Mutala-e- Chakbast Ki Ek Nai Jehat

Articles

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

ڈاکٹرجمال رضوی

مطالعہ ٔ چکبستؔ کی ایک نئی جہت

پنڈت برج نرائن چکبستؔ کا شمار نشاۃ الثانیہ کی اردو شاعری کے قابل ذکر شعرا میں ہوتا ہے۔ عددی اعتبار سے چکبستؔ کا شعری سرمایہ گرچہ مختصر ہے لیکن اس کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے قوم پرستی اور حب وطن کو اپنی شاعری کا بنیادی موضوع بنایا اور اس موضوع کی تشریح و توضیح مختلف حوالوں سے کرتے ہوئے یہ پیغام دیا کہ انسان کی کامیابی و کامرانی کا راز وطن کی ترقی میں مضمر ہے۔ چکبستؔ بنیادی طور پر نظم کے شاعر تھے لیکن انھوں نے غزلیں اور رباعیات بھی کہی ہیں۔چکبست ؔ کی شاعری اپنے عہد کے سیاسی و سماجی حالات و مسائل کا بیانیہ ہے لیکن انھوں نے ان موضوعات کو جس انداز میں برتا ہے ایک حد تک ان کی معنویت آج بھی باقی ہے ۔ چکبستؔ کا شمار اردو کے ان چند شعرا میں ہوتا ہے جنھوں نے قلیل سے شعری سرمایہ کے باوصف نمایاں شہرت حاصل کی۔چکبستؔ کی زندگی کے شب و روز بھی محض ۴۴؍ برس کی مدت پر محیط ہیں اس لیے یہ کہا جا سکتا ہے اگر ان کی عمر طویل ہوتی تو ان کا شعری سرمایہ بھی نسبتاً زیادہ ہوتا۔ چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی شاعری کا آغاز نظم گوئی سے ہوا۔ انھوں نے مشق سخن کا آغاز ۱۸۹۴ء میں اس نظم سے کیا تھا جو کشمیری پنڈتوں کی سوشل کانفرنس کے چوتھے اجلاس میں پڑھی گئی تھی جبکہ پہلی غزل انھوں نے ۱۹۰۸ء میں کہی تھی۔ اردو کی شعری روایت پر نظر ڈالیں تو ایسے شعرا بہت کم تعداد میں ملیں گے جن کی شاعری کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا ہو۔ بیشتر شعرا ، شاعری کا آغاز عموماً غزل سے کرتے ہیں اور بعد ازاں شاعری کی دیگر اصناف میں بھی طبع آزمائی کرتے ہیں۔ غالباً یہی سبب ہے کہ اردو شعرا کا ذکر کرتے ہوئے بیشتر نے اس طرح کے روایتی جملے لکھے ہیں کہ ’’ شاعری کا آغاز غزل گوئی سے ہوا اور بعد میں نظمیں بھی لکھیں ۔‘‘ چکبستؔ کے بارے میں بھی ادبی تاریخ کے بعض مرتبین نے اسی روایت کو باقی رکھا جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ اردو ادب کی تاریخ مرتب کرنے والوں میں نورالحسن نقوی کا بھی شمار ہوتا ہے اور ان کی کتاب ’’ تاریخ ادب اردو‘ کو مستند کتاب مانا جاتا ہے۔نقوی صاحب نے بھی چکبستؔ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے ’’ چکبستؔ نے روایتی انداز سے شاعری شروع کی اور غزلیں بھی کہیں مگر جلد ہی طبیعت کا اصلی رجحان غالب آگیا۔ وہ نظم گوئی کی طرف متوجہ ہو گیے اور وطن پرستی کو اپنی نظموں کا موضوع بنایا۔‘‘ ؎۱اسی طرح چکبستؔ کی جائے پیدائش بھی مذکورہ کتاب میں غلط درج ہے لیکن جو عبارت ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غلطی مرتب کی نہیں کاتب کی ہے۔ عبارت اس طرح ہے:’’ برج نرائن کے بزرگوں کا وطن لکھنؤ تھا لیکن ان کی ولادت ۱۸۸۲ء میں لکھنؤ میں ہوئی ۔‘‘ ؎۲
چکبستؔ کی شاعری میں موضوعات کا تنوع نہیں ہے لیکن زبان و بیان پر ان کی ماہرانہ قدرت انھیں اردو کے چند نمایاں شعرا میں جگہ دیتی ہے۔ ان کی شاعری پر انیسؔ اور غالبؔ کا رنگ بہت گہرا ہے اور بعض مقامات پر آتشؔ کا پرتو بھی نظر آتا ہے۔ بعض ناقدین نے تو چکبستؔ کو انیسؔ و غالبؔ کا خوشہ چیں تک کہا ہے۔ پروفیسر شبیہ الحسن نے اپنے مضمون ’’ مرانیسؔ کی خوشہ چینی اور ان کے خوشہ چین‘ میں چکبستؔ کو واضح طور پر انیسؔ کا خوشہ چیں قرار دیتے ہوئے لکھا ہے’’ چکبستؔ کی منظر نگاری ہر چند کہ انیسؔ کی منظر نگاری کے مقابلے میں کارچوب کی الٹی سمت ہے لیکن اسلوب و خاکہ میر انیسؔ کا ہی رکھتی ہے۔‘‘ ؎۳میرانیسؔ کی منظر نگاری کے علاوہ انیسؔ کی شاعری کے رزمیہ عنصر نے بھی چکبستؔ کو بہت گہرائی تک متاثر کیا تھا اور چکبستؔ کی بعض نظموں میں اس کی باز گشت صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ شعری اسلوب کے معاملے میں بھی چکبستؔ، انیسؔ و غالبؔ سے بہت زیادہ متاثر نظر آتے ہیں۔ خصوصاً ان کی نظموں میں بعض مصرعوں میں ہوبہو انیسؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ نظمیہ شاعری میں چکبستؔ نے صرف اسلوب کی سطح پر ہی انیسؔ سے استفادہ نہیں کیا بلکہ ہیئت بھی بیشتر وہی اختیار کی جو انیسؔ کے مرثیوں کی ہے۔غزلوں میں چکبستؔ نے بیشتر غالبؔ سے استفادہ کیا ہے اور کئی غزلیں ان کی زمین میں کہی ہیں جس کا ذکر آئندہ سطور میں آئے گا۔
چکبستؔ کے سیاسی و سماجی تصورات سے اختلاف کے باوصف اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ حب وطن اور قوم پرستی ان کے رگ و پے میں سرایت کیے ہوئے تھی۔ ان کی زندگی تصنع اور ظاہر پرستی سے مبرا تھی اور ان کی شخصیت کو بجا طور پر مشرقی اقدار حیات کا آئینہ دار کہا جا سکتا ہے۔ انھوں نے نہ صرف شاعری بلکہ عملی طور پر بھی اصلاح معاشرہ کے لیے صالح کوششیں کیں۔ چکبستؔ کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عمر بھر سرگرم عمل رہے ۔ جہاں تک ان کے سیاسی و سماجی تصورات کی بات ہے تو اس میں اتنا عمق اور وسعت نہیں جو ہندوستان جیسے کثیر مذہبی و ثقافتی ملک کے لیے بہت زیادہ کار آمد ثابت ہو۔وہ ہندوستان پر انگریزوں کی حکومت کے مخالف تھے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتے تھے کہ اگر انگریز ہندوستانیوں کے استحصال سے باز آجائیں اور ملکی نظام ہندوستانیوں کے سپرد کردیں تو ان کے یہاں رہنے پر اعتراض نہیں کرنا چاہیے۔ سیاست اور سماج کے متعلق ان کا نظریہ بہت سیدھا اور سپاٹ تھا جو کہ بیسویں صدی کے پیچیدہ ہندوستانی معاشرہ کے لیے بہت موزوں نہیں کہا جا سکتا۔
چکبستؔ ہندوستان کے قومی وثقافتی تشخص پر فخر کرنے کے ساتھ ہی نئی تہذیب کے صالح اور کار آمد عناصر کو بھی قبول کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ وہ نئے زمانے کی ان ایجادات سے بھی استفادہ کرنے کا مشورہ دیتے تھے جو کہ انسانی تمدن کی تاریخ میں ترقی کے نئے باب وا کریں۔ وہ صنعتی انقلاب اور سائنسی ایجادات کے مثبت پہلوؤں پر زور دیتے تھے ۔ اس معاملے میں ان کا انداز فکر اکبر ؔ الہ آبادی سے مختلف تھا۔ اکبرؔ نے مغربی تہذیب کی پروردہ عریانیت اور فحاشی کو ہدف بنانے کے علاوہ ان تمام چیزوں کی مخالفت کی جو مغرب کے ذریعہ ہندوستان میں آئی تھیں اور انگریزی تعلیم بھی ان میں شامل تھی۔چکبستؔ نے نہ صرف جدید تعلیم کے حصول پر زور دیا بلکہ ان فرسودہ روایات کی پرزور مخالفت بھی کی جن سے ترقی کی راہ مسدود ہوتی تھی۔ بحیثیت شاعر چکبستؔ کو اردو کے ان شعرا میں شمار کیا جا سکتا ہے جن کے شعری افکار کا محور وطن پرستی اور قوم پرستی ہے۔ چکبستؔ کی شعری کائنات کی تشکیل میں ان دو اجزا کے علاوہ جو تیسرا عنصر ہے وہ مظاہر قدرت کا بیان ہے۔چکبستؔ کی شاعری پر گفتگو کرتے ہوئے حالیؔ اور آزادؔ کی ان اصلاحی کوششوں کو نظر اندازنہیں کیا جا سکتا جن کی وجہ سے اردو شاعری اسلوب اور موضوع ہر دو اعتبار سے نیا قالب اختیار کر رہی تھی ۔ ان اصلاحی کوششوں میں آورد، تصنع اور مبالغہ کو معیوب قرار دیا گیا تھااور ایسی شاعری کو بہتر اور معیاری کہا گیا تھا جس میں انسان اور سماج کا حقیقی عکس نظر آئے۔ چکبست ؔ کی شاعری انسانی سماج کا حقیقی عکس نظر تو آتا ہے لیکن انھوں نے جس مخصوص زاویہ سے معاشرہ کا مشاہدہ کیا تھا اسے مجموعی حقیقت نہیں کہا جا سکتا ۔
شاعر کی حیثیت سے چکبستؔ کی انفرادیت یہ بھی ہے کہ ان کی مشق سخن کا آغاز موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا۔ ۱۸۹۴ء میں ۱۲؍ برس کی عمر میں انھوں نے ایک نظم ’ حب قومی‘ کے عنوان سے لکھی تھی ۔ اس نظم میں وطن پرستی اور قومی یکجہتی پرزور دیتے ہوئے کشمیری افراد کو تلقین کی گئی ہے کہ اتحاد و اتفاق سے ہی زندگی کامیاب و کامراں ہوتی ہے۔ یہ نظم گرچہ چکبستؔ کی پہلی کاوش ہے لیکن اس کے بعض اشعار فن شاعری سے ان کی کماحقہ واقفیت کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں ۔ مثلاً:
لطف یکتائی میں جو ہے وہ دوئی میں ہے کہاں
برخلاف اس کے جو ہو سمجھو کہ وہ دیوانہ ہے
نخل الفت جن کی کوشش سے اگا ہے قوم میں
قابل تعریف ان کی ہمت مردانہ ہے
نظموں کی بہ نسبت غزلیہ شاعری کی طرف چکبستؔ کی توجہ تاخیر سے ہوئی۔ ان کی پہلی غزل ۱۹۰۸ء کی ہے ۔اس طرح نظم نگاری میں تقریباً ۱۵؍ برس تک مختلف موضوعات کو ضبط قلم میں لانے کے بعد وہ غزل کی طرف متوجہ ہوئے۔ نظم اور غزل کے علاوہ چکبستؔ نے رباعیات بھی کہی ہیں ۔ چکبستؔ کا مجموعہ ٔ کلام ’صبح وطن‘ کے نام سے ۱۹۲۶ء میں ان کے انتقال کے بعد شائع ہوا تھا جس پر سر تیج بہادر سپرو نے مقدمہ لکھا تھا۔ ان کے مجموعہ ٔ کلام کی اشاعت کے سلسلے میں ڈاکٹر عطیہ نشاط نے چکبستؔ کے ڈراما’ کملا‘ کے مقدمے میں اور سرراس مسعود نے ’انتخاب زریں‘ میں لکھا ہے کہ اس کی اولین اشاعت ۱۹۱۸ء میں ہوئی تھی۔ اس مجموعے میں شامل کلام اور چکبستؔ کی دیگر شعری تخلیقات کو یکجا کر کے کالی داس گپتا رضاؔ نے ۱۹۸۱ء میں ’کلیات چکبستؔ‘ شائع کیا تھا۔ اس کلیات میں نظموں کی تعداد ۴۵؍، غزلیں ۴۴؍ اور ۱۰؍ رباعیات شامل ہیں۔
کلیات چکبستؔ میں شامل ۱۰؍ رباعیات میں سے ایک رباعی ان کی وکالت کے ابتدائی دنوں کے حالات کی ترجمانی کرتی ہے:
کرسی سے عیاں جنبش یک پائی ہے
میز ایسی ہے گویا کہ پڑی پائی ہے
منشی کا ہے خطرہ نہ موکل کا گزر
آفس بھی عجب گوشہ ٔ تنہائی ہے
ایک رباعی میں پنڈت رتن ناتھ سرشار کے انتقال پر انھیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے چکبستؔ نے لکھا ہے:
سرشارِ فصح و نکتہ پرور نہیں رہا
سرمایہ ٔ نازِ اہل جوہر نہیں رہا
اعجاز قلم کے جس کے سب قائل تھے
وہ نثر کا اردو کی پیمبر نہیں رہا
غالباً یہ رباعی ۱۹۰۲ء کی تخلیق ہے کیوں کہ اسی سن میں سرشار کا انتقال حیدرآباد میں ہوا تھا۔ اس کے علاوہ باقی ۸؍رباعیوں میں دنیا کی بے ثباتی ، زندگی میں عزم وعمل کی اہمیت، قوم کی ناعاقبت اندیشی ، معاشرتی زندگی میں حلم، مروت، خلق و اخلاص اور محبت کی ضرورت کو موضوع بنایا ہے۔چکبستؔ کی غزلوں میں بھی بیشتر یہی موضوعات نظر آتے ہیں۔ان کی غزلوں پر غالبؔ اور آتشؔ کا رنگ نمایاں ہے۔ انھوں نے کئی غزلیں ان شعرا کی زمین میں کہی ہیں۔ چکبستؔ کی غزلوں کی زبان پر کلاسیکی شعرا کا رنگ غالب ہے لیکن موضوع کے اعتبار سے ان کی غزلیں ماقبل اور معاصرین شعرا کے درمیان اپنی انفرادیت قائم کرتی ہیں۔چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا روایتی تصور نظر نہیں آتا بلکہ یہ وہ عشق ہے جو انسان کو کچھ ایسا کارہائے نمایاں کرنے کی ترغیب دیتا ہے جو اس کے ، اس کی قوم اور اس کے وطن کی سرخروی کا ضامن بنے۔
چکبستؔ کی غزلوں میں عشق کا بیان وطن اور قوم سے محبت کے حوالے سے ہی بیشتر ہوا ہے۔ ان کی غزلوں میں جس عاشق کا تصور ابھرتا ہے وہ محبوب کے قرب کا خواہاں ہونے کے بجائے وطن کی محبت سے سرشار اور کی ترقی و نیک نامی کا متمنی ہے۔ اگر کسی غزل میں چکبستؔ نے قیس و فرہاد اور لیلیٰ و شریں کا ذکر کیا بھی ہے تو وہ روایتی اندا ز میں ہے۔ اس قبیل کے اشعار اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتے ہیں کہ شاعر اردو کی شعری روایت کو نبھانے کی غرض سے عشق کا بیان ان تمثیلات کے حوالے سے کر رہا ہے۔ چکبستؔ نے وطن اور قوم سے وابستہ اپنے جذبات اور احساسات کا اظہار جن اشعار میں کیا ہے وہاں ان کی تخلیقیت اپنے فطری پن کے ساتھ نظر آتی ہے۔ وطن سے محبت کا یہ عالم ہے کہ چکبستؔ کو خود اپنی بھی پروا نہیں رہتی :
قوم کا غم مول لے کر دل کا یہ عالم ہوا
یاد بھی آتی نہیں اپنی پریشانی مجھے
چکبستؔ کی بیشتر غزلوں میں یہی تخلیقی رجحان نظر آتا ہے۔
انسان کی حیات اور موت کے متعلق چکبستؔ کا وہ مشہور شعر جوان کی شاعری میں ایک ناگزیر حوالے کی حیثیت رکھتا ہے وہ بھی غالبؔ کی زمین میں ہے ۔یہ غزل ۱۹۰۹ء کی تخلیق ہے۔ اس غزل کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کا جواب معلوم ہوتا ہے بلکہ چکبستؔ نے غالبؔ کے خیال کی تردید کرنے کی کوشش کی ہے اور یہ بتایا ہے کہ آدمی کا انسان ہونا کوئی مشکل امر نہیں ہے اس کے لیے بس کچھ صفات کو اپنی ذات کا جزو بنانے کی ضرورت ہے۔ لیکن خیال کی جو سطح غالبؔکے مطلعے میں ہے چکبستؔ اس سطح تک نہیں پہنچ پائے۔ چکبستؔ کا بڑا مسئلہ یہ تھا کہ وہ زندگی اور معاملات زندگی کے بارے میں ایک مثالی تصور قایم کر لیتے تھے اور پھر اسی تصور کو شعری پیکر عطا کر دیتے تھے۔بعض اوقات ان کے قایم کردہ تصورات انسان کی ذات اور اس کے متعلقات سے بالکل برعکس بھی ہوتے ہیں اور یہی کچھ اس غزل کے مطلعے میں بھی ہے۔پہلے غالبؔ کی غزل کا مطلع دیکھیے:
بس کہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا
اب چکسبتؔ کا مطلع ملاحظہ ہو:
دردِ دل، پاسِ وفا، جذبہ ٔ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا
غالبؔ کا مطلع فطرت انسانی کی نیرنگیوں کی جانب اشارہ کرتا ہے ۔ چکبستؔ کا مطلع غالبؔ کے مطلعے کی معنویت اور بہ ظاہر سادہ سے شعر میں خیال کی نزاکت اور تہہ داری کو مزید نمایاں کر دیتا ہے۔ چکبستؔ نے انسان ہونے کے لیے جن صفات کا ذکر کیا ہے ان سے متصف اشخاص بھی اکثر ایسے کام کر گزرتے ہیں جو انسانیت کے منافی ہوتے ہیں۔ غالبؔ نے مصرعہ ٔ اولیٰ میں ’ہر کام‘ کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ انسانی اعمال کے متعلق کوئی حتمی فیصلہ صادر نہیں کیا جا سکتا۔ غالبؔ نے اس شعر کے ذریعہ ان اسباب و محرکات کے اثرات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے جو مختلف حالات کے تحت انسان کی شخصیت پر اثرانداز ہوتے ہیں ۔
چکبستؔ کی غزلوں میں اصلاح ذات و معاشرہ اور قوم و وطن پرستی کے علاوہ جو موضوع اپنی طرف متوجہ کرتا ہے وہ منظر نگاری خصوصاً مظاہر قدرت کی عکاسی ہے۔ ان کی غزلوں کے علاوہ نظموں میں بھی یہ موضوع اپنے پورے آب و تاب کے ساتھ نظر آتا ہے۔ اس قبیل کی شاعری سے ان کی مشاہداتی قوت کا پتہ چلتا ہے ۔ وہ جس منظر کو بیان کرتے ہیں اس کی واضح تصویر نظروں میں پھر جاتی ہے۔ انھوں نے غزلوں میں اکثر ایسے اشعار کہے ہیں جو کسی منظر کو بیان کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں ان کی غزل جس کی ردیف ہی ’ بہار ‘ ہے قابل ذکر ہے۔ یوں تو اس غزل کے تمام شعر بہار کی مختلف کیفیات کی ترجمانی کرتے ہیں لیکن ذیل کے شعر کو منظریہ شاعری میں امیجری کی بہترین مثال کہا جا سکتا ہے:
عکسِ مہ قطرہ ٔ شبنم میں ہے شبنم گل پر
پردہ ٔ شب میں چمک اٹّھی ہے تقدیر بہار
بہار کے حوالے سے صبح کے سماں کا بیان اردو کے اکثر شعرا کے یہاں ملتا ہے لیکن رات کے حوالے سے یہ ذکر چکبستؔ کی انفرادیت ہے۔ حالیؔ نے شاعر کے اوصاف بیان کرتے ہوئے مطالعہ ٔ کائنات کے جس نکتے کو اپنے مقدمے میں بیان کیا ہے وہ چکبستؔ کی اس قبیل کی شاعری میںجابجا نظر آتا ہے۔ چکبستؔ کی غزلوں کو اردو کی کلاسیکی شعری روایت کی ایک کڑی کہا جا سکتا ہے۔ ان کی غزلیہ شاعری کا ڈھانچہ انھیں لوازم سے تعمیر ہوتا ہے جو فارسی شاعری کے ذریعہ اردو میں آئے تھے۔ چکبستؔ کی غزلوں کی تفہیم کے لیے اردو غزل کی روایت ، اس روایت سے وابستہ تصورات اور ان تصورات کی ترجمانی کرنے والی مخصوص زبان سے واقفیت ضروری ہے۔
چکبست ؔ کی اصل شہرت ان کی نظموں کی وجہ سے ہے ۔ ان کی نظموں کو ہندوستان کی قومی شاعری میں نماماں مقام حاصل ہوا۔یہ عرض کیا جا چکا ہے کہ چکبستؔ کی شاعری کا آغازہی موضوعاتی شاعری سے ہوا تھا ۔ صنف نظم سے ان کی رغبت کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انھوں نے شاعری کے ذریعہ جن مقاصد کے حصول کو نصب العین بنایا تھا اس کے لیے وہی شاعری موزوں ہو سکتی تھی جس میں اپنی بات کو اشاروں اور کنایوں میں کہنے کے بجائے تشریح و توضیح کے ساتھ بیان کیا جائے۔ چکبستؔ کی شاعری بحیثیت مجموعی مقصدی شاعری ہے لیکن نظموں میں یہ رنگ نسبتاً زیادہ نمایاں ہے۔ان کی نظمیہ شاعری کے بین السطور شاعری سے متعلق حالیؔ کے اس تصور کو محسوس کیا جا سکتا ہے جس کی رو سے شاعری گرچہ براہ راست یا قصداً اخلاق کی تربیت یا سماج کی اصلاح کا فریضہ نہیں انجام دیتی لیکن معیاری شاعری کے ذریعہ ان مقاصد کی بھی تکمیل ہوتی ہے۔ ہر چند کہ شاعر معلم اخلاق نہیں ہوتا لیکن سماج کے ایک فرد کی حیثیت سے ملک و معاشرہ سے وہ بالکل لاتعلق ہو کر بھی نہیں رہ سکتا۔ اس اعتبار سے چکبستؔ کے یہاں یہ شعوری کوشش نظر آتی ہے کہ ملک و معاشرہ سے مسلسل ربط قائم رکھتے ہوئے وہ ان کی بہتری کے خواہاں نظر آتے ہیں۔ اپنی پہلی نظم ’ حب قومی‘ میں چکبستؔ نے قوم سے اپنے والہانہ لگاؤ کا ذکر بڑے خلوص کے ساتھ کیا ہے ۔ اس کے بعد دوسری تصنیف ’ جلوہ ٔ صبح‘ (۱۸۹۸ء)میں صبح کی آمد کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ہے ۔ اس نظم میں چکبستؔ نے جس کمال فن کے ساتھ جزئیات نگاری کو برتا ہے وہ ان کی مشاہداتی قوت اور پھر خیالات و جذبات کی موزوں زبان میں شعری تجسیم کی بہترین مثال ہے۔یہ نظم مسدس کی ہیئت میں ہے اور اس کے بعض بند اس صبح کا منظر پیش کرتے ہیں جو انیسؔ کے مرثیوں میں نظر آتی ہے۔ ذیل کے دو بند میں چکبستؔ نے مصرعوں کی ترتیب و تنظیم میں جن الفاظ کا انتخاب کیا ہے وہ ان کے افکار پر انیسؔ کے اثر کی واضح عکاسی کرتے ہیں:
والشمس تھا کندہ شہ خاور کے نگیں پر
واللیل کا باقی تھا نشاں بھی نہ کہیں پر
تھی مہر کی پھیلی جو ضیا چرخ بریں پر
آنے لگا رہ رہ کے وہی نور زمیں پر
ذروں کا ستارہ بھی چمکتا نظر آیا
پیمانہ ٔ خورشید چھلکتا نظر آیا
وہ صبح کا عالم وہ چمن زار کا عالم
مرغانِ ہوا نغمہ زنی کرتے تھے باہم
ہنگام سحر بادِ سحر چلتی تھی پیہم
آرام میں سبزہ تھا تہ چادر شبنم
ہر سمت بندھی نعرہ ٔ بلبل کی صدا تھی
غنچوں کی نسیم سحری عقدہ کشا تھی
اس نظم میں چکبستؔ نے جو استعارے اور تراکیب استعمال کی ہیں وہ بھی طرز انیسؔ سے اثرپذیری کا صاف پتہ دیتی ہیں۔ صبح صادق کے وقت آسمان کا دامن ستاروں سے خالی ہونے کا نقشہ کھینچتے ہوئے چکبستؔ نے ایک نادر ترکیب’ خرمن انجم‘ استعمال کی ہے۔ یہ ترکیب نظم کے پہلے بند کی بیت کے مصرعہ ٔ ثانی میں آئی ہے اور مصرعہ ٔ اولیٰ میں نور سحر کی آمد کو بجلی سے تشبیہ دے کر چکبستؔ نے خرمن انجم کی ترکیب کی معنویت کو واضح کردیا ہے:
جب زنگِ شبِ آئینہ ٔ ہستی ہوا دور
ہنگام سحر کون و مکاں ہوگیے پرنور
تبدیل ہوئی صورت کوہ شب دیجور
چمکا وہ تجلّے سحر سے صفت طور
بجلی کی طرح چرخ پر نور سحر آیا
آنکھوں کو نہ پھر خرمن انجم نظر آیا
’جلوۂ صبح‘ کے بعد چکبستؔ کی دوسری اہم نظم ’ مرقع ٔ عبرت‘ ہے ۔ یہ نظم بھی ۱۸۹۸ء کی تخلیق ہے۔ کلیات چکبستؔ کے مرتب کالی داس گپتا رضا کے مطابق اس نظم کے ۵۲؍ بند اکتوبر ۱۹۰۵ء کے ’زمانہ‘ میں شائع ہوئے تھے اور پھر جب یہ نظم ’ صبح وطن‘ میں شائع ہوئی تو اس میں ۹؍ بندوں کا اضافہ کیا گیا تھا۔ یہ نظم خصوصی طور سے انجمن نوجوانانِ کشمیر کی کانفرنس کے لیے کہی گئی تھی۔ اس طویل نظم کا آغاز بہت کچھ انیسؔ کے طرز پر ہے جس میں شاعر اپنے سخن کی مقبولیت کی خواہش کرتے ہوئے اپنی قادرالکلامی کے مستند ہونے کا ذکر کرتا ہے۔اس کے بعد کشمیر کے خوبصورت مناظر کو بیان کرتے ہوئے چکبستؔ نے اپنی قوم اور خصوصاً نوجوانوں کی حالت کا نقشہ کھینچا ہے۔ اس نظم میں چکبستؔ نے ان کشمیری نوجوانوں کو مخاطب کیا ہے جنھیں اپنے وطن کو چھوڑ کر ملک کے مختلف علاقوں کو اپنا مستقر بنانا پڑا تھا۔ ان نوجوانوں کی بے عملی پر طنز کرتے ہوئے چکبستؔ نے کہا تھا کہ عظمت رفتہ کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے اپنے حالات و مسائل سے آگاہی اور ان کے تدارک کے لیے مخلصانہ سعی کرنا لازمی ہے۔ کسی قوم کی حالت زار کو تبدیل کرنے کے لیے دولت کو لازمی قرار دیتے ہوئے چکبستؔ نے کئی بندوں میں دولت کے مثبت و منفی استعمال سے انسانی سماج کو ہونے والے فوائد اور نقصانات بیان کیے ہیں ۔اس طرز کے دو بند ذیل میں ملاحظہ کریں:
۱۔ کوشش کبھی زر دار کی جاتی نہیں بے سود
رہتا ہے سدا سایہ فگن طالع ٔ مسعود
انسان کی نیت میں اگر شر نہ ہو موجود
زر ہاتھ میں اس کے ہے کلید در مقصود
کب گوہر امید کو رولا نہیں اس نے
تھا کون سا در بند جو کھولا نہیں اس نے

۲۔ لیکن وہ زر و مال نہیں قابل تحسیں
انساں کو بنا دے جو شکم پرور و خود بیں
زردار وہ ہے جس میں شرافت کے ہوں آئیں
ہو بزم ِ محبت کے لیے باعثِ تزئیں
سرسبز رہے قوم، یہ انعام ہو اس کا
باراں کی طرح فیض کرم عام ہو اس کا
اس نظم کے علاوہ اور بھی کئی نظمیں چکبستؔ نے مذکورہ کانفرنس میں پڑھنے کے لیے کہی تھیں۔ان نظموں کے مطالعے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوم کے احیا کے لیے بہت فکر مند تھے اور اس کے لیے وہ شاعری کے علاوہ عملی طور پربھی کوشش کرتے رہتے تھے۔انھوں نے کشمیری مہاجرین کی فلاح و بہبود کے لیے عملی طور پر بہت سے کام کیے۔
چکبستؔ کی نظمیہ شاعری کے سرمایہ میں ایسی نظموں کی تعداد نسبتاً زیادہ ہے جس میں شاعر نے وطن سے اپنی محبت کا اظہا ر کیا ہے۔ اس قبیل کی نظموں میں سیاسی و سماجی حوالوں نیز تاریخ ہند کی سربرآوردہ شخصیات کا ذکر کرنے کے علاوہ منظریہ شاعری کے بھی بہترین نمونے پیش کیے ہیں۔وطن پرستی کے جذبات کی عکاسی کرنے والی ۲؍ایسی نظمیں بھی چکبستؔ کے شعری سرمایہ میں شامل ہیں جو خصوصی طور سے بچوں کے لیے کہی تھی۔ ان نظموں کے عنوانات ‘وطن کو ہم، وطن ہم کو مبارک‘ اور ’ہمارا وطن دل سے پیارا وطن‘ ہیں۔ اس کے علاوہ لڑکیوں کے لیے ایک نظم ’ پھول مالا‘ کے عنوان سے لکھی تھی۔ اس میں بھی زبان کے استعمال میں چکبستؔ نے فنکارانہ مہارت کا اظہار کیا ہے لیکن اپنی مشہور زمانہ نظم ’رامائن کا ایک سین‘ میں وہ کردار اور حالات کے حسب حال زبان کا استعمال کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔ اس نظم پر بارہا یہ اعتراض کیا گیا کہ اس نظم کی تخلیق کے دوران چکبستؔ پوری طرح انیسؔ کے فنکارانہ طلسم میں اسیر نظر آئے۔ انھوں نے رام چندر جی کے بن باس پر جانے اور اپنی والدہ سے رخصت ہونے کا جو منظر بیان کیا ہے اس میں رام کے اجودھیا چھوڑ کر جانے سے زیادہ مراثی ٔ انیسؔ میں گروہ حسینی کے کسی جوان کے میدان کارزار میں جانے کا تاثر زیادہ نمایاں ہے۔
چکبستؔ کی سنجیدہ شاعری میں اکثر مقامات پر مزاح کا رنگ نظر آتا ہے۔ اس رنگ کے ہونے کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے اپنی بیشتر نظموں میں سماج یا انسانی رویہ کو ہدف بنایا اور پھر اس کے اظہار کے لیے جو طرز اختیار کیا اس میں طنز کے ساتھ ساتھ مزاح بھی ہے۔ لیکن چکبستؔ نے باقاعدہ طور پر ظریفانہ رنگ میں ایک نظم ’ لارڈ کرزن سے جھپٹ‘ کہی تھی۔ یہ نظم ادوھ پنچ کے ایڈیٹر منشی سجاد حسین کی فرمائش پر کہی گئی تھی۔ اس نظم میں چکبستؔ نے لارڈ کرزن کی قابلیت پر سوال کرتے ہوئے اسے انگریزی حکومت کا ایک ناائل افسر قرار دیا ہے۔ اس کے علاوہ مختلف شخصیات پر ان کی نظمیں خصوصاً مسز اینی بسنٹ کے نام، مہادیو گووند رانا ڈے، گوپال کرشن گوکھلے اور بشن نرائن درؔ پر لکھی گئی نظمیں فکر و فن ہر دو لحاظ سے قابل ذکر ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری کے متعلق بعض ارباب ادب کی رائے ہے کہ حالیؔ وآزادؔ کی اصلاحی کوششوں کا رنگ ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے اور اس کے ساتھ ہی انھوں نے تخلیق شعر کا جو انداز اختیار کیا تھا اس پر بھی حالیؔ کے مقدمہ ٔ شعر و شاعری میں بیان کردہ شعری اصولوں کو واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ شعر و ادب کے ایسے رمز شناسوں کا اصرار ہے کہ بہترین اور معیاری شاعری کے لیے حالیؔ نے سادگی، جوش اور اصلیت کی جو شرط قایم کی ہے وہ چکبستؔ کے کلام میں بہ آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ لیکن چکبستؔ کی شاعری کے سلسلے میں اسے کلیہ نہیں قرار دیا جا سکتا کیوں کہ بعض نظموں میں اگر یہ لوازم نظر آتے ہیں تو دیگر کئی میں اس کے برعکس تصنع اور مبالغہ شاعر کے مافی الضمیر کے ترسیلی عمل کو متاثر کرتا ہے۔ چکبستؔ نے حب قوم اور وطن پرستی کے موضوع کو مختلف حوالوں سے نظموں میں بیان کیا ہے اور اس موضوع کا تقاضا بھی یہ تھا کہ اس کی شعری تجسیم میں ان لوازم کو مد نظر رکھا جائے لیکن اس مرحلے پر چکبستؔ اکثر جذباتی ہیجان کا شکار ہو گیے ہیں جس کی وجہ سے شاعری میں بیان کردہ حقائق بھی اصلی لگنے کے بجائے بناوٹی محسوس ہوتے ہیں۔
چکبستؔ کی شاعری میں جوش کی فراوانی تو ایک حد تک ہے لیکن اصلیت اور سادگی خال خال ہی نظر آتی ہے۔ قوم اور وطن کی محبت پر آمادہ کرنے والے اشعار میں انداز بیان پر جوش ہونا ضروری بھی ہے لیکن اس کے ساتھ ہی اصلیت اور سادگی بھی لازمی ہوتی ہے۔ ان میں سادگی کا تعلق بڑی حدتک اسلوب شاعری سے ہوتا ہے ۔ شاعر کا طرز بیان ہی شعر کو سادہ یا پرتکلف بناتا ہے ۔ اس سلسلے میں کہا جا سکتا ہے کہ چکبستؔ نے جس شعری ماحول میں تربیت پائی تھی وہاں شاعری میں سادگی کو بہت زیادہ پسند نہیں کیا جاتا تھا۔ غدر کے بعد لکھنؤ کے حالات یکسر تبدیل ہو گیے تھے اور شاعری میں بھی وہ روایتیں اب باقی نہیں رہی تھیں جو کہ اس دبستان کا امتیاز سمجھی جاتی تھیں۔ لیکن اس عہد میں بھی شاعری کو بڑی حد تک مرصع سازی سمجھا جاتا تھا۔ یہی سبب ہے کہ چکبستؔ اور ان کے معاصرین لکھنوی شعرا کے یہاں بھی شعر میں ظاہری حسن پیدا کرنے کے لیے نادر تشبیہیں، استعارات اور تراکیب و ضع کرنے کا رجحان نظر آتا ہے ۔ چکبستؔ کی شاعری بھی اس رجحان سے متاثر نظر آتی ہے وہ کسی ایک خیال کو بیان کرتے وقت مختلف زاویہ سے اس کو ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیںاور اس کے لیے وہ تشبیہ، استعارہ اور تمثیل کا سہارا لیتے ہیں جن کی وجہ سے شعر میں ظاہری حسن تو پیدا ہوتا ہے لیکن سادگی اور اثر پذیری متاثر ہونے کے علاوہ بعض اوقات شاعر کے بیان میں تضاد کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس حوالے سے ان کی دو نظموں خاک ہند (۱۹۰۵ء)اور فریاد قوم(۱۹۱۴ء)کا ذکر بطور خاص کیا جا سکتا ہے۔ ان نظموں میں چکبستؔ نے وطن اور قوم کے حالات بیان کرتے ہوئے تاریخ ہند کی جن چند اہم شخصیات کا ذکر کیا ہے ان میں مغل حکمراں اکبر بھی شامل ہے۔ پہلی نظم میں وہ اکبر کو ہندوستان میں محبت و الفت کو رواج دینے والے حکمراں کے طور پر پیش کرتے ہیں لیکن دوسری نظم میں جس انداز میں اکبر کا ذکر ہے وہ اولذکر کے برعکس نظر آتا ہے۔
ان نظموں سے چکبستؔ کے تاریخی شعور کی عدم پختگی کا بھی اظہار ہوتاہے۔ وہ ہندوستان کے مسلمان حکمرانوں کے نمایاں کارناموں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہند کی عظمت کو صرف اپنے ہم مسلک حکمرانوں سے منسوب کرتے ہیں۔ یہ عمل ایک طرح سے تاریخ کو مسخ کرنے کے مترادف ہے اور ہندوستان جیسے ملک کی ترقی کے خواہاں شاعر کے افکار کی محدودیت اور تنگ نظری اسے سچا محب وطن بنانے کے بجائے ایک ایسے شاعر کے طور پر منعکس کرتی ہے جو ہذہبی عقیدت کے دائرے سے باہر نہیں نکلنا چاہتا۔ ان کی نظموں میں جوش اور ولولہ تو ہے لیکن اکثر ان کا حقائق سے سروکار نہیں ہوتا۔ اس کی ایک نمایاں مثال ان کی نظم ’گائے‘(۱۹۱۲ء) ہے۔ ہندوؤں کے عقیدے کے مطابق گائے ایک مقدس جانور ہے اور اس کے وجود سے ایک ماں کی محبت و شفقت ظاہر ہوتی ہے ۔ ہندو اپنے مذہبی عقیدے کی بنا پراس کی پوجا بھی کرتے ہیں۔ یہاں مذہبی عقیدے سے بحث نہیں چکبستؔ کی ا س نظم میں دوچیزوں کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ اول یہ کہ گائے کا ذکر کرتے ہوئے بعض مقامات پر اس قدر مبالغہ آرائی کی گئی ہے کہ وہ گائے کے بجائے ایسی مخلوق نظر آتی ہے جس کے مرتبے کا اندازہ ذہن انسانی کے حدود سے باہر ہے ۔گائے نے نوع انساں کو کس طرح فائدہ پہنچایا اس نظم میں اسے بیان کرنے کے علاوہ چکبستؔنے گائے سے خود کے مستفید ہونے کا ذکر اس قدر مبالغہ آمیز زبان میں کیا ہے جس کا حقیقت سے تعلق بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس حوالے سے یہ بند ملاحظہ ہو:
میرے دل میں ہے محبت کا تری سرمایا
ماں کے دامن سے ہے بڑھ کر مجھے تیرا سایا
یاد ہے فیض طبیعت نے جو تجھ سے پایا
عین قسمت جو ترا نام زباں پر آیا
اس حلاوت سے داعوائے سخن گوئی ہے
دودھ سے تیرے لڑکپن میں زباں دھوئی ہے
درج بالا بند کے دوسرے مصرعے میں چکبستؔ کا مبالغہ غلو کی حد تک پہنچ گیا ہے۔ اس نظم سے متعلق جو دوسری اہم بات ہے وہ یہ کہ گرچہ نے چکبستؔ نے براہ راست مسلمانوں کو ہدف نہیں بنایا ہے لیکن نظم کے بین السطور میں اس کو محسوس کیا جا سکتا ہے کہ وہ گائے کے ذبیحہ کے متعلق انگریزوں کے ذریعہ پیدا کیے گیے تنازع کے دام میں پوری طرح گرفتار ہیں۔ ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرقہ واریت کو ہوا دینے کے لیے انگریزوں نے اس تنازع کو بھی استعمال کیا تھا۔
چکبست ؔنے غزلوں اور نظموں میں جس طرح کے موضوعات منتخب کیے ان کا بیشتر تعلق سماج اور سیاست سے رہا ہے۔ انھوں نے ان موضوعات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش بھی کی لیکن ہندوستان کی مشترکہ تہذیبی روایت کو مد نظر رکھ کر کہا جا سکتا ہے کہ ان کی فکر میں وہ وسعت نہیں تھی جو کہ ہندوستان جیسے تکثیری ملک کے لیے ضروری ہے۔شاعری کو اعتبار تبھی حاصل ہوتا ہے جب شاعر ایسے تحفظات سے بالاتر ہو کر کسی بھی موضوع یا مسئلے کے تمام تر پہلوؤں کا غیر جانب داری کے ساتھ جائزہ لے۔اس ضمن میں چکبستؔ کے ہی ہمعصر اقبال ؔ کا ذکر کیا جا سکتا ہے جن کی شاعری کا بنیادی موضوع گرچہ مسلمانوں کے حالات و مسائل تھے لیکن انھوں نے قوم کے علاوہ وطن کا ذکر بھی اسی انداز میں کیا ہے اور خاص طور سے ہندوستانی تہذیب و تمدن سے وابستہ ان کے شعری افکار میںعصبیت یا جانب داری نہیں نظر آتی ۔چکبست ؔسیاست کا بھی اتنا پختہ شعور نہیں رکھتے تھے جتنا کہ اکبر آلہ آبادی اور حسر ت موہانی کے یہاں نظر آتا ہے۔ وہ وطن کی محبت کے نغمے تو گاتے ہیں لیکن ان نغموں میں بھی صرف ایک مخصوص قوم اور اس کے کارناموں کا ذکر ہی بیشتر ہوتا ہے۔ افکار کی یہ محدودیت شاعری کی اثر پذیری کو بھی متاثر کرتی ہے اور پھر یہ شاعری قاری کے جذبات کو گہرائی تک متاثر کرنے کے بجائے اوپر اوپر سے گزر جاتی ہے۔ چکبستؔ نے اپنی فکر و نظر میں وسعت کو راہ دی ہوتی تو بلاشبہ ان کی شاعری کے اثرات لافانی ہوتے۔
————–
ؔؔؔؔؔؔ ؎۱ تاریخ ادب اردو، نورالحسن نقوی صفحہ ۱۵۹؍
ؔؔ ؎۲ ایضاً صفحہ ۱۵۸؍
؎۳ انیسؔ شناسی ، مرتبہ گوپی چند نارنگ صفحہ ۱۹۳؍

Writing in today’s time by Intezar Husain

Articles

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین

لکھنا آج کے زمانے میں

انتظار حسین
میں سوچتا ہوں کہ ہم غالب سے کتنے مختلف زمانے میں جی رہے ہیں۔ اس شخص کا پیشہ آبا سپہ گری تھا۔ شاعری کو اس نے ذریعہ¿ عزت نہیں سمجھا۔ غالب کی عزت غالب کی شاعری تھی۔ شاعری اس کے لیے کسی دوسری عزت کا ذریعہ نہ بن سکی۔ اب شاعری ہمارے لیے ذریعہ¿ عزت ہے مگر خود شاعری عزت کی چیز نہیں رہی اور میں سوچتا ہوں کہ خازن تو لوگ غالب کے زمانے میں بھی بنتے ہوں گے اور اس پر خوش ہوتے ہوں گے۔ عہدوں اور مراتب اور ہاتھی اور بگھی کی سواری کی فکریں اوروں کو بھی تھیں اور خود غالب کو بھی ستاتی تھیں۔ اسی قسم کی فکریں سر سیّد اور اکبر کے زمانے میں بھی آدمی کی جان کے ساتھ لگی ہوئی ہوں گی۔ لیکن کبھی عقائد کے اثر و رسوخ نے اور کبھی قومی تحریکوں نے ہمارے معاشرہ میں ایسی پنچائتی فکریں پیدا کردیں کہ نجی فکریں محض نجی بن کر رہ گئیں۔ وہ معاشرہ پر حاوی نہیں ہوپائیں ۔ پچھلے سو برس سے ہمیں بڑی فکر یہ چلی آتی تھی کہ ہم نے صدیوں کے فکر و عمل سے جو سچائیاں دریافت کی ہیں اور جو، اب ہماری زندگی ہیں ،ان سچائیوں کا تحفظ ہونا چاہیے۔اس قسم کے فکر کے یہ معنی ہیں کہ لوگ اپنی نجی ضرورتوں کے ساتھ بلکہ ان سے بڑھ کر کسی اجتماعی ضرورت میں بھی یقین رکھتے ہیں۔ اس یقین کی بدولت وہ اپنی ذات سے بلند ہوکر کسی اجتماعی مقصد سے ہم آہنگ ہونے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس صلاحیت کو ایمان کہاجاتا ہے اور ٹی ایسایلیٹ کا یہ کہنا ہے کہ جو قوم ایمان سے محروم ہے وہ اچھی نثر پیدا نہیں کرسکتی مگر اس میں نثر کی کیا تخصیص ہے۔ ایک بے ایمان قوم اچھی نثر نہیں پیدا کرسکتی تو اچھی شاعری کیا پیدا کرے گی۔ویسے اس بیان کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ایسے معاشرہ میں اچھے نثر نگار یا شاعر سرے سے پیدا ہی نہیں ہوتے۔ ہوتے تو ہیں مگر وہ ایک موثر ادبی رجحان نہیں بن سکتے اور ادب ایک معاشرتی طاقت نہیں بن پاتا۔

ہم لکھنے والے ایک بے ایمان معاشرہ میں سانس لے رہے ہیں۔ ذاتی منفعت اس معاشرہ کا اصل الاصول بن گئی ہے اور موٹر کار ایک قدر کا مرتبہ حاصل کرچکی ہے۔ جب اصل الاصول ذاتی منفعت ہوتو دولت کمانے کے آسان نسخوں کے لیے دوڑ دھوپ روحانی جد و جہد کا سارنگ اختیار کرجاتی ہے۔ عام لوگ موٹر کار کی چابی کی آرزو میں صابون کی ٹکیاں خریدتے ہیں اور معمے حل کرتے ہیں اور اہلِ قلم حضرات انعاموں کی تمنا میں کتابیں لکھتے ہیں۔ جن کے قلم کو زنگ لگ چکا ہے وہ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کے لیے یا ادبیوں کی بہبود کے لیے ادارے قائم کرتے ہیں اور ادارے والے تو روز افزوں ترقی کرتے ہیں مگر ادب ، زبان اور کلچر دن بدن تنزل کرتے چلے جاتے ہیں۔ ادب ، زبان اور کلچر کی ترقی کی کوشش میں زیرِ آسمان ترقی کی نئی راہیں نکلتی ہیں اور ستاروں سے آگے کے جہان دریافت کیے جاتے ہیں۔

