MALKA -E-HUSN (KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN)

Articles

ملکہ حسن کئی چاند تھے سرِ آسماں

محمد اسد الدین

محمد اسد الدین
انگریزی سے ترجمہ: شمس الرب

ملکہ حسن

شمس الرحمن فاروقی نے The Mirror of Beautyکا آغاز دو انوکھے کرداروں سے کیا ہے۔ ایک ماہرانساب ہے جبکہ دوسرا پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ، یہی وہ کردار ہے جو ہمیں ناول کی جادوئی دنیا کی سیر کراتا ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ یہ ایک ایسی ناول ہے جو صرف تعلیم یافتہ اور باعلم لوگوں کے لیے ہے۔
The Mirror of Beautyکے ساتھ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔ حسنِ اتفاق سے جولائی کے مہینے میں مجھے اسی جگہ ٹھہرنے کا موقع ملا جہاں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی اور وسیم جعفر ٹھہرے ہوئے تھے۔ میری مراد برٹش لائبریری (خاص طور سے تیسرا منزلہ جہاں انڈیا آفس لائبریری واقع ہے، جسے جنوبی ایشیا پر تحقیق کرنے والوں کا مکّہ کہا جاتا ہے۔) ویکٹوریہ والبرٹ میوزیم ، اسکول برائے مشرقی و افریقی زبان و ادب، برٹش میوزیم ، ورجینا وولف کی بلومز بے ری وغیرہ سے ہے۔
فاروقی قصے کا آغاز رک کر کرتے ہیں۔ پہلے دونوں کرداروں کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ” اس میں ایک کردار ماہر انساب شخص کا ہے جبکہ دوسرا کردار پرانی کتابوں اور مخطوطات کا دیوانہ ہے۔ یہی و ہ کردار ہے جو آپ کو اس ناول کی حسین دنیا کی سیر کرائے گا۔“اس کے بعد فاروقی واضح کرتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اہلِ علم کے لیے لکھی ہے۔ مزید وضاحت پیش کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ انھوں نے یہ ناول اپنے لیے لکھی ہے اور” سات دہائیوںمیں مجھے جو خست و خاک مجھے ملے تھے ، اس کا نچوڑ اس ناول میں مَیں نے پیش کیا ہے۔ آپ ا س ناول سے کتنا استفادہ کرتے ہیں اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کے پاس کتنا علم ہے۔“
’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کی جب 2006میں اشاعت ہوئی تو اردو اور ہندی حلقوں میں اس کی بہت پذیرائی ہوئی ، نیز عالمی سطح پر ایک ادبی شاہکار کی حیثیت سے اس کا استقبال کیا گیا۔ فاروقی صاحب نے ادب کے کئی میدان میں قدم رکھا اور ہر میدان میں کامیابی کے جھنڈے گاڑے۔چاہے وہ تنقید کا میدان ہو یا تحقیق کا، صحافت کا میدان ہو یا ترجمہ نگاری کا۔یہی وجہ ہے کہ علمی حلقہ یہ پیشن گوئی کررہا تھا کہ اس میدان میں بھی فاروقی صاحب کچھ نئی اور اہم چیز پیش کریں گے۔جو حضرات اردو اور ہندی میں اس کا مطالعہ کرنے سے قاصر تھے وہ بڑی بے صبری سے انگریزی ورژن کے منتظر تھے۔ انگریزی ورژن آجانے کے بعد مجھے قوی امید ہے کہ انگریزی داں طبقہ اس سے لطف انگیز ہوگا۔ پینگوئین کی فیڈ بیک سے پتہ چلتا ہے کہ انگریزی ورژن کی فروخت نہ صرف اطمینان بخش ہے بلکہ ہندی اور اردو کی مشترکہ فروخت سے بھی زیادہ ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ دنیا کے عظیم معاصر فکشن نگار جیسے کہ میلان کندیرا، گبرائیل گارسیامارکیز، اورحان پاموک کی مترجم کتابوں کی فروخت اصل سے کہیں زیادہ ہیں۔
(ناول میں) راوی سیدھے مرکزی خیال کے قلب میں پہنچ کر کہتا ہے کہ وسیم جعفر اسی خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ، لیکن وسیم اس خیال کی تردید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ”ماضی کے لوگ بیرونی ممالک سے تعلق رکھتے تھے ۔ بیرونی ممالک کے یہ باشندے یہاں کی زبان نی ٹھیک سے سمجھ سکتے تھے اور نہ ہی بول سکتے تھے۔“ (ص: 19)فاروقی صاحب اس خیال کی تردید کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی ادبی تہذیب ہی یہی تھی۔ یہی وہ تہذیب ہے جوہندوستانی مسلمانوں کی بھرپور عکاسی کرتی ہے۔ اسی دور میں فارسی اور اردوشعرا کی کہکشاں آسمان ادب پر نمودار ہوئی ، ایک سے بڑھ کر ایک۔ ان میں کچھ کا تعلق شاہی خاندان سے جبکہ کچھ کا تعلق طبقہ¿ اشرافیہ سے تھا۔ اپنی ناول میں فاروقی اس عہد کی تہذیبی و معاشرتی زندگی کی بھرپور عکاسی کرتے ہیں ۔نیز اس بات کی کوشش بھی ہے کہ اس عہد کی بالکل ویسی ہی عکاسی ہو جیسا کہ اس دور کی شاعری، موسیقی اور مصوری کے ذریعے کی گئی ہے۔ اسی لیے فاروقی صاحب نے وزیر خانم کے حوالے سے اکثر جگہوں پر بڑی باریک بینی سے ایسی چیزوں کوتفصیل سے بیان کیا ہے۔ (وزیر خانم یعنی )ایک ایسی عورت جو نہایت حسین تھی اور جس میں شمع محفل بننے کی ساری خوبیاں بدرجہ¿ اتم موجود تھیں۔ یہ ناول جو تقریباً ایک ہزار صفحات پر مشتمل ہے اور سات ابواب اور اڑسٹھ فصول میں منقسم ہے، جووزیر خانم کے ارد گرد گھومتی ہے اوراس کی زندگی کے نشیب و فراز کی عکاسی کرتی ہے نیز اس میں مغلیہ سلطنت کے ایام زوال، ممکنہ حکمرانوں اور موجودہ حکمرانوں کے تعلقات، کمپنی بہادر کے رنگین افسروں اور اس عہد کی بیشتر تاریخی شخصیات کو بخوبی پیش کیا گیا ہے۔
ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ کے بعد فاروقی صاحب اردو زبان کے دو عظیم ناول نگاروں قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی صف میں کھڑے ہوگئے ہیں۔ فکشن نگاری کی ساخت اور فنکاری کی کچھ جہات میں گرچہ فاروقی مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کی طرح باکمال ثابت نہیں ہوتے پھر بھی یہ ناول اردو کے عظیم نالوں کے زمرے میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ فاروقی صاحب مذکورہ دونوں عظیم ناول نگاروں کے مداح بھی ہیں ۔ اپنی ناول کے ابتدائی صفحات میں ’کارِ جہاں دراز ہے‘ کی طرف انھوں نے اشارہ کیا ہے اور اس کا واضح عکس اس ناول پر نظر بھی آتا ہے۔
فاروقی نے عورت کی خوبصورتی اور اس کے جنسی رجحانات و میلانات کی جس خود اعتمادی سے عکاسی کی ہے ، وہ لائق ستائش ہے۔ خاص طور سے وزیر خانم اور نواب شمس الدین کی ہم بستری کی عکاسی و تصویر کشی۔ جدید اردو ادب میں مجھے اب تک کوئی ایسی ناول نہیں ملی ہے جس میں مرد و زن کے جنسی تعلقات اس گہرائی اور تفصیل سے بیان کی گئی ہو۔ یہ بات پورے وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ فاروقی صاحب نے مرد و زن کے جنسی تعلقات کی تصویر کشی کرکے اردو ناول نگاری میں نہ صرف ایک نئے باب کا اضافہ کیا ہے بلکہ نئے ناول نگاروں کو ایک نئی جہت سے آشنا بھی کیا ہے۔ ناول میں موجود شاعری کی کثرت ممکن ہے کہ انگریزی قاری کو اچھی نہ لگے لیکن فاروقی کیا کرتے ؟ وہ جس زمانے کی تصویر کشی کررہے ہیں ، شاعری تو اس زمانے کے تہذیبی و عناصر میں شامل تھی بلکہ یہ تہذیب و ثقافت کا پیمانہ بھی تھی۔ درحقیقت اردو شاعری میں ایسی کشش ہے کہ یہ نہ صرف اردو فکشن نگاروں بلکہ دوسری زبانوں کے فکشن نگاروں کو بھی اپنا گرویدہ بنالیتی ہے۔ فاروقی صاحب کی یہ ناول اکرم سیٹھ کی A Suitable Boy کی یاد تازہ کردیتی ہے۔ جس میں وکرم سیٹھ نے اردو شاعری بخوبی استفادہ کیا ہے۔ اس حوالے سے دونوں ناولوں میں کافی مماثلت ہے۔ اسی طرح کی اور بہت ساری ناولیں انگریزی و دوسری زبانوں میں موجود ہیںمثلاً ربی شنکر بال کا حالیہ بنگالی ناول ”دوزخ نامہ‘ ‘۔
فاروقی صاحب کو قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین کی طرح اپنے شاہکار کا خود مترجم ہونے کا شرف حاصل ہے۔ قرة العین حیدر اور عبد اللہ حسین نے ’آگ کا دریا‘ (River of Fire) اور ’اداس نسلیں‘ (Weary Generations) کا مرکزی خیال عہد حاضر سے اخذ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے ان کا بیانیہ چست و درست ہے اور مغربی فکشن نگاری کے حساب سے پلاٹ کا تانہ بانہ بھی متاثر کن ہے۔ جبکہ فاروقی کو قاری کو سمجھانے کے لیے جگہ جگہ وضاحتی نوٹ بھی لکھنے پڑے ہیں۔ اس وجہ سے قاری کی توجہ متن سے تھوڑی دیر کے لیے ہٹ جاتی ہے۔ (یہ اٹھارہویں صدی میں لکھے گئے یورپی ناولوں کی یاد دلاتے ہیں) اردو ورژن کی طرح فاروقی نے انگریزی ورژن کو بھی ابواب اور فصول میں تقسیم کیا ہے۔ اردو میں ایک دو کلمات پر مشتمل ٹائٹل کو انگریزی میں لمبے وضاحتی ٹائٹل میں تبدیل کیا ہے۔ ترجمہ میں بہرحال پوری سلاست و روانی ہے نیز انگریزی زبان کے اسلوب بیان کا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ انگریزی محاروں کے استعمال میںفاروقی صاحب نے اس بات کا بھی خیال رکھا ہے کہ ہندوستانی مسلمانوں کی تہذیب کی عکاسی میں کہیں بال نہ پڑے اور اصل زبان میں جو شیرینی و حلاوت ہے وہ انگریزی میں کمزور نہ پڑنے پائے۔ تشبیہات و استعارات کو بڑی ذہانت سے قدیم انگریزی اسلوب میں ڈھالا گیا ہے تاکہ یہ گڈ مڈ نہ ہوں۔ اس طرزِ تحریر پر بس سبحان اللہ کہنے کو جی چاہتا ہے۔
بہر کیف اس نال میں ایک دو جگہ غلطیاں بھی نظر آجاتی ہیں۔ لیکن اس سے اس شاہکار کی عظمت متاثر نہیں ہوتی۔ مثلاً صفحہ نمبر938پر راوی کہتا ہے کہ فتح الملک ، وزیر خانم کے آخری شوہر کو 10 جولائی2012(1856کی جگہ) کے دن دفن کیا گیا۔ مجھے پورا یقین ہے کہ یہ مصنف کی غلطی نہیں ہوسکتی ، یہ ضرور کتابت یا کمپیوٹر ٹائپنگ کی غلطی ہے۔
————————————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

AIK TAHZEEBI MURAQQA : KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN

Articles

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

معید رشیدی

معید رشیدی

ایک تہذیبی مرقع: کئی چاند تھے سرِ آسماں

کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جنھیں بعض اوقات اپنی مرضی کے بغیر بھی ہم تسلیم کرلیتے ہیں ۔ ادب کا جس طرح ایک اجتماعی منظرنامہ ہوتا ہے ، اسی طرح اس منظرنامے یا اس کے کسی مخصوص پہلو سے متعلق ہماری اجتماعی رائے بھی ہوتی ہے جس کا اعتراف بعض حضرات کھل کر ، بعض دبی زبان میں اور بعض خاموش رہ کر کرتے ہیں ۔ علمی بنیادوں پر شمس الرحمن فاروقی قاموسی شخصیت کے مالک ہیں ۔ اس سے ان کا سخت سے سخت مخالف بھی انکار نہیں کرتا۔ان کا ناول ’کئی چاند تھے سر آسماں‘ اردو کی پہلی کتاب ہے جسے پینگوئن انڈیا نے 2006میں شائع کی تھی ۔’امراو¿جان ادا‘ اور ’ آگ کا دریا ‘ کے بعد جو ناول سب سے زیادہ زیر بحث ثابت ہوا ہے وہ ’ کئی چاند تھے سر آسماں‘ ہے ۔ اس ناول کا ہندی اور انگریزی اڈیشن بھی شائع ہوکر مقبول ہوچکا ہے ۔ اگر کسی متن سے کثرت و شدت کے ساتھ اختلاف و اعتراف کیا جائے اور اختلاف یا اعتراف کرنے والوں کی کثیر تعداد صف اول کے مصنفین و ناقدین کے علاوہ طلبہ اور عام قارئین تک پہنچ جائے تو اس واقعے سے ایک نتیجہ تو کوئی بھی آسانی سے اخذ کرسکتا ہے کہ موضوع بحث متن کوئی عام تحریر نہیں ہے اور اسے آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔جب وہ متن اپنی سرحدوں کو توڑ کر عالمی سطح پر موضوع گفتگو بن جائے تو لامحالہ اس کی اہمیت کا معترف ہونا پڑتا ہے ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کی اہمیت اور تخلیقی حیثیت کااستقبال و اعتراف کرنے والوں کی کمی نہیں ۔ THE MIRROR OF BEAUTYکے نام سے اس ناول کی انگریزی میں اشاعت نے فاروقی صاحب کو یقینا Celebrityہونے کا عالمی اعزاز بخشا ہے ۔ حالیہ برسوں میں ہندوپاک میں جو لٹریچر فیسٹول منعقد کیے گئے ، ان میں اس ناول پر سیر حاصل گفتگو کی گئی اور اردو، ہندی اور انگریزی کے اخباروں نے بھی اس کے متعلقات کو اپنے صفحات سے مزین کیا۔2015کے DSC Prize for South Asian Literatureکے آخری منتخب پانچ ناموں میں جب اس ناول کا انتخاب ہوا تو اہل اردو کی نظر اس ناول پر نہیں بلکہ انعام کی رقم پچاس ہزار امریکی ڈالر پر تھی ۔ اطلاعاً عرض ہے کہ اس انعام کے لیے ہند نژاد امریکی مصنفہ جھمپا لہڑی کے نام کا اعلان کردیا گیا ہے ۔ افسوس ہوا کہ اردو میں لکھی گئی ایک کتاب اپنے تمام استحقاق کے باوجود انعام سے محروم رہی ، لیکن اس سے فاروقی صاحب کی علمی حیثیت پر کوئی حرف نہیں آتا۔ ان کی علمی اور تخلیقی حیثیت کا اعتراف کرنے والوں میںنوبل انعام یافتہ ترکی مصنف اورہان پاموک نے لکھا ہے :
An erudite,amazing historical novel,elegiac in tone and written with heartfelt attention to the details and the rituals of a lost culture.
پاکستانی انگریزی ناول نگار محمد حنیف نے اس ناول کو ہندوستانی ناولوں کا کوہ نور قرار دیا ہے اور اس کے شکوہ، چمک اور پراسراریت کا اعتراف کیا ہے ۔ پاکستان نژاد برٹش ناول نگار ندیم اسلم نے اس ناول کو پراسرار بتاتے ہوئے کہا ہے کہ فاروقی نے اس ناول کو Historyاور Illusionکے تانے بانے میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ بُنا ہے ۔ پاکستان نژاد کینیڈین ناول نگار مشرف علی فاروقی ،The Annual of Urdu Studiesکے مدیرمشہور ادیب و مترجم محمد عمر میمن، ہندی کے ادیب وشوناتھ ترپاٹھی، وندناراگ،کیدارناتھ سنگھ کے علاوہ غیر اردو داں طبقے کا ایک اہم ادب دوست حصہ اس ناول کی تعریف میں رطب اللسان ہے ۔ اس ناول سے متعلق اردو میں لکھے گئے مضامین پر مشتمل ایک مکمل کتاب ’ خدا لگتی ‘ [مرتبہ : لئیق صلاح /سید ارشاد حیدر]شائع ہوچکی ہے ۔اس ناول پر اردو کے بعض اہم مصنفین کرشن موہن، اسلم فرخی ، افضال احمد سید، انورسدیدوغیرہ نے اظہار خیال کیا ہے ۔ اردو کے مصنفین میں ہم صرف انتظار حسین کے دو اقتباسات درج کرنا چاہتے ہیں ۔پہلا ان کے ایک مکتوب کا اقتباس ہے اور دوسرا ’دی ڈان‘ میں چھپے انگریزی میں لکھے گئے ایک تبصرے کا اقتباس :
بھائی میں نے آپ کا لوہا مان لیا۔ اگر اس سے پہلے کوئی عزیز مجھے بتاتا کہ فلاں صاحب نے بہت علمی مطالعہ اور تحقیق کے بعد ایک ناول لکھا ہے ۔ لکھا ہوگا ۔ اگر وہ قرآن کا جامہ پہن کربھی آتا اور مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتا تو میں قائل نہ ہوتا ۔ سو میں نے ایک شک کے ساتھ پڑھنا شروع کیا تھا۔ مگر رفتہ رفتہ جادو چڑھنا شروع ہوااور ایسا چڑھا کہ میرے سارے شک رفو چکر ہوگئے ۔
مدتوں کے بعد اردو میں ایسا ایک ناول آیا ہے جس نے ہندوپاک کی ادبی دنیا میں ہلچل مچادی ہے ۔….یہاں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے ہوئے دیکھتے ہیں ۔….ہم اسے زوال آمادہ مغلیہ سلطنت کے آخری برسوں کی دستاویز کہہ سکتے ہیں ۔
جہاں ملکی اور غیرملکی سطح پر اعتراف کی یہ سطح ہو وہاں اردو کے ایک پروفیسر صاحب نے مجھے مشورہ دیا کہ بھائی مضمون لکھنے سے پہلے آپ اسے بطورناول تو Establishکرلیجیے! ۔گویا ہندوستان کے اردوحلقوں میں اب تک یہی طے نہیں ہوسکاہے کہ یہ متن ناول ہے بھی یا نہیں ۔ ہمارے بعض احباب کو اس ناول کے موضوع اور بعض کو زبان اور بعض کو دونوں پر سخت اعتراض ہے ۔ ہر شخص کو اختلاف کا حق ہے لیکن اس اختلاف میں دیکھنے والی بات یہ ہے کہ ہم ایک ہی جھٹکے میں کسی شخص کی زندگی بھر کی بصیرتوں کو منسوخ کردیتے ہیں اور ہمیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا ۔ ہر اہم اور بڑے متن میں اعتراف اور اختلاف کی صورتیں موجود ہوتی ہیں ۔ ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو ’آگ کا دریا‘ کو غیر اہم اور اوسط درجے کا ناول مانتے ہیں ، لیکن جب عالمی سطح پر اس کا اعتراف کیا جاتا ہے تو ذہن سوچنے پر مجبور ہوتا ہے۔ 2008 میںفرانسیسی مصنف زین میری گوستاو¿لے کلے زیو (Jean-Marie Gustave Le Clézio) کو اس کے ناول پرادب کا نوبل پرائز دیاگیا تھا۔سات دسمبر 2008کے نوبل لکچر میں اس نے دنیا کے چند اہم نظرانداز کیے گئے مصنفین میں قرةالعین حیدر کا نام لیا تھا اور ان سب کے ساتھ اس نے عینی کے نام اپنے نوبل انعام کو منسوب کیا تھااور اعتراف کیا تھا کہ قرةالعین حیدر کو ’آگ کا دریا‘ کے لیے نوبل انعام کا مستحق قرار دیا جانا چاہیے تھا۔علم کی ناقدری کے اس عہد میں کس سے گفتگو کی جائے اور کسے قائل کیا جائے ۔ ہمارے یہاں اکثر ادبی فیصلے ذاتی رویوں اور سودوزیاں کی میزان پر کرلیے جاتے ہیں ۔
’کئی چاند تھے سر آسماں ‘ کا متن اگر ناول نہیں تو کیا ہے ؟اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے ۔ اگر کمزور ناول ہے تو اس کے لیے دلائل کا فقدان ہے ۔ صرف یہ کہہ دینا کہ تاریخ کو موضوع بنایا گیا ہے اور اس کے بیانیہ میں تاریخی کتب اور قدیم لغات سے استفادہ کیا گیا ہے ، اس لیے فرسودہ اور بے کار ہے ، قطعی مناسب نہیں ۔اسی بات کو اگر تعریف کے پیرایے میں کہا جائے تو یوں کہا جائے گا کہ فاروقی صاحب نے انیسویں صدی کی ہنداسلامی تہذیب کو اس کی پوری گہرائی ، لطافت اور طاقت کے ساتھ تخلیق کیا ہے ۔ ا س لیے یہ تاریخ نہیں ماضی کی بازیافت ہے ۔یہ تاریخ نہیں تہذیبی مرقع ہے ۔ اگر تاریخ پر اصرارہی مقصود ہو تو کہہ سکتے ہیں کہ یہ ناول تاریخ کی از سر نو تخلیق ہے ۔ وزیر خانم کی صورت میں ایک تاریخی اشارے کو انیسویں صدی کے حسن کازندہ شہکار(Celebrated beauty) بنادیا ہے اور یہ شہکار انیسویں صدی کے ہندوستان کا چہرہ بن گیا ہے ۔یہ اس تہذیب کا حوالہ ہے جس میں تہذیب شاعری اور شاعری تہذیب میں گھل گئی تھی ۔یہ ناول اقبال کے ایک مصرعے کی تعبیر ہے :”دردوداغ و سوز و سازو جستجو و آرزو“۔فاروقی صاحب اسے تاریخی ناول نہیں مانتے جبکہ قارئین کا ایک بڑا طبقہ اسے تاریخی ناول ہی کی حیثیت سے پڑھتا ہے ۔مصنف کا اصرار ہے کہ یہ تاریخ نہیں ، تہذیبی مرقع ہے ۔یعنی تہذیبی نقوش یہاں مختلف رنگوں میں متحرک نظر آتے ہیں ۔ اس ناول میں تاریخ کی صحت سے زیادہ تہذیب کی صحت کا خیال رکھا گیا ہے ۔ اکثر کردار تاریخ کا زندہ حوالہ ہیں ۔ غالب ، مومن ، ذوق ،حکیم احسن اللہ خان،گھنشیام لال عاصی،ظہیر دہلوی، مرزا فخرو، نواب یوسف علی خاں،صہبائی ، نواب شمس الدین احمد، داغ دہلوی ، بہادر شاہ ظفر، ولیم فریزر، مارسٹن بلیک وغیرہ ۔مصنف نے ان حضرات کے خاکوں میں Illusionپیدا کیا ہے ۔اس لیے یہ ناول تاریخ نہیں تاریخ کا التباس ہے ۔یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ تاریخی کرداروں کے حوالے میں تخلیق کار کی بعض آزادیا ں سلب ہو جا تی ہیں اور وہ اپنی مرضی کے مطا بق کر داروں کو واقعات سے نہیں جو ڑ سکتا ۔وہ سوانح کی صحت کے چکر میں اپنے اوپر بعض پا بندیا ں عائد کر لیتا ہے مگر فاروقی صاحب نے کر داروں کو قابل توجہ بنا نے کے لیے دلچسپ ،گرما گر م اور پھڑکتے ہو ئے فقرے تر اشے ہیں اور سا تھ ہی مر قع نگا ری کے بہترین نمو نے پیش کیے ہیں ۔یہ کردار اس ناول میں تلمیحی واقعات کے بجائے علامتی حقیقت بن گئے ہیں ۔ وزیر خانم سے متعلق تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ داغ دہلوی کی والدہ ہیں ۔مورخین نے انھیں داغ کے حالاتِ زندگی کے سلسلے میں معلوم حوالوں کے حاشیے پر رکھا ہے ۔داغ کے اجداد کی کچھ تاریخ کا علم فاروقی صاحب کووزیر کے پوتے وسیم جعفرسے ہوا اور ایک تخیلی کردار ماہرامراض چشم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی وسیم جعفر کی کہانی چل پڑی ۔ اٹھارویں صدی کے راجپوتا نے سے جو کہا نی شروع ہو ئی تھی وہ 1856 تک محیط لال قلعہ میں آکر ختم ہو ئی ۔ اختتامیہ المیہ پر ہے۔یہ تہذیب کا آئینہ اور کھوئے ہوئے کی جستجو ہے ۔
فاروقی صاحب نے اس ناول میں مندرج اہم تا ریخی واقعات کی صحت کا حتی الا مکا ن اہتمام کیا ہے۔ایسے واقعات کم ہیں اور سہارے کے بطور استعمال کیے گئے ہیں۔تاریخی واقعات کی صحت کا اہتمام کرنا غالباً ضروری بھی تھا تاکہ قاری تاریخی حوالوں سے بصیرت کشید کرنے میں گمراہ نہ ہوجائے ۔ مجموعی طور پر اس ناول کے علمیاتی پہلو کئی سطحوں پر ہماری بصیرتوں کو انگیز کرتے ہیں۔ اس کی علمیاتی قوتوں کے سبب ہی اسے عالمانہ تخلیقی کارنامہ قرار دیا جارہا ہے ۔یہ تخلیقی سطح پر انیسویں صدی کے ہندوستان کا وجودیاتی رزمیہ ہے اور شعریاتی سطح پر شاندار بزمیہ ۔یہ اس نا ول کا اعجا ز ہے کہ بعض تاریخی حقائق کو بھی قاری افسانہ سمجھ کر پڑھتا ہے اور بعض افسانوں کو تاریخی حقائق پر محمول کرلیتا ہے اور ان سے حظ اٹھا تا ہے۔ جزئیات کے بیان میں نا ول نگا ر کی دوررس نگاہ اور عمیق تا ریخی و تہذیبی مطالعے کی داد جتنی دی جا ئے ، کم ہے ۔جنسی افعال کی جزئیا ت نگا ری بھی انھو ں نے غضب کی ،کی ہے ۔ عمارات ، ملبو سات ،اسلحہ جا ت ، آلاتِ مو سیقی ،سازو سامان،سواریا ں،کھانے پینے کی چیزوں اور منا ظر کی ایسی تفصیل پیش کی ہے جس سے اس عہد کی پو ری تصویر آنکھو ں کے سامنے پھر جا تی ہے ۔انھوں نے جو پیکر ترتیب دیے ہیں، ان سے اس عہد کی شخصیتو ں کی شکل و صورت ،حرکا ت و سکنا ت ، نشست و بر خاست کے آداب ،طبیعت کی رنگا رنگی ، آواز کی کیفیا ت،ملبو سات کا انصرام ، وضع قطع اور حالا ت و واقعات نما یاں ہو تے ہیں ۔
فاروقی صاحب نے نا ول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی سے متصف ہے ۔انھو ں نے اس زبان کا اسلو ب تذکروں ،سوانح ،خود نو شت اور دیگر دستا ویزی حوالہ جا ت سے اخذ کیا ہے جبکہ زبان کی صحت کے لیے انھوں نے جا ن شیکسپیر ،ڈنکن فور بس ،جا ن گلکرسٹ وغیرہ کے مر تب کر دہ لغات سے رجو ع کیا ہے ۔ انھوں نے وہی زبان لکھی ہے جو اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے معاشرے میں رائج تھی ۔ انھو ں نے اس کا التزام خصوصی طورپر کیا ہے کہ بیا نیہ میں کوئی بھی ایسا لفظ نہ آنے پا ئے جو اس زما نے میں مستعمل نہ تھا ۔اس لیے زبان کا مغلق اور گنجلک ہو نا عین فطری ہے اور کوئی حیرت کی بات نہیں کہ ایسے الفا ظ کیو ں بر تے گئے ۔عر بی اور فا رسی الفا ظ کی کثرت اس زمانے کے لسا نی مذاق کا پتا دیتی ہے ۔ وہ محاورے جو دہلی اور حضرتِ دہلی میں مستعمل تھے مصنف نے انہیں بڑی خوبی سے استعمال کیا ہے ۔مکا لمو ں میں بیگما ت ، نو ابین ،امراو روئسا، شعر اوادبا ،عشاق ،خدام ،نو کر چا کر ،کی زبان اس طر ح پیش کی گئی ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ہم بھی اس عہد میں مو جو د ہیں اور ان کی گفتگو سے محظوظ ہو رہے ہیں ۔ناول نگا رنے اس طر ح ہمیں اس دنیا کی سیر کر ائی ہے جو ہماری تہذیب کی بنیا د ہے اور جسے ہم فرامو ش کر چلے تھے ۔عورتو ں کے محاوارات کو بر تنے میں نا ول نگا ر کو قدرت حاصل ہے ۔ہم نے محسوس کیا ہے کہ اس ناول کی زبان سے متعلق دو طرح کی آرا موجود ہیں ۔ کچھ لوگ اس اسلوب کو قابل رشک بتاتے ہیں اور حیرت سے کہتے ہیں کہ واہ فاروقی نے کیا زبان لکھی ہے ۔ کچھ لوگ ان کے اسلوب کو اس ناول کے لیے سب سے بڑا عیب گردانتے ہیں ۔ اعتراض یہ ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ماحول کی عکاسی کے لیے کیا ضروری ہے کہ اس زمانے ہی کی زبان اور اسلوب کا استعمال کیا جائے ؟ اس عہد کو آج کے روز مرہ میں کیوں نہیں پیش کیا جاسکتا ؟ Time Out Delhiکی مدیر Sonal Shahنے بھی اپنے انٹرویو میں فاروقی صاحب سے سوال کیا تھا :
For both Urdu and English novels, you restricted yourself to words from the 19th-century lexicon.”The Mirror of Beauty” is very readable, but is the original book a challenge for native Urdu speakers?
فاروقی صاحب نے اس کے جواب میں کہا ہے کہ انھوں نے یہ اسلوب شعوری طور پر اختیار کیا ہے ۔ اس لیے لوگوں کے اعتراضات کی پروا کیے بغیر انھیں اپنے ویژن میں ایماندار ہونا چاہیے ۔ہر قاری کی ذہنی اور علمی استعداد مختلف ہوتی ہے ۔ بعض حضرات کے لیے یہ اسلوب دقت طلب محسوس نہیں ہوتا لیکن کچھ لوگ قدیم اور مشکل لفظیات کے لیے فرہنگ کی ضرورت محسوس کرتے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اسلوب کے لحاظ سے اصل اردو متن مشکل ہے لیکن اردو کے قدیم و جدید محاوروں اور لسانی مزاج سے آشنا ذہنوں کو یہ مسئلہ پریشان نہیں کرتا ۔ یہ حقیقت ہے کہ ہم اکثر لغت سے رجوع کرنے میں گھبراتے ہیں ۔ آج اتنا عرصہ گزرجانے کے بعد ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کی بعض لفظیات ترک ہوچکی ہیں اور ہمارے نئے لسانی مزاج کو انھیں قبول کرنے میں تامل ہوتا ہے ۔کم سے کم گفتگو کی حد تک وہ نامانوس اور غریب معلوم پڑتے ہیں ۔ناول کی قرا¿ت میں مجھے بھی ایسی بعض لفظیات کا سامنا کرنا پڑا جن سے تخلیق کی روانی میں خلل محسوس ہوا ۔ یہ بھی محسوس ہوا کہ مصنف معنی پر لفظ کو ترجیح دے رہا ہے ، مگر یہ پہلو ضمنی ہیں ۔ ضمنی اختلافات کے سبب پورے متن کو ناقابل قبول نہیں قرار دیا جاسکتا ۔
متن کے بین السطور میں بعض موقعوں پر تنقیدی بیانیہ بھی در آیا ہے ۔ غور طلب پہلو ہے کہ اس عہد میں ایک نئی شعریات مرتب ہورہی تھی ۔ محاوروں کے مسائل ، لفظ و معنی کی نزاکتوں اور اشعار کے برجستہ استعمال کے منظرنامے میں یہ کیسے ممکن نہیں تھا کہ شعر اور زبان سے متعلق اس عہد کی تنقیدی بصیرت کسی کردار کی زبانی مترشح نہ ہو ۔ یہ اعتراض صرف اس لیے ممکن ہوسکا ہے کہ مصنف کو ہم اول اول نقاد کی حیثیت سے جانتے ہیں ۔ ورنہ کسی اور کے قلم سے اگر یہ متن تخلیق پاتا تو اس قسم کی غیرسنجیدہ شکایت نہ ہوتی۔ ایک اعتراض یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ جزئیات کے بیان میں فاروقی صاحب نے معلومات کو شعوری طور پر ٹھونسنے کی کوشش کی ہے ۔ ہمارا معروضہ ہے کہ ماضی کی یہ ’معلومات ‘ نئی نسل کے لیے حیرت اور آگہی کے درمیان بصیرت تک پہنچنے کا وسیلہ ہے ۔ اس لیے یہ اعتراض بھی ضمنی ہے ۔ ناول کے مندرجات ہما ری روایات کے امین اور ہماری میراث ہیں جنھیں ہم کھو چکے تھے ۔ نا و ل کے مطالعے کے بعد ان کی روحانی اور جذباتی باز یا فت ہو تی ہے۔
یہ خانم کی محبتو ں کی ادھو ر ی داستان ہی نہیںبلکہ ایک صدی سے کچھ زیادہ کی تہذیبی دستا ویز ہے۔فاروقی صاحب اس متن کو تہذیبی مرقع کہنے پر مصر ہیں ۔ اگر معترضین اس متن کو ناول نہ بھی تسلیم کریں اور تہذیبی مرقع تسلیم کرلیں تو مصنف کی محنت کام آجاتی ہے اور مقصد پورا ہوجاتا ہے ۔
ہم نے ’تصویر‘ کو کتاب بنتے دیکھا اور کتاب کو ناول۔حقیقت کو افسانے کے قالب میں ڈھلتے ہوئے دیکھا ۔ خواب نے دستک دی اور ماضی نے دروزہ کھولا ۔ دیکھتے ہیں کہ دور تلک اندھیرے اجالے کی کشمکش ہے ۔ گھوڑوں کی ٹاپوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں ۔ کوئی شعر سنارہاہے اور ہرطرف سے داد و تحسین کی صدائیں بلند ہورہی ہیں ۔ ایک سلطنت اور ایک تہذیب پر اندھیرا گہرا ہوتا جارہاہے ۔ دہلی کے لال قلعے سے ایک سایہ لہراتا ہوا ہماری آنکھوں سے گزرگیا ہے ۔ ہم نے شاید انیسویں صدی کے حسن و جلال کا وہ آئینہ دیکھ لیا ہے جس میں ہمارا وجود فخر ، تاسف، مسرت اور حیرانی کے ملے جلے اثرات سے بے چین ہوگیا ہے ۔ اب یہ بے چینی دور تلک جائے گی ۔
——————————–

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

 

KAI CHAAND THEY SAREY AASMAN : AIK MUTALEA

Articles

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

پروفیسرصغیر افراہیم

پروفیسرصغیر افراہیم

”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ ایک مطالعہ

ایسا کبھی کبھی ہوتا ہے کہ ایک محقق اور بلند پایہ ناقد ناول لکھے اور واقعہ نگاری پر اپنی غیر معمولی قدرت، تخیل کی پرواز اور دلفریب اسلوب سے ناول کے قاری کو حیرت میں ڈال دے۔ شمس الرحمن فاروقی، اس وقت اردو کے بے مثال نقاد ہیں جن کے تنقیدی مضامین نے ادب کی سمت و رفتار پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں، لیکن جب ان کا ناول ” کئی چاند تھے سرِ آسماں“ شائع ہوا تو ناول نگاری کے فنّی ضابطوں کے ساتھ اتنا ضخیم ناول لکھنے کی ان کی صلاحیت پر سب کو حیرت ہوئی۔
شمس الرحمن فاروقی نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانوں سے کیا۔ انھوں نے نئے طرز کی غزلیں کہیں اور نظمیں بھی لکھیں لیکن ان کے تنقیدی مضامین نے معاصر ادبی منظر نامے کو اس قدر متاثر کیا کہ ان کے تخلیقی کارناموں کی طرف وہ توجہ نہیں دی گئی جس کے وہ بجا طور پر مستحق ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی کو زبان و بیان پر پوری قدرت حاصل ہے۔ وہ اپنی بات کو بہتر سے بہتر انداز میں پیش کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں ۔ اُن کے افسانوی مجموعہ ”سوار“ نے اردو دنیا کو چونکا دیا۔”سوار“ کے افسانے اردو افسانے کی ایک بالکل نئی جہت کا پتہ دیتے ہیں۔اس میں ہماری ادبی زندگی کے بعض گراں قدر زمانوں کی تخلیقی بازیافت کی گئی تھی۔اسی طرح فاروقی کا ضخیم ناول”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اردو ناولوں کی کہکشاں میں ایک چاند کی طرح وارد ہوا اورفکشن کی دنیا اُس کی چاندنی میں نہا گئی ہے۔ ہم اس ناول کو کسی بھی مخصوص رجحان یا تحریک سے نہیں منسوب کر سکتے کیونکہ اس میں تاریخی شعور کے علاوہ ادبی پس منظر، روایت سے جڑے رہنے پر اصرار، سوانحی گوشے کے علاوہ ایک طویل زمانے کی تہذیبی فضا کی بازیافت کی گئی ہے۔ اِس ناول میں تاریخ کا گہرا شعور اور ہمارے تہذیبی ارتقا کے ایک خاص دور کو بڑی فنکاری سے روشن کیا گیا ہے۔ پلاٹ منظم ہے کہ ایک باب کا اختتام دوسرے باب کا پس منظر بنتا ہے اور قصہ اِس طرح آگے بڑھتا ہے کہ حیرت و استعجاب کا ماحول بر قرار رہتا ہے۔ شعور کی رو اور اندرونی خود کلامی کے ساتھ کہیں کہیں جنس کی نزاکتوں اور لطافتوں کا بھی اظہار ملتا ہے۔
ناول کا فن وضاحت کا فن ہے۔ اس کا کینوس زندگی کی طرح بسیط ہوتا ہے جس طرح سے زندگی کی کہانی ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے اُسی طرح ناول کا فن بھی صراحت اور وسعت کا تقاضہ کرتا ہے۔ ناول میں ادیب اپنا مخصوص نقطہ¿ نظر پیش کرتے ہوئے زندگی کی تصویر کشی کرتا ہے۔ حقیقت کو تخلیقی عمل میںیوں پیش کیاجاتا ہے کہ قصہ کی حیثیت سے اُس کے تمام عناصر میں تال میل، ہم آہنگی اور ربط قائم ہو جائے۔
ناول نگار کو سادہ حقیقت نگار ہی نہیں، زندگی کی پیچیدہ حقیقتوں کا بھی ترجمان ہونا چاہیے۔اِس کا فن اخلاقیاتی شعور کا بھی مطالبہ کرتا ہے اورفنّی حکمت عملی کا بھی ۔ عام طور پر یہ مشہور ہے کہ ناول نثر میں ایک طربیہ کہانی ہوتی ہے لیکن اِس خیال سے اختلاف کرتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ناول زندگی کی حقیقتوں کو پیش کرنے کا فن ہے تو اس میں طربیہ کے ساتھ ساتھ المیہ عناصر کو پیش کرنے کی گنجائش بھی ہے۔ ناول جو اپنے طور پر ایک وسیع کینوس کی حامل صنف ہے تو ہم اس کو طربیہ میں سمیٹ کر محدود کرنے کے حق میں نہیں ہیں۔
ایک بنیادی بات یہ بھی عرض کرنی ہے کہ جو ناول نگار اخلاقی و اصلاحی مقاصد کو پیش کرنے کے لیے اِس صنف کو اختیار کر تے ہیں تو ناول تہہ دارنہ ہوکربیشتر ایک سطحی قصہ بن کر رہ جاتے ہیں چونکہ زندگی صرف معروضی سچائی کا نام نہیں اسی لیے اعلیٰ اخلاقی یا صرف اصلاحی قدروں کو پیش کرنے کا نام ناول نگاری نہیں ہو سکتا۔ ناول زندگی کی پیچیدہ تر صداقتوں کا ترجمان ہوتا ہے اس لیے اس میں خیر کے ساتھ شر، حق کے ساتھ باطل ایمان کے ساتھ بے ایمانی، سچ کے ساتھ جھوٹ کے رشتے کی دریافت اس کا فن بن جاتا ہے۔ کہانی کا مقصود صرف نیکی اور اخلاقیات کا درس دینا ہی نہیں ہے بلکہ سماج میں رہنے والے کرداروں کے منفی اخلاق، غیر انسانی افعال کے محرکات کی جتھ اور فسق و فجور میں ڈوبے ہوئے انسانوں کی گہری انسان دوستی کی آرزو کے بیان کرنے کا عمل بھی ہے۔
چونکہ ناول ایک پھیلی ہوئی بڑی تصویر ہے جس میں ایک مقررہ پلاٹ کو واضح کرنے کے لیے کائنات کے متنوع کرداروں جو مختلف جماعتوں اور قبیلوں کے ساتھ رہتے ہیں ، کی زندگی کے مختلف پہلوو¿ں کی مصوری ہے۔ اس طرح سے شمس الرحمن فاروقی کا ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ صرف حقیقت نگاری کا نمونہ ہی نہیں ہے بلکہ اس میں بھرپور زندگی متحرک نظر آتی ہے جس میں ہنداسلامی تہذیب اور ثقافت کے موضوع پر مشتمل روداد کو بیان کیا گیا ہے۔
شمس الرحمن فاروقی ہندوستان میں فارسی تہذیب کی ترقی و ترویج اور اردو کی کلاسیکی روایت سے بخوبی واقف ہیں۔ وہ زبان کے بننے اور سنورنے کے عمل سے بھی آگاہ ہیں۔ تہذیبوں کے میل ملاپ پر بھی اُن کی گہری نظر ہے لہٰذاانھوں نے اِس پورے تدریجی عمل کے نشیب و فراز کو اپنے بیانیے کا جُز بنایا ہے۔اسی لیے ناول میں قدیم و متروک الفاظ کے ساتھ مشکل الفاظ و محاورات اور ضرب الامثال کو بھی فضا بندی کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ماضی کی بازیافت کے متعین مقصد نے فاروقی کے اسلوب کو بے حد مشکل بنا دیا ہے لیکن فضا، ماحول اوربرتاو¿ کے اعتبار سے دیکھیں تو سب کچھ موقع و محل سے گہری مناسبت رکھتاہے جس کا اعتراف ہندو پاک کے کئی بڑے فکشن نگاروں نے کیا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ فاروقی کے پیشِ نظر اردو کے بھی کئی ناول تھے جن سے انھیں خام مواد ملا ہے۔ مثلاً”امراو¿ جان ادا“ میں لکھنو¿ کے قرب و جوار کی مٹتی ہوئی تہذیب کی منظر کشی سے وہ متاثر ہوئے ہیں۔ انحطاط پذیر حیدر آباد ی تہذیب ، حویلیوں کی ٹوٹتی ہوئی دیواروں کا المیہ اورمعاشرے کی اُلٹتی ہوئی بساط کا حال انھوں نے عزیز احمد کے ناول ”ایسی بلندی ایسی پستی“ میں محسوس کیا ۔ ”آگ کا دریا“ جس کا وسیع کینوس ڈھائی ہزار سال کی تاریخ کے پسِ منظرکو سمیٹے ہوئے ہے اُس سے بھی فاروقی نے تاریخی بصیرت کے ساتھ تکنیک اور فن کی جدّت و نُدرت کے تاثر کو قبول کیا ہے۔ اردو کا ایک بڑا ناول ”اداس نسلیں“ بھی اُن کے پیشِ نظر رہا ہوگا جس میں انسانی رشتوں کی پیچیدگیاں، ذہنی کشمکش کے ساتھ بدلتے ہوئے تاریخ کے منظر نامہ اور تہذیبی تصادم ، ہندو پاک کے گوناگوں پیچیدہ مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ اس طرح کے اور بھی کئی اہم ناول ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“کے محرک معلوم ہوتے ہیں۔
مذکورہ ناول ۶۰۰۲ءمیں پاکستان کے مشہور اشاعتی ادارے شہرزاد اور ہندوستان میں پینگوئن و یاترا بُکس سے شائع ہوکر اردو کے اہم ناولوں کی فہرست میں شامل ہوا۔ تکنیکی اعتبار سے اِس ناول کو کسی ایک زمرے میں شامل کرنا دشوار ہے کہ اس میںفکر و فن کے مختلف رجحانات کے عکس کسی نہ کسی صورت میں نظر آتے ہےں۔تاہم تکنیکی سطح پر یہ ایک نیا تجربہ ضرور قرار دیا جائے گا۔ مصنف نے اس ناول کے حوالے سے اعتراف کیا ہے:
”یہ بات واضح کردوں کہ اگر چہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام تاریخی واقعات کی صحت کا حتی الامکان اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھارہویں اور انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب اور انسانی تہذیبی و ادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا۔“
ماضی کے دریچوں سے جھانکنے کی کوشش کریں تو اورنگ زیب کے انتقال (۳ مارچ ۷۰۷۱ئ) کے بعد عظیم الشان مغل حکومت کے زوال کے اسباب میں ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ محض بارہ سال میں سات بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ تخت سے دار تک پہنچنے کا سلسلہ شروع ہوا تو ریاستیں خود مختار ہونے لگیں۔ نادر شاہی حملے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی نے بھی حکمرانی کے خواب دیکھنے شروع کر دیے۔ شمس الرحمن فاروقی نے اِسی دور کی تہذیب و ثقافت کے عروج و زوال کو مرکز و محور بنایا ۔ اس ناول کے منظر نامے پر کئی دائرے اُبھرتے ہیں جن میں کشمیر، راجپوتانہ اور پنجاب کے بعد دہلی کا گہرا رنگ حاوی ہو جاتا ہے۔یہ دائروی رنگ بیسویں صدی کی چھٹی دہائی تک پھیلا ہوا ہے۔ سلیم جعفر ہوں یا وسیم جعفر، خانم کی زندگی کی چھان بین اور اُس کے عہد کے تہذیب و تمدن کی تلاش میں فکر مند نظر آتے ہیں۔ فاروقی اس جتھ میں ان کے معاون ہوتے ہیں۔
۱۱۸۱ءمیں وزیر خانم پیدا ہوتی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ جیسے من موہنی نے نیا روپ اختیار کر لیا۔ خانم کے بُزرگ مصوّر تھے ، انھوں نے ایک ایسی تصوراتی تصویر بنائی تھی جو اتفاقاً مہاراول کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے مشابہ تھی۔وقت کی طنابیں کھنچتی ہیں اور قاری محسوس کرتا ہے کہ تقدیر بھی دونوں کی ایک جیسی، المیاتی کرب کا شکار رہی۔محمد یوسف سادہ کار کی تیسری اور سب سے چھوٹی بیٹی وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم اپنی بہنوں میں سب سے زیادہ با صلاحیت اور آزاد طبیعت کی مالک تھی۔
تاریخی اعتبار سے یہ ناول انیسویں صدی سے بہت پہلے شروع ہوکر سال ۶۵۸۱ءمیں ختم ہوتا ہے۔ اس پورے عرصے کا بیان ہمیں ایسی دنیا کی سیر کراتا ہے جو معاشرتی اور تہذیبی لحاظ سے بے حد معمور ہے۔ ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم ایک تاریخی کردار ہے جو فعال ، پُر رعب، مقناطیسی کشش رکھنے والی شخصیت ہے۔ اُسی کے ارد گرد کہانی کا تانا بانا بُنا گیا ہے اس کے ذریعہ نہ صرف شجرہ¿ خاندان آگے تک چلتا ہے بلکہ کہانی بھی ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ اگر یوں کہیں کہ ناول ایک ہی خاندان کی کہانی کا پس منظر رکھتا ہے لیکن اس کے مختلف کردار کے رابطوں سے جو وسعت اس میں پیدا ہوئی ہے وہ مغلیہ دور کے آخری وقتوں کے تاریخی اور معاشرتی صورتِ حال کا احاطہ کرتی ہوئی نظر آتی ہے۔ اِس میں قلعہ کی نامور ہستیاں اپنے افعال و اعمال کے ساتھ موجود ہیں۔ ناول میں مرکزی کرداروں کے ساتھ جب تک دوسرے کرداروں کا رابطہ پیش نہیں کیا جاتا ہے اور ان کا تذکرہ شامل نہیں ہوتا ہے۔ تب تک نہ تو پلاٹ میں وسعت پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی وہ ناول کی صورت اختیار کر تے ہیں۔ مذکورہ ناول میں مغلیہ دور کے زوال کی داستان کے ساتھ تاریخی اور تہذیبی پس منظر میں قلعہ سے متعلق شخصیتوں کے رہن سہن، بود و باش اور غور و فکر کو ان کے مکالموں کے ذریعہ فعال اور متحرک کرنے کی کامیاب سعی ملتی ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کا ایک ادبی پس منظر بھی ہے۔ مغلیہ دور میں فنونِ لطیفہ خصوصی طور سے شعر و سخن کے تعلق سے ادبی محفلیں، مناظرے، مشاعروں کی تہذیب کا جو بیان ملتا ہے وہ بیانیہ تخلیقی اور اسلوبی نقطہ¿ نظر سے اہمیت کا حامل ہے اور ہمارے سامنے شعر و سخن کا عام مذاق و معیار اور ادب کی تاریخ میں اس کی قدر و قیمت کا تعین ناول کے فنی اور پلاٹ کے منطقی ربط میں اس طرح پیوست ہے کہ قصے کی ساخت پر اثر انداز نہیں ہوتا۔ مثلاً غالب کے معاصرین کا ذکر کرتے ہوئے کرداروں کے درمیان ایک ربط اور تعلق قائم رہتا ہے۔داغدہلوی کے عصر کی ادبی چشمکیں، مشاعروں کی تہذیب، ان کے ہم عصروں کی فنی خوبیوں کے علاوہ اُن کی شخصیت کی تہہ داریاں اور نفسیاتی الجھنوں کا بیان بھی اس ناول کی ایک اہم خوبی ہے۔ یوں کہانی کا سلسلہ آگے بڑھتا ہے کہ کہیں دلچسپی اورتجسّس ٹوٹتاہوا دکھائی نہیں دیتا۔
چونکہ ناول اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی ۶۵۸۱ءکے طویل عرصہ پر پھیلا ہوا ہے اس لیے انگریزی دور حکومت اور اُن کی کامیاب حکمتِ عملی کا ذکر آنا یقینی ہے۔ یہاں کچھ سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ کیا کوئی ضخیم ناول محض برہنہ حقائق کے سہارے لکھا جا سکتا ہے؟ کیا ناول اور تاریخ میں کوئی فرق نہیں ہوتا؟ ظاہر ہے تخلیقی عمل کے لیے حقائق تحریک پیدا کرتے ہیں اگر ان حقائق کے ساتھ تخلیق کار کی ذہنی پرواز شامل نہیں ہوگی اُس وقت تک کوئی بھی تخلیق وجود میں نہیں آتی مزید یہ کہ قاری کی دلچسپی قائم رکھنے کے لیے حقائق اورتخیل کے درمیان باہم رشتہ بنائے ہوئے قصہ کا منطقی ربط بر قرار رکھنا بھی ضروری ہے تب ہی قصہ ناول کی فارم میں آتا ہے۔ چونکہ ناول کا کینوس وسیع ہوتا ہے اور اس میں گوناگوں رنگوں کو شامل کیا جاتا ہے۔مزید برآں ناول صرف ذاتی تسکین کا ذریعہ نہیں اس کا رشتہ قاری سے بھی ہوتا ہے اس لیے مکالمے کا سہارا لینا بھی ضروری ہوتا ہے جو حقائق اور تخیل کی آمیزش سے ایک عمدہ فن پارے کا روپ اختیار کرتا ہے۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ اس کی واضح مثال ہے۔
ادبی تاریخ میں ذکر ہے کہ وزیر خانم، مرزا داغ دہلوی کی والدہ ہیں جو حسین و جمیل ہونے کے ساتھ شوخ طبیعت، خوش اخلاق، خوش گفتار خاتون تھیں مصنف نے ان کی فطری خوبیوں کا بھر پور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک خیالی کردار تشکیل دیا، جن سے کردار جُڑتے گئے، واقعات کا سلسلہ آگے بڑھتا رہا۔ پسِ منظر میں تاریخ، ادب اور معاشرہ کی تفصیل ایک بہترین تخلیق کا ضامن ہوتی۔ واقعات کے انسلاک اور ارتباط سے یہ تاریخی کردار، بڑی حد تک افسانوی بن گیا اور افسانوی فن کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ کوئی بھی بڑی تخلیق بننے کے لیے حقیقت کے ساتھ تخیل کی آمیزش ضروری ہے۔ اس طرح مذکورہ ناول میں تاریخی حقائق کے ساتھ تخیل بھی تخلیقی عمل میں شامل رہتا ہے یوں ناول ایک اعلیٰ فن پارہ بن گیا۔
جس طرح ناول کا مرکزی کردار وزیر خانم، مغلیہ سلطنت کے بتدریج ختم ہوتے ہوئے اقتدار کی علامت بن گیا ہے اسی طرح کہانی بتدریج ارتقا پذیر ہوتی ہے۔ناول کا وہ حصہ بے حد اہم ہے جس میں ولیم فریزر پر انگریزی حکومت کے جبر،ہٹ دھرمی اورزبردستی کا نقشہ علامت کے طور پر ہمارے سامنے آتا ہے۔ناول کو اس نقطہ¿ نظر سے پڑھیے تووزیر خانم کی اپنی زندگی میں پے در پے شکست،ایک عہد کے زوال کی داستان بن جاتی ہے۔
انگریز افسر کیپٹن مارسٹن بلیک کے رشتے سے خانم کے ہاں ایک بیٹا اور ایک بیٹی پیدا ہوتی ہے ۔ پھر نواب شمس الدین خاں والیِ لوہارو و جھرکہ خانم کی زندگی میں داخل ہوتے ہیں اور نواب مرزا (داغ دہلوی) کی پیدائش ہوتی ہے۔ شمس الدین کوسازشوں کا شکار بناتے ہوئے پھانسی پر چڑھا دیا جاتا ہے۔ تین بچوں کی ماں، خانم، آغا مرزا تراب علی سے نکاح کر لیتی ہیں۔ اُس وقت داغ گیارہ برس کے تھے۔ رام پور میں بھی قسمت بہت دیر تک ساتھ نہیں دیتی ہے اور وہ دہلی کے لال قلعہ میں مرزا فخرو بہادر کی زوجیت میں داخل ہوکر شوکت محل کہلاتی ہیں۔ ایک بیٹا خورشید عالم پیدا ہوتا ہے۔ ولی عہد ابھی چلنے کے قابل بھی نہیں ہوئے تھے کہ مرزا فخرو سخت بیمار پڑکر اِس جہانِ فانی سے رخصت ہوجاتے ہیں۔اُن کے انتقال کے بعد ۶۵۸۱ءمیں خانم کو اُن کے بچوں کے ساتھ قلعہ¿ معلّٰی سے باہر نکال دیا جاتا ہے۔عمر کے اس پڑاو¿ میں وہ قدرِ مطمئن تھیں کہ بقیہ زندگی بےوگی میں گذار کر بچوں کی شاہانہ انداز میں پرورش کریں گی مگر ’کوچ‘ کے حکم نے سکون بھری زندگی کے خواب کو چکنا چور کر دیا۔اِس ذلّت و رسوائی سے وہ بے حد رنجیدہ تھیں مگرقدرت کے کھیل نرالے ہوتے ہیں، انھیں پتہ نہیں تھا کہ قدرت اُنھیں بچا رہی ہے۔ اگلے سال برپا ہونے والے خونی کھیل سے محفوظ ہو گئیں جس میں شہزادوں کے سر قلم ہوتے ہیں اور شاہ کو رنگون میں سسکتے ہوئے دم توڑنے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔
مصنف نے اِس فن پارے کے تاریخی ناول ہونے سے انکار کیا ہے جبکہ اس کے سارے کردار تاریخی ہیں جو اپنی شناخت اورمقامی حیثیت رکھتے ہیں۔ناول میں اُس وقت رائج مخصوص زبان ، اپنے منصب، اپنے تہذیبی حوالوں، جس میںکرداروں کا اندازِ گفتگو، لب و لہجہ شامل ہیں،کے ذریعہ اپنا تعارف کراتے ہیں۔ اس فن پارے کی اہم خوبی یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے زمانے میں زبان کے بتدریج ارتقا میں لفظ و آہنگ کی بنیاد پر صورتیں بدلتی ہیں ناول کی زبان میں بھی تبدیلیاں نظر آتی ہیں جو فاروقی کی تحقیقی، تنقیدی اور لسانی صلاحیت کی غماز ہےں۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ کے کردار اس زمانے کی زبان، علم و ہنر، منصب اور لیاقت کے ذریعہ اپنی نفسیات اور فطرت کا اظہارکرتے ہیں۔
مذکورہ ناول میں رومان بھی ہے، اسلامی تہذیب کی جھلک بھی ہے، زندگی کے تضادات، خیر و شر کے معرکے، حق و باطل کی جنگ، انسانی نفسیات کی پیچیدگیاں بھی ہیں۔حقیقی اور تاریخی واقعہ کے ساتھ ضمنی واقعات سے ربط بناتے ہوئے ڈرامائی انداز میں چُست اور برجستہ مکالموں کے ذریعہ کرداروں کو فعال اور جاندار بنانے کی سعی اور کہانی کو مضبوط اور مربوط کرنے کی کاوش بھی ملتی ہے، مجموعی طور پر کہانی کی رفتار میں کہیں بھی جھول نہیں پیدا ہوتا ہے بلکہ وہ اپنی فطری روانی سے چلتی رہتی ہے۔ یہ حقیقت بھی ہے کہ فن کار اپنی تخلیقات سے اپنے وجود کو یکسر الگ بھی نہیں رکھ سکتا۔ وہ اپنے کرداروں کے ہر عمل میں کہیں چھپا بیٹھا رہتا ہے۔ کبھی وہ اپنے کرداروں کے عمل اور ردّ عمل میں بولتا ہے تو کبھی اپنے افکار کو کرداروں کے حوالے سے پیش کرتا ہے۔ وہ سارے عمل میں بحیثیت انسان کبھی بھی لا تعلق نہیں رہ سکتا۔”کئی چاند تھے سرِ آسماں“میں فاروقی کا عمق اور اُن کے کثیر المطالعہ ہونے کا احساس ہر جگہ ہوتا ہے۔ ناول میں انسانی کردار، جذبات اور عمل کا اظہار کچھ ایسے تسلسل اور اعتماد کے ساتھ ملتا ہے کہ باوجود ان زمانی و مکانی حدود کے جن کی پابندی ناول کے ماحول ، پلاٹ اور منفرد اشخاص کو کرنی پڑتی ہے ۔ ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے ان زمانی حدود سے ماوریٰ ناول میں ایک وسیع انسانیت اور جذبات کی ایک نئی بصیرت بھی روشن ہے، جو اس ناول کا خاص امتیازہے۔
مذکورہ ناول میں کہیں کہیں داستانی رنگ بھی نمایاں ہے۔ تخیل کی جدّت، علم و آگہی جب تخیل کی نادرہ کاری سے ہم آہنگ ہوتی ہے توایسا عمدہ تخلیقی ناول وجود میں آتا ہے۔ ادبی و تاریخی تحریکات کے شعور کے ساتھ، واقعات سے زیادہ اُن کے اثرات کا جائزہ داخلی زاویہ¿ نگاہ سے تجربات کی روشنی میں لیا گیاہے۔ اسی لیے مذکورہ ناول کو تخلیقی سطح پر ادب کا بہترین کارنامہ قرار دیا جا سکتا ہے۔
”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ میں دو سو سال پہلے کی دلّی کی گلیاں، کوچے، محلے، حویلیاں ، اُس زمانے کے لوگوں کی بود و باش، طرز معاشرت، وضع قطع،رہن سہن، زبان، طرزِ کلام، سفر و حضر، ان کی سواریاں، د شواریاں،زندگی کی دقتیں، الجھنیں بڑی تفصیل اور اہتمام سے اس ناول میں نظر آتی ہیں۔ایسا بیانیہ ہے کہ جسے ناول میں سبھی خصوصیات جذب کردی گئی ہوں اُسے کسی ایک قسم کا ناول کہنا مناسب نہیں ہے بلکہ اس کے لیے کوئی نیا نام و عنوان تلاش کرنا ہوگا۔
پلاٹ و اسلوب بیان کے اعتبار سے یہ ناول موثر ہے۔ اتنے وسیع کینوس پرجہاں کرداروں کا شمار مشکل ہوتا ایک ڈیڑھ صدی سے زیادہ مدّت پر محیط داستان کی تصویر کشی اور منظر نگاری مہارت کے ساتھ اس طرح کی گئی ہے کہ پورے ناول میں کہیں بھی نہ تو روانی متاثر ہوئی، نہ زبان لڑکھڑائی ہے۔ ایک محقق اور ناقد تخلیقی کائنات میں اس شان سے جلوہ گر ہے تو حیرت ہوتی ہے۔ بیسویں صدی کے اواخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں ہمیں ایک ایسے ہی بڑے ناول کا انتظار تھا جس میں اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے معاشرتی کوائف کی تصویر کشی ہو۔ ”کئی چاند تھے سرِ آسماں“ہماری اس توقع پر پورا اُترتا ہے۔
————————————————

مشمولہ سہ ماہی ”اردو چینل“ جلد :18۔شمارہ :1(جنوری تا مارچ2016)مدیر: ڈاکٹر قمر صدیقی

SOCIAL NETWORKING SITES

Articles

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس

ڈاکٹر ذاکر خان

سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس

ڈاکٹر ذاکر خان

تغیّرِ حیات جب لمحوں سے تیز تر ہوجائے تب انسانی زندگی پر اِس کے بے شمار اثرات ظاہرہونے لگتے ہیں۔ یہ اثرات سماجی بھی ہوسکتے ہیں، سیاسی ،معاشی اور معاشرتی بھی۔ یوں بھی اکیسویں صدی کو تبدیلیوں کی صدی کہا جاتا ہے جس نے ہمارے ہاتھوں سے ماضی کی میراث چھین کر ہمارے گلے میں نیٹ ورک کا طوق ڈال دیا ہے۔ہوا یوںکہ ٹیکنالوجی اور نیٹ ورک کے اختلاط سے ایک نئی چیز وجود میں آئی جسے انٹر نیٹ کہا جاتا ہے۔عدم سے وجود میں آتے ہی انٹرنیٹ نے اپنے ہاتھ پیر پسارنے شروع کردیے نتیجتاًبے شمار شوشل نیٹ ورکنگ سائٹس مزاجِ عاشقانہ اور ادائے دلربانہ لیے ہماری زندگی کے شب و روز میں اسطرح داخل ہو گئیں کہ ہمیں اس کا احساس بھی نہ ہوا۔پچھلی ایک دہائی میں اِس شعبہ میں بے انتہا ترقی ہوئی اور اب یہ تمام سائٹس نوجوانوں کی بڑی تعداد کی دلچسپی کا محور و مرکز بن کر انہیں اپنے دامِ فریب میں گرفتار کرچکی ہیں۔ہمیں ہوش توآیالیکن قدرے تاخیرسے یا یوں کہیے کہ سانپ نکل جانے کے بعد، اب لاٹھی پیٹنا چہ معنی دارد۔لیکن ہم اتنا ضرور بتا سکتے ہیں کہ کس دلکش و خوبرو بلا کو شوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کہا جاتا ہے۔
سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس یعنی ایسی تما م سائٹس جو وقت کا زیاں بھی ہوں اور اپنے استعمال کرنے والوں کو اوروں سے جوڑنے کا ذریعہ بھی۔لیکن اکثر یہاں بے جوڑ بھی جُڑنے لگتے ہیں۔ نتیجتاً دہلی جیسے واقعات پنپتے ہیںاور ملک کا سر شرم سے جھک جاتاہے مگر ہمارے رہنمایانِ ملک وملّت کے کانوں پر جُوں تک نہیں رینگتی۔مادّہ پرستی کے چڑھتے سورج کو سلام کے مصداق اس سماج میں بے شمار سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس کی افزائشِ نسل میں روز بروز اضافہ ہی ہوتا جا رہا ہے۔ کبھی صرف گوگل(GOOGLE)اور یاہو(YAHOO)سرچ انجن ہوا کرتے تھے مگر آج ہم ٹوئیٹر(Twitter)اور فیس بُک(Facebook)سے بھی ہم کلام ہیں۔حیرت بھی نقطۂ عروج پر اُس وقت پہنچ جاتی جبOrkut پر پسند کیا جاتا ہے linked in پر شادی کے پیغام بھیجے جاتے ہیںblogsterپر خوشیاں منائی جاتی ہیں اور my spaceپر تعزیت کی جاتی ہے۔flickerپرہم بچھڑتے ہیں اورclassmatesپر مل بھی جاتے ہیں۔کبھی موت کی خبریں تار سے دی جاتی تھیں مگر آج ٹوئیٹر پر بلاگ لکھ کر موت سے پہلے ہی تعزیت کردی جاتی ہے۔ مجال ہے آپ جو تعزیت میں ہمارے نیتائوں سے بازی ما رلے جائیں۔ نیتا تو پھر نیتا ہی ہیں چاہے وہ شوشہ گر ہوں یا صفر۔ یہ وقت سے پہلے تعزیت بھی کرلیتے ہیں اور غلطی کا احساس ہونے پر معذرت بھی ۔
Flickr,classmates,Blogster,Facebook,hi5,Linked In,My space,Orkut,Twitter اور اِس طرح کی بے شمار سائٹس نے ہمیں اپنا بے دام غلام بنا لیا ہے ۔آج طلبہ مادرِعلمی میں کم اور سائبر کیفوں میں زیادہ نظر آتے ہیں۔کبھی کبھی تو والدین اِن ہی SNSپر پیغام چھوڑنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ” میرے لال گھر آجائو کھانے کا وقت ہوگیا ہے۔”آج سماج اور معاشرے میں اِن تمام سائٹس نے نشے کا روپ اختیار کرلیا ہے۔ نشہ بھی ایسا جو منشیات کی طرح چھپ چھپا کر نہیں بلکہ کھلے عام کیا جا رہا ہے۔ اس کے نشے کے شکار صارفین عموماً اس کی علامات سے بے خبر ہیں۔اپنے علاج کی طرف توجہ دینے کی بجائے وہ اپنے آپ کو نارمل قرار دیتے ہیں ۔اِن کی اپنی دنیا ہی اِن کی اپنی جنّت ہوتی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ کچھ جنّتیں احمقوں کے لیے بھی مخصوص ہوتی ہیں۔منشیات کے عادی اور شوشل سائٹس کے دلدادہ،ان دونوں قسم کے افراد میں بے شمار قدریں مشترک ہوتی ہیں۔نہ اُنہیں وقت کا احساس ہوتا ہے نہ اِنہیں۔ ذمّہ داریوں سے فرار وہاں بھی ہے اور یہاں بھی۔عزیز و اقارب کے لیے تنگئیِ وقت کا عذرِ لنگ وہ بھی کرتے ہیں اور یہ بھی۔اُن کا نشہ بھی باعثِ شرمندگی ہے اور اِن کا نشہ بھی۔نشہ اُن افراد کے لیے بھی جذبات کی تسکین کا سامان ہے اور اِن لوگوں کے لیے بھی خواہشات کی تکمیل کا ذریعہ۔اس نشے کے نہ ملنے پر دونوں قسم کے افراد بے چینی اور ہیجان کا شکار ہوجاتے ہیں اور پھر سماج اِس ترقی یافتہ دور میں بھی پتھروں کے اُس دور کی یاد تازہ کردیتا ہے جہاں انسانی زندگیاں کوڑیوں کے مول بکا کرتی تھیں۔
اِن سائٹس کو استعمال کرنے والا شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس کا ایک سائٹ پر ایک ہی اکائونٹ ہو۔ ورنہ ہوتا یہ ہے کہ دو دو اکائونٹ بنائے جاتے ہیں ایک originalاور دوسراfakeایک تو برائے نام ہوتااور دوسرا معشوقہ کے لیے وقف یا تلاشِ محبوبہ کا ذریعہ۔ fake accountتو ہر حال میں fakeہی ہوتا ہے۔یہاں نہ بھائی بہن کا رشتہ ہے نہ ماں بیٹے اور نہ ہی پاپ بیٹی کابس ایک حمام ہیں اور سب ننگے ہیں۔اب کون کتنا ننگا ہے اس بات کا پتہ تو اُس وقت چلتا ہے جب ویب کیم webcamآن ہوتا ہے اور پھر شرم سے گردن یوں جھکتی ہے مانو ریڑھ کی ہڈی ہی نہ ہو۔
عزّت کی خوشبو پھیلنے میں زندگیاں درکار ہوتی ہیں مگرذلّت لمحوں میں میلوں کا سفر طے کرلیتی ہے ۔اِ س معاملے میں بھی یہی ہوا۔ہر خاص و عام میںاِن تمام سائٹس کے مقبول ہونے کے بیشمار اسباب ہیں۔یہاں بھی نشے والی تھیوری کارگر ثابت ہوتی ہے۔ اوّل اوّل مفت میں خدمات دستیاب کروائی جاتی ہیں۔اس کے استعمال کو آسان بنایا جاتا ہے۔چھوٹے چھوٹے موبائل فون سے لیکر کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ تک اِس سے ہم آہنگ کردیے جاتے ہیںاور جب نوجوان اِس کا عادی ہوجائے تب یہ محبوبہ شانِ بے نیازی کا اظہار کرنے لگتی ہے اور عاشقِ نامراداپنی محبوبہ کو خوش کرنے کے چکر میں خون پسینے کی کمائی ون جی سے لیکر فور جی تک پانی کی طرح بہانے لگتا ہے۔
ہر سکّے کے دو رخ ہوتے ہیں ہر بات کے دو پہلو ہوتے اور وہ مثبت بھی ہوسکتے ہیں اور منفی بھی۔یہ تمام سائٹس جہاں فحاشی ، عریانیت اور بے راہ روی کو پروان چڑھاتی ہیںوہیں کاروباری تشہیر کے لیے انتہائی زرخیز گردانی جاتی ہیں۔ یقیناًیہ تمام سائٹس روپیوں ،پیسوں کی بربادی اور اصراف کا ذریعہ ہیں لیکن یہی سائٹس آپ کے کاروبار کو مفت یا انتہائی کم خرچ پر منٹوں میں ساری دنیا میں متعارف کرا سکتی ہیں۔یہ سائٹس اگر مغلّظات کا ذریعہ ہیں تو مواصلات کا وسیلہ بھی۔جہاں یہ سائٹس لوگوں کو راہِ راست سے ہٹاتی ہیں وہیں بھٹکوں کو راستہ بھی دکھلاتی ہیں۔بچھڑوں کو ملاتی بھی ہیں۔پھر چاہے وہ کمبھ کے میلے میں بچھڑے ہوں یا تقسیمِ وطن میں۔ اگر ایک طرف یہ سماج کے بگاڑ کا ذریعہ ہے تو دوسری طرف انقلاب کا ایک پیغام بھی ۔مجھے یقین ہے آپ مصر کے حالات ابھی بھُولے نہیں ہونگے ،جہاں ایک اٹھارہ سالہ لڑکی کے facebookسے دئیے گئے پیغام نے مصر کے برسوں پرانے تخت کو تاراج کردیا۔ ایک مراٹھا لیڈر کی موت کے بعد facebookسے اٹھنے والا تنازعہ بھی آپ کو یاد ہی ہوگا جس نے متعصب عدلیہ اور افسرِشاہی کی چولیں ہلا دیں اور انھیں یہ مان لینے پر مجبور ہونا پڑا کہ دستورِہند نے ہمیں بھی اظہاروبیان کی آزادی دی ہے۔اور بِلا امتیاز اپنی رائے رکھنے اور پسند و ناپسند کا حق دیا ہے۔یہ سچ ہے کہ یہ سائٹس غلط استعمال کی بناء پر بے شمار دخترانِ ملک وملّت کی بربادی اور آبروریزی کی ذمہ دار ہیںلیکن ان ہی سائٹس نے سیکڑوںکے گھر بھی بسائے ہیں ۔ہزاروں کی امیدیں پوری کی ہیں لاکھوں کو شادی شدہ زندگی کا سکھ بھی دیا ہے۔یہ بھی صحیح ہے کہ یہاں hackersہئکرس آپ کی خوشیاں تک چھین لینے کے درپے ہیں لیکن ان ہی سائٹس پرایسے ادارے بھی ہیں جو سخاوت اور فیاضی میں اپنی مثال آپ ہیں۔یہ سائٹس صرف حواس چھینے کا ذریعہ ہی نہیں اچھے کاموں کی ترغیب دینے کا وسیلہ بھی ہے۔ اِن سائٹس پر امڈتا ہوا فحاشی اور عریانیت کا سیلِ رواں ہونے کے باوجود کچھ لوگ ایسے ہیں جو قندیلِ حرم جلا کر بے راہ رئوں کی رہبری کر رہے ہیں۔کفر اور ظلمت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں ایمان و یقین کی مشعلیں جلائے ہوئے ہیں۔ضمیر فروشی اور ابن الوقتی کے دور میں ہمدردی اور ایثار کا پیکر بنے ہوئے ہیں۔
انسانی زندگی روزِ ازل سے ہی تضاد کا شکار رہی ہے۔یہاں ہابیل بھی ہے اور قابیل بھی، کرامن بھی اور کاتبین بھی، منکر بھی ہیں اور نکیر بھی، خوشیاں بھی ہیں اور غم بھی، خوشحالی بھی ہے اور بدحالی بھی،یہاں عیش وعشرت بھی ہے اور بھکمری و تنگ دستی بھی،عقلمند وہ ہے جو عیوب میں ہنر ڈھونڈ لے،خرابیوں سے اچھائی باہر نکالے، ظلمت میں نور تلاش کرے،سیاہ رات کی بجائے روشن سویرے کا استقبال کرے کیونکہ Every cloud has silver liningماضی پر ماتم کر کے مستقبل سنوارا نہیں جا سکتا۔برائیوں کے ڈر سے اچھائیوں کو ترک نہیں کیا جا سکتا۔صرف نقصانات گِنوا کر ہم فوائد سے کنارا کشی اختیار نہیں کرسکتے۔ کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ:
فرق آنکھوں میں نہیں فرق ہے بینائی میں
عیب بیں عیب ،ہنرمند ہنر دیکھتے ہیں

 

Ghazal : Tarjumanul AS’R BY DR. ZAKIR KHAN ZAKIR

Articles

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل :ترجمان العصر

ڈاکٹر ذاکر خان

غزل کی پشت برسہا برس کی تاریخ اور عظیم روایتوں کے بوجھ کو سنبھالے ہوئے ہے۔دنیا کی تمام اصنافِ سخن میں غزل کی طرح مقبولیت کسی اور صنفِ سخن کو حاصل نہیں ہوئی۔وہ تمام شعراء جنھوں نے غزل کو عروج بخشا، سماج اور معاشرے نے انھیں بھی اوجِ ثریّا پر پہنچا دیا۔غزل عہدِ حاضر کے تقاضوں کو حتیٰ المقدور پورا بھی کرتی ہے اور انتہائی شاندار روایتوںکو نا صرف برقرار رکھتی ہے بلکہ اپنی شناخت بھی قائم کیے ہوئے ہے۔ یہ اردو غزل ہی ہے جو کبھی محبوب و معشوق کے دلوں کی آواز ہوا کرتی تھی جس سے عاشقی کے تار جھنجھنا اٹھتے تھے آج یہی غزل رومانیت،محبوبیت اور اعشاریت کو پیکر بنا لینے کے باوجود عہدِ حاضر میں ہونے والی تمام تر تبدیلیوں کی ترجمانی بھی کرتی ہے۔ حالات سازگار نہ ہو تو شاعر کے دل سے نکلی ہوئی آواز غزل کے شعر کا پیکر بنتی ہے اور یہ کہہ اٹھتی ہے
ابھی نہ چھیڑ محبت کے گیت اے مطرب
ابھی حیات کا ماحول ساز گار نہیں
حالی اور اقبال نے غزل کو حدیثِ دلبراں سے صحیفہء کائنات بنایاہے۔ آج غزل کے پاس شاعر انقلاب، شاعرِ شباب، امامِ یاسیئت، فردوسیہء اسلام ،شاعرِ مزدور، یگانہء روزگار، شاعرِ رومان، شاعرِ مشرق، جانشینِ داغ اور رئیس المتغزلین حسرت موہانی کی عظیم روایات ہیں۔ یوں دیکھا جائے تو آرائشِ خم وکاکل اور اندیشہ ہائے درودراز ہماری زندگی کے محور ہیں اور یہی غزل کی بساط بھی، ادب ہماری زندگی کی عکاسی کرتا ہے بقول ڈاکٹر قمر رئیس”احساسات کی بے نام پرچھائیاں اپنی ذات اور تجربات کے تناظر میں واضح روپ اختیار کرتی ہیں تو غزل کی تہہ داریاں بڑھ جاتی ہیں”یہ غزل کی ہمہ جہتی کا اعتراف ہی ہے۔ لفظیات اور اسالیب و الائم تجربات کی بھٹی میں تپ کر کندن بنتے ہیں تب شعر کے پیکر میں ڈھلتے ہیں۔ انسان جس قدر نہاں خانہء دل میں نظر ڈالتا ہے اتنا ہی نیا ہوتا اسکا ایمان تازہ ہوتاہے۔
بے گھری کا دکھ اور لامکانی کا غم روزِ آفرینش سے ہی اولادِ آدم کی میراث ہے۔ اسی سبب اس کو روح کو قرار نہیں، اسے دکھ ہوتا ہے کہ آرزومند آنکھیں، بشارت طلب دل اور دعائوں کو اٹھتے ہوئے ہاتھ بے ثمر ہوگئے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال نے شاعری کو پیمبری اور شاعر کو قوم کی آنکھ کہا ہے جو دکھ پر چینخ اٹھتی ہے ، ہر کرب پر چھلک پڑتی ہے تب ہی تو امیر مینائی بھی کہتے ہیں
خنجر چلے کسی پہ تڑپتے ہیں ہم امیر
سارے جہاں کا درد ہمارے جگر میں ہے
اسی خیال کو انیسؔ اپنے انداز میں ڈھالتے ہوئے کہتے ہیں
خیالِ خاطرِ احباب چاہیے ہردم
انیسؔ ٹھیس نہ لگ جائے آبگینے کو
فرقہ وارانہ فسادات ہمارے اس دور کا المیہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد سانحے کے تناظر میں نظم کا جیالا شاعر کیفی ؔ ،غزل ہی کے پیرائے میں کہتا ہے
اس کو مذہب کہو یا سیاست کہو
خودکشی کا چلن تم سکھا تو چلے
اتنی لاشیں میں کیسے اٹھا پائوں گا
آپ اینٹوں کی حرمت بتا تو چلے
بیلچے لائو کھودو زمیں کی تہیں
مَیں کہاں دفن ہوں کچھ پتہ تو چلے
آل احمد سرور کہتے ہیں کہ “مَیں غزل کو اردو شاعری کی آبرو سمجھتا ہوں، ہماری تہذیب غزل میں اور غزل ہماری تہذیب میں ڈھلی ہوئی ہے”غزل حسن و عشق کی داستان بھی ہے اور کاکل و رخسار کا قصّہ بھی، یہ ہجرووصال کی کہانی بھی ہے اور غمِ روزگار کی حکایت بھی، بیک وقت مسرت و شادمانی کا نغمہ بھی ہے اور یاس و حرماں نصیبی کا تذکرہ بھی۔ وہ کون سا عصری جذبہ ہے جو شرمندہء اظہار نہیں؟ وہ کون سا احساس ہے غزل نے جس کی ترجمانی نہ کی ہو؟ہمارے دکھ سکھ، ارمان و آرزومندی کی موثر عکاسی غزل کے اشعار ہی سے ہوتی ہے۔ افتخار عارف کہتا ہے کہ
ہوس لقمہء تر کھا گئی لہجوں کا جلال
اب کسی حرف کو حرمت نہیں ملنے والی
یا
کہاں کے نام و نسب علم کیا فضیلت کیا
جہانِ رزق میں توقیرِ اہلِ حاجت کیا
شکم کی آگ لیے پھر رہی ہے شہر بہ شہر
سگِ زمانہ ہیں ہم کیا ہماری ہجرت کیا
غزل نے عہدحاضر کے ہر تقاضے کو چھوا ہے۔ آج غزل دامنِ محبوبیت سے نکل کر سسکتی، چینختی، چلّاتی انسانیت کی غمازی بھی کرتی ہے۔ وہ بھوک اور افلاس پر، جنگ و جدال پر، رونے چینخنے اور چلّانے پر ، اناج پر، پیاز پر، بدحالی اور بے قراری پر، غرض انسانی زندگی کے جتنے مسائل ہیں اسے غزل نے پگڈنڈیوں سے نکال کر شاہراہِ عظیم پر لے آیا ہے۔ اپنے لوچ، اپنی گہرائی و گیرائی، تاثر اور تاثیر کی بنا پر غزل نے ان مسائل میں ایک نئی روح، ایک نئی تحریک اور ایک نیا انقلاب برپا کردیا ہے۔
ہم غزل کو صرف غزل ہی کی طرز پر دیکھتے ہیں یہی ہماری اصل بھول ہے۔ غزل نے ہمیشہ عصرِ حاضر کے تقاضوں کا حق ادا کیا اور ہر اعتبار سے ببانگِ دہل نعرہء انقلاب بلند کیا ہے۔ وہ غریبوں کی جھونپڑیوں سے سسکنے والی صدائوں کو ایوانوں میں پہنچانے کاکام کرتی ہے۔ غریبوں اور مزدوروں کو احترامِ زندگی سکھاتے ہوئے کہتی ہے
سوجاتے ہیں فٹ پاتھ پہ اخبار بچھا کر
مزدور کبھی نیند کی گولی نہیں کھاتے
وزراء کا طمطراق، زندگی کے نشیب و فراز، اہلِ امن کی امن پسندیاں، مذہبی عقائد، اسلاف کی روایات، اقدار کی پامالی، اخلاق کا فقدان، اندھے عقائد اور ہماری توہم پرستیوں جیسے موضوعات پر غزل لب کشائی کرتے ہوئے کہتی ہے
لوگ پیپل کے درختوں کو خدا کہنے لگے
مَیں تو بس دھوپ سے بچنے کو یہاں آیا تھا
وہ لوگ جو اپنے آپ کو صاحبِ ثروت وزیروں اور درندہ صفت امیروں کی صف میں کھڑا کرتے ہیں، جن کے لیے انسانی جانوں کی کوئی قیمت نہیں، وہ لوگ جن کے نزدیک بیوائوں کے آنسوئوں کی کوئی قیمت نہیں، جو مظلوم کی آہوں پر اپنے کان بند کرلیتے ہیںاور انسانیت کو اپنے پیروں تلے کچل دیتے ہیں۔ غزل ان سے مخاطب ہوکر کہتی ہے
عیب شہرت میں نہیں اس کا نشہ قاتل ہے
یہ ہوا کتنے چراغوں کو بجھا دیتی ہے
غزل نے عصرِ حاضر کے تمام تقاضے پورے کیے ہیں۔ اس نے مجبوریوں کا ذکرکیا، بے ایمانیوں کو سڑکوں پر لایا، بدکاریوں کا پردہ فاش کیا، مزدوروں کو صف آرا کیا، حکومتوں کو تبدیل کیا، رشوت ستانی کے خلاف آواز میں آواز ملائی اور شیطانیت سے برسرِپیکار رہی ہے۔ غرض دورِ حاضر کے ہر شعبہ ہائے حیات پر غزل نے حقیقت بیانی سے کام لیا۔ نفرت کے خلاف محبت کے میٹھے راگ الاپے ہیں۔ خوشی مسرت اور انسانیت کے نغمے گائے ہیں۔
غزل نے اہلِ سیاست کو سیاست کا گردیا، اہلِ علم کو سچی علمیت سے آگاہ کیا، مجبوروں اور بے کسوں کی دادرسی کرتے ہوئے حقیقت کو اس انداز سے آشکار کیا کہ پتھر دل انسان کی آنکھیں بھی اشکبار ہوجائیں۔
جس طرح لوگ الگ الگ طرزِ فکر اور روش اختیار کرتے گئے، غزل اسی طرح اپنا انداز اور لب و لہجہ بدلتی گئی۔ زندگی کے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی کرتے ہوئے قدم سے قدم ملا کر چلتی رہی۔ روز اوّل ہی سے ادب مختلف تحریکوں کا حصّہ رہا ہے اور غزل ہر تحریک کا بساط بھر ساتھ دیتی رہی ہے۔غزل کی عظیم روایات ہماری میراث ہیں، اس کی بقا و پرورش ہماری ادبی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

Articles

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا لسانی و تہذیبی جائزہ

ڈاکٹر قمر صدیقی

سنتھالی زبان کا تعلق Austro Asiaticلسانی خانوادے کی شاخ Mundaکی ذیلی شاخ Hoاور Mundariسے ہے۔ یہ ہندوستان کے علاوہ بنگلہ دیش، بھوٹان اور نیپال کے کچھ علاقوں میں بولی جاتی ہے۔ ہندوستان میں یہ جھارکھنڈ، آسام، بہار، اڑیسہ ، تری پورہ، میزورم اور مغربی بنگال کے مخصوص علاقوں میں بولی اور سمجھی جاتی ہے۔ ہندوستان میں اس زبان کے بولنے والوں کی تعداد 2011کی مردم شماری کے مطابق 63لاکھ ہے۔ اس کا رسم الخط Ol Chikiکہلاتا ہے اور اس کی ایک ذیلی اسلوب یا بولی Mahaliبھی ہے جو خاصی تعداد میں بولی اورسمجھی جاتی ہے۔ انسائیکلو پیڈیا آف برٹانیکا میںGregory David Shelton Andersonاس بابت تحریر کرتے ہیں کہ:
”سنتھالی زبان کا تعلق لسانی خانوادے Mundaسے ہے۔ یہ زبان ہندوستان کے وسط مشرق اور شمال مشرق کے جھارکھنڈ، آسام، بہار ، اڑیسہ اور تریپورہ وغیرہ میں بولی جاتی ہے۔ اکیسویں صدی میں اس کی آبادی ایک اندازے کے مطابق ہندوستان میں پچاس لاکھ، بنگلہ دیش میں دس لاکھ اور نیپال میں تقریباً پچاس ہزار تھی۔“(1)
انیسویں صدی تک سنتھالی زبان صرف ایک بولی کی حیثیت رکھتی تھی۔ تاریخ، کہانیاں، گیت وغیرہ سینہ بہ سینہ ایک نسل سے دوسری تک منتقل ہوتے رہے۔ یورپی نو آبادیات کاروں نے اپنی انتظامی ضرورتوں کے تحت جب ہندوستانی زبانوں میں دلچسپی لینی شروع کی تو اسی دلچسپی کے نتیجے میں سنتھالی زبان کو تحریر کرنے کے لیے دیوناگری اور رومن رسم الخط کا استعمال کیا جانے لگا۔1860کے بعد یورپی بیورکریٹس اورمشنری نے سنتھالی زبان کی ڈکشنری ، تراجم ، لوک کہانیاں ، صرف و نحواور سنتھالی حروف تہجی پر خاصا کام کیا۔ 1970میں پنڈت رگھوناتھ مورمونے سنتھالی زبان کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھنے کاآغاز کیا۔ یہ رسم الخط سنتھالی بولنے والے اڑیہ اورسنگھ بھوم علاقے میں پہلے سے رائج تھا۔ البتہ مذکورہ رسم الخط کو تمام سنتھالی بولنے والی آبادی نے قبول نہیں کیا ۔ مثال کے طور پر جھارکھنڈ میں درس و تدریس کے لیے دیوناگری رسم الخط اور بنگال میں بنگالی رسم الخط مستعمل ہے۔ علاوہ ازیں اس زبان کے بیشتر مخطوطات رومن رسم الخط میں ہیں لہٰذا تحقیق کے شعبے میں رومن رسم الخط کی اہمیت آج مسلم ہے۔
ہندوستان میں آنے والے آسٹری قبائل اپنے آغاز سے باہم اتحاد و اختلاط کی مثالیں پیش کرتے رہے ہیں۔ اس ضمن میں سُونتی کمار چٹرجی تحریر کرتے ہیں کہ :
”ہندوستان آنے والے اور اپنی زبان کو محفوظ رکھنے والے آسٹری قبائل —-بے شک وہ دوسری نسلوں ، منگولوں، دراوڑین اور شاید حبشیوں کے ساتھ مخلوط ہوگئے تھے—– کول (یا منڈا) اقوام میں (جیسے سنتھال، منڈا، ہوا(hos) ، کوروا، بھومجی(Bhumijee) کرکو (Karku) سورا (soras)یا سوا را (Savaras)، گدابا(Gudabas) وغیرہ۔“(2)
ہندوستان میں آسٹرو ایشائی زبانوں کی قدامت اور پھیلاﺅ سے متعلق کے۔اے نیل کنٹھ شاستری نے تحریر کیا ہے کہ:
”آسٹرو ایشائی زبانوں میں منڈا زبانیں ہیں جن میں دکن کے شمالی مشرقی علاقوں میں کھریا، جوانگ، سُوار اور گُڈا نیز مدھیہ پردیش کے شمالی مغربی اضلاع کی کرُو کی زبانیں شامل ہیں۔ اگرچہ ہندآریائی خزانہ¿ الفاظ پر مُنڈا زبان کا اثر نمایاں ہے لیکن دراوڑ زبان سے جو الفاظ لیے گئے ہیں ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ یہ نتیجہ اخذ کرنا ناگزیر ہوجاتا ہے کہ دراوڑ گروپ کی زبانوں کی ابتدا آسٹرو ایشائی زبانوں سے نسبتاً زیادہ جدید ہے۔ چنانچہ آسٹرو ایشائی زبانوں کے لیے عام طور سے یہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ دراوڑ زبان سے پہلے کی زبانیں ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کسی زمانے میں مُنڈا زبانیں پورے شمال ہندوستان میں پھیلی ہوئی ہوں گی۔ کیونکہ ہمالیہ کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک یعنی پنجاب سے بنگال تک کے علاقے میں جو متعدد مخلوط زبانیں بولی جاتی ہیں ان سب کی بنیاد یہی زبانیں ہیں۔“ (3)
ہندوستان میں سنتھالی بولنے والوں کی آمد سے متعلق مختلف نظریات پیش کیے جاتے ہیں۔ البتہ زمانہ¿ قدیم سے ہندوستان میں ان کی موجودگی ثابت ہے۔ اس تعلق ممتاز مورخ رومیلا تھاپر نے تحریر کیا ہے کہ :
”ہڑپااورموہن جوداڑو ، وادیِ سندھ کی باقیات کا ایسا ثبوت ہے جس کے ذریعے ہندوستان میں آریوں کی آمد اور ان کی تہذیب کے پھیلاﺅ سے پہلے کی زندگی کو سمجھا جاسکتا ہے۔ آریوں سے قبل ہندوستانی تہذیب میں اپنی موجودگی درج کرانے والے مختلف نسلی گروہوں کی شناخت مشکل ہے تاہم ماہرین ایسے چھ گروہوں کی نشاندہی کرتے ہیں جن کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔
۱۔ Negritos
۲۔ Proto – Australoids
۳۔ Mongoloid
۴۔ دراوڑی (جس نے بعد میں آرین تہذیب سے مطابقت پیدا کی)
۵۔Western Brachy Cephals
۶۔Nordics
کھدائی میں ملی انسانی ہڈیوں کی تحقیق سے یہاں Proto Australoids، دراوڑی،Alpineاور Mongoloidتہذیبوں کے آثار ثابت ہوتے ہیں۔ لہٰذا یہ تسلیم کیا جاتا ہے مذکورہ بالا انسانی نسلیں ہندوستان میں پوری طرح آباد تھیں اور Proto-Australoid گروہ ہندوستان کی آبادی کی بنیاد میں شامل تھا۔ ان کی زبان Austric linguisticخواندے سے تعلق رکھتی تھی جس کی ایک شاخ Mundaہے جس سے مختلف قبائلی زبانیں نکلی ہیں۔“(4)
اسی طرح L.O. Skrefsudکے مطابق سنتھالی ایران، منگولیا، افغانستان فتح کرتے ہوئے ہندوستان کے شمال مغربی علاقے میں داخل ہوئے اور پنجاب کو اپنا مسکن بنایا۔آریوں کی آمد کے بعد وہ مسلسل پیچھے ہٹتے گئے حتیٰ کہ چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع میں آباد ہوگئے۔ اس کے برعکس Colonel Daltonکے مطابق سنتھالی شمال مشرق سے ہندوستان میں داخل ہوئے اور چھوٹا ناگپور کی سطح مرتفع سے ہوتے ہوئے دریائے دامودر کے کنارے پھیل گئے۔Colonel Daltonنے اپنے اس نظریے کی تائید میں سنتھالی زبان، رسم و رواج اور تہذیب اور شمال مشرق کے دیگر قدیم قبائل کی رسم و رواج اور تہذیب میں پائی جانے والی مطابقت کو پیش کیا ہے۔
یہ امر دلچسپ ہے کہ برصغیرہند و پاک کے دیگر قبائل کے علی الرغم سنتھالیوں نے اپنی تہذیبی شناخت کو حتیٰ المقدور برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے۔ متعدد مرتبہ ہجرت ، مغلوں اور یورپی اقوام کے حملوں کے باوصف سنتھالیوں کی سماجی زندگی مقامی زبان و تہذیب کے تحفظ سے عبارت ہے۔ اُن کی تہذیب کی عکاسی گھروں کی دیواروں پر مزین مصوری کے نمونوں اور لوک کہانیوں میں اپنے آبا و اجداد کو دیو مالائی شخصیت کے طور پر پیش کرنے سے ظاہر ہوتی ہے۔ ان قصوں کے دو دیومالائی کردار ’پلچو ہرم‘ اور پلچو بھودی‘ معروف ہیں۔ سنتھالی موسیقی اور رقص کے دلدادہ ہوتے ہیں۔ ہندوستان کی دیگر تہذیبوں کی طرح سنتھالی تہذیب مقامی اور مغربی تہذیب سے بہت زیادہ تو متاثر نہیں ہوئی لیکن یہاں عیسائی میشنری کی وجہ سے تعلیم عام ہوئی لہٰذا عیسائیت کے اثرات مرتب ہونے لازمی تھے۔ البتہ ان کے روایتی موسیقی اور رقص میں ابھی تک پرانی خو بو باقی ہے۔ یہ موسیقی ہندوستان کی کلاسیکی موسیقی سے کئی سطحوں پر مختلف ہے۔ اپنا رقص پیش کرنے کے لیے عموماًسنتھالی دو طرح کی ڈھول استعمال کرتے ہیں۔جنھیں مقامی زبان میں Tamakاور Tumdahکہا جاتا ہے۔ بانسری سنتھالیوں کا پسندیدہ ساز ہے۔ یہ سب سے ا ہم روایتی ساز تسلیم کیا جاتا ہے جو سنتھالیوں کے نوسٹلجیائی جذبات بر انگخیت کرنے کا کام کرتا ہے۔ یہاں کی موسیقی اور رقص کا گہرا تعلق مذہبی رسومیات سے ہے۔ خاطر نشان رہے کہ سنتھالیوں کے مذہبی عقائد پر ہندو مت اور عیسائی مشنریوں کے اثرات واضح ہیں۔بہرکیف سنتھالی موسیقی اور رقص ہر دو کا مذہبی عقائد، رسوم اور تہواروں سے گہرا تعلق ہے۔حتیٰ کہ گیت اور موسیقی کے سُر ، تال کے نام بھی مذہبی تہواروں سے ماخوذ ہیں۔ مثال کے طور پر Sohariکا گیت ہے جسے Sohariتہوار کے موقع پر گایا جاتا ہے۔
سنتھالی سماج ذات پات کے نظام سے مبرّا ہے اور یہاں پیدائش کے اعتبار سے کوئی امتیاز نہیں کیا جاتا ۔ یہ لوگ عموماً مافوق الفطرت عناصر اور اجداد کی روحوں پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ اپنی دعاﺅں اور قربانیوں میں اپنے اجدادکی روحوں کو بطور خاص یاد کرتے ہیں۔ سنتھالی اسے Bongaکہہ کر پکارتے ہیں۔ اس تعلق سے کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ لفظ Bongaدراصل Bhagaیا Bhagvanسے مشتق ہے۔ سنتھالیوں میں سماجی نظم و ضبط اور پنچایتی طریقہ Manjhi-Paragana کہلاتا ہے ۔ یہ مقامی لوگوں کے ذریعہ چلایا جاتا ہے اور اس کا مقصد علاقے کی سماجی اور معاشی اصلاح کے لیے فیصلے کرنا ہوتا ہے۔
ہندوستان کے لسانی منظر نامے میں اردو زبان کی حیثیت کلید بردار کی ہے۔ گجرات سے میزروم اور کنیا کماری سے کشمیر تک اردو زبان بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔ لگ بھگ سبھی ہندوستانی زبانیں کسی نہ کسی طور اردو سے متاثر رہی ہیں۔ حتیٰ کہ بعض ایسی زبانوں میں بھی اردو کے الفاظ نظر آجاتے ہیں جس کا اردو سے دور دور تک کوئی لسانی یا تہذیبی ربط نہیں ملتا ہے۔ سنتھالی بھی ایسی ہی زبان ہے اور اس کے لغت پر سرسری نگاہ ڈالنے پر ہی ایسے متعدد الفاظ مل جاتے ہیں جو خالص اردو کے ہیں۔ مثال کے طور پر لگ بھگ تمام پھلوں کے نام یہاں وہی مروج ہیں جو اردو میں۔ امرود، انار، اخروٹ، انجیر وغیرہ ۔علاوہ ازیں بچہ اور بابا(بمعنی والد) بھی یہاں رائج ہے۔ مذکروہ الفاظ کے علاوہ سنتھالی لغت کے صرف حصہ¿ ’الف‘ کے سرسری مطالعے سے  مندرجہ ذیل الفاظ پیش کیے گئے ہیں۔
سنتھالی                /                      اردو
اَجار                         آزار (بمعنی تکلیف)
اَرسی                                             آرسی
اَخر                                                    اَخر
الم گلم                                             الم غلم
اَکل                                                      عقل
اَرج                                                 عرض
اَملہ                                                    عملہ
اندھا                                                   اندھا
اول                                                       اوّل
بچھرا                                                 بچھڑا
اَواج                                                      آواز
بابر                                    بابر(بمعنی رسّی)

ایسا نہیں ہے سنتھالی زبان پرصرف اردو ، ہندی یا دیگر ہندوستانی زبانوں نے اپنے اثرات مرتسم کیے ہیں۔ سنتھالی کے الفاظ بھی بشمول اردو ہندوستان کی دیگر زبانوں میں داخل ہوئے ہیں۔ صرف ایک مثال لفظ ”ٹھاکر“ کی پیش کی جاتی ہے۔ یہ لفظ سنتھالی زبان سے ہندوستان کی دیگر زبانوں میں آیا اور مستعمل ہوگیا ۔ اس تعلق سے احمد جاوید کی تحریر ملاحظہ ہو:
”عموماً اردو لغات میں ’ٹھاکر‘ کو ہندی کا لفظ قرار دیا گیا ہے لیکن یہ درست نہیں، بنیادی طور پر ’ٹھاکر‘ اسٹرک(کول) خاندان کا لفظ ہے۔ یہ غیر آریائی لفظ سنتالی یا سنتھالی زبان سے دیگر ہندوستانی زبانوں میں آیا ہے۔ “
ہندوستان کی لسانی تکثیریت میں Austro Asiaticخاندان سے متعلق دوسری کئی زبانیں اپنی بقا کی جد وجہد میں مصروف ہیں لیکن سنتھالی زبان اپنی داخلی قوت اور اپنے بولنے والوں بے پناہ محبت کے سہارے آج بھی اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ۔ اس تعلق سے قیصر شمیم نے تحریر کیا ہے کہ:
” اسٹرو ایشیاٹک خاندان ، جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کا قدیم ترین لسانی خاندان ہے ۔اس خاندان کی چار زبانوں یعنی Khemr، ویت نامی، کھاسی اور سنتھالی کو چھوڑ کر بقیہ دو سو سے زائد زبانیں خاتمہ کی طرف بڑھ رہی ہیں۔ حتیٰ کہ مون( Mon)زبان جس میں تحریر کی روایت ساتویں صدی میں موجود تھی اس خطرہ کا شکار ہے۔ نکوبار جزائر میں اسی خاندان کی زبانیں پو، (Pu،Powahat،Taihlong ،Tatet،Ong، Lo’ong، Tehnu، Laful،Nancowry) وغیرہ کے بولنے والوں کی مجموعی تعداد بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔ ان کے علاوہ وہاں ایک انوکھی زبان Shompen بھی ہے جس کے بولنے والے 1981 میں 223افراد تھے۔
اس لسانی گروہ کی تقریباً18زبانیں جن کے بولنے والے کئی لاکھ افراد جھارکھنڈ، مدھیہ پردیس، اڑیسہ، بہار، آسام اور مغربی بنگال میں پائے جاتے ہیں جو ہر طرف سے ہند آریائی زبانوں کا دباﺅ جھیل رہے ہیں۔ ان میں سنتھالی کوچھوڑ کر سب زوال پذیر ہیں۔ نہ صرف یہ کہ سنتھالی میں مزاحمت کی بڑی صلاحیت ہے بلکہ اسے سرکاری سرپرستی بھی حاصل ہوگئی ہے۔ مگر بقیہ منڈا زبانوں کا کیا حشر ہوگا اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔“
سنتھالی ادب ، خاص طور سے شاعری میں رقص کو بہت اہمیت دی جاتی ہے۔ سنتھالی رقص کے حوالے سے اردو میں منیب الرحمن کی نظم ”سنتھالی ناچ“ ایک زمانے میں کافی مشہور ہوئی تھی۔ بہرکیف سنتھالی زبان میں ادب اور شاعری کی روایت کافی پختہ ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ بیشتر ادبی تخلیقات رسم الخط نہ ہونے کی وجہ سے ترجمہ نہ ہوسکیں اور باہر کی دنیا سنتھالی کی تخلیقی جودت سے نہ آشنا رہی۔ 1970کے بعد جب سنتھالی کو Ol Chikiرسم الخط میں لکھا جانے لگا تو اس زبان کا ادب بھی شائع ہونے لگا۔ سنتھالی کے ممتاز لکھنے والوں میں Majhi Ramdas Tudu Rouska کا شمار ہوتا ہے۔ انھوں نے لکھنے کا آغاز بیسیوں صدی کے بالکل ابدائی برسوں سے کیا تھا۔ کلکتہ یونیورسٹی نے 1951 میں سنتھالی زبان و تہذیب کے لیے ان کی خدمات کے مد نظر ڈی لٹ کی ڈگری تفویض کی۔ سنتھالی زبان و تہذیب سے متعلق ان کی کتاب کو اپنے تعارف و تبصرے کے ساتھ معروف ماہر لسانیات سُونیتی کمار چٹرجی نے شائع کیا تھا۔
سنتھالی زبان میں Sadhu Ram Chand Murmu کو مہاکوی یا ملک الشعرا کا درجہ حاصل ہے۔انکی شاعری سنتھالی بولنے والے تمام علاقے میں یکساں طور سے مقبول ہے۔ جبکہ سادھو رام کا آبائی تعلق ضلع مدنا پور، مغربی بنگال سے ہے۔ ان کا شاعری بنیادی طور پر اصلاحی اور باغیانہ شاعری ہے ۔شاعری کے علاوہ انھوں نے ڈرامے اور مضامین بھی لکھے ہیں۔ ان کی شعری اور نثری تخلیقات انتقال کے بعد شائع ہوئیں۔
سنتھالی زبان کے ایک اور مشہور شاعر Sarada Prasad Kisku ہیں ۔پیشے کے اعتبار سے اسکول ٹیچر ساردا پرساد کا تعلق بھی مغربی بنگال سے ہے ۔ انھوں نے اپنی پوری زندگی سنتھالی زبان کی ترویج و اشاعت میں لگا دی۔ ان کے علاوہ جو شعرا ادبا سنتھالی زبان و ادب میں اہم مقام کے حامل ہیں ان میں شیام سندر ہمبھروم، ٹھاکر پرساد مُرمو، گماستا پرساد سورین، ربی لال ماجھی، بابو لال مُرمی آدی باسی اور بھگوان مُرمو وغیرہ کا شمار ہوتا ہے۔ سنتھالی زبان صحافت کے میدان میں بھی اپنی شناخت درج کرا رہی ہے۔ تین ماہنامے ، دو ماہی اور ایک پندرہ روزہ رسائل کے علاوہ تقریباً آدھا درجن رونامے بھی اس زبان میں شائع ہورہے ہیں۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ سنتھالی ایک ترقی پذیر زبان ہے اوراس کے بولنے والے اس کی ترویج و اشاعت میں اسی طرح تعاون کرتے رہے تو یہ زبان ہندوستان کی لسانی تکثیریت کو مزید منور و مجلا کرے گی۔
حواشی
۱۔https://www.britannica.com/topic/Santali-language
۲۔ ہند آرائی اور ہندی۔ مصنف، سُنیتی کمار چٹرجی۔ صفحہ نمبر 38
۳۔جنوبی ہند کی تاریخ ۔ مصنف کے ۔ اے۔ نیل کنٹھ شاستری ۔ صفحہ نمبر۔ 77,78
۴۔History of India Vol.1, Page.26, Rumila Thapar

 

Cenima ka Ishq

Articles

سینما کا عشق

پطرس بخاری

سینما کا عشق

“سینما کا عشق” عنوان تو عجب ہوس خیز ہے۔ لیکن افسوس کہ اس مضمون سے آپ کی تمام توقعات مجروح ہوں گی۔ کیونکہ مجھے تو اس مضمون میں کچھ دل کے داغ دکھانے مقصود ہیں۔ اس سے آپ یہ نہ سمجھئے کہ مجھے فلموں سے دلچسپی نہیں یا سینما کی موسیقی اور تاریکی میں جو ارمان انگیزی ہے میں اس کا قائل نہیں۔ میں تو سینما کے معاملے میں اوائل عمر ہی سے بزرگوں کا مورد عتاب رہ چکا ہوں لیکن آج کل ہمارے دوست مرزا صاحب کی مہربانیوں کے طفیل سینما گویا میری دکھتی رگ بن کر رہ گیا ہے۔ جہاں اس کا نام سن پاتا ہوں بعض درد انگیز واقعات کی یاد تازہ ہو جاتی ہے جس سے رفتہ رفتہ میری فطرت ہی کج بین بن گئی ہے۔ اول تو خدا کے فضل سے ہم کبھی سینما وقت پر نہیں پہنچ سکے۔ اس میں میری سستی کو ذرا دخل نہیں یہ سب قصور ہمارے دوست مرزا صاحب کا ہے جو کہنے کو تو ہمارے دوست ہیں لیکن خدا شاہد ہے ان کی دوستی سے جو نقصان ہمیں پہنچے ہیں کسی دشمن کے قبضہ قدرت سے بھی باہر ہوں گے۔

جب سینما جانے کا ارادہ ہو ہفتہ بھر پہلے سے انہیں کہہ رکھتا ہوں کہ کیوں بھئی مرزا اگلی جمعرات سینما چلو گے نا؟ میری مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ پہلے سے تیار رہیں اور اپنی تمام مصروفیتیں کچھ اس ڈھب سے ترتیب دے لیں کہ جمعرات کے دن ان کے کام میں کوئی ہرج واقع نہ ہو لیکن وہ جواب میں عجب قدر نا شناسی سے فرماتے ہیں:

“ارے بھئی چلیں گے کیوں نہیں؟ کیا ہم انسان نہیں؟ ہمیں تفریح کی ضرورت نہیں ہوتی؟ اور پھر کبھی ہم نے تم سے آج تک ایسی بےمروتی بھی برتی ہے کہ تم نے چلنے کو کہا ہو اور ہم نے تمہارا ساتھ نہ دیا ہو؟”

ان کی تقریر سن کر میں کھسیانا سا ہو جاتا ہوں۔ کچھ دیر چپ رہتا ہوں اور پھر دبی زبان سے کہتا ہوں:

“بھئی اب کے ہو سکا تو وقت پر پہنچیں گے۔ ٹھیک ہے نا؟”

میری یہ بات عام طور پر ٹال دی جاتی ہے کیونکہ اس سے ان کا ضمیر کچھ تھوڑا سا بیدار ہو جاتا ہے۔ خیر میں بھی بہت زور نہیں دیتا۔ صرف ان کو بات سمجھانے کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں:

“کیوں بھئی سینما آج کل چھ بجے شروع ہوتا ہے نا؟”

مرزا صاحب عجیب معصومیت کے انداز میں جواب دیتے ہیں۔ “بھئی ہمیں یہ معلوم نہیں۔”

“میرا خیال ہے چھ ہی بجے شروع ہوتا ہے۔”

“اب تمہارے خیال کی تو کوئی سند نہیں۔”

“نہیں مجھے یقین ہے چھ بجے شروع ہوتا ہے۔”

“تمہیں یقین ہے تو میرا دماغ کیوں مفت میں چاٹ رہے ہو؟”

اس کے بعد آپ ہی کہئے میں کیا بولوں؟

خیر جناب جمعرات کے دن چار بجے ہی ان کے مکان کو روانہ ہو جاتا ہوں اس خیال سے کہ جلدی جلدی انہیں تیار کرا کے وقت پر پہنچ جائیں۔ دولت خانے پر پہنچتا ہوں تو آدم نہ آدم زاد۔ مردانے کے سب کمروں میں گھوم جاتا ہوں۔ ہر کھڑکی میں سے جھانکتا ہوں ہر شگاف میں سے آوازیں دیتا ہوں لیکن کہیں سے رسید نہیں ملتی آخر تنگ آ کر ان کے کمرے میں بیٹھ جاتا ہوں۔ وہاں دس منٹ سیٹیاں بجاتا رہتا ہوں۔ دس پندرہ منٹ پنسل سے بلاٹنگ پیپر پر تصویریں بناتا رہتا ہوں پھر سگریٹ سلگا لیتا ہوں اور باہر ڈیوڑھی میں نکل کر ادھر اُدھر جھانکتا ہوں۔ وہاں بدستور ہو کا عالم دیکھ کر کمرے میں واپس آ جاتا ہوں اور اخبار پڑھنا شروع کر دیتا ہوں۔ ہر کالم کے بعد مرزا صاحب کو ایک آواز دے لیتا ہوں۔ اس امید پر کہ شاید ساتھ کے کمرے میں یا عین اوپر کے کمرے میں تشریف لے آئے ہوں۔ سو رہے تھے تو ممکن ہے جاگ اٹھے ہوں۔ یا نہا رہے تھے تو شاید غسل خانے سے باہر نکل آئے ہوں۔ لیکن میری آواز مکان کی وسعتوں میں سے گونج ہر واپس آ جاتی ہے آخرکار ساڑھے پانچ بجے کے قریب زنانے سے تشریف لاتے ہیں۔ میں اپنے کھولتے ہوئے خون پر قابو میں لا کر متانت اور اخلاق کو بڑی مشکل سے مد نظر رکھ کر پوچھتا ہوں:

“کیوں حضرات آپ اندر ہی تھے؟”

“ہاں میں اندر ہی تھا۔”

“میری آواز آپ نے نہیں سنی؟”

“اچھا یہ تم تھے؟ میں سمجھا کوئی اور ہے؟”

آنکھیں بند کر کے سر کو پیچھے ڈال لیتا ہوں اور دانت پیس کر غصے کو پی جاتا ہوں اور پھر کانپتے ہوئے ہونٹوں سے پوچھتا ہوں:

“تو اچھا اب چلیں گے یا نہیں؟”

“وہ کہاں”؟

“ارے بندۂ خدا آج سینما نہیں جانا؟”

“ہاں سینما۔ سینما۔ (یہ کہہ کر وہ کرسی پر بیٹھ جاتے ہیں) ٹھیک ہے۔ سینما۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ کوئی نہ کوئی بات ضرور ایسی ہے جو مجھے یاد نہیں آتی اچھا ہوا تم نے یاد دلایا ورنہ مجھے رات بھر الجھن رہتی۔”

“تو چلو پھر اب چلیں۔”

“ہاں وہ تو چلیں ہی گے میں سوچ رہا تھا کہ آج ذرا کپڑے بدل لیتے۔ خدا جانے دھوبی کم بخت کپڑے بھی لایا ہے یا نہیں۔ یار ان دھوبیوں کا تو کوئی انتظام کرو۔”

اگر قتل انسانی ایک سنگین جرم نہ ہوتا تو ایسے موقع پر مجھ سے ضرور سرزد ہو جاتا لیکن کیا کروں اپنی جوانی پر رحم کھاتا ہوں بےبس ہوتا ہوں صرف یہی کر سکتا ہوں کہ: “مرزا بھئی للہ مجھ پر رحم کرو۔ میں سینما چلنے کو آیا ہوں دھوبیوں کا انتظام کرنے نہیں آیا۔ یار بڑے بدتمیز ہو پونے چھ بج چکے ہیں اور تم جوں کے توں بیٹھے ہو۔”

مرزا صاحب عجب مربیانہ تبسم کے ساتھ کرسی پر سے اٹھتے ہیں گویا یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ اچھا بھئی تمہاری طفلانہ خواہشات آخر ہم پوری کر رہی دیں۔ چنانچہ پھر یہ کہہ کر اندر تشریف لے جاتے ہیں کہ اچھا کپڑے پہن آؤں۔

مرزا صاحب کے کپڑے پہنے کا عمل اس قدر طویل ہے کہ اگر میرا اختیار ہوتا قانون کی رو سے انہیں کبھی کپڑے اتارنے ہی نہ دیتا۔ آدھ گھنٹے کے بعد وہ کپڑے پہنے ہوئے تشریف لاتے ہیں۔ ایک پان منہ میں دوسرا ہاتھ میں، میں بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہوں۔ دروازے تک پہنچ کر مڑ کر جو دیکھتا ہوں تو مرزا صاحب غائب۔ پھر اندر آ جاتا ہوں مرزا صاحب کسی کونے میں کھڑے کچھ کرید رہے ہوتے ہیں۔ “ارے بھئی چلو۔”

“چل تو رہا ہوں یار، آخر اتنی بھی کیا آفت ہے؟”

“اور یہ تم کیا کر رہے ہو؟”

“پان کے لیے ذرا تمباکو لے رہا تھا۔”

تمام راستے مرزا صاحب چہل قدمی فرماتے جاتے ہیں۔ میں ہر دو تین لمحے کے بعد اپنے آپ کو ان سے چارپانچ قدم آگے پاتا ہوں۔ کچھ دیر ٹھہر جاتا ہوں وہ ساتھ آ ملتے ہیں تو پھر چلنا شروع کر دیتا ہوں پھر آگے نکل جاتا ہوں پھر ٹھہر جاتا ہوں۔ غرض یہ کہ گو چلتا دوگنی تگنی رفتار سے ہوں لیکن پہنچتا ان کے ساتھ ہی ہوں۔

ٹکٹ لے کر اندر داخل ہوتے ہیں تو اندھیرا گھپ، بہتیرا آنکھیں جھپکتا ہوں کچھ سجھائی نہیں دیتا۔ ادھر سے کوئی آواز دیتا ہے۔ “یہ دروازہ بند کر دو جی!” یا اللہ اب جاؤں کہاں۔ رستہ، کرسی، دیوار، آدمی، کچھ بھی تو نظر نہیں آتا۔ ایک قدم بڑھاتا ہوں تو سر ان بالٹیوں سے جا ٹکراتا ہے جو آگ بجھانے کے لیے دیوار پر لٹکی رہتی ہیں، تھوڑی دیر کے بعد تاریکی میں کچھ دھندلے سے نقش دکھائی دینے لگتے ہیں۔ جہاں ذرا تاریک تر سا دھبہ دکھائی دے جائے۔ وہاں سمجھتا ہوں خالی کرسی ہو گی خمیدہ پشت ہو کر اس کا رخ کرتا ہوں، اس کے پاؤں کو پھاند کر اس کے ٹخنوں کو ٹھکرا۔خواتین کے گھنٹوں سے دامن بچا۔ آخرکار کسی گود میں جا کر بیٹھتا ہوں وہاں سے نکال دیا جاتا ہوں اور لوگوں کے دھکوں کی مدد سے کسی خالی کرسی تک جا پہنچتا ہوں مرزا صاحب سے کہتا ہوں: “میں نہ بکتا تھا کہ جلدی چلو خوامخواہ میں ہم کو رسوا کروا دیا نا! گدھا کہیں کا!” اس شگفتہ بیانی کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ ساتھ کی کرسی پر جو حضرت بیٹھے ہیں اور جن کو مخاطب کر رہا ہوں وہ مرزا صاحب نہیں کوئی اور بزرگ ہیں۔ اب تماشے کی طرف متوجہ ہوں اور سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں کہ فلم کون سا ہے اس کی کہانی کیا ہے اور کہاں تک پہنچ چکی ہے اور سمجھ میں صرف اس قدر آتا ہے کہ ایک مرد اور ایک عورت جو پردے پر بغلگیر نظر آتے ہیں ایک دوسرے کو چاہتے ہوں گے۔ اس انتظار میں رہتا ہوں کہ کچھ لکھا ہوا سامنے آئے تو معاملہ کھلے کہ اتنے میں سامنے کی کرسی پر بیٹھے ہوئے حضرات ایک وسیع و فراخ انگڑائی لیتے ہیں جس کے دوران میں کم از کم دو تین سو فٹ فلم گزر جاتا ہے۔ جب انگڑائی کو لپیٹ لیتے ہیں تو سر کو کھجانا شروع کر دیتے ہیں اور اس عمل کے بعد ہاتھ کو سر سے نہیں ہٹاتے بلکہ بازو کو ویسے خمیدہ رکھتے ہیں۔ میں مجبوراً سر کو نیچا کر کے چائے دانی کے اس دستے کے بیچ میں سے اپنی نظر کے لیے راستہ نکال لیتا ہوں اور اپنے بیٹھنے کے انداز سے بالکل ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ٹکٹ خریدے بغیر اندر گھس آیا ہوں اور چوروں کی طرح بیٹھا ہوا ہوں۔ تھوڑی دیر کے بعد انہیں کرسی کی نشست پر کوئی مچھر یا پسو محسوس ہوتا ہے چنانچہ وہ دائیں سے ذرا اونچے ہو کر بائیں طرف کو جھک جاتے ہیں۔ میں مصیبت کا مارا دوسری طرف جھک جاتا ہوں۔ ایک دو لمحے کے بعد وہی مچھر دوسری طرف ہجرت کر جاتا ہے چنانچہ ہم دونوں پھر سے پینترا بدل لیتے ہیں۔ غرض یہ کہ یہ دل لگی یوں ہی جاری رہتی ہے وہ دائیں تو میں بائیں اور وہ بائیں تو میں دائیں ان کو کیا معلوم کہ اندھیرے میں کیا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ دل یہی چاہتا ہے کہ اگلے درجے کا ٹکٹ لے کر ان کے آگے جا بیٹھوں۔ اور کہوں کہ لے بیٹا دیکھوں تو اب تو کیسے فلم دیکھتا ہے۔

پیچھے سے مرزا صاحب کی آواز آتی ہے: “یار تم سے نچلا نہیں بیٹھا جاتا۔ اب ہمیں ساتھ لائے ہو تو فلم تو دیکھنے دو۔”

اس کے بعد غصے میں آ کر آنکھیں بند کر لیتا ہوں اور قتل عمد، خودکشی، زہر خورانی وغیرہ معاملات پر غور کرنے لگتا ہے۔ دل میں، میں کہتا ہوں کہ ایسی کی تیسی اس فلم کی۔ سو سو قسمیں کھاتا ہوں کہ پھر کبھی نہ آؤں گا۔ اور اگر آیا بھی تو اس کم بخت مرزا سے ذکر تک نہ کروں گا۔ پانچ چھ گھنٹے پہلے سے آ جاؤں گا۔ اوپر کے درجے میں سب سے اگلی قطار میں بیٹھوں گا۔ تمام وقت اپنی نشست پر اچھلتا رہوں گا! بہت بڑے طرے والی پگڑی پہن کر آؤں گا اور اپنے اوور کوٹ کو دو چھڑیوں پر پھیلا کر لٹکا دوں گا! بہرحال مرزا کے پاس تک نہیں پھٹکوں گا!

لیکن اس کم بخت دل کو کیا کروں۔ اگلے ہفتے پھر کسی اچھی فلم کا اشتہار دیکھ کر پاتا ہوں تو سب سے پہلے مرزا کے ہاں جاتا ہوں اور گفتگو پھر وہیں سے شروع ہوتی ہے کہ کیوں بھئی اگلی جمعرات سے سینما چلو گے نا؟

marhoom ki yaad men by Pitras Bukhari

Articles

مرحوم کی یاد میں

پطرس بخاری

مرحوم کی یاد میں

ایک دن مرزا صاحب اور میں برآمدے میں ساتھ ساتھ کرسیاں ڈالے چپ چاپ بیٹھے تھے۔ جب دوستی بہت پرانی ہو جائے تو گفتگو کی چنداں ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اور دوست ایک دوسرے کی خاموشی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ یہی حالت ہماری تھی۔ ہم دونوں اپنے اپنے خیالات میں غرق تھے۔ مرزا صاحب تو خدا جانے کیا سوچ رہے تھے۔ لیکن میں زمانے کی ناسازگاری پر غور کر رہا تھا۔ دور سڑک پر تھوڑے تھوڑے وقفے کے بعد ایک موٹرکار گزر جاتی تھی۔ میری طبیعت کچھ ایسی واقع ہوئی ہے کہ میں جب کبھی کسی موٹرکار کو دیکھوں، مجھے زمانے کی ناسازگاری کا خیال ضرور ستانے لگتا ہے۔ اور میں کوئی ایسی ترکیب سوچنے لگتا ہوں جس سے دنیا کی تمام دولت سب انسانوں میں برابر برابر تقسیم کی جا سکے۔ اگر میں سڑک پر پیدل جا رہا ہوں اور کوئی موٹر اس ادا سے سے گزر جاۓ کہ گرد و غبار میرے پھیپھڑوں، میرے دماغ، میرے معدے اور میری تلّی تک پہنچ جائے تو اس دن میں گھر آ کر علم کیمیا کی وہ کتاب نکل لیتا ہوں جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔ اور اس غرض سے اُس کا مطالعہ کرنے لگتا ہوں کہ شاید بم بنانے کا کوئی نسخہ ہاتھ آ جائے۔

میں کچھ دیر تک آہیں بھرتا رہا۔ مرزا صاحب نے کچھ توجہ نہ کی۔ آخر میں نے خاموشی کو توڑا اور مرزا صاحب سے مخاطب ہو کر کہا۔

“مرزا صاحب۔ ہم میں اور حیوانوں میں کیا فرق ہے؟”

مرزا صاحب بولے۔ “بھئی کچھ ہو گا ہی نا آخر۔”

میں نے کہا۔ “میں بتاؤں تمہیں؟”

کہنے لگے۔ “بولو”۔

میں نے کہا۔ “کوئی فرق نہیں۔ سنتے ہو مرزا؟ کوئی فرق نہیں۔ ہم میں اور حیوانوں میں۔۔۔ کم از کم مجھ میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں! ہاں ہاں میں جانتا ہوں تم مین میخ نکالنے میں بڑے طاق ہو۔ کہہ دو گے۔ حیوان جگالی کرتے ہیں، تم جگالی نہیں کرتے۔ ان کے دم ہوتی ہے۔ تمہاری دم نہیں۔ لیکن ان باتوں سے کیا ہوتا ہے؟ ان سے تو صرف یہی ثابت ہوتا ہے کہ وہ مجھ سے افضل ہیں لیکن ایک بات میں، میں اور وہ بالکل برابر ہیں۔ وہ بھی پیدل چلتے ہیں اور میں بھی پیدل چلتا ہوں۔ اس کا تمہارے پاس کیا جواب ہے؟ جواب نہیں۔ کچھ ہے تو کہو۔ بس چپ ہو جاؤ۔ تم کچھ نہیں کر سکے۔ جب سے میں پیدا ہوا ہوں اور اس دن سے پیدل چل رہا ہوں۔

پیدل۔۔ تم پیدل کے معنی نہیں جانتے۔ پیدل کے معنی ہیں سینۂ زمین پر اس طرح سے حرکت کرنا کہ دونوں پاؤں میں ایک ضرور زمین پر رہے۔ یعنی تمام عمر میرے حرکت کرنے کا طریقہ یہی رہا ہے کہ ایک پاؤں زمین پر رکھتا ہوں اور دوسرا اٹھاتا ہوں۔ دوسرا رکھتا ہوں پہلا اٹھاتا ہوں۔ ایک آگے ایک پیچھے، ایک پیچھے ایک آگے۔ خدا کی قسم اس طرح زندگی سے دماغ سوچنے کے قابل نہیں رہتا۔ حواس بیکار ہو جاتے ہیں۔ تخیل مر جاتا ہے۔ آدمی گدھے سے بدتر ہو جاتا ہے۔”

مرزا صاحب میری اس تقریر کے دوران میں کچھ اس بے پروائی سے سگریٹ پیتے رہے کہ دوستوں کی بے وفائی پر رونے کو دل چاہتا تھا۔ میں نے از حد حقارت اور نفرت کے ساتھ منہ ان کی طرف پھیر لیا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مرزا کو میری باتوں پر یقین ہی نہیں آتا۔ گویا میں اپنی جو تکالیف بیان کر رہا ہوں وہ محض خیالی ہیں یعنی میرا پیدل چلنے کے خلاف شکایت کرنا قابل توجہ ہی نہیں۔ یعنی میں کسی سواری کا مستحق ہی نہیں۔ میں نے دل میں کہا۔ “اچھا مرزا یوں ہی سہی۔ دیکھو تو میں کیا کرتا ہوں۔”

میں نے اپنے دانت پچی کر لیے اور کرسی کے بازو پر سے جھک کر مرزا کے قریب پہنچ گیا۔ مرزا نے بھی سر میری طرف موڑا۔ میں مسکرا دیا لیکن میرے تبسم کا میں زہر ملا ہوا تھا۔

جب مرزا سننے کے لیے بالکل تیار ہو گیا تو میں نے چبا چبا کر کہا۔

“مرزا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔”

یہ کہہ کر میں بڑے استغنا کے ساتھ دوسری طرف دیکھنے لگا۔

مرزا پھر بولے۔ “کیا کہا تم نے؟ کیا خریدنے لگے ہو؟”

میں نے کہا۔ “سنا نہیں تم نے۔ ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں۔ موٹرکار ایک ایسی گاڑی ہے جس کو بعض لوگ موٹر کہتے ہیں، بعض لوگ کار کہتے ہیں لیکن چونکہ تم ذرا کند ذہن ہو، اس لیے میں نے دونوں لفظ استعمال کر دئے۔ تاکہ تمہیں سمجھنے میں کوئی دقت پیش نہ آئے”۔

مرزا بولے۔ “ہوں”۔

اب کے مرزا نہیں میں بے پروائی سے سگریٹ پینے لگا۔ بھویں میں نے اوپر کو چڑھا لیں۔ پھر سگریٹ والا ہاتھ منہ تک اس انداز سے لاتا اور لے جاتا تھا کہ بڑے بڑے ایکٹر اس پر رشک کریں۔

تھوڑی دیر کے بعد مرزا بولے۔ “ہوں”۔

میں سوچا اثر ہو رہا ہے۔ مرزا صاحب پر رعب پڑ رہا ہے۔ میں چاہتا تھا، مرزا کچھ بولے۔ تاکہ مجھے معلوم ہو، کہاں تک مرعوب ہوا ہے لیکن مرزا نے پھر کہا۔ “ہوں”۔

میں نے کہا۔ “مرزا جہاں تک مجھے معلوم ہے تم نے ا سکول اور کالج اور گھر پر دو تین زبانیں سیکھی ہیں۔ اور اس کے علاوہ تمہیں کئی ایسے الفاظ بھی آتے ہیں جو کسی ا سکول یا کالج یا شریف گھرانے میں نہیں بولے جاتے۔ پھر بھی اس وقت تمہارا کلام “ہوں” سے آگے نہیں بڑھتا۔ تم جلتے ہو۔ مرزا اس وقت تمہاری جو ذہنی کیفیت ہے، اس کو عربی زبان میں حسد کہتے ہیں۔”

مرزا صاحب کہنے لگے۔ “نہیں یہ بات تو نہیں، میں تو صرف خریدنے کے لفظ پر غور کر رہا تھا۔ تم نے کہا میں ایک موٹرکار خریدنے لگا ہوں تو میاں صاحب زادے خریدنا تو ایک ایسا فعل ہے کہ اس کے لیے روپے وغیرہ کی ضرورت ہوتی ہے۔ وغیرہ کا بندوبست تو بخوبی ہو جائے گا۔ لیکن روپے کا بندوبست کیسے کرو گے؟”

یہ نکتہ مجھے بھی نہ سوجھا تھا لیکن میں نے ہمت نہ ہاری۔ میں نے کہا۔ “میں اپنی کئی قیمتی اشیاء بیچ سکتا ہوں۔”

مرزا بولے۔ “کون کون سی مثلاً؟”

میں نے کہا۔ “ایک تو میں سگریٹ کیس بیچ ڈالوں گا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “چلو دس آنے تو یہ ہو گئے، باقی ڈھائی تین ہزار کا انتظام بھی طرح ہو جائے تو سب کام ٹھیک ہو جائے گا۔”

اس کے بعد ضروری یہی معلوم ہوا کہ گفتگو کا سلسلہ کچھ دیر کے لیے روک دیا جائے۔ چنانچہ میں مرزا سے بیزار ہو کر خاموش ہو رہا۔ یہ بات سمجھ میں نہ آئی کہ لوگ روپیہ کہاں سے لاتے ہیں۔ بہت سوچا۔ آخر اس نتیجے پر پہنچا کہ لوگ چوری کرتے ہیں۔ اس سے ایک گونہ اطمینان ہوا۔

مرزا بولے۔ “میں تمہیں ایک ترکیب بتاؤں ایک بائسیکل لے لو۔”

میں نے کہا۔ وہ روپیہ کا مسئلہ تو پھر بھی جوں کا توں رہا۔”

کہنے لگے۔ “مفت”۔

میں نے حیران ہو کر پوچھا۔ “مفت وہ کیسے؟”

کہنے لگے۔ “مفت ہی سمجھو۔ آخر دوست سے قیمت لینا بھی کہاں کی شرافت ہے۔ البتہ تم احسان قبول کرنا گوارا نہ کرو تو اور بات ہے۔”

ایسے موقع پر جو ہنسی میں ہنستا ہوں، اس میں معصوم بچے کی مسرت، جوانی کی خوش دلی، ابلتے ہوئے فواروں کی موسیقی، بلبلوں کا نغمہ سب ایک دوسرے کے ساتھ ملے ہوتے ہیں۔ چنانچہ میں یہ ہنسی ہنسا۔ اور اس طرح ہنسا کہ کھلی ہوئی باچھیں پھر گھنٹوں تک اپنی اصلی جگہ پر واپس نہ آئیں۔ جب مجھے یقین ہو گیا کہ یک لخت کوئی خوشخبری سننے سے دل کی حرکت بند ہو جانے کا جو خطرہ ہوتا ہے اس سے محفوظ ہوں، تو میں نے پوچھا۔ “کس کی؟”

مرزا بولے۔ “میرے پاس ایک بائیسکل پڑی ہے تم لے لو۔”

میں نے کہا۔ “پھر کہنا پھر کہنا!”

کہنے لگے۔ بھئی ایک بائیسکل میرے پاس ہے جب میری ہے، تو تمہاری ہے، تم لے لو۔”

یقین مانئے مجھ پر گھڑوں پانی پڑ گیا۔ شرم کے مارے میں پسینہ پسینہ ہو گیا۔ چودھویں صدی میں ایسی بےغرضی اور ایثار بھلا کہاں دیکھنے میں آتا ہے۔ میں نے کرسی سرکا کر مرزا کے پاس کر لی، سمجھ میں نہ آیا کہ اپنی ندامت اور ممنونیت کا اظہار کن الفاظ میں کروں۔

میں نے کہا۔ “مرزا صاحب سب سے پہلے تو میں اس گستاخی اور درشتی اور بے ادبی کے لیے معافی مانگتا ہوں، جو ابھی میں نے تمہارے ساتھ گفتگو میں روا رکھی، دوسرے میں آج تمہارے سامنے ایک اعتراف کرنا چاہتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ تم میری صاف گوئی کی داد دو گے اور مجھے اپنی رحم دلی کے صدقے معاف کر دو گے۔ میں ہمیشہ تم کو از حد کمینہ، ممسک، خودغرض اور عیار انسان سمجھتا رہا ہوں۔ دیکھو ناراض مت ہو۔ انسان سے غلطی ہوہی جاتی ہے۔ لیکن آج تم نے اپنی شرافت اور دوست پروری کا ثبوت دیا ہے اور مجھ پر ثابت کر دیا ہے کہ میں کتنا قابل نفرت، تنگ خیال اور حقیر شخص ہوں، مجھے معاف کر دو۔”

میری آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔ قریب تھا کہ میں مرزا کے ہاتھ بوسہ دیتا اور اپنے آنسوؤں کو چھپانے کے لیے اس کی گود میں سر رکھا دیتا، لیکن مرزا صاحب کہنے لگے۔

“واہ اس میں میری فیاضی کیا ہوتی، میرے پاس ایک بائیسکل ہے، جیسے میں سوار ہوا، ویسے تم سوار ہوئے۔”

میں نے کہا۔ “مرزا، مفت میں نہ لوں گا، یہ ہر گز نہیں ہو سکتا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “بس میں اسی بات سے ڈرتا تھا، تم حساس اتنے ہو کہ کسی کا احسان لینا گوارا نہیں کرتے حالانکہ خدا گواہ ہے، احسان اس میں کوئی نہیں۔”

میں نے کہا۔ “خیر کچھ بھی سہی، تم سچ مچ مجھے اس کی قیمت بتا دو۔”

مرزا بولے۔ “قیمت کا ذکر کر کے تم گویا مجھے کانٹوں میں گھسیٹنے ہو اور جس قیمت پر میں نے خریدی تھی، وہ تو بہت زیادہ تھی اور اب تو وہ اتنے کی رہی بھی نہیں۔”

میں نے پوچھا۔ “تم نے کتنے میں خریدی تھی؟”

کہنے لگے، “میں نے پونے دو سو روپے میں لی تھی، لیکن اُس زمانے میں بائیسکلوں کا رواج ذرا کم تھا، اس لیے قیمتیں ذرا زیادہ تھیں۔”

میں نے کہا۔ “کیا بہت پرانی ہے؟”

بولے۔ “نہیں ایسی پرانی بھی کیا ہوتی، میرا لڑکا اس پر کالج آیا جایا  کرتا تھا، اور اسے کالج چھوڑے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے، لیکن اتنا ضرور ہے کہ آج کل کی بائیسکلوں سے ذرا مختلف ہے، آج کل تو بائیسکلیں ٹین کی بنتی ہے۔ جہنیں کالج کے سرپھرے لونڈے سستی سمجھ کر خرید لیتے ہیں۔ پرانی بائیسکلوں کے ڈھانچے مضبوط ہوا کرتے تھے۔”

“مگر مرزا پونے دو سو روپے تو میں ہرگز نہیں دے سکتا، اتنے روپے میرے پاس کہاں سے آئے، میں تو اس سے آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا۔”

مرزا کہنے لگے۔ “تو میں تم سے پوری قیمت تھوڑی مانگتا ہوں، اول تو قیمت لینا نہیں چاہتا لیکن۔۔۔”

میں نے کہا۔ “نہ مرزا قیمت تو تمہیں لینی پڑے گی۔ اچھا تم یوں کرو میں تمہاری جیب میں کچھ روپے ڈال دیتا ہوں تم گھر جا کے گن لینا، اگر تمہیں منظور ہوئے تو کل بائیسکل بھیج دینا ورنہ روپے واپس کر دینا، اب یہاں بیٹھ کر میں تم سے سودا چکاؤں، یہ تو کچھ دکان داروں کی سی بات معلوم ہوتی ہے۔”

مرزا بولے۔ “بھئی جیسے تمہاری مرضی، میں تو اب بھی یہی کہتا ہوں کہ قیمت ویمت جانے دو لیکن میں جانتا ہوں کہ تم نہ مانو گے۔”

میں اٹھ کر اندر کمرے میں آیا، میں نے سوچا استعمال شدہ چیز کی لوگ عام طور پر آدھی قیمت دیتے ہیں لیکن جب میں نے مرزا سے کہا تھا کہ مرزا میں تو آدھی قیمت بھی نہیں دے سکتا تو مرزا اس پر معترض نہ ہوا تھا، وہ بیچارہ تو بلکہ یہی کہتا تھا کہ تم مفت ہی لے لو، لیکن مفت میں کیسے لے لوں۔ آخر بائیسکل ہے۔ ایک سواری ہے۔ فٹنوں اور گھوڑوں اور موٹروں اور تانگوں کے زمرے میں شمار ہوتی ہے۔ بکس کھولا تو معلوم ہوا کہ ہست و بود کل چھیالیس روپے ہیں۔ چھیالیس روپے تو کچھ ٹھیک رقم نہیں۔ پینتالیس یا پچاس ہوں، جب بھی بات ہے۔ پچاس تو ہو نہیں سکتے۔ اور اگر پینتالیس ہی دینے ہیں تو چالیس کیوں نہ دئے جائیں۔ جن رقموں کے آخر میں صفر آتا ہے وہ رقمیں کچھ زیادہ معقول معلوم ہوتی ہیں بس ٹھیک ہے، چالیس روپے دے دوں گا۔ خدا کرے مرزا قبول کر لے۔

باہر آیا چالیس روپے مٹھی میں بند کر کے میں نے مرزا کی جیب میں ڈال دئے اور کہا۔ “مرزا اس کو قیمت نہ سمجھنا۔ لیکن اگر ایک مفلس دوست کی حقیر سی رقم منظور کرنا تمہیں اپنی توہین معلوم نہ ہو تو کل بائیسکل بھجوا دینا”۔

مرزا چلنے لگے تو میں نے پھر کہا کہ مرزا کل ضرور صبح ہی صبح بھجوا دینا رخصت ہونے سے پہلے میں نے پھر ایک دفعہ کہا۔ “کل صبح آٹھ نو بجے تک پہنچ جائے، دیر نہ کر دینا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ اور دیکھو مرزا میرے تھوڑے سے روپوں کو بھی زیادہ سمجھنا۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔ اور تمہارا بہت بہت شکریہ، میں تمہارا بہت ممنون ہوں اور میری گستاخی کو معاف کر دینا، دیکھو نا کبھی کبھی یوں ہی بے تکلفی میں۔۔۔ کل صبح آٹھ نو بجے تک۔۔۔ ضرور۔۔۔ خدا حافظ۔۔۔”

مرزا کہنے لگے۔ “ذرا اس کو جھاڑ پونچھ لینا اور تیل وغیرہ ڈلوا لینا۔ میرے نوکر کو فرصت ہوئی تو خود ہی ڈلوا دوں گا، ورنہ تم خود ہی ڈلوا لینا”۔

میں نے کہا۔ “ہاں ہاں وہ سب کچھ ہو جائے گا، تم کل بھیج ضرور دینا اور دیکھنا آٹھ بجے تک ساڑھے آٹھ سات بجے تک پہنچ جائے۔ “اچھا۔۔۔ خدا حافظ!”

رات کو بستر پر لیٹا تو بائیسکل پر سیر کرنے کے مختلف پروگرام تجویز کرتا رہا۔ یہ ارادہ تو پختہ کر لیا کہ دو تین دن کے اندر اندر اردگرد کی تمام مشہور تاریخی عمارات اور کھنڈروں کو نئے سرے سے دیکھ ڈالوں گا۔ اس کے بعد اگلے گرمی کے موسم میں ہو سکا تو بائیسکل پر کشمیر وغیرہ کی سیر کروں گا۔ صبح صبح کی ہوا خوری کے لیے ہر روز نہر تک جایا کروں گا۔ شام کو ٹھنڈی سڑک پر جہاں اور لوگ سیر کو نکلیں گے میں بھی سڑک کی صاف شفاف سطح پر ہلکے ہلکے خاموشی کے ساتھ ہاتھی دانت کی ایک گیند کی مانند گزر جاؤں گا۔ ڈوبتے ہوئے آفتاب کی روشنی بائیسکل کے چمکیلے حصوں پر پڑے گی تو بائیسکل جگمگا اُٹھے گی اور ایسا معلوم ہو گا جیسے ایک راج ہنس زمین کے ساتھ ساتھ اُڑ رہا ہے۔ وہ مسکراہٹ جس کا میں اوپر ذکر کر چکا ہوں ابھی تک میرے ہونٹوں پر کھیل رہی تھی، بارہا دل چاہا کہ ابھی بھاگ کر آؤں اور اسی وقت مرزا کو گلے لگا لوں۔

رات کو خواب میں دعائیں مانگتا رہا کہ خدایا مرزا بائیسکل دینے پر رضامند ہو جائے۔ صبح اٹھا تو اٹھنے کے ساتھ ہی نوکر نے یہ خوشخبری سنائی کے حضور وہ بائیسکل آ گئی ہے۔ میں نے کہا۔ “اتنے سویرے؟”

نوکر نے کہا۔ “وہ تو رات ہی کو آ گئی تھی، آپ سو گئے تھے میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور ساتھ ہی مرزا صاحب کا آدمی یہ ڈھبریاں کسنے کا ایک اوزار بھی دے گیا ہے”۔

میں حیران تو ہوا کہ مرزا صاحب نے بائیسکل بھجوا دینے میں اس قدر عجلت سے کیوں کام لیا لیکن اس نتیجے پر پہنچا کہ آدمی نہایت شریف اور دیانت دار ہیں۔ روپے لے لیے تھے تو بائیسکل کیوں روک رکھتے۔

نوکر سے کہا۔ “دیکھو یہ اوزار یہیں چھوڑ جاؤ اور دیکھو بائیسکل کو کسی کپڑے سے خوب اچھی طرح جھاڑو۔ اور یہ موڑ پر جو بائیسکلوں والا بیٹھتا ہے اس سے جا کر بائیسکل میں ڈالنے کا تیل لے آؤ اور دیکھو، اے بھاگا کہاں جا رہا ہے ہم ضروری بات تم سے کہہ رہے ہیں، بائیسکل والے سے تیل کی ایک کپی بھی لے آنا ا ور جہاں جہاں تیل دینے کی جگہ ہے وہاں تیل دے دینا اور بائیسکلوں والے سے کہنا کہ کوئی گھٹیا سا تیل نہ دیدے۔ جس سے تمام پرزے ہی خراب ہو جائیں، بائیسکل کے پرزے بڑے نازک ہوتے ہیں اور بائیسکل باہر نکال رکھو، ہم ابھی کپڑے پہن کر آتے ہیں۔ ہم ذرا سیر کو جا رہے ہیں اور دیکھو صاف کر دینا اور بہت زور زور سے کپڑا بھی مت رگڑنا، بائیسکل کا پالش گھس جاتا ہے”۔

جلدی جلدی چائے پی، غسل خانے میں بڑے جوش خروش کے ساتھ “چل چل چنبیلی باغ میں” گاتا رہا اس کے بعد کپڑے بدلے، اوزار کو جیب میں ڈالا اور کمرے سے باہر نکلا۔

برآمدے میں آیا تو برآمدے کے ساتھ ہی ایک عجیب و غریب مشین پر نظر پڑی۔ ٹھیک طرح پہچان نہ سکا کہ کیا چیز ہے، نوکر سے دریافت کیا۔ “کیوں بے یہ کیا چیز ہے؟”

نوکر بولا۔ “حضور یہ بائیسکل ہے”۔

میں نے کہا۔ “بائیسکل؟ کس کی بائیسکل؟”

کہنے لگا۔ “مرزا صاحب نے بھجوائی ہے آپ کے لیے”۔

میں نے کہا۔ “اور جو بائیسکل رات کو انہوں نے بھیجی تھی وہ کہاں گئی؟”

کہنے لگا۔ “یہی تو ہے”؀۔

میں نے کہا۔ “کیا بکتا ہے جو بائیسکل مرزا صاحب نے کل رات کو بھیجی تھی وہ بائیسکل یہی ہے؟”

کہنے لگا۔ “جی ہاں”۔

میں نے کہا۔ “اچھا” اور پھر اسے دیکھنے لگا۔ اس کو صاف کیوں نہیں کیا؟”

“اس کو دو تین دفعہ صاف کیا ہے؟”

“تو یہ میلی کیوں ہے؟”

نوکر نے اس کا جواب دینا شاید مناسب نہ سمجھا۔

“اور تیل لایا؟”

“ہاں حضور لایا ہوں”۔

“دیا”؟

“حضور وہ تیل دینے کے چھید ہوتے ہیں وہ نہیں ملتے”۔

“کیا وجہ ہے؟”

“حضور دھُروں پر میل اور زنگ جما ہے۔ وہ سوراخ کہیں بیچ ہی میں دب دبا گئے ہیں”۔

رفتہ رفتہ میں اس چیز کے قریب آیا۔ جس کو میرا نوکر بائیسکل بتا رہا تھا۔ اس کے مختلف پرزوں پر غور کیا تو اتنا تو ثابت ہو گیا کہ یہ بائیسکل ہے لیکن مجموعی ہیئت سے یہ صاف ظاہر تھا کہ بل اور رہٹ اور چرخہ اور اس طرح کی ایجادات سے پہلے کی بنی ہوئی ہے۔ پہیے کو گھما گھما کر وہ سوراخ تلاش کیا جہاں کسی زمانے میں تیل دیا جاتا تھا۔ لیکن اب اس سوراخ میں سے آمدورفت کا سلسلہ بند تھا۔ چنانچہ نوکر بولا۔ “حضور وہ تیل تو سب ادھر اُدھر بہہ جاتا ہے۔ بیچ میں تو جاتا ہی نہیں۔”

میں نے کہا۔ “اچھا اوپر اوپر ہی ڈال دو یہ بھی مفید ہوتا ہے”۔

آخرکار بائیسکل پر سوار ہوا۔ پہلا ہی پاؤں چلایا تو ایسا معلوم ہوا جیسے کوئی مردہ اپنی ہڈیاں چٹخا چٹخا کر اپنی مرضی کے خلاف زندہ ہو رہا ہے۔ گھر سے نکلتے ہی کچھ تھوڑی سی اترائی تھی اس پر بائیسکل خودبخود چلنے لگی لیکن اس رفتار سے جیسے تارکول زمین پر بہتا ہے اور ساتھ ہی مختلف حصوں سے طرح طرح کی آوازیں برآمد ہونی شروع ہوئی۔ ان آوازوں کے مختلف گروہ تھے۔ چیں۔ چاں۔ چوں قسم کی  آوازیں زیادہ تر گدی کے نیچے اور پچھلے پہیے سے نکلتی تھیں۔ کھٹ، کھڑ کھڑ۔کھڑڑ کے قبیل کی آوازیں مڈگارڈوں سے آتی تھی۔ چر۔ چرخ۔ چر۔چرخ کی قسم کے سُر زنجیر اور پیڈل سے نکلتے تھے۔ زنجیر ڈھیلی ڈھیلی تھی۔ میں جب کبھی پیڈل پر زور ڈالتا تھا، زنجیر میں ایک انگڑائی سی پیدا ہوتی تھی جس سے وہ تن جاتی تھی اور چڑ چڑ بولنے لگتی تھی اور پھر ڈھیلی ہو جاتی تھی۔ پچھلا پہیہ گھومنے کے علاوہ جھومتا بھی تھا۔ یعنی ایک تو آگے کو چلتا تھا اور اس کے علاوہ دہنے سے بائیں اور بائیں سے دہنے کو بھی حرکت کرتا تھا۔ چنانچہ سڑک پر جو نشان پڑ جاتا تھا اس کو دیکھ کر ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے کوئی مخمور سانپ لہرا کر نکل گیا ہے۔ مڈگارڈ تھے تو سہی لیکن پہیوں کے عین اوپر نہ تھے۔ ان کا فائدہ صرف یہ معلوم ہوتا تھا کہ انسان شمال کی سمت سیر کرنے کو نکلے اور آفتاب مغرب میں غروب ہو رہا ہو تو مڈگارڈوں کی بدولت ٹائر دھوپ سے بچے رہیں گے۔

اگلے پہیے کے ٹائر میں ایک بڑا سا پیوند لگا تھا جس کی وجہ سے پہیہ ہر چکر میں ایک دفعہ لمحہ بھر کو زور سے اوپر اُٹھ جاتا تھا اور میرا سر پیچھے کو یوں جھٹکے کھا رہا تھا جیسے کوئی متواتر تھوڑی کے نیچے مکے مارے جا رہا ہو۔ پچھلے اور اگلے پہیے کو ملا کر چوں چوں پھٹ۔ چوں چوں پھٹ۔۔۔ کی صدا نکل رہی تھی۔ جب اتار پر بائیسکل ذرا تیز ہوئی تو فضاء میں ایک بھونچال سا آگیا۔ اور بائیسکل کے کئی اور پرزے جو اب تک سو رہے تھے۔ بیدار ہو کر گویا ہوئے۔ ادھر اُدھر کے لوگ چونکے۔ ماؤں نے اپنے بچوں کو اپنے سینوں سے لگا لیا۔ کھڑڑ کھڑڑ کے بیچ میں پہیوں کی آواز جدا سنائی رہی تھی لیکن چونکہ بائیسکل اب پہلے سے تیز تھی اس لیے چوں چوں پھٹ، چوں چوں پھٹ کی آواز نے اب چچوں پھٹ، چچوں پھٹ، کی صورت اختیار کر لی تھی۔ تمام بائیسکل کسی ادق افریقی زبان کی گردانیں دہرا رہی تھی۔

اس قدر تیز رفتاری بائیسکل کی طبع نازک پر گراں گزری۔ چنانچہ اس میں یک لخت دو تبدیلیاں واقع ہو گئیں۔ ایک تو ہینڈل ایک طرف کو مڑ گیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ میں جاتو سامنے کو رہا تھا لیکن میرا تمام جسم دائیں طرف کو مڑا ہوا تھا۔ اس کے علاوہ بائیسکل کی گدی دفعتاً چھ انچ کے قریب نیچے بیٹھ گئی۔ چنانچہ جب پیڈل چلانے کے لیے میں ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا تو میرے گھٹنے میری تھوڑی تک پہنچ جاتے تھے۔ کمر دہری ہو کر باہر کو نکلی ہوئی تھی اور ساتھ ہی اگلے پہیے کی اٹھکیلیوں کی وجہ سے سر برابر جھٹکے کھا رہا تھا۔

گدی کا نیچا ہو جانا از حد تکلیف دہ ثابت ہوا۔ اس لیے میں نے مناسب یہی سمجھا کہ اس کو ٹھیک کر لوں۔ چنانچہ میں نے بائیسکل کو ٹھہرا لیا اور نیچے اترا۔ بائیسکل کے ٹھہر جانے سے یک لخت جیسے دنیا میں ایک خاموشی سی چھا گئی۔ ایسا معلوم ہوا جیسے میں کسی ریل کے اسٹیشن سے نکل کر باہر آگیا ہوں۔ جیب سے میں نے اوزار نکالا، گدی کو اونچا کیا، کچھ ہینڈل کو ٹھیک کیا اور دوبارہ سوار ہو گیا۔

دس قدم بھی چلنے نہ پایا تھا کہ اب کے ہینڈل یک لخت نیچا ہو گیا۔ اتنا کہ گدی اب ہینڈل سے کوئی فٹ بھر اونچی تھی۔ میرا تمام جسم آگے کو جھکا ہوا تھا، تمام بوجھ دونوں ہاتھوں پر تھا جو ہینڈل پر رکھے تھے اور برابر جھٹکے کھا رہے تھے۔ آپ میری حالت کو تصور کریں تو آپ معلوم ہو گا کہ میں دور سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے کوئی عورت آٹا گوندھ رہی ہو۔ مجھے اس مشابہت کا احساس بہت تیز تھا جس کی وجہ سے میرے ماتھے پر پسینہ آگیا۔ میں دائیں بائیں لوگوں کو کنکھیوں سے دیکھتا جاتا تھا۔ یوں تو ہر شخص میل بھر پہلے ہی سے مڑ مڑ کر دیکھنے لگتا تھا لیکن ان میں کوئی بھی ایسا نہ تھا جس کے لیے میری مصیبت ضیافت طبع کا باعث نہ ہو۔

ہینڈل تو نیچا ہو ہی گیا تھا۔ تھوڑی دیر کے بعد گدی بھی پھر نیچی ہو گئی اور میں ہمہ تن زمین کے قریب پہنچ گیا۔ ایک لڑکے نے کہا۔ “دیکھو یہ آدمی کیا کر رہا ہے”۔ گویا اس بدتمیز کے نزدیک میں کوئی کرتب دکھا رہا تھا۔ میں نے اتر کر پھر ہینڈل اور گدی کو اونچا کیا۔

لیکن تھوڑی دیر کے بعد ان میں سے ایک نہ ایک پھر نیچا ہو جاتا۔ وہ لمحے جن کے دوران میں میرا ہاتھ اور میرا جسم دونوں ہی بلندی پر واقع ہوں بہت ہی کم تھے اور ان میں بھی میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ اب کہ گدی پہلے بیٹھے گی یا ہینڈل؟ چنانچہ نڈر ہو کر نہ بیٹھتا بلکہ جسم کو گدی سے قدرے اوپر ہی رکھتا لیکن اس سے ہینڈل پر اتنا بوجھ پڑ جاتا کہ وہ نیچا ہو جاتا۔

جب دو میل گزر گئے اور بائیسکل کی اٹھک بیٹھک نے ایک مقرر باقاعدگی اختیار کر لی تو فیصلہ کیا کہ کسی مستری سے پیچ کسوا لینے چاہئیں چنانچہ بائیسکل کو ایک دکان پر لے گیا۔ بائیسکل کی کھڑ کھڑ سے دوکان میں جتنے لوگ کام کر رہے تھے، سب کے سب سر اٹھا کر میری طرف دیکھنے لگے لیکن میں نے جی کڑا کر کے کہا۔”ذرا اس کی مرمت کر دیجئے”۔ ایک مستری آگے بڑھا لوہے کی ایک سلاخ اس کے ہاتھ میں تھی جس سے اس نے مختلف حصوں کو بڑی بےدردی سے ٹھوک بجا کر دیکھا۔ معلوم ہوتا تھا اس نے بڑی تیزی کے ساتھ سب حالات کا اندازہ لگا لیا ہے لیکن پھر بھی مجھ سے پوچھنے لگا۔ “کس کس پرزے کی مرمت کرائیے گا”؟

میں نے کہا۔ “بڑے گستاخ ہو تم دیکھتے نہیں کہ صرف ہینڈل اور گدی کو ذرا اونچا کروا کے کسوانا ہے بس اور کیا؟ ان کو مہربانی کر کے فوراً ٹھیک کرو اور بتاؤ کتنے پیسے ہوئے؟”

مستری نے کہا۔ “مڈگارڈ بھی ٹھیک نہ کر دوں؟”

میں نے کہا۔ “ہاں، وہ بھی ٹھیک کر دو”۔

کہنے لگا۔ ” اگر آپ باقی چیزیں بھی ٹھیک کرا لیں تو اچھا ہو”۔

میں نے کہا۔ “اچھا کر دو”۔

بولا۔ “یوں تھوڑا ہو سکتا ہے۔ دس پندرہ دن کا کام ہے آپ اسے ہمارے پاس چھوڑ جائیے۔”

“اور پیسے کتنے لو گے؟”

کہنے لگا۔ “بس چالیس روپے لگیں گے”۔

ہم نے کہا۔ “بس جی جو کام تم سے کہا ہے کر دو اور باقی ہمارے معاملات میں دخل مت دو۔”

تھوڑی دیر بعد ہینڈل اور گدی پھر اونچی کر کے کس دی گئی۔ میں چلنے لگا تو مستری نے کہا میں نے کس تو دیا ہے لیکن پیچ سب گھسے ہوئے ہیں، ابھی تھوڑی دیر میں پھر ڈھیلے ہو جائیں گے۔”

میں نے کہا۔ “بدتمیز کہیں کا،تو دو آنے پیسے مفت میں لے لیے؟”

بولا۔ “جناب آپ کو بائیسکل بھی مفت میں ملی ہو گی، یہ آپ کے دوست مرزا صاحب کی ہے نا؟ للّو یہ وہی بائیسکل ہے جو پچھلے سال مرزا صاحب یہاں بیچنے کو لائے تھے۔ پہچانی تم نے؟ بھئی صدیاں ہی گزر گئیں لیکن اس بائیسکل کی خطاء معاف ہونے میں نہیں آتی۔”

میں نے کہا۔ “واہ مرزا صاحب کے لڑکے اس پر کالج آیا جایا کرتے تھے اور ان کو ابھی کالج چھوڑے دو سال بھی نہیں ہوئے۔”

مستری نے کہا۔ “ہاں وہ تو ٹھیک ہے لیکن مرزا صاحب خود جب کالج میں پڑھتے تھے تو ان کے پاس بھی تو یہی بائیسکل تھی۔”

میری طبیعت یہ سن کر کچھ مردہ سی ہو گئی۔ میں نے بائیسکل کو ساتھ لیے آہستہ آہستہ پیدل چل پڑا۔ لیکن پیدل چلنا بھی مشکل تھا۔ اس بائیسکل کے چلانے میں ایسے ایسے پٹھوں پر زور پڑتا تھا جو عام بائیسکلوں کو چلانے میں استعمال نہیں ہوتے۔ اس لیے ٹانگوں اور کندھوں اور کمر اور بازوؤں میں جا بجا درد ہو رہا تھا۔ مرزا کا خیال رہ رہ کر آتا تھا۔ لیکن میں ہر بار کوشش کر کے اسے دل سے ہٹا دیتا تھا، ورنہ میں پاگل ہو جاتا اور جنون کی حالت میں پہلے حرکت مجھ سے یہ سرزد ہوئی کہ مرزا کے مکان کے سامنے بازار میں ایک جلسہ منعقد کرتا جس میں مرزا کی مکاری، بے ایمانی اور دغا بازی پر ایک طویل تقریر کرتا۔ کل بنی نوع انسان اور آئندہ آنے والی نسلوں کی ناپاک فطرت سے آگاہ کر دیتا اور اس کے بعد ایک چتا جلا کر اس میں زندہ جل کر مر جاتا۔

میں نے بہتر یہی سمجھا کہ جس طرح ہو سکے اب اس بائیسکل کو اونے پونے داموں میں بیچ کر جو وصول ہوا اسی پر صبر شکر کروں۔ بلا سے دس پندرہ روپیہ کا خسارہ سہی۔ چالیس کے چالیس روپے تو ضائع نہ ہوں گے۔ راستے میں بائیسکلوں کی ایک اور دکان آئی وہاں ٹھہر گیا۔

دکاندار بڑھ کر میرے پاس آیا لیکن میری زبان کو جیسے قفل لگ گیا تھا۔ عمر بھر کسی چیز کے بیچنے کی نوبت نہ آئی تھی مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ایسے موقع پر کیا کہتے ہیں آخر بڑے سوچ بچار اور بڑے تامل کے بعد منہ سے صرف اتنا نکلا کہ یہ “بائیسکل” ہے۔

دکاندار کہنے لگا۔ “پھر؟”

میں نے کہا۔ “لو گے”۔

کہنے لگا۔ “کیا مطلب؟”

میں نے کہا۔ “بیچتے ہیں ہم۔”

دکاندار نے مجھے ایسے نظر سے دیکھا کہ مجھے یہ محسوس ہوا مجھ پر چوری کا شبہ کر رہا ہے۔ پھر بائیسکل کو دیکھا۔ پھر مجھے دیکھا، پھر بائیسکل کو دیکھا۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ فیصلہ نہیں کر سکتا آدمی کون سا ہے اور بائیسکل کون سی ہے؟ آخرکار بولا۔ “کیا کریں گے آپ اس کو بیچ کر؟”

ایسے سوالوں کا خدا جانے کیا جواب ہوتا ہے۔ میں نے کہا۔ “کیا تم یہ پوچھنا چاہتے ہو کہ جو روپے مجھے وصول ہوں گے ان کا مصرف کیا ہو گا؟”

کہنے لگا۔ “وہ تو ٹھیک ہے مگر کوئی اس کو لے کر کرے گا کیا؟”

میں نے کہا۔ “اس پر چڑھے گا اور کیا کرے گا۔”

کہنے لگا۔ “اچھا چڑھ گیا۔ پھر؟”

میں نے کہا۔ “پھر کیا؟ پھر چلائے گا اور کیا؟”

دکاندار بولا۔ “اچھا؟ ہوں۔ خدا بخش ذرا یہاں آنا۔ یہ بائیسکل بکنے آئی ہے۔”

جن حضرت کا اسم گرامی خدا بخش تھا انہوں نے بائیسکل کو دور ہی سے یوں دیکھا جیسے بو سونگھ رہے ہوں۔ اس کے بعد دونوں نے آپس میں مشورہ کیا، آخر میں وہ جن کا نام خدا بخش نہیں تھا میرے پاس آئے اور کہنے لگے۔ “تو آپ سچ مچ بیچ رہے ہیں؟”

میں نے کہا۔ “تو اور کیا محض آپ سے ہم کلام ہونے کا فخر حاصل کرنے کے لیے میں گھر سے یہ بہانہ گھڑ کر لایا تھا؟”

کہنے لگا۔ “تو کیا لیں گے آپ؟”

میں نے کہا۔ “تم ہی بتاؤ۔”

کہنے لگا۔ “سچ مچ بتاؤں؟”

میں نے کہا۔ “اب بتاؤ گے بھی یا یوں ہی ترساتے رہو گے؟”

کہنے لگا۔ “تین روپے دوں گا اس کے۔”

میرا خون کھول اٹھا اور میرے ہاتھ پاؤں اور ہونٹ غصے کے مارے کانپنے لگے۔ میں نے کہا۔

“او صنعت و حرفت سے پیٹ پالنے والے نچلے طبقے کے انسان، مجھے اپنی توہین کی پروا نہیں لیکن تو نے اپنی بیہودہ گفتاری سے اس بے زبان چیز کو جو صدمہ پہنچایا ہے اس کے لیے میں تجھے قیامت تک معاف نہیں کر سکتا۔”یہ کہہ کر میں بائیسکل پر سوار ہو گیا اور اندھا دھند پاؤں چلانے لگا۔

مشکل سے بیس قدم گیا ہوں گا کہ مجھے ایسا معلوم ہوا کہ جیسے زمین یک لخت اچھل کر مجھ سے آ لگی ہے۔ آسمان میرے سر پر سے ہٹ کر میری ٹانگوں کے بیچ میں سے گزر گیا اور ادھر اُدھر کی عمارتوں نے ایک دوسرے کے ساتھ اپنی اپنی جگہ بدل لی ہے۔ حواس بجا ہوئے تو معلوم ہوا میں زمین پر اس بے تکلفی سے بیٹھا ہوں، گویا بڑی مدت سے مجھے اس بات کا شوق تھا جو آج پورا ہوا۔ اردگرد کچھ لوگ جمع تھے جس میں سے اکثر ہنس رہے تھے۔ سامنے دکان تھی جہاں ابھی ابھی میں نے اپنی ناکام گفت و شنید کا سلسلہ منقطع کیا تھا۔ میں نے اپنے گرد و پیش پر غور کیا تو معلوم ہوا کہ میری بائیسکل کا اگلہ پہیہ بالکل الگ ہو کر لڑھکتا ہوا سڑک کے اس پار جا پہنچا ہے اور باقی سائیکل میرے پاس پڑی ہے۔ میں نے فوراً اپنے آپ کو سنبھالا جو پہیہ الگ ہو گیا تھا اس کو ایک ہاتھ میں اٹھایا دوسرے ہاتھ میں باقی ماندہ بائیسکل کو تھاما اور چل کھڑا ہوا۔ یہ محض ایک اضطراری حرکت تھی ورنہ حاشا و کلا وہ بائیسکل مجھے ہرگز اتنی عزیز نہ تھی کہ میں اس کو اس حالت میں ساتھ ساتھ لیے پھرتا۔

جب میں یہ سب کچھ اٹھا کر چل دیا تو میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ یہ تم کیا کر رہے ہو، کہاں جا رہے ہو؟ تمہارا ارادہ کیا ہے۔ یہ دو پہیے کا ہے کو لے جا رہے ہو؟

سب سوالوں کا جواب یہی ملا کہ دیکھا جائے گا۔ فی الحال تم یہاں سے چل دو۔ سب لوگ تمہیں دیکھ رہے ہیں۔ سر اونچا رکھو اور چلتے جاؤ۔ جو ہنس رہے ہیں، انہیں ہنسنے دو، اس قسم کے بیہودہ لوگ ہر قوم اور ہر ملک میں پائے جاتے ہیں۔ آخر ہوا کیا۔ محض ایک حادثہ۔ بس دائیں بائیں مت دیکھو۔ چلتے جاؤ۔

لوگوں کے ناشائستہ کلمات بھی سنائی دے رہے تھے۔ ایک آواز آئی۔ “بس حضرت غصہ تھوک ڈالئے۔” ایک دوسرے صاحب بولے۔ “بےحیا بائیسکل گھر پہنچ کے تجھے مزا چکھاؤں گا۔” ایک والد اپنے لخت جگر کی انگلی پکڑے جا رہے تھے۔ میری طرف اشارا کر کے کہنے لگے۔ “دیکھا بیٹا یہ سرکس کی بائیسکل ہے۔ اس کے دونوں پہیے الگ الگ ہوتے ہیں۔”

لیکن میں چلتا گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد میں آبادی سے دور نکل گیا۔ اب میری رفتار میں ایک عزیمت پائی جاتی تھی۔ میرا دل جو کئی گھنٹوں سے کشمکش میں پیچ و تاب کھا رہا تھا اب بہت ہلکا ہو گیا تھا۔ میں چلتا گیا چلتا گیا حتیٰ کہ دریا پر جا پہنچا۔ پل کے اوپر کھڑے ہو کر میں نے دونوں پہیوں کو ایک ایک کر کے اس بے پروائی کے ساتھ دریا میں پھینک دیا جیسے کوئی لیٹر بکس میں خط ڈالتا ہے۔ اور واپس شہر کو روانہ ہو گیا۔

سب سے پہلے مرزا کے گھر گیا۔ دروازہ کھٹکھٹایا۔ مرزا بولے۔ “اندر آ جاؤ”۔

میں نے کہا۔ آپ ذرا باہر تشریف لائیے۔ میں آپ جیسے خدا رسیدہ بزرگ کے گھر وضو کیے بغیر کیسے داخل ہو سکتا ہوں۔”

باہر تشریف لائے تو میں نے وہ اوزار ان کی خدمت میں پیش کیا جو انہوں نے بائیسکل کے ساتھ مفت ہی مجھ کو عنایت فرمایا تھا اور کہا:

“مرزا صاحب آپ ہی اس اوزار سے شوق فرمایا کیجیے میں اب سے بے نیاز ہو چکا ہوں۔”

گھر پہنچ کر میں نے پھر علم کیمیا کی اس کتاب کا مطالعہ شروع کیا جو میں نے ایف۔اے میں پڑھی تھی۔

Lahur ka Geography

Articles

لاہور کا جغرافیہ

پطرس بخاری

لاہور کا جغرافیہ

تمہید

تمہید کے طور پر صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ لاہور کو دریافت ہوئے اب بہت عرصہ گزر چکا ہے، اس لیے دلائل و براہین سے اس کے وجود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ کہنے کی اب ضرورت نہیں کہ کُرے کو دائیں سے بائیں گھمائیے۔ حتیٰ کہ ہندوستان کا ملک آپ کے سامنے آ کر ٹھہر جائے پھر فلاں طول البلد اور فلاں عرض البلد کے مقام انقطاع پر لاہور کا نام تلاش کیجئے۔ جہاں یہ نام کُرے پر مرقوم ہو، وہی لاہور کا محل وقوع ہے۔ اس ساری تحقیقات کو مختصر مگر جامع الفاظ میں بزرگ یوں بیان کرتے ہیں کہ لاہور، لاہور ہی ہے، اگر اس پتے سے آپ کو لاہور نہیں مل سکتا، تو آپ کی تعلیم ناقص اور آپ کی دہانت فاتر ہے۔

محل وقوع

ایک دو غلط فہمیاں البتہ ضرور رفع کرنا چاہتا ہوں۔ لاہور پنجاب میں واقع ہے۔ لیکن پنجاب اب پنج آب نہیں رہا۔ اس پانچ دریاؤں کی سرزمین میں اب صرف چار دریا بہتے ہیں۔ اور جو نصف دریا ہے، وہ تو اب بہنے کے قابل بھی نہیں رہا۔ اسی کو اصطلاح میں راوی ضعیف کہتے ہیں۔ ملنے کا پتہ یہ ہے کہ شہر کے قریب دو پل بنے ہیں۔ ان کے نیچے ریت میں دریا لیٹا رہتا ہے۔ بہنے کا شغل عرصے سے بند ہے، اس لیے یہ بتانا بھی مشکل ہے کہ شہر دریا کے دائیں کنارے پر واقع ہے یا بائیں کنارے پر۔ لاہور تک پہنچنے کے کئی رستے ہیں۔ لیکن دو ان میں سے بہت مشہور ہیں۔ ایک پشاور سے آتا ہے اور دوسرا دہلی سے۔ وسط ایشیا کے حملہ آور پشاور کے راستے اور یو۔پی کے رستے وارد ہوتے ہیں۔ اول الذکر اہل سیف کہلاتے ہیں اور غزنوی یا غوری تخلص کرتے ہیں مؤخر الذکر اہل زبان کہلاتے ہیں۔ یہ بھی تخلص کرتے ہیں، اور اس میں ید طولیٰ رکھتے ہیں۔

حدود اربعہ

کہتے ہیں، کسی زمانے میں لاہور کا حدود اربعہ بھی ہوا کرتا تھا، لیکن طلباء کی سہولت کے لیے میونسپلٹی نے اس کو منسوخ کر دیا ہے۔ اب لاہور کے چاروں طرف بھی لاہور ہی واقعہ ہے۔ اور روزبروز واقع تر ہو رہا ہے۔ ماہرین کا اندازہ ہے، کہ دس بیس سال کے اندر لاہور ایک صوبے کا نام ہو گا۔ جس کا دار الخلافہ پنجاب ہو گا۔ یوں سمجھئے کہ لاہور ایک جسم ہے، جس کے ہر حصے پر ورم نمودار ہو رہا ہے، لیکن ہر ورم مواد فاسد سے بھرا ہے۔ گویا یہ توسیع ایک عارضہ ہے۔ جو اس کے جسم کو لاحق ہے۔

آب و ہوا

لاہور کی آب و ہوا کے متعلق طرح طرح کی روایات مشہور ہیں، جو تقریباً سب کی سب غلط ہیں، حقیقت یہ ہے کہ لاہور کے باشندوں نے حال ہی میں یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ اور شہروں کی طرح ہمیں بھی آب و ہوا دی جائے، میونسپلٹی بڑی بحث و تمحیص کے بعد اس نتیجہ پر پہنچی کہ اس ترقی کے دور میں جبکہ دنیا میں کئی ممالک کو ہوم رول مل رہا ہے اور لوگوں میں بیداری کے آثار پیدا ہو رہے ہیں، اہل لاہور کی یہ خواہش ناجائز نہیں۔ بلکہ ہمدردانہ غور و خوض کی مستحق ہے۔

لیکن بدقسمتی سے کمیٹی کے پاس ہوا کی قلت تھی، اس لیے لوگوں کو ہدایت کی گئی کہ مفاد عامہ کے پیش نظر اہل شہر ہوا کا بیجا استعمال نہ کریں، بلکہ جہاں تک ہو سکے کفایت شعاری سے کام لیں۔ چنانچہ اب لاہور میں عام ضروریات کے لیے ہوا کے بجائے گرد اور خاص خاص حالات میں دھواں استعمال کیا جاتا ہے۔ کمیٹی نے جا بجا دھوئیں اور گرد کے مہیا کرنے لیے مرکز کھول دئے ہیں۔ جہاں یہ مرکبات مفت تقسیم کئے جاتے ہیں۔ امید کی جاتی ہے، کہ اس سے نہایت تسلی بخش نتائج برآمد ہوں گے۔

بہم رسائی آب کے لیے ایک ا سکیم عرصے سے کمیٹی کے زیر غور ہے۔ یہ ا سکیم نظام سقے کے وقت سے چلی آتی ہے لیکن مصیبت یہ ہے کہ نظام سقے کے اپنے ہاتھ کے لکھئے ہوئے اہم مسودات بعض تو تلف ہو چکے ہیں اور جو باقی ہیں ان کے پڑھنے میں بہت دقت پیش آ رہی ہے اس لیے ممکن ہے تحقیق و تدقیق میں چند سال اور لگ جائیں، عارضی طور پر پانی کا یہ انتظام کیا گیا ہے کہ فی الحال بارش کے پانی کو حتی الوسع شہر سے باہر نکلنے نہیں دیتے۔ اس میں کمیٹی کو بہت کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ امید کی جاتی ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں ہر محلے کا اپنا ایک دریا ہو گا جس میں رفتہ رفتہ مچھلیاں پیدا ہوں گی اور ہر مچھلی کے پیٹ میں کمیٹی کی ایک انگوٹھی ہو گی جو رائے دہندگی کے موقع پر ہر رائے دہندہ پہن کر آئے گا۔

نظام سقے کے مسودات سے اس قدر ضرور ثابت ہوا ہے کہ پانی پہنچانے کے لیے نل ضروری ہیں چنانچہ کمیٹی نے کروڑوں روپے خرچ کر کے جا بجا نل لگوا دئے ہیں۔ فی الحال ان میں ہائیڈروجن اور آکیسجن بھری ہے۔ لیکن ماہرین کی رائے ہے کہ ایک نہ ایک دن یہ گیسیں ضرور مل کر پانی بن جائیں گی۔ چنانچہ بعض بعض نلوں میں اب بھی چند قطرے روزانہ ٹپکتے ہیں۔ اہل شہر کو ہدایت کی گئی ہے، کہ اپنے اپنے گھڑے نلوں کے نیچے رکھ چھوڑیں تاکہ عین وقت پر تاخیر کی وجہ سے کسی کو دل شکنی نہ ہو، شہر کے لوگ اس پر بہت خوشیاں منا رہے ہیں۔

ذرائع آمد و رفت

جو سیاح لاہور تشریف لانے کا ارادہ رکھے ہوں، ان کو یہاں کے ذرائع آمدورفت کے متعلق چند ضروری باتیں ذہن نشین کر لینی چاہئیں۔ تاکہ وہ یہاں کی سیاحت سے کماحقہ اثرپذیر ہو سکیں۔ جو سڑک بل کھاتی ہوئی لاہور کے بازاروں میں سے گزرتی ہے، تاریخی اعتبار سے بہت اہم ہے۔ یہ وہی سڑک ہے جسے شیر شاہ سوری نے بنایا تھا۔ یہ آثار قدیمہ میں شمار ہوتی ہے اور بےحد احترام کی نظروں سے دیکھی جاتی ہے۔ چنانچہ اس میں کسی قسم کا رد و بدل گوارا نہیں کیا جاتا۔ وہ قدیم تاریخی گڑھے اور خندقیں جوں کی توں موجود ہیں۔ جنھوں نے کئی سلطنتوں کے تختے اُلٹ دئے تھے۔ آج کل بھی کئی لوگوں کے تختے یہاں اُلٹتے ہیں۔ اور عظمت رفتہ کی یاد دلا کر انسان کو عبرت سکھاتے ہیں۔

بعض لوگ زیادہ عبرت پکڑنے کے لیے ان تختوں کے نیچے کہیں کہیں دو ایک پہیے لگا لیتے ہیں۔ اور سامنے دو ہک لگا کر ان میں ایک گھوڑا ٹانگ دیتے ہیں۔ اصطلاح میں اس کو تانگہ کہتے ہیں۔ شوقین لوگ اس تختہ پر موم جامہ منڈھ لیتے ہیں تاکہ پھسلنے میں سہولت ہو اور بہت زیادہ عبرت پکڑی جائے۔

اصلی اور خالص گھوڑے لاہور میں خوراک کے کام آتے ہیں۔ قصابوں کی دوکانوں پر ان ہی کا گوشت بکتا ہے۔ اور زین کس کر کھایا جاتا ہے۔ تانگوں میں ان کی بجائے بناسپتی گھوڑے استعمال کئے جاتے ہیں۔ بناسپتی گھوڑا شکل و صورت میں دم دار تارے سے ملتا ہے۔ کیونکہ اس گھوڑے کی ساخت میں دم زیادہ اور گھوڑا کم پایا جاتا ہے، حرکت کرتے وقت اپنی دم کو دبا لیتا ہے۔ اور اس ضبط نفس سے اپنی رفتار میں ایک سنجیدہ اعتدال پیدا کرتا ہے۔ تاکہ سڑک کا ہر تاریخی گڑھا اور تانگے کا ہر ہچکولا اپنا نقش آپ پر ثبت کرتا جائے اور آپ کا ہر ایک مسام لطف اندوز ہو سکے۔

قابل دید مقامات

لاہور میں قابل دید مقامات مشکل سے ملتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ لاہور میں ہر عمارت کی بیرونی دیواریں دہری بنائی جاتی ہیں۔ پہلے اینٹوں اور چونے سے دیوار کھڑی کرتے ہیں اور پھر اس پر اشتہاروں کا پلستر کر دیا جاتا ہے، جو دبازت میں رفتہ رفتہ بڑھتا جاتا ہے۔ شروع شروع میں چھوٹے سائز کے مبہم اور غیر معروف اشتہارات چپکائے جاتے ہیں۔ مثلاً “اہل لاہور کو مژدہ” “اچھا اور سستا مال” اس کے بعد ان اشتہاروں کی باری آتی ہے، جن کے مخاطب اہل علم اور سخن فہم لوگ ہوتے ہیں مثلاً “گریجویٹ درزی ہاؤس” یا “اسٹوڈنٹوں کے لیے نادر موقع”، یا “کہتی ہے ہم کو خلق خدا غائبانہ کیا۔” رفتہ رفتہ گھر کی چار دیواری ایک مکمل ڈائرکٹری کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ دروازے کے اوپر بوٹ پالش کا اشتہار ہے۔ دائیں طرف تازہ مکھن ملنے کا پتہ درج ہے۔ بائیں طرف حافظ کی گولیوں کا بیان ہے۔ اس کھڑکی کے اوپر انجمن خدام ملت کے جلسے کا پروگرام چسپاں ہے۔ اُس کھڑکی پر کسی مشہور لیڈر کے خانگی حالت بالوضاحت بیان کر دئے ہیں۔ عقبی دیوار پر سرکس کے تمام جانوروں کی فہرست ہے اور اصطبل کے دروازے پر مس نغمہ جان کی تصویر اور ان کی فلم کے محاسن گنوا رکھے ہیں۔ یہ اشتہارات بڑی سرعت سے بدلتے رہتے ہیں اور ہر نیا مژدہ اور ہر نئی دریافت یا ایجاد یا انقلاب عظیم کی ابتلا چشم زدن میں ہر ساکن چیز پر لیپ دی جاتی ہے۔ اس لیے عمارتوں کی ظاہری صورت ہر لمحہ بدلتی رہتی ہے اور ان کے پہچاننے میں خود شہر کے لوگوں کو بہت دقت پیش آتی ہے۔

لیکن جب سے لاہور میں دستور رائج ہوا ہے کہ بعض اشتہاری کلمات پختہ سیاہی سے خود دیوار پر نقش کر دئے جاتے ہیں۔ یہ دقت بہت حد تک رفع ہو گئی ہے، ان دائمی اشتہاروں کی بدولت اب یہ خدشہ نہیں رہا کہ کوئی شخص اپنا یا اپنے کسی دوست کا مکان صرف اس لیے بھول جائے کہ پچھلی مرتبہ وہاں چارپائیوں کا اشتہار لگا ہوا تھا اور لوٹتے تک وہاں اہالیان لاہور کو تازہ اور سستے جوتوں کا مژدہ سنایا جا رہا ہے۔ چنانچہ اب وثوق سے کہا جا سکتا ہے کہ جہاں بحروف جلی “محمد علی دندان ساز” لکھا ہے وہ اخبار انقلاب کا دفتر ہے۔ جہاں “بجلی پانی بھاپ کا بڑا ہسپتال” لکھا ہے، وہاں ڈاکٹر اقبال رہتے ہیں۔ “خالص گھی کی مٹھائی” امتیاز علی تاج کا مکان ہے۔ “کرشنا بیوٹی کریم” شالامار باغ کو، اور “کھانسی کا مجرب نسخہ” جہانگیر کے مقبرے کو جاتا ہے۔

صنعت و حرفت

اشتہاروں کے علاوہ لاہور کی سب سے بڑی صنعت رسالہ بازی اور سب سے بڑی حرفت انجمن سازی ہے۔ ہر رسالے کا ہر نمبر عموماً خاص نمبر ہوتا ہے۔ اور عام نمبر صرف خاص خاص موقعوں پر شائع کئے جاتے ہیں۔ عام نمبر میں صرف ایڈیٹر کی تصویر اور خاص نمبروں میں مس سلوچنا اور مس کجن کی تصاویر بھی دی جاتی ہے۔ اس سے ادب کو بہت فروغ نصیب ہوتا ہے اور فن تنقید ترقی کرتا ہے۔

لاہور کے ہر مربع انچ میں ایک انجمن موجود ہے۔ پریذیڈنٹ البتہ تھوڑے ہیں اس لیے فی الحال صرف دو تین اصحاب ہی یہ اہم فرض ادا کر رہے ہیں چونکہ انجمنوں کے اغراض و مقاصد مختلف ہیں اس لیے بسا اوقات ایک ہی صدر صبح کسی مذہبی کانفرنس کا افتتاح کرتا ہے۔ سہ پہر کو کسی سینما کی انجمن میں مس نغمہ جان کا تعارف کراتا ہے اور شام کو کسی کرکٹ ٹیم کے ڈنر میں شامل ہوتا ہے۔ اس سے ان کا مطمح نظر وسیع رہتا ہے۔ تقریر عام طور پر ایسی ہوتی ہے جو تینوں موقعوں پر کام آ سکتی ہے۔ چنانچہ سامعین کو بہت سہولت رہتی ہے۔

 

پیداوار

لاہور کی سب سے مشہور پیداوار یہاں کے طلباء ہیں جو بہت کثرت سے پائے جاتے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں دساور کو بھیجے جاتے ہیں۔ فصل شروع سرما میں بوئی جاتی ہے۔ اور عموماً اواخر بہار میں پک کر تیار ہوتی ہے۔

طلباء کی کئی قسمیں ہیں جن میں سے چند مشہور ہیں، قسم اولی جمالی کہلاتی ہے، یہ طلباء عام طور پر پہلے درزیوں کے ہاں تیار ہوتے ہیں بعد ازاں دھوبی اور پھر نائی کے پاس بھیجے جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے بعد کسی ریستوران میں ان کی نمائش کی جاتی ہے۔ غروب آفتاب کے بعد کسی سینما یا سینما کے گرد و نواح میں:

رخ روشن کے آگے شمع رکھ کر وہ یہ کہتے ہیں

ادھر جاتا ہے دیکھیں یا اُدھر پروانہ آتا ہے

شمعیں کئی ہوتی ہیں، لیکن سب کی تصاویر ایک البم میں جمع کر کے اپنے پاس رکھ چھوڑتے ہیں، اور تعطیلات میں ایک ایک کو خط لکھتے رہتے ہیں۔ دوسری قسم جلالی طلباء کی ہے۔ ان کا شجرہ جلال الدین اکبر سے ملتا ہے، اس لیے ہندوستان کا تخت و تاج ان کی ملکیت سمجھا جاتا ہے۔ شام کے وقت چند مصاحبوں کو ساتھ لیے نکلتے ہیں اور جود و سخا کے خم لنڈھاتے پھرتے ہیں۔ کالج کی خوراک انہیں راس نہیں آتی اس لیے ہوسٹل میں فروکش نہیں ہوتے۔ تیسری قسم خیالی طلباء کی ہے۔ یہ اکثر ادب اور اخلاق اور آواگون اور جمہوریت پر با آواز بلند تبادلہ، خیالات کرتے پائے جاتے ہیں اور آفرینش اور نفسیات جنسی کے متعلق نئے نئے نظرئیے پیش کرتے رہتے ہیں، صحت جسمانی کو ارتقائے انسانی کے لیے ضروری سمجھتے ہیں۔ اس لیے علی الصبح پانچ چھ ڈنڈ پیلتے ہیں، اور شام کو ہاسٹل کی چھت پر گہری سانس لیتے ہیں، گاتے ضرور ہیں، لیکن اکثر بےسرے ہوتے ہیں۔ چوتھی قسم خالی طلباء کی ہے۔ یہ طلباء کی خالص ترین قسم ہے۔ ان کا دامن کسی قسم کی آلائش سے تر ہونے نہیں پاتا۔ کتابیں، امتحانات، مطالعہ اور اس قسم کے خرخشے کبھی ان کی زندگی میں خلل انداز نہیں ہوتے۔ جس معصومیت کو ساتھ لے کر کالج میں پہنچتے تھے، اسے آخر تک ملوث ہونے نہیں دیتے اور تعلیم اور نصاب اور درس کے ہنگاموں میں اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں جس طرح بتیس دانتوں میں زبان رہتی ہے۔

پچھلے چند سالوں سے طلباء کی ایک اور قسم بھی دکھائی دینے لگی ہے، لیکن ان کو اچھی طرح سے دیکھنے کے لیے محدب شیشے کا استعمال ضروری ہے، یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ریل کا ٹکٹ نصف قیمت پر ملتا ہے اور اگر چاہیں تو اپنی انا کے ساتھ زنانے ڈبے میں بھی سفر کر سکتے ہیں۔ ان کی وجہ سے اب یونیورسٹی نے کالجوں پر شرط عائد کر دی ہے کہ آئندہ صرف وہی لوگ پروفیسر مقرر کئے جائیں جو دودھ پلانے والے جانوروں میں سے ہوں۔

طبعی حالات

لاہور کے لوگ بہت خوش طبع ہیں۔

سوالات

لاہور تمہیں کیوں پسند ہے؟ مفصل لکھو۔

لاہور کس نے دریافت کیا اور کیوں؟ اس کے لیے سزا بھی تجویز کرو۔

میونسپل کمیٹی کی شان میں ایک قصیدہ مدحیہ لکھو۔

Kutte by Pitras Bukhari

Articles

کتے

پطرس بخاری

کتے

پطرس بخاری

علم الحیوانات کے پروفیسروں سے پوچھا، سلوتریوں سے دریافت کیا، خود سر کھپاتے رہے لیکن کبھی سمجھ میں نہ آیا کہ آخر کتوں کا فائدہ کیا ہے؟ گائے کو لیجیے دودھ دیتی ہے، بکری کو لیجیے دودھ دیتی ہے اور مینگنیاں بھی، یہ کتے کیا کرتے ہیں؟

کہنے لگے کہ کتا وفادار جانور ہے۔ اب جناب وفاداری اگر اسی کا نام ہے کہ شام کے سات بجے سے جو بھونکنا شروع کیا تو لگاتار بغیر دم لیے صبح کے چھ بجے تک بھونکتے چلے گئے تو ہم لنڈورے ہی بھلے، کل ہی کی بات ہے کہ رات کے کوئی گیارہ بجے ایک کتے کی طبیعت جو ذرا گدگدائی تو انہوں نے باہر سڑک پر آ کر طرح کا ایک مصرع دیدیا۔
ایک آدھ منٹ کی بعد سامنے کے بنگلے میں ایک کتے نے مطلع عرض کر دیا۔ اب جناب ایک کہنہ مشق استاد کو جو غصہ آیا، ایک حلوائی کے چولہے سے باہر لپکے اور بھنا کے پوری غزل مقطع تک کہہ دیا۔ اس پر شمال مشرق کی طرف ایک قدر شناس کتے نے زوروں کی داد دی۔

اب تو حضرت وہ مشاعرہ گرم ہوا کہ کچھ نہ پوچھیے، کم بخت بعض تو دو غزلے سہ غزلے لکھ لائے تھے۔ کئی ایک نے فی البدیہہ قصیدے کے قصیدے پڑھ ڈالے، وہ ہنگامہ گرم ہوا کہ ٹھنڈا ہونے میں نہ آتا تھا۔ ہم نے کھڑکی میں سے ہزاروں دفعہ ” آرڈر آرڈر” پکارا لیکن کبھی ایسے موقعوں پر پردھان کی کبھی کوئی سنتا ہے؟ اب ان میں سے کسی سے پوچھیے کہ میاں تمہیں کوئی ایسا ہی ضروری مشاعرہ کرنا تھا تو دریا کے کنارے کھلی ہوا میں جا کر طبع آزمائی کرتے یہ گھروں کے درمیان آکر سوتوں کو ستانا کون سی شرافت ہے اور پھر ہم دیسی لوگوں کے کتے بھی کچھ عجیب بدتمیز واقع ہوئے ہیں۔

اکثر تو ان میں ایسے قوم پرست ہیں کہ پتلون کوٹ کو دیکھ کر بھونکنے لگ جاتے ہیں۔ خیر یہ تو ایک حد تک قابل تعریف بھی ہے۔ اسکا ذکر ہی جانے دیجیے اسکے علاوہ ایک اور بات ہے یعنی ہمیں بار ہا ڈالیاں لے کر صاحب لوگوں کے بنگلوں پر جانے کا اتفاق ہوا، خدا کی قسم ان کے کتوں میں وہ شائستگی دیکھی ہے کہ عش عش کرتے لوٹ آئے ہیں۔ جوں ہی ہم بنگلے کے اندر داخل ہوئے کتنے نے برآمدے میں کھڑے کھڑے ہی ایک ہلکی سی ” بخ ” کر دی اور پھر منہ بند کر کے کھڑا ہو گیا۔

ہم آگے بڑھے تو اس نے بھی چار قدم آگے بڑھ کر ایک نازک اور پاکیزہ آواز میں پھر ” بخ ” کر دی۔ چوکیداری کی چوکیداری اور موسیقی کی موسیقی۔ ہمارے کتے ہیں کہ نہ راگ نہ سُر۔ نہ سر نہ پیر، تان پہ تان لگائے جاتے ہیں۔ بیتالے کہیں کے نہ موقع دیکھتے ہیں، نہ وقت پہچانتے ہیں،گلا بازی کیے جاتے ہیں۔

گھمنڈ اس بات پر ہے کہ تان سین اسی ملک میں تو پیدا ہوا تھا۔ اس میں شک نہیں کہ ہمارے تعلقات کتوں سے ذرا کشیدہ ہی رہے ہیں۔ لیکن ہم سے قسم لے لیجیے جو ایسے موقع پر ہم نے کبھی سیتا گرہ سے منہ موڑا ہو۔

شاید آپ اسکو تعلی سمجھیں لیکن خدا شاہد ہے کہ آج تک کبھی کسی کتے پر ہاتھ اٹھ ہی نہ سکا۔ اکثر دوستوں نے صلاح دی کہ رات کے وقت لاٹھی چھڑی ضرور ہاتھ میں رکھنی چاہیے کہ دافع بلیات ہے لیکن ہم کسی سے خواہ مخواہ عداوت پیدا نہیں کرنا چاہتے۔ کتے کے بھونکتے ہی ہماری طبعی شرافت ہم پر اس درجہ غالب پا جاتی ہے کہ آپ اگر ہمیں اسوقت دیکھیں تو یقینا یہی سمجھیں گے کہ ہم بزدل ہیں۔

شاید آپ اسوقت یہ بھی اندازہ لگا لیں کہ ہمارا گلا خشک ہوا جاتا ہے۔ یہ البتہ ٹھیک ہے ایسے موقع پر کبھی گانے کی کوشش کروں تو کھرج کے سروں کے سوا اور کچھ نہیں نکلتا۔ اگر آپ نے بھی ہم جیسی طبعیت پائی ہو تو آپ دیکھیں گے کہ ایسے موقع پر آیت الکرسی آپ کے ذہن سے اتر جائیگی اسکی جگہ آپ شاید دعائے قنوت پڑھنے لگ جائیں۔

بعض اوقات ایسا اتفاق بھی ہوا ہے کہ رات کے دو بجے چھڑی گھماتے تھیٹر سے واپس آ رہے ہیں اور ناٹک کے کسی نہ کسی گیت کی طرز ذہن میں بٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں چونکہ گیت کے الفاظ یاد نہیں اور نو مشقی کا عالم بھی ہے اسلیے سیٹی پر اکتفا کی ہے کہ بے سرے بھی ہو گئے تو کوئی یہی سمجھے گا کہ انگریزی موسیقی ہے، اتنے میں ایک موڑ پر سے جو مڑے تو سامنے ایک بکری بندھی تھی۔ ذرا تصور ملاحظہ ہو آنکھوں نے اسے بھی کتا دیکھا، ایک تو کتا اور پھر بکری کی جسامت کا۔گویا بہت ہی کتا۔ بس ہاتھ پاؤں پھول گئے چھڑی کی گردش دھیمی دھیمی ہوتے ہوتے ایک نہایت ہی نامعقول، زاویے پر ہوا میں کہیں ٹھہر گئی۔ سیٹی کی موسیقی بھی تھرتھرا کر خاموش ہو گئی لیکن کیا مجال جو ہماری تھوتھنی کی مخروطی شکل میں ذرا بھی فرق آیا ہو۔ گویا ایک بے آواز لے ابھی تک نکل رہی ہے۔

طب کا مسئلہ ہے کہ ایسے موقعوں پر اگر سردی کے موسم میں بھی پسینہ آ جائے تو کوئی مضائقہ نہیں بعد میں پھر سوکھ جاتا ہے۔ چونکہ ہم طبعاً ذرا محتاط ہیں۔ اس لیے آج تک کتے کے کاٹنے کا کبھی اتفاق نہیں ہوا ہے۔ یعنی کسی کتے نے آج تک ہم کو کبھی نہیں کاٹا اگر ایسا سانحہ کبھی پیش آیا ہوتا تو اس سرگزشت کی بجائے آج ہمارا مرثیہ چھپ رہا ہوتا۔ تاریخی مصرعہ دعائیہ ہوتا کہ ” اس کتے کی مٹی سے بھی کتا گھاس پیدا ہو”

لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کہوں کس سے میں کہ کیا ہے سگ رہ بری بلا ہے
مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا
جب تک اس دنیا میں کتے موجود ہیں اور بھونکنے پر مصر ہیں سمجھ لیجیے کہ ہم قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہیں اور پھر ان کتوں کے بھونکنے کے اصول بھی تو کچھ نرالے ہیں۔ یعنی ایک تو متعدی مرض ہے اور پھر بچوں اور بوڑھوں سب ہی کو لاحق ہے۔ اگر کوئی بھاری بھرکم اسنفد یار کتا کبھی کبھی اپنے رعب اور دبدبے کو قائم رکھنے کیلئے بھونک لے تو ہم بھی چاروناچار کہہ دیں کہ بھئی بھونک۔ ( اگرچہ ایسے وقت میں اسکو زنجیر سے بندھا ہونا چاہیے۔ )

لیکن یہ کم بخت دو روزہ، سہہ روزہ، دو دو تین تین تولے کے پلے بھی تو بھونکنے سے باز نہیں آتے۔ باریک آواز ذرا سا پھیپھڑا اس پر بھی اتنا زور لگا کر بھونکتے ہیں کہ آواز کی لرزش دم تک پہنچتی ہے اور پھر بھونکتے ہیں چلتی موٹر کے سامنے آ کر گویا اسے روک ہی تو لیں گے۔ اب اگر یہ خاکسار موٹر چلا رہا ہو تو قطعا ہاتھ کام کرنے سے انکار کر دیں لیکن ہر کوئی یوں انکی جان بخشی تھوڑا ہی کر دیگا؟ کتوں کے بھونکنے پر مجھے سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ انکی آواز سوچنے کے تمام قوی معطل کر دیتی ہے۔

صا جب کسی دکان کے تختے کے نیچے سے انکا ایک پورا خفیہ جلسہ باہر سڑک پر آکر تبلیغ کا کام شروع کر دے تو آپ ہی کہیے ہوش ٹھکانے رہ سکتے ہیں؟ ہر ایک کی طرف باری باری متوجہ ہونا پڑتا ہے۔ کچھ انکا شور، کچھ ہماری صدائے احتجاج ( زیرلب) بے ڈھنگی حرکات و سکنات ( حرکات انکی، سکنات ہماری) اس ہنگامے میں دماغ بھلا خاک کام کر سکتا ہے؟ اگرچہ یہ مجھے بھی نہیں معلوم کہ اگر ایسے موقع پر دماغ کام کرے بھی تو کیا تیر مار لے گا؟

بہر صورت کتوں کی یہ پرلے درجے کی ناانصافی میرے نزدیک ہمیشہ قابل نفرین رہی ہے۔ اگر انکا ایک نمائندہ شرافت کے ساتھ ہم سے آ کے کہہ دے کہ عالی جناب، سڑک بند ہے تو خدا کی قسم ہم بغیر چون و چرا کیے واپس لوٹ جائیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں۔

ہم نے کتوں کی درخواست پر کئی راتیں سڑک ناپنے میں گزار دی ہیں لیکن پوری مجلس کا یوں متفقہ و متحدہ طور پر سینہ زوری کرنا ایک کمینہ حرکت ہے۔ ( قارئین کرام کی خدمت میں عرض ہے کہ اگر انکا کوئی عزیز و محترم کتا کمرے میں موجود ہو تو یہ مضمون بلند آواز سے نہ پڑھا جائے مجھے کسی کی دل شکنی مطلوب نہیں)

خدا نے ہر قوم میں نیک افراد بھی پیدا کیے ہیں۔ کتے اسکے کلیے سے مستنثنیٰ نہیں۔ آپ نے خدا ترس کتا بھی ضرور دیکھا ہو گا۔ اسکے جسم میں تپسیا کے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ جب چلتا ہے تو مسکینی اور عجز سے گویا بار گناہ کا احساس آنکھ نہیں اٹھانے دیتا۔ دم اکثر پیٹ کیساتھ لگی ہوتی ہے۔ سڑک کے بیچوں بیچ غوروفکر کیلئے لیٹ جاتا ہے اور آنکھیں بند کر لیتا ہے۔ شکل بالکل فلاسفروں کی سی اور شجرہ دیو جانس کلبی سے ملتا ہے۔ کسی گاڑی والے نے متواتر بگل بجایا، گاڑی کے مختلف حصوں کو کھٹکھٹایا، لوگوں سے کہلوایا، خود دس بارہ دفعہ آوازیں دیں تو آپ نے سر کو وہیں زمیں پر رکھے سرخ مخمور آنکھوں کو کھولا۔ صورتحال کو ایک نظر دیکھا اور پھر آنکھیں بند کر لیں۔

کسی نے ایک چابک لگا دیا تو آپ نہایت اطمینان کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر ایک گز پرے جا لیٹے اور خیالات کے سلسلے کو جہاں سے وہ ٹوٹ گیا تھا وہیں سے پھر شروع کر دیا۔ کسی بائیسکل والے نے گھنٹی بجائی، تو لیٹے لیٹے ہی سمجھ گئے کہ بائیسکل ہے۔ ایسی چھچھوری چیزوں کے لیے وہ راستہ چھوڑ دینا فقیری کی شان کیخلاف سمجھتے ہیں۔

رات کے وقت یہی کتا اپنی خشک، پتلی سی دم کو تا بحد مکان سڑک پر پھیلا کر رکھتا ہے۔ اس سے محض خدا کے برگزیدہ بندوں کی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ جہاں آپ نے غلطی سے اس پر پاؤں رکھ دیا۔ انہوں نے غیظ وغیب کے لہجہ میں آپ سے پرسش شروع کر دی۔” بچہ فقیر کو چھیڑتا ہے، نظر نہیں آتا ہم سادھو لوگ یہاں بیٹھے ہیں”۔ بس اسی فقیر کی بددعا سے اسی وقت رعشہ شروع ہو جاتا ہے۔ بعد میں کئی راتوں تک یہی خواب نظر آتے رہتے ہیں کہ بیشمار کتے ٹانگوں سے لپٹے ہوئے ہیں اور جانے نہیں دیتے۔ آنکھ کھلتی ہے تو پاؤں چار پائی کی ادوان میں پھنسے ہوتے ہیں۔

اگر خدا مجھے کچھ عرصے کیلئے اعلیٰ قسم کے بھونکنے اور کاٹنے کی طاقت عطا فرمائے، تو جنون انتقام میرے پاس کافی مقدار میں ہے، رفتہ رفتہ سب کتے علاج کیلئے کسولی پہنچ جائیں۔

ایک شعر ہے۔
عرفی تو میندیش زغوغائے رقیباں
آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
یہی وہ خلاف فطرت شاعری ہے جو ایشیا کیلئے باعث ننگ ہے، انگریزی میں ایک مثل ہے کہ ” بھونکتے ہوئے کتے کاٹا نہیں کرتے ” یہ بجا سہی، لیکن کون جانتا ہے کہ ” ایک بھونکتا ہوا کتا کب بھونکنا بند کر دے، اور کاٹنا شروع کر دے۔
———