Shibli aur Muandeen E Shibli by Shameem Tariq

Articles

شبلی اور معاندین شبلی

شمیم طارق

(لفظوں کی تہذیب کے حوالے سے)

علم اور علمی شخصیتوں کی تاریخ کے علاوہ شبلی نے جن موضوعات پر داد تحقیق دی ہے ان کا سب سے موزوں عنوان ’’ شعر و ادب کی تنقید ‘‘ ہے اور شعر و ادب کی تنقید خاص طور سے ’’ شعر العجم ‘‘ اور ’’ موازنۂ انیس و دبیر ‘‘ کی نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی سے اردو میں تنقیدی اور تقابلی مطالعے اور موازنے کی روایت کو اعتبار و استحکام حاصل ہونے کے ساتھ خود شبلی کی علمی فکری وراثت کو بھی امتیاز حاصل ہوا ہے۔ وہ امتیاز یہ ہے کہ وقت کے ساتھ جہاں ان کے ذہن و ظرف کی وسعت، منتخب کیے ہوئے موضوعات کی اہمیت، ارتباط لفظ و معنی کی لطافت اور اسلوب نگارش کی ندرت کا اعتراف بڑھتا جارہا ہے، حتیٰ کہ مرزا خلیل احمد بیگ کے بقول یہاں تک کہا جانے لگا ہے کہ
’’ آج جدید لسانیات اور اسلوبیات کی روشنی میں اسلوب کی تشکیل و توضیح کا جو کام جاری ہے اس کی جڑیں بلاشبہ ’’ شعر العجم ‘‘ میں تلاش کی جاسکتی ہیں۔ ‘‘ ۱؎
وہیں معاندین شبلی کی کم از کم ان تحریروں کا بھرم ٹوٹ رہا ہے جو شبلی کی اجلی شبیہ کو داغدار کرنے کے لیے لکھی گئی تھیں۔ صرف لفظوں کی تہذیب یا ان کے محل استعمال کے حوالے سے بھی یہ واضح کرنا مشکل نہیں ہے کہ شبلی کی تحریروں میں شاید ہی کہیں کوئی ایسا لفظ استعمال ہوا ہو جس کے محل استعمال کے بارے میں کوئی سوال اٹھایا جاسکے۔ لیکن معاندین شبلی کی تحریروں میں ایسے الفاظ کی شناخت بہت آسان ہے جو اپنے استعمال کرنے والوں کی بدنیتی کے ساتھ بے خبری و بے بصری کا بھی رونا رو رہے ہیں۔ اس سلسلے میں پہلی مثال مولوی عبدالحق کی ہے جنھوں نے محمد امین زبیری کے ترتیب دیے ہوئے شبلی کے خطوط کے مجموعے ’’خطوط شبلی ‘‘ کے مقدمے میں لکھا ہے کہ
’’ مولٰنا شبلی کی تصانیف کو ابھی سے لونی لگنی شروع ہوگئی ہے۔ زمانہ کے ہاتھوں کوئی نہیں بچ سکتا۔ ‘‘ ۲؎
’’لونی لگنے ‘‘ کا مطلب وہ شور، کھار یا نمکین مٹی کا لگنا ہے جو دیواروں سے جھڑتی ہے اور کتاب میں لگنے کے بعد اس کو پڑھے جانے کے لائق نہیں چھوڑتی۔ لونی ان ہی کتابوں کو لگتی ہے جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا اس لیے شبلی کی تصانیف کو لونی لگنے کے طعنے کے پس منظر میں یہ سوال ہر شخص پوچھ سکتا ہے کہ جس کی کتاب ’’ المامون ‘‘ پر سر سید احمد خاں نے ۱۸۸۷ء میں یعنی جب شبلی کی عمر ۲۹،۳۰ سال تھی، مقدمہ لکھ کر ان کی مورخانہ بصیرت اور سادہ و شگفتہ طرزِ تحریر کی تحسین کی ہو، حالی نے جس کی دانشوری کی یہ کہہ کر داد دی ہو کہ
ادب اور مشرقی تاریخ کا ہو دیکھنا مخزن
تو شبلی سا وحید عصر و یکتائے زمن دیکھیں
جس کی کتاب ’’ شعر العجم ‘‘ کو پروفیسر برائون کی کتاب ’’ تاریخ ادبیات ایران ‘‘ کا ماخذ بننے کا شرف حاصل ہوا ہو، عالم خوند میری کے بقول جو ہماری تہذیبی میراث کا حصہ ہو اور جس کے ایک وارث ابوالکلام آزاد ہوں اور دوسرے علامہ اقبال، عالم اسلام میں جس کی تصانیف میں دلچسپی کا اظہار اور ان کے ترجمے کی ضرورت پر اصرار، جس کی زندگی ہی میں کیا جانے لگا ہو اور آج جن کے تراجم انگریزی، عربی، فارسی، پشتو، ترکی اور ہندوستان کی کئی علاقائی زبانوں میں کیے جاچکے ہوں، اس کی تصانیف کے بارے میں یہ کہنا کہ ان کو لونی لگنا شروع ہوگئی ہے، لونی لگنے کے مفہوم سے ناآشنائی اور اس لفظ کے محل استعمال سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے۔ شبلی کی تصانیف کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے لکھا گیا مولوی عبدالحق کا یہ جملہ ان ہی کے ایک خطبے کی ان سطور کی روشنی میں ناقابل اعتناء ہے کہ
’’ لفظ ایک بڑی قوت ہے اس کا برمحل استعمال خیالات میں قوت پیدا کرتا ہے جو اس گر سے واقف نہیں اور لفظ کے سبھی برمحل استعمال کو نہیں جانتا اس کا بیان اکثر ناقص، ادھورا اور بے جان ہوتا ہے۔ ‘‘
دوسری مثال ڈاکٹر وحید قریشی کی ہے جنھوں نے اپنی کتاب ’’ شبلی کی حیات معاشقہ ‘‘ میں نفسیاتی جائزے کے نام پر شبلی کے بارے میں بعض ایسی باتیں لکھی ہیں جن سے ان کے ذہن کی کجی کے ساتھ مطالعے کی کمی کا بھی اظہار ہوتا ہے مثلاً انھوں نے لکھا ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ ان کی نرگسیت ان کے دینوی مشاغل، علمی مشاغل، شاعری اور عورتوں کے عشق، لڑکوں کے عشق سب میں کارفرما نظر آتی ہے۔ ‘‘ ۳؎
یا یہ کہ
’’ ۔۔۔۔۔ حسن و عشق کی رنگینیوں میں تلاش کررہی تھی ۔۔۔۔۔۔ جس کے تین مرکز تھے ابوالکلام کی ذات، عطیہ بیگم اور تیسرے مدراس کی کوئی ہستی۔ ‘‘ ۴؎
مندرجہ بالا دونوں اقتباسات کا حقائق کی روشنی میں تجزیہ کرنے سے یہ حقیقت مخفی نہیں رہتی کہ وحید قریشی نے ’’ نرگسیت ‘‘ کی اصطلاح سنی تو ضرور تھی مگر اس کے حقیقی مفہوم سے واقف نہیں تھے۔
اردو میں جس انگریزی لفظ کا ترجمہ ’’ نرگسیت ‘‘ کیا جاتا ہے وہ Narcissism ہے اور اس سے مراد خود پسندی، خود ستائی، جذبۂ محبوبیت، خود لذتی اور وہ ذہنی نفسیاتی کیفیت ہے جس میں انسان اپنی ذات ہی کو سب کچھ سمجھتا اور اسی میں محو رہتا ہے۔ یہ مفہوم یونانی اساطیر سے ماخوذ ہے جس کے مطابق یونان میں ’’نرگس ‘‘ نام کا ایک شخص گذرا ہے جو اپنے حسن پر اتنا نازاں تھا کہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا۔ ’’ ریکو ‘‘ نام کی ایک پری اس پر فریفتہ ہوگئی لیکن ’’ نرگس ‘‘ نے اس کو ٹھکرا دیا۔ ’’ ریکو ‘‘ یہ صدمہ برداشت نہ کرسکی اور گھل گھل کر مرگئی۔ اس کی زندگی ختم ہوگئی لیکن چونکہ اس کی موت اذیتناک کرب کا نتیجہ تھی اس لیے مرنے کے بعد بھی اس کی چیخ فضا میں گونجتی رہی۔ انتقام کی دیوی کو ’’ ریکو ‘‘ پر رحم آیا اور اس نے ’’ نرگس ‘‘ کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ سزا کے طور پر ’’ نرگس ‘‘ کو پانی کے ایک چشمے کے کنارے کھڑا کردیا گیا جس میں وہ اپنا عکس دیکھتا رہا اور بالآخر اپنے آپ پر عاشق ہوگیا۔ یہی عشق اس کے لیے جان لیوا ثابت ہوا اور وہ بھی گھل گھل کر مرگیا۔ جس جگہ وہ دفن ہوا وہاں ایک پھول کھلا اور اس پھول کو ’’ نرگس ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔
علم نفسیات کی اصطلاح کے طور پر اس لفظ کو جن لوگوں نے استعمال کیا ان میں Alfred Binet کا نام بہت اہم ہے جس نے ۱۸۸۷ء میں Narcissism یعنی نرگسیت کی اصطلاح استعمال کی۔ ۱۸۹۸ء میں Havelock Ellis نے Narcissus Like Self Absorption جیسے جملے کے ذریعہ نرگسیت کے اصطلاحی مفہوم میں وسعت پیدا کرنے کی کوشش کی۔ ۱۸۹۹ء میں Paul Nacke نے اس لفظ کا استعمال ان مردوں کے لیے کیا جو دوسروں یا جنس مخالف کے جسم کے بجائے خود اپنے جسم سے جنسی تلذذ حاصل کرتے ہیں اور ۱۹۱۴ء میں یعنی جس سال شبلی کا انتقال ہوا فرائڈ کا مضمون On Narcissism شائع ہوا جس میں اس نے نفسیاتی اعتبار سے اس لفظ یا اصطلاح کو وسیع تر مفہوم عطا کرتے ہوئے اس کو پرائمری اور سیکنڈری Narcissm میں تقسیم کرکے نتیجہ یہ اخذ کیا کہ نرگسیت کی ابتدائی شکل یہ ہے کہ انسان تمام تر جنسی قوتوں کو اپنے اندر مرکوز کرلے جبکہ اس کے بعد کی یا ترقی یافتہ نرگسیت یہ ہے کہ انسان جنسی تلذذ کی تمام صورتیں خود اپنی ذات میں تلاش کرے۔ فرائڈ کے شارحین کے لفظوں میں
Primary narcissism is a natural and necessary investment of one’s sexual energy in oneself, a sexual version of ordinary self-interest. Whereas secondary narcissism is a defensive reaction of withdrawing one’s sexual interest from other people and focusing it exclusively on oneself.
فرائڈ کے برعکس Karen Horney نے نرگسیت کو ذات سے برگشتگی کا اظہار قرار دیا ہے۔ اس کی نظر میں ایسا شخص ظلم، نمائش اور عریانیت کا مظاہرہ کرتا ہے۔
اس لفظ یا اصطلاح کا استعمال ایسی ذہنی بیماری کے لیے بھی کیا جاتا ہے جس کا خاصہ Lack Of Empathy ہے۔ ان مفاہیم کی روشنی میں شبلی کی شخصیت میں کوئی ایسی علت یا علامت نظر نہیں آتی جس کے سبب ان پر نرگسیت کا الزام عائد کیا جاسکے۔ انھوں نے نہ تو اپنی ذات سے برگشتگی کا اظہار کیا نہ ہی ان کے بارے میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ جنسی تلذذ کی صورتیں وہ اپنی ذات میں تلاش کرتے تھے۔ وہ کسی طرح کی ذہنی بیماری اور خود پسندی میں بھی مبتلا نہیں تھے۔ خود پسندی میں مبتلا ہوتے تو بڑوں، چھوٹوں اور ہم عمر ادبیوں شاعروں کی مدح و ستائش نہ کرتے۔ اس لیے یہی کہا جاسکتا ہے اور یہی سچ بھی ہے کہ شبلی اپنی نو عمری میں اپنی عمر سے چالیس سال بڑے سرسید کی طرف متوجہ ہوئے، ادھیڑ عمر میں اپنی عمر سے ۳۰ سال چھوٹی عطیہ میں دلچسپی لی یا ابوالکلام آزاد ان کی توجہ کا مرکز بنے جو عمر میں ان سے ۳۱ سال چھوٹے تھے تو اس کی وجہ علمی شخصیتوں میں ان کی دلچسپی اور ان کی قدر دانی تھی۔ اس قدر دانی میں جمالیاتی احساس یا حسن پسندی کے جذبے کی فروانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ شبلی حسن و نفاست اور جوہر قابل کے دلدادہ تھے اور جہاں کہیں کوئی جوہر قابل دکھائی دیتا تھا اس پر فدا ہوجاتے تھے، ایم مہدی حسن کے بقول
’’ مولانا (شبلی) ادبی حیثیت سے اس کا (حسن کا) نہایت صحیح مذاق رکھتے تھے۔ عالمانہ سنجیدگی کے ساتھ ان کی حکیمانہ شوخیاں سرمایۂ ادب ہوتی تھیں۔ ‘‘ ۵؎
لیکن جمالیاتی احساس یا کسی علمی شخصیت کے تصورات و نگارشات یا جوہر ذاتی میں جلوئہ حسن دیکھنے کی شبلی کی وضع کو نرگسیت سے تعبیر کرنا کور ذوقی اور نرگسیت کے مفہوم سے ناآشنائی ہے۔ سید شہاب الدین وسنوی نے اپنی کتاب ’’ شبلی، معاندانہ تنقید کی روشنی ‘‘ میں نرگسیت کی تفہیم میں دیڑھ صفحہ صرف کیا ہے مگر اس میں ایک جملہ بھی ایسا نہیں ہے جس سے Men who were sexually excited by their own bodies rather than someone’s else’s کے مفہوم کی وضاحت ہوتی ہو۔ اس مفہوم سے واقفیت کے بغیر وحید قریشی کے اس الزام کی تردید نہیں ہوسکتی جو انھوں نے عطیہ اور ابوالکلام کا نام لے کر شبلی پر عائد کیا ہے۔ یہاں اس لفظ کی تفہیم کی کوشش اس لیے کی گئی ہے کہ اس تفہیم سے وحید قریشی کے الزام کی لغویت پوری طرح واضح ہوجائے۔
تیسری مثال پروفیسر ظہور الدین کے ایک مضمون کے اس جملے میں ہے کہ
’’ ۔۔۔۔۔ شبلی نے شعر العجم کی اس (پہلی) جلد کی تالیف کے دوران سب سے زیادہ استفادہ لٹریری ہسٹری سے کیا۔ بسا اوقات تو انھوں نے برائون کے دلائل کے محض ترجمہ کرنے پر ہی اکتفا کیا ۔۔۔۔۔ ‘‘ ۶؎
اس قسم کی کچھ باتیں ناصر عباس نیر نے بھی اپنے ایک مضمون میں لکھی ہیں اور ان تحریروں کے سبب شبلی کے کسی مضمون سے استفادہ کرنے، ترجمہ کرنے یا سرقہ کرنے کے مفاہیم ایک دوسرے میں خلط ملط ہوگئے ہیں۔ شبلی انگریزی کے اسکالر نہیں تھے۔ ان کے کسی مداح نے بھی ان کے انگریزی داں ہونے کا دعویٰ نہیں کیا۔ ایسی صورت میں ان پر یہ الزام کیسے عائد کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے کسی انگریزی تحریر کا سرقہ یا ترجمہ کیا۔ انگریزی تحریروں کے اردو، عربی، فارسی ترجموں سے ان کے استفادہ کرنے سے انکار نہیں کیا جاسکتا اور یہ ضروری بھی تھا کہ اس کے بغیر اس موضوع کا حق نہیں ادا کیا جاسکتا تھا جس پر شبلی لکھ رہے تھے اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام بھی صحیح نہیں ہے۔ انھوں نے کئی مصنفین کی اصل یا ترجمہ کی ہوئی تحریروں کو پیش کرنے کے بعد اپنا تنقیدی نقطۂ نظر پیش کیا ہے اور تنقیدی نقطہ نظر کا اصل جوہر یا دوسرے لفظوں میں ادب کی اعلیٰ قدروں سے ان کی وابستگی، نکتہ سنجی و نکتہ آفرینی اور تربیت یافتہ ادبی مذاق سے آگہی اس وقت سامنے آئی ہے جب شبلی نے کسی تخلیق کار یا اس کے تخلیقی شاہکار کا تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے۔ فردوسی اور عمر خیام وغیرہ پر ان کی تنقیدی نگارشات اور جملے اس کی دلیل ہیں۔ اس لیے شبلی پر ترجمہ یا سرقہ کرنے کا الزام اسی صورت میں قابل اعتناء ہوسکتا تھا جب ان کے تنقیدی جائزے یا اخذ کیے ہوئے نتیجے میں کسی اور کی تحریر کی نشاندہی کی جاتی۔ پروفیسر ظہور الدین اور ناصر عباس نیر کی کئی تحریریں استفادہ، ترجمہ اور سرقہ جیسے لفظوں میں حد فاصل قائم رکھنے میں ناکام رہنے کے علاوہ اس لیے بھی ناقابل اعتناء ہیں کہ ان میں شبلی کے مآخذ اور دلائل پر الزامات عائد کیے گئے ہیں، اخذ کیے ہوئے نتائج پر نہیں۔
شبلی کی علمی فکری وراثت میں ان کا اسلوب نگارش بھی شامل ہے جس میں لفظوں کا استعمال کرتے ہوئے معنوی مناسبت کے علاوہ صوتی مناسبت کا بھی التزام ہے۔ وہ اس حد تک لفظوں کے احترام کے قائل تھے کہ لفظوں کے اصراف سے ہی نہیں ان کے بے جا استعمال سے بھی گریز کرتے تھے۔ وہ فلسفیانہ موضوعات پر مضمون لکھ رہے ہوں یا علمی اور ادبی موضوعات پر، لفظوں کی اس تہذیب سے ان کا رشتہ کبھی نہیں ٹوٹتا جو جمالیاتی احساس اور علمی وقار سے عبارت ہے اور جس میں لطافت، متانت، سلاست اور لفظ کی کفایت کے ساتھ وضاحت، صراحت، قطعیت اور جامعیت بھی ہے۔ مثال کے طور پر پیش ہے ’’ شعر العجم ‘‘ سے ایک مختصر اقتباس :
’’ اس عالم میں شاعر کی تاریخ زندگی عجیب دلچسپیوں سے بھری ہوتی ہے۔ بلبل نے اسی عالم میں اس سے زمزمہ سنجی کی تعلیم پائی ہے۔ پروانے اس کے ساتھ کے کھیلے ہیں۔ شمع سے رات بھر وہ سوز دل کہتا رہا۔ نسیم سحری کو اکثر اس نے قاصد بنا کر محبوب کے یہاں بھیجا ہے۔ بارہا اس نے غنچہ کی عین اس وقت پردہ دری کی جب وہ معشوق کا تبسم چرا رہا تھا۔ واقعات عالم پر جب وہ عبرت کی نظر ڈالتا ہے تو ایک ایک ذرہ ناصح بن کر اس کو اخلاق اور موعظت کی تعلیم دیتا ہے۔ اس عالم میں وہ گور غریباں میں جا نکلتا ہے تو بوسیدہ ہڈیاں اعلانیہ اس سے خطاب کرتی ہیں۔ عالم شوق میں وہ پھول ہاتھ میں اٹھا لیتا ہے تو اس کو صاف معشوق کی خوشبو آتی ہے۔ ‘‘ ۷؎
شبلی کی اس نثر میں زمزمہ سنجی، شمع، پروانہ، سوز دل، نسیم سحری، معشوق کا تبسم، بوسیدہ ہڈیاں جیسے الفاظ اور تراکیب میں ارتباط لفظ و معنی کے ساتھ ارتباطِ صوت و حرف کی بھی خوبصورت مثالیں موجود ہیں اور ان کو پڑھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ یہ تراکیب و الفاظ بنے ہی تھے اس موقع و مقام کے لیے جہاں شبلی نے انہیں استعمال کیا ہے۔ معاندین شبلی کی تحریروں، خاص طور سے شبلی کی شخصیت کو داغدار یا ان کی علمی حیثیت کو ٹھیس پہنچانے کے لیے لکھی گئی تحریروں میں لفظ و معنی کے ارتباط اور الفاظ و تراکیب کے استعمال کی وہ تہذیب جو شبلی کی علمی فکری وراثت کے علاوہ اردو نثر کی بھی روح ہے، نہ صرف یہ کہ موجود نہیں ہے بلکہ اس میں استعمال کیے ہوئے بعض لفظ ’’ اسقاطِ لفظ ‘‘ کی مثال بن گئے ہیں۔

حواشی

۱ٍ۔ ڈاکٹر مرزا خلیل احمد بیگ, شبلی کا تصور لفظ و معنی , مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی ۱۹۹۴ء, ص ۱۰۰
۲۔ مولوی محمد امین زبیری, خطوطِ شبلی, لاہور, ص ۳۶
۳۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور , ص ۳۲
۴۔ وحید قریشی, شبلی کی حیاتِ معاشقہ, لاہور, ص ۴۱
۵۔ مہدی بیگم, مکاتیب مہدی, ص ۷
۶۔ پروفیسر ظہور الدین, شبلی : شعر العجم جلد اول کی روشنی میں, مشمولہ شبلی کی علمی و ادبی خدمات, نئی دہلی , ص ۱۱۲
۷۔ شبلی نعمانی, شعر العجم

Qissa E Mukhtasar…Quraish Nagar by Dr. Qasim Imam

Articles

قصہ مختصر ____قریش نگر

ڈاکٹر قاسم امام

 

قریش نگر ، بنٹر بھون میں منعقد ایک جلسے میں گذشتہ دنوں ایک صاحب نے ہر دلعزیز ایم۔ ایل ۔اے جناب نواب ملک کے سامنے قریش نگر کی محرومیوں کا ذکر کیا ، غالباً موصوف مقامی ایم۔ ایل۔ اے کے سامنے علاقے کے مسائل پیش کرنا چاہتے تھے۔ مجھے یہ شکوہ پسند نہ آیا، جوابِ شکوہ کے طور پر میں نے اپنی تقریر میں اداروں اور شخصیات کے حوالے سے قریش نگر کی اُن خوبیوں کا ذکر کیا جس سے نئی نسل واقف نہ تھی۔ جب میں نے قریش نگر کے جغرافیائی ، تاریخی، سیاسی ، سماجی اور ثقافتی پہلوﺅں کی طرف اشارہ کیا تو سامعین عش عش کر اٹھے۔ یہ کمالِ گفتار نہ تھا بلکہ بستی کا بلند کردار تھا اور پیار تھا اُن لوگوں کا جو اپنے اسلاف کا ذکر فخر سے کرتے اور سنتے ہیں۔ اب میرے سامنے نشان صدیقی کی تصویر ہے اور جب میں اس تصویر کے پس منظر میں قریش نگر کو دیکھ رہا ہوں تو کئی شخصیات اور واقعات میرے سامنے ایک فلمی سین کی طرح آرہے ہیں۔ آنکھیں بند کرتا ہوں تو ماضی نظر آتا ہے ، آنکھیں کھولتا ہوں تو حال۔ سب سے پہلے میں یہ واضح کردوں کہ میری تربیت میں قریش نگر کی ادبی محفلوں اور فلاحی انجمنوں نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ میں آج بھی اپنے طلبہ کو فخر کے ساتھ اپنی رہائش قریش نگر بتاتا ہوں۔ میرے ڈھیر سارے خطوط آج بھی رعیسہ بائی چال ، نزد لال ٹانکی(ہِل) کے پتے پر ہی آتے ہیں۔ نقلِ مکانی کا دُکھ مجھے گوونڈی لے آیا وگرنہ میں آج بھی قریش نگر میں ہی ہوں ، قریش نگر کا ہی ہوں میرے طلبہ میں یہ احساسِ کمتری کے وہ پس ماندہ علاقے میں رہتے ہیں ، مجھے بے چین کیے رہتا ہے کیونکہ میں اس علاقے کو کبھی پچھڑا نہیں سمجھتا۔ بھلا بتائیے کہ جس علاقے کی اپنی منفرد ادبی اور ثقافتی پہچان ہو وہ پسماندہ کیسے کہلا سکتا ہے۔ جہاں کی تنگ و تاریک گلیوں میں بیٹھ کر مرحوم شور نیازی نے شہرہ آفاق گیت”جا نہیں سکتا کبھی شیشے میں بال آیا ہوا“ ، عیش کنول نے ”چاند میرا بادلوں میںکھو گیا“ جیسا مشہور فلمی نغمہ تحریر کیا ۔ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ یافتہ افسانہ نگار سلام بن رزاق نے اپنا پہلا افسانوی مجموعہ ”ننگی دوپہر کا سپاہی“ یہاں کی لمبی سیمنٹ چا ل میں رہ کر ترتیب دیا۔ عامر برقی اعظمی(خونِ تمنّا)، حمید ادیبی ناندروی(پھول کھلتے رہے) اور اثر ملکاپوری(نمرتا) نے ناول لکھے، جہاں مرحوم مرزا پارس ہنگلوی کے جنون نے اُن سے ”عالمِ انسانیت کا پلیٹ فارم“ جیسی کتاب لکھوائی۔ مشہور استاد پرنسپل قاسم رضا نے اسی بستی میں ریاضی کے موضوعات پر ڈھیرساری نصابی کتابیں ترتیب دیں۔ قریش نگر کے اسی پراگندہ ماحول میں اقبال نیازی نے اپنے دوست اسلم پرویز کے ساتھ مل کر ”جلیان والا باغ“ جیسا مشہور ڈرامہ لکھا۔ غرضیکہ ایک طویل فہرست ہے شعرا ، ادبا اور اساتذہ کی جنھوں نے اپنے ادبی و تعلیمی سفر کا آغاز قریش نگر سے کیا۔ یہاں آنے جانے والوں میں کئی مقتدر شعرا و ادبا کے نام شامل ہیں۔ محمود درانی، ندا فاضلی، تابش سلطان پوری، قیصر الجعفری، ظفرگورکھپوری، تاج دار تاج، ضمیر کاظمی، سردار پنچھی، شفیق عباس، شمیم عباس، عبد اللہ کمال، محبوب عالم غازی، احمد منظور، حامد اقبال صدیقی، شاہد لطیف، مرحوم تنویر عالم، عرفان جعفری، فاروق رحمن ، اسلم پرویز، اسلم خان اکثر یہاں کی ادبی محفلوں میں شریک رہے۔ رسالہ ”تکمیل کے مظہر سلیم اپنے بھائی اکبر عابد کے ساتھ برسوں تک اسی بستی میں رہے۔ قیوم اثر اور حفظ الکبیر پرواز ، مولانا منتظم الاسلام ندوی، پروفیسر بلال بھی دراصل قریش نگری ہی ہیں۔  م۔ ناگ، سعید راہی اور نظام الدین نظام کو اس علاقے نے حفظ ماتقدم کے طور پر اپنا داماد بنالیا۔ سلام بن رزاق سے ملاقات کی غرض سے آنے والے مشہور ادیبوں میںسریندر پرکاش، ساگر سرحدی، مرحوم انور خان، مشتاق مومن ،جاوید ناصر، انورقمر، رام پنڈت اور مقدر حمید وغیرہ شامل ہیں۔ نامور صحافی و افسانہ نگار ساجد رشید کے حلقہ انتخاب میں قریش نگر بھی شامل رہا۔ عوامی مقبولیت کے اعتبار سے وہ کامیاب بھی رہے لیکن بدقسمتی سے الیکشن ہار گئے۔ نشان صدیقی اور عیش کنول کے پیش رو اور معاصرین میں علامہ کلام اعظمی جنھیں بقول معراج صدیقی چینی زبان پر بھی عبور حاصل تھا، کے علاوہ قاضی خلیل صولتی، سرور بستوی، اثر فیض آبادی ، بندہ نواز منیری ، جھنجھٹ جھنجھانوی، شوکت لافانی ، تبسم مالیگانوی، غنی احمد غنی، سعید کنول، ساغر باورا، راقم لکھنوی ، اقبال مرشدی وغیرہ شامل ہیں۔ جبکہ بعد کے زمانے میں تسکین انصاری، عارف اچل پوری ، عرشی قریش نگری، عارف اعظمی، راشد کانپوری نے اس سلسلے کو آگے بڑھایا۔ غرضیکہ یہاں کی ادبی فضا میں کئی طوفان آئے گئے۔ ادبی ماحول میں دلچسپی قائم رکھنے کے لیے عیش کنول نے بڑے جتن کیے۔ آون جاون مشاعرے، ایک میان میں دو تلوار،استاد کون، دانش کدہ کے زیرِ اہتمام ہونے والے جنگی مشاعرے دراصل عیش کنول کی شوخی طبیعت کے چند نمونے ہیں ۔ جنھوں نے یہاں کے ادبی ماحول کو ہمیشہ گرم رکھا۔ طنز و مزاح کے لیے بھی یہ علاقہ کافی زرخیز رہا۔ بزمِ اقبال کے ثقافتی پروگرام، مزاحیہ مشاعرے اور ڈرامے نیز بعد کے زمانے میں حسینی گارڈن میں منعقد کوئز مقابلے وغیرہ اس کا بین ثبوت ہیں۔ مشہور مزاحیہ آرٹسٹ جانی لیور نے اپنے ابتدائی زمانے میں یہاں کئی پروگرام کیے ۔سیاسی جماعتوں کے علاہ یہاں فلاحی و ادبی تنظیموں بھی کا بول بالا رہا۔ دانش کدہ ، آئینہ ادب اور بزمِ اقبال کے ذریعے رسول خان، محمد خان ، رزاق کوکنی، شہاب الدین نانا، انیس تلہری، معراج صدیقی، سلیم قریشی، قادر لفافے والا، سبحان ، اقبال ، محمود وارثی،نیاز قریشی جیسے نوجوانوں نے ماحول بنائے رکھا۔ جبکہ جمعیت القریش ، نونہال کمیٹی، ینگ بوائز سرکل، بزمِ صداقت، بریلی جماعت خانہ، بزمِ روشن، بزمِ اتحاد، بزمِ رہنما جیسی تنظیموں نے یہاں کی سماجی اور ثقافتی تاریخ مرتب کرنے میں نمایاں رول انجام دیا۔ یہاں کی مقبول و معروف سماجی و ثقافتی شخصیات میں غفور قریشی (1985ءمیں سب سے پہلے کونسلر بنے)مجید قریشی، حاجی غرایب حسین، غلام رسول قریشی، یوسف ہارون، رئیس قریشی، یوسف چندو،سوناجی، رشید مومن، نور محمد، قادر بابا انڈے والے، اقبال مجید قریشی، مختار ماما، غنی ماما، ایڈوکیٹ سعید قریشی، جبارہیرو،فدا حسین آرٹسٹ،خواجہ گائے والا،مرحوم سرفراز قریشی جنھوں نے ”میداس“ کے ذریعہ علاقہ کے کئی نوجوانوں کو خلیجی ممالک میں برسرِ روزگار کیا۔شائقینِ ادب میں یسیٰن ماسٹر، طاہر ماسٹر، مرحوم رشیدنانا، مرحوم معید ماسٹر ، نظر قریشی ، مرحوم لطیف سر، بشیر احمد ملّا ، قاسم ملّا، حسن قریشی، بشر قریشی، نور محمد، سیف اللہ، نور محمد چھتری والا، ہلال قریشی ، محبوب شیخ ، زندہ ولی ، چکوا سیٹھ ،ابراہیم گائے والا، نوشاد قریشی وغیرہ کے نام ذہن میں محفوظ ہیں۔ سیاسی و سماجی منظر نامے کے چند اہم ناموں میں موہن کھانولکر، بابو اشرف، شیخ احمد کانچ والا، سابق چیف منسٹر بابا صاحب بھونسلے، غلام رسول قریشی ، ایکناتھ کوپرڈے ، الپنا تائی پینٹر، مرحوم عبد الرﺅف پٹیل، تصدق خان ہینگر والے ، بشیر خان ہاتھی والایاد ہیں جبکہ بعد کے زمانے میں جو نسل سماجی میدان میں سامنے آئی اس میں وجے تانڈیل، سراج دیشمکھ، سراج ریتی والا، زرینہ قریشی، رضیہ عطار، حنیف قریشی، بادشاہ کیبل والا، رﺅف قریشی ، ایڈوکیٹ کونین، مقصود مچھی والا، راشٹروادی کے سرگرم لیڈر جناب رﺅف جمن قریشی وغیرہ جو مختلف سیاسی پارٹیوں سے وابستہ رہتے ہوئے بھی علاقے کی فلاح و بہبود میں متحد ہوکر کوشاں ہیں۔ اسٹیج اور فلم کی دنیا میں طیب قریشی، ، اقبال قریشی ، معراج صدیقی، عنایت، شکیل ایس ٹی ڈی اور اقبال نیازی کے نام اہم ہےں۔ کھیل کے میدان میں بھی اس علاقے کی بہترین کارکردگی میں اخلاق ناردمنی، مشتاق قریشی ، مرحوم لیاقت قریشی، جاوید مولانا، اخلاق قریشی، الطاف قریشی ، مرحوم حشم الدین ضمیر قاضی وغیرہ اپنے زمانے کے بہترین کھلاڑی کہلائے۔ سیاسی اعتبار سے یہ علاقہ ہمیشہ کانگریس ، مسلم لیگ اور جنتادل کے پرچم تلے رہا۔نواب ملک کے ایم۔ ایل۔ اے بن جانے کے بعد سے آج تک یہاں راشٹر وادی کی جڑیں مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئیں اور نواب ملک نے اس علاقے کی شکل و صورت ہی بدل دی۔  اخبار فروش رشید قریشی اور اشوک کھرات ، چندکانت کامبلے کافی مقبول تھے جبکہ نتھودودھ والا کو بھی کافی شہرت حاصل تھی۔ پہلے ڈاکٹر ہونے کااعزا ز اسحاق ٹرام پٹّے کے بیٹے عمر قریشی کو ملا مگر افسوس انھیں ڈاکٹری راس نہ آئی ۔ ان کے طبی مشوروں نے اچھے خاصوں کو بیمار کردیا۔ بعد کے زمانے میں سلیم صدیق ، اخلاق قریشی نے اس میدان میں خوب نام کمایا۔ ڈاکٹر سلیم تو ان دنوں فوزیہ نرسنگ ہوم کے مینجمنٹ میں شامل ہیں۔ علاقے کے پرانے ڈاکٹرس ڈاکٹر شالی ، ڈاکٹر شرما، ڈاکٹر حفیظ ، ڈاکٹر قریشی، ڈاکٹر نور محمد کے نام اہم ہیں۔ بعد کے دور میں ڈاکٹر ذکر اللہ اور ڈاکٹر مبین نے اقراءسوسائٹی کے ذریعہ قریش نگر کی علمی و تعلیمی میدان میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ فلاحی خدمات کا یہ سلسلہ آج بھی جاری ہے۔یہاں کے مشہور علمی اور مذہبی شخصیتوں میں پیرسیّد عبد الرحیم حسینی قادری قبلہ بغدادی صاحب کا ذکر ضروری ہے ۔ جن کا تعلق حیدر آباد سے تھا اور جن مریدین و معتقدین کثیر تعداد میں یہاں آباد ہیں۔ یہاں کے لوگوں میں سیاسی اور سماجی سطح پر بصیرت بھی ہے اور مروت بھی۔ الیکش کے دن کو یہاں کے لوگ اپنے خلوص اور جوش سے عید کا دن بنادیتے ہیں۔ یہاں کے ووٹ ہمیشہ فیصلہ کن رہے ہیں۔ قریش نگر سے متصل ایک پہاڑ ہے جس کی اپنی الگ دنیا ہے۔ ایک طرف حضرت ثناءاللہ باباؒ کی مزار، درمیانی علاقے میں لال ٹانکی ۔ کسی زمانے میںسے یہاں سودیشی مل کو پانی سپلائی کیا جاتا تھا آج وہ خشک ہوکر عید گاہ بن گئی ہے۔ پہاڑی کے آخری سرا جہاں سے اتریں تو چونا بھٹّی کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ یہ ایک ایسی سرحد ہے جہاں فساد کے زمانے میں تناﺅ رہتا ہےحالانکہ دوران فساد فساد قریش نگرایک محفوظ قلعہ تصور کیا جاتا ہے اور ان حالات میں ریلیف کیمپ کا کام انجام دیتا ہے۔  اس علاقے کو قریش برادری نے بسایا اسی لیے یہ علاقہ برسوں تک قصائی واڑہ کہا جاتا رہا۔ تہذیبی قدروں کے عروج نے اسے قریش نگر بنادیا۔ لیکن آج بھی یہاں سلاٹر ہاﺅس کا نشان ایک گوشت مارکیٹ کی شکل میں قائم ہے۔ جہاں گوشت فروخت نہیں ہوتا البتہ ٹیرس پر ایک جماعت خانہ قائم ہے جہاں روز چہل پہل رہتی ہے۔ جہاں پرانا سلاٹر ہاﺅس تھا وہاں اب میونسپل اسکول بن چکی ہے۔ قبرستان کے دروازے پر حافظ باباؒ کی درگاہ ہے قبرستان میں داخل ہوں تو ایک میونسپل اسکول کی پرانی عمارت جس کے پڑوس میں یوسف گورکن رہتا ہے پتہ نہیں وہ زندہ ہےیا اسے بھی کوئی گورکن مل گیا۔ البتہ اُس کے وہ پرانے برگے آج بھی یاد آتے ہیں جو پتہ نہیں وہ کہاں سے لایا کرتا تھا۔ ہم لوگ اکثر قبرستان میں پڑھائی کے لیے جایا کرتے تھے ہم نے چوری سے ایک مچان بنا رکھا تھا۔ اور ’مشتاق باس‘ نے چور کنکشن دلواکر لائٹ مہیا کرادی تھی۔ میرے ساتھیوں نے حنیف قریشی ، اقبال قریشی ، نعیم اور ڈاکٹر سلیم نے اس قبرستان میں ”اسٹڈی روم “ بنا رکھا تھا۔ کافے ملن ہوٹل کے اوپر میونسپل اسکول جہاں کا میں پسندیدہ طالب علم تھا اور اساتذہ روزآنہ قبرستان میونسپل اسکول میں لیڈیس ٹیچرس کے لیے میرے ہاتھ کتابیں بھجوایاکرتے تھے۔ کتابوں کے لین دین کا یہ راز بعد میں مجھ پر کھلا۔ جب میں نے بشیر بدر کا یہ شعر پڑھا:پڑھائی لکھائی کا موسم کہاں کتابوں میں خط آنے جانے لگے ہماری اسکول کے سامنے سراج ماموں کی لائبریری تھی، سٹیزن لائبریری ، جہاں صرف ابنِ صفی رہتے تھے۔بعد میں یہ لائبریری ہم نے خرید لی اور اس سے ہونے والی آمدنی سے اپنے تعلیمی اخراجات پورے کیے۔ یہ لائبریری دراصل ایک ادبی اور سماجی نکڑ تھی جہاں مرحوم لیاقت قریشی ، جاوید مولانا ، طیب قریشی ، قادر بابا انڈے والے(جو اب لیپک نامی میڈیکل چلاتے ہیں) اخلاق قریشی، مشتاق نیگرو، نذر کاتب، چاند قریشی اکثر جمع رہتے۔ لائبریری چونکہ بہت پرانی تھی اس لیے اکثر ناول بوسیدہ حالت میں تھے۔ جب ناول کے ابتدائی اور آخری صفحات کتاب سے الگ ہوجاتے تو پہچاننا مشکل ہوجاتا کہ کتاب کا نام کیا ہے۔ اور مصنف ایسے میں خاص طور پر مقصود مچھلی والا آتے اور کتاب الٹ پلٹ کر فوراً بتادیتے کہ ابن صفی کی آخری شعلہ ہے۔ لائبریری کے بائیں جانب کاف ملن سے لگ کر بُک بائنڈر یوسف خیرو تھےجن کے ماتھے سے پسینہ کے ساتھ پریشانی اور جھنجھلاہٹ جھلکتی تھی۔ جسے مرحوم لیاقت قریشی ہمیشہ اپنی شرارت کا مرکز بناتے تھے۔ دائیں جانب ایک بریج تھا جو قریش نگر سے تکیہ واڑ کو جوڑتا تھا۔ بریج کے نیچے تنظیم القریش کی آفس تھی۔ نونہال کمیٹی کا اسٹڈی سینٹر اب وہاں لطیف کے کپڑوں کی دکان ہے۔ ڈاکٹر فاروق کا مشہور دوا خانہ لائبریری کے سامنے تھا۔ ایک مشہور ٹیلر تھے ہم نے ان کا نام Anytimeٹیلر رکھا تھا۔ کپڑا دیجئے، نہا دھوکر آئیے اور پہن لیجئے یہ ان کی خوبی تھی۔ قبرستان روڈ پر نذر قریشی کی الفتح بیف شاپ ، جہاں شاعروں اور ادیبوں کو خصوصی رعایت اور عمدہ گوشت کی سہولت تھی اس کے قریب ہی مرحوم بقا بھائی کی دکان تھی۔ بقا بھائی ڈیل ڈول کے اعتبار سے فلمی پہلوان شیٹی لگتے تھے، لیکن مزاج دلیپ کمار کا سا تھا۔ جن دنوں دلیپ کمار کی فلمیں ریلیز ہوتیں ، بقا بھائی سفید کپڑوں میں ملبوس اپنی دکان پر بڑی شائستگی سے بیٹھتے اور اسی شائستگی سے گاہکوں سے پیش آتے۔ ہم مانتے ہیں کہ اس میں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تھا بقا بھائی کا انداز ___لوگ گوشت خریدنے کم ، ان کی گلابی اردو سے محظوظ ہونے زیادہ آتے تھے۔ قریش نگر کے پکوان بھی خاصی اہمیت رکھتے ہیں۔ ایک زمانے میں جب یہاں دیونار تھا تو ہر گلی مسے ”چُری“ کی خوشبو بھری آوازیں آتی تھیں۔جلیل بھائی اور ابوبکر کے پان ، بریلی ہوٹل کا قیمہ گھٹالا، مرفی ہوٹل کی چائے، رمضان کے مہینے میں محلہ صبح تک جاگتا ہے۔ شام میں بھی فروٹ اور رگڑے بھجیئے کی دکانوں سے راستے بند ہوجاتے ہیں۔ برف اور فالودے کی دکانیں جگہ جگہ روزہ داروں کا استقبال کرتی ہیں۔ بڑی راتوں میں قبرستان آنے والوں کا رش دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے۔ محرم کے دوران مجالس ، جلوس ،تعزیہ کا اہتمام یہاں کی خصوصیت ہے۔ خاص طور پر حسینی گارڈن میں جسے دیکھنے لوگ دور دور سے آتے۔ یہاں کے نوجوانوں میں مذہبی اور سماجی جذبہ کوٹ کوٹ بھرا ہو اہے۔ الیکشن کے دوران یہ جوش اور جذبہ اور بھی ابھر آتا ہے۔ سماجی و فلاحی اداروں کے قیام میں بھی یہ علاقہ دوسروں سے مختلف ہے۔ یہاں ہر گلی میں ایک ادارہ قائم ہے۔ اسلامی سینٹر کے قیام کے بعد یہاں کی دینی و مذہبی قدروں میں قابل ادر اضافہ ہوا۔ اسی سے جڑے نوجوانوں نے آج ”بیت المال“ بناکر ہزاروں ضرورت مندوں اور غریبوں کی مدد کررہے ہیں۔ خاص طور پو اقبال قریشی ، طیب قریشی ، محمد عباس اور شکیل و دیگر رفقاءہرماہ یہ کام پابندی سے کررہے ہیں۔ مرکز کے ذمہ داروں ہی نے گرین ممبئی کے نام سے یہاں ایک اردو اسکول شروع کیا ہے جو آج سکنڈری اسکول تک پہنچ گیا ہے۔ پرنسپل صدیقی صاحب نے اس اسکول کے فروغ میں نمایاں حصّہ لیا۔ جبکہ یہ اسکول نور محمد، سیف اللہ ، شیخ محبوب ، ہلال قریشی، بشر قریشی اور آصف قریشی کی محنتوں کا ثمر ہے۔ انگریزی میڈیم کا وویک اسکول بھی یہاں کی تعلیمی ضرورتوں کو پورا کررہا ہے ۔ اس اسکول کے قیام میں جناب بابو قریشی اور ان کے خاندان کا اہم رول رہا ہے ۔جہاں پہلے دیونار تھا ، وہاں اب میونسپل اسکول کی شاندار عمارت ہے۔ اس اسکول میں بھی کئی اہم شاعر و ادیب مدرس کے طور پر آئے گئے۔ خاص طور پر مرزا حفاظت بیگ ماہر، برسوں تک اس اسکول میں مدرس کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ بنگڑی چال بھی منفرد خصوصیت کی حامل ہے۔ یہاں ایک زمانے تک خاندیش اور ودربھ کے لوگ آباد رہے۔ حمید ادیبی، تنویر عالم، قیوم اثر اور نہ جانے کتنے ادیب و شاعر کا ٹھکانہ یہیں رہا۔ گذشتہ دنوں بھساول کے ہمارے ایک پرانے دوست جناب قدیر احمد سے ملاقات ہوئی جو ریلوے کی سروس سے ریٹائر ہوئے ۔ وہ بھی ایک عرصہ تک بنگڑی والا چال میں رہے۔ انھوں نے جب قریش نگر کے لوگوں کو یاد کیا تو کئی چہرے میری آنکھوں میں ابھرے۔ جن کا ذکر اس مضمون میں میری کم علمی کے باعث نہ آسکا۔ بہرحال قریش نگر کی گوناگوں خصوصیات ہیں جن کے بیان کے لیے ایک کتاب درکار ہے۔ قریش نگر جہاں ختم ہوتا ہے ، اب وہاں بنٹر بھون قائم ہے۔ کشادہ و خوبصورت ہال جہاں اردو کے تہذیبی اور سیاسی پروگرام ہوتے ہیں۔ خاص طور پر اقراءایجو کیشن کے سالانہ تقسیم انعامات کا جشن بڑے سلیقے سے منایا جاتا ہے ، جہاں قریش نگر کے کامیاب طلباءکی پذیرائی کی جاتی ہے۔ نواب ملک سے پہلے اور نواب ملک کے بعد قریش نگر کو ہم ادوار میں تقسیم کرسکتے ہیں۔ اس درمیان قریش نگر میں بہت کچھ بدل گیا ہے۔ خاص طور پر قبرستان کی از سرِ نو تعمیر نے یہاں رہنے والوں کی تکالیف کو بہت حد تک کم کردیا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ سڑکیں اب بھی اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہیں۔ غیر قانونی تعمیرات نے بی ایس ٹی بس کو علاقے میں آنے نہیں دیا۔ گوشت کا کاروبار جو یہاں کی پہچان تھی اب رفتہ رفتہ ختم ہوچکا ہے۔ قریش برادری نے اپنی اپنی چالیوں میں بلڈنگیں بنالی ہیں۔ پانی کی نکاسی کا صحیح انتظام نہ ہونے کی وجہ سے گلیاں اب بھی تنگ و تاریک نظر آتی ہیں۔ باوجود ان مشکلات کے یہ علاقہ اب بھی دوست پرور ہے۔ فسادکے زمانے میں یہ ریلیف کیمپ بن جاتا ہے۔ قریش نگر سے لگ کر ایک بستی ہے عمر واڑی، اور کھاپر واڑی ۔ یہاں اب بلڈنگیں تعمیر ہوگئی ہیں۔ یہ دراصل قریش نگر کا سرحدی علاقہ ہے۔ درمیان میں ریل کی پٹری ہے، اُس طرف نہرو نگر ہے۔ فساد کے زمانے میں پٹریوں کے کنارے بچھے پتھر فسادیوں کے بہت کام آتے رہے۔ قریش نگر پر بزرگانِ دین کا بھی خاص کرم رہا ہے۔ حافظ بابا کی درگاہ سے شروع ہوکر چونا بھٹی کی درگاہ پر ختم ہونے والا یہ علاقہ جسے حضرت شفاءاللہ بابا کے پہاڑ نے اپنے دامن میں محفوظ کرلیا ہے، کئی علماءو مشائخ کی آماجگاہ رہا ہے۔ خاص طور سے حیدر آباد کے سیّد پیر بغدادی صاحب ایک عرصہ تک یہاں مقیم رہے اور ساکنان قریش نگر قلوب کو اپنی نورانی تعلیمات سے منور کرتے رہے۔ مولانا اسمعیل نے مذہبی محفلوں کو اجالا دیا۔ نوجواں نعت خواں کریم اللہ قادری کی آواز مائک پر گونجتی تو سماں بندھ جاتا ۔ ایک مدت تک عید میلاد النبی کے موقع پر خوش بیاں مقرر مولانا محترم ہاشمی میاں ، عبید اللہ خاں اعظمی اور اعجاز کامٹوی یہاں بیان فرماتے رہے۔ مرکز کی وجہ سے جماعت کے کاموں میں تیزی آئی بالخصوص میر خان اور ان کے ساتھیوں نے یہاں کے ماحول میں دینی اور مذہبی بیداری کو فروغ دیا۔ قریش نگر صرف ایک علاقہ نہیں بلکہ چھوٹی سی ایک دنیا ہے۔ الگ الگ خیالات کے ساتھ بھی یہاں کے لوگ متحد ہیں۔ غم اور خوشی میں یہ اتحاد ابھر کر سامنے آتا ہے۔ بہت سے لوگ نقل مکانی کا شکار ہوئے لیکن ان کا دل بھی قریش نگر کی گلیوں میں دھڑکتا ہے۔ شادی بیاہ یا موت مٹی کے موقع پر سارے قریش نگری ایک ہوجاتے ہیں۔ ایک دوسرے کی خیریت پوچھتے ہیں اور آئندہ پروگرام کی اطلاع اور دعوت دیتے ہوئے رخصت ہوجاتے ہیں۔

٭٭٭

ڈاکٹر قاسم امام ایم شاعر ہونے کے علاوہ ایک عمدہ نثر نگار بھی ۔فی الحال ممبئی کے معروف کالج ’’برہانی کالج آف کامرس اینڈ آرٹس میں صدر شعبہ اردو ہیں۔

Contribution of Hali A Brief View

Articles

لاطاف حسین کی خدمات پر اجمالی نظر

سید داؤد اشرف

حالی نے خود اپنے بارے میں کیا خوب بات کہی ہے
مال ہے نایاب پر گاہک ہیں اس سے بے خبر
شہر میں کھولی ہے حالی نے دکاں سب سے الگ
یہ شاعرانہ تعلی نہیں ہے صاف اور کھلی حقیقت ہے ۔ اس دور میں حالی کے نایاب مال سے گاہک بے خبر تھے اور اس کی قدر و قیمت سے پوری طرح واقف نہیں تھے ، لیکن آج ادب کے بازار میں ان ہی کا مال انمول ہے ۔ اس دور کے بہت سے کھرے سکے کھوٹے ثابت ہوچکے ہیں اور حالی کے سکے کو بہت جلد کھرا مان لیا گیا اور آج تک اسی سکے کا چلن ہے ۔
حالی کے اثرات اردو شعر و ادب پر اتنے گہرے اور دیرپا ہیں کہ اس کا تجزیہ مختصر مضمون میں ممکن نہیں ۔ انھوں نے اردو ادب کے چمن میں جو نئے اور صحت مند پودے لگائے تھے ، وہ آج بھی پھل دار تناور درخت بنے کھڑے ہیں ۔ حالی وہ واحد شخص ہیں جنھوں نے شاعری اور نثر کی کئی اصناف میں اپنی تخلیقات سے انقلاب پیدا کیا ۔ حالی سے پہلے یا ان کے بعد ہمیں بعض ایسی ادبی شخصیتیں نظر آتی ہیں جنھوں نے شاعری یا نثر کی کسی صنف کو نیا موڑ دیا اور اس کے دھارے بدل دئے ۔ چنانچہ انھیں اس صنف کی حد تک امام مانا گیا ، لیکن کسی کو حالی جیسا امتیاز حاصل نہیں ہوا، جنھیں کئی شعری اور نثری اصناف میں امام اور بانی کی حیثیت حاصل ہے۔

صرف اتنا کہہ دینا ہی کافی نہیں ہے کہ سادگی اور دردمندی حالی کی سیرت کی نمایاں خصوصیات تھیں اور ان کی تخلیقات میں یہ خوبیاںکوٹ کوٹ کر بھری ہیں اور حالی کا ادب حالی کی شخصیت اور سیرت کا عکس ہے ۔ ہمیں تو یہ دیکھنا پڑے گا کہ کن باتوں اور کن شخصیتوں نے حالی کو حالی بنایا ۔ کس کے کہنے پر انھوں نے شاعری اور ادب کی خدمت کرنے پر توجہ دی ۔کن کن بزرگوں اور ہم عصر شخصیتوں نے ان کے ذوق شعری کو نکھارا اور کس کی تحریک نے حالی کو اپنی طرف کھینچا ۔
سب سے پہلے حالی کو غالب کی صحبت سے فیض اٹھانے کا موقع ملا ۔ جس وقت حالی غالب سے ملے اس وقت ان کی عمر 17 برس ہوگی ۔ حالی میں طبعی میلان اور شاعری کا جوہر دیکھ کر غالب نے خلاف معمول انھیں فکر شعر کی صلاح دی ۔ حالی کی نظر اور بصیرت کا کیا کہنا ۔ اپنی کم عمری اور غالب کی غیر مقبولیت کے باوجود انھوں نے غالب کی عظمت اور بڑائی کا صحیح اور بھرپور اندازہ کرلیا تھا ۔ حالی غالب کی شاعری کے دل سے معترف تھے ۔
حالی نے غالب سے زیادہ مصطفی خان شیفتہ کی صحبت سے فیض پایا ۔ شیفتہ کے خیالات اور مذاق نے حالی پر بڑے گہرے اثرات چھوڑے ۔
شیفتہ کے انتقال کے بعد حالی کو پنجاب گورنمنٹ بک ڈپو میں ملازمت مل گئی ۔ یہاں انگریزی کتابوں کے اردو ترجموں کی اصلاح کا کام ان کے ذمے تھا ۔ یہاں چار برس کے قیام نے ادب کے بارے میں حالی کے خیالات ، نظریات اور مذاق میں بڑی تبدیلی پیدا کی ۔ جب حالی لاہور سے نکلے تو انہیں سرسید کی تحریک نے اپنی طرف کھینچا اور انھوں نے اپنی تمام صلاحیتیں اس تحریک کی نذر کردیں ۔
حالی کا نظریہ یہ تھا کہ علم و ادب اور شعر و حکمت کے ذرائع کو اصلاح معاشرہ اور تہذیب اخلاق کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے ۔ یہی نہیں بلکہ استعمال کیا جانا چاہئے ۔ چنانچہ وہ جدید ادب کی تحریک کے علمبرداروں میں شامل ہوگئے کہ اردو شعر و ادب کے ان سانچوں کو بدلا جائے، جو نئے حالات و تصورات سے اب کوئی مطلب نہیں رکھتے جو فرسودہ اور ازکار رفتہ ہوچکے ہیں ۔ وہ ادیبوں ، شاعروں اور اردو کی علمی و ادبی سوسائٹی کو اس مصنوعی فضا سے نکالنا چاہتے تھے جہاں نئے افکار کا دم گھٹتا جارہا تھا۔

حالی کی خوبی صرف یہی نہیں تھی کہ وہ خواب ہی دیکھتے اور منصوبے بناتے تھے بلکہ حقیقی معنی میں عالم باعمل تھے اور اپنے خوابوں کی تعمیر اور اپنے منصوبوں کی تکمیل کے لئے مسلسل سرگرم عمل رہنا جانتے تھے ۔ انھوں نے ادب اور زندگی کے تعلق سے جو نیا سائنٹفک نظریہ اختیار کیا اسے انھوں نے اپنے ادب اور زندگی میں ایک مستقل اور باقاعدہ رویے کی شکل دی ۔ اگر حالی کی تخلیقی قوتیں اعلی پایے کی نہ ہوتیں تو ان کی نظم و نثر سپاٹ اور موضوعاتی چیزیں بن کر رہ جاتیں اور اس پر شعوری کوشش کا گمان ہوتا ، لیکن معاملہ اس کے برعکس ہے ۔ حالی اپنی دیگر خصوصیات کے علاوہ ایک ایسے تخلیق کار بھی ہیں جن کی تخلیقی قوتوں کا سرچشمہ بہت دور تک اور بہت بڑے پیمانے پر علم و ادب کی پیاسی اور سنگلاخ زمین کو سیراب اور شاداب کرنا چاہتا ہے ۔ اس طرح خود یہ بات بھی اردو ادب کو حالی کی بڑی دین بن جاتی ہے ۔
شاعری کے بارے میں حالی کے نقطہ نظر کو سمجھنے میں ان کا یہ قطعہ بڑی مدد دیتا ہے ۔
اے شعر دل فریب نہ ہوتو تو غم نہیں
پر تجھ پر حیف ہے جو نہ ہو دل گداز تو
صنعت پہ ہو فریفتہ عالم اگر تمام
ہاں سادگی سے آئیو اپنی نہ باز تو
جوہر ہے راستی کا اگر تیری ذات میں
تحسین روزگار سے ہے بے نیاز تو
حالی کے قیام لاہور کے دوران میں انجمن پنجاب کے زیر اہتمام مشاعرے منعقد ہوتے تھے ۔ ان میں مصرعہ طرح کی بجائے شاعروں سے کسی خاص عنوان پر طبع آزمائی کی درخواست کی جاتی تھی ۔
حالی اور آزاد نے بھی ان مشاعروں کے لئے نظمیں لکھیں ۔ ان کی نظمیں اردو میں ایک نئی چیز تھیں ۔

سرسید کی تحریک سے وابستہ ہونے کے بعد حالی نے سنہ 1879ء میں مسدس حالی یا مدو جزر اسلام لکھی ، جو حالی کی شاعری کا بڑا کارنامہ ہے ۔ خلوص ، تاثیر اور شاعرانہ دردمندی کی ایسی مثال اردو کی کسی اور نظم میں مشکل سے ملے گی ۔ اس نظم کو جو غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی ایسی شہرت اور مقبولیت بھی کسی اور نظم کو نصیب نہ ہوئی ۔ یہ نہ صرف اردو کی پہلی طویل نظم ہے بلکہ یہ پہلی مقصدی اور اصلاحی نظم ہے ۔ اس نظم سے اردو شاعری میں واقفیت ، افادیت اور اجتماعیت کے رجحانات آئے ۔ اس نظم نے پہلی مرتبہ یہ ثابت کیا کہ شاعری سے اصلاح و انقلاب کا کام لیا جاسکتا ہے ۔ قاری اس نظم کے کسی حصے کو غیر دلچسپ نہیں پاتا ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ساری نظم ایک ہی بحر میں ہونے کے باوجود حالی نے اس میں شروع سے آخر تک شعری آہنگ کو قائم رکھا ہے ۔ اس نظم کے بعد حالی نے کئی اور قومی نظمیں لکھیں ، جن میں مناجات بیوہ اور چُپ کی داد قابل ذکر ہیں ۔
حالی نے اپنی شاعری کا آغاز غزل گوئی سے کیا ۔ ابتدائی دور کی غزلوں میں روایتی رنگ پوری طرح موجود ہے ۔ زبان میں رنگینی اور دل کشی بھی ہے لیکن حالی غزل کے مخالفین میں سے تھے اور قدیم رنگ سخن سے سخت بیزار تھے ۔ چنانچہ لاہور سے دہلی آنے کے بعد 1875 ء سے انھوں نے نئے رنگ اور نئے انداز کی غزل گوئی کا آغاز کیا ۔ حالی کی جدید غزل اخلاقی اور اصلاحی خیالات کی ترجمان ہے ۔
عام طور پر حالی نے غزل میں علامتوں سے انحراف کیا ۔ غزل کی علامتیں نئے تجربوں اور تازگیٔ اظہار حائل ہورہی تھیں ۔ وہ اظہار کے لئے نئے امکانات کی جستجو میں تھے کیونکہ غزل کی علامتیں سیر پذیر نقطہ پر پہنچ چکی تھیں ۔ ہر انفرادی تجربہ مروجہ علامتوں کے استعمال کی وجہ سے فرسودہ معلوم ہوتا تھا ۔

ہر دانشور کی طرح وہ بھی چاہتے تھے کہ ان کے تجربوں میں پیرایۂ اظہار کی تازگی ہو اور انداز بیان دوسروں سے مختلف ہو ۔ ایک جیسے یا عام تجربے کو وہ انفرادی اظہار بیان کے ذریعے شاداب بنانا چاہتے تھے ۔ اس لئے انفرادیت کے اظہار کے لئے انھوں نے راست اظہار کا پیرایہ استعمال کیا ۔ حالی کی غزل سے روایتی علامتیں پوری طرح غائب نہیں ہیں ۔ ہاں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کی غزل کا بنیادی instrument پرانی علامتیں نہیں ہیں ۔
حالی اردو میں جدید طرز کی سوانح نگاری کے بانی ہیں ۔ حالی نے جن اصولوں کو پیش نظر رکھ کر سوانحی تصانیف مرتب کیں اردو میں سوانح نگاری اسی راہ پر چل پڑی ۔ حیات سعدی ، یادگار غالب اور سرسید کی سوانح حیات ’’حیات جاوید‘‘ کے بعد اردو میں ان شخصیتوں کی اس سے بہتر سوانح نہیں لکھی گئیں ۔ اردو میں یادگار غالب کے مرتبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آج بھی اگر کوئی غالب کی حیات اور شاعری پر قلم اٹھانا چاہے تو یادگار غالب سے رجوع ہوئے بغیر کام نہیں چلتا ، حالانکہ اس وقت غالب پر مضامین اور کتابوں کا انبار لگ چکا ہے ۔

عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ جب سوانح نگار کسی ایسی بڑی شخصیت کی سوانح لکھتا ہے جو بقید حیات ہو یا جس سے مصنف کے تعلقات قریبی اور گہرے ہوں تو ایسی صورت میں سوانح نگار ایسے واقعات کے تذکروں کی بھرمار کردیتا ہے جن میں وہ بھی شریک ہے ۔ اس کی کتاب تصویروں کا ایسا البم بن جاتی ہے ، جس کی ہر تصویر میں مصنف خود موجود رہتا ہے ۔ حالی میں انکسار کچھ ضرورت سے زیادہ ہی ہے اور خود نمائی سے تو وہ کوسوں دور ہیں ۔ اس لئے وہ اپنی سوانحی تصانیف میں اہم اور ضروری واقعات میں بھی اپنے تذکرہ کو شامل کرنے سے احتراز کرتے ہیں ۔
حالی سے پہلے اردو تنقید کا وجود باقاعدہ فن کے طورپر نہ ہونے کے برابر تھا ۔ تذکروں یا دیگر تحریروں میں جو تنقیدی اشارے اور تنقیدی خیالات ملتے ہیں ان سے تنقید کے اصول وضع کرنا ممکن نہیں ۔ مقدمۂ شعر و شاعری تنقید کے میدان میں پہلی لیکن بہت اہم اور وقیع کوشش ہے ۔ حالی نے اپنے مقدمہ میں شعر کے بنیادی اصولوں اور شاعری کے مقصد پر بحث کی ہے ۔ شاعری کے بارے میں عام طور پر جو غیر صحت مند تصورات پائے جاتے تھے حالی نے انھیں دو رکرنے ، شاعری کے افادی پہلو کو واضح کرنے اور شاعروں کو حقیقت اور زندگی سے قریب کرنے کی کوشش کی ۔ انھوں نے مشرق و مغرب کے خیالات اور نظریات پر کافی غور و فکر کے بعد ان سے استفادہ کیا ۔ ان کی تنقید سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے اور آج تک اردو تنقید میں جو ارتقاء ہوا مقدمہ شعر و شاعری کا مرہون منت ہے ۔

سرسید نے پہلی بار رسالۂ تہذیب الاخلاق کے ذریعے اردو زبان کو توسیع دینے اور اسے ادبی اور علمی زبان بنانے کی شعوری کوشش کی تھی ۔ وہ اردو نثر کے ایک ایسے طرز کو مستقل طور پر رواج دینا چاہتے تھے جو رواں ، سلیس اور عام فہم ہو اور ساتھ ہی ساتھ علمی اور ادبی کاموں کے لئے موزوں بھی ہو ۔ سرسید کے رفقاء میں ان کی اس تحریک کو جس شخض نے سب سے زیادہ پروان چڑھایا وہ حالی ہیں ۔ حالی نے اس طرز تحریک کے ایسے کامیاب نمونے اپنی نثر کے ذریعے پیش کئے کہ سرسید کے مشن کی تکمیل ہوگئی ۔
حالی کے کئی ہم عصر صاحب طرز ادیب تھے لیکن حالی کے طرز اور اسلوب ہی کو مقبولیت اور بقائے دوام حاصل ہوا ۔

حالی نے شاعری کے لئے جو زبان استعمال کی ہے وہ بھی کئی اعتبار سے بڑی اہمیت کی حامل ہے ۔ جہاں تک زبان کا تعلق ہے ان کے یہاں لکھنؤ کی شاعری کی طرح دل کشی ، حسن اور نفاست نہیں ملے گی لیکن یہی کمی ان کی شاعری کا حسن ہے ۔ حالی کی شاعری کو پڑھنے والا خواہ وہ دہلی کا ہو یا لکھنؤ کا ، پنجاب کا ہو یا حیدرآباد کا بڑی آسانی سے شاعری کی بات سمجھتا اور سردھنتا ہے ۔ حالی کی زبان پر کسی خاص علاقے کی چھاپ نہیں ہے ۔ یہ وہ زبان ہے جو ساری اردو دنیا میں پڑھی اور سمجھی جاتی ہے ۔
اردو زبان اور ادب کی زلفیں سنوارنے والوں میں بہت سے نام ملتے ہیں لیکن حالی کا چہرہ بار بار سامنے آتا ہے ۔ اردو زبان اور اس کی ہمہ گیری کے لئے جس ادبی شخصیت نے سب سے زیادہ حصہ ادا کیا وہ بلاشبہ الطاف حسین حالی ہیں ۔

———————————————-

Pique Between Qurratulain Hayder and Parveen Shakir

Articles

قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر کے بیچ رنجش

رئوف خیر

اردو ادب میں قلمکار خواتین کی پذیرائی جی کھول کر اور بانہیں پھیلا کر کی گئی ہے مگر اس کے لیے ان خواتین کا بے باک ہونا شرطِ اول ہے۔ عصمت لحاف سے باہر نکل کر ٹیڑھی لکیر پر چل پڑتی ہیں۔ رشید جہاں انگارے ہاتھوں میں لینے کا حوصلہ رکھتی ہیں وہیں انھی انگاروں سے فہمیدہ اور رضیہ سجاد ظہیر کے ساتھ ساتھ یکے از زیدیان اپنے سگریٹ سلگاتی ہیں اور ان کا ساتھ دینے میں تسلیمہ ’’لجا‘‘ محسوس نہیں کرتیں۔ کشور کشائی میں اک غیرت ناہید نے اپنی بری کتھا لکھنے میں کوئی عار نہیں سمجھا ، یا پھر کوئی بانو اپنے دستر خوان کے ذریعے مشہور و ممتاز سمجھے جانے والے ادیبوں ، شاعروں ، ناقدوں کو نان و نمک پیش کرکے ایوانِ ادب میں داخل ہوتی ہیں۔ مشاعرہ باز متشاعرات کا ذکر ہی یہاں مقصود نہیں کہ یہ زیریں لہر صرف منتظمین مشاعرہ اور عوام کو متاثر کرتی ہیں اور ان کی زلف سخن خاصان ’’نظم‘‘ کے شانوں پر اور عامیانِ غزل کی آنکھوں پر لہراتی ہے۔
مگر بعض ایسی قلمکار خواتین بھی ہیں جنھوں نے اپنے قلم کا لوہا منوایا ہے۔ انھی میں قرۃ العین حیدر اور پروین شاکر بھی شامل ہیں۔ قرۃ العین حیدر 20؍ جنوری 1927ء کو علی گڑھ میں اپنے زمانے کے منفرد ادیب سجاد حیدر یلدرم کے گھر پیدا ہوئیں۔ (ان کی پیدائش کے سال میں اکثر رسائل نے اختلاف کا اظہار کیا ہے کہیں 1926ء تو کہیں 1928ء بھی چھپا ہے۔) روشن خیال آزادہ رو خاندان کی فرد ہونے کے باوجود انھوں نے اپنے قلم کو شتر بے مہار ہونے نہیں دیا۔ مغربی تہذیب کی دلدادہ ہونے کے باوجود نہ وہ ’’واہ امریکہ‘‘ ۔۔۔۔۔۔ کہتی ہیں نہ اپنی عنبریں کی نتھ اترواتی ہیں، نہ کسی کردار کو اترن پہنا کر لطیفے کو کہانی بناتی ہیں۔ ان کی چاندنی بیگم چائے کے باغ کے کنارے ہائوسنگ سوسائٹی میں گردشِ رنگِ چمن پر گہری نظر ڈالتی ہیں تو کبھی ستمبر کے چاند کا لطف لینے کے لیے سفینۂ غمِ دل میں بیٹھ کر آخرِ شب کے ہم سفر کے ساتھ آگ کا دریا پار کرنے کی کوشش کرتی ہوئی جہانِ دیگر پہنچتی ہیں۔
اردو ادب میں علامہ اقبال سے زیادہ پڑھا لکھا شاعر نہ پیدا ہوا ہے ، نہ ہوگا اسی طرح قرۃ العین حیدر سے بڑی ادیبہ نہ ہوئی ہے نہ ہوگی۔
قرۃ العین حیدر کی علمیت کا اعتراف نہ کرنا اپنی لاعلمیت کا ثبوت دینا ہے۔ ان کی تعلیم لکھنؤ سے لے کر کیمبرج یونیورسٹی اور لندن کے مایہ ناز اسکولوں میں ہوئی۔ ظاہر ہے یہ سارا پس منظر ان کا مزاج بنانے میں اپنا حصّہ ادا کرتا رہا ہے اور پھر انھیں اپنے معیار پر پورا اترنے والا کوئی فرد ملا ہی نہیں اس لیے انھوں نے زندگی کا سفر تنہا ہی طے کرنے کی ٹھانی۔ اسی لیے مزاج میں خود سری Dogmatismتھی۔
بعض وقت وہ چھوٹی چھوٹی باتوں سے خفا ہوجاتی تھیں۔ انٹرویو دینے سے تو بہت گریز کرتی رہیں۔ فوٹو کھنچوانے کے سلسلے میں ایک دلچسپ واقعہ ڈاکٹر ابرار رحمانی نے بیان کیا ہے کہ ماہنامہ ’آج کل‘ (دہلی) کے دفتر میں وہ محو گفتگو تھیں کہ سرکاری فوٹو گرافر نے فوٹو کھینچ لیا۔ ’’پھر کیا تھا تھوڑی دیر کے لیے ان کی خوش کلامی کو بریک سا لگ گیا اور سخت ناراضگی کے آثار ان کے چہرے پر نظر آنے لگے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کچھ دیر تک وہ بھڑاس نکالتی رہیں، جب بھڑاس نکال چکیں تو اپنے پرس سے آئینہ اور کنگھی نکالی اور رُخِ زیبا سنوارنے لگیں۔ تھوڑی سی لپ سٹک بھی لگائی تب چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا:’’ اب تصویر کھینچئے۔‘‘(ماہنامہ ’ایوانِ اردو، جنوری 2008ء)
اپنے آپ سے پیار کسے نہیں ہوتا ہے۔ منظر میں رہنا ہر شخص چاہتا ہے۔ فن کارتو ہوتا ہی منظر کے لیے ہے۔ بلکہ بعض نام نہاد فن کاروں اور متشاعروں کے پس منظر میں بھی فن کار ہی ہوتے ہیں۔ قرۃ العین حیدر اپنی شرطوں پر جینے کی عادی تھیں۔ وہ اپنی بات منوا کر رہتی تھیں۔ ماہنامہ ’’شاعر‘‘ (ممبئی)جنوری 2008ء میں افتخار امام صدیقی نے ایک دلچسپ انکشاف کیا ہے کہ قرۃ العین حیدر کی زندگی میں وہ ان پر فضیل جعفری اور سلمیٰ صدیقی سے مضامین لکھوا رہے تھے۔
’’ میں نے اپنی پریشانیوں کا آغاز کیا کہ عینی آپا کو بتا دیا کہ فضیل جعفری اور سلمیٰ صدیقی صاحبہ نے اپنے اپنے مقالے لکھ کر اشاعت کے لیے دیئے ہیں۔ اب عینی آپا بضد کہ پہلے وہ دونوں مضامین پڑھیں گی اس کے بعد ہی وہ شائع ہوں گے۔ مذکورہ دونوں قلم کاروں کا اصرار کہ ہمارے مضامین عینی آپا کو دکھائے بغیر ہی شائع کئے جائیں۔ عینی کی دھمکیاں شروع ہوگئیں کہ پریس اور ’’شاعر‘‘ دونوں کو بند کروا دوں گی ، میرے پڑھے بغیر مضامین کی اشاعت ہرگز نہ کرو۔‘‘
’’شاہد احمد دہلوی ۔۔۔۔۔۔۔ پکچر گیلری کی ایک تصویر‘‘ کے عنوان سے لکھے ہوئے خاکے میں قرۃ العین حیدر نے خود ہی بیان کیا کہ:
’’میرے بھانجے عاصم زیدی نے ایک روز مجھے بتایا کہ آپ کے متعلق ایک نہایت بے ہودہ مضمون ’’ساقی‘‘ میں شائع ہوا ہے۔ کسی نے لوسی فر کے فرضی نام سے لکھا ہے‘‘۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ مضمون میں آج پڑھتی تو بے حد ہنسی آتی لیکن اس وقت شدید غصّہ آیا۔ اس وقت تک شاہد صاحب سے میری ملاقات نہیں ہوئی تھی۔ میں نے انھیں ریڈیو اسٹیشن پر فون کیا۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ جیسے مہذب انسان سے یہ توقع نہ تھی۔۔۔۔۔۔۔۔ وغیرہ وغیرہ انھوں نے بھی کافی سختی سے جواب دیا۔ میں نے کہا بالکل بلاوجہ آپ میرے خلاف اس قسم کا بے بنیاد مضمون کیوں چھاپ رہے ہیں۔ پھر میں نے کہا’’ساقی‘‘ یہاں مالی مشکلات کاسامنا کررہا ہے اور شاید آپ کا خیال ہے کہ اس طرح سنسنی خیز مضامین سے پرچہ بک جائے گا۔ مگر مجھ غریب کو بے قصور نشانہ کیوں بنائیے؟(شاہد احمد) کہنے لگے اچھا کل آپ ریڈیو اسٹیشن آئیے۔ وہاں وہ مجھ سے پھر الجھ گئے اور کہنے لگے اچھا اب ہماری آپ کی ملاقات عدالت میں ہوگی۔ میں حیران پریشان ۔ دوسرے روز وہ مضمون کا پروف لے کر آئے۔ مگر پروف شاہد صاحب نے اسی وقت پھاڑدیئے۔‘‘ (سہ ماہی ’’سفیر اردو‘‘لندن اکتالسواں شمارہ جولائی، ستمبر 2007ء )
یہ وہی شاہد احمد دہلوی ہیں جن کے بارے میں قرۃ العین نے اپنے اسی مضمون میں یہ بھی لکھا :’’ بہت ممکن تھا کہ Teenage Hobbyکی حیثیت سے تھوڑے بہت افسانے لکھ کر چھوڑ دیتی مگر شاہد احمد صاحب کی مسلسل فرمائش اور اصرار سے بڑی سخت ہمت افزائی ہوئی ۔ میرے پہلے افسانے کا تذکرہ انھوں نے اپنے ایڈیٹوریل میں کیا۔‘‘
پروین شاکر 1952ء میں کراچی میں پیدا ہوئیں یعنی قرۃ العین حیدر سے عمر میں تقریباً 25برس چھوٹی تھیں۔
ایک کرم فرما جناب تفنن مجازی سے (تفنن مزاجی بھی کہا جاسکتا ہے) پروین شاکر کو عورتوں کی اختر شیرانی تک کہتے ہیں مگر وہ اپنے خیال سے رجوع کسی بھی وقت کرسکتے ہیں۔ سچ پوچھئے تو پروین شاکر کی طرح شعر کہنے کا سلیقہ بہت ہی کم شاعرات اور بہت کم شاعروں کو ملا ہے۔ کچھ تو اللہ نے انھیں صلاحیتوں سے سرفراز فرمایا تھا اور کچھ انھیں گاڈ فادر بھی اچھے مل گئے ، وہ چل نکلیں۔ کم عمری میں انھیں کئی تجربات سے گزرنا پڑا۔ کئی اعزازات بھی ملے۔ اس ماہِ تمام کی رویتِ ہلال 1977ء میں ’’خوشبو‘‘ سے ہوئی۔ پھر تو یہ گلِ صد برگ اپنی بہار دکھانے لگا۔ ایم ۔اے (انگریزی لسانیات) کرنے کے بعد وہ انگریزی کی لیکچرر ہوگیں۔ 1982ء میں پاکستان سِول سروس کا امتحان کامیاب کرکے حکومت کے اس اہم شعبے میں آگئیں۔ پاکستان ٹی وی کے لیے انھوں نے کئی مشاہیر کے انٹرویو لیے جو بہت مقبول ہوئے۔ 1976ء میں اُن کی شادی اُن کے خالہ زاد ڈاکٹر نصیر علی سے ہوئی۔ پروین 1979ء میں ایک بیٹے کی ماں بنیں اب وہ بیٹا تیس سال کا ہوچکا ہے ۔ وہ بامُراد پتہ نہیں اپنی ماں پر شاکر ہے یا اپنے باپ کی نصرت کررہا ہے۔ نہ جانے کیا بات ہوئی کہ صرف دس گیارہ سال تک ہی پروین شاکر اور نصیر ساتھ ساتھ نباہ کرسکے۔ 1987ء میں دونوں میں طلاق ہوگئی۔ اس ’’کفِ آئینہ‘‘ کے پیچھے ’’انکار‘‘ و اثبات کے زنگار سے فی الحال ہمیں کوئی علاقہ نہیں کہ ہم تو اس ’’ماہِ تمام‘‘ کے مہتابِ سخن کی ’’خوش کلامی‘‘ کے گرویدہ ہیں۔ پروین شاکر نے عورت کی نفسیات اور ماقبل و مابعد بلوغت کے احساسات کو جس بلاغت سے پیش کیا ہے وہ کسی اور شاعر کے پاس ایسے تہذیبی پیرایۂ اظہار میں کم ہی دیکھنے میں آتا ہے۔ پروین شاکر کے لب و لہجہ میں حسن کی تہذیب بھی ہے اور تہذیب کا حسن بھی ہے۔
فکش میں قرۃ العین حیدر جتنی مقبول و ممتاز ہیں ، شعر و ادب میں پروین شاکر بھی اتنی ہی مقبول ہیں ۔ زندگی نے وفا نہ کی ورنہ بہت ممکن تھا کہ وہ کئی او ر شاہکار اردو ادب کو دے جاتیں۔ 26؍ دسمبر 1994کو کار کے ایک حادثے میں وہ جاں بحق ہوگئیں ۔ گویا صرف 42بہاریں ہی وہ دیکھ پائیں مگر شہرت ان کے قدم چومتی تھی۔
اصل موضوع کی طرف آتا ہوں کہ 1978کے اواخر میں وہ ہندوستان آئی تھیں۔ واپس جاکر انھوں نے اپنے سفر کی یادگار کے طور پر کئی نظمیں لکھیں جن میں تین نظمیں بطور خاص اہمیت کی حامل ہیں۔ تاج محل، فراق گورکھپوری اور قرۃ العین حیدر پر لکھی ہوئی وہ نظمیں ’’سیپ‘‘ کراچی ۔شمارہ 38(اکتوبر ؍نومبر1978ء) میں شائع ہوئی تھیں۔’’سیپ‘‘ کا یہ شمارہ جب قرۃ العین حیدر تک پہنچا تو انھوں نے اپنے اوپر لکھی گئی نظم کے ردِّ عمل کے طور پر مدیر ’سیپ‘ نسیم درانی اور پروین شاکر کے نام الگ الگ دو خطوط ارسال کیے۔ پروین شاکر کے نام خط یوں تھا:
ممبئی۔۔۔۔۔۔3 ؍ جنوری 1979؁ء
محترمہ پروین شاکر صاحبہ
’سیپ‘ میں آپ کی نظم دیکھی جس میں آپ نے اپنی شاعری اور تخیل کے جوہر دکھائے ہیں۔میں آپ سے بہت خلوص و اپنائیت سے ملی۔ میری سمجھ میں نہیں آتا ،آپ نے میرے متعلق اس قدر لچر الفاظ کس طرح اور کیوں استعمال کیے اور آ پ کو میں کس طور پر ایسی Figure of the tragedy & frustationنظر آئی یا اس قسم کی Sickنظمیں لکھ کر آپ اپنی شہرت میں اضافہ کرنا چاہتی ہیں۔ آپ شاید بھولتی ہیں اگر میں بد نفسی اور شرارت پر اتروں تو میرے ہاتھ میں بھی قلم ہے اور میں آپ سمیت جس کے لیے جو چاہوں لکھ سکتی ہوں۔ میں ۶ تاریخ کو تین ماہ کے لیے دلی جارہی ہوں اور امید کرتی ہوں کہ آپ مندرجہ ذیل پتے پر مجھے لکھیں گی کہ آپ نے یہ نظم کیا سوچ کر لکھی یا آپ کی واقعی اتنی Sickذہنیت ہے کہ آپ میری شخصیت کواس طرح مسخ کرکے پیش کریں۔ نہ میری آپ سے پرانی دوستی ہے نہ آپ میری ہم عمر ہیں۔ آپ نے دو تین بار کی سرسری ملاقات کے بعد میرے طرز زندگی پر جو قطعی میرا اپنا انتخاب اور میرا معاملہ ہے فیصلے صادر کرکے یہ ظاہر کیا ہے کیا آپ بمبئی آکر بوکھلا گئی تھیں۔or you must be light out of your mind
قرۃ العین حیدر
دوسرا خط مدیر ’سیپ‘ نسیم درانی کے نام یوں تھا:
جناب مدیر ’سیپ‘ نسیم درانی صاحب ، تسلیم!
آپ کے رسالے میں پروین شاکر صاحبہ کی نظم دیکھ کر افسوس ہوا اور تعجب بھی۔ ادیبوں کی شخصیت کو بلا وجہ اور بلا جواز Unprovokedمسخ کرکے پیش کرنا یا اُن پر کیچڑ اچھالنا ہمارے اردو رسالوں کا وطیرہ بن گیا ہے اور یہ وبا عام ہوچکی ہے۔ اس قسم کی Viciousnessکی وجہ کیا ہے۔ یہ میری سمجھ میں نہیں آتا۔ امید ہے آپ مجھے بتائیں گے۔ والسلام
پتہ دیا تھا: معرفت مسٹر ایم آئی قدوائی ، وائس چانسلر ہائوس ، جامعہ ملیہ اسلامیہ، پی۔او ۔ جامعہ نگر ، اوکھلا۔ نئی دہلی۔۲۵
قرۃ العین حیدر کا خط پاکر پروین شاکر حیران ہوئیں کہ خراج تحسین پیش کرنے کے لیے لکھی ہوئی نظم کا یہ الٹا اثر ہوا۔ انھوں نے تمام تر احترام ملحوظ رکھتے ہوئے قرۃ العین حیدر کو جواب دیا اور اس کی ایک نقل مدیر ’سیپ‘ نسیم درانی کو بھی بھیج دی۔ نسیم درانی نے مدیرانہ ذمہ داری اور مدیرانہ تہذیب کے پیش نظر وہ خطوط اُس وقت شائع نہیں کیے مگر ’سیپ‘ کی ایک خاص اشاعت شمارہ 75 ، 2006ء میں دونوں قلم کارخواتین کے خطوط شائع کرتے ہوئے یہ نوٹ لگایا:
’’ادارے نے اپنی مدیرانہ ذمہ داریاں پوری کرتے ہوئے اِن خطوط کو اس وقت اس لیے شائع نہیں کیا کہ اردو کی سب سے عظیم نثر نگار اور ایک حساس شاعرہ کے درمیان پیدا ہونے والی رنجش ایک مستقل نزاع کی صورت نہ اختیار کرلے۔‘‘
اب جبکہ نہ پروین شاکر ہی سلامت ہیں اور نہ قرۃ العین حیدر ، یہ خطوط ان کے مزاج کوسمجھنے کی دستاویز ہوکر رہ گئے ہیں۔ پروین شاکر کا خط پڑھنے سے پہلے آئیے اک نظر اُس نظم پر ڈال لیں جس کا قرۃ العین نے منفی تاثر قبول کیا۔ نظم کا عنوان ہے:
قرۃ العین حیدر
جیون زہر کو متھ پر امرت نکالنے والی موہنی
بھرا پیالہ ہاتھوں میں لیے پیاسی بیٹھی ہے
وقت کا راہو گھونٹ پہ گھونٹ بھرے جاتا ہے
دیوی بے بس دیکھ رہی ہے
پیاس سے بے کل ۔۔۔۔۔۔۔اور چپ ہے
ایسی پیاس کہ جیسے
اس کے ساتوں جنم کی جیبھ پہ کانٹے گڑے رہے ہوں
ساگر اس کا جنم بھون
اور جل کو اس سے بیر
ریت پہ چلتے چلتے اب تو جلنے لگے ہیں پیر
ریت بھی ایسی جس کی چمک سے آنکھیں جھلس گئی ہیں
آبِ زر سے نام لکھے جانے کی تمنا پوری ہوئی پر
پیاسی آتما سونا کیسے پی لے؟
اک سنسار کو روشنی بانٹنے والا سورج
اپنے بُرج کی تاریکی کو کس ناخن سے چھیلے
شام آتے آتے کالی دیوار پھر اونچی ہوجاتی ہے (’سیپ‘ ، شمارہ 38، اکتوبر ؍ نومبر 1978ء)
اس نظم کے ردِّعمل کے طور پر 3، جنوری 1979ء جو خط قرۃ العین حیدر نے پروین شاکر کو لکھا تھا اس جواب 8فروری 1979ء کو پروین شاکر نے دے دیا تھا۔ چونکہ انھیں خط مدیر ’سیپ‘ نسیم درانی کی معرفت ملاتھا ، انھوں نے اس خط کی ایک نقل مدیر ’سیپ‘ کو بھی بھیجی تھی۔ پروین شاکر کا یہ خط بجائے خون اُن کی خوش سخنی و خوش کرداری کا غماز ہے:
عینی آپا ۔ آداب
معذرت خواہ ہوں کہ میری کوئی تحریر آپ کی دل آزاری کا سبب بنی۔ یقین کیجئے میرا ہرگز یہ منشا نہیں تھا۔ نہ نظم میں نے آپ کو خوش کرنے کے لیے لکھی تھی ، نہ ناراض کرنے کے لیے۔ یوں جان لیں کہ یہ ایک تاثراتی قسم کی چیز تھی۔ آپ بہت بڑی ادیب ہیں، ہم نے تو آپ کی تحریروں سے لکھنا سیکھا۔ آپ مجھ سے خلوص اور اپنائیت سے ملیں ، بڑا کرم کیا۔ یقیناً یہ میرے لیے ایک بڑا اعزاز تھا۔ مگر میری سمجھ میں نہیں آتا ، میں نے اس نظم میں کسی قسم کا لچر لفظ کہاں استعمال کیا ہے (کیوں اور کس طرح کا سوال تو بعد میں اٹھتا ہے) آپ تو مجھے بہت پیاری ، بہت گہری خاتون لگی تھیں۔ Frustratedاور Sick-Figuresلوگ ایسے تو نہیں ہوتے۔ ہاں جہاں تک Tragedyکا تعلق ہے تو اپنا یہ تاثر میں Ownکرتی ہوں۔ دکھ کس کی زندگی میں نہیں ہوتے، فرق یہ ہے کہ آپ جیسے اعلیٰ ظرف لوگ اسے جھیلنا جانتے ہیں ، آنسو کو موتی بنادیتے ہیں، ہماری طرح سے اسے رزقِ خاک نہیں ہوتے دیتے۔ لیکن آپ اگر اس بات سے انکاری ہیں تو چلئے یہی سہی۔ آپ خوش رہیں، آپ کے عقیدت مندوں کی اس کے سوا دعا ہے بھی کیا؟
نہیں عینی آپا جسارت کررہی ہوں مگر غلط فہمی ہوگی اگر آپ یہ سمجھیں کہ اس قسم کی نظمیں لکھ کر میں اپنی شہرت میں اضافہ کرنا چاہتی ہوں۔ شہرت تو محبت کی طرح روح کی اپنی کمائی ہوتی ہے، کسی نام کی زکوٰۃ نہیں(مولانا الطاف حسین حالی اور جیمس باسویل کبھی میرے آئیڈیل نہیں رہے!)
آپ کا کہنا درست ہے کہ ’’اگر میں بدنفسی اور شرارت پر اتروں تو میرے ہاتھ میں بھی قلم ہے اور میں آپ سمیت جس کے لیے جو چاہوں لکھ سکتی ہوں‘‘۔ مجھ سمیت کوئی ذی نفس جس کی پہچان حرف ہے، آپ کے قلم کی طاقت سے بے خبر نہیں، بسم اللہ۔
چونکہ آپ نے سوال اٹھایا ہے اور جواب نہ دینا گستاخی ہوگی لہٰذا یہ وضاحت مجھ پر لازمی ہوگئی ہے کہ میں نے نظم کسی خاص محرک کے تحت نہیں لکھی۔ ہندوستان سے واپسی کے بعد جب ذہن سے سفر کی گرد اتری تو سونے کے کچھ ذرات میری سوچ کی انگلیوں پر لگے رہ گئے۔ تاج محل، گنگا سے، اے جگ کے رنگ ریز(امیر خسرو) بوے یاسمین باقسیت، قرۃ العین حیدر اور سلمیٰ کرشن۔ یہ میری وہ نظمیں ہیں جو اس سفر کا عطیہ ہیں۔ رہی میری ذہنیت کے Sickہونے کی بات تو اس کا فیصلہ کوئی سائیکا ٹرسٹ ہی کرسکتا ہے لیکن اگر آپ حرف کی حرمت پر یقین رکھتی ہیں تو میری بات مان لیجیے کہ ان تمام نظموں میں آپ سمیت کسی شخصیت یا عمارت کو مسخ کرنے کی قطعاً کوشش نہیں کی گئی۔
اب بات آتی ہے میرے اور آپ کے تعلقات کی……تو عینی آپا آپ سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ نظم دوبارہ پڑھیں، کہیں بھی نئی یا پرانی کسی دوستی کا دعویٰ نہیں کیا گیا ہے۔ ہم عمر ہونے میں تاریخی اور طبی عوامل بھی حائل ہیں! وہ ملاقاتیں یقینا سرسری ہی تھیں اور آپ کے طرزِ زندگی پر جو قطعی طور پر آپ کا اپنا انتخاب اور اپنا معاملہ ہے طویل اور گہری ملاقاتوں کا اعزاز حاصل کرنے والے بھی فیصلہ صادر کرنے کا حق نہیں رکھتے!
Out of Mindہونے کے متعلق فیصلہ میں پہلے ہی ایک تیسرے شخص کے ہاتھ میں دے چکی ہوں البتہ ایک بات واضح کرتی چلوں کہ بمبئی اتنا بڑا شہر بہر حال نہیں ہے کہ کراچی کا کوئی رہنے والا وہاں جاکر بوکھلا جائے۔ خدا میرے پاکستان کو سلامت رکھے۔ کبھی فرصت ملے تو ذرا علی سردار جعفری صاحب سے پوچھئے گا کہ آپ کے شہر کے بارے میں میرے تاثرات کیا ہیں؟
نظم کی ناپسندیدگی پرشرمندہ ہوں اور درگزر کی خواستگار !
میں ذاتی خطوط کی نقلیں مدیران جرائد کو دینے کی قائل نہیں ہوں مگر چونکہ آپ نے لکھا ہے کہ اس خط کی نقل مدیر ’’سیپ ‘‘ کو بھیجی جارہی ہے لہٰذا میں نے بھی مجبوراً یہی قدم اٹھا یا ہے لیکن اتنا اطمینان رکھیں کہ آپ کی رضامندی کے بغیر یہ خط کہیں شائع نہیں ہوگا۔ کہیے کیا حکم ہے؟
ہاں یاد آیا ۔ یہ تو آپ نے لکھا ہی نہیں کہ ’’کار جہاں دراز ہے‘‘ کی رائلٹی یہاں پاکستان میں آپ کے کس رشتہ دار کو دی جائے؟
امید ہے مزاج بخیر ہوں گے
’’برا ئے سیپ‘‘
نیاز مند
پروین شاکر
پتہ نہیں پروین شاکر کا یہ خط پڑھ کر قرۃ العین حیدر پر کیا گزری تھی۔
٭٭٭

یہ مضمون رسالہ اردو چینل کے شمارہ 27  جلد بارہ ، شمارہ 1 تا 2 ، بابت اپریل 2010سے ماخوذ ہے۔
مضمون نگار جناب رئوف خیر اردو کے معروف شاعر ہیں ۔ حیدر آباد ، تلنگانہ ، ہندوستان سے تعلق رکھتے ہیں۔

Role of Literature and Media in Social Movements

Articles

سماجی تحرّکات ، میڈیا اور ادب کا کردار

قاسم یعقوب

ادب اور سماج کا رشتہ کاغذ کے دو رخوں کی طرح کہا جاتاہے۔ ادب کے اندر سماجی رویّے تو سماج کا عکس ہوتے ہی ہیں غیر سماجی روّیے بھی درحقیقت سماج ہی کے کسی عمل کا ردِّ عمل ہوتے ہیں۔ ادبی سماجیات کو عموماً دو الگ الگ faculties میں تقسیم کر کے ان کے ایک دوسرے پر اثرات کا نام دیا جاتا ہے۔ ادب کوئی faculty نہیں بلکہ تمام faculties میں موجود ایک رویّہ ہے جو چیزوں کو ان کے وجود سے الگ کر کے دیکھنے کی اہلیّت رکھتا ہے ادب اپنی domain میں اپنا صرف تجزیہ (جذباتی اخلاص) رکھتا ہے ورنہ اس کا خام مواد زندگی کی تمام faculties میں موجود ہوتا ہے۔ گویا ادب ایک ذات ہے جو سماج کے اندر اپنا تشخص تیّار کرتی ہے۔ ایک درخت کی طرح جس کے مختلف اعضاء،مختلف اشکال میں اپنے وجود کا اثبات کرتے ہیں اپنے out put میں بھی مختلف ہوتے ہیں مگر ان تمام میں ایک روح کا ادراک کیا جا سکتا ہے جو ذرا ہٹ کے پورے درخت کی نمائندہ ہوتی ہے۔ایک اَن دیکھی قوت کا احساس درخت کے ہر حصے میں محسوس کیا جا سکتا ہے۔
اد ب اور سماج کے درمیان رشتے کو عموماً چار ذرائع سے تلاش کیا جاتا ہے:
۱۔ سماج کو ادبی نگارشات کی روشنی میں ڈھونڈا جائے۔
۲۔ ادب کے اندر سماجیات کے عناصر کو تلاش کیا جائے۔
۳۔ ایک سماج کو کتنا اور کس طرح اثر انداز کر تاہے۔
۴۔ سماج کی مقتدر طاقتوں (حکومتی ادارے، سیاسی ادارے، ترسیلی ادارے،نئی ایجادات، جغرافیائی حالات،ذرائع نقل و حرکت) کے ادب پر اثرات کا جائزہ۔
ادب کی درجہ بندی کرتے ہوئے اِس میں دو طرح کے رویّے نظر آتے ہیں:
ایک : ادب براہِ راست سماجی واقعات کا مرقّع ہو،
دوم: اد ب ذات کی جذباتی توڑ پھوڑ کے اظہار تک محدود ہو جیسا کہ پہلے ذکر ہوا ادب دونوں صورتوں میں سماج ہی کی حرکت کا عکّاس ہوتا ہے۔ اٹھارہویں صدی میں میر کا چاند میں محبوب کا چہرہ تلاشنا، نظیر اکبر آبادی کا ’’مجلس کی جوتیوں پہ بٹھاتی ہے مفلسی‘‘ کہنا اور میر درد کا ’’تصوف میں پناہ لینا اصل میں سماجی روّیے ہی ہیں۔ گویا ذات زندگی کی تمام faculties کا محور ہے بلکہ ایک روح کی طرح سماجیات کا حاصل بھی۔
ادب کی سماجیات پر گفتگو کرتے ہوئے ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ادب اپنے made میں ’’تعمیر‘‘ کا عنصر رکھتا ہے۔ادب کا سچ ایک غیر مرئی احساس ہوتا ہے جو انسانی خمیر کی بُنت کا دھاگہ ہوتا ہے ادب کی قرأت اور تخلیق اپنی ’’تعمیر‘‘ میں اپنی فطری بہاؤ کی طرف سفر کرتی ہے۔ بالکل ڈھلوان کی سمت بہتے پانی کی طرح۔ جو واپس چڑھائی کی طرف بہہ ہی نہیں سکتا جیسے برف حدّت نہیں دے سکتی۔ جیسے آگ منجمد نہیں ہوسکتی۔ ادب کی بُنت میں بنیادی عنصرجذبے کی’’گدازی‘‘ ہے۔ جو اصناف کی تفریق کیے بغیراپنا اظہار کرتی ہے۔ جذبہ اپنی فطرت میں معصوم ہے کوئی جذبہ منفی نہیں ہوتا۔

جذبات کا منفی پن اپنے عمل کے ردّعمل میں منفی یا مثبت ہوتا ہے اپنی سرشت میں نہیں۔ ادب کی سماجیات اصل میں اِس ’’معصومیّت‘‘ کا ادراک ہے سماج کے اندر اسے ’’سچ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لفظ’’سچ‘‘ اپنے استعمال میں اتنا پامال ہو گیا ہے کہ اِس لفظ کی روح ہی مسخ ہو گئی ہے۔ سچ بھی وہ بنیادی رویّہ ہے جو اپنی اصل میں منفی نہیں ہو سکتاجو مختلف حالتوں میں بدلتا ضرور ہے مگر ختم نہیں ہو تا۔ سچ کے بھیس میں بہت سے منفی رویّے سچ بننے پر مُصر ہوتے ہیں مگر سچ درخت میں موجود روح کی طرح معاشرتی سطح پر اپنا اثبات کرواتا رہتا ہے۔ ادیب ادب کے اندر اِسی ’’سچ‘‘ کا سراغ دینے کی کوشش کرتا ہے۔ ہر سطح کا ادیب اپناایک world view رکھتا ہے۔ یہی world view اس کا سچ ہو تا ہے۔ تخلیقی سطح پر کم درجے کے ادیب اس world viewکو اظہار میں نئی زبان میں نہ دے سکنے کی وجہ سے کم تر درجے پر ہی رہ جاتے ہیں یا پہلے سے موجودادبی میکانیات کا اِستعمال کرنے پر ہی اکتفا کر لیتے ہیں۔

یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کم درجے کے ادیب کے ہاں world view ہی بہت محدود پیمانے کا ہو جس کو کسی بڑے ادبی میکانیاتی نظام کی ضرورت ہی نہ محسوس ہوتی ہو۔ ہمارے ہاں غزل کا شاعر عموماً محدود world view رکھتا ہے جس کی وجہ سے غزل کے پرانے سانچے ہی کافی چلے آ رہے ہیں۔ پرانے textsکی ہی نئی تشکیل (construction) سے اِس صنف کا پیٹ بھرا جا رہا ہے۔ حالاںکہ کوئی صنف اپنی حدود میں دائرے کے سفر پر نہیں رواں ہوتی بلکہ اس کے لکھنے والے اسے دائرے کا سفر عطا کرتے ہیں۔
ادیب کےworld view کو مندرجہ ذیل عناصرتشکیل دے سکتے ہیں :
۱۔ کسی سماج میں سرگرمِ عمل تہذیب کے اثرات۔ہمارے ہاں بہت سی تہذیبیں بیک وقت موجود ہیں۔اُردو ادیب کا world view ان تہذیبوں کے باہمی کلچر اور اثرات سے غیر شعوری پر متاثر ملے گا (یہاں کلچر کو تہذیب کی روح کے معنوں میں لیا جا رہا ہے)۔
۲۔ جغرافیائی یا نیچرل اثرات۔ بہ ظاہر اِن عوامل کا world view سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں لگتا مگر ایک ادیب کی نظری داخلیّت کے بہت سے تانے بانے اِسی قوت کی ہر وقت رواں رفتار سے بنتے بگڑتے ہیں۔مثلاً پہاڑوں کی درشتی اور ٹھنڈے علاقوں کی یخ بستگی چیزوں کے معروقی اثرات پر بھی اثر ڈالیں گے۔
۳۔ سیاسی حالات کی معاشرتی نفوذ پذیری۔سیاسی حالات میں دفاعی اورانتظامی نظم و ضبط،امن و امان،انصاف اور بنیادی حقوق کی فراہمی وغیرہ شامل ہوتے ہیں جو ایک ادیب کی داخلیت پر براہِ راست اثر ڈالتے ہیں۔
۴۔ خیالات و واقعات کی ترسیل کی قوتیں بھی ادب پر غیر معمولی اثرات ڈالنے کا موجب بنتی ہیں۔ جن میں میڈیا کا کردار اِس دور کا سب سے جاندار حوالہ کہا جا سکتا ہے۔ اصل میں world view نام کی کوئی چیز اب معرضِ وجود میں آ ہی نہیں سکتی۔ میڈیا نے ادب،ادیب اور قاری کے رشتوں میں ایک ہائپر رئیلٹی کا روپ بھرلیا ہے۔معروض کا دھاگا اب ایک ایسی حقیقت کے بغیر اپنے وجود کی بنت میں ڈھل ہی نہیں سکتا جو خودبھی’’حقیقت‘‘ نہیں۔ میڈیا ایک ’’جنگشن‘‘بن کے سامنے آیا ہے جہاں حقیقتیں اتھل پتھل ہوتی اور نکھرتی ہیں (یہاں ’’حقیقت‘‘ واقعات کی براہِ راست ترسیل ہے) میڈیا ہر دور میں رہا ہے۔ کبھی ایک تہذیب کے کلچر کو بیج کی شکل میں کسی اور جگہ اگا آتا کبھی بادشاہوں کو فوجوں کی نقل و حرکت کی واقعاتی تصویر پیش کرتا رہا۔ ترسیلِ واقعات سے ترسیلِ حقیقت تک کا سفر میڈیا ہی کے مرہونِ منت رہا۔
یاد رہے کہ world viewمعروض کی ’’معروضیّت‘‘ کو جاننے کا نام نہیں بلکہ ’’پہچاننے‘‘ کا گہرا عمل ہے۔ اقبال نے انہی کیفیّوں کو دو لفظوں ’’خبر‘‘ اور ’’نظر‘‘ سے نشان زد کیا تھا۔ سماجی تحرکات محض واقعات کا وقوع پذیر ہونا نہیں رہا۔ واقعات تو تصویر کھینچتے ہوئے کیمرے کا بٹن دبانے کا عمل ہے، ورنہ اس تصویر سازی میں بہت سا مواد پہلے ہی جمع ہو چکا ہوتا ہے۔
یہ مضمون آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
ہمارے معاشرے میں سچ اور حقیقت دو الگ الگ معنوں میں پائی جاتی ہیں۔ ہر حقیقت جو اپنا اثبات کروانا چاہتی ہے، سچ ہوتی ہے۔ اور ہر سچ ایک حقیقت کا روپ لینا چاہتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں حقیقتیں سچ نہیں ہیں اور سچ بے حقیقت ہیں۔ موزے تنگ نے کسی جگہ کہا تھا کہ:

“There are realities without names and names without realities.”

یعنی حقیقتوں کونام مل گیا کہ یہ سچ کی نمائندہ ہیں، مگر وہ نام سے آگے کچھ نہیں۔ اسی طرح ہمارے ہاں ہزاروں سچ ایسے ہیں جو حقیقت کا لیبل نہیں بن سکے۔ وہ آوارہ اور پژمردہ حالت میں دربدر بھٹک رہے ہیں۔ جمہوریت، سیاسی جماعتیں، اسٹیبلشمنٹ، قومیت، حب الوطنی، عوامی طاقت وغیرہ ایسی حقیقتیں رہ گئی ہیں جو اپنے نام کے اندر سچ سے خالی ہیں۔ جمہوریت عوام کی قوت کا نام ہے مگر ہماری جمہوریت مقتدر حلقے کی اقتدار تک حصولی کا عمل ہے۔ یہ نام اپنے معنی کے نام پر اپنی دکان چمکا رہا ہے۔ سیاسی جماعتیں عوامی کیبن سے اٹھتی ہیں مگر عوامی کیبن سے الگ ہو کے اپنی بقا ڈھونڈتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں ایک عرصے سے اَن دیکھی قوتوں کے مفادات کے تحفظ میں عوام کو دھوکہ دیتی آ رہی ہیں مگر وہ عوامی کیبن کے آگے بھی مگرمچھ کے آنسو بہانے میں دیر نہیں لگاتیں، کیوں کہ انہیں بقا کی ضمانت بالآخر یہیں سے ملتی ہے۔ سیاسی جماعتیں اس سلسلے میں مکمل تیاری کیے ہوئے ہوتی ہیں۔ مخصوص طرز کے ووٹرز اور مخصوص قسم کی ڈپلومیسی سے سادہ لوح عوام اُن کے بقا کی ضمانت فراہم کر دیتے ہیں۔

حضور ﷺ نے کہا تھا کہ اگر تم قیامت کی پوری نشانیاں دیکھ لو اور یقین کر لو کہ اب قیامت بالکل آنے والی ہے تو اپنے ہاتھ میں پکڑے سبز ننھے پودے کو زمین میں دبانا نہ بھولنا۔ گویا اسلام ایک حقیقت بن کے سامنے موجود ہے، جس کی پُرامن اور گہری دانش ورانہ روایت (جو سچ ہے) اس نام لینے والی حقیقت سے دور ہو گئی ہے۔ تہذیبوں کے تصادم میں ایک طرف مقتدر قوتیں معاشی غلبے کی جنگ لڑ رہی ہیں جب کہ دوسری طرف کی قوتیں اسے اپنے آئیڈیالوجیکل ایجنڈے کے خلاف سازش قرار دے رہی ہیں، حالاں کہ بڑی طاقتوں کو اِس سے کوئی غرض نہیں کہ ان کے محکوم کیا ورد کرتے ہیں اور کس کو ربِ کائنات مانتے ہیں۔ ہاں انہیں اس سے تکلیف ہے کہ ان کی راہ میں حائل انبوہ ان کے لیے معاشی رکاوٹ نہ بن جائیں۔ گویا مذہبی حلقہ اس ’’معصومانہ‘‘ خطرے کے آگے بند باندھنے کے لیے جان کی بازی بھی لگانے پر تلا بیٹھا ہے۔ حال ہی میں اٹھنے والی خودکش لہر نے کتنی مقتدر طاقتوں کو پسپائی پر مجبور کر دیا؟ کیا اس لہر کے اٹھنے کا باعث بننے والی طاقتیں مذہبی تباہی کا ایجنڈا لے کر خطے میں آئی تھیں؟ اس صورتِ حال میں معصوم جانوں کا ضیاع سچ سے نابلدی نہیں تو اور کیا ہے؟
اسٹیبلشمنٹ معاشرتی سرگرمیوں کے تحفظ کا ادارہ ہے جو جغرافیائی حدود کے اندر اور باہر قومی نظریے اور نظریے کے پاس داروں کی حفاظت کرتا ہے۔ مگر یہ حقیقت بھی سچ کے عنصر سے خالی ہے۔ اس نام سے منسوب جتنی حقیقتیں ہیں وہ سب power discourse کا حصہ ہیں، اس سے وابستہ کر دی گئی ہیں، ہو نہیں سکتیں۔ اس ادارے نے ہمیشہ عوام کے خلاف ایک ’’پارٹی‘‘ کا رول ادا کیا۔ گویا بیرونی مقتدر طاقتوں اور عوام کے درمیان معاہدوں کی عملی اشکال اسی ادارے کی مرہونِ منت ہیں۔ سیاسی جماعتیں اس حوالے سے دستِ کمال رکھتی ہیں کہ وہ عوامی حقیقت کے نام پر اس ادارے کے ساتھ مل کر چلتی ہیں۔ گویا سیاسی جماعتوں کا کردار ’’شفٹ‘‘ ہوتا ہے۔ الیکشن سے پہلے عوام کے کیبن سے اور الیکشن کے بعد مقتدر طاقتوں کے حلقوں کی جانب۔ قومیت، حب الوطنی اور دیگر جذباتی نعرے بھی اپنی ’’سچائی‘‘ کھو چکے ہیں۔ ہمارا پیارا ملک اپنی مٹی کے آنسوؤں سے لدا جا رہا ہے۔ ہم قومیت کا نعرہ تو لگا رہے ہیں مگر اس کے اندر وہ سچ نہیں جو ہماری روحوں کو ہلا دے۔ حب الوطنی برائے نام ہے۔
ادیب کا world view اس صورتِ حال میں اُس سچائی تک رسائی کا نام ہے جو ہمارے اردگرد کہیں کھو گئی ہے۔ یہ حقیقتیں جو برائے نام ہیں، ان کو سچائی کا لبادہ دوبارہ پہنانا اور جو سچ موجود ہیں ان کو حقیقتیں تسلیم کروانے میں ادیب کا کردار بہت اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ کیا ہمارا ادیب یہ بھول گیا ہے کہ ہمارے سچ تو بھوک، افلاس، تعلیمی انحطاط، معاشرتی توڑ پھوڑ، صوبائیت کا زہر، بیروزگاری، انصاف اور بنیادی ضروریاتِ زندگی ہیں۔ ہمارا ادیب کیوں خوف زدہ ہے کہ وہ مذکور حقیقتوں کو فاش کر دینے سے خوف ناک انجام سے دوچار ہو جائے گا جو صرف نام رکھتی ہیں سچ نہیں۔ یہی تو وہ سچ ہے جس کا پرچار آج ادیب کا منشور ہونا چاہیے۔ یہاں یہ سوال بھی ہے کہ کیا ہمارا ادیب اپنے world view میں اتنا میچور بھی ہے کہ اس کے تخلیقی حصہ میں اس طرح کی تجزیاتی سوچ سہارا بن کے آ سکے؟ یہ ضروری تونہیں کہ اس کا world view اس کے فن میں معروضی حیثیت سے ہی آئے۔ پھولوں کو ’’اودے اودے، نیلے نیلے، پیلے پیلے پیرہن‘‘ کہنے والا شاعر اپنے world view میں اس سچائی کا نقیب ہو سکتا ہے یا اُسے لازمی ہونا چاہیے۔ ایک افسانہ نگار جو کبھی بھی معاشرتی توڑ پھوڑ کو اپنا مواد نہیں بناتا، کیا معاشرتی سچائیوں سے نابلد رہ سکتا ہے؟
جیسا کہ پہلے ذکر ہوا،ادیب کے world view کی تشکیل میں اب میڈیا کا کردار مرکزی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔ اصل میں میڈیا ان واقعات کی ترسیل کا ذریعہ ہے جو معاشرتی سطح پر کہیں نہ کہیں وقوع پذیر ہو رہے ہیں۔ میڈیا نے اس معاشرے میں دو بڑی تبدیلیاں پیدا کی ہیں:
۱۔ دور دراز علاقوں میں محرومی کا خاتمہ، جسے regional disparity بھی کہتے ہے۔
۲۔ وہ تمام کردار جو حقیقتوں کی شکل میں سچ کی طاقت بنے ہوئے تھے، بُری طرح expose ہوتے جا رہے ہیں۔ یہ کردار ادارے اور اشخاص میں دونوں کی شکل میں موجود ہیں۔
میڈیا پر یہ الزام عاید کیا جا رہا ہے کہ اس کا کردار غیرمتوازن ہے، وہ حقائق کی پردہ پوش قوتوں کو غیر مہذب رویے سے سامنے لا رہا ہے۔ حالاں کہ ایسا نہیں ہے۔ معاشرتی سطح پر یہ ملک ’’عوام‘‘ اور ’’عوام مخالف‘‘ دو حلقوں میں تقسیم ہے۔ ملک ہمیشہ عوام کا ہوتا ہے۔ اقتدار کا منبع عوام ہوتے ہیں۔ ملک کے اندر معاشرتی سرگرمی ہی سب سے بڑی حقیقت ہے جس میں عوام حصہ دار ہوتے ہیں عوامی قوت اپنی تنظیم کے لیے مقتدر طاقتیں پیدا کرتی ہے جو سیاسی قوتیں، اسٹیبلشمنٹ اور حکومتوں میں اپنا اظہار کرتی ہیں۔ عوامی طاقت کا پرمٹ استعمال کرنے والی غیر عوامی قوتیں ہمیشہ سے عوام کے خلاف ایک ’’پارٹی‘‘ بنی ہوئی ہیں۔ گویا ملک ’’عوام‘‘ اور ’’عوام مخالف‘‘ دو حصوں میں تقسیم ہے۔ میڈیا نے ’’عوام مخالف‘‘ قوتوں کا پردہ چاک کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ میڈیا بھی ایک ’’پارٹی‘‘ بن گیا ہے، مگر وہ ’’عوام حمایت‘‘ کردار میں سامنے ہے۔ آزاد طاقتیں ہمیشہ عوامی کیبن سے اپنا جھنڈا بلند کرتی ہیں۔ سیاسی جماعتیں بھی جب آزاد ہوتی ہیں، عوامی حلقوں سے حیاتِ تازہ لیتی ہیں اور حکومت میں مقتدر حلقوں کی اسیر بن کے ’’عوام مخالف‘‘ رویوں میں ڈھل جاتی ہیں۔
اس وقت میڈیا تجزیاتی سطح پر نہیں، expose کی سطح پر ہے۔ چیزیں تہہ در تہہ بند ہیں، جنہیں پیاز کے چھلکوں کی طرح اتارا جا رہا ہے۔ یہ عمل بے کار تو ہے مگر قصور کس کا ہے؟ پیاز کا یا اُس کا چھلکا اتارنے والے کا؟ ڈبوں کے اندر سے ڈبے نکلتے جا رہے ہیں مگر خزانے کا کہیں پتا نہیں۔ expose ہونے پر خطرہ کس کو ہے، ان کو جو عوام مخالف ’’پارٹی‘‘ کا کردار ادا کر رہے ہیں اور عرصے سے کرتے آ رہے ہیں۔ power discourse نے عوام کے اندر بھی اپنا نفوذ شروع کر رکھا ہے، لہٰذا یہاں سے میڈیا کے خلاف حمایت بھی سامنے آ رہی ہے۔

اس سارے عمل کے دوران سول سوسائٹی بھی عوام حمایت قوت بن کے سامنے آئی ہے۔ سول سوسائٹی عموماً غیرفعال ادارہ ہوتا ہے جو معاشرے میں متحرک چیزوں کا اعلی درجے کا ناظر کہلایا جا سکتا ہے، جس کا کام معاشرتی سرگرمی پر نظر رکھنا ہوتا ہے۔ میڈیا کی حد درجہ مداخلت نے اس ادارے کو اپنا کردار ادا کرنے پر اُکسا دیا ہے۔ گویا یہ بے ضرر ادارہ اب اینٹی عوام قوتوں کے لیے ضرر رساں بن چکا ہے۔
یہ مضمون آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
ادیب کی سماجیات، سماجی تحرکات کی زَد میں ہے، مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ادیب اپنے کردار سے آگاہ بھی ہے؟ اُردو ادیب کسی غزل کا پامال قافیہ ہے جو اپنے پہلے قافیے کے وجود میں آنے کے فوری بعد پہچانا جاتا ہے یا ایک آوارہ کاغذ کی طرح، ذرا ہوا چلی اُڑ کے کہاں سے کہاں پہنچ گیا۔
ادب اور ادیب ہمیشہ سچ کی قوتوں کا نمائندہ ہوتا ہے۔ سچ کے نام پر فقط ’’حقیقتیں‘‘ رہ جانے والی قوتوں کو بے نقاب کرنا ادیب کا کام ہے۔ ایسے سچ جو برہنہ ہیں اُن کو وقار دینا بھی ادبی عمل کا حصہ ہے۔ نجانے وہ دن کب آئے گا جب ہمارے ہاں یہ برہنہ سچ حقیقت کا نام پانے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ہم ابھی اس کھیل میں اس درجہ بھی واقف نہیں کہ ہم کس ٹیم کی طرف ہیں اور ہمارے پاؤں سے لگے فٹ بال کا ہدف کس طرف ہے؟ ہمیں تو یہ بھی معلوم نہیں کہ یہ کھیل کون سا ہے۔ اس پہلی شناخت کے بعد اپنی شناخت کا مرحلہ ہے اور پھر کہیں اپنے مقاصد کی شناخت کا مرحلہ آتا ہے۔
انجم سلیمی نے کہا تھا ؂

ابھی یہ ظلم سہہ سکتے ہیں تو ہتھیار مٹ بانٹو
ابھی کچھ روز ان کو اور بھی مظلوم رہنے دو

Pandit Jawaharlal Nehru

Articles

پنڈت جواہر لال نہرو

ڈاکٹر محمد نسیم الدین ندوی

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ دامانی اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

ان میں بہت سے شخصیات ایسی ہیں جن کو ہندوستان میں بالکل نظرانداز اور فراموش کردیا گیا ہے۔ سرِدست آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو کی ہمہ جہت شخصیت پر خامہ فرسائی مقصود ہے۔ پنڈت نہرو مورخ، مصنف اور سیاست داں تھے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو 14 نومبر 1889ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش پر ہر سال یوم اطفال بڑی دھوم دھوم سے منایا جاتا ہے۔ ان کے والد موتی لعل نہرو معروف قانون داں تھے۔ ماں شریمتی سروپ رانی تعلیم یافتہ خوبصورت خاتون تھیں۔ یہ برہمن خاندان جنت نشاں وادی کشمیر سے آکر الہ آباد میں آباد ہوگیا تھا۔ الہ آباد ایک شہرت یافتہ تاریخی شہر ہے۔ یہاں عقیدت کی آئینہ دار تین دریاؤں کا سنگم ہے گنگا، جمنا اور سرسوتی کا خوبصورت ملن یہیں ہوتا ہے۔ سرسوتی یہاں سطح زمین کے اندر رہتی ہے۔ یہاں پورے ملک سے زائرین آتے ہیں۔ الہ آباد کئی سالوں تک متحدہ آگرہ و اودھ کا دارالسلطنت بھی رہا ہے۔ پنڈت نہرو کی تعلیم و تربیت کے لیے اول مرحلے میں گھر پر ہی انتظام کیا گیا۔ سنسکرت، ہندی پڑھانے کے لئے جہاں پنڈت رکھے گئے اردو فارسی پڑھانے کے لیے مولوی رکھے گئے۔ انگریزی پڑھانے کے لیے انگریز استاد رکھا گیا۔ جب پنڈت نہرو چودھ سال کے ہوئے تو ان کو انگلستان کے ہیرو کالج میں داخل کیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں ان کی طبیعت گھبرائی لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکول کی زندگی میں رچ بس گئے اور ہمہ وقت مطالعے میں مصروف رہنے لگے۔ وہ اپنے ہم جماعت طلبا سے زیادہ اخبارات و جرائد کا مطالعہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1905 کے اواخر میں انگلستان میں عام انتخابات ہوئے، لیبر پارٹی برسراقتدار آگئی، 1906 کے شروع میں پنڈت نہرو کے کلاس ٹیچر نے انتخابات اور برسراقتدار آئی پارٹی اور حکومت کے بارے میں سوالات کئے تو کلاس میں استاد حیران رہ گئے جب پورے کلاس میں جواہر لعل ہی ایسے طالب علم تھے جو سب سے زیادہ معلومات رکھتے تھے۔ حکومت کے وزرا کے نام کی فہرست منہ زبانی یاد تھی۔ 1906 میں ہیرو کالج کے سالانہ امتحان میں جواہر لعل اول آئے۔ ہیرو کالج کے ہیڈماسٹر جواہر لعل کی کارکردگی سے پورے طور پر مطمئن تھے۔ انھوں نے موتی لعل نہرو کو جواہر لعل نہرو کی جو رپورٹ ارسال کی اس میں پورے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جواہر آگے چل کر تاریخ رقم کرے گا۔ اکتوبر 1907 میں 18 سال کی عمر میں جواہر لعل نہرو کو کیمرج یونیورسٹی میں داخل کیا گیا۔ یہ دنیا کی مایہ ناز اور معروف یونیورسٹی ہے۔  پنڈت نہرو یونیورسٹی آکر بہت خوش تھے۔ انھوں نے کیمرج کی کھلی فضا میں خوب مطالبہ کیا اور وسیع تر معلومات حاصل کیں۔ علم کیمیا، علم ارضیات، علم اقتصادیات، علم نباتات، علم قدرتی سائنس، علم سیاسیات پر مختلف نظریات کا مطالعہ کیا۔ اسی دوران وہ سوشلسٹ خیالات سے واقف ہوئے۔ برناڈشا اور ٹرینڈرسل سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ اسی دوران ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوا کہ بھارت کی آزادی کے لئے جد و جہد کرنا چاہئے۔ کیمرج یونیورسٹی میں مقیم ہندوستانیوں نے ایک سوسائٹی بنائی تھی جس کو مجلس کہا جاتا تھا۔ اس میں مختلف موضوعات پر بحث و تمحیص ہوتی تھی۔ ہندوستانی طلباء اپنی تہذیب و ثقافت کو انگریزوں کی تہذیب و ثقافت سے اعلیٰ و برتر سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ ہندوستانی تہذیب میں زیادہ کشادگی اور رواداری ہے۔ اس مجلس میں حقوق انسانی اور آزادی پر بھی بحث ہوتی تھی۔ پنڈت نہرو اس میں برابر شریک ہوتے تھے اور اپنی بات بڑے محتاط انداز میں رکھتے تھے۔ ان کو اس مجلس سے بڑی معلومات حاصل ہوتی تھی اور آہستہ آہستہ آزادئ ہند کا جذبہ موجزن ہونے لگا۔ جواہر لعل نہرو کی عمر صرف 20 سال کی تھی جب 1910میں ڈگری حاصل کرلی۔ ان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوں لیکن ان کے والد نے کہا کہ نہیں تم بیرسٹر بنو۔ اس کے مدنظر ان کو لندن کے مہشور قانون کے کالج انرٹیمپل میں داخل کیا گیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے 1912ء میں امتیازی نمبرات سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی۔
1912میں پنڈت بھارت واپس آگئے۔ ملک میں جنگ آزادی کی جد و جہد جاری تھی۔ پہلی عالمی جنگ کی آمد آمد تھی۔ اس وقت کانگریس دو حصوں میں منقسم تھی۔ ایک حصہ کی رائے تھی کہ ملک کی آزادی کا حصول گفت وشنید سے ہو جبکہ دوسرے حصہ کی رائے تھی کہ آزادی بزور شمشیر حاصل کی جائے۔ پنڈت نہرو کے والد موتی لعل اعتدال پسندی کے حامی تھے۔ ان کا مشورہ تھا کہ ملک کی آزادی انتہا پسندی سے نہیں بلکہ اعتدال پسندی سے ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو بھی اعتدال پسند تھے اور بات چیت اور امن و امان کی راہ پر چل کر بھارت کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔
1916ء میں لکھنؤ کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی سے جواہر لعل نہرو کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت گاندھی کی شخصیت ایک عظیم داستان بن چکی تھی۔ گاندھی جی عدم تشدد کی راہ پر چل کر ملک کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ جواہر لعل، گاندھی سے بہت متاثر ہوئے اور پھر کیا تھا بہت جلد وہ گاندھی کے شریک کار بن گئے۔ 1916میں ہی جواہر لعل نہرو کی شادی دہلی میں کملا کول سے ہوئی۔ 19نومبر1917 میں ان کے یہاں ایک بچی کا جنم ہوا جس کا نام اندرا پریہ درشنی رکھا گیا۔
پہلی عالمی جنگ نومبر 1918 میں ختم ہوئی۔ بھارت کے عوام برطانیہ کی زنجیر غلامی کو ہر حال میں توڑ پھینکنا چاہتے تھے اور بغاوت پر آمادہ تھے۔ انگریزوں سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وعدے کے مطابق بھارت کو آزاد کردیں لیکن انگریزوں نے اس کے برعکس قانون بنادیا کہ کسی کو بھی بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیجا جاسکتا تھا۔ گاندھی جی نے ستیہ گرہ شروع کردی۔ پرامن احتجاج اور گرفتاریاں دینا شروع کردی گئیں۔ دسمبر 1927 کے مدراس کے کانگریس اجلاس میں بھارت کی مکمل آزادی کی تجویز پیش کی گئی۔
جواہر لعل نہرو کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں کٹا۔ بریلی، دہرہ دون، الموڑہ، علی پور، کلکتہ اور احمد نگر کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ چونکہ پنڈت سیاسی قیدی تھے اور جیلوں کے افسران مہذب ہوتے تھے اس لیے ان کو اخبارات، کتابیں، رسائل پڑھنے کی اجازت تھی۔ وہ جیلوں میں خوش اخلاقی کے ساتھ رہتے تھے۔ جیلوں کے قوانین پر بہت سختی سے عمل کرتے تھے۔ جسمانی ورزش کے لیے باغبانی کیا کرتے تھے اور دماغی ورزش کے لیے پڑھتے لکھتے رہتے تھے۔ ’’تلاش ہند‘‘ جیل میں رہ کر ہی لکھی تھی۔ اپنی بیٹی اندرا پریہ درشنی کو خطوط لکھا کرتے تھے جو ’باپ کے خط بیٹی کے نام‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکے ہیں۔
8اگست 1942 میں ممبئی میں کانگریس کا اجلاس ہوا۔ بھارت چھوڑو تجویز منظور ہوئی اور آثار نمایاں ہونے لگے کہ اب بھارت آزاد ہوجائے گا۔ 1945 میں عالمی جنگ ختم ہوئی۔ انگلستان میں لیبر پارٹی برسراقتدار آئی۔ نئی پارٹی ایک بار پھر بھارت کی آزادی کے مطالبہ کو طے کرنا چاہتی تھی۔ آزادی کے لیے انگریزوں نے دو تجویزیں رکھیں۔ ایک قلیل مدتی اور ایک طویل مدتی۔ کانگریس نے قلیل مدتی تجویز کو مان لیا لیکن مسلم لیگ نے اس کو نامنظور کردیا اور الگ ملک کا مطالبہ تیز کردیا۔ گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل ان قومی لیڈروں کے ساتھ تھے لیکن مسلم لیگ کے جھگڑوں سے پریشان یہ فیصلہ کیا کہ تقسیم تسلیم کرلینے میں بھلائی ہے۔ دونوں لیڈران بابائے قوم مہاتما گاندھی کو منانے میں لگ گئے۔ آخرکار گاندھی جی نے ہتھیار ڈال دیئے اور ملک تقسیم ہوکر آزاد ہوگیا۔ گاندھی جی، سردار پٹیل، پنڈت جواہر لعل نہرو و دیگر کانگریسی لیڈران مولانا ابوالکلام آزاد کو منانے میں ناکام رہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، ہم نے بھارت کی جنگ آزادی کی لڑائی تقسیم کے لیے نہیں لڑی تھی، تقسیم اس ملک کا بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے، اس کا خمیازہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔ مولانا کی مخالفت کو کانگریس نے درکنار کرتے ہوئے تقسیم ہند کو تسلیم کرلیا اور بھارت آزاد ہوگیا۔
15اگست 1947 کو آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے پنڈت جواہر لعل نہرو نے حلف لیا۔ وہ اس وقت اٹھاون سال کے تھے۔ وہ جوان، خوش اور صحت منطر نظر آتے تھے۔ انھوں نے مجلس آئین کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اب وقت آگیا ہے ہم اپنے ملک کی تقدیر سنوائیں اور ملک کا مستقبل روشن و تابناک بنانے کا عہد و پیمان کریں۔ چلاپتی راؤ رقم طراز ہیں:
’’جواہر لعل نہرو محض وزیراعظم ہی نہ تھے وہ قوم کے رہنما بھی تھے۔ وہ کانگریس کے جسم اور روح تھے، ساری دنیا کے سامنے وہی ہندوستان کی نمائندگی کرتے تھے، ہندوستان کا مطلب تھا جواہر لعل اور جواہر لعل کے معنی ہندوستان تھا‘‘
وہ بہت لگن اور دلچسپی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اپنی کاپی پر امریکی شاعر رابرٹ فروسٹ کی نظم کی مندرجہ ذیل سطریں درج کر رکھی تھیں:
اگرچہ جنگلات خوبصورت گھنے اور تاریک ہیں
مگر مجھے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
پنڈت جواہر نہرو آخری دم ان سطور کا ورد کرتے رہے۔
جدید بھارت کا عظیم معمار 27مئی 1964 کو اپنے داربقا کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ پنڈت جی کو آج بھی دنیا ان کے عالمی امن و امان کے لیے کئے گئے کاموں کے لیے یاد کرتی ہے اور بھارت میں ان کے یوم ولادت کو یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اور بچے آج بھی ان کو چچا نہرو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
جواہر لعل کو کسی بھی یادگار کی ضرورت نہیں۔ پورا جدید ہندوستان ان کی یادگار ہے۔ یہ بہادر محنتی اور زندہ دل انسان کا قصہ ہے جو اپنے عوام کو اپنے دل و دماغ کی پوری قوت سے پیار کرتا رہا اور جس نے ان کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک کام کیا اور ان کو ان کے مستقبل کے بارے میں پرامید بنایا۔ عوام جواہر لعل کو کبھی فراموش نہ کرسکیں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں جواہر لعل کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھانا ہے۔


بشکریہ فکر و خبر ڈاٹ کام

Adabi Tahqeeq Ke Taqaze by Shamsur Rahan Farooqui

Articles

ادبی تحقیق کے تقاضے

شمس الرحمن فاروقی

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، ادبیات اور دیگر انسانیاتی علوم (Humanities) کے شعبوں میں تحقیقی مقالہ نگاروں پر جو شرطیں پی ایچ ڈی کے لیے(یا الٰہ آباد یونیورسٹی میں، جہاں کا طالب علم میں تھا) ڈی فل کے لیے عائد کی جاتی تھیں،انھیں چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

  1. اپنے موضوع کے اعتبار سے نئے حقائق کی دریافت
  2. یا پھر اس موضوع کے بارے میں پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر

میرا خیال ہے یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں۔ لیکن مزید وضاحت کے لیے یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ ’نئے حقائق‘ سے مراد وہ حقائق ہیں جو مطبوعہ مآخذ میں نہ ملتے ہوں۔ وہ بات جو کسی مطبوعہ ماخذ میں ملتی ہو، خواہ وہ مطبوعہ ماخذ کتنا ہی کمیاب کیوں نہ ہو، اسے ڈھونڈ کر اس میں سے کوئی بات نکال لانا موجب تحسین تو ہو سکتا ہے لیکن اسے’نئے حقائق کی دریافت‘ کا درجہ نہیں دے سکتے۔اسی طرح،’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘کا مطلب یہ نہیں کہ کسی موضوع پر مختلف اقوال جمع کر دیے جائیں اور آخر میں خلاصۂ کلام کے طور کچھ اپنی بھی رائے دے دی جائے۔ ’نئی تعبیر‘کی کم سے کم شرط یہ ہے کہ وہ قابل قبول ہو، موجودہ تعبیروں کے مقابلے میں اقلیتی رائے کی حیثیت رکھتی ہو، یا پھر وہ موجود تعبیروں پر کوئی ایسا اضافہ کرتی ہو جس کی روشنی میں ان تعبیروں کی وقعت یا معنویت میں اضافہ ہو، یا پھر ان حقائق پر نئے طور سے سوچنے کی تحریک پیدا ہو۔
واضح رہے کہ ’تعبیر‘ سے مراد ایسی تعبیر ہے جو ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی جارہی ہے۔ اس کی سب سے مشہور اور بالکل سامنے کی مثال غالب کی غزل ہے۔

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

رہی    نہ  طرز   ستم  کوئی آسماں   کے لیے

اس غزل کا آٹھواں شعر ہے  ؎

بقدر   شوق   نہیں ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

اس شعر کی یہ تعبیر ایک زمانے میں عام تھی اور اب بھی کچھ لوگ اس کے قائل نظر آتے ہیں کہ غالب نے اس شعر میں غزل کی تنگ دامانی کی شکایت کی ہے۔ یعنی غالب جیسے شخص کو بھی شکوہ ہے کہ غزل بہت تنگ اور محدود صنف سخن ہے یا یہ کہ اس میں کوئی خرابی ہے، کوئی کمی ہے جس کی بنا پر غزل میں شاعر کو اپنی بات پوری طرح پھیلا کر کہنے کی گنجائش نہیں ملتی۔

اس تعبیر کو درست ہونے کے لیے اولاً یہ ضروری ہے کہ یہ ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی گئی ہے۔ غزل کے اس شعر کی حد تک ’حقائق‘ کا پورا احاطہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ شعر کے تمام الفاظ کو مناسب اہمیت دی جائے اور ہر لفظ پر پورا غور کیا جائے اور اس کے ممکن معنی دریافت کیے جائیں۔ لہٰذا جس تعبیرکا ذکر میں نے ابھی کیا، یعنی یہ کہ اس شعر میں غالب نے غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کیا ہے، اس کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہیے کہ شعر میں ’ظرف تنگناے غزل‘ کے لفظ آئے ہیں، اور یہ بھی ہے کہ اس ظرف کو شاعر یا متکلم کے ’شوق’ کے مقابلے میں کم لکھا گیا ہے۔ پھر دوسرے مصرعے میں شاعر یا متکلم تقاضا کرتا ہے کہ مجھے اپنے ’بیان‘ کے لیے ’کچھ اور وسعت‘ درکار ہے۔ ’شوق‘ سے مراد ہے، غزل کہنے یا غزل میں مضامین باندھنے کا شوق، اور ’بیان‘ سے مراد ہے مضامین غزل کا بیان، اور ’وسعت‘ سے مراد ہے کوئی ایسی صنف سخن جس میں اتنی وسعت ہو کہ شاعر یا متکلم اس میں اپنے ’شوق‘ کے مطابق خوب تفصیل سے اپنے مضامین بیان کر سکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس شعر میں شاعر یا متکلم غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا ہے۔

یہ سب کہہ کر ہم اپنے طور پرمطمئن ہو گئے کہ ہم نے شعر میں بیان کیے ہوئے حقائق کا مکمل احاطہ کر لیا ہے اوراس لیے ہماری تعبیر بالکل درست ہے۔ یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ غالب نے کہیں اور اس طرح کی بات کہی ہو کہ میں غزل کی تنگ دامانی کا شاکی ہوں، تو ہم مانیں کہ اس شعر میں غالب کا شکوہ عمومی شکوہ ہے، کسی مخصوص موقعے پر یہ مخصوص نکتہ غالب نے نہیں بیان کیا ہے۔اس کے جواب میں ہم کلامِ غالب سے مزید ثبوت کے طور پر یہ شعر لاتے ہیں ؎

نہ  بندھے تشنگیِ شوق   کے   مضموں   غالب

گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

غالب کے کلام سے یہ سند لا کر ہم نے اپنا دوسرا ثبوت بھی بیان کر دیا کہ غالب کوغزل کی تنگ دامانی کا شکوہ تھا۔ شعر میں صاف کہا جا رہا ہے کہ تشنگیِ شوق کے مضمون نہ بندھ سکے، اگرچہ ہم نے مبالغے کی انتہا کر دی۔ لیکن اگر توجہ سے شعر کو پڑھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اول تو یہ کہ شعر میں ’تشنگی شوق‘ کا ذکر ہے، محض شوق کا نہیں اور دوئم یہ کہ شعر میں غزل کے دامن کی تنگی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہاں تو یہ کہا گیا ہے کہ ہماری’تشنگیِ شوق‘اس قدر بے حد و بے نہایت ہے کہ اغراق اور غلو کی تمام حدیں پار کرکے بھی ہم اسے بیان نہ کر سکے۔
یہ خیال رہے کہ ’شوق‘ عمومی لفظ ہے۔اس سے کوئی بھی شوق مراد لے سکتے ہیں: جان دینے کا شوق، معشوق سے ملاقات کا شوق، وصل کا شوق، کہیں جانے کا شوق، کوئی بات کہنے کا شوق، وغیرہ۔ اگرچہ لفظ ’شوق‘ کو اکثر عشقیہ ماحول یا سیاق و سباق میں برتا جاتا ہے، خاص کر شعر میں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ لفظ صرف عشق کے معاملات تک محدود ہو۔ لہٰذا ’تشنگی شوق‘ اور شے ہے اور صرف’شوق‘ اور شے۔ ’بقدر شوق نہیں‘ اور ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ سے بالکل ظاہر ہے کہ ’بیان‘ کے شوق کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ کچھ بیان کرنے کا شوق بہت ہے اور دوسری بات یہ کہ اس بیان کے لیے وسعت بہت درکار ہے۔غزل کے مضامین کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ صرف ‘بیان’ سے یہ مراد لینا غلط ہوگا کہ غزل کے مضامین کا بیان مقصود ہے۔’مضمون‘ سے ’بیان‘ مراد لینے کا کوئی قرینہ شعر میں نہیں۔ تشنگیِ شوق والے شعر میں صاف صاف’مضمون‘ کا ذکر ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھ سے اور کوئی مضمون تو شاید، یا غالباً، بندھ سکتا ہو، لیکن تشنگیِ شوق کے مضامین بیان کرنے کی قوت مجھ میں نہیں ہے۔

اب شعرِ زیر بحث کو پھر دیکھیں؎

بقدر   شوق   نہیں   ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اب یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ شاعر یا متکلم کو کچھ کہنا مقصود ہے، یا یوں کہیں کہ اسے کسی بات کو کہنے کا شوق بہت ہے، لیکن وہ بات غزل میں بیان نہیں ہو سکتی۔ یعنی بات کسی خاص مضمون یا موضوع کی ہے کہ اس کے لیے یہ غزل کافی نہیں۔ یہاں غزل کی عمومی تنگی کی بات نہیں ہے، ایک مخصوص موقعے کی بات ہے۔
مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس شعر(’بقدر ظرف نہیں‘)کا ماحول کیا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ بالکل لازم نہیں کہ غزل کے شعر باہم مربوط ہوں لیکن چوں کہ شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ کچھ معمّائی سی ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس شعر کے پہلے کیا ہے اور بعد میں کیا ہے۔ چناں چہ جب ہم زیر بحث شعر کے پہلے جو شعرگزرا ہے اس کو دیکھتے ہیں   ؎

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے

اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں  نے  پاسباں  کے  لیے
ظاہر ہے کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے ’ظرف تنگناے غزل‘ سے متعلق کیا جا سکے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اردو کیا، فارسی شاعری میں بھی نہیں باندھا گیا۔ غزل کے مخالفین کچھ بھی کہیں اور غزل میں انسان کی کم وقعتی پر کتنا ہی ماتم کریں، لیکن یہ مضمون اپنی جگہ پر بالکل نیا ہے اور ایسا کہ پہلے تو کبھی بندھا ہی نہ تھا، بعد میں بھی کسی سے نہ بندھ سکا۔
منقولہ بالا شعر کے بعد وسعتِ بیاں اور تنگناے غزل کا مضمون ہے جس کی تعبیر میں منقولہ بالا شعر سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس لیے اس سے اگلا شعر دیکھتے ہیں   ؎

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے

بنا  ہے  عیش  تجمل  حسین   خاں  کے  لیے

اب بات فوراًآئینہ ہو جاتی ہے۔ پچھلا شعر اس بات کی تمہید تھا کہ میں تجمل حسین خان کی مدح کا شوق بے حد رکھتا ہوں لیکن غزل کا دامن قصیدے کی طرح وسیع نہیں کہ اس میں مختلف طور اور قرینے سے مدح کے مضامین بیان ہو سکیں۔ یعنی یہاں غزل کے دامن کی تنگی کی بات نہیں ہو رہی ہے، غزل اورقصیدے کا فرق بیان ہو رہا ہے۔ غزل بنیادی طور پر عشقیہ مضامین کی شاعری ہے اوراس کی زبان بھی قصیدے کے پر شکوہ اور مغلق الفاظ سے بالعموم ابا کرتی ہے۔قصیدہ ہوتا تو میں طبیعت کی جولانی دکھاتا، غزل میں کہاں تک اور کس طرح بیان کروں۔ پھر بھی شوق سے مجبور ہو کر چند شعر موزوں کررہا ہوں۔
یہ بات خیال میں رکھنے کی ہے کہ غالب نے غزل کو تنگ یا قصیدہ یا مثنوی کو اس کے مقابلے میں فراخ نہیں کہا ہے۔ بات یہاں کمیت کی ہے، کیفیت کی نہیں۔ بات قصیدے میں کثرتِ اشعار اور غزل میں نسبةً قلت اشعار کی ہے۔ اس غزل میں بھی مدح کو ختم کرتے وقت غالب نے یہی کہا ہے کہ لکھنے کے لیے مزید جگہ نہیں مل رہی ہے، ورق ختم ہو گیا    ؎

ورق   تمام   ہوا   اور   مدح   باقی    ہے

سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

لفظ ‘سفینہ’ بھی یہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ‘بحر بےکراں’ سےصرف مناسبت ہی نہیں رکھتا،  بلکہ اس کے ایک معنی ’مجموعہ‘ یا ’بیاض‘ بھی ہوتے ہیں۔’بہارِعجم‘ میں ہے کہ ’سفینہ‘ عرف عام میں اس بیاض کو کہتے ہیں جو لمبائی کی طرف سے کھلتی ہے اور جس کی شکل کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ یہی معنی ’آنند راج‘ میں بھی درج ہیں، اس تفصیل کے ساتھ کہ عربی میں لفظ ’سفینہ‘کی بہت سی جمعیں ہیں اور لغت نگار نے وہ سب درج کر دی ہیں۔

غزل زیر بحث کا مقطع دیکھیے تو ہماری تعبیر بالکل مکمل ہوجاتی ہے  ؎

اداے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا

صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

 

یہاں اگرچہ لفظ ‘نکتہ’ کی تکرار کچھ گراں گزرتی ہے، لیکن معنی بالکل واضح ہیں: غالب نے اس غزل میں کچھ نئے انداز سے نغمہ سنجی کی ہے، یعنی غزل میں قصیدے کے شعر ڈال دیے ہیں۔ اب جو لوگ نکتہ شناس ہیں وہ اس کی داد دیں اور اس طرح کہنے کی کوشش کریں۔
تو جب ایک شعر کی تعبیر میں اس قدر الجھن ہو سکتی ہے تو کسی وسیع الذیل حقیقت یا حقائق کی تعبیر میں کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں،اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مزید وضاحت کے لیے تاریخِ ادب سے ایک مثال لیتے ہیں۔
جب تک میر اور قائم کے تذکرے چھپ کرعام نہیں ہوئے تھے، ولی کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات کا ماخذ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف’آبِ حیات‘ تک محدود تھا۔ مثلاً یہ بات مصدقہ طور پر معلوم نہ تھی کہ ولی کتنی بار دہلی آئے اور پہلی بار کب آئے۔ مولانا محمد حسین آزاد ’آبِ حیات‘ میں لکھتے ہیں:

’’ ولی احمدآباد گجرات کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہ الدین کے مشہور خاندان سے تھے۔ یہ اپنے وطن سے ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ شاید ان سے شعر میں اصلاح لی ہو۔مگر دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارے سے کی۔‘‘
اس آخری جملے پر آزاد کا حاشیہ ہے:’دیکھو تذکرۂ فائق کہ خاص شعراے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔‘لیکن مشکل یہ ہے تذکرۂ فائق نامی کسی کتاب سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نگار پاکستان کے ’تذکروں کا تذکرہ‘ نمبرمطبوعہ 1964 میں فرمان فتح پوری نے تمام معلوم تذکروں کی فہرست دی ہے اور پھر ان کا حال لکھا ہے۔ صفحہ 4 پر کسی ’مخزنِ شعرا‘ مرقومہ 1297ھ بہ مطابق 1880کا ذکر ہے اور مصنف کا نام نورالدین خان فائق بتایا ہے۔ لیکن کتاب کے متن میں اس تذکرے کا کوئی حال نہیں۔ فہرست میں ’مخزن شعرا‘ کا اندراج بھی اپنی مناسب جگہ پر نہیں ہے، کیوں کہ اس کے بعد بھی کئی تذکرے ایسے درج ہیں جو 1880کے بہت پہلے لکھے گئے۔ 1880میں تحریر کردہ (یا شایع شدہ) تین تذکروں کے نام فہرست میں درج ہیں:’طورِ کلیم‘؛ ’بزمِ سخن‘ اور خود ’آبِ حیات‘۔ فائق کے تذکرے کا نام یہیں آنا چاہیے تھا لیکن وہ اپنی جگہ سے بہت پہلے آگیا ہے اور اس کے آگے کوئی صفحہ نمبر بھی نہیں ہے، صرف 20 لکھا ہے۔
محمد حسین آزاد پراسلم فرخی مرحوم کی مبسوط دو جلدی کتاب میں بھی نور الدین خان فائق یا ’مخزنِ شعرا‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ’آبِ حیات کا تنقیدی مطالعہ‘ یا قاضی عبدالودود کی ’محمد حسین آزاد بحیثیت محقق‘ میں فائق کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ ہمارے یہاں جن لوگوں نے ولی پرتحقیقی نظر ڈالی ہے، انھوں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں کی۔ ورنہ یہ تذکرہ (اگر واقعی ایسا کوئی تذکرہ ہے اور بقول آزاد وہ ’خاص شعراے دکن کے حال میں ہے‘) حاصل ہو سکتا توولی اور شاہ گلشن کی مبینہ ملاقات اور شاہ صاحب کے اس مشورے کے بارے میں کہ ولی اپنا دیوان ’فارسی کے طور پر‘ ترتیب دیں، کچھ زیادہ تفصیلی اور زیادہ معتبر بات معلوم ہو سکتی تھی۔
جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا،اس وقت تو ولی کی دہلی (پہلی اور اغلباً واحد) آمد کے بارے میں ہمارے پاس ‘آبِ حیات’ کے بعد جو دو اطلاعات ہیں وہ میر اور قائم کے تذکروں پر مبنی ہیں۔ میرکا بیان درج ذیل ہے۔ اس کے بعد میں قائم کا بیان نقل کروں گا:

’’ولی (محمد، ملک الشعرا) شاعر ریختہ (زبردست) (صاحب دیوان) از خاک اورنگ آباد است۔ می گویند کہ در شاہجہان آباد نیز آمدہ بود۔ بخدمت میاں(شاہ) گلشن صاحب رفت و از اشعار خود پارۂ خواند۔ میاں صاحب فرمود(ند کہ)ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند، در ریختہ(ہاے)خود بکار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت۔‘‘(’نکات الشعرا‘ از میر محمد تقی میر، مرتبہ و مدونہ پروفیسر محمود الٰہی، ادارۂ تصنیف، دہلی 6، 1972، ص 91)

’’شاہ ولی اللہ، ولی تخلص، شاعرےست مشہور، مولدش گجرات است۔ گویند بہ نسبت فرزندی شاہ وجیہ الدین گجراتی، کہ از اولیاے مشاہیر است، افتخار ہاداشت۔ درسنہ چہل و چہار ازجلوس عالمگیر بادشاہ، ہمراہ میر ابوالمعالی، نام سید پسرے کہ دلش فریفتۂ او بود، بہ جہان آباد آمد۔ گاہ گاہ بزبان فارسی دو سہ بیت در وصف خط و خالش می گفت۔ چوں درآنجا ملازمت حضرت شیخ سعد اللہ گلشن قدس سرہٗ مستعد گردید، بگفتن شعر بزبان ریختہ امر فرمودند و ایں مطلع تعلیماً موزوں کردہ حوالۂ او نمودند

خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں

بے تکلف صفحۂ کاغذ یدِبیضا کروں

(’مخزن نکات‘ از قائم چاندپوری، مرتبہ و مدوّنہ اقتدا حسن، لاہور، مجلس ترقیِ ادب، 1966، متن صفحہ 21 تا 22)

ان دو عبارتوں میں کئی تضاد اور کئی اختلافات ہیں۔ ان کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

  1.   میر کا کہنا یہ ہے کہ ولی جب دلی آئے تو شاعر تھے۔ لیکن شاہ صاحب نے ان کے اشعار سن کر مشورہ دیا کہ فارسی میں مضامین بھرے پڑے ہیں، انھیں کیوں نہ استعمال کرو۔ میر کو یہ نہیں معلوم کہ ولی اور گلشن کی ملاقات دلی میں کب ہوئی۔
  2. قائم کہتے ہیں کہ ولی جب دہلی پہنچے تو وہ ریختہ کے شاعر ہی نہیں تھے، نہ ہی وہ باقاعدہ فارسی گو تھے۔ ہاں کبھی کبھی ایک دو بیت فارسی میں شاہ ابوالمعالی کی ثنا و صفت میں کہہ لیتے تھے۔ شاہ گلشن نے ’مضامین فارسی‘ کو بکار لانے کے باب میں ولی کوکچھ مشورہ نہ دیا، البتہ ایک مطلع بطورتعلیم موزوں کرکے ان کو عطا کیا۔
  3. ولی کے دہلی آنے کی تاریخ کے بارے میں میر کو کچھ نہیں معلوم۔ ان کا بیان ہے کہ ’لوگ کہتے ہیں‘ کہ وہ شاہجہان آباد دہلی بھی آئے تھے۔ اس کے برخلاف قائم نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ ولی اورنگ زیب عالمگیر کے چوالیسویں سالہ جلوس میں دہلی آئے۔ معمولی گنتی کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سال 1112 ہجری اور 1700 حالی تھا۔چوں کہ ولی کے ورودِ دہلی کے بارے میں ہمیں کوئی اور قطعی اطلاع نہیں، اس لیے سب اسی تاریخ کو مانتے ہیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ ان تضادات کا کیا ہو؟ میر کہتے ہیں شاہ صاحب نے ولی سے کہا کہ فارسی کے مضامین کیوں نہیں لکھتے ہو؟ قائم کہتے ہیں کہ ولی اس وقت تک ریختہ گو تھے ہی نہیں، چہ جاے کہ شاہ صاحب ان کا کلام سنیں اور کوئی مشورہ دیں۔ لیکن یہ انھوں نے ضرور کہا کہ ریختہ کہو اوران کو تعلیماًایک مطلع بھی کہہ کر دیا۔
اس بات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ دہلی والوں نے میر اور قائم کے بیانات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا(اور یہ فیصلہ اب تک رائج ہے) کہ ولی کچھ نہ تھے اور کچھ نہ ہوتے اگر وہ دہلی نہ آئے ہوتے اور انھوں نے شاہ سعد اللہ گلشن سے فیض نہ حاصل کیا ہوتا۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے کسی محقق نے میر اور قائم کے تضادات اور اختلافات پر غور کیا ہو۔ محمد اکرام چغتائی، جو مورخ ہیں اور ادبی محقق کے زمرے میں نہیں آتے، انھوں نے ضرور لکھا ہے کہ 1112ھ میں شاہ گلشن صاحب دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ دکن کی سیاحت کر رہے تھے۔ لہٰذا دہلی میں شاہ صاحب اور ولی کی 1112 میں ملاقات ممکن ہی نہیں ہے۔ اقتدا حسن نے چغتائی کے مضمون مطبوعہ ’اردو نامہ‘ بابت مارچ 1966 کا حوالہ اسی صفحے پر حاشیے میں دیا ہے جہاں سے میں نے قائم کا بیان نقل کیا۔دوسرے صاحب ڈاکٹر محمدصادق ہیں جنھیں ہم ان کی تاریخ ادب اردو بزبان انگریزی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ محقق انھیں کوئی نہیں مانتا۔ یوں بھی، وہ انگریزی کے پروفیسر تھے، اردو والے انھیں اپنا آدمی بھلا کب مان کے دیتے؟ لیکن ’تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند‘ جلد ششم، مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی،لاہور کے صفحہ530 اور پھر صفحہ 532پر صادق صاحب لکھتے ہیں:

’’تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ولی کا سفرِ دہلی، نہ صرف اس کی شاعری میں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ میں بھی ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہےمیری رائے میں [شاہ گلشن کی]یہ مفروضہ ہدایات اہالیان دہلی کی اختراعات ہیں۔ان کا منشا (غیر شعوری طور پر ہی سہی)یہ ہے کہ اردو شاعری کی اولیت کا سہرا دہلی ہی کے سر رہے۔‘‘
میں چودھری محمد نعیم کا ممنون ہوں(اگرچہ مستعمل معنی میں محقق وہ بھی نہیں ہیں) کہ انھوں نے ڈاکٹر صادق کی عبارت کی خبر مجھے دی۔ لیکن میں اردو کے محققین سے پوچھتا ہوں کہ انھوں نے ’آب حیات‘ اور ’نکات الشعرا‘ اور ’مخزن نکات‘ کے بیانات پر آنکھ بند کر کے کیوں یقین کر لیا؟ آزاد کا تعصب تو اس بات سے ظاہر ہے کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ولی نے ’دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناًان [شاہ سعد اللہ گلشن]کے اشارے سے کی‘ اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی نے یہ تو لکھا ہے کہ میں شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد ہوں’ مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں۔‘اس صورت میں اس بات کا امکان کتنا رہ جاتا ہے کہ کوئی شخص، جو فن شعر میں کسی کا استاد نہ ہو، وہ اسے اتنا مہتم بالشان مشورہ دے ڈالے کہ فارسی میں مضامین پڑے ہیں انھیں بے تکلف لوٹو اور اپنا گلشن شاعری آراستہ کرو۔

قائم نے تو کہہ دیا کہ شاہ گلشن سے ملاقات کے پہلے ولی ریختہ کے شاعر ہی نہ تھے، لیکن آزاد خود کہہ رہے ہیں کہ ولی نے ایک شعر میں ناصر علی سرہندی کو کھل کر چنوتی دی ہے

 

اچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق

اگر  مصرع   لکھوں  ناصر علی   کوں

’کلیات ولی‘مرتبہ نورالحسن ہاشمی مطبوعہ لاہور، 1996، صفحہ195 پر یہ شعر یوں درج ہے   ؎

 

پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق

اگر   مصرع   لکھوں   ناصر علی   کوں

بے شک یہ شعر آزاد کے روایت کردہ شعر سے بہتر ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ایسا شعر ناصر علی کے زمانۂ حیات ہی میں کہا گیا ہوگا۔ ناصر علی سرہندی کا سال وفات1696 ہے۔ اس طرح یہ بات بالکل صاف ہے کہ 1696تک (یعنی دہلی آنے سے کم از کم چار سال پہلے)ولی شعر گوئی میں اتنے مشاق اورمستحکم ہو چکے تھے کہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے فارسی استاد کو اس طرح للکار سکتے۔
مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ ’نئے حقائق کی دریافت‘ ہو، یا ’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘، ولی کے بارے میں ان دونوں شرائط کا حق ’آب حیات‘ اور ’نکات‘ اور ’مخزن‘میں درج کردہ بیانات کی تحقیق کی حد تک ہم سے ادا نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے کھلے طور پر دہلی والوں کے تعصب کو اس کا ذمہ دار بتایا ہے۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ جو دہلی والے نہیں بھی ہیں  وہ بھی میر اور قائم کے اختراع کردہ افسانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناں چہ تبسم کاشمیری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
’’شمال کے اس سفر کی داستان خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو،یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی ہند کے ادبی ماحول، تہذیبی فضا اور شعری اسالیب سے ولی نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔‘‘

یعنی اب بات ’تھا‘ سے ’ہوگا‘ تک آگئی، لیکن بات رہی وہی پہلے سی۔ لطف یہ ہے کہ اسی صفحے پر تبسم کاشمیری نے یہ بات کہی ہے کہ ’یہ ولی کا کمال تھا کہ اس نے شمالی ہند میں فارسی روایت کے مغرور علما اور شعرا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔‘
بھلا ’بہت کچھ سیکھنے‘ میں ’جھنجھوڑ کر رکھ دینے‘ کا عنصر کہاں رہا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے ولی رہے پھر بھی دہلی کے ممنون احسان کہ بقول ناصر نذیر فراق، ورود دہلی کے پہلے ولی شاعر ہی نہیں تھے، وہ جو کچھ ہیں انھیں دہلی نے بنایا۔ جمیل جالبی نے اپنی تاریخ میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ ولی کا انتقال 1707/1708 کے بہت بعد ہوا ہوگا، کیونکہ اگر وہ دہلی پہنچنے کے کچھ ہی عرصہ بعد راہی ملک عدم ہوئے تو بھلا انھوں نے وہ سارا کلام کب کہا ہو گا جو کمیت میں خاصا ہے اور جس پر بقول جالبی صاحب، دہلی کا اثر صاف نظر آتا ہے؟ لیکن حقیقت بہ ہر حال یہی ہے کہ ولی کا مکمل ترین کلام جس مخطوطے میں ملتا ہے اس کی تاریخ کتابت 1709 ہے۔اس کے بعد اگر وہ جئے ہوتے اور انھوں نے کچھ کہا ہوتا تو وہ کہیں تو ملتا۔

فن تحقیق پر ہمارے یہاں کئی کتابیں اور کئی مضامین ہیں۔ تقریباً سب میں دیانت داری پر زور دیا گیا ہے لیکن مجرد دیانت داری کسی کام کی نہیں۔دیانت داری کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ پوری اور سخت چھان بین کے بغیر کسی ایسی بات کو، یا کسی ایسے نتیجے کو نہ قبول کر لیا جائے جو ہمارے دل کو بھاتا ہو بلکہ ایسے نتیجے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو ہمارے حسب دلخواہ ہو۔ ہماری ادبی تحقیق کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ محقق نے پوری ایمان داری کے ساتھ کسی نتیجے کو اس لیے قبول کیا کہ وہ اس کے معتقدات کے موافق تھا، یعنی اس کا خیال تھا کہ اس چیز کو ایساہی ہونا چاہیے۔
داغ پر ہم لوگوں کی خامہ فرسائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزی تاریخیں یا انگریزوں سے متاثر تاریخیں پڑھ پڑھ کرہم لوگوں نے یقین کر لیا کہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں لال قلعہ ہر طرح کی بداطواری اور تعیش پسندی اور ذہنی انحطاط کا صدر مقام تھا۔ پھر ہم لوگوں نے پڑھا کہ داغ کی ماں نے ایک شہزادے سے شادی کر لی اور قلعہ میں جا رہیں اور داغ بھی ان کے ساتھ تھے۔لہٰذا داغ کی نشوو نما لال قلعے میں ہوئی۔ داغ کے بارے میں یہ کہا گیا:

’’مغلیہ حکومت کا یہ آخری دور تھا۔ شمشیر و سناں سے گزر کر طاﺅس و رباب میں شاہی خاندان مصروف تھا۔ رقص و سرود کی محفلیں، قلعے کی بیگمات،خواصیں، چونچلے، رنگ رلیاں،اس ماحول میں شہزادوں کے ساتھ داغ نے بھی بارہ سال گزارے۔‘‘
ہم لوگوں کے خیال میں اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ قلعے والوں کی تمام بری باتیں داغ کی طینت میں پیوست ہو جائیں۔ مندرجہ بالا رائے کا بلاواسطہ یا بالواسطہ پرتوداغ کے بارے میں ہرتحریر میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتباس کی سب باتیں غلط ہیں سوا اس کے کہ داغ نے قلعے میں بارہ سال گزارے۔اگر ذرا سی بھی کاوش کی جاتی تو داغ کے بارے میں ہمارے نتائج بالکل مختلف ہو سکتے تھے۔ لیکن جو نتیجہ ہم نے نکالا وہ جذباتی طور پر ہمارے لیے قابل قبول تھا کہ داغ تو ہنسی ٹھٹھول کے شاعر تھے، ان کے کلام میں مضامین بلند نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ ارباب نشاط میں بہت مقبول تھے۔ مزید کاوش کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔داغ کا دیوان کھولنے کی زحمت کون کرتا۔
یہیں سے محقق کے منصب کے بارے میں دوسری اہم بات بھی سامنے آتی ہے: جو نتیجے اور فیصلے پہلے سے موجود ہیں یا ہم نے ورثے میں پائے ہیں،ان پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کر لینا چاہیے۔ کوئی روایت، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی دلکش یا کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو،اسے اسی وقت قبول کرنا چاہیے جب اپنی ذاتی تحقیق اس کی تصدیق کر دے۔ ہمارے یہاں کتاب پر اعتماد کی رسم بہت مستحکم ہے۔ کسی مبتدی طالب علم کے لیے تویہ طریق عمل بہت مناسب ہے، لیکن محقق کا یہ منصب نہیں۔ یہ بھی ہے کہ ادبی تہذیب میں بعض باتیں غیر معمولی شہرت حاصل کر لیتی ہیں، خواہ وہ کسی کتاب میں نہ ہوں۔انسان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ مشہور باتوں پر،یا لکھی ہوئی باتوں پریقین کر لینے پر بہت مائل رہتا ہے، خاص کر اگر ایسی باتیں دلکش یا ڈرامائی انداز میں بیان کی گئی ہوں۔ محقق کواس کمزوری سے مبرا ہونا چاہیے۔
ہمارے جدید شعرا میں میراجی ایک ایسے ہیں جن کی شخصیت کی بارے میں خاکے کے نام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور وہ کم و بیش سب کا سب حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میراجی کا افسانہ پہلے بنا، خاکے بعد میں لکھے گئے۔ یعنی ان کی شخصیت میں کچھ ایسی بات تھی، اسے اسرار کہیے، کشش کہیے، یا توجہ انگیزی کہیے، لیکن کچھ ایسا ضرور تھا کہ لوگوں کو ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کرنے میں مزہ آتا تھا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہر خاکہ ان کی زندگی کی کسی منزل پرلکھا گیا ہوگا، وہ ان کی پوری زندگی کو محیط نہیں ہو سکتا۔ لیکن اکثر لوگوں نے ہر خاکے کو میراجی کی پوری شخصیت کی تصویر سمجھ لیا ہے۔ ہر چند کہ میراجی کی تخلیقی شخصیت تو دور رہی، ان خاکوں سے ان کی پوری زندگی کی بھی فہم نہیں حاصل ہو سکتی۔ مثلاً کہا گیا کہ میراجی اپنی پتلون کی جیبیں کٹوا دیا کرتے تھے۔ممکن ہے ایسا ہو، لیکن کون سے میراجی؟ بمبئی کے میرا جی، یا دہلی کے میرا جی، یا حلقۂ ارباب ذوق کے میراجی، یا ’ادب لطیف‘ کے مدیر میراجی؟ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کی نظمیں مبہم ہوتی تھیں اور انھیں ابہام بہت پسند تھا۔وہ اپنی بات کو گھماپھرا کر کہنا پسند کرتے تھے۔لیکن ’مشرق و مغرب کے نغمے‘ میں جو میراجی ہیں وہ تو انتہائی شفاف نثر لکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کی کتاب ’اس نظم میں‘ کا صرف نام سن لیا، اور چوں کہ یہ مفروضہ بہت مشہور تھا کہ میراجی کا کلام مشکل اور مبہم ہوتا تھا، لہٰذا انھوں نے کتاب پڑھنے کی زحمت کیے بغیر لکھ دیا کہ میراجی کا کلام اس قدر مشکل تھا کہ انھوں نے مجبوراً خود ہی ’اس نظم میں‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنی نظموں کے معنی بیان کیے۔
ہمارے یہاں پہلے زمانے کی ادبی تاریخ کے بارے میں اس طرح کی حکایتیں بہت مشہور ہیں کہ مثلاً انشا آخری عمر میں بالکل بدحال اور مجنون ہو گئے تھے، یا غالب نے آخیر آخیر میں طرز میر اختیار کیا، یا اردو ’لشکری زبان‘ ہے کیونکہ ’اردو‘کے معنی’لشکر‘ ہیں۔ محقق کو یہ اصول ہمیشہ مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ جو بات جتنی ہی مشہور ہوگی، اتنا ہی قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ غلط ہوگی لیکن ہمارےمحققین نے اس اصول کو اکثر نظر انداز کر دیا ہے۔
آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے۔اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل انگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے۔ آج اردو پڑھنے والے کم نہیں ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ہو، ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاش معاش کے لیے جوڑ توڑمیں لگ جانے کی جلدی ہے۔ آج کل ہماری یونیورسٹیوں میں جن موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور جس طرح کی تحقیق ہورہی اس میں بھاری اکثریت ’فلاں کی حیات اور کارنامے‘ قسم کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب کم حقیقت اور زندہ لوگوں کے ’کارناموں‘کے الگ الگ پہلوﺅں پر تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔مثلاً ’فلاں کی افسانہ نگاری‘،پھر اسی شخص کی شاعری، پھر اسی شخص کی تحقیق، وغیرہ الگ الگ موضوع بن گئے ہیں۔ زندوں بچاروں پر یوں لکھا جارہا ہے گویا اب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا اور اب ہم ان کے ’ کارناموں‘ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی موضوع پرایک ہی یونیورسٹی میں، یا مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کی داد دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تحقیقی مقالوں میں نئی بات کیا، تنوع بھی نہ ہوگا۔’چبائے ہوئے نوالے‘، ’چچوڑی ہوئی ہڈیاں‘جیسے فقرے ایک زمانے میں ہماری شاعری کے بارے میں استعمال ہوتے تھے۔ اب یہی فقرے ہمارے تحقیقی مقالوں پر صادق آتے ہیں۔

Ghubar E Khatir ka Usloob by Abdulbari Qasmi

Articles

غبارخاطرکا اسلوب

عبدالباری قاسمی

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا
اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد نے تحریر کیا ہے کہ
’’ مولانا کا اسلوب تحریر ان کی شخصیت تھی اوران کی شخصیت ان کا اسلوب دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ (۱)
اس تبصرہ سے مولانا آزاد کے اسلوب اور زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ان کے اسلوب میں حکیمانہ لہجہ بھی ہے تو زعیمانہ انداز بھی اور ساتھ ساتھ ادیبانہ وجاہت بھی ،یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے ان کی نثر کو شعر منثور سے تعبیر کیا ہے ۔ وہ بیک وقت متعدداسالیب پر قدرت رکھتے تھے ۔ رشید احمد صدیقی نے ان کے انداز اور لب لہجہ کو قرآنی لہجہ سے تعبیر کیا ہے ’’مولانا نے لکھنے کا انداز، لب و لہجہ اور مواد کلام پاک سے لیا ہے
جو ان کے مزاج کے مطابق تھا مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنہوں نے براہ راست قرآن کو اپنے اسلوب کا سر چشمہ بنایا‘‘(۲)
غبار خاطر جسے مولانا نے ’’خط غبارمن است این غبار خاطر‘‘کہہ کر پکارا ہے اس سے اس کی اہمیت و افادیت اور دیگر فنی محاسن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔مولانا کی یہ کتاب جسے مولانانے حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط سے تعبیر کیا ہے۔ بعض حضرات نے اسے انشائیہ تو بعض نے افسانہ کہہ کر بھی پکار ہے، اس میں مولانا نے انشاپردازی ،زبان دانی ،فطری اسلوب ،طنزومزاح ،قلمی مصوری، مناظر فطرت کی عکاسی اور اشعار کا بر محل استعمال کر کے ایسی نقاشی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے کہ لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے پر مجبور ہوئے ، آزاد کا کمال ہے کہ کہیں تو بالکل سادگی پر اتر آتے ہیں تو کہیں عربی و فارسی اشعار اور تراکیب لا کر زبان دانی اور تبحر علمی کاا علی نمونہ پیش کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور سب سے بڑی چیز فطری پن اور بہا ئوہے ۔جو انہیں دیگر انشاپردازوں سے ممتاز کرتی ہے اور انفرادیت کے مقام پر پہنچاتی ہے۔

غبار خاطر کی تصنیف :

غبار خاطر خطوط ہے یا انشائیہ یہ بھی موضوع بحث رہا ہے ،مگر مولانا نے خود اسے خطوط سے تعبیر کیا ہے ،یہ مولانا آزاد کی آخری تصنیف ہے ،جو 3اگست1942ء سے 3ستمبر 1945ء کے درمیانی وقفہ میں رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے،اس میں دو خط مولانا شیروانی کے بھی شامل ہیں مگر اتنی بات مسلم ہے کہ مولانا آزادکی شیروانی صاحب سے گہری دوستی تھی ،اس لیے ان کے نام منسوب کرکے یہ خطوط کی شکل میں مضمون لکھے ورنہ ایک بھی خط ارسال نہیں کیا گیا ،البتہ مولانانے خطوط کا پیرایہ اس لیے اختیار کیا کہ بہت سی باتیں جسے مضمون میں ظاہر نہیں کیا جاتا مگر خطوط میں بے تکلف لکھا جا سکتا ہے ۔

مولانا آز اد کے تصنیفی ادوار :

مولانا آزاد ایسے انشاپرداز ہیں جن کے یہاں ایک اسلوب پر اکتفا نظر نہیں آتا ۔بلکہ ان کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے ان کے تصنیفی ادوار کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ان کے تصنیفی ادوار کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا پہلا دور گھن گرج والا دور ہے جس میں انہوں نے ’’ الہلال‘‘ اور’’ البلاغ‘‘ جاری کیااور اپنی سوانح عمری اور تذکرہ بھی ترتیب دیا ۔دوسرا دور وہ ہے جس میں انہوں نے قرآن پاک کے تراجم اور تفسیر وغیرہ لکھے ۔’’ ترجمان القر آن ‘‘اسی دور کی شاہکار ہے۔اس دور میں عالمانہ سنجیدگی اور علمی تبحرکا غلبہ نظر آتا ہے تیسرادور وہ ہے جس میں انہوں نے خط کی شکل میں انشائیوں کے اعلی نمونے پیش کیے غبار خاطر اسی دور کی تصنیف ہے اور چوتھا دور وہ ہے جس میں انہوں نے مختلف اور متعدد معرکتہ الآرا خطبے پیش کیے ’’ خطبات آزاد‘‘ اسی عہد کی باز گشت ہے ۔

مولانا آزاد کے متعدد اسالیب :

مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین اسالیب اختیار کیے ۔اطلاعی اسلوب یعنی کسی کو اطلاع دینا خواہ مثبت ہو یا منفی عام طور پر رپورٹنگ اسی اسلوب میں ہوتی ہے ۔الہلال ، البلاغ تذکرہ اور خطبات میں اسی اسلوب کو برتا گیا ہے ۔ہدایتی اسلوب سے مراد directive style ہوتا ہے یعنی حکم دینا یہ طریقہ ترجمان القرآن میں دکھائی دیتا ہے اور اظہاری اسلوب سے مراد expressive style ہوتا ہے اس اسلوب کو شاعری اور جذبات و احساسا ت کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا جا تا ہے یہاں مواد اور معنی کی جگہ لفظ اور طرز بیان کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اسے’’ غبارخاطر ‘‘ میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔مرزا خلیل احمد بیگ نے ان کے اسلوب کے متعلق لکھا ہے کہ
’’ غبار خاطر کی نثر ادبی مرصع کاری اور رنگین عبارت کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ اس کے علاوہ لفظی رعایات و مناسبات فقروں کی صوتی دروبست جملوں کی متوازن ترکیب و ترتیب اظہار کے بدلے ہوئے پیرائے۔ نت نئے تلازمات اور نادر ترکیبات نے اس کی دل آویزی اور دل کشی میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے‘‘(۴)۔

غبار خاطر کی زبان :

غبار خاطر میں مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین طرح کی زبان استعمال کی ہے ،ویسے ان کے اسلوب میں زعیمانہ ،حکیمانہ اورادیبانہ انداز ہے وہی زبان میں بھی ۔غبار خاطر میں سادہ اور عام فہم زبان کے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ایک اقتباس چڑا چڑے کی کہانی سے :
’’ لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں میں لائیں ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ یہاں سب سے بڑا کام خود زندگی ہے یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا یہاں اس سے زیادہ سہل کوئی کام نہیں ‘‘(۵)
غبار خاطر کی زبان شعریت سے متصف ہے یہ آزاد کی شعری آہنگ والی ایسی زبان ہے جس نے آزاد کو نثر نگار کی فہرست سے نکال کر شاعروں کے صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ اس انداز بیان کے نمونے غبار خاطر میں جابجا دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھول جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں تاکہ کھولے جائیں ‘‘ (۶)
فارسی آمیز : غبار خاطر میں زبان کی تیسری قسم فارسی آمیز زبان کی ہے ، غبار خاطر میں مولانا آزاد نے شروع سے آخر تک جگہ جگہ فارسی اشعار الفاظ و تراکیب اور فارسی محاوروں کا استعمال کیا ہے ۔اس سے جہاں ایک طرف آزاد کی فارسی پر عبور اور گرفت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس بات کی بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کتاب کو کماحقہ سمجھنے کے لیے فارسی کی شد بد ضروری ہے ۔جیسے ایک خط کا عنوان انہوں نے’’ داستان بے ستوں و کوہ کن‘‘ رکھا ہے ۔

اشعار کا برمحل استعمال :

غبار خاطر اردو،فارسی اور عربی اشعار سے لبریز ہے،مولانا آزاد نے اشعار کوخوبصورتی اور چابکدستی سے استعمال کیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر خود انہیں کا ہے ، کہیں تو مکمل شعر نگینے کی طرح جڑ دیتے ہیں تو کہیں ایک مصرعہ کو ہی جملوں کے درمیان اس انداز سے فٹ کرتے ہیں کہ قاری مطلب بھی سمجھ لیتا ہے اور نثر ایک نئی خوبصورتی سے متصف بھی ہو جاتی ہے ۔
اردو شعر:

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
فارسی شعر:

ہزار قافلہ شوق می کشد شب گیر
کہ با رعیش کشاید بخطٔہ کشمیر
عربی شعر ـ:

قلیل منک یکفینی و لکن
قلیلک لا یقال لہ قلیل
اور کہیں کہیں پورے شعر کے مفہوم کو اپنی زبان میں بڑی خوبصورتی سے ڈھال لیتے ہیں ، جیسے میر دردؔ کے مشہور شعر ’’تر دامنی ‘‘ کو اپنی نثر میں بڑی خوش سلیقگی سے ڈھال کر نیا طرز ایجاد کیا ہے ۔

عربی الفاظ وتراکیب کی کثرت :

غبار خاطر میں عربی الفاظ و تراکیب کی بھی خوب کثرت ہے۔ جسے وہ درمیان میں کہیں بھی استعمال کر لیتے ہیں ۔عربی اشعار اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے الفاظ و تراکیب بھی استعمال کرتے ہیں کہ جسے ایک عربی جاننے والا شخص ہی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت کے متعلق لکھا ہے کہ
’’آزاد پہلے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اردو رسم الخط میں عربی لکھی ہے ‘‘(۷)

فطری اسلوب :

شروع سے آخر تک غبار خاطر ٖفطری اسلوب سے لبریز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں آزاد کے اسلوب کا ایسا بہائو اور ایسی روانی نظر آتی ہے کہ اس کے بہائو کو کوئی بھی پل اور باندھ نہیں روک سکتا ۔رشید احمد صدیقی نے غبارخاطر کے اسلوب پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ
’’غبار خاطر کا اسلوب اردو میں نا معلوم مدت تک زندہ رہے گا اکثر بے اختیار جی چاہنے لگ جاتا ہے کہ کاش اس اسلوب کے ساتھ مولانا کچھ دن اور جیئے ہوتے ۔پھر ہمارے ادب میں کیسے کیسے نسرین و نسترن اپنی بہائو دکھاتے اورخود مولانا کے جذبئہ تخیل کی کیسی کیسی کلیاں شگفتہ ہوتیں‘‘(۸)
یہ حقیقت ہے کہ اس کتاب کی دلکشی کا راز اس کی طرز تحریر میں پنہاں ہے اور یہ شاہکار تخلیق اپنے اس عظیم حسن کی وجہ سے ہزاروں حسن پر ستوں کو فرحت و انبساط بخشنے کے ساتھ ساتھ شوق کا ہاتھ دراز کرنے پر مجبور کرے گا ۔

طنزو مزاح :

غبار خاطر میں بکثرت طنزومزاح کے نمونے بھی ملتے ہیں مولانا آازاد کا کمال ہے کہ انہوں نے خشک سے خشک موضوع کو بھی مضحکہ خیز انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کا انگشت بدنداں ہونا فطری ہے ۔ایسی خوبصورتی سے طنزومزاح کا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ سامنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا اور سب کچھ کہہ جاتے ہیں انہوں نے اپنے ساتھ قلعہ احمد نگر میں اسیر ڈاکٹر سید محمود کے  بارے میں ’’فقیرانہ آئے صدا کر چلے ’’صلائے عام ہے یاراں نکتہ داں کے لئے ‘‘ بڑی خوبصورتی سے مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا ہے ۔

رومانیت :

غبارخاطر میں جہاں دیگر محاسن جا بجا نظر آتے ہیں وہیں رومانیت کی جھلکیا ں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ،بہت سے مقامات پر وہ ایسی پر لطف فضا اور ایسا ماحول تیار کرتے ہیں کہ رومانیت کی فضا تیار ہو جاتی ہے ،خاص طور پر اس موقع پر جب وہ اپنے متعلق اشارے کرتے ہیں تو بڑی خوبصورت رومانی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔
قلمی مصوری :

غبار خاطر کے اسلوب کا ایک اہم حصہ مولانا آزاد کی قلمی مصوری اور نقش و نگاری بھی ہے جسے بآسانی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی ایک روحانی شخص کا نقشہ ، کبھی فلسفی کا ،کبھی مزاح نگار کاتو کبھی ایک غمگین شخص کا نہایت خوبصورت قلمی نقشہ بناتے نظر آتے ہیں
’’پھولوں نے زباں کھولی ،پتھروں نے اٹھ اٹھ کر اشارے کئے خاک پامال نے اڑ اڑ کر گہر افشانیاں کیں ‘‘
اس سے ان کی نقش و نگاری اور قلمی مصوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔عام طور پر ایسے نمونے شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں ،مگر مولانا آزاد نے نثر میں اس کے نمونے پیش کیے ہیں۔

مناظر فطرت کی عکاسی :

مولانا آزاد نے غبار خاطر میں جس خوبصورتی سے پھلوں ،پھولوں ، پرندوں ،بیل ،بوٹوں اور دیگر مظاہر کائنات کی عکاسی کی ہے ۔ اس سے مولانا آزاد کے روحانی مزاج ،فطرت دوستی اور کائنات کے حسین مناظر کے مشاہدہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور بعض مقامات پر پھولوں کے ذریعے ایسی نقاشی پیش کرتے ہیں کہ جس سے ایرانی اور ہندوستانی دونوں پھولوں کی خوشبو مسکراتی نظر آتی ہے ۔
’’کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا کوئی نیلم کی پیالی تھی ، کسی پر گنگا جمنا کی قلم کاری کی گئی تھی ‘‘(۱۰)

انانیتی انداز :

غبار خاطرمیں مولانا آزاد کا انانیتی انداز اور لہجہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس انداز سے شاعرانہ تعلی شاعروں کے یہاں ملتی ہے اسی انداز سے انانیتی نمونے ان کی نثر میں پائے جاتے ہیں خاص طور پر جب وہ اپنے متعلق لمبی باتیں کرتے ہیں تب یہ خصوصیت بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔
خلاصہ کے طور پر مولانا عبدالماجددریا بادی کے اس قول کو پیش کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کے انداز تحریر اور طرز نگارش کے متعلق لکھا ہے کہ ’’وہ اپنے طرزو انشا کے جس طرح موجد ہیں اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں تقلید کی کوشش بہتوں نے کی ، پیروان غالب کی طرح سب ناکام رہے ،بہ حیثیت مجموعی ابوالکلام آزاد اپنی انشاپردازی میں اب تک بالکل منفردو یکتا ہیں بظاہراحوال یہی نظر آتا ہے کہ غالب کی طرح ان کی بھی یکتائی وقتی نہیں ،مستقل ہے ،حال ہی کے لیے نہیں مستقل کے لیے۔
٭٭٭

حوالہ جات :
(۱)کلیات رشید احمد صدیقی جلد سوم ص:۳۴۷۔(۲)ایضا ص:۳۴۷(۳) اردو کے نثری اسالیب ص:۱۶۱(۴) تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ص: (۵)چڑا چڑے کی کہانی غبار خاطر ص: (۶) ایضا ص:۲۱۰(۷) ابولکلام کی اردو آب گم از مشتاق یوسفی (۸) کلیات رشید احمدصدیقی جلد سوم ص :۳۵۴ (۹)غبار خاطر کا تنقیدی مطالعہ ص: ۸۰(۱۰) غبار خاطر ص:۲۱۸۔
٭٭٭
مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
مضمون نگار سے رابطہ :

abariqasmi13@gmail.com
09871523432

 

Educational Thoughts of Maulana Abul Kalam Azad

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد کے تعلیمی نظریات

ڈاکٹر قمر صدیقی

ہر دور میں وقت اور حالات کے مد نظر دانشورانہ فکر کے حامل افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے لہٰذا کسی بھی دور میں دانشورانہ فکر کے حامل افراد کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ان افراد کی سوسائٹی کے تئیں سپردگی اور وابستگی کا جذبہ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی دانشورانہ فہم و فراست کی عظمت کا راز یہی ہے کہ ان کا سارا علم و تدبر سماج کے لیے وقف تھا۔
مولانا آزاد مکہ معظمہ کے محلہ دارالسلام میں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک رسالہ ’لسان الصدق‘ نکالا۔ لسان الصدق کے مضامین سے لوگوں کو یہ اندازہ ہوتا تھاکہ یہ رسالہ نکالنے والا کوئی بہت ہی تجربہ کار اور معمر شخص ہے۔چنانچہ لاہور کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں جب مولانا حالی اور مولانا وحیدالدین سلیم کی ملاقات مولانا ابوالکلام آزاد سے ہوئی تو ان حضرات کوبڑی حیرت ہوئی اور انھوں نے کئی بار دریافت کیا کہ لسان الصدق کے ایڈیٹر آپ ہی ہیں۔ اسی طرح جب مولانا ابوالکلام آزاد کی ملاقات مولانا شبلی نعمانی سے ہوئی تو مولانا شبلی کو بھی بہت حیرت ہوئی۔ اس سلسلے میں مولانا آزاد خود کہتے ہیں کہ ’’چلتے وقت انھوں نے مجھ سے کہا تو ابوالکلام آپ کے والد ہیں! میں نے کہا نہیں میں خود ہوں‘‘۔ مولانا آزاد شروع سے سرسید احمد خاں سے متاثر رہے۔ کچھ عرصہ تک وہ جمال الدین افغانی اورپین اسلام ازم کے زیرِ اثر بھی رہے۔ ان کی میںاس کا عکس نظر آتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں وہ سر سیّد کے نظریات کے حامی و ناشر تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمانان ہند جدید تعلیم سے آراستہ ہوں۔ وہ مسلمانوں کی نجات کے لیے جدید تعلیم کو ضروری تصور کرتے تھے۔ سرسید احمد خاں کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کی معاشرتی زندگی بالخصوص رسم و رواج میں اصلاح ہو۔ لہٰذاوہ مسلمانوںکے لیے زندگی کے نئے تقاضوںکے تحت اجتہادو اصلاح کو ضروری سمجھتے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سرسید کے ان نظریات کا نہ صرف باریک بینی سے مشاہدہ کیابلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہوئے۔لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ مولانا آزاد، سرسید سے متاثر تھے اور تعلیمی اور سماجی اعتبار سے دونوں کے نظریات مسلمانوں کے متعلق ایک تھے تو غلط نہ ہوگا۔ ہاں! ان دونوں حضرات کے نظریات سیاسی میدان میں الگ ہیں۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دور رہ کر خود کو نئے حالات کے سانچوں میں ڈھال لیں۔ جبکہ اس تعلق سے مولانا کے سیاسی نظریات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں۔
مولانا آزاد ایک خالص مذہبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والد نے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں مذہب کو مقدم رکھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، اصول اور منطق وغیرہ کی خاص تعلیم کے ذریعہ جس فکری اساس کی بنیاد ان کے والد چاہتے تھے مولانا آزاد کی طبیعت اس سے میل نہ کھا سکی۔ چنانچہ جلد ہی انہوں نے فرسودہ روایات سے انحراف کر کے اپنی الگ راہ بنا لی۔ مولانا آزاد خود کہتے ہیں— ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے ابھی پندرہ برس سے زیادہ کی عمر نہیں ہوئی تھی کہ طبیعت کا سکون ہلنا شروع ہو گیا اور شک و شبہات کے کانٹے دل میں چبھنے لگے۔ یہاں تک کہ چند برسوں کے اندر عقائد و افکار کی وہ تمام بنیادیں جو خاندان، تعلیم اور گرد و پیش نے چنی تھیں بہ یک وقت متزلزل ہوگئیں اور پھر وہ وقت آیا جب اس ہلتی ہوئی دیوار کو خود ڈھا کر اس جگہ نئی دیواریں چننی پڑیں‘‘۔
مولانا نے مذہب، سیاست، معاشرت اور حب الوطنی غرضیکہ زندگی اور سماج کے تمام گوشوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں استدلال و اجتہاد کیا۔ مولانا مذہب میں اجتہاد اور تفہیمِ جدید کے علمبردار تھے۔
مسلم معاشرے کی اصلاح اور جہالت و تَوَہُمَات سے چھٹکارا پانے کے بارے میں مولانا آزاد ہمیشہ غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ مولانا آزاد کو مسلمانوں کی کامیابی کے لیے صرف ایک ہی راستہ نظر آتا تھا اور وہ راستہ تعلیم ہے۔ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیم کے قائل تھے جس سے مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ مولانا آزاد کے مطابق تعلیم اسلام پر مبنی ہونی چاہئے ۔وہ جس طرز کی تعلیم کے حامی وناشر تھے اس کی بابت ایک تقریر میں انھوں نے کہا تھاکہ۔’’ انگریزی تعلیم کی ضرورت کا تو یہاں کسی کو وہم و گمان تک نہیں گزر سکتا لیکن کم از کم یہ تو ہو سکتا ہے کہ قدیم تعلیم کے مدرسوں میں سے کسی مدرسہ سے واسطہ پڑتا۔ مدرسے کی تعلیمی زندگی کفر کی چاردیواری کے گوشۂ تنگ سے زیادہ وسعت رکھتی ہے اور طبیعت کو کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے‘‘۔
مولانا آزاد فن تعلیم و تربیت اور پورے تعلیمی نظام پر دانشورانہ نگاہ رکھتے تھے اور دینی اور دنیوی تعلیم کے خلا کو پر کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انھوں تعلیمی نصاب کی بہتری اور ہمہ گیریت پر زور دیا۔خود انھوں نے ڈائریکٹر تعلیم بنگال کی درخواست پر مدرسہ عالیہ کلکتہ کا ایک جامع نصاب تیار کیا۔ مولانا کی خواہش تھی کہ صرف رانچی اور کلکتہ کے مدارس ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان اور مسلم معاشرہ اس سے مستفید ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جو تمام علاقے میں قابل قبول ہو۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا تصورِ تعلیم ماضی کا ادراک، حال کی بصیرت اور مستقبل کی آگہی پر مبنی ہے۔ مولانا نے ایسی تعلیم کی وکالت کی ہے جو سائنسی تحقیقات اور بھاری صنعتوں کے شایان شان ہو۔ساتھ ہی ساتھ مولانا سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی کو مذہبی اور اخلاقی اقدار کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ مولانا آزاد کی دور بین نگاہ قدیم نظامِ تعلیم سے نکل کر جدید طرز تعلیم سے حاصل ہونے والی تبدیلی پر تھی۔ انہوں نے دینی نظام تعلیم میں مضامین کے تنوع اور جدت کی ضرورت کومحسوس کیا۔انھوں نے قومی تعلیمی پروگرام میں مذہبی تعلیم کے تعلق سے 13 جنوری 1948کو نئی دہلی میں ایک پروگرام کے خطبۂ صدارت میں اپنے نظریہ تعلیم پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ مولانا کہتے ہیںکہ ’’ایک چیز آپ بھول گئے۔ وہ چیز ہے تعلیم اور وقت اور زندگی کی چال کے غیر متعلق کوئی تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تعلیم ایسی ہونی چاہئے کہ زمانہ کی جو چال ہے، اس کے ساتھ جڑ سکے۔ اگر آپ مذہب اور عصردونوں ٹکڑوں کو الگ رکھیں گے تو وہ تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج جو تعلیم آپ ان مدرسوں میں دے رہے ہیں، آپ وقت کی چال سے اسے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ نہیں جوڑ سکتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زمانہ میں اور آپ میں ایک اونچی دیوار کھڑی ہے۔ آپ کی تعلیم زمانے کی مانگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھتی اور ز مانہ نے آپ کے خلاف آپ کو نکما سمجھ کر فیصلہ کر دیا ہے‘‘۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے آج سے برسوں پہلے مدارس کے نظام تعلیم کے جن بنیادی نقائص کا ذکر کیا تھا، آج تک ان کے تدارک پر کوئی خاص ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ آج بھی بہت سے بلکہ بیشتر مدارس کی تعلیم عصری زندگی سے دوری پر مبنی ہے۔سرسید اور آزاد کے تعلیمی نظریات ایک ہی زمین کی پیداوار ہیں۔ سرسید نے بھی مسلمانوں کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سائنس کا خواب دیکھا تھا ۔
مسلمان صرف جدیدیت کا حامل یا صرف مذاہب میں مستغرق رہا۔ ہاں! کچھ مدارس نے تطبیق کی ابتدائی کوشش کی۔ یعنی مذہبی علوم کے ساتھ چند جدید علوم کی طرف بھی توجہ کی ہے جس کی روشن مثال ندوۃ العلما، لکھنؤ ہے۔ مولانا نے طریقہ تدریس پر بہت زور دیا اور مشرق و مغرب کی مشترک آگہی اور فرد و سماج کے باہمی شے کو صحیح تعلیم سے تعبیر کیا ہے۔ تعلیم کا مقصد نہ تو مادیت کا حصول ہے اور نہ ہی روزی روٹی کمانے کا ذریعہ بلکہ تعلیم کا مقصد انسان کی تعمیر نو اورایک ایسی شخصیت کی نشو و نما ہے جس سے فرد اور سماج کے مابین ایک پرا من ، صالح اور خوشگوار رشتے کی بنیاد رکھی جاسکے۔ مولاناآزاد کے تعلیمی نظریے کا اولین مقصد بھی یہی تھا۔
٭٭٭

Shairi Ka Ibtadai Sabaq by S.R. Farooqui

Articles

شاعری کا ابتدائی سبق

شمس الرحمن فاروقی

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔
1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔
(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔
2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔
3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔
4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔
5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔
6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔
7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔
(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔
8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔
9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔
10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟
11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔
12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔
13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔
14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔
15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔
16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔
17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔
18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔
19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔
20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔
21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔
22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔
23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔
24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔
25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔
26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔
27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔
28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔
29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔
30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔
31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔
32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔
33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔
34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔
35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔
36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔
37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔
39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔
40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔
41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔
42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔
43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔
44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔
45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔
46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔
47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔
48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔
49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔
50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔
51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔
52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔
53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔
54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔
55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔
56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟
57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔
58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔
59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی اثبات ،شمارہ ۲