Mazameen E Sir Sayed

Articles

مضامینِ سر سیّد

سر سیّد احمد خان

 

رسم و رواج​

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لئے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے کیونکہ جن باتوں کی چُھٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اسکے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے، جس چیز کا رواج ہو گیا اور عادت پڑ گئی وہی اچھی ہے اور جس کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے، رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اسکے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا کونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسہ کر لینا نہ چاہیئے بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیئے تا کہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسب رسم و رواج کے ہم کو اسکی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر گاہ معیوب ہونا اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدم رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امیر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے، بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے مگر جبکہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ ہوگا۔ پس ہم کو اس طریقہ کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کو بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیئے۔

سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔

یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیئے تا کہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اسکے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اسکے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

جبکہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسوم و عادات کے ان کا مبدا اور منشا متحد معلوم ہوتا ہے۔

کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں انکا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہے۔ یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبدا معلوم ہوتے ہیں۔جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں انکے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے انکو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر انکے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لندن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندی قواعد سے آتش خانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جائے۔

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جائے اور اگر ہم ان پہلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلا شبہ بمقابل ان قوموں کے جنہوں نے ترقی کی ہے ہم ذلیل اور خوار ہونگے اور مثل جانور کے خیال کئے جاویں گے، پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں، انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور ناتربیت یافتہ قوموں کو ذلیل اور حقیر مثل جانور کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شایستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانور کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے؟ ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیئے۔

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے مگر جب وہ رسمیں اندھے پن سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لئے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اسکی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربہ کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونیکا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادہ کے اور انکی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنیکے بغیر داخل ہو گئی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں، یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجہ کی تہذیب پر پہنچا دیں تا کہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظر تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

جو رسومات کے بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لئے ہیں خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں مگر اتنا فرق بیشک کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہوں، کم ہیں، اور بعضی میں زیادہ، اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے۔ اور بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چُھپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھاری پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں جو اب دنیا میں “سویلائزڈ” یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور در حقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سے رسمیں جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی بر خلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شایستگی کے بھی بر عکس ہیں اور اس لئے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

اس تجربہ سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونۂ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود اِن امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا۔ بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جنکی اصلاحِ دلی مقصود ہے بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہونگے، سب سے اول انکا چیلہ اور انکی پیروی کرنے والا میں ہونگا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجہ کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر انکی اس رائے میں قصور ہے اور انکی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو انکے خیالات ہیں انکی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طور علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالتِ تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہوگی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیوب اور ذلت عائد ہوگی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی بلکہ انکے مذہب پر منجر ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں در حقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسن معاشرت اور خوبیٔ تمدن اور تہذیب اخلاق اور تربیت و شایستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بڑھ کر اُس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔


 

 

خوشامد​

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور انکی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔

خودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جنکی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جسکی تعریف کرتے ہیں اسکے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اسکا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اسکا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔


Last Interview of Nida Fazli

Articles

ندا فاضلی کا آخری انٹرویو

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکرؔ

ذاکر:نِدا صاحب کشمیر کے ساتھ آپ کے بڑے دیرینہ مراسم رہے ہیں، آپ شاید فاضلی سادات میں سے ہیں اور وہ بھی کشمیری فاضلی،آپ کو شاید علم ہوگا کہ برج ناراین چکبستؔ،اقبالؔ، منٹوؔ،کرشن چندر، مہندر ناتھ ، سہگل،ملکہ پکھراج، اُستاد بسم اﷲ خان، راما نند ساگر، جیون ، راج کمار بھی ایسے ہی کسی خاموش تعلق سے کشمیری رہے ہیں،بہرحال آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ندا فاضلی:کچھ سال قبل ایک سیرئیل آیا تھا جس کا نام سیلاب تھا اور اُس کے ڈائریکٹر روی رائے تھے۔اُس میں ایک ٹائٹل گیت بھی تھا جس کا ایک شعر یوں تھا کہ
وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
آدمی اور مٹی کا رشتہ صدیوں پرانا ہے، اس رشتے کو میں علاقہ، مذہب اور زبان سے جوڑنا نہیں چاہتا ہوں میرا آئیڈیل وہ انسان ہے جسے غالب ؔ نے ا نسان کے روپ میں گڑھا تھا۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
میرے خیال سے ادیب، شاعر،نقّاد،سوچنے والا ذہن ماں کی کوکھ سے پیدا ہوجاتا ہے۔لیکن وہ زندگی بھر وراثت کے بوجھ کو گدھے کی طرح لادے ہوئے نہیں چل سکتا۔وہ اپنی وراثت میں کچھ چھوڑتا جاتا ہے اور کچھ جوڑتا جاتا ہے۔ اور اس طرح سے وہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ غالب کے انسان کا رشتہ کشمیر سے بھی ہے، ایران سے بھی ہے، پاکستان سے بھی ہے،امریکہ سے بھی ہے،انگلینڈ سے بھی ہے ۔میرے والد کے پاس ایک شجرہ تھااُس شجرے کی ابتدا ایک فاضل نام کے شخص سے ہوئی تھی۔ممکن ہے کہ فاضل صاحب کشمیر سے آئے ہوں۔نہرو نے بھی ڈسکوری آف انڈیا میں کہا ہے کہ میں پیدا ہوا ایک گھر میں ہندوستانی بن کر اور وہ اتفاق تھا چند مثالوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ علاقائیت یا لسانیت یا مذہبیت ہی منزل کا راستہ ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ نے بار بار اس بات کا اعتراف کِیا ہے کہ آپ کی زندگی اور شاعری کا خمیرسورداس، میرا، کبیر ، نانک، جایسی، خسرو، رس خان، غالب، میر، ولی۔۔۔۔جیسے گنگا جمنی تہذیب کے میناروں سے اُٹھا ہے کشمیر میں بھی اسی تسلسل میں للیشوری، حبہ خاتون، نُند رِشی، شاہ ہمدان، مہجور، غنی کاشمیری،شیخ نورالدین نورانی،روپا بھوانی، رسول میر،کی صوفی روایت کا مستند حوالہ ملتا ہے۔آپ نے ان صوفی سنتوں کو کتنا پڑھا ہے ۔
ندا فاضلیؔ:حقیقتاً آدمی کی نشو نماخود اُس کے عمل سے شروع ہوتی ہے۔اور عمل سے ہی آگے بڑھتی ہے۔آپ جیسے جیسے زندگی کے راستے میں آگے بڑھتے میں آپ کی وراثت میں بہت کچھ شامل ہوتا جاتا ہے۔آپ نے جو نام لیے ہیں وہ صحیح بھی ہیں اُن میں بے شمار پنجاب کے صوفی بھی ہیں،بے شمار مختلف ممالک کے لوگ بھی ہیں اور اُن ہی میں انگریزی کے وہیٹ من بھی ہیں،روس کے پشکِن بھی ہیں،جیکوف بھی ہیں،شیکسپیئر بھی ہیں،اس طرح سے آپ جیسے جیسے زندگی کا سفر کرتے رہتے ہیں آپ کی ذہنی وسعت کے ساتھ ساتھ آپ کی وارثت کا دائرہ بھی پھیلتا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ آپ کا ویژن بھی بڑھتا جاتا ہے۔حقیقت میں آپ جس علاقے میں رہتے ہیں لسانی طور پر اُس علاقے سے وابستہ ہوتے جاتے ہیں۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ سیاست پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں،لیکن کشمیرکو لے کر آپ نے کم و بیش ہمیشہ بات کرنے سے احترازکیا ہے، ایسا کیوں؟
ندا فاضلی:یہ آپ کو کیسے پتہ کہ میں نے کشمیر کے تعلق سے کبھی بات نہیں کی ۔میرا ایک شعر ہے کہ۔۔۔۔ یہاں تو برف گرا کرتی ہے پہاڑوں سے۔۔۔ تمھارے شہر کا موسم دھواں دھواں کیوں ہے
ذاکر:ندا صاحب
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچّے کو ہنسایا جائے
یا
بچہ بولا دیکھ کے مسجد عالیشان
اﷲ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
یہ کون سا منتھن ہے۔ جو بار بار آپ کے یہاں ایک معصوم ترین بچہ آ دھمکتا ہے، آخر یہ کیا ہے؟جو ﷲ/مسجداورمذہب۔ ایک معصوم بچے کے مقابلے کھڑے کر دئے جاتے ہیں۔
ندا فاضلیؔ:پچھلے دنوں گورنمنٹ میرے تعلق سے ایک ڈاکیومنٹری بنارہی تھی تب میں غالبؔ کے مزار پر گیا تھا۔اور میں نے دعا مانگی تھی کہ غالب ؔ اچھا ہوا کہ تم بہت جلدی مر گئے۔اچھا ہوا کہ تم ابھی زندہ نہیں ہو،اگر تم اس وقت زندہ ہوتے تو تم پر سینکڑوں اعتراضات پیدا ہوجاتے۔اور مختلف جماعت والے آپ کو جینے نہیں دیتے۔ندا فاضلیؔ سے یہ شعر کوٹ کر کے سوال پوچھنے والوں سے میں سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ یہ کیا ہے مثلاً
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
یا
اپنوں سے بیر رکھنا تونے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
ذاکر:نِدا صاحب ادب میں ساٹھ ستر کے جدیدیت کے ہنگام کے دنوں میں،آپ نے، عادل منصوری نے، بشیر بدر نے، زیب غوری ، ظفر اقبال نے عجیب سے تجریدی، تجرباتی اور لایعنی اشعار کامحشر بپا کیا تھا،مثلاً
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑی کے پردے کھینچ دئے رات ہو گئی
آخریہ سب کیا تھا؟
ندا فاضلی:مجھے افسوس ہوتا ہے اعترض کرنے والوں پر۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے اجمیر شریف کی دیگ سے ایک چاول نکال کر دیکھا جائے کہ پوری دیگ پک گئی ہے یا نہیں ۔ آپ بھی چند برے اشعار کو یاد کرکے کسی کی پوری شاعری پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔آپ کو پوری شاعری کا مطالعہ کرنا چاہیے۔آپ کو ہر عہد کے شاعر کے یہاں اس طرح کے اشعار ملیں گے۔میرؔ کے چھ دیوان ہیں لیکن ان کا یہ مصرعہ کہ “اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں”ان کی شعری عظمت کے شایانِ شان نہیں ہے۔داغ کے چار دیوان ہیں اُس میں اچھے اشعار بھی ہیں اور برے اشعار بھی ہیں ۔
ذاکر:اب ایک آدھ بات فلم کے حوالے سے،
تُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
یا
ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے
جیسے گیت لکھنے والا نِدا فاضلی آج کہاں ہے؟آپ اچانک آہستہ آہستہ منظر سے ہٹتے چلے گئے،
ندا فاضلی:بات دراصل یہ ہے کہ مجھے کافی دنوں کے بعد احساس ہوا کہ معجزوں میں تو بیک وقت کئی گھوڑوں کی سواری ممکن ہے لیکن حقیقتاً ایک سوار ایک ہی گھوڑے پر سواری کر سکتا ہے۔ساحر لدھیانوی کامیاب فلمی نغمہ نگار رہے ہیں لیکن دو مجموعوں کے علاوہ تیسرا مجموعہ نہیں آسکا،مجروح سلطانپوری کامیاب نغمہ نگار رہے ہیں لیکن ایک مجموعے کے علاوہ دوسرا مجموعہ نہیں آسکا۔ناکام رہنے والوں میں جانثار اختر بھی ہیں جن کی کلّیات اِن دونوں حضرات سے دوگنی یا تگنی ہے۔ندا فاضلی کی کتابوں کی اگر گنتی کی جائے تو ان کی گنتی ہی سے شاید اس سوال کا جواب ممکن ہوجو آپ پوچھنا چاہتے ہیں۔ندا فاضلی ؔنے کئی سمتوں میں سفر کیا ہے ہے اُس نے فلمی گانے بھی لکھے ہیں، ڈائیلاگ بھی لکھے ہیں اور بی بی سی کے لیے کالمس بھی لکھے ہیں۔اس نے کتابیں بھی لکھی ہیں اور مختلف اصناف میں کام بھی کیا ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب اردو زبان اور اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ اردو کی بہتری کے امکانات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ندا فاضلیؔ:دیکھئے اردو جو ہے وہ سیاسی نزلے میں آ گئی ہے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی۔ہمارے یہاں colonial hangover ہے۔ اس سے ہم لوگ ابھی تک باہر نہیں آئے۔ انگریزی کیریئر کی زبان بن چکی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہندوستان میں اردو کے ساتھ ایک مسئلہ آگیا ہے مذہب کا ، جہاں تک رسم الخط کا سوال ہے دنیا کی کئی بڑی زبانیں ایک ہی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔اور وہ ہے رومن رسم الخط ہے۔وہ رشین ہو جرمن ہو میکسیکن ہوامریکن ہوبرٹش ہویا کوئی اور۔لیکن اس کے باوجود ہر زبان کا اپنا ایک لسانی کیریکٹر ہے مثلاً اٹالین جو ہے وہ جرمن سے الگ ہے،جرمن میکسیکن سے الگ ہے،میکسیکن رشین سے الگ ہے۔لیکن مسئلہ اردو کا عجیب ہے۔اردو کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو جاننے والا ہی اردو پڑھ سکتا ہے۔آپ اعراب کا استعمال نہیں کرتے مثلاً ایک لفظ ہے دَانِشوَر اسے کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ اسے دانشُور بھی پڑھ سکتے ہیں دانِشور بھی پڑھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ ہمارا سرمایا اردو میں ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ہمارا سرمایا عربی میں بھی ہے فارسی میں بھی ہے۔جہاں تک املا کی اصلاح کا سوال ہے رشید حسن خاں نے یہ کام شروع کیا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے یہ کام شروع کیا تھا۔لیکن لوگوں نے توجہ نہیں دی آج بھی ہم بین الاقوامی لکھتے ہیں۔آج بھی فارغ الاصلاح عربی انداز میں لکھتے ہیں۔ہمارے یہاں اس زبان کو عوامی بنایا ہی نہیں جا رہا ہے۔یا بنایا نہیں گیا۔اور یہ مسئلہ بہت ہی لجھا ہوا ہے کہ جو موجود ہ سیاست ہندوستان کی ہے کہ ہندو،ہندی، ہندوستان۔بیوقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ ہندی اردو کا ہی ایک نام ہے۔غالب نے اپنے کلام کو کلامِ ہندی کہا ہے۔امیر خسرو کی زبان کا رسم الخط فارسی رسم الخط تھا۔مثلاً
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ ۔۔۔۔ تن میرا من پیو کا دونوں بہے ایک رنگ۔۔۔۔۔ اس میں تن، من، رین ،خسرو ،سہاگ ،یہ زبان ہندوستانی ہے۔یہ وہی زبان ہے جو آگے چل کر ہندی اور اردو کے روپ میں سامنے آئی۔دیکھئے جب تک زبان کا تعلق روزگار سے نہیں جڑے گا تب تک زبان کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔آپ یہ دیکھئے امارت کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔دبئی کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔اس میں اردو اخبار نہیں ہوتا ،تمل ہوتا ہے کنّڑ ہوتا ہے۔انگریزی ہوتا ہے،کیونکہ وہ کاروباری طور پر ان لوگوں سے وابستہ ہیں جو ان تمام زبانوں کو جانتے ہیں۔اردو سب کی زبان ہے اتفاق سے اردو کا علاقہ بھی وہی ہے جو ہندی کا علاقہ ہے۔بنگال میں اردو بنگالی کی زبان نہیں، گجرات میں اردو گجراتی کی زبان نہیں ہے۔کنّڑ میں اردو کنّڑ کی زبان نہیں ہے۔یوپی، بہار، راجستھان، ایم پی یہی ہندی کے بھی گھر ہیں اور یہی اردو کے بھی گھر ہیں۔یہیں خسرو ہیں یہیں غالب ہیں۔یہیں میرا ہیں یہیں کبیر ہیں۔۔۔۔

شکریہ ندا فاضلی ؔصاحب آپ نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے نوازا۔

Global Village and Society

Articles

عالمی بستی اور سماج

پروفیسر طفیل ڈھانہ

 

ہم عالمی بستی کے لوگ ہیں۔ گلوبل ولیج بن گئی ہے دنیا ہماری۔ بڑی بحث تھی اس موضوع پر ، بڑا شور تھا گلوبلائزیشن پر ، مگر اب نہیں ہے۔ اب ہم گلوبلائزیشن کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ پہلے ڈر رہے تھے ، اب تربیت لے رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن والے کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ دنیا سب کے لیے ایک جیسی ہوگئی ہے۔ تبدیلی ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی ہے، معاشی بھی اور اخلاقی بھی۔ کلوننگ، کمپیوٹر، سیٹیلائٹ اور بہت سی ٹیکنالوجی لے کے آئی ہے مابعد جدیدیت ۔ گلوبلائزیشن بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ہم کسی سے بھی رابطہ اور بات چیت کرسکتے ہیں۔ کوئی رکاوٹ نہیں درمیان میں۔ یہ ہے گلوبل وِلیج ۔ جو جغرافیائی سرحدیں نیشنل ازم نے بنائی تھیں وہ اب برائے نام رہ گئی ہیں۔
پہلے بس ایک سرکاری چینل تھالیکن اب سینکڑوں چینلس ہیں۔ خبر پر سرکار جو پابندی لگاتی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ گلوبل وِلیج میں کہاں کیا ہوا ، اب ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اچھا ہے میڈیا آزاد ہوا کیو نکہ ہم دنیا سے علیحدہ نہیں رہ سکتے۔ مگر میڈیا کی آزادی عالمی کارپوریشنوں کا بھی مطالبہ تھا۔ لہٰذا قومی خبروں کا زمانہ گیا۔ عالمی خبروں کا عہد آگیا ہے۔ اس میں بزنس ہے۔ میڈیا والے اطلاعات بیچتے ہیں، ہم خریدار ہیں۔ قومی میڈیا قومی اطلاعات دیتا تھا ، عالمی میڈیا عالمی اطلاعات لے کے آگیا ہے۔ عالمی میڈیا عالمی کارپوریشن لے کے آئی ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ خبروں کے درمیان ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کا اشتہار آجاتا ہے۔ اس لیے ، کیونکہ آزاد میڈیا کارپوریشنوں کا نوکر ہے۔ ہرچینل پر کارپوریشنوں کے اشتہار چلتے ہیں کیونکہ وہ پیسہ دیتے ہیںچینل والوں کو۔ اس بزنس میں کمائی اچھی ہے۔ ساری خبریں، سارے پروگرام عالمی کارپوریشنوں کے پیسوں سے چلتے ہیں۔ خدمت نہیں ، یہ بزنس ہے۔ عالمی کارپوریشن جو دکھائے گی، ہم دیکھیں گے۔ جو بیچے گی ہم خریدیں گے۔ ٹیکنالوجی ملٹی نیشنل کارپوریشن کے پاس ہے۔ چینل والے ٹیکنالوجی خریدنے والے ہیں۔ کارپوریشن نے میڈیا ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے تو اسے فروخت بھی کرنا ہے۔ لہٰذا میڈیا کو آزادی دلائی کارپوریشن والوں نے۔ ہم بھی خوش اور وہ بھی خوش۔
رابطوں کے لیے موبائل فون بنادیا ۔ کمپنیوں نے ہمارے لیے انٹرنیٹ چلا دیا۔ ہم رابطہ کرسکتے ہیں مگر قیمت ادا کرتے ہیں کمپنی والوں کو۔ ہماری ضرورت کا سارا سامان ہے ان کے پاس ۔ لہٰذا وہ بیچے گیں اور ہم خریدیں گے۔ اس لیے کارپوریشن والے گلوبلائزیشن لے کے آئے ہیں۔ زراعت ، صنعت ، تعلیم ، تجارت ، ٹرانسپورٹ میں کارپوریشن آگئی ہے۔ موٹر وے بنایا، بسیں چلا رہے ہیں۔ ریلوے وزیر نہیں چلا سکتے مگر ملٹی نیشنل والے چلا لیں گے۔ بجلی کمپنیاں بنارہی ہیں، گیس ، تیل کمپنیاں نکالتی ہیں۔ ڈیم کمپنیاں بنادیں گی۔ کیونکہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے نہ سرمایہ۔ علم و دانش اور سائنس سبھی کچھ کمپنیوں کے دستِ نگر ہے۔ شہر میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کھلے ہیں، گورمے اور میکڈونلڈ۔ یہاں بھی کمپنیوں کی فروخت ہوتی ہے۔ کمپنی کے مقابلے میں ہماری دکان نہیں چل سکتی۔ عالمی بستی میں ہم پرچون فروش ہیں۔ ہمارے کاروباری اشرافیہ کی اس سے بڑی حیثیت نہیں ہے عالمی معاشی نظام میں۔
مجھے لالہ لال دین یاد آتا ہے۔ لال دین پھیری والا، کپڑا بیچتا تھا۔ شہر سے کپڑا لاکے گاﺅں میں بیچتا تھا لال دین سائیکل پر۔ کبھی سائیکل خراب، کبھی طبیعت خراب۔ پھر یوں ہوا کہ کپڑے کی ایک بڑی دکان کھل گئی گاﺅں میں۔شہر سے آیا ہوا یک بڑا سودا گر تھا وہ دکان کھولنے والا۔ لالہ لال دین بوڑھا ہوگیا تھا، تھک گیا تھا۔ اس نے بڑی دکان پر نوکری کرلی۔ وہ دکان کھولتا، جھاڑو دیتااور مالک کی خدمت کرتا تھا۔اچھا شریف آدمی تھا ، لال دین پھیری والا۔ کاروبار میں کامیابی کادرس دیتا تھا بستی کے نوجوانوں کو۔
عالمی بستی میں ، میونسپل کمیٹی سے بڑی حیثیت نہیں ہے حکومت کی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے حکومت کو جو کام دیا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا کہ ایک میونسل کمیٹی کے پاس ہوتا ہے۔ امن قائم کرو تاکہ ملک میں کاروبار چلے۔ شہروں کی صفائی کرو، ٹریفک کنٹرول کرو۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہنر مند تیار کرو۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ہماری حکومت اتنا کرلے تو اچھا ہے۔ نہیں تو یہ لوگ حکومتوں کا سودا کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔
پچھلی صدی میں حملہ کیا تھا امریکہ نے عراق پر۔ بغداد قدیم تہذیب کی بنیاد والا کلاسیکل شہر تھا۔ برباد کیا نیٹو والوں نے۔ نیٹو فوجی کارپوریشن ہے۔ عراق تنہا تھا ، مگر صدام تنہا نہ تھا۔ کتنے لوگ عراق والوں کے ساتھ تھے، صدام کے ساتھ تھے۔ مگر احتجاج کام نہ آیا۔ کتنے بڑے بڑے جھوٹ بولے تھے بش نے عراق پر حملہ کرنے کے لیے۔
صدام نے اجازت نہ دی تھی کارپوریشن والوں کو عراق میں داخل ہونے کی۔ بس اتنی لڑائی تھی۔ عراق قومی ریاست تھی۔ لوگ خوشحال تھے، اچھا معاشرہ تھا، کارپوریشنوں والے عراق والوںکو لوٹنے آئے تھے۔صدام نے انکار کیا اور دروازے بند کردیئے تھے کارپوریشن والوں کے لیے۔ مگر اندر سے کچھ سیاست پیشہ مل گئے امریکہ والوں کو۔ وہ کارپوریشن والوں کے ساتھ بزنس چاہتے تھے اس لیے اُن کے ساتھ مل گئے۔ عراق کی حکومت میں جو لوگ تھے سارے قتل کیے گئے۔ صدام کو سولی پرچڑھایا گیا۔ کیا جج تھا ، عدالت لگانے والا؟ کیا حکومت تھی عراق میں؟ پارلیمنٹ کی حیثیت میونسپل کمیٹی سے زیادہ نہ تھی اُس وقت عراق میں۔ جمہوریت تو امریکہ میں نہیں، یورپ میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں بھی کارپوریشن کی سلطانی ہے۔ قذافی کو مار کے صحرا میں دفن کیا۔ شام اور یمن میں خانہ جنگی کا دور دورہ ہے۔ کہانی بس اتنی ہے کہ دیواریں گرا رہے ہیں گلوبلائزیشن والے ، اپنی دنیا بنانے کے لیے۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی ” ارد چینل“ شمارہ نمبر 34 صفحہ نمر 58تا 60

Mumbai ki Baz’m AaraiyaN

Articles

بمبئی کی بزم آرائیاں

رفعت سروش

بمبئی بچپن سے میرے خوابوں میں بسا ہوا تھا۔ یہ خواب میرے ساتھ جوان ہوا اور میں نگینہ سے نکل کر اور دو سال دہلی کے دفتروں کی خاک چھان کر بالآخر اپنے بچپن کے خوابوں کے شہر بمبئی پہنچ گیا۔
اسٹیشن کی بھیڑ کو چیرتا ہوا جب میں باہر نکلا تو بوری بندر پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔میں نے جیب سے پتے کا پرچہ نکال کر وکٹوریہ والے سے کہا کہ کھڑک پر زینب چیمبرس چلو ۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دہلی اور بمبئی کا فرق واضح ہوگیا۔ وکٹوریہ کرافورڈ مارکیٹ اور پھر محمد علی روڈ ہوتی ہوئی ، مینارہ مسجد سے کھڑک کی طرف مڑی اور آگے چل کر ایک گندی سی سڑک پر ایک پرانی بلڈنگ کے سامنے رکی۔ یہی میری منزلِ مقصود تھی۔
ذریعہ معاش اور ادبی مشاغل کو میں نے دہلی میں بھی الگ الگ رکھا تھا اور بمبئی میں یہی روش اختیار کی ایک حیثیت سے میری شخصیت کے یہ دو متوازی روپ تھے۔دہلی میں سرکاری دفتروں میں نوکری کرتا تھا اور ادیبوں اور انقلابی دوستوں کے ساتھ شامیں گزارتا تھا۔ مجاز ؔان میں سے ایک تھا۔ دہلی سے چلتے وقت مجھے مجاز نے سردار جعفری کے نام ایک تعارفی پرچہ دیاتھا اور ان الفاظ میں سردار کا غائبانہ تعارف کرایاتھا کہ سردار جعفری ترقی پسندوں کا ظفر علی خاں ہے۔بمبئی پہنچنے کے چند روز بعد جب اس ہنگامہ خیز شہر کی سڑکوں اور راستوں سے کسی قدر واقف ہوگیا تو کھیت واڑی پر کمیونسٹ پارٹی آفس پہنچا۔ میں بلڈنگ کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک دُبلا پتلا پھرتیلا نوجوان بلڈنگ کے چوڑے زینے کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر چڑھنے لگا۔ میں نے اسے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے سردار جعفری سے ملنا ہے۔اس نے کہا،فرمائیے میرا نام علی سردار جعفری ہے۔ میرے ذہن میں علی سردار جعفری نام تھا کسی بھاری بھرکم شخصیت کا ۔
مگر میرے سامنے ایک نوجوان تھا میرے ہی جیسے قد و قامت کا ، کھادی کے کرتہ پاجامہ میں ملبوس اور لمبے بالوں کو انگلیوں سے سنوارتا ہوا ، عمر میں کچھ مجھ سے بڑا ۔خیر میں نے اپنا تعارف کرایا اور مجاز کا پرچہ دیا۔سردار بہت اخلاق سے ملے اور مجھے اپنے ساتھ ’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر لے گئے ۔ ’’قومی جنگ‘‘ کا دفتر کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہی تھا اس لیے وہاں اس وقت کے دانشور ، ادیب اور شاعر موجود تھے اور وہیں سے ’’نیا ادب‘‘ نکلتا تھا۔
سب سے پہلے سردار نے مجھے کیفی اعظمی سے ملایا ۔ میں نے کیفی کی ایک نظم ’’عورت‘‘ پڑھی تھی اور اس کی وہ نظم ’’اب تم آغوش تصور میں نہ آیا کرو‘‘ حال ہی میں چھپی تھی۔ کیفی کی شخصیت پر ایک گو نہ بے خودی سی طاری تھی۔ لہجے میں گہرائی اور ٹھہرائو، آنکھوں میں خلوص ، چہرے پر سکون ۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ پر سکون شخص جب انقلابی نظم پڑھتا ہے تو آواز اور انداز بیان سے الفاظ اور معنی کو مجسم کردیتا ہے اور مجمع پرپہلے تو استعجاب و تحسین کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر وہ بے اختیار ہوجاتا ہے۔
یہ سبطِ حسن ہیں ۔چھریرے بدن،سبک نقوش پہ سوچتی ہوئی آنکھیں، دھیما لہجہ ۔تو یہ ہیں ’’نیا ادب‘‘ کے ایڈیٹر اور مجاز کے پرانے ساتھی۔
یہ ہیں ڈاکٹر کنور محمد اشرف۔ڈاکٹر اشرف کو میں نے بہت پہلے ۱۹۳۵ء یا ۳۶ء میں موانہ ضلع میرٹھ میں دیکھا تھا ۔ کانگریس کے ایک جلسے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں اپنی جگہ جلسے کی صدارت کرنے بھیج دیا تھا۔ ڈاکٹر اشرف کی تقریر کا لطف میرے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ تھا۔ میں نے بڑی عقیدت سے انھیں آداب کیا اور ان کے پروقار مگر بے تکلف انداز گفتگو نے مجھے مسحور کرلیا۔
بنے بھائی ، سیّد سجاد ظہیر _____’’لندن کی ایک رات ‘‘ اور ’’انگارے‘‘ والے سجاد ظہیر سے ملاقات ہوئی ۔کیا متبسم اور پاکیزہ شخصیت ہے اور کیا اپنا پن ہے ان کی باتوں میں ۔ان کی شخصیت کا جادو دل پر چل گیا اور ایسا کہ اب تکاثر باقی ہے۔
’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر کی ایک میز پر محمد علی بیٹھے اور دوسری میز پر علی اشرف ۔ یہ صحافی برادری کے آدمی تھے ، کم سخن لیکن پر خلوص ۔
ان سب لوگوں سے مل کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اپنے گمشدہ کنبے میں آگیا ہوں۔ اتنی اپنائیت مجھے مجاز کے علاوہ اور کسی سے نہیں ملی تھی۔ میں نے ایک دو نظمیں سنائیں جنھیں سبھی نے پسند کیا اور خاص طور پر سردار جعفری نے بہت ہمت افزائی کی۔ پھر تو میرا معمول ہوگیا کہ دوسرے تیسرے دن جب موقع ملتا پارٹی آفس چلا جاتا اور کچھ نہ کچھ اپنے دامن میں لے کر واپس آتا۔
کمیونسٹ پارٹی کے ان لوگوں نے مجھے ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ جس چیز نے خاص طور پر متاثر کیا وہ تھا ان کا خلوص اور بے غرض کام کرنے کا جذبہ۔اکثر لوگ کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے مگر بڑے پیمانے پر انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور جبر و استحصال سے پاک معاشرہ قائم کرنے کی لگن انھیں ہندوستان کے گوشے گوشے سے اس کمیون میں کھینچ لائی تھی جہاں ایک سخت انتظام کے تحت راہبانہ زندگی گزارتے تھے۔ سادہ کھاتے تھے اور موٹا چھوٹا پہنتے تھے ، علمی اور سیاسی مشاغل پر زندگی گزارتے تھے۔ جد و جہد کرتے تھے اور محض اپنے لیے نہیں، ملک اور انسانیت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے ۔ ان کی ادائیگی فرض کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’قومی جنگ‘‘ کے ایڈیٹران سردار جعفری اور کیفی اعظمی وغیرہ پھیری والے کی طرح بھنڈی بازار اور دیگر علاقوں میں اپنا اخبار بیچنے میں گریز نہیں کرتے تھے۔
ہفتہ وار ’’نظام‘‘ کا دفتر ہم چند ادیبوں کا اڈہ تھا۔ قدوس صہبائی تو اڈیٹر تھے ہی ، بہت دلچسپ شخصیت کے مالک تھے ۔ بھوپال سے آئے تھے اور وہاں بائیں بازو کی سیاست سے ان کا تعلق تھا، اس لیے ان کے پرچے کی پالیسی بھی یہی تھی۔ ’’نظام‘‘ کسی پارٹی کا آرگن نہ ہوتے ہوئے بھی انجمن ترقی پسند مصنفین کا آرگن بن گیا تھا اور اس کی ہفتہ وار میٹنگوں کی تفصیلی رپورٹیں باقاعدگی سے اس میں چھپتی تھیں۔ اس کے علاوہ ہم سب ترقی پسند ادیب اپنی منظومات اور افسانے قدوس صہبائی کو فراخ دلی سے ’’نظام‘‘ کے لیے دیتے تھے اور وہ بہت نمایاں انداز میں چھاپتے تھے۔ اکثر کسی نہ کسی ادیب کا فوٹو ’’نظام‘‘ کے سرورق پر ہوتا اور ایک نظم ____یہ پرچہ کئی سال تک بڑے کر و فر سے چلا۔ آج اگر اس کے فائل کسی کے پاس ہوں تو اس زمانے کی ادبی تاریخ مرتب کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک یادگار دور کی سرگرمیوں کو جمع کیا جاسکتا ہے۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں روز شام کو آنے والوں میں تھے ساحرؔ لدھیانوی ، حمید اختر ، ابراہیم جلیس ____ساحرؔ ’’ادب لطیف‘‘ چھوڑ کر لاہور سے اپنی قسمت آزمانے ایک نئی فلم کمپنی میں آگئے تھے (کچھ کلا مندر قسم کا نام تھا اس کا) اوران کے ساتھ حمید اختر آئے تھے جو ساحرؔ کے جگری دوست اور افسانہ نگار تھے ۔ حیدر آباد سے ابراہیم جلیس آگئے تھے۔ ان کا بھی اس فلم کمپنی سے تعلق تھا۔ ابراہیم جلیس بھی بڑے زندہ دل آدمی تھے ۔ ہم لوگوں میں بے تکلف دوستی تھی۔ تقریباً سب ہم عمر تھے اکثر یوں ہوتا کہ ہم لوگ ’’نظام‘‘ کے دفتر میں شام کو ملتے۔ چائے پیتے اور پھر جے جے اسپتال سے پلے ہائوس ہوتے ہوئے بازار حسن سے بے تعلق گزرتے ہوئے بلاسس روڈ آجاتے اور ناگ پاڑے سے اپنی اپنی بس پکڑ کر ادھر ادھر ہوجاتے_____راستے میں دلچسپ فقرے بازی اور لطیفے ہوتے اور پتہ بھی نہ چلتا کہ یہ کئی میل لمبا رستہ کیسے کٹ گیا _____ہم لوگوں کی اس دلچسپ حرکت پر قدوس صہبائی نے ’’نظام‘‘ کے مزاحیہ کالم ’رنگ ترنگ‘ میں چار اونٹ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا _____ انھیں دنوں ابراہیم جلیس نے بمبئی پر ایک رپورتاژ لکھا تھا ’’شہر‘‘ ۔ یہ رپورتاژ بھی ’’نظام‘‘ میں چھپا تھا۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں ہی اسمعیٰل یوسف کالج کے ایک ہونہار طالب علم عالی جعفری سے ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کا گھر دفتر کے بالکل قریب تھا اس زمانے میں انھوں نے غالباً کچھ چینی کہانیوں کے ترجمے ’’نظام‘‘ میں چھپوائے تھے _____بعد میں عالی جعفری نے شاعری اور افسانہ نگاری تو برائے نام ہی کی مگر وہ ایک اچھے معلم ثابت ہوئے اور اب وہ بمبئی کے علمی حلقوں میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ۔
قدوس صہبائی کے دفتر میں ہی بھوپال کے نوجوان جرنلسٹ احمد علی سے ملاقات ہوئی بہت ہی سنجیدہ طبع نوجوان _____اوراب ۱۹۸۲ء میں ان سے کراچی میں ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ ’ڈان‘ کے ایڈیٹر ہیں اور ہاجرہ مسرور کے شوہر۔
انجمن ترقی پسند مصنفین پر شباب آگیا تھا اور اس کی ہفتہ وار نشستیں بنے بھائی کے مکان ۹۶؍ والکیشور روڈ پر نہایت پابندی اور باقاعدگی سے منعقد ہونے لگی تھی۔
اتوار کو دوپہر بعد ہر ادیب و شاعر کا راستہ بنے بھائی کے گھر کی طرف جاتا تھا کوئی باقاعدہ عہدوں کی تقسیم نہیں تھی، سب ممبر تھے۔ حمید اختر نے سکریٹری کاکام سنبھال لیا تھا اور باقاعدہ سچی سچی اور دلچسپ رپورٹ لکھتے تھے ____ ’’قومی جنگ‘‘ کے ادارہ میں ایک کبھی نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہوگیا تھا اور ایک خوشگوار اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ خلا تھا سیّد سبطِ حسن کے ذاتی سلسلے میں امریکہ چلے جانے کی وجہ سے اور خوشگوار اضافہ تھا ،ظ۔ انصاری کی آمد سے۔ دلّی کے پارٹی آفس سے سبطِ حسن کی جگہ ظ۔ انصاری بمبئی لائے گئے تھے_____ظ۔ انصاری ان دنوں انجمن کے جلسوں میں رونق اور تفریح کا سامان بنے تھے ______ظ۔ انصاری (ظل حسین انصاری) میرٹھ کی شیعہ درس گاہ منصبیہ کالج کے پڑھے ہوئے تھے اور کچھ عرصہ پہلے روزنامہ ’’انصاری‘‘ دہلی میں کام کرتے تھے۔ صحافی بھی تھے اور شاعر بھی۔ہماری انجمن کی میٹنگ میں عام طور پر ایک نظم پڑھی جاتی ، ایک افسانہ اور ایک آدھ مقالہ اور کھل کر بحث ہوتی _____بحث کا ایک پیٹرن بن گیا تھا۔ عام طور پر سب سے پہلے ظ۔ انصاری مکتبی قسم کا اعتراض کرتے۔ اس کی ’’ہ‘‘گری ہے ، اس کا ’’الف‘‘ زیادہ ہے، یہ مصرعہ یوں نہیں یوں ہونا چاہیے یا ٹکنیک کمزور ہے اور بحث شروع ہوجاتی۔ جب دوچار آدمی بول چکتے تو سردار جعفری اپنے فیصلہ کن انداز میں مختصر تقریر کرتے _____اور موضوع اور اس کی اہمیت پر زیادہ زور دیتے اور محفل کو اپنا ہم نوا بنالیتے _____لیکن ظ۔ انصاری آخر میں کہتے ’’ مگر میرا اعتراض باقی ہے‘‘۔ ایک میٹنگ کی بات یاد آئی _____ساحرؔ لدھیانوی نے اپنی تازہ نظم ’’جہانگیر ‘‘ سنائی اس کا ایک مصرع تھا :
’’ہم کوئی بھی جہاں نورو جہانگیر نہیں‘‘
مگر ظ۔ انصاری نے کہا ____جہاں نور غلط ہے ۔ مصرع یوں ہونا چاہیے:
’’یاں کوئی نور جہاں اور جہانگیر نہیں‘‘
سردار نے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ مصرع خوبصورت اور رواں دواں ہے اور ’’جہاں نور‘‘ کہنے میں ایک خاص معنویت ہے۔ مگر سب کی سننے کے بعد وہ یہی بولے _____’’میرا عتراض باقی ہے۔‘‘
ان کا اعتراض باقی رہتا اور صاحب صدر میٹنگ کی کاروائی آگے بڑھانے ا شارہ کرتے۔
جب بات زیادہ الجھ جاتی تو بنے بھائی بولتے تھے ۔ جن کا سب لوگ احترام کرتے تھے۔ اصل میں بنے بھائی کی وجہ سے ایک توازن قائم تھا۔ انھوں نے انجمن کے دروازے کسی پر بند نہیں کیے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ سکّہ بند ترقی پسندوں کے علاوہ وہ ادیب اور شاعر بھی ان میٹنگوں میں آئیں جن کا براہ راست تحریک سے تعلق نہیں ہے۔ کاروائی میں حصہ لیں، بحث و مباحثہ ہو اور ذہنوں میں زیادہ کشادگی پیدا ہو، اورحلقۂ ادب اور وسیع ہو۔
یہ ان کی وسیع النظری کا ہی نتیجہ تھا کہ ان جلسوں میں جگرؔ صاحب بھی شریک ہوتے اور یگانہ چنگیزی بھی ، ذوالفقار بخاری اور پطرس بخاری بھی ۔جن کا بائیں بازوں کی سیاست یا ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا ان لوگوں کے کلام اور خیالات کو نہایت احترام سے سناگیا۔ جس میٹنگ میں پطرس بخاری کو خصوسی طور پر بلایا گیا تھا وہ بہت دلچسپ تھی۔ پطرس سے مختلف باتوں کے علاوہ علامہ اقبال کے بارے میں پوچھا گیا _____انھوں نے کئی دلچسپ باتیں بتلائیں۔ مثلاً یہ کہ اقبال کو کسی خاص سیاسی مسلک سے کٹر پن کی حد تک وابستگی نہیں تھی۔ وہ تو شاعر تھے جو کچھ سامنے آیا اس پر نظم لکھ دی۔ کارل مارکس یا لینن کے متعلق ان کی نظمیں پڑھ کر یہ سمجھنا کہ وہ کمیونسٹ تھے غلط ہوگا۔ کہنے لگے ، ایک بار مجھ سے کسی بات پر گفتگو ہورہی تھی جس نے بحث کی شکل اختیار کرلی۔ اگلے دن جو میں علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کہنے لگے میں نے تمہارے بارے میں ایک نظم لکھی ہے اور وہ نظم سنائی ۔ ’’فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘‘۔
بنے بھائی کے گھر کبھی کبھی بہت دلچسپ میٹنگیں ہوتی تھیں۔ جوشؔ صاحب مستقل طور پر تو پونہ رہتے تھے مگر کبھی کبھی بمبئی آتے اور اتوار ہوتا تو پی ڈبلیو اے کی میٹنگ میں ضرور آتے۔ چنانچہ ایک میٹنگ میں آئے تو اپنی برقعہ پوش محبوبہ کو بھی ساتھ لائے اور پورے موڈ میں اپنا کلام سنایا۔ محبوبہ کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھالیا۔ ان سے چہرے سے نقاب اٹھانے کو کہا _____اور خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں سے بھر پور اپنی وہ حسین نظم سنائی۔
’’برقعہ برفگن‘‘ ____یہ نظم ان کے کسی مجموعہ کلام میں چھپی ہے اور کالے برقعہ میں ملبوس بے نقاب مگر محبوب حسن پر کئی معرکتہ الآرا رباعیاں بھی ہیں ____یہ کلام اسی برقعہ پوس حسینہ کارہینِ منت ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کی میٹنگوں کی اہمیت اور افادیت مسلم تھی۔ بمبئی کے سب ادیب نہایت سنجیدگی اور پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ کرشن چندر ، خواجہ احمد عباس، بلراج ساہنی ، رامانند ساگر، اختر الایمان ، نیاز حیدر ، مجروح سلطان پوری، قدوس صہبائی، وشوا متر عادل، پریم دھون اور وہ سب جن کا ذکر گزشتہ صفحات میں آچکا ہے انجمن کے روح رواں تھے ۔
اس زمانے میں ہم لوگوں کی نظمیں انجمن کی میٹنگوں سے چھن کر ہی رسائل میں چھپتی تھیں۔ معقول اور تعمیری تنقید کی روشنی میں نظر ثانی کی جاتی تھی ____ نظریاتی بحث پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین بمبئی کا خوشگوار دور اس وقت تک جاری رہا جب تک بنے بھائی بمبئی رہے۔ ان کے ترکِ وطن کرنے کے بعد انجمن کے جلسوں کی جگہ اور نوعیت بھی بدل گئی اور وہ وقت کے سخت تھپیڑے کھانے لگی۔
بمبئی جد و جہد آزادی کا اہم مرکز تھا۔ اس شہر نے خلافت کا شباب دیکھا۔ یہیں انڈین نیشنل کانگریس کے بہت سے اہم جلاس ہوئے _____خاص طور پر ۱۹۴۲ء کا وہ اجلاس جس میں ’’ہندوستان چھوڑو دو‘‘ ریزولیشن پاس ہوا اور جس کے نتیجے میں پورا ملک انقلاب زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا اور انگریزی سامراج کو پسینے آگئے_____۱۹۴۶ء میں ملاحوں کی ہڑتال کا مرکز یہی شہر تھا جس نے برٹش حکومت کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ مسلم لیگ کی سیاست کا مرکز یہی شہر تھا جس کی سرگرمیوں کی وجہ سے آخر کا ر ملک تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔
بھلا اس شہر میں جشن آزادی نہ منایا جاتا تو کہاں منایا جاتا _____تین دن اور تین رات یہ شہر مسلسل جاگتا رہا اور لوگوں نے جھوم جھوم کر جشن آزادی منایا۔ بسوں اور ٹراموں میں وہ بھیڑ کہ خدا کی پناہ ،راتیں دن کو شرماتی تھیں اور پورا شہر بقعۂ نور بنا ہوا تھا ______ادیبوں اور شاعروں اور فنکاروں نے کھل کر آزادی کے گیت گائے _____سردار جعفری نے اپنی توانا آواز اور نظم آزاد کے لہجے میں پکارا:
ناگہاں شور ہوا
لو شبِ تار غلامی کی سحر آپہنچی
اور مطرب کی ہتھیلی سے شعائیں پھوٹیں
ان دنوں پریم دھون کا ایک گیت جسے اپٹا کے کلاکاروں نے پریم دھون کے ساتھ گایا تھا _____بہت مقبول ہوا اور بچے بچے کی زبان پر تھا :
ناچو آج ، گائو آج ، گائو خوشی کے گیت
اندھیارے کی ہار ہوئی ہے اجیارے کی جیت
(کچھ عرصے بعد مجروح سلطان پوری نے اس مکھڑے کو پریم دھون کی اجازت سے ذرا سی تبدیلی کے ساتھ ایک فلم کے گیت کا مکھڑا بنا دیا۔ جس میں دوسرا مصرع بدل دیا گیا تھا۔
’’آج کسی کی ہار ہوئی ہے آج کسی کی جیت‘‘
یہ گیت مکیش نے گایا تھا۔
آزادی آئی لیکن لہو لہان ______
بہت جلد یہ خوشی ماتمی دھن میں بدل گئی جب پنجاب اور دہلی کے قتل و غارت کی خبروں نے فیضؔ کے ان مصرعوں کی تفسیر پیش کردی:
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
تو بنے بھائی کا گھر ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور آزادی کے بعد انجمن کے جلسوں میں نیا جوش و خروش آگیا تھا _____کچھ ادیب چلے گئے تھے اور بہت سے ادیب ادھر ادھر سے بمبئی آگئے تھے۔ لکھنؤ سے ممتاز حسین ایک خوشگوار اضافہ تھے، جن کی تنقید بہت گاڑھی اور ادق ہوتی تھی۔بنے بھائی اپنے مخصوص متبسم انداز میں کہا کرتے تھے کہ ممتاز حسین ترقی پسندوں کا محمد حسن عسکری ہے۔ ساحرؔ اور حمید اختر اور ابراہیم جلیس چلے گئے تھے۔ (ساحرؔ کچھ عرصہ بعد پھر بمبئی واپس آئے) اور اب انجمن کے جلسے کی رپورٹیں مہندر ناتھ لکھتے تھے۔ مہندر ناتھ بھی مشہور افسانہ نگار تھے۔ اس لیے حمید اختر کی طرح ان کی رپورٹوں میں بھی ادبی چاشنی ہوتی تھی _____ اور ’’نظام‘‘ ویکلی کے بند ہونے کے کچھ دن بعد ’’شاہد‘‘ ویکلی نکلا تھا جس کے مالک سلطان صاحب تھے اور ایڈیٹر عادل رشید۔ یہ ویکلی رسالہ جب تک چلا ترقی پسند مصنفین کا غیر سرکاری آرگن بنا رہا۔
پنجاب سے کئی ادیب آگئے تھے جن کی آمد سے بمبئی کی ادبی فضا میں اور گیرائی پیدا ہوگئی تھی _____رامانند ساگر آئے اپنے ناول ’’اور انسان مر گیا ‘‘ کے ساتھ۔ انھوں نے اس ناول کی کئی قسطیں انجمن کے جلسوں میں پڑھیں۔ یہ ناول فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس پر بہت بحثیں ہوئیں اور رامانند ساگر کے قنوطی نقطۂ نظر سے کھل کر اختلاف کیا گیا اور کہا گیا کہ انسان اس قتل و غارت کے باوجود زندہ ہے _____بلراج ساہنی کے چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی بھی بمبئی آگئے۔ وہ ہندی ادیب ہیں اور اب ایک عرصہ سے دلی رہتے ہیں۔ ذاکر حسین کالج میں پڑھاتے ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین اور آفرویشیائی رائٹرس کانفرنس کے سرگرم رکن ہیں _____مگر وہ بمبئی میں اتنے نمایاں نہیں ہوسکے تھے۔
آزادی کے کچھ سال قبل پونہ اردو ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا۔ ڈبلو زیڈ احمد نے شالیمار فلم کمپنی بنائی تھی جس کی مشہور فلمیں تھیں ’’ من کی جیت‘‘ اور ’’غلامی‘‘ ۔ اس فلم کمپنی میں جوش ملیح آبادی ، ساغر نظامی، کرشن چندر، اختر الایمان ، مسعود پرویز ، بھرت ویاس اور اردو ہندی کے کئی ادیب اور شاعر تھے _____ مگر اس کمپنی کا شیرازہ آہستہ آہستہ بکھرا تھا اور ایک ایک کرکے سبھی ادیب اور شاعر بمبئی آگئے تھے۔تقسیم وطن سے کچھ دن پہلے ،جاز بھی کچھ عرصے کے لیے بمبئی آئے تھے اور کھیت واڑی کمیون ہی میں ٹھہرے تھے۔
۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء _____بمبئی کی ایک نہایت خوشگوار اور پربہار شام ۔ ریڈفلیگ ہال میں ایک ایسی مبارک تقریب ہے جس میں کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کے علاوہ اردو کے بیشتر ادیب و شاعر جمع ہیں۔ عورتوں نے بالخصوص زرق برق لباس پہنے ہیں۔ آج علی سردار جعفری اور سلطانہ بیگم کی شادی ہے _____ پارٹی کی رسم کے مطابق دو کمیونسٹ ممبران کی شادی ____ہال کھچاجھچ بھرا ہوا ہے _____رسم تو پوری ہوچکی ہے۔اب احباب مبارکباد دے رہے ہیں۔ نئے جوڑے کو تحائف پیش کررہے ہیں۔ میراجی نے ایک نظم پڑھتے ہوئے نئے جوڑے کو ایک دلچسپ تحفہ دیا ہے _____بک شلف ، لکڑی کے دو خوبصورت مینڈھے ۔ آمنے سامنے ۔ ممتاز بہن اور ملک نورانی نے بجلی کی کیتلی دی ہے تاکہ چائے فوراً تیار ہوسکے _____(یہ دونوں میاں بیوی ہم سب لوگوں کے بہت پیارے دوست تھے۔ اب بھی ہیں مگر کراچی میں) کیفی اعظمی نے اس موقع پر چھوٹی سی خوبصورت تقریر کی ہے کہ میں نے سردار جعفری سے بہت کچھ سیکھا مگر ایک چیز میں نے ان کو سکھائی ____شادی کرنا _____اور کیفی نے ایک خوبصورت نظم پڑھی :
یہ خوبصورت تقریب اختتام کے قریب تھی کہ ریڈیو پر شام کے چھ بج کر دس منٹ کی خبریں سنتے ہی ہندی کے مشہور ادیب رمیش سنہا مائک پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ گاندھی جی کی پرارتھنا سبھا میں انھیں کسی نے گولی ماردی _____مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے اور ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اس زمانے کی فضا کو دیکھتے ہوئے یہی خیال ہوتا ہے کہ کسی مسلمان نے گولی ماردی ہوگی۔ اور اس خیال کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ فساد کی آگ یک لخت بھڑک جانے کا اندیشہ ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔ گاندھی جی کی موت کی خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل جاتی ہے _____بسیں اور ٹرامیں بند ہیں۔ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ہوگیا ہے۔ جہاں یہ خوبصورت تقریب منائی جارہی تھی ، کھیت واڑی پر ہے۔ ذرا دو قدم پر گولی پیٹھا ____پھر بھنڈی بازار۔ ساغر صاحب نے زوردار شیروانی پہن رکھی ہے اور ذکیہ بھابی نے غرارہ۔ میرے بھائی امتیاز بھی شیروانی میں ملبوس ہیں۔ ظاہر ہے ایسے موقعوں پر آدمی اپنے لباس سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ ہم لوگ گلی گلی ہوتے ہوئے کسی طرح اپنے گھر کھڑک پہنچتے ہیں ، سب دم بخود ہیں کہ دیکھئے اب کیا ہونے والا ہے۔ اس وقت ریڈیو اتنا عام نہیں تھا کہ گھر گھر سٹ یا ٹرانزسٹر ہوں۔ ہمارے پڑوس میں ریڈیو بج رہا تھا اور سب لوگ اس کی آواز پر کان لگائے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی آواز آئی کہ ایک پاگل نے باپو کو گولی ماردی _____ اس کا نام ناتھو رام گوڈسے بتایا گیا تو سب کی جان میں جان آئی اور اس فساد کا خطرہ ٹلا جو ہمارے ذہنوں پر منڈلا رہا تھا۔
بنے بھائی کے بمبئی سے چلے جانے کے بعد بمبئی کی ادبی فضا تیزی سے بدلی۔ اگرچہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں نام نہاد عہدوں کی تقسیم نہیں تھی اور اپنی اپنی بساط اور حیثیت کے مطابق سبھی خلوص دل سے کام کرتے تھے۔مگر ظاہر ہے سربراہی کا سہرا سجاد ظہیر ہی کے سر تھا۔ ان کے چلے جانے کے بعد یہ ذمہ داری علی سردار جعفری کے سر آگئی _____ان دونوں شخصیات میں بہت بڑا فرق تھا۔ میرے نزدیک بنیادی بات یہ تھی کہ بنے بھائی کو اپنے ادبی کیریئر کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کا ایک مقام متعین تھا جو صرف ان کے لیے مخصوص تھا (اور اسی لیے ان کی جگہ آج تک خالی ہے) وہ اپنی ذات سے بے نیاز ہوکر ادب ، ادیب اور معاشرے کی بہبودی کے لیے کام کرتے تھے۔ مگر سردار جعفری کی شخصیت زیرِ تشکیل تھی۔ بے شک وہ ترقی پسند مصنفین کے بہترین وکیل تھے اور ان کے زورِ خطابت کے آگے اچھے اچھوں کی دلیلیں بے وزن ثابت ہوجاتی تھیں۔ مگر ان کی مشکل یہ تھی کہ بحیثیت شاعر وہ اپنی شخصیت منوانے میں منہمک تھے اور اس وقت شعرا کی صفوں میں ان سے کہیں زیادہ مقبول شعرا موجود تھے۔ مخدومؔ محی الدین ، فیضؔ، جذبیؔ، جاں نثار اخترؔ، اختر الایمان _____اور ذرا ادھر دیکھئے تو ن۔ م۔ راشد اور میراجی _____یہ سب کم و بیش سردار جعفری کے ہم عصر تھے۔ مگر اس وقت کے تنقیدی شعور نے ان شعرا کو قابل توجہ تسلیم کرلیا تھا اور ادبی رسائل ان کے ذکر سے بھرے رہتے تھے۔ ان سب نے شاعری کی نئی جہتیں تلاش کی تھیں، جبکہ سردار جعفری کا کوئی خاص تذکرہ نہیں کیا جاتا تھا اور نہ سردار کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سامنے آیا تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’پرواز‘‘ شاید ۱۹۴۵ء میں چھپا تھا جس کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ سردار جعفری کی جس کتاب نے ایک گروہ (یعنی ترقی پسند) کے ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ ان کی طویل نظم ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ ہے جس میں سردار نے روایتی شاعری کی ڈگر سے ہٹ کر آزاد نظم کی تکنیک کو برتا۔ اگرچہ ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ کی آزاد شاعری میں راشد کی شاعری جیسا سحر انگیز آہنگ اور تہہ داری تو نہیں ہے مگر ایک شکوہ ہے اور مکالماتی قوت ہے جو سردار کے شعری آہنگ کو ممیز کرتی ہے _____مگر ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ غالباً اوائل ۱۹۴۷ء میں چھپی ہے اور اردو میں کسی کتاب کو مقبول ہوتے ہوتے دو تین سال تو لگ ہی جاتے ہیں۔
غرض سردار کے ہاتھ میں انجمن کے زمام آتے ہی اس کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگے اور آہستہ آہستہ وسیع النظری اور ادبی رواداری میں کمی آنی شروع ہوئی۔ مگر اس کا احساس شروع شروع میں اس لیے نہیں ہوا کہ ملک کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور بین الاقوامی تبدیلیوں کا دبائو بھی انجمن کی کارکردگی پر پڑنا لازمی تھا۔ اب مقصدیت کی سلپ ہر تخلیق کے ماتھے پر چپکائی جانے لگی اور ادبی محاسن کو طاق میں رکھنے کا چلن شروع ہوگیا اور سردار جعفری کی شہرت نے فراٹے بھرنے شروع کیے۔ ان کے نثری مضامین ان کی پشت پناہی کا فرض انجام دینے لگے اور انھوں نے فیضؔ کی :
’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘
والی نظم کو رجعت پرستانہ قرار دیا اور دلیل دی کہ آزادی کے اجالے کو داغ داغ تو مسلم لیگ بھی کہتی ہے اور آر ایس ایس بھی _____چونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ تاثر ’’عوام‘‘ کا ہے اور نظم واضح نہیں ہے۔ اس لیے ترقی پسند نہیں ہے (اس وقت میرے سامنے وہ مضمون نہیں ہے مگر سردار کے اس مضمون سے سب اہل نظر واقف ہیں) سردار کے ان ترقی پسندانہ تجزیوں نے ان کے لیے ایک نئی راہ کھول دی اور انھوں نے ’’نیا ادب‘‘ میں ’’دار و رسن‘‘ کے عنوان سے جارحانہ مضامین کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس میں شعرا کی تخلیقات کا جائزہ لے کر انھیں دار و رسن پر چڑھایا جاتا تھا اور سادہ لوح قارئین سے کہا جاتا تھا کہ ان کی شاعری زہرناک ہے۔ مضامین اٹھا کر دیکھئے ، کون کون سولی پر نہ چڑھا یا گیا۔ حیدر آباد میں مخدومؔ کو چھوڑ کر باقی سب شاعر ، پنجاب میں احمد ندیم قاسمی کو بھی نہیں بخشا گیا ، بمبئی میں ساغر نظامی کو بھی در پر کھینچ دیا _____اور سردار کے ان کارناموں کی اتنی واہ واہ ہوئی کہ اس وقت کے نئے شاعروں اور ادیبوں کی عاقبت خراب ہوئی سو ہوئی ، اچھے خاصے مقبول شاعر اور ادیب بھی اپنی اپنی روش سے بہک گئے:
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ
جیسی مرصع شاعری کرنے والے شاعر نے مطلع نکالا:
امن کا جھنڈا اس دھرتی پر کس نے کہا لہرانے نہ پائے
ہے یہ کوئی ہٹلر کا چیلا ، مار لے ساتھی جانے نہ پائے
اس دور کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو ، غزل کا شعر:
اس طرف روس، ادھر چین ، ملایا ، برما
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
تو میں عرض کر رہا تھا کہ آزادی کے کچھ ماہ بعد علی سردار جعفری انجمن کے سربراہ بن گئے جسے انھوں نے شخصیت سازی کے لیے استعمال کیا _____کچھ عرصہ بعد بمبئی کی ادبی محفل میں کچھ اور لوگ بھی آگئے _____راجندر سنگھ بیدی آئے مگر وہ جلسوں میں آتے تو تھے ، نئے افسانے نہیں پڑھتے تھے۔ انھوں نے کہیں لکھا ہے کہ وہ ایک عرصہ تک خاموش رہے اور اس نئے ماحول میں نیا پیرایۂ بیان تلاش کررہے تھے۔ بیدی بھی فلم انڈسٹری میں آئے اور کرشن چندر کے برعکس ان کی فلمی زندگی کامیاب رہی۔ ساحر لدھیانوی لاہور سے ’’نیا سویرا‘‘ اور دہلی سے ’’شاہراہ‘‘ جیسے معیاری ادبی پرچے نکالنے کے بعد واپس بمبئی آگئے ____اور جدو جہد کی دلدل میں پھنس گئے _____جب یک مضبوط جگہ کھڑے ہوگئے تو پھر ادب کی طرف مائل ہوئے _____ بھوپال سے جاں نثار اختر ، کالج کی نوکری چھوڑ کر بمبئی آئے۔ جاں نثار اختر بھی ’’مقصدیت زدہ ‘‘ ادب کا شکار ہوئے اور بہت دن تک ایسی سپاٹ نظمیں کہتے رہے جو ان کے اپنے رنگ و آہنگ سے مطابقت نہ رکھتی تھیں اور جن پر وہ ’’راہ راست‘‘ پر آنے کے بعد شرماتے ضرور ہوں گے۔ کیونکہ صفیہ کے انتقال کے بعد جاں نثار اختر کی شاعری کا نیا جنم ہوا اور ان کی دل میں اتر جانے والی نظمیں اور غزلیں ’’خاک دل‘‘ اور ’’پچھلا پہر‘‘ میں شائع ہوئیں جن کے ذریعے جاں نثار اختر نے اپنی بازیافت کی ______ورنہ پہلے مجموعہ کلام ’’سلاسل‘‘ کے بعد ان کا مجموعہ ’’جاوداں‘‘ بہت کمزور اور وقتی قسم کی نظموں پر مشتمل ہے۔ یادش بخیر جاں نثار اختر بہت مخلص آدمی تھے۔ نہایت شریف اور دلچسپ اور خوددار انسان۔ جانے کیسے کیسے سہانے خواب دیکھ کر بھوپال سے بمبئی آئے تھے مگر یہاں انھیں ٹھکانہ ملا تو جے جے اسپتال پر آرکیڈیا بلنڈنگ کے ایک کمرہ میں جو ایک دھان پان سے بزرگ خلیل صاحب کا کمرہ تھا ۔ جاں نثار مدتوں وہیں رہے۔ اسی کمرے میں انھوں نے صفیہ کے محبت بھرے خط پڑھے۔ بستر مرگ سے اپنی چہیتی بیگم کے خط ، جن میں تقاضا ہوتا تھا ، التجا ہوتی تھی کہ تم آجائو اور مجھے موت کے منہ سے نکال لو۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ____اسی کمرے میں جاں نثار اختر نے صفیہ کی موت کے بعد ان خطوط کو ترتیب دے کر ’’زیرِ لب‘‘ چھاپی ____پھر کچھ عرصہ بعد اسی کمرے میں گوالیار سے نئی محبوبہ خدیجہ کو بیاہ کر لائے _____جاں نثار اختر مدتوں ساحر لدھیانوی کی پرچھائیں بنے رہے۔ یہ عالم ہوگیا تھا کہ اگر کوئی ان سے کہتا کہ جاں نثار کچھ سنائو ____تو وہ جواب میں کہتے تھے _____’’ ہاں پہلے ساحرؔ سے ان کی تازہ نظم سنو‘‘ ____ جاں نثار نے فلمی گانے بھی لکھے ۔ بہو بیگم فلم بھی بنائی ____مگر دولت مند کبھی نہ بن سکے ___ بس اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔ ترقی کرکے آرکیڈیا بلڈنگ کے کمرے سے باندرہ کرایے کے فلیٹ میں چلے گئے تھے اور بس ‘ ہاں آخری عمر میں ان کی شاعری پر جوانی آگئی تھی اور انھوں نے وہ قرض چکا دیا جو اردو شاعری کا ان کے سر تھا۔
ذکر تھا انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں کا اور درمیان میں آگئے کچھاحباب ۔ اب انجمن کے جلسوں کی مستقل جگہ ۹۶؍ والکیشور روڈ ختم ہوگئی تھی اور کچھ دن ہمارے جلسے اوپیرا ہائوس پر دیودھر اسکول آف میوزک کے ہال میں ہوئے۔ ملک کے حالات کروٹیں بدل رہے تھے اور حکومت وقت کی تنقید ترقی پسندی کا منصب قرار پایا تھا اور اسی مناسبت سے ترقی پسند ادیبوں پر حکومت کی کڑی نظر تھی۔ نشستوں میں اور پبلک جلسوں اور مشاعروں میں گرم نظمیں اور دھواں دھار تقریریں ہونے لگیں اور نوبت سربرآوردہ ادیبوں کی گرفتاریوں تک پہنچی۔ بلاسس روڈ پر پروفیسر سامری کے مشاعرے میں لائوڈ اسپیکر کے اوقات کے خلاف ورزی کرنے کے جرم میں نیاز حیدر اور مجروح سلطان پوری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوگئے۔ نیاز تو جلد ہی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے مگر مجروح سات آٹھ ماہ تک روپوش رہے۔ لیکن ایک دن مستان تالاب کے مشاعرے میں مجروح شریک ہوئے ۔ مطلع پڑھا:
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے
ترا ہتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
اور جب مشاعرہ ختم ہوا تو خفیہ پولیس کے انسپکٹر نے مجروح کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
مجروح کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اس وقت وہ مالی دشواریوں کا شکار تھے ۔اس نازک وقت میں راجندر سنگھ بیدی نے مجروح سے حق دوستی نبھایا اور سات آٹھ مہینے ، جتنے دن مجروح جیل میں رہے بیدی نے کفالت کی۔
تھوڑے دن بعد سردار جعفری کو پولیس ان کے گھر سے پکڑ لے گئی اور وہ کئی ماہ آرتھر روڈ جیل میں رہے۔ سردار نے پتھر کی دیوار والی اکثر نظمیں اسی جیل میں لکھی ہیں جن میں ذاتی غم اور یادوں کی چاشنی ہے۔
ظ۔ انصاری اور بلراج ساہنی بھی گرفتار ہوگئے مگر کچھ دن بعد سنا کہ یہ دونوں انقلابی جیل میں جاکر اس قدر صلح پسند ہوگئے کہ ’’مشروط‘‘ طور پر رہا کردیے گئے۔ مگر رہائی کے بعد ان دونوں کے رخ بدل گئے۔ بلراج ساہنی نے تو ’’اپٹا‘‘ کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرکے فلمی لائن اختیار کرلی۔ فلم ’’ہم لوگ‘‘ میں بہت عمدہ رول ادا کیا اور اداکاری کی اعلیٰ منزلیں طے کرنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انھوں نے تھیٹر کا شوق پورا کرنے کے لیے اپنے مکان پر ہی ’’جوہو آرٹ تھیٹر‘‘ بنیاد ڈالی جو شاید اب تک چلتا ہے۔
ظ۔ انصاری جو کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر تھے ، اب پارٹی کی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں بھی ان کا گزر نہیں تھا۔ اب وہ ’’انقلاب‘‘ اخبار کے ادارہ سے وابستہ ہوگئے اور کچھ ادھر ادھر کے کام کرتے نظر آئے جیسے کسی سرمایہ دار کو ٹیوشن پڑھانا وغیرہ وغیرہ۔
ظ۔ انصاری نے ادھر ادھر پیر مارنے شروع کیے۔انھیںدنوں ان کے انشائیوں کی کتاب چھپی ’’ورق ورق‘‘ وہ شمع والے حافظ محمد یوسف کے ہفتہ وار اخبار ’’آئینہ‘‘ کی ادارت کرنے دلی آگئے۔ اور وہاں سے ماسکو پرواز کی۔ بہر حال بمبئی ان سے اور وہ بمبئی سے چھوٹ گئے، ایک لمبے عرصے کے لیے ۔اب تو ظ۔ انصاری پھر بمبئی آگئے مگر ان کے مشاغل اب دوسرے ہیں۔ اب تو وہ خیر سے پروفیسر ظ۔ انصاری ہیں اور بمبئی یونیورسٹی کے قابل ذکر استاد۔
ادیبوں اور شاعروں کی گرفتاریوں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا تھا اور عوام میں جوش و خروش کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی تھی۔ اس امر کا سب سے شاندار مظاہرہ سردار جعفری کی گرفتاری کے موقع پر ہوا۔ انجمن کی ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ رمیش سنہا نے کہا کہ ’’ سردار جعفری رہائی تحریک ‘‘ چلائی جائے۔ شاہد لطیف نے ایک چھوٹا سا تاثراتی مضمون پڑھا جس کا ایک جملہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ آج ایسا لگتا ہے کہ کرشن چندر سردار جعفری کے بغیر یتیم ہوگئے ہیں۔ دراصل اس زمانے میں ہم لوگ خوش فہمی کے شکار تھے کہ انقلاب اب آیا ۔ سب یہی سوچتے تھے کہ :
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
سردار کی غیر موجودگی میں انجمن کی کمان کیفی اعظمی نے سنبھالی۔ پہلے وہ صرف نظمیں پڑھتے تھے۔ اب جلسوں میں تقریر کرنے لگے۔ کیفی کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ جب سردار جعفری جیل سے چھوٹ کر آئے تو انھیں دوبارہ اپنے مقام پر کھڑے ہونے میں جد و جہد کرنی پڑی
انجمن کے دیودھر اسکول کے جلسوں میں میراجی بھی اکثر آتے تھے۔ وشوا متر عادل جو لاہور، اور اس کے بعد میراجی کے نقش قدم پر چلنے والے شاعروں میں سے تھے اب یکسر بدل گئے تھے اور اچھی خاصی علامتی شاعری کو چھوڑ کر دو اور دو چار کی شاعری کرنے لگے تھے اور وقتی واہ واہ کے پیچھے بھاگنے لگے تھے۔ ان کی اس ’’تالیف قلب‘‘ میں اپٹا کی ایک کلاکار سے دوستی کا بھی ہاتھ تھا اور سننے میں آیاتھا کہ در اصل میراجی اور وشوا متر عادل میں معاصرانہ نہیں ، رقیبانہ چشمک شروع ہوگئی تھی۔ بہر حال حقیقت کچھ ہو، عادل گھٹیا شاعری کرنے لگے اور آہستہ آہستہ شاعری کے اسٹیج سے دور چلے گئے۔
دیودھر ہال میں ہی وہ جلسہ ہوا جس میں عصمت چغتائی نے قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا خاکہ اڑایا تھا اور ’’پوم پوم ڈارلنگ‘‘ کے عنوان سے عینی کے فن اور ان کی افسانہ نگاری کو نشانۂ ملامت بنایا تھا اور سب ترقی پسندوں نے بغلیں بجائی تھیں۔ عصمت کے اس مضمون کی بہت دنوں تک دھوم رہی تھی۔
دیودھر ہال میں ہی انجمن ترقی پسند مصنفین کا وہ جلسہ جس میں خواجہ احمد عباس کی خبر لی گئی ، انھیں رجعت پسند کہا گیا تھا اور جب سب کی سننے کے بعد خواجہ صاحب نے جوابی تقریر میں کہا تھا : ’’ ساتھیو ! اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھو کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ٹھیک ہے۔‘‘تو گیت کار شیلندر نے کہا تھا کہ ضمیر کو دیکھنے کے لیے کون سی سرچ لائٹ ہوتی ہے، ہمیں نہیں معلوم اور رمیش سنہا نے کہا تھا کہ جب عباس ہمیں ’’ساتھیو !‘‘ کہہ کر خطاب کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس ریاست کا وزیر اعلیٰ ہم سے مخاطب ہے۔ (یعنی ہم عباس کو اپنا ساتھی ماننے کو تیار نہیں ہیں)۔
دیودھر اسکول کے بعد صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ میں ، جی پی او کے سامنے کوٹھاری مینشن میں اور آخر آخر میں کمیونسٹ پارٹی کے کمیون کے ہال میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ہفتہ وار جلسے ہوتے رہے۔ حاضری کبھی کم ہوتی تھی ، کبھی زیادہ۔ بعض بعض ہفتے چار پانچ آدمی ہی آئے مگر جلسہ ضرور ہوا۔ لیکن اس باقاعدگی کے باوجود انجمن دن بہ دن بے روح ہوتی جارہی تھی۔ تازہ تخلیقات پر تنقید میں وہ ادبی دیانت داری اور مخلصانہ رویہ مفقود ہوتا جارہا تھا جو کبھی انجمن کا طرۂ امتیاز تھا۔ اب یا تو نظرانداز کرنے کی توہین آمیز پالیسی پر عمل کیا جاتا، یا لٹھ مار تنقید کی جاتی تھی۔ کچھ جلسے بڑے معرکتہ الآرا ہوئے جن کی تلخ و شیریں یادیں اور تاثرات ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔
اختر الایمان ، میراجی ، مدھو سودن اور ظ۔ انصاری ، ان چار ادیبوں کی ادارت میں ایک ماہانہ رسالہ ’’خیال‘‘ نکلا۔ خالص ادبی اور معیاری رسالہ ادھر ’’نیاادب‘‘ نکل رہا تھا جس پر کمیونسٹ پارٹی کے نظریات کا غلبہ تھا اور معیاری اور دار و رسن کا بازار گرم تھا۔ جس پرچے کے ایڈیٹر میراجی ؔ ہوں اس میں جنسیات زدہ ادب کا نہ چھپنا تعجبات میں سے ہے ۔’’خیال‘‘ ہمہ رنگ ادبی رسالہ تھا۔ اور اس میں سیاسیات کا گزر نہیں تھا۔ پرچے کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی جو ’’نیاادب‘‘ کی ساکھ پر اثر انداز ہوسکتی تھی چنانچہ دار و رسن والے خدائی فوجدار بن کر میدان میں نکل آئے۔ بمبئی جیسے لاکھوں کی آبادی والے شہر میں مٹھی بھر اردو کے ادیب و شاعر تھے۔ صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں حشر برپا ہوا اور سب اپنے اپنے اعمال نامے لے کر حاضر ہوگئے۔ جلسہ انجمن ترقی پسند مصنفین کا ۔ صدارت علی سردار جعفری کی ، مدعی بھی وہی ۔ سردار نے حوالے کے لیے میز پر کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر رکھا اور مجھے پرانے زمانے کے مذہبی مناظروں کا منظر یاد آگیا۔ اور بجائے اس کے کہ صدر آخر میں بولے ، صدر صاحب بحیثیت علی سردار جعفری کے شروع ہی میں شعلہ زن ہوگئے اور حسب معمول دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ ’’خیال‘‘ ترقی پسند نظریات کا حامل نہیں ہے اور کہا کہ کسی بھی ترقی پسند ادیب کو ’’خیال‘‘ میں نہیں لکھنا چاہیے۔ اہل محفل کا خیال تھا کہ سردار کی تقریر حرفِ آخر ہے۔ اب کون بول سکتا ہے اس شعلہ بیان کے آگے۔ مگر ایک صاحب ہیں جو طالب علمی کے زمانے سے ہی سردار کے مقابلے میں اسٹیج پر بولتے رہے ہیں اور سردار کی طرح ان کی گاڑی سیدھی سپاٹ ایک رفتار سے نہیں چلتی ، بلکہ وہ اپنی تقریر میں زیر و بم اور مد و جزر کی کیفیت پیدا کرنے پر قادر ہیں اور سامعین کواپنے ساتھ بہا لے جانا اس مقرر کی خصوصیت ہے اور وہ صاحب ہیں اختر الایمان ۔ اختر نے نرم لہجے میں تقریر شروع کی۔ ’’ صاحب صدر بڑی تیزی میں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور اختر نے جملہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ادب پر پارٹی ڈسپلن عاید ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ ایک ہی ایسی بات ہے جس کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے منشور میں بھی کہیں نہیں ہے کہ انجمن کمیونسٹ پارٹی کے مقرر کردہ اصولوں پر چلے گی۔ بلکہ لفظی طور پر اس مفروضے کی نفی کی جاتی رہی ہے۔ یہ ادیب کاذاتی معاملہ ہے کہ وہ کیا سیاسی خیالات رکھتا ہے چونکہ خواجہ احمد عباس پہلے بھگت چکے تھے اس لیے آج وہ اختر الایمان کے ساتھ تھے ۔ انھوں نے بھی عمدہ تقریر کی اور کچھ لوگ ادھر ادھر سے بولے۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ کرسی صدارت کے فیصلے کے مطابق تمام ہندوستان میں انجمن کی شاخوں کو سرکلر بھیج دیے گئے تھے کہ’’ خیال‘‘ کے لیے کوئی نہ لکھے اور اختر الایمان نے اس کے بعد بہت دلچسپ بات کہی کہ میں آج سے اپنا نام اختر الایمان رجعت پرست لکھا کروں گا۔ دیکھیں میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اختر نے تو یہ بات محض تفریحاً کہی تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ وقت نے ثابت کردیا کہ یوں عدالتیں قائم کرکے ادب نہیں پیدا کیا جاسکتا اور ادب اور ادیب پر آسانی سے لیبل لگانا اپنی کور ذوقی کا مظاہرہ ہے۔ ڈنڈے کے زور سے نہ کبھی ادب تخلیق ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اختر الایمان میں غضب کی خود اعتمادی ہے ۔ وہ کسی بھی جعفریانہ پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہوئے اور اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں لکھتے رہے اور بیرونی اثرات کے باعث اپنا شعری رویہ نہیں بدلا۔ اور ان کا ادبی مرتبہ وقت کے ساتھ بلند ہوتا گیا۔
کوٹھاری مینشن میں بھی بعض یادگاری نشستیں ہوئیں۔ دو نشستوں کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں اور انجمن کے مخصوص ماحول کو سمجھنے کے لیے یہ ذکر ضروری بھی ہے۔
ساحر لدھیانوی ویسے بے پروا اور بے نیاز قسم کے انسان نظر آتے ہیں ، مگر اپنے معاملات میں وہ بہت محتاط اور سنجیدہ تھے اور جب کوئی پروگرام ترتیب دیتے تھے تو اس کی کامیابی کے لیے جملہ پہلوئوں پر غور کرتے تھے اور ضروری ہوا تو ہر طرح کی پیش بندی کرتے تھے۔ میرے خیال میں ان کی اسی خصوصیت نے انھیں فلموں میں بھی اس قدر کامیاب کیا۔ ساحر اور کیفی اعظمی میں بہت پرانی دوستی تھی۔ اس قدر کہ حیدر آباد کانفرنس سے لوٹنے کے بعد ساحر نے اپنی ایک نظم کیفی اعظمی کے نام منسوب کی تھی ۔اس نظم کا پہلا مصرع ہے:
اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھی
ان دونوں دوستوں میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا۔ کوئی ادبی مسئلہ نہ تھا بلکہ قطعاً ذاتی اور رومانی قسم کی بات تھی مگر ایسا اکثر ہوا ہے کہ یارلوگوں نے ذاتی رنجشوں کو ادب کے اسٹیج پر لاکر زور آزمائی کی اور نتیجہ کے طور پر ادبی تحریک پر منفی اثر پڑا۔ چنانچہ اس موقع پر بھی ساحر لدھیانوی بے حد جذباتی ہوگئے اور نھوں نے منصوبہ بند طریقے سے نجی محفلوں میں کیفی کی شاعری کی برائی کرنی شروع کی اور اس کے خلاف لابی تیار کی۔ اور جب فضا سازگار ہوگئی تو ساحر نے کیفی اعظمی کی شاعری پر ایک مضمون انجمن کے جلسے میں پڑھا جس کا پروپیگنڈا شد و مد سے کیا گیا تھا اور ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سردار جعفری جلسے کی صدارت کررہے تھے۔ کیفی اور ان کی بیگم بھی جلسے میں موجود تھے۔ ساحر نے مضمون پڑھا جس میں کیفی کی شاعری کے معائب ہی کو اجاگر کیا گیا تھا، اور ہرزاویے سے نقائص ہی نقائص تلاش کیے گئے تھے اور نفسِ مضمون یہ تھا کہ اول تو کیفی شاعر ہی نہیں ہے اور اگر ہے تو گھٹیا درجے کا۔ ساحر مع اپنے مخصوص احباب کے جلسے میں تشریف لائے تھے اس لیے اہل محفل نے مجموعی طور پر مضمون پر واہ واہ کی۔ کچھ بحث ہوئی مگر مجمع کا موڈ ہی کچھ اور تھا۔ آج سب کو کیفی کی شاعری میں صرف خامیاں ہی خامیاں نظر آرہی تھیں۔ صاحبِ صدر نے حسب معمول جوشیلی تقریر کی مگر وہ بھی ساحر کے مضمون کا طلسم پوری طرح نہ توڑ سکے۔ سردار نے جب ادب لطیف اور سویرا کی ان تحریروں کا حوالہ دیا جس میں ساحر نے بحیثیت ایڈیٹر کے کیفی کی تعریف میں اپنا زور قلم صرف کیا تھا تو ساحر نے برجستہ کہا کہ وہ میرے کمرشیل نوٹ تھے، ناقدانہ رائے نہیں تھی۔ غرض ساحر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ کیفی جلسے کے آخر تک موجود رہے مگر انھوں نے ایک لفظ بھی اپنی صفائی میں نہیں کہا۔ ان کی گمبھیر خاموشی کا مطلب تھا : ’’بکتے رہو ، میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟‘‘
سردار جعفری بہت بھنّائے اور انھوں نے پی ڈبلو اے کی اگلی میٹنگ میں ایک جوابی مضمون ساحر لدھیانوی کی شاعری کے بارے میں پڑھا۔ اس میں بھی یک رخا پن تھا ۔ سردار نے ساحر کی مشہور نظم ’’تاج محل‘‘ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس نظم میں ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور تاریخی عظمت کا مذاق اڑایا گیا ہے اور یہ رویہ نہایت رجعت پرستانہ ہے اور یہ نظم نہایت کمتر درجے کی ہے۔ ساحر کی اور نظموں کی بھی اسی طرح درگت بنائی ۔
جب مضمون ختم ہوگیا تو ساحر لدھیانوی بہت اطمیان سے اپنی جگہ سے اٹھے اور پورے قد کے ساتھ اٹھ کر کہا :’’ اس مضمون سے آپ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ ساحر لدھیانوی گھٹیا شاعر ہے ، مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ کیفی اعظمی اچھا شاعر ہے۔‘‘
ساحر کے اس ایک ہی جملے نے سردار کے مضمون کا اثر زائل کردیا اور سردار کی بدنیت کو واضح کردیا۔
بمبئی صفِ اول کے ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا مگر ان سربرآوردہ ادیبوں کی اس طرح کی چشمکوں نے انجمن کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا اور آہستہ آہستہ عوام کے دلوں میں اس کی وقعت کم ہونے لگی، کیونکہ انجمن کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ افراد کے اجتماع اور ان کے عمل کا نام ہے۔ مختلف ادیبوں کی شعوری ہم آہنگی سے انجمن کو فروغ حاصل ہوا تھا اور اس کے فقدان سے انجمن ترقی پسند مصنفین کا شیرازہ بکھرنے لگا ۔ جس انجمن کے پلیٹ فارم سے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے بھرپور جد و جہد کی گئی تھی اور ’’پانی کا درخت‘‘ اور ’’کالو بھنگی‘‘ جیسے افسانے اور ’’نیلا پرچم‘‘ اور ’’ابن مریم‘‘ جیسی نظمیں اردو کو دی تھیں اس کی صفوں میں انتشار پیدا ہوا تو سب اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ گانے بجانے لگے۔ جس کا جدھر منہ اٹھا چل دیا اور اپنا اپنا کیریئر تلاش کرنے کوئی فلم کی طرف گیا ، کوئی روس اڑا ، کوئی چین:
کھاکے لندن کی ہوا عیش وطن بھول گئے
٭٭٭

مشمولہ : ’’ترقی پسند تحریک اور ممبئی‘‘ از: پروفیسر صاحب علی ۔۔۔۔۔ تلخیص : ڈاکٹر قمر صدیقی

Khwaja Ahmad Abbas: YadeN Aur Tassurat

Articles

خواجہ احمد عباس : یادیں اور تاثرات

ڈاکٹر غلام حسین

 

میں ضلع بستی کے ایک دور افتادہ گائوں میں ، جو میرا مولد و مسکن بھی ہے، گرمی کی چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔۔۔۔چھٹیاں کیا گزار رہا تھا اپنے مستقبل کے عنوانات طے کر رہا تھا کہ یکایک پہلی اپریل کو محلے کا ایک طالب علم دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ریڈیو کی وہ خبر دہرائی جو خواجہ صاحب کی شدید علالت سے متعلق تھی ۔ میں ابھی چند ماہ پہلے تک خواجہ صاحب کے ساتھ ممبئی میں رہ چکا تھا، جب خواجہ صاحب کے عزم اور ان کی قوت ارادی کا تصور کیا تو خبر کچھ مبالغہ آمیز معلوم ہوئی لیکن جب ان کے سن و سال اور ان کی حرکت و عمل کی درماندگی کا جائزہ لیتا تھا تو یہ خبر اندیشہ ہاے دور و دراز میں مبتلا کر دیتی تھی۔ میں متصادم خیالات کی یورش سے گھبرا گیا اور گورکھپور چلا آیا۔ پھر اخبارات سے خواجہ صاحب کا حال معلوم ہوتا رہا اور وہ اس حد تک اچھے ہو گئے تھے کہ بلٹز نے ’’ آزاد قلم‘‘ کے سلسلے کو جلد ہی دوبارہ جاری کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران میں نے خواجہ صاحب کو خیریت معلوم کرنے کے لیے خط لکھا جس کا جواب آیا: ’’میرے جاننے پہچاننے والے ہی میری اصل دولت ہیں‘‘۔میں عید کے مبارک موقع پر گائوں چلا گیا جہاں وہ خبر سنی جس کا صدمہ الفاظ میں منتقل نہیں ہو سکتا۔
ویسے تو میں خواجہ صاحب کے ’’آزاد قلم‘‘ کا برسوں سے قاری رہا ہوں لیکن ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے خواجہ صاحب کی تخلیقات سے والہانہ لگائو ہو گیا تھا۔ جب میں نے گورکھپور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔اے۔ کر لیا تو میں نے اپنے مشفق استاد سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ’’خواجہ احمد عباس کی حیات اور کارنامے کے موضوع پر پی ۔ایچ۔ ڈی۔ کے لیے مقالہ لکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بڑی خوشی سے یہ موضوع منظور کر لیا۔ اور میں نے ان کی نگرانی میں کام شروع کر دیا۔
بہت پہلے ’’آزاد قلم‘‘ اور ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ کے افسانوں سے متاثر ہو چکا تھا۔ اب خواجہ صاحب کی اور تخلیقات پڑھنے کا موقعہ ملا۔ جوں جوں خواجہ صاحب کی تحریروں کا مطالعہ بڑھتا گیا، ان کی عظیم شخصیت میرے دل میں گھر کرتی چلی گئی۔ ابھی تک توخواجہ صاحب سے ملاقات ان کی تحریروں کے زریعہ ہوتی تھی لیکن اب یہ خواہش ہوئی کہ ان سے براہ راست ملاقات کی جائے میں نے اپنے نگراں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ان کی تحریروں کا عمیق مطالعہ جاری رکھو۔
اتفاق ہی کہئے کہ اسی دوران یعنی ۱۹۸۳ء کے اوائل میں جب سردی کی شدت ختم ہو رہی تھی ، بستی والوں نے ایک فلمی فنکشن منعقد کیا جس کی صدارت خواجہ احمد عباس صاحب نے کی۔ فنکشن کے دوسرے دن اپنے نگراں کے حکم کے مطا بق خواجہ صاحب سے ملاقات کے لیے بستی پہنچا۔ اس وقت وہ بستی کے ڈاک بنگلے میں قیام پزیر تھے۔ تقریباً صبح کے ۸ بج چکے تھے ڈاک بنگلے کے برآمدے میں دھوپ پھیل چکی تھی۔ ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اس میں میرا ایک اور اضافہ ہو گیا۔ ملاقات کرنے والے حضرات برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے میں بھی وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خواجہ صاحب ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے اور اپنی چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ باہر نکلے۔ بظاہر ان کی صحت اچھی تھی لیکن پیر سے معذور تھے۔ برآمدے میں ایک آدمی کے سہارے کھڑے ہو گئے اور سب سے مصافحہ کیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے ۔ مجھ سے مخاطب ہوئے تو میں نے اپنا مدعا بیان کیا اور جتنی ان کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھی تھیں ان کی فہرست پیش کی تو انھوں نے اپنی باقی تصنیفات کا اضافہ اپنے قلم سے کر دیا۔ چونکہ اس دن خواجہ صاحب کے پروگرام میں لمبنی کا سفر بھی شامل تھا جو گوتم بدھ کی جائے پیدائش ہے ۔ اس لیے مفصل بات چیت نہیں ہو سکی۔
خواجہ صاحب بمبئی جیسے دور دراز شہر سے شمالی مشرقی علاقے میں آئے تھے اس لیے یہاں کے اہم مقدس مقامات کو دیکھنا چاہتے تھے ۔ لمبنی کے علاوہ وہ کبیر کے مقبرے کی زیارت کے لیے مگہر بھی تشریف لے گئے۔
گورکھپور یونیورسٹی میں خواجہ صاحب نے لکچر دیا جس میں قومی ایکتا کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کبیر کے اصولوں پر چلنے کی ہدایت کی گورکھپور ریڈیو اسٹیشن نے خواجہ صاحب کی آمد پر اپنے یہاں ایک انٹرویو کا اہتمام کیا۔ اس انٹرویو میں پروفیسر محمود الٰہی صاحب نے ان سے ایسے ایسے سوالات کئے کہ ان کی زندگی کے سارے گوشے اجاگر ہو گئے۔ خواجہ صاحب جب بستی جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ بستی کے لوگوں نے خواجہ صاحب کا بڑا خیر مقدم کیا۔ ہنومان پرشاد جگرؔ صاحب نے ان کی بڑی ضیافت کی اور انھیں اپنے دولت خانے پر لے جانا باعثِ فخر سمجھا۔ بستی انفارمیشن دفتر کی طرف سے ناوابستہ تحریک پر ایک پروگرام منعقد ہواجس میں خواجہ صاحب نے ناوابستہ تحریک کی غرض و غایت پر پُر مغز تقریرکی۔ لوگوں کی فرمائش پر اپنی ایک کہانی ’’تین مائیں ایک بچہ‘‘ بڑے ہی دلچسپ انداز میں سنائی۔ بستی میں تقریباً ایک ہفتے کے قیام کے بعد خواجہ صاحب بمبئی واپس ہوئے اور جب وہ بمبئی پہنچے تو بستی کے متعلق ’’آزاد قلم‘‘ میں اپنے خیال کا اظہار کیا۔
اب تو خواجہ صاحب سے خط و کتابت کا بے تکلف سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر کوئی کتاب نایاب ہوتی اور ان کے پاس ہوتی تو لکھنے پر فوراً ارسا ل فرماتے۔ مقالے کے متعلق خط کا جواب ضرور دیتے ۔ دورانِ تحقیق ایک منزل ایسی آئی کہ خواجہ صاحب سے براہ راست ملاقات کی ضرورت پڑی۔ میں نے ان کے پاس خط لکھا تو انھوں نے فوراً جواب دیا کہ جب آپ کی مرضی ہو آسکتے ہیں۔ ۱۹۸۴ء کے اواخر میں میں نے بمبئی کا سفر کیا تو خواجہ صاحب نے مواد کی فراہمی میں میری مدد کی لیکن ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مصنف کے پاس اس کی لکھی ہوئی زیادہ تر کتابیں نہیں تھیں۔ بہر حال بمبئی کی دوسری لائبریریوں اور بلٹز کے دفتر سے میرے مسائل حل ہو گئے۔ بمبئی میں تقریباً ایک مہینے کا قیام رہا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ خواجہ صاحب بالکل تھک چکے ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے خود کہا کہ اب میں سوچتا ہوں کہ آرام کروں۔ تب میں نے کہا نہیں جناب آدمی کی زندگی کام کرتے رہنے سے عبارت ہے، اگرآپ لکھنا پڑھنا بند کردیں گے تو اور بوریت ہوگی۔ جینے کے لیے مصروفیت کی ضرورت ہے ۔ اس پر خواجہ صاحب بہت خوش ہوئے ۔ جب میں ان کے پاس سے گورکھپور آنے لگا تو انھوں نے کہا ، گورکھپور پہنچتے ہی خط لکھنا۔ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا یاتو بڑے ہی مایوسانہ انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے کہا معاف کرنا بھائی ،یہ لنگڑا آدمی آپ کو دروازے تک بھی نہیں چھوڑ سکتا۔
خیر میں بمبئی سے گورکھپور آگیا اور اپنا کام مکمل کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مقالہ جمع کرنے کے بعد خواجہ صاحب کے پاس خط لکھا جس میں تعلیم کے میدان کی حقیقت حال اور اپنے معیار زندگی کے متعلق لکھا تو انھوں نے بڑی اچھی رائے دی کہ آپ جیسا معیار زندگی والے لوگوں کو اونچی تعلیم نہیں حاصل کرنی چاہیے بلکہ ہائی اسکول یا انٹر کے بعد کوئی ہنر سیکھنا چاہیے لیکن آپ دل برداشتہ نہ ہوں محنت کبھی کسی کی رائگاں نہیں جاتی۔
پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہونے کے بعد جب میں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا تو انھوں نے مبارکباد کا خط لکھا اور بطور انعام سو روپیہ کا منی آرڈر بھی بھیجا۔
ڈگری ملنے کے بعد ہاسٹل خالی کرنا پڑا تو شہر میں رہنے کا پیچیدہ مسئلہ پیش ہوا۔ اسی پریشانی کے عالم میں خواجہ صاحب کو ایک جذباتی خط لکھ دیا۔ خواجہ صاحب پر اس خط کا بڑا اثر ہوا۔ انھوں نے میرا ذکر اپنے مختلف ملنے والوں سے کیا اور میرے لیے اپنے ایک فلمی ساتھی جے۔کے۔صاحب کے یہاں گنجائش پیدا کرلی۔ رہنے کی جگہ اور پانچ سو روپیہ ماہانہ پر بات طے ہوئی۔ خواجہ صاحب نے فوراً میرے پاس خط لکھا کہ میں کرایہ بھیج رہا ہوں اور آپ بمبئی چلے آئیے۔ میں نے شکریہ کے ساتھ بمبئی پہنچنے کا خط لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ آپ نے بمبئی جیسے شہر میں قیام و طعام کا انتظام کر دیا یہی کیا کم ہے۔ اور جناب میں عمر کے اس دور سے گذر رہا ہوں کہ مجھے آپ جیسے بزرگوں کی خودخدمت کرنی چاہیے۔ اس لیے کرایہ بھیجنے کی زحمت نہ کیجئے گا ۔ میں جلد ہی بمبئی پہنچ رہا ہوں۔ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ میں بمبئی پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آداب کیا ۔ اس وقت وہ بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے ۔ فوراً مجھ سے پوچھا چائے پیئں گے یا کافی! میں نے کہا چائے۔
تھوڑی دیر میں چائے آگئی۔ جب میں چائے پی رہا تھا تبھی میرے لیے جے۔کے۔صاحب کے پاس خط لکھا اور جب میں چائے پی چکا تو فوراً ایک کاغذ پر منزل پر پہنچنے کا نقشہ بنا دیا ۔ نقشے کے سہارے میں جے۔کے۔صاحب کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس دن ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دوسرے دن ذرا دیر سے خواجہ صاحب کے پاس پہنچاتو لگے ڈانٹنے ۔ میرا تو برا حال تھا اور خواجہ صاحب ڈانٹے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بمبئی تیز رفتا شہر ہے ۔ آپ اپنی دیہاتی معصومیت چھوڑدیجئے ورنہ بھوں کوں مرجائو گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں لنگڑا او اندھا آدمی آج ہوں کل نہیں۔ میرا کیا بھروسہ‘‘۔ میں فوراً وہاں سے اٹھ کر جے۔کے۔صاحب کے پاس گیا اور اس دن ملاقات ہوگئی۔ جے۔کے۔صاحب بڑے ہی خوش اخلاقی سے پیش آئے لیکن بعض وجوہ سے انھوں نے میرے متعلق خواجہ صاحب سے جو وعدہ کیا تھا اس کے ایفا سے معذور تھے۔ اس سے خواجہ صاحب بہت فکر مند ہوئے۔ دو ہفتہ بعد خود انھوں نے اپنے فلم پروڈکشن میں میرے لیے کانٹی نیوٹی لکھنے کی جگہ نکال لی۔
اب میں خواجہ صاحب سے اور قریب ہو گیا ۔ مہینے میں چار پانچ دن شوٹنگ کا کام ہوتا جس میں کانٹی نیوٹی لکھنا ہوتا تھا۔ باقی اور دنوں میں خواجہ صاحب یا تو کسی فلم کا مکالمہ ڈکٹیٹ کرتے یا اپنی فلم ’’ایک آدمی ‘‘ کے مکالمہ کی کئی کاپیاں نقل کرواتے۔ دوپہر کے کھانا کے بعد جب خواجہ صاحب آرام کرنے کے لیے لیٹتے تو مجھ سے کہتے بھئی آپ نے مجھ پہ مقالہ لکھا ہے وہ پڑھ کر سنائیے ، میری بینائی اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا ۔ لہٰذا میں خواجہ صاحب کو مقالہ پڑھ کر سناتا۔ جب کئی دن میں مقالہ پورا سنا دیا تو بہت خوش ہوئے۔ اٹھ بیٹھے اور مجھ سے ہاتھ ملایا ۔ اور مزید یہ بھی کہا کہ میں اس مقالے کو اپنے ٹرسٹ سے چھپوائوں گا۔
شوٹنگ کے دن خواجہ صاحب اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے جب تک شوٹنگ ختم نہیں ہو جاتی ۔ اور یونٹ کا ہر فرد کھانے سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ اگر شوٹنگ دن بھر چلتی تو وہ دن بھر کھانا نہیں کھاتے ۔ بس کافی پیا کرتے تھے۔ رات کی شوٹنگ میں وہ رات کی رات جاگتے۔ ہاں میں نے ان کے اندر یہ سب سے بڑی خوبی دیکھی کہ ہر فرد کا برابر خیال کرتے تھے۔ اداکار سے لیکر کیمرہ مین ، کلیپ مین اور میک اپ کرنے والے ان کی نگاہ میں برابر تھے۔ سب خواجہ صاحب سے ہاتھ ملاتے اور بے تکلف باتیں کرتے۔ جیسے شوٹنگ ختم ہوتی اپنے سیکریٹری سے سب کو فوراً کھانا کھانے کا پیسہ دلواتے، اس لیے ہر آدمی خواجہ صاحب کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مندرہتا تھا۔
خواجہ صاحب میں کام کرنے کی بے پناہ صلاحیت تھی ۔ ضعیفی اور معذوری کے باوجود جتنا وہ لکھ پڑھ لیتے تھے اتنا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہو تے تھے اور اپنے نوکر کے سہارے صبح ٹہلتے تھے۔ بعد میں انگریزی اردو کے اخبارات پڑھتے۔ ان کے بستر پر اتنے اخبار و رسائل ہوتے تھے کہ مشکل سے بیڈ شیٹ دکھائی دیتی تھی اور خواجہ صاحب ان اخباروں اور رسالوں کے بیچ بیٹھتے ، لکھتے اور سوتے تھے۔ بلٹز کا آزاد قلم اورآخری صفحہ بلا ناغہ لکھتے ، اس کے لیے ہفتہ میں ایک دن مقرر تھا۔ بصارت اتنی کمزور ہو چکی تھی کی کبھی کبھار تو ایک ہی لائن پر دو مرتبہ لکھ دیتے تھے اور اگر کبھی قلم کی سیاہی ختم ہو جاتی تو اس کا بھی احساس نہیں ہوتا لیکن مشق و بصیرت سے ان کا قلم چلتا رہتا ۔ یہ اور بات تھی کہ جو ان کی تحریر نقل کرتا تھا اس کی شامت آجاتی تھی ۔ وحیدا نور صاحب ڈانٹ کی زد میں آجاتے تھے اور اگر وہ موجود نہ ہوتے تو وہ سب مجھے جھیلنا پڑتا۔ جب ان کی تحریر پڑھنے میں ہچکچاہٹ ہوتی تو ڈانٹتے اور زور سے کہتے پڑھو۔ ایک پی۔ایچ ۔ڈی کی طرح پڑھو۔ پی۔ایچ۔ڈی بے چارہ کیا خاک پڑھے جب حروف روشنائی سے بے نیاز ہوں ۔ خواجہ صاحب آزاد قلم کبھی ڈِکٹیٹ کرواتے اور کبھی نقل کرنے کے بعد پڑھواتے۔ اگر روانی کے ساتھ پڑھتا اور کہیں غلطی نہیں ہوتی توبہت خوش ہوتے ۔ جیب سے بیس روپیہ نکال کر دیتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ پیسے کی جب بھی ضرورت ہو بغیر کسی تکلف کے لے لینا۔ بلٹز ان کا مقصدِ حیات تھا۔ بغیر بلٹز لکھے انھیں چین نہیں آتا تھا۔ بلٹز بمبئی میں جمعرات ہی کو مل جاتا ہے۔ جمعرات کے دن خواجہ صاحب بلٹز کے منتظر رہتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بلٹز دفتر سے جو ملازم آتا تھا وہ اس کے گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے آشنا تھے ۔ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ بلٹز دفتر سے آیا ہوا ملازم باہر گھنٹی بجاتا ہے اور اندر سے خواجہ صاحب نے یہ کہہ دیا کہ بلٹز آگیا۔ گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے وہ ملاقات کرنے والے لوگوں کی دل کی بات اور مقصد گھنٹی کی آواز ہی میں پہچان جاتے تھے۔
مجھ سے اکثر خواجہ صاحب کہتے تھے کہ جب تک آنکھ چشمے سے بے نیاز ہے تب تک خوب پڑھ لو۔ خاص طور سے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب ’’گلمپز آف دی ورلڈ ہسٹری ‘‘پڑھنے کی ہدایت کی۔ روزانہ وہ جانچ بھی کرتے کہ کتنے صفحات کا مطالعہ ہوا اور کون کون سی چیز معلوم ہوئیں۔ خواجہ صاحب نہرو جی کے طرز تحریر کے گرویدہ تھے۔
خواجہ صاحب ایک سیکولر مزاج کے آدمی تھے۔ عید اور بقرعید کے دن اپنے دوست و احباب کو سیوئیاں کھلاتے اور رکشا بندھن کے دن ان کی بہنیں ان کے ہاتھوں میں راکھی باندھتیں اور لڈو کھلاتیں۔خواجہ صاحب رکشابندھن کا لڈو اسی رغبت سے کھاتے تھے جس رغبت سے سیوئیاں ۔ وہ مذہبی بحث مباحثہ میں کبھی نہیں پڑتے تھے۔ جس مسلم تہذیب میں ان کی پرورش ہوئی تھی وہ تہذیب آخری وقت تک ان میں برقرار تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہب کے مقلد نہیں تھے انھیں خدا کے وجود میں یقین تھا۔ ایک روز میں حیرت میں پڑگیا جب انھوں نے جون کے مہینہ میں ۷۳برس کی عمر میں روزہ رکھا۔
مجھے خواجہ صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کی تخلیقات کے مطالعے سے ان کا جو پیکر تیار کیا تھا ہو بہو اس کا عکس ان کے اخلاق و عادات و اطوار اور معمولات زندگی میں دیکھا۔
خواجہ صاحب کے نزدیک اپنے اور پرائے کا تصور نہیں تھا۔ جوبھی ان کے قریب ہوتا تھا وہی ان کا اپنا ہوتا ۔ میں بھی خواجہ صاحب کی شفقت کا مقروض ہوں ۔ میرے لیے انھوں نے بہت کچھ کیا اپنے فلم پروڈکشن میں مجھے کام دیا اور ہر چھوٹی بڑی بات کا باپ کی طرح خیال کیا۔ برسات ہونے لگی تو فوراً چھتری کا انتظام کیا عید کے موقع پر کپڑے کا خیال کیا۔ اپنے دست شفقت سے مجھے عیدی دی ۔ پڑھنے لکھنے کے لیے مختلف لائبریریوں سے رابطہ قائم کروایا۔
خواجہ صاحب مساوات اور انسانیت کے جتنے بڑے پجاری اپنی تحریروں میں تھے ویسے ہی وہ مجھے اپنے کردار اور گفتار میں نظر آئے۔ ان کا دسترخوان وسیع تھا ۔ کھانے کے وقت جو بھی موجود ہوتا بغیر کسی تکلف کے دستر خوان پر بیٹھ جاتا ۔ خواجہ صاحب اس چیز کو بہت پسند کرتے تھے۔ جو بلانے پر جاتا یا کھانا کھا کر اٹھ جاتا اسے ڈانٹتے بھی۔ کھانا کھاتے وقت اپنے باورچی کو ساتھ میں بٹھا کر کھلاتے ۔ اگر وہ اکیلے کھانا کھا لیتے تو انھیں ہضم ہی نہیں ہوتا۔ اس کا مجھے اس وقت احساس ہوا کہ آدمی جتنا ہی عظیم ہوتا ہے اتنا ہی اس کے دل میں ہر آدمی کے لیے جگہ ہوتی ہے۔
خواجہ صاحب کا کھانا نہایت سادہ ہوتا تھا اور مشکل سے دو پھلکے کھاتے تھے اور اگر یہ کہا جاتا کہ اور کھائیے تو کہتے بھائی بہت کام کرنا ہے زیادہ کھانے سے نیند آجائے گی۔ ۷۳ برس کی عمر میں کام کا اتنا خیال تھا ۔ کام کرنا ہی ان کا مقصد حیات تھا۔ اگر کوئی کام کر رہے ہیں اور چائے آگئی ہے تو ٹھنڈی ہو رہی ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ کام میں اس قدر ڈوب جاتے کہ اکثر وہ ٹھنڈی چائے پیتے۔
خواجہ صاحب اپنے ذاتی کام کے لیے کبھی حکم نہیں صادر کرتے تھے۔ آخری وقت میں جب کہ بڑی حد تک وہ آنکھ اور پائوں سے معذور ہو چکے تھے اپنا کام خود کرنا پسند کرتے تھے۔ مثلاً اگر دروازہ بند ہوتا تو وہ کسی کو دروازہ کھولنے کا حکم صادر نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ اٹھتے، اپنی چھڑی ٹٹولتے اور چھڑی سے دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ۔ قریب جو بھی ہوتا اس جد وجہد کو دیکھ کر دروازہ کھول دیتا۔ خواجہ صاحب اسے شکر گزار آنکھوں سے دیکھنے لگتے ۔ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں تھی مگر قوت ارادی اتنی مضبوط تھی کہ اپنی کوشش سے اٹھ کھڑے ہوتے اور چھڑی کے سہارے چلنے لگتے۔ جو بھی قریب ہوتا بڑھ کر اپنا کندھا پیش کر دیتا اور خواجہ صاحب بخوشی کندھے کا سہارا قبول کر لیتے اور اس کے سہارے سے ڈائننگ ٹیبل اور ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ جاتے ۔ میں نے بھی اپنے کندھے کا سہارا دیا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ خواجہ صاحب کے جنازے کو میں کاندھا نہ دے سکا۔
بڑے آدمی ہر ایک کے ساتھ یکساں حسن سلوک کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔مگر ہر ایک کو ہمیشہ یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ جناب کی نگاہ کرم مجھ پر سب سے زیادہ ہے ، یہی بات خواجہ صاحب میں میں نے دیکھی ۔ جو بھی ان سے زیادہ قریب رہے ان کو یہی گمان رہا کہ محترم سب سے زیادہ مجھے چاہتے ہیں اور خواجہ صاحب کا یہ عالم تھا کہ وہ سب کو برابر چاہتے تھے ۔ ہر کسی کی یہ خواہش تھی کہ خواجہ صاحب ابھی اور جیتے لیکن مشیت ایزوی کا علم کسے ہے؟
خواجہ صاحب جسمانی طورپر آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی ساری روح ان کی تخلیقات میں سمٹ آئی ہے۔ ان کی عہد ساز تخلیقات انسان کے شعور کو بیدار کرتی رہیں گی۔ ایسے لوگ صدیوں میں کہیں پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی ہستیوں کے متعلق کہا گیا ہے ؎

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

Khuda Hafiz Zubair Saheb

Articles

زبیرصاحب ، خدا حافظ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

 

زبیر رضوی جیسی متنوع شخصیت ذرا کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جدید شعرا کی جھرمٹ کا روشن ترین ستارہ، ہندوستانی ڈراما کا ایک مستند نقاد اور محقق، اردو کی ادبی صحافت کا ایک رجحان ساز مدیر، فائن آرٹ کا مبصر اور اسپورٹس کامینٹیٹروغیرہ وغیرہ گویا ان کی شخصیت رنگوں کا ایک کولاژ تھی کہ جس کا ہر رنگ اپنی جگہ مجلا اور مکمل تھا۔ میر کے لفظوں میں کہیں تو :ــ’’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ‘‘ زبیر صاحب کی طبیعت کا یہ تنوع جب ایک نکتے پر مرکوز ہوتا تو ’’ذہنِ جدید‘‘بن جاتا تھا۔ اس رسالے کا ہر شمارہ اُن کی ہمہ جہتی کا تعارف بن کر ابھرتا ۔ اداریہ کی بے باکی سے لے کر فلم ، موسیقی، ڈراما، پینٹنگ کی تجزیاتی رپورٹنگ تک ہر ہر صفحے پر ان کے باریک بیں مزاج کا نقش صاف جھلکتا ۔ادبی صحافت میں ہم بلا تکلف نیاز فتح پوری، محمد طفیل ، محمود ایاز ،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے ساتھ ان کا نام لے سکتے ہیں۔ذہنِ جدید کا ہرشمارہ خاص ہوتا تھا۔ خاص اس لیے کہ اس میں ادب کے معاصر رویے اور رجحانات کے علاوہ لگ بھگ سو صفحات عالمی ادب ، تھیٹر، مصوری، سنگیت، فلم ، کارٹون اور فوٹو گرافی وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان موضوعات پر بیشتر بلکہ کبھی کبھی تمام تحریریں زبیر صاحب کے زورخیز قلم کا نتیجہ ہوتی تھیں۔ خیر عالمی ادب کے نمائندہ تخلیق کاروں کا تعارف و تبصرہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں تاہم موسیقی ، مصوری، فلم ،کارٹون اور فوٹو گرافی پر تواتر سے لکھنا آسان نہیں ہے ۔ یہ زبیر صاحب کی فنونِ لطیفہ سے والہانہ دلچسپی ہی تھی جو ان سے اس نوع کا مشکل کام کروا لیا کرتی تھی۔
بطور شاعرزبیر رضوی نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ وہ ان چند ایک جدید شعرا میں تھے جن کی مقبولیت علمی اور ادبی حلقے کے علاوہ عوامی مشاعروں میں بھی خوب تھی۔ ’ یہ ہے میرا ہندوستان‘ جیسی مقبول نظم کے خالق زبیر رضوی کی جب ’پرانی بات ہے‘ سیریز کی نظمیں شائع ہوئیں تو ان نظموں کو جدید شاعری میں ایک اضافہ تسلیم کیا گیا۔یہ نظمیں اپنے داستانوی اسلوب اور ہند+اسلامی تہذیب کے پس منظر کی وجہ سے خاصی مقبول بھی ہوئیں۔نظموں کی زبان غیر آرائشی ہے اور ان نظموں کی ایک خاصیت پیکر تراشی بھی ہے۔ پیکر تراشی کا عمل نظموں کے آغاز سے ہی جاری ہوجاتا ہے اور اختتام تک پہنچے پہنچتے بعض پیکر علامت اور بعض استعاروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ لہٰذا جب نظم ختم ہوتی ہے تو قاری ایک مانوس دنیا میں رہتے ہوئے بھی حیرت انگیز احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ ’پرانی بات ہے‘سیریز کی نظموں کے تعلق سے خود زبیر رضوی نے ایک بار کہا تھا کہ :’’میں شاعری کو ایک ایسا جھوٹ سمجھتا ہوں جس کے توسط سے سچ کو پایا جاتا ہے۔ میں نے ایسا کرتے ہوئے اس سارے سچ کو بھی اپنا ورثہ سمجھا جو مجھ سے پہلے کی گئی شاعری میں دمکتا چمکتا رہا تھا۔ میرے نزدیک اس کرۂ ارض پر انسان کا وجود سب سے بڑا عجوبہ اور کرشمہ ہے اس لیے میرا تعلق انسان کی جہاں بانی اور جہاں سازی اس کی آفاقیت اور بے پناہی ، اس کی سرشت اور رشتوں کی پیچیدگی کے عمل سے بڑا گہرا ہے۔ میں امروہے جیسے ایک قصبے سے سفر کرتا ہوا نوابی شہر حیدر آباد تک پہنچا تھا اور پھر دلّی میرے قیام کا آخری پڑاؤ بن گئی اور یوں شہر اور مدنیت کے تضاد، ٹکراؤ، انسان کا مشینی عمل اس کی مادیت پرستی اور زندگی کی آسائشوں کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے کو استعمال کرنے کی قوت کو میری تخلیقی فکر میں ایک بیکرانی ملی۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ مجھ میں وہ قدیم بھی کنڈلی مار کے بیٹھا رہا تھا جس کی جڑیں ہزاروں برسوں کی تاریخ و تہذیب میں پیوست تھیں۔ میرا یہ قدیم، ظلمت پسند نہیں تھا اس میں انسان کے لیے ایسی ہی برکتیں ، نعمتیں تھیں جو خود انسان نے اپنی گمراہیوں سے گنوا دیں۔ یہ تاریخی اور تہذیبی ملال میری نظموں کے سلسلے ’ پرانی بات ہے ‘ میں ایک حکائی شعری لہجہ بن کر ابھرا ہے ، مدنیت کے سلسلے میں میرے رویے کی بڑی واضح مثالیں میرے چوتھے شعری مجموعے ’دھوپ کا سائبان ‘ میں شامل ہیں۔ یہ میری آہنگ سے آزاد نظموں کا مجموعہ ہے اور اس وقت یہ ساری نظمیں کاغذ پر منتقل ہوتی چلی گئی تھیں جب ’ پرانی بات ہے ‘ جیسی پابند نظمیں لکھنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ اب جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ آہنگ سے ماورا اپنا تخلیقی اظہار چاہتا ہے۔ اس لیے ان نظموں کی ہیئت میرے ارادے سے کہیں زیادہ اپنے شعری اظہار کا تقاضا تھا۔ ‘‘
زبیر رضوی کی غزلوں میں ایک نوع کی تحیر خیزی نظر آتی ہے۔ بالکل سامنے کی باتوں کو غزل کا موضوع بنانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ جدید شعرا میں یہ وصف محمد علوی کا اختصاص ہے تاہم علوی کے شعروں میں موضوع کو برتتے ہوئے ایک طرح کی بذلہ سنجی (wit) نظر آتی ہے جبکہ زبیر صاحب کے یہاں witکے بجائے باوقار سنجیدگی کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:
کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے
تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں
پہلے مصرعے میں راشتہ اور دامن ، پھر الجھنے اور ٹوٹنے کی اور دوسرے مصرعے میں نکلنے اور بازار کی مناسبتوں کے لطف سے قطع نظر ایک کہنہ مضمون میں واقعہ نگاری کے اسلوب نے گویا جان ڈل دی ہے۔ یہ زبیر رضوی کا خاص رنگ ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا
ہماری راہ میں بس نقش پا ہمارا تھا
پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا
نہ جانے کون تھا جو سامنے سے گزرا تھا
میں اس محفل کی روشن ساعتوں کو چھوڑ کر گم ہوں
اب اتنی رات کو دروازہ اپنا کون کھولے گا
ادھر کھلی کوئی کھڑکی نہ کو ئی دروازہ
جہاں سے آگ کا منظر دکھائی دیتا ہے
فلابئیر نے کہا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ میں ان دنوں جو کچھ لکھ رہا ہوں اسے کبھی بھی مقبولیت حاصل نہ ہو گی لیکن میرے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ لکھنے والا خود اپنے لیے لکھے ، حسن آفرینی کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘ تخلیقی آزادی کی اساس یہی ہے کہ تخلیق کار شہرت و دولت کوموخر جانے اور سرشاری و حسن آفرینی کو مقدم۔ زبیر صاحب نے ہمیشہ تخلیقی آزادی کو غیر معمولی اہمیت دی اور ادب میں تنقید کی بالادستی ختم کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ظاہر ہے بغیر کسی جذباتی رشوت، سمجھوتے اور لالچ کے انھوں نے نہ صرف اپنا ادبی سفر جاری رکھا بلکہ کامیاب بھی ہوئے۔
آج زبیر رضوی کاہمارے در میان سے جانا اردو شاعری کے علاوہ اردو کی مجلاتی صحافت کا ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ یہ سوچ کر ہی دل سی پارہ ہورہا ہے کہ بڑی زبان کا زندہ رسالہ ’’ذہنِ جدید‘‘ اب پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ خیر زبیر صاحب ، خدا حافظ۔

—————————————————————-

Life of Shamsur Rahman Farooqui

Articles

شمس الرحمن فاروقی کے سوانحی حالات

ڈاکٹر رشید اشرف خان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنے یادگار’’مرثیۂ دہلی مرحوم‘‘ لکھتے وقت کہا تھا:
چپّے چپّے پہ ہے یاں ، گوہریکتا تہ خاک
دفن ہوگا نہ کہیں ، اتنا خزانہ ہرگز
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک نا بغۂ روزگار یا Geniusہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ عبقری ، نابغے اور جینیئس بنا نہیں کرتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور یہ کام دستِ مشیّت میں ہوتا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ قسمت ، حالات ، ماحول اور ذاتی کوشش کو بھی بڑی حد تک اس میں دخل ہے۔
موضع کوریا پار ، ضلع اعظم گڑھ ( موجودہ ضلع مئو) کا نام روشن کرنے والے ادیب، شاعر، دانشور،معلم ، ناقد، مترجم اور صحافی شمس الرحمن فاروقی اسی کوریا پار کے رہنے والے ہیں۔کوریا پار کی تاریخ فاروقی کے والدمحترم کے ان جملوں سے واضح ہوجا تی ہے:
’’کوریا پار کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک بزرگ جن کانام ’’ کوڑیا شاہ ‘‘ تھا انھیں کے نام سے یہ موضع کوڑیا پار کے نام سے مشہور ہوا۔ ان بزرگ کے بارے میں ایک تاریخی اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ چودھویں صدی کے آخر میں ۱۳۸۸ء میں جب فیروز شاہ تغلق کا انتقال ہواتو دہلی کی بد امنی اور طوائف الملوکی سے عاجز آکر وہاں کے مشائخ اور علما دہلی چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ چنانچہ ابراہیم لودھی کی تخت نشینی ہوئی تو بزرگ کوڑیا شاہ ، اعظم گڑھ پہنچے اور کوڑیا پار میں آباد ہوگئے ‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی کے آبا واجداد ہندوستان میں فاروقی شیوخ شیخ عبداللہ ابن حضرت عمر فاروق ابن خطّاب کی نسل سے ہیں ۔وہ سب کے سب امر با المعروف اور نہی عن المنکر کے اصول پر تا حیات سختی سے قائم رہے۔ ان کے اکابر حضرت شاہ مولانا اشرف علی تھانوی اور بعد میں ان کے خلیفۂ رشید حضرت شاہ مولانا وصی اللہ کے باقاعدہ مریدین میں سے تھے۔ تذکرہ علماے اعظم گڑھ (مولفہ مولانا حبیب الرحمان قاسمی) میں شمس الرحمن فاروقی کے دادا حکیم مولوی محمد اصغر صاحب کا ذکر خیر بڑے اچھے الفاظ میں ملتا ہے۔ دادیہالی بزرگوں میں مذہبی کٹّر پن تھا اور اس میں کسی قسم کا جھوٹ یا مصالحت کی کوئی گنجائش قطعی نہیں تھی۔اس کے برعکس نانہال میں مذہبی رواداری بھی تھی۔نانا مرحوم بھی پابند صوم وصلوۃ تھے لیکن میلاد کی محفلیںبڑے ذوق وشوق سے منعقد کراتے اور نذر و نیاز میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔فاروقی صاحب کی نانی ضلع بلیا کے ایک معروف گاؤں قاضی پور کی رہنے والی تھیں۔ اس پورے قاضی خاندان میں علوم دینیہ کی شان دار روایت برسوں سے چلی آرہی تھی۔ اپنے دادیہال اور نانیہال کا تعارف پیش کرتے ہوئے فاروقی لکھتے ہیں:
’’ میری نانی حضرت چراغ دہلوی کے خاندان کی تھیں اور ان کے گھر میں بھی علم کے ساتھ ساتھ مذہب کا چرچاتھا ۔ میرے دادا کا گھرانا حضرت مولانا تھانوی کا مرید تھا ۔ میرا نا نیہال تقریباََ سب کا سب حضرت مولانا احمد رضاخاں بریلوی کے حلقۂ ارادت میں تھا۔‘‘۲؎
فاروقی کے والد کانام مولوی خلیل الرحمن فاروقی تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں پیدا ہوئے اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ انہوں نے عربی فارسی پڑھی ، بی۔اے کیا، ایم۔اے سال اوّل کا امتحان دیا جس میں فیل ہوگئے۔ اس کے بعد ایل ۔ٹی کیا۔ ۱۹۳۹ء میں محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے اور سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ ڈپٹی انسپکٹر مدارس اسلامیہ بنادیے گئے جہاں سے ۱۹۷۰ء میں وظیفہ یاب ہوئے۔ انگریزی بہت اچھی جانتے تھے اور بے تکان لکھتے تھے لیکن انگریزی بولتے نہیں تھے۔ عام طور پر ان کالباس پتلون پر شیروانی یا کڑاکے کی سردیوں میں پتلون اور شیروانی پر بڑا کوٹ زیب تن کرتے تھے۔
ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد مولوی خلیل الرحمن فاروقی نے الہ آباد کے محلہ راجہ پور میں ایک عمارت ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے بنوائی ۔ عبادت وریا ضت اور تبلیغ دین کے لیے خود کو وقف کردیا ۔اپنی سوانح عمری (خود نوشت) ’’ قصص الجمیل فی سوانح الخلیل ‘‘ مرتب کی لیکن یہ کتاب شمس الرحمن فاروقی نے ۱۹۷۳ء میں چھپوائی کیو نکہ ۱۳فروری ۱۹۷۲ء کو ۶۲ سال کی عمر میں خلیل الرحمن فاروقی صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
۳۰ستمبر ۱۹۳۵ء کو کالا کانکر ہاؤس ، پرتاپ گڑھ (یوپی) میں شمس الرحمن فاروقی کی ولادت ہوئی جہاں ان کے نانا خان بہادر محمد نظیر صاحب اسپیشل منیجر کورٹ آف وارڈس تھے اور جس مکان میںان کا قیام تھا وہ مہاراجہ پرتاپ گڑھ کی کوٹھی تھی۔ان کی ولادت سے سارے خاندان میں بہت خوشی ہوئی۔ اس لیے کہ وہ دو لڑکیوں یعنی دوبہنوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔شمس الرحمن فاروقی کے کل سات بھائی اور دو بہنیں ہیں جن میں فاروقی بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔
غیر ضروری نہ ہوگا اگر ہم اس موقع پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ شمس الرحمن فاروقی کے نام کے سلسلے میں کیسے کیسے تماشے ہوئے ۔ دراصل فاروقی کے بڑے والد محمد عبداللہ فاروقی کے بڑے صاحب زادے شمس الہدیٰ المتخلص بہ قیسیؔ الفاروقی اس تماشے کا سبب تھے۔ فاروقی لکھتے ہیں:
’’ مجھے قیسیؔ الفاروقی میں الف لام کا دم چھلّا غیر ضروری اور بے جا تصنع لگتا تھا ۔لیکن قیسی ؔ الفاروقی نے میری ادبی زندگی کو بہر حال متا ثر کیا ۔ میں نے اپنا قلمی نام ’’ شمسی رحمانی اعظمی‘‘ اختیار کیا اس لیے کہ خلیل الرحمن اعظمی میرے ممتاز ہم وطن تھے ۔اور ’’ رحمانی‘‘ اس لیے کہ ان دنوں ’’ رحمانی ‘‘ نام والے کئی لکھنے والے معروف تھے۔اور ’’ شمسی ‘‘ اس لیے کہ یہ سب ملا کر ’’شمس الرحمن ‘‘کالازمی نتیجہ تھا ۔( میرے خیال میں) قیسی ؔ صاحب نے مجھے اعظمی ترک کرنے کی صلاح دی جو میں نے قبول کرلی۔ کچھ دن میرا نام ’’شمسی رحمانی ‘‘ ہی رہا ۔ پھر مجھے یہ مقفّیٰ نام اور لفظ’’ رحمن ‘‘ کا بگاڑ بہت برا لگنے لگا اور میں سیدھا سادہ شمس الرحمن فاروقی بن گیا۔‘‘۱؎
شمس الر حمن فاروقی نے اپنی تعلیم کی ابتدا روایت کے مطابق عربی وفارسی سے کی تھی۔ انھیں کوریا پار میں مولوی محمد شریف صاحب نے پڑھایا تھا۔اس کے بعد آپ اعظم گڑھ کے ایک مکتب میں داخل کردیے گئے اس مکتب کانا م باغ پر پیٹو تھا۔ یہاں انھیں دینی تعلیم دی گئی۔ نانیہالی رسم کے مطابق فاروقی کی تسمیہ خوانی ( رسم بسم اللہ) چار برس چار مہینے کی عمر میں ہوئی تھی اور دوسال بعد ناظرہ قرآن پاک ختم کر لیا تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد فاروقی کا داخلہ ویسلی ہائی اسکول اعظم گڑھ میں درجہ پنجم میںکرایا گیاجہا ں سے انھوں نے درجہ نہم تک کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۸ء میں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول گورکھپور میں داخل ہوئے اور۱۹۴۹ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے میاں صاحب جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھپور میں داخل ہوئے۔ یہاں خوش قسمتی سے انھیں بڑے لائق و فائق اور شفیق اساتذہ سے سابقہ ہوا۔ان کے سب سے زیادہ پسندیدہ استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم تھے جن کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’ انگریزی کے استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی اور تبحّر علمی اور پھر اچھے طالب علموں سے ان کی دلچسپی اور ان کی مسلسل ہمت افزائی کے ذریعے چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایئر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کو بھی انہوں نے ہمیشہ تحسین کی نگا ہوں سے دیکھا ۔ اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا ۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ لیکن باریک بینی سے مملوہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا‘‘۱؎
فاروقی کے دیگر اساتذہ میں مسٹر پی ، آئی کورئین( انگریزی) پرنسپل حامد علی خاں (انگریزی صرف و نحو کے استاد) اردو کے استاد منظور علی صاحب اور شمس الآفاق صاحب تھے۔
انٹر میڈیٹ پاس کرنے کے بعد فاروقی نے مہارانا پر تاپ کالج گورکھپور میں بی۔اے میں داخلہ لیاجہاں انہوں نے جغرافیہ، اقتصادیات اور مغربی فلسفے کی تاریخ پڑھی۔ کانٹ ، ہیگل اور افلاطون نیز فرائڈ وغیرہ سے واقفیت حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں بی۔اے کرنے کے بعد فاروقی انگریزی ادب میں ایم۔ اے کرنے کی غرض سے الہ آباد پہنچے۔ ۱۹۵۵ء کا سال فاروقی کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوا۔انھوں نے نہ صرف فرسٹ ڈیویژن میں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا بلکہ پوری یونی ورسٹی میں اول مقام کے حق دار پائے گئے اور بطور اعزاز انہیں دو گولڈ میڈل بھی ملے۔
الہ آباد میں فاروقی کے سب سے محبوب استاد پروفیسر ایس۔سی ۔دیب صاحب تھے (جو احتشام حسین ، محمد حسن عسکری اور سید اعجاز حسین کے بھی محبوب استاد رہے ہیں)جن کے بارے میں فاروقی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ دیب صاحب سے میںنے بہت کچھ سیکھا۔علی الخصوص یونانی المیہ نگاروں کی عظمت و وقعت اور کولرج کی باریک بینیاں مجھ پر دیب صاحب کے ذریعے منکشف ہوئیں ۔دیب صاحب کی تعلیم خاصی قدامت پرستا نہ تھی لیکن وہ بر انگیخت(Provoke (بہت کرتے تھے اس واسطے ان کے کلاس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات سننے کو مل جاتی تھی جو بعد میں ایک پورے نظام فکرمیںDevelopہوسکتی تھی‘‘ ۱؎
دیب صاحب کے علاوہ فاروقی کے بالواسطہ خاص استاد میں پروفیسر پی۔ ای دستور ، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن ، پروفیسر پی ۔سی گپت، پروفیسر وائی سہائے اور پروفیسر فراقؔ تھے۔فاروقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین ،پروفیسر سید احتشام حسین اور ڈاکٹر سید مسیح الزماں کو بھی اپنا استاد سمجھتا ہوں البتہ محمد حسن عسکری کو فاروقی بطور خاص عزیز رکھتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں فاروقی نے لکھا ہے :
’’ عسکری کو پڑھ کر میرے تو چھکے چھوٹ جاتے تھے کہ میں تو اتنا علم رکھتا ہی نہیں ہوں اور نہ اس طرح لکھ سکتا ہوںتو پھر میں تنقید کیا کرسکوں گا ؟ تو میں اس وقت سے عسکری صاحب کا قائل اور مداح ہوں ۔ ان کا عقیدت مند رہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میں ہر جگہ ان سے متفق نہیں ہوں مگر ان کا حلقہ بگوش تو یقینا ہوں۔‘‘۲؎
مذکورۂ بالا عظیم ہستیوں کے علاوہ جن کو فاروقی نے اپنا ذہنی رہنما مان لیا تھایا جن سے لاشعوری طور پر ان کی ادبی تخلیق و تحقیق کی راہیں روشن ہوئیں،میری مراد ان مفکرین و مصنفین سے ہے جن سے اوائل عمر ہی سے فاروقی نے استفادہ کیا ۔ کہیں براہ راست اس استفادے کا اعلان کیا اور کہیں ان کے خیا لات و نظریات کو اپنے دل ودماغ میں جذب کرکے ان کی وضاحت یا تنقید وتردید کی مثلاََ
1-Thomas Hardy, 2-Bertrand Russell, 3-A.C. Ward, 4-Andre Gid, 5-William Shakespeare,
تھامس ہارڈی (Thomas Hardy)کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں:
’’ بی۔ اے میں نام لکھایا ہی تھا کہ ہارڈی کے ناولوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ۔ ہارڈی کے نام سے تو میں مجنوں صاحب کے مختصر ناولوں(یا ہندوستانی رنگ اور اردو زبان میں ہارڈی کے بعض ناولوں کی تلخیص) کے ذریعہ آشنا ہوچکا تھا لیکن انگریزی میں پڑھنے کی نوبت نہیں آئی ۔ انگریزی میں اس کا ایک ناول پڑھا تھاکہ مجھ پر یہ بات بالکل عیاں ہوگئی کہ ہارڈی کے ناولوں کی تشکیک ،محزونی، دنیا میں انصاف اور نیکی کے فقدان کا احساس ، انسانی زندگی کے المیاتی ابعاد ۔ غرض کہ ہارڈی تھا کہ مجھے اپنی دنیا میں کھینچے لیے جارہا تھا‘‘ ۱؎
فاروقی اپنی افتاد مزاج اور کچھ اہل خانہ کی عملی تربیت کی بنا پر بہت ہی متین ، سنجیدہ اور بردبار انسان ثابت ہوئے ہیں۔ بچوں کے کھیل کود سے انھیں زیادہ دلچسپی نہیں بلکہ صاف ستھری اورپُر سکون زندگی زیادہ پسند ہے۔ وہ انتہائی با اصول ،پابند وقت اور وسیع المطالعہ شخص رہے ہیں۔مختلف موضوعات پر کتا بیں حاصل کرناانھیں پڑھنا اور جو کچھ پڑھا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ان کی فطرت ثانیہ رہی ہے۔
جن لوگوں نے شمس الرحمن فاروقی کو قریب سے دیکھا ہے یا جنھیں فاروقی سے مختلف حیثیتوں سے ملنے جلنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ باوجود خاموش طبع ، کم آمیز اور گوشہ نشین رہنے کے وہ بڑے زندہ دل ، ملنسار اور خوش مزاج انسان ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع اور متنوع ہے ۔ ڈاک خانہ کی شاندار ملازمت ،شب خون کی اشاعت ،اندرون وطن اور بیرون وطن کے اسفار نیز ان کی کتابوں ، تقریروں ، علمی وادبی لکچرز اور عظیم شخصیتوں سے میل ملاقات کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ قریبی اعزہ سے لے کر دور دراز رہنے والے صاحبان ذوق ان کے مداح اور قصیدہ خواں ہیں۔حد تو یہ ہے کہ کچھ حضرات ان کے نظریات یا ذاتی اسباب کی بنا پر ان کے مخالف بھی ہیں لیکن اپنے تئیں مصلحتاََ یا مجبوراََ ان کے دوست کہلانا پسند کرتے ہیں۔
راقم الحروف اس بات کا دعوے دار نہیںہے کہ وہ فاروقی کے سبھی دیرینہ اور موجودہ احباب سے واقف ہے کہ وہ ہر دوست کی کیفیت ِ مزاج اور مو صوف سے قربت کی نوعیت کا کما حقہ جائزہ لے سکے۔ ان کے بعض قریبی اعزہ کی زبانی نیز ان کی تصانیف اور رسائل کی مدد سے جو معلومات حاصل ہوسکی صرف ربط بیان کے لیے ان کا انتہائی اختصار کے ساتھ تذکرہ کرتا ہے۔اس ضمن میں لا شعوری طور پر اگر کوئی فروگذاشت واقع ہو تو ازراہ کرم آپ اسے راقم کی کم علمی پر محمول فرمائیں یا پھر اس امر کو ’’ دروغ برگردنِ راوی‘‘ کے خانے میں ڈال دیں۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے انگریزی ادب کا عمیق مطالعہ کرکے ۱۹۵۵ء میں الہ آباد یونی ورسٹی سے ایم۔ اے کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں نہ صرف یہ کہ کامیابی حاصل کی بلکہ ان کا نام Toppersمیں تھا ۔ اس یونی ورسٹی کے شعبۂ انگریزی کی غیر تحریری روایت رہی ہے کہ فرسٹ کلاس طالب علموں میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے امید وار کو شعبہ میں از خود لکچرشپ مل جایا کرتی تھی کیوں کہ اسے شعبہ کے لیے ایک طرۂ امتیاز سمجھاجاتا تھا ، لیکن برا ہو تنگ نظری ، عصبیت اور دھاندلی کا کہ اتنی شاندار لیاقت رکھنے اور میرٹ لسٹ میں آنے کے باوجود اس قاعدے قانون کو فراموش کرکے ساتویں اور آٹھویں پائیدان تک آنے والوں کو لکچر شپ دے دی گئی۔ ظاہر ہے کہ ارباب اقتدار کی اس حرکت مذبوحی کو دیکھ کر فاروقی کو سخت کوفت ہوئی لیکن وہ ایک با حوصلہ نوجوان تھے لہٰذا ہمت نہیں ہارے ۔ انہیں یہ حکیمانہ قول یا د تھا کہ’’ اگر کوئی تمھیں لیموں دے تو اسے فوراََ لیموں کے شربت میں بدل دو‘‘ ۔ان کا اسی سال ستیش چندرڈگری کالج یوپی میں بحیثیت لکچرر تقر ر ہوگیالیکن جب انھیں شبلی کالج ، اعظم گڑھ نے دعوت دی تو موصوف علامہ شبلی نعمانی سے منسوب اس کالج کی طرف بصد شوق مڑ گئے اور ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۸ء تک وہاں انگریزی پڑھاتے رہے۔
۱۹۵۸ء ہی کی بات ہے کہ فاروقی نے ہندوستان کے سب سے باوقار پیشے کے لیے مقابلہ جاتی امتحان آئی ۔اے۔ ایس) (I.A.S. میں شرکت کی اور خوش قسمتی سے پہلی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔انٹر ویو میں کامیابی کے بعد انھوں نے انڈین پوسٹل سروس جوائن کیا۔ ملازمت کے دوران وہ حکومت ہند کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے ۔مثلاََ:
۱۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، بہار (پٹنہ) ۲۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، اترپردیش (لکھنؤ) ۳۔ ڈپٹی ڈائرکٹر پوسٹل مٹیریلس ، پی اینڈ بورڈ (نئی دہلی)۴۔ جوائنٹ سکریٹری ، ڈیپارٹمنٹ آف نان کنونشل انرجی سورسس ہند (نئی دہلی)
اپنی عمر عزیز کے ۳۶ سال بلا تفریق مذہب وملت کمال فرض شناسی ودیانت داری کے ساتھ ملازمت سے ۳۱ جنوری ۱۹۹۴ء کو سبک دوش ہوئے۔جس زمانے میں فاروقی ملازمت میں تھے، ان کے مخلص دوست ڈاکٹر نیر مسعود لکھتے ہیں :
’’فاروقی کانپور میں تعینا ت تھے ایک دن لکھنؤ آئے کسی سخت الجھن میں مبتلا تھے کہنے لگے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ملازمت سے استعفٰی دے دوں۔ ان سے جب اس فیصلے کا سبب پوچھا تو بتایا کہ ان کے پی ۔ایم۔ جی صاحب ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔انہیں یہ خیال ہونے لگا ہے کہ فاروقی، محکمے میں مسلمانوں کو زیادہ بھرتی کر رہے ہیں۔میںنے پوچھا کیا یہ حقیقت ہے؟ ’’ہاں کسی حد تک‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ میرے کاموں میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ بالکل مجھ سے کلر کوں والا برتاؤ کرتے ہیں۔ دیر تک دل کا بخار نکالنے کے بعد واپس چلے گئے۔ اگلی بار آئے تو بہت خوش تھے۔ کہنے لگے۔ اس نے مجھے کلرک سمجھ لیا تھا تو میں نے بھی کلرکوں والی حرکتیں شروع کردیں ۔ اس کے ہر آرڈر میں طرح طرح کی قانونی قباحتیں نکال دیتا تھا اور باربار آرڈر میں تبدیلیاں کراتا تھا۔ عاجز آکر اس نے کہہ دیا ۔ مسٹر فاروقی ، آپ جو مناسب سمجھئے وہ کیجیے۔‘‘۱؎
۲۶ دسمبر ۱۹۵۵ء کوشمس الرحمن فاروقی کی شادی ضلع الہ آبا کے قصبہ پھول پور کے ایک زمیندار گھرانے میں سید عبد القادر کی بڑی لڑکی جمیلہ خاتون سے ہوئی ۔جمیلہ خاتون الہ آباد یونی ورسٹی کی ایک ہونہاراورذہین طالبہ تھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک باحوصلہ، ذمہ داراور خوش اخلاق خاتون بھی تھیں۔ وہ الہ آبا د کے حمیدیہ اور قدوائی گرلزکالج جیسے مؤقر ادارے کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔فاروقی کی دو لڑکیاں ہیں۔۱۔مہر افشاں، ۲۔ باراں رحمن
(۱) مہر افشاں (پیدائش ۱۹۵۷) ایم۔اے (تاریخ) ڈی فل ( تاریخ) اردو فارسی سے واقف ہیں ۔اردو فارسی سے انگریزی میں اور انگریزی سے اردو میں کئی تراجم کیے ہیں۔ پنسلوانیا یونی ورسٹی میں مہمان پروفیسر رہ چکی ہیں۔ ابتدائی تعلیم کونونٹ میں حاصل کی۔ پرائمری درجات سے ایم ۔اے تک اول درجے سے کامیابی حاصل کی۔ فی الحال امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی میں درس وتدریس کا کام انجام دے رہی ہیں۔
(۲) باراں رحمن ( پیدائش ۱۹۶۵ء) بی۔ایس سی ، ایم۔اے پی ایچ ڈی (انگریزی) اوراردو فارسی سے واقف ہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔
فاروقی کی شریک حیات محترمہ جمیلہ فاروقی جو حقیقی معنوں میں ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ اور ((Morale-Boosterدل بڑھانے والی خاتون تھیں ،اس دنیاے آب وگل میں تقریباََ ۵۲ برس تک ان کے ساتھ رہیں۔جمیلہ فاروقی اچانک بیمارپڑ گئیں۔خیال تھا کہ الہ آباد کے ڈاکٹر انھیںسنبھال لیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ انھیںدہلی کے مشہور بترا ہسپتال میں داخل کیا گیا،کئی ڈاکٹر شب وروز ان کی نگہداشت میں جی توڑ کوشش کر رہے تھے لیکن علالت ایسی تھی کہ کسی طرح افاقہ ممکن نہ تھا۔آخر طے پایا کہ بیگم فاروقی کو الہ آباد لایا جائے۔ مشیت ایزدی میں کیا چارہ ہے ۔آخر کار دہلی سے الہ آبا واپس لائی گئیں جہاں ۱۹؍اکتوبر ۲۰۰۷ء (بروز جمعہ) کو تمام اہل خانہ کو وہ داغِ مفارقت دے گئیں،جس کا اندازہ فاروقی کے ان اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

اس کو وداع کرکے ، میں بے قرار رویا
مانند ابر تیرہ ، زار و قطار رویا
طاقت کسی میں غم کے ، سہنے کی اب نہیں ہے
اک دل فگار اٹھا ، اک دل فگار رویا
اک گھر تمام گلشن ، پھر خاک کا بچھونا
میں گور سے لپٹ کر دیوانہ وار رویا
تجھ سے بچھڑ کے میں بھی اب خاک ہوگیا ہوں
تربت پہ تیری آکر ، میرا غبار رویا
٭٭٭
شمس الرحمن فاروقی کو ان کے چالیس سے زائد اردو انگریزی تصانیف اور کارناموں پر ہندوستان کی کم وبیش سبھی اکیڈمیوں اور ادبی اداروں نے انعامات سے سرفراز کیاہے۔علاوہ ازیں ان کی ادبی قدر قیمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بر صغیر کا سب سے بڑاادبی ایوارڈ’’سرسوتی سمان‘‘جو مالیت کے لحاظ سے بھی سب سے بڑاہے، شمس الرحمن فاروقی کو ’شعر شور انگیز‘‘ کے لیے ملا۔فاروقی اردو کے پہلے ادیب ہیں جنھیں سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔
شمس الرحمن فاروقی بنیادی طور پر ایک دانشور ہیں ۔ان کی عالمانہ تصانیف کو پڑھ کر نیز’’شب خون‘‘ جیسے معیاری رسالے کی ترتیب و تزئین کو دیکھ کر ہر کس وناکس اردو اور فارسی ادبیات پر ان کی گرفت کی تعریف کرتا ہے۔رسالہ’’شب خون ‘‘ جون ۲۰۰۵ء تک یعنی کم وبیش چالیس سال تک شائع ہوتا رہا۔اگرچہ اس میں بحیثیت مدیر ،پرنٹر اور پبلشر عقیلہ شاہین کا نام درج ہوتا تھا ، لیکن ترتیب و تہذیب کے ذمہ دار فاروقی تھے اور وہی دراصل پورے رسالے کی نگرانی کرتے تھے۔ ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد وہ از اول تا آخر اسے سجاتے سنوارتے تھے۔ تقریباََ ۸۰ صفحات پر مشتمل اس رسالے میںاعلیٰ درجہ کے طبع زاد نثری مضامین کے علاوہ مختلف زبانوں کے تراجم اور ادبی مباحث بھی ہوتے تھے۔ منظومات کے علاوہ چند مستقل عنوانات مثلاََ ’’سوانحی گوشے ‘‘،’’ کہتی ہے خدا خلق‘‘ا ور ابتدائیہ میں ادب عالیہ کا کوئی تعارفی مضمون ضرور ہوتا تھا۔ اس رسالے کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ نہ تو کوئی مضمون قسطوں میں چھپتاتھا اور نہ مختلف الگ الگ صفحات پر ۔ صحت کی خرابی اور دوسرے نا گزیر اسباب کی بنا پر فاروقی نے جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء میں دوجلدوں پر مشتمل آخری شمارہ نکال کر’’شب خون‘‘ بند کردیا۔
یہ بات تو اپنی جگہ بالکل طے ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک پیدائشی فنکار ہیں لہٰذا یہ ایک بدیہی امر ہے کہ مطالعۂ کتب ، مشاہدۂ کائنات،خامہ فرسائی ، علمی وادبی مباحث، نزدیک و دور کے اسفار،خطابت اور صحافت ہی ان کے میدان عمل یا کارگاہِ غور وفکر ہیں۔
شعر گوئی اور سخن فہمی فاروقی کو وراثتاََ اپنے بزرگوں سے ملی ہے۔لیکن ان کا کلام سنجیدہ مزاج اور فلسفیانہ خیالات رکھنے والے عالم ودانا سامعین و ناظرین میں نسبتاََ زیادہ مقبول ہے جس کا احساس خود فاروقی کو بھی ہے۔چنانچہ اپنے ایک شعری مجموعہ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’انگریزی زبان کے ایک معروف شاعر ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کے ایک دوست نے ان سے کہا کہ تمھاری شاعری اتنی مشکل ہے کہ اسے مشکل سے دولوگ سمجھ سکتے ہیں۔ ایلیٹ نے جواب دیا کہ میں انھیں دو لوگوں کے لیے لکھتا ہوں۔‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی اردو زبان کے ایک سچے عاشق بھی ہیں اور وکیل بھی۔اکثر اردو کے نادان دوست یا مخالفین مخلص یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اردو رسم الخط بدل دیا جائے تو یہ زبان اور ہردلعزیز ہو جائے گی ۔ فاروقی اس تجویز کے سخت خلاف ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ہماری زبان کی بدنصیبی ہی کہی جائے گی کہ اس کا رسم الخط بدلنے کی تجویزیں با ر با ر اٹھتی ہیں ، گویا رسم الخط نہ ہوا کوئی ایسا داغ بدنامی ہوا کہ اس سے جلد از جلد چھٹکارا پانابہت ضروری ہو۔کبھی اس کے لیے رومن رسم خط تجویز ہوتا ہے ، کبھی دیونا گری ۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ رسم خط میں تبدیلی کی بات کہنے والے اکثر خود اہل اردو ہی ہوتے ہیںجس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے ۲۰۰۵ء میں پروفیسر گیان چند جین کی بدنام زمانہ کتاب ’’ایک بھاشا، دو لکھاوٹ ،دو ادب ‘‘ کے عنوان سے شائع کی تھی ۔ ۳۰۰ صفحات سے کچھ اوپر ضخامت رکھنے والی اس کتاب میں جملہ ۱۴ ابواب ہیں ۔ فاروقی نے اس کتاب کے ایک ایک جزو پر خالص عالمانہ بحث کی ہے اور آنجہانی ڈاکٹر جین کے ایک ایک معاندانہ دعوے کی تردید کی ہے۔فاروقی کا یہ محاکمہ خالص منطقی استدلال پر مبنی ہے ورنہ موصوف یہ نہ لکھتے کہ:
ــ’’ یہ کتاب اردو ہندی تنازع پر نہیں ،بلکہ ہندو مسلم تنازع پر لکھی گئی ہے بلکہ ہندو مسلم افتراق کو ہوا دینے اور ابناے وطن کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے کے لیے لکھی ہے۔‘‘۱؎
پوری کتاب کا حرف بہ حرف تجزیہ کرنے کے بعد فاروقی نے اپنے تبصرے کا اختتام یوں کیا ہے:
’’ یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے شائع کی ہے۔ یہ ادارہ اردو اشاعت کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ اس کے مالک جمیل جالبی کے بھائی ہیں۔ وہی مشہور محقق اور ادبی مؤرخ جمیل جالبی جن کے معتقد ہمارے فاضل مصنف بھی ہیں اور جن کو انھوں نے اپنی کتاب ’’ اردو کی ادبی تاریخیں ‘‘ لکھ کر معنون کی ہے کہ جمیل جالبی ’’ادبی تاریخ کے سب سے اچھے اہل قلم ‘‘ ہیں ۔ حیرت ہے کہ اردوکے صریحاََ خلاف جھوٹ اور اغلاط اور تعصب سے بھری ہوئی یہ کتاب ایک اردو ادارہ سے کیسے اور کیوں شائع ہوئی‘‘ ۲؎
فاروقی کی ایک حیثیت مورخ اردو زبان وادب کی بھی ہے ۔ اس کا بین ثبوت ان کی تحریر کردہ کتاب ’’ اردو کا ابتدائی زمانہ، ادبی تہذیب وتاریخ کے پہلو‘‘ہے یہ کتاب جو دو سو صفحات پر مشتمل ہے اس کا پہلا ایڈیشن اجمل کمال نے ۱۹۹۹ء میں ’’آج کی کتابیں‘‘ نامی ادارہ واقع صدر ، کراچی پاکستان سے شائع کیا تھا ۔ یہی کتاب بہ زبان انگریزی آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس سے چھپ چکی ہے وہاں اس کی سرخی ہے:
Establishing New Facts about Urdu Language & Literature
Shamsur Rahman Faruqi’s
EARLY URDU LITERARY CULTURE AND HISTORY
Published by Oxford University Press
شمس الرحمن فاروقی نے اندرون ملک اور بیرون ملک کی متعددیونی ورسٹیوں اور جلسوںمیںشرکت کی جہاں انہوں نے مختلف ادبی موضوعات پرعالمانہ لکچر دیے اور جلسوں سے بھی خطاب کیا۔طوالت کی خاطر میں صرف بیرون ممالک کے اسفا ر کا سرسری جائزہ پیش کروںگا۔ شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بار ۱۹۸۷ء میں برطانیہ اور امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوںنے وسکالنسن یونی ورسٹی میں بین الاقوامی ادبی کانفرس میں شرکت کی اور شکاگو یونی ورسٹی میں لکچر دیے۔۱۹۸۰ء میں پاکستان کے شہر لاہور اور کراچی کے ادبی جلسوںسے خطاب کیا ۔۱۹۸۴ء میں امریکا اور کناڈا کا سفرکیا اورٹو رنٹو میں بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد برٹش کولمبیا یونی ورسٹی (وین کور) کیلی فورنیا یونی ورسٹی(برکلے) اور وسکالنسن یونی ورسٹی میں جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۴ء ہی میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کے SAARCکانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۵ء میں سوویت یونین ماسکو میں ہندوستانی سائنس نمائش میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔۱۹۸۶ء میں دوبارہ پاکستان کا سفر کیا اور اسلام آباد میں SAARC(دیہی توانائی) میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۶ء میں امریکا اور کناڈا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چھ امریکی شہروں میں ہندوستانی شاعری میلہ اور ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۷ء میں خلیجی ممالک دوحہ، قطر میں ہند پاک جلسوں میں شرکت کی۔۱۹۸۸ء میں برطانیہ اور امریکا گئے جہاں لندن کے ایک ادبی جلسے سے خطاب کیا علاوہ ازیں پنسلوانیا ، فلاڈلفیا اور کولمبیا یونی ورسٹی نیو یارک میں لکچر دیے۔۱۹۸۹ء میں خلیجی ممالک دوحہ ،قطرہندپاک جلسوں میںشرکت کی،واپسی میں کراچی کے ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۹ء میں پنسلوانیا یونی ورسٹی امریکا میں اردو ادب پر تقاریر کیں۔ ۱۹۹۰ء میں جدید اردو کلاسیکی ادب پر شکاگو میں لکچر دیے۔۱۹۹۳ء میں پنسلوانیا ، شکاگو اور کولمبیا یونی ورسٹیوں میں اپنے خطبات پیش کیے۔۱۹۹۳ء میں مغربی یورپ بلجیم اور ہالینڈ کا سفر کیا۔۱۹۹۳ء میں بنکاک،نیوزی لینڈ اور سنگاپور کا سفر کیا جہاں انہوں نے پوسٹل انتظامیہ کی دولت مشترکہ کانفرنس منعقدہ نیوزی لینڈ میں ہندوستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی اور ’’ آب ِحیات‘‘ کے انگریزی ترجمے میں بحیثیت مشیر ۱۹۹۳ء میں کولمبیا میں کام کیا اور کناڈا کے شہر ٹورنٹو میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا۔۱۹۹۵ء انگریزی ترجمے کے ماہر مشیرکی حیثیت سے کولمبیا میں کام کیا اور کیلیفورنیا ،برکلے اور کنکورڈیا کی یونی ورسٹیوں میں ادبی جلسوں میں خطاب کیا۔۱۹۹۵ء میں لندن اور بریڈ فورڈ میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا اور آکسفورڈ لائبریری میں نایاب کتابوں کا مطالعہ کیا۔ ۱۹۹۶ء میں عبرانی یونی ورسٹی یروشلم میں تین لکچر کلاسیکل اردو غزل کی شعریات پر دیے۔نومبر ۱۹۹۶ء میں فاروقی کو ہیبرو یونیورسٹی اسرائیل نے ’’ہندوستانی شعریات ‘‘ کے موضوع پر لکچر کی دعوت دی جس کا معاوضہ کافی خطیرتھا پھربھی فاروقی نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیا ۔ فاروقی نے اسرائیلی دعوت نامے کومسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ انسان دوستی کو نام ونمود اور اعزازات پر مقدم سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس عمل سے فلسطین کے ان مظلوموں اور ناداروں کی ایک طرح سے حمایت بھی کی جو صیہونی ظلم واستبداد کا آئے دن نشانہ بنتے ہیں۔
چونکہ اس تصنیف کا مقصد شمس الرحمن فاروقی کی فکشن نگاری عموماََ اور ان کے مشہور ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کا مطالعہ خصوصاََ پیش کرنا ہے۔لہٰذا گزشتہ چند صفحات میں ان کے سوانحی حالات اختصار کے ساتھ پیش کیے گئے ہیںتاہم اس نکتہ کو پیش نظررکھا گیا ہے کہ فاروقی کی پیدائش سے اب تک کی زندگی کا محاکمہ اس ترتیب سے کیا جائے کہ ان کی گھریلو ، علمی اور عملی زندگی کے وہ اہم واقعات وحالات ضبط تحریر میں آجائیںجو کہ ان کی پرورش و پرداخت اور ذہنی نشو ونمامیں اہمیت کے حامل ہیں۔ان کی شخصیت کے مطالعے کے بعد یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود انھوں نے اردوزبان و ادب پر جو اختصاص حاصل کیا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو سکا۔صرف اردو ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر اہم زبانوں اور ان کے ادب سے کما حقہ واقفیت فاروقی کو عبقری شخصیت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ انھیں ابتداے عمر ہی سے مطالعے کا شوق تھا۔رفتہ رفتہ یہ شوق ان کے مزاج اور شخصیت کا ایک دائمی جز بن گیا۔ انھوں نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ اپنی محنت وریا ضت کے دم پر کیا ۔ادب میں تحقیق، تنقید اور تخلیق غرض کہ ہر شعبے میں انہوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔
٭ ٭ ٭

 

Novel Kai Chand They Sa’ar E Asman

Articles

ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں کے تشکیلی عناصر

ڈاکٹر رشید اشرف خان

’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا تخلیق کردہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ناول نگار نے ہزاروں دریا سمو دیے ہیں ۔ اس شاہکار ادب پارے کو پڑھ کر اردو کے مشہور و معروف ادیب انتظار حسین نے فاروقی سے کہا تھا کہ’’ آپ آدمی ہیں کہ جن؟‘‘
یقینا مؤکل ، شمس الرحمن فاروقی کے تابع ہیں جن سے وہ جب چاہیں ، جیسا چاہیں کام لے لیتے ہیں۔ویسے تو اس ناول کی کہانی کو دراز تر کرنے میں درجنوں کردار ، مقامات ، واقعات اور حادثات سبھی شریک ہیں لیکن سب سے زیادہ نمایاں رول ، جگت استاد ، فصیح الملک نواب میرزا خاں داغ دہلوی کی والدۂ گرامی، وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم زہرہؔ دہلوی کا ہے۔ وزیر خانم کا نام زبان پر آتے ہی اردوکے معروف استاد شاعر ثمرؔ ہلّوری کا یہ شعر یاد آجاتا ہے:
ازل سے تا ابد ، نا محرمِ انجام ہے شاید
محبت ، اک مسلسل ابتدا کا نام ہے شاید
غیر ضروری نہ ہوگا کہ اگران عناصر پر بھی گفتگو کی جائے جن کے اشتراک سے ایک ناول کی تشکیل عمل میں آتی ہے ۔اسی مقصد کے تحت ذیل کی سطو ر میں ناول کے چند تخلیقی عناصر پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
زبانی بیانیہ
بیانیہ یاNarration ایک مخصوص انداز ہے جس سے اردو ادب کی نظم ونثر کی قرأت اور بلند خوانی دونوں میں مدد لی جاتی ہے:
’’ بیانیہ سے مراد صرف ناول یا وہ فکشن نہیں جس کے بنیادی نمونے ہنری فیلڈنگ اٹھارویں صدی اور ہنری جیمس نے انیسویں صدی میں قائم کیے۔ ناول یا فکشن ایک طرح کا بیانیہ ہے ،لیکن ناول کو بیانیہ کا واحد معیار یا واحد اصول ساز نہیں کہہ سکتے ۔ دوسرے الفاظ میں ، ہر بیانیہ کو ناول ،فکشن کے چوکھٹے میں رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیے‘‘۱؎
بیانیہ اور زبانی بیانیہ میں فرق ہے۔داستان میں ناول کے بر خلاف الگ ضوابط اور رسومیات ہوتے ہیں۔یعنی داستان کا مطالعہ آزادعلومیہFree disciplineکی حیثیت سے کیا جاتا ہے ۔شاید اس مخصوص disciplin کا نتیجہ تھا کہ جس زمانے میں ہمارے وطن اور بیرون وطن میں ناول کا بول بالا تھاتو ادب کے ماہرین نے بالاتفاق یہ مان لیا تھا کہ ناول کے ہوتے ہوئے کسی اور نثری بیانیہ کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے۔بہت سے اہل علم آج بھی داستان کو ناول کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔منظوم شکل میں جو داستا نیں لکھی گئیں یا قصہ خوانی کے دوران جو مثنویاں جوڑ دی گئیں انھیں ترنم سے یا گا کر پڑھا جاتا ہے اس کے برعکس ناول میں اگر اشعار نقل بھی کیے جاتے ہیںتو انھیں گاکر نہیں پڑھا جاتا۔جیسا کہ ’’کئی چاند تھے سرِآسماں ‘‘ میں اکثر مقامات پر ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جو زبانی بیانیہ کے ذیل میں آتے ہیں۔ مثلاََ جب ولیم فریزر کے قتل کے الزام میں نواب شمس الدین احمد خاں پر فردجرم عائد کرکے انگریزوں نے انھیں پھانسی دے دی تو وزیر خانم کی دنیا ہی اجڑ گئی ۔ وہ چپکے چپکے روتی اور دل ہی دل میں نوحے کے انداز میں یہ اشعار پڑھتی تھی:
شربتے از لب لعلش نہ چشیدیم و برفت
روئے مہ پیکراو سیر نہ دیدم و برفت
گوئی از صحبت مانیک بتنگ آمدہ بود
بار بربست و بہ گردش نہ رسیدیم و برفت
اسی طرح ایک مقام پر جب کریم خاں کی گرفتاری کے بعد دلا ورلملک نواب شمس الدین احمد خاں کو کمپنی بہادر کے افسران ،فیروزپور جھرکہ سے دہلی طلب کرنے کے لیے ایک خط روانہ کرتے ہیں۔خط کو پڑھ کر نواب شمس الدین خاں کی زندگی میں طوفان آجاتا ہے ۔وہ اندرون خانہ جاکر اپنی بیگمات اور بچوں سے ملتے ہیں ۔انھیں دلاسہ دیتے ہیں اور بادل ناخواستہ ایک ایک سے رخصت ہوتے ہیں۔شہر فیروز پور کے سبھی عوام وخواص گریہ وزاری کرکے انھیں الوداع کہتے ہیں اور روضہ خوان سیدنا امام حسن کے شہید فرزند حضرت قاسم کا یہ نوحہ پڑھتے ہیں:
آں دم عروس ہے ہے ، رو رو کہے زناں سوں
جاتے ہیں واہ ویلا تنہا ستم گراں سوں
ملنا جو پھر کہاں ہے ، وا حسرتا جہاں سوں
کرکے چلے اندھارا ، دن کو چو شام قاسم
مذکورۂ بالا نمونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں کہ اشعار گاکرہی پڑھے جائیںاگرچہ بعض حالات میں وہ ترنم سے خواندگی کے متقاضی محسوس ہوتے ہیں ۔اس سلسلہ میں ایک بات اور بھی قابل وضاحت ہے:
’’طویل یا مختصر بیانیہ نظموں کو گاکر یا پڑھ کر سنانے کا رواج مغرب میں بھی اتنا ہی مقبول اور اتنا ہی قدیم ہے ،جتنا مشرق میں۔ اور مغرب کی بعض عظیم ترین نظموں کی تنقید اسی وقت بامعنی قرار دی جاسکی جب اس نکتہ کو ملحوظ رکھا گیا۔ مثلاََ ہومرؔ کی ایلیڈ اور اوڈیسی اور ان کی طرح مشرقی نظموں مثلاََ مثنوی کے بھی عناصر یہی دو ہیں یعنی رزم اور بزم‘‘۱؎
داستان کو بیانیہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس کے سننے والے سامعین ہواکرتے ہیں۔اب تو خیر داستا نیں ، کتابی شکل میں یا فلم کے پردے پر آنے لگیں لیکن دور قدیم میںیہ سننے ہی کی چیز تھی البتہ ناول نویس سنانے کے لیے نہیں بلکہ پڑھوانے کے لیے لکھتا ہے۔دور حاضر میں بھلا کس میں اتنی صلاحیت ہے کہ فاروقی کے مذکورہ ناول کو حرف بہ حرف ازبر کرکے عوام کے مجمع میں سنا سکے۔یہ اور بات ہے کہ ناول نویس کے ذہن میں کچھ مفروضہ سامعین ہوں ،پر ضروری نہیں کہ وہ سامنے موجود ہوں۔
داستانی عناصر
ناول کے مصنف شمس الرحمن فاروقی ،قاری یا ناقد کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہ تصنیف کسی حیثیت سے داستان کے زمرے میں آتی ہے۔لیکن اس حقیقت سے کیسے انکار کردیا جائے کہ اس میں ’’داستانی عناصر‘‘ کا شائبہ بھی نہیں ہے۔فن داستان گوئی ، افسانہ نگاری اور ناول نویسی کے اختصاصی مبصر وقار عظیم کا یہ محاکمہ توجہ طلب ہے:
’’چھوٹی بڑی، سب داستانوں میں دلچسپی پیدا کرنے کاایک طریقہ تو یہ ہے کہ قصے کو جہاں تک ممکن ہو طول دیا جائے تاکہ پڑھنے والا زیادہ سے زیادہ عرصے تک حقیقت کی دنیا بھول کر ، رومان اور تخیل کی دنیا کی سیر کرے ۔کہانی کو طویل بنانے کے لیے ہمارے داستان نویسوں نے عموماََ یہ انداز اختیار کیا ہے کہ وہ اصل قصے کے ساتھ’’ ضمنی قصے‘‘ بڑھا کر پڑھنے والے کی توجہ اور انہماک کے لیے نئی نئی باتیں نکالتے رہتے ہیں‘‘۱؎
اس بیان کی روشنی میں اگر ہم جائزہ لیں تو کہانی کا مرکزی کردار الملقب بہ شوکت محل کی داستان حیات بیان کرتے وقت بنی ٹھنی، وسیم جعفر، تعلیم،مہاداجی سندھیا،مہاکالی وغیرہ کو اگرچہ اصل قصے میں انتہائی ہنر مندی سے جوڑ دیا گیا ہے لیکن بغور دیکھئے تو یہ سب چیزیں اضافی نظر آتی ہیں۔بنی ٹھنی کے حسن وجمال، اس کے اعضا وجوارح کی متناسب بناوٹ اور مہا راول گجندر پتی سنگھ مرزاکی چھوٹی جوان بیٹی من موہنی، عرف رادھا ،عرف بنی ٹھنی کی تصویر کشی فاروقی نے بہت تفصیل سے کی ہے۔
’’بنی ٹھنی‘‘ کی اس تفصیل کا داستانی عنصر یہ تھا کہ راجپوتانے کے علاقہ کشن گڑھ میں واقع گاؤں ’’ہندل پروا ‘‘ کے باشندے میاں مخصوص اللہ ایک شبیہ ساز تھے۔نہ جانے کس طرح انھیں یہ توفیق ہوئی کہ بے خیالی میں انھوں نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کی شبیہ بنادی۔ مخصوص اللہ اور ان کے گاؤں والوں کی شامت ہی تھی کہ بنی ٹھنی کے خد وخال مہاراول گجندر پتی مرزا کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے بالکل مل گئے۔مہاراول یہ سوچ کر آپے سے باہر ہوگیا کہ میری بیٹی کو کسی نا محرم نے دیکھ لیا اور اب میری جگ ہنسائی ہوگی ۔چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کو نہایت سفاکی سے قتل کردیا ۔مگر قدرت کے کھیل نیارے ہوتے ہیں ۔ مخصوص اللہ کے پرپوتے یوسف سادہ کار کے گھر میں وزیر خانم پیدا ہوگئی جو شکل وصورت میں بنی ٹھی کی ہم شکل یاTru-copy تھی۔اس قسم کے آوا گون۔دوسرے جنم یاRe-incarnation کے فارمولے کیا اس ناول کے داستانی عنصر کی غمازی نہیں کرتے؟داستانی عنصر کی ایک اور مثال بڑی دلچسپ ہے:
’’یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہر بیانیہ ماضی یا حال یا مستقبل میں واقع ہوتا ہے لیکن داستان کی صفت یہ ہے کہ اس میں مستقبل کی باتیں بسا اوقات پہلے ہی منکشف کردی جاتی ہیں۔مختصراََ یا مطولاََ ۔۔۔اور پھر سارے واقعات اپنے وقت پر دوبارہ بیان ہوتے ہیں۔تجسس کی وہ نوعیت باقی نہیں رہتی جو عام ناولاتی فکشن میں نظر آتی ہے‘‘۱؎
ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘کی ابتدا ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی، ماہر امراض چشم کی یاد داشتوں سے ہوتی ہے لیکن ایک مضحکہ خیز پہلو اس حوالے میں یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا وجود محض خیالی ہے۔ان کانام بھی مستعار ہے یعنی شمس الرحمن فاروقی کے والد مرحوم مولوی خلیل الرحمن اور دادا حکیم مولوی اصغر فاروقی کے ناموں کا مرکب ہے۔یہ التزام شاید فاروقی نے بڑی دوراندیشی سے کیا ہے اس سے موصوف کی ذہنی اپج اور درّاکی کا نمونہ سامنے آتا ہے۔
ڈرامائی پہلو
ڈراما ایک ایسی صنف ادب ہے جس میں منظر بدل جاتے ہیں ،مکالموں پر توجہ دی جاتی ہے، روشنی اور آواز کے اتار چڑھاؤ پر دھیان دیا جاتا ہے۔جذبات نگاری اور موسیقی کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔اگر موضوع تاریخی یا سماجی ہے تو زمان ومکاں اور ماحول، زبان، لہجہ ،کردار اور آغاز و اختتام پیش نظر رہتا ہے ۔اکثر خود کلامی ،طنز ومزاح یا لکچر بازی کا بھی التزام رہتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ بنیادی طور پر ایک ناول ہے جس میں بیک وقت داستان، ڈراما اور ناول سبھی رنگ نظر آتے ہیں۔ناول کے مطالعہ کے دوران ہمیں ڈرامائی پہلوؤ ں سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔پہلا ڈرامائی پہلو وہاں نظر آتا ہے جب لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر اور ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی پہلی تفصیلی ملاقات ہوتی ہے۔دونوں دریائے ٹمیز کے کنارے اتوار کو اس مقام پر ملتے ہیں جہاں پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔اسی طرح ناول کی ابتدا میں جب مخصو ص اللہ کی شبیہ سازی کی وجہ سے پورے گاؤ ں والوںکے سرپر موت کے بادل منڈلانے لگتے ہیںاوروہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ایک اور درد انگیز ڈرامائی موقع وہ بھی ہے جب صاحب عالم مرزا فتح الملک بہادر عرف مرز افخرو، ولی عہد سوم ایک مختصر سی علالت کے بعد انتقال کرجاتے ہیںاور چھوٹی بیگم (وزیر خانم) جنھیں مرزا فخرو کی بیگم بننے کے بعد شوکت محل کا خطاب ملا تھا بیوہ ہوجاتی ہیں تو مرزا فخرو کے چہلم کے تیسرے دن بعد ان کی سوتیلی ماں اور بہادر شاہ ظفر کی منظور نظر زینت محل وزیر خانم کو بلواکر کہتی ہیں:
’’ چھوٹی بیگم ،ہمیں تمھاری بیوگی پر بہت افسوس ہے لیکن تم تو ایسے سانحوں کی عادی ہوچکی ہو ۔ اسے بھی سہ جاؤگی‘‘۱؎
کافی دیر تک دونوں کی تلخ وتند گفتگو کے بعد زینت محل نے بڑی بے رحمی سے وزیر خانم کو قلعہ سے نکل جانے کا حکم صادر کردیا۔
تاریخی پس منظر
شمس الرحمن فاروقی نے ناول کے آخر میں یہ اعلان کیا ہے کہ:
’’یہ بات واضح کردوں کہ اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کاحتی الامکان مکمل اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھا رویں ، انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب ، انسانی اور تہذیبی وادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا‘‘۲؎
فاروقی کے اس اعلان کی تائید کرتے ہوئے اگر مان بھی لیتے ہیںکہ یہ ناول بنیادی طور پرتاریخی نہیںہے۔اس زاویہ نظر سے ہم اس کتاب سے چند نمایاںمثالیں پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح تاریخ لکھتے وقت مورخ قدیم تاریخی ماخذسے استفادہ کرتا ہے اور ہرپیچیدہ مسئلے کو دروغ بر گردن راوی کے فارمولے کے ذریعے قابل اعتماد ویقین بنا دیتاہے۔ اس طرح اگرچہ فاروقی نے اپنی کتاب پر تاریخیت کی مہر ثبت نہیں کی لیکن کتابیات کی سرخی کے تحت قریب قریب سبھی ایسی کتابوں کے حوالے دیے ہیں جن کے استناد میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ناول میں گزشتہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے واقعات کو زیادہ سے زیادہ جاندار اور پراثر بنانے کے لیے فاروقی نے روسی ناول کی تکنیک Docu-Fictionکا استعمال کیا ہے۔اس ضمن میںانھوں نے نہایت باریک بینی کے ساتھ انگریز افسران کی ذاتی ڈائریوں ، روزنامچوں اور خطوط کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے:
’’یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محقق فاروقی ، ناول نگار فاروقی کو پوری طرح کمک پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا اس میں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے دیکھتے ہیں‘‘۱؎
اس ناول کا اطلاق اگرچہ سو فیصد تاریخیت پر نہیں ہوتا لیکن اسی عنصر تاریخیت نے ناول میں دلکشی اور سنجیدگی پیدا کردی ہے ۔شاید اسی لیے مظہر جمیل نے لکھا ہے :
’’ناول میں جو تاریخی و نیم تاریخی مواد استعمال ہواہے اس کی حیثیت خواہ تحقیق کی رو سے بہت زیادہ مستند نہ ٹھہرتی ہولیکن طریق اظہار کے ذریعہ بیانیہ اپنا اعتماد قائم کرنے میں کا میاب رہا ہے کیونکہ اس سے ایک مانوس فضا اور التباس حقیقت کا مضبوط تاثر قائم ہوا ہے‘‘۲؎
کئی چاند تھے سرِآسماں کی ورق گردانی کرتے وقت کئی ایسی باتیں سامنے آتی ہیںجن کا تعلق اٹھا رویں اور انیسویں صدی کی تاریخ سے ہے اور جن کی صحت کا آسانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مثلاََحسیب اللہ قریشی عرف سلیم جعفر سچ مچ ایک مشہور ومعروف ادیب، نقاد اور عروضی تھے ۔انھوں نے نظیر اکبرآبادی کا ایک مبسوط انتخاب ’’گلزار نظیر‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔اسی سلسلے میں لاہور میں ۳۰؍جون ۱۷۹۲ء کو دو ہفتوں کے لیے مینا بازار لگا ۔مخصوص اللہ شبیہ ساز کے بیٹے یحییٰ بڈگامی کو اسی مینا بازار میں بصد اعزاز بلایا گیا تھا ،یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔اس ضمن میں یہ تاریخی واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد سے ایک بیٹا تھا جو آگے چل کر فصیح الملک نواب مرزاخاںداغؔ دہلوی کے نام سے مشہور ہوا ۔
مذہبی حوالے
جس طرح شاعری کی صنف مثنوی میں عمومی طورپر دو طرح کی مثنویاں ہوتی ہیں۔ رزمیہ اور بزمیہ۔ پھر آگے چل کر شاعراپنی شعوری جدت طرازیوں اور اختراع پردازیوںکے جوہر دکھانے کی کوشش کرتا ہے توکبھی مثنوی درس اخلاق کا صحیفہ بن جاتی ہے اور کبھی حسن وجمال کا مرقع ، کبھی سوانح اور آپ بیتی کا دفتر بن جاتی ہے اور کبھی داستانوں کا افسوں۔اکثر نمائش علم کا میدان قرار پاتی ہے اور کبھی عرفانیت اور روحانیت کی مبلغ۔ داستانوں میں با لخصوص مذہبی حوالوں اور تعلیمات کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں،جب کہ افسانہ اور ناولوں میں ان حوالوں کی گنجائش کم سے کم رہتی ہے۔قاری ذہنی تفریح اور جذباتی لطف کے لیے ناول پڑھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ ناول نگار کے انداز نگارش کا مزہ لینے کے لیے،عمدہ جاسوسی ناول علمی ترقی ، زبان وبیان کی چاشنی یا جذبۂ تحیر وتجسس کی تسکین کے لیے ایسے ناولوں کا مطالعہ کرتا ہے۔وقت گزاری اور منھ کا مزا بدلنے کے لیے بھی ناول پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ امر بڑا حیرت افزا ہے کہ فاروقی کا ناول گاگر میں ساگرAll in one کی بہترین مثال ہے۔اس میں تاریخ بھی ہے، تہذیبی پس منظر بھی ہے،مکالمے بھی ہیں،محبت بھی ہے نفرت بھی ہے، مکاریاں بھی ہیں ،شرافت و وضع داری بھی ہے، جنسیت بھی ہے نفسیاتی کیفیات بھی ہیں۔شاعری بھی اور فنون لطیفہ کی لطافت بھی ہے اوران سب سے بڑھ کر مذہبی حوالے بھی ہیں۔فاروقی لکھتے ہیں کہ:
’’ بڑی بیگم کو ایام صبا ہی سے اللہ رسول سے بے حد لگاؤ تھا۔ سات برس کے سن سے اس کی نماز قضا نہ ہوئی ،نو سال کی ہوئی توپابندی سے روزے رکھنے لگی ۔ کلام مجید کی کئی سورتیں، بہت سی حدیث پاک، قصص الا نبیا کے کتنے ہی اجزا ،سب اسے ازبر تھے۔پردے کی سخت پابند، کھیل تماشوں سے اسے کچھ لگاؤ نہ تھایہاں تک کہ بسنت کی بہار بھی نہ دیکھتی‘‘۱؎
جب ناول کے اسٹیج پر وزیر خانم نمودار ہوتی ہے تو بزرگوں کی روایت کے مطابق اسے اپنے والد محمد یوسف سادہ کار کے ہمراہ عرس مبارک کے ایام میں مہرولی شریف خواجہ قطب شاہ کی درگاہ فلک بارگاہ سے واپس آتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ محمدیوسف سادہ کار اور اس کے اہل خاندان مذہبی خیالات رکھتے تھے۔
فاروقی نے شعوری طور پر اس ناول میں مذہبی حوالوں کا التزام رکھا ہے۔فاروقیوں کا حوالہ بڑی چابکدستی سے داکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی دیا ہے اس سے وہ قارئین پر یہ راز آشکار کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ اعظم گڑھ(یا مئو) میں رہنے والے فاروقی (جس میں موصوف بھی حسن اتفاق شامل ہیں) ممکن ہے کہ ان کے آبا واجداد برہان پوری فاروقیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔
جب ۸؍اکتوبر ۱۸۳۵ ء بروز پنچ شنبہ ۸ بجے دن نواب شمس الدین خاں کوپھانسی دینے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔اس وقت کا ایک اندوہ گیں لیکن عجیب وغریب منظر دیکھئے:
’’تختۂ دار پر چڑھنے سے پہلے شمس الدین احمد نے کلمۂ توحید اور پھر کلمۂ شہادت پڑھا ۔انھوں نے جلادوں سے ان کی سرگوشی کے لہجہ میں ان کی ذات اور مذہب پوچھا۔جواب سن کر جو اسی طرح زیر لب دیا گیا تھا، نواب شمس الدین احمد نے آہستہ سے خود کلامی کے لہجہ میں کہا ۔اللہ جانے میرے ڈھیر کو مسلمان کے ہاتھ کی مٹی نصیب ہوگی کہ نہیں ۔اس لیے میں خود ہی اپنی مٹی کی دعا پڑھ لوں‘‘۱؎
اسی طرح آغا مرزا تراب علی رفاعی جب ہاتھیوں اور گھوڑوں کی خریداری کے لیے رام پور سے کافی دور سون پور (بہار)جاتے ہیں۔تب وزیر خانم اور راحت افزا دونوں باری باری آغا مرزا کو امام ضامن باندھتی ہیں۔آغا مرزا بھی اپنے بچوں کو دعائیں اورانھیں ’’اللہ کی امان‘‘ میں دے کر گھر سے نکل جاتے ہیں۔
اسی ناول میں ٹھگوں کے حوالے سے دیوی بھوانی ،کسّی اور بہت سے ایسے الفاظ و مصطلحات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان ٹھگوں کے نزدیک ایک سخت ظالمانہ عقیدہ اور مذہب ہے۔
سیاسی حالات
فاروقی کا تحریر کردہ ’’کئی چاندتھے سرِآسماں‘‘ ایک ایسا وسیع وعریض ناول ہے جو دیگر باتوں کے علاوہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں کار فرما سیاسی حالات کابھی بطور خاص احاطہ کرتا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی منظم ملک کی زندگی میں جہاں اور بہت سے عوامل کام کرتے ہیں وہاں سیاسی حالات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سات سمندر پار سے آئے ہوئے افرنگیوںنے کس طرح ہندوستان کو رفتہ رفتہ اپنا غلام بنا لیا۔’’سیاست افرنگ ‘‘کے عنوان سے علامہ اقبال نے محض چار مصرعوں میںبہت پتے کی بات کہی ہے:
تری حریف ہے یارب ، سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس۱؎
مذکورہ ناول ۱۸۵۶ء تک کے زمانے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔اپنی مقصد بر آوری کے لیے سب سے پہلے انگریز وں نے ہندوستان کی مختلف زبانیں سیکھیں۔عوام تو عوام،افسران بالا مثلاََگورنر جنرل، ریزیڈنٹ اور سفرا ،انگریز ہونے کے باوجود عمدہ ادبی فارسی میں گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ اشعار پڑھتے اور خطابت بھی کرتے تھے۔مثال کے طور پر جب جنرل لارڈ لیک نواب احمد بخش خاں شاہ عالم کی فوج میں شامل ہوئے تو ان کی قیمتی خدمات کے صلہ میں فیروز پور جھرکہ اور الور کے علاقے انھیں بطور انعام ملے تھے ۔ انھیں کی میواتی بیگم سے نواب شمس الدین احمد خاں تھے۔انگریزوں نے فارسی واردو میں خصوصی طور پر ایسا درک حاصل کرلیا تھا کہ غیر ملکی لہجہ ہونے کے باوجود وہ ان زبانوں سے بڑی حد تک بے تکلف ہوگئے تھے۔یہ مشق وہ کسی ادبی معیار کو قائم کرنے کے لیے کم اور سیاسی مقاصدکے حصول کے تحت زیادہ کرتے تھے۔مثال کے طور پرجب نواب یوسف علی خاں والیِ رام پور کی دعوت پر وزیر خانم انگریز ریزیڈنٹ ،ولیم فریزر کی کو ٹھی پر پہنچی اور دربان نے پکار کر وزیر خانم کی آمد کی خبر دی تو ولیم فریزر باہر آیا اور بولا:
’’ اہلاََ و سہلاََ۔ اے آمدنت باعث دل شادی ما۔
حضور نواب صاحب کلاں بہادر ، کنیزک شما و دعاگوئے شما
دیدہ ودل فرش راہ ، اندر تشریف لے چلیں‘‘
انگریزوں کی زبان دانی کی ایک بہترین مثال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب فریزر کی کوٹھی پر شعری نشست کے دوران فریزرنے مرزا غالبؔ سے کہا :
’’کہ میں نے فرنچ لیکور کا انتظام کیا لیکن شرط نئی غزل کی ہے ۔مرزا صاحب نے مسکراتے ہوئے بوتل کھولی اور کہا منھ میں تو پانی بھر اآرہا ہے لیکن اسے چندے کھلا چھوڑتا ہوں کہ ہوا خوردہ ہوجائے لیکن یہ شرابیں ایسی ہیں کہ سانس لینے کا تقاضا کرتی ہیں۔وللہ مرزا نوشہ ۔آپ کی انھیں باتوں پر تو ہم فدا ہیں۔ولیم فریزر ہنس کر بولا۔آداب مَے نوشی کوئی آپ سے سیکھے‘‘۱؎
ہندوستان میں اپنی ناپاک سیاسی تماشوں کی بساط بچھانے والے انگریز وںکی ایک مثال مرزا فخرو (جن کا پورا نام میرزا محمد سلطان فتح الملک شاہ بہادر عرف مرزا غلام فخرالدین عرف مرزا فخرو تھا)کے ساتھ تاریخی ساز باز ہے۔مرزا فخرو اور انگریز کے مابین یہ طے ہوا کہ اگر مرزا فخرو اپنے والد کے بعد حسب ذیل شرائط پوری کرتے ہیں تو انھیں ولی عہد نامزد کیا جائے گا:
’’ ۱۔ مرزا فخرو جب بھی گورنر سے ملیں تو برابری کے رشتے سے ملیں۔
۲۔ شاہی زمینوں کا بندوبست حکومت بر طانیہ کے ہاتھوں میں ہوگا۔
۳۔ سلاطین مغلیہ کو قلعۂ معلی میں رہنے کا حق نہ ہوگا۔
۴۔ ولی عہد بہادر کے لیے دوامی حکم ہے کہ وہ لال قلعہ خالی کرکے
قطب صاحب چلے جائیں۔‘‘۲؎
مرزا اسدللہ خاں غالب بھی اسی عہد کے ایک نمائندہ شاعر وادیب تھے۔وہ ایک بیدار مغز اور فیصلہ کن ذہن کے دور اندیش بھی تھے لیکن انسانی کمزوریاں اور کمیاں ان میں بھی تھیں۔وہ صرف خیالی دنیا میں رہنے والے محض شاعر بھی نہ تھے۔جیسا کہ خواجہ احمد فاروقی نے لکھا ہے کہ:
’’غالب ؔ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اب بچی کھچی فصل طاقت کا خاتمہ بہت قریب ہے۔چنانچہ غالبؔ نے اپنے مستقبل کو قلعۂ معلی کے نئے حکمرانوں سے وابستہ کرنے کی کوشش تیز کردی اور ملکۂ وکٹوریہ کی تعریف میں ایک قصیدہ فارسی میں لکھ کر لارڈ ایلن کے ذریعہ انگلینڈ روانہ کیا‘‘۱؎
اسی طرح ناول میں بھی انگریزوں کی سیاسی ریشہ دوانیاں اور ملکی نظام میں ان کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو مختلف کرداروں کو عمل اور رد عمل کے سبب پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔اس ناول کا بنیادی مقصد گرچہ ہندوستانی معاشرہ میں مقبول ہنداسلامی تہذیب کے گونا گوںمظاہر کو نمایاں کرنا ہے لیکن جس عہد کے واقعات کو ناول نگار نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہے ان میں ملک کی ہر لحظہ تبدیل ہوتی سیاسی بساط کی جھلکیاںبھی واضح نظر آتی ہیں۔اس طرح یہ ناول شمس الرحمن فاروقی کے پختہ سیاسی شعور اور سیاست وسماج کی وابستگی میں پوشیدہ اسرار جاننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ہندوستانی معاشرے کی جزئیات
تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ با مزہ و بے مزہ لذتوں کی ایسی حکایت بے پایاں ہے جس کی درازی کا کوئی اُور چھور نہیںہے۔جب بھی ایک قوم دوسری قوم سے ٹکراتی ہے تو دونوں اقوام میں شعوری و لا شعوری طور پر کچھ لین دین ہوتاہے۔اس لین دین کی نوعیتیں جدا گانہ ہو سکتی ہیںلیکن بہر صورت اس کے نتائج بڑے دور رس اور مستحکم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ زبان ، لباس ، روز مرہ کا رہن سہن ، معاش ،تعلیم،تجارت،ثقافت، سیاست اور تہذیب و تمدن میں واقع ہوتی ہے۔
فاروقی نے کسی نہ کسی حیثیت سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے حوالے سے آخری دور مغلیہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور عروج کی جزئیات کو بخوبی پیش کیا ہے :
’’تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ مغلوں کے زوال آمادہ دور میں اور اس کے بعد بھی اکبری بائی ایسی پیشہ وروں کی کیسی قدر ومنزلت تھی۔امیر وامرا اپنے بچوں کی تربیت دلانے کے لیے ان خواتین کے پاس بھیجا کرتے،یہ بچے یہاں آداب واخلاق سیکھتے ۔ملنے ملانے کے طور طریقوں کے علاوہ علم وادب میں بھی ہنر مندی پیدا کرتے،وزیر خانم کے بچپن کا ایک حصہ اپنی نانی کی رفاقت میں گزراتھا‘‘۱؎
اگرچہ انگریز ،صاحبان عالی شان بن کر انگلستان سے ہندوستان آئے تھے لیکن اپنی عیاریوں ، مکاریوں اور ہندوستانیوں کی فطری بزدلی ،آرام طلبی ،عیاشی ،آپسی رنجش اور بغض و حسد سے فائدہ اٹھا کر وہی غیر ملکی مداخلت کاررفتہ رفتہ ہمارے حاکم اور تقدیر ساز بن گئے۔بہ ظاہر اپنی حکمت عملی اور چالبازیوں سے کام لیتے ہوئے وہ ہمارے برسوں پرانے اور تاریخی سماج میں درانداز ہوگئے لیکن ان کے احساس برتری اور ہندوستانیوں کو ہر لحاظ سے کمتر اور بے وقوف سمجھنے کی فطرت میں قطعاََ فرق نہ آیا۔ہمارے ناول کی ہیروئن وزیر خانم اپنی ضد ، ناعاقبت اندیشی اور غلط جوش جوانی میں ایک انگریز افسر مارسٹن بلیک کے دام محبت میں گرفتا ر ہوگئی۔اہل خاندان کے سمجھانے بجھانے کے باوجود بغیر نکاح کیے اس انگریزسے منسلک ہوکر دہلی کو چھوڑ کر جے پو ر (راجپوتانہ) چلی گئی۔وہاں دونوں ’’زن و شو‘‘ کی طرح رہنے لگے۔ایک بیٹے اوربیٹی کی ماں بھی بن گئی۔لیکن مارسٹن بلیک کی انگریزیت میں ذرہ برابر فرق نہ آیا:
’’وزیر تو یہ دیکھتی تھی کہ مارسٹن بلیک کے گھر میںچوریاں بہت ہوتی تھیں۔مارسٹن بلیک ان چھوٹی موٹی چوریوں سے کسی بڑے مالی نقصان میںتو نہ آتالیکن الجھتا اور جھنجھلاتا بہت تھا۔وہ کبھی کبھی چڑ چڑا کے وزیر سے یہ بھی کہہ گزرتا تم ہندوستانی ہوتے بڑے چور اور بے ایمان ہو‘‘ ۱؎
جب انگریز ریزیڈنٹ دہلی،ولیم فریزر نے ایک مرتبہ اپنی کوٹھی میں ایک شعری نشست رکھی تھی اور نشست کا صدر نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔعرف مرزا نوشہ کو بنایاتو ان کے پہلو میں مظفرالدولہ ناصر الملک مرزا سیف الدین حیدرخاں بہادر کو بٹھایا۔ناصر الملک ، مبارز الدولہ مختارالملک نواب حسام الدین حیدر خاں بہادر کے بڑے بیٹے تھے۔مالک رام( ماہرِغالبیات) لکھتے ہیں:
’’ یہ بھی معلوم ہے کہ میرزا غالبؔ کے تعلقات نواب حسام الدین حیدر خاں کے خاندان سے نہایت ابتدائی زمانے سے تھے اور ان کے صاحب زادے ناظر حسین مرزا ان کے بچپن کے ہمجولی تھے اور یہ خاندان بھی کٹر شیعہ تھا۔اس لیے عین ممکن ہے کہ ان کے اثرات نے مجموعی طور پر مل کر میرزا کو بھی شیعیت کی طرف مائل کردیا ہو‘‘۲؎
فاروقی نے ناظر حسین مرزا کا نام نہیں لکھا لیکن بہر حال ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’میرزا غالب کو تشیع کی طرف مائل کرنے میں لڑکپن کی اس دوستی کو بہت دخل تھا‘‘
ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر خانم کے کردار میں بچپن ہی سے ایک قسم کا باغیانہ پن تھا۔یہ باغیانہ پن علامت ہے اس بات کی کہ اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی سے ہی ہندوستانی عورت میں یہ خصوصیت پیدا ہونی شروع ہو چکی تھی کہ وہ آزاد خیال ہو ،اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے اور اپنی تقدیر کو بنائے یا بگاڑے۔ ہوسکتا ہے یہ اثرانگریزی تعلیم اور انگریزوں کی صحبت کا بھی تھا۔دراصل اس کی سوچ میں تہذیبی بغاوت تھی۔وزیر خانم تو خیر اس ناول کا مرکزی کردار ہے لیکن اس سے منسلک دوسرے کرداروں کے آئینے میں بھی ہم اس عہد کے تہذیبی اور معاشرتی رویوں کو بہ آسانی سمجھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے معاشرہ میں عورت کا کیا مقام تھا۔
جزئیات نگاری کا ایک نمونہ اس وقت سامنے آتا ہے جب صاحب عالم و عالمیان مرزا فخرو بہادر ولی عہد سوم نے وزیر خانم کی تصویر دیکھ لی اور ان پر فریفتہ ہوکر انھوں نے سوچا کہ اپنے معزز دوست اور مشہور عالم شیخ امام بخش صہبائی کو بلا کر اس معاملہ میں پیغام رسانی کا وسیلہ بنائیں۔لہٰذا:
’’اگلی صبح کو مولوی صہبائی ابھی چاشت کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ صاحب عالم و عالمیان کا ایک چوبدار ایک کوزے میں ٹھنڈا دودھ اورایک کوری ہانڈی میں گرم گلاب جامنیںاور دوسری ہانڈی میںمال پُوے لے کر مولوی صاحب کے دروازے پر پہنچاکہ صاحب عالم نے ناشتہ بھجوایا ہے اور ارشاد فرمایاہے کہ مولانا صاحب حویلیِ مبارک میں صاحب عالم و عالمیان کے ایوان خاص میں تشریف لے آویں‘‘۱؎
زیر نظر ناول کے چند ابتدائی صفحات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس مقام پر پہنچتے ہیں جب بنی ٹھنی کی تصویر بنانے والا مخصو ص اللہ اپنے آبائی وطن سے شہر بدر ہونے کے بعد جب بارہ مولہ(کشمیر) پہنچتا ہے ۔وہ وہاں کی جنت نظیر وادیوں کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنے آبائی پیشہ شبیہ سازی کا ڈول ڈالنا چاہتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہـ:
’’وہ کشن گڑھ قلم کی مصوری کے لیے رنگ بنانا بھول گیا تھا۔اور کیسے نہ بھولتا ،ان اطراف میں نہ تو وہ جڑی بوٹیاں تھیں ، نہ وہ پتھر اور پانی ،نہ وہ کیڑے مکوڑے،اور سب سے بڑھ کر نہ وہ دیویوںجیسی قد آور اور سنہرے تامڑے رنگ کے ہاتھ پاؤں والی حسین لڑکیاںجن کے ہتھوڑے کی ایک ضرب سے لاجَورد یا زبرجَد کا بظاہرمٹ میلا ،ڈلا تین ٹکڑے ہوجاتا ۔ پھر بڑے پتھر کو وہ آہستہ آہستہ ہلکے پانی میں دیر تک اس طرح سے گھستی رہتیں کہ ان کا سقیم و عقیم حصہ گھس کر زائل ہوجاتا اور نیلے نافرمان والے رنگوں جیسی تتلی یا مصری اسکیرب جیسے فیروزی کیڑے کا رنگ نمایاں ہوجاتا۔کشمیر کی نازک انگلیوں اور لچک دار کلائیوں میں وہ صلابت نہ تھی ۔مخصوص اللہ نے کچھ دن لکڑی پر نقش ونگار بنانے کا کام کیا۔ اور حق یہ ہے کہ خوب کیا‘‘۱؎
ان تمام مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ناول نگاری کا ایک خاص اسلوب جزئیات کا حوالہ بھی ہوتا ہے ۔جزئیات کی مدد سے مصنف اپنے مافی الضمیر کو بھی بخوبی واضح کرسکتا ہے بلکہ وہ اسی کے ساتھ پلاٹ اور کرداروں کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافے کرسکتا ہے۔
سماجی اقدار اور دہلوی کلچر
ہر ملک ،ہر زمانہ اور ہر حالت کے مطابق ہی سماجی قدریں بنتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ہزار برس پہلے تشکیل شدہ سماجی قدریں آج بھی جوں کی توں برقرار رہیں۔مثال کے طور پر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران ہندوستان میں ہزاروں سماجی قدریں تھیں ان کے چند نمونے ہم کو زیر مطالعہ ناول میں جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔ہوسکتا ہے یہ قدریں اس زمانے میں سکۂ رائج الوقت ہو ں لیکن آج قابل مذمت یا قابل اعتنا نہ ہوں۔
جس زمانے کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اسی زمانے میں نوابین اور رؤساایک آدھ شادی اپنے ’’کفو‘‘ یا خاندان میں کرتے تھے اور بہت سی عورتوں کو بے نکاحی یا خانگی بنا کر رکھتے تھے۔اس زمانے میں یہ کوئی عیب نہ تھا۔شرفا اور امرا اپنے بچوں کو طوائفوں کے کوٹھے پر بھیجتے تھے تاکہ وہاں ادب ،تہذیب اور شائستگی کا سبق لیں۔
سماجی اقدار کی ایک بہترین مثال ہندو مسلم اتحاد تھا۔دیکھئے کہ پنڈت نند کشور کس طرح مسلمانوں میں شیر وشکرہیں ۔طہارت اور پاکیزگی کا کس قدر خیال کرتے ہیں۔زبان کا کوئی مذہب نہ تھا ۔مسلمان عربی فارسی کے ساتھ ساتھ سنسکرت ،ہندی،علم نجوم اور عربی بھی سیکھتے تھے۔شیعہ سنی میں شادیاں ہوتی تھیں اور میاں بیوی اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے۔مرزا غالبؔ کی بیگم (امراو ٔ بیگم) سنی تھیںاور وزیر خانم کے شوہر آغامرزا تراب علی رفاعی نے شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے اپنا نکاح پڑھوایا تھا۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں دہلوی کلچر کی چند مثالیں یہ ہیں کہ ہر ڈیوڑھی پر چوبدار ، لٹھیت ،برچھیت اور دربان ملازم ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی ملنے آتا تو وہ آنے والے کو روک کر آواز لگاتے ۔تب اسے اندر جانے کی اجازت ملتی تھی۔ہر گھر میں مامائیں، اصیلیں ،کنیزیں، باندیاں اور مختلف کاموں کے لیے ملازمائیں رکھی جاتی تھیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ سب اہتمام رئیسوں اور افسران کے گھروں میں ہوتے تھے۔
ملازم اپنے آقا ، خاتون خانہ اور مہمانوں کو بات بات میں تین سلام اور سات سلام کرتے اورخاص مہمانوں کو وہی جوتیاں پہناتے تھے۔مہانوں کی تواضع شربت ،پان ، عطر، گلاب اور بھنڈے(حقے) سے کی جاتی تھی۔جب کہیں سے کوئی ہرکارہ یا پیغامبر آتا تھا تو اسے انعام دیے بغیر واپس کرنا معیوب سمجھاجاتا تھا۔شب میں مالک یا مالکن سے شب بخیر اور صبح کو ’صبا حکم‘ خیر کہا جاتا تھا۔ خواتین بگھی یا نالکی میں آتی جاتی تھیں۔لیکن اب امرا و رؤسا کے یہاں بھی ایسا اہتمام نہیں کیا جاتا۔یہ تبدیلی بلا شبہ بدلتے وقت کا نا گزیر تقاضا ہے جسے نظر انداز کرکے یا اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پرانے طور طریقوں کے مطابق ہی زندگی بسر کرنے کو عقل مندی بہر حال نہیں کہا جاسکتا ۔لیکن یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ گزرے وقتوں کے طرز معاشرت سے مکمل طور پر عملی نہ سہی لیکن ذہنی وابستگی عصر حاضر کے سماجی ارتقا کی سچی تصویر مرتب کرنے میں معاون ہوتی ہے۔رسم ورواج میں تبدیلی ،انسانی روابط کی بدلتی نوعیت اور وسیع تناظر میں آداب معاشرت کا اختلاف اُسی طور پر بہتر سمجھا جاتا ہے جب تبدیلی کے با وصف انسانی قدروں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہو۔
یہ ناول جس عہد کے سماج کو پیش کرتا ہے اس میں اور موجودہ معاشرہ کی اقدار کا موازنہ مقصود نہیں لیکن فاروقی نے ناول میں بیان کردہ زمانے کی سماجی اقدار اور کلچر کی جزئیات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جسے پڑھنے کے بعد عہد حاضر کے سماج کی خوبیاں اور خامیاں از خود نمایاں ہوجاتی ہیں۔
فنون لطیفہ کے حوالے
فن لطیف یاFine Art اس ہنر مندی یا لیاقت خصوصی کو کہتے ہیںجس کا تعلق ہمارے نازک ترین احساسات اور شدید جذبات سے ہو ۔اس فن کی تشکیل میں ندرت، حیرت افروزی ، جمال آفرینی ، اکملیّت اور سکون دل ودماغ کی شمولیت لازمی اجزائے ترکیبی ہیں۔جہاں تک مجھے ذاتی طور پرعلم ہے کہ فاروقی ایک مستند اور صاحب دیوان شاعر ہیں۔ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر قبولیت عام حاصل کرچکے ہیں۔ممکن ہے کہ ان میں ’’لے‘‘ کا مادہ بھی ہولیکن موصوف اپنا کلام ترنم سے کبھی نہیں پڑھتے ۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حسِ موسیقی یاMusic Sense سے بڑی حد تک متصف ہیں۔
کئی چاند تھے سرِ آسماں کے متن کو ذہن میں رکھیں تو شمس الرحمن فاروقی ایک حقیقی عالم نظر آتے ہیں ۔قبائے دانشوری ان کے جسم پر پوری طرح جامہ زیبی کی قسم کھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔جہاں تک فنون لطیفہ کا تعلق ہے وہ کم وبیش سبھی سے گہری دلچسپی رکھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ان کا علم سرسری نہیں بلکہ گہرا ہے۔اس اجمالی بیان کی تفصیل یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ ناول کے آغاز ہی سے ان کے علوم کے نمونے سامنے آنے لگتے ہیں۔
اصل کہانی کے مقدمہ کے طور سب سے پہلے ہماری نظر مخصو ص اللہ کی طرف جاتی ہے جو مفلوک الحال انسان تھے لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں قوسِ قزحRainbowاور انگلیوں میں صبح اور چاندنی کی روشنیاں، بادلوں اور دھندلکوں کی سیا ہیاں ہیں۔مخصو ص اللہ جیسا کوئی لاجواب شبیہ ساز نہ تھا۔مگر جو کہتے ہیں نہ کہ’’ اے روشنیِ طبع تو بَرمَن بلا شدی! ‘‘یہی شبیہ سازی ،صرف مخصو ص اللہ کو کیا،پورے ہند ل پروا گاؤں کو لے ڈوبی۔
ہندل پروا سے ہجرت کرنے کے بعد مخصو ص اللہ بڈگام(کشمیر) میں سکونت اختیار کرتا ہے ۔ایک دن اچانک یا شیخ العالم ! کا نعرہ لگا کر وہ گھر سے غائب ہوجاتاہے۔ اس کی ملاقات بڈگام کی بڑی مسجد میں ایک ایسے خدا ترس ، رحم دل اور ماہر فن بزرگ سے ہوتی ہے جو قالین بافی(Carpet Weaving) کے استاد ہیں۔اس فن کو وہ تعلیم کے نام سے پکارتے ہیں۔آٹھ سال کی مدت میں شدید محنت و ریا ضت کے نتیجہ میں مخصو ص اللہ کشمیر کا سب سے بڑا تعلیم نگار مان لیا جاتا ہے۔اس وقت اس کی فن کاری کے نمونے ہندوستان کے علاوہ ایران و کاشان تک پہنچ چکے تھے۔
مخصو ص اللہ کے دونوں پوتے داؤد اور یعقوب بھی فن موسیقی میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ایک مشہور صاحب ثروت تاجر حبیب اللہ بٹ نے اپنے گھر میں منعقد ہونے والی محفل موسیقی میں شرکت کے لیے دونوں بھائیوں کو بحیثیت فن کار خصوصی طور پر مدعو کیا ۔محفل موسیقی کے آغاز کا نقشہ فاروقی نے کس طرح کھینچا ہے:
’’دونوں بھائیوں کے ہاتھ میں طاؤس، ایک ایک سنتور نواز،اور دف نواز دائیں اور بائیں۔ تین نوجوان سمر قندی سہ تار لیے ہوئے پیچھے کچھ الگ کھڑے ہوئے تھے۔سنتور نواز کے پیچھے ایک سنتور،اور ایک بزرگ نَے نواز نے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی نے ،لیکن بید کی نہیں پیتل کی۔طاؤس اور سہ تار کو ہم آہنگ کرنے کی مشقیں جاری تھیں ۔ دف نواز اور سنتورنواز ابھی خاموش تھے۔حبیب اللہ بٹ نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا ۔ حکم ہو تو محفل کا آغاز کیا جائے۔درایں اثنا سہ تاروں کی صدا میں سنتور کی گنگناہٹ شامل ہوکر بلند ہوئی۔ محمد داؤد نے راگ چاندنی کدارا میں الاپ شروع کیا۔یعقوب نے انترے سے استھائی میں قدم رکھا‘‘۱؎
مذکورۂ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخصو ص اللہ ،اس کا بیٹا محمد یحییٰ بڈگامی ، اور اس کے دونوں سپوت ہنر وارانہ ذہن اور جمالیاتی احساس رکھتے تھے۔شبیہ سازی ، قالین بافی اور علم موسیقی سے فطری رغبت میرے اس دعوے کی دلیل ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ناول کا بالا ستیعاب مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں فنون لطیفہ سے دلچسپی اور اس میں مہارت ِ تامّہ اس خاندان کے قریب قریب ہر فرد کی موروثی شناخت تھی۔آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ محمد یوسف جو یعقوب بڈگامی اور جمیلہ کا بیٹا تھا وہ بڑا ہوکر سادہ کار یعنی کپڑوں پر بیل بوٹے اور رنگ برنگے ڈیزائن بنانے والے ایک فن کار کے روپ میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ یوسف سادہ کار تک صرف مرد ہی اس خاندان میں فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن یوسف کی تینوں بیٹیاں (انوری خانم، عمدہ خانم اور وزیر خانم) بھی کسی حد تک آر ٹسٹک ذہن کی مالک تھیں یعنی اس شجرہ کی عورتوں میں بھی یہ اثر نفوذکرگیا۔بہت ممکن ہے کہ اپنی نانی ڈیرہ دارنی اکبری بائی فرخ آبادی کی تربیت اور ان کے گھریلوماحول کے زیر اثر یہ جمالیاتی احساس اور فنون لطیفہ کی طرف رجحان کارفرما ہوگیا ہو۔ عمدہ خانم ( منجھلی بیگم) طبیعت کی متین تھی ۔اکبری بائی کی صحبت میں رہ کر اسے نستعلیق گفتگو،بذلہ سنجی ، بات بات پر شعر خوانی ، بیگماتی رکھ رکھاؤ خوب آگئے تھے۔موزوں طبع تھی۔ خود شعر کہتی تھی ۔ ماہؔ تخلص تھا۔زمانے کے نئے سنگیت کی طرزوں ، خیال اور دادرا سے بھی خوب واقف تھی۔پیشے کے طور پر نہیں بلکہ شوق پورا کرنے کے لیے اس فن کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔وزیر خانم (چھوٹی بیگم) بچپن ہی سے نانی کے عشرت کدہ میں گھسی رہتی تھی۔ وہاں اس نے تھوڑا بہت گانا بجانا بھی ضرور سیکھ لیا تھا۔ گلا اس کا شروع ہی سے اچھا تھا۔ نانی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اسے بعض معمولی راگ راگنیاں بھی بخوبی یاد ہوگئی تھیں ۔یمن ، بسنت ، بہار ، باگیسری پھر بہت کچھ دادرا۔ کھتریوں اور چرواہوں کی دھنیں جیسے چیتی ، بنارسی ، ٹھمری وغیرہ۔
فنون لطیفہ کا ایک نادرو نایاب نمونہ اس وقت سامنے آتاہے جب ڈاکٹر وسیم جعفر نے اپنے انتقال سے پہلے ایک لفافہ اور کوئی پچاس اوراق پر مشتمل ایک کتاب ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کے لیے چھوڑی تھی ۔کتاب کوئی جنّاتی کارخانہ معلوم ہوتی تھی۔ اس میں سے طرح طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔
پلاٹ
پلاٹ کو ترتیب ماجرا بھی کہتے ہیں۔قصہ گوئی میں خواہ وہ افسانہ ہو یا ناول ، پلاٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔پلاٹ کی عدم موجودگی میں افسانے یا ناول کی تخلیق کرنے کا امر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔عہد حاضر میں بہت سے افسانہ نویسوں اور ناول نگاروںنے محض جدت اور ذہانت کے زعم میں بغیر پلاٹ کے بھی کہا نیاں لکھی ہیںاور داد وتحسین بھی حاصل کی ہے لیکن سچ پوچھئے تو یہ صرف جدت برائے جدت اور داد برائے داد ہے،نہ تو ہر کس وناکس بغیر پلاٹ کے کہانی لکھ سکتا ہے اور نہ ہی ہر شخص کی سمجھ میں یہ کہانی آسکتی ہے۔پروفیسر وقار عظیم نے لکھا ہے کہ:
’’ پلاٹ، واقعات یا تاثرات کو ایک فنی ترتیب دیتا ہے۔اسی فنی ترتیب میںقصہ کی ابتدااور انجام کے درمیان ایک منطقی ربط کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ قصہ میں وحدت تا ثر قائم رہے‘‘۱؎
سب سے پہلے پلاٹ کی تعریف اور وضاحت کرتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسے پہلے پہل زمانۂ قدیم میں یونانیوں نے اتنی اہمیت دی تھی چنانچہ ارسطو نے اپنی عالم گیر شہرت یافتہ کتاب بو طیقا میں ڈراما کے اہم ترین اجزائے ترکیبی میں شمار کیا تھا ،اس کے نزدیک پلاٹ المیہ ڈرامے کی جان تھا ۔آگے چل کر یہ طے پایا گیا کہ کم ازکم ناول میں ضروری نہیں کہ مکھی پر مکھی بٹھا دی جائے یا ٹی وی سیریل کی طرح کڑی سے کڑی ملائی جائے۔اس اصول کے تحت جب آپ’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کا فنی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ ناول کا مقصد نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی کی والدہ وزیر خانم کو مستقل طور پر محل اصلی یاFocusمیں رکھنا ہے اس کے باوجودناول میں تجارتی وقفے نہ سہی ادبی وقفے ضرور موجود ہیں اس سے یک رنگی ویک نوائی (Monotony) سے قاری کو بڑی حد تک نجات حاصل ہوتی ہے ۔یہ زمانۂ موجودہ میں ریڈیو اور ٹی وی کی جدید ترین تکنیک ہے۔
مثال کے طور پر پہلے تو ہم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی ماہر امراض چشم سے ملاقات کرتے ہیں۔موصوف کے لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر ،پی،ایچ ڈی ۔ ایف آر ایچ ایس وغیرہ سے مل کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے کسی آنے والے ڈرامے کا کتنا شاندار ابتدائیہ کیا ہے۔ہمارا تجسس وہیں سے شروع ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر وسیم جعفر کی پردادی، وزیرخانم کون تھیں اور کیسی تھیں؟
اصل کہانی کا آغاز محمد یوسف سادہ کار کے بیان سے ہوتا ہے۔وہ اپنے اصل وطن اور بزرگوں کا مختصراََ تعارف کراتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آبا واجداد کس لیے وطن سے ہجرت کرکے راجپوتانے سے بارہ مولہ (کشمیر) جابسے؟ اس بیان کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد اور متفرق واقعات سامنے آتے ہیں جن کا بظاہر ایک دوسرے سے کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا لیکن دو باتیں ایسی ہیں جو ہمارے تجسس اور دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہر واقعہ اپنے مقام پر مکمل ہے دوسرے وزیر خانم ایک زیریں لہر کی طرح اس دریا ئے واقعات میں ہر جگہ موجود ہے۔بالآخر ہم مارسٹن بلیک تک پہنچتے ہیں جہاں سے قصہ بڑی حد تک سلسلہ وار بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پنڈت نند کشور، راحت افزا،بھرمارو،کسّی،مہاکالی وغیرہ کہانی کاجز ہوتے ہوئے بھی کہانی سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔
تکنیکی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ناول کا پلاٹ سادہ بھی ہے اور پیچیدہ بھی لیکن غیر منظم ہرگز نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس میں یقینی طور پر وحدت تاثر کی کیفیت پائی جاتی ہے جو بہرحال ایک نیم تہذیبی، نیم تاریخی اور رومانی ناول کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
کردار نگاری
پلاٹ کی تعمیر میں کردار کا بہت اہم رول ہوتا ہے ۔کرداروں کاتعارف قرین مصلحت ہم آپ سے اس مقالے کے آغاز میں کراچکے ہیںجہاں موجودہ ناول میں بکھرے ہوئے متعدد افراد کے جغرافیائی وجود کو پیش کرتے ہوئے ان کی اہم حرکات و سکنات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لیکن ناول کے تشکیلی عناصر پر گفتگو کے دوران مناسب ہے کہ کردار نگاری پر بھی مختصراََ اظہار خیال کیا جائے۔اس ضمن میں جو سب سے اہم اور بنیادی بات ہے وہ یہ کہ ناول نگار نے گو کہ بیشتر کردار ایسے منتخب کیے ہیں جو کہ ہندوستان کی سیاسی، ادبی اور ثقافتی تاریخ میں ایک علاحدہ شناخت رکھتے ہیں لیکن شمس الرحمن فاروقی نے ان کی پیش کش میں ناول نگاری کے فن کو ملحوظ رکھا ہے۔ناول کے مرکزی اور ضمنی کرداروں کی نفسیاتی کشمکش اور ذہنی و جذباتی رویہ کی عکاسی اس انداز میں کی گئی ہے کہ وہ کسی ضابطہ بند ارتقائی عمل سے نہ گزرتے ہوئے اپنے عہد اور زمانے سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنی ذات سے اپنے عہد کے سماج کو متاثربھی کرتے ہیں۔بلاشبہ وزیر خانم کا کردار ایسا کردار ہے جسے اردو ناول نگاری کی تاریخ کے چند اہم کرداروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ناول کے اس مرکزی کردار کے علاوہ دیگر کردار بھی اپنے عہد کی تہذیب و معاشرت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسا منظر نامہ مرتب کرتے ہیں جو ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم دور تسلیم کیا جاتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ میں فاروقی نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کی دہلی کی تہذیبی ، معاشرتی اور انسانی زندگی کے ہر پہلوکو اس کے تما م تر جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے اس کی سب بڑی مثال وزیر خانم کا جیتا جاگتا کردار ہے۔وزیر خانم کا کردار ناول نگا ر کی حقیقت پسندی اور آزمودہ کار ہونے کی بھر پور دلالت کرتا ہے۔وزیر خانم کے اندر بچپن ہی سے مذہبی بغاوت کا جذبہ تھا۔ علم وآگہی کے ساتھ ساتھ سلجھاہوا ادبی ذوق بھی رکھتی تھی۔اس کے باوجود بھی اس کے مزاج میں شو خی اوربے باکی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔غالباََ اس کی وجہ اس کی نانی اکبری بائی کی صحبت کا اثر تھا ۔یوں سمجھئے کہ وہ انیسویں صدی کی ترقی پسند تھی۔ بالآخر یہی ترقی پسندی ، شوخی اور بے باکی اس کی زندگی کی تباہی کا سبب تھی۔
مارسٹن بلیک، بھلے ہی وزیر خانم کی رضامندی سے اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا اور وہ اس کے ساتھ جے پور میں بڑی شادمانی سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔مارسٹن بلیک کوایک ہندوستانی بیوی سے دوبچے بھی پیدا ہوئے اس کے باوجودبھی اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ہندوستانیوں کے خلاف نفرت کی جگہ تھی اور یہ نفرت کسی حد تک وزیرخانم کے لیے بھی تھی۔
انگریز ریزیڈنٹ ولیم فریزر کا کردا ر یک رخا کردار ہے ۔وہ اپنی مطلق العنانیت اور بربریت کے لیے مشہور تھا۔دیگر ہندوستانی عورتوں کی طرح وزیر خانم کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ فریزر کی کوٹھی پر شعر ی نشست کے دوران عورت ذات کی چھٹی حس نے وزیرخانم کو اشارہ دے دیا تھا کہ ولیم فریزر محض اپنی بدنظری اور بد چلنی کی خاطر وزیر خانم پر بری نگاہ ڈال چکا تھاتو دوسری طرف نواب شمس الدین احمد خاں جن کے چہرے سے امارت کی رعونت اور تجربے کی پختگی کے آثار نمایاں تھے ،وزیر خانم کے حسن وجمال پر فریفتہ ہو گئے۔ خود وزیر خانم بھی نواب شمس الدین کو اپنے دل میں بسانے کا خواب دیکھنے لگی۔
مذکورہ ناول میں نواب شمس الدین احمد خاں والیِ فیروز پور جھرکہ اور لوہارو کاکردار خودداری،نیکی،شرافت ، انسانیت اور ہندوستانی تہذیب کی خاطر خواہ نمائندگی کرتاہے علاوہ ازیںبائی جی، پنڈت نند کشور،مرزاغالبؔ،امام بخش صہبائی،ذوق ؔ دہلوی ،حکیم احسن اللہ خاں ،مرزا داغؔ،کریم خاں ، انیامیواتی،حبیبہ اور راحت افزاکا شمار گرچہ ثانوی،ضمنی اور اضافی کرداروں میں ہوتا ہے لیکن ان کرداروں کی پیش کش کوفاروقی نے نہایت چابکدستی سے برتاہے کہ یہ ناول کا اہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ڈاکٹر محمد یٰسین لکھتے ہیں:
’’ناول نگاری میں واقعات اور کرداروں کو نمایاں کرنے کے لیے،واقعیت کے ساتھ حسین دروغ گوئی کا بھی سہارا لیا جاتاہے‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی نے اس شاہکار ناول میں شاید ہی کہیں ’حسین دروغ گوئی‘ کے حربے سے کام لیاہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاروقی نے زیب داستاں کے لیے ابتدا میں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی (ماہر امراض چشم)کی نام نہاد یاد داشتوں کا سہارا لے کر انھوں نے خود اس غائب راوی اور وسیم جعفر کی تشریح کردی ہے۔رہ گیا اس ناول کا اصل متن تو بلاخوف وتردید کہا جاسکتا ہے کہ اس میں تاریخی حقائق کم سے کم ہیں تو حسین دروغ گوئی کی آمیزش بھی خال خال ہے۔اس ناول کو جہاں تک میں نے سمجھا ہے اور بہت حد تک ممکن ہے کہ اس میں منظر کشی اور مبالغہ آرائی کی بہتات ہے مگر کسی بھی طرح ناول یا اس کے فن پر گراں نہیں گزرتا۔
جان دار منظر نگاری
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو جام ِ جہاں نما کی طرح ہر قسم کی معلومات سے لبریز ہے ۔اسے کثیر الابعاد شیشے Prismکی طرح جیسے جیسے گھماتے جاؤ نئی نئی شکلیں نظر آئیں گی۔ناول کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس ناول کے خالق شمس الرحمن فاروقی محض ایک فکشن نگار ہی نہیں بلکہ وہ عالم گیر شہرت کے مالک ایک شاعر ، صحافی،ادبی نقاد اور دانشور بھی ہیں۔موصوف نے حقیقی معنوں میں دنیا دیکھی ہے شاید یہی سبب ہے کہ فاروقی کو ہر قسم کی منظر نگاری میں ید طولیٰ حاصل ہے۔پہلے ہم نے ان کے مختصرافسانوں میں لاجواب منظر نگاری کے خوبصورت نمونے دیکھے اور اب یہ ضخیم لیکن دلچسپ ناول ایک بڑا کینوس لے کر سامنے آتا ہے۔طوالت کی خاطر جاندار منظر نگاری کی صرف دومثالیں پیش کی جاتی ہیں۔پہلی مثال یہ ہے کہ جب کشن گڑھ (راجپوتانہ) کے گاؤں’’ ہندل پروا‘‘ کے مشہور شبیہ ساز مخصوص اللہ نے ’’بنی ٹھنی ‘‘ کی تصویر بنائی تھی جس کی وجہ سے پورے گاؤں پر مہاراول گجندر پتی سنگھ مرزا کا قہر نازل ہوا ۔ بہر حال فاروقی نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے:
’’چودہ ۔پندرہ برس کی لڑکی ۔سنگ سیاہ کی ایک شکستہ سی چوکی پر یوں بیٹھی ہوئی گویا اب اٹھے گی تو پوری جوان ہی اٹھے گی۔بھر پور جوانی اس کے عضو عضو پر دستک دے رہی تھی۔لہنگا ذرا ڈھیلا اور لمبا،لیکن گلاب کی کلی سے نازک تر ٹخنے اور گلاب کی پنکھڑی سے بھی لطیف ،گلابی لیکن زندہ پھڑکتے ہوئے رنگ کے پاؤں تھوڑے تھوڑے جھلک رہے تھے۔ایک تلوے پر ہلکا سا داغ۔ خدا معلوم تل تھا یا باغ کی کوئی پتی پاؤں کے صدقے ہوکر رہ گئی تھی۔گردن اسی طرح ایک طرف خم ۔صورت ویسی ہی نیم رخ ،لباس شوخ او ر بھڑ کیلانہیں بلکہ سفید اور گلابی اور زعفرانی،لیکن تینوں رنگ اس طرح سے بول رہے تھے کہ تصویر تھر تھراتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔گردن میں صرف ایک سادہ سونے کا ہارجس میں گوریا کے انڈے کے برابرایک انتہائی صفائی سے بیضوی کاٹے ہوئے یاقوت انجم کا آویز،کلائیوں میں صرف ایک ایک گھڑیالی کڑا۔ٹھنڈی پہاڑی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں خوش مزاجی اور الھڑپن اور نخوت کاامتزاج۔چہرے پرواضح مسکراہٹ نہیں توکوئی تشویس بھی نہیں،ایک خاموش تمکنت،خود پر کامل اعتماداور دنیا کے ہر خوف سے بیگانہ،مطمئن انداز نشست۔‘‘۱؎
فاروقی کی لاجواب منظر نگاری کا دوسرا نمونہ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کی صدارت میں ولیم فریزر کی کوٹھی پرشعری نشست کے بعد نواب شمس الدین احمد خاں نے وزیر خانم سے ملنے کی پیش کش کی جسے وزیر خانم نے دل وجان سے قبول کیا۔اس کے کچھ دنوں بعد نواب شمس الدین کی دعوت پر وزیر خانم خود ان کے گھر تشریف لے جاتی ہیں ۔وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد خاں کی غالباََ یہ تیسری ملاقات تھی۔اس دن وزیرخانم پوری تیاری کے ساتھ نواب شمس الدین احمد کے یہاں جاتی ہیں:
’’وزیر خانم نے اس دن ترکی وضع کے کپڑے پہنے تھے۔پاؤں میں آسماں رنگ کاشانی مخمل اور پوست آہو کی نکے دار شیرازی جوتیاں ، بہت پتلی ایڑی اور لمبی ڈور ، دیوار بالکل نہ تھی ،ایڑیاں کھلی ہوئی تھیں ۔ جوتیوں کی نوکیں بھی شکر خورے کی چونچ کی طرح بہت لمبی اور اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور ان کے سرے پر جنگلی مرغے کے سرخ بیر بہوٹی جیسے پَر کے طرّے تھے۔جوتیوں کے حاشیوں پر باریک بیل تھی جس میں سفید اور سنہرے پکھراج ٹکے ہوئے تھے۔آدمی جوتیوں کی چھب دیکھے تو دیکھتا رہ جائے لیکن اس کے آگے کا منظر دیکھنے کے لیے شیر کا کلیجہ اور تندوے کی بے حیائی درکار تھی‘‘۲؎
درج بالا دونوں اقتباس سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ناول نگار شمس الرحمن فاروقی ہر قسم کی منظر کشی کے فن میںمعراج کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔
ناول کی زبان
زبان کی تشکیل میں بدلتے ہوئے ماحول ، موضوع گفتگو،وقت ،علاقائیت اور تہذیب وتمدن کا بڑا ہاتھ ہوتاہے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کا احاطہ کیے ہوئے فاروقی کا یہ ناول اس پہلو پر کافی روشنی ڈالتا ہے کہ اس کی زبان کیسی ہے ؟ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں خصو صیت کے ساتھ دہلی اور اس کے قرب وجوار میں فارسی بولنے اور لکھنے کاچلن عام تھا ۔ناول کو پڑھنا شروع کیجیے تو وہیں یا تو فارسی تراکیب سے گراں بار اردوملتی ہے یا فارسی کے بر محل کلاسیکی اشعار۔مثال کے طور پرجب مرزا غالبؔ، داغؔ دہلوی سے پہلی بار ملے تو کہا کہ پوری دلّی میں تمھاری شہرت پر لگا کر اڑ رہی ہے اورتمھیںصرف مجھی سے ملنا نہیں ہورہاہے۔پھر انھوں نے یہ شعر پڑھا:
اے آتش فراقت ، دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جاں ہا خراب کردہ
صاحبزادے ! ہم آج تم سے وہی غزل سنیں گے۔اے سبحان اللہ،یہ عمر اور یہ مضمون یا بیاں؟ سچ ہے صاحب ،خدا جس کو دے۔
اسی طرح جب وزیر خانم سے ملاقات کرنے کے لیے نواب شمس الدین احمد خاںنے چوبدار کے ذریعے ملاقات کاوقت مانگا تووزیر خانم (چھوٹی بیگم) نے تڑپ کر کہا:
دیدہ و دل فرش راہ!
جس عہد کی ہم بات کررہے ہیں اس عہد کی باتوں میں علاقائی محاسن ،وہاں کی سرزمین، لوگوں کی روزمرہ زندگی،مشاغل ،مذہبی رسوم،شادی بیاہ کی رنگ رلیوں اور حسن فطرت کے حوالے کبھی براہ راست اور کبھی با لواسطہ ملتے ہیں۔مثلاََ :
۱)جی ۔جی ۔ ہاں مسافر ہی کہہ لیجیے۔یہاں غریب الدیارہوں۔
۲) بولنے والے کی آواز میں بادشاہوں جیسا اعتماد اور اولیا اللہ جیسی گیرائی تھی۔
۳) واہ بھئی سلیمہ بی بی، اتنے اچھے ہاتھ پاؤں کا بچہ اور اتنا کالا رنگ؟ گویا نشاط باغ کا کالا گلاب۔واہ جی واہ سبحان اللہ۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ موضوع کے علاوہ زبان وبیان کے اعتبار سے بھی اردو کے چند اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔فاروقی نے ناول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اردو اور فارسی کے علاوہ عربی زبان سے بھی ان کی کما حقہ واقفیت کی دلالت ہے۔اس ناول کی زبان وہ کلاسیکی اردو ہے جس کے نشان اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔آج کے اردو قاری کے لیے یہ زبان بھلے تھوڑی مشکل ہو لیکن اس کا اعتراف بہر حال کرنا پڑے گا کہ شمس الرحمن فاروقی نے قدیم اردو لغات اور محاورات سے عصر حاضر کے اردو قاری کو متعارف کرانے کا ایک بڑا ادبی فریضہ انجام دیا ہے۔ناول کی زبان، ناول کے بنیادی موضوع کے ارتقائی عمل میں معاون دیگر واقعات اور حالات کو تمام لوازم اور جزئیات کو کامیابی کے ساتھ منعکس کرتی ہے۔ناول کی زبان اس قدر شستہ اور رواں ہے کہ بیان کردہ واقعات کی تفہیم میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
یہ ناول فاروقی کی ہمہ جہت شخصیت اور مختلف النوع علوم وفنون اورکئی زبانوں پردسترس رکھنے کا تاریخی دستا ویز ہے ۔اس کا اندازہ ناول کے مطالعے سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ ناول نگار دہلی اور اس کے اطراف واکناف میں بسنے والے فرقے ،ان کے مذہب کی تہذیب وتمدن اور معاشرت سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔
فاروقی کی تحریریں اس لیے بھی پُر کشش ہوتی ہیں کہ وہ ہر قسم کے بیانیہ میں شاید غیر ارادی طور پر یا عادتاََایسے عبارتی ٹکڑے رکھ دیتے ہیں کہ ایک طرف تو ان کا مافی الضمیر پوری طرح ان کے حسب منشا واضح ہوجاتا ہے اور دوسری طرف وہ ٹکڑاقاری کی مذاق سازی کا کام بھی کرتا ہے۔مختصر یہ کی ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کی زبان، مصنف کے حاکمانہ اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔یہ اس دور کی بھر پور نمائندگی کرتی ہے اگر چہ کہیں کہیں لغت اور اس دور کے شعرا کی مدد بھی لینی پڑتی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول میں نہ صرف اس عہد کی زبان کا خاص خیال رکھا ہے بلکہ ایک ماہر سماجیات کی طرح معاشرہ کے ہر اتار چڑھاؤ پر نظر بھی رکھی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اسباب وعلل کو جاننے کی کوشش بھی کی ہے۔ان کی یہ معروضیت ناول کو اس قدر حقیقت سے قریب تر کردیتی ہے کہ اس میں بیان کیے گیے تمام واقعات کے حقیقی ہونے کا گمان گزرتا ہے گوکہ ان میںسے بیشترفاروقی کی قوت متخیلہ کی ایجاد ہیں۔
٭٭٭

Nepali Folk Tale

Articles

گیدڑ اور بھالو

نیپالی لوک ادب

 

ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔
گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع کریں۔“
بھالو نے سوچا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تب دونوں گھر کی تلاش میں نکلے۔ گاﺅں سے تھوڑے ہی دور جنگل میں جہاں لوگ لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے انھیں وہاں ایک چرواہے کا جھونپڑا نظر آیا جو کئی سالوں سے ویران تھا ۔انھوں نے بامبو سے چھت بنائی اور جھونپڑے کو اچھی طرح سے صاف کیا۔پھر انھوں نے جوئے میں جیتے ہوئے پیسوں سے ایک سانڈ خریدااور زمین جوتنا شروع کردی۔
بھالو کا سلوک گیدڑ کے ساتھ بہت اچھا تھا اور وہ بہت محنتی بھی تھالیکن بے وقوف تھا ۔دوسری طرف گیدڑ بہت چالاک تھا لیکن اسے کام سے بالکل بھی دلچسپی نہ تھی۔انھوں نے مل کر اپنی پہلی بھنٹے کی فصل تیار کرلی ۔گیدڑ کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بھالو کے ساتھ زندگی بطور کسان نہیں گذار سکتا۔
دوسرے دن صبح گیڈر نے کہادوست میںکھیت میں کام کرتا ہوں اور تم جاﺅ سانڈ کو چرا لاﺅ۔اس طرح ہم باری باری کرینگے جس سے ہمارے کام کا بوجھ ہلکا ہو جائیگا ۔
یہ طریقہ بھالو کو بہت پسند آیا وہ روزانہ صبح اٹھتا ناشتہ کرتا اور سانڈ کو چرانے نکل جاتا اور سانڈ کو چرانے چھوڑ کر اونچی جگہ جا کر بیٹھ جاتا اور دن بھر اس پہ نظر رکھتا ۔اس طرح سانڈ گھم ہو جانے اور شیر کی خوراک بننے سے بچا رہتا۔اسی دوران گیدڑ کھیت میں درخت کے سائے میں دن بھر لیٹا رہتا اس طرح فصل بڑھتی گئی۔
جب فصل کی کٹائی کا وقت آیا تب گیدڑ نے کہا”میرے دوست تم نے بہت محنت کی ہے اورکئی دنوں سے سانڈ کو چرا رہے ہو ۔ سانڈ بھی بہت صحت مند ہو گیا ہے ۔اب میری باری ہے اسے چرانے کی اب تم کھیت میں کام کرو۔
بھالو اپنی تعریف سنتے ہی راضی ہو گیا۔وہ فصل کی کٹائی کرنے لگااور گیدڑ سانڈ کو چرانے چلا گیا۔
بھالو مسلسل پورا دن کام کرتا رہتا ۔گیڈر کم محنتی تھا۔اسے گھنے جنگل میں اندر تک جانا بھی بھاری پڑتا تھا جہاں سانڈ کے لیے اچھی غذا تھی۔اسے اونچی جگہ پر چڑھنا اور سانڈ پہ نظر رکھنا بھی بھاری پڑتا تھا ۔ اور وہ دن بھر سانڈ کے ساتھ رہتا کہ کہیں گھم نہ جائے یا وہ شیر کی خوراک نہ بن جائے۔وہ میدانی علاقے میں سانڈ کو چرا تا رہتا یہ اس کے لیے آسان تھا اسے اس چیز کی پرواہ نہ تھی کہ وہاں چھوٹی چھوٹی گھاس ہے۔وہ بیری کے درخت کے نیچے لیٹا رہتا اور اسے دیکھتا رہتا۔اسے نہ ہی اٹھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سانڈ کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی۔شام میں تاخیر سے وہ گھر جاتا تاکہ اسے بھالو کے ساتھ فصل کی کٹا ئی میں مدد نہ کرنا پڑے۔
چند دنوں بعد سانڈ دبلا پڑ گیا۔اگر چہ بھالو بے وقوف تھا مگر اندھا نہیں تھا۔
اس نے ایک شام کو گیدڑ سے کہا”دوست ہمارا سانڈ اتنا دبلا کیوں ہوتا جا رہا ہے۔“
گیدڑ کے پاس جواب تیار تھا۔
” اس معاملہ میں ہم دونوں برابرنہیں ہیں دوست تم مجھ سے زیادہ اچھا چراتے ہو“۔ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”جہاں کہیں میں اسے لے جا تا ہووہاں مجھ سے پہلے لوگ پہنچ جاتے ہیں اس لیے اسے کھانے کے لیے کم مل پاتا ہے۔لیکن آج میں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرلیہے جہاں گھاس سانڈ کے گھٹنوں تک اگی ہوئی ہے۔کل میں اسے وہاں لے جاﺅں گا اور اسے پیٹ بھر کھلاﺅں گا۔“
بھالو کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ گیدڑ اچھا چرواہا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے دن صبح جب گیدڑ سانڈ کو لے جانے کے لیے اس کی رسی کھول رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ فصل کی کٹائی تقریباََ ہو چکی ہے ۔ اسی دن کا اس کو انتظار تھا ۔وہ گیڈر کو جنگل میں لے گیا مگر اسے گھنی جھاڑی میں نہیں لے گیا بلکہ بنجر ٹیلہ پر لے گیا جہاں گھاس کا نام و نشان نہ تھا۔جب سانڈ نے چرنے کے لیے اپنے سر کو جھکایا تب گیڈر نے اسے دھکا دے دیا اور وہ ٹیلہ سے نیچے گر گیا۔پھر گیدڑ بھاگتا ہوا ٹیلے سے نیچے اترا اور سانڈ کے مردہ جسم کو کھسکا کرٹیلے کے سائے میں لے آیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔
صبح کا ناشتہ گیدڑ نے سانڈ کے گوشت سے کیا۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تب اس نے سانڈ کے بچے ہوئے جسم کو پہاڑ کی غار میں چھپا دیا اور غار کے راستے کو پتھروں سے بند کردیا صرف اتنی جگہ چھوڑ دی کہ وہ خود اندر داخل ہو سکے اور سانڈ کی پونچھ سوراخ سے لٹکا کر باہر چھوڑ دی۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے ۔وہ گھر شام کو دیر سے جانا چاہتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ فصل کاٹنے میں آج بھالو کو دیر ہو جائے گی۔
گیدڑ کو دور سے اکیلا آتا دیکھ بھالو نے گیدڑ سے کہا”سانڈ کہاں ہیں؟“
گیدڑ روتے ہوئے کہنے لگا ” دوست آج بہت برا ہوا سانڈ غار کے دہانے میں پھنس گیا میں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اسے نکال نہ سکا کیوں کہ میں بہت کمزرور تھا ۔میرے دوست تم بہت طاقتور ہو ۔ کل تم میرے ساتھ چلو مجھے یقین ہے کہ تم اسے نکال لو گے۔
بھا لو تعریف سن کر نرم پڑ گیااور وہ اپنے دوست کی بات ٹال نہ سکا۔
دوسرے دن صبح گیدڑ بھالو کو لے کر غار کے پاس پہنچا ۔گیدڑ نے بھالو سے کہا تم بہت موٹے ہو تم اندر نہیں جا سکتے میں اندر جاتا ہوں اور سانڈ کو ڈھکیلتا ہوںتم باہر رہو اورباہر کی طرف کھینچو۔لیکن جب تک مت کھینچنا جب تک میں نہ کہوں۔جب میں کہوںتب تم دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت لگا کر کھینچنا ۔
بھالو راضی ہو گیا اور گیدڑ غار کے اندر چلا گیا۔اور اند رجا کر اس نے سانڈ کو باہر ڈھکیلنے کی پوری تیاری کرلی۔پھر آواز لگائی”دوست کھینچو!“
بھالو نے دونوں ہاتھوں سے پونچھ کو پکڑا اور اپنا پیر سہارے کے لیے غار پر رکھ کرپوری طاقت سے کھینچنے لگا۔جب گیدڑ کو لگا کے بھالو پوری طاقت سے کھینچ رہا ہے تب اس نے سانڈ کو باہر کی طرف ڈھکیل دیا ۔بھالو سانڈ کے وزن کو سنبھا ل نہ سکا اور لڑکھڑا کر پہاڑسے نیچے ندی میںگر گیا۔
سانڈ ہاتھ مل کر مسکرانے لگا ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تھا۔فصل پوری کٹ چکی تھی۔سانڈ کو بھی اب چرانے کی ضرورت نہیں تھی اور اب بھالو بھی نہیں تھا جو اسے غلط کام پر بولتا۔دھوکہ باز گیدڑ نے سوچا”اب جیسا میں چاہوں ویسا کر سکتا ہوں کوئی بولنے والا نہیں ہے۔“
وہ بھاگتا ہواگھر آیا ۔کلہاڑی اور باسکٹ لے کر پھر پہاڑی پر گیا تاکہ سانڈ کا بچا ہوا گوشت کھا سکے اورجو بچے اسے کاٹ کر گھر لا سکے۔گیدڑ نے گھر سے دلیابھی ساتھ لے لیا تا کہ دوپہر کا کھانا مکمل ہو جائے۔اور وہ یہ ساری چیزیں لے کر پہاڑی پر پہنچا ۔
پہنچتے ہی وہ ششدر رہ گیا۔ غار کے سامنے بھالوہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا۔
” ارے دوست “گیدڑ کو دیکھ کر بھالو نے کہا۔”سانڈ کا کیا ہوا؟“
”تم نے زیادہ زور سے کھینچ دیا “ گیدڑ نے برجستہ جواب دیا۔” تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں رہا ۔ تمہارے ساتھ ہی سانڈ بھی دریا میں گر گیا اور ڈوب گیا۔وہ دریا میں بہت زور سے گرا تھا پانی بھی بہت اوپر تک اچھلا تھا۔“
”میرے پیارے دوست“بھالوبڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا”اب ہم اس سے کبھی نہیں مل سکتے ۔ اس کے ساتھ میری بھی زندگی ختم ہوگئی !“ پھراس نے گیدڑ کی طرف دیکھ کر کہا”تم کلہاڑی اور باسکٹ اپنے ساتھ کیوں لائے ہو؟“
”میں نے سوچا کہ میں جنگل میں جا کر کچھ لکڑیاں کاٹ لاﺅں گا۔مجھے معلوم تھا کہ تم دریا سے بچ کر نکل جاﺅں گے اور تمہیں سردی پکڑ لے گی اور تم کام نہیں کر پاﺅں گے۔میں تم سے کہنے ہی والا تھا کہ تم گھر جا کر تھوڑا آرام کرلو۔“
تمہیں اپنے آپ پر رشک کرنا چاہئے کہ تمہارے بارے میں اتنا سوچنے والا تمہیں بھائی جیسادوست ملا۔پھر بھالو نے کھچڑی کی طرف دیکھ کر کہا ”تم دلیا کیوںاپنے ساتھ لائے؟“
”میں نے سوچا کہ تم تیرتے تیرتے بہت تھک گئے ہوگے اور تمہیں بہت بھوک لگی ہو گی اس لیے میں گھر جاکر تمہارے لیے کھچڑی لے کر آیا۔“
بھالو کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ خوش نظر آنے لگا۔
”میرے دوست تم لاکھوں میں ایک ہو“ اس نے چلا کر کہا اور گیدڑ کو گلے سے لگا لیا۔
گیڈر نے بھی ہنسنا شروع کر دیا ۔وہ دونوں ہنسی خوشی پہاڑ سے نیچے اتر گئے۔جب دونوں ہنستے ہنستے نڈھال ہوگئے تب انھوں نے ساتھ مل کردلیا کھایا۔پھر جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر دونوں ساتھ لائے ۔
دونوں ایک دوسرے کے اب تک دوست تھے ۔حالانکہ کسی کوبھی یقین نہیں آتا تھا کہ بے وقوف ،سخت محنتی بھالو چالاک اور کام چور گیدڑ کا دوست کیسے ہے۔

 


انگریزی سے ترجمہ:حیدر شمسی

Kalimuddin Ahmad ka Tasuwwar e shair

Articles

کلیم الدین احمدکا تصور نقد اور نقد شعر

شاکرعلی صدیقی

کلیم الدین احمد(1907ئ-1983ئ)کی تنقیدی تحریر کا باضابطہ آغاز1939ء میں گل نغمہ کے مقدمہ سے ہوا۔اسی مقدمہ میں ان کی زبان قلم سے رسوائے زمانہ جملہ غزل نیم وحشی صنف شاعری ہے  منظر عام پر آیا۔ اس بیان کی کلیدی وجہ یہ بتائی گئی کہ غزل میں ربط،اتفاق اورتکمیل کا فقدان ہے ،جس کے باعث تہذیب یافتہ ذہن کو لطف اور نہ تربیت یافتہ تخیل کو سرور حاصل ہے ۔ گل نغمہ کے تقریباً ایک سال بعد ان کی دوسری مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر1940ء میں مشتہر ہوئی۔یہ کتاب در اصل شاعری کے مختلف اصناف کی تنقید پر مبنی ہے ۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کی تیسری کتاباردو تنقید پر ایک نظر1942ء میں شیوع ہوکر متنازعہ حیثیت اختیار کر گئی۔ اس کتاب سے ادبی دنیا میں ایک طرح کی کھلبلی مچ گئی۔جس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ اردو کے پورے تنقیدی سرمائے تذکروں سے آب حیات اور حالی سے ان کے معاصر ین تک کی،تنقیدی کاوشوں کو یکسر رد کیا گیا اور یہاں تک کہ اردو تنقید کے وجود کو محض فرضی،اقلیدس کے خیالی نقطے اور معشوق کی موہوم کمر سے تعبیر کیا گیا۔جس پر ناقدین ادب نے مختلف نوعیت کے شدید تر رد عمل کیے ۔مثلاً پروفیسر نثار احمد فاروقی لطیف طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

پرو فیسر کلیم الدین احمد تو اردو میں تنقید کے وجود سے ہی منکر ہیں اور اسے معشوق کی موہوم کمر کہتے ہیں ، مگر اس(کا کیا کیا جائے ؟کہ)انکار میں اقرار بھی پوشیدہ ہے اس لیے کہ معشوق کی کمر(تو) ہوتی ہے ،بس وہ شاعر کو نظر نہیں آتی۔کلیم الدین صاحب تنقید کو کوئی فتویٰ یا حتمی فیصلہ قرار دینا چاہتے ہیں۔

سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ کلیم الدین نے اردو شعر و ادب کی اصنافی خصوصیات /امتیازات اور اس کی تنقید کو از راہ نظر یکسر رد کیا ہے یا پھر کسی ذاتی منصوبہ بند سازش کے تحت۔کیوں کہ اس سے قبل بھی مشرقی علوم و فنون پرانگشت نمائی کی جاتی رہی ہیں،کبھی مرعوبیت کی شکل میں اور کبھی حکمرانی کے رو سے ۔لہٰذا یہ نکتہ غورطلب ہے کہ آیا مشرقی(بالخصوص عربی ،فارسی اور اردو) ادب اتناہی گرا ہوا/پست قد ہے کہ اس کی تہذیبی،ثقافتی ،لسانی اور فنی قدروں کی یکسر تردید کی جائے ،تو پھر دوسری طرف ان مشرقی علوم کی رہزنی کیوں؟ یا پھر ان شہ پاروں کی تحقیق کیوں؟ اور مزید جدید ادبی تھیوریز (جن کو ہم مغرب کی دین کہتے ہیں)کی اساس کیا مشرقی تصور ادب کے ذیلی مباحث کے تحریف شدہ نظریات پر مبنی نہیں؟۔بہرحال یہ مسئلہ ہنوز تحقیق اورغور طلب ہے۔

کلیم الدین احمد کے پورے تنقیدی سرمائے کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے تنقیدی شعور و آگہی کا اطلاق ایک مخصوص نقطئہ نظر کے تحت کیا ہے ۔اس لیے ان کا تمام تنقیدی کارنامہ تین شقوں پر قائم ہے ۔ اول تو انہوں نے سب سے پہلے فن تنقید کے بنیادی مسائل اٹھائے ہیں اور پھر اصول تنقید کو مرتب کیا ہے ۔ دوم انہوں نے اپنے وضع کیے ہوئے اصولوں کا انطباق شعر و ادب پر کیا ہے ۔ سوم انہوں نے تمام شعری اصناف کا عمیق تجزیاتی مطالعہ کرکے قدر و قیمت کا تعین کیا ہے ۔ان کے اہم ادبی تصورات کو سمجھنے کے لیے مندرج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں:

ادب کی دنیا ایک ہے ، اس میں الگ الگ چھو ٹی چھوٹی دنیائیں نہیں ، خود مختار حکومتیں نہیں۔ شاعری کا مدعا اآج بھی وہی ہے جو دو ہزار برس پہلے تھا اور فنون لطیفہ کے بنیادی قوانین شاعری کی اصولی باتیں ساری دنیا میں ایک ہیں۔

ادب دماغ انسانی کی کاوشوں کا ایک آیئنہ ہے ، انسانی فطرت ہر قوم ، ہر ملک ، ہر زمانہ میں یکساں نظر آتی ہیں ۔ سطحی اختلافات تو ضرور ہیں اور ہوتے رہتے ہیں ؛لیکن حقیقت نہیں بدلتی ۔… ادب بنی نوع کی زندگی اور اس کے شعور سے وابستہ ہے ۔ نوع انسانی کی زندگی مسلسل ہے ۔ افراد فنا ہوجائیں؛ لیکن نوع کی فنا نہیں ۔ اس میں تغیر تو ضرور ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تغیر ارتقا ئی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ اسی طرح ادب میں بھی اس تسلسل کا وجود لازمی ہے ۔ “

مذکورہ اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد کا ادب کے متعلق ایک مخصوص نظریہ ہے ۔ وہ تمام ادبوں کی دنیا کو ایک تصور کرتے ہیں ۔ اس لیے ان کے ادبی تصور میں علاقایئت کے بجائے عالمیت کا غالب رحجان پایا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک ادب انسانی تجربات کا اظہار ہے ۔ ان تجربات میں جذبات اور خیالات دونوں شامل ہیں ۔ ان کا موقف یہ بھی ہے کہ کہ تجربہ میں محض زندگی کے روزمرہ حقائق داخل نہیں بلکہ اس میں احساسات بھی دخل ہیں ۔ان میں ایک قسم کی عالم گیری اوار ابدیت ہوتی ہے ۔ ادب، پائدار ادب اسی قسم کے بنیادی تجربات سے سروکار رکھتا ہے ۔ اس لیے ایک دور کا ادب کسی دوسرے دور میں بیکار ،مہمل ، فرسودہ ، ازکار رفتہ نہیں ہوجاتا بلکہ جہاں تک بنیادی اور پائدار تجربات کا سوال ہے ۔اپنی قدرو قیمت پر قائم رہتا ہے ۔  نیز ادب نام ہے تجربات کے اظہار کا ۔ یہ تجربات ایک حد تک انسان کے ماحول سے وابستہ ہیں یہ ماحول کائنات کی ہر چیز کی طرح بدلتا رہتا ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر انسانی تجربات میں بھی تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔ ماحول کا وہ سماج ہو یا خارجی ماحول ہو ،اثر کسی دور کے ادب پر ہوتا ہے اور کسی دور کے ادب کو پورے طور پر سمجھنے کے لیے اس ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔  کلیم الدین کے شعور ادب میں تجربہ خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ جس کا براہ راست تعلق انسانی ماحول سے ہے ۔ جس میں تغیر بھی ہے اور تبدل بھی ، اس لیے ان کے نزدیک شعرو ادب کی تفہیم میں ماحول کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔

کلیم الدین کے نزدیک شاعری بیش قیمتی تجربات کا موزوں ترین اظہار ہے ۔ اس اظہار میں تین بنیادی شرائط ہیں اس میں سچائی ہو، خلوص ہو اور گہرائی ہو ۔ انہوں نے اپنی کتاباردو شاعری پر ایک نظرمیں شاعری کے متعلق بہت سے بنیادی نکات اٹھائے ہیں ۔ وہ شاعری کی تعریف اس طرح کرتے ہیں :

شاعری اچھے اور بیش قیمت تجربوں کا حسین ، مکمل اور موزوں بیان ہے ۔

شاعری کی جو تعریف انہوں نے بیان کی ہے وہ مشرقی اصول شعر سے عبارت ہے ۔ عربی اور فارسی کے ناقدین نے انسانی تجربوں کے موزوں بیان کوہی شاعری تسلیم کیا ہے ؛ لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ انہوں نے اس میں مکملکی شرط لگا کر اپنے مخصوص زاویئہ نظر کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ حالاں کہ شاعری اشارات و کنایات میں اپنی بات پیش کرتی ہے ، جس کو قاری اپنے تربیت یافتہ ذہن کے ذریعہ مکمل کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری مشرقی شاعری میں ربط یا تسلسل نام کی کوئی ظاہری چیز نہیں پائی جاتی اور نہ ہی انگریزی شاعری کی طرح اس میں ابتدا ، وسط اور انتہا کا التزام ہوتا ہے ۔ کلیم الدین احمد آگے چل کر اسی نقطہ پر ٹھہر جاتے ہیں اور میر کے دو شعر کا موازنہ سلی پردوم کی ایک نیم مختصر  نظم سے کرکے یہ نتیجہ بر آمد کرتے ہیں کہ :

 میں صرف ایک بات اور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس نظم کے مختلف اجزا میں ربط و تسلسل ہے اور صرف یہی نہیں اس نظم میں خیالات و جذبات کی ابتدا ، ترقی اور انتہا ہوتی ہے اور یہاں یہ تینوں حصے بہت صاف صاف دکھائی دیتے ہیں ۔

کلیم الدین احمد کے نزدیک شاعری انسانی کامرانی کی معراج اور انسانی تہذیب و تمدن کے سر کا تاج ہے ۔وہ اسے انسان کی زندگی کی تکمیل کا بنیادی وسیلہ تصور کرتے ہیں ان کا خیا ل ہے کہ شاعری وہ طاقت ور صنف ہے جس میں انسان کی تمام تر قوتیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں ۔ اسی وجہ سے شاعری انسان کو کامل سکون عطاکرتی ہے ۔ ان کے یہاں شاعری کی ماہیت اور انسان کی زندگی میں شاعری کی قدرو قیمت کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ بہرکیف شاعری سے متعلق ان کے تمام تصورات کا خلاصہ یہ ہے کہ :

  1. شاعری میں پیش کردہ تجربات یا خیالاتقیمتی ہوں ۔
  2. خیال میں انفرادیت اور تازگی ہو ۔ نیز وہ نئے جذبات و احساسات سے پر ہوں ۔
  3. شاعری میں حسن بیان ہو ۔ ان کا موقف ہے کہ شاعری کا بنیادی تعلق آسودگء روح ہے ۔ اس لیے جن الفاظ کا پیکر اسے عطا کیا جائے وہ بھی حسین ہونے چاہیے ۔
  4. اچھی شاعری کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ مکمل بیان ہوایسا نہ ہو کہ الفاظ کے پردے سے معنی دھندلے ہوجائیں۔
  5. شاعری میں پیش کردہ تجربات کے لیے مناسب الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ مفہوم پوری طرح ادا ہوجائے ۔
  6. شاعری میں موزونیت ، نغمگی اور تناسب کا ہونا بھی ضرور ی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعری میں عمدہ اور بے بہا تجربات ہوتے ہیں ۔ اس لیے اس کی صورت گری تین عناصر ” نقوش، الفاظ ، وزن / آہنگ ” کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یہ عناصر استعارات کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ جو لازم جزو شاعری ہے ۔

شاعری کی عملی تنقید کے حوالے سے ان کی دو کتابیںاردو شاعری پر ایک نظراورعملی تنقید قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں بھی شاعری کی عملی بحثیں ملتی ہیں؛لیکن اول الذکر دونوں کتابیں شاعری تنقید میں کلیدی درجہ رکھتی ہیں۔ان کی عملی تنقید میں غزل تنقید کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ حالی کے بعد ان کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے غزل کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کے خدو خال کا تعین کیا ۔ اگرچہ ان کو غزل کی ہیت ، ریزہ خیالی اور موضوعات کے تکرار سے اتفاق نہیں تھا جس کی وجہ سے “غزل کو نیم وحشی صنف سخن ” قرار دیا ؛ لیکن انہیں غزل کی مستحکم روایت اور نزاکت کا پورا پورا احساس تھا ۔ غزل تنقید کے متعلق ان کا پہلا مضمون ” نگار ” لکھنو ، جنوری تا فروری 1942ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد انہوں نے  اردو شاعری پر ایک نظر اور  عملی تنقید جلد اول میں صنف غزل پر عملی بحث کی ۔  نگار کے مضمون میں انہوں نے غزل کے متعلق جو آرا پیش کی تھیں انہیں کو مربوط شکل میں اپنی مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر میں پیش کیا ہے ۔ اور پھر اسی روشنی میں غزل ، قطعہ ، قصیدہ اور مرثیہ جیسی معروف صنف سخن کو زیر تجزیہ لائے اور انہیں اصناف کے تحت نمائندہ شعرا مثلاً میر  ، درر ، سودا ، ذوق ، غالب ، مومن  ، میر حسن  ، نسیم  ، شوق ، انیس  اور دبیر  وغیرہ کے فن پاروں کو موضوع بحث بنایا ۔ مثلاََ:

غالب کی ایک مشہور غزل جو سات اشعار پر مشتمل ہے ،جس کا مطلع غیرلیں محفل میں بو سے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے اورمقطع  عشق نے غالب نکما کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے  اس پوری غزل کو نقل کرکے وہ لکھتے ہیں :

 اس غزل پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شعروں میں مشابہت اور مناسبت ہے ۔ سب ہم وزن ہم قافیہ اور ہم ردیف ہیں ۔ ایک شعر کے سوا سب شعر عشق اور عشق کے لوازمات سے وابستہ ہیں ۔ اس ظاہری مطابقت کی وجہ سے خیال ہوتا ہے کہ باطنی مطابقت بھی ہوگی اور ان شعروں میں معنی کے لحاظ سے ربط و تسلسل اور ارتقائے خیال بھی ہوگا؛ لیکن یہ خیال غلط ہے ۔ مختلف شعروں میں شعور ی اور غیرشعوری کوئی ربط نہیں ۔ پڑھنے والے کے ذہن میں مکمل تجربے کی تصویر اجاگر نہیں ہوتی بلکہ چند پراگندہ خیالات اور نقوش جم جاتے ہیں ۔ رقیبوں کی کامیاب قسمت ، شاعری کی خستگی ، خط لکھنے کا ارادہ ، زمزم پر مے کشی ، دل کا آنکھوں میں جاپھنسنا ، شاہ کے غسل صحت کی خبر ، شاعر کا نکما ہونا ان باتوں میں کوئی معقول مناسبت نہیں ۔ ان میں ربط و تسلسل ، وہ ارتقائے خیال نہیں جو سلی پرودوم کی نظم کے مختلف بندوں میں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ غزل میں تسلسل بیان نہیں ہوتا ، ہر شعر جداگانہ مفاہیم کا حامل ہوتا ہے ۔ اسی طرح غزل کا ہر شعر اپنے میں مکمل اور معنی میں خود مکتفی ہوتا ہے ۔ ظاہری تسلسل کے لحاظ سے غزل کے اشعار ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں ؛ لیکن ربط باہمی سے پیوست ہوتے ہیں ۔ مثلاً غزل کے اشعار میں بحور قوافی کی جھنکار اور ردیف کی تکرار باہمی ربط کی عمدہ دلیل ہے ۔ جس کی شناخت صاحب فہم یا غزل شناس ہی کرسکتا ہے ۔

غزل کے تاریخی ، تہذیبی اور صنفی خصوصیات و امتیازات سے چشم پوشی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ کلیم الدین سلی پرودوم کے نظم کی خصوصیات و امتیازات کوغالب کی غزل میں تلاش کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک مرتبہ ایک ضعیفہ اپنے گھر کے باہر سرکاری بلب کی روشنی میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ایک راہ گیر نے پوچھا بڑی بی کیا تلاش کر رہی ہو ؟ بھیا ! سوئی تلاش کر رہی ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہاں گری تھی ؟ ضعیفہ نے کہا وہ تو اندر کوٹھری میں گری تھی ۔ پھر یہاں کیوں تلاش کر رہی ہو ؟ وہاں اندھیرے کی وجہ سے سوجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اس لیے سوچا یہاں روشنی میں تلاش کرلوں ! یہی واقعہ کلیم الدین احمد کے ساتھ بھی پیش آیا کہ انگریزی شاعری کی خصوصیات و امتیازات کو اردو شاعری میں تلاش کر رہے تھے ۔ جس کے باعث اردو شاعری ان کے معیار و میزان پر پوری نہیں اتری ۔

شاعری کے عملی مباحث میں کلیم الدین احمد کی عملی تنقید سر فہرست ہے ۔ اس میں ان کا طریق نقد بالعموم یہ رہا ہے کہ شعرو ادب کے جائزے سے قبل متعلقہ جائزے کے کچھ بنیادی اصول وضع کیے ہیں ۔ بالفاظ دیگر فن پارے کی عملی تنقید سے پہلے اپنی نظری تنقید کو مستحکم کیا ہے ۔ فن پارے کو پرکھنے کے لیے انہوں نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے یہاں ان کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔ اس لیے اہم نکات کا خلاصہ آپ کے پیش نظر ہے :

اول شعر کی تفہیم کے لیے ان کے نزدیک دو شرطیں ہیں کیا اور کیسے ؟ ان کے نزدیک کیا سے مراد مضمون ہے اور کیسے سے مراد الفاظ ہیں ۔ یعنی ان کی عملی تنقید موضوع اور ہیت کے مطالعات پر مبنی ہیں ۔ وہ اس ضمن میں رقمطراز ہیں :

……..شعر کو سمجھنے ، پورے طور پر سمجھنے ، ان کی خصوصیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اس کا تجزیہ ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کیا اور کیسے کی بات اٹھائی جاتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر مقصد میں کامیابی بھی ممکن نہیں ؛اس لیے یہ تجزیہ ضروری ہے ، کیا اور کیسے کی بات ضروری ہے ۔

ہیئت / فارم کے مطالعے کے لیے ان کے یہاں چار چیزیں ہیں : اول نقوش، دوم الفاظ ، سوئم آہنگ یا وزن،چہارم لب و لہجہ ۔ ان کا موقف ہے کہ شعر کی تشکیل الفاظ کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یعنی شاعرخیال ، ذہنی نقش یا تاثر کی شکل میں کچھ کہتا ہے ۔ اگر یہ خیال یا ذہنی نقوش اعلیٰ درجہ کے ہیں اور اس میں تجربے کی باریکی ، تازگی اور گہرائی موجود ہے تو یہ شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔

شعر کے مطالعہ کادوسرا نکتہ الفاظ کی پیش کش ہے ۔ وہ لفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آئی اے رچرڈز کے نظریہ سے استفادہ کرتے ہوئے یہ حوالہ دیتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک پیکر ہوتا ہے ، اسے بولتے ہیں تو اس کی ساخت ہم منہ میں محسوس کرتے ہیں ، سنتے ہیں تو ایک خاص صوتی پیکر کا احساس ہوتا ہے ،سوچتے ہیں تو آنکھوں کو ، اندرونی آنکھوں کو اس کا صوری پیکر نظر آتا ہے ۔  ان کا خیال ہے کہ شعر مخصوص لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے ؛لیکن لفظوں کا ہر مجموعہ شعر نہیں ہوتا ہے ۔

کلیم الدین کے عملی تنقید کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ تجربات و الفاظ میں ناگزیر ربط تلاش کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعر تجربات کی پیش کش کے لیے غیر شعوری طور پر بہترین الفاظ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ انہیں عمدہ ترتیب اور مناسبت سے آراستہ کرتا ہے ۔ اس لیے ناقد کے لیے ضروری ہے کہ معنی اور جذبات سے علاحدہ ہوکر پہلے الفاظ کی طرف متوجہ ہو ؛ کیونکہ الفاظ ہی ناقد کی رہنمائی اور منزل مقصود تک لے جاتے ہیں ۔ یعنی شعر کے محاسن و معائب سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اگر چہ انہوں نے موضوعات کے حوالے سے بھی متعدد شعرا کے کلام کا جائزہ لیاہے ؛لیکن ان کی عملی تنقید کا بیشتر حصہ ہیتی مطالعات پر مبنی ہے ۔مثلاََ:

سودا کا مشہور قصیدہ جس کا مطلع  ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی  نہ ٹوٹی شیخ سے زنارتسبیح سلیمانی کی تشبیبکے متعلق وہ لکھتے ہیں :

ان شعروں میں چند اخلاقی خیالات کا بیان ہے ۔ ان میں کوئی ناگزیر ربط و تسلسل نہیں ، کوئی خاص ارتقائے خیال نہیں ۔ ان کا بیان نثر میں بھی ممکن تھا لیکن سودا نے انہیں شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے ۔ نثر میں یہ باتیں سیدھے سادے طریقے سے ہوتیں، شعر میں انہیں نقوش کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں کوئی تشبیہ یا استعارہ ہے ۔ اور یہ تشبیہ یا استعارہ صرف ایک زیور نہیں بلکہ جز وخیال ہے ۔اس کی وجہ سے خیالات کا مطلب وسیع اور پر اثر ہوجاتا ہے ۔ ہر خیال گویا ایک حسین تصویر ہے ۔ جذبات کی گرمی ، تخیل کی رنگینی ہر شعر میں موجود ہے ۔

کلیم الدین فن پارے کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے لیے فارم / ہیئت کا سہارا لیتے ہیں ۔ اگرو ہ کسی فن پارے کے خیالات کا ہی تجزیہ کیوں نہ کرتے ہوں ؛ لیکن ان کے یہاں ہیتی مطالعہ غالب رہتا ہے ۔ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اردو شاعری پر ایک نظرمیں عملی تنقید کی جو مثالیں ملتی ہیں ان میں استخراج نتائج کے باعث متن کی تفہیم میں تشنہ لبی کا احساس ہوتا ہے ۔نیزاپنے مخصوص نکتہ نظر کے تحت فن پارے کے معائب کی جستجو متن کی توضیح میں حائل رہتی ہے ۔جبکہ بعد کی تحریروں میں مثلاً  سخن ہائے گفتنی ، عملی تنقید اور اقبال ایک مطالعہ  میں شاعری کی عملی تنقید پر مبنی تمام مثالیں انکشاف متن کے لحاظ سے عمدہ اور پختہ ثبوت فراہم کرتی ہیں ۔

اسی طرح کلیم الدین نے اپنے طریقئہ نقد میں تقابل اور توازن کو ایک خاص اہمیت دی ہے ۔ ان کا بیشتر تنقیدی سرمایہ موازنہ پر مبنی ہے ۔ کبھی تو وہ موازنہ کے ذریعہ استنباط نتائج کو مستحکم کرتے ہیں اور کبھی فن پارے کے تجزیاتی مطالعہ کی اساس تقابل پر قائم کرتے ہیں۔ایک مثال سودا اور محسن کاکوری کے مشہور قصیدے کے مطلع سے ملاحظہ ہو ۔ انہوں نے ان دونوں شعرا کی تشبیب کا موازنہ موضوع کے پیش نظر جزوی طور پر پیش کیا ہے ۔ سودا کا مطلع دیکھیے :

اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستان سے عمل

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

محسن کاکوری کا مطلع :

سمت کاشی سے چلا جانب متھر بادل

برق کے کاندھے پہ لائی صبا گنگا جل

کا تقابل کرتے ہوئے وہ رقمطراز ہیں :

سودا بہار کا نقشہ پیش کرتے ہیں ، محسن کاکوری برسات کا ۔ سودا کی تشبیب سے کم سے کم بہار کی رنگینی و فراوانی کا اندازہ ملتا ہے ۔ محسن کاکوری کے اشعار سے پراگندگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور کوئی صاف مکمل نقشہ مرتب نہیں ہوتا۔ سودا میں ایک زور ہے جس نے آورد کو آمد میں تبدیل کر دیا ہے ۔ محسن کاکوری میں یہ زور موجود نہیں ۔

ان کی عملی تنقید میں موازنہ کا طریقہ ایک مخصوص حیثیت کا حامل ہے ۔ کبھی تو انہوں نے فن پارے کی توضیحی اساس تقابل پر منضبط کی ہے اور کبھی استخراجی نتائج کی تائید و تردید کے لیے تقابل کا سہارا لیا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کی عملی تنقید کا بیش تر حصہ موازنہ سے عبارت ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے یہاں شاعری تنقید میں کسی فن پارے کا کلی طور پر تقابلی مطالعہ نہیں ملتا،بلکہ جزوی طور پر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ وہ جس متن کو اپنے تجزیاتی مراحل سے گزراتے ہیں اس کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ مقاصد کی تکمیل جزوی تقابل سے پوری ہوجاتی ہے ۔ بعض مواقع میں کلیم الدین کا تقابلی مطالعہ ناقص رہتا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے وضع کردہ اصولوں کے انطباق میں نفس مضمون اور عندیہ متن کی تحریف کا لحاظ کیے بغیر فن پارے سے استدلال کرتے ہیں ۔ بہر کیف اس کے باوجوبھی ان کا تقابلی طریق نقد ، متون کی توضیح ، استنباط نتائج اور تعین قدر کے اعتبار سے صحت مند ہے ۔

بحیثیت مجموعی کلیم الدین کی عملی تنقید شعرو ادب کے متن کو بنیادی حیثیت عطا کرتی ہے ۔ ان کی تنقید کی اساس فن پارے پر مرتکز رہتی ہے ۔ وہ فن پارے کے مختلف انسلاکات اور معروضی لوازمات سے قطع نظر فنی تخلیق پر اپنی پوری توجہ صرف کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ فن کارکی قدر سنجی کے لیے اس کے معاشرتی پس منظر کا بھی مطالعہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے فن پارے کی عملی تنقید کرتے وقت متن کے مرکزی خیال اور موضوع کی نشاندہی کرکے اسے کے حسن و قبح پر زیادہ تر بحث کی ہے ۔ انہوں نے موضوع اور ہیت کو منفرد اکائی کے طور پر پرکھنے کی کوشش کی ۔ اسی طرح انہوں نے شاعری تنقید میں بعض موقعوں پر معروضی اور تجزیاتی انداز نقد سے انحراف کرتے ہوئے محض تاثراتی انداز نقد سے بھی کام لیا ہے ۔ بالفاظ دیگر ان کی عملی تنقید متن کے مخصوص معنیاتی نظام کا عمیق مطالعہ کرتی ہے ۔ کلیم الدین احمد کی عملی تنقید کا پہلا حصہ تجزیاتی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ یہاں انہوں نے وضاحت ، استدلال اور تقابل کے ذریعہ متن کی مختلف جہتوں تک رسائی حاصل کی ہیں ۔ بعض موقعوں پر زیر تجزیہ متن کے جزیاتی نکتوں کو اس قدر کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ فن پارے کی تمام تفہیمی پرتیں وا ہوگئی ہیں ۔ مثلاً جب وہ کسی غزل یا نظم کے مصرعوں کو آگے پیچھے کر کے دکھاتے ہیں یا چند مصرعوں کو حذف کر کے دکھاتے ہیں کہ یہ ضروری ہیں اور یہ غیر ضروری ! فن پارے میں الفاظ کی تکرار پر گرفت کرتے ہیں تو وہ ہیتی طریق نقد کے اعلیٰ رمز شناس معلوم ہوتے ہیں ۔

٭٭٭