ایسے عالم میں جو ادیب افسانہ اور شعر لکھتا رہ گیا ہے وہ وقت سے بہت پیچھے ہے ۔ اس کے لیے لکھنا بنفسہ عشق کا امتحان بن جاتا ہے۔
ٍ
جب سب سچ بول رہے ہوں تو سچ بولنا ایک سیدھا سادا معاشرتی فعل ہے لیکن جہاں سب جھوٹ بول رہے ہوں وہاں سچ بولنا سب سے بڑی اخلاقی قدر بن جاتا ہے۔اسے مسلمانوں کی زبان میں شہادت کہتے ہیں اور شہادت اسلامی روایت میں ایک بنیادی اور مطلق قدر کا مرتبہ رکھتی ہے۔ جب ایک معاشرہ تخلیق کے فریضہ کو فریضہ سمجھنا ترک کردے اور اسے ترقی کا ذریعہ سمجھے تو جو شخص اس فریضہ کو ادا کرنے کی ذمہ داری اپنے سر لیتا ہے وہ گویا شہادت پیش کرتا ہے۔

لفظ خود ایک شہادت ہے ۔ جس انسان نے پہلی مرتبہ لفظ بولا تھا اس نے تخلیق کی تھی پھر یہ تخلیق فعل و عمل میں شیر و شکر ہوگئی اور زبان ایک معاشرتی فعل بن گئی۔ ادب معاشرتی عمل میں پیوست تخلیقی جوہر کی تلاش ہے۔ صدیوں کے قول و عمل ، دکھ درد اور خارجی و داخلی مہمات کے وسیلہ سے جو سچائیاں دریافت کی جاتی ہیں اور بعد میں اقدار کہلاتی ہیں۔ ان کی کارفرمائی سے معاشرتی عمل تخلیقی عمل بن جاتا ہے۔ جب تک ایک معاشرہ ان اقدار میں ایمان رکھتا ہے اور ان کی بدولت تخلیقی طور پر فعال رہتا ہے اس کا اس تخلیقی عمل کی تلاش پر بھی ایمان رہتا ہے۔ یعنی ادب بنفسہ اس کے لیے ایک قدر کا، ایک عظیم سچائی کا مرتبہ رکھتا ہے۔ شاید اسی لیے میر و غالب اپنے اپنے زمانے میں ہماری قدروں کے امین بھی تھے اور خود اپنی اپنی جگہ بھی ایک قدر کا مرتبہ رکھتے تھے ۔ان کی عظمت میں کچھ ان کے تخلیقی جوہر کا حصہ ہے اور کچھ اس معاشرہ کے تخلیقی جوہر کا جس میں وہ پیدا ہوئے تھے۔بڑا ادیب فرد کے تخلیقی جوہر اور معاشرہ کے تخلیقی جوہر کے وصال کا حاصل ہوتا ہے۔ بڑا ادیب ہمارے عہد میں پیدا نہیں ہوسکتا ، اس لیے کہ یہ عہد اپنا تخلیقی جوہر کھو بیٹھا ہے اور ان اقدار پر اس کا ایمان برقرار نہیں ہے جو اس کی تاریخ کا حاصل ہیں۔ اسے اپنے تخلیقی جوہر کی تلاش میں بھی کوئی معنی نظر نہیں آتے۔ صُمً بُکمً عُمیً فہم لایرجِعونَ۔ یہ لوگ کرکٹ کی کمنٹری سنتے ہیں، موٹر کار اور غیر ملکی وظیفوں کی باتیں کرتے ہیں، ہالی ووڈ کی فلمیں دیکھتے ہیں اور کچھ نہیں سمجھتے۔

آج کا لکھنے والا غالب اور میر نہیں بن سکتا۔ وہ شاعرانہ عظمت اور مقبولیت اس کا مقدر نہیں ہے۔ اس لیے کہ وہ ایک بہرے، گونگے، اندھے معاشرے میں پیدا ہوا ہے۔ مگر وہ غالب اور میر سے زیادہ اہم فریضہ انجام دے رہا ہے۔ اس لیے کہ وقت نے اسے ایسی قدر کا امین بنا دیا ہے جو اس کی تاریخ کی سب سے اہم قدر ہے۔ آج لکھنا شہادت کا مرتبہ رکھتا ہے۔لکھنا آج اُس ایمان کا اعادہ ہے کہ موٹر کار حاصل کرنے کی چٹیک سے بھی زیادہ اہم کوئی چٹیک ہے۔ شعر اور افسانہ بے شک معاشرتی سطح پر معنی کھو بیٹھیں اس کے باوجود ایک سنجیدہ بلکہ مقدس مشغلہ ہیں۔ لکھنا آج غالب کے زمانے سے بھی بڑی سچائی ہے۔ اس لیے کہ آج کا جھوٹ غالب کے زمانے کے جھوٹ سے زیادہ سنگین ہے۔ اُس جھوٹ کو غیر قوم کی حاکمیت نے پیدا کیا تھا۔ یہ جھوٹ ہم نے آپس میں جھوٹ بول کر اپنی کوکھ سے جنا ہے۔ جو شخص یہ کہتا ہے کہ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے، اچھا ادب تقسیم سے پہلے تخلیق ہوگیا اور اچھے شاعر 1857ءسے پہلے گزر گئے وہ شخص جھوٹا ہے۔ وہ اس لیے جھوٹا ہے کہ یہ کہہ کر وہ آج کے ادب یعنی آج کے جھوٹ اور سچ سے آنکھ چرانا چاہتا ہے۔ نقاد اور پروفیسر اور تہذیبی اداروں کے سربراہ جھوٹ بولتے رہیں لیکن اگر کوئی ایسی سبھا ہے جہاں جیتے جاگتے ادیب بیٹھتے ہیں تو اس کا درد سر اولاً آج کا ادب ہونا چاہیے۔ اگر آج کی تحریر کے کوئی معنی ہیں تو میر اور غالب کی شاعری کے بھی کوئی معنی ہیں۔ آج کچھ نہیں لکھا جارہا ہے یا بے معنی لکھا جارہا ہے تو پھر میراور غالب کے معنی بھی کتنے دن باقی رہیں گے مگر آج لکھنا کیا معنی رکھتا ہے۔ آج کا ادب اگر وہ صحیح اور سچے معنوں میں آج کا ادب ہے تو وہ آج کے چالو معاشرتی معیارات کا ترجمان نہیں ہوسکتا۔ وہ تو اس قدر کو واپس لانے کی کوشش ہوگی جسے ہمارا معاشرہ گم کر بیٹھا ہے۔ آج کا ادب معاشرہ کا نہیں تاریخ کا ترجمان ہے۔ گویا اس کے وسیلہ سے نہ آپ خازن بن سکتے ہیں ، نہ آپ کو موٹر کار نصیب ہوسکتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ادیبوں کی تو اتنی بہتات ہے کہ پانچ سو تک گنتی پہنچ گئی ہے مگر لکھنے والا اکیلا رہ گیا ہے۔ زمانے کی قسم آج کا لکھنے والا خسارے میں ہے اور بے شک ادب کی نجات اسی خسارے میں ہے۔ یہ خسارہ ہماری ادبی روایت کی مقدس امانت ہے۔
٭٭٭

Riyaz Khirabadi Ki Khumriya Shaeri By Prof. Saheb Ali

Articles

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری

پروفیسر صاحب علی

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری
پروفیسر صاحب علی

یہ بات پورے وثوق اور بلا خوف تردید کہی جاسکتی ہے کہ اگر ریاض خیرآبادی کی منفرد رنگ سخن میں شرابور ممتاز شاعری نہ ہوتی تو اردو شاعری کا ایک مکمل و دل نشین باب غائب ہوجاتا ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ریاض تکلفاََ شاعر ہرگز نہ بنے تھے بلکہ وہ پیدائشی شاعر تھے۔ باوجودیہ کہ انھوں نے تلمیذ غلام ہمدانی مصحفی امروہوی یعنی تدبیر الدولہ ، مدبر الملک، بہادر جنگ منشی سید مظفر علی اسیر امیٹھوی (۱۸۰۱تا ۱۸۸۲) اور منشی امیر احمد مینائی (۱۸۲۹ تا ۱۹۰۰) سے استفادہ کیا لیکن اپنی ندرت فکر ، مطالعۂ کائنات اور قوت اختراع کی مدد سے رفتہ رفتہ وہ خود درجۂ استادی پر فائز ہوگئے۔

اردو شاعری میں خمریہ شاعری کی روایت بہت قدیم ہے ۔ اس کے اولین نمونے ہمیں قلی قطب شاہ کے یہاںملتے ہیں ۔اردو شاعری میں کم وبیش سبھی کلاسیکی شعرا کے یہاں خمریہ شاعری کا رنگ کسی نہ کسی روپ میں نظر آجاتا ہے۔اس تعلق سے غالب اور جگر کے نام خصوصی طور سے لیے جاسکتے ہیںلیکن ریاض خیرآبادی اردوزبان وادب کے واحد شاعرہیںجنھیں اردو شاعری میںخمریات کے فن کو روشناس کرانے کا اعزاز حاصل ہے۔ اس ضمن میں رئیس احمد جعفری کا یہ قول نہایت سبق آموز ہے:

’’ ریاض نے شراب کے مضمون کو اردو زبان میں اپنا لیا ہے۔ جو لوگ شراب پی پی کر شعر کہتے ہیں اور شعر کہہ کہہ کر شراب پیتے ہیں ، ان کے یہاں بھی شراب کے مضامین میں وہ بے ساختگی، وہ ادائے بیان وہ جذباتی و ندرت نہیں ملے گی جو ریاض کے یہاں نظر آتی ہے‘‘
(رند پارسا، ص۱۵۱)

ریاض خیرآبادی کی خمریہ شاعری کے ذیل میں سب سے پہے ہم شراب مجازی کا ذکر کریں گے ۔ شراب مجازی دراصل وہ شراب ہے جو دنیا کے کونے کونے میں نظر آتی ہے۔ یہ وہ شراب ہے جسے علمائے دین اپنی اصطلاح فقہ میں ام الخبائث کہتے ہیںلیکن اردو کے مشہور شاعر علی سکند رجگر مرادآبادی نے اس کے بارے میں کہا ہے ؎

اے محتسب نہ پھینک ، مرے محتسب نہ پھینک

ظالم شراب ہے ، ارے ظالم شراب ہے

ریاض نے شراب مجازی کا ذکر کرتے ہوئے اکثر اسے شباب سے وابستہ کردیا ہے ۔ اس طرح شعر کو پڑھنے میں دو آتشے کا مزہ ملتا ہے ۔اس امتزاج شراب وشباب کو ریاض خیرآبادی نے اپنے بڑھاپے میں بھی قائم رکھا۔اس کا سب سے اہم سبب ریاض کاماضی یعنی گورکھپورکی رنگین محفلیں اوران کی حرماں نصیبی تھا۔خمریہ شاعری کے ضمن میں ریاض کے یہاں شراب پہلے معمولی ضرورت رہتی ہے پھر رفتہ رفتہ احتیاج کی شکل اختیار کرلیتی ہے جہاں اس کے بغیر گزر ہی نہ ہوسکے۔ ریاض کے یہ اشعار اسی کیفیت کے غماز ہیں ؎

چھیڑ ساقی کی ہے، دیتا جو نہیں جام ریاض
توبہ کی ہے نہ کبھی ہم نے قسم کھائی ہے
آیا جو محتسب تو بنی رزم ، بزم مے
مجروح خم ، شہید ہمارا سبو ہوا

درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎

شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کی خمریہ شاعری کے ضمن میں سب سے پہلے شراب مجازی کا ذکر کرسکتے ہیں جس کے دلدادہ مرزا غالب، اختر شیرانی، مجاز، جگر، ساحر، کیفی، جوش اور بہت سے دوسرے شعرا وادبا تھے ۔ ریاض خیرآبادی شراب مجازی کے اس علت سے کوسوں دور تھے لیکن کمال تو یہ ہے کہ انھوں نے شراب مجازی کا ذکر بھی اپنے اشعار میں کچھ اس طرح کیا ہے گویاوہ بہت ہی بڑے استاد شرابی ہوں ۔ شراب مجازی کا ذکر کرتے وقت وہ اسے محبوب کے شباب سے ملادیتے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر مولانا ابوالکلام آزاد کی طرح وہ شراب کی تلخی و زود اثری کو شباب کی لذت و کیفیت سے ترتیب دے کر ایک کیف مرکب پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ریاض فرماتے ہیں ؎

اس کے آغاز جوانی کا کہوں کیا عالم؟
کچھ سے نشّہ سا تھا نشّے میں وہ چور نہ تھا
حقیقت بھی یہی ہے کہ نام نہاد شراب مجازی کو نہ کبھی انھوں نے منہ لگایا اور نہ یہ شراب ان کے مافی الضمیر کی مکمل عکاسی کرتی تھی ورنہ وہ ایسا کیوں کہتے کہ ؎
وہ چیز اور تھی وہ نشّہ اور تھا ساقی
مرے شباب کا بنتی ہے کیوں جواب شراب
ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی شراب مجازی کی شاعری کے حوالے سے ایک نہایت درجہ قابل تعریف بات یہ ہے کہ شراب مجازی سے نفرت کرنے کے باوجود محض اپنی تخیل اور منفرد قوت اختراع سے یا برسوں کے مشاہدے سے کام لیتے ہوئے ریاض نے اتنی کامیابی اور صفائی سے تمام لوازم شراب خواری پر روشنی ڈالی ہے کہ بڑے سے بڑا استاد شرابی انھیں اپنا پیر مغاں بنانے پر تیار ہوجائے گا۔درحقیقت یہ دعویٰ اپنے مقام پر ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے کہ ذکر شراب وعشق کلام ریاض کی روح رواں ہیں۔ ریاض نے رندانہ روش بطور فیشن اختیار نہیں کی بلکہ اس کے جراثیم ان کی فطرت میں شامل تھے اور ان کے خمیر کا ایک جزولاینفک تھے۔ رندانہ طرز کی تشکیل میں شوخی کا وجود بے حد اہم ہے۔ کلام ریاض میں جرات رندانہ کے چند نمونے ملاحظہ کیجیے ؎
شراب پیتے ہی مسجد میں ہم کو گرنا تھا
یہ شغل بیٹھ کے اچھا تھا قبلہ رو کرتے
فرشتے عرصہ گاہ حشر میں ہم کو سنبھالے ہیں
ہمیں بھی آج لطف لغزش مستانہ آتا ہے

ریاض کو ناز تھاکہ ان کا دل اور ان کے حوصلے جوان ہیں ۔ نہ ان کے خیالات میں عادی شرابیوں کا زوال ہے نہ جذبات پر بڑھاپا طاری ہوسکا ہے۔ اپنی زندگی کے آخری لمحات تک وہ اسی طرح شوخ اور چونچال رہے جیسے کوئی جوان رعنا۔ ایسے صحت مند خیالات کی دین ہے یہ شعر ؎
پیری میں ریاض ، اب بھی جوانی کے مزے ہیں
یہ ریش سفید اور میٔ ہوش ربا سرخ!
ریاض خیرآبادی کی خمریاتی شاعری کا دوسرا روپ شراب حقیقی کا ذکر ہے ۔ اسے ہم شراب عرفان بھی کہہ سکتے ہیں ۔ ریاض کی غزلوں کا ایک معتد بہ حصہ شراب حقیقی یا شراب معرفت الٰہی سے لبریز ہے۔ریاض نے درج ذیل شعر میں شراب کا استعمال بطور کنایہ مہارت کے ساتھ کیا ہے۔ اس عارفانہ شعر کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے ؎
تجھے مے فروش خبر بھی ہے کہ مقام کون ہے کیا ہے شے
یہ رہ حرم میں دوکان مے تو یہاں سے اپنی دوکاں اٹھا
ریاض نے شراب حقیقی کے ذریعے عارفانہ شاعری کے جو اعلیٰ نمونے پیش کیے ہیں اس کی عظمت اور تقدس سے انکار ممکن نہیں۔ ریاض رضواں میں شامل بعض غزلیں ایسی ہیںجس میںاسلامی تاریخ مثلاََ حضور صلی علیہ وسلم کی ہجرت کے واقعات، فتح مکہ اور حوض کوثرکا ذکر بڑے ہی موثر انداز میں کیا ہے۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے :
اہلِ حرم بھی آکے ہوئے تھے شریک دور
کچھ اور رنگ آج مری مے کشی کا تھ
نسخہ بیاض ساقیِ کوثر سے مل گیا
گھر بیٹھے اب تو بادۂ کوثر بنائیں گے
ریاض فطرتاََ بہت شوخ اور زندہ دل واقع ہوئے تھے ۔ بات میں بات پیدا کرنا اور سنجیدہ معاملات کو اپنی خمریہ شاعری کا موضوع بنانا بھی انھیں بہت اچھا لگتا تھا۔شراب فطرت سے اپنی پیاس بجھانا یہ ایک بالکل اچھوتا لیکن دلچسپ انداز فکر ہے۔ ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انوکھی اور عالمگیر ہے کہ بہت سے ایسے اشعار ہیں جو زبان زد خاص و عام ہوچکے ہیں ۔ اکثر اشعار ایسے ہیں جنھیں بر محل سمجھ کر ہر جگہ لوگ اس طرح پڑھتے ہیں کہ انھیںیہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ یہ شعر کس شاعر کا ہے۔ مثال کے طور پر یہ اشعار دیکھیں ؎

جہاں ہم خشت خم رکھ دیں ، بنائے کعبہ پڑتی ہے
جہاں ساغر پٹک دیں ، چشمۂ زم زم نکلتا ہے
ارے واعظ ، کہاں کا لا مکاں ، عرش بریں کیسا
چڑھی ہوتی جو کچھ ، تو ہم خدا جانے کہاں ہوتے

ریاض خیرآبادی کی شاعری کا ایک اور وصف ان کی زبان کا تھا ۔ خمریات تو بلا شبہ ان کی عالمگیر شناخت تھی لیکن زبان کا خوب صورت استعمال اور مضمون کے لحاظ سے ان کے فنی محاسن ، یہ ایسی خوبی تھی جس کا جواب نہ تو ریاض کی زندگی میں ممکن تھا اور نہ آج تک ممکن ہوسکا، افسوس کہ یہ لطیف اور وجد آور فنی محاسن تعداد میں اتنے زیادہ ہیں کہ نہ تو مکمل طریقے پر ان کا شمار کیا جاسکتا ہے اور نہ ان کی خاطر خواہ وضاحت ممکن ہے ۔جس طرح غالب کا کلام ان کی شوخی ِکلام کے لیے معروف ہے ۔اس سے کہیں زیادہ نادر شوخیاں ریاض خیرآبادی کے یہاں مل جاتی ہیں۔ شوخی کا مفہوم کیا ہے اس کا حسن استعمال ہم بڑی آسانی سے کلام ریاض میں تلاش کرلیتے ہیں ؎
کوئی منھ چوم لے گا اس نہیں پر
شکن رہ جائے گی یوں ہی جبیں پر
بلائیں بن کے ، وہ آئیں ہمیں پر
دعائیں ، جو گئیں عرش بریں پر

اس میں کوئی شک نہیں کہ شراب وشباب کے بعد ریاض خیرآبادی کے کلام میں شوخی و سرمستی کا عنصر بدرجۂ اتم موجود ہے جس کی وجہ سے ان کے یہاں رجائی اور صحت مند جذبات کی فراوانی محسوس ہوتی ہے۔ڈاکٹر اعجاز حسین (سابق صدر شعبۂ اردو، الہ آباد یونیورسٹی)ریاض کے شوخیِ کلام کے تعلق سے لکھتے ہیںکہ:
’’ ریاض صاحب کی عشقیہ شاعری میں شوخی کے ساتھ پر لطف طنز مزید شرارت اور حقیقت آمیز معاملات کی دنیا نظر آتی ہے‘‘
( مختصر تاریخ ادب اردو، ادارۂ فروغ اردو لکھنؤ ۱۹۶۵،ص۲۴۵ )
اس قول کی صداقت ریاض خیرآبادی کے حسب ذیل اشعارمیں ملتی ہے:

بوسے گن کر کبھی لیتے نہیں معشوقوں کے
ہمیں گنتی نہیں آتی نہ حساب آتا ہے
کتنے بوسے لیے اس بت کے بتا دیں کاتب
میں تو سنتا ہوں فرشتوں کو حساب آتا ہے
جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ ریاض خیرآبادی اپنے خاندانی ماحول اور خود اپنی فطری ذہنیت کے حساب سے ایک رند
پارسا تھے ۔ خمریہ شاعری تو بس ان کا ایک اسلوب ادا اور پیرایۂ اظہار تھا جس نے ان کے کلام پر انفرادیت کی مہر ثبت کردی ہے۔ رئیس احمد جعفری نے ایک انتہائی دلچسپ اور بلیغ ترکیب’’ رند پارسا‘‘ وضع کرکے ریاض خیرآبادی کی فطرت اور ان کی شاعری کا عطر مجموعہ پیش کردیا ہے۔

جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ تذکرۂ شراب وکباب غزلیات ریاض کا طرۂ امتیاز ہیں ۔ بلا مبالغہ ان کی کم ازکم 75 فیصد غزلیں مے خواری کی تفصیلات سے پُرہیں۔ شراب اور اس کے متعلقات پرکم وبیش ہرشاعر نے کچھ نہ کچھ ضرور لکھا ہے لیکن ریاض نے اسے اپنا مستقل موضوع بنایاہے حد تو یہ ہے کہ جب وہ کبھی میکدہ کا ذکر کرتے ہیں تو اس انداز سے کہ لفظ لفظ سے شراب ناب چھلکی پڑتی ہے ؎
جمع ہوجائیں گے مے نوش قیامت میں جہاں
حشر کا شور وہاں قلقل مینا ہوگا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی سے مراد نہ توFrench Liquor نہ مرزا غالب کیEnglish Tomبلکہ یہ بادۂ عرفان الٰہی یا صوفی صافیوں کی شراب ہے۔ دراصل یہی وہ شراب ہے جو خوش نصیب ایمانداروں کو حاصل ہوا کرتی ہے۔ فارسی اور اردو کے اکثر شعرا تذکرۂ بادہ و میکدہ کو اپنے ساقی ناموں کا موضوع بناتے ہیں۔

کلام ریاض پر عمیق نظریں ڈالیں تو ان کی مختلف غزلوں میں شراب حقیقی کے ایمان افروز مناظر ہماری آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے موجود ہیں۔ان کے مجموعۂ کلام ریاض رضواں کی تمہید ان ایمان پرور شراب حقیقی کے حوالواں سے ہوتی ہے ؎

