Naz’m Aur Kalam E MauzoN by Moid Rasheedi

Articles

نظم اور کلام موزوں:فکرآزاد کی نظری اساس

معید رشیدی

آزاد میں نقد کا مادہ مطلق نہ تھا۔نظر مشرقی حدود میں پابند تھی۔وہ لکیر کے فقیر تھے،باریک بینی اور آزادیِ خیال سے مبرا۔انگریزی لالٹینوں کی روشنی ان کے دماغ تک نہیں پہنچی تھی۔1
اس زمانے میں مغرب کی طرف نظریں اٹھ رہی تھیں۔سب سے پہلے آزاد نے اس طرف توجہ کی تھی اور لوگوں کی توجہ دلائی تھی۔2
دونوں اقتباسات کلیم الدین احمد کے ہیں۔دونوں میں جو تضاد ہے، وہ اظہرو من الشمس ہے۔آزاد مشرقی روایات کے امین تھے۔ان کے کمال علم میں کلام نہیں،لیکن شعر و ادب کی تفہیم،توضیح،تعبیر،تجزیے اور تقابل کے معائر ان کے ہاں مخصوص سیاق میں تھے،جسے کلیم الدین احمد ’مشرقی حدود‘سے تعبیر کرتے ہیں،مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان کی حیثیت مجتہد کی تھی۔انھوں نے ادب کی تفہیم و تعینِ قدرمیں نظری مباحث کی ضرورت محسوس کی اور اپنی تحریروں میں انھیں چھیڑا بھی۔وہ اپنے پیش روئوں سے کئی قدم آگے تھے۔آزاد اور حالی مخصوص معنوں میں اپنی روایات کے باغی بھی تھے۔اس عہد میں بغاوت کی یہ لے سرسید کے ہاں سب سے تیز تھی۔دنیا بدل رہی تھی۔نئی قدریں پرانی قدروں پر غالب آرہی تھیں۔ہند ایرانی/ہند اسلامی تہذیب کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ 1857میں ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔نو آبادیات کی سائکی نئے تجربات کے ہمراہ متنوع تغیرات بھی لائی ۔ان تبدیلیوں نے مغرب کی تفہیم کے لیے راہ ہموار کی۔محمد حسین آزاد کی ذہنی پرورش مشرقی ماحول میں ہوئی تھی،لیکن نہ وہ لکیر کے فقیر تھے،اور نہ ہی آزادیِ خیال سے مبرا۔اگر وہ مشرقی حدود ہی میں پابند رہنا چاہتے، تو ان کی نظر مغرب کی طرف کیوںکر اٹھتی، اور وہ کیوں کہتے:
اس سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تمھاری نظم کو سامان آرائش سے مفلس کہتا ہوں۔نہیں[،]اس نے اپنے بزرگوں سے لمبے لمبے خلعت اور بھاری بھاری زیور میراث پائے۔مگر کیا کرے کہ خلعت پرانے ہوگئے اور زیوروں کو وقت نے بے رواج کر دیا۔تمھارے بزرگ اور تم ہمیشہ سے نئے مضامین اور نئے انداز کے موجد رہے مگر نئے انداز کے خلعت و زیور جو آج کے مناسب حال ہیں۔وہ انگریزی صندوقوں میں بند ہیں[،] کہ ہمارے پہلو میں دھرے ہیں اور ہمیں خبر نہیں۔ہاں[،] صندوقوں کی کنجی ہمارے ہم وطن انگریزی دانوں کے پاس ہے۔3
بڑی بات یہ ہے کہ آزاد وقت کے تقاضوں سے با خبر تھے۔وہ عربی اور فارسی کے بڑے عالم تھے،اوربھاشا کی باریکیوں کے ساتھ سنسکرت کی روایات کا بھی درک رکھتے تھے۔انگریزی سے کماحقہ واقف نہ تھے،لیکن’ ہم وطن انگریزی دانوں‘اور بعض انگریزدوستوں/شاگردوں سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ان کی صحبت میں انگریزی ادب اور اس کے متون کی تفہیم کی کوشش کرتے تھے۔حصولِ علم کا جنون اور نئے میدانوں کی سیر کا جذبہ انھیں ہمہ وقت بیدار، رکھتا تھا۔کرنل ہالرائڈ(Holroyd)اور ڈاکٹر لائٹنر(Leitner)سے انھیں قربت تھی۔’نیرنگ خیال‘اور’نظم آزاد‘کا انتساب ہالرائڈ ہی کے نام ہے۔نبیرۂ آزادآغامحمدطاہرنے آزاد کی تصنیف’کائناتِ عرب‘کے دیباچے میں ڈاکٹر لائٹنرسے آزاد کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔آزاد کی عمر کا ایک بڑا حصہ لائٹنرکے ساتھ گزرا۔لائٹنرجب سنٹرل ایشیا گئے توآزادبھی ان کے ساتھ تھے۔آغا محمدطاہرکا بیان ہے کہ’’ڈاکٹر لٹنر[لائٹنر]صاحب کا قاعدہ تھا کہ اپنی رائے کا اظہار کردیتے۔مولانا اس مضمون کو بنا سنوار کر لے جاتے۔ڈاکٹرصاحب کو پسند آیا تو بہت خوب۔ورنہ مولوی صاحب دوبارہ لکھیں۔‘‘(4)لائٹنرسے آزاد کی جس قدر قربت تھی،بعدمیں اختلاف بھی اتنا ہی ہوگیا،لیکن اختلافی امور اور ان کی وجوہ کی طرف توجہ نہ کرکے سردست اس بات پر توجہ دینی ہے کہ آزاد نے انگریزی/مغربی فکر و فلسفے کی تفہیم کے لیے انگریزی متون کا کتنا مطالعہ کیا ،اور ’انگریزی صندوقوں‘سے کس قدر خلعت و زیور حاصل کئے۔انھوں نے مغربی ا صولوں کی پیروی تو کی،لیکن کیا وہ ان اصولوں کی تہ تک پہنچ پائے تھے،اور کیا انھوں نے ان کے متون سے براہِ راست استفادہ کیا تھا؟اس ضمن میں آزاد کا کوئی ٹھوس بیان نہیں ملتا۔انشا پردازی کے رنگ کو برقرار، رکھنے میں وہ اکثر گول مول باتیں کہہ جاتے ہیں۔یہ ان کا سب سے بڑا عیب ہے۔ان کے معاصر حالی اور شبلی انگریزی سے واقف نہ تھے،مگرآزاد کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ان کے بعض جملے(جو مبہم ہی صحیح)اور اسلم فرخی کے بعض بیانات اس باب میں رہنمائی کرتے ہیں۔پھر اس سلسلے میں ان کی کتاب’نیرنگ خیال‘خود ہی اہم حوالہ ہے۔آزاد لکھتے ہیں:
میں نے انگریزی انشا پردازوں کے خیالات سے اکثر چراغ روشن کیا ہے۔5
یہ چند مضمون جو لکھے ہیں[،]نہیں کہہ سکتا کہ ترجمہ کیے ہیں۔ہاں[،]جو کچھ کانوں نے سنااور فکر مناسب نے زبان کے حوالے کیا[،]ہاتھوں نے اسے لکھ دیا۔6
کیسی حسرت آتی ہے۔جب میں زبان انگریزی میں دیکھتا ہوں کہ ہر قسم کے مطالب و مضامین کو نثر سے زیادہ خوبصورتی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔7
میں زبان انگریزی میں بالکل بے زبان ہوں اور اس ناکامی کا مجھے بھی افسوس ہے۔8
مندرجہ بالااقتباسات کی روشنی میں کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔’’میں جب زبان انگریزی میں دیکھتا ہوں۔‘‘…صرف یہی جملہ لے لیجیے یا پھر انگریزی خیالات سے چراغ روشن کرنے والی جو بات ہے،اس سے یہی گمان گزرتا ہے کہ انھوں نے انگریزی متون سے براہ راست استفادہ کیا تھا،لیکن جب وہ اپنے(نیرنگ خیال)کے مضامین کو ترجمہ کہنے سے انکار کرتے ہیں ،اور کانوں سے سن کر زبان کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں تومبہم کیفیت پیدا ہوتی ہے،اور ذہن الجھ جاتا ہے،کہ واقعہ کیا ہے۔جب وہ زبان انگریزی میں بالکل بے زبان ہونے کا اعتراف کرتے ہیں تو مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔اسلم فرخی کا بیان ہے کہ ’’راقم الحروف نے ان کی تحریرکردہ ایک انگریزی درخواست بچشم خود دیکھی ہے۔‘‘(9)/’’انھوں نے سنین اسلام کے عنوان کے سلسلے میں انگریزی میں ایک مضمون بھی لکھاتھالیکن ان کی واقفیت اتنی نہ تھی کہ وہ ایڈیسن اور جانسن کا براہ راست مطالعہ کرتے اوران کے مضامین کو اردو میں منتقل کرلیتے۔‘‘(10)اس زمانے میں ایک ایسا شخص جس کی تربیت اور تعلیم مشرقی ماحول اور حدود میں ہوئی ہو،اگر وہ انگریزی میں درخواست اور مضمون لکھنے کی استعداد رکھتا ہے تو یہ کم بڑی بات نہ تھی،(فرخی کا بیان اپنی جگہ)لیکن اس پہلو پر زیادہ اعتبار اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ مثالوں کا فقدان ہے۔ہو سکتا ہے کہ کسی انگریز دوست/شاگرد کی مدد سے وہ درخواست/مضمون لکھا گیا ہو۔بہر حال اتنی بات تو صاف ہے کہ آزاد کو انگریزی سے دلچسپی تھی،اور وہ اس کے حصولِ علم کی کوشش بھی کرتے تھے۔مالک رام کہتے ہیں:
نیرنگ خیال میں جتنے مضمون شامل ہیں[،]یہ دراصل انگریزی سے ترجمہ کئے گئے ہیں۔ان میں سے چھ مضمون جانسن کے ہیں،تین ایڈیسن کے اور بقیہ دوسرے انگریزی ادیبوں کے۔لیکن ان کے ترجموں میں آزاد نے اپنی ذہانت اور سحر بیانی سے اتنا رد و بدل کر دیا ہے کہ ان کا درجہ ترجمے سے بڑھ کر تخلیق کا ہو گیا ہے۔11
یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔اول یہ کہ یہ مضامین ترجمہ ہیں یا نہیں۔دوم یہ کہ اس قدر، ردوبدل کی ضرورت کیوں پڑی۔زبان اور انشا کے معاملے میں آزاد اپنے مزاج سے مجبور ہیں۔عام (تخلیقی)تحریر اور ترجمے میں فرق ہے۔دونوں کے تقاضے جدا ہیں۔ذہانت اور سحر بیانی اپنی جگہ،لیکن رد و بدل کی کثرت یہ باور کراتی ہے کہ آزاد میں ترجمے کی صلاحیت مفقود تھی۔ان کے مضامین اور ایڈیسن اور جانسن کے مضامین میں جو مشترک باتیں موجود ہیں، تو اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کے ساتھ اس کام میں کوئی اور بھی شریک تھا۔اس لیے کہ’’پروفیسر صاحب[آزاد]کو یہ بھی شوق تھاکہ وہ اپنے انگریزی جاننے والے تلامذہ سے کارآمدمغربی خیالات اخذ کرتے اور انھیں اپنے سرور آگیں اور پرکیف طرز میں ڈھال لیتے۔‘‘(12)یہ سچ ہے کہ آزاد نہ محض انگریزی کی وکالت میں پیش پیش تھے،بلکہ اپنے معاصرین میں وہ اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے میں بھی بہت آگے تھے۔انھیں احساس تھا کہ اس زبان کو سیکھے بغیر وہ دنیا سے کٹ جائیں گے،اور عالمی، خصوصاً مغربی ادبیات میں کیا کچھ ہو رہا ہے،اس کے علم سے محروم رہیں گے۔وہ تغیر چاہتے تھے۔ادب میں وسعت کے قائل تھے۔اس لیے انھوں نے احساس دلایا کہ انگریزی، شجر ممنوعہ نہیں ہے۔اپنی محنت سے انھوں نے انگریزی کی شدبد پیدا کی،لیکن انگریزی کے معیاری اور دقیق متون وہ اپنے انگریز دوستوں/شاگردوں سے پڑھوا کر سنتے تھے۔پھر ان پر غور کر کے اپنی زبان میں ڈھال لیتے تھے۔کالج کی ملازمت کے ساتھ وہ انگریزوں کو اردو پڑھایا کرتے تھے۔لائٹنر کی رفاقت میں وہ انگریزی ادب سے آشنا ہوئے،اور یہ آشنائی انھیں نئے جہانوں کی سیر کی طرف لے گئی۔انھیں زبان کے دقیق مسائل میں دلچسپی تھی۔الفاظ کی تشکیل اور ان کے مآخذ کے مختلف حوالوں پر مسلسل غور کرتے رہے۔متعدد ممالک کا سفر بھی کیا۔قدیم فارسی،عربی اور سنسکرت کے الفاظ میں لسانی اشتراک ڈھونڈتے رہے۔مسلسل غور و فکر کے نتیجے میں ’سخندان فارس‘منصہ شہود پر آئی۔ان سے ڈیڑھ سو سال قبل ٹیک چند بہار اور خان آرزو نے الفاظ کی ماہیت پر غوروفکر کرنے کی بنیاد اردو معاشرے میں ڈال دی تھی۔یہ دونوں بقول آزاد’فلسفی لغت ِ فارسی‘تھے۔دونوں فارسی کے ماہر تھے،اور ہندی ان کے وطن/گھر کی زبان تھی۔آزاد نے ان کی روایت کو جلا بخشی،لیکن انھوں نے کوئی لغت تیار نہیں کیا،بلکہ زبانوں کے اختلاط کا جائزہ لیا،اور ان کے اثرات کی نشاندہی بڑی چابک دستی سے کی۔اس زمانے میں اس موضوع میں دلچسپی لینے والے خال خال تھے،لیکن آزاد کی علمیت،تحقیقی مزاج اور ذوقِ جستجو نے اردو میں تقابلی لسانیات کے مطالعے کی مستحکم روایت قائم کی،اور’ فیلا لوجیا‘ (Philology)کے تصورو تعارف سے اپنی بساط کے مطابق اہلِ اردو کو آگاہ کیا۔
نو آبادیات کے مختلف پہلوئوں میں ایک نکتہ لسانی تغیر کا بھی ہے۔ان تغیرات سے آزاد کا ذہن آشنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ علوم کے مختلف شعبوں کی طرف ان کی نظر اٹھ رہی تھی۔انگریز حاکم تھے اور ان کی زبان ہندوستانیوں کے لیے توجہ کا مرکز،مگر ایک بڑا طبقہ ان کے ساتھ ان کی زبان سے بھی نفرت کرتا تھا، کہ کہیں یہ نئی زبان ہماری تہذیب ہی کو غارت نہ کردے۔اکبرالٰہ آبادی اس احتجاج کی سب سے بلندآواز اور نمایاں علامت ہیں۔دراصل معاملہ زبانوں کا نہیں،تہذیبوں کا تھا۔انگریزی سیکھنے میں زیادہ قباحت نہ تھی،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر زبان اپنی تہذیب بھی ساتھ لاتی ہے۔آزاد زبان کے ریفارمر نہ تھے۔وہ ان تصورات و عقائد کے خلاف تھے جو برسوں سے بے منطق اور بغیر مناسب سیاق کے دہرائے جارہے تھے۔سرسید تحریک نے معقولیت اور منطقی جواز کا جو اصول وضع کیا تھا،اس کے اثرات آزاد پر بھی ہیں۔نیچر کی ترجمانی کا سادہ نظریہ ان کے ہاں بھی کارفرما ہے۔نیچر اپنے آپ میں کتنی مبہم،پراسرار اور پیچیدہ ہے،اس سے نیچر کی ترجمانی پر اصرار کرنے والے ادبی ریفارمر نا واقف تھے۔ان کے نزدیک کسی چیز کا ہوبہو پیش کرنا ہی نیچر ہے۔پہاڑ،جنگل،دریا اور کسی موضوع کے خارجی حوالے ہی ان کے لیے نیچر ہیں۔ شبلی اسی کو’ محاکات‘ کہتے ہیں، جو یونانی تصور ہے، اور عرب ناقدین کے وسیلے سے ان تک پہنچا ہے۔ محمد حسین آزاد کی لسانی خدمات کا اعتراف ہر ذی نظر کرے گا، لیکن ان کے روایات کے باغی اور مجتہد ہونے والی جو بات ہے، اس ضمن میں ان کے نظری اختصاص اور نقد و نظر کے معائر پر نگاہ ڈالنا ضروری ہے، اور یہی پہلو ان کی عظمت کا تاریخی جواز فراہم کرتا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل اسلم فرخی کی یہ رائے ملاحظہ ہو:
آزاد کے نظریۂ شعر میں خیالی، ما بعدالطبیعاتی اور افادی سبھی عناصر موجود ہیں لیکن انھوں نے کسی چیز کی وضاحت نہیں کی۔ بہر حال انھوں نے کچھ نئی باتیں ضرور پیش کی ہیں اور مغرب و مشرق کو ہم آہنگ کر نے کی کوشش کی ہے۔ 13
یہاں سے گفتگو نیا موڑ لیتی ہے اور کچھ بنیادی سوال قائم ہوتے ہیں۔پہلا یہ کہ آزاد کا نظریۂ شعر کیا ہے۔دوسرا یہ کہ انھوں نے کون سی نئی باتیں پیش کیں۔تیسرا یہ کہ مغرب و مشرق کو ہم آہنگ کرنے کی ان کی کوشش کہاں تک بار آور ہوئی۔ان کے نظریۂ شعر کی تفہیم میں ان کے دو لکچر بنیادی حوالہ ہیں۔ دیگر کتب بھی اس ضمن میں معاونت کرتی ہیں۔پہلا لکچر انھوں نے 5اگست1867میں دیا تھا جس کا عنوان ہے’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات‘۔دوسرا لکچر 19اپریل1874میں دیا تھا جس کا کوئی عنوان انھوں نے شاید متعین نہیں کیا۔دونوں لکچر’نظم آزاد‘(1899)میں شامل ہیں۔یہ لکچر آزاد نے انجمن پنجاب کے جلسوں میں دیے۔انجمن کا قیام21جنوری1865کو سکشا سبھا کے مکان میں ہوا جس میں حکومت کے عہدیدار اور نمائندے بھی شریک ہوئے۔پنڈت من پھول کو صدارت سونپی گئی۔پنڈت جی نے انجمن کا نام’انجمن اشاعت ِ مطالب ِ مفیدہ پنجاب‘رکھا،جس کے مقاصد میں لٹریچر تیار کرنا، علمی جلسے منعقد کرنا… جن میں تعلیمی،سماجی،تہذیبی،اخلاقی،اصلاحی اور انتظامی امور پر مضامین پیش کیے جائیں،تاکہ اظہار خیال کے لیے فضا ہموار ہو۔لکچروں کا اہتمام کیا جائے تا کہ ذہنی اصلاح ہوسکے۔ڈاکٹر لائٹنر کی تجویز پرآزاد27مارچ1867میں انجمن کے سکریٹری منعقد کیے گئے۔سکریٹری بننے کے بعد انھوں نے انجمن کو نئی زندگی دی،اور بقول منظراعظمی محض ایک سال میں انھوں نے چھتیس مضامین،لکچر اور تبصرے پڑھے۔انجمن میں ہالرائڈ کی تجویز پر جدید طرز کے مشاعروں کا انعقاد ہوا جس میں مصرع طرح کے بجائے کوئی عنوان دیا جاتا تھا۔یہی مشاعرے نظم نگاری کی تحریک کا نقطۂ آغاز ہیں، جس میںآزاد اور حالی کی شخصیت اپنی خدمات کے حوالے سے بہت نمایاں ہے۔آزاد کے جن دو لکچروں کا اوپر ذکر کیا گیا وہ نظم نگاری کی تحریک کا منشور قرار پائے۔انھوں نے جو نظری مباحث قائم کیے،انھیں حالی نے زیادہ مبسوط،معروضی اور علمی طرز پر’مقدمہ شعروشاعری‘(1893)میں پیش کیا۔
محمد حسین آزاد کا کارنامہ محض یہی نہیں ہے کہ انھوں نے ’آب حیات‘(1880)کو تذکروں کے عام معیار سے نکال کر ادبی تاریخ و تنقید کے حصار میں لا کھڑا کیا،بلکہ نظری سطح پر پہلی بار مروجہ موضوعات کے سطحی برتائو کے خلاف جرأت آمیز صدا بلند کی ،اورانگریزی ادب کی طرف اذہان کومائل کیا۔اس ضمن میں ان کے شعری مجموعے کے پہلے صفحے کی یہ عبارت ملاحظہ ہو…’’نظم آزاد،جو حسن و عشق کی قید سے آزاد ہے۔‘‘’حسن و عشق‘ کو قید سمجھنے اور ان سے آزادی حاصل کرنے کا خیال ان کے ذہن میں کیوں آیا۔ہو سکتا ہے کہ ان کے ذہن میں ادب کا افادی نظریہ رہا ہو،کہ ادب کو اخلاق درست کرنے کا آلۂ کار ہونا چاہیے، یا ادب سے متعدد نوع کے اصلاحی کام لیے جائیں،لیکن وہ ان زنجیروں کو توڑ دینا چاہتے تھے جن میں اردو شاعری گرفتار تھی۔وہ اپنے ادب کو کم مایہ نہیں،گراں مایہ سمجھتے ہیں۔زورِعبارت،مضمون کا جوش و خروش اور لطائف و صنائع کے اعتبار سے وہ اردو زبان کو دیگر زبانوں سے کسی قدر کم تصور نہیں کرتے۔انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ اردو شاعری بے موقع احاطوں میں محبوس ہوگئی ہے، جس میں معاملاتِ عشق کا بیان ان کے نزدیک سب سے قابلِ اعتراض پہلو ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس شخص نے زندگی میں اتنے دھوکے کھائے ہوں،عتاب کا شکار ہوا ہو۔تحفظِ ناموس کے لیے شہر شہر بھٹکا ہو۔انگریزوں سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے جاسوسی تک کی ہو۔جس کے سامنے اس کے باپ کو سرعام بغاوت کے الزام میں گولی ماردی گئی ہو،اس کے مزاج میں دہشت نہیں تو اور کیا ہوگی۔اس لیے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے شخص کے مزاج کی تشکیل میں عشقیہ واردات کہاں سے بار پائیں گی،لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پر آشوب دور میں عشق اپنی معنویت اور جاذبیت کھو بیٹھتا ہے؟زندگی دو پہلوئوں سے عبارت ہے…حقیقت اور رومان۔رومانیت محض عشقیہ واردات کا نام نہیں۔یہ تخیل،تجسس اور اسرار پر مبنی ہے۔عشق کی تعریف بھی اپنے اندر گیرائی رکھتی ہے۔اس لیے اس کے سطحی تصور سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔آزاد کا اعتراض عشقیہ واردات کے اظہار پر نہیں ہے۔وہ تو عشق کے مفہوم/مضمون کو تنگ دائروں میں مقید کرنے کے خلاف ہیں۔ایسے ہی اعتراضات پر حالی نے مقدمہ میں مفصل بحث کی ہے۔وصل کا لطف،بہت سے حسرت و ارمان،ہجر میں آہ و بکا،شراب و ساقی،بہار و خزاں،شکوۂ فلک،اقبال مندوں کی خوشامدجیسے مضامین ہی میں اگر شاعری محبوس ہوجائے، اور فقط نازک خیالی ہی شاعری کا جوہر ٹھہرے، تو پھر شعر کی عظمت،وسعت اور گہرائی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا،اور اس کی اظہارِ ذات والی تعریف میں ’ذات‘کے معنی بدل جائیں گے۔آزاد موضوعات و مضامین میں تنوع اور تراکیب و لفظیات میں ندرت چاہتے تھے۔وہ اپنے عہد کے سروکاروں کے ساتھ جینا چاہتے تھے۔ان کے خیالات ان کے عصر کے بطن کا زائیدہ ہیـ:
اب وہ زمانہ بھی نہیں کہ ہم اپنے لڑکوں کو ایک کہانی،طوطے یا مینا کی زبانی،سنائیں۔ترقی کریں،تو چار فقیر لنگوٹ باندھ کر بیٹھ جائیں،یا پریاں اڑائیں؛دیو بنائیں اور ساری رات ان کی باتوں میں گنوائیں۔اب کچھ اور وقت ہے۔اسی واسطے ہمیں بھی کچھ اور کرنا چاہیے۔14
محمد حسین آزاد کی شخصیت اسی لیے معتبر ہے کہ وہ استفادے پر زور دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ مغربی ادب کے سامنے اپنے ادب کو مطعون اور بے مایہ ٹھرائیں۔وہ مشرق و مغرب میں امتزاج اور تفاعل کے قائل ہیں۔وہ ان لوگوں میں نہیں ہیں،جن کے نزدیک 1857کے ساتھ شاعری بھی ختم ہوگئی۔ان کے لیے دنیا/زندگی بہت وسیع ہے۔اسی لیے وہ اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔مغربی افکار سے چراغ روشن کرنے کے ساتھ انھوں نے مٹی کی خوشبو بھی محسوس کی۔وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو پر فارسی کے اثرات کے ذکر میں شعرا کے ذہنی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ احساس دلایاکہ ہمیں اس کا بھی احتساب کرنا چاہیے کہ ہم جس مٹی کی پیداوار ہیں،اور جس ماحول میں رہتے ہیں،اس کی عکاسی میں اجتناب کیوں کریں۔وہ بیرونی علامتوں،اصطلاحات اور لفظیات کے منکر نہیں،لیکن اس پہلو پر معترض ضرور ہیں کہ ہمارا شاعر پپیہے/کوئل کی آواز اور چنپا/چنبیلی کی خوشبو کو بھول گیا۔ہزار/بلبل اور نسرین/سنبل جو کبھی نظر سے بھی نہ گزری تھیں،ان کی تعریفیں کرنے لگا۔رستم اور اسفند یار کی بہادری پر نظر ٹھہری اور ارجن کی شجاعت کا ذکر مفقود ہوا۔کوہِ الوند اور بے ستون کے آگے ہمالے کی سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور برف سے ڈھکی چوٹیاں توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔جیحوںسیحوں کی روانی نے کہرام مچایا اور ان کے مقابلے گنگا جمنا کی روانی بے لطف رہی۔ہمارا شاعر ایرانی موسموں،تہواروں،رسم و رواج اور روایات کے بیان میں رطب اللسان تھا،لیکن آزاد نے پہلی بار ایوانِ شاعری میں احتجاج درج کیا کہ جس مٹی سے ہمارا خمیر اٹھا ہے،اسے نظر انداز کرنا غیر فطری ہے۔انھوں نے شعرا کا ذہن زمینی وابستگی کی طرف مائل کیا۔ان کا اعتراض بجا تھااور اس کے اثرات دوررس۔شعری وسائل اور صنعتوں کے بے جا استعمال کو وہ غیر مستحسن قرار دیتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ’’بیشک مبالغے کا زور ،تشبیہ اور استعارے کا نمک زبان میں لطف اور ایک طرح کی تاثیر زیادہ کرتا ہے۔لیکن نمک اتنا ہی چاہیے کہ جتنا نمک۔نہ کہ تمام کھانا نمک۔‘‘(15)انھوں نے اردو شاعری کی ندرت اور،رفعت کا اعتراف تو کیا،لیکن حسن و عشق کے مروجہ اسالیب پر جب انھوں نے چوٹ کی تو کچھ جملے کافی سخت بھی ہوگئے۔مثلاً یہی جملہ …’’انجام یہ کہ زبان ہماری ایک دن نظم سے بالکل محروم ہوگی اور اردو میں نظم کا چراغ گل ہوگا۔‘‘(16)انگریزی کی پیروی پر زور دینے اور اس نوع کے جملوں کے نتیجے میں اس عہد کے اخبارات میں ان کے خلاف کافی کچھ لکھا گیا۔عشقیہ معاملات کے بیان پر جس طرح انھوں نے اعتراضات کئے،لوگوں کو لگا کہ وہ پوری کلاسکی شاعری پر طنز کر رہے ہیں۔معاملہ اتنا طول پکڑا کہ انھیں ایک اخبار کے مدیر کے نام خط میں وضاحت کرنی پڑی:
بیشک میری بھی یہی رائے ہے کہ بے عشق کے کلام بے مزہ رہتا ہے۔لیکن میرے تمام لیکچر میں یہ کہیں نہیں ہے کہ عاشقانہ کلام کو بالکل ترک کرنا چاہیے۔اور خود انگریزی کلام بھی عشق سے خالی نہیں۔17
کلیم الدین احمد کی اس رائے سے بات شروع ہوئی تھی کہ آزاد میں نقد کا مادہ مطلق نہ تھا۔اس جملے پر اکثر لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ان کی یہ رائے کتنی صحیح یا کتنی غلط ہے،اس میں الجھنے سے بہتر ہے کہ اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں جہاں سے اردو تنقید کا خمیر اٹھا ہے۔پودا، ایک دن میں درخت نہیں بن جاتا۔فصل ایک دن میں نہیں اگ آتی۔کھیت کے لہلہانے سے قبل کے مراحل پر نگاہ رکھنا بھی ضروری ہے۔تنقید کی وہ شکل جو محمد حسن عسکری،کلیم الدین احمد اور شمس الرحمن فاروقی کے ہاں ہے،اس کی بنیاد میں تذکروں کی وہ روایت بھی شامل ہے،جہاں ذوق ہی شعر کی پرکھ کا پیمانہ تھا۔آج یقینا شعر کی پرکھ کے معیار بدلے ہیں،لیکن وہ کلیتاًکہیں سے برآمد نہیں کئے گئے،اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔اردومیں تنقیدی اصولوں کے ڈانڈے عربی فارسی شعریات میں پیوست ہیں۔نظری مباحث کے سرے بھی عرب فلسفیوں کے ہاں موجود ہیں۔افلاطون،ارسطو،لونجائنس،ہوریس،دانتے،کولرج،میتھیو آرنلڈ،کروچے،آئی۔اے۔رچرڈس،ازراپائونڈسے لے کر ٹی۔ایس۔الیٹ تک کے افکار سے ہم انگریزی ادب کے وسیلے سے بہرہ ور ہوئے۔آج ہماری تنقید جس بصیرت سے مالامال ہے،اس میں عربی فارسی شعریات کے ساتھ مغربی شعریات سے استفادہ بھی شامل ہے۔آزاد کے زمانے تک اردو میں تنقید کوئی مستقلDisciplineنہیں بنی تھی۔تبصرے/ریویواور تنقید میں کوئی فرق نہ تھا۔اصول سازی پر توجہ نہ تھی۔بین اللسانی اور بین العلومی مطالعے کا چلن نہ تھا۔آزاد نے سب سے پہلے ادبی استحکام کے لیے مشرق و مغرب کے امتزاج پر زور دیاـ:
اردو اپنی زبان ہے اور انگریزی کنجی خدا نے دی۔ہم اور ہمارے ساتھی پرانی لکیروں کے فقیر،جو کچھ کرنا تھاسو کرچکے۔نہ ان میدانوں میں اب ہم سے کچھ ہو سکے۔چقماق کے دونوں جزوں کو ٹکرائو کہ آگ نکلے۔اون اور شیشے کو رگڑو کہ ایلکٹرسٹی[الکٹرسٹی] کے فوائد حاصل ہوں۔لیکن فقط پتھر ہو،تو پتھر ہی ہے اور فقط شیشہ،ڈر کا گھر۔اپنی زبان کے زور سے اس میں اس طرح جان ڈالو کہ ہندوستانی کہیں:سودا اور میر کے زمانے نے عمر دوبارہ پائی۔اس پر انگریزی روغن چڑھاکر ایسا خوش رنگ کرو کہ انگریز کہیں:ہندوستان میں شیکسپیر کی روح نے ظہور کیا۔18
محمد حسین آزادکی دوراندیشی اس اقتباس سے ظاہر ہے۔انھوں نے کہیں بھی اپنی تحریر کو تنقید نہیں کہا۔وہ اوکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ نہ تھے،کہ وہاں کی نہج پر تنقید لکھتے۔ان کی تو زندگی ہی اتنی منتشر رہی، کہ کبھی اطمینان سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع نہ ملا،لیکن شعرو ادب سے شدید وابستگی ہی تھی کہ آخری بیس سالوں کی حالت ِجنون میں بھی لکھتے پڑھتے رہے۔حالی اردو کے پہلے ناقد تسلیم کیے جاتے ہیں،مگر انھوں نے بھی ان سے خاصا استفادہ کیا ہے۔کلیم الدین احمد نے صحیح کہا ہے کہ حالی کام کی باتیں کام کی زبان میں کرتے ہیں،جب کہ آزاد پرانے تذکروں کے رنگ میں ڈوب کر گل بوٹے کھلانے میں رہ گئے،اور کام کی باتیں بھی کام کی زبان میں نہ کرسکے۔بنیادی اعتراض ان کے اسلوبِ بیان پر ہے،نہ کہ ان کے افکار پر۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے افکار پر بھی اعتراض کی گنجائشیں ہیں،لیکن ان سے ہزار اختلاف صحیح،انھوں نے جو’کام کی باتیں‘کی ہیں،ان کے اعتراف سے مفر نہیں۔ان پر جتنی تنقیدیں ہو سکتی تھیں،وہ تنہا کلیم الدین احمد نے کرلیں۔ان کے فقرے چست کرنے کے ڈھب پر انھوں نے واہ واہ کہا،لیکن اسے مغز سے خالی قرار دیا۔یہ سبھی باتیں اپنی جگہ،مگر اپنے مخصوص انداز ہی میں صحیح،انھوں نے جو نظری اساس فراہم کی،اس پر گفتگو ہونی چاہیے،کیوں کہ ان کے نظریے کی تفہیم اسی وقت ہو سکتی ہے،جب ہم ان کے متن سے براہِ راست مکالمہ کریں۔’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات‘سے مکالمے کے نتیجے میں کئی نکتے ہاتھ آتے ہیں۔پہلا سوال یہی ہے کہ شعر کیا ہے۔ہماری عروض کی کتابیں،فن شاعری کے استاد اورتذکرے یہی کہیں گے کہ شعر کلام موزوں و مقفیٰ کو کہتے ہیں،لیکن آزاد اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کلام کو موزوں و مقفیٰ ہونا کافی نہیں،بلکہ اسے موثر ہونا بھی ضروری ہے۔محض منظومہ ان کے نزدیک ایسا کھانا ہے،جس میں کوئی مزانہیں۔نہ ترش،نہ شیریں۔یہاں اچھی خاصی بحث ہو سکتی ہے کہ شاعری کیا ہے،اور نظم کیا ہے۔شعر کے لیے وزن ضروری ہے یا نہیں۔قافیہ پیمائی اور تخلیقی مراقبے میں کیا فرق ہے۔تاثیر کا ہونا اگر شرط ہے تو اثر سے کیا مراد ہے۔اس کے پیمانے کیا ہوں گے…وغیرہ وغیرہ۔عروضی ساخت اور شعری بافت میں پیٹرن کے حوالے سے مناسبت ضرور ہے ،لیکن عروضی مباحث اور مطالبات کی تکمیل کا مطالعہ نقاد کے لیے جتنا اہم ہے،تخلیق کار کے لیے اتنا ہی اہم نہیں۔بہت سے اچھے شعرا عروض سے واقف ہی نہیں ہوتے۔اس لیے موزونیت کی میزان فقط فاعلاتن فاعلات ہی نہیں،بلکہ طبیعت بھی ہے۔آزاد صحیح نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موزونیِ طبع جوہرِخداداد ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی بہت بڑا عروضی ہو،لیکن وہ شاعری بھی کرلے یہ کوئی ضروری نہیں۔بعض حضرات ایسے بھی ہیں،جوموزوں شعر کو بھی ناموزوں پڑھتے ہیں۔اس لیے طبیعت کی موزونیت لازمی ہے،اور یہی آزاد کا مطمحِ نظر ہے۔
شاعری کسی تجربے کے توسط سے تخیلی پیکر تراشنے کا نام ہے۔شاعری میں موزونیت لازمہ نہیں،خاصہ ہے۔اس لیے تخلیقی عمل میں تخیل کو مرکزیت حاصل ہے۔تخیل پر حالی اور شبلی نے مفصل بحث کی ہے،لیکن آزاد کے ہاں تخیل کی تعریف کا کوئی خاص اہتمام نہیں۔انھوں نے گفتگو کے انداز میں مطالب کا جو سلسلہ چھیڑا تو بات بات میں شعر کی ماہیت سے متعلق بعض بنیادی باتوں پر اظہارِ خیال بھی کرتے گئے۔ادبی تخلیق کی بنیاد تخیل پر ہے۔تخیل(Imagination)کی بہترین تعریف کولرج نے کی ہے۔آزاد کی رسائی کولرج کے خیالات تک نہ تھی،لیکن شاعر کے فکری کینوس کو اجالنے میں انھوں نے تخیل کی اصطلاح استعمال کیے بغیر اس کی اہمیت کا احساس دلایا۔تخیل ذہن میں موجود خیالات کو مکرر ترتیب دینے کا نام ہے۔فینسی(Fancy)اس کی اہم ترین حالت ہے،جو نئی نئی اشیا میں ربط پیدا کرتی ہے۔تخلیقی عمل میں یہ تحرک کا کام کرتی ہے۔آزاد کہتے ہیں:
شاعر اگر چاہے تو اموراتِ عادیّہ کو بھی بالکل نیا کر دکھائے۔19
[شاعر]تمام عالم میں اس طرح پر حکومت کرتا ہے ۔جیسے کوئی صاحب خانہ اپنے گھر میں پھرتا ہے۔پانی میں مچھلی اور آگ میں سمندر ہوجاتا ہے۔ہوا میں طائر بلکہ آسمان پر فرشتے کی طرح نکل جاتا ہے۔جہاں کے مضامین چاہتا ہے [،]بے تکلف لیتا ہے اور بہ تصرف مالکانہ اپنے کام میں لاتا ہے۔20
اموراتِ عادیّہ یا کسی بھی تجربے کو ’بالکل نیا کر دکھانا‘ہی تخیل کی تعریف ہے،کہ یہ نقش ثانی ہے،اور افکار کے خزانے کو مکرر ترتیب و تنظیم عطا کرنے سے عبارت ہے۔پھر شاعر کے تخیلی اختیارات کی وسعت کا اقرار تخیل کے اوصاف کی توضیح پر دال ہے۔آزاد جب یہ کہتے ہیں کہ شاعر اگر چاہے تو ’’پتھر کو گویا کردے۔درختان پا در گل کو رواں کر دکھائے۔ماضی کو حال ۔حال کو استقبال کردے۔دور کو نزدیک کردے۔زمین کو آسمان۔خاک کو طلا۔اندھیرے کو اجالا کردے…زمین اور آسمان اور دونوں جہان[،]شعر کے دو مصرعوں میں ہے۔ترازو اس کی شاعر کے ہاتھ میں ہے۔جدھر چاہے جھکا دے۔‘‘(21)تو ایک طور پر وہ Fancyہی کی تعریف کرتے ہیں۔ماضی کو حال،حال کو استقبال،خاک کو طلا اور طلے کو خاک میں بدلنا، فینسی ہی کی مثالیں ہیں۔شاعری کی نظری اساس میں یہ پہلو بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے،لیکن اس کے بیان میں آزاد کے پاس تنقیدی اصطلاحات نہیں تھیں،اور یہ ان کے شعورِ نقد کے اظہاریے کی مجموعی صورتِ حال ہے۔
آزاد شاعری کو الہام تصور کرتے ہیں۔شاعری الہام ہے یا نہیں۔یہ بحث فلسفے پر قائم ہے۔جہاں محض موشگافیاں ہی کی جاسکتی ہیں۔شاعری اگر واقعی الہام ہے تو شاعر کی حیثیت محض ایک منشی کی ہوگی،کہ وہ اس شانِ نزول کو حوالۂ قلم کردے،اور بس۔شاعری میں کسب ِ فن کے لیے ریاض کی ضرورت پڑتی ہے۔شاعر اپنے شعر کو خود متعدد ،دفعہ کاٹتا چھانٹتا ہے۔اس عمل میں وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔اس لیے شاعری الہام نہیں،کہ غیب سے اچانک نازل ہوجائے۔کائنات کے اسرار پر فکر کرنا بھی کوئی شے ہے۔البتہ یہ سچ ہے کہ شاعری کسبی نہیں،وہبی چیز ہے،اور اس سے قطعی یہ مراد نہیں کہ بغیر غور و فکر کے کسی پر اشعار اترتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ تخلیق ایک قسم کا مراقبہ ہے،لیکن یہاں بھی غور و فکر سے مفر نہیں۔آزاد شعر کی تعریف میں لکھتے ہیں:
شعر سے وہ کلام مراد ہے جو جوش و خروش خیالات سنجیدہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی قوت قدسیہ الٰہی سے ایک سلسلہ خاص ہے۔خیالات پاک جوں جوں بلند ہوتے جاتے ہیں،مرتبۂ شاعری کو پہنچتے جاتے ہیں۔22
اس اقتباس کے دوسرے ٹکڑے پر اعتراضات کا دفتر کھڑا کیا جا سکتا ہے،لیکن پہلے ٹکڑے کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔’جوش و خروش‘اور سنجیدہ خیالات سے شعر مراد لینے میںبحث کے کئی در وا ہوتے ہیں۔حالی نے بھی’سادگی،اصلیت اور جوش‘کو اچھے شعر کا وصف بتایا۔سنجیدگی سے مراد یہی ہے کہ شاعری ایک نوع کے ضبط اور ٹھراؤ کا مطالبہ کرتی ہے،اور جوش و خروش کا مقصود لاابالی پن نہیں، کہ جو اور جس طرح جی میں آئے،باندھ دو۔یعنی بقول غالب؛ شعر قافیہ پیمائی نہیں،معنی آفرینی کا نام ہے۔معنی خیزی کے عمل میں تخلیقی ضبط/سنجیدگی کے ساتھ جوش یعنی بے ساختہ پن اور موثر پیرایے کا بھی دخل ہوتا ہے۔جوش سے حالی آمد مراد لیتے ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزادنے شعر میں جوش و خروش کی صفت سے اپنے نظریے کو صلابت عطا کی۔محمدحسین آزاد کے مطابق شعر کو موثر،متین اور جوش و خروش سے پر ہونا چاہیے۔یہ بہت اچھی بات ہے،لیکن سب سے بڑا قضیہ ان کے نظریۂ ادب میں اخلاقیات کے تصور کا ہے۔وہ ادب پر اخلاقی قدغنیں عائدکرتے ہیں۔کہتے ہیں:
شاعر کو ایک نسبت خاص عالم بالا سے ہے۔23
فی الحقیقت شعر ایک پر تو روح القدس کااور فیضان رحمت الٰہی کا ہے۔کہ اہلِ دل کی طبیعت پر نزول کرتا ہے۔24
شاعروں کی بدزبانی و بد خیالی سے شعر بھی تہمت ِ کفر سے بدنام نہیں ہوسکتا۔در حقیقت ایسے کلام کو شعر کہنا ہی نہیں چاہیے۔25
حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف تو وہ گرد و نواح کے زمینی حقائق کو شعر میں سمونے کی بات کرتے ہیں،کہ ہمارا شاعر گنگا جمناکا ذکر نہیں کرتا۔ہمالے کی بلندی اور ارجن کی شجاعت اسے متاثر نہیں کرتی،اور دوسری طرف اسے ’عالم بالا‘میں پہنچا کر دوسری ہی دنیا کا مخلوق گردانتے ہیں۔یہ بھی فرماتے ہیں کہ برے خیالات کا اظہاریہ شعر ہو ہی نہیں سکتا۔خیالات کا اچھا یا برا ہونا اپنی جگہ،لیکن کوئی خیال مضمون بن کر جب شعر میں آتا ہے تو خواہ وہ برا ہی صحیح،فنی عناصر اس کے معیار کو طے کرتے ہیں۔تخلیق کو اخلاق سے سبق لینے کی ضرورت نہیں۔پھر نیک خیال اور بد خیال کیا ہے۔خیالات کا رشتہ براہِ راست معنی سے ہے،اور شعروادب میں معنی کو کسی مخصوص عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔یہاں ترسیل کے ہمراہ اپنے اپنے طور پر تفہیم کی بھی آزادی ہے۔مسئلہ کسی خیال کے پاک یا ناپاک ہونے کا نہیں،بلکہ اصل معاملہ تخلیقی برتاؤ کا ہے،کہ کس طرح کوئی خیال تخلیقی بنت کا حصہ بنتا ہے اور اس کی ترسیل/تفہیم کے معائر کیا ہیں۔ترسیل میں تخلیقی عناصرسے جوجھنا پڑتا ہے اور یہ عناصر معنی کو انگیز کرتے ہیں۔خیال کا حسن معنی میں ہے،اور معنی کا حسن تجرید میں۔آزاد نے یہ کہہ کر اہم نکتے کو پالیا ہے کہ شاعر معنی کی تصویر دل پر کھینچتا ہے۔(26)’معنی‘کیفیت کا نام ہے اور ’دل‘سے اشارہ اثر پذیری کی طرف ہے۔
لفظ و معنی کی بحث کا سرا قدیم عربی شعریات کی طرف منتقل ہوتا ہے۔جاحظ،عبدالقاہرجرجانی،ابن رشیق قیروانی وغیرہ نے لفظ و معنی کے ا ختصاص اور منازل کی تعین میں فکر ِبلیغ سے کام لیتے ہوئے متن/لفظ اور معنی کے رشتے پر مبسوط ڈسکورس قائم کیا ہے۔آزاد کو عربی فارسی شعریات کا عمیق درک تھا۔فکر ِآزاد کی تشکیل میں یہ عناصر جز و لا ینفک ہیں۔ان کی تنقید کا ڈھانچہ لفظ و معنی کے مروجہ اسالیب میں حسن و قبح کی تلاش سے عبارت ہے۔معاصر ادبی تنقید میں لسان کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔اس تنقیدی تھیوری کے نظامِ کلام(Discourse)میں دریدا(Jacques Derrida) ،اور سوسیور(Ferdinand de Saussure) کے نظریات پر ادراکِ معنی کی کوششیں نمایاں ہیں۔معنی تک رسائی کے پیمانے ہر عہد میں نامیاتی رہے ہیں۔معنی کے سیاق کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں۔اس لیے شاعر اگر معنی کی تصویر کھینچتا ہے ،تو اس تصویر میں جو سیاق خلق ہوگا،اس کی اساس جدلیاتی ہوگی۔آزاد نے اپنے فکری اور معاشرتی حدود میں شاعری کی تفہیم کے لیے بعض اہم نکتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے،جن پر آئندہ بھی بحثیں ہوتی رہیں گی۔مثلاً ان کا یہی جملہ ،کہ ’’شاعرگویا ایک مصور ہے۔‘‘(27)مصور کا کام تصویریں بنانا ہے۔وہ تصور سے کام لیتا ہے۔تصور اور تخیل میں فرق ہے۔تصورMimesisہے،جب کہ تخیلImagination۔یہاں ذہن افلاطون اور ارسطو کی جانب بھی جاتا ہے۔تصور یعنی نظریۂ نقل(Mimesis)کی بحث بہت قدیم ہے۔ارسطو نے نقل کو ترجمانی کا نام دیا۔تصور ادراک کی منزل ہے،تخیل اس سے بہت آگے کی شے ہے۔شاعری مصوری یا نقل نہیں،تخیلی تجربہ ہے،اپنی وسعت میں بے کنار۔آزاد کے زمانے میں یہ نکتے صاف نہ تھے۔ان کے ہاں تخیل اور تصور ایک ہی چیز کا نام تھا۔آزاد قوتِ واہمہ(Fancy)کی اصطلاح استعمال کیے بغیر اس کی تعریف کرتے ہیں،کیوں کہ ان کے ہاں نظریے کی منطقی تنظیم اس طور پر متشکل نہیں ہوئی تھی،جس طرح آج کے ناقدین کے ہاں ہے،اس لیے ان کی فکریات اور نظری اساس کو ابوالکلام قاسمی کے الفاظ میں اردو تنقید کی شیرازہ بندی کی اولین کوشش کہنا،بالکل بجا ہے۔(28)
٭٭٭
حواشی:
(1)کلیم الدین احمد،اردو تنقید پر ایک نظر،1983،سبزی باغ،پٹنہ:بک امپوریم،ص:57
(2)ایضاً،ص:107
(3)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:4
(4)محمدحسین آزاد،کائنات عرب،1922،لاہور:آزاد بک ڈپو،ص:6
(5)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:14
(6)ایضاً،ص:15-16
(7)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:6
(8)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:15
(9)اسلم فرخی،محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف(حصہ دوم)،1965،کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:348
(10)ایضاً
(11)مالک رام،تعارف،مشمولہ:نیرنگ خیال/محمدحسین آزاد،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:6
(12)گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ سے اقتباس،مشمولہ:محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف/اسلم فرخی(حصہ دوم)،1965،
کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:348
(13)اسلم فرخی،محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف(حصہ دوم)،1965،کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:93
(14)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:15
(15)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:3
(16)ایضاً،ص:6
(17)محمدحسین آزاد،مکاتیب آزاد،مرتبہ:فاضل لکھنوی،1966،لاہور،پاکستان:مجلس ترقی ادب،ص:84
(18)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:27
(19)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:2
(20)ایضاً،ص ص:3-4
(21)ایضاً،ص ص:2-3
(22)ایضاً،ص:8
(23)ایضاً،ص:2
(24)ایضاً،ص:3
(25)ایضاً
(26)ایضاً،ص:8
(27)ایضاً،ص:2
(28)ابوالکلام قاسمی،مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت،2002،نئی دہلی:قومی کونسل براے فروغ اردو زبان،ص:235
( بحوالہ سہ ماہی ’’اردو چینل‘‘ شمارہ نمبر 29، بابت جلد ۱۳، شمارہ ۲ ، اگست ۲۰۱۱)

Surendra Parkash ki Afsana Nigari

Articles

سریندر پرکاش کی افسانہ نگاری

گوپی چند نارنگ

آزادی کے بعد ہندوستان میں اردو افسانے کے کئی رجحان سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے جو رجحان بنیادی نوعیت کے ہیں وہ چار ہیں۔ پہلا رجحان تقسیم کے المیے کو پیش کرنے کا ہے۔ اس ذیل میں اس طرح کے افسانے آتے ہیں۔ ایک تو وہ جن کی نوعیت ہنگامی تھی اور جو فسادات کو براہ راست موضوع بنا کر لکھے گئے تھے۔ دوسرے وہ جو تہذیبی سطح پر تقسیم کے المیے کو پیش کرتے ہیں۔ اس رجحان کے بہترین علم بردارہندوستان میں قرۃ العین حیدر اور پاکستان میں انتظار حسین ہیں۔ دونوں کے نقطۂ نظرتکنیک اور کینوس میں بڑا فرق ہے، لیکن دونوں کے ایسے افسانوں کا محرک بعض محبوب تہذیبی قدروں کا زوال ہے۔ دوسرا رجحان زندگی کی جامعیت اور اس کے نارمل حسن کو اس کی سیاہی اور سفیدی کے ساتھ پیش کرنے کا ہے۔ اس رنگ کے امام راجندر سنگھ بیدی ہیں۔ نئی نسل کے بیشتر لکھنے والے بھی زندگی کی ہمہ پہلو ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی میں بیدی والی بات نہیں۔ البتہ یہ لوگ اس لحاظ سے پچھلے افسانہ نگاروں سے مختلف ہیں کہ ان میں سے بیشتر کسی طرح کی نظریاتی وابستگی قبول نہیں کرتے اور ’’سوچے سمجھے نتائج‘‘ کی فارمولا کہانی سے بچتے ہیں۔ ان کے ہاں بنیادی اہمیت فرد کو حاصل ہے، اور بجائے ٹائپ، کردار پر زور ملتا ہے۔ یہ زندگی کے حقیقی خدوخال کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افسانہ نگاروں میں رام لال،جوگندرپال،شرون کمار درما، اقبال متین، ستیش بترا، قیصر تمکین، رتن سنگھ، اقبال مجید، امرسنگھ کے افسانے یا اتر پردیش کے قصباتی تمدن سے متعلق قاضی عبدالستار کے افسانے۔ دوسری طرف وہ افسانے ہیں جن میں کسی علاقے کی گھریلو زندگی کی ترجمانی کی گئی ہے، مثال کے طور پر جیلانی بانو، واجدہ تبسم، یا آمنہ ابو الحسن کے افسانے۔ چوتھا بنیادی رجحان تجریدی اور علامتی افسانے کا ہے۔ اس قسم کا افسانہ آزادی سے پہلے کے افسانہ نگاروں کے ہاں بھی ملتا ہے، مثلاً کرشن چندر کا ’’غالیچہ‘‘، ’’چوراہے کا کواں‘‘، ’’جہاں ہوا نہ تھی‘‘ اور ’’چھڑی‘‘ احمد ندیم قاسمی کا ’’سلطان‘‘ اور ’’وحشی‘‘ اور ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘۔ احمد علی کے بعض افسانے بھی تجریدی افسانوں کی ذیل میں آتے ہیں۔ لیکن ادھر نئی نسل کے بعض افسانہ کے نگاروں نے اسے ایک رجحان کی حیثیت سے اپنایا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ہندوستان میں اردو افسانہ کے اسی جدید رجحان سے بحث کی جائے گی۔ ایسے افسانوں میں اشاریت اور علامتیت کو باقاعدہ فن کی حیثیت سے برتا جاتا ہے۔ وزیر آغا نے ایک جگہ صحیح لکھا ہے۔ ’’اشاراتی عنصر تمام اصناف ادب میں اہمیت حاصل کر رہا ہے اور افسانے نے بھی اسے اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ دراصل تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ فرد کی تیز نگاہی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ اب وہ پلک جھپکتے میں بات کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے اور اس لیے واشگاف انداز کا کچھ زیادہ دلدادہ نہیں رہا۔‘‘ سیدھے سادے روایتی افسانے کے مقابلے میں علامتی افسانہ کچھ غیر مرئی سا ہوتا ہے۔ اس میں ٹھوس ہونے کی وہ کیفیت نہیں پائی جاتی جو منطقی افسانے کی خصوصیت ہے۔ اس میں زماں اور مکاں کا واقعیاتی احساس بھی نہیں ملتا بلکہ زماں اور مکاں دونوں ذہنی تجرید کی سطح پر واقع ہوتے ہیں اور ان میں اچانک تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ علامتی افسانے میں ٹھوس کرداروں کا کام تمثیلوں اور علامتوں سے لیا جاتا ہے جیسا کہ آگے چل کر وضاحت کی جائے گی۔ علامتیں ایک طرح کے وسیع استعارے میں جن کے شعوری اور نیم شعوری رشتوں کو ابھار کر افسانہ نگار معنوی تہہ داری پیدا کر دیتا ہے۔ علامتوں کے حسی پیکر ہوتے ہیں، لیکن بعض علامتوں سے افسانہ نگار فضا آفرینی کا یا محض خاص طرح کے تاثر ابھارنے کام لیتا ہے۔ ایسے افسانے کا کمال یہ ہے کہ وہ لغوی اور علامتی دونوں سطحوں پر پڑھا جا سکے۔ بعض افسانوں میں خاص لفظوں کا استعمال ایسی معنوی وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ ان میں علامتی افسانہ کی شان ازخود پیدا ہو جاتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’سلطان‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ تجریدی افسانہ ہمارے افسانے کے اس سفر کی نشاندہی کرتا ہے جس کا رخ خارج سے داخل کی طرف ہے۔ یہ انسان کے ذہنی مسائل، اس کے کرب اور حقیقت کے عرفان کی تلاش کا اظہار ہے۔ صرف فکر یا ذہنی سوچ کی سطح پر ۔ افسانہ علامتی ہو یا تجریدی، اس میں لغوی معنی صرف ایک طرح کا اشارہ کردیتے ہیں۔ باقی کام پڑھنے والے کی ذہنی استعداد کا ہے۔ در اصل لفظوں کے ظاہری،منطقی اور لغوی معنی کے علاوہ اور معنویت بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے افسانوں کا مطالعہ کرتے وقت اگر یہ بات نظر میں رہے تو ان سے لطف اندوز ہونا چنداں مشکل نہیں۔ پاکستان میں اس رجحان کے نمائندہ افسانہ نگار مندرجہ ذیل ہیں:
انتظار حسین (آخری آدمی) عبداللہ حسین (جلاوطن) ،خالدہ اصغر (ایک بوند لہو کی، سواری، بے نام کہانی)، انور سجاد (مرگی، چوراہاکونپل،گائے، پرندے کی کہانی) اور غلام الثقلین (لمحے کی موت، وہ ،سرگوشی) ہندوستان میں اس کو آگے بڑھانے والوں میں دیوندرا سر، سریندر پرکاش، بلراج مین را، کمار پاشی، احمد ہمیش اور عوض سعید کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ یہاں اس رجحان سے مزید بحث کرنے کے لیے صرف سریندر پرکاش کو لیا جائے گا، اس لیے نہیں کہ ان کا افسانہ بہترین ہے بلکہ اس لیے کہ اس سے اس رجحان کے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہاں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ تجزیاتی طور پرافسانے کا ڈھانچا کیا ہے۔ اس میں علامتیں اور ذہن واحساس کی رو کس طرح کام کرتی ہے اور کیا اس میں کسی طرح کی کوئی معنوی تہہ داری ہے یا نہیں؟ جدید ادب پر تنقید کرتے ہوئے میرا مسلک کچھ ایسا ہے کہ اس طرح کے تجزیے کے بعد ہی ہم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم نئے رجحانات کے بارے میں کوئی حکم لگا سکیں۔
سریندر پرکاش کے افسانے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کا شمار اردو کے اہم علامتی افسانوں میں کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے افسانوں کی طرح اس کی بھی تلخیص ممکن نہیں، لیکن اگر ایسی کوئی ناکام کوشش کی جائے تو وہ کچھ اس طرح کی ہوگی: سمندر اور میدان سے گزرنے کے بعد وہ وادی میں اتر گیا۔ دوسرے تھوتھنیا اٹھائے اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور ان کی گردنوں میں بندھی ہوئی گھنٹیاں الوداع الوداع کہہ رہی تھیں۔ وادی میں سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی چڑھ رہا تھا۔ گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر چکنی سڑکوں سے گزرتے ہوئے وہ ایک کشادہ مکان کے پھاٹک پر رکا۔ خاموشی میں اس کی آواز گونجی۔ ولندیزی دروازے نے باہیں پھیلا کر خیر مقدم کیا۔ ڈرائنگ روم کی آرائش سے اس نے اندازہ کیا کہ یہاں کارہنے والا خوش سلیقہ آدمی ہوگا اور دونوں گرم جوشی سے ملیں گے۔اس نے گل دان کو چھوا اور اپنی انگلیوں پر اس کی خنکی محسوس کی اور آتش دان کے سیاہ مرمر کی دھاریوں کے صحرا میں خود کو ڈھونڈنے لگا۔ ایک تصویر اس کا ہاتھ لگنے سے گر گئی۔ اس میں ایک آدمی گود میں ایک ننھی سی بچی کو اٹھائے ایک عورت کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ یہ تصویر کبھی کھنچوائی تھی۔ بر آمدے سے کسی کے لاٹھی ٹیک کر چلنے کی آواز آرہی تھی، مسلسل، باقاعدہ۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ سمندر کنارے کا کوئی شہر ہے اور باہر برف گررہی ہے، لیکن کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا تو برف نہیں تھی۔ وہ تنہائی محسوس کرتے ہوئے غمزدہ سا ہوگیا۔ اتنے میں اس کے ذہن سے ایک سانپ نکلا اور اپنی تیز تڑپتی ہوئی سرخ زبان نکالے ہوئے بیڈروم میں چلا گیا۔ یہاں ایک عورت نے انگڑائی لی اور ایک بچی کھیلتی ہوئی نظر آئی۔ لاٹھی ٹیکنے کی آواز پھر آنے لگی۔ برآمدے میں ایک اندھا آدمی لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ برآمدے کے موڑ سے گزرگیا۔ اس نے سوچا کاش ڈرائنگ روم کی سب چیزیں اس کی ہوتیں۔ لیکن اس کا وجود اسے قالین پر اوندھا پڑا ہوا محسوس ہوا اور وہ رونے لگا، لاٹھی کی آواز پھر آئی۔ اس نے بوڑھے کو لپک کر پکڑنے کی پھر کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔ برآمدے کے پاس کانسے میں ڈھلا ہوا ایک بوڑھا بیٹھا ناریل پی رہا تھا۔ اس نے چاہا وہ بھی اسی کی طرح اطمینان سے بیٹھ کر تمباکو کو پیتا رہے، لیکن جواب ملا کہ کانسے میں ڈھلنا پڑے گا۔ وہ سوچنے لگا کہ ایک بپھرے ہوئے سمندر، ریت اڑاتے ہوئے صحرا اور برف باری کے طوفان میں اکیلا انسان کیا کر سکتا ہے؟ وہ دل ہی دل میں اس چیز کو گالی دینے لگا جو یہ سب سوچتی ہے لیکن نظر نہیں آتی۔ وہ ابھی خوش سلیقہ آدمی سے ملاقات کے انتظار میں تھا کہ آواز آئی، چلو اب دیر ہو رہی ہے۔ وہ ڈرائنگ روم کی چیزوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا۔ آواز پھر آئی۔ یہ سب تمہارا ہی تو تھا مگر اب مہلت نہیں۔ وہ کسی انجانی چیز کے کھو جانے کے احساس سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بے بس ہو کر اس نے کہنا چاہا: اگر کبھی کوئی کمزور، بے سہارا کشتی ساحل سے آلگے تو سمجھ جانا کہ وہ میں ہوں۔
کہانی کے پہلے ہی پیرا گراف میں ہمیں ایک قافلہ دکھائی دیتا ہے:
’’سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے تو دیکھا کہ پگڈنڈیاںہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا، رکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے بھر گیا تب علاحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک بے نام کسک کی صورت اختیار کی اور میں انتہائی غمزدہ، سرجھکائے وادی میں اتر گیا۔ جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سب تھوتھنیاں اٹھائے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بار بار سر ہلا کر وہ اپنی رفاقت کا اظہار کرتے اور ان کی گردنوں میں بندھی ہوئی دھات کی گھنٹیاں ’’الوداع‘الوداع‘‘ پکار رہی تھیں اور ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کے کونوں پر آنسو موتیوں کی طرح چمکے رہے تھے۔‘‘
سمندر ،میدان، پگڈنڈیاں ان سب کے ایک ساتھ سامنے آنے سے ذہن کسی طرح کے سفر کی طرف جاتا ہے۔ شاید وہ سفر جو قدیم سے جدید کی طرف رہا ہے یا لوک کلچر سے آج کے صنعتی کلچر کی طرف رہا ہے۔ پہلے انسان سب کے ساتھ تھا اور اپنائیت کے احساس سے سرشار تھا۔ لیکن جدید کی ’’وادی‘‘ میں اترتے ہوئے علاحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک کسک کی صورت اختیار کی اور وہ انتہائی غمزدہ ہو گیا۔‘‘ افسانہ کی معنوی کلید اسی پہلے پیرا گراف میں موجود ہے۔ فوراً بعد دوسرے پیراگراف میں تھوتھنیوں اور گھنٹیوں سے ذہن جانور کی طرف یا غیر متمدن انسان یا بنیادی انسان کے Archetypeکی طرف جاتا ہے جواب وقت کی فصیل کے اس پاررہ گیا تھا۔ وادی میں نئے راستوں پر چلتے ہوئے اس کے ’’دل میں رہ رہ کے امنگ سی پیدا ہوتی‘‘ ہے‘ آگے بڑھنے کی‘نئی مسافت طے کرنے کی یا کچھ پانے کی۔ سامنے سائنسی، صنعتی یا تہذیبی ارتقا کا ’’سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی سیڑھی چڑھ رہا تھا۔‘‘ قدیم کی ’’گرد آلود پگڈنڈیاں‘‘ پیچھے رہ گئیں اور وہ جدید کی ’’صاف شفاف‘ چکنی سڑکوں‘‘ پر چلنے لگا۔ ملاحظہ فرمائیے پگڈنڈی کے مقابلے پر صاف شفاف چکنی سڑک ذہن کو موجودہ دور کی ظاہری چمک دمک اور بے حسی سے کس قدر نزدیک لے آتی ہے۔ انسان کی معصومیت اور اپنائیت کی مسرت کا دن ڈھل رہا تھا اور شام ہوتے ہوتے وہ ایک مکان میں داخل ہوا۔ شام اداسی یا غم کا استعارہ ہے۔ اس سے مراد جدائی کا آغاز بھی ہوسکتا ہے اور مشینی ترقی کے تاریک دور کی ابتدا بھی۔ خاموشی میں انسان کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی پکار رہا ہے۔ یہ گویا اشارہ ہے اس کے پچھڑ کر تنہارہ جانے کی طرف۔ مغربی طرز کا ولندیزی دروازہ باہیں پھیلا کر اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مکان میں پرانے انداز کے آریائی جھروکوں جیسی کھڑکیاں ہیں، لیکن ان پر گزرے ہوئے وقت کے بھاری پردے پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں لفظوں کی معنوی چکاچوند میں جو کچھ سامنے آتا ہے، ان سب پر نظر رہنی چاہیے۔ اگر قاری محض لغوی معنی سے چپکا رہے گا تو افسانے سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ کھڑکیاں بھی ہیں، جھروکے بھی، پرانے تمدن کی نشانیاں بھی اور تاریخ کا تسلسل بھی‘ نیز یہ بھی نظر میں رہے کہ شاید ماضی کی روشنی بھاری پردوں کے ادھر رہ گئی ہے اور مستقبل کی کرنیں بھی حال تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ڈارئنگ روم کی آرائش دیکھ کر معاً ذہن انسان کی صنعتی ترقی اور مادی آسائش یا آرام پسندی کی طرف جاتا ہے۔ یہاں افسانہ نگار نے کہا ہے:
’’آتش دان میں آگ بچھ چکی تھی۔‘‘ اس سے مراد قدروں کا زوال اور یقین کا فقدان بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح جدید انسان کی ذہنی افسردگی کو ایک بار پھر ابھارا گیا ہے۔ سمندر اور میدان یعنی فطرت کے بے پایاں حسن کی جگہ اب دھات کے گلدان یعنی بے حسی نے لے لی ہے۔ پہلے انسان کو فطرت سے ہم کلامی کا شرف حاصل تھا لیکن اب گلدان کا اپنا ’’الگ وجود‘‘ ہے۔ اس کے چھونے سے انگلیوں پر سوائے ’’خنکی‘ کے کچھ اور محسوس نہیں ہوتا۔ علامتوں کا جو نظام سامنے آچکا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں اشارہ فطرت کے تجارتی قدر بن جانے یا صنعتی کلچر کے بے جان اور بے حس ہونے کی طرف کیا گیا ہے۔
آتش دان کے سیاہ مرمر کی سفید دھاریوں کو صحرا کہا ہے، خالی، اداس اور خاموش! شاید یہ جدید دور کی بے شخصیت آبادیاں ہیں، جن میں دور دور تک مسرت کے نخلستان کا نشان نہیں۔ اگر چہ انسان اس میں خود کو پانا چاہتا ہے لیکن ہوس کی ’’ریت کے جھکڑ‘‘ کے اندر گم ہو کر رہ گیا ہے۔
عورت مرد اور بچی کی تصویر سے ذہن خاندانی وابستگی اور ملی جلی مسرتوں کی طرف جاتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ ماضی میں ممکن تھی، اب نہیں۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ شخصیت کے زوال اور اپنائیت کے احساس کے فنا ہوجانے سے انسان اپنی مسکراہٹ پر بھی قادر نہیں رہے۔ بر آمدے میں لاٹھی ٹیک کر چلنے والا آدمی کون ہے؟ اس کی رفتار میں باقاعد گی ہے۔ یہ آرہا ہے، جارہا ہے، لیکن کبھی ہاتھ نہیں آتاکہیں یہ ’’ وقت‘‘ تو نہیں، جس کو کوئی روک نہیں سکتا ٹک ٹک گھڑی کے پنڈولم کی طرح اس کی رفتار میں باقاعدگی ہے، اور یہ ہمیشہ حرکت میں ہے۔ یہ صنعتی اور میکا نکی انسان بھی ہوسکتا ہے جو پوری طرح ’’وقت‘‘ کے قابو میں ہے۔ یہ اندھا ہے۔ نیز جدید انسان بھی تجارتی اقدار کے حصول کی دوڑ میں اندھا ہورہا ہے۔ لاٹھی سے مراد صنعتی دوڑ میں مادی آسائشوں کا وہ سہارا بھی ہو سکتا ہے جن کے بغیر انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا ۔ لاٹھی کی آواز کی باقاعدگی موجودہ تہذیب کی میکا نیکیت اور اکتا دینے والی یکسانیت کو بھی ظاہر کرتی ہے اور وقت کی رفتار اور تسلسل کی مظہر بھی ہے۔ اس کے بعد افسانہ میں سمندر اور برف کا ذکر ہے۔ بپھرا ہوا سمندر مشینی تہذیب کا پھیلائو ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں برف اس تہذیب کی سرد مہری کی علامت ہوگی۔ سرخ زبان والا سانپ جو انسان کے ذہن سے پھن اٹھا کر نکلتا ہے۔ مرد کے خانگی خوف یا جنس کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ افسانہ نگار نے اس کے فوراً بعد عورت اور بچی کا ذکر کیا ہے جس سے سانپ کی علامت اپنے تمام امکانات کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔ لاٹھی کے سہارے چلنے والے انسان کے معمولات بندھے ہوئے ہیں اور وہ گھڑی کے پنڈولم کی طرح بے بس آگے پیچھے حرکت کرتا رہتا ہے۔ دوسرا اس انسان سے ملنا چاہتا ہے۔ کمرے کی حسین چیزوں کو اپنانا چاہتا ہے اور عورت اور بچی کے اپنائیت کے احساس سے سرشار ہونا چاہتا ہے، لیکن کسی بات میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور وہ تنہا اور خالی خالی محسوس کرتا ہے۔ یہ پرانی اور نئی تہذیبوں کا ٹکرائو ہے۔
کانسے میں ڈھلا ہوا انسان اطمینان سے تمبا کو پی رہا ہے، یہ گویا علامت ہے ماضی میں زندہ رہنے کی یا بے حس ہونے کی۔ یعنی اس دور میں فراغت سے وہی ہے جس کا احساس بیدار نہیں یا جو صرف سانس لینے پر قانع ہے۔
اس مقام پر کہانی کے یہ جملے خاصے اہم ہیں:
’’ایک بپھرا ہوا سمندر، ایک ریت اڑاتا ہوا صحرا اور ایک برف کا طوفان اور میں اکیلا آدمی! میں کیا کچھ کرلوں گا؟میں دل ہی دل میں اس چیز کو گالی دیتا ہوں جو یہ سب کچھ سوچتی ہے مگر نظر نہیں آتی اور مجھ نحیف، کمزور بے سہارا کو بھٹکاتی پھرتی ہے۔‘‘
جو سب کچھ سوچتی ہے، لیکن نظر نہیں آتی۔ شاید انسان کا ذہن ہے۔ تجزیے کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد علامتوں کے نظام کے بارے میں اس وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ڈرائنگ روم ہمارا جدید معاشرہ ہے۔ سمندر، میدان اور وادی سے گزر کر آنے والا شخص عہدِآفرینش کا انسان ہے اور جس انسان سے اس کی ملاقات نہیں ہو پاتی وہ وقت ہے یا صنعتی دور کا بے شخصیت انسان ہے جس کا وجود میکانکیت کی نذر ہو چکا ہے۔ کہانی عہدِآفرینش کے انسان کی اپنائیت،رفاقت اور معصومیت کے احساس سے شروع ہوتی ہے، صنعتی دور کے اثر سے پیدا ہونے والی ذہنی علیحدگی (Alienation) کی مختلف کیفیتوں کو ابھارتی ہے اور اپنائیت کے فقدان کے المیہ کو نقطۂ عروج پر پہنچا کر ختم ہو جاتی ہے۔ عہد آفرینش کے انسان کو جو بجائے خود اپنائیت اور رفاقت کی علامت ہے، ڈرائنگ روم یعنی جدید معاشرے سے رخصت ہونا پڑتا ہے تو وہ قالین یعنی دھرتی کو ایک نظر دیکھتا ہے اور اسے اپنی بانہوں میں بھرلینے کی کوشش کرتا ہے۔ معاشرہ اس کا اپنا ہے لیکن علیحدگی کے جذبے کی وجہ سے اسے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کہا ہے۔ آخر میں یہ کہہ کر کہ ’’اگر کوئی کمزور ،نحیف،بے سہارا کشتی ساحل سے آکر لگے تو سمجھ جانا کہ وہ میں ہوں‘‘ اس تمنا کا اظہار کیا گیا ہے کہ شاید کبھی اپنائیت کو اپنا کھویا ہوا قالب پھر مل جائے۔
سریندر پرکاش نے جدید انسان کے ذہنی مسائل کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی کہانیاں زبان و بیان کے ایجاز اور تہ در تہ علامتوں کی معنویت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ وہ بظاہر نہایت سادہ زبان استعمال کرتاہے جیسے کوئی روانی سے بے تکلف لکھے چلا جاتا ہو، لیکن ہر سطر گہرے غوروفکر کا نتیجہ ہوتی ہے اور چندہی جملوں کے بعد احساس ہونے لگتا ہے کہ پڑھنے والے کو ذہنی چیلنج کا سامنا ہے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں کا تانا بانا خواب اور بیداری کے بیچ کی کیفیتوںسے تیار ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر چیزیں اپنی روایتی طور سے ہٹ کر سامنے آتی ہیں اور پڑھنے والا چونک چونک اٹھتا ہے۔ نیم شعوری اور تحت الشعوری کیفیتوں کے امتزاج سے جا بجا تحیر کے چھینٹے بھی ملتے ہیں جو کہانی کی دلچسپی بنائے رکھتے ہیں۔سریندر پرکاش کے افسانوں میں لفظوں کے لغوی اور منطقی معنوں کے پیچھے ایک اور جہانِ معنی آباد نظر آتا ہے۔ وہ استعاروں کے جال سے علامتی معنوں کی ایک وسیع اور روشن فضا قائم کردیتا ہے۔ اس کی ذہنی پر چھائیاں اجلی ،نمایاںاور متحرک ہوتی ہیں اور واقعات کا ایک دریا سا اپنے حسی اور فکری اتار چڑھائو کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ لغوی معنی سے پرے دیکھ سکنے والوں کے لیے سریندر پرکاش کے افسانوں میں داستان کی سی واقعیت ہے اور قصے کی سی کشش! لیکن وہ لوگ جو رسمی معنی میں ابلاغ کا ماتم کرتے رہتے ہیں، ان کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ انھیں تخیلی نارسائی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
٭٭٭

Aesthetic of Absurd: Miraji by Moid Rasheedi

Articles

ابہام کی جمالیات : میراجی

معید رشیدی


[شعر خوب معنی ندارد…بیدلؔ]

شعری دھند میں لپٹی ہوئی دوآوازیں ہیں…میرجی اورمیراجی۔دوسایے ہیں جو ہمارے تعاقب میں ہیں اور ہم ان کے تعاقب میں۔داستان رات اور سایے کی ہے۔رات انسان کی پہلی شناخت ہے۔سایہ آدمی کا پہلاہمزاد ہے۔سایے کی رات کتھادھند کے خمیر سے پھوٹی ہے۔یہ زمین بنجرہے!۔یہاں سوال اگتے ہیں:
جانے کس پاتال سے آئے
دھندلی رات کے دکھیا سائے
پاتال،رات اور سایہ…تینوں علامتیں ہیں۔معنوی اعتبارسے نہایت دبیز۔ان کی وجودی تعبیرمعنی کو وہ سمت عطاکرتی ہے جہاں لفظ’گنجینۂ معنی کاطلسم‘بن جاتاہے۔اس شعر کے توسط سے جب ہم نے میراجی کو سمجھنا شروع کیاتومحسوس ہواکہ یہ شخص دیوانہ ہے۔سوالات بہت کرتاہے،اورسوالات بھی ایسے کہ اس کے ہر سوال میں سوالوں کی ایک دنیاآباد ہے۔دھندلی رات کادکھیاسایہ دھرتی کے پاتال تک پہنچنے کی کوشش میں ماراماراپھرتاہے:
نگری نگری پھرامسافرگھرکارستہ بھول گیا
کیاہے تیراکیاہے میرااپناپرایابھول گیا
آوارگی ابہام کاچہراہے۔دھندلی رات کے دکھیاسایے نے ابہام کی چادر اوڑھ لی ہے۔ابہام کیاہے؟یہ کوئی صنعت نہیں۔ہرلفظ اس وقت تک مبہم اوربے معنی ہے جب تک ہم اسے مفروضوں کے ذریعے بامعنی نہ بنائیں۔ابہام لفظ کے خمیر میں ہے۔یہ مانوس و نامانوس کاایک سلسلہ ہے جس میں شاعر زندگی کے تجربوں کواجنبیاتاہے۔ابہام معنی کے طرفوں کوکھولنے کے لیے متن کی قرأت کاطریقہ بھی فراہم کرتاہے۔یہ طریقہ سوال سے شروع ہوکر سوال ہی پر ختم ہوجاتاہے۔ابہام کے پاتال میں چھپی زندگی خود سب سے بڑاسوال ہے۔توپھرابہام سے مفرکہاں؟قرأت کاتجزیاتی نظام ہرلفظ کومعنوی اساس پر پھیلنے کا موقع عطاکرتاہے۔استعارہ لفظ کے معنوی امکانات کو پھیلانے کاعام ذریعہ ہے۔زبان کی اساس استعاراتی ہے۔مفروضہ جب روزمرہ کاحصہ بن جاتاہے تو اس کی استعاراتی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔اس لیے ہرنیااستعارہ مشاہدے کی ندرت کوپیش کرتاہے۔شاعری زبان کامعجزہ ہے۔اس لیے ادبی تخلیق پر ہونے والی ہربحث کاآغاز لسانی بنت کے مسائل سے ہوتاہے۔لفظ ومعنی کے رشتے کوسمجھے بغیر معنوی رعایتوں کی تفہیم ادھوری ہے۔ہراستعاراتی پیکر مشاہدات کے متعدد اجزاسے باہم مربوط ہوتاہے۔انھی اجزاکی کثرت سے رعایتیں وجود میں آتی ہیں۔چونکہ مجازکی تمام صورتیں ابہام کی کوکھ سے پیداہوئی ہیں،اس لیے قاری کا ذہن ان صورتوں سے آشناہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ہرقاری متن سے مطابقت کانیاقرینہ ڈھونڈتاہے۔
ابہام شعری خواص کوتوانابناتاہے،کیونکہ یہ شاعری کی جڑوں میں پیوست ہے۔یہ ذہن کی مستقل حالت ہے۔انسانی ذہن ہمیشہ شک،واہمہ یامبہم کیفیات کاشکار،رہتاہے۔عبیداللہ علیم کی ایک تقریب میں جون ایلیانے کہاتھاکہ شاعری اظہارذات نہیں،بلکہ ہیجانِ ذات کااظہارہے۔یہ دراصل ذات کے حوالے سے ذہنی ہیجان کامعاملہ ہے جواکائی کی صورت کسی تخلیقی متن میں اپنی تمام ترکثرت کے ساتھ متشکل ہوتاہے۔کوئی بھی نظم،چاہے اس کابیانیہ جتنابھی سپاٹ ہو،ابہام سے مبرانہیں ہوتی۔نظم کاکوئی بھی مطالعہ شرح،تعبیریاتجزیے کے لیے نہ صرف ابہام کے درجات سے ہوکرگزرتاہے،بلکہ ان میں الجھتابھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تخلیقی متن کی قرأت ایک نوع کامجاہدہ بھی کہلاتی ہے۔قرأت کی پیچیدگیاں باذوق قاری کو مسرت بہم پہنچاتی ہیں۔میراجی کی شاعری میں ابہام ایک پاتال ہے۔فکری بنت،دھندلی رات کی مانند ہے اور دکھیاسایہ ان کامرکزی شعری کردار۔اسی لیے ابہام کی جمالیات کو ہم نے ان کی شاعری کاسرنامہ بنایاہے۔قرینہ یہ ہے کہ باغی اور وحشی تخیل والایہ دکھیاسایہ دھندلے اوراندھے نغموں میں راتوں کی کہانی سناتاہے:
آؤ۔اپنے باغی،وحشی تخیل کی
دھندلے،اندھے نغموں میں
سن لوکہانی راتوں کی۔ [مدھوری بانی]
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
قصہ گوئی کی تاریخ/تصور،رات ہی سے وابستہ ہے۔انسان نے اپنی اساطیر کوتخیلی حکایات میں پہچانا۔رات کتھاکابیانیہ سادہ ہوہی نہیں سکتااوریہاں تورات کاہرلمحہ خون بن کر تجربے کی آنکھوں سے رس رہاہے۔سرخ وسیاہ کے اس جنگل میں ایک سادھوآسن جمائے،دھونی رمائے پریم کے منتر پڑھ رہاہے۔الفاظ زبان سے اداہورہے ہیں اورمعنی کاچشمہ اداس آنکھوں سے پھوٹ رہاہے۔من مندر میں ایک دیوی ہے جس کے علم میں بنگال کاجادوہے۔روایت ہے کہ اس کے شہر میں جانے کے کئی راستے ہیں،واپس آنے کاکوئی راستہ نہیں۔اب سادھواس شہرکافقیربن چکاہے۔وہ اس شہر کی سانولی مٹی میں ضم ہوچکاہے۔اسی مٹی سے کالی بنتی ہے اورمیراسین کامیراجی کالی[رات]کی کہانی سنارہاہے:
رات اندھیری،بن ہے سونا،کوئی نہیں ہے ساتھ،
پَوَن جھکولے پیڑ ہلائیں،تھرتھرکانپیں پات
دل میں ڈرکاتیرچبھاہے،سینے پرہے ہاتھ،
رہ رہ کرسوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات؟ [نارسائی]
واہمہ کے دشت میں میراجی کاتخیل ارضی پیکرتراشتاہے۔ان کاارضی بیانیہ قدیم وطویل ہندوستانی تہذیب کے سلسلوں سے عبارت ہے۔ان کاکلام انھی سلسلوں کامظہرہے۔ابہام کی جمالیات نے ان کے تخیل کودبازت عطاکی ہے۔ان کی قرأت میںمعنوی پہلوؤں کی دریافت کے لیے ابہام کے مدارج کوطے کرناہے۔ابہام اورایہام میں فرق ہے۔ایہام[Pun]ایک شعری صنعت ہے جس میں ایک لفظ کے دومعنی مراد لیے جاتے ہیں۔ایک قریب کاہوتاہے،دوسرابعید کا،اورلکھنے والے کی مراد بعیدمعنی سے ہوتی ہے۔Ambivalenceبھی اسی سے مشابہ ہے۔یہاں دونوں معنی ایک دوسرے سے جداہونے کے ساتھ محدود ہوتے ہیں،جبکہ ابہام کثرت ِ معنی پردال ہے۔ابہام کی تعریف میں مارکسی نقادٹیری ایگلٹن لکھتاہے:
Ambiguity happens when two or more senses of a word merge into each other to the point where the meaning itself becomes indeterminate.(1)
یعنی ابہام معانی کاانضمام ہے۔کسی سیاق یاتناظر میں کوئی مبنی برابہام لفظ اپنے لغوی معنی [Literal Sense]میںاستعمال نہیں ہوتا۔ایک لفظ سے جب کئی معنی دریافت ہوں تومجازاپناسایہ وسیع ترکرلیتاہے۔کسی مخصوص/لغوی معنی سے تجاوزشعری عناصر[تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازمرسل، تمثیل، مبالغہ،علامت وغیرہ]کی تشکیل کاموجب بنتاہے۔بنیادی چیز تخیل ہے۔قوتِ واہمہ[Fancy]اس کاغیر منقسم حصہ ہے۔واہمہ مختلف معانی میں ارتباط پیداکرتاہے اورمنضبط قوتِ حاسّہ اسے صحیح سمت عطاکرتی ہے۔واہمہ ابہام کی کلید ہے۔ابہام عام گفتگو میں بھی درآتاہے،لیکن سب سے مبہم شعری زبان ہوتی ہے جس کاہرجزاپنی فطرت میں جدلیاتی ہوتاہے۔شمس الرحمن فاروقی کاخیال ہے:
اجمال اور جدلیاتی لفظ کے بعد ابہام شاعری کی تیسری اورآخری معروضی پہچان ہے۔[موزونیت اوراجمال کی موجودگی ہمیشہ فرض کرتے ہوئے]ہم یہ کہہ سکتے ہیں اگرکسی شعر میں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں،لیکن جس طرح تنہاجدلیاتی لفظ شعرکوشاعری میں بدل دیتاہے،اسی طرح تنہاابہام بھی شعر کوشاعری بنادیتاہے۔شعر میں ابہام یاتوعلامت سے پیداہوتاہے یاایسے الفاظ کے استعمال سے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹ سکیں۔جتنے سوالات اٹھیں گے شعراتناہی مبہم ہوگااوراتناہی اچھاہوگا۔(2)
یعنی اجمال اورجدلیاتی لفظ کی طرح ابہام بھی شاعری کامستقل جزہے،اوریہ تینوں شاعری کی معروضی شناخت مقرر کرتے ہیں،لیکن ابہام بذاتِ خود کبھی معروضی نہیں ہوتا۔[یعنی] ابہام کی معروضی شناخت ممکن نہیں،کسی مبنی برآہنگ شعری متن میں ابہام موجودہوتواسے شاعری کہاجاسکتاہے۔ابہام شاعری کی آخری معروضی شناخت نہیں،بلکہ یہ پہلی شناخت ہے اورشاعری کی اولین شرط بھی۔فاروقی صاحب بجافرماتے ہیںکہ اگرکسی شعرمیں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ہمارے خیال میں ابہام پہلے آتاہے،جدلیاتی لفظ بعدمیں۔اس لیے کہ جدلیاتی لفظ کی بنیاد ہی ابہام پرہے۔وہ کون سااستعارہ ہے جس سے ایک سے زائد سوالات پیدانہیں ہوتے؟اگرسوالات پیداہوتے ہیں تواس کی وجہ ابہام ہے۔اس طرح اس کی اولین حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔چوں کہ جدلیاتی لفظ از خود مبہم ہوتاہے،اس لیے ترسیل کا مسئلہ بھی پیداہوگا۔ابہام میں ابلاغ کاعمل جمالیات کوبھی طے کرتاہے۔
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
اکثر کہاجاتاہے کہ فلاں شعر/نظم مہمل ہے۔ابہام سے شعر نہ توچیستاں بنتاہے اور نہ ہی مبالغے سے کوئی شعرلغویات کے دائرے میں آتاہے۔ہرشعرمہمل نہیں ہوتا۔قصور تواپنی تفہیم کابھی ہوتاہے۔کوئی خیال کسی کے لیے مہمل ہوسکتاہے،لیکن وہی خیال دوسروں کے لیے بھی مہمل ہو،کوئی ضروری نہیں۔مبالغہ ابہام کے بطن سے نکل کر استعارے کی وجودیات میں داخل ہوجاتاہے۔ابہام نہ تواہمال ہے اور نہ اِشکال۔اہمال’مہمل گوئی‘کوکہتے ہیں،جبکہ ابہام معنی خیزی کاعمل ہے۔یہاں کوئی نہ کوئی معنی ضرورنکل آئے گا۔اِشکال میں کوئی خیال مشکل ضرورہوتاہے،ناقابلِ فہم نہیں۔بعض حوالوں سے یہ مشکل دورہوسکتی ہے۔کہاجاتاہے کہ’شاعری انکشاف ہے اسی لیے مبہم ہے۔‘کسی پرمہملیت کالیبل لگانابہت آسان ہے۔جب آدمی بشیربدراوراحمدفرازکوپڑھنے کاعادی ہوجاتاہے تواسے ن۔م۔راشداورمیراجی کی شاعری تومہمل معلوم ہوگی ہی۔ہم نے بعض لوگوں کوکہتے سناہے کہ میراجی مہمل بکتے ہیں۔کچھ لوگوں کویہ شکایت ہے کہ جس طرح فیض ہماری زبان پررہتے ہیں،میراجی نہیں رہتے۔ان کاکلام زبان زدنہیں ہوتا۔بھئی زبان زد توچٹکلے بھی ہوجاتے ہیں۔توشاعری اورلطیفے میں کیافرق ہے؟فیض کامیراجی سے کوئی موازنہ نہیں۔دونوں اپنے ڈھب کے شاعر ہیں۔میراجی کاکلام اگریاد نہیں رہتاتواس میں ان کاکوئی قصورنہیں۔میراجی وجودکاشاعرہے۔وہ مٹی میں چھپے پاتال میں لے جاناچاہتاہے۔جب زندگی ہی مبہم ہے تومیراجی سے کیوں مطالبہ کیاجائے کہ ان کے مطالب آسان ہوں؟ فاروقی صاحب نے پرلطف بات کہی ہے کہ :
ذاتی طورپرمیں کسی شاعری کومہمل کہنے سے اتناہی ڈرتاہوںجتناکوئی مسلمان دوسرے مسلمان کوکافرکہنے سے ڈرتاہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میںکفرکافتویٰ ہمیشہ سے بہت سستارہاہے،اورآج بھی ہے۔(3)
اب تک کی گفتگومیں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ابہام کی شناخت کیوں کرمقررکی جائے؟ابہام کی دبازت علامت ہے۔علامت میں تشبیہ،استعارہ یاتمثیل کامفہوم شامل ہوتاہے۔یہ استعارے سے زیادہ عمیق ہے۔علامت اپنے تمام انسلاکات کے ساتھ ظاہرہوتی ہے۔فرض کیجیے کہ’ آسمان‘،زمانے کااستعارہ ہے،لیکن اس میں عظمت،وسعت،تحرک،تغیر،وقت،جیسے تمام مفاہیم بھی موجود ہیں۔آسمان،خداکابھی استعارہ ہوسکتاہے اورظالم کابھی۔اس کی کیفیت کی مناسبت سے مفاہیم بدلیںگے،لیکن یہی آسمان جب علامت کے معنی میں لیاجائے گاتواس میں یہ سارے معانی مراد لیے جائیںگے۔
ابہام پرگفتگومیں سرولیم ایمپسن کی کتاب’Seven Types Of Ambiguity‘اہم حوالہ ہے۔یہ کتاب ایمپسن نے اس وقت لکھی جب وہ بائیس برس کے بھی نہیں تھے۔جب وہ چوبیس سال کے ہوئے توپہلی بار یہ کتاب 1930میں شائع ہوئی،اورجدیدادبی تنقید میںسنگ میل قراردی گئی۔ایمپسن نے ابہام کو سات حصوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ درجہ بندی کی۔اس نتیجے پرپہنچے کہ ابہام شاعری کے خمیرمیں ہے۔ابہام کی تعریف میںلکھتے ہیں:
‘Ambiguity’ itself can mean an indecision as to what you mean, an intention to mean several things, a probability that one or other or both of two things has been meant, and the fact that a statement has several meanings.It is useful to be able to separate these if you wish, but it is not obvious that in separating them at any particular point you will not be raising more problem than you solve.(4)
ایمپسن نے ابہام کی جمالیات کواسلوب کی لطافت سے تعبیر کیاہے۔ہماراخیال ہے کہ ابہام توبت ہزارشیوہ ہے۔اس تک رسائی کے محض سات نہیں،ہزاروں درہیں۔اس کی تہ میں اترنے کی کوشش میں قاری مزید الجھتاجاتاہے،اورمعنی التوامیں رہتاہے۔
کچھ لوگ ابہام کے بڑے مخالف ہیں ۔میراجی اور راشد کی شاعری کے مطالعے میں ابہام کا ذکر شدو مد سے کیا جاتا رہاہے ۔یہاں سلیم احمد کے دو مضامین کا حوالہ دینا مناسب معلوم پڑتا ہے ۔ ’ابہام کیوں ؟‘ اور ’ ابہام اور بازی گری ‘ ۔ انھوں نے ابہام کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا ہے اور اس نوع کے سوالات قائم کیے ہیں :
·ہمیں ایک نظم مبہم معلوم ہوتی ہے ۔ اس کا کیا سبب ہوتا ہے ؟
·[قاری کے ساتھ] شاعر بھی ابہام میں مبتلاہوتا ہے ۔ کیوں ؟
·ابہام کی فنی ضرورت کیا ہے ، یعنی دانستہ ابہام کی غرض و غایت کیا ہے ؟
سلیم احمد نے ابہام کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لینے کی بساط بھر کوشش کی ہے اور ابہام کو الہام سے ملاکر دیکھا ہے :
شاعری کے کسی سنجیدہ طالب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ شاعری اپنی آخری حدود میں ’’حقیقت نامعلوم‘‘ کا اشاریہ ہے ۔ یہ حقیقت اظہار اور ابلاغ سے گریزاں ، اور طالب ِ اخفا ہے ۔ اس کی فطرت ہی یہ ہے کہ ظاہرہونے سے بچتی ہے ۔ مگر شاعری ہمیشہ اس حقیقت پر کمند انداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ۔ یہ حقیقت تو قابو میں نہیں آتی مگر شاعری ایک ایسا آئینہ ضرور تیار کردیتی ہے جس میں اس کا عکس جھلملانے لگے یا کم از کم وہ نیم ظاہر ہوجائے ، گھونگھٹ میں چھپے ہوئے محبوب کی طرح حقیقت کی یہ جلوہ نمائی شاعری کو الہام بنادیتی ہے ۔ الہام ابہام کے بغیر ممکن نہیں ، اور راز کھل کر بھی راز ہی رہتے ہیں ۔(5)
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
شاعری کو الہام کہاجاتارہاہے ۔ یہ ایک الگ نظریہ ہے ۔ شاعری الہام ہے یا نہیں ، الگ بحث کا موضوع ہے ، لیکن اس بحث میں بعض اختلافات کے باوجود جو نکتہ اہم ہے وہ ابہام کا اعتراف ہے ، کیونکہ یہاں الہام کا دارومدارہی ابہام پر رکھاگیا ہے ۔[ایہام سے قطع نظر ] نظری سطح پر ابہام کے مطالعے کا چلن میراجی اور راشد کی شاعری کے جائزے سے ہوا۔ ایک گروہ نے ابہام کی حمایت کی اور دوسرے نے سخت مخالفت ۔ اس معرکے میں ابہام کی نظری اساس کو استحکام حاصل ہوا۔سلیم احمد کا مضمون ہے ’ ابلاغ کا مسئلہ ‘ ۔ اس میں انھوں نے وزیر آغاکے مضمون ’ ابلاغ سے علامت تک ‘ پر گفتگو کرتے ہوئے شاعری میں ابلاغ کے مسئلے کوالہام [ غیر اناکا شعور]کے حوالے سے سلجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے نزدیک تخلیق ،داخلیت [غیر انا کا شعور] سے خارجیت [ انا کا شعور ] کے سفر کا نام ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ تخلیقی امیج پوری تخلیقی شخصیت کا نچوڑ ہوتی ہے ۔ انھوں نے وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی کی شاعری کو بری شاعری کا نمونہ اس بنیاد پر قرار دیا کہ ان کے یہاں ’غیر انا‘ کا شعور ’انا‘ کے شعور سے مکالمے پر تیار نہیں ہوتا اور اسی لیے ان کی شاعری میکانکی ہوجاتی ہے ۔ انھوں نے ’ فکر کا طاعون ‘ والے مضمون میں فاروقی صاحب سے اپنے اختلافات واضح کیے ہیں ۔اس ضمن میں فاروقی صاحب کے تین مضامین حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’ تعبیر کی شرح ‘ ، ’ترسیل کی ناکامی کا المیہ‘ اور ’ شعر کا ابلاغ ‘ ۔ان مضامین کا براہِ راست تعلق ابہام سے ہے ۔ متن سے معنی کشید کرنے کا عمل تعبیر کہلاتا ہے ۔ تعبیر کے مختلف وسائل ہیں۔تعبیر کے عمل میں معنی کشید کرنے کا مرکزی وسیلہ ابہام ہے ۔تخلیقی سطح پر اظہار ، ترسیل اور ابلاغ کے تینوں مراحل میں زیریں لہر کے بطور ابہام موجود ہوتاہے ۔ ادبی تخلیق میں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے وجدان کو اپنے اوپر مکمل طور پر ظاہر کرلیاہے ؟کیا اس بات پر کوئی مصر ہوسکتا ہے کہ اس کے اظہار نے مکمل ترسیل حاصل کرلی ہے ؟ کیا اس پہلو پر کوئی اَڑ سکتا ہے کہ اسے تخلیقی متن کا پور ا ، ابلاغ ہوچکا؟ترسیل کی ناکامی کے لیے مصنف کو قصور وار ٹھہرانے سے پہلے تھوڑے توقف کے ساتھ غور کرلینا چاہیے کہ متن کا تشکیلی نظام کیا کہتا ہے اور متن کی قرأت کیسے کی جائے ؟ ہر متن ایک ہی زاویے سے نہیں پڑھاجاسکتا۔میراجی کا متن ترسیل کی ناکامی کا المیہ نہیں ؛ ابہام کی جمالیات کا محورہے ۔ محمد حسن عسکری نے میراجی پر خاکہ لکھتے ہوئے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ لوگوں کو میراجی سے شکایت رہتی ہے کہ وہ سمجھ میں نہیں آتے ۔ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے پڑھنے والوں کا خیال نہیں رکھا۔ اس نوع کی باتیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔
کلیات میراجی کی پہلی نظم ہے ’چل چلاؤ‘۔موضوع ’بے ثباتی ِ دنیا‘۔اس موضوع پر شاعری کا انبار ہے۔میرؔ جی نے تو ہستی کوحباب اور اس کی نسبت ، نمائش کو سراب سے تعبیر کیا ہے۔میر کے ہم عصر نظیر نے بھی کہا ہے ۔’سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا /جب لاد چلے گا بنجارہ‘۔ولی نے بھی خدو خال کی بات کو خال خال بتا کر زندگی کو دردو غم سے جوڑ دیا ہے۔میرجی سے میراجی تک کے سفر میں بے ثباتی ِ دنیا کا موضوع پامال بھی بہت ہوا۔شیلی بھی کہہ کر چلا گیا:
Our sweetest songs are those that tell of sadist thought
اس طرح درد و غم کے اظہار پر شاعروں کا اجارہ ٹھہرا۔حزنیہ اظہار شعر گوئی کا فیشن بھی قرار پایا۔جب تک درد کی جبلت کو محسوس نہ کیا جائے۔جب تک غم کی ماہیت سے ہوکر نہ گزراجائے۔اسے اپنے باطن میں کیسے اتارا جاسکتاہے؟ہاں صاحب ، میراجی غم کاشاعر ہے۔دکھوں کو اس نے پہچان لیاہے۔درد اس کے درون میں ہے۔غم اس کے وجود میں ہے۔وہ اپنے تخیل کو وحشی کیوں کہتا ہے؟راتوں کی کہانی کیوں سناتا ہے؟یہ کیسا عاشق ہے جو محبوب کی چوٹی اور کمر کا مقتول نہیں؟اس کے یہاں محبت پوجا بن گئی ہے اور اس محبت سے پھوٹنے والاہر منطقہ اس کے لیے مقدس ہے۔
میراجی کی شاعری عشق کا صحیفہ ہے۔اس جوگی نے دنیا کو ہزار رنگ میں دیکھا،لیکن:
’بس دیکھا اور پھر بھول گئے‘
کیوں؟اس لیے کہ کسی منظر کو ثبات نہیں۔’چل چلاؤ‘ ایک ’ لمحے ‘ کی جمالیات کو محسوس کرنے کا تجربہ ہے۔زندگی کو دیکھنے کے بے شمار زاویے ہیں۔قطرے میں دریا کی تلاش تصوف کا علاقہ ہے۔جز کو عظیم کُل کا حصہ سمجھنا اہل تصوف کا شیوہ رہاہے۔زندگی کا ہر لمحہ حیات ِ کُل کاایک جز ہے۔فانی نے کہا ہے:’ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی/ زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا‘۔غالب نے بھی کہا ہے:’عشرت ِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا‘۔غالب جادہ ٔ راہ ِ فنا کو عالم کے اجزاے پریشاں کا شیرازہ بتاتے ہیں۔میراجی نے عرصۂ حیات کے ، ایک لمحے میں سمٹنے کا تجربہ کیا ہے :
ہر منظر ، ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کا
اک پل کو ہمارے بس میں ہے ، پل بیتا ، سب مٹ جائے گا،
اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو ،
تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو؟
کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی ؟

ہے چاند فلک پر اک لمحہ ،
اور اک لمحہ یہ ستارے ہیں ،
اور عمر کا عرصہ بھی ، سوچو ! اک لمحہ ہے !
[چل چلاؤ]
میراجی نے عرصۂ حیات کو ایک لمحہ سمجھنے کے ساتھ ہستی کو ایک ذرہ بھی تصور کیا ہے ۔مسرت کے فلسفے میں زندگی کو خواب سے تعبیر کرکے انھوں نے مسرت کے خوف کا ادراک کیا ہے ۔اس دنیا میں ہرشخص مسرت کی تلاش میں ہے لیکن وہ مسرت سے خوف کھاتے ہیں ۔اس لیے کہ کہیں یہ مسرت زندگی کو خواب نہ بنادے ۔مسرت میں جو رومان کا پہلو ہے وہ خواب کی کیفیت کو جلا بخشتا ہے ۔شکست ِ خواب ان کے یہاں کرب انگیز تجربہ ہے ۔خواب بہر حال خواب ہے ۔ہر خواب حقیقت نہیں بنتا۔خواب کا ٹوٹنا میراجی کے یہاں دل کا ٹوٹنا ہے ۔انھیں معلوم ہے کہ ہر مسرت فانی ہے ۔اس لیے اس تجربے سے گزرنے میں انھیں ڈر کا احساس ٹیسیں مارتا ہے :
میں ڈرتا ہوں مسرت سے ،
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں ، کائناتی نغمہ ٔ مبہم میں الجھا دے ؛
کہیں یہ میری ہستی کو بنادے خواب کی صورت ؛
[میں ڈرتا ہوں مسرت سے ]
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کائنات کے نغمۂ مبہم میں الجھنا نہیں چاہتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر پل انھی نغموں میں گھرے ہوئے ہیں جن میں کائنات کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔وہ ابہام کو بعض اوقات شعوری طور پر موزوں کرتے ہیں ۔ان کی بعض نظمیں پہلی قرأت میں آسان معلوم پڑتی ہیں لیکن جب تہہ میں اتر نے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے ۔ان کی ایک نظم ہے ’سمندر کا بلاوا‘ ۔اس کی مختلف تعبیریں کی گئی ہیں ۔سمندر یہاں کلیدی وجودی علامت ہے ۔متکلم داخلی وجودی کردار ہے ۔بعض حضرات سمندر کو ماں کی علامت بتاتے ہیں کہ میراجی نے اپنی ماںکی یاد میں یہ نظم لکھی تھی ، لیکن اس طرح تو نظم ایک سیاق میں مقید ہوجاتی ہے ۔اس نظم کے کوڈز کو جب ڈی کوڈ کیا جاتا ہے تو معنی کی کئی نمایاں لہریں ابھرتی ہیں ۔ان لہروں میں بہہ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور یہ معنی کی سیال کیفیات کی وجہ سے ہیں۔سرگوشیوں سے شروع ہونے والی اس نظم میں آوازوں کی چمک ، دھمک ، شور اور اسرار کا جال پھیلا ہوا ہے ۔’صدا‘ اور ’ندا‘ دو بنیادی ذیلی علامتیں ہیں:
مگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھارہی ہے
یہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دیے جارہی ہے
عموماً صدا اور ندا کو ہم معنی تصور کیا جاتا ہے لیکن لغت اور علامت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔صدا پر ندا غالب ہے ۔صدا زندگی اور ندا موت ہے ۔اگر آپ اسے رد کرتے ہیں تو صدا خارج اور ندا باطن کا بلاوا ہے۔ اگر آپ اسے بھی رد کرتے ہیں تو صدا فانی ہے اور ندا لافانی تجربہ ہے ۔ ہر اک شے سمندر سے آئی اور سمندر میں جاکر ملے گی تو اس سمندر کا بلاوا وجود کا بلاوا ہے ۔سمندر کی ندا قطرے کی صدا سے ٹکرا رہی ہے :
یہ اک گلستاں ہے …ہوا لہلہاتی ہے ، کلیاں چٹکتی ہیں /…
یہ پر بت ہے …خاموش ساکن /…
یہ صحرا ہے …پھیلاہوا ، خشک ، بے برگ صحرا /…

نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
گلستاں ہو ، پربت ہو کہ صحرا، تینوں دبیز علامتیں ہیں ۔ ان میں زندگی کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ گلستاں میں ہواکا لہلہانا، کلیوں کا چٹکنا ،غنچوں کا مہکنا، پھولوں کا کھلنا …یہ سب زندگی اور بقا کی علامتیں ہیں لیکن انھیں پائداری میسر نہیں ۔بہار کے بعد خزاں کا دور بھی آتاہے ۔پربت کے دامن میں وادی ہے ۔وادی میں ندی ہے ۔ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہے ۔ندی زندگی کی علامت ہے ۔اس کی حرارت میں ناؤ کا بہنا زندگی کا رومان ہے لیکن ناؤ بہتے بہتے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔منظر ، پس منظر میں چلاجاتا ہے ۔حال سے ماضی بننے کا سفر تاریخ کے جبر کو بھی ہویدا کرتا ہے ، اس کے فنتاسی کو بھی اوراس کے اثبات کوبھی ۔صحرا کے بگولوں سے بننے والے عکس مجسم بھی زندگی کی رمق لیے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اک پل کو یہ متشکل ہوتے ہیں اور جیسے ہی طوفان اٹھتا ہے یا تند ہوا چلتی ہے تو عکس ِ مجسم بکھرجاتے ہیں ۔یہ فنا کی منزل ہے ۔یعنی ہر شے فانی ہے ۔تغیر مادّے کی فطرت میں ہے ۔مادہ ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہوتا ہے ۔ختم نہیں ہوتا ۔فنا اور بقا ،دونوں مستقل حالت نہیں ہیں ۔ہر بقا کو فنا کے رستے ہوکر گزرناپڑتا ہے ۔بہار کے بعد خزاں ہے لیکن خزاں کے بعد نئی بہار بھی تو ہے ۔ہرشے سمندر سے آئی ،سمندر سے جاکر ملے گی ۔سمندر زندگی کی نہایت عمیق علامت ہے ۔یہ زندگی کا منبع ہے ۔سمندر وقت کی بھی علامت ہے ۔شاعر پر یہ راز کھل چکا ہے کہ ثبات محض تغیر کو ہے ۔ہر شے مدارج ِ انتقال سے گزرتی ہے ۔اس لیے شاعر کی نظر اب نہ صحرا پر ہے ، نہ پربت پر اور نہ کسی گلستاں پر۔شاعر تو پیڑوں کے ایک جھرمٹ پر اپنی نگاہیں جمائے ہوا ہے ۔جھرمٹ جہاں ہر درجے کے پیڑ موجود ہیں۔مختلف رنگ، نسل اور جسامت کے ۔ ایک پیڑ گرتا ہے تو وہیں کوئی نو نہال سر اٹھاتا ہے ۔اجتماع تہذیب کابھی نقش ہے ۔یہاں ہر وحدت ، کثرت کا حصہ ہے ۔جس طرح فرد سماج کااور جس طرح قطرہ سمندر کا حصہ ہے :
نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
جب شاعر یہ کہتا ہے کہ ’ تو پھر یہ ندا آئینہ ہے ، فقط میں تھکا ہوں ‘ ، تو آئینے کا طلسم ٹوٹتا ہے ۔ نداآئینہ ہے اور آئینہ وجود ۔جسم مرتا ہے ، روح منتقل ہوتی ہے ۔اسی طرح آئینے میں عکس کچھ دیر کو ٹھہرتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے ۔آئینہ قائم رہتا ہے ، چہرے بدل جاتے ہیں ۔
’دن کے روپ میں رات کہانی ‘، ’جاتری ‘، ’محبت‘ ، ’ اونچا مکان ‘ ، ’ عکس کی حرکت ‘ ، ’ شام کو ، راستے پر ‘ ، ’ اُفتاد‘ ، ’ محبوبہ کا سایہ ‘ ، ’ فنا ‘ جیسی دیگر تمام نظمیں ابہام کی جمالیات میں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں:
لیکن یہ رنگ خیالوں کے اب میری نظر میں سایہ ہیں
سب بیتی رات کا جادو ہیں ، سب پچھلے جنم کی مایا ہیں [محبوبہ کا سایہ ]
جس جگہ آکے ازل اور ابد ایک ہوئے تھے دونوں ،
ایک ہی لمحہ بنے تھے مل کر [بعدکی اڑان ]
رات اک بات ہے صدیوں کی ، کئی صدیوں کی [دن کے روپ میں رات کہانی ]
یہ لہریں ہیں ، انھیں نسبت ہے کالی رات کے غمناک دریا سے [سرسراہٹ]
میراجی کی شخصیت اور شاعری دونوں کے ساتھ ابہام کا گہرا رشتہ ہے۔میراجی کی موت پر منٹو نے کہا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر سے مرتا تو یقیناً اس کی موت بھی ایک درد ناک ابہام بن جاتی۔منٹو نے میراجی کے ’تین گولے‘ والے خاکے میں لکھا ہے کہ اس کے سارے وجود میں ایک ناقابل ِ بیان ابہام کا زہر پھیل گیاتھاجوایک نقطے سے شروع ہوکرایک دائرے میں تبدیل ہوگیاتھا،اس طور پر کہ اس کاہرنقطہ اس کا نقطۂ آغاز ہے اوروہی نقطہ ، نقطۂ انجام۔

حواشی
(1)Terry Eagleton,How to read a poem,Indian edition 2007,Blackwell Publishing,P:125
(2)شمس الرحمن فاروقی،شعر،غیرشعراورنثر،2005،قومی کونسل براے فروغ اردوزبان،نئی دہلی،ص:96
(3)ایضاً
(4)William Empson, Seven Types Of Ambiguity, 1949,Chatto and Windus,London,P :5-6
245-246،اکادمی بازیافت ، کراچی ،: پاکستان ، ص ص: 2009سلیم احمد، مضامین سلیم احمد، مرتبہ: جمال پانی پتی ، (5)

Majrooh and Progressive Movement by Farooqui

Articles

مجروحؔ سلطان پوری اور ترقی پسند تحریک

شمس الرحمٰن فاروقی

مجروحؔ سلطان پوری اس بات سے متفق نہ ہونگے ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے منسلک ہونے کی وجہ سے انھیں جو شہرت اور عزت ملی اس کی قیمت سے بہت زیادہ قدر و قیمت کے حامل شعر کہہ کر انھوں نے خود ترقی پسند غزل کی توقیر بڑھائی۔بہ الفاظ دیگر مجروحؔ سلطان پوری کی عزت ترقی پسند تحریک کے باعث نہیں بلکہ ترقی پسند تحریک کا اعتبار مجروحؔ جیسے شعراء کے باعث تھا۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ ترقی پسند نظریے پر ان کے عقیدئہ راسخہ اور اس کے رہنمائوں سے ان کی عقیدتِ شدیدہ نے اشعار بھی ان سے کہلائے جو ترقی پسند غزل کی بدنامی اور خود ان کے شاعرانہ مرتبے میں تخفیف کا سبب بنے۔یعنی ترقی پسندی سے وفاداری کی بنا پر ان کا نقصان دونوں طرف سے ہوا۔جیل جانا یا نوکری سے برطرفی بھی نقصانات ہیں،(اور مجروحؔ جیل گئے بھی)لیکن یہ نقصانات شعر کی زندگی کے مقابلے میں چند روزہ ہیں۔ترقی پسند صاحبان فیضؔ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جیل جانے کی بات ضرور کرتے ہیں ،کہ فیضؔ صاحب نے اپنے آدرشوں اور اصولوں کی خاطر قید کی صعوبت بھی اٹھائی۔حالانکہ واقعہ یہ ہے سزا ئے قید نے فیضؔ کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔اچھے شاعر تو وہ بہرحال تھے،لیکن جیل ان کو اور اس طرح ان کی شاعری کو ،ترقی پسندی کا اسطور بنا دیا۔اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ فیضؔ صاحب چاہے جتنے بڑے انقلابی ترقی پسند رہے ہوں ،لیکن شاعری کے معاملے میں خاصے محتاط تھے۔ انھوں نے برہنہ حرف نہ گفتن کے اصول پر بیش از بیش عمل کیا۔مجروحؔ صاحب تو ہٹلر کے چیلوں کو دوڑا کر مارنے اور حسن کو کارخانے میں ڈھال کر اسے موٹر سائیکل(یا شاید سائیکل ) قسم کی چیز قرار دینے کے لیے بدنامی بٹورتے رہے اور ان کے اچھے اشعار دوسروں کے لیے شہرت کے شہپر بنتے رہے۔ غنی کاشمیری؎
یاراں برد نہ شعر مارا ٭ افسوس کہ نام ما نہ بردند
میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ مجروحؔ کے یہ اشعار میں نے لڑکپن میں شکیلؔ بدایونی کے نام سے سنے تھے ۔عرصہ دراز کے بعد میں نے ان کا مجموعہ(یا انتخاب) دیکھا تو حقیقت آشکار ہوئی۔؎
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک خدایا غمِ زندگی نباہیں

کبھی جادئہ طلب سے جو پھرہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں باہیں
یہ شعر بہت اعلی پائے کے نہیں ہیں(ان دنوں البتہ بہت اچھے لگتے تھے اور اتنے برس بعد آج بھی یاد ہیں) لیکن ان کا لہجہ بہر حال جگرؔ ،فراقؔ اور حسرتؔ موہانی کی غزل سے بہت مختلف ہے۔ان دنوں ہم لوگ بھی کچھ پڑھے لکھے نہ تھے ،افسوس تو ان پڑ ھے لکھوںپر ہوتا ہے جنھوں نے ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
جیسے اشعار کا سہرا فیضؔ کے سر باندھ دیا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ ان شعروں کا آہنگ اور کیفیت فیضؔ کے رنگ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔اس طرہ یہ کہ مجروحؔ کی طرف سے احتجاج ہوا تو تو لوگ خفا ہوئے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی،شعر تو مشہور ہوگئے کسی بھی نام سے سہی۔مجروحؔ نے اپنے بارے میں خوب کہا ہے کہ’’چپ رہوں تو معضوب اور بولوں تو مغضوب ہوں‘‘۔
اسی طرح میں اس بات کا بھی گواہ ہو کہ میری عمر کے لوگوں نے مجروحؔ سلطان پوری کو ترقی پسند تحریک کے حوالے سے نہیں ،جگرؔ صاحب کے بھی حوالے سے نہیں ،محض شاعری کے حوالے سے جانا۔’’ گائے جا پپیہے گائے جا‘‘بڑی شاعری نہ سہی لیکن اس نظم میں ہم نوبارگانِ شعر کو لطف آتا تھا وہ جوش کے گاڑھے لہجے اور احسان دانش(ان دنوں احسان بن دانش) کے مزدور کی بیٹی میں نہ تھا۔اور جب فیضؔ کا نام میرے کانوں میں پڑا ،اور احتشام حسین کا تعریفی ذکر میں نے اپنے والد مرحوم سے سنا(یہ بات ۱۹۴۸ء کی ہے) تو اس سے مجروحؔ کی جگہ میرے دل میں کم نہ ہوئی ۔ لیکن وہ اس قدر کم گو اور کم نما تھے کہ فیضؔ، سردار جعفری،جذبیؔ اور دوسرے ترقی پسند شعراء کے غلبے میں گھرے ہوئے مجروحؔ ہم نوجوانوں کو بہت کم نظر آتے تھے۔میرؔ کا شعر یاد آیا؎
وہ کم نما ء دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
یہاں یہ بات بھی ظاہر کردوں کہ ترقی پسندوں میں سردار جعفری میرؔ شناسی کے لیے مشہور ہیں اور بجا مشہور ہیں۔ لیکن مجروحؔ سلطان پوری کو بھی میرؔ سے سچا اور گیرا شغف ہے اور وہ میرؔ کا کلام سمجھتے بھی خوب ہیں۔میرؔ کو جذب کیے بغیر مجروحؔ سلطان پوری اس طرح کے شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔؎
وہ تو گیا یہ دیدئہ خوں بار دیکھئے
دامن پہ رنگِ پیرہنِ یار دیکھئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں صاحبانِ چمن
مری طرف سے گلوں کو بہت دعاء کہئے
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے
اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔ
زندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے
مجرحؔ کی بہترین غزلوں میں کلاسیکی غزل کی تمکنت اور آہنگ کی بلندی ہے۔آہنگ کی بلندی سے میری مراد خطابانہ یا وعظانہ انداز نہیں،بلکہ زبان کی وہ موسیقیاتی صفت ہے تجریدی سطح پر جس کی مثال روی شنکر کے ستار یا فیاض خاں کی آواز کے جوار بھاٹے اور گونج میں دیکھی جا سکتی ہے۔
آہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا
نہ سہی باب قفس روزن ِزنداں تو کھلا
سیلِ رنگ آہی رہے گا مگراے کشت چمن
ضرب موسم تو پڑی بند بہاراں تو کھلا
دل تلک پہنچے نہ پہنچے مگر اے چشم حیات
بعد مدّت کے ترا پنجہ مژگاں تو کھلا
پھر آئی فصل کہ مانند برگ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے
اس پر باقر ہروی کا شعر یاد آگیا؎
برگ گل رابہ کف باد صبامی بینم
باغ ہم جانب اونامہ بر سے پیدا کرو
فرق یہ ہے کہ باقر ہروی کے شعر میں معشوق کے نام نامہ و پیام کا ذکر ہے۔اور مجروح سلطان پوری خود بہار ِباغ کے مکتوبِ الیہ ہیں۔ایک اگر معشوق میں گم ہے تو دوسرا اپنے نصب العین کو اپنا عشق گردانتا ہے اور اس کا معشوق خود اسے آواز دیتا ہے،جیسا کہ اسی غزل کے ایک شعر میں ہے؎
ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہی
وہیں پہنچتی ہے یاروں کہیں سے بات چلے
کلاسیکی آہنگ کی ایک مثال میں چند شعر اور دیکھئے؎
ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں
چراغ راہ کئے خوں چکاں جبینوں کو
نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروانِ حیات
یہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں
پارئہ دل ہے وطن کی سر زمیں مشکل یہ ہے
شہر کو ویراں کہیں یا دل کو ویرانہ کہیں
یہ کہنا مشکل ہے کہ مجروح ؔ نے خود کو بعض مضامین وافکار کا پابند نہ کر لیا ہوتا تو ان کی غزل کن راہوں اور وادیوں میں گامزن ہوتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کی شاعری میں کاروبار حیات اور معاملات جہد وعمل کے بارے میں ایک شدت شعور ،ایک فوری پن، اور خارج کی زندگی کے بارے میں سریع التاثیری ضرورپیدا کی۔ان کے یہاں ایک ولولہ کچھ کر جانے کے لئے تیاری اور جوش ،اور زندگی کی خاطر موت کے لطف اندوز ہونے کاجو تاثر نظر آتا ہے وہ انھیں تمام معاصرغزل گویوں میں ممتاز کرتا ہے؎
جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوق
نہ کب ہو سحر کون انتظار کرے
سیر ساحل کرچکے اے موج ساحل سر نہ مار
تجھ سے کیا بہلیں گے طوفان کے بہلائے ہوئے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیں
ہر چند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے
اکتا کے ہم نے توڑ دی زنجیر نام وتنگ
اب تک فضا میں ہے وہی جھنکار دیکھئے
یہ سب اشعار درست ہیں،ان میں ’’پیغام‘‘کا عنصر الگ سے نہیں لایا گیا،بلکہ شعر میں مل گیا ہے۔ ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ ان پر کوئی سیل نہیں لگ سکتا ۔سرور صاحب نے یگانہ کے بارے میں عمدہ بات کہی تھی کہ ان کے یہاں اکڑ تو ہے ،لیکن فرحت نہیں ۔مجروحؔ کے مندرجہ بالا اشعار کی عدم ا لنفالیت اورماحول سے لوہا لینے کی ادا ایک حد تک یگانہ کی یاد تو دلاتی ہے ،لیکن ان اشعار میں غزل کی زبان از خود بول رہی ہے ،یگانہ کی طرح تکلف کا احسا نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی ہے کہ ان اشعار کو یا ان کی طرح کے اور اشعار کو معنی سے آزاد کرکے صرف کیفیت کے بل بوتے پر نہیں پڑھا اور قبول کیا جاسکتا ۔یہ اشعار کسی نہ کسی طرح کی دعوت فکر ضرور دیتے ہیں۔
مجروح ؔکا کلام بہت تھوڑا ہے،لیکن ابھی اس کے بارے میں اور بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ مجروح نے اتنا کم کیوں کہا؟ان کا پہلا مجموعہ ’’غزل ‘‘مشکل سے پچھتر اسّی صفحات کا تھا۔نیا مجموعہ جس میں ’’غزل‘‘کا خاصا حصّہ شامل ہے،اس سے کچھ ہی بڑا ہے۔ایک اردو ایک فارسی نظم کی شمولیت نے ’’مشعل جاں‘‘ کو ’’غزل‘‘کے مقابلے میں کچھ زیادہ تنوع عطا کردیاہے۔دونوں نظمیں بہت عمدہ اور مجروح ؔکے عام کلاسیکی رنگ میں رچی ہوتی ہیں۔لیکن یہ سارا سرمایہ پچاس پچپن برس کی مشق سخن کے سامنے کچھ نہیں معلوم ہوتا ۔مجروحؔ کی کم سخنی جدیدادب کالاینحل معما ہے۔توقع تھی کہ زیر نظر کتاب میں اس معمے کا حل نہیں تو اس پر کچھ روشنی ضرور ہوگی،لیکن یہ توقع پوری نہیں ہوتی ۔مجروحؔ اور ان کے چا ہنے والوںاپنا وطن خاص کرکے نقادوں سے سردمہری کا شکوہ ہے۔اور یہ شکوہ کچھ الجھا بے جا بھی نہیں لیکن یہ بات بھی خیال میں رکھنے کی ہے مجروح نے کہا کس قدر کم ہے۔اب ایسی کثرت بھی نہ چاہتے جیسی ہم ان دنوں بعض لوگوں کے یہاں دیکھتے ہیں اور جس کا نقصان مصحفیؔنے اٹھایا۔میرؔ نے تو کثرت سے زیادہ کثر ت کی شہرت کے با عثِ نقصان اٹھایا ،ورنہ ان کا تمام کلیات مع مثنویات ومراثی مصحفیؔ کے اول تین دیوان سے بہت زیادہ نہیں ۔کثرت کلام سے زیادہ قلت کلام نقصان دیتی ہے۔مجروحؔ نے گزشتہ تیس برسوں میں دو غزلوں کا بھی اوسط نہ رکھا۔غالبؔ کو تو جنت کے خیال سے وحشت ہوتی تھی کہ تا ابد وہی ایک حور ساتھ رہیگی تو زندگی اجیرن ہوجائے گی ۔اردو غزل کا قاری ہزار ہابرس سہی ،لیکن وہ ان دس پندرہ غزلوں میںکیا کھئے اور کیا پس انداز کرے؟مولانا روم نے مثنوی کے چھ ضخیم دفتر کہہ لینے کے بعد ساتواں مجوزہ دفتر نہ لکھا ۔لیکن مولانا اس وقت تک چھبیس ہزار شعر وں کی شاہکار مثنوی اور کم سے کم تیس ہزار شعر کا دیوانِ غزلیات اور سیکڑوں رعبایاں کہہ چکے تھے۔اور یہ سب اس پائے کا کہ اتنا ضخیم و حجیم کلام بھی سراپا انتخاب ہی کہا جائے گا۔’’مشعلِ جاں‘‘ میں شامل فارسی مثنوی میں قوتِ کلام کا اظہار صاف پتہ دیتا ہے کہ بستہ شد دیگر نہ می آید بروں کا معاملہ یہاں نہیں ہے۔اور نہ ابھی ان بدلے ہوئے زندگانی کو پھاند کر سیرآں سوئے تماشا کا وقت آیا ہے۔کارلائل کے بارے میں سنا ہے کہ جب اس نے اپنی ’انقلابِ فرانس‘ مکمل کی تو آب دیدہ ہوگیا کہ اس کے آگے کیا لکھوں۔ چارلس ڈکنس نے انقلاب فرانس کے بارے میں اپنے ناول ’’دو شہروں کا ایک قصہ‘‘ کے بارے میں مبالغہ آمیز مگر مبنی برحقیقت دعوی کیا کہ میں نے اپنا ناول لکھنے کے پہلے کارلائل کی کتاب پانچ ہزار مرتبہ پڑھی تھی۔مگر مجروحؔ کی غزل میں اتنی کیفیت نہیں کہ وہ اتنے مسلسل اور مکرر مطالعے کی متحمل ہو سکے۔ان پر زمانے کا یہ حق بہرحال ہے کہ ان کے گنجِ ہائے رنگا رنگ سے مزید مستفیض ہو۔
٭٭٭

Shafeeq Fatima Shera ka Sheri Canvas

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ کا شعری کینوس اور نسائی حسیت

قمر جہاں

بیاباں سبزۂ نوخیز سے آباد ہوتے ہیں
سکھی تم بھی جو اپنا دل بسا لیتیں تو اچھا تھا
حیا ہے خوف ہے پندار ہے ضد ہے یہ کیا شے ہے
تم اس خود ساختہ زنداں کو ڈھادیتیں تو اچھا تھا
ہمیشہ التجائیں رائیگاں جاتی رہیں میری
کبھی میری خوشی کی بھی دعا لیتیں تو کیا ہوتا
(’ صدا بصحرا ‘ازشفیق فاطمہ شعریٰؔ)
نسائی جذبات سے لرزاں یہ دل نشین آوازبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ابھرنے والی اس شاعرہ کی آواز تھی جس کے پیش نظر اردوشاعری میں نسائی حسیت کی پیش کش کا کوئی بہت کامیاب نمونہ نہیں تھا۔باوجود اس کے اس نے خالص نسائی جذبات کو الفاظ کا شفاف پیرہن عطا کیا، وہ بھی اس کامیابی کے ساتھ کہ یہ نظمیں اردو شعروادب کی تاریخ میں خوشگوار اور تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئیں اور شائقین ادب کے قلوب و اذہان کے لیے باعث مسرت و بصیرت۔ یہ منفرد آواز اس وقت گونجی جب بقول محمود ہاشمی ’’اردو میں خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا۔‘‘(۱)
شعریٰ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز منظوم تراجم سے کیا۔ انھوں نے اقبال کی پیام مشرق، ارمغان حجاز اور جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ (ادھورا) کیا۔ ساتھ ہی اسپین کے نوبل انعام یافتہ غنائی شاعر JAUN RAMON JIMENEZ کی نظموں کا ترجمہ کیا تھاجو ان کے پہلے مجموعۂ کلام ـ ’گلۂ صفورہ‘ میں شامل ہے۔یہ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ہے جس میں ان کی شادی (۱۹۶۵) سے قبل کی نظمیں شامل ہیںلیکن اس کی اشاعت مکتبہ جامعہ سے ۱۹۹۰؍ میں ممکن ہوسکی ۔ دوسرا مجموعۂ کلام ’آفاق نوا‘ ہے جس میں شادی کے بعد کا کلام شامل ہے لیکن اگر اشاعتی ترتیب سے دیکھا جائے تو یہ مجموعہ ’گلۂ صفورہ‘ سے پہلے یعنی ۱۹۸۷ میں شائع ہواجب کہ ان کا کلیات ’سلسلۂ مکالمات‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی سے ۲۰۰۶ میں شائع ہوا، جس میں مذکورہ دونوں مجموعوں کے علاوہ ’کرن کرن یادداشت ‘اور ’سلسلۂ مکالمات‘نامی مجموعے بھی شامل ہیں۔ ۱۳ ؍ اگست ۲۰۱۲؍کو آسمان ادب کا یہ روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
شعریٰ کی نظمیں گجر، صبا، آئینہ ، سوغات، شب خون، شعروحکمت، شاہراہ اور بہت بعد میںپاکستان سے شائع ہونے والے رسالہ بادبان اور دیگر ادبی رسالوں کی زینت بنتی رہیں۔ ان کی نظموں نے اپنے آغاز میں ہی باذوق قارئین کو چونکایاتھا۔ حمید نسیم نے انھیں عہد حاضر کے پانچ سب سے بڑے شاعروں میں شمار کیا ہے اورگلۂ صفورہ‘ کے گرد پوش پرقاضی سلیم ان کا تعارف کراتے ہوئے ’ ’شعریٰ اردو شاعری کی پہلی نسائی آوازہے‘‘ جیسا اہم بیان درج کیا ہے۔
شعریٰ کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے ۔ ابتدائی عہد کے کلام میں نو بلوغیت کے عہد کے نسوانی جذبات کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے وہیں آگے چل کر ان کی شاعری میں احساسات کی نزاکت اور غنائیت کے ساتھ ساتھ فکر کی گہرائی و گیرائی اور متانت ودانش وری کا جو امتزاج نظر آتا ہے وہ ان کی ہم عصر شاعرات میں سے کسی کے یہاں نظر نہیں آتا۔ خواتین کے سماجی مسائل پر اپنے منفرد انداز میں قلم اٹھانے والی اس شاعرہ کی گرفت میں انفس و آفاق بھی ہیں، بحروبر اور دشت و شجر بھی اور آج کا وہ صنعتی اور مادی عہد بھی جس میں تمام جمالیاتی اور اخلاقی قدریں اپنی ناقدری پر ماتم کناں ہیں۔ان کے یہاں مستعمل علامتوں ، تشبیہوں اور استعاروں میں قرآنی آیات، بزرگوں کے اقوال و ملفوظات کا بکثرت استعمال نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری کی جڑیں اپنے تہذیبی ورثے میں برگد کی پارنبیوں کی طرح پیوست ہیں۔ موضوعات کے تنوع کے ساتھ ہی فنی باریکیوں پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ شعریٰ کی شاعری میں نسائی حسیت ان کے ہشت پہلو کلام کا ایک مختصر سا زاویہ ہے۔کلامِ شعریٰ میں نسائی حسیت کی نشان دہی سے پہلے بہتر ہوگاکہ نسائی حسیت کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہر ذی روح میں خواہ وہ انسان ہو یا جانورفطری طور پر قوت حس ودیعت کی گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان قوّت گویائی کا سہارا لے کر اپنی حسیت یا اپنے احساسات کا اظہار کر سکتا ہے جب کہ جانور اس قوت سے محروم ہے ۔ انسان کی یہ حسّی صلاحیت عمر، طبقہ ،مزاج اور جنس کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی سے کوئی رشتہ اور لگاؤ بھی حسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے ،یہ رشتہ فرد سے بھی ہو سکتا ہے اور سماج یا سیاست سے بھی ۔ حسیت کو بیدار کرنے میں شخصیت کے مخصوص مزاج کا بھی اہم رول ہوتا ہے ۔ اسی طرح مختلف طبقات یا جماعت کے لوگوں کے احساسات و جذبات اور سوچنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے علاوہ ازیں جنسیت یعنی Sex بھی حسیت کو متاثر کرتا ہے۔
عورتوں میں چند مخصوص خوبیاں اور صفات ایسی ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے ان کی حسیت میں کچھ ایسی انفرادیت آجاتی ہے جو مردوں میں نہیں پائی جاتی ۔جیسے جذباتیت، ایثار و قربانی ،ممتا ، وفا ، پناہ اور رقیق القلبی وغیرہ کا جذبہ جو مردوں کے بالمقابل عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں کی ان حسیات کو جو عرف عام میں عورتوں سے مخصوص ہیں ،نسائی حسیت یا عورت پن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ صفات خالص فطری نہیں بلکہ اس میں سماج اور معاشرے کا بہت بڑا رول ہوتا ہے جو مشرقی اورمغربی عورت کے تقابل سے بالکل صاف اورواضح ہو جاتا ہے۔نسائی حسّیت کے سلسلے میں خالدہ حسینؔ لکھتی ہیں:
نسائی حسیت صرف یہی نہیں کہ مؤنث واحد متکلم کا صیغہ اپنا لیا جائے۔ گھر آنگن اور سنگھار اور برہا کی بات کی جائے۔ اوڑھنی کے رنگوں اور چوڑیوں کی چھنک کو شاعری میں ایک معتبر مقام دلوایا جائے۔ نسائی حسیت سے مراد ہے کہ عورت جس طرح زندگی کو دیکھتی اور بسر کرتی ہے وہ مرد سے مختلف ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان وقت کو اپنے حوالے سے پہچانتا ہے۔یعنی اس کا وقت کا تصور ذاتی اور داخلی نوعیت رکھتا ہے۔ اس طرح عورت کا وقت کے ساتھ تعلق اور زمانی احساس مرد سے مختلف ہے کیوں کہ اس کے شب و روز اور معاملات و مسائل کی نوعیت منفرد ہے ۔ وہ اپنی سائیکی (جو مرہون منت ہے اس کی جسمانیات کی )کے حوالے سے فطرت کے تمام مظاہر کو ، جن میں اس کے پانچوں حواس سے اخذ کردہ تجربہ یعنی رنگ ، خوشبو ، آواز ، لمس اور ذائقہ شامل ہیں اپنے ا نداز سے محسوس کرتی ہے اس میں صدیوں کے روایتی تلازمات کا بھی دخل ہے اور حال کی تبدیلیوں اور مستقبل کی امیدوں کا تعلق بھی ۔وہ جب موسموں ، رتوں رنگوں اورخوشبوؤں کا تجربہ کرتی ہے تو اس کے تلازمات میں ممتااور بیٹی، بہن اور بیوی کی ذات بھی شامل ہے ۔مرد اس سے مختلف انداز میں سوچتا اور محسوس کرتا ہے ۔ اس کی سوچ دور رسی اور ارتکا زکی خصوصیت رکھتی ہے ۔ جب کہ عورت بے شمار کام بہ یک وقت نمٹاتی اور ان گنت رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر عورت فنکار ہے ۔ یوں شعر میں عورت کی شخصیت ایک منفرد نقطہء نظر کی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے ہم نسائی حسیت کا نام دیں گے ورنہ محض مؤنث کا صیغہ استعمال کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔(۲)
نسائیت عورت کی حسیت کا ایک نمایاں پہلو ہے عورت کی مکمل حسیت یا نسائی حسیت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ، جس کا تعلق عورت کی پوری زندگی اور اس کی پیچیدگیوں سے عبارت ہے۔ اس میں اس کے جذبات و احساسات، افکار و تخیلات ، مزاج و اطوارسبھی کا دخل ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر عورت کی حسیت ایک دوسرے سے منفرد ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ گھریلو اور سماجی زندگی میں یکسانیت اور مطابقت کی بنا پر ان کے فکرو احساس کے دھارے میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔شاعری میں نسائی حسیت کا اطلاق ان اشعار پر ہوتا ہے جن مین عورت کی مخصوص فطرت، اس کی ذات، ذہنی و نفسیاتی کیفیات ، اس کی خواہشات و آرزوؤں کا بیان فطری انداز میں ہوتا ہے اور اس میں کسی روایتی کردار یا اصلاحی جذبہ کی شمولیت نہیں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی وہ موضوعات بھی نسائی حسیت کے زمرے میں آتے ہیں جس میں کسی سیاسی وسماجی مسئلے کا بیان ایک عورت (ماں،بیوی، بہن،بیٹی)کے زاویہء نگاہ سے کیا جاتا ہے۔
نسائیت
نسائیت اور تانیثیت عورت کی حسیت کے دو نمایاں پہلوہیں ، جنھیں نسائی حسیت کے تحت رکھا گیا ہے۔ اول الذکرکا تعلق جذباتی حسیت سے ہے جب کہ آخر الذکرکا فکری حسیت سے ہے۔نسوانیت اور نو بلوغیت سے تعلق رکھنے والے شدید جذبات کے اظہار کو ’ نسائیت ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ شعریٰؔ کو زمانہء طالب علمی سے ہی ادب کے علاوہ مذہب،تاریخ اور عصری حالات و سانحات سے گہری دلچسپی تھی ۔ تاہم شاعری کی سطح پر اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں یا بالفاظ دگر شادی سے قبل کی نظموں میں غنائیت سے بھرپور نیز جذبات کو بر انگیختہ کرنے والاایسا اسلوب ملتا ہے جو شعریٰ کا اپنا ذاتی اسلوب ہے اور جسے’ نسائیت‘ کے ذیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظمیں بے چینی اور شوریدگی ،سلگتے ہوئے جذبات کا بہاؤ،احساسات کی شدّت کی تپش ، اپنی کھال سے باہر نکلنے اور کسی کو ٹوٹ کر چاہنے کی ناآسودہ خواہش اور جذباتی زندگی میں ناکامیوں کا زبردست تخلیقی اظہار ہیں۔ غیر معمولی غنائیت اور لہجے کا ایسا اتار چڑھاؤجو موسیقی سے لبریز زمزموں کی شمعیں روشن کردیتا ہے۔حمید نسیم کے الفاظ میں ’’گلہء صفورہ کی نظموں میں فکر محکم اور پختہ ہے لیکن بیشتر نظموں میں ایک ترنگ سی ، جذبہ کا ایک وفور سا ہے ۔ اسلوب میں ایک لہک ہے جس کی حدت سے Effervescent Lyricism ایک ابھرتی ہوئی موج کی مانند ہے ،جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے ۔‘‘ (۳)
عشق شروع سے ہی نہ صرف اردو شاعری کا بلکہ انسانی زندگی کامرکزی موضوع رہا ہے ۔عہد قدیم سے لے کرآج تک شعرا اس محبوب موضوع کو نئے پیرہن میں پیش کرتے رہے ہیں۔لیکن شعریٰؔ کی شاعری اس حیثیت سے ایک ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ اس میں عشقیہ جذبات کا اظہار (جن پر ابھی تک شعرا قابض تھے) ایک شاعرہ کی جانب سے ہوا اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ مرد کی طرح عورت بھی اپنے دھڑکتے ہوئے دل میں لطیف جذبات و احساسات رکھتی ہے۔اس کے دل میں بھی عشق و محبت کے حسین جذبات پنہاں ہوتے ہیں۔یہ صرف معشوق نہیں عاشق بھی ہے۔ شعریٰؔ کی اس قبیل کی شاعری خالص جذبات واحساسات کی شاعری ہے جو ظاہری آلائش سے پاک دل کا رشتہ دل سے رکھتی ہے۔ ’ارضِ نغمہ ‘ کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
جب سے مجھ کو دل ملا دل کو دھڑکنیں ملیں
تب سے میرے دل میں تھا اس کے پیار کا قیام
اس کی راہ میں مجھے کتنے ہم سفر ملے
ایک مے سے ہیں گداز جن کی زندگی کے جام (۴)
عصر حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں خواتین تانیثیت کے نام پر زندگی کے ہر میدان میں مساوی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں، وہیں مشرق میں عورت ابھی درونِ خانہ ہی آزاد نہیں کجا بیرونِ خانہ ۔ وہ اپنی زندگی کے کسی فیصلے میں آزاد و خود مختار نہیں۔ ہماری تہذیب و ثقافت جہاں سماجی سطح پر عورتوں کا دائرہ محدود اور زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط مرد حضرات سے مختلف ہیں، جہاں شادی بیاہ جیسے اہم ترین معاملات میں بھی لڑکیوں کی رائے لینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ، جہاں وفا، عصمت ، پاکیزگی اور قربانی جیسی صفات عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں؛ ایسی تہذیب و ثقافت میں عشق جیسے شجر ممنوعہ کے پھل کو چکھنے کی اجازت کسے ہوسکتی ہے۔ اوراگر کسی نے غلطی سے اس پھل کو چکھنے کی جسارت کرلی تو یقیناً راندۂ درگاہ ہونا طے ہے۔ مشرقی ممالک میں ایسا قدم اٹھانے والی دوشیزاؤں کو آنر کلنگ کے نام پر زندگی کی قید سے آزاد کر دینا کوئی تعجب خیز امر نہیں۔ لیکن عشق تو ایک فطری اور الوہی جذبہ ہے،جس سے دامن بچانا ممکن نہیں ۔ ’ صدا بصحرا‘ میں ایک ایسی ہی لڑکی کی سہمی سہمی کیفیت کی عکاسی کی گئی ہے ، جو عشق کی کسک سے آگاہ ہے لیکن حیا اور پندار کے نام پر خاموش اور اظہار سے قاصر اندر ہی اندر گھٹ رہی ہے:
سکھی پھر آگئی رت جھولنے کی گنگنانے کی
سیہ آنچل کی تہہ میں بجلیوں کے ڈوب جانے کی
سبک ہاتھوں سے مہندی کی ہری شاخیں جھکانے کی
لگن میں رنگ آنچل میں دھنک کے مسکرانے کی
امنگوں کے سبو سے قطرہ قطرہ مے ٹپکنے کی
گھنیرے گیسوؤں میں ادھ کھلی کلیاں سجانے کی(۵)
’صدا بصحرا‘ کے اس بند میںگنگنانے ، جھولنے اور مہندی کی ہری شاخیں جھکانے والی رت سے مرادساون کا وہ روایتی مہینہ ہے ،جب ایک طرف تو پانی ٹوٹ کر برستا ہے اور دوسری طرف دوشیزاؤں کے پورے وجود پر ایک شعلہ صفت ہریالی چھا جاتی ہے اور جذبات سلگنے لگتے ہیں۔ نظم میں سکھی کو جو لڑکی مخاطب کرتی ہے وہ در اصل ان ہی جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔اور جس لڑکی سے یہ باتیں کی جارہی ہیں وہ راوی کی اپنی ہم زاد ہے،ایسی ہم زاد جس پربدلتے ہوئے موسموں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہ ایک ایسی جھیل ہے جس کی تہہ میں اگرچہ ہلچل ہے لیکن اس کی سطح بہت پرسکون اور خاموش ہے ۔مختصر یہ کہ راوی جذبہ ہے جب کہ اس کا مخاطب اس کا اپنا شعور ہے۔فضیل جعفری ؔلکھتے ہیں’’ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں ان پر’ میر ابابیت ‘کا غلبہ تھا ۔علاوہ ازیں ان کی بعض نظموں سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے عشق تو ٹوت کر کیا مگر کلی پھول نہ بن سکی۔ اپنی ایک بڑی خوبصورت نظم ’سمتیں ‘کے اس بند میں انھوں نے جو داستان بیان کی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔‘‘ (۶)
اس شاعری میں جدت کا رنگ اور آہنگ پایا جاتا ہے ،جس میں عشق و محبت کے سارے رنگ محبوب کی فکرمندی، روٹھنے منانے کا کھیل،بچھڑنا اور پھر زندگی کی تاریک راتوں میں محبوب کی یادوں کے اجالوں کو اپنے ہمراہ رکھناغرض یہ کہ تمام احساسات مرد کے عشقیہ جذبات واحساسات سے مختلف ہیں ۔ شعریٰ کی نظموں میں عورت رادھا ، میرا اور سیتا کا روپ ہے جس نے اپنے محبوب کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔ نظم ’سمتیں‘ کے یہ دو بند ملاحظہ ہوں :
راہی سب سے روٹھو لیکن مت روٹھو
اپنی میٹھی اور منوہر بانی سے
اس لہجہ سے جس پر سب مفتون ہوئے
جس کی بدولت لگتے ہو لاثانی سے
—————-
راہی یوں نہ سمجھنا بازی ختم ہوئی
جنم جنم ہم راہوں میں ٹکرائیں گے
جنم جنم چمکیں گے اشارے سمتوں کے
دل کی قسمت کے تارے گہنائیں گے (۷)
مندرجہ بالا اقتباسات میں جدید شاعری کے مروجہ تکنیکی عناصر یعنی علامتوں ، استعاروں اور امیجری کی پیچیدگی نظر نہیں آتی لیکن جذبات و احساسات کی شدّت اور بیانیہ کی ندرت نے مجموعی طور پر اتنا زبردست تاثر تخلیق کر دیا ہے ،جس سے دامن بچا کر نکل جاناممکن نہیں۔ان اشعار میں عشق کا اظہار ایک خالص ہندوستانی عورت کی طرف سے ہوا ہے جو ہندوستانی شاعری کا امتیاز ہے جب کہ اب تک فارسی شاعری کے زیرِ اثرعورت اردو غزل کا معشوق تھی۔ شعریٰ کے کلام کی نسائیت ’’سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں‘‘کا ایک روپ ہے، جو ایک عورت کی زبان سے تشکیل پارہا ہے۔ اس سے قبل کی شاعری میں عورت ستر پردوں میں ملفوف معشوقہ یا پھر سنگ دل شاہدان بازاری تھی۔ وہ سب کچھ تھی بس نہیں تھی تو ایک عورت۔ اس کے بارے میںاب تک جو کچھ لکھا یا کہا گیا وہ اس کے تئیں محض مرد کا تصور یا اس سے متعلق مرد کی آرزوؤں اور خواہشوں کا مظہر تھا۔ شعریٰ کی اس قبیل کی دوسری کئی نظموں جیسے’ زوالِ عہد تمنا‘،’زیرِ چرخِ کہن‘،’گلۂ صفورہ‘،’اسیر‘، ’صدا بصحرا‘اور ’پریتی‘ وغیرہ کا عمومی اسلوب بیک وقت شیریں بھی ہے اور اس پر اداسی کی پرچھائیں بھی نظر آتی ہے۔شعریٰؔ کی ابتدائی شاعری کی اس غیر معمولی حد تک غنّائیت اور داخلیت کے بارے میں وحید اخترؔ لکھتے ہیں :
ان کے لہجے پر عرب شاعروں کے عشقیہ آہنگ کا بھی اثر ہے ۔لیکن جو چیز انھیں ممتاز کرتی ہے وہ ان کا افسردگی آمیز تفکر ہے ۔اس افسردی میں کھوکھلے رجائیت سے زیادہ ایمان افروز کیفیت ہے ۔ دوسری خصوصیت جو انھیں تمام خواتین شعرا سے ممتا ز کرتی ہے ،ان کا نسائی لب ولہجہ ہے۔ترقی پسند دور کی شاعرات میں ادا بدایونی ؔ اور صفیہ شمیمؔ ملیح آبادی کے یہاں جو لہجہ ہے وہ اس دور کے مرد شاعروں سے الگ نہیں ،صرف نام سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ خواتین کی نظمیں ہیں۔اس کے برخلاف شعریٰؔ کی نظم کا پورا ڈھانچہ اور ان کے لہجے کی ہلکی سی کسک ،دردمندی اور نرمی ان کے جنس کی صاف غمّازی کرتی ہیں۔(۸)
تانیثیت
تانیثیت بنیادی طور پر ایک شعوری تصور ہے جس کے پیچھے بطور محرک عورت کے وہ اجتماعی تجربات کار فرما ہیں جو اس نے مرد اساس نظام و اقدار میں استحصال اور نا انصافی کی شکل میں حاصل کیے ہیں ۔مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی تفریق کے سبب اسے سیمون دی بوار کے لفظوں میں ہمیشہ’ دوسری جنس ‘ہی سمجھا گیا۔چونکہ وہ صرف ایک کمیوڈٹی تھی اس لیے سیاسی ، سماجی، معاشی اور قانونی سطح پر اس کے لیے یکساں حقوق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔تانیثی تحریک کا بنیادی مقصدان حقوق کی حصولیابی اور ترقی کے میدان میں انھیں یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔اجتماعی طور پر تانیثیت کی لہر اٹھنے سے پہلے حقوق نسواں کی تمام تر جدوجہد انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ایک تحریک کی شکل میں تانیثیت کا آغاز انیسویں صدی کے دوران برطانیہ میں ہوااور تب سے اب تک مغرب میں تانیثی تحریک نے تین ارتقائی مراحل طے کیے ہیں جنھیں تین’ لہر‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پہلی لہر میں، جس کا آغاز برطانیہ میں ہوا عورتوں کی تعلیم، ان کے لیے روزگار کے مواقع اور شادی سے متعلق قوانین جیسے مسائل کو اٹھایا گیا ۔ اس تحریک کو زبردست کامیابی ملی عورتوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے اور ۱۸۷۰ء میں شادی شدہ عورتوں کی حق ملکیت کا قانون بھی عمل میں آگیا۔ تانیثیت کی یہ لہر پہلی عالمی جنگ تک جاری رہی۔
برطانیہ میں حقوق نسواں کی اس بلند بانگ صدا نے نہ صرف یہ کہ پورے یورپ کی خواتین کوبیدار کردیا بلکہ اس کی گونج امریکہ کی شاہراہوں تک پہنچی ۔نتیجتاً بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں یوروپی ممالک اور امریکہ میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری کے لیے آواز بلند کی گئی۔ تانیثیت کی اس دوسری لہر میں اسقاطِ حمل کے حق اور لسبین مسائل کو بھی حقوق نسواں کی تحریک میں شامل کیا گیا۔ یہ لہر تنازعات کا شکار ہوکر ۱۹۹۰ء کے آس پاس ختم ہوگئی ۔
تانیثی تحریک کی تیسری لہر بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ذرا قبل نمودار ہوئی۔ اس تحریک سے عورت کی ایک نئی شبیہ ابھر کر سامنے آئی۔ اب عورت ادعائیت کی حامل ہے ، طاقت ور ہے، اپنے تشخص پر اسے خود اختیار ہے ۔ یہ تحریک عورت کے سیاسی ،سماجی اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی انفرادی تشخص پر بھی مصر ہے۔عورت کو اپنا تشخص یا پہچان خود قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
بیسویں صدی کے دوران برصغیر ہندوپاک میں عورتوں کی تعلیمی بیداری کے نتیجے میں ان کا شعور بھی بیدار ہوا اور بیرونِ خانہ معاملات سے وابستگی نے ان کے اندر تشخص کا احساس جگایا۔یہی تشخص تانیثیت کا مرکزی موضوع ہے لہٰذا تانیثیت کو ’جدید عورت کی حسیت‘ اور نسائیت کو’قدیم عورت کی حسیت ‘سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ امتیاز صرف یہ ہے کہ نسائیت کا عنصر تو عصر حاضر کی شاعرات کے یہاں بھی مل جائے گا لیکن تانیثیت بیسویں صدی کے نصف آخر اور خاص کر ۱۹۶۰؁ء کے پہلے شاذ ہی نظر آتا ہے ۔البتہ افسانہ نگاروں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہی خواتین کی مساوی حیثیت پر زور دیا۔ انھوں نے خواتین کی سماجی نابرابری ، کمتر حیثیت اور تعلیم سے محرومی کو اپنا موضوع بنایا۔ بلا مرضی اور بے جوڑ شادی، جنسی ناآسودگی، درونِ خانہ عورتوں کا جنسی استحصال، کثرت ازدواج، بچوں کی بھرمار اور اس کے اوپر لعنت ملامت وغیرہ موضوعات بھی تانیثیت کے رجحان کے تحت حیطۂ تخلیق میں لائے گئے۔ ان مسائل کی کامیاب اور پرزور پیش کش سب سے پہلے رشید جہاں اور پھر عصمت کے یہاں نظر آتی ہے۔ تعلیمی بیداری کے نتیجے میں خواتین کا شعور بیدار ہو، ساتھ ہی تعلیم اور ملازمت کی وجہ سے وہ گھر سے باہر کی دنیا سے بھی آشنا ہوئیں۔باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ اس کربناک حقیقت سے بھی روشناس ہوئیں کہ صرف معاشی خود کفالت ہی سماجی مساوات کی آخری حد نہیں بلکہ یہ اس کی ایک چھوٹی سی اکائی ہے۔ ورکنگ وومن کے سامنے اپنے مسائل کا ایک کھولتا ہوا جہنم موجود تھا۔ کام کے مواقع میں بھی عدم مساوات، مشاہرے میں ان کے ساتھ امتیاز اوراس قسم کے دیگر مسائل ورکنگ وومن کی نفسیات و تجربات کا حصہ ہیں ۔ تانیثی رجحان جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا ویسے ویسے اس کے سامنے خواتین سے متعلق مسائل کی فہرست نئی نئی شکل میں آنے لگی۔
تانیثیت کے اس کارواں میں شاعرات بھی پوری سج دھج کے ساتھ شریک ہوئیں۔ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ زیدی، ساجدہ زیدی،سارا شگفتہ اور زہرا نگاہ وغیرہ نے ایک طرف جہاں عورتوں کے مسائل کو اٹھایا وہیںسماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر ان کے مساوات کی متقاضی ہوئیںہے۔ان شاعرات کے یہاں اظہار کے پیرایے اور لہجے میں فرق ہے تاہم مقصد سب کا ایک ہے یعنی عورت کے وجود کو اس کے پورے احترام کے ساتھ منوانا۔محض مراعات کی بخشش مسئلے کا حل نہیں ۔ پہلے عورت کی نفسیاتی، جذباتی اور انسانی تشخص کو تسلیم کرنا پڑے گا تب ہی باہمی شرکتیں مکمل ہو سکتی ہیں۔اس سلسلے میں جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً سبھی شاعرات نے اپنی شاعری کا آغاز ’تانیثیت‘نہیں بلکہ ’ نسائیت ‘ سے کیا ، اور نوعمری کے نسوانی اور غنائی جذبات کو شاعری کا جامہ پہنایالیکن بہت جلد ہی شرم و حیا ،کپکپاتے ہوئے ہونٹ اور خواہشات کی دھیمی دھیمی سلگتی آگ کی جگہ بغاوت، جسارت اور اعلان جنگ نے لے لی۔نظم ’گھاس بھی مجھ جیسی ہے‘ میںکشور ناہید لکھتی ہیں:
گھاس بھی مجھ جیسی ہے ؍ ذرا سر اٹھا نے کے قابل ہو ؍ تو کاٹنے والی مشین ؍ اسے مخمل بنانے کا سودا لیے ؍ ہم پر وار کرتی ہے (۹)
یہ ہے صدیوں کے ظلم اور مردوں کی غلامی کا شکار عورت۔وہ بولنا چاہتی ہے تو اسے قوت گویائی سے محروم کردیا جاتا ہے،کھلے آسمان میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑنا چاہتی ہے تو ا س کے پر کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ صدیوں سے استحصال کا شکار عوت اپنے وجود اپنے جسم اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتی ہوئی لہولہان ہورہی ہے اور بسا اوقات شکست سے دوچار بھی تاہم اس کی ہمت پر آفرین کہ وہ اس شکست کو جز سنجیدنِ پر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ بالزاک نے کہا تھا ’’شادی شدہ عورت غلام سے بھی بدتر ہے۔‘‘ بس فرق یہ ہے کہ بالزاک نے فرانس کے تناظر میں یہ بات انیسویں صدی میں کہی تھی جب کہ جنوبی ایشیا میںاکیسویں صدی کی شادی شدہ عورت کی حالت اب بھی اس قول کی صداقت کی گواہ ہے۔کشور ناہید کی ایک اور نظم نیلام گھر کے کچھ مصرعے ملاحظہ ہوں:
مرے منھ پر طمانچہ مار کر ؍ تمھاری انگلیوں کے نشان ؍ پھولی ہوئی روئی کی طرح ؍ میرے منھ پر صد رنگ غبارے چھوڑ جاتے ہیں ؍ تم حق والے ہو ؍ تم نے مہر کے عوض حق کی بولی جیتی ہے (۱۰)
اس کے علاوہ جاروب کش،میں کون ہوں ،سنسر شپ ، دفعہ ۱۴۴ ؍اور اینٹی کلاک وایز جیسی نظمیں بھی ان کے تانیثی رویوں کی بھر پور نمائندگی کرتی ہیں۔انھوں نے اپنے وجود کو پوری طرح اس معاشرے سے منوایا جہاں عورت کی جمہوری حق حکمرانی اور پوری یا آدھی گواہی جیسے مسائل پر ابھی تک بحث جاری ہے۔پاکستان میں جنرل ضیا ء الحق کا عہد آمریت عورتوں کے لیے سیاسی اور سماجی دونوں سطح پر ناسازگار ثابت ہوا ۔ اسلامی حکومت کے نام پر خود ساختہ قوانین کو جبراً نافذ کرنے کے نتیجے میں تعلیم یافتہ عورتوں کے طبقے میں شدید احتجاج ہوا۔ ’حدود قانون‘ اور ’ نصف گواہی‘ جیسے مسئلے پر عورتوں کا شدید ردّ ِ عمل سامنے آنا لازمی تھا۔’ حدود آرڈیننس‘ کے خلاف اسی عنوان سے زہرہ نگاہ ؔ نے ایک نظم لکھی جو خواتین کے احتجاج کی تصویر پیش کرتی ہے۔
فہمیدہ ریاض اپنی نظموں میں خدا، مذہب اور معاشرے سے مخاطب ہوتی ہیں۔ ان کی نظموں میں احتجاج اور بغاوت کی شدت فرسودہ معاشرے اور مذہبی بندشوں کے بارے میں از سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔مقابلہء حسن، باکرہ ، نینا عزیز ، اقلیما،چادر اور چاردیواری اور کب تک اسی قبیل کی نظمیں ہیں، جن میں مذہب اور سماج کے خودساختہ ٹھیکیداروں کو انتہائی طاقتور آواز میں چیلنج کیا گیا ہے ۔
چونکہ مرد اساس معاشرے کے قانون ساز مرد حضرات ہیں اس لیے معاشرتی سطح پر سارے اختیارات آج بھی مرد ہی کو حاصل ہیں۔ عورت کو محض اس کی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ مانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کاگاڑی کے دو پہیے ہونا صرف مقولے کی حد تک درست ہے ورنہ عملی زندگی میں عورت کی حیثیت ثانوی ہے ۔ عورت کی اس بے جان حیثیت کو فہمیدہ ریاض نے اپنی نظم’ گڑیا ‘میں بہت خوبصورتی کے ساتھ موضوع بنایا ہے:
جب جی چاہے کھیلو اس سے ؍ الماری میں بند کرو ؍ یا طاق میں اسے سجا کر رکھ دو ؍ اس کے ننّھے لبوں پہ کوئی پیاس نہیں ؍ نیلی آنکھوں کی حیرت سے مت گھبراؤ ؍ اسے لٹا دو ؍ پھر یہ جیسے سو جائے گی(۱۱)
خالص نسائی لہجے کی سوگوار شاعرہ پروین شاکر ؔنے بھی اپنی ایک نظم ’نک نیم ‘ میں عورت کی اس حالت کو موضوع بنایا ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جہاں کبھی مذہب ، کبھی سماج تو کبھی تہذیب و ثقافت کے نام پرعورت کے ساتھ بے شمار زیادتیاں اور ناانصافیاں روا رکھی گئیں۔ خانگی تشدد، زدوکوب، جنسی استحصال اورکبھی عزت تو کبھی جہیز کے نام پر قتل یہ سب عام واقعات ہیں۔ عورت کی ذہانت، صلاحیت اور قابلیت سے قصداًچشم پوشی کی گئی ، اسے مرد کے مقابلے میںجسمانی طور پر کمزور اور ناتواں نیز جذباتی طور پرزیادہ حساس اور نم دیدہ قرار دیا گیا۔ ناقص العقل بھی کہا گیا اگرچہ سائنس اسے ثابت نہیں کر سکی۔اس کے علی الرغم مردکو عقل و فراست، ذہانت اور تفکر پسندی کی صفت سے متصف قرار دیا گیا۔اسے سیتا، ساوتری،شکنتلا، پدمنی اور دروپدی کا درجہ دیا گیا یا پھر، پری ، شہزادی، گڑیا، ملکہ اور مہارانی کا ۔ محروم رکھا گیا تو صرف ایک حیثیت سے اور وہ حیثیت ایک انسان کی ہے۔یہ ذہنیت صرف مشرق ہی تک محدود نہیںبلکہ مغرب جو ترقی پسندی کی روشن مثال ہے وہاں بھی رائج ہے۔ سلویا پلاتھ کے مطابق”They spoke about us, to us and at us but never for us.”مرد اساس معاشرے میں عورت کی ذات اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی و نمائندگی سے یکسر محروم رہی ۔ پروین شاکر ’نک نیم‘ میں اس طرح تصویر کشی کرتی ہیں:
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو ؍ کھیلنے والے سب ہاتھوں کو ؍ میں گڑیا ہی لگتی ہوں ؍ جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا ؍ میرا کوئی رنگ نہیں ؍ جس بچے کے ہاتھ تھما دو ؍ میری کسی سے جنگ نہیں ؍ سوتی جاگتی آنکھیںمیری ؍ جب چاہے بینائی لے لو ؍ کوک بھرو اور باتین سن لو ؍ یا میری گویائی لے لو ؍ مانگ بھرو سیندور لگاؤ ؍ پیار کرو آنکھوں میں بساؤ ؍ اور پھر جب دل بھر جائے تو ؍ دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ؍ تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو(۱۲)
فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر ؔ کی ان نظموں کے بعد جب ہم اسی موضوع پر شعریٰؔ کی نظم کا جائزہ لیتے ہیں توشعریٰؔکی فکری انفرادیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔’ گڑیاگھر ‘جیسے اکہرے موضوع میں بظاہر کسی فکری گہرائی یا موضوعی پیچیدگی کی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن شعریٰؔنے اس موضوع میں بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے اور اپنی مخصوص تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ’گڑیا گھر‘ جیسے پامال موضوع کو ایک ندرت بخشی ہے۔یعنی مرکزی موضوع کے علاوہ بھی اس میںبعض ضمنی موضوعات کو سمیٹ لیا ہے ،جس کی وجہ سے تانیثیت کی جو دھیمی اور تیز ہوتی لے پروین شاکر یا فہمیدہ ریا ض کے یہاں نظر آتی ہے جسے پڑھتے ہوئے یکسانیت بلکہ توارد کا احساس ہوتاہے وہ یکسانیت شعریٰؔ کے یہاں نظر نہیں آتی۔ بلکہ ان کے یہاں سوگواری اور متانت کی ایک کیفیت ہے جوقاری کو ایک گہری سوگواری سے دوچار کرتی ہے ۔اور ان کا سنجیدہ اور فلسفیانہ انداز قاری کو غور و فکر دعوت دیتا ہے۔ شعریٰؔ کی نظم’گڑیا گھر‘ کا ابتدائی بند ملاحظہ ہو:
ریاضت کے لیے مردان حق ؍ کوہ و بیاباں کی طرف نکلے ؍ کبھی ڈوبے کبھی ابھرے ؍ مگر گڑیا کی رنگیں پالکی کو پالکی بردار ؍ جس بستی میں لے آئے ؍ وہیں اپنی تپسیا کی ڈگر پر اس کو چلنا ہے(۱۳)
پروین شاکر اور فہمیدہ ریا ض ؔکی نظموں ( گڑیا اور نک نیم )کے بر خلاف شعریٰؔ کی نظم میں شائستہ اور پُر وقار لہجے کے ساتھ فکراور دانش وری کی ایک لہر ملتی ہے جو نہ صرف یہ کہ ظاہری طور پرموضوع کا احاطہ کرتی ہے،بلکہ اس میں عورت کی مکمل زندگی کا ایک عکس پیش کیا گیا ہے ۔ ہمارا سماج جہاںسربراہِ مملکت سے لے سربراہِ خاندان تک اقتدار اور طاقت کی ہر کرسی کا حقدار صرف اور صرف مرد ہے۔جہاں قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ۳۳؍ فیصد نشستیں محفوظ کرانے کا بل سولہ برسوں سے زیرِ التوا ہے ،جہاں پہلی لوک سبھا سے سولہویں لوک سبھا تک کے طویل سفر میں خواتین کی شمولیت کا تناسب ۵ فیصدکی جگہ صرف ۱۲ فیصد ہوا ہے اور جس ملک میں اکیسویں صدی میں بھی جہیز کے لیے عورتوں کو نذر آتش کر دینے کی خبریں تقریباً روز ہی اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ایسے معاشرے میںخواتین کے سماجی، سیاسی، قانونی اور دیگر حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے خواب بھی کیسے دیکھے جاسکتے ہیں۔ شعریٰؔ اسی موضوع کو ایک آفاقی رنگ دیتی ہیں :
چھٹی حس بھی معطل ہونے لگتی ہے جب اخبار کی خبروں سے ؍ تو پرکھوں کی دعائیں ؍ کام آتی ہیں ؍ وہ گڑیا کو کہانی ؍ ایسے بیڑوں کی سناتی ہیں ؍ ہزاروں سال کے ترک ِ وطن کے بعد بھی ؍ جن کی جڑیں ؍ اپنی زمیں سے جڑ نہیں پائیں (۱۴)
عورت کو جنم سے ہی ایک گھر کی خواہش ہوتی ہے جو گزرتے عمر کے ساتھ شدید ہوتی جاتی ہے۔ ناسمجھ اور معصوم بچیوںکا ریت کے گھروندوںکی تعمیر میں منہمک ہونا ان کے اس فطری رجحان کی غمازی کرتاہے۔ اس کے باوجود عورت تمام عمر باپ،بھائی ، شوہر اور بیٹے کے گھر میں زندگی بسر کرتی ہے،اس کا کوئی اپنا گھر نہیں ہوتا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسے ووٹ ڈالنے ، ملازمت ، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور جائیدادکی ملکیت کے حقوق حاصل ہیں تاہم جب ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ آج بھی اس کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ورکنگ وومن کے نام سے شناخت رکھنے والی ملازمت پیشہ عورتوں کے گھروں کے باہربھی نیم پلیٹ پر مرد حضرات کے نام ہی جگمگاتے ہیں۔شعریٰؔ رقم طراز ہیں :
یہ حسرت رہ گئی ؍ سارا جہاں ہوتا ؍ گھروندا اپنا موروثی ؍ پہن کر خول کچھوے کانہ پھر یوں زندگی کرتے ؍ غبار آلود چہروںاور پراگندہ لٹوں والے ؍ ملامت کیش(۱۵)
انسان کے خواب و حقائق کی کوئی انتہا نہیں ،اس نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں اور چاند پر اپنے نقش پا ثبت کیے۔اس کی خواہشیں، تمنائیں اور آرزوئیں روزنت نئے ایجادات کا عملی جامہ پہن کر ہمارے سامنے مجسم نظر آتی ہیں اوراب تو وہ مقام آگیا ہے کہ انھوں نے عقل انسانی پرحیرت کے سارے در بند کر دیئے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں اس ہوشربا ترقی نے انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں منہمک رکھا ہے۔’’لب کشا‘‘میں لکھتی ہیں:
ہم آہنگ گردش ستاروںکی ہے ؍ پڑ گئیں جو فضاؤں میں لیکیں پرانی ؍ وہ ان پر پھرے جارہے ہیں، پھرے جارہے ہیں ؍ سب حدیں ان کی پیمودہ ہیں ؍ مگر اپنے خواب و حقائق کا سیل عظیم ؍ کوئی لیک اس کی بنا دے ؍ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ ؍ کبھی جو بنا دے بھی کوئی تو سوچو ؍ ہمارے قدم اور لیکوں کا رشتہ کہاں تک ؍ کہ اک حد پہ مٹ جائیں گی وہ ؍ تو کیا ہم بھی تھم جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؍ ہم تو بڑھتے ہی رہتے ہیں ؍ چاہے وہ زلزال ہو جو ہمکتا نظر آئے ؍ چاہے وہ ایک سوچ ہو جو تراشے چلی جائے بے شوروشیون ؍ سیہ دہشتوں کے پہاڑ(۱۶)
لیکن اس کے بعد شعریٰؔ جب معاشرے میں عورت کی حالت پر نظر ڈالتی ہیں تو اس کے برعکس پاتی ہیں۔عورت تو آج بھی وہی ہیں جہاں روز اول تھی ۔’’اک ستارہ آدرش کا‘‘میںیوں گویا ہوتی ہیں:
’’ہم نے انساں کا جنم پایا ‘‘ ؍ ستارے گارہے تھے—– ؍ ’’کس عمل کے اجر میں ؍ پایا ستارو، ؍ تم نے انساں کا جنم؟‘‘ ؍ ہم تو انساں کے جنم میں بھی ستارے ہی رہے(۱۷)
اردوادب کی ممتاز شاعرات کے یہاں تانیثیت کی بے باک اور چبھتی ہوئی آواز کے پہلو بہ پہلو جب ہم شعریٰ کی ان نظموں کو رکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ شعریٰؔ کے یہاں تانیثیت کا مخصوص آہنگ نظر نہیں آتا ۔ ان کے پہلے مجموعے میں نسائیت ضرور نظر آتی ہے۔ ’گلہ ء صفورہ‘ کے گردپوش پر قاضی سلیم کے اس جملے ’’ شعریٰ ؔ اردو شاعری کی پہلی نسائی آواز ہے ‘‘کے حوالے سے فضیل جعفری لکھتے ہیں کہ ’’ قاضی صاحب کا یہ قول فیصل’ گلہء صفورہ‘ میں شامل نظموں پر ہی صادق نہیں آتا بلکہ اس کا تعلق شعریٰؔ کے عمومی شعری اور فکری رویے سے ہے۔ عورتوںکے سلسلے میں شعریٰؔ کا جو وژن ہے اس کی تشکیل میں مشاہدات کے علاوہ ان کے ذاتی تجربات کا کردار بھی نمایاں ہے ۔‘‘ (۱۸) ذاتی تجربات سے شعریٰؔ کے گھریلو مسائل کی طرف اشارہ ہے ۔ شعریٰؔ کے عہد میں تانیثیت کا غلغلہ پورے زور و شور کے ساتھ اٹھا ، لیکن شعریٰؔ اس سے بالکل بھی متاثر نہیں تھیں ۔تانیثیت سے شعریٰؔکی جذباتی یا نظریاتی وابستگی تلاش کرنے سے قبل تانیثی تحریک کے سلسلے میں شعریٰؔ کی آرا سے رجوع کرنا زیادہ مناسب ہے۔وہ لکھتی ہیں:
اقبال نے نسوانی زندگی کو نسبتوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
مریم ازیک نسبت عیسیٰؔ عزیز
از سر نسبت حضرت زہرا عزیز
خانوادہ کی دنیاعقبیٰ تک توسیع یاب ہے لیکن خانوادہ کے وقت کے تسلسل کا ایک موڑ یوم مسئولیت ہے،جہاں زن و مرد دونوں اپنے انسانی جوہر کی نمود کے ساتھ ، فرد واحد کی حیثیت سے ذات یکتاکے حضور حاضر پائے جاتے ہیں ۔ نسبتوں کا تناظر پیچھے چھوٹ جاتا ہے یہاں نہ مریم نسبت سے عیسیٰ عزیزالوجود ہیں نہ عیسی نسبت مریم سے بلکہ اپنی سج دھج اپنے تیور اور اپنے جوہر سے عزیز الوجود ہیں ۔ اس پہلو سے اقبال کی نگاہ نے صورت حال کو نہیں دیکھا۔۔۔
یہ ضروری نہیں کہ ان خیالات کی بنا پر میں اناثی تحریک کی گرد کارواں سمجھی جاؤں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس تحریک کے رطب و یابس کا بوجھ اٹھانا میرے بس کا روگ نہیں۔ اپنے عہد کے تناظر میں گھر سنسار کا منظر نامہ ابھرے تو دکھائی دیتا ہے کہ گھر سنسار حال حال تک اپنی خیر منارہا تھا کہ کہیں اشتراکی ریاستوں کی اجتماعی رہائشی فارمولوں میں تحلیل ہو کر نہ رہ جائے۔۔۔آخر میں اپنے یہاں کی صورت حال پر ایک نظر ڈالنا بھی قرین انصاف ہو گا۔ عرصہء دراز سے یہاںعورت کو حور ارضی کاتشخص عطا کیا گیا ہے۔ اس موقف میں ایسا لگتا ہے کہ شاید روز حساب یہ اپنے نامہء اعمال کو بھی اپنے سرپرستوں سے پڑھوائے جانے پر اصرار کرے گی۔(۱۹)
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شعریٰؔ تانیثیت کی تحریک سے وابستگی تو دور کی بات اس تحریک کوپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں ۔ شعریٰؔ نے اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کو زندگی گزارنے کے لیے ’رابعہ تابعیہ‘ کے حوالے سے پورا منشور مرتب کردیا ہے۔ عقائد کی دیوار کو توڑ کراجتہاد کی جو بنیاد حضرت آسیہ ؓنے رکھی تھی اسے رابعہ ؒنے آگے بڑھایا ہے۔ انھوں نے خود اپنی مثال دے کر خواتین کو خود کفیل بننے اور پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا راستہ دکھایا ہے۔
’’وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاًلِلَّذِیْنَ آمَنُوْا اِمْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبّ ِ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتاًفِیْ الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْن ‘‘( اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ،جب کہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے) (سورہ تحریم : آیت : ۱۱) قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے نظم ’دعائے بانوئے فرعون ‘ میںا س عقیدے کو باطل قرار دیا ہے کہ شوہر سے غیر مشروط ہم آہنگی کا نام وفا ہے اور عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو اس وفا کی بنا پر ہی باشرف اور نیک ٹھہرے اور اس کی عبادتیں اور نیکیاں اسی شرف کی بنا پر تولی جائیں۔عہد قدیم کی اس عظیم المرتبت خاتون کی دعا کے ان الفاظ میں ان کا مکمل تعارف موجود ہے ایسا کافی ووافی تعارف جس کی بنا پر انسانی تاریخ میں ایک مثال اور ایک آدرش کی حیثیت سے ان کا تذکرہ کیا جائے گا ۔ قرآن مجید میں تاریخ عالم کی جھلک، ارتقا کے سنگ ہائے میل بنانے والے انسانی کارناموں پر مشتمل ہے۔’ دعائے بانوئے فرعون‘ کے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
اتفاق و بخت کا ہر دام جبر ؍ توڑ دینے کی یہ مختاری ، ؍ یہ گھر کے راج سے ، ؍ حق بجانب ارجمندو بے گزند، ؍ دست برداری ، ؍ خدا یا ؍ تیرے رازوں میں ؍ یہ کیسا راز ہے(۲۰)
شعریٰؔ اپنے ایک مضمون میںلکھتی ہیں:
فرعونی جلال وجبروت کو ٹھکراتے ہوئے صرف عائیلی نظام سے نہیں بلکہ ناکسوں کے خشک وتر سے بھی غیر مشروط ہم آہنگی کے وفادارانہ عقیدہ کو وہ [ فرعون کی بیوی حضرت آسیہؓ] مسترد کرتی ہیں، جس کو آج سے ہزاروں برس پہلے مسترد کرنا جان کا زیاں تھا۔۔۔ان کا یہ رویہ انھیں خدا سے دور نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے جوار قرب کے باغات میں بسیرا کرنے کا تمنائی بناتا ہے۔(۲۱)
ساتھ ہی شعریٰؔ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ عورتوں کو ذریعہ معاش کے لیے گھر کی چہار دیواری سے باہر نکلنا پڑتا ہے،کیوں کہ صارفیت کے اس دور میںبسا اوقات تنہا مرد کی آمدنی کے ذریعے گھر چلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ’شاہ راہ آرزو ‘ نامی نظم کا یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا پہلو ملک میں پھیلی ہوئی غربت اور غریبوں کی زندگی کی سچائی اور مشکلات کو اجاگر کرنا ہے:
سطح غربت سے بھی نیچے پلنے والا صبر و شکر ؍ متصل ہو جب شب غم میں بلاؤں کا نزول ؍ مٹ کے رہ جاتا ہے فرق اندرون ِ خانہ و بیرونِ در ؍ صبح دم دونوں ہی (مرد وزن ) ؍ تلاش رزق میں باہر نکلتے ہیں ؍ تبھی چلتا ہے کام(۲۲)
اور وہ جانتی ہیں کہ روز اوّل سے اسی لیے بابِ رعایت کشادہ ہے کہ بسا اوقات خواتین کا ملازمت کرنا ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔اسلام عورت کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کا محافظ ہے اور اسے ملازمت و تجارت میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے تو امہات المؤمنین ، صحابیات کرام اور دیگر خواتین اسلام کے باقاعدہ تجارت اور صنعت و حرفت سے وابستہ اور معاشی طور پر خودمختار ہونے کی کئی مثالیں نظر آتی ہیں۔ روشن ترین مثال ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی ہے:
لارہی ہیں بھر کے مشکیزے کہاں سے لڑکیاں؟ ؍ ۔۔۔۔۔۔بہتے چشموں سے ؍ بیابانوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ایندھن ؍ میوہ ہائے خشک وتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باغات سے ؍ کچھ رداؤں میں ہیں مستور ؍ اور کچھ ان میں ہیں بے چادر کھلے سر ؍ خادمائیں بھی ہیںمخدومات بھی پاکیزہ اطوار ؍ یہ ہیں معروف النسب اپنے قبیلے میں، ؍ انھیں پہچانتے ہیں نام سے ان کے، ؍ غیورانِ عرب۔ ؍ کون ہیں یہ؟ ؍ یہ وہی ہیں جن کے قدموں کے تلے ؍ مردانِ آزاد ؍ ڈھونڈتے ہیں اپنی جنت کا سراغ (۲۳)
شعریٰؔ معاشی طور پرعورت کی خود مختاری کی اس وجہ سے بھی قائل تھیںکہ معاشی پائیداری عمدہ سماجی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور عورت کی خستہ حالی میں معاشی کمزوری کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ظلم وزیادتی کی اصل وجہ معاشی طور پر مرد کا دست نگر ہونا ہی ہے۔اور شعریٰؔ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھیں بلکہ اس تجربے سے گزری بھی تھیں جب ان کے والد لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کے سلسلے میں نظریاتی اختلاف کی بنا پر ان کی والدہ اور ان بھائی بہنوں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
شعریٰؔعورت کو صنف کی حد میں محدود رکھنے کی قطعی مخالف ہیں ۔ وہ نسوانی چہرے کے پس منظر میں انسانی چہرے کی جھلک تلاش کرنے کی قائل ہیں ۔جنس کی بنیاد پر تقسیم کی وہ قائل نہیں ہیں ۔ مردوں کی بالا دستی والے نظام معاشرت کے اس اصول کے خلاف تھیں کہ عورت کو تو ہمیشہ صنف کی حد میں محدود کردیا جاتا ہے، جب کہ اس کے بر خلاف مردانہ تجمل کو لازماً انسانی سج دھج کا آئینہ مانا گیا ہے ۔ اس سلسلے کی ان کی خوبصورت نظم ’رابعہ تابعیہؒ کی یاد میں ‘ ہے اس میں لکھتی ہیں :
امتیاز ِ مردو زن سے ماورا
سطح برتر بھی ہے اک انسانیت کی
جس پہ ابھرے وہ معاصر تابعین(۲۴)
رابعہ تابعیہؒ علامت ہیں عورت کے خود کفیل ہونے کی۔ رابعہ تابعیہ ؒالمعروف بہ رابعہ بصریؒ کا شمار تاریخ اسلام کی ان پاکیزہ اور نیک خواتین میں ہوتا ہے جن کی از ابتدا تا آخر تمام زندگی فقرو غنا سے عبارت ہے۔انھوں نے شدید ریاضت،علم سیکھنے کے کمال اور زہدو عبادت سے ایسا مقام پالیا تھا کہ ان کے عہد کے بڑے بڑے زاہدوعابد مالک بن دینارؒ،سفیان ثوریؒ،شفیق بلخی ؒ اور ابراہیم ادہمؒ جیسے بزرگ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کی گفتگو سننا اپنے لیے باعثِ شرف سمجھتے تھے۔وہ بزرگ بھی جو عمر اور بای النظر میں علم اور تصوف میں ان سے آگے تھے ،ان کی مجلس میں مؤدب رہتے تھے۔ اور حسن بصری ؒ جیسے صاحب علم بزرگ کے نزدیک ان کا یہ مرتبہ تھا کہ:
مجلس خاموش محو انتظار ؍ کس کی آمد پر نہ جانے آج ہے موقوف آغاز خطاب ؍ گوش بر آواز ہیں ہم سب یہاں ؍ لب کشا ہوتے نہیں لیکن حسن بصری ؍ کہ اب تک رابعہ آئی نہیں ؍ ’’ کس طرح شربت بھرا اتنا گراں برتن ؍ جو ہاتھی کے لیے ہے ؍ میں اٹھا کر چیونٹیوں کے سامنے رکھ دوں‘‘ ؍ حسن بصری نے پو چھا (۲۵)
مادری نظام کے بعد انسانیت نے جوں ہی پدری نظام میں قدم رکھا ،تمام اقدار کا مرکز مرد بن گیا۔ اساطیری دیویاں ماقبل تاریخ کی خرافات ٹھہریں اورخدا ، دیوتا ، فرشتے ، اوتار اور پیغامبر وغیرہ کا صیغہ آہستہ آہستہ تذکیر میں بدل گیا۔ پدرانہ نظام معاشرت میں گھر سے لے کر تخت اور مکتب سے لے کر منبر اور محراب تک ہر درجے پر مرد اپنا ہی حق فائق سمجھتا آرہا ہے ۔ایسے میں اگر ایک زاہد و صالح عورت اپنے اقوال و افکار سے اور اپنی عبادات کی انتہا سے ہلچل مچادے تو یہ حیرت کا مقام ہے۔اور یہی رابعہ ؒ شعریٰؔ کے لیے سر چشمہء فیضان ہیں۔ کہتی ہیں : ’’رابعہ سر چشمہء فیضان ہیں میرے لیے‘‘۔رابعہ بصری ؒکی جن خوبیوں نے شعریٰؔ کو اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ انھیں ’سرچشمہء فیضان‘ قرار دیتی ہیں ان میں سے ایک رابعہؒ کا خود کفیل ہونا اور مرد کی با لا دستی والے اس معاشرے میں کسی کا دست نگر نہ ہوکر ایک خود مختار زندگی بسر کرنا ہے:
زندگی نے بارہا آواز دی ؍ پرکشش محمل کی جانب ؍ وہ مگر بہر مثال ؍ پاپیادہ ہی رہیں اپنی ریاضت کی ڈگر پر گامزن ؍ اک کھلی دنیا کا انسانی تناظر ؍ اس میں اک خاتون تنہا خود کفیل ؍ منفرد اپنی روش میں بر بنائے اجتہاد ؍ بے ہراس و برحق و بااعتماد ؍ یہ طریق زندگی خود ان کا اپنا انتخاب(۲۶)
عورت کے سلسلے میں شعریٰؔ کی یہ شعری تحریریں صنفی انصاف اور صنفی مساوات جیسے نظریات سے آگے کی منزل ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان جیسا جمہوری ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ۔ دنیا کے تمام ممالک میں خواتین کو مال واسباب کی طرح استعمال کیا جارہا ہے اور انھیں مال و اسباب کو فروخت کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بنا دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ’’ رابعہ تابعیہؒ‘‘ ایک طاقتور نظم ہے کہ انھوں نے اس میں ’صنف ‘ والی قدیم دیوار کو ڈھا کرمعاشی، سماجی، مذہبی اور سیاسی غرض کہ ہر زاویے سے عورت کو مرد کا نصف بہتر کہنے کے بجائے ایک آزاد اور خود مختار انسانی وجود کے طور پر پیش کیا ہے ۔شعریٰؔ کا تاریخی شعور بہت بالیدہ ہے ۔ اکثر وہ شاعرات جنھوں نے تانیثیت کو برتنے کی کوشش کی ، اعتدال و توازن کی ڈور ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور باغیانہ پن ان کے لہجے میں در آیا۔نتیجتاً ان کی شاعری ، شاعری کم اور نعرہء بغاوت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اس کے بر عکس شعریٰؔ کے یہاں ایک خوشگوار توازن پایا جاتا ہے۔ انھوں نے تانیثیت کے نام پربے مہار آزادی اور جنسی بے راہ روی کا استقبال نہیں کیا بلکہ ان کے تانیثی رویے کو اس زمرے میں رکھا جاسکتا ہے جو تیسری دنیا کے بیش تر ممالک میں ’اسلامی تانیثیت‘ کے نام سے رائج ہے۔پڑھی لکھی مسلم خواتین اب نہایت سنجیدگی سے اپنے حقوق کے لیے متحرک ہورہی ہیں۔ ناری شکشا نکیتن لکھنؤ میں اقتصادیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عذرا بانو لکھتی ہیں:
جنسی مساوات ایک طرح کی جنگ نہیں مردوں سے، بلکہ ایک ایسی روایت کو توڑنا ہے جو ہمارے سماج میں برسوں سے بودی گئی ہے۔ سماج کو چاہیے کہ اس کی اہمیت کو محسوس کریں اور قبول کریں کہ عورت مرد زندگی کے ہم سفر ہیںاور سماج کی پہچان اور ترقی صرف مردوں سے نہیں بلکہ عورتوں سے بھی ہوتی ہے۔ آج کی عورت نے برابری کی آواز اٹھانے کے حق کو طلب کیا ہے۔ یہ برابری تعلیم ، نوکری، سیاست اور جائداد وغیرہ کے لیے ہے۔ یہ نعرے عورتوں کو آگے لانے کے لیے ہیںجو ان کی شخصیت اورخیالات میں تبدیلی لانے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔(۲۷)
شعریٰ نے تاریخ سے ایسی مسلمان خواتین کو اپنا موضوع بنایا،جنھوں نے خود مختاری کی زندگی گزارتے ہوئے بھی عظمتوں کی بلندیوں کو چھوا اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن گئیں ۔ان کا آئیڈیل آسیہؓ، خدیجہؓ، عائشہؓ اور ہاجرہؓ جیسی خواتین ہیںاور وہ ان ہی کرداروں سے روشنی اخذ کرتی ہیں۔ شعریٰ کی اس قسم کی نظموں میں ’گلۂ صفورہ،‘’ مریم صدیقہ‘ ،’رابعہ تابعیہ کی یاد میں‘، ’دعائے بانوئے فرعون‘، ’اک ستارہ آدرش کا‘ اور ’شاہ راہِ آرزو وغیرہ‘ ہیں۔ شعریٰ اپنے معاشرے اور ماحول سے نامطمئن ضرور ہیں ،لیکن باغی نہیں۔ یہی اعتدال و توازن انھیں فکر وفن کی بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔
حواشی
۱۔ محمود ہاشمی، ’’آفاقِ نوا -ایک جائزہ‘‘ ، سوغات،شمارہ: پہلی کتاب (ستمبر ۱۹۹۱ء)، ص، ۴۲۳۔
۲۔خالدہ حسین،’’زہرانگاہ‘‘، شعر و حکمت ،کتاب :۱۲،دور : سوم ،ص،۱۰۳۔
۳۔ حمیدنسیم،’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ (ایک تعارف)‘‘،مشمولہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات،ہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء ، ص ، ۳۷۷۔
۴۔شفیق فاطمہ شعریٰؔ،سلسلہء مکالمات ،ص ،۲۶۹۔
۵۔ایضاً،ص،۳۱۸۔
۶۔فضیل جعفری، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘، اردو ادب (سہ ماہی)کتاب : ۳۶۱ ، (جولائی تا ستمبر ۲۰۱۳ء) ،ص ،۳۹۔
۷۔ایضاً،ص،۳۱۰۔
۸۔وحیداختر، ’’ اردو نظم آزادی کے بعد‘‘، سرورا لہدیٰؔ(مرتبہ)، کلیاتِ وحید اختر جلددوم،ص،۸۰۔
۹۔کشور ناہیدؔ،دائروں میں پھیلی لکیر،نئی دہلی؛ نئی آواز، جامعہ نگر،۱۹۸۷ء،ص،۵۲۔
۱۰۔ ایضاً،ص، ۲۷۔
۱۱۔فہمیدہ ریاض ،میں مٹی کی مورت ہوں ، لاہور؛سنگ میل پبلیکیشنز،۱۹۸۸ء، ص ۶۴۔
۱۲۔پروین شاکر ،ماہِ تمام، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،۲۰۰۸ء، ص، ۷۷۔
۱۳۔ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات ،ص ،۱۱۴
۱۴۔ ایضاً،ص،۱۱۵۔
۱۵۔ ایضاً،ص،۱۱۷۔
۱۶۔ایضاً، ص،۳۲۔
۱۷۔ایضاً، ص،۱۴۹۔
۱۸۔فضیل جعفری ؔ، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘،اردو ادب ، ص، ۵۱۔
۱۹۔ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، ’’دعائے بانوئے فرعون ‘‘، مشمولہ سلسلہء مکالمات ، ص ،۱۸۰۔
۲۰۔ ایضاً، ص ،۱۶۱۔
۲۱۔ ایضاً،ص،۱۸۰۔
۲۲۔ ایضاً،ص،۲۴۱۔
۲۳۔ ایضاً، ص،۲۴۰۔
۲۴۔ ایضاً،ص،۱۳۹۔
۲۵۔ ایضاًایضا۔
۲۶۔ ایضاً، ص،۱۴۰۔
۲۷۔ بحوالہ خلیل احمد بیگ۔’’تانیثیت‘‘۔ مشمولہ اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہات (مرتبہ) صالحہ صدیقی۔ دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔ ۲۰۱۳۔ ص،۷۱۔

Shafeeq Fatimia Shera ki Shairi by Qamar JahaN

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ ؔکے کلام میں پیکر تراشی

قمر جہاں

تھم جاتے ہیں پل بھر کو نوا گر سفر نصیب
یہ کس ساگر کی پروردہ بدلی ہوگی
کتنی جاں لیوا مسافتیں طے کر کے اسے
اس وادی کے دامن میں ملا
ہنگام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برسنے کا (شعریٰؔ)
دشت شاعری کی خارزار راہوں کی جان لیوا مسافتیں طے کرکے اپنا انفرادی اور امتیازی تشخّص قائم کرنے والا یہ خوبصورت لہجہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے ۔ جس نے بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں اپنی طویل نظم ’’ فصیلِ اورنگ آباد ‘‘ کے ذریعے باذوق قارئین کو نہ صرف چونکایا بلکہ اردو شاعری کی تاریخ کو ایک نیا اوراہم موڑ دینے کا عزمِ مصمّم کیا ۔
اردو شاعری کے ابتدائی دور سے ہی خواتین کی شاعری کے نقوش ملتے ہیں لیکن یہ نقوش اتنے مدھم اور دھندلے ہیں کہ وہ اردو شعرو ادب کی تاریخ میں کوئی نمایاں اور دیر پا اثر نہ چھوڑ کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجاتے ہیں تفنّنِ طبع اور ذہنی تسکین کے لیے کی جارہی اس شاعری میں پر اعتمادی اور انفرادیت نہیں بلکہ تقلید کا رویّہ صاف نظر آتا ہے لہٰذا اس میں عورت کی انفرادیت اور اس کا امتیازی لہجہ تلاش کرنا عبث ہے۔
شاعری سے قطعِ نظر اگر فکشن پر نظر ڈالی جائے توترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر رشید جہاں ؔ کے پر اعتماد اور باغی لہجہ نے مردوں کی بالادستی والے اس معاشرے میں عورت کے وجود اور اس کے حقوق کا احساس دلایا اس کے ساتھ ہی عصمت چغتائیؔکا بے باک لہجہ بھی ادب میں اپنے قدم جمارہا تھا لیکن شاعری کی تاریخ ہنوز کسی وجودِ زن کے قرطاس و قلم سے محروم تھی۔ محمود ہاشمی کے الفاظ میں ’’ اردو میں اور خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا ۔‘‘کہ انھیں حالات میں شفیق ؔفاطمہ آسمانِ شاعری پر شعریٰؔ بن کر نمودار ہوئیں ،جس کی ضیا پاش کرنوں نے ماقبل کی تاریخ میں ٹمٹماتے ہوئے نسوانی لہجے میں خود کو شعریٰ( آسمان کا روشن ترین ستارہ (Siriusثابت کیا۔ ان کی شاعری کے تعلق سے یہ دعویٰ غلط نہیں کہ انھوں نے نہ صرف شاعرات کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ خوبصورت، دلکش اور مسحور کن لب و لہجہ کی حامل یہ پہلی شاعرہ تھی جس کی شاعری کے کینوس پر بکھرے ہوئے قوس قزح کے متعدد رنگوں نے مردوں کے ہمراہ اپنا نام درج کرایا۔ ذہنِ جدید کے شمارہ نمبر ۲۸؍ میںجمال اویسیؔ لکھتے ہیں ’’میرے سامنے اردو شاعری کی پوری تاریخ ہے اور میں اقبالؔ کے بعدراشدؔ، میراجیؔ، اخترالایمان ، فیضؔ، منیر نیازیؔ،ضیا جالندھریؔ، مجید امجدؔ ، منیب الرحمٰن اور شفیق فاطمہ شعریٰؔ وغیرہ کو اہم نظم نگار شاعر تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
ادب میں زبان کا براہِ راست نہیں بلکہ اس کا تخلیقی استعمال کیا جاتا ہے اورتخلیقی زبان چار چیزوں سے عبارت ہے: تشبیہہ،پیکر ، استعارہ اور علامت۔نثر ہو یا شعر ،اگر ان میں زبان کا تخلیقی استعمال نہ کیا جائے تو وہ ادب نہیں بلکہ صحافت کے دائرے میں آجاتا ہے۔ زبان کے اس تخلیقی استعمال کے متعلق شمس الرحمن فاروقی رقم طراز ہیں :
تشبیہ، پیکر، استعارہ اور علامت میں سے کم سے کم دو عناصر تخلیقی زبان میں تقریباً ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ اگر دو سے کم ہوں تو زبان غیر تخلیقی ہو جائے گی ۔ یہ اصول اس قدر بین اور شواہد و براہین کے ذریعہ اس قدر مستند ہے کہ اس سے اختلاف شاید ممکن نہ ہو۔(شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)
چونکہ گفتگو’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کے کلام میں پیکر تراشی‘‘ سے ہے اس لیے تشبیہہ، استعارہ اور علامت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بحث براہِ راست پیکرتراشی یا امیجری کے حوالے سے کی جا رہی ہے ۔ پیکر تراشی یا امیجری کا سیدھا سادہ مفہوم لفظوں کے ذریعے تصویر کشی ہے۔امیجری، پیکر تراشی یا محاکات کا عمل بنیادی طور پر اشاراتی یا علاماتی زبان کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ امیج کے لفظی معنی یوں تو پیکر یا تصویر کے ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ شاعری کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے اس وقت محض پیکر یا تصویر کے معنی کے بجائے یہ لفظ ایک اصطلاح بن جاتا ہے۔ امیجری کی تعریف کرتے ہوئے مشہور نقاد پروفیسرابوالکلام قاسمی نےC. Day Lewis کی معرکۃ الآرا کتاب The Poetic Imageکے حوالے سے لکھا ہے کہ:
لفظی تصویریں بنانا امیج سازی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ کہ اس وقت پوری نظم ایک مکمل امیج بن جاتی ہے جب اس کے مختلف حصوں میں متنوع پیکروں کی تخلیق ایک ساتھ مل کر مبسوط اور مرکب تشکیل کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔(شاعری کی تنقید، ص، ۱۱۸)
گذشتہ سطروں میں محاکات کو پیکر تراشی اور امیجری کے ہم معنی لفظ کے مفہوم کے طور پر استعمال کیا گیاہے ۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ پیکر تراشی کے ساتھ ساتھ محاکات پربھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ شعر کے لوازم میں محاکات کا ذکر سب سے پہلے شبلیؔ نے کیاہے، انھوںنے محاکات کو شعر کا ایک لازمی عنصر قرار دیا ہے ۔ وہ محاکات کی تعریف یوں کرتے ہیں :’’محاکات کے معنی کسی چیز یاکسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویرآنکھوں میں پھر جائے۔‘‘( شعرالعجم (جلد چہارم) ص، ۸)پیکر کی تعریف کرتے ہوئے شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں،’’ہر وہ لفظ جو حواسِ خمسہ میں کسی ایک( یا ایک سے زیادہ ) کو متوجہ اور متحرک کرے پیکر ہے ۔ یعنی حواس کے اس تجربے کی وساطت سے ہمارے متخیلہ کو متحرک کرنے والے الفاظ پیکر کہلاتے ہیں ۔‘‘(’’علامت کی پہچان‘‘ شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)صاحبِ آئینۂ بلاغت مرزا محمد عسکری محاکات کی تعریف کے ضمن میں لکھتے ہیں ’’کسی منظر کا مرقع الفاظ کے ذریعہ سے کھینچنا جس کی تصویر کوئی مصور نہ کھینچ سکے۔‘‘(آئینۂ بلاغت، ص، ۳۶)
تقریباً سوا سو سال پر محیط اردو تنقید کی تاریخ میں اہم مقام کے حامل ان نظریہ ساز ناقدین کی آرا کو مد نظر رکھتے ہوئے پیکر تراشی کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مادی اور غیر مادی مناظر کی تفریق سے قطع نظر کسی منظر، شے یا حالت کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ قاری یا سامع کے حواسِ خمسہ میں سے کوئی حس متحرک ہو جائے۔ واضح ہو کہ مصوری اور پیکر تراشی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ فنِ مصوری میں کسی منظر کی ہو بہو تصویر کھینچنا فن کی پختگی اور فنکار کی مہارت کا ثبوت ہے جب کہ پیکر تراشی میں شاعراپنی مرضی کے مطابق اصل نقش میں حذف و اضافہ کر لیتا ہے۔اسی لیے شبلیؔ محاکات کو شاعرانہ مصوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ لیکن وہ تصویر کشی یا مصوری اور محاکات میں فرق کرتے ہیں ۔ شبلیؔ کے مطابق مصوری میں ہو بہو تصویر کھینچی جاتی ہے جب کہ محاکات کے ذریعے شاعر ہو بہو تصویر نہیں کھینچتا بلکہ اصل نقش میں کچھ اضافے اور کچھ کمی کے ذریعے اپنے خیال کی تر جمانی کرنے والی تصویر کھینچتا ہے۔ اس طرح کی تصویر کشی کو نئی تنقید میں ’’پیکر تراشی‘‘یا ’’ امیجری‘‘ کہا جاتا ہے۔
پیکر تراشی کا سب سے اہم رول مجرد تصورات کو مجسم اور ٹھوس پیکر میں تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح پیکر تراشی کے ذریعے شاعر ایسی فضا خلق کرتا ہے کہ ہم مناظر کو دیکھنے، آوازوں کو سننے اور بعض کیفیات کو لامسہ، ذائقہ اور شامّہ کی مدد سے محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
شعریٰؔ کے شعری امتیازات ،ان تمام فنی تدابیر اور شاعرانہ ہنر مندی میں مضمر ہیں جن کو انھوں نے اپنے شعری اظہار اور لسانی طریقِ کار کا حصہ بنایا ہے ۔ کلامِ شعریٰؔ میں ان عناصر کی تلاش و جستجو کرنے پر،جن سے ان کا کلام دو آتشہ ہوجاتا ہے ،پتہ چلتا ہے کہ ان کے کلام میں جہاں فکر کی گہرائی وگیرائی اور دیگر فنی محاسن عروج پر ہیں ،وہیںاحساس کو مہمیز کرنے والے پیکروں کی فراوانی اور مجرد احساسات وکیفیات کو لفظوں کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دکھانے کے سارے وسائل موجود ہیں ۔ موضوع کی ڈرامائی پیش کش ،متفرق اجزا کے ترک و اختیار اور الفاظ کے خلاقانہ استعمال سے وہ ایسا مرقع تیار کرتی ہیں کہ جب نظم کے درمیان کوئی منظر نامہ آجاتا ہے تو ہم خود کو قاری کے بجائے ناظر محسوس کرنے لگتے ہیں۔
شعریٰؔ نے شعری تصویر بنانے اور تاثر خلق کرنے کے لیے جس انداز کے پیکروں کی تخلیق کی ہے ان میں بصری پیکروں کی فراوانی ہے ۔ان کی نظموں کے ان گنت بند یا مصرعے مناظر کا بیان کم کرتے ہیں اور انھیں رو بہ عمل ہوتے ہوئے زیادہ دکھاتے ہیں۔ ان مناظر سے کبھی خوش گوار تاثر ابھرتا ہے ،کبھی حیرت و استعجاب کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور کبھی کھوئے ہوؤں پرافسردگی کا احساس ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر شعریٰؔ کی شاعری میں پیکر تراشی کے بہت عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔ نظم’ راگ یُگ کی نظمیں ‘سے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
حاشیہ دیوار کی صورت
ڈھیر سنہرا
پیلے سوکھے پتوں کا
چر مر کرتا ضرر سے عاری
خاک میں رلتی چر مر اس کی سنتا ہوا
کھڑکی سے چپکا کھڑا وہ بے پروا
ہر آہٹ کے ہر آواز کے ڈھانچے میں
رینگ رہا بیری بھیدی———-(سلسۂ مکالمات، ص، ۱۰۵)
اس بند میں جس نوع کا شعری پیکر تراشا گیا ہے اس کا تعلق قاری کی قوّتِ بصارت اور قوّتِ سماعت کو مہمیز کرتا ہے۔ حاشیہ دیوار، پیلے سوکھے پتوں کا سنہرا ڈھیر،چر مر، ضرر سے عاری،کھڑکی سے چپکا،بے پروا ،بیری ، بھیدی ان الفاظ کے ذریعے استعارے اور پیکر کا پورا نظام مرتب ہو گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعرہ ایک خاموش اور پر اسرار تصویر کو مختلف زاویوں سے دکھانا چاہتی ہے اور وہ یقیناً اپنے مقصد میں بحسن و خوبی کامیاب ہوئی ہے۔
اردو شاعری میں زیادہ تر پیکری اظہار بصری اور صوتی رہا ہے اگرچہ نئے شعرا کے یہاں لمسی اور ذوقی پیکر وں کا استعمال ملتا ہے۔نئے شعرا میں سے راشد ؔ ، میراجیؔاور فیض میں راشدؔ کے یہاں استعارہ زیادہ ہے پیکر کم ، جب کہ فیض نے پیکر کا استعمال زیادہ کیا ہے۔لیکن فیض ؔ کے پیکر داخلی منظر کو زیادہ ابھا رتے ہیں اس لیے زیادہ تر بصری ہیں میراجیؔ واحد شاعر ہیں جو پانچوں حواس پر قادر ہیں ۔ بقول فاروقیؔ’’نئی شاعری جو میراجیؔ کی طرف بار بار جھکتی ہے اور ان کے یہاں سے اپنا جواز ڈھونڈھتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ‘‘(،شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۹۰)
شاعرانہ امیجری کے ماہرین کا عام خیال ہے کہ ایسے حسّی پیکر تراش لینا جو کسی مخصوص قوّتِ حاسہ کو بر انگیخت کر لیں ہر چند کہ اہم اور قابلِ تعریف شعری محاسن میں سے ایک ہے ،لیکن پیکر جس حد تک اور جتنے زیادہ حواس کو متحرک کرے گا اتنا ہی اس شاعری کا معیار بلند ہوگا ۔ایک ساتھ مختلف حواسِ انسانی کو بیدار کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا تاہم اس ضمن میں بھی شعریٰؔ کا امتیاز غیر معمولی ہے۔ان کی نظموں میں متعدد مقامات پر یکساںاور متوازی طور پر ایک سے زیادہ حواس کو متحرک کرنے والے مخلوط پیکروں کی فراوانی ہے ۔ایک سے زائد حواس کی پیکر تراشی میں قاری اس طرح محو ہوجاتا ہے کہ اس کا پورا وجود شاعر کی بنائی ہوئی فضا،آواز،خوشبو،رنگ اور منظر میں شریک ہو جاتا ہے۔نظم ’ بہتا پانی‘ میں لکھتی ہیں :
اچانک کہیں اک درندے کا بین
وحشت آلود بد مزہ بو املتاس کی
تیز جھونکا سا بھرتا اڑان
جھاڑ جھنکاڑ کے درمیاں
پر بچاتا سمٹتا گذرتا ہوا ———–(سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۳)
اس اقتباس میںمتحرک بصری پیکر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔پہلے ہی مصرعے میںمستعمل علامت’ درندے کا بین ‘استماعی تجربہ ہے لیکن درندے کا لفظ بصری حسّیت کو بھی مہمیز کرتا ہے۔ بدمزہ بو بیک وقت قوت ذائقہ ، شامّہ اور باصرہ جب کہ تیز جھونکا سا بھرتا اڑان احساسِ بصارت جیسے حواسِ انسانی کو متحرک کرتا ہے۔ غیر معمولی طور پرمتحرک یہ منظر اپنے مختلف حوالوں سے قاری کے ایک سے زائد حواس ( قوّت ِ باصرہ،سامعہ،شامہ، ذائقہ) کو بیدار کرتا ہے۔الفاط کے جدلیاتی استعمال سے شعریٰؔ نے تصویر کو ایسا ہشت پہل بنا دیا ہے کہ دیکھنے کا ہر زاویہ منظر کا کوئی نیا پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے۔استعارے ،علامت اور پیکر کا یہ دلکش امتزاج شعریٰؔ کی انفرادیت ہے۔اس قسم کے پیکر شعریٰؔ کے یہاں بکثرت ملتے ہیں:
گپھا گپھا یگوں کے دائرے
گپھا گپھا یگوں کے دائرے میں
بن گھنے کہ جن میں جھٹپٹا
تپسویوں کے ساتھ ساتھ تھا سدا مقیم
جل رہے ہیں
جل رہا ہے فجر کا الاؤ
سگندھ اس کی اتنی گھائل اتنی تیز ہے
کہ سیلی سیلی یہ سگندھ ہے لہو لہو۔ ———–(نظم:فجر کا الاؤ، سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ہیرے کی کنی سی کہ ہے طینت میں سرشتہ
کبھی آواز کی لو بن گئی
آفاق بہ آفاق پلٹتی ہوئی اوراق
کبھی چھنتی رہی آنکھوں سے پیہم صفت ِ اشک
تو بدلتا ہوا رستہ
تہہ دریا سے دہکتی ہوئی بالو میں
نکلتا ہوا رستہ
جسے دیکھا
وہ مرا وہم نہیں میرا یقیں تھا—–(نظم:نرمل میٹھے پا نی کی تلاش میں، سلسلۂ مکالمات،ص،۸۳ )
اردو شاعری کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میںمناظر فطرت کی ترجمانی یا منظر نگاری ،مغربی شاعری سے اثر پذیری کا نتیجہ ہے ۔ یہ خیال 1857 کے بعد نشوونما پانے والی شاعری کی حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے لیکن دکنی اردو شاعری کے متعلق یہ رائے درست معلوم نہیںہوتی ۔ فطرت پرستی اور مناظر قدرت کی پیش کش کے آغاز کا سہرا غالباً محمد قلی قطب شاہؔ کے سر ہے مگر اس کی منظر نگاری بالکل ضمنی ہے ۔ قطب شاہی دور کے شعرا میں غواصیؔ نے سب سے پہلے منظر نگاری کی طرف توجہ دی۔منظر نگاری کے تحت فطرت کی کیف سامانیاں اور رنگینیاں بیان کی جاتی ہیں۔منظر نگاری کے دلکش نمونے مثنویوں اور خاص کر ’ سحر البیان ‘ میں ملتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مرثیہ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔ کربلا کے بے آب وگیاہ میدان میں پیڑ پودے اور جنگل وغیرہ کا ذکر بے معنی ہے لیکن چہرے یا تمہید کے بندوں میں شعرانے خوب خوب کمالات دکھائے ہیں ۔ جنگ کے وقت منظر کا بیان تو سورج کی تمازت، ریت کی تپش اور لو، دھوپ کے تھپیڑوں تک محدود ہے لیکن اس محدود منظر میں بھی خاص کر انیسؔ نے ایسی گل کاریاں کی ہیں کہ موسم بہار کے مناظر بھی پھیکے پڑ جائیں ۔
شعریٰؔ کے کلام میں منظر نگاری کے خوبصورت نمونے ملتے ہیں ۔شعریٰؔ کے منظر نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات کی بنیاد تخیل پر نہیں بلکہ مشاہدہ پر رکھی ہے اور ایک مصور کی طرح قدرتی مناظر کی بڑی خوبصورت تصویر کشی کی ہے ۔ نظم’ فصیل اورنگ آباد ‘ میں فصیل کے دوسری طرف کھیتوں کی منظر کشی اس طرح کرتی ہیں :
ایک سمت کھیتوں کی خوشگوار ہریالی
فرط سر خوشی سے ہے پتی پتی متوالی
ننھی ننھی چڑیوں کے دل یہاں ابلتے ہیں
کھیت کی خموشی سے زمزمے ابلتے ہیں
کاشتکار کے دل کے سب دبے چھپے ارماں
ان حسین خوشوں کی گودیوں میں پلتے ہیں
اک ہوا کے جھونکے سے کھیت ہوگئے ترچھے
جھک کے پھر وہ اٹھتے ہیں گر کے پھر سنبھلتے ہیں

منقولہ اشعار میں اور بطورِ خاص مؤخر الذکر شعر میں لہلہاتے کھیت کی جس قدر جاندار اور حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے اس سے خوبصورت تصویر کشی ممکن نظر نہیں آتی ۔ مناظر فطرت کی پیکر تراشی میں شعریٰؔ نے تکلف، مبالغے اور رعایت لفظی و معنوی خاص کر صنعت حسن تعلیل کانہایت فن کا رانہ استعمال کیا ہے ۔حسن تعلیل کا اتنا خوبصورت استعمال میر انیس ؔ کی یاد تازہ کردیتا ہے کہ میر انیس ؔنے بھی قدرتی مناظر کی تصویر کشی میں اس صنعت کا خوبصورت استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں مناظر فطرت کے بیان میں اس صنعت کا استعمال ملاحظہ کیجیے:

شوخ و شنگ کرنیں بھی جھیل میں نہانے آئیں
بے قرار موجوں پر ناچ اٹھے ستارے سے
اف کنول کے پھولوں کا یہ تبسم شیریں
کانپ اٹھے ہیں شرما کر موج کے اشارے سے

اسی طرح ’خوابوں کی انجمن ‘ میں بھی منظر نگاری کے دلکش نمونے نظر آتے ہیں ۔خاص کر اس کے پہلے بند میں چاندنی رات کی اتنی مکمل اور جاندار عکاسی کی گئی ہے کہ شاعرہ کی چشمِ خامہ کے بالمقابل حقیقی کیمرہ ناکام نظر آتا ہے ۔ بارہ مصرعوں پر مشتمل یہ بند پڑھتے ہوئے ہم کسی اور ہی خوبصورت لیکن پرسکون ماحول میں پہنچ جاتے ہیں اس بند میں بھی حسن تعلیل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں۔ منظر یہ ہے کہ رات کی تاریکی اپنا دامن وسیع کرتی جارہی ہے اور ستارے تنہا اس تیرگی سے دست و گریباں ہیں :
تیرگی کے نرغے میں کانپ کانپ اٹھے تارے
کررہا ہے روشن تر ان کو خوف پسپائی
سایے میں درختوں کے اپنے جال بننے کو
ٹہنیوں سے چھن چھن کر روشنی اتر آئی
کررہے ہیں سرگوشی جھنڈ کچھ سندولی کے
سوچتے ہیں بڑھ جائیں جا ملیں مناروں سے

اکثر مقامات پرایسی انوکھی تشبیہا ت و استعارات کی زرتابی کے ساتھ منظر کشی کرتی ہیں کہ ان کے تخیل کی داد دینی پڑتی ہے ۔ اردو شاعری کے منظر نامے پر آغاز سے ہی مناظرِ فطرت جیسے سورج،چاند ، ستارے ، پہاڑ ، دریا ، درخت، پھول، ہوا موسم ، بادل ،اور بارش وغیرہ کی چھاپ بہت گہری ہے ۔ لیکن قدیم شعرا کے یہاں زیادہ تر فطرت بحیثیت ایک معروض کے سامنے آتی ہے۔ جہاں شاعر کا مقصد مناظرِ فطرت کی معروضی پیش کش کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا ہے ۔ مناظرِ فطرت کی پیش کش کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ فطرت کے رسمیاتی یا عمومی اظہار سے قطعِ نظر فطرت کو اپنے موضوع کے پسِ منظر کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ جب کہ نظم کا اصل موضوع کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسی نظمیں فطرت کا لینڈ اسکیپ معلوم ہوتی ہیں لیکن پوری نظم میں اصل موضوع اسی طرح متاثر کن ہوتا ہے جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر میں فطری مناظر تصویرِ مقصود کے حسن میں اضافہ کرنے کا باعث ہوتے ہیں،اور شاعر کا کمال اس بات میں مضمرہوتا ہے کہ اس نے اپنے خیالات کو ابھارنے میں فطرت کا کتنا کامیاب اور خوبصورت استعمال کیا ہے۔ فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کرنے والے شعرا میںنمایاں ترین نام اقبال ؔ کاہے ۔ اقبالؔ کی متعدد نظموں کے آغازمیں مناظرِ فطرت کی سادہ پیکر تراشی کا تاثر ابھرتا ہے، لیکن انجام تک پہنچتے پہنچتے فطرت کا رشتہ کسی گہری اور فلسفیانہ فکر سے استوار ہو جاتا ہے ، اور وہ زندگی یا قوم و فرد کے افکار کا علامیہ بن جاتی ہے۔ اقبال کے علاوہ جوشؔ اور اختر الایمانؔ وغیرہ نے بھی فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان شعرا کے یہاں فطرت کا معروضی اور غیر معروضی دونوں تصور موجود ہے۔
شعریٰؔ نے فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں ان کی بنیادی فکر (اسلامی فکر )اور آگہی تک رسائی حاصل کرنے میں مناظرِ فطرت شاعرہ کے ہم سفر و رہنما بن کر سامنے آتے ہیں ۔ا س طرح فطرت شعریٰؔ جیسی ’’اہلِ نظر‘‘شاعرہ کے لیے انکشافِ ذات ،عرفانِ الٰہی اور’ ثبوتِ حق ‘کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ ان کی ایک نظم’ اسیر‘سے ایک بند ملاحظہ ہو:

یہ پانی جس نے دی پھولوں کو خوشبو دوب کو رنگت
حلاوت گھول دی آزاد چڑیوں کے ترنم میں
دہکتے زرد ٹیلوں کے دلوں کو خنکیاں بخشیں
ڈھلا آخر یہ کیسے میرے آزردہ تبسم میں

شعریٰؔ کی یہ نظم مکمل طور پر منظر کشی کے سہارے ہی آگے بڑھتی ہے اور پوری نظم میں مناظر کے ذریعے ایک سوگوار اور دلکش فضا تخلیق کی گئی ہے ۔ شعریٰؔ کی اس نظم میں منظر نگاری کے اس فنکارانہ استعمال کا ذکر کرتے ہوئے گوپی چند نارنگؔ لکھتے ہیں ’’ ایسی نظموں کو پڑھ کر اس امر کی توثیق ہوجاتی ہے کہ جس طرح وقت کا تحرک واقعات کا progression یا مکالمہ سے واردات کا کھلنا،بیانیہ عنصر ہو سکتے ہیں اسی طرح منظر کاری بھی بیانیہ سے باہر نہیں۔‘‘(’’جدید نظم کی شعریات اور بیانیہ ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۳۹)
مذکورہ نظموں کے علاوہ نہ صرف یہ کہ شجرِ تمثال، خلدآباد کی سرزمین، فصیلِ اورنگ آباد، ایلورہ، شفیع الامم اور یاد نگر وغیرہ نظمیں بھی پیکر تراشی کے نمونوں سے آراستہ ہیں بلکہ ان کا پورا کلیات ہی ایک ایسا خوبصورت البم ہے جس میں جابجا متحرک اور غیر متحرک تصویریں قاری کے حواس کو بیدار کرنے کے ساتھ ایک ایسے انجانے جہان کی سیر کراتی ہیں کہ قاری ایک مسحور کن کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔ باذوق حضرات کلیاتِ شعریٰؔ کی ورق گردانی کرسکتے ہیں ۔
کلامِ شعریٰؔ میں موجود فنی اور فکری محاسن کے باعث ہی فضیل جعفریؔ کا خیال ہے کہ جو مقام انگریزی فکشن میں جین آسٹنؔ کا ہے، اردو نظم میں وہی مقام شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے۔جدید نظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فضیل جعفری کہتے ہیں، ’’وہ [ شعریٰؔ] تمام جدید شاعروں سے یکسر مختلف ہیں ۔ آخر میں یہ بھی کہہ دوں کہ پاکستانی شاعرات جن کی نظموں کا ڈنکا چار دانگ عالم میں پیٹا جارہا ہے ، تاحال شعریٰؔ کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں ۔ ‘‘( ’’ جدید نظم کا موجودہ منظر نامہ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۱۷)۔
کتابیات
ابوالکلام قاسمی ، شاعری کی تنقید، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۱۱ء۔
اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، تیسری اشاعت، دہلی؛اردو اکادمی، ۲۰۱۳ء۔
شفیق فاطمہ شعریٰؔ ، سلسلۂ مکالمات، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء۔
شمس الرحمٰن فاروقی، شعر، غیر شعر اور نثر، تیسری اشاعت، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۰۵ء۔
علامہ شبلی نعمانی، شعرالعجم حصہ چہارم، اعظم گڑھ، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، ۲۰۱۴ء۔
مرزا محمد عسکری، آئینۂ بلاغت، تیسری اشاعت، لکھنؤ، اتر پردیش اردو اکادمی، ۲۰۱۵ء۔


قمر جہاں جواں سال مصنفہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر ہیں ۔

Slottica Casino Polska

Articles

Slottica Casino Polska

Odkryj ekscytujący świat rozrywki online w kasynie Slottica! Slottica to dynamicznie rozwijające się kasyno online, oferujące szeroki wachlarz gier hazardowych, dostosowanych do potrzeb polskich graczy. Zanurz się w atmosferze pełnej emocji i wygrywaj prawdziwe pieniądze, korzystając z dogodnych metod płatności w polskich złotych (PLN). W Slottica znajdziesz wszystko, czego potrzebujesz do niezapomnianej rozrywki – od klasycznych automatów po nowoczesne gry stołowe i emocjonujące kasyno na żywo.

Slottica kasyno, działające na rynku od 2019 roku, zyskało renomę dzięki transparentności, bezpieczeństwu i atrakcyjnym promocjom. Posiadamy licencję, co gwarantuje uczciwą grę i ochronę danych osobowych naszych użytkowników. W Slottica dbamy o komfort graczy, oferując intuicyjną platformę, łatwą nawigację i profesjonalną obsługę klienta, dostępną w razie jakichkolwiek pytań czy wątpliwości. Nasza oferta obejmuje gry od renomowanych dostawców oprogramowania, co zapewnia najwyższą jakość grafiki, dźwięku i płynność rozgrywki.

Dołącz do grona zadowolonych graczy Slottica i skorzystaj z licznych bonusów powitalnych oraz regularnych promocji. Oferujemy szybkie i bezpieczne wypłaty wygranych za pomocą popularnych w Polsce metod płatności, takich jak karty płatnicze, e-portfele i przelewy bankowe. Niezależnie od tego, czy jesteś doświadczonym graczem, czy dopiero zaczynasz swoją przygodę z hazardem online, w kasynie Slottica znajdziesz coś dla siebie. Rozpocznij swoją ekscytującą podróż w Slottica casino już dziś i przekonaj się, co oznacza prawdziwa rozrywka na najwyższym poziomie!

Slottica Casino: Zalety i Wady

Slottica Casino Dla polskich graczy
Zalety

  • Bogaty wybór gier: Ponad 3000 tytułów od czołowych dostawców, m.in. NetEnt, Microgaming i Play’n GO. Oferujemy sloty, gry stołowe, kasyno na żywo i wiele innych!
  • Atrakcyjne bonusy i promocje: Skorzystaj z bonusów powitalnych, darmowych spinów, zwrotów gotówki i regularnych akcji dla nowych i stałych graczy.
  • Błyskawiczne i bezpieczne płatności: Wpłacaj i wypłacaj środki za pomocą popularnych metod, takich jak Visa, Mastercard, Skrill i Neteller.
  • Całodobowa obsługa klienta: Nasz profesjonalny zespół wsparcia jest dostępny 24/7, gotowy do pomocy w każdej sytuacji.
  • Licencjonowane i zaufane kasyno: Graj bezpiecznie w legalnym i regulowanym kasynie online z ważną licencją.

Wady

  • Dostępność regionalna: Slottica może być niedostępna w niektórych regionach.

Odbierz Atrakcyjne Bonusy w Slottica Kasyno!

Slottica PL oferuje rozbudowany program bonusowy, który usatysfakcjonuje zarówno początkujących, jak i doświadczonych graczy. Wykorzystaj szeroki wybór promocji i zwiększ swoje szanse na wygraną!

Bonus Powitalny

  • 200% bonusu do 700 zł od pierwszego depozytu! Podwój swoją pierwszą wpłatę i zyskaj dodatkowe środki na grę.
  • Minimalny depozyt: 70 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Bonusy od Kolejnych Depozytów

  • Drugi depozyt: 150% bonusu do 1500 zł
  • Minimalny depozyt: 250 zł
  • Warunek obrotu: 45x
  • Trzeci depozyt: 100% bonusu do 2100 zł
  • Minimalny depozyt: 350 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Inne Promocje

  • Cotygodniowy Bonus: 90 Darmowych Spinów za depozyt minimum 450 zł (warunek obrotu: 45x)
  • Regularne Darmowe Spiny:
    • 35 darmowych spinów za depozyt minimum 250 zł
    • 50 darmowych spinów za depozyt minimum 500 zł
    • Warunek obrotu: 45x

Ważne Informacje

  • Zapoznaj się z regulaminem każdego bonusu przed skorzystaniem z oferty.
  • Wymagania obrotu określają, ile razy musisz postawić kwotę bonusu przed wypłatą wygranych.
  • Maksymalna stawka zakładu podczas gry z aktywnym bonusem wynosi 20 zł.
Bonus Szczegóły Oferty Minimalny Depozyt Wymóg Obrotu
Bonus Powitalny 200% do 140 zł przy pierwszym depozycie 70 zł 45x
Bonus od Drugiego Depozytu 30 darmowych spinów w “100 Joker Staxx: 100 lines” 200 zł 45x
Bonus od Trzeciego Depozytu 100% bonusu do 350 zł 350 zł 45x
Pakiet Darmowych Spinów 100 spinów w “Wild’n Luck 20” za 350 zł 350 zł 45x
Darmowe Spiny 60 spinów w “Four Lucky Clover” za 200 zł 200 zł 45x
Darmowe Spiny 50 spinów w “Clover Bonanza” za 70 zł 70 zł 45x

Odkryj Świat Gier w Slottica Casino

Slottica to kasyno online oferujące szeroki wybór gier od renomowanych dostawców, takich jak NetEnt, Play’n GO i Microgaming. Znajdź rozrywkę dopasowaną do Twoich preferencji:

  • Sloty: Ponad tysiąc slotów online, od klasycznych automatów owocowych po nowoczesne wideo sloty z imponującą grafiką i innowacyjnymi funkcjami. Odkryj popularne tytuły, takie jak Book of Dead, Starburst i Gonzo’s Quest.
  • Gry karciane: Doskonal swoje umiejętności w różnych wariantach blackjacka, bakarata i pokera.
  • Ruletka: Wybierz swój ulubiony wariant ruletki: europejską, amerykańską lub francuską.
  • Kasyno na żywo: Poczuj autentyczną atmosferę kasyna, grając z profesjonalnymi krupierami w ruletkę, blackjacka, bakarata i pokera na żywo.

Kasyno na Żywo — Doświadcz Prawdziwych Emocji

Zanurz się w świecie kasyna na żywo i graj z prawdziwymi krupierami w czasie rzeczywistym. Odkryj klasyczne gry stołowe, takie jak ruletka, blackjack i bakarat, a także unikalne tytuły, takie jak Andar Bahar i Sic Bo. Ciesz się wysoką jakością transmisji i interaktywnymi funkcjami. Znajdziesz tu popularne warianty gier stołowych i ekscytujące teleturnieje. Dzięki czatowi na żywo poczujesz autentyczną atmosferę kasyna

Loterie i Turnieje z Fantastycznymi Nagrodami

Weź udział w regularnych loteriach i turniejach, aby wygrać atrakcyjne nagrody, w tym darmowe spiny, bonusy i nagrody rzeczowe. Rywalizuj z innymi graczami i ciesz się emocjami związanymi z wygrywaniem. Do wygrania są nagrody pieniężne, darmowe spiny i ekskluzywne gadżety. Informacje o aktualnych akcjach znajdziesz w sekcji “Promocje”.

Zakłady Sportowe — Więcej niż Kasyno

Slottica to nie tylko kasyno online, ale także miejsce dla fanów zakładów sportowych. Obstawiaj wyniki meczów w popularnych dyscyplinach, takich jak piłka nożna, koszykówka, tenis i hokej. Skorzystaj z konkurencyjnych kursów i obstawiaj na żywo. Oferujemy szeroki zakres rynków i zakłady na żywo. Slottica dba o atrakcyjne kursy i różnorodne promocje sportowe.

Wirtualne Sporty — Akcja przez Całą Dobę

Obstawiaj wirtualne sporty, dostępne 24 godziny na dobę, 7 dni w tygodniu. Wybieraj spośród wirtualnych wyścigów konnych, psich i samochodowych, a także meczów piłki nożnej i koszykówki. Wirtualne sporty generowane są komputerowo z wysokiej jakości grafiką. To szybka i dynamiczna forma rozrywki z natychmiastowymi wynikami.

Dołącz do Slottica i Zacznij Wygrywać!

Zarejestruj się w Slottica i odbierz swój bonus powitalny. Ciesz się szerokim wyborem gier, ekscytującymi promocjami i profesjonalną obsługą klienta. Rozpocznij swoją przygodę z wygranymi już dziś!

Szybkie i Bezpieczne Płatności w Slottica Kasyno

W Slottica PL dbamy o Twój komfort i bezpieczeństwo transakcji. Oferujemy szeroki wybór metod płatności, umożliwiających szybkie i wygodne wpłaty oraz wypłaty środków.

  • Karty płatnicze: Wpłacaj środki natychmiastowo za pomocą karty Visa.
  • Portfele elektroniczne: Korzystaj z popularnych portfeli elektronicznych, takich jak eZeeWallet i Jeton, aby dokonywać szybkich i bezpiecznych transakcji online.
  • MiFinity: Zarządzaj swoimi środkami w wygodny sposób za pomocą aplikacji MiFinity.
  • Kryptowaluty: Wpłacaj Bitcoin, ciesząc się anonimowością i błyskawicznymi transakcjami.
  • Binance Pay: Płać za pomocą różnych kryptowalut dzięki usłudze Binance Pay.

Stosujemy zaawansowane technologie szyfrowania, aby zapewnić bezpieczeństwo Twoich transakcji. Możesz skoncentrować się na rozgrywce, wiedząc, że Twoje dane są chronione.

Wypłaty i Weryfikacja Konta

Weryfikacja tożsamości: Dla zapewnienia bezpieczeństwa Twoich środków i spełnienia wymogów prawnych, przed pierwszą wypłatą prosimy o przesłanie kopii dokumentu tożsamości do naszego Działu Bezpieczeństwa. Ten prosty proces weryfikacji zapewni ochronę Twojego konta i transakcji.

Metody wypłat: Oferujemy wygodne metody wypłaty, takie jak portfel elektroniczny Jeton oraz przelew bankowy. Wybierz opcję, która najlepiej odpowiada Twoim potrzebom.

Warunki wypłat: Przed zleceniem wypłaty należy spełnić wymóg obrotu trzykrotności kwoty depozytu. Oznacza to, że należy postawić zakłady o łącznej wartości co najmniej trzykrotnie wyższej od wpłaconej kwoty. Jest to standardowa procedura zapewniająca uczciwość gry.

My Journey by Salambin Razaaq

Articles

میرا تخلیقی سفر

سلام بن رزاق

کسی مفکر کا قول ہے ’’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ اس قول میں ذرا سی ترمیم کر دی جائے تو ایک ادیب کی حیثیت سے میرا معروضہ یہی ہوگا کہ ’’میں لکھتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ مفکر کی سوچ اس کی زندگی کی دلیل ہے تو ایک ادیب کی تحریر اس کے وجود کی شہادت ہے ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم کیوں لکھتے ہو ؟ تو شاید میں اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ میں ایک چینی کہاوت ضرور سنانا چاہوں گا۔ ’’پرندے اس لیے نہیں گاتے کہ ان کے پاس گانے کا کوئی جواز ہے ۔ پرندے اس لیے گاتے ہیں کہ ان کے پاس گیت ہیں ‘‘ میں اس لیے لکھتا کہ میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ ہے ۔
اگرچہ لکھنا ایک شعوری عمل ہے مگر لکھنے کی خواہش ادیب کے لاشعور کی گہرائیوں میں پرورش پاتی رہتی ہے ۔ جو مناسب وقت پر الفاظ کا جامہ پہن کر صفحۂ قرطاس پر نموپذیر ہوتی ہے ، بسا اوقات ہمیں خود پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے کب اور کیوں لکھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے میں ابھی چھوٹا تھا ، تیرنا نہیں جانتا تھا مگر تالاب کے کنارے بیٹھ کر دوسرے بچوں کو تیرے ہوئے دیکھنے میں مجھے بڑا مزہ آتا تھا۔ پتہ نہیں ایک دن اچانک کسی نے مجھے پیچھے سے دھکا دے دیا۔ میں پانی میں گرکر کا غوطے کھانے لگا مگر ڈوبنے سے بچنے کے لیے غیر ارادی طور پر ہاتھ پائوں بھی چلاتا رہا بالآخر جوں توں کنارے پر آلگا مگر اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ مجھ میں حیرت انگیز طور پر تبدیلی آگئی ہے۔ میرے دل سے گہرے پانیوں کا خوف جاتا رہا اور میں بھی رفتہ رفتہ دوسرے بچوں کے ساتھ تیرنے لگ گیا۔ میرے لکھنے کی ابتدا بھی کچھ اس طرح ہوئی ۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، داستانِ امیر حمزہ، الف لیلیٰ ، طوطا مینا، حاتم طائی ، باغ و بہار ، تاریخ اسلام ، صادق حسین سردھنوی، مولانا عبدالحلیم شرر اور نسیم حجازی کے تاریخی ناول ، ابن صفی کے جاسوسی ناول اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں چلا کہ پڑھتے پڑھتے کب لکھنا شروع کردیا ۔ اب غور کرتا ہوں کہ وہ کون تھا جس نے مجھے پانی میں دھکا دیا تھاتو لگتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں شاید میرا ہی ہمزاد تھا۔
اول اول قلم چلانا شوق تھا رفتہ رفتہ جی کا روگ بن گیا اور اب تو تاحیات اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ جس شوق کو کچی عمر میں ہنسی کھیل میں شروع کیا تھا، اب وہ لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور صورت یہ ہے کہ اگر میں قلم کو چھوڑنا بھی چاہوں تو قلم مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں ۔اکثر کوئی خیال کوئی سوال ، کوئی واقعہ ، کوئی کردار اچانک میرے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور کسی بیتال کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے ۔ تب میں حتی الامکان اس سے دامن بچاتا ہوں ، آنکھیں چراتا ہوں ، بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا تاوقتیکہ میں اسے کسی موکل کی طرح اپنے قابو میں کرکے الفاظ کی بوتل میں بند نہیں کر دیتا۔
جب لکھنا شروع کیا تو چھپنے کا شوق پید ا ہونا بھی لازمی تھا۔ لہٰذا چھوٹے بڑے رسائل اور جرائد کے کشت زاروں میں قلم کا ہل چلایا ، الفاظ کی کاشت کی اور دادوتحسین کی فصل کاٹی۔ یوں تو میں ہلکے پھلکے تنقیدی مضامین ، تبصرے ،ڈرامے ،بچوں کے مضامین اور کہانیاں تراجم ، ریڈیو فیچر ، ٹیلی فلمیں اور فیچرفلمیں بقدر ظرف ہر صنف میں طبع آزمائی کرتا رہتا ہوں مگر ایک قلمکار کی حیثیت سے افسانہ لکھ کر مجھے روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے اور اسے اگر کسی چیز کے مماثل قرار دوں تو وہ کم و بیش مہاتما بدھ کے نروان والی کیفیت سی ہو سکتی ہے ۔ مجھ سے ایک انٹرویوں میں پوچھاگیاتھا۔’’آپ کس حیثیت سے یاد کیا جانا پسند کریں گے؟‘‘ میں نے بلا تامل جواب دیا۔ ’’افسانہ نگار کی حیثیت سے ۔‘‘ اگر چہ میں جانتا ہوں فی زمانہ لکھنا اوروہ بھی افسانہ تضیع اوقات ہے ۔ تاہم اس کو کیا کیا جائے کہ بعض طبیعتیں خسارے کے سودے میں ہی تسکین پاتی ہیں ۔ ایسے موقع پر غالب کا یہ مصرعہ بڑی تسلی دیتا ہے :
ع عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
آج سے پچیس تیس برس پہلے معاشرے میں ادب کی اہمیت اور ضرورت ایک مسلمہ حقیقت تھی ۔ ادب ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سب سے بڑا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج معاشرے کا منظر نامہ بدل چکا ہے آج ہمارا معاشرہ ایک ہولناک صورتِ حال سے گزررہا ہے اور ایک تشویش ناک مستقبل ہمارا منتظر ہے اقدار پارہ پارہ ہوچکی ہیں ۔ جو اصول صبح بنائے جاتے ہیں شام میں شکستہ پیمانوں کی طرح پاش پاش ہوجاتے ہیں ۔ تہذیبیں دم توڑ رہی ہیں ۔ خدا کی موت کا اعلان تو بہت پہلے کیا جا چکا تھا اب خود انسانیت معرض خطرمیں پڑ چکی ہے ۔ اس ہیجان اور انتشار کے دور میں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کے معاشرے کو افسانے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔ ذرائع ابلاغ نے ایک عام قاری کے ذوق کو اس قدر پامال کردیا ہے کہ صرف افسانہ ہی نہیں پوراادب اس کے نزدیک ایک شوق فضول کے سوا کچھ نہیں ۔ بہر حال صورت ِ حال جو بھی ہو میں اتنا جانتا ہوں کہ معاشرے کی ضرورت ہو یا نا ہوں مگر افسانہ میری ضرورت ہے یقینا ہے ۔ میں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے ’’ننگی دوپہر کا سپاہی ‘‘میں بطور دیباچہ لکھا تھا :
انسانی قدروں کی بساط مضحکہ خیز طور پر الٹ گئی ہے وزیر شاہ پر سوار ہو گیا ہے ۔ ہاتھی گھوڑے کہیں کے کہیں جا پڑے ہیں اور پیادے چاروں خانے چت ہیں اس بکھری بازی کو دوبارہ کون جمائے ؟ کوئی نہیں جانتا بازی کہاں سے چلی تھی کہاں تک پہنچی ؟ مگر تعجب ہے کہ لوگ بازی پھر بھی کھیلے جارہے ہیں ۔ پر اب کوئی ضابطہ ہے نہ اصول ۔ ساری بازی کسی پاگل کی سنک کی طرح چل رہی ہے۔‘‘ اس دیباچے کو لکھے اٹھائیس برس گزر گئے ۔ آج اٹھائیس برس بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں بلکہ صورت حال زیادہ پیچیدہ اور بھیانک ہو گئی ہے ۔میرے پائوں ننگے ہیں اور سر پر دھوپ کی چادر تنی ہوئی ہے ، تلوئوں میں چھالے پڑے ہیں اور راستہ پر خار ہے ۔
پیچھے مڑکر دیکھنے کا سوال ہی نہیں ۔ اگر میں نے ایسا کیا تو کسی جادو کے زور سے پتھر کا ہوجائوں گا ۔ اس خوف سے میں چلتا جا رہاہوں ۔ متواتر چل رہا ہوں ۔ میر اسفر جاری ہے ، میں اس سفر میں لمحہ لمحہ ٹوٹتا ہوں ، ریزہ ریزہ بکھرتا ہوں ۔ افسانہ لکھنا میرے نزدیک اپنے اسی کرچی کرچی وجود کو سمیٹنے کا نام ہے جس کے وسیلے سے میں اپنے آپ کو ماحول کی جبریت سے آزاد کرتا رہتا ہوں ۔ میرا افسانہ دراصل میری نجات کاذریعہ ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ افسانہ لکھنا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے ۔ بقول راجندرسنگھ بیدی یہ کام ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کی کھال کھینچ کر اسے ننگے بدن نمک کی کان سے گزارا جائے ۔ مگر کیا کیا جائے کہ تخلیق کار کو اسی میں راحت ملتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ سیپی کے سینے میں جب کوئی کنکر گڑ جاتا ہے تو وہ اس کے اندر ٹیس پیداکرنے لگتا ہے ۔ سیپی اس رِڑک کو کم کرنے کے لیے اپنے اندر ایک قسم کا لعاب پیدا کرتی ہے اور لعاب کو اس پھنسے ہوئے ذرے کے گرد لپیٹتی رہتی ہے کنکر پر لعاب کی تہہ جمتی رہتی ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کنکر لعاب سے مل کر موتی بن جاتا ہے افسانہ لکھنا بھی دراصل اپنے اندر پھنسے کسی خیال کی رِڑک سے نجات پانے کا عمل ہے ۔ یہ خیال ہی کی رِڑک ہے جو افسانہ نگار کے جگر میں گڑتے گڑتے بالآخر افسانے کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ میں اپنے افسانوں کے حوالے سے زندگی کو انگیز کرتا ہوں اور زندگی کے حوالے سے اپنے افسانوں میں رنگ بھرتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض افسانہ نگار ،عظیم موضوعات کی تلاش میں بہت دور نکل جاتے ہیں اس قدر دور کہ بسا اوقات اپنے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں جب کہ آنکھیں کھلی اور ذہن بیدار ہوتو ہر واقعہ ایک کہانی اور ہر فرد ایک کردار ہے ۔ میں اپنی ذات کے آئینے میں اپنے اطراف کے لوگوں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتا ہوں ۔ میرے بیشترافسانوں کے کردار خود میری ذات سے کچھ اس طرح برآمد ہوئے ہیں کہ انھیں یوں اچانک دیکھ کر میں حیران رہ گیا ہوں ۔ ان کی محبتیں ، ان کی نفرتیں ان کی شرافت ، ان کی کمینگی ، ان کی سر کشی ، ان کی بزدلی ، ان کے سکھ دکھ ، غم و غصہ ، سختی و نرمی سب میرے ہی جذبہ و احساس کے مختلف عکس ہیں۔ اگر فلائبیر، مادام بواری ہے ، منٹو کا لی شلوار کا دلال ہے تو پھر میں واسوہوں ، ننگی دوپہر کا سپاہی ہوں ، بجوکاکی شالوہوں ، خصی کا پر س رام ہوں ، کام دھینوکا مادھوہوں ۔ انجام کار کا راوی ہوں ۔
میں ایک عام آدمی کا افسانہ نگار ہوں کیوں کہ میرے اردگرد ایسے ہی لوگ بستے ہیں ۔ مظلوم ، مجبور،محروم اور ناآسودہ ۔ مگر خاطر نشان رہے کہ یہ عام آدمی نہیں ہیں ۔ میرے کردار وہ سخت جان افراد ہیں جو دن بھر میں بیسیوں دفعہ ٹوٹتے ہیں ، ٹوٹ کر بکھرتے ہیں مگر دوسری صبح اپنے بستر سے صحیح و سالم اٹھتے ہیں۔ وہ روز شکست کھاتے ہیں مگر زندگی جینے کا حوصلہ نہیں ہارتے۔ میرا افسانہ نعرہ نہیں چیخ ہے ۔ بسا اوقات ایسی چیخ جو سینے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے ۔ ان کی بے کسی اور بے چارگی دیکھ کر مجھے پکاسو کی عالمی شہرت یافتہ تصویر ، گویرنیکا ، کے اس گھوڑے کی یاد آتی ہے جو جاں کنی کے عالم میں چیخ رہا ہے ۔ اُس کی دلخراش چیخ کو بظاہر ہم اپنے کانوں سے سن نہیں پاتے البتہ اس کی خوفناک مگر خاموش گونج ہمارے وجود میں ایک پر شور طوفان کی سی کیفیت پیدا کردیتی ہے ۔ یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جنہیں حالات نے اپنے چکر ویومیں جکڑ رکھا ہے ۔ وہ اس چکر ویوسے نکلنا چاہتے ہیں مگر ابھیمنیوکی طرح، چکرویو کو توڑکر اس سے باہر نکلنے کا منتر نہیں جانتے ۔ میں حالات کے چکر ویو میں پھنسے انہیںبیمار، تھکے ہارے اور دبے کچلے افراد کا افسانہ نگار ہوں ۔ ان کے دکھ درد ان کی یاس و محرومی ان کا اضطراب و انتشار ہی میرے افسانے کا محرک اور موضوع ہے ۔ میں باغیوں کی کہانیاں اس لیے نہیں لکھتا کہ میرے عہد میں کوئی باغی نہیں ہے ۔ میں فاتحین اور نائکوں کے افسانے کیوں کر لکھوں کہ میرے عہد میں ظلم کو بہادری مکاری کو دانائی کج روی کو راستی اور موقع پرستی کو سیاست کا نام دیا گیا ہے ۔ ساری قدریں سر کے بل کھڑی ہوچکی ہیں ۔آج مذہب ،ذات ، قوم اور علاقے کے نام پر انسانوں کو اتنے خیموں میں بانٹ دیا گیا ہے کہ پورا سماج ٹکرے ٹکرے ہو کر بکھر گیا ہے ۔ میرے کردار اسی پارہ پارہ معاشرے کے افراد ہیں ۔ وہ اس گھنائونے معاشرے میں جینے اور مرنے پر مجبور ہیں ۔ انھیں غصہ آتا ہے ۔ وہ احتجاج بھی کرتے ہیں ۔ مگر ان کا غصہ اور ان کا احتجاج اس الائو کی مانند ہے جس کی آ گ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ میرا افسانہ دراصل اُسی بجھے ہوئے الائو کی راکھ میں چنگاریاں تلاش کرنے کا عمل ہے ۔
مجھے اس نوجوان کی کہانی یاد آرہی ہے جس نے ٹھٹھرا دینے والے موسم میں پہاڑ کی چوٹی پر ننگے بدن رات گذارنے کی شرط لگائی تھی اور دور ایک کٹیا میں جگنو کی طرح ٹمٹماتے چراغ کی لو پر نظریں گڑائے اس نے صبح کے ستارے کا استقبال کیا تھا اور شرط جیت گیا تھا۔ میرے کردار جس الائو کے گرد بیٹھے ہیں اگرچہ اس کی بھی آگ سرد پڑ چکی ہے مگر ان کے لہو میں ایک مدھم چراغ روشن ہے ۔ اُمید کا یہ چراغ ان کے اندر زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے ۔ وہ افق پر نظریں گڑائے صبح کے انتظار میں رات کاٹ رہے ہیں وہ شرط جیتیں گے یا نہیں یہ انھیں بھی نہیں معلوم مگر وہ اتنا جانتے ہیں کہ شرط کے لیے زندہ رہنا ضروری ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اب ان کی نجات کی خاطر مصلوب ہونے کے لیے کوئی مسیح نہیں آئے گا ۔ نہ صداقت کے نام پر کوئی زہر کا پیالہ پئے گا ۔ہر شخص کو اپنی صلیب خود اٹھانی ہے اور اپنے حصے کا زہر خود ہی پینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منٹو کی موت پر کرشن چندر نے کہا تھا۔وہ اردو کا واحد شنکر ہے جس نے زندگی کے زہر کو گھول کر پی لیا ہے ۔ آج سے پچاس برس پہلے ممکن ہے کرشن چندر نے ایسا محسوس کیا ہو کہ تنہا منٹو زندگی کے زہر کو گھول کر پی سکتا ہے ۔ہمارے اردگرد چپے چپے پر اس قدر زہر پھیلاہے کہ منٹو کیا شنکر بھگوان بھی زمین پر آجائیں تو اس زہر کو نہیں پی سکتے ۔ لہٰذا معاشرے کا یہ زہر تھوڑا تھوڑا ہم سب کو پینا ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ۔ ایک قلم کار کی حیثیت سے میرے سامنے بھی یہ چیلنج موجود ہے لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں افسانے میں کیا لکھتا ہوں دراصل اپنے حصے کا زہر پی کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتا ہوں، علی ھذا القیاس۔
———————————————————————-

Shishe ka Ghar by Surendar Parkash

Articles

شیشے کا گھر

سریندر پرکاش

شیشے کے گھر میں سیڑھیاں، بنانا اور پھر ان سیڑھیوں پر اس کی آخری چھت تک پہنچنا کیا ایک مسئلہ نہیں ہے؟ یہ فرض کرلیا گیاہے کہ فنکار کو اس کی فن کاری کی دادملنی ہی چاہیے۔ لیکن کیافن کی تخلیق کے پیچھے داد خواہی کا جذبہ کلبلارہا ہوتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ اس مفروضے سے فن کی قدروقیمت کم ہوتی ہے۔ بڑے فن کی یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ قاری،سامع یا ناظر کو فنکار کے تجربے میں شامل ہونے کی تحریک دے۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر دادا ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا اور اگر تخلیق نے خاطر خواہ اثر نہیں کیا اور اس کی طرف نقاد یا قاری متوجہ نہیں ہوا تو فن کو اپنی تخلیقی صلاحیت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
تخلیق کو بسا اوقات معاوضے کے ترازو میں بھی تولاجاتا ہے لیکن یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ فن اپنا معاوضہ صرف سکّوں ہی کی صورت میں وصول نہیں کرتا۔ زیادہ تر فن کو پرکھنے والے ہی نہیں ملتے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا فن بھی انھیں لوگوں کو پرکھنے کے لیے پیش کردیا جاتا ہے جو عام درجہ کا فن پرکھنے کی عادت بنا کر بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاں تخیل (Imagination) کی کمی ہوتی ہے اور وہ ایک محدود نظریہ فن کی بنیاد پر اپنا کام چلاتے ہیں۔ اکثر ایسی صورت میں ادب کو اس کا پارکھ قارئین میں مل جاتا ہے جو اپنی زندگی میں کم وبیش اسی ذہنی سفر کا تجربہ رکھتا ہے جیسا کہ اعلیٰ درجہ کا فنکار۔
جب مجھ پر پہلا خیال اترا جسے میں نے قلم بند کرنے کی کوشش کی تو میں صحیح معنوں میں تخلیقی عمل سے اچھی طرح روشناس نہ تھا۔ کوئی سامنے کا دیکھا ہوا واقعہ۔ کوئی دلچسپ کردار اچھا لگتا تو میں اس کی قلمی تصویر بنانے کے لیے قلم اٹھالیتا۔ لیکن وہ تصویریں بے جان ہوتیں۔ نہ ان کی شریانوں میں خون گردش کررہا ہوتا نہ ان کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہوتا۔ نہ ہی ان کے وجود میں روح جنبش کررہی ہوتی۔ نہ ہی میں ان تصویروں کا دکھ سکھ جان پاتا اور نہ ہی ان کے وسیلے سے اپنی ذات کا سکھ کہہ پاتا۔
میں الگ سے ایک آدمی ہوتا اور اپنی قلمی تصویروں سے میرا رشتہ اسی وقت ٹوٹ جاتا۔ جب میں ان کو اپنی طرف سے مکمل کر کے الگ ہوتا ، لیکن ایک خلش سی باقی رہتی۔ اپنے اندر ایک کمی سی محسوس ہوتی اور اس کیفیت کو ٹھیک طور پر سمجھنے کا شعور مجھ میں بالکل نہ تھا۔ ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میرا پہلا افسانہ تھا۔ جسے لکھنے کے بعد میں بے حد اداس ہوگیا۔ مجھے بے گھر ہونے کا احساس بری طرح ستانے لگا۔ اس افسانے کے مرکزی کردار کے سارے غم میں، میں نے اپنے آپ کو شریک پایا۔ اس گھر کے مکینوںسے اجنبیت کا کرب میرے اندر تک سرایت کر گیا۔
لیکن نہیں، یہ میں نہ تھا، یہ تو کوئی اور ہی شخصیت تھی۔ جس کا وجود اچانک عمل میں آگیا تھا جو میرے وجود کاانگ تھی۔ لیکن پھر بھی مجھ سے، میرے ماحول سے اور میرے رشتے ناطے والوں سے اجنبی تھی۔ کون ہے یہ؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تب میری نظروں کے سامنے ایک مجسمہ ابھرا جس کا آدھا دھڑ عورت کا تھا اور آدھا مرد کا۔ وہ وشنو کا اور نریشور کاروپ تھا۔ بات میری سمجھ میں آگئی۔ وہ راز میں سمجھ گیا کہ وشنو کا یہ روپ جس نے تخلیق کیا تھا وہ کہنا کیا چاہتا تھا۔
فنکار کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے ہی نطفہ سے اور اپنے ہی بطن سے ایک نئی شخصیت کو جنم دیتا ہے یعنی اس کی شخصیت کا مرد اس کی شخصیت کی عورت سے بیاہ رچا لیتا ہے اور ان کے قرب سے پیدا ہونے والا بچہ آنکھیں مل مل کر اپنے ارد گرد کے ماحول کو پہنچاننے کی کوشش کرتا ہے اور اسے سب اجنبی، اجنبی سا لگتا ہے اور پھر وہ بچہ پروان چڑھنے لگتا ہے۔
’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کی تخلیق کے بعد مجھ میں اور میرے بطن سے میرے ہی نطفے سے پیدا ہونے والے بچے میں ایک عجیب کشمکش سی شروع ہوگئی اور پھر ایک دن آیا کہ اس نے قلمدان میرے ہاتھ سے چھین لیا اور میں بے حسی اور بے کسی کے عالم میں گم سم کھڑا رہا۔ وہ بچہ جیسے جیسے توانا ہوا جاتا تھا، میں ویسے ویسے ہی کمزور و ناتواں ہوا جاتا تھا اور پھر ایک وقت آیا جب وہ جدو جہد ختم ہوگی اور میں نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد سریندر پرکاش نام کا خاوند،باپ، بھائی اور دوست محض ایک نام رہ گیا اور زندگی کی پوری باگ ڈور سریندر پرکاش افسانہ نگار نے سنبھال لی۔
گو کہ سریندر پرکاش ابھی زندہ تھا، لیکن مردوں کے برابر کہ دونوں شخصیتیں الگ الگ اپنی زندگی گزاررہی تھیں۔ ایک جو تخلیق میں مصروف تھی اور دوسری جو رشتوں ناطوں کے محدود دائرے میں سانس لے رہی تھی۔
وہ کون ہے جو ،رونے کی آواز، بجو کا، بازگوئی اور ساحل پر لیٹی ہوئی عورت تخلیق کرتا ہے اور پوجا کا تلک میری پیشانی پر لگادیتا ہے، جس نے مجھے سکھایا کہ مذہب کو ذاتی عقیدے کے حصار سے نکال کر فلسفہ کے ساحل پر لا کر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اسلام، عیسائیت اور ہندومت اپنے آفاقی روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں فرد کا کرب، انسانیت کا کرب بن جاتا ہے اور آدمی زندگی کا مہامنتر پاجاتا ہے اور آزادی۔ آزادی!
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں ایک ہی گھر میں قیام کرتی ہیں۔
میری جگہ اگر آپ ہوں تو آپ پر کیا گزرے گی۔
یہ کس نے بجائی بانسری؟ اور کون سے پیڑ پہ کوئل نغمہ سرا ہوئی اور کوئل کے کنٹھ میں کانٹا چبھا ہے۔ مت رو کوئل مت رو۔ کالی کلوٹی کوئل تو حسن کا مجسمہ ہے۔
اُف! اس نظام میں کس نے خون نہیں تھوکا؟
تو صاحبو۔ مطلب یہ ہوا کہ فنکار دوہری زندگی جیتا ہے۔ ایک چہرہ، چہرے پر لگا رہتا ہے اور ایک چہرہ چہرے کے نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے عتاب مجھ پر نازل ہوتے ہیں۔ لوگوں کی نفرتیں، شکایتیں اور دشنام میرے لیے ہیں۔ نیکیاں، تعریفیں اور اعزاز اس کے لیے جو میری شخصیت کے پردے میں چھپا بیٹھا ہے یہاں تک کہ اب لفظ بھی اسی پر نازل ہوتا ہے اور میں محض تماشائی کی طرح سب کچھ دیکھتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔
اگر آپ نے میرا افسانہ ’سرنگ ‘پڑھا ہے تو آپ کو ضرور معلوم ہوگا کہ مجھے اس نے ایک ٹنل میں لا پٹکا ہے، جس میں سے نکلنے کا راستہ بڑا دشوار گزار ہے اور آدم خور چوہے میری بوٹی بوٹی کے بھوکے ہیں۔ مجھے دو جنگیں ایک ساتھ لڑنا پڑ رہی ہیں۔ ایک اس کے ساتھ اور دوسری آپ کے ساتھ۔ جی ہاں! میں آپ کے ساتھ بھی برسرِپیکار ہوں۔
’بجوکا‘ میں جب زمانے کا سردو گرم برداشت کرنا ہوتا ہے تو وہ مجھے ’بجوکا‘ بنا کے کھیت میں کھڑا کر دیتا ہے اور فصل کاٹتے وقت وہ ہوری بن کے آموجود ہوتا ہے اور جب ہوری کا مقدر موت بن جاتی ہے تو وہ خود،بجوکا‘ بن جاتا ہے اور میری فصل کا ایک چوتھائی لینے کا حق دار بن جاتا ہے۔ ’بازگوئی‘ میں نیک موسیقار اور شاعر تلقار مس وہ ہے اور جب تلقار مس کا پتن ہوتا ہے تو وہ مجھے تلقارمس بناڈالتا ہے اور میرے ہاتھ پائوں کاٹ کر ملکہ شہروزی کے محل کے کھنڈر میں پھنکوا دیتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوا ہے کہ میرا مزاج بالکل بدلتا جارہا ہے۔ میرے اوپر کی کھال اتر رہی ہے اور میرا سارا وجود اس کی شخصیت میں سماتا جارہا ہے مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں ایک دن اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا اور اس کا تابع ہو کر رہ جائوں گا۔ کیا یہ ایک عظیم کرب نہیں ہے کہ میں زندہ ہوں اور اپنی زندگی کا ثبوت مجھے اس کے وسیلے سے دینا پڑ رہا ہے۔
سیرابی و تشنگی کا احساس میرا کہاں رہا ہے کہ میںاپنے سننے اور پڑھنے والوں کو جس میں شامل کروں!شاعری کرنا یا افسانہ لکھنا ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے لیے اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس گلی میں داخل ہونا پڑتا ہے، ورنہ آپ کا لفظ، لفظ نہیں بنتا جو پڑھ کر پھونکا جاسکے۔
ہاں تو میں عرض کررہا تھا شیشے کا یہ گھر عجیب ہے۔ جس میں کوئی سیڑھی نہیں اور جس کی کوئی چھت نہیں اور آپ اس کی چار دیواری کے اندر رہ کر بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔ باہر سے آپ کی نظریں فنکار کو کھائے جاتی ہیں اور اندر سے فنکار اپنا خون گھونٹ گھونٹ پیتا رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ مرنے کے باوجود فنکار اپنی موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے اکثر دیکھا ہے، وہ شیشے کے گھر میں گردن جھکائے آہستہ آہستہ ٹہلتا رہتا ہے، لیکن اس کے اندر بلا کی بے چینی ہوتی ہے وہ جانتا ہے کہ اس گھر میں کوئی دروازہ نہیں، باہر نکلتا ہے تو کسی ایک دیوار کا شیشہ ضرور ٹوٹے گا اور پھر ٹوٹے ہوئے گھر میں بھی اسے ہی جھک کر ایک ایک کرچی چننا ہے۔


My Journey by Rajindar Singh Bedi

Articles

افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل

راجندر سنگھ بیدی

میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو لکھنے کے لیے مجھے اپنی ذات سے ہوکر گزرنا پڑرہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگذر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک،لہٰذا سب کو سمجھنے کے لیے میری نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں اپنے آپ سے سمجھ لوں۔
افسانوی تجربہ کیا ہے؟ مجھے افسانہ سازی کی لت کیسے پڑھی؟ اگر یہ مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو پڑی، تو باقی دوسروں کو کیوں نہیں پڑی؟ کیوں نہیں میں کسی فرنانڈس کی طرح گرجے کے سامنے بیٹھا موم بتیاں بیچتا؟
فن کسی شخص میں سوتے کی طرح نہیں پھوٹ نکلتا۔ ایسا نہیں کہ آج رات کو آپ سوئیں گے اور صبح فن کار ہوکر جاگیں گے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی پیدائشی طور پر فن کار ہے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے، کہ اس میں صلاحیتیں ہیں، جن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چاہے وہ اسے جبلت میں ملیں اور یا وہ ریاضت سے ان کا اکتساب کرے، پہلی تو یہ کہ وہ ہر بات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتا ہو، جس کے لیے ایک طرف تو وہ داد تحسین پائے اور دوسری طرف ایسے دکھ اٹھائے، جیسے کہ اس کے بدن پر سے کھال کھینچ لی گئی ہو اور اسے نمک کی کھان سے گزرنا پڑرہا ہو۔ دوسری صلاحیت یہ کہ اس کے کام و دہن اس چرند کی طرح ہو جو منھ چلانے میں خوراک کو ریت اور مٹی سے الگ کرسکے۔ پھر یہ خیال اس کے دل کے کسی کونے میں نہ آئے گا کہ گھاسلیٹ یا بجلی کا زیادہ خرچ ہوگیا۔ یا کاغذ کے ریم کے ریم ضائع ہوگئے۔ وہ جانتا ہو کہ قدرت کے کسی بنیادی قانون کے تحت کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ پھر وہ ڈھیٹ ایسا ہو کہ نقش ثانی کو ہمیشہ نقش اول پر فوقیت دے سکے۔ پھر اپنے فن سے پرے کی باتوں پہ کان دھرے۔ مثلاً موسیقی، اور جان پائے کہ استاد آج کیوں سُر کی تلاش میں بہت دور نکل گیا ہے۔ مصوری کے لیے نگاہ رکھے اور سمجھے کہ وشی واشی میں خطوط کیسی رعنائی اورتوانائی سے ابھرے ہیں۔ اگر یہ ساری صلاحتیں اس میں ہو تو آخر میں ایک معمولی سی بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس ایڈیٹر نے اس کا افسانہ لوٹا دیا ہے، گدھا ہے!
اس کے بعد کوئی بھی چیز افسانے کے عمل کو چھیڑ Trigger ofکرسکتی ہے۔ مثلاً کوئی راہ جاتا اس کی پگڑی اچھال دے، یا کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جس پہ اس غریب کا کوئی بس نہ ہو اور جو اسے بے سلامتی کا شکار کردے اور وہ اپنے آپ میں ٹھان لے کہ مجھے اس بے تعاون ، بے رحم دنیا میں کہیں جگہ پانا ہے کچھ بن کے دکھانا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک آدمی خطرے سے دوچار نہیں ہوتا اس میں مدافعت کی وہ قوتیں نہیں ابھرتیں، قدرت کے پاس جن کا بہت بڑا خزانہ ہے۔
نوعمری میں یہ سب باتیں میرے ساتھ ہوئیں اور مجھے یقین ہے کہ تھوڑے سے یا زیادہ فرق کے ساتھ دوسرے فن کاروں پر بھی بیتی ہوں گی۔ اکثر لوگوں کو حادثے پیش آتے ہیں اور وہ گوناگوں مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ وہ فن کے راستے پر سے ہوکر گزرنے کی بجائے کسی اور طرف مڑ لیے۔ صد ہرجا کہ نشیند ، صد راست۔ انھوں نے یا تو اپنے مخصوص کام میں جھنڈے گاڑے اور یا تھک ہار کر جنت کو سدھارے۔ گویا بے عزتی اور پے درپے حادثوں کے بعد کچھ کرنے، بن کر دکھانے کے سلسلے میں اپنے ملک کے ہر اردو داں نوجوان کی طرح غزل کہنے کی کوشش کی، لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ کیوں کہ چھوٹی عمر ہی میں میری شادی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری بات سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی معشوق میرے سامنے تھا ہی نہیں۔ اگر تھا تو مجھے بچہ سمجھ کر ٹال جاتا تھا۔ اگر وہ رکے تو میری بیوی جوتا پکڑ کر اسے ہنکا دیتی تھی۔ میں نے تو یہ پڑھ رکھا تھا کہ عشق پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس لیے میں چپکے سے بیٹھا اس کا انتظار کرتا اور کرتا ہی رہ گیا۔ میں نے ہجر و وصال، وفا و بے وفائی، رقیب و مستحب کے مضمون شاعروں کے تتبع میں باندھے، مگر وہ سب مجھے جھوٹے اور کھوکھلے لگتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مستحب تو میں خود ہوں۔ رقیب روسیاہ کی کیا مجال جو میرے گھر کے پاس پھٹکے۔ یہ تو شادی کے ان لکھے معاہدے کی دوسری مد ہے، جس کی رو سے اگر رقیب کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ حوالات تو بھجوایا جاسکتا ہے۔ بہت کم لوگ جو فیض کی طرح رقیب کے ساتھ رشتہ پیدا کرسکتے ہیں اور اس کے افادی پہلوسے واقف ہیں۔ گویا زندگی شعر کے سلسلے میں جو بھی تعلیم دیتی ہے، میں اس میں کورا ہی رہا۔ اس کے برعکس میڈم زندگی نے تلافی مافات میں مجھے دوسرے مسئلے دے دئیے۔ مثلاً خانہ داری کے مسئلے ، روزگار کے مسئلے جو کسی طرح بھی عشق کے مسائل سے کم نہ تھے۔ حالات میں ایسا جمود پیدا کردیا اور بدن میں ایسی کپکپی کہ لاہور کے لنڈے بازار سے خریدا ہوا مرانجا مرانج پرانا پھٹا کوٹ بھی مجھے نہ بچا سکا۔
بس، بہت ہولی۔ اب میں اپنی بات بند کرتا ہوں، کیوں کہ ’’گرم کوٹ‘‘ کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہ ہوا، یہ کچھ لوگ جانتے ہیں، بلکہ کیا نہیں ہوا کے بارے میں انھیں مجھ سے زیادہ واقفیت ہے۔
افسانے اور شعر میں کوئی فرق نہیں۔ ہے تو صرف اتنا کہ شعر چھوٹی بحر میں ہوتا ہے اور افسانہ ایک لمبی اور مسلسل بحر میں جو افسانے کے شروع سے لے کر آخر تک چلتی ہے۔ مبتدی اس بات کو نہیں جانتا اور افسانے کو بحیثیت فن شعر سے زیادہ سہل سمجھتا ہے۔ پھر شعر با۔الخصوص غزل میں آپ عورت سے مخاطب ہیں لیکن افسانے میں کوئی ایسی قباحت نہیں۔ آپ مرد سے بھی بات کررہے ہیں۔ اس لیے زبان کا اتنا رکھ رکھاؤ نہیں۔ غزل کا شعر کسی کھردرے پن کا متحمل نہیں ہوسکتا، لیکن افسانہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ نثری نژاد ہونے کی وجہ سے اس میں کھردرا پن ہونا ہی چاہیے، جس سے وہ شعر سے ممیز ہوسکے۔ دنیا میں حسین عورت کے لیے جگہ ہے تو اکھڑ مرد کے لیے بھی ہے، جو اپنے اکھڑپن ہی کی وجہ سے صنف نازک کو مرغوب ہے۔ فیصلہ اگرچہ عورت پہ نہیں ، مگر وہ بھی کسی ایسے مرد کو پسند نہیں کرتی جو نقل میں بھی اس کی چال چلے۔ ہمارے نقادوں نے افسانے کو داد بھی دی تو نظم کے راستے سے ہوکر، نثر کی راہ سے نہیں، جس سے اچھے اچھے افسانہ نگاروں کی ریل پٹری سے اتر گئی اور جن کی نہیں اتری تھی، ایسی توصیف سے متاثر ہوکر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی لائن کے نٹ بولٹ ڈھیلے کرلیے۔
یہ بات طے ہے کہ افسانے کا فن زیادہ ریاضت اور ڈسپلن مانگتا ہے۔ آخر اتنی لمبی اور مسلسل بحر سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں تو ہونی چاہئیں ہی۔ باقی کی اصناف ادب، جن میں ناول بھی شامل ہے، کی طرف جزواً جزواً توجہ دی جاسکتی ہے لیکن افسانے میں جزو کل کو ایک ساتھ رکھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کا ہراول اور آخری دستہ مل کر نہ بڑھیں تو یہ جنگ جیتی نہیں جاسکتی۔ شروع سے ہی لے کر آخر تک لکھ لینے کے بعدپھر آپ ایک لفظ بڑھانے یا دو فقرے کاٹ دینے ہی کے لیے لوٹ سکتے ہیں۔ رد و اضافے کی یہ نسبت میں نے بے خیالی میں قائم نہیں کی۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ افسانے میں ایراد اضافے سے زیادہ ضروری ہے۔ آپ کو ان چیزوں کو قلم زد کرنا ہی ہوگا جو بجائے خود خوبصورت ہوں اور مجموعی تاثر کو زائل کردیں ا ور یا مرکزی خیال سے پرے لے جائیں۔
اب میں ایک چونکا دینے والی بات کرنے جارہا ہوں اور وہ یہ کہ اردو زبان نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ افسانے کے فن لطیف کو اس طریقے سے سمجھ سکے یا قبول کرسکے، جیسے سمجھنا یا قبول کرنا چاہیے۔ میری اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ پیچھے مڑ کر دیکھئے کہ ہر آن آپ نے ڈکشن پر کچھ زیادہ ہی زور دیا ہے۔ اس عمل کا گراف بنایا جائے تو وہ میرؔ، انیسؔ، اور غالبؔ کے بعد نیچے ہی آتا ہوا دکھائی دے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ’فسانۂ آزاد ‘‘ کو افسانہ یا ناول ہی سمجھ کر پڑھا۔ ہم نے اس کا مقابلہ Vanity Fairسے کیا ہے۔ ہم نے آغا حشر کو ہندوستانی شیکسپیئر بھی کہا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ہم نے دونوں میں سے کسی ایک کو نہیں پڑھا اور اگر پڑھا تو فرق کو نہیں سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ پونا فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں ممتحن کی حیثیت سے جب میں نے ایک امیدوار سے سوال کیا…آپ کو کون سے مصنف پسند ہیں تو اس نے آنکھ جھپکے بغیر جواب دیا۔ ’’مجھے تو دو ہی پسند ہیں سر، گلشن نندہ اور شیکسپیئر!‘‘
کبھی ’’ہمایوں ‘‘ اور’ ادبی دنیا‘ کے پرچے فیاض محمود اور عاشق بٹالوی کی توصیف میں کالے تھے اور آج ہم ہی افسانے کی تاریخ میں ان بے چاروں کا ذکر تک نہیں کرتے۔ ہم نے افسانے میں زور بیان کو اس قدر سراہا ہے کہ ادب تو ایک طرف خود ادیب کو نقصان پہنچایا ہے۔ افسانے میں اظہار کے تخلیقی مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ گریز کا ہے۔ لیکن ہمارے شغف ناآشنا کان ،گریز کو معجز بیان کا نام دیتے ہیں۔ ہم ابھی تک داستان گوئی، فلسفہ رانی اور تخلیقی واقعات کو آج یا کل کے کرداروںکی معرفت پیش کردئیے جانے پر سردسھنتے ہیں۔ سردھننے سے مجھے کچھ کد نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ تو ہم کچھ بھی کرکے دھنیں گے ہی کہ ہماری عادت ثانیہ ہوچکی ہے۔ مگر تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ہم خطیب، مؤرّخ اور فلسفہ بردار ہی کو افسانہ نگار کا نام دیتے ہیں۔
افسانہ کوئی سودیشی Indigenousشے نہیں۔ ہم نے جاتک کہانیاں لکھیں، کتھا ساگر لکھی اور ہم سے لوگ انھیں مغرب لے گئے جہاں انھوں نے کہانی کو فن بنادیا۔ ہیئت میں بے شمار تجربے کیے، جن سے استفادہ کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں ہے۔ افسانے کے فن کو چھوڑئیے، کسی بھی فن کو جانچنے پرکھنے کے لیے عالمی پیمانے پر اسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی علاحدگی (Isolation)نہیں ہے۔ ملکوں اور قوموں کی حدیں نہیں ہیں۔ بشرطیکہ آپ منٹو کو موپساں اور مجھے چیخوف کے نام سے نہ پکارنے لگیں۔ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ میں خود کو کاوا باٹا کہلوانا پسند کروں۔ آپ کو کیسا لگے اگر میں کہوں کہ رام لال اور جوگندر پال ہندوستان کے ہیزش بوہل ہیں اور قرۃ العین حیدر ،ہان سویان! مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ بشرطیکہ ہان سویان کے ہم وطن اسے اپنے دیس کی قرۃ العین حیدر کہیں۔
عجیب دھاندلی ہے نا ۔ معلوم ہوتا ہے اردو اسم بامسمّیٰ ہوتی جارہی ہے۔ ہیزش بوہل کا ایک جج کردار یہ کہتا ہے:
’’…ایسے مقدمے میں انصاف قسم کی کوئی چیز ہی نہیں کیوں کہ ملزم اس کا تقاضا ہی نہیں کرتے۔ یہ ایک ایسی آمریت ہے جس میں انفرادی اظہار اور اخلاقی سہوزمانی (Anachronetic)بات ہے…‘‘
مذکورہ ریاضت اور عالمی پیمانے پہ گردوپیش کی آگہی کے بعد ہی افسانے پر عبور حاصل ہوتا ہے اور جب یہ بات ہوجاتی ہے تو افسانہ لکھنے والے کے اضطرار (Reflexes) کا حصہ ہوجاتا ہے۔ نہ صرف آپ کی بے ارادہ بات سے افسانے کا مواد مل سکتا ہے بلکہ ہر موڑ، ہر نکڑ پہ افسانے بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ تعداد میں اتنے ہیں کہ انھیں سمیٹتے ہوئے افسانہ نگار کے ہاتھ قلم ہوجائیں۔ بہرحال افسانوی تجربے پر عبور حاصل ہوجانے کے بعد افسانہ نگار کو یونان کے اساطیری کردارمی ڈاس کا وہ لمس مل جاتا ہے جس سے ہر بات سونا ہوجاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوستان کا افسانہ نگار سونے کو بھی چھوتا ہے تو وہ افسانہ ہوجاتا ہے۔ گھبراہٹ کی بات اس لیے نہیں کہ اتنا سونا پاکر می ڈاس بھی بھوکا مرا تھا۔
افسانہ لکھنے کے عمل میں بھولنا اور یاد رکھنا دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے بڑی بڑی ڈگریوں والے…پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ اچھا افسانہ نہیں لکھ سکتے۔ کیوں کہ انھیں بھول نہ سکنے کی بیماری ہے۔ میں ایک دماغی تساہل کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ جسے منٹو نے میرے نام ایک خط میں لکھا…’بیدی، تمھاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو،لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو‘‘۔ میں سمجھ گیا کہ منٹو کا مطلب ہے۔ میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ مگر میں کیا کرتا؟ ایک طرف مجھے فن اور دوسری طرف زبان سے لوہا لینا تھا ۔ اہل زبان اس قدر بے مروّت نکلے کہ انھوں نے اقبال کا بھی لحاظ نہ کیا۔ کسی سے پوچھا آپ اقبال سے ملے تو کیا بات ہوئی۔ بولے، کچھ نہیں، میں ’جی ہاں جی ہاں ‘ کہتا رہا اور وہ ’ہاں جی ہاں جی ‘ کہتے رہے۔ اب کے حالات میں نسبتاً آسانی ہے کیوں کہ سند کے لیے ہمیں کہیں دور نہیں جانا ہے۔ پرسوں ہی ڈاکٹر نارنگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں ایک تحریک چلی ہے جو شوکت صدیقی جیسے ادیبوں کی پورب سے آئی زبان کو ٹکسالی نہیں مانتی۔ بہرحال میں نے منٹو کی تنقید سے فائدہ اٹھایا اور دھیرے دھیرے اپنی کہانی سے ہاتھ کو مار بھگایا۔ لیکن اس کا کیا کروں کہ وہ ادھر ادھر سے ہوکر پھر رونما ہوجاتا ہے۔ وہ بے ادائی کی ادا جس کی طرف منٹو نے اشارہ کیا میرکے الفاظ میں خاک ہی میں مل کر میسّر آتی ہے لیکن یہی بے ادائی اور قلم برداشتگی جہاں منٹو اور کرشن چندر میں مزہ پیدا کرتی تھی، وہیں بدمزگی بھی۔ منٹو کی تنقید کی وجہ سے میری حالت اس عورت کی سی تھی جو مقبوض اور تاراج بھی ہونا چاہتی ہے اور پھر اس کا بدلہ لینا بھی۔ جب میں نے منٹو کے کچھ افسانے میں لاابالی پن دیکھا تو انھیں لکھا…’’منٹو تم میں ایک بری بات ہے اور وہ یہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو اور نہ لکھتے وقت سوچتے اور نہ لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔‘‘
اس کے بعد منٹو اور مجھ میں خط و کتابت بند ہوگی۔ بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے میری تنقیدکا اتنا بر انہیں مانا جتنا اس بات کا کہ میں لکھوں گا خاک، جب کہ شادی سے پرے مجھے کسی بات کا تجربہ ہی نہیں۔ اس پہ طرفہ یہ کہ میں نہ صرف بھینس کا دودھ پیتا ہوں بلکہ اسے پال بھی رکھا ہے۔ میں انھیں کیسے بتاتا کہ اگر اونٹ کا رشتہ مسلمان سے ہے۔ گائے کا ہندو سے، تو سکھ کا بھی کسی سے ہوسکتا ہے۔
افسانہ ایک شعور، ایک احساس ہے، جو کسی میں پید انہیں کیا جاسکتا۔ اسے محنت سے تو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن حاصل کرنے کے بعد بھی آدمی دست بہ دعا ہی رہتا ہے۔ کچھ وافر باتیں سوئے ہضم کی وجہ سے بھی اس میں آجاتی ہیں اور کچھ ذہنی فتور سے…تسکین کی بات صرف اتنی ہے کہ افسانہ ابھی ہمارے ہاتھ سے نکل کر ایڈیٹر کے ہاتھ نہیں پہنچا۔ ہم اس میں ایرادو اضافہ کرسکتے ہیں اور اس پر بات نہ بنے تو پھاڑ کر پھینک سکتے ہیں۔ اگر ہیمنگ وے پانچ سو صفحے لکھ کر ان میں سے صرف چھیانوے صفحے کا مواد نکال سکتا ہے، تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟
اُردو میں بہت عمدہ افسانے لکھے گئے ہیں۔اگر ان کی تعداد گنی چنی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تقاضے پورا کرنے میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ایمان ہاتھ سے جارہا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اہم اپنے ہی امیج میں قیدی ہوکر رہ ئے ہیں۔


مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 97تا 104