Anis Javed ki Drama Nigari

Articles

انیس جاوید کی ڈراما نگاری

ڈاکٹر ذاکر خان

 

اردو ڈراموں کا سفر بر سہا برس پر محیط ہے۔سنتے ہیں کہ ڈرامے پرانے زمانے میں سنسکرت اور یونانی روایتوں کے امین و علمبردار ہوا کرتے تھے ۔ڈراموں کا دائرہ مذہب اورسماجی رسم ورواج کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔مگر دھیرے دھیرے لوگوں کے شوق بدلتے گئے،مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور سماجی رسم و رواج پر گرد جمنے لگی ، نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرامے بامِ عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی رو بہ زوال ہوتے چلے گئے۔سماجی سطح پر بدلتا ہوا شوق مکمل طور پر شاعری کے سحر سے باہر نہ آ پایا اور شاعری عوامی تفریحِ طبع کا واحد ذریعہ ٹھری۔پھر کسے فرصت تھی کہ ڈراموں کی سنگلاخ وادیوں کا سفر کرے اور دشوار گذار گھاٹیوں کی گہرائی ناپے۔ڈرامے قارئین اور ناظرین کی تفریح کا سامان تو تھے ہی لیکن انھیں تخلیق کرنا اور اسٹیج پر کھیلنا کافی مشکل تھا۔ یہی سبب تھا کہ اِس جانب کم ہی توجہ دی گئی۔لیکن دھیرے دھیرے مایوسی کے بادل جھٹنے لگے اور ایک دور وہ بھی آیا جب ڈراموں کونواب واجد علی شاہ کے ذریعے شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور یہیں سے ڈراموں کی تاریخ کا سنہری دور شروع ہوا۔اور مختلف ادوار میں مختلف نامور ہستیاں ڈراموں کی بقا کے لیے کوششیں کرتی چلی گئیں۔ آغا حشر کاشمیری سے لیکر منٹو تک اور منٹو سے لیکر حبیب تنویر تک اور پھر حبیب تنویر سے انیس جاوید تک بیشمار ڈرامہ نگار تھیٹر کے منظر نامے پر ظاہر ہوئے لیکن اُن میں کم ہی ایسے ہونگے جنھوں نے خود اپنے تخلیق کردہ ڈراموں میں ایکٹر اور ڈائرکٹر کے فرائض انجام دیے ہوں۔ انیس جاوید کا شمار انھیں صفِ اوّل کے ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے جو اپنوں ڈراموں کے نہ صرف رائٹر ہیں بلکہ انھیں ایکٹر اور ڈائرکٹر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ انیس کے معاصرین خود آپ کی عظمتوں کو سلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور صدق دل سے اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انیس نے اپنے فن کو وہ جلا بخشی کہ ہم بھی نمبر ایک پر آنے کے تمنائی ہوگئے۔” ابھی تو رات ہے “پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال نیازی یوں کہتے ہیں کہ
“۱۹۷۸؁ سے ۱۹۸۲؁ کے دوران انیس جاوید ہر سال اپنا ڈرامہ مقابلے میں لاتے اور اوّل انعام لے جاتے اور ہم دوست احباب دوّم انعام حاصل کر کے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے کہ ہم سیکنڈ کیوں ہو رہے ہیں ”
انیس جاوید سے میرے مراسم دیرینہ نہ سہی مگر کم بھی نہیں ۔ میں انھیں پچھلے دس سالوں سے جانتا ہوں ۔ آپ کی شخصیت خلوص، ایثار ، ہمدردی اور انسان دوستی سے عبارت ہے ۔عصرِ حاضر میں انیس جاوید ڈراموں کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ لیکن آپ کی دنیا صرف ڈراموں تک ہی محدود نہیں ۔آپ نے اپنے فن اور صلاحیتوں کا بخوبی استعمال فلموں اور ٹی وی سیریئلس میں بحسن خوبی کیا ہے۔ایک طرف آپ نے فلموں میں رائٹر ڈائرکٹڑ کے فرائض انجام دیے تو دوسری طرف سرئیلس میں مکالمہ نگاری اور گیت کے ذریعے اپنے فن کو کمالِ عروج تک پہنچا دیا۔مگر ڈرامہ ہمہ وقت انیس جاوید کا شوق ہی نہیں جنون بھی رہاہے جو اب بھی رواں دواں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر میں ادب جنونی لوگوں کی بدولت ہی زندہ رہتا ہے جو مال و منال کی پرواہ کئے بغیر منزلِ لا مکاں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیںاس لحاظ سے انیس جاوید بھی کم جنونی نہیں ۔ ڈراموں کے اسٹیج پر آپ کے قدم تقریباًچالیس برسوں سے کسی ستون کی مانند ایستادہ ہیں ۔عمارتیں پرانی ہوگئیں ، اسٹیج رو بہ زوال ہیں ، ناظرین بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن انیس جاوید کا جذبہ آج بھی جوان ہے۔
انیس جاوید سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انیس جاوید Etvاردو کے لیے بیت بازی کا مقابلہ شوٹ کروارہے تھے اور ہم بھی شاملِ مقابلہ تھے۔اس ملاقات پر یقین نہیں آیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے بے شمار ڈرامے تخلیق کیے، سیرئیلس کی اسکرپٹ میں چار چاند لگائے،فلموں کے لیے اسٹوری لکھی مکالمے تحریر کیے، ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے اور بذاتِ خود اپنے ڈراموں میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ میرے ذہن نے کچھ اس طرح اُن کا خاکہ بنانا شروع کیا کہ ایک عام سا نظر آنے والاشخص، ہونٹوں پر مخلص مسکراہٹ، دل میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی مشفق محبت ، چہرے پر متانت و سنجیدگی، گفتار میں شائستگی، کردار میں پختگی،کام میں سلیقہ مندی، سوچ کے آئینہ دار جذبات،انگلیوں سے چپکی ہوئی ایک مہین سی امپورٹیڈ سگریٹ جو کبھی انگلیوں کی پکڑ میں جل جاتی اور کبھی محبوبہ بن کر لبوں کو چوم لیتی ۔ محبوبہ بھی ایسی جو چوبیس گھنٹے اُن کا ساتھ نہ چھوڑے۔مَیں نے خود سے سوال کیا، کیا اتنا سنجیدہ نظر آنے والا شخص اپنے ڈراموں سے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل پر چوٹ کر سکتا ہے؟ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے نچوم کے افسانوی کردار کو حقیقت کا روپ دیدیا؟میری الجھن اُن سے چھپی نہ رہ سکی فوراً مجھ سے سوال کیا ،سر کیا سوچ رہے ہو؟مَیں اچانک تخیّلات کی ماورائی دنیا سے باہر آگیااور مجھ پر یہ راز بھی منکشف ہو گیا کہ انیس صرف فنکار ہی نہیں چہرہ شناس بھی ہے جو چہرے کے نقوش سے شخصیت کے پیچ و خم پڑھنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔لبوں کی تھرتھراہٹ سے مدّعی کا مدّعا جان لینا اُن ہی کا وصف ہو سکتا ہے۔پھر انیس مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا ، سر آپ شاعری کا تو اچھا ذوق و شوق رکھتے ہو کبھی ہمارے ساتھ ڈرامہ بھی کرلوویسے بھی زندگی ایک ڈرامہ ہی ہے اور ہم سب سانسوں کی ڈور پر چلنے والی کٹھ پتلیاں۔مَیں نے ہچکچاتے ہوئے ڈرامے کے لیے ہاں کردی۔اِس طرح سے انیس جاوید کی رہنمائی ایک ٹیچر کو ایکٹنگ کی طرف مائل کرنے لگی بعد میں پتہ چلا کہ انیس جاوید کی پوری ٹیم ہی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔اِن میں منصف قریشی بھی ہیں اور محمّد رفیق شیخ بھی،مشتاق زبیر بھی ہیں اور رمضان امین بھی۔ خاکسار کو سب سے پہلے “دو گز زمین” میں کام کرنے کا موقع ملااور پھر مواقع بڑھتے گئے۔ڈراموں سے ہٹ کر ہم نے ڈی ڈی اردو اور Etvاردو کے لیے بھی اُن کے ساتھ کام کیا۔ انیس جاوید کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر ایکٹر کو مرکزی کردار کا اہل بنا دیتے ہیں ۔ اُن کی ٹیم میں شامل ہر ایکٹر نے مختلف ڈراموں میں مرکزی کردار نبھائے ہیں۔مَیں نے اوپر ہی بیان کردیا کہ انیس جاوید چہرہ اور شخصیت پڑھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔دو ڈراموں کے بعد ہی مجھے “سمندر خاموش ہے”میں “دیش”کا مرکزی کردار مل گیا۔شروعات میں کچھ ڈر بھی لگا مگر دھیرے دھیرے ڈر کافور ہوتا گیا۔ریہرسل پر اُن کا رویہ انتہائی دوستانہ ہوتا مگر مسلسل غلطیوں پر رشتے ناطے ، دوستی و دلبری کی روایات طاق پر رکھ دی جاتی اور اُن کے منہ سے لکلتا “pack up”چند لمحوں تک اپنی ٹیم کی طرف دیکھتے ، سگریٹ غالبؔ کی کافر مئے کی طرح لبوں سے چپک جاتی دھواں فضائوں میں مرغولے بنانے لگتا اور وہ دھویں کو کچھ اِس طرح دیکھتے جیسے اسکرین پر پورا ڈرامہ نظر آ رہا ہو۔پھر مسکراتے ہوئے اپنی ٹیم سے کہتے ، چلو بھائی ایک کوشش اور کرلی جائے اور وہ کوشش ہماری آخری کوشش ہوتی اور ڈرامہ فائنل ہوجاتا۔شاید ہی کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں آپ کو pack up نہ کہنا پڑا ہو۔
آپ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے ایک مصلح کا کردار ادا کیا ،جو سماج کی ہر برائی پر چوٹ کرتا ہے سماج کی ہر غلطی پر اصلاح کرتا۔ سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت اور مساوات پر یقین آپ کی عمر کے ہر اُس فنکار کا خاصّہ ہے جس نے غربت اور غرباء کو قریب سے دیکھاہو،اُن کے مسائل جانے ہو، سسکتی ہوئی آہیں سنی ہو ، بلبلاتے ہوئے بچے دیکھے ہوں، سیکولرزم کی دہائی دیتی ہوئی جمہوریت کو پرکھا ہو، دھوپ سے کھیتوں میں جلتے ہوئے جواں جسم اور بڑھاپے میں سردیوں سے ٹھٹرتی ہوئی ادھ مری لاشیں دیکھی ہوں،جمہوریت کا گلا ریت کر دیش کو کھوکھلا کرنے والے نیتائوں سے روبرو ہوا ہو، کچھ حد تک یہ بات انیس جاوید کے فن میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ جب شوکت کیفی کی موجودگی میں انھیں اپنے ڈرامے “ابھی تو رات ہے”پر اوّل انعام سے سرفراز کیا گیا تب بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلا اردو اکادیمی کو لال سلام ،شوکت کیفی کو لال سلام۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک زمانہ جو اُن کا معترف تھا منحرف ہوگیا، صلاحیتیں عیب نظر آنے لگیں اور انیس کے تار سرخ پرچم سے منسوب کردیے گئے۔ طوفان اٹھے ،بلائیں لادی گئیں مگر عشقِ صادق نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انیس اپنی عمر کی سیڑھیاں چڑھتے رہے مگر جذبہ روز افزوں جواں ہوتا رہا۔ ساٹھ بہاریں دیکھنے کے بعد بھی وہ اُسی طرح چاک و چوبند جیسے وہ تیس برس قبل تھے۔
انیس جاوید کے ڈراموں کا ایک خاص وصف جو اوروں سے انھیں منفرد کرتا ہے وہ قبولیتِ عام ہے۔عوام و خواص ، امیر و غریب ، اور ہر عمر کے افراد اُن کے ناظرین ہی نہیں شیدائی بھی ہیں۔آپ کے ڈراموں کے مجموعے” ابھی تو رات ہے “اور”معمار جہاں تو ہے ” منظرِ عام پر آ کر قارئین سے دادو تحسین حاصل کرچکے ہیں لیکن یہ اُن کی معراج نہیں ،انہیں تو ابھی اوجِ ثرّیا تک سفر کرنا ہے۔وہ اپنے ڈراموں کے ذریعے سماج کو ایک نیا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔شاید ہی ان کا کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں انہوں نے ناظرین کا دل جیت کر انھیں سوچنے پر مجبو ر نہ کیا ہو۔ ڈراموں کے کردار مکالمے اور پلاٹ میں غضب کا تال میل پایا جاتا ہے۔بھرتی کے کرداروں اور بے جا مکالموں سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ڈراموں میں کردار وںکی بہتات نہیں ،وہ کم کرداروں کے ساتھ بھی کامیاب ہیں۔ آپ ہر سین کے تانے بانے انتہائی کمالِ خوبصورتی سے بنتے ہیں ۔ابتدائی مراحل میں یوں نظر آتا ہے جیسے کینوس پر کسی مصّور نے آڑھی تیڑھی لکیریں کھینچ دی ہوں لیکن جیسے جیسے ڈرامہ آگے بڑھتا ہے یہ آڑھی ٹیڑھی لکیریں خوبصورت پیکر میں ڈھلنے لگتی ہیں مگر مصّور کو اطمینان نہیں وہ اسٹیج پر پہنچنے تک اُسے finishing touch دیتا رہتا ہے۔ انیس بھی انہیں عظیم مصّوروں اور فنکاروں میں شامل ہیں جنھیںاپنے فن کی خوبصورتی دیکھ کر محض خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا گوارہ نہیں۔وہ ہمہ وقت اُسے اور زیادہ نکھارنا اور سنوارنا چاہتے ہیں ۔ہم سے بہتر انہیں کون جان سکتا ہے جنھوں نے اُن کے ساتھ کام کیا ہے۔ کسی ڈرامے کے پانچ پانچ شو ہوجانے کے بعد بھی اُن کی اصلاح بدستور جاری رہتی ہے۔اور وہ خوب سے خوب تر کے سفر کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔
“ابھی تو رات ہے “کا بھیکو ہو یا “دو گز زمین “کا نچوم، “سمندر خاموش ہے “کا دیش ہو یا “معمارِ جہاں تو ہے “کا معلّم انیس جاوید نے ہر جگہ اپنے کرداروں کو بلندی عطا کی ہے۔حالات کا مارا بھیکو جاگیردارنہ نظام کے خلاف در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے ، انصاف کے لیے ہر اُس دروازے پر دستک دیتا ہے جہاں سے اُسے معمولی سی بھی امید ہو مگر اُس بے چارے کو کیا پتہ کہ انصاف تو امیروں کی لونڈی اور جاگیرداروں کی رکھیل بن چکا ہے۔ اپنا سب کچھ لُٹ جانے کے بعد وہ حواس باختہ ہوجاتا تب اُسے کہیں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک جگہ ایسی بھی جہاں گھنٹہ بجائو اور انصاف پائو،بے چارہ ہانپتے کانپتے وہاں پہنچ تو جاتا ہے مگر دروازے پر لگا ہوا بڑا سا تالا اُسے مبہوت کردیتا ہے اور پھر واچ مین کی کرخت آواز آتی ہے کہ کہ ابھی انصاف کہاں ابھی تو رات ہے۔انیس جاوید نے اپنے اِس ڈرامے کے ذریعے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کے ساتھ ساتھ چترورنیہ پرمپرائوں پر زبردست تنقید کی ہے۔جہاں نچلی ذات مسلسل استحصال کا شکار ہے۔کوئی پرسانِ حال نہیں گویا یوں لگتا ہے کہ دبتے رہنا اور کچلا جانا ہی اُن کا مقدرہو۔آخر یہ سماجی نابرابری کب ختم ہوگی؟ بھیکو کو انصاف کب ملے گا؟ کب سماج ظالم و جابر جاگیرداروں اور سود خور مہاجنوں کی گرفت سے آزاد ہوگا؟اسی طرح ” سمندر خاموش ہے”میں انیس جاوید کے ظالم و جابر کردار کرپٹ نیتائوں کے روپ میں نظر آتے ہیں جو دیش کی ایک ایک چیز نیلام کرکے اُسے بیرونی قرضوں کا تاج پہنا دیتے ہیں۔اور دیش کی حالت برٹش دورسے زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ یوں لگتاہے انیس جاوید سماج و معاشرے کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اُس کے ہر دکھ پر چینخ پڑتے ہیں ہر قرب پر بلک اُٹھتے ہیں۔اور تن من دھن کے ساتھ سماج میں خوشحالی کے متمنّی ہیں۔
انیس جاوید خود بھی درس و تدریس سے وابستہ تھے پھر آپ طلبا کے مسائل سے کیسے چشم پوشی کرتے۔فی زمانہ طلبا کے لیے صحیح کرئیر کا انتخاب انتہائی اہم مسئلہ ہے ۔ آپ نے اپنی فنکارانہ مہارت سے طلبا اور سرپرستوں کے لئے “آو کہ چھولیں خوابوں کو”تحریر کیا اور اسٹیج کی زینت بناتے ہوئے والدین کو تلقین کی کہ وہ اپنی سرپرستانہ رائے بچوں کے ذہنوں پر مسلّط نہ کریں انہیں خود اپنے کرئیر کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد رکھیں۔ اسی طرح آل مہاراشٹر آئیڈیل ٹیچر کانفرنس میں الفلاح ہائی اسکول ملاڈ کے پرنسپل کی فرمائش پر “معمارِ جہاں تو ہے”نامی ڈرامہ پیش کیا اور بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ڈرامہ کے فوراًبعد مولانا آزاد ٹیچر ٹرینگ کالج دربھنگہ کے پروفیسر ڈاکٹر صدّیقی محمد محمود صاحب کو سامعین سے مخاطب ہونا تھا ۔مگر لوگ ڈرامے کے سحر سے باہر نہ آسکے محمود صاحب اورنگ آباد میں میرے بھی استاد رہے ہیں۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد آپ نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ
“ذاکر میں نہیں سمجھتا کہ اورنگ آباد میں مَیں نے آپ کے ساتھ کوئی ظلم کیا تھا جو آپ لوگوں نے مجھ سے اُس کا بدلہ لے لیا۔لوگ ڈرامے کے سحر ہی سے باہر نہ آسکے پھر وہ مجھے کیسے سنتے”
میں نہیں سمجھتا کہ اُس روز انیس جاوید کے لیے اِس سے بڑا complementکچھ اور ہو سکتا تھا۔معمارِ جہاں تو ہے میں انیس جاوید ٹیچر پر ہونے والے مظالم مختلف غیر ضروری ذمّہ داریوں کا بوجھ منیجمنٹ کا دبائو اور حکومتی پریشر کو اپنا موضوع بنایا۔جب اِس ڈرامے کی کاسٹنگ کی جارہی تھی تب میں نے انیس جاوید سے دریافت کیا ، سرآپ ٹیچر کا رول کسے دینے والے ہیں ۔ اُن رگِ ظرافت پھڑکی اور گویا ہوئے ذاکر ہمیں ایک بھولا بھالا ٹیچر چاہیے جو ظلم ستم کا شکار ہو، چہرے پر متانت ہو سنجیدگی ہو۔ اور شاید اِس رول کے لئے رمضان امین سے بہتر کوئی نہیں۔اِس طرح سے اِس مرتبہ مرکزی رول کے لیے قرعہ فال رمضان امین کے نام نکلا۔
انیس جاوید کبھی بھی اپنی قوم کی حالتِ زار سے غافل نہیں رہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج پورے ملک میں مسلمانوں کو جھوٹے مقدّمات کا سامنا ہے۔ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جارہی ہیں ۔ بم دھماکوں کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے۔آپ سے یہ حالات دیکھے نہ گئے اور “مَیں آتنک وادی ہوں” نامی ڈرامہ تخلیق کردیا ۔ جہاں بابو چیخنے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتا ہے مگر اُس پر ظلم وستم کی انتہا کردی جاتی آخر میں وہ تنگ آکر چیخنے لگتا ہے کہ ہاں ہاں میں ہی آتنک وادی ہوں۔
انیس جاوید نے اب تک جتنے بھی ڈرامے پیش کیے ،شہرت و مقبولیت نے اُن قدم چومے ہیں۔انیس نہ صرف ممبئی بلکہ مہاراشٹر اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ڈراموں کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔میوزک اُن کے ڈراموں میں روح کی حثیت رکھتی ہے ، وہ ہمیشہ اپنے ڈراموں کے لیے پروفیشنل موسیقار کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح سے منفرد لب و لہجے میں لمبی سانسوں کے ساتھ کیا جانے والا اُن کا انائونسمنٹ اور قتیل شفائی کا شعر انیس جاوید کی شناخت بن چکا ہے۔
جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیلؔوقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں

———————-

The Role of Literature Away From Cultural Changes

Articles

تہذیبی تبدیلیوں کے دور میں ادب کا کردار

قمر صدیقی

اگر یہ کہاجائے کہ کرہٗ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ :
”انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔“
بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح، حقیقت یہ ہے کہ آج ہر جگہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی حکمرانی ہے۔ گھر ہو یا دفتر ، علم ہو یا علاج، معیشت ہو یا ثقافت اور فن ہو یا تفریح ہر شعبہ¿ حیات میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل صاف نظر آتا ہے اورلطف کی بات یہ ہے کہ مختلف ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے مزید نئی نئی ٹیکنالوجیزسامنے آرہی ہیں ، بلکہ دیوندر اِسّر کے لفظوں میں تو ساری دنیا گھر کے آنگن میں سمٹ آئی ہے اور آنگن پھیل کر ساری دنیا کی وسعت سے ہم کنار ہورہا ہے۔ الیکٹرانک مشینوں کو کہیں سے بھی ہدایتیں دی جاسکتی ہیں اور انھیں حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ جب ہم گھر پہنچیں گے تو سب کچھ ہماری ضرورت اور ہدایت کے مطابق تیار ہوچکا ہوگا۔ پہلے زمانے کا شاعر دیواروں سے باتیں کرتا تھا ، اب دیواریں شاعروں سے باتیں کریں گی۔ شاید ہمارے غم و انبساط میں بھی شریک ہوں گی!ذہین ،مکین ہی نہیں، ذہین مکان بھی ہوں گے۔ حساس دل بے حس تجربہ گاہوں میں تیار کئے جائیں گے اور منجمد سڑکیں متحرک ہوجائیں گی۔ انسان حادثات سے بچ جائے گا، کاریں آپ کو ڈرائیو کریں گی اور الیکٹرانک آلات آنے والے خطرات سے آپ کو آگاہ ۔ دل کا دورہ ہو یا سڑک حادثہ ،اس پیش خبری کے باعث ٹل جائے گا۔ کلوننگ سے پیدا ڈولی کوبھول جائیے، اب بھیڑیں فیکٹریوں میں تیار ہوں گی۔ جینیٹک انجینئرنگ کی مددسے صرف چار بھیڑوں سے اتنی مقدار میں انسولین تیار کی جاسکے گی جو دنیا بھر کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے کافی ہوگی۔ کمپیوٹر انسانی ذہن کے حامل ہوں گے اور انسان کمپیوٹر کی مانند کام کریں گے۔ انسان اور حیوان کے اعضا ایک دوسرے کے جسم میں منتقل کیے جارہے ہیں۔ ذی روح اور غیر ذی روح میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تبدیلی کا ایک ریلا ہمارے شب وروز کو اپنے زور میں بہائے لیے جارہا ہے اور اس بہاﺅ میں عا لمیت ، قومیت، مقامیت، رنگ، نسل ، ذات ، طبقہ، فرقہ، مذہب اور جنس کے علاوہ مغرب اور مشرق کے تفاوت کے ساتھ ساتھ مختلف علوم ، بشریات ، سماجیات ، تاریخ ، فلسفہ ، سیاست اور جانے کیا کچھ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگا ہے۔تہذیبی اور تکنیکی سوچ ایک نئی حسیت کی پرورش کررہی ہے۔ میڈیا یعنی ٹی وی ، کمپیوٹر وغیرہ اس سوچ کو پھیلانے کے ہتھیار ہیں۔ میڈیا کے ذریعے اطلاعات کی برق رفتار ترسیل نے بڑی سہولیات پیدا کردی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اطلاعات کی اس ترسیل کے ساتھ محض خبروں یا خبروں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہی کی ترسیل نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ اپنے ساتھ اپناخیال اور اپنی فکر بھی لاتے ہیں ۔ اس خیال اوراس فکر کے رد و قبول کے اختیار کے ساتھ ساتھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے اتنے تواتر اورشدت کے ساتھ مختلف طرح کے اقدار و خیالات ہم تک پہنچ رہے ہیں کہ ایک طرح کی ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ہماری اقدار سے مختلف اقدار ٹکرا رہی ہیں۔ اس ٹکراﺅ کی وجہ سے یہ انتشار اور بحران تہذیب کے باطن میں اتر گیا ہے۔
برصغیر ہندو پاک میں یہ مواصلاتی انقلاب ، سماجی اور مذہبی اقدار کی پامالی، خاندانی اور انفرادی سطح پر رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، انتشار اور بکھراﺅ کے ساتھ داخل ہوا۔آج اخبارات و رسائل ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور فلموں سے ہوتے ہواتے یہ انقلاب کمپیوٹر ، انٹرنیٹ بلکہ سائبر اسپیس کے ذریعے اطلاعاتی شاہراہ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ 1945ءمیں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین ، یوروپ ، جاپان اور امریکہ میں شروع ہوئی ترقی کی بے نتیجہ دوڑ سے برصغیر ہند و پاک محفوظ تھے مگر اب یہاں بھی الیکٹرانک میڈیا کے فروغ کے باعث اندھی اور بے لگام صارفیت کی ڈھلان پر ہونے والی یہ ”چوہادوڑ“شروع ہوگئی ہے۔لہٰذا اب ہمارے معاشرے میں بھی انسانی رشتے ہوں یا ٹوتھ پیسٹ ، سب بازار کا مال بنتے جارہے ہیں۔ دراصل گلوبلائزیشن کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ دنیا کی ہرشئے یک مرکزی (بلکہ بازار مرکزی) ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے پل پل خرچ ہوتے وقت کا سارا گوشوارہ بازار یا سرمایہ دار کنٹرول کرتا ہے۔ تفریحی پارک، شیطان کی آنت کی طرح مسلسل قسط در قسط پھیلتے ٹی وی سیریلس، شاپنگ مال،فیس بُک، ٹی – 20کرکٹ یہ سب سرمایہ داروں کے وہ حربے (Tools)ہیں جس کے ذریعے وہ ہمارے وقت کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان زندگی کی چمچماتی سڑک پر نہ صرف مشین کی طرح دوڑنے پر مجبور ہے بلکہ وہ ایک ہی دن میں کئی ایام جینے کی اذیت میں بھی مبتلا ہے۔
آج گلوبلائزیشن نے بشمول ہند و پاک تیسری دنیا کے ممالک کے لیے ایک بار پھر سے نوآبادیاتی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ سیاست کے بجائے سامراجیت نے معاشی اور تہذیبی ، فکری اور نظریاتی سطح پر اپنی جڑیں پھیلائیں ہیں۔ غور کیجئے ہندوستانی بازاروں میں کس کا مال سب سے اچھا تسلیم کیا جاتا ہے؟ کس کے فیشن کو رائج الوقت تسلیم کرکے اس کی تقلید کی جاتی ہے؟ کس کے افکار و خیالات کو اعتبار و سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے؟ظاہر ہے ہندوستانی بازاروں کو امریکہ اور اس کے حلیف کنٹرول کررہے ہیں۔ ہندوستان میں فیشن کو وہ میڈیا رائج کرواتا ہے جو امریکہ کے کنٹرول میں ہے ۔ ہمارا بڑے سے بڑا دانشور جب تک کسی انگریز مفکر کا حوالہ نہ دے لے اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہوپاتا۔دراصل ہم نفسیاتی طور پر ایک ایسے بے آب و گیاہ صحرا میں آپھنسے ہیں جسے خود استعماریت یا Self Colonization کہتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں جس کا ادب کی تخلیق و ترویج سے بھی گہرا تعلق ہے یہ تو محسوس کیا گیا کہ استعماری دور کے نظام تعلیم میں آزادی کے بعد تبدیلی لانی چاہئے مگر زیادہ تر جو تبدیلیاں روا رکھی گئیں وہ یا تو بے ضرورت تھیں یا پھر مغرب کی بے جا تقلید اور یہ سلسلہ کبھی سیمسٹر سسٹم تو کبھی گریڈنگ نظام کی صورت آج بھی جاری ہے۔لہٰذا تعلیم کے روز مرہ وظائف یعنی درس و تدریس ، تربیت اساتذہ، نصابی کتب کی تیاری اور اہلیتوں کی ارزیابی کا معیار متاثر ہونا لازم تھا اور پھر نئی نئی سائنسی دریافتوں کے چلتے بشری علوم اور زبانوں کی تعلیم سے معاشرے کی توجہ بالکل ہٹ گئی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہند و پاک میں بھی آزادی کے بعد غیر ملکی زبانوں میں تحصیل کا معیار قائم رہ سکا نہ ملکی اور قومی زبانوں کی طرف کوئی توجہ دی جاسکی۔ لہٰذا نئی نسل کے طلبہ میں بھی اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت یا دلچسپی نہ پیدا کی جاسکی۔
رسمی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے میں غیر رسمی تعلیمی ادارے بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔اسی لیے ہرزندہ معاشرہ اپنے جلو میں کچھ ایسے تہذیبی اداروں کی پرورش کرتا ہے جو اگر بالواسطہ نہیں تو بلاواسطہ ادب کی غیر رسمی تعلیم کا انتظام و انصرام کرتے رہتے ہیں۔ ادب کی غیر رسمی تعلیم کے یہ ذرائع نہ صرف تہذیبی سطح پر کارآمد ہوتے ہیں بلکہ زبان و ادب کے ارتقا میں بھی کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔مثلاً جب استادی شاگردی کا ادارہ اٹھارویں صدی کی دہلی میں شروع ہوا تو بہت جلد اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی اور آگے چل کر اس ادارے کی اہمیت اس حد تک بڑھی کہ کسی شاعر کی خوبی کا ایک معیار یہ بھی بن گیا کہ وہ کس شاعر کا شاگرد ہے۔ مگر آج ادب کی تعلیم کے یہ غیر رسمی ذرائع محدود ہوگئے ہیں یا غیر موثر بنادیے گئے ہیں۔ محفلیں، اجتماعی سرگرمیاں ، ادیبوں اور فنکاروں کا عام لوگوں سے میل جول اور آپسی ربط و ضبط کے مواقع ، نوواردان ادب کا بزرگان ادب سے مکالمہ اور سب سے بڑھ کر ہند و پاک کی تہذیب کا منفرد ادارہ یعنی مشاعرے ، آج ہماری زندگی سے پوری طرح رخصت نہیں ہوئے تو نظروں سے اوجھل ضرور ہوگئے ہیں۔ مشاعروں کا اہتمام البتہ بہت ہورہا ہے، لیکن شاید ہی کسی کو اس بات کا احساس ہو کہ فی زمانہ مشاعروں کا معیار کیا ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھانڈ اور شاعروں میں تفریق کرنے والے لوگ اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔رہا سوال نوجوانوں میں اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے کے تعلق سے رسمی تعلیمی اداروں (مثلاً اسکول اور کالج وغیرہ)کے رول کا تو ان کا خدا ہی حافظ و ناصر ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ان کی طرف سے کسی پہل کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بلکہ ہمارے اساتذہ کا حال تو یہ ہے کہ شاید ہی کوئی استاد میر و غالب یا اقبال جیسے مشہور شعرا کے کلام کی کسی تغیر و تبدل کے بغیرصحیح قرا¿ت کرکے شعر کو شعر کی طرح پڑھ سکے۔ لہٰذا ایسے حالات میں نوجوانوں کی فنی نا پختگی کا الزام کس کے سر آئے گا؟

————————————

Kuch Waheed Akhtar ke Bare Men by Sarwarul Huda

Articles

کچھ وحید اختر کے بارے میں

سرور الہدیٰ

 

۔ممتاز شاعر اور نقاد وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں وہ منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کو نہ صرف اپنی شعری خدمات عطاکیں بلکہ اپنے مضامین کے ذریعے بھی انھوں نے جدیدیت کی تعبیر و تشریح کی کوشش کی۔ انھوں نے جدید طرز کے مرثیے لکھ کر اس صنف کا دائرہ وسیع کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے منسلک رہے۔ مندرجہ ذیل کتابیں انھوں نے یادگار چھوڑی ہیں

  • پتھروں کا مغنی ۔ (1966)
  • شب کا رزمیہ ۔ (1973)
  • زنجیر کا نغمہ ۔ (1982)
  • کربلا تا کربلا (1991)
  • خواجہ میر درد ( تصوف اور شاعری )

13 دسمبر 1996 کو دہلی میں انتقال ہوا۔ ۔۔ادارہ۔

 

کچھ وحید اختر کے بارے میں

وحید اختر کی ذہانت اور علمیت نے ان کی تخلیقات کو استحکام بخشا ہے۔ علمیت تخلیق کار کو ایک خاص دائرے کا قیدی بھی بنا دیتی ہے۔ وہ مخصوص فکری اور لسانی دائرے میں رہ کر ادب اور زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ وحید اختر نے تاریخی اور تہذیبی حوالوں کو خالص ادب یا ادب کے ادبی معیار کے نام پر نظرانداز نہیں کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وحیدا ختر تاریخ اور تہذیب کو بعض جوشیلے اور انتہا پسند ترقی پسندوں اور جدیدیوں دونوں سے مختلف اندازمیں دیکھتے ہیں۔ جدیدیوں نے تاریخ اور تہذیب کو اہمیت تو دی مگر خالص ہنرمندی کے تصور کے سبب تاریخ ا ور تہذیب سے سچی اور گہری وابستگی قائم نہیں ہوسکی۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ تاریخ کو ادب بنانا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ تاریخی حقائق کی تجرید نہ ہوسکے۔ ان انتہاؤں کے درمیان وحیدا ختر نے جو رویہ اختیار کیا اس میں اپنی ہنرمندی اور تاریخی و تہذیبی حوالوں کا احترام ہے۔ وحیدا ختر کی نثری اور شعری دنیا اس لیے وسیع ہے کہ انھوں نے فکر و اظہار کی سطح پر کوئی پابندی قبول نہیں کی۔ ترقی پسندی سے ان کی شکایت یہ تھی کہ اس نے خود کو فارمولائی بنا لیا۔ جدیدیت اس روش کے خلاف بطورا حتجاج سامنے آئی مگر وہ بھی رفتہ رفتہ فارمولے کی نذر ہوگئی۔ وحیدا ختر نے ’زنجیر نغمہ‘ میں پس نوشت کے تحت لکھا ہے۔ ’’خاص قسم کی آزادی کا پابند ہوجانا نئی طرح کی پابندی ہے۔‘‘

خلیل الرحمن اعظمی پہلے نقاد ہیں جنھوں نے وحید اختر کی شاعری کو اس کے اصل سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی۔ نظریاتی طور پر وحید اختر اور خلیل الرحمن اعظمی جدیدیت کے حامی اور طرفدار تھے۔ دونوں نے اپنے مضامین کے ذریعہ جدیدیت کی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ وحیدا ختر نے شاعری کو جدید بنانے کی اس طرح کوشش نہیں کی جس کی مثالیں ان کے معاصرین کے یہاں ملتی ہیں۔ جس نقاد نے تواتر کے ساتھ جدید حسیت کو موضوع گفتگو بنایا اس کی شاعری کا مکمل طور پر جدید نہ بن پانا ایک واقعہ ہے۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ وحید اختر کی شاعری جدیدیت کی نمائندہ شاعری نہیں بن سکی۔ خلیل الرحمن اعظمی ’پتھرو ں کا مغنی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جن لوگوں نے وحید اختر کی بعض نظمیں اور غزلیں اِدھر اُدھر سے پڑھی ہوں گی یا خود ان کی زبان سے سننے کا موقع انھیں ملا ہوگا ممکن ہے ان کا پہلا تاثر یہ ہو کہ یہ شاعری اپنے انداز۔ و اسلوب کے اعتبار سے اس شاعری سے کچھ مختلف نہیں ہے جسے ہم ترقی پسند شاعری کہتے آئے ہیں۔  اس لیے کہ نئی نسل کے بہت سے دوسرے شعرا کے برخلاف ان کے یہاں اختصار اور پیچیدگی کے بجائے پھیلاؤ اور صراحت ملتی ہے۔‘‘ (ص 216)

وحید اختر کا مسئلہ نئی حسیت تھی، اسلوب نہیں تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ شعوری اور غیرفطری طور پر نظم کو ہیئتی بنانے کی کوشش کرتے۔ روایت ان کے لیے آسیب نہیں تھی اور وہ کسی اسلوب کو فیشن میں رد کرنا نہیں چاہتے۔ ایک ہی نظم میں واقعے کی مناسبت سے کئی اسالیب سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے وحیدا ختر کی نظموں کے بعض مصرعے اضافی معلوم ہوں مگر تخلیق کار کی طبیعت کی روانی اور وفور کہاں جاکر دم لے گی اس کا فیصلہ کوئی نقاد یا قاری تو نہیں کرسکتا۔ خلیل الرحمن اعظمی  نے یہ بھی لکھا ہے:’’لیکن اس مجموعہ کو شروع سے آخر تک پڑھنے کے بعد ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان نظموں اور غزلوں میں ہمیں جو فضا ملتی ہے اور اس کے اندر سے شاعر کی جو شخصیت ابھرتی ہے وہ اپنے پیش روؤں سے بالکل مختلف ہے۔ ان نظموں اور غزلوں کا شاعر اپنے جسم کے اعتبار سے اپنے بزرگ معاصرین سے مشابہ ہو تو ہو اپنی روح اپنے باطن کے اعتبار سے وہ ایک نئے وجود کا حامل ہے۔‘‘
وحید اختر کی نظموں میں خودکلامی کا وہ انداز نہیں ہے جسے عموماً جدیدیت سے وابستہ شاعری کے لیے لازمی تصور کیا گیا۔ وحید اختر نے کبھی خودکلامی کو ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ ان کے تخلیقی اور تنقیدی ذہن میں کسی بھی رجحان یا رویے کا اصل سیاق ہوتا ہے۔ ایک جگہ کوئی چیز غیراہم اور اوڑھی ہوئی معلوم ہوسکتی ہے اور دوسری جگہ وہ چیز برجستہ اور مناسب ہوسکتی ہے۔ نئی نظم کی تنقید میں جب نظم کو سیاق سے کاٹ کر دیکھا گیا تو غیرضروری طور پر انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وحید اختر نے اپنی نظموں کو کسی خاص ہیئت اور فکر کا پابند نہیں بنایا۔ ان کی بعض نظموں کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پابندی اور بغاوت کا سفر ایک ساتھ جاری رہتا ہے اور کبھی الگ لگ بھی۔ نظم کی خارجی ہیئت پہلے ہی قاری کو متوجہ کرلیتی ہے۔ آزاد اور پابند نظم میں بہتر کون سی ہیئت اور آزاد نظم کہنے کا حق کسے حاصل ہے، یہ سب باتیں وحید اختر کی نظم نگاری کے سیاق میں اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 60، 70  کی دہائی میں آزادا ور نثری نظم کے تخلیقی عجز کو چھپانے کا وسیلہ بنایا گیا۔ وحید اختر کی نظم یہ بتاتی ہے کہ کسی ہیئت کو اختیار کرنا اپنے تخلیقی عمل اور تخلیقی تقاضے کا خیال رکھنا ہے۔ اول و آخر تو تخلیقی حسیت ہے۔ انھوں نے تخلیقی سطح پر یہ بھی بتایا کہ نظم کہنے کے لیے فکر و خیال کی دنیا کا وسیع ہونا  ضروری ہے۔ وسعت کے بعد بھی مختصر نظم بامعنی ہوسکتی ہے۔ مختصر نظم کے چھوٹے بڑے مصرعے غزل کے مصرعوں کی طرح بامعنی اور معنی آفریں ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے ذہن کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں منیرنیازی اور شہریار کی مختصر نظمیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

وحید اختر نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اقبال کے ساتھ عظیم شاعری کا تصور بھی رخصت ہوگیا، گویا اقبال کے بعد جو شاعری سامنے آئی اس میں عظمت کے عناصر تو تھے لیکن یہ عظیم نہیں تھی، وحید اختر کے ذہن میں وہ اقدار ہیں جن سے کوئی شاعری علم و ذہانت کے ساتھ عظمت کے مقام پر فائز ہوتی ہے۔ جب عقیدہ اور تصور متزلزل ہو اور انسان فکر و احساس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا رہا ہو ایسے میں کسی ایسی شاعری کا وجود میں ا ٓنا دشوار ہے جو انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ کائناتی بھی ہو۔ وحید اختر نے اپنی شاعری میں اس کائناتی آہنگ کو برتنے کی کامیاب کوشش کی۔ ’شب کا رزمیہ‘ کی پہلی نظم ’شاعری‘ ہے۔ یہ نظم شاعر کا نظریۂ شعر بھی ہے اور نظریۂ کائنات بھی۔ یہ ایک آزاد نظم ہے جس میں شاعر کا تخیل اپنی ذات کے زنداں سے نکل کر کائنات میں باہیں ڈال دیتا ہے۔ وہ زماں مکاں کی سیر کرتا ہوا ذات کی طرف آتا ہے۔ اس درمیان اسے زندگی اور کائنات کی مختلف سچائیاں متوجہ کرتی ہیں۔ ان سچائیوں کا رشتہ زندگی کی تلخ سچائیوں سے ہے۔ آپ انھیں زندگی کی بدصورتیاں کہہ لیجیے :

خلوت ِ ذات کے محبس میں وہ بے نام اُمنگ
جس پہ کونین ہیں تنگ
چھان کر بیٹھی ہے جو وسعت ِ صحرائے زماں
جس کو راس آنہ سکی رسم ورہِ اہلِ جہاں
نشۂ غم کی ترنگ
خود سے بھی بر سرِ جنگ
پستیِ حوصلہ و شوق میں ہے قید وہ رُوحِ امکاں
شو رِ بزمِ طرب و شیونِ بزم ِ دل میں
دہر کی ہر محفل میں
جس نے دیکھی ہے سدا عرصۂ محشر کی جھلک
بوئے بازارمیں گُم کردہ رہی جس کی مہک
عالم ِ آب و گل میں
جہد کی ہر منزل میں
اپنے ہی ساختہ فانوس میں ہے قید وہ شعلے کی لپک

نظم کے ابتدائی یہ دو بند جس فکری بلندی اور کائناتی آہنگ کا پتہ دیتے ہیں وہ وحید اختر کی پوری شاعری میں موجود ہے۔ ان میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے ہم مانوس نہ ہوں مگر شاعر انھیں جس طرح برتنے میں کامیاب ہوا ہے وہ فکری بلندی کے ساتھ لسانی اظہار کی بھی تو بات ہے۔ یہ وہ لسانی اظہار ہے جو لفاظی اوربے معنی لسانی جزیرہ نہیں۔ بہت غور و فکر کے بعد زبان نے اپنا عمل شروع کیا ہے۔ پہلا ہی مصرعہ بظاہر جدیدیت کا زائیدہ معلوم ہوتا ہے۔ ’خلوت ذات کے محبس میں وہ بے نام امنگ‘ مگر اس بے نام امنگ پر کونین تنگ بھی تو ہے۔ ذات سے کائنات تک کا یہ سفر کس قدر صبر آزماہے مگر دیکھیے اس امنگ کو بالآخر پناہ خلوت ذات ہی میں ملی۔ یہاں کوئی نظریہ تیرتا نظر نہیں آتا۔ ایک شعلہ فطری طور پر بھڑکتا ہے مگر اس شعلے کی پرورش و پرداخت میں ایک باشعور تخلیقی ذہن نے حصہ لیا ہے جس کے پاس نظر اور نظریے کی وہ دولت ہے جس سے نہ انسانی اقدار کو خطرہ ہے اور نہ شعر و ادب کی بنیادی قدروں کو۔ اس عمل میں تشکیک بھی سر اٹھاتی ہے اور غم و غصہ بھی۔ یقین کی شمع بھی روشن ہوجاتی ہے اور بے یقینی کے اندھیرے بھی راستہ روکتے ہیں۔ یہ حقائق وحیدا ختر کے یہاں زندگی اور ادب دونوں کو قوت بخشتے ہیں۔ وحید اختر نے زندانِ ذات کو کائنات کا مرکز قرار دیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ زندان ذات کی صورت نئی شاعری میں ایک جیسی نہیں ہے

—————————-

 

Jaun Elia ki Nazm Darakht e Zard by Jamal Rizvi

Articles

جون ایلیاؔ کی نظم’درختِ زرد‘

ڈاکٹرجمال رضوی

 

 

 

جون ایلیاؔ کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری میں فکر و فلسفہ کا عنصر فن کی جمالیات سے ہم آہنگ ہو کر ایک ایسی شعری کائنات کی تخلیق کرتا ہے جو بہ ظاہر بہت سادہ سی نظر آتی ہے لیکن اس کے مظاہر کا واقعتا عرفان حاصل کرنے کے لیے تفکر و تدبر کے اعلیٰ معیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جون ؔنے نہ صرف اپنے عہد کے شعرا کے مابین اپنی انفرادیت قائم کی بلکہ ان کی تخلیقی ریاضتوں نے انھیں ان شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کردیا جن کا فن حدودِ زماں و مکاں سے ماورا ہو کر منزل ابدیت پر پہنچ جاتا ہے۔ جون ؔکا منفرد لب و لہجہ اور الفاظ کو اس کے تمام تر معنیاتی امکان کے ساتھ برتنے کا انداز ان کے کمال ِ فن کا ثبوت ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن شعرا نے اردو کے شعری منظرنامہ پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ان میں ایک نام جون ایلیا ؔکا بھی ہے۔ جون ؔکی شاعری کا نمایاں وصف یہ ہے کہ اس نے شعری زبان کے دامن کو وسعت عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جون ؔکی شاعری میں الفاظ کا استعمال ان کی تخلیقی صلاحیت کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ اپنے معاصرین میں اس حوالے سے وہ صف اول کے شعرا میں نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موضوعاتی سطح پر بھی اردو شاعری کے دائرے کو کشادگی عطا کی ۔ جون کی غزلوں اور نظموں کے مطالعے کے بعد ان کی شخصیت ایک ایسے شاعر کے روپ میں سامنے آتی ہے جو انسانی معاشرہ سے محبت اور ہمدردی تو رکھتا ہے لیکن اس محبت و ہمدردی میں جذباتیت کے بجائے عقلیت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ اسی لیے وہ سوسائٹی کے تاریک و سیاہ پہلوؤں کو بیان کرتے وقت مصلحت پسندی سے کام نہیں لیتے۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ انسانوں کے غیر انسانی رویہ کے خلاف جونؔ کے لہجے کا تیکھا پن دنیائے احساس کو اس قدر متزلزل کر دتیا ہے کہ معاشرہ سے وابستہ تصورات ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔
جونؔ نے شعری اصناف میں غزل، نظم اور قطعہ نگاری میں خصوصی طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے ان اصناف میں قابل قدر شعری سرمایہ چھوڑا ہے۔ جونؔ کا یہ سرمایہ سنجیدہ اور معتبر شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ اس مضمون میں جونؔ کی نظم ’درختِ زرد‘ پر اظہار خیال مقصود ہے۔ ساڑھے چار سو سے زیادہ مصرعوں پر مبنی یہ نظم کئی تخلیقی جہات کی حامل ہے۔ جون ؔنے اس نظم میں مرکزی موضوع کے حوالے سے دیگر کئی ذیلی موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے نظم ’ درختِ زرد‘ کا تخلیقی کینوس بہت وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ جونؔ نے اس نظم میں بعض فنی تجربات بھی کیے ہیں جن میں سب سے اہم مختلف مقامات پر بحروں کی تبدیلی ہے۔جونؔ نے طویل اور مختصر بحروں کا ایسا فنکارانہ امتزاج پیش کیا ہے جس سے نظم کی روانی میں سیمابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سطور بالا میں جونؔ کی سنجیدہ اور معتبر شاعری کا جو ذکر کیا گیا اس حوالے سے بھی یہ نظم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ناقدین فن نے معتبر شاعری کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں اور ان تعریفوں میں جو چیز قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ کہ شاعری میں پیش کیے گیے خیالات میں عظمت اور ہمہ گیریت ہونی چاہیے۔ بقول سید شبیہ الحسن ’ جب شدید جذبات عظیم خیالات کے سائے میں پر تاثیر زبان کی مدد سے وجود میں آتے ہیں تو معتبر شاعری ظہور میں آتی ہے۔‘ معتبر شاعری کی اس متوازن اور واضح تعریف کی کسوٹی پر جون ؔکی یہ نظم ’درختِ زرد‘ پوری اترتی ہے۔
جون نے یہ نظم اپنے بیٹے زریون کو مخاطب کر کے لکھی ہے لیکن اس میں محض ایک باپ کے پدرانہ جذبات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ نظم تاریخ انسانی کا ایک ایسا روزن ہے جس سے تہذیب و ثقافت، فکر و فلسفہ، ادب و مذہب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس طرح جون ؔنے ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے جس میں انسانی تمدن کی تاریخ سمٹ آئی ہے۔ جون ؔکی اس نظم کی تفہیم ان کی ذات کو الگ کر کے نہیں کی جا سکتی ہر چند کہ نظم جوں جوں ارتقائی منزل طے کرتی جاتی ہے اس کا بیانیہ بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے سے نکل کر اس قدر وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ اگر نظم کے ابتدائی حصے کو الگ کر کے باقی حصے کو پڑھا جائے تو اسے ایک ایسی شعری تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے جس میں نیرنگیٔ حیات کی جلوہ سامانی اور کائنات کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش بہ یک وقت نظر آتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ جون ؔکے نحیف و لاغر جسم میں ایک ایسی روح بستی تھی جس نے تمام عمر انھیں بیچین رکھا۔ ان کی زندگی میں خوشی و انبساط کے مقابلے درد و غم کے لمحات زیادہ رہے اور شایدیہ کہنا غلط نہ ہو کہ رنج و غم مول لینا ان کی عادت سی ہو گئی تھی۔ زندگی کے تئیں ان کا مخصوص رویہ ان کے لیے بیشتر باعث ِ آزار ثابت ہوا۔ لیکن اس مقام پر یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ زندگی میں رنج و آلام کی کثرت کے باوجود ان کے شاعرانہ افکار میں انتشار کی کیفیت بہت کم نظر آتی ہے۔ جس طرح ہر بڑا ذہن اپنی ذات سے وابستہ مسائل سے بالا ہو کر دنیا اور معاملات دنیا کے متعلق غور وفکر کرتا ہے اسی طرح جون ؔنے بھی اس عمل سے گزرتے وقت اپنی ذات کو درمیان میں حائل نہیں ہونے دیا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے تجربات و مشاہدات کو شعری پیکر عطا کرتے وقت وہ جرات اظہار کی انتہائی منزلوں پر نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جرات اظہار تلخ کلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ایسی صورت میں جونؔ کی شاعری ضمیر کو بیدار کرنے اور اسے جھنجھوڑنے کا کام کرتی ہے۔ اس حوالے سے جونؔ کی شاعری کا مطالعہ اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ وہ صرف دنیا اور اہل دنیا کو ہی ہدف نہیں بناتے بلکہ اس دنیا سے مطابقت پیدا کرنے میں ناکامی پر وہ خود اپنے متعلق اس طرح گویا ہوتے ہیں ع میں جو ایک فاسق و فاجر ہوں جو زندیقی ہوں۔ جونؔ کا سا یہ انداز اور یہ حوصلہ اردو شاعری میں بہت کم نظر آتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انسان کو بہت صبر آزما اور دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور بلاشبہ جون ؔنے اس سخت سفر کو مکمل کر لینے کے بعد ہی یہ لب و لہجہ حاصل کیا تھا۔ جون کی نظم ’درختِ زرد‘ بھی بہت کچھ اسی تخلیقی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔
اس نظم کے مرکزی موضوع کے روایتی تصور کو پیش نظر رکھا جائے تو اسے کامیاب اور معتبر شاعری کہنا تو درکنار اچھی شاعری بھی نہیں کہا جا سکتا۔ نظم کے موضوع کا روایتی تقاضا یہ تھا کہ شاعر اپنے بیٹے سے ا پنی محبت و شفقت کا اظہار کرتا اور گردش وقت نے دونوں کے درمیان جو خلیج پیدا کر دی ہے اور اس فاصلے کے سبب باپ جس درد و کرب میں مبتلا ہے اسے بیان کیا جاتا۔ اس کے علاوہ راہِ زیست کے پیچ و خم اور ان سے کامیاب و کامراں گزرنے کا سلیقہ، زندگی میں انسانی اقدار کی پیروی اور نظم کے آخری حصے میں بیٹے کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے جاتے۔ لیکن اس نظم کا تخلیقی انداز یکسر مختلف ہے۔ جون ؔنے اس نظم کو اپنے بیٹے کے لیے دنیائے ارضی کا ایک ایسا Miniature بنا دیا ہے جس سے وہ اپنا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ اس کی بوالعجبیوں کا بہت کچھ مشاہدہ کر سکتا ہے۔ نظم کے آغاز میں جون ؔ، زریون کو مخاطب کرکے اس کی ممکنہ محبت کا ذکر کرتے ہیں اوراپنے بیٹے کے محبوب سے وہ اپنی جن توقعات کا اظہار کرتے ہیں وہ دراصل ان کی اپنی روداد عشق کا بیان ہے۔ جونؔ کی محبت ان کی زندگی کا ایک بڑا المیہ ثابت ہوئی ۔ اس کے اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن محبت میں ناکامی کے بعد جنس مخالف کے تئیں ان کے یہاں ایک مخصوص رویہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں چند تحفظات قایم کر لیے تھے اور ان تحفظات نے ان کے افکار کو ایک مخصوص نہج پر ڈال دیا تھا۔اس حوالے سے مذکورہ نظم کا یہ شعر :
گماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نا رسائی ہو
وہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہو
جون ؔکی ذاتی زندگی کا بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں جونؔ نے زمانے کے بدلتے ہوئے انداز کو بھی بہت دلچسپ اندازمیں بیان کیا ہے اور مسلم معاشرہ پر اس تغیر کے اثرات اورکے طرز ِبود و باش میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی جانب بھی ایسے بلیغ اشارے کیے ہیں جس میں تعلیم ، تہذیب اور کلچر سب کچھ سمٹ آیا ہے:
اسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہوگے
نہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگی
یہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہے
گزشتہ سطور میں اس نظم کے تخلیقی کینوس کی وسعت کا جو ذکر کیا گیا تھا یہ تین مصرعے اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ وقت کی تبدیلی کے ساتھ انسان کے معمولات حیات کی تبدیلی جو رفتہ رفتہ معاشرہ کی شناخت بن جایا کرتی ہے، اس کا بیان جون ؔنے اس انداز میں کیا ہے جو تاریخی حوالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ پوری نظم تاریخ و تہذیب کے حوالوں سے آگے بڑھتی ہے۔ اس نظم میں زریون، اس کا ممکنہ محبوب اور خود جون ؔکی شخصیت انسانی تہذیب و ثقافت کے تغیراتی عمل کے سبب اقدار کی تبدیلی کا اشاریہ بن کر سامنے آتے ہیں ۔ جون نے اس نظم میں زریون اور اس کے ممکنہ محبوب کو ایک ایسے میڈیم کے طور پر پیش کیا ہے جن کے توسط سے وہ انسانی سماج سے وابستہ اپنے تصورات و توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تصورات اور توقعات بلا جواز نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ وہ حقائق وابستہ ہیں جنھوں نے ایک مخصوص طرز پر معاشرہ کی تشکیل میں کم و بیش بنیادی کردار ادا کیا ہے، لیکن ان حقائق کی ساخت میں تبدیلی کے سبب انسانی افکار و رویہ میں تبدیلی کو خصوصی طور پر جونؔ نے ہدف بنایا ہے ۔اس نظم میں معاشرہ اور مذہب کی سابقہ اعلیٰ اقدار کے حوالے سے موجودہ دور کے انسانی سماج کی وہ تصویر پیش کی گئی ہے جس پر تصنع کی ملمع کاری واضح نظر آتی ہے۔ جون ؔجس مخصوص شیعی تہذیب وثقافت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بھی بیشتر عوامل میں یکسر تبدیلی کے سبب اس پر بھی تصنع کا رنگ غالب آگیا جس کا عکس ذیل کے مصرعوں میں نمایاں ہے :
وہ نجم آفندیِ مرحوم کو تو جانتی ہوگی
وہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگی
اسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑ ی ہوں
نہ ہوں گے خواب اس کا جو گویّے اور کھلاڑی ہوں
اس مقام پر یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جون ؔنے اس نظم میں اپنی فکر کو صرف تہذیب و معاشرت کی مختلف صورتوں کے بیان تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ کائنات اور اس کے وجود کے اسرار و رموز کو بھی اپنے دائرہ ٔ فکر میں لاکر اس نظم میں ایک ایسا فلسفیانہ تاثر پیدا کر دیا ہے جو ذہن کو غور وفکر پر آمادہ کرتا ہے۔شیکسپیئر کی طرح جون ؔبھی اس دنیا کو ایک اسٹیج تصور کرتے ہیں جس پر مختلف طرح کے کردار اپنا فن دکھا کر روپو ش ہوجاتے ہیں اور اس لامتناہی سلسلے پر دنیا کی ہاؤ ہو کا دارومدار ہے۔ دنیا کے اس وسیع و عریض اسٹیج پر کرتب دکھانے والے مختلف انسانی گروہوں کی فنکارانہ انفرادیت انھیں ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف شناخت عطا کرتی ہے بلکہ بعض امور کسی مخصوص انسانی گروہ کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کا تاریخی و تہذیبی اثاثہ بن جاتے ہیں ۔ اس کرہ ٔ ارض پر بنی نوع آدم کے درمیان تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا اختلاف بہت کچھ اسی سلسلے کے جاری رہنے کا نتیجہ ہے۔ جونؔ نے اس نظم میں دنیا کے اسٹیج کی یہ روداد اپنے اجداد کے حوالے سے یوں بیان کی ہے :
مگر میرے غریب اجداد نے بھی کچھ کیا ہوگا
بہت ٹچا سہی ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
یہ ہم جو ہیں ، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
درج بالا مصرعوں میں جون ؔکے لہجے کی کرختگی گرچہ شعری حسن کو مجروح کرتی ہے لیکن اگر ہم ان کی زندگی سے واقف ہوں تو یہ زبان بالکل فطری محسوس ہوگی۔ جونؔ کی ٹریجڈی صرف یہی نہیں تھی کہ انھیں اپنی ازدواجی زندگی میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور وقت و حالات کے سبب ایک حساس باپ اور شوہر کو اپنے بچوں اور بیوی سے الگ ہونا پڑا بلکہ کئی ایسے غم بھی ان کی ذات سے وابستہ تھے جن کا مداوا انھیں تمام عمر میسر نہ آسکا۔ انھیں اپنے سلسلۂ ٔنسب پر بہت فخر تھا، انھیں اپنے آبائی وطن امروہہ سے والہانہ محبت ہی نہیں بلکہ عقیدت تھی ، انھیں اپنی علمیت پر ناز تھا لیکن وطن سے ہجرت اور پاکستان میں قیام کے دوران انھیں جن کرب ناک حقائق سے دوچار ہونا پڑا اس نے ان کی شخصیت اور شاعری میں ایسی تلخی بھر دی جسے برداشت کرپانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔جس طرح زندگی میں ایک پرشکوہ اندازِ بے نیازی ان کی شان ِ امتیاز تھی اسی طرح ان کی شاعری بھی اپنے معاصرین کے درمیان اپنی منفرد فنی شناخت قایم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ جون ؔکی شاعری کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے سمجھنے کے لیے صرف مشرق و مغرب کے ادبی نظریات و رجحانات سے واقفیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ تاریخ، فلسفہ اور تصوف جیسے دیگر علوم سے بھی کماحقہ واقفیت ضروری ہے۔ ان کے فن میں اس گہرائی اور گیرائی نے ان کی شاعری کو سنجیدہ و معتبر شاعری کا مرتبہ عطا کرنے میں اہم رول اداکیا۔ جون ؔایک کثیر المطالعہ شاعر تھے اور وہ اکثر اس کا اظہار بھی کرتے تھے :
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمھیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
اس شعر میں ایک حد تک شاعرانہ تعلّی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی علمیت نے زندگی اور فن کے متعلق ان کے اندر ایک مخصوص وژن پیدا کردیا تھا۔ اس وژن میں یقین اور بغاوت دو اہم اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بنیادی طور پر ان دو مختلف المزاج اجزا کا یکجا ہونا قرین قیاس نہیں نظر آتا کیونکہ عموماً یقین کے بعد مفاہمت اور مصلحت پسندی کا رجحان پیدا ہوجانا فطری ہے جبکہ بغاوت کے لیے غیر یقینی پہلی شرط ہے۔ جونؔ کے شاعرانہ وژن کی تشکیل ان دواجزا سے اس طرح ہوتی ہے کہ وہ انسان کی عظمت پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن انسانی معاشرہ کی بے سمتی اور انتشار آمیز صورتحال کو دیکھ کر مروجہ نظام کے خلاف ان کے یہاں بغاوت کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔ نظم ’ درختِ زرد‘ میں بھی یہ دو اجزا وسیع تر تناظر میں نظر آتے ہیں ۔ جون ؔنے اس نظم میں جتنے بھی ذیلی موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے ان میں ان دو اجزا کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ خصوصاً باغیانہ میلان ، جس کی شروعات غیر یقینی کی کیفیت سے ہوتی ہے ۔ غیر یقینی کی یہ کیفیت جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو انداز بیان طنز و تضحیک کے دائرے سے نکل کر طعن و تشنیع کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس حوالے سے ذیل کی یہ مثالیں دیکھیے۔
۱۔ بہت ٹچا سہی، ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
۲۔ یہ ہم جو ہیں، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
۳۔ یہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں، گالیاں کھائیں
ہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
۴۔ ادب، ادب کتّے ، ترے کان کاٹوں
۵۔ مگر میں یعنی جانے کون؟ اچّھا میں ، سراسر میں
۶۔ میں اک کاسد ہوں ، کاذب ہوں ، میں کیّاد و کمینہ ہوں
میں کاسہ باز و کینہ ساز و کاسہ تن ہوں، کتّا ہوں
۷۔ زنازادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیں
کمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے ہیں
نظم کے مختلف حصوں سے پیش کی گئی درج بالا مثالوں سے پوری نظم کی کیفیت اور شعری آہنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس نظم کی تخلیق کا بنیادی محرک وہ اشتعال آمیز جذبہ ہے جو ایک حساس باپ کے دل میں اپنی اولاد سے فرقت کے سبب پیدا ہوا ہے۔ اس لیے نظم کے شعری آہنگ میں نرمی اور شیرینی کے بجائے کرختگی اور تلخی جونؔ کے درد و کرب کو ظاہر کرتی ہے ۔ نظم میں درد و کرب کی یہ کیفیت ان مقامات پر زیادہ نمایاں ہے جہاں جونؔ نے اپنی شخصیت کو موضوع بنایا ہے۔ یوں تو اس پوری نظم میں ان کی شخصیت ایک اہم حوالے کے طور پر موجود ہے لیکن جن مقامات پر انھوں نے براہ راست اپنے حالات کو شعری پیکر عطا کیا ہے وہاں دردوکرب کی یہ کیفیت دو آتشہ ہو گئی ہے ۔ مثلاً
۱۔ ہے شاید دل مرا بے زخم اور لب پر نہیں چھالے
مرے سینے میں کب سو زندہ تر داغوں کے ہیں تھالے
مگر دوزخ پگھل جائے جو میرے سانس اپنا لے
تم اپنی مام کے بے حد مرادی منتوں والے
مرے کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں ، کچھ بھی نہیں بالے
۲۔ ہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس ِ غم ہا
عزاہا، مرثیہ ہا، گریہ ہا، آشوبِ ماتم ہا
۳۔ تمہاری ارجمند امّی کو میں بھولا بہت دن میں
میں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میں
وہی تو ہیں جنھوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایا
وہ کس رنگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکا
لہو اور تھوکنا اس کا، ہے کاروبار بھی میرا
یہی ہے ساکھ بھی میری، یہی معیار بھی میرا
میں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیں
نہ جانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیں
یہ بات شروع میں ہی عرض کی جا چکی ہے کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر کئی جہات کی حامل ہے اس لیے اسے ایک بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظم میں بحیثیت باپ جون ؔکے شدید جذبات، عظیم خیالات کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں جس نے اس نظم کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے کہ یہ شعری تخلیق پوری انسانی سوسائٹی کا بیانیہ نظر آتی ہے۔ جون ؔنے اس بیانیہ میں مختلف رنگوں کی آمیزش سے ایسا مرکب تیار کیا ہے جو نیرنگیٔ حیات اور تغیر کائنات کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔
آخر میں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ کسی ایک نظم کی بنیاد پر کسی شاعر کے تخلیقی رجحانات و میلانات اور فنی سروکار کا تعیین نہیں کیا جا سکتا تاہم جونؔ کی یہ نظم بہت کچھ ان کے تخلیقی رویہ کو واضح کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے کمالِ فن سے اس نظم میں ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی آفاقیت عطا کردی ہے جس میں انسانی سماج کے مختلف عناصر اس طرح سمٹ آئے ہیں کہ ان کی گوناگونی کو ان کی امکانی کیفیات کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے اور بنیادی موضوع کے حوالے سے کئی ایسے موضوعات و مسائل کو بیان کرتی ہے جو انسانی سماج کا ناگزیر جزو ہیں۔ اس طرح یہ نظم ایک مخصوص رشتے کی انفرادیت اور اس سے وابستہ جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی حقائق کو بھی بیان کرتی ہے اور یہی اس نظم کا فنی امتیاز ہے۔
———————

Story of Pen by Achariya Atre

Articles

قلم کی لکھی کہانی

اچاریہ اَترے

قلم کی لکھی کہانی

مصنف: اچاریہ اَترے
مراٹھی سے ترجمہ : پروفیسر صاحب علی

میز پر چاندی کے شمع دان میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی۔بہت خوبصورت موم بتی تھی وہ۔ اس کا رنگ گلابی تھا، اس کا قد لمبا اور نازک تھا۔ اس کے گاو دم  پرکجلائی ہوئی سیاہ بتی خوب زیب دیتی تھی۔
اسے لگتا تھا سارے کمرے میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں۔
سامنے دیوار پر لگے ہوئے آئینے میں اسے اپنا چہرہ دکھائی دیتا۔ گھنٹوں وہ اپنا روپ نہارتی رہتی۔
اس کے قریب ہی کانچ کی ایک خوبصورت سی دوات اور ایک منقش قلم رکھا ہوا تھا۔ لیکن ان سے وہ موم بتی کبھی بات تک نہ کرتی۔ سارا وقت اپنی اکڑ میں رہتی۔ قریب کی کھڑکی سے دھوپ کمرے میں آتی۔ دھوپ کو دیکھ کر
کانچ کی دوات اور چاندی کے قلم کو بڑی خوشی ہوتی۔ ان کے چہرے خوشی

سے چمکنے لگتے۔ اس بات پر موم بتی کو اُن پر بہت غصہ آتا۔ ’’سورج کو دیکھ کر تمھیں اتنی خوشی کیوں ہوتی ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
ایک بار اس نے چڑ کر کہا۔ ’’ایسا کون سا بڑا راجا ہے وہ!‘‘ کہے بغیر اس سے رہا نہ جاتا۔

’’راجا ہی ہے وہ‘‘ دوات بولتی۔ ’’اس کے جتنا بڑا راجا دنیا میں کوئی دوسرا
ہے ہی کون؟‘‘
’’واہ رے راجا‘‘ موم بتی نے کہا ’’ایک چھوٹا سا بادل بھی اسے ڈھانک سکتاہے۔ کبھی آرام نہیں کرسکتا، کبھی دیر سے نہیں آسکتا۔ ایک نوکر کی طرح
سارے کام مقررہ وقت پر ہی کرنے پڑتے ہیں اسے۔ اور رات میں منہ کالا
کرکے رفو چکّر ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں ایک دن
اسے اپنے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردوں گی۔‘‘دوات اور قلم نے کچھ نہیں کہا۔ اور وہ جواب دیتے بھی تو کیا دیتے؟ ایک دن نوکر کمرہ صاف کرنے آیا تو اس نے میز کو اٹھا کر کھڑکی کے قریب رکھ دیا۔ اس وجہ سے باہر سے آنے والی سورج کی دھوپ پوری میز پر چھا گئی۔ موم بتی کا دھوپ میں بیٹھنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔
تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اسے کچھ عجیب سا لگنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ
اسے چکر سا آرہا ہے۔
قریب ہی دوات اور قلم خوشی سے چمک رہے تھے۔
موم بتی کا سرخ چہرہ دیکھ کر دوات نے کہا ’ ’کیوں بھئی؟ تمھارا چہرہ ایسا
کیوں نظر آرہا ہے؟ لگتا ہے تمھیں گرمی لگ رہی ہے۔ ذرا ٹھہرو، ابھی کوئی
بادل آکر سورج کو ڈھانک لے گا اور تھوڑی ٹھنڈک محسوس ہوگی۔‘‘’’تم سے کسی نے کچھ پوچھا؟‘‘ موم بتی نے کہا ’’بی اماں میں اتنی نازک نہیں۔ پوچھ رہی ہو گرمی تو نہیں ہورہی؟ مجھے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ سورج میرا کیا بگاڑ لے گا؟‘‘دھوپ تیز ہونے لگی۔ اب موم بتی سے اس کی تپش سہن نہیں ہورہی تھی۔ اسے سچ مچ چکر آنے لگا اور ایک لخت اس نے اپنی گردن نیچے ڈال دی۔
دوات کو ٹھونگا لگاتے ہوئے قلم نے کہا ’’یہ دیکھو!  موم بتی کو کیا
ہوگیاہے؟‘‘ ’’ہاں سچ مچ! یا خدا اس کی کیا حالت ہوگئی ہے، مجھے لگ ہی رہا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔‘‘ ’’ایسا لگ رہا ہے سورج کو نمسکار کر رہی ہے۔‘‘ قلم من ہی من ہنس کر بُدبُدایا۔
تھوڑی ہی دیر میں نوکر اندر آیا۔ اس نے ایک نظر ڈال کر موم بتی کو دیکھا اور
اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
’’ختم ہوگئی بے چاری کی زندگی‘‘ دوات نے کہا۔
’’اب میں اس پر کہانی لکھوں گا‘‘ قلم نے بڑھ کر کہا
قلم نے کہانی لکھی
وہی کہانی ہے یہ۔

Urdu Nazm and Zafar Gorakhpuri by K.H. Aqib

Articles

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

خان حسنین عاقبؔ

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

 

ما قبل ِ آزادی نیز ما بعد ِ آزادی ، دونوں ادوار میں شمالی ہند نے اردو ادب و شعر کی سر پرستی کی ہے۔ ما قبل ِ آزادی شمالی ہند میں سیاسی استحکام اور حکمرانوں کا ادبی ذوق اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ما بعد ِ آزادی ، دو تین دہا ئیوں تک تو معاملہ ٹھیک ٹھاک اور حسبِ سابق رہا لیکن گذشتہ تین چار دہا ئیوں سے ریاستی حکومتوں کی دورُخی پا لیسیوں نے اکثر جگہوں سے اردو کو عملاً ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن اردو شعر و ادب اپنی رفتار سے ترقی کر تا رہا۔ خصوصا ً غزل نے نت نئے گوشوں کو تلاش کیا۔ لیکن آج مجھے بات نظم پر کرنی ہے اسلئے غزل کا ذکر نہیں کروں گا۔ اگر میں براہ ِ راست بات کروں اور کسی رسمی تمہید سے کام نہ لوں تومجھے کہنا یہ ہے کہ اردو نظم نے اپنی ابتدا سے لے کر اب تک جتنا بھی فاصلہ طے کیا ہے، اور یہ آج جہاں آکر کھڑی ہے، اس مقام سے آگے بھی کئی مقام آ نے ابھی باقی ہیں کہ زمانہ تغیرات سے عبارت ہے۔ لیکن آج تک یہ جہاں آن کھڑی ہوئی ہے، اس میں جن جن شعرا نے اپنا الگ راستہ بنا یا ہے ان میں ظفر ؔ گورکھپوری کا نام ابتدائی فہرست میں رکھا جائے گا۔ ظفر گورکھپوری، زبیرؔ رضوی، محمد علوی، ندا فاضلی وغیرہم ہمارے عہد کے ایسے نمائندہ بزرگ شعراء ہیں )جنہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے )جو اردو شعر و ادب میں نظم کی نئی روشوں (جدتوں) اور تازہ کار لہجوں کے امین ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے جدید اردو نظم کی دلداری کی اور اس کی عکا سی بھی کی ہے۔
اگر ادب و شعر کو مقصدیت سے نتھی کر دیا جائے تو بقول ِ افلا طون، ’’ادب برائے زندگی اور جمالیات خاص طور پر اخلاقیات اور فلسفہ کے ماتحت ہے۔‘‘ اسی بات کو مغربی نقاد وِنٹرس (Winters) نے کہا تھا۔ “poetry is a statement in words about a human experience.” یعنی شاعری نام ہے انسانی تجربات کو الفاظ میں بیان کر نے کا۔ غالب ؔ بھی کہا ں پیچھے رہنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا ؎
ما نہ بودیم بدیں مر تبہ راضی غالبؔ
شعر خود خواہش ِ آں کرد کہ گر دد فنِ ما۔
ظفرؔ کی شاعری مندرجہ بالا ضابطوں کی پابند شاعری ہے۔ نئے عہد نے زندگی کو جتنے پہلوؤں سے بر تا ہے، ان سے کئی گنا زیادہ موضوعات شاعری کے دامن میں آن گرے ہیں۔ اکثر شعراء نے موضوعات پر ہاتھ ڈالا ہے لیکن ظفر ؔ نے جس خوش سلیقگی سے ان مو ضوعات کے جدید نظم کے حوالوں کے ساتھ اپنی فکر اور اظہار کا محور بنایا ہے، وہ بے مثل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور اسلو بیاتی اور محاکاتی رنگا رنگی اپنی ضو فشانی اور اپنا وجود منوانے پر تُلی نظر آتی ہیں۔ ظفرؔ کی نظم گوئی کا آغاز ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند نظم کے زیر ِ اثر ہوا لیکن انہوں نے میرا جی اور ن۔م۔راشد جیسے نظم گویوں کے قبیلے کی رکنیت سے از خود انکار کیااور صرف ’خود کے لئے کہی گئی ‘ مبہم اور ادق الفہم نظموں کی تقلید سے پر ہیز کیا۔ انہوں نے اصطلاحی جماعت بندیوں اور جدیدیت اور ما بعد ِ جدیدیت وغیرہ جیسے از کار رفتہ مفروضات سے بھی دانستہ اجتناب برتتے ہوئے زمانے کو اپنے شعور اور احساس کی آنکھوں سے دیکھا اور پرکھا ہے۔اسلام میں عقیدتاً اور رسما ً ، بہ ہر دو طور، ہر کام اللہ کی حمد و ثناء اور دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ظفر ؔ اپنے انفرادی لہجے میں دعا کر تے ہیں جو ان کی ایک نظم کا عنوان ہے۔
خدائے بر تر و بالا
ترا ممنون ہوں۔ کیا کیا عطا کیں نعمتیں تونے
مری اوقات سے بھی کچھ زیادہ دے دیا مجھ کو
مگر
میں ایسا خود غرض ،نا شکر و نا فرماں
کہ سب کچھ پاکے بھی نا مطمئن ٹہرا
مرے لالچ نے
مٹی ، دھوپ، پانی
ثمر، دریا، ہوائیں، پیڑ
سب کو قتل کر ڈالا۔
شاعر کا لہجہ اسے کہاں لے جارہا ہے۔ اس کا تخاطب تو لازماً خدا ہے، لیکن شاعر اپنی بات ، اپنے ذاتی مفاد کی بات نہیں کر رہا ہے، بلکہ وہ سماجی سروکار کی بات کر رہا ہے جو ایک شاعر کا سب سے مقدس فریضہ ہوتا ہے۔بنی نوع انسان کی نمائندگی کر تے ہوئے شاعر اعتراف کر رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی عدم توازن کا مجرم ہے جسے اس کی غرض مندی نے بگاڑدیا ہے۔ وہ توضیح کر تا ہے۔
مرے الفاظ مصنوعی ہیں سارے
میں ہر پہچان اپنی کھو چکا ہوں
نہ چہرہ ہے، نہ آنکھیں
دماغ اکثر یہ مجھ سے پوچھتا ہے
کیا حقیقت میں وہی ہوں میں؟
فرشتوں نے جسے سجدے کئے تھے
نہیں۔۔ میں وہ نہیں ہوں۔
اور پھر آخر ِ میں وہ اللہ سے دعا مانگتا ہے۔
خدائے بر تر و بالا
مرے تاریک ۔ خالی۔۔ خود گزیدہ
سرد سینے کو
عطا کر آگ
اس کو درد کی خوشبو سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کر دے۔
یہی شاعر کی فکری جہت ہوتی ہے جسے وہ اپنے عقیدے تک بھی کھینچ لاتا ہے۔ یہ اس کا عالمی کر ب ہے جو دعا کے توسط سے اس کے قلم سے نکل کر کاغذ پر بہہ نکلتا ہے۔ اور پھر شاعر اپنے لئے کیا مانگ رہا ہے؟ کچھ نہیں۔اگر کچھ مانگ رہا ہے تو انسان کا انسان ہونا۔ جو مشکل ہے۔ آج ایک جانور کا انسان ہونا آسان نظر آتا ہے لیکن ایک انسان کا انسان ہونا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ یہی کرب ظفر ؔ سے یہ دعا کر واتا ہے جس پر تمام علم کے انسان آمین کہنے سے نہیں ہچلچائیں گے۔ یہی ایک جدید طرزِ اظہار کا خاصہ ہو تا ہے۔ ظفر ؔ کا دکھ بھی کو ئی انفرادی اور ذاتی دکھ نہیں ہے۔ اس کا تصور اسے کہاں کہاں کی سیر کرواتا ہے۔ ایک نظم ’’ تری بے چین آنکھوں کے پرے‘‘ کا یہ حصہ دیکھئے۔
’’دکانیں ، لال ٹینیں، اونگھتے سائے، ڈبل روٹی
سلگتے گوشت کی خوشبو
دھنسا ہوا چہرہ، مہینے بھر کی داڑھی
پھٹی جیبوں کی میلی سی قمیصیں
سنیما گھر کے آگے پوسٹر پر قہقہوں کی
دھول بر ساتا ہوا پاگل
کنارِ آب ننھی مچھلیاں کھاتا ہوا بگلا
محاذ ِ جنگ پر مارے گئے فوجی کی محبوبہ
میں کیا بتلاؤں، تیری گول سی سپنوں بھری
بے چین آنکھوں کے پرے
کیا کیا دیکھتا ہوں۔‘‘
یہ ایسی شاعری ہے جو کسی طور اپنے ماحول، اپنے اِرد گِرد سے بے خبر نہیں رہتی۔ شاعر جب اپنے مخاطب کی بے چین آنکھوں کے پرے جھانکتا ہے تو اسے اپنے تجربات یاد آجاتے ہیں۔ اسے اپنے مشاہدات کے درشن ہوتے ہیں۔ وہ اُن بے چین آنکھوں کی جمالیاتی تشریح کر نے کے بجائے ان کے پرے نکل جاتا ہے، اور اسے اپنا دکانوں کے سامنے سے گزرنا یاد آجاتاہے جہاں اس نے لال ٹینوں کی روشنی میں کچھ اونگھتے سائے دیکھے تھے۔ سلگتے گوشت کی خوشبو، دھنسا ہوا چہرہ اور مہینے بھر کی داڑھی، یہ علامات معاشی احتیاج کی نشاندہی کر تی ہیں۔ کنار ِ آب ننھی مچھلیاں، اور ان مچھلیوں کو اپنی غذا بناتا ہوا ایک بگلا، یہ محض ایک خوبصورت فطری منظر نہیں ہے بلکہ سر مایہ دارانہ نظام کا اعلامیہ ہے۔یہاں اس بات کا اعادہ غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ جدید اردو نظم کی ہیئت اور اسلوب مغرب سے بر آمد کر دہ ہیں۔ اس لئے اردومیں اسے لسانی تاثر کی originalityکے ساتھ برتنا کمال ہے۔ ظفر ؔ کی شاعری کا اختصاص یہی ہے کہ وہ ظاہری محاکات کے حوالوں سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی پر قادر ہیں۔ ’اسٹیٹس سمبل‘ ظفر ؔ کی ایسی ہی نظم ہے جو معاشرتی منافقت hypocricy کی عمدہ عکاسی کر تی ہے۔ اس نظم کا اختتامیہ بے حد چونکا دینے والا ہے۔
’’کلب، ڈنر اور ڈانس کی رسیا
صارف کلچر کی مخلوق
ننھی شبنم، ننھے بیج سے
اک بار یہ پوچھے
سر کیسے اونچا ہوتا ہے
عزت کیسے ملتی ہے
کیا شئے ہے اسٹیٹس سمبل؟
اب کوئی بتا ئے کہ یہ ننھی شبنم ، ننھے بیج کے استعارے کس کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور شاعر ان استعاروں کے ذریعے کس سے مخاطب ہو رہا ہے اور وہ کن معاشرتی اکا ئیوں پر طنز کر رہا ہے۔ یہی ظفرؔ کی نظموں کا خاصہ ہے۔ ان کے تخیل نے یک لخت شہری زندگی کی منافقانہ رَوِشوں کی جانب سے اپنی فکر کے عدسہ Lenseکا رُخ فطرت کی طرف موڑتے ہوئے ننھی شبنم اور ننھے بیج کی جانب کر دیا اور نئے سر مایہ دارانہ رویوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ بقول فریدوں مشیریؔ ؎
در کجای ٔ ایں فضائے تنگ ، بے آواز من کبوتر ہائے شعرم را دہم پر واز
ظفر کی شاعری اس لحاظ سے بھی منفرد کہلائے جانے کی مستحق ہے کہ یہ اپنے فوری ماحول سے متاثر ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ چاہے وہ ماحول مکانی لحاظ سے قریب ہو یا بعید۔ یعنی مقامی ہو یا عالمی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ ہر صورت میں شاعر اس ماحول کے خلاف مزاحمت کر تا دکھائی دیتا ہے، وہ بھی ایسی مزاحمت جیسی فلسطینی لوگ اسرائیلی غاصبوں کے خلاف کر تے ہیں۔ اور شاعر اسے اپنا فرض تصور کر تا ہے۔ ظفر ؔ کی نظم ’ٹکراؤ‘ کا اختتامیہ دیکھئے۔
’’ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
پھر لڑیں گے
تو جگ مگ شہر
میں سادہ سا شہری۔۔ دیہاتی سا کچھ
اگر مجھ کو ہرا پائے ، ہرا دینا
ابھی تک تو ہرا پایا نہیں ہے
مجھے اپنا بنا پایا نہیں ہے۔ ‘‘
نظم کا یہ حصہ صاف بتاتا ہے کہ شاعر بہ آسانی ’ سَرِ تسلیم خم ‘کرنے کا یعنی submission کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ ایک عظییم آبادی والے ، چو بیس گھنٹے مصروف رہنے والے شہر کا حصہ بن تو گیا ہے لیکن واقعتا وہ ایسے ہی علیحدہ ہے جیسے ہندوستان کے جغرافیائی نقشے میں سری لنکا۔ لیکن اسے فخر ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور اپنی اقدار سے اب بھی مر بوط ہے۔ مزاحمتی رویے کی ایک اور مثال ، ایک اور منظر ، نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں دکھائی دیتا ہے۔
میں بارش ہوں
مری بوندیں خدا کی پھیلی پھیلی اس زمیں پر
کہیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں
تمہارا کیا ہے؟
تم کون ہو؟
ہوا کو ، پانیوں کو کاٹنے والے
زمین و آسماں کو بانٹنے والے
مجھے زنجیر پہناؤ گے
مجھ کو روک پاؤ گے؟
بہت کمزور ہو تم
ہار جاؤ گے!
ایسے احتجاجی اور مزاحمتی رویوں کا آغازشعر و ادب میں ، نیز خصو صا ً جدید نظم میں مغرب کے زیر ِ اثر ہوا۔ گو ، ان رویوں کا آغاز ترقی یافتہ ممالک سے ہوا لیکن ترقی پذیر مما لک میں کو ئی ملک ایسا نہیں رہا جو ان رویوں سے براہِ راست متا ثر نہ ہوا ہو۔ چاہے وہ افریقہ کی aparthied تحریک ہو یا ایشیاء میں ترقی پسند تحریک۔ کلاسیکیت کی دیوانی فارسی شاعری بھی اس سے دامن نہ بچاسکی۔ احمد شاملو کی جدید نظم کے تئیں وابستگی ملا حظے کی شئے ہے۔
’’درخت ِ تناور
امسال
چہ میوہ خواہد داد
تا پرندگاں را
بہ قفس نیاز نہ ماند؟؟
(نظم ، ’’تا بستان‘‘ مجموعہ ۔ ابراہیم و آتش۔ احمد شاملو)
ظفر ؔ نے اپنی مندرجہ بالا نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں شاعرانہ تعلی سے کام لیتے ہوئے خود کو بارش کے استعارے کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن مقصدیت کے لحاظ سے آخر ِ کار، ما حول میں موجود انسانی وسائل کی کِرم خوردہ ذہنیت کے خلاف اس کے احتجاج اور مزاحمت کا عندیہ بہت واضح ہے۔ان کے یہاں معاشرتی عدم توازن، مزاحمت اور احتجاج کی لے َ تیز ضرور ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ظفر ؔ کی شاعری میں زمانی اعتبار سے حال کا بیان زیادہ ہے اور ان کی تمثیلات، استعارے اور محاکات نسبتا ً وا ضح ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’بے حا صل‘ کا یہ ٹکڑا دیکھئے۔
’’۔۔۔
بھول بھال کر گلی تمہاری
کانکریٹ کی پکی اور
تپتی سڑک پر ہانپ رہا ہوں
اور ابھی کتنا چلنا ہے؟
اِدھر اُدھر سے دھوپ اُٹھاکر
اپنے سفر کی لمبائی میں ناپ رہا ہوں
وقت کے ساتھ سفر کا شوق!‘‘
ظفر ؔ کے یہاں نئی تہذیب کی عیاریاں ان کے جمالیاتی شعور romantic sense کا پیچھا نہیں چھو ڑ تیں۔اس نظم میں وہ معشوق کی گلی بھول کر اپنے سفر کو نئی تہذیب اور نئی ضروریات سے ہم آہنگ کر تے ہیںاور عشق کے کیف آور تصور سے نکل کر موجودہ زمانے کی تلخ سچائیوں کی رزم گاہ میں آن پہنچتے ہیںاور پھر کانکریٹ کی پکی اور تپتی ہوئی سڑک ، دھوپ کی شدت اور سفر کی مسافت کا توشہ دان ساتھ رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ظفر ؔ کو ایک جانب شہری زندگی کی ہماہمی سے شکایت ہے وہیں وہ پرانی صحت مند اقدار کی گم گشتگی کا نوحہ بھی کر رہے ہیں۔جب ہم ان کی شاعری کے دروازے پر اس حوالے سے دستک دیتے ہیں تو ان کی واقعاتی اور موضوعاتی نظمیں بے حد خوش سلیقگی سے ہمارا استقبال کر تی ہیں۔ اس خصوص میں ان کی نظم ’مرے چراغوں کو دفن کردو‘ ایسے قبیل کی نظم ہے جو ماضی اور حال دونوں زمانوں کی اقدار کا تقابل کر تی ہے۔
’’ اصول ، اونچے وِچار
حق گوئی
اور دیانت
چراغ کیا کیا
دئے تھے دادا نے باپ کو
باپ نے یہ ورثہ مجھے تھمایا
اور اب بڑھاپے میں، میں نے چاہا
کہ سارا وِرثہ ، چراغ سارے میں
اپنے بچوں کو سونپ دوں
مر سکوں، سُکوں سے ۔۔۔۔‘‘
یہاں تک شاعر کا ایقان اپنی اگلی نسل پر قائم نظر آتا ہے لیکن جیسے جیسے نظم proceed کر تی ہے، یہ ایقان ، کامل بے اعتباری اور حسرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’’بہت چالاک ہیں میرے بچے
وہ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں’ڈیڈی‘
یہ ساری چیزیں، یہ ٹمٹماتے چراغ سارے
بہت پرانے ہیں
اب ان سے کیا روشنی ملے گی؟
۔۔۔۔۔
کچھ اور ہے آج کی یہ دنیا
یہ وہ نہیں ہے کہ جس میں کھولی تھیں تم نے آنکھیں۔۔۔‘‘
یہ نظم نہیں ہے ، ظفرؔ کا شخصی کرب ہے۔ یہ ایسی کوفت کا اظہار ہے جو شاعر کو مسلسل اضطراب میں رکھتی ہے اور اس کرب و گھٹن سے تنگ آکر آخر ِ کار ’ سرِ تسلیم خم ہے‘ کی بے چارگی بھری و مصلحت آمیز کیفیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ وہ اپنے ایقان کو submit کر دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ
’تو میرے بچو !
نئے زمانے میں جینے والو!
بلند دیواروں ، اونچی چھتوں کے نیچے، نئے کھلونوں کے ساتھ
مصنوعی زندگی راس آئے تم کو
مرے چراغوں کو میرے ہمراہ دفن کردو
اندھیری دنیا تمہیں مبارک !!!
ہر شاعر کے نزدیک ماضی کی ایک الگ اہمیت اور افادیت ہوتی ہے۔ اس ماضی کو انگریزی میں nostalgia کہتے ہیں جو شاعر کا سر مایۂ شعر ہوتا ہے۔ پھر یہ ظفر ؔ کا ساتھ کیسے چھوڑ دیتا؟ ان کی نظم ’چھوٹا ہوا ہاتھ‘ ملا حظہ کیجئے۔
’’تمہارا ہاتھ تھا بابا !
تھی میرے ہاتھ میں انگلی تمہاری
تمہارے اونچے کاندھوں سے ڈھلک کر
تمہاری صاف ستھری بے شکن چادر کا کونا
مجھے رہ رہ کے چھوتا تھا
کہ مجھ سے راستے کی گرد نہ آکر لپٹ جائے
تمہارا ساتھ تھا با با !
خدا منھ سے تمہارے بولتا تھا
سچ بولو
کہ سچ سورج ہے باطن کا
محبت ایک دولت ہے۔ ۔۔‘‘
اور اکثر شاعروں کے ساتھ مصیبت یہ ہوتی ہے کہ شام ہوتے ہی یا پھر تنہائی کی چادر پھیلتے ہی ان کا یہ nostalgia عود کر آتا ہے اور انہیں ماضی کے گلیاروں کی سیر کر واتا ہے جِسے وہ اپنے رجحان کے مطابق اپنی شاعری میں نظم کر تے ہیں۔بقول فِراقؔ ؎
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
میں نے اوپر جس نظم کا حوالہ درج کیا ہے ، اس میںظفر ؔ کو کسی محبوبہ یا اپنی محبت کے بجائے ایک مشفق اور مربی کر دار کی یاد آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شاعر کا خیال ، اس کا تخیل محترم ہوجاتا ہے اور اس کی ہر بات شخصِ مذکور کی کر دار سازی کر رہی ہوتی ہے۔اپنے بچپن کا بیان، بابا کا والہانہ ذکر اور پھر ان کی اعلی اقدار پر مبنی نصیحت ، اس نظم کے مبادیاتی اجزاء ہیں۔
یو ں کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ ظفر ؔ زندگی کی صدا قتوں کی شاعر ہیں؟ وہ بے معنی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اپنی اسی عنوان کی نظم ’زندگی با معنی ہے‘ میں وہ یہی پیغام دیتے ہیں۔
’ہاتھ نہ آئے ستارہ
ہاتھ نہ آئے جزیرہ
لیکن ان کے پانے ، ان کو چھونے ، ان کے پاس جانے کا
جو اک سنگھرش ہے
وہ زندہ رہنا چاہئے
اک اسی سنگھرش سے
زندگی میں کچھ نہ کچھ مفہوم ہے
زندگی با معنی ہے۔‘
ظفر ؔ کی نظم بے سمت اور بے رُخ خیالات اور موضوعات کے ہمراہ نہیں چلتی۔ وہ بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ اپنے خیالات کو خلق کر تے ہیں۔اور پھر انہی خیالات کے آٹے سے شعر کی روٹی تیار کر تے ہیں۔ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل ہونے کو اپنا بڑا کار نامہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن ظفرؔ اس اکیسویں صدی کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ اس لئے وہ اس اکیسویں صدی سے مخا طب ہو کر کہہ اٹھتے ہیں۔
میں نہیں کہتا تو مری خاطر
آسماں اک نیا فراہم کر
جی سکوں میں زمیں پہ عزت سے
ایسی آب و ہو ا فراہم کر
یعنی شاعر کا ادراک اس واقعے سے اچھی طرح واقف ہے کہ اکیسویں صدی میں کو ئی اگر ایسی ہوا ، ایسا ماحول ہی فراہم کر دے کہ انسان، بلکہ بنی نوع انسان عزت سے اپنی بچی کھچی سانسیں لے کر اپنا رخت ِ سفر باندھ سکے، تو یہی غنیمت ہے۔ لیکن وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا جارہا ہے ، یہ امید ، نا امیدی میں بدلتی جارہی ہے۔
ظفر ؔ کی نظموں میں طرزِ اظہار کی خوبصورتی ، ترسیل و ابلاغ کی منزلوں سے گزرتے ہوئے محاکات کی جدت و ندرت کے نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ میں ان کی نظموں سے کچھ حوالے دے رہا ہوں۔ آپ مکمل نظمیں پڑھے بغیر بھی ان کا مزہ تو لے سکیں گے لیکن اگر مکمل متن پڑھیں گے تو یہ سہ آتشہ ہو جائے گا۔
’ میں اپنی سرخ صبحوں
سبز شاموں
سانولی راتوں کی لاشوں پر کھڑا ہوں
۔۔۔۔۔
ہنسے کوئی تو اس کے شوخ غنچے میرے ہونٹوں میں
چمک اٹھیں
۔۔۔
سرد سینے کو عطا کر آگ
اس کو درد سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کردے
( نظم : دُعا)
تو میرے ساتھ ہے لیکن
میں تیرے پاس ابھی آیا نہیں ہوں
میں زندہ ذہن ہوں
سایہ نہیں ہوں
( نظم : تری بے چین آنکھوں کے پرے)
کہ یہ دھیان کی سیڑھیاں ٹوٹ جائیں گی سب
چاندنی آگ کی جھیل بن جائے گی
اور میں۔۔۔۔کرب کی کالی دیوار میں
چُن دیا جاؤں گا
(نظم : کرب کی کالی دیوار)
پُل ، مینار، سفینہ، پانی
سب ڈوبیں گے ساتھ
کاش کہ لمبے ہو جاتے
تیری یادوں کے ہاتھ۔۔۔
(نظم : غر قابی سے پہلے)
وہ آس کے پاؤں میں بجلی کی جو پازیب تھی
گھٹا کا آنکھ میں جو سُر مہ تھا
ماتھے پر تھا جھومر چاند کا
کہاں کھو آئی دنیا؟
یہ دنیا خوبصورت تھی
یہ بد صورت ہوئی کیسے، خدایا؟
(نظم : یہ دنیا خوبصورت تھی)
ہوا سا وقت اُڑا جارہا تھا اور منظر
دُھنی کپاس کی مانند ٹوٹ کر بکھرا
(نظم : دوڑ)
وہ دیواریںجو آندھی اور بارش سے کبھی محفوظ رہنے کے لئے
میں نے بنائی تھیں
انہیں خود توڑ دیتا ہوں
کسی ویرانے میں
اپنے خدا کو میں اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔
(نظم : جب کوئی نیا موسم)
غرض ظفر ؔ کی نظموں میں لفظیات، علامات، لہجہ اور جدید تشبیہات و استعارات کی تناظر میں بھی تنوع اور وارفتگی پائی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

memories of Shamsur Rahman Farooqi

Articles

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

شمس الرحمن فاروقی

 

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

مجھے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی بہت سی باتیں یاد ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ میں اس وقت وہاں پڑھنے گیا تھا جب میری عمر کم تھی، اور اس عمر کی باتیں انسان اکثر یاد رکھتا ہے۔ میں ویزلی ہائی اسکول (Wesley High School)اعظم گڑھ (اب انٹر کالج) میں پڑھنے گیا تھا (1943ئ) تو اس وقت میری عمر اور بھی کم تھی ، یعنی اس وقت میں صرف آٹھ سال کا تھا ۔ لیکن وہاں کی باتیں مجھے اتنی یاد نہیں جتنی جارج اسلامیہ کی باتیں۔ لہٰذا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جارج اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبہ میں متعدد ایسے تھے جنھیں آسانی سے بھلایا نہیں جاسکتا۔
میں نے ۹۴۹۱ءمیں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول (اب انٹر کالج) گورکھپور سے ہائی اسکول پاس کیا اور نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی میرانام میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج کے گیارہویں درجے میں لکھوادیا گیا۔ لیکن یہ میری اور جارج اسلامیہ کالج کی پہلی ملاقات نہ تھی ۔ گذشتہ سال جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا ، میں نے جارج اسلامیہ کالج میں مضمون نویسی اور فی البدیہ تقریر کے مقابلوں میں تیسرا انعام ( مضمون نویسی) اور خاص انعام ( فی البدیہ تقریر) حاصل کیا تھا۔ مجھے دو کتابیں انعام میں ملیں۔ ایک تو جوش صاحب کا چھوٹا سا ، لیکن مجلد مجموعہ ”شاعر کی راتیں“ تھا اور دوسرا تیغ الہٰ آبادی ( بعد میں مصطفی زیدی) کا اتنا ہی چھوٹا سا غیرمجلد مجموعہ تھا ”روشنی“ ۔ تیغ صاحب کا مجموعہ مجھے اس زمانے میں بھی بہت چھچھلا معلوم ہوا ، بلکہ خدا اور مذہب پر ان کے حملے چھچھورپن اور رکاکت سے مملو معلوم ہوئے ۔ مجھے اس مجموعے کے بہت سے شعر یاد ہیں، اور ان کے بارے میں میری اب بھی یہی رائے ہے۔ جوش صاحب کی کتاب مجھے نسبتاً زیادہ ”شاعرانہ“ معلوم ہوئی اور اس کے بھی بہت سے شعر مجھے اب تک یاد ہیں ۔ تیغ صاحب کی کتاب اب میرے پاس نہیں، لیکن ”شاعر کی راتیں“ خوش قسمتی سے محفوظ ہے۔ اس پر 6 فروری ، 1949ءکی تاریخ پڑی ہے، اور یہ بھی درج ہے کہ میں نے اسے دوسرے دن ختم کرلیا تھا۔
کالج میں جو مضامین مجھے پڑھنے پڑے ان میں انگریزی چھوڑ کرکسی سے بھی مجھے کچھ لگاﺅ نہ تھا۔ انگریزی کے استاد جناب غلام مصطفی خاں رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی ، تبحر علمی ، پھر اچھے طالب علموں سے دلچسپی اور مسلسل ہمت افزائی کے ذریعہ چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کوبھی انھوں نے ہمیشہ تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ میں اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا تھا۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ اور باریک بینی سے مملو ہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔ رشیدی صاحب بہت عمدہ شاعر بھی تھے اور یہاں بھی ان کی مثال میرے لیے رہنمائی کاکام کرتی تھی۔
رشیدی صاحب کے بہت سے شعر مجھے یاد ہیں۔وہ غزل اور نظم دونوں کہتے تھے،اور نظموں میں ان کی طویل نظم ”سراپا“کے بہت چرچے تھے،لیکن وہ طالب علموں کے سامنے ،یاعام محفلوں میں یہ نظم نہ سناتے تھے کہ اس میں کئی شعروں میں تکلف اور احتیاط کا دامن چھوڑ کر معشوق کے بدن کا بیان اور اس کے حسن کی ثنا کی گئی تھی۔میری زندگی کے یادگار دنوں میں ایک دن وہ ہے جب مسعود اختر جمال کسی مشاعرے میں گورکھپور آئے تھے۔ان سے میری اور میرے ایک دوست کی کچھ ملاقات تھی۔ہم لوگ انھیں راضی کرکے اپنے یہاں لے آئے اور جمال صاحب کے وعدے کا سہارا لے کر رشیدی صاحب کو اور گورکھپور کے مشہور شاعر ہندی گورکھپوری کو بھی بلا لائے۔یہ ان بزرگوں کی طالب علم نوازی اور ادب دوستی تھی کہ تینوں بے حیل وحجت تشریف لے آئے اور ہم لوگوں نے دیر تک ان کا کلام سنا ۔ ہندی صاحب نے کیا سنایا،افسوس کہ یہ مجھے یاد نہیں،لیکن جمال صاحب نے میری درخواست پر اپنی مشہور طویل نظم ”صبح بنارس“ بڑے دلنشیں دھیمے ترنم سے سنائی تھی۔مجھے کچھ شعر پہلے سے یاد تھے اور اب بھی یاد ہیں۔نظم شروع ہوتی تھی ،ع
صبح بنارس گنگا کنارے
ایک بند تھا
دلکش منظر حد نظر تک
حد نظر تک دلکش منظر
جنبش لہروں میں ہلکی سی
جیسے فسوں بر لب ہو فسوں گر
رشیدی صاحب نے ہم لوگوں کی درخواست پر ”سراپا“سنائی،لیکن اکثر شعرپھر بھی چھوڑ دئیے ،اور مزاج کی شائستگی دیکھئے کہ انھوں نے کبھی ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر نہ کہا،بلکہ ہمیشہ جمال صاحب یا ہندی صاحب سے کہتے، ”یہاں بہت سے شعر چھوٹتے ہیں۔“جو شعر انھوں نے سنائے ان میں سے کچھ مجھے یاد رہ گئے مندرجہ ذیل شعر کے روشن اور لطیف جنسی پیکر مجھے اب بھی بے نظیر لگتے ہیں
سینے سے ہے کلائی روشن وادی شانہ شانے سے
گورے سے گورے عضو بدن میں صبح کف پا عام نہیں
نظم کئی بحروں میں تھی ،اور ہر بند میں کئی شعر تھے۔ایک یہ شعر بھی اب تک میرے دل میں سنسنی پیدا کردیتا ہے ۔
آکاش سے تارے چن لاﺅں لمحوں کو ابد میں ضم کردوں
تم اپنی زباں سے کہہ تو دو پھر کوشش آدم کیا کہئے
افسوس کے اب وہ تینوں اللہ کو پیارے ہوچکے۔ان جیسے شرافت کے پتلے ،حسن خلق اور خوش لباسی کے مجسمے اب کہاں دیکھنے کو ملیں گے۔تینوں شیروانی اور چوڑی مہری کے پاجاموں میں ملبوس ،تینوں کے ہونٹوں پر پان کی سرخی، چہرے پر متین تبسم کی جھلک ۔رشیدی صاحب چھوٹے قد کے اور گورے تھے،ہندی صاحب بھی پستہ قد لیکن سونولے تھے اور تاریک شیشوں کی عینک لگاتے تھے۔مسعود اختر جمال اچھے ہاتھ پاﺅں کے اور گندم گوں تھے۔تینوں کی پیشانیاں شرافت کے نور سے روشن تھیں۔رشیدی صاحب نے شادی نہیں کی تھی۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ رنگین مزاج اور حسن پرست ہیں،لیکن مدت مدید کے نیاز مندانہ اور شاگردانہ مراسم میں مجھے ان کی کوئی بات شرافت اور متانت سے سر مو متجاوز نہیں دکھائی دی۔
رشدی صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان کے مجرد رہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عشق میں ناکام رہے تھے۔ممکن ہے ایسا ہی ہو،لیکن ان کے کلام میں عشق کی سچی گرمی تھی اور مضامین کی کیفیت عشق میں ناکامی سے زیادہ محبوب کی بے وفائی کا پتہ دیتی تھی ۔وہ میرا لڑکپن تھا،مطالعہ اور فہم دونوں ہی محدود تھے اور عمر بھی ایسی کہ ہر دلکش کلام فوراً متاثر کرتا تھا۔یہ وہ دن تھے جب جدید شعرا میں مجھے جذبی اور ساحر کا تقریباًسارا کلام ،اور حفیظ جالندھری اور مجاز کا بہت سا کلام یاد تھا۔لہٰذا اس زمانے میں رشیدی صاحب کے کلام سے متاثر ہونا کوئی خاص بات نہ تھی ۔لیکن آج بھی،نصف صدی سے کچھ زیادہ مدت گذر جانے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ عشق کی گرمی اور معشوق کی بے وفائی کا تجربہ رشیدی صاحب کی غزل میں بے نظیر بانکپن اورمحزونی کے ساتھ ادا ہوا۔
یہی بہت کہ میں غائبانہ جبین عجز بچھا سکوں
تراسنگ در تو مرا نہیں کہ وہیں پہ سر کو جھکا سکوں
ہے ملاحتوں کا وہ حال جس پہ صباحتیں بھی نثار ہیں
میں تجھے بھی اپنی نگاہوں سے ترا حسن کاش دکھا سکوں
یہی آرزو ہے رشید یا کہ میں خاک ہونے سے پہلے اب
وہی زندگی وہی صحبتیں کبھی ایک بار تو پاسکوں
٪٪٪٪٪
انداز و اشارات و کنایات نہیں ہیں
آنکھوں کے سوالات و جوابات نہیں ہیں
نظریں ہیں ابھی تک وہی پیمانہ¿ رقصاں
پر پینے پلانے کے اشارات نہیں ہیں
اب تک اسی خاموشی ناطق کے ہیں جلوے
اس نطق میں لیکن وہ خیالات نہیں ہیں
جھک جاتی ہیں اب بھی کبھی ملنے پہ نگاہیں
لیکن وہ محبت کے حجابات نہیں ہیں
٪٪٪٪٪
نگاہیں کہہ رہی تھیں کچھ یکایک خامشی کیوں ہے
یہ دامان نوازش میں شکن آلودگی کیوں ہے
شکایت ہو کہ نفرت ہو کوئی انداز ہو لیکن
تمھیں ترک تعلق پر بھی یہ وابستگی کیوں ہے
٪٪٪٪٪
پیمانہ ¿رقصاں ،پینے پلانے کے اشارات،خاموشی ناطق،دامان نوازش میں شکن آلودگی ،بھلا مجاز اور اختر شیرانی اس سے بہتر کیا کہتے ؟اور تمام اشعار ،خاص کر پہلی غزل کی روانی اور کیفیت ،اور اس کے ساتھ دوسرے شعر کا مضمون،اعلیٰ درجے کی شاعری ضمانت ہیں۔رشیدی صاحب کو چھپنے چھپانے یا مشاعرہ پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسلامیہ کالج کے مشاعروں اور سالانہ میگزین میں وہ ضرور نظر آتے تھے۔کاش کوئی اللہ کا بندہ ان کا کلام وہاں سے جمع کرکے شائع کردیتا۔
انگریزی کے دوسرے استاد ایک مدراسی (غالباً تامل بولنے والے)عیسائی مسٹرپی۔آئی۔کورئین(P.I. Kurien)تھے کورئین صاحب مدراسی لہجے میں انگریزی بولتے تھے جو ہم لوگوں کے لئے انوکھا اور ساتھ ہی ساتھ مرعوب کن تھا،کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ان کا لہجہ اہلِ زبان جیسا ہے۔ اس زمانے میں مدراس (آج کے چنئی) میں انگریزی اس کثرت سے بولی جاتی تھی کہ ہم سب اسے وہاں کی دوسری زبان سمجھتے تھے، اور یہ غلط نہ تھا ۔ یہ اور بات کہ مدراسیوں کا انگریزی لہجہ اہلِ زبان کی طرح بالکل نہ تھا، لیکن یہ بات ہم لوگ اس وقت کہاں سمجھ سکتے تھے۔ بہرحال ، کورئین صاحب چند مہینے بعد سینٹ اینڈروز کالج (St. Andrew’s College) چلے گئے۔ وہاں ایم۔اے ۔ تک پڑھائی ہوتی تھی اور وہ گورکھپور کا نہایت قدیمی اور مہتم بالشان کالج تھا۔ مجنوں صاحب بھی وہیں اردو اور انگریزی پڑھاتے تھے۔ ہم لوگ کورئین صاحب سے اس بناپر بھی مرعوب ہوئے کہ انھیں بی۔اے۔ پڑھانے کے لائق سمجھا گیا، لیکن رشیدی صاحب کی بات ہی اور تھی۔
ہمارے پرنسپل حامد علی خاں صاحب دبلے پتلے نہایت کم سخن تھے اور دھیمی آواز میں گفتگو کرتے تھے لیکن ناراض ہوجائیں تو ڈانٹ بھی دیا کرتے ۔ انھوں نے کچھ دن ہم لوگوں کو الگ سے انگریزی صرف و نحو وغیرہ پڑھائی۔
اردو کے اساتذہ میں منظور علی صاحب کی نستعلیق صورت ، عمدہ شیروانی، منجھی ہوئی آواز اور باوقار رکھ رکھاﺅ سے لگتا تھا کہ وہ کسی بڑی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ شمس الآفاق صاحب شمس اردو کے دوسرے استاد تھے ۔ وہ منظور صاحب کے مقابلے ذرا کم بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔ شیروانی اور بڑے پائینچوں کا پاجامہ وہ بھی پہنتے تھے۔ یہ لباس ان پر بھلا لگتا تھا۔ دیگر استادوں کی طرح شمس الآفاق صاحب بھی مجھ پر مہربان تھے۔ ایک بار میرے ایک افسانے کی انھوں نے بہت تعریف کی تھی۔
سائنس سے مجھے کوئی لگاﺅ نہ تھا لیکن کیمسٹری کی لیبوریٹری سے اٹھنے والی پراسرار بدبوئیں مجھے ہمیشہ ان تقریباً مخبوط الحواس سائنس دانوں(Mad Scientists)کی یاد لائی تھیں جواس زمانے میں کئی انگریزی اور ایک آدھ اردو افسانوں میں نظر آتے تھے۔لطف یہ کہ کیمسٹری کے لکچرر صاحب(وہ بھی شاید کوئی مدراسی تھے،لیکن ہندو)کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے سائنٹسٹ ہوتے لیکن ایک بار بڑے حادثے کا شکار ہوگئے۔کہا جاتا تھا کہ وہ کیمسٹری کا کوئی بہت مشکل اور عالمانہ تجربہ کررہے تھے جس میں طرح طرح کی گیسیں بروئے کار لائی جاتی تھیں۔ان گیسوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جنھوں نے ان کے دماغ پر اثر ڈالا اور وہ نیم مخبوط الحواس ہوگئے۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی بہت بڑی یونیورسٹی میں ہونے کے بجائے گورکھپور کے ایک چھوٹے سے انٹر کالج ہی میں لکچرر ہوسکے تھے۔حقیقت کیا تھی ،یہ تو خدا ہی جانے لیکن ایک بار ان کا غصہ میں نے بھی دیکھا تھا۔وہ سب لڑکوں کو بھگاتے ہوئے لیبوریٹری کے باہر تک لے آئے تھے اور چیخ رہے تھے:
Get out! You are not fit to study!
ظاہر ہے کہ قصور لڑکوں ہی کا رہا ہوگا۔ہم لوگ ان کی لیبوریٹری کے سامنے سے چپ چاپ گذرتے ،شور ہر گز نہ مچاتے تھے۔افسوس کہ ان کا نام بھول گیا ہوں لیکن ان کی شکل ٹھیک سے یاد ہے،پکا سانولا رنگ،موٹے موٹے ہونٹ ،ماتھے پر شکن اور ناک پر عینک ہمیشہ رہتی۔
اقتصادیات کے استادانتظار حسین صاحب مجھے اس لیے یاد ہیں کہ وہ کرکٹ کے عمدہ کھلاڑی تھے اور بریلی ضلع کی ٹیم میں مشہور زمانہ تیز گیند انداز اور ٹسٹ کھلاڑی محمد نثار صاحب کی گیندوں پر وکٹ کیپری کرچکے تھے۔کلاس میں وہ اقتصادیات کی اصطلاحات کے سوا ایک بھی لفظ انگریزی کا نہ بولتے تھے۔نہایت خوش مزاج اور خوش لباس شخص تھے۔ ہائی اسکول کے درجے پڑھانے والوں میں ایک استاد شیخ جگو المتخلص بہ مائل تھے۔ان کا اصل نام ہی ”جگو“ تھا،جس طرح موجودہ پرنسپل صاحب کے پیش رو پرنسپل صاحب کا نام چھوٹے خاں تھا۔وہ بھی بڑے دبدبے کے پرنسپل تھے،انگریز نے انہیں ”خان صاحب“کا خطاب بھی دیا تھا۔شیخ جگو صاحب کی لیاقت کا عالم تھا کہ اگرچہ و ہ سائنس کے طالب علم کبھی نہ رہے تھے لیکن انھوں نے الہٰ آباد یونیورسٹی کے نامور پرفیسر گورکھ پرشاد کی کتاب ،جو فلکیات اور علم ہیئت پر تھی،اس کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔یہ ترجمہ اعلیٰ درجے کے کاغذ پر ٹائپ کے حروف میں ہندوستانی اکیڈمی الہٰ آباد سے چھپا تھا۔پھر انگریزی گرامر اور ریاضی کے ماہر بابو گجا دھر پرشاد تھے۔سارا کالج ان کا ادب کرتا تھا۔جغرافیہ کے لکچر ر منیر صاحب تھے ، نہایت نیک نفیس اور کم گو۔وہ شاعر بھی تھے۔ہم لوگ ان کی خدمت میں تھوڑے بہت گستاخ تھے۔ہندی کے استاد کا نام بھول گیاہوں،بہت سیدھے سادھے بھلے آدمی تھے۔ایک بار ان کی چھتری کلاس میں چھوٹ گئی تھی۔میں اسے اٹھائے اٹھائے ان کے پیچھے بھاگ کر گیااور چھتری ان کی خدمت میں حاضر کردی۔انھوں نے گرم جوشی سے”دھنیہ واد“ کہا۔مجھے یہ بات ان کے لہجے کی گرم جوشی کے باعث ،اور اس سبب سے یاد رہ گئی کہ اب تک مجھے کسی نے ”دھنیہ واد“نہ کہا تھا۔میرے کان Thank Youاور ”شکریہ“کے آشنا تھے۔
میں اردو کا طالب علم نہ تھا(ہندی البتہ میں نے پڑھی،اس زمانے میں انٹر اور بی۔اے۔دونوں میں غیر ہندی داں طالب علموں کو”ابتدائی ہندی“پڑھائی جاتی تھی۔انٹر میں ہم لوگوں نے ہندی کی ایک درسی کتاب”ہندی ہلور“نام کی پڑھی تھی۔ہم لوگ مدتوں اس نام سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے۔اس زمانے میں ہندی کی نثر بہت غیر ترقی یافتہ تھی۔لیکن آج تو ہندی خوب اچھی لکھی جارہی ہے اور اہل اردو پچھڑے جارہے ہیں۔)ادب سے میرے شغف کی بدولت منظور صاحب نے مجھے بزم ادب کا معتمد بنادیا تھا۔اس کے پچھلے سال منظور صاحب کی نگرانی میں انشا کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں انتہائی دلچسپ اور پر اثر ڈراما کالج میں ہوا تھا۔انشا،سعادت علی خاں،اور جرا¿ت کے کردار جن لڑکوں نے ادا کئے تھے ان کے نام بھول گیا ہوں ،لیکن ان کے ادا کئے ہوئے مکالمے ،ان کا طرز گفتار ورفتار ، اب بھی مجھے یاد ہیں۔میں بے کھٹکے کہتا ہوں کہ اتنے عمدہ ڈرامے میں نے کم دیکھے ہیں ۔اس سال ایک بڑا مشاعرہ بھی ہوا تھا جس کے شعرا میں سید حامد اور ان کے شعر مجھے خوب یاد ہیں۔سید حامد ان دنوں آئی۔اے۔ایس۔میں کامیاب ہو کر گورکھپور میں ریجنل فوڈ کنٹر ولر کے عہدے پر تھے اور ہمارے لئے ہیرو کا مرتبہ رکھتے تھے۔
منظور صاحب نے مجھے معتمد بزم ادب بنا تو دیا تھا لیکن جلد ہی انھیں اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کام کے لئے جتنے محنت،ذمہ داری ،اور طالب علموں سے ملتے جلتے رہنے کی ضرورت ہے،وہ میری بساط کے باہر ہے۔لہٰذا میں نے استعفیٰ دے دیا جو بخوشی قبول کرلیا گیا۔
اردو کے ایک استاد مولوی صدیقی صاحب تھے،منظور صاحب اور شمس الآ فاق صاحب کے مقابلے میں وہ بالکل مولوی لگتے تھے،شاید جماعت اسلامی سے بھی منسلک تھے۔میں بزعم خوداردو میں مہارت رکھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ اردو کا کوئی شعر یا کلام ایسا نہیں جسے میں نہ سمجھ سکوں۔پھر ایک دن اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا۔ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ مجھے سودا کا قصیدہ پڑھادو،ع
سنگ کو اتنے لئے کرتا ہے پانی آسماں
میں نے کہا ،لاﺅ جھٹ پڑھادیں گے۔لیکن جب کتاب کھلی تو میری زبان بند ہوگئی ۔بھلا ایک شعر تو سمجھ میں آیا ہو۔میں کوئی بہانہ کرکے بھاگا بھاگ مولوی صدیق صاحب کے یہاں گیا۔وہ فرشتہ صفت شاید کسی کام میں مصروف رہے ہوں،لیکن انھوں نے نہایت خندہ پیشانی سے،اور مزے لے لے کر وہ قصیدہ مجھے پڑھایا۔میں اس وقت ان کا شکر گذار ہوا ،اور ہمیشہ کے لئے احسان مند بھی ہوں کہ ان کی پڑھائی سے مجھے معلوم ہوا کہ کلاسیکی ادب کی کیا خوبصورتیاں ہیں،اور یہ کہ یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھ رہاتھا۔
جارج اسلامیہ کی لائبریری اس زمانے میں اعلیٰ درجے کی انگریزی کتابوں،خاص کر یورپی فکشن کے انگریزی تراجم پر مبنی موٹی موٹی جلدوں سے بھری ہوئی تھی۔میں نے کئی کتابیں وہاں نکال کر پڑھیں،گھر لے جانے کی اجازت نہ تھی ۔موجودہ زمانے کا حال نہیں کہہ سکتا،لیکن اس زمانے میں کالج لائبریری کا دارالمطالعہ تقریباً ہمیشہ لڑکوں سے بھرا رہتا تھا۔غلام مصطفیٰ صاحب اور شمس الآ فاق صاحب بھی اکثر وہاں بیٹھتے تھے۔کیا مجال کہ کسی طالب علم یا استاد کی آواز بلند ہوجائے،یا کرسی ہی کھینچنے کی آواز اونچی سنائی دے۔میں فرسٹ ایر میں تھا تو سکنڈ ایر کے ایک مقبول اور اچھے طالب علم نے (افسوس کہ ان کا نام اب یاد نہیں)میری طرف اشارہ کرکے شاید کورئین صاحب سے،یا کسی اور سے ، مسکراتے ہوئے مجھےThis little chapکہا۔میری عمر کم تو تھی ہی،لیکن میں کچھ دبلا پتلا اور متوسط قد بھی تھا ،اور وہ صاحب تنو مند اور بلند و بالا تھے۔مجھے یاد ہے کہ This little chapکا خطاب مجھے کچھ برا نہ لگا ،بلکہ اچھا ہی لگا کہ ان کی انگریزی با محاورہ تھی۔اس وقت تک میری انگریزی کے چرچے بہت نہ تھے،لیکن واقف کار لوگ جانتے تھے ۔فرسٹ ایر کے شش ماہی امتحان میں انگریزی کے کسی پرچے میں ہمیں ”کتب بینی “پر مضمون لکھنا تھا۔میں لکھنے میں منہمک تھا اور ایک استاد سید تسنیم احمد میری پشت پر کھڑے دیکھ رہے تھے کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔معاً ان کے منھ سے نکلا ،”اجی تم تو بہت اچھی انگریزی لکھتے ہو!“پندرہ بیس لڑکے رہے ہو ں گے ،لیکن کوئی متوجہ نہ ہوا ،کیوں کہ اس وقت میرے ساتھی سبھی جان گئے تھے کہ میری انگریزی بہت اچھی ہے۔
شہر میں ایک اور لائبریری سے میرا رابطہ مدتوں رہا۔یہ واحد لائبریری تھی ،اور اس کے کرتا دھرتا ، مالک،منیجر،سب کچھ واحد بھائی(واحد علی ہاشمی)تھے۔اللہ بخشے واحد بھائی مرحوم سے میری اچھی نہ بنتی تھی،کیونکہ میں الماری سے بے تکلف کتاب نکال لینے کا عادی تھا،لیکن لائبریری کا ممبر نہ تھا۔میری مالی حالت ہی ایسی نہ تھی کہ لائبریری کی بہت حقیر فیس ادا کر سکتا، اور واحد بھائی کا خیال تھا کہ دارالمطالعہ میں بیٹھ کر پڑھنے کا استحقاق بھی انھیں کو ہے جو باضابطہ رکن کتب ہوں۔ دوسری بات یہ کہ طالب علم کی حیثیت سے میری سنجیدگی شاید واحد بھائی کی نظر میں بہت مشکوک تھی ، کیونکہ میں افسانے ، ناول ،اور خاص کر جاسوسی ناول بہت پڑھتا تھا ۔ ایک بار جب میں نے ان سے اختر حسین رائے پوری کی مترجمہ قاضی نذر الاسلام کی نظموں کے مجموعے ”پیغامِ شباب“ کی فرمائش کی تو انھوں نے سمجھا کہ میں عنوان سے دھوکا کھاکر اسے کوئی عشقیہ ناول سمجھا ہوں۔ انھوں نے کتاب مجھے دے تو دی لیکن کئی بار کہا کہ یہ آپ کے مطلب کی نہیں ہے۔
میں نے واحد بھائی جیسا فنافی الکتاب شخص نہیں دیکھا۔ انھوں نے اپنا تن من دھن سب لائبریری میں لگا دیا۔ خدا جانے ان کی روٹی کس طرح چلتی تھی اور کتابیں وہ کہاں سے خریدتے تھے۔ افسوس کہ وہ بھی راہی ملک عدم ہوئے اور ان کی لائبریری سب بکھر گئی۔
مجھ سے اوپر کے طالب علموں میں نجات اللہ صدیقی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ مجھ سے دوسال آگے تھے لہٰذا جب میں پہنچا تو وہ کالج چھوڑ چکے تھے۔ لیکن تمام کالج میں ان کی شہرت بہت تھی، اور ہم لوگوں سے کچھ ان کی عزیز داری بھی تھی۔ انھوں نے انٹر میڈیٹ میں سارے یو۔پی ۔ میں نواں مقام حاصل کیا تھا۔ یہ آج بھی بہت بڑی بات ہے، اور اس زمانے میں تو اور بھی بڑی بات تھی، کہ اس زمانے میں طالب علم نسبتہً کم تھے لیکن امتحان بہت سخت ہوتا تھا۔ انٹرمیڈیٹ میں فرسٹ کلاس لانا گویا چاند پر اترنا تھا۔ سیکنڈ کلاس بھی بہت باعزت نتیجہ تھا۔ اکثریت تھرڈ کلاس والوں کی ہوتی تھی۔ پھر نجات اللہ صاحب نے نویں پوزیشن اس وقت حاصل کی تھی جب سارے ملک میں مسلمانوں کے دل مایوسی سے بھرے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ ایمان دارانہ سلوک بہت کم ہوتا تھا ، بلکہ اکثر حالات میں تو ہوتا ہی نہ تھا۔ نجات اللہ صاحب کی شاندار کامیابی سے کچھ ہی کم بڑی بات یہ تھی کہ انھوں نے انگریزی تعلیم جاری رکھنے کے بجاے رام پور میں جماعت اسلامی کے مدرسہ¿ عالیہ میں اسلام اور عربی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔
نجات اللہ صاحب ایک بار مجھے اسلامیہ کالج میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے سامنے ملے تو میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے ، تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں ایک کاغذ کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا:
” پرنسپل صاحب سے اپنے بارے میں ایک Testimonial(تصدیق نامہ) لینا ہے ، اسی کا ڈرافٹ لایا ہوں۔ “
میں اس وقت لفظ ” ڈرافٹ “ سے ناواقف تھا، کچھ غور کرنے پر سمجھ میں آیا کہ اس طرح کے مسودے کو ، جس پر کسی اور کی منظوری یا دستخط ہونے ہوں ، انگریزی میں ڈرافٹ کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی مجھے متاثر کن لگی کہ اپنے تصدیق نامے کا مسودہ نجات اللہ صاحب خود لائے تھے ، یعنی انھیں اپنے اوپر اس قدر اعتماد ہے اور پرنسپل صاحب بھی ان پر اس قدر اعتبار کرتے ہیں کہ انھیں سے ان کا تصدیق نامہ لکھواتے ہیں۔ چونکہ یہ لفظ ” ڈرافٹ“ میں نے ان سے گویا حاصل کیا تھا اس لیے میں انھیں اپنا استاد سمجھتا ہوں۔ نجات اللہ صاحب موٹے شیشوں کی نیلگونی عینک لگاتے تھے ، اس کا بھی ہم لوگوں پر بڑا رعب تھا۔ بعد میں جب میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور نجات اللہ صاحب کبھی کبھی رام پور سے آتے تو ہم لوگوں کا محاسبہ کرتے کہ جماعت کی کتابیں ہم نے کتنی پڑھیں اور ان پر کس حد عمل پیرا ہوئے ۔ یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہوگیا۔
میرے ساتھیوں میں سب سے تیز اور لائق لڑکا اظہار عثمانی تھا۔ افسوس کہ وہ پاکستان چلاگیا۔ پاکستان سے اس کے خط کبھی کبھی آئے ، پھر بند ہوگئے۔ اس کا ایک خط واحد بھائی کے پاس آیا تھا جس میں میری بڑی تعریف تھی کہ ان کا مطالعہ ”وسیع اور ہمہ گیر“ ہے۔ واحد بھائی کی رائے میرے بارے میں ایسی نہ تھی اس لیے انھیں یقین کرنے میں مشکل ہورہی تھی کہ اظہار کی مراد مجھی سے ہے۔ انھوں نے اس کا خط مجھے دکھایا اور پوچھا، یہ کون صاحب ہیں جن کا ذکر اظہار صاحب نے کیا ہے۔ پاکستان جانے کے بعد اظہار نے کچھ بہت زیادہ ترقی نہ کی ۔ شاید وہ کسی کالج میں لیکچرر ہوگیا اور پھر بہت جلد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ میرا اس کا رابطہ اس وقت سے بالکل ٹوٹ گیا تھا جب میں نے گورکھپور چھوڑا (1953) اس کے مرنے کی خبر مجھے بہت بعد میں ملی۔ پھر اس کے بعد اظہار کا ذکر میں نے پاکستان میں تب سنا جب مظفر علی سیّد سے میری ملاقات ہوئی ۔ دریغا کہ اب مظفر علی سیّد بھی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ انھوں نے میرا مضمون ”غبارکارواں“ پڑھا تھا جس میں اظہار کا ذکر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اظہار سے ان کی اچھی ملاقات تھی اور اس کی موت کار حادثے میں ہوئی تھی۔
اظہار کے ساتھ میرے دوسرے لائق دوست عبدالحی¿ خاں، یامین اور ابرار حسین خاں تھے ۔ عبدالحی¿ خاں ڈاکٹر بنے اور تھوڑا بہت تصنیف و تالیف کا شوق انھوں نے کالج کے بعد برقرار رکھا لیکن موت نے انھیں بھی بہت جلد تاک لیا۔ یامین کو شعر گوئی کا ذوق تھا ، ترنم بھی اس کا اچھا تھا۔ بھاری بھرکم ، بذلہ سنج ، کم جاننے والا لیکن زیادہ مرعوب کرنے والا، وہ بھی پاکستان چلا گیا۔ خدا جانے اس پر کیا بیتی۔ ابرار حسین خاں خود کو بہت لیے دیئے رہنے والے ، نہایت ذہین اور شعر فہم ، لیکن بہت جلد پریشان ہوجانے والے ، میرے قریب ترین دوست تھے۔ وہ گورکھپور سے علی گڑھ گئے ، پھر انھوں نے تعلیمات میں پی۔ایچ۔ڈی ۔ کی ڈگری لی ، شاعری میں ابرار اعظمی کے نام سے نام کمایا ۔ اب وظیفہ یاب ہوکر اپنے گاﺅں خالص پور ، ضلع اعظم گڑھ میں رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہماراگھر کا سا آناجانا اب بھی ہے۔
اقبال انصاری ہم لوگوں سے ایک سال پیچھے تھے لیکن ذہانت اور خوش مزاجی او ر خوش صورتی کے سبب سے ہم لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ انھوں نے بنارس میں انجینئرنگ میں داخلہ لیا، لیکن پھر انگریزی میں آگئے اور اقبال اے۔انصای کے نام سے علی گڑھ میں انگریزی کے سربرآوردہ پروفیسر بنے۔ اب بھی وہ علی گڑھ میں ہیں اور اقلیتوں اور انسانی حقوق کے لیے نبرد آزما کئی اداروں سے منسلک یا ان کے سربراہ ہیں۔
ہم سب پر جماعت اسلامی کا تھوڑا ، یا بہت اثر پڑا ۔ اظہار تو بہت جلد کمیونزم کی طرف مائل ہوگیا۔ اس نے تھوڑے ہی عرصے میں مارکس اور لینن کی تصنیفات پڑھ ڈالی تھیں۔ لیکن اس میں کٹر پن کا شائبہ نہ تھا، بڑا عالی دماغ شخص تھا ۔ عبدالحی¿ خاں بھی اشتراکیت کی طرف جھکے ہوئے تھے، لیکن ان کا رنگ ہلکا تھا۔ ابرار اعظمی اور اقبال انصاری دیر تک جماعت کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ دونوں کی مذہبیت اب بھی باقی ہے۔ لیکن جماعت سے وہ تعلق شاید اب نہیں رہ گیا، جماعت کے بارے میں خوش عقیدگی ابرار اعظمی میں بے شک اب تک ہے۔ بی۔اے کا دوسرا سال ختم ہوتے ہوتے (1953) میں جماعت اسلامی سے منحرف ، اور پھر بہت جلد متنفر ہوگیا۔ جماعت سے لگاﺅ کے ساتھ ساتھ ، یا اس کے باوجود ، میں گورکھپور کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے بھی جلسوں میں شریک ہوتا تھا۔ وہاں ،اور بعض دوسرے جلسوں میں فراق صاحب کو دیکھنے اور سننے کا موقع کئی بار ملا ۔نامی گرامی ترقی پسندوں کا مداح ہونے کے باوجود مجھے ترقی پسندی کو گلے سے اتارنے (ےا کم از کم گلے سے لگالےنے)کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی روس،اور پھر سویت یونین نے وسط ایشیاکے مسلمان ممالک پر جو ظلم کیے تھے اور جس طرح اسلامی تہذیب کی بیخ کنی کی تھی ،اس سے میں واقف تھا ۔انسانی حقوق کے احترا م کے سلسلے میں بھی مجھے اسٹالن کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ تھی ۔
ممکن ہے امتداد زمانہ کے سبب پرانی کہانیاں اب زیادہ رنگین نہ معلوم ہوتی ہوں،مجھے تو یہی لگتا ہے کہ میری طالب علمی کے سب سے اچھے دن وہی تھے جومیں نے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور میں گذارے۔انھیں کو یاد کرکے خوش ہو لیتا ہوں ،ظفر خاں احسن کیا خوب کہہ گئے
زبہر مستیم کے کاربا جام و شراب افتد
مرا از گفتگو ے بادہ سر خوش مہ تواں کردن
٪٪٪٪٪

Prem Chand: life and critical study

Articles

پریم چند کا افسانہ کفن

پریم چند

پریم چند : ایک نظر میں

قمر صدیقی

پریم چند کا خاندانی نام دھنپت رائے تھا۔۳۱؍ جولائی۱۸۸۰ء کو اترپردیش کے مردم خیز شہر بنارس سے چار پانچ میل دورایک چھوٹے سے گائوں لمہی میں پیدا ہوئے۔ احباب خانہ انھیں پیار سے نواب رائے کے نام سے پکارتے تھے۔ بعد ازاں انھوں نے اسی نام سے کچھ تحریریں بھی قلمبند کیں۔ منشی پریم چند کے والد منشی عجائب لال ڈاکخانے میں ملازم تھے۔ پریم چند کی ابتدائی تعلیم گائوں میں ہوئی ۔ اردو اور فارسی پڑھنے کے بعد انٹرنس کا امتحان پاس کرکے پرائمری اسکول میں ٹیچر ہوگئے۔ چونکہ پریم چند کو تعلیم کا شوق تھا لہٰذا تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ ہونے دیا اور ترقی کرتے کرتے بی۔ اے کی ڈگری حاصل کی۔
پریم چند کو لکھنے پڑھنے کا شوق بچپن ہی سے تھا۔ ۱۹۰۲ء میں ٹریننگ کے لیے الہ آباد کے ایک کالج میں داخل ہوئے تو ان کی طبیعت ناول نگاری کی طرف ملتفت ہوئی۔ یہیں انھوں نے اپنا پہلا ناول ’’اسرارِ معبد‘‘ کے نام سے لکھنا شروع کیا جس کی کچھ قسطیں بنارس کے ایک رسالے میں شائع ہوئیں۔ اسی زمانے میں پریم چند نے رسالہ ’’زمانہ‘‘کانپور کے لیے پابندی سے افسانے اور مضامین بھی لکھنے شروع کیے۔ ۱۹۰۸ء میں ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ’’سوزِ وطن‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔چونکہ اس مجموعہ میں شامل مشمولات حب وطن اور آزادی کے جذبات سے مملو تھے۔ لہٰذا انگریز حکومت سے اسے ضبط کرکے نذرِ آتش کردیا۔’’سوزِ وطن‘‘ تک کی بیشتر تحریریں پریم چند نے نواب رائے قلمی نام سے تحریر کی تھیں۔ انگریزوں کے معاندانہ رویہ کے پیش نظر منشی دیا نرائن نگم کے مشورے پرانھوں نے پریم چند کے قلمی نام سے لکھنا شروع کیا اور اسی نام سے مقبول ہوئے۔
یہ بھی عجیب اتفاق ہے کہ اردو افسانے کو ابتدائی دور میں ہی کچھ ایسے افسانہ نگار مل گئے جو ایک دوسرے سے قطعی مختلف مزاج رکھتے تھے۔ پریم چند ایک رجحان کی ترویج کر رہے تھے ، راشد الخیری دوسرے اورسجاد حید ر تیسرے نظریے و رجحان کے علمبردار تھے۔ لیکن پریم چند کی مقصدیت راشد الخیری کی اصلاح پسندی اور یلدرم کی رومانیت پر بازی لے گئی۔مقصدیت اور اصلاح کے پہلو نے پریم چند کے فن کو اتنا غیر معمولی بنادیا کہ وہ اردو افسانے کے سچے بنیاد گزار تسلیم کیے گئے۔ راشد الخیری اور سجاد حیدریلدرم کے رجحانات کی نیاز فتح پوری ، مجنوں گوکھپوری ، مہدی الافادی اور قاضی عبدالغفار کے بعد کوئی خاص تقلید نہ ہوئی۔ جبکہ پریم چند کی مقصدیت کا سدرشن ، علی عباس حسینی ، اعظم کریوی وغیرہ نے تتبع کیا اور ان بعد کے افسانہ نگاروں نے اس روایت کو مزید آگے بڑھانے میں معاونت کی۔اسی لیے سمجھا جانے لگا کہ پریم چند اردو افسانے کے موجد ہیں۔ لیکن یہ خیال درست نہیں ہے۔ مختصر افسانے کی ابتداکا سہرا توراشد الخیری اور سجاد حیدر یلدرم کے سر ہی بندھے گا۔ البتہ فنی اعتبار سے پریم چند راشد الخیری پر سبقت لے گئے ہیں۔
پریم چند کی افسانہ نگاری پر غور کیا جائے تو بتدریج ارتقانظر آتا ہے۔ ان کے پہلے افسانوی مجموعے ’’سوز وطن ‘‘ سے لے کر آخری دور کے مجموعوں ’’واردات ‘‘ اور ’’زادراہ‘‘ کے افسانوں میں واضح فرق ہے۔ لہٰذا ان کی فسانہ نگاری کے مختلف رویوں اور رجحان کے مطالعہ کے لیے اسے تین ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا دور۱۹۰۹ء سے لے کر۱۹۲۰ء کے عرصہ پر محیط ہے۔ دوسرا دور۱۹۲۰ء سے ۱۹۳۲ء تک اور تیسرا دور جو نسبتاً مختصر دور ہے یعنی۱۹۳۲ء سے۱۹۳۶ء تک ان کی زندگی کے آخری چار سال کا احاطہ کرتا ہے۔
پہلے دور کے ابتدائی برسوں میں داستانوی اور رومانی رنگ غالب ہے۔ جذبہ حب الوطنی سے سرشار پریم چند کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’سوز وطن‘‘ زمانہ پریس کانپور سے شائع ہوا تھا۔ جسے انگریز سرکارکے عتاب کا شکار ہونا پڑا۔اس کے بعد وہ تاریخ نگاری اور اصلاح ِمعاشرہ کی جانب متوجہ ہوئے۔ اس وقت تک پریم چند کے افسانوں میں فنی اور تکنیکی پختگی نہیں آئی تھی اور ان کی تحریروں میںداستانوی اسلوب غالب نظر آتا ہے۔ ۱۹۰۹ء سے۱۹۲۰ ء تک پریم چند ’’مہوبا‘‘ کے مقام پر ڈپٹی انسپکٹر آف اسکولز تھے۔ جہاں کے کھنڈرات نے شایدانہیں ہندوؤں کی عظمت ِ رفتہ کی یاد دلائی۔ غالباً اسی لیے انھوں نے سوچا ہوگا کہ حالیؔ کی طرح انہیں اپنے افسانوں کے ذریعہ ہندوقوم کی ماضی کی شان و شوکت اجاگرکرنا چاہیے۔ چنانچہ ’’رانی سارندھا‘‘۱۹۱۱ء میں اور۱۹۱۲ء میں’’راجہ ہردول‘‘ اور ’’آلھا‘‘ جیسے افسانے اسی جذبے کے تحت لکھے گئے۔
ان تاریخی اور نیم تاریخی افسانوں کے بعد اپنے دوسرے دور میں پریم چند نے قومی اور معاشرتی اصلاح کی طرف توجہ دی۔ انھوں نے ہندو معاشرے کی قبیح رسوم پر قلم اٹھایا اور بیوہ عورت کے مسائل ، بے جوڑ شادی ، جہیز کی لعنت اور چھوت چھات جیسے موضوعات پر افسانے لکھے۔افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند سیاست سے بھی متاثر نظر آتے ہیں۔ یہ دور برصغیر میں تحریکوں کا دور تھا۔ تحریک ِ خلافت، تحریک عدم تعاون، ستیہ گرہ، سول نافرمانی وغیرہ۔ برصغیر کے تمام باشندے ملک کی آزادی کے لیے پرجوش تھے۔ پریم چند نے سیاسی حالات کا جائزہ لیتے ہوئے قلم کے ذریعہ اس مہم میں شرکت کا ارادہ کیا اور سرکاری ملازمت سے استعفیٰ دے دیا۔ وہ اگرچہ کوئی سیاسی آدمی نہیں تھے اور نہ ہی انہوں نے باقاعدہ طور پر سیاست میں حصہ لیا۔ لیکن شاید وہ سماجی موضوعات کے ساتھ ساتھ سیاسی موضوعات پر بھی کھل کر اظہارِ خیال کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انہوں نے سرکاری ملازمت کا جو اگلے سے اتار پھینکا۔ اس دور کے افسانوں میں سیاست کا رنگ قدرے واضح طور پر جھلکتا ہے۔
افسانہ نگاری کے دوسرے دور میں پریم چند نے دیہی زندگی کی طرف بھی توجہ دی اور انھوں نے دیہاتی زندگی کے مسائل کواپنے بیشتر افسانوں کا موضوع بنایا۔ ’’پوس کی رات ‘‘ ،’’سواسیر گہیوں‘‘ اور دیگر افسانے کسانوں کی غربت و افلاس کی عکاسی کرتے ہیں۔پریم چند کے افسانوں کا آخری دور مختصر عرصے پرمحیط ہے لیکن یہی دور ان کے نظریات کی پختگی اور ترویج کا دور بھی ہے۔ اس دور کے افسانوں کے موضوعات بھی سیاسی زندگی سے متعلق ہیں ۔ لیکن فن اور معیار کے اعتبار سے پچھلے دونوں ادوار کے مقابلے میں بہت بلند ہیں۔’’سوز وطن‘‘ کے افسانوں کے بعد پریم چند کے قلم سے حج اکبر ،بوڑھی کاکی، دو بیل ، نئی بیوی اور زادِ راہ جیسے افسانے تخلیق ہوئے اور پھر ان کا فن بتدریج ارتقائی منازل طے کرتا رہا۔ یہاں تک کہ ’’کفن ‘‘جیسا افسانہ لکھ کر انہوں نے دنیائے ادب میں اپنی فنی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا۔
آخری دور کے افسانوں میں پریم چند ایک عظیم افسانہ نگار دکھائی دیتے ہیں۔ اس دور کے افسانے مقامی ہونے کے باوجود آفاقی کہلانے کے مستحق قرار دئیے جا سکتے ہیں ۔کیونکہ اب ان کے افسانوں میں وہ تمام خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں جو اچھے اور معیاری افسانوں کا خاصہ سمجھی جاتی ہیں۔

کفن​

 پریم چند

جھونپڑے کے دروازے پر باپ اور بیٹا دونوں ایک بجھے ہوئے الاؤ کے سامنے خاموش بیٹھے ہوئے تھے ۔ اور اندر بیٹے کی نوجوان بیوی بدھیا دردِ زہ سے پچھاڑیں کھا رہی تھی ۔ اور رہ رہ کر اس کے منہ سے ایسی دل خراش صدا نکلتی تھی کہ دونوں کلیجہ تھام لیتے تھے _ جاڑوں کی رات تھی ، فضا سنّاٹے میں غرق۔ سارا گاؤں تاریکی میں جذب ہو گیا تھا ۔
گھیسو نے کہا ، ” معلوم ہوتا ہے بچیگی نہیں ۔ سارا دن تڑپتے ہو گیا ۔ جا ، دیکھ تو آ۔”
مادھو دردناک لہجے میں بولا ، ” مرنا ہی ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔ دیکھ کر کیا کروں ”
” تو بڑا بیدرد ہے بے ۔ سال بھر جس کے ساتھ جندگانی کا سکھ بھوگا اسی کے ساتھ اتنی بیوپھائی ۔”
” تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا نہیں دیکھا جاتا ۔”
چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام ۔ گھیسو اک دن کام کرتا تو تین دن آرام ۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹے بھر چلم پیتا ۔ اسلئے انہیں کوئی رکھتا ہی نہ تھا ۔ گھر میں مٹّھی بھر اناج بھی موجود ہو تو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔ جب دو ایک فاقے ہو جاتے تو گھیسو درختوں پر چڑھ کر لکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار سے بیچ لاتا ۔ اور جب تک وہ پیسے رہتے دونوں ادھر ادھر مارے مارے پھرتے ۔ جب فاقے کی نوبت آ جاتی تو پھر لکڑیاں توڑتے ، یا کوئی مزدوری تلاش کرتے ۔ گاؤں میں کام کی کمی نہ تھی _ کاشتکاروں کا گاؤں تھا ۔ محنتی آدمی کے لئے پچاس کام تھے _ مگر ان دونوں کو لوگ اسی وقت بلاتے جب دو آدمیوں سے ایک کا کام پا کر بھی قناعت کر لینے کے سوا اور کوئی چارہ نہ ہوتا ۔
کاش دونوں سادھو ہوتے تو انہیں قناعت اور توکّل کے لئے ضبطِ نفس کی مطلق ضرورت نہ ہوتی ۔ یہ ان کی خلقی صفت تھی ۔ عجیب زندگی تھی ان کی ۔ گھر میں مٹّی کے دو چار برتنوں کے سوا کوئی اثاثہ نہیں ۔ پھٹے چیتھڑوں سے اپنی عریانی ڈھانکے ہوئے ، دنیا کی فکروں سے آزاد ۔ قرض سے لدے ہوئے ۔ گالیاں بھی کھاتے ، مار بھی کھاتے ، مگر کوئی غم نہیں ۔ مسکین اتنے کہ وصولی کی مطلق امّید نہ ہونے پر بھی لوگ انہیں کچھ نہ کچھ قرض دے دیتے تھے ۔ مٹر یا آلو کی فصل میں کھیتوں سے مٹر یا آلو اکھاڑ لاتے اور بھون بھون کر کھا لیتے ۔ یا دس پانچ اوکھ توڑ لاتے اور رات کو چوستے ۔ گھیسو نے اسی زاہدانہ انداز سے ساٹھ سال کی عمر کاٹ دی ۔ اور مادھو بھی سعادتمند بیٹے کی طرح باپ کے نقشِ قدم پر چل رہا تھا ۔ بلکہ اس کا نام اور بھی روشن کر رہا تھا۔ اس وقت بھی دونوں الاؤ کے سامنے بیٹھے آلو بھون رہے تھے جو کسی کے کھیت سے کھود لائے تھے ۔ گھیسو کی بیوی کا تو مدّت ہوئی انتقال ہو گیا تھا ۔ مادھو کی شادی پچھلے سال ہوئی تھی ۔ جب سے یہ عورت آئی تھی اس نے اس خاندان میں تمدّن کی بنیاد ڈالی تھی ۔ پسائی کر کے ، گھاس چھیل کر ، وہ سیر بھر آٹے کا انتظام کر لیتی تھی ۔ اور ان دونوں بے غیرتوں کا دوزخ بھرتی رہتی تھی ۔ جب سے وہ آئی یہ دونوں اور بھی آرام طلب اور آلسی ہو گئے تھے۔ بلکہ کچھ اکڑنے بھی لگے تھے ۔ کوئی کام کرنے کو بلاتا تو بے نیازی کی شان سے دوگنی مزدوری مانگتے ۔ وہی عورت آج صبح سے دردِ زہ سے مر رہی تھی ۔ اور یہ دونوں شاید اسی انتظار میں تھے کہ وہ مر جائے تو آرام سے سوئیں ۔
گھیسو نے آلو نکال کر چھیلتے ہوئے کہا ، ” جا کر دیکھ تو کیا حالت ہے اس کی ۔ چڑیل کا پھساد ہوگا اور کیا ۔ یہاں تو اوجھا بھی ایک روپیہ مانگتا ہے ۔کس کے گھر سے آئے ۔”

مادھو کو اندیشہ تھا کہ وہ کوٹھری میں گیا تو گھیسو آلوؤں کا بڑا حصّہ صاف کر دیگا ۔ بولا ، ” مجھے وہاں ڈر لگتا ہے ۔،،

” ڈر کس بات کا ہے ۔ میں تو یہاں ہوں ہی ۔،،

” تو تمہیں جا کر دیکھو نہ ۔”

” میری عورت جب مری تھی تو میں تین دن اس کے پاس سے ہلا بھی نہیں _ اور پھر مجھ سے لجائیگی کہ نہیں ۔ کبھی اس کا منہ نہیں دیکھا ، آج اس کا اگھڑا ہوا بدن دیکھوں ! اسے تن کی سدھ بھی تو نہ ہوگی _ مجھے دیکھ لیگی تو کھل کر ہاتھ پاؤں بھی نہ پٹک سکےگی _”

” میں سوچتا ہوں کوئی بال بچّہ ہو گیا تو کیا ہوگا _ سونٹھ ، گڑ ، تیل ، کچھ بھی تو نہیں ہے گھر میں ۔،،

” سب کچھ آ جائیگا ۔ بھگوان بچّہ دیں تو ۔ جو لوگ ابھی ایک پیسہ نہیں دے رہے ہیں وہی تب بلا کر دینگے ۔ میرے نو لڑکے ہوئے ۔ گھر میں کبھی کچھ نہ تھا۔ مگر اسی طرح ہر بار کام چل گیا۔”
جس سماج میں رات دن محنت کرنے والوں کی حالت ان کی حالت سے کچھ بہت اچّھی نہ تھی ، اور کسانوں کے مقابلے میں وہ لوگ جو کسانوں کی کمزوریوں سے فائدہ اٹھانا جانتے تھے ، کہیں زیادہ فارغ البال تھے ، وہاں اس قسم کی ذہنیت کا پیدا ہو جانا کوئی تعجّب کی بات نہ تھی _ ہم تو کہینگے گھیسو کسانوں کے مقابلے میں زیادہ باریک بین تھا _ اور کسانوں کی تہی دماغ جمعیت میں شامل ہونے کے بدلے شاطروں کی فتنہ پرداز جماعت میں شامل ہو گیا تھا _ ہاں اس میں یہ صلاحیت نہ تھی کہ شاطروں کے آئین و آداب کی پابندی بھی کرتا _ اسلئے جہاں اس کی جماعت کے اور لوگ گاؤں کے سرغنہ اور مکھیا بنے ہوئے تھے ، اس پر سارا گاؤں انگشت نمائی کرتا تھا _ پھر بھی اسے یہ تسکین تو تھی ہی کہ اگر وہ خستہ حال ہے تو کم سے کم اسے کسانوں کی سی جگر توڑ محنت تو نہیں کرنی پڑتی _ اور اس کی سادگی اور بے زبانی سے دوسرے بے جا فائدہ تو نہیں اٹھاتے _
دونوں آلو نکال نکال کر جلتے جلتے کھانے لگے ۔ کل سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔ اتنا صبر نہ تھا کہ انہیں ٹھنڈا ہو جانے دیں ۔ کئی بار دونوں کی زبانیں جل گئیں ۔ چھل جانے پر آلو کا بیرونی حصّہ تو بہت زیادہ گرم نہ معلوم ہوتا ۔ لیکن دانتوں کے تلے پڑتے ہی اندر کا حصّہ زبان اور حلق اور تالو کو جلا دیتا تھا ۔ اور اس انگارے کو منہ میں رکھنے سے زیادہ خیریت اسی میں تھی کہ وہ اندر پہنچ جائے _ وہاں اسے ٹھنڈا کرنے کے لئے کافی سامان تھے ۔ اسلئے دونوں جلد جلد نگل جاتے ۔ حالانکہ اس کوشش میں ان کی آنکھوں سے آنسو نکل آتے۔
گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی برات یاد آئی جس میں بیس سال پہلے وہ گیا تھا ۔ اس دعوت میں اسے جو سیری نصیب ہوئی تھی وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ تھی ۔ اور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی ۔ بولا ، ” وہ بھوج نہیں بھولتا ۔ تب سے پھر اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا ۔ لڑکی والوں نے سب کو پوڑیاں کھلائی تھیں سب کو ۔ چھوٹے بڑے ، سب نے پوڑیاں کھائیں ، اور اصلی گھی کی ۔ چٹنی ، رائتہ ، تین طرح کے سوکھے ساگ ۔ ایک رسیدار ترکاری ، دہی ، چٹنی ، مٹھائی ۔ اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا ۔ کوئی روک نہیں تھی ۔ جو چیز چاہو مانگو ۔ اور جتنا چاہو کھاؤ ۔ لوگوں نے ایسا کھایا ، ایسا کھایا ، کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا ۔ مگر پروسنے ولے ہیں کہ سامنے گرم گرم ، گول گول ، مہکتی ہوئی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں ۔ منع کرتے ہیں کہ نہیں چاہئے _ پتّل کو ہاتھ سے روکے ہوئے ہیں ۔ مگر وہ ہیں کہ دئے جاتے ہیں ۔ اور جب سب نے منہ دھو لیا تو ایک ایک بیڑا پان بھی ملا۔ مگر مجھے پان لینے کی کہاں سدھ تھی ۔ کھڑا نہ ہوا جاتا تھا۔ چٹ پٹ جا کر اپنے کمبل پر لیٹ گیا ۔ ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر ۔”

مادھو نے ان تکلّفات کا مزہ لیتے ہوئے کہا ، “اب ہمیں کوئی ایسا بھوج کھلاتا ۔”
” اب کوئی کیا کھلائیگا ، وہ جمانا دوسرا تھا _ اب تو سب کو کپھایت سوجھتی ہے ۔ سادی میں مت کھرچ کرو _ کریا کرم میں مت کھرچ کرو ۔ پوچھو گریبوں کا مال بٹور بٹور کر کہاں رکھوگے ! بٹورنے میں تو کمی نہیں ہے ۔ ہاں کھرچ میں کپھایت سوجھتی ہے ۔”
” تم نے ایک بیس پوڑیاں کھائی ہونگی ! ”
” بیس سے جیادہ کھائی تھیں ۔،،
” میں پچاس کھا جاتا۔”
” پچاس سے کم میں نے بھی نہ کھائی ہونگی _ اچّا پٹّھا تھا _ تو اس کا آدھا بھی نہیں ہے ۔”
آلو کھا کر دونوں نے پانی پیا اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر ، پاؤں پیٹ میں ڈالے سو رہے ، جیسے دو بڑے بڑے اژدر گینڈلیاں مارے پڑے ہوں ۔
اور بدھیا ابھی تک کراہ رہی تھی
صبح کو مادھو نے کوٹھری میں جا کر دیکھا تو اس کی بیوی ٹھنڈی ہو گئی تھی ۔ اس کے منہ پر مکّھیاں بھنک رہی تھیں ۔ پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر ٹنگی ہوئی تھیں۔ سارا جسم خاک میں لت پت تھا۔ اس کے پیٹ میں بچّہ مر گیا تھا۔
مادھو بھاگا ہوا گھیسو کے پاس آیا _ پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے _ پڑوس والوں نے یہ آہ و زاری سنی تو دوڑے ہوئے آئے اور رسمِ قدیم کے مطابق غم زدوں کی تشفّی کرنے لگے ۔
مگر زیادہ رونے دھونے کا موقعہ نہ تھا _ کفن کی اور لکڑی کی فکر کرنی تھی ۔ گھر میں تو پیسہ اسی طرح غائب تھا جیسے چیل کے گھونسلے میں ماس۔
باپ بیٹے روتے ہوئے گاؤں کے زمیندار کے پاس گئے _ وہ ان دونوں کی صورت سے نفرت کرتے تھے ۔ کئی بار انہیں اپنے ہاتھوں پیٹ چکے تھے ، چوری کی علّت میں ، وعدہ پر کام پر نہ آنے کی علّت میں _ پوچھا ، ” کیا ہے بے گھسوا ۔ روتا کیوں ہے ۔ اب تو تیری صورت ہی نہیں نظر آتی۔ اب معلوم ہوتا ہے تم اس گاؤں میں رہنا نہیں چاہتے ۔”
گھسو نے زمین پر سر رکھ کر آنکھوں میں آنسو بھرے ہوئے کہا ، ” سرکار بڑی بپت میں ہوں _ مادھو کی گھر والی رت گجر گئی ۔ دن بھر تڑپتی رہی سرکار ۔ آدھی رات تک ہم دونوں اس کے سرہانے بیٹھے رہے ۔ دوا دارو جو کچھ ہو سکا سب کیا ۔ مگر وہ ہمیں دگا دے گئی ۔ اب کوئی ایک روٹی دینے والا نہیں رہا ۔ مالک ، تباہ ہو گئے ۔ گھر اجڑ گیا۔ آپ کا گلام ہوں ۔ اب آپ کے سوا اس کی مٹّی کون پار لگائیگا۔ ہمارے ہاتھ میں تو جو کچھ تھا وہ سب دوا دارو میں اٹھ گیا ۔ سرکار ہی کی دیا ہوگی تو اس کی مٹّی اٹھیگی۔ آپ کے سوا اور کس کے دوار پر جائیں ۔ ”
زمیندار صاحب رحم دل آدمی تھے ۔ مگر گھیسو پر رحم کرنا کالے کمبل پر رنگ چڑھانا تھا۔ جی میں تو آیا کہہ دیں ، ” چل ، دور ہو یہاں سے۔ لاش گھر میں رکھ کر سڑا۔ یوں تو بلانے سے بھی نہیں آتا ۔ آج جب غرض پڑی تو آ کر خوشامد کر رہا ہے ۔ حرام خور کہیں کا ۔ بدمعاش۔ ” مگر یہ غصّہ یا انتقام کا موقعہ نہ تھا۔ طوعاً و کرہاً دو روپئے نکال کر پھینک دئے ۔ مگر تشفّی کا ایک کلمہ بھی منہ سے نہ نکالا ۔ اس کی طرف تاکا تک نہیں۔ گویا سر کا بوجھ اتارا ہو۔
جب زمیندار صاحب نے دو روپیہ دیے تو گاؤں کے بنئے مہاجنوں کو انکار کی جرائت کیونکر ہوتی۔ گھیسو زمیندار کے نام کا ڈھنڈھورا پیٹنا جانتا تھا۔ کسی نے دو آنے دئے ، کسی نے چار آنے ۔ ایک گھنٹہ میں گھیسو کے پاس پانچ روپئے کی معقول رقم جمع ہو گئی ۔ کسی نے غلّہ دے دیا ، کسی نے لکڑی ۔ اور دوپہر کو گھیسو اور مادھو بازار سے کفن لانے چلے۔ ادھر لوگ بانس وانس کاٹنے لگے ۔
گاؤں کی رقیق القلب عورتیں آ آ کر لاش کو دیکھتی تھیں ، اور اس کی بے بسی پر دو بوند آنسو گرا کر چلی جاتی تھیں۔
بازار میں پہنچ کر گھیسو بولا ، ” لکڑی تو اسے جلانے بھر کو مل گئی ہے ، کیوں مادھو۔ ”
مادھو بولا ، ” ہاں لکڑی تو بہت ہے ۔ اب کپھن چاہئے۔”
” تو کوئی ہلکا سا کپھن لے لیں۔”
” ہاں اور کیا ۔ لاش اٹھتے اٹھتے رات ہو جائیگی ۔ رات کو کپھن کون دیکھتا ہے۔”
” کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے اسے مرنے پر نیا کپھن چاہئے۔ ”
” کپھن لاس کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔”
” اور کیا رکھا رہتا ہے۔ یہی پانچ روپیہ ملتے تو کچھ دوا دارو کرتے۔”
دونوں ایک دوسرے کے دل کا ماجرا معنوی طور پر سمجھ رہے تھے۔ بازار میں ادھر ادھر گھومتے رہے۔ کبھی اس بجاج کی دوکان پر گئے کبھی اس کی دوکان پر _ طرح طرح کے کپڑے ، ریشمی اور سوتی ، دیکھے ، مگر کچھ جچتا نہیں ۔ یہاں تک کہ شام ہو گئی ۔ دونوں اتّفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے آ پہنچے ۔ اور گویا کسی طے شدہ فیصلے کے مطابق اندر گئے ۔ وہاں ذرا دیر تک دونوں تذبذب کی حالت میں کھڑے رہے ۔ پھر گھیسو نے گَدّی کے سامنے جا کر کہا ، ” ساہو جی ایک بوتل ہمیں بھی دینا۔ ” پھر گھیسو نے ایک بوتل شراب لی ، کچھ گزک۔ اس کے بعد کچھ چکھونہ آیا، تلی ہوئی مچھلی آئی۔ اور دونوں برآمدے میں بیٹھ کر شراب پینے لگے ۔
کئی کجّیاں پیہم پینے کے بعد دونوں سرور میں آ گئے ۔
گھیسو بولا ، ” کپھن لگانے سے کیا ملتا۔ آکھر جل ہی تو جاتا۔ کچھ بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔”
مادھو آسمان ک طرف دیکھ کر بولا ، گویا فرشتوں کو اپنی معصومیت کا یقین دلا رہا ہو ، ” دنیا کا دستور ہے ۔ یہی لوگ بامہنوں کو ہجاروں رپئے کیوں دے دیتے ہیں۔ کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں ۔”
” بڑے آدمیوں کے پاس دھن ہے، پھونکیں۔ ہمارے پاس پھونکنے کو کیا ہے ۔ ”
” لیکن لوگوں کو جواب کیا دوگے ! لوگ پوچھینگے نہیں ، کپھن کہاں ہے ! ”
گھیسو ہنسا ۔ ” کہہ دینگے روپئے کمر سے کھسک گئے ۔ بہت ڈھونڈا ، ملے نہیں ۔ لوگوں کو وشواس نہ آئیگا ، لیکن پھر وہی روپیہ دینگے۔”
مادھو بھی ہنسا ، اس غیر متوقّع خوش نصیبی پر ، قدرت کو اس طرح شکست دینے پر ۔ بولا ، ” بڑی اچّھی تھی ، بچاری ۔ مری بھی تو خوب کھلا پلا کر۔”
آدھی بوتل سے زیادہ ختم ہو گئی _ گھیسو نے دو سیر پوڑیاں منگوائیں ، گوشت اور سالن ۔ اور چٹپٹی کلیجیاں اور تلی ہوئی مچھلیاں ۔ شراب خانے کے سامنے ہی دوکان تھی ۔ مادھو لپک کر دو پتّلوں میں ساری چیزیں لے آیا ۔ پورے ڈیڑھ روپئے خرچ ہو گئے۔ صرف تھوڑے سے پیسے بچ رہے۔
دونوں اس وقت اس شان سے بیٹھے ہوئے پوڑیاں کھا رہے تھے جیسے جنگل میں کوئی شیر اپنا شکار اڑا رہا ہو ۔ نہ جواب دہی کا خوف تھا ، نہ بدنامی کی فکر۔ ضعف کے ان مراحل کو انہوننے بہت پہلے طے کر لیا تھا ۔ گھیسو فلسفیانہ انداز سے بولا ، ” ہماری آتما پرسنّ ہو رہی ہے تو کیا اسے پنّ نہ ہوگا ؟ ”
مادھو نے فرقِ عقیدت جھکا کر تصدیق کی _ ” جرور اسے جرور ہوگا ۔ بھگوان ، تم انترجامی ( علیم ) ہو ۔ اسے بیکنٹھ لے جانا۔ ہم دونوں ہردے سے اسے دعا دے رہے ہیں۔ آج جو بھوجن ملا وہ کبھی عمر بھر نہ ملا تھا۔”
ایک لمحہ کے بعد مادھو کے دل میں ایک تشویش پیدا ہوئی ۔ بولا ، ” کیوں دادا ، ہم لوگ بھی تو وہاں ایک نہ ایک دن جائینگے ہی۔”
گھیسو نے اس طفلانہ سوال کا جواب نہ دیا ۔مادھو کی طرف پر ملامت انداز سے دیکھا۔ وہ پرلوک کی باتیں سوچ کر اس آنند میں بادھا نہ ڈالنا چاہتا تھا۔
” جو وہاں ہم لوگوں سے وہ پوچے کہ تم نے ہمیں کپھن کیوں نہیں دیا تو کیا کہوگے ؟ ”
” کہینگے تمہارا سر۔”
” پوچھیگی تو جرور۔”
” تو کیسے جانتا ہے اسے کپھن نہ ملیگا ؟ تو مجھے ایسا گدھا سمجھتا ہے ! میں ساٹھ سال دنیا میں کیا گھاس کھودتا رہا ہوں ۔ اس کو کپھن ملیگا اور بہت اچّھا ملیگا ۔اس سے بہت اچّھا ملیگا جو ہم دیتے”
مادھو کو یقین نہ آیا ۔ بولا ، ” کون دیگا ؟ روپئے تو تم نے چٹ کر دئے۔”
گھیسو تیز ہو گیا۔ ” میں کہتا ہوں اسے کپھن ملیگا۔ تو مانتا کیوں نہیں ؟”
” کون دیگا ، بتاتے کیوں نہیں ؟ وہ تو مجھ سے پوچھیگی۔ اس کی مانگ میں تو سندور میں نے ڈالا تھا۔”
” وہی لوگ دینگے جنہوں نے اب کی دیا۔ ہاں وہ روپئے ہمارے ہاتھ نہ آئینگے ۔اور اگر کسی طرح آ جائیں تو پھر ہم اسی طرح یہاں بیٹھے پیّنگے ۔ اور کپھن تیسری بار ملیگا ۔ ”
جیوں جیوں اندھیرا بڑھتا تھا اور ستاروں کی چمک تیز ہوتی تھی ، مے خانہ کی رونق بھی بڑھتی جاتی تھی _ کوئی گاتا تھا ، کوئی بہکتا تھا _ کوئی اپنے رفیق کے گلے لپٹا جاتا تھا ، کوئی اپنے دوست کے منہ میں ساغر لگائے دیتا تھا۔ وہاں کی فضا میں سرور تھا۔ ہوا میں نشہ ۔ کتنے تو چلّو میں الّو ہو جاتے ہیں ۔ یہاں آتے تھے صرف خود فراموشی کا مزہ لینے کے لئے ۔ شراب سے زیادہ یہاں کی ہوا سے مسرور ہوتے تھے ۔ زیست کی بلا یہاں کھینچ لاتی تھی ۔ اور کچھ دیر کے لئے وہ بھول جاتے تھے کہ وہ زندہ ہیں ، یا مردہ ہیں ، یا زندہ در گور ہیں۔
اور یہ دونوں باپ بیٹے اب بھی مزے لے لے کر چسکیاں لے رہے تھے ۔ سب کی نگاہیں ان کی طرف جمی ہوئی تھیں۔ کتنے خوش نصیب ہیں دونوں۔ پوری بوتل بیچ میں ہے ۔
کھانے سے فارغ ہو کر مادھو نے بچی ہوئی پوڑیوں کا پتّل اٹھا کر ایک بھکاری کو دے دیا جو کھڑا ان کی طرف گرسنہ نگاہوں سے دیکھ رہا تھا۔ اور دینے کے غرور اور مسرّت اور ولولہ کا اپنی زندگی میں پہلی بار احساس کیا۔
گھیسو نے کہا ، ” لے جا ۔ کھوب کھا اور اسیرباد دے ۔ جس کی کمائی ہے وہ تو مر گئی ، مگر تیرا اسیرباد اسے جرور پہنچ جائیگا ۔ روئیں روئیں سے اسیرباد دے ۔ بڑی گاڑھی کمائی کے پیسے ہیں۔”
مادھو نے پھر آسمان کی طرف دیکھ کر کہا ، ” بیکنٹھ میں جائیگی دادا ۔ بیکنٹھ کی رانی بنیگی”
گھیسو کھڑا ہو گیا اور جیسے مسرّت کی لہروں میں تیرتا ہوا بولا ، ” ہاں بیٹا ، بیکنٹھ میں جائیگی ۔ کسی کو ستایا نہیں۔ کسی کو دبایا نہیں۔ مرتے مرتے ہماری جندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کر گئی۔ وہ نہ بیکنٹھ میں جائیگی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائینگے جو گریبوں کو دونوں ہاتھ سے لوٹتے ہیں ، اور اپنے پاپ کو دھونے کے لئے گنگا میں نہاتے ہیں اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔”
یہ خوش اعتقادی کا رنگ بھی بدلا۔ تلوّن نشے کی خاصیت ہے ۔ یاس اور غم کا دورہ ہوا۔
مادھو بولا ، ” مگر دادا بچاری نے جندگی میں بڑا دکھ بھوگا۔ مری بھی کتنا دکھ جھیل کر۔ ” وہ آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر رونے لگا ۔چیخیں مار مار کر۔
گھیسو نے سمجھایا ، ” کیوں روتا ہے بیٹا۔ کھس ہو کہ وہ مایا جال سے مکت ہو گئی۔ جنجال سے چھوٹ گئی ۔ بڑی بھاگوان تھی جو اتنی جلد مایا موہ کے بندھن توڑ دئے ۔”
اور دونوں وہیں کھڑے ہو کر گانے لگی۔
ٹھگنی کیوں نیناں جھمکاوے ۔ ٹھگنی۔
سارا مے خانہ محوِ تماشا تھا اور یہ دونوں مے کش محویت کے عالم میں گائے جاتے تھے ۔ پھر دونوں ناچنے لگے۔ اچھلے بھی ، کودے بھی ، گرے بھی ، مٹکے بھی ۔ بھاؤ بھی بتائے ،ابھینے بھی کئیے ، اور آخر نشے سے بدمست ہو کر وہیں گر پڑے ۔

افسانہ ’’کفن ‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ

آٹھ دہائی قبل لکھی گئی منشی پریم چند کی مشہورکہانی ’’ کفن‘‘ اس دور میں سماج کے دبے کچلے طبقے کی حقیقی عکاسی پیش کرتی ہے۔ اس کہانی میں کل چار کردار ہیں۔ گھیسو ، مادھو اور بُدھیا۔ چوتھا کردار زمیندار کا ہے جو ایک طرح سے اس سماج کا عکاس ہے جو اس دور میں استحصال کرنے والی قوت کے روپ میں موجود تھا ۔ استحصال کرنے والی یہ قوت آج بھی سماج میں اپنا وجود قائم کیے ہوئے ہے صرف پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔
کہانی ’’کفن‘‘ کی ابتدا بُدھیا کے دردِ زہ میں پچھاڑیں کھانے سے ہوتی ہے۔ اس کے منہ سے ایسی دلخراش چیخیں نکل رہی تھیں کہ گھیسو اور مادھو کلیجہ تھام لیتے ہیں۔ اگر قاری کی قوت سماعت متاثر نہیں ہے تو سمجھ لیجئے کہ بُدھیا کا کرب،درد،چیخیں،کراہیں مسلسل’کفن‘ کی آخری سطر تک کانوں میں گونجتی رہتی ہیں۔قاری اس درد اور کرب کو بخوبی محسوس کرسکتا ہے۔
دردِزہ کے دوران بدھیا کی دل فراش صدا نکلنے پر مادھو اور گھیسو کا کلیجہ تھام لینا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دونوں کا احساس زندہ ہے۔افسانے کا اقتباس کچھ اس طرح ہیـ:
’’گیسو نے کہا ’معلوم ہوتا ہے کہ بچے گا نہیں۔سارا دن تر دیتے گزر گیا۔جا دیکھ تو آ۔۔۔۔۔۔
مادھو چڑھ کر بولا ،مرنا ہے تو جلدی مر کیوں نہیں جاتی ۔دیکھ کر کیا کروں۔
تو بڑا بے درد ہے بے !سال بھر جس کے ساتھ سکھ چین سے رہا اسی کے ساتھ اتنی بے ویاہی۔
’تو مجھ سے تو اس کا تڑپنا اور ہاتھ پاؤں پٹکنا دیکھا نہیں جاتا۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۵ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
اس منظر سے ہی احساس اور بے حسی کی کشمکش عیاں ہوتی ہے۔جب سے بدھیا آئی تھی تب سے دوہ ان دونوں بے غیرتوں کے پیٹ کا دوزخ بھرتی رہتی تھی۔آج وہ زندگی اور موت سے نبرد آزما ہے تب بھی دونوں صرف اپنے اپنے دوزخ کو بھرنے کی فکر میں مبتلا ہیں۔دونوں میں سے کسی ایک کو بھی اس بات کی فکر نہیں کہ اس کے لیے کچھ انتظام کریں۔گھیسوآلو چھیلتے ہوئے جب مادھو سے اس کی بیوی کا حال معلوم کرنے کے لیے کہتا ہے تو وہ کوٹھری کے اندر جانے سے یہ کہہ کر انکار کردیتا ہے کہ اسے بدھیا کو اس حالت میں دیکھنے سے ڈر لگتا ہے۔دراصل یہاں مفاد میاں بیوی کے رشتے پر غالب آجاتا ہے۔مادھو اس لیے انکار کردیتا ہے کہ گھیسو آلوؤں کا بڑا حصہ کھا نہ جائے۔یہی وہ مفاد ہے جو کئی اندیشوں کو جنم دیتا ہے۔بدھیا اندر اکیلی تڑپتی رہتی ہے، اس کی خبر گیری کرنے والا کوئی نہیں ہے۔تیمارداری تو بہت دور کی بات رہی۔بدھیا کا حوصلہ بڑھانے والا کوئی نہیں۔حاشیے پر زندگی گزارنے والے انسانوں کے محلے یا گھر ویسے بھی گاؤں سے دور ہی ہوتے تھے یہاں افسانے میں جو فضا قائم کی گئی ہے وہ جاڑوں کی رات ہے، سارا گاؤں سناٹے میں اور تاریکی میں جذب ہوگیا ہے۔ایسی فضا میں بدھیا کے کراہنے کی آواز واقعی دل کو چیر کر رکھ دینے والی ہوگی۔مگر یہاں منشی پریم چند نے یہ بات واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود گھیسو اور مادھو الاؤ کے گرد بیٹھے جلتے ہوئے آلو کھانے میں مگن ہیں۔یعنی دونوں کرداروں کی سوچ اپنی بھوک اور پیاس تک محدود ہوگئی ہے کہ وہ اپنی بھوک کے علاوہ کسی اور بات پر توجہ ہی نہیں دیتے۔انھوں نے گھیسو اور مادھو کی بے حسی ،بے غیرتی اور نکمّے پن کو کہانی میں اس طرح اجاگر کیا گیاہے:
’’چماروں کا کنبہ تھا اور سارے گاؤں میں بدنام ۔گیسو ایک دن کام کرتا تو تین دن آرام ۔ مادھو اتنا کام چور تھا کہ گھنٹہ بھر کام کرتا تو گھنٹہ بھر چلم پیتا۔اس لیے انھیں کہیں مزدوری نہیں ملتی تھی۔گھر میں مٹھی بھر اناج ہوتو ان کے لیے کام کرنے کی قسم تھی ۔جب ایک دودانے ہوجاتے تو گیسو درختوں پر چڑھ کرلکڑیاں توڑ لاتا اور مادھو بازار میں بیچ آتا اور جب تک پیسے رہتے دونوں ادھر اُدھر مارے مارے پھرتے۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۶ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
یہاں یہ سوال اٹھا یا جاسکتا ہے کہ اس طرح کے حٓلات کس نے پیدا کیے؟یکا سو کی گوٹیر نکا کی یاد آجاتی ہے ۔ایک گیٹاپو نے یکا سو سے پوچھا ’’ایسا کس نے کیا؟یکاسو کا مختصر سا جواب تھا‘‘تم نے کیا۔
’کفن‘کو پڑھنے سے قبل اگر قاری’مہاجنی تہذیب‘کو ذہن میں رکھے تو اس کہانی کیکی تفہیم قدرے آسان ہوجاتی ہے۔مہاجنی تہذیب کے اصول و ضوابط میں اس بات کو فوقیت دی جاتی ہے کہ دبے کچلے انسانوں کو مزید دبا کر رکھا جائے۔اگر وہ گردن اٹھانے کی کوشش کریں تو اس پر قرض کا بوجھ بڑھا دیا جائے۔اسی نظریے کا آج کے دور سے موازنہ کیا جائے تو اس کی جھلک یا اس کا نیا روپ گلوبلائزیشن کے صارفیت ازم میں دکھائی دے گا۔
کہانی میں فلیش بیک کی تکنیک کی مدد سے کچھ یادوں کو بھی فوکس کیا گیا ہے مثلاًآلو کھاتے کھاتے گھیسو کو اس وقت ٹھاکر کی بارات کا یاد آنا جس میں وہ بیس سال پہلے گیا تھا۔اس دعوت میں اسے جوکچھ میسرہواتھا،وہ اس کی زندگی میں ایک یادگار واقعہ بن گیااور آج بھی اس کی یاد تازہ تھی۔گیسوبولا:
’’وہ بھوج نہیںبھولتا‘تب سے اس طرح کا کھانا اور بھر پیٹ نہیں ملا۔اصلی گھی کی پوریاں، چٹنی، رائتا،تین طرح کے سوکھے ساگ،ایک رس دار ترکاری،دہی چٹنی مٹھائی۔اب کیا بتاؤں کہ اس بھوج میں کتنا سواد ملا۔لوگوں نے تو ایسا کھایا، ایسا کھایا کہ کسی سے پانی نہ پیا گیا۔مگر پروسنے والے ہیں گرم گرم اور گول گول مہکتی کچوریاں ڈالے دیتے ہیں۔ایسا دریا دل تھا وہ ٹھاکر۔۔۔۔۔۔۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۲۹ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
محولہ بالا پیراگراف میں ٹھاکر کو دریا دل بتایا گیا ہے۔لیکن یہ واقعہ بیس سال قبل کا ہے۔ان بیس برسوں میںدنیا ایسی تبدیل ہوتی ہے کہ اب کوئی ٹھاکر اس طرح بھوج نہیں کھلاتا۔کہانی کا منظر تبدیل ہوتا ہے۔اس منظر میں گھیسو اور مادھو آلو کھاکر پانی پیتے ہیں اور وہیں الاؤ کے سامنے اپنی دھوتیاں اوڑھ کر پیٹ میں پاؤں ڈالے سوجاتے ہیں۔اسی سے میل کھاتا ہوا ایک منظر ہمیں’پوس کی رات‘میں بھی نظر آتا ہے۔ہلکو کھیت چرنے کی پرواہ کے بنا ہی راکھ کے پاس چادر اوڑھ کر سوگیا تھا۔ہلکو کے پاس چادر تھی۔گھیسواورمادھو کے پاس صرف دھوتیاں ہیں۔پاؤں پیٹ میں ڈالے پڑے رہنے کو دوبڑے اجگر کا کنڈلیاں مارے پڑے رہنے سے تشبیہہ دینا مصنف کی فن کاری پر دلالت کرتا ہے
صبح مادھو کوٹھری میں جاکر دیکھتا ہے کہ اس کی بیوی ٹھنڈی ہوچکی ہے۔اس کے منہ پر مکھیاں بھنک رہی ہیں۔پتھرائی ہوئی آنکھیں اوپر کو تن گئی ہیں۔سارا جسم خاک میں لت پت ہورہا ہے۔اس کے پیٹ میں بچہ مرگیا تھا۔یہاں زبان کی روانی اپنے شباب پر ہے ۔فطری اورغیر فطری یا اذیت ناک موت کی اس سے بہتر تصویر کہیں نہیںہوسکتی۔یہی ہوتا ہے فن کا کمال۔
پھر دونوں زور زور سے ہائے ہائے کرنے اور چھاتی پیٹنے لگے۔یہاںجو الاپ کیا جارہا ہے وہ صرف دکھاوا ہے زور زور سے رونے میں بھی مطلب پوشیدہ ہے ۔چھاتی پیٹنے کا مطلب یہ نہیں کہ واقعی وہ دونوں بدھیا کی موت کا ماتم کررہے ہیں بلکہ یہ بھی سماجی رسم کی ادائیگی ہے۔کیونکہ اب کفن اور لکڑی کی فکر ہورہی تھی۔دونوں روتے روتے زمیندار کے پاس جاتے ہیں ۔گاؤں کے زمیندار ایسے موقعوں پر کام چور رعایا پر احسان کرنے سے نہیں چوکتے تھے۔حالانکہ زمیندار کو ان کی صورت سے نفرت تھی۔حرام خور بدمعاش کہہ کر دوروپے پھینک دیے۔ایسے وقت گاؤں والے بھی مددکرتے تھے۔جیسے تیسے پانچ روپے جمع ہوگئے۔کسی نے اناج دے دیا ،کسی نے لکڑی۔گاؤں میں انسانیت اب بھی باقی ہے۔یہاں بغور مشاہدہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ پریم چند کسانوں کی بدحالی کے ساتھ ان کے اوصاف حمیدہ کو بھی پیش کرتے ہیں۔
گھیسو اور مادھو دونوں کفن خریدنے بازار جاتے ہیں۔گیسو کہتا ہے،کیسا برا رواج ہے کہ جسے جیتے جی تن ڈھانکنے کو چیتھڑا بھی نہ ملے،اسے مرنے پر نیا کفن چاہیے۔مادھو یہاں خاموش نہیں رہتا وہ بھی کہتا ہے’’کفن لاش کے ساتھ جل ہی تو جاتا ہے۔‘‘یہاں پریم چند صرف اتنا اشارہ کرتے ہیں ۔ ’’دونوں ایک دوسرے کے دل کی بات تاڑ رہے تھے۔‘‘قاری بھی اس بات سے واقف ہوجاتا ہے ۔ دن بھر کی دوڑ دھوپ کے بعد بھی وہ کفن خرید نہیں پاتے۔دونوں اتفاق سے یا عمداً ایک شراب خانے کے سامنے جاپہنچے۔تھوڑی دیر کے لیے تھوڑا سا تذبذب رہا۔پھر تذ بذب کو جھٹک کرگھیسو شراب فروش کے پاس پہنچ کر کہتا ہے۔’’ساہوجی ایک بوتل ہمیں بھی دینا۔‘‘دونوں برآمدے میں بیٹھے تلی ہوئی مچھلی کا ذائقہ لیتے ہوئے پی رہے تھے۔دو تین پیک کے بعد سرور آگیا۔اس حالت میں چھٹی حس جاگ جاتی ہے۔اب فلسفیانہ باتیں ہونے لگتی ہیں۔’’کفن جل ہی تو جاتا بہو کے ساتھ تو نہ جاتا۔دستور ہے،نہیں تو لوگ بانسوں کو ہماروں روپے کیوں دے دیتے ہیں!کون دیکھتا ہے پرلوک میں ملتا ہے یا نہیں۔
بھر پیٹ کھانے کے بعد مادھو بچی ہوئی پوریوں کا تیل اٹھاکر ایک بھکاری کو دیا۔جوکھڑا ان کی طرف بھوکی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔پینے کا غرور اور دینے کی برتری اور مسرت کا اپنی زندگی میں انہیں پہلی بار احساس ہوا۔گیسو کہہ رہا ہے کہ :
’’ہاں بیٹا،وہ بے کنٹھ میں ضرور جائے گی۔کسی کو ستایا نہیں ،کسی کو دبایا نہیں۔مرتے مرتے ہماری زندگی کی سب سے بڑی لالسا پوری کرگئی۔وہ بے کنٹھ نہ جائے گی تو کیا یہ موٹے موٹے لوگ جائیں گے جو غریبوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹتے ہیں اور اپنے پاپوں کو دھونے کے لیے گنگا میں نہاتے ہیں۔۔۔۔۔۔اور مندر میں جل چڑھاتے ہیں۔‘‘
(پریم چند کے نمائندہ افسانے۔ از: پروفیسر قمر رئیس۔ ص: ۲۳۲ ۔ ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس، نئی دہلی)
دراصل ’کفن‘کا نقطئہ عروج بھی یہی حصہ ہے۔پریم چند ان فرسودہ رسوم اور رواجوں پر کاری ضرب لگانا چاہتے تھے۔زمیندار کا ہمدردی جتانے کے ناطے گھیسو اور مادھو کی مدد کرنااور دوسرے دولت مندوں کا امداد کے لیے ہاتھ بڑھانا ہی بے کنٹھ پانے کی لالسا کے سبب ہے۔جب کہ زمیندار ، سودخور،مہاجن وغیرہ دونوں ہاتھوں سے غریبوں کو لوٹتے کسوٹتے رہنے کے باوجود چند نیکیاں کماکر اور گنگا میں ڈبکی لگاکر جنت کے خواب دیکھتے۔یہاں پریم چند باریک بینی سے مشاہدہ کرکے ہندؤوں کی اندھی شردھا کو قاری کے روبرو پیش کرتے ہیں۔اسی اندھی شردھا کے سبب ہندوستانی تہذیب کا ڈھانچہ چرمراکر رہ گیا ہے۔اسی اندھی شردھا کی مخالفت تہذیب کو سالمیت عطا کرسکتی ہے۔فرسودہ رسم و رواج کے خلاف صوفی سنتوں نے نبردآزما ئی کی ہے۔جب ہم ادب کو تہذیبی نقطئہ نظر سے دیکھنا چاہتے ہیں تو پریم چند کی تہذیبی وراثت کو پرکھنا ضروری ہوجاتاہے۔
پریم چند نے کفن میں اس بات کو بطور خاص اجاگر کیا ہے کہ انسان کی بنیادی ضرورتوں کی اگر تکمیل نہیں ہوتی ہے تو اس میں بے حسی کا عنصر غالب آجاتا ہے۔بے غیرتی بڑھ جاتی ہے۔اندر کا انسان مرنے لگتا ہے۔آہستہ آہستہ وہ انسانی قدروں کے احساس سے بے بہرہ ہوجاتا ہے۔ اسے انسانی رشتوں کا پاس نہیں رہتا۔اسے دم توڑتے ہوئے انسان کو دیکھ کر دکھ اور تکلیف نہیں ہوتی ۔کفن کو بھوک اور ناداری سے زیادہ انسانی سفاکی اورجبلتوں کی غلامی کا افسانہ کہا جاسکتا ہے جو انتہائی مفلسی کی حالت میں پیدا ہوتا ہے۔اس افسانے میں رشتوں کی شکست دریخت کے ساتھ اذیت ناک خود غرضی کو پیش کیا گیا ہے۔
حقیقت نگاری کا یہ اسلوب اردو افسانے میں خاص طور سے ترقی پسند تحریک کے زیر، اثر بہر مقبول ہوا۔ نچلے طبقے کی محرومیوں ، مجبوریوں اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی سفاکیوں کو آگے چل کر سدرشن ، کرشن چندر اور خواجہ احمد عباس وغیرہ نے اپنے افسانوں میں پیش کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح پریم چند کا یہ افسانہ رجحان ساز افسانوں کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔

_______________________________

Interview with Shamsur Rahman Farooqi

Articles

شمس الرحمن فاروقی سے ایک گفتگو

شمس الرحمن فاروقی

شمس الرحمن فاروقی سے ایک گفتگو

قاسم ندیم : فاروقی صاحب ‘ کیا کسی فن پارے کے عرفان کے لیے اس کے تخلیق کار کی شخصیت سے آگہی ضروری ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :دنیا کے اکثر بڑے فن کار وں کے بارے میں ہم بہت کم جانتے ہیں، یا کچھ نہیں جانتے ۔ شخصیت تو دور کی چیز ہے، ان کے زمانے کا بھی تعین ٹھیک سے نہیں ہوسکتا۔ بلکہ بعض کے بارے میں تو یہ بھی نہیں معلوم کہ ان کا وجود تھا کہ نہیں۔ مثال کے طور پر سورداس اور ہومر دونوں کے بارے میں شک ہے کہ یہ ایک ہی شخص تھے یا کئی لوگ یکے بعد دیگرے اس روایت میں شامل ہوتے گئے جسے ہم سورداس کی روایت یا ہومر کی روایت کہتے ہیں۔ عرب کے بعض جاہلی شعراءکے بارے میں بھی کہاجاتا ہے کہ اصلاً ان کا وجود نہ تھا۔ بہر حال اتنا تو ظاہر ہے کہ دنیا کے اکثر فن کاروں کی شخصیت کے بارے میں ہمیں کچھ بھی نہیں معلوم ۔ ایسی صورت میں کیوںکر کہا جاسکتا ہے کہ کسی فن پارے کے عرفان کے لیے اس کے بنانے والے کی شخصیت سے آگہی ضروری ہے؟
قاسم ندیم : جوں جوں مرزا غالب کی شخصیت کے پہلو اجاگر ہوتے گئے اسی تیز روی کے ساتھ ان کے کلام کو پرکھنے میں ، سمجھنے میں آسانیاں ہوتی گئیں۔ کیا اس نکتے میںغالب کی شخصیت سے آگہی کا پہلو مضمر ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میں نہیں سمجھتا کہ غالب کی شخصیت کے بارے میں ہمیں جو معلومات ”یادگارِ غالب“ ، ”اردوے معلیٰ“ اور ”عود ہندی“ سے حاصل ہوئی ہیں ان پر کوئی قابلِ ذکر اضافہ ان کتابوں کی اشاعت کے بعد ہوا ہے۔ ویسے یہ خیال ہی بالکل مہمل ہے کہ ہمیں غالب کی شخصیت کے بارے میں جتنا معلوم ہے مولانا حالی کو اس سے کم معلوم تھا۔ لہٰذا یہ کہنا بھی غلط ہے کہ گذشتہ سو سوا سو برس میں غالب کی شخصیت کے پہلو آہستہ آہستہ ہم پر روشن ہوتے گئے ہیں۔
قاسم ندیم : آپ نے ”تفہیم غالب“ لکھی ۔ اسے قلم بند کرنے میں آپ کو کیا دشواریاں پیش آئیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : پہلی دشواری تو یہ تھی کہ غالب کے کلام کو ان کے عہد اور ان کے پیش روﺅں کے حوالے سے سمجھا جائے ۔یعنی یہ دیکھا جائے کہ غالب جس شعری روایت کے پروردہ اور نمائندہ تھے اس میں شاعری کی کیا تعریف تھی اور غالب کے زمانے کا ادبی معاشرہ شاعر سے کیا توقع رکھتا تھا؟ ان باتوں کو معلوم کرنا اور سمجھنا مجھے بہت مشکل معلوم ہوا۔ دوسری مشکل یہ تھی کہ غالب نے دو طرح کے الفاظ استعمال کےے ہےں۔اےک تو وہ جو عام لوگوں کے لےے نامانوس ہےں،اور اےک وہ جو بظاہر مانوس اورسادہ ہےں لےکن ان مےں بعض اےسے معنی بھی ہےں جن کی خبر عام لوگوں کو نہےں،لےکن وہ معنی غالب کے شعر کے لےے کار آمد ہےں۔پہلی طرح کے الفاظ کو تو پہچاننا کچھ مشکل نہےں لےکن دوسری طرح کے لفاظ کو پہچاننے کے لےے زبان اور شعر دونوں کا زندہ اور سچا ذوق ہونا چاہےے۔بڑی شاعری کے ہر شارح کی طرح ۔مجھے بھی قدم قدم پر چوکس رہنا پڑتا تھا کہ کس لفظ کا کوئی کار آمد پہلو مجھ سے چھوٹ نہ جائے ۔تےسری مشکل ےہ تھی کہ غالب نے کچھ اےسے الفاظ بھی استعمال کئے ہےں۔جو عام طور پر لغات مےں نہےں ملتے ۔لہٰذ غالب کے شارح کی حےثےت سے مجھے ضروری تھا کہ فارسی کے بڑے لغات کو زےر مطالعہ رکھوں اور ےہ بڑے لغات عام طور پر دستےاب نہےں ۔واضح رہے کہ بڑے لغت سے مےری مراد صرف حجم نہےں بلکہ لغت کا مستند ہونا بھی ہے۔مثال کے طور پر کسی صاحب نے علامہ کالی داس گپتا رضا کے حوالے سے لکھا ہے کہ ”جگر تشنہ“کا فقرہ کسی فارسی لغت مےں نہےں ملتا اور غالب نے جو مصرع ”دل جگر تشنہ¿ فرےاد آےا“ لکھا ہے وہ بےدل کی نقل مےں لکھا ہے ‘ورنہ فارسی لغات مےں ےہ ترکےب نہےں ملتی۔علامہ کالی داس گپتا رضا با علم آدمی تھے۔لےکن اگر انھوں نے اےسا لکھا ہے(جس مےں مجھے شک ہے)تو انھوں نے غلطی کی ہے ۔جہانگےر کے عہد مےں اےک بہت عمدہ لغت مولوی محمدلاد نے ”موےد الفضلا“نام کا مرتب کےا تھا۔اس مےں”جگر تشنہ¿“کا اندراج موجود ہے اور معنی وہی ہےں جو عام طور پر بےان کےے گئے ہےں ےعنی ”مشتاق“۔اس طرح طبا طبائی نے لکھا ہے کہ شعر
چھوڑانہ مجھ مےں ضعف نے رنگ اختلاط کا
ہے دل پہ بار نقش محبت ہی کےوں نہ ہو
مےں لفظ ”رنگ“فقط لفظ ”نقش“کی مناسبت سے استعمال کےا گےا ہے ورنہ ےہاں رنگ کا معنوی اعتبار سے کوئی خاص کام نہےں۔لےکن ”برہان قاطع“مےں لفظ ”رنگ“کے اےک دو نہےں تےنتےس(۳۳)معنی درج ہےں۔ان مےں کئی معنی اےسے ہےں جو غالب کے شعر کے لےے کار آمد ہےں۔مثلاً طاقت،خون،زور اور قوت اور توانائی ‘طرز ورزش ۔اگر طبا طبائی نے لغت ملاخطہ فرماےا ہوتا تو وہ ےہ گمان نہ کرتے کی غالب نے محض لفظی مناسبت کو ملحوظ رکھا ہے۔
قاسم ندیم : کےا آپ کی نگاہ مےں ےہ تکمےلےت کی سطح کا کام ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اپنی حد تک تو وہ کام مکمل ہے۔لےکن ظاہر ہے کہ ابھی غالب کے بہت سے اشعار تلاش کےے جاسکتے ہےں جن مےں معنی کے اےسے پہلو ہےں جو گذشتہ شارحےن کی نظر سے پوشےدہ رہے ہےں۔مےں اس کتاب کا دوسرا اےڈےشن تےار کر رہا ہوں ۔اس مےں چار پانچ اشعار کی تفہےم کا اضافہ کروں گا۔
قاسم ندیم : آپ نے اس کام کو صرف سو اشعار تک ہی محدود رکھا ؟اگر آپ چاہتے تو شعر شعور انگےز کی طرح” دےوانِ غالب “کا احاطہ کرسکتے تھے۔اےسا کےوں ممکن نہ ہوسکا؟
شمس الرحمٰن فاروقی :دونوں کتابوں کی نوعےت الگ الگ ہے۔”تفہےم غالب“کا مقصد ےہ تھا کہ غالب کے ان اشعار پر اظہارِ خےال کےا جائے جن مےں کوئی اےسا پہلو ہو جو دوسرے شارحےن کی نظر سے اوجھل رہ گےا ہو”شعر شعور انگےز“مےں نے دراصل پہلے محض مےر کے انتخاب کے طور پر شروع کی تھی ۔پھر ےہ خےال آےا کہ مےر کے ےہاں اےسے اشعار کی کمی نہےں جن مےں معنی کی کئی تہےں پوشےدہ ہےں اور وہ اتنے سادہ نہےں ہےں جتنے کہ وہ بظاہر نظر آتے ہےں ۔لہٰذا اےسے اشعار پر کچھ نہ کچھ لکھنا کار آمد ہوگا۔لےکن جب مےں نے اس نےت سے اشعار کو دےکھنا شروع کےا تو محسوس ہوا کہ ہر شعر مےں کوئی نا کوئی بات ہے جس کی طرف اگر نشاندہی نہ کی جائے تو ممکن ہے کہ عام پڑھنے والے کی نظر اس بات تک نہ پہنچے۔لہٰذا مےںنے فےصلہ کےا کہ ہر شعر پر اطہارِ خےال کروں گا ۔اس طرح مےر کے انتخاب کی جگہ مےرا کام مےر کے منتخب کلام کے تجزےاتی اور تقابلی مطالعے کی شکل اختےار کر گےا ۔جب کئی سو صفحے لکھ لےے تو مجھے خےال آےا کہ مےر کے کلام کا مطالعہ اور تجزےہ مےں جس انداز سے اور جن اصول نقد کی روشنی مےں قلمبند کر رہا ہوں ان کی وضاحت اور مےر کے بارے مےں مےرے تنقےدی موقف کا بےان بھی ضروری ہے ۔لہٰذا مےں نے اےک دےباچہ لکھا جو بذاتِ خود مستقل کتاب بن گےا۔کام مزےد آگے بڑھا تو شعر کی تعبےر اور تفہےم پر کچھ نظرےاتی بحث بھی لکھنا ضروری معلوم ہوا۔ےہ مضمون بھی اےک چھوٹی سی کتاب کے برابر ہوگےا اور اسے مےں نے جلد دوم کے دےباچے کے طور پر کتاب مےں شامل کر لےا۔جب کام تقرےباً مکمل ہوگےا تو مےں نے محسوس کےا کہ کلاسےکی اردو غزل کی شعرےات جس کی بنا پر اور جس کی روشنی مےں مےں نے مےر اور دوسرے کلاسےکی شعرا کو سمجھنے کی کوشش کی ہے ۔اس پر کوئی نظری بحث اردو مےں نہےں ملتی اور اگر اےسی کچھ تحرےر کتاب مےں شامل کر لی جائے تو اس کی افادےت مےں اضافہ ہوسکتا ہے ۔اس طرح اےک اور کتاب وجود مےں آگئی جسے مےں نے دو حصوں مےں تقسےم کرکے جلد سوم اور چہارم کے دےباچے کی شکل دے دی ۔اب آپ دےکھ ہی سکتے ہےں کہ اس کام کا نقشہ ”تفہےم غالب“سے بالکل مختلف ہے۔
قاسم ندیم : فی لحال آپ اقبال پر بھی کام کر رہے ہےں۔اقبال پر اتنا کام ہو چکا ہے کہ شمار کرنا دشوار ہے ۔پھر کےا سبب ہے کہ آپ اس موضوع پر مزےد لکھنا چاہتے ہےں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :مےرا خےال ہے کہ بڑی شاعری کی تنقےد اور تعبےر کے امکانات کبھی ختم نہےں ہوتے ۔اور جہاں تک اقبال کا معاملہ ہے ‘مےں سمجھتا ہوں کہ ابھی اقبال کے بہت سے پہلواےسے ہےں جن پر بہت کم لکھا گےا ہے ہمارا زیادہ زور اقبال کو فلسفی اور اسلامی مفکر ثابت کرنے میں صرف ہواہے۔اقبال بڑے شاعر ہیں یہ سب کو معلوم ہے۔لیکن وہ بڑے شاعر کیوں ہیں یہ شاید کم لوگوں کو معلوم ہے۔
قاسم ندیم : اقبال کی ذہنی اور تہذیبی رو کا مشاہدہ کریں تو لگتا ہے کہ اقبال نے اپنے فلسفیانہ ذہن سے سائنس اور مذہب کے درمیان ایک نیا توازن ڈھونڈنکالنے کی کوشش کی ہے۔کیا آپ کے خیال میں اقبال اس عمل میں کامیاب ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :ذہنی اور تہذیبی رو سے آپ کی کیا مراد ہے،میں سمجھ نہیں سکا۔اور اگر ایسی کوئی چیز ہے بھی تومجھے نہیں معلوم کہ اس کا مشاہدہ کیوںکر ممکن ہے؟ویسے میرا خیال ہے کہ اقبال نے سائنس اور مذہب کے درمیان کوئی توازن وغیرہ قائم کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔جہاں تک میں سمجھا ہوں اقبال کی نظر میں سائنس ایک نسبتاً غیر اہم شئے تھی۔یعنی سائنس محض ٹکنالوجی کے طور پر انسان کے کام آسکتی تھی۔رہا سوال ان چیزوں کا جنھیں سائنسی افکار کہا جائے تو غلط نہ ہوگا ،تو میرے خیال میں اقبال اس نظریے کے حامل تھے کہ مابعد الطبیعیانی اور مذہبی فکر کی مدد سے سائنسی افکار بھی سمجھے جاسکتے ہیں۔
قاسم ندیم : اقبال ضابطہ اور عمل کو تصور اور سپردگی پر فوقیت دیتے ہیں۔لیکن وہ تصور پر ست اور عینیت پسند بھی رہے ہیں۔انھوں نے لینن کو خدا کے حضور میں کھڑا کردیا ۔اس کا سبب کیا ہوسکتا ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اقبال یقیناًضابطہ اور عمل کے آدمی ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عشق کی سپردگی کے قائل نہیں۔فرق صرف یہ ہے کہ اقبال کا عشق دراصل رسول ہے۔اور رسول کے سامنے وہ اپنے پوری طرح بے دست و پا کردیتے ہیں۔یہ ان کی بڑائی کا ایک پہلو ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ عینیت پرست ہیں۔اگر عینیت سے آپ کی مراد افلاطونی عینیت ہے یا وہ نو افلاطون عینیت ہے جس کا آغاز فلاطینوس سے ہوتا ہے اور جس نے مسلمان صوفیا کو متاثر کیا تو اقبال کے یہاں افلاطونی عینیت یا نو افلاطونی عینیت جیسی کوئی چیز نہیں۔ان کے کچھ آدرش ضرور ہیں لیکن آدرش ہمیشہ عمل کی تلقین دیتے ہیں۔آدرش پرستی کا مطلب تصویر پرستی ہر گز نہیں۔رہا سوال نظم”لینن خدا کے حضور میں“کا تو اس کا تعلق نہ آدرش سے ہے اور نہ عمل سے۔یہ ایک دلچسپ مگر پیچیدہ نظم ہے۔کائنات کا سارا نظام اللہ کے ہاتھ میںہے۔اور اللہ رحیم و کریم ہے۔اس کے باوجود دنیا میں دکھ،درد،غم ،ظلم اور بے انصافی بھی ہے۔تو پھر نظام کائنات کی بنا انصاف پر کیوںکر قرار دی جائے؟یہ اور اس طرح کے بہت سے سوال ہیں جنھیں سلجھانے کی کوشش میں انسانی عقل ہزاروں برس سے گرفتار ہے۔اقبال نے اس نظم میں اپنے شکوک اور شبہات کولینن کے زبان سے پیش کیا ہے۔اور لطف کی بات یہ ہے کہ یہ ثابت بھی کردیا ہے کہ خدا موجود ہے ورنہ لینن کا اس کے حضور میں ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟
قاسم ندیم : کیا آپ بھی سلیم احمد کی طرح اقبال کو ”حکیم الامت“کے بجائے مرد یا آدمی کے زمرے میں رکھنا پسند کریں گے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :میں اقبال کو صرف شاعر سمجھنا بہتر سمجھتا ہوں ۔ان کا حکیم الامت ہونایا مرد یا آدمی ہونا ان کی شاعری کا ایک پہلو ہوسکتا ہے نہ کہ اس کے بر عکس ان کی شاعری کا ان کے حکیم الامت ہونے یا مرد یا آدمی ہونے کا ایک پہلو قرار دیا جائے۔
قاسم ندیم : فرقہ پرست حضرات اقبال کو پاکستان کا نظریہ پیش کرنے والا سمجھتے ہیں ،یعنی تقسیم ملک کا ذمہ دار حق بات تو یہ ہے کہ ان کے کام میں قومی یک جہتی کے تصور کی جتنی مثالیں موجود ہیں شاید ہی کسی اور شاعر کے یہاں ہوں۔اس سلسلے میں آپ کا کیا خیال ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :اس میں کوئی شک نہیں کہ مسلم لیگ کے اس جلسے میں جو ۰۳۹۱ میں الہ آباد میں منعقد ہوا تھا،اقبال نے جو صدارتی خطبہ دیا تھا اس میں یہ تجویز ملتی ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کو آزاد اور فیڈریشن کی طرح قائم کرنا چاہئے ۔اس فیڈریشن میں مسلمان اکثریت کے جو صوبے ہوں گے انھیں بعض مرکزی معاملات کو چھوڑ کر باقی سب انتظامی امور میں خودمختار ی حاصل ہوگی۔لیکن اسے باقاعدہ تجویز نہیں کہا جاسکتا ۔اور بہر حال کسی تجویز کا پیش کرنا اور ملک کی تقسیم کا ذمہ دار ٹھہرانا دو الگ الگ چیزیں ہیں۔تقسیم کی ذمہ داری مہاتما گاندھی،جواہر لال نہرو دوسرے اکابرین کانگریس اورمحمد علی جناح پر ہے۔اور ان سب سے زیادہ بڑے مجرم اس معاملے میں انگریزہیں۔رہا سوال اقبال کے کلام میں قومی یک جہتی کے تصور کا اظہار ہے کہ نہیں ،تو یقیناًہے اور ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ یہ اظہار اور احساس اقبال کے یہاں دوسری زبانوں میں ان کے معاصر بہت سے بڑے ادیبوں سے زیادہ ہے۔
قاسم ندیم : فیض کو آپ نے اپنے پسندیدہ پانچ جدید شعراءمیں رکھا ہے۔کس بنا پر آپ نے انھیں جدید شاعر مانا ہے؟کیا اس لیے کہ ترقی پسندوں نے انھیں کنارے لگا دیا تھا؟
شمس الرحمٰن فاروقی :سب ترقی پسندوں نے نہیں،صرف کچھ نے،اور ہمیشہ کے لیے نہیں صرف کچھ مدت کے لیے فیض صاحب کے خلاف منفی خیالات کا اظہار ضرور کیا تھا۔لیکن ترقی پسندحلقوں میں کسی کا ردو قبول میرے لئے کوئی معیار نہیں۔ترقی پسند حضرات کسی کو بڑا شاعر مانیں یا نہ مانیں یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔یہ قطعی ناممکن ہے کہ میں کسی شاعر کو برا شاعر صرف اس لیے مانوں کہ ترقی پسند حضرات اس کے قائل نہیں ہیں۔اسی طرح یہ بھی ناممکن ہے کہ میں کسی کو بڑا شاعر صرف اس لیے مانوں کہ ترقی پسند حضرات اسے بڑا شاعر مانتے ہیں۔
جہاں تک سوال میرے پانچ پسندیدہ جدید شعرا کا ہے تو میں نے یہ نہیں کہا کہ فیض میرے پانچ پسندیدہ جدید شعرا میں ہیں۔میں نے یہ کہا ہے کہ اقبال کے بعد پانچ بڑے شعرا کی فہرست جو میرے حساب سے بنتی ہے وہ حسب ذیل ہے :میراجی،راشد،اخترالایمان ،مجید امجد اور فیض۔
قاسم ندیم : کیا آپ فیض پر بھی کام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :جی نہیں ایک وقت میں مجھے امید تھی کہ میں ترقی پسند ادب پر ایک مفصل کتاب لکھوں گا لیکن افسوس کہ اب یہ ممکن نہ ہوگا ،کیوں کہ میں نے کچھ اور کام کئی سال ہوئے شروع کیے تھے وہ ابھی تک پورے نہیں ہوئے ہیں اور اب میری عمر ختم ہونے کو آرہی ہے۔
قاسم ندیم : کیا اس قول میں صداقت ہے کہ ادب کے لیے تنقید سانس کی طرح ناگزیر ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :کچھ اس طرح کی بات ٹی ایس الیٹ (T. S. Eliot) نے کبھی کہی تھی۔ لیکن اس سے اس کی مراد لازمی طور پر وہ تنقید نہیں تھی جو ہم آپ لکھتے یا پڑھتے ہیں۔ اس کی مراد یہ تھی کہ تنقیدی شعور کے بغیر تخلیقی کاروائی ممکن نہیں۔
قاسم ندیم : یہ بتائے کہ کیا کسی تخلیق کار کی عصری آگہی اس کی فکری اور جذباتی وحدت کا روپ اختیار کر سکتی ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی :”عصری آگہی “ کی اصطلاح سے تو میں واقف ہوں لیکن ” فکری اور جذباتی وحدت کا روپ اختیار کرنے“ سے کیا مطلب ہے ، میں نہیں سمجھا۔ اگر آپ کا سوال یہ ہے کہ کیا فن کار کی عصری آگہی اس کے جذبات اور افکار پر اثر انداز ہوتی ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ یقیناً اثرانداز ہوتی ہے، لیکن یہ اثراندازی ہر فن کار بلکہ ہر فن پارے میں مختلف کیفیت رکھتی ہے۔
قاسم ندیم : جس وقت آپ کی تخلیقات پر تنقید کی جاتی ہے اس وقت آپ کیا محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : ذاکر صاحب کہتے تھے کہ اپنی تعریف سن کر خوش ہونا تو فطری بات ہے لیکن اس پر یقین کرلینا احمقوں کا شیوہ ہے۔ اسی کو پلٹ کر میں یوں کہتا ہوں کہ اپنی برائی پڑھ یا سن کر ناخوش ہونا تو بجا ہے لیکن اس پر یقین کرلینا بے وقوفی ہے۔ میں اپنے بارے میں بے تکلف یہ کہہ سکتا ہوں کہ چالیس برس سے زیادہ مدت کی تصنیفی اور تخلیقی زندگی میں مجھے دوہی چار تحریریں ایسی ملیں جن میں مجھ پر مدلل یا عالمانہ اعتراضات کیے گئے ہوں۔
قاسم ندیم : ادبی حلقوں میں دبے دبے انداز میں یہ بحث ہوتی رہی ہے کہ آپ کی نثر آپ کی شاعری پر حاوی ہوگئی ہے ۔ کیا آپ بھی یہی محسوس کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اگر حاوی ہوجانے کے معنی یہ ہیں کہ میں نے نثر زیادہ لکھی ہے اور شعر کم ، تو یہ بات بالکل صحیح ہے۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ اگر تنقید لکھنے کے لیے مجھ پر اتنا دباﺅ نہ ہوتا تو میں نے اپنی شاعری پر زیادہ توجہ صرف کی ہوتی ۔ تنقید لکھنے کے لیے دباﺅ میرے اوپر شروع سے رہا ہے، اور کچھ میں نے بھی تنقید پر زیادہ توجہ صرف کی۔ شاید اس لیے کہ مجھے یہ خیال تھا کہ تنقید کے میدان میں جو باتیں میں کہنا چاہتا ہوں وہ کوئی اور نہیں کہہ رہا ہے، اور شاعری کا معاملہ یہ ہے کہ کوئی نہ کوئی اللہ کا بندہ میری طرح کا شعر کہہ ہی دے گا۔ لیکن سچ پوچھیے تو ادھر دس پندرہ سال میں میرا یہ احساس شدید ہوگیا ہے کہ میری شاعری کچھ اس طرح کی ہے کہ اس جیسی شاعری کوئی اور نہیں لکھ رہا ہے۔
قاسم ندیم : آپ نے ”سبز اندر سبز“ میں بچوں کے لیے بھی کچھ نظمیں شامل کی ہیں۔ کیا آپ نے بچوں کے لیے اور بھی کچھ لکھا ہے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : ”چار سمت کا دریا“ جو صرف رباعیوں کا مجموعہ ہے ، اس کو چھوڑ کر میرے دو مجموعوں میں بچوں کے لیے نظمیں شامل ہیں۔ میں نے بچوں کے لیے کچھ رباعیاں بھی کہی ہیں۔ لیکن وہ ”چار سمت کا دریا“ کے بہت بعد کی ہیں ‘ بلکہ ”آسماں محراب “ کے بھی بعد کی ہیں۔
قاسم ندیم : اردو رسم الخط کو دیوناگری میں تبدیل کرنے کے سلسلے میں اکثر کہا گیا ہے کہ اردو کا رسم الخط بدل کر ناگری کردیاجائے ۔ یہاں تک کہ احتشام صاحب نے بھی کچھ ایسی رائے ظاہر کی تھی۔ آخر پروفیسر احتشام حسین جیسے معزز اور معتبر بزرگ کے اردو رسم الخط کو دیوناگری میں بدلنے کی رائے دینے کے پسِ پشت کیا وجوہات رہی ہوں گی؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک کی آزادی کے بعد اردو پر جو کڑا وقت پڑا اس سے گھبرا کر بعض ترقی پسند بزرگوں نے رائے ظاہر کی کہ اردو کی بقا کے لیے ضروری ہے کہ اس کا رسم الخط دیوناگری کردیا جائے ۔ ان بزرگوں میں احتشام صاحب مرحوم بھی شامل تھے۔ لیکن جلد ہی انھوں نے اپنی رائے بدل لی تھی۔ چنانچہ ایک بار جب بعض ترقی پسند ادیبوں مثالاً عصمت چغتائی مرحومہ وغیرہ نے پھر یہ تجویز رکھی تو میری درخواست پر احتشام صاحب نے ایک مضمون لکھا جسے میں نے ”شب خون“ میں شائع کیا تھا۔ اس مضمون میں احتشام صاحب نے بہت زور دے کر رسم الخط کی تبدیلی کی مخالفت کی ، اور یہاں تک کہا کہ جو لوگ اردو رسم الخط بدل کر دیوناگری کرنا چاہتے ہیں وہ فاشی ہیں۔
قاسم ندیم : آپ کو سرسوتی سمّان سے نوازا گیا اور اردو کے تمام حلقوں کی طرف سے اس کا پرتپاک خیر مقدم کیا گیا۔ بے شک صرف اور صرف آپ اس اعزاز کے حق دار تھے ۔ کیا اردو کے خدمت گاروں میں کچھ ایسی ہستیاں اور بھی ہیں جنھیں اس طرح کے اعزاز سے نوازا جانا چاہیے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : یقینا ہیں ۔ اور مجھے پوری امید ہے کہ یہ ایوارڈ ابھی اردو کے کئی ادیبوں کو ملے گا۔
قاسم ندیم : اگر نیّر مسعود صاحب کو ساہتیہ اکیڈمی انعام نہ دیا جاتا تو آپ کے تاثرات کیاہوتے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھے یقیناً افسوس ہوتا۔
قاسم ندیم :انعامات اور اعزازات کی بات چل رہی ہے تو ےہ بتائےے کہ (Booker)انعام اور نوبل انعام اردو کے نصےب مےں ہےں کہ نہےں؟اور ان اعزازات کے حق دار کون ہوسکتے ہےں؟
شمس الرحمٰن فاروقی :Bookerانعام تو انگرےزی کی کتابوں پر ملتا ہے ،لہٰذا اس کا کوئی امکان نہےں ۔نوبل انعام کا معاملہ ےہ ہے کہ ابھی کسی اردو ادےب کے حق مےں مغربی ممالک مےں عام تذکرہ اور چرچا نہےں ہوا ہے،اور ےہ بہت ضروری ہے۔
قاسم ندیم : گلوبلائزیشن کے اس دور میں مختلف تہذیبوں کا ٹکراﺅ جاری ہے۔ ایسے وقت میں شعرا اپنا کردار کس طرح ادا کر سکتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : تہذیبوں کے ٹکراﺅ کا تصور امریکی سامراج کا ایجاد کیا ہوا ہے۔ میں اس کو قبول نہیں کرتا ۔ دوسری بات یہ کہ تہذیبوں کا ٹکراﺅ ہو یا گلوبلائزیشن یا اور کوئی صورت حال ، شاعر (اور اس اصطلاح میں تمام تخلیقی فن کار شامل ہیں) کا فرض یہ ہے کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کان دھرتے ہوئے اچھے سے اچھا لکھے۔
قاسم ندیم : آپ نے ۶۶۹۱ءمیں ”شب خون“ جاری کیا ،ا س کے اسباب کیاتھے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : اس کا پہلا سبب تو یہ تھا کہ نئے لکھنے والوں اور نئے سوچنے والوں (جن میں میں خود کو بھی شامل کرتا تھا) ‘ ان کے لیے لکھنے اور تبادلہ¿ خیال کا معتبر اور مستقل میدان مہیا کیا جائے۔دوسری بات یہ کہ ترقی پسند ادب اس وقت تک بڑی حد تک بے جان ہوچکا تھا اور ضرورت تھی کہ اس کی جگہ لینے کے لیے ایسا ادب سامنے لایا جائے جو نئے حالات کی نمائندگی کرتا ہو اور جو ترقی پسند ادب کی طرح نظریے کی انتہا پسندی کا شکار نہ ہو۔ تیسری بات یہ کہ اس زمانے میں الہٰ آباد میں کئی نئے لکھنے والے موجود تھے جنھیں قومی سطح پر متعارف ہونا چاہیے تھا۔ لیکن کوئی اچھا رسالہ ان کی دسترس میں نہ تھا۔ ایسے لکھنے والوں کے لیے بھی ایک جگہ درکا رتھی جسے میں نے ”شب خون“ کے ذریعے مہیا کرنے کی کوشش کی ۔ چوتھی بات یہ کہ اس وقت ہندوستان کے اکثر اچھے لکھنے والے پاکستانی پرچوں میں چھپنا پسند کرتے تھے کیونکہ وہ پاکستانی پرچوں کو دلکش اور معیاری سمجھتے تھے۔ اس کے برخلاف ، اس زمانے میں شاید ہی کوئی قابلِ ذکر پاکستانی ادیب رہا ہو جو ہندوستان میں چھپتا ہو۔ لہٰذا میں نے سوچا کہ ایک ایسا پرچہ نکالا جائے جس میں ہندوستان کے اچھے ادیبوں کو چھپنے کی خواہش ہو۔ اور اس طرح پاکستان کا رعب لوگوں کے دل سے زائل ہو۔ اسی فیصلے کا ایک پہلو یہ بھی تھا کہ میں نے شروع کے دوسال میں کسی پاکستانی ادیب کو ”شب خون“ میں شائع نہیں کیا۔ اور جب تیسرے برس سے انھیں شائع کرنا شروع کیا تو متعدد سربر آوردہ پاکستانی ادیب ہندوستان میں پہلی بار شائع ہوئے ۔ مثلاً انتظار حسین ، انور سجاد ، ظفر اقبال ‘وغیرہ۔
قاسم ندیم : صرف بتیس(۲۳) سال کی عمر میں آپ نے محسوس کرلیا تھا کہ آپ جدیدیت کی علم برداری کرسکتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : جدیدیت کی علم برداری وغیرہ کا کوئی تصور میرے ذہن میں نہ تھا۔ ممکن ہے ”جدیدیت“ کا لفظ بطور اصطلاح سب سے پہلے میں نے استعمال کیا ہو، میں اس بات میں یقین سے نہیں کہہ سکتا ۔ عسکری صاحب نے ”جدیدیت“ کا لفظ یورپی افکار کے حوالے سے ضرور استعمال کیا ہے ، لیکن اس سے ان کی مراد یورپی روشن فکری تھی نہ کہ وہ ادبی رجحان جسے ہم آپ جدیدیت کا نام دیتے ہیں۔ مغربی ادب میں بھی Modernismکی اصطلاح تقریباً انھیں معنی میں رائج ہے جن معنی میں ہمارے یہاں ”جدیدیت“ کی اصطلاح رائج ہے۔
قاسم ندیم : کیا اس زمانے میں جدیدیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوئی تھی؟اردو میں جو مختلف تحریکیں وجود میں آئیں ان سے زبان و ادب کو نقصان ہوا یا فائدہ؟
شمس الرحمٰن فاروقی : دوسرے سوال کا جواب پہلے عرض کرتا ہوں۔ میرا جواب یہ ہے کہ کوئی بھی ادبی تحریک سرا سر نقصان دہ نہیں ہوتی۔ دیکھنے کی بات صرف یہ ہے کہ کسی تحریک کے اثرات کس حدتک منفی تھے اور کس حد تک مثبت۔ پہلے سوال کے جواب میں یہ عرض کروں گا کہ جدیدیت سے اختلاف بہت کیا گیا ۔ لیکن اس میں کم سے کم تین طرح کے اختلاف کی نشاندہی ہوسکتی ہے ۔(۱) پرانے وقتوں کے زیادہ تر سیدھے سادے لوگ جن کااختلاف ادبی بنیادوں پر تھا لیکن ادبی نظریات پر ان کی گرفت کچھ مضبوط نہ تھی ،اس لیے ان کا اختلاف زیادہ تر واویلا کی شکل میں ظاہر ہو۔ (۲) ترقی پسند ادیب ، جنھیں اپنی کرسی خطرے میں نظر آرہی تھی۔ (۳) عام طور پر بزرگ ادیب جو ہر طرح کی تبدیلی کے خلاف تھے۔
قاسم ندیم : جدیدیت کے متعلق ہمیشہ یہ بات کہی گئی ہے کہ اس میں جو تجربے ہوئے ہیں وہ ہماری زندگی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ آپ سے بھی کئی لوگوں نے اس قسم کے سوالات کیے ہوں گے ۔ آپ نے انھیں کس طرح مطمئن کیا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھ سے اس معاملہ پر باقاعدہ سوال و جواب تو شاید کبھی نہیں ہوا ، اوراگر ہوا بھی ہوتا تو میں یہ دعویٰ نہ کرسکتا کہ میں نے سب کو مطمئن کردیا۔ یہ بات ضرور ہے کہ جدیدیت پر مختلف مضامین میں یہ اعتراض ضرور کیا گیا کہ جدیدیت سماجی شعور کی قائل نہیں اور نہ ادب میں سماجی معنویت دیکھنا چاہتی ہے۔ اسی طرح کے اعتراض کے ضمن میں یہ بھی کہا گیا کہ جدیدیت زندگی سے منقطع ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب باتیں غلط تھیں۔ کم سے کم میں نے تو ہمیشہ کہا کہ ادیب اپنے معاشرے کا اثر قبول کرتا ہے اور معاشرے میں رہ کر ہی ادب تخلیق کرتا ہے۔ ہاں میں نے اس بات سے انکار کیا اور اب بھی انکار کرتا ہوں کہ ادیب کا سماجی شعور یا سماجی زندگی کا ادب میں اظہار کسی خارجی دباﺅ کا پابند ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ غور کیجئے تو ادیب کی آزادی اظہار پر اصرار کرنے کے معنی ہی یہی ہیں کہ ادیب کا سماجی شعور اور زندگی کے بارے میں اس کا ادراک کسی خارجی دباﺅ کا پابند نہ قرار دیا جائے۔
قاسم ندیم : کیا آپ مانتے ہیں کہ واقعی اس دور میں قاری ناپید ہوگیا تھا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : یہ عجیب بات آپ نے کہی ۔ قاری کوئی پھول یا پھل تو ہے نہیں کہ کسی موسم میں نظر آئے اور کسی موسم میں ناپید ہوجائے ۔ ہمارا کہنا صرف یہ تھا کہ قاری کا احترام فرض ہے ، لیکن ادیب کا احترام بھی ہمارا فرض ہے اور یہی ہمارا پہلا فرض ہے۔ ادیب کو قاری کا محکوم نہ قرار دینا چاہیے۔ اگر ہم ادیب سے توقع کرتے ہیں کہ تخلیق کے کام میں وہ کوئی کوتاہی نہ کرے گا اور اپنی حیثیت اور استعداد کے مطابق بہترین ادب لکھے گا ، تو ہم قاری سے بھی توقع کرتے ہیں کہ وہ اپنے اندر تخلیق کی فہم پیدا کرے اور اپنی ذہنی تربیت اس طرح کرے کہ وہ مختلف رنگوں کی تخلیقات کو سمجھنے کی اہلیت حاصل کرلے۔
قاسم ندیم : اگر مابعد جدیدیت کو ایک تحریک مان لیا جائے تو کیا یہ تمیز کرنا ممکن ہے کہ فلاں تخلیق جدیدیت یا ترقی پسند تصورات سے مبراہے ؟
شمس الرحمٰن فاروقی : مابعد جدیدیت کو آپ تحریک مانیں یا نہ مانیں اس کا اس مسئلے سے کوئی تعلق نہیں۔ جب مابعد جدیدیت کا نام بھی نہ تھا ، تب بھی یہ پہچاننا کچھ مشکل نہ تھا کہ کوئی فن پارہ ترقی پسند تصورات سے عاری ہے یا نہیں۔ مثلاً میراجی کی تمام شاعری ایسی ہے کہ اسے ترقی پسند نہیں کہا جاسکتا۔ یہی حال راشد اور اخترالایمان کی شاعری اور بیدی اور منٹو کے بیشتر فکشن کا ہے۔ اسی طرح جدید دور میں بھی ایسے بہت سے فن کار تھے جنھیں جدید نہیں کہا جاسکتا۔ یہ کہنا صحیح نہیں کہ اگر کوئی فن پارہ ترقی پسندی یا جدیدیت سے خالی ہے تو وہ مابعد جدید ہی ہوگا۔ اور سچی بات تو یہ ہے کہ میں آج تک یہ نہیں سمجھ سکا کہ وہ کون سے عناصر ہیں جن کی موجودگی کسی تخلیق کو مابعد جدید بنادیتی ہے۔ ہمارے دوست پروفیسر گو پی چند نارنگ نے آج تک کوئی ایسی فہرست نہیں مہیا کی ۔ اور ہمارے دوسرے دوست پروفیسر وہاب اشرفی نے جو کتاب اس موضوع پر لکھی ہے اس میں انھوں نے جس قسم کے فن پاروں کو مابعد جدید کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے ان میں تو مجھے جدیدیت بھی ٹھیک سے نظر نہیں آئی۔ مابعد جدیدیت کا کیا پوچھنا ہے۔ بلکہ وہاب صاحب نے اور خود نارنگ صاحب نے مابعد جدید ادیبوں کے طور پر جن لوگوں کے نام گنائے ہیں ان میں سے اکثر کوتو درجہ سوم کا بھی شاعر یا افسانہ نگار یا نقاد تسلیم کرنا مشکل ہے۔
قاسم ندیم : جب گوپی چند نارنگ صاحب ساہتیہ اکیڈمی کے صدر منتخب ہوئے تو آپ نے انھیں مبارکباد دی ۔ کیا نارنگ صاحب نے بھی آپ کا شکریہ ادا کیا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : لوگ معلوم نہیں کیوں سمجھتے ہیں کہ گوپی چند نارنگ سے میری بات چیت نہیں ہے یا میرا ان سے کوئی جھگڑا ہے۔ادبی معاملات میں اختلاف رائے نہ کوئی نئی بات ہے نہ میری بات۔ بلکہ یہ رسم تو جدیدیت ہی کی قائم کردہ ہے کہ ہر شخص کواپنی رائے رکھنے کا حق ہے۔
قاسم ندیم : آپ کا وارث علوی سے بھی چھیڑ چلی جائے ہے والا معاملہ بھی رہا؟
شمس الرحمٰن فاروقی : وارث علوی سے کوئی ایسا معاملہ میرا کبھی نہیں رہا۔ہاں وارث علوی کبھی کبھی مجھے برا بھلا کہنے اور کبھی کبھی مجھے گوپی چند نارنگ کے مقابل کھڑا کرنے میں لطف لیتے رہے ہیں۔ لیکن یہ ان کا اپنا معاملہ ہے ، اور ممکن ہے کہ اس میں ان کے احساس غیر محفوظیت کو بھی کچھ دخل ہو۔ وارث علوی نے جب ترقی پسندی ترک کی اور جدیدیت اختیار کی تو اس وقت وہ ترقی پسندوں سے اس قدر خائف تھے کہ انھوں نے اپنے اولین مضامین ”ابن حسین“ کے نام سے لکھے۔ یہ سب مضامین ”شب خون“ میں چھپے۔ جب ان مضامین کا شہرہ ہوا اور انھیں مقبولیت ملی تو وارث علوی کو اپنا نام ظاہر کرنے کی ہمت ہوئی ۔ انھوں نے قبول کیا کہ وہ مضامین انھیں کے ہیں اور پھر آئندہ مضامین انھوں نے اپنے اصل نام یعنی وارث علوی کے نام سے لکھے۔ اور اب ظاہر ہے کہ وہ جدید ادب کی ایک بہت نمایاں ہستی ہیں تو شاید انھیں کبھی کبھی اپنے پرانے دن یاد آجاتے ہوں تو مجھ سے کچھ چھیڑ چھاڑ کرلیتے ہوں۔
قاسم ندیم :آپ اردو کے نقادوں میں سب سے زیادہ کسے پسند کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : محمد حسن عسکری پھر آل احمد سرور
قاسم ندیم : بیسویں میں اردو کے پانچ بڑے ناول نگاروں ، افسانہ نگاروں ، شاعروں اور ناقدوں اور محققین کی فہرست آپ بنادیں تو آنے والی نسلوں کے لیے سند بن جائے۔
شمس الرحمٰن فاروقی : مجھے فہرست بنانے میں لطف نہیں آتا۔ کچھ عرصہ ہوا زبیر رضوی کے رسالے ”ذہن جدید“ میں ناول نگاروں ، افسانہ نگاروں اور فکشن کے نقادوں کی فہرست بنانے کی فرمائش آئی تھی ۔ میں نے زبیر صاحب کا دل رکھنے کے لیے ایک فہرست بنادی تھی ، وہ آپ دیکھ لیں ۔مزید زحمت سے مجھے معاف رکھیں۔
قاسم ندیم : برصغیر کے اردو رسائل میں سے آپ کن کو پڑھنا پسند کرتے ہیں؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میرے پاس جو رسالے آتے ہیں ان سب کو ایک نظر دیکھ لیتا ہوں ۔ لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جنھیں فہرست کی حد تک دیکھتا ہوں۔
قاسم ندیم : نئی نسل کے لیے آپ کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
شمس الرحمٰن فاروقی : میں اپنے کو کسی خاص علم یا صلاحیت کا حامل نہیں سمجھتا اور اس لیے خود کو اس بات کا حق داربھی نہیں سمجھتا کہ نئی نسل کوکوئی پیغام دوں۔ لیکن اردو زبان اور ادب سے محبت کرنے والے ایک عام شخص کی حیثیت سے میں سب سے پہلی بات یہ کہنا چاہتا ہوں کہ نوجوان نسل اردو زبان ، اس کے رسم الخط ،اور اس کے املا کے بارے میں کسی قسم کا مدافعانہ یا شرمندگی کا رویہ نہ رکھے بلکہ ڈنکے کی چوٹ پر کہے کہ ہمیں اس زبان پر فخر ہے اور اس سے محبت ہے۔ ہمیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی اور اگر کوئی برائی ہو بھی تو ہم اسے اچھائی ہی سمجھتے ہیں کیونکہ محبت کرنے والے کو محبوب میں اچھائیاں ہی نظر آتی ہیں۔ نئے لوگ اردو زبان کے بارے میں یہ نہ گمان کریں کہ یہ لشکری زبان ہے یا مسلمانوں کی زبان ہے ، بلکہ یہ جانیں کہ اردو برصغیر میں پیدا ہوئی اور برصغیر کے تمام باسیوں کا اس پر حق ہے۔ دوسری بات یہ کہ وہ اپنی زبان کو سادہ ،شستہ ،بامحاورہ بنائیں۔ غیر زبانوں کے الفاظ سے گریز کریں خاص کر جب اردو زبان میں ان کے متبادل الفاظ موجود ہیں ۔ تیسری بات یہ کہ ادب سے محبت اور ادب کا مطالعہ کسی فائدے یا منفعت کی غرض سے نہ کریں بلکہ اردو زبان اور ادب سے بے غرض اور بے لوث محبت کو اپنی رگ رگ میں پیوست کرلیں۔ والسلام علیٰ من اتبع الہدیٰ
٭٭٭
مشمومہ ، سہ ماہی ”اردو چینل“ (شمس الرحمن فاروقی نمبر) جلد ۵ ، شمارہ ۴ (ستمبر 2003تا دسمبر 2004) صفحہ نمبر 94تا 102)

 

Prof. Qazi Afzal Husain Interview

Articles

اردو میں تنقید نہیں پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جارہے ہیں

پروفیسر قاضی افضال حسین

انٹرویو

اردو میں تنقید نہیں پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جارہے ہیں

پروفیسر قاضی افضال حسین

اردو میں تنقید نہیں پی ایچ ڈی کے مقالے لکھے جارہے ہیں

قمر صدیقی: ادب و تہذیب پرگلوبلائزیشن کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں؟
قاضی افضال حسین: آپ گلوبلائزیشن سے انکار تو نہیںکر سکتے وہ تو ہو رہا ہے اور اس کا سب سے بڑا ہتھیار ہے Mass Media ،اس کے جو ذرائع ہیں صرف ٹی وی نہیں انٹر نیٹ، ای میل جتنے بھی الیکٹرانک ذرائع ہیں انھوں نے واقعی من کلی جسے کہتے ہیں ایک طرح کی گلوبلائزیشن کے علاوہ ایک طرح کی حکمرانی کا گویا تصور پیدا کر دیا ہے ۔ایک خاص تہذیب کا ایک Imperialismہے یہ۔ تو بہت تیزی سے پھیل رہا ہے اور پھیلا۔ یعنی اب ہر وہ چیز اچھی ہے جسے میڈیا منیجر اچھی کہتے ہیں ۔ جس چیز کو وہ اچھی نہیں کہتے وہ اچھی نہیں ہے ۔ جن لوگوں کو ادب میں اس کا ذراسا بھی احساس ہوگیا ہے یہ گلوبلائزیشن اب ایک طرح کیImperialism کی طرف بڑھ رہا ہے انھیں اس کی فکربھی ہوگئی ہے۔ چنانچہ ادب میں، خود آپ کے ادب میں، اردو میں بھی شعریات پر تنقید کے مقابلے میں توجہ بڑھ رہی ہے اور یہ بڑھ اسی لیے رہی ہے کہ شعریات لازماََ ایک زبان کی اپنی ایک لوکل چیز ہوتی ہے۔تنقید آفاقی ہو سکتی ہے شعریات آفاقی نہیں ہو سکتے ۔ آپ کے یہاں شعریات پر یعنی شعر بنانے کے فن پر گفتگو بڑھ رہی ہے اب تو میںبہت دیکھتا ہوں کہ ہر رسالے میں کوئی نہ کوئی ایک مضمون شعریات کے متعلق ہوتا ہے ۔ بغیر یہ سمجھے ہوئے کہ شعریات کیا ہے لیکن بہر حال لوگوں کویہ سمجھ میں آرہا ہے کہ شعر بنانے کے جو اصول ہیں ایک لسانی معاشرہ کے وہ گلوبل نہیں ہےں۔ ہاں ان کی تنقید کا معیار آفاقی یا Globalistہوسکتا ہے تو اب آپ کے یہاں شعریات پر زور دیا جا رہا ہے یا اس کی طرف توجہ ہوئی ہے تو اسے تقریباََایک طرح کا ردعمل کہا جانا چاہئے۔
دیکھیے یہ تو ہوہی نہیں سکتا کہ جس معاشرے میں آپ رہتے ہیںاس معاشرے کی صورت حال کا آپ کی فکر پر اثر ہی نہ پڑے ،یہ نہیں ہوسکتا ہے ۔ اب تک صرف یہ ہوا تھا اور ذرا پہلے سے حالی© کے زمانے سے چل رہا ہے کہ ایسے کہو یا یہ کہو ۔ شاعر کے لیے Dictationکے کوئی معنی نہیں ہیں لیکن ہو اایسا عملی طور پر اور اس کی طویل ترین صورت بعض صورتوں میں ترقی پسند تحریک میں نظر آئی ۔ اس طرح سے انھوں نے ان لوگوں Rejectکرنا شروع کر دیا جنھوں نے ان کی طرح نہیں کہا۔ قرةالعین حیدر، منٹو، میراجی راشد بہت نام ہیں اس میں۔لیکن وہ کیا کر رہے ہیںیہ بحث نہیں ہے بحث یہ ہے کہ آپ اس طرح سوچ ہی نہیں سکتے جو آپ کے معاشرے سے مختلف ہو۔ معاشرے کا اثر آپ پر تو پڑے گا ہی پڑے گا ۔ تو ایک طرح کی الجھن گلوبلائزیشن کی آپ کے Containمیں بھی دکھائی دے رہی ہے۔آپ کے افسانوں میں ، بعض ناولوں میں ،اس طرح کی الجھن نظر آتی ہے ۔تو ہمارے خیال میں Containکی سطح پر بھی اور تصور شعر کی سطح پر بھی اس طرح کی توجہ یہ درشاتی ہے کہ ہمارے لیے گلوبلائزیشن نمبر ۱ : ایک مسئلہ بن گیا ہے ۔ اس کے فوائدہیں لیکن اس سے جو نمو کررہا ہے ایک طرح سے کہنا چاہئے کہImperialism اس نے ہمارے اندر یہ Verityتو پیدا کی ہے کہ ہمیں ادب پر Workکرنا چاہئے یہ تو ہوا ہے اور ہمارے یہاں ہی نہیں ہم سے زیادہ تو دوسری زبانوں میں ہوا ہے ۔ آپ بمبئی میں رہتے ہیں ابھی کاٹجو یہاں آئے تھے انھوں نے تقریر میں کہا کہ Son of this SoilکاConceptہی Antinational ہے۔ابھی دو روز پہلے کی بات ہے مسٹر کاٹجو نے کہا کہ یہ کیا بات ہوئی ایک خطہ عرض پر ایک طرح کے لوگ رہیں گے۔ تو ایک ہی خطہ پر ایک ہی طرح کے لوگ کا افراق بڑھا ہے ،یہ بھی غالباََ گلوبلائزیشن کا ردعمل ہے ۔بہت ساری چیزیںبہت ساری تبدیلیاں ہو رہی ہیں ۔دھیرے دھیرے چاروں طرف ،آج سے نہیں بہت پہلے سے یہ باتیں ، وہاں پورب میں، آسام میںاور اس علاقے میںچل رہی ہیں۔ آسام میں صرف آسامی رہے گا اور ناگا لینڈ میں ناگا لینڈ کا ،یہ سب چیزیں گلوبلائزیشن کے خلاف ہی تو جاتی ہےں۔ایک خطہ عرض پر خاص طرح کے لوگوں کا رہنا اور ان کو رہنے کا حق دینا اور دوسرے لوگوں کو نہ دینا یہ تو آفاقیت کے خلاف ہے نہ بھئی۔عالم کاری کے خلاف تو یہ سب چیزیں سیاست میں بھی ، تہذیب میں بھی اور لٹریچر میں بھی اس کی زبان میں بھی ، تصور شعر میں بھی ، اس کے اثرات دکھائی دے رہے ہیں ۔ویسے بڑی خطرناک چیز ہے یہ آپ کا الیکٹرانک میڈیا ہے ۔ افوّہ!بھیانک
قمر صدیقی: لیکن خطرناک ہونے کے احساس کے باوجود الیکٹرانک میڈیا اتنا ہی اثر انداز بھی ہورہاہے۔
قاضی افضال حسین: بہت زیادہ اور اسی اثر کی وجہ سے خطرناک بھی لگ رہا ہے۔بھئی بھلا جس Product کو ٹی وی اچھا کہہ دے وہ اچھا ہوگا اور جس Productکو ٹی وی اچھا نہ کہے وہ اچھا نہیں ہے۔ جس آدمی کے Conceptکو ٹیوی دکھا رہا ہے وہ ہی اچھے آدمی کا conceptہے ۔جس لباس کو وہ کہہ دے کہ اچھا ہے تو وہ ہی اچھا ہے ۔ آدھی بمبئی تمھاری نیکر پہن کر گھوم رہی ہے تو یہ اسی کی وجہ سے ، اس کے اس گہرے اثر ہی کی وجہ سے۔ اس خطرے کا احساس ہے لوگوں کوکہ یہ جو چاہیں کرلیں۔بلکہ مجھے یاد آتا ہے صاحب علی کبھی تم نے یہ بات کہی تھی کہ میڈیا جو چاہے گا وہ آپ کھائیں گے جو چاہے گا وہی آپ پہنےں گے۔ اب یہ صورت حال ہے ،مگر جو اس کا خطرہ ہے وہ زیادہ سمجھدار لوگوں کی سمجھ میں آبھی رہا ہے ۔ کبھی میں اگر یہ باتیں کرتا ہوں تو مجھے خود بھی ہنسی آتی ہے کہ یار میں کیا کر رہاہوں، ان کا میں کیا بگاڑ لوں گا۔ لیکن کم از کم اپنے طور پہ تو جانتا ہوں کہ غلط ہو رہا ہے۔یہ جو کہنا چاہئے نہ کہ فلاں کا نمک مثلاََ۔اب کشمیر سے لے کر مدراس تک صرف فلاں کا نمک کھایا جاتا ہے۔پہلے فلانے جگہ کے گلاب جامن اچھے ہوتے تھے ، فلانے جگہ کا خورمہ اچھا ہوتا تھا ، فلانے جگہ کی برفی اچھی ہوتی تھی۔اب سب جگہ ایک ہی چیز ملتی ہے۔ کچھ برفی نہیں کچھ خورمہ نہیں ۔
قمر صدیقی: گلوبلائزیشن کی ثقافتی یک رنگی کے برخلاف ادبی متون کی بافت و تفہیم میں ثقافتی رنگارنگی بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔
قاضی افضال حسین: یہ تو ہم کہہ ہی رہے ہیں بھئی ثقافتی یکسانیت کا تصور نہ صرف یہ کے فروغ پا رہا ہے بلکہ دنیا بھر میں جڑ پکڑ چکا ہے لیکن یہ ثقافتی یکسانیت کے معنی یورپ اور سفید آدمی کی ثقافت کے ہیں ،آپ کی ثقافت کے نہیں ہیں اور یہی اس کا خطرہ ہے جو میں آپ سے شروع سے کہہ رہا ہوں کہ یہ ایک طرح کا Imperialism ہے۔ یہ اسی بنیاد پر کہہ رہا ہوں کہ یہ ایک خاص ماڈل ہے اور غالباََ وہی ایک عالمی ثقافت کا ماڈل ہوگا۔ساری باتیں جو ہم ابھی آزادی ،تعلیم نسواں کے بارے میں کر رہے ہیں جو لوکل تہذیبوں کے بارے میں کر رہے ہیں وہ سب اسی کی پیداوار ہیں۔
قمر صدیقی: اگر یہی صورتِ حال رہی تو کیا ہم آنے والے دنوں میں ایک Literature Less معاشرے میں رہیں گے؟
قاضی افضال حسین: نہیں ایسا نہیں ہوگا ایک ایسے Literature کے زمانے میںرہیں گے جس کی حیثیت عالمی ہوگی ۔ ہم اس طرح اس میں رہیں گے مطلب دیکھو یہ کہ ظفر اقبال ہمارے بہت سنجیدہ آدمی ہےں۔ ظفر اقبال صاحب فرماتے ہیں کہ غزل کو ایسی زبان میں کہنا چاہئے جس کا ترجمہ ہوسکے، اچھا کیوں ہوسکے بھائی تاکہ انگریز پڑھ سکیں۔یہی نا ۔میرا یہ کہنا ہے کہ غزل وہ صنف سخن ہے جو ہماری شناخت ہے اور وہ ترجمہ نہیں ہوسکتی۔اصل بات ہی یہی ہے کہ ہماری اپنی شناخت ترجمہ نہیں ہوسکتی اور یہ جو عالم کاری ہے اس کی اصل میںجو بھی عزم ہے وہ ہماری شناخت پر ہے ۔ یہ سب کہنے کے بعد بھی کہ ہم اس کو روک نہیںسکتے ۔
قمر صدیقی: گویا جس Forceسے یہ آرہاہے اسے روکنے میںہم آگے کسی نہ کسی سطح پہ جا کے فیل ہو جائیں گے ۔
قاضی افضال حسین: فیل ہو جائیں نہیں فیل ہو چکے ہیں ۔یہ ایسا نہیں کہ ہو جائیں گے، یہ ہوچکا۔اس کی طاقت کا اس طرح اندازہ کیجئے آپ کہ ایک صاحب ہیں جنہوں نے Communication میں بہت کام کیا ہے Jean Baudrillard انھوں نے عراق جنگ کے بارے میں لکھا ہے کہ عراق میں جنگ ہوئی ہی نہیں ۔ وہ تو ٹی وی کے لیے تیار کیے گئے Episodesتھے جو اسٹوڈیو کے بجائے عراق کے میدان میں تیار کئے گئے ہیں ۔اب آپ دیکھیے کہ وہ یہ کہہ رہا ہے کہ عراق میں آپ کو یاد ہوگا جنگ شروع ہوئی تھی پانچ بجے شام کو یہ وہ وقت ہے جب امریکن آفس سے لوٹ کے آجا تا ہے اور اپنی ٹی وی کھولتا ہے تو اس کو ایک Episodeدکھائی دے رہا ہے کہ عراق پہ امریکہ نے حملہ کر دیا ہے اور وہ روزانہ کا ایک Episodeہے جو اسٹوڈیو میں نہیں بنایا گیا ہے عراق کے میدانوں میں بنایا گیا ہے یہاںتک پہنچ گیا ہے ہمارا گلوبلائزیشن ۔
قمر صدیقی : تو گویا یہ کہ عراق جنگ بھی گلوبلائزیشن کے ثقافتی Imperialismکی ایک مثال ہے؟
قاضی افضال حسین: دیکھیے آپ صرف ثقافتی Imperialismکیوں کہہ رہے ہیں یہ Economic Imperialismبھی ہے جو چیزیں بازار میں امریکی ٹھپے سے آئیں گی وہی سب سے اچھی ہوںگی ۔ سو اصل میں ثقافت تو آپ کا مسئلہ ہے ،دنیا کے تاجروں کا مسئلہ ثقافت نہیں ہے ۔ان کا مسئلہ تو دولت ہے۔ کتنے لوگ یہ بات کہتے ہیں اور ہزاروں لوگ جانتے ہیں کہ عراق پہ حملہ پٹرول کے لیے ہوا تھا ۔ بھئی امریکہ نے جو حملہ کیا ان کے Defense Ministerصاحب Petrolکے تاجر ہیں ۔ کمپنیاں ہےں ان کی با قاعدہ۔سو یہ اصل مسئلہ تو Economic Levelپر ہی ہے۔صرف Economic Level پر۔ کیوں کہ دنیا میں سب سے بڑی قوت ہے دولت ۔ دنیا میں سب سے بڑی Political Strain ہے Democracy ، دنیا میں سب سے بڑا کلچر تہذیبی ثقافتی یکسانیت، ارے بھائی کیا مطلب کوئی Variationممکن نہیں ہے۔اب یہ جو آپ کے لیے تمام راستے بند کر دیے گئے ہیں کہ آپ کو اس کے علاوہ کچھ نہیں سوچنا ہے ۔سو عالم کاری نے تو وہ کر دیا ہے کہ آپ پلٹ کے اپنی طرف جا بھی نہیں سکتے جو چھوٹی چھوٹی گلیاں بچی ہیں اسی میںرہیے ۔ نہ تہذیب کی سطح پہ آپ سب سے اول ہیں ۔ تہذیب کی سطح پہ وہ تہذیب اول ہے جو ٹی وی پہ دکھائی جاتی ہے ۔White American یا White European Culture انہی کے تصورات ،انہی کے افکار ،انسان کے متعلق ان کا تصور، مرد عورت کے رشتے کے متعلق ان کا تصور، بس وہی افضل وہی قابل قبول ہے۔ نہیں ہے کیا؟ میں غلط کہہ رہا ہوں ؟ تو اب آپ اس میں You can’t do that آپ یہ کر ہی نہیں سکتے ،ٹی وی بند ہی نہیںکرسکتے آپ۔آپ Computer, Internetنہیں بند کر سکتے ۔Man-Women relationshipکے بارے میں آپ جو کچھ بھی جانتے ہیں وہ سب آپ کے Internetسے آیا ہے ۔ ہم آپ سے کیا کہیں یہ تو اتنا بھیانک معاملہ ہے کہ کیا Politics ، کیا Economy، کیا Culture ، کیا زندگی کا کوئی شعبہ، ان سب کا معاملہ یہی ہے ۔ دیکھیے پارلیمنٹ میں ہماری پارلیمنٹ میں کھڑے ہو کے جو مثال دی جاتی ہے کسی چیز کے قانون کی کہ یہ امریکہ میں بنا ہوا ہے کیونکہ امریکہ میں بنا ہوا ہے اس لیے غلط نہیں ہو سکتا۔ ہمارے پارلیمنٹ میں Ministersکھڑے ہو کر تقریر یں کر رہے ہیں ۔ تو آپ اس کو روک نہیں سکتے ۔
قمر صدیقی : رو ک نہیں سکتے ہیں تو ہماری جیسی تہذیبیں Surviveکس طرح کریں گی؟
قاضی افضال حسین: یہ آپ کا مسئلہ ہو سکتا ہے یہ تاجروں کا مسئلہ نہیں ہے ۔یہ تو آپ کا مسئلہ ہے نہ اور اس کے لیے آپ کوMediaنہیں ملے گا۔اتنا دنیا بھر کی چیزیں ہوتی رہتی ہیں فلاں کی جاسوسی ہو رہی ہے۔ فلاں پکڑا جا رہا ہے ۔فلاں Ministerپکڑا جا رہا ہے۔کوئی Capitalistہندوستان کا آج تک پکڑا گیا، جیسے وہ Corruptہوتا ہی نہیں۔یہ سب چلے گا نہیں آپ کو ظاہر ہے سب سے آسان طریقہ اپنے تحفظ کا یہ ہے کہ آپ اپنی زبان کا تحفظ کریں اگر آپ اپنی Languageبچانے میں کامیاب ہوگئے تو آپ اپنی فکر بچانے میں کامیاب ہو جائیں گے ۔ اگرچہ وسائل صرف اردو نہیں ہندوستان کی کسی زبان کے پاس نہیں ہیں۔Unlessکہ آپ اس کو ایک Political Platformمیں بدل دیں جیسا کہ مہاراشٹر میں ہو رہا ہے ، جیسا کہ بہت دنوں تک بنگال میں ہوتا رہا تھا اب تو ذرا کم ہوا۔ جیسا کہ آسام اور Northeastمیں ہورہا تھا ۔Unlessیہ آپ کرسکیں جو آپ نہیں کر سکتے ۔
قمر صدیقی: میرے خیال میں اردو کے پاس اس طرح کے پلیٹ فارم کے لیے علاقہ نہیں ہے۔
قاضی افضال حسین:اردو کبھی علاقہ کی زبان تھی ہی نہیں ۔ اردو کی ثقافت میں اس طرح کی تفریق کبھی تھی ہی نہیں۔راجستھانی بھی اردو بول رہا ہے ، بنگالی بھی اردو بول رہا ہے، مراٹھی بھی اردو بول رہا ہے۔ جب اردو تھی تب سب اردو بول رہے تھے ۔مسلمان کیا ، غیر مسلمان کیا ، کسی علاقہ کیا یہ اس کا مسئلہ کبھی تھا ہی نہیں ہم نے اسی کو بڑی چیز سمجھا۔ اب یہ زمانہ ہے جسے ہم علاقائیت کو بڑی چیز سمجھ رہے ہیں ۔ تو اب ظاہر ہے کہ وہ میدان تو آپ کے ہاتھ سے نکل گیا نہ۔ نکل کیا گیا ہم سمجھتے ہیں کہ وہ اچھی چیز تھی ہی نہیں اور جو اب ہو رہا ہے وہ بھی اچھی چیز نہیں ہے علاقائیت وغیرہ ۔ زبان تو ایسے ہی ہونا چاہئے کہ ہند وستا ن میں ہر جگہ ہر قسم کے لوگ بولتے ہوں۔خیر اگر آپ اپنی Language بچا سکے۔دیکھئےLanguage صرف آوازوں کا مجموعہ نہیں ہے نہ اس میں آپ کی فکر ، آپ کی سوچ ، آپ کی ثقافت ، آپ کی تہذیب وہ سب بچ جائے گی۔
قمر صدیقی: خیر تبدیلی کے اس پورے Processمیں ادب کا کیا کردار ہوسکتا ہے؟
قاضی افضال حسین: ایک فطری تبدیلی ہوتی ہے جو ہوتی جاتی ہے ۔ ایک تبدیلی کی جارہی ہے جو ہم زبر دستی کر رہے ہیں ۔ میں اپنے ایک ایسے Journalistدوست کو جانتا ہوں جنھوں نے ۲۰۰۲ءمیں Resign کیا ایک بڑے اخبار سے ۔ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نےResignکیوں کیاتو ان کا کہنا تھا کہ وہ اخبارزبر دستی ایکسویں صدی میں گھسا جا رہا ہے ہم اتنی تیز نہیں چل سکتے ۔ تو ایک تبدیلی وہ ہوتی ہے جو فطری ہے جو ہوتی رہتی ہے ،وہ آپ میں بھی ہوتی ہے۔ آپ بچے ہوتے ہیں ،مختلف ہوتے ہیں، آپ جوان ہوتے ہیں تو مختلف ہوتے ہیں۔ وہ ایک فطری تبدیلی ہے جو ہوتی رہی ہے۔ایک تبدیلی کی جارہی ہے ان دونوں میں فرق ہے ۔Imperialismکی جانے والی تبدیلی کے بارے میں ہے فطری ہونے والی تبدیلی کے بارے میں نہیں ۔ اس لیے میں آپ سے کہتا ہوں کہ اس میں یہ جو زبردستی ہو رہی ہے اس پہ آپ تھوڑا سا Resistanceدکھائیں۔آپ Resistanceدکھا سکتے ہیں اپنی زبان میں ، اپنے ادب میں ،اپنے تہذیب کے تحفظ کے بارے میں،فکر کر کے تو یہ ممکن ہے کہ آپ پر Mediaتو بہر حال ایسی چیز ہے جو آپ کے قبضے میں نہیں ہے ۔ یعنی آپ کےLanguage میں جو نکلتا ہے وہ بھی آپ کے قبضے میں نہیں ہے ۔
قمر صدیقی: ادب کے قرا¿ت کے جونئے نظریے آرہے ہیں وہ معاصر ادب کے ساتھ ساتھ ہماری کلاسیکی ادبی سرمایے کی تفہیم میں کس قدر معاونت کر سکتے ہیں ؟
قاضی افضال حسین: اصل میں سوچنے کے طریقے پہ انحصار ہے کہ آپ متن کوکیسے پڑھتے ہیں۔ایک سامنے کی مثال لیجیے حالانکہ بہت بوسیدہ مثال ہے کہ ایک ادب کو فحش کہتے ہیں بس فحش سمجھتے ہیں خوش ہوتے ہیں۔ دوسرے آدمی کو وہی ادب فحش نہیں لگتا ۔تو پڑھنے کے طریقے کا تعلق ادب کے تصور سے ہے۔آپ ادب کو کیا سمجھتے ہیں ،اچھا اگر ادب کی کوئی ایک تاریخ آپ کے ذہن میںہے تو اس کا ایک مقصود بھی آپ کے ذہن میں ہوگا ۔تو یہ تاریخ اور مقصود کا جو رشتہ ہے نہ آپ اس کی روشنی میں متن کو پڑھتے ہیں اگر آپ سمجھتے ہیں کہ ادب وہ ہے جو عوام کی ہمدردی کرتا ہے ہو یا فلاں طبقے کے ساتھ رعایت یا اس کے ساتھ ہم آہنگ ہو تو مقصود اصلاح ہوگی تو متن کا تجزیہ اس طرح ہوگا کہ اس میں اصلاح کے عناصر کتنے نکلتے ہیں یا کتنے نہیں نکلتے، اگر آپ ادب کو صرف بصیرت کا ذریعہ سمجھتے ہیں تو پتہ نہیں کس نے یہ بات کہی تھی کہ صاحب ادب میں بلکہ جو سرور صاحب نے کہا تھا کہ مسرت ہوتا ہے پھر بصیرت ہوتی ہے ،اب آپ تجزیہ اس طرح کریں گے کہ اس میں بصیرتیں کیا کیا موجود ہیں ۔ اگر آپ فارملسٹ ہیں اور آپ سمجھتے ہیں کہ ادب تو اظہار کے اسلوب کا نام ہے تو آپ کا تجزیہ ظاہر ہے کہ اسی نہج تک ہوگا۔یہ سارے نظریے ایک ساتھ ایک وقت میں چل رہے ہوتے ہیں ۔اس میں کوئی حرج نہیں ہے اس سے اس کا تنوع پیدا ہوتا ہے۔ہم یکسانیت چاہتے ہی نہیں ہےں۔ ہم اس طرح کر رہے ہیںآپ اس طرح کیجیے۔ہم نہیں چاہتے یکسانیت۔ہم اس کا پوسٹ مارڈن مطالعہ کرتے ہیں،آپ اس کا ترقی پسند مطالعہ کرتے ہیں ۔آپ اس کا مطالعہ کیجیے،بشر دوست مطالعہ کیجیے اور ہمارے یہاں یہ بیک وقت ہورہا ہے۔ ہم دیکھ رہے ہیں اسے ہوتے ہوئے اور ہم کو اچھا بھی لگ رہا ہے۔ تو ہم اپنے ادب کا ایک تصور رکھتے ہیںاور اس کے مقصود کے بارے میں سوچھتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیںکہ اس کے وسائل چونکہ متن میں ہیں تجزیے کے ذریعے دیکھنے کے تو ہم دیکھ رہے ہیں لیکن اگر کوئی ادب کا مختلف تصور رکھتا ہے تو ہمیں اعتراض نہیں ہوتا ۔ متن کو ہم جیسے پڑھ سکتے ہیں پڑھتے ہیں ۔آپ اگر کسی سے مختلف طریقے سے پڑھتے ہیں ۔ اگر آپ متن کی تفہیم اچھی طرح کر سکتے ہیں ہمیں اس پر بھی اعتراض نہیں ہے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے۔
قمر صدیقی:اردو تنقید کی موجودہ صورت حال بظاہر تو اچھی نظر آرہی ہے اور بہت لکھا جا رہا ہے مگر اس میں ٹھوس اور Authenticکام کتنا ہورہا ہے۔
قاضی افضال حسین: دیکھیے پہلی بات تو یہ کہ میں آپ کے سوال سے متفق نہیں ہوں ۔ اردو تنقید کی صورت حال اچھی نہیں ہے۔ نمبر ایک ؛جو لکھا جا رہا ہے وہ Ph.dکے مکالے ہیں اور چھپنے کی آسانی ہوگئی ہے ۔ پیسے ملنے لگے ہیں Pressکو یعنی اردو میں شاید 500سے زیادہ کتابیں روز چھپ رہی ہیں تو اس کے یہ معنی ہوئے کے آپ کو وسائل کی آسانی ہوگئی ہے مگر کوئی متن یا کوئی بحث بہت اچھی ہورہی ہو یا کہیں مسائل کھل رہے ہیں یا سمجھے جارہے ہیں اس میں مجھے بہت شبہ ہے۔ رولاںبارت کا یہ تصور کے ادب میں Subjectخارج ہوگیا ہے اور ہم اس کو صرف اس کی زبان کے حوالے سے سمجھ سکتے ہیں ۔یہ ہے بنیادی ایک بات جس کو مصنف کی موت وغیرہ بیان کیا گیا ہے۔ ہمارے اردو کے دو بڑے بڑے نقادوں نے Subjectکا ترجمہ موضوع کیا ہے Subjectکے لیے سادہ سی بات یہ ہے کہ وہ فاعل کا ذکر کرتا ہے وہ موضوع کا ذکر کر ہی نہیں رہا ہے اور آپ ترجمہ کر رہے ہیں کہ ادب سے موضوع خارج ہوگیا ہے۔ تو کتنا سمجھ رہے ہیں آپ ،اندازہ یہ ہے کہ بیشتر لکھنے والوں نے اگر کچھ پڑھ بھی لیا ہے توانھوں نے اس کو بغیر اپنے ذہن کو Applyکیے ،بغیر اپنی ضرورتوں کو سمجھے ،بغیر اپنی تہذیبی و ذہنی صورت حال سے معاملہ کیے ہوئے دہرا رہے ہیں۔
قمر صدیقی: چونکہ آپ کا تعلق تدریس سے بھی رہا ہے لہٰذا لہٰذا جامعات میں اردو تدریس کی صورتِ حال پر بھی کچھ روشنی ڈالیے؟
قاضی افضال حسین: ایک نفسیاتی و ذہنی Conditionمیں ہم سمجھ رہے ہیں کہ انگریزی تعلیم کا مقصد نوکری ہے اور اب یہ نعرہ لگتا بھی ہے اور ٹھیک لگتا ہے کہ زبان کو بازار کی ضرورت سے جوڑنا چاہئے ۔ایک Confusion یہ ہے کہ ہم ادب کو بازار کی ضرورت سے جوڑنے کا ذکر سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ دو الگ الگ چیزیں ہیں، زبان کو بازار کی ضرورت سے جوڑنا چاہئے ،مطلب آپ کو انگریزی اچھی آنا چاہئے تو انگریزی آنے کا یہ مطلب تھوڑی ہے کہ آپ کو شیکسپیئر کے ڈرامے یاد رہنے چاہئے۔بس انگریزی اچھی آنا چاہئے۔ اسی طرح اردوبھی ایسی زبان ہونا چاہئے جومارکیٹ کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ لیکن اردوکا ادب مارکیٹ کی ضرورتوں کو پورا کرے اس کا کوئی مطلب ہی نہیں اور ہمارے یہاں یہ ایسا Confusionہے کہ اب میں لڑکوں سے کلاس میں کہتا ہوں ہوں جب کبھی سوال اٹھتا ہے کہ M.Aاردو کے بعد کیا Jobہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ M.Aجغرافیہ کے بعدکیاJobہے،M.A Sociologyکے بعدکیاJobہے،Jobکا تعلق زبان سے تو ہے البتہ اس کا تعلق ادب سے ہو یہ ضروری نہیں۔ مراٹھی ادب پڑھنے سے بازار کاکیا تعلق ہے ۔سوتعلیم کے اس بنیادی مقصد نے کہ وہ Market Orientedہو لٹریچر کو نقصان پہنچایا ہے۔ لٹریچر،Orientedہوگا تولٹریچر نہیں ہوگا ۔ سادہ سی بات ہے اب یہ بات بچوں کو اپنی کلاس میں سمجھانا ذرا مشکل ہوتا ہے ۔ اب ہماری جوBasicکوشش ہوتی ہے اچھے لڑکے بھی کم مل رہے ہیں ۔ اچھے لڑکے تو میڈیکل، انجینئرنگ وغیرہ میںجاتے ہیں لیکن جو اس کا بچا ہوا حصہ آتا بھی ہے ہمارے پاس تو کوئی کوئی اس میں سے نکلتا ہے۔ جس میں ہمیں کوئی رمق کوئی روشنی نظر آتی ہے۔ یہ کوشش کرتے ہیں کہ بھیّا ان کو کسی طرح پڑھا لیں ۔ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم ادب سکھائیں ،ادب سکھانے کا مطلب یہ ہے کہ اس کو ایک بہتر آدمی ہونے میں مدد کریں۔جواپنے طور پر سوچ سکتا ہو ،اپنی ثقافت سے واقف ہو ، دوسرے آدمی کو دوسرے آدمی کی حیثیت سے قبول کرسکتا ہو، جو ہماری طرح نمازی ہیں تو سب نمازی ۔ ارے بھائی جو نمازی نہیں ہیں وہ بھی اللہ میاں کی مخلوق ہیں۔ اس کو اس کی شرطوں پہ قبول کرنے کی صلاحیت ادب سکھاتا ہے ۔ اگر ہم یہ نہیں کرسکتے تو اب ظاہر ہے ہم ادب کی تعلیم نہیں دے رہے ہیں ۔ ہماری کوشش یہی ہے کہ اردو زبان کو مارکیٹ سے ضرور جوڑیں۔ مثلاََ یہ جو ٹی وی کے چینلز ہیں 200چینلز آرہے ہیںلیکن ہندی اور اردومیںبا مشکل اچھی اور صاف ستھری زبان بولنے والے لوگ دکھائی دیتے ہیں۔ اگر ہم اس میں اردو کے studentsکو مثلاََProfessional trainingدے کے اتاردیں تب یہ سب ان کو Replaceکر دیںگے ۔ کون ہے جو بازار میں اچھی چیز کی جگہ خراب چیز خریدے گا وہ ایک بالکل دوسرا پہلو ہے ادب کی تعلیم دیں بالکل دوسرا پہلو ہے۔
٭٭٭