف فلک آرا مینا کالے خان کی بیٹی کے پڑھائے جملے بولتی ہے۔ سلطان عالم ناراض ہوجاتے ہیں اور یہ راز کھل جاتا ہے کہ یہ مینا ایجادی قفس سے باہر لے جائی گئی تھی۔ کالے خان کے خلاف کاروائی ہوتی ہے۔ اُس کی نوکری چھن جاتی ہے اور مقدمہ چلانے کی تیاری ہوتی ہے۔ داروغہ نبی بخش کی رہنمائی کے سبب کالے خان سلطان عالم تک اپنا مکمل احوال پہنچاتا ہے۔ سلطان عالم اس کا قصہ سن کر اسے معافی دے دیتے ہیں اور وہ پہاڑی مینا بھی اس کی بیٹی فلک آرا کو نواز دیتے ہیں۔ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی ۔ یہاں سے ایک پیچیدگی اور شروع ہوتی ہے کہ مذکورہ مینا کے بول ایک انگریز عہدیدار کو بھا جاتے ہیں اور وزیر اعظم اُس انگریز سے اس مینا کے لیے وعدہ کرلیتے ہیں۔ ہرچند کہ وزیر اعظم سلطان عالم سے آگے جانے کی سکت نہیں رکھتے تاہم کسی حیلے بہانے سے وہ مینا کالے خان سے حاصل کرکے انگریز کو نذر کرنے کا ذہن بنا لیتے ہیں۔ داروغہ نبی بخش اور کالے خان نہیں چاہتے کہ اس طرح کا کوئی معاملہ ہو اور سلطان عالم کو اس سے رنج پہنچے۔ لہٰذا نبی بخش کی حکمت عملی کے مطابق مینا اور فلک آرا کو نبی بخش کہیں اور لے کر چلے جاتے ہیں۔ جبکہ اپنا منصوبہ ناکام ہوتا دیکھ کر وزیر اعظم کالے خان کو جیل بھیج دیتے ہیں۔ کچھ عرصے بعد لکھنو¿ پر انگریزوں کا تسلط ہوجاتا ہے اور بہت سے قیدی رہا کردیئے جاتے ہیں۔ ان رہا کیے گئے قیدیوں میں کالے خان بھی ہے۔ وہ جیل سے باہر آتا ہے تو لکھنو¿ کا نقشہ بدلا ہوا ہے۔ سلطان عالم قید کرکے جلا وطن کردیئے گئے ہیں۔ وہ اپنی بیٹی فلک آرا کے پاس جاتا ہے ۔ جو اُس کی گود میں بیٹھ کر اُس پہاڑی مینا کے قصے بیان کرنے لگتی ہے۔یہاں پر افسانہ اختتام پذیر ہوتا ہے ۔
نیّر مسعود نے اس افسانے کا آخری پیراگراف اس چابکدستی سے لکھا ہے کہ گویا یہ افسانہ ختم ہوکر بھی قاری کے ذہن میں جاری رہتا ہے۔ ملا حظہ ہو:
” لکھنو¿ میں میرا دل نہ لگنا اور ایک مہینے کے اندر بنارس میں آرہنا، شاون کی لڑائی، سلطان عالم کا کلکتے میں قید ہونا، چھوٹے میاں کا انگریز سے ٹکرانا، لکھنو¿ کا تباہ ہونا، قیصر باغ پر گوروں کا دھاوا کرنا، کٹہروں میں بند شاہی جانوروں کا شکار کھیلنا، ایک شیرنی کا اپنے گورے شکاری کو گھائل کرکے بھاگ نکلنا، گوروں کا طیش میں آکر داروغہ نبی بخش کو گولی مارنا، یہ سب دوسرے قصے ہیں اور ان قصوں کے اندر بھی قصے ہیں۔ لیکن طاﺅس چمن کی مینا کا قصہ وہیں پر ختم ہوجاتا ہے جہاں ننھی فلک آرا میری گود میں بیٹھ کر اس کے نئے نئے قصے سنانا شروع کرتی ہے۔“
(طاﺅس چمن کی مینا۔ از: نیّر مسعود۔ ص: ۵۰۲۔ عرشیہ پبلی کیشن۔ نئی دہلی۔ ۳۱۰۲ئ)
اس افسانے میں قصے کے ساتھ تاریخی و تہذیبی عناصر بالکل چپک کر چلتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ افسانے کا راوی یعنی کالے خان تاریخ کی کتابوں میں کہیں موجود نہیں ہے لیکن سلطان عالم یعنی واجد علی شاہ ایک تاریخی فرد ہیں۔ اس کے علاوہ بھی افسانے میں تہذیبی طور پر بہت سے عناصر سلطان عالم کی تاریخیت کو مستحکم کرتے نظر آتے ہیں۔ مثلاً حسین آباد کا امام باڑہ، لکھنو¿ کی معاشرت میں اس کی اہمیت، نواب نصیر الدین حیدر کا انگریزی دوا خانہ ، لکھّی دروازہ ، قیصر باغ ، درشن سنگھ باﺅلی وغیرہ تو بالکل سامنے کے وسائل ہیں۔
یہ افسانہ نیّر مسعود نے اپنے عام ڈکشن سے ہٹ کر لکھا ہے۔ البتہ زبان و بیان کی وہی خوبی اس افسانے میں بھی ہے جو نیّر مسعود کا طرہ امتیاز سمجھی جاتی ہے۔ جزیات نگاری کا کمال اس افسانے میں بھی صاف جھلکتا ہے۔ روز مرہ کی چھوٹی چھوٹی باتیں ، اہم اور غیر اہم واقعات ، آدھے ادھورے خواب ، یاداشتیں الغرض کہ اس افسانے میں اتنی ہما ہمی اور اتنا رنگ ہے کہ پورا افسانہ مختلف رنگوں کا ایک کولاژ معلوم ہوتا ہے۔ لیکن اِس کولاژ میں اصل کہانی کا رنگ دیگر رنگوں کی بہ نسبت زیادہ روشن ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کہانی قاری کے ذہن میں اترتی چلی جاتی ہے۔ عصری افسانے میں اس افسانے کا اختصاص یہ ہے کہ اس کی تقلیدیا تتبع تو نہیں لیکن اس طرز میں چار افسانے شمس الرحمن فاروقی نے لکھے ہیں۔ اور یہی اس افسانے کے رجحان ساز ہونے کی دلیل بھی ہے۔
٭٭٭

DAGH KI SHERI HIKMAT E AMLI BY AHMED MAHFOOZ

Articles

داغ کی شعری حکمت عملی کے چند پہلو

پروفیسر احمد محفوظ

پروفیسر احمد محفوظ

داغ کی شعری حکمت عملی کے چند پہلو

نواب مرزا داغ اردو کی کلاسیکی شعری رواےت کے آخری اہم ترین شعرا میں ہیں۔ خیال رہے کہ یہاں ”اہم ترین“ کا لفظ میں نے دانستہ طور پر استعمال کیا ہے، اور جان بوجھ کر داغ کو بڑا یا عظیم شاعر کہنے سے گریز کیا ہے۔لیکن اس کا مطلب یہ بھی نہیں ہے کہ وہ معمولی اور کمتر درجے کے شاعر ہیں۔بات دراصل یہ ہے کہ جدید زمانے میں داغ کو عام طور پر جس حیثےت سے دیکھا گےا،اور ان کے بارے میںجو خیالات مشہور کےے گئے، اس کی روشنی میں داغ ایک ایسے شاعر کے طور پر سامنے آتے ہیں، جس کی تقریباً تمام شاعری محض تفریحی قسم کی اور سطحی جذبات و احساسات کی حامل ٹھہرائی گئی ہے۔اس سے ہٹ کر اگر داغ کو کسی حد تک قابل ذکر سمجھا بھی گےا، تو اس کا سہرا ان کی زبان دانی اور محاوروں کے برجستہ استعمال وغیرہ کے سر رکھا گےا۔اس کا ایک بین ثبوت یہ بھی ہے کہ داغ کے جو اشعار عام طور سے زبان زد رہے ہیں، وہ وہی ہیں جن میں داغ نے اردو زبان کی غیرمعمولی حیثےت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اپنی زبان دانی کا برملا اظہار کیا ہے۔مثلاً اس شعر سے بھلا کون واقف نہ ہوگا
نہیں کھیل اے داغ یاروں سے کہہ دو
کہ آتی ہے اردو زباں آتے آتے
اوریہ شعر بھی

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
ہم کہہ سکتے ہیں کہ جدید عہد میں داغ کی شہرت کی عمارت زےادہ تر ایسے اشعار پر قائم کی گئی، جن سے ان کی مہارت زبان وغیرہ کا اظہار ہوتا تھا۔اسی کے ساتھ ایک بات یہ بھی ہے کہ داغ کی استادی کا چرچا بڑی شدومد کے ساتھ کیا جاتا رہاہے، اور یہ کچھ بے جا بھی نہیں۔لیکن مشکل یہ آپڑی کہ کلاسیکی دور میں استادی کا جو تصور تھا، وہ جدید زمانے میں بوجوہ تبدیل ہو گےا۔کلاسیکی عہد میں استاد ہونے کے صرف یہ معنی نہیں تھے کہ جس شاعر سے لوگ شعر کا فن سیکھیں اور شعرگوئی کی تربےت حاصل کریں، وہی استاد کہلانے کا مستحق ہے، بلکہ استاد ہونے کے لازمی طور پر یہ معنی سمجھے جاتے تھے کہ استاد وہ شاعر ہے جو فن شعر کے تمام اصول و قواعد سے نہ صرف پوری طرح آگاہ ہے ، بلکہ ان اصولوں کو پوری مہارت کے ساتھ برتنے پر بھی قادر ہے۔اس طرح ہماری کلاسیکی تہذیب اچھے اور بڑے شاعر میں اور استاد شاعر میں فرق نہیں کرتی تھی۔کسی شاعر کے استاد ہونے کے معنی ہی یہ تھے کہ وہ چاہے بڑاشاعر نہ ہو،لیکن اچھا اور قابل ذکر شاعر ضرور ہے۔ اسی کے ساتھ اس تہذیب میں یہ بھی تھا کہ اچھے یا استاد شاعر ہونے کی بنےاد شاعری کے فنی معےاروں پر قائم تھی۔”مقدمہ¿ شعروشاعری“ میں جہاں حالی نے اعلیٰ درجے کے شعرا کے کلام کی عمومی کیفےت کا ذکرکیاہے، وہاں انھوں نے ان شعرا کے لےے بڑے یا عظیم کا لفظ نہیں استعمال کیا،بلکہ انھیں استاد ہی کہا ہے۔حالی کہتے ہیں:
یہ بات یاد رکھنی چاہےے کہ دنیا میں جتنے شاعر استاد مانے گئے ہیں،یا جن کو استاد ماننا چاہےے، ان میں ایک بھی ایسا نہ نکلے گا جس کا تمام کلام اول سے آخر تک حسن ولطافت کے اعلیٰ درجے پر واقع ہوا ہو۔کیونکہ یہ خاصےت صرف خدا ہی کے کلام میں ہو سکتی ہے۔
اس اقتباس سے بات بالکل صاف ہو جاتی ہے۔لیکن جب ہم کلاسیکی عہد کے بعد یعنی جدید زمانے میں استاد کے معروف تصور پر نظر ڈالتے ہیں تو اس کی صورت بہت بدلی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔اب استاد ہونے کے یہ معنی سمجھے اور سمجھائے گئے کہ جو شاعر فن شعر کے اصولوں سے واقف ہو اور زبان وغیرہ پوری صحت و درستی کے ساتھ استعمال کرے، وہ استاد کہلائے گا،اور یہ بھی کہ اس کے شاگردوں کا ایک حلقہ بھی ہو۔ یہاں تک تو بات پھر بھی ٹھیک تھی۔ لیکن اسی کے ساتھ یہ تصور بھی وابستہ ہو گےا کہ چونکہ استاد شعرا زےادہ تر صحت زبان وبےان ہی پر قناعت کرتے ہیں،اس لےے ان کے یہاں اچھی شاعری یا اعلیٰ درجے کی شاعری کی تلاش بے سود ہے۔اس تصور کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ اچھااورقابل ذکریا بڑا شاعر ہونے کے لےے استاد ہوناضروری نہیں۔ذرا آپ غور کریں کہ اگر کوئی شاعر اپنے کلام میں زبان وبےان کی صحت کا خیال نہیں رکھتا، اور فنی اصولوں کو درستی کے ساتھ برتنے پر قادر نہیں ہے تو اس کا اچھا اور بڑا شاعر ہونا تو دور رہا، اس کا شاعر ہونا ہی معرض سوال میں آ جائے گا۔ ظاہر ہے،استادی کے اس جدید تصور کے زیر اثر ہمارے بہت سے قابل ذکر اور بلند پایہ شعرا وہ حیثےت حاصل نہ کر سکے، جس کے وہ حقیقی طور پر مستحق تھے۔افسوس کہ ان میں داغ جیسا بے مثال اور بلند مرتبہ شاعر بھی شامل ہے۔چنانچہ داغ کی شاعرانہ حیثےت کے بارے میں جن باتوں کو بے انتہا شہرت حاصل ہے،ان کا ماحصل صرف یہی نکلتا ہے کہ داغ کی استادی میں تو کوئی شبہ نہیں، لیکن وہ شاعر معمولی درجے کے تھے۔
یہاں میرا مقصد داغ کے شاعرانہ مرتبے کو زیر بحث لانا نہیں،بلکہ ان کی شعری حکمت عملی کے کچھ پہلوو¿ں کی نشان دہی کرنا ہے،جس کا ذکر آگے آتا ہے۔لیکن چونکہ داغ کے شاعرانہ مرتبے کی تخفیف کا کام کچھ زےادہ ہی زور شور کے ساتھ کیا گےا ہے،اس لےے اس ضمن میں اتنا کہے بغیرمیںنہیں رہ سکتاکہ شاعرانہ مرتبے کے لحاظ سے داغ کی حیثےت اگر کمتر ہے تو یہ کمتری بڑے کلاسیکی شعرا کے مقابلے میں ہے۔بالکل اسی طرح جیسے ناسخ، مصحفی،ذوق اور مومن وغیرہ کی حیثےت میر اور غالب کے سامنے ہے۔لہٰذا جب داغ کو کمتر کہا جائے گا تو اس کے یہ معنی ہرگز نہیں ہوں گے کہ وہ ہما شما کے مقابلے میں کمتر ہیں۔
چونکہ شعری حکمت عملی کے بنےادی عناصر کا تعلق فن شعر کے اصولوں سے ہے، اس لےے داغ کی شعری حکمت عملی کو بھی اسی روشنی میں دیکھنا مناسب اور بامعنی ہوگا۔داغ نے اپنے شاگردوں کی ہداےت کے لےے جو ”پندنامہ“ لکھا ہے، اس میں فن شعر کے تقریباً تمام اصول بےان کر دےے ہیں۔ان میں زےادہ تر باتیں تو مطلق اصول کی حیثےت رکھتی ہیں،یعنی ان کی پابندی ہر شاعر کے لےے اور ہمیشہ ناگزیر ہے، لیکن کچھ باتیں ایسی بھی بےان ہوئی ہیںجنھیں مختلف فیہ کہا جاسکتا ہے۔یعنی داغ ان کی پابندی کو ضروری سمجھتے ہیں، لیکن دیگر شعرا کا عمل اس سے مختلف ہے یا ہو سکتا ہے۔یہاں ان کی تفصیل میں جانے کا موقع نہیں، البتہ چند کا ذکر ضروری معلوم ہوتا ہے۔
اس پند نامے میں داغ نے سب سے پہلے جس چیز کا ذکر کیا ہے، وہ بندش کی چستی ہے۔ہماری شعری تہذیب میں بندش کی چستی سے یہ مراد لیا گےا ہے کہ شعر میں جتنے الفاظ لائے جائیں، ان کی نشست ایسی ہو کہ کوئی لفظ اپنی جگہ سے ہٹاےا نہ جا سکے۔اس کے علاوہ یہ بھی لازم ہے کہ شعر میں مستعمل ہر لفظ معنی و مضمون کے لحاظ سے کارگر ہو۔اگر ایسا نہیں ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ لفظ بھرتی کا ہے۔ ظاہر ہے، اس سے بھی شعر کی بندش متاثر ہوتی ہے۔اس پہلو کو خواجہ حیدر علی آتش نے بڑی خوبی سے ایک شعر میں بےان کیا ہے
بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں
شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا
شعر میں ایک لفظ بھی اگر پوری طرح کام نہیں کرتا تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اس لفظ کی جگہ شعر میں خالی رہ گئی، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ شعر جو مثل نگینے کے ہے،اس میں ایک نگ نہیں ہے۔آپ خود غور کریں کہ ایسی صورت میں شعر کو فنی اعتبار سے مکمل کیونکر کہا جا سکتا ہے۔لہٰذا ثابت ہوا کہ شعر میں بندش الفاظ کی اہمےت بنےادی اور غیرمعمولی ہے۔مضمون خواہ کیسا بھی ہو، بندش کا چست ہونا کامےاب شعر کی اولین شرائط میںہے۔اب بطور مثال داغ کے چند اشعار بھی دیکھتے چلیں،تاکہ اس صفت کا اندازہ ہو سکے:
آج گھبرا کر وہ بولے جب سنے نالے مرے
جان کے پیچھے پڑے ہیں چاہنے والے مرے
۔۔۔
بیٹھیں گے نہ خاموش ہم اے چرخ ستمگار
تھک جائیں گے نالوں سے تو فرےاد کریں گے
۔۔۔
کچھ نہ ہو تیری محبت میں پر اتنا ہو جائے
کہ تری بدمزگی مجھ کو گوارا ہو جائے
۔۔۔
ان اشعار پر الگ الگ گفتگو طوالت کا سبب ہوگی،اس لےے صرف آخری شعر میں ایک لفظ کی طرف توجہ دلانے پر اکتفا کرتا ہوں۔لفظ ”گوارا“ کو عام طور پر قابل برداشت کے مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے، لیکن اس کے معنی میٹھے اور لذیذ کے ہیں۔اسی لےے ”آب گوارا“ کی ترکیب میٹھے اور لذیذ پانی کے لےے استعمال ہوتی ہے۔اب دوسرے مصرعے میں بدمزگی کے ساتھ ”گوارا“ کے استعمال کو دیکھےے اور داد دیجےے۔علاوہ ازیں لفظ ”گوارا“ میں داغ نے ایہام کا پہلو بھی رکھ دیا ہے۔
کلاسیکی شعری تہذیب میں ایہام کو ہمیشہ تحسین کی نظر سے دیکھا گےاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ معنی آفرینی کے وسائل میں اسے ایک نہاےت کارگر وسیلے کی حیثےت بھی حاصل رہی۔لیکن یہ عجیب بات ہے کہ جدید زمانے میں اسے نہاےت مکروہ اور مضرت رساں کہہ کر مطعون کیا گےا۔ایہام کے بارے میں داغ کیا رائے رکھتے ہیں،اسے انھیں کی زبان سے سن لیتے ہیں۔”پندنامہ“ کا یہ شعر ملاحظہ ہو
شعر میں آئے جو ایہام کسی موقع پر
کیفےت اس میں بھی ہے وہ بھی نہاےت اچھا
اس شعر کی روشنی میں ایہام کے تئیں داغ کا موقف اس کے سوا اور کیا ظاہر کرتا ہے کہ ایہام ان کی نظر میں مستحسن ہے ۔بہرحال یہ تو ان کی رائے تھی۔اب ان کا عمل بھی دیکھ لیا جائے۔ان کا مشہور مطلع ہے
غضب کیا ترے وعدے پر اعتبار کیا
تمام رات قےامت کا انتطار کیا
یہاں لفظ ”قےامت“ کا ایہام داد سے مستغنی ہے۔پھر مزید لطف یہ کہ ”قےامت کا انتظار“ کا پورا فقرہ ایہام کی کیفےت رکھتا ہے۔اس کے ایک معنی تو یہ ہیں کہ یہ انتظار نہاےت تکلیف دہ ہے، دوسرے یہ معنی کہ معشوق خود قےامت ہے۔ لہٰذا اس کا انتظار گویا قےامت کے انتظار کی طرح تھا۔ایہام کی کارفرمائی کی ایک مثال اور دیکھےے
لگی ہے پنجہ¿ مژگاں میں خون دل سے حنا
ہماری آنکھ ملی سب سے سرخ رو ہو کر
یہ شعر مضمون آفرینی کی نہاےت عمدہ مثال تو ہے ہی، ساتھ ہی اس میں ایہام رکھ کر داغ نے معنی آفرینی کے بھی مزید ابعاد روشن کر دےے ہیں۔یہاں بیک وقت دو لفظوں کو ایہام کا حامل بناےا گےا ہے۔یہ الفاظ ”سرخ رو“ اور ”ملی“ ہیں۔”سرخ رو“ کے معنی کامےاب و کامران کے ہیں، لیکن لغوی معنی کے لحاظ سے سرخ رو وہ ہے، جس کے چہرے کا رنگ سرخ ہو۔اسی طرح ”آنکھ ملی“ کے ایک معنی ہیں ،”آنکھیں چار ہوئیں“ اور دوسرے معنی ہیں”آنکھ نے ملاقات کی“ جیسے ہم کہتے ہیں، ہم ان سے مودب ہو کر ملے۔آپ یہ بھی غور کریں کہ مژگاں کو آنکھ کا چہرہ کہنا کس قدر مناسب ، با معنی اور بدیع ہے۔پورا شعر نہاےت اعلیٰ درجے کی فنکاری کا نمونہ ہے۔
کلاسیکی شعرا کو پڑھنے کے کچھ مخصوص تقاضے ہیں۔اگر انھیں پیش نظر نہ رکھا جائے تو ان شعرا کو پڑھنا ہمیں درست نتائج تک نہیں پہنچا سکتا۔داغ کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے اس پہلو کی طرف شمس الرحمن فاروقی نے خاص طور سے توجہ دلائی ہے۔ انھوں نے لکھا ہے:
ہمارے یہاں سب سے بڑی کمی یہ ہے کہ ہم کلاسیکی شاعروں کو پڑھتے وقت یہ بات نظر انداز کر دےتے ہیں کہ کلاسیکی شاعر کے پہلے کسی نے کیا کہا،اور اس کلاسیکی شاعر کے بعد کسی نے کیا کہا؟اس کو دھےان میں رکھے بغیر آپ اس شاعر کے ساتھ انصاف نہیں کرسکتے،کیونکہ یہ سب لوگ Intertextual ہیں۔ایک کا سرا ایک سے جڑا ہوا ہے۔ہو سکتا ہے مثلاً منیر نےازی کے بارے میں میں کہوں کہ ان کو پڑھنے کے لےے ضروری ہے کہ آپ داغ کو پڑھیںیا امیر کو پڑھیں۔ہو سکتا ہے آپ کہیں کہ نہیں،ضروری نہیں ہے۔لیکن داغ کو ،جلال کویا امیر کو پڑھنے کے لےے یہ قطعی ضروری ہے کہ آپ فارسی اردو کے شعرا ،جو ان کے پہلے ہو چکے ہیںاور جن سے یہ متاثر ہوئے، جن کے ساتھ ساتھ اور جن کی روشنی میں انھوں نے اپنے کو شاعر سمجھا، ان کو دیکھیں کہ انھوں نے کیسے شعر کہے۔اور یہ دیکھیں کہ ان پیش روو¿ں اور معاصروں کی بنائی ہوئی دنیا میں داغ یا امیر یا جلال کہاں کھڑے ہیں۔
اس اقتباس میں جس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے،اس میں بیک وقت کئی باتیں شامل ہیں۔لیکن اس میں سب سے بنےادی بات فارسی اور اردو غزل کی پوری شاعری میں مضامین کی وحدت کا معاملہ ہے۔یہ جو کہا جاتا ہے کہ کلاسیکی غزل کا کوئی شعر مضمون کے لحاظ سے اپنا بالکل جداگانہ وجود نہیں رکھتا، تو اس کے یہی معنی ہیں کہ وہ سارے مضامین کہیں نہ کہیں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔اس پہلو سے جب ہم داغ کے اشعار پر غور کرتے ہیں تو نہاےت دلچسپ صورتیں نظرآتی ہیں، اور اس سے داغ کی غیر معمولی تخلیقی کارکردگی کااندازہ ہوتا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ کیجےے۔
والہ داغستانی کا شعر ہے
آہستہ خرام بلکہ مخرام
زیر قدمت ہزار جانست
اب دیکھےے اس مضمون کو میر کہاں لے جاتے ہیں
جانیں ہیں فرش رہ تری مت حال حال چل
اے رشک حور آدمیوں کی سی چال چل
آپ دیکھیں کہ اس مضمون پر مبنی ایسے زبردست دو شعروں کے سامنے داغ اپنا چراغ جلاتے ہیں، اور حق یہ ہے کہ داغ کا شعر بھی اپنی جگہ پوری آب وتاب کے ساتھ قائم ہے
بہت آنکھیں ہیں فرش راہ چلنا دیکھ کر ظالم
کف نازک میں کانٹا چبھ نہ جائے کوئی مژگاں کا
داغ کی قابل ذکر شاعرانہ حیثےت کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ غالب جیسا عظیم شاعر ان کے کلام کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے، اور یہی نہیں بلکہ فرمائش کرکے اپنی غزلوں پر غزلیں کہلاتا ہے۔چنانچہ داغ کی بہت سی غزلیں غالب کی زمین میں ہیں۔غالب کی مشہور غزل کا مطلع ہے

شوق ہر رنگ رقیب سروساماں نکلا
قیس تصویر کے پردے میں بھی عرےاں نکلا
داغ نے اس زمین میں غزل کہی اور مطلعے میں مضمون بھی تقریباً یہی باندھا۔ملاحظہ ہو
نہ کبھی جیب خجالت سے یہاں سر نکلا
قیس دیوانہ تھا جامے سے جو باہر نکلا
غالب کے زبردست مصرع ثانی کے سامنے ”قیس دیوانہ تھا جامے سے جو باہر نکلا“ جیسا مصرع کہہ کر مطلع بنانا معمولی بات نہیں۔پھر یہ بھی دیکھےے کہ غالب نے تصویر کے پردے میں قیس کے عرےاں نکلنے کی بات کہی،جس میں قول محال کی صورت ہے۔داغ نے شاےد محسوس کر لیا تھا کہ اس سے آگے خیال کو لے جانا نہاےت مشکل ہے، اس لےے انھوں نے جامے سے باہر نکلنے کا محاورہ اس طرح استعمال کیا کہ اس میں ایہام کی کیفےت بھی پیدا ہوگئی۔مزید یہ کہ انھوں نے ”قیس دیوانہ تھا“ کا ایسا بامعنی اور برجستہ فقرہ رکھ دیا جس کی جتنی داد دی جائے کم ہے۔
ذوق کا مشہور زمانہ مطلع کس کو یاد نہ ہوگاجس کے بارے میں کہا گےا ہے کہ غالب بھی اس پر سر دھنتے تھے
اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ مر جائیں گے
مر کے بھی چین نہ پایا تو کدھر جائیں گے
حق تو یہ ہے کہ ایسے مضمون کو ہاتھ لگانا ہی بڑے دل گردے کی بات ہے۔لیکن داغ کی قدرت بےان دیکھےے کہ اسی مضمون کو کہا اور خوب کہا۔یہ الگ بات ہے کہ ذوق کے شعر کی سی کیفےت اور برجستگی تو داغ کے یہاں پیدا نہیں ہوئی، لیکن ان کا شعر پھر بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب کہا جا سکتا ہے۔ملاحظہ ہو

آرام کے لےے ہے تمھیں آرزوے مرگ
اے داغ اور جو چین نہ آیا فنا کے بعد
داغ کی شعری حکمت عملی کا ایک نہاےت اہم پہلو زور بےان ہے۔ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بےان کا زور وہیں زےادہ کارفرما ہوتا ہے، جہاں کلام میں برجستگی کی صفت زےادہ ہوتی ہے۔اور برجستگی کے لےے عام طور سے کلام کی صفائی ضروری خیال کی جاتی ہے۔اس صفت کو کلاسیکی ادبی تہذیب میں صفائی بےان،صفائی کلام اور صفاے گفتگو وغیرہ الفاظ سے ظاہر کیا گےا ہے۔واضح رہے کہ اس سے زبان کی صفائی مراد نہیں ہے،بلکہ اس سے مضمون کو ایسے پیرائے میں ادا کرنا مراد ہے، جس میں کوئی الجھاو¿ کی کیفےت نہ پائی جائے۔اس طرح دیکھا جائے تو صفائی بےان، برجستگی اور زور بےان سب ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔اس صفت کی عملی صورت کے لےے داغ کے یہاں سے متعدد مثالیں لائی جا سکتی ہیں، لیکن یہاں ذوق اور داغ کے صرف ایک ایک شعر کی مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔پہلے ذوق کو سنےے
حالت پہ مری کون تاسف نہیں کرتا
پر میرا جگر دیکھو کہ میں اف نہیں کرتا
اور داغ کا یہ مطلع دیکھےے
کبھی فلک کو پڑا دل جلوں سے کام نہیں
اگر نہ آگ لگا دوں تو داغ نام نہیں
صاف محسوس کیا جا سکتا ہے کہ دونوں شعر زور بےان کے لحاظ سے غیرمعمولی حیثےت کے حامل ہیں، اور جیسا کہ میں نے اوپر عرض کیا، بےان کی صفائی اور برجستگی کی کیفےت بھی دونوں شعر میں برابر کی ہے۔البتہ ان صفات کے علاوہ داغ کے یہاں شعر کی خوبی کے جو مزید پہلو ہیں،اس سے ذوق کا شعر خالی ہے۔مثلاً داغ کے یہاں دل جلوں اور آگ لگانے میں تو مناسبت تھی ہی، لفظ ”داغ“ نے اس مناسبت کو آسمان پر پہنچا دےا۔یہاں داغ کا لفظ محض اس لےے کارآمد نہیں ہے کہ یہ شاعر کا تخلص ہے، کیونکہ اگر تخلص سے وہ بات پیدا ہوتی تو داغ کی جگہ ذوق رکھ دینے سے بھی وہی کیفےت شعر میں قائم رہنی چاہےے۔یعنی اس مصرع یوں کرکے دیکھیں
اگر نہ آگ لگا دوں تو ذوق نام نہیں
معلوم ہوا کہ وہ کیفےت اب بڑی حد تک معدوم ہوگئی۔اس سے ظاہر ہوا کہ اس میں محض تخلص کا عمل دخل نہیں ہے، بلکہ کچھ اور معاملہ بھی ہے۔دراصل ”داغ“ کے کئی معنی ہیں، اور ان میں ایک مجازی معنی چراغ کے ہیں۔داغ ہی کا ایک مشہور مطلع ہے
آج راہی جہاں سے داغ ہوا
خانہ¿ عشق بے چراغ ہوا
اس طرح ثابت ہوا کہ ذوق کے مقابلے میں داغ کے شعر میں زور بےان کے علاوہ جو مزید کیفےت پیدا ہوئی ہے، اس کا بنےادی سبب یہ ہے کہ لفظ داغ تخلص ہونے کے ساتھ معنی کے لحاظ سے ”دل جلوں“ اور” آگ لگا دوں“ کے فقروں سے گہری مناسبت رکھتا ہے۔
یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مضمون کے آخر میں داغ کے چند ایسے اشعار نقل کیے جائیںجو معروف نہیں ہیں،لیکن جن کو سن کر داغ کی شعری حکمت عملی کے مزید پہلوو¿ں کا احساس و ایقان ضرور ہوگا۔
کی ترک مے تو مائل پندار ہو گےا
میں توبہ کرکے اور گنہگار ہو گےا
۔۔۔
انکار وصل منھ سے نہ نکلا کسی طرح
اپنے دہن سے تنگ وہ غنچہ دہن ہوا

کیا کیا ملائے خاک میں انسان چاند سے
سچ پوچھےے اگر تو زمیں آسماں ہے اب
۔۔۔
وہی تو ہے شعلہ¿ تجلی کہ دشت ایمن سے تنگ ہوکر
جب اس نے اپنی نمود چاہی کھلا حسینوں پہ رنگ ہوکر
۔۔۔
ملے تھے لب ہی اس لب سے کہ مارا تیغ ابرو نے
یہ ناکامی کہ مجھ کو موت آئی آب حیواں پر
۔۔۔
مرتبہ دیکھنے والے کا ترے ایسا ہے
کہ بٹھاتے ہیں جسے اہل نظر آنکھوں پر
۔۔۔
بےکس رہیں گے حشر میں کب مجرمان عشق
رحمت کہے گی ہم ہیں گنہگار کی طرف
چاہی تھی داد ہم نے دل صاف کی مگر
آئینہ ہو گےا ترے رخسار کی طرف
۔۔۔
دیکھیں تو پہلے کون مٹے اس کی راہ میں
بیٹھے ہیں شرط باندھ کے ہر نقش پا سے ہم
ایسے شعروں کے ہوتے ہوئے داغ کے بارے میں کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے سنجیدگی سے غور کرنا نہاےت ضروری ہے۔
۔۔۔۔

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :19۔شمارہ :2 مدیر :ڈاکٹر قمر صدیق

DAGH KA SHAHR E HAWAS BY QAZI JAMAL HUSAIN

Articles

داغ کا شہرِ ہوس

پروفیسر قاضی جمال حسین

داغ نے اپنے اشعار میں جو دنیا خلق کی ہے اور اسے جس کردار سے آباد کیا ہے وہ قاری کے لیے ایک خوشگوار تجربہ ہے۔ معشوق ، عاشق ، ناصح اور قاصد اگرچہ شاعری کے روایتی کردار تھے اور بزمِ یار و کوچہ¿ دل دار کی سرگرمیاں بھی ، کلاسیکی غزل کی روایت سے آگاہ اردو کے ایک عام قاری کے لیے کچھ نئی نہیں تھیں، لیکن داغ نے جلوت و خلوت میں، محبوب کی شخصیت کے جن پہلوﺅں کو نمایاں کیا ہے اور وصال و ہجر کی کیفیات کو جس زاویے سے دیکھا ہے ، وہ داغ کا اختصاص ہے۔ روایتی کرداروں کا غیر روایتی انداز اور جانی پہچانی جگہوں کا سا لطف پیدا کردینا ، داغ کی معجز بیانی اور طلسم بندی کا کرشمہ ہے۔
داغ کی غزلوں کے کردار اپنی پیش قدمی، طرح داری اور جرا¿تِ اقدام سے حیرت زدہ کردیتے ہیں۔ اس شعری کائنات میں کرداروں کی گفتگو اور ان کے باہمی ربط و تعلق کی نوعیت ، زندگی کی حرارتوں سے ایسی معمور ہے کہ قاری دیر تک اس شہر کی دریافت پر سرشار رہتا ہے۔ قاری کی یہ سرشاری دراصل نشاطِ آگہی کی ایک صورت ہے کہ اس ”شہرِ ہوس“ میں اس کے خوابوں کی تعبیر اور آرزوﺅں کی تسکین کا سامان فراہم ہے۔ داغ کی اس شعری کائنات میں یوں تو کچھ بھی ایسا نہیں جسے انوکھا کہیے۔ وہی افسانہ¿ الفت ہے جسے ہر شاعر اپنے اپنے انداز سے ہمیشہ کہتا آیا ہے، لیکن داغ نے اپنے محدود سرمایہ¿ الفاظ کے باوجود جس طرح اس قصّے کی جزئیات بیان کی ہےں اور جس طرح کرداروں کی شخصیت کو روشن کیا ہے، اس سے اس کہانی کا پورا Patternمتاثر ہوا ہے۔
وہی جھگڑا ہے فرقت کا وہی قصّہ ہے الفت کا
تجھے اے داغ کوئی اور بھی افسانہ آتا ہے
بلاشبہ داغ کے تجربات میں اس اعتبار سے تنوع نہیں کہ ”حرفِ مدعا“ بس ایک مرکز ثقل کے گرد گھومتا ہوا محسوس ہوتا ہے لیکن حرفِ مدعا کی پیش کش ہر گردش میں ایک نیا Patternبناتی ہے۔ داغ کے سلسلے میں ناصر کاظمی نے نہایت پتے کی بات کہی ہے:
”داغ کی غزل بساطِ شطرنج کی مثال ہے جس میں گنے چنے مہروں کی طرح چند الفاظ ہیں لیکن شطرنج کی چالوں کی طرح ہر مرتبہ ایک نیا لہجہ اور اندازِ بیان دیکھ پڑھنے والے کا دل پھڑک اٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ داغ جب کسی دوسرے شاعر کی زمین میں بھی غزل کہتا ہے ، اسے اپنی غزل بنالیتا ہے۔“
(خشک چشمے کے کنارے۔ص:۳۴۱)
داغ کا مخصوص رنگ اور اس کی منفرد طرز اسی حرفِ مدعا کے مخصوص پیرایہ¿ اظہار سے عبارت ہے۔ یہاں نہ تشبیہات کی کثرت ہے نہ استعاروں کی ندرت اور نہ ہی پیکروں کا ہجوم لیکن بہ ظاہر سادہ سا شعری تجربہ ، روزمرے اور لہجے کی مدد سے ایک نئے قالب میں ڈھل جاتا ہے۔ شعری تجربے کی اس سادگی کا احساس جتنا عام ہے، اس کی پیش کش میں پُرکاری کا تجزیہ اتنا ہی دشوار ہے:
میرا طریقِ عشق جدا ہے جہان سے
چلتا ہوں چھوڑ چھوڑ کے ہر رہ گزر کو میں
جہاں سے جدا ، داغ کے اس طریقِ عشق میں ہماری توجہ کا مرکز سب سے پہلے ”محبوب“ بنتا ہے۔ ذہنی اور جسمانی اعتبار سے ایسا نارمل اور روشن خیال محبوب غزل کی پوری روایت میں خال خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے۔ یہ محبوب اسی زمین کی مخلوق ہے۔ چنانچہ اس کا پورا رویہ زندگی کے تئیں بھی اور عاشق کے لیے بھی ارضی اور انسانی ہے۔ ذہنی بیماری کی حد تک نہ تو ستم پیشہ و جفاکار ہے نہ ہی کسی نفسیاتی مریض کی طرح خود بین اور خود پسند۔ بلکہ جذبات کے فطری اظہار پر تہذیب اور روایت کی حد سے بڑھی ہوئی پابندیاں بھی اسے گوارا نہیں۔ سہل آمیز ہے، محبت کا جواب محبت سے دینے کا حوصلہ رکھتا ہے، جسمانی مطالبات کا بھی احترام کرتا ہے اور شبِ وصل تمکین و ضبط میں گزار دینے کے بجائے ہنس ہنس کے عاشق سے چھیڑ چھاڑ کا حوصلہ رکھتا ہے۔ اسے عاشق کی دل آزاری بھی منظور نہیں چنانچہ صنفی رسومیات کے تحت لاتعلقی کے اظہار میں بھی ربط و تعلق کا رنگ ، اس کی شخصیت کو مزید دل آویز بنادیتا ہے۔ اس کردار کے صحیح خط و خال داغ کی زبانی ملاحظہ ہو:
ہنس ہنس کے یہ کہتے ہیں شبِ وصل وہ مجھ سے
چھیڑوگے تو پھر ہم سے ملاقات نہ ہوگی

گئے وہ اٹھ کے پہلو سے تو یہ کہتے گئے مجھ سے
ذرا سا صبر کرلو، تم سے اتنا ہو نہیں سکتا
انکارِ وصل منہ سے نہ نکلا کسی طرح
اپنے دہن سے تنگ وہ غنچہ دہن ہوا

وصل کی ان سے ہوگئی امید
سلسلہ جب کلام کا نکلا

شریر آنکھ ، نگہہ بے قرار ، چتون شوخ
تم اپنی شکل تو پیدا کرو حیا کے لیے

ارمانِ ہم آغوشی سن سن کے ڈھٹائی سے
اس کہنے کے صدقے ”پھر کہیے تو کیا ہوتا“

کھل کھیلیے کھل جائیے دل کھول کے ملیے
کب تک گرہِ بندِ قبا کو کوئی دیکھے

جو دل میں تمہارے ہے وہی ہے میرے دل میں
میں کہہ دوں اگر تم سے بیاں ہو نہیں سکتا
شہر ہوس کا یہ کردارکسی بھی عام قاری کے لیے دل چسپی کے ہزار سامان رکھتا ہے ۔اس کی کشادہ دلی ،خوش خلقی اور دل آسانی،مفلسی کی فکر ِپریشاں کو ایک مرکز فراہم کرادیتی ہے ۔ ا س کردارکی قوت یہ ہے ۔کہ احساس گناہ یا احساس ندامت ،معاملہ بندی کی اس فضا کو کہیںبھی آلودہ نہیںکرتا ۔دونوں طرف ربط وتعلق کی حرارت بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے ۔جذبے کی طرح داغ کا رویہ PERVERSION یا فحاشی کے بہ جائے فطری اور صحت مند ہے ۔بہ قول حسن عسکری :
” جو شاعری یا جو محبت جسمانی خواہش کی پاکیزگی محسوس نہ کر سکے وہ قوت اور عظمت سے بھی پاک ہوگی ۔۔۔اور یہ کہ جنسی خواہش کے باوجود بلکہ شاید جنسی خواہش کی مدد سے آدمی محبوب کے حسن میں ساری کائنات کا حسن دیکھ سکتا ہے۔©” (ستارہ یا باد بان “ص:۹۰۲)
معاملہ بندی کے اسی قسم کے اشعار کے پیش نظر داغ کے بارے میں عام نور پر یہ بات تسلیم کر لی گئی کہ :
” داغ کی شاعری کے لیے سب سے زیادہ موزو ںلقب ” عیاشانہ شاعری ” ہے ۔ داغ کا کلام انھیں لوگوں میں ضرورت سے زیادہ پسند کیا جاتا ہے جو اعلی درجے کی شاعری سے زیادہ واقف نہیںہیں ۔مثلًا ارباب نشاط کا فرقہ داغ کو پیغامبر سمجھتا ہے۔ داغ کی شہرت محض اس لیے ہے کہ ان کا کلام عمومًا ان جذبات اور خواہشات نفسانی کی تصویر ہے جو عوام کے دل میں امنگ پیدا کرنے کے لیے جادو کا اثر رکھتی ہیں” (مضامین چکبست)
اس قسم کے خیالات کے سلسلے میں اصولی بات تو یہ ہے کہ شاعری کا مطالعہ اجتماعی زندگی کی مذہبی اور اخلاقی قدروں کی روشنی میں کہاں تک درست ہے؟یعنی جو باتیں ہماری حقیقی اور خارجی زندگی میں خلاف ِتہذیب ہیں ۔لفظوں سے بنائی گئی طلسمی دنیا میں بھی نا شائستہہی قراردی جائیں گی : پھر تو شاعری کا پورا سرمایہ ہی اس سوال کی زد پر ہے ۔جب” بت کافر ادا کی پر ستش ” محبوب کا قاتل ہونا ، اس کی نخوت اور خود بینی ،یہ تمام کار گزاری غیر اخلاقی ہے ۔جب کہ ظاہر ہے کہ شاعری کی قلم رومیں اس کے اپنے اصول اور خوب وناخوب کے معیار ہیں ۔ جس طرح شاعری میں قتل خون ریزی یادشنہ و خنجر کا حقیقی قتل و خون ریزی سے کوئی علاقہ نہیں ہے بلکہ یہ محض ایک پیرایہ ءاظہار ہے اسی طرح معاملہ ہندی کے اشعار میں بھی “ہے عبارت ہی عبارت مدعا کچھ بھی نہیں۔”یہ شاعرانہ مضامین ہوائے دل کے لیے کھڑکیاں ہیں جہاں قاری اپنے جذبات کی لسانی تجسیم میں ایک نوع کی طمانیت اور آسودگی کا احساس کرتا ہے۔
پھر دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس نوع کے اشعار کی تعداد کیا ہے ؟ وصل کی شوخیوں کے سوا اور کھل کھیلنے کے علاوہ اس کردار کے دیگر مشاغل کیا ہیں؟ اور کیاصفات ہیں جن سے اس کردار کی شناخت قائم ہوتی ہے۔ آدھی ادھوری تصویر پر حکم لگانے سے پہلے اس کردار کے دوسرے اہم پہلو بھی پیش ِ نظر رکھنا چاہئے۔ فقظ چند شعر ملاحظہ ہوں:
تیرے عالم کو جب سے ہم نے دیکھا
تماشائی ہے اک عالم ہمارا

تو قیامت کی چال کرتا ہے
بے چلے پائمال کرتا ہے

غنیمت ہے چشمِ تغافل بھی اُن کی
بہت دیکھتے ہیں جو کم دیکھتے ہیں

تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں
لوگ کہتے ہیں انھیں بیمار یہ کیا

ہم اب سے لیں گے بوسہءگل تیرے سامنے
کیا ایسا لعل ہے تیرے لب میں لگا ہوا

مجنوں کے طرف دار بنے ہیں کئی دن سے
فرماتے ہیں وہ آپ سے کس بات میں کم تھا
جب دیکھتے ہیں داغ کو ہوتا ہے یہ ارشاد
معلوم نہیں زندہ ہے یہ کس کی دعا سے

کہا ظالم نے میرا حال سن کر
وہ اس جینے سے مرجائے تو اچھا ہے

دمِ رخصت یہ چھیڑو تو دیکھو
مجھ سے کہتے ہیں کب ملیں گے آپ

حشر کے دن تو ملو گے یہ کیا میں نے سوال
سوچ کر دیر میں ظالم نے کہا مشکل ہے
ان اشعار سے محبوب کی جو تصویر ابھرتی ہے اس میں داغ نے اپنی فن کاری اور لہجے پر غیر معمولی قدرت سے روایتی مضامین میں نیا پہلو پیدا کردیاہے۔ داغ کے مضامین تو عموماً سادہ ہوتے ہیں لیکن پیرایہءاظہار میں قدرے پُر کاری سے کا لے کر فصیح الملک کوئی گرہ بھی ڈال دیتے ہیں لیکن اس احتیاط کے ساتھ کہ اس کا کھولنا اور لطف اندوز ہونا عام قاری کی دسترس میں ہو۔ پیرایہءاظہار کی اسی پُرکاری کے سبب مضمون ، بیان ِ واقعہ کی سطح سے بلند ہو کر شعری تجربے میں تبدیل ہوجاتا ہے اور عام ±اری کی دسترس میں ہونے کے سبب ایک بڑے حلقے کو متاثر کرتا ہے۔ داغ کی غیر معمولی مقبولیت میں سادگی اور پُرکاری کے اس حسنِ تناسب کو غیر معمولی دخل ہے
مثال کے پہلے ہی شعر میں محبوب کی دل کشی کے لیے”عالم “کا لفظ معنی کے جن وسیع امکانات پر مشتمل ہے اس کا احاطہ آسان نہیں اور غالباًکوئی دوسرا لفظ اتنی تہہ داری کا متمحل نہیں ہو سکتا ۔محبوب کی شخصیت کے جملہ ظاہری محاسن اس عالم کے عناصرِ ترکیبی ہیں۔پھر دوسرے مصرعے میں عالم کا لفظ شعر کی کیفیت میں مزید اضافہ کا سبب ہے۔ داغ فقط محبوب کی دل آویزی اور دل ربائی کا عالم بیان نہیں کرتے بلکہ شعرکے متکلم کی سرشاری محویت اور بے خودی کو بھی پیش منظر میں نمایاں کرتے ہیں ۔حیرانی اور بے خودی کا دراز تر ہونایہ سلسلہ بالآخر ایک خلقت کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے کہ عاشق کا حال اور اس کی کیفیت ایک عالم کے لئے دیدنی منظر یا انوکھا تجربہ ہے جس میں خلقت تماشائی بن گئی ہے۔گویامعشوق پر عالم ِ حسن و جمال ، عاشق پر عالمِ نے خودی و سر شاری اور خلقت پر عالمِ حیرانی۔
اسی رفتار ِ یار کے پامال مضمون میں داغ نے ایک نیا پہلو پیدا کردیا ہے۔ رفتارِ یا ر کی فتنہ گری اور اس کے سبب لوگوں کا قتل ہونا ایک روایتی مضمون ہے۔لیکن بے چلے ہی عاشق کو اپنی چال سے پامال کردینا ، داغ کے محبوب کا امتیاز ہے۔ رفتارِ یار کے مضمون کا یہ انوکھا پہلو شاید کہیں اور دیکھنے کو نہ مل سکے۔ اس انوکھے پہلو کا تمام تر لطف “چال کرنا ©”اور “چال چلنا”کے محاورے پر قائم ہے۔طریقہءکار کی انفرادیت کے سبب داغ نے اپنی اردو پر فخر کرنے کے ساتھ ہی شاعری میں اپنی طرز ِ خاص پر بھی بہ جا طور پر فخر کیا ہے۔
نہیں ملتا کسی مضموں سے ہمارا مضموں
طرز اپنی ہے جدا سب سے جدا کہتے ہیں
یا
داغ معجز بیاں ہے کیا کہنا
طرز سب سے جدا نکالی ہے

اسی طرح چشمِ یار کا مضمون نیا نہیں لیکن داغ نے روز مرے اور مخصوص لہجے میں کی مدد سے اس پامال مضمون میں دل کشی کا پہلو پیدا کردیا ہے۔ شعر کا حسن ظاہری سطح پر تو فقط یہ ہے کہ اچھی اور بیمار کا تقابل شاعرانہ لطف کا سبب ہے کہ محبوب کی آنکھیں نہایت اچھی ہیں پھر اسے بیمار کی صفت کے ساتھ ترکیب کو غلط قرار دینے کے بہ جائے اظہار تعجب کرتا ہے۔لیکن شعر کی اصل کیفیت شعر کی مخصوص قرات اور لہجے میں پوشیدہ ہے۔”تیری آنکھیں تو بہت اچھی ہیں“کا پیرایہ ءاظہار محبوب کی آنکھوں کو دیکھ کر متکلم کی محویت اور پھر خود کلامی کا منظر پیش کرتا ہے جو اس بات کی طرف واضح اشارہ ہے کہ آنکھوں کی جملہ تشبیہات اور تمام استعارے اس کے حسن کا بیان کرنے سے عاجز ہیں ۔بس یہی کہا جا سکتا ہے کہ ”تیری آنکھیں بہت اچھی ہیں“
محبوب کی حاضر جوابی ، بے تکلفی اور بذلہ سنجی اس کی آنکھوں میں ذہانت اور شوخی کی چمک پیدا کردیتی ہے۔چناں چہ مثال کے آخری پانچ اشعار محبوب کے کسی عمل کے بہ جائے اس کے طرزِ کلام کو نمایاں کرتے ہیں، جس میں اس کی شوخی اور طرح داری کے ساتھ ہی شخصیت کے بعض دوسرے پہلوﺅں پر بھی روشنی پڑتی ہے۔داغ کے کلام میں جس شوخی کا ذکر تقریباً سبھی نقادوں نے کیا ہے وہ بڑی حد تک محبوب کے طرز کلام یا کرداروں کے باہمی مکالمے کا رہین ِ منت ہے۔ غزل صنفی رسومیات میں محبوب کے رویے اور ایک عاشق کی گفتگو کے جو آداب مقرر ہیں ،داغ کا محبوب اور اُن کا عاشق جا بہ جا اسے توڑتے اور ان صنفی رسومیات سے انحراف کرتے ہیں ۔صنفی رسومیات کی خارج سے عائد کردہ پابندیوں کے بہ جائے یہ محبوب انسانی فطرت کی آزاد روی کو زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔وہ عاشق سے بلا تکلف ملتا اور باتیں کرتا اور مساویانہ سطح پر معاملہ کرتا ہے۔تمکین و ضبط کا غیر فطری مظاہرہ کر کے وہ وصل کی لذّتوں کو ہجر کی کلفتوں میں تبدیل کردینے کا قائل نہیں ۔ آزادی کا یہی رویہ اس کی اداﺅں میں شوخی کی ضمانت ہے۔ وقت رخصت عاشق سے چھڑ چھاڑ کو وہ اپنے منصبی آداب کے منافی نہیں سمجھتا اور کب ملیں گے آپ کہہ کر شوخی اور بے تکلفی کی فضا پیدا کردیتا ہے۔واقعے اور ظاہری صورت ِ حال میں تضاد کا تناﺅ رخصت کے اس منظر کو شعری تجربے میں تبدیل کردیتا ہے۔اسی طرح روز ِ حشر جب جملہ خلائق یک جا ہوں گی، ملاقات کے سوال پر محبوب کا تامل اور غور و فکر کے بعد یہ کہنا کہ “مشکل ہے”شعر میں ڈرامے کا لطف پیدا کردیتا ہے:
حشر کے دن تو ملو گے یہ کیا میں نے سوال
سوچ کر دیر میں ظالم نے کہا مشکل
حشر کے ساتھ جو تصورات وابستہ ہیں ان کے پس منظر میں معشوق کی یہ شوخی اور غور و فکر کے بعد یہ فرمایا کہ ملاقات مشکل ہے ، لطف سے خالی نہیں ، پھر یہ ،مشکل ہے، کا مختصر فقرہ کس بات کا جواب ہے، ملاقات مشکل ہے یا یہ سوال مشکل ہے جس کا جواب محبوب کے پاس نہیں۔ابہام کا یہ پہلو شعر میں ایسی تہہ داری اور پیچ پیدا کردیتا ہے جس سے لطف اندوز ہونے کے لئے اوسط ذہانت ، معمولی علم اور تھوڑا سا مذاق ِ سخن کافی ہے۔ داغ کی انفرادیت اورمخصوص رنگ کو چمکانے میں اس طریقہءکار کو بہت دخل ہے۔
داغ کے شہرِ ہوس کا دوسرا کردار عاشق ہے جو اس شہر کی گرمی ِ بازار کا سبب ہے۔ یہ ایک مجلسی تجربہ کار اور عشق و محبت کے معاملات میں اقدام کرنے والا جرات مند شخص ہے، آزاد منش ہے، لذّت و نشاط کا جویا ، محبوب کی نازبرداری اس کار آزمودہ شخص کے نزدیک وقت کا زیاں ہے۔ خوش باش اور خوش اوقات یہ شخص زندگی بھر محبت کرتا ہے اور کارِ دنیا کو بے فائدہ اور عبث نہیں جانتا۔
لیکن عاشق کے کردار کا پہلو اپنی بے حجابی اور بے باکی کے سبب تناسب سے زیادہ لوگوں کی توجہ کا مرکز ہو ا ،اور بیش تر ناقدین نے انھیں اشعار کے پیشِ نظر داغ کو عیش و نشاط کا امام اور عیاشانہ شاعری کا پیغامبر قرار دیا ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ داغ کی غزلوں میں عاشق کے کردار کے دوسرے پہلو اور اس کردار کی تعمیرمیں داغ کے فنی محاسن نظر انداز ہوگئے ۔ اس موقف کو داغ کے سوا نحی کوائف سے بھی تقویت حاصل ہوئی ۔بہ یک وقت مختلف طوائفوں سے ربط وضبط نے داغ کی شاعری سے متعلق رائے عامہ کو بڑی حد تک متاثر کیا ہے۔بہ ہر حال اس ہوس پرست اور عاشق مزاج کردار کی دلچسپیاں اور مشاغل ملاحظہ ہوں،

وہ ہرجائی اگر ہے داغ ہو تم بھی تو آوارہ
تمھیں کب صبر ہے بیٹھے ہوئے تم ایک پر کیا ہو

کیا ملے گا کوئی حسیں نہ کہیں
دل بہل جائے گا کہیں نہ کہیں
ہم لطف کے بندے ہیں خدا کی قسم واعظ
ہم سے نہ کبھی یار ستم گر کے اٹھیں گے

لے لیے ہم نے لپٹ کر بوسے
وہ تو کہتے رہے ہر بار یہ کیا

محشر میں بعد پُرسشِ اعمال دیکھنا
ہم دیکھتے پھریں گے تماشہ ادھر اُدھر

ہمیں توشوق ہے بے پرتم کو دیکھیں گے
تمھیں ہے شرم تو آنکھوں پہ ہاتھ رکھ لینا

کچھ تذکرہ ءعشق رہے حضرتِ ناصح
کانوں کو مزہ دیتی ہے گفتار ِ محبت

ہزار کام مزے کے ہیں داغ الفت میں
جو لوگ کچھ نہیں کرتے کمال کرتے ہیں
ان اشعار میں بھی روز مرے کی مدد سے کسی حد تک شاعرانہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ لیکن جذبے کی عدم تہذیب اور عشق کے آداب کا پاس ولحاظ نہ کرنے کے سبب داغ کی شاعری پر علی الاطلاق عیاشانہ شاعری کا حکم لگادیا۔۵۰۹۱ میں چکبست نے داغ کے متعلق جن خیالات کا اظہار کیا تھا اس کی باز گشت آج بھی سنائی دیتی ہے۔ کہتے ہیں:
“داغ کا معشوق ہمیشہ بازاری معشوق ہے اور داغ کے نزدیک عشق ، نفس پرستی کا دوسرا نام ہے ۔اس صورت میں داغ کی شاعری کو عاشقانہ شاعری کہنا زیبا نہیں ۔ کیوں کہ داغ حُسن و عشق کی اعلیٰ مفہوم سے بے خبر تھے۔داغ کی شاعری عیاشانہ شاعری ہے۔ (انتخاب مضامینِ چکبست: ص : ۹۴۱)
چکبست کے اس بیان پر اظہار ِ خیال یا محاکمے کے بہ جائے داغ کے یہ اشعار سنیے
ہم اب سے لیں گے بوسہءگل تیرے سامنے
کیا ایسا لعل ہے تیرے لب میں لگا ہوا

بتائیں لفظ تمنا کے تم کو معنی کیا
تمھارے کان میں اک حرف ہم نے ڈال دیا
خاموش سنتی رہتی ہے پہروں شبِ فراق
تصویر ِ یار کو ہے مری گفتگو پسند

داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کے لائے ہیں کہ جی جانتا ہے

دن ڈھلے آنے کا وعدہ ہے کسی سے لیکن
آج یہ دن وہ قیامت ہے کہ ڈھلتا ہی نہیں

فلک سے طور قیامت کے بن نہ پڑتے تھے
اخیر اب تجھے آشوبِ روزگار کیا

عاشق کا ذرا سا دل تسکین ہی کیا اس کی
جھوٹا ہو کہ سچا ہو وعدہ تو کیا ہوتا

فسانہ ءشب ِ غم ان کو اک کہانی تھی
کچھ اعتبار کیا کچھ نہ اعتبار کیا

آپ پچھتائے نہیں جور سے توبہ نہ کریں
آپ گھبرائیں نہیں داغ کا حال اچھا ہے

وہ عیادت کو مری آتے ہیں لو اور سنو
آج ہی خوبیءتقدیر سے حال اچھا ہے

اس قسم کے اشعار کی تعداد داغ کے یہاں کم نہیں جن میں ہوس پرستی اور معاملہ بندی کے بہ جائے عشق ایک روحانی اور باطنی تجربے میں ڈھل گیا ہے۔وصل کے لمحاتی تجربے کے بہ جائے عاشق کا روحانی اضطراب قاری پر ایک کیفیت طاری کردیتا ہے۔یہاں عاشق کی تمام سرگرمیاں اور اس کی زندگی کے تمام مشاغل عشق کے مرکزی جذبے سے وابستہ ہوگئے ہیں۔جذبے کی تہذیب اور اس کی فن کارانہ پیش کش اس کے سوا اور کیا ہے؟ ان اشعار کی موجودگی میں یہ خیال کہ داغ کی شاعری کا حاصل ایک عیاش شخص کی فتوحات کا بیان ہے، محلِ نظر ہے، مذکورہ تمام اشعار اپنی پُر فریب سادگی ، روز مرے کی پابندی اور سبک روی کے ساتھ ہی معنی کے وسیع تر امکانات کا احاطہ کرتے ہیں۔
شعر کا ظاہری مفہوم خود اپنی دلالتوں سے دست و گریباں ہے اور معنی کو کسی سطح پر ٹھرنے نہیں دیتا۔ محبوب کے لبوں کی نزاکت اور خوش رنگی کے بیان کا اس سے بہتر پیرایہءاظہار کیا ہوگا۔ عاشق بوسہءگل محبوب کے سامنے لیا کرے گا۔محبوب کے لبوں میں ایسی کیا خاص بات ہے جو گل میں نہیں ؟ یہاں” لعل لگنے” کا محاورہ فقط برجستہ عام بول چال کا لطف ہی پیدا نہیں کرتا بلکہ معنی کی توسیع کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔لعل کی سرخی ، رنگِ گل اور لبِ یار کو یک جا کردیتی ہے لیکن محاورے کے حاوی مفہوم کو بے دخل کر کے اگر لغوی سظح پر مصرعے کو پڑھیں تو” کیا”حرفِ استفہام ،لعل پتھر کی سرخی کو پیش منظر میں نمایاں کردیتا ہے اور یہ “استفہام انکاری”گل کی سرخی کو محبوب کے لب کی سرخی سے زیادہ پر کشش بنا کر پیش کرتا ہے۔لیکن معنی کی دونوں صورتوں میں عاشق کی نارسائی اور اس کا احساس ِ شکست نمایاں ہے۔محبوب کے لبوں کی ناکام حسرت ، بوسہءگل میں پناہ ڈھونڈتی اور گل کو بھی رسوا کرتی ہے۔
داغ کے کلام کی ایک اور خوبی جس پر کم توجہ دی گئی محاکات اور ڈرامائی کیفیت ہے۔ تصویریں بنانے اور معجز بیانی سے انھیں زندہ اور متحرک کردینے کا داغ کو خصوصی ملکہ حاصل ہے۔اس قسم کے اشعار میں کسی صورت ِ حال یا تجربے کو بیان کرنے کے بہ جائے داغ اسے آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا دکھاتے ہیں ۔ قاری اس منظر میں ذاتی تجربے کی حثیت سے شریک ہوتا ہے۔ یہ اشعار ملاحظہ ہوں جو سننے سے زیادہ دیکھنے کی کیفیت رکھتے ہیں۔
آنکھیںترے تلووں سے ملیں کس نے پئے وصل
وہ پھول سے نرگس کے بنے ہیں کفِ پا میں

دیکھنا پیرِ مغاں حضرت ناصح تو نہیں
کوئی بیٹھا نظر آتا ہے پسِ خم مجھ کو

نام ناصح کا لیا تھا میں
اے لو حضرت وہ چلے آتے ہیں

حضرت ِ داغ یہ ہے کوچہ ءقاتل اٹھیے
جس جگہ بیٹھتے ہیں آپ تو جم جاتے ہیں

کم بخت وہی داغ نہ ہو دیکھو تو جا کر
بے چین کیے دیتی ہے فریاد کسی کی
مذکورہ اشعار میں اولاً تو لہجے اور عام بول چال کی زبان نے شعر کی فضا کو بڑی حد تک غیر رسمی اور بے تکلف بنادیا ہے۔بے تکلفی کی اسی فضا کے سبب کرداروں کے باہمی تعلق میں ایک نوع کی یگانگت اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے۔ ان تصویروں میں شعر کا روای کمال ِ خاموشی اور سہولت سے اپنی شخصیت کو منظر سے الگ کرلیتا ہے کہ قاری کو محسوس ہی نہیں ہوتا کہ وہ شعر سننے کے بہ جائے منظر کو دیکھنے کے عمل میں مصروف ہے۔ راوی جب پیرِ مغاں سے کہتا ہے کہ” کوئی بیٹھا نظر آنے لگتا ہے۔ تھوڑی دیر کے لیے قاری یہ بھول جاتا کہ اس واقعے کا کوئی راوی بھی ہے اسی طرح محبوب کے کفِ پا میں نرگس کے پھول صاف دکھنے لگتے ہیں۔
علامہ اقبال نے داغ کے مرثیے میں غالباً ان کی اسی خوبی کو نشان زد کیا ہے۔

لکھی جائیں گی کتابِ دل کی تفسیریں بہت
ہوں گی اے خواب ِ جوانی تیری تعبیریں بہت

ہو بہ ہو کھینچے گا لیکن عشق کی تصویریںکون
اٹھ گیا ناوک فگن مارے گا دل پر تیر کون

داغ نے اپنی غزلوں میں جو دنیا آباد کی ہے اس میں دل و جان کی تسکین کے ہزاروں سامان ہیں ۔ اس شہرِ ہوس کے کردار ، ان کی گفتگو میں زندگی کی حرارت اور موانست کی گرمی ِ ہوس سے لے کر صوفیانہ تجربے تک عشق کے صد ہارنگ ، قلعہءمعلی کے محاورے ، شوخی ، حاضر جوابی اور ناصح سے چھیڑ چھاڑ ، غرض ایسی رونق اور گرم بازاری ہے کہ بس۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :13۔شمارہ :2 (اگست2011)مدیر :ڈاکٹر قمر صدیقی

KAI CHAAD THEY SAREY AASMAN

Articles

انیسویںصدی کی ایک بے باک خاتون کی کہانی

کاویری بام زئی

کاویری بام زئی
انگریزی سے ترجمہ: شمس الرب

انیسویںصدی کی ایک بے باک خاتون کی کہانی

یہ عظیم شاہکار ناول معلومات و تفریح کا ایک حسین و کامل امتزاج ہے۔ یہ کہانی ہے وزیر خانم نامی اس بے باک خاتون کی جو انیسویں صدی کے ہندوستان میں نوابوں اور صاحبوں کی ہم نشیں و ہم راز رہی۔ وزیر خانم ان نڈر خواتین کی نمائندہ ہےں جو ہر ملک و تہذیب میں مردوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑی رہتی ہیں۔
وزیر خانم ایک تاریخی کردار ہے۔ یہ ایک ایسی عورت کا نام ہے جو تنگ دستی میں پرورش کے باوجود آزادانہ خیالات اور اپنے وقت سے آگے کی سوچ رکھتی تھی۔ اس میں جرا¿ت و بے باکی کے جذبات کمسنی سے ہی جاگزیں تھے۔ ناول میں ایک جگہ وہ کہتی ہے کہ ”وہی تعلقات سب سے اچھے ہوتے ہیں جنھیں توڑا جاسکے۔“وہ ایسا صرف کہتی ہی نہیں بلکہ بے دھڑک کرتی بھی ہے۔ عمر کی سولہویں بہار دیکھنے سے پہلے ہی کمپنی بہادر کے ایک ملازم مارسٹن بلیک کے ساتھ جے پور بھاگ جاتی ہے۔ اس سے اس کے دو بچے بھی ہوتے ہیں۔پھر فیروز پور جھرکا اور لوہارو کے حاکم نواب شمس الدین احمد خان اس کے عشق میں گرفتار ہوجاتے ہیں۔ دلّی کا انگریز ریزیڈنٹ ولیم فریزر حسد کی آگ میں جلنے لگتا ہے اور حوادث کا ایسا جال بُنتا ہے جو نواب شمس الدین کی سر عام پھانسی پر منتج ہوتا ہے۔ پھر وہ رام کے آغا مرزا تراب علی کی داشتہ (٭)بن جاتی ہے اور آخر کار شوکت محل کے نام سے مغل شہزادہ اور وارث تخت و تاج مرزا فتح الملک بہادر کی بیوی بن جاتی ہے۔
شاعر غالب ، نڈر انگریز سیاح عورت فینی پارکس، اینگلو انڈین جیمس اسکنراور طاقتور زینت محل جیسے تاریخی کردار ناول میں آتے جاتے رہتے ہیں۔ وزیر خانم انتہائی غربت اور گم نامی کے دنوں میں بھی ہمت نہیں ہارتی ۔ وہ اپنا ہنر یا جسم روٹی کے کچھ ٹکڑوں کے عوض بیچنے سے انکار کردیتی ہے۔ فاروقی اس کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ”وہ مردوں کا سامنا کرنے کو تیار تھی لیکن اپنی شرائط پر۔“
78سالہ اردو اسکالر شمس الرحمن فاروقی نے اپنی اردو ناول کو خود ہی انگریزی کا جامہ پہنایا ہے۔ وہ وزیر خانم کی زندگی بیان کرتے کرتے اکثر و بیشتر دور نکل جاتے ہیں، لیکن ان کا یہ عمل (قاری کے لیے) باعثِ مسرت ہوتا ہے۔ ناول میں اس دور کا ہندوستان پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہے۔ مختلف تہذیبوں کے تصادم کو خاص طور سے بیان کیا گیا ہے۔” انگریز ہر چار پانچ ہفتے میں صرف ایک بار ہی نہا کر خوش رہتے تھے اور سخت بدبو کے باوجود اپنے سونے کے کمرے ہی میں پیشاب کا برتن رکھ لیا کرتے تھے۔“ اردو میں محبت کے لیے مستعمل مختلف الفاظ کی تشریح بھی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر جب تندیِ شہوت ماند پڑجائے اور دماغ سکون و آرام کی آماجگاہ بن جائے تو اس کیفیت کو ’اُنس‘ کہتے ہیں۔گورے صاحب کچھ خاص شوق بھی رکھتے تھے جیسے امرد پرستی اور شراب کے جام کو ہوا کے ہم آغوش کرنا۔ ان سب سے بڑھ کر عشق و معاشقہ کی باتیں ہیں۔ وزیر خانم اپنے ایک عاشق کو خط کے ساتھ لیچی کا شہد بھیجتی ہے۔جواب میں عاشق سنگتری رنگ کے پیلے کاغذ پرکالے رنگ کی روشنائی سے ایک غزل لکھ کر بھیجتا ہے۔ اور فیشن کا تو پوچھنا ہی کیا ! وزیر خانم کے شیرازی جوتے ، ڈھاکہ کے ململ سے تیار کردہ اس کے شلوار اور نیلے رنگ کے مخمل سے بنایا گیا اس کا تنگ واسکٹ! پڑھنے والا خود کو کاموکتا کے سمندر میں ڈوبتا ہوا محسوس کرتا ہے۔ فاروقی کی غیر معمولی نثر اس کے ہر احساس کو جھنجھوڑتی ہے۔
ناول حقیقت اور تصور کے درمیان مسلسل آگے بڑھتی رہتی ہے۔ فریزر مارا جاتا ہے ، شمس الدین تختہ¿ دار پر چڑھا دیا جاتا ہے۔معاشرہ وزیر خانم کو ایک سزا یافتہ مجرم کی داشتہ کے طور پر دیکھتا ہے۔ بلیک سے مولود بچوں کو اس سے چھین لیا جاتا ہے۔
فاروقی کا لطیف پیرایہ¿ بیان وزیر خانم کے شہوانی تجربات کو شہوت انگیز نہیں رہنے دیتا۔ جب مرزا فتح الملک بہادر اس کے سیاہ ارغوانی زلفوں کو کھولتا ہے ، فاروقی ہمیں وزیر خانم کے شاندار جسم کی سیر پر لے کر نکل پڑتے ہیں: ”رانیں ایسی جیسے کسی ماہر کمہار نے سانچے میں ڈھال دیا ہو، کمر چیتے کے کمر جیسی پتلی اور پیٹ اتنا ہموارا ور چکنا جیسے کہ انتہائی مہارت کے ساتھ بنایا گیا لکڑی کا تختہ۔“
ناول میں خوف و دہشت سے مملو مناظر بھی موجود ہیں۔ کچھ لوگوں کی ایک جماعت ٹھگوں کا شکار ہوجاتی ہے۔ ان کی حالت یوں بیان کی گئی ہے: ”ان کی خشک زبانیں باہر کو نکلی ہوئی ہیں، ناک سے خون کے دھارے پھوٹ رہے ہیں،جس سے ان کے جسم خون سے لت پت ہیں۔“ فاروقی ہر چیز کو تفصیل سے بیان کرتے ہیں لیکن اس سے بوجھل پن کا احساس نہیں ہوتا۔ ان کا بیانیہ اپنے اندر اُس دور کا گہرا علم سموئے ہوئے ہے اور ان کے ہر لفظ سے اس گہرے علم کو ساجھا کرنے کی خوشی ٹپکتی ہے۔
اس ناول میں وزیر خانم اُس بہادر عورت کے مصداق ہے جس پر یہ فارسی کہاوت صادق آتی ہے کہ ” اب چاہے جو بھی ہو میں نے اپنی کشتی پانی میں ڈال دی ہے۔“وزیر خانم کے کئی مردوں سے تعلق تھے۔ لیکن شاید اس کا سب سے جذباتی اور پائیدار تعلق اپنے بیٹے سے تھا۔ یہ بیٹا شاعر نواب مرزا داغ تھا۔ داغ اپنی ماں کی تعریف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ” ان کی ماں اُن عورتوں میں سے تھی جن کی اپنی تاریخ اور اپنا ماضی تھا اور یہ کہ دنیا کے بازار میں مذاکرات کی اُن کی اپنی شرائط تھیں۔“
اپنے اس شاہکار ناول میں فاروقی ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ” ماضی ایک اجنبی ملک ہے۔ اس اجنبی ملک کا سفر کرنے والے اس کی زبان نہیں سمجھ سکتے۔ “ ممکن ہے اس ناول کے لکھے جانے سے پہلے یہ درست رہا ہو ، لیکن اس عظیم شاہکار کے منظر عام پر آجانے کے بعد اب یہ درست نہیں رہا۔ اس ناول کو پڑھنے کے بعد ماضی اجنبی نہیں بلکہ ہمدم و ہم راز لگنے لگتا ہے۔ اس ناول کے مطالعے بعد ایک سوال شدت سے ابھر کر سامنے آتا ہے کہ کیا سماجی روایات سے ہٹ کر زندگی بسر کرنے والی عورتیں خدا اور دنیا دونوں کی خواہش مند ہوتی ہیں؟ کسی شاعر کے الفاظ میں ”کیا یہ خام خیالی ہونے کے باعث ناممکن ہے؟“ وزیر خانم کی زندگی ہمیں یہ درشاتی ہے کہ آزادی کی قیمت بہت اونچی ہے ، لیکن یہ قیمت ایسی ہے جسے ہمیشہ سے عورتیں چکاتی آرہی ہیں۔
nvn
٭ یہاں مبصر (کاویری بام زئی) سے تسامح ہوا ہے۔ وزیر خانم مرزا تراب علی کی داشتہ نہیں منکوحہ تھیں۔ ناول کی سطریں ملاحظہ ہوں:
” اگلے چاند کی پہلی جمعرات (۴ شعبان المعظم ۸۵۲۱ مطابق ۱۱اگست ۲۴۸۱ ) کو وزیر خانم اور آغا مرزا تراب علی کا نکاح بطریق اہل سنت اور پھر بطریق مذہب اثنا عشریہ باندھا گیا۔“ (ص: ۴۸۵) ۔ (ڈاکٹر قمر صدیقی)


مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

MAZI AJNABI MULK NAHI HAI (KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN)

Articles

ماضی اجنبی ملک نہیں ہے

این۔ کملا

این۔ کملا
انگریزی سے ترجمہ: شمس الرب

ماضی اجنبی ملک نہیں ہے

جب اورہان پاموک اور محمد حنیف جیسی شخصیات کسی کتاب کے بارے میں لکھتے ہوئے اس کی تعریف میں رطب اللسان ہوں تو توقعات کا بڑھ جانا فطری امر ہے۔ ساتھ ہی قارئین کو یہ خدشہ بھی لاحق ہوجاتا ہے کہ وہ اسے پڑھ کر مایوس نہ ہوں۔ یہ عظیم الشان اور پرشکوہ ناول ہر اس تعریف کی مستحق ہے جو اس پر نچھاور کی گئی ہے۔ یہ ناول چھ ابواب اور اڑسٹھ فصول پر مشتمل ہے۔ ہر فصل کا عنوان جداگانہ ہے۔ مثال کے طورپرفصل ’حبیب النساءبیگم‘ کا آغازکچھ یوں ہوتا ہے: ” حبیب النسا ءبیگم ، وزیر خانم کو رات کے لیے تیار ہونے میں مدد کرتی ہے اور نواب شمس الدین اپنے مچلتے جسم و روح کو صبر و استقلال کے تمام ممکنہ دروس سکھاتا ہے۔ ناول The Mirror of Beauty (کئی چاند تھے سر آسماں) بلا شبہ اپنے زمانے کی عکاس ہے۔
ناول میں سترہویں صدی کے اواخر سے 1857 سے ماقبل زمانہ کی عکاسی کی گئی ہے۔ لیکن اس کی شروعات زمانہ¿ حال سے ہوتی ہے۔ برٹش لائبریری کی خاک آلود فائلوں میں ایک پراسرار طور پر خوبصورت عورت کی تصویر ملتی ہے۔ یہاں سے کہانی ایک لمبے فلیش بیک کے ساتھ ماضی میں چلی جاتی ہے۔ یہاں سے ازحد خوبصورت عورت وزیر خانم کے سفر وحشت کی کہانی شروع ہوجاتی ہے۔ دوسرے باب میں ایک ایسے دور کی کہانی کا آغاز ہوتا ہے جہاں ذرائع مواصلات اگرچہ دھیمے رہے ہوں لیکن جذبات سیلِ رواں کی مانند تیز و تند تھے۔ کہانی کی شروعات وزیر خانم کے پر دادا کے کشن گڑھ سے کشمیر کی برفیلی چوٹیوں تک کے سفر سے ہوتی ہے۔ ساتھ ہی ان دستکاروں اور فنکاروں کا بھی تذکرہ کیا گیا ہے جو اس دور میں پھلے پھولے ۔ ان میں زیادہ تر نقاش ، قالین باف اور موسیقار وغیرہ تھے۔ وزیر خانم کے آبا و اجداد انھیں پیشوں سے منسلک تھے۔ باقی کہانی میں وزیر خانم کے محبت کی داستان ہے۔ وزیر خانم محمد یوسف اور اصغری بیگم کی سب سے چھوٹی بیٹی ہے۔ کمسنی ہی میں وہ انگریز مارسٹن بلیک کے ساتھ بھاگ جاتی ہے۔ مارسٹن سے اس کے دو بچے ہوتے ہیں۔ بعد ازاں مارسٹن بلیک کی بھیڑ کے ہاتھوں درد ناک موت ہوتی ہے۔ اس کے انگریز رشتے دار اس کے بچوں کو زبردستی اپنے ساتھ لے کر چلے جاتے ہیں تاکہ وہ ان کی تربیت عیسائی طور طریقے سے کر سکیں۔ وزیر خانم دلّی منتقل ہوتے ہی نواب شمس الدین احمد خان کے تعلقات میں بندھ جاتی ہے۔ نواب شمس الدین احمدخان اس کا سب سے محبوب عاشق تھاجس سے اس کو ایک لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ نواب شمس الدین کی موت کے بعد وہ رام پور کے آغا تراب علی سے شادی کرلیتی ہے اور تراب علی کی موت کے بعد آخر کار شہزادہ مرزا فخرو کے ساتھ رشتہ¿ زوجیت میں منسلک ہوجاتی ہے۔ مرزا فخرو مغل خاندان سے تعلق رکھتے تھے اور شاہِ ہندوستان کے تیسرے نمبر کے وارث تھے۔ وہ ”لال قلعہ“ کے اندر اپنی حویلی میں شاہانہ زندگی بسر کرتے تھے۔
وزیر خانم کے رابطے اور معاشقے کی کہانی کو آگے بڑھاتے ہوئے عام لوگوں کی زندگی کی بھی بھرپور عکاسی کی گئی ہے۔ دربار کی سازشوں، جان کمپنی کی بڑھتی دولت اور ملک پر قبضہ کرنے کے لیے انگریزوں کی سازشوں کو بخوبی بیان کیا گیا ہے۔ اس ناول میں ماضی کے کرداروں، جگہوں اور حوادث کو نئی زندگی عطا کی گئی ہے۔ ناول کا ایک کردار ابتدا ہی میں کہتا ہے کہ ” اس نے اس نظریے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے کہ ماضی ایک اجنبی ملک ہے اور اس کا سفر کرنے والے اس کو سمجھ نہیں سکتے۔ وہ کہا کرتا تھا کہ پرانے الفاظ کو نئے الفاظ کا جامہ پہنا یا جاسکتا ہے ۔ بس ضرورت اس بات کی تھی کہ ہمدردی کاجذبہ موجود ہو اور نہ صرف یہ کہ اپنائیت و یگانگت کا احساس پیدا کیا جائے بلکہ اس اپنائیت کی گرمجوشی کو محسوس بھی کیا جائے۔“ (ص:17)شمس الرحمن فاروقی یہ کام کر دکھاتے ہیں ۔ان کی ناول ماضی کے تئیں اسی ہمدردی، اپنائیت اور گرمجوشی کا مرقع ہے۔
فاروقی انگریزوں کے عروج کی واضح تصویر کشی کرتے ہیں۔ وہ یہ دکھاتے ہیں کہ کیسے انگریزی فوجیں ہندوستانی فوجوں کو تہ و بالا کردیتی ہیں۔ وہ یہ بھی بتاتے ہیں کہ میدانِ جنگ میں موجود ہر گھوڑ سوار، ہاتھی اور فرنگی کمانڈر کے پاس کیا کیا ہے اور کیسے انگریز فوج چالاکی کے ساتھ پیچھے ہٹتی ہے اور پلٹ کر پیچھے سے حملہ کرتی ہے۔ (صفحات 181تا 182)
ناول میں اس بات کی بھی واضح جھلک دکھائی دیتی ہے کہ کیسے انگریز کلکٹر اور دیگر اہلکار کمپنی کا اقتدار اور رعب و داب برقرار رکھنے کے لیے سختی برتا کرتے تھے۔ (صفحہ 204) شمس الدین تنبیہ کرتے ہوئے کہتا ہے کہ ” جنت نظیر ہندوستان پر ایک شیطانی سایہ مسلط ہوگیا ہے۔“ (صفحہ 572) وہ مزید کہتا ہے کہ ” ایک نہ ایک دن فرنگی سکھوں کے خون سے ضرور ہولی کھیلیں گے۔“ (صفحہ 573)انگریزی زبان و رسوم کے غلبے کو بڑی وضاحت کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ناول میں ایک جگہ مذکور ہے کہ” قلبِ دلّی ایسے لوگوں کی آماجگاہ بنتا جارہا ہے جنھوں نے فرنگیوں کی کتابیں اصل انگریزی زبان میں پڑھی ہیں اور اپنی زندگیوں کو فرنگی طرز زندگی کے مطابق ڈھال لیا ہے۔“(صفحہ 736)
یہ ناول اصلاً اردو میں لکھی گئی ۔ اس کا ہندی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ جسے لوگوں نے خوب سراہا۔ ناول کا زیر تبصرہ انگریزی ترجمہ ناول نگار نے خود کیا ہے۔ ا س ترجمے سے پتہ چلتا ہے کہ ناول نگار زبان کے تمام پہلوﺅں کے تئیں بہت حساس ہیں۔ وہ ہندوستان میں بولی جانے والی کئی زبانوں سے واقف ہیں۔ اصطلاحی الفاظ کی لسانی تاریخ اور تشریح اور ان کے مترادفات کا انھیں گہرا علم ہے۔ نیز مختلف زبانوں مثلاً ہندی اور اور انگریزی کے درمیان الفاظ کے آدان پردان پر بھی ان کی گہری نظر ہے۔ مثال کے طور پر (فاروقی نے بتا یا کہ) لفظ ’چمپی‘ انگریزی زبان میں آکر شمپو ہوگیا۔ لفظ ’چٹھی‘ انگریزی زبان میں آکر ’چٹ‘ ہوگیا اور لفظ Loveاردو لفظ ’عشق‘ ہی کا کام چلاﺅ ترجمہ ہے۔ ناول نگار زبان کے تئیں اتنے حساس ہیں کہ وہ ایک متروک و فرسودہ انگریزی عبارت to have a bee in one’s bonnet کا استعمال کرنے پر اظہار معذرت کرتے ہیں۔ پوری نثر میں شاعرانہ نغمگی کی جلوہ گری ہے، جس میں اصل اردو کی نمایاں چھاپ ہے۔ لیکن نثر پر تصنع کا الزام بھی نہیں لگایا جاسکتا۔ جب وزیر خانم کی ماں کا انتقال ہوجاتا ہے اور’ انھیں اچانک خاموشی کے ساتھ خدا کے یہاں بلا لیا جاتا ہے ۔اس شبنم کی بوند کی طرح جسے عالم تاب سورج کانٹے کی نوک سے اٹھا لیتا ہے۔‘( صفحہ 57) قاری کا دل اس نقصان پر رونے لگتا ہے۔
ناول میں فن مصوری کی باریکیوں، قالین سازی کی پیچیدگیوں اور موسیقی کے مختلف راگوں کے مفاہیم کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اس سے ناول نگار کی باریک بینی اور عرق ریزی کا پتہ چلتا ہے۔ ان کی زبان میں راجپوتانہ اور کشمیر کے درمیان فرق ابھر کر سامنے آجاتا ہے۔ ” وہ سنہرے بالوں والے اونٹ کہاں گئے جن کے بال ان کے جسم سے رسیوں کی طرح لٹکتے رہتے تھے۔ان شیروں اور چیتوں کا کیا ہوا جن کی لمبائی آٹھ ہاتھ کی تھی یہاں صنوبر اور بلوط کے ایسے درخت تھے جن کی شاخیں آسمان کی پیشانی چومتی تھیں، جن کے سر فخر سے تنے رہتے تھے اور جو تاریکی میں پر اسرار لباس زیب تن کیے ہوئے ہوتے تھے۔“ (صفحہ 74) ”یا میں ایک ایسی دور دراز ، اداس ، مرجھائی ہوئی اور خشک سرزمین سے تعلق رکھتا ہوں جس کی خاک کا رنگ بچھو آلود ہے“ (صفحہ 126)
ناول میں موجود شوہر و بیوی سے متعلق چبھتے ہوئے تبصرے ناول کا مزہ دوبالا کردیتے ہیں۔ ”اس کے لیے شوہر ایک تعویذ تھا جسے سمجھنے نہیں بلکہ احتیاط سے محفوظ رکھنے کی ضرورت تھی۔ “ (صفحہ 96) اور ” بیویاں صرف بیویاں ہوتی ہیں۔“ (صفحہ 209) سب سے اہم بات یہ ہے کہ پوری ناول میں کم از کم وزیر خانم کے طور طریقے سے ایک مضبوط فیمنسٹ استدلال جھلکتا ہے۔ خاص طور پر یہ استدلال اس وقت پوری قوت کے ساتھ سامنے آتا ہے جب وہ اپنے بیٹے کو مذہبی کتابوں کا حوالہ دینے پر غصہ سے جھڑکتی ہے۔ ” کس نے ان کتابوں کو لکھا ہے؟ مردوں ہی نے نہ؟ تمھارے قاضی، تمھارے مفتی ، تمھارے بزرگ کون ہیں؟ مرد ہی ہیں نہ؟“ (صفحہ 726)
اس ناول کی وسعت و گہرائی سحر انگیز ہے۔ اس کی گیرائی متاثر کن اور پیشکش مرعوب کن ہے۔ انگریزی میں ترجمہ شدہ یہ ناول اصل ناول کے مقابلے میں کیسی ہے ، یہ اس تبصرہ نگار کے دائرہ¿ کار سے باہر ہے۔ موازنہ جاتی تبصرہ ایک الگ قسم کا تجزیہ ہوگا۔ اس ناول کے بارے میں اگر کوئی تنقید ہوسکتی ہے تو وہ یہ ہے کہ اس کا خاتمہ یک لخت اور غیر متوقع ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ناول کا حجم بڑھتا جارہا تھا اس لیے ناول نگار نے اسے یک لخت ختم کردیا۔ یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ اس ناول میں کچھ ایسے پہلو بھی چھوٹ گئے ہیں جنھیں اتنی ضخیم ناول میں چھوڑنا مناسب نہیں تھا۔ بہر حال میں بھی وہی کہوں گی جو اس ناول کے کردار جا بجا کہتے رہتے ہیں :
”صرف خدا کی ذات عیب سے پاک ہے۔“
————————————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

MALKA -E-HUSN (KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN)

Articles

ملکہ حسن کئی چاند تھے سرِ آسماں

محمد اسد الدین

محمد اسد الدین
انگریزی سے ترجمہ: شمس الرب

ملکہ حسن

شمس الرحمن فاروقی نے The Mirror of Beautyکا آغاز دو انوکھے کرداروں سے کیا ہے۔ ایک ماہرانساب ہے جبکہ دوسرا پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ، یہی وہ کردار ہے جو ہمیں ناول کی جادوئی دنیا کی سیر کراتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ایک ایسی ناول ہے جو صرف تعلیم یافتہ اور باعلم لوگوں کے لیے ہے۔
The Mirror of Beautyکے ساتھ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ حسنِ اتفاق سے جولائی کے مہینے میں مجھے اسی جگہ ٹھہرنے کا موقع ملا جہاں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی اور وسیم جعفر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میری مراد برٹش لائبریری (خاص طور سے تیسرا منزلہ جہاں انڈیا آفس لائبریری واقع ہے، جسے جنوبی ایشیا پر تحقیق کرنے والوں کا مکّہ کہا جاتا ہے۔) ویکٹوریہ والبرٹ میوزیم ، اسکول برائے مشرقی و افریقی زبان و ادب، برٹش میوزیم ، ورجینا وولف کی بلومز بے ری وغیرہ سے ہے۔
فاروقی قصے کا آغاز رک کر کرتے ہیں۔ پہلے دونوں کرداروں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” اس میں ایک کردار ماہر انساب شخص کا ہے جبکہ دوسرا کردار پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ ہے۔ یہی و ہ کردار ہے جو آپ کو اس ناول کی حسین دنیا کی سیر کرائے گا۔“اس کے بعد فاروقی واضح کرتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اہلِ علم کے لیے لکھی ہے۔ مزید وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اپنے لیے لکھی ہے اور” سات دہائیوںمیں مجھے جو خست و خاک مجھے ملے تھے ، اس کا نچوڑ اس ناول میں مَیں نے پیش کیا ہے۔ آپ ا س ناول سے کتنا استفادہ کرتے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس کتنا علم ہے۔“
’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کی جب 2006میں اشاعت ہوئی تو اردو اور ہندی حلقوں میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی ، نیز عالمی سطح پر ایک ادبی شاہکار کی حیثیت سے اس کا استقبال کیا گیا۔ فاروقی صاحب نے ادب کے کئی میدان میں قدم رکھا اور ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔چاہے وہ تنقید کا میدان ہو یا تحقیق کا، صحافت کا میدان ہو یا ترجمہ نگاری کا۔یہی وجہ ہے کہ علمی حلقہ یہ پیشن گوئی کررہا تھا کہ اس میدان میں بھی فاروقی صاحب کچھ نئی اور اہم چیز پیش کریں گے۔جو حضرات اردو اور ہندی میں اس کا مطالعہ کرنے سے قاصر تھے وہ بڑی بے صبری سے انگریزی ورژن کے منتظر تھے۔ انگریزی ورژن آجانے کے بعد مجھے قوی امید ہے کہ انگریزی داں طبقہ اس سے لطف انگیز ہوگا۔ پینگوئین کی فیڈ بیک سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی ورژن کی فروخت نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ ہندی اور اردو کی مشترکہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ دنیا کے عظیم معاصر فکشن نگار جیسے کہ میلان کندیرا، گبرائیل گارسیامارکیز، اورحان پاموک کی مترجم کتابوں کی فروخت اصل سے کہیں زیادہ ہیں۔
(ناول میں) راوی سیدھے مرکزی خیال کے قلب میں پہنچ کر کہتا ہے کہ وسیم جعفر اسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ، لیکن وسیم اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ماضی کے لوگ بیرونی ممالک سے تعلق رکھتے تھے ۔ بیرونی ممالک کے یہ باشندے یہاں کی زبان نی ٹھیک سے سمجھ سکتے تھے اور نہ ہی بول سکتے تھے۔“ (ص: 19)فاروقی صاحب اس خیال کی تردید کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ادبی تہذیب ہی یہی تھی۔ یہی وہ تہذیب ہے جوہندوستانی مسلمانوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اسی دور میں فارسی اور اردوشعرا کی کہکشاں آسمان ادب پر نمودار ہوئی ، ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان میں کچھ کا تعلق شاہی خاندان سے جبکہ کچھ کا تعلق طبقہ¿ اشرافیہ سے تھا۔ اپنی ناول میں فاروقی اس عہد کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ۔نیز اس بات کی کوشش بھی ہے کہ اس عہد کی بالکل ویسی ہی عکاسی ہو جیسا کہ اس دور کی شاعری، موسیقی اور مصوری کے ذریعے کی گئی ہے۔ اسی لیے فاروقی صاحب نے وزیر خانم کے حوالے سے اکثر جگہوں پر بڑی باریک بینی سے ایسی چیزوں کوتفصیل سے بیان کیا ہے۔ (وزیر خانم یعنی )ایک ایسی عورت جو نہایت حسین تھی اور جس میں شمع محفل بننے کی ساری خوبیاں بدرجہ¿ اتم موجود تھیں۔ یہ ناول جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور سات ابواب اور اڑسٹھ فصول میں منقسم ہے، جووزیر خانم کے ارد گرد گھومتی ہے اوراس کی زندگی کے نشیب و فراز کی عکاسی کرتی ہے نیز اس میں مغلیہ سلطنت کے ایام زوال، ممکنہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں کے تعلقات، کمپنی بہادر کے رنگین افسروں اور اس عہد کی بیشتر تاریخی شخصیات کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔
ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بعد فاروقی صاحب اردو زبان کے دو عظیم ناول نگاروں قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ فکشن نگاری کی ساخت اور فنکاری کی کچھ جہات میں گرچہ فاروقی مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کی طرح باکمال ثابت نہیں ہوتے پھر بھی یہ ناول اردو کے عظیم نالوں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ فاروقی صاحب مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کے مداح بھی ہیں ۔ اپنی ناول کے ابتدائی صفحات میں ’کارِ جہاں دراز ہے‘ کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے اور اس کا واضح عکس اس ناول پر نظر بھی آتا ہے۔
فاروقی نے عورت کی خوبصورتی اور اس کے جنسی رجحانات و میلانات کی جس خود اعتمادی سے عکاسی کی ہے ، وہ لائق ستائش ہے۔ خاص طور سے وزیر خانم اور نواب شمس الدین کی ہم بستری کی عکاسی و تصویر کشی۔ جدید اردو ادب میں مجھے اب تک کوئی ایسی ناول نہیں ملی ہے جس میں مرد و زن کے جنسی تعلقات اس گہرائی اور تفصیل سے بیان کی گئی ہو۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فاروقی صاحب نے مرد و زن کے جنسی تعلقات کی تصویر کشی کرکے اردو ناول نگاری میں نہ صرف ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے بلکہ نئے ناول نگاروں کو ایک نئی جہت سے آشنا بھی کیا ہے۔ ناول میں موجود شاعری کی کثرت ممکن ہے کہ انگریزی قاری کو اچھی نہ لگے لیکن فاروقی کیا کرتے ؟ وہ جس زمانے کی تصویر کشی کررہے ہیں ، شاعری تو اس زمانے کے تہذیبی و عناصر میں شامل تھی بلکہ یہ تہذیب و ثقافت کا پیمانہ بھی تھی۔ درحقیقت اردو شاعری میں ایسی کشش ہے کہ یہ نہ صرف اردو فکشن نگاروں بلکہ دوسری زبانوں کے فکشن نگاروں کو بھی اپنا گرویدہ بنالیتی ہے۔ فاروقی صاحب کی یہ ناول اکرم سیٹھ کی A Suitable Boy کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ جس میں وکرم سیٹھ نے اردو شاعری بخوبی استفادہ کیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ناولوں میں کافی مماثلت ہے۔ اسی طرح کی اور بہت ساری ناولیں انگریزی و دوسری زبانوں میں موجود ہیںمثلاً ربی شنکر بال کا حالیہ بنگالی ناول ”دوزخ نامہ‘ ‘۔
فاروقی صاحب کو قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی طرح اپنے شاہکار کا خود مترجم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین نے ’آگ کا دریا‘ (River of Fire) اور ’اداس نسلیں‘ (Weary Generations) کا مرکزی خیال عہد حاضر سے اخذ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا بیانیہ چست و درست ہے اور مغربی فکشن نگاری کے حساب سے پلاٹ کا تانہ بانہ بھی متاثر کن ہے۔ جبکہ فاروقی کو قاری کو سمجھانے کے لیے جگہ جگہ وضاحتی نوٹ بھی لکھنے پڑے ہیں۔ اس وجہ سے قاری کی توجہ متن سے تھوڑی دیر کے لیے ہٹ جاتی ہے۔ (یہ اٹھارہویں صدی میں لکھے گئے یورپی ناولوں کی یاد دلاتے ہیں) اردو ورژن کی طرح فاروقی نے انگریزی ورژن کو بھی ابواب اور فصول میں تقسیم کیا ہے۔ اردو میں ایک دو کلمات پر مشتمل ٹائٹل کو انگریزی میں لمبے وضاحتی ٹائٹل میں تبدیل کیا ہے۔ ترجمہ میں بہرحال پوری سلاست و روانی ہے نیز انگریزی زبان کے اسلوب بیان کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ انگریزی محاروں کے استعمال میںفاروقی صاحب نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیب کی عکاسی میں کہیں بال نہ پڑے اور اصل زبان میں جو شیرینی و حلاوت ہے وہ انگریزی میں کمزور نہ پڑنے پائے۔ تشبیہات و استعارات کو بڑی ذہانت سے قدیم انگریزی اسلوب میں ڈھالا گیا ہے تاکہ یہ گڈ مڈ نہ ہوں۔ اس طرزِ تحریر پر بس سبحان اللہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔
بہر کیف اس نال میں ایک دو جگہ غلطیاں بھی نظر آجاتی ہیں۔ لیکن اس سے اس شاہکار کی عظمت متاثر نہیں ہوتی۔ مثلاً صفحہ نمبر938پر راوی کہتا ہے کہ فتح الملک ، وزیر خانم کے آخری شوہر کو 10 جولائی2012(1856کی جگہ) کے دن دفن کیا گیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ مصنف کی غلطی نہیں ہوسکتی ، یہ ضرور کتابت یا کمپیوٹر ٹائپنگ کی غلطی ہے۔
————————————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

AIK TAHZEEBI MURAQQA : KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN

Articles

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

معید رشیدی

معید رشیدی

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں بعض اوقات اپنی مرضی کے بغیر بھی ہم تسلیم کرلیتے ہیں ۔ ادب کا جس طرح ایک اجتماعی منظرنامہ ہوتا ہے ، اسی طرح اس منظرنامے یا اس کے کسی مخصوص پہلو سے متعلق ہماری اجتماعی رائے بھی ہوتی ہے جس کا اعتراف بعض حضرات کھل کر ، بعض دبی زبان میں اور بعض خاموش رہ کر کرتے ہیں ۔ علمی بنیادوں پر شمس الرحمن فاروقی قاموسی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اس سے ان کا سخت سے سخت مخالف بھی انکار نہیں کرتا۔ان کا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ اردو کی پہلی کتاب ہے جسے پینگوئن انڈیا نے 2006میں شائع کی تھی ۔’امراو¿جان ادا‘ اور ’ آگ کا دریا ‘ کے بعد جو ناول سب سے زیادہ زیر بحث ثابت ہوا ہے وہ ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ ہے ۔ اس ناول کا ہندی اور انگریزی اڈیشن بھی شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے ۔ اگر کسی متن سے کثرت و شدت کے ساتھ اختلاف و اعتراف کیا جائے اور اختلاف یا اعتراف کرنے والوں کی کثیر تعداد صف اول کے مصنفین و ناقدین کے علاوہ طلبہ اور عام قارئین تک پہنچ جائے تو اس واقعے سے ایک نتیجہ تو کوئی بھی آسانی سے اخذ کرسکتا ہے کہ موضوع بحث متن کوئی عام تحریر نہیں ہے اور اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جب وہ متن اپنی سرحدوں کو توڑ کر عالمی سطح پر موضوع گفتگو بن جائے تو لامحالہ اس کی اہمیت کا معترف ہونا پڑتا ہے ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کی اہمیت اور تخلیقی حیثیت کااستقبال و اعتراف کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ THE MIRROR OF BEAUTYکے نام سے اس ناول کی انگریزی میں اشاعت نے فاروقی صاحب کو یقینا Celebrityہونے کا عالمی اعزاز بخشا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ہندوپاک میں جو لٹریچر فیسٹول منعقد کیے گئے ، ان میں اس ناول پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اردو، ہندی اور انگریزی کے اخباروں نے بھی اس کے متعلقات کو اپنے صفحات سے مزین کیا۔2015کے DSC Prize for South Asian Literatureکے آخری منتخب پانچ ناموں میں جب اس ناول کا انتخاب ہوا تو اہل اردو کی نظر اس ناول پر نہیں بلکہ انعام کی رقم پچاس ہزار امریکی ڈالر پر تھی ۔ اطلاعاً عرض ہے کہ اس انعام کے لیے ہند نژاد امریکی مصنفہ جھمپا لہڑی کے نام کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ افسوس ہوا کہ اردو میں لکھی گئی ایک کتاب اپنے تمام استحقاق کے باوجود انعام سے محروم رہی ، لیکن اس سے فاروقی صاحب کی علمی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ ان کی علمی اور تخلیقی حیثیت کا اعتراف کرنے والوں میںنوبل انعام یافتہ ترکی مصنف اورہان پاموک نے لکھا ہے :
An erudite,amazing historical novel,elegiac in tone and written with heartfelt attention to the details and the rituals of a lost culture.
پاکستانی انگریزی ناول نگار محمد حنیف نے اس ناول کو ہندوستانی ناولوں کا کوہ نور قرار دیا ہے اور اس کے شکوہ، چمک اور پراسراریت کا اعتراف کیا ہے ۔ پاکستان نژاد برٹش ناول نگار ندیم اسلم نے اس ناول کو پراسرار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فاروقی نے اس ناول کو Historyاور Illusionکے تانے بانے میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بُنا ہے ۔ پاکستان نژاد کینیڈین ناول نگار مشرف علی فاروقی ،The Annual of Urdu Studiesکے مدیرمشہور ادیب و مترجم محمد عمر میمن، ہندی کے ادیب وشوناتھ ترپاٹھی، وندناراگ،کیدارناتھ سنگھ کے علاوہ غیر اردو داں طبقے کا ایک اہم ادب دوست حصہ اس ناول کی تعریف میں رطب اللسان ہے ۔ اس ناول سے متعلق اردو میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ایک مکمل کتاب ’ خدا لگتی ‘ [مرتبہ : لئیق صلاح /سید ارشاد حیدر]شائع ہوچکی ہے ۔اس ناول پر اردو کے بعض اہم مصنفین کرشن موہن، اسلم فرخی ، افضال احمد سید، انورسدیدوغیرہ نے اظہار خیال کیا ہے ۔ اردو کے مصنفین میں ہم صرف انتظار حسین کے دو اقتباسات درج کرنا چاہتے ہیں ۔پہلا ان کے ایک مکتوب کا اقتباس ہے اور دوسرا ’دی ڈان‘ میں چھپے انگریزی میں لکھے گئے ایک تبصرے کا اقتباس :
بھائی میں نے آپ کا لوہا مان لیا۔ اگر اس سے پہلے کوئی عزیز مجھے بتاتا کہ فلاں صاحب نے بہت علمی مطالعہ اور تحقیق کے بعد ایک ناول لکھا ہے ۔ لکھا ہوگا ۔ اگر وہ قرآن کا جامہ پہن کربھی آتا اور مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتا تو میں قائل نہ ہوتا ۔ سو میں نے ایک شک کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ جادو چڑھنا شروع ہوااور ایسا چڑھا کہ میرے سارے شک رفو چکر ہوگئے ۔
مدتوں کے بعد اردو میں ایسا ایک ناول آیا ہے جس نے ہندوپاک کی ادبی دنیا میں ہلچل مچادی ہے ۔….یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔….ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں ۔
جہاں ملکی اور غیرملکی سطح پر اعتراف کی یہ سطح ہو وہاں اردو کے ایک پروفیسر صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ بھائی مضمون لکھنے سے پہلے آپ اسے بطورناول تو Establishکرلیجیے! ۔گویا ہندوستان کے اردوحلقوں میں اب تک یہی طے نہیں ہوسکاہے کہ یہ متن ناول ہے بھی یا نہیں ۔ ہمارے بعض احباب کو اس ناول کے موضوع اور بعض کو زبان اور بعض کو دونوں پر سخت اعتراض ہے ۔ ہر شخص کو اختلاف کا حق ہے لیکن اس اختلاف میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم ایک ہی جھٹکے میں کسی شخص کی زندگی بھر کی بصیرتوں کو منسوخ کردیتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ ہر اہم اور بڑے متن میں اعتراف اور اختلاف کی صورتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ’آگ کا دریا‘ کو غیر اہم اور اوسط درجے کا ناول مانتے ہیں ، لیکن جب عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا جاتا ہے تو ذہن سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ 2008 میںفرانسیسی مصنف زین میری گوستاو¿لے کلے زیو (Jean-Marie Gustave Le Clézio) کو اس کے ناول پرادب کا نوبل پرائز دیاگیا تھا۔سات دسمبر 2008کے نوبل لکچر میں اس نے دنیا کے چند اہم نظرانداز کیے گئے مصنفین میں قرةالعین حیدر کا نام لیا تھا اور ان سب کے ساتھ اس نے عینی کے نام اپنے نوبل انعام کو منسوب کیا تھااور اعتراف کیا تھا کہ قرةالعین حیدر کو ’آگ کا دریا‘ کے لیے نوبل انعام کا مستحق قرار دیا جانا چاہیے تھا۔علم کی ناقدری کے اس عہد میں کس سے گفتگو کی جائے اور کسے قائل کیا جائے ۔ ہمارے یہاں اکثر ادبی فیصلے ذاتی رویوں اور سودوزیاں کی میزان پر کرلیے جاتے ہیں ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کا متن اگر ناول نہیں تو کیا ہے ؟اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ اگر کمزور ناول ہے تو اس کے لیے دلائل کا فقدان ہے ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ تاریخ کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس کے بیانیہ میں تاریخی کتب اور قدیم لغات سے استفادہ کیا گیا ہے ، اس لیے فرسودہ اور بے کار ہے ، قطعی مناسب نہیں ۔اسی بات کو اگر تعریف کے پیرایے میں کہا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ فاروقی صاحب نے انیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب کو اس کی پوری گہرائی ، لطافت اور طاقت کے ساتھ تخلیق کیا ہے ۔ ا س لیے یہ تاریخ نہیں ماضی کی بازیافت ہے ۔یہ تاریخ نہیں تہذیبی مرقع ہے ۔ اگر تاریخ پر اصرارہی مقصود ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناول تاریخ کی از سر نو تخلیق ہے ۔ وزیر خانم کی صورت میں ایک تاریخی اشارے کو انیسویں صدی کے حسن کازندہ شہکار(Celebrated beauty) بنادیا ہے اور یہ شہکار انیسویں صدی کے ہندوستان کا چہرہ بن گیا ہے ۔یہ اس تہذیب کا حوالہ ہے جس میں تہذیب شاعری اور شاعری تہذیب میں گھل گئی تھی ۔یہ ناول اقبال کے ایک مصرعے کی تعبیر ہے :”دردوداغ و سوز و سازو جستجو و آرزو“۔فاروقی صاحب اسے تاریخی ناول نہیں مانتے جبکہ قارئین کا ایک بڑا طبقہ اسے تاریخی ناول ہی کی حیثیت سے پڑھتا ہے ۔مصنف کا اصرار ہے کہ یہ تاریخ نہیں ، تہذیبی مرقع ہے ۔یعنی تہذیبی نقوش یہاں مختلف رنگوں میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ اس ناول میں تاریخ کی صحت سے زیادہ تہذیب کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے ۔ اکثر کردار تاریخ کا زندہ حوالہ ہیں ۔ غالب ، مومن ، ذوق ،حکیم احسن اللہ خان،گھنشیام لال عاصی،ظہیر دہلوی، مرزا فخرو، نواب یوسف علی خاں،صہبائی ، نواب شمس الدین احمد، داغ دہلوی ، بہادر شاہ ظفر، ولیم فریزر، مارسٹن بلیک وغیرہ ۔مصنف نے ان حضرات کے خاکوں میں Illusionپیدا کیا ہے ۔اس لیے یہ ناول تاریخ نہیں تاریخ کا التباس ہے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخی کرداروں کے حوالے میں تخلیق کار کی بعض آزادیا ں سلب ہو جا تی ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطا بق کر داروں کو واقعات سے نہیں جو ڑ سکتا ۔وہ سوانح کی صحت کے چکر میں اپنے اوپر بعض پا بندیا ں عائد کر لیتا ہے مگر فاروقی صاحب نے کر داروں کو قابل توجہ بنا نے کے لیے دلچسپ ،گرما گر م اور پھڑکتے ہو ئے فقرے تر اشے ہیں اور سا تھ ہی مر قع نگا ری کے بہترین نمو نے پیش کیے ہیں ۔یہ کردار اس ناول میں تلمیحی واقعات کے بجائے علامتی حقیقت بن گئے ہیں ۔ وزیر خانم سے متعلق تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ داغ دہلوی کی والدہ ہیں ۔مورخین نے انھیں داغ کے حالاتِ زندگی کے سلسلے میں معلوم حوالوں کے حاشیے پر رکھا ہے ۔داغ کے اجداد کی کچھ تاریخ کا علم فاروقی صاحب کووزیر کے پوتے وسیم جعفرسے ہوا اور ایک تخیلی کردار ماہرامراض چشم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی وسیم جعفر کی کہانی چل پڑی ۔ اٹھارویں صدی کے راجپوتا نے سے جو کہا نی شروع ہو ئی تھی وہ 1856 تک محیط لال قلعہ میں آکر ختم ہو ئی ۔ اختتامیہ المیہ پر ہے۔یہ تہذیب کا آئینہ اور کھوئے ہوئے کی جستجو ہے ۔
فاروقی صاحب نے اس ناول میں مندرج اہم تا ریخی واقعات کی صحت کا حتی الا مکا ن اہتمام کیا ہے۔ایسے واقعات کم ہیں اور سہارے کے بطور استعمال کیے گئے ہیں۔تاریخی واقعات کی صحت کا اہتمام کرنا غالباً ضروری بھی تھا تاکہ قاری تاریخی حوالوں سے بصیرت کشید کرنے میں گمراہ نہ ہوجائے ۔ مجموعی طور پر اس ناول کے علمیاتی پہلو کئی سطحوں پر ہماری بصیرتوں کو انگیز کرتے ہیں۔ اس کی علمیاتی قوتوں کے سبب ہی اسے عالمانہ تخلیقی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے ۔یہ تخلیقی سطح پر انیسویں صدی کے ہندوستان کا وجودیاتی رزمیہ ہے اور شعریاتی سطح پر شاندار بزمیہ ۔یہ اس نا ول کا اعجا ز ہے کہ بعض تاریخی حقائق کو بھی قاری افسانہ سمجھ کر پڑھتا ہے اور بعض افسانوں کو تاریخی حقائق پر محمول کرلیتا ہے اور ان سے حظ اٹھا تا ہے۔ جزئیات کے بیان میں نا ول نگا ر کی دوررس نگاہ اور عمیق تا ریخی و تہذیبی مطالعے کی داد جتنی دی جا ئے ، کم ہے ۔جنسی افعال کی جزئیا ت نگا ری بھی انھو ں نے غضب کی ،کی ہے ۔ عمارات ، ملبو سات ،اسلحہ جا ت ، آلاتِ مو سیقی ،سازو سامان،سواریا ں،کھانے پینے کی چیزوں اور منا ظر کی ایسی تفصیل پیش کی ہے جس سے اس عہد کی پو ری تصویر آنکھو ں کے سامنے پھر جا تی ہے ۔انھوں نے جو پیکر ترتیب دیے ہیں، ان سے اس عہد کی شخصیتو ں کی شکل و صورت ،حرکا ت و سکنا ت ، نشست و بر خاست کے آداب ،طبیعت کی رنگا رنگی ، آواز کی کیفیا ت،ملبو سات کا انصرام ، وضع قطع اور حالا ت و واقعات نما یاں ہو تے ہیں ۔
فاروقی صاحب نے نا ول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی سے متصف ہے ۔انھو ں نے اس زبان کا اسلو ب تذکروں ،سوانح ،خود نو شت اور دیگر دستا ویزی حوالہ جا ت سے اخذ کیا ہے جبکہ زبان کی صحت کے لیے انھوں نے جا ن شیکسپیر ،ڈنکن فور بس ،جا ن گلکرسٹ وغیرہ کے مر تب کر دہ لغات سے رجو ع کیا ہے ۔ انھوں نے وہی زبان لکھی ہے جو اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے معاشرے میں رائج تھی ۔ انھو ں نے اس کا التزام خصوصی طورپر کیا ہے کہ بیا نیہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہ آنے پا ئے جو اس زما نے میں مستعمل نہ تھا ۔اس لیے زبان کا مغلق اور گنجلک ہو نا عین فطری ہے اور کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایسے الفا ظ کیو ں بر تے گئے ۔عر بی اور فا رسی الفا ظ کی کثرت اس زمانے کے لسا نی مذاق کا پتا دیتی ہے ۔ وہ محاورے جو دہلی اور حضرتِ دہلی میں مستعمل تھے مصنف نے انہیں بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے ۔مکا لمو ں میں بیگما ت ، نو ابین ،امراو روئسا، شعر اوادبا ،عشاق ،خدام ،نو کر چا کر ،کی زبان اس طر ح پیش کی گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی اس عہد میں مو جو د ہیں اور ان کی گفتگو سے محظوظ ہو رہے ہیں ۔ناول نگا رنے اس طر ح ہمیں اس دنیا کی سیر کر ائی ہے جو ہماری تہذیب کی بنیا د ہے اور جسے ہم فرامو ش کر چلے تھے ۔عورتو ں کے محاوارات کو بر تنے میں نا ول نگا ر کو قدرت حاصل ہے ۔ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس ناول کی زبان سے متعلق دو طرح کی آرا موجود ہیں ۔ کچھ لوگ اس اسلوب کو قابل رشک بتاتے ہیں اور حیرت سے کہتے ہیں کہ واہ فاروقی نے کیا زبان لکھی ہے ۔ کچھ لوگ ان کے اسلوب کو اس ناول کے لیے سب سے بڑا عیب گردانتے ہیں ۔ اعتراض یہ ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ماحول کی عکاسی کے لیے کیا ضروری ہے کہ اس زمانے ہی کی زبان اور اسلوب کا استعمال کیا جائے ؟ اس عہد کو آج کے روز مرہ میں کیوں نہیں پیش کیا جاسکتا ؟ Time Out Delhiکی مدیر Sonal Shahنے بھی اپنے انٹرویو میں فاروقی صاحب سے سوال کیا تھا :
For both Urdu and English novels, you restricted yourself to words from the 19th-century lexicon.”The Mirror of Beauty” is very readable, but is the original book a challenge for native Urdu speakers?
فاروقی صاحب نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ انھوں نے یہ اسلوب شعوری طور پر اختیار کیا ہے ۔ اس لیے لوگوں کے اعتراضات کی پروا کیے بغیر انھیں اپنے ویژن میں ایماندار ہونا چاہیے ۔ہر قاری کی ذہنی اور علمی استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ بعض حضرات کے لیے یہ اسلوب دقت طلب محسوس نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ قدیم اور مشکل لفظیات کے لیے فرہنگ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اسلوب کے لحاظ سے اصل اردو متن مشکل ہے لیکن اردو کے قدیم و جدید محاوروں اور لسانی مزاج سے آشنا ذہنوں کو یہ مسئلہ پریشان نہیں کرتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اکثر لغت سے رجوع کرنے میں گھبراتے ہیں ۔ آج اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی بعض لفظیات ترک ہوچکی ہیں اور ہمارے نئے لسانی مزاج کو انھیں قبول کرنے میں تامل ہوتا ہے ۔کم سے کم گفتگو کی حد تک وہ نامانوس اور غریب معلوم پڑتے ہیں ۔ناول کی قرا¿ت میں مجھے بھی ایسی بعض لفظیات کا سامنا کرنا پڑا جن سے تخلیق کی روانی میں خلل محسوس ہوا ۔ یہ بھی محسوس ہوا کہ مصنف معنی پر لفظ کو ترجیح دے رہا ہے ، مگر یہ پہلو ضمنی ہیں ۔ ضمنی اختلافات کے سبب پورے متن کو ناقابل قبول نہیں قرار دیا جاسکتا ۔
متن کے بین السطور میں بعض موقعوں پر تنقیدی بیانیہ بھی در آیا ہے ۔ غور طلب پہلو ہے کہ اس عہد میں ایک نئی شعریات مرتب ہورہی تھی ۔ محاوروں کے مسائل ، لفظ و معنی کی نزاکتوں اور اشعار کے برجستہ استعمال کے منظرنامے میں یہ کیسے ممکن نہیں تھا کہ شعر اور زبان سے متعلق اس عہد کی تنقیدی بصیرت کسی کردار کی زبانی مترشح نہ ہو ۔ یہ اعتراض صرف اس لیے ممکن ہوسکا ہے کہ مصنف کو ہم اول اول نقاد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ ورنہ کسی اور کے قلم سے اگر یہ متن تخلیق پاتا تو اس قسم کی غیرسنجیدہ شکایت نہ ہوتی۔ ایک اعتراض یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جزئیات کے بیان میں فاروقی صاحب نے معلومات کو شعوری طور پر ٹھونسنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمارا معروضہ ہے کہ ماضی کی یہ ’معلومات ‘ نئی نسل کے لیے حیرت اور آگہی کے درمیان بصیرت تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔ اس لیے یہ اعتراض بھی ضمنی ہے ۔ ناول کے مندرجات ہما ری روایات کے امین اور ہماری میراث ہیں جنھیں ہم کھو چکے تھے ۔ نا و ل کے مطالعے کے بعد ان کی روحانی اور جذباتی باز یا فت ہو تی ہے۔
یہ خانم کی محبتو ں کی ادھو ر ی داستان ہی نہیںبلکہ ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستا ویز ہے۔فاروقی صاحب اس متن کو تہذیبی مرقع کہنے پر مصر ہیں ۔ اگر معترضین اس متن کو ناول نہ بھی تسلیم کریں اور تہذیبی مرقع تسلیم کرلیں تو مصنف کی محنت کام آجاتی ہے اور مقصد پورا ہوجاتا ہے ۔
ہم نے ’تصویر‘ کو کتاب بنتے دیکھا اور کتاب کو ناول۔حقیقت کو افسانے کے قالب میں ڈھلتے ہوئے دیکھا ۔ خواب نے دستک دی اور ماضی نے دروزہ کھولا ۔ دیکھتے ہیں کہ دور تلک اندھیرے اجالے کی کشمکش ہے ۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ کوئی شعر سنارہاہے اور ہرطرف سے داد و تحسین کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ ایک سلطنت اور ایک تہذیب پر اندھیرا گہرا ہوتا جارہاہے ۔ دہلی کے لال قلعے سے ایک سایہ لہراتا ہوا ہماری آنکھوں سے گزرگیا ہے ۔ ہم نے شاید انیسویں صدی کے حسن و جلال کا وہ آئینہ دیکھ لیا ہے جس میں ہمارا وجود فخر ، تاسف، مسرت اور حیرانی کے ملے جلے اثرات سے بے چین ہوگیا ہے ۔ اب یہ بے چینی دور تلک جائے گی ۔
——————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

 

KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN : AIK MUTALEA

Articles

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

پروفیسرصغیر افراہیم

پروفیسرصغیر افراہیم

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ ایک محقق اور بلند پایہ ناقد ناول لکھے اور واقعہ نگاری پر اپنی غیر معمولی قدرت، تخیل کی پرواز اور دلفریب اسلوب سے ناول کے قاری کو حیرت میں ڈال دے۔ شمس الرحمن فاروقی، اس وقت اردو کے بے مثال نقاد ہیں جن کے تنقیدی مضامین نے ادب کی سمت و رفتار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن جب ان کا ناول ” کئی چاند تھے سرِ آسماں“ شائع ہوا تو ناول نگاری کے فنّی ضابطوں کے ساتھ اتنا ضخیم ناول لکھنے کی ان کی صلاحیت پر سب کو حیرت ہوئی۔
شمس الرحمن فاروقی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانوں سے کیا۔ انھوں نے نئے طرز کی غزلیں کہیں اور نظمیں بھی لکھیں لیکن ان کے تنقیدی مضامین نے معاصر ادبی منظر نامے کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے تخلیقی کارناموں کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کو زبان و بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ وہ اپنی بات کو بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اُن کے افسانوی مجموعہ ”سوار“ نے اردو دنیا کو چونکا دیا۔”سوار“ کے افسانے اردو افسانے کی ایک بالکل نئی جہت کا پتہ دیتے ہیں۔اس میں ہماری ادبی زندگی کے بعض گراں قدر زمانوں کی تخلیقی بازیافت کی گئی تھی۔اسی طرح فاروقی کا ضخیم ناول”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اردو ناولوں کی کہکشاں میں ایک چاند کی طرح وارد ہوا اورفکشن کی دنیا اُس کی چاندنی میں نہا گئی ہے۔ ہم اس ناول کو کسی بھی مخصوص رجحان یا تحریک سے نہیں منسوب کر سکتے کیونکہ اس میں تاریخی شعور کے علاوہ ادبی پس منظر، روایت سے جڑے رہنے پر اصرار، سوانحی گوشے کے علاوہ ایک طویل زمانے کی تہذیبی فضا کی بازیافت کی گئی ہے۔ اِس ناول میں تاریخ کا گہرا شعور اور ہمارے تہذیبی ارتقا کے ایک خاص دور کو بڑی فنکاری سے روشن کیا گیا ہے۔ پلاٹ منظم ہے کہ ایک باب کا اختتام دوسرے باب کا پس منظر بنتا ہے اور قصہ اِس طرح آگے بڑھتا ہے کہ حیرت و استعجاب کا ماحول بر قرار رہتا ہے۔ شعور کی رو اور اندرونی خود کلامی کے ساتھ کہیں کہیں جنس کی نزاکتوں اور لطافتوں کا بھی اظہار ملتا ہے۔
ناول کا فن وضاحت کا فن ہے۔ اس کا کینوس زندگی کی طرح بسیط ہوتا ہے جس طرح سے زندگی کی کہانی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اُسی طرح ناول کا فن بھی صراحت اور وسعت کا تقاضہ کرتا ہے۔ ناول میں ادیب اپنا مخصوص نقطہ¿ نظر پیش کرتے ہوئے زندگی کی تصویر کشی کرتا ہے۔ حقیقت کو تخلیقی عمل میںیوں پیش کیاجاتا ہے کہ قصہ کی حیثیت سے اُس کے تمام عناصر میں تال میل، ہم آہنگی اور ربط قائم ہو جائے۔
ناول نگار کو سادہ حقیقت نگار ہی نہیں، زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کا بھی ترجمان ہونا چاہیے۔اِس کا فن اخلاقیاتی شعور کا بھی مطالبہ کرتا ہے اورفنّی حکمت عملی کا بھی ۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ناول نثر میں ایک طربیہ کہانی ہوتی ہے لیکن اِس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ناول زندگی کی حقیقتوں کو پیش کرنے کا فن ہے تو اس میں طربیہ کے ساتھ ساتھ المیہ عناصر کو پیش کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ ناول جو اپنے طور پر ایک وسیع کینوس کی حامل صنف ہے تو ہم اس کو طربیہ میں سمیٹ کر محدود کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایک بنیادی بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ جو ناول نگار اخلاقی و اصلاحی مقاصد کو پیش کرنے کے لیے اِس صنف کو اختیار کر تے ہیں تو ناول تہہ دارنہ ہوکربیشتر ایک سطحی قصہ بن کر رہ جاتے ہیں چونکہ زندگی صرف معروضی سچائی کا نام نہیں اسی لیے اعلیٰ اخلاقی یا صرف اصلاحی قدروں کو پیش کرنے کا نام ناول نگاری نہیں ہو سکتا۔ ناول زندگی کی پیچیدہ تر صداقتوں کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے اس میں خیر کے ساتھ شر، حق کے ساتھ باطل ایمان کے ساتھ بے ایمانی، سچ کے ساتھ جھوٹ کے رشتے کی دریافت اس کا فن بن جاتا ہے۔ کہانی کا مقصود صرف نیکی اور اخلاقیات کا درس دینا ہی نہیں ہے بلکہ سماج میں رہنے والے کرداروں کے منفی اخلاق، غیر انسانی افعال کے محرکات کی جتھ اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کی گہری انسان دوستی کی آرزو کے بیان کرنے کا عمل بھی ہے۔
چونکہ ناول ایک پھیلی ہوئی بڑی تصویر ہے جس میں ایک مقررہ پلاٹ کو واضح کرنے کے لیے کائنات کے متنوع کرداروں جو مختلف جماعتوں اور قبیلوں کے ساتھ رہتے ہیں ، کی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کی مصوری ہے۔ اس طرح سے شمس الرحمن فاروقی کا ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ صرف حقیقت نگاری کا نمونہ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بھرپور زندگی متحرک نظر آتی ہے جس میں ہنداسلامی تہذیب اور ثقافت کے موضوع پر مشتمل روداد کو بیان کیا گیا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی ہندوستان میں فارسی تہذیب کی ترقی و ترویج اور اردو کی کلاسیکی روایت سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ زبان کے بننے اور سنورنے کے عمل سے بھی آگاہ ہیں۔ تہذیبوں کے میل ملاپ پر بھی اُن کی گہری نظر ہے لہٰذاانھوں نے اِس پورے تدریجی عمل کے نشیب و فراز کو اپنے بیانیے کا جُز بنایا ہے۔اسی لیے ناول میں قدیم و متروک الفاظ کے ساتھ مشکل الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کو بھی فضا بندی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی کی بازیافت کے متعین مقصد نے فاروقی کے اسلوب کو بے حد مشکل بنا دیا ہے لیکن فضا، ماحول اوربرتاو¿ کے اعتبار سے دیکھیں تو سب کچھ موقع و محل سے گہری مناسبت رکھتاہے جس کا اعتراف ہندو پاک کے کئی بڑے فکشن نگاروں نے کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ فاروقی کے پیشِ نظر اردو کے بھی کئی ناول تھے جن سے انھیں خام مواد ملا ہے۔ مثلاً”امراو¿ جان ادا“ میں لکھنو¿ کے قرب و جوار کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منظر کشی سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ انحطاط پذیر حیدر آباد ی تہذیب ، حویلیوں کی ٹوٹتی ہوئی دیواروں کا المیہ اورمعاشرے کی اُلٹتی ہوئی بساط کا حال انھوں نے عزیز احمد کے ناول ”ایسی بلندی ایسی پستی“ میں محسوس کیا ۔ ”آگ کا دریا“ جس کا وسیع کینوس ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کے پسِ منظرکو سمیٹے ہوئے ہے اُس سے بھی فاروقی نے تاریخی بصیرت کے ساتھ تکنیک اور فن کی جدّت و نُدرت کے تاثر کو قبول کیا ہے۔ اردو کا ایک بڑا ناول ”اداس نسلیں“ بھی اُن کے پیشِ نظر رہا ہوگا جس میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی کشمکش کے ساتھ بدلتے ہوئے تاریخ کے منظر نامہ اور تہذیبی تصادم ، ہندو پاک کے گوناگوں پیچیدہ مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی اہم ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کے محرک معلوم ہوتے ہیں۔
مذکورہ ناول ۶۰۰۲ءمیں پاکستان کے مشہور اشاعتی ادارے شہرزاد اور ہندوستان میں پینگوئن و یاترا بُکس سے شائع ہوکر اردو کے اہم ناولوں کی فہرست میں شامل ہوا۔ تکنیکی اعتبار سے اِس ناول کو کسی ایک زمرے میں شامل کرنا دشوار ہے کہ اس میںفکر و فن کے مختلف رجحانات کے عکس کسی نہ کسی صورت میں نظر آتے ہےں۔تاہم تکنیکی سطح پر یہ ایک نیا تجربہ ضرور قرار دیا جائے گا۔ مصنف نے اس ناول کے حوالے سے اعتراف کیا ہے:
”یہ بات واضح کردوں کہ اگر چہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب اور انسانی تہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا۔“
ماضی کے دریچوں سے جھانکنے کی کوشش کریں تو اورنگ زیب کے انتقال (۳ مارچ ۷۰۷۱ئ) کے بعد عظیم الشان مغل حکومت کے زوال کے اسباب میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ محض بارہ سال میں سات بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ تخت سے دار تک پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ریاستیں خود مختار ہونے لگیں۔ نادر شاہی حملے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی حکمرانی کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اِسی دور کی تہذیب و ثقافت کے عروج و زوال کو مرکز و محور بنایا ۔ اس ناول کے منظر نامے پر کئی دائرے اُبھرتے ہیں جن میں کشمیر، راجپوتانہ اور پنجاب کے بعد دہلی کا گہرا رنگ حاوی ہو جاتا ہے۔یہ دائروی رنگ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک پھیلا ہوا ہے۔ سلیم جعفر ہوں یا وسیم جعفر، خانم کی زندگی کی چھان بین اور اُس کے عہد کے تہذیب و تمدن کی تلاش میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ فاروقی اس جتھ میں ان کے معاون ہوتے ہیں۔
۱۱۸۱ءمیں وزیر خانم پیدا ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے من موہنی نے نیا روپ اختیار کر لیا۔ خانم کے بُزرگ مصوّر تھے ، انھوں نے ایک ایسی تصوراتی تصویر بنائی تھی جو اتفاقاً مہاراول کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے مشابہ تھی۔وقت کی طنابیں کھنچتی ہیں اور قاری محسوس کرتا ہے کہ تقدیر بھی دونوں کی ایک جیسی، المیاتی کرب کا شکار رہی۔محمد یوسف سادہ کار کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ با صلاحیت اور آزاد طبیعت کی مالک تھی۔
تاریخی اعتبار سے یہ ناول انیسویں صدی سے بہت پہلے شروع ہوکر سال ۶۵۸۱ءمیں ختم ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے کا بیان ہمیں ایسی دنیا کی سیر کراتا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی لحاظ سے بے حد معمور ہے۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم ایک تاریخی کردار ہے جو فعال ، پُر رعب، مقناطیسی کشش رکھنے والی شخصیت ہے۔ اُسی کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے اس کے ذریعہ نہ صرف شجرہ¿ خاندان آگے تک چلتا ہے بلکہ کہانی بھی ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اگر یوں کہیں کہ ناول ایک ہی خاندان کی کہانی کا پس منظر رکھتا ہے لیکن اس کے مختلف کردار کے رابطوں سے جو وسعت اس میں پیدا ہوئی ہے وہ مغلیہ دور کے آخری وقتوں کے تاریخی اور معاشرتی صورتِ حال کا احاطہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اِس میں قلعہ کی نامور ہستیاں اپنے افعال و اعمال کے ساتھ موجود ہیں۔ ناول میں مرکزی کرداروں کے ساتھ جب تک دوسرے کرداروں کا رابطہ پیش نہیں کیا جاتا ہے اور ان کا تذکرہ شامل نہیں ہوتا ہے۔ تب تک نہ تو پلاٹ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ناول کی صورت اختیار کر تے ہیں۔ مذکورہ ناول میں مغلیہ دور کے زوال کی داستان کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں قلعہ سے متعلق شخصیتوں کے رہن سہن، بود و باش اور غور و فکر کو ان کے مکالموں کے ذریعہ فعال اور متحرک کرنے کی کامیاب سعی ملتی ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کا ایک ادبی پس منظر بھی ہے۔ مغلیہ دور میں فنونِ لطیفہ خصوصی طور سے شعر و سخن کے تعلق سے ادبی محفلیں، مناظرے، مشاعروں کی تہذیب کا جو بیان ملتا ہے وہ بیانیہ تخلیقی اور اسلوبی نقطہ¿ نظر سے اہمیت کا حامل ہے اور ہمارے سامنے شعر و سخن کا عام مذاق و معیار اور ادب کی تاریخ میں اس کی قدر و قیمت کا تعین ناول کے فنی اور پلاٹ کے منطقی ربط میں اس طرح پیوست ہے کہ قصے کی ساخت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ مثلاً غالب کے معاصرین کا ذکر کرتے ہوئے کرداروں کے درمیان ایک ربط اور تعلق قائم رہتا ہے۔داغدہلوی کے عصر کی ادبی چشمکیں، مشاعروں کی تہذیب، ان کے ہم عصروں کی فنی خوبیوں کے علاوہ اُن کی شخصیت کی تہہ داریاں اور نفسیاتی الجھنوں کا بیان بھی اس ناول کی ایک اہم خوبی ہے۔ یوں کہانی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے کہ کہیں دلچسپی اورتجسّس ٹوٹتاہوا دکھائی نہیں دیتا۔
چونکہ ناول اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی ۶۵۸۱ءکے طویل عرصہ پر پھیلا ہوا ہے اس لیے انگریزی دور حکومت اور اُن کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر آنا یقینی ہے۔ یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا کوئی ضخیم ناول محض برہنہ حقائق کے سہارے لکھا جا سکتا ہے؟ کیا ناول اور تاریخ میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے تخلیقی عمل کے لیے حقائق تحریک پیدا کرتے ہیں اگر ان حقائق کے ساتھ تخلیق کار کی ذہنی پرواز شامل نہیں ہوگی اُس وقت تک کوئی بھی تخلیق وجود میں نہیں آتی مزید یہ کہ قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے حقائق اورتخیل کے درمیان باہم رشتہ بنائے ہوئے قصہ کا منطقی ربط بر قرار رکھنا بھی ضروری ہے تب ہی قصہ ناول کی فارم میں آتا ہے۔ چونکہ ناول کا کینوس وسیع ہوتا ہے اور اس میں گوناگوں رنگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔مزید برآں ناول صرف ذاتی تسکین کا ذریعہ نہیں اس کا رشتہ قاری سے بھی ہوتا ہے اس لیے مکالمے کا سہارا لینا بھی ضروری ہوتا ہے جو حقائق اور تخیل کی آمیزش سے ایک عمدہ فن پارے کا روپ اختیار کرتا ہے۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اس کی واضح مثال ہے۔
ادبی تاریخ میں ذکر ہے کہ وزیر خانم، مرزا داغ دہلوی کی والدہ ہیں جو حسین و جمیل ہونے کے ساتھ شوخ طبیعت، خوش اخلاق، خوش گفتار خاتون تھیں مصنف نے ان کی فطری خوبیوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خیالی کردار تشکیل دیا، جن سے کردار جُڑتے گئے، واقعات کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ پسِ منظر میں تاریخ، ادب اور معاشرہ کی تفصیل ایک بہترین تخلیق کا ضامن ہوتی۔ واقعات کے انسلاک اور ارتباط سے یہ تاریخی کردار، بڑی حد تک افسانوی بن گیا اور افسانوی فن کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی بڑی تخلیق بننے کے لیے حقیقت کے ساتھ تخیل کی آمیزش ضروری ہے۔ اس طرح مذکورہ ناول میں تاریخی حقائق کے ساتھ تخیل بھی تخلیقی عمل میں شامل رہتا ہے یوں ناول ایک اعلیٰ فن پارہ بن گیا۔
جس طرح ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم، مغلیہ سلطنت کے بتدریج ختم ہوتے ہوئے اقتدار کی علامت بن گیا ہے اسی طرح کہانی بتدریج ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ناول کا وہ حصہ بے حد اہم ہے جس میں ولیم فریزر پر انگریزی حکومت کے جبر،ہٹ دھرمی اورزبردستی کا نقشہ علامت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ناول کو اس نقطہ¿ نظر سے پڑھیے تووزیر خانم کی اپنی زندگی میں پے در پے شکست،ایک عہد کے زوال کی داستان بن جاتی ہے۔
انگریز افسر کیپٹن مارسٹن بلیک کے رشتے سے خانم کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے ۔ پھر نواب شمس الدین خاں والیِ لوہارو و جھرکہ خانم کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں اور نواب مرزا (داغ دہلوی) کی پیدائش ہوتی ہے۔ شمس الدین کوسازشوں کا شکار بناتے ہوئے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ تین بچوں کی ماں، خانم، آغا مرزا تراب علی سے نکاح کر لیتی ہیں۔ اُس وقت داغ گیارہ برس کے تھے۔ رام پور میں بھی قسمت بہت دیر تک ساتھ نہیں دیتی ہے اور وہ دہلی کے لال قلعہ میں مرزا فخرو بہادر کی زوجیت میں داخل ہوکر شوکت محل کہلاتی ہیں۔ ایک بیٹا خورشید عالم پیدا ہوتا ہے۔ ولی عہد ابھی چلنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مرزا فخرو سخت بیمار پڑکر اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔اُن کے انتقال کے بعد ۶۵۸۱ءمیں خانم کو اُن کے بچوں کے ساتھ قلعہ¿ معلّٰی سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔عمر کے اس پڑاو¿ میں وہ قدرِ مطمئن تھیں کہ بقیہ زندگی بےوگی میں گذار کر بچوں کی شاہانہ انداز میں پرورش کریں گی مگر ’کوچ‘ کے حکم نے سکون بھری زندگی کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔اِس ذلّت و رسوائی سے وہ بے حد رنجیدہ تھیں مگرقدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں، انھیں پتہ نہیں تھا کہ قدرت اُنھیں بچا رہی ہے۔ اگلے سال برپا ہونے والے خونی کھیل سے محفوظ ہو گئیں جس میں شہزادوں کے سر قلم ہوتے ہیں اور شاہ کو رنگون میں سسکتے ہوئے دم توڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
مصنف نے اِس فن پارے کے تاریخی ناول ہونے سے انکار کیا ہے جبکہ اس کے سارے کردار تاریخی ہیں جو اپنی شناخت اورمقامی حیثیت رکھتے ہیں۔ناول میں اُس وقت رائج مخصوص زبان ، اپنے منصب، اپنے تہذیبی حوالوں، جس میںکرداروں کا اندازِ گفتگو، لب و لہجہ شامل ہیں،کے ذریعہ اپنا تعارف کراتے ہیں۔ اس فن پارے کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے زمانے میں زبان کے بتدریج ارتقا میں لفظ و آہنگ کی بنیاد پر صورتیں بدلتی ہیں ناول کی زبان میں بھی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو فاروقی کی تحقیقی، تنقیدی اور لسانی صلاحیت کی غماز ہےں۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کے کردار اس زمانے کی زبان، علم و ہنر، منصب اور لیاقت کے ذریعہ اپنی نفسیات اور فطرت کا اظہارکرتے ہیں۔
مذکورہ ناول میں رومان بھی ہے، اسلامی تہذیب کی جھلک بھی ہے، زندگی کے تضادات، خیر و شر کے معرکے، حق و باطل کی جنگ، انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں بھی ہیں۔حقیقی اور تاریخی واقعہ کے ساتھ ضمنی واقعات سے ربط بناتے ہوئے ڈرامائی انداز میں چُست اور برجستہ مکالموں کے ذریعہ کرداروں کو فعال اور جاندار بنانے کی سعی اور کہانی کو مضبوط اور مربوط کرنے کی کاوش بھی ملتی ہے، مجموعی طور پر کہانی کی رفتار میں کہیں بھی جھول نہیں پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی فطری روانی سے چلتی رہتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ فن کار اپنی تخلیقات سے اپنے وجود کو یکسر الگ بھی نہیں رکھ سکتا۔ وہ اپنے کرداروں کے ہر عمل میں کہیں چھپا بیٹھا رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنے کرداروں کے عمل اور ردّ عمل میں بولتا ہے تو کبھی اپنے افکار کو کرداروں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ وہ سارے عمل میں بحیثیت انسان کبھی بھی لا تعلق نہیں رہ سکتا۔”کئی چاند تھے سرِ آسماں“میں فاروقی کا عمق اور اُن کے کثیر المطالعہ ہونے کا احساس ہر جگہ ہوتا ہے۔ ناول میں انسانی کردار، جذبات اور عمل کا اظہار کچھ ایسے تسلسل اور اعتماد کے ساتھ ملتا ہے کہ باوجود ان زمانی و مکانی حدود کے جن کی پابندی ناول کے ماحول ، پلاٹ اور منفرد اشخاص کو کرنی پڑتی ہے ۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے ان زمانی حدود سے ماوریٰ ناول میں ایک وسیع انسانیت اور جذبات کی ایک نئی بصیرت بھی روشن ہے، جو اس ناول کا خاص امتیازہے۔
مذکورہ ناول میں کہیں کہیں داستانی رنگ بھی نمایاں ہے۔ تخیل کی جدّت، علم و آگہی جب تخیل کی نادرہ کاری سے ہم آہنگ ہوتی ہے توایسا عمدہ تخلیقی ناول وجود میں آتا ہے۔ ادبی و تاریخی تحریکات کے شعور کے ساتھ، واقعات سے زیادہ اُن کے اثرات کا جائزہ داخلی زاویہ¿ نگاہ سے تجربات کی روشنی میں لیا گیاہے۔ اسی لیے مذکورہ ناول کو تخلیقی سطح پر ادب کا بہترین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ میں دو سو سال پہلے کی دلّی کی گلیاں، کوچے، محلے، حویلیاں ، اُس زمانے کے لوگوں کی بود و باش، طرز معاشرت، وضع قطع،رہن سہن، زبان، طرزِ کلام، سفر و حضر، ان کی سواریاں، د شواریاں،زندگی کی دقتیں، الجھنیں بڑی تفصیل اور اہتمام سے اس ناول میں نظر آتی ہیں۔ایسا بیانیہ ہے کہ جسے ناول میں سبھی خصوصیات جذب کردی گئی ہوں اُسے کسی ایک قسم کا ناول کہنا مناسب نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کوئی نیا نام و عنوان تلاش کرنا ہوگا۔
پلاٹ و اسلوب بیان کے اعتبار سے یہ ناول موثر ہے۔ اتنے وسیع کینوس پرجہاں کرداروں کا شمار مشکل ہوتا ایک ڈیڑھ صدی سے زیادہ مدّت پر محیط داستان کی تصویر کشی اور منظر نگاری مہارت کے ساتھ اس طرح کی گئی ہے کہ پورے ناول میں کہیں بھی نہ تو روانی متاثر ہوئی، نہ زبان لڑکھڑائی ہے۔ ایک محقق اور ناقد تخلیقی کائنات میں اس شان سے جلوہ گر ہے تو حیرت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں ایک ایسے ہی بڑے ناول کا انتظار تھا جس میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے معاشرتی کوائف کی تصویر کشی ہو۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ہماری اس توقع پر پورا اُترتا ہے۔
————————————————

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی