Adab me Insan Dosti aur Tasawwur

Articles

ادب میں انسان دوستی کا تصور

پروفیسر شمیم حنفی

بیسویں صدی تاریخ کی سب سے زیادہ پُر تشدد صدی تھی۔اکیسویں صدی کے شانوں پر اسی روایت کا بوجھ ہے۔جسمانی تشدد سے قطع نظر ،بیسویں صدی نے انسان کو تشدد کے نت نئے راستوں پر لگا دیا۔تہذیبی ،لسانی ،سیاسی ،جذباتی تشدد کے کیسے کیسے مظہر اس صدی کی تہہ سے نمودار ہوئے۔حد تو یہ ہے کہ اس صدی کی اجتماعی زندگی کے عام اسالیب تک تشدد کی گرفت سے بچ نہ سکے ۔اس عہد کی رفتار، اس کی آواز،اس کے آہنگ اور فکر ، ہر سطح پر تشدد کے آثار نمایاں ہیں۔میلان کنڈیرا کا خیال ہے کہ یہ صدی دھیمے پن (Slowness)کا جادو سرے سے گنوا بیٹھی ہے۔
آرٹ اور ادب کا انکھوا خاموشی اور تنہائی اور دھیمے پن کی شاخِ زرّیں سے پھوٹتا ہے اور ہر بڑی تخلیقی روایت کا ظہور فن کا رانہ ضبط اور ٹھہراؤ اور تحمل کی تہہ سے ہوتا ہے۔ایک بے قابو اور بے لگام معاشرے میں جو اپنی رفتار ،اپنی آواز، اپنے اعصاب اور حواس کو سنبھالنے کی طاقت سے محروم ہوچکا ہو، آرٹ اور ادب ایک طرح کے دفاعی مورچے کی حیثیت رکھتے ہیں۔

اس مذاکرے کا موضوع ،اپنے آپ میں،ہمارے زمانے ،ہماری اجتماعی زندگی کے لیے ایک سوالیہ نشان اور ایک سندیسے کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے۔اس Hyper-mercantileعہد میں آرٹ اور ادب اور فلسفہ تاریخ کے حاشیے پر چلے گئے ہیں۔تخلیقی سرگرمی ایک فالتو یا بے ضرر اور بے اثر سرگرمی بن چکی ہے ،کہیں ادب میں انسان دوستی کا تصور صرف ایک آزمایشی تصور تو نہیں ہے؟

لیکن اس موضوع کے ساتھ ،کچھ اور سوچنے سے پہلے ،میرے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا دنیا کی کوئی ادبی روایت انسان دشمن بھی ہوسکتی ہے؟اور کسی بھی زمانے یا زبان کا ادیب ،انسان دوستی کے ایک گہرے احساس کے بغیر کیا اپنے حقیقی منصب کی ادائیگی کرسکتا ہے؟
آندرے مالرو نے کہا تھا:اگر ہمیں فکر کا ایک گہرا ،بامعنی ،مثبت اور انسانی زاویہ اختیار کرنا ہے تو لامحالہ ہمیں دو باتوں پر انحصار کرنا ہوگا ایک تو یہ کہ زندگی بالآخر ہمارے اندر ایک طرح کا المیاتی احساس پیدا کرتی ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم اپنی تمام فکری اور مادّی کامرانیوں کے باوجود یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ ہم کہاں جا رہے ہیں۔دسرے یہ کہ ہمیں بہرحال انسان دوستی کے تصور کا سہارا لینا ہوگا کیونکہ ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم نے اپنا سفر کہاں سے شروع کیا تھا اور ہم بالآخر کہاں پہنچنا چاہتے ہیں۔گویا کہ انسان دوستی کا احساس تخلیقی تجربے کی بنیاد میں شامل ہے ۔خاص طور پر مشرق کی ادبی روایت تو اپنی تاریخ کے کسی دور میں صرف زبان و بیان کی خوبیوں کی پابند نہیں رہی۔ہر زمانے میں یہاں بلند تہذیبی اور اخلاقی قدریں بڑی شاعری کے لیے ضروری سمجھی جاتی رہیں ۔مغربی تہذیب کی بنیادیں اور اس تہذیب کا پروردہ تصور حقیقت مختلف سہی لیکن مشرق و مغرب کی ادبی ثقافت میںبہت کچھ مشترق بھی ہے۔فورسٹر نے ایک سیدھی سادی بات یہ کہی تھی کہ ادب اور آرٹ ہمیں جانوروں سے الگ کرتے ہیں اور طرح طرح کی مخلوقات سے بھری ہوئی اس دنیا میں ہمارے لیے ایک بنیادی وجہ امتیاز پیدا کرتے ہیں۔یہی امتیاز ادب اور آرٹ کو اس لائق بناتا ہے کہ اسے اس کی خاطر پیدا کیا جائے۔فورسٹر نے اسی ضمن میں یہ بھی کہا تھا کہ ایک ایسی دنیا جو ادب اور آرٹ سے خالی ہو میرے لیے ناقابل قبول ہے اور مجھے اس دنیا میں اپنے دن گزارنے کا کوئی طلب نہیں ہے۔گویا کہ انسانی تعلقات کے احساس اور سروکاروں کے بغیر آرٹ ،ادب اور زندگی سبھی بے معنی اور کھوکھلے ہوجاتے ہیں۔

سائنسی اور سماجی علوم کے برعکس ،ادبی روایات کی پائداری اور استحکام کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ انسانی تجربے کے جن عناصر سے یہ روایتیں مالا مال ہوتی ہیں ،وہ نئی دریافتوں اور نئے نظریات کے چلن کی وجہ سے کبھی ناکارہ نہیں ہونے پاتیں۔بہت محدود سطح پر سہی لیکن ادب اور آرٹ کی روایتیں اجتماعی زندگی کے ارتقا میں اپنا رول ادا کرتی رہتی ہیں۔بہ قول ایلیٹ ،ایک انوکھا اتحاد انسانی تاریخ کے مختلف زمانوں سے تعلق رکھنے والی روحوں کو ایک صف میں یکجا کردیتا ہے ۔بظاہر اجنبی اور پرانی آوازوں میں نئے انسان کو اپنی روح کا نغمہ بھی سنائی دیتا ہے۔رومی اور حافظ اور شیکسپیئر اور غالب اور اقبال اور ٹیگور ایک ساتھ صف بستہ ہوجاتے ہیں۔

لیکن یہاں تاریخی اعتبار سے ادب میں انسان دوستی کے تصور پر گفتگو سے پہلے ہمارے اپنے عہد کے سیاق میں انسان دوستی کے مضمرات پر کچھ معروضات پیش کرنا ضروری ہے۔ہمارے دور میں بد قسمتی سے انسان دوستی نے ایک نعرے کی حیثیت بھی اختیار کرلی ہے۔اقوام متحدہ کی عمارت کے باب داخلہ پر شیخ سعدی کا یہ مصرعہ کہ’’بنی آدم اعضائے یکِ دیگر اند‘‘اسے رویے کا پتا دیتا ہے ۔اس کے علاوہ اپنے مقبول عام مفہوم اور مسلّمہ اوصاف کے باوجود انسان دوستی ہمارے زمانے میں خسارے کا سودا بھی بن چکی ہے۔اور نوآبادیاتی(کولونیل) مقاصد میں یقین رکھنے والوں یا نسل پرستانہ عزائم اختیار کرنے والوں نے انسان دوستی کے تصور کو ایک سیاسی حربے،ایک آلہ کار کے طور پر بھی استعمال کیا ہے۔عراق، افغانستان اور فلسطین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔

اصل میں تاریخ کی ایک اپنی مابعد الطبیعیات بھی ہوتی ہے اور مختلف ادوار یا انسانی صورت حال کے مختلف دائروں میں معروف اصطلاحات کے معنی بھی بدل جاتے ہیں۔انسان دوستی کے تصور کی بھی کئی سطحیں ہیں،مذہبی ،سماجی، سیاسی۔ادب میں انسان دوستی کا تصور ان میں سے کسی بھی سطح کا تابع نہیں ہوسکتا۔سیاسی،سماجی،مذہبی نظام کے تحت انسان دوستی کا تصور کسی نہ کسی مرحلے میں ایک طرح کی براہ راست یا بالواسطہ مصلحت کا شکار بھی ہوسکتا ہے جہاں اسے وہ آزادی، وہ کھلا پن ہر گز میسر نہ آسکے گا جس تک رسائی صرف ادب کے واسطے سے ممکن ہو سکتی ہے۔اسی طرح کولونیل عہد کی انسان دوستی اور پوسٹ کولونیل عہد کی انسان دوستی کا خمیر بھی یکساں نہیں ہوسکتا۔ادب اور آرٹ کی دنیا میں انسان دوستی کی روایت بہرحال کچھ سیکولر قدروں کی ترجمان ہوتی ہے۔ادب ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی روحانی طلب صرف مرئی ،ٹھوس اور مادّی چیزوں تک محدود نہیں ہوتی۔ادب ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انسان ایسی چیزیں سمجھنا چاہتا ہے جو بہ ظاہر کام کی نہیں ہوتیں اور جن سے روز مرہ زندگی میں ہماری کسی ضرورت کی تکمیل ممکن نہیں،مثلاََ فلسفہ اور نفسیات ۔اور انسان اظہار کی ایسی ہیئتیں بھی وضع کرنا چاہتا ہے ،ایسی ’’چیزیں‘‘بنانا چاہتا ہے کو مبہم ،مرموز اور منطق سے ماوارہوتی ہیں ،مثلاََ ادب اور آرٹ۔بجائے خود ادب ایک طرح کا باطنی اور روحانی تشدد بھی ہے جو بہ قول ویلیس اسٹیونس (Wallaes Stevenes)خارجی دنیا میں واقع ہونے والے تشدد سے مزاحم ہوتا ہے اور ہمیں اس کی گرفت سے بچائے رکھتا ہے۔کامیو کے ایک سوانح نگار نے اسے انسان دوستی یا انسانی (ہمدردی) کے جذبوں کی سیاست سے تعبیر کیا ہے اور اس سلسلے میں کامیو کی ان تقریروں کا حوالہ دیا ہے جن میں کامیو نے ۱۹۵۷ء کے دوران اس واقعے پر بار بار زور دیا تھا کہ ہمارا عہد انقلابی قدروں کے انحطاط اور ابتذال کا عہد ہے۔لیکن یہ انحطاط و ابتذال انقلابی قدروں کے بازیابی میں ہمارے یقین کو کمزور نہیں کرسکتا اور ہم ان اقدار سے بے نیازی کے متحمل نہیں ہوسکتے۔اپنے سوانح نگار فلپ تھوڈی(Philip Thody)کی اطلاع کے مطابق اس وقت کامیو کی تمام ذہنی سرگرمیوں کا نقطئہ ارتکازاس کا انسان دوستی کا تصور تھا اور انسانی المیوں اور اذیتوں کا شدید احساس۔اس وقت کامیو نے کسی سیاسی تحریک میں شمولیت کے بغیر ادبی اور ادب کے انسانی سروکاروں پر جس طرح زور دیا تھا اس سے ایک سیاسی جہت بھی خود بخود نمودار ہوجاتی ہیں۔کامیوں کی انسانی ہمدردیاں اور ترجیحات اس وقت بالکل واضح تھیں اور ان سے اس کے موقف کی صاف نشاندہی ہوتی تھی۔کامیو ہر طرح کی نظریاتی اور فکری مطلقیت کا مخالف تھا اور یہ سمجھتا تھا کہ مطلقیت یا منصوبہ بند اور متعین مقاصد جن انسانی آلام کو آسان کرنے کے مدعی ہیں ان میں کوئی بھی انسانی الم بجائے خود مطلقیت سے بڑا اور اس سے زیادہ مہلک نہیں ہے۔یعنی کے ضابطہ بند عقیدے (مذہب)،نظریے(آئیڈیالوجی)،علوم(سائنس)کی روشنی میں مرتب کیا جانے والا انسان دوستی کا کوئی بھی تصور کامیو کے تصور سے مناسبت نہیں رکھتا اور ان میں سے کوئی بھی اس پر پیچ اور کشادہ انسانی احساس اور اس لازوال تجربے کی احاطہ بندی کا اہل نہیں ہے جس کی نمود ادب اور آرٹ کی زمین پر ہوتی ہے،اسی طرح جیسے آرٹ اور ادب کی خاموش سرگرمی سے پیدا ہونے والا اخلاق،رسمی اور روایتی اخلاق سے مختلف ہوتا ہے،بہ قول شخصے ادب بجائے خود اخلاق سے زیادہ با اخلاق شے ہے یا یہ کہ (More moral than morality itself)۔فراق نے کہا تھا:

خشک اعمال کے اوسر سے اگا کب اخلاق
یہ تو نخل لب دریائے معاصی ہے فراق

ایک ادیب اور آرٹسٹ جس انسانی سروکار اوراخلاقی ملال کے ساتھ اپنی تخلیقات وضع کرتا ہے،اس کا مفہوم صرف مروجہ سماجی ضابطوں اور معیاروں کی مدد ست متعین نہیں کیا جاسکتا۔گہری انسانی دوستی کا تصور ادیب یا آرٹسٹ کی اپنی تخلیقی آزادی کے شعور سے پیدا ہوتا ہے ایسی صورت میں کہ اس کے دل و دماغ پر کسی بیرونی جبر کا دباؤ نہ ہو۔وہ اپنے ضمیر کی عدالت میں اپنے آپ کو آزاد محسوس کرے ،وہ اپنی بات کسی مصلحت ،کسی خوف ،اندیشے یا لالچ کہ بغیر کہہ سکے۔کسی پارٹی لائن یا کسی منظم منصوبہ بند نظریے، کسی ادارے کے احکامات کی بجاآوری اور تخلیقی آزادی یاضمیر کی آزادی کا اظہار ایک ساتھ ہمیشہ ممکن نہیں ہوسکتا ،تاوقتیکہ ادیب اپنی صلاحیتوں کو ،احساسات کو اور اپنے ہی تصور کی طرح ،انسانی ہمدردی کے تصور کو بھی دوسروں کا مطیع وماتحت نہ بنا دے۔معاشرے میں ادیب اورآرٹسٹ کے رول کی وضاحت کرتے ہوئے کامیونے کہا تھا کہ صرف مزاحمت یا تصادم سے اعلاادب نہیں پیدا ہوتا۔بلکہ اعلیٰ ادب ہمارے اندر مزاحمت کا راستہ اختیار کرنے اور اقتدار سے دودوہاتھ کرنے کی استعداد پیدا کرتا ہے۔ایڈورڈ سعید نے انسان دوستی کے تصور کی تشکیل اور تحفظ کے لیے ریڈیکل ازم(Radicalism)اور اقتدار کے تیئں آزادانہ تنقید کے رویے کو ناگزیر بتایا تھا ۔اور کامیو نے اپنی نوبیل انعام کی تقریر (1957ء)کے دوران کہا تھا:

’’بہ طور ایک فرد میں اپنے آرٹ کے بغیر نہیں رہ سکتا۔لیکن میں نے کبھی بھی اپنے آرٹ کو زندگی کی دوسری تمام اشیا سے برتر نہیں سمجھا۔اس کے برعکس ،آرٹ میرے لیے اتنا ناگزیر اس لیے ہے کہ یہ مجھے کسی سے بھی الگ نہیں ہونے دیتا اور مجھ میں یہ صلاحیت پیدا کرتا ہے کہ اپنی بساط کے مطابق (اپنے آرٹ کی مدد سے)خود کو دوسروں کی سطح پرلاسکوں۔میرے لیے آرٹ (کی تخلیق)تنہائی کا جشن نہیں ہے میرے لیے یہ انسانوں کی بڑی سے بڑی تعداد کے لیے،اپنے مشترکہ دکھ اور سکھ کی ایک استثنائی شبیہ کے واسطے سے ،ان کے دلوں کو چھو لینے کا وسیلہ ہے۔‘‘
ادب اور آرٹ میں ایسی تمام استثنائی شبیہیں ،ہجوم کے سُر میں سُر ملانے سے نہیں بلکہ تخلیق کرنے والی روح کے سناٹے ،اس کی مقدس تنہائی اور خاموشی کے بطن سے جنم لیتی ہیں۔ادیب کے لیے اس کی وضع کردہ یہ شبیہیں ،عام انسانی مقدرات کی نقاب کشائی کا ایک ذریعہ بھی ہیں۔وہ کسی طرح کے فکری ،نظریاتی ،سماجی،مذہبی جبر کی پرواہ کیے بغیر اپنے احساسات پروارد ہونے والی تخلیقی سچائیوں کو دوسروں تک پہنچانا چاہتا ہے۔اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو عمومیت زدہ مسئلوں اور عامیانہ باتوں میں ضائع نہ کرے اور اپنی پوری توجہ ادب یا آرٹ پر مرکوز رکھے۔اپنی تخلیقی سرگرمی کا سودا نہ کرے اور ہر قیمت پر فن کی حرمت اور فن کی تشکیل کے عمل کی حفاظت کرے۔عام مقبولیت کے پھیر میں نہ پڑے ۔ایسی باتیں نہ کہے جن کا مقصد سب کوخوش کرناہو۔اسے اپنی ترجیحات کاپتہ ہونا چاہیے۔روزمرہ کی سیاست اور سمجھوتوں سے بچنا چاہیے اور اس وقت جب سچ کو خطرہ لاحق ہو،اس کی حفاظت کے لیے کھل کر سامنے آجانا چاہیے یا پھر اپنے اخلاقی ملال اور احتجاج کوسامنے لانے کا ایک طریقہ جو بظاہر تجریدی ہے،ایک لمبی گہری خاموشی کے طور پر رونما ہوتاہے __بقول منیر نیازی

’’اس ک بعد ایک لمبی چپ اور تیز ہوا کا شور!‘‘
ہماری اجتماعی تاریخ میں 1857ء کے ہنگاموں کے بعد کی فضا میں غالب کا شاعری سے تقریباََدست کش ہوجانا اسی قسم کی ایک صورت حال کاپتہ دیتا ہے۔1857ء کے آس پاس کے ماحول میں تخلیقی اظہار سے زیادہ ایک واضح میلاں اور سطح رکھنے والی علمی اور کاروباری نثر،یا پھر صریحاََمقصدی اور افادی پہلو رکھنے والی جدید نظم سے بڑھتا ہوا عام شغف،انجمن پنجاب کا قیام ،نئی نظم کا وہ منشور جو آزاد نے ایل کیکچر کے طور پر پیش کیا تھا(1874ء)یا پھر 1893ء میں مقدمہ شعری وشاعری کی اشاعت اور کلاسیکی ادبی اصناف کی کھلی ہوئی بے توقیری کا سلسلہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ تمام واقعات ایسے ہی مقبول اور مروّج رویوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔غالب اس وقت ہماری مجموعی تخلیقی روایت کے اوصاف اور محاسن کے سب سے بڑے ترجمان تھے۔لیکن افادیت اور مقصد کے شور بے اماں میں ان کی شاعری اس دور میں پس پشت جا پڑی تھی۔ظاہر ہے کہ کوئی بھی سیاسی اور سماجی نظام ،اس نظام کی پروردہ کوئی بھی بوطیقا ہر شاعرکو تو غالب نہیں بنا سکتی۔اسی طرح ،جیسے کہ بہ قول پاؤنڈ،کوئی بھی بیرونی ہدایت ہر نقشہ نویس کو پکا سو کے اوصاف سے آراستہ نہیں کرسکتی۔الجیریائی مسئلے کے حل کے لیے 1958ء کے دوران کامیو نے عملی سیاست سے اپنے آپ کو جو لا تعلق رکھا تو اسی لیے کہ اسے بہ حیثیت ادیب اپنے حدود کا اور اس دور کے ہنگامہ خیز ماحول میں ادیب کی خاموشی سے رونما ہونے والے موقف کا اندازہ اپنے سرگرم معاصرین کی بہ نسبت شاید زیادہ تھا۔کامیو کی حادثاتی موت کے بعد اپنے تعزیتی مضمون میںسار تر نے لکھا تھا(1960ء)۔۔۔۔۔۔۔
’’بعد کے ان برسوں میں اس کی خاموشی کا بھی ایک مثبت پہلو تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ایک مہملیت زدہ (لغو) ماحول کے اس کارتیسی (Cartesian)نمائندے نے اپنی اخلاقیت کی مخصوص روش کو چھوڑنے سے انکار کر دیا اور ایک غیر یقینی راستے کو، جو علمی سرگرمی کا تقاضی تھا،ہر گز اختیار نہ کیا۔ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ (کامیو کے)اس رویے کا سبب ہم جانتے ہیں اور اس کشمکش کو بھی سمجھ سکتے ہیں جسے کامیو نے چھپا رکھاتھا۔کیونکہ اگر ہم اخلاقیت اور صرف اخلاقیت کا تجزیہ کریں تو یہ سمجھ سکتے ہیں کہ بیک وقت بغاوت کا مطالبہ بھی کرتی ہے اور اس کی(بے اثری کے باعث)مزمت بھی کرتی ہے۔‘‘

خود کامیو نے یہ بات کہی تھی کہ’’معدودے چند لوگ اس سچائی کو سمجھنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ انکا ر کا ایک طریقہ وہ بھی ہوتا ہے جو ترک یا تیاگ کا مفہوم نہیں رکھتا ۔‘‘کامیو کے انتقال (1960ء) سے تقریباََ نو برس پہلے لکھے جانے والے مضمون میں (اشاعت نیویارک ٹائمز میگزین،16دسمبر 1951ء) برٹرینڈرسل نے دس ایسے نکات کی نشاندہی کی تھی جنھیں انسانی سروکار پر مبنی ایک ذاتی منشور کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے ۔اس نے کہا تھا

۱۔کوئی بھی حقیقت مطلق نہیںہے۔
۲۔سچائی کو چھپانا نامناسب ہے کیونکہ سچائی بالآخر سامنے آہی جاتی ہے۔
۳۔ہر مسئلے پر آزادانہ فکرضروری ہے اور صحیح نتیجے تک پہنچنے کا یہی ایک طریقہ ہے۔
۴۔اختلافات پر قابو پانے کے لیے زور زبردستی سے کام لینا غلط ہے۔طاقت پر مبنی کامیابی موہوم ہوتی ہے۔
۵۔کوئی بھی مرکز اقتدار اس لائق نہیں کہ اس کی پروا کی جائے۔
۶۔کسی بھی زاویہ نظر کو پسپا کرنے کی جدوجہد فضول ہے اور اس معاملے میں طاقت کا استعمال یکسر غلط ہے۔
۷۔اپنے خیالات اور راویوں کے منحرف المرکز ہونے یا سنکی کہے جانے سے نہ ڈرو۔ہر خیال جسے اب قبول
کیا جا چکا ہے ،کبھی غلط یا منحرف المرکز بھی سمجھا گیا تھا۔
۸۔مجہول اقرار کی بہ نسبت سوچا سمجھا انکار زیادہ با معنی ہے۔
۹۔سچائی کا راستہ چاہے جتنا دشوار ہو ،اس کو ترک کرنا تکلیف اور شرمندگی کا باعث ہوگا۔
۱۰۔ایسوں کی مسرت پرحسد نہ کرو جو احمقوں کی جنت میں بستے ہیں ۔صرف احمق ہی یہ سمجھے گا کہ یہ دنیا یا دور
ہمیں مسرت دے سکتا ہے۔

برٹر ینڈرسل نے ا پنے اس مضمون کو’’اعادئیت کا بہترین جواب،رواداری‘‘کا عنوان دیا تھا اور اسے انفرادیت کے تحفظ اور ذہنی آزادی کے ایک منشور کی سی شکل دی تھی۔یہاں یہ غلط فہمی پیدا ہوسکتی ہے کہ ذہنی آزادی اور مزاحمت سے متعلق جو باتیں پچھلے چند صفحوں میں کہی گئی ہیں ان کا تعلق تخلیقی ادب یا آرٹ سے کم اور سماجی فکر یا موجودہ عہد میں دانشوری کے مضمرات سے زیادہ ہے۔اس ضمن میرے معروضات مختصراََیہ ہیں کہ ایک تو کوئی بھی تخلیقی سرگرمی ایک فعال ذہنی عنصر اور دفاعی عمل کے بغیر نہ تو شروع ہوتی ہے نہ جاری رہ سکتی ہے۔آرٹ اور ادب کا ایسا ایک بھی نمونہ پیدا کرنا یا ڈھونڈنکالنا مشکل ہے جس کو کسی نہ کسی تصور کی تائید حاصل نہ ہو،ٹرسٹن زارا کا وہ تاریخی مضمون جسے داداازم کے دستور العمل کی حیثیت حاصل ہے اور جسے ڈبلیو،وارین ویگرے نے بیسویں صدی کی انسانی صورت حال کے تناظر میں ’انسان‘ عقیدت اور سائنس‘‘کی ایک سہ رخی اصولی اور نظریاتی کشمکش کے طور پر پیش کیا تھا،اس سے میرے اس معروضے کی تصدیق ہوتی ہے۔یہی واقعہ انیسویں صدی کے اوآخر سے لے کر ہمارے اپنے زمانے تک رونما ہونے والی تمام ادبی اور تخلیقی تھیوریز کے سلسلے میں سامنے آیا ہے۔رومانیت، اظہاریت، تاثریت، حقیقت پسندی،ماورائے حقیقت پسندی،مکعبیت،تجریدیت کے مظاہر ادب اور آرٹ کے تمام شعبوں میں اپنی اپنی مخصوص فکری اساس اور استدلال کے ساتھ رونما ہوئے۔اس کے علاوہ دوسری اہم بات اس ضمن میں یہ ہے کہ روشن خیالی اور عقلیت کی صدیوں کے ساتھ ،جنھیں ہم ہندوستان کی تاریخ کے سیاق میں جدید نشاط ثانیہ کی تشکیل کا دور کہتے ہیں،آرٹ اور ادب کی سطح پر منظم سوش بچار کا ایک مستقل سلسلہ جاری رہا ہے،ملکی اور عالمی دونوں سطحوں پر۔لہٰذا ادب اور آرٹ میں انسان دوستی کا تصور بھی چودھویں پندرہویں صدی کی اطالوی نشاۃ ثانیہ کے سایے میں ایک نئے فکری دستور العمل کے طور پر ظہور پذیر ہوا اور اس کے عالم گیر اثرات سے ادب اورآرٹ کی کوئی بھی روایت لا تعلق نہ رہ سکی۔ایک تاریخی جائزے پر مبنی اطلاع کے مطابق انسان دوستی کی اصطلاح تو 1808ء میں ایک جرمن معلم(F.J Niethemmer) نے وضع کی تھی۔اور اس کا مقصد ایک ایسے مطالعاتی پروگرام کی وضاحت اور منصوبہ بندی تھی جو سائنسی اور ٹیکنولوجیکل تعلیمی پروگراموںسے الگ اپنا تشخص قائم کر سکے۔لیکن انسانی علوم کے سیاق میں اور اس طرح ادب اورآرٹ کے حوالے سے،انسان دوستی کا تصور چودہویں اور پندرہویں صدی عیسوی کے دوران با ضابطہ طور پر رواج پا چکا تھا اور علوم کے اس دائرے میں جسے Studia humanitatisیا انسانی مطالعات کا نام دیا گیا،یہ تصور نامانوس اور اجنبی نہیں تھا۔دوسرے الفاظ ہم اس بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ہر علمی،ادبی، تہذیبی،تخلیقی روایت کے مرکز میں انسان دوستی کے عنصر کو ایک بنیادی محرک کی حیثیت حاصل رہی ہے۔یہ صحیح ہے کہ اس تصور کو ایک تحریک کی شکل نشاۃ ثانیہ کی مغربی روایت نے دی۔آرٹ، ادب اور علوم کی دنیا میں اس تحریک کا مقصد انسانی وقار کی بحالی اور عہد وسطیٰ کے ظلمت کدے سے انسانی شرف اور فضیلت کے تصور کو نجات دلانا بھی تھا۔علاوہ ازیں،اس تحریک ایک اور مقصد کشف اور وجدان پر تعقل کی برتری کا اثبات بھی تھا۔پرانے متون کی بحالی اور ایک نئے لسانی معیار کی تلاش بھی تھا۔شاید اسی لیے ادب اور آرٹ کی دنیا میں کوری تعقل پسندی کے خلاف ردعمل کی صورتیں بھی بہت جلد نمودار ہوئیں اور انسان دوستی کے تصور کو ایک وسیع تر اور پیچیدہ تر سیاق میں دیکھا جانے لگا ۔ادب اور آرٹ کی دنیا میں یہ تصور ہمیں زیادہ لوچ دار، کشادہ اور بسیط اسی لیے دکھائی دیتا ہے کہ یہ ہر طرح کی مذہبی اور نظریاتی مطلقیت کے چنگل سے آزاد ہوتا ہے اور انسان کو اس کی ہستی کے تمام اسرار، اور تضادات اور حدود اور کمزوریوں اور طاقتوں کے ساتھ سمجھنے پر اصرار کرتا ہے۔
ایڈورڈ سعید نے اجتماعی زندگی میں دانشور کے رول اور تنقیدی شعور کی معنوعیت کا تجزیہ کرتے ہوئے (13 دسمبر 1997ء)جامعہ ملیہ اسلامیہ ،دہلی میں ڈاکٹریٹ کی اعزازی ڈگری قبول کرتے وقت اپنے لیکچر میں بعض بنیادی امور کی طرف توجہ دلائی تھی۔انھوں نے کہا تھا کہ علم کی جستجو دراصل انسانی زندگی میں ایک لا مختم تلاش ،ایک مستقل تشکیک کے احساس سے شخصی تعہد کا نام ہے۔کوئی بھی تصور جو ہمیں اپنے ماضی سے ورثے میں ملا ہے یااپنی روایت اور ذہنی تربیت کے نتیجے میں جسے خود ہم نے خلق کیا ہے، اسے عبور کرنا اور اس سے آگے جانے کی ہمت پیدا کرنا ہی صحیح دانشور انہ اقدام ہے۔یہ تو ایک کبھی نہ بجھنے والی پیاس ہے۔جب تک ہماری جرات فکر، تصورات کی عام سطح میں ارتعاش پیدا نہیں کرتی ،پہلے سے معلوم اور مانوس نتیجوں سے آگے نہیں جاتی ،سوچتے رہنے کی اذیت نہیں جھیلتی ،اور اپنی انفرادیت کے دفاع کی خاطر خطرے نہیں اٹھاتی ،ہم سچی دانشوری کے رول کو ادا کرنے سے قاصر رہیں گے ۔آرٹ اور ادب کی تخلیق کرنے والا ہر شخص بھی بہ قول گرامچی ،بنیادی طور پر ایک دانشور ہوتا ہے لیکن ہر دانشور معاشرے میں اپنی دانش کا رول نبھانے کی اہلیت نہیں رکھتا تا وقتیکہ وہ سوال پوچھتے رہنے پر قادریہ ہو، مسلمات سے انکار کا حوصلہ نہ رکھتا ہو،اپنی دنیا میں ایک بیگانے ،ایکOutsiderکی زندگی گزارنے ،اپنے ضمیر کو ہر طرح کے خوف ، مصلحت اور ترغیب سے محفوظ رکھنے کا عادی ہو۔ایڈورڈ سعید کا کہنا تھا کہ دانشور صرف ایک شخص نہیں ہوتا ۔اس کی حیثیت ایک اندازِ نظر ،ایک رویے، اجتماعی زندگی میں طاقت اور توانائی کی ایک لہر کی بھی ہوتی ہے۔روایت اور قومیت کے عامیانہ تصور کا بوجھ ذہنی تخلیقی آزادی اور دانشوری کے راسے کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔روایت کو اس حق سے زیادہ دینا اپنی آزادی اور انفرادیت کا سودا کرنا ہے۔

اسی طرح کسی ادیب یا آرٹسٹ کے لیے اپنی سرگرمی کے دائرے کو محدود اور مختص کرلینا یا ادبی اور فنی اقدار کے نام پر ایک مجہول قسم کے جھوٹے پندار اور نخوت پر مبنی حدیں قائم کرلینا بھی اس کے سامنے کچھ مجبوریاں کھڑی کردیتا ہے،جو اس کی تخلیقی سرگرمی اور اس کے مجموعی شعور پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ایڈورڈ سعید نے اپنے لیکچر کے دوران ،ویت نام کی جنگ کے زمانے میں اپنے ایک اہم عصر اور ہم پیشہ دوست سے مکالمے کا تذکرہ کیا۔کسی طالب علم کے اس سوال پر کہ ایک ایسے وقت میں جب شمالی ویتنام، لاؤس اور کمبوڈیا کے بے قصورعوام پر ساٹھ ہزار فٹ کی بلندی سے بمباری ہورہی ہے ،کیا وہ ایک احتجاج عرض داشت پر دستخط کرنا چاہیں گے ،ان کا جواب یہ تھا کہ’’جی نہیں!میں ادب کا پروفیسر ہوں ،میں شیکسپیئر اور ملٹن کے بارے میں لکھتا ہوں ،مجھے اس بمباری سے کیا لینا دینا، اور پھر میں اسے سمجھتا بھی نہیں۔‘‘
ایسا ایک واقعہ حلقۂ ارباب ذوق کے ایک ممتاز شاعر قیوم نظر کے ساتھ آیا تھا جو پیرس میں سارتر سے ملاقات کے متمنی ہوئے۔سارتر کے اس سوال پر کہ الجزائر کے مسئلے پر ان کا موقف کیا ہے؟ان کا جواب یہ تھا کہ ’’میں تو شاعر ہوں ،اس مسئلے سے میرا کیا تعلق ؟‘‘ظاہر ہے کہ سارتر نے ان سے گفتگو اسی نقطے پر منقطع کردی۔

یہ مضحکہ خیز اختصاص جو شعور کے گرد سنگین فیصلیں کھڑی کردے ،اجتماعی زندگی کے لیے کتنا مہلک ہوسکتا ہے اور اس سے انسان شناسی کی کس جہت کا اظہار ہوتا ہے،اس کی بابت کسی تفصیل میں جانے کا یہ موقع نہیں ہے۔ایڈورڈ سعید کا خیال ہے کہ اس نوکی ذہنی لاتعلقی سے جبر اور استحصال اور بدی ہمنوائی کا ایک پہلو نکلتا ہے جو دانشورانہ طاقت اور دیانت داری کا دشمن ہے۔گویا کہ انسان دشمن ہے۔
اسی لیے دانشورانہ جہت رکھنے والی کسی بھی ادیب یا آرٹسٹ کے لیے ناگزیر ہوجاتا ہے کہ وہ طاقت اور اقتدار کے مراکز سے اپنے آپ کو دور رکھ سکے۔سیاسی مراتب اور مناصب کا طلب گار نہ ہو۔اس طرح کے مناصب شعورکی آزادی کے حریف ہوتے ہیں ۔سعید کے یادگار لفظوں میں:
‘‘I’m not saying that independence in itself is a virtue,because so many times you may be wrong, but if you are notindependent, you cannot even be wrong.’’
سیاسی قدروں کے زوال نے ادب اور آرٹ کی دنیامیں بھی ایک ہولناک درباری کلچر کو فروغ دیا ہے اور ’’ادب اور آرٹ کی یخلیق کا جوکھم اٹھانے والوں ‘‘کے ضمیر کو داغدار کیا ہے۔انعامات، اعزازات ،مناصب،مراعات، ادب اور آرٹ کی ترقی اور نمائندگی کے لیے اوپر سے بجھائے ہوئے راستوں پر اور معینہ مقاصد کے ساتھ دور دراز ملکوں کے دورے، یہ تمام باتیں ادیب اور آرٹسٹ کی بصیرت کے گرد لکیریں کھینچنے والی ہیں،اس کے شعور کو محدود کرنے والی اور ادب یا آرٹ کے مقدس اور پاکیزہ مقاصد سے توجہ ہٹانے والی ہیں۔اس قسم کی مراعات اور سہولتیں قبول کرنے میں ہمیشہ کسی جانے انجانے راستے سے ذہنی غلامی کے درآنے کا اندیشہ ہوتا ہے۔اور ذہنی غلامی چاہے کسی فرد کی ہو یا ادارے یا نظریے کی، انسانی ضمیر اور تخلیقی اظہار کو ہمیشہ راس نہیں آتی۔آرٹ اور ادب کی دنیا میں اس طرح کے موسم اوع معاملات انسان دوستی کے اس عظیم تصور کو بھی راس نہیں آتے جس کی تعمیر اور ترویج کا قصہ ،تہذیب و تاریخ کی کئی صدیوں سے پھیلا ہوا ہے۔اپنے شعور اور حافظے کی جھٹلا کر ادب اور آرٹ کی بامعنی تخلیق ممکن نہیں اور یہ معنی بہرحال انسان شناسی اور انسان دوستی کے دائرے میں ہی گردش کرتے آئے ہیں۔

اب میں اس مضمون یا اپنی گفتگو کے اختتامی حصے کی طرف آتا ہوں جس کی اساس میں نے منٹو کے’’سیاہ حاشیے‘‘پر قائم کی ہے اور جسے آپ ان معروضات کا حاشیہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔یہاں میرا اشارہ منٹو کی ان تخلیقات کی طرف ہے جنھیں ہم اپنی اجتماعی زندگی کے ایک دلدوز واقعے اور چاہیں تو عام انسانی معاشرے میں اجتماعی دیوانگی کے ایک لمحے کا تخلیقی اشاریہ بھی سمجھ سکتے ہیں ۔یہ اشاریہ ہمیں ادب اور آرٹ میں انسان دوستی کے تصور سے متعلق کچھ بنیادی سوالوں تک لے جاتا ہے۔اس تصور کو ایک نئے مفہوم سے ہمکنار کرتا ہے۔

ہندوستان اور پاکستان کی تمام علاقائی زبانوں کی بہ نسبت 1947ء کی تقسیم ،پھر اس کے نتیجے میں واقع ہونے والی اور انسانی تاریخ کی سطح پر اپنے اجتماعی المیے اور اپنی تعداد کے لحاظ سے شاید سب سے بڑی اور وحشت آثار ہجرت کے تجربے،مزید برآں فسادات اور انسانی درندگی کے واقعات کا احاطہ اردو نظم ونثر ،خاص کر فکشن میں ،بہت غیر معمولی دکھائے دیتا ہے۔ہندوستان اور پاکستان دونوں ملکوں میں تقسیم ، ہجرت اور فسادات کے پس منظر میں مقدار اور معیار،دونوں کے لحاظ سے اردو میں جو فکشن لکھا گیا ،بے مثال ہے۔فکشن کے اس ذخیرے میں اچھی بری ہر طرح کی چیزیں مل جاتی ہیں۔اردو فکشن کی پہلی بڑی نقاد ممتاز شیریں نے فسادات کے ادب پر اپنے ایک معروف مضمون کا آغاز کرسٹو فراشیروڈ کے فکشن کی ایک مثال سے کیا ہے،جس میں ایک انگریز صحافی آسٹریا کے ایک کردار(برگ مین)سے،آسٹریا کی اجتماعی واردات کے سیاسی پہلو کی بات شروع کرتا ہے،تو اپنے ہم وطنوںکے غم میں کھویا ہوا’برگ مین‘ بے تاب ہوکر چیخ اٹھتاہے اور کہتاہے

’’اسے سیاست سے کوئی واسطہ نہیں ۔اس کا تعلق انسانوں سے ہے، انسانوں سے، انسانی زندگی سے،زندہ حقیقی مردوں اور عورتوں سے، گوشت اور خون سے۔‘‘

منٹونے ہندوستان پاکستان کے بٹوارے اور فسادات کے حوالے سے تقریباََ بیس کہانیاں لکھیں۔ان میں سب سے زیادہ شہرت کھول دو،ٹھنڈاگوشت،موتری،ٹیٹوال کا کتّا،گورمکھ سنگھ کی وصیت،موذیل اور ٹوبہ ٹیک سنگھ کو ملی ۔ملکی اور غیر ملکی بہت سی زبانوں میں ان کے ترجمے ہوچکے ہیں۔ان میں سے کچھ پر پاکستان کی عدالتوں میں مقدمے بھی چلے۔ان حالات میں منٹو کے دل و دماغ پر جو کچھ گزرا اس کی تفصیل ہولناک ہے اور فرقہ وارانہ درندگی اور مذہبی جنون سے بوجھل فضا میں ایک انسان دوست ادیب کے موقف کی شاید سب سے انوکھی مثال ہے۔اپنے ایک مضمون یار پورتاژ’’زحمتِ مہرِدرخشاں‘‘ میں منٹو نے اپنی حالت کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے:

طبیعت میں اکساہٹ پیدا ہوئی کہ لکھوں۔لیکن جب لکھنے بیٹھا تو دماغ کو منتشر پایا۔کوشش کے باوجودہندوستان کو پاکستان سے اور پاکستان کو ہندوستان سے علاحدہ نہ کرسکا ۔بار بار دماغ میں الجھن پیدا کرنے والا سوال گونجتا۔کیا پاکستان کا ادب،علاحدہ ہوگا۔۔۔۔۔۔۔۔؟اگر ہوگا تو کیسے ہوگا۔وہ سب کچھ جو سالم ہندوستان میں لکھا گیا تھا ،اس کا مالک کون ہے؟کیا اس کو بھی تقسیم کیا جائے گا۔کیا ہندوستانیوں اور پاکستانیوں کے بنیادی مسائل ایک جیسے نہیں!

’’فضا پر مردنی طاری تھی۔جس طرح گرمیوں کاآغاز میں آسمان پر بے مقصد اڑتی ہوئی چیلیوں کی چیخیں اداس ہوتی ہیں اسی طرح
’’پاکستان زندہ باد‘‘اور ’’قاعد اعظم زندہ باد‘‘کے نعرے بھی کانوں کو اداس اداس لگتے تھے۔

میں اپنے عزیز دوست احمد ندیم قاسمی سے ملا ۔ساحر لدھیانوی سے ملا۔ان کے علاوہ اور لوگوں سے ملا۔سب میری طرح ذہنی طور
پر مفلوج تھے۔میں یہ محسوس کر رہا تھا کہ یہ جو اتنا زبردست بھونچال آیا ہے شاید اس کے کچھ جھٹکے آتش فشاں پہاڑ میں اٹکے ہوئے
ہیں۔باہر نکل آئیں تو فضا کی نوک پلک درست ہوگی۔پھر صحیح طور پر معلوم ہوسکے گا کہ صورت حالات کیا ہے۔‘‘
چھوٹے چھوٹے وقوعوں (Happenings)،لطیفوں کی بیرونی پرت رکھنے والے افسانچوں پر مشتمل مجموعہ’’سیاہ حاشیے‘‘کے نام سے اکتوبر 1948ء میں شائع ہوا تھا۔پاکستان میں اقامت اختیار کرنے کے بعد منٹو نے جو پہلی کہانی لکھی ’ٹھنڈا گوشت‘تھی جس پر منٹو سے معاشرتی اور سرکاری دونوں سطحوں پر باز پرس کی گئی۔پاکستان میں لکھا جانے والا دوسرا افسانہ ’کھول دو‘تھا ۔حکومت کے نزدیک یہ افسانہ امن عامہ کے مفاد کے منافی تھا لہٰذا اس کی اشاعت کے جرم میں نقوش کی اشاعت چھے مہینے کے لیے بند کر دی گئی ۔اس وقت تک فسادات ٹھنڈے پڑ چکے تھے اور پاکستانی معاشرے پر ذہنی اعتبار سے تعطل کی ایک کیفیت طاری تھی۔منٹو نے فسادات پر مبنی یہ تمام تخلیقات باہر کی دنیا میں طاری تعطل کی اسی فضا میں وضع کی تھیں،جب وہ اس ساری واردات کو ذرا دور سے دیکھ سکتا تھا،کیونکہ طوفان سر سے گزر چکا تھا اور وہ قدرے غیر جذباتی انداز میں اپنے تجربے کا تجزیہ کرسکتا تھا۔ان تحریروں جو سنگینی اور ایک گہری رچی ہوئی تخلیقی معروضیت کا عنصر ہے وہ اسی صورت حال کا پیدا کردہ ہے۔’’سیاہ حاشیے‘‘پر حاشیہ آرائی کرتے ہوئے محمّد حسن عسکری نے لکھا ہے کہ’’ادب سے ہم اس قسم کے سچ جھوٹ کا مطالبہ نہیں کرتے جو ہم تاریخ، معاشیات یا سیاسیات کی کتابوں سے کرتے ہیں۔ادیب سے ہم کسی نظریے یا خارجی دنیا کے بارے میں سچ بولنے کا اتنا مطالبہ نہیں کرتے جتنا اپنے بارے میں سچ بولنے کا ۔اپنے اندر جو سچ جھوٹ بھرا ہوا ہے اس سے چشم پوشی کرکے سچا ادب پیدا نہیں کیا جاسکتا ۔‘‘اور یہ کہ’’جب تک ہمیں کسی فعل کا انسانی پس منظر معلوم نہ ہو،محض خارجی عمل کا نظارہ ہمارے اندر کوئی دیرپا،ٹھوس اور گہرے معنویت رکھنے والا رد عمل پیدا نہیں کرسکتا۔‘‘ہندوستان میں بھاگلپور کے فسادات کے دوران کہی جانے والی کچھ نظموں کی اپنی کتاب ایک شاعر نے مجھے اس وضاحت کے ساتھ بھیجی کہ’’اس وقت جب شہر جل رہا تھا میں اپنے کمرے میں بیٹھا یہ نظمیں لکھ رہا تھا۔‘‘ظاہر ہے کہ میرا پہلا ردعمل یہی تھا کہ آس پاس آگ لگی ہوتو نظمیں کہنے کے بجائے پہلے اس آگ کوبجھانے کی فکر کرنی چاہیے اور میں نے وہ کتاب بغیر پڑھے رکھ دی تھی۔انسانی سروکاروں پر مبنی تجربے کا با معنی بیان ،انتشار اور تشدد اور ابتری کے ماحول سے نکلنے کے بعد ہی ممکن ہے۔لہٰذا ادب میں انسان دوستی کے مضمرات کا جائزہ لیتے وقت صحافتی یا ہنگامی ادب اور مستحکم یا پائیدار قدروں کے حامل ادب میں فرق کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔جنگ کے زمانے کا ادب،بہ قول آرول،صحافت ہوتی ہے۔آندرے ژید نے کہا تھا ’’ایسا آدمی جو اپنی شخصیت کی خاطر نوع انسانی کا تیاگ کرتا ہے بالآخرایک بوالعجب ،اوٹ پٹانگ اور نامکمل آدمی بن کر رہ جاتا ہے۔‘‘اور ظاہر ہے کہ نامکمل آدمی کسی آفاقی انسانیت صداقت تک نہیںپہنچ سکتا ۔

منٹو کی یہ تخلیقات (ٹھنڈا گوشت،کھول دو، سیاہ حاشیے)، جن کا ذکر اوپر کیا گیا صرف فسادات کے بارے میں نہیں ہیں بلکہ انسانوں کے بارے میں ہیں۔اس فرق کو سمجھنا یوں ضروری ہے کہ مثال کے طور پر نظریاتی یا مذہبی اساس رکھنے والی جنگیں ،نظریوں اور مذاہب کے مابین ہوتی ہیں،انسانوں کے مابین نہیں ہوتیں کیونکہ بالعوم،مختلف گروہوں میں بٹے ہوئے انسانوں کے مسئلے بیشتر مشترک ہوتے ہیں ،ایک سے دکھ سکھ ،ایک سی امیدیں اور مایوسیاں ،ایک سے خواب اور ایک سی ہزیمتیں ۔دوسری عالمی جنگ کے دوران کی ہندوستانی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے ممتاز شیریں نے لکھا ہے کہ اس وقت کچھ لوگوں نے ہمارے ادیبوں کی خاموشی اور جنگ سے لاتعلقی پر سوالیہ نشان تو قائم کیا لیکن یہ حقیقت بھلادی کہ’’ہمارے ادیب خاموش صرف اس لیے نہیں تھے کہ ان کے ذہنوں میں شکوک اور الجھنیں تھیں بلکہ اس لیے کہ دوسری جنگ عظیم کرہ ٔ ارض میں لڑی جانے کے باوجود ہندوستان سے دور تھی اور ادیب کے ماڈل ،یعنی انسانی زندگی۔۔۔۔۔۔۔اپنے گردوپیش کی انسانی زندگی میںکوئی ہلچل تو کیا،ایک ہلکے سے تموج کی کیفیت بھی پیدا نہیں ہوئی تھی۔‘‘

لیکن فسادات تو ہمارے آس پاس کی دنیا میں ہورہے تھے اور ہمارے ادیبوں کے لیے یہ موضوع اجنبی یا نا مانوس نہیںتھا۔تقسیم کے المیے کا جو اثر عام انسانی زندگی پر پڑ رہا تھا اس کی آنچ ہم سب محسوس کر رہے تھے۔اس میں عام اور خاص کا فرق نہ تھااور اس المیے کا بنیادی تقاضا یہ تھا کہ نظریاتی یا مذہبی پوزیشن لینے کے بجائے سیدھی سادی عام انسانی سطح پر اس کے بخشے ہوئے درد کا دراک کیا جائے۔لیکن زیادہ تر افسانے عجلت میں لکھے گئے اور ان میں تخلیقی سطح پر کسی گہرے ردعمل سے زیادہ اظہار ایسے جذبوں کا ہو اجو ہنگامی اور صحافیانہ نوعیت کے حامل تھے۔منٹو اور اس کے ہم عصروں کی کہانیاں ایک ساتھ سامنے رکھی جائیں تو ان کا فرق اور منٹو کا امتیاز سمجھ میں آتا ہے۔اپنے معاصرین کے برعکس ،منٹو نے فارمولا کہانی لکھنے سے گریز کیا۔اس قسم کے مسئلے کہ انگریزی حکومت نے فسادات کا بیج بویا تھایا یہ کہ تقسیم اور ہجرت فسادات کی جڑ ہیںیا یہ کہ ہندو ،سکھ،مسلمان،سب کے سب یکساں طور پر قصور وار ہیںاس لیے اس موضوع پر لکھتے وقت سب کا ساب برابر رکھنا چاہیے،یہ منٹو کے مسئلے نہیں تھے۔منٹو نے تو اجتماعی وحشت اور دیوانگی کے اس ماحول میں ہندومسلمان سے بے نیاز ہوکر انسانوں کو سمجھنے کی کوشش کی۔اس حقیقت کے باوجود کہ تقسیم کے سانحے کا اثر براہ راست منٹو کی زندگی پر بھی گہرا پڑا،اس نے اپنی حالت اور اس فضا میں اپنے باطن کی زمین پر اٹھنے والے سوالوں کا احاطہ ان لفظوں میں کیا ہے

’’اب میں سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کہاجاتاہے، میرا کیا مقام
ہے۔میرا کیا مصروف ہے۔آپ اسے افسانہ کہہ لیجئے۔مگر میرے لیے یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ میں ابھی تک خود کو
اپنے ملک میں جسے پاکستان کہتے ہیں اور جو مجھے بہت عزیز ہے،اپنا صحیح مقام تلاش نہیں کرسکا۔ یہی وجہ ہے کہ میری
روح بے چین رہتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ میں کبھی پاگل خانے اور کبھی ہسپتال میں ہوتا ہوں۔‘‘
’’سیاہ حاشیے پر حاشیہ آرائی‘‘کے عنوان سے اظہار خیال کرتے ہوئے محمدحسن عسکری نے ایک بنیادی سچائی کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ منٹو کو ان افسانوں کے اثرات کے بارے میں نہ غلط فہمیاں ہیں،نہ انھوں نے ایسی ذمے داری اپنے سرلی جو ادب پوری کرہی نہیں سکتا۔انھوں نے ظالموں پر لعنت بھیجی نہ مظلوموں پر آنسو بہائے۔انھوں نے تو یہ تک نہیں کہا کہ ظالم لوگ برے ہیں یا مظلوم اچھے ہیں۔‘‘
ان کا نقطہ نظر نہ سیاسی ہے،نہ عمرانی ،نہ اخلاقی بلکہ ادبی اور تخلیقی ۔منٹو نے صرف یہ دیکھنے کی کوشش کی ہے کہ ظالم یا مظلوم کی شخصیت کے مختلف تقاضوں سے ظالمانہ فعل کا کیا تعلق ہے۔ظلم کرنے کی خواہش کے علاوہ ظالم کے اندر اور کون کون سے میلانات کارفرما ہیں۔انسانی دماغ میں ظلم کتنی جگہ گھیرتا ہے،زندگی کی دوسری دلچسپیاں باقی رہتی ہیں یا نہیں ،منٹو نے نہ تو رحم کے جذبات بھڑکائے ہیں نہ غصے کے نہ نفرت کے وہ تو آپ کو صرف انسانی دماغ ،انسانی کردار اور شخصیت پر ادبی اور تخلیقی انداز سے غور کرنے کی دعوت دیتے ہیں ۔اگر کوئی جذبہ پیدا کرنے کی فکر میں ہیں تو صرف وہی جذبہ جو ایک فنکارکو جائز طور پر پیدا کرنا چاہیے۔۔۔۔۔۔۔۔یعنی زندگی کے متعلق بے پایاں تحیر اور استعجاب۔فسادات کے متعلق جتنا بھی لکھا گیا ہے اس میں اگر کوئی چیز انسانی دستاویز کہلانے کی مستحق ہے تو یہ افسانے ہیں۔

ادب میں انسان دوستی کے تصور کی سب سے گہری اور پائدار جہت دراصل اسی زاویے سے نکلتی ہے ۔رقت خیزی یا ترحم یا مثال پرستی کی سطح سے یہ سطح بالکل الگ ہے اور اپنے لازوال انسانی عنصر کے ساتھ ساتھ لکھنے والے کی اپنے حقیقی منصب (یعنی تخلیقی عمل)کے تیئں دیانت داری اور ذمے داری کے احساس کی گواہی بھی دیتی ہے۔میرے خیال میں یہ مناسب ہوگا کہ اس گفتگو کو ختم منٹو کے سیاہ حاشیے کی دو ایک مثالوں کے ساتھ کیا جائے۔

’’چلتی گاڑی روک لی گئی۔جو دوسرے مذہب کے تھے ان کو نکال نکال کر تلواروں اور گولیوں سے ہلاک کردیا گیا۔ اس سے فارغ ہوکر گاڑی کے باقی مسافروں کی حلوے دودھ اور پھلوں سے تواضع کی گئی۔گاڑی چلنے سے پہلے تواضع کرنے والوں کے منتظم نے مسافروں کو مخاطب کرکے کہا:’’بھائیواور بہنو!ہمیں گاڑی کی آمد کی اطلاع بہت دیر میں ملی ۔یہی وجہ ہے کہ ہم جس طرح چاہتے تھے اس طرح آپ کی خدمت نہ کر سکے۔‘‘(کسر نفسی:سیاہ حاشیے)

’’جب حملہ ہوا تو محلے میں سے اقلیت کے کچھ آدمی تو قتل ہوگئے۔جو باقی تھے جانیں بچا کر بھاگ نکلے۔ایک آدمی اور اس کی بیوی البتہ اپنے گھر کے تہہ خانے میں چھپ گئے۔دو دن اور دو راتیں پناہ یافتہ میاں بیوی نے قاتلوں کی متوقع آمد میں گزاردیں ۔مگر کوئی نہ آیا۔چار دن بیت گئے ۔میاں بیوی کو زندگی اور موت سے کوئی دلچسپی نہ رہی۔وہ دونوں جائے پناہ سے باہر نکل آئے۔خاوند نے بڑی نحیف آواز میں لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کیا اور کہا’’ہم دونوں اپنے آپ کوتمھارے حوالے کرتے ہیں ۔ہمیں مارڈالو۔جن کو متوجہ کیا گیا تھا وہ سوچ میں پڑگئے’’ہمارے دھرم میں تو جیوہیتا پاپ ہے۔‘‘وہ سب جینی تھے لیکن انھوں نے آپس میں مشورہ کیا اور میاں بیوی کو مناسب کاروائی کے لیے دوسرے محلے کے آدمیوں کے سپرد کردیا۔‘‘(مناسب کاروائی:سیاہ حاشیے)

گاڑی رکی ہوئی تھی۔تین بندوقچی ایک ڈبے کے پاس آئے ۔کھڑکیوں میں سے اندر جھانک کر انھوں نے مسافروں سے پوچھا’’کیوں جناب!کوئی مرغا ہے۔‘‘ایک مسافر کچھ کہتے کہتے رک گیا۔باقیوں نے جواب دیا ’’جی نہیں۔‘‘تھوڑی دیر بعد چار نیزہ بردار آئے ۔کھڑکیوں میں سے اندر جھانک کر انھوں نے مسافروں سے پوچھا’’کیوں جناب کوئی مرغا وُرغا ہے؟اس مسافر نے جو پہلے کچھ کہتے کہتے رک گیا تھا۔ جواب دیا’’بھئی معلوم نہیں ہے!آپ اندر آکے سنڈاس میں دیکھ لیجئے ۔‘‘نیزہ بردار اندر داخل ہوئے۔سنڈاس توڑا گیا تو اس میں سے ایک مرغا نکل آیا۔ایک نیزہ بردار نے کہا’’کردو حلال۔‘‘دوسرے نے کہا ’’نہیں ۔یہاں نہیں !ڈبہ خراب ہوجائے گا۔۔۔۔۔۔۔۔باہر لے چلو۔‘‘(صفائی پسندی:سیاہ حاشیے)

یہاں ان کہانیوں کی تشریح یا ان تجربات کے سلسلے میں کسی طرح کی وضاحت غیر ضروری ہے۔تاہم اس جملے کے ساتھ میں اب یہ گفتگو ختم کرتا ہوں کہ درداور دہشت سے بھرے ہوئے ان واقعات سے زیادہ درداور دہشت یہاں’’مناسب کاروائی‘‘یا ’’صفائی پسندی‘‘اور کسر نفسی‘‘کے ان تصورات میں چھپی ہوئی ہے، جن کا اظہار متعلقہ کرداروں کی طرف سے ہوا ہے۔انسان دوستی کا زاویہ یہ بھی ہے اور اس زاویے تک رسائی کے لیے منٹو نے صرف اپنی بصیرت کو رونما بنایا ہے۔ہتیا کو پاپ سمجھنے والے’’مناسب کاروائی‘‘کے لیے قاتلوں کا سہارا لے سکتے ہیں اور ایسے لوگ بھی قاتل ہوسکتے ہیں جن میں صفائی اور گندگی کی تمیز باقی ہو۔منٹو نے اپنی انسان دوستی کا مواد،وجود کی اسی بھول بھلیاں میں سے ڈھونڈنکالاہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ اس کی تلاش،بہرحال ،ایک ادیب کی اور ایک تخلیقی آدمی کی تلاش تھی!یہ تلاش ہمیں بتاتی ہے کہ ادب کا مطالعہ پہلے سے طے شدہ کسی سیاسی ،سماجی یا علمی دستاویز کا نعم البدل نہیں ہوتا۔

Conception of pace Building..

Articles

Conception of pace Building: A Quranic Perspective as Reflected in the Risal-e-Nur

Nilofar Abdul Khaliq

Said Nursi is the most influential Islamic scholar in modern Turkish history by his intellectual contribution pertaining to his spectacular and very dynamic view point in education, peace and harmony.Throughout his epoch making lifetime (1876-1960), he strived hard to disseminate the Islamic ideology and values by taking down a lot of books and delivering historic speech in front of a wider audience. Although he was imprisoned, starved and tortured by the secular government of Turkey for more or less twenty five years for his writing about Islam encouraging its practice, which was declared to be a crime against state, Nursi never supported or resorted for the political revolution by the Muslims. He directed a message of peace and harmony not only by his writings but also by his actions. The most popular work, Risale-I-Nur, which is collection of many books he wrote while he was in jail or in exile.

Risale i Nur was written to reiterate the Islamic values and to expound it interpreting Quranic verses. Conception of peace building is one of the dare needs of this current world as it is facing many communal conflicts deteriorating the safetyof human kind. Nursi emphasized through his works to ensure peace and harmony between Muslims and non Muslims. He has used these intellectual revolts against secularist government of Turkey to protest against their laws of irreligion not against the principles of secularism but he encouraged the Muslim community to ensure love and peace and also freedom of belief with non Muslim.

Interpreting the verse 49-13 (o mankind, we have created you from a male and a female and made you nations and tribes that you may know one another. Verily, the most honorable of you with Allah is that who has a taqwa. Verily Allah is all knowing, well acquainted.) He writes that is to say, being in to groups and tribes should lead to mutual acquaintance and mutual assistance not to antipathy and hostility.

Said Nursi authored the Risale-i Nur Collection in order to neutralize the negative effects of Western civilization in the Islamic world; to silence the atheists who were aggressively criticizing the religion; to refresh the loyalty of Muslims towards the Qur’an and the Sunnah, and to revive the religious life of the people.

Said Nursi covers the themes in Risale-i Nur in such a unique way, it is as if nobody has ever mentioned them before, analyzing them with strong proofs and by this means resolving them. Mostly he does not even quote from previous books. He does not imitate anybody in terms of style. He has his own original style.

Principle of Peace

Human is a social being, peace occur in social interaction between and among human individual. Likewise conflict occurs in social interaction between and among human individuals. Peace is important when there is conflict or not, but peace is more importantly should better be understood to exist when all members of the society can develop their capacities and potentials. Therefore, peace is the basic of development of the multi cultural society. Without peace, each individual and all members of the society are not taken for granted security.
Al-Qur’an very stressed about of peace in human life. The word peace is same meaning with the word salam. This word appears in the Qur’an 157 times, an adjective 50 times, and a verb 28 times.23 Islam is the name of the Religion, Islamic Religion. It is derived from the same root al-salam, which means peace. Therefore, Islam is a religion peace.24
How so was mentioned, that between the justice and peace is interrelation. To build justice at the same time will realize the justice in human life.

What is Justice? An Islamic Perspective

Justice is described in the Qur’an with two important words: Al-`Adl and Al-Qist. Al-`Adl means “equity, balance.” It means doing things in a proportionate manner, avoiding extremes. Al-Qist means “share, portion, measure, allotment, and amount.” It means that everyone and everything has a due. One who gives everyone and everything its due is “Muqsit” and the one who takes away others dues is called “Qasit”.
Allah says: (… and be fair: for Allah loves those who are fair (and just). (Al-Hujurat: 9)
Justice thus means to maintain the balance and to give everyone and everything its proper due. It means living one’s own life in a balanced way maintaining the balance between the needs of the body, mind and soul. It also means recognizing:
1. Huquq Allah – rights of God,
2. Huquq Al-A`Ibad – rights of human beings, and
3. Huquq Al-Ashya’ – rights of things.
Islam teaches that we should be just in every aspect of our life, to all people and things and at all times.

The opposite of justice in Islam is not only injustice, but oppression and corruption. The opposite of `Adl is Zulm, which means “disorder, wrong, oppression and evil.” Wherever there is injustice, it will lead to oppression, exploitation, evil and corruption. There is a very nice saying of Dr. Martin Luther King Jr. He said, “Injustice anywhere is a threat to justice everywhere.” When people do injustice or tolerate injustice in one place, sooner or later its terrible effects reach to other places. Injustice brings the downfall of mighty nations. Imam Ibn Taymiah (d. 1328) used to say: “The nations may live long in spite of their disbelief, but they cannot live long when they do oppression”.

Injustice in the world today:
Today there is a lot of injustice in our world. There is social injustice, economic injustice and political injustice. There are problems of racism, religious prejudices and propaganda. The gap between the haves and have-nots is increasing. There are problems caused by poverty, hunger, malnutrition, death of children and diseases. There are problems caused by the denial of human rights, basic freedoms, and occupation of lands, terrorism, wars, and weapons of mass destruction. We are living in a broken world. The hearts are broken, families are broken, relations are broken, homes are broken, cities and towns are broken.
We need to heal this brokenness and it can only come by bringing justice to the world. There cannot be any peace without justice and there cannot be any justice without reforming our thinking, our behaviour and our policies. It is strange that there is so much talk today about seeking safety and security, but very little about how to bring justice to those who are suffering under deep oppression and occupation. The world cannot be safe unless it becomes more just and fair world.

At this point an attempt is made to shed some light on Nursi’s views on Justice. His discussion of justice is succinct and of great value. For Nursi, it seems, the adequacy of the definition of “justice” depends upon who is giving and who is receiving. A true path to justice for Nursi, it appears, is for the man in the first place to find God. He then provides the man with a spiritual journey to God, consisting of four principal stages that are derived primarily from the Qur’an. These four “Virtues” are emphasized throughout the Risale-I Nur for the improvement of the individual and ultimately, humankind: Impotence, Poverty, Compassion, and Reflection. Impotence means the realization that Man is not the measure of all things, and that he is subject to God. Poverty means the voluntary abstention from the acquisition of worldly goods. Compassion is to put into the action the realization that all human life is related. Reflection is to use the rational capacity that God has placed in every individual to understand the interrelatedness of these concepts.

The Four Virtues are like the four legs of a table – they must be of equal size, or else the table lacks stability. An individual in whom one of the Virtues is in unequal measure to the other three can be said to be “imbalanced.” In the Material World (Dunya), poverty is often seen as both a cause and effect of injustice.

But how does one define Poverty? “There are many kinds of “poverty.” There is the “poverty” expressed by Muhammad (SAW), that his poverty was his pride. This refers to a lack of attachment to material objects or goods, an attachment to this World, the Dunya. It is ultimately an abstention that is voluntary. This is precisely the kind of poverty referred to in the Four Virtues.

Opposing voluntary poverty is involuntary poverty, which the individual (or segment of society) has no control over his economic status. But within this involuntary poverty, there is an important distinction to be made. It is the Spiritual. One can be economically poor (that is, lacking material wealth), yet spiritually rich. Generations of Mankind have lived at barest of subsistence levels, and they lived out their lives with nobility. Or one can lack spiritual values, or debased values, which creates a “poverty of spirit.”

Further points of supreme importance in understanding justice according to Nursi are faith and love. It seems to me that, for the path to justice, Nursi has emphasised that intellect and heart must be combined harmoniously by the light of faith. Without faith no balance can be established between the two, a balance that is necessary for man’s successful completion of struggle for perfection.

Said Nursi said, therefore, that peace will not become in fact and reality in society, if there is no justice between members all of society; between public society and elite, between poor and rich. The basis of justice is love, to have great pity and mercy of elite to public society, to serve public society and have respect to elite.25

Description of the peace, within Said Nursi’s view, is each individual and another are members of a collective personality such as that, worthy of the title of ‘perfect man.’ Human life in peace are like the components of a factory’s machinery which produces eternal happiness within eternal life in the realm of peace to obtain the shore of salvation. So this condition to make sure us that we are surely in need of solidarity and true union.

The peace must be formed with “heartfelt solidarity and union through the mystery of sincerity are the means to innumerable benefits, and so too are they an effective shield and point of support against fear, and even death. For if death comes, it takes one’s spirit. But since through the mystery of true brotherhood on the way of Divine pleasure in works connected with the Hereafter there are spirits to the number of brothers, if one of them dies, he meets death happily.”

The application of peace will establish concord relation and security within social life, and each member of society will find opportunity to develop his potentials and capacities to realize the necessity of his life. Thus, peace building is one of the foundations of multicultural society.
In the writings of Nursi, there are three keys concepts that all his thinking evolves around human being (insan), faith (iman), and good work (takva, i.e., a work or action to please God. Takva is the fruit of faith. Working to please God means establishing a just and humane society. Religious rituals help us to remember our vocation in life and avoid sins and do good work. Doing good, for Nursi, is the ethos of life. Religion, for Nursi, is a framework of living and a way of organizing one’s life. It is a bridge between public and private and a way of apprehending self in relation to God.

In the writings of Nursi, one sees a clear boundary between believer and nonbeliever. Nursi does not construe Muslimness by othering Christian or Jewish believers. Thomas Michel argues that
“In any study of the development of Christian-Muslim dialogue in the 20th century, special attention must be given to the writings and preaching of Bediuzzaman Said Nursi. As one of the first religious thinkers in the course of this century to propose and promote dialogue between Muslims and Christians, Said Nursi’s advocacy of this dialogue dates back to 1911. This was a full half-century before the Catholic Church’s Second Vatican Council urged Christians and Muslims to resolve their differences and move beyond the conflicts of the past to build relations characterized by respect and cooperation. Bediuzzaman’s repeated promotion of Muslim-Christian dialogue is even more striking in that his recommendations frequently date from times of tension and even warfare between Muslim and Christian communities.”
Thus, it is quite clear that Islam has made every effort to establish peace and every effort to protect all other religions. Even where defensive war was permitted to the Muslims, the Holy Prophet (peace and blessings be upon him) gave extremely strict rules of engagement to the Muslim armies which they were compelled to abide by.

The Holy Prophet (peace and blessings be upon him) taught that during wars only those people who were directly engaged in the war could be fought. He gave strict instructions that no innocent person was ever to be attacked. No woman, child or elderly person was ever to be attacked. He taught that no religious leader or priest could be attacked in his place of worship. The Holy Prophet (peace and blessings be upon him) further taught that no person could be forced or compelled to convert to Islam. He taught that when Muslims were forced to fight for the cause of peace they must not create fear or terror amongst the members of the public, nor should they be treated in a harsh or severe manner. He taught that prisoners of war should be treated with even greater care and attention than a person would pay to himself. He taught that buildings should not be targeted or destroyed and that trees should not be felled.

Thus even where conditions existed where war was justified, the Holy Prophet (peace and blessings be upon him) gave countless guidelines and instructions to his followers which were essential to follow. I have only mentioned very few.

The Holy Prophet (peace and blessings be upon him) said very clearly that whosoever acted against these rules of engagement would not be fighting in accordance to the commands of Allah to establish peace, but rather would be fighting for their own personal interests or gain.
Since his goal is to build a just and peaceful society through transformation of the self, Nursi identifies three major “others” as the enemies: ignorance, poverty, and conflict.16These enemies and their consequences that had been the cause of the decline of the Muslim world. He calls Muslims to cut away from darkness of ignorance, poverty, and conflict through self-contemplation. Jihad, for Nursi, is to kill the inner enemy and do good work to please God.17

These are the internalization of Islamic precepts and norms with the goal of self-transformation by subduing the nafs al-ammarah (carnal desires) and to realize the Will of Allah. In other words, the origin of peace in Islam, for Nursi, is being at peace with oneself through surrender to God; the eradication of injustice and evil and establishment of Right and justice; the development of humanity through a spirit of total sacrifice.
The Damascus Sermon he puts the immorality dominating society into six categories:
“Firstly: The rising to life of despair and hopelessness in social life.
Secondly: The death of truthfulness in social and political life.
Thirdly: Love of enmity.
Fourthly: Not knowing the luminous bonds that bind the believers to one another.
Fifthly: Despotism, which spreads, becoming widespread as though it was various contagious diseases.
Sixthly: Restricting endeavor to what is personally beneficial.”18
In the writings of Nursi, one sees two faces of jihad: external and internal jihads against the three enemies. Nursi’s works very much focuses on the internal jihad of raising self- consciousness through killing inner enemies of envy, revenge, and ignorance. In addition to this, moral jihad, Nursi also stresses the jihad al-afkar, an intellectual engagement to update Islamic terminology, informed society about current events, and empower all believers with science and knowledge with the goal of overcoming ignorance in society. Nursi argues that the goal is “to wage the greater jihad (jihad al-akbar) with one’s one [instinctual] soul, and to guide others. Ninety-nine percent of [its] aspiration is directed, not to politics, but to licit aims that are the opposite of politics like fine morals and right conduct, and such like.”19 Nursi was aware what Muslims needed “was to expend all efforts to reconstruct the edifice of Islam from its foundations, belief, and to answer at that level those attacks with a ‘non-physical jihad’ or ‘jihad of the word.’”

Nursi at the end of the Eleventh Ray (Meyve Risalesi) argues that the concept of jihad must be reinterpreted according to changing time and conditions.20 Since we are in the age of knowledge, science, and persuasion, Muslims should focus on these areas to have an effective jihad. Nursi argues that in modern age in order to fulfill the task of jihad freedom of conscience is necessary, along with the rule of law.
These are the internalization of Islamic precepts and norms with the goal of self-transformation by subduing the nafs al-ammarah (carnal desires) and to realize the Will of Allah. In other words, the origin of peace in Islam, for Nursi, is being at peace with oneself through surrender to Allah; the eradication of injustice and evil and establishment of Right and justice; the development of humanity through a spirit of total sacrifice. Peace is the remembrance of God. Nursi argues that violence exist because the power is not constrained and controlled by religious teachings. He divides power in terms of violent and nonviolent power. The nonviolence prevails if nonviolent power exists. Muhaiyaddeen sums this as “Whatever is conquered by the sword does not last. The one who picks up the sword will one day die by that same sword. The one who picks up a gun will die by the gun. Whatever one raises in enmity, that very same weapon will cause his destruction.”
Nursi’s conception of faith is the basis of three cardinal values of peace with justice, freedom, and good work.

Justice:
Nursi’s conception of tolerance linked to his attempt to shatter “ethnic or religious other” by focusing on faith, iman, as a source of becoming good. Faith offers a deep sense of security and direction in everyday life. Faithful takes necessary steps to engage in a journey of self-realization and a questioning to recognize the self rather than one’s enemy. Faith is the root concept in the writings of Nursi. His other three key values of peace with justice, freedom, and good conduct (guided by shared moral charter) are derived from faith. Neither of these values is safe if they are not based on faith. For instance, Nursi argues that a faithful has to be just.

“O unjust man nurturing rancour and enmity against a believer! Let us suppose that you were on a ship, or in a house, with nine innocent people and one criminal. If someone were to try to make the ship sink, or to set the house on fire, because of that criminal, you know how great a sinner he would be. You would cry out to the heavens against his sinfulness. Even if there were one innocent man and nine criminals aboard the ship, it would be against all rules of justice to sink it.

So too, if there are in the person of a believer, who may be compared to a dominical dwelling, a Divine ship, not nine, but as many as twenty innocent attributes such as belief, Islam, and neighbourliness; and if you then nurture rancour and enmity against him on account of one criminal attribute that harms and displeases you, attempting or desiring the sinking of his being, the burning of his house, then you too will be a criminal guilty of a great atrocity. “22

In the search of justice, Nursi does not allow any room for hearting innocent people or taking innocent life. Another interesting attitude in this regard maintained by Nursi should be mentioned here is according to Nursi a wild principle of civilization is that for the sake of society an individual might be sacrificed, for the sake of nation partial parts of society’s rights are spendable. But the pure justice of the Qur’an does not spill the life and blood of an innocent, even for the whole of humanity. The two are the same both in the view of Divine Power, and in the view of justice. In another place in this concern Nursi states, “The pure justice of the Qur’an does not spill the life and blood of an innocent, even for the whole of humanity. The two are the same both in the view of Divine Power, and in the view of justice. But through self-interest man becomes such that he will destroy everything that forms an obstacle to his ambition, even the world if he can, and he will wipe out mankind.” Pg297’ THE SEEDS OF REALITY64

If we take a cursory glance, then we can see that diversity of culture existed in the times of all Prophets Adam, Noah, Ibrahim, Musa, Isa, till Muhammad (Peace be upon all of them) and to deal with the issues of all the times emerging from such diversity; the river of guidance continued to flow from Allah, in the form of revelations in accordance with the needs and demands of the respective times. In nut shell the panacea for all the illnesses of the present people and the people to come can be summarized in one single command of the All-Wise Lord, “then when guidance comes to you from Me, anyone who follows My guidance will have no fear, nor will they grieve” (Quran 2:38).

Now it depends upon the bearers of the “Trust” (Amanah) i.e., the children of Adam that how will they benefit themselves from this Guidance to perform their duty entrusted to them that is to acknowledge “Oneness of Allah” and spread this Truth to those who are heedless towards this. In other words revival of faith was the message of every Messenger of Allah in one single creed, “there is no god but Allah”. Man, in his prior state of existence acknowledged God as his Lord but had since, upon assuming his current physical form, forgotten that acknowledgement. For indeed, the term for man in the Qur’an, that is, “insan”, is etymologically related to the root “to forget”. This is as if to say that life on this earth is a journey towards remembrance of that first testimony which man has forgotten.

“We made a covenant with Adam before you, but he forgot, and We found him lacking in constancy” (Quran 20:115).
“One who believes in Allah has grasped the strong handhold that will never break” (Quran 2:256) and belief in the messengership of Muhammad (Peace be upon him) breaks the bonds and walls of enmity towards the People (Ummah) of former Prophets. Because one who believes in the Final Messenger his faith is not complete unless and until he believes in all the Messengers who came before him thus cultivating in them love, unity, tolerance and foresightedness.

“The Messenger believes in what has been sent down to him from his Lord, and [so do] believers. They all believe in Allah and His angels, His scriptures, and His messengers. They say, ‘We do not differentiate between any of His messengers. We hear and obey. Grant us Your forgiveness, Lord, to You we shall all return!” (Quran 2:285).

There are a number of verses in the Quran addressing mankind as a whole in the words like, “Ya Ayyuhan nas, Ya Ayyuhal Insan, Ya bani Adam, etc” which gives us the concept of unity of mankind”. (Sahih al Bukhari, Volume 1, Book 2,Hadith Number 12)

The Prophet said, “None of you will have faith till he wishes for his brother what he likes for himself.”

The root word of Islam is ‘Silm’, which means peace. So the spirit of Islam is the spirit of peace. The first verse of the Quran breathes the spirit of peace; it reads: “In the name of God, the Most Merciful, the Most Compassionate.”

This verse is repeated in the Quran no less than 114 times. It shows the great importance Islam attaches to such values as Mercy and Compassion. One of God’s names, according to the Quran, is As-Salaam, which means Peace. Moreover, the Quran states that the Prophet Muhammad was sent to the world as a mercy to mankind. [Quran: 21:107]

A perusal of the Quran shows that most verses of the Quran (and also the Hadith) are based on peace and kindness, either directly or indirectly. The ideal society, according to the Quran is Dar As-Salaam, that is, the house of peace [Quran: 10:25]

The Quran presents the universe as a model, which is characterized by harmony and peace [Quran: 36:40] When God created heaven and earth, He so ordered things that each part might perform its function peacefully without clashing with any other. The Quran tells us that “It is not allowable [i.e., possible] for the sun to reach the moon, nor does the night overtake the day, but each, in an orbit, is swimming.” [Quran: 36:40] For billions of years, therefore, the entire universe has been fulfilling its function in total harmony with His divine plan.

According to Islam, peace is not simply an absence of war. Peace opens doors to all kinds of opportunities which are present in any given situation. It is only in a peaceful situation that planned activities are possible. It is for this reason that the Quran says: “…And settlement is best…” [Quran: 4:128] Similarly, Prophet Muhammad has observed: “God grants to gentleness (Rifq) what He does not grant to violence (‘Unf).[Abu Daawood]

According to Islam, peace is the rule and war is only an exception. Even in defensive war we have to analyse its result; if the result is doubtful, Muslims should avoid war. Stray acts of aggression are not enough for Muslims to rush into war. They have to assess the whole situation and adopt a policy of avoidance when war is not certain to achieve a positive result.

In actual fact, the mission of all the Prophets from Aadam (Adam) to ‘Eesaa (Jesus), may Allah exalt their mention, was one and the same – of establishing the ideology of monotheism in the world, so that man might worship the One God alone. As we know, there came a large number of Prophets in ancient times but the message of monotheism remained at the initial stage; it could not culminate in revolution.

Thus, Islam as the word itself suggests has connotations of peace and submission. Prophet Muhammad (SAW) in his description of Muslims, says, “A Muslim is one whose fellow brothers are safe from the harm of his tongue and hands”. One of the main principles of non-violence in Islam is stated in the well-known saying of the Prophet, “ La Dhara wa la Dhirar” which can be translated as “ not to harm and not to be harmed”. In his personal life, the Prophet was a living example of peace and nonviolence.

Nursi’s propagation of nonviolence seems to be unique in the contemporary context of Islamic activism. He conceptualized his idea of nonviolent activism with the term ‘ Musbet Hareket’ or positive action. The term presents the essence and the major principle of nonviolence in Nursi’s teachings. For him, the notion of positive action goes deeper than simply refraining from violence.

It is evident in his writings that Nursi cared for everyone in his heart, including those who persecuted him. Although he was poisoned by his oppressors over seventeen times, Nursi never attempted to respond in the same way; instead, he asked his disciples to avoid revenge. Unlike many practitioners of nonviolence in our modern day, Nursi did not have a political goal. The only goal he had was for people to gain their eternal lives. He was convinced that victory is not through the use of force, but through convincing others about one’s own ideas. While saying that the physical sword should not be used, Nursi presents the Qur’an ic truth as a shining diamond sword that negates the physical sword.

The destruction that violence can bring caused Nursi to avoid all kinds of physical force. His well-known farewell letter to his students is considered an example of this. The letter opens with the following statement: “Dear Brothers, our duty is to do positive action and not negative action. It is to serve faith i in accordance with what pleases God. We should not interfere with the duty of God. We must response to all the difficulties we face during our service to faith with patience and thankfulness. Such a service will protect society from disorder. To overcome violence, he warned against the desire of power and possession

Conclusion:
So, this is the way to establish peace. Do justice! And if you want to establish real peace, then not only do justice, but the strong should treat the weak with equity and treat them in the same manner as one treats one’s dear and beloved ones and ignores some of their defaults. Every problem cannot he solved with force, but good and just treatment fosters a feeling of bonding and trust. The urge for real peace comes from the heart and the voice that comes from the heart is the only one that establishes real peace because it is based on love and warmth.
When man spreads disorder on earth, peace and security declines and righteousness all but disappears, God sends his Prophets to save the world. Over 1400 years ago, when righteousness had completely vanished from this world and disorder was at its pinnacle, God sent his final message through the Holy Prophet Muhammad, peace and blessings of Allah be upon him, and thus facilitated the saving of the world from complete disaster. Through the message of Islam, man was taught ways to honour the rights of God and the rights of mankind, which had either been forgotten by those who had believed in the earlier Prophets, or because these were new commandments of excellence which had not been revealed before.

Nursi’s life and teachings always preaches nonviolence and ask his followers to pursue civic resistance. He derives this commitment to nonviolence from the tenets of Islam and Sufi perception of human dignity. Human dignity is the key and organizing principle of Nursi’s writings. Although he invites Muslims to peace, harmony and nonviolence, Nursi examines the sociological background of violence. He identifies a number of conditions that impel people to resort to violence: ignorance, poverty and the lawlessness. Nursi argues that violence exist because the power is not constrained and controlled by religious teachings.
Those countries who want to be the standard-bearers of peace should sit down together and work how the world can be saved from destruction. When thinking of that, they should remember their Creator and then think for the betterment of His creation. But remember that the path which the world has chosen today, the effect of instability will not be confined to just one country but will spread all over the world.

REFERENCES
1. Badiuzzaman Said al-Nursi, Kulliyat Rasa’il al-Nur, Vol. 9, (Istanbul: S?zler Ne?riyat, 1998), 35, 36, Eee too M. Hakan Yavuz, Islamic Political Identity in Turkey (John L. Esposito, Series Editor), (New York: Oxford University Press, 2003), p. 152.
2. Badiuzzaman Sa’id al-Nursi, Vol. 8, 37.
3. See Yavuz, 157.
4. Badiuzzaman Sa’id al-Nursi, Kulliyat Rasa’il al-Nur, Vol. 1, 11.
5. Badiuzzaman Sa’id al-Nursi, Vol. 3, 292, 297, 347, 566, 567, 458.
6. See Vol. 1, 348 – 349.
7. See Yavuz, op. cit., 158.
8. See Ibid., 157.
9. See Vol. 6, 169.
10. See Vol. 1, 642.
11. Q.S. Ali Imran/3: 159.
12. Q.S. al-Syura/42:38.
13. Abdullah Yusuf Ali, The Holy Qur’an, Text, Translation and Commentary, New Revised Edition, (Brentwood, Maryland: Amana, 1989), 1257.
14. Muhammad Fuad Abd al-Baqy, Al-Mu’jam al-Mufahras li Alfaz al-Qur’an al-Karim (Dar al-Fikr, 1947).
15. See Vol. 2, 67.
16. See Ibid., 342-343.
17. See Vol. 1, 873.
18. See Ibid., 69.
19. See Nursi, The Flashes Collection/The Twenty-Second Flash (Istanbul: S?zler Publications, 2000), 226.
20. See The Flashes Collection/The Thirtieth Flash/The Divine Name.
21. See Ibid.
22. See The Flashes Collection//The Twenty-Second Flash, 226.
23. See Fuad Abd al-Baqy.
24. Islamic Millennium Journal, Volume 1, Number 1, Nov. 2001, Asian Muslim Action Network, Indonesia, 2.
25. See Badiuzzaman Said al-Nursi, Vol. 6, 474.
26. See The Flashes Collection/The Twenty First Flash/On Sincerity, 214.
27. See Ibid. 215.
28. See Ibid. 203.
29. See Ibid. 208.
30. See Ibid. 220.
31. See The Flashes/The Thirtieth Flash/The Divine Name.
32. See The Flashes Collection/The Thirtieth Flash/The Divine Name.
33. See The Flashes Collection/The Thirtieth Flash/The Divine Name.

The Prophetic Traditionson Positive Action…

Articles

The Prophetic Traditions (Hadith) on Positive Action: From the Perspective of the Risale-i Nur

Nilofar Abdul Khaliq

Positive action does not mean, as some people imagine, the passive and inactive way of life. Basically, positive action and attitude is all about deriving a solution from the core of the problem, finding a way where there is apparently no way and having a larger ground of thought where common person is stuck with narrow one. In short, positive attitude leads a person to self-control, calmness and hope, and a person with positive attitude keeps working for a better solution and brighter future always.

In the Islamic tradition, so many Muslims down through the centuries have reflected and commented on the benefits to humankind of God’s sending Prophet Muhammad (Peace be upon him!)How their positive behavior and attitude changed the attitude of the disbeliever, I cannot hope to address all that has been written on the subject but will limit myself to a few remarks on what Said Nursi has had to say in the Risale-i Nur about positive action from the perspective of the Prophetic Tradition.

Prophet Muhammmad (Peace be upon him) bring to mankind God’s teaching on people’s duties toward God, toward their neighbor, and towards themselves. In other words, the Prophetoffers God’s guidance on how people should behave and how society should be structured. Thus, the Prophet teach that people should approach God humbly, recognizing each one’s limitations of knowledge, strength, and goodness, and serve God as a faithful servant which is basically through positive action and attitude. This is what the Qur’an means by saying that believers should be “guided by God-given morals.”

The fragrance of this sense of positive attitude comes from the sacred life of Prophet Muhammmad (Peace be upon him). He started his mission of Islam in the worst situation and faced the hardest kind of difficulties but not for a single moment he lost his hope or succumbed to the circumstances. He came out from his house in the night of migration to Medina alone whereas an armed bunch of youth from the different clans of the Quraish were surrounding his house to assassinate him in one go. He was not afraid when the enemies reached the cave “Thaur”. He was not frightened even when Suraqa came close to him in order to attack at him. Instead, he was very much calm and confident, and was heading to his destination. The Prophetic Traditions also reflect the very nature of positive action of the

Prophet Muhammad (Peace be upon him) is the final prophet who brought the complete and perfect message of the Qur’an, so that by following the Qur’an and the Hadithsof Prophet Muhammad (Peace be upon him) Muslims live according to the shari’a or Islamic way of life. It is this second phrase of the shahada, Muhammadunrasulullah that distinguishes Muslims from other monotheists, such as Jews and Christians, who with Muslims affirm la ilahaill’Allah

The mission of Prophet Muhammad (Peace be upon him), was described by God as follows, “O Prophet, indeed We have sent you as a witness (Shahid) and a bringer of good tidings (Basheer) and a warner (Nazeer). And one who invites to Allah (Daee), by His permission, and an illuminating lamp (SirajanMunira)” [Al-Ahzab 33:45-46].

Prophet Muhammad (Peace be upon him) was a beacon of hope for those around him. His ever-beaming smile would exude optimism. His words, whether of warning or of good news, inspired positive action

As per the life and works of Said Nursi, the methods that Prophet Muhammad (Peace be upon him) used in spreading his cause and mission will prove to be effective if we can apply them successfully to provide sustainable solutions for mankind’s problems.

He rewarded and appreciated positive behaviors and attitude to promote the development of peace and happiness, both in this world and the hereafter, for Muslims and for humanity as a whole.

If we want to lead people to behave positively and prevent them from acting badly, the safest way to do this is to reward and appreciate positive action. To be loved and appreciated is what people crave.

Ibn Abbas (May Allah please with him) tells: “One day I prepared some water in a pot so that the Prophet could perform ablution. When the Prophet saw the pot, he asked who had prepared it. Once he learned that it was me who had prepared it, he prayed for me, “O Allah! Increase his understanding in religion”. (Bukhari, Invitation, 19)

The Prophet Muhammad (Peace be upon him) was sent to promote good morality. His words of advice were reflected from Allah who is the Compassionate as a reflection of mercy, thus, he would say good words and commit good deeds. He knew that evil words blemish the heart, and evil in the heart reflects upon the soul. For this reason, he never said an evil word to friend or foe. Prophet Muhammad (Peace be upon him) would not speak in a way that would break anybody’s heart. When he was treated badly, he did not take it personally and he generalized it and then corrected it. When someone complained to him about someone, or he saw a fault in someone, he did not fling the fault in the agent’s face.

When we consider the life and practices of the Prophet (Peace be upon him), we see that if we apply his lofty methods when we are in a difficult position, the problems will be solved, our paths will be illuminated, and we will easily see the farthest horizons. If we avoid practicing these methods just through negligence, we will be the losers. It is a big mistake to consider them unimportant. Those who make the methods of the Prophet into good habits for themselves will find that they act straightforwardly and become successful.

The proper approach to Islam is within a paradigm in which the proper perspective with regards to the nature of the Divine and the concept of happiness in Islam is embraced. In understanding happiness in Islam, it is important to remember that human beings were created ultimately for happiness and joy, for peace and prosperity. The goal of Islam is ultimately the attainment of, or awakening to, “Paradise.” The entirety of God’s divine mercy, light and guidance, as well as the prophethood and mission of the Prophet Muhammad (Peace be upon him), is but for this purpose.

Islam is for the attainment of happiness, joy, satisfaction and eternal bliss and serenity. And so, the Prophet Muhammad (Peace be upon him), who from birth cried, “My nation, my nation!”, seeking to guide and direct to that which leads to happiness in Islam, is referred to as Rahmatanlil-‘Alameen, “A mercy to the worlds.”

Our external life circumstances and conditions are but a reflection of our inner states of being. The way to change is through the power of positive action and positive thinking.

Positive Thinking + Positive Action = Positive Results

It can even be said that happiness in Islam is the very purpose of religion. And the path to happiness in Islam, as taught by the Prophet Muhammad (Peace be upon him), is through growth and personal evolution. Thus, we should nourish our mind with positive and illuminating thinking and attitude. Prophet Muhammad (Peace be upon him) said that “an hour of contemplation is more valuable than seventy years of worship.” The meaning of which is “An hour’s reflective thought is better than a year’s [supererogatory] worship”1 states that on occasion an hour’s reflectionmay be equivalent to a year’s worship. It also offers powerful encouragement for reflective thought.1

It is important to emphasize that Said Nursi was deeply committed to Islam and its main sources, the Qur’an and Hadith. Nursi specified “three great and universal things which make known” God to human beings; the universe, the Prophet, and the Qur’an.2 On one account he adds a fourth, namely conscience.3 Focused on these channels, the primary purpose of his writings is to cultivate faith and prove its vitality for human happiness both for the worldly life and in the hereafter.

In Islam, worship is not only understood in its formal forms of prescribed prayers, fasting, or giving charity. Pondering on God’s creation and the channels of His revelations, pursuing knowledge to gain better insights of His names, and having reflective thought about his creation are all considered within the range of worship. As Nursi calls it that would be “worship in the form of reflection.”4 Relating the importance of contemplation to the very sources of the religion, Nursi states:

My heart combined with my mind and urged me to the way of reflective thought which the Qur’an of Miraculous Exposition commands with such verses as,

That you may consider.(2:219; 2:266) * Perchance they may reflect.(7:176, and so on) * Do they not reflect in their own minds, did God create the heavens and the earth?(30:8) * There are signs for those who consider.(13:3, and so on)

Prophet Muhammad (Peace be upon him) has reported that Allah (SWT) said: “I treat my servant as how he thinks of Me” (Hadith- Bukhari/ Muslim). In other words, Allah (SWT) treats His servant in the way how he thinks of Allah (SWT), what he hopes from and how he sets his hopes on Allah (SWT). So, those who come positive and with a great hope to the door of Mercy of the Almighty Creator will surely not return empty-handed.

The most powerful weapon you have at your disposal is positive action but we need to use it and use it often. The basis of positive action is to lift us and situations to Allah (SWT) an inner act of visualisation. A further step is to contemplate on our beautiful teachings of Islam this involves controlling and directing out thoughts. A simple way to think of this is to imagine your mind to be like a garden. That garden can be spoilt and overrun by negative, destructive thoughts (weeds), or it can become a place of peace and harmony by the cultivation of flowers (uplifting thoughts) which is also the teachings of Said Nursi.

Nursi states that despite the awesome destruction in the universe of devils from among jinn and men, and the varieties of unbelief, misguidance, evil, and destruction they perpetrate, just as they do not interfere one iota in creation, so too they can have no share in Divine sovereignty. And they do not carry out those works through any power or ability; rather than power and action in many of the things they do, it is neglect and abstaining from action. They commit evils through not allowing good to be done, that is, they become evil. For since bad and evil are a sort of destruction, their causes do not have to be an existent power and active creativity. Rather, vast destruction comes about through one command pertaining to non-existence and one condition being spoilt.

It is because the Zoroastrians did not develop this mystery that they believed that there was a creator of good in the universe, called Yazdan, and a creator of evil, called Ahriman. However, the imaginary god of evil they called Ahriman was Satan, who causes evil through the power of choice and the power to act, which possess no ability to create.

And so, O people of belief! Your most effective weapon and equipment for repairs in the face of this awesome destruction of Satan is seeking forgiveness from God, and through saying, “I seek refuge with God,” to have recourse to Him. And your stronghold is the Practices of the Prophet (PBUH).5

According to a noble Hadith of Prophet Muhammad (Peace be upon him, noxious and awesome persons like Sufyan and the Dajjal will come to rule over the godless at the end of time, and exploiting the greed, discord and hatred amongst the Muslims and mankind, they will need only a small force to reduce humanity to anarchy and the vast world of Islam to slavery.

O people of faith! If you do not wish to enter a humiliating condition of slavery, come to your senses and enter and take refuge in the citadel of:

Indeed the believers are brothers,6

to defend yourselves against those oppressors who would exploit your differences! Otherwise you will be able neither to protect your lives nor to defend your rights. It is evident that if two champions are wrestling with each other, even a child can beat them. If two mountains are balanced in the scales, even a small stone can disturb their equilibrium andcause one to rise and the other to fall.

So O people of belief! Your strength is reduced to nothing as a result of your passions and biased partisanships, and you can be defeated by the slightest forces. If you have any interest in your social solidarity, then make of the exalted principle of “The believers are together like a well-founded building, one part of which supports the other”your guiding principle in life! Then you will be delivered from humiliation in this world and wretchedness in the hereafter.7

The literal meaning of ‘positive’ (müsbet) is ‘established,’ ‘proved,’ ‘affirmed.’ In the meaning of ‘positive’ it bears also the meaning of ‘repairing’ or ‘constructive.’ Negative, however, means destructive.The mind can be directed towards positive thinking or negative thinking. The power of thought is a neutral power. The way one thinks determines whether the results are positive and beneficial or negative and harmful. It is the same of energy acting in different ways. Persistent inner work can change habits of thoughts. You must be willing to put energy and time to avoid negative thinking and pursue positive thinking, in order to change your mental attitude. Think of those things which are true, honest, just, pure, lovely, in other words, to fill your mind with noble, good thoughts, leaving no room for negative ones to take root.

Nursi held a special place among these great persons, and manifested to a high degree the meaning of the Hadith: “Scholars are the heirs of the prophets.” 8Positive thinking and positive action are essential feature of all prophetictraditions. A thorough study of historical sources on Prophet Muhammad’s life reveals his dedication to thinking and acting positively. The strength of Prophet Muhammad’s message, which transformed Arabia, was due to his way of life. His actions were exemplary in every respect and always came prior to his words. Thus, the core of all Prophetic traditions are positive thinking and positive action which is the essence of all sunnah or strategic sunnah.

Prophet Muhammad (Peace be upon himforged a path that was not based on revenge or acceptance. His goal was to revive people, not to kill them.9 the key to the Prophet’s success lies not only in his preachingbut notably in the exemplary character of his life. The aim of positive thought and action is to win over hearts and minds, thereby, he took the middle way with his positive practices. With a great mission in hand, Prophet Muhammad had to serve as a role model 10 for not only his people, but for all humanity. He came from an honoured tribe and was respected throughout Makkah prior to and even during his prophethood, yet he underwent such horrendous acts to his people, his family and his Companions, that it is difficult to conceive how he could have responded in the manner he did.11

Prophet Muhammad (Peace be upon him), who was sent as a mercy to all the worlds, did not curse those who stoned him at Ta‘if wounding him in one hundred and fourteen places; with his wondrous compassion he prayed for their guidance, saying: “O my Sustainer! They do not know what they are doing.” His heir this terrible century, Bediuzzaman, took the same path and said the following:

“Due to the compassion which is the basis of my way and that of the Risale-i Nur and which has been a principle of my life for the past thirty years, so that no harm will come to any innocents, I do not respond with curses even to the criminals who persecute me, let alone bother them.”12

In another of his writings, he describes how he and his students had suffered various torments and undergone severe tests:

“Our duty towards them is only to seek their guidance. I recommend that none of my students should nurture the very slightest desire for revenge against those who have oppressed and tortured them; in the face of them, they should work loyally and with constancy for the Risale-i Nur.”13

Another important matter on which the great Regenerator of religion dwelt in respect of positive action was the securing of peace and harmony between the Muslims who serve Islam by different methods. He repeatedly stressed this important point and exerted himself so that difference of ways should not lead to conflict. These are the first three of nine ‘commands:’ of Said Nursi.

“1. To act positively, that is, out of love for one’s own outlook, avoiding enmity for other outlooks, not criticizing them, interfering in their beliefs and sciences, or in any way concerning oneself with them.

“2. To unite within the fold of Islam, irrespective of particular outlook, remembering those numerous ties of unity that evoke love, brotherhood and concord.

“3. To adopt the just rule of conduct that the follower of any right outlook has the right to say, ‘My outlook is true, or the best,’ but not that ‘My outlook alone is true,’ or that ‘My outlook alone is good,’ thus implying the falsity or repugnance of all other outlooks.”14

The last ‘ders’ (instruction) Said Nursi gave the Risale-i Nur Students before his death

My Dear Brothers!

Our duty is to act positively; it is not to act negatively. It is solely to serve the cause of belief in accordance with Divine pleasure, and dot interfere with God’s concerns. We are charged with responding with patience and thanks to every difficulty we may encounter in the positive service of belief, a consequence of which is the preservation of public order and security.

Taking myself as an example I say: formerly I never bowed before tyranny or humiliating treatment. Numerous events established that I could never endure to be treated in that way. For example, not rising to my feet before the Commander-in-Chief in Russia, and my giving no importance to the pashas’ questions in the Military Court even when under threat of execution, as well as my attitude to four commanders, all show that I never bowed before tyranny. But these last thirty years, for the sake of acting positively and not acting negatively and not interfering in God’s concerns, I have responded with patience and resignation to all the treatment I have received, I have met it with patience and resignation like Jarjis (St George) (Upon whom be peace) and those who suffered the extreme difficulties of the Battles of Badr and Uhud.

Yes, for example, I did not even curse a public prosecutor whose eighty-one errors I had proved in court, as a result of whose false accusations the decision was taken against us. For the essential matter at this time is ‘jihad of the word.’ 5 It is to form a barrier against the moral and spiritual (mânevî) destruction, and to assist internal order and security with all our strength.

Yes, there is a power in our way, but this force is for preserving public order. According to the principle of No bearer of burdens can bear the burden of another 16the brother, family, or children of a criminal cannot be held responsible for him. It is because of this that throughout my life I have endeavored with all my strength to maintain public order. This force may not be employed internally, but only against external aggression. Our duty in accordance with the above verse is to assist the maintenance of internal order and security with all our strength. It is for this reason that within the Islamic world there have been very few civil wars damaging public order. And those have arisen from differences in interpretation of the Law. The most important condition of ‘jihad of the word’ is not interfering in God’s concerns; that is: “Our duty is to serve; its results are Almighty God’s concern. We are charged with carrying out our duty, and are obliged to do so.”

Like Jalaluddin Kharazmshah, I have learnt from the Qur’an to say: “My duty is to serve religious belief; it is Almighty God’s concern whether or not He gives it success,” and to act with sincerity.

External aggression may be met with force, for the enemy’s possessions and dependents are like booty. But this is not the case internally. Internal action is to act in accordance with the true meaning of sincerity in positive, non-physical (mânevi) fashion against the moral and spiritual (mânevî) destruction. External and internal jihad are completely different. Almighty God has now given me millions of true students, but internally, we shall only act positively to maintain public order and security. The difference at this time between internal and external jihad is truly great.17

Said Nursi always acted positively and was severly opposed to every sort of negative action. Of course it has not been possible in a single paper to describe as it deserves the positive action that was the unchanging principle of his fruitful life from the perspective of prophetic tradition. It will see more clearly on studying the entire life of that great guide, together with the one hundred and thirty parts of the Risale-i Nur Collection, which he offered for the benefit of entire mankind.

FOOTNOTES
1. Nursi, The Flashes, 378.

2. The Words, Nineteenth Word, p. 243.
3. Mesnevi-i Nuriye, Nokta, p. 208–215.
4. Nursi, The Words, 465.
5. The Flashes / The Thirteenth Flash – p.106-107
6. Qur’an, 49:10.
7. Letters/ Twenty – Second Letter – First Topic- p.319-320
8. al-‘Ajluni ,Kashf al-Khafa’, No: 1745.
9. FethullahGulen, The Messenger of God: Muhammed, http://fgulen.com/en/fethullah-gulens-works/faith/prophet-muhammad/24808-a-general-evaluation-of-his-military-achievements
10. Qur’an 33:21
11. İbn Sa’d, Tabaqâtü’l-Kübrâ,(Beirut, 1957 )v. 3,pp. 233, Ahmad Ibn Hanbal, Musnad, (Egypt, 1954)v. 1, pp. 404
12. Nursî, Bediüzzaman Said, Sualar, Envar Nesriyat, 372.
13. Emirdag Lahikasi , ii, 80-1.
14. Lem’alar, 151 / The Flashes Collection, 203.
15. Turkish: cihad-ımânevî, which may also be translated as ‘moral jihad’ or ‘non-physical jihad.’ [Tr.]
16.
17. (in Jihad of the word and positive action : Bediuzzaman Said Nursi’s interpretation of Jihad in the modern age. Istanbul: Sözler Publications.)

Akhtar Imaan ki Khud Noosht

Articles

اختر الایمان کی خود نوشت

ڈاکٹر قاسم امام

کہنے کو بہت کچھ تھا، کہنے کو بہت کچھ ہے۔ ہر دور کی اپنی ایک مخصوص پہچان ہوتی ہے۔ ایک مزاج جو اس دور کی شناخت بن جاتا ہے۔ کسی بھی مخصوص دور کے مزاج کا اندازہ صرف اُس عہد سے متعلق لکھی گئی تاریخی کتابوں سے نہیں لگایا جاسکتا بلکہ ہر دور کے سچے احساسات اور واقعات کو سمجھنے کے لیے سوانحی خود نوشت کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔

اردو ادب میں سوانح نگاری کی روایت طویل ہے۔ عبدالمجید سالک کی ’’سرگزشت‘‘ ، سر اختر رضا علی کے ’’اعمال نامہ‘‘ ، جوش ملیح آبادی کی ’’یادوں کی برات‘‘ ، قدرت اللہ شہاب کی ’’شہاب نامہ‘‘ ، مرزا ادیب کی ’’مٹی کا دیا‘‘ ، احسان دانش کی ’’جہانِ دانش‘‘ کے علاوہ بہت سے ادبا و شعرا نے اس صنف کو جلا بخشی ہے۔ ہمارے یہاں شاعروں میں خودنوشت لکھنے کا رجحان قدرے کم کم ہی پایا جاتا ہے۔ تاہم ایک سرسری جائزے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ بعد کے شعرا مثلاً اختر الایمان کی ’’اس آباد خرابے میں‘‘،امرتا پریتم کی ’’رسیدی ٹکٹ‘‘ ، زبیر رضوی کی ’’گردشِ پا‘‘ ، ندا فاضلی کی ’’دیواروں کے بیچ‘‘ (۳ حصوں میں) ، ادا جعفری کی ’’ جو رہی سو بے خبری رہی ‘‘ اور ’’کشور ناہید کی کی ’’بری عورت کی کتھا‘‘ قابلِ ذکر ہیں۔
اختر الایمان کا شمار اُن شاعروں میں ہوتا ہے جنھوں نے اپنے وقت کے مروجہ شعری رویات سے ہٹ کر اپنا ایک الگ راستہ بنایا ۔ اُن کی شاعری میں دانشورانہ فکر اور عام زندگی کے بھولے بسرے لمحوں کی بازیابی دیکھنے کو ملتی ہے۔ رشتوں کی حرارت اور جذبوں کی رفاقت سے ان کی شاعری کا خمیر اٹھا ہے۔ غرضیکہ ان کی شاعری خود اُن کی اپنی زندگی شامل ہے۔ اس بات کا اندازہ ان کے چیدہ چیدہ مضامین ، دیباچوں اور خود نوشت سوانح سے بھی ہوتا ہے۔

’’اس آباد خرابے میں ‘‘ اخترالایمان کی سوانح حیات سلسلہ وار کئی سال تک محمود ایاز کے پرچے ’سوغات‘ میں شائع ہوئی ۔ 1996ء میں پہلی بار اردو اکادمی ،دہلی نے ’اس آاد خرابے میں‘ عنوان سے اسے کتابی شکل میں شائع کیا۔

اختر الایمان کی نظموں کا ایک روشن عنصر ان کی نظموں کی منظر نگاری بھی ہے۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ آگے چل کر وہ فلموں میں ایک کامیاب مکالمہ نگار اور اسکرین پلے رائٹر ثابت ہوئے۔ فلموں سے وابستگی نے ان کی شاعری اور بعد میں سوانح نگاری کو بھی تکنیک کی سطح پر متاثر کیا ہے۔ مثال کے طور پر فلموں کی ایک پسندیدہ تکنیک فلش بیک تکنیک ہے۔ اس تکنیک کی کافرمائی ان کی متعدد نظموں میں نظر آتی ہے۔ جبکہ ان کی خود نوشت سوانح پر بھی اس تکنیک کے اثرات کی چھوٹ پڑتی دکھائی دیتی ہے۔ پوری سوانح ایک مربوط قصے کے طور پر نہیں بیان ہوئی ہے بلکہ اس میں ماضی ، حال اور مستقبل کواس طرح گوندھ دیا گیا ہے کہ اسے پڑھتے ہوئے آپ ایک سرے سے دوسرے سرے تک نہیں پہنچ سکتے ۔ اظہار کا یہ طریقہ انوکھا ہی نہیں ندرت کا حامل بھی ہے جوقاری کے تجسس کو انگیخت کرتا رہتا ہے۔ علاوہ ازیں اس سوانح میں کیمیرہ تکنیک کا استعمال بھی نظر آتا ہے۔ لہٰذا اس سوانح کے متعدد واقعات ہمارے ذہنوں میں فریج ہوتے محسوس ہوتے ہیں۔ یہاں ایسے واقعات کے مثال کی گنجائش نہیں ہے لیکن جنھوں نے یہ سوانح پڑھی ہے وہ اسے بخوبی محسوس کرسکتے ہیں۔

آپ کی پسندیدہ کتابیں کون سی ہیں؟ ایک دانشور دوست کے سوال پر مجھے خیال آیا کہ امریکہ کے تیسرے صدر تھامس جیفرسن نے بہترین کتابوں کی ایک فہرست مرتب کی تھی اور تب سے مغربی ممالک میں دنیا کی بہترین کتابوں کی فہرست ترتیب دینے کا چلن شروع ہوا۔ اردو میں اس طرح کی کوئی مربوط روایت نہیں ہے۔ البتہ ہر قاری کا اپنا ایک بُک شیلف ہوتا ہے۔ جہاں وہ اپنی پسند کے مطابق کتابیں رکھتا ہے۔ میرے بُک شیلف میں میری جو پسندیدہ کتابیں ہیں اس میں اختر الایمان کی خود نوشت سوانح ’’اس آباد خرابے میں ‘‘ بھی ہے۔

Urdu Zabaan ka Rasm-ul-Khat

Articles

اردو زبان کا رسم الخط

ڈاکٹر ریحان انصاری

ہماری چند لوگوں سے بات چیت میں یہ عجیب سا انکشاف ہوا کہ اردو والے ہوکر بھی اردو زبان جس رسم الخط میں لکھی جاتی ہے اس کا وہ نام نہیں جانتے۔ ہمیں حیرت ہوئی۔ کچھ لوگوں نے سادہ طور پر یہ ضرور کہا کہ اسے ’’اردو‘‘ میں یا پھر ’’کتابت‘‘ میں لکھا جاتا ہے۔ ہمیں اس عدم توجہی پر رونا بھی آیا۔ اصل میں بہت سے تہذیبی و ثقافتی عوامل کے زیرِ اثر ہم لوگ اتنی دور تک سفر کرچکے ہیں کہ اردو کی اپنی روایات ہم سے میلوں پیچھے چھوٹ گئی ہیں۔ اسی میں خوش خطی بھی شامل ہے۔ جب اس کا رواج تھا تو اکثر لوگ جانتے تھے کہ اردو کے رسم الخط کا نام ’’نستعلیق‘‘ ہے۔

ہم انھی گم گشتہ روایات کے ڈھیر سے خطِ نستعلیق کا تعارف اور تاریخ پیش کرنا چاہتے ہیں تاکہ اپنی زبان کے تئیں ہم یہ حقیر خدمت کر سکیں۔ ہم یہاں یہ بھی ضرور عرض کرنا چاہیں گے کہ دنیا کی اکثر اقوام اپنی زبان اور رسم الخط سے بے پناہ پیار کرتے ہیں جس کی بیشتر مثالیں دی جاسکتی ہیں۔ جیسے انگریزی والے ’رومن‘، ایرانی ’فارسی نستعلیق‘، سنسکرت یا ہندی و مراٹھی وغیرہ ’ناگری‘، چینی و جاپانی اور روسی و عربی کے علاوہ چھوٹی بڑی ہر زبان کے پاسدار اپنے اپنے رسوم الخط کے تحفظ و بقا کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں، وہ انھیں اپنی اپنی شناخت مانتے ہیں، ان کے یہاں کیلی گرافی یا خوشخطی و خوشنویسی کے کورس بھی یونیورسٹیوں میں داخل ہیں مگر افسوس کہ ہم اردو والے اس جانب سے کسی قدر بے اعتنائی برتنے میں مبتلا ہیں۔

رسم الخط، طرزِ تحریر، لکھاوٹ،لیپی اور اسکرپٹ کے ایک ہی معنی ہیں۔ دنیا میں ہر زبان کا رسم الخط بھی ہو یہ ضروری نہیں۔ بہت سی زبانیں محض بولیوں میں شمار ہوتی ہیں؛ لکھی نہیں جاتیں، اور متعدد زبانوں کا رسم الخط معمولی تبدیلیوں کے ساتھ مشترک ہے۔کچھ زبانوں کا رسم الخط تو ایک ہی ہے لیکن ان کا طرز و انداز کئی قسم کا ملتا ہے۔ یہ جدا جدا انداز خط کہلاتے ہیں۔تمام رسوم الخط کے اپنے بنیادی حروفِ تہجی ہوا کرتے ہیں جن کی ترکیب سے لفظ بن جاتا ہے۔الفاظ سے کلمہ بنتا ہے اور کلمات یا جملوں سے شعر و نثر وجود پاتے ہیں۔ اردو کا رسم الخط یقیناً فارسی سے مستعار ’نستعلیق‘ ہے لیکن چند وجوہات کی بنا پر اس باب میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہندوستان میں جنم لینے والی زبان اردو کا رسم الخط ایک امتیازی اور جدا شان کا حامل ہے۔ اس پر کوئی گفتگو کرنے سے قبل آئیے کچھ تاریخی و مستند حوالے بھی دیکھیں۔

رام بابو سکسینہ اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: ’’عام طور پر لوگ اردو کو فارسی کی ایک شاخ خیال کرتے ہیں۔اس وجہ سے کہ اس کی ابتدا مسلمان حملہ آوروں کی فوج میں اور مسلمان سلاطین ِ ہند کی دارالسلطنتوں میں پڑتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔اردو کو فارسی نژاد ہونے کی غلطی عام لوگوں کو تو اس وجہ سے بھی محسوس ہوتی ہے کہ اس میں فارسی الفاظ بکثرت ہیں اور اس کی شاعری کی بحریں اور اس کا رسم الخط بھی مثلِ فارسی کے ہے۔اردو کے حروفِ تہجی بالکل وہی ہیں جو فارسی اور عربی کے ہیں۔ البتہ بعض مخصوص حروف جن سے ہندوستانی زبان کی خاص خاص آوازیں ظاہر ہوتی ہیں، جو فارسی اور عربی میں نہیں پائی جاتیںاضافہ کردی گئی ہیں۔ مثلاً ٹ، ٹھ، ڈ، ڈھ، ڑ، ڑھ۔ ان حروف کے لکھنے کا طریقہ یہ ہے کہ ت، د، ر پر یا تو چھوٹی سی (ط) بنا دیتے ہیں یا چار نقطے دے دیتے ہیں‘‘۔ ]تاریخِ ادب اردو)[

ڈاکٹر سیدہ جعفر بیان کرتی ہیں کہ: ’’بعض ادیبوں نے اس خیال کا اظہار کیا ہے کہ انگریز بنگالی، ہندی اور اردو کو مخصوص جغرافیائی خطوں میں نشوونما کا موقع دے کر رسم الخط کی بنیاد پر ان میں اختلاف پیدا کرنا چاہتے تھے، اردو اور فارسی رسم الخط میں مشابہت کی بنا پر اسے مسلمانوں سے وابستہ کر دیا گیا‘‘۔ (تاریخِ ادب اردو، جلد دوم، ۲۰۰۰، ہاشم لنگر، حیدرآباد)

کسی بھی طرز اور رسمِ خط کی بنیاد میں باقاعدہ اصول موجود ہوتے ہیں جو حرف و لفظ یا اس کے جز کو لکھتے ہوئے برتنا اس کے حسن و صورت کو قائم رکھنے کا ذمہ دار ہوتا ہے۔

عتیق احمد صدیقی نے رقم کیا ہے کہ ’’ہندوستان میں اگر رسم الخط یا تحریر (اسکرپٹ) کی تاریخ تلاش کی جائے تو۔۔۔ اس کا باقاعدہ مطالعہ کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ وادیِ سندھ کی تہذیب میں پروردہ لوگوں نے بھی ہڑپا اور موہنجو ڈارو جیسے شہروں میں کچھ تحریروں کے نقوش پتھروں پر بنائے تھے، جن کے یقیناً کوئی معنی اور مطلب نکلتے ہوں گے۔ مگر اب تک کی تحقیق اور ریسرچ کے مطابق اس کا قطعی طور پر پتہ نہیں لگایا جاسکا ہے کہ اُن کے معنیٰ کیا تھے یا وہ کس طرح پڑھی جاتی تھی؟‘‘(ہندستانی تاریخ و ثقافت اور فنونِ لطیفہ، صفحہ۲۴۹)

رشید حسن خان نے بیان کیا ہے کہ ’’رسمِ خط کسی زبان کو لکھنے کی معیاری صورت کا نام ہے اور رسمِ خط کے مطابق صحّت سے لکھنے کا نام اِملا ہے۔ بہت سی بحثیں ایسی ہوئیں کہ جو دراصل اِملا کے مسائل سے تعلق رکھتی تھیں، مگر وہ رسمِ خط کے عنوان سے شروع ہوئیں اور اس کے برعکس بھی ہوا۔اس خلطِ مبحث نے بھی املا کے مسائل کی واقعی اہمیت کو نمایاں نہیں ہونے دیا۔ کس لفظ کو کن حروف سے مرکب ہونا چاہیے، یا لفظ میں ان کی ترتیب کیا ہونا چاہیے، یہ مسئلہ رسمِ خط کا نہیں ہے۔ یا یہ کہ کون سے حروفِ تہجی ختم کردیئے جائیں، یا کسی خاص آواز کے لیے کسی نئی علامت کا اضافہ کیا جائے، یہ بھی املا کے متعلقات ہیں۔فرض کر لیجیے کہ آپ نے اردو کے حروفِ تہجی میں سے آٹھ حرف نکال دیئے،یا پانچ نئے حرف یا چار نئی علامتیں بڑھا دیں؛ مگر اس سے رسمِ خط کی صورت تو نہیں بدلی! لفظوں کو لکھنے میں یا پڑھنے میں کبھی کوئی مشکل پیش آئی تو یہ کہا گیا کہ اردو کے رسمِ خط میں اصلاح کی ضرورت ہے، اور اس بنیادی بات کو فراموش کر دیا گیا کہ اصلاح املا میں ہوسکتی ہے، رسمِ خط میں نہیں۔ وہ یا تو رہے گا یا نہیں رہے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ رسمِ خط میں تغیر ہوسکتا ہے، اصلاح نہیں ہوتی۔رسمِ خط میں صورت اور روش کی بنیادی حیثیت ہے، جن ان میں کلیتاً تبدیلی ہوجائے گی، تب یہ کہا جائے گا کہ رسمِ خط بدل گیا۔ اردو کی عبارت کو اس کے معروف رسمِ خط میں لکھنے کے بجائے رومن اسکرپٹ میں لکھیے تو کہا جائے گا کہ اردو ایک دوسرے رسمِ خط میں لکھی گئی ہے۔ ترکی میں (چونکہ) رومن اندازِ تحریر کو اختیار کر لیا گیا ہے؛ تو اب یہ کہا جاسکتا ہے کہ ترکی زبان کا رسم الخط بدل گیا ہے۔ سندھی زبان عربی رسمِ خط میں لکھی جاتی رہی ہے۔ اُس کو ناگری لیپی میں (اب) لکھیں گے تو کہا جائے گا کہ سندھی کا رسمِ خط بدل گیا۔ اس کے برخلاف، بعض علامتوں یا شکلوں میں کسی طرح کی اصلاح کیجیے تو وہ اس زبان کے املا میں اصلاح مانی جائے گی، نہ کہ رسمِ خط میں۔ ’’( اردو املا، NCPUL، صفحات ۱۲،۱۳)

امیر حسن نورانی اپنے تحقیقی مقالہ میں رقمطراز ہیں کہ ’’قدیم ایران کا رسم الخط جو بھی رہا ہو لیکن فارسی زبان کے لیے عربی رسم الخط استعمال کیا گیا۔دیلمی حکمرانوں کے علمی و فنی ذوق و شوق کی بدولت آذربائیجان کا علاقہ علمی سرگرمیوں کا مرکز بن گی۔ اس علاقے میں پہلے پہل خطِ نسخ نے فنی وضع اختیار کی اور فنِ تحریر نے خطاطی کی حدوں سے آگے بڑھ کر نقاشی کے میدن میں قدم بڑھایا، اور اس خط میں مصورانہ نزاکتیں پیدا ہونے لگیں۔ایرانیوں کے ذوقِ جمال اور ان کی نفاست پسندی نے انھیں اس بات آمادہ کیا کہ عربی کے خط نسخ میں ردّوبدل کرکے کوئی نیا خوبصورت خط ایجاد کیا جائے کیونکہ خط نسخ لکھنے میں قلم ہر لفظ اور حروف میں یکساں رہتا ہے۔۔۔۔۔۔ آٹھویں صدی ہجری میں امیر تیمور کے عہد میں میر علی تبریزی نے خط نسخ اور تعلیق کی آمیزش سے آٹھواں خط ایجاد کیا جو حسن و نفاست میںسابقہ خطوں سے زیادہ مقبول ہوا۔ اسی کا نام ’نستعلیق‘ ہے۔ ابوالفضل نے آئینِ اکبری میں اس بات سے اختلاف کیا ہے کہ نستعلیق کی ایجاد میر علی تبریزی نے کی۔ انھوں نے لکھا کہ امیر تیمور سے قبل یہ خط وجود میں آچکا تھا۔ (اس کے لیے ابوالفضل نے کوئی حوالہ بھی دیا ہو اس کا ذکر نہیں ملتا)۔ اگر ابوالفضل کی تحقیق کو درست تسلیم کیا جائے تب بھی اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ تبریزی نے خطِ نستعلیق کو ترقی دینے میں بہت کوشش کی اور اس کے شاگردوں نے اس کو ایران، ترکستان اور ہندوستان میں پھیلایا۔ نستعلیق کو خوبصورت اور دلکش بنانے میں میر علی کے بیٹے میر عبداللہ تبریزی نے بہت محنت کی۔ اس کے بعد سلطان علی مشہدی نے اس کو مکمل کرنے کی جدوجہد کی اور وہ اس خط کا استادِ کامل بن گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خطِ نستعلیق کے اصول و ضوابط خواجہ قمرالدین کے شاگرد میر علی ہروی نے مرتب کیے جو مشہور اور ماہر نستعلیق نگار تھے۔ ان کے بعد میر عماد حسین قزوینی نے اس خط کو مزید دلکش بنایا۔‘‘ ](منتخبہ اقتباسات) منشی نول کشور؛ ان کے خطاط اور خوشنویس، ترقی اردو بیورو،نئی دہلی ۱۹۹۴ء۔صفحات۳۶،۳۷،۳۸[

امیر حسن نورانی مزید تحریر کرتے ہیں کہ ’’مغلیہ دور میں نسخ اور نستعلیق دونوں خط رائج تھے لیکن نستعلیق اپنی زیبائی اور دلکشی کے باعث مقبولِ عام تھا۔ اس فن کو حکومت کی سرپرستی حاصل تھی۔خطاطی اور خوشنویسی کو عہدِ شاہجہاں میں بہت فروغ حاصل ہوا۔اس کے زمانے میں میر عماد قزوینی کے شاگرد عبدالرشید دیلمی نے خطِ نستعلیق کو نکھارا اور اس میں ایک امتیازی شان پیدا کی‘‘۔ ’(ایضاً، صفحہ ۴۲)

خوشنویسی کی تاریخ شاہد ہے کہ اس کا کمال و زوال اسلامی سلطنتوں کے عروج و انحطاط سے وابستہ رہا ہے۔ چنانچہ ہندوستان و ایران میں جو عروج اس کو حاصل ہوا وہ محتاجِ بیان نہیں ہے۔ یہاں سلطنتِ مغلیہ کا زمانۂ عروج اس کے شباب کا زمانہ تھا۔ خود شاہانِ وقت بڑے پایہ کے خوشنویس و مبصر ہوئے۔ انھوں نے بڑے اہتمام سے اپنی اولاد کو بھی یہ فن سکھلایا۔ چنانچہ شاہزادوں کے علاوہ متعدد بادشاہ زادیاں اور بیگمات تک خوشنویس تھیں۔ مثلاً گلبدن بیگم، جہاں آرا، نورجہاں اور زیب النسا، اورنگ زیب، بہادر شاہ ظفر، داراشکوہ وغیرہ۔ تصویر کی طرح خوشنویسی سے تزئینِ طاق و محراب کا کام لیا جاتا تھا۔ اردو نے ایسے زمانے میںآنکھ کھولی اور ہوش سنبھالا کہ جب خوشنویسی کا دائرہ عالمگیر ہو چکا تھا اور اس کی کشش اہلِ علم و فن اور سلاطینِ زمن کو اپنی جانب کھینچ چکی تھی۔ خوشنویسوں کے قلم اپنی شاہجہانی کے علم گاڑ چکے تھے۔ (صحیفۂ خوشنویسان: مولوی شاغل عثمانی)
یہی وہ دور تھا جب ہندوستان میں نستعلیق کا باقاعدہ داخلہ اور رواج و فروغ ہوتا ہے اور یہی ’امتیازی شان پیدا کی‘ وہ نکتہ ہے جہاں سے ہندوستان میں نستعلیق کی الگ پہچان اور خالص ہندوستانیت کا رچاؤ شروع ہوتا ہے جو ہماری اردو زبان کے لیے اصلی یا اوریجنل بن جاتا ہے۔
رفتہ رفتہ عبدالرشید دیلمی کے (ہادشاہوں، شاہزادوں اور شاہزادیوں سمیت ہزاروں) شاگردوں نے ہندوستانی مزاج کے مطابق بھی قلم اور روش کے انداز تبدیل کردیئے۔ اس دور میں فارسی کا رواج تھا لیکن عوامی کھڑی بولی کے روپ میں اردو بھی جنم لینے کے مراحل میں تھی۔ اسی لیے اردو کا رسم الخط گوکہ فارسی سے مستعار ہے مگر اس نے ہندوستان میں اپنا الگ رنگ وروپ اپنایا۔ اس کی زلفوں کی مشاطگی کرنے والوں نے اس کے آہنگ و نقوش میں بدلاؤ داخل کردیا۔ یہی سبب ہے کہ برصغیر میں مروّجہ خطِ نستعلیق میں فارسی زبان میں کچھ تحریر کردیا جائے تو اہلِ فارس اسے ویسی تحسین سے نہیں نوازتے جیسی وہ فارسی (طرزِ ایرانی) نستعلیق میں فارسی کے لکھ دینے سے کیا کرتے ہیں۔

غیرمنقسم ہندوستان میں ہی ہندوستانی نستعلیق کے تین اہم مکاتب وجود پاچکے تھے جو تقسیمِ وطن کے بعد بھی وہی ہیں۔ یہ مکتب یا اسکول خطِ نستعلیق کے دائروں، دامن اور روشوں میں معمولی تغیرات اور خصوصیات و حسن سے معنون ہیں۔ انھیں لکھنوی، دہلوی اور لاہوری اسکول کہا جاتا ہے۔ لکھنوی نستعلیق کے لیے منشی شمس الدین اعجاز رقم صاحب کو بلاشرکتِ غیرے استاد و موجد کہا جاتا ہے۔آپ نے متعدد کتابیں اس کے قواعد کی تحریر کرکے تعلیمِ خط کو عام کیا اور خوب داد پائی۔ دوسرا خط دہلوی اپنے آپ میں بھی بہت متغیر ہے۔ اس کے قواعد کی کوئی بھی کتاب شہروں شہروں تلاشِ بسیار کے باوجود علم میں نہیں آسکی۔ اسی سے یہ نتیجہ نکال کر یہ گستاخانہ رائے دینا پڑ رہی ہے کہ جو خط لکھنوی یا لاہوری اسکول کا نہیں ملتا اسے سب ’دہلوی‘ کہتے ہیں۔تیسرا خطِ نستعلیق لاہوری کہلاتا ہے۔ اس خط کی عمر تینوں میں سب سے کم ہے۔ کوئی ۸۰ برس ہی ہوئے ہوں گے۔ اسے لاہور میں منشی عبدالمجید پرویں رقم نے ایجاد و اختراع کیا۔ ان کے بعد تاج الدین زرّیں رقم اور ان کے بیشتر شاگردوں نے اس میں فن پارے بھی پیش کیے اور معمولی اصلاحات کے ساتھ امتیازی شان بھی پیدا کرتے رہے لیکن اس کا باقاعدہ ایک اسکول قائم ہے جس کے پاس اپنی کتابِ قواعد بھی ہے اور کثیر تعداد میں ہے۔

اردو کا رسم الخط ہی اس کا چہرہ ہے۔ نستعلیق سا نستعلیق۔ آپ نستعلیق کے بغیر اردو کا تصور نہیں کرسکتے۔دوسرے رسمِ خط میں اسے قبول نہیں کیا جاتا۔اسے تبدیل کرنے کی جتنی کوششیں ہوئی اتنا ہی یہ مستحکم ہوا۔ قبلِ آزادی و بعدِ آزادیٔ ہند کے ادوار کی تبدیلی نے اردو کی وطنی اور ملک گیر حیثیت کو بھی یقیناً متاثر کیا لیکن اس کا چہرہ باقی رہا۔ ہنوز املا اور جملہ صحیح ہونے کے باوجود ہندوستان ہی نہیں عالمگیر سطح پراردو کو نستعلیق کے سوا دوسرے رسم الخط میں اکثریت قبول نہیں کرتی۔

نئے علوم و فنون کی ایجادات و اشاعت کا دور بہت زیادہ پرانا نہیں ہے لیکن کئی گوشوں سے رہ رہ کر یہ آواز بھی اٹھتے رہتی ہے کہ اردو کا رسم الخط تبدیل کردینا چاہیے۔ خصوصاً کمپیوٹر ٹکنالوجی کی آمد اور اس پر اردو کے کاموں میں سہولت پیدا ہونے سے قبل تک یہ بہت سے اُن حیلوں کے ساتھ بھی سامنے آتی تھی کہ جدید علوم کو اس میں منتقل ہونے اور اس کی کلاسیکیت و جدیدیت کو دوسروں میں ترسیل کے لیے اس کا رسمِ خط ہی مانع ہے۔یہ موضوع ایک طویل بحث کے ساتھ ہی دلائلِ کثیرہ کا متقاضی ہے اس لیے ہم اس پر کسی وقت اور باتیں کریں گے۔ سرِ دست ڈاکٹر امیراللہ شاہین سے استفادہ کرتے ہوئے کہنا چاہیں گے کہ ’’رہی ملکی حالات کی بات تو پورے ملک کا ایک رسم الخط محض خوش آئند تصور ہے جس کے ڈانڈے دیوانے کے خواب سے جاملتے ہیں۔ ہندوستان میں زبانوں کے چار بڑے خاندان ہیں ان سب کے اپنے اپنے علاقے بٹے ہوئے ہیں۔ہر تیس میل کے فاصلے پر لب ولہجہ میں فرق آجاتا ہے۔ سیکڑوں بولیوں کو یکجا کرنا قطعاً ناممکن ہے۔اس سلسلے کی ہر کوشش توانائیوں کوضائع کرنے کے سواکچھ نہیں۔ یوں بھی ایسی کوئی روایت کسی دوسرے ملک میں بھی موجود نہیں ہے۔ باوجودیکہ ان میں سے کچھ ممالک کے پاس زبردست عسکری تنظیم اور فکری وحدت موجود ہے۔ اس لیے یہ یہاں اور بھی قابلِ عمل نہیںہے۔ اس قسم کی ہر کوشش سے منافرت اور مغائرت کو ہوا ملے گی۔ اس لیے دانشمندی کا تقاضہ یہی ہے کہ اس گلستاںمیں ہزاروں طرح کے پھولوں کو اپنی اپنی مخصوص بو، باس اور اپنے خاص آب و رنگ کے ساتھ پھلنے، پھولنے اور پھیلنے کے مواقع دیئے جائیں کہ یہی وقت کی آواز ہے اور یہی اس مسئلہ کا بہترین حل ہے۔ فی الواقع یہ کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے، ایک سیدھی سادی حقیقت کو مسئلہ بنا دیا گیا ہے‘‘۔ (جدید اردو لسانیات، چغتائی پبلشرز، میرٹھ، ۱۹۸۳ء، صفحہ۱۳۸)

ہندوستان آنے کے بعد دورِ مغلیہ میں ایرانی طرزِ خط کو مقبولیت حاصل رہی البتہ مطابع قائم ہونے کے بعد یہاں کے کاتبوں نے اس میں حسبِ ضرورت کچھ ترمیم کر لی۔ منشی دیبی پرشاد نے ’’ارژنگِ چین‘‘ لکھ کر اوّلین رہنما کتاب پیش کی۔ منشی شمس الدین اعجازؔرقم نے اپنے کمالات کا استعمال کرتے ہوئے ایرانی طرز میں کچھ ترامیم کر کے نئے اصول وضع کیے جسے لکھنوی طرز کہا گیا۔ آپ نے ان اصولوں کی رہنمائی کے لیے نظمِ پروین، مرقعِ نگارین اور اعجاز رقم جیسی کتب مرتب فرمائی۔ اسی کے مقابل دہلی اسکول میں بھی بیشتر تبدیل شدہ اصول اپنانے کی کوشش کی گئی مگر باوجود اختراعات کے باقاعدہ قواعد کی کوئی کتاب دستیاب نہیں ہے جو طلبہ کو اس خط کی تحصیل میں معاون ہو سکے۔ اس طرح فارسی کے بعد لکھنوی و دہلوی خطوط کا اجرا عمل میں آیا جنھیں نستعلیق کی دوسری نسل (جنریشن) کہا جا سکتا ہے۔

غیر منقسم ہندوستان میں لاہور کے منشی عبدالمجید پرویں رقم کی جدت انگیز طبیعت نے ایرانی طرز کو لے کر اس میں ایسی خوبصورت ترامیم کیں کہ۱۹۳۰ء کے آس پاس ’’طرزِ پروینی‘‘ کے سامنے دوسروں کا چراغ جلنا مشکل ہو گیا تھا۔ حتیٰ کہ شاعرِ مشرق علامہ اقبالؔ نے اپنے جملہ کلام کی کتابت خود اپنی نگرانی میں پرویں رقم سے کروائی۔ بعد میں اسی طرزِ پروینیؔ کو ’خطِ لاہوری‘ کہا گیا۔ نستعلیق کی یہ تیسری جنریشن ہے۔
علامہ اقبال طرزِ لاہوری کے ایسے والا و شیدا تھے کہ ان الفاظ میں خراج پیش کیا کہ ’’اگر منشی پرویں رقم خطاطی چھوڑ دیں گے تو میں بھی شاعری ترک کردوں گا۔‘‘

منشی عبدالمجید پرویں رقم کے شاگرد و جانشین تاج الدین زریّں رقم نے اس خط کو اتنا دیدہ زیب کر کے پیش کیا کہ اس کا شہرہ چہاردانگِ عالم میں ہوا۔ فیض مجدّد لاہوری انھیں دونوں اصحاب کے شاگردِرشید تھے اور جواں عمری میں ہی ممبئی آ بسے تھے۔ پھر پوری عمر یہیں بسرکی۔ تاج الدین زرّیں رقم کو پاکستان میں ’خطاط الملک‘ کا مرتبہ حاصل تھا اور یہاں فیض صاحب کو بھی بجا طور سے ’خطاط الہند‘ کا درجہ و مقام ملا ہوا تھا۔
اسی دور میںبعض اصحاب کے یہاں امتزاجی خطوط بھی مشاہدہ میں آتے ہیں جن میں راجستھان کے خلیق ٹونکی نے اپنے حسنِ خط سے ایک پورے دور کو متاثر رکھا اور خوب داد پائی۔ہر مکتب کے خطاطوں اور خوشنویسوں نے ان کی آبیاری و پرورش میں اپنا خونِ جگر صرف کیا ہے، اصول و قواعد مرتب کیے ہیں، انھیں تفصیل سے سمجھنے میں اردو زبان و ادب کے ارتقا کی تاریخ بھی مضمر ہے۔ کیونکہ اردو کی ترقی و مقبولیت کے لیے خوشنویس و کاتب حضرات کا اپنا کرداروکارکردگی بھی اہم ہے۔ جتنے باکمال خوشنویس تھے ان کی تحریروں کو پڑھنے سے دلچسپی رکھنے والے قارئین کی تعداد بھی ہزاروں سے لاکھوں تک پہنچ جاتی تھی۔

دورِ جدید کمپیوٹر کا دور ہے۔ اردو میں یہ کچھ چالیس برسوں پر محیط ہے۔ ان چالیس برسوں سے قبل اردو کے خوشنویس و قاعدہ دان کاتب حضرات رفتہ رفتہ کم سے کم ہوتے گئے۔جدید تکنیکوں کے ساتھ طباعتی مراحل کی تکمیل اور دیگر زبانوں سے مسابقت کا دور ایک سیلاب کی مانند آیا۔ کاتب حضرات اس کا سامنا نہیں کرسکتے تھے۔ پھر زمانے کے تقاضے اور چھپائی کی تکنیک میں تبدیلیوں کے تقاضے چکی کے دوپاٹ ثابت ہوئے جن کے بیچ قلم و دوات بے حد ناتوانی کے عالم میں پس گئے۔

اردو کے لیے وقت آن پڑا کہ وہ نستعلیق کے اپنے پیکر کو برقیاتی ترقیات کے حوالے کردے اور اپنی بقا کا سامان کرلے۔ اس ضرورت کے پیشِ نظر بیشتر کوششیں ہوئی۔ کئی نستعلیق فونٹ کتابت کے بعد اسکین کرکے Bitmapبنائے گئے یا انھیں True Type فارم میں تبدیل کیا گیا، کچھ بالراست ڈیزائننگ سافٹ ویئر کورل ڈرا (CorelDRAW) میں ڈیجیٹل کتابت کیے گئے۔ جدید کمپیوٹر تکنیک کا تقاضہ ہے کہ فونٹس کو ہر قسم کے پلیٹ فارم پر آسانی کے ساتھ چلایا جاسکے۔ اس لیے انھیں یونیکوڈ unicode زبان میں تیار کیا جائے۔ اس سلسلے میں پیش رفت کرتے ہوئے نوری نستعلیق اور فیض نستعلیق کو بھی یونیکوڈ میں تبدیل کردیا گیا جو اب نئے ورژن ’اِن پیج ۳‘ میں شامل ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر پبلشنگ اب مزید آسان اور جدید تکنیک کے مطابق ہوچکی ہے۔

ایجاد و اختراع کی منازل سے گذرتے ہوئے جدید تکنیک سے ہم آہنگی کے لیے یونیکوڈ میں کئی نستعلیق فونٹ لانچ کیے گئے ہیں لیکن طباعتی دنیا کے تقاضے صرف نوری نستعلیق اور فیض نستعلیق ہی پورے کرتے ہیں اور آج بیحد کامیاب ہیں۔ ان کا متبادل نہیں ہے۔ ان کی کامیابیوں نے اب قدیم کلاسک نستعلیق اسکولوں کے فونٹس کے ساتھ ہی جدید تقاضوں کو پورا کرنے والے ضروریاتی نستعلیق فونٹس کی ڈیزائن کے لیے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اردو اب اپنے منفرد چہرہ کے ساتھ برقیاتی ترقی کے ہر دور میں زندہ رہے گی اور فروغ بھی پائے گی۔

Ganga Jamni tehzeeb ki tashkeel me Sufia-karaam ka hissa

Articles

گنگا جمنی تہذیب کی تشکیل میں صوفیائے کرام کاحصہ

پروفیسر صاحب علی

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مذہبی اورروحانی عظمت کی حامل رہی ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے رشی منی اورصوفی سنتوں نے تصوف اوربھکتی کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کرداراداکیاہے ۔ہندودھرم کے رشی منی اورسنت نے عبادت وریاضت کے علاوہ نفس کشی میں سرگرم عمل رہے۔بدھ دھرم اورسکھ مذہب کی اشاعت اور تعلیمات بھی ہندوستان ہی سے شروع ہوئیں ۔ مسلمان صوفی اوربزرگان دین نے بھی اسی دیارِ ہند کو اپنی رشدوہدایت ، اخلاص ومحبت کی تعلیم وترویج کے لیے پسندکیا۔

مذہب ِ اسلام جنوبی ہندوستان میں پہلے پہل ملابار کے ساحلی علاقوں میں پھیلا۔ اِنھیں ابتدائی ایام میں خانہ بدوش زندگی گزارنے والے صوفیائے کرام نے رشدوہدایت کے ساتھ ساتھ صلح وآشتی ،محبت وبھائی چارگی کی تعلیم کی تبلیغ واشاعت شروع کی ۔ ہندوستان میں باہرسے تشریف لانے والے سب سے پہلے صوفی غالباً حضرت خواجہ غریب نواز سید معین الدین چشتی اجمیری ہیں جوراجا پرتھو ی راج کے عہد حکومت میں 592ہجری میں اجمیرتشریف لائے اورمحبت واخلاق کا سبق دینا شروع کیا ۔ آپ کی خانقاہ میں امیروغریب اورحکومت کے اراکین سبھی لوگ حاضری دیتے اورفیضیاب ہوتے ۔ آج بھی لاکھوں بندگانِ خدا بلاتفریق مذہب وملت آپ کے آستانے اجمیرشریف پرحاضر ہوتے ہیں اورخیروبرکت حاصل کرتے ہیں۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی تعلیمات کے حوالے سے وفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ

’’ وہ دہلی جس پر اہل دہلی کا تصرف تھا اور کفر والحاد کی ہوا میں پوری فضا بکھری ہوئی تھی ۔حضرت خواجہ کے چند روزہ قیام میںسات سو سے زیادہ ہندو ان کے فیض سے مشرف بہ اسلام ہوئے اور اجمیر میں جو پہلی جماعت ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئی ان میں راجہ کا پجاری اور گُرو بھی تھا‘‘
( پریچنگ آف اسلام اردو ترجمہ ص ۲۸۱)

حضرت خواجہ غریب نوازنے متعدد مریدوںکواجازت وخلافت سے نوازااوراپنا جانشیں حضرت قطب الدین بختیارکاکیؒ کو بنایااوردہلی میں رہنے کی تاکید فرمائی۔

ایک طرف دہلی میں حضرت قطب الدین بختیارکاکیؒ جو بے نیازی اور ضبط نفس کی ایک زندہ مثال تھے، اپنے صوفیانہ خیالات کو عوام میں پھیلارہے تھے تودوسری طرف آپ کے مرید وجانشیں حضرت بابافریدالدین گنج شکرؒ پنجاب میں رشدوہدایت اورتبلیغ اسلام کی اشاعت کررہے تھے ۔ کچھ ہی عرصے میں ہندوستان کے مختلف حصوں اورخطوںمیں حضرت کے مریدین وخلفا لوگوں میں خلوص ومحبت، باہمی اتحاد اوراطاعت خداوندی کی تبلیغ کرنے لگے ۔ حضرت بابا فریدؒ نے اپنا جانشیں اپنے چہیتے مرید وخلیفہ حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیاکو نامزد کیا اوردہلی کی ولایت آپ کو تفویض کی ۔ آپ کی خدمت میں اراکینِ سلطنت اوربادشاہ وقت خیروبرکت کے لیے حاضرہوتے تو آپ انھیں عدل وانصاف ، رعایاپروری اورغربانوازی کی تاکید فرماتے۔ آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے اپنے مریدین اورخلفا کوتبرکات سے نوازا اوران کو خاص خاص مقامات پر رشدوہدایت کرنے کا حکم صادرفرمایا۔حضرت برہان الدین غریبؒکو دکن کاعلاقہ عطافرمایا ۔ حضرت اخی سراج کو بنگال ، جن کے مرید وخلیفہ علاء الحق پنڈوی ؒ سے یوپی اوربہارکا خطہ فیضیاب ہوا۔ حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلی کو اپنا جانشیں بنایا۔ ان تمام صوفیائے کرام نے تصوف کی تعلیمات عام کرنے میں اہم رول اداکیا ۔ ان کی خانقاہیں آج بھی رشدوہدایت کا سرچشمہ بنی ہوئی ہیں۔صوفیا کی خانقاہوں کے تعلق سے پروفیسر نثاراحمد فاروقی نے لکھا ہے کہ :

’’چشتی صوفیانے اپنے خلفا کو دوردراز علاقوں میں بھیج کررشدوہدایت کافیضان عام کردیاتھا۔ آٹھویں صدی ہجری کے طلوع ہونے تک بنگال کے مشرقی علاقے میں جنوب میں دیوگری اورگلبرگہ ، شمال میں کشمیر اورجنوب مغرب میں گجرات کاٹھیاواڑ تک چشتی خانقاہیں قائم ہوچکی تھیں۔ … چشتی خانقاہوں میں جوگیوںکی آمدورفت تھی اوران سے روحانی تجربوں کے اصول ورسوم پر تبادلۂ خیال بھی ہوتاتھا۔‘‘
(اردواورمشترکہ ہندوستانی تہذیب : مرتبہ ڈاکٹرکامل قریشی،ص:216-17)

تاریخ شاہد ہے کہ محمد تغلق نے جب دیوگری کو اپنی سلطنت کادارالخلافہ بنایاتو جنوبی ہند میں صوفی سلسلے کو کافی تقویت ملی ۔ حضرت برہان الدین غریب ؒ نے دکن اورمہاراشٹرمیں تصوف کی تعلیمات اورپیغام حق کاکام انجام دیا۔ آپ دیوگری اورخلدآباد کے علاقے میں تقریباً 28برس تک رشد وہدایت کا کام انجام دیتے رہے ۔ اکابر صوفیا اور مشائخ میں مولانا زرداری ،امیرحسن سنجری ، سید یوسف والدخواجہ بندہ نواز گیسودراز ، خواجہ حسین اورخواجہ عمرشمال کی جانب سے دارالخلافہ دیوگری میں تشریف لائے ۔ ان صوفیائے کرام نے یہاں کی سماجی ، تہذیبی ادبی ، مذہبی اوراخلاقی زندگی کو متاثرکیا۔ تصوف کی تعلیمات کے ذریعے ربط ضبط بڑھاجس سے شمالی اورجنوبی ہند کی تہذیبی اورلسانی مشکلیں کسی حد تک دورہوگئیںلہٰذا مختلف تہذیبوں اورمذہبوں میں میل ملاپ ہوا۔ ایک دوسرے کو جاننے اورسمجھنے کی راستے ہموارہوئے چنانچہ لوگوں کے دلوںمیں بغض وتعصب اورنفرت کی جگہ رفتہ رفتہ بھائی چارگی نے لے لی۔اصل میں صوفیاے کرام نے اپنی روحانی طاقت ،اپنے کرداراور اپنی گفتار،اپنے ایثار اور اپنے خلوص و رواداری سے ایسی فضا خلق کی جو امن و آشتی، تزکیہ نفس اور اصلاح معاشرہ کی ضامن تھی۔

صوفیائے کرام کی خانقاہیں مختلف مذاہب اورمختلف زبان بولنے والوں کی آماجگاہ ہوتی تھیںاوراب بھی ہیں ۔ یہیں پر مختلف تہذیبوں اورزبانوں کا آپسی لین دین ہوا۔ ان کی خانقاہیں بنی نوع انسان کی ہم آہنگی کاذریعہ بنیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ ذات پات اوررنگ ونسل سے ہٹ کر تمام انسانوں کے لیے صوفیانے عزت ووقار چاہا۔چنانچہ ان کی عوامی ہمدردی ، خدمت خلق، روادارانہ اخلاق اورحُسنِ سلوک نے اُنھیں سماج میں ایک معتبر مقام دیا۔ صوفیائے کرام کی عملی زندگی غیرمسلموں کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ تھی ۔ اس لیے غیروں کا متاثرہونا لازمی تھا ۔ عملی زندگی میں صوفیوں اورسادھوسنتوں میں کافی مشابہت رہی ہے۔ ایک طرف پیرومرشد کارشتہ ہے تودوسری طرف گرو اورچیلے کا۔یہی وہ طور تھے جن کے تحت کبھی شنکراچاریہ اوررامانج نے بھکتی تحریک کے ذریعے منزل حقیقت تک پہنچنے کا راستہ بتایااورکبھی پریم مارگی سنتوں نے ذات پات کی تفریق کے خلاف بغاوت کانعرہ بلند کیا اورتمام انسانوںمیں محبت اوراخوت کی تبلیغ کوبنیادی مقصد قراردیا۔ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے صوفی سنت گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار ہیں۔

صوفیائے کرام نے تصوف کی تعلیمات کی نشرواشاعت پر زوردیا ۔ ان کے نزدیک فقروقناعت ، تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، نفسیاتی خواہشات سے پرہیز اورمعبودحقیقی کی عبادت وریاضت کو خاص اہمیت حاصل تھی ۔صوفیا تصوف کی تعلیمات کے تحت ملک کے عوام وخواص میں اتحادواتفاق اورجذباتی ہم آہنگی قائم کرنا چاہتے تھے اورسارے ملک کو انسانیت کے رشتے میں جوڑنا چاہتے تھے ۔ غالباً اسی لیے خانقاہوں پر قوالی کی محفلیں منعقد کی جانے لگیں ۔ مزاروں پر پھولوںکی چادریںچڑھائی جانے لگیں ۔ گاگراورصندل وغیرہ کی رسمیں اداکی جانے لگیں۔اس طرح وطن سے محبت کاجذبہ بھی ابھرا اوروطنیت کا شعوربھی جاگا۔

گنگا جمنی تہذیب کے حوالے سے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تصوف کی تعلیمات کے بعض پہلو بھکتی تحریک سے گہری مماثلت رکھتے تھے ۔ یعنی دونوں طرزفکر میں انسانی عظمت ومساوات ، احترامِ آدم ورواداری، ایک دوسرے سے محبت اورایسے عشق کاتصور پایاجاتاہے جس میں ہرطرح کے امتیازات مٹ جاتے ہیں ، خاص طورسے تصوف میں تو منافرت کے بجائے محبت ،وسیع المشربی ، عوام دوستی اورآزاد خیالی کو اس حد تک اہمیت دی جانے لگی کہ ہرمذہب کو محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کاذریعہ سمجھاگیا اوریہاں تک کہہ دیا گیا اگر خلوصِ دل سے خدا کی عبادت کی جائے تو وہ بت خانے میں بھی ہے اورکلیسا میں بھی ۔ اس طرح یہ با ت واضح ہوجاتی ہے کہ صوفیائے کرام ہرمذہب کی انفرادیت کے قائل بھی تھے اورایک دوسرے میں اتحاد واتفاق اورجذباتی ہم آہنگی بھی قائم ودائم دیکھنا چاہتے تھے ۔یہی اصل میں گنگا جمنی تہذیب ہے ۔اس تہذیب کی رواداری کے تمام عناصر ہمارے صوفی سنتوں کی عملی زندگی میںدیکھنے کو ملتے ہیں۔

حضرت بندہ نواز گیسودراز جید عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اسلامیات کے علاوہ ہندودھرم کامطالعہ بھی کیاتھا اورسنسکرت زبان سے بھی واقف تھے ۔ آپ نے دکن میں لوگوں کی سماجی ، مذہبی اورروحانی زندگی پر زبردست اثر چھوڑاہے ۔ آپ کی خانقاہ سے تمام لوگ آج بھی فیض حاصل کرتے ہیں ۔آپ کی رواداری اوروسیع القلبی کا یہ عالم تھا کہ آپ ایسے لوگوں کی سخت تنقید کرتے تھے جو ضدی اورکٹر مزاج ہوتے تھے اورجو مختلف مذاہب اورزبان کے میل جول میں مانع ہوتے ۔ رواداری کی ایک مثال سید محمد غوث گوالیاری کی بھی ہے ۔آپ ہندومسلم دونوں مذاہب کے ماہرتھے ۔ حضرت گوالیاری نے ہندوئوں کے تصوف کی ایک کتاب ’’امرت کنڈ‘‘ کافارسی میں ترجمہ کرکے مسلم صوفیوں کے سامنے پیش کیااس ترجمے کے ذریعے ہندو یوگی روایات بھی تصوف میں شامل ہوگئیں جو تصوف کے فروغ میں نہایت موثر ثابت ہوئیں۔ان کی خانقاہ میں ہندواورمسلمان دونوںکو ایک نظرسے دیکھاجاتاتھا ،کہاجاتاہے کہ مشہور موسیقارتان سین ،حضرت گوالیاری کے بڑے معتقد تھے ۔ اسی طرح اجمیرکے حمیدالدین شیخ نے اپنے ایک مریدکو صرف اس لیے اپنے حلقے سے خارج کردیا تھا کہ وہ مذہب کی ثانوی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتاتھا اورغیر مسلم کی اصل روح کے اندر جھانکنے سے قاصرتھا۔ مذکورہ گفتگوسے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم صوفیوں کے دیگر تمام مذاہب کے سادھوسنتوں ،رشی منیوں اورگروئوں سے تعلقات استوارتھے ۔ وہ آپس میں عبادت وریاضت اورروحانی معاملات میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال بھی کرتے تھے ۔ اصل میں ان میں باہم محبت بھی ہوتی تھی۔

عرض کیاجاچکاہے کہ مسلمانوں کی طرح ہندوئوں میں بھی اصلاحی اورروحانی تحریکیں شروع ہوئی تھیں۔شمالی ہند میں جے دیو، میرابائی ، رامانند ،کبیر مہاراشٹرااورگجرات میں گیانیشور، بنگال میں جیتنیہ اورکرناٹک میںلنکایت کی تعلیمات عوام الناس کے لیے تھیں۔بلاتفریق مذہب وملت ہرطبقے کے لوگوںکو ان تحریکوںمیں شریک ہونے کی دعوت عام تھی ۔ان تحریکوںمیںہندوئوںکے علاوہ مسلمانوںنے بھی شرکت کی۔ یہ خیال عام ہے کہ انھیں تحریکوں سے مسلمانوںمیں ہندی شاعری مقبول ہوئی۔چنانچہ مُلّا قطبن، ملک محمد جائسی ،عبدالرحیم خانخاناں،علاء الدین ،شیخ عثمان، شیخ نبی ،نورمحمد اورفاصل شاہ وغیرہ نے اپنی ہندی شاعری میں ہندوئوں اورمسلمانوںکو ایک دوسرے سے قریب لانے کی کوشش کیں۔ مختصریہ کہ ہندوئوں کی اصلاحی اورروحانی تحریکوںکافیضان ہرایک کے لیے عام تھاخواہ وہ کسی بھی مذہب اورپنتھ کاپیروکارہو۔

اس بات کواورواضح کرتاچلوں کہ صوفیائے کرام سماج اور گنگا جمنی تہذیب کی تشکیل میں کس طرح اپنارول اداکرتے رہے ؟ انھیں قوت کہاں سے ملتی رہی کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہوتے گئے ۔ قرآن اور حدیث سے اس کے اشارے ملتے ہیں کہ صوفیا کا مطمحِ نظر اللہ رب العزت سے محبت کرناتھا اوربس۔ خداسے محبت کرنے کاطریقہ خود خدانے بتایاہے کہ اس کے نبی کی اتباع کی جائے اوراتباع اُسی صورت میں ممکن ہے کہ نبی سے محبت کی جائے ۔ معلوم ہواکہ اللہ سے محبت کرنے کے لیے نبی سے محبت کرنا لازمی ہے ۔ یعنی بغیرعشقِ محمد خداپر ستی چہ معنی دارد ،اورجب آدمی اللہ اوراس کے رسول دونوں سے والہانہ محبت کرنے لگتاہے تو اس کے اورخدا کے درمیان فاصلے ختم ہوجاتے ہیں ۔ نگارخانۂ رحمت کے دَراُس کے لیے واہوجاتے ہیں ، اوربقول علامہ اقبال اُس کاہاتھ خداکاہاتھ ہوجاتاہے ۔اس منزل پر پہنچنے کے بعد صوفیائے کرام تہذیب اورمعاشرے کی تشکیل واصلاح کاکام اللہ کی اُسی دی ہوئی قوت سے لیتے تھے ۔ چنانچہ وہ جس طرف بھی نظرِکرم کرتے تھے قوم کی قوم معاشرے کامعاشرہ سنورجاتاتھا اورقوموںکے ذہن وشعورمیں انقلاب ِ عظیم برپا ہوجاتا تھا۔ اس حقیقت کااعتراف ہمارے علمائے دین نے کیاہے کہ صوفیائے کرام اوراولیائے عظام کی طاقت وتوانائی کاندازہ لگانا محال ہے۔تاہم مولوی عبدالحق اشارہ کرتے ہیںکہ:

’’…علماوامرابلکہ حکومتوں اوربادشاہوںسے بھی وہ کام نہیں ہوسکتاجوفقیراوردرویش کرگزرتے ہیں۔ بادشاہ کادربار خاص ہوتاہے اورفقیرکادربارعام ہے، جہاںبڑے چھوٹے، امیرغریب، عالم جاہل کاکوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ بادشاہ جان ومال کامالک ہے ۔ لیکن فقیر کاقبضہ دلوںپرہوتاہے اس لیے ان کااثرمحدودہوتاہے اوراِن کابے پایاں۔ اوریہی سبب ہے کہ درویش کو وہ قوت واقتدارحاصل ہوجاتاہے کہ بڑے بڑے جبّاراورباثروت بادشاہوں کو بھی اس کے سامنے سر جھکاناپڑتا ہے‘‘
(ابتدائی نشوونمامیں صوفیائے کرام کاحصہ،ص:7)

صوفیائے کرام نے اپنے حسن سلوک سے سماج میں پھیلی ہوئی تمام خرابیوں مثلاً بھید بھائو، اونچ نیچ اور چھوٹے بڑے کو دورکیا۔ ان کاسلوک سب کے ساتھ یکساں تھا خواہ وہ ہندوہویامسلمان ، آزادہویاغلام ، چھوٹاہویابڑا، شاہ ہویاگدا، غریب ہویامحروم سب کے لیے ان کا سلوک ہمدردانہ تھا۔ انھوں نے اپنی روحانی طاقت سے تمام لوگوںکے لیے خوش گوار سماجی ماحول پیداکیا۔ ایساماحول جہاں اتحادواتفاق اورجذباتی ہم آہنگی ہو۔ نظیراکبرآبادی کے الفاظ میں صوفیانے اس بات کی تبلیغ کی:

جھگڑانہ کرے مذہب وملت کاکوئی یاں
جس راہ میں جوآن پڑے خوش رہے ہرآں
زنّار گلے میں کہ بغل بیچ ہو قرآں
عاشق تو قلندرہے نہ ہندونہ مسلماں
کافرنہ کوئی صاحب اسلام رہے گا
آخر وہی اللہ کا اک نام رہے گا

مذکورہ بالا معروضات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں صوفیوں اور سنتوں کی تعلیمات جو ہر دور میں انسانی قدروں کی تشکیل اور تزکیۂ قلب و تطہیر کی ضامن رہی ہے جو ذات پات ،مذہب اور عقیدے کی قیود سے آزاد بھی تھیں ۔قرون وسطیٰ میں ہندوستان کی روحانی فضا میںہماری گنگا جمنی تہذیب نشوونما پائی۔ اس کے برعکس جب ہم موجودہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تہذیب سیاسی، سماجی ،معاشی اور اخلاقی ہر طور سے ذات پات، فرقہ وارانہ گروہ بندیوں میں جکڑی ہوئی ہے ۔اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان گونا گوں مسائل کو حل کرنے کے لیے ہندوستانی معاشرے کو صوفیا اور بھکتی سنتوں کی روحانی تعلیمات کی جتنی ضرورت آج درپیش ہے اتنی ضرورت شاید ماضی میں بھی نہیں رہی ہوگی۔

مختصر یہ کہ صوفیوں اورسنتوں کی تعلیمات کو مشعل راہ بنا کرہمیں اس پر عمل پیراہونا چاہیے تاکہ ایک پُر امن اور ہم آہنگ سماج کی تشکیل میںجو ناقابل مصالحت اختلافات در آرہے ہیں ان کا خاتمہ ہو۔ انسان دوستی ،اعتدال پسندی ،صلح وآشتی اورخلوص ومحبت کا استحکام اُسی وقت ممکن ہے جب ہم تصوف کے سیاق میں صوفیاے کرام کی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔مزید براں اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرارہتے ہوئے دوسروںکے مذاہب کااحترام بھی کریں کیونکہ تہذیبی ہم آہنگی کے فروغ میں مذہبی رواداری کا جذبہ ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ،یہ جذبہ اخوت، بھائی چارگی ، مساوات کے مقصد کی نشوونما کرسکتا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ایک اچھے سماج کی تشکیل اور دور حاضر کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی طور سے پسماندہ معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے ہمیں صوفیوں اور سنتوں کی تعلیمات کوعملی جامہ پہنانے کا عہد علامہ اقبال کے ان اشعارسے کرنا چاہیے:

آ ، غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھادیں
بچھڑوں کو پھر ملادیں نقشِ دُوئی مٹادیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ ، اِک نیا شوالہ اس دیس میں بنادیں
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے

Importance of Women’s Eduation in the lights of Hadith

Articles

Importance of Women’s Eduation in the lights of Hadith

Nilofar Abdul Khaliq

O my Lord! Expand for me my breast [with assurance] and ease for me my task and untie the knot from my tongue that they may understand my speech.

(Ta-Ha:25-28)

INTRODUCTION

At the very outset, I would like to express my warmest gratitude to the Department of Arabic for their initiative to hold this important two-day National Seminar on “Role of Hadith in the Development of Language, Literature & Culture” and feeling honoured to be invited to present paper on this important literary occasion.

Before discussing the significance of women’s education in Islam, it is important to understand what the condition of women was before the advent of Islam. In pre-Islamic Arabia, and in the rest of the world, their condition was equal to that of slaves and chattels with no rights. Women could neither own nor inherit property. In domestic affairs, they had no rights over their children or themselves; in fact, they could be sold or abandoned by their husbands at will. If they were abused by their husbands, they had no recourse to divorce. They had no real status in the society, not being respected as wife, mother or daughter. In fact, daughters were considered worthless and were often killed at birth. Women were given little or no education, and had no say in religious matters, being regarded as limited in spirituality and intellect.

These abusive conditions existed well into the 19th century in most parts of the world, even in the United States, where some basic rights were given to women only in the beginning of the 20th century. But in Arabia, in the 6th century, with the advent of Islam the condition of women changed dramatically. Almost overnight, women were endowed with equal rights and put on the same level with men.

Prophet Muhammad, peace be upon him , came at a time when the Arab society, like so many patriarchal societies at that time, was rife with abhorrent practices against girls. He preached Islam, liberating women and girls in every walk of life, education being a prime aspect. This article examines the facts about the importance of female education in Islam. It does so through referencing verses of the Quran, Islam’s holy book, and hadith, authentic traditions of the Prophet Muhammad, peace be upon him, along with offering a short glimpse of his wives’ level of education.

The Prophet of Islam, remained concerned all his life about the status and treatment of women, because at the time of the revelation of the message of Islam, women were buried alive, treated as chattels and at one point considered to be inhuman without a soul. In his last sermon, the Prophet clearly asked men to treat women with kindness because due to economic conditions, men were responsible for the well being of their women.

The Qur’an says in Chapter 2,Surah Al-Baqarah,Ayat no:228: “and they (women) have rights similar to those of men over them…treat them in a just manner.”

 

ROLE OF HADITH IN WOMEN’S EDUCATION

Since the beginning the Muslim Ummah has unanimously believed in Hadith as an established secondary source of the Islamic Law after Qur’an. Infact it has always been recognized only another kind of revelation i.e. it is called وحي غير متلو i.e. Revelation that is not recited.

 

Let us start with the first Quranic revelation:

 

Read in the name of your Lord who created, created man from a clinging form. Read! Your Lord is the Most Generous, who taught by means of the pen; taught man what he did not know. Chapter 96,Surah Al-Alaq,Ayat no:1-5.

These verses address humankind to seek knowledge and delve in critical thinking. The emphasis laid in the acquisition of knowledge, in the above verses, surpasses any statement or action denying girls’ the right to education. Had these verses only been for men, it would be inconceivable to imagine the extent of progression that the society made in a mere twenty-three years — the entire duration of the revelation of the Quran.

In another verse in the Quran, God says:

(This is) a Book (the Quran) which We have sent down to you, full of blessings that they may ponder over its Verses, and that men of understanding may remember. Chapter 38, Surah Sad,Ayat no:29.

It is important to mention that the word “men” in the above verse refers to humankind as it does so in several other places in the Quran when God addresses humanity. These and other verses inform the readers that engaging in critical thinking is a moral obligation on both men and women. The Quran repetitively reminds people to ponder, think, analyze, thus using their mind power to contemplate and understand, whilst making no distinction between men and women.

Let us now examine some hadith, authentic sayings of the Prophet Muhammad, peace be upon him.

“Seeking knowledge is mandatory for every Muslim.”

“He who has a slave-girl and teaches her good manners and improves her education and then manumits and marries her, will get a double reward; and any slave who observes God’s right and his master’s right will get a double reward.” (emphasis added)

“If anyone travels on a road in search of knowledge, Allah will cause him to travel on one of the roads of Paradise. The angels will lower their wings in their great pleasure with one who seeks knowledge, the inhabitants of the heavens and the Earth and the fish in the deep waters will ask forgiveness for the learned man. The superiority of the learned man over the devout is like that of the moon, on the night when it is full, over the rest of the stars. The learned are the heirs of the Prophets, and the Prophets leave neither dinar nor dirham, leaving only knowledge, and he who takes it takes an abundant portion.” (emphasis added)

Three important themes around education are emerging in the above traditions. From the first Hadith we infer that education is not a right but a responsibility on every Muslim, male or female. In the second Hadith, emphasis is laid on the quality of education imparted to the girl slave and the latter part deals with the encouragement to free slaves (Islam denounced and later abolished slavery). The third Hadith speaks volumes about the superiority of the person who seeks knowledge over the one who does not. The reference here to superiority is to the person who seeks knowledge, man or woman.

We shall now examine information about the intellectual abilities of two wives of Prophet Muhammad, peace be upon him: Khadijah and Aishah.

Khadijah Binte Khuwaylid, the first wife of Prophet Muhammad (pbuh), was a wealthy tradeswoman, the richest woman in Mecca at the time, who exported goods as far away as Syria. To manage her large business, she employed several males and to do so then in Arabia, necessitated that you have a high level of understanding and wisdom.

Aishah Binte Abu Bakr, the youngest wife of Prophet Muhammad (pbuh), was very talented and possessed an incredible memory. As a Muslim scholar, she is credited with narrating more than two thousand Hadith and was noted for teaching eminent scholars. She had a great love for learning and became known for her intelligence and sharp sense of judgment. Her life also substantiates that a woman can be a scholar, exert influence over men and women and provide them with inspiration and leadership. The example of Aishah in promoting education, particularly education of women in the laws and teachings of Islam, is a hallmark in female education in Islam. Because of the strength of her personality, she was a leader in every field of knowledge, in society and in politics. The human are superior to the animals because of the mind. We find many sayings of the Holy Prophet (P. B. U. H.) on this subject;

“Attain knowledge from the cradle to the grave.”

Knowledge is identified in Islam as worship. The acquiring of knowledge is worship, reading the Quran and pondering upon it is worship, travelling to gain knowledge is worship. The practice of knowledge is connected with ethics and morality with promoting virtue and combating problems, enjoying lights and forbidding wrong. The main purpose of acquiring knowledge is to bring us closer to ALLAH.

A Muslim is not a Muslim simply because he is born Muslim instead a Muslim is a Muslim because he is a follower of Islam and he follows the rules which are given by ALLAH and an educated person always done his work according to Quran and Hadith. Gaining knowledge is not simply for the gratification of the mind or senses. It is not knowledge for the sake of knowledge or science for the value of sake of knowledge accordingly must be linked with values and goals. It is important to note here that the concept of knowledge in Islam covers a broad spectrum of subjects. It is not only about the education of Islamic studies, it is about the every kind of study or knowledge.

One of the purposes of acquiring knowledge is to gain the good of this world, not to destroy it through wastage, arrogance and in the reckless pursuit of higher standards of material comfort.

Allah Almighty makes the path to paradise easier for him who walks for getting knowledge. (Sahih Muslim, 4:2074)

The purpose of the above discussion is just to tell you about the importance of knowledge according to Islam. Now I would like to tell you about the equality of education for men and women in Islam.

Equality of men and women in Islam and they are complementary in nature to one another. In one sense equality between men and women is possible and reasonable because they are both human with similar souls, brains, hearts, lung, limbs etc but in another sense equality between men and women is impossible and an absurdity due to their natural differences in physical, mental, emotional and psychological qualities and abilities.

The Quran says,

O Men! Fear your Lord Who created you from a single being and out of it created its mate; and out of the two spread many men and women. (Sura An-Nisa, Sura # 4, Aya # 1)

This verse clearly expounds that men or women created from a single entity and are basically equal genders. As a gender one is not superior to the other and according to usage, women too have rights over men similar to the rights of men over women. That rights enjoyed by men are the duties of the women and the duties of men are the rights of women. This implies a similitude between both the genders. There is no light conferred on man that women may be deprived of because she is a woman. Islam entitles women to the same rights and men in terms of education. The Prophet of ALLAH (P. B. U. H.) said as reported and authenticated by the scholars; seeking knowledge is compulsory for each and every Muslim (i.e. both male and female).

Muslim scholars are collectively agreed that the word Muslim when used in revealed scriptures include both male and female as we indicated in parenthesis. Thus, Islam entitles women to the same right of education in order to understand the religious and social obligations and obligated them both to raise their children with the right Islamic guidance. Off course women have certain obligations in bringing up their children that are commensurate to their abilities.

The Quran says,

Their Lord answered the Prayer thus: “I will not suffer the work of any of you, whether male or female, to go to waste; each of you is from the other. Those who emigrated and were driven out from their homesteads and were persecuted in My cause, and who fought and were slain, indeed I shall wipe out their evil deeds from them and shall certainly admit them to the gardens beneath which rivers flow.” This is their reward with their Lord; and with Allah lies the best reward. (Surah Aal-i-Imran, Sura # 3, Aya # 195)

The religion of Islam gave women an honourable status and true dignity. Acquiring knowledge will enable Muslim men and women to get a better perception and understanding of the world around them and make them more conscious of Almighty ALLAH.

Islam regards women as spiritually and intellectually equal to men. Both have equal rights to receive an education and enter into gainful employment.

To prevent women from getting an education is contrary to the teaching of Islam. Equality can be attained by giving proper education and through awareness and by setting up rules and regulations to make sure that rights of the people are respected in Islam.

Sura Az-Zumar (39), Aya # 9 in Quran reveals,

“Are those who know equal to those who do not know?” Only those endowed with understanding take heed.”

Sura Al-Baqara (2), Aya # 269 in Quran reveals,

“He bestows wisdom upon anyone He wills, and he who is given wisdom is in fact given great wealth, but only those who have common sense learn lessons from these things.”

The study of the life of Holy Prophet (P. B. U. H.) also shows that he himself made special arrangements for the education and training of women.

Abu sa’id Al-Khudri reports that some women said to Holy Prophet (pbuh), men have gone ahead of us (in terms of acquiring of knowledge) therefore appointed a special day for our benefits as well. The Holy Prophet (pbuh) fixed one day for them. He (pbuh) would meet them on that day, advise them and educate them about commandments of Allah Almighty. (Sahih Bukhari, 1:50.)

None of these verses specify that only wise men receive admonition or that only male servants who have knowledge fear Him. ‘A’isha al-Siddiqa, mother of the faithful, was a hadith-narrator, scholar, intellectual and jurist of great standing. She is believed to have reported 2,210 traditions. She was also women and has too much knowledge so every woman should gain knowledge.

Holy Prophet Muhammad (Peace Be upon Him) reiterated ;

“If a daughter is born to a person and he brings her up, gives her a good education and trains her in the arts of life, I shall myself stand between him and hell-fire.”

(Kanz al-Ummal, reported by Abdullah ibn Mas’ud).

Another Hadith states that, “The Father, if he educates his daughter well, will enter Paradise”.

Yet another Hadith states that, “A mother is a school. If she is educated, then a whole people are educated”.

Another misnomer is the view that suggests women are only allowed to gain knowledge from female teachers and that instructions from men are prohibited due to the demands of pardah. Although an ideal environment would dictate women teaching women, we do not live in the world where this is always possible. Since Islam is a religion for all nation and all times, it is based on practical reality. There is no stipulation that only women can teach other women or a bar regarding male teachers for women if the rules of dress are properly observed then men can teach female students under shari’a. This is also apparent from the above mentioned Hadith, when the Holy Prophet (P. B. U. H.) himself made arrangements for the education and training of women where one day was specified for women in the Prophet’s mosque.

CONCLUSION:

The conclusion is that women should be educated equally to men and it is already shown by Quran and Hadith. So women should gain knowledge for the betterment of their families and for their children. As the river has two banks, which are parallel to each other and always remain together and existence of both are very important and necessary. If any bank of river destroy than river cannot flow in proper way and spread. Like this men and women are both important and have collective importance to run their lives and also have importance to run a family in a better way. If one of them is not educated they could not understand the ups and downs of life and cannot run his/her family in better way. So there should be equality in men and women in terms of knowledge and education.

REFERENCES:

The Holy Qur’an

www.whyislam.org/The importance of Girl’s Education in Islam

www.saypeople.com / The Equality of Education for Men & Women in Islam by Qurrat-ul-Ain Shaukat

Khwaja Sugh Parast

Articles

خواجہ سگ پرست

اسد محمد خاں

میں نے یوپی کا شہر گورکھپور نہیں دیکھا، ضرورت بھی نہیں پڑی۔ فراق گورکھپوری صاحب، مجنوں گورکھپوری صاحب اور پھر شمشاد نبی ساقی فاروقی سے مل لیا، ان صاحبان کا لکھا ہوا پڑھتا رہتا ہوں….یوں سمجھئے شہر گورکھپور میں جتنا کچھ دیکھنے اور جاننے لائق ہوگا، حسین اور دل آویز ہوگا، تقریباً سبھی دیکھ لیا۔ شہروں میں اور ہوتا بھی کیا ہے؟

جی ہاں! ساقی گورکھپور میں پیدا ہوا تھا۔ ڈھاکے میں اس نے ابتدائی تعلیم حاصل کی، کراچی یونیورسٹی سے بی اے کیا۔ ایم اے انگریزی میں پڑھ رہا تھا تو لندن روانہ ہوگیا اور لندن یونیورسٹی میں انگریزی ادب میں داخلے کی کوششیں کرنے لگا۔ یونیورسٹی والوں نے کہا، ”یہاں تمھیں بی اے دوبارہ کرنا پڑے گا۔“

ساقی نے کہا ”کرلوں گا۔“

وہ بولے۔ ”ٹھیک ہے مگر انگریزی کے ساتھ یونانی اور لاطینی دونوں زبانیں پڑھنا ہوں گی تب کہیں جاکر بیچلر آف آرٹس کی سند ملے گی۔“

ساقی نے کہا ”یہ کیا سفلہ پن ہے؟یونانی تو میں پڑھ لوں گا، ارسطو صاحب کی زبان ہے…. اور سکندرِ اعظم کی بھی مگر لاطینی سے مجھے اصولی اختلاف ہے۔“

انھوں نے پوچھا ”لاطینی سے کیا اختلاف ہے؟“

ساقی نے کہا ”ہے بس کچھ۔ آپ کو کیا بتاو ¿ں؟“

انھوں نے کہا ”پھر بھی، کچھ تو کہےے؟“

ساقی بولا ”چلےے یہی سمجھ لیجےے کہ امپیریل روما میںا نسانوں کو غلام بنانے کا رواج تھا اور وہ اپنے غلاموں کو شہری رتبہ نہیںد یتے تھے تو اس بات پر میں بہت خفا ہوں، سمجھے آپ؟ میں لاطینی نہیں پڑھوں گا۔“

لندن یونیورسٹی والوں نے کہا ”پھر تو ہم آپ کو داخلہ نہیں دیں گے۔“

ساقی نے کہا ”داخلہ لے بھی کون رہا ہے؟ میں اپنے اصولوں پر سودے بازی نہیں کرسکتا۔ “ اور بات وہی ختم ہوگئی۔ چنانچہ ساقی فاروقی نے آگے جو کچھ پڑھا وہ اداروں وغیرہ کی دھونس دھڑی سے باہر رہ کر ہی پڑھا۔

ساقی فاروقی نے عمرِ عزیز کا بڑا حصہ گورکھپور، ڈھاکے، کراچی اور لندن میں گزارا ہے۔ وہ آسٹریا کے شہر وی آنا جاکے کئی کئی دن رہ پڑتا ہے کیونکہ وی آنا میں اس کا سسرال ہے اور اس کے سسر ہیں جو ہٹلر کے زمانے میں نازی تحریک میں شامل تھے۔

میں نے ساقی کو کراچی اور لندن میں اس کے دونوں گھروں میں دیکھا ہے۔ کراچی والے گھر میں دوسرے اہلِ خانہ کے برخلاف وہ ایسے رہتا تھا جیسے لوگ ہوٹلوں میں رہتے ہیں۔ کتابیں تک ”تھپّیاں“ بنا کر رکھتا تھا، گویا ادھر کوچ کا حکم ملا، ادھر بقچوں میں بھر کے روانہ ہوجائے گا۔ اس کے برعکس اپنے لندن والے گھر میں ساقی ٹھیک ٹھاک جم کے اور اپنی جڑیںوڑیں پھیلا کے بیٹھا ہے۔ اس حد تک کہ اس نے اپنے مرحوم کچھوے اور آنجہانی کتے ”کامریڈ“ کے مرقد بھی گھر کے عقبی لان میں بنا رکھے ہیں جس کی زیارت وہ ہر آتے جاتے کو کراتا ہے۔

میں اور برادرم جمال احسانی نے ”کامریڈ“ کتے کو زندہ حالت میں دیکھا ہے مگر جمال اس کی رحلت سے پہلے لندن چھوڑ چکے تھے وہ مدفنِ کامریڈ نہ دیکھ سکے، جبکہ اس خاکسار کو ”کامریڈ“ کی قبر پر ”احتیاطاً“ دو منٹ خاموش کھڑے رہنا پڑا۔

میں ہر گز ایسا نہ کرتا مگر ساقی نے بھونکنا شروع کردیا تھا، مجبوری تھی۔

ساقی فاروقی کے گورکھپور اور ڈھاکے کے زمانہ ¿ جاہلیت (یا طفولیت) کے بارے میں مجھے کچھ زیادہ نہیں معلوم…. اس وقت میں وہاں نہیں تھا۔

گورکھپور کے پس منظر کے بارے میںا تنا جانتا ہوں کہ ساقی کے داداخان بہادر خیرات نبی ریٹائرڈ ایس پی تھے اور بڑے دبنگ آدمی تھے۔ وہ سرسیّد کے پسندیدہ لباس یعنی تھری پیس سوٹ اور نکٹائی میں رہتے تھے اور کیونکہ خاصے وجیہہ بزرگ تھے، اس لےے تصویر میں بہت شاندار لگتے تھے۔ خان بہادر صاحب کی یہ تصویر کراچی میں ساقی کے دست گیر سوسائٹی والے ایک سو بیس گز کے کرائے کے مکان کے بڑے کمرے میں لگی رہتی تھی۔

مجھے یاد ہے، ہم لوگ پہلی بار ساقی کے گھر گئے(یہ سن اٹھاون کا قصہ ہے) تو یاس یگانہ چنگیزی کی کسی غزل کی تلاش میںوہ ہمیں لےے ہوئے اپنے ابا کے بڑے کمرے میں گھس گیا،وہاں پہلی اور آخری بار ہم نے یہ تصویر دیکھی ۔ اس کے ابا گھر پر نہیں تھے اس لےے ساقی کو یقین تھا کہ یگانہ کی غزل کی بازیابی میںو ہ کامیاب ہوجائے گا۔

دراصل ساقی کے ابا (مرحوم) ڈاکٹر التفات نبی صاحب کو یگانہ اس قدر پسند تھا کہ وہ ساقی کے ذخیرہ ¿ کتب اور اس کے کاغذوں کے پلندوں سے ہر وہ رسالہ یا کاغذ کا پرزہ تلاش کر منگواتے تھے جس پر یاس یگانہ کا ایک بھی شعر لکھا ہو۔ خود وہ بہت مصروف آدمی تھے اس لےے غزلوں وغیرہ کی نقلیں تیار کرنے کا وقت کہاں سے لاتے۔ ساقی کو تاکید کردیتے تھے کہ بھئی غزل ابھی میرے پاس ہی رہنے دینا، پڑھ لوں گا تو لوٹا دوں گا۔ یہ وہ زمانہ تھا کہ یاس یگانہ کی شاعری کو کراچی کے نواجوان باقاعدہ دریافت کررہے تھے۔ یگانہ کاایک نیا شعر بلکہ مصرع بھی نوجوانوں کے حلقوں میں خبر کا درجہ رکھتا تھا۔ خود یگانہ صاحب بہ قید حیات تھے۔ کراچی میں علامہ رشید ترابی صاحب قبلہ کی علمی مجلسوں میں یگانہ کا طوطی بولتا تھا یعنی بزرگوں اور نوجوانوں میں یہ دور یگانہ کی مقبولیت کا سنہری دور تھا۔

تو یگانہ کی غزل کی طفیل ہم نے خان بہادر خیرات نبی کی یہ شاندار رنگین تصویر دیکھ لی۔

میرے لڑکپن کی یادوں میں روغنی تصاویر کو ایک خاص اہمیت حاصل رہی ہے کہ خود میرے والد پورٹریٹ پینٹ کیا کرتے تھے۔ ساقی کے جد بزرگوار کی تصویر میں کوئی ایسی بات ضرور تھی جسے دیکھ کر میں نے کہا، ”واو ¿! یار یہ کون شان دار بزرگ ہیں؟“

”کون؟ کہاں؟“ ساقی نے اپنی مصروفیت کی بیزاری میں پوچھا ”اچھا یہ؟ یہ میرے دادا ہیں مسٹر خیرات نبی۔“

میں ابھی تک تصویر کے سحر میں تھا، میں نے پوچھا”یہ اپنے کوٹ کے سینے پر سرسیّد جیسا تمغہ کیا لگائے ہوئے ہیں؟“

”کہاں؟“ کہہ کر ساقی تصویر کی طرف مڑا۔”اچھا، یہ؟ ہنہ!“

میں کچھ نہ سمجھا، میں نے کہا، ”اچھا، یہ اور ہنہ! سے تمھاری کیا مراد ہے؟ یہ کیا کوئی تمغہ نہیں لگائے ہوئے؟“

”ارے ہاں بھئی، انھیں….خان بہادر کا خطاب ملا تھا۔ ہنہ!“ ساقی نے اپنے ابا کی دراز کھول کر پھر کاغذ الٹنا پلٹنا شروع کردےے۔

مجھے اس کا یہ ہنہ، ہنہ والا رویہ برا لگا۔ کندھا تھپتھپا کر میں نے کہا ”ادھر دیکھو، بات سنو! یہ کوئی شرمندہ ہونے کی بات تو نہیں ہے۔ بہت سے پوتے اس بات پر فخر کریں گے کہ ان کے دادا کو خان بہادر کا خطاب ملا تھا۔ یہ تم نے کیا بکواس لگا رکھی ہے؟“

ساقی نے تصویر کی طرف انگلی اٹھاکر کہا ”میں ان سے ناخوش ہوں…. انھوں نے انگریز کا خطاب کیوں قبول کیا؟“

قاضی محفوظ نے ساقی کو ٹوکا ”بھئی علامہ اقبال کو بھی تو سرکا خطاب ملا تھا؟“

”کیا سمجھتے ہو، علامہ سے مجھے کوئی کم شکایت ہے؟ وہ تو ان کی شاعری کی وجہ سے درگذر کرتا رہا ہوں۔ یوں ہے میرے خان بہادر دادا اگر اقبال جیسا ایک بھی شعر کہہ دیتے تو ان کی خان بہادری کو میں معاف کرسکتا تھا، مگر وہ شعر ہی نہیں کہتے تھے۔“ اس نے مڑ کر تصویر سے کہا ”سوری سر! مجبوری ہے۔“ پھر چہک کر بولا ”اوہ! یہ رہی غزل۔“

ساقی کو بالآخر دراز میں یگانہ والی غزل مل گئی تھی۔ ہم اس کے ابا کے کمرے اور داداکی تصویر سے باہر آگئے۔

دست گیر کالونی، فیڈرل بی ایریا کے اس گھر کا نمبر شمار ۰۰۱ تھا جس میںساقی نے اپنی تخلیق کاری، اپنی ذلت اور سرشاری اور عروج کا طویل زمانہ گزارا۔ سو نمبر کے اس مکان میںساقی کے دوستوں کو بے وقت چائے پلانے، کھانا کھلانے اور باہر کمرے کی مسہری ہٹوا کر فرش پر گدے بچھوانے یعنی ہم خانہ بدوش شاعروں کو بسیرے کی اجازت دینے والی اس کی امی موجود تھیں۔ خدا ان کے درجات بلند کرے، وہ ایک نوع کی ”فلاحی مملکت“ تھیں۔ انھی کے بھروسے پر ہم میںسے کوئی بھی ساقی کے گھر کسی بھی وقت چلاجاتا اور فلاح پاتا تھا۔

فیڈرل بی ایریا ابھی پوری طرح آباد نہیں ہوا تھا۔ خدا معلوم دس بجے کہ گیارہ بجے یہاں بسیں بند ہوجاتی تھیں۔ ساقی فاروقی کا میزبانی والا ضمیر ہرگز کسی بھروسے کے قابل نہیں تھا۔ ہم ڈرتے ہی رہتے تھے کہ کہیں بارہ بجے رات کو یہ شخص اپنی نظمیں سنانے کے بعد ہمیں خدا حافظ کہتا ہوا دروازے تک نہ پہنچادے۔ لینے کے دینے پڑ جائیں گے۔ میلوں پیدل چلنا ہوگا۔ ہوسکتا ہے پولیس دھرلے، اگرچہ ایسا کبھی ہوا تو نہیں پھر بھی ایک خوف سا دل کو لگا رہتا تھا کیو نکہ بعض لوگوں نے خبر دی تھی کہ ساقی کی آنکھ میں کسی چوپائے کا بال ہے۔ (یہ خبر بعد کو جھوٹ نکلی) تاہم، کسی واقف حال نے یہ خوش خبری بھی دی کہ ساقی کے گھر پہنچ کر ایسا کیا کرو کہ بلند آواز سے امی کو سلام کرلیا کرو، یہ ضروری ہے۔ بس کسی طرح اس کی امی کو معلوم ہوجائے کہ ”بچے“ آئے ہوئے ہیں پھر وہ خود ہی سنبھال لیں گی۔ ماں تو پھر ماں ہوتی ہے۔

ساقی کتنا پرفن، پرفریب آدمی ہے، اس کا اندازہ ہمیں پہلی ملاقات پر ہی ہوگیا تھا یا یوں کہےے کہ پہلی ملاقات پر اندازہ نہ ہوسکا تھا، دوسری بار پہنچے تو معلوم ہوا کہ پہلی بار جو ….

مگر نہیں۔ یہ واقعہ مجھے ابتدا ہی سے سنانا پڑے گا۔

ہم دونوں کو پہلی بار کہاں، کس نے ملوایا، اب یاد نہیں۔ ہاں اتنا یاد ہے کہ صبح کے نو بجے سے رات کے آٹھ بجے تک ہم لوگ مختلف گھروں پر چائے، کھانے، سگریٹیں کھاتے پیتے رہے اور باتیں کرتے رہے۔ بہت سا پیدل چلے، بسوں میں بیٹھے اور آٹھ بجے کسی نہ کسی طرح دست گیر کالونی، ساقی کے ساتھ اس کے گھر پہنچ گئے۔ گھر پر اس نے ہمیں کھانا کھلایا، چائے پلائی اور کہنے لگا، ”اب میں تم کو ایسی جگہ لے جاکر بٹھاو ¿ں گا کہ جس کی دل آویزی اور طراوت اور حسن کتابوں میں درج کیا ہوا تو شاید مل جائے، تم میں سے کسی کے ذاتی تجربے میں خدا کی قسم ایسی دل آویزی، طراوت اور حسن ہر گز نہ ہوگا۔ آو ¿ سب کے سب میرے پیچھے چلے آو ¿۔“

اگست کا مہینہ اور اماوس کی راتیں تھیں یعنی جب چاند بالکل نہیں نکلتا۔ اس وقت تک دست گیر کالونی میں اسٹریٹ لائٹس بھی نہیں لگی تھیں۔ ہم مکانوں کی قطار سے نکلے تو سامنے کھلا میدان تھا۔ گھپ اندھیرے میں ہماری رہنمائی کرتا ساقی فاروقی ہمیں سیمنٹ کی بنچوں تک لے گیا۔ کہنے لگا، ”بیٹھو اور گہرے گہرے سانس لو۔ یہ پُروائی ہے یا شاید اترپون ہے۔ ہاں ٹھیک تو ہے، اپنے سندھ میں بادِ شمال ہی بادِ بہارہوتی ہے یعنی ”اترادھی“ ….بہرحال جو بھی ہو۔ یہ سامنے حدِ نظر تک….یا اس وقت نظر نہیں آرہا تو اگلے چار فرلانگ تک….ایک لش گرین سبزہ زار کھلا ہوا ہے یعنی دست گیر پارک۔ ذرا سونگھوں اس ہوا میں نئی دوب کی خوشبو ہے، نمو کا سرسبز وعدہ….ہے نا؟ تو یہ وہ جگہ ہے یارو! جہاں بیٹھ کر میں نے اپنی بیش تر شاعری سوچی ہے۔“ پھر اس نے کنار آب رکنا باد وگلگشت مصلیٰ والا مصرع پڑھا اور گہری گہری سانسیں لے کر بولا”اس تازگی اور سناٹے کو اور اس سبز خوشبو کو اپنے وجود میں اتر جانے دو۔ خوب اترجانے دو۔ سالو! ایسا مست ہرا سناٹا شہر میں اورکہیں نہیں ملے گا۔

ہاآ آہ!ہا!“

ہم میں سے ہر ایک نے خوب پانی دےے ہوئے سر سبز و تروتازہ لان کو اندھیرے میں دریافت کیا اور لطف اندوز ہوئے پھر وہاں گھنٹے سوا گھنٹے بیٹھ کر آخری بس سے ہم اپنے اپنے گھروں کو چل دےے۔

ساقی کے قابلِ رشک، آئیڈیل سبزہ زار کی یاد تین چار دن تک ہمیں گھیرے رہی۔

اینٹی کلائی میکس یا رجعتِ قہقری اس وقت ہوئی جب ہم تین دوست ساقی سے ملنے کے لیے اس کے گھر جا پہنچے۔ بینچوں پر بیٹھنے کے ارادے سے مکانوں کی قطار سے نکلے تو سامنے حدِ نگاہ یا کم سے کم دو فرلانگ تک کچا دھول بھرا میدان تھا۔ بے گیاہ ننگی زمین پر کنکر بکھرے پڑے تھے اور چھوٹے چھوٹے بگولے دھول اور تنکوں کے بھنور سے بناتے تھے۔

ہم نے بھنا کر ساقی کی طرف دیکھا۔ وہ بولا، ”اوہو! تم سبزہ زار کو پوچھتے ہو؟“ پھر دانش مندی سے کہنے لگا، ”وہ تو رات میں بچھایا جاتا ہے۔ صبح ہوتے ہی میونسپل کارندے لپیٹ کر لے جاتے ہیں…. ہیں ہیں ہیں….کیسی رہی استاد؟“

ہمارے اس دور کے ساتھیوں میں قاضی محفوظ کو پیارے ”علامہ الدہر“ یا ”مولانا ابوالکلام“ کہا جاتا تھا۔قاضی محفوظ کا کمال یہ تھا کہ وہ ایک چھوٹے سے مشاہدے یا خبر کو علمی جبہ ود ستار پہنا کر علمی مجاہدہ کو مجادلہ بنادیتے تھے یعنی یہ کہ اگر بادل چھائے ہوئے ہیں اور پھہار پڑسکتی ہے تو قاضی میم اپنے بالوں پر ہاتھ پھیر کر، منڈی گھماکر اطلاع دیں گے کہ ”مطلع ابر آلود ہے، چنانچہ ترشح کا ہونا ناگزیر و لابدی ہے۔“ جو بات مشکل زبان میں کہی جاسکتی ہو وہ اسے آسان زبان میں نہیں کہہ سکتے تھے۔ بہت سے جملوں کے ساتھ وہ ”علیٰ ہذا القیاس“ کا لاحقہ بھی لگاتے تھے چاہے کچھ ہوجائے۔ کہتے تھے اور شاید اب بھی کہتے ہوںکہ ”علیٰ ہذا القیاس“ کہہ دینے سے ”مشاہدے کی تشہید میں وقوف حاصل ہوجاتا ہے….“ یا خدا جانے کیا ہوتا ہے۔

تو ایسی علمی مقطع چقطع صورتِ حال میں اپنے قاضی محفوظ سن چون سے سن اٹھاون تک ہم دوستوں کو اسد صاحب، احسان صاحب کہہ کہہ کر مخاطب کرتے رہے۔ ہم لوگ بھی جواباً انھیں ”محفوظ صاحب“ کہا کرتے تھے اور کیا؟ جیسے کو تیسا۔

”سبزہ زار“ والے واقعے کے تیسرے روز کہ ساقی کے ساتھ ساتھ ہمارے مراسم بالکل نئی ”سطح مرتفع“ مرتب کرہے تھے۔ معاف کیجےے….”ترتیب پذیر ہونے کی جانب مرفوع تھے۔“ اور ہم قاضی محفوظ کے گھر میں بیٹھے رَوے کا حلوہ کھارہے تھے کہ اچانک ساقی نے چہرہ سرخ کرکے ڈپٹ کر کہا، ”اسٹاپ!“

حلوے کا ہنگام تھا، کچھ لوگوںنے ہاتھ کھینچ لیا، رک گئے، بعض نے پروا بھی نہ کی تو ساقی نے خود کو اور مشتعل کیا اور بولا، ”سنو! لاریب کہ اندر صحن تک میری آواز پہنچ سکتی ہے اور صحن میں امی (قاضی محفوظ کی امی) ہوں گی اور منیا ہوگی، اس لےے بہتر یہ ہے کہ ہم سب گلیارے میں چلیں۔“

ہم سمجھ گئے کہ وہ سب کو گلیارے میںکیوں لے جانا چاہتا ہے۔

کوئی ایسی بات ہوگئی تھی جس پر ساقی فاروقی کو گالی گلوچ کی ضرورت محسوس ہورہی تھی۔

ہم میں سے بعض نیم دلی سے اٹھ کر گلی میں آگئے بعض نے روے کے حلوے سے ہاتھ کھینچنا پسند نہ کیا۔ کمرے میں ہی بیٹھے رہے۔ خیر ساقی نے گلی میں نکل آنے والوں کے سامنے ایک مختصر سی تقریر کی، کہنے لگا:

”نیک بختو!….“ ( ان سطور میں نیک بختو، بد نصیبو، طوطیان شیریں مقال وغیرہ کو ناشر کی معذوری سمجھنا چاہےے۔ ساقی نے جو اسمائے تخاطب استعمال کےے وہ فی الحال ضبط تحریر میں نہیں لائے جاسکتے) تو کہنے لگا، ”نیک بختو! تم ایک قعرِ مذلت میں پڑے ہوئے تھے۔ میں آیا، میں نے دیکھا، اور سالو میں نے تمھاری اصلاح کا ارادہ کیا….“

اب وہ یونانیوں کے خطیبانہ اسلوب میں ایک ایک سے سوال کرنے لگا”….اور مجھے اس کے بدلے میں ملاکیا؟“

کسی نے رواروی میں کہہ دیا، ”حلوہ….حلوہ ملا سالے تجھے!“ تو ساقی ذاتی طور پر اشتعال میں آگیا۔ خیر، ہاتھا پائی تو وہ کرتا نہیں۔ کچھ دیر بعد ”نارمل“ ہوا توکہنے لگا۔

”بدنصیبو! میں یہ دیکھ رہا ہوں کہ تم آج تک اجہل الجاہلین حلال زادوں کی طرح ایک دوسرے کو اسد صاحب، محفوظ صاحب، ارشاد صاحب، کہہ کر پکارتے ہو۔ ارے پانچ پانچ چھ چھ برس کی دوستیاں ہیں اور اب تک ….ہیہات! اب تک یہ حرام زدگی چل رہی ہے؟ تف ہے!“

کسی نے بات ختم کرنے کو کہا، ”یا ہادی! ہم نام نہ لیں تو ایک دوسرے کو اور کس طرح پکاریں؟ تم ہی بتاو ¿ نمبر شمار مقررکرلیں اور نمبروں سے بلائیں ایک دوسرے کو؟ ایک؟ “

ساقی نے سر پیٹ لیا، بولا ”کندہ ¿ ناتراش، سالے، طوطیِ شیریں مقال! ارے نمبروں سے کیوں پکارو؟ میرے بچوں نام تم لوگوں کے بہت خوبصورت ہیں۔ بہ خدا مجھے ناموں سے کوئی کد نہیں مگر یہ جو ”صاحب“ لگاتے ہو آخر میں، یہ کیا ہوگیا ہے تم کو؟ بدنصیبو! ارے دوستو کے درمیان آپ جناب کا حجابِ ذلیل کہاں ہوتا ہے؟ سالو! دوست تو ایک دوسرے کے محرم ہوتے ہیں اور وہ کیا کہتے ہیں بے حجاب اور بے محابہ۔ ابے کچھ خبر بھی ہے؟اپنے جوش صاحب تو پرنس معظم یا مکرم جاہ کے حوض میں اپنے دوستوں کی معیت میں حالتِ بے ستری میں بے خطر کود پڑتے تھے اور ایک تم ہو سالو! ننگ ِ اسلاف، کہ ایک دوسرے کو ”صاحب“ کا غلاف اڑھاتے ہو۔۔ صد ہزار افسوس!“

ساقی آب دیدہ ہوچلا تھا اور گلی میں کھڑا غصے سے کانپ رہا تھا اس لےے ہم نے اس کے دل پر ہاتھ رکھا اور وعدہ کیا کہ اب ایک دوسرے کو ”صاحب“ پکار پکار کے ذلیل و رسوا نہیں کریں گے۔ چنانچہ وہ دن ہے اورآج کا دن…. اور اس کا کریڈٹ ساقی ”صاحب“ کو جاتا ہے۔

اب جبکہ وہ اس مختصر گروہ کا ”والدین“ بن بیٹھا تھا تو ہمیں مزید مطیع و مرعوب کرنے کے ارادے سے اس نے فیصلہ کرلیا کہ ہم سب کو رائٹرز گلڈ کے اس اہم اجلاس میں شرکت کرنی چاہےے جس میں مصور فیضی رحمن اور عطیہ بیگم فیضی تشریف لارہے ہیں۔ ہم نے عذر پیش کیا کہ بھئی ہم لوگ کیا کریں گے جاکر، ہم تو گلڈ کے ممبر نہیں ہیں۔ پھر بعض نے ابھی دو ڈھائی ماہ سے لکھنا شروع کیا ہے۔ بعضے لکھتے لکھاتے بھی نہیں، صرف پڑھتے ہیں۔ ایک تو ایسا ہے جو پڑھتا بھی نہیں بس ”منہ زبانی“ تیرا کلام سن لیتا ہے، داد تک نہیںدیتا۔ تو گلڈ کے جلسے میں ہمیں کیوں لے جارہا ہے بھائی؟“

ساقی نے اس ”کیوں“ کے جواب میں وجوہ گنانی شروع کیں جو کچھ اس طرح تھیں: کہ ”اوّل یہ کہ میرا حکم ہے اس لےے چوں و چراں کی گنجائش نہیں۔ دوم میںر ائٹرز گلڈ کا فاو ¿نڈر ممبر یعنی بنیادی رکن ہوں، میں جس کو چاہوں لے جاسکتا ہوں۔ امام بخش صاحب پہلوان بھی میرے ساتھ اجلاس میں داخل ہوجائیں تو کوئی ”چوں“ نہیں کرسکتا۔“

ہم نے کہا ”امام بخش صاحب تو کابینہ تک کے اجلاس میں داخل ہوسکتے ہیں، کوئی چوں نہیں کرے گا۔ ہاتھ پیر نہیں تڑوانے کسی کو۔“

ساقی نے کہا ”بدتمیزی مت کرو، بات سنو، میں تم سب کو اپنی شان و شوکت دکھانا چاہتا ہوں۔ تم لوگ ابھی میرے عظیم شاعرانہ رتبے کے قائل نہیں ہوئے ہو۔ میںچاہتا ہوں تم گلڈ جاکر اپنی آنکھوں سے دیکھو لو جو دبدبہ اور شکوہ میرا ہے۔“

ہم نے کہا ”ہم قائل ہوچکے ہیں اور دبدبے کے سلسلے میں یہ سن چکے ہیں کہ تم نے ایک محترم نقاد، ایک سینئر شاعر کا گریبان پکڑ کر جھٹکا دیا تھا کسی بات پر۔“

کہنے لگا”وہ اور بات تھی اور محترم کا لفظ یہاں غور طلب ہے۔ دیگر یہ کہ میں نے جھٹکا نہیں دیا تھا۔ جس نے یہ واقعہ اس طرح سنایا وہ راوی ضعیف اور گردن زدنی ہے۔ نام بتاو ¿ اس کا؟

ہم نے کہا”ہم پاگل نہیں ہیں اور عہد شکنی بھی نہیں کرسکتے۔ راوی نے اپنے سفید سر پر ہاتھ رکھوا کر ہم سے قسم کھلوائی تھی کہ اس کا نام تم پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔“

یہ سن کر ساقی خوش ہوا شاید اس لےے کہ گلڈ لے جائے بغیر اس کی ”دہشت“ ہم پر منکشف ہو رہی تھی۔

خیر اسے اور خوش کرنے کو ہم گلڈ کے جلسے میں پہنچ گئے۔

جلسہ گاہ بنیادی اراکین اور ان کے ساتھ آئے ہوئے مہمانوں سے بھری پڑی تھی۔ اس جلسے میںساقی نے کوئی خاص جگلری نہیں دکھائی۔ اپنی ”سینیاریٹی“ اور شہرت (بری بھلی دونوں قسم کی) کی سنہری آنچ میں لوگوں کے درمیان ہمیں لےے ٹہلتا رہا۔ بیگم عطیہ فیضی کے روبرو شولری کے سکہ بند اصولوں کے مطابق اپنے شکم پر ایک ہاتھ رکھ کر جھکا، کہنے لگا، ”بیگم صاحب! کمال حسین لگ رہی ہیں آپ۔“

بیگم عطیہ فیضی کی بینائی جواب دیتی جارہی تھی۔ انھوں نے سرمہ لگی آنکھوں سے اس کا چہرہ پہچاننے کی کوشش کی، پھر سیکریٹری گلڈ سے پوچھا،”میں اس لڑکے کو پہچانتی نہیں، کون ہے یہ؟ بہت مہذب ہے۔“

سیکریٹری گلڈ نے کہا، ”بیگم صاحبہ! ساقی ہے۔ شاعر ساقی فاروقی۔“

”شاعر!“ عطیہ بیگم نے دہرایا۔”اچھا یاد آیا۔ خوب شاعر ہے۔ بہادر اور منحرف….مگر یہ عمر ہی ایسی ہوتی ہے۔“

ساقی داد وصول کرتے ہوئے ہنسا”آداب عرض کرتا ہوں!….اب آپ اور حسین لگ رہی ہیں بیگم صاحبہ۔ ہہ ہاہا۔“

عطیہ بیگم روشن آنکھوں سے مسکراتی آگے بڑھ گئیں۔

ساقی نے ہمارے پاس پہنچ کر کہا ”دیکھ لیا سالو؟“

بعد میں ”جو یوں ہوتا تو کیا ہوتا“ کے ضمن میں ساقی ہمیں قائل کرتا رہا کہ وہ اگرمولانا شبلی، علامہ اقبال اور عطیہ بیگم فیضی کے عہد زریں میں ہوتا تو عطیہ بیگم کے سلسلے میں حضرت علامہ اور جناب شمس العلمادونوں کا چراغ نہ جلنے دیتا بلکہ عین ممکن تھا کہ اپنے فیضی رحمن صاحب کی ریاضتیں بھی رائگاں جاتیں۔

ایسا خبیث آدمی تھا یہ اس زمانے میں۔

یہ ہمیں دوسری اور آخری بار گلڈ کے دفتر میں لے گیا تو وہاںفخر سلطنت، جناب فردوسی بہ نفس نفیس موجود تھے۔ ان کو دیکھ کر ساقی نے ہم سے کہا”ذرا خیال رکھنا۔ آج بہت سی باتیں ایسی ہوں گی جن سے میں اشتعال میں آسکتا ہوں۔“

ہم میں جس کی صحت سب سے اچھی تھی اس نے ساقی سے کہا”ذرا تم بھی خیال رکھنا کیونکہ میں مشتعل ہوئے بغیر گدی میں ہاتھ دے کے آدمی کو ادھر ادھر لے جانے کی مشق کررہا ہوں۔“

ساقی فاروقی فقرے کی سنگینی کو سمجھ گیا۔ اس کی صحت اس زمانے میں بھی کوئی زیادہ قابل رشک نہیں تھی۔

جلسہ شروع ہوا تو صدر میں صوفے پر بیٹھے ہوئے فخرِ قوم جناب حفیظ جالندھری نے حسب معمول چھوٹے چھوٹے بظاہر بے ضرر فقروں سے کارروائی میں رخنے ڈالنا شروع کردےے۔ کوئی رپورٹ پڑھی جارہی تھی جس سے حاضرین بیزار ہو رہے ہوں گے۔ فخرِ سلطنت کے فقروں کی حوصلہ افزائی کےے بغیر لوگوں نے دبی آواز میں ہنسنا، سرگوشیاں کرنا، اونچے سر میںکھانسنا اور جماہیاں لینا شروع کردیا تھا۔ فخرِ سلطنت جناب فردوسی کو گمان ہوا کہ یہ پھلجھڑیاں ان کے ”ذہین“فقروں کے سبب سے چھوٹ رہی ہیں، انھوں نے اور تیزی سے فقرے مارنا شروع کردےے۔ ساقی نے ہم سے کہا”میں بتدریج طیش میں آرہا ہوں۔ عین ممکن ہے، اس شخص کی بے جا اور بے کیف مداخلت پر مکمل ساقیانہ جلال میں آجاو ¿ں۔ آگاہ کےے دیتا ہوں پھر نہ کہنا۔“

ہماے اچھی صحت والے ساتھی نے کہا”آگاہ اپنی موت سے کوئی بشرنہیں اور یہاں ”کوئی بشر“ سے مراد تم ہو ساقی فاروقی۔ اس لےے سکون سے بیٹھنا۔ گڑبڑ بالکل نہ کرنا۔“

ساقی چپ ہورہا۔ اس کھلی چیتاو ¿نی کے جواب میں کیا کہہ سکتا تھا؟

خیر رپورٹ ختم ہوئی۔ کسی نثر نگار نے کچھ پڑھا پھر اس پڑھے ہوئے پر بات چیت کی دعوت دی گئی تو سب سے پہلا آدمی جس نے اس نثر پارے کے بخےے ادھیڑنا شروع کےے، ساقی فاروقی تھا۔ ساقی کی یہ جارحانہ کارروائی اصلاً ہمیں متاثر کرنے کے لےے تھی۔ اب یاد نہیں رہا کہ نثار کون تھا؟ ہر نئے جملے پر بے چارہ حیران ہوکر ساقی کا منہ تکنے لگتا تھا جیسے کہہ رہا ہو ”بروٹس! تم بھی؟“

جملہ وفاداریاں بھول کر ساقی اس کا جھٹکا کرنے پر تل گیا تھا۔

نثر پارے پر ساقی کے اعتراضات کے جواب میں کسی نے کچھ کہا ۔پھر فخرِ سلطنت جنابِ فردوسی نے صدر میں بچھے ہوئے صوفے پر سے کچھ کہنا شروع کیا، ہم سمجھ گئے کہ نقصِ امن کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔

فردوسی نے کہنا شروع کیا ”میں جب روس میںتھا….“ آگے انھوں نے بتایا کہ وہ جب روس میں تھے تو وہاں کون سی چیز کس طرح تھی۔

ساقی نے کہا، ”میں اپنے فاضل دوست فخرِ قوم ملک ملت جناب فردوسی سے ….وغیرہ وغیرہ۔“

ساقی انھیں اپنا دوست کہہ رہا تھا جب کہ فردوسی کی عمر شاید ساٹھ سے تجاوز کرچکی تھی، ساقی پورے بیس کا بھی نہ ہوگا۔

جواباً فردوسی بولے ”جب میں روس میں تھا تو….“ اور انھوں نے پھر یہ واضح کیا کہ اس وقت روس میں کیا کچھ کس طرح تھا۔

ساقی نے بے نیازانہ ایک ایسا فقرہ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ فاضل دوست فردوسی اس مغالطے میں رہتے ہیں کہ وہ چیزوں کو اور چیزیں انھیں سمجھ سکتی ہیں۔

ساقی حد سے تجاوز کرگیا تھا۔ فخرِ سلطنت جنابِ فردوسی نے کڑک کر کہا ”صاحب زادے! میں نے روس میں….“

ساقی نے جملہ پورا نہ کرنے دیا، ڈپٹ کر کہا ”اسٹاپ! مسٹر فردوسی پلیز اسٹاپ! ذہین ادیبوں، شاعروں کا یہ اجتماع!“ ساقی نے جھاڑوکی طرح اپنا ہاتھ سوئیپ کرتے ہوئے جملہ حاضرین کو روغنِ قاز مل دیا۔

بولا ”یہ ذہین اجتماع حلق تک اس اطلاع سے بھر چکا ہے بلکہ اب تو ابل رہا ہے، اس خبر سے مسٹر فردوسی کہ آپ سرکاری خرچ پر بالآخر روس بھی ہو آئے۔“

حلقہ بگوشوں میں سے کسی نے برابر کے سوفے سے سر ابھارا، کہا، ”ساقی! کیا بدتمیزی ہے؟“

ہمارے عقب سے بھی کسی نے حلقہ بگوشی کی ”شرم کرو! شرم کرو مسٹر!“

برابر سے ایک صاحب ”چچ چچ“ کے ساتھ افسوس کرتے ہوئے بولے ”فخرِ قوم ملک سلطنت جنابِ فردوسی دوراں کے ساتھ یہ سلوک ناقابل برداشت ہے۔ مسٹر فاروقی، آپ کو معافی مانگنی ہوگی۔“

ساقی کے خلاف بغاوت پھیلتی جارہی تھی۔

ہمارے اچھی صحت والے ساتھی نے ساقی کے کان میں کہا، ”شریف زادے! تو ہمیں بھی مروا دے گا۔“

دوسرے نے کہا”اب مرو بھی، اٹھو اور اپنی لاش لےے بھاگ جاو ¿ جلدی سے۔ چلو۔ سو ¿ر!“

مگر ساقی۔ اپنی ننہال کی فاروقی نسبت کے ساتھ ، اب پورے قامت سے تن کر اٹھ کھڑا ہوا اور اصیل لفظوں کی تمام جارحیت کے ساتھ اس نے دم سادھے ہوئے آڈی ٹوریم میں چھ سات منٹ مسلسل تقریر کی۔ جس کا لب لباب یہ تھا کہ پچھلی جنگِ عظیم کی حنوط کی ہوئی لاشوں کو ایک زندہ اور متحرک اور سیماب صفت نسلِ نو پر مسلط کردیا گیا۔جوایک ارضِ نو شگفتہ کی کچی کونپل امنگوں کی نمائندگی کررہا ہے، یہ شغال ٹولہ جو ٹوڈیوں کا پروردہ ہے…. کہ سنگ و خشت مقید ہیں اور سگ آزاد اور فیض صاحب کو ریڈیو پاکستان سے بین کردیا گیا ہے، ان کا نام بھی نہیں لیا جاسکتا وہاں اور بے مغز خالی کھوکھے یہاں سے ارضِ چین تک بجتے چلے جاتے ہیں۔ کہنے لگا ”یہ میں کیا دیکھ رہا ہوں۔ حاضرین میں ان غلط کاریوں ، غلط بخشیوں کا خاموش تماشائی نہیںرہ سکتا۔ نو!“

حلقہ بگوش صفوں سے کسی نے لفظ غلط کاریوں پر کھیلتے ہوئے ساقی کے غیر محتاط لڑکپن پر حرف زنی کی۔ سیکریٹری گلڈ نے (یا جو بھی ان کا عہدہ تھا) ساقی کو یاد دلایا کہ یہ ادبی مجلس ہے، اس فورم پر سیاسی گفتگو نہیں کی جاسکتی۔ ہم نے اپنے میزبان ساقی فاروقی کی آستین کھینچی”چل….! یہ کس پھڈے میں ڈال دیا ہمیں۔“

اس کی آنکھیں روشن اور سر اور گردن کا زاویہ کشیدہ تھا۔ اسٹیج وہسپر میں یعنی دور تک سنائی دیتی سرگوشی میں بولا، ”طوطیِ خوش الحان سالے! دیکھتا نہیں گھمسان کا رن پڑ رہا ہے۔ تو یہاں شعر لکھنے آیا تو اب سیکھ لے کہ….سکوں کے بیوپاریوں کو خداوند کی ہیکل سے کیسے آو ¿ٹ کیا جاتا ہے۔ اب یہ بھی سیکھ۔“

مگر رائٹر گلڈ کا دفتر خداوند کی ہیکل نہ تھا اور نہ ہی شعر و ادب کی مملکتیں کسی فوج کشی سے جیتی جاسکتی ہیں۔ ساقی فاروقی کو بالآخر اس ”چوہا دوڑ“ کو سمجھنا اور کبھی کبھی اس میں شامل ہونا پڑا جو زندگی کے ہر شعبے کی طرح ادب میں بھی جاری و ساری ہے۔ شاید وہ پہلے بھی ایک چھوٹی موٹی چوہا دوڑ جیت چکا تھا کہ گلڈ کے ائیرٹکٹ پر ڈھاکے کا ایک چکر لگا آیا تھا، اس نے ایک نظم لکھی تھی، قطار اندر قطار پٹ سن کے نرم پودے….ہاں روس،چین نہیں جاسکتا تھا۔ تو وہ غصہ بہ دستور اپنی جگہ تھا۔

بعد کو اردو مرکز ،بی سی سی آئی یا ”سوغات“ بنگلور کے سلسلے میں ساقی نے جو قلم کاریاں کیں انھیں روس چین محرومی، جمع استحقاق ،جمع توقعات کے سلسلے کی شکستہ کڑیاں سمجھنا چاہےے۔ میں اس کی وکالت نہیں کررہا مگر شاید ساقی ابھی تک انوکھا لاڈلا بنا ہوا ہے، کھیلنے کو چاند مانگتا رہتا ہے۔ شاید ممتاز حسین، مدنی، سلیم احمد، اطہر نفیس اور ایسے بے شمار لوگوں نے بشمول راقم اسے لاڈ کر کر کے بگاڑ دیا۔ خیر چھوڑےے۔ ایک قصہ اور سنےے۔

ساقی سناتا تھا کہ ایک بار گلڈ کے کسی عظیم الشان اجلاس کے دوران (فاو ¿نڈر ممبر ہونے کے ناتے) وہ ڈرائیور سمیت گلڈ کی ایک گاڑی ہتھیانے میںکامیاب ہوگیااور ڈرائیورکو لے کر کسی عزیز، کسی دوست یا کسی محبوبہ کے گھر جا پہنچا اور اپنی شان و شوکت دکھا کر وہاں سے دو گھنٹے بعد لوٹا۔ گلڈ کے عہدے دار (نام ان کا تاج صاحب فرض کرلیجےے) نے لاہور، پشاور، ڈھاکے، کوئٹے سے آئے ہوئے مندوبین کی موجودگی میں (انتظامیہ سے مخصوص) جھلاہٹ اورر عونت کے ساتھ ساقی سے جواب طلب کیا کہ ”مسٹر ساقی فاروقی آپ کس اتھارٹی سے گلڈ کا ڈرائیوراور گاڑی لے گئے تھے؟ © © ©“

ساقی غصے میںسانولے سے سفید ہوگیا مگر حالات سازگار نہیں تھے۔ اس نے دائیں بائیں، آگے پیچھے دیکھا۔ اس کی ذلت و خواری کوئی بیس مندوبین کے روبرو ہوئی تھی۔ وہ اس کا نام سن کر متوجہ ہوئے تھے اور اسے پہچان بھی گئے مگر وہ گلڈ کے عہدیدار تاج کی آفیشیل پوزیشن کے رعب و داب کو بھی تسلیم کرچکے تھے کیونکہ تاج نے ساقی جیسے معروف شاعر کو ڈانٹ دیا تھا جبکہ تاج (بقول ساقی) بہت برے شاعرتھے بلکہ سرے سے شاعر تھے ہی نہیں۔

ساقی نے دیکھا کہ آڈی ٹوریم لوگوں سے بھرتا جارہا ہے ایک ٹیکنیشین مائیکرو فون ٹیسٹ کررہا تھا۔ ٹھن ٹھن ، ہیلو ہیلو، ون ٹو تھری کےے جارہا تھا۔ ساقی نرمی کے ساتھ تاج کا ہاتھ تھامے اسے ڈائس پر، پھر مائیکرو فون کی رینج میں لے آیا۔ ساقی بہت نرمی سے بڑبڑاتا ہوا آیا تھا کہ یار تاج بات سنو۔ قصہ یہ ہے کہ، یار بات سمجھا کرو…. وہ اس لےے ….وہ اس لےے کہ تاج کو اس کے اصل عزائم کا علم نہ ہونے پائے۔ جوں ہی یہ لوگ مائیک کے دائرہ ¿ اثر میں پہنچے، ساقی نے ٹیکنیشین کو آہستگی سے ہٹایا اور قرونِ وسطیٰ کے درباری نقیبوں کی سی ٹھنٹھناتی ہوئی آواز میں براہِ راست مائیک کو مخاطب کیا کہ” تاج محمد فلانے جائنٹ سیکریٹری (یا جو بھی عہدہ تھا) پاکستان رائٹرز گلڈ، یونانی کتوں کے مورثِ اعلیٰ، کفن چور، حلال زادے، عجمی گونگے تیری یہ مجال کہ تو ساقی فاروقی سے گاڑیوں، ڈرائیوروں کے بارے میں جواب طلب کرے“ پھر اس نے اپنے سلسلے میں لاف زنی کی کہ ”میں ساقی فاروقی عربی الاصل ہوں۔ صاحبِ لسان ہوں، ایسا زبردست شاعر ہوں کہ اللہ اللہ اور وغیرہ وغیرہ اور فرہاد تک ”رکھ کے تیشہ کہے کہ یا استاد“ اور تونے اب تک کیا لکھا ہے؟ تاج محمد فلانے ہیچ پوچ سالے! دشت گم نامی کے چراغِ کشتہ۔“

ساقی کی سینچورئین آواز چالیس لاو ¿ڈاسپیکروں سے نشر ہوئی اور چار ہزار کے مجمعے نے سنی جبکہ تاج محمد فلانے کی کڑوی جھنجھلاہٹ بیس آدمیوںتک ہی پہنچ سکی تھی۔

ساقی کا انتقام پورا ہوچکا تھا۔ یہ قصہ سناکر ساقی کہنے لگا، ”پیارے! یہ ہوتی ہے غصے کی حکمتِ عملی!“

وہ شاید چاہتا ہوگا کہ انسان کو اپنے غصے اور اپنے پیار کی حکمت عملی خوب سوچ سمجھ کر تیار کرنی چاہےے کہ کہیں یہ قیمتی اثاثہ دشت میں کھلی ہوئی چاندنی کی طرح ضائع نہ ہوجائےں۔ (میں نے غصے کی حکمتِ عملی کے قصے سنادےے۔ اس کے پیار کی حکمتِ عملی کا ایک بھی واقعہ نہیں سناسکتا۔ میں محتاط روایتوں کا آدمی ہوں۔ خود ساقی چاہے تو مجلے ”راوی“ بریڈ فرڈ والے مضمون کی طرح پاکستان،ہندوستان میں بھی اول فول چھپواسکتا ہے، اس کی مرضی۔)

خیر تو ساقی نے کہا۔”پیارے! یہ ہوتی ہے غصے کی حکمتِ عملی!“ مگر ٹھہرےے یہ باتیں ساقی کے ”اقوالِ زریں“ کے شعبے میں آئیں گی…. جب بھی وہ شعبہ کھلے۔ میںتو اس وقت اس شخص کی کھری اور کھوٹی، اوندھی اور کج، خبیثانہ اور آدمیوں جیسی، گہری اور الجھی باتیں یاد کرنا چاہتا ہوں۔ میں کیوں اس کے لےے اقوالِ زریں ڈرافٹ کروں؟ اقوال زریں تیار کرنے کا کام خود ساقی کا ہے اور اس کے پاس ابھی بہت وقت ہے۔ وقت ہی وقت پڑا ہے،اپنی کلیات چھپوا کر بیٹھا ہے وہ۔ اب تو شعر بھی نہیں کہہ رہا۔ تو بس اب دن بھر بیٹھا اقوال زریں گڑھتا ہے سسرا۔

نوٹ: قارئین اور خود صاحب ِ موصوف جان گئے ہوں گے کہ یہ ایک صدیقی، فاروقی، نسبتوں والے عربی الاصل کے لےے مہمیز کے کلمات ہوسکتے ہیں تاکہ وہ اٹھ کھڑا ہو اور لکھتا رہے….عزیز حامد مدنی کی طرح، سلیم احمد اور اطہر نفیس کی طرح لکھتا رہے۔ اپنی آخری سہ پہر تک۔

سید سلیم احمد کا من موہنا نام پھر درمیان میں آگیا ہے اور اطہر نفیس کا بھی۔ جہانگیر روڈ کے شب و روز یاد آتے ہیں مگر وہ بیان کےے جانے کے لےے الگ الگ پوری داستان ہے۔

ساقی پہلی بار ہمیں سلیم بھائی کے گھر جہانگیر روڈ لے گیا تو اس نے اس واقعے کو تقریب کی طرح ٹریٹ کیا۔ کہنے لگا ”آج میں تجھے کسوٹی پر گھس کر دیکھوں گا کہ تو زر خالص ہے یا پیتل ویتل ہے۔ آج تجھے سلیم خاں کے سامنے نظمیں پڑھنا ہوں گی۔“ پھر کہنے لگا” سید سلیم احمد کو اعزازی خان مقرر کیا گیا ہے۔ وہ ’ایک‘ جلالی سید اور مخدوم زادے ہیں تو انھیںاپنے جیسا ”چ“ نہ سمجھ لینا۔ اور خبر دار! عمر کے کسی حصے میں سلیم احمد کو تو سلیم خاں نہ کہنا۔ ہاں بیٹا، حذر بکنید! سلیم خاں پکارنے کایہ استحقاق گنتی کے لوگوں کو حاصل ہے، اس لےے اے پسر! تا عمر اپنی زبان کو لگام دیتا رہیو۔“

اور ساقی نے اطہر نفیس سے ملوایا۔ مجھے ہدایت کی کہ اس شخص کے ساتھ تو وفا کرنا اس لےے کہ یہ اول درجے کا وفا سرشت ہے۔ کہنے لگا کہ تم دونوں کو اس لےے بھی ملا رہا ہوں کہ سوریہ ونشی راجپوتوں اور اچک زئی پٹھانوں میں ایک چیز مشترک ہے یعنی وہی وفا وغیرہ تو بیٹے میرے نام کو بٹہ نہ لگانا ورنہ یہ سوریہ ونشی مزاج کے کڑے بھی بہت ہوتے ہیں۔ تونے کوئی حرم زدگی کی اور ادھر راجپوتانی”جہالت“ نے غلبہ کیا تو کنور اطہر علی خاں پیٹ پھاڑ کے تیرا ”جوہر“ کر دے گا اور پھر تا عمر کفِ افسوس مل مل کر گریہ کرے گا۔

تو ساقی فاروقی نے ان دونوں سے ملوایا اور پلک جھپکتے میں یہ صحبت تمام ہوئی۔ خبر نہیں اس ملاقات کو دو تین دہائیاں گزری ہوںگی یا دو تین ساعتیں کہ وہ سید صاحب اور وہ کنور صاحب ملکِ بقا کو روانہ ہوئے۔ بس دوہالے روشنی اور خوشبو کے یہیں کہیں آس پاس موجود ہیں۔

ساقی کے انگلستان ہجرت کرجانے کو دل سے نہ سلیم احمد نے پسند کیاتھا نہ اطہر نفیس نے۔ مگر دونوں کا خیال تھا کہ اگر یہ نہ جاسکا تو اس کے ہاں اس درجے کا فرسٹریشن پیدا ہوگا کہ پھر یہ سنبھالے نہیں سنبھلے گا۔ اس کا شاعر واعر سب ختم ہوجائے گا۔

قاضی محفوظ نے جو پاسپورٹ آفس میںنوکر تھا، اس کا پاسپورٹ بنوایا۔ بھائی ارشاد نبی نے جو ساقی سے چند ہی برس چھوٹا تھا اور اس سے پہلے لندن جا بسا تھا، ساقی کے لےے مستند کنجڑے اور قصاب کا اجازت نامہ ¿ سفر و رہائش بھیج دیا۔ اب ایک ہی مسئلہ رہ گیا تھا اور وہ تھا ایئر ٹکٹ کے پیسوں کی فراہمی۔

(مرحوم) ڈاکٹر التفات نبی نے اپنی بیگم کے اور اپنے لےے اور اپنے بچوں کے لےے (ان کے تین بیٹے دو بیٹیاں ہیں) بہت سے خواب دیکھے ہوں گے۔ ہر آدمی دیکھتا ہے۔ ایک خواب یہ بھی تھا کہ اپنے ذاتی مکان میںر ہا جائے۔ نارتھ ناظم آباد میں اچھے خاصے قطعہ ¿ زمین پر ایک مکان ہاو ¿س بلڈنگ فنانس کارپوریشن کے تعاون سے بن بھی رہا تھا، وہ بن گیا۔ سب جا بسے اس گھر میں کہ ناگاہ ساقی نے فیصلہ سنادیا ”میں لندن جارہا ہوں، پڑھوں گا۔“

گھر میںکیا ہوتا رہا اور کیا ہوا، یہ ایک آبرو مند گھرانے کا انتہائی ذاتی مالیاتی معاملہ ہے۔ دوستوں کو بھی کیوں معلوم ہو۔ ہاں ایک روز ساقی بہت پژمردہ سا آکر بیٹھ گیا، ہم نے پوچھا تو کہنے لگا”میں نے آج زندگی میںپہلی بار ابا کی توہین کی ہے، میں اس وقت اپنی ذلت خواری کے جہنم میں جل رہا ہوں، لعنت ہے مجھ پر۔“

تفصیل ہم لوگ کیا پوچھتے، اس نے خود ہی اپنا بوجھ ہلکا کردیا۔ کہنے لگا ”ائیر ٹکٹ کے پیسوں کی فراہمی کے بارے میں ہر طرف سے ابا پر دباو ¿ ڈلوارہا تھا آج سویرے انھوں نے جھنجھلا کر کہا”ساقی!“ (وہ اسے ساقی کہتے تھے، اس کے شاعر ہونے پر فخر کرتے تھے) کہنے لگے ”ساقی !پیسوں کی فوری فراہمی کی دو صورتیں ہیں یا تو میںپانچ ہفتے کا بسا ہوا یہ گھر بیچ دوں یا جو کام کبھی نہیں کیا وہ کروں….رشوت لینے لگوں!“

ساقی نے بڑی اداسی سے بتایا کہنے لگا ”یار میں نے بہت لائٹلی ہاتھ لہرا کے کہہ دیا کہ رشوت لے لیجےے، سبھی لے رہے ہیں۔ پتا ہے کیا ہوا؟ میری یہ بے ہودہ بات سن کر ابا حیرت سے میری صورت دیکھتے رہ گئے پھر خاموشی سے اپنے کمرے میں چلے گئے۔ لعنت ہو یار! میں ایک شریف آدمی کی عمر بھر کی ریاضت کو گالی دے کر آرہا ہوں۔“

خبر نہیں کہاں سے، کس طرح انتظام کیا گیا۔ ہم نے آج تک نہیں پوچھا۔ تاہم ٹکٹ کا بندوبست ہوا۔ ہونا ہی تھا اور ایک دن بھینس کے چمڑے کا نیا سوٹ کیس اٹھائے شمشاد نبی ساقی فاروقی ایئر پورٹ پہنچ گیا۔

ہوائی کمپنی کے کاو ¿نٹر پر ایک سفید فام خاتون بیٹھی تھی۔ ورناکیولر میں اپنی طاقت لسانی کے جوہر دکھانے والا ساقی کاو ¿نٹر تک پہنچتے پہنچتے کھانسنے لگا۔ بہ مشکل منھ سے رومال ہٹا کر بولا،”اس سے معلوم کرو کہ جہاز کی روانگی کا وقت بدلا تو نہیں؟“

ہم نے خباثت سے کہا ”تو خود پوچھ بیٹا!“ پہلی بار اس کی گدی ہمارے ہاتھ میں آئی تھی۔

وہ آنکھیں نکال کر بولا”بدتمیزی مت کرو۔ دیکھ نہیں رہے سالے، مجھے کھانسی آگئی ہے۔“

”ہاہاہا“ ہم نے کمینگی کا قہقہہ لگایا۔ ”لوگو! یہ سالا پینڈو انگریزوں کے شہر لندن جارہا ہے!“

” مگر اس واقعے کے ۸۲برس بعد جولائی ۱۹ءمیں بریڈ فورڈ میں برطانوی آرٹس کاو ¿نسل کا لٹریچرڈائرکٹر، ڈاکٹر السٹیئر نی وین میرا افسانوں کا مجموعہ بریف کیس میںرکھتے ہوئے خوش ہوکر مجھے بتا رہا تھا کہ لندن میں اس کا ایک دوست ہے” سے کی فے روکی“۔ تو یہ مجموعہ وہ”سے کی“ کے حوالے کردے گا اور کئی گھنٹے پر محیط تعارفی سیشن میں ساقی فاروقی ڈاکٹر نی وین (Niven)کو سامنے بٹھا کر اس مجموعے کے محاسن پر روشنی ڈالے گا۔ وہ کہنے لگا ”ایک صاحب نظر آدمی کی مدد سے میں آپ کی کہانیوں سے متعارف ہوں گا مسٹر خان۔ ساقی فاروقی کو تو آپ جانتے ہوں گے مسٹر خان؟“

میں نے کہا”جی کم و بیش!“ اور مجھے کھانسی آگئی۔

اس سالے کی گدی اس وقت بھی آزاد تھی اور اٹھائیس برس پہلے بھی میرے ہاتھ نہیں آئی تھی۔

لندن میں اڑتی اڑتی یہ خبر سنی کہ ساقی کو اس کی انگریزی شاعری پر یا شاید اردو یا دونوں زبانوں کی شاعری پر نقد انعام دیا جانا ہے۔ شاید چار ہزار یاچالیس ہزار پاو ¿نڈ اسٹرلنگ۔ یہ بات ایک ایسے آدمی نے سنائی جو ساقی سے خوش نہیں تھا۔ اس نے دبی زبان سے اور شماتتِ ہمسایہ کے سے انداز میں مجھے بتایا کہ ناپسندیدہ مصنف سلمان رشدی نے بھی ساقی کی لکھی بعض انگریزی نظموں کی تعریف کی ہے۔ یہ کہہ کر اس نے گسٹاپو کے اسٹائل میں آنکھیں چلائی تھیں۔

میں نے پوچھا تھا ”کون رشیدی(Rasheedee)؟“

”شماتتی“ ہمسائے نے حیران ہوکر سوال کیا تھا،”تم اخبار نہیں پڑھتے؟“

”نہیں۔“

مگر یہ ساقی کے اصلی سفر لندن سے اٹھائیس برس آگے کی باتیں ہیں۔

ساقی فاروقی اس عرصے میں کراچی آتا رہا اور ہم سب کو ہاتھ پیر مارتے، اپنے لےے جگہ بناتے دیکھ دیکھ کر واپس جاتا رہا۔ مجال ہے جو اس نے کبھی بتایا ہو کہ وہ وہاں کیا کررہا ہے؟ کس طرح زندہ ہے؟ بس اتنی خبر دی کہ کمپیوٹر سے متعلق کچھ کررہا ہے۔

جب اس نے وہاں کچھ ٹھیک ٹھاک کرلیا تو ایک بار آکر بتایا گیا کہ میں نے بیس ہزار روپے کا واٹر بیڈ خریدا ہے یعنی پانی سے بھرا ہوا بستر۔ کہنے لگا پانی کی وجہ سے لہریں لیتا ہے وہ۔ ہم نے کہا، ”ڈوب مرو خبیث!“

سلیم احمد نے کہا”خوب!“ لہجے میں خفگی تھی۔

اطہر نفیس بولے”دوست کی طرف سے جو خبر بھی آئے، خوب ہے۔“ اور بات واقعی خوش ہو کر کہی گئی تھی۔

آصف جمال سن کر ہنسنے لگا۔

جمال پانی پتی نے کہا ”ساقی گھاس کھا گیا ہے۔“

چنانچہ ساقی نے پچاس پاو ¿نڈ منافع سے اپنا واٹر بیڈ ایک یہودی کو فروخت کر دیا اور یہاں اطلاع بھیج دی۔ ہم نے کہا ”جیتا رہ میرے یار!“ ہمیں پچاس پاو ¿نڈ کا منافع اچھا لگا۔

سلیم احمد بولے ”واہ! خوب!“ آواز میں ساقی کے لےے لاڈ جھلک رہا تھا۔

اطہر نفیس نے کہا ”بھئی یہ بھی اچھی رہی۔“ اور انھوں نے قہقہہ لگایا۔

جمال پانی پتی بولے ”جب تک اس سے نہ پوچھ لوں کہ خریداکیوں تھا اور بیچ کیوں دیا؟ اس وقت تک کچھ کہہ نہیں سکتا۔“

تو پھر ساقی نے پہلے ایک نظم لکھی:”ویرونیکا روتی کیوں ہو، بات کرو دل ڈوب رہا ہے“ پھر خبر آئی، اس نے وہاں شادی کرلی ہے۔ لڑکی کا نام ویرونیکا نہیں تھا، گنڈی تھا۔ ساقی نے ایک پب میں بیٹھ کر گنڈی کو بارہا سڑک سے گزرتے دیکھا تھا اور موقع پاکر اسے ویرونیکا والی نظم ترجمہ کرکے سنائی تھی، پھر شادی کرلی تھی۔

یہاں میں نے شادی کرلی۔ ساقی آیا، اس نے فرزانہ کو سن تریسٹھ میں دیکھا تھا۔ اس وقت تک وہ میری بیوی نہ ہوئی تھیں۔ ہماری شادی کے بعد اس نے گھر آکر مجھے دھمکیاں دیں کہ تونے فرزانہ کا خیال نہ رکھا تو میں تجھے فی النار کردوں گا۔ فرزانہ سے کہے لگا”تمھارا شوہر بس ٹھیک ٹھاک شاعر ہے تاہم اس کی قدر کرو اور بی بی! اپنے رب کی نعمتوں کا اثبات کرتی رہو۔“ انھوں نے کہا، بہتر ہے۔ پھر جاتے جاتے مجھے ہدایت کرگیا”تیری اہلیہ مومن ہے اور ہاتھ ہے اللہ کا”مومن بندی کا ہاتھ“۔ اس لےے تجھ پر لازم ہے کہ اپنی بیوی سے گاہے گاہے ہاتھ ملایا کر۔ اسی میںتیری نجات ہے۔“

مگر یہاں زندگی اس کے فقروں کی طرح ہلکی پھلی، چٹک مٹک نہیں گزری تھی، خاص طور پر اس کے اپنوں کے لےے۔

گھر والے نارتھ ناظم آباد کے مکان سے اٹھ کر دست گیر سوسائٹی میں کسی کراےے کے مکان میں آبسے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی صحت پہلے سے نہیں رہی تھی۔ چھوٹے بھائی کو جو پاکستان میں تھا، اپنے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرتے ہوئے الجھنوں کا سامنا تھا۔ امی اداس رہنے لگی تھیں۔ اس وقت تک دونوں بیٹوں میں کوئی بھی گھر نہیں آیا تھا اور کہیں پتھر کی کسی سل پر یہ لکھ دیا گیا تھا باپ ان بیٹوں کو دوبارہ نہیںدیکھے گا۔

مگر پھر اللہ نے خوشیاں بھی دیں، ساقی کی بہنوں کے گھر آباد ہوئے۔ اس نے لندن سے دونوں بہنوئیوں کو ٹیلی فون پر مبارک باد دی اور قہقہے لگائے اور دوسرے بھائی ارشاد نبی نے بھی ٹیلی فون کیا۔

اطہر نفیس کی سربراہی میںدوستوں کا ایک جیش ڈاکٹر صاحب کو اور امّی کو مبارک باد دینے پہنچا۔ تقریبوں والے دن ہم سب نے مہمانوں کو پان الائچی کی تھالیاں پیش کیں، ان کی طرف تولےے بڑھائے، پلیٹوں میں کھانے نکالے اور میزوں کے درمیان مصروفیت سے ٹہلتے رہے۔

ساقی نے یہ سب کرنے کے لےے لندن سے ہدایات جاری کی تھیں اور دھمکیاں بھی دی تھیں۔

ڈاکٹر التفات نبی صاحب نے ہمیں یہ سب کرتے ہوئے دیکھا اور اپنے بیٹے کی طرح قہقہہ مار کر بولے”بھئی ان تقریبوں میں ساقی کی شرکت بھی ایک اعتبار سے ہو ہی گئی۔ ہیں نا؟ہا ہا ہا۔“

خدا مغفرت کرے۔ کمال کے بزرگ تھے۔ ان کے بچے خوب جانتے ہیں کہ اپنی اولاد سے کیسی وفا کی ہے، ڈاکٹر صاحب نے اور کیا قیمت چکائی ہے؟ کیوں نہ کرتے؟ صدیقی جو تھے۔ استواری اور وفاداری کی روایت ان کے بڑوں سے چلی آرہی ہے۔

اور یہاں میں چاہوں گا کہ میرا قاری کچھ دیر کے لےے ٹھہر جائے۔

خود اس کی شاعری سے زیادہ میری ان سطروں میں ساقی فاروقی ایک پر خواہش، امنگ بھرا، ہوش مند، ایمبی شش آدمی نظر آتا ہے۔ بے شک وہ ایسا ہی ہے مگر وہ ایک بہت حساس اور دردمند انسان بھی ہے۔

وہ محبت کے اظہار میں تھیٹریکل ہے۔ دور سے لگتا ہے کہ مکر کررہا ہے یا گمان ہوتا ہے کہ شاید اس وقت پبلک ریلیشنگ چل رہی ہے۔ مگر ہم جانتے ہیں، ہم میں سے بہت سے کہ ایسا نہیں ہے۔ ۱۹ءمیں آخری اور شاید پہلی بار ہم دو بوڑھے آدمیوں نے اس کے سنی گارڈنزوالے مکان میں اپنی تقریباً چہل سالہ دوستی کے بیس تنہا اور خوب صورت منٹ گزارے۔ اوپر گنڈی جانے کی تیاریاں کررہی تھیں۔ یہ شخص میرے کمرے میں بھالوو ¿ں کے پہننے کا اپنا ٹرٹل نیک سوئٹر اٹھائے ہوئے آیا۔ بولا، ”اسے پہن لے اور کچن گارڈن میں جا کے بیٹھ جا۔ میں تیرے لےے چائے بنا کے لا رہا ہوں۔“ اس نے ضد کرکے وہ ٹرٹل نیک مجھے پہنایا۔ دھمو کے مار مار کے اس کو کندھوں پر سیٹ کیا۔ میں آخر جولائی کے تیکھے موسم میں سیب کے درختوں تلے کرسی بچھا کر بیٹھ گیا۔ یہ چائے لایا تو سہگل کے انداز میں گارہا تھا”بھور سہانی چنچل بالک۔“

چائے پیتے ہوئے اس نے پوچھا ”یار یہ بتا میری شاعری کے بارے میں لوگ کیا کہتے ہیں؟“

میں نے کہا ”تیرے میرے کہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ بھائی یہ تو مکافاتِ عمل ہے اگر کچھ کیا ہوگا تونے تو تیرے دیدوں گھٹنوں کے آگ

ے آئے گا۔“

ہنسنے لگا۔ بولا ”بدتمیزی مت کر۔ ویسے مجھے پوچھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ شاعر تو میں بڑا ہوں۔ لاریب!“

فقرے بازی سے قطعِ نظر اگر سنجیدگی سے پوچھا گیا تو میں بلا خوفِ تردید کہہ دوں گا کہ اس شخص نے لکھے ہوئے تازہ کار لفظ کے سوا کسی سے وفا نہیں کی۔ شاعری کے حوالے کے سوا اپنے لےے کسی اورحوالے کو دستارِفضیلت نہیں جانا۔ اردو نظم کی ڈرافٹنگ کرتے ہوئے اس نے نے ہر پامال روش کو چھوڑا، ایک نئی راہ نکالنے کی سعی کرتا رہا۔ ازکارِ رفتہ اور عامیانہ لفظوں (کلیشے) سے اس نے اس طرح گریز کیا جیسے مومن لحمِ خنزیر سے گریز کرتا ہے۔ اپنے لےے اس نے بس ایک مسند چاہی…. جائنٹ سیکریٹری، صدر، مہمان خصوصی، کمپیوٹر منیجر، شوہر، دوکاروں کا مالک یا خان بہادر کا پوتا، ان سب افتخاروں سے گزر کر ساری زندگی وہ اس ایک مسند کا ہوس مسند رہا جو شاعر کی مسند ہے۔

اور اس نے تو حد ہی کردی۔ ظالم نے اپنے دل کی امنگ میں بنارس کے آسمان شکوہ جولا ہے کبیر کی چٹائی پر ان کے برابر بیٹھنا چاہا…. ایسا یزداں شکار حوصلہ لے کر آیا ہے یہ حلال زادہ!

اپنے کسی انٹرویو میں اس نے کہا کہ وہ مرنے کے پانچ برس بعد تک زندہ رہے گا!

بکواس کرتا ہے!

ساقی فاروقی مرنے کے پچاس برس بعد تک (ہوپ فلی) پڑھا جائے گا۔ اور یہ مدت اس کم سواد زمانے میں کسی بھی اردو شاعر کے لےے انفینٹی ہے۔

Tanz-o-Mazah-Nigaari

Articles

طنز و مزاح نگاری

شمس الرحمن فاروقی

مزاح نگار کو ہمارے یہاں عام طور پر درجہ ¿ دوم کا فن کار اور مزاح نگاری کو درجہ ¿ دوم کی چیز سمجھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہماری زبان یا ہمارے ملک میں مزاح کی صلاحیت نہیں ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ اردو زبان اور اس کے بولنے والوں میں مزاح کی صلاحیت عام جدید ہندوستانی زبانوں اور اس کے بولنے والوں سے کچھ زیادہ ہی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہماری زبان جن عناصر سے مرکب ہے، یعنی سنسکرت اور فارسی ، دونوں میں اعلیٰ مزاح کی روایت بہت قدیم اور بہت وسیع رہی ہے۔دنیا کی تمام ترقی یافتہ زبانوں کی طرح سنسکرت ، فارسی اور پھر اردو میں بڑے ادیبوں نے مزاح کو نام نہاد سنجیدگی سے الگ کوئی چیز نہ سمجھا۔ موجودہ زمانے میں بعض لوگوں نے یہ خیال کیا کہ مزاحیہ اور طنزیہ تحریریں صرف ہلکی پھلکی تحریریں ہوتی ہیں۔ ان میں کوئی گہرائی یا وزن نہیں ہوتا یا اگر ہوتا بھی ہے تو اس درجہ نہیں جس درجہ کسی سنجیدہ تحریر میں ہوتا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ انگریزی تعلیم کے بعض غلط نتائج نکلے، کیوں کہ زیادہ تر لوگ انگریزی یا مغربی ادب سے پوری طرح واقف نہیں تھے ۔ان کا مبلغ علم سنی سنائی باتوں یا ادھر ادھر کی باتوں تک محدود تھا۔ پھر انگریزی تنقید کے بعض اہم نمائندوں کی ایک آدھ تحریرپر ضرورت سے زیادہ بھروسہ کیا گیا۔ مثلاً آرنلڈ نے سو برس پہلے لکھا ہے کہ ڈرائڈن اور پوپ انگرےزی شاعری کے نہےں بلکہ انگرےزی نثر کے اعلا نمونے ہےں۔پھر کےا تھا۔لوگ فوراً اےما ن لے آئے کہ جب آرنلڈ جےسا نقاد ڈرائڈن اور پوپ جےسے بڑے طنز و مزاج نگار شعراءکو شاعروں کی فہرست سے ہی خارج کر رہا ہے تو اردو کے چھٹ بھےّوں کی کےا اوقات ہے؟لوگ ےہ بھول گئے کہ آرنلڈ کا قول غلط بھی ہوسکتا ہے۔لوگ ےہ بھی بھول گئے کہ آرنلڈ کی اس رائے کو اس زمانے مےں بہت سے لوگوں نے قبول نہےں کےا اور اس کے پچےس ےا تےس برس بعد ٹیاےس اےلےٹ نے ان شاعرو ںکی تعرےف کی بلکہ بڑی شاعری کی اےک صفت ےہ بھی بتائی کہ اس کو پڑھ کر پوری طرح نہےں کھلتاکہ شاعرسنجےدہ ہے ےا مذاق کر رہا ہے ۔غالباور مےرکے ےہاں ےہ صفت واضح ہے لےکن ہم لوگوں نے ان کے ےہاں بھی اےسے شعروں کو نظر انداز کردےا بلکہ اکثر ان پر شرمندہ بھی ہوئے کہ صاحب ےہ پرانے زمانے کے نےم مہذب لوگ تھے،ان کی عمر کا لحاظ کرکے انھےں معاف کر دےجئے۔
لےکن سارا قصور انگرےزی تعلےم کا نہےں ہے کےونکہ اسی انگرےزی تعلےم کے دور کے زمانے مےں ہمارے ےہاں اکبر الہ آبادی جےسا عظےم طنز و مزاح نگار پےدا ہوا۔اسی زمانے مےں اقبال تک نے ظرےفانہ شعر کہے اور ان لوگوں فوراً بعد ہمارے ےہاں رشےد احمد صدےقی اور پطرس بخاری نے ہمارے ادب کو مالا مال کےا ۔اسی زمانے میں ظرےف لکھنوی بھی تھے اور خواجہ حسن نظامی بھی۔ظرےفانہ ادب اور ادےب کی تفصےل قدر ےعنی DEVALUATIONکی کچھ ذمہ داری ہمارے ظرےفانہ ادےبوں پر بھی ہے،جنھوں نے بھونڈے پن کو ظرافت اور کھردرے جھنجھلائے ہوئے اندازِ بےان کو طنز نگاری سمجھا۔طنزےہ مزاحےہ ادےب کی پہلی صفت ےہ ہوتی ہے کہ وہ خود کو دنےا والوں اور رسم و رواج سے بندھی ہوئی ا ن کی ذہنےت سے برتر اور الگ سمجھتا ہے ےعنی طنز ومزاح قائم اسی وقت ہوتے ہےں ۔جب ہم طنز نگار ےا مزاح نگار کی ذہنی برتری ےا اخلاقی برتری کو قبول کرےں۔طنز و مزاح نگار اگر دنےا اور اہلِ دنےا کو حقےر ےا بے وقوف ےا نا سمجھ نا سمجھے تو اس کی تحرےر کا کوئی جواز نہےں رہ جاتا۔لےکن ذہنی اور اخلاقی برتری کا ےہ روےّہ لطےفہ بازی،جملہ بازی،دانت پےس کر کوسنے ،گلا پھاڑ کر چلّانے سے نہےں قائم ہوتا۔ہمارے زمانے کے ظرےفانہ ادیبوں نے خود کو مسخراےا جھگڑا لو بنا کر پےش کرنا پسند کےا۔ذہنی اور اخلاقی برتری نصےب نہےں تھی،ان مےں سے اکثر مےں وہ MALICEےا کنےہ توزی بھی نہ تھی جس نے سود اسے شاہ ولی اللہ جےسے محترم اور مقدس اور مفکر بزرگ اور مرزا مظہر جانِ جاناں جےسے مرنجاں مرنج اور فرشتہ صفت صوفی کی ہجوئےں لکھوائےں ۔لہٰذ انھوں نے خود کو بھانڈ ےا محفل کی وقت گزاری کو آسان کرنے کے والے لطےفہ گوےا فقرہ باز ےا بات بات پر گالےاں سنانے والے سٹھےائے ہوئے بڈھے کے روپ مےں پےش کرنے مےں عافےت سمجھی ہمارے زمانے کے اکثر طنز و مزاح نگار اپنے لےے”مےں“کے بجائے ”ہم “کا استعمال کرتے ہےں۔کےونکہ ”ہم“مےں اےک طرح کی گم نامےت ANONYMITYاےک طرح کی مسکےنی اور عاجزی ہے۔ےہ وہ ”ہم“نہےں ہے جو غزل کا شاعر استعمال کرتا ہے۔ہمارے اکثر طنزےہ مزحےہ مضامےن مےں ”ہم“اےک سادہ لوح شخص کی صورت مےں نمودار ہوتا ہے ۔ یہ سادہ لوح شخص بیوی سے ڈرتا ہے، دوست اس کی شرافت اور سیدھے پن کا فائدہ اٹھا تے ہیں۔ دفتر یا کاروبار میں اسے ترقی نہیں ملتی ۔ اس کی خوبی یہ ہے کہ وہ موقع بے موقع بھونڈے یا سپاٹ لطیفوں سے اپنی باتوں کو قابلِ برداشت بناتا ہے۔ مرزا مظہر جانِ جاناں اور میر کے بارے میں سودا کے اشعار ، خواجہ سرا کی ہجو میں میرکے اشعار ، ظہور اللہ نواکی ہجو میں جرا ¿ت کا مخمس ، انگریزی تہذیب کے رنگ میں ڈوبے ہوئے ہندوستانی نوجوانوں کے بارے میں اکبر کی نظمیں پڑھ کر جس شخصیت کے خد وخال سامنے آتے ہیں اس کو آپ ناپسندیدہ کہہ سکتے ہیں ،اس سے دوستی کرنا شاید آپ پسند نہ کریں ، لیکن آپ اسے گھر گھسنا ، نکھٹو ، زن مرید ، دوستوں اور ساتھیوں کے فقروں کا ہدف نہیں کہہ سکتے ۔ نہ ہی اسے آپ کٹ کھنا ، چڑچڑے بوڑھے کی طرح بڑبڑاتا ہوا کوئی مجہول الحال لفظوں کا بھاڑ جھونکنے والا کہہ سکتے ہیں۔ آج کل ہمارے زیادہ تر مزاح و طنز نگار جس شخصیت اور ذہنیت کا مظاہرہ کرتے ہیں وہ انھیں دو خانوں میں سے ایک میں فٹ ہوسکتی ہے۔
مزاح میں گہرائی طنز کے بغیر نہیں آسکتی اور طنز کی پہلی شرط غصّہ نہیں بلکہ فکر ہے۔ یہ سمجھنا کہ طنز نگار کا میلان مفکرانہ نہیں ہوتا۔ طنز نگاری اور کالم نگاری کو خلط ملط کرنا ہے۔ مفکرانہ میلان سے میری مراد یہ نہیں کہ طنز نگار کسی فلسفے کی تلقین کرتا ہے۔ یا وہ افلاطون یا ارسطو کی کتابیں پڑھ کر ان کے خیالات کو بیان کرتا ہے۔ مفکرانہ میلان سے مراد یہ ہے کہ طنز نگار خود کو دنیا اور اہلِ دنیا کی کمزوریوں اور مجبوریوں سے اوپر سمجھتا ہے ۔لیکن وہ ان کمزوریوں اور مجبوریوں سے واقف ہوتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ خود بھی ان برائیوں کا شکار ہوسکتا ہے۔ اس میں کھلنڈراپن نہیں ہوتا لیکن ایک طرح کی IRREVERENCEاس میں ضرورہوتی ہے جیسا کہ S. J. PERELMANنے کہا ہے ۔” لوگوں کے کولھوں میں کبھی کبھی سوئی چبھوتے رہنا چاہیے ۔“ لیکن یہ IRREVERENCEسرکس کے مسخرے والی حرکت نہیں ہوتی جو ہیروئن کو چپت لگا کر خود چاروں خانے چت گرجاتا ہے۔ ہمارے زمانے کے اکثر ظریفانہ ادیبوں نے خود کو میر کے شیخ کے مصداق بنالیا ہے
شہرہ رکھے ہے تیری خیریت جہاں میں شیخ مجلس ہو یا کہ دشت اچھل کود ہر جگہ

Islam, Science aur Musalmaan

Articles

اسلام ، سائنس اور مسلمان

شمس الرحمن فاروقی

مسلمانوں میں سائنس کے زوال کا ذمہ دار عموماً امام غزالی کی تعلیمات کو ٹھہرایا جاتا ہے۔ امام غزالی کی تعلیمات کو بہت سادہ لفظوں میں یوں بیان کیا جاسکتاہے:

فلسفیانہ حقائق اور الٰہیاتی حقائق کے مابین تطابق نہیں ہوسکتا ، اور جہاں فلسفیانہ حقائق اور الٰہیاتی حقائق کے درمیان تصادم یا تضاد نظر آئے ، وہاں فلسفیانہ حقائق کو پیچھے ہٹ جانا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے ، اگر وہ اس کا صحیح استعمال کرے تو اس پر وہی الہٰی اور پیام رسالت پناہی کی سچائی کھل جائے گی اور وہ روحانی بلندی یعنی حقانی حاصل کرلے گا ، کہ یہی مقتضاے تخلیق آدم ہے۔ پھر کائنات بھی اس کے قدموں میں ہوگی۔
امام غزالی کا جواب ان کے کوئی دوسو برس بعد ابن رشد نے تفصیل سے لکھا اور اپنی حد تک اس نے ثابت کردیا کہ فلسفے کی راہ گمراہی کی راہ نہیں ، بلکہ علم و حقیقت کی راہ ہے۔ ابن رشد نے کہا کہ الٰہیاتی حقائق اور دانشورانہ ، فلسفیانہ (یعنی سائنسی) حقائق میں کوئی تضاد نہیں ہے، بلکہ وہ حق کے دو مختلف مدارج کو پیش کرتے ہیں۔ ایک کاسچ ہونے سے دوسرے کا باطل ہونا لازم نہیں آتا۔دو الگ الگ حقیقتیں ہیں، اور دونوں میں بقاے باہمی ممکن ہے۔ قرآن بیک وقت غیر مخلوق اور اللہ کا براہ راست کلام بھی ہے ، اور انسانوں کی دنیا میں ایک صحیفہ بھی ہے جس کا مطالعہ اسی طرح ممکن ہے جس طرح کسی بھی متن کا مطالعہ ہم کرتے ہیں۔ ظاہری علما کا کہنا تھا کہ قرآن کے اندر بھی قرآن ہے ، یعنی قرآن کے اندر ایک باطنی معنی بھی ہیں۔ ابن رشد کے فلسفے کے مطابق ظاہریوں اور باطنیوں میں اختلاف سے قرآن کے کلام اللہ ہونے میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔

ابن رشد کا حل تھا تو بہت دلکش ، لیکن اسے مقبولیت نہ حاصل ہوئی۔ جدید سائنسی فکر کی روشنی میں دیکھیں تو ابن رشد کے استدلال میں ایک بڑا نقص بھی تھا، کہ اس کے خیال میں کچھ حقائق (سائنسی حقائق) ایسے تھے جن کا وجود معروضی طور پر ثابت تھا، یعنی کچھ حقائق کا وجود کسی مشاہدہ پر مبنی نہیں تھا، اورنہ ان کی نوعیت پر کسی قسم کا شک ہوسکتا تھا۔اس کا مطلب یہ ہوا کہ وہ حقائق خارجی کائنات میں اس طرح موجود ہیں کہ وہ بس ہیں (They are out there) ، انھیں کوئی دیکھے یا نہ دیکھے، عقل ان کا وجود ثابت کرسکتی ہے۔ لیکن ابن رشد کے برخلاف ، جدید سائنسی فکر کو سائنس کے بارے میں ایسی کوئی غلط فہمی نہیں۔ جدید سائنس جانتی ہے کہ جتنے بھی ”حقائق“ ہیں ، ان کا ”حق “ یا ”حقیقت“ ہونا کسی نہ کسی معنی میں اضافی ہے۔ اور بہت سی اشیا کے بیان میں ہمیں قطعیت نہیں حاصل ہوسکتی۔ لہٰذا جدید سائنسی فکر کی روسے ابن رشد کا حل ادھورا اور غیر تشفی بخش ہے۔
آج کے زمانے میں بعض مسلمانوں کی فکر میں یہ رجحان نظر آتا ہے کہ اللہ کی کتاب میں سب کچھ صحیح لکھا ہے، اور اس کی صحت کو سائنس کے ذریعہ ثابت کرسکتے ہیںچنانچہ ہم آئے دن ایسی تحریریں دیکھتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کو سائنس کی روشنی میں ثابت کرنے کے معنی ہیں قرآن کو سائنس کا محکوم قرار دینا۔ اصل صورت حال تو یہ ہونی چاہیے کہ سائنس اور قرآن میں کوئی تضاد ہوتو سائنس کو غلط اور قرآن کو درست اور سائنس کو قرآن کا محکوم ٹھہرایا جائے۔ سائنس کے سہارے قرآن کو ”صحیح “ ثابت کرنے کی کوشش کے بارے میں مولانا اشرف علی تھانوی نے بہت پہلے بتادیا تھا کہ ایسی کوششیں غلط اور گمراہ کن ہیں۔ مولانا نے لکھا ہے کہ قرآن اٹل ہے ، اور سائنس بدلتی رہتی ہے۔ لہٰذا آج ہم کسی قرآنی آیت کو سائنس کے کسی نظریے کی رو سے صحیح ثابت کریں، اور سائنس کل بدل جائے ، اور سائنس کے جس نظریے کی بنیاد پر آپ نے قرآن کی سچائی ثابت کی تھی ، وہ نظریہ خود ہی باطل ٹھہر ے ، تو پھر آپ کا استدلال کہاں گیا؟ جس سائنسی نظریے کے اعتبار سے آپ نے قرآن کو سچا ٹھہرایا تھا ، وہ نظریہ ہی غلط ثابت ہوا ، تو پھر نعوذ باللہ قرآن بھی غلط ٹھہرا۔ وہ شاخ ہی نہ رہی جس پر آشیانہ تھا۔ مولانا نے کہا کہ سائنس تو دم بدم بدلتی رہتی ہے ، تو پھر آپ کہاں تک اس کی روشنی میں قرآن کی تاویلیں بدلتے رہیں گے؟ سائنس کو اس کے حال پر چھوڑیئے اور قرآن کو اس کا پابند نہ بنائے۔ سائنس کی جس حقیقت کو آج کے مغربی انسان نے بہت دکھ اٹھا کر حاصل کیا ہے ، وہ حقیقت ایک اسلامی مفکر کے سامنے بہت پہلے منکشف ہوچکی تھی۔

اوپر میں نے کہا ہے کہ ابن رشد نے سائنس اور عقیدہ دونوں کو سینے سے لگائے رکھنے کی جو کوشش کی تھی اسے مسلمانوں میں قبولیت نہ حاصل ہوئی۔ اس لیے عام طور پر کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کو خدائی عقیدہ اور لا خدا سائنس میں سے ایک چیز انتخاب کرنی تھی۔ انھوں نے امام غزالی کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے خدائی عقیدے کو قبول کیا اور سائنس کو لا خدا سمجھ کر مسترد کردیا۔ لہٰذا بارہویں /تیرہویں صدی میں مسلمانوں میں سائنس کا زوال شروع ہوا ، اور سولہویں/ سترہویں صدی میں یہ انحطاط مکمل ہوگیا۔ لیکن کیا یہ بات پوری طرح صحیح ہے کہ مسلمانوں میں سائنس کے زوال کی وجہ یہ ہے کہ انھوں نے عقیدے اور مذہب کو سائنس پر تفوق دیا؟

قبل جدید دنیا میں تین بڑی تہذیبیں تھیں ، اور یہ تینوں ہی تہذیبیں سائنس ، فلسفہ اور عقلی کارگذاریوں میں بہت پیش پیش تھیں۔ ایک تو چینی (جس میں جاپانی اور کوریائی کو شامل کرکے ”مشرق بعید“ کی تہذیب کہاجاتا ہے) ۔ پھر ہندو ، جسے عمومی طور پر ”ہندوستانی“ کہاجاتا ہے، اور پھر سب سے آخر میں اسلامی ، جس کے تحرک اور نامیاتی قوت کا سرچشمہ عرب تھا لیکن جس کی تعمیر میں کئی ملکوں اور روایتوں نے حصہ لیا، اور جس پر یونان و مصر نے بھی اثر ڈالا۔ آج کی مغربی سائنس و حکمت جن بنیادوں پر استوار ہے وہ مشرق بعید اور اسلامی تہذیبوں کی فراہم و تعمیر کردہ ہیں۔ ہندوستانی تہذیب کی بھی بہت سی سائنسیں ،خاص کر طب و ریاضی ، مسلمانوں کے ذریعہ مغرب میں پہنچیں اور انھوں نے بھی وہاں کی سائنس اور علوم عقلیہ کے فروغ میں اپنا کردار نبھایا۔ مسلمانوں نے جس طرح یونان کے علوم کو حاصل کیا، انھیں محفوظ رکھا اور ان پر ترقیاں کیں اور نئے علوم ایجاد کئے ، اسی طرح ہندو ریاضی ، طب ، اور فلکیات کوبھی مسلمانوں نے حاصل اور عام کیا۔ اب اس بات کو کٹر مغرب پرست بھی تسلیم کرتا ہے کہ مشرق بعید اور اسلام کی تہذیبوں نے مغرب کو ترقی کی ساری راہیں دکھائیں، اور نظری و عملی فکر کی وہ بنیادیں فراہم کیں جن پر مغرب اپنی عمارت قائم کرسکا۔

یہ خیال بھی غلط ہے کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی آمد نے ہندو علوم کو نقصان پہنچایا۔ تاریخ تو بتاتی ہے کہ مسلمانوں کی آمد نے انھیں اور بھی استحکام بخشا۔ سنسکرت شعریات اور ہندو فلسفہ کے بہت سے عظیم کارنامے مسلمانوں کے ورود ہند کے بعد وجود میں آئے۔ ہندو فلسفہ اور ہندوستانی سائنس(یعنی سائنس سے متعلق وہ کارگذاریاں اور دریافتیں جو بزبان سنسکرت بیان ہوتی تھیں)ان کو پھلنے پھولنے کے جو مواقع تھے وہ مغلوں کے انحطاط کے بعد مفقود نہیں ہوگئے۔ ہندو فلسفہ ¿ شعر میں آخری بڑا کارنامہ عہد شاہجہاں و اورنگ زیب کے پنڈت راج جگن ناتھ کی کتاب ”راس گنگا دھر“ہے ، اور ہندو سائنس کا آخری بڑا کارنامہ عہد اور نگ زیب و محمد شاہ کی وہ رصد گاہیں جو سوائی راجہ جے سنگھ نے دہلی اور جے پور میں قائم کیں اور جنھیں آج ” جنتر منتر“ کے حقارت بھرے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔

جنتر منتر کا ذکر آیا ہے تو اس سے متعلق ایک دلچسپ بات ابھی کچھ دن ہوئے سامنے آئی ہے اور جس سے میرے قول کو مزید استحکام پہنچتا ہے کہ ہندوستانی سائنس اور اسلامی سائنس ہمارے ملک میں لازم و ملزوم تھیں، اور ان کا عروج و زوال ساتھ ساتھ ہوا۔ نصیر الدین طوسی نے ۱۶۲۱ میں اپنی کتاب ”تذکرہ فی علم الہی ¿ت“ تصنیف کی۔ پھر اس نے ۴۷۲۱ میں صرف ”تذکرہ“ کے نام سے اس کا ایک نیا اور اضافہ شدہ روپ اپنے شاگردوں کی اعانت سے شائع کیا۔ طوسی نے اس کتاب میں اس بات کا امکان ظاہر کیا کہ زمین اپنے محور پر سورج کے گرد گھومتی ہے۔ طوسی ، اور اس کے ایک شارح ابن الشاطر دمشقی کے خیالات سے کوپرنکس (Copernics)نے استفادہ کیا، لیکن اس نے ان پر ترقی کرکے یہ بھی کہا کہ زمین نظام شمسی کا حصہ ہے اور اس نظام کا مرکز سورج ہے۔ نظام شمسی کے تمام سیارے سورج کے گرد گھومتے ہیں۔ طوسی کی ایک شرح عبدالعلی بن محمد بن حسین البرجَندی (al-Birjandi) نے ۰۲۵۱ کے آس پاس لکھی۔ اس شرح میں البرجندی نے طوسی کے متبعین ، خاص کر قطب اللہ شیرازی کے خیالات سے بھی بحث کی۔

طوسی کی کتاب کے گیارہویں باب میں بعض ایسے مسائل پیش کیے گئے تھے جنھیں قطب الدین شیرازی ، اور پھر کوپرنکس نے استعمال کیا۔ سوائی راجہ جے سنگھ نے ۹۲۷۱ میں طوسی کے ”تذکرہ“ کا یہی گیارہواں باب ، اور اس پر البرجندی کی شرح کا سنسکرت میں ترجمہ کرایا۔ سنسکرت مترجم نین سکھ اپادھیائے کو عربی نہیں آتی تھی، لہٰذا ایک مسلمان عالم محمد عابد نے البرجندی کے متن کا لفظ بہ لفظ ترجمہ ”ہندی “(یعنی اردو) میں پنڈت نین سکھ کو سمجھایا اور پنڈت نین سکھ نے اسے معیاری سنسکرت میں منتقل کیا۔ عربی اصطلاحات کے معنی سمجھ کر نین سکھ نے ان کے سنسکرت معنی لکھے ، اور جہاں سنسکرت متبادل نہیں تھے ، وہاں انھوں نے سنسکرت متبادل وضع کئے، یا عربی اصطلاحات کو ناگری رسم الخط میں لکھا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ سوائی راجہ جے سنگھ نے البرجندی کے گیارہویں باب ہی کو ترجمے کے لیے منتخب کیا۔ انھیں کوپر نکس کے بارے میں کچھ معلوم نہ رہا ہوگا، اور نہ وہ یہ یہی جانتے رہے ہوں گے کہ البرجندی کے خاص اسی باب کے تصورات و اشکال نے کوپر نکس کو متاثر کیاتھا۔ اگر مغلوں کے زوال کے ساتھ ہندوستانی + اسلامی سائنس کا زوال ہندوستان میں نہ ہوگیا ہوتا تو عین ممکن ہے کہ نین سکھ کے ترجمے کا کوئی طالب علم طوسی ، قطب الدین شیرازی ، البرجندی ، نین سکھ ،اور کوپرنکس کے درمیان ربط ڈھونڈلیتا اور ہماری سائنس میں ایک نئے باب کا اضافہ ہوجاتا۔ نین سکھ کا سنسکرت اور البرجندی کا عربی متن اب انگریزی میں ترجمہ ہوکر آسانی سے دستیاب ہیں۔ اس معاملے کی تفصیل جامعہ ¿ ہمدرد کے رسالے Studies in History of Science and Medicine(مدیر الطاف اعظمی) کے شمارہ نمبر ۲، بابت جولائی – دسمبر ، ۲۰۰۲ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔

یہ بات قابل لحاظ ہے علوم عقلیہ کی روایت اوائل انیسویں صدی تک دہلی اور اودھ میں ایک حد تک قائم رہی۔ اودھ میں خان علامہ تفضل حسین خان نے لاطینی پڑھی اور نیوٹن کی Principiaکا ترجمہ فارسی میں کیا۔ گورکھپور کے ملا عبدالرحیم نے بھی لاطینی اور انگریزی پڑھی اور اردو فارسی میں علمی کارنامے انجام دیئے۔ لیکن یہ ٹمٹماتے ہوئے چراغ کا آخری سنبھالا تھا۔ افسوس کہ اس وقت تک ہماری آنکھیں انگریزی لالٹینوں سے اس درجہ خیرہ ہوچکی تھیں کہ ہم نے اس آخری سنبھالے کی طرف دیکھا بھی نہیں۔

یہ تاریخ کا عجیب واقعہ ہے کہ مشرق بعید اور اسلام کی تہذیبوں میں سائنس اور علوم عقلیہ کا زوال کم و بیش ایک ہی زمانے میں ، یعنی سولہویں /سترہویں صدی سے شروع ہوا۔ ہندوﺅں کا زوال تو مغل تہذیب کے زوال سے وابستہ ہے، کیوں کہ مغل دور میں ہندو فلسفہ و فکر کو پھولنے پھلنے کے پورے مواقع میسر تھے۔ لہٰذا معما صرف یہ نہیں ہے کہ مشرق بعید میں سائنس کا زوال کیوںہوا؟ وہاں تو مذہب اور سائنس میں کوئی تصادم نہ تھا، کیوں کہ ان کا مذہب (بدھ مذہب اور اس کی مختلف شکلیں) خدا کے تصور سے بیگانہ ہے، لہٰذا وہاں فلسفیانہ اور سائنسی تفتیش میں خدا کو منہا کرنے کا کوئی مسئلہ نہیں۔ اور تیسرا معما یہ ہے کہ ان دونوں تہذیبوں میں علوم عقلیہ کا زوال کم و بیش ایک ہی وقت میں کیوں شروع ہوا؟

اس کا آسان جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ مغرب کی برتری کا آغاز ہوا تو مشرق کی بالا دستی کا بھی اختتام لازمی تھا، یعنی مغرب کی بلندی اور مشرق کی پستی ہم معنی ہیں۔ یا یوں کہیں کہ مغرب کے عروج نے مشرق کا زوال پیدا کیا۔ لیکن یہ جواب غیر منطقی ہے۔ تاریخ یا فلسفہ ، یا سائنس کا ایسا کوئی اصول نہیں جس کی رو سے ایک کے زوال اور دوسرے کے عروض میں لازم و ملزوم کا رشتہ ہو۔ تاریخ تو ہمیں یہ بتاتی ہے کہ زمانہ ¿ قدیم میں کئی تہذیبیں ایک ساتھ پھل پھول رہی تھیں۔ سب سے نمایاں مثال تین چار سو برس قبل مسیح کے ہندوستان ، یونان اور چین ہیں کہ سب اپنے اپنے طور پر بیک وقت عروج پر تھے۔ اگر یہ کہاجائے کہ مشرق کا زوال اس وجہ سے ہوا کہ مغرب اس پر غالب آگیا ، تو اس میں کئی غلطیاں ہیں۔ اول تو یہ کہ مشرق بعید کی تہذیبوں پر مغرب کا غلبہ انیسویں اور بیسویں صدی میں ہوا ، اور علم و دانش کا زوال ، یا زوال نہیں تو ٹھہراﺅ اور جمود ، یہاں سولہویں صدی میں شروع ہوگیا تھا۔ یعنی سولہویں صدی کے بعد چین میں نئے سائنسی اور علمی معاملات کو فروغ نہ ہوسکا۔ دوسری بات یہ کہ مشرق وسطیٰ اور ہندوستان اور افریقہ پر مغرب کا غلبہ ہوا ہی کیوں؟ ایسا تو نہیں ہے غلبہ پہلے ہو اور زوال بعد میں ؟ حقیقت یہی ہے کہ ان اقوام کا زوال ان پر مغرب کے غلبے کے باعث نہیں شروع ہوا۔ ان کے زوال کے باعث ان پر مغرب کا غلبہ ہوسکا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مغرب کی بالا دستی قائم ہوجانے کے بعد ان تمام خطوں کے اصل اور روایتی علوم و فنون میں مزید زوال پیدا ہوا ، حتیٰ کہ بعض چیزیں ( خاص کر روایتی صنعت ، حرفت ، اور ٹکنالوجی) تو بالکل ناپید ہی ہوگئیں۔

مسلمانوں میں سائنس کے زوال پر مشرقی حلقوں کے باہر شاید زیادہ غور نہیں کیا گیا، لیکن مشرق بعید کے معاملے پر مغرب میں مشہور ماہر سماجیات ماکس ویبر(Max Weber)، اور اس کے بعد کئی مفکرین نے غور کیا ، لیکن تشفی بخش جواب کسی سے نہ بن پڑا۔ مثلاً ویبر نے کہا کہ سولہویں صدی سے چین میں قدامت پرست نوکر شاہی (Conservative Bureaucracy) کا حکم چلنے لگا۔ ان لوگوں کا طریقہ ”عملی عقلیت پسندی“ کا تھا۔ اور ان کے زیر اثر ملک میں ”عقلیت پرست مہم جوئی“(Rationalist Ambition)کا خاتمہ ہوگیا، پہلے سے قائم شدہ چیزوں پر قناعت کرلی گئی۔ ظاہر ہے کہ اس جواب میں سب سے بڑی کمی ہے کہ اس نے زوال کے اسباب بیان کرنے میں استدلال کو ایک قدم پیچھے دھکیل دیاہے، اور بس ۔ یعنی زوال اس وجہ سے ہوا کہ نوکر شاہی قدامت پرست اور طاقتور تھی۔ لیکن یہی نوکر شاہی پہلے تو روشن خیال اور ترقی پذیری کی ضامن تھی۔ پھر اسے کیا ہوگیا جو اس نے قدامت پرستی کا جھنڈا اٹھالیا؟ ماکس ویبر کے یہاں اس سوال کا جواب نہیں ملتا۔ بعض دوسرے مفکرین کا کہنا ہے کہ چینیوں نے ”لفظ “ (Word)کی جگہ ”طریق“ (Way) کو اختیار کیا۔ اگر وہ ”لفظ“ کو اختیار کرتے تو اشیا کے پیچھے جو حقائق ہیں ، وہاں تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ لیکن انھوں نے ”طریق“ یعنی عملی راہ کو اختیار کیا۔ یعنی اس بات کی فکر نہ تھی کہ ادراکات کی تہ میں جو حقائق ہیں انھیں دریافت کیاجائے۔ ان کی توجہ اس بات پر رہی کہ ان چیزوں کو حاصل اور اختیار کیاجائے جن سے عملی زندگی کوپرامن طریقے سے گذارا جاسکتا ہے۔

ظاہر ہے کہ اس جواب میں ، اور ویبر کے جواب میں کوئی خاص فرق نہیں، اور دونوں ہی جوابات میں یہ کمزوری ہے کہ استدلال ایک درجہ پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، اسے اصل آغاز تک نہیں پہنچایا گیا۔ اگر سولہویں صدی میں اہل چین نے ”لفظ“ کو ترک کیا اور ”طریق“ کو اختیار کیا ، تو سولہویں ہی صدی میں ایسا کیوں ہوا؟ اور ”لفظ“ اور ”طریق“ کی تفریق تو چینی فکر میں کم و بیش روز اول سے تھی۔ پھر اس کے ”خراب “ نتائج سولہویں صدی ہی میں کیوں ظاہر ہوئے؟ ابن خلدون نے قوموں کے عروج و زوال کا جو فلسفہ بیان کیا تھا ، اس کا بنیادی نکتہ کم و بیش یہی تھا کہ قبائلی سماج جب شہری سماج میں بدلتا ہے تو وہ اپنے استحکام اور توسیع کی راہیں ڈھونڈتاہے، پھر جب اسے مخالفوں ، مبارزطلبوں اور رقیبوں کی طرف سے یک گونہ اطمینان ہوجاتا ہے تو وہ اندورونی امن و سلامتی اور معاشرتی عیش و عشرت کی راہ اختیار کرلیتاہے، اور وہیں سے اس کا زوال شروع ہوجاتا ہے۔ لیکن ابن خلدون کا یہ تہذیبی چرخ(Cultural Cycle) کسی معاشرے میں سائنس اور تعقل کے انحطاط کے لیے الگ سے کوئی وجہ نہیں بیان کرتا۔ اور چین کی تہذیب کو اپنے قبائلی عہد سے نکلے ہوئے کوئی تین ہزار برس ہوچکے تھے جب اس کا زوال شروع ہوا۔

ظاہر ہے مشرق بعید کی تہذیبوں کے عروج و زوال کا مطالعہ مسلمانوں کے لیے دلچسپ ہے اور شاید سبق آموز بھی ، لیکن مسلمانوں میں سائنس کے زوال کی وجہیں کہیں اور ہیں، اور ہمیں ضرور ہے کہ ہم انھیں تلاش کریں اور سمجھیں۔ فی الحال میں صرف یہی کہنا چاہتا ہوں کہ صرف مذہب سے شغف ، اور فلسفہ (یعنی علوم عقلی اور سائنس) کا تفحص کرکے لا خدا ہوجانے کا خوف اس زوال کی توجیہ کرنے کے لیے کافی نہیں۔
دوسری بات جسے کہنا میں ضروری سمجھتا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں سائنس کا زوال تو ہوا ہی ، لیکن ابن رشد کے بعد ہمارے یہاں کسی فلسفہ ¿ سائنس کا بھی ارتقا نہ ہوا۔ ملا صدرا نے فلسفے کو مابعد الطبیعیات سے آگے لے جاکر روحانیات ، یا ایک طرح کی اشراقیت سے ملا دیا۔ اس طرح انھوں نے ایک مسئلہ تو حل کیا، کہ عقل اور کشف ایک منزل پر ایک ہوجاتے ہیں۔ لیکن انھوں نے دوسرا مسئلہ حل نہیں کیا، بلکہ اسے اور پیچیدہ کردیا۔ عملی زندگی میں تعقل کا کیا مقام ہے؟ فلسفے کے حقائق کی نوعیت کیا ہے؟ ان حقائق سے مسائل کا استنباط کرکے ہم عملی فائدے حاصل کرسکتے ہیں، لیکن کیا ان سے ہمیں کائنات کے بارے میں کچھ مستحکم علم حاصل ہوسکتاہے؟ خود علم کیا چیز ہے؟ ملا صدرا نے ان سوالوں کو اٹھایا نہیں ۔ لہٰذا ہم لوگ یہ مسئلہ بھی حل نہ کرسکے کہ علوم عقلی یعنی سائنس سے جو علمی نکات ہمیں مستفادہ ہوتے ہیں ، کیا ان کی سچائی مطلق ہے، اور کیا یہ تمام کائناتوں کے لیے برابر کی سچائی ہے؟ یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ ہمارے نکات علمیہ کی حیثیت صرف نظری اور موضوعی ہو؟ یا مخلتف کائناتوں سچائیاں (یعنی سائنس کے قوانین) ہماری کائنات سے مختلف ہوں؟

مغربی سائنس سے ہم لوگوں کا مفصل تعارف انیسویں صدی میں ہوا۔ یہ زمانہ مغربی سائنس کے تبختر (Hubris) کا زمانہ تھا۔ سائنس داں یہ سمجھ رہے تھے کہ ہم اٹل سچائیوں کو دریافت کررہے ہیں اور یہ سچائیاں ہر زمان و ہرمکان میں صحیح ہیں اور سائنسی مشاہد(Observation) اپنی جگہ پر آزاد حقیقت ہے، وہ مشاہد یعنی (Observer) کی ذہنی یا روحانی یا جسمانی صورت حال سے متاثر نہیں ہوتا۔ لہٰذا قرار واقعی مشاہدے موجود ہوںتو ان سے حقیقت کا استنباط ہوسکتا ہے، اور اس استنباط کی بنا پر پیشن گوئیاں کی جاسکتی ہیں۔ اور ان پیشن گوئیوں کو تجربے (Experiment) کے عمل سے گذار کر نظری حکمت (Theory) کو ثابت کیا جاسکتا ہے۔ اس زمانے میں یہ تصور بھی عام تھا کہ زبان کسی نہ کسی سطح پر حقیقت کا بیان کرسکتی ہے۔ یعنی انیسویں صدی کی سائنس تیقن اور خود اعتمادی اور عقل کی قوت پر مطمئن ہونے اور مطمئن رہنے کی سائنس تھی۔ عقل کے بارے میں خیال تھا کہ یہ عقیدے سے برتر ہے ، اور مشاہدے کے بارے میں خیال تھا کہ یہ کشف سے بہتر ہے۔ اور زبان کے بارے میں خیال تھا کہ یہ ریاضی کی سطح پر ، یا ریاضیاتی انداز میں معروضی طور پر حقائق کا بیان کرسکتی ہے۔

سائنس کا یہ فلسفہ آج بڑی حد تک غلط ثابت ہوچکا ہے۔ لیکن ہم لوگوں نے جس طرح انیسویں صدی کے انگریزی تصورات سیاست ملکی و مالی کو کھلے دل سے قبول کیا ، اسی طرح ہم نے انیسویں صدی کے انگریزی (یا مغربی) فلسفہ ¿ سائنس کو قبول کیا۔ بظاہر اس فلسفے میں خدا، نبوت ، وحی ، کشف، تزکیہ ¿ نفس، معاد، وغیرہ کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ سر سیّد نے چاہا کہ قرآن کی سائنسی توجیہ کریں۔ ظاہر ہے کہ وہ ناکام ہوئے (جس طرح آج کے لوگ اس قسم کی کوششوں میں آج پھر ناکام ہورہے ہیں۔) نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے یقین کرلیا کہ سائنس اور مذہب کوئی نقطہ ¿ اتفاق نہیں، سائنس پڑھنے سے ایمان چلا جاتا ہے۔اور ظاہر ہے کہ عقل کے مقابلے میں ایمان زیادہ قیمتی ہے۔ سائنس سے اسی خوف کی بنا پر بعض مسلمان علما کو مجبور ہوکر کہنا پڑا کہ سائنسی ایجادات اور نئی ٹکنالوجی کو برتنا تو ٹھیک ہے ، لیکن خود سائنس پڑھنا ٹھیک نہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ رویہ غیرعلمی ، غیر دیانت دارانہ ، اور اصل مسئلے سے منھ چھپانے کی ایک بھونڈی ترکیب کے سوا کچھ نہیں۔ علاوہ بریں ، سائنس کے میدان میں گڑکھائیں اور گلگلے سے پرہیز والا رویہ چل نہیں سکتا۔ٹکنالوجی اور سائنس ، ٹکنالوجی اور تہذیب ، ٹکنالوجی اور نئے تصورات ، یہ سب ایک ساتھ چلتے ہیں۔ انٹر نیٹ اس کی نمایاں مثال ہے۔ نوبل انعام یافتہ مشہور سائنس داں اسٹیون وائن برگ(Steven Weinberg) نے لکھا ہے کہ روز صبح پہلا کام میں یہ کرتا ہوں کہ کمپیوٹر کھول کر لاس الاماس(Los Alamos) کی ویب سائٹ پر جاتا ہوں کہ دیکھوں کل سے آج صبح تک کے دورانیے میں نظری طبیعیات (Theoretical Physics) میں کون سی نئی باتیں ظہور میں آئی ہیں۔
اگر ہم جدید فلسفہ ¿ سائنس کا مطالعہ کریں ، یا جدید سائنسی افکار کو دیکھیں ، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ سائنس کی وہ قطعیت ، اور اس کا دعویٰ کہ وہ ”اٹل حقائق“ سے معاملہ کرتی ہے، اب باطل ہوچکا ہے۔ آج کی سائنس بھی اپنے طور پر انکسار ، شکوک اور بے یقینی کے دور سے گذر رہی ہے۔ اور یہ دور غالباً ہمیشہ قائم رہے گا، کیوں کہ سائنس کے بارے میں ہمارے تصورات اب بدل چکے ہیں۔ اب سائنس کو مذہب کے لیے کوئی بہت طاقتور چنوتی نہیں کہا جاسکتا ہے۔ اب سائنس میں اس طرح کا قول کسی استعجاب کا باعث نہیں بنتا کہ ”حقیقت( خواہ وہ جانی جا سکتی ہو یا نہیں) اور اس کے پیکر (Image) کے درمیان ایک خلیج ہے۔“
اب فلسفہ ¿ سائنس اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ سائنسی بیانات بھی محض بیانیہ ¿ اعظم (Grand Narratives)ہیں۔ یعنی جس طرح فلسفہ یامذہب کائنات کو بیان کرنے ، یعنی اس کی تصویر کھینچنے اور اس کے اسباب و علل کی داستان بیان کرنے کا عظیم الشان طریقہ ہیں، سائنس بھی اسی طرح کا بیانیہ ¿ اعظم ہے۔ خواہ وہ ارتقائی حیاتیات (Evolutionary Biology) ہو یا نظریہ ¿ اضافیت (Relativity)، کونیات (Cosmology) ہو، یا کوانٹم طبیعیات (Quantum Physics) ، یہ سب تمام دوسرے بیانیوں کی طرح ناقص ہیں اور زبان کے محکوم ہیں۔ ان علوم کو حقیقت اصلی سے اسی قسم کا تعلق ہے جو کسی طنز ملیح (Irony) اور اصل صورت حال میں ہوتا ہے۔ طنز ملیح یا (Irony) کا تفاعل یہ ہے کہ وہ لفظ اور حقیقت کے مابین خلیج کی طرف اشارہ کرتا ہے ۔مثلاً غالب
سر اڑانے کے جو وعدے کو مکرر چاہا

ہنس کے بولے کہ ترے سر کی قسم ہے ہم کو
یہاں ” ترے سر کی قسم“ اور اصل حقیقت کے درمیان ایک تفاوت ہے۔ ہم یہ فیصلہ نہیں کرسکتے کہ آیا اس فقرے کے متکلم کی مراد یہ ہے کہ ” ہم تمہارے سر کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تمہارا سر کاٹ کر ہی رہیں گے۔“ یا متکل کی مراد یہ ہے کہ ” ہم نے تمہارا سر نہ کاٹنے کی قسم کھائی ہے]لہٰذا ہمارا وعدہ محض طفل تسلی تھا[۔“ یا اس کی مراد یہ ہے کہ ” ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ تمہارا سر ضرور کاٹیں گے۔“ اصل معنی صرف متکلم کو معلوم ہیں، ہم صرف قیاس کرسکتے ہیں کہ اصل معنی کیا ہیں۔ بعض اوقات (Irony) طنز ملیح یوں پیدا ہوتا ہے کہ اصل معنی متکلم کو اور پاس کھڑے ہوئے سننے والے کو (مثلاً ڈرامے کے سامع کو) معلوم ہوتے ہیں، لیکن مخاطب کو نہیں معلوم ہوتے۔

سائنسی بیانات کے بارے میں اعتراف ، کہ وہ بھی دیگر بیانات کی طرح ہیں ، یعنی سچائی ان کے اندر ہے ، یا ان کے ماورا ہے ، ہمیں اس بات کا احساس دلاتا ہے کہ حقیقت کے دوسرے ممکن سرچشمے اور خزانے ، مثلاً اسطور (Myth) ، مذہب ، شعر و ادب ، اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ انھیں انسانی معاملات میں وہ جگہ دلائی جائے جس کا انھیں استحقاق ہے، اور صدیوں کی عقلیت پرستی نے جس سے انھیں بے دخل کردیا ہے۔ بقول لوسی بیکیٹ (Lucy Becket) اب یہ کہا جاسکتا ہے غیر سائنسی (یعنی مذہبی) بیانیہ ¿ اعظم میں ایک سچائی پوشیدہ ہے، بلکہ شاید اس میں سچائی کا کچھ جز ، بلکہ شاید پورا ہی پورا سچ موجود ہے۔ مندرجہ بالا بحث سے یہ دو نتائج نکلتے ہیں۔

(۱) سائنس کے بیانات اٹل اور مطلق اور تیقن سے بھر پور نہیں ہیں، جیسا کہ ابن رشد نے خیال کیا تھا ، اور جیسا کہ ہم انیسویں صدی کے مغربی تصورات کے زیر اثر سمجھتے آئے ہیں۔

(۲) مذہب کے بیانات میں سچائی کے پوشیدہ ہونے ، یا ان کے پورا پورا سچ ہونے کا امکان ہے۔
مندرجہ بالا نتائج لاخدا سائنس کی زبان میں بیان کیے گئے ہیں۔ یعنی وہ سائنس جو خدا کے وجود میں یقین رکھنے کو دریافت حقیقت کے لیے لازمی شرط نہیں مانتی ، اور کہتی ہے کہ سائنس کے مشاہدات ، تجربوں ، اور نتائج کی صحت کے لیے خدا کے وجود کا سہارا لینا ، یا خدا کو مرافعے کی آخری عدالت (Court of Last Appeal) قرار دینا ضروری نہیں۔ اگر یہ تصور کرلیا جائے کہ خدا موجود ہے ، تو ان نتائج کو حسب ذیل الفاظ میں بیان کیا جائے گا:

(۱) سائنس کے بیانات اٹل اور مطلق اور تیقن سے بھرپور نہیں ہیں، جیسا کہ ابن رشد نے خیال کیا تھا، اور جیسا کہ ہم انیسویں صدی کے مغربی تصورات کے زیر اثر سمجھتے آئے ہیں۔

(۲) سائنس کے بیانات اسی وقت تک سچے ہیں جب تک وہ غلط نہیں ثابت ہوجاتے۔ سائنس کے بیانات میں سچ کا امکان ہے، لیکن یہ بات ثابت نہیں کہ ان میں سب کچھ سچ ہے۔ سائنس کے بہت سے نظریات اور پیشن گوئیاں عام دنیا میں صحیح ثابت ہوتی ہیں ، لیکن اس بات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ وہ نظریات اور پیشن گوئیاں مطلقاً اور دائماً سچ ہیں۔

(۳) مذہب کے بیانات اس مفروضے پر مبنی ہیں کہ خدا کا وجود ہے۔ سائنس کاکوئی بیان خدا کے وجود کو کالعدم نہیں قرار دے سکتا، کیوں کہ سائنس کے تمام بیانات خود ہی غیر مطلق اور اضافی ہیں۔ خدا کے وجود میں یقین رکھنے والوں کا عقیدہ ہے کہ مذہب کے بیانات سچ ہیں۔

(۴) لہٰذا سائنس کے ذریعہ مذہب کی بے دخلی ممکن نہیں، اور نہ مذہب ہی سائنس کو بے دخل کرسکتا ہے۔ یعنی اگر مذہب کاکوئی بیان سائنس سے متغائر ہو تو بھی مذہب کے بارے میں صرف یہ کہاجائے گا کہ یہ سائنس سے مختلف عالم کی بات ہے، لیکن دونوں یکجا بھی رہ سکتے ہیں، اس معنی میں کہ سائنس یہ نہیں کہتی کہ خدا کا وجود نہیں ہے۔ سائنس صرف یہ کہتی ہے کہ خدا کے وجود کو ثابت کرنا ہمارے سروکاروں میں شامل نہیں۔ خدا کو معرض بحث میں لائے بغیر بھی سائنس کے مسائل پر بحث ہوسکتی ہے۔

(۵) ابن رشد کے اس خیال میں صداقت ہے کہ مذہب کی سچائیاں اور سائنس کی سچائیاں الگ الگ عالم سے ہیں، ان میں کوئی آویزش نہیں۔
آج کل امریکہ میں ایک بحث زوروں پر ہے۔ ایک گروہ خود کو ”تخلیق پسند“ (Creationist) کہتا ہے۔ اس کا دعویٰ ہے کہ ڈارون اور اس کے متبعین نے ارتقا (Evolution) اور تنازع اللبقا (Struggle for Existence) اور بقائے اقویٰ (Survival of the Fittest) اور جینیاتی تغیر (Mutation of the Gene)وغیرہ کی جو باتیں کہی ہیں ، وہ سب غلط ہیں۔ کرہ ¿ ارض پر حیات (Life) کا وجود خداے تعالیٰ کے منصوبے اور اس کی قوت تخلیق اور سنت ایجاد کا مرہون منت ہے۔ آدم علیہ السلام پہلے انسان تھے ، اور دنیا میں جتنے انواع حیات (Species of Life) ہیں، یا ہوئے ہیں ، وہ سب اللہ تعالیٰ نے فرداً فرداً تخلیق کیے ہیں۔ آپ کو معلوم کرکے تعجب ہوگا کہ امریکی سائنس دانوں میں اس وقت کم و بیش تیس فیصدی ایسے ہیں جو خود کو کسی نہ کسی معنی میں ” تخلیق پسند “ (Creationist)اور ”ارتقا پسند“(Evolutionist) دونوں مکاتب فکر کے خیالات کی تعلیم دیں۔
مذہب اسلام اور سائنس کے درمیان سب سے زیادہ تناقض مسئلہ ¿ ارتقا(Evolution) کے مباحث میں ہے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہاں سائنس دانوں کی تمام باتیں خلاف مذہب ہیں۔ ہم میں سے بعض کے لیے یہ اطلاع حیرت انگیز اور نئی ہوگی کہ زمانہ ¿ قدیم کے بعض مسلمان حکما نے ایسی باتیں کہی ہیں جن میں ڈارون کے نظریہ ¿ ارتقا کی پیش آمد (Anticipation) ملتی ہے۔ علامہ شبلی لکھتے ہیں (’مقالات شبلی ‘، جلد ہفتم ، ص۔ ۷۶)
”عام لوگوں کا خیال ہے کہ دنیا جب پیدا ہوئی تو جمادات ، نباتات ، حیوانات ، سب ایک ہی زمانہ میں پیدا ہوئے ، اور الگ الگ پیدا ہوئے۔ ڈارون کی رائے ہے کہ پہلے صرف نوع پیدا ہوئی، وہی ترقی کرتے کرتے انسان کی حد تک پہنچ گئی۔ یہ ظاہر ہے کہ دونوں احتمالوں میں کوئی قطعی نہیں، یوں بھی ہوسکتا ہے اور ووں بھی۔ اس لیے اتنا تو بہر حال مان لینا چاہیے کہ ڈارون جو کچھ کہتا ہے وہ ایسی چیز نہیں جس کی ہنسی اڑائی جائے۔ وہ بھی ایک احتمال ہے اورتم جو کہتے ہو وہ بھی احتمال ہے، اور دونوں میں کوئی قطعی اور یقینی نہیں۔“
ملاحظہ ہو کہ سائنس کے بارے میں مغرب والے اب کہنے لگے ہیں (کہ سائنسی بیانات مطلق نہیں ، احتمالی نوعیت کے ہیں،) اسے علامہ شبلی نے کوئی سو برس پہلے (۷۰۹۱ءمیں) کہہ دیاتھا۔ اور یہ بھی ملاحظہ ہو کہ علامہ کو اس رائے میں کوئی مذہبی قباحت نہیں نظر آتی کہ ”پہلے صرف نوع پیدا ہوئی ، وہی ترقی کرتے کرتے انسان کی حد تک پہنچ گئی ۔“ شبلی کی نظر میں یہ رائے ، اور قرآن پاک میں بیان تخلیق آدم و حوا کی روایت ، کوئی تضاد نہیں پیدا کرتیں۔ اگر وہ خیال کرتے کہ یہاں تضاد ہے ، تو وہ اس کا ذکر ضرور کرتے۔
آگے چل کر علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ اخوان اصفا کے اراکین کے نظریات حسب ذیل تھے (ص۔ ۹۶- ۳۷):

(۱) نباتات کا انتہائی درجہ حیوانات کے ابتدائی درجے سے متصل ہے، اور حیوانیت کا انتہائی درجہ انسانیت ے ابتدائی درجے سے ملا ہوا ہے۔

(۲) نباتات میں ایسے بھی ہیں جو جسم کے اعتبار سے نباتات اور نفس کے اعتبار سے حیوان ہیں۔

(۳) سب سے کم درجے کا حیوان وہ ہے جس کے صرف ایک حاسہ ہوتا ہے۔ اس کے کان ، آنکھ ، شامہ ، ذائقہ ، کچھ نہیں ہوتا۔ چنانچہ اکثر کیڑے جو مٹی میں اور دریاﺅں کی تہ میں پیدا ہوتے ہیں ،اسی قسم کے ہوتے ہیں۔
غور کیجئے ، کون کہہ سکتا ہے کہ مندرجہ بالا خیالات میں ارتقا (Evolution) اور آغاز حیات کے ڈارونی تصورات کی جھلکیاں نہیں نظر آتیں؟ شبلی مزید لکھتے ہیں ابن مسکویہ نے بھی اس مسئلے پر کلام کیا ہے۔ابن مسکویہ کہتاہے۔ (ص ص ۳۷ – ۰۸):

(۱) جماد کا آخری درجہ نبات ہے۔ گھاس کا درجہ جماد اور نبات کے بیچ میں ہے۔ پھر نباتات میں قوت و حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ اتنی ہوجاتی ہے کہ اس کی شاخیں ہوتی ہیں ، وہ پھیلتا ہے اور تخم کے ذریعہ اپنی نسل کی حفاظت کرتا ہے۔
(خیال رہے کہ تنازع للبقا کی بحث میں تنازع للبقا ے نفس کی جگہ تنازع للبقاعے نسل یعنی ”نسل کی حفاظت“ کا تصور ہمارے زمانے میں رچرڈ ڈاکن (Richard Dawkin)نے سائنسی طور پر بیان کیا اور اسے ”خود غرض جین “ (The Selfish Gene) کا نظریہ کہاجاتا ہے۔)

(۲) نبات جب اپنی منزل سے آگے بڑھتا ہے تو اس کا پہلا زینہ یہ ہے کہ زمین سے الگ ہوجائے ، تاکہ وہ اختیاری حرکت کرسکے۔
(یہ بھی خیال رہے کہ جدید سائنسی بحثوں میں ”زندہ“ اور ”غیر زندہ“ (Life and non-life) میں فرق کرنے کا ایک معیار یہ بھی ہے کہ ”زندہ“ کو حرکت ہے اور ”غیر زندہ“ کو حرکت نہیں۔)

(۳) حیوان ترقی کرکے انسان کی سرحد میں داخل ہونا چاہتا ہے۔ اور یہ درجہ بندر وغیرہ کا ہے جو انسان سے بالکل مشابہ ہیں اور ان میں اور انسان میں تھوڑا ہی فرق ہے، جس کو بندر اگر طے کرلیں تو بالکل انسان ہوجائیں۔
(واضح رہے کہ جدید جینیات (Genetics) کے مطابق انسان اور چمپانزی کے درمیان ۹۹ئ۹ فیصدی جین مشترک ہیں ۔ یعنی صرف اعشاریہ ایک فیصدی جین ہمارے جسم میں ایسے ہیں جو چمانزی کے جسم میں نہیں ہیں۔)
آپ دیکھ سکتے ہیں کہ اخوان الصفا اور ابن مسکویہ نے نظریہ ¿ ارتقا کا تقریباً خاکہ ہی بنادیا ہے۔ ان کے یہاں تنازع للبقا (Struggl for Existence) اور بقاے اقویٰ (Survival of Fittest) اور جینیاتی تغیر (Mutation of the Gene) کے تصورات نہیں ہیں، لیکن بنیادی خاکہ سب موجود ہے۔علامہ شبلی اپنے مضمون کے آخر میں نظامی عروضی کے اقتباسات پیش کرتے ہیں:

(۱) جس قدر حاسے کم ہوں گے ، اتنا ہی کم درجے کا وہ ناقص حیوان ہوگا۔ کیچوے سے زیادہ کوئی ناقص حیوان نہیں ہوتا۔

(۲) بن مانس انسان کے بعد تمام حیوانات میں ترقی یافتہ ہے۔
اب آخر میں بیدل کا ایک شعر میں پیش کرتا ہوں
ہیچ شکلے بے ہیولیٰ قابل صورت نہ شد
آدمی ہم پیش از آں کادم بود بوزینہ بود
( اوائلی خاکہ نہ ہوتو کوئی بھی شکل صورت پذیر نہیں ہوتی ۔ خود انسان پہلے بندر تھا ۔ پھر انسان بنا۔)
یہ خیالات جن لوگوں کے ہیں ان کے بارے میں ، یا ان خیالات کے بارے میں ، کسی نے نہیں کہا کہ وہ غیر اسلامی ہیں۔ اور وہ سائنس داں جو خود کو ”تخلیق پسند“(Creationist) کہتے ہیں، ان کوبھی لوگ سائنس داں ہی مانتے ہیں۔

ممکن ہے یہ بات اب کچھ واضح ہوچلی ہو کہ مذہب اور سائنس چاہے یک جا نہ ہوسکیں ، لیکن ایک دوسرے کی راہ میں ہارج بھی نہیں ہیں۔ فلسفہ ¿ سائنس کے جدید نظریات کو ملحوظ رکھیں تو مذہب کی پابندی سے سائنس کی تکذیب لازم نہیں آتی۔ ہم اگر جدید فلسفہ ¿ سائنس کو اختیار کرلیں تو ہمارے لیے علوم عقلیہ میں ترقی کی نئی راہیں کھل سکتی ہیں۔