Cultured Poet Qabil Ajmeri by Ibadat Barelvi

Articles

مہذب اور باشعور ذہن کا شاعر قابل اجمیری

ڈاکٹر عبادت بریلوی

 

جناب قابل اجمیری اردو کے جانے پہچانے شاعر ہیں۔ نوجوان غزل گو شاعروں میں وہ خاصے مشہور ہیں جدید اردو شاعری سے دلچسپی رکھنے والے جو لف مشاعرے سنتے اور نمایاں رسائل پڑھتے ہیں ان کے لئے قابل صاحب کا نام اجنبی اور نامانوس نہیں ہے۔ انہوں نے بہت تھوڑے عرصہ میں نمایاں شہرت حاصل کی ہے اور ان کی یہ شہرت اس بات کا بیّن ثبوت ہے کہ ان کی شاعری میں پڑھنے اور سننے والوں کیلئے دلچسپی کا خاصا سامان موجود ہے۔ اسی لئے وہ ایک حلقے میں بہت مقبول ہیں۔ مقبولیت حاصل ہونا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے لئے تو جوہر قابل ہونا ضروری ہے۔ قابل صاحب بھی صحیح معنوں میں ایک جوہر قابل ہیں۔ اُن کا کلام پکار پکار کر ان کے بارے میں یہی کہتا ہوا معلوم ہوتا ہے اور یہی سبب ہے کہ شعر و شاعری سے دلچسپی لنے والے انہیں اتنا پسند کرتے ہیں۔
یوں تو قابل صاحب نے غزلیں بھی کہی ہیں اور نظمیں بھی لیکن بنیادی طور پر وہ غزل کے شاعر ہیں۔ ان کے مزاج کو غزل کے ساتھ خاص مناسبت ہے اور اسمیں شک نہیں کہ اُن کے جوہر غزل ہی میں کھلتے ہیں۔ اس صنف میں انہوں نے اپنا ایک مخصوص انداز پیدا کیا ہے۔ وہ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھتے ہیں اور اس روایت سے انہوں نے خاطر خواہ استفادہ کیا ہے۔ اس روایت کار چاو¿ جگہ جگہ ان کے کلام میں ملتا ہے۔ لیکن اس روایت کے علاوہ بھی ان کے یہاں بہت کچھ ملتا ہے۔ وہ لکیر کے فقیر نہیں ہیں ان کے یہاں تقلید کا شائبہ بھی نہیں ہوتا وہ نئی باتیں کہتے ہیں اور نئے انداز میں کہتے ہیں۔ وہ نئے رحجانات سے آشنا میں انھیں ان رجحانات کی اہمیت کا احساس ہے وہ غزل کی صنف کو وسیع کرنے کے قائل نظر آتے ہیں اسی لئے ان کے کلام میں وسعت اور پھیلاو¿ کا احساس ہوتا ہے۔ جدّت اور اُپچ نظر آتی ہے۔ بدلتی ہوئی زندگی کے بارے میں ان کا نقطئہ نظر رجائی ہے۔ اسی لئے ان کے یہاں خاصی جولانی کا پتہ چلتا ہے۔ وہ زندگی کو بسر کرنے اور برتنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں۔ اسی لئے ان کے کلام میں عمل اور افادیت کے تصورات جگہ جگہ اُبھرتے ہیں لیکن اُن کی شاعری میں ہنگامہ پسندی نہیں ہے۔ بر خلاف اس کے خاصی مہذب اور سُتھری فضا کا احساس ہوتا ہے ان کا زاویہ نظر مفکرانہ نہیں ہے لیکن ایک عام انسان جسطرح زندگی اور اس کے معاملات و مسائل کو دیکھتا اور سمجھتا ہے۔ قابل صاحب بھی اسی طرح دیکھتے اور سمجھتے ہیں اسی لئے ان کی شاعری میں تنّوع نظر آتا ہے جس سے خود انسانی عبادت ہے اور پھر سب سے بڑی بات یہ ہے کہ ان سب کا اظہار قابل صاحب شاعرانہ انداز میں کر سکتے ہیں یہ خوبی ان کے کلام کی شاید سب سے بڑی خوبی ہے۔ قابل صاحب کی غزلوں میں عشق کا بڑامہذب تصور ملتا ہے۔ یوں وہ حُسن و عشق کی باتیں ذرا کھلکر کم ہی کرتے ہیں۔ اسی لئے ان کے یہاں وہ عام موضوعات نہ ہونے کے برابر ہیں جنکو عام طور پر دلی سے لیکر اسوقت تک غزل کا موضوع بنایا جاتا رہا ہے۔ بلکہ بادی النظر میں دیکھنے سے تو یہ شبہ ہوتا ہے کہ حسن و عشق کی عام فضا سے ان کی غزلیں خالی ہیں لیکن ایسا نہیں ہے۔ ان کے یہاں حسن و عشق کے مختلف پہلو ملتے ہیں لیکن ان میں عمومیت کا پتہ نہیں چلتا۔ ان میں سطحیت نظر آتی جن کیفیات و واردات کو انہوں نے اس سلسلہ میں پیش کیا ہے وہ ذہنی طور پر ایک مہذب اور با شعور انسان کی واردات و کیفیات ہیں۔ شاید یہی سبب ہے کہ ان موضوعات میں جدت کا پہلو سب سے زیادہ نمایاں نظر آتا ہے اور وہ انہیں افراد کو زیادہ متاثر کر سکتی ہیں جو نئی زندگی کے تقاضوں کو سمجھتے ہیں جنکو اس بات کا یقین ہے کہ نئے حالات میں احساسات کے زاویوں کو بھی بدلنا پڑتا ہے۔ قابل صاحب کی غزلوں میں جہاں تک حسن و عشق کا تعلق ہے کچھ اس قسم کے اشعار زیادہ ہیں۔

ہم نے دیئے ہیں عشق کے تیور نئے نئے
اُن سے بھی ہوگئے ہیں گریزاں کبھی کبھی

راحتوں سے گریز ، غم سے فرار
بعض لمحے عجیب ہوتے ہیں

تم جنہیں عمر بھر نہیں ملتے
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

خوشبوئے انتظار سے مہکی ہوئی رات
قابل نہ جانے کِسکو بلاتی ہے چاندنی

کچھ حُسن آ چلا شب انتظار میں
کاش اور تھوڑی دیر نہوتی سحرا بھی

یہی ہے دل کی ہلاکت یہی ہے عشق کی موت
نگاہِ دوست پہ اظہار بیکسی ہو جائے

مقامِ عاشقی دنیا نے سمجھا ہی نہیں ورنہ
جہاں تک تیرا غم ہوتا وہیں تک زندگی ہوتی

دلکی دھڑکن کا اعتبار نہیں
ورنہ آواز تو تمہاری ہے

ان کے حسن ستم کا کیا کہنا
لوگ سمجھے خطا ہماری ہے

وہ خیالوں میں کہیں شعلہ کہیں شبنم بسے
ایک اندازِ کرم مختلف عالم رہے

ہمیں شہر نگاراں میں لے چلو یارو
کسی کے عشق کا آزار ہم بھی رکھتے ہیں

یہ چاک چاک گریباں یہ داغ داغ جگر
متاعِ حسرتِ دیدار ہم بھی رکھتے ہیں

رکا رکا سا تبسّم جُھکی جُھکی سی نظَر
تمہیں سلیقہ بیگانگی کہاں ہے ابھی

کوئی وعدہ نہیں امید نہیں
پھر مجھے انتظار سا کیوں ہے

بیکسی سے بڑی امیدیں ہیں
تم کو کوئی آسرا نہ دے جانا

یہ ظالم زمانہ دکھائیگا کیا کیا
تری آنکھ بھی آج نم دیکھتے ہیں

بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے

اپنے لب ہی نہیں سئے ہم نے
آپ کی زلف بھی سنوای ہے

ان کی پلکوں پر ستارے اپنے ہونٹوں پر ہنسی
قصہ غم کہتے کہتے ہم کہاں تک آ گئے

رفتہ رفتہ رنگ لایا جذبہ خاموش عشق
وہ تغافل کرتے کرتے امتحاں تک آ گئے

تم کو بھی شاید ہماری جستجو کرنی پڑے
ہم تمہاری جستجو میں اب یہاں تک آ گئے

دلِ دیوانہ عرضِ حال پر مائل تو کیا ہوگا
مگر وہ پوچھ بیٹھے خود ہی حالِ دل تو کیا ہوگا

یہ اشعار جیسا کہ ان کے موضوعات سے ظاہر ہے خاصے مہذب اور با شعور ذہن کی پیداوار ہیں ان میں سے کوئی ایک شعر بھی ایسا نہیں جو جذبات و احساسات کے نئے زاویوں کو پیش نہ کرتا ہو انمیں خارجی حسن کا بیان نہیں۔ ان میں معا ملہ بندی بھی نہیں۔ یہ لذت اوت تعیش سے بھی کوئی سروکار نہیں رکھتے یہ۰ تو سب کے سب نیازِ عشق کی مختلف منزلوں کے ترجمان ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان میں انفعالی آہنگ نہیں۔ حزن حزن و یاس قنوطیت اور بیزاری کا ان میں پتہ نہیں چلتا۔ ان میں تو عشق کرنے والے کی اہمیت کا احساس چھایا ہوا ہے اسکی جو ذہنی اور جذباتی کیفیت مخصوص حالات میں ہوسکتی ہے۔ اسکی ترجمانی زیادہ نظر آتی ہے۔ اسی لئے توازن کے نئے ہونے کا احساس ہوتا ہے کبھی کبھی کسی خاص ذہنی کیفیت کے زیر اثر محبوب سے گریزاں ہو جانا نظاہر تو عجیب بات معلوم ہوتی ہے لیکن جذب صادق کے ہاتھوں کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے اور اسمیں شبہ نہیں کہ اس سے خود عشق کو نئے تیور ملتے ہیں۔ یہ عشق بھی عجیب ہوتا ہے اسمیں داخل ہو کر انسان کبھی بیک وقت راحتوں سے گریز اختیار کرتا ہے اور غم سے فرار بھی۔ بظاہر یہ بات بھی عجیب ہے لیکن جب عشق کی بنیاد جذب صادق ہو تو اس کیفیت کا پیدا ہونا عجیب نہیں ہوتا۔ اس عشق میں انتظار کا عالم بھی ایک لطف پیدا کرتا ہے۔ حالانکہ یوں عام طور پر انتظار سے تکلیف اور پرشانی کی کیفیت وابستہ ہے لیکن اگر عشق متوازی انداز رکھتا ہو تو پھر انتظار کے لمحے بھی حسین ہوجاتے ہیں۔ یہ اور بات اسی طرح کی کیفیات جوان اشعار کا موضوع ہیں اپنے اندر ایک جدّت اور نیا پن ضرور رکھتی ہیں۔ لیکن اسمیں اجنبیت کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ نامانوس نہیں معلوم ہوتیں کیونکہ ان کی تخلیق کرنے والے نے ان میں زندگی اور اسکی عام نفسیات کو الگ نہیں کیا ہے بلکہ بڑے متوازن انداز میں ان کی ترجمانی کی ہے۔ قابل صاحب نے ایسے اشعار میں غزل کی روایت کا پورا پورا چاو¿ پیرا کیا ہے۔ اسی لئے وہ جدید ہونے کے باوجود صحیح معنول میں غزل کے شعر معلوم ہوتے ہیں۔ ان میں لطافت اور نفاست کا احساس بھی ہوتا ہے وہ ہنگامہ پیرا نہیں کرتے۔ ان کے ہاتھوں ہیجان انگیزی کا وجود نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ خود مہذب ہیں اور اسی لئے تہذیب کو پیدا کرنے اور مہذب بنانے کی پوری صلاحیت رکھتے ہیں۔ قابل صاحب کے عشقیہ اشعار میں خاصا تنوع ہے۔ لیکن اس تنوع کے ہاتھوں انکی انفرادیت کو ٹھیس نہیں لگتی اس تنوع میں بھی ان کے مخصوص زاویہ نظر ایک یک رنگی کو پیدا کرتا ہے۔ بہر حال قابل کی عشقیہ شاعری میں بڑی ہی صاف اور ستھری فضا ہے اور اسمیں کسی جگہ بھی ابتدا کا پتہ نہیں چلتا وہ اس دور کے انسان کے لئے اجنبی اور نامانوس نہیں کیونکہ وہ حقیقت سے بھر پور ہے اور اس زمانہ کی جذباتی زندگی کی روح اسمیں موجود ہے ظاہر ہے ایسی شاعری تمام تر جذباتی نہیں ہو سکتی۔ قابل صاحب کی شاعری میں بھی نری جذباتیت نہیں ہے اسمیں حقیقتوں کا احساس بہت نمایاں ہے وہ عشق اور معاملات و کیفیاتِ عشق کو اس سماجی پسِ منظر میں دیکھتے ہیں جوان کے آس پاس اور گردو پیش موجود ہے اسی لئے ان کے یہاں غمِ عشق اور غمِ روزگار کا تذکرہ ساتھ ساتھ ملتا ہے لیکن اس موضوع کو انہوں نے محض رسمی اور روائتی انداز میں پیش نہیں کیا ہے۔ ان کے اس قسم کے اشعار سے پتہ چلتا ہے کہ وہ خود ان حالات میں ہو کر گزرے ہیں۔ اسی لئے اس موضوع کو پیش کرنے میں ان کے یہاں خاصی جدت نظر آتی ہئ۔ کیسے عجیب عجیب شعر انہوں نے اس موضوع پر نکالے ہیں۔

ان کا موضوع صرف گردش دوراں اور غمِ روزگار ہی نہیں ہے بلکہ اس موضوع کا سہارا لیکر ان میں زندگی کی بعض اہم حقیقتوں کے بے نقاب کرنے کی کوشش کی گئی ہے غمِ جاناں کو سینے سے لگالینے کے بعد گردش دوراں کو اماں بخشنے کا خیال عشق کے مارے ہوئے بے کسوں کی بزم میں گردش دوراں کے آبیٹھنے، کسی بات پر میخانے سے اُٹھ آنے۔ لذتِ گردشِ ایام کو صحیح طور پر محسوس کرنے، اور جنون کوچہ دلدار رکھتے ہوئے بھی غمِ جہاں کے تقاضوں کی شدت کو دیکھتے رہے اور ظالم زمانے کے ہاتھوں کسی کی آنکھ کے نم نظر آنے کا خیال اس حقیقت کو واضع کرتا ہے کہ قابل صاحب زندگی اور اس کے حالات کا گہرا شعوررکھتے ہیں اور جذباتی زندگی کو ان حقائق سے علیحدہ کر کے نہیں دیکھتے اسی لئے ان کی شاعری میں ایک نئے ذہن نئے شعور کا احساس سب سے زیادہ ہوتا ہے۔
قابل صاحب کی غزلوں کے موضوعات محدود نہیں ہیں۔ ان کے یہاں تو موضوعات کے تنوع کا احساس قدم قدم پر ہوتا ہے۔ عشق ان کی شاعری کا اہم موضوع ضرور ہے لیکن چونکہ وہ زندگی کے دوسرے پہلوو¿ں سے الگ نہیں ہے اسلئے عشقیہ موضوعات بھی ان کے یہاں خاصے پہلو دار متنوع کیفیت کے حامل نظر آتے ہیں لیکن ان کی غزلوں میں اسکے علاوہ بھی بہت کچھ ہے۔ زندگی کے عام سیاسی اور سماجی حالات کی ترجمانی وہ بڑی خوبی سے کرتے ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ قابل صاحب پر اپنے زمانے کے حالات کا گہرا اثر ہے وہ خود ان حالات میں سے ہو کر گزرے ہیں جن سے اس زمانے کی زندگی دو چار ہے۔ خیر ان موضوعات کو غزلوں میں پیش کرنا ایسی کوئی اہم بات نہیں ہے۔ یہ کام تو ہر شاعر کرسکتا ہے لیکن ان حالات کو شدت کے ساتھ محسوس نہ کیا جائے اور جب تک انھیں مزاج کا جزوجہ بنا لیا جائے اسوقت تک ان میں جان پیدا نہیں ہوتی۔ قابل صاحب نے ان موضوعات کو اپنے مزاج میں داخل کر لیا ہے اسی لئے وہ ان کو غزل کی صنعت کے ساتھ ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں انہوں نے ان موضوعات کو غزل میں کچھ اس طرح سمویا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کیلئے اجنبی اور نا مونوس معلوم ہوئے یہ چند اشعار دیکھئے۔

  1. ٹھنڈے پڑے ہیں انجمن رنگ کے چراغ
  2. اک نغمہ بہار بہ طرزِ فغان سہی
  3. ذوقِ سفر جوان ہے قابل بڑھے چلو
  4. منزل بھی آج گردِ رہ کارواں سہی
  5. ہمیں تو رونق زنداں بنا دیا تم نے
  6. چمن میں صبحِ بہاراں کی بات کون کرے
  7. کسی کو رنگ سے مطلب کسی کو خشبو سے
  8. گلوں کے چاک گریباں کی بات کون کرے
  9. نہ گھبرا شبِ ہجر کی تیرگی سے
    سحر بھی نمودار ہوگی اسی سے
  10. کچھ اور بڑھ گئی ہے اندھیروں کی زندگی
  11. یوں بھی ہوا ہے جشن چراغا کبھی کبھی
    قابل صاحب کے کلام میں اس قسم کے اشعار کی تعداد خاصی ہے۔ ان میں دیکھنے کی صرف یہی بات نہیں ہے کہ یہ زندگی سے متعلق نئے موضوعات کے حامل ہیں دیکھنے کی بات تو ان میں یہ ہے کہ یہ شدید تاثر کا نتیجہ ہیں۔ شاعر نے ان کو پیش کرنے کی کاوش نہیں کی۔ بلکہ وہ تو اسکی شخصیت اور مزاج میں داخل ہیں۔ اسی لئے وہ غزل کے حدود سے باہر نہیں نکلتے۔ اس کی بندشوں کو توڑتے نہیں۔ اس کے احتسابات کا خون نہیں کرتے۔ قابل صاحب نے ان موضوعات کو غزل کا مزاج دیا ہے یہی وجہ ہے کہ یہ جدید ہونے کے باوجود غزل کے اشعار معلوم ہوتے ہیں اور یہی اُن کا کمال ہے۔
    ایک بات قابل صاحب کے کلام میں اور بھی قابل ذکر ہے۔ وہ یہ کہ زندگی کی محرومیوں کو محسوس کرنے کے باوجود وہ زندگی سے بیزار اور مایوس نہیں ہیں۔ ان کے یہاں زندگی کی کسک کو محسوس کرنے کے باوجود خاصی جولانی کا احساس ہوتا ہے اور یہ جولانی انھیں عمل کی طرف راغب کرتی ہے۔ چنانچہ عمل کی راہ پر آگے بڑھنے کا احساس ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے لیکن اسکا یہ مطلب نہیں کہ وہ زندگی کے غم کو محسوس نہیں کرتے اس غم کی توازن کی شاعری میں ایک لہر سی دوڑی ہوئی نظر آتی ہے۔ لیکن اس غم کا احساس ان کے یہاں الفعالیت کو پیدا نہیں کرتا۔ وہ زندگی سے بیزار نہیں ہوتے۔ ان پر قنوطیت طاری نہیں ہوتی۔ اسی لئے وہ ایسے شعر کہہ سکتے ہیں۔
    ذوقِ سفر جوان ہے قابل بڑھے چلو
  12. منزل بھی آج گردِ رہِ کارواں سہی

ہر قدم پہ حادثہ ، ہر آرزو بھی حادثہ
حادثے پھر بھی ہمارے حوصلوں سے کم رہے

یہاں ایک اُمنگ اور ولولے کا احساس پڑھنے والے کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے آگے بڑھنے کی خواہش اور ایک والہانہ انداز میں آگے بڑھنے کی خواہش اس پر چھا جاتی ہے اور یہ خیال اس کے دل میں جا گزیں ہو جاتا ہے کہ زندگی میں اصل چیزحوصلہ اور ولولہ ہے کہ اس کے بغیر انسان کی زندگی موت بن جاتی ہے اور اس دنیا میں کسی کام کا نہیں رہتا۔ قابل صاحب کے یہاں انسانی زندگی میں محرومیوں اور ناکامیوں کی کسک کا احساس اس کیفیت کے ساتھ شامل ضرور ہے لیکن وہ اس کے باوجود آ گے اور کچھ کرتے رہنے کے قائل ہیں۔ کہ یہی ان کے نزدیک زندگی ہے۔
قابل صاحب پخة مشق شاعر ہیںوہ غزل کے مزاج کو سمجھتے ہیںاسکو برتنے کے ٓاداب سے خوب واقفیت رکھتے ہیںانہیں غزل کوغزل بنانے کاگُر خوب آتا ہے اسی لیے ان کے یہاں ہر موضوع غزل کا موضوع معلوم ہوتا ہے بات یہ ہے کے قابل صاحب غزل کے اصول سے واقفےت ہی نہیں رکھتے وہ اس میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کے ان کے یہاں کوئی بات بھی ہو وہ بڑی آسانی سے غزل کا روپ اختیار کرلیتی ہے ۔ حالانکے اس سلسلے میں انہیں کسی قسم کی کاوش نہیںکرنی پڑتی۔
دیدئہ بیداران کا پہلا مجموعہ کلام ہے۔ اسمیں جوغزلیں شامل ہیں وہ ان کے کلام کی انہیںخصوصیات کی حامل ہیں اور پڑھنے سے تعلق رکھتی ہیں۔

٭٭٭

مشمولہ ’’اردو چینل‘‘ شمارہ ۲۸ ۔اس شمارے کی پی ڈی ایف فائل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Hayat-e- Qabil Ajmeri by Mushtaq Khanzada

Articles

حیات قابل اجمیری

مشتاق احمد خان زادہ

 

قابل محفل شعر و سخن میں ایک تابندہ ستارہ بن کر اُبھرا مگر جلدہی عدم کی ظلمتوں میں ڈوب گیا۔ اگر چہ ملک کا یہ ممتاز شاعر دنیا کی محفل سے اٹھ گیا مگر اپنی شاعری کے جواہر پارے اور اپنی زندگی کے اُن دکھوں کی یاد ہمارے لئے چھوڑ گیا جنہوں نے عمر طبعی سے بہت پہلے ہمارے متعدد جواں سال شاعروں کی زندگی میں ختم کر دیا اور کرتے رہین گے۔
قابل کی زندگی امنگوں، حوصلوں سے بھرپور شروع ہوئی اور محرومیوں، مایوسیوں میں گھر کر ختم ہوگئی۔ وہ زندگی کو روشن سے روشن تر دیکھنے کی تمنائیں پالتا رہا اور اس کی اپنی زندگی آہستہ آہستہ تاریک سے تاریک تر ہوتی چلی گئی۔ اس نے اردو شاعری کو تخلیقی قوتوں کا قیمتی سرمایہ سونپا، اپنا خون جگر پلایا۔ ایسے نادر خیالات سے نوازے جن میں اکدم روزگار کے باوجود، مستقبل کو سنوارنے کی اُمنگیں ہیں، حسن ہے، نفاست و سادگی ہے مگر زندگی نے اُسے پریشانیاں، پشیمانیاں، الجھنیں اور بے چینیاں دیں۔ وہ زندگی سے محبت مانگتا رہا، مسرت، سکون اور آسودگی چاہتا رہا مگر زندگی اس سے رفتہ رفتہ دور کھنچتی چلی گئی، یہاں تک کہ سبزہ زار زندگی کو اپنے خون جگر سے سینچنے والا یہ شاعرت بے مایہ آخر کشمکش حیات سے تنگ آ کر موت کی آغوش میں جا سویا۔
قابل جن کا اصل نام عبدالرحیم تھا۔ ہندوستان کے ضلع اجمیر کے قصبہ چرّلی میں 27 اگست 1931 کو پیدا ہوئے۔ ابھی موصوف صرف سات سال کے تھے کہ والدین کے سایہ عاطف سے محروم ہوگئے۔ یہ انکی زندگی کا پہلا المناک سانحہ تھا۔ دوسرا سانحہ جس نے انکی زندگی میں زہر گھول دیا دق کا جان لیوا مرض تھا جو انہیں چھٹپن میں والدین کی طرف سے ملا۔ انکے والد عبدالکریم اور انکی والدہ دونوں دق کے مرض میں مبتلا تھے۔
ان کے والد تقسیم ہند سے قبل تعمیرات کی ٹھیکیداری کا کام کرتے تھے۔ موصوف بہت فرض شناس تھے۔ اس لئے خود تیز اور جھلتی ہوئی دھوپ میں گھنٹوں کھڑے رہ کر تعمیری کام کی نگرانی کرتے تھے۔ چنانچہ اس مسلسل اور صبر آزما نگہداشت کی وجہ سے انکے کمزور جسم پر انتہائی مضر اثرات پڑے۔ یہاں تک کے وہ دق کے مرض میں مبتلا ہوگئے۔ اُن پر دق کا پہلا حملہ ۲۳۹۱ئ میں ہوا جب قابل کی عمر صرف ایک سال تھی۔ یہ مرض اس تیزی سے بڑھا کہ ۸۳۹۱ئ میں ان کا اجمیر کے لونگیہ ہسپتال میں انتقال ہوگیا۔ اس صدمہ سے قابل کی والدہ اس قدر نڈھال ہوئیں کہ وہ بھی چند دنوں کے بعد اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں ۷۳۹۱ئ میں قابل کے چھوٹے بھائی شریف بھی دق کے مرض میں چل بسے۔ والدین کے انتقال کے بعد انکے دادا امیر بخش صاحب نے پرورش کی۔
قابل اجمیر شریف کے پیزادہ خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ اس خاندان کے افراد پٹھان سلطنت کے دور میں یہاں آباد ہوئے تھے۔ اس زمانے میں اس خاندان کے بیشتر افراد اعلیٰ فوجی عہدوں پر فائز تھے۔ انہیں اعلیٰ خدمات کے صلہ میں حکومت کی طرف سے اجمیر شہر کے قرب و جوار میں بڑی بڑی جاگیریں ملی تھیں مگر امتداد زمانہ اور گردشِ حالات کی وجہ سے یہ جاگریں ختم ہوگئیں اور جب قابل نے جنم لیا تو ان کے والدین کے حصہ میں صرفدو مکانات آئے، ایک پختہ مکان تر پولیا گیٹ کے اندر محلہ اندر کوٹ میں تھا۔ دوسرا اجمیر کے قصبہ چرلی میں واقعہ تھا۔ قسمت کی ستم ظرفی دیکھئے کہ پاکستان میں قابل کو ان میں سے کسی مکان کا معاوضہ نہیں ملا۔
علمی اور رُحانی ماحول
قابل اس لحاظ سے انتہائی خوش قسمت تھے کہ انہیں اپنے محلے کے گردوپیش سازگار تعلیمی ماحول ملا۔ ان کی رہائش گا کے صدر دروازہ کے کچھ فاصلے پر ڈھائی دن کے جھونپڑے کی وہ عظیم الشان مسجد جسے سلطان شہاب الدین غوری نے تعمیر کروائی تھی۔ اس مسجد میں سلطان نے دینی تعلیم کے لئے ایک مثالی اور معیاری درس گاہ کا بھی اہتمام کیا تھا۔ مکان کے عقبی دروازے کے سامنے خواجہ معین الدین چشتیؒ کی وہ عظیم الشان درگاہ تھی۔ جس میں جامعہ شاہجہانی اور مدرسہ نظامیہ جسے بلند پایہ تعلیمی ادارے علم کی روشنی پھیلا رہے تھے۔ مدرسہ نظامیہ کے اساتذہ ایسے بلند پایہ اور جید علماءپر مشتمل تھے جنہیں نظام دکن نے ملک کے طول و عوض سے منتخب کیا تھا´ قابل نے اپنا بچپن اسی درگاہ شریف کے علمی، ادبی اورروحانی ماحول میں گذارا، عرس شریف کے قیام میں عالم اسلام کم و بیش تمام مشاہیر اسلام، علماءاور صوفیائے کرام تشریف لاتے تھے۔ جن کی علمی اور روحانی صحبت سے بے شمار لوگ فیضیات ہوتے تھے، درگاہ کے مناظر انتہائی روح پردر تھے۔ کہیں قرا¿ت کی دل نشیں صدائیں تحلیل ہورہی ہیں، کہیں علمی خطابت کا مظاہرہ ہو رہا ہے تو کہیں محفل سماع کی ترنم ریز نغمگی دلوں کو گرما رہی ہے، قابل کا بچپن اس موحول سے بے حد متاثر ہوا۔
درگاہ معلی کے اسی ماحول میں ان کے کان شہرئہ آفاق قوالوں، نغمہ نوازوں، کی صداو¿ں اور شاعروں کے کلام سے آشنا ہوئے۔ وہ گھر میں بیٹھے بیٹھے داغ کی غزلیں، بے دم کی نعتیں، سعدی حافظ شیرازی اور حضرت غوث اعظم اور حضرت امیر خسرو کا روح پرور صوفیانہ کلام سنتے رہتے تھے، بڑے بڑے شعراءکا کلام ان کے سنتے سنتے حفظ ہوگیا تھا۔ اور وہ متاثر ہو کر قوالی کی لہن میں اکثر اوقات ان اشعار کو دہراتے رہتے تھے۔ اور اپنے دادا ، دادی کو سنایا کرتے تھے۔ یہ وہ ابتدائی اثرات تھے جو آگے چل کر ان کی شاعری کا جزو اعظم بن گئے۔ ان کی شاعری میں جو غنائیت اور ترنم کے خواص بدرجہ اتم پائے جاتے ہیں۔ ان کی اصل وجہ قوالیاں، نعتیں اور اشعار کی وہ ترنم ریز صدائیں تھیں جو ہمیشہ ان کے کانوں میں گونجتی رہتی تھیں۔
بچپن میں انکی زندگی پر ایک ایسی بلند پایہ شخصیت اثر انداز ہوئی جس کی بدولت انہیں تحصیل علم کا بے پناہ شوق پیدا ہوا۔ یہ شخصیت عبدالرحمن عرب کی تھی جو جامعہ ازہر کے فارغ التحصیل اور عالم و خطیب تھے۔ انکی متعدد تصانیف عالم اسلام کی تمام دینی درسگاہوں میں رائج تھیں جب مدرسہ نظامیہ کی تشکیل علم میں آئی تو نظام دکن نے عبدالرحمن عرب صاحب کو عراق سے بلواکر اس مدرسہ میں بحیثیت مدرس متعین کیا۔ جب ان کا تقرر ہوا تو قابل کے دادا نے اپنے مکان کا بلائی حصہ عرب صاحب کو دیدیا۔ جہاں وہ اب تک مقیم ہیں جب عرب صاحب سوا سلف خریدنے جاتے تو قابل صاحب کو سیر کے لئے لے جاتے۔ قابل اکثر و بیشتر ان کے ساتھ درس گاہ بھی چلے جاتے تھے۔ اس طرح قابل نہ صرفستھرے تعلیمی ماحول سے آشنا ہوئے بلکہ عرب صاحب کی شخصیت سے بے پناہ متاثر ہوئے۔
درگاہ شریف اجمیر کے مدرسہ نظامیہ میں انھوں نے ابتدائی تعلیم حاصل کی ۶ سال کی عمر میں انھوں نے بغدادی قاعدہ ختم کر لیا۔ اس درگاہ کے ابتدائی مدارج کے قابل استادوں یعنی مولانا محمد ادریس صاحب اور مولانا محمد یونس صاحب کی تربیت میں قابل نے دس سال کی عمر میں صرفِ دنحو پر عبور حاصل کرنے بعد شیخ سعدی کی گلستان بوستان ختم کر لی۔ ۳۱ سال کی عمر میں وہ مدرسہ نظامیہ کے ثانی درجوں کی تعلیمات مکمل کر چکے تھے۔ اس زمانے میں ایک خاص واقعہ رونما ہوا جس کی بدولت ان کی طبیعت شاعری کی طرف مائل ہوئی۔ یہ ۰۴۹۱ئ کا ذکر ہے کہ ایک بزرگ پر سجادہ نشین صاحب کی سالانہ محفل سماع میں امجذاب کی اس قدر کیفیت طاری ہوئی کہ محفل ختم ہونے کے بوس بھی ان پر دجد قائم رہا۔ جب سب لوگ چلے گئے تو قابل اور انکے دوست معلوم کر کے موصوف کو انکے گھر چھوڑنے چلے گئے۔ وہاں معلوم ہوا کہ یہ بزرگ ارمان اجمیری تھے۔ جب انکو ہوش آیا تو انہوں نے قابل کو سینہ سے لگا لیا۔ ارمان صاحب اس بزرگانہ شفقت اور اس خلوص سے پیش آئے کہ قابل نے مستقلاً ان کے پاس آنا جانا شروع کر دیا۔ ارمان صاحب خود اچھے شاعر تھے۔ چنانچہ ان کی شاعری نے قابل کو اتنا متاثر کیا کہ وہ غزلیں کہنے لگے۔ جب ارمان صاحب کو معلوم ہوا کہ قابل غزلیں کہنے لگا ہے تو وہ کمال توجہ سے ان کی غزلوں کی اصلاح کرنے لگے۔ بزم ارمان کے تحت جو ہفتہ وار اور سالانہ مشاعرے منعقد ہوا کرتے تھے ان کا قابل کی شاعرانہ طبیعت پر خوشگوار اثرپڑا۔ ارمان صاحب سے فیض یاب ہونے کے بعد قابل نے ایک دوسری عظیم شخصیت مولانا عبدالباری معینی صاحب سے رجوع کیا۔ مولانا معینی عربی کے جید عالم اور تفسیر حدیث کے بلند پایہ محقق تھے۔ آپ حیدرآباد دکن میں عربی ادبیات اور تاریخ کے ایک ممتاز پروفیسر تھے۔ جب مولانا اجمیر شریف تشریف لائے تو انجمن ترقی اردو کا دفتر قائم ہوا۔ جس کے آپ صدر بنائے گئے۔ قابل کے ایک دوست جناب پیکر واسطی صاحب کے توسط سے مولانا نے قابل کو اپنے حلقہ تلامذہ میں شامل کر لیا۔ مولانا کے فیض صحبت سے قابل کی شاعری کو حیات نو ملی۔ مولانا باری کی اصلاح کی بدولت قابل کے کلام میں رفتہ رفتہ پختگی آتی گئی۔ مولانا کی معیت میں قابل نے پہلی دفعہ آل انڈیا مشاعرے میں شرکت کی۔ اس مشاعرے میں ہندوستان کے مشہور شعراءموجود تھے۔ جن میں جگر مرادآبادی، ماہر القادری، حفیظ جالندھری، ساعر نظامی، سیماب اکبر آبادی قابلِ ذکر ہیں یہ مشاعرہ معینہ اسلامیہ ہائی اسکول کے احاطہ میں منعقد ہوا۔ اور اس مشاعرے ہی سے قابل کی شخصیت پہلی بار منظر عام پر آئی۔ انکے کلما پر استاد شعراءنے اس قدر داد و تحسین کا فراخ دلی مظاہرہ کیا کہ معین نے قابل کو ایک شاعر کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔

٭٭٭

مشمولہ ’’اردو چینل‘‘ شمارہ ۲۸ ۔اس شمارے کی پی ڈی ایف فائل ویب سائٹ پر دستیاب ہے۔

Cultural activities of Educational Institutes

Articles

تعلیمی اداروں میں تہذیبی وثقافتی سرگرمیاں

ڈاکٹر ذاکر خان

قسط اول
انسانی زندگی اور اس کی تمام تر تہذیبی و ثقافتی قدریں دن بدن تبدیلی اور تغیر کا شکار ہوتی جارہی ہیں۔ اس تبدیلی اور تغیر کے اثرات سماج و معاشرے پر بھی نمایاں نظر آنے لگے ہیں۔ ایسے ماحول میں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان دوستی ، اخوت اور بھائی چارے کی فضا کو سازگار کیا جائے اس تعلق سے تعلیمی اداروں میں وقتاً فوقتاً منعقد کی جانے والی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیاں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔
تہذیب و ثقافت انسانی زندگی کا لازمی حصہ ہے۔ اقوام کی عادت و اطوار، ان کا طرزِ فکر، ان کا دینی و دنیوی نظریہ، ان کے اہداف و مقاصد کسی بھی ملکی تہذیب کی اساس ہوتے ہیں۔اسی سے قوموں کی شناخت ہوتی ہے۔ قوم کی ثقافت اسے ترقی یافتہ، با وقار، قوی و توانا، عالم و دانشور، فنکار و ہنرمند اور عالمی سطح پر محترم و با شرف بنا دیتی ہے۔ اگر کسی ملک کی ثقافت زوال و انحطاط کا شکار ہو جائے یا کوئی ملک اپنا ثقافتی تشخص گنوا بیٹھے تو باہر سے ملنے والی ترقیاں نہ ہی اسے اس کا حقیقی مقام نہیں دلا سکتی ہیں اور نہ ہی وہ قوم اپنے قومی مفادات کی حفاظت کر سکتی ہے۔ دنیا کی تمام بیدار قومیں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کسی قوم نے اپنی ثقافت کو بیگانہ ثقافتوں کی یلغار کا نشانہ بننے اور تباہ و برباد ہونے دیا تو نابودی اس قوم کا مقدر بن جائے گی۔ ہمیشہ غلبہ اسی قوم کو حاصل ہوا ہے جس کی ثقافت غالب رہی ہے ۔ اگرکسی قوم کو اس کی تاریخ، اس کے ماضی، اس کی تہذیب و ثقافت، اس کے تشخص، اس کے علمی، مذہبی، قومی، سیاسی اور ثقافتی افتخارات سے جدا کر دیا جائے، ان افتخارات کو ذہنوں سے محو کر دیا جائے، اس کی زبان کو زوال کی جانب ڈھکیل دیا جائے، اس کا رسم الخط ختم کر دیا جائے تب وہ قوم زندگی سے محروم ہوکر اغیار کی مرضی کے مطابق ڈھل جانے کے لئے تیار ہو جاتی ہے اوراس کی نجات کے تمام راستے مسدود ہو جاتے ہیں
تہذیب اور ثقافت کا چولی دامن کا ساتھ ہے البتہ تہذیب ثقافت سے جنم نہیں لیتی بلکہ تہذیب ثقافت پر اثر انداز ہوتی ہے اور اس کی راہ متعین کرتی ہے۔ تہذیب کسی گروہ کے عقائد کے تابع ہوتی ہے۔ ایسا اس لئے ہوتا ہے کہ افراد کو گروہ میں قائم رکھنے کیلئے کچھ مشترک باہمی عوامل لازم ہیں اور یہ عوامل ہی دراصل عقائد کا روپ دھارتے ہیں۔ فطری طور پر یہ عوامل ان کے مذہبی اصول ہی ہوتے ہیں۔ تہذیب کو مورخین نے مذہب کے زیرِ اثر ہی گرداناہے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ عیسائی اور یہودی بہترین اوصاف کا منبع زبور ،تورات اور انجیل کو قرار دیتے تھے اور یہ استدلال درست بھی تھا گو متذکرہ کتب نے تحریفات کے سبب الہامی حیثیت کھو دی ہیں۔ پھر جب غیرمسلم دنیا اپنے عقائد سے بالکل اچاٹ ہو گئی تو انہوں نے تہذیب کی تعریف سے لفظ مذہب کو حذف کر دیا۔ اس کے باوجود اب بھی کچھ ڈکشنریاں ایسی ہیں جن میں تہذیب کا تعلق مذہب سے بتایا گیا ہے یا مذہب کا نام لئے بغیر اس طرف اشارہ کیا ہے
تعلیمی ادارے تہذیبی و ثقافتی قدروں کو برقرار رکھنے اور ان کی خاطر خواہ نشو نماکرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعلیم کے ساتھ ساتھ ان اداروں کا یہ بھی اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنی قدروں کی آبیاری کرتے رہیں۔ تعلیم کی ترسیل کے علاوہ یہ ادارے socialization and the transmission of cultural norms and values. جیسے اہم فرائض بھی انجام دیتے ہیں۔ socialization اس عمل کو کہا جاتا ہے جس کے ذریعے ایک طالبِ علم اپنی ذاتی شناخت بناتے ہوئے معلومات، زبان اور ایسی سماجی صلاحتیں سیکھتا ہے جو اسے دوسروں سے ہم آہنگ کرتی ہیں۔socialization کے بعد تعلیمی اداروں کی سب بڑی ذمّہ داری transmission of cultural norms and values to new generationsہے۔یعنی نسل نو میں تہذیبی اصولوں اور قدروں کو منتقل کرنا۔ تعلیمی ادارے مختلف طبقات میں بٹی ہوئی آبادی کو ایک سماج کی حیثیت عطا کرتے ہیں اور انہیں قومی شناخت سے نوازتے ہوئے ملک کا مستقبل تیار کرتے ہیں۔یہاں منعقد کی جانے والی تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں سے ہمیں بطور خاص تین قسم کے فوائد حاصل ہوتے ہیں۔
(۱)سماجی فوائد: عام طور پر اس قسم کی سرگرمیاں طلبا وطالبات کا ایک بڑا گروہ انجام دیتا ہے جس میں مختلف سماج و معاشرے سے آئے ہوئے طلبا وطالبات بھی شامل ہوتے ہیں اس طرح سے یہ سرگرمیاں طلباکوسماج و معاشرے سے ہم آہنگ بھی کرتی ہے اور دیگر قوموں اور سماجوں سے تعلقات استوار اور رشتے مضبوط کرواتی ہیں ۔ ان ہی سرگرمیوں کے ذریعے طلبہ میں interpersonal skills پروان چڑھتی ہے۔ وہ ایک دوسرے کے جذبات، ایک دوسرے کے سماجی رسم و رواج اور مذہبی عقائد سے بھی واقف ہوتے ہیں۔ انہیں اپنی سرگرمیوں کے ذریعے اس بات کا بھی پتہ چلتا ہے انہیں کی طرح سماج و معاشرے میں اور کتنے گروہ کہاں کہاں پر سرگرمِ عمل ہیں۔
(۲)عملی فوائد: اس طرح کی سرگرمیاں طلبہ کو ایک مقصد(common goal) کے لیے کام کرنے پر تیار کرتی ہیں۔ ان میں احساسِ ذمّہ داری(sense of responsibility)پیدا کرتی ہیں۔ یہ سرگرمیاں طلبہ میں اعتماد بھر دیتی ہیں اور انہیں مشکل حالات کا سامنا کرنا سکھاتی ہیں۔ عملی فوائد میں ہم مختلف قسم کے کھیل کود کے مقابلوں کی مثالیں پیش کرسکتے ہیں جس کے ذریعے طلبہ خود اپنی صحت کی دیکھ بھال کرنا، ذہنی و جسمانی طور پر چاک و چوبند اور صحت مند رہنا سیکھ جاتے ہیں۔انہیں اپنے صحت مند جسم سے محبت ہونے لگتی ہے ۔ یہی خوشحال زندگی کااوّلین اصول ہے۔
(۳)تعلیمی فوائد: عام طور پر ہرفن مولا کہلانے والے لوگ نہ صرف جلد نوکری یا روزگار حاصل کرلیتے ہیں بلکہ ماضی میں انجام دی گئی اِن سرگرمیوں کی بنا ءپر انہیں اعلیٰ تعلیم کے بہترین مواقع دوسروں کی بہ نسبت جلد حاصل ہوجاتے ہیں۔اس طرح سے ان کے ذریعے انجام دی گئی سرگرمیاں ان کے بہتر مستقبل کی ضامن بھی بن جاتی ہیں۔
تعلیمی اداروں کی مختلف سرگرمیاں
تہذیب و ثقافت کو زندہ اور پائندہ رکھنے کے لیے تعلیمی ادارے مختلف قسم کی سرگرمیوں کو انجام دیتے ہیں ان سرگرمیوں کو ہم تین حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ابتدائی ،ثانوی اور ثلاثی سرگرمیاں کہہ سکتے ہیں۔
Recitation, Simple Story Telling, Dancing, Drawing, Painting, Fancy Dress, Folk Dance, Assembly, Reading جیسی سرگرمیوں کو ابتدائی سرگرمیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے اور ان کا اطلاق پرائمری اسکولوں پر کیا جاسکتا ہے۔
Debate and discussion,School magazine, Dramatics, Study circle, Societies, Art groups, Seminar, Poetic Gathering, Scouting, Sculpture, Exhibition, Folk Songs, Students’ Council, Celebration of Religious National and Social Festivals, Organization of School Panchayat Mock Parliament, Social Study Circle, Fair, First Aid, Red Cross, Social Survey, وغیرہ کو ثانوی سرگرمیوں میں شمار کیا جاسکتا ہے اور ان کا اطلاق سیکنڈری اسکولوں پر کیا جاسکتا ہے۔
National Cadet Corps (NCC), National Sports Organisation (NSO), National Service Scheme (NSS), Debate and discussion, Seminar, Conference, Social Survey وغیرہ کو ثلاثی سرگرمیاں کہہ سکتے ہیں اور ان کا اطلاق کالجوں پر کیا جاسکتا ہے۔
ان تمام سرگرمیوں کے علاوہ بھی تعلیمی اداروں میں کچھ مخصوص قسم کی سرگرمیاں بطور خاص انجام دی جاتی ہیں مثلاً
Children’s Day, Woman’s Day, Various Religious Festivals, New year, Republic Day, Independence Day, Teachers Day, Arts and Crafts Exhibition, Inter-School Science Fest وغیرہ۔
پورے ملک کے تعلیمی اداروں میں مختلف قسم کی تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیاں انجام دی جاتی ہیں اور ان سرگرمیوں کے اختتام پر ایک مخصوص قسم کے جشن کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ اس مختصرسے مضمون میں پورے ملک کا حوالہ دینا تقریباً ناممکن ہے لیکن عروس البلاد ممبئی اور اس کے اطراف میں واقع تعلیمی اداروں میں منائے جانے والے مخصوص دنوں یا جشن کے نام یہاں پیش کیے جاسکتے ہیں۔ مثلاً
Don Bosco Institute of Technology. میں منایا جانے والا جشن Crextal
Narsee Monjee College of Commerce & Economics میں منایا جانے والا جشن ، امنگ
K. J. Somaiya College of Engineering میں منایا جانے والا جشن Symphony
Mithibai College میں منایا جانے والا جشن Kshitij
Xavier Institute of Engineering میں منایا جانے والا جشن Spandan
Veermata Jijabai Technological Instituteمیں منایا جانے والا جشن Pratibim
Anjuman i Islam میں منایا جانے والا جشنJushn e Anjuman کہلاتا ہے
جہاں تک اردو تعلیمی اداروں کا تعلق ہے ممبئی اور اس کے اطراف و اکناف میں واقع یہ ادارے تہذیب و ثقافت کی بقا کے لیے ہمیں اپنی بساط سے بڑھ کر کوشش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ان اداروں میں سب سے نمایاں نام ڈپارٹمنٹ آف اردو یونیورسٹی آف ممبئی کاہے۔یہاں ڈپارٹمنٹ کے صدر پروفیسر صاحب علی صاحب کی خصوصی دلچسپی اور رہنمائی کے سبب تہذیبی و ثقافتی پروگرام تواتر کے ساتھ منعقد ہوتے رہتے ہیں۔
چوں کے ممبئی میں انجمن اسلام اور انجمن خیرالاسلام کے تعلیمی اداروں کا جال بچھا ہوا ہے اس لیے ہمیں زیادہ تر سرگرمیاں ان ہی کے یہاں نظر آتی ہیں۔ اس معاملے میں انجمن اسلام باندرہ میں منعقد ہونے والا فی البدیہہ تقریری مقابلہ، سیف طیب جی میں منعقد کیے جانے والے ثقافتی مقابلے، انجمن اسلام سی ایس ٹی پر منعقد ہونے والے مقابلے قابلِ ذکر ہیں۔
اکبر پیربھائی کالج میں گزشتہ دودہائیوں سے جاری بیت بازی کے مقابلے نے تہذیب و ثقافت کے تنِ مردہ میں روح پھونکی ہے۔ اسی طرح کموجعفر اور برہانی کالج میں منعقد کیے جانے والے مقابلوں سے انکار ممکن نہیں۔
ممبئی کے مضافات گوونڈی شیواجی نگر میں واقع نورالاسلام اردو ہائی اینڈ جونئیر کالج تہذیبی و ثقافتی سرگرمیوں کے معاملے میں دیگر بڑے بڑے تعلیمی اداروں سے کسی بھی طرح پیچھے نہیں ہے۔ اس ادارے نے پرنسپل فضل الرّحمٰن خان کی رہنمائی میں کامیابی و کامرانی کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ اکثر و بیشتر یہاں شعری نششتیں، ادبی محفلیں اور دیگر ثقافتی مقابلے منعقد کیے جاتے رہتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں سے ممبئی کے اطراف میں واقع بھیونڈی تہذیبی اور ثقافتی مقابلوں میں اردو کے تمام بڑے مراکز سے آگے نکلتا ہوا نظر آرہا ہے اور اس کا مکمل سہرا کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کے سرہے۔ جتنے مقابلے یہاں منعقد کیے جاتے ہیں شاید ہی کہیں اور منعقد کیے جاتے ہونگے۔
کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی کی معرفت چلنے والے رئیس ہائی اینڈ جونئیر کالج کے پرنسپل ضیا الرّحمٰن انصاری نے ہمیں بتایا کہ ان کے یہاں باقائدگی سے حمد ، نظم، اردو ، انگریزی اور مراٹھی زبانوں میں خوش خطی اور ڈرائنگ کے مقابلے انٹر اسکول لیول پر منعقد کیے جاتے ہیں۔ اسی طرح تقریر، قرات، جنرل نالج کوئیز، سوشل کوئیش، وغیرہ کا انعقاد کیا جاتا ہے۔رئیس ہائی اسکول میں منعقد ہونے والا آل مہاراشٹر تقریری مقابلہ تقریباً 80 سالوں سے جاری ہے، دلیپ کمار، قادر خان اور نوتن جیسے فلمی ستارے رئیس ہائی اسکول کے مقابلوں میں بطور مہمان شامل ہوچکے ہیں۔گزشتہ چھ برسوں سے یہاں منعقد ہونے والے تقریری مقابلے میں انتظامیہ اور پرنسپل مسلم IASآفیسر کو بطور مہمان مدعو کر رہے ہیں تاکہ طلبہ و طالبات ان سے ترغیب حاصل کرسکیں۔اسی سوسائٹی کے ذریعے وڈلی میں سیرت النّبی تقریری مقابلہ، مومن گرلس میں غزل سرائی، رفیع الدین فقیہ ہائی اسکول میں پرنسپل شبیر فاروقی کی رہمنائی میں تمثیلی مشاعرہ وغیرہ باقائدگی سے مننعقد کیے جا رہے ہیں۔
بھیونڈی کے دیگر ادارے بھی اس معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں، صافیہ گرلس قرآن کوئیز کے لیے، نیو نیشنل ، الحمداور صلاح الدین ایوبی ہائی اسکول ادبی نششتوں کے لیے مشہور ہیں۔
سالہا سال سے ممبئی اور اطراف و اکناف ہی نہیں پورے مہاراشٹر میں منعقد ہونے والے مقابلوں میں شمیم طارق صاحب کی سرپرستی میں منعقد کیا جانے والا مقابلہ¿ دینیات اور حامد اقبال صدیقی صاحب کے کوئیز ٹائمز کے ذریعے منعقد کیا جانے والا جنرل نالج کوئیز کمپیٹیشن تمام مقابلوں میں سرِ فہرست ہے۔ حامد اقبال صدیقی صاحب کے مقابلے کو اردو میڈیم کا سب سے بڑا ریئلٹی شو اور طلبا و طالبات کی سب سے بڑی تفریح قرار دیا جاسکتا ہے۔ان ہی مقابلوں نے ہماری زبان، ہماری تہذیب و ثقافت اور خود ہمیں زندہ رکھا ہے۔
(ان شا اللہ آئندہ قسط میں مہاراشٹر کے دیگر اردو تعلیمی اداروں میں منعقد کی جانے والی سرگرمیوں کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا)

مضمون نگار سے مندرجہ ذیل ای میل پر رابطہ کیا جاسکتا ہے

khanzkr@gmail.com

Anis Javed ki Drama Nigari

Articles

انیس جاوید کی ڈراما نگاری

ڈاکٹر ذاکر خان

 

اردو ڈراموں کا سفر بر سہا برس پر محیط ہے۔سنتے ہیں کہ ڈرامے پرانے زمانے میں سنسکرت اور یونانی روایتوں کے امین و علمبردار ہوا کرتے تھے ۔ڈراموں کا دائرہ مذہب اورسماجی رسم ورواج کو اپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔مگر دھیرے دھیرے لوگوں کے شوق بدلتے گئے،مذہب کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی اور سماجی رسم و رواج پر گرد جمنے لگی ، نتیجہ یہ ہوا کہ ڈرامے بامِ عروج پر پہنچنے سے پہلے ہی رو بہ زوال ہوتے چلے گئے۔سماجی سطح پر بدلتا ہوا شوق مکمل طور پر شاعری کے سحر سے باہر نہ آ پایا اور شاعری عوامی تفریحِ طبع کا واحد ذریعہ ٹھری۔پھر کسے فرصت تھی کہ ڈراموں کی سنگلاخ وادیوں کا سفر کرے اور دشوار گذار گھاٹیوں کی گہرائی ناپے۔ڈرامے قارئین اور ناظرین کی تفریح کا سامان تو تھے ہی لیکن انھیں تخلیق کرنا اور اسٹیج پر کھیلنا کافی مشکل تھا۔ یہی سبب تھا کہ اِس جانب کم ہی توجہ دی گئی۔لیکن دھیرے دھیرے مایوسی کے بادل جھٹنے لگے اور ایک دور وہ بھی آیا جب ڈراموں کونواب واجد علی شاہ کے ذریعے شاہی سرپرستی حاصل ہوئی اور یہیں سے ڈراموں کی تاریخ کا سنہری دور شروع ہوا۔اور مختلف ادوار میں مختلف نامور ہستیاں ڈراموں کی بقا کے لیے کوششیں کرتی چلی گئیں۔ آغا حشر کاشمیری سے لیکر منٹو تک اور منٹو سے لیکر حبیب تنویر تک اور پھر حبیب تنویر سے انیس جاوید تک بیشمار ڈرامہ نگار تھیٹر کے منظر نامے پر ظاہر ہوئے لیکن اُن میں کم ہی ایسے ہونگے جنھوں نے خود اپنے تخلیق کردہ ڈراموں میں ایکٹر اور ڈائرکٹر کے فرائض انجام دیے ہوں۔ انیس جاوید کا شمار انھیں صفِ اوّل کے ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے جو اپنوں ڈراموں کے نہ صرف رائٹر ہیں بلکہ انھیں ایکٹر اور ڈائرکٹر ہونے کا بھی شرف حاصل ہے۔ انیس کے معاصرین خود آپ کی عظمتوں کو سلام کرتے ہوئے نظر آتے ہیںاور صدق دل سے اِس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ انیس نے اپنے فن کو وہ جلا بخشی کہ ہم بھی نمبر ایک پر آنے کے تمنائی ہوگئے۔” ابھی تو رات ہے “پر تبصرہ کرتے ہوئے اقبال نیازی یوں کہتے ہیں کہ
“۱۹۷۸؁ سے ۱۹۸۲؁ کے دوران انیس جاوید ہر سال اپنا ڈرامہ مقابلے میں لاتے اور اوّل انعام لے جاتے اور ہم دوست احباب دوّم انعام حاصل کر کے سر جوڑ کر بیٹھ جاتے کہ ہم سیکنڈ کیوں ہو رہے ہیں ”
انیس جاوید سے میرے مراسم دیرینہ نہ سہی مگر کم بھی نہیں ۔ میں انھیں پچھلے دس سالوں سے جانتا ہوں ۔ آپ کی شخصیت خلوص، ایثار ، ہمدردی اور انسان دوستی سے عبارت ہے ۔عصرِ حاضر میں انیس جاوید ڈراموں کی دنیا کا ایک بڑا نام ہے۔ لیکن آپ کی دنیا صرف ڈراموں تک ہی محدود نہیں ۔آپ نے اپنے فن اور صلاحیتوں کا بخوبی استعمال فلموں اور ٹی وی سیریئلس میں بحسن خوبی کیا ہے۔ایک طرف آپ نے فلموں میں رائٹر ڈائرکٹڑ کے فرائض انجام دیے تو دوسری طرف سرئیلس میں مکالمہ نگاری اور گیت کے ذریعے اپنے فن کو کمالِ عروج تک پہنچا دیا۔مگر ڈرامہ ہمہ وقت انیس جاوید کا شوق ہی نہیں جنون بھی رہاہے جو اب بھی رواں دواں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ دنیا بھر میں ادب جنونی لوگوں کی بدولت ہی زندہ رہتا ہے جو مال و منال کی پرواہ کئے بغیر منزلِ لا مکاں کی تلاش میں سرگرداں رہتے ہیںاس لحاظ سے انیس جاوید بھی کم جنونی نہیں ۔ ڈراموں کے اسٹیج پر آپ کے قدم تقریباًچالیس برسوں سے کسی ستون کی مانند ایستادہ ہیں ۔عمارتیں پرانی ہوگئیں ، اسٹیج رو بہ زوال ہیں ، ناظرین بوڑھے ہوگئے ہیں لیکن انیس جاوید کا جذبہ آج بھی جوان ہے۔
انیس جاوید سے میری پہلی ملاقات اس وقت ہوئی جب انیس جاوید Etvاردو کے لیے بیت بازی کا مقابلہ شوٹ کروارہے تھے اور ہم بھی شاملِ مقابلہ تھے۔اس ملاقات پر یقین نہیں آیا کہ یہ وہی شخص ہے جس نے بے شمار ڈرامے تخلیق کیے، سیرئیلس کی اسکرپٹ میں چار چاند لگائے،فلموں کے لیے اسٹوری لکھی مکالمے تحریر کیے، ہدایت کاری کے فرائض انجام دیے اور بذاتِ خود اپنے ڈراموں میں مرکزی کردار بھی ادا کیا۔ میرے ذہن نے کچھ اس طرح اُن کا خاکہ بنانا شروع کیا کہ ایک عام سا نظر آنے والاشخص، ہونٹوں پر مخلص مسکراہٹ، دل میں ٹھاٹھیں مارتی ہوئی مشفق محبت ، چہرے پر متانت و سنجیدگی، گفتار میں شائستگی، کردار میں پختگی،کام میں سلیقہ مندی، سوچ کے آئینہ دار جذبات،انگلیوں سے چپکی ہوئی ایک مہین سی امپورٹیڈ سگریٹ جو کبھی انگلیوں کی پکڑ میں جل جاتی اور کبھی محبوبہ بن کر لبوں کو چوم لیتی ۔ محبوبہ بھی ایسی جو چوبیس گھنٹے اُن کا ساتھ نہ چھوڑے۔مَیں نے خود سے سوال کیا، کیا اتنا سنجیدہ نظر آنے والا شخص اپنے ڈراموں سے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل پر چوٹ کر سکتا ہے؟ کیا یہ وہی شخص ہے جس نے نچوم کے افسانوی کردار کو حقیقت کا روپ دیدیا؟میری الجھن اُن سے چھپی نہ رہ سکی فوراً مجھ سے سوال کیا ،سر کیا سوچ رہے ہو؟مَیں اچانک تخیّلات کی ماورائی دنیا سے باہر آگیااور مجھ پر یہ راز بھی منکشف ہو گیا کہ انیس صرف فنکار ہی نہیں چہرہ شناس بھی ہے جو چہرے کے نقوش سے شخصیت کے پیچ و خم پڑھنے کا ہنر بھی جانتا ہے۔لبوں کی تھرتھراہٹ سے مدّعی کا مدّعا جان لینا اُن ہی کا وصف ہو سکتا ہے۔پھر انیس مجھ سے مخاطب ہوئے اور کہا ، سر آپ شاعری کا تو اچھا ذوق و شوق رکھتے ہو کبھی ہمارے ساتھ ڈرامہ بھی کرلوویسے بھی زندگی ایک ڈرامہ ہی ہے اور ہم سب سانسوں کی ڈور پر چلنے والی کٹھ پتلیاں۔مَیں نے ہچکچاتے ہوئے ڈرامے کے لیے ہاں کردی۔اِس طرح سے انیس جاوید کی رہنمائی ایک ٹیچر کو ایکٹنگ کی طرف مائل کرنے لگی بعد میں پتہ چلا کہ انیس جاوید کی پوری ٹیم ہی درس و تدریس سے وابستہ ہیں۔اِن میں منصف قریشی بھی ہیں اور محمّد رفیق شیخ بھی،مشتاق زبیر بھی ہیں اور رمضان امین بھی۔ خاکسار کو سب سے پہلے “دو گز زمین” میں کام کرنے کا موقع ملااور پھر مواقع بڑھتے گئے۔ڈراموں سے ہٹ کر ہم نے ڈی ڈی اردو اور Etvاردو کے لیے بھی اُن کے ساتھ کام کیا۔ انیس جاوید کا ایک خاص وصف یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ہر ایکٹر کو مرکزی کردار کا اہل بنا دیتے ہیں ۔ اُن کی ٹیم میں شامل ہر ایکٹر نے مختلف ڈراموں میں مرکزی کردار نبھائے ہیں۔مَیں نے اوپر ہی بیان کردیا کہ انیس جاوید چہرہ اور شخصیت پڑھنے میں مہارت رکھتے ہیں۔دو ڈراموں کے بعد ہی مجھے “سمندر خاموش ہے”میں “دیش”کا مرکزی کردار مل گیا۔شروعات میں کچھ ڈر بھی لگا مگر دھیرے دھیرے ڈر کافور ہوتا گیا۔ریہرسل پر اُن کا رویہ انتہائی دوستانہ ہوتا مگر مسلسل غلطیوں پر رشتے ناطے ، دوستی و دلبری کی روایات طاق پر رکھ دی جاتی اور اُن کے منہ سے لکلتا “pack up”چند لمحوں تک اپنی ٹیم کی طرف دیکھتے ، سگریٹ غالبؔ کی کافر مئے کی طرح لبوں سے چپک جاتی دھواں فضائوں میں مرغولے بنانے لگتا اور وہ دھویں کو کچھ اِس طرح دیکھتے جیسے اسکرین پر پورا ڈرامہ نظر آ رہا ہو۔پھر مسکراتے ہوئے اپنی ٹیم سے کہتے ، چلو بھائی ایک کوشش اور کرلی جائے اور وہ کوشش ہماری آخری کوشش ہوتی اور ڈرامہ فائنل ہوجاتا۔شاید ہی کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں آپ کو pack up نہ کہنا پڑا ہو۔
آپ نے اپنے ڈراموں کے ذریعے ایک مصلح کا کردار ادا کیا ،جو سماج کی ہر برائی پر چوٹ کرتا ہے سماج کی ہر غلطی پر اصلاح کرتا۔ سرمایہ دارانہ نظام سے نفرت اور مساوات پر یقین آپ کی عمر کے ہر اُس فنکار کا خاصّہ ہے جس نے غربت اور غرباء کو قریب سے دیکھاہو،اُن کے مسائل جانے ہو، سسکتی ہوئی آہیں سنی ہو ، بلبلاتے ہوئے بچے دیکھے ہوں، سیکولرزم کی دہائی دیتی ہوئی جمہوریت کو پرکھا ہو، دھوپ سے کھیتوں میں جلتے ہوئے جواں جسم اور بڑھاپے میں سردیوں سے ٹھٹرتی ہوئی ادھ مری لاشیں دیکھی ہوں،جمہوریت کا گلا ریت کر دیش کو کھوکھلا کرنے والے نیتائوں سے روبرو ہوا ہو، کچھ حد تک یہ بات انیس جاوید کے فن میں بھی پائی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہیکہ جب شوکت کیفی کی موجودگی میں انھیں اپنے ڈرامے “ابھی تو رات ہے”پر اوّل انعام سے سرفراز کیا گیا تب بے ساختہ آپ کی زبان سے نکلا اردو اکادیمی کو لال سلام ،شوکت کیفی کو لال سلام۔پھر دیکھتے ہی دیکھتے ایک زمانہ جو اُن کا معترف تھا منحرف ہوگیا، صلاحیتیں عیب نظر آنے لگیں اور انیس کے تار سرخ پرچم سے منسوب کردیے گئے۔ طوفان اٹھے ،بلائیں لادی گئیں مگر عشقِ صادق نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا۔ انیس اپنی عمر کی سیڑھیاں چڑھتے رہے مگر جذبہ روز افزوں جواں ہوتا رہا۔ ساٹھ بہاریں دیکھنے کے بعد بھی وہ اُسی طرح چاک و چوبند جیسے وہ تیس برس قبل تھے۔
انیس جاوید کے ڈراموں کا ایک خاص وصف جو اوروں سے انھیں منفرد کرتا ہے وہ قبولیتِ عام ہے۔عوام و خواص ، امیر و غریب ، اور ہر عمر کے افراد اُن کے ناظرین ہی نہیں شیدائی بھی ہیں۔آپ کے ڈراموں کے مجموعے” ابھی تو رات ہے “اور”معمار جہاں تو ہے ” منظرِ عام پر آ کر قارئین سے دادو تحسین حاصل کرچکے ہیں لیکن یہ اُن کی معراج نہیں ،انہیں تو ابھی اوجِ ثرّیا تک سفر کرنا ہے۔وہ اپنے ڈراموں کے ذریعے سماج کو ایک نیا پیغام دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔شاید ہی ان کا کوئی ڈرامہ ایسا ہو جس میں انہوں نے ناظرین کا دل جیت کر انھیں سوچنے پر مجبو ر نہ کیا ہو۔ ڈراموں کے کردار مکالمے اور پلاٹ میں غضب کا تال میل پایا جاتا ہے۔بھرتی کے کرداروں اور بے جا مکالموں سے انہوں نے ہمیشہ گریز کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کے ڈراموں میں کردار وںکی بہتات نہیں ،وہ کم کرداروں کے ساتھ بھی کامیاب ہیں۔ آپ ہر سین کے تانے بانے انتہائی کمالِ خوبصورتی سے بنتے ہیں ۔ابتدائی مراحل میں یوں نظر آتا ہے جیسے کینوس پر کسی مصّور نے آڑھی تیڑھی لکیریں کھینچ دی ہوں لیکن جیسے جیسے ڈرامہ آگے بڑھتا ہے یہ آڑھی ٹیڑھی لکیریں خوبصورت پیکر میں ڈھلنے لگتی ہیں مگر مصّور کو اطمینان نہیں وہ اسٹیج پر پہنچنے تک اُسے finishing touch دیتا رہتا ہے۔ انیس بھی انہیں عظیم مصّوروں اور فنکاروں میں شامل ہیں جنھیںاپنے فن کی خوبصورتی دیکھ کر محض خاموش تماشائی بنے بیٹھے رہنا گوارہ نہیں۔وہ ہمہ وقت اُسے اور زیادہ نکھارنا اور سنوارنا چاہتے ہیں ۔ہم سے بہتر انہیں کون جان سکتا ہے جنھوں نے اُن کے ساتھ کام کیا ہے۔ کسی ڈرامے کے پانچ پانچ شو ہوجانے کے بعد بھی اُن کی اصلاح بدستور جاری رہتی ہے۔اور وہ خوب سے خوب تر کے سفر کی طرف رواں دواں نظر آتے ہیں۔
“ابھی تو رات ہے “کا بھیکو ہو یا “دو گز زمین “کا نچوم، “سمندر خاموش ہے “کا دیش ہو یا “معمارِ جہاں تو ہے “کا معلّم انیس جاوید نے ہر جگہ اپنے کرداروں کو بلندی عطا کی ہے۔حالات کا مارا بھیکو جاگیردارنہ نظام کے خلاف در در کی ٹھوکریں کھاتا ہے ، انصاف کے لیے ہر اُس دروازے پر دستک دیتا ہے جہاں سے اُسے معمولی سی بھی امید ہو مگر اُس بے چارے کو کیا پتہ کہ انصاف تو امیروں کی لونڈی اور جاگیرداروں کی رکھیل بن چکا ہے۔ اپنا سب کچھ لُٹ جانے کے بعد وہ حواس باختہ ہوجاتا تب اُسے کہیں سے پتہ چلتا ہے کہ ایک جگہ ایسی بھی جہاں گھنٹہ بجائو اور انصاف پائو،بے چارہ ہانپتے کانپتے وہاں پہنچ تو جاتا ہے مگر دروازے پر لگا ہوا بڑا سا تالا اُسے مبہوت کردیتا ہے اور پھر واچ مین کی کرخت آواز آتی ہے کہ کہ ابھی انصاف کہاں ابھی تو رات ہے۔انیس جاوید نے اپنے اِس ڈرامے کے ذریعے سماج کے سلگتے ہوئے مسائل کے ساتھ ساتھ چترورنیہ پرمپرائوں پر زبردست تنقید کی ہے۔جہاں نچلی ذات مسلسل استحصال کا شکار ہے۔کوئی پرسانِ حال نہیں گویا یوں لگتا ہے کہ دبتے رہنا اور کچلا جانا ہی اُن کا مقدرہو۔آخر یہ سماجی نابرابری کب ختم ہوگی؟ بھیکو کو انصاف کب ملے گا؟ کب سماج ظالم و جابر جاگیرداروں اور سود خور مہاجنوں کی گرفت سے آزاد ہوگا؟اسی طرح ” سمندر خاموش ہے”میں انیس جاوید کے ظالم و جابر کردار کرپٹ نیتائوں کے روپ میں نظر آتے ہیں جو دیش کی ایک ایک چیز نیلام کرکے اُسے بیرونی قرضوں کا تاج پہنا دیتے ہیں۔اور دیش کی حالت برٹش دورسے زیادہ خراب ہو جاتی ہے۔ یوں لگتاہے انیس جاوید سماج و معاشرے کو بہت قریب سے دیکھتے ہیں اُس کے ہر دکھ پر چینخ پڑتے ہیں ہر قرب پر بلک اُٹھتے ہیں۔اور تن من دھن کے ساتھ سماج میں خوشحالی کے متمنّی ہیں۔
انیس جاوید خود بھی درس و تدریس سے وابستہ تھے پھر آپ طلبا کے مسائل سے کیسے چشم پوشی کرتے۔فی زمانہ طلبا کے لیے صحیح کرئیر کا انتخاب انتہائی اہم مسئلہ ہے ۔ آپ نے اپنی فنکارانہ مہارت سے طلبا اور سرپرستوں کے لئے “آو کہ چھولیں خوابوں کو”تحریر کیا اور اسٹیج کی زینت بناتے ہوئے والدین کو تلقین کی کہ وہ اپنی سرپرستانہ رائے بچوں کے ذہنوں پر مسلّط نہ کریں انہیں خود اپنے کرئیر کا انتخاب کرنے کے لیے آزاد رکھیں۔ اسی طرح آل مہاراشٹر آئیڈیل ٹیچر کانفرنس میں الفلاح ہائی اسکول ملاڈ کے پرنسپل کی فرمائش پر “معمارِ جہاں تو ہے”نامی ڈرامہ پیش کیا اور بے پناہ شہرت و مقبولیت حاصل کی۔ڈرامہ کے فوراًبعد مولانا آزاد ٹیچر ٹرینگ کالج دربھنگہ کے پروفیسر ڈاکٹر صدّیقی محمد محمود صاحب کو سامعین سے مخاطب ہونا تھا ۔مگر لوگ ڈرامے کے سحر سے باہر نہ آسکے محمود صاحب اورنگ آباد میں میرے بھی استاد رہے ہیں۔ پروگرام ختم ہونے کے بعد آپ نے مجھ سے ملاقات کی اور کہا کہ
“ذاکر میں نہیں سمجھتا کہ اورنگ آباد میں مَیں نے آپ کے ساتھ کوئی ظلم کیا تھا جو آپ لوگوں نے مجھ سے اُس کا بدلہ لے لیا۔لوگ ڈرامے کے سحر ہی سے باہر نہ آسکے پھر وہ مجھے کیسے سنتے”
میں نہیں سمجھتا کہ اُس روز انیس جاوید کے لیے اِس سے بڑا complementکچھ اور ہو سکتا تھا۔معمارِ جہاں تو ہے میں انیس جاوید ٹیچر پر ہونے والے مظالم مختلف غیر ضروری ذمّہ داریوں کا بوجھ منیجمنٹ کا دبائو اور حکومتی پریشر کو اپنا موضوع بنایا۔جب اِس ڈرامے کی کاسٹنگ کی جارہی تھی تب میں نے انیس جاوید سے دریافت کیا ، سرآپ ٹیچر کا رول کسے دینے والے ہیں ۔ اُن رگِ ظرافت پھڑکی اور گویا ہوئے ذاکر ہمیں ایک بھولا بھالا ٹیچر چاہیے جو ظلم ستم کا شکار ہو، چہرے پر متانت ہو سنجیدگی ہو۔ اور شاید اِس رول کے لئے رمضان امین سے بہتر کوئی نہیں۔اِس طرح سے اِس مرتبہ مرکزی رول کے لیے قرعہ فال رمضان امین کے نام نکلا۔
انیس جاوید کبھی بھی اپنی قوم کی حالتِ زار سے غافل نہیں رہے۔وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ آج پورے ملک میں مسلمانوں کو جھوٹے مقدّمات کا سامنا ہے۔ناکردہ گناہوں کی سزائیں دی جارہی ہیں ۔ بم دھماکوں کے بے بنیاد الزامات لگا کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے ڈھکیلا جا رہا ہے۔آپ سے یہ حالات دیکھے نہ گئے اور “مَیں آتنک وادی ہوں” نامی ڈرامہ تخلیق کردیا ۔ جہاں بابو چیخنے ہوئے اپنی بے گناہی ثابت کرنا چاہتا ہے مگر اُس پر ظلم وستم کی انتہا کردی جاتی آخر میں وہ تنگ آکر چیخنے لگتا ہے کہ ہاں ہاں میں ہی آتنک وادی ہوں۔
انیس جاوید نے اب تک جتنے بھی ڈرامے پیش کیے ،شہرت و مقبولیت نے اُن قدم چومے ہیں۔انیس نہ صرف ممبئی بلکہ مہاراشٹر اور ہندوستان کی دیگر ریاستوں میں بھی ڈراموں کی دنیا کا ایک اہم نام ہے۔میوزک اُن کے ڈراموں میں روح کی حثیت رکھتی ہے ، وہ ہمیشہ اپنے ڈراموں کے لیے پروفیشنل موسیقار کا انتخاب کرتے ہیں اسی طرح سے منفرد لب و لہجے میں لمبی سانسوں کے ساتھ کیا جانے والا اُن کا انائونسمنٹ اور قتیل شفائی کا شعر انیس جاوید کی شناخت بن چکا ہے۔
جو ہم نہ ہوں تو زمانے کی سانس رک جائے
قتیلؔوقت کے سینے میں ہم دھڑکتے ہیں

———————-

The Role of Literature Away From Cultural Changes

Articles

تہذیبی تبدیلیوں کے دور میں ادب کا کردار

قمر صدیقی

اگر یہ کہاجائے کہ کرہٗ ارض ایک چھوٹی سی جگہ ہے اور یہ چھوٹی سی جگہ بھی اب مسلسل سمٹ رہی ہے تو حیرت نہیں ہونی چاہئے، کیونکہ گلوبل ولیج کی سوچ تو سٹیلائیٹ دور کے شروعات کی بات تھی۔ اب انسان 3Gاور4Gکے اس دور میں سائبر اسپیس کا سند باد بن چکا ہے۔ بہت پہلے بل گیٹس نے کہا تھا کہ :
”انٹر نیٹ ایک تلاطم خیز لہر ہے جو اس لہر میں تیرنا سیکھنے سے احتراز کریں گے ، اس میں ڈوب جائیں گے۔“
بل گیٹس کی بات خواہ غلط ہو یا صحیح، حقیقت یہ ہے کہ آج ہر جگہ کمپیوٹر اور انٹر نیٹ کی حکمرانی ہے۔ گھر ہو یا دفتر ، علم ہو یا علاج، معیشت ہو یا ثقافت اور فن ہو یا تفریح ہر شعبہ¿ حیات میں ٹیکنالوجی کا عمل دخل صاف نظر آتا ہے اورلطف کی بات یہ ہے کہ مختلف ٹیکنالوجیز کے اشتراک سے مزید نئی نئی ٹیکنالوجیزسامنے آرہی ہیں ، بلکہ دیوندر اِسّر کے لفظوں میں تو ساری دنیا گھر کے آنگن میں سمٹ آئی ہے اور آنگن پھیل کر ساری دنیا کی وسعت سے ہم کنار ہورہا ہے۔ الیکٹرانک مشینوں کو کہیں سے بھی ہدایتیں دی جاسکتی ہیں اور انھیں حرکت میں لایا جاسکتا ہے۔ جب ہم گھر پہنچیں گے تو سب کچھ ہماری ضرورت اور ہدایت کے مطابق تیار ہوچکا ہوگا۔ پہلے زمانے کا شاعر دیواروں سے باتیں کرتا تھا ، اب دیواریں شاعروں سے باتیں کریں گی۔ شاید ہمارے غم و انبساط میں بھی شریک ہوں گی!ذہین ،مکین ہی نہیں، ذہین مکان بھی ہوں گے۔ حساس دل بے حس تجربہ گاہوں میں تیار کئے جائیں گے اور منجمد سڑکیں متحرک ہوجائیں گی۔ انسان حادثات سے بچ جائے گا، کاریں آپ کو ڈرائیو کریں گی اور الیکٹرانک آلات آنے والے خطرات سے آپ کو آگاہ ۔ دل کا دورہ ہو یا سڑک حادثہ ،اس پیش خبری کے باعث ٹل جائے گا۔ کلوننگ سے پیدا ڈولی کوبھول جائیے، اب بھیڑیں فیکٹریوں میں تیار ہوں گی۔ جینیٹک انجینئرنگ کی مددسے صرف چار بھیڑوں سے اتنی مقدار میں انسولین تیار کی جاسکے گی جو دنیا بھر کے ذیابطیس کے مریضوں کے لیے کافی ہوگی۔ کمپیوٹر انسانی ذہن کے حامل ہوں گے اور انسان کمپیوٹر کی مانند کام کریں گے۔ انسان اور حیوان کے اعضا ایک دوسرے کے جسم میں منتقل کیے جارہے ہیں۔ ذی روح اور غیر ذی روح میں فرق کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔
غور کرنے کی بات یہ ہے کہ تبدیلی کا ایک ریلا ہمارے شب وروز کو اپنے زور میں بہائے لیے جارہا ہے اور اس بہاﺅ میں عا لمیت ، قومیت، مقامیت، رنگ، نسل ، ذات ، طبقہ، فرقہ، مذہب اور جنس کے علاوہ مغرب اور مشرق کے تفاوت کے ساتھ ساتھ مختلف علوم ، بشریات ، سماجیات ، تاریخ ، فلسفہ ، سیاست اور جانے کیا کچھ آپس میں گڈ مڈ ہونے لگا ہے۔تہذیبی اور تکنیکی سوچ ایک نئی حسیت کی پرورش کررہی ہے۔ میڈیا یعنی ٹی وی ، کمپیوٹر وغیرہ اس سوچ کو پھیلانے کے ہتھیار ہیں۔ میڈیا کے ذریعے اطلاعات کی برق رفتار ترسیل نے بڑی سہولیات پیدا کردی ہیں مگر مشکل یہ ہے کہ اطلاعات کی اس ترسیل کے ساتھ محض خبروں یا خبروں کے لیے استعمال ہونے والے الفاظ ہی کی ترسیل نہیں ہوتی بلکہ یہ الفاظ اپنے ساتھ اپناخیال اور اپنی فکر بھی لاتے ہیں ۔ اس خیال اوراس فکر کے رد و قبول کے اختیار کے ساتھ ساتھ مسئلہ یہ بھی ہے کہ میڈیا کے ذریعے اتنے تواتر اورشدت کے ساتھ مختلف طرح کے اقدار و خیالات ہم تک پہنچ رہے ہیں کہ ایک طرح کی ذہنی انتشار کی کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ ہماری اقدار سے مختلف اقدار ٹکرا رہی ہیں۔ اس ٹکراﺅ کی وجہ سے یہ انتشار اور بحران تہذیب کے باطن میں اتر گیا ہے۔
برصغیر ہندو پاک میں یہ مواصلاتی انقلاب ، سماجی اور مذہبی اقدار کی پامالی، خاندانی اور انفرادی سطح پر رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ، انتشار اور بکھراﺅ کے ساتھ داخل ہوا۔آج اخبارات و رسائل ، ریڈیو اور ٹیلی ویژن اور فلموں سے ہوتے ہواتے یہ انقلاب کمپیوٹر ، انٹرنیٹ بلکہ سائبر اسپیس کے ذریعے اطلاعاتی شاہراہ کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے۔ 1945ءمیں دوسری عالمی جنگ کے خاتمے کے بعد سوویت یونین ، یوروپ ، جاپان اور امریکہ میں شروع ہوئی ترقی کی بے نتیجہ دوڑ سے برصغیر ہند و پاک محفوظ تھے مگر اب یہاں بھی الیکٹرانک میڈیا کے فروغ کے باعث اندھی اور بے لگام صارفیت کی ڈھلان پر ہونے والی یہ ”چوہادوڑ“شروع ہوگئی ہے۔لہٰذا اب ہمارے معاشرے میں بھی انسانی رشتے ہوں یا ٹوتھ پیسٹ ، سب بازار کا مال بنتے جارہے ہیں۔ دراصل گلوبلائزیشن کا یہ لازمی نتیجہ ہے کہ دنیا کی ہرشئے یک مرکزی (بلکہ بازار مرکزی) ہوتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ ہمارے پل پل خرچ ہوتے وقت کا سارا گوشوارہ بازار یا سرمایہ دار کنٹرول کرتا ہے۔ تفریحی پارک، شیطان کی آنت کی طرح مسلسل قسط در قسط پھیلتے ٹی وی سیریلس، شاپنگ مال،فیس بُک، ٹی – 20کرکٹ یہ سب سرمایہ داروں کے وہ حربے (Tools)ہیں جس کے ذریعے وہ ہمارے وقت کو کنٹرول کرتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ آج کا انسان زندگی کی چمچماتی سڑک پر نہ صرف مشین کی طرح دوڑنے پر مجبور ہے بلکہ وہ ایک ہی دن میں کئی ایام جینے کی اذیت میں بھی مبتلا ہے۔
آج گلوبلائزیشن نے بشمول ہند و پاک تیسری دنیا کے ممالک کے لیے ایک بار پھر سے نوآبادیاتی صورتِ حال پیدا کردی ہے۔ سیاست کے بجائے سامراجیت نے معاشی اور تہذیبی ، فکری اور نظریاتی سطح پر اپنی جڑیں پھیلائیں ہیں۔ غور کیجئے ہندوستانی بازاروں میں کس کا مال سب سے اچھا تسلیم کیا جاتا ہے؟ کس کے فیشن کو رائج الوقت تسلیم کرکے اس کی تقلید کی جاتی ہے؟ کس کے افکار و خیالات کو اعتبار و سند کے طور پر پیش کیا جاتا ہے؟ظاہر ہے ہندوستانی بازاروں کو امریکہ اور اس کے حلیف کنٹرول کررہے ہیں۔ ہندوستان میں فیشن کو وہ میڈیا رائج کرواتا ہے جو امریکہ کے کنٹرول میں ہے ۔ ہمارا بڑے سے بڑا دانشور جب تک کسی انگریز مفکر کا حوالہ نہ دے لے اپنی تحریر سے مطمئن نہیں ہوپاتا۔دراصل ہم نفسیاتی طور پر ایک ایسے بے آب و گیاہ صحرا میں آپھنسے ہیں جسے خود استعماریت یا Self Colonization کہتے ہیں۔تعلیم کے میدان میں جس کا ادب کی تخلیق و ترویج سے بھی گہرا تعلق ہے یہ تو محسوس کیا گیا کہ استعماری دور کے نظام تعلیم میں آزادی کے بعد تبدیلی لانی چاہئے مگر زیادہ تر جو تبدیلیاں روا رکھی گئیں وہ یا تو بے ضرورت تھیں یا پھر مغرب کی بے جا تقلید اور یہ سلسلہ کبھی سیمسٹر سسٹم تو کبھی گریڈنگ نظام کی صورت آج بھی جاری ہے۔لہٰذا تعلیم کے روز مرہ وظائف یعنی درس و تدریس ، تربیت اساتذہ، نصابی کتب کی تیاری اور اہلیتوں کی ارزیابی کا معیار متاثر ہونا لازم تھا اور پھر نئی نئی سائنسی دریافتوں کے چلتے بشری علوم اور زبانوں کی تعلیم سے معاشرے کی توجہ بالکل ہٹ گئی چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ تیسری دنیا کے دیگر ممالک کی طرح ہند و پاک میں بھی آزادی کے بعد غیر ملکی زبانوں میں تحصیل کا معیار قائم رہ سکا نہ ملکی اور قومی زبانوں کی طرف کوئی توجہ دی جاسکی۔ لہٰذا نئی نسل کے طلبہ میں بھی اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت یا دلچسپی نہ پیدا کی جاسکی۔
رسمی تعلیمی اداروں کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے میں غیر رسمی تعلیمی ادارے بھی معاون ثابت ہوتے ہیں۔اسی لیے ہرزندہ معاشرہ اپنے جلو میں کچھ ایسے تہذیبی اداروں کی پرورش کرتا ہے جو اگر بالواسطہ نہیں تو بلاواسطہ ادب کی غیر رسمی تعلیم کا انتظام و انصرام کرتے رہتے ہیں۔ ادب کی غیر رسمی تعلیم کے یہ ذرائع نہ صرف تہذیبی سطح پر کارآمد ہوتے ہیں بلکہ زبان و ادب کے ارتقا میں بھی کلیدی کردار اداکرتے ہیں۔مثلاً جب استادی شاگردی کا ادارہ اٹھارویں صدی کی دہلی میں شروع ہوا تو بہت جلد اسے غیر معمولی اہمیت حاصل ہوگئی اور آگے چل کر اس ادارے کی اہمیت اس حد تک بڑھی کہ کسی شاعر کی خوبی کا ایک معیار یہ بھی بن گیا کہ وہ کس شاعر کا شاگرد ہے۔ مگر آج ادب کی تعلیم کے یہ غیر رسمی ذرائع محدود ہوگئے ہیں یا غیر موثر بنادیے گئے ہیں۔ محفلیں، اجتماعی سرگرمیاں ، ادیبوں اور فنکاروں کا عام لوگوں سے میل جول اور آپسی ربط و ضبط کے مواقع ، نوواردان ادب کا بزرگان ادب سے مکالمہ اور سب سے بڑھ کر ہند و پاک کی تہذیب کا منفرد ادارہ یعنی مشاعرے ، آج ہماری زندگی سے پوری طرح رخصت نہیں ہوئے تو نظروں سے اوجھل ضرور ہوگئے ہیں۔ مشاعروں کا اہتمام البتہ بہت ہورہا ہے، لیکن شاید ہی کسی کو اس بات کا احساس ہو کہ فی زمانہ مشاعروں کا معیار کیا ہوکر رہ گیا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ بھانڈ اور شاعروں میں تفریق کرنے والے لوگ اب اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں۔رہا سوال نوجوانوں میں اپنے تہذیبی سرمائے کی طرف رغبت پیدا کرنے کے تعلق سے رسمی تعلیمی اداروں (مثلاً اسکول اور کالج وغیرہ)کے رول کا تو ان کا خدا ہی حافظ و ناصر ہے۔ اس خلا کو پر کرنے کے لیے ان کی طرف سے کسی پہل کا تو کوئی سوال ہی نہیں اٹھتا۔ بلکہ ہمارے اساتذہ کا حال تو یہ ہے کہ شاید ہی کوئی استاد میر و غالب یا اقبال جیسے مشہور شعرا کے کلام کی کسی تغیر و تبدل کے بغیرصحیح قرا¿ت کرکے شعر کو شعر کی طرح پڑھ سکے۔ لہٰذا ایسے حالات میں نوجوانوں کی فنی نا پختگی کا الزام کس کے سر آئے گا؟

————————————

Kuch Waheed Akhtar ke Bare Men by Sarwarul Huda

Articles

کچھ وحید اختر کے بارے میں

سرور الہدیٰ

 

۔ممتاز شاعر اور نقاد وحید اختر 12 اگست 1934 کو اورنگ آباد میں پیدا ہوئے۔ اردو شاعری میں وہ منفرد شناخت کے حامل ہیں۔ جدیدیت کی تحریک کو نہ صرف اپنی شعری خدمات عطاکیں بلکہ اپنے مضامین کے ذریعے بھی انھوں نے جدیدیت کی تعبیر و تشریح کی کوشش کی۔ انھوں نے جدید طرز کے مرثیے لکھ کر اس صنف کا دائرہ وسیع کیا۔ وہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں درس وتدریس سے منسلک رہے۔ مندرجہ ذیل کتابیں انھوں نے یادگار چھوڑی ہیں

  • پتھروں کا مغنی ۔ (1966)
  • شب کا رزمیہ ۔ (1973)
  • زنجیر کا نغمہ ۔ (1982)
  • کربلا تا کربلا (1991)
  • خواجہ میر درد ( تصوف اور شاعری )

13 دسمبر 1996 کو دہلی میں انتقال ہوا۔ ۔۔ادارہ۔

 

کچھ وحید اختر کے بارے میں

وحید اختر کی ذہانت اور علمیت نے ان کی تخلیقات کو استحکام بخشا ہے۔ علمیت تخلیق کار کو ایک خاص دائرے کا قیدی بھی بنا دیتی ہے۔ وہ مخصوص فکری اور لسانی دائرے میں رہ کر ادب اور زندگی کے بارے میں سوچتا ہے۔ وحید اختر نے تاریخی اور تہذیبی حوالوں کو خالص ادب یا ادب کے ادبی معیار کے نام پر نظرانداز نہیں کیا۔ یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ وحیدا ختر تاریخ اور تہذیب کو بعض جوشیلے اور انتہا پسند ترقی پسندوں اور جدیدیوں دونوں سے مختلف اندازمیں دیکھتے ہیں۔ جدیدیوں نے تاریخ اور تہذیب کو اہمیت تو دی مگر خالص ہنرمندی کے تصور کے سبب تاریخ ا ور تہذیب سے سچی اور گہری وابستگی قائم نہیں ہوسکی۔ ترقی پسندوں کا مسئلہ تاریخ کو ادب بنانا تھا۔ وہ بھی اس طرح کہ تاریخی حقائق کی تجرید نہ ہوسکے۔ ان انتہاؤں کے درمیان وحیدا ختر نے جو رویہ اختیار کیا اس میں اپنی ہنرمندی اور تاریخی و تہذیبی حوالوں کا احترام ہے۔ وحیدا ختر کی نثری اور شعری دنیا اس لیے وسیع ہے کہ انھوں نے فکر و اظہار کی سطح پر کوئی پابندی قبول نہیں کی۔ ترقی پسندی سے ان کی شکایت یہ تھی کہ اس نے خود کو فارمولائی بنا لیا۔ جدیدیت اس روش کے خلاف بطورا حتجاج سامنے آئی مگر وہ بھی رفتہ رفتہ فارمولے کی نذر ہوگئی۔ وحیدا ختر نے ’زنجیر نغمہ‘ میں پس نوشت کے تحت لکھا ہے۔ ’’خاص قسم کی آزادی کا پابند ہوجانا نئی طرح کی پابندی ہے۔‘‘

خلیل الرحمن اعظمی پہلے نقاد ہیں جنھوں نے وحید اختر کی شاعری کو اس کے اصل سیاق میں دیکھنے کی کوشش کی۔ نظریاتی طور پر وحید اختر اور خلیل الرحمن اعظمی جدیدیت کے حامی اور طرفدار تھے۔ دونوں نے اپنے مضامین کے ذریعہ جدیدیت کی روح کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ وحیدا ختر نے شاعری کو جدید بنانے کی اس طرح کوشش نہیں کی جس کی مثالیں ان کے معاصرین کے یہاں ملتی ہیں۔ جس نقاد نے تواتر کے ساتھ جدید حسیت کو موضوع گفتگو بنایا اس کی شاعری کا مکمل طور پر جدید نہ بن پانا ایک واقعہ ہے۔ آخر کوئی تو بات ہے کہ وحید اختر کی شاعری جدیدیت کی نمائندہ شاعری نہیں بن سکی۔ خلیل الرحمن اعظمی ’پتھرو ں کا مغنی‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’جن لوگوں نے وحید اختر کی بعض نظمیں اور غزلیں اِدھر اُدھر سے پڑھی ہوں گی یا خود ان کی زبان سے سننے کا موقع انھیں ملا ہوگا ممکن ہے ان کا پہلا تاثر یہ ہو کہ یہ شاعری اپنے انداز۔ و اسلوب کے اعتبار سے اس شاعری سے کچھ مختلف نہیں ہے جسے ہم ترقی پسند شاعری کہتے آئے ہیں۔  اس لیے کہ نئی نسل کے بہت سے دوسرے شعرا کے برخلاف ان کے یہاں اختصار اور پیچیدگی کے بجائے پھیلاؤ اور صراحت ملتی ہے۔‘‘ (ص 216)

وحید اختر کا مسئلہ نئی حسیت تھی، اسلوب نہیں تھا۔ اگر ایسا ہوتا تو وہ شعوری اور غیرفطری طور پر نظم کو ہیئتی بنانے کی کوشش کرتے۔ روایت ان کے لیے آسیب نہیں تھی اور وہ کسی اسلوب کو فیشن میں رد کرنا نہیں چاہتے۔ ایک ہی نظم میں واقعے کی مناسبت سے کئی اسالیب سے کام لیا جاسکتا ہے۔ ممکن ہے وحیدا ختر کی نظموں کے بعض مصرعے اضافی معلوم ہوں مگر تخلیق کار کی طبیعت کی روانی اور وفور کہاں جاکر دم لے گی اس کا فیصلہ کوئی نقاد یا قاری تو نہیں کرسکتا۔ خلیل الرحمن اعظمی  نے یہ بھی لکھا ہے:’’لیکن اس مجموعہ کو شروع سے آخر تک پڑھنے کے بعد ہمیں اس بات کا بخوبی اندازہ ہوسکتا ہے کہ ان نظموں اور غزلوں میں ہمیں جو فضا ملتی ہے اور اس کے اندر سے شاعر کی جو شخصیت ابھرتی ہے وہ اپنے پیش روؤں سے بالکل مختلف ہے۔ ان نظموں اور غزلوں کا شاعر اپنے جسم کے اعتبار سے اپنے بزرگ معاصرین سے مشابہ ہو تو ہو اپنی روح اپنے باطن کے اعتبار سے وہ ایک نئے وجود کا حامل ہے۔‘‘
وحید اختر کی نظموں میں خودکلامی کا وہ انداز نہیں ہے جسے عموماً جدیدیت سے وابستہ شاعری کے لیے لازمی تصور کیا گیا۔ وحید اختر نے کبھی خودکلامی کو ناپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھا۔ ان کے تخلیقی اور تنقیدی ذہن میں کسی بھی رجحان یا رویے کا اصل سیاق ہوتا ہے۔ ایک جگہ کوئی چیز غیراہم اور اوڑھی ہوئی معلوم ہوسکتی ہے اور دوسری جگہ وہ چیز برجستہ اور مناسب ہوسکتی ہے۔ نئی نظم کی تنقید میں جب نظم کو سیاق سے کاٹ کر دیکھا گیا تو غیرضروری طور پر انتشار کی کیفیت پیدا ہوئی۔ وحید اختر نے اپنی نظموں کو کسی خاص ہیئت اور فکر کا پابند نہیں بنایا۔ ان کی بعض نظموں کو پڑھنے کے بعد احساس ہوتا ہے کہ پابندی اور بغاوت کا سفر ایک ساتھ جاری رہتا ہے اور کبھی الگ لگ بھی۔ نظم کی خارجی ہیئت پہلے ہی قاری کو متوجہ کرلیتی ہے۔ آزاد اور پابند نظم میں بہتر کون سی ہیئت اور آزاد نظم کہنے کا حق کسے حاصل ہے، یہ سب باتیں وحید اختر کی نظم نگاری کے سیاق میں اہمیت اختیار کرلیتی ہیں۔ اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ 60، 70  کی دہائی میں آزادا ور نثری نظم کے تخلیقی عجز کو چھپانے کا وسیلہ بنایا گیا۔ وحید اختر کی نظم یہ بتاتی ہے کہ کسی ہیئت کو اختیار کرنا اپنے تخلیقی عمل اور تخلیقی تقاضے کا خیال رکھنا ہے۔ اول و آخر تو تخلیقی حسیت ہے۔ انھوں نے تخلیقی سطح پر یہ بھی بتایا کہ نظم کہنے کے لیے فکر و خیال کی دنیا کا وسیع ہونا  ضروری ہے۔ وسعت کے بعد بھی مختصر نظم بامعنی ہوسکتی ہے۔ مختصر نظم کے چھوٹے بڑے مصرعے غزل کے مصرعوں کی طرح بامعنی اور معنی آفریں ہوسکتے ہیں لیکن اس کے لیے ذہن کا بڑا ہونا ضروری ہے۔ اس سلسلے میں منیرنیازی اور شہریار کی مختصر نظمیں دیکھی جاسکتی ہیں۔

وحید اختر نے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ اقبال کے ساتھ عظیم شاعری کا تصور بھی رخصت ہوگیا، گویا اقبال کے بعد جو شاعری سامنے آئی اس میں عظمت کے عناصر تو تھے لیکن یہ عظیم نہیں تھی، وحید اختر کے ذہن میں وہ اقدار ہیں جن سے کوئی شاعری علم و ذہانت کے ساتھ عظمت کے مقام پر فائز ہوتی ہے۔ جب عقیدہ اور تصور متزلزل ہو اور انسان فکر و احساس کی سطح پر چھوٹے چھوٹے گھروندے بنا رہا ہو ایسے میں کسی ایسی شاعری کا وجود میں ا ٓنا دشوار ہے جو انفرادی ہونے کے ساتھ ساتھ کائناتی بھی ہو۔ وحید اختر نے اپنی شاعری میں اس کائناتی آہنگ کو برتنے کی کامیاب کوشش کی۔ ’شب کا رزمیہ‘ کی پہلی نظم ’شاعری‘ ہے۔ یہ نظم شاعر کا نظریۂ شعر بھی ہے اور نظریۂ کائنات بھی۔ یہ ایک آزاد نظم ہے جس میں شاعر کا تخیل اپنی ذات کے زنداں سے نکل کر کائنات میں باہیں ڈال دیتا ہے۔ وہ زماں مکاں کی سیر کرتا ہوا ذات کی طرف آتا ہے۔ اس درمیان اسے زندگی اور کائنات کی مختلف سچائیاں متوجہ کرتی ہیں۔ ان سچائیوں کا رشتہ زندگی کی تلخ سچائیوں سے ہے۔ آپ انھیں زندگی کی بدصورتیاں کہہ لیجیے :

خلوت ِ ذات کے محبس میں وہ بے نام اُمنگ
جس پہ کونین ہیں تنگ
چھان کر بیٹھی ہے جو وسعت ِ صحرائے زماں
جس کو راس آنہ سکی رسم ورہِ اہلِ جہاں
نشۂ غم کی ترنگ
خود سے بھی بر سرِ جنگ
پستیِ حوصلہ و شوق میں ہے قید وہ رُوحِ امکاں
شو رِ بزمِ طرب و شیونِ بزم ِ دل میں
دہر کی ہر محفل میں
جس نے دیکھی ہے سدا عرصۂ محشر کی جھلک
بوئے بازارمیں گُم کردہ رہی جس کی مہک
عالم ِ آب و گل میں
جہد کی ہر منزل میں
اپنے ہی ساختہ فانوس میں ہے قید وہ شعلے کی لپک

نظم کے ابتدائی یہ دو بند جس فکری بلندی اور کائناتی آہنگ کا پتہ دیتے ہیں وہ وحید اختر کی پوری شاعری میں موجود ہے۔ ان میں ایسا کوئی لفظ نہیں جس سے ہم مانوس نہ ہوں مگر شاعر انھیں جس طرح برتنے میں کامیاب ہوا ہے وہ فکری بلندی کے ساتھ لسانی اظہار کی بھی تو بات ہے۔ یہ وہ لسانی اظہار ہے جو لفاظی اوربے معنی لسانی جزیرہ نہیں۔ بہت غور و فکر کے بعد زبان نے اپنا عمل شروع کیا ہے۔ پہلا ہی مصرعہ بظاہر جدیدیت کا زائیدہ معلوم ہوتا ہے۔ ’خلوت ذات کے محبس میں وہ بے نام امنگ‘ مگر اس بے نام امنگ پر کونین تنگ بھی تو ہے۔ ذات سے کائنات تک کا یہ سفر کس قدر صبر آزماہے مگر دیکھیے اس امنگ کو بالآخر پناہ خلوت ذات ہی میں ملی۔ یہاں کوئی نظریہ تیرتا نظر نہیں آتا۔ ایک شعلہ فطری طور پر بھڑکتا ہے مگر اس شعلے کی پرورش و پرداخت میں ایک باشعور تخلیقی ذہن نے حصہ لیا ہے جس کے پاس نظر اور نظریے کی وہ دولت ہے جس سے نہ انسانی اقدار کو خطرہ ہے اور نہ شعر و ادب کی بنیادی قدروں کو۔ اس عمل میں تشکیک بھی سر اٹھاتی ہے اور غم و غصہ بھی۔ یقین کی شمع بھی روشن ہوجاتی ہے اور بے یقینی کے اندھیرے بھی راستہ روکتے ہیں۔ یہ حقائق وحیدا ختر کے یہاں زندگی اور ادب دونوں کو قوت بخشتے ہیں۔ وحید اختر نے زندانِ ذات کو کائنات کا مرکز قرار دیا ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ زندان ذات کی صورت نئی شاعری میں ایک جیسی نہیں ہے

—————————-

 

Jaun Elia ki Nazm Darakht e Zard by Jamal Rizvi

Articles

جون ایلیاؔ کی نظم’درختِ زرد‘

ڈاکٹرجمال رضوی

 

 

 

جون ایلیاؔ کا شمار ان شعرا میں ہوتا ہے جن کی شاعری میں فکر و فلسفہ کا عنصر فن کی جمالیات سے ہم آہنگ ہو کر ایک ایسی شعری کائنات کی تخلیق کرتا ہے جو بہ ظاہر بہت سادہ سی نظر آتی ہے لیکن اس کے مظاہر کا واقعتا عرفان حاصل کرنے کے لیے تفکر و تدبر کے اعلیٰ معیار کی ضرورت ہوتی ہے۔ جون ؔنے نہ صرف اپنے عہد کے شعرا کے مابین اپنی انفرادیت قائم کی بلکہ ان کی تخلیقی ریاضتوں نے انھیں ان شعرا کی صف میں نمایاں مقام عطا کردیا جن کا فن حدودِ زماں و مکاں سے ماورا ہو کر منزل ابدیت پر پہنچ جاتا ہے۔ جون ؔکا منفرد لب و لہجہ اور الفاظ کو اس کے تمام تر معنیاتی امکان کے ساتھ برتنے کا انداز ان کے کمال ِ فن کا ثبوت ہے۔ بیسویں صدی کے نصف آخر میں جن شعرا نے اردو کے شعری منظرنامہ پر اپنی موجودگی کا احساس دلایا ان میں ایک نام جون ایلیا ؔکا بھی ہے۔ جون ؔکی شاعری کا نمایاں وصف یہ ہے کہ اس نے شعری زبان کے دامن کو وسعت عطا کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ جون ؔکی شاعری میں الفاظ کا استعمال ان کی تخلیقی صلاحیت کی طرف واضح اشارہ ہے اور یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ اپنے معاصرین میں اس حوالے سے وہ صف اول کے شعرا میں نظر آتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے موضوعاتی سطح پر بھی اردو شاعری کے دائرے کو کشادگی عطا کی ۔ جون کی غزلوں اور نظموں کے مطالعے کے بعد ان کی شخصیت ایک ایسے شاعر کے روپ میں سامنے آتی ہے جو انسانی معاشرہ سے محبت اور ہمدردی تو رکھتا ہے لیکن اس محبت و ہمدردی میں جذباتیت کے بجائے عقلیت پسندی کا عنصر غالب ہے۔ اسی لیے وہ سوسائٹی کے تاریک و سیاہ پہلوؤں کو بیان کرتے وقت مصلحت پسندی سے کام نہیں لیتے۔ اکثر یوں بھی ہوتا ہے کہ انسانوں کے غیر انسانی رویہ کے خلاف جونؔ کے لہجے کا تیکھا پن دنیائے احساس کو اس قدر متزلزل کر دتیا ہے کہ معاشرہ سے وابستہ تصورات ریزہ ریزہ ہو جاتے ہیں۔
جونؔ نے شعری اصناف میں غزل، نظم اور قطعہ نگاری میں خصوصی طور پر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کا بھر پور مظاہرہ کیا ہے۔ انھوں نے ان اصناف میں قابل قدر شعری سرمایہ چھوڑا ہے۔ جونؔ کا یہ سرمایہ سنجیدہ اور معتبر شاعری کی عمدہ مثال ہے۔ اس مضمون میں جونؔ کی نظم ’درختِ زرد‘ پر اظہار خیال مقصود ہے۔ ساڑھے چار سو سے زیادہ مصرعوں پر مبنی یہ نظم کئی تخلیقی جہات کی حامل ہے۔ جون ؔنے اس نظم میں مرکزی موضوع کے حوالے سے دیگر کئی ذیلی موضوعات کا احاطہ کیا ہے۔ اس لحاظ سے نظم ’ درختِ زرد‘ کا تخلیقی کینوس بہت وسعت اختیار کر لیتا ہے۔ اس کے علاوہ جونؔ نے اس نظم میں بعض فنی تجربات بھی کیے ہیں جن میں سب سے اہم مختلف مقامات پر بحروں کی تبدیلی ہے۔جونؔ نے طویل اور مختصر بحروں کا ایسا فنکارانہ امتزاج پیش کیا ہے جس سے نظم کی روانی میں سیمابی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ سطور بالا میں جونؔ کی سنجیدہ اور معتبر شاعری کا جو ذکر کیا گیا اس حوالے سے بھی یہ نظم بہت اہمیت کی حامل ہے۔ ناقدین فن نے معتبر شاعری کی مختلف تعریفیں بیان کی ہیں اور ان تعریفوں میں جو چیز قدر مشترک کی حیثیت رکھتی ہے وہ یہ کہ شاعری میں پیش کیے گیے خیالات میں عظمت اور ہمہ گیریت ہونی چاہیے۔ بقول سید شبیہ الحسن ’ جب شدید جذبات عظیم خیالات کے سائے میں پر تاثیر زبان کی مدد سے وجود میں آتے ہیں تو معتبر شاعری ظہور میں آتی ہے۔‘ معتبر شاعری کی اس متوازن اور واضح تعریف کی کسوٹی پر جون ؔکی یہ نظم ’درختِ زرد‘ پوری اترتی ہے۔
جون نے یہ نظم اپنے بیٹے زریون کو مخاطب کر کے لکھی ہے لیکن اس میں محض ایک باپ کے پدرانہ جذبات ہی نہیں ہیں بلکہ یہ نظم تاریخ انسانی کا ایک ایسا روزن ہے جس سے تہذیب و ثقافت، فکر و فلسفہ، ادب و مذہب کی جھلکیاں نظر آتی ہیں۔ اس طرح جون ؔنے ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے جس میں انسانی تمدن کی تاریخ سمٹ آئی ہے۔ جون ؔکی اس نظم کی تفہیم ان کی ذات کو الگ کر کے نہیں کی جا سکتی ہر چند کہ نظم جوں جوں ارتقائی منزل طے کرتی جاتی ہے اس کا بیانیہ بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے سے نکل کر اس قدر وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ اگر نظم کے ابتدائی حصے کو الگ کر کے باقی حصے کو پڑھا جائے تو اسے ایک ایسی شعری تخلیق قرار دیا جا سکتا ہے جس میں نیرنگیٔ حیات کی جلوہ سامانی اور کائنات کے اسرار و رموز کو جاننے کی کوشش بہ یک وقت نظر آتی ہے۔
اس حقیقت سے انکار مشکل ہے کہ جون ؔکے نحیف و لاغر جسم میں ایک ایسی روح بستی تھی جس نے تمام عمر انھیں بیچین رکھا۔ ان کی زندگی میں خوشی و انبساط کے مقابلے درد و غم کے لمحات زیادہ رہے اور شایدیہ کہنا غلط نہ ہو کہ رنج و غم مول لینا ان کی عادت سی ہو گئی تھی۔ زندگی کے تئیں ان کا مخصوص رویہ ان کے لیے بیشتر باعث ِ آزار ثابت ہوا۔ لیکن اس مقام پر یہ حقیقت بھی قابل غور ہے کہ زندگی میں رنج و آلام کی کثرت کے باوجود ان کے شاعرانہ افکار میں انتشار کی کیفیت بہت کم نظر آتی ہے۔ جس طرح ہر بڑا ذہن اپنی ذات سے وابستہ مسائل سے بالا ہو کر دنیا اور معاملات دنیا کے متعلق غور وفکر کرتا ہے اسی طرح جون ؔنے بھی اس عمل سے گزرتے وقت اپنی ذات کو درمیان میں حائل نہیں ہونے دیا۔ یہ ضرور ہے کہ اپنے تجربات و مشاہدات کو شعری پیکر عطا کرتے وقت وہ جرات اظہار کی انتہائی منزلوں پر نظر آتے ہیں۔ بعض اوقات یہ جرات اظہار تلخ کلامی کی شکل اختیار کر لیتی ہے اور ایسی صورت میں جونؔ کی شاعری ضمیر کو بیدار کرنے اور اسے جھنجھوڑنے کا کام کرتی ہے۔ اس حوالے سے جونؔ کی شاعری کا مطالعہ اس امر کی طرف واضح اشارہ کرتا ہے کہ وہ صرف دنیا اور اہل دنیا کو ہی ہدف نہیں بناتے بلکہ اس دنیا سے مطابقت پیدا کرنے میں ناکامی پر وہ خود اپنے متعلق اس طرح گویا ہوتے ہیں ع میں جو ایک فاسق و فاجر ہوں جو زندیقی ہوں۔ جونؔ کا سا یہ انداز اور یہ حوصلہ اردو شاعری میں بہت کم نظر آتا ہے۔ اس مقام تک پہنچنے کے لیے انسان کو بہت صبر آزما اور دشوار مراحل سے گزرنا پڑتا ہے اور بلاشبہ جون ؔنے اس سخت سفر کو مکمل کر لینے کے بعد ہی یہ لب و لہجہ حاصل کیا تھا۔ جون کی نظم ’درختِ زرد‘ بھی بہت کچھ اسی تخلیقی مزاج کی عکاسی کرتی ہے۔
اس نظم کے مرکزی موضوع کے روایتی تصور کو پیش نظر رکھا جائے تو اسے کامیاب اور معتبر شاعری کہنا تو درکنار اچھی شاعری بھی نہیں کہا جا سکتا۔ نظم کے موضوع کا روایتی تقاضا یہ تھا کہ شاعر اپنے بیٹے سے ا پنی محبت و شفقت کا اظہار کرتا اور گردش وقت نے دونوں کے درمیان جو خلیج پیدا کر دی ہے اور اس فاصلے کے سبب باپ جس درد و کرب میں مبتلا ہے اسے بیان کیا جاتا۔ اس کے علاوہ راہِ زیست کے پیچ و خم اور ان سے کامیاب و کامراں گزرنے کا سلیقہ، زندگی میں انسانی اقدار کی پیروی اور نظم کے آخری حصے میں بیٹے کے لیے دعائیہ کلمات ادا کیے جاتے۔ لیکن اس نظم کا تخلیقی انداز یکسر مختلف ہے۔ جون ؔنے اس نظم کو اپنے بیٹے کے لیے دنیائے ارضی کا ایک ایسا Miniature بنا دیا ہے جس سے وہ اپنا دل بہلانے کے ساتھ ساتھ اس کی بوالعجبیوں کا بہت کچھ مشاہدہ کر سکتا ہے۔ نظم کے آغاز میں جون ؔ، زریون کو مخاطب کرکے اس کی ممکنہ محبت کا ذکر کرتے ہیں اوراپنے بیٹے کے محبوب سے وہ اپنی جن توقعات کا اظہار کرتے ہیں وہ دراصل ان کی اپنی روداد عشق کا بیان ہے۔ جونؔ کی محبت ان کی زندگی کا ایک بڑا المیہ ثابت ہوئی ۔ اس کے اسباب کچھ بھی ہو سکتے ہیں لیکن محبت میں ناکامی کے بعد جنس مخالف کے تئیں ان کے یہاں ایک مخصوص رویہ نظر آتا ہے۔ انھوں نے اس ضمن میں چند تحفظات قایم کر لیے تھے اور ان تحفظات نے ان کے افکار کو ایک مخصوص نہج پر ڈال دیا تھا۔اس حوالے سے مذکورہ نظم کا یہ شعر :
گماں یہ ہے تمہاری بھی رسائی نا رسائی ہو
وہ آئی ہو تمہارے پاس لیکن آ نہ پائی ہو
جون ؔکی ذاتی زندگی کا بیانیہ معلوم ہوتا ہے۔ نظم کے اس حصے میں جونؔ نے زمانے کے بدلتے ہوئے انداز کو بھی بہت دلچسپ اندازمیں بیان کیا ہے اور مسلم معاشرہ پر اس تغیر کے اثرات اورکے طرز ِبود و باش میں پیدا ہونے والی تبدیلی کی جانب بھی ایسے بلیغ اشارے کیے ہیں جس میں تعلیم ، تہذیب اور کلچر سب کچھ سمٹ آیا ہے:
اسے تم فون کرتے اور خط لکھتے رہے ہوگے
نہ جانے تم نے کتنی کم غلط اردو لکھی ہوگی
یہ خط لکھنا تو دقیانوس کی پیڑھی کا قصہ ہے
گزشتہ سطور میں اس نظم کے تخلیقی کینوس کی وسعت کا جو ذکر کیا گیا تھا یہ تین مصرعے اس کی بھرپور تائید کرتے ہیں۔ وقت کی تبدیلی کے ساتھ انسان کے معمولات حیات کی تبدیلی جو رفتہ رفتہ معاشرہ کی شناخت بن جایا کرتی ہے، اس کا بیان جون ؔنے اس انداز میں کیا ہے جو تاریخی حوالے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ یہ پوری نظم تاریخ و تہذیب کے حوالوں سے آگے بڑھتی ہے۔ اس نظم میں زریون، اس کا ممکنہ محبوب اور خود جون ؔکی شخصیت انسانی تہذیب و ثقافت کے تغیراتی عمل کے سبب اقدار کی تبدیلی کا اشاریہ بن کر سامنے آتے ہیں ۔ جون نے اس نظم میں زریون اور اس کے ممکنہ محبوب کو ایک ایسے میڈیم کے طور پر پیش کیا ہے جن کے توسط سے وہ انسانی سماج سے وابستہ اپنے تصورات و توقعات کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ تصورات اور توقعات بلا جواز نہیں ہیں بلکہ ان کے ساتھ وہ حقائق وابستہ ہیں جنھوں نے ایک مخصوص طرز پر معاشرہ کی تشکیل میں کم و بیش بنیادی کردار ادا کیا ہے، لیکن ان حقائق کی ساخت میں تبدیلی کے سبب انسانی افکار و رویہ میں تبدیلی کو خصوصی طور پر جونؔ نے ہدف بنایا ہے ۔اس نظم میں معاشرہ اور مذہب کی سابقہ اعلیٰ اقدار کے حوالے سے موجودہ دور کے انسانی سماج کی وہ تصویر پیش کی گئی ہے جس پر تصنع کی ملمع کاری واضح نظر آتی ہے۔ جون ؔجس مخصوص شیعی تہذیب وثقافت سے تعلق رکھتے تھے اس کے بھی بیشتر عوامل میں یکسر تبدیلی کے سبب اس پر بھی تصنع کا رنگ غالب آگیا جس کا عکس ذیل کے مصرعوں میں نمایاں ہے :
وہ نجم آفندیِ مرحوم کو تو جانتی ہوگی
وہ نوحوں کے ادب کا طرز تو پہچانتی ہوگی
اسے کد ہوگی شاید ان سبھی سے جو لپاڑ ی ہوں
نہ ہوں گے خواب اس کا جو گویّے اور کھلاڑی ہوں
اس مقام پر یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ جون ؔنے اس نظم میں اپنی فکر کو صرف تہذیب و معاشرت کی مختلف صورتوں کے بیان تک ہی محدود نہیں رکھا ہے بلکہ کائنات اور اس کے وجود کے اسرار و رموز کو بھی اپنے دائرہ ٔ فکر میں لاکر اس نظم میں ایک ایسا فلسفیانہ تاثر پیدا کر دیا ہے جو ذہن کو غور وفکر پر آمادہ کرتا ہے۔شیکسپیئر کی طرح جون ؔبھی اس دنیا کو ایک اسٹیج تصور کرتے ہیں جس پر مختلف طرح کے کردار اپنا فن دکھا کر روپو ش ہوجاتے ہیں اور اس لامتناہی سلسلے پر دنیا کی ہاؤ ہو کا دارومدار ہے۔ دنیا کے اس وسیع و عریض اسٹیج پر کرتب دکھانے والے مختلف انسانی گروہوں کی فنکارانہ انفرادیت انھیں ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف شناخت عطا کرتی ہے بلکہ بعض امور کسی مخصوص انسانی گروہ کے ساتھ اس قدر وابستہ ہو جاتے ہیں کہ وہ اس کا تاریخی و تہذیبی اثاثہ بن جاتے ہیں ۔ اس کرہ ٔ ارض پر بنی نوع آدم کے درمیان تاریخ اور تہذیب و ثقافت کا اختلاف بہت کچھ اسی سلسلے کے جاری رہنے کا نتیجہ ہے۔ جونؔ نے اس نظم میں دنیا کے اسٹیج کی یہ روداد اپنے اجداد کے حوالے سے یوں بیان کی ہے :
مگر میرے غریب اجداد نے بھی کچھ کیا ہوگا
بہت ٹچا سہی ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
یہ ہم جو ہیں ، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
درج بالا مصرعوں میں جون ؔکے لہجے کی کرختگی گرچہ شعری حسن کو مجروح کرتی ہے لیکن اگر ہم ان کی زندگی سے واقف ہوں تو یہ زبان بالکل فطری محسوس ہوگی۔ جونؔ کی ٹریجڈی صرف یہی نہیں تھی کہ انھیں اپنی ازدواجی زندگی میں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا اور وقت و حالات کے سبب ایک حساس باپ اور شوہر کو اپنے بچوں اور بیوی سے الگ ہونا پڑا بلکہ کئی ایسے غم بھی ان کی ذات سے وابستہ تھے جن کا مداوا انھیں تمام عمر میسر نہ آسکا۔ انھیں اپنے سلسلۂ ٔنسب پر بہت فخر تھا، انھیں اپنے آبائی وطن امروہہ سے والہانہ محبت ہی نہیں بلکہ عقیدت تھی ، انھیں اپنی علمیت پر ناز تھا لیکن وطن سے ہجرت اور پاکستان میں قیام کے دوران انھیں جن کرب ناک حقائق سے دوچار ہونا پڑا اس نے ان کی شخصیت اور شاعری میں ایسی تلخی بھر دی جسے برداشت کرپانا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ۔جس طرح زندگی میں ایک پرشکوہ اندازِ بے نیازی ان کی شان ِ امتیاز تھی اسی طرح ان کی شاعری بھی اپنے معاصرین کے درمیان اپنی منفرد فنی شناخت قایم کرنے میں کامیاب ہوئی۔ یہ کوئی مبالغہ نہیں ہے کہ جون ؔکی شاعری کا ایک بڑا حصہ ایسا ہے جسے سمجھنے کے لیے صرف مشرق و مغرب کے ادبی نظریات و رجحانات سے واقفیت ہی کافی نہیں ہے بلکہ تاریخ، فلسفہ اور تصوف جیسے دیگر علوم سے بھی کماحقہ واقفیت ضروری ہے۔ ان کے فن میں اس گہرائی اور گیرائی نے ان کی شاعری کو سنجیدہ و معتبر شاعری کا مرتبہ عطا کرنے میں اہم رول اداکیا۔ جون ؔایک کثیر المطالعہ شاعر تھے اور وہ اکثر اس کا اظہار بھی کرتے تھے :
میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمھیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
اس شعر میں ایک حد تک شاعرانہ تعلّی بھی ہو سکتی ہے لیکن اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی علمیت نے زندگی اور فن کے متعلق ان کے اندر ایک مخصوص وژن پیدا کردیا تھا۔ اس وژن میں یقین اور بغاوت دو اہم اجزا کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ بنیادی طور پر ان دو مختلف المزاج اجزا کا یکجا ہونا قرین قیاس نہیں نظر آتا کیونکہ عموماً یقین کے بعد مفاہمت اور مصلحت پسندی کا رجحان پیدا ہوجانا فطری ہے جبکہ بغاوت کے لیے غیر یقینی پہلی شرط ہے۔ جونؔ کے شاعرانہ وژن کی تشکیل ان دواجزا سے اس طرح ہوتی ہے کہ وہ انسان کی عظمت پر کامل یقین رکھتے ہیں لیکن انسانی معاشرہ کی بے سمتی اور انتشار آمیز صورتحال کو دیکھ کر مروجہ نظام کے خلاف ان کے یہاں بغاوت کا رجحان واضح نظر آتا ہے۔ نظم ’ درختِ زرد‘ میں بھی یہ دو اجزا وسیع تر تناظر میں نظر آتے ہیں ۔ جون ؔنے اس نظم میں جتنے بھی ذیلی موضوعات پر اظہار خیال کیا ہے ان میں ان دو اجزا کی کارفرمائی نظر آتی ہے ۔ خصوصاً باغیانہ میلان ، جس کی شروعات غیر یقینی کی کیفیت سے ہوتی ہے ۔ غیر یقینی کی یہ کیفیت جب اپنی انتہا کو پہنچتی ہے تو انداز بیان طنز و تضحیک کے دائرے سے نکل کر طعن و تشنیع کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ اس حوالے سے ذیل کی یہ مثالیں دیکھیے۔
۱۔ بہت ٹچا سہی، ان کا بھی کوئی ماجرا ہوگا
۲۔ یہ ہم جو ہیں، ہماری بھی تو ہوگی کوئی نوٹنکی
۳۔ یہ سالے کچھ بھی کھانے کو نہ پائیں، گالیاں کھائیں
ہے ان کی بے حسی میں تو مقدس تر حرامی پن
۴۔ ادب، ادب کتّے ، ترے کان کاٹوں
۵۔ مگر میں یعنی جانے کون؟ اچّھا میں ، سراسر میں
۶۔ میں اک کاسد ہوں ، کاذب ہوں ، میں کیّاد و کمینہ ہوں
میں کاسہ باز و کینہ ساز و کاسہ تن ہوں، کتّا ہوں
۷۔ زنازادے مری عزت بھی گستاخانہ کرتے ہیں
کمینے شرم بھی اب مجھ سے بے شرمانہ کرتے ہیں
نظم کے مختلف حصوں سے پیش کی گئی درج بالا مثالوں سے پوری نظم کی کیفیت اور شعری آہنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ چونکہ اس نظم کی تخلیق کا بنیادی محرک وہ اشتعال آمیز جذبہ ہے جو ایک حساس باپ کے دل میں اپنی اولاد سے فرقت کے سبب پیدا ہوا ہے۔ اس لیے نظم کے شعری آہنگ میں نرمی اور شیرینی کے بجائے کرختگی اور تلخی جونؔ کے درد و کرب کو ظاہر کرتی ہے ۔ نظم میں درد و کرب کی یہ کیفیت ان مقامات پر زیادہ نمایاں ہے جہاں جونؔ نے اپنی شخصیت کو موضوع بنایا ہے۔ یوں تو اس پوری نظم میں ان کی شخصیت ایک اہم حوالے کے طور پر موجود ہے لیکن جن مقامات پر انھوں نے براہ راست اپنے حالات کو شعری پیکر عطا کیا ہے وہاں دردوکرب کی یہ کیفیت دو آتشہ ہو گئی ہے ۔ مثلاً
۱۔ ہے شاید دل مرا بے زخم اور لب پر نہیں چھالے
مرے سینے میں کب سو زندہ تر داغوں کے ہیں تھالے
مگر دوزخ پگھل جائے جو میرے سانس اپنا لے
تم اپنی مام کے بے حد مرادی منتوں والے
مرے کچھ بھی نہیں، کچھ بھی نہیں ، کچھ بھی نہیں بالے
۲۔ ہے میری زندگی اب روز و شب یک مجلس ِ غم ہا
عزاہا، مرثیہ ہا، گریہ ہا، آشوبِ ماتم ہا
۳۔ تمہاری ارجمند امّی کو میں بھولا بہت دن میں
میں ان کی رنگ کی تسکین سے نمٹا بہت دن میں
وہی تو ہیں جنھوں نے مجھ کو پیہم رنگ تھکوایا
وہ کس رنگ کا لہو ہے جو میاں میں نے نہیں تھوکا
لہو اور تھوکنا اس کا، ہے کاروبار بھی میرا
یہی ہے ساکھ بھی میری، یہی معیار بھی میرا
میں وہ ہوں جس نے اپنے خون سے موسم کھلائے ہیں
نہ جانے وقت کے کتنے ہی عالم آزمائے ہیں
یہ بات شروع میں ہی عرض کی جا چکی ہے کہ یہ نظم تخلیقی سطح پر کئی جہات کی حامل ہے اس لیے اسے ایک بیٹے کے لیے ایک باپ کے جذبات کے دائرے میں محدود نہیں کیا جا سکتا۔ اس نظم میں بحیثیت باپ جون ؔکے شدید جذبات، عظیم خیالات کے سانچے میں ڈھل گئے ہیں جس نے اس نظم کو ایسی ہمہ گیریت عطا کر دی ہے کہ یہ شعری تخلیق پوری انسانی سوسائٹی کا بیانیہ نظر آتی ہے۔ جون ؔنے اس بیانیہ میں مختلف رنگوں کی آمیزش سے ایسا مرکب تیار کیا ہے جو نیرنگیٔ حیات اور تغیر کائنات کا منظرنامہ پیش کرتا ہے۔
آخر میں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ کسی ایک نظم کی بنیاد پر کسی شاعر کے تخلیقی رجحانات و میلانات اور فنی سروکار کا تعیین نہیں کیا جا سکتا تاہم جونؔ کی یہ نظم بہت کچھ ان کے تخلیقی رویہ کو واضح کرتی ہے۔ انھوں نے اپنے کمالِ فن سے اس نظم میں ایک انتہائی ذاتی موضوع کو ایسی آفاقیت عطا کردی ہے جس میں انسانی سماج کے مختلف عناصر اس طرح سمٹ آئے ہیں کہ ان کی گوناگونی کو ان کی امکانی کیفیات کے ساتھ محسوس کیا جا سکتا ہے۔ یہ نظم دل و دماغ دونوں کو متاثر کرتی ہے اور بنیادی موضوع کے حوالے سے کئی ایسے موضوعات و مسائل کو بیان کرتی ہے جو انسانی سماج کا ناگزیر جزو ہیں۔ اس طرح یہ نظم ایک مخصوص رشتے کی انفرادیت اور اس سے وابستہ جذبات و احساسات کی ترجمانی کرنے کے ساتھ ساتھ سماجی حقائق کو بھی بیان کرتی ہے اور یہی اس نظم کا فنی امتیاز ہے۔
———————

Story of Pen by Achariya Atre

Articles

قلم کی لکھی کہانی

اچاریہ اَترے

قلم کی لکھی کہانی

مصنف: اچاریہ اَترے
مراٹھی سے ترجمہ : پروفیسر صاحب علی

میز پر چاندی کے شمع دان میں ایک موم بتی رکھی ہوئی تھی۔بہت خوبصورت موم بتی تھی وہ۔ اس کا رنگ گلابی تھا، اس کا قد لمبا اور نازک تھا۔ اس کے گاو دم  پرکجلائی ہوئی سیاہ بتی خوب زیب دیتی تھی۔
اسے لگتا تھا سارے کمرے میں اس سے زیادہ خوبصورت کوئی نہیں۔
سامنے دیوار پر لگے ہوئے آئینے میں اسے اپنا چہرہ دکھائی دیتا۔ گھنٹوں وہ اپنا روپ نہارتی رہتی۔
اس کے قریب ہی کانچ کی ایک خوبصورت سی دوات اور ایک منقش قلم رکھا ہوا تھا۔ لیکن ان سے وہ موم بتی کبھی بات تک نہ کرتی۔ سارا وقت اپنی اکڑ میں رہتی۔ قریب کی کھڑکی سے دھوپ کمرے میں آتی۔ دھوپ کو دیکھ کر
کانچ کی دوات اور چاندی کے قلم کو بڑی خوشی ہوتی۔ ان کے چہرے خوشی

سے چمکنے لگتے۔ اس بات پر موم بتی کو اُن پر بہت غصہ آتا۔ ’’سورج کو دیکھ کر تمھیں اتنی خوشی کیوں ہوتی ہے، میری سمجھ میں نہیں آتا۔‘‘
ایک بار اس نے چڑ کر کہا۔ ’’ایسا کون سا بڑا راجا ہے وہ!‘‘ کہے بغیر اس سے رہا نہ جاتا۔

’’راجا ہی ہے وہ‘‘ دوات بولتی۔ ’’اس کے جتنا بڑا راجا دنیا میں کوئی دوسرا
ہے ہی کون؟‘‘
’’واہ رے راجا‘‘ موم بتی نے کہا ’’ایک چھوٹا سا بادل بھی اسے ڈھانک سکتاہے۔ کبھی آرام نہیں کرسکتا، کبھی دیر سے نہیں آسکتا۔ ایک نوکر کی طرح
سارے کام مقررہ وقت پر ہی کرنے پڑتے ہیں اسے۔ اور رات میں منہ کالا
کرکے رفو چکّر ہوجاتا ہے۔ پھر اس کا کام مجھے کرنا پڑتا ہے۔ میں ایک دن
اسے اپنے آگے گردن جھکانے پر مجبور کردوں گی۔‘‘دوات اور قلم نے کچھ نہیں کہا۔ اور وہ جواب دیتے بھی تو کیا دیتے؟ ایک دن نوکر کمرہ صاف کرنے آیا تو اس نے میز کو اٹھا کر کھڑکی کے قریب رکھ دیا۔ اس وجہ سے باہر سے آنے والی سورج کی دھوپ پوری میز پر چھا گئی۔ موم بتی کا دھوپ میں بیٹھنے کا یہ پہلا ہی موقع تھا۔
تھوڑا ہی وقت گزرا تھا کہ اسے کچھ عجیب سا لگنے لگا۔ اسے محسوس ہوا کہ
اسے چکر سا آرہا ہے۔
قریب ہی دوات اور قلم خوشی سے چمک رہے تھے۔
موم بتی کا سرخ چہرہ دیکھ کر دوات نے کہا ’ ’کیوں بھئی؟ تمھارا چہرہ ایسا
کیوں نظر آرہا ہے؟ لگتا ہے تمھیں گرمی لگ رہی ہے۔ ذرا ٹھہرو، ابھی کوئی
بادل آکر سورج کو ڈھانک لے گا اور تھوڑی ٹھنڈک محسوس ہوگی۔‘‘’’تم سے کسی نے کچھ پوچھا؟‘‘ موم بتی نے کہا ’’بی اماں میں اتنی نازک نہیں۔ پوچھ رہی ہو گرمی تو نہیں ہورہی؟ مجھے کچھ نہیں ہورہا ہے۔ سورج میرا کیا بگاڑ لے گا؟‘‘دھوپ تیز ہونے لگی۔ اب موم بتی سے اس کی تپش سہن نہیں ہورہی تھی۔ اسے سچ مچ چکر آنے لگا اور ایک لخت اس نے اپنی گردن نیچے ڈال دی۔
دوات کو ٹھونگا لگاتے ہوئے قلم نے کہا ’’یہ دیکھو!  موم بتی کو کیا
ہوگیاہے؟‘‘ ’’ہاں سچ مچ! یا خدا اس کی کیا حالت ہوگئی ہے، مجھے لگ ہی رہا تھا کہ ایسا کچھ ہوگا۔‘‘ ’’ایسا لگ رہا ہے سورج کو نمسکار کر رہی ہے۔‘‘ قلم من ہی من ہنس کر بُدبُدایا۔
تھوڑی ہی دیر میں نوکر اندر آیا۔ اس نے ایک نظر ڈال کر موم بتی کو دیکھا اور
اسے اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینک دیا۔
’’ختم ہوگئی بے چاری کی زندگی‘‘ دوات نے کہا۔
’’اب میں اس پر کہانی لکھوں گا‘‘ قلم نے بڑھ کر کہا
قلم نے کہانی لکھی
وہی کہانی ہے یہ۔

Urdu Nazm and Zafar Gorakhpuri by K.H. Aqib

Articles

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

خان حسنین عاقبؔ

جدید اردو نظم میں ظفر ؔ گورکھپوری کا مقام

 

ما قبل ِ آزادی نیز ما بعد ِ آزادی ، دونوں ادوار میں شمالی ہند نے اردو ادب و شعر کی سر پرستی کی ہے۔ ما قبل ِ آزادی شمالی ہند میں سیاسی استحکام اور حکمرانوں کا ادبی ذوق اس کی دو بڑی وجوہات تھیں۔ ما بعد ِ آزادی ، دو تین دہا ئیوں تک تو معاملہ ٹھیک ٹھاک اور حسبِ سابق رہا لیکن گذشتہ تین چار دہا ئیوں سے ریاستی حکومتوں کی دورُخی پا لیسیوں نے اکثر جگہوں سے اردو کو عملاً ہجرت پر مجبور کر دیا ہے۔ لیکن اردو شعر و ادب اپنی رفتار سے ترقی کر تا رہا۔ خصوصا ً غزل نے نت نئے گوشوں کو تلاش کیا۔ لیکن آج مجھے بات نظم پر کرنی ہے اسلئے غزل کا ذکر نہیں کروں گا۔ اگر میں براہ ِ راست بات کروں اور کسی رسمی تمہید سے کام نہ لوں تومجھے کہنا یہ ہے کہ اردو نظم نے اپنی ابتدا سے لے کر اب تک جتنا بھی فاصلہ طے کیا ہے، اور یہ آج جہاں آکر کھڑی ہے، اس مقام سے آگے بھی کئی مقام آ نے ابھی باقی ہیں کہ زمانہ تغیرات سے عبارت ہے۔ لیکن آج تک یہ جہاں آن کھڑی ہوئی ہے، اس میں جن جن شعرا نے اپنا الگ راستہ بنا یا ہے ان میں ظفر ؔ گورکھپوری کا نام ابتدائی فہرست میں رکھا جائے گا۔ ظفر گورکھپوری، زبیرؔ رضوی، محمد علوی، ندا فاضلی وغیرہم ہمارے عہد کے ایسے نمائندہ بزرگ شعراء ہیں )جنہیں مرحوم کہتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے )جو اردو شعر و ادب میں نظم کی نئی روشوں (جدتوں) اور تازہ کار لہجوں کے امین ہیں۔ساتھ ہی انہوں نے جدید اردو نظم کی دلداری کی اور اس کی عکا سی بھی کی ہے۔
اگر ادب و شعر کو مقصدیت سے نتھی کر دیا جائے تو بقول ِ افلا طون، ’’ادب برائے زندگی اور جمالیات خاص طور پر اخلاقیات اور فلسفہ کے ماتحت ہے۔‘‘ اسی بات کو مغربی نقاد وِنٹرس (Winters) نے کہا تھا۔ “poetry is a statement in words about a human experience.” یعنی شاعری نام ہے انسانی تجربات کو الفاظ میں بیان کر نے کا۔ غالب ؔ بھی کہا ں پیچھے رہنے والے ہیں ۔ انہوں نے کہا ؎
ما نہ بودیم بدیں مر تبہ راضی غالبؔ
شعر خود خواہش ِ آں کرد کہ گر دد فنِ ما۔
ظفرؔ کی شاعری مندرجہ بالا ضابطوں کی پابند شاعری ہے۔ نئے عہد نے زندگی کو جتنے پہلوؤں سے بر تا ہے، ان سے کئی گنا زیادہ موضوعات شاعری کے دامن میں آن گرے ہیں۔ اکثر شعراء نے موضوعات پر ہاتھ ڈالا ہے لیکن ظفر ؔ نے جس خوش سلیقگی سے ان مو ضوعات کے جدید نظم کے حوالوں کے ساتھ اپنی فکر اور اظہار کا محور بنایا ہے، وہ بے مثل ہے۔ ان کے یہاں موضوعات کا تنوع اور اسلو بیاتی اور محاکاتی رنگا رنگی اپنی ضو فشانی اور اپنا وجود منوانے پر تُلی نظر آتی ہیں۔ ظفرؔ کی نظم گوئی کا آغاز ترقی پسند تحریک اور ترقی پسند نظم کے زیر ِ اثر ہوا لیکن انہوں نے میرا جی اور ن۔م۔راشد جیسے نظم گویوں کے قبیلے کی رکنیت سے از خود انکار کیااور صرف ’خود کے لئے کہی گئی ‘ مبہم اور ادق الفہم نظموں کی تقلید سے پر ہیز کیا۔ انہوں نے اصطلاحی جماعت بندیوں اور جدیدیت اور ما بعد ِ جدیدیت وغیرہ جیسے از کار رفتہ مفروضات سے بھی دانستہ اجتناب برتتے ہوئے زمانے کو اپنے شعور اور احساس کی آنکھوں سے دیکھا اور پرکھا ہے۔اسلام میں عقیدتاً اور رسما ً ، بہ ہر دو طور، ہر کام اللہ کی حمد و ثناء اور دعا کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ ظفر ؔ اپنے انفرادی لہجے میں دعا کر تے ہیں جو ان کی ایک نظم کا عنوان ہے۔
خدائے بر تر و بالا
ترا ممنون ہوں۔ کیا کیا عطا کیں نعمتیں تونے
مری اوقات سے بھی کچھ زیادہ دے دیا مجھ کو
مگر
میں ایسا خود غرض ،نا شکر و نا فرماں
کہ سب کچھ پاکے بھی نا مطمئن ٹہرا
مرے لالچ نے
مٹی ، دھوپ، پانی
ثمر، دریا، ہوائیں، پیڑ
سب کو قتل کر ڈالا۔
شاعر کا لہجہ اسے کہاں لے جارہا ہے۔ اس کا تخاطب تو لازماً خدا ہے، لیکن شاعر اپنی بات ، اپنے ذاتی مفاد کی بات نہیں کر رہا ہے، بلکہ وہ سماجی سروکار کی بات کر رہا ہے جو ایک شاعر کا سب سے مقدس فریضہ ہوتا ہے۔بنی نوع انسان کی نمائندگی کر تے ہوئے شاعر اعتراف کر رہا ہے کہ وہ اس ماحولیاتی عدم توازن کا مجرم ہے جسے اس کی غرض مندی نے بگاڑدیا ہے۔ وہ توضیح کر تا ہے۔
مرے الفاظ مصنوعی ہیں سارے
میں ہر پہچان اپنی کھو چکا ہوں
نہ چہرہ ہے، نہ آنکھیں
دماغ اکثر یہ مجھ سے پوچھتا ہے
کیا حقیقت میں وہی ہوں میں؟
فرشتوں نے جسے سجدے کئے تھے
نہیں۔۔ میں وہ نہیں ہوں۔
اور پھر آخر ِ میں وہ اللہ سے دعا مانگتا ہے۔
خدائے بر تر و بالا
مرے تاریک ۔ خالی۔۔ خود گزیدہ
سرد سینے کو
عطا کر آگ
اس کو درد کی خوشبو سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کر دے۔
یہی شاعر کی فکری جہت ہوتی ہے جسے وہ اپنے عقیدے تک بھی کھینچ لاتا ہے۔ یہ اس کا عالمی کر ب ہے جو دعا کے توسط سے اس کے قلم سے نکل کر کاغذ پر بہہ نکلتا ہے۔ اور پھر شاعر اپنے لئے کیا مانگ رہا ہے؟ کچھ نہیں۔اگر کچھ مانگ رہا ہے تو انسان کا انسان ہونا۔ جو مشکل ہے۔ آج ایک جانور کا انسان ہونا آسان نظر آتا ہے لیکن ایک انسان کا انسان ہونا ممکن نہیں دکھائی دیتا۔ یہی کرب ظفر ؔ سے یہ دعا کر واتا ہے جس پر تمام علم کے انسان آمین کہنے سے نہیں ہچلچائیں گے۔ یہی ایک جدید طرزِ اظہار کا خاصہ ہو تا ہے۔ ظفر ؔ کا دکھ بھی کو ئی انفرادی اور ذاتی دکھ نہیں ہے۔ اس کا تصور اسے کہاں کہاں کی سیر کرواتا ہے۔ ایک نظم ’’ تری بے چین آنکھوں کے پرے‘‘ کا یہ حصہ دیکھئے۔
’’دکانیں ، لال ٹینیں، اونگھتے سائے، ڈبل روٹی
سلگتے گوشت کی خوشبو
دھنسا ہوا چہرہ، مہینے بھر کی داڑھی
پھٹی جیبوں کی میلی سی قمیصیں
سنیما گھر کے آگے پوسٹر پر قہقہوں کی
دھول بر ساتا ہوا پاگل
کنارِ آب ننھی مچھلیاں کھاتا ہوا بگلا
محاذ ِ جنگ پر مارے گئے فوجی کی محبوبہ
میں کیا بتلاؤں، تیری گول سی سپنوں بھری
بے چین آنکھوں کے پرے
کیا کیا دیکھتا ہوں۔‘‘
یہ ایسی شاعری ہے جو کسی طور اپنے ماحول، اپنے اِرد گِرد سے بے خبر نہیں رہتی۔ شاعر جب اپنے مخاطب کی بے چین آنکھوں کے پرے جھانکتا ہے تو اسے اپنے تجربات یاد آجاتے ہیں۔ اسے اپنے مشاہدات کے درشن ہوتے ہیں۔ وہ اُن بے چین آنکھوں کی جمالیاتی تشریح کر نے کے بجائے ان کے پرے نکل جاتا ہے، اور اسے اپنا دکانوں کے سامنے سے گزرنا یاد آجاتاہے جہاں اس نے لال ٹینوں کی روشنی میں کچھ اونگھتے سائے دیکھے تھے۔ سلگتے گوشت کی خوشبو، دھنسا ہوا چہرہ اور مہینے بھر کی داڑھی، یہ علامات معاشی احتیاج کی نشاندہی کر تی ہیں۔ کنار ِ آب ننھی مچھلیاں، اور ان مچھلیوں کو اپنی غذا بناتا ہوا ایک بگلا، یہ محض ایک خوبصورت فطری منظر نہیں ہے بلکہ سر مایہ دارانہ نظام کا اعلامیہ ہے۔یہاں اس بات کا اعادہ غیر ضروری نہیں معلوم ہوتا کہ جدید اردو نظم کی ہیئت اور اسلوب مغرب سے بر آمد کر دہ ہیں۔ اس لئے اردومیں اسے لسانی تاثر کی originalityکے ساتھ برتنا کمال ہے۔ ظفر ؔ کی شاعری کا اختصاص یہی ہے کہ وہ ظاہری محاکات کے حوالوں سے اپنے ما فی الضمیر کی ادائیگی پر قادر ہیں۔ ’اسٹیٹس سمبل‘ ظفر ؔ کی ایسی ہی نظم ہے جو معاشرتی منافقت hypocricy کی عمدہ عکاسی کر تی ہے۔ اس نظم کا اختتامیہ بے حد چونکا دینے والا ہے۔
’’کلب، ڈنر اور ڈانس کی رسیا
صارف کلچر کی مخلوق
ننھی شبنم، ننھے بیج سے
اک بار یہ پوچھے
سر کیسے اونچا ہوتا ہے
عزت کیسے ملتی ہے
کیا شئے ہے اسٹیٹس سمبل؟
اب کوئی بتا ئے کہ یہ ننھی شبنم ، ننھے بیج کے استعارے کس کے لئے استعمال ہوئے ہیں اور شاعر ان استعاروں کے ذریعے کس سے مخاطب ہو رہا ہے اور وہ کن معاشرتی اکا ئیوں پر طنز کر رہا ہے۔ یہی ظفرؔ کی نظموں کا خاصہ ہے۔ ان کے تخیل نے یک لخت شہری زندگی کی منافقانہ رَوِشوں کی جانب سے اپنی فکر کے عدسہ Lenseکا رُخ فطرت کی طرف موڑتے ہوئے ننھی شبنم اور ننھے بیج کی جانب کر دیا اور نئے سر مایہ دارانہ رویوں کی دھجیاں بکھیر دیں۔ بقول فریدوں مشیریؔ ؎
در کجای ٔ ایں فضائے تنگ ، بے آواز من کبوتر ہائے شعرم را دہم پر واز
ظفر کی شاعری اس لحاظ سے بھی منفرد کہلائے جانے کی مستحق ہے کہ یہ اپنے فوری ماحول سے متاثر ہونے کا ثبوت دیتی ہے۔ چاہے وہ ماحول مکانی لحاظ سے قریب ہو یا بعید۔ یعنی مقامی ہو یا عالمی۔ اور کمال تو یہ ہے کہ ہر صورت میں شاعر اس ماحول کے خلاف مزاحمت کر تا دکھائی دیتا ہے، وہ بھی ایسی مزاحمت جیسی فلسطینی لوگ اسرائیلی غاصبوں کے خلاف کر تے ہیں۔ اور شاعر اسے اپنا فرض تصور کر تا ہے۔ ظفر ؔ کی نظم ’ٹکراؤ‘ کا اختتامیہ دیکھئے۔
’’ ۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
پھر لڑیں گے
تو جگ مگ شہر
میں سادہ سا شہری۔۔ دیہاتی سا کچھ
اگر مجھ کو ہرا پائے ، ہرا دینا
ابھی تک تو ہرا پایا نہیں ہے
مجھے اپنا بنا پایا نہیں ہے۔ ‘‘
نظم کا یہ حصہ صاف بتاتا ہے کہ شاعر بہ آسانی ’ سَرِ تسلیم خم ‘کرنے کا یعنی submission کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ وہ ایک عظییم آبادی والے ، چو بیس گھنٹے مصروف رہنے والے شہر کا حصہ بن تو گیا ہے لیکن واقعتا وہ ایسے ہی علیحدہ ہے جیسے ہندوستان کے جغرافیائی نقشے میں سری لنکا۔ لیکن اسے فخر ہے کہ وہ اپنی جڑوں اور اپنی اقدار سے اب بھی مر بوط ہے۔ مزاحمتی رویے کی ایک اور مثال ، ایک اور منظر ، نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں دکھائی دیتا ہے۔
میں بارش ہوں
مری بوندیں خدا کی پھیلی پھیلی اس زمیں پر
کہیں بھی ٹوٹ سکتی ہیں
تمہارا کیا ہے؟
تم کون ہو؟
ہوا کو ، پانیوں کو کاٹنے والے
زمین و آسماں کو بانٹنے والے
مجھے زنجیر پہناؤ گے
مجھ کو روک پاؤ گے؟
بہت کمزور ہو تم
ہار جاؤ گے!
ایسے احتجاجی اور مزاحمتی رویوں کا آغازشعر و ادب میں ، نیز خصو صا ً جدید نظم میں مغرب کے زیر ِ اثر ہوا۔ گو ، ان رویوں کا آغاز ترقی یافتہ ممالک سے ہوا لیکن ترقی پذیر مما لک میں کو ئی ملک ایسا نہیں رہا جو ان رویوں سے براہِ راست متا ثر نہ ہوا ہو۔ چاہے وہ افریقہ کی aparthied تحریک ہو یا ایشیاء میں ترقی پسند تحریک۔ کلاسیکیت کی دیوانی فارسی شاعری بھی اس سے دامن نہ بچاسکی۔ احمد شاملو کی جدید نظم کے تئیں وابستگی ملا حظے کی شئے ہے۔
’’درخت ِ تناور
امسال
چہ میوہ خواہد داد
تا پرندگاں را
بہ قفس نیاز نہ ماند؟؟
(نظم ، ’’تا بستان‘‘ مجموعہ ۔ ابراہیم و آتش۔ احمد شاملو)
ظفر ؔ نے اپنی مندرجہ بالا نظم ’بہت کمزور ہو تم‘ میں شاعرانہ تعلی سے کام لیتے ہوئے خود کو بارش کے استعارے کے ساتھ پیش کیا ہے لیکن مقصدیت کے لحاظ سے آخر ِ کار، ما حول میں موجود انسانی وسائل کی کِرم خوردہ ذہنیت کے خلاف اس کے احتجاج اور مزاحمت کا عندیہ بہت واضح ہے۔ان کے یہاں معاشرتی عدم توازن، مزاحمت اور احتجاج کی لے َ تیز ضرور ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ظفر ؔ کی شاعری میں زمانی اعتبار سے حال کا بیان زیادہ ہے اور ان کی تمثیلات، استعارے اور محاکات نسبتا ً وا ضح ہیں۔ مثلاً ان کی نظم ’بے حا صل‘ کا یہ ٹکڑا دیکھئے۔
’’۔۔۔
بھول بھال کر گلی تمہاری
کانکریٹ کی پکی اور
تپتی سڑک پر ہانپ رہا ہوں
اور ابھی کتنا چلنا ہے؟
اِدھر اُدھر سے دھوپ اُٹھاکر
اپنے سفر کی لمبائی میں ناپ رہا ہوں
وقت کے ساتھ سفر کا شوق!‘‘
ظفر ؔ کے یہاں نئی تہذیب کی عیاریاں ان کے جمالیاتی شعور romantic sense کا پیچھا نہیں چھو ڑ تیں۔اس نظم میں وہ معشوق کی گلی بھول کر اپنے سفر کو نئی تہذیب اور نئی ضروریات سے ہم آہنگ کر تے ہیںاور عشق کے کیف آور تصور سے نکل کر موجودہ زمانے کی تلخ سچائیوں کی رزم گاہ میں آن پہنچتے ہیںاور پھر کانکریٹ کی پکی اور تپتی ہوئی سڑک ، دھوپ کی شدت اور سفر کی مسافت کا توشہ دان ساتھ رکھے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ظفر ؔ کو ایک جانب شہری زندگی کی ہماہمی سے شکایت ہے وہیں وہ پرانی صحت مند اقدار کی گم گشتگی کا نوحہ بھی کر رہے ہیں۔جب ہم ان کی شاعری کے دروازے پر اس حوالے سے دستک دیتے ہیں تو ان کی واقعاتی اور موضوعاتی نظمیں بے حد خوش سلیقگی سے ہمارا استقبال کر تی ہیں۔ اس خصوص میں ان کی نظم ’مرے چراغوں کو دفن کردو‘ ایسے قبیل کی نظم ہے جو ماضی اور حال دونوں زمانوں کی اقدار کا تقابل کر تی ہے۔
’’ اصول ، اونچے وِچار
حق گوئی
اور دیانت
چراغ کیا کیا
دئے تھے دادا نے باپ کو
باپ نے یہ ورثہ مجھے تھمایا
اور اب بڑھاپے میں، میں نے چاہا
کہ سارا وِرثہ ، چراغ سارے میں
اپنے بچوں کو سونپ دوں
مر سکوں، سُکوں سے ۔۔۔۔‘‘
یہاں تک شاعر کا ایقان اپنی اگلی نسل پر قائم نظر آتا ہے لیکن جیسے جیسے نظم proceed کر تی ہے، یہ ایقان ، کامل بے اعتباری اور حسرت میں تبدیل ہوجاتا ہے۔
’’بہت چالاک ہیں میرے بچے
وہ مجھ سے یہ کہہ رہے ہیں’ڈیڈی‘
یہ ساری چیزیں، یہ ٹمٹماتے چراغ سارے
بہت پرانے ہیں
اب ان سے کیا روشنی ملے گی؟
۔۔۔۔۔
کچھ اور ہے آج کی یہ دنیا
یہ وہ نہیں ہے کہ جس میں کھولی تھیں تم نے آنکھیں۔۔۔‘‘
یہ نظم نہیں ہے ، ظفرؔ کا شخصی کرب ہے۔ یہ ایسی کوفت کا اظہار ہے جو شاعر کو مسلسل اضطراب میں رکھتی ہے اور اس کرب و گھٹن سے تنگ آکر آخر ِ کار ’ سرِ تسلیم خم ہے‘ کی بے چارگی بھری و مصلحت آمیز کیفیت کے آگے گھٹنے ٹیک دیتا ہے۔ وہ اپنے ایقان کو submit کر دیتا ہے اور کہہ اٹھتا ہے کہ
’تو میرے بچو !
نئے زمانے میں جینے والو!
بلند دیواروں ، اونچی چھتوں کے نیچے، نئے کھلونوں کے ساتھ
مصنوعی زندگی راس آئے تم کو
مرے چراغوں کو میرے ہمراہ دفن کردو
اندھیری دنیا تمہیں مبارک !!!
ہر شاعر کے نزدیک ماضی کی ایک الگ اہمیت اور افادیت ہوتی ہے۔ اس ماضی کو انگریزی میں nostalgia کہتے ہیں جو شاعر کا سر مایۂ شعر ہوتا ہے۔ پھر یہ ظفر ؔ کا ساتھ کیسے چھوڑ دیتا؟ ان کی نظم ’چھوٹا ہوا ہاتھ‘ ملا حظہ کیجئے۔
’’تمہارا ہاتھ تھا بابا !
تھی میرے ہاتھ میں انگلی تمہاری
تمہارے اونچے کاندھوں سے ڈھلک کر
تمہاری صاف ستھری بے شکن چادر کا کونا
مجھے رہ رہ کے چھوتا تھا
کہ مجھ سے راستے کی گرد نہ آکر لپٹ جائے
تمہارا ساتھ تھا با با !
خدا منھ سے تمہارے بولتا تھا
سچ بولو
کہ سچ سورج ہے باطن کا
محبت ایک دولت ہے۔ ۔۔‘‘
اور اکثر شاعروں کے ساتھ مصیبت یہ ہوتی ہے کہ شام ہوتے ہی یا پھر تنہائی کی چادر پھیلتے ہی ان کا یہ nostalgia عود کر آتا ہے اور انہیں ماضی کے گلیاروں کی سیر کر واتا ہے جِسے وہ اپنے رجحان کے مطابق اپنی شاعری میں نظم کر تے ہیں۔بقول فِراقؔ ؎
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
میں نے اوپر جس نظم کا حوالہ درج کیا ہے ، اس میںظفر ؔ کو کسی محبوبہ یا اپنی محبت کے بجائے ایک مشفق اور مربی کر دار کی یاد آتی ہے۔ یہی وہ وقت ہوتا ہے جب شاعر کا خیال ، اس کا تخیل محترم ہوجاتا ہے اور اس کی ہر بات شخصِ مذکور کی کر دار سازی کر رہی ہوتی ہے۔اپنے بچپن کا بیان، بابا کا والہانہ ذکر اور پھر ان کی اعلی اقدار پر مبنی نصیحت ، اس نظم کے مبادیاتی اجزاء ہیں۔
یو ں کہا جائے تو کیا غلط ہوگا کہ ظفر ؔ زندگی کی صدا قتوں کی شاعر ہیں؟ وہ بے معنی زندگی کے قائل نہیں ہیں۔ اپنی اسی عنوان کی نظم ’زندگی با معنی ہے‘ میں وہ یہی پیغام دیتے ہیں۔
’ہاتھ نہ آئے ستارہ
ہاتھ نہ آئے جزیرہ
لیکن ان کے پانے ، ان کو چھونے ، ان کے پاس جانے کا
جو اک سنگھرش ہے
وہ زندہ رہنا چاہئے
اک اسی سنگھرش سے
زندگی میں کچھ نہ کچھ مفہوم ہے
زندگی با معنی ہے۔‘
ظفر ؔ کی نظم بے سمت اور بے رُخ خیالات اور موضوعات کے ہمراہ نہیں چلتی۔ وہ بڑی دیدہ ریزی کے ساتھ اپنے خیالات کو خلق کر تے ہیں۔اور پھر انہی خیالات کے آٹے سے شعر کی روٹی تیار کر تے ہیں۔ ہم نے اکیسویں صدی میں داخل ہونے کو اپنا بڑا کار نامہ سمجھ لیا ہے۔ لیکن ظفرؔ اس اکیسویں صدی کی حقیقت سے خوب واقف ہیں۔ اس لئے وہ اس اکیسویں صدی سے مخا طب ہو کر کہہ اٹھتے ہیں۔
میں نہیں کہتا تو مری خاطر
آسماں اک نیا فراہم کر
جی سکوں میں زمیں پہ عزت سے
ایسی آب و ہو ا فراہم کر
یعنی شاعر کا ادراک اس واقعے سے اچھی طرح واقف ہے کہ اکیسویں صدی میں کو ئی اگر ایسی ہوا ، ایسا ماحول ہی فراہم کر دے کہ انسان، بلکہ بنی نوع انسان عزت سے اپنی بچی کھچی سانسیں لے کر اپنا رخت ِ سفر باندھ سکے، تو یہی غنیمت ہے۔ لیکن وقت جیسے جیسے آگے بڑھتا جارہا ہے ، یہ امید ، نا امیدی میں بدلتی جارہی ہے۔
ظفر ؔ کی نظموں میں طرزِ اظہار کی خوبصورتی ، ترسیل و ابلاغ کی منزلوں سے گزرتے ہوئے محاکات کی جدت و ندرت کے نئے پہلو وا ہوتے ہیں۔ میں ان کی نظموں سے کچھ حوالے دے رہا ہوں۔ آپ مکمل نظمیں پڑھے بغیر بھی ان کا مزہ تو لے سکیں گے لیکن اگر مکمل متن پڑھیں گے تو یہ سہ آتشہ ہو جائے گا۔
’ میں اپنی سرخ صبحوں
سبز شاموں
سانولی راتوں کی لاشوں پر کھڑا ہوں
۔۔۔۔۔
ہنسے کوئی تو اس کے شوخ غنچے میرے ہونٹوں میں
چمک اٹھیں
۔۔۔
سرد سینے کو عطا کر آگ
اس کو درد سے بھر دے
مجھے پھر اشرف المخلوق کردے
( نظم : دُعا)
تو میرے ساتھ ہے لیکن
میں تیرے پاس ابھی آیا نہیں ہوں
میں زندہ ذہن ہوں
سایہ نہیں ہوں
( نظم : تری بے چین آنکھوں کے پرے)
کہ یہ دھیان کی سیڑھیاں ٹوٹ جائیں گی سب
چاندنی آگ کی جھیل بن جائے گی
اور میں۔۔۔۔کرب کی کالی دیوار میں
چُن دیا جاؤں گا
(نظم : کرب کی کالی دیوار)
پُل ، مینار، سفینہ، پانی
سب ڈوبیں گے ساتھ
کاش کہ لمبے ہو جاتے
تیری یادوں کے ہاتھ۔۔۔
(نظم : غر قابی سے پہلے)
وہ آس کے پاؤں میں بجلی کی جو پازیب تھی
گھٹا کا آنکھ میں جو سُر مہ تھا
ماتھے پر تھا جھومر چاند کا
کہاں کھو آئی دنیا؟
یہ دنیا خوبصورت تھی
یہ بد صورت ہوئی کیسے، خدایا؟
(نظم : یہ دنیا خوبصورت تھی)
ہوا سا وقت اُڑا جارہا تھا اور منظر
دُھنی کپاس کی مانند ٹوٹ کر بکھرا
(نظم : دوڑ)
وہ دیواریںجو آندھی اور بارش سے کبھی محفوظ رہنے کے لئے
میں نے بنائی تھیں
انہیں خود توڑ دیتا ہوں
کسی ویرانے میں
اپنے خدا کو میں اکیلا چھوڑ دیتا ہوں۔
(نظم : جب کوئی نیا موسم)
غرض ظفر ؔ کی نظموں میں لفظیات، علامات، لہجہ اور جدید تشبیہات و استعارات کی تناظر میں بھی تنوع اور وارفتگی پائی جاتی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

memories of Shamsur Rahman Farooqi

Articles

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

شمس الرحمن فاروقی

 

میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی کچھ یادیں

مجھے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور کی بہت سی باتیں یاد ہیں۔ اس وجہ سے نہیں کہ میں اس وقت وہاں پڑھنے گیا تھا جب میری عمر کم تھی، اور اس عمر کی باتیں انسان اکثر یاد رکھتا ہے۔ میں ویزلی ہائی اسکول (Wesley High School)اعظم گڑھ (اب انٹر کالج) میں پڑھنے گیا تھا (1943ئ) تو اس وقت میری عمر اور بھی کم تھی ، یعنی اس وقت میں صرف آٹھ سال کا تھا ۔ لیکن وہاں کی باتیں مجھے اتنی یاد نہیں جتنی جارج اسلامیہ کی باتیں۔ لہٰذا اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ جارج اسلامیہ کے اساتذہ اور طلبہ میں متعدد ایسے تھے جنھیں آسانی سے بھلایا نہیں جاسکتا۔
میں نے ۹۴۹۱ءمیں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول (اب انٹر کالج) گورکھپور سے ہائی اسکول پاس کیا اور نیا تعلیمی سال شروع ہوتے ہی میرانام میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج کے گیارہویں درجے میں لکھوادیا گیا۔ لیکن یہ میری اور جارج اسلامیہ کالج کی پہلی ملاقات نہ تھی ۔ گذشتہ سال جب میں دسویں جماعت کا طالب علم تھا ، میں نے جارج اسلامیہ کالج میں مضمون نویسی اور فی البدیہ تقریر کے مقابلوں میں تیسرا انعام ( مضمون نویسی) اور خاص انعام ( فی البدیہ تقریر) حاصل کیا تھا۔ مجھے دو کتابیں انعام میں ملیں۔ ایک تو جوش صاحب کا چھوٹا سا ، لیکن مجلد مجموعہ ”شاعر کی راتیں“ تھا اور دوسرا تیغ الہٰ آبادی ( بعد میں مصطفی زیدی) کا اتنا ہی چھوٹا سا غیرمجلد مجموعہ تھا ”روشنی“ ۔ تیغ صاحب کا مجموعہ مجھے اس زمانے میں بھی بہت چھچھلا معلوم ہوا ، بلکہ خدا اور مذہب پر ان کے حملے چھچھورپن اور رکاکت سے مملو معلوم ہوئے ۔ مجھے اس مجموعے کے بہت سے شعر یاد ہیں، اور ان کے بارے میں میری اب بھی یہی رائے ہے۔ جوش صاحب کی کتاب مجھے نسبتاً زیادہ ”شاعرانہ“ معلوم ہوئی اور اس کے بھی بہت سے شعر مجھے اب تک یاد ہیں ۔ تیغ صاحب کی کتاب اب میرے پاس نہیں، لیکن ”شاعر کی راتیں“ خوش قسمتی سے محفوظ ہے۔ اس پر 6 فروری ، 1949ءکی تاریخ پڑی ہے، اور یہ بھی درج ہے کہ میں نے اسے دوسرے دن ختم کرلیا تھا۔
کالج میں جو مضامین مجھے پڑھنے پڑے ان میں انگریزی چھوڑ کرکسی سے بھی مجھے کچھ لگاﺅ نہ تھا۔ انگریزی کے استاد جناب غلام مصطفی خاں رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی ، تبحر علمی ، پھر اچھے طالب علموں سے دلچسپی اور مسلسل ہمت افزائی کے ذریعہ چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کوبھی انھوں نے ہمیشہ تحسین کی نگاہ سے دیکھا۔ میں اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا تھا۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ اور باریک بینی سے مملو ہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا۔ رشیدی صاحب بہت عمدہ شاعر بھی تھے اور یہاں بھی ان کی مثال میرے لیے رہنمائی کاکام کرتی تھی۔
رشیدی صاحب کے بہت سے شعر مجھے یاد ہیں۔وہ غزل اور نظم دونوں کہتے تھے،اور نظموں میں ان کی طویل نظم ”سراپا“کے بہت چرچے تھے،لیکن وہ طالب علموں کے سامنے ،یاعام محفلوں میں یہ نظم نہ سناتے تھے کہ اس میں کئی شعروں میں تکلف اور احتیاط کا دامن چھوڑ کر معشوق کے بدن کا بیان اور اس کے حسن کی ثنا کی گئی تھی۔میری زندگی کے یادگار دنوں میں ایک دن وہ ہے جب مسعود اختر جمال کسی مشاعرے میں گورکھپور آئے تھے۔ان سے میری اور میرے ایک دوست کی کچھ ملاقات تھی۔ہم لوگ انھیں راضی کرکے اپنے یہاں لے آئے اور جمال صاحب کے وعدے کا سہارا لے کر رشیدی صاحب کو اور گورکھپور کے مشہور شاعر ہندی گورکھپوری کو بھی بلا لائے۔یہ ان بزرگوں کی طالب علم نوازی اور ادب دوستی تھی کہ تینوں بے حیل وحجت تشریف لے آئے اور ہم لوگوں نے دیر تک ان کا کلام سنا ۔ ہندی صاحب نے کیا سنایا،افسوس کہ یہ مجھے یاد نہیں،لیکن جمال صاحب نے میری درخواست پر اپنی مشہور طویل نظم ”صبح بنارس“ بڑے دلنشیں دھیمے ترنم سے سنائی تھی۔مجھے کچھ شعر پہلے سے یاد تھے اور اب بھی یاد ہیں۔نظم شروع ہوتی تھی ،ع
صبح بنارس گنگا کنارے
ایک بند تھا
دلکش منظر حد نظر تک
حد نظر تک دلکش منظر
جنبش لہروں میں ہلکی سی
جیسے فسوں بر لب ہو فسوں گر
رشیدی صاحب نے ہم لوگوں کی درخواست پر ”سراپا“سنائی،لیکن اکثر شعرپھر بھی چھوڑ دئیے ،اور مزاج کی شائستگی دیکھئے کہ انھوں نے کبھی ہم لوگوں سے مخاطب ہو کر نہ کہا،بلکہ ہمیشہ جمال صاحب یا ہندی صاحب سے کہتے، ”یہاں بہت سے شعر چھوٹتے ہیں۔“جو شعر انھوں نے سنائے ان میں سے کچھ مجھے یاد رہ گئے مندرجہ ذیل شعر کے روشن اور لطیف جنسی پیکر مجھے اب بھی بے نظیر لگتے ہیں
سینے سے ہے کلائی روشن وادی شانہ شانے سے
گورے سے گورے عضو بدن میں صبح کف پا عام نہیں
نظم کئی بحروں میں تھی ،اور ہر بند میں کئی شعر تھے۔ایک یہ شعر بھی اب تک میرے دل میں سنسنی پیدا کردیتا ہے ۔
آکاش سے تارے چن لاﺅں لمحوں کو ابد میں ضم کردوں
تم اپنی زباں سے کہہ تو دو پھر کوشش آدم کیا کہئے
افسوس کے اب وہ تینوں اللہ کو پیارے ہوچکے۔ان جیسے شرافت کے پتلے ،حسن خلق اور خوش لباسی کے مجسمے اب کہاں دیکھنے کو ملیں گے۔تینوں شیروانی اور چوڑی مہری کے پاجاموں میں ملبوس ،تینوں کے ہونٹوں پر پان کی سرخی، چہرے پر متین تبسم کی جھلک ۔رشیدی صاحب چھوٹے قد کے اور گورے تھے،ہندی صاحب بھی پستہ قد لیکن سونولے تھے اور تاریک شیشوں کی عینک لگاتے تھے۔مسعود اختر جمال اچھے ہاتھ پاﺅں کے اور گندم گوں تھے۔تینوں کی پیشانیاں شرافت کے نور سے روشن تھیں۔رشیدی صاحب نے شادی نہیں کی تھی۔ان کے بارے میں مشہور تھا کہ رنگین مزاج اور حسن پرست ہیں،لیکن مدت مدید کے نیاز مندانہ اور شاگردانہ مراسم میں مجھے ان کی کوئی بات شرافت اور متانت سے سر مو متجاوز نہیں دکھائی دی۔
رشدی صاحب کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا تھا کہ ان کے مجرد رہنے کی وجہ یہ تھی کہ وہ عشق میں ناکام رہے تھے۔ممکن ہے ایسا ہی ہو،لیکن ان کے کلام میں عشق کی سچی گرمی تھی اور مضامین کی کیفیت عشق میں ناکامی سے زیادہ محبوب کی بے وفائی کا پتہ دیتی تھی ۔وہ میرا لڑکپن تھا،مطالعہ اور فہم دونوں ہی محدود تھے اور عمر بھی ایسی کہ ہر دلکش کلام فوراً متاثر کرتا تھا۔یہ وہ دن تھے جب جدید شعرا میں مجھے جذبی اور ساحر کا تقریباًسارا کلام ،اور حفیظ جالندھری اور مجاز کا بہت سا کلام یاد تھا۔لہٰذا اس زمانے میں رشیدی صاحب کے کلام سے متاثر ہونا کوئی خاص بات نہ تھی ۔لیکن آج بھی،نصف صدی سے کچھ زیادہ مدت گذر جانے کے بعد میں کہہ سکتا ہوں کہ عشق کی گرمی اور معشوق کی بے وفائی کا تجربہ رشیدی صاحب کی غزل میں بے نظیر بانکپن اورمحزونی کے ساتھ ادا ہوا۔
یہی بہت کہ میں غائبانہ جبین عجز بچھا سکوں
تراسنگ در تو مرا نہیں کہ وہیں پہ سر کو جھکا سکوں
ہے ملاحتوں کا وہ حال جس پہ صباحتیں بھی نثار ہیں
میں تجھے بھی اپنی نگاہوں سے ترا حسن کاش دکھا سکوں
یہی آرزو ہے رشید یا کہ میں خاک ہونے سے پہلے اب
وہی زندگی وہی صحبتیں کبھی ایک بار تو پاسکوں
٪٪٪٪٪
انداز و اشارات و کنایات نہیں ہیں
آنکھوں کے سوالات و جوابات نہیں ہیں
نظریں ہیں ابھی تک وہی پیمانہ¿ رقصاں
پر پینے پلانے کے اشارات نہیں ہیں
اب تک اسی خاموشی ناطق کے ہیں جلوے
اس نطق میں لیکن وہ خیالات نہیں ہیں
جھک جاتی ہیں اب بھی کبھی ملنے پہ نگاہیں
لیکن وہ محبت کے حجابات نہیں ہیں
٪٪٪٪٪
نگاہیں کہہ رہی تھیں کچھ یکایک خامشی کیوں ہے
یہ دامان نوازش میں شکن آلودگی کیوں ہے
شکایت ہو کہ نفرت ہو کوئی انداز ہو لیکن
تمھیں ترک تعلق پر بھی یہ وابستگی کیوں ہے
٪٪٪٪٪
پیمانہ ¿رقصاں ،پینے پلانے کے اشارات،خاموشی ناطق،دامان نوازش میں شکن آلودگی ،بھلا مجاز اور اختر شیرانی اس سے بہتر کیا کہتے ؟اور تمام اشعار ،خاص کر پہلی غزل کی روانی اور کیفیت ،اور اس کے ساتھ دوسرے شعر کا مضمون،اعلیٰ درجے کی شاعری ضمانت ہیں۔رشیدی صاحب کو چھپنے چھپانے یا مشاعرہ پڑھنے سے کوئی دلچسپی نہ تھی۔ اسلامیہ کالج کے مشاعروں اور سالانہ میگزین میں وہ ضرور نظر آتے تھے۔کاش کوئی اللہ کا بندہ ان کا کلام وہاں سے جمع کرکے شائع کردیتا۔
انگریزی کے دوسرے استاد ایک مدراسی (غالباً تامل بولنے والے)عیسائی مسٹرپی۔آئی۔کورئین(P.I. Kurien)تھے کورئین صاحب مدراسی لہجے میں انگریزی بولتے تھے جو ہم لوگوں کے لئے انوکھا اور ساتھ ہی ساتھ مرعوب کن تھا،کیونکہ ہم سمجھتے تھے کہ ان کا لہجہ اہلِ زبان جیسا ہے۔ اس زمانے میں مدراس (آج کے چنئی) میں انگریزی اس کثرت سے بولی جاتی تھی کہ ہم سب اسے وہاں کی دوسری زبان سمجھتے تھے، اور یہ غلط نہ تھا ۔ یہ اور بات کہ مدراسیوں کا انگریزی لہجہ اہلِ زبان کی طرح بالکل نہ تھا، لیکن یہ بات ہم لوگ اس وقت کہاں سمجھ سکتے تھے۔ بہرحال ، کورئین صاحب چند مہینے بعد سینٹ اینڈروز کالج (St. Andrew’s College) چلے گئے۔ وہاں ایم۔اے ۔ تک پڑھائی ہوتی تھی اور وہ گورکھپور کا نہایت قدیمی اور مہتم بالشان کالج تھا۔ مجنوں صاحب بھی وہیں اردو اور انگریزی پڑھاتے تھے۔ ہم لوگ کورئین صاحب سے اس بناپر بھی مرعوب ہوئے کہ انھیں بی۔اے۔ پڑھانے کے لائق سمجھا گیا، لیکن رشیدی صاحب کی بات ہی اور تھی۔
ہمارے پرنسپل حامد علی خاں صاحب دبلے پتلے نہایت کم سخن تھے اور دھیمی آواز میں گفتگو کرتے تھے لیکن ناراض ہوجائیں تو ڈانٹ بھی دیا کرتے ۔ انھوں نے کچھ دن ہم لوگوں کو الگ سے انگریزی صرف و نحو وغیرہ پڑھائی۔
اردو کے اساتذہ میں منظور علی صاحب کی نستعلیق صورت ، عمدہ شیروانی، منجھی ہوئی آواز اور باوقار رکھ رکھاﺅ سے لگتا تھا کہ وہ کسی بڑی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔ شمس الآفاق صاحب شمس اردو کے دوسرے استاد تھے ۔ وہ منظور صاحب کے مقابلے ذرا کم بارعب شخصیت کے مالک تھے ۔ شیروانی اور بڑے پائینچوں کا پاجامہ وہ بھی پہنتے تھے۔ یہ لباس ان پر بھلا لگتا تھا۔ دیگر استادوں کی طرح شمس الآفاق صاحب بھی مجھ پر مہربان تھے۔ ایک بار میرے ایک افسانے کی انھوں نے بہت تعریف کی تھی۔
سائنس سے مجھے کوئی لگاﺅ نہ تھا لیکن کیمسٹری کی لیبوریٹری سے اٹھنے والی پراسرار بدبوئیں مجھے ہمیشہ ان تقریباً مخبوط الحواس سائنس دانوں(Mad Scientists)کی یاد لائی تھیں جواس زمانے میں کئی انگریزی اور ایک آدھ اردو افسانوں میں نظر آتے تھے۔لطف یہ کہ کیمسٹری کے لکچرر صاحب(وہ بھی شاید کوئی مدراسی تھے،لیکن ہندو)کے بارے میں مشہور تھا کہ وہ بہت بڑے سائنٹسٹ ہوتے لیکن ایک بار بڑے حادثے کا شکار ہوگئے۔کہا جاتا تھا کہ وہ کیمسٹری کا کوئی بہت مشکل اور عالمانہ تجربہ کررہے تھے جس میں طرح طرح کی گیسیں بروئے کار لائی جاتی تھیں۔ان گیسوں میں کچھ ایسی بھی تھیں جنھوں نے ان کے دماغ پر اثر ڈالا اور وہ نیم مخبوط الحواس ہوگئے۔یہی وجہ تھی کہ وہ کسی بہت بڑی یونیورسٹی میں ہونے کے بجائے گورکھپور کے ایک چھوٹے سے انٹر کالج ہی میں لکچرر ہوسکے تھے۔حقیقت کیا تھی ،یہ تو خدا ہی جانے لیکن ایک بار ان کا غصہ میں نے بھی دیکھا تھا۔وہ سب لڑکوں کو بھگاتے ہوئے لیبوریٹری کے باہر تک لے آئے تھے اور چیخ رہے تھے:
Get out! You are not fit to study!
ظاہر ہے کہ قصور لڑکوں ہی کا رہا ہوگا۔ہم لوگ ان کی لیبوریٹری کے سامنے سے چپ چاپ گذرتے ،شور ہر گز نہ مچاتے تھے۔افسوس کہ ان کا نام بھول گیا ہوں لیکن ان کی شکل ٹھیک سے یاد ہے،پکا سانولا رنگ،موٹے موٹے ہونٹ ،ماتھے پر شکن اور ناک پر عینک ہمیشہ رہتی۔
اقتصادیات کے استادانتظار حسین صاحب مجھے اس لیے یاد ہیں کہ وہ کرکٹ کے عمدہ کھلاڑی تھے اور بریلی ضلع کی ٹیم میں مشہور زمانہ تیز گیند انداز اور ٹسٹ کھلاڑی محمد نثار صاحب کی گیندوں پر وکٹ کیپری کرچکے تھے۔کلاس میں وہ اقتصادیات کی اصطلاحات کے سوا ایک بھی لفظ انگریزی کا نہ بولتے تھے۔نہایت خوش مزاج اور خوش لباس شخص تھے۔ ہائی اسکول کے درجے پڑھانے والوں میں ایک استاد شیخ جگو المتخلص بہ مائل تھے۔ان کا اصل نام ہی ”جگو“ تھا،جس طرح موجودہ پرنسپل صاحب کے پیش رو پرنسپل صاحب کا نام چھوٹے خاں تھا۔وہ بھی بڑے دبدبے کے پرنسپل تھے،انگریز نے انہیں ”خان صاحب“کا خطاب بھی دیا تھا۔شیخ جگو صاحب کی لیاقت کا عالم تھا کہ اگرچہ و ہ سائنس کے طالب علم کبھی نہ رہے تھے لیکن انھوں نے الہٰ آباد یونیورسٹی کے نامور پرفیسر گورکھ پرشاد کی کتاب ،جو فلکیات اور علم ہیئت پر تھی،اس کا ترجمہ اردو میں کیا تھا۔یہ ترجمہ اعلیٰ درجے کے کاغذ پر ٹائپ کے حروف میں ہندوستانی اکیڈمی الہٰ آباد سے چھپا تھا۔پھر انگریزی گرامر اور ریاضی کے ماہر بابو گجا دھر پرشاد تھے۔سارا کالج ان کا ادب کرتا تھا۔جغرافیہ کے لکچر ر منیر صاحب تھے ، نہایت نیک نفیس اور کم گو۔وہ شاعر بھی تھے۔ہم لوگ ان کی خدمت میں تھوڑے بہت گستاخ تھے۔ہندی کے استاد کا نام بھول گیاہوں،بہت سیدھے سادھے بھلے آدمی تھے۔ایک بار ان کی چھتری کلاس میں چھوٹ گئی تھی۔میں اسے اٹھائے اٹھائے ان کے پیچھے بھاگ کر گیااور چھتری ان کی خدمت میں حاضر کردی۔انھوں نے گرم جوشی سے”دھنیہ واد“ کہا۔مجھے یہ بات ان کے لہجے کی گرم جوشی کے باعث ،اور اس سبب سے یاد رہ گئی کہ اب تک مجھے کسی نے ”دھنیہ واد“نہ کہا تھا۔میرے کان Thank Youاور ”شکریہ“کے آشنا تھے۔
میں اردو کا طالب علم نہ تھا(ہندی البتہ میں نے پڑھی،اس زمانے میں انٹر اور بی۔اے۔دونوں میں غیر ہندی داں طالب علموں کو”ابتدائی ہندی“پڑھائی جاتی تھی۔انٹر میں ہم لوگوں نے ہندی کی ایک درسی کتاب”ہندی ہلور“نام کی پڑھی تھی۔ہم لوگ مدتوں اس نام سے لطف اندوز ہوتے رہے تھے۔اس زمانے میں ہندی کی نثر بہت غیر ترقی یافتہ تھی۔لیکن آج تو ہندی خوب اچھی لکھی جارہی ہے اور اہل اردو پچھڑے جارہے ہیں۔)ادب سے میرے شغف کی بدولت منظور صاحب نے مجھے بزم ادب کا معتمد بنادیا تھا۔اس کے پچھلے سال منظور صاحب کی نگرانی میں انشا کی شخصیت اور زندگی کے بارے میں انتہائی دلچسپ اور پر اثر ڈراما کالج میں ہوا تھا۔انشا،سعادت علی خاں،اور جرا¿ت کے کردار جن لڑکوں نے ادا کئے تھے ان کے نام بھول گیا ہوں ،لیکن ان کے ادا کئے ہوئے مکالمے ،ان کا طرز گفتار ورفتار ، اب بھی مجھے یاد ہیں۔میں بے کھٹکے کہتا ہوں کہ اتنے عمدہ ڈرامے میں نے کم دیکھے ہیں ۔اس سال ایک بڑا مشاعرہ بھی ہوا تھا جس کے شعرا میں سید حامد اور ان کے شعر مجھے خوب یاد ہیں۔سید حامد ان دنوں آئی۔اے۔ایس۔میں کامیاب ہو کر گورکھپور میں ریجنل فوڈ کنٹر ولر کے عہدے پر تھے اور ہمارے لئے ہیرو کا مرتبہ رکھتے تھے۔
منظور صاحب نے مجھے معتمد بزم ادب بنا تو دیا تھا لیکن جلد ہی انھیں اور مجھے معلوم ہوا کہ اس کام کے لئے جتنے محنت،ذمہ داری ،اور طالب علموں سے ملتے جلتے رہنے کی ضرورت ہے،وہ میری بساط کے باہر ہے۔لہٰذا میں نے استعفیٰ دے دیا جو بخوشی قبول کرلیا گیا۔
اردو کے ایک استاد مولوی صدیقی صاحب تھے،منظور صاحب اور شمس الآ فاق صاحب کے مقابلے میں وہ بالکل مولوی لگتے تھے،شاید جماعت اسلامی سے بھی منسلک تھے۔میں بزعم خوداردو میں مہارت رکھتا تھا اور خیال کرتا تھا کہ اردو کا کوئی شعر یا کلام ایسا نہیں جسے میں نہ سمجھ سکوں۔پھر ایک دن اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا۔ایک ساتھی نے مجھ سے کہا کہ مجھے سودا کا قصیدہ پڑھادو،ع
سنگ کو اتنے لئے کرتا ہے پانی آسماں
میں نے کہا ،لاﺅ جھٹ پڑھادیں گے۔لیکن جب کتاب کھلی تو میری زبان بند ہوگئی ۔بھلا ایک شعر تو سمجھ میں آیا ہو۔میں کوئی بہانہ کرکے بھاگا بھاگ مولوی صدیق صاحب کے یہاں گیا۔وہ فرشتہ صفت شاید کسی کام میں مصروف رہے ہوں،لیکن انھوں نے نہایت خندہ پیشانی سے،اور مزے لے لے کر وہ قصیدہ مجھے پڑھایا۔میں اس وقت ان کا شکر گذار ہوا ،اور ہمیشہ کے لئے احسان مند بھی ہوں کہ ان کی پڑھائی سے مجھے معلوم ہوا کہ کلاسیکی ادب کی کیا خوبصورتیاں ہیں،اور یہ کہ یہ سب اتنا آسان نہیں جتنا میں سمجھ رہاتھا۔
جارج اسلامیہ کی لائبریری اس زمانے میں اعلیٰ درجے کی انگریزی کتابوں،خاص کر یورپی فکشن کے انگریزی تراجم پر مبنی موٹی موٹی جلدوں سے بھری ہوئی تھی۔میں نے کئی کتابیں وہاں نکال کر پڑھیں،گھر لے جانے کی اجازت نہ تھی ۔موجودہ زمانے کا حال نہیں کہہ سکتا،لیکن اس زمانے میں کالج لائبریری کا دارالمطالعہ تقریباً ہمیشہ لڑکوں سے بھرا رہتا تھا۔غلام مصطفیٰ صاحب اور شمس الآ فاق صاحب بھی اکثر وہاں بیٹھتے تھے۔کیا مجال کہ کسی طالب علم یا استاد کی آواز بلند ہوجائے،یا کرسی ہی کھینچنے کی آواز اونچی سنائی دے۔میں فرسٹ ایر میں تھا تو سکنڈ ایر کے ایک مقبول اور اچھے طالب علم نے (افسوس کہ ان کا نام اب یاد نہیں)میری طرف اشارہ کرکے شاید کورئین صاحب سے،یا کسی اور سے ، مسکراتے ہوئے مجھےThis little chapکہا۔میری عمر کم تو تھی ہی،لیکن میں کچھ دبلا پتلا اور متوسط قد بھی تھا ،اور وہ صاحب تنو مند اور بلند و بالا تھے۔مجھے یاد ہے کہ This little chapکا خطاب مجھے کچھ برا نہ لگا ،بلکہ اچھا ہی لگا کہ ان کی انگریزی با محاورہ تھی۔اس وقت تک میری انگریزی کے چرچے بہت نہ تھے،لیکن واقف کار لوگ جانتے تھے ۔فرسٹ ایر کے شش ماہی امتحان میں انگریزی کے کسی پرچے میں ہمیں ”کتب بینی “پر مضمون لکھنا تھا۔میں لکھنے میں منہمک تھا اور ایک استاد سید تسنیم احمد میری پشت پر کھڑے دیکھ رہے تھے کہ میں کیا لکھ رہا ہوں۔معاً ان کے منھ سے نکلا ،”اجی تم تو بہت اچھی انگریزی لکھتے ہو!“پندرہ بیس لڑکے رہے ہو ں گے ،لیکن کوئی متوجہ نہ ہوا ،کیوں کہ اس وقت میرے ساتھی سبھی جان گئے تھے کہ میری انگریزی بہت اچھی ہے۔
شہر میں ایک اور لائبریری سے میرا رابطہ مدتوں رہا۔یہ واحد لائبریری تھی ،اور اس کے کرتا دھرتا ، مالک،منیجر،سب کچھ واحد بھائی(واحد علی ہاشمی)تھے۔اللہ بخشے واحد بھائی مرحوم سے میری اچھی نہ بنتی تھی،کیونکہ میں الماری سے بے تکلف کتاب نکال لینے کا عادی تھا،لیکن لائبریری کا ممبر نہ تھا۔میری مالی حالت ہی ایسی نہ تھی کہ لائبریری کی بہت حقیر فیس ادا کر سکتا، اور واحد بھائی کا خیال تھا کہ دارالمطالعہ میں بیٹھ کر پڑھنے کا استحقاق بھی انھیں کو ہے جو باضابطہ رکن کتب ہوں۔ دوسری بات یہ کہ طالب علم کی حیثیت سے میری سنجیدگی شاید واحد بھائی کی نظر میں بہت مشکوک تھی ، کیونکہ میں افسانے ، ناول ،اور خاص کر جاسوسی ناول بہت پڑھتا تھا ۔ ایک بار جب میں نے ان سے اختر حسین رائے پوری کی مترجمہ قاضی نذر الاسلام کی نظموں کے مجموعے ”پیغامِ شباب“ کی فرمائش کی تو انھوں نے سمجھا کہ میں عنوان سے دھوکا کھاکر اسے کوئی عشقیہ ناول سمجھا ہوں۔ انھوں نے کتاب مجھے دے تو دی لیکن کئی بار کہا کہ یہ آپ کے مطلب کی نہیں ہے۔
میں نے واحد بھائی جیسا فنافی الکتاب شخص نہیں دیکھا۔ انھوں نے اپنا تن من دھن سب لائبریری میں لگا دیا۔ خدا جانے ان کی روٹی کس طرح چلتی تھی اور کتابیں وہ کہاں سے خریدتے تھے۔ افسوس کہ وہ بھی راہی ملک عدم ہوئے اور ان کی لائبریری سب بکھر گئی۔
مجھ سے اوپر کے طالب علموں میں نجات اللہ صدیقی نے مجھے بہت متاثر کیا۔ وہ مجھ سے دوسال آگے تھے لہٰذا جب میں پہنچا تو وہ کالج چھوڑ چکے تھے۔ لیکن تمام کالج میں ان کی شہرت بہت تھی، اور ہم لوگوں سے کچھ ان کی عزیز داری بھی تھی۔ انھوں نے انٹر میڈیٹ میں سارے یو۔پی ۔ میں نواں مقام حاصل کیا تھا۔ یہ آج بھی بہت بڑی بات ہے، اور اس زمانے میں تو اور بھی بڑی بات تھی، کہ اس زمانے میں طالب علم نسبتہً کم تھے لیکن امتحان بہت سخت ہوتا تھا۔ انٹرمیڈیٹ میں فرسٹ کلاس لانا گویا چاند پر اترنا تھا۔ سیکنڈ کلاس بھی بہت باعزت نتیجہ تھا۔ اکثریت تھرڈ کلاس والوں کی ہوتی تھی۔ پھر نجات اللہ صاحب نے نویں پوزیشن اس وقت حاصل کی تھی جب سارے ملک میں مسلمانوں کے دل مایوسی سے بھرے ہوئے تھے کہ ان کے ساتھ ایمان دارانہ سلوک بہت کم ہوتا تھا ، بلکہ اکثر حالات میں تو ہوتا ہی نہ تھا۔ نجات اللہ صاحب کی شاندار کامیابی سے کچھ ہی کم بڑی بات یہ تھی کہ انھوں نے انگریزی تعلیم جاری رکھنے کے بجاے رام پور میں جماعت اسلامی کے مدرسہ¿ عالیہ میں اسلام اور عربی پڑھنے کا فیصلہ کیا۔
نجات اللہ صاحب ایک بار مجھے اسلامیہ کالج میں پرنسپل صاحب کے دفتر کے سامنے ملے تو میں نے پوچھا کہ آپ یہاں کیسے ، تو انھوں نے اپنے ہاتھ میں ایک کاغذ کی طرف اشارہ کرکے جواب دیا:
” پرنسپل صاحب سے اپنے بارے میں ایک Testimonial(تصدیق نامہ) لینا ہے ، اسی کا ڈرافٹ لایا ہوں۔ “
میں اس وقت لفظ ” ڈرافٹ “ سے ناواقف تھا، کچھ غور کرنے پر سمجھ میں آیا کہ اس طرح کے مسودے کو ، جس پر کسی اور کی منظوری یا دستخط ہونے ہوں ، انگریزی میں ڈرافٹ کہتے ہیں۔ اور یہ بات بھی مجھے متاثر کن لگی کہ اپنے تصدیق نامے کا مسودہ نجات اللہ صاحب خود لائے تھے ، یعنی انھیں اپنے اوپر اس قدر اعتماد ہے اور پرنسپل صاحب بھی ان پر اس قدر اعتبار کرتے ہیں کہ انھیں سے ان کا تصدیق نامہ لکھواتے ہیں۔ چونکہ یہ لفظ ” ڈرافٹ“ میں نے ان سے گویا حاصل کیا تھا اس لیے میں انھیں اپنا استاد سمجھتا ہوں۔ نجات اللہ صاحب موٹے شیشوں کی نیلگونی عینک لگاتے تھے ، اس کا بھی ہم لوگوں پر بڑا رعب تھا۔ بعد میں جب میں جماعت اسلامی سے متاثر ہوا اور نجات اللہ صاحب کبھی کبھی رام پور سے آتے تو ہم لوگوں کا محاسبہ کرتے کہ جماعت کی کتابیں ہم نے کتنی پڑھیں اور ان پر کس حد عمل پیرا ہوئے ۔ یہ سلسلہ جلد ہی ختم ہوگیا۔
میرے ساتھیوں میں سب سے تیز اور لائق لڑکا اظہار عثمانی تھا۔ افسوس کہ وہ پاکستان چلاگیا۔ پاکستان سے اس کے خط کبھی کبھی آئے ، پھر بند ہوگئے۔ اس کا ایک خط واحد بھائی کے پاس آیا تھا جس میں میری بڑی تعریف تھی کہ ان کا مطالعہ ”وسیع اور ہمہ گیر“ ہے۔ واحد بھائی کی رائے میرے بارے میں ایسی نہ تھی اس لیے انھیں یقین کرنے میں مشکل ہورہی تھی کہ اظہار کی مراد مجھی سے ہے۔ انھوں نے اس کا خط مجھے دکھایا اور پوچھا، یہ کون صاحب ہیں جن کا ذکر اظہار صاحب نے کیا ہے۔ پاکستان جانے کے بعد اظہار نے کچھ بہت زیادہ ترقی نہ کی ۔ شاید وہ کسی کالج میں لیکچرر ہوگیا اور پھر بہت جلد اللہ کو پیارا ہوگیا۔ میرا اس کا رابطہ اس وقت سے بالکل ٹوٹ گیا تھا جب میں نے گورکھپور چھوڑا (1953) اس کے مرنے کی خبر مجھے بہت بعد میں ملی۔ پھر اس کے بعد اظہار کا ذکر میں نے پاکستان میں تب سنا جب مظفر علی سیّد سے میری ملاقات ہوئی ۔ دریغا کہ اب مظفر علی سیّد بھی اب ہمارے درمیان نہیں ہیں۔ انھوں نے میرا مضمون ”غبارکارواں“ پڑھا تھا جس میں اظہار کا ذکر تھا۔ انھوں نے بتایا کہ اظہار سے ان کی اچھی ملاقات تھی اور اس کی موت کار حادثے میں ہوئی تھی۔
اظہار کے ساتھ میرے دوسرے لائق دوست عبدالحی¿ خاں، یامین اور ابرار حسین خاں تھے ۔ عبدالحی¿ خاں ڈاکٹر بنے اور تھوڑا بہت تصنیف و تالیف کا شوق انھوں نے کالج کے بعد برقرار رکھا لیکن موت نے انھیں بھی بہت جلد تاک لیا۔ یامین کو شعر گوئی کا ذوق تھا ، ترنم بھی اس کا اچھا تھا۔ بھاری بھرکم ، بذلہ سنج ، کم جاننے والا لیکن زیادہ مرعوب کرنے والا، وہ بھی پاکستان چلا گیا۔ خدا جانے اس پر کیا بیتی۔ ابرار حسین خاں خود کو بہت لیے دیئے رہنے والے ، نہایت ذہین اور شعر فہم ، لیکن بہت جلد پریشان ہوجانے والے ، میرے قریب ترین دوست تھے۔ وہ گورکھپور سے علی گڑھ گئے ، پھر انھوں نے تعلیمات میں پی۔ایچ۔ڈی ۔ کی ڈگری لی ، شاعری میں ابرار اعظمی کے نام سے نام کمایا ۔ اب وظیفہ یاب ہوکر اپنے گاﺅں خالص پور ، ضلع اعظم گڑھ میں رہتے ہیں۔ ان کے ساتھ ہماراگھر کا سا آناجانا اب بھی ہے۔
اقبال انصاری ہم لوگوں سے ایک سال پیچھے تھے لیکن ذہانت اور خوش مزاجی او ر خوش صورتی کے سبب سے ہم لوگوں میں بہت مقبول تھے۔ انھوں نے بنارس میں انجینئرنگ میں داخلہ لیا، لیکن پھر انگریزی میں آگئے اور اقبال اے۔انصای کے نام سے علی گڑھ میں انگریزی کے سربرآوردہ پروفیسر بنے۔ اب بھی وہ علی گڑھ میں ہیں اور اقلیتوں اور انسانی حقوق کے لیے نبرد آزما کئی اداروں سے منسلک یا ان کے سربراہ ہیں۔
ہم سب پر جماعت اسلامی کا تھوڑا ، یا بہت اثر پڑا ۔ اظہار تو بہت جلد کمیونزم کی طرف مائل ہوگیا۔ اس نے تھوڑے ہی عرصے میں مارکس اور لینن کی تصنیفات پڑھ ڈالی تھیں۔ لیکن اس میں کٹر پن کا شائبہ نہ تھا، بڑا عالی دماغ شخص تھا ۔ عبدالحی¿ خاں بھی اشتراکیت کی طرف جھکے ہوئے تھے، لیکن ان کا رنگ ہلکا تھا۔ ابرار اعظمی اور اقبال انصاری دیر تک جماعت کی سرگرمیوں میں شریک رہے۔ دونوں کی مذہبیت اب بھی باقی ہے۔ لیکن جماعت سے وہ تعلق شاید اب نہیں رہ گیا، جماعت کے بارے میں خوش عقیدگی ابرار اعظمی میں بے شک اب تک ہے۔ بی۔اے کا دوسرا سال ختم ہوتے ہوتے (1953) میں جماعت اسلامی سے منحرف ، اور پھر بہت جلد متنفر ہوگیا۔ جماعت سے لگاﺅ کے ساتھ ساتھ ، یا اس کے باوجود ، میں گورکھپور کی انجمن ترقی پسند مصنفین کے بھی جلسوں میں شریک ہوتا تھا۔ وہاں ،اور بعض دوسرے جلسوں میں فراق صاحب کو دیکھنے اور سننے کا موقع کئی بار ملا ۔نامی گرامی ترقی پسندوں کا مداح ہونے کے باوجود مجھے ترقی پسندی کو گلے سے اتارنے (ےا کم از کم گلے سے لگالےنے)کی توفیق کبھی نہ ہوئی۔اس کی ایک وجہ شاید یہ تھی روس،اور پھر سویت یونین نے وسط ایشیاکے مسلمان ممالک پر جو ظلم کیے تھے اور جس طرح اسلامی تہذیب کی بیخ کنی کی تھی ،اس سے میں واقف تھا ۔انسانی حقوق کے احترا م کے سلسلے میں بھی مجھے اسٹالن کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہ تھی ۔
ممکن ہے امتداد زمانہ کے سبب پرانی کہانیاں اب زیادہ رنگین نہ معلوم ہوتی ہوں،مجھے تو یہی لگتا ہے کہ میری طالب علمی کے سب سے اچھے دن وہی تھے جومیں نے میاں صاحب جارج اسلامیہ کالج گورکھپور میں گذارے۔انھیں کو یاد کرکے خوش ہو لیتا ہوں ،ظفر خاں احسن کیا خوب کہہ گئے
زبہر مستیم کے کاربا جام و شراب افتد
مرا از گفتگو ے بادہ سر خوش مہ تواں کردن
٪٪٪٪٪