کیا تجھ سے مرے مست نے مانگا مرے اللہ
ہر موج شراب اٹھ کے بنی ہاتھ دعا کا

ریاض کی شاعری میں شراب حقیقی یعنی شراب معرفت کا مقام نہایت بلند وبالا ہے ۔ انھوں نے رسول اکرم سے اپنی عقیدت اور تخلیقی قوت سے شراب حقیقی کے ذریعے اپنی پوری حمدیہ و نعتیہ شاعری کے جو نادرو نایاب نمونے پیش کیے ہیں اس کی نظیراردو کی خمریہ شاعری میں بہت کم لوگوں کے یہاںملے گی۔ ان کے نعتیہ کلام میں ایسے بے شمار اشعار موجود ہیںجن میںخود ریاض کی اپنی ذات پورے آب وتاب کے ساتھ جلوہ گر ہے ۔ مثال کے طورپر ریاض رضواں میں شراب حقیقی کے زائیدہ یہ اشعار بھی بڑے کیف آور ہیں ؎
گئے ساتھ شیخ حرم کے ہم ، نہ کوئی ملا نہ لیے قدم
نہ تو خم بڑھا ، نہ سبو جھکا ، جو اٹھا تو پیر مغاں اٹھا
ملتی ہے درِ ساقیِ کوثر سے یہ خدمت
اس طرح کوئی پیر مغاں ہو نہیں سکتا

ریاض کا فیصلہ ہے کہ بغیر توفیق الٰہی کے کسی بڑے سے بڑے عابد وزاہد کی پیشانی سے نور توحید ضوفشاں نہیں ہوا کرتا۔مئے توحید کی سچی جھلک دیکھنی ہو توریاض کے یہ اشعارجو معرفت الٰہی کے جذبے سے سرشار ہیںدیکھئے ذیل کے دونوں اشعار میں ریاض نے ایسی بات کہی ہے جو شراب معرفت کا اصل مفہوم سمجھنے والا ہی کہہ سکتا ہے ؎
پی کر بھی جھلک نور کی منھ پر نہیں آتی
ہم رندوں میں جو صاحب ایماں نہیں ہوتا
بنائے کعبہ پڑتی ہے جہاں ہم خشت خم رکھ دیں
جہاں ساغر پٹک دیں چشمۂ زم زم نکلتا ہے

شراب فطرت بھی ریاض کے فلسفۂ خمریات کا ایک اچھوتا اور دلچسپ پہلو ہے ۔ اس شراب کے مختلف روپ ان کے غزلیہ اشعار میں نظر آتے ہیں جہاں شاعر نے مناظر قدرت کی براہ راست یا بالواسطہ عکاسی کی ہے ۔ غور کیجیے تو یہاں وہ انگریزی زبان کے عالمی شہرت یافتہ شاعر ولیم ورڈز ورتھ ،ہمارے شعرا اسمٰعیل میرٹھی، نظیر اکبرآبادی، حامداللہ افسر، درگا سہائے سرور اور شفیع الدین نیر کے ہم پایہ قرار پاتے ہیںکیونکہ انھوں نے مناظر قدرت ، باغ وبہار، جھیلوں پہاڑوں،چاند تاروں، موسموں کی آمد ورفت ، انسانوں کے مختلف النوع جذبات ، چرند پرند اور نفسیات انسانی کی شاعرانہ ترجمانی کی ہے۔ان چیزوں کے بیان میںبھی ریاض کی آنکھوں سے شراب کی عینک نہیں چھٹی۔اسے ان کے خمریاتی شعور کی معراج سمجھنا چاہیے۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھئے ؎

در کھلا صبح کو پَو پھٹتے ہی میخانے کا
عکس سورج ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

اس شعر میںقدرتی منظر تو ہے ہی لیکن ساتھ ہی ساتھ کئی صنائع و بدائع لفظی و معنوی کا بے ساختہ اور بڑا فن کارانہ استعمال بھی ملتا ہے ۔ پہلے مصرعے میں صنعت محاکات کی بڑی خوب صورت کیفیت ہے۔ ’’ پَو پھٹنا‘‘ اس حقیقت کا غماز ہے کہ بہت تڑکے شاعر کا کاروبار مشاہدہ شروع ہوا۔ فارسی کا بہت عمدہ ہم معنی شعر بے ساختہ یاد آتا ہے کہ ؎
چُو صبح دم ہمہ مردم بہ کاروبار ، رَوَند
بلا کشان محبت ، بہ کوئے یار روند
مصرعۂ ثانی میں صبح کا گول اور سرخ سورج شاعر کو چھلکتے ہوئے پیمانے کی یا د دلاتاہے ۔ یہ پسند یقینا شاعر کے شدید شعور جمال کی نشاندہی کرتی ہے۔
ریاض کی شراب خوری کچھ ایسی انو کھی اور عالمگیر ہے کہ موسم بہار میں ابر سیاہ کے ٹکڑے خوشامدانہ انداز میں ریاض خیرآبادی کو دعوت مے نوشی دیتے ہیں ۔ یہ موسم بہار کا معجزہ ہے کہ شاعر کو پانی پی کر بھی نشہ سا محسوس ہوتا ہے۔سچ پوچھیے تو ریاض کا کلام شروع سے آخر تک شراب و شباب،رنگینی اور حسن و عشق کاایک جزو لاینفک ہے جو ان کی عملی زندگی کوتمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کرتا ہے ۔ اول تو ان کے سبھی مادی عشق کامیاب نظر آتے ہیں اور اگر کبھی ہجر وفراق یا رقیب رو سیاہ کا سامنا بھی ہوا تو انھوں نے اس کا اظہار معنی خیز تبسم سے کیا۔ ان کا معشوق مثالی یا خیالی ہزگز نہیں بلکہ انہی کی طرح گوشت پوست والا انسان ہے جس کی صرف جنس بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ ریاض کی عشقیہ شاعری میں کسی حد تک دبستان لکھنؤ کا خاص رنگ شامل ہے ۔
٭٭٭

Sanat-e-Ghair Manqootah Mein Manzoom Seeratunnabi

Articles

صنعتِ غیر منقوطہ میں منظوم سیرت النبی

ڈاکٹر رشید اشرف خان

اسلام ایک ایسا نو ر تھا جس کی کرنیں عرب کی سر زمینِ حجازسے پھوٹیں اور دیکھتے ہی دیکھتے سارے عالم کو منورکرگئیں اور آج تقریباََ ڈیڑھ ہزار سال کی مدت کے درمیان دنیا کے ہرمکتبۂ فکر کے علما اور شعرا نے سیرتِ نبوی کو اپنا موضوع بنایا اور ہزاروں کی تعداد میں اپنی یا د گار تحریریں نظم ونثر کے پیرائے میں چھوڑی ہیں۔

اس تاریخی حقیقت سے کوئی صاحب علم انکار نہیں کر سکتاکہ جس طرح مختلف دنیوی علوم کو سمجھنے کے لیے مشکل کتابوں کی لغتِ اصطلاحات ،تراجم ، تفسیر یا زندہ استاذ کی مدد درکار ہوتی ہے اسی طرح کلام اللہ کوبخوبی سمجھانے والااور اس کی عملی تشریح کرنے والا بھی کوئی چاہئے۔ اس مقصد کے حصول کا واحد قابل قبول اور سا ئنٹفک وسیلہ سوا اس کے اور کچھ نہیں کہ ہم حضور کی سیرتِ طیبہ سے بھر پور استفادہ کریں۔ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت کی زندگی میں براہ راست اور آپ کے وصال کے بعد ، آپ کے اہلِ بیت ،آئمہ صحابۂ کرام اور محدثین ومؤرخین نے بالواسطہ آپ کی سیرت پاک اور اعمال و اقوال کو کتابوں کی شکل میں محفوظ کرلیا۔ ہر خطۂ زمین میں سیکڑوں زبانوں میں یہ اسلامی ادب لکھ لیا گیا اس کی تبلیغ وتشہیر کی گئی نیز اس پر مباحثے ،مناظرے ، محاکمے اور مصاحبے ہونے لگے۔ معلوم ہوا کہ قران حکیم کی صحیح قرأت اس کے مطالب کی صحت مند تفہیم اور تبلیغ کے لیے آپ کی سیرت مبارک بے حد مفید ، نا گزیر اور سبق آموز قرار پائی ۔ دیگر زبانوں سے قطع نظر صرف اردو زبان میں لکھی گئی سیرت کی کتابوں پر نظر ڈالئے تو آپ کو کئی مشہور کتابیں ملیں گی ۔ سر ولیم میور لفٹننٹ گورنر کی گستاخانہ کتابLife of Mohammad کے جواب میں لکھی ہوئی سر سید احمد خاں کی کتاب ’’ خطبات احمدیہ‘‘ کو بھلا کون بھلا سکتا ہے ؟ اسی طرح ہم شمس العلما مولانا شبلی نعمانی کو بھی فراموش نہیں کر سکتے جنھوں نے ۱۹۱۳ء میں بڑے روحانی جوش وسر مستی کے ساتھ ’’ سیرت النبی‘‘ لکھنے کا کام شروع کیا۔ اسی ضمن میں مولانا شبلی نے لکھاتھا کہ:

عجم کی مدح کی ، عباسیوں کی داستاں لکّھی

مجھے چندے، مقیمِ آستانِ غیر ہونا تھا

مگر اب لکھ رہا ہوں سیرتِ پیغمبرِ خاتم

خدا کا شکر ہے ، یوں خاتمہ با لخیر ہونا تھا

اور واقعی خاتمہ بالخیر ہوا۔ وہ سیرت النبی کی پہلی جلد ختم کرکے دوسری جلد لکھ رہے تھے کہ ۱۸ نومبر ۱۹۱۴ء کو اپنے مالک حقیقی سے جا ملے ۔ وصیت کے مطابق ان کے لائق اور فرماں بردار شاگرد مولانا سید سلیمان ندوی نے چھ جلدوں میں سیرت نگاری کی۔

اسلام کے تعلق سے اردو شاعری میں ’’ مدوجزر اسلام‘‘ (مسدس حالی )کا مرتبہ ہی کچھ اور ہے ۔ یہ مسدس مولانا حالی ؔ نے سر سید کی دوستانہ فر مائش پر ۱۸۷۹ء میں تصنیف کیا تھا۔قدرے تفصیلی مسدس حالی پر گفتگو نہ کرتے ہوئے صرف ایک بند پیش کرتا ہوں جس کا تعلق حضور کی سیرت پاک سے ہے:

وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا

مرادیں غریبوں کی بَر لانے والا

مصیبت میں غیروں کے کام آنے والا

وہ اپنے پرائے کا غم کھانے والا

فقیروںکا ملجا ، ضعیفوں کا ماویٰ

یتیموں کا والی ، غلاموں کا مولا

نبیِ رحمت کی منظوم سیرت پاک کا ایک اور نادر نمونہ ’’ شاہنامہ اسلام ‘‘ بھی ہے جسے ابو الاثر حفیظ جالندھری نے نظم کرکے دنیاے ادب پر اپنا سکہ جمایا تھا ۔ حفیظ جالندھری کی تاریخ ولادت ۱۴ جنوری ۱۹۰۰ء بمقام جالندھر اور تاریخ وفات ۲۱ دسمبر ۱۹۸۲ء بمقام لاہور ہے۔

’’شاہنامہ اسلام‘‘ کا آغاز ایک خوبصورت اور وجد آور سلام سے ہوتا ہے جس کے اشعار آج تک خوش عقیدہ اربابِ ادب اور فرزندان توحید جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں:

سلام اے آمنہ کے لعل ، اے محبوب سبحانی

سلام اے فخر موجودات ، فحرِ نوع انسانی

سلام اے ظلّ رحمانی ، سلام اے نور یزدانی

ترا نقشِ قدم ہے زندگی کی لوح پیشانی

ترا در ہو مرا سر ہو ، مرا دل ہو ترا گھر ہو

تمنا مختصر سی ہے ، مگر تمہید طولانی

چار جلدوں پر مشتمل ’’شاہنامہ اسلام ‘‘ کی پہلی جلد جو مثنوی کی شکل میں تھی ۱۹۲۹ء میں پہلی بار منظر عام پر آئی تھی ۔ حفیظ جالندھری نے اپنی نظم کے لیے بحر ہزج مثمن سالم ( مفاعی لن ، مفاعی لن ، مفاعی لن ، مفاعی لن )کا انتخاب کیاہے جو عموماََ رزمیہ شاہناموں میں استعمال نہیں کی جاتی۔اردو میں حفیظ جالندھری کی یہ تصنیف پیرایۂ نظم میں اپنے موضوع پر پہلی کتاب تھی جس نے علم وادب کی دنیا میں شاہکار تصنیف و تخلیق کا مرتبہ ومقام حاصل کیا۔ ’’شاہنامہ اسلام ‘‘ کے بعد ایک مدت تک اس موضوع پر کوئی کام نہیں ہو ا لیکن انیسویں صدی میں اسی(۸۰) کی دہائی میںسیرت النبی کے موضوع پر ایک علمی کارنامہ پاکستان کی سر زمین سے وجود میں آیا ۔ پاکستان کے عالم مولانا ولی رازیؔکی فضیلت آفریں نورانی تالیف ’’ ہادیِ عالم‘‘ کے نام نامی کو فراموش نہیں کرسکتے۔یہ نثری تصنیف جو بے نقط اور سلسلۂ سیر مقدس میں اپنے انداز کی وجہ سے منفرد مرتبہ کی مالک ہے ۔مثال کے طور پر یہ اقتباس دیکھیے:

’’اس دور کی عام رسم رہی کہ مکہ کے سرداروں کے سارے لڑکے کسی دائی کے حوالے ہوں اور گاؤں کی کھلی ہوا کے عادی ہوں۔ رسول اکرم کی والدۂ مکرمہ کا ارادہ ہوا کہ رسم ِ مکہ کی رُو سے ولد مسعود کسی دودھ والی کے حوالے ہواور وہاں کا ماحول رسول اللہ کو سادگی کا عادی کرے‘‘
(ہادیِ عالم صفحہ نمبر ۴۵)

ہندوستان کی مشہور درسگاہ دارالعلوم دیوبند کے اجتماع میںیہ سعادت، مقام دریاباد ، پوسٹ دودھارا ، ضلع بستی(یوپی) متوطن مولانا صادق علی قاسمی کے نصیب میں تھی کہ اجتماع کے دوران مولانا صادق صاحب کے کرم فرما مولانا عبدالرحیم صاحب کی ایما پر مولانا صادق نے یہ طے کیا کہ وہ مولانا رازی ؔ کی کتاب ’’ ہادیِ عالم ‘‘ کے نثری اور بے نقط متن کو لبا س نظم پہنائیں گے اور وہ بھی صنعت غیر منقوطہ کی مدد سے۔بظاہر یہ ایک بڑا چیلنج تھا لیکن جوش ایمانی اور فضل ربانی نے یہ مشکل بہر حال آسان کردی اور مولانا نے ۱۲۱ صفحات پر مشتمل پہلی جلد تخلیق کی۔جس کا تعلق مکی دور اور اسلامی معرکے سے ہے۔ ارباب علم اس بات کو بہ خوبی جانتے ہیں کہ اردو حروف تہجی میں غیر منقوط حرف کی تعداد بہت ہی کم ہے اور اس تنگ دامنی کے ساتھ شعری حدود وقیود کی پابندی، اسلوب اور زبان وبیان کی چاشنی کو بر قرار رکھنے کے ساتھ ساتھ سیرت النبی کے تقدس کو ملحوظ رکھتے ہوئے مولانا صادق نے ’’ داعیِ اسلام ‘‘ لکھ کر جو نادرو نایاب تحفہ اہل اسلام اور اردو ادب کو دیا ہے اس کی نظیرپوری تاریخ اسلام اوردنیاے اردوادب میں نہیں ملتی۔اس کا اعتراف مذہبی علوم میں دسترس رکھنے والی بر گزیدہ شخصیات کے علاوہ زبان وادب کے ماہرین نے بھی کیا ہے ۔ مولانا صادق علی کی مذکورہ تصنیف کی تقریظ ممتاز عالمِ دین اور زبان وبیان کے نبا ض قاضی اطہر مبارک پوری نے لکھی تھی ۔تقریظ کے درج ذیل اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا صادق کی اس علمی وادبی کاوش کی تعلیم یافتہ طبقہ میں بھر پور پذیرائی ہوئی تھی ۔فضیلت الاستاذ قاضی اطہر مبارک پوری کی حسبِ ذیل تقریظ کا اقتباس ملاحظہ فرمایئے:

’’ صنعت بے نقط میں دس پانچ سطر یا صفحہ دو صفحہ لکھنا زیادہ مشکل نہیں اور نظم ونثر میں اس کی مثالیں پائی جاتی ہیںمگر اس تنگ دائرے میں رہ کر منظوم کتاب لکھنا دشوار سے دشوار تر کام ہے ۔اس کی پہلی مثال ’’ داعیِ اسلام ‘‘نامی کتاب ہے جس کو دارالعلوم دیوبند کے بوریہ نشین فاضل نے نظم میں لکھا ہے جس کے سامنے اردو زبان کے بڑے بڑے شاعروں اور ادیبوں کو اعتراف و عقیدت کے ساتھ سر نگوں ہونا چاہیے‘‘
داعیِ اسلام صفحہ نمبر ۱۴؎

ٍ دور مغلیہ میں تاریخ ہندوستان گواہ ہے کہ جلال الدین محمد اکبر کے نورتنوں میں فیضی ؔ نے قران مجید کی غیر منقوطہ تفسیر ’’ سواطع اللہام ‘‘ فارسی نثر میں لکھی جسے ایک کمال سمجھاگیا تھا اسی طرح دور موجودہ میں مولانا محمد ولی رازی نے اپنی کتاب ’’ ہادیِ عالم ‘‘ غیر منقوطہ نثر میں پیش کی لیکن مولانا صادق بستوی نے غیر منقوطہ اور منظوم سیرت النبی تخلیق فرما کر ادب میں ایک نیا سنگ میل قائم کیا ہے ۔ مثال کے طور پر داعی اسلام کے چند اشعار ملاحظہ فرمایئے جس کا تعلق وحی اول کی آمد سے ہے:

رہی عمرِ مکرّم ساٹھ کم سوسال داعی کی

حرا کی گود سے آمد ہوئی وحیِ الٰہی کی

کہا ! کرکے سلام اس کو کہو ، امرِ الٰہی ہے

کہا ! اُمّی ہوں ، ڈر کر ، حاکمِ کُل کی گواہی ہے

اب ہم اختصار کے ساتھ اس عہد ساز سیرتِ پاک ’’ داعی اسلام ‘‘ کی چند علمی وفنی خوبیوں کا ذکر کریں گے ۔یہ کتاب داعی اسلام کے صرف دور اول ( ماحول مکہ اور اسلامی معرکوں تک) کا احاطہ کرتی ہے ۔اس کتاب کے مطالعے سے مولانا کی فطرت ذہانت ،غیر معمولی قوت آخذہ اور الفاظ ولغات پر عبورکاپتہ چلتا ہے۔اکثر مقامات پر حقیقت اور شاعری کا اتنا دلکش امتزاج ہوجاتا ہے کہ اس پر منجانب اللہ الہام کا گمان گزرتاہے مثلاََیہ اشعار:

سلام اس کو کہ اک اُمّی ، مگر اک ہادیِ کامل

مطہّر اور طاہر ، اک رسول اک حاکمِ عادل

اسی دم لا الٰہ کہہ کے الّااللہ کہہ ڈالا

اسی لمحہ محمد کو رسول اللہ کہہ ڈالا

مولانا صادق نے اس کتاب میں عربی ، فارسی اور اردو الفاظ کے علاوہ ہندی اور کھڑی بولی کا بھی بے تکلفانہ استعمال کیا ہے ۔بس اس امر کا خیال رکھا ہے کہ کہیں نقطہ نہ آنے پائے ۔اس بارے میں ضرورتِ شعری یاPoetic Liscence سے بھی کام لیا ہے یعنی حرکات و سکونات کو بھی حسب مرضی کم اور زیادہ کردیاہے۔دوسری زبانوں کے الفاظ کے استعمال کے ضمن میں ڈاکٹر گوپی چند نارنگ لکھتے ہیں کہ:

’’ شاعر نے عربی وفارسی کے علاوہ ہندی اور مقامی بولیوں کے الفاظ بھی ایسی چابک دستی سے استعمال کیے ہیں جو اس نظم کے مزاج سے اس طرح ہم آہنگ ہوگئے ہیں کہ کہیں جھول محسوس نہیں ہوتااگرچہ دو ایک جگہ ان کا استعمال کھٹکتا ہے پھر بھی کلام کی سادگی اور سلاست وروانی میں کہیں فرق نہیں آتا‘‘
داعیِ اسلام صفحہ نمبر ۲۴؎

’داعیِ اسلام‘‘ کی زبان و بیان کے متعلق گوپی چند نارنگ کے درج بالا خیالات سے اتفاق کرتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس منظوم و غیر منقوط سیرت النبی میں سلاست و روانی نمایاں خصوصیت ہے ۔چند اشعار جو بطور مثال اوپرپیش کیے گئے ہیںان سے ہی بہ خوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس نظم کے تخلیقی عمل سے گزرتے ہوئے شاعر نے مفہوم کی ادائیگی کے لیے کسی طرح کے تخلیقی جبر کو خود پر مسلط نہیں کیا ۔ہر چند کہ جس طرز کی یہ نظم ہے اس میں ایک ایک شعر کے لیے تفحص الفاظ کی انتہائی دشوار کن منزکوں سے گزرنا پڑتا ہے جس کا عکس تصنیف پر واضح طور پر نظر آتا ہے ۔لیکن ’’داعیِ اسلام ‘‘ از ابتدا تا انتہاسلاست وروانی کی بہترین مثال ہے۔اس کے علاوہ مقامی بولیوں کے غیر منقوط الفاظ کا فن کارانہ استعمال لسانیاتی سطح پر مولانا صادق علی صاحب کی بالغ النظری کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔

مولانا صادق صاحب نے ’’ داعیِ اسلام‘‘ کی شکل میں جو تاریخی اور مثالی تخلیق پیش کی ہے اس کے لیے بیک وقت کم از کم دو علوم پر مکمل پر مکمل دسترس درکار تھی۔موضوع کے اعتبار سے مذہبی تاریخ سے واقفیت اور اسلوب کے اعتبار اردو زبان پر مکمل دسترس کے علاوہ شعری تقاضوں کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری تھا۔ اس حوالے سے کہا جاسکتاہے کہ مولانا ان دو نوں مراحل سے بہ حسن وخوبی گزرے ہیں ۔ ان کی یہ شعری کاوش اردو کے ادبی سرمائے کا بیش قیمت شاہکار ہے جس پر اردو شعر وادب کو ہمیشہ ناز رہے گا۔

Majrooh Sultanpuri Ki Shaeri Ke Chand Pahloo

Articles

مجروح سلطانپوری کی شاعری کے چند پہلو

پروفیسر صاحب علی

میں اپنی گفتگو کا آغاز مجروح سلطان پوری کے اس خیال سے کرنا چاہتا ہوں جس کا ظہار انھوں نے اپنے پہلے شعری مجموعۂ کلام ’’ غزل‘‘ میں کیا تھا۔ مجروح نے لکھا ہے :

’’ میرے نزدیک شاعری کی پہلی اور آخری شرط یہ ہے کہ وہ سامع اور قاری کے خیالات اور جذبات کی رفیق ہو،ا س کے بغیر نہ تو اسے قبول عام کی سند مل سکتی ہے اور نہ اسے معتبر کہا جاسکتا ہے ۔ ایک بات اور کہ وہ اعلیٰ سے اوسط درجے کے اذہان کے لیے سہل الحصول ہوــ‘‘

مجروح سلطان پوری کی اس کسوٹی پرجب ہم ان کی شاعری کا مطالعہ کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کی شاعری قبول عام کی سند بھی رکھتی ہے ، ذہنوں کے مختلف دائروں کے لیے سہل الحصول بھی ہے اور اپنی طرف بڑھنے والے خیالات وجذبات کی رفیق بھی ہے۔ یہاں پروفیسر وارث کرمانی کے اس خیال پر بھی ایمان لانے کا جی چاہتا ہے جو انھوں نے مجروح کے معیاری کلام کی مقبولیت کے تعلق سے لکھا ہے:

’’ غالب کے بعد اگر اردو کی پوری غنائی شاعری کے صرف ایک ہزار شعروں کا انتخاب کیا جائے جس میں حالی ، داغ ، اقبال اور نہ جانے کتنے بلند اقبال شاعر نظر آجائیںگے اور اگر بیسویں صدی میں پیدا ہونے والے تمام شاعروں کے کلام سے سو بہترین غزلیں منتخب کی جائیں تو اس میں مجروح کی کئی غزلیں آجائیں گی، اور پھر سب سے اہم بات یہ کہ اگر ایسے اشعار کو یکجا کردیا جائے جواِس وقت باذوق لوگوں کی زبان پر چڑھے ہوئے ہیں تو اُن میں مجروح کے شعروں کی تعداد اپنے معاصرین میں سب سے زیادہ ہوگی‘‘

مجروح سلطان پوری نے جب شاعری کا آغاز کیا تو اس وقت ملک کی آزادی کے لیے مسلسل جد وجہد جاری تھی۔ ہمارے ادبا وشعرا ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہورہے تھے۔ اس تحریک کا ایک بڑا مقصد یہ تھا کہ قلم کار اپنے ذہن ودل کی کھڑکیوں کو کھول دے ، عوامی زندگی سے براہِ راست تعلق پیداکرے تاکہ اسے اپنے عہد ، حالات اور ماحول کا گہر اشعور ہو۔ مختصر یہ کہ شعرا کا وہ نوجوان گروپ جن کی آنکھوں میں رومان کے نہ جانے کتنے خواب رچے بسے تھے ۔حسن وعشق کی تصوراتی وادیوں سے گزر کر حقیقت کی سنگلاخ وادیوں تک پہنچ گئے۔ نوجوان قلم کاروں کا یہ وہ کارواں تھا جو آنکھوں میں آزادی کا خواب اور دل میں نئی سحر کی تمنا لیے نکلا تھا۔ مجروح بھی اس کارواں میں شامل تھے۔ انھوں نے زیادہ تر غزلیں کہیں جو ابتدا میں رومان پرور تھیں ۔ اس نوع کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

مجھے سہل ہوگئیں منزلیں ، وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے

ترا ہاتھ ، ہاتھ میں آگیا کہ چراغ راہ میں جل گئے
اب سوچتے ہیں لائیں گے تجھ سا کہاں سے ہم

اُٹھنے کو تو اٹھ آئے ترے آستاں سے ہم

اُس نظر کے اُٹھنے میں اُس نظر کے جھکنے میں

نغمۂ سحر بھی ہے آہِ صبح گاہی بھی

وہ لجائے میرے سوال پر کہ اٹھا سکے نہ جھکا کے سر

اُڑی چہرے پہ اس طرح کہ شبوں کے راز مچل گئے

سوال ان کا ، جواب ان کا ، سکوت ان کا خطاب ان کا

ہم ان کی انجمن میں سر نہ کرتے خم تو کیا کرتے

یہاں چند اشعار درج کردیے گئے ہیں ورنہ حقیقت یہ ہے کہ مجروح کے کلام میں ایسے اشعار بھرے پڑے ہیں جن میں رعنائی ، حسنِ ادا اور ایسا بانکپن ہے جو ہر کسی کو اپنی طرف متو جہ کرلیتا ہے اس کے باوجود مجروح نے ترقی پسند تحریک کے زیر اثررومان کی وادی سے کنارہ کشی اختیار کرلی اور انقلاب اور بغاوت کی جانب رخ کیا ۔ اِس سے ان کے دل میں انقلاب کے لیے نہ صرف ادب و احترام کا جذبہ بیدار ہوا بلکہ اس جذبے نے انھیں نیا عزم و حوصلہ عطا کیا اور مجروح ہر چیلنج کو مسکرا کر قبول کرلینے کے لیے تیار ہوگئے ۔ یہ چیلنج سماجی ذمہ داریوں کاتھا جس پر ترقی پسند تحریک کا پورا منشور ٹکا ہواہے۔ مختصر یہ کہ فاشسٹ قوتوں کے خلاف انھوں نے تمام مظلوموں کو متحد ہوکر نبرد آزما ہونے کا پیغام دیا۔ اس پیغام میں مجروح نے اپنی بات کو کچھ اس سلیقے سے کہی کہ ان کی بات وقتی نعرہ بازی نہ ہوکر ہر عہد کا پیغام بن گئی۔ اس ضمن میں چند اشعار ملاحظہ فرمائیں:

جلا کے مشعل جاں ہم جنوں صفات چلے

جو گھر کو آگ لگائے ہمارے ساتھ چلے

ستونِ دار پر رکھتے چلو سروں کے چراغ

جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے

سر پر ہوائے ظلم چلے سو جتن کے ساتھ

اپنی کلاہ کج ہے اُسی بانکپن کے ساتھ

روک سکتا ہمیں زندانِ بلا کیا مجروح

ہم تو آواز ہیں دیوار سے چھن جاتے ہیں

یہ محفل اہل دل ہے یہاں ہم سب میکش ، ہم سب ساقی

تفریق کریں انسانوں میں اِس بزم کا یہ دستور نہیں

دیکھ زنداں سے پرے رنگِ چمن جوش بہار

رقص کرنا ہے تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ

ہم قفس ! صیاد کی رسمِ زباں بندی کی خیر

بے زبانوں کو بھی اندازِ کلام آہی گیا

وہی آستاں ہے وہی جبیں وہی اشک ہے وہی آستیں

دلِ زار تو بھی بدل کہیں کہ جہاں کے طور بدل گئے

فکر کی وسعت اور جذبے کی گہرائی رکھنے والے اس طر ح کے اشعار مجروح کی غزلوں میں زیادہ ملیں گی،اور اسی سبب سے وہ ترقی پسند تحریک کے Selectedشاعروں میں تصور کیے جاتے ہیں ۔ اس میں کوئی کلام نہیں کہ مجروح نے غزل کی کلاسیکی روایت میں سیاسی رمزیت کو نغمہ بنایا ہے اور اس معاملے میں فیض احمد فیض ہم دوش اور ہم قدم نظر آتے ہیں۔ اس کا احساس مجروح کو بھی تھا چنانچہ وہ کہتے ہیں :

ہم روایات کے منکر نہیں لیکن مجروح

سب کی اور سب سے جدا پنی ڈگر ہے
یہاں یہ بات ذہن نشین رکھنا چاہیے کہ مجروح نے محض ترقی پسندانہ جذبات و خیالات ہی کی شاعری نہیں کی بلکہ تغزل کا دامن ہمیشہ تھامے رکھا ۔ ان کے کلام میں وہ حصہ جس کی وجہ سے وہ اردو غزل کی دنیا میں جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ شاید ہی کوئی غزل ان کی ایسی ہو جس میں کلاسیکی تغزل کا دلکش نمونہ نہ ملتا ہو۔ اس ضمن کے چند اشعار ملاحظہ ہوں:

ادائے طولِ سخن کیا وہ اختیار کرے

جو عرض حال بہ طرز نگاہِ یار کرے

بہانے اور بھی ہوتے جو زندگی کے لیے

ہم ایک بار تری آرزو بھی کھو دیتے

شب ِ انتظا ر کی کشمکش میں نہ پوچھ کیسے سحر ہوئی

کبھی اِک چراغ جلادیا ، کبھی اکِ چراغ بجھا دیا

مجروح لکھ رہے ہیں وہ اہل وفا کا نام

ہم بھی کھڑے ہوئے ہیں گنہ گار کی طرح

ہم تو پائے جاناں پر کر بھی آئے اِک سجدہ

سوچتی رہی دنیا کفر ہے کہ ایماں ہے

کہا جاتا ہے کہ مجروح سلطان پوری کے ابتدائی دور کی شاعری جگر مرادآبادی اور اصغر گونڈوی سے متاثر ہے ۔ یہ بات صحیح ہے کہ مجروح نے اپنی شاعری کا آغاز اُسی رنگ میں کیا اور اصغر وجگر والے عاشقانہ انداز سے اپنے کلام میں جمالیاتی کیفیت جو اس زمانے میں بہت مقبول ہوئی اور اس کی آب وتاب میں آج بھی کوئی فرق نہیں آیا ۔ ایک بات یہاں اور عرض کرتا چلوں کہ مجروح کی شاعری اساتذۂ فن کی نقل نہیں بلکہ فکری اعتبار سے کئی جہتوں میں اُن سے ایسے آگے نکل گئی ہے جیسے ارسطو اپنے استاد افلاطون سے مختلف ہوگیا تھا۔

جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ مجروح سلطان پوری مدرسے کے فارغ التحصیل تھے۔ اسی لیے اردو کے علاوہ انھیں عربی و فارسی زبانوں پر قدرت حاصل تھی۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کلام میں چست بندشوں اور خوش آہنگ ترکیبوں اور اضافتوں کا فن کاری سے استعمال ہوا ہے۔علاوہ ازیں مجروح نے اپنی شاعری میں ٹھیٹھ روایتی علامتیں بھی استعمال کی ہیںجیسے آبلہ پائی، نقش پا ، خار، چمن اور جنوںوغیرہ کے ساتھ ترقی پسندانہ علامتیں بھی ہیں مثال کے طور پر دار، رسن ، زنداں ،سحر ،زنجیر، کلاہ اور مقتل وغیرہ۔ ان کی بندش مجروح نے ہر بار نئے پیرائے اور نئے اسلوب سے کی ہے ۔ ان کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ مجروح کا اپنا ایک وضع کردہ ڈکشن ہے جس پرانھیں فخر ہے:

دہر میں مجروح کوئی جاوداں مضموں کہاں

میں جسے چھوتا گیا وہ جاوداں بنتا گیا

در حقیقت مجروح سلطان پوری ایک ایسے معتبر شاعر ہیں کہ انھوں نے اپنے معاصرین کے مقابلے میں بہت کم لکھا،لیکن بہت زیادہ مقبولیت حاصل کی۔ ان کے کچھ اشعار اس قدر زبان ِ زد خاص وعام ہوئے کہ ان کی حیات کا سامان بن گئے۔ جب بھی کسی کو مجروح کی تلاش ہوگی تو اِ نھیں مقبول عام اشعار کے توسط سے مجروح کا سراغ ملے گا۔

Shahr Yaar (Jamaliyaat Ke Tanazur Meim)

Articles

شہریار (جمالیات کے تناظر میں)

ڈاکٹررشیداشرف خان

آسماں کچھ بھی نہیں اب تیرے کرنے کے لیے

ہم نے سب تیاریاں کرلی ہیں مرنے کے لیے
محتاط اور مستند ذرائع کے مطابق یہ کنور اخلاق محمد خاںشہر یا رؔ کا آخری شعر ہے جو انھوں نے اپنی موت سے چند روز پہلے کہا تھا۔ شہر یار کی ولادت ۱۷؍جون ۱۹۳۶کو ان کے آبائی وطن آنولہ ضلع بریلی اترپردیش میں ہوئی تھی۔ان کے آبا واجداد راجپوت تھے ، پرتھوی راج چوہان کے زمانے میں ان کے بزرگ مشرف بہ اسلام ہوئے ۔ شہریار کے والد کا نام کنور ابو محمد خاں تھا اور والدہ بسم اللہ بیگم تھیں۔کنور ابو محمد خاں محکمۂ پولیس میں انسپکٹر تھے ۔ شہر یار کے والد جب بہیڑی ضلع بریلی میں تعینات تھے تو وہیں شہریار کی رسم بسم اللہ ہوئی ۔ مذہبی رسوم کے علاوہ طوائفوں کا ناچ بھی ہوا اور انھیں کے ہاتھوں ان طوائفوں کو انعام و اکرام بھی دلایا گیا۔گھرانا خوش حال تھا ،محلے میں طوائفیں رہتی تھیں اسی لیے شہر یا ر بچپن ہی سے آزاد اور نقشے باز بن گئے تھے۔اپنے ایک انٹر ویو میں شہر یار نے کہا تھا:

’’ امراؤ جان سے میری دلچسپی اور اس کے گانوں میں جو اثرات دکھائی دیتے ہیں اس کی ایک وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ بچپن میں طوائفوں کے ساتھ میرا بہت رہنا ہوا۔ ہوسکتا ہے اس کا اثر میری شاعری پر بھی پڑا ہو‘‘
( بحوالہ شہر یا ر حیات و خدمات از ڈاکٹر ساجد حسین ص نمبر ۵۰)

ملازمت سے سبک دوشی کے بعد شہر یار کے والدمع اہل وعیال علی گڑھ منتقل ہوگئے اور جمال پور میں مستقل سکونت اختیار کی۔شہر یارنے ۱۹۵۶میں ہائی اسکول پاس کیا اور پی ایچ ڈی تک کی اعلیٰ تعلیم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے حاصل کی ۔ یہیں پر ان کی ملاقات خلیل الرحمن اعظمی سے ہوئی ۔شہر یار کے سوانحی کوائف کا بالاستیعاب مطالعہ یہ ثابت کرتا ہے کہ خلیل الرحمن اعظمی اور شہر یار ایک دوسرے سے بے پناہ محبت رکھتے تھے چنانچہ بڑے مبالغہ آمیز انداز میں شہر یار کے بے تکلف دوست بیدار بخت نے عجیب و غریب جملہ لکھا ہے:

’’شہریار کو خلیل الرحمن اعظمی سے اتنی شدید عقیدت اور محبت ہے ،جیسی شاید امیر خسرو ؔ کو اپنے پیر ومرشد نظام الدین اولیا سے رہی ہوگی‘‘

(مضمون : شہر یار مشمولہ سورج کو نکلتا دیکھوں ص ۲۲)

شہر یار کی زندگی کا تانا بانا ان کی زندگی میں ظہور پذیر ہونے والے اہم اور غیر اہم واقعات کی یکجائی یا باہمی موانست کا زائیدہ تھا۔ ممکن ہے کہ بہتوں کو اعتراض ہو کہ یہ کوئی بات نہ ہوئی ، دنیا میں سبھی کے ساتھ ایسا ہوتا ہے ۔ بہرحال یہ کہنا مبنی بر مبالغہ نہ ہوگا کہ شہر یا ر محض ایک شاعر اورمعمولی عقل وہوش رکھنے والے انسان نہ تھے بلکہ غیر معمولی قوت احساس ، انفرادی فکر اور مشاہدۂ کائنات کاتجزیاتی شعور رکھنے والے عبقری بھی تھے ۔

تقریباََ ۶۸۶ صفحات پر مشتمل کلیات شہر یارمیں غزلوں کے علاوہ مختصر و طویل نظمیں بھی شامل ہیں۔ان کے موضوعات الگ الگ ہیں اور ان کا فنی اسلوب بھی ایک دوسرے سے جداگانہ ہے لیکن موج تہہ نشیں کی طرح بیشتر غزلوں اور نظموں میں جمالیاتی کیفیت قریب قریب سبھی میں نمایاں ہیں۔
اگر ہم فلسفہ ٔ جمالیات کا عمیق مطالعہ کریں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ’’جمال ‘‘دراصل’’حسن‘‘ کا مترادف نہیں ہے بلکہ یہ ایک قلبی کیفیت ہے جو کسی بھی واقعہ ، کردار یا تجربے کی وجہ سے ہم پر طاری ہوتی ہے ۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:

اے مرے زخم دل نواز ، غم کو خوشی بنائے جا

میں یونہی تڑپے جاؤں گا ، تو یونہی مسکرائے جا

شہر یار کی ذہنی بلوغت اور احساسات و جذبات کی پختگی خالصتاََ ان کی مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کی دین ہیں ۔’’سورج کو نکلتا دیکھوں ‘‘ شہریار کے جملہ کلام کا پختہ اور بلند انتخاب ہے ۔ یہ بات قابل غور ہے کہ بلند شاعری وہی شاعری کہی جاسکتی ہے جس میں فی الحقیقت جمالیاتی عظمت کی تلاش محسوس کی جاسکتی ہو۔مثلاََشہریار کے پہلے مجموعۂ کلام ’’اسم اعظم‘‘ میں شامل ایک مختصر سی نظم جس کا عنوان ’’موت‘‘ ہے ۔ یہ نظم انھوں نے ۱۹۶۵میں کہی تھی:

ابھی نہیں ، ابھی زنجیر خواب برہم ہے

ابھی نہیں ، ابھی دامن کے چاک کا غم ہے

ابھی نہیں، ابھی درباز ہے امیدوں کا

ابھی نہیں ، ابھی سینے کا داغ جلتا ہے

ابھی نہیں، ابھی پلکوں پہ خوں مچلتا ہے
ابھی نہیں ، ابھی کم بخت دل دھڑکتا ہے

موت کو آنے سے روکنا انسانی فطرت ہے ۔ شہر یا ر کی مذکورہ نظم میں کوئی انہونی بات تو نہیں معلوم ہوتی لیکن جمالیاتی شاعری کے لیے موت کو مختلف بہانوں سے ٹالنا ایک نیا نیا سا پہلو ضرور لگتا ہے ۔ یہ سیدھی سادی روایتی شاعری کی شان نہیں ہے ۔کمال کی بات یہ ہے کہ اگر اس نظم کا کوئی بھی مصرع نکال دیں تو نظم کا سارا تاثر ہی ختم ہوجائے گا۔

جرمن مفکر بام گارٹن جس کا زمانۂ حیات ۱۷۱۴ء تا ۱۷۶۲ء تک ہے نے اپنے تحقیقی مقالے Aestheticaمطبوعہ ۱۷۵۰ء میں اپنی علمی تحقیق کا لب لباب یہ پیش کیا تھا کہ حسن کے تمام مظاہراور احساس حسن کی تمام کیفیات جو ہم اپنے حواس خمسہ کی مدد سے محسوس کرسکیں وہ سبھی فلسفۂ جمالیات کے دائرے میں آسکتی ہیں ۔اس زاویہ نظر سے اگر ہم شہر یار کلام کا فنی تجزیہ کریں تو بام گارٹن کی تعریف کا عملی پہلوسامنے آجاتا ہے۔

’’قرب قیامت‘‘ شہر یار کی ایک ایسی نمائندہ نظم ہے جس میں شاعراندھیرے اور اجالے کو اپنے احساس جمال کی عینک سے دیکھتا ہے تو یہ دونوں غیر مرئی اور بظاہر حسیات سے ماورا اشیا بالکل اسی طرح شاعر کی بنیادی توانائی بن جاتی ہیں ۔ ’’قرب قیامت‘‘ کہنے کو تو ایک مختصر سی نظم ہے لیکن اس کے اندر بے پناہ گونج اور شعلگی پوشیدہ ہے:

اندھیرے کا سَر جو، اجالے کی تلوار سے کاٹتی تھی

سیہ بختوں کو روشنی بانٹتی تھی

جو تنہائی کی کھائی کو پاٹتی تھی

اس آواز کو بھی ہوا کھا گئی ہے

قیامت بہت ہی قریب آگئی ہے

نظم کا جمال ’’آواز‘‘ کے غیر واضح ابہام میں پوشیدہ ہے ۔ قاری کے ذہن میں یہ سوال بجلی کی طرح کوند جاتا ہے کہ آخر وہ آواز کیا تھی اور کس کی تھی جس میں اتنی سکت تھی جو اجالے کی تلوار سے اندھیرے کا سر کاٹ دے ، سیہ بختوں کو روشنی بانٹے اور تنہائی کو مٹا دے ۔ بہت ممکن ہے کہ یہ شاعر کے ضمیر کی آواز ہو لیکن اتنا تو یقین ہے کہ اس پر اسرار آواز کی حقیقت ہم معمولی آلۂ سماعت آلۂ مکبّرالصوت آلۂ ناقل الصوت یا اور کسی جدید ترین سائنسی مشین کی مدد سے نہیں سمجھ سکتے۔ اس کے لیے تو مطالعۂ باطنی سے کام لینا پڑے گا جو فلسفۂ جمال کی بنیاد ہے۔ شاید اسی کو ہمارے صوفیاے کرام نے ’’وجد‘‘ اور’’جذب‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔ علامہ اقبال نے اسی حقیقت ابدی کی طرف اشارہ کیاہے ؎

اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی

شہر یار کو اپنی ۷۵سالہ زندگی میں کئی زبردست صدموں سے دوچار ہونا پڑا ۔پانچ بھائی بہن انھیں کے سامنے اللہ کو پیارے ہوگئے ۔والد سے ناراض ہوکر خلیل الرحمن اعظمی کے ساتھ رہنے لگے یہ بات بیگم نجمہ شہریا ر کو ناپسند تھی ،آخر وہ شوہر سے الگ ہوگئیں ۔ پھر شہر یار کے دوستوں میں خلیل الرحمن، مغنی تبسم، وحید اختر، منیر نیازی ، اقبال صدیقی ، اسعد بدایونی اور ہمایوں ظفر زیدی بھی وفات پاگئے۔ان پیہم صدموں کا ردعمل یہ ہوا کہ شراب خوری بڑھ گئی ،رات رات بھر جاگتے اور ہر وقت اداس رہتے ۔ظاہر ہے کہ ایسے میں شاعر کا حساس دل قنوطیت اور مایوسی کا شکار ہونے لگتا ہے۔ شہریار چونکہ اعلیٰ تعلیم یافتہ اور معروف انسان تھے اس لیے اپنے جذبات کی تصعید۔ تسہیل کے لیے انھوں اپنی شاعری میں جمالیات کا سہارا لیا۔ دراصل جمال کسی چیز ، شعر ،تعمیر وغیرہ کے ظاہری حسن کا نام نہیں بلکہ اس حسین شے کو دیکھ کر دیکھنے والے یا سننے والے کے دل ودماغ پر جو کیف و سرور ، نشاط وانبساط طاری ہوتا ہے وہی جمال ہے ۔تاج محل میں جو خوبصورتی ہے ،جمال اس کو نہیں دیکھتا بلکہ اس کی پسندیدگی کو دیکھتا ہے ۔ بہ الفاظ دیگر حسن موضوعی یا باطنی ہوتا ہے جب کہ جمال خارجی یا مفعولی ہے۔ حسن وجمال کے اس امتیاز کو قسیم ہلوری نے بہت خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے:

عشق کا حسن کہاں دیکھ سکے اہل جہاں

ورنہ یوسف سے زیادہ تھا زلیخا کا جمال

اپنے مذکورہ بالا نظریہ کی وضاحت کے لیے شہر یار کے چند اشعار ملاحظہ کیجیے:

تمھاری ہجرنوازی پہ حرف آئے گا

ہماری مونس و ہمدم اگر شراب ہوئی

وہ میں نہیں عدو سہی ، خوشی یہ ہے کہ دہر میں

کوئی تو سرخرو ہوا ، کوئی تو سر بلند ہے

ایک عالم ہے کہ اس سمت کھنچا جاتا ہے

جانے وہ کون سی خوبی رسن و دار میں ہے

پہلے شعرمیں’’ہجر نوازی‘‘ نہ صرف ایک تازہ ترین ترکیب ہے بلکہ اس کے ساتھ وہ شاعر کے شدید ’’احساس جمال‘‘ کی غماز بھی ہے یعنی طنز کے ساتھ ساتھ شاعر اپنی بے وفا محبوبہ کا شکریہ بھی ادا کرتا ہے کہ تم نے میری طرف سے بے اعتنائی کرکے مجھے شراب کی لذت آشنا کیا ۔ اب اس عادت کو چھوڑ نہیں سکتا ۔ لوگ سمجھیں گے کہ تم نے ’’اذیت کوشی ‘‘ سیکھ لی یا پھر میں نے تمھارا کوئی بدل ڈھونڈ لیا یہ بات آداب محبت کے خلاف ہے لہٰذا مجھے تنہائی میں شراب پینے دو تاکہ ہم دونوں کی محبت پر حرف نہ آئے۔

دوسرے شعر میں شہر یار جمالیاتی حس کی ارفع منزل پر نظر آتے ہیں ۔ عمومی شاعر جو دنیوی محبت کا شکار ہوتا ہے وہ بڑا خود غرض اور کم ظرف ہوتا ہے ۔ کیا مجال ہے کہ اس کے محبوب کو کوئی اپنائیت کی نظر سے دیکھ لے۔ عاشقی میں رقابت کی سرے سے گنجائش نہیں ۔اسے ہمیشہ رقیب روسیاہ کے برے نام سے یا کیا گیا ہے۔ مومن خان مومن نے کیا خوب کہا ہے:

اس نقش پا کے سجدے نے، کیا کیا کیا ، ذلیل

میں کوچۂ رقیب میں بھی سر کے بل گیا

دوسرے شعرا کے برعکس شہریار کا جمالیاتی انداز فکر دیکھیے کہ وہ نہایت صحت مندانہ اور مثبت وضع داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر میرے بجائے وہ میرے دشمن پر مہربان ہیں تو یہ بات میرے لیے عین مسرت کی ہے۔

تیسرے شعر میں شہر یار نے رسن ودار کی تکلیف پر مایوسی یا غم کا اظہار نہیں کیا ہے بلکہ انھوں نے ’’خوبی ‘‘ کا لفظ استعمال کرکے اپنی رجائیت اور دلی مسرت کا ثبوت دیا ہے یہ ان کے عشق جمالیات کا معجزہ ہے کہ انھوں نے رسن ودار کو زندگی کا پیغامبر ثابت کیاہے ۔

کلیات شہریار کا غائر مطالعہ ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ انھیں خوابوں سے والہانہ عشق ہے ۔ وہ سوتے جاگتے ، لوگوں سے ملتے جلتے اور لکھنے پڑھنے کے دوران خواب دیکھنے کے عادی ہیں ، نیند کو ان سے چڑ ہے اور انھیں نیند سے نفرت ہے۔ایسا نہیں کہ وہ نفسیاتی بیماری یا بے خوابی کے مریض ہیں بلکہ وہ جان بوجھ کر بے دار رہنا چاہتے ہیں ۔ان کی فطرت ایسے ادھ کچرے اور فیشنبل روڈ سائڈ رومیوز (Road Side Romeos)کی سی نہیں ہے ۔

جو راتوں کو اٹھ اٹھ روتے ہیں ،جب سارا عالم سوتا ہے

ان کی بے داری حادثاتی یا نیوراتی اعصابی عارضہ نہیں ہے بلکہ اس کاسبب جمالیاتی شدت ہے جس کی حقیقت ان کے حسب ذیل شعر کو پڑھ کر اور سمجھ کر معلوم کی جاسکتی ہے:

راتوں کو جاگنے کے سوا اور کیاکیا؟

آنکھیں اگر ملی تھیں ، کوئی خواب دیکھتے

مذکورہ شعر میںبات چھوٹی سی ہے کہ ہمیشہ کہ طرح شاعر کو نیندنہیں آئی بلکہ کمال تو یہ ہے کہ شاعرنے بیانیہ اور ڈرامائی رنگ دے کر خالص جمالیاتی اسلوب میں اپنی مستقل بے خوابی کاافسانہ سنایا ہے جو دلکش بھی ہے اور سامع نواز بھی ۔شاعر نے استعاراتی لب ولہجہ میں اپنی داستان پیش کی ہے جس نے بیان میں قوت اور شعری لطافت پیدا کردی ہے۔جمالیات کے ضمن میں دور حاضر کے ممتاز نقاد شمس الرحمن فاروقی کے یہ جملے اپنے اندر بڑاوزن اور وقار رکھتے ہیں :

’’ پرانی اور نئی شاعری کا فرق دراصل رویہ کا فرق ہے یعنی شاعری کے بیشتر موضوعات تو وہی ہیں ، لیکن ان کے بارے میں شاعر کا رویہ بدل گیا ہے۔ مثلاََ جہاں احترام تھا وہاں استہزا ہے ، جہاں اعتقاد تھا اب وہاں تشکیک ہے۔جہاں اعتقاد تھا وہاں اب خود اپنے اوپر اعتبار نہیں ۔ شاعری اعتقاد کی بنا پر قائم ہوسکتی ہے اور تشکیک کی بنا پر بھی۔‘‘

(اثبات و نفی: مضمون سکوت سنگ اور صداے درد ص ۱۷۵)

<br/
شہر یار نے اپنی شاعری میں ان دونوں رویوں سے کام لیا ہے ۔اس کی سب اہم وجہ یہ ہے کہ وہ بطور خاص جمالیات کے عاشق ہیں۔اس جمالیات کا خمیر اعتقاد اور تشکیک دونوں ہی کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے ۔ مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے جس میں اعتقاد کی کار فرمائی ہے :

جمع کرتے رہے جو اپنے کو ذرہ ذرہ

وہ یہ کیا جانیں ، بکھرنے میں سکوں ملتا ہے
اور یہ شعر شہریارکے جذبۂ تشکیک کی بہترین جمالیاتی تخلیق ہے:

بلندیوں کی ہوس ہی زمین پر لائی

کہو فلک سے کہ اب راستے سے ہٹ جائے

مذکورہ بالا تمام گفتگو اور اس سے حاصل ہونے والے نتائج کی روشنی میں ہم یہ فیصلہ کرسکتے ہیں کہ باوجودیکہ شہریار نے نہ تو فلسفۂ جمالیات کا باقاعدہ مطالعہ کیا تھا اور نہ ان کے زمانے تک جمالیات کی حقیقت اور اس کے فنی ارتقا کے اصول مرتب ہوئے تھے اور شاید بام گارٹن، ہیگل اور اطالوی عالم کُروچے کی کتابیں بھی نہ پڑھی ہوں گی لیکن ان کا علم سخن وری کتابی کم اور وہبی زیادہ تھا ،اسی لیے قدرت نے انھیں احساس جمال کی ویسی صلاحیت عطا فرمادی تھی جیسی کہ وہ مچھلی کو تیرنے اور پرندوں کو اڑنے کی صلاحیت بخشا کرتی ہے

Mysticism and Science

Articles

تصوف اور سائنس

ڈاکٹر رشید اشرف خان

زیر مطالعہ عنوان گفتگو یعنی ’’ تصوف اور سائنس‘‘ بظاہر مفکر یگانہ مہد ی افادی کے الفاظ میں ’’ گول چیز میں چوکھنٹی ‘‘ کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔یعنی دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا یا بقول امام الہند مولانا ابولکلام آزادعلمی اصطلاح میں ’’اجتماع النقیضین‘‘ ۔ تصوف کا موضوع خالص روحانیت ہے جب کہ سائنس کا نقطۂ پرکار مادیت ہے۔ اگر ہم اپنے زاویۂ نظر کو عالی ظرفی ، وسیع النظری اور باریک بینی سے اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں اور قدرے عمیق نظر سے دیکھیں تو ہم بھی شاید اس عالم طلائی کی خیالی دنیا کا جلوہ دیکھ سکیں گے جس کا نظارہ ایک انگریز شاعر نے اپنی شہرۂ آفاق نظمTHE ELDORADOمیں دکھایا ہے۔ یعنی اس کے تخیل نے ایک ایسا تصوراتی خاکہ پیش کیا ہے جہاں پورا شہر سونے میں نہایا ہوا تھا۔جہاںہر چیز سونے کی تھی۔ اس مثال کی مدد سے ہم نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف میں روحانیت کے ساتھ ساتھ کسی قدر مادیت بھی ہے اور سائنس خالص مادیت ہی نہیں بلکہ اس میں روحانیت کی آمیزش بھی ہے۔
تصوف کو انگریزی زبان میں Mysticism اور ہندی بھاشا میں رہسواد کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ عربی اور فارسی زبان کا لفظ ہے ۔تصوف کی تاریخ ۱۴۳۶ سال پرانی ہے ۔اس زمانے میں صوفی پیدائشی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا فطری رجحان قرآن کریم کو سننے سمجھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں اور سنتوں پر عمل کرنے کے باعث تعلیمات قرآنی میں ڈھل جانے کی وجہ سے ہوجاتا تھا ۔ سیدھی سادی زندگی ، دنیوی معاملات میں میانہ روی ، اقوال و افعال میں شفافیت ، عبادت الٰہی کا شغف ، اوامرونواہی کا احتساب، خوف الٰہی، اور حقوق العباد کا خیال اور جہنم سے نجات کا تصور یہ تمام باتیں ایک سچے صوفی کی پہچان تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک بس اتنے ہی اصول تصوف کے تھے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابۂ کرام ، تابعین اور تبع تابعین تک ایک سچے صوفی کی مندرجہ ٔ بالا شناختیں کم وبیش قائم رہیں مگر افسوس کہ دائم نہ رہ سکیں۔ عشق الٰہی جو ایوان تصوف کا بنیادی پتھر تھا رفتہ رفتہ دنیاداری اور ریاکاری کی نذر ہوگیا۔ علامہ اقبال نے اس ملمع کاری کو اس طرح سے پیش کیا ہے

رہنے دے جستجو میں ، خیالِ بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تو ہو ، یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے ، یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کُشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
ہر دل مئے خیال کی مستی میں چور ہے
کچھ اور آج کل کے کلیموں کا طور ہے

’’تصوف ‘‘ شروع شروع میں صرف ایک طریقۂ کار یا لائحۂ عمل تھا جس میں صرف عبادت وریاضت پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور اس کے احکام ومسائل سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہتے تھے ۔ رفتہ رفتہ ان احکام و مسائل کو مختلف درجات یا مراحل میں تقسیم کیا گیا ۔ ان مراحل کی شرائط کی روشنی میں جو صوفی عمل پیرا ہوتا تھا تواس صوفی کو اصطلاح صوفیہ میں سالک ( بمعنی چلنے والا) طریقے کو (مسلک) راستہ اور مقامات کو منزل مانا جاتا تھا۔ اس ضمن میں خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی فرماتے ہیں

بہ مَے سجادہ رنگیں کن ، گَرَت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نہ بُوَد ز راہ رسمِ منزلہا

(یعنی اگر پیر مغاں تجھ سے یہ کہے کہ اپنے مصلے کو شراب میں ڈبو کر بھگا دو تو مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے کیوں کہ تو راہ تصوف میں چلنے والا صوفی (سالک ) ہے جومنزلوں کے طور طریقوں سے بے خبر نہیں ہوتا )

جب تصوف عرب سے ہندوستان آیا تو یہاں صوفی مبلغین اسلام کی اچھی خاصی تعداد پیدا ہوگئی ۔جب علوم کی تدوین و کتابت شروع ہوئی اور اہل تصوف نے زہد ورع اور افعال واعمال پر محاسبے کے طور طریقوں پر کتابیں لکھیں جیسا کہ علامہ قشیری نے اپنے رسالہ میں اور شیخ سہر وردی نے اپنی مشہور کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ بعض دوسرے اکابر صوفیہ آئے تو علم تصوف ملت اسلامیہ میں ایک مرتب اور مدّون علم کی حیثیت سے سامنے آیا۔

ہندوستان آنے کے بعد تصوف دو خاص حصوں میں بٹ گیا ۔ اسلامی تصوف و غیر اسلامی تصوف ۔ اسلامی تصوف کی بنیاد قرآن کریم ، سنت نبی ، احادیث صحیحہ اور صحابۂ کرام کے اقوال پر تھی جب کہ غیر اسلامی تصوف میں ویدانت اوربھکتی تحریک کے اصول شامل کردیے گئے۔ کرم، یوگ اور مایا کے ہندو نظریات تصوف میں دخیل ہونے کے بعد فلسفہ کی اس شاخ کو وسعت تو بے شک بڑھی اور ہزاروں ہندوؤں نے اسے اپنالیالیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تصوف کے اس روپ کو ناپسند بھی کرتے تھے ۔

صوفیاے کرام اور ان کی سائنسی بصیرت کے ضمن میں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ آج سے صدیوں پہلے سائنسی ایجادات یا علوم سائنس کے طور طریقے نہ تو معلوم تھے اور نہ ان کی طرف کچھ زیادہ توجہ کی گئی تھی لیکن ہم لاشعوری طور پر ان سے واقف بھی تھے اور روزمرہ زندگی میں ان کا استعمال بھی ہوتا تھا ۔ مثال کے طور پر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علم العلمان علم الادیان و علم الابدان ، تو اس وقت آپ نے دو سائنسی علوم یعنی علم الٰہیات (Theology)اور علم الابدان (Physical Science)کی خصوصی اہمیت کا اعلان فرمایا تھا ۔ علم الٰہیات کے ذیل میں قرآن کریم مع جملہ علوم القرآن ، علوم الحدیث اور سنن رسول سبھی آجاتے ہیں ۔ اسی طرح علم الابدان، علوم معرفت الانسان (Physiology)علوم حفظان الصحت(Hygiene)بشریات (Anthropology)علم النفس(Psychology)نیز جملہ سماجی علوم(Social Science)اور ماحول کے تعلق سے جانداروں کے توضیحی مطالعہ (Ecology)کا مجموعہ ہے۔

ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شہر علم تھے لہٰذا مذکورہ ٔ بالا علوم سے کما حقہ واقف ہونا آپ کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے اور پھر اپنی سنت کے ذریعے مسلمانوں کو مخاطب کرکے وقتاََ فوقتاََ سائنسی علوم سے آشنا کیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ احادیث کی شکل میں منضبط کر لیے گئے۔
آج دنیا سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے ۔دنیا کے بڑے بڑے ماہرین فلکیات اور ماہرین طبیعات نے جو جدید انکشافات کیے ہیں ،وہ انکشافات آج سے تقریباََ چودہ سو سال قبل احادیث نبویہ میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔جس کی دو مثالیں یہاں پیش کرنا غیر ضروری نہ ہوگا۔

حدیث نمبر۱: { عن ابی موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
لاتقوم الساعتہ حتیٰ یکون القرآن عارا ویتقاالزمان}

’’ جب تک قرآن کریم کو باعث عار نہ سمجھا جانے لگے لگا اور زمانہ جلدی جلدی گزرنے اور اس کے گوشے سمٹنے نہ لگیں گے اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی‘‘

(مجمع الزوائد: حدیث نمبر ۱۲۴۳۷، جلد نمبر ۷ ص ۳۲۴)

مذکورہ حدیث کے عربی متن میںلفظ ’’ تقارب‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں دو چیزوں کا قریب ہونا۔اس میں جہاں ایک طرف زمانے کی اضافی حیثیت یعنی(Relative)کی طرف اشارہ ملتا ہے تو دوسری طرف یہ اشارہ بھی ہے کہ زمانۂ قدیم میں جن کاموں میں لمبے عرصے گزرجاتے تھے وہی کام مستقبل میں نہایت کم عرصے میں انجام دیے جانے لگیں گے،جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج سائنس اور ٹکنالوجی ہر شعبۂ حیات میں غیر معمولی ترقی کر چکی ہے۔یہ حدیث دور حاضر کے ذرائع حمل و نقل اور سرعت رفتا رکی غماز ہے۔اس حدیث میں’’ تقارب الزمان ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کے تغیرات کا انکشاف کیا ہے۔

حدیث نمبر۲: {عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی علیہ وسلم قال تغسل
الاناء اذا ولغ فیہ الکلب سبع مرات اولھن او اخراھن بالتراب}

’’ اگر تمھارے برتن کو کتا چاٹ جائے تو وہ سات مرتبہ دھونے سے پاک ہوگا ،جن میں پہلی دفعہ مٹی سے دھویا جائے‘‘

( ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ص ۶۸)

عہد رسالت میں ایسی ادویات کا نام ونشان تک نہ تھا جوجراثیم پر اثر انداز ہوسکیں لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے جراثیم کو ختم کرنے کے لیے مٹی سے برتن دھونے کا حکم فرمایا۔حضور صلی علیہ وسلم کی سائنسی بصیرت کا اعتراف اس وقت ہوا جب سائنسی تحقیق نے مٹی میں Tetraliteاور Tetracyclineجیسے اجزا کی نشان دہی کی۔یہ اجزا جراثیم کش دواؤں کے لیے بطور خاص استعمال ہوتے ہیں۔کتوں کے چاٹے ہوئے برتن کے ذریعے ان کے جراثیم انسانوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے،اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی سے برتن دھونے کی تاکید کی ہے۔یوروپ کے بعض انگریزمحققین نے اس موضوع پر کئی تحقیقی مضامین قلم بند کیے جس میں اس حدیث کا اعتراف بڑی شدت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
بہ خوف طوالت صرف ایک مثال پر اکتفا کی جاتی ہے جو اس ثبوت کے لیے کافی ہے کہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں میں قیام کرنے والے صوفیاے کرام ، فخر روحانیت وخدا شناس ، شاہان بے تاج وتخت تھے۔مذکورہ مثال پر مشتمل میر تقی میرؔ کاشعر درج ہے:

فقیرانہ آئے ، صدا کرچلے
میاں خوش رہو ہم دعا کرچلے

جسے اللہ کی معرفت حاصل ہوگی پھر اسے دنیا نہیں ڈھونڈ سکتی۔وہ اپنے خالق حقیقی کی زندگی میں بھر پور جذب ہوجاتاہے۔تصوف اور سائنس کے حوالے سے عہد رسالت کے دو صوفی سائنس دانوں لبیب بن سعد اور حبیب بن سعد کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ معظمہ میں تھے اور بعد میں آپ کے ساتھ مہاجر بن کرمدینہ پہنچے۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے ۔ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ علم نجوم(Astronomy)سے خاطر خواہ دلچسپی رکھتے تھے۔علم ریاضی میں کافی درک حاصل تھا۔ان نجومیوں کا وطیرہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بہ غرض تجارت دور دراز کا سفر کرتے یا برائے غزوات تشریف لے جاتے تو یہ حضور اکرم کی خاص اجازت سے قافلے یا لشکر اسلامی کے ساتھ بطور بدرِقہ(Escort)ضرور جاتے تھے اور اندھیری رات میں اپنی خانہ ساز دوربینوں (Binoculors) کی مدد سے پتہ لگا لیتے تھے کہ رات میں ستاروں کی مدد سے راستہ کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے ؟ قمر در عقرب کب ہوگا، اچھی بری ساعتیں کون سی ہیں ۔چاند گہن اور سورج گہن(کسوف وخسوف) Eclipseکب ہوگا۔ان کے اثرات مخلوق الٰہی پر کیا کیا اور کس طرح پڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ قدرت ، دنیاوی علوم اور اپنے خاص احکام میں ہمیشہ سے ایک خط امتیاز (Line of Demarcation)کھینچتی چلی آئی ہے تاکہ دنیا کی نگاہ میں خدا اور بندگان خدا کے افعال میں تعینِ حدود نظر آسکے ۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ دشمنان اسلام نے ایک دفاعی جنگ کا اعلان کیا ۔پہلے تو سرکار دوعالم نے رفعِ شر کی کوشش کی ،جسے دشمنان اسلام نے بزدلی سمجھااور اپنے موقف پر اڑے رہے تب حضور نے حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کا پیغام لائے ہیںکہ علی کی قیادت میں جنگ کی جائے۔حضور کا یہ فیصلہ سن کر دونوں نجومی بھائیوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ ساعت جنگ کے لیے بہت منحوس ہے ۔اگر اس وقت کوچ کیا گیا تو خدا ناخواستہ لشکر اسلام کی شکست یقینی ہے ۔ایک نحس ستارہ ہمارے لشکر پر مخالف نظر رکھتا ہے ۔ حضور نے ان کی بات ان سنی کردی اور حضرت علی سے فرمایا: بسم اللہ مجریھا باذن اللہ مرسٰھا۔دونوں نجومی شکست کے خوف سے لشکر کے ساتھ نہیں گئے اور اپنے حجرے میں بیٹھ کر زائچے بناتے رہے۔ایک وقت ایسا آیا جب دونوں نجومی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرکے سجدۂ الٰہی میں گر گئے اور کہا یا رسول اللہ مبارک ہو حضرت علی بہ حیثیت فاتح مع لشکر تشریف لارہے ہیں ۔ حضور نے فرمایا جبرئیل امین نے پہلے ہی یہ خوش خبری سنادی ہے مگر تمھیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ انھوں نے عرض کیا کہ وہ منحوس ستارہ جو دوسال کی مدت میں اپنی جگہ سے ہٹنے والا تھا لیکن جوں ہی ہمارا لشکر روانہ ہوا وہ ستارہ دو دنوں میں اپنے مقام سے ہٹ گیا۔بس ہمیں اطمینان ہوگیا کہ اب ہماری فتح یقینی ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ میںنے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ علم نجوم فی نفسہ برا نہیں ہے اسے ضرور سیکھو لیکن اسے عقیدے سے نہ ٹکراؤ ورنہ الحاد اور بے دینی کی طرف لے جائے گا۔

عرب ممالک کے علاوہ ایران اور ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی تصوف کا اسلامی فلسفہ تیزی سے مقبول ہوا ۔ ایک ہندو مصنفDr. N.K. Singh نے لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی صوفی حضرت شیخ ابوسعد ابوالخیر نے ایک حقیقی صوفی کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی ہے:
“That is the true Man of God, who sits in the midst of his fellowmen, and rises up and eats and sleeps and buys and sells and gives and takes in the bazaars amongst other folk, and yet is never for one moment forgetful of God” .

(Dr. N. K. SINGH: SUFIS of India, Pakistan and Bangladesh. Vol. One
First Edition – 2002. (Preface) PP. X – XI.)

شیخ ابو سعد ابوالخیر کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ طوطیِ ہند حضرت ابوالحسن یمین الدین امیر خسروؔ کے نمایاں افادات کا ذکر ضروری ہے۔ جنھوں نے حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کے نامور مرید کی حیثیت سے شہرت دوام حاصل کی۔حضرت امیر خسروؔ کے تعلق سے حسن الدین احمد لکھتے ہیں:

’’ اگر سطحی طور پر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امیر خسروؔ کی صوفیانہ منش شاعرانہ طبیعت اور دربارداری کے درمیان تضاد ہے، لیکن اس زمانے کے حالات اور امیر خسروؔ کے خاندانی ماحول پر نظر رکھی جائے ، ان کی زندگی کے تنوع کا تجزیہ کیا جائے اور جس انداز سے انھوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نبھایا اسے پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کی زندگی میں مکمل ہم آہنگی تھی‘‘

( مضمون: امیر خسرو کے درباری تعلقات ، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی ، نومبر ۱۹۷۴ء ص ۴۴)

فارسی ، اردو اور سبک ہندی کے ادیب وشاعر ہونے کی وجہ سے امیر خسروؔ کاجو بلند مرتبہ ہے وہ تو ہے ہی لیکن موسیقی اور ساز وآواز کی دنیا میں انھوں نے جو کمالات دکھائے اور اختراعات کیں ان سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں نقی محمد خاں خورجوی لکھتے ہیںـ:

’’امیر خسروؔ نے سب سے پہلے عجمی موسیقی کے انداز پر ترانہ ، قول نقش ونگارِ گل وغیرہ گانے ایجاد کیے۔ باوجودیکہ اسلام میں علما نے موسیقی کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن ایک گروہ صوفیوں کا ہر زمانے میں ایسا ہی رہا ہے جو تصوِ فانہ غزلیں گا کر روحانی سرور حاصل کیا کرتے تھے‘‘

( مضمون: امیر خسرو ؔ کی موسیقی، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی نومبر ۱۹۷۴ء ص ۱۶)

ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امیر خسروؔ بنیادی طور پر ایک شاعر تھے اور وہ شاعر سے زیادہ ایک صوفی بھی تھے ۔ سماع کی وجہ سے موسیقی کے بھی دلدادہ تھے شاعری اور موسیقی کا شمار فنون لطیفہ میں ہوتا ہے لیکن انھیں سائنس داں اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے آلات موسیقی کی اختراعات کیں ۔ اگر آلات موسیقی ایجاد و اختراع کو آپ فنون لطیفہ کا سر ٹیفکٹ دیں گے تو پھر گراموفون ، ریڈیو ، ٹیلی فون، موبائیل اور کمپیوٹر وغیرہ سبھی فن لطیف کے خاندانی رشتہ دار بن جائیں گے ۔لہٰذا سماع وغیرہ میں کام آنے والے سبھی آلے فن لطیف کے مددگار ومعاون تو بنیں گے لیکن وہ اپنے مقام پر آلات سائنس(Scientific Devices) ہی کہلائیں گے۔
آلات موسیقی دراصل سائنسی اصولوں پر بنائے گئے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جنھیں دو خاص گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (۱) باد سازی(Wind Instrument) (۲) زہی ساز(Bow Instrument) پہلی قسم میں ساز بین ، بانسری ، فلوٹ وغیرہ ہیں جب کہ دوسری قسم میں خنجری وغیرہ ہیں ۔ انھیں میں ضربی ساز (Pluck Percussion) بھی ہیں۔ ضربی سازوں میں سِتار بہت مشہور ہے اور اس کے مؤجد حضرت امیر خسروؔ تھے۔ اس ساز میں راگ پیش کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ امیر خسرو نے اپنی کتاب ’’ قِران السعدین‘‘ اور ’’نہہ سپہر‘‘ میں آلات موسیقی اور ان کے استعمال کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں جو ایک ماہر فن ہی لکھ سکتا تھا۔ امیر خسرو نے ایرانی عود اور وینا کے استفادے کے بعد سہ تار کی تشکیل کی ۔ امیر خسرو کی علم موسیقی میں مہارت کا ایک واضح ثبوت اس قطعے میں ملتا ہے جو ’’ اربعہ عناصر دواوین خسرو ‘‘ میں موجود ہے ۔ ’’خسروی سِتار ‘‘ کی ابتدائی شکل وہ کشمیری سِتار ہے جو صوفیانہ موسیقی (کلاسیکی موسیقی کشمیر) میں استعمال ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عظمت حسین خاں میکش کا یہ اقتباس کافی اہمیت کا حامل ہے:

’’ صدیوں پہلے جب ہماری موسیقی نے الفاظ کا جامہ پہنا تو دُھرپد کی ابتدا ہوئی (جو موسیقی کی ایک صنف ہے ) جس میں دیوتاؤں کی استُتھی(تعریف)ہوتی تھی یا مذہبی واقعات کا ذکر ہوتا تھا لیکن دُھرپد شروع کرنے سے پہلے راگ کے وستار (پھیلاؤ) کے لیے چند الفاظ وضع کیے گئے جن میں عبادت یا پرارتھنا کا مفہوم یا تاثر تھا اس اندازکو ’’ الاپ جاری‘‘ کہا گیا ۔ حضرت امیر خسرو نے قوت ایجاد سے کام لے کر ’’الاپ جاری ‘‘ میں بھی ایک نئی چیز پیدا کردی جس کا نام ’’ترانہ‘‘ تھا ۔ ’’ خیال‘‘ گانے والے کے لیے ترانہ گانا بھی ضروری ہے ، کیوں کہ خیال اور ترانہ ، دونوں امیر خسرو کی مو سیقی سے منسوب ہیں‘‘

( مضمون : ترانہ اور خسرو۔ مطبوعہ قومی راج بمبئی ، خسرو نمبر نومبر ۱۹۷۵ء ص ۵۶)

قول اور قوالی بھی امیر خسرو کی ایجاد ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر خسرو اپنی سائنسی اختراعات کی بنا پر ساز وآواز دونوں میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔

اب ہم مولانا محمد جلال الدین رومیؔ کی عالمی شہرت یافتہ مثنویِ معنوی کی بنیاد پر ان کے صوفیانہ خیالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سائنس سے متعلق ان کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں مولانا روم کے سائنسی نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے فارسی کلام کا عام فہم اردو ترجمہ بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

تجارب اجسام(The Gravity of Bodies) کا نظریہ انگریز سائنس داں اسحاق نیوٹن نے۱۶۶۶ء میں پیش کیاتھا کہ درخت سے نیچے گرنے والا سیب آخر زمین ہی کی طرف کیوں آتا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں قوت کشش(Gravity) پائی جاتی ہے یہی واقعہ تمام اجسام کے ساتھ پیش آسکتا ہے
۔ اس ضمن میں علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ:
’’ اس مسئلہ کی نسبت تمام یورپ کا بلکہ تمام دنیا کا خیال ہے کہ نیوٹن کی ایجاد ہے ، لیکن لوگوں کو سن کر یہ حیرت ہوگی کہ سیکڑوں برس پہلے یہ خیال مولانا روم نے ظاہر کیا تھا‘‘

( سوانح مولانا روم : دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۱۰ء ص ۱۵۳)

مولانا جلال الدین رومی نے نیوٹن سے سیکڑوں سال قبل جس قانون قدرت کو اپنی مثنوی میں پیش کیا ہے اس کے فارسی اشعاراور اس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے:

فارسی اشعار
جملہ اجزائے جہاں زاں حکم پیش
جُفت جُفت و عاشقانِ جفت خویش
ہَست ہر جُفتے ز عالم جُفت خواہ
راست ہم چوں کہر با و برگ کاہ
آسماں گوید زمیں را مرحبا
با تو اَم چوں آہن و آہن ربا

اردو ترجمہ
تیرے حکمِ خاص سے جتنے ہیں اجزائے جہاں
ہم نوا کی جستجو میں غرق مثلِ عاشقاں
ہم نوا سب کو سکھائیں ہم نوائی کا سبق
جیسے بجلی اور پتی گھاس کی مانگے ہیں حق
آسماں دیتا ہے شاباشی زمینِ پست کو
جیسے آہن دیکھ لے آہن ربائے مست کو

اگر کوئی شخص حکیم کامل مولانا جلال الدین رومی کی روح پُر فتوح سے ان کے شاگرد علامہ اقبال کی طرح سوال کرے کہ یہ بتایئے کہ فضائے بسیط میں زمین کس طرح نظر آتی ہے تو پیر رومی ، مرید ہندی کو مخاطب کرکے فرمائیں گے کہ:

فارسی اشعار
گُفت سائل ، چوں بماندِ این خاک داں
درمیانِ این محیطِ آسماں
ہم چو قندیلے معلّق در ہَوا؟
نے بَر اسفل می رَوَد نَے بر عُلا
آں حکیمش گفت کز جذبِ سما
از جہاتِ شش (چھ) ، بماند اندر ہَوا
چوں ز مقناطیس قبّہ ریختہ
درمیاں ماند آہنے اویختہ
اردو ترجمہ
پوچھا سائل نے کہ قبلہ راز کیوں پوشیدہ ہے
یہ زمیں کیوں وسعتِ افلاک میں پاشیدہ ہے
کس لیے ہے وہ معلّق مثل قندیلِ ہَوا؟
نیچے جانے کو ہے راضی اور نہ اوپر راستہ
بولے اس سے یہ حکیمِ دیدہ ور سن تو ذرا
ہے چہوں جانب سے بے چاری کشش میں مبتلا
سوچ لے گنبد بنایا تو نے مقناطیس کا
اور بیچوں بیچ اک لوہے کا تختہ ہو پڑا

مختصر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دور حاضر میں بہتوں کا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ بالعموم ہماری نئی نسلوں کے پاس نہ وہ جنون عشق الٰہی ہے نہ شعور نعت نبی۔ دین وایمان کی وہ روح ، سائنسی بصیرت اور عبادتوں کا خضوع و خشوع دیکھنے کو نہیں ملتا جو ہمارے سیدھے سادے فرشتہ صفت بزرگوں میں پایا جاتا تھا۔ بالخصوص جب یہ ماحول ان تمام ممالک میں ہو، جو ’’اسلامی ‘‘ کہلاتے ہیں یا ان علاقوں اور خطہ ہائے زمین میں ہو جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاََ زیادہ ہے۔ مادیت ، گندی سیاست ، غلط روایات ، تخریب اخلاق ، خوف خدا کی کمی اور جذباتی بے راہ روی نے ہم سے اُس اطمینان قلب اور ذہنی یک سوئی کو چھین لیا ہے جو صحت مند فلسفۂ تصوف کی جان تھی۔ اب تو صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ موبائل ، انٹر نیٹ ، کمپیوٹر ،ٹی وی اور اسی طرح دوسرے سائنسی آلات کی مدد سے صوفیانہ خیالات اور تجربات کی عملی تبلیغ دانش مندانہ طورپرکی جائے ۔ممکن ہے کہ یہ طریقۂ کار کسی قدر کامیاب ثابت ہو۔

Concept of Said Nursi on Modern…

Articles

Concept of Said Nursi on Modern Science and God

Dr. Zakir Khan

One of the most famous Turkish Islamic scholars of the last century was Said Nursi. Nursi, who had a great influence on Turkish people, wrote over 50 books and spent most of his life behind bars. Today, his teachings are admired by Turkey’s young generation and millions of Muslims all over the world. Nursi was born in 1877 in eastern Turkey. Bediuzzaman displayed an extraordinary intelligence and ability to learn from an early age, completing the normal course of religious school education by the age of fourteen, when he obtained his diploma. He became famous for both his excellent memory and his unrivalled record in de- bating with other religious scholars. From an early age Bediuzzaman displayed an instinctive dissatisfaction with the existing education system, which later in life he formulated into comprehensive proposals for educational reform, writing his books in his reformist style.

NURSI’S CONCEPT OF SCIENCE

The time Bediuzzaman Said Nursi spent in education paved the way in his mind for the thought that at a time when the world was entering a new and different age, where science and logic would prevail, the classical educational system of theology would not be sufficient to remove doubts concerning faith. He concluded that religious sciences should be taught at modern schools on the one hand, and modern sciences on the other. “This way,” he said, “the people of the school will be protected from unbelief, and those of the religious institutions from fanaticism.”

Bediuzzaman Said Nursi deemed the most severe disease afflicting man in the present age is his search for true happiness to be weakness in belief in God, and diagnosed the source of this disease as being the tendency to regard the modern sciences and religious science as separate and irreconcilable entities. Since man is, in reality, a being composed of both matter and spirit, to consider existence from the viewpoint of only one of this pair can yield no result other than an intensification of the crisis into which man has fallen. Unfortunately, modern science has remained totally incapable of finding a remedy for the spiritual wounds of mankind, despite all its brilliance. Confronted by this situation, as a man of science appreciating the necessity for reconciliation between religion and modern science, Bediuzzaman Said Nursi examined the foundations of faith in a fashion suited to the mind of the age and in so doing produced the 6,000+ page work known as the Risale-i Nur.

Muslims used to dominate and contribute to science development for more than 350 years, contemporary Muslim countries are struggling to regain their sciences. They are left behind in science development and application. Lack of curiosity, uredines, apathy, hostility, colonialism or Mongol invasion may be the factors behind the downfall of Muslim countries in the development of science. But Bediuzzaman Said Nursi plays a unique and important role in inspiring science development in Muslim countries. Being well grounded in traditional Islamic sciences, Nursi was “aware of the apparent discrepancy between traditional cosmology articulated by Muslim philosophers and Sufis, and the Newtonian worldview, but instead of rejecting the mechanistic view of the universe presented by Newtonian science, he tried to appropriate it. Nursi put a very strong emphasis on the importance of science and technology in the life of human being. “For sure,” he said, “at the end of time, mankind will pour into science and technology. It will obtain all its power from science. Power and dominion will pass to the hand of science”1 For Nursi scientific approach is the most effective way to persuade the civilized world. In the future, he explains, truth will take the place of force, and proof the place of sophistry. In his words: “Through the endeavours of science, what will prevail entirely in the present and totally in the future, is truth instead of force, proof instead of sophistry, and reason instead of nature”2

Nursi warns his fellow Muslims not to undervalue or neglect science if they are to regain their superiority among world nations. “The limitation of science”, he stresses, “can render these powers dangerous and destructive”3. Nursi also stresses that “science is a great tool, but its limitations render it highly unsuitable for its use out of the region of its scope” Nursi believes that “the success of scienceplaces tremendous powers in our hands”3.For the success of science development in Muslim society, Nursi suggests some ideas to be discussed below.

For Nursi, there are two major sources of Islamic sciences: the nature and the Qur’an. In his view, developing sciences is part of a means to prove the authenticity of the Qur’an. As he writes: “In the future,when the intellect,science and technology prevail, of a certainty, that will be the time the Qur’an will gain ascendancy, which relies on rational proofs and invites the intellect to confirm its pronounce”4. Nursi’s understanding and interpretation of the Qur’an are scientific and or connected to scientific endeavors. One of his readers writes:

“His greatest achievement was to develop a way of expounding the teachings of the Qur’an on ‘the truths of belief’ that incorporates the traditional Islamic sciences and modern scientific knowledge, and that while instilling those truths effectively refutes the bases of materialist philosophy”5.

Nursi believes that miracles of the prophets are the source of scientific guidance and inspirations. He says miracles encourage, motivate, guide, and direct scientific endeavors.There are nine Prophets’ miracles that that Nursi notes to be the object of scientific exploration for Muslim scientists. The miracles include:

1 The miracle of Adam (PUH) inspires science for names (Qur’an, 2: 31), (2).
2 The miracle of Noah (PUH) inspires science for the creation of ship(sailors).
3 The miracle of Joseph (PUH) inspires science for the clock (watch makers).
4 The miracle of Idris (PUH) inspires science for tailors.
5 The miracle of Solomon (PUH) inspires science for air transportation(Qur’an, 34: 12)
6 The miracle of Moses (PUH) inspires science for clean water exploration (Qur’an, 2: 60).6
7 The miracle of Jesus (PUH) inspires science for (medicine) healing spiritual ills and physical sicknesses (Qur’an, 3: 49).
8 The miracle of David (PUH) inspires science for iron technology (Qur’an,34: 10) and science for decision making (Qur’an, 38: 20).7
9 The miracle of Muhammad (PUH) inspires science for rhetoric and linguistic.

Apart from these there are various examples which show Nursi’s concern towards science and its development. According to Nursi, it is Muslims’ failure to explore scientific ideas in the miracles of the Prophets that have caused the backwardness of their sciences. He was certain that if Muslims are to understand and explore the Prophet’s miracles well, they can overtake the Europeans in science development.

NURSI’S CONCEPT OF GOD

It is important to emphasize that Said Nursi was deeply committed to Islam and its main source, The Qur’an and Hadith. Belief is the foundation of his work Risale-I Nur. Nursi saw the drastic changes in the world and viewed them as the greatest threat to the religion. He was of the opinion that many problems of the time were due to the weakness of belief in the pillars of faith. Diagnosing the illness of the age as weakness of belief, he dedicated his writings and endeavours to the cause of strengthening the faith. His main aim was transforming cultural and implicit belief into a conscious and justified belief. He saw that cultural and implicit belief was too weak to stand before the doubt-including questions of the time that could be resisted only with a faith sustained by reasonable proofs. According to Nursi there are three main things given by God to human beings i.e. The Universe, The prophet and The Qur’an8. He also added one thing i.e. The consciousness9. His primary purpose on focusing all these aspects is to cultivate faith and prove its vitality for human happiness both for the worldly life and the life thereafter. Nursi states that each of these channels indicates the necessity of God and His existence, His divine Art and Actions. Every reflection is a manifestation of God’s divine names through which the Almighty is known to His conscious creation. Multiplicity of reflection of the divine names does not contradict with the concept of Tawhid, Divine unity. Tawhid, “The mighty truth of Divine unity”10 as Nursi refers to it, has an immense emphasis in the Risale-I Nur as one of the four major themes of the Qur’an.

“The oneness of the divine essence together with the universality of the divine acts, the unity of Almighty God’s person together with His unassisted comprehensive dominicality, His singleness together with His unshared all-embracing disposal, His being beyond space and yet present everywhere, His infinite exaltedness together with being close to all things, and His being One yet Himself holding all matters in His hand, are among the truths of the Qur’an.”11

Oneness and the unity are two indissoluble aspects of understanding God and accordingly the Divine names. An important component deserving attention is the absoluteness of Divine ones which does not accept any fragmentation. Nursi himself elaborates,

“The most pure and holy one is without like, necessarily existent, utterly remote from matter and beyond space; His fragmentation and division is impossible in every respect as is any sort of change or alteration; His being needy or impotent is beyond the bounds of possibility.”12

The main precept of his philosophy was that God had sent people two kinds of books; one that is written and one that is created. Namely, these two books are the Qur’an and the Universe. Since both of these came from the same God as guidance for humanity, there can be no conflict between them. Indeed, it is impossible to understand one of them without the other, because they reveal and explain one another. While the universe can be compared to a book that is filled with multiple manifestations of God’s exalted names and attributes, which are displayed for all existence, the Qur’an can be compared to a manual that guides us through these manifestations on the path to finding God. Therefore, believers should make no distinction between the Qur’an and the universe.

In his writings, Nursi examines the universe in the way indicated by the Holy Qur’an that is reading it for its meaning, learning The Divine Names and Attributes, and other truths of belief. The purpose of this book is to describe its Author and Maker, and to subscribe all evidence of life in the universe to their Creator. Thus, an important element when studying the writings of Nursi, the Risale-i Nur, is to reflect or contemplate, i.e. to ‘read the Book of the Universe in order to increase one’s knowledge of God and to affirm faith in His existence’. By using this method Bediuzzaman solves many mysteries of religion in the Risale-i Nur, such as bodily resurrection, Divine Destiny, man’s will, the riddle of the constant activity of the universe and the motion of particles.

CONCLUSION

After completing a lifetime of almost a century, with every minute spent in the service of faith, at the advanced age of 87, Bediuzzaman Said Nursi departed from this world on the morning of March 23, 1960 (Ramadan 27, 1379), in Urfa, Turkey, with complete honor, dignity and victory. Bediuzzaman Said Nursi left behind the Risale-i Nur Collection that would illuminate this and the forthcoming centuries and a love that would be handed over from generation to generation until eternity.

REFERENCES

1 The words, Nineteenth Word, P 243
2 Mesnevi-i-Nursiya, Nokta P 208-215
3 Nursi The word, 298
4 Ibid, 209
5 Said Nursi, The Flasher, (Soz Press 2009)
6 Nursi (1977, P 275)
7 Nursi (1977, P 32)
8 Choudary, 2004, P 54)
9 Sukran Vahide 1978
10 Vahide 2003, P, 1
11 The miracle of Prophet Moses predicts the development of modern drilling techniques to dig out such indispensible substance of modern industry as oil mineral water and natural gas (Muzaffar Iqbal, 2002, P 5)
12 When the Iron had been softened for David it becomes a sign of the future significance of Iron and steel for modern industry. (Muzaffar Iqbal 2002 P 5)

Scenario of Ghazal

Articles

Scenario of Ghazal

Dr. Zakir Khan

Brief history of ghazal

Though Ghazal has the historical baggage of clashes and conflicts on its back, No other form of any literature of the world is as popular as ghazal, because it has been continuously written in five different languages of the world viz. Arabic Persian, Turkish, Hebrew and Urdu. All those poets who have tried this genre, gained prominence in their respective societies

It was said that During the early Islamic era (622-661), there were no substantial changes in poetic practice. The pre-Islamic tradition continued more or less as it was, except that the writing of shorter poems became more popular, often for political and religious purposes. However, the ghazal was not given any particularly special attention among these shorter works.1

The ghazal came into its own as a poetic genre during the Ummayyad Era (661-750) and continued to flower and develop in the early Abbasid Era. As the ghazal came into its own during the Ummayad period, it grew into the most popular poetic genre of the time, and would remain so for centuries to come. The middle and upper classes of the new and growing urban centres of the Arab world demanded entertainment, and at the forefront of this new qasida, entertainment industry were music and song. The popularity of the ghazal reached dizzying heights due to its suitability for musical diversions.
The Ghazal was fully developed in Persia in the 10th century AD from the Arabic verse form qasida. It was brought to India with the Mogul invasion in the 12th century. The Ghazal tradition is currently practiced in Iran (Farsi), Pakistan (Urdu) and India (Urdu and Hindi). In India and Pakistan, Ghazals are set to music and have achieved commercial popularity as recordings and in movies. A number of American poets, including Adrienne Rich and W.S. Mervin, have written Ghazals, usually without the strict pattern of the traditional form.

In the early mediaeval period the most prestigious form of courtly Persian poetry was a lengthy formal ode taken over from Arabic.2 The ghazal thus seems first to have been seriously cultivated not in the courts of the sultans but at the centres of the Sufis, and one of the first and greatest collections (divan) of mystical ghazals was that composed by Jalal al-Din Rumi (d. 1273). The ghazal soon came also to be cultivated by court poets who evolved an ingeniously ambiguous combination of human romance with mystical love for the divine. The greatest master of the ghazal in this, its classic form was Hafiz (d. 1399) of Shiraz.3

The form was also cultivated in India during the period of the Delhi Sultanate, most notably by Amir Khusrau (d. 1325) of Delhi, nowadays celebrated as a national icon retrospectively credited with a huge variety of cultural achievements, but whose classical reputation as the ‘parrot of India’ (tuti-ye hind) rested on his Persian ghazals, which are typically more direct than those of Hafiz. Under lavish Mughal patronage, India later became the most important centre for the cultivation of the courtly Persian ghazal by both émigré and native-born poets. The fashion was now for the baroque expression of the Indian style’ (sabk-e hindi) with its marked rhetorical and

conceptual elaboration of the ghazal, which reached its highest in India with Saib (d.1677) of Tabriz and Bedil (d. 1721) of Patna.

The elaborate rhetoric of the courtly Persian ghazal which was transplanted into the mainstream Urdu poetic tradition which was thereby enabled rapidly to emerge in fully-fledged form in the eighteenth century courts of Delhi and Lucknow. in the work of such masters as Mir Taqi Mir (d. 1810). It is Ghalib (d. 1869) who is now regarded as the greatest of all classical Urdu poets,4 although he professed to set greater store by his more abundant compositions in Persian. Since the classical Urdu ghazal5 is the key reference point for all later developments in South Asia, its typical formal and rhetorical features need now to be outlined.

Other languages that adopted the ghazal include Hindi, Pashto, Turkish, and Hebrew. The German poet and philosopher Goethe experimented with the form, as did the Spanish poet Federico Garcia Lorca.

What is Ghazal

The ghazal is defined as a poetic genre by its formal features, for whose description there is a traditional set of technical terms of mostly Arabic origin,6 quite distinct from the traditional vocabulary of Indian poetics. Ghazal, which means ‘talking to women’ in Arabic, is basically poetry in praise of a woman. melancholy, love, longing, and metaphysical questions are aroused by poets. Ghazal is a collection of couplets ( shairs or ashaar ) which deal with subjects completely unrelated to each other, yet are complete in themselves. For example:

Ghar se masjid hai bahut door, chalo yun kar lein;
kisi rote hue bachche ko hansaya jaaye .

Form and Structure of Ghazal

The ghazal is composed of a minimum of five couplets and typically no more than fifteen—that are structurally, thematically, and emotionally autonomous. Each line of the poem must be of the same length, though meter is not imposed in English. The first couplet introduces a scheme, made up of a rhyme followed by a refrain. Subsequent couplets pick up the same scheme in the second line only, repeating the refrain and rhyming the second line with both lines of the first stanza. The final couplet usually includes the poet’s signature, referring to the author in the first or third person, and frequently including the poet’s own name or a derivation of its meaning.

The Journey of Urdu Ghazal

Wali Muhammad Wali (1667–1707), (also known as Wali Deccani, was a classical Urdu poet of the subcontinent. He is the first established poet to have composed Ghazals in Urdu language and compiled a divan (a collection of ghazals where the entire alphabet is used at least once as the last letter to define the rhyme pattern).Before Wali, Indian Ghazal was being composed in Persian – almost being replicated in thought and style from the original Persian masters like Saadi Jami and Khaqani. Wali began using not only an Indian language, but Indian themes, idioms and imagery in his ghazals. It is said that his visit to Delhi along with his divan of Urdu ghazals created a ripple in the literary circles of the north, inspiring them to produce stalwarts like Zauq, Sauda and Mir. A ghazal by Wali, goes as:

Kiyaa mujh ishq ne zaalim ko aab aahistaa aahistaa,
Ke aatish gul ko karati hai gulaab aahistaa aahistaa.

Mere dil ko kiyaa bekhud teri ankhiyan ne aaKhir ko,
Ke jiyon behosh karati hai sharaab aahistaa aahistaa.

“Wali” mujh dil mein aataa hai Khayaal-e-yaar-e-beparavaah,
Ke jiyon ankhiyan mein aataa hai Khwaab aahistaa aahistaa.

This ghazal, is more in the traditional format, that we are aware of these days. It is complete with a Kafiyaa, Radif, Matla and a Maqta. Readers not familiar with urdu/hindi, can still notice that the Kafiyaa is “-aab” and the Radif is “aahistaa aahistaa” (slowly, slowly). On further analysis one can also ascertain that Wali has maintained a perfect baher (or meter) for this ghazal as per the laws of Urdu prosody.

A rough translation of the above lines are as follows:

Love has turned a hard-hearted man like me as plain water slowly slowly,
The way the Sun makes the rose bud to become a rose flower slowly slowly.

My heart has been intoxicated by your eyes fully,
The way wine makes people lose their senses slowly slowly.

“Wali” in my heart comes the thought of my beloved so casually,
The way dreams come into the eyes slowly slowly.

It is said that Wali visited Delhi (North of India), and this opened a new dimension for the poets of the north. The mixture of the thoughts and the beauty and the ease of Urdu, allowed rapid popularisation of the ghazal as a form of Urdu poetry from here on.

Mir Taqi Mir (born 1723 – died 1810), whose real name was Muhammad Taqi, and takhallus (pen name) was Mir, (sometimes also spelt as Meer Taqi Meer), was the leading Urdu poet of the 18th century, and one of the pioneers who gave shape to the Urdu language itself. He was one of the principal poets of the Delhi School of the Urdu ghazal and remains arguably the foremost name in Urdu poetry often remembered as Khuda-e-sukhan (god of poetry).7

Ibtidaa-e-ishq hai rotaa hai kyaa
Aage aage dekhiye hotaa hai kyaa

(It’s the beginning of Love, why do you wail
Just wait and watch how things unveil)

The parameters of a traditional ghazal are present here. The Kafiya is “-otaa” and the Radif is “hai Kya

1700 to mid 1800 A.D was the important period as for as the Urdu ghazal is concerned. there were famous poets like Khwaja Haier Ali Atish, Ibrahim Khan Zauq, Momin Khan Momin, Mirza Asadullah Khan Galib, Daagh Dehlvi, Ameer Minai and Bahadur Shah Zafar

Ustad ‘Zauq’ was the poet laureate of the Mughal court8 till his death. He was a poor youth, with only ordinary education but became very famous in his younger days with his poetry. Zauq was patronised by the last Mughal ruler Bahadur Shah Zafar, who was himself a reputed poet. Most of Zauq’s work got lost due to the 1857 mutiny against the British rule in India, but some work was later re-compiled and published.

we can’t imagine Gazal without mentioning the name of Mirza Asadullah Khan Ghalib. Mirza Asadullah Baig Khan born on 27 December 1797 and died 15 February 1869),9 was a classical Urdu and Persian poet from the Mughal Empire during British colonial rule. He used his pen-names of Ghalib (ġhālib means “dominant”) and Asad. He wrote in Persian as well, but is known mostly for his Urdu ghazals

Maharaban ho ke bulaa lo mujhe chaaho jis waqt
Main gayaa waqt nahin hun ke phir aa bhi na sakuun

With kindness call me any time you wish,
I am not like the time gone by, that I cannot come back again.

After 1800 A.D. a new philosophy was introduced in Urdu Ghazals poets put aside the traditional love-struck themes of ghazal and started writing situation and philosophy based ghazals. The traditional theme of wine and beloved are not completely overthrown but they started to touch the problems of the age including the freedom struggle and problems of common masses. Iqbal, Firaq, Jigar, Josh, Majaz and Hasrat were the greatest poet of that age. Among them Hasrat Mohani gave a new dimension and outlook to the traditional ghazal by saying,

Allah ray kafir teray is husn ki masti
jo zulf teri ta-ba kamar laikay gayee hai

How can I describe the delight
that your beauty is;
that lock of hair that reaches down your waist line

Amongst the poets of the 20th century, Faiz Ahmed ‘Faiz’ (Pakistan), is considered to be the greatest of Urdu poets of the times. He was very well educated, and obtained a Master of Arts, in English Literature from Lahore. He was editor of The Pakistan Times and was a distinguished journalist. He was a fierce communist. He faced imprisonment for some time, for alleged complicity in the coup against Liaquat Ali Khan. It was in the prison that two of his most famous works were published, ‘Dast-e-Saba’ and ‘Zindan-Nama’. He was awarded the “Lenin Peace Prize” and was also nominated for the Nobel Prize.

A very famous quatrain by him:

Raat yuun dil mein teri khoee hui yaad aayee
Jaise veeraaney mein chupkey sey bahaar aa jaye
Jaise sehraaon mein haule se chale baad-e-naseem
Jaise beemaar ko bey wajhey qraar aa jaaye

Last night, your lost memories crept into my heart
as spring arrives secretly into a barren garden
as a cool morning breeze blows slowly in a desert
as a sick person feels well, for no reason

Other notable poets of his time were Ali Sardar Jafri, Kaifi Azmi, Ahmed Nadeem Qasmi and Qateel Shifai

After them Ahmed Fraz was acclaimed one of the modern Urdu poets of the last century. ‘Faraz’ is his pen name. He was born on 12 January 1931 in Kohat,10,11died in Islamabad on 25 August 2008.12,13 . He has a simple style of presenting his thoughts in gazals, and even common man can understand the feelings of his gazals

One of his ghazals is as follows:

Khamoosh ho kyon daade-jafaa kyon nahin dete
Bismil ho to qatil ko dua kyon nahi dete
vahshat ka sabab rozan-e-zindaa to nahin hai
Mehro-maho-anjum ko bujha kyon nahi dete
Ek ye bhi to andaaze-ilaaje-gam-e-jaan hai
Ay charah-garo, dard badhaa kyon nahin dete

Why are you silent? Why don’t you praise injustice
Wounded, why don’t you bless the executioner
Your solitude is not some prison chandelier
Why don’t you put it out? Extinguish moon, stars, sun?
This is another way to cure life’s sadness
O, doctors! Why don’t you increase the pain?
If you are just, when will your justice be done?
If I am guilty, why don’t you render punishment
If you’re a highwayman, take both my money and my life
If a guide, why don’t you tell me where this road will end?

What has come over this garden and this garden and its anmates, Fraz,

Why don’t my friends from prison call out to me?

Parveen Shakir (Pak), Ghulam Muhammad Qasir (Pak), Nida Fazli (Ind), ‘Waseem’ Barelvi (Ind) and Bashir Badr (Ind),are the contemporaries Ahmed Fraz.

Rehtorical performance of Classical Urdu Gazal with special reference to the Gazal of Atish

yih arzu thi tujhe gul ke rubaru karte
ham aur bulbul-e betab guftagu karte.
payambar na muyassar hua to khub hua
zaban-e ghair se kya sharh-e arzu karte.
meri tarah se mah-o mihr bhi hain avara
kisi habib ki yih bhi hain justaju karte.
jo dekhte tere zanjir-e zulf ka alam
asir hone ki azad arzu karte.
na puch alam-e bargashta-tali’i Atish
barasti ag jo baran ki arzu karte.

(‘My desire was to set you opposite the rose
so I might discuss you with the pining nightingale.
It was good that no messenger was available:
how could another’s tongue have set out my desire?
Like me, the sun and moon are wandering:
they too are searching for someone that they love.
Those who see what the chain of your long hair is like
freely desire their own imprisonment.
Do not ask about my ill-starred condition, Atish:
it is a raining fire which desires the rain.’)

Sir William Jones described the verses of gazal as‘Orient pearls at random strung’, these are normally united only in their ability to draw separately upon an immense store of well established imagery whose elements interlock with one another, and which in the style favoured by the classical Urdu masters are given a top spin of rhetorical polish.14

In this ghazal, the state of the poet as ardent lover in distress is successively likened to a variety of traditional images in verses given point by the ingenuity with which the conceits are handled. The opening verse with its double rhyme illustrates the typical juxtaposition of the rose (gul) with its lover the nightingale (bulbul), here paralleled by the poet and the beloved, whom the rules of the ghazal dictate should generally be portrayed in quite abstract terms, and who should be referred to in Urdu in the masculine gender by mechanical preservation of the ambiguity inherent in the lack of grammatical gender in Persian. The next verse plays with the familiar conceit of the morning breeze in the garden which acts as the poet’s messenger, while the following one represents a familiar aggrandizement of the poetic persona through comparison of his state with those of the heavenly bodies. The fourth verse moves to the celebration of one of the principal features of the beloved’s beauty, those long tresses which may be described as overpowering with their scent, as enfolding in their coils like serpents, or with this image of their imprisoning lovers in their chains. In the final couplet, the literal meaning ‘fire’ of poet’s pen-name Atish is exploited to yield an image which combines two of the natural elements in an evocation of the lover’s state of yearning for the fulfilment of his unrequited passion.

Rehtorical performance of Modern Urdu Gazal with special reference to the Gazal of Faiz

donon jahan teri muhabbat men har ke
voh ja raha hai koi shab-e gham guzar ke.
viran hai maikada khum-o saghar udas hain
tum kya gae ki ruth gae din bahar ke.
ik fursat-e gunah mili voh bhi char din
dekhe hain ham ne hausale parvardagar ke.
dunya ne teri yad se begana kar diya
tujh se bhi dilfareb hain gham rozgar ke.
bhule se muskara to diye the voh aj Faiz
mat puch valvale dil-e nakardakar ke.

(‘With both worlds forfeited through loving you
there goes someone after a night spent in pain.
The tavern is in ruins, the wine-jar and the goblet are sad:
what a walk-out you staged to make the springtime sulk!
I got one opportunity for sin, but only for a few days:
I have seen the Provider’s plans for me.
The world has alienated me from memories of you,
Even you are out charmed by the world’s suffering.
It was by mistake that she smiled today, Faiz,
Do not ask about the feelings of this clumsy heart.’)

The first and last verses use their paired halves to explore the chaste passion of the helpless lover, while the intervening verses each evoke different parts of the genre’s vastly suggestive history. The second verse draws on the drinking imagery, always a prominent theme in the ghazal, to suggest the work of the classical Persian and Urdu masters, while the provocative address to the Deity in the third poet seems like Iqbal, and the tension expressed in the fourth verse between private romance and painful public involvement is a twentieth-century theme very characteristic of Faiz, who was personally committed to the Left. So, rather than intellectually exploiting the conceits of the traditional imagery in the classical manner, this ghazal exploits the associations of that imagery in a style which is at once readily comprehensible and immensely evocative.

Conclusion.

ghazal’ continues to inspire so many versifiers and practising poets in Pakistan and India today, along with that large public of avid listeners and would-be connoisseurs who are drawn to ghazal as a cultural icon underpinned by that nostalgia for the glorious past of Urdu culture as it is variously experienced by a significant section of the modern Hindu and Sikh middle class of India15 as well as by the Indian Muslims and Pakistanis who are its most direct heirs.

In its long and colourful journey gazal has seen various movements and upheavals from legendary to contemporary, from past to present, from conservative to progressive. Movement came, flourished and shattered but the gazal remained with its complete form, beauty and sweetness.

References

1 al-Muqbil. (p. 20)

2 See further Stefan Sperl and Christopher Shackle, eds, Qasida Poetry in Islamic Asia and Africa, 2 vols, Leiden, 1996.

3 The spirit of Rumi’s ghazals has been widely spread in America and Britain throughthe very free versions by Coleman Barks, trans., The Essential Rumi, London, 1995. For more faithful versions of Hafiz, cf. A.J. Arberry, ed., Fifty Poems of Hafiz, Cambridge, 1962.

4 For a composite self-portrait of the great poet, see Ralph Russell and Khurshidul Islam, ed. and trans., Ghalib 1797-1869, Volume I: Life and Letters, London, 1969.

5 Anthologies with translations include D.J. Matthews and C. Shackle, An Anthologyof Classical Urdu Love Lyrics, London, 1972; K.C. Kanda, Masterpieces of UrduGhazal from 17th to 20th Century, New Delhi, 1992.

6 For the best account of traditional system common to all the Persianate literatures,see Walter G. Andrews, An Introduction to Ottoman Poetry, Minneapolis, 1976; cf.also F. Thiesen, A Manual of Classical Prosody, with Chapters on Urdu, Karakhanidic and Ottoman Prosody, Wiesbaden, 1982.

7 Legendary Urdu poet Mir Taqi Mir passed away, [The Times of India], Rajiv Srivastava, TNN, Sep 19, 2010, 05.58am IST

8 In the lanes of Zauq and Ghalib”. Indian Express. Mar 15, 2009

9 Varma, Pavan K. (1989). Ghalib, The Man, The Times. New Delhi: Penguin Books. pp. 86. ISBN 0-14-011664-8

10 Ahmad Faraz Trust. Retrieved 2012-01-29

11 Samaa TV “Urdu News”. Samaa.tv. 26 September 2008. Retrieved 2012-01-29

12 Daily Times “Ahmed Faraz passes away”. Daily Times.com. 26 August 2008. Retrieved 2012-01-29

13 BBC.co.uk. 26 August 2008. Retrieved 20121-01-29

14 Cf. Francis W. Pritchett, Nets of Awareness: Urdu Poetry and its Critics, Berkeley,1994, especially pp. 77-122; and the fine study of a related literature in Walter G.Andrews, Poetry’s Voice, Society’s Song: Ottoman Lyric Poetry, Seattle, 1985

15 For the ghazal as cultural icon, cf. the lavishly produced seven volumes of Raj Nigam, ed. The Ghazalnama, New Delhi, 1999 (www.ghazalnama.com).

Meaning of hadith and its…

Articles

Meaning of hadith and its Impact on Culture

Dr. Zakir Khan

The fundamental source of doctrinal teachings in Islam is based on the infallible revelation (wahy) of Allah, subhanahu wa ta’ala, revealed to the last Messenger and Seal of the Prophets, Muhammad ibn ‘Abd Allah ibn Abd alMuttalib, salla Allahu ‘alayhi wa sallam (S), as codified in Islam’s sacred text, al-Qur’an al Karim. For simplicity, the Qur’an can be thought of as the Law and the Constitution, which sets out the fundamental blueprint and the theological foundation of the faith (Islam) and the Muslim way of life (Din).

The second source of Islamic tenets and ordinances is based on the Prophetic Tradition of Allah’s Messenger (S). The Prophetic Tradition (hadith and Sunnah) embodies the entire pattern of life of Messenger Muhammad (S) and includes every detail concerning his utterances, his actions, his conduct and his attitudes whether explicit or implicit as recorded by the early hadith scholars and researchers (Muhaddithin).

The hadith and Sunnah can be thought of as interpretation, explanation and demonstration of the Qur’anic injunctions by Allah’s Messenger (S)

DEFINITION OF THE TERM HADITH

The word hadith (plural ahadith) has several meanings, such as, ‘news’, ‘report’ or ‘narration’, as used in various contexts in the Sacred Qur’an. It has been defined as ‘communication, story, and conversation: religious or secular, historical or recent’. In the narrow technical sense, “a hadith” refers to a particular report (verbal or written tradition) about what Allah’s Messenger (S) said or did, or his reaction or silence to something said or done by others.

In a broader sense, “The Hadith” can be described as the total body of reports (speeches, discourses, sermons, and statements), deeds (actions, practices, personal behavior) and tacit approval of Allah’s Messenger (S). This term also includes statements made by the Messenger’s Companions about him.

BROAD CATEGORIES OF THE PROPHETIC TRADITION

The literature embodying hadith and Sunnah has generally been categorized into three primary groupings by the early Traditionists (Muhaddithin), according to most hadith commentators.These are:

(1) The body of sayings (speeches, sermons, discourses and statements) of the Allah’s Messenger (S) containing prescriptions for all Muslims. In technical terms, this is referred to as al Sunnah al Qawliyyah. These utterances are considered “inspired speech” though they are not in the same class of divine revelations (wahy) as contained in the Glorious Qur’an.

(2) The body of deeds, actions, and practices which Allah’s Messenger (S) taught his Companions to do and which have been performed by the early generation Muslims ever since. In technical terms, this is referred to as al Sunnahal Fi’liyyah.

(3) The body of ahadith reporting that Allah’s Messenger (S) had approved or disapproved commended or condemned certain types of conduct. This group also includes the Messenger’s tacit approval on matters, which occurred either in his presence or elsewhere about which he had come to know. In technical terms, this is referred to as al Sunnah al Taqririyyah.

There is also another category of reports which have been collected by compilers and which have been treated as the Messenger’s Sunnah. These relate to statements made by his Companions about him, such as his physical features (sifat); human characteristics; personal ways; or events about his life, for example, his birth, marriage, or emigration to Madina.

In summary, these various categories of reports (words, practices, approval and disapproval) on the life of Allah’s Messenger (S) form what is generally defined by hadith scholars as al Sunnah al Tashri’iyyah, that is, that which either have a legal value or which provide guidance to the Muslim community.

THE COMPONENTS OF A HADITH

Each hadith is made up of two major components: the text (matn) and the chain of transmission (isnad), as explained below.

TEXT (MATN):

The text or content (matn) of a hadith refers to the message, statement, action or decision of the Messenger (S) reported in the hadith. The early Traditionists stipulated that for a hadith to be ‘trustworthy’ or ‘valid’ its text must be consistent with the meaning of the Qur’an, be in agreement with accepted facts, and congruent with the texts of other ahadith, the reliability of which have already been accepted and agreed upon. Thus, a hadith whose text did not meet these established criteria was generally deemed doubtful and hence was rejected.

TRANSMISSION (ISNAD):

The chain of narrators mentioned in a hadith report, starting from his own teacher and going back to the Companion(s), who related from or about the Messenger (S), is known as the isnad

CLASSIFICATION OF HADITH

Ahadith are generally categorized into three basic divisions each of which is also subdivided into multiple grades of sub-groups according to the quality of the text, veracity and reliability of the narrators, and continuity in the isnad. We will not present the multitude of hadith sub groupings as these can be found in any standard book on hadith.The primary divisions of Hadith are as follows:

The ‘Sound’ Hadith (Al Sahih al Hadith)

The ‘Good’ Hadith (Al Hasan al Hadith)

The ‘Weak’ Hadith (Al Da’if al Hadith)

Hadith and Culture

Someone rightly said that Faith Travels, Cultures Don’t!

If new Muslims are learning about the faith, then it is most likely that they will follow the same route either it may be shown by Qur’an or Hadith. This doesn’t make born Muslims inferior to new Muslims nor does it make learning about Islam (from born Muslims) something that is difficult or dangerous, but it is a good reminder that studying the faith takes perseverance and it is important for everyone to distinguish between religion and culture.Some people may say that this is no big deal for Muslims to be culturally-inclined, because Prophet Muhammad (peace be upon him) called everyone to Islam regardless of their backgrounds. And this is definitely true. But as much as he engaged in this form of dawah, he also reminded that sometimes Muslims get lost in their practices that they forget to check whether their form of worship or their lifestyle of choice is in line with Islamic principles laid out in the Quran and the Hadith.

As followers of the seal of Prophets, Muhammad, who was given the last Message to Mankind, it is important for Muslims to remember this one single verse:

{This day I have perfected your religion for you, completed My Favor upon you, and have chosen for you Islam as your religion} (Al-Ma’idah 5: 3)

Islam has been perfected by God and therefore there is no need to make any changes, especially with respect to religious matters. The way Muslims need to revere this particular verse, is to practice Islam the way it has been prescribed.

In matters of worship, anything that is created on the pretense of religious worship is considered an innovation, especially when there is no supporting Qur’anic injunction of Hadith to solidify the need for such form of worship.

In fact, many of us find it difficult to even adhere to the Sunnah or Hadith with respect to worship but add to our hardship (or maybe ease) we end up creating new forms of worship just so we can follow them. Everything that we do with respect to worship needs to be traced back to the Quran and the Hadith and needs to be avoided even if we may believe that they are good for us. If they were good for us in the first place, they would be prescribed by God!

Prophet Muhammad said:

“… The most truthful speech is the Book of Allah. The best way is the way of Muhammad. The worst of affairs are the novelties and every novelty is an innovation and every innovation is misguidance and every misguidance is in the Fire.” (An-Nasa’i)

In worldly matters, there is flexibility in jurisdiction as everything is considered lawful, unless mentioned as unlawful. This is different in matters concerning worship, where everything is unlawful, unless prescribed.

In worldly matters, flexibility in how we eat, how we prepare our meals, how we raise our children, how we sleep and how we travel are permitted unless mentioned otherwise. But of course, there is a Hadith for nearly everything, and it is recommended that we follow how Prophet Muhammad conducted his affairs.

There are many verses in the Quran, which pose as guides in the way a Muslim needs to lead their lives. This will not be easy to translate since not many people know how to translate. Some want to know the parables, the deeds and the teachings of the prophet and this is through the hadith. Prophet Muhammad (PBUH) wanted to clarify to the Islamic faith culture and all the details that do pertain to the rules, structures and the way of life of being a Muslim. The Quran acts like the guidebook, which is represented in different structures and the Muslims, need to follow the word to the core. The hadith shows how to act in a certain situation, how to respond to certain matters and how to lead a good life. There are always themes that one will follow and this creates the impression of how one needs to lead their Islamic way of life. It is paramount for everyone to follow the codes, the examples, and the Hadith and Sunnah if they follow the Islamic faith.With the hadith, most Muslims grow up knowing how to lead a holy life just like the one the prophet set and the examples indicated in the Quran. One needs to keep on revising them to have a deeper understanding to them and see how it will help them with the current situation. Islam is a worldwide religion and it has now become very easy to access it through the online channel. Many Muslims gather in the mosques to find out more on the teachings and this will aid them along the way. The Islamic teachers find it relevant to place daily situations, and assist them to lead a religious life.

From the little children to the aged, it is now very easy to find the hadith in the online source and religious books and they end up elaborating them and placing them in the present context. These act as guides and they go a long way in giving one the right following to have a holy life as required in the Islamic way of life. It is important to keep on going through the hadith and Sunnah all the time and they will end up being clearer with time. This will enable one to have a deeper understanding on the Islamic way of life.