Urdu Mein Ghair Zabanun ke Alfaz by S.R. Farooqui

Articles

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ

شمس الرحمن فاروقی

غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں، انھیں ‘‘دخیل’’ کہا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ صرف اور نحو کے اعتبار سے دخیل لفظ اور غیر دخیل لفظ میں کوئی فرق نہیں۔جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو وہ ہمارا ہوگیا اور ہم اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو اپنی زبان کے اصلی لفظوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، یعنی اسے اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق اپنے رنگ میں ڈھال لیں گے اور اس پر اپنے قواعد جاری کریں گے۔ لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی دخیل لفظ کے معنی، تلفظ، جنس یا املا ہماری زبان میں وہ نہ ہوں جو اس زبان میں تھے جہاں سے وہ ہماری زبان میں آیا ہے۔ اردو میں عملاً اس اصول کی پابندی تقریباً ہمیشہ ہو ئی ہے۔ لیکن شاعری میں اکثر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ صرف و نحو کی کتابوں میں بھی بعض اوقات اس اصول کے خلاف قاعدے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں باتیں غلط اور افسوسناک ہیں۔ نحوی کا کام یہ ہے کہ وہ رواج عام کی روشنی میں قاعدے مستنبط کرے، نہ کہ رواج عام پر اپنی ترجیحات جاری کرنا چاہے۔ شاعر کا منصب یہ ہے کہ وہ حتی الامکان رواج عام کی پابندی کرتے ہوئے زبان کی توسیع کرے، اس میں لچک پیدا کرے نہ کہ وہ رواج عام کے خلاف جا کر خود کو غلط یا غیر ضروری اصولوں اور قاعدوں کا پابند بنائے۔اردو میں دخیل الفاظ بہت ہیں اور دخیل الفاظ کے ذخیرے سے بھی بہت بڑا ذخیرہ ایسے الفاظ کا ہے جو دخیل الفاظ پر تصرف کے ذریعہ بنائے گئے ہیں۔ یہ تصرف کئی طرح کا ہو سکتا ہے۔

(1) غیر زبان کے لفظ پر کسی اور زبان کے قاعدے سے تصرف کر کے نیا لفظ بنانا۔ اس کی بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

فارسی لفظ ‘‘رنگ’’ پر عربی کی تاے صفت لگا کر ‘‘رنگت’’ بنا لیا گیا۔
فارسی ‘‘نازک’’ پر عربی قاعدے سے تاے مصدر لگا کر ‘‘نزاکت’’ بنا لیا گیا۔
عربی لفظ ‘‘طرفہ’’ پر فارسی کی علامت فاعلی لگا کر ‘‘طرفگی’’ بنایا گیا۔
فارسی لفظ ‘‘دہ /دیہہ’’ پر عربی جمع لگا کر ‘‘دیہات’’ بنایا اور اسے واحد قرار دیا۔
عربی لفظ ‘‘شان’’ کے معنی بدل کر اس پر فارسی کا لاحقہِ کیفیت لگایا اور ‘‘شاندار’’ بنا لیا۔
عربی لفظ ‘‘نقش’’ پر خلاف قاعدہ تاے وحدت لگا کر ‘‘نقشہ’’ بنا یا، اس کے معنی بدل دیے، اور اس پر فارسی لاحقے لگا کر ‘‘نقشہ کش/نقش کشی؛ نقشہ نویس/ نقشہ نویسی؛ نقشہ باز’’ وغیر بنا لیے۔
عربی لفظ ‘‘تابع’’ پر فارسی لاحقہ ‘‘دار’’ لگا لیا اور لطف یہ ہے معنی اب بھی وہی رکھے کیوں کہ ‘‘تابع’’ اور ‘‘تابع دار’’ ہم معنی ہیں۔

(2) غیر زبان کے لفظ پر اپنی زبان کے قاعدے سے تصرف کرنا۔ اس کی بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

عربی ‘‘حد’’ پر اپنا لفظ ‘‘چو’’ بمعنی ‘‘چار’’ اضافہ کیا ، پھر اس پر یاے نسبتی لگا کر ‘‘چو حدی’’ بنا لیا۔
عربی لفظ ‘‘جعل’’ کے معنی تھوڑا بدل کے اس پر اردو کی علامت فاعلی لگا کر ‘‘جعلیا’’ بنایا گیا۔ فارسی کی علامت فارعلی لگا کر ‘‘جعل ساز’’ بھی بنا لیا گیا۔
عربی لفظ ‘‘دوا’’ کو ‘‘دوائی’’ میں تبدیل کر کے اس کی جمع اردو قاعدے سے ‘‘دوائیاں’’ بنائی۔
فارسی لفظ ‘‘شرم’’ پر اپنا لاحقہِ صفت بڑھا کر ‘‘شرمیلا’’ بنا لیا۔
فارسی لفظ ‘‘بازار’’ پر اردو لفظ ‘‘بھاؤ’’ لگا کر اردو قاعدے کی اضافت بنا لی گئی؛ ‘‘بازار بھاؤ’’۔

(3) اپنی زبان کے لفظ پر غیر زبان کا قاعدہ جاری کر کے نیا لفظ بنا لینا۔ بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

‘‘اپنا’’ میں عربی کی تاے مصدری اور اس پر ہمزہ لگا کر ‘‘اپنائیت’’ بنایا گیا۔ لکھنؤ میں ‘‘اپنایت’’ بولتے تھے لیکن بعد میں وہاں بھی ‘‘اپنائیت’’ رائج ہوگیا۔ ‘‘آصفیہ’’ میں ‘‘اپنائیت’’ ہی درج ہے۔
اردو کے لفظ پر ‘‘دار’’ کا فارسی لاحقہ لگا کر متعدد لفظ بنائے گئے؛ ‘‘سمجھ دار، چوکیدار، پہرے دار’’ وغیرہ۔
اردو کے لفظ ‘‘دان’’ کا لاحقہ لگا کر بہت سے لفظ بنا لیے گئے ، جیسے:’’ اگلدان، پیک دان، پان دان ’’ وغیرہ۔

(4) غیر زبان کے لفظ سے اپنے لفظ وضع کرلینا۔ بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

مصدر ‘‘گرم’’ سے ‘‘گرمانا’’؛’’شرم’’ سے ‘‘شرمانا’’ وغیرہ۔
اسم ‘‘نالہ’’ سے ‘‘نالش’’؛ ‘‘چشم’’ سے ‘‘چشمہ(بمعنی عینک)’’ وغیرہ۔
صفت ‘‘خاک’’ سے ‘‘خاکی’’ (رنگ، انگریزی میں Khaki کا تلفظ ‘‘کھیکی’’)

(5) غیر زبان کے طرز پر نئے لفظ بنا لینا۔ مثلاً حسب ذیل لفظ فارسی / عربی میں نہیں ہیں، اردو والوں نے وضع کیے ہیں:

بکر قصاب؛ دل لگی؛ دیدہ دلیل؛ ظریف الطبع؛ قابو پرست؛ قصائی؛ ہر جانہ؛ یگانگت وغیرہ۔

(6) اپنا اور غیر زبان کا لفظ ملا کر، یا غیر زبان کے دو لفظ ملا کر اپنا لفظ بنا لینا، مثلاً:

آنسو گیس (اردو، انگریزی)؛ بھنڈی بازار (اردو، فارسی)؛ خود غرض (فارسی، عربی)؛ گربہ قدم (فارسی، عربی) وغیرہ
جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے، دخیل الفاظ ، چاہے وہ براہ راست دخیل ہوئے ہوں یا ان کے زیر اثر مزید لفظ بنے ہوں، سب ہمارے لیے محترم ہیں۔ کسی دخیل لفظ، کلمے یا ترکیب کو، یا اس کے رائج تلفظ یا املا کو یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ جس زبان سے یہ لیا گیا ہے وہاں ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو اس کے غلط یا درست ہونے کا معیار ہماری زبان،اس کے قاعدے، اور اس کا روز مرہ ہوں گے نہ کہ کسی غیر زبان کے۔ہمارے یہاں یہ طریقہ عام ہے کہ کسی لفظ یا ترکیب یا اس کے معنی کے لیے فارسی سے سند لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ فارسی میں ایسا ہے، اس لیے اردو میں بھی ٹھیک ہے۔ یہ طریقہ صرف اس حد تک درست ہے جب تک فارسی کی سند ہمارے روزمرہ یا ہمارے رواج عام کے خلاف نہ پڑتی ہو۔
‘‘فارسی میں صحیح ہے اس لیے اردو میں صحیح ہے’’، یہ اصول بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ اصول کہ ‘‘فارسی [یا عربی] میں غلط ہے، اس لیے اردو میں بھی غلط ہے۔’’
مثال کے طور پر ‘‘مضبوط’’ کو جدید فارسی میں ‘‘مخزون’’ کے معنی میں بولتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مثلاً ‘‘یہ کتاب نیشنل لائبریری میں مخزون ہے’’۔ یہاں فارسی والا ‘‘مضبوط’’ کہے گا۔ ظاہر ہے کہ فارسی کی یہ سند اردو کے لیے بے معنی ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ اردو نے فارسی /عربی سے بے شمار الفاظ ، محاورات اور تراکیب حاصل کیے ہیں۔لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ اگر اردو میں کسی عربی/فارسی لفظ کے بارے میں کوئی بحث ہو تو ہم عربی/فارسی کی سند لا کر جھگڑا فیصل کرلیں۔ لیکن شرط یہی ہوگی کہ عربی /فارسی کی سند ہمارے رواج عام یا روزمرہ کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً لفظ ‘‘کتاب’’ کی جنس کے بارے میں اختلاف ہو تو یہ سند فضول ہوگی کہ عربی میں ‘‘کتاب’’مذکر ہے، لہٰذا اردو میں بھی یہ لفظ مذکر ہوگا/ہونا چاہیے۔ اسی طرح، اگر یہ سوال اٹھے کہ ‘‘طشت از بام ہونا’’ صحیح ہے کہ نہیں، تو یہ استدلال فضول ہوگا کہ فارسی میں ‘‘طشت از بام افتادن’’ ہے، لہٰذا اردو میں بھی ‘‘طشت از بام گر پڑنا’’ ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے یہاں یوں بولتے ہیں، ‘‘سارا معاملہ طشت از بام ہو گیا’’، جب کہ فارسی میں یہ محاورہ ‘‘طشت’’ کے حوالے سے بولتے ہیں، یعنی یوں کہتے ہیں:’’طشت از بام افتاد’’۔ ظاہر ہے کہ یہ ضد کرنا بھی غلط ہے کہ اردو میں بھی یوں ہی بولنا چاہیے۔
یا مثلاً اردو میں ‘‘لطیفہ’’ کے معنی ہیں، ‘‘کوئی خندہ آور چھوٹی سی کہانی یا چٹکلا’’۔ یہ معنی نہ فارسی میں ہیں نہ عربی میں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اردو میں رائج معنی کو اس بنا پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص ‘‘لطیفہ’’ کو اردو میں ‘‘سخن خوب و نیکو’’ ، یا ‘‘اچھی چیز، اچھائی’’ کے معنی میں استعمال کرے اور کہے کہ (مثلاً) ‘‘مقدمہ شعر و شاعری لطیفوں [یا لطائف] سے بھری ہوئی ہے’’ درست استعمال ہے ، کیوں کہ فارسی میں ‘‘لطیفہ’’بمعنی ‘‘سخن خوب’’ اور عربی میں بمعنی ‘‘اچھی چیز’’ وغیرہ ہے، تو اس کی بات قطعی غلط قرار دی جائے گی۔لہٰذا بنیادی بات یہی ہے کہ جو استعمال، لفظ ، ترکیب، کلمہ ، اردو کے قاعدے یا رواج کے مطابق ہے، وہ صحیح ہے۔ دوسری بات یہ کہ اردو پر غیر زبانوں، خاص کر عربی /فارسی کے قاعدے جاری کرنا درست نہیں ہے، اس لے کو جتنا دھیما کیا جائے ، اچھا ہے۔
٭٭٭
[بحوالہ : ‘‘لغات روزمرہ’’، تیسرا اضافہ و تصحیح شدہ ایڈیشن]

 

Chacha Chakkhan 2 BY Imtiyaz Ali Taj

Articles

چچاچھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے

امتیاز علی تاج

چچی ایک دو بار نہیں بیسیوں مرتبہ چچا چھکن سے کہہ چکی ہیں کہ” باہر تمھارا جو جی چاہے کیا کرو مگر خدا کے لیے گھر کے کسی کام میں دخل نہ دیا کرو۔آپ بھی ہلکان ہوتے ہو ،دوسروں کو بھی ہلکان کرتے ہو۔سارے گھر میں ایک ہڑ بڑ ی سی پڑ جاتی ہے، میرا دم الجھنے لگتا ہے اور پھر تمھارے کام میں ،میں نے نقصان کے سوا کبھی فائدہ ہوتے بھی تو نہیں دیکھا۔تو ایسا ہاتھ بٹانا بھلا میرے کس کام کا؟“
چچا اس قدر ناشناسی سے کھج جاتے ہیں۔ چڑ کر کہتے بھی ہیں۔”بھلا صاحب کان ہوئے ،پھر کبھی آپ کے کام میں دخل دیا تو جو چور کی سزا وہ ہماری سزا۔“لیکن دخل در معقولات کا انھیں کچھ ایسا لا علاج مرض ہے کہ جہاں کوئی موقع ملا،پھر لنگوٹ کس کے تیار۔
آج ہی دوپہر کی سنیے۔ چچی کا جی اچھا نہ تھا ،گلا آگیا تھا۔اس کی وجہ سے ہلکی ہلکی حرارت بھی تھی منہ ،سر، لپیٹے دالان میں پڑی تھیں کہ دھوبن کپڑے لینے آگئی۔چچی نے کہا ”بریٹھن آج تو میرا جی اچھا نہیں کل پرسوں آجائیو تو میلے کپڑے دے دوں گی۔“
دھوبن بولی۔”بیوی جی !بریٹھا آج رات بھٹی چڑھا رہا تھا ،کپڑے مل جاتے تو آٹھویں دن میں دے جاتی نہیں تو وہی دس پندرہ دن لگ جائیں گے۔“
چچی نے کہا۔”اب جو ہو سو ہو ،مجھ میں تو اٹھ کر کپڑے دینے کی ہمت نہیں۔“
چچا چھکن پرلے دالان میں بیٹھے میاں مٹھوکو سبق پڑھا رہے تھے ،کہیں چچی کی بات سن پائی ،انھیں ایسے موقعے اللہ دے۔جھٹ ادھر آ پہنچے۔بولے۔ ” کیا بات ہے؟کپڑے دینے ہیں دھوبن کو؟ہم دے دیتے ہیں۔“
چچی بولیں۔”اے خدا کے لیے تم رہنے دینا۔ہلکم ڈالو گے۔ سارے گھر میں۔ پہلے ہی میرا جی اچھا نہیں ہے۔کل پرسوں اللہ چاہے تو میں آپ اٹھ کر دے دوں گی۔“
چچا کب رکنے والے ہیں بھلا۔اللہ جانے کام ہی کا جنون ہے،یا گھر کے کاموں سے طبیعت کو خاص مناسبت ہے،یا روک دیے جانے میں انھیں اپنے سلیقے اور سگھڑاپے کی توہین نظر آتی ہے ،بولے۔”واہ بھلا کوئی بات ہے۔یہ ایسا کام ہی کیا ہے ،ابھی نمٹائے دیتے ہیں۔“
چچی جانتی ہیں وقت پر چچا کب کسی کی سنتے ہیں ،وہ تو بڑ بڑاتی ہوئی کروٹ لے پڑرہیں اور چچا چلے دھوبن کو کپڑے دینے۔چچی ٹوک چکی تھیں ،اس لیے آپ نے نہ تو کسی ملازم کو آواز دی ،نہ کسی بچے کو بلایا ،نہ کسی سے یہ پوچھا کہ کس کے کپڑے کہاں پڑے ہیں ،خود ہی گھر کے جالے لینے شروع کر دیے۔جو کپڑا نظر آیا خود ہی آنکھوں کے سامنے تان کرپرکھا یا، نیچے پھیلا کر دیکھ لیا۔”کمبخت پتا بھی تو نہیں چلتا کہ پہننے کا کپڑا ہے یا جھاڑن بن چکا ہے۔چماروں کے بچے بھی تو اس سے اچھی طرح کپڑا پہنتے ہوں گے۔“کسی کپڑے کو چھوڑا ،کسی کو بغل میں دبایا ،کہیں جھک کر چار پائی کے نیچے جھانکا ،کہیں ایڑیاں اٹھا کر الماری کے اوپر نظر ڈالی۔ معلوم ہوتا تھاآج چچا نے قسم کھا لی ہے کہ جو کام ہوگا آپ ہی کریں گے۔لیکن آخر کب تک ؟چچا چھکن کے لیے تو اللہ میاں بہانے پیدا کر دیتے ہیں۔کپڑوں کی تلاش میں اسباب کی کوٹھری میں گئے تھے ،پانچ منٹ بعداندر سے آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔
لیجئے صاحب حسبِ معمول سارا گھر چچا میاں کے گرد جمع ہو گیا اور آپ نے سنانے شروع کر دیے اپنے احکام۔
”اب کھڑے میرا منہ کیا تک رہے ہو ؟جمع کرو میلے کپڑے۔پر دیکھو رہ نا جائے کوئی۔ایک ایک کونا دیکھ لیجیو۔دالان میں ڈھیر لگا دو سب کا۔بندو تو ہمارے کمرے میں سے میلے کپڑے سمیٹ لا۔دو تین جوڑے تو چار پائی کے نیچے حفاظت سے لپٹے رکھے ہیں ،وہ لیتا آئیو۔ اور سننا، وہ چھٹن یا بنو کا ایک کرتا بانس پر لپٹا ہوا کونے میں رکھا ہے۔پرسوں کمرے کے جالے اتارے تھے ہم نے وہ بھی کھولتا لائیو۔اور دیکھ۔۔۔ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے کم بخت۔پوری بات ایک مرتبہ نہیں سن لیتا۔ایک بنیان ہمارا آتش دان میں رکھا ہے۔بوٹ پونچھے تھے اس سے۔وہ بھی لیتا آنا۔جا بھاگ کر جا۔امامی تو بچوں کے کپڑے جمع کر۔ہر کونے اور طاق کو دیکھ لیجیو۔یہ بد معاش کپڑے رکھنے کو نئی سے نئی جگہ نکالتے ہیں۔“
نوکر روانہ ہوئے تو بچوں کی باری آگئی۔”کہاں گئے یہ سب کے سب ؟او چھٹن!لیجئے ملاحظہ فرمائیے آپ کی صورت!ارے یہ کیا حال بنایا ہے ؟کوئلوں میں کہاں جا گھسا تھا ؟اتا ر اپنے کپڑے۔نئے کپڑے پھر ملیں گے۔پہلے میلے کپڑے یہاں لا کر رکھ۔ اور یہ بنو کدھر گئی ؟میں کہتا ہوں آخر یہ مرض کیا ہو گیا ہے تم لوگوں کو جہاں کام کی صورت دیکھی کھسک جانے کی ٹھہرا لی۔ چلو اندر ایک کاغذاور پنسل لا کر دو ہمیں۔آخر لکھے بھی جائیں گے کپڑے یا نہیں ؟للّو! تم بستروں میں سے میلی چادریں اور تکیوں کے غلاف نکال لاو¿۔“
غرض ایک پانچ منٹ میں گھر کی یہ حالت ہو گئی گویا آنکھ مچولی کھیلی جا رہی ہے۔کوئی اِدھر بھاگ رہا ہے، کوئی ا±دھر۔ کوئی چار پائی کے نیچے سے نکل رہا ہے ،کوئی کونے جھانکتا پھر رہا ہے ،کسی نے لپٹے ہوئے بستر سے کشتی شروع کر رکھی ہے ،کوئی کپڑے اتار تولیہ لپیٹے بھاگا جا رہا ہے۔ساتھ ساتھ چچا کے نعرے بھی سننے میں آرہے ہیں۔”ارے آئے ؟ابے لائے؟سب کے ہاتھ پاو¿ں پھول رہے ہیں۔سٹی گم ہے۔ٹکریں لگ رہی ہیں۔
کوئی آدھ گھنٹے کی محنت سے سارے کپڑے دالان میں جمع ہوئے۔نوکر اور بچے کپڑوں کے ڈھیر کے گرددائرہ باندھے کھڑے ہیں۔صورتیں سب کی ایسی ہیں گویا سوانگ بھر رکھا ہے۔ کسی کے منہ پر مٹی پڑی ہے۔ کسی کے بال مٹیالے ہو رہے ہیں۔کسی کے کپڑوں پر جالے لگے ہوئے ہیں۔ چچا چار پائی پر بیٹھے ایک ایک کپڑے کا معائنہ فرما رہے ہیں۔ہر کپڑے کو انگلی کے سروں سے اٹھا کر دیکھتے ہیں۔کبھی بچوں کو کوستے ہیں کہ کم بختوں کو کپڑا پہننے کا سلیقہ نہیں آتا۔کبھی دھوبن کو ڈانٹتے ہیں ہیں کہ خبر دار جو ایک داغ بھی باقی رہا۔کہیں بیچ میں وہ بنیان بھی ہاتھ آگیا جس سے آپ نے بوٹ پونچھے تھے۔خیال نہ رہا کہ یہ اپنی ہی کاروائی ہے۔برس پڑے۔”اب دیکھوتو اس کی حالت۔ یہ انسانوں کا برتا ہوا معلوم ہوتا ہے؟اللہ جانے بدتہذیب کہاں کہاں۔۔۔“
داغ اچھی طرح دیکھنے سے چچا کو یاد آگیا کہ یہ بنیان ان کے اپنے کمرے کے آتشدان میں سے بر آمد ہوا ہوگا۔چنانچہ فوراًکپڑوں میں ملا دیا اور ارشاد ہوا۔”چلو اب جو ہے سو ہے۔لو اب کپڑوں کو الگ الگ کرو کہ کون سا کپڑا کس کا ہے ؟“
دس ہاتھ کپڑ ے الگ الگ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ہر ایک کو اپنی کارگزاری دکھانے کا خیال۔ دھوبن چیخ رہی ہے۔”اے میاں جانے دو۔ اے بھائی رہنے دو۔ میں ابھی آپ الگ الگ کر دوں گی۔“مگر بچے کہاں سنتے ہیں۔کوئی کہتا ہے”یہ میری قمیص ہے۔کوئی کہتا ہے ”تمھاری کہاں سے آئی۔ ”یہ تو میری ہے۔“ کسی کا کوٹ پر جھگڑا ہے۔ کسی کا واسکٹ پر۔کوئی کرتے کی ایک آستین کھینچ رہا ہے ،کوئی دوسری۔ کسی کی پاجامے کے پائنچوں پر رسہ کشی ہو رہی ہے۔ کپڑے چر ر چرر پھٹ رہے ہیں۔چچا سب کے ناموں کی فہرست بنانے میں مشغول ہیں۔بیچ میں سر اٹھا اٹھاکر ڈانٹتے بھی جا رہے ہیں۔”پھاڑ دیا نا ؟ اب کے بنانے کو کہیو کوئی نیا کپڑا۔جو ٹاٹ کے کپڑے نہ بنا کر دیے ہوں۔ چلے جاو¿ سب یہاں سے۔ ہم اکیلے سب کام کر لیں گے۔“
بچوں اور نوکروں کا قافلہ رخصت ہوا اور دھوبن کے ساتھ مل کر فہرست بننی شروع ہوئی۔ اسے ہدایت دی گئیں کہ” دیکھ ہم پوری فہرست بنائیں گے کپڑوں کی۔سب کے کپڑے جدا جدا لکھوانے ہوں گے۔اور ساتھ ہی بتانا ہوگا کہ اتنے کپڑے گرم ہیں، اتنے ریشمی، اتنے سوتی۔“
دھوبن بولی۔”یوں ہی تو ہمیشہ لکھے جاتے ہیں۔“
چچا کو اپنی اس قابلِ قدر اور مہتمم بالشان تجویز کی داد نہ ملی تو آپ دھوبن سے چڑ گئے۔”پگلی کہیں کی۔ہر روز تو گھر میں ہلڑ مچا رہتا ہے کہ اس کی قمیص بدل گئی ،اس کا پاجامہ نہیں ملتا۔اور کہتی ہے کہ یوں ہی لکھے جاتے ہیں کپڑے۔یوں کسی کو لکھنا آتا تو یہ روز روز کی جھک جھک کیوں ہوا کرتی ؟“
دھوبن چپکی ہو رہی۔کپڑے گننے شروع کر دیے۔پر اب پہلے ہی کپڑے پر نئی بحث چھڑ گئی۔دھوبن کہے کہ یہ قمیص چھٹن میاں کی ہے ۔چچا مصر ہیں کہ نہیں بنو کی ہے۔ دھوبن کہتی ہے۔”میں کیا پہلی بار کپڑے لے جا رہی ہوں۔اتنی بھی پہچان نہیں مجھ کو؟“چچا کہتے ہیں۔” احمق کہیں کی۔کپڑا بازار سے لاتے ہیں ہم ،سلواتے ہیں ہم ،روز بچوں کو پہنے ہوئے دیکھتے ہیں ہم اور پہچان تجھے ہو گی ؟“شہادت کے لیے بندو کو بلوایا گیا۔چچا نے اس سے پوچھا۔یہ قمیص بنو ہی کی ہے نا؟بندو کی کیا مجال کہ میاں کی تردید کرے۔ڈرتا ڈرتا بولا۔”معلوم تو کچھ ان ہی کی سی ہوتی ہے۔پر وہ آپ ہی ٹھیک ٹھیک بتائیں گی۔“بنو کی طلبی ہوئی۔ وہ آتے ہی بولیں۔”واہ یہ پھٹی پرانی قمیص میری کیوں ہوتی، چھٹن ہی کی ہوگی۔“
دھوبن کو چچا کے مزاج کی کیفیت کیا معلوم، کہہ بیٹھی ’ ’میں نہ کہتی تھی۔“چچا کو آگ لگ گئی۔” اولیاکی بچی ہیں نہ یہ تو۔انہیں کیوں نہ معلوم ہوگا۔منہ پھٹ بدتمیز کہیں کی۔دوسرا دھوبی رکھ لوں گا میں۔“
کامل ایک گھنٹے کی محنت کے بعد کہیں فہرست بن کر تیار ہوئی کہ کون سا کپڑا کس کا ہے۔اور کس کے کپڑے کتنے ہیں۔اب جناب ادھر دھوبن سے کہا گیا کہ تو سب کے کپڑے گن ،ادھر اپنی فہرست کی میزان ملانی شروع کی۔دھوبن گنتی ہے تو ا نسٹھ عدد بنتے ہیں۔چچا اپنی میزان ملاتے ہیں تو اکسٹھ کپڑے ہوتے ہیں۔دھوبن باربار کہتی ہے۔”میاں ٹھیک طرح جوڑو انسٹھ ہی ہیں۔“پر چچا ہیں کہ بگڑے جا رہے ہیں۔”تیرا جوڑنا ٹھیک اور ہمارا جوڑنا غلط ہو گیا ؟جاہل کہیں کی۔اٹھ کر دیکھ نیچے دبائے بیٹھی ہو گی “۔دھوبن غریب ہر طرف دیکھتی ہے۔بار بار کپڑے گنتی ہے۔وہی انسٹھ نکلتے ہیں۔چچا کی نظروں کے سامنے بھی ایک مرتبہ گن دیے۔وہی انسٹھ ہی نکلے۔ آخر نئے سرے سے تمام کپڑوں کا مقابلہ کیا گیا۔کوئی گھنٹہ بھر کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ دھوبن نے بتائے تھے دو جوڑی موزے اور چچا نے لکھے تھے چار۔دھوبن انھیں دو عدد گنتی تھی اور چچا چار عدد۔اس پر پھر بیچاری دھوبن کے لتے لیے گئے۔”جوڑی کیا معنی؟چار نہیں تھے موزے ؟یوں تو چارر و مالوں کو بھی دو جوڑی لکھوا دے تو یہ ہمارا قصور ہو گا؟لے کر اتنا وقت مفت میں ضائع کر وا دیا۔ساری عمر کپڑے دھوتے گزر گئی اور ابھی تک کپڑے گننے کا سلیقہ نہیں آیا۔“
بارہ بجے دھوبن آئی تھی ،چار بجے رخصت ہوئی۔چچا چھکن فراغت پانے کے بعد فہرست چچی کو دینے آئے۔بولے۔” نمٹا دیا ہم نے دھوبن کو۔“
چچی جلی ہوئی تھیں ،بولیں۔”گھر پر قیامت بھی تو گزر گئی۔کوئی بچہ ننگ دھڑنگ پھر رہا ہے ،کوئی غسل خانے میں کپڑوں کے لیے غل مچا رہا ہے۔دھوبن دکھیا الگ کھسیانی ہو کر گئی ہے۔آدھا دن بر باد کر کے کس مزے سے کہتے ہیں کہ نمٹا دیا ہم نے دھوبن کو۔“
چچا چڑ گئے۔”تمہیں کبھی پھوٹے منہ سے داد کے دو لفظ کہنے کی توفیق نہ ہوئی۔“
چچا روٹھ کر چار پائی پر پڑ رہے۔
چچی نے پوچھا۔”پاجاموں میں سے ازار بند بھی نکال لیے تھے ؟“چچا کی آنکھیں کھلیں مگر جواب نہ دیا۔بڑے مناسب وقت پر روٹھ گئے تھے۔
اتنے میں فہرست دیکھ کر چچی بولیں۔”اور یہ میری ریشمی قمیص کون سی ؟ہلکے فیروزی رنگ کی ؟اے غضب خدا کا۔میں نے تو وہ استری کرنے کو الگ رکھی تھی۔کم بخت دو کوڑی کی کر لائے گی۔اور اس میں سے میرے سونے کے بٹن بھی اتار لیے تھے یا نہیں ؟“
اب تک تو چچا کی تیوری چڑھی ہوئی تھی ،سونے کے بٹن کا سنا تو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔
”بٹن ؟سونے کے ؟تمھارے ؟تمہیں میری قسم !وہ تو نہیں اتارے ہم نے۔“
جوتی پہنتے ہوئے چچا باہر بھاگے۔”ارے بھئی چلی گئی دھوبن !او بندو چلی گئی دھوبن !ارے امامی کدھر گئی دھوبن ؟ارے دوڑیو،ارے بھئی جانا ،پکڑنا، لے کر آو¿ منہ کیا تکتے ہو، سونے کے بٹن لے گئی، اماں سونے کے بٹن، تمھاری چچی کے۔ اس کا گھر کدھر ہے ؟چوک سے مڑ کر کدھر کو ؟اماں خونچے والے !کسی دھوبن کو جاتے دیکھا ہے ؟ار بھئی ریوڑیوں والے ! کوئی دھوبن ادھر تو نہیں گئی ؟۔۔۔او بھائی گنڈیریوں والے !کوئی دھوبن ……دائیں ہاتھ کو ؟اس طرف کو؟۔۔۔؟۔۔۔ابھی تک چچا بٹن لے کر واپس نہیں آئے۔
٭٭٭

My Village is me the best

Articles

میرا گاؤں مجھے سب سے پیارا لگے

انظر حسین کرھی

 

دوستو: ابھی بھی گاؤں کے موسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دن میں وہی جون ماہ والی گرمی سورج میں وہی تمازت ہوا میں وہی حرارت لیکن شام ڈھلے سرمئی شام کے بیچ سورج کے ڈوبنے کا دلفریب انداز نہر کے پانی کا زردی مائل ہوجانا اور درخت پر انگارے جیسی شعاعیں بکھیرنا یہ خوبصورتی صرف گاؤں کو ہی میسر ہو سکتی ہے ۔ اس لئے یہ مقولہ عام ہے کہ دیہات کو خدا نے بنایا ہے اور شہر کو انسان نے
میرا تعلق جس علاقے سے ہے یہ علاقہ مردم خیز ہے یہاں کے لوگوں کا اکثر پیشہ زراعت ہے اور اس علاقے کا شمار ترقی یا یفتہ علاقوں میں ہوتا ہے ۔ یہاں پہلے کے مقابلے اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جگہ جگہ پرائیویٹ نرسری اور کالج اور اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ علاقہ تعلیمی میدان میں اب بھی دوسرے علاقوں سے بہت پیچھے ہے میرے بلاک میں ایک سو سے بھی زیادہ گرام پنچایت ہیں میری خواہش ہے کہ میں ہر گرام پنچایت میں پہنچوں اور وہاں کے حالات سے آپ سبکو بھی رو شناس کراؤں اور یہ بھی بتاؤں کہ کس گرام پنچایت میں ترقی کی روشنی کتنی پہنچی ہے جس کا اندازہ اس گاؤں کی سڑک نالے اور صاف اور صفائی سے ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن دوستوں ایک بات واضح کردوں میرا مقصد واللہ کسی گاؤں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانے کا ہے اور نہ ہی اس گاؤں کے قائد پر کیچڑ اچھالنے کا ۔ مجھے اس بات کا علم ہے کہ ہر گاؤں کے قائد کی کچھ مجبوریاں بھی رہتی ہونگی اور ہر انسان یکساں ہوتا بھی نہیں کمیاں سب کے اندر ہوتی ہیں ۔ لیکن کوشش اور جد جہد انسان کے زندگی کا حصہ ہے اسے ہمیشہ جاری و ساری رکھنا چاہئے ۔
آج میں نے جن گاؤں کو دیکھنے کا انتخاب کیا وہ بلاک سمریانواں کے شمالی جانب تھے ۔ ان گاؤں میں مجھے سب سے تیز ترقی حاصل کرنے والا گاؤں دیوریا ناصر لگا 10 سال پہلے اس گاؤں میں جانے کے لئے کوئی آسان راستہ نہیں تھا بارش میں اس گاؤں کا تعلق شہر اور بلاک سے منقطع ہوجاتا تھا ۔ مجھے آج بھی یہاں جانے سے پہلے میرے ذہن میں اسی وقت کا تصور تھا ۔ سمرہانواں سے نماز ظہر ادا کرکے اپنی سفری گاڑی کو اس جانب چلنے کا حکم دیا ۔ اور اس بات کا خیال رکھا کہ دیوریاں ناصر جاتے وقت اور بھی گاؤں کی زیارت ہوجائے تو بہتر ہوگا اس لئے راستے کا انتخاب کہریانواں چوراہے سے پہلے بائیں طرف مڑنے والی پکی سڑک کا کیا کیونکہ اس راستے میں۔ کنڑجا ، پرسوہیاں ، مصرولیا ۔ بھی آتا ہے ۔ تقریبا 500 میٹر چلنے کے بعد کنڑجا کا چوراہا گاؤں کے بائیں جانب جو واقع ہے مجھے ملا ۔ اس چوراہے پر چائے کی دوکان زیادہ دیکھنے کو ملی اور ایک سرکاری پن چکی بھی گاؤں گھنے درختوں کی اوٹ میں چھپا تھا گاؤں کے چاروں طرف لمبے اور سایہ دار درخت گاؤں کو اپنی آغوش میں چھپا رکھا تھا جس سے گاؤں اور خوبصورت نظر ارہا تھا دل چاہتا تھا کہ دیکھتا ہی رہوں ۔ لیکن گاڑی کے پہیہ کے ساتھ وقت بھی بہت تیزی سے دوڑ رہا تھا جس بنا پر مجھے بغیر کسی ٹہراؤ کے سفر جاری رکھنا تھا کنڑجا کے حدود سے نکلتے ہی کرما خان کا حدود مل جاتا ہے جبکہ گاؤں آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ کرماں خان جاتا تو وقت زیادہ صرف ہوتا لہذا میں نے اپنی گاڑی کا رخ پرسوہنیا کی طرف موڑدیا اس کے بعد ہی دیوریا تھا مگر میں نے سیدھا دیوریا ناصر جانے کے بجائے مصرولیا کی طرف مڑ گیا مصرولیا اور پرسوہیاں کے کونے پر ایک پرائمری اسکول ہے اور یہیں سے ایک راستہ مصرولیا اور ایک دیوریا ناصر کو جاتا ہے میں نے پہلے مصرولیا دیکھنے کا عزم کیا سڑک بہت زیادہ کج رو کے باوجود عمدہ تھی گاڑی بغیر جنبش اور کھڑکھڑاہٹ کے اپنی فطری رفتار سے دوڑ رہی تھی پہلے اس گاؤں کا نام سنکر کچھ عجیب سا لگتا تھا کہ یہ گاؤں بہت پچھڑا ہوگا اس گاؤں میں گندگی کا انبار ہوگا مکان کچے اور خستہ حال ہونگے لیکن اس گاؤں کو دیکھکر دل خوش ہوگیا گاؤں کے دونوں جانب شہر سے جوڑنے والی پختہ سڑک تھی گندگی کا کوئی نشان نہیں تھا سڑکیں صاف و شفاف اور وسیع تھیں گاؤں والوں نے اپنے گھروں کو بہتر انداز میں تعمیر کیا تھا سڑک کے کنارے جتنے بھی گھر مجھے ملے انکے سامنے زمین خالی ملی پہلے یہ گاؤں کہریانواں گرام سبھا سے ملحق تھا اس گاؤں کا پردھان کہریانواں کا ہوتا تھا لیکن اس گرام سبھا کے انتخاب کے وقت سرکار نے کچھ گاؤں کو گرام سبھا کا درجہ دے دیا تھا اس گاؤں میں کوئی چائے کی دوکان نہ ہونے کی وجہ سے یہاں رکنا اور یہاں کی معلومات لینا میرے لئے مشکل تھا کیونکہ اس گاؤں کے لئے میں اجنبی تھا اور اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اس گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ اس لئے بغیر کسی معلومات کے لوٹ گیا اب اگلی منزل میری دیوریا ناصر تھی جس کے دیدار کی غرض سے میں اپنے گھر سے نکلا تھا مصرولیا سے 3 منٹ کی دوری پر دیوریا ناصر تھا ماشاءاللہ اب اس گاؤں کو جانے والی سڑک بھی بن چکی ہے اس گاؤں کو لیکر جیسا میرا تصور تھا سب اس کے عکس نکلا میں نے اب تک جتنے گاؤں دیکھے سب سے تیز رفتار ی سے ترقی کرنے والا گاؤں مجھے یہیں کا محسوس ہوا ۔ سڑک تو بن ہی گئی ہے پہلے گاؤں میں داخل ہوتے ہی آپکے استقبال میں چھپر اورپھوس کی عمارتیں ملتی تھیں ۔ لیکن اب خوبصورت نئے طرز اور شہری نمونے کی کشادہ عمارتیں آپ کے خیر مقدم کے لئے کھڑی ملیں گی۔ اس کو دیکھکر میرے دل میں مزید اس گاؤں کو دیکھنے کا شوق پیدا ہونے لگا اس لئے میں یہاں کے عربیہ مدرسہ کے باب زکریا سے ہوکر سیدھا باہر نکل گیا راستے کے دونوں جانب مجھے نئے مکانات زیر تعمیر نظر آئے جو گاؤں کی خوشحالی کی شہادت دے رہے تھے اور یہاں کے لوگوں کا ذوق تعمیر کا نمونہ پیش کر رہے تھے ۔ میں نے اپنے گاڑی کی رفتار بڑھائی تاکہ کرماخان کا بھی دیدار چلتے چلتے ہوجائے ارادہ تو ڈنڑواں مالی بھی جانے کا تھا یہ گاؤں پرانا ہے مگر ابھی یہ نئے زمانے کی نئے طور طریقوں سے نا آشنا ہے یہ گاؤں دینی اور دنیاوی اعتبار دونوں سے پیچھے ہے بچوں کے تعلیم کا بھی کوئی خاص بند و بست نہیں یہاں دینی تعلیم کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ میں چاہ کر بھی اس گاؤں میں نہیں جا سکا کیونکہ راستہ خراب تھا بارش کی وجہ سے ابھی تال میں پانی تھا اس لئے مجھے ملتوی کرنا پڑا ۔ کرماں خان تو راستے میں ہی پڑا تھا مگر راستہ مشکوک تھا اور کوئی رہنمائی کرنے والا بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا میں نے گاڑی تھوڑی دیر کے لئے دیوریا ناصر مسلم قبرستان کے پاس کھڑی کردی اور نگاہیں دور تک دوڑانا شروع کردیا کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ مجھے راہ بتانے والا مل جائے خیر کچھ دوری پر مجھے بھینس چرواہے دکھائی دیئے میں نے سرپٹ گاڑی اس طرف دوڑا دی ان سے کرماں خان کا راستہ معلوم کیا اور انکی ہدایت پر چل دیا ایک کلو میٹر چلنے کے بعد مجھے ایک باغ اور اسکے بیچ میں ایک سرکاری اسکول نظر ایا چرواہوں نے یہیں سے مڑنے کی مجھے ہدایت دی تھی
میں انہیں کے نشان پر اپنے داہنی جانب مڑ گیا راستہ اینٹ کا وہ بھی پرانا تعمیر شدہ تھا جگہ سے جگہ ٹوٹا ہوا گاڑی کے ہچکولے کے ساتھ گاؤں میں داخل ہوگیا گاؤں کے اندر انٹر لاکنگ اور نئے طرز کا شہری ماڈل نالا تو بن گیا مگر پھر بھی کام باقی ہے کرما خان کو شہر سے جوڑنے والی سڑکیں اب بھی مخدوش اور کچی ہیں جس کے تعمیر کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہی سڑکیں گاؤں کے ترقی اور دیگر سہولیات کی شہ رگ ہوتی ہیں انہیں راستوں سے گذر کر گاؤں میں ترقی داخل ہوتی ہے اب اس کے دونوں جانب شہر کی سڑکیں ابھی تک کیوں نہیں تعمیر ہوئیں یہ تو اس گاؤں کے سرکردہ افراد بتائیں گے یا اس گاؤں کے مکین ہوسکتا ہے اس کے تعمیری کام میں کوئی رکاوٹ ہو وہ تو وہیں کے لوگ بہتر بتائیں گے میں گاؤں کے پل کے پاس پہنچکر پان کی ٹنکی والے سے اپنے گاؤں کرہی جانے کے لئے سہل راستہ دریافت کیا پان والے نے بڑے ہی خندہ پیشانی سے مجھے میرے گاؤں کو جانے والا نہر کا راستہ بٹایا راستہ پر خطر اور تنگ ضرور ہے مگر میرے گاؤں کی مسافت کو کم کرنے میں بہتر ہے اور مجھے ایسے راستوں کی تلاش رہتی ہے تاکہ قدرت کے کچھ اچھے تخلیقی نمونوں کا دیدار کرسکوں نہر پر چرواہے اور مچھلی کے شکاری مجھے جگہ جگہ ملے اور نہر کی بلندی سے مجھے دور تک کئی اور گاؤں کے حسین منظر دکھائی دیتے رہے گنبد و محراب کے نظاروں سے اللہ کی یاد آتی رہی میں ابھی اپنے مالک و خالق کی حسین تخلیقات میں ایسا محو تھا کہ میرا گاؤں اگیا ۔ لیکن دوستوں گاؤں کوئی بھی ہو لیکن سب ایک جیسے ہوتے ہیں سبزہ زاروں سے زمین ڈھکی ہوتی ہے گھنے درخت کے سائے سے چاند اور سورج کی روشنی چھن چھن کر دھیرے دھیرے زمین پر اترتی ہے بانس اور تارکول کے چومتے درخت ہوا کی ہلکی سے حرکت پر جنبش کرتے رہتے ہیں قدرت کے ہر قسم کے پھل اور سبزیوں سے گاؤں والے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں گاؤں کی زندگی بڑی ہی فرحت بخش ہوتی ہے یہاں کے لوگ خالص غذا کھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ شہری لوگوں کی نسبت زیادہ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں ۔ گاؤں کے لوگ بہت سادہ اور مخلص ہوتے ہیں انکی زندگی میں تکلف بناوٹ ریاکاری مکر و فریب اور دکھاوا نہیں ہوتا وہ خلوص اور صاف دلی کا پیکر ہوتے ہیں اور انکی زندگی میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہوتا ۔ گاؤں کے لوگ قناعت پسند ہوتے ہیں وہ طمع لالچ اور حرص سے دور ہوتے ہیں وہ اپنی قسمت پر شاکر و صابر رہتے ہیں اس لئے اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ گاؤں کیسا بھی اسکی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آتی موسم کے ساتھ قدرت نے گاؤں کو بھی اہنگ کردیا ہے اور گاؤں کی زمین کو موسم کی تبدیلی کے ساتھ کاشت کے لئے ہموار کردیا ہے ۔دوستوں گاؤں کو کبھی نہ بھولنا گاؤں ہمارے پرکھوں کی وراثت ہیں گاؤں کی وجہ سے رشتے قائم ہیں گاوں میں پیار ہے الفت ہے محبت ہے گاؤں دو جدا دل کو ملاتا ہے گاؤں کی ہر شئی نرالی ہے جب بھی فرصت ملے گاؤں کو یاد کرلینا تنہائ میں جب دل گھبرائے تو گاؤں کی رعنائیوں اور یہاں کی دلفریبی کو یاد کرکے دل کو بہلا لینا ۔گاؤں کی سڑکوں پر اب بھی آپ کے قدموں کے نشان باقی ہیں یہاں کی فضاؤں میں اب بھی آپکی آواز قید ہے آپ کا گاؤں ہمیشہ آپ کا رہے گا اپنے گاؤں کی عزت کبھی نیلام نہیں ہونے دینا جہاں بھی رینا اپنے گاؤں کا نام روشن کرنے کی کوشش کرنا مجھے تو میرا گاؤں سب سے عزیز ہے خیر دوستوں آپ بھی اپنے گاؤں سے محبت کریں اور مجھے اجازت دیں۔ کیونکہ رات کے 1 بجنے والے ہیں سکون جان کے لئے نیند بھی ضروری ہے ان شاءالله کل پھر ملاقات ہوگی اگر زندگی نے وفا کی دعا کرتے رہیں اللہ سے مجھ سیہکار کے لئے ۔

ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی
فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے

 

Mumbai ke Asri Afsane ka Manzarnama

Articles

مُمبئی کے عصری افسانے کا منظر نامہ

محمد اسلم پرویز

parvez45@gmail.com
کہنے کی ضرورت نہیں بمبئی جسے اب ممبئی کہا جاتا ہے،محض جغرافیائی حد وں میں بندھے ہوئے زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا،بیس ملین سے زائد آبادی والا،سات جزیروں سے بنا ،پانی پر تیرتا یہ شہراردو فکشن کی ثروت مند روایت کا امین رہا ہے۔ ایک زمانے میں اردو افسانے کی گلیکسی ممبئی کے آسمان تلے موجود تھی۔راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ،قرۃالعین حیدر، خواجہ احمد عباس ،مہندر ناتھ سے لے کر سریندرپرکاش ، محافظ حیدر ،واجدہ تبسم،جیتندر بلّو،ساگر سرحدی جیسے لکھنے والوں کے لیے ممبئی شہر سے بچنا محال تھا اورشعوری و غیر شعوری طورپر ممبئی کی ہمہ پہلو ، بھاگتی دوڑتی زندگی کو وہ اپنے فن اور فکشن میں تبدیل کرتے رہے۔ان میں زیادہ ترلوگ چونکہ دوسرے علاقوں سے یہاں آکر بسے تھے لہذا ممبئی کے حوالے انہوں نے جو کامیاب افسانے لکھے ان میں وہ اس شہر کو ایک ٹورسٹ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن ستّر کے بعد جو افسانہ نگارابھرے وہ تو ممبئی کی زندگی میں رچے بسے تھے اس لیے ان کے افسانوں میں ممبئی کی محض topography نہیں۔ ممبئی شہر کی آوازوں، روشنیوں اور سایوں ،اس کی رفتار ،ردھم ،ماحول کو ان افسانہ نگاروں نے جس طرح کاغذ پر پکڑنے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ممبئی کو سنا سونگھا،ہاتھ لگا کر چھوا،برتا اور جیابھی ہے۔ان افسانہ نگاروں کے فن میں ممبئی اپنے کیا جلوے بکھیرتی ہے اس کا مطالعہ اور تجزیہ دلچسپ بھی ہو سکتا ہے اور معنی خیز بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن اس وقت میرا موضوع اردو افسانوں میں ممبئی نہیں بلکہ سن ستّر او ر اس کے بعد کے وہ افسانہ نگار ہیں،جنہوں نے ممبئی میں رہتے ہوئے اردو افسانے کو نئے رنگ دئے۔
افسانہ ،افسانہ ہوتا ہے اسے ممبئی، دہلی ،کولکتہ میں بانٹنا غلط ہوگا۔اگر تقسیم کا یہی مزاج رہا تو پھرمنطقی اعتبار سے اس کی مزید خانہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ممبئی آٹھ کے افسانے، مضافات کے افسانے ،نئی ممبئی کے افسانے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے افسانہ نگاروں کے domacileدیکھ کر فن کا مطالعہ بھی ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ لیکن یہاں اردو افسانے کے ہندوستانی منظر نامے کے حوالے سے ممبئی کے لکھنے والوں کے فنی امتیازسے بحث کرنا مقصود ہے کہ ان کا تخلیقی رویہ ہندوستان کے دوسرے لکھنے والوں سے کس حد تک مختلف ہے اور کیوں؟
گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ممبئی کے جن لکھنے والوں نے فکری فطانت، تخلیقی سرگرمیوں اور فنی مشق و مہارت کی وجہ سے اردو افسانے کی تاریخ میں اپنی شناخت درج کی ان میں سلام بن رزاق ،انور خان، انور قمر،علی امام نقوی ، ساجد رشید، مشتاق مومن ، مقدر حمید اورم ناگ کے نام کافی اہم ہیں۔گو کہ ان کے تجربات کا دائرہ بہت وسیع نہیں اور بڑا افسانہ لکھنے کی منوہری کنجی ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگی ہے لیکن اپنے محدود ماحول، دائرے اور تجربے میں رہ کر بھی انہوں نے اردو فکشن کو چند اہم اور دلچسپ افسانے ضرور عطا کئے ہیں اوراہم بات یہ ہے کہ آج بھی یہ اس کے لیے کوشاں ہیں۔
ستّر کے بعد ابھرنے والے ان افسانہ نگاروں نے کم و بیش ایک ایسے وقت میں لکھنا شروع کیا جب جدیدافسانہ اردو فکشن پر تجریدی،علامتی اور تمثیلی کہانیوں کی شکل میں موجودتو تھا لیکن قاری سے اپنا ترسیلیnetworkکو توڑ چکاتھا۔اس وقت سیدھی سرل اور سہیج افسانے لکھنا ممنوع تھا۔مقبول ہونا غیر ادبی ہونے کی دلیل تھی اور ساری کوشش افسانے کو مشکل اور پیچیدہ بنانے پر ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ نام نہاد جدیدیت absolute story پیدا کرنے کی جھونک میں جس کہانی پن کو fake encounter میں قتل کرنے کے درپے تھی وہی کہانی پن ممبئی کے افسانہ نگاروں کے پاس survival kitکی طرح موجود تھی۔
نئے افسانے میں سب سے بڑی تبدیلی کہانی کی واپسی سے عبارت ہے۔ لیکن فکشن کے طالبِ علم کی حیثیت سے ایک سوال مجھے پریشان کرتا ہے کہ اس وقت جب پورے ملک میںعلامتی وتجریدی افسانہ پورے طمطراق سے فروغ پا رہا تھا ممبئی کے لکھنے والوں کا فنی شعور اس سُر میں سُر کیوں نہیں ملا رہا تھا ؟اس کی سب سے بڑی اور سامنے کی وجہ تو یہ تھی کہ ممبئی جیسے کاسمو پولیٹین مہا نگرمیں رہنے کے باعث ممبئی کے اردو لکھنے والوں کو دوسری زبان یعنی ہندی،انگریزی، مراٹھی ،گجراتی زبان کے ادیبوں سے ملنے کے مواقع نسبتاً زیادہ نصیب تھے۔ دوسری زبان کی ادبی ،تخلیقی اور ثقافتی آدان پردان نے اردو فکشن میں رائج فارمولا کہانیوں اور فیشن پرستی سے انہیں کسی حد تک محفوظ رکھا۔۔اس وقت جب جدید افسانہ عدم تحفظ،خوف،دہشت اور تشکیک کو شعور کی رو ،علامت، تمثیل اور استعاروں کے ذریعے بڑے دھوم دھڑاکے سے پیش کر رہا تھا ممبئی کے افسانہ نگار نہ تو جدیدیت کے اس high voltageگلیمر سے متاثر ہوئے اور نہ ہی جدیدیت کے camp fallowers میں اپنا نام درج کرایا۔ ستّر کے بعد کے ان افسانہ نگاروںنے تو ’۔’روشنی کی رفتار‘‘ کی قرۃالعین حیدرمیں اورانتظار حسین کااس ’’آخری آدمی‘‘میں جو بندر کی جون میں منقلب ہونے سے خودکو بچا رہا تھا اپنی فنی شناخت کے مراکز تلاش کئے۔ظاہر ہے یہ سب کسی منصوبہ بندی یا hidden agenda کے تحت نہیں کیا گیا۔ممبئی کے لکھنے والے علامتی ،تجریدی اور تمثیلی افسانے اس اختصاص کے ساتھ لکھ رہے تھے کہ کہانی پن سے افسانے کا رشتہ منقطع نہ ہونے پائے۔ ’’ ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘،’’زنجیر ہلانے والے،‘‘ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘،’’شان دار موت کے لیے‘‘،’’کلر بلائنڈ‘‘، ’’منو کی ارتھ ہین یاترا‘‘، ’’جلتے پروں کی اڑان‘‘، ’’خواب‘‘،’’ڈاکو طے کریں گے ‘‘، ’’موت شطرنج اور پرندے ‘‘ تمام تر علاماتی اور استعاراتی اظہار کے باوجودیہ افسانے اپنا سارا زور اسی کہانی پر دیتے ہیں جو بیانیہ کے back stageپر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا فنی رویہ اپنے ہم عصرافسانوں اور افسانہ نگاروں سے اگر مختلف تھا تو اس کی میرے خیال میں دو اور وجہیں تھیں۔ ایک تو خود سریندرپرکاش ، جو ا س وقت ایک سنئیر پیش رو افسانہ نگار اور جدید افسانے کے ایک رول ماڈل کے طور پر ستّر کی اس نسل کے سامنے موجود تھے۔ سریندر پرکاش کا فنی رویہ اظہار و اسالیب کے نئے وسیلوں کو قبول کرنے کے باوجود اپنا رشتہ اسی تجسس آمیز قصّہ گوئی پر قائم کررہاتھا، جو پریم چند ،منٹو اور بیدی کے ذریعے ان تک پہنچی تھی۔یہی وجہ ہے کہ استعاراتی اظہار اورتجریدی اسلوب میں لکھے ہوئے افسانوں میں بھی کہانی سے کلیتاً دامن چھڑانے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سریند پرکاش کی story tellingکے آرٹ نے ممبئی کے افسانہ نگاروں کو لکھنے کی ترغیب دی لیکن نت نئے تجربے کواپنی تحریروں میں جگہ دینے کے شوق میں کہانی پن کو outcasteکرنے سے اگر انہوں نے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو اس میں کہیں نہ کہیں سریندر پرکاش کا بھی کچھ حصّہ ضرور ہے۔ سریند پرکاش کے علاوہ ممبئی کے ان افسانہ نگاروں کے ذہنی کلچر کی تعمیر میں باقر مہدی نے بہت اہم اور بامعنی رول ادا کیا ہے۔ باقر مہدی شاعری کے نقاد تو تھے ہی لیکن فکشن پر بھی ان کی نظر گہری تھی۔ یہی نہیں وہ افسانے کے بہت ہی حساّس اور پر شوق قاری تھے۔ فکشن کے فنی تقاضوں اور اس کے بدلتے سماجی رول کا وہ کس قدرگہرااور زندہ شعور رکھتے تھے اس کی شہادت تو فکشن پر لکھے ان کے مضامین دے ہی دیں گے لیکن ’’اظہار ‘‘میں انہوں نے نمائندہ جدید افسانہ نگار انور سجّاد کے افسانوں کا جو انتخاب شائع کیا وہ فکشن سے ان کے ادبی مطالبات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ غرضکہ یہ بات بغیر کسی تکلف کے کہی جا سکتی ہے کہ سریندر پرکاش اور باقر مہدی کی ذہنی قربت اور رفاقت اگر ممبئی کے لکھنے والوں کو نصیب نہیں ہوئی ہوتی تو شاید جدید افسانے کی سونامی انہیںبھی ٹھکانے لگا چکی ہوتی۔
ستّر کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل کا اگر کوئی ’’کارنامہ‘‘ ہے تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے افسانے کو اس کھویا ہوا چہرہ عطا کیا۔ اس کارنامے کو انہوں نے متن اور کرافٹ دونوں سطحوں پر انجام دیااور اس انجام دہی میں ممبئی کے افسانہ نگاروں کا رول قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام بن رزاق، انور خان اور انور قمر ممبئی کے افسانہ نگاروں کی یہ تثلیث نہ تو ترقی پسندوں کے مخالف تھی نہ ہی جدیدیت کی علمبردار۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے یہاں بنیادی کردار ایک ایسے شخص کا رہا ہے جو موجود ہ سماجی،سیاسی ، مذہبی ،ثقافتی ،معاشی منظر نامے میں خود کو situate کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
سلام کے افسانوں پر مختلف ناقدوں نے جو رائے دی ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سلام اپنی نسل کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ ،’’معبر‘‘ اور ’’شکستہ بتوں کے درمیان‘‘ ان کے تین افسانوی مجموعے ہیں جن میں لگ بھگ پچاس ساٹھ افسانے شامل ہیں۔ زیادہ تر افسانے موضوع،کرافٹ ،اوراسلوب کے نقطہ نظر سے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ زندگی کی بساط پر رینگنے والے اس بے بس، لاچار اور مجبور انسان کوجسے سسٹم نے پیس ڈالا ہے سلام نے اپنے افسانے کاشاہ کردار بنایا ۔۔۔۔۔۔تو گویا سلام کے افسانوں کے ذریعے ہماری ملاقات ایک ایسے ہیرو سے ہوتی ہے جواپنی اصل میں نان ہیرو ہے۔
بہت پہلے شاید ایمرجنسی کے زمانے میں سلام بن رزاق نے ایک مختصر سا افسانہ ’’اندھیرا‘‘کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ چار چھ سطری یہ مختصر افسانہ یا افسانچہ میرے خیال میں سلام کے فنی رویے کا بلو پرنٹ ہے۔افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کے کارن اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ آنکھیں ناکارہ ہوگئیں اور ہاتھوں کو ہاتھ تک سجھائی نہیںدے رہے تھے۔ مگر کچھ دیر بعد لوگوں کو محسوس ہواکہ اندھیرا کم ہو رہا ہے اور انہیں کچھ کچھ دکھا ئی دے رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوتی جا رہی تھیں۔غور کریں توسلام کے بیشتر افسانوں کا موضوع اورمظروف اندھیرے سے مانوس ہوتی وہی آنکھیں ہیں۔ ہر ظلم سہہ جانے کی بے بس مجبور اور لاچار آدمی کی سائیکی جوزندگی بھر گم نام حاشیہ بن کر جیتاہے اور ہر قسم کی سماجی ناانصافی اور سیاسی جبر کو بڑی خود اطمینانی کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے مر جاتاہے۔ اب چاہے وہ ’’انجام کار‘‘ کا مرکزی کردار ہو یا’’کام دھینو ‘‘ کا مادھو۔، ’’خصی‘‘ کا پرس رام ہو یا پھر ’’خوں بہا‘‘ کا اسکول ماسٹر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اہم بات یہ ہے کہ سلام نے بے حسی ،مفاہمت پسندی اور خود اطمینان زندگی جینے والی اس معمولی، بے بس اور لاچار اکائی کے حوالے سے نہ صرف اپنے عہد کی حقیقتوں کو جاننے کی کوشش کی بلکہ اپنے تخلیقی اور فنی وجود کی شناخت بھی کی۔ایک زمانے میںسلام سے ان کے ہم عصرلکھنے والوں اور ناقدوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے کردار افسانے اختتام میں سرینڈرہو جاتے ہیں۔افسانے کے کرداروں کی مزاحمت اور مفاہمت کے حوالے سے ادبی اقدار کا تعین جتنا خطرناک ہے اتنا ہی گمراہ کن بھی۔ افسانے کی کامیابی و ناکامی کا انحصار فنکارکی اظہاری صورتوں میں مضمر ہے۔
اور یوں بھی ا فسانے میں کرداروں کی مفاہمت کا اظہار کیا انحرافی قوت کا پیش لفظ نہیں ہو سکتا؟
ابھی حال میں سلام بن رزاق نے جودو افسانے تحریر کئے ہیں ان میں ان کا سماجی و سیاسی سروکار بہت سیدھا صاف اور شفاف ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔‘‘دونوں افسانوں میں ایک داخلی مماثلت ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘اگر بم بلاسٹ میں بے قصور پکڑے جانے والے مسلمانوں کی کہانی ہے تو ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘مذہبی شدّت پسندی کے بیچ پسنے والی ایک مسلم نوعمر لڑکی کا افسانہ ہے۔ دونوں افسانوں میں سلام نے مسئلے کو اندر سے دیکھنے اور آدمی و سماج کو ایک نقطے پر پکڑنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔خاص طور پر ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘ کے اختتام پر غائب راوی کا افسانے کی چوتھی دیوار کو توڑ کر براہِ راست قاری سے مخاطب ہو نا ironyکی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔
سلام بن رزاق کے نہایت قریبی ہم عصر افسانہ نگار انور خان ہیں۔ دونوں نے لگ بھگ ایک ساتھ ہی لکھنا شروع کیا افسانوی مجموعے بھی دونوں کے ایک دو سال کے فرق کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ سلام کی بہ نسبت انور خان کا رحجان علامتی طرز کی کہانیوں کی طرف زیادہ رہا۔’’ راستے اور کھڑکیاں ‘‘،’’ فنکاری‘‘ اور’’یاد بسیرے‘‘کے مختلف افسانے ان انسانی اقدار کے کھونے اور کھوجنے کا اظہار ہے جو ہماری سماجی، سیاسی، تہذیبی ،ثقافتی اور ذہنی زندگی کی فریم سے نکل گئے ہیں۔سلیم شہزاد ی اصطلاحوں کا سہارا لے کر کہوں توmimeticاور diegtic بیانیہ کے دونوں طریقِ کار کا استعمال انور خان اپنے افسانوں میں نہایت کامیابی سے کرتے ہیں۔’’لمحوں کی موت‘‘، ’’شام رنگ ‘‘اور ۔’’بول بچن ‘‘میں اگرافسانے کاحاضر یا غائب راوی ماجرائی پرتوں کو مکالموں کی ڈرامائیت اور منظر کے ذریعے دکھاتا ہے تو’’شاندار موت کے لیے‘‘ ،’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ ، ’’برف باری‘‘ اور ’’اپنائیت ‘‘میں راوی واقعہ کا حصہ نہیں بنتا ،وہ محض واقعہ کی تفصیل کو اطلاعاتی انداز میں فراہم کر دیتا ہے۔انور خان کے افسانوں میں غالب رحجان diegtic طرزِ اظہار کا ہے اور یہی ان کے فنّی رویے کو مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔
انور خان کے بیشتر افسانے کی قرات کے دوران جدید مشینی دور کے غیر انسانی اور لاتعلقانہ رویے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ’’راستے اور کھڑکیاں ‘‘اور ’’فنکاری‘‘کے بیشتر افسانے جذبات سے عاری ایک ایسے اسلوب میں لکھے گئے ہیں جو اپنے ڈسکورس کے دوران سولات قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سوالات زمیں اور آسمان کے بیچ رہنے والے ایک حسّاس انسان کے ہیں جو مختلف محاذ پر لڑ رہا ہے اور ہر محاذ پر اپنے سامنے اپنے آپ کو ہی پا رہا ہے۔ سولات پوچھنے کی tendencyنے انور خان کے افسانوی ڈسکورس کو اگر ایک طرف ثروت مند کیا ہے تو دوسری طرف قاری کو اس روحانی کرب سے متعارف کروادیا ہے جن سے گزر کریہ ڈسکورس قائم ہوا ہے۔ انور خان کی فنی معروضیت اصل میں ان کی گہری فنکارانہ وابستگی کے سبب ہے۔اس نے انہیں الفاظ کے کفایت شعارانہ استعمال کا سلیقہ بھی دیا۔انور خان کفایت ِلفظی کے توقائل ہیں لیکن یہ کفایتِ لفظی افسانوی تاثّر کو گہرا کرنے کا محض ذریعہ ہی نہیں بلکہ قاری کے ذہن کو متحرک کرنے کا یہ ایک حیلہ بھی ہے۔ غور سے دیکھیں تو ان کے افسانوں کے جملوں میں الفاظ کے بیچ کی خالی جگہوں میں کئی گہرے خیال اور نکتے چھپے ہوتے ہیں۔ انور خان کے بیشتر افسانوںمیں کرداراپنے ہاڑ مانس کے ساتھ حرکت نہیں کرتے بلکہ shadow play کی طرح ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔
انور خان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو زندگی کی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنا دیتے ہیں۔’’برف باری‘‘ میں محض وقت گزاری کے لیے tic tac toe کا کھیل کھیلنا،یا ’’فنکاری ‘‘میں چائے کے داموں میں اضافے پر احتجاج کرنا،یا پھر ’’گیلری میں بیٹھی ہوئی ایک عورت‘‘ میں عورت کا یوں ہی اپنے سامنے پھیلے ہوئے منظر کا جائزہ لینا۔۔۔۔یہ سب بظاہر بہت ہی معمولی واقعات ہیں لیکن انور خان ان ہی معمولی اور روٹین واقعات سے ہماری زندگی کے گہرے حقایق کو منکشف کرتے ہیں۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ انور خان نہ صرف روزمرہ کے معمولی واقعات اور جزئیات سے کہانی بننے کے فن سے واقف ہیں بلکہ مجرد خیال کو کہانی میں بدل دینا بھی انہیں خوب آتا ہے۔’’برف باری‘‘، کتاب دار کا خواب‘‘ ، ’’اپنائیت‘‘اس کی جگمگاتی مثالیں ہیں۔لیکن بعض افسانوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ خیالات کو افسانے کے چوکھٹے میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔ ’’شاٹ‘‘،’’ہوا‘‘،’’گونج ‘‘جیسے افسانوں میں ان کی اس کمزوری کا احساس شدّت سے ہوتا ہے۔
انور خان اور سلام بن رزاق کے ہم سفر اور ہم رکاب افسانہ نگاروں میں انور قمر نہایت اہم ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ’’چاندنی کے سُپرد‘‘ ، ’’ چوپال میں سنا ہوا قصّہ‘‘ کلر بلائنڈ‘‘ اور ’’جہاز پر کیا ہو ا؟‘‘شائع ہوچکے ہیں ،جو ان کے چالیس سالہ افسانوی سفر کی کُل پونجی اور تخلیقی سرگرمی سے ان کے والہانہ لگائو کا نتیجہ ہیں۔ خوش کن بات یہ ہے کہ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سالہ فکشن کے اس سفر میں انور قمر کے یہاں کئی طرح کے فکری و فنی پڑائو ملتے ہیں۔انورقمر ایک فکرسے مربوط افسانہ نگار نہیں ہیں۔زندگی کی جولانی اور ہیجان ،داخلی احساسات اور تجربات کا reflectionان کی تحریروں میں کسی نہ کسی صورت ابھرتا ہے اور یہ صورتیں ان کے افسانوں میں ایک دوسرے سے کس قدر مختلف، متضاد اور متنوّع ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوی رویے کو کسی ایک خاص برانڈ میں باندھا نہیں جا سکتا۔ان کی تخلیقی کائنات بیانیہ، علامتی، تمثیلی، اشارتی،فنٹیسی اور تجرباتی سبھی طرز کے افسانوں سے آباد ہے۔ کہیں وہ کامیاب ہیں ،کہیں ناکام اور کہیںبری طرح ناکام۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موضوعی و اسلوبیاتی تنوع اور آزاد تخلیقی فضا کا جو احساس ہمیں انور قمر کے یہاں ملتا ہے ،ان کے دوسرے ہم عصروں کے یہاں کم کم ہے۔یہ تنوع ان کے یہاں ایک ایسے تخلیقی و ارتقائی سفر کی نشاندہی کرتا ہے جو افقی بھی ہے اور عمودی بھی۔ موضوعی اور اسلوبیاتی سطح کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تبدیلیوں کا اشاریہ ان کے افسانوں سے حاصل ہوتاہے۔’’چاندنی کے سُپرد ‘‘کے افسانوں میں جو سرخ رنگ خوش آئند مستقبل کا استعارہ نظر آتا ہے وہی ’’کابلی والا کی واپسی ‘‘ میں خون کی سرخی میں تبدیل ہو گیا ہے۔
انور قمر کا تعلق افسانہ نگاروں کے اس قبیل سے ہے جو instinctکے بجائے فکر و شعور کی تمام جہات کو برروئے کار لاتے ہوئے افسانے کی تعمیر کرتے ہیں۔انور قمر نے جب بھی لکھا بہت سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر لکھا۔ان کا فنی رویہ اپنے موضوع کے انتخاب ،واقعات کی تشکیل ،ان کی ترتیب اور ان کے درمیان ربط کی نوعیت میں منصوبہ بند تعمیر کا پابند ہوتا ہے۔ان کے یہاں سبب اور نتیجہ والی تعقلّی ترتیب سے انکار بھی اتفاقی اور غیر شعوری نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر تخلیقی مقاصد کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انور قمر اپنے ہم عصرافسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ concious افسانہ نگار ہیں۔
بعض افسانوں میں انور قمر کا سماجی و سیاسی سروکار بہت واضح نظر آتاہے تو بعض میں قدرے دھندلا۔۔۔۔۔ ۔ برسوں پہلے افغانستان پر روسی حملے کے حوالے سے انہوں نے رابند ناتھ ٹیگور کی کہانی ’’کابلی والا‘‘ کو بنیاد بنا کر ایک نیا افسانہ’’کابلی والا کی واپسی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں مسلم کش فسادات کو موضوع بنا کر’’جہاز پر کیا ہوا ؟‘‘ جیساایک اہم افسانہ لکھا۔ دونوں افسانوں میں سیاسی جبر اور منافرت کی فضا کو جس طرح تخلیقی جہت دی ہے وہ انور قمر کے فکری و فنی شعور پر دال ہے۔ دونوں افسانے سیاسی افسانے کا ا لتباس پیدا کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں افسانے مخصوص تاریخٰی صورتحال میں گھرے عام آدمی کے مقدر اور اس کے وجود کی معنویت کی دریافت سے عبارت ہیں۔ اقتدار کی اندھی قوت کے سامنے ایک عام آدمی کے د رد اور خوف کو انور قمر نے یوں translateکیا ہے اسے کسی سیاسی تاریخ کے حصار میں باندھا نہیں جا سکتا۔
70ء کی دہائی ممبئی کے اردو فکشن کے لیے یوں بھی فالِ نیک ثابت ہوئی کہ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان ابھی اپنی فنی شناخت کے پہلے پائیدان پر ہی تھے کہ افسانہ نگاروں کی دوسری فصل ممبئی میں لہلہاتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مقدر حمید،ساجد رشید، علی امام نقوی، مشتاق مومن نے بڑے جوش و خروش سے لکھنا شروع کیاکچھ عرصے بعد ہی م ناگ بھی ناگپور اٹھ کر ان لوگوں کے بیچ کنڈلی مار کر بیٹھ گئے اور ایسے بیٹھے کہ پھر ممبئی کے ہی ہو گئے۔ان لکھنے والوں نے اپنے افسانوں سے اردو فکشن کو وقار اور اعتبار بخشا۔ خاص طور پر ساجد رشید، علی امام نقوی اورم ناگ نے ۔۔۔۔
یہاں میں مشتاق مومن کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہوں گا۔ سلام، انورخان اور انور قمر کے فو راً بعد ممبئی کے اردو افسانے کے سنیئر یوپر اچانک ابھرنے اور پھر چپ چاپ ڈوب جانے والے ایک فنکار کا نام مشتاق مومن ہے۔ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے جس میں ’’کریم لگا بسکٹ اور چونٹیاں‘‘ ،’’موز ‘‘اور’’رت جگوں کا زوال‘‘جیسے کئی صاف ستھرے اورنتھرے ہوئے افسانے ہیں جو اپنے قاری کو چونکائے بنا متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ایک افسانہ اس کتاب میں ایسا بھی شامل ہے جس نے پڑھنے والے کومتاثر کئے بنا چونکایا اور جسے مشتاق مومن نے نہیں سریندرپرکاش نے ’’دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار‘‘کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ کے طور پر تحریر کیا تھا۔ سریندرپرکاش کے اس left handed compliment نے لوگوں کو چونکایا توضرور مگر مشتاق مومن کے فن اور فنی رویے پر روشنی ڈالنے کے بجائے یہ فسانہ خود سریندر پرکاش کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
مشتاق مومن نے اسّی کی دہائی میں جو افسانے لکھے تھے ان میں کچھ اب بھی حافظے کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں۔ جس طرح عبدل بسم اللہ نے اپنے ناول ’’جھینی جھینی بینی چدریا‘‘ میں بنارس کی مسلم بستی مدن پورہ کی inner life کو زندہ کر دیا ہے اسی طرح مشتاق مومن نے پاور لوم سٹی بھیونڈی کواپنے افسانوں میں دھڑکتے ہوئے حوالوں کا حصّہ بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ بیس برسوں سے افسانہ نگاری سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بررئوے کا ر لا تے ہوئے امتیاز و اختصاص کی منزلوں سے گزرتے ان کی صحت نے انہیں معذور کر دیا ہے اور اب تو افسانہ نگاری سے ان کے رشتے کی تجدید معدوم نظر آتی ہے۔
افسانوں کا انتخاب ہو یا تنقیدی مطالعے میں فنکاروں کانام اور ذکر ،بڑی حد تک یہ مرتبین اور ناقدین کی صواب دید کا پابندہوتا ہے۔لیکن جب جوگندر پال پنگوین کے لیے ’’عصری اردو کہانیاں‘‘ مرتب کرتے ہوئے غزال صیغم کے افسانے کو شامل کرتے ہیں اور انور خان کوبھول جاتے ہیں یا پھر قاضی افضال سیّد ممبئی کے افسانہ نگاروں پراپنے کلیدی خطبے میں مظہر سلیم کا ذکر بڑے اہتمام سے کرتے ہیں مگر ساجد رشید کا نام ان کے حافظے سے پھسل جاتا ہے ، تو اس کا جواب اور جواز سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے تعصب اور بد دیانتی آج بھی ہماری ادبی کلچر کا اٹوٹ حصّہ ہے۔انور خان اور ساجد رشید کے افسانوں پر سخت سے سخت تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ نئے افسانے کے ذکر میں انہیں بھول جائیں۔
جہاں تک ساجد رشید کا تعلق ہے انہوں نے سلام بن رزاق،انور خان اور انور قمر کے بعد لکھنا شروع کیا،لیکن قصّہ گوئی کی سلیقہ مندی نے انہیں بہت جلدی اپنے سنیئر افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ستّر کے بعد کے افسانہ نگاروں نے جس کہانی پن کی بازیافت کی تھی وو ساجد رشید کے افسانوں میں ایک تنائو کی شکل میں ابھرتی ہے اور تجسس کو جنم دیتی ہے۔ نکیل ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتی اور ایک کشمکش۔۔۔۔۔۔۔ایک تصادم ٹیومر کی طرح ساجد کے افسانوں میں پہلی سطر سے اختتام تک زندہ رہتا ہے۔ جامد تصاویر کے بجائے متحرک مناظر اور مکالماتی بیانیہ نے ان کے افسانوں کو ڈرامے کی صنف سے قریب کردیا ہے۔ ساجد کے افسانوں کی قرات کے دوران قاری ناظر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کردار اداکار میں۔۔۔۔۔۔اور یوں وہ افسانوی متن کو اسٹیج پر پرفارم ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ ساجد کا فنی امتیاز ہے کہ وہ افسانے میں موجود اندورنی تصادم کو فوکس کرنے کے لیے مختلف tools استعمال کرتے ہیں۔چونکہ ساجدصرف افسانہ نگار نہیں بلکہ صحافی،سماجی ورکر،ڈرامہ نگار،اداکار اور کارٹونسٹ بھی ہیں اس لیے ان تمام فنون کے اظہاری وسائل کا بھرپور فائدہ افسانے کی تعمیر میں وہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ ساجد رشید کے افسانوی ڈسکورس میں ہم ڈرامہ نگار ،سماجی ورکر، صحافی ،کارٹونسٹ اور اداکار ساجد رشید کو افسانہ نگار ساجد رشید سے قریب آتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اس قربت نے بیشتر جگہوں پر ان کے فکشن کے امتیازی عناصر کی شناخٹ قائم کی ہے اوربعض مقامات پر ان چیزوں نے ان کے افسانوی کرافٹ کوزبردست نقصان بھی پہنچایا ہے۔لیکن یہ قصّہ پھر کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوعی طور پر ساجد رشید کے افسانوں کو دوحصّوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک سماجی و سیاسی سروکاروں کے افسانے دوسرے انسانی رشتوں کے افسانے۔ گو کہ یہ تقسیم واٹر ٹائیٹ کمپارٹمینٹل نہیںہے کیونکہ انسانی رشتوں کے افسانوں میں سماجی و سیاسی سیاق ابھرتے ہیں تو سیاسی اورسماجی موضوع کے افسانوں میں انسانی رشتے پنپتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے طرز کے افسانوں میں ساجد اگر آس پاس بکھری ہوئی سماجی و سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسرے طرزکے افسانوں میں بجائے خود زندگی کو دریافت کرنے میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جو بات ساجد کے افسانوں کو ایک امتیازی وصف عطا کرتی ہے وہ یہ کہ ان کا ہر افسانہ اپنے عصر اور سماج سے ایک جرح ہے ،ایک مکالمہ ہے۔
موضوع ،تکنیک ،مواد اور زبان کا ایک اچھا تال میل ساجد کے افسانوں میں ملتا ہے۔وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سا افسانہ کس ڈکشن میں لکھنا ہے۔بیانیہ پر مظبوط گرفت ،بے پناہ قوّت مشاہدہ اور انسانی نفسیات کے ان کے گہرے شعور کے سبب ہی اپنے کسی انٹرویو یا نجی گفتگو میں وارث علوی نے ساجد رشید سے کرداری افسانہ لکھنے کی توقع ظاہر کی تھی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے مختلف افسانوں میں کئی منفرد، پیچیدہ اور complexedکردارپیش کرنے کے باوجود ساجد رشید کے پاس کوئی کرداری افسانہ نہیں ہے۔’’مردہ دھوپ‘‘کی پھوپھی یا ’’ایک چھوٹا سا جہنم ‘‘کا ڈاکٹر نائیک یا پھر ’’شام کے پرندے ‘‘کے اختر حسین، یہ سبھی ساجد رشید کے ایسے کردار ہیں جو اپنی شناخت افسانوی فریم ورک سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر کرواتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کی سرشاری میں ساجد کی مثالیت پسندی کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ساجد رشید اپنی بنیاد میں idealist ہیں اوراگر یہ idealism حیات و کائنات کے بارے میں ان کے موقف کی تشکیل کرتا ہے توان کی مثالیت پسندی کرداروں کے حقِ خود اختیاری کی محتسب بن کر بھی ابھرتی ہے۔ ساجد رشید سے کرداری افسانے کے مطالبے کے پیچھے وارث علوی کہیں اس دھندلی مثالیت پسندی کو فنی دائرے سے ٹاٹ باہر کرنے کے تو متمنی نہیں ہیں؟ میرے خیال میں ساجد رشید کو وارث علوی کی اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
کرداری افسانوں کی جس کمی کا احساس وارث علوی کو ساجد رشید کے افسانوں میں ہوتا ہے وہ شاید علی امام نقوی کے افسانوں میں انہیں نہ ہو۔ علی امام نقوی کے بیشتر افسانوں میںڈرائیونگ سیٹ پر پلاٹ کے بجائے کردار سوار ہوتا ہے، چنانچہ وہاں واقعات کردار کا تانا بانا بننے کے بجائے کردار خودواقعات کی ترتیب و تنظیم کرتے ہیں۔ ’’نئے مکان کی دیمک ‘‘،’’گھٹتے بڑھتے سائے‘‘،’’مباہلہ‘‘اور ’’موسم عذابوں کا ‘‘اپنی ان چار کتابوں میں شامل افسانوں سے علی امام نقوی اردو فکشن میں اپنی جگہ محفوظ کر چکے ہیں۔
علی امام نقوی نے اپنی افسانوی کائنات ہمارے معاشرے کے ان کرداروں سے سجائی ہے جن کی تلاش میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ٹیکسی وٹرک ڈرائیور، شرابی، چرسی، آوارہ، بیکار، نکمے افراد،مزدور، وارڈ بوائز،جرائم پیشہ ،ریکروٹنگ ایجنٹ ،کلرک، ٹی وی مکینک ،کباڑیے ،رنڈیاں، بدچلن عورتیں۔۔۔۔۔۔ ان کی جیتی جاگتی تصویروں کو تخلیقی جہت دے کرعلی امام نے ایک فنی تجربے میں بدل دیا ہے۔ ان کرداروں کی معمولی سے معمولی اور اسفل سے اسفل جزئیات اور تفصیلات میں دلچسپی محض ان کی زندگی کا روزنامچہ ان ہی کی زبان اور محاورے میں لکھنا ہی علی امام کا منتہائے مقصود نہیں بلکہ ہوا کے دبائو اور پانی کے بہائو سے ادھر ادھر ڈولنے والے ان بے بس اور مجبور کرداروں کے ذریعے زندگی کی پہنایوں تک اترنے کی جہت ان کے افسانوں کے sub textمیں دیکھی جا سکتی ہے۔ علی امام نے اپنے بیانیہ میں ایک under currentضرور بچھایا ہے جن میں ان کے نقطہ نظر کے بنیادی نقوش جھلملاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصل زندگی علی امام کے یہاں، زندگی کی اصل تک رسائی حاصل کرنے کی ایک فنکارانہ کوشش ہے۔
تین لوک میں متھرا پیاری ۔۔۔اور علی امام کی متھرا ان کی ممبئی ہے۔ ممبئی کی زندگی علی امام نقوی کے افسانوں میں سانس لیتی اور خون میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کا ماحول، یہاں کی زندگی کی رفتار،بھیڑ بھاڑ،اس شہر کی زندگیوں کے sound tracks اور اس کی خاموشیاں ،یہاں کے محاورے اور یہاں کی low languageکو علی امام نے اپنے ناول ’’تین بتی کے راما ‘‘ اور مختلف افسانوں میں جس طرح پکڑا ہے وہ اس شہر کو جئے بنا حاصل ہونا ممکن نہیں۔ ’’ڈونگر واڑی کے گدھ‘‘فسادات پر لکھا ان کا یہ افسانہ کافی مشہور ہوا۔اکثر لوگوں کا خیال ہے اختتام میں علی امام نے عصری پس منظر کو ایک دائمی تناظر عطا کر دیا ہے۔ممکن ہے یہ درست ہو لیکن افسانے کا یہ انجام تاثّر سے بھرپور ہونے کے باوجود پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتا ہے۔البتہ اس افسانے میں پارسیوں کے dialectکا بہت ہی خلاّقانہ استعمال انہوں نے کیا ہے۔
تقسیم اگر ہندوستانی فکشن کا ایک اہم موڑ ہے تو تقسیم کے بعد بھی ہند و پاک کے تہذیبی ثقافتی رشتوںپردونوں ملک میں کئی اچھے اور کامیاب افسانے لکھے گئے۔ ان میں علی امام کا افسانہ’’ میراث‘‘کافی اہم ہے مگر افسوس کے ناقدوں نے اس پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی۔
ہمارے یہاں بیشتر لکھنے والوں کے لیے افسانہ تحریر کرنا سوئمبر میں حصّہ لینے جیسا ہے۔ جہاں سوئمبر کی شرائط کی تکمیل کے لیے افسانہ نگار جان کی بازی لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ناگ کا فنی رویہ ان سے قدرے مختلف ہے۔ ناگ کے لیے افسانہ لکھنا سوئمبر میںحصّہ لینانہیں ہے۔ اسی لیے نہ تو وہ شیو کے دھنش کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی ارجن کی طرح اپنی نظر صرف مچھلی کی آنکھ پر رکھتے ہیں۔اس تخلیقی رویے نے ناگ کے افسانوں کو اس منطقی ارتقاء سے محروم رکھا جو عموماً افسانے میں وحدتِ تاثّر ابھارنے میں مدد دیتا ہے۔پلاٹ کے افسانے میں واقعات کی ایک منطقی ترتیب ہوتی ہے اور اس کا ایک خاص نقطہ آغاز اور نقطہ انجام ہوتا ہے۔ سارے سلسلے ایک مرکزی نقطے سے جڑے ہوتے ہیںلیکن ناگ افسانوں میں کوئی منطقی ترتیب نہیں ملتی اور اگر ہے بھی تو سطح پر نہیں تیرتی۔ چونکہ افسانہ واقعہ کو منطقی ترتیب سے بیان نہیں کرتا۔ اس لیے متن میں موجود کشمکش زبان کی تخلیق نہیں کرتی بلکہ افسانہ نگار اپنے اسلوب میں اپنی زبان ،اپنے نجی محاورے میں اپنی بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی نجی آھنگ اور ذاتی لہجے کی چھاپ نے ایک طرف ناگ کے افسانوں کو رسمی اسلوب اور موضوعات کے فرسودہ برتائو سے آزاد رکھا تو دوسری طرف الفاظ کو فقط سننے یا پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ دیکھنے اور چھونے کی چیز بھی بنا دیا ہے۔
اگر علی امام نقوی کے افسانوں میں مختلف رنگ، نسل ،ڈئزائن کے کرداروں کا میلا ہے تو م ناگ اپنے افسانوں کی دنیا میں بالکل اکیلا ہے۔ اپنے اندر اور باہر اجنبی سچائیوں کو دیکھتا ،پرکھتا ایک اکیلا تنہا آدمی۔۔۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے اکثر آر کے لکشمن کے عام آدمی کا وہ کارٹون یاد آتا ہے جو دیکھتا سب کچھ ہے ،سنتا سب کچھ ہے لیکن بولتا کچھ بھی نہیں۔ ناگ کے افسانے بھی سننے اور دیکھنے والے افسانے ہیں،بولنے والے نہیں ۔۔۔۔کیونکہ ناگ کے افسانوں میں خاموشیاں بھی بولتی ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ڈاکوطے کریں گے‘‘ اور ’’غلط پتہ‘‘اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی اشاعت میں بھی ایک طویل عرصہ حائل ہے۔اور بقول انتظار حسین ہمارا زمانہ ادیب کو پروجیکٹ کر رہاہے اور ادب کو پیچھے دھکیل رہاہے۔اسی لیے جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کہ اس دور میں دنیا داری کے جھمیلوں اور تعلقات عامّہ کے حیلوںسے الگ تھلگ رہنے اور رسائل میں افسانوں کی اشاعت سے بے نیازی برتنے نے ناگ کو بہت نقصان پہنچایا۔
ناگ نے اپنے افسانوں میں جو دنیا رچی ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جس دنیا میں ہم آپ جی رہے ہیں وہ اتنی سیدھی اور صاف نہیں ہے۔ شفاف واقعات کی باطنی پرت کے نیچے بھی مضحکہ خیز عوامل کار فرما ہیںاور بظاہر سیدھے دکھائی دینے والے رشتے بھی دھندلے ہو چکے ہیں۔ایک بے نیازاور بے پروا راوی کا پوز بنائے رکھنے میں ناگ اکثر کامیاب ہو تے ہیں۔
ناگ کی تخلیقیت کا بنیادی رمز ان کا اسلوب ہی ہے۔یہ اسلوب اور کچھ نہیں ناگ کی شخصیت کی ہی لسانیاتی تجسیم ہے۔ ہلکی پھلکی لیکن گہری ،دلچسپ اور دلاویز اور شاید اسی لیے منفرد بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ناگ کے افسانے ہر پھر کر ان کی شخصیت کے آس پاس ہی طواف کرتے ہیں اور۔اسی لیے ان کے زیادہ تر افسانے آٹو بائیگرافیکل ہونے کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ناگ کے افسانوں تک رسائی ہم اس اس کی شخصیت کو tracepass کر کے ہی حاصل کر سکتے۔
جنس ناگ کا پسندیدہ موضوع ہے۔ موضوع بھی نہیں بلکہ ایک حوالہ ہے۔ جنس کے مجرد اور غیر مجرد تصورات کو جس طرح ناگ نے اپنے افسانوں میں animateکیا ہے اس نے ان کی تحریروں کو اپنے پیش روئوں اور ہم عصروں میں منفرد بنا دیا ہے۔ چونکہ جنس کو موضوع کے بجائے بطور حوالہ برتا گیا ہے اسی لیے افسانوں میں ناگ کا رویہ peeping tomجیسا نہیں ہے اور اسی لیے سیکس اور رشتوں پران کی متنازعہ تحریروں میں بھی ترغیب کا پہلو نہیں ہے۔ فنکارانہ اعتبار سے ناگ کے افسانے بلاشبہ اتنے بلند نہ ہوں لیکن اس میں ایک ایسے آدمی کا کرب ضرور موجود ہے جو رشتوںاور سسٹم کو اپنی کھال اور روح پر بھوگ رہا ہے۔ان کے دونوں افسانوی مجموعوں سے متعلق یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘کے بعد ’’غلط پتہ ‘‘تک پہنچتے پہنچتے البتہ ایسا لگتا ضرورہے ناگ کا تخلیقی رویہ اپنے محور سے کچھ ہٹ سا گیا ہے ’’غلط پتہ‘‘ میں نہ تو وہ تازگی ہے اور نہ ہی وہ brandingجو ناگ کی پہچان ہے۔ ’’غلط پتہ‘‘ پر پہنچنے کا جو احساس قاری کو ہوتا ہے اگر وہ افسانہ نگارکوبھی ہوجائے تو شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین پا لے۔
مقدر حمیدایک سنئیر افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے لگ بھگ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھا۔لیکن ایک زمانے تک ادبی رسائل سے ایک ’’محفوظ دوری‘‘بنائے رکھنے کے سبب ناقدین اور قارئین نے بھی انہیں وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ چالیس سال پر محیط اپنے افسانوی سفرمیں مقدر حمید کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ ’’زر بیل‘‘ ،’’ابر کاری‘‘ اور ’’جل ترنگ‘‘یہ عنوانات ہی افسانوں کے موڈ اور ان کے فنی رویوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
مقدرحمید کے بیشتر افسانے دھیمی لے کے افسانے ہیں اور معلوم پڑتا ہے کمر کے نیچے تکیہ رکھ کرconciveکئے گئے اور آرام کرسی پر لیٹ کر تحریر کئے گئے ہیں۔قاری کے ذہن پر ہتھوڑا مار کر اس کے پورے وجود کوجھنجھنا دینے والے افسانوں کے بجائے ان کے افسانے غلام علی کی گائیکی کی طرح اپنی محدوداور مخصوص نوٹ سے اوپر نہیں اٹھتے۔ اپنے آس پاس کی زندگی پر ان کی نظر مرکوز ہوتی ہیںاور اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس میںشریک کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے محدود کینواس کے باوجودان کے یہ افسانے پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں ،مقدر حمید کے افسانوںمیں ایک خاص قسم کا تاثّر دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان کی زبان واقعات کو دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے یہاں موضوع کے بطن سے واقعات جنم نہیں لیتے بلکہ واقعات کی پرتوں میںوہ موضوع تلاشتے ہیں۔
مقدر حمید کے یہاں خوبصورت الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔مگر یہ خوبصورت الفاظ ان کی قصّہ گوئی کو مدد بہم پہنچانے کے بجائے سلمہ ستاروں کی طرح افسانوی فریم ورک میں بے بس ٹنکے نظر آتے ہیں۔اورظاہر ہے جب لفظ افسانوی فریم ورک میں اپنا کام انجام دینے سے انکار کردیں تو افسانہ نگار کی خود تزئینی کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
’’ابر کاری‘‘ کے پیش لفظ میں انہوں نے لکھا تھا کہ اپنی بات کہنے کے لیے کہانی کی تصویر کو جو بھی فریم راس آتی ہے اسے اپنانے میں انہیں احتراز نہیں ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مقدر حمید نے کہانی کی تصویر کے مطالبے کے موافق ہی فریم کا انتخاب کیا ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے سارے افسانے ایک ہی فریم میں جڑے نظر آتے ہیں۔ ہاں فریم کو نقش و نگاری کے ذریعے انہیں الگ کرنے کی کوشش افسانہ نگار نے ضرور کی ہے۔
مقدر حمید کی طرح جیتندر بلّونے بھی انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھابلکہ بلّو تو غالباًان سے بھی پہلے سے لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں اسی لیے ان کے افسانوں کا پس منظر دیارِفرنگ میں بسے ہندوستانیوںکے تہذیبی اور جذباتی مسائل ہیں۔اپنی زندگی کے آزمائشی دور کا ایک حصّٓہ انہوں نے ممبئی میں ہی گزارا تھا۔’’ پہچان کی نوک پر‘‘کے افسانے ان کے اسی دورکی یادگار ہیں۔اس میں کل چودہ افسانے ہیں اوربیشترافسانوںکو ان کی زبان کے استعاراتی برتائو نے حقیقت نگارانہ اکہرے پن سے بچا لیا ہے۔ انسانی رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانیوں کوبِلو نے فنکارانہ صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے اور سماجی حقیقتوں،معاشرتی ناہمواریوں اور نفسی الجھنوںکو بیانیے کی نت نئی صورتوں میں ڈھالا ہے۔ ابھی حال میں ہی ان کے افسانوں کا نیا مجموعہ اور بقول ان کے آخری مجموعہ ’’چکر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اپنی اس کتاب کے مقدمے میں اردو ادب میں بڑھتی ہوئی اسلام پسندی سے متعلق انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔گو کہ ان کا لہجہ کچھ کڑا اور کڑوا ہو گیا ہے اور جذبات میں جتیندر بلّو یہ بھول گئے ہیں کہ کمبل سے کمبل کی گانٹھ نہیں بندھتی۔
سلام بن رزاق سے لے کر م ناگ تک یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے ہیں جنہیںفضیل جعفری نے Bombay group of short story writers کے نام سے یاد کیا ہے۔ ان مین اسٹریم رائٹرس کے علاوہ ایسے لکھنے والے بھی یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے لیے افسانہ نگاری جز وقتی کام رہا یا پھر جنہوں نے افسانہ نگاری کو سنڈے پینٹنگ کی طرح آزمایا۔گو کہ ان سے چار چھ ڈھنگ کے افسانے بھی سرزد ہوگئے مگر وہ ان کی شناخت کا حوالہ نہیں بن پائے۔ساگر سرحدی ،محمود ایوبی، بنتِ مسعود(جو بعد میں فیروزہ خان کے نام سے لکھنے لگیں)الیاس شوقی، اقبال نیازی، اسلم خان، معین الدین جینابڑے اور مقصود اظہر کے نام اس فہرست میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے توبڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں کچھ نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پرکنارہ کشی اختیار کر لی۔ کچھ کے منکے ڈھیلے پڑ گئے ، کچھ نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کیا اورکچھ نے لکھنا جاری رکھا مگر سنڈے پینٹنگ کی طرز پر۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ مسعود ایک بہت اچھی لکھنے والی ہیں۔افسانے بننے کے عناصر ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں مگر غالباً ازدواجی زندگی کی مصروفیات نے انہیں افسانہ نگاری ترک کرنے پر مجبور کیا۔ اقبال نیازی نے ’’سرکس‘‘ اور ’’اسپیڈ بریکر ‘‘ جیسی خوبصورت کہانیاں لکھیں تو ان سے بھی کچھ توقع بندھی مگر بہت جلد ڈراموں نے انہیں highjackکر لیا اور ان دنوں بڑے زور شور سے تھیٹر کے لیے سرگرداں ہیں۔البتہ اسلم خان نے ابھی تک افسانہ نگاری ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا اوراپنے نئے افسانے کے ساتھ کبھی بھی LOCپار کر سکتے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے ’’ٹیلی پرنٹر‘‘ ،’’کنفیشن‘‘، ’’کاروائی‘‘ اور’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘ جیسے چند ایک اچھے افسانے ضرور تحریر کئے تھے مگر پھر event managementجیسی کسی چیز میں مصروف ہوگئے۔ ان کے تحریر کردہ افسانے بھی کسی event کاخاکہ ہی معلوم پڑتے ہیں۔ ’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘اصل میں ایک فلمی کہانی کی one line script ہے مگر اسے افسانہ سمجھ کر پڑھا بھی جا سکتا ہے اور انگیز بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ فنی سرچشموں سے نکلنے والے اس کے زریں دھارے ایک بڑی تصویر کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔مقصود اظہر ان لوگوں سے نسبتاً جونئیر لکھنے والے ہیں ’’کشتن‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک افسانوی مجموعہ منظر ِعام پر آ چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ افسانے پڑھنے والے کو متوجہ کرتے اور ان کا نام لوگوں کے حافظے پر چڑھتا انہوں نے بھی افسانہ نگاری ترک کرد ی۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا کوئی افسانہ پڑھنے کو نہیں ملا۔ یہی حال الیاس شوقی کا ہے۔ افسانے سے منہ موڑ کر انہوں نے تنقید کا دامن تھاما ہے اور’’فکشن پر مکالمہ ‘‘ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
دو اور ایسے فنکار ہمارے درمیان موجود ہیں جنہوں نے افسانے تو لکھے ہیںلیکن بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر۔۔۔۔۔۔ شاید دونوں کے لیے افسانہ نگار ی مین کورس کے بعد سرو ہونے والے desertکی طرح ہے۔ دونوں نے ناول لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ فکشن کے آسمان پر اڑنے کے لیے ان کے پنکھ مضبوط ہیں۔رحمٰن عباس کے اب تک دو ناول’’نخلستان کی تلاش میں‘‘ اور ’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘منظر عام پر آ چکے ہیں۔ان کا پہلا ناول جس قدر کمزور اور لچر تھا دوسرا اتنا ہی thought provokingاور توانا۔زبان کے پُر تکلف اور شاعرانہ استعمال کے باوجود رحمٰن نے اپنے اس نئے ناول میں کوکن کے گائوں بدلتے لینڈاسکیپ کواپنی نظر سے دیکھنے ،اپنے ذہن سے سوچنے اور اپنے محاورے میں اسے دریافت کرنے کی جرائت مندانہ کوشش کی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخراس ناول پر اچھے مضامین اور تجزیے تو جانے دیجئے ڈھنگ کے تبصرے بھی کیوں نہیں آئے ؟
کیا اس کی وجہ اس کا موضوع ہے؟
۔رحمٰن عباس نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں مگر وہ تعداد میں اتنے کم اور فکری وحدت میں اس قدرمعمولیہیں کہ ان کے فنی رویے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔لگ بھگ یہی بات ہم صادقہ نواب سحر کے افسانوں کے تعلق سے کہہ سکتے ہیں۔ البتہ’’کہانی کوئی سنائو متاشا‘‘ ناول لکھ کر بحیثیت فکشن نگارصادقہ نواب سحر نے اپنی شناخت درج کر لی ہے۔ناول کے کرافٹ اور متن کے ایک خوشگوار تال میل نے ان کے ناول کو دلچسپ اور readableبنا دیا ہے۔ تازہ ہوا لانے والی کوئی کھڑکی اچانک کھل جانے کا احساس اس ناول سے ہوتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اسے لوگوں نے respondبھی کیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے ناول میںپیش کی گئی نسائی حسیت اور سوز و گداز سے بھرے احساسات اوراپنے آس پاس بکھری زندگی پر ناول نگار کی گہری ،شفاف اورحساّس نگاہیں ہیں۔ناول کے اجزائے ترکیبی پر گہری نظر کے علاوہ صادقہ نواب کی پی آر شپ نے بھی اس ناول کو پروجیکٹ کرنے میں اہم بھومیکا نبھائی ہے۔ جہاں تک افسانہ نگاری کا تعلق ہے وہ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر کا اصل میدان نہیں لیکن پھر بھی ان سے اچھے اور یادگار افسانوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ان بھولے بسرے لکھنے والوں کے ریوڑ میں مجھے بھی آپ کالی بھیڑ کے طور پر شامل کر سکتے ہیںکیونکہ میں نے جو دو ڈھائی افسانے تحریر کئے وہ اتنے بچکانہ ، ناپختہ اور trashتھے کہ اب ان کا ذکر کرنا بھی بے کار ہے۔
سنئیر لکھنے والوں میں ساگر سرحدی، محافظ حیدر اور محمود ایوبی نے منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر کئی اچھے افسانے لکھے گو کہ ان کی اصل پہچان افسانہ نگار کی نہیں ہے۔ ساگر سرحدی ایک فلم کاراور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ان کے افسانوں کی ایک کتاب’’آوازوں کا میوزیم‘‘ اردو میں اور ’’جیو جناور‘‘ ہندی میں شائع ہو چکی ہے۔ساگر سرحدی کی ذہانت، بذلہ سنجی اور تخلیقیت کا جو جلوہ ہمیں ان کے ڈراموں اور مکالموںمیں ملتا ہے افسانوں میں diluteہو گیا ہے۔یہی نہیں موضوعات کو جو تنوع ان کے ڈراموں میں ہے افسانے میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔بیشتر افسانے man-woman relationshipکی تفتیش پر قائم ہیں۔ اس رشتے کو دیکھنے والی آنکھیں ایک مرد کی ہیں اور ناک پر ٹکی ہوئی عینک کے lensبھی خالص مردانہ ہیں۔ عورتوں کے مختلف روپ ساگرکے افسانوں میںنظر آتے ہیں مگر وہ مرد کی ہم سفر یا دوست کم اس کی sleeping partnerزیادہ ہے۔ عورتوں کی نفسیات،ان کے خواب اور خوف پر ساگر کی نظر گہری ہے اور پینی بھی۔محبت میں سرشار عورت ہو یا خود فریبی میں گرفتار،نوعمر لڑکی ہو یا بیوہ عورت، ماضی سے خوف زدہ ہو یا مستقبل سے پرامید ،ساگر سرحدی کے افسانوں میں عورتیں اپنے ہاڑ مانس اور سوچ کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن مختلف افسانوں کے مرد کرداروں کی گردن پر چہرہ ایک ہی ہے۔یہ کوئی اور نہیں ساگر سرحدی کا ہمزاد ہے۔ شاید اسی لیے ساگر کے ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیںڈائری یا یاداشتوںکا گمان سا ہوتا ہے۔ پرسنل ٹچ ان افسانوں کی طاقت ہے تو کمزوری بھی۔ ساگر ہر لفظ، جذبے اور احساس کے پیچھے سے جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ افسانے ساگر سرحدی کی شخصیت سے اپنے آپ کو بچا پاتے تو شاید اور زیادہ کامیاب ہوتے۔
مکالمہ نگاری ساگر سرحدی کا fortay ہے اور اس میں ان نبض دھڑکتی ہے۔ مکالمہ نگاری ساگر کے افسانوں میں کبھی کردار نگاری کے فرائض انجام دیتی ہے تو کبھی منظر نگاری کی۔
ساگر سرحدی کی طرح محافظ حیدر کا تعلق بھی فلم اور ٹی وی کے میڈیم سے رہا ،جس کی وجہ سے افسانہ لکھنے کے لیے وہ زیادہ وقت نہیں نکال سکے۔ حالانکہ افسانہ بُننے کا آرٹ انہیں بھی خوب آتا ہے،جس کا بین ثبوت ’’کاغذ کی دیوار‘‘ میں شامل ان کے افسانے ہیں۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی readablity اور originalityہے۔افسانے کی روایت سے الگ ہوئے بنا محافظ حیدر کے ان افسانوں کی اپنی ایک originalityہے۔ تکنیک کے اعتبار سے محافظ حیدر کے یہ افسانے روایت کے تسلسل کا ایک جز ہی ہی معلوم ہوتے ہیںلیکن ان میں معنویت کے لحاظ سے جو تنوع ہوتا ہے وہی ان کے تخلیقی جوہر کا بنیادی نشان ہے۔ فارم ،زبان اور کرافٹ کی سطح پر ان میں کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی موضوع چونکائو ہیں۔ لیکن آرٹ اور کرافٹ کی سطح پریہ افسانے اتنے سدھے ہوئے ہیں کہ یہی سہجتا ان کی USPبن گئی ہے۔ محافظ حیدر کے افسانوں کاقاری ہونے کی حیثیت سے ایک احساس مجھے ہمیشہ سے رہا اپنی تخلیقی انفرادیت، گہری نظر،فنی ہنر مندی اور زندگی کے متنوع تجربات و مشاہدات کا جس قدر فائدہ افسانہ نگار کو اٹھانا چاہئے تھا کسی وجہ سے محروم رہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے کھاتے میں ’’روزنامچے کا ایک ورق‘‘،’’سالگرہ‘‘،’’ہوائی قلعہ‘‘ اور آئیڈنٹیٹی کارڈ‘‘ جیسے خوبصورت افسانے ہیں، جنہیں لکھنے کا خواب کوئی بھی افسانہ نگاردیکھنا پسند کرے گا۔
ساگر سرحدی اور محافظ حیدرکے ساتھ ایک اور نام محمود ایوبی کاہے۔ محمود ایوبی بنیادی طور پر صحافی اور مارکسٹ نظریہ کے حامی تھے۔اکّا دُکّا افسانے تو وہ ابتداء ہی سے لکھ رہے تھے لیکن باقاعدہ افسانہ نگاری انہوں نے انہوں نے ریٹائرمینٹ لائف کے دوران شروع کی۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’دوسری مخلوق‘‘ اور’’پری کتھا‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔
محمود ایوبی کے افسانوں پر instantردّعمل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت نگاری ہی ان کے افسانوں کا مرکز اور محور ہے۔سیدھے سادے لوگوں کی باتوں کوبہت سادے طریقے سے بیان کردیناہی ان کا ادبی موقف رہا ہے۔ چونکہ صحافت سے محمود ایوبی کا تعلق بہت گہرا تھاچنانچہ اس کا مثبت اور منفی اثر ان کے افسانوں میں نظر آنافطری ہے۔ صحافت کی وجہ سے روز مرہ کے واقعات جنہیں ہم عموماً معمولات کا درجہ دے دیتے ہیں ایوبی صاحب نے انہیں افسانے کے فارم میں ڈھال کر امکانات کی نئی سطح عطا کی۔ لیکن افسانہ نگاری کا فن جس تحمل کامطالبہ کرتا ہے اور افسانے کی ماجرائی پرتیں جس فطری ارتقاء کے ساتھ unfoldہونے کی مانگ کرتی ہیں وہ صحافی محمودایوبی میں کم کم نظر آتی ہے۔ اور لگتا ہے اخبار کی آخری کاپی کی طرح افسانے کو بھی ایک طے شدہ ٹائم میں بھیجنا ضروری ہو۔ اگر یہ افسانے افسانہ نگار کی دوسری نظر اور finishing touches پا لیتے تو شاید ان کی روپ ریکھا اور سنور جاتی۔ کچھ افسانے غیر ضروری طوالت کا شکار ہو گئے ہیں اورانہیں نہ صرف ایڈیٹنگ کی سخت ضرورت بلکہ کئی افسانوں کو سخت ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔
نوّے کی دہائی میں ممبئی کے جن افسانہ نگاروں نے بڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا اور پڑھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی ان میں معین الدین جینابڑے کا نام کافی اہم ہے۔ سن2000ء کے آس پاس ان کے افسانوں کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’تعبیر‘‘ کے نام سے جب منظر عام پر آیاتو لوگوں نے ایک اہم افسانہ نگار کی آمد کی آہٹ اس میں محسوس کی لیکن پتہ نہیں اپنے کس فکری،نظریاتی اور جذباتی اسباب کے تحت ان کا دل افسانہ نگاری کی طرف سے ہٹ گیا۔ کیونکہ ادھر ان کے نئے افسانے پڑھنے کو کم کم ہی ملے۔
’’تعبیر‘‘کے افسانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ معین الدین سوچ سوچ کر لکھنے والے افسانہ نگار ہیں اور جو لکھتے ہیں فنی شعور کی بھٹّی میں تپ کر آنے کے بعد ہی لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں ’’تعبیر‘‘ ،’’گیت گھاٹ ‘‘اور ’’کہانی‘‘جیسے خوبصورت افسانے ہیں۔معین الدین کا فنی رویّہ واقعات تانے بانے بننے کے بہانے اپنے خیالات کی صورت گیری کرتا ہے جس میں ایک لُپی پتی اور پھونک پھونک کرقدم رکھنے والی محتاط شخصیت سے ہم روبرو ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو انڈیلنے کے شوق نے افسانے کے ندیدہ تخلیقی امکانات کو منکشف ہونے نہیں دیا اور اسے معین الدین جینا بڑے نے اپنی شخصیت کا ضمیمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ’’رنگ ماسٹر‘‘ اس کی عبرتناک مثال ہے۔
جس طرح مقدر حمید زبان کو تصویر کے پُر کشش چوکھٹے کی طرح استعمال کرتے ہیں معین الدین اپنے خیالات کو افسانے میں بھرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی غائب راوی کے ذریعے تو کبھی کسی کردار کا مکھوٹا پہن کر ۔۔۔۔۔غرضکہ افسانے کی کوئی دیوار ان کے یہاں خالی نہیں۔ قصّہ گوئی میں جب اپنی ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی شخصیت کو ظاہر کرنے کا لپکا افسانہ نگار میں پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے جو ڈھیر ہوتا ہے اس کا نام افسانہ ہے۔
بنتِ مسعود ،ساگر سرحدی، محافظ حیدر، اقبال نیازی، محمود ایوبی ،معین الدین جینا بڑے یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے جن کے فنکارانہ اظہار کا اصل میدان اور ان کی شناخت کا اصل وسیلہ افسانہ نگاری نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔اور اس میں شک نہیں کہ اگر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کو وہ افسانوں میںمرتکیز کرتے تو شاید ممبئی کااردو افسانہ اور بھی صاحبِ ثروت کہلاتا۔بہرکیف ان جُز وقتی افسانہ نگاروں اور اتواری مصوروں سے قطع نظر ممبئی میں ایسے لکھنے والوں کی تعدادبہت زیادہ نہیں تواتنی کم بھی نہیں، جن کی شناخت کا بنیادی حوالہ افسانہ اور افسانہ نگاری ہے۔ نئی صدی کے قرب و جوار میں تازہ دم لکھنے والوں میں مظہر سلیم،ایم مبین، اشتیاق سعید،عبدالعزیز خان کے نام اہم ہیں۔
کہا جاتا ہے ٹڈیوں کا آنا کال کی نشانی ہے اور ممبئی کے اردو افسانے پر گزشتہ دیڑھ دو دہائیوں سے ٹڈیوں کے دل منڈلا رہے ہیں۔قرۃالعین حیدر نے اردو افسانے پر مسلط جس میڈیوکریسی کااظہار برسوں پہلے کیا تھا اس کا نہایت ہولناک سایہ ممبئی کے ان عصری افسانہ نگاروں پردیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت سریندرپرکاش کا ایک فقرہ یاد آتا ہے جسے اکثروہ اپنے بعد میں آنے والی نسل کے افسانہ نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت استہزایہ انداز میں کہا کرتے تھے۔’’سچ ہے اردو افسانے پر برا وقت آن پڑا ہے۔‘‘
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ستّر کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں کی نمائندگی سلام بن رزاق کر رہے تھے تو نوّے تک آتے آتے نمائندگی کی یہ پگڑی وقت نے مظہر سلیم کے سر باندھ دی۔ مظہر سلیم 90ء کے آس پاس ممبئی کے ادبی منظر نامے میں ابھرنے والے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جوممبئی میں کم لیکن مہاراشٹر کے دیگر اردو حلقوں میں خاصے مقبول ہیں۔’’جہاد‘‘،’’اپنے حصّے کی دھوپ‘‘کے علاوہ ان کے افسانوں کاایک انتخاب ’’نیا منظر نامہ‘‘(مرتب:ابراہیم اشک) بھی شائع ہوا ہے۔ان کے افسانوں کے ذخیرے میں علامتی، تمثیلی اور بیانیہ سبھی طرز کے افسانے دستیاب ہیں۔ایک محدود اور تنگ دائرے میں گردش کرنے والے ان افسانوں میں کامیاب اور ناکام افسانے شامل ہیں۔لیکن افسانوں کا کامیاب یا ناکام ہونا مظہر کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ اپنے اس محدود دائرے میں مظہر اور مظہر کے یہ افسانے بہت شاداں ہیں۔۔۔اپنے آپ میں مست ۔۔۔۔۔اسی لیے دائرے سے باہر چھلانگ لگانے کی یا اس کا حصار توڑنے کی کوئی جہت ان میں نظر نہیں آتی۔ یہ خود اطمینانی ہی مظہر سلیم کے فنّی رویے کی تشکیل و شناخت کرتی ہے۔ افسانہ ان کے پاس جس فارم میں ،جس زبان میں اور جس تکنیک میں آتا ہے مظہر کان سے پینسل اتار کر اسے لکھ ڈالتے ہیں۔مظہر سلیم کا فنّی رویہ انہیں سکینڈ ٹھاٹ دینا یا اسے re-writeکرنے کا تکلف سہارتا نہیں ہے۔اس تن آسانی ،یا خوش گمانی یا عجلت پسندی نے ان کے بہت سے افسانوں کی مٹی خراب کی ہے اور تیز دھماکے دار بارود کو سلے ہوئے پٹاخوں میں تبدیل کر دیا ہے۔’’نیا مظر نامہ‘‘اور ’’اپنے حصّہ کی دھوپ‘‘کو ہم مظہر کے نمائندہ افسانے کہہ سکتے ہیں۔
ممبئی میں نوّے کے بعد جو افسانہ نگار ابھرے ایم۔ مبین اس نسل کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نسل کی دوسری صف تیار ہی نہیں ہو سکی۔ ایم مبین کے کچھ افسانے ادھر ادھر رسائل میں پڑھے تھے لیکن ان میں کوئی افسانہ بھی حافظہ میں محفوظ نہیں ہے۔ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘اور ’’نئی صدی کاعذاب ‘‘اردو میں اور’’اذان ‘‘ ہندی میں ۔۔۔۔۔میرے پاس ان کی کوئی کتاب نہیں تھی لہذا ویب سائٹ سے ان کے اٹھائس افسانے پڑھے جو انہوں نے up loadکئے ہیں۔یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی کہ اردو کے افسانہ نگار بھی اب وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ایم مبین کے افسانوں کو پڑھتے ہی خوشی کا یہ احساس کہیں تحلیل ہو گیا۔ان کے بیشتر افسانے پرانی لیک پر چلنے والے افسانے ہیں اور انہیں پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کب گابرئیل گارسیا مارکیز کی طلسمی حقیقت نگاری کے دورسے نکل کرماضی کے سہیل عظیم آبادی کی حقیقت نگاری کے دور میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔جن پڑھنے والوں کو باریکیوں کی تلاش ہوتی ہے بلاشبہ انہیں ایم مبین کے افسانوں سے مایوسی ہی ہوگی۔ یہ افسانے قاری کی بصیرت اور بصارت کا امتحان لیے بنا ہی اپنی حقیقت منکشف کر دیتے ہیں اور یوں پڑھنے والے کوفن کے اسرار و رموز کی تفہیم کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ ان افسانوں کی کوئی خوبی ہے تو بیانیہ کی روانی اور اسلوب کی سادگی ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سادگی سادہ لوحی کی کوکھ سے برآمد ہوئی ہے لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ان اٹھائس افسانوںمیں ایک افسانہ بھی ایسا نہیں جو ذہن کے تاروں کو جھنجھوڑ دے یا جسے پڑھ کر قاری اندر سے جگمگا اٹھے۔ جو چیز سب سے زیادہ کھلتی ہے وہ ان کی سطحیت ، اکہریت اورفکری افلاسیت ۔۔۔۔۔۔اگر آپ مجھے ایم مبین کے دو نمائندہ افسانے منتخب کرنے کے لیے کہیں گے تو میں ’’سمینٹ میں دفن آدمی ‘‘اور ’’نئی صدی کا عذاب‘‘ کا نام لوں گا۔
اردو فکشن کے قاری کے لیے عبدالعزیز خان کا نام نامانوس نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ تھوک کے بھائو سے افسانے لکھ کر ممبئی عصری اردو افسانے سے اپنا بھر پور تعارف کرا رہے ہیں۔ان دس برسوں میں انہوں نے اردو فکشن میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اس کے لیے اگر لمکا گینئس بُک میں ان کا نام درج ہو جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ ’’ باتوں سے بنی کہانیاں‘‘ کے تحت ایک ہزار کے قریب مکالماتی افسانے لکھنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔یہی نہیں’’بریکنگ نیوز‘‘ کے عنوان سے صرف پندرہ صفحات پر ناول لکھنے کا ریکارڈ توڑ کمال بھی جس شخص نے انجام دیا ہے اس کا نام عندالعزیز خان ہے۔پچھلے دنوں ان کی ’’ایک سطری افسانوں‘‘ کی کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔پھول کی جگہ پنکھڑی جمع کرنے کے شوق نے ہی عزیز خان سے یہ آٹھ سو بیانوّے یک سطری افسانے لکھوائے ہیں۔حوصلہ اگر ساتھ رہا تو بعید از قیاس نہیں کہ وہ ’’یک لفظی‘‘ افسانے لکھنے کی بدعت شروع کردیں۔ان کے پیش رواور ہم عصر لکھنے والوں کے سینوں میں اب جبکہ سانسیں نہیں سما رہی ہیں اور ان کی تحریروں سے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دینے لگی ہے ، عبدالعزیز خان بفضلِ تعالیٰ مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔ان کا قلم سرپٹ دوڑ رہاہے۔ پانچ ناولوں کے ایک مجموعے کے علاوہ ان کے کئی افسانوی مجموعے ’’ایک اور بجوکا‘‘،’’مونالیزا کی مسکراہٹ‘‘ ،’’فساد،کرفیو اور کرفیو کے بعد‘‘ ،’’اور بجوکا ننگا ہو گیا‘‘اور ’’سلم ڈاگ ملینئر ۔‘‘ بڑے ٹیم ٹام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ شائع ہوئے ہیں اور۔۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔
نوّے کے بعد ممبئی کے فکشن کے آسمان پر چمکنے والے سبھی ستاروں کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ ڈھیر سارا لکھنے کے باوجود بھی بے توفیقی کا یہ عالم ہے کہ ان کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ اپنی فنی قدر و قیمت کے بوتے پر قاری کے ذہن میںاپنے عنوان ریکارڈ نہیں کرواپایا ہے۔ ایک عرصے کے بعد فن اور فنکار یا افسانہ اور افسانہ نگار ایک دوسرے کی شناخت کا حوالہ بن جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیں ’’ڈونگر واڑی کے گدھ ‘‘کے ساتھ ہی علی امام نقوی یاد آ جاتے ہیں یا انور خان کا نام لیا جائے تو دوسرے ہی لمحے ’’لمحوں کی موت ‘‘ سے لے کر’’ کتاب دار کا خواب ‘‘تک کتنے ہی افسانوں کے عنوانات ذہن کے افق پر تیرنے لگتے ہیں۔ سریندرپرکاش، سلام بن رزاق،ساجد رشید،م ناگ کے ساتھ بھی لگ بھگ یہی معاملہ ہے مگر مظہرسلیم ہوں یا اشتیاق سعید یا ان کے دوسرے رفقاء اس قدر بے مایا اور تہی دست ہیں کہ ایک عرصے سے لکھنے بلکہ مسلسل لکھتے رہنے کے باوجود ان کی کوئی تحریر قاری کے ذہن میں مستقیل جگہ بنائے رکھنے میں ہنوز ناکام ہے۔
اشتیاق سعید کا تعلق بھی اس صدی کے آغاز میں ابھرنے والی نسل سے ہے۔ افسانہ نگاری سے قبل انہوں نے ڈرامے بھی تحریر کئے ہیں۔ان کا تحریر کردہ ڈرامہ’’نعرہ بکتا ہے‘‘کتابی شکل میں دستیاب ہے۔حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ہل جوتا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں کُل اٹھارہ افسانے اور ایک مقدمہ ہے۔ان کے تحریر کردہ مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ ساجد رشید کو وہ اپنا mantor مانتے ہیں۔کاش وہ ساجد رشید سے کہانی کہنے کے گُر بھی سیکھتے۔
ہندی میں گائوں کے افسانے نسبتاً زیادہ لکھے گئے ہیں اردو میں تو گائوں میں قیام پذیر قلمکاروں کی تحریروں میں بھی شہر چیختا اورچنگھاڑتا ہے۔بے شک ان دنوں شہر و گائوں کی دوریاں مٹتی جا رہی ہیں اوردونوں کی شکلیں ملتی جا رہی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گا ئوں یا شہر کا پس منظر افسانہ نگار کے اسلوبیاتی بنیاد کی نشاندہی تو کر سکتا ہے لیکن فنی سا لمیت اور تخلیقی وحدت کا جواز نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی یہ اشتیاق سعید نے ممبئی جیسے شہر میں رہتے ہوئے گائوںکے back dropمیں افسانے لکھے اور یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
دہاڑی پر کام کرنے والے کسان،کھیت کھلیان،لہلہاتی فصل،جیٹھ بیساکھ کی چلچلاتی دھوپ،ساون کی پہلی پھوار،گوبر کی لپائی کرتی عورتیں ،مہنت، پردھان،پروہت،گائوں کی چوپال،جن پنچایت،کھیت کی منڈیریں،ستیہ نارائین کی کتھا،گائے کے ڈکارنے کی آوازیں،مونج کی رسی سے بندھے کھیتوں میں کھڑے بجوکا،سوکھتے ہوئے کنویںِ،کھیتوں میں اچانک پھوٹتے پانی کے چشمے ،ہریجنوں کی بستی،مہواکی شراب،مٹی کی سوندھی سوندھی مہکاریں،حقّہ گڑگڑاتے ،بلغم تھوکتے بوڑھے ،ٹیوب ویل،گائوں کی عورتیں،چرن چھوتے اور آشیرواد لیتے بچے اور جوان،دیوی پرکوپ سے خوفزدہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرضکہ اشتیاق سعید ان کے افسانوںمیں دیہی زندگی کے منظر جا بجا ابھرتے ہیںلیکن یہ تخلیقی وحدت کا حصّہ نہیں بنتے بس افسانوی فریم ورک میں آدھے ادھورے اور شکستہ بجوکا کی طرح بے حس و بے حرکت ہاتھ پسارے جہاں تہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔stock emotionsنے افسانے کی روح کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
ڈرامہ سے اشتیاق سعید کا تعلق کس قدر گہرا رہا ہے لیکن ان کے افسانوں کا بیانیہ میں وہ تجسس خیزی اور بصری ڈرامائی صورتحال کر داروں کا تصادم اور سچویشنز کی کشمکش کا فقدان ہے جو اکہریت اور سپاٹ پن کو جنم دیتا ہے۔ کہیںکہیں انہوں نے جذباتی شدّت پیدا کرنے یا کیفیت کو ابھارنے کی خاطر اپنے لہجے کو انڈر لائین کیا ہے جس نے افسانوی بیانیہ کی روانی کو بری طرح متاثر کیا اور کرداروں کو fakeبنا دیا ہے۔ اشتیاق سعید بھی برسوں سے لکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے قلم تلے رکھا ہوا کورا کاغذ ایک ایسے افسانے کا منتظیر ہے جسے ممبئی کی بھاشا میں ’’سالڈ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن قمبرعلی جیسوں کی بھی ہمارے یہاں کمی نہیںجنہیں اشتیاق سعید کا ’’بجوکا‘‘ افسانہ سریندر پرکاش اور سلام بن رزاق کے ’’بجوکا ‘‘سے زیادہ بہترافسانہ لگتا ہے۔ ویسے تو کمی تو ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی بھی نہیں ہے جن کا ماننا ہے کہ امریکن excentمیں انگریزی بولنے سے دانتوں کو کیڑے نہیں لگتے۔ کیا کیا جائے؟؟؟
اصل مسئلہ نئے لکھنے والوںکی مجرمانہ معصومیت اور سادہ لوحی ہے جو اپنے متعلق کہے یا لکھے ہر توصیفی کلمات پر ایمان لانے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔اب چاہے کسی نقادکے نجی خط میں رسماً لکھی ہوئی عبارت ہو یا کسی سنئیر رائٹر کے ذریعے مروتاً تحریر کیاگیا تعریفی نوٹ ہو۔ ان توصیفی کلمات اور تبصروں کو اگر کوئی اپنے کارناموں کا momento سمجھنے لگے تو بھلا کوئی کیا کر سکتا ہے۔نئے لکھنے والوں میں اکبر عابد قریشی اور ڈاکٹر سلیم خان کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔سلیم خان کے افسانوں کا مجموعہ ’’حصار‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے جو زندگی کی کثافتوںپر رومانی لطافتوں کے غالب آنے کی داستان بیان کرتے ہیں جبکہ اکبر عابد قریشی نے اپنی کتاب ’’چپ چاپ‘‘ میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ان کے علاوہ محتشم اکبر اور شاداب رشید بھی ان دنوں افسانہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ان کے افسانے مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
آخر میں اپنے اس مضمون کو سمیٹتے ہوئے اتنا کہوںگا کہ زندگی کو جس روپ میں پریم چند، سریندر پرکاش، سلام بن رزاق دیکھ رہے تھے وہ زندگی بعد کے لکھنے والوں کے حصّے میں نہیں آئی۔ گزشتہ بیس برسوںجو اقدار بدلی ہیں،جینے کے جو pattern تبدیل ہوئے ہیں اس نے زندگی کوجس قدر پے چیدہ اور مشکل بنا یا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ کہنے کے لیے دنیا کو ایک عالمی گائوں یعنی گلوبل ولیج میں بدل دیا گیاہے مگر اسی کے ساتھglobal marketingکے ان گنت آ ہنی ہاتھ نہایت تیزی، چالاکی، ہنرمندی اور ظالمانہ طریقے سے ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور وراثت کودبوچ رہے ہیں۔جو لفظ نئے لکھنے والوں نے وراثت میں پائے تھے وہ لفظ اپنی حرمت بھی کھو چکے ہیںاور معنویت بھی۔
ایک وقت تھا جب ہر دس سال بعدافسانہ نگاروں کی کھیپ نمودار ہوجایا کرتی تھی اور اب صورتحال قحطِ دمشق کی سی ہے۔ ممبئی کے افسانوں کی محفل ودھوا کے آنچل جیسی اجڑی ہوئی ہے اورنئے افسانہ نگارblack patch سے گزر رہے ہیںگو کہ اس برے وقت کے لیے وہ خود جتنے ذمہ دارنہیں ہیں اس سے زیادہ وہ ماحول اور وقت بھی ہے جس میں وہ لکھ رہے ہیں۔
زندگی جس طرح آج کے انسان کو برت رہی ہے اس نے آرٹسٹ کے سر پر دوہری ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اپنی تخلیقی نہج اور فنی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آج کی زندگی سے اپنے محاورے حاصل کرنااس کے لیے اشد ضروری ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے اور حیرت سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ نوّے کے افسانہ نگاروں کے پاس نہ تو آج کی زندگی کو پیش کرنے لیے آج کے محاورے ہیں نہ ہی نئی حسّیت۔۔۔۔۔۔ اظہار کے toolsتک زنگ آلود ہیں۔ شاید اسی لیے سماجی اور جذباتی مطالعات کے ساتھ جو نئے رحجانات ممبئی کے اردو فکشن میں طلوع ہونے چاہئے وہ موضوعاتی سطح پر تو کہیں کہیں اپنی جھلک دکھلا جاتے ہیں لیکن یہ رحجانات تخلیقی تجربے کی وحدت میں مبّدل ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ممبئی کے یہ نئے لکھنے والے (گو کہ ان کے برتھ سر ٹیفکیٹ میں درج ان کی عمر اور ان کی کنپٹیوں پر ابھرتی سفیدی مجھے ان کو نیا کہنے سے روکتی ہے ) ابھی تک اپنے سنئیراور پیش رئو لکھنے والوں کی دال سے کام چلا رہے ہیںاور بہت فاصلے سے ان کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے اپنی فنی مفلسی اور فکری کنگالی کا انہیں احساس تک نہیں۔ ان نئے لکھنے والوں کے افسانوں کے مطالعے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ستّر پانچ پچھتر سالہ بزرگ افسانہ نگار اقبال مجید ان لوگوں سے کہیں زیادہ جواں سال اور ماڈرن ہے۔ احساس و ادراک میں بھی اور فنی رویوں کے اظہار میں بھی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

Majaz Ka Tassaur E Jamal

Articles

مجازؔ کا تصور ِجمال

ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

 

دنیا کی ہر قدیم و جدید زبان کا شعری و نثری ادب اور آرٹ کے سبھی اسکول تذکرۂ حسن وجمال سے بھرے پڑے ہیں ۔زبان خواہ ادب کی ہو یا رنگ ونور کی موسیقی کی ہو یا رقص وسرود کی ، بہر حال کسی نہ کسی شکل و صورت میں نمائش و اظہار حسن وجمال سے عاری نہیں ہے۔اس نمائش واظہار کے طریقے اور مظاہر گونا گوں ہیں۔شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں ، سننے والے کان، محسوس کرنے والادل اور سمجھنے والا دماغ ہو۔
’’جمالیات‘‘ نسبتاََ ایک قدرے جدید اصطلاح ِ ادب سمجھی جاتی ہے لیکن حقیقتاََ ایسا نہیں ہے ۔ البتہ اس کو سمجھنے اور محل استعمال کے سائنٹفک مطالعہ کی کوششیں کسی قدر نئی ضرور ہیں ۔ جمالیات کے بنیادی موضوع کے متعلق ہم اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک اس کا علم حاصل نہ ہوجائے اور اس کے جوہر کی پہچان نہ ہوجائے۔ جمالیات کی ایک بڑی تاریخ ہے، اس نے بہت سی ارتقائی منزلیں طے کی ہیں۔ اگرچہ جمالیات بذات خود ایک فلسفیانہ اور تکنیکی اصطلاح ہے لیکن خود جمالیات نے کتنی نئی اور معنی خیز اصطلاحوں کو جنم دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لفظ’’ جمالیات‘‘ کی صرف ایک مکمل تعریف پیش کرنا ممکن نہیں ، پیاز کے چھلکوں کی طرح اس کے معانی و مفاہیم تہہ بہ تہہ ، پرت در پرت پوشیدہ ہیں۔جمالیاتی تصورات کو مختلف مثالوں ، نمونوں اور تشریحات کے ذریعہ سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔اس تھیوری کو سمجھنے کے لیے اسرارالحق مجازؔ کی شاعری کو نقطۂ مطالعہ بنایا گیاہے۔
کلیات مجاز ’’آہنگ‘‘ اور ان پر لکھے گئے مختلف النوع مضامین کے بالاستیعاب مطالعے سے جمالیات کی راہیں پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوجاتی ہیں۔مثال کے طور پر مجاز کی نظم ’’ تعارف‘‘ کو ان کے جمالیاتی شعور کا نچوڑ سمجھا جاسکتا ہے۔ کلیات مجاز کا وہ ایڈیشن جسے آزاد کتاب گھر کلاں محل دہلی نے مارچ ۱۹۵۲ء میں شائع کیا تھاجس میں نظم تعارف صفحہ ۶۱ پر شائع کی گئی ہے جب کہ اصول ترتیب کے اعتبار سے اسے فیض احمد فیض کے تحریر کردہ دیباچہ کے فوراََ بعد ہونا تھا ۔ نظم کے اختتام پر سن تصنیف ۱۹۳۵ء لکھا ہوا ہے جب کہ صحیح سن تصنیف ۲۸ ستمبر ۱۹۳۱ء ہے یہ مستند خبرمجاز کے والد سراج الحق نے پنے عزیز دوست شیخ ممتاز حسین جونپوری کو دی تھی جس کو انھوں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح نقل کیا ہے:
’’مجازؔ نے اپنی تعارف والی نظم جو ۲۸ستمبر ۱۹۳۱ء کو اپنے کرم فرما آصف علی صاحب ایم۔ایل ۔اے کے آرام کمرے میں بیٹھ کر خدا جانے کیا سوچ کر لکھی تھی‘‘
( مضمون: مجاز کا سوگ اور اس کی شاعری، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱)
اگر جامع و مانع انداز میں کہا جائے تو مجاز سراپا جمال تھے یعنی ان کوقدرت نے کچھ ایسی حسن پرستی اور جمال پسندی عطا فرمائی تھی کہ وہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں جلوۂ جمال دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر نظم’’تعارف‘‘ حقیقی معنوں میں از ابتدا تا انتہا مجازؔ کے ذوق جمال کی بولتی تصویر ہے۔نظم کا مطلع یا پہلا شعر خیالات وجذبات شاعر کی افہام وتفہیم میں بلا مبالغہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے :
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
پہلے مصرعے کی تحکمانہ بناوٹ مصرع کی جزالت و معنویت کو کہیں سے کہیں پہنچا رہی ہے۔ بجائے اپنے تخلص کے نام اسرار( اسرارالحق) کا استعمال جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ معنوی اعتبار سے ’’اسرار ‘‘ جو ’’سِر‘‘ بمعنی راز کی جمع ہے ، شاعر کی شخصیت میں ایک خاص وزن ووقارکا آئینہ دار ہے۔ بہ الفاظ دیگر شاعر اپنے وجود اور اس وجود سے منسلک درجنوں رازوں کے پوشیدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتے ہیں تو وہ یکے بعد دیگرے ہر راز کھولتا چلا جاتا ہے مثلاََ :
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
مصرعۂ ثانی کا بے ساختہ پن یا بے تکلفی شاعر کی مکمل شخصیت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کسی تھیٹر کا پردہ اچانک کھلا اور پردے کے پیچھے چھپے ہوئے مناظر و کردار ہماری نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔ یہ ڈرامائی کیفیت نہایت درجہ آگاہ کن(Alarming) اور مہیّج (Stimulating)ہے۔ شاعر نے جنس الفت کے علاوہ کسی دوسری چیزکی طلب گار ی ہی نہیں کی۔ اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعر ہر اس شے ، وجود یا جذبے کو پسند کرتا ہے جس میں جنس یا اس کی پسندیدگی شامل ہو۔ بس یہی پسند تو ’’جمالیت‘‘ ہے خواہ اس کی تعمیر میں منفیت ہو یا اثبات ہو۔ رومان کا مرکز ثقل ہر خوبصورتی ہے۔ جب کہ جمالیات کا نعرہ یہ ہے کہ جو بھی چیز مجھے پسند ہے وہ حسین ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجازؔ کی شاعری میں قطعی طور پر رومان کا فقدان ہے لیکن مادی اور جنسی محبت کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار میں جمالیات کے نقطۂ نظرکی بھی حد سے زیادہ کارفرمائی ہے ۔ جمال پرستی کا پہلا نمونہ ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ہم مجاز کو علی گڑھ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اپنی یاد گار زمانہ نظم ’’نذر علی گڑھ‘‘ ۱۹۳۶ء میں مجاز کہتے ہیں:
اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سر گوشی ، پروین سے رشتے جوڑے ہیں
اس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں، اس بزم میں ساغر توڑے ہیں
اس بزم میں آنکھ بچھائی ہے ، اس بزم میں دل تک جوڑے ہیں
بادی النظر میں ایک عام قاری یا اردو ادب کا ایک باضابطہ ذہین طالب علم مذکورہ بالا مصرعوں کی تشریح کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ ناہید وپروین افلاک کے دو بلند پایہ خوب صورت اور روشن ستارے ہیں لیکن حیاتِ مجاز کے پس منظر میں شاید لاشعوری طور پر ان کا استعمال تزئینِ بیان کے لیے کیا گیا ہے۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے لکھا ہے کہ:
’’ہم اسے مجاز ؔکا خاص انداز بھی تصور کرسکتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اشعار میں ایسے اسما نظم کیے ہیں جو ہمارے معاشرہ میں لڑکیوں کے عام نام خیال کیے جاتے ہیں ۔ پروفیسر محمد حسن نے اپنے ایک مضمون میں نذر علی گڑھ کے (مذکورۂ بالا) ایک شعر کی نشان دہی کی ہے جس میں ناہید اور پروین کا نام آیا ہے ،جن کی طرف سے مجاز کے لیے پیغام آیا تھا‘‘
( مضمون: عشق مجازی اور دیوانگی، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱۳)
’’نورا‘‘ مجازؔکی ایک نمایندہ نظم ہے ۔ ۳۵ اشعار پر مشتمل اس نظم کا ذیلی عنوان ’’نرس کی چارہ گری‘‘ ہے۔اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’نورا‘‘ کی معصومیت اور والہانہ خدمت گزاری نے جس طرح بیمار مجازؔ کے احساس جمال کو مہمیز کیا ہے۔ شاعر کی کشادہ دلی اور بے تعصبی دیکھیے کہ وہ نرس کی شخصیت اور عقیدے کی بھی پذیرائی کررہا ہے ۔اس سے انجیل مقدس کی تلاوت کو عقیدت بھرے کانوں سے سن رہا ہے۔ اسے بنت مریم ، ارض کلیسا کی ماہ پارہ تثلیث کی دختر نیک اختر اور کنیز سلیمان کے القاب سے یاد کرتا ہے پھر اس سے خاموش محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اس اظہارکی پاکیزگی اور بے ساختگی نے اس بھولی بھالی معصوم نرس کے منھ یہ پیغام کہلوالیا کہ ع
کہ کس روز آؤ گے بیمار ہوکر
مجازؔ ایک ایسا شاعر ہے جو محض رومانی خیالات اور بیان عشق و محبت تک ہی ا پنی شعری تخلیقات کو محدود نہیں رکھتابلکہ جب یہ رومان جذبۂ عشق و محبت اور کاروبار شوق پختہ تر اور تابندہ تر ہوجاتا ہے تو شاعر کی نگاہ ماورائے حسن و عشق بھی دیکھنے لگتی ہے۔ اب وہ حسین اشیا اور پر کشش واقعات کے علاوہ کم رتبہ اشخاص، غیر اہم واقعات ، غیر شاعرانہ مناظر اور اکثر ناپسندیدہ باتوں میں بھی حسن کی علامتیں ، عشق کی سرگرمیاں اور غیر ذی روح میں بھی روحانیت کی جھلکیاں دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بصارت کی معراج ہے جو سفرِ بصیرت میں بھی فن کار کی معاونت کرنے لگتی ہے۔ مثال کے طور مجازؔ کی نظم ’’رات اور ریل‘‘ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ۔یہ نظم چالیس اشعار پر مشتمل ہے اور ۱۹۳۳ء کی تخلیق ہے جب ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ مجازؔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ تو تھے لیکن ’’رات اور ریل‘‘ اس انجمن کا ثمر پیش رس نہیں تھی۔ انھوں نے آگرہ میں انٹر میڈیٹ کے طالب علم کی حیثیت سے ۱۹۲۹ء میں شاعری شروع کی تھی ۔ ۱۹۲۹ء اور ۱۹۳۳ء میں محض چار سال کا فرق ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجازؔ نے انگریزی میں Robert Southey کی نظم ’’The Train‘‘ اور لسان العصر اکبر الہ آبادی کی نظم ’’ریل‘‘ ضرور پڑھی ہوگی لیکن ’’رات اور ریل‘‘ مجازؔ کی طبع زاد نظم ہے۔ ان کاذہن جذبیؔ، فانیؔ اور آل احمدسرور کی صحبت میں اتنا ترقی پذیر ، مشاہدہ اتنا بالغ اور زبان اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ فطری احساس جمال کی آبیاری اس درجہ باثمر ہوگئی۔ ریل کا بیان چھوٹے بچوں کے لیے صرف تفریح اور دل بستگی کا سامان ہوتا ہے جیسا کہ مجازؔ نے کہا ہے کہ ع
نونہالوں کو سناتی ، میٹھی میٹھی لوریاں
خیر یہ تو الگ بحث ہے۔ نظم کو پڑھ کر ایک سنجیدہ قاری بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ شاعر کا لب ولہجہ نرم اور رومانوی ہے اس میں ترقی پسندوں کے علم باغیانہ اور انقلابی تیور نہیںہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ شاعر کے دل ودماغ میں انقلابی جراثیم کی موجودگی سے یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود اگر ہم غور کریں تو بیک وقت کئی جمالیاتی پہلو اندھیرے میں رہ رہ کر ہماری آنکھوں کو چکا چوند کردیتے ہیں۔ مثلاََ نیم شب کی خامشی، زیر لب گنگنانا، چھم چھم کا سرود دل نشیں ، نازنینوں کو سنہرے خواب دکھانا، سیماب چھلکانا، رخش بے عناں، چراغ طور دکھلاناوغیرہ یہ تمام صوتی محاسن اور بصری مناظر ایک جمال پسند شاعر کے فنی آلے اور شعر ی اوزار کہے جاسکتے ہیں۔
’’آہنگ‘‘ صرف ایک مجموعہ کلام ہی نہیں بلکہ مجازؔ کے لطیف جذبات اور فلک بوس خیالات کا دل نواز غیر فانی البم بھی ہے۔جمالیاتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ’’ آوارہ ‘‘ بھی مجاز ؔ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ نظم ۱۹۳۷ء میں کہی گئی تھی ۔اس زمانے میں مجاز ؔ آل انڈیا ریڈیو ، نئی دہلی سے منسلک تھے اور A.I.R. کے رکن کی حیثیت سے پندرہ روزہ ’’آواز‘‘ کا سب ایڈیٹر تھے۔ مجازؔ کی بہن حمیدہ سالم لکھتی ہیں :
’’ جگن بھیا۱۹۳۶ء میں دہلی گئے اور تقریباََ ایک سال تک ’’آواز‘‘ کی سب ایڈیٹری کے فرائض انجام دیے۔ دہلی کے قیام کے دوران جگن بھیا کے دل نے ایک ایسی چوٹ کھائی جس کا زخم ان کی زندگی میں کبھی نہ بھر سکا‘‘
(مضمون: جگن بھیامطبوعہ افکار ، کراچی ، مجاز نمبر ص ۵۶)
دہلی میں لگنے والی جس دلی چوٹ کی طرف مجاز ؔ کی بہن حمیدہ سالم اور کچھ سوانح نگاروں نے اشارہ کیا ہے کہ اس کا سبب زہرہ تھیں جن کی دلکش اداؤں نے شاعر کے دل کو اس درجہ متاثر و محسور کیا کہ وہ فلمی انداز سے مجازؔ کے دل ودماغ پراس قدر مسلط ہوگئیں کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور جب پتہ چلا کہ وہ ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے تو ان پر عجیب و غریب وحشت و دیوانگی کا دورہ پڑگیا۔زہرہ کے والد دہلی میں کسی کالج کے پرنسپل تھے۔ ایک بار زہرہ مجازؔ کو اپنے والد سے ملوانے لے گئیں تو پہلے انھوں نے مجازؔ کا خوش روئی سے استقبال کیا لیکن جب مجازؔ سے ان کی آمدنی کے بارے میں پوچھا تو اٹھ کر اندر چلے گئے اور زہرہ سے نہایت ناگوار لہجے میں کہا کہ میں ایسے لوگوں سے نہیں ملتا جس کی آمدنی صرف دو تین ہزار روپے ہو ۔ اس توہین آمیز برتا ؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے مجازؔ زہرہ کے گھر سے چلے آئے۔اوڈین سنیما کے پاس پہنچتے پہنچتے ان کے قلب مضطر کے زخموں کی سوزش ناقابل برداشت ہوگئی ۔ کچھ دیر تک اِدھر اُدھر بے مقصد ٹہلتے رہے، دوکان سے سگریٹ اور کاغذ خریدا اور بنچ پر بیٹھ کر لکھنے لگے:
شہر کی رات ، اور میں ناشاد وناکارہ پھروں
جگمگاتی ، جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر دہکی ہوئی شمشیر سی
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
یہ روپہلی چھاؤں ، یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ ، لیکن کون جانے کون سمجھے دل کا حال
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
پہلے بند میں ’’ غیر کی بستی‘ سے مراد دہلی ہے جہاں مجازؔ ملازمت کرتے تھے اور یہیں ان کی منظور نظر زہرہ بھی رہتی تھی لہٰذا شاعر کے لیے یہ شہر جمالیات کا مرکز تھا ۔ اگر زہرہ تک شاعر کی مستقل رسائی ممکن ہوتی تو یقین تھا کہ مجازؔ دہلی کو غیر کی بستی کہہ کر نہ پکارتے گو یا دہلی اور زہرہ دونوں شاعر کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ ان کی عدم یافت نے گویا احساس جمال میں یکبارگی پچاس فیصدی کمی کردی۔ شاعر کے ذہن میں اس لمحے تک جھلملاتے قمقموں کی زنجیر ، رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر اس وقت تک جلوہ افروز تصورات تھے جب تک زہرہ کے وصل کی آس تھی۔ صوفی کا تصور اور عاشق کا خیال کے استعارے جان بوجھ کر استعمال کیے گئے ہیں کیوں کہ صوفی اللہ کے تصور میں کھویا رہتا ہے اور عاشق اپنی محبوبہ کے خیال میں گم رہتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر صوفی اور عاشق دونوں ہی اپنے اپنے نشانات کو شاذ ونادر ہی پاسکتے ہیں۔ جمال بھی بعض اوقات حقیقی موجودات سے آشنا ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر خوش فہمیوں کا شکار بنتا ہے۔
پندرہ بندوں پر مشتمل مذکورہ نظم میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر بند کا تیسرا مصرع مجازؔ کی شکست اور ہزیمت کا اعلان نامہ محسوس ہوتا ہے ۔ ان مصرعوں میں شاعر کی شکست خوردگی کی علامت بھی ہے اور اس میں پوشیدہ جمال پرستی کے نمونے بھی ہیں جن سے شاعر کو ناقابل بیان لذت آفرینی ملتی ہے ۔ اس لطیف شے کے لیے وہ تا عمر متلاشی اور تمنائی رہے ۔ اس لذت آفرینی کا صحیح احساس آپ کو اور ہم کو نہیں ہوسکتا ۔ اس احساس کے لیے مجازؔ کا سا دل، اس کے خونیں تجربات اور اس قوت آخذۂ جمال کی ضرورت ہے جو خدا نے مجازؔ کو عطا کیا تھا۔
نظم ’’ آوارہ‘‘ کے حوالے سے چند باتیں خصوصیت کے ساتھ عرض کرنی ہیں، پہلی بات یہ کہ نظم رومان سے شروع ہوکر انقلاب پر ختم ہوتی ہے۔ نظم کے نصف حصے تک مجازؔ کی شاعری جمالیات کی بہترین مثال ہے۔نظم کے آخری چار بند جارحانہ اور انقلابی جذبات کی بازگشت ہیں۔ ان بندوں کا لب و لہجہ، Diction اور انداز پیش کش ترقی پسندوں کی حرکیMovementsکا مظہر ہے جس سے شاعر کی چڑچڑاہٹ اور تخریب کاری کا پتہ چلتا ہے۔ علم نفسیات کا اصول ہے کہ محبت ونفرت اعتدال کے ساتھ بیک وقت یکجا نہیں ہوسکتے لہٰذا میرا خیال ہے کہ آوارہ کے ابتدائی بند اوڈین سنیما کے آس پاس کہے گئے ہیں باقی بند بعد میں کسی اور مقام پر کہہ کر اس نظم میں جوڑے گئے ہوں گے۔ آوارہ کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس نظم کا جنم مجازؔ کی شراب خوری کے دوران ہرگز نہیں ہوا کیوں کہ زبان کی جو لطافت ، الفاظ کا جو انتخاب اور مصرعوں کی جو ادبی سجاوٹ اس نظم میں نظر آتی ہے وہ نشے کے عالم میں ممکن نہیں۔ ایک قابل توجہ امر یہ ہے کہ آوارہ کے مصرع ’’ پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل‘‘ کی قرات غلط ہے اسے شہناز و لالہ رخ ہونا چاہیے۔ علی گڑھ میں شہناز اور لالہ رخ نام کی دو نوجوان لڑکیاں تھیں جنھیں مجازؔ پسند کرتے تھے۔آخری بات یہ کہ آوارہ سراسر خود کلامی یا Soliloquy(صحبت باخود) کا عملی نمونہ ہے ۔تنہائی جمالیاتی اصطلاح ہے جسے مجازؔ نے اس نظم میں بہ حسن خوبی استعمال کیا ہے۔ فراق گورکھپوری نے لکھا ہے کہ:
’’ یہ نظم شاعر کی زندگی کے آخری چھ سات سال اور اس کے المناک خاتمے کی پیشین گوئی تھی۔ یہ نظم بارود پر چنگاری کے منڈلانے کا منظر پیش کررہی تھی۔نظم کی نوک پلک نظر فریب بھی تھی اور اعلا ن خطرہ بھی کررہی تھی ۔ایک سوئے ہوئے جوالا مکھی کے عنقریب پھٹ جانے کی گڑگڑاہٹیں اس نظم میں سنائی دیتی تھیں۔ نظم میں ایک خطرناک دلکشی تھی ۔اس میں مقناطیسی کشش تھی مگر نظم کے سحر سامری سے انکار ممکن تھا‘‘
(مضمون: ایسے پیدا کہاں ہیں مست وخراب، مشمولہ افکار(کراچی) مجازؔ نمبر ص ۱۷۱)
آوارہ کے علاوہ مجازؔ کی کہی ہوئی نظمیں مثلاََ نذردل، مجبوریاں، نذرخالدہ، خواب سحر،آبنگ نو، آج بھی، لکھنؤ، اعتراف ،بتان حرم اور فکر وغیرہ بھی جمالیاتی مطالعہ کا تقاضہ کرتی ہیں۔
مذکورۂ بالا نظموں کے علاوہ مجازؔ کی تخلیق کردہ غزلیں بھی ان کے مخصوص تغزل کی بو قلمونی اور خیالات وجذبات ست رنگی قوس قزح کی دلکشی ودل ربائی کے سہارے ہمارے احساس شعروشباب اور نوخیز جلوہ ہائے جمال کی منفرد عکاسی کرتی ہیں۔یہاں پر اس بات کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا کہ دنیا میں جتنے بھی فنون لطیفہ ہیں وہ کم وبیش سبھی فلسفۂ جمالیات سے اکتساب فیض کرتے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر قاضی جمال حسین کا یہ محاکمہ قابل توجہ ہے:
’’ بام گارٹن نے حسن کے تمام مظاہر اور احساس حسن کی تمام کیفیات کو جمالیات کے دائرے میں شامل کیا تھا، خواہ اس حسن کا تعلق مناظر فطرت سے ہو، انسانی حسن یا فنون لطیفہ سے۔ ایسی ہر چیز اور ایسے تمام مظاہر حسن جن کا حسی ادراک مسرت بخش ہو اور جو ہمارے احساس جمال کو بر انگیختہ کرے ، جمالیاتی مطالعہ کا موضوع ہے‘‘
( جمالیات اور اردو شاعری ص ۱۳)
اس بیان کی روشنی میں غزلیات مجاز ؔ کا مطالعہ بلا شبہ مسرت بخش اور بصیرت افروز ہے۔بعض کم علم ،جلد باز اور تنگ نظر اشخاص غزل کو ایک محدود ، پسماندہ اور تنگ دامن صنف سخن سمجھتے ہیں جیسا کہ کلیم الدین احمد نے سمجھا اور سمجھایایا بعض نام نہاد ترقی پسندوں نے اس غلط نظریے کی تبلیغ کی ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غزل کی تثلیث (عاشق، محبوب اور رقیب) کا ئنات کی وسعتوں کو آشکار کرتے آئے ہیں۔ مجازؔنے نظمیں زیادہ کہیں اور غزلیں تعداد میں کم کہی ہیں لیکن جتنی کہی ہیں وہ فنی لحاظ سے بہت عمدہ ہیں۔ مثال کے طورپر یہ غزلیہ اشعار دیکھیے جو ایک سنجیدہ قاری سے مجازؔ کی صناعی اور فن کاری کی داد مانگتی ہے:
حسن کو بے حجاب ہوناتھا
شوق کو کامیاب ہونا تھا
ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل ہی شراب ہونا تھا
تیرے جلوؤں میں گھر گیا آخر
ذرے کو آفتاب ہونا تھا
کچھ تمھاری نگاہ کافر تھی
کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
جس طرح رنگ برنگی مچھلیاں صاف و شفاف پانی میں ڈبکیاں لگاتی ہوئی خوبصورت نظر آتی ہیں بالکل اسی طرح ایک اچھی غزل کے اشعار رومانیت ، غنائیت اور جمالیت کے رس میں ڈوب کر پڑھنے اور سننے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور معنویت اور تاثر کے لحاظ سے بے پناہ ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:
فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذاللہ
یہ نالے نارسا ہوکر ، یہ آہیں بے اثر ہوکر
اس شعر میں معاذاللہ کی ترکیب کے عرفان سے شاعر نے جو فائدہ اٹھایا ہے وہ معنوی پہلو سے شعر وادب میں مجاز ؔ کا بہترین تحفہ ہے۔نالوں کی نارسائی اور آہوں کی بے اثری کا عالم ، امید وبیم اور حسرت ویاس کے ساتھ نیلے آسمان کو تکتے رہنے کا مزہ اسی کو ہوتا ہے جو ایک فطری جمال پرست عاشق کی طرح زخم کے کرب کی لذت سے آشنا ہو۔ اسی طرح کا ایک اور شعر :
یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں
شفق کی سرخیاں بن کر تجلیِ سحر ہوکر
جب عاشق دل میں حسن محبوب کی یاد کو بسا کر آسمان کی طرف تکتا رہتا ہے تو فطری طور پر وہ بہ قدر ذوق نظر فضائے آسمانی سے فیض یاب ہوتا ہے ۔ شفق کی سرخیاں ، صبح کے خوبصورت اجالے کا اس کے دل ودماغ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کی نگاہوں میں ایک جہان فکرو نظر آباد ہوجاتا ہے۔ایک غزل میں مجاز ؔ کہتے ہیں:
تو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے
دل جہاں ہے گوش بر آواز ہے
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے
آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم
میری میخواری بھی اب تک راز ہے
ان اشعارکو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجازؔ نے بغیر مضمون آفرینی کا مصنوعی سہارا لیے محض رومانی زبان ، ذاتی تجربات اور جذباتی لب ولہجہ استعمال کیا ہے۔ مذکورہ اشعار با لکل نجی عشق کے آئینہ دار ہیں لیکن ان میں جو رنگ جمال پوشیدہ ہے وہ ذاتی ہوکر بھی دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مختصر سے محاکمے کے بعد یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مجازؔ کی شاعری میں جمالیاتی قدریں نظریۂ اظہاریت کی بہترین مثال ہے۔ آہنگ کی جملہ شاعری میں مجازؔ نے اپناجمالیاتی احساس اور حسن وعشق کے سربستہ رازوں کو تمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کیا ہے۔ یہاں پر یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کلیات مجاز کا جمالیاتی مطالعہ ادبی مطالعے سے کہیں زیادہ وسیع النظری اور ہمہ گیر یت کا مطالبہ کرتا ہے۔
٭٭٭

Mazameen E Sir Sayed

Articles

مضامینِ سر سیّد

سر سیّد احمد خان

 

رسم و رواج​

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لئے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے کیونکہ جن باتوں کی چُھٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اسکے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے، جس چیز کا رواج ہو گیا اور عادت پڑ گئی وہی اچھی ہے اور جس کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے، رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اسکے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا کونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسہ کر لینا نہ چاہیئے بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیئے تا کہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسب رسم و رواج کے ہم کو اسکی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر گاہ معیوب ہونا اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدم رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امیر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے، بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے مگر جبکہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ ہوگا۔ پس ہم کو اس طریقہ کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کو بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیئے۔

سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔

یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیئے تا کہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اسکے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اسکے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

جبکہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسوم و عادات کے ان کا مبدا اور منشا متحد معلوم ہوتا ہے۔

کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں انکا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہے۔ یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبدا معلوم ہوتے ہیں۔جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں انکے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے انکو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر انکے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لندن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندی قواعد سے آتش خانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جائے۔

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جائے اور اگر ہم ان پہلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلا شبہ بمقابل ان قوموں کے جنہوں نے ترقی کی ہے ہم ذلیل اور خوار ہونگے اور مثل جانور کے خیال کئے جاویں گے، پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں، انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور ناتربیت یافتہ قوموں کو ذلیل اور حقیر مثل جانور کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شایستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانور کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے؟ ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیئے۔

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے مگر جب وہ رسمیں اندھے پن سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لئے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اسکی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربہ کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونیکا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادہ کے اور انکی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنیکے بغیر داخل ہو گئی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں، یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجہ کی تہذیب پر پہنچا دیں تا کہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظر تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

جو رسومات کے بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لئے ہیں خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں مگر اتنا فرق بیشک کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہوں، کم ہیں، اور بعضی میں زیادہ، اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے۔ اور بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چُھپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھاری پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں جو اب دنیا میں “سویلائزڈ” یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور در حقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سے رسمیں جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی بر خلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شایستگی کے بھی بر عکس ہیں اور اس لئے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

اس تجربہ سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونۂ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود اِن امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا۔ بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جنکی اصلاحِ دلی مقصود ہے بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہونگے، سب سے اول انکا چیلہ اور انکی پیروی کرنے والا میں ہونگا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجہ کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر انکی اس رائے میں قصور ہے اور انکی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو انکے خیالات ہیں انکی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طور علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالتِ تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہوگی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیوب اور ذلت عائد ہوگی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی بلکہ انکے مذہب پر منجر ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں در حقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسن معاشرت اور خوبیٔ تمدن اور تہذیب اخلاق اور تربیت و شایستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بڑھ کر اُس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔


 

 

خوشامد​

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور انکی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔

خودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جنکی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جسکی تعریف کرتے ہیں اسکے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اسکا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اسکا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔


Last Interview of Nida Fazli

Articles

ندا فاضلی کا آخری انٹرویو

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکرؔ

ذاکر:نِدا صاحب کشمیر کے ساتھ آپ کے بڑے دیرینہ مراسم رہے ہیں، آپ شاید فاضلی سادات میں سے ہیں اور وہ بھی کشمیری فاضلی،آپ کو شاید علم ہوگا کہ برج ناراین چکبستؔ،اقبالؔ، منٹوؔ،کرشن چندر، مہندر ناتھ ، سہگل،ملکہ پکھراج، اُستاد بسم اﷲ خان، راما نند ساگر، جیون ، راج کمار بھی ایسے ہی کسی خاموش تعلق سے کشمیری رہے ہیں،بہرحال آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ندا فاضلی:کچھ سال قبل ایک سیرئیل آیا تھا جس کا نام سیلاب تھا اور اُس کے ڈائریکٹر روی رائے تھے۔اُس میں ایک ٹائٹل گیت بھی تھا جس کا ایک شعر یوں تھا کہ
وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
آدمی اور مٹی کا رشتہ صدیوں پرانا ہے، اس رشتے کو میں علاقہ، مذہب اور زبان سے جوڑنا نہیں چاہتا ہوں میرا آئیڈیل وہ انسان ہے جسے غالب ؔ نے ا نسان کے روپ میں گڑھا تھا۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
میرے خیال سے ادیب، شاعر،نقّاد،سوچنے والا ذہن ماں کی کوکھ سے پیدا ہوجاتا ہے۔لیکن وہ زندگی بھر وراثت کے بوجھ کو گدھے کی طرح لادے ہوئے نہیں چل سکتا۔وہ اپنی وراثت میں کچھ چھوڑتا جاتا ہے اور کچھ جوڑتا جاتا ہے۔ اور اس طرح سے وہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ غالب کے انسان کا رشتہ کشمیر سے بھی ہے، ایران سے بھی ہے، پاکستان سے بھی ہے،امریکہ سے بھی ہے،انگلینڈ سے بھی ہے ۔میرے والد کے پاس ایک شجرہ تھااُس شجرے کی ابتدا ایک فاضل نام کے شخص سے ہوئی تھی۔ممکن ہے کہ فاضل صاحب کشمیر سے آئے ہوں۔نہرو نے بھی ڈسکوری آف انڈیا میں کہا ہے کہ میں پیدا ہوا ایک گھر میں ہندوستانی بن کر اور وہ اتفاق تھا چند مثالوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ علاقائیت یا لسانیت یا مذہبیت ہی منزل کا راستہ ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ نے بار بار اس بات کا اعتراف کِیا ہے کہ آپ کی زندگی اور شاعری کا خمیرسورداس، میرا، کبیر ، نانک، جایسی، خسرو، رس خان، غالب، میر، ولی۔۔۔۔جیسے گنگا جمنی تہذیب کے میناروں سے اُٹھا ہے کشمیر میں بھی اسی تسلسل میں للیشوری، حبہ خاتون، نُند رِشی، شاہ ہمدان، مہجور، غنی کاشمیری،شیخ نورالدین نورانی،روپا بھوانی، رسول میر،کی صوفی روایت کا مستند حوالہ ملتا ہے۔آپ نے ان صوفی سنتوں کو کتنا پڑھا ہے ۔
ندا فاضلیؔ:حقیقتاً آدمی کی نشو نماخود اُس کے عمل سے شروع ہوتی ہے۔اور عمل سے ہی آگے بڑھتی ہے۔آپ جیسے جیسے زندگی کے راستے میں آگے بڑھتے میں آپ کی وراثت میں بہت کچھ شامل ہوتا جاتا ہے۔آپ نے جو نام لیے ہیں وہ صحیح بھی ہیں اُن میں بے شمار پنجاب کے صوفی بھی ہیں،بے شمار مختلف ممالک کے لوگ بھی ہیں اور اُن ہی میں انگریزی کے وہیٹ من بھی ہیں،روس کے پشکِن بھی ہیں،جیکوف بھی ہیں،شیکسپیئر بھی ہیں،اس طرح سے آپ جیسے جیسے زندگی کا سفر کرتے رہتے ہیں آپ کی ذہنی وسعت کے ساتھ ساتھ آپ کی وارثت کا دائرہ بھی پھیلتا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ آپ کا ویژن بھی بڑھتا جاتا ہے۔حقیقت میں آپ جس علاقے میں رہتے ہیں لسانی طور پر اُس علاقے سے وابستہ ہوتے جاتے ہیں۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ سیاست پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں،لیکن کشمیرکو لے کر آپ نے کم و بیش ہمیشہ بات کرنے سے احترازکیا ہے، ایسا کیوں؟
ندا فاضلی:یہ آپ کو کیسے پتہ کہ میں نے کشمیر کے تعلق سے کبھی بات نہیں کی ۔میرا ایک شعر ہے کہ۔۔۔۔ یہاں تو برف گرا کرتی ہے پہاڑوں سے۔۔۔ تمھارے شہر کا موسم دھواں دھواں کیوں ہے
ذاکر:ندا صاحب
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچّے کو ہنسایا جائے
یا
بچہ بولا دیکھ کے مسجد عالیشان
اﷲ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
یہ کون سا منتھن ہے۔ جو بار بار آپ کے یہاں ایک معصوم ترین بچہ آ دھمکتا ہے، آخر یہ کیا ہے؟جو ﷲ/مسجداورمذہب۔ ایک معصوم بچے کے مقابلے کھڑے کر دئے جاتے ہیں۔
ندا فاضلیؔ:پچھلے دنوں گورنمنٹ میرے تعلق سے ایک ڈاکیومنٹری بنارہی تھی تب میں غالبؔ کے مزار پر گیا تھا۔اور میں نے دعا مانگی تھی کہ غالب ؔ اچھا ہوا کہ تم بہت جلدی مر گئے۔اچھا ہوا کہ تم ابھی زندہ نہیں ہو،اگر تم اس وقت زندہ ہوتے تو تم پر سینکڑوں اعتراضات پیدا ہوجاتے۔اور مختلف جماعت والے آپ کو جینے نہیں دیتے۔ندا فاضلیؔ سے یہ شعر کوٹ کر کے سوال پوچھنے والوں سے میں سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ یہ کیا ہے مثلاً
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
یا
اپنوں سے بیر رکھنا تونے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
ذاکر:نِدا صاحب ادب میں ساٹھ ستر کے جدیدیت کے ہنگام کے دنوں میں،آپ نے، عادل منصوری نے، بشیر بدر نے، زیب غوری ، ظفر اقبال نے عجیب سے تجریدی، تجرباتی اور لایعنی اشعار کامحشر بپا کیا تھا،مثلاً
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑی کے پردے کھینچ دئے رات ہو گئی
آخریہ سب کیا تھا؟
ندا فاضلی:مجھے افسوس ہوتا ہے اعترض کرنے والوں پر۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے اجمیر شریف کی دیگ سے ایک چاول نکال کر دیکھا جائے کہ پوری دیگ پک گئی ہے یا نہیں ۔ آپ بھی چند برے اشعار کو یاد کرکے کسی کی پوری شاعری پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔آپ کو پوری شاعری کا مطالعہ کرنا چاہیے۔آپ کو ہر عہد کے شاعر کے یہاں اس طرح کے اشعار ملیں گے۔میرؔ کے چھ دیوان ہیں لیکن ان کا یہ مصرعہ کہ “اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں”ان کی شعری عظمت کے شایانِ شان نہیں ہے۔داغ کے چار دیوان ہیں اُس میں اچھے اشعار بھی ہیں اور برے اشعار بھی ہیں ۔
ذاکر:اب ایک آدھ بات فلم کے حوالے سے،
تُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
یا
ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے
جیسے گیت لکھنے والا نِدا فاضلی آج کہاں ہے؟آپ اچانک آہستہ آہستہ منظر سے ہٹتے چلے گئے،
ندا فاضلی:بات دراصل یہ ہے کہ مجھے کافی دنوں کے بعد احساس ہوا کہ معجزوں میں تو بیک وقت کئی گھوڑوں کی سواری ممکن ہے لیکن حقیقتاً ایک سوار ایک ہی گھوڑے پر سواری کر سکتا ہے۔ساحر لدھیانوی کامیاب فلمی نغمہ نگار رہے ہیں لیکن دو مجموعوں کے علاوہ تیسرا مجموعہ نہیں آسکا،مجروح سلطانپوری کامیاب نغمہ نگار رہے ہیں لیکن ایک مجموعے کے علاوہ دوسرا مجموعہ نہیں آسکا۔ناکام رہنے والوں میں جانثار اختر بھی ہیں جن کی کلّیات اِن دونوں حضرات سے دوگنی یا تگنی ہے۔ندا فاضلی کی کتابوں کی اگر گنتی کی جائے تو ان کی گنتی ہی سے شاید اس سوال کا جواب ممکن ہوجو آپ پوچھنا چاہتے ہیں۔ندا فاضلی ؔنے کئی سمتوں میں سفر کیا ہے ہے اُس نے فلمی گانے بھی لکھے ہیں، ڈائیلاگ بھی لکھے ہیں اور بی بی سی کے لیے کالمس بھی لکھے ہیں۔اس نے کتابیں بھی لکھی ہیں اور مختلف اصناف میں کام بھی کیا ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب اردو زبان اور اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ اردو کی بہتری کے امکانات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ندا فاضلیؔ:دیکھئے اردو جو ہے وہ سیاسی نزلے میں آ گئی ہے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی۔ہمارے یہاں colonial hangover ہے۔ اس سے ہم لوگ ابھی تک باہر نہیں آئے۔ انگریزی کیریئر کی زبان بن چکی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہندوستان میں اردو کے ساتھ ایک مسئلہ آگیا ہے مذہب کا ، جہاں تک رسم الخط کا سوال ہے دنیا کی کئی بڑی زبانیں ایک ہی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔اور وہ ہے رومن رسم الخط ہے۔وہ رشین ہو جرمن ہو میکسیکن ہوامریکن ہوبرٹش ہویا کوئی اور۔لیکن اس کے باوجود ہر زبان کا اپنا ایک لسانی کیریکٹر ہے مثلاً اٹالین جو ہے وہ جرمن سے الگ ہے،جرمن میکسیکن سے الگ ہے،میکسیکن رشین سے الگ ہے۔لیکن مسئلہ اردو کا عجیب ہے۔اردو کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو جاننے والا ہی اردو پڑھ سکتا ہے۔آپ اعراب کا استعمال نہیں کرتے مثلاً ایک لفظ ہے دَانِشوَر اسے کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ اسے دانشُور بھی پڑھ سکتے ہیں دانِشور بھی پڑھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ ہمارا سرمایا اردو میں ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ہمارا سرمایا عربی میں بھی ہے فارسی میں بھی ہے۔جہاں تک املا کی اصلاح کا سوال ہے رشید حسن خاں نے یہ کام شروع کیا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے یہ کام شروع کیا تھا۔لیکن لوگوں نے توجہ نہیں دی آج بھی ہم بین الاقوامی لکھتے ہیں۔آج بھی فارغ الاصلاح عربی انداز میں لکھتے ہیں۔ہمارے یہاں اس زبان کو عوامی بنایا ہی نہیں جا رہا ہے۔یا بنایا نہیں گیا۔اور یہ مسئلہ بہت ہی لجھا ہوا ہے کہ جو موجود ہ سیاست ہندوستان کی ہے کہ ہندو،ہندی، ہندوستان۔بیوقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ ہندی اردو کا ہی ایک نام ہے۔غالب نے اپنے کلام کو کلامِ ہندی کہا ہے۔امیر خسرو کی زبان کا رسم الخط فارسی رسم الخط تھا۔مثلاً
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ ۔۔۔۔ تن میرا من پیو کا دونوں بہے ایک رنگ۔۔۔۔۔ اس میں تن، من، رین ،خسرو ،سہاگ ،یہ زبان ہندوستانی ہے۔یہ وہی زبان ہے جو آگے چل کر ہندی اور اردو کے روپ میں سامنے آئی۔دیکھئے جب تک زبان کا تعلق روزگار سے نہیں جڑے گا تب تک زبان کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔آپ یہ دیکھئے امارت کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔دبئی کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔اس میں اردو اخبار نہیں ہوتا ،تمل ہوتا ہے کنّڑ ہوتا ہے۔انگریزی ہوتا ہے،کیونکہ وہ کاروباری طور پر ان لوگوں سے وابستہ ہیں جو ان تمام زبانوں کو جانتے ہیں۔اردو سب کی زبان ہے اتفاق سے اردو کا علاقہ بھی وہی ہے جو ہندی کا علاقہ ہے۔بنگال میں اردو بنگالی کی زبان نہیں، گجرات میں اردو گجراتی کی زبان نہیں ہے۔کنّڑ میں اردو کنّڑ کی زبان نہیں ہے۔یوپی، بہار، راجستھان، ایم پی یہی ہندی کے بھی گھر ہیں اور یہی اردو کے بھی گھر ہیں۔یہیں خسرو ہیں یہیں غالب ہیں۔یہیں میرا ہیں یہیں کبیر ہیں۔۔۔۔

شکریہ ندا فاضلی ؔصاحب آپ نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے نوازا۔

Global Village and Society

Articles

عالمی بستی اور سماج

پروفیسر طفیل ڈھانہ

 

ہم عالمی بستی کے لوگ ہیں۔ گلوبل ولیج بن گئی ہے دنیا ہماری۔ بڑی بحث تھی اس موضوع پر ، بڑا شور تھا گلوبلائزیشن پر ، مگر اب نہیں ہے۔ اب ہم گلوبلائزیشن کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ پہلے ڈر رہے تھے ، اب تربیت لے رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن والے کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ دنیا سب کے لیے ایک جیسی ہوگئی ہے۔ تبدیلی ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی ہے، معاشی بھی اور اخلاقی بھی۔ کلوننگ، کمپیوٹر، سیٹیلائٹ اور بہت سی ٹیکنالوجی لے کے آئی ہے مابعد جدیدیت ۔ گلوبلائزیشن بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ہم کسی سے بھی رابطہ اور بات چیت کرسکتے ہیں۔ کوئی رکاوٹ نہیں درمیان میں۔ یہ ہے گلوبل وِلیج ۔ جو جغرافیائی سرحدیں نیشنل ازم نے بنائی تھیں وہ اب برائے نام رہ گئی ہیں۔
پہلے بس ایک سرکاری چینل تھالیکن اب سینکڑوں چینلس ہیں۔ خبر پر سرکار جو پابندی لگاتی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ گلوبل وِلیج میں کہاں کیا ہوا ، اب ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اچھا ہے میڈیا آزاد ہوا کیو نکہ ہم دنیا سے علیحدہ نہیں رہ سکتے۔ مگر میڈیا کی آزادی عالمی کارپوریشنوں کا بھی مطالبہ تھا۔ لہٰذا قومی خبروں کا زمانہ گیا۔ عالمی خبروں کا عہد آگیا ہے۔ اس میں بزنس ہے۔ میڈیا والے اطلاعات بیچتے ہیں، ہم خریدار ہیں۔ قومی میڈیا قومی اطلاعات دیتا تھا ، عالمی میڈیا عالمی اطلاعات لے کے آگیا ہے۔ عالمی میڈیا عالمی کارپوریشن لے کے آئی ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ خبروں کے درمیان ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کا اشتہار آجاتا ہے۔ اس لیے ، کیونکہ آزاد میڈیا کارپوریشنوں کا نوکر ہے۔ ہرچینل پر کارپوریشنوں کے اشتہار چلتے ہیں کیونکہ وہ پیسہ دیتے ہیںچینل والوں کو۔ اس بزنس میں کمائی اچھی ہے۔ ساری خبریں، سارے پروگرام عالمی کارپوریشنوں کے پیسوں سے چلتے ہیں۔ خدمت نہیں ، یہ بزنس ہے۔ عالمی کارپوریشن جو دکھائے گی، ہم دیکھیں گے۔ جو بیچے گی ہم خریدیں گے۔ ٹیکنالوجی ملٹی نیشنل کارپوریشن کے پاس ہے۔ چینل والے ٹیکنالوجی خریدنے والے ہیں۔ کارپوریشن نے میڈیا ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے تو اسے فروخت بھی کرنا ہے۔ لہٰذا میڈیا کو آزادی دلائی کارپوریشن والوں نے۔ ہم بھی خوش اور وہ بھی خوش۔
رابطوں کے لیے موبائل فون بنادیا ۔ کمپنیوں نے ہمارے لیے انٹرنیٹ چلا دیا۔ ہم رابطہ کرسکتے ہیں مگر قیمت ادا کرتے ہیں کمپنی والوں کو۔ ہماری ضرورت کا سارا سامان ہے ان کے پاس ۔ لہٰذا وہ بیچے گیں اور ہم خریدیں گے۔ اس لیے کارپوریشن والے گلوبلائزیشن لے کے آئے ہیں۔ زراعت ، صنعت ، تعلیم ، تجارت ، ٹرانسپورٹ میں کارپوریشن آگئی ہے۔ موٹر وے بنایا، بسیں چلا رہے ہیں۔ ریلوے وزیر نہیں چلا سکتے مگر ملٹی نیشنل والے چلا لیں گے۔ بجلی کمپنیاں بنارہی ہیں، گیس ، تیل کمپنیاں نکالتی ہیں۔ ڈیم کمپنیاں بنادیں گی۔ کیونکہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے نہ سرمایہ۔ علم و دانش اور سائنس سبھی کچھ کمپنیوں کے دستِ نگر ہے۔ شہر میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کھلے ہیں، گورمے اور میکڈونلڈ۔ یہاں بھی کمپنیوں کی فروخت ہوتی ہے۔ کمپنی کے مقابلے میں ہماری دکان نہیں چل سکتی۔ عالمی بستی میں ہم پرچون فروش ہیں۔ ہمارے کاروباری اشرافیہ کی اس سے بڑی حیثیت نہیں ہے عالمی معاشی نظام میں۔
مجھے لالہ لال دین یاد آتا ہے۔ لال دین پھیری والا، کپڑا بیچتا تھا۔ شہر سے کپڑا لاکے گاﺅں میں بیچتا تھا لال دین سائیکل پر۔ کبھی سائیکل خراب، کبھی طبیعت خراب۔ پھر یوں ہوا کہ کپڑے کی ایک بڑی دکان کھل گئی گاﺅں میں۔شہر سے آیا ہوا یک بڑا سودا گر تھا وہ دکان کھولنے والا۔ لالہ لال دین بوڑھا ہوگیا تھا، تھک گیا تھا۔ اس نے بڑی دکان پر نوکری کرلی۔ وہ دکان کھولتا، جھاڑو دیتااور مالک کی خدمت کرتا تھا۔اچھا شریف آدمی تھا ، لال دین پھیری والا۔ کاروبار میں کامیابی کادرس دیتا تھا بستی کے نوجوانوں کو۔
عالمی بستی میں ، میونسپل کمیٹی سے بڑی حیثیت نہیں ہے حکومت کی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے حکومت کو جو کام دیا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا کہ ایک میونسل کمیٹی کے پاس ہوتا ہے۔ امن قائم کرو تاکہ ملک میں کاروبار چلے۔ شہروں کی صفائی کرو، ٹریفک کنٹرول کرو۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہنر مند تیار کرو۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ہماری حکومت اتنا کرلے تو اچھا ہے۔ نہیں تو یہ لوگ حکومتوں کا سودا کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔
پچھلی صدی میں حملہ کیا تھا امریکہ نے عراق پر۔ بغداد قدیم تہذیب کی بنیاد والا کلاسیکل شہر تھا۔ برباد کیا نیٹو والوں نے۔ نیٹو فوجی کارپوریشن ہے۔ عراق تنہا تھا ، مگر صدام تنہا نہ تھا۔ کتنے لوگ عراق والوں کے ساتھ تھے، صدام کے ساتھ تھے۔ مگر احتجاج کام نہ آیا۔ کتنے بڑے بڑے جھوٹ بولے تھے بش نے عراق پر حملہ کرنے کے لیے۔
صدام نے اجازت نہ دی تھی کارپوریشن والوں کو عراق میں داخل ہونے کی۔ بس اتنی لڑائی تھی۔ عراق قومی ریاست تھی۔ لوگ خوشحال تھے، اچھا معاشرہ تھا، کارپوریشنوں والے عراق والوںکو لوٹنے آئے تھے۔صدام نے انکار کیا اور دروازے بند کردیئے تھے کارپوریشن والوں کے لیے۔ مگر اندر سے کچھ سیاست پیشہ مل گئے امریکہ والوں کو۔ وہ کارپوریشن والوں کے ساتھ بزنس چاہتے تھے اس لیے اُن کے ساتھ مل گئے۔ عراق کی حکومت میں جو لوگ تھے سارے قتل کیے گئے۔ صدام کو سولی پرچڑھایا گیا۔ کیا جج تھا ، عدالت لگانے والا؟ کیا حکومت تھی عراق میں؟ پارلیمنٹ کی حیثیت میونسپل کمیٹی سے زیادہ نہ تھی اُس وقت عراق میں۔ جمہوریت تو امریکہ میں نہیں، یورپ میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں بھی کارپوریشن کی سلطانی ہے۔ قذافی کو مار کے صحرا میں دفن کیا۔ شام اور یمن میں خانہ جنگی کا دور دورہ ہے۔ کہانی بس اتنی ہے کہ دیواریں گرا رہے ہیں گلوبلائزیشن والے ، اپنی دنیا بنانے کے لیے۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی ” ارد چینل“ شمارہ نمبر 34 صفحہ نمر 58تا 60

Mumbai ki Baz’m AaraiyaN

Articles

بمبئی کی بزم آرائیاں

رفعت سروش

بمبئی بچپن سے میرے خوابوں میں بسا ہوا تھا۔ یہ خواب میرے ساتھ جوان ہوا اور میں نگینہ سے نکل کر اور دو سال دہلی کے دفتروں کی خاک چھان کر بالآخر اپنے بچپن کے خوابوں کے شہر بمبئی پہنچ گیا۔
اسٹیشن کی بھیڑ کو چیرتا ہوا جب میں باہر نکلا تو بوری بندر پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔میں نے جیب سے پتے کا پرچہ نکال کر وکٹوریہ والے سے کہا کہ کھڑک پر زینب چیمبرس چلو ۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دہلی اور بمبئی کا فرق واضح ہوگیا۔ وکٹوریہ کرافورڈ مارکیٹ اور پھر محمد علی روڈ ہوتی ہوئی ، مینارہ مسجد سے کھڑک کی طرف مڑی اور آگے چل کر ایک گندی سی سڑک پر ایک پرانی بلڈنگ کے سامنے رکی۔ یہی میری منزلِ مقصود تھی۔
ذریعہ معاش اور ادبی مشاغل کو میں نے دہلی میں بھی الگ الگ رکھا تھا اور بمبئی میں یہی روش اختیار کی ایک حیثیت سے میری شخصیت کے یہ دو متوازی روپ تھے۔دہلی میں سرکاری دفتروں میں نوکری کرتا تھا اور ادیبوں اور انقلابی دوستوں کے ساتھ شامیں گزارتا تھا۔ مجاز ؔان میں سے ایک تھا۔ دہلی سے چلتے وقت مجھے مجاز نے سردار جعفری کے نام ایک تعارفی پرچہ دیاتھا اور ان الفاظ میں سردار کا غائبانہ تعارف کرایاتھا کہ سردار جعفری ترقی پسندوں کا ظفر علی خاں ہے۔بمبئی پہنچنے کے چند روز بعد جب اس ہنگامہ خیز شہر کی سڑکوں اور راستوں سے کسی قدر واقف ہوگیا تو کھیت واڑی پر کمیونسٹ پارٹی آفس پہنچا۔ میں بلڈنگ کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک دُبلا پتلا پھرتیلا نوجوان بلڈنگ کے چوڑے زینے کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر چڑھنے لگا۔ میں نے اسے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے سردار جعفری سے ملنا ہے۔اس نے کہا،فرمائیے میرا نام علی سردار جعفری ہے۔ میرے ذہن میں علی سردار جعفری نام تھا کسی بھاری بھرکم شخصیت کا ۔
مگر میرے سامنے ایک نوجوان تھا میرے ہی جیسے قد و قامت کا ، کھادی کے کرتہ پاجامہ میں ملبوس اور لمبے بالوں کو انگلیوں سے سنوارتا ہوا ، عمر میں کچھ مجھ سے بڑا ۔خیر میں نے اپنا تعارف کرایا اور مجاز کا پرچہ دیا۔سردار بہت اخلاق سے ملے اور مجھے اپنے ساتھ ’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر لے گئے ۔ ’’قومی جنگ‘‘ کا دفتر کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہی تھا اس لیے وہاں اس وقت کے دانشور ، ادیب اور شاعر موجود تھے اور وہیں سے ’’نیا ادب‘‘ نکلتا تھا۔
سب سے پہلے سردار نے مجھے کیفی اعظمی سے ملایا ۔ میں نے کیفی کی ایک نظم ’’عورت‘‘ پڑھی تھی اور اس کی وہ نظم ’’اب تم آغوش تصور میں نہ آیا کرو‘‘ حال ہی میں چھپی تھی۔ کیفی کی شخصیت پر ایک گو نہ بے خودی سی طاری تھی۔ لہجے میں گہرائی اور ٹھہرائو، آنکھوں میں خلوص ، چہرے پر سکون ۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ پر سکون شخص جب انقلابی نظم پڑھتا ہے تو آواز اور انداز بیان سے الفاظ اور معنی کو مجسم کردیتا ہے اور مجمع پرپہلے تو استعجاب و تحسین کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر وہ بے اختیار ہوجاتا ہے۔
یہ سبطِ حسن ہیں ۔چھریرے بدن،سبک نقوش پہ سوچتی ہوئی آنکھیں، دھیما لہجہ ۔تو یہ ہیں ’’نیا ادب‘‘ کے ایڈیٹر اور مجاز کے پرانے ساتھی۔
یہ ہیں ڈاکٹر کنور محمد اشرف۔ڈاکٹر اشرف کو میں نے بہت پہلے ۱۹۳۵ء یا ۳۶ء میں موانہ ضلع میرٹھ میں دیکھا تھا ۔ کانگریس کے ایک جلسے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں اپنی جگہ جلسے کی صدارت کرنے بھیج دیا تھا۔ ڈاکٹر اشرف کی تقریر کا لطف میرے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ تھا۔ میں نے بڑی عقیدت سے انھیں آداب کیا اور ان کے پروقار مگر بے تکلف انداز گفتگو نے مجھے مسحور کرلیا۔
بنے بھائی ، سیّد سجاد ظہیر _____’’لندن کی ایک رات ‘‘ اور ’’انگارے‘‘ والے سجاد ظہیر سے ملاقات ہوئی ۔کیا متبسم اور پاکیزہ شخصیت ہے اور کیا اپنا پن ہے ان کی باتوں میں ۔ان کی شخصیت کا جادو دل پر چل گیا اور ایسا کہ اب تکاثر باقی ہے۔
’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر کی ایک میز پر محمد علی بیٹھے اور دوسری میز پر علی اشرف ۔ یہ صحافی برادری کے آدمی تھے ، کم سخن لیکن پر خلوص ۔
ان سب لوگوں سے مل کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اپنے گمشدہ کنبے میں آگیا ہوں۔ اتنی اپنائیت مجھے مجاز کے علاوہ اور کسی سے نہیں ملی تھی۔ میں نے ایک دو نظمیں سنائیں جنھیں سبھی نے پسند کیا اور خاص طور پر سردار جعفری نے بہت ہمت افزائی کی۔ پھر تو میرا معمول ہوگیا کہ دوسرے تیسرے دن جب موقع ملتا پارٹی آفس چلا جاتا اور کچھ نہ کچھ اپنے دامن میں لے کر واپس آتا۔
کمیونسٹ پارٹی کے ان لوگوں نے مجھے ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ جس چیز نے خاص طور پر متاثر کیا وہ تھا ان کا خلوص اور بے غرض کام کرنے کا جذبہ۔اکثر لوگ کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے مگر بڑے پیمانے پر انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور جبر و استحصال سے پاک معاشرہ قائم کرنے کی لگن انھیں ہندوستان کے گوشے گوشے سے اس کمیون میں کھینچ لائی تھی جہاں ایک سخت انتظام کے تحت راہبانہ زندگی گزارتے تھے۔ سادہ کھاتے تھے اور موٹا چھوٹا پہنتے تھے ، علمی اور سیاسی مشاغل پر زندگی گزارتے تھے۔ جد و جہد کرتے تھے اور محض اپنے لیے نہیں، ملک اور انسانیت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے ۔ ان کی ادائیگی فرض کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’قومی جنگ‘‘ کے ایڈیٹران سردار جعفری اور کیفی اعظمی وغیرہ پھیری والے کی طرح بھنڈی بازار اور دیگر علاقوں میں اپنا اخبار بیچنے میں گریز نہیں کرتے تھے۔
ہفتہ وار ’’نظام‘‘ کا دفتر ہم چند ادیبوں کا اڈہ تھا۔ قدوس صہبائی تو اڈیٹر تھے ہی ، بہت دلچسپ شخصیت کے مالک تھے ۔ بھوپال سے آئے تھے اور وہاں بائیں بازو کی سیاست سے ان کا تعلق تھا، اس لیے ان کے پرچے کی پالیسی بھی یہی تھی۔ ’’نظام‘‘ کسی پارٹی کا آرگن نہ ہوتے ہوئے بھی انجمن ترقی پسند مصنفین کا آرگن بن گیا تھا اور اس کی ہفتہ وار میٹنگوں کی تفصیلی رپورٹیں باقاعدگی سے اس میں چھپتی تھیں۔ اس کے علاوہ ہم سب ترقی پسند ادیب اپنی منظومات اور افسانے قدوس صہبائی کو فراخ دلی سے ’’نظام‘‘ کے لیے دیتے تھے اور وہ بہت نمایاں انداز میں چھاپتے تھے۔ اکثر کسی نہ کسی ادیب کا فوٹو ’’نظام‘‘ کے سرورق پر ہوتا اور ایک نظم ____یہ پرچہ کئی سال تک بڑے کر و فر سے چلا۔ آج اگر اس کے فائل کسی کے پاس ہوں تو اس زمانے کی ادبی تاریخ مرتب کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک یادگار دور کی سرگرمیوں کو جمع کیا جاسکتا ہے۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں روز شام کو آنے والوں میں تھے ساحرؔ لدھیانوی ، حمید اختر ، ابراہیم جلیس ____ساحرؔ ’’ادب لطیف‘‘ چھوڑ کر لاہور سے اپنی قسمت آزمانے ایک نئی فلم کمپنی میں آگئے تھے (کچھ کلا مندر قسم کا نام تھا اس کا) اوران کے ساتھ حمید اختر آئے تھے جو ساحرؔ کے جگری دوست اور افسانہ نگار تھے ۔ حیدر آباد سے ابراہیم جلیس آگئے تھے۔ ان کا بھی اس فلم کمپنی سے تعلق تھا۔ ابراہیم جلیس بھی بڑے زندہ دل آدمی تھے ۔ ہم لوگوں میں بے تکلف دوستی تھی۔ تقریباً سب ہم عمر تھے اکثر یوں ہوتا کہ ہم لوگ ’’نظام‘‘ کے دفتر میں شام کو ملتے۔ چائے پیتے اور پھر جے جے اسپتال سے پلے ہائوس ہوتے ہوئے بازار حسن سے بے تعلق گزرتے ہوئے بلاسس روڈ آجاتے اور ناگ پاڑے سے اپنی اپنی بس پکڑ کر ادھر ادھر ہوجاتے_____راستے میں دلچسپ فقرے بازی اور لطیفے ہوتے اور پتہ بھی نہ چلتا کہ یہ کئی میل لمبا رستہ کیسے کٹ گیا _____ہم لوگوں کی اس دلچسپ حرکت پر قدوس صہبائی نے ’’نظام‘‘ کے مزاحیہ کالم ’رنگ ترنگ‘ میں چار اونٹ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا _____ انھیں دنوں ابراہیم جلیس نے بمبئی پر ایک رپورتاژ لکھا تھا ’’شہر‘‘ ۔ یہ رپورتاژ بھی ’’نظام‘‘ میں چھپا تھا۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں ہی اسمعیٰل یوسف کالج کے ایک ہونہار طالب علم عالی جعفری سے ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کا گھر دفتر کے بالکل قریب تھا اس زمانے میں انھوں نے غالباً کچھ چینی کہانیوں کے ترجمے ’’نظام‘‘ میں چھپوائے تھے _____بعد میں عالی جعفری نے شاعری اور افسانہ نگاری تو برائے نام ہی کی مگر وہ ایک اچھے معلم ثابت ہوئے اور اب وہ بمبئی کے علمی حلقوں میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ۔
قدوس صہبائی کے دفتر میں ہی بھوپال کے نوجوان جرنلسٹ احمد علی سے ملاقات ہوئی بہت ہی سنجیدہ طبع نوجوان _____اوراب ۱۹۸۲ء میں ان سے کراچی میں ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ ’ڈان‘ کے ایڈیٹر ہیں اور ہاجرہ مسرور کے شوہر۔
انجمن ترقی پسند مصنفین پر شباب آگیا تھا اور اس کی ہفتہ وار نشستیں بنے بھائی کے مکان ۹۶؍ والکیشور روڈ پر نہایت پابندی اور باقاعدگی سے منعقد ہونے لگی تھی۔
اتوار کو دوپہر بعد ہر ادیب و شاعر کا راستہ بنے بھائی کے گھر کی طرف جاتا تھا کوئی باقاعدہ عہدوں کی تقسیم نہیں تھی، سب ممبر تھے۔ حمید اختر نے سکریٹری کاکام سنبھال لیا تھا اور باقاعدہ سچی سچی اور دلچسپ رپورٹ لکھتے تھے ____ ’’قومی جنگ‘‘ کے ادارہ میں ایک کبھی نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہوگیا تھا اور ایک خوشگوار اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ خلا تھا سیّد سبطِ حسن کے ذاتی سلسلے میں امریکہ چلے جانے کی وجہ سے اور خوشگوار اضافہ تھا ،ظ۔ انصاری کی آمد سے۔ دلّی کے پارٹی آفس سے سبطِ حسن کی جگہ ظ۔ انصاری بمبئی لائے گئے تھے_____ظ۔ انصاری ان دنوں انجمن کے جلسوں میں رونق اور تفریح کا سامان بنے تھے ______ظ۔ انصاری (ظل حسین انصاری) میرٹھ کی شیعہ درس گاہ منصبیہ کالج کے پڑھے ہوئے تھے اور کچھ عرصہ پہلے روزنامہ ’’انصاری‘‘ دہلی میں کام کرتے تھے۔ صحافی بھی تھے اور شاعر بھی۔ہماری انجمن کی میٹنگ میں عام طور پر ایک نظم پڑھی جاتی ، ایک افسانہ اور ایک آدھ مقالہ اور کھل کر بحث ہوتی _____بحث کا ایک پیٹرن بن گیا تھا۔ عام طور پر سب سے پہلے ظ۔ انصاری مکتبی قسم کا اعتراض کرتے۔ اس کی ’’ہ‘‘گری ہے ، اس کا ’’الف‘‘ زیادہ ہے، یہ مصرعہ یوں نہیں یوں ہونا چاہیے یا ٹکنیک کمزور ہے اور بحث شروع ہوجاتی۔ جب دوچار آدمی بول چکتے تو سردار جعفری اپنے فیصلہ کن انداز میں مختصر تقریر کرتے _____اور موضوع اور اس کی اہمیت پر زیادہ زور دیتے اور محفل کو اپنا ہم نوا بنالیتے _____لیکن ظ۔ انصاری آخر میں کہتے ’’ مگر میرا اعتراض باقی ہے‘‘۔ ایک میٹنگ کی بات یاد آئی _____ساحرؔ لدھیانوی نے اپنی تازہ نظم ’’جہانگیر ‘‘ سنائی اس کا ایک مصرع تھا :
’’ہم کوئی بھی جہاں نورو جہانگیر نہیں‘‘
مگر ظ۔ انصاری نے کہا ____جہاں نور غلط ہے ۔ مصرع یوں ہونا چاہیے:
’’یاں کوئی نور جہاں اور جہانگیر نہیں‘‘
سردار نے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ مصرع خوبصورت اور رواں دواں ہے اور ’’جہاں نور‘‘ کہنے میں ایک خاص معنویت ہے۔ مگر سب کی سننے کے بعد وہ یہی بولے _____’’میرا عتراض باقی ہے۔‘‘
ان کا اعتراض باقی رہتا اور صاحب صدر میٹنگ کی کاروائی آگے بڑھانے ا شارہ کرتے۔
جب بات زیادہ الجھ جاتی تو بنے بھائی بولتے تھے ۔ جن کا سب لوگ احترام کرتے تھے۔ اصل میں بنے بھائی کی وجہ سے ایک توازن قائم تھا۔ انھوں نے انجمن کے دروازے کسی پر بند نہیں کیے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ سکّہ بند ترقی پسندوں کے علاوہ وہ ادیب اور شاعر بھی ان میٹنگوں میں آئیں جن کا براہ راست تحریک سے تعلق نہیں ہے۔ کاروائی میں حصہ لیں، بحث و مباحثہ ہو اور ذہنوں میں زیادہ کشادگی پیدا ہو، اورحلقۂ ادب اور وسیع ہو۔
یہ ان کی وسیع النظری کا ہی نتیجہ تھا کہ ان جلسوں میں جگرؔ صاحب بھی شریک ہوتے اور یگانہ چنگیزی بھی ، ذوالفقار بخاری اور پطرس بخاری بھی ۔جن کا بائیں بازوں کی سیاست یا ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا ان لوگوں کے کلام اور خیالات کو نہایت احترام سے سناگیا۔ جس میٹنگ میں پطرس بخاری کو خصوسی طور پر بلایا گیا تھا وہ بہت دلچسپ تھی۔ پطرس سے مختلف باتوں کے علاوہ علامہ اقبال کے بارے میں پوچھا گیا _____انھوں نے کئی دلچسپ باتیں بتلائیں۔ مثلاً یہ کہ اقبال کو کسی خاص سیاسی مسلک سے کٹر پن کی حد تک وابستگی نہیں تھی۔ وہ تو شاعر تھے جو کچھ سامنے آیا اس پر نظم لکھ دی۔ کارل مارکس یا لینن کے متعلق ان کی نظمیں پڑھ کر یہ سمجھنا کہ وہ کمیونسٹ تھے غلط ہوگا۔ کہنے لگے ، ایک بار مجھ سے کسی بات پر گفتگو ہورہی تھی جس نے بحث کی شکل اختیار کرلی۔ اگلے دن جو میں علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کہنے لگے میں نے تمہارے بارے میں ایک نظم لکھی ہے اور وہ نظم سنائی ۔ ’’فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘‘۔
بنے بھائی کے گھر کبھی کبھی بہت دلچسپ میٹنگیں ہوتی تھیں۔ جوشؔ صاحب مستقل طور پر تو پونہ رہتے تھے مگر کبھی کبھی بمبئی آتے اور اتوار ہوتا تو پی ڈبلیو اے کی میٹنگ میں ضرور آتے۔ چنانچہ ایک میٹنگ میں آئے تو اپنی برقعہ پوش محبوبہ کو بھی ساتھ لائے اور پورے موڈ میں اپنا کلام سنایا۔ محبوبہ کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھالیا۔ ان سے چہرے سے نقاب اٹھانے کو کہا _____اور خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں سے بھر پور اپنی وہ حسین نظم سنائی۔
’’برقعہ برفگن‘‘ ____یہ نظم ان کے کسی مجموعہ کلام میں چھپی ہے اور کالے برقعہ میں ملبوس بے نقاب مگر محبوب حسن پر کئی معرکتہ الآرا رباعیاں بھی ہیں ____یہ کلام اسی برقعہ پوس حسینہ کارہینِ منت ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کی میٹنگوں کی اہمیت اور افادیت مسلم تھی۔ بمبئی کے سب ادیب نہایت سنجیدگی اور پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ کرشن چندر ، خواجہ احمد عباس، بلراج ساہنی ، رامانند ساگر، اختر الایمان ، نیاز حیدر ، مجروح سلطان پوری، قدوس صہبائی، وشوا متر عادل، پریم دھون اور وہ سب جن کا ذکر گزشتہ صفحات میں آچکا ہے انجمن کے روح رواں تھے ۔
اس زمانے میں ہم لوگوں کی نظمیں انجمن کی میٹنگوں سے چھن کر ہی رسائل میں چھپتی تھیں۔ معقول اور تعمیری تنقید کی روشنی میں نظر ثانی کی جاتی تھی ____ نظریاتی بحث پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین بمبئی کا خوشگوار دور اس وقت تک جاری رہا جب تک بنے بھائی بمبئی رہے۔ ان کے ترکِ وطن کرنے کے بعد انجمن کے جلسوں کی جگہ اور نوعیت بھی بدل گئی اور وہ وقت کے سخت تھپیڑے کھانے لگی۔
بمبئی جد و جہد آزادی کا اہم مرکز تھا۔ اس شہر نے خلافت کا شباب دیکھا۔ یہیں انڈین نیشنل کانگریس کے بہت سے اہم جلاس ہوئے _____خاص طور پر ۱۹۴۲ء کا وہ اجلاس جس میں ’’ہندوستان چھوڑو دو‘‘ ریزولیشن پاس ہوا اور جس کے نتیجے میں پورا ملک انقلاب زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا اور انگریزی سامراج کو پسینے آگئے_____۱۹۴۶ء میں ملاحوں کی ہڑتال کا مرکز یہی شہر تھا جس نے برٹش حکومت کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ مسلم لیگ کی سیاست کا مرکز یہی شہر تھا جس کی سرگرمیوں کی وجہ سے آخر کا ر ملک تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔
بھلا اس شہر میں جشن آزادی نہ منایا جاتا تو کہاں منایا جاتا _____تین دن اور تین رات یہ شہر مسلسل جاگتا رہا اور لوگوں نے جھوم جھوم کر جشن آزادی منایا۔ بسوں اور ٹراموں میں وہ بھیڑ کہ خدا کی پناہ ،راتیں دن کو شرماتی تھیں اور پورا شہر بقعۂ نور بنا ہوا تھا ______ادیبوں اور شاعروں اور فنکاروں نے کھل کر آزادی کے گیت گائے _____سردار جعفری نے اپنی توانا آواز اور نظم آزاد کے لہجے میں پکارا:
ناگہاں شور ہوا
لو شبِ تار غلامی کی سحر آپہنچی
اور مطرب کی ہتھیلی سے شعائیں پھوٹیں
ان دنوں پریم دھون کا ایک گیت جسے اپٹا کے کلاکاروں نے پریم دھون کے ساتھ گایا تھا _____بہت مقبول ہوا اور بچے بچے کی زبان پر تھا :
ناچو آج ، گائو آج ، گائو خوشی کے گیت
اندھیارے کی ہار ہوئی ہے اجیارے کی جیت
(کچھ عرصے بعد مجروح سلطان پوری نے اس مکھڑے کو پریم دھون کی اجازت سے ذرا سی تبدیلی کے ساتھ ایک فلم کے گیت کا مکھڑا بنا دیا۔ جس میں دوسرا مصرع بدل دیا گیا تھا۔
’’آج کسی کی ہار ہوئی ہے آج کسی کی جیت‘‘
یہ گیت مکیش نے گایا تھا۔
آزادی آئی لیکن لہو لہان ______
بہت جلد یہ خوشی ماتمی دھن میں بدل گئی جب پنجاب اور دہلی کے قتل و غارت کی خبروں نے فیضؔ کے ان مصرعوں کی تفسیر پیش کردی:
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
تو بنے بھائی کا گھر ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور آزادی کے بعد انجمن کے جلسوں میں نیا جوش و خروش آگیا تھا _____کچھ ادیب چلے گئے تھے اور بہت سے ادیب ادھر ادھر سے بمبئی آگئے تھے۔ لکھنؤ سے ممتاز حسین ایک خوشگوار اضافہ تھے، جن کی تنقید بہت گاڑھی اور ادق ہوتی تھی۔بنے بھائی اپنے مخصوص متبسم انداز میں کہا کرتے تھے کہ ممتاز حسین ترقی پسندوں کا محمد حسن عسکری ہے۔ ساحرؔ اور حمید اختر اور ابراہیم جلیس چلے گئے تھے۔ (ساحرؔ کچھ عرصہ بعد پھر بمبئی واپس آئے) اور اب انجمن کے جلسے کی رپورٹیں مہندر ناتھ لکھتے تھے۔ مہندر ناتھ بھی مشہور افسانہ نگار تھے۔ اس لیے حمید اختر کی طرح ان کی رپورٹوں میں بھی ادبی چاشنی ہوتی تھی _____ اور ’’نظام‘‘ ویکلی کے بند ہونے کے کچھ دن بعد ’’شاہد‘‘ ویکلی نکلا تھا جس کے مالک سلطان صاحب تھے اور ایڈیٹر عادل رشید۔ یہ ویکلی رسالہ جب تک چلا ترقی پسند مصنفین کا غیر سرکاری آرگن بنا رہا۔
پنجاب سے کئی ادیب آگئے تھے جن کی آمد سے بمبئی کی ادبی فضا میں اور گیرائی پیدا ہوگئی تھی _____رامانند ساگر آئے اپنے ناول ’’اور انسان مر گیا ‘‘ کے ساتھ۔ انھوں نے اس ناول کی کئی قسطیں انجمن کے جلسوں میں پڑھیں۔ یہ ناول فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس پر بہت بحثیں ہوئیں اور رامانند ساگر کے قنوطی نقطۂ نظر سے کھل کر اختلاف کیا گیا اور کہا گیا کہ انسان اس قتل و غارت کے باوجود زندہ ہے _____بلراج ساہنی کے چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی بھی بمبئی آگئے۔ وہ ہندی ادیب ہیں اور اب ایک عرصہ سے دلی رہتے ہیں۔ ذاکر حسین کالج میں پڑھاتے ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین اور آفرویشیائی رائٹرس کانفرنس کے سرگرم رکن ہیں _____مگر وہ بمبئی میں اتنے نمایاں نہیں ہوسکے تھے۔
آزادی کے کچھ سال قبل پونہ اردو ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا۔ ڈبلو زیڈ احمد نے شالیمار فلم کمپنی بنائی تھی جس کی مشہور فلمیں تھیں ’’ من کی جیت‘‘ اور ’’غلامی‘‘ ۔ اس فلم کمپنی میں جوش ملیح آبادی ، ساغر نظامی، کرشن چندر، اختر الایمان ، مسعود پرویز ، بھرت ویاس اور اردو ہندی کے کئی ادیب اور شاعر تھے _____ مگر اس کمپنی کا شیرازہ آہستہ آہستہ بکھرا تھا اور ایک ایک کرکے سبھی ادیب اور شاعر بمبئی آگئے تھے۔تقسیم وطن سے کچھ دن پہلے ،جاز بھی کچھ عرصے کے لیے بمبئی آئے تھے اور کھیت واڑی کمیون ہی میں ٹھہرے تھے۔
۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء _____بمبئی کی ایک نہایت خوشگوار اور پربہار شام ۔ ریڈفلیگ ہال میں ایک ایسی مبارک تقریب ہے جس میں کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کے علاوہ اردو کے بیشتر ادیب و شاعر جمع ہیں۔ عورتوں نے بالخصوص زرق برق لباس پہنے ہیں۔ آج علی سردار جعفری اور سلطانہ بیگم کی شادی ہے _____ پارٹی کی رسم کے مطابق دو کمیونسٹ ممبران کی شادی ____ہال کھچاجھچ بھرا ہوا ہے _____رسم تو پوری ہوچکی ہے۔اب احباب مبارکباد دے رہے ہیں۔ نئے جوڑے کو تحائف پیش کررہے ہیں۔ میراجی نے ایک نظم پڑھتے ہوئے نئے جوڑے کو ایک دلچسپ تحفہ دیا ہے _____بک شلف ، لکڑی کے دو خوبصورت مینڈھے ۔ آمنے سامنے ۔ ممتاز بہن اور ملک نورانی نے بجلی کی کیتلی دی ہے تاکہ چائے فوراً تیار ہوسکے _____(یہ دونوں میاں بیوی ہم سب لوگوں کے بہت پیارے دوست تھے۔ اب بھی ہیں مگر کراچی میں) کیفی اعظمی نے اس موقع پر چھوٹی سی خوبصورت تقریر کی ہے کہ میں نے سردار جعفری سے بہت کچھ سیکھا مگر ایک چیز میں نے ان کو سکھائی ____شادی کرنا _____اور کیفی نے ایک خوبصورت نظم پڑھی :
یہ خوبصورت تقریب اختتام کے قریب تھی کہ ریڈیو پر شام کے چھ بج کر دس منٹ کی خبریں سنتے ہی ہندی کے مشہور ادیب رمیش سنہا مائک پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ گاندھی جی کی پرارتھنا سبھا میں انھیں کسی نے گولی ماردی _____مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے اور ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اس زمانے کی فضا کو دیکھتے ہوئے یہی خیال ہوتا ہے کہ کسی مسلمان نے گولی ماردی ہوگی۔ اور اس خیال کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ فساد کی آگ یک لخت بھڑک جانے کا اندیشہ ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔ گاندھی جی کی موت کی خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل جاتی ہے _____بسیں اور ٹرامیں بند ہیں۔ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ہوگیا ہے۔ جہاں یہ خوبصورت تقریب منائی جارہی تھی ، کھیت واڑی پر ہے۔ ذرا دو قدم پر گولی پیٹھا ____پھر بھنڈی بازار۔ ساغر صاحب نے زوردار شیروانی پہن رکھی ہے اور ذکیہ بھابی نے غرارہ۔ میرے بھائی امتیاز بھی شیروانی میں ملبوس ہیں۔ ظاہر ہے ایسے موقعوں پر آدمی اپنے لباس سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ ہم لوگ گلی گلی ہوتے ہوئے کسی طرح اپنے گھر کھڑک پہنچتے ہیں ، سب دم بخود ہیں کہ دیکھئے اب کیا ہونے والا ہے۔ اس وقت ریڈیو اتنا عام نہیں تھا کہ گھر گھر سٹ یا ٹرانزسٹر ہوں۔ ہمارے پڑوس میں ریڈیو بج رہا تھا اور سب لوگ اس کی آواز پر کان لگائے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی آواز آئی کہ ایک پاگل نے باپو کو گولی ماردی _____ اس کا نام ناتھو رام گوڈسے بتایا گیا تو سب کی جان میں جان آئی اور اس فساد کا خطرہ ٹلا جو ہمارے ذہنوں پر منڈلا رہا تھا۔
بنے بھائی کے بمبئی سے چلے جانے کے بعد بمبئی کی ادبی فضا تیزی سے بدلی۔ اگرچہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں نام نہاد عہدوں کی تقسیم نہیں تھی اور اپنی اپنی بساط اور حیثیت کے مطابق سبھی خلوص دل سے کام کرتے تھے۔مگر ظاہر ہے سربراہی کا سہرا سجاد ظہیر ہی کے سر تھا۔ ان کے چلے جانے کے بعد یہ ذمہ داری علی سردار جعفری کے سر آگئی _____ان دونوں شخصیات میں بہت بڑا فرق تھا۔ میرے نزدیک بنیادی بات یہ تھی کہ بنے بھائی کو اپنے ادبی کیریئر کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کا ایک مقام متعین تھا جو صرف ان کے لیے مخصوص تھا (اور اسی لیے ان کی جگہ آج تک خالی ہے) وہ اپنی ذات سے بے نیاز ہوکر ادب ، ادیب اور معاشرے کی بہبودی کے لیے کام کرتے تھے۔ مگر سردار جعفری کی شخصیت زیرِ تشکیل تھی۔ بے شک وہ ترقی پسند مصنفین کے بہترین وکیل تھے اور ان کے زورِ خطابت کے آگے اچھے اچھوں کی دلیلیں بے وزن ثابت ہوجاتی تھیں۔ مگر ان کی مشکل یہ تھی کہ بحیثیت شاعر وہ اپنی شخصیت منوانے میں منہمک تھے اور اس وقت شعرا کی صفوں میں ان سے کہیں زیادہ مقبول شعرا موجود تھے۔ مخدومؔ محی الدین ، فیضؔ، جذبیؔ، جاں نثار اخترؔ، اختر الایمان _____اور ذرا ادھر دیکھئے تو ن۔ م۔ راشد اور میراجی _____یہ سب کم و بیش سردار جعفری کے ہم عصر تھے۔ مگر اس وقت کے تنقیدی شعور نے ان شعرا کو قابل توجہ تسلیم کرلیا تھا اور ادبی رسائل ان کے ذکر سے بھرے رہتے تھے۔ ان سب نے شاعری کی نئی جہتیں تلاش کی تھیں، جبکہ سردار جعفری کا کوئی خاص تذکرہ نہیں کیا جاتا تھا اور نہ سردار کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سامنے آیا تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’پرواز‘‘ شاید ۱۹۴۵ء میں چھپا تھا جس کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ سردار جعفری کی جس کتاب نے ایک گروہ (یعنی ترقی پسند) کے ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ ان کی طویل نظم ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ ہے جس میں سردار نے روایتی شاعری کی ڈگر سے ہٹ کر آزاد نظم کی تکنیک کو برتا۔ اگرچہ ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ کی آزاد شاعری میں راشد کی شاعری جیسا سحر انگیز آہنگ اور تہہ داری تو نہیں ہے مگر ایک شکوہ ہے اور مکالماتی قوت ہے جو سردار کے شعری آہنگ کو ممیز کرتی ہے _____مگر ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ غالباً اوائل ۱۹۴۷ء میں چھپی ہے اور اردو میں کسی کتاب کو مقبول ہوتے ہوتے دو تین سال تو لگ ہی جاتے ہیں۔
غرض سردار کے ہاتھ میں انجمن کے زمام آتے ہی اس کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگے اور آہستہ آہستہ وسیع النظری اور ادبی رواداری میں کمی آنی شروع ہوئی۔ مگر اس کا احساس شروع شروع میں اس لیے نہیں ہوا کہ ملک کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور بین الاقوامی تبدیلیوں کا دبائو بھی انجمن کی کارکردگی پر پڑنا لازمی تھا۔ اب مقصدیت کی سلپ ہر تخلیق کے ماتھے پر چپکائی جانے لگی اور ادبی محاسن کو طاق میں رکھنے کا چلن شروع ہوگیا اور سردار جعفری کی شہرت نے فراٹے بھرنے شروع کیے۔ ان کے نثری مضامین ان کی پشت پناہی کا فرض انجام دینے لگے اور انھوں نے فیضؔ کی :
’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘
والی نظم کو رجعت پرستانہ قرار دیا اور دلیل دی کہ آزادی کے اجالے کو داغ داغ تو مسلم لیگ بھی کہتی ہے اور آر ایس ایس بھی _____چونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ تاثر ’’عوام‘‘ کا ہے اور نظم واضح نہیں ہے۔ اس لیے ترقی پسند نہیں ہے (اس وقت میرے سامنے وہ مضمون نہیں ہے مگر سردار کے اس مضمون سے سب اہل نظر واقف ہیں) سردار کے ان ترقی پسندانہ تجزیوں نے ان کے لیے ایک نئی راہ کھول دی اور انھوں نے ’’نیا ادب‘‘ میں ’’دار و رسن‘‘ کے عنوان سے جارحانہ مضامین کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس میں شعرا کی تخلیقات کا جائزہ لے کر انھیں دار و رسن پر چڑھایا جاتا تھا اور سادہ لوح قارئین سے کہا جاتا تھا کہ ان کی شاعری زہرناک ہے۔ مضامین اٹھا کر دیکھئے ، کون کون سولی پر نہ چڑھا یا گیا۔ حیدر آباد میں مخدومؔ کو چھوڑ کر باقی سب شاعر ، پنجاب میں احمد ندیم قاسمی کو بھی نہیں بخشا گیا ، بمبئی میں ساغر نظامی کو بھی در پر کھینچ دیا _____اور سردار کے ان کارناموں کی اتنی واہ واہ ہوئی کہ اس وقت کے نئے شاعروں اور ادیبوں کی عاقبت خراب ہوئی سو ہوئی ، اچھے خاصے مقبول شاعر اور ادیب بھی اپنی اپنی روش سے بہک گئے:
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ
جیسی مرصع شاعری کرنے والے شاعر نے مطلع نکالا:
امن کا جھنڈا اس دھرتی پر کس نے کہا لہرانے نہ پائے
ہے یہ کوئی ہٹلر کا چیلا ، مار لے ساتھی جانے نہ پائے
اس دور کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو ، غزل کا شعر:
اس طرف روس، ادھر چین ، ملایا ، برما
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
تو میں عرض کر رہا تھا کہ آزادی کے کچھ ماہ بعد علی سردار جعفری انجمن کے سربراہ بن گئے جسے انھوں نے شخصیت سازی کے لیے استعمال کیا _____کچھ عرصہ بعد بمبئی کی ادبی محفل میں کچھ اور لوگ بھی آگئے _____راجندر سنگھ بیدی آئے مگر وہ جلسوں میں آتے تو تھے ، نئے افسانے نہیں پڑھتے تھے۔ انھوں نے کہیں لکھا ہے کہ وہ ایک عرصہ تک خاموش رہے اور اس نئے ماحول میں نیا پیرایۂ بیان تلاش کررہے تھے۔ بیدی بھی فلم انڈسٹری میں آئے اور کرشن چندر کے برعکس ان کی فلمی زندگی کامیاب رہی۔ ساحر لدھیانوی لاہور سے ’’نیا سویرا‘‘ اور دہلی سے ’’شاہراہ‘‘ جیسے معیاری ادبی پرچے نکالنے کے بعد واپس بمبئی آگئے ____اور جدو جہد کی دلدل میں پھنس گئے _____جب یک مضبوط جگہ کھڑے ہوگئے تو پھر ادب کی طرف مائل ہوئے _____ بھوپال سے جاں نثار اختر ، کالج کی نوکری چھوڑ کر بمبئی آئے۔ جاں نثار اختر بھی ’’مقصدیت زدہ ‘‘ ادب کا شکار ہوئے اور بہت دن تک ایسی سپاٹ نظمیں کہتے رہے جو ان کے اپنے رنگ و آہنگ سے مطابقت نہ رکھتی تھیں اور جن پر وہ ’’راہ راست‘‘ پر آنے کے بعد شرماتے ضرور ہوں گے۔ کیونکہ صفیہ کے انتقال کے بعد جاں نثار اختر کی شاعری کا نیا جنم ہوا اور ان کی دل میں اتر جانے والی نظمیں اور غزلیں ’’خاک دل‘‘ اور ’’پچھلا پہر‘‘ میں شائع ہوئیں جن کے ذریعے جاں نثار اختر نے اپنی بازیافت کی ______ورنہ پہلے مجموعہ کلام ’’سلاسل‘‘ کے بعد ان کا مجموعہ ’’جاوداں‘‘ بہت کمزور اور وقتی قسم کی نظموں پر مشتمل ہے۔ یادش بخیر جاں نثار اختر بہت مخلص آدمی تھے۔ نہایت شریف اور دلچسپ اور خوددار انسان۔ جانے کیسے کیسے سہانے خواب دیکھ کر بھوپال سے بمبئی آئے تھے مگر یہاں انھیں ٹھکانہ ملا تو جے جے اسپتال پر آرکیڈیا بلنڈنگ کے ایک کمرہ میں جو ایک دھان پان سے بزرگ خلیل صاحب کا کمرہ تھا ۔ جاں نثار مدتوں وہیں رہے۔ اسی کمرے میں انھوں نے صفیہ کے محبت بھرے خط پڑھے۔ بستر مرگ سے اپنی چہیتی بیگم کے خط ، جن میں تقاضا ہوتا تھا ، التجا ہوتی تھی کہ تم آجائو اور مجھے موت کے منہ سے نکال لو۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ____اسی کمرے میں جاں نثار اختر نے صفیہ کی موت کے بعد ان خطوط کو ترتیب دے کر ’’زیرِ لب‘‘ چھاپی ____پھر کچھ عرصہ بعد اسی کمرے میں گوالیار سے نئی محبوبہ خدیجہ کو بیاہ کر لائے _____جاں نثار اختر مدتوں ساحر لدھیانوی کی پرچھائیں بنے رہے۔ یہ عالم ہوگیا تھا کہ اگر کوئی ان سے کہتا کہ جاں نثار کچھ سنائو ____تو وہ جواب میں کہتے تھے _____’’ ہاں پہلے ساحرؔ سے ان کی تازہ نظم سنو‘‘ ____ جاں نثار نے فلمی گانے بھی لکھے ۔ بہو بیگم فلم بھی بنائی ____مگر دولت مند کبھی نہ بن سکے ___ بس اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔ ترقی کرکے آرکیڈیا بلڈنگ کے کمرے سے باندرہ کرایے کے فلیٹ میں چلے گئے تھے اور بس ‘ ہاں آخری عمر میں ان کی شاعری پر جوانی آگئی تھی اور انھوں نے وہ قرض چکا دیا جو اردو شاعری کا ان کے سر تھا۔
ذکر تھا انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں کا اور درمیان میں آگئے کچھاحباب ۔ اب انجمن کے جلسوں کی مستقل جگہ ۹۶؍ والکیشور روڈ ختم ہوگئی تھی اور کچھ دن ہمارے جلسے اوپیرا ہائوس پر دیودھر اسکول آف میوزک کے ہال میں ہوئے۔ ملک کے حالات کروٹیں بدل رہے تھے اور حکومت وقت کی تنقید ترقی پسندی کا منصب قرار پایا تھا اور اسی مناسبت سے ترقی پسند ادیبوں پر حکومت کی کڑی نظر تھی۔ نشستوں میں اور پبلک جلسوں اور مشاعروں میں گرم نظمیں اور دھواں دھار تقریریں ہونے لگیں اور نوبت سربرآوردہ ادیبوں کی گرفتاریوں تک پہنچی۔ بلاسس روڈ پر پروفیسر سامری کے مشاعرے میں لائوڈ اسپیکر کے اوقات کے خلاف ورزی کرنے کے جرم میں نیاز حیدر اور مجروح سلطان پوری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوگئے۔ نیاز تو جلد ہی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے مگر مجروح سات آٹھ ماہ تک روپوش رہے۔ لیکن ایک دن مستان تالاب کے مشاعرے میں مجروح شریک ہوئے ۔ مطلع پڑھا:
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے
ترا ہتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
اور جب مشاعرہ ختم ہوا تو خفیہ پولیس کے انسپکٹر نے مجروح کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
مجروح کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اس وقت وہ مالی دشواریوں کا شکار تھے ۔اس نازک وقت میں راجندر سنگھ بیدی نے مجروح سے حق دوستی نبھایا اور سات آٹھ مہینے ، جتنے دن مجروح جیل میں رہے بیدی نے کفالت کی۔
تھوڑے دن بعد سردار جعفری کو پولیس ان کے گھر سے پکڑ لے گئی اور وہ کئی ماہ آرتھر روڈ جیل میں رہے۔ سردار نے پتھر کی دیوار والی اکثر نظمیں اسی جیل میں لکھی ہیں جن میں ذاتی غم اور یادوں کی چاشنی ہے۔
ظ۔ انصاری اور بلراج ساہنی بھی گرفتار ہوگئے مگر کچھ دن بعد سنا کہ یہ دونوں انقلابی جیل میں جاکر اس قدر صلح پسند ہوگئے کہ ’’مشروط‘‘ طور پر رہا کردیے گئے۔ مگر رہائی کے بعد ان دونوں کے رخ بدل گئے۔ بلراج ساہنی نے تو ’’اپٹا‘‘ کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرکے فلمی لائن اختیار کرلی۔ فلم ’’ہم لوگ‘‘ میں بہت عمدہ رول ادا کیا اور اداکاری کی اعلیٰ منزلیں طے کرنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انھوں نے تھیٹر کا شوق پورا کرنے کے لیے اپنے مکان پر ہی ’’جوہو آرٹ تھیٹر‘‘ بنیاد ڈالی جو شاید اب تک چلتا ہے۔
ظ۔ انصاری جو کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر تھے ، اب پارٹی کی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں بھی ان کا گزر نہیں تھا۔ اب وہ ’’انقلاب‘‘ اخبار کے ادارہ سے وابستہ ہوگئے اور کچھ ادھر ادھر کے کام کرتے نظر آئے جیسے کسی سرمایہ دار کو ٹیوشن پڑھانا وغیرہ وغیرہ۔
ظ۔ انصاری نے ادھر ادھر پیر مارنے شروع کیے۔انھیںدنوں ان کے انشائیوں کی کتاب چھپی ’’ورق ورق‘‘ وہ شمع والے حافظ محمد یوسف کے ہفتہ وار اخبار ’’آئینہ‘‘ کی ادارت کرنے دلی آگئے۔ اور وہاں سے ماسکو پرواز کی۔ بہر حال بمبئی ان سے اور وہ بمبئی سے چھوٹ گئے، ایک لمبے عرصے کے لیے ۔اب تو ظ۔ انصاری پھر بمبئی آگئے مگر ان کے مشاغل اب دوسرے ہیں۔ اب تو وہ خیر سے پروفیسر ظ۔ انصاری ہیں اور بمبئی یونیورسٹی کے قابل ذکر استاد۔
ادیبوں اور شاعروں کی گرفتاریوں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا تھا اور عوام میں جوش و خروش کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی تھی۔ اس امر کا سب سے شاندار مظاہرہ سردار جعفری کی گرفتاری کے موقع پر ہوا۔ انجمن کی ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ رمیش سنہا نے کہا کہ ’’ سردار جعفری رہائی تحریک ‘‘ چلائی جائے۔ شاہد لطیف نے ایک چھوٹا سا تاثراتی مضمون پڑھا جس کا ایک جملہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ آج ایسا لگتا ہے کہ کرشن چندر سردار جعفری کے بغیر یتیم ہوگئے ہیں۔ دراصل اس زمانے میں ہم لوگ خوش فہمی کے شکار تھے کہ انقلاب اب آیا ۔ سب یہی سوچتے تھے کہ :
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
سردار کی غیر موجودگی میں انجمن کی کمان کیفی اعظمی نے سنبھالی۔ پہلے وہ صرف نظمیں پڑھتے تھے۔ اب جلسوں میں تقریر کرنے لگے۔ کیفی کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ جب سردار جعفری جیل سے چھوٹ کر آئے تو انھیں دوبارہ اپنے مقام پر کھڑے ہونے میں جد و جہد کرنی پڑی
انجمن کے دیودھر اسکول کے جلسوں میں میراجی بھی اکثر آتے تھے۔ وشوا متر عادل جو لاہور، اور اس کے بعد میراجی کے نقش قدم پر چلنے والے شاعروں میں سے تھے اب یکسر بدل گئے تھے اور اچھی خاصی علامتی شاعری کو چھوڑ کر دو اور دو چار کی شاعری کرنے لگے تھے اور وقتی واہ واہ کے پیچھے بھاگنے لگے تھے۔ ان کی اس ’’تالیف قلب‘‘ میں اپٹا کی ایک کلاکار سے دوستی کا بھی ہاتھ تھا اور سننے میں آیاتھا کہ در اصل میراجی اور وشوا متر عادل میں معاصرانہ نہیں ، رقیبانہ چشمک شروع ہوگئی تھی۔ بہر حال حقیقت کچھ ہو، عادل گھٹیا شاعری کرنے لگے اور آہستہ آہستہ شاعری کے اسٹیج سے دور چلے گئے۔
دیودھر ہال میں ہی وہ جلسہ ہوا جس میں عصمت چغتائی نے قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا خاکہ اڑایا تھا اور ’’پوم پوم ڈارلنگ‘‘ کے عنوان سے عینی کے فن اور ان کی افسانہ نگاری کو نشانۂ ملامت بنایا تھا اور سب ترقی پسندوں نے بغلیں بجائی تھیں۔ عصمت کے اس مضمون کی بہت دنوں تک دھوم رہی تھی۔
دیودھر ہال میں ہی انجمن ترقی پسند مصنفین کا وہ جلسہ جس میں خواجہ احمد عباس کی خبر لی گئی ، انھیں رجعت پسند کہا گیا تھا اور جب سب کی سننے کے بعد خواجہ صاحب نے جوابی تقریر میں کہا تھا : ’’ ساتھیو ! اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھو کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ٹھیک ہے۔‘‘تو گیت کار شیلندر نے کہا تھا کہ ضمیر کو دیکھنے کے لیے کون سی سرچ لائٹ ہوتی ہے، ہمیں نہیں معلوم اور رمیش سنہا نے کہا تھا کہ جب عباس ہمیں ’’ساتھیو !‘‘ کہہ کر خطاب کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس ریاست کا وزیر اعلیٰ ہم سے مخاطب ہے۔ (یعنی ہم عباس کو اپنا ساتھی ماننے کو تیار نہیں ہیں)۔
دیودھر اسکول کے بعد صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ میں ، جی پی او کے سامنے کوٹھاری مینشن میں اور آخر آخر میں کمیونسٹ پارٹی کے کمیون کے ہال میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ہفتہ وار جلسے ہوتے رہے۔ حاضری کبھی کم ہوتی تھی ، کبھی زیادہ۔ بعض بعض ہفتے چار پانچ آدمی ہی آئے مگر جلسہ ضرور ہوا۔ لیکن اس باقاعدگی کے باوجود انجمن دن بہ دن بے روح ہوتی جارہی تھی۔ تازہ تخلیقات پر تنقید میں وہ ادبی دیانت داری اور مخلصانہ رویہ مفقود ہوتا جارہا تھا جو کبھی انجمن کا طرۂ امتیاز تھا۔ اب یا تو نظرانداز کرنے کی توہین آمیز پالیسی پر عمل کیا جاتا، یا لٹھ مار تنقید کی جاتی تھی۔ کچھ جلسے بڑے معرکتہ الآرا ہوئے جن کی تلخ و شیریں یادیں اور تاثرات ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔
اختر الایمان ، میراجی ، مدھو سودن اور ظ۔ انصاری ، ان چار ادیبوں کی ادارت میں ایک ماہانہ رسالہ ’’خیال‘‘ نکلا۔ خالص ادبی اور معیاری رسالہ ادھر ’’نیاادب‘‘ نکل رہا تھا جس پر کمیونسٹ پارٹی کے نظریات کا غلبہ تھا اور معیاری اور دار و رسن کا بازار گرم تھا۔ جس پرچے کے ایڈیٹر میراجی ؔ ہوں اس میں جنسیات زدہ ادب کا نہ چھپنا تعجبات میں سے ہے ۔’’خیال‘‘ ہمہ رنگ ادبی رسالہ تھا۔ اور اس میں سیاسیات کا گزر نہیں تھا۔ پرچے کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی جو ’’نیاادب‘‘ کی ساکھ پر اثر انداز ہوسکتی تھی چنانچہ دار و رسن والے خدائی فوجدار بن کر میدان میں نکل آئے۔ بمبئی جیسے لاکھوں کی آبادی والے شہر میں مٹھی بھر اردو کے ادیب و شاعر تھے۔ صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں حشر برپا ہوا اور سب اپنے اپنے اعمال نامے لے کر حاضر ہوگئے۔ جلسہ انجمن ترقی پسند مصنفین کا ۔ صدارت علی سردار جعفری کی ، مدعی بھی وہی ۔ سردار نے حوالے کے لیے میز پر کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر رکھا اور مجھے پرانے زمانے کے مذہبی مناظروں کا منظر یاد آگیا۔ اور بجائے اس کے کہ صدر آخر میں بولے ، صدر صاحب بحیثیت علی سردار جعفری کے شروع ہی میں شعلہ زن ہوگئے اور حسب معمول دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ ’’خیال‘‘ ترقی پسند نظریات کا حامل نہیں ہے اور کہا کہ کسی بھی ترقی پسند ادیب کو ’’خیال‘‘ میں نہیں لکھنا چاہیے۔ اہل محفل کا خیال تھا کہ سردار کی تقریر حرفِ آخر ہے۔ اب کون بول سکتا ہے اس شعلہ بیان کے آگے۔ مگر ایک صاحب ہیں جو طالب علمی کے زمانے سے ہی سردار کے مقابلے میں اسٹیج پر بولتے رہے ہیں اور سردار کی طرح ان کی گاڑی سیدھی سپاٹ ایک رفتار سے نہیں چلتی ، بلکہ وہ اپنی تقریر میں زیر و بم اور مد و جزر کی کیفیت پیدا کرنے پر قادر ہیں اور سامعین کواپنے ساتھ بہا لے جانا اس مقرر کی خصوصیت ہے اور وہ صاحب ہیں اختر الایمان ۔ اختر نے نرم لہجے میں تقریر شروع کی۔ ’’ صاحب صدر بڑی تیزی میں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور اختر نے جملہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ادب پر پارٹی ڈسپلن عاید ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ ایک ہی ایسی بات ہے جس کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے منشور میں بھی کہیں نہیں ہے کہ انجمن کمیونسٹ پارٹی کے مقرر کردہ اصولوں پر چلے گی۔ بلکہ لفظی طور پر اس مفروضے کی نفی کی جاتی رہی ہے۔ یہ ادیب کاذاتی معاملہ ہے کہ وہ کیا سیاسی خیالات رکھتا ہے چونکہ خواجہ احمد عباس پہلے بھگت چکے تھے اس لیے آج وہ اختر الایمان کے ساتھ تھے ۔ انھوں نے بھی عمدہ تقریر کی اور کچھ لوگ ادھر ادھر سے بولے۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ کرسی صدارت کے فیصلے کے مطابق تمام ہندوستان میں انجمن کی شاخوں کو سرکلر بھیج دیے گئے تھے کہ’’ خیال‘‘ کے لیے کوئی نہ لکھے اور اختر الایمان نے اس کے بعد بہت دلچسپ بات کہی کہ میں آج سے اپنا نام اختر الایمان رجعت پرست لکھا کروں گا۔ دیکھیں میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اختر نے تو یہ بات محض تفریحاً کہی تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ وقت نے ثابت کردیا کہ یوں عدالتیں قائم کرکے ادب نہیں پیدا کیا جاسکتا اور ادب اور ادیب پر آسانی سے لیبل لگانا اپنی کور ذوقی کا مظاہرہ ہے۔ ڈنڈے کے زور سے نہ کبھی ادب تخلیق ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اختر الایمان میں غضب کی خود اعتمادی ہے ۔ وہ کسی بھی جعفریانہ پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہوئے اور اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں لکھتے رہے اور بیرونی اثرات کے باعث اپنا شعری رویہ نہیں بدلا۔ اور ان کا ادبی مرتبہ وقت کے ساتھ بلند ہوتا گیا۔
کوٹھاری مینشن میں بھی بعض یادگاری نشستیں ہوئیں۔ دو نشستوں کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں اور انجمن کے مخصوص ماحول کو سمجھنے کے لیے یہ ذکر ضروری بھی ہے۔
ساحر لدھیانوی ویسے بے پروا اور بے نیاز قسم کے انسان نظر آتے ہیں ، مگر اپنے معاملات میں وہ بہت محتاط اور سنجیدہ تھے اور جب کوئی پروگرام ترتیب دیتے تھے تو اس کی کامیابی کے لیے جملہ پہلوئوں پر غور کرتے تھے اور ضروری ہوا تو ہر طرح کی پیش بندی کرتے تھے۔ میرے خیال میں ان کی اسی خصوصیت نے انھیں فلموں میں بھی اس قدر کامیاب کیا۔ ساحر اور کیفی اعظمی میں بہت پرانی دوستی تھی۔ اس قدر کہ حیدر آباد کانفرنس سے لوٹنے کے بعد ساحر نے اپنی ایک نظم کیفی اعظمی کے نام منسوب کی تھی ۔اس نظم کا پہلا مصرع ہے:
اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھی
ان دونوں دوستوں میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا۔ کوئی ادبی مسئلہ نہ تھا بلکہ قطعاً ذاتی اور رومانی قسم کی بات تھی مگر ایسا اکثر ہوا ہے کہ یارلوگوں نے ذاتی رنجشوں کو ادب کے اسٹیج پر لاکر زور آزمائی کی اور نتیجہ کے طور پر ادبی تحریک پر منفی اثر پڑا۔ چنانچہ اس موقع پر بھی ساحر لدھیانوی بے حد جذباتی ہوگئے اور نھوں نے منصوبہ بند طریقے سے نجی محفلوں میں کیفی کی شاعری کی برائی کرنی شروع کی اور اس کے خلاف لابی تیار کی۔ اور جب فضا سازگار ہوگئی تو ساحر نے کیفی اعظمی کی شاعری پر ایک مضمون انجمن کے جلسے میں پڑھا جس کا پروپیگنڈا شد و مد سے کیا گیا تھا اور ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سردار جعفری جلسے کی صدارت کررہے تھے۔ کیفی اور ان کی بیگم بھی جلسے میں موجود تھے۔ ساحر نے مضمون پڑھا جس میں کیفی کی شاعری کے معائب ہی کو اجاگر کیا گیا تھا، اور ہرزاویے سے نقائص ہی نقائص تلاش کیے گئے تھے اور نفسِ مضمون یہ تھا کہ اول تو کیفی شاعر ہی نہیں ہے اور اگر ہے تو گھٹیا درجے کا۔ ساحر مع اپنے مخصوص احباب کے جلسے میں تشریف لائے تھے اس لیے اہل محفل نے مجموعی طور پر مضمون پر واہ واہ کی۔ کچھ بحث ہوئی مگر مجمع کا موڈ ہی کچھ اور تھا۔ آج سب کو کیفی کی شاعری میں صرف خامیاں ہی خامیاں نظر آرہی تھیں۔ صاحبِ صدر نے حسب معمول جوشیلی تقریر کی مگر وہ بھی ساحر کے مضمون کا طلسم پوری طرح نہ توڑ سکے۔ سردار نے جب ادب لطیف اور سویرا کی ان تحریروں کا حوالہ دیا جس میں ساحر نے بحیثیت ایڈیٹر کے کیفی کی تعریف میں اپنا زور قلم صرف کیا تھا تو ساحر نے برجستہ کہا کہ وہ میرے کمرشیل نوٹ تھے، ناقدانہ رائے نہیں تھی۔ غرض ساحر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ کیفی جلسے کے آخر تک موجود رہے مگر انھوں نے ایک لفظ بھی اپنی صفائی میں نہیں کہا۔ ان کی گمبھیر خاموشی کا مطلب تھا : ’’بکتے رہو ، میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟‘‘
سردار جعفری بہت بھنّائے اور انھوں نے پی ڈبلو اے کی اگلی میٹنگ میں ایک جوابی مضمون ساحر لدھیانوی کی شاعری کے بارے میں پڑھا۔ اس میں بھی یک رخا پن تھا ۔ سردار نے ساحر کی مشہور نظم ’’تاج محل‘‘ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس نظم میں ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور تاریخی عظمت کا مذاق اڑایا گیا ہے اور یہ رویہ نہایت رجعت پرستانہ ہے اور یہ نظم نہایت کمتر درجے کی ہے۔ ساحر کی اور نظموں کی بھی اسی طرح درگت بنائی ۔
جب مضمون ختم ہوگیا تو ساحر لدھیانوی بہت اطمیان سے اپنی جگہ سے اٹھے اور پورے قد کے ساتھ اٹھ کر کہا :’’ اس مضمون سے آپ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ ساحر لدھیانوی گھٹیا شاعر ہے ، مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ کیفی اعظمی اچھا شاعر ہے۔‘‘
ساحر کے اس ایک ہی جملے نے سردار کے مضمون کا اثر زائل کردیا اور سردار کی بدنیت کو واضح کردیا۔
بمبئی صفِ اول کے ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا مگر ان سربرآوردہ ادیبوں کی اس طرح کی چشمکوں نے انجمن کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا اور آہستہ آہستہ عوام کے دلوں میں اس کی وقعت کم ہونے لگی، کیونکہ انجمن کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ افراد کے اجتماع اور ان کے عمل کا نام ہے۔ مختلف ادیبوں کی شعوری ہم آہنگی سے انجمن کو فروغ حاصل ہوا تھا اور اس کے فقدان سے انجمن ترقی پسند مصنفین کا شیرازہ بکھرنے لگا ۔ جس انجمن کے پلیٹ فارم سے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے بھرپور جد و جہد کی گئی تھی اور ’’پانی کا درخت‘‘ اور ’’کالو بھنگی‘‘ جیسے افسانے اور ’’نیلا پرچم‘‘ اور ’’ابن مریم‘‘ جیسی نظمیں اردو کو دی تھیں اس کی صفوں میں انتشار پیدا ہوا تو سب اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ گانے بجانے لگے۔ جس کا جدھر منہ اٹھا چل دیا اور اپنا اپنا کیریئر تلاش کرنے کوئی فلم کی طرف گیا ، کوئی روس اڑا ، کوئی چین:
کھاکے لندن کی ہوا عیش وطن بھول گئے
٭٭٭

مشمولہ : ’’ترقی پسند تحریک اور ممبئی‘‘ از: پروفیسر صاحب علی ۔۔۔۔۔ تلخیص : ڈاکٹر قمر صدیقی

Khwaja Ahmad Abbas: YadeN Aur Tassurat

Articles

خواجہ احمد عباس : یادیں اور تاثرات

ڈاکٹر غلام حسین

 

میں ضلع بستی کے ایک دور افتادہ گائوں میں ، جو میرا مولد و مسکن بھی ہے، گرمی کی چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔۔۔۔چھٹیاں کیا گزار رہا تھا اپنے مستقبل کے عنوانات طے کر رہا تھا کہ یکایک پہلی اپریل کو محلے کا ایک طالب علم دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ریڈیو کی وہ خبر دہرائی جو خواجہ صاحب کی شدید علالت سے متعلق تھی ۔ میں ابھی چند ماہ پہلے تک خواجہ صاحب کے ساتھ ممبئی میں رہ چکا تھا، جب خواجہ صاحب کے عزم اور ان کی قوت ارادی کا تصور کیا تو خبر کچھ مبالغہ آمیز معلوم ہوئی لیکن جب ان کے سن و سال اور ان کی حرکت و عمل کی درماندگی کا جائزہ لیتا تھا تو یہ خبر اندیشہ ہاے دور و دراز میں مبتلا کر دیتی تھی۔ میں متصادم خیالات کی یورش سے گھبرا گیا اور گورکھپور چلا آیا۔ پھر اخبارات سے خواجہ صاحب کا حال معلوم ہوتا رہا اور وہ اس حد تک اچھے ہو گئے تھے کہ بلٹز نے ’’ آزاد قلم‘‘ کے سلسلے کو جلد ہی دوبارہ جاری کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران میں نے خواجہ صاحب کو خیریت معلوم کرنے کے لیے خط لکھا جس کا جواب آیا: ’’میرے جاننے پہچاننے والے ہی میری اصل دولت ہیں‘‘۔میں عید کے مبارک موقع پر گائوں چلا گیا جہاں وہ خبر سنی جس کا صدمہ الفاظ میں منتقل نہیں ہو سکتا۔
ویسے تو میں خواجہ صاحب کے ’’آزاد قلم‘‘ کا برسوں سے قاری رہا ہوں لیکن ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے خواجہ صاحب کی تخلیقات سے والہانہ لگائو ہو گیا تھا۔ جب میں نے گورکھپور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔اے۔ کر لیا تو میں نے اپنے مشفق استاد سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ’’خواجہ احمد عباس کی حیات اور کارنامے کے موضوع پر پی ۔ایچ۔ ڈی۔ کے لیے مقالہ لکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بڑی خوشی سے یہ موضوع منظور کر لیا۔ اور میں نے ان کی نگرانی میں کام شروع کر دیا۔
بہت پہلے ’’آزاد قلم‘‘ اور ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ کے افسانوں سے متاثر ہو چکا تھا۔ اب خواجہ صاحب کی اور تخلیقات پڑھنے کا موقعہ ملا۔ جوں جوں خواجہ صاحب کی تحریروں کا مطالعہ بڑھتا گیا، ان کی عظیم شخصیت میرے دل میں گھر کرتی چلی گئی۔ ابھی تک توخواجہ صاحب سے ملاقات ان کی تحریروں کے زریعہ ہوتی تھی لیکن اب یہ خواہش ہوئی کہ ان سے براہ راست ملاقات کی جائے میں نے اپنے نگراں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ان کی تحریروں کا عمیق مطالعہ جاری رکھو۔
اتفاق ہی کہئے کہ اسی دوران یعنی ۱۹۸۳ء کے اوائل میں جب سردی کی شدت ختم ہو رہی تھی ، بستی والوں نے ایک فلمی فنکشن منعقد کیا جس کی صدارت خواجہ احمد عباس صاحب نے کی۔ فنکشن کے دوسرے دن اپنے نگراں کے حکم کے مطا بق خواجہ صاحب سے ملاقات کے لیے بستی پہنچا۔ اس وقت وہ بستی کے ڈاک بنگلے میں قیام پزیر تھے۔ تقریباً صبح کے ۸ بج چکے تھے ڈاک بنگلے کے برآمدے میں دھوپ پھیل چکی تھی۔ ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اس میں میرا ایک اور اضافہ ہو گیا۔ ملاقات کرنے والے حضرات برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے میں بھی وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خواجہ صاحب ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے اور اپنی چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ باہر نکلے۔ بظاہر ان کی صحت اچھی تھی لیکن پیر سے معذور تھے۔ برآمدے میں ایک آدمی کے سہارے کھڑے ہو گئے اور سب سے مصافحہ کیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے ۔ مجھ سے مخاطب ہوئے تو میں نے اپنا مدعا بیان کیا اور جتنی ان کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھی تھیں ان کی فہرست پیش کی تو انھوں نے اپنی باقی تصنیفات کا اضافہ اپنے قلم سے کر دیا۔ چونکہ اس دن خواجہ صاحب کے پروگرام میں لمبنی کا سفر بھی شامل تھا جو گوتم بدھ کی جائے پیدائش ہے ۔ اس لیے مفصل بات چیت نہیں ہو سکی۔
خواجہ صاحب بمبئی جیسے دور دراز شہر سے شمالی مشرقی علاقے میں آئے تھے اس لیے یہاں کے اہم مقدس مقامات کو دیکھنا چاہتے تھے ۔ لمبنی کے علاوہ وہ کبیر کے مقبرے کی زیارت کے لیے مگہر بھی تشریف لے گئے۔
گورکھپور یونیورسٹی میں خواجہ صاحب نے لکچر دیا جس میں قومی ایکتا کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کبیر کے اصولوں پر چلنے کی ہدایت کی گورکھپور ریڈیو اسٹیشن نے خواجہ صاحب کی آمد پر اپنے یہاں ایک انٹرویو کا اہتمام کیا۔ اس انٹرویو میں پروفیسر محمود الٰہی صاحب نے ان سے ایسے ایسے سوالات کئے کہ ان کی زندگی کے سارے گوشے اجاگر ہو گئے۔ خواجہ صاحب جب بستی جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ بستی کے لوگوں نے خواجہ صاحب کا بڑا خیر مقدم کیا۔ ہنومان پرشاد جگرؔ صاحب نے ان کی بڑی ضیافت کی اور انھیں اپنے دولت خانے پر لے جانا باعثِ فخر سمجھا۔ بستی انفارمیشن دفتر کی طرف سے ناوابستہ تحریک پر ایک پروگرام منعقد ہواجس میں خواجہ صاحب نے ناوابستہ تحریک کی غرض و غایت پر پُر مغز تقریرکی۔ لوگوں کی فرمائش پر اپنی ایک کہانی ’’تین مائیں ایک بچہ‘‘ بڑے ہی دلچسپ انداز میں سنائی۔ بستی میں تقریباً ایک ہفتے کے قیام کے بعد خواجہ صاحب بمبئی واپس ہوئے اور جب وہ بمبئی پہنچے تو بستی کے متعلق ’’آزاد قلم‘‘ میں اپنے خیال کا اظہار کیا۔
اب تو خواجہ صاحب سے خط و کتابت کا بے تکلف سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر کوئی کتاب نایاب ہوتی اور ان کے پاس ہوتی تو لکھنے پر فوراً ارسا ل فرماتے۔ مقالے کے متعلق خط کا جواب ضرور دیتے ۔ دورانِ تحقیق ایک منزل ایسی آئی کہ خواجہ صاحب سے براہ راست ملاقات کی ضرورت پڑی۔ میں نے ان کے پاس خط لکھا تو انھوں نے فوراً جواب دیا کہ جب آپ کی مرضی ہو آسکتے ہیں۔ ۱۹۸۴ء کے اواخر میں میں نے بمبئی کا سفر کیا تو خواجہ صاحب نے مواد کی فراہمی میں میری مدد کی لیکن ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مصنف کے پاس اس کی لکھی ہوئی زیادہ تر کتابیں نہیں تھیں۔ بہر حال بمبئی کی دوسری لائبریریوں اور بلٹز کے دفتر سے میرے مسائل حل ہو گئے۔ بمبئی میں تقریباً ایک مہینے کا قیام رہا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ خواجہ صاحب بالکل تھک چکے ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے خود کہا کہ اب میں سوچتا ہوں کہ آرام کروں۔ تب میں نے کہا نہیں جناب آدمی کی زندگی کام کرتے رہنے سے عبارت ہے، اگرآپ لکھنا پڑھنا بند کردیں گے تو اور بوریت ہوگی۔ جینے کے لیے مصروفیت کی ضرورت ہے ۔ اس پر خواجہ صاحب بہت خوش ہوئے ۔ جب میں ان کے پاس سے گورکھپور آنے لگا تو انھوں نے کہا ، گورکھپور پہنچتے ہی خط لکھنا۔ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا یاتو بڑے ہی مایوسانہ انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے کہا معاف کرنا بھائی ،یہ لنگڑا آدمی آپ کو دروازے تک بھی نہیں چھوڑ سکتا۔
خیر میں بمبئی سے گورکھپور آگیا اور اپنا کام مکمل کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مقالہ جمع کرنے کے بعد خواجہ صاحب کے پاس خط لکھا جس میں تعلیم کے میدان کی حقیقت حال اور اپنے معیار زندگی کے متعلق لکھا تو انھوں نے بڑی اچھی رائے دی کہ آپ جیسا معیار زندگی والے لوگوں کو اونچی تعلیم نہیں حاصل کرنی چاہیے بلکہ ہائی اسکول یا انٹر کے بعد کوئی ہنر سیکھنا چاہیے لیکن آپ دل برداشتہ نہ ہوں محنت کبھی کسی کی رائگاں نہیں جاتی۔
پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہونے کے بعد جب میں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا تو انھوں نے مبارکباد کا خط لکھا اور بطور انعام سو روپیہ کا منی آرڈر بھی بھیجا۔
ڈگری ملنے کے بعد ہاسٹل خالی کرنا پڑا تو شہر میں رہنے کا پیچیدہ مسئلہ پیش ہوا۔ اسی پریشانی کے عالم میں خواجہ صاحب کو ایک جذباتی خط لکھ دیا۔ خواجہ صاحب پر اس خط کا بڑا اثر ہوا۔ انھوں نے میرا ذکر اپنے مختلف ملنے والوں سے کیا اور میرے لیے اپنے ایک فلمی ساتھی جے۔کے۔صاحب کے یہاں گنجائش پیدا کرلی۔ رہنے کی جگہ اور پانچ سو روپیہ ماہانہ پر بات طے ہوئی۔ خواجہ صاحب نے فوراً میرے پاس خط لکھا کہ میں کرایہ بھیج رہا ہوں اور آپ بمبئی چلے آئیے۔ میں نے شکریہ کے ساتھ بمبئی پہنچنے کا خط لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ آپ نے بمبئی جیسے شہر میں قیام و طعام کا انتظام کر دیا یہی کیا کم ہے۔ اور جناب میں عمر کے اس دور سے گذر رہا ہوں کہ مجھے آپ جیسے بزرگوں کی خودخدمت کرنی چاہیے۔ اس لیے کرایہ بھیجنے کی زحمت نہ کیجئے گا ۔ میں جلد ہی بمبئی پہنچ رہا ہوں۔ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ میں بمبئی پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آداب کیا ۔ اس وقت وہ بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے ۔ فوراً مجھ سے پوچھا چائے پیئں گے یا کافی! میں نے کہا چائے۔
تھوڑی دیر میں چائے آگئی۔ جب میں چائے پی رہا تھا تبھی میرے لیے جے۔کے۔صاحب کے پاس خط لکھا اور جب میں چائے پی چکا تو فوراً ایک کاغذ پر منزل پر پہنچنے کا نقشہ بنا دیا ۔ نقشے کے سہارے میں جے۔کے۔صاحب کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس دن ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دوسرے دن ذرا دیر سے خواجہ صاحب کے پاس پہنچاتو لگے ڈانٹنے ۔ میرا تو برا حال تھا اور خواجہ صاحب ڈانٹے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بمبئی تیز رفتا شہر ہے ۔ آپ اپنی دیہاتی معصومیت چھوڑدیجئے ورنہ بھوں کوں مرجائو گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں لنگڑا او اندھا آدمی آج ہوں کل نہیں۔ میرا کیا بھروسہ‘‘۔ میں فوراً وہاں سے اٹھ کر جے۔کے۔صاحب کے پاس گیا اور اس دن ملاقات ہوگئی۔ جے۔کے۔صاحب بڑے ہی خوش اخلاقی سے پیش آئے لیکن بعض وجوہ سے انھوں نے میرے متعلق خواجہ صاحب سے جو وعدہ کیا تھا اس کے ایفا سے معذور تھے۔ اس سے خواجہ صاحب بہت فکر مند ہوئے۔ دو ہفتہ بعد خود انھوں نے اپنے فلم پروڈکشن میں میرے لیے کانٹی نیوٹی لکھنے کی جگہ نکال لی۔
اب میں خواجہ صاحب سے اور قریب ہو گیا ۔ مہینے میں چار پانچ دن شوٹنگ کا کام ہوتا جس میں کانٹی نیوٹی لکھنا ہوتا تھا۔ باقی اور دنوں میں خواجہ صاحب یا تو کسی فلم کا مکالمہ ڈکٹیٹ کرتے یا اپنی فلم ’’ایک آدمی ‘‘ کے مکالمہ کی کئی کاپیاں نقل کرواتے۔ دوپہر کے کھانا کے بعد جب خواجہ صاحب آرام کرنے کے لیے لیٹتے تو مجھ سے کہتے بھئی آپ نے مجھ پہ مقالہ لکھا ہے وہ پڑھ کر سنائیے ، میری بینائی اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا ۔ لہٰذا میں خواجہ صاحب کو مقالہ پڑھ کر سناتا۔ جب کئی دن میں مقالہ پورا سنا دیا تو بہت خوش ہوئے۔ اٹھ بیٹھے اور مجھ سے ہاتھ ملایا ۔ اور مزید یہ بھی کہا کہ میں اس مقالے کو اپنے ٹرسٹ سے چھپوائوں گا۔
شوٹنگ کے دن خواجہ صاحب اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے جب تک شوٹنگ ختم نہیں ہو جاتی ۔ اور یونٹ کا ہر فرد کھانے سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ اگر شوٹنگ دن بھر چلتی تو وہ دن بھر کھانا نہیں کھاتے ۔ بس کافی پیا کرتے تھے۔ رات کی شوٹنگ میں وہ رات کی رات جاگتے۔ ہاں میں نے ان کے اندر یہ سب سے بڑی خوبی دیکھی کہ ہر فرد کا برابر خیال کرتے تھے۔ اداکار سے لیکر کیمرہ مین ، کلیپ مین اور میک اپ کرنے والے ان کی نگاہ میں برابر تھے۔ سب خواجہ صاحب سے ہاتھ ملاتے اور بے تکلف باتیں کرتے۔ جیسے شوٹنگ ختم ہوتی اپنے سیکریٹری سے سب کو فوراً کھانا کھانے کا پیسہ دلواتے، اس لیے ہر آدمی خواجہ صاحب کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مندرہتا تھا۔
خواجہ صاحب میں کام کرنے کی بے پناہ صلاحیت تھی ۔ ضعیفی اور معذوری کے باوجود جتنا وہ لکھ پڑھ لیتے تھے اتنا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہو تے تھے اور اپنے نوکر کے سہارے صبح ٹہلتے تھے۔ بعد میں انگریزی اردو کے اخبارات پڑھتے۔ ان کے بستر پر اتنے اخبار و رسائل ہوتے تھے کہ مشکل سے بیڈ شیٹ دکھائی دیتی تھی اور خواجہ صاحب ان اخباروں اور رسالوں کے بیچ بیٹھتے ، لکھتے اور سوتے تھے۔ بلٹز کا آزاد قلم اورآخری صفحہ بلا ناغہ لکھتے ، اس کے لیے ہفتہ میں ایک دن مقرر تھا۔ بصارت اتنی کمزور ہو چکی تھی کی کبھی کبھار تو ایک ہی لائن پر دو مرتبہ لکھ دیتے تھے اور اگر کبھی قلم کی سیاہی ختم ہو جاتی تو اس کا بھی احساس نہیں ہوتا لیکن مشق و بصیرت سے ان کا قلم چلتا رہتا ۔ یہ اور بات تھی کہ جو ان کی تحریر نقل کرتا تھا اس کی شامت آجاتی تھی ۔ وحیدا نور صاحب ڈانٹ کی زد میں آجاتے تھے اور اگر وہ موجود نہ ہوتے تو وہ سب مجھے جھیلنا پڑتا۔ جب ان کی تحریر پڑھنے میں ہچکچاہٹ ہوتی تو ڈانٹتے اور زور سے کہتے پڑھو۔ ایک پی۔ایچ ۔ڈی کی طرح پڑھو۔ پی۔ایچ۔ڈی بے چارہ کیا خاک پڑھے جب حروف روشنائی سے بے نیاز ہوں ۔ خواجہ صاحب آزاد قلم کبھی ڈِکٹیٹ کرواتے اور کبھی نقل کرنے کے بعد پڑھواتے۔ اگر روانی کے ساتھ پڑھتا اور کہیں غلطی نہیں ہوتی توبہت خوش ہوتے ۔ جیب سے بیس روپیہ نکال کر دیتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ پیسے کی جب بھی ضرورت ہو بغیر کسی تکلف کے لے لینا۔ بلٹز ان کا مقصدِ حیات تھا۔ بغیر بلٹز لکھے انھیں چین نہیں آتا تھا۔ بلٹز بمبئی میں جمعرات ہی کو مل جاتا ہے۔ جمعرات کے دن خواجہ صاحب بلٹز کے منتظر رہتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بلٹز دفتر سے جو ملازم آتا تھا وہ اس کے گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے آشنا تھے ۔ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ بلٹز دفتر سے آیا ہوا ملازم باہر گھنٹی بجاتا ہے اور اندر سے خواجہ صاحب نے یہ کہہ دیا کہ بلٹز آگیا۔ گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے وہ ملاقات کرنے والے لوگوں کی دل کی بات اور مقصد گھنٹی کی آواز ہی میں پہچان جاتے تھے۔
مجھ سے اکثر خواجہ صاحب کہتے تھے کہ جب تک آنکھ چشمے سے بے نیاز ہے تب تک خوب پڑھ لو۔ خاص طور سے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب ’’گلمپز آف دی ورلڈ ہسٹری ‘‘پڑھنے کی ہدایت کی۔ روزانہ وہ جانچ بھی کرتے کہ کتنے صفحات کا مطالعہ ہوا اور کون کون سی چیز معلوم ہوئیں۔ خواجہ صاحب نہرو جی کے طرز تحریر کے گرویدہ تھے۔
خواجہ صاحب ایک سیکولر مزاج کے آدمی تھے۔ عید اور بقرعید کے دن اپنے دوست و احباب کو سیوئیاں کھلاتے اور رکشا بندھن کے دن ان کی بہنیں ان کے ہاتھوں میں راکھی باندھتیں اور لڈو کھلاتیں۔خواجہ صاحب رکشابندھن کا لڈو اسی رغبت سے کھاتے تھے جس رغبت سے سیوئیاں ۔ وہ مذہبی بحث مباحثہ میں کبھی نہیں پڑتے تھے۔ جس مسلم تہذیب میں ان کی پرورش ہوئی تھی وہ تہذیب آخری وقت تک ان میں برقرار تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہب کے مقلد نہیں تھے انھیں خدا کے وجود میں یقین تھا۔ ایک روز میں حیرت میں پڑگیا جب انھوں نے جون کے مہینہ میں ۷۳برس کی عمر میں روزہ رکھا۔
مجھے خواجہ صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کی تخلیقات کے مطالعے سے ان کا جو پیکر تیار کیا تھا ہو بہو اس کا عکس ان کے اخلاق و عادات و اطوار اور معمولات زندگی میں دیکھا۔
خواجہ صاحب کے نزدیک اپنے اور پرائے کا تصور نہیں تھا۔ جوبھی ان کے قریب ہوتا تھا وہی ان کا اپنا ہوتا ۔ میں بھی خواجہ صاحب کی شفقت کا مقروض ہوں ۔ میرے لیے انھوں نے بہت کچھ کیا اپنے فلم پروڈکشن میں مجھے کام دیا اور ہر چھوٹی بڑی بات کا باپ کی طرح خیال کیا۔ برسات ہونے لگی تو فوراً چھتری کا انتظام کیا عید کے موقع پر کپڑے کا خیال کیا۔ اپنے دست شفقت سے مجھے عیدی دی ۔ پڑھنے لکھنے کے لیے مختلف لائبریریوں سے رابطہ قائم کروایا۔
خواجہ صاحب مساوات اور انسانیت کے جتنے بڑے پجاری اپنی تحریروں میں تھے ویسے ہی وہ مجھے اپنے کردار اور گفتار میں نظر آئے۔ ان کا دسترخوان وسیع تھا ۔ کھانے کے وقت جو بھی موجود ہوتا بغیر کسی تکلف کے دستر خوان پر بیٹھ جاتا ۔ خواجہ صاحب اس چیز کو بہت پسند کرتے تھے۔ جو بلانے پر جاتا یا کھانا کھا کر اٹھ جاتا اسے ڈانٹتے بھی۔ کھانا کھاتے وقت اپنے باورچی کو ساتھ میں بٹھا کر کھلاتے ۔ اگر وہ اکیلے کھانا کھا لیتے تو انھیں ہضم ہی نہیں ہوتا۔ اس کا مجھے اس وقت احساس ہوا کہ آدمی جتنا ہی عظیم ہوتا ہے اتنا ہی اس کے دل میں ہر آدمی کے لیے جگہ ہوتی ہے۔
خواجہ صاحب کا کھانا نہایت سادہ ہوتا تھا اور مشکل سے دو پھلکے کھاتے تھے اور اگر یہ کہا جاتا کہ اور کھائیے تو کہتے بھائی بہت کام کرنا ہے زیادہ کھانے سے نیند آجائے گی۔ ۷۳ برس کی عمر میں کام کا اتنا خیال تھا ۔ کام کرنا ہی ان کا مقصد حیات تھا۔ اگر کوئی کام کر رہے ہیں اور چائے آگئی ہے تو ٹھنڈی ہو رہی ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ کام میں اس قدر ڈوب جاتے کہ اکثر وہ ٹھنڈی چائے پیتے۔
خواجہ صاحب اپنے ذاتی کام کے لیے کبھی حکم نہیں صادر کرتے تھے۔ آخری وقت میں جب کہ بڑی حد تک وہ آنکھ اور پائوں سے معذور ہو چکے تھے اپنا کام خود کرنا پسند کرتے تھے۔ مثلاً اگر دروازہ بند ہوتا تو وہ کسی کو دروازہ کھولنے کا حکم صادر نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ اٹھتے، اپنی چھڑی ٹٹولتے اور چھڑی سے دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ۔ قریب جو بھی ہوتا اس جد وجہد کو دیکھ کر دروازہ کھول دیتا۔ خواجہ صاحب اسے شکر گزار آنکھوں سے دیکھنے لگتے ۔ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں تھی مگر قوت ارادی اتنی مضبوط تھی کہ اپنی کوشش سے اٹھ کھڑے ہوتے اور چھڑی کے سہارے چلنے لگتے۔ جو بھی قریب ہوتا بڑھ کر اپنا کندھا پیش کر دیتا اور خواجہ صاحب بخوشی کندھے کا سہارا قبول کر لیتے اور اس کے سہارے سے ڈائننگ ٹیبل اور ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ جاتے ۔ میں نے بھی اپنے کندھے کا سہارا دیا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ خواجہ صاحب کے جنازے کو میں کاندھا نہ دے سکا۔
بڑے آدمی ہر ایک کے ساتھ یکساں حسن سلوک کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔مگر ہر ایک کو ہمیشہ یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ جناب کی نگاہ کرم مجھ پر سب سے زیادہ ہے ، یہی بات خواجہ صاحب میں میں نے دیکھی ۔ جو بھی ان سے زیادہ قریب رہے ان کو یہی گمان رہا کہ محترم سب سے زیادہ مجھے چاہتے ہیں اور خواجہ صاحب کا یہ عالم تھا کہ وہ سب کو برابر چاہتے تھے ۔ ہر کسی کی یہ خواہش تھی کہ خواجہ صاحب ابھی اور جیتے لیکن مشیت ایزوی کا علم کسے ہے؟
خواجہ صاحب جسمانی طورپر آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی ساری روح ان کی تخلیقات میں سمٹ آئی ہے۔ ان کی عہد ساز تخلیقات انسان کے شعور کو بیدار کرتی رہیں گی۔ ایسے لوگ صدیوں میں کہیں پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی ہستیوں کے متعلق کہا گیا ہے ؎

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں