Pandit Jawaharlal Nehru

Articles

پنڈت جواہر لال نہرو

ڈاکٹر محمد نسیم الدین ندوی

تاریخ کی اواراق گرداری کرنے پر ہندوستان کے تناظر میں بہت سی شخصیات ابھرتی ہیں جنھوں نے وطن مالوف کے لیے گراں قدر خدمات اور قربانیاں پیش کی ہیں جن کو نظرانداز و فراموش کردینا وطن عزیز کا بڑا خسارہ ہے۔ ان شخصیات میں بابائے قوم مہاتما گاندھی، اسیر مالٹا مولانا محمود حسن، اسیر کالا پانی علامہ فضل حق خیرآبادی، عظیم داعی مفکر و مجاہد آزادی مولانا حسین احمد مدنی، عظیم مجاہد آزادی بانی دارالعلوم دیوبند مولانا قاسم نانوتوی، مولانا حفظ الرحمن، مولانا محمد علی جوہر، سردار پٹیل، نیتاجی سبھاش چندر بوس ہیں۔ اور بھی شخصیات ہیں صفحات کی تنگ دامانی اس کی اجازت نہیں دیتی ہے۔

ان میں بہت سے شخصیات ایسی ہیں جن کو ہندوستان میں بالکل نظرانداز اور فراموش کردیا گیا ہے۔ سرِدست آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم آنجہانی پنڈت جواہر لعل نہرو کی ہمہ جہت شخصیت پر خامہ فرسائی مقصود ہے۔ پنڈت نہرو مورخ، مصنف اور سیاست داں تھے۔
پنڈت جواہر لعل نہرو 14 نومبر 1889ء کو الہ آباد میں پیدا ہوئے۔ ان کے یوم پیدائش پر ہر سال یوم اطفال بڑی دھوم دھوم سے منایا جاتا ہے۔ ان کے والد موتی لعل نہرو معروف قانون داں تھے۔ ماں شریمتی سروپ رانی تعلیم یافتہ خوبصورت خاتون تھیں۔ یہ برہمن خاندان جنت نشاں وادی کشمیر سے آکر الہ آباد میں آباد ہوگیا تھا۔ الہ آباد ایک شہرت یافتہ تاریخی شہر ہے۔ یہاں عقیدت کی آئینہ دار تین دریاؤں کا سنگم ہے گنگا، جمنا اور سرسوتی کا خوبصورت ملن یہیں ہوتا ہے۔ سرسوتی یہاں سطح زمین کے اندر رہتی ہے۔ یہاں پورے ملک سے زائرین آتے ہیں۔ الہ آباد کئی سالوں تک متحدہ آگرہ و اودھ کا دارالسلطنت بھی رہا ہے۔ پنڈت نہرو کی تعلیم و تربیت کے لیے اول مرحلے میں گھر پر ہی انتظام کیا گیا۔ سنسکرت، ہندی پڑھانے کے لئے جہاں پنڈت رکھے گئے اردو فارسی پڑھانے کے لیے مولوی رکھے گئے۔ انگریزی پڑھانے کے لیے انگریز استاد رکھا گیا۔ جب پنڈت نہرو چودھ سال کے ہوئے تو ان کو انگلستان کے ہیرو کالج میں داخل کیا گیا۔ ابتدائی دنوں میں ان کی طبیعت گھبرائی لیکن پھر آہستہ آہستہ اسکول کی زندگی میں رچ بس گئے اور ہمہ وقت مطالعے میں مصروف رہنے لگے۔ وہ اپنے ہم جماعت طلبا سے زیادہ اخبارات و جرائد کا مطالعہ کرتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ 1905 کے اواخر میں انگلستان میں عام انتخابات ہوئے، لیبر پارٹی برسراقتدار آگئی، 1906 کے شروع میں پنڈت نہرو کے کلاس ٹیچر نے انتخابات اور برسراقتدار آئی پارٹی اور حکومت کے بارے میں سوالات کئے تو کلاس میں استاد حیران رہ گئے جب پورے کلاس میں جواہر لعل ہی ایسے طالب علم تھے جو سب سے زیادہ معلومات رکھتے تھے۔ حکومت کے وزرا کے نام کی فہرست منہ زبانی یاد تھی۔ 1906 میں ہیرو کالج کے سالانہ امتحان میں جواہر لعل اول آئے۔ ہیرو کالج کے ہیڈماسٹر جواہر لعل کی کارکردگی سے پورے طور پر مطمئن تھے۔ انھوں نے موتی لعل نہرو کو جواہر لعل نہرو کی جو رپورٹ ارسال کی اس میں پورے اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ جواہر آگے چل کر تاریخ رقم کرے گا۔ اکتوبر 1907 میں 18 سال کی عمر میں جواہر لعل نہرو کو کیمرج یونیورسٹی میں داخل کیا گیا۔ یہ دنیا کی مایہ ناز اور معروف یونیورسٹی ہے۔  پنڈت نہرو یونیورسٹی آکر بہت خوش تھے۔ انھوں نے کیمرج کی کھلی فضا میں خوب مطالبہ کیا اور وسیع تر معلومات حاصل کیں۔ علم کیمیا، علم ارضیات، علم اقتصادیات، علم نباتات، علم قدرتی سائنس، علم سیاسیات پر مختلف نظریات کا مطالعہ کیا۔ اسی دوران وہ سوشلسٹ خیالات سے واقف ہوئے۔ برناڈشا اور ٹرینڈرسل سے بہت زیادہ متاثر ہوئے۔ اسی دوران ان کے دل میں جذبہ پیدا ہوا کہ بھارت کی آزادی کے لئے جد و جہد کرنا چاہئے۔ کیمرج یونیورسٹی میں مقیم ہندوستانیوں نے ایک سوسائٹی بنائی تھی جس کو مجلس کہا جاتا تھا۔ اس میں مختلف موضوعات پر بحث و تمحیص ہوتی تھی۔ ہندوستانی طلباء اپنی تہذیب و ثقافت کو انگریزوں کی تہذیب و ثقافت سے اعلیٰ و برتر سمجھتے تھے۔ اس لیے کہ ہندوستانی تہذیب میں زیادہ کشادگی اور رواداری ہے۔ اس مجلس میں حقوق انسانی اور آزادی پر بھی بحث ہوتی تھی۔ پنڈت نہرو اس میں برابر شریک ہوتے تھے اور اپنی بات بڑے محتاط انداز میں رکھتے تھے۔ ان کو اس مجلس سے بڑی معلومات حاصل ہوتی تھی اور آہستہ آہستہ آزادئ ہند کا جذبہ موجزن ہونے لگا۔ جواہر لعل نہرو کی عمر صرف 20 سال کی تھی جب 1910میں ڈگری حاصل کرلی۔ ان کو مشورہ دیا گیا کہ وہ آئی سی ایس کے امتحان میں شریک ہوں لیکن ان کے والد نے کہا کہ نہیں تم بیرسٹر بنو۔ اس کے مدنظر ان کو لندن کے مہشور قانون کے کالج انرٹیمپل میں داخل کیا گیا۔ پنڈت جواہر لعل نہرو نے 1912ء میں امتیازی نمبرات سے بیرسٹر کی ڈگری حاصل کی۔
1912میں پنڈت بھارت واپس آگئے۔ ملک میں جنگ آزادی کی جد و جہد جاری تھی۔ پہلی عالمی جنگ کی آمد آمد تھی۔ اس وقت کانگریس دو حصوں میں منقسم تھی۔ ایک حصہ کی رائے تھی کہ ملک کی آزادی کا حصول گفت وشنید سے ہو جبکہ دوسرے حصہ کی رائے تھی کہ آزادی بزور شمشیر حاصل کی جائے۔ پنڈت نہرو کے والد موتی لعل اعتدال پسندی کے حامی تھے۔ ان کا مشورہ تھا کہ ملک کی آزادی انتہا پسندی سے نہیں بلکہ اعتدال پسندی سے ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ پنڈت جواہر لعل نہرو بھی اعتدال پسند تھے اور بات چیت اور امن و امان کی راہ پر چل کر بھارت کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔
1916ء میں لکھنؤ کے کانگریس اجلاس میں مہاتما گاندھی سے جواہر لعل نہرو کی ملاقات ہوئی۔ اس وقت گاندھی کی شخصیت ایک عظیم داستان بن چکی تھی۔ گاندھی جی عدم تشدد کی راہ پر چل کر ملک کو آزاد کرانا چاہتے تھے۔ جواہر لعل، گاندھی سے بہت متاثر ہوئے اور پھر کیا تھا بہت جلد وہ گاندھی کے شریک کار بن گئے۔ 1916میں ہی جواہر لعل نہرو کی شادی دہلی میں کملا کول سے ہوئی۔ 19نومبر1917 میں ان کے یہاں ایک بچی کا جنم ہوا جس کا نام اندرا پریہ درشنی رکھا گیا۔
پہلی عالمی جنگ نومبر 1918 میں ختم ہوئی۔ بھارت کے عوام برطانیہ کی زنجیر غلامی کو ہر حال میں توڑ پھینکنا چاہتے تھے اور بغاوت پر آمادہ تھے۔ انگریزوں سے مطالبہ کیا جانے لگا کہ وعدے کے مطابق بھارت کو آزاد کردیں لیکن انگریزوں نے اس کے برعکس قانون بنادیا کہ کسی کو بھی بغیر مقدمہ چلائے جیل بھیجا جاسکتا تھا۔ گاندھی جی نے ستیہ گرہ شروع کردی۔ پرامن احتجاج اور گرفتاریاں دینا شروع کردی گئیں۔ دسمبر 1927 کے مدراس کے کانگریس اجلاس میں بھارت کی مکمل آزادی کی تجویز پیش کی گئی۔
جواہر لعل نہرو کی زندگی کا بڑا حصہ جیلوں میں کٹا۔ بریلی، دہرہ دون، الموڑہ، علی پور، کلکتہ اور احمد نگر کی مختلف جیلوں میں قید رہے۔ چونکہ پنڈت سیاسی قیدی تھے اور جیلوں کے افسران مہذب ہوتے تھے اس لیے ان کو اخبارات، کتابیں، رسائل پڑھنے کی اجازت تھی۔ وہ جیلوں میں خوش اخلاقی کے ساتھ رہتے تھے۔ جیلوں کے قوانین پر بہت سختی سے عمل کرتے تھے۔ جسمانی ورزش کے لیے باغبانی کیا کرتے تھے اور دماغی ورزش کے لیے پڑھتے لکھتے رہتے تھے۔ ’’تلاش ہند‘‘ جیل میں رہ کر ہی لکھی تھی۔ اپنی بیٹی اندرا پریہ درشنی کو خطوط لکھا کرتے تھے جو ’باپ کے خط بیٹی کے نام‘ کے عنوان سے منظر عام پر آچکے ہیں۔
8اگست 1942 میں ممبئی میں کانگریس کا اجلاس ہوا۔ بھارت چھوڑو تجویز منظور ہوئی اور آثار نمایاں ہونے لگے کہ اب بھارت آزاد ہوجائے گا۔ 1945 میں عالمی جنگ ختم ہوئی۔ انگلستان میں لیبر پارٹی برسراقتدار آئی۔ نئی پارٹی ایک بار پھر بھارت کی آزادی کے مطالبہ کو طے کرنا چاہتی تھی۔ آزادی کے لیے انگریزوں نے دو تجویزیں رکھیں۔ ایک قلیل مدتی اور ایک طویل مدتی۔ کانگریس نے قلیل مدتی تجویز کو مان لیا لیکن مسلم لیگ نے اس کو نامنظور کردیا اور الگ ملک کا مطالبہ تیز کردیا۔ گاندھی جی اور مولانا ابوالکلام آزاد تقسیم کے سخت مخالف تھے۔ پنڈت جواہر لعل نہرو، سردار پٹیل ان قومی لیڈروں کے ساتھ تھے لیکن مسلم لیگ کے جھگڑوں سے پریشان یہ فیصلہ کیا کہ تقسیم تسلیم کرلینے میں بھلائی ہے۔ دونوں لیڈران بابائے قوم مہاتما گاندھی کو منانے میں لگ گئے۔ آخرکار گاندھی جی نے ہتھیار ڈال دیئے اور ملک تقسیم ہوکر آزاد ہوگیا۔ گاندھی جی، سردار پٹیل، پنڈت جواہر لعل نہرو و دیگر کانگریسی لیڈران مولانا ابوالکلام آزاد کو منانے میں ناکام رہے۔ مولانا نے کہا کہ ہمارے ساتھ دھوکہ ہوا ہے، ہم نے بھارت کی جنگ آزادی کی لڑائی تقسیم کے لیے نہیں لڑی تھی، تقسیم اس ملک کا بڑا خسارہ اور ناقابل تلافی نقصان ہے، اس کا خمیازہ سب سے زیادہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑے گا۔ مولانا کی مخالفت کو کانگریس نے درکنار کرتے ہوئے تقسیم ہند کو تسلیم کرلیا اور بھارت آزاد ہوگیا۔
15اگست 1947 کو آزاد بھارت کے پہلے وزیر اعظم کی حیثیت سے پنڈت جواہر لعل نہرو نے حلف لیا۔ وہ اس وقت اٹھاون سال کے تھے۔ وہ جوان، خوش اور صحت منطر نظر آتے تھے۔ انھوں نے مجلس آئین کو خطاب کرتے ہوئے کہا تھا اب وقت آگیا ہے ہم اپنے ملک کی تقدیر سنوائیں اور ملک کا مستقبل روشن و تابناک بنانے کا عہد و پیمان کریں۔ چلاپتی راؤ رقم طراز ہیں:
’’جواہر لعل نہرو محض وزیراعظم ہی نہ تھے وہ قوم کے رہنما بھی تھے۔ وہ کانگریس کے جسم اور روح تھے، ساری دنیا کے سامنے وہی ہندوستان کی نمائندگی کرتے تھے، ہندوستان کا مطلب تھا جواہر لعل اور جواہر لعل کے معنی ہندوستان تھا‘‘
وہ بہت لگن اور دلچسپی کے ساتھ کام کرتے تھے۔ اپنی کاپی پر امریکی شاعر رابرٹ فروسٹ کی نظم کی مندرجہ ذیل سطریں درج کر رکھی تھیں:
اگرچہ جنگلات خوبصورت گھنے اور تاریک ہیں
مگر مجھے اپنے وعدوں کو پورا کرنا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
سونے سے پہلے مجھے بہت دور جانا ہے
پنڈت جواہر نہرو آخری دم ان سطور کا ورد کرتے رہے۔
جدید بھارت کا عظیم معمار 27مئی 1964 کو اپنے داربقا کے سفر پر روانہ ہوگیا۔ پنڈت جی کو آج بھی دنیا ان کے عالمی امن و امان کے لیے کئے گئے کاموں کے لیے یاد کرتی ہے اور بھارت میں ان کے یوم ولادت کو یوم اطفال کے طور پر منایا جاتا ہے اور بچے آج بھی ان کو چچا نہرو کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
جواہر لعل کو کسی بھی یادگار کی ضرورت نہیں۔ پورا جدید ہندوستان ان کی یادگار ہے۔ یہ بہادر محنتی اور زندہ دل انسان کا قصہ ہے جو اپنے عوام کو اپنے دل و دماغ کی پوری قوت سے پیار کرتا رہا اور جس نے ان کی فلاح و بہبود کے لئے اپنی زندگی کے آخری لمحات تک کام کیا اور ان کو ان کے مستقبل کے بارے میں پرامید بنایا۔ عوام جواہر لعل کو کبھی فراموش نہ کرسکیں گے، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ انھیں جواہر لعل کے چھوڑے ہوئے کام کو آگے بڑھانا ہے۔


بشکریہ فکر و خبر ڈاٹ کام

Adabi Tahqeeq Ke Taqaze by Shamsur Rahan Farooqui

Articles

ادبی تحقیق کے تقاضے

شمس الرحمن فاروقی

میرا  ہرگز یہ منصب نہیں کہ میں ادبی تحقیق کے موضوع پر لب کشائی کروں، اور وہ بھی محققین کے مجمعے میں، جو اس کام میں مصروف ہیں اور شاید پہلے بھی تحقیقی مقالے لکھ چکے ہیں۔  بیشک اہم اور بزرگ محققین کی کمی کے باعث قرعۂ فال مجھ دیوانے کے نام پڑ گیا ہے۔لہٰذا چند باتیں اپنی محدود استعداد کے مطابق عرض کرتا ہوں۔
پہلی بات تو یہ کہ اردو میں جو تحقیق آج کل ہورہی ہے، یا تحقیق کے نام پر جو کچھ ہو رہا ہے، میں اس سے مطمئن نہیں ہوں۔ میں جس زمانے میں یونیورسٹی کا طالب علم تھا، ادبیات اور دیگر انسانیاتی علوم (Humanities) کے شعبوں میں تحقیقی مقالہ نگاروں پر جو شرطیں پی ایچ ڈی کے لیے(یا الٰہ آباد یونیورسٹی میں، جہاں کا طالب علم میں تھا) ڈی فل کے لیے عائد کی جاتی تھیں،انھیں چند الفاظ میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے:

  1. اپنے موضوع کے اعتبار سے نئے حقائق کی دریافت
  2. یا پھر اس موضوع کے بارے میں پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر

میرا خیال ہے یہ باتیں اتنی واضح ہیں کہ ان کی تفصیل بیان کرنا ضروری نہیں۔ لیکن مزید وضاحت کے لیے یہ کہنا غیر مناسب نہ ہو گا کہ ’نئے حقائق‘ سے مراد وہ حقائق ہیں جو مطبوعہ مآخذ میں نہ ملتے ہوں۔ وہ بات جو کسی مطبوعہ ماخذ میں ملتی ہو، خواہ وہ مطبوعہ ماخذ کتنا ہی کمیاب کیوں نہ ہو، اسے ڈھونڈ کر اس میں سے کوئی بات نکال لانا موجب تحسین تو ہو سکتا ہے لیکن اسے’نئے حقائق کی دریافت‘ کا درجہ نہیں دے سکتے۔اسی طرح،’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘کا مطلب یہ نہیں کہ کسی موضوع پر مختلف اقوال جمع کر دیے جائیں اور آخر میں خلاصۂ کلام کے طور کچھ اپنی بھی رائے دے دی جائے۔ ’نئی تعبیر‘کی کم سے کم شرط یہ ہے کہ وہ قابل قبول ہو، موجودہ تعبیروں کے مقابلے میں اقلیتی رائے کی حیثیت رکھتی ہو، یا پھر وہ موجود تعبیروں پر کوئی ایسا اضافہ کرتی ہو جس کی روشنی میں ان تعبیروں کی وقعت یا معنویت میں اضافہ ہو، یا پھر ان حقائق پر نئے طور سے سوچنے کی تحریک پیدا ہو۔
واضح رہے کہ ’تعبیر‘ سے مراد ایسی تعبیر ہے جو ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی جارہی ہے۔ اس کی سب سے مشہور اور بالکل سامنے کی مثال غالب کی غزل ہے۔

نوید امن ہے بیداد دوست جاں کے لیے

رہی    نہ  طرز   ستم  کوئی آسماں   کے لیے

اس غزل کا آٹھواں شعر ہے  ؎

بقدر   شوق   نہیں ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے

اس شعر کی یہ تعبیر ایک زمانے میں عام تھی اور اب بھی کچھ لوگ اس کے قائل نظر آتے ہیں کہ غالب نے اس شعر میں غزل کی تنگ دامانی کی شکایت کی ہے۔ یعنی غالب جیسے شخص کو بھی شکوہ ہے کہ غزل بہت تنگ اور محدود صنف سخن ہے یا یہ کہ اس میں کوئی خرابی ہے، کوئی کمی ہے جس کی بنا پر غزل میں شاعر کو اپنی بات پوری طرح پھیلا کر کہنے کی گنجائش نہیں ملتی۔

اس تعبیر کو درست ہونے کے لیے اولاً یہ ضروری ہے کہ یہ ان حقائق کا پورا احاطہ کرتی ہو جن کی تعبیر پیش کی گئی ہے۔ غزل کے اس شعر کی حد تک ’حقائق‘ کا پورا احاطہ کرنے سے مراد یہ ہے کہ شعر کے تمام الفاظ کو مناسب اہمیت دی جائے اور ہر لفظ پر پورا غور کیا جائے اور اس کے ممکن معنی دریافت کیے جائیں۔ لہٰذا جس تعبیرکا ذکر میں نے ابھی کیا، یعنی یہ کہ اس شعر میں غالب نے غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کیا ہے، اس کی بنیاد اس بات پر ہونی چاہیے کہ شعر میں ’ظرف تنگناے غزل‘ کے لفظ آئے ہیں، اور یہ بھی ہے کہ اس ظرف کو شاعر یا متکلم کے ’شوق’ کے مقابلے میں کم لکھا گیا ہے۔ پھر دوسرے مصرعے میں شاعر یا متکلم تقاضا کرتا ہے کہ مجھے اپنے ’بیان‘ کے لیے ’کچھ اور وسعت‘ درکار ہے۔ ’شوق‘ سے مراد ہے، غزل کہنے یا غزل میں مضامین باندھنے کا شوق، اور ’بیان‘ سے مراد ہے مضامین غزل کا بیان، اور ’وسعت‘ سے مراد ہے کوئی ایسی صنف سخن جس میں اتنی وسعت ہو کہ شاعر یا متکلم اس میں اپنے ’شوق‘ کے مطابق خوب تفصیل سے اپنے مضامین بیان کر سکے۔ لہٰذا ثابت ہوا کہ اس شعر میں شاعر یا متکلم غزل کی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہا ہے۔

یہ سب کہہ کر ہم اپنے طور پرمطمئن ہو گئے کہ ہم نے شعر میں بیان کیے ہوئے حقائق کا مکمل احاطہ کر لیا ہے اوراس لیے ہماری تعبیر بالکل درست ہے۔ یہاں کوئی کہہ سکتا ہے کہ غالب نے کہیں اور اس طرح کی بات کہی ہو کہ میں غزل کی تنگ دامانی کا شاکی ہوں، تو ہم مانیں کہ اس شعر میں غالب کا شکوہ عمومی شکوہ ہے، کسی مخصوص موقعے پر یہ مخصوص نکتہ غالب نے نہیں بیان کیا ہے۔اس کے جواب میں ہم کلامِ غالب سے مزید ثبوت کے طور پر یہ شعر لاتے ہیں ؎

نہ  بندھے تشنگیِ شوق   کے   مضموں   غالب

گرچہ دل کھول کے دریا کو بھی ساحل باندھا

غالب کے کلام سے یہ سند لا کر ہم نے اپنا دوسرا ثبوت بھی بیان کر دیا کہ غالب کوغزل کی تنگ دامانی کا شکوہ تھا۔ شعر میں صاف کہا جا رہا ہے کہ تشنگیِ شوق کے مضمون نہ بندھ سکے، اگرچہ ہم نے مبالغے کی انتہا کر دی۔ لیکن اگر توجہ سے شعر کو پڑھیں تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اول تو یہ کہ شعر میں ’تشنگی شوق‘ کا ذکر ہے، محض شوق کا نہیں اور دوئم یہ کہ شعر میں غزل کے دامن کی تنگی کا کوئی ذکر نہیں۔ یہاں تو یہ کہا گیا ہے کہ ہماری’تشنگیِ شوق‘اس قدر بے حد و بے نہایت ہے کہ اغراق اور غلو کی تمام حدیں پار کرکے بھی ہم اسے بیان نہ کر سکے۔
یہ خیال رہے کہ ’شوق‘ عمومی لفظ ہے۔اس سے کوئی بھی شوق مراد لے سکتے ہیں: جان دینے کا شوق، معشوق سے ملاقات کا شوق، وصل کا شوق، کہیں جانے کا شوق، کوئی بات کہنے کا شوق، وغیرہ۔ اگرچہ لفظ ’شوق‘ کو اکثر عشقیہ ماحول یا سیاق و سباق میں برتا جاتا ہے، خاص کر شعر میں، لیکن ایسا نہیں ہے کہ یہ لفظ صرف عشق کے معاملات تک محدود ہو۔ لہٰذا ’تشنگی شوق‘ اور شے ہے اور صرف’شوق‘ اور شے۔ ’بقدر شوق نہیں‘ اور ’کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے‘ سے بالکل ظاہر ہے کہ ’بیان‘ کے شوق کی بات ہو رہی ہے۔ یعنی ایک تو یہ کہ کچھ بیان کرنے کا شوق بہت ہے اور دوسری بات یہ کہ اس بیان کے لیے وسعت بہت درکار ہے۔غزل کے مضامین کا یہاں کوئی ذکر نہیں۔ صرف ‘بیان’ سے یہ مراد لینا غلط ہوگا کہ غزل کے مضامین کا بیان مقصود ہے۔’مضمون‘ سے ’بیان‘ مراد لینے کا کوئی قرینہ شعر میں نہیں۔ تشنگیِ شوق والے شعر میں صاف صاف’مضمون‘ کا ذکر ہے اور معنی یہ ہیں کہ مجھ سے اور کوئی مضمون تو شاید، یا غالباً، بندھ سکتا ہو، لیکن تشنگیِ شوق کے مضامین بیان کرنے کی قوت مجھ میں نہیں ہے۔

اب شعرِ زیر بحث کو پھر دیکھیں؎

بقدر   شوق   نہیں   ظرف   تنگناے   غزل

کچھ اور چاہیے وسعت مرے بیاں کے لیے
اب یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ شاعر یا متکلم کو کچھ کہنا مقصود ہے، یا یوں کہیں کہ اسے کسی بات کو کہنے کا شوق بہت ہے، لیکن وہ بات غزل میں بیان نہیں ہو سکتی۔ یعنی بات کسی خاص مضمون یا موضوع کی ہے کہ اس کے لیے یہ غزل کافی نہیں۔ یہاں غزل کی عمومی تنگی کی بات نہیں ہے، ایک مخصوص موقعے کی بات ہے۔
مندرجہ بالا بحث کی روشنی میں ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم دیکھیں کہ اس شعر(’بقدر ظرف نہیں‘)کا ماحول کیا ہے۔ یعنی اگرچہ یہ بالکل لازم نہیں کہ غزل کے شعر باہم مربوط ہوں لیکن چوں کہ شعر میں جو بات کہی گئی ہے وہ کچھ معمّائی سی ہے، اس لیے ہمیں دیکھنا چاہیے کہ اس شعر کے پہلے کیا ہے اور بعد میں کیا ہے۔ چناں چہ جب ہم زیر بحث شعر کے پہلے جو شعرگزرا ہے اس کو دیکھتے ہیں   ؎

گدا سمجھ کے وہ چپ تھا مری جو شامت آئے

اٹھا  اور اٹھ کے قدم میں  نے  پاسباں  کے  لیے
ظاہر ہے کہ یہاں ایسا کچھ بھی نہیں ہے جسے ’ظرف تنگناے غزل‘ سے متعلق کیا جا سکے۔ اور حقیقت تو یہ ہے کہ جو مضمون بیان کیا گیا ہے وہ اردو کیا، فارسی شاعری میں بھی نہیں باندھا گیا۔ غزل کے مخالفین کچھ بھی کہیں اور غزل میں انسان کی کم وقعتی پر کتنا ہی ماتم کریں، لیکن یہ مضمون اپنی جگہ پر بالکل نیا ہے اور ایسا کہ پہلے تو کبھی بندھا ہی نہ تھا، بعد میں بھی کسی سے نہ بندھ سکا۔
منقولہ بالا شعر کے بعد وسعتِ بیاں اور تنگناے غزل کا مضمون ہے جس کی تعبیر میں منقولہ بالا شعر سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملتی۔اس لیے اس سے اگلا شعر دیکھتے ہیں   ؎

دیا ہے خلق کو بھی تا اسے نظر نہ لگے

بنا  ہے  عیش  تجمل  حسین   خاں  کے  لیے

اب بات فوراًآئینہ ہو جاتی ہے۔ پچھلا شعر اس بات کی تمہید تھا کہ میں تجمل حسین خان کی مدح کا شوق بے حد رکھتا ہوں لیکن غزل کا دامن قصیدے کی طرح وسیع نہیں کہ اس میں مختلف طور اور قرینے سے مدح کے مضامین بیان ہو سکیں۔ یعنی یہاں غزل کے دامن کی تنگی کی بات نہیں ہو رہی ہے، غزل اورقصیدے کا فرق بیان ہو رہا ہے۔ غزل بنیادی طور پر عشقیہ مضامین کی شاعری ہے اوراس کی زبان بھی قصیدے کے پر شکوہ اور مغلق الفاظ سے بالعموم ابا کرتی ہے۔قصیدہ ہوتا تو میں طبیعت کی جولانی دکھاتا، غزل میں کہاں تک اور کس طرح بیان کروں۔ پھر بھی شوق سے مجبور ہو کر چند شعر موزوں کررہا ہوں۔
یہ بات خیال میں رکھنے کی ہے کہ غالب نے غزل کو تنگ یا قصیدہ یا مثنوی کو اس کے مقابلے میں فراخ نہیں کہا ہے۔ بات یہاں کمیت کی ہے، کیفیت کی نہیں۔ بات قصیدے میں کثرتِ اشعار اور غزل میں نسبةً قلت اشعار کی ہے۔ اس غزل میں بھی مدح کو ختم کرتے وقت غالب نے یہی کہا ہے کہ لکھنے کے لیے مزید جگہ نہیں مل رہی ہے، ورق ختم ہو گیا    ؎

ورق   تمام   ہوا   اور   مدح   باقی    ہے

سفینہ چاہیے اس بحرِ بے کراں کے لیے

لفظ ‘سفینہ’ بھی یہاں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ‘بحر بےکراں’ سےصرف مناسبت ہی نہیں رکھتا،  بلکہ اس کے ایک معنی ’مجموعہ‘ یا ’بیاض‘ بھی ہوتے ہیں۔’بہارِعجم‘ میں ہے کہ ’سفینہ‘ عرف عام میں اس بیاض کو کہتے ہیں جو لمبائی کی طرف سے کھلتی ہے اور جس کی شکل کشتی کی طرح ہوتی ہے۔ یہی معنی ’آنند راج‘ میں بھی درج ہیں، اس تفصیل کے ساتھ کہ عربی میں لفظ ’سفینہ‘کی بہت سی جمعیں ہیں اور لغت نگار نے وہ سب درج کر دی ہیں۔

غزل زیر بحث کا مقطع دیکھیے تو ہماری تعبیر بالکل مکمل ہوجاتی ہے  ؎

اداے خاص سے غالب ہوا ہے نکتہ سرا

صلاے عام ہے یاران نکتہ داں کے لیے

 

یہاں اگرچہ لفظ ‘نکتہ’ کی تکرار کچھ گراں گزرتی ہے، لیکن معنی بالکل واضح ہیں: غالب نے اس غزل میں کچھ نئے انداز سے نغمہ سنجی کی ہے، یعنی غزل میں قصیدے کے شعر ڈال دیے ہیں۔ اب جو لوگ نکتہ شناس ہیں وہ اس کی داد دیں اور اس طرح کہنے کی کوشش کریں۔
تو جب ایک شعر کی تعبیر میں اس قدر الجھن ہو سکتی ہے تو کسی وسیع الذیل حقیقت یا حقائق کی تعبیر میں کس قدر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں،اس کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔مزید وضاحت کے لیے تاریخِ ادب سے ایک مثال لیتے ہیں۔
جب تک میر اور قائم کے تذکرے چھپ کرعام نہیں ہوئے تھے، ولی کے بارے میں عام لوگوں کی معلومات کا ماخذ مولانا محمد حسین آزاد کی تصنیف’آبِ حیات‘ تک محدود تھا۔ مثلاً یہ بات مصدقہ طور پر معلوم نہ تھی کہ ولی کتنی بار دہلی آئے اور پہلی بار کب آئے۔ مولانا محمد حسین آزاد ’آبِ حیات‘ میں لکھتے ہیں:

’’ ولی احمدآباد گجرات کے رہنے والے تھے اور شاہ وجیہ الدین کے مشہور خاندان سے تھے۔ یہ اپنے وطن سے ابوالمعالی کے ساتھ دہلی میں آئے۔ یہاں شاہ سعد اللہ گلشن کے مرید ہوئے۔ شاید ان سے شعر میں اصلاح لی ہو۔مگر دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناً ان کے اشارے سے کی۔‘‘
اس آخری جملے پر آزاد کا حاشیہ ہے:’دیکھو تذکرۂ فائق کہ خاص شعراے دکن کے حال میں ہے اور وہیں تصنیف ہوا ہے۔‘لیکن مشکل یہ ہے تذکرۂ فائق نامی کسی کتاب سے کوئی واقف نہیں ہے۔ نگار پاکستان کے ’تذکروں کا تذکرہ‘ نمبرمطبوعہ 1964 میں فرمان فتح پوری نے تمام معلوم تذکروں کی فہرست دی ہے اور پھر ان کا حال لکھا ہے۔ صفحہ 4 پر کسی ’مخزنِ شعرا‘ مرقومہ 1297ھ بہ مطابق 1880کا ذکر ہے اور مصنف کا نام نورالدین خان فائق بتایا ہے۔ لیکن کتاب کے متن میں اس تذکرے کا کوئی حال نہیں۔ فہرست میں ’مخزن شعرا‘ کا اندراج بھی اپنی مناسب جگہ پر نہیں ہے، کیوں کہ اس کے بعد بھی کئی تذکرے ایسے درج ہیں جو 1880کے بہت پہلے لکھے گئے۔ 1880میں تحریر کردہ (یا شایع شدہ) تین تذکروں کے نام فہرست میں درج ہیں:’طورِ کلیم‘؛ ’بزمِ سخن‘ اور خود ’آبِ حیات‘۔ فائق کے تذکرے کا نام یہیں آنا چاہیے تھا لیکن وہ اپنی جگہ سے بہت پہلے آگیا ہے اور اس کے آگے کوئی صفحہ نمبر بھی نہیں ہے، صرف 20 لکھا ہے۔
محمد حسین آزاد پراسلم فرخی مرحوم کی مبسوط دو جلدی کتاب میں بھی نور الدین خان فائق یا ’مخزنِ شعرا‘ کا کوئی ذکر نہیں۔ نہ ہی مسعود حسن رضوی ادیب کی کتاب ’آبِ حیات کا تنقیدی مطالعہ‘ یا قاضی عبدالودود کی ’محمد حسین آزاد بحیثیت محقق‘ میں فائق کا کوئی ذکر ملتا ہے۔ ہمارے یہاں جن لوگوں نے ولی پرتحقیقی نظر ڈالی ہے، انھوں نے اس معاملے پر کوئی توجہ نہیں کی۔ ورنہ یہ تذکرہ (اگر واقعی ایسا کوئی تذکرہ ہے اور بقول آزاد وہ ’خاص شعراے دکن کے حال میں ہے‘) حاصل ہو سکتا توولی اور شاہ گلشن کی مبینہ ملاقات اور شاہ صاحب کے اس مشورے کے بارے میں کہ ولی اپنا دیوان ’فارسی کے طور پر‘ ترتیب دیں، کچھ زیادہ تفصیلی اور زیادہ معتبر بات معلوم ہو سکتی تھی۔
جیسا کہ میں نے ابھی عرض کیا،اس وقت تو ولی کی دہلی (پہلی اور اغلباً واحد) آمد کے بارے میں ہمارے پاس ‘آبِ حیات’ کے بعد جو دو اطلاعات ہیں وہ میر اور قائم کے تذکروں پر مبنی ہیں۔ میرکا بیان درج ذیل ہے۔ اس کے بعد میں قائم کا بیان نقل کروں گا:

’’ولی (محمد، ملک الشعرا) شاعر ریختہ (زبردست) (صاحب دیوان) از خاک اورنگ آباد است۔ می گویند کہ در شاہجہان آباد نیز آمدہ بود۔ بخدمت میاں(شاہ) گلشن صاحب رفت و از اشعار خود پارۂ خواند۔ میاں صاحب فرمود(ند کہ)ایں ہمہ مضامین فارسی کہ بیکار افتادہ اند، در ریختہ(ہاے)خود بکار ببر۔ از تو کہ محاسبہ خواہد گرفت۔‘‘(’نکات الشعرا‘ از میر محمد تقی میر، مرتبہ و مدونہ پروفیسر محمود الٰہی، ادارۂ تصنیف، دہلی 6، 1972، ص 91)

’’شاہ ولی اللہ، ولی تخلص، شاعرےست مشہور، مولدش گجرات است۔ گویند بہ نسبت فرزندی شاہ وجیہ الدین گجراتی، کہ از اولیاے مشاہیر است، افتخار ہاداشت۔ درسنہ چہل و چہار ازجلوس عالمگیر بادشاہ، ہمراہ میر ابوالمعالی، نام سید پسرے کہ دلش فریفتۂ او بود، بہ جہان آباد آمد۔ گاہ گاہ بزبان فارسی دو سہ بیت در وصف خط و خالش می گفت۔ چوں درآنجا ملازمت حضرت شیخ سعد اللہ گلشن قدس سرہٗ مستعد گردید، بگفتن شعر بزبان ریختہ امر فرمودند و ایں مطلع تعلیماً موزوں کردہ حوالۂ او نمودند

خوبی اعجاز حسن یار گر انشا کروں

بے تکلف صفحۂ کاغذ یدِبیضا کروں

(’مخزن نکات‘ از قائم چاندپوری، مرتبہ و مدوّنہ اقتدا حسن، لاہور، مجلس ترقیِ ادب، 1966، متن صفحہ 21 تا 22)

ان دو عبارتوں میں کئی تضاد اور کئی اختلافات ہیں۔ ان کو مختصراً یوں بیان کیا جا سکتا ہے:

  1.   میر کا کہنا یہ ہے کہ ولی جب دلی آئے تو شاعر تھے۔ لیکن شاہ صاحب نے ان کے اشعار سن کر مشورہ دیا کہ فارسی میں مضامین بھرے پڑے ہیں، انھیں کیوں نہ استعمال کرو۔ میر کو یہ نہیں معلوم کہ ولی اور گلشن کی ملاقات دلی میں کب ہوئی۔
  2. قائم کہتے ہیں کہ ولی جب دہلی پہنچے تو وہ ریختہ کے شاعر ہی نہیں تھے، نہ ہی وہ باقاعدہ فارسی گو تھے۔ ہاں کبھی کبھی ایک دو بیت فارسی میں شاہ ابوالمعالی کی ثنا و صفت میں کہہ لیتے تھے۔ شاہ گلشن نے ’مضامین فارسی‘ کو بکار لانے کے باب میں ولی کوکچھ مشورہ نہ دیا، البتہ ایک مطلع بطورتعلیم موزوں کرکے ان کو عطا کیا۔
  3. ولی کے دہلی آنے کی تاریخ کے بارے میں میر کو کچھ نہیں معلوم۔ ان کا بیان ہے کہ ’لوگ کہتے ہیں‘ کہ وہ شاہجہان آباد دہلی بھی آئے تھے۔ اس کے برخلاف قائم نے پورے وثوق سے کہا ہے کہ ولی اورنگ زیب عالمگیر کے چوالیسویں سالہ جلوس میں دہلی آئے۔ معمولی گنتی کرنے سے معلوم ہو جاتا ہے کہ یہ سال 1112 ہجری اور 1700 حالی تھا۔چوں کہ ولی کے ورودِ دہلی کے بارے میں ہمیں کوئی اور قطعی اطلاع نہیں، اس لیے سب اسی تاریخ کو مانتے ہیں۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ ان تضادات کا کیا ہو؟ میر کہتے ہیں شاہ صاحب نے ولی سے کہا کہ فارسی کے مضامین کیوں نہیں لکھتے ہو؟ قائم کہتے ہیں کہ ولی اس وقت تک ریختہ گو تھے ہی نہیں، چہ جاے کہ شاہ صاحب ان کا کلام سنیں اور کوئی مشورہ دیں۔ لیکن یہ انھوں نے ضرور کہا کہ ریختہ کہو اوران کو تعلیماًایک مطلع بھی کہہ کر دیا۔
اس بات کی اہمیت اس وجہ سے ہے کہ دہلی والوں نے میر اور قائم کے بیانات کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا(اور یہ فیصلہ اب تک رائج ہے) کہ ولی کچھ نہ تھے اور کچھ نہ ہوتے اگر وہ دہلی نہ آئے ہوتے اور انھوں نے شاہ سعد اللہ گلشن سے فیض نہ حاصل کیا ہوتا۔

مجھے نہیں معلوم کہ ہمارے کسی محقق نے میر اور قائم کے تضادات اور اختلافات پر غور کیا ہو۔ محمد اکرام چغتائی، جو مورخ ہیں اور ادبی محقق کے زمرے میں نہیں آتے، انھوں نے ضرور لکھا ہے کہ 1112ھ میں شاہ گلشن صاحب دہلی میں تھے ہی نہیں، وہ دکن کی سیاحت کر رہے تھے۔ لہٰذا دہلی میں شاہ صاحب اور ولی کی 1112 میں ملاقات ممکن ہی نہیں ہے۔ اقتدا حسن نے چغتائی کے مضمون مطبوعہ ’اردو نامہ‘ بابت مارچ 1966 کا حوالہ اسی صفحے پر حاشیے میں دیا ہے جہاں سے میں نے قائم کا بیان نقل کیا۔دوسرے صاحب ڈاکٹر محمدصادق ہیں جنھیں ہم ان کی تاریخ ادب اردو بزبان انگریزی کے حوالے سے جانتے ہیں۔ محقق انھیں کوئی نہیں مانتا۔ یوں بھی، وہ انگریزی کے پروفیسر تھے، اردو والے انھیں اپنا آدمی بھلا کب مان کے دیتے؟ لیکن ’تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند‘ جلد ششم، مطبوعہ پنجاب یونیورسٹی،لاہور کے صفحہ530 اور پھر صفحہ 532پر صادق صاحب لکھتے ہیں:

’’تذکرہ نگار اس بات پر متفق ہیں کہ ولی کا سفرِ دہلی، نہ صرف اس کی شاعری میں بلکہ اردو شاعری کی تاریخ میں بھی ایک حد فاصل کی حیثیت رکھتا ہےمیری رائے میں [شاہ گلشن کی]یہ مفروضہ ہدایات اہالیان دہلی کی اختراعات ہیں۔ان کا منشا (غیر شعوری طور پر ہی سہی)یہ ہے کہ اردو شاعری کی اولیت کا سہرا دہلی ہی کے سر رہے۔‘‘
میں چودھری محمد نعیم کا ممنون ہوں(اگرچہ مستعمل معنی میں محقق وہ بھی نہیں ہیں) کہ انھوں نے ڈاکٹر صادق کی عبارت کی خبر مجھے دی۔ لیکن میں اردو کے محققین سے پوچھتا ہوں کہ انھوں نے ’آب حیات‘ اور ’نکات الشعرا‘ اور ’مخزن نکات‘ کے بیانات پر آنکھ بند کر کے کیوں یقین کر لیا؟ آزاد کا تعصب تو اس بات سے ظاہر ہے کہ ایک طرف تو وہ یہ کہتے ہیں کہ ولی نے ’دیوان کی ترتیب فارسی کے طور پر یقیناًان [شاہ سعد اللہ گلشن]کے اشارے سے کی‘ اور دوسری طرف وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ ولی نے یہ تو لکھا ہے کہ میں شاہ سعد اللہ گلشن کا شاگرد ہوں’ مگر یہ نہیں لکھا کہ کس امر میں۔‘اس صورت میں اس بات کا امکان کتنا رہ جاتا ہے کہ کوئی شخص، جو فن شعر میں کسی کا استاد نہ ہو، وہ اسے اتنا مہتم بالشان مشورہ دے ڈالے کہ فارسی میں مضامین پڑے ہیں انھیں بے تکلف لوٹو اور اپنا گلشن شاعری آراستہ کرو۔

قائم نے تو کہہ دیا کہ شاہ گلشن سے ملاقات کے پہلے ولی ریختہ کے شاعر ہی نہ تھے، لیکن آزاد خود کہہ رہے ہیں کہ ولی نے ایک شعر میں ناصر علی سرہندی کو کھل کر چنوتی دی ہے

 

اچھل کر جا پڑے جوں مصرع برق

اگر  مصرع   لکھوں  ناصر علی   کوں

’کلیات ولی‘مرتبہ نورالحسن ہاشمی مطبوعہ لاہور، 1996، صفحہ195 پر یہ شعر یوں درج ہے   ؎

 

پڑے سن کر اچھل جیوں مصرع برق

اگر   مصرع   لکھوں   ناصر علی   کوں

بے شک یہ شعر آزاد کے روایت کردہ شعر سے بہتر ہے، لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ ایسا شعر ناصر علی کے زمانۂ حیات ہی میں کہا گیا ہوگا۔ ناصر علی سرہندی کا سال وفات1696 ہے۔ اس طرح یہ بات بالکل صاف ہے کہ 1696تک (یعنی دہلی آنے سے کم از کم چار سال پہلے)ولی شعر گوئی میں اتنے مشاق اورمستحکم ہو چکے تھے کہ اپنے زمانے کے ایک بہت بڑے فارسی استاد کو اس طرح للکار سکتے۔
مندرجہ بالا بحث سے ثابت ہوتا ہے کہ ’نئے حقائق کی دریافت‘ ہو، یا ’پہلے سے معلوم حقائق کی نئی تعبیر‘، ولی کے بارے میں ان دونوں شرائط کا حق ’آب حیات‘ اور ’نکات‘ اور ’مخزن‘میں درج کردہ بیانات کی تحقیق کی حد تک ہم سے ادا نہیں ہو سکا ہے۔ ڈاکٹر محمد صادق نے کھلے طور پر دہلی والوں کے تعصب کو اس کا ذمہ دار بتایا ہے۔ لیکن اس کو کیا کیا جائے کہ جو دہلی والے نہیں بھی ہیں  وہ بھی میر اور قائم کے اختراع کردہ افسانوں سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ چناں چہ تبسم کاشمیری اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں:
’’شمال کے اس سفر کی داستان خواہ کچھ ہی کیوں نہ ہو،یہ بات ظاہر ہے کہ شمالی ہند کے ادبی ماحول، تہذیبی فضا اور شعری اسالیب سے ولی نے بہت کچھ سیکھا ہوگا۔‘‘

یعنی اب بات ’تھا‘ سے ’ہوگا‘ تک آگئی، لیکن بات رہی وہی پہلے سی۔ لطف یہ ہے کہ اسی صفحے پر تبسم کاشمیری نے یہ بات کہی ہے کہ ’یہ ولی کا کمال تھا کہ اس نے شمالی ہند میں فارسی روایت کے مغرور علما اور شعرا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔‘
بھلا ’بہت کچھ سیکھنے‘ میں ’جھنجھوڑ کر رکھ دینے‘ کا عنصر کہاں رہا ہوگا؟ لیکن ظاہر ہے ولی رہے پھر بھی دہلی کے ممنون احسان کہ بقول ناصر نذیر فراق، ورود دہلی کے پہلے ولی شاعر ہی نہیں تھے، وہ جو کچھ ہیں انھیں دہلی نے بنایا۔ جمیل جالبی نے اپنی تاریخ میں اس بات کو ثابت کرنے کے لیے بہت زور لگایا ہے کہ ولی کا انتقال 1707/1708 کے بہت بعد ہوا ہوگا، کیونکہ اگر وہ دہلی پہنچنے کے کچھ ہی عرصہ بعد راہی ملک عدم ہوئے تو بھلا انھوں نے وہ سارا کلام کب کہا ہو گا جو کمیت میں خاصا ہے اور جس پر بقول جالبی صاحب، دہلی کا اثر صاف نظر آتا ہے؟ لیکن حقیقت بہ ہر حال یہی ہے کہ ولی کا مکمل ترین کلام جس مخطوطے میں ملتا ہے اس کی تاریخ کتابت 1709 ہے۔اس کے بعد اگر وہ جئے ہوتے اور انھوں نے کچھ کہا ہوتا تو وہ کہیں تو ملتا۔

فن تحقیق پر ہمارے یہاں کئی کتابیں اور کئی مضامین ہیں۔ تقریباً سب میں دیانت داری پر زور دیا گیا ہے لیکن مجرد دیانت داری کسی کام کی نہیں۔دیانت داری کی سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ پوری اور سخت چھان بین کے بغیر کسی ایسی بات کو، یا کسی ایسے نتیجے کو نہ قبول کر لیا جائے جو ہمارے دل کو بھاتا ہو بلکہ ایسے نتیجے کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے جو ہمارے حسب دلخواہ ہو۔ ہماری ادبی تحقیق کی تاریخ میں ایسی مثالیں بہت ہیں کہ محقق نے پوری ایمان داری کے ساتھ کسی نتیجے کو اس لیے قبول کیا کہ وہ اس کے معتقدات کے موافق تھا، یعنی اس کا خیال تھا کہ اس چیز کو ایساہی ہونا چاہیے۔
داغ پر ہم لوگوں کی خامہ فرسائیاں اس کی مثال ہیں۔ انگریزی تاریخیں یا انگریزوں سے متاثر تاریخیں پڑھ پڑھ کرہم لوگوں نے یقین کر لیا کہ بہادر شاہ ظفر کے زمانے میں لال قلعہ ہر طرح کی بداطواری اور تعیش پسندی اور ذہنی انحطاط کا صدر مقام تھا۔ پھر ہم لوگوں نے پڑھا کہ داغ کی ماں نے ایک شہزادے سے شادی کر لی اور قلعہ میں جا رہیں اور داغ بھی ان کے ساتھ تھے۔لہٰذا داغ کی نشوو نما لال قلعے میں ہوئی۔ داغ کے بارے میں یہ کہا گیا:

’’مغلیہ حکومت کا یہ آخری دور تھا۔ شمشیر و سناں سے گزر کر طاﺅس و رباب میں شاہی خاندان مصروف تھا۔ رقص و سرود کی محفلیں، قلعے کی بیگمات،خواصیں، چونچلے، رنگ رلیاں،اس ماحول میں شہزادوں کے ساتھ داغ نے بھی بارہ سال گزارے۔‘‘
ہم لوگوں کے خیال میں اس کا لازمی نتیجہ یہ ہونا چاہیے تھا کہ قلعے والوں کی تمام بری باتیں داغ کی طینت میں پیوست ہو جائیں۔ مندرجہ بالا رائے کا بلاواسطہ یا بالواسطہ پرتوداغ کے بارے میں ہرتحریر میں ملتا ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اقتباس کی سب باتیں غلط ہیں سوا اس کے کہ داغ نے قلعے میں بارہ سال گزارے۔اگر ذرا سی بھی کاوش کی جاتی تو داغ کے بارے میں ہمارے نتائج بالکل مختلف ہو سکتے تھے۔ لیکن جو نتیجہ ہم نے نکالا وہ جذباتی طور پر ہمارے لیے قابل قبول تھا کہ داغ تو ہنسی ٹھٹھول کے شاعر تھے، ان کے کلام میں مضامین بلند نہیں ہیں۔ اسی لیے وہ ارباب نشاط میں بہت مقبول تھے۔ مزید کاوش کی ضرورت نہ سمجھی گئی۔داغ کا دیوان کھولنے کی زحمت کون کرتا۔
یہیں سے محقق کے منصب کے بارے میں دوسری اہم بات بھی سامنے آتی ہے: جو نتیجے اور فیصلے پہلے سے موجود ہیں یا ہم نے ورثے میں پائے ہیں،ان پر آنکھ بند کرکے یقین نہ کر لینا چاہیے۔ کوئی روایت، خواہ وہ بظاہر کتنی ہی دلکش یا کتنی ہی مستند کیوں نہ ہو،اسے اسی وقت قبول کرنا چاہیے جب اپنی ذاتی تحقیق اس کی تصدیق کر دے۔ ہمارے یہاں کتاب پر اعتماد کی رسم بہت مستحکم ہے۔ کسی مبتدی طالب علم کے لیے تویہ طریق عمل بہت مناسب ہے، لیکن محقق کا یہ منصب نہیں۔ یہ بھی ہے کہ ادبی تہذیب میں بعض باتیں غیر معمولی شہرت حاصل کر لیتی ہیں، خواہ وہ کسی کتاب میں نہ ہوں۔انسان کا مزاج ایسا ہے کہ وہ مشہور باتوں پر،یا لکھی ہوئی باتوں پریقین کر لینے پر بہت مائل رہتا ہے، خاص کر اگر ایسی باتیں دلکش یا ڈرامائی انداز میں بیان کی گئی ہوں۔ محقق کواس کمزوری سے مبرا ہونا چاہیے۔
ہمارے جدید شعرا میں میراجی ایک ایسے ہیں جن کی شخصیت کی بارے میں خاکے کے نام پر بہت کچھ لکھا گیا ہے اور وہ کم و بیش سب کا سب حقیقت کے طور پر قبول کر لیا گیا ہے۔اس کی وجہ یہی ہے کہ میراجی کا افسانہ پہلے بنا، خاکے بعد میں لکھے گئے۔ یعنی ان کی شخصیت میں کچھ ایسی بات تھی، اسے اسرار کہیے، کشش کہیے، یا توجہ انگیزی کہیے، لیکن کچھ ایسا ضرور تھا کہ لوگوں کو ان کے بارے میں طرح طرح کی باتیں مشہور کرنے میں مزہ آتا تھا۔ لیکن غور کرنے کی بات یہ ہے کہ ہر خاکہ ان کی زندگی کی کسی منزل پرلکھا گیا ہوگا، وہ ان کی پوری زندگی کو محیط نہیں ہو سکتا۔ لیکن اکثر لوگوں نے ہر خاکے کو میراجی کی پوری شخصیت کی تصویر سمجھ لیا ہے۔ ہر چند کہ میراجی کی تخلیقی شخصیت تو دور رہی، ان خاکوں سے ان کی پوری زندگی کی بھی فہم نہیں حاصل ہو سکتی۔ مثلاً کہا گیا کہ میراجی اپنی پتلون کی جیبیں کٹوا دیا کرتے تھے۔ممکن ہے ایسا ہو، لیکن کون سے میراجی؟ بمبئی کے میرا جی، یا دہلی کے میرا جی، یا حلقۂ ارباب ذوق کے میراجی، یا ’ادب لطیف‘ کے مدیر میراجی؟ بعض لوگوں نے کہا کہ ان کی نظمیں مبہم ہوتی تھیں اور انھیں ابہام بہت پسند تھا۔وہ اپنی بات کو گھماپھرا کر کہنا پسند کرتے تھے۔لیکن ’مشرق و مغرب کے نغمے‘ میں جو میراجی ہیں وہ تو انتہائی شفاف نثر لکھتے ہیں۔ ایک صاحب نے ان کی کتاب ’اس نظم میں‘ کا صرف نام سن لیا، اور چوں کہ یہ مفروضہ بہت مشہور تھا کہ میراجی کا کلام مشکل اور مبہم ہوتا تھا، لہٰذا انھوں نے کتاب پڑھنے کی زحمت کیے بغیر لکھ دیا کہ میراجی کا کلام اس قدر مشکل تھا کہ انھوں نے مجبوراً خود ہی ’اس نظم میں‘ نامی ایک کتاب لکھی اور اس میں اپنی نظموں کے معنی بیان کیے۔
ہمارے یہاں پہلے زمانے کی ادبی تاریخ کے بارے میں اس طرح کی حکایتیں بہت مشہور ہیں کہ مثلاً انشا آخری عمر میں بالکل بدحال اور مجنون ہو گئے تھے، یا غالب نے آخیر آخیر میں طرز میر اختیار کیا، یا اردو ’لشکری زبان‘ ہے کیونکہ ’اردو‘کے معنی’لشکر‘ ہیں۔ محقق کو یہ اصول ہمیشہ مدِّنظر رکھنا چاہیے کہ جو بات جتنی ہی مشہور ہوگی، اتنا ہی قوی امکان اس بات کا ہوگا کہ وہ غلط ہوگی لیکن ہمارےمحققین نے اس اصول کو اکثر نظر انداز کر دیا ہے۔
آج ہماری زبان پر کڑا وقت پڑا ہے۔اور اس کی وجہ سیاسی یا سماجی نہیں بلکہ خود ہم لوگوں کی سہل انگاری اور ہم میں غور و تحقیق کی کمی ہے۔ آج اردو پڑھنے والے کم نہیں ہیں اور ان کی تعداد روز بروز بڑھ رہی ہے۔اور یہ بھی غلط ہے کہ اردو پڑھے ہوئے شخص کو معاش نہیں ملتی۔ ہمارا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے پاس اچھے پڑھانے والے نہیں ہیں۔ہم میں سے ہر ایک کو جیسی بھی ہو، ٹوٹی پھوٹی ڈگری حاصل کر لینے اور پھر تلاش معاش کے لیے جوڑ توڑمیں لگ جانے کی جلدی ہے۔ آج کل ہماری یونیورسٹیوں میں جن موضوعات پر تحقیق ہو رہی ہے اور جس طرح کی تحقیق ہورہی اس میں بھاری اکثریت ’فلاں کی حیات اور کارنامے‘ قسم کی ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب کم حقیقت اور زندہ لوگوں کے ’کارناموں‘کے الگ الگ پہلوﺅں پر تحقیقی مقالے لکھے جارہے ہیں۔مثلاً ’فلاں کی افسانہ نگاری‘،پھر اسی شخص کی شاعری، پھر اسی شخص کی تحقیق، وغیرہ الگ الگ موضوع بن گئے ہیں۔ زندوں بچاروں پر یوں لکھا جارہا ہے گویا اب انھوں نے اپنا کام پورا کر لیا اور اب ہم ان کے ’ کارناموں‘ کا مکمل احاطہ کر سکتے ہیں۔
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ایک ہی موضوع پرایک ہی یونیورسٹی میں، یا مختلف یونیورسٹیوں میں تحقیق کی داد دی جارہی ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں تحقیقی مقالوں میں نئی بات کیا، تنوع بھی نہ ہوگا۔’چبائے ہوئے نوالے‘، ’چچوڑی ہوئی ہڈیاں‘جیسے فقرے ایک زمانے میں ہماری شاعری کے بارے میں استعمال ہوتے تھے۔ اب یہی فقرے ہمارے تحقیقی مقالوں پر صادق آتے ہیں۔

Ghubar E Khatir ka Usloob by Abdulbari Qasmi

Articles

غبارخاطرکا اسلوب

عبدالباری قاسمی

جب سے دیکھی ابوالکلام کی نثر
نظم حسرتؔ میں کچھ مزا نہ رہا
اس شعر کو پڑھ کر ہی بیسویں صدی کے مایہ ناز انشاپرداز، صحافی اور سیاست داں ــــمحی الدین ابولکلام آزاد کے اسلوب تحریر اور طرز نگارش کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔مولانا آزاد جہاں ہندوستا نی سیاست میں صف اول کے لوگوں میں قیادت کے منصب پر فاــئزتھے وہیں نثر نگاری ،خطابت اور انشاپردازی میں بھی اپنی نظیر نہیں رکھتے تھے ۔ نثر کے باب میں ان کی شناخت منفرد اسلوب اور طرز تحریر کی وجہ سے ہے۔ لہٰذا رشید احمد صدیقی جیسے ادیب اور ناقد نے تحریر کیا ہے کہ
’’ مولانا کا اسلوب تحریر ان کی شخصیت تھی اوران کی شخصیت ان کا اسلوب دونوں کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا‘‘ (۱)
اس تبصرہ سے مولانا آزاد کے اسلوب اور زندگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،ان کے اسلوب میں حکیمانہ لہجہ بھی ہے تو زعیمانہ انداز بھی اور ساتھ ساتھ ادیبانہ وجاہت بھی ،یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے ان کی نثر کو شعر منثور سے تعبیر کیا ہے ۔ وہ بیک وقت متعدداسالیب پر قدرت رکھتے تھے ۔ رشید احمد صدیقی نے ان کے انداز اور لب لہجہ کو قرآنی لہجہ سے تعبیر کیا ہے ’’مولانا نے لکھنے کا انداز، لب و لہجہ اور مواد کلام پاک سے لیا ہے
جو ان کے مزاج کے مطابق تھا مولانا پہلے اور آخری شخص ہیں جنہوں نے براہ راست قرآن کو اپنے اسلوب کا سر چشمہ بنایا‘‘(۲)
غبار خاطر جسے مولانا نے ’’خط غبارمن است این غبار خاطر‘‘کہہ کر پکارا ہے اس سے اس کی اہمیت و افادیت اور دیگر فنی محاسن کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔مولانا کی یہ کتاب جسے مولانانے حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط سے تعبیر کیا ہے۔ بعض حضرات نے اسے انشائیہ تو بعض نے افسانہ کہہ کر بھی پکار ہے، اس میں مولانا نے انشاپردازی ،زبان دانی ،فطری اسلوب ،طنزومزاح ،قلمی مصوری، مناظر فطرت کی عکاسی اور اشعار کا بر محل استعمال کر کے ایسی نقاشی کا اعلیٰ نمونہ پیش کیا ہے کہ لوگ اسے ہاتھوں ہاتھ لینے پر مجبور ہوئے ، آزاد کا کمال ہے کہ کہیں تو بالکل سادگی پر اتر آتے ہیں تو کہیں عربی و فارسی اشعار اور تراکیب لا کر زبان دانی اور تبحر علمی کاا علی نمونہ پیش کرنے میں بھی جھجھک محسوس نہیں کرتے اور سب سے بڑی چیز فطری پن اور بہا ئوہے ۔جو انہیں دیگر انشاپردازوں سے ممتاز کرتی ہے اور انفرادیت کے مقام پر پہنچاتی ہے۔

غبار خاطر کی تصنیف :

غبار خاطر خطوط ہے یا انشائیہ یہ بھی موضوع بحث رہا ہے ،مگر مولانا نے خود اسے خطوط سے تعبیر کیا ہے ،یہ مولانا آزاد کی آخری تصنیف ہے ،جو 3اگست1942ء سے 3ستمبر 1945ء کے درمیانی وقفہ میں رئیس بھیکم پور ضلع علی گڑھ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی کے نام لکھے گئے خطوط کا مجموعہ ہے،اس میں دو خط مولانا شیروانی کے بھی شامل ہیں مگر اتنی بات مسلم ہے کہ مولانا آزادکی شیروانی صاحب سے گہری دوستی تھی ،اس لیے ان کے نام منسوب کرکے یہ خطوط کی شکل میں مضمون لکھے ورنہ ایک بھی خط ارسال نہیں کیا گیا ،البتہ مولانانے خطوط کا پیرایہ اس لیے اختیار کیا کہ بہت سی باتیں جسے مضمون میں ظاہر نہیں کیا جاتا مگر خطوط میں بے تکلف لکھا جا سکتا ہے ۔

مولانا آز اد کے تصنیفی ادوار :

مولانا آزاد ایسے انشاپرداز ہیں جن کے یہاں ایک اسلوب پر اکتفا نظر نہیں آتا ۔بلکہ ان کے اسلوب کو سمجھنے کے لیے ان کے تصنیفی ادوار کو سمجھنا بے حد ضروری ہے۔ان کے تصنیفی ادوار کو چار حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان کا پہلا دور گھن گرج والا دور ہے جس میں انہوں نے ’’ الہلال‘‘ اور’’ البلاغ‘‘ جاری کیااور اپنی سوانح عمری اور تذکرہ بھی ترتیب دیا ۔دوسرا دور وہ ہے جس میں انہوں نے قرآن پاک کے تراجم اور تفسیر وغیرہ لکھے ۔’’ ترجمان القر آن ‘‘اسی دور کی شاہکار ہے۔اس دور میں عالمانہ سنجیدگی اور علمی تبحرکا غلبہ نظر آتا ہے تیسرادور وہ ہے جس میں انہوں نے خط کی شکل میں انشائیوں کے اعلی نمونے پیش کیے غبار خاطر اسی دور کی تصنیف ہے اور چوتھا دور وہ ہے جس میں انہوں نے مختلف اور متعدد معرکتہ الآرا خطبے پیش کیے ’’ خطبات آزاد‘‘ اسی عہد کی باز گشت ہے ۔

مولانا آزاد کے متعدد اسالیب :

مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین اسالیب اختیار کیے ۔اطلاعی اسلوب یعنی کسی کو اطلاع دینا خواہ مثبت ہو یا منفی عام طور پر رپورٹنگ اسی اسلوب میں ہوتی ہے ۔الہلال ، البلاغ تذکرہ اور خطبات میں اسی اسلوب کو برتا گیا ہے ۔ہدایتی اسلوب سے مراد directive style ہوتا ہے یعنی حکم دینا یہ طریقہ ترجمان القرآن میں دکھائی دیتا ہے اور اظہاری اسلوب سے مراد expressive style ہوتا ہے اس اسلوب کو شاعری اور جذبات و احساسا ت کی ترجمانی کے لیے استعمال کیا جا تا ہے یہاں مواد اور معنی کی جگہ لفظ اور طرز بیان کو اہمیت حاصل ہوتی ہے اسے’’ غبارخاطر ‘‘ میں محسوس کیا جا سکتا ہے ۔مرزا خلیل احمد بیگ نے ان کے اسلوب کے متعلق لکھا ہے کہ
’’ غبار خاطر کی نثر ادبی مرصع کاری اور رنگین عبارت کا اعلیٰ نمونہ ہے ۔ اس کے علاوہ لفظی رعایات و مناسبات فقروں کی صوتی دروبست جملوں کی متوازن ترکیب و ترتیب اظہار کے بدلے ہوئے پیرائے۔ نت نئے تلازمات اور نادر ترکیبات نے اس کی دل آویزی اور دل کشی میں اور بھی اضافہ کر دیا ہے‘‘(۴)۔

غبار خاطر کی زبان :

غبار خاطر میں مولانا آزاد نے بنیادی طور پر تین طرح کی زبان استعمال کی ہے ،ویسے ان کے اسلوب میں زعیمانہ ،حکیمانہ اورادیبانہ انداز ہے وہی زبان میں بھی ۔غبار خاطر میں سادہ اور عام فہم زبان کے نمونے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ایک اقتباس چڑا چڑے کی کہانی سے :
’’ لوگ ہمیشہ اس کھوج میں لگے رہتے ہیں کہ زندگی کو بڑے بڑے کاموں میں لائیں ۔ مگر یہ نہیں جانتے کہ یہاں سب سے بڑا کام خود زندگی ہے یعنی زندگی کو ہنسی خوشی کاٹ دینا یہاں اس سے زیادہ سہل کوئی کام نہیں ‘‘(۵)
غبار خاطر کی زبان شعریت سے متصف ہے یہ آزاد کی شعری آہنگ والی ایسی زبان ہے جس نے آزاد کو نثر نگار کی فہرست سے نکال کر شاعروں کے صف میں کھڑا کرنے کی کوشش کی ۔ اس انداز بیان کے نمونے غبار خاطر میں جابجا دیکھے جا سکتے ہیں۔
’’اس کارخانہ ہزار شیوہ و رنگ میں کتنے ہی دروازے کھول جاتے ہیں تاکہ بند ہوں اور کتنے ہی بند کیے جاتے ہیں تاکہ کھولے جائیں ‘‘ (۶)
فارسی آمیز : غبار خاطر میں زبان کی تیسری قسم فارسی آمیز زبان کی ہے ، غبار خاطر میں مولانا آزاد نے شروع سے آخر تک جگہ جگہ فارسی اشعار الفاظ و تراکیب اور فارسی محاوروں کا استعمال کیا ہے ۔اس سے جہاں ایک طرف آزاد کی فارسی پر عبور اور گرفت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں اس بات کی بھی فکر دامن گیر ہوتی ہے کہ اس کتاب کو کماحقہ سمجھنے کے لیے فارسی کی شد بد ضروری ہے ۔جیسے ایک خط کا عنوان انہوں نے’’ داستان بے ستوں و کوہ کن‘‘ رکھا ہے ۔

اشعار کا برمحل استعمال :

غبار خاطر اردو،فارسی اور عربی اشعار سے لبریز ہے،مولانا آزاد نے اشعار کوخوبصورتی اور چابکدستی سے استعمال کیا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شعر خود انہیں کا ہے ، کہیں تو مکمل شعر نگینے کی طرح جڑ دیتے ہیں تو کہیں ایک مصرعہ کو ہی جملوں کے درمیان اس انداز سے فٹ کرتے ہیں کہ قاری مطلب بھی سمجھ لیتا ہے اور نثر ایک نئی خوبصورتی سے متصف بھی ہو جاتی ہے ۔
اردو شعر:

شوریدگی کے ہاتھ سے سر ہے وبال دوش
صحرا میں اے خدا کوئی دیوار بھی نہیں
فارسی شعر:

ہزار قافلہ شوق می کشد شب گیر
کہ با رعیش کشاید بخطٔہ کشمیر
عربی شعر ـ:

قلیل منک یکفینی و لکن
قلیلک لا یقال لہ قلیل
اور کہیں کہیں پورے شعر کے مفہوم کو اپنی زبان میں بڑی خوبصورتی سے ڈھال لیتے ہیں ، جیسے میر دردؔ کے مشہور شعر ’’تر دامنی ‘‘ کو اپنی نثر میں بڑی خوش سلیقگی سے ڈھال کر نیا طرز ایجاد کیا ہے ۔

عربی الفاظ وتراکیب کی کثرت :

غبار خاطر میں عربی الفاظ و تراکیب کی بھی خوب کثرت ہے۔ جسے وہ درمیان میں کہیں بھی استعمال کر لیتے ہیں ۔عربی اشعار اور ضرب الامثال کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے الفاظ و تراکیب بھی استعمال کرتے ہیں کہ جسے ایک عربی جاننے والا شخص ہی بہ آسانی سمجھ سکتا ہے۔مشتاق احمد یوسفی نے عربی الفاظ و تراکیب کی کثرت کے متعلق لکھا ہے کہ
’’آزاد پہلے ایسے ادیب ہیں جنہوں نے اردو رسم الخط میں عربی لکھی ہے ‘‘(۷)

فطری اسلوب :

شروع سے آخر تک غبار خاطر ٖفطری اسلوب سے لبریز ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب میں آزاد کے اسلوب کا ایسا بہائو اور ایسی روانی نظر آتی ہے کہ اس کے بہائو کو کوئی بھی پل اور باندھ نہیں روک سکتا ۔رشید احمد صدیقی نے غبارخاطر کے اسلوب پر ان الفاظ میں تبصرہ کیا ہے کہ
’’غبار خاطر کا اسلوب اردو میں نا معلوم مدت تک زندہ رہے گا اکثر بے اختیار جی چاہنے لگ جاتا ہے کہ کاش اس اسلوب کے ساتھ مولانا کچھ دن اور جیئے ہوتے ۔پھر ہمارے ادب میں کیسے کیسے نسرین و نسترن اپنی بہائو دکھاتے اورخود مولانا کے جذبئہ تخیل کی کیسی کیسی کلیاں شگفتہ ہوتیں‘‘(۸)
یہ حقیقت ہے کہ اس کتاب کی دلکشی کا راز اس کی طرز تحریر میں پنہاں ہے اور یہ شاہکار تخلیق اپنے اس عظیم حسن کی وجہ سے ہزاروں حسن پر ستوں کو فرحت و انبساط بخشنے کے ساتھ ساتھ شوق کا ہاتھ دراز کرنے پر مجبور کرے گا ۔

طنزو مزاح :

غبار خاطر میں بکثرت طنزومزاح کے نمونے بھی ملتے ہیں مولانا آازاد کا کمال ہے کہ انہوں نے خشک سے خشک موضوع کو بھی مضحکہ خیز انداز میں اس طرح پیش کیا ہے کہ قاری کا انگشت بدنداں ہونا فطری ہے ۔ایسی خوبصورتی سے طنزومزاح کا نمونہ پیش کرتے ہیں کہ سامنے والے کو احساس بھی نہیں ہوتا اور سب کچھ کہہ جاتے ہیں انہوں نے اپنے ساتھ قلعہ احمد نگر میں اسیر ڈاکٹر سید محمود کے  بارے میں ’’فقیرانہ آئے صدا کر چلے ’’صلائے عام ہے یاراں نکتہ داں کے لئے ‘‘ بڑی خوبصورتی سے مضحکہ خیز انداز میں پیش کیا ہے ۔

رومانیت :

غبارخاطر میں جہاں دیگر محاسن جا بجا نظر آتے ہیں وہیں رومانیت کی جھلکیا ں بھی دیکھنے کو ملتی ہیں ،بہت سے مقامات پر وہ ایسی پر لطف فضا اور ایسا ماحول تیار کرتے ہیں کہ رومانیت کی فضا تیار ہو جاتی ہے ،خاص طور پر اس موقع پر جب وہ اپنے متعلق اشارے کرتے ہیں تو بڑی خوبصورت رومانی فضا قائم ہو جاتی ہے ۔
قلمی مصوری :

غبار خاطر کے اسلوب کا ایک اہم حصہ مولانا آزاد کی قلمی مصوری اور نقش و نگاری بھی ہے جسے بآسانی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔کبھی ایک روحانی شخص کا نقشہ ، کبھی فلسفی کا ،کبھی مزاح نگار کاتو کبھی ایک غمگین شخص کا نہایت خوبصورت قلمی نقشہ بناتے نظر آتے ہیں
’’پھولوں نے زباں کھولی ،پتھروں نے اٹھ اٹھ کر اشارے کئے خاک پامال نے اڑ اڑ کر گہر افشانیاں کیں ‘‘
اس سے ان کی نقش و نگاری اور قلمی مصوری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے ۔عام طور پر ایسے نمونے شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں ،مگر مولانا آزاد نے نثر میں اس کے نمونے پیش کیے ہیں۔

مناظر فطرت کی عکاسی :

مولانا آزاد نے غبار خاطر میں جس خوبصورتی سے پھلوں ،پھولوں ، پرندوں ،بیل ،بوٹوں اور دیگر مظاہر کائنات کی عکاسی کی ہے ۔ اس سے مولانا آزاد کے روحانی مزاج ،فطرت دوستی اور کائنات کے حسین مناظر کے مشاہدہ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور بعض مقامات پر پھولوں کے ذریعے ایسی نقاشی پیش کرتے ہیں کہ جس سے ایرانی اور ہندوستانی دونوں پھولوں کی خوشبو مسکراتی نظر آتی ہے ۔
’’کوئی پھول یاقوت کا کٹورا تھا کوئی نیلم کی پیالی تھی ، کسی پر گنگا جمنا کی قلم کاری کی گئی تھی ‘‘(۱۰)

انانیتی انداز :

غبار خاطرمیں مولانا آزاد کا انانیتی انداز اور لہجہ بھی دیکھنے کو ملتا ہے جس انداز سے شاعرانہ تعلی شاعروں کے یہاں ملتی ہے اسی انداز سے انانیتی نمونے ان کی نثر میں پائے جاتے ہیں خاص طور پر جب وہ اپنے متعلق لمبی باتیں کرتے ہیں تب یہ خصوصیت بہت واضح انداز میں نظر آتی ہے۔
خلاصہ کے طور پر مولانا عبدالماجددریا بادی کے اس قول کو پیش کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کے انداز تحریر اور طرز نگارش کے متعلق لکھا ہے کہ ’’وہ اپنے طرزو انشا کے جس طرح موجد ہیں اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں تقلید کی کوشش بہتوں نے کی ، پیروان غالب کی طرح سب ناکام رہے ،بہ حیثیت مجموعی ابوالکلام آزاد اپنی انشاپردازی میں اب تک بالکل منفردو یکتا ہیں بظاہراحوال یہی نظر آتا ہے کہ غالب کی طرح ان کی بھی یکتائی وقتی نہیں ،مستقل ہے ،حال ہی کے لیے نہیں مستقل کے لیے۔
٭٭٭

حوالہ جات :
(۱)کلیات رشید احمد صدیقی جلد سوم ص:۳۴۷۔(۲)ایضا ص:۳۴۷(۳) اردو کے نثری اسالیب ص:۱۶۱(۴) تنقید اور اسلوبیاتی تنقید ص: (۵)چڑا چڑے کی کہانی غبار خاطر ص: (۶) ایضا ص:۲۱۰(۷) ابولکلام کی اردو آب گم از مشتاق یوسفی (۸) کلیات رشید احمدصدیقی جلد سوم ص :۳۵۴ (۹)غبار خاطر کا تنقیدی مطالعہ ص: ۸۰(۱۰) غبار خاطر ص:۲۱۸۔
٭٭٭
مضمون نگار دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں۔
مضمون نگار سے رابطہ :

abariqasmi13@gmail.com
09871523432

 

Educational Thoughts of Maulana Abul Kalam Azad

Articles

مولانا ابو الکلام آزاد کے تعلیمی نظریات

ڈاکٹر قمر صدیقی

ہر دور میں وقت اور حالات کے مد نظر دانشورانہ فکر کے حامل افراد پیدا ہوتے رہتے ہیں۔ یہ ایک تاریخی عمل ہے لہٰذا کسی بھی دور میں دانشورانہ فکر کے حامل افراد کا موجود ہونا اتنا اہم نہیں ہے جتنا کہ ان افراد کی سوسائٹی کے تئیں سپردگی اور وابستگی کا جذبہ۔مولانا ابو الکلام آزاد کی دانشورانہ فہم و فراست کی عظمت کا راز یہی ہے کہ ان کا سارا علم و تدبر سماج کے لیے وقف تھا۔
مولانا آزاد مکہ معظمہ کے محلہ دارالسلام میں 1888ء میں پیدا ہوئے۔ پندرہ سال کی عمر میں ایک رسالہ ’لسان الصدق‘ نکالا۔ لسان الصدق کے مضامین سے لوگوں کو یہ اندازہ ہوتا تھاکہ یہ رسالہ نکالنے والا کوئی بہت ہی تجربہ کار اور معمر شخص ہے۔چنانچہ لاہور کے انجمن حمایت اسلام کے جلسے میں جب مولانا حالی اور مولانا وحیدالدین سلیم کی ملاقات مولانا ابوالکلام آزاد سے ہوئی تو ان حضرات کوبڑی حیرت ہوئی اور انھوں نے کئی بار دریافت کیا کہ لسان الصدق کے ایڈیٹر آپ ہی ہیں۔ اسی طرح جب مولانا ابوالکلام آزاد کی ملاقات مولانا شبلی نعمانی سے ہوئی تو مولانا شبلی کو بھی بہت حیرت ہوئی۔ اس سلسلے میں مولانا آزاد خود کہتے ہیں کہ ’’چلتے وقت انھوں نے مجھ سے کہا تو ابوالکلام آپ کے والد ہیں! میں نے کہا نہیں میں خود ہوں‘‘۔ مولانا آزاد شروع سے سرسید احمد خاں سے متاثر رہے۔ کچھ عرصہ تک وہ جمال الدین افغانی اورپین اسلام ازم کے زیرِ اثر بھی رہے۔ ان کی میںاس کا عکس نظر آتا ہے۔تعلیم کے شعبے میں وہ سر سیّد کے نظریات کے حامی و ناشر تھے۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمانان ہند جدید تعلیم سے آراستہ ہوں۔ وہ مسلمانوں کی نجات کے لیے جدید تعلیم کو ضروری تصور کرتے تھے۔ سرسید احمد خاں کی خواہش تھی کہ مسلمانوں کی معاشرتی زندگی بالخصوص رسم و رواج میں اصلاح ہو۔ لہٰذاوہ مسلمانوںکے لیے زندگی کے نئے تقاضوںکے تحت اجتہادو اصلاح کو ضروری سمجھتے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے سرسید کے ان نظریات کا نہ صرف باریک بینی سے مشاہدہ کیابلکہ اس پر عمل پیرا بھی ہوئے۔لہٰذا اگر یہ کہا جائے کہ مولانا آزاد، سرسید سے متاثر تھے اور تعلیمی اور سماجی اعتبار سے دونوں کے نظریات مسلمانوں کے متعلق ایک تھے تو غلط نہ ہوگا۔ ہاں! ان دونوں حضرات کے نظریات سیاسی میدان میں الگ ہیں۔ سرسید چاہتے تھے کہ مسلمان کچھ عرصے کے لیے سیاست سے دور رہ کر خود کو نئے حالات کے سانچوں میں ڈھال لیں۔ جبکہ اس تعلق سے مولانا کے سیاسی نظریات سے آپ سب بخوبی واقف ہیں۔
مولانا آزاد ایک خالص مذہبی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ ان کے والد نے بیٹے کی تعلیم و تربیت میں مذہب کو مقدم رکھا۔ قرآن، حدیث، فقہ، اصول اور منطق وغیرہ کی خاص تعلیم کے ذریعہ جس فکری اساس کی بنیاد ان کے والد چاہتے تھے مولانا آزاد کی طبیعت اس سے میل نہ کھا سکی۔ چنانچہ جلد ہی انہوں نے فرسودہ روایات سے انحراف کر کے اپنی الگ راہ بنا لی۔ مولانا آزاد خود کہتے ہیں— ’’مجھے اچھی طرح یاد ہے ابھی پندرہ برس سے زیادہ کی عمر نہیں ہوئی تھی کہ طبیعت کا سکون ہلنا شروع ہو گیا اور شک و شبہات کے کانٹے دل میں چبھنے لگے۔ یہاں تک کہ چند برسوں کے اندر عقائد و افکار کی وہ تمام بنیادیں جو خاندان، تعلیم اور گرد و پیش نے چنی تھیں بہ یک وقت متزلزل ہوگئیں اور پھر وہ وقت آیا جب اس ہلتی ہوئی دیوار کو خود ڈھا کر اس جگہ نئی دیواریں چننی پڑیں‘‘۔
مولانا نے مذہب، سیاست، معاشرت اور حب الوطنی غرضیکہ زندگی اور سماج کے تمام گوشوں میں قرآن و حدیث کی روشنی میں استدلال و اجتہاد کیا۔ مولانا مذہب میں اجتہاد اور تفہیمِ جدید کے علمبردار تھے۔
مسلم معاشرے کی اصلاح اور جہالت و تَوَہُمَات سے چھٹکارا پانے کے بارے میں مولانا آزاد ہمیشہ غور و فکر کرتے رہتے تھے۔ مولانا آزاد کو مسلمانوں کی کامیابی کے لیے صرف ایک ہی راستہ نظر آتا تھا اور وہ راستہ تعلیم ہے۔ وہ مذہبی تعلیم کے ساتھ ساتھ ایسی تعلیم کے قائل تھے جس سے مسلمانوں کا زیادہ سے زیادہ فائدہ ہو۔ مولانا آزاد کے مطابق تعلیم اسلام پر مبنی ہونی چاہئے ۔وہ جس طرز کی تعلیم کے حامی وناشر تھے اس کی بابت ایک تقریر میں انھوں نے کہا تھاکہ۔’’ انگریزی تعلیم کی ضرورت کا تو یہاں کسی کو وہم و گمان تک نہیں گزر سکتا لیکن کم از کم یہ تو ہو سکتا ہے کہ قدیم تعلیم کے مدرسوں میں سے کسی مدرسہ سے واسطہ پڑتا۔ مدرسے کی تعلیمی زندگی کفر کی چاردیواری کے گوشۂ تنگ سے زیادہ وسعت رکھتی ہے اور طبیعت کو کچھ نہ کچھ ہاتھ پاؤں پھیلانے کا موقع مل جاتا ہے‘‘۔
مولانا آزاد فن تعلیم و تربیت اور پورے تعلیمی نظام پر دانشورانہ نگاہ رکھتے تھے اور دینی اور دنیوی تعلیم کے خلا کو پر کرنا چاہتے تھے۔ لہٰذا انھوں تعلیمی نصاب کی بہتری اور ہمہ گیریت پر زور دیا۔خود انھوں نے ڈائریکٹر تعلیم بنگال کی درخواست پر مدرسہ عالیہ کلکتہ کا ایک جامع نصاب تیار کیا۔ مولانا کی خواہش تھی کہ صرف رانچی اور کلکتہ کے مدارس ہی نہیں بلکہ پورا ہندوستان اور مسلم معاشرہ اس سے مستفید ہو۔ وہ چاہتے تھے کہ ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جو تمام علاقے میں قابل قبول ہو۔
مولانا ابوالکلام آزاد کا تصورِ تعلیم ماضی کا ادراک، حال کی بصیرت اور مستقبل کی آگہی پر مبنی ہے۔ مولانا نے ایسی تعلیم کی وکالت کی ہے جو سائنسی تحقیقات اور بھاری صنعتوں کے شایان شان ہو۔ساتھ ہی ساتھ مولانا سائنسی، تکنیکی اور مادی ترقی کو مذہبی اور اخلاقی اقدار کے تابع کرنا چاہتے تھے۔ مولانا آزاد کی دور بین نگاہ قدیم نظامِ تعلیم سے نکل کر جدید طرز تعلیم سے حاصل ہونے والی تبدیلی پر تھی۔ انہوں نے دینی نظام تعلیم میں مضامین کے تنوع اور جدت کی ضرورت کومحسوس کیا۔انھوں نے قومی تعلیمی پروگرام میں مذہبی تعلیم کے تعلق سے 13 جنوری 1948کو نئی دہلی میں ایک پروگرام کے خطبۂ صدارت میں اپنے نظریہ تعلیم پر بہت تفصیل سے گفتگو کی ہے۔ مولانا کہتے ہیںکہ ’’ایک چیز آپ بھول گئے۔ وہ چیز ہے تعلیم اور وقت اور زندگی کی چال کے غیر متعلق کوئی تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ تعلیم ایسی ہونی چاہئے کہ زمانہ کی جو چال ہے، اس کے ساتھ جڑ سکے۔ اگر آپ مذہب اور عصردونوں ٹکڑوں کو الگ رکھیں گے تو وہ تعلیم کامیاب نہیں ہو سکتی۔ آج جو تعلیم آپ ان مدرسوں میں دے رہے ہیں، آپ وقت کی چال سے اسے کیسے جوڑ سکتے ہیں۔ نہیں جوڑ سکتے۔ نتیجہ یہ ہے کہ زمانہ میں اور آپ میں ایک اونچی دیوار کھڑی ہے۔ آپ کی تعلیم زمانے کی مانگوں سے کوئی رشتہ نہیں رکھتی اور ز مانہ نے آپ کے خلاف آپ کو نکما سمجھ کر فیصلہ کر دیا ہے‘‘۔
مولانا ابوالکلام آزاد نے آج سے برسوں پہلے مدارس کے نظام تعلیم کے جن بنیادی نقائص کا ذکر کیا تھا، آج تک ان کے تدارک پر کوئی خاص ٹھوس قدم نہیں اٹھایا جا سکا۔ آج بھی بہت سے بلکہ بیشتر مدارس کی تعلیم عصری زندگی سے دوری پر مبنی ہے۔سرسید اور آزاد کے تعلیمی نظریات ایک ہی زمین کی پیداوار ہیں۔ سرسید نے بھی مسلمانوں کے دائیں ہاتھ میں قرآن اور بائیں ہاتھ میں سائنس کا خواب دیکھا تھا ۔
مسلمان صرف جدیدیت کا حامل یا صرف مذاہب میں مستغرق رہا۔ ہاں! کچھ مدارس نے تطبیق کی ابتدائی کوشش کی۔ یعنی مذہبی علوم کے ساتھ چند جدید علوم کی طرف بھی توجہ کی ہے جس کی روشن مثال ندوۃ العلما، لکھنؤ ہے۔ مولانا نے طریقہ تدریس پر بہت زور دیا اور مشرق و مغرب کی مشترک آگہی اور فرد و سماج کے باہمی شے کو صحیح تعلیم سے تعبیر کیا ہے۔ تعلیم کا مقصد نہ تو مادیت کا حصول ہے اور نہ ہی روزی روٹی کمانے کا ذریعہ بلکہ تعلیم کا مقصد انسان کی تعمیر نو اورایک ایسی شخصیت کی نشو و نما ہے جس سے فرد اور سماج کے مابین ایک پرا من ، صالح اور خوشگوار رشتے کی بنیاد رکھی جاسکے۔ مولاناآزاد کے تعلیمی نظریے کا اولین مقصد بھی یہی تھا۔
٭٭٭

Shairi Ka Ibtadai Sabaq by S.R. Farooqui

Articles

شاعری کا ابتدائی سبق

شمس الرحمن فاروقی

شمس الرحمن فاروقی کے درج ذیل نتائج، افکار اور تجاویز نہ صرف شعرا کے لیے کیمیا اثر ہیں بلکہ شعر و ادب کے ہر سنجیدہ طالب عالم کے لیے بھی یہ رہنما اصول کا درجہ رکھتے ہیں۔ فاروقی صاحب کی یہ تحریر ان کی مشہور تصنیف “تنقیدی افکار” سے ماخوذ ہے۔ اگرچہ اصل فہرست طویل ہے جسے سلسلہ وار پڑھنے کی تلقین صاحب کتاب نے کی ہے لیکن تنگیِ صفحات اور طلبہ کی ضرورتوں کے مد نظر ، میں اس کی تلخیص پیش کی جارہی ہے۔
1۔ موزوں، ناموزوں سے بہتر ہے۔
(الف)چونکہ نثری نظم میں موزونیت ہوتی ہے، اس لیے نثری نظم، نثر سے بہتر ہوتی ہے۔
2۔ انشا، خبر سے بہتر ہے۔
3۔ کنایہ، تصریح سے بہتر ہے۔
4۔ ابہام، توضیح سے بہتر ہے۔
5۔ اجمال، تفصیل سے بہتر ہے۔
6۔ استعارہ، تشبیہ سے بہتر ہے۔
7۔ علامت، استعارے سے بہتر ہے۔
(الف) لیکن علامت چونکہ خال خال ہی ہاتھ لگتی ہے ، اس لیے استعارے کی تلاش بہتر ہے۔
8۔ تشبیہ، مجرد اور سادہ بیان سے بہتر ہے۔
9۔ پیکر، تشبیہ سے بہتر ہے۔
10۔ دو مصرعوں کے شعر کا حسن اس بات پر بھی منحصر ہوتا ہے کہ دونوں مصرعوں میں ربط کتنا اور کیسا ہے؟
11۔ اس ربط کو قائم کرنے میں رعایت بہت کام آتی ہے۔
12۔ مبہم شعر، مشکل شعر سے بہتر ہوتا ہے۔
13۔ مشکل شعر، آسان شعر سے بہتر ہوسکتا ہے۔
14۔ شعر کا آسان یا سریع الفہم ہونا اس کی اصلی خوبی نہیں۔
15۔ مشکل سے مشکل شعر کے معنی بہرحال محدود ہوتے ہیں۔
16۔ مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً محدود ہوتے ہیں۔
17۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔
18۔ چونکہ قافیہ بھی معنی میں معاون ہوتا ہے، اس لیے قافیہ پہلے سے سوچ کر شعر کہنا کوئی گناہ نہیں۔
19۔ شعر میں کوئی لفظ، بلکہ کوئی حرف، بے کار نہ ہونا چاہیے۔ لہٰذا، اگر قافیہ یا ردیف یا دونوں پوری طرح کارگر نہیں ہیں تو شعر کے معنی کو سخت صدمہ پہنچنا لازمی ہے۔
20۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔
21۔ سہل ممتنع کو غیر ضروری اہمیت نہ دینا چاہیے۔
22۔ شعر میں آورد ہے کہ آمد، اس کا فیصلہ اس بات سے نہیں ہوسکتا کہ شعر بے ساختہ کہا گیا یا غور و فکر کے بعد۔ آورد اور آمد، شعر کی کیفیات ہیں، تخلیق شعر کی نہیں۔
23۔ بہت سے اچھے شعر بے معنی ہوسکتے ہیں لیکن بے معنی اور مہمل ایک ہی چیز نہیں۔ اچھا شعر اگر بے معنی ہے تو اس سے مراد یہ نہیں کہ وہ مہمل ہے۔
24۔ قافیہ خوش آہنگی کا ایک طریقہ ہے۔
25۔ ردیف، قافیے کو خوش آہنگ بناتی ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ مردف نظم، غیر مردف نظم سے بہتر ہے۔
26۔ لیکن ردیف میں یکسانیت کا خطرہ ہوتا ہے، اس لیے قافیے کی تازگی ضروری ہے تاکہ ردیف کی یکسانیت کا احساس کم ہوجائے۔
27۔ نیا قافیہ، پرانے قافیے سے بہتر ہے۔
28۔ لیکن نئے قافیے کو پرانے ڈھنگ سے استعمال کرنا بہتر نہیں، اس کے مقابلے میں پرانے قافیے کو نئے رنگ سے نظم کرنا بہتر ہے۔
29۔ قافیہ بدل دیا جائے تو پرانی ردیف بھی نئی معلوم ہونے لگتی ہے۔
30۔ قافیہ، معنی کی توسیع بھی کرتا ہے اور حد بندی بھی۔
31۔ ہر بحر مترنم ہوتی ہے۔
32۔ چونکہ شعر کے آہنگ بہت ہیں اور بحریں تعدا دمیں کم ہیں، اس لیے ثابت ہوا کہ شعر کا آہنگ بحر کا مکمل تابع نہیں ہوتا۔
33۔ نئی بحریں ایجاد کرنے سے بہتر ہے کہ پرانی بحروں میں جو آزادیاں جائز ہیں، ان کو دریافت اور اختیار کیا جائے۔
34۔ اگر نئی بحریں وضع کرنے سے مسائل حل ہوسکتے تو اب تک بہت سی بحریں ایجاد ہوچکی ہوتیں۔
35۔ آزاد نظم کو سب سے پہلے مصرع طرح کے آہنگ سے آزاد ہونا چاہیے۔
36۔ اگر مصرعے چھوٹے بڑے ہیں تو بہتر ہے کہ ہر مصرعے کے بعد وقفہ نہ ہو۔
37۔ نظم کا عنوان اس کے معنی کا حصہ ہوتا ہے، اس لیے بلاعنوان نظم ، عنوان والی نظم کے مقابلے میں مشکل معلوم ہوتی ہے، بشرطیکہ شاعر نے گمراہ کن عنوان نہ رکھا ہو۔ لیکن عنوان اگر ہے تو نظم کی تشریح اس عنوان کے حوالے کے بغیر نہیں ہونا چاہیے۔
38۔شعرکی تعبیر عام طور پر ذاتی ہوتی ہے، لیکن وہ جیسی بھی ہو اسے شعر ہی سے بر آمد ہونا چاہیے۔
39۔ آزاد نظم کا ایک بڑا حسن یہ ہے کہ مصرعوں کو اس طرح توڑا جائے یا ختم کیا جائے کہ اس سے ڈرامائیت یا معنوی دھچکا حاصل ہو۔ معرا نظم میں بھی یہ حسن ایک حد تک ممکن ہے۔
40۔ ہماری آزاد نظم بحر سے آزاد نہیں ہوسکتی۔
41۔ آزاد اور نثری نظم کے شاعر کو ایک حد تک مصور بھی ہونا چاہیے۔ یعنی اس میں یہ صلاحیت ہونا چاہیے کہ وہ تصور کرسکے کہ اس کی نظم کتاب یا رسالے کے صفحے پر چھپ کر کیسی دکھائی دے گی۔
42۔ قواعد، روزمرہ ، محاورہ کی پابندی ضروری ہے۔
43۔ لیکن اگر ان کے خلاف ورزی کر کے معنی کا کوئی نیا پہلو یا مضمون کا کوئی نیا لطف ہاتھ آئے تو خلاف ورزی ضروری ہے۔
44۔ لیکن اس خلاف ورزی کا حق اسی شاعر کو پہنچتا ہے جو قواعد، روزمرہ ، محاورہ پر مکمل عبور حاصل اور ثابت کرچکا ہو۔
45۔ مرکب تشبیہ، یعنی وہ تشبیہ جس میں مشابہت کے کئی پہلو ہوں، مفرد تشبیہ سے بہتر ہے۔
46۔ جذباتیت، یعنی کسی جذبے کا اظہار کرنے کے لیے جتنے الفاظ کافی ہیں، یا جس طرح کے الفاظ کافی ہیں، ان سے زیادہ الفاظ، یا مناسب طرح کے الفاظ سے زیادہ شدید طرح کے الفاظ استعمال کرنا ، بیوقوفوں کا شیوہ ہے۔
47۔ استعارہ جذباتیت کی روک تھام کرتا ہے۔ اسی لیے کم زور شاعروں کے یہاں استعارہ کم اور جذباتیت زیادہ ہوتی ہے۔
48۔ الفاظ کی تکرار بہت خوب ہے، بشرطیکہ صرف وزن پورا کرنے کے لیے یا خیالات کی کمی پورا کرنے کے لیے نہ ہو۔
49۔ شاعری علم بھی ہے اور فن بھی۔
50۔ یہ جو کہا گیا ہے کہ شاعر خدا کا شاگرد ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ شاعر کو کسی علم کی ضرورت نہیں۔ اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ شاعرانہ صلاحیت اکتسابی نہیں ہوتی۔
51۔ شاعرانہ صلاحیت سے موزوں طبعی مراد نہیں۔ اگرچہ موزوں طبعی بھی اکتسابی نہیں ہوتی ، اور تمام لوگ برابر کے موزوں طبع نہیں ہوتے اور موزوں طبعی کو بھی علم کی مدد سے چمکایا جاسکتا ہے لیکن ہر موزوں طبع شخص شاعر نہیں ہوتا۔
52۔ شاعرانہ صلاحیت سے مراد ہے، لفظوں کو اس طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کہ ان میں نئے معنوی ابعاد پیدا ہوجائیں۔
53۔ نئے معنوی ابعاد سے مراد یہ ہے کہ شعر میں جس جذبہ، تجربہ، مشاہدہ، صورت حال، احساس یا خیال کو پیش کیا گیا ہے، اس کے بارے میں ہم کسی ایسے تاثر یا کیفیت یا علم سے دو چار ہوں جو پہلے ہماری دسترس میں نہ رہا ہو۔
54۔ شاعری مشق سے ترقی کرتی ہے اور نہیں بھی کرتی ہے۔ صرف مشق پر بھروسا کرنے والا شاعر ناکام ہوسکتا ہے لیکن مشق پر بھروسا کرنے والے شاعر کے یہاں ناکامی کا امکان، اس شاعر سے کم ہے جو مشق نہیں کرتا۔
55۔ مشق سے مراد صرف یہ نہیں کہ شاعر کثرت سے کہے، مشق سے مراد یہ بھی ہے کہ شاعر دوسروں (خاص کر اپنے ہم عصروں اور بعید پیش روؤں) کے شعر کثرت سے پڑھے اور ان پر غور کرے۔
56۔ کیوں کہ اگر دوسروں کی روش سے انحراف کرنا ہے تو ان کی روش جاننا بھی ضروری ہے۔ دوسروں کے اثر میں گرفتار ہو جانے کے امکان کا خوف اسی وقت دور ہوسکتا ہے جب یہ معلوم ہو کہ دوسروں نے کہا کیا ہے؟
57۔ تمام شاعری کسی نہ کسی معنی میں روایتی ہوتی ہے، اس لیے بہتر شاعر وہی ہے جو روایت سے پوری طرح باخبر ہو۔
58۔ تجربہ کرنے والا شاعر، چاہے وہ ناکام ہی کیوں نہ ہوجائے،محفوظ راہ اختیار کرنے والے شاعر سے عام طور پر بہتر ہوتا ہے۔
59۔ تجربے کے لیے بھی علم شرط ہے۔ پس علم سے کسی حال میں مفر نہیں۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی اثبات ،شمارہ ۲

 

Urdu Mein Ghair Zabanun ke Alfaz by S.R. Farooqui

Articles

اردو میں غیر زبانوں کے الفاظ

شمس الرحمن فاروقی

غیر زبانوں کے جو لفظ کسی زبان میں پوری طرح کھپ جاتے ہیں، انھیں ‘‘دخیل’’ کہا جاتا ہے۔ اصول یہ ہے کہ صرف اور نحو کے اعتبار سے دخیل لفظ اور غیر دخیل لفظ میں کوئی فرق نہیں۔جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو وہ ہمارا ہوگیا اور ہم اس کے ساتھ وہی سلوک روا رکھیں گے جو اپنی زبان کے اصلی لفظوں کے ساتھ روا رکھتے ہیں، یعنی اسے اپنی مرضی اور سہولت کے مطابق اپنے رنگ میں ڈھال لیں گے اور اس پر اپنے قواعد جاری کریں گے۔ لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ کسی دخیل لفظ کے معنی، تلفظ، جنس یا املا ہماری زبان میں وہ نہ ہوں جو اس زبان میں تھے جہاں سے وہ ہماری زبان میں آیا ہے۔ اردو میں عملاً اس اصول کی پابندی تقریباً ہمیشہ ہو ئی ہے۔ لیکن شاعری میں اکثر اس اصول کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ صرف و نحو کی کتابوں میں بھی بعض اوقات اس اصول کے خلاف قاعدے بیان کیے گئے ہیں۔ یہ دونوں باتیں غلط اور افسوسناک ہیں۔ نحوی کا کام یہ ہے کہ وہ رواج عام کی روشنی میں قاعدے مستنبط کرے، نہ کہ رواج عام پر اپنی ترجیحات جاری کرنا چاہے۔ شاعر کا منصب یہ ہے کہ وہ حتی الامکان رواج عام کی پابندی کرتے ہوئے زبان کی توسیع کرے، اس میں لچک پیدا کرے نہ کہ وہ رواج عام کے خلاف جا کر خود کو غلط یا غیر ضروری اصولوں اور قاعدوں کا پابند بنائے۔اردو میں دخیل الفاظ بہت ہیں اور دخیل الفاظ کے ذخیرے سے بھی بہت بڑا ذخیرہ ایسے الفاظ کا ہے جو دخیل الفاظ پر تصرف کے ذریعہ بنائے گئے ہیں۔ یہ تصرف کئی طرح کا ہو سکتا ہے۔

(1) غیر زبان کے لفظ پر کسی اور زبان کے قاعدے سے تصرف کر کے نیا لفظ بنانا۔ اس کی بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

فارسی لفظ ‘‘رنگ’’ پر عربی کی تاے صفت لگا کر ‘‘رنگت’’ بنا لیا گیا۔
فارسی ‘‘نازک’’ پر عربی قاعدے سے تاے مصدر لگا کر ‘‘نزاکت’’ بنا لیا گیا۔
عربی لفظ ‘‘طرفہ’’ پر فارسی کی علامت فاعلی لگا کر ‘‘طرفگی’’ بنایا گیا۔
فارسی لفظ ‘‘دہ /دیہہ’’ پر عربی جمع لگا کر ‘‘دیہات’’ بنایا اور اسے واحد قرار دیا۔
عربی لفظ ‘‘شان’’ کے معنی بدل کر اس پر فارسی کا لاحقہِ کیفیت لگایا اور ‘‘شاندار’’ بنا لیا۔
عربی لفظ ‘‘نقش’’ پر خلاف قاعدہ تاے وحدت لگا کر ‘‘نقشہ’’ بنا یا، اس کے معنی بدل دیے، اور اس پر فارسی لاحقے لگا کر ‘‘نقشہ کش/نقش کشی؛ نقشہ نویس/ نقشہ نویسی؛ نقشہ باز’’ وغیر بنا لیے۔
عربی لفظ ‘‘تابع’’ پر فارسی لاحقہ ‘‘دار’’ لگا لیا اور لطف یہ ہے معنی اب بھی وہی رکھے کیوں کہ ‘‘تابع’’ اور ‘‘تابع دار’’ ہم معنی ہیں۔

(2) غیر زبان کے لفظ پر اپنی زبان کے قاعدے سے تصرف کرنا۔ اس کی بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

عربی ‘‘حد’’ پر اپنا لفظ ‘‘چو’’ بمعنی ‘‘چار’’ اضافہ کیا ، پھر اس پر یاے نسبتی لگا کر ‘‘چو حدی’’ بنا لیا۔
عربی لفظ ‘‘جعل’’ کے معنی تھوڑا بدل کے اس پر اردو کی علامت فاعلی لگا کر ‘‘جعلیا’’ بنایا گیا۔ فارسی کی علامت فارعلی لگا کر ‘‘جعل ساز’’ بھی بنا لیا گیا۔
عربی لفظ ‘‘دوا’’ کو ‘‘دوائی’’ میں تبدیل کر کے اس کی جمع اردو قاعدے سے ‘‘دوائیاں’’ بنائی۔
فارسی لفظ ‘‘شرم’’ پر اپنا لاحقہِ صفت بڑھا کر ‘‘شرمیلا’’ بنا لیا۔
فارسی لفظ ‘‘بازار’’ پر اردو لفظ ‘‘بھاؤ’’ لگا کر اردو قاعدے کی اضافت بنا لی گئی؛ ‘‘بازار بھاؤ’’۔

(3) اپنی زبان کے لفظ پر غیر زبان کا قاعدہ جاری کر کے نیا لفظ بنا لینا۔ بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

‘‘اپنا’’ میں عربی کی تاے مصدری اور اس پر ہمزہ لگا کر ‘‘اپنائیت’’ بنایا گیا۔ لکھنؤ میں ‘‘اپنایت’’ بولتے تھے لیکن بعد میں وہاں بھی ‘‘اپنائیت’’ رائج ہوگیا۔ ‘‘آصفیہ’’ میں ‘‘اپنائیت’’ ہی درج ہے۔
اردو کے لفظ پر ‘‘دار’’ کا فارسی لاحقہ لگا کر متعدد لفظ بنائے گئے؛ ‘‘سمجھ دار، چوکیدار، پہرے دار’’ وغیرہ۔
اردو کے لفظ ‘‘دان’’ کا لاحقہ لگا کر بہت سے لفظ بنا لیے گئے ، جیسے:’’ اگلدان، پیک دان، پان دان ’’ وغیرہ۔

(4) غیر زبان کے لفظ سے اپنے لفظ وضع کرلینا۔ بعض مثالیں حسب ذیل ہیں:

مصدر ‘‘گرم’’ سے ‘‘گرمانا’’؛’’شرم’’ سے ‘‘شرمانا’’ وغیرہ۔
اسم ‘‘نالہ’’ سے ‘‘نالش’’؛ ‘‘چشم’’ سے ‘‘چشمہ(بمعنی عینک)’’ وغیرہ۔
صفت ‘‘خاک’’ سے ‘‘خاکی’’ (رنگ، انگریزی میں Khaki کا تلفظ ‘‘کھیکی’’)

(5) غیر زبان کے طرز پر نئے لفظ بنا لینا۔ مثلاً حسب ذیل لفظ فارسی / عربی میں نہیں ہیں، اردو والوں نے وضع کیے ہیں:

بکر قصاب؛ دل لگی؛ دیدہ دلیل؛ ظریف الطبع؛ قابو پرست؛ قصائی؛ ہر جانہ؛ یگانگت وغیرہ۔

(6) اپنا اور غیر زبان کا لفظ ملا کر، یا غیر زبان کے دو لفظ ملا کر اپنا لفظ بنا لینا، مثلاً:

آنسو گیس (اردو، انگریزی)؛ بھنڈی بازار (اردو، فارسی)؛ خود غرض (فارسی، عربی)؛ گربہ قدم (فارسی، عربی) وغیرہ
جیسا کہ میں نے اوپر کہا ہے، دخیل الفاظ ، چاہے وہ براہ راست دخیل ہوئے ہوں یا ان کے زیر اثر مزید لفظ بنے ہوں، سب ہمارے لیے محترم ہیں۔ کسی دخیل لفظ، کلمے یا ترکیب کو، یا اس کے رائج تلفظ یا املا کو یہ کہہ کر مسترد نہیں کیا جاسکتا کہ جس زبان سے یہ لیا گیا ہے وہاں ایسا نہیں ہے۔ جب کوئی لفظ ہماری زبان میں آگیا تو اس کے غلط یا درست ہونے کا معیار ہماری زبان،اس کے قاعدے، اور اس کا روز مرہ ہوں گے نہ کہ کسی غیر زبان کے۔ہمارے یہاں یہ طریقہ عام ہے کہ کسی لفظ یا ترکیب یا اس کے معنی کے لیے فارسی سے سند لاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ چونکہ فارسی میں ایسا ہے، اس لیے اردو میں بھی ٹھیک ہے۔ یہ طریقہ صرف اس حد تک درست ہے جب تک فارسی کی سند ہمارے روزمرہ یا ہمارے رواج عام کے خلاف نہ پڑتی ہو۔
‘‘فارسی میں صحیح ہے اس لیے اردو میں صحیح ہے’’، یہ اصول بھی اتنا ہی غلط ہے جتنا یہ اصول کہ ‘‘فارسی [یا عربی] میں غلط ہے، اس لیے اردو میں بھی غلط ہے۔’’
مثال کے طور پر ‘‘مضبوط’’ کو جدید فارسی میں ‘‘مخزون’’ کے معنی میں بولتے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ مثلاً ‘‘یہ کتاب نیشنل لائبریری میں مخزون ہے’’۔ یہاں فارسی والا ‘‘مضبوط’’ کہے گا۔ ظاہر ہے کہ فارسی کی یہ سند اردو کے لیے بے معنی ہے۔
یہ بات صحیح ہے کہ اردو نے فارسی /عربی سے بے شمار الفاظ ، محاورات اور تراکیب حاصل کیے ہیں۔لہٰذا یہ بالکل ممکن ہے کہ اگر اردو میں کسی عربی/فارسی لفظ کے بارے میں کوئی بحث ہو تو ہم عربی/فارسی کی سند لا کر جھگڑا فیصل کرلیں۔ لیکن شرط یہی ہوگی کہ عربی /فارسی کی سند ہمارے رواج عام یا روزمرہ کے خلاف نہ ہو۔ مثلاً لفظ ‘‘کتاب’’ کی جنس کے بارے میں اختلاف ہو تو یہ سند فضول ہوگی کہ عربی میں ‘‘کتاب’’مذکر ہے، لہٰذا اردو میں بھی یہ لفظ مذکر ہوگا/ہونا چاہیے۔ اسی طرح، اگر یہ سوال اٹھے کہ ‘‘طشت از بام ہونا’’ صحیح ہے کہ نہیں، تو یہ استدلال فضول ہوگا کہ فارسی میں ‘‘طشت از بام افتادن’’ ہے، لہٰذا اردو میں بھی ‘‘طشت از بام گر پڑنا’’ ہونا چاہیے۔ دوسری بات یہ کہ ہمارے یہاں یوں بولتے ہیں، ‘‘سارا معاملہ طشت از بام ہو گیا’’، جب کہ فارسی میں یہ محاورہ ‘‘طشت’’ کے حوالے سے بولتے ہیں، یعنی یوں کہتے ہیں:’’طشت از بام افتاد’’۔ ظاہر ہے کہ یہ ضد کرنا بھی غلط ہے کہ اردو میں بھی یوں ہی بولنا چاہیے۔
یا مثلاً اردو میں ‘‘لطیفہ’’ کے معنی ہیں، ‘‘کوئی خندہ آور چھوٹی سی کہانی یا چٹکلا’’۔ یہ معنی نہ فارسی میں ہیں نہ عربی میں۔ لیکن ظاہر ہے کہ اردو میں رائج معنی کو اس بنا پر مسترد نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی شخص ‘‘لطیفہ’’ کو اردو میں ‘‘سخن خوب و نیکو’’ ، یا ‘‘اچھی چیز، اچھائی’’ کے معنی میں استعمال کرے اور کہے کہ (مثلاً) ‘‘مقدمہ شعر و شاعری لطیفوں [یا لطائف] سے بھری ہوئی ہے’’ درست استعمال ہے ، کیوں کہ فارسی میں ‘‘لطیفہ’’بمعنی ‘‘سخن خوب’’ اور عربی میں بمعنی ‘‘اچھی چیز’’ وغیرہ ہے، تو اس کی بات قطعی غلط قرار دی جائے گی۔لہٰذا بنیادی بات یہی ہے کہ جو استعمال، لفظ ، ترکیب، کلمہ ، اردو کے قاعدے یا رواج کے مطابق ہے، وہ صحیح ہے۔ دوسری بات یہ کہ اردو پر غیر زبانوں، خاص کر عربی /فارسی کے قاعدے جاری کرنا درست نہیں ہے، اس لے کو جتنا دھیما کیا جائے ، اچھا ہے۔
٭٭٭
[بحوالہ : ‘‘لغات روزمرہ’’، تیسرا اضافہ و تصحیح شدہ ایڈیشن]

 

Chacha Chakkhan 2 BY Imtiyaz Ali Taj

Articles

چچاچھکن نے دھوبن کو کپڑے دیے

امتیاز علی تاج

چچی ایک دو بار نہیں بیسیوں مرتبہ چچا چھکن سے کہہ چکی ہیں کہ” باہر تمھارا جو جی چاہے کیا کرو مگر خدا کے لیے گھر کے کسی کام میں دخل نہ دیا کرو۔آپ بھی ہلکان ہوتے ہو ،دوسروں کو بھی ہلکان کرتے ہو۔سارے گھر میں ایک ہڑ بڑ ی سی پڑ جاتی ہے، میرا دم الجھنے لگتا ہے اور پھر تمھارے کام میں ،میں نے نقصان کے سوا کبھی فائدہ ہوتے بھی تو نہیں دیکھا۔تو ایسا ہاتھ بٹانا بھلا میرے کس کام کا؟“
چچا اس قدر ناشناسی سے کھج جاتے ہیں۔ چڑ کر کہتے بھی ہیں۔”بھلا صاحب کان ہوئے ،پھر کبھی آپ کے کام میں دخل دیا تو جو چور کی سزا وہ ہماری سزا۔“لیکن دخل در معقولات کا انھیں کچھ ایسا لا علاج مرض ہے کہ جہاں کوئی موقع ملا،پھر لنگوٹ کس کے تیار۔
آج ہی دوپہر کی سنیے۔ چچی کا جی اچھا نہ تھا ،گلا آگیا تھا۔اس کی وجہ سے ہلکی ہلکی حرارت بھی تھی منہ ،سر، لپیٹے دالان میں پڑی تھیں کہ دھوبن کپڑے لینے آگئی۔چچی نے کہا ”بریٹھن آج تو میرا جی اچھا نہیں کل پرسوں آجائیو تو میلے کپڑے دے دوں گی۔“
دھوبن بولی۔”بیوی جی !بریٹھا آج رات بھٹی چڑھا رہا تھا ،کپڑے مل جاتے تو آٹھویں دن میں دے جاتی نہیں تو وہی دس پندرہ دن لگ جائیں گے۔“
چچی نے کہا۔”اب جو ہو سو ہو ،مجھ میں تو اٹھ کر کپڑے دینے کی ہمت نہیں۔“
چچا چھکن پرلے دالان میں بیٹھے میاں مٹھوکو سبق پڑھا رہے تھے ،کہیں چچی کی بات سن پائی ،انھیں ایسے موقعے اللہ دے۔جھٹ ادھر آ پہنچے۔بولے۔ ” کیا بات ہے؟کپڑے دینے ہیں دھوبن کو؟ہم دے دیتے ہیں۔“
چچی بولیں۔”اے خدا کے لیے تم رہنے دینا۔ہلکم ڈالو گے۔ سارے گھر میں۔ پہلے ہی میرا جی اچھا نہیں ہے۔کل پرسوں اللہ چاہے تو میں آپ اٹھ کر دے دوں گی۔“
چچا کب رکنے والے ہیں بھلا۔اللہ جانے کام ہی کا جنون ہے،یا گھر کے کاموں سے طبیعت کو خاص مناسبت ہے،یا روک دیے جانے میں انھیں اپنے سلیقے اور سگھڑاپے کی توہین نظر آتی ہے ،بولے۔”واہ بھلا کوئی بات ہے۔یہ ایسا کام ہی کیا ہے ،ابھی نمٹائے دیتے ہیں۔“
چچی جانتی ہیں وقت پر چچا کب کسی کی سنتے ہیں ،وہ تو بڑ بڑاتی ہوئی کروٹ لے پڑرہیں اور چچا چلے دھوبن کو کپڑے دینے۔چچی ٹوک چکی تھیں ،اس لیے آپ نے نہ تو کسی ملازم کو آواز دی ،نہ کسی بچے کو بلایا ،نہ کسی سے یہ پوچھا کہ کس کے کپڑے کہاں پڑے ہیں ،خود ہی گھر کے جالے لینے شروع کر دیے۔جو کپڑا نظر آیا خود ہی آنکھوں کے سامنے تان کرپرکھا یا، نیچے پھیلا کر دیکھ لیا۔”کمبخت پتا بھی تو نہیں چلتا کہ پہننے کا کپڑا ہے یا جھاڑن بن چکا ہے۔چماروں کے بچے بھی تو اس سے اچھی طرح کپڑا پہنتے ہوں گے۔“کسی کپڑے کو چھوڑا ،کسی کو بغل میں دبایا ،کہیں جھک کر چار پائی کے نیچے جھانکا ،کہیں ایڑیاں اٹھا کر الماری کے اوپر نظر ڈالی۔ معلوم ہوتا تھاآج چچا نے قسم کھا لی ہے کہ جو کام ہوگا آپ ہی کریں گے۔لیکن آخر کب تک ؟چچا چھکن کے لیے تو اللہ میاں بہانے پیدا کر دیتے ہیں۔کپڑوں کی تلاش میں اسباب کی کوٹھری میں گئے تھے ،پانچ منٹ بعداندر سے آوازیں آنی شروع ہو گئیں۔
لیجئے صاحب حسبِ معمول سارا گھر چچا میاں کے گرد جمع ہو گیا اور آپ نے سنانے شروع کر دیے اپنے احکام۔
”اب کھڑے میرا منہ کیا تک رہے ہو ؟جمع کرو میلے کپڑے۔پر دیکھو رہ نا جائے کوئی۔ایک ایک کونا دیکھ لیجیو۔دالان میں ڈھیر لگا دو سب کا۔بندو تو ہمارے کمرے میں سے میلے کپڑے سمیٹ لا۔دو تین جوڑے تو چار پائی کے نیچے حفاظت سے لپٹے رکھے ہیں ،وہ لیتا آئیو۔ اور سننا، وہ چھٹن یا بنو کا ایک کرتا بانس پر لپٹا ہوا کونے میں رکھا ہے۔پرسوں کمرے کے جالے اتارے تھے ہم نے وہ بھی کھولتا لائیو۔اور دیکھ۔۔۔ہوا کے گھوڑے پر سوار ہے کم بخت۔پوری بات ایک مرتبہ نہیں سن لیتا۔ایک بنیان ہمارا آتش دان میں رکھا ہے۔بوٹ پونچھے تھے اس سے۔وہ بھی لیتا آنا۔جا بھاگ کر جا۔امامی تو بچوں کے کپڑے جمع کر۔ہر کونے اور طاق کو دیکھ لیجیو۔یہ بد معاش کپڑے رکھنے کو نئی سے نئی جگہ نکالتے ہیں۔“
نوکر روانہ ہوئے تو بچوں کی باری آگئی۔”کہاں گئے یہ سب کے سب ؟او چھٹن!لیجئے ملاحظہ فرمائیے آپ کی صورت!ارے یہ کیا حال بنایا ہے ؟کوئلوں میں کہاں جا گھسا تھا ؟اتا ر اپنے کپڑے۔نئے کپڑے پھر ملیں گے۔پہلے میلے کپڑے یہاں لا کر رکھ۔ اور یہ بنو کدھر گئی ؟میں کہتا ہوں آخر یہ مرض کیا ہو گیا ہے تم لوگوں کو جہاں کام کی صورت دیکھی کھسک جانے کی ٹھہرا لی۔ چلو اندر ایک کاغذاور پنسل لا کر دو ہمیں۔آخر لکھے بھی جائیں گے کپڑے یا نہیں ؟للّو! تم بستروں میں سے میلی چادریں اور تکیوں کے غلاف نکال لاو¿۔“
غرض ایک پانچ منٹ میں گھر کی یہ حالت ہو گئی گویا آنکھ مچولی کھیلی جا رہی ہے۔کوئی اِدھر بھاگ رہا ہے، کوئی ا±دھر۔ کوئی چار پائی کے نیچے سے نکل رہا ہے ،کوئی کونے جھانکتا پھر رہا ہے ،کسی نے لپٹے ہوئے بستر سے کشتی شروع کر رکھی ہے ،کوئی کپڑے اتار تولیہ لپیٹے بھاگا جا رہا ہے۔ساتھ ساتھ چچا کے نعرے بھی سننے میں آرہے ہیں۔”ارے آئے ؟ابے لائے؟سب کے ہاتھ پاو¿ں پھول رہے ہیں۔سٹی گم ہے۔ٹکریں لگ رہی ہیں۔
کوئی آدھ گھنٹے کی محنت سے سارے کپڑے دالان میں جمع ہوئے۔نوکر اور بچے کپڑوں کے ڈھیر کے گرددائرہ باندھے کھڑے ہیں۔صورتیں سب کی ایسی ہیں گویا سوانگ بھر رکھا ہے۔ کسی کے منہ پر مٹی پڑی ہے۔ کسی کے بال مٹیالے ہو رہے ہیں۔کسی کے کپڑوں پر جالے لگے ہوئے ہیں۔ چچا چار پائی پر بیٹھے ایک ایک کپڑے کا معائنہ فرما رہے ہیں۔ہر کپڑے کو انگلی کے سروں سے اٹھا کر دیکھتے ہیں۔کبھی بچوں کو کوستے ہیں کہ کم بختوں کو کپڑا پہننے کا سلیقہ نہیں آتا۔کبھی دھوبن کو ڈانٹتے ہیں ہیں کہ خبر دار جو ایک داغ بھی باقی رہا۔کہیں بیچ میں وہ بنیان بھی ہاتھ آگیا جس سے آپ نے بوٹ پونچھے تھے۔خیال نہ رہا کہ یہ اپنی ہی کاروائی ہے۔برس پڑے۔”اب دیکھوتو اس کی حالت۔ یہ انسانوں کا برتا ہوا معلوم ہوتا ہے؟اللہ جانے بدتہذیب کہاں کہاں۔۔۔“
داغ اچھی طرح دیکھنے سے چچا کو یاد آگیا کہ یہ بنیان ان کے اپنے کمرے کے آتشدان میں سے بر آمد ہوا ہوگا۔چنانچہ فوراًکپڑوں میں ملا دیا اور ارشاد ہوا۔”چلو اب جو ہے سو ہے۔لو اب کپڑوں کو الگ الگ کرو کہ کون سا کپڑا کس کا ہے ؟“
دس ہاتھ کپڑ ے الگ الگ کرنے میں مصروف ہو گئے۔ہر ایک کو اپنی کارگزاری دکھانے کا خیال۔ دھوبن چیخ رہی ہے۔”اے میاں جانے دو۔ اے بھائی رہنے دو۔ میں ابھی آپ الگ الگ کر دوں گی۔“مگر بچے کہاں سنتے ہیں۔کوئی کہتا ہے”یہ میری قمیص ہے۔کوئی کہتا ہے ”تمھاری کہاں سے آئی۔ ”یہ تو میری ہے۔“ کسی کا کوٹ پر جھگڑا ہے۔ کسی کا واسکٹ پر۔کوئی کرتے کی ایک آستین کھینچ رہا ہے ،کوئی دوسری۔ کسی کی پاجامے کے پائنچوں پر رسہ کشی ہو رہی ہے۔ کپڑے چر ر چرر پھٹ رہے ہیں۔چچا سب کے ناموں کی فہرست بنانے میں مشغول ہیں۔بیچ میں سر اٹھا اٹھاکر ڈانٹتے بھی جا رہے ہیں۔”پھاڑ دیا نا ؟ اب کے بنانے کو کہیو کوئی نیا کپڑا۔جو ٹاٹ کے کپڑے نہ بنا کر دیے ہوں۔ چلے جاو¿ سب یہاں سے۔ ہم اکیلے سب کام کر لیں گے۔“
بچوں اور نوکروں کا قافلہ رخصت ہوا اور دھوبن کے ساتھ مل کر فہرست بننی شروع ہوئی۔ اسے ہدایت دی گئیں کہ” دیکھ ہم پوری فہرست بنائیں گے کپڑوں کی۔سب کے کپڑے جدا جدا لکھوانے ہوں گے۔اور ساتھ ہی بتانا ہوگا کہ اتنے کپڑے گرم ہیں، اتنے ریشمی، اتنے سوتی۔“
دھوبن بولی۔”یوں ہی تو ہمیشہ لکھے جاتے ہیں۔“
چچا کو اپنی اس قابلِ قدر اور مہتمم بالشان تجویز کی داد نہ ملی تو آپ دھوبن سے چڑ گئے۔”پگلی کہیں کی۔ہر روز تو گھر میں ہلڑ مچا رہتا ہے کہ اس کی قمیص بدل گئی ،اس کا پاجامہ نہیں ملتا۔اور کہتی ہے کہ یوں ہی لکھے جاتے ہیں کپڑے۔یوں کسی کو لکھنا آتا تو یہ روز روز کی جھک جھک کیوں ہوا کرتی ؟“
دھوبن چپکی ہو رہی۔کپڑے گننے شروع کر دیے۔پر اب پہلے ہی کپڑے پر نئی بحث چھڑ گئی۔دھوبن کہے کہ یہ قمیص چھٹن میاں کی ہے ۔چچا مصر ہیں کہ نہیں بنو کی ہے۔ دھوبن کہتی ہے۔”میں کیا پہلی بار کپڑے لے جا رہی ہوں۔اتنی بھی پہچان نہیں مجھ کو؟“چچا کہتے ہیں۔” احمق کہیں کی۔کپڑا بازار سے لاتے ہیں ہم ،سلواتے ہیں ہم ،روز بچوں کو پہنے ہوئے دیکھتے ہیں ہم اور پہچان تجھے ہو گی ؟“شہادت کے لیے بندو کو بلوایا گیا۔چچا نے اس سے پوچھا۔یہ قمیص بنو ہی کی ہے نا؟بندو کی کیا مجال کہ میاں کی تردید کرے۔ڈرتا ڈرتا بولا۔”معلوم تو کچھ ان ہی کی سی ہوتی ہے۔پر وہ آپ ہی ٹھیک ٹھیک بتائیں گی۔“بنو کی طلبی ہوئی۔ وہ آتے ہی بولیں۔”واہ یہ پھٹی پرانی قمیص میری کیوں ہوتی، چھٹن ہی کی ہوگی۔“
دھوبن کو چچا کے مزاج کی کیفیت کیا معلوم، کہہ بیٹھی ’ ’میں نہ کہتی تھی۔“چچا کو آگ لگ گئی۔” اولیاکی بچی ہیں نہ یہ تو۔انہیں کیوں نہ معلوم ہوگا۔منہ پھٹ بدتمیز کہیں کی۔دوسرا دھوبی رکھ لوں گا میں۔“
کامل ایک گھنٹے کی محنت کے بعد کہیں فہرست بن کر تیار ہوئی کہ کون سا کپڑا کس کا ہے۔اور کس کے کپڑے کتنے ہیں۔اب جناب ادھر دھوبن سے کہا گیا کہ تو سب کے کپڑے گن ،ادھر اپنی فہرست کی میزان ملانی شروع کی۔دھوبن گنتی ہے تو ا نسٹھ عدد بنتے ہیں۔چچا اپنی میزان ملاتے ہیں تو اکسٹھ کپڑے ہوتے ہیں۔دھوبن باربار کہتی ہے۔”میاں ٹھیک طرح جوڑو انسٹھ ہی ہیں۔“پر چچا ہیں کہ بگڑے جا رہے ہیں۔”تیرا جوڑنا ٹھیک اور ہمارا جوڑنا غلط ہو گیا ؟جاہل کہیں کی۔اٹھ کر دیکھ نیچے دبائے بیٹھی ہو گی “۔دھوبن غریب ہر طرف دیکھتی ہے۔بار بار کپڑے گنتی ہے۔وہی انسٹھ نکلتے ہیں۔چچا کی نظروں کے سامنے بھی ایک مرتبہ گن دیے۔وہی انسٹھ ہی نکلے۔ آخر نئے سرے سے تمام کپڑوں کا مقابلہ کیا گیا۔کوئی گھنٹہ بھر کی تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ دھوبن نے بتائے تھے دو جوڑی موزے اور چچا نے لکھے تھے چار۔دھوبن انھیں دو عدد گنتی تھی اور چچا چار عدد۔اس پر پھر بیچاری دھوبن کے لتے لیے گئے۔”جوڑی کیا معنی؟چار نہیں تھے موزے ؟یوں تو چارر و مالوں کو بھی دو جوڑی لکھوا دے تو یہ ہمارا قصور ہو گا؟لے کر اتنا وقت مفت میں ضائع کر وا دیا۔ساری عمر کپڑے دھوتے گزر گئی اور ابھی تک کپڑے گننے کا سلیقہ نہیں آیا۔“
بارہ بجے دھوبن آئی تھی ،چار بجے رخصت ہوئی۔چچا چھکن فراغت پانے کے بعد فہرست چچی کو دینے آئے۔بولے۔” نمٹا دیا ہم نے دھوبن کو۔“
چچی جلی ہوئی تھیں ،بولیں۔”گھر پر قیامت بھی تو گزر گئی۔کوئی بچہ ننگ دھڑنگ پھر رہا ہے ،کوئی غسل خانے میں کپڑوں کے لیے غل مچا رہا ہے۔دھوبن دکھیا الگ کھسیانی ہو کر گئی ہے۔آدھا دن بر باد کر کے کس مزے سے کہتے ہیں کہ نمٹا دیا ہم نے دھوبن کو۔“
چچا چڑ گئے۔”تمہیں کبھی پھوٹے منہ سے داد کے دو لفظ کہنے کی توفیق نہ ہوئی۔“
چچا روٹھ کر چار پائی پر پڑ رہے۔
چچی نے پوچھا۔”پاجاموں میں سے ازار بند بھی نکال لیے تھے ؟“چچا کی آنکھیں کھلیں مگر جواب نہ دیا۔بڑے مناسب وقت پر روٹھ گئے تھے۔
اتنے میں فہرست دیکھ کر چچی بولیں۔”اور یہ میری ریشمی قمیص کون سی ؟ہلکے فیروزی رنگ کی ؟اے غضب خدا کا۔میں نے تو وہ استری کرنے کو الگ رکھی تھی۔کم بخت دو کوڑی کی کر لائے گی۔اور اس میں سے میرے سونے کے بٹن بھی اتار لیے تھے یا نہیں ؟“
اب تک تو چچا کی تیوری چڑھی ہوئی تھی ،سونے کے بٹن کا سنا تو ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھے۔
”بٹن ؟سونے کے ؟تمھارے ؟تمہیں میری قسم !وہ تو نہیں اتارے ہم نے۔“
جوتی پہنتے ہوئے چچا باہر بھاگے۔”ارے بھئی چلی گئی دھوبن !او بندو چلی گئی دھوبن !ارے امامی کدھر گئی دھوبن ؟ارے دوڑیو،ارے بھئی جانا ،پکڑنا، لے کر آو¿ منہ کیا تکتے ہو، سونے کے بٹن لے گئی، اماں سونے کے بٹن، تمھاری چچی کے۔ اس کا گھر کدھر ہے ؟چوک سے مڑ کر کدھر کو ؟اماں خونچے والے !کسی دھوبن کو جاتے دیکھا ہے ؟ار بھئی ریوڑیوں والے ! کوئی دھوبن ادھر تو نہیں گئی ؟۔۔۔او بھائی گنڈیریوں والے !کوئی دھوبن ……دائیں ہاتھ کو ؟اس طرف کو؟۔۔۔؟۔۔۔ابھی تک چچا بٹن لے کر واپس نہیں آئے۔
٭٭٭

My Village is me the best

Articles

میرا گاؤں مجھے سب سے پیارا لگے

انظر حسین کرھی

 

دوستو: ابھی بھی گاؤں کے موسم میں کوئی تبدیلی نہیں آئی دن میں وہی جون ماہ والی گرمی سورج میں وہی تمازت ہوا میں وہی حرارت لیکن شام ڈھلے سرمئی شام کے بیچ سورج کے ڈوبنے کا دلفریب انداز نہر کے پانی کا زردی مائل ہوجانا اور درخت پر انگارے جیسی شعاعیں بکھیرنا یہ خوبصورتی صرف گاؤں کو ہی میسر ہو سکتی ہے ۔ اس لئے یہ مقولہ عام ہے کہ دیہات کو خدا نے بنایا ہے اور شہر کو انسان نے
میرا تعلق جس علاقے سے ہے یہ علاقہ مردم خیز ہے یہاں کے لوگوں کا اکثر پیشہ زراعت ہے اور اس علاقے کا شمار ترقی یا یفتہ علاقوں میں ہوتا ہے ۔ یہاں پہلے کے مقابلے اسکولوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے جگہ جگہ پرائیویٹ نرسری اور کالج اور اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ لیکن پھر بھی یہ علاقہ تعلیمی میدان میں اب بھی دوسرے علاقوں سے بہت پیچھے ہے میرے بلاک میں ایک سو سے بھی زیادہ گرام پنچایت ہیں میری خواہش ہے کہ میں ہر گرام پنچایت میں پہنچوں اور وہاں کے حالات سے آپ سبکو بھی رو شناس کراؤں اور یہ بھی بتاؤں کہ کس گرام پنچایت میں ترقی کی روشنی کتنی پہنچی ہے جس کا اندازہ اس گاؤں کی سڑک نالے اور صاف اور صفائی سے ہی لگایا جا سکتا ہے لیکن دوستوں ایک بات واضح کردوں میرا مقصد واللہ کسی گاؤں کو تنقید کا نشانہ نہیں بنانے کا ہے اور نہ ہی اس گاؤں کے قائد پر کیچڑ اچھالنے کا ۔ مجھے اس بات کا علم ہے کہ ہر گاؤں کے قائد کی کچھ مجبوریاں بھی رہتی ہونگی اور ہر انسان یکساں ہوتا بھی نہیں کمیاں سب کے اندر ہوتی ہیں ۔ لیکن کوشش اور جد جہد انسان کے زندگی کا حصہ ہے اسے ہمیشہ جاری و ساری رکھنا چاہئے ۔
آج میں نے جن گاؤں کو دیکھنے کا انتخاب کیا وہ بلاک سمریانواں کے شمالی جانب تھے ۔ ان گاؤں میں مجھے سب سے تیز ترقی حاصل کرنے والا گاؤں دیوریا ناصر لگا 10 سال پہلے اس گاؤں میں جانے کے لئے کوئی آسان راستہ نہیں تھا بارش میں اس گاؤں کا تعلق شہر اور بلاک سے منقطع ہوجاتا تھا ۔ مجھے آج بھی یہاں جانے سے پہلے میرے ذہن میں اسی وقت کا تصور تھا ۔ سمرہانواں سے نماز ظہر ادا کرکے اپنی سفری گاڑی کو اس جانب چلنے کا حکم دیا ۔ اور اس بات کا خیال رکھا کہ دیوریاں ناصر جاتے وقت اور بھی گاؤں کی زیارت ہوجائے تو بہتر ہوگا اس لئے راستے کا انتخاب کہریانواں چوراہے سے پہلے بائیں طرف مڑنے والی پکی سڑک کا کیا کیونکہ اس راستے میں۔ کنڑجا ، پرسوہیاں ، مصرولیا ۔ بھی آتا ہے ۔ تقریبا 500 میٹر چلنے کے بعد کنڑجا کا چوراہا گاؤں کے بائیں جانب جو واقع ہے مجھے ملا ۔ اس چوراہے پر چائے کی دوکان زیادہ دیکھنے کو ملی اور ایک سرکاری پن چکی بھی گاؤں گھنے درختوں کی اوٹ میں چھپا تھا گاؤں کے چاروں طرف لمبے اور سایہ دار درخت گاؤں کو اپنی آغوش میں چھپا رکھا تھا جس سے گاؤں اور خوبصورت نظر ارہا تھا دل چاہتا تھا کہ دیکھتا ہی رہوں ۔ لیکن گاڑی کے پہیہ کے ساتھ وقت بھی بہت تیزی سے دوڑ رہا تھا جس بنا پر مجھے بغیر کسی ٹہراؤ کے سفر جاری رکھنا تھا کنڑجا کے حدود سے نکلتے ہی کرما خان کا حدود مل جاتا ہے جبکہ گاؤں آدھا کلو میٹر کے فاصلے پر ہے ۔ کرماں خان جاتا تو وقت زیادہ صرف ہوتا لہذا میں نے اپنی گاڑی کا رخ پرسوہنیا کی طرف موڑدیا اس کے بعد ہی دیوریا تھا مگر میں نے سیدھا دیوریا ناصر جانے کے بجائے مصرولیا کی طرف مڑ گیا مصرولیا اور پرسوہیاں کے کونے پر ایک پرائمری اسکول ہے اور یہیں سے ایک راستہ مصرولیا اور ایک دیوریا ناصر کو جاتا ہے میں نے پہلے مصرولیا دیکھنے کا عزم کیا سڑک بہت زیادہ کج رو کے باوجود عمدہ تھی گاڑی بغیر جنبش اور کھڑکھڑاہٹ کے اپنی فطری رفتار سے دوڑ رہی تھی پہلے اس گاؤں کا نام سنکر کچھ عجیب سا لگتا تھا کہ یہ گاؤں بہت پچھڑا ہوگا اس گاؤں میں گندگی کا انبار ہوگا مکان کچے اور خستہ حال ہونگے لیکن اس گاؤں کو دیکھکر دل خوش ہوگیا گاؤں کے دونوں جانب شہر سے جوڑنے والی پختہ سڑک تھی گندگی کا کوئی نشان نہیں تھا سڑکیں صاف و شفاف اور وسیع تھیں گاؤں والوں نے اپنے گھروں کو بہتر انداز میں تعمیر کیا تھا سڑک کے کنارے جتنے بھی گھر مجھے ملے انکے سامنے زمین خالی ملی پہلے یہ گاؤں کہریانواں گرام سبھا سے ملحق تھا اس گاؤں کا پردھان کہریانواں کا ہوتا تھا لیکن اس گرام سبھا کے انتخاب کے وقت سرکار نے کچھ گاؤں کو گرام سبھا کا درجہ دے دیا تھا اس گاؤں میں کوئی چائے کی دوکان نہ ہونے کی وجہ سے یہاں رکنا اور یہاں کی معلومات لینا میرے لئے مشکل تھا کیونکہ اس گاؤں کے لئے میں اجنبی تھا اور اپنی زندگی میں پہلی مرتبہ اس گاؤں میں داخل ہوا تھا۔ اس لئے بغیر کسی معلومات کے لوٹ گیا اب اگلی منزل میری دیوریا ناصر تھی جس کے دیدار کی غرض سے میں اپنے گھر سے نکلا تھا مصرولیا سے 3 منٹ کی دوری پر دیوریا ناصر تھا ماشاءاللہ اب اس گاؤں کو جانے والی سڑک بھی بن چکی ہے اس گاؤں کو لیکر جیسا میرا تصور تھا سب اس کے عکس نکلا میں نے اب تک جتنے گاؤں دیکھے سب سے تیز رفتار ی سے ترقی کرنے والا گاؤں مجھے یہیں کا محسوس ہوا ۔ سڑک تو بن ہی گئی ہے پہلے گاؤں میں داخل ہوتے ہی آپکے استقبال میں چھپر اورپھوس کی عمارتیں ملتی تھیں ۔ لیکن اب خوبصورت نئے طرز اور شہری نمونے کی کشادہ عمارتیں آپ کے خیر مقدم کے لئے کھڑی ملیں گی۔ اس کو دیکھکر میرے دل میں مزید اس گاؤں کو دیکھنے کا شوق پیدا ہونے لگا اس لئے میں یہاں کے عربیہ مدرسہ کے باب زکریا سے ہوکر سیدھا باہر نکل گیا راستے کے دونوں جانب مجھے نئے مکانات زیر تعمیر نظر آئے جو گاؤں کی خوشحالی کی شہادت دے رہے تھے اور یہاں کے لوگوں کا ذوق تعمیر کا نمونہ پیش کر رہے تھے ۔ میں نے اپنے گاڑی کی رفتار بڑھائی تاکہ کرماخان کا بھی دیدار چلتے چلتے ہوجائے ارادہ تو ڈنڑواں مالی بھی جانے کا تھا یہ گاؤں پرانا ہے مگر ابھی یہ نئے زمانے کی نئے طور طریقوں سے نا آشنا ہے یہ گاؤں دینی اور دنیاوی اعتبار دونوں سے پیچھے ہے بچوں کے تعلیم کا بھی کوئی خاص بند و بست نہیں یہاں دینی تعلیم کی بھی سخت ضرورت ہے ۔ میں چاہ کر بھی اس گاؤں میں نہیں جا سکا کیونکہ راستہ خراب تھا بارش کی وجہ سے ابھی تال میں پانی تھا اس لئے مجھے ملتوی کرنا پڑا ۔ کرماں خان تو راستے میں ہی پڑا تھا مگر راستہ مشکوک تھا اور کوئی رہنمائی کرنے والا بھی نہیں دکھائی دے رہا تھا میں نے گاڑی تھوڑی دیر کے لئے دیوریا ناصر مسلم قبرستان کے پاس کھڑی کردی اور نگاہیں دور تک دوڑانا شروع کردیا کہ شاید کوئی اللہ کا بندہ مجھے راہ بتانے والا مل جائے خیر کچھ دوری پر مجھے بھینس چرواہے دکھائی دیئے میں نے سرپٹ گاڑی اس طرف دوڑا دی ان سے کرماں خان کا راستہ معلوم کیا اور انکی ہدایت پر چل دیا ایک کلو میٹر چلنے کے بعد مجھے ایک باغ اور اسکے بیچ میں ایک سرکاری اسکول نظر ایا چرواہوں نے یہیں سے مڑنے کی مجھے ہدایت دی تھی
میں انہیں کے نشان پر اپنے داہنی جانب مڑ گیا راستہ اینٹ کا وہ بھی پرانا تعمیر شدہ تھا جگہ سے جگہ ٹوٹا ہوا گاڑی کے ہچکولے کے ساتھ گاؤں میں داخل ہوگیا گاؤں کے اندر انٹر لاکنگ اور نئے طرز کا شہری ماڈل نالا تو بن گیا مگر پھر بھی کام باقی ہے کرما خان کو شہر سے جوڑنے والی سڑکیں اب بھی مخدوش اور کچی ہیں جس کے تعمیر کی سخت ضرورت ہے کیونکہ یہی سڑکیں گاؤں کے ترقی اور دیگر سہولیات کی شہ رگ ہوتی ہیں انہیں راستوں سے گذر کر گاؤں میں ترقی داخل ہوتی ہے اب اس کے دونوں جانب شہر کی سڑکیں ابھی تک کیوں نہیں تعمیر ہوئیں یہ تو اس گاؤں کے سرکردہ افراد بتائیں گے یا اس گاؤں کے مکین ہوسکتا ہے اس کے تعمیری کام میں کوئی رکاوٹ ہو وہ تو وہیں کے لوگ بہتر بتائیں گے میں گاؤں کے پل کے پاس پہنچکر پان کی ٹنکی والے سے اپنے گاؤں کرہی جانے کے لئے سہل راستہ دریافت کیا پان والے نے بڑے ہی خندہ پیشانی سے مجھے میرے گاؤں کو جانے والا نہر کا راستہ بٹایا راستہ پر خطر اور تنگ ضرور ہے مگر میرے گاؤں کی مسافت کو کم کرنے میں بہتر ہے اور مجھے ایسے راستوں کی تلاش رہتی ہے تاکہ قدرت کے کچھ اچھے تخلیقی نمونوں کا دیدار کرسکوں نہر پر چرواہے اور مچھلی کے شکاری مجھے جگہ جگہ ملے اور نہر کی بلندی سے مجھے دور تک کئی اور گاؤں کے حسین منظر دکھائی دیتے رہے گنبد و محراب کے نظاروں سے اللہ کی یاد آتی رہی میں ابھی اپنے مالک و خالق کی حسین تخلیقات میں ایسا محو تھا کہ میرا گاؤں اگیا ۔ لیکن دوستوں گاؤں کوئی بھی ہو لیکن سب ایک جیسے ہوتے ہیں سبزہ زاروں سے زمین ڈھکی ہوتی ہے گھنے درخت کے سائے سے چاند اور سورج کی روشنی چھن چھن کر دھیرے دھیرے زمین پر اترتی ہے بانس اور تارکول کے چومتے درخت ہوا کی ہلکی سے حرکت پر جنبش کرتے رہتے ہیں قدرت کے ہر قسم کے پھل اور سبزیوں سے گاؤں والے لطف اندوز ہوتے رہتے ہیں گاؤں کی زندگی بڑی ہی فرحت بخش ہوتی ہے یہاں کے لوگ خالص غذا کھاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ شہری لوگوں کی نسبت زیادہ توانا اور صحت مند ہوتے ہیں ۔ گاؤں کے لوگ بہت سادہ اور مخلص ہوتے ہیں انکی زندگی میں تکلف بناوٹ ریاکاری مکر و فریب اور دکھاوا نہیں ہوتا وہ خلوص اور صاف دلی کا پیکر ہوتے ہیں اور انکی زندگی میں کوئی ایچ پیچ نہیں ہوتا ۔ گاؤں کے لوگ قناعت پسند ہوتے ہیں وہ طمع لالچ اور حرص سے دور ہوتے ہیں وہ اپنی قسمت پر شاکر و صابر رہتے ہیں اس لئے اطمینان کی زندگی بسر کرتے ہیں ۔ گاؤں کیسا بھی اسکی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آتی موسم کے ساتھ قدرت نے گاؤں کو بھی اہنگ کردیا ہے اور گاؤں کی زمین کو موسم کی تبدیلی کے ساتھ کاشت کے لئے ہموار کردیا ہے ۔دوستوں گاؤں کو کبھی نہ بھولنا گاؤں ہمارے پرکھوں کی وراثت ہیں گاؤں کی وجہ سے رشتے قائم ہیں گاوں میں پیار ہے الفت ہے محبت ہے گاؤں دو جدا دل کو ملاتا ہے گاؤں کی ہر شئی نرالی ہے جب بھی فرصت ملے گاؤں کو یاد کرلینا تنہائ میں جب دل گھبرائے تو گاؤں کی رعنائیوں اور یہاں کی دلفریبی کو یاد کرکے دل کو بہلا لینا ۔گاؤں کی سڑکوں پر اب بھی آپ کے قدموں کے نشان باقی ہیں یہاں کی فضاؤں میں اب بھی آپکی آواز قید ہے آپ کا گاؤں ہمیشہ آپ کا رہے گا اپنے گاؤں کی عزت کبھی نیلام نہیں ہونے دینا جہاں بھی رینا اپنے گاؤں کا نام روشن کرنے کی کوشش کرنا مجھے تو میرا گاؤں سب سے عزیز ہے خیر دوستوں آپ بھی اپنے گاؤں سے محبت کریں اور مجھے اجازت دیں۔ کیونکہ رات کے 1 بجنے والے ہیں سکون جان کے لئے نیند بھی ضروری ہے ان شاءالله کل پھر ملاقات ہوگی اگر زندگی نے وفا کی دعا کرتے رہیں اللہ سے مجھ سیہکار کے لئے ۔

ہو جیسے ایک ہی کنبے کی ساری آبادی
فضا ہمارے محلے کی گاؤں جیسی ہے

 

Mumbai ke Asri Afsane ka Manzarnama

Articles

مُمبئی کے عصری افسانے کا منظر نامہ

محمد اسلم پرویز

parvez45@gmail.com
کہنے کی ضرورت نہیں بمبئی جسے اب ممبئی کہا جاتا ہے،محض جغرافیائی حد وں میں بندھے ہوئے زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا،بیس ملین سے زائد آبادی والا،سات جزیروں سے بنا ،پانی پر تیرتا یہ شہراردو فکشن کی ثروت مند روایت کا امین رہا ہے۔ ایک زمانے میں اردو افسانے کی گلیکسی ممبئی کے آسمان تلے موجود تھی۔راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ،قرۃالعین حیدر، خواجہ احمد عباس ،مہندر ناتھ سے لے کر سریندرپرکاش ، محافظ حیدر ،واجدہ تبسم،جیتندر بلّو،ساگر سرحدی جیسے لکھنے والوں کے لیے ممبئی شہر سے بچنا محال تھا اورشعوری و غیر شعوری طورپر ممبئی کی ہمہ پہلو ، بھاگتی دوڑتی زندگی کو وہ اپنے فن اور فکشن میں تبدیل کرتے رہے۔ان میں زیادہ ترلوگ چونکہ دوسرے علاقوں سے یہاں آکر بسے تھے لہذا ممبئی کے حوالے انہوں نے جو کامیاب افسانے لکھے ان میں وہ اس شہر کو ایک ٹورسٹ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن ستّر کے بعد جو افسانہ نگارابھرے وہ تو ممبئی کی زندگی میں رچے بسے تھے اس لیے ان کے افسانوں میں ممبئی کی محض topography نہیں۔ ممبئی شہر کی آوازوں، روشنیوں اور سایوں ،اس کی رفتار ،ردھم ،ماحول کو ان افسانہ نگاروں نے جس طرح کاغذ پر پکڑنے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ممبئی کو سنا سونگھا،ہاتھ لگا کر چھوا،برتا اور جیابھی ہے۔ان افسانہ نگاروں کے فن میں ممبئی اپنے کیا جلوے بکھیرتی ہے اس کا مطالعہ اور تجزیہ دلچسپ بھی ہو سکتا ہے اور معنی خیز بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن اس وقت میرا موضوع اردو افسانوں میں ممبئی نہیں بلکہ سن ستّر او ر اس کے بعد کے وہ افسانہ نگار ہیں،جنہوں نے ممبئی میں رہتے ہوئے اردو افسانے کو نئے رنگ دئے۔
افسانہ ،افسانہ ہوتا ہے اسے ممبئی، دہلی ،کولکتہ میں بانٹنا غلط ہوگا۔اگر تقسیم کا یہی مزاج رہا تو پھرمنطقی اعتبار سے اس کی مزید خانہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ممبئی آٹھ کے افسانے، مضافات کے افسانے ،نئی ممبئی کے افسانے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے افسانہ نگاروں کے domacileدیکھ کر فن کا مطالعہ بھی ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ لیکن یہاں اردو افسانے کے ہندوستانی منظر نامے کے حوالے سے ممبئی کے لکھنے والوں کے فنی امتیازسے بحث کرنا مقصود ہے کہ ان کا تخلیقی رویہ ہندوستان کے دوسرے لکھنے والوں سے کس حد تک مختلف ہے اور کیوں؟
گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ممبئی کے جن لکھنے والوں نے فکری فطانت، تخلیقی سرگرمیوں اور فنی مشق و مہارت کی وجہ سے اردو افسانے کی تاریخ میں اپنی شناخت درج کی ان میں سلام بن رزاق ،انور خان، انور قمر،علی امام نقوی ، ساجد رشید، مشتاق مومن ، مقدر حمید اورم ناگ کے نام کافی اہم ہیں۔گو کہ ان کے تجربات کا دائرہ بہت وسیع نہیں اور بڑا افسانہ لکھنے کی منوہری کنجی ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگی ہے لیکن اپنے محدود ماحول، دائرے اور تجربے میں رہ کر بھی انہوں نے اردو فکشن کو چند اہم اور دلچسپ افسانے ضرور عطا کئے ہیں اوراہم بات یہ ہے کہ آج بھی یہ اس کے لیے کوشاں ہیں۔
ستّر کے بعد ابھرنے والے ان افسانہ نگاروں نے کم و بیش ایک ایسے وقت میں لکھنا شروع کیا جب جدیدافسانہ اردو فکشن پر تجریدی،علامتی اور تمثیلی کہانیوں کی شکل میں موجودتو تھا لیکن قاری سے اپنا ترسیلیnetworkکو توڑ چکاتھا۔اس وقت سیدھی سرل اور سہیج افسانے لکھنا ممنوع تھا۔مقبول ہونا غیر ادبی ہونے کی دلیل تھی اور ساری کوشش افسانے کو مشکل اور پیچیدہ بنانے پر ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ نام نہاد جدیدیت absolute story پیدا کرنے کی جھونک میں جس کہانی پن کو fake encounter میں قتل کرنے کے درپے تھی وہی کہانی پن ممبئی کے افسانہ نگاروں کے پاس survival kitکی طرح موجود تھی۔
نئے افسانے میں سب سے بڑی تبدیلی کہانی کی واپسی سے عبارت ہے۔ لیکن فکشن کے طالبِ علم کی حیثیت سے ایک سوال مجھے پریشان کرتا ہے کہ اس وقت جب پورے ملک میںعلامتی وتجریدی افسانہ پورے طمطراق سے فروغ پا رہا تھا ممبئی کے لکھنے والوں کا فنی شعور اس سُر میں سُر کیوں نہیں ملا رہا تھا ؟اس کی سب سے بڑی اور سامنے کی وجہ تو یہ تھی کہ ممبئی جیسے کاسمو پولیٹین مہا نگرمیں رہنے کے باعث ممبئی کے اردو لکھنے والوں کو دوسری زبان یعنی ہندی،انگریزی، مراٹھی ،گجراتی زبان کے ادیبوں سے ملنے کے مواقع نسبتاً زیادہ نصیب تھے۔ دوسری زبان کی ادبی ،تخلیقی اور ثقافتی آدان پردان نے اردو فکشن میں رائج فارمولا کہانیوں اور فیشن پرستی سے انہیں کسی حد تک محفوظ رکھا۔۔اس وقت جب جدید افسانہ عدم تحفظ،خوف،دہشت اور تشکیک کو شعور کی رو ،علامت، تمثیل اور استعاروں کے ذریعے بڑے دھوم دھڑاکے سے پیش کر رہا تھا ممبئی کے افسانہ نگار نہ تو جدیدیت کے اس high voltageگلیمر سے متاثر ہوئے اور نہ ہی جدیدیت کے camp fallowers میں اپنا نام درج کرایا۔ ستّر کے بعد کے ان افسانہ نگاروںنے تو ’۔’روشنی کی رفتار‘‘ کی قرۃالعین حیدرمیں اورانتظار حسین کااس ’’آخری آدمی‘‘میں جو بندر کی جون میں منقلب ہونے سے خودکو بچا رہا تھا اپنی فنی شناخت کے مراکز تلاش کئے۔ظاہر ہے یہ سب کسی منصوبہ بندی یا hidden agenda کے تحت نہیں کیا گیا۔ممبئی کے لکھنے والے علامتی ،تجریدی اور تمثیلی افسانے اس اختصاص کے ساتھ لکھ رہے تھے کہ کہانی پن سے افسانے کا رشتہ منقطع نہ ہونے پائے۔ ’’ ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘،’’زنجیر ہلانے والے،‘‘ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘،’’شان دار موت کے لیے‘‘،’’کلر بلائنڈ‘‘، ’’منو کی ارتھ ہین یاترا‘‘، ’’جلتے پروں کی اڑان‘‘، ’’خواب‘‘،’’ڈاکو طے کریں گے ‘‘، ’’موت شطرنج اور پرندے ‘‘ تمام تر علاماتی اور استعاراتی اظہار کے باوجودیہ افسانے اپنا سارا زور اسی کہانی پر دیتے ہیں جو بیانیہ کے back stageپر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا فنی رویہ اپنے ہم عصرافسانوں اور افسانہ نگاروں سے اگر مختلف تھا تو اس کی میرے خیال میں دو اور وجہیں تھیں۔ ایک تو خود سریندرپرکاش ، جو ا س وقت ایک سنئیر پیش رو افسانہ نگار اور جدید افسانے کے ایک رول ماڈل کے طور پر ستّر کی اس نسل کے سامنے موجود تھے۔ سریندر پرکاش کا فنی رویہ اظہار و اسالیب کے نئے وسیلوں کو قبول کرنے کے باوجود اپنا رشتہ اسی تجسس آمیز قصّہ گوئی پر قائم کررہاتھا، جو پریم چند ،منٹو اور بیدی کے ذریعے ان تک پہنچی تھی۔یہی وجہ ہے کہ استعاراتی اظہار اورتجریدی اسلوب میں لکھے ہوئے افسانوں میں بھی کہانی سے کلیتاً دامن چھڑانے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سریند پرکاش کی story tellingکے آرٹ نے ممبئی کے افسانہ نگاروں کو لکھنے کی ترغیب دی لیکن نت نئے تجربے کواپنی تحریروں میں جگہ دینے کے شوق میں کہانی پن کو outcasteکرنے سے اگر انہوں نے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو اس میں کہیں نہ کہیں سریندر پرکاش کا بھی کچھ حصّہ ضرور ہے۔ سریند پرکاش کے علاوہ ممبئی کے ان افسانہ نگاروں کے ذہنی کلچر کی تعمیر میں باقر مہدی نے بہت اہم اور بامعنی رول ادا کیا ہے۔ باقر مہدی شاعری کے نقاد تو تھے ہی لیکن فکشن پر بھی ان کی نظر گہری تھی۔ یہی نہیں وہ افسانے کے بہت ہی حساّس اور پر شوق قاری تھے۔ فکشن کے فنی تقاضوں اور اس کے بدلتے سماجی رول کا وہ کس قدرگہرااور زندہ شعور رکھتے تھے اس کی شہادت تو فکشن پر لکھے ان کے مضامین دے ہی دیں گے لیکن ’’اظہار ‘‘میں انہوں نے نمائندہ جدید افسانہ نگار انور سجّاد کے افسانوں کا جو انتخاب شائع کیا وہ فکشن سے ان کے ادبی مطالبات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ غرضکہ یہ بات بغیر کسی تکلف کے کہی جا سکتی ہے کہ سریندر پرکاش اور باقر مہدی کی ذہنی قربت اور رفاقت اگر ممبئی کے لکھنے والوں کو نصیب نہیں ہوئی ہوتی تو شاید جدید افسانے کی سونامی انہیںبھی ٹھکانے لگا چکی ہوتی۔
ستّر کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل کا اگر کوئی ’’کارنامہ‘‘ ہے تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے افسانے کو اس کھویا ہوا چہرہ عطا کیا۔ اس کارنامے کو انہوں نے متن اور کرافٹ دونوں سطحوں پر انجام دیااور اس انجام دہی میں ممبئی کے افسانہ نگاروں کا رول قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام بن رزاق، انور خان اور انور قمر ممبئی کے افسانہ نگاروں کی یہ تثلیث نہ تو ترقی پسندوں کے مخالف تھی نہ ہی جدیدیت کی علمبردار۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے یہاں بنیادی کردار ایک ایسے شخص کا رہا ہے جو موجود ہ سماجی،سیاسی ، مذہبی ،ثقافتی ،معاشی منظر نامے میں خود کو situate کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
سلام کے افسانوں پر مختلف ناقدوں نے جو رائے دی ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سلام اپنی نسل کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ ،’’معبر‘‘ اور ’’شکستہ بتوں کے درمیان‘‘ ان کے تین افسانوی مجموعے ہیں جن میں لگ بھگ پچاس ساٹھ افسانے شامل ہیں۔ زیادہ تر افسانے موضوع،کرافٹ ،اوراسلوب کے نقطہ نظر سے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ زندگی کی بساط پر رینگنے والے اس بے بس، لاچار اور مجبور انسان کوجسے سسٹم نے پیس ڈالا ہے سلام نے اپنے افسانے کاشاہ کردار بنایا ۔۔۔۔۔۔تو گویا سلام کے افسانوں کے ذریعے ہماری ملاقات ایک ایسے ہیرو سے ہوتی ہے جواپنی اصل میں نان ہیرو ہے۔
بہت پہلے شاید ایمرجنسی کے زمانے میں سلام بن رزاق نے ایک مختصر سا افسانہ ’’اندھیرا‘‘کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ چار چھ سطری یہ مختصر افسانہ یا افسانچہ میرے خیال میں سلام کے فنی رویے کا بلو پرنٹ ہے۔افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کے کارن اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ آنکھیں ناکارہ ہوگئیں اور ہاتھوں کو ہاتھ تک سجھائی نہیںدے رہے تھے۔ مگر کچھ دیر بعد لوگوں کو محسوس ہواکہ اندھیرا کم ہو رہا ہے اور انہیں کچھ کچھ دکھا ئی دے رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوتی جا رہی تھیں۔غور کریں توسلام کے بیشتر افسانوں کا موضوع اورمظروف اندھیرے سے مانوس ہوتی وہی آنکھیں ہیں۔ ہر ظلم سہہ جانے کی بے بس مجبور اور لاچار آدمی کی سائیکی جوزندگی بھر گم نام حاشیہ بن کر جیتاہے اور ہر قسم کی سماجی ناانصافی اور سیاسی جبر کو بڑی خود اطمینانی کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے مر جاتاہے۔ اب چاہے وہ ’’انجام کار‘‘ کا مرکزی کردار ہو یا’’کام دھینو ‘‘ کا مادھو۔، ’’خصی‘‘ کا پرس رام ہو یا پھر ’’خوں بہا‘‘ کا اسکول ماسٹر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اہم بات یہ ہے کہ سلام نے بے حسی ،مفاہمت پسندی اور خود اطمینان زندگی جینے والی اس معمولی، بے بس اور لاچار اکائی کے حوالے سے نہ صرف اپنے عہد کی حقیقتوں کو جاننے کی کوشش کی بلکہ اپنے تخلیقی اور فنی وجود کی شناخت بھی کی۔ایک زمانے میںسلام سے ان کے ہم عصرلکھنے والوں اور ناقدوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے کردار افسانے اختتام میں سرینڈرہو جاتے ہیں۔افسانے کے کرداروں کی مزاحمت اور مفاہمت کے حوالے سے ادبی اقدار کا تعین جتنا خطرناک ہے اتنا ہی گمراہ کن بھی۔ افسانے کی کامیابی و ناکامی کا انحصار فنکارکی اظہاری صورتوں میں مضمر ہے۔
اور یوں بھی ا فسانے میں کرداروں کی مفاہمت کا اظہار کیا انحرافی قوت کا پیش لفظ نہیں ہو سکتا؟
ابھی حال میں سلام بن رزاق نے جودو افسانے تحریر کئے ہیں ان میں ان کا سماجی و سیاسی سروکار بہت سیدھا صاف اور شفاف ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔‘‘دونوں افسانوں میں ایک داخلی مماثلت ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘اگر بم بلاسٹ میں بے قصور پکڑے جانے والے مسلمانوں کی کہانی ہے تو ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘مذہبی شدّت پسندی کے بیچ پسنے والی ایک مسلم نوعمر لڑکی کا افسانہ ہے۔ دونوں افسانوں میں سلام نے مسئلے کو اندر سے دیکھنے اور آدمی و سماج کو ایک نقطے پر پکڑنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔خاص طور پر ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘ کے اختتام پر غائب راوی کا افسانے کی چوتھی دیوار کو توڑ کر براہِ راست قاری سے مخاطب ہو نا ironyکی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔
سلام بن رزاق کے نہایت قریبی ہم عصر افسانہ نگار انور خان ہیں۔ دونوں نے لگ بھگ ایک ساتھ ہی لکھنا شروع کیا افسانوی مجموعے بھی دونوں کے ایک دو سال کے فرق کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ سلام کی بہ نسبت انور خان کا رحجان علامتی طرز کی کہانیوں کی طرف زیادہ رہا۔’’ راستے اور کھڑکیاں ‘‘،’’ فنکاری‘‘ اور’’یاد بسیرے‘‘کے مختلف افسانے ان انسانی اقدار کے کھونے اور کھوجنے کا اظہار ہے جو ہماری سماجی، سیاسی، تہذیبی ،ثقافتی اور ذہنی زندگی کی فریم سے نکل گئے ہیں۔سلیم شہزاد ی اصطلاحوں کا سہارا لے کر کہوں توmimeticاور diegtic بیانیہ کے دونوں طریقِ کار کا استعمال انور خان اپنے افسانوں میں نہایت کامیابی سے کرتے ہیں۔’’لمحوں کی موت‘‘، ’’شام رنگ ‘‘اور ۔’’بول بچن ‘‘میں اگرافسانے کاحاضر یا غائب راوی ماجرائی پرتوں کو مکالموں کی ڈرامائیت اور منظر کے ذریعے دکھاتا ہے تو’’شاندار موت کے لیے‘‘ ،’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ ، ’’برف باری‘‘ اور ’’اپنائیت ‘‘میں راوی واقعہ کا حصہ نہیں بنتا ،وہ محض واقعہ کی تفصیل کو اطلاعاتی انداز میں فراہم کر دیتا ہے۔انور خان کے افسانوں میں غالب رحجان diegtic طرزِ اظہار کا ہے اور یہی ان کے فنّی رویے کو مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔
انور خان کے بیشتر افسانے کی قرات کے دوران جدید مشینی دور کے غیر انسانی اور لاتعلقانہ رویے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ’’راستے اور کھڑکیاں ‘‘اور ’’فنکاری‘‘کے بیشتر افسانے جذبات سے عاری ایک ایسے اسلوب میں لکھے گئے ہیں جو اپنے ڈسکورس کے دوران سولات قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سوالات زمیں اور آسمان کے بیچ رہنے والے ایک حسّاس انسان کے ہیں جو مختلف محاذ پر لڑ رہا ہے اور ہر محاذ پر اپنے سامنے اپنے آپ کو ہی پا رہا ہے۔ سولات پوچھنے کی tendencyنے انور خان کے افسانوی ڈسکورس کو اگر ایک طرف ثروت مند کیا ہے تو دوسری طرف قاری کو اس روحانی کرب سے متعارف کروادیا ہے جن سے گزر کریہ ڈسکورس قائم ہوا ہے۔ انور خان کی فنی معروضیت اصل میں ان کی گہری فنکارانہ وابستگی کے سبب ہے۔اس نے انہیں الفاظ کے کفایت شعارانہ استعمال کا سلیقہ بھی دیا۔انور خان کفایت ِلفظی کے توقائل ہیں لیکن یہ کفایتِ لفظی افسانوی تاثّر کو گہرا کرنے کا محض ذریعہ ہی نہیں بلکہ قاری کے ذہن کو متحرک کرنے کا یہ ایک حیلہ بھی ہے۔ غور سے دیکھیں تو ان کے افسانوں کے جملوں میں الفاظ کے بیچ کی خالی جگہوں میں کئی گہرے خیال اور نکتے چھپے ہوتے ہیں۔ انور خان کے بیشتر افسانوںمیں کرداراپنے ہاڑ مانس کے ساتھ حرکت نہیں کرتے بلکہ shadow play کی طرح ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔
انور خان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو زندگی کی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنا دیتے ہیں۔’’برف باری‘‘ میں محض وقت گزاری کے لیے tic tac toe کا کھیل کھیلنا،یا ’’فنکاری ‘‘میں چائے کے داموں میں اضافے پر احتجاج کرنا،یا پھر ’’گیلری میں بیٹھی ہوئی ایک عورت‘‘ میں عورت کا یوں ہی اپنے سامنے پھیلے ہوئے منظر کا جائزہ لینا۔۔۔۔یہ سب بظاہر بہت ہی معمولی واقعات ہیں لیکن انور خان ان ہی معمولی اور روٹین واقعات سے ہماری زندگی کے گہرے حقایق کو منکشف کرتے ہیں۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ انور خان نہ صرف روزمرہ کے معمولی واقعات اور جزئیات سے کہانی بننے کے فن سے واقف ہیں بلکہ مجرد خیال کو کہانی میں بدل دینا بھی انہیں خوب آتا ہے۔’’برف باری‘‘، کتاب دار کا خواب‘‘ ، ’’اپنائیت‘‘اس کی جگمگاتی مثالیں ہیں۔لیکن بعض افسانوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ خیالات کو افسانے کے چوکھٹے میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔ ’’شاٹ‘‘،’’ہوا‘‘،’’گونج ‘‘جیسے افسانوں میں ان کی اس کمزوری کا احساس شدّت سے ہوتا ہے۔
انور خان اور سلام بن رزاق کے ہم سفر اور ہم رکاب افسانہ نگاروں میں انور قمر نہایت اہم ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ’’چاندنی کے سُپرد‘‘ ، ’’ چوپال میں سنا ہوا قصّہ‘‘ کلر بلائنڈ‘‘ اور ’’جہاز پر کیا ہو ا؟‘‘شائع ہوچکے ہیں ،جو ان کے چالیس سالہ افسانوی سفر کی کُل پونجی اور تخلیقی سرگرمی سے ان کے والہانہ لگائو کا نتیجہ ہیں۔ خوش کن بات یہ ہے کہ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سالہ فکشن کے اس سفر میں انور قمر کے یہاں کئی طرح کے فکری و فنی پڑائو ملتے ہیں۔انورقمر ایک فکرسے مربوط افسانہ نگار نہیں ہیں۔زندگی کی جولانی اور ہیجان ،داخلی احساسات اور تجربات کا reflectionان کی تحریروں میں کسی نہ کسی صورت ابھرتا ہے اور یہ صورتیں ان کے افسانوں میں ایک دوسرے سے کس قدر مختلف، متضاد اور متنوّع ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوی رویے کو کسی ایک خاص برانڈ میں باندھا نہیں جا سکتا۔ان کی تخلیقی کائنات بیانیہ، علامتی، تمثیلی، اشارتی،فنٹیسی اور تجرباتی سبھی طرز کے افسانوں سے آباد ہے۔ کہیں وہ کامیاب ہیں ،کہیں ناکام اور کہیںبری طرح ناکام۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موضوعی و اسلوبیاتی تنوع اور آزاد تخلیقی فضا کا جو احساس ہمیں انور قمر کے یہاں ملتا ہے ،ان کے دوسرے ہم عصروں کے یہاں کم کم ہے۔یہ تنوع ان کے یہاں ایک ایسے تخلیقی و ارتقائی سفر کی نشاندہی کرتا ہے جو افقی بھی ہے اور عمودی بھی۔ موضوعی اور اسلوبیاتی سطح کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تبدیلیوں کا اشاریہ ان کے افسانوں سے حاصل ہوتاہے۔’’چاندنی کے سُپرد ‘‘کے افسانوں میں جو سرخ رنگ خوش آئند مستقبل کا استعارہ نظر آتا ہے وہی ’’کابلی والا کی واپسی ‘‘ میں خون کی سرخی میں تبدیل ہو گیا ہے۔
انور قمر کا تعلق افسانہ نگاروں کے اس قبیل سے ہے جو instinctکے بجائے فکر و شعور کی تمام جہات کو برروئے کار لاتے ہوئے افسانے کی تعمیر کرتے ہیں۔انور قمر نے جب بھی لکھا بہت سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر لکھا۔ان کا فنی رویہ اپنے موضوع کے انتخاب ،واقعات کی تشکیل ،ان کی ترتیب اور ان کے درمیان ربط کی نوعیت میں منصوبہ بند تعمیر کا پابند ہوتا ہے۔ان کے یہاں سبب اور نتیجہ والی تعقلّی ترتیب سے انکار بھی اتفاقی اور غیر شعوری نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر تخلیقی مقاصد کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انور قمر اپنے ہم عصرافسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ concious افسانہ نگار ہیں۔
بعض افسانوں میں انور قمر کا سماجی و سیاسی سروکار بہت واضح نظر آتاہے تو بعض میں قدرے دھندلا۔۔۔۔۔ ۔ برسوں پہلے افغانستان پر روسی حملے کے حوالے سے انہوں نے رابند ناتھ ٹیگور کی کہانی ’’کابلی والا‘‘ کو بنیاد بنا کر ایک نیا افسانہ’’کابلی والا کی واپسی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں مسلم کش فسادات کو موضوع بنا کر’’جہاز پر کیا ہوا ؟‘‘ جیساایک اہم افسانہ لکھا۔ دونوں افسانوں میں سیاسی جبر اور منافرت کی فضا کو جس طرح تخلیقی جہت دی ہے وہ انور قمر کے فکری و فنی شعور پر دال ہے۔ دونوں افسانے سیاسی افسانے کا ا لتباس پیدا کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں افسانے مخصوص تاریخٰی صورتحال میں گھرے عام آدمی کے مقدر اور اس کے وجود کی معنویت کی دریافت سے عبارت ہیں۔ اقتدار کی اندھی قوت کے سامنے ایک عام آدمی کے د رد اور خوف کو انور قمر نے یوں translateکیا ہے اسے کسی سیاسی تاریخ کے حصار میں باندھا نہیں جا سکتا۔
70ء کی دہائی ممبئی کے اردو فکشن کے لیے یوں بھی فالِ نیک ثابت ہوئی کہ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان ابھی اپنی فنی شناخت کے پہلے پائیدان پر ہی تھے کہ افسانہ نگاروں کی دوسری فصل ممبئی میں لہلہاتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مقدر حمید،ساجد رشید، علی امام نقوی، مشتاق مومن نے بڑے جوش و خروش سے لکھنا شروع کیاکچھ عرصے بعد ہی م ناگ بھی ناگپور اٹھ کر ان لوگوں کے بیچ کنڈلی مار کر بیٹھ گئے اور ایسے بیٹھے کہ پھر ممبئی کے ہی ہو گئے۔ان لکھنے والوں نے اپنے افسانوں سے اردو فکشن کو وقار اور اعتبار بخشا۔ خاص طور پر ساجد رشید، علی امام نقوی اورم ناگ نے ۔۔۔۔
یہاں میں مشتاق مومن کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہوں گا۔ سلام، انورخان اور انور قمر کے فو راً بعد ممبئی کے اردو افسانے کے سنیئر یوپر اچانک ابھرنے اور پھر چپ چاپ ڈوب جانے والے ایک فنکار کا نام مشتاق مومن ہے۔ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے جس میں ’’کریم لگا بسکٹ اور چونٹیاں‘‘ ،’’موز ‘‘اور’’رت جگوں کا زوال‘‘جیسے کئی صاف ستھرے اورنتھرے ہوئے افسانے ہیں جو اپنے قاری کو چونکائے بنا متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ایک افسانہ اس کتاب میں ایسا بھی شامل ہے جس نے پڑھنے والے کومتاثر کئے بنا چونکایا اور جسے مشتاق مومن نے نہیں سریندرپرکاش نے ’’دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار‘‘کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ کے طور پر تحریر کیا تھا۔ سریندرپرکاش کے اس left handed compliment نے لوگوں کو چونکایا توضرور مگر مشتاق مومن کے فن اور فنی رویے پر روشنی ڈالنے کے بجائے یہ فسانہ خود سریندر پرکاش کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
مشتاق مومن نے اسّی کی دہائی میں جو افسانے لکھے تھے ان میں کچھ اب بھی حافظے کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں۔ جس طرح عبدل بسم اللہ نے اپنے ناول ’’جھینی جھینی بینی چدریا‘‘ میں بنارس کی مسلم بستی مدن پورہ کی inner life کو زندہ کر دیا ہے اسی طرح مشتاق مومن نے پاور لوم سٹی بھیونڈی کواپنے افسانوں میں دھڑکتے ہوئے حوالوں کا حصّہ بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ بیس برسوں سے افسانہ نگاری سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بررئوے کا ر لا تے ہوئے امتیاز و اختصاص کی منزلوں سے گزرتے ان کی صحت نے انہیں معذور کر دیا ہے اور اب تو افسانہ نگاری سے ان کے رشتے کی تجدید معدوم نظر آتی ہے۔
افسانوں کا انتخاب ہو یا تنقیدی مطالعے میں فنکاروں کانام اور ذکر ،بڑی حد تک یہ مرتبین اور ناقدین کی صواب دید کا پابندہوتا ہے۔لیکن جب جوگندر پال پنگوین کے لیے ’’عصری اردو کہانیاں‘‘ مرتب کرتے ہوئے غزال صیغم کے افسانے کو شامل کرتے ہیں اور انور خان کوبھول جاتے ہیں یا پھر قاضی افضال سیّد ممبئی کے افسانہ نگاروں پراپنے کلیدی خطبے میں مظہر سلیم کا ذکر بڑے اہتمام سے کرتے ہیں مگر ساجد رشید کا نام ان کے حافظے سے پھسل جاتا ہے ، تو اس کا جواب اور جواز سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے تعصب اور بد دیانتی آج بھی ہماری ادبی کلچر کا اٹوٹ حصّہ ہے۔انور خان اور ساجد رشید کے افسانوں پر سخت سے سخت تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ نئے افسانے کے ذکر میں انہیں بھول جائیں۔
جہاں تک ساجد رشید کا تعلق ہے انہوں نے سلام بن رزاق،انور خان اور انور قمر کے بعد لکھنا شروع کیا،لیکن قصّہ گوئی کی سلیقہ مندی نے انہیں بہت جلدی اپنے سنیئر افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ستّر کے بعد کے افسانہ نگاروں نے جس کہانی پن کی بازیافت کی تھی وو ساجد رشید کے افسانوں میں ایک تنائو کی شکل میں ابھرتی ہے اور تجسس کو جنم دیتی ہے۔ نکیل ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتی اور ایک کشمکش۔۔۔۔۔۔۔ایک تصادم ٹیومر کی طرح ساجد کے افسانوں میں پہلی سطر سے اختتام تک زندہ رہتا ہے۔ جامد تصاویر کے بجائے متحرک مناظر اور مکالماتی بیانیہ نے ان کے افسانوں کو ڈرامے کی صنف سے قریب کردیا ہے۔ ساجد کے افسانوں کی قرات کے دوران قاری ناظر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کردار اداکار میں۔۔۔۔۔۔اور یوں وہ افسانوی متن کو اسٹیج پر پرفارم ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ ساجد کا فنی امتیاز ہے کہ وہ افسانے میں موجود اندورنی تصادم کو فوکس کرنے کے لیے مختلف tools استعمال کرتے ہیں۔چونکہ ساجدصرف افسانہ نگار نہیں بلکہ صحافی،سماجی ورکر،ڈرامہ نگار،اداکار اور کارٹونسٹ بھی ہیں اس لیے ان تمام فنون کے اظہاری وسائل کا بھرپور فائدہ افسانے کی تعمیر میں وہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ ساجد رشید کے افسانوی ڈسکورس میں ہم ڈرامہ نگار ،سماجی ورکر، صحافی ،کارٹونسٹ اور اداکار ساجد رشید کو افسانہ نگار ساجد رشید سے قریب آتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اس قربت نے بیشتر جگہوں پر ان کے فکشن کے امتیازی عناصر کی شناخٹ قائم کی ہے اوربعض مقامات پر ان چیزوں نے ان کے افسانوی کرافٹ کوزبردست نقصان بھی پہنچایا ہے۔لیکن یہ قصّہ پھر کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوعی طور پر ساجد رشید کے افسانوں کو دوحصّوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک سماجی و سیاسی سروکاروں کے افسانے دوسرے انسانی رشتوں کے افسانے۔ گو کہ یہ تقسیم واٹر ٹائیٹ کمپارٹمینٹل نہیںہے کیونکہ انسانی رشتوں کے افسانوں میں سماجی و سیاسی سیاق ابھرتے ہیں تو سیاسی اورسماجی موضوع کے افسانوں میں انسانی رشتے پنپتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے طرز کے افسانوں میں ساجد اگر آس پاس بکھری ہوئی سماجی و سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسرے طرزکے افسانوں میں بجائے خود زندگی کو دریافت کرنے میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جو بات ساجد کے افسانوں کو ایک امتیازی وصف عطا کرتی ہے وہ یہ کہ ان کا ہر افسانہ اپنے عصر اور سماج سے ایک جرح ہے ،ایک مکالمہ ہے۔
موضوع ،تکنیک ،مواد اور زبان کا ایک اچھا تال میل ساجد کے افسانوں میں ملتا ہے۔وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سا افسانہ کس ڈکشن میں لکھنا ہے۔بیانیہ پر مظبوط گرفت ،بے پناہ قوّت مشاہدہ اور انسانی نفسیات کے ان کے گہرے شعور کے سبب ہی اپنے کسی انٹرویو یا نجی گفتگو میں وارث علوی نے ساجد رشید سے کرداری افسانہ لکھنے کی توقع ظاہر کی تھی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے مختلف افسانوں میں کئی منفرد، پیچیدہ اور complexedکردارپیش کرنے کے باوجود ساجد رشید کے پاس کوئی کرداری افسانہ نہیں ہے۔’’مردہ دھوپ‘‘کی پھوپھی یا ’’ایک چھوٹا سا جہنم ‘‘کا ڈاکٹر نائیک یا پھر ’’شام کے پرندے ‘‘کے اختر حسین، یہ سبھی ساجد رشید کے ایسے کردار ہیں جو اپنی شناخت افسانوی فریم ورک سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر کرواتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کی سرشاری میں ساجد کی مثالیت پسندی کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ساجد رشید اپنی بنیاد میں idealist ہیں اوراگر یہ idealism حیات و کائنات کے بارے میں ان کے موقف کی تشکیل کرتا ہے توان کی مثالیت پسندی کرداروں کے حقِ خود اختیاری کی محتسب بن کر بھی ابھرتی ہے۔ ساجد رشید سے کرداری افسانے کے مطالبے کے پیچھے وارث علوی کہیں اس دھندلی مثالیت پسندی کو فنی دائرے سے ٹاٹ باہر کرنے کے تو متمنی نہیں ہیں؟ میرے خیال میں ساجد رشید کو وارث علوی کی اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
کرداری افسانوں کی جس کمی کا احساس وارث علوی کو ساجد رشید کے افسانوں میں ہوتا ہے وہ شاید علی امام نقوی کے افسانوں میں انہیں نہ ہو۔ علی امام نقوی کے بیشتر افسانوں میںڈرائیونگ سیٹ پر پلاٹ کے بجائے کردار سوار ہوتا ہے، چنانچہ وہاں واقعات کردار کا تانا بانا بننے کے بجائے کردار خودواقعات کی ترتیب و تنظیم کرتے ہیں۔ ’’نئے مکان کی دیمک ‘‘،’’گھٹتے بڑھتے سائے‘‘،’’مباہلہ‘‘اور ’’موسم عذابوں کا ‘‘اپنی ان چار کتابوں میں شامل افسانوں سے علی امام نقوی اردو فکشن میں اپنی جگہ محفوظ کر چکے ہیں۔
علی امام نقوی نے اپنی افسانوی کائنات ہمارے معاشرے کے ان کرداروں سے سجائی ہے جن کی تلاش میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ٹیکسی وٹرک ڈرائیور، شرابی، چرسی، آوارہ، بیکار، نکمے افراد،مزدور، وارڈ بوائز،جرائم پیشہ ،ریکروٹنگ ایجنٹ ،کلرک، ٹی وی مکینک ،کباڑیے ،رنڈیاں، بدچلن عورتیں۔۔۔۔۔۔ ان کی جیتی جاگتی تصویروں کو تخلیقی جہت دے کرعلی امام نے ایک فنی تجربے میں بدل دیا ہے۔ ان کرداروں کی معمولی سے معمولی اور اسفل سے اسفل جزئیات اور تفصیلات میں دلچسپی محض ان کی زندگی کا روزنامچہ ان ہی کی زبان اور محاورے میں لکھنا ہی علی امام کا منتہائے مقصود نہیں بلکہ ہوا کے دبائو اور پانی کے بہائو سے ادھر ادھر ڈولنے والے ان بے بس اور مجبور کرداروں کے ذریعے زندگی کی پہنایوں تک اترنے کی جہت ان کے افسانوں کے sub textمیں دیکھی جا سکتی ہے۔ علی امام نے اپنے بیانیہ میں ایک under currentضرور بچھایا ہے جن میں ان کے نقطہ نظر کے بنیادی نقوش جھلملاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصل زندگی علی امام کے یہاں، زندگی کی اصل تک رسائی حاصل کرنے کی ایک فنکارانہ کوشش ہے۔
تین لوک میں متھرا پیاری ۔۔۔اور علی امام کی متھرا ان کی ممبئی ہے۔ ممبئی کی زندگی علی امام نقوی کے افسانوں میں سانس لیتی اور خون میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کا ماحول، یہاں کی زندگی کی رفتار،بھیڑ بھاڑ،اس شہر کی زندگیوں کے sound tracks اور اس کی خاموشیاں ،یہاں کے محاورے اور یہاں کی low languageکو علی امام نے اپنے ناول ’’تین بتی کے راما ‘‘ اور مختلف افسانوں میں جس طرح پکڑا ہے وہ اس شہر کو جئے بنا حاصل ہونا ممکن نہیں۔ ’’ڈونگر واڑی کے گدھ‘‘فسادات پر لکھا ان کا یہ افسانہ کافی مشہور ہوا۔اکثر لوگوں کا خیال ہے اختتام میں علی امام نے عصری پس منظر کو ایک دائمی تناظر عطا کر دیا ہے۔ممکن ہے یہ درست ہو لیکن افسانے کا یہ انجام تاثّر سے بھرپور ہونے کے باوجود پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتا ہے۔البتہ اس افسانے میں پارسیوں کے dialectکا بہت ہی خلاّقانہ استعمال انہوں نے کیا ہے۔
تقسیم اگر ہندوستانی فکشن کا ایک اہم موڑ ہے تو تقسیم کے بعد بھی ہند و پاک کے تہذیبی ثقافتی رشتوںپردونوں ملک میں کئی اچھے اور کامیاب افسانے لکھے گئے۔ ان میں علی امام کا افسانہ’’ میراث‘‘کافی اہم ہے مگر افسوس کے ناقدوں نے اس پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی۔
ہمارے یہاں بیشتر لکھنے والوں کے لیے افسانہ تحریر کرنا سوئمبر میں حصّہ لینے جیسا ہے۔ جہاں سوئمبر کی شرائط کی تکمیل کے لیے افسانہ نگار جان کی بازی لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ناگ کا فنی رویہ ان سے قدرے مختلف ہے۔ ناگ کے لیے افسانہ لکھنا سوئمبر میںحصّہ لینانہیں ہے۔ اسی لیے نہ تو وہ شیو کے دھنش کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی ارجن کی طرح اپنی نظر صرف مچھلی کی آنکھ پر رکھتے ہیں۔اس تخلیقی رویے نے ناگ کے افسانوں کو اس منطقی ارتقاء سے محروم رکھا جو عموماً افسانے میں وحدتِ تاثّر ابھارنے میں مدد دیتا ہے۔پلاٹ کے افسانے میں واقعات کی ایک منطقی ترتیب ہوتی ہے اور اس کا ایک خاص نقطہ آغاز اور نقطہ انجام ہوتا ہے۔ سارے سلسلے ایک مرکزی نقطے سے جڑے ہوتے ہیںلیکن ناگ افسانوں میں کوئی منطقی ترتیب نہیں ملتی اور اگر ہے بھی تو سطح پر نہیں تیرتی۔ چونکہ افسانہ واقعہ کو منطقی ترتیب سے بیان نہیں کرتا۔ اس لیے متن میں موجود کشمکش زبان کی تخلیق نہیں کرتی بلکہ افسانہ نگار اپنے اسلوب میں اپنی زبان ،اپنے نجی محاورے میں اپنی بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی نجی آھنگ اور ذاتی لہجے کی چھاپ نے ایک طرف ناگ کے افسانوں کو رسمی اسلوب اور موضوعات کے فرسودہ برتائو سے آزاد رکھا تو دوسری طرف الفاظ کو فقط سننے یا پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ دیکھنے اور چھونے کی چیز بھی بنا دیا ہے۔
اگر علی امام نقوی کے افسانوں میں مختلف رنگ، نسل ،ڈئزائن کے کرداروں کا میلا ہے تو م ناگ اپنے افسانوں کی دنیا میں بالکل اکیلا ہے۔ اپنے اندر اور باہر اجنبی سچائیوں کو دیکھتا ،پرکھتا ایک اکیلا تنہا آدمی۔۔۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے اکثر آر کے لکشمن کے عام آدمی کا وہ کارٹون یاد آتا ہے جو دیکھتا سب کچھ ہے ،سنتا سب کچھ ہے لیکن بولتا کچھ بھی نہیں۔ ناگ کے افسانے بھی سننے اور دیکھنے والے افسانے ہیں،بولنے والے نہیں ۔۔۔۔کیونکہ ناگ کے افسانوں میں خاموشیاں بھی بولتی ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ڈاکوطے کریں گے‘‘ اور ’’غلط پتہ‘‘اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی اشاعت میں بھی ایک طویل عرصہ حائل ہے۔اور بقول انتظار حسین ہمارا زمانہ ادیب کو پروجیکٹ کر رہاہے اور ادب کو پیچھے دھکیل رہاہے۔اسی لیے جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کہ اس دور میں دنیا داری کے جھمیلوں اور تعلقات عامّہ کے حیلوںسے الگ تھلگ رہنے اور رسائل میں افسانوں کی اشاعت سے بے نیازی برتنے نے ناگ کو بہت نقصان پہنچایا۔
ناگ نے اپنے افسانوں میں جو دنیا رچی ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جس دنیا میں ہم آپ جی رہے ہیں وہ اتنی سیدھی اور صاف نہیں ہے۔ شفاف واقعات کی باطنی پرت کے نیچے بھی مضحکہ خیز عوامل کار فرما ہیںاور بظاہر سیدھے دکھائی دینے والے رشتے بھی دھندلے ہو چکے ہیں۔ایک بے نیازاور بے پروا راوی کا پوز بنائے رکھنے میں ناگ اکثر کامیاب ہو تے ہیں۔
ناگ کی تخلیقیت کا بنیادی رمز ان کا اسلوب ہی ہے۔یہ اسلوب اور کچھ نہیں ناگ کی شخصیت کی ہی لسانیاتی تجسیم ہے۔ ہلکی پھلکی لیکن گہری ،دلچسپ اور دلاویز اور شاید اسی لیے منفرد بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ناگ کے افسانے ہر پھر کر ان کی شخصیت کے آس پاس ہی طواف کرتے ہیں اور۔اسی لیے ان کے زیادہ تر افسانے آٹو بائیگرافیکل ہونے کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ناگ کے افسانوں تک رسائی ہم اس اس کی شخصیت کو tracepass کر کے ہی حاصل کر سکتے۔
جنس ناگ کا پسندیدہ موضوع ہے۔ موضوع بھی نہیں بلکہ ایک حوالہ ہے۔ جنس کے مجرد اور غیر مجرد تصورات کو جس طرح ناگ نے اپنے افسانوں میں animateکیا ہے اس نے ان کی تحریروں کو اپنے پیش روئوں اور ہم عصروں میں منفرد بنا دیا ہے۔ چونکہ جنس کو موضوع کے بجائے بطور حوالہ برتا گیا ہے اسی لیے افسانوں میں ناگ کا رویہ peeping tomجیسا نہیں ہے اور اسی لیے سیکس اور رشتوں پران کی متنازعہ تحریروں میں بھی ترغیب کا پہلو نہیں ہے۔ فنکارانہ اعتبار سے ناگ کے افسانے بلاشبہ اتنے بلند نہ ہوں لیکن اس میں ایک ایسے آدمی کا کرب ضرور موجود ہے جو رشتوںاور سسٹم کو اپنی کھال اور روح پر بھوگ رہا ہے۔ان کے دونوں افسانوی مجموعوں سے متعلق یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘کے بعد ’’غلط پتہ ‘‘تک پہنچتے پہنچتے البتہ ایسا لگتا ضرورہے ناگ کا تخلیقی رویہ اپنے محور سے کچھ ہٹ سا گیا ہے ’’غلط پتہ‘‘ میں نہ تو وہ تازگی ہے اور نہ ہی وہ brandingجو ناگ کی پہچان ہے۔ ’’غلط پتہ‘‘ پر پہنچنے کا جو احساس قاری کو ہوتا ہے اگر وہ افسانہ نگارکوبھی ہوجائے تو شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین پا لے۔
مقدر حمیدایک سنئیر افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے لگ بھگ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھا۔لیکن ایک زمانے تک ادبی رسائل سے ایک ’’محفوظ دوری‘‘بنائے رکھنے کے سبب ناقدین اور قارئین نے بھی انہیں وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ چالیس سال پر محیط اپنے افسانوی سفرمیں مقدر حمید کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ ’’زر بیل‘‘ ،’’ابر کاری‘‘ اور ’’جل ترنگ‘‘یہ عنوانات ہی افسانوں کے موڈ اور ان کے فنی رویوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
مقدرحمید کے بیشتر افسانے دھیمی لے کے افسانے ہیں اور معلوم پڑتا ہے کمر کے نیچے تکیہ رکھ کرconciveکئے گئے اور آرام کرسی پر لیٹ کر تحریر کئے گئے ہیں۔قاری کے ذہن پر ہتھوڑا مار کر اس کے پورے وجود کوجھنجھنا دینے والے افسانوں کے بجائے ان کے افسانے غلام علی کی گائیکی کی طرح اپنی محدوداور مخصوص نوٹ سے اوپر نہیں اٹھتے۔ اپنے آس پاس کی زندگی پر ان کی نظر مرکوز ہوتی ہیںاور اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس میںشریک کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے محدود کینواس کے باوجودان کے یہ افسانے پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں ،مقدر حمید کے افسانوںمیں ایک خاص قسم کا تاثّر دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان کی زبان واقعات کو دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے یہاں موضوع کے بطن سے واقعات جنم نہیں لیتے بلکہ واقعات کی پرتوں میںوہ موضوع تلاشتے ہیں۔
مقدر حمید کے یہاں خوبصورت الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔مگر یہ خوبصورت الفاظ ان کی قصّہ گوئی کو مدد بہم پہنچانے کے بجائے سلمہ ستاروں کی طرح افسانوی فریم ورک میں بے بس ٹنکے نظر آتے ہیں۔اورظاہر ہے جب لفظ افسانوی فریم ورک میں اپنا کام انجام دینے سے انکار کردیں تو افسانہ نگار کی خود تزئینی کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
’’ابر کاری‘‘ کے پیش لفظ میں انہوں نے لکھا تھا کہ اپنی بات کہنے کے لیے کہانی کی تصویر کو جو بھی فریم راس آتی ہے اسے اپنانے میں انہیں احتراز نہیں ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مقدر حمید نے کہانی کی تصویر کے مطالبے کے موافق ہی فریم کا انتخاب کیا ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے سارے افسانے ایک ہی فریم میں جڑے نظر آتے ہیں۔ ہاں فریم کو نقش و نگاری کے ذریعے انہیں الگ کرنے کی کوشش افسانہ نگار نے ضرور کی ہے۔
مقدر حمید کی طرح جیتندر بلّونے بھی انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھابلکہ بلّو تو غالباًان سے بھی پہلے سے لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں اسی لیے ان کے افسانوں کا پس منظر دیارِفرنگ میں بسے ہندوستانیوںکے تہذیبی اور جذباتی مسائل ہیں۔اپنی زندگی کے آزمائشی دور کا ایک حصّٓہ انہوں نے ممبئی میں ہی گزارا تھا۔’’ پہچان کی نوک پر‘‘کے افسانے ان کے اسی دورکی یادگار ہیں۔اس میں کل چودہ افسانے ہیں اوربیشترافسانوںکو ان کی زبان کے استعاراتی برتائو نے حقیقت نگارانہ اکہرے پن سے بچا لیا ہے۔ انسانی رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانیوں کوبِلو نے فنکارانہ صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے اور سماجی حقیقتوں،معاشرتی ناہمواریوں اور نفسی الجھنوںکو بیانیے کی نت نئی صورتوں میں ڈھالا ہے۔ ابھی حال میں ہی ان کے افسانوں کا نیا مجموعہ اور بقول ان کے آخری مجموعہ ’’چکر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اپنی اس کتاب کے مقدمے میں اردو ادب میں بڑھتی ہوئی اسلام پسندی سے متعلق انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔گو کہ ان کا لہجہ کچھ کڑا اور کڑوا ہو گیا ہے اور جذبات میں جتیندر بلّو یہ بھول گئے ہیں کہ کمبل سے کمبل کی گانٹھ نہیں بندھتی۔
سلام بن رزاق سے لے کر م ناگ تک یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے ہیں جنہیںفضیل جعفری نے Bombay group of short story writers کے نام سے یاد کیا ہے۔ ان مین اسٹریم رائٹرس کے علاوہ ایسے لکھنے والے بھی یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے لیے افسانہ نگاری جز وقتی کام رہا یا پھر جنہوں نے افسانہ نگاری کو سنڈے پینٹنگ کی طرح آزمایا۔گو کہ ان سے چار چھ ڈھنگ کے افسانے بھی سرزد ہوگئے مگر وہ ان کی شناخت کا حوالہ نہیں بن پائے۔ساگر سرحدی ،محمود ایوبی، بنتِ مسعود(جو بعد میں فیروزہ خان کے نام سے لکھنے لگیں)الیاس شوقی، اقبال نیازی، اسلم خان، معین الدین جینابڑے اور مقصود اظہر کے نام اس فہرست میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے توبڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں کچھ نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پرکنارہ کشی اختیار کر لی۔ کچھ کے منکے ڈھیلے پڑ گئے ، کچھ نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کیا اورکچھ نے لکھنا جاری رکھا مگر سنڈے پینٹنگ کی طرز پر۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ مسعود ایک بہت اچھی لکھنے والی ہیں۔افسانے بننے کے عناصر ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں مگر غالباً ازدواجی زندگی کی مصروفیات نے انہیں افسانہ نگاری ترک کرنے پر مجبور کیا۔ اقبال نیازی نے ’’سرکس‘‘ اور ’’اسپیڈ بریکر ‘‘ جیسی خوبصورت کہانیاں لکھیں تو ان سے بھی کچھ توقع بندھی مگر بہت جلد ڈراموں نے انہیں highjackکر لیا اور ان دنوں بڑے زور شور سے تھیٹر کے لیے سرگرداں ہیں۔البتہ اسلم خان نے ابھی تک افسانہ نگاری ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا اوراپنے نئے افسانے کے ساتھ کبھی بھی LOCپار کر سکتے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے ’’ٹیلی پرنٹر‘‘ ،’’کنفیشن‘‘، ’’کاروائی‘‘ اور’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘ جیسے چند ایک اچھے افسانے ضرور تحریر کئے تھے مگر پھر event managementجیسی کسی چیز میں مصروف ہوگئے۔ ان کے تحریر کردہ افسانے بھی کسی event کاخاکہ ہی معلوم پڑتے ہیں۔ ’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘اصل میں ایک فلمی کہانی کی one line script ہے مگر اسے افسانہ سمجھ کر پڑھا بھی جا سکتا ہے اور انگیز بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ فنی سرچشموں سے نکلنے والے اس کے زریں دھارے ایک بڑی تصویر کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔مقصود اظہر ان لوگوں سے نسبتاً جونئیر لکھنے والے ہیں ’’کشتن‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک افسانوی مجموعہ منظر ِعام پر آ چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ افسانے پڑھنے والے کو متوجہ کرتے اور ان کا نام لوگوں کے حافظے پر چڑھتا انہوں نے بھی افسانہ نگاری ترک کرد ی۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا کوئی افسانہ پڑھنے کو نہیں ملا۔ یہی حال الیاس شوقی کا ہے۔ افسانے سے منہ موڑ کر انہوں نے تنقید کا دامن تھاما ہے اور’’فکشن پر مکالمہ ‘‘ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
دو اور ایسے فنکار ہمارے درمیان موجود ہیں جنہوں نے افسانے تو لکھے ہیںلیکن بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر۔۔۔۔۔۔ شاید دونوں کے لیے افسانہ نگار ی مین کورس کے بعد سرو ہونے والے desertکی طرح ہے۔ دونوں نے ناول لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ فکشن کے آسمان پر اڑنے کے لیے ان کے پنکھ مضبوط ہیں۔رحمٰن عباس کے اب تک دو ناول’’نخلستان کی تلاش میں‘‘ اور ’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘منظر عام پر آ چکے ہیں۔ان کا پہلا ناول جس قدر کمزور اور لچر تھا دوسرا اتنا ہی thought provokingاور توانا۔زبان کے پُر تکلف اور شاعرانہ استعمال کے باوجود رحمٰن نے اپنے اس نئے ناول میں کوکن کے گائوں بدلتے لینڈاسکیپ کواپنی نظر سے دیکھنے ،اپنے ذہن سے سوچنے اور اپنے محاورے میں اسے دریافت کرنے کی جرائت مندانہ کوشش کی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخراس ناول پر اچھے مضامین اور تجزیے تو جانے دیجئے ڈھنگ کے تبصرے بھی کیوں نہیں آئے ؟
کیا اس کی وجہ اس کا موضوع ہے؟
۔رحمٰن عباس نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں مگر وہ تعداد میں اتنے کم اور فکری وحدت میں اس قدرمعمولیہیں کہ ان کے فنی رویے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔لگ بھگ یہی بات ہم صادقہ نواب سحر کے افسانوں کے تعلق سے کہہ سکتے ہیں۔ البتہ’’کہانی کوئی سنائو متاشا‘‘ ناول لکھ کر بحیثیت فکشن نگارصادقہ نواب سحر نے اپنی شناخت درج کر لی ہے۔ناول کے کرافٹ اور متن کے ایک خوشگوار تال میل نے ان کے ناول کو دلچسپ اور readableبنا دیا ہے۔ تازہ ہوا لانے والی کوئی کھڑکی اچانک کھل جانے کا احساس اس ناول سے ہوتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اسے لوگوں نے respondبھی کیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے ناول میںپیش کی گئی نسائی حسیت اور سوز و گداز سے بھرے احساسات اوراپنے آس پاس بکھری زندگی پر ناول نگار کی گہری ،شفاف اورحساّس نگاہیں ہیں۔ناول کے اجزائے ترکیبی پر گہری نظر کے علاوہ صادقہ نواب کی پی آر شپ نے بھی اس ناول کو پروجیکٹ کرنے میں اہم بھومیکا نبھائی ہے۔ جہاں تک افسانہ نگاری کا تعلق ہے وہ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر کا اصل میدان نہیں لیکن پھر بھی ان سے اچھے اور یادگار افسانوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ان بھولے بسرے لکھنے والوں کے ریوڑ میں مجھے بھی آپ کالی بھیڑ کے طور پر شامل کر سکتے ہیںکیونکہ میں نے جو دو ڈھائی افسانے تحریر کئے وہ اتنے بچکانہ ، ناپختہ اور trashتھے کہ اب ان کا ذکر کرنا بھی بے کار ہے۔
سنئیر لکھنے والوں میں ساگر سرحدی، محافظ حیدر اور محمود ایوبی نے منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر کئی اچھے افسانے لکھے گو کہ ان کی اصل پہچان افسانہ نگار کی نہیں ہے۔ ساگر سرحدی ایک فلم کاراور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ان کے افسانوں کی ایک کتاب’’آوازوں کا میوزیم‘‘ اردو میں اور ’’جیو جناور‘‘ ہندی میں شائع ہو چکی ہے۔ساگر سرحدی کی ذہانت، بذلہ سنجی اور تخلیقیت کا جو جلوہ ہمیں ان کے ڈراموں اور مکالموںمیں ملتا ہے افسانوں میں diluteہو گیا ہے۔یہی نہیں موضوعات کو جو تنوع ان کے ڈراموں میں ہے افسانے میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔بیشتر افسانے man-woman relationshipکی تفتیش پر قائم ہیں۔ اس رشتے کو دیکھنے والی آنکھیں ایک مرد کی ہیں اور ناک پر ٹکی ہوئی عینک کے lensبھی خالص مردانہ ہیں۔ عورتوں کے مختلف روپ ساگرکے افسانوں میںنظر آتے ہیں مگر وہ مرد کی ہم سفر یا دوست کم اس کی sleeping partnerزیادہ ہے۔ عورتوں کی نفسیات،ان کے خواب اور خوف پر ساگر کی نظر گہری ہے اور پینی بھی۔محبت میں سرشار عورت ہو یا خود فریبی میں گرفتار،نوعمر لڑکی ہو یا بیوہ عورت، ماضی سے خوف زدہ ہو یا مستقبل سے پرامید ،ساگر سرحدی کے افسانوں میں عورتیں اپنے ہاڑ مانس اور سوچ کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن مختلف افسانوں کے مرد کرداروں کی گردن پر چہرہ ایک ہی ہے۔یہ کوئی اور نہیں ساگر سرحدی کا ہمزاد ہے۔ شاید اسی لیے ساگر کے ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیںڈائری یا یاداشتوںکا گمان سا ہوتا ہے۔ پرسنل ٹچ ان افسانوں کی طاقت ہے تو کمزوری بھی۔ ساگر ہر لفظ، جذبے اور احساس کے پیچھے سے جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ افسانے ساگر سرحدی کی شخصیت سے اپنے آپ کو بچا پاتے تو شاید اور زیادہ کامیاب ہوتے۔
مکالمہ نگاری ساگر سرحدی کا fortay ہے اور اس میں ان نبض دھڑکتی ہے۔ مکالمہ نگاری ساگر کے افسانوں میں کبھی کردار نگاری کے فرائض انجام دیتی ہے تو کبھی منظر نگاری کی۔
ساگر سرحدی کی طرح محافظ حیدر کا تعلق بھی فلم اور ٹی وی کے میڈیم سے رہا ،جس کی وجہ سے افسانہ لکھنے کے لیے وہ زیادہ وقت نہیں نکال سکے۔ حالانکہ افسانہ بُننے کا آرٹ انہیں بھی خوب آتا ہے،جس کا بین ثبوت ’’کاغذ کی دیوار‘‘ میں شامل ان کے افسانے ہیں۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی readablity اور originalityہے۔افسانے کی روایت سے الگ ہوئے بنا محافظ حیدر کے ان افسانوں کی اپنی ایک originalityہے۔ تکنیک کے اعتبار سے محافظ حیدر کے یہ افسانے روایت کے تسلسل کا ایک جز ہی ہی معلوم ہوتے ہیںلیکن ان میں معنویت کے لحاظ سے جو تنوع ہوتا ہے وہی ان کے تخلیقی جوہر کا بنیادی نشان ہے۔ فارم ،زبان اور کرافٹ کی سطح پر ان میں کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی موضوع چونکائو ہیں۔ لیکن آرٹ اور کرافٹ کی سطح پریہ افسانے اتنے سدھے ہوئے ہیں کہ یہی سہجتا ان کی USPبن گئی ہے۔ محافظ حیدر کے افسانوں کاقاری ہونے کی حیثیت سے ایک احساس مجھے ہمیشہ سے رہا اپنی تخلیقی انفرادیت، گہری نظر،فنی ہنر مندی اور زندگی کے متنوع تجربات و مشاہدات کا جس قدر فائدہ افسانہ نگار کو اٹھانا چاہئے تھا کسی وجہ سے محروم رہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے کھاتے میں ’’روزنامچے کا ایک ورق‘‘،’’سالگرہ‘‘،’’ہوائی قلعہ‘‘ اور آئیڈنٹیٹی کارڈ‘‘ جیسے خوبصورت افسانے ہیں، جنہیں لکھنے کا خواب کوئی بھی افسانہ نگاردیکھنا پسند کرے گا۔
ساگر سرحدی اور محافظ حیدرکے ساتھ ایک اور نام محمود ایوبی کاہے۔ محمود ایوبی بنیادی طور پر صحافی اور مارکسٹ نظریہ کے حامی تھے۔اکّا دُکّا افسانے تو وہ ابتداء ہی سے لکھ رہے تھے لیکن باقاعدہ افسانہ نگاری انہوں نے انہوں نے ریٹائرمینٹ لائف کے دوران شروع کی۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’دوسری مخلوق‘‘ اور’’پری کتھا‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔
محمود ایوبی کے افسانوں پر instantردّعمل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت نگاری ہی ان کے افسانوں کا مرکز اور محور ہے۔سیدھے سادے لوگوں کی باتوں کوبہت سادے طریقے سے بیان کردیناہی ان کا ادبی موقف رہا ہے۔ چونکہ صحافت سے محمود ایوبی کا تعلق بہت گہرا تھاچنانچہ اس کا مثبت اور منفی اثر ان کے افسانوں میں نظر آنافطری ہے۔ صحافت کی وجہ سے روز مرہ کے واقعات جنہیں ہم عموماً معمولات کا درجہ دے دیتے ہیں ایوبی صاحب نے انہیں افسانے کے فارم میں ڈھال کر امکانات کی نئی سطح عطا کی۔ لیکن افسانہ نگاری کا فن جس تحمل کامطالبہ کرتا ہے اور افسانے کی ماجرائی پرتیں جس فطری ارتقاء کے ساتھ unfoldہونے کی مانگ کرتی ہیں وہ صحافی محمودایوبی میں کم کم نظر آتی ہے۔ اور لگتا ہے اخبار کی آخری کاپی کی طرح افسانے کو بھی ایک طے شدہ ٹائم میں بھیجنا ضروری ہو۔ اگر یہ افسانے افسانہ نگار کی دوسری نظر اور finishing touches پا لیتے تو شاید ان کی روپ ریکھا اور سنور جاتی۔ کچھ افسانے غیر ضروری طوالت کا شکار ہو گئے ہیں اورانہیں نہ صرف ایڈیٹنگ کی سخت ضرورت بلکہ کئی افسانوں کو سخت ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔
نوّے کی دہائی میں ممبئی کے جن افسانہ نگاروں نے بڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا اور پڑھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی ان میں معین الدین جینابڑے کا نام کافی اہم ہے۔ سن2000ء کے آس پاس ان کے افسانوں کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’تعبیر‘‘ کے نام سے جب منظر عام پر آیاتو لوگوں نے ایک اہم افسانہ نگار کی آمد کی آہٹ اس میں محسوس کی لیکن پتہ نہیں اپنے کس فکری،نظریاتی اور جذباتی اسباب کے تحت ان کا دل افسانہ نگاری کی طرف سے ہٹ گیا۔ کیونکہ ادھر ان کے نئے افسانے پڑھنے کو کم کم ہی ملے۔
’’تعبیر‘‘کے افسانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ معین الدین سوچ سوچ کر لکھنے والے افسانہ نگار ہیں اور جو لکھتے ہیں فنی شعور کی بھٹّی میں تپ کر آنے کے بعد ہی لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں ’’تعبیر‘‘ ،’’گیت گھاٹ ‘‘اور ’’کہانی‘‘جیسے خوبصورت افسانے ہیں۔معین الدین کا فنی رویّہ واقعات تانے بانے بننے کے بہانے اپنے خیالات کی صورت گیری کرتا ہے جس میں ایک لُپی پتی اور پھونک پھونک کرقدم رکھنے والی محتاط شخصیت سے ہم روبرو ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو انڈیلنے کے شوق نے افسانے کے ندیدہ تخلیقی امکانات کو منکشف ہونے نہیں دیا اور اسے معین الدین جینا بڑے نے اپنی شخصیت کا ضمیمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ’’رنگ ماسٹر‘‘ اس کی عبرتناک مثال ہے۔
جس طرح مقدر حمید زبان کو تصویر کے پُر کشش چوکھٹے کی طرح استعمال کرتے ہیں معین الدین اپنے خیالات کو افسانے میں بھرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی غائب راوی کے ذریعے تو کبھی کسی کردار کا مکھوٹا پہن کر ۔۔۔۔۔غرضکہ افسانے کی کوئی دیوار ان کے یہاں خالی نہیں۔ قصّہ گوئی میں جب اپنی ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی شخصیت کو ظاہر کرنے کا لپکا افسانہ نگار میں پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے جو ڈھیر ہوتا ہے اس کا نام افسانہ ہے۔
بنتِ مسعود ،ساگر سرحدی، محافظ حیدر، اقبال نیازی، محمود ایوبی ،معین الدین جینا بڑے یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے جن کے فنکارانہ اظہار کا اصل میدان اور ان کی شناخت کا اصل وسیلہ افسانہ نگاری نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔اور اس میں شک نہیں کہ اگر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کو وہ افسانوں میںمرتکیز کرتے تو شاید ممبئی کااردو افسانہ اور بھی صاحبِ ثروت کہلاتا۔بہرکیف ان جُز وقتی افسانہ نگاروں اور اتواری مصوروں سے قطع نظر ممبئی میں ایسے لکھنے والوں کی تعدادبہت زیادہ نہیں تواتنی کم بھی نہیں، جن کی شناخت کا بنیادی حوالہ افسانہ اور افسانہ نگاری ہے۔ نئی صدی کے قرب و جوار میں تازہ دم لکھنے والوں میں مظہر سلیم،ایم مبین، اشتیاق سعید،عبدالعزیز خان کے نام اہم ہیں۔
کہا جاتا ہے ٹڈیوں کا آنا کال کی نشانی ہے اور ممبئی کے اردو افسانے پر گزشتہ دیڑھ دو دہائیوں سے ٹڈیوں کے دل منڈلا رہے ہیں۔قرۃالعین حیدر نے اردو افسانے پر مسلط جس میڈیوکریسی کااظہار برسوں پہلے کیا تھا اس کا نہایت ہولناک سایہ ممبئی کے ان عصری افسانہ نگاروں پردیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت سریندرپرکاش کا ایک فقرہ یاد آتا ہے جسے اکثروہ اپنے بعد میں آنے والی نسل کے افسانہ نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت استہزایہ انداز میں کہا کرتے تھے۔’’سچ ہے اردو افسانے پر برا وقت آن پڑا ہے۔‘‘
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ستّر کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں کی نمائندگی سلام بن رزاق کر رہے تھے تو نوّے تک آتے آتے نمائندگی کی یہ پگڑی وقت نے مظہر سلیم کے سر باندھ دی۔ مظہر سلیم 90ء کے آس پاس ممبئی کے ادبی منظر نامے میں ابھرنے والے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جوممبئی میں کم لیکن مہاراشٹر کے دیگر اردو حلقوں میں خاصے مقبول ہیں۔’’جہاد‘‘،’’اپنے حصّے کی دھوپ‘‘کے علاوہ ان کے افسانوں کاایک انتخاب ’’نیا منظر نامہ‘‘(مرتب:ابراہیم اشک) بھی شائع ہوا ہے۔ان کے افسانوں کے ذخیرے میں علامتی، تمثیلی اور بیانیہ سبھی طرز کے افسانے دستیاب ہیں۔ایک محدود اور تنگ دائرے میں گردش کرنے والے ان افسانوں میں کامیاب اور ناکام افسانے شامل ہیں۔لیکن افسانوں کا کامیاب یا ناکام ہونا مظہر کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ اپنے اس محدود دائرے میں مظہر اور مظہر کے یہ افسانے بہت شاداں ہیں۔۔۔اپنے آپ میں مست ۔۔۔۔۔اسی لیے دائرے سے باہر چھلانگ لگانے کی یا اس کا حصار توڑنے کی کوئی جہت ان میں نظر نہیں آتی۔ یہ خود اطمینانی ہی مظہر سلیم کے فنّی رویے کی تشکیل و شناخت کرتی ہے۔ افسانہ ان کے پاس جس فارم میں ،جس زبان میں اور جس تکنیک میں آتا ہے مظہر کان سے پینسل اتار کر اسے لکھ ڈالتے ہیں۔مظہر سلیم کا فنّی رویہ انہیں سکینڈ ٹھاٹ دینا یا اسے re-writeکرنے کا تکلف سہارتا نہیں ہے۔اس تن آسانی ،یا خوش گمانی یا عجلت پسندی نے ان کے بہت سے افسانوں کی مٹی خراب کی ہے اور تیز دھماکے دار بارود کو سلے ہوئے پٹاخوں میں تبدیل کر دیا ہے۔’’نیا مظر نامہ‘‘اور ’’اپنے حصّہ کی دھوپ‘‘کو ہم مظہر کے نمائندہ افسانے کہہ سکتے ہیں۔
ممبئی میں نوّے کے بعد جو افسانہ نگار ابھرے ایم۔ مبین اس نسل کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نسل کی دوسری صف تیار ہی نہیں ہو سکی۔ ایم مبین کے کچھ افسانے ادھر ادھر رسائل میں پڑھے تھے لیکن ان میں کوئی افسانہ بھی حافظہ میں محفوظ نہیں ہے۔ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘اور ’’نئی صدی کاعذاب ‘‘اردو میں اور’’اذان ‘‘ ہندی میں ۔۔۔۔۔میرے پاس ان کی کوئی کتاب نہیں تھی لہذا ویب سائٹ سے ان کے اٹھائس افسانے پڑھے جو انہوں نے up loadکئے ہیں۔یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی کہ اردو کے افسانہ نگار بھی اب وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ایم مبین کے افسانوں کو پڑھتے ہی خوشی کا یہ احساس کہیں تحلیل ہو گیا۔ان کے بیشتر افسانے پرانی لیک پر چلنے والے افسانے ہیں اور انہیں پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کب گابرئیل گارسیا مارکیز کی طلسمی حقیقت نگاری کے دورسے نکل کرماضی کے سہیل عظیم آبادی کی حقیقت نگاری کے دور میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔جن پڑھنے والوں کو باریکیوں کی تلاش ہوتی ہے بلاشبہ انہیں ایم مبین کے افسانوں سے مایوسی ہی ہوگی۔ یہ افسانے قاری کی بصیرت اور بصارت کا امتحان لیے بنا ہی اپنی حقیقت منکشف کر دیتے ہیں اور یوں پڑھنے والے کوفن کے اسرار و رموز کی تفہیم کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ ان افسانوں کی کوئی خوبی ہے تو بیانیہ کی روانی اور اسلوب کی سادگی ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سادگی سادہ لوحی کی کوکھ سے برآمد ہوئی ہے لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ان اٹھائس افسانوںمیں ایک افسانہ بھی ایسا نہیں جو ذہن کے تاروں کو جھنجھوڑ دے یا جسے پڑھ کر قاری اندر سے جگمگا اٹھے۔ جو چیز سب سے زیادہ کھلتی ہے وہ ان کی سطحیت ، اکہریت اورفکری افلاسیت ۔۔۔۔۔۔اگر آپ مجھے ایم مبین کے دو نمائندہ افسانے منتخب کرنے کے لیے کہیں گے تو میں ’’سمینٹ میں دفن آدمی ‘‘اور ’’نئی صدی کا عذاب‘‘ کا نام لوں گا۔
اردو فکشن کے قاری کے لیے عبدالعزیز خان کا نام نامانوس نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ تھوک کے بھائو سے افسانے لکھ کر ممبئی عصری اردو افسانے سے اپنا بھر پور تعارف کرا رہے ہیں۔ان دس برسوں میں انہوں نے اردو فکشن میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اس کے لیے اگر لمکا گینئس بُک میں ان کا نام درج ہو جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ ’’ باتوں سے بنی کہانیاں‘‘ کے تحت ایک ہزار کے قریب مکالماتی افسانے لکھنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔یہی نہیں’’بریکنگ نیوز‘‘ کے عنوان سے صرف پندرہ صفحات پر ناول لکھنے کا ریکارڈ توڑ کمال بھی جس شخص نے انجام دیا ہے اس کا نام عندالعزیز خان ہے۔پچھلے دنوں ان کی ’’ایک سطری افسانوں‘‘ کی کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔پھول کی جگہ پنکھڑی جمع کرنے کے شوق نے ہی عزیز خان سے یہ آٹھ سو بیانوّے یک سطری افسانے لکھوائے ہیں۔حوصلہ اگر ساتھ رہا تو بعید از قیاس نہیں کہ وہ ’’یک لفظی‘‘ افسانے لکھنے کی بدعت شروع کردیں۔ان کے پیش رواور ہم عصر لکھنے والوں کے سینوں میں اب جبکہ سانسیں نہیں سما رہی ہیں اور ان کی تحریروں سے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دینے لگی ہے ، عبدالعزیز خان بفضلِ تعالیٰ مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔ان کا قلم سرپٹ دوڑ رہاہے۔ پانچ ناولوں کے ایک مجموعے کے علاوہ ان کے کئی افسانوی مجموعے ’’ایک اور بجوکا‘‘،’’مونالیزا کی مسکراہٹ‘‘ ،’’فساد،کرفیو اور کرفیو کے بعد‘‘ ،’’اور بجوکا ننگا ہو گیا‘‘اور ’’سلم ڈاگ ملینئر ۔‘‘ بڑے ٹیم ٹام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ شائع ہوئے ہیں اور۔۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔
نوّے کے بعد ممبئی کے فکشن کے آسمان پر چمکنے والے سبھی ستاروں کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ ڈھیر سارا لکھنے کے باوجود بھی بے توفیقی کا یہ عالم ہے کہ ان کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ اپنی فنی قدر و قیمت کے بوتے پر قاری کے ذہن میںاپنے عنوان ریکارڈ نہیں کرواپایا ہے۔ ایک عرصے کے بعد فن اور فنکار یا افسانہ اور افسانہ نگار ایک دوسرے کی شناخت کا حوالہ بن جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیں ’’ڈونگر واڑی کے گدھ ‘‘کے ساتھ ہی علی امام نقوی یاد آ جاتے ہیں یا انور خان کا نام لیا جائے تو دوسرے ہی لمحے ’’لمحوں کی موت ‘‘ سے لے کر’’ کتاب دار کا خواب ‘‘تک کتنے ہی افسانوں کے عنوانات ذہن کے افق پر تیرنے لگتے ہیں۔ سریندرپرکاش، سلام بن رزاق،ساجد رشید،م ناگ کے ساتھ بھی لگ بھگ یہی معاملہ ہے مگر مظہرسلیم ہوں یا اشتیاق سعید یا ان کے دوسرے رفقاء اس قدر بے مایا اور تہی دست ہیں کہ ایک عرصے سے لکھنے بلکہ مسلسل لکھتے رہنے کے باوجود ان کی کوئی تحریر قاری کے ذہن میں مستقیل جگہ بنائے رکھنے میں ہنوز ناکام ہے۔
اشتیاق سعید کا تعلق بھی اس صدی کے آغاز میں ابھرنے والی نسل سے ہے۔ افسانہ نگاری سے قبل انہوں نے ڈرامے بھی تحریر کئے ہیں۔ان کا تحریر کردہ ڈرامہ’’نعرہ بکتا ہے‘‘کتابی شکل میں دستیاب ہے۔حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ہل جوتا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں کُل اٹھارہ افسانے اور ایک مقدمہ ہے۔ان کے تحریر کردہ مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ ساجد رشید کو وہ اپنا mantor مانتے ہیں۔کاش وہ ساجد رشید سے کہانی کہنے کے گُر بھی سیکھتے۔
ہندی میں گائوں کے افسانے نسبتاً زیادہ لکھے گئے ہیں اردو میں تو گائوں میں قیام پذیر قلمکاروں کی تحریروں میں بھی شہر چیختا اورچنگھاڑتا ہے۔بے شک ان دنوں شہر و گائوں کی دوریاں مٹتی جا رہی ہیں اوردونوں کی شکلیں ملتی جا رہی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گا ئوں یا شہر کا پس منظر افسانہ نگار کے اسلوبیاتی بنیاد کی نشاندہی تو کر سکتا ہے لیکن فنی سا لمیت اور تخلیقی وحدت کا جواز نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی یہ اشتیاق سعید نے ممبئی جیسے شہر میں رہتے ہوئے گائوںکے back dropمیں افسانے لکھے اور یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
دہاڑی پر کام کرنے والے کسان،کھیت کھلیان،لہلہاتی فصل،جیٹھ بیساکھ کی چلچلاتی دھوپ،ساون کی پہلی پھوار،گوبر کی لپائی کرتی عورتیں ،مہنت، پردھان،پروہت،گائوں کی چوپال،جن پنچایت،کھیت کی منڈیریں،ستیہ نارائین کی کتھا،گائے کے ڈکارنے کی آوازیں،مونج کی رسی سے بندھے کھیتوں میں کھڑے بجوکا،سوکھتے ہوئے کنویںِ،کھیتوں میں اچانک پھوٹتے پانی کے چشمے ،ہریجنوں کی بستی،مہواکی شراب،مٹی کی سوندھی سوندھی مہکاریں،حقّہ گڑگڑاتے ،بلغم تھوکتے بوڑھے ،ٹیوب ویل،گائوں کی عورتیں،چرن چھوتے اور آشیرواد لیتے بچے اور جوان،دیوی پرکوپ سے خوفزدہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرضکہ اشتیاق سعید ان کے افسانوںمیں دیہی زندگی کے منظر جا بجا ابھرتے ہیںلیکن یہ تخلیقی وحدت کا حصّہ نہیں بنتے بس افسانوی فریم ورک میں آدھے ادھورے اور شکستہ بجوکا کی طرح بے حس و بے حرکت ہاتھ پسارے جہاں تہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔stock emotionsنے افسانے کی روح کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
ڈرامہ سے اشتیاق سعید کا تعلق کس قدر گہرا رہا ہے لیکن ان کے افسانوں کا بیانیہ میں وہ تجسس خیزی اور بصری ڈرامائی صورتحال کر داروں کا تصادم اور سچویشنز کی کشمکش کا فقدان ہے جو اکہریت اور سپاٹ پن کو جنم دیتا ہے۔ کہیںکہیں انہوں نے جذباتی شدّت پیدا کرنے یا کیفیت کو ابھارنے کی خاطر اپنے لہجے کو انڈر لائین کیا ہے جس نے افسانوی بیانیہ کی روانی کو بری طرح متاثر کیا اور کرداروں کو fakeبنا دیا ہے۔ اشتیاق سعید بھی برسوں سے لکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے قلم تلے رکھا ہوا کورا کاغذ ایک ایسے افسانے کا منتظیر ہے جسے ممبئی کی بھاشا میں ’’سالڈ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن قمبرعلی جیسوں کی بھی ہمارے یہاں کمی نہیںجنہیں اشتیاق سعید کا ’’بجوکا‘‘ افسانہ سریندر پرکاش اور سلام بن رزاق کے ’’بجوکا ‘‘سے زیادہ بہترافسانہ لگتا ہے۔ ویسے تو کمی تو ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی بھی نہیں ہے جن کا ماننا ہے کہ امریکن excentمیں انگریزی بولنے سے دانتوں کو کیڑے نہیں لگتے۔ کیا کیا جائے؟؟؟
اصل مسئلہ نئے لکھنے والوںکی مجرمانہ معصومیت اور سادہ لوحی ہے جو اپنے متعلق کہے یا لکھے ہر توصیفی کلمات پر ایمان لانے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔اب چاہے کسی نقادکے نجی خط میں رسماً لکھی ہوئی عبارت ہو یا کسی سنئیر رائٹر کے ذریعے مروتاً تحریر کیاگیا تعریفی نوٹ ہو۔ ان توصیفی کلمات اور تبصروں کو اگر کوئی اپنے کارناموں کا momento سمجھنے لگے تو بھلا کوئی کیا کر سکتا ہے۔نئے لکھنے والوں میں اکبر عابد قریشی اور ڈاکٹر سلیم خان کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔سلیم خان کے افسانوں کا مجموعہ ’’حصار‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے جو زندگی کی کثافتوںپر رومانی لطافتوں کے غالب آنے کی داستان بیان کرتے ہیں جبکہ اکبر عابد قریشی نے اپنی کتاب ’’چپ چاپ‘‘ میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ان کے علاوہ محتشم اکبر اور شاداب رشید بھی ان دنوں افسانہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ان کے افسانے مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
آخر میں اپنے اس مضمون کو سمیٹتے ہوئے اتنا کہوںگا کہ زندگی کو جس روپ میں پریم چند، سریندر پرکاش، سلام بن رزاق دیکھ رہے تھے وہ زندگی بعد کے لکھنے والوں کے حصّے میں نہیں آئی۔ گزشتہ بیس برسوںجو اقدار بدلی ہیں،جینے کے جو pattern تبدیل ہوئے ہیں اس نے زندگی کوجس قدر پے چیدہ اور مشکل بنا یا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ کہنے کے لیے دنیا کو ایک عالمی گائوں یعنی گلوبل ولیج میں بدل دیا گیاہے مگر اسی کے ساتھglobal marketingکے ان گنت آ ہنی ہاتھ نہایت تیزی، چالاکی، ہنرمندی اور ظالمانہ طریقے سے ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور وراثت کودبوچ رہے ہیں۔جو لفظ نئے لکھنے والوں نے وراثت میں پائے تھے وہ لفظ اپنی حرمت بھی کھو چکے ہیںاور معنویت بھی۔
ایک وقت تھا جب ہر دس سال بعدافسانہ نگاروں کی کھیپ نمودار ہوجایا کرتی تھی اور اب صورتحال قحطِ دمشق کی سی ہے۔ ممبئی کے افسانوں کی محفل ودھوا کے آنچل جیسی اجڑی ہوئی ہے اورنئے افسانہ نگارblack patch سے گزر رہے ہیںگو کہ اس برے وقت کے لیے وہ خود جتنے ذمہ دارنہیں ہیں اس سے زیادہ وہ ماحول اور وقت بھی ہے جس میں وہ لکھ رہے ہیں۔
زندگی جس طرح آج کے انسان کو برت رہی ہے اس نے آرٹسٹ کے سر پر دوہری ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اپنی تخلیقی نہج اور فنی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آج کی زندگی سے اپنے محاورے حاصل کرنااس کے لیے اشد ضروری ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے اور حیرت سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ نوّے کے افسانہ نگاروں کے پاس نہ تو آج کی زندگی کو پیش کرنے لیے آج کے محاورے ہیں نہ ہی نئی حسّیت۔۔۔۔۔۔ اظہار کے toolsتک زنگ آلود ہیں۔ شاید اسی لیے سماجی اور جذباتی مطالعات کے ساتھ جو نئے رحجانات ممبئی کے اردو فکشن میں طلوع ہونے چاہئے وہ موضوعاتی سطح پر تو کہیں کہیں اپنی جھلک دکھلا جاتے ہیں لیکن یہ رحجانات تخلیقی تجربے کی وحدت میں مبّدل ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ممبئی کے یہ نئے لکھنے والے (گو کہ ان کے برتھ سر ٹیفکیٹ میں درج ان کی عمر اور ان کی کنپٹیوں پر ابھرتی سفیدی مجھے ان کو نیا کہنے سے روکتی ہے ) ابھی تک اپنے سنئیراور پیش رئو لکھنے والوں کی دال سے کام چلا رہے ہیںاور بہت فاصلے سے ان کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے اپنی فنی مفلسی اور فکری کنگالی کا انہیں احساس تک نہیں۔ ان نئے لکھنے والوں کے افسانوں کے مطالعے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ستّر پانچ پچھتر سالہ بزرگ افسانہ نگار اقبال مجید ان لوگوں سے کہیں زیادہ جواں سال اور ماڈرن ہے۔ احساس و ادراک میں بھی اور فنی رویوں کے اظہار میں بھی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

Majaz Ka Tassaur E Jamal

Articles

مجازؔ کا تصور ِجمال

ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

 

دنیا کی ہر قدیم و جدید زبان کا شعری و نثری ادب اور آرٹ کے سبھی اسکول تذکرۂ حسن وجمال سے بھرے پڑے ہیں ۔زبان خواہ ادب کی ہو یا رنگ ونور کی موسیقی کی ہو یا رقص وسرود کی ، بہر حال کسی نہ کسی شکل و صورت میں نمائش و اظہار حسن وجمال سے عاری نہیں ہے۔اس نمائش واظہار کے طریقے اور مظاہر گونا گوں ہیں۔شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں ، سننے والے کان، محسوس کرنے والادل اور سمجھنے والا دماغ ہو۔
’’جمالیات‘‘ نسبتاََ ایک قدرے جدید اصطلاح ِ ادب سمجھی جاتی ہے لیکن حقیقتاََ ایسا نہیں ہے ۔ البتہ اس کو سمجھنے اور محل استعمال کے سائنٹفک مطالعہ کی کوششیں کسی قدر نئی ضرور ہیں ۔ جمالیات کے بنیادی موضوع کے متعلق ہم اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک اس کا علم حاصل نہ ہوجائے اور اس کے جوہر کی پہچان نہ ہوجائے۔ جمالیات کی ایک بڑی تاریخ ہے، اس نے بہت سی ارتقائی منزلیں طے کی ہیں۔ اگرچہ جمالیات بذات خود ایک فلسفیانہ اور تکنیکی اصطلاح ہے لیکن خود جمالیات نے کتنی نئی اور معنی خیز اصطلاحوں کو جنم دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لفظ’’ جمالیات‘‘ کی صرف ایک مکمل تعریف پیش کرنا ممکن نہیں ، پیاز کے چھلکوں کی طرح اس کے معانی و مفاہیم تہہ بہ تہہ ، پرت در پرت پوشیدہ ہیں۔جمالیاتی تصورات کو مختلف مثالوں ، نمونوں اور تشریحات کے ذریعہ سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔اس تھیوری کو سمجھنے کے لیے اسرارالحق مجازؔ کی شاعری کو نقطۂ مطالعہ بنایا گیاہے۔
کلیات مجاز ’’آہنگ‘‘ اور ان پر لکھے گئے مختلف النوع مضامین کے بالاستیعاب مطالعے سے جمالیات کی راہیں پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوجاتی ہیں۔مثال کے طور پر مجاز کی نظم ’’ تعارف‘‘ کو ان کے جمالیاتی شعور کا نچوڑ سمجھا جاسکتا ہے۔ کلیات مجاز کا وہ ایڈیشن جسے آزاد کتاب گھر کلاں محل دہلی نے مارچ ۱۹۵۲ء میں شائع کیا تھاجس میں نظم تعارف صفحہ ۶۱ پر شائع کی گئی ہے جب کہ اصول ترتیب کے اعتبار سے اسے فیض احمد فیض کے تحریر کردہ دیباچہ کے فوراََ بعد ہونا تھا ۔ نظم کے اختتام پر سن تصنیف ۱۹۳۵ء لکھا ہوا ہے جب کہ صحیح سن تصنیف ۲۸ ستمبر ۱۹۳۱ء ہے یہ مستند خبرمجاز کے والد سراج الحق نے پنے عزیز دوست شیخ ممتاز حسین جونپوری کو دی تھی جس کو انھوں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح نقل کیا ہے:
’’مجازؔ نے اپنی تعارف والی نظم جو ۲۸ستمبر ۱۹۳۱ء کو اپنے کرم فرما آصف علی صاحب ایم۔ایل ۔اے کے آرام کمرے میں بیٹھ کر خدا جانے کیا سوچ کر لکھی تھی‘‘
( مضمون: مجاز کا سوگ اور اس کی شاعری، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱)
اگر جامع و مانع انداز میں کہا جائے تو مجاز سراپا جمال تھے یعنی ان کوقدرت نے کچھ ایسی حسن پرستی اور جمال پسندی عطا فرمائی تھی کہ وہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں جلوۂ جمال دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر نظم’’تعارف‘‘ حقیقی معنوں میں از ابتدا تا انتہا مجازؔ کے ذوق جمال کی بولتی تصویر ہے۔نظم کا مطلع یا پہلا شعر خیالات وجذبات شاعر کی افہام وتفہیم میں بلا مبالغہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے :
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
پہلے مصرعے کی تحکمانہ بناوٹ مصرع کی جزالت و معنویت کو کہیں سے کہیں پہنچا رہی ہے۔ بجائے اپنے تخلص کے نام اسرار( اسرارالحق) کا استعمال جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ معنوی اعتبار سے ’’اسرار ‘‘ جو ’’سِر‘‘ بمعنی راز کی جمع ہے ، شاعر کی شخصیت میں ایک خاص وزن ووقارکا آئینہ دار ہے۔ بہ الفاظ دیگر شاعر اپنے وجود اور اس وجود سے منسلک درجنوں رازوں کے پوشیدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتے ہیں تو وہ یکے بعد دیگرے ہر راز کھولتا چلا جاتا ہے مثلاََ :
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
مصرعۂ ثانی کا بے ساختہ پن یا بے تکلفی شاعر کی مکمل شخصیت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کسی تھیٹر کا پردہ اچانک کھلا اور پردے کے پیچھے چھپے ہوئے مناظر و کردار ہماری نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔ یہ ڈرامائی کیفیت نہایت درجہ آگاہ کن(Alarming) اور مہیّج (Stimulating)ہے۔ شاعر نے جنس الفت کے علاوہ کسی دوسری چیزکی طلب گار ی ہی نہیں کی۔ اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعر ہر اس شے ، وجود یا جذبے کو پسند کرتا ہے جس میں جنس یا اس کی پسندیدگی شامل ہو۔ بس یہی پسند تو ’’جمالیت‘‘ ہے خواہ اس کی تعمیر میں منفیت ہو یا اثبات ہو۔ رومان کا مرکز ثقل ہر خوبصورتی ہے۔ جب کہ جمالیات کا نعرہ یہ ہے کہ جو بھی چیز مجھے پسند ہے وہ حسین ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجازؔ کی شاعری میں قطعی طور پر رومان کا فقدان ہے لیکن مادی اور جنسی محبت کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار میں جمالیات کے نقطۂ نظرکی بھی حد سے زیادہ کارفرمائی ہے ۔ جمال پرستی کا پہلا نمونہ ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ہم مجاز کو علی گڑھ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اپنی یاد گار زمانہ نظم ’’نذر علی گڑھ‘‘ ۱۹۳۶ء میں مجاز کہتے ہیں:
اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سر گوشی ، پروین سے رشتے جوڑے ہیں
اس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں، اس بزم میں ساغر توڑے ہیں
اس بزم میں آنکھ بچھائی ہے ، اس بزم میں دل تک جوڑے ہیں
بادی النظر میں ایک عام قاری یا اردو ادب کا ایک باضابطہ ذہین طالب علم مذکورہ بالا مصرعوں کی تشریح کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ ناہید وپروین افلاک کے دو بلند پایہ خوب صورت اور روشن ستارے ہیں لیکن حیاتِ مجاز کے پس منظر میں شاید لاشعوری طور پر ان کا استعمال تزئینِ بیان کے لیے کیا گیا ہے۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے لکھا ہے کہ:
’’ہم اسے مجاز ؔکا خاص انداز بھی تصور کرسکتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اشعار میں ایسے اسما نظم کیے ہیں جو ہمارے معاشرہ میں لڑکیوں کے عام نام خیال کیے جاتے ہیں ۔ پروفیسر محمد حسن نے اپنے ایک مضمون میں نذر علی گڑھ کے (مذکورۂ بالا) ایک شعر کی نشان دہی کی ہے جس میں ناہید اور پروین کا نام آیا ہے ،جن کی طرف سے مجاز کے لیے پیغام آیا تھا‘‘
( مضمون: عشق مجازی اور دیوانگی، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱۳)
’’نورا‘‘ مجازؔکی ایک نمایندہ نظم ہے ۔ ۳۵ اشعار پر مشتمل اس نظم کا ذیلی عنوان ’’نرس کی چارہ گری‘‘ ہے۔اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’نورا‘‘ کی معصومیت اور والہانہ خدمت گزاری نے جس طرح بیمار مجازؔ کے احساس جمال کو مہمیز کیا ہے۔ شاعر کی کشادہ دلی اور بے تعصبی دیکھیے کہ وہ نرس کی شخصیت اور عقیدے کی بھی پذیرائی کررہا ہے ۔اس سے انجیل مقدس کی تلاوت کو عقیدت بھرے کانوں سے سن رہا ہے۔ اسے بنت مریم ، ارض کلیسا کی ماہ پارہ تثلیث کی دختر نیک اختر اور کنیز سلیمان کے القاب سے یاد کرتا ہے پھر اس سے خاموش محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اس اظہارکی پاکیزگی اور بے ساختگی نے اس بھولی بھالی معصوم نرس کے منھ یہ پیغام کہلوالیا کہ ع
کہ کس روز آؤ گے بیمار ہوکر
مجازؔ ایک ایسا شاعر ہے جو محض رومانی خیالات اور بیان عشق و محبت تک ہی ا پنی شعری تخلیقات کو محدود نہیں رکھتابلکہ جب یہ رومان جذبۂ عشق و محبت اور کاروبار شوق پختہ تر اور تابندہ تر ہوجاتا ہے تو شاعر کی نگاہ ماورائے حسن و عشق بھی دیکھنے لگتی ہے۔ اب وہ حسین اشیا اور پر کشش واقعات کے علاوہ کم رتبہ اشخاص، غیر اہم واقعات ، غیر شاعرانہ مناظر اور اکثر ناپسندیدہ باتوں میں بھی حسن کی علامتیں ، عشق کی سرگرمیاں اور غیر ذی روح میں بھی روحانیت کی جھلکیاں دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بصارت کی معراج ہے جو سفرِ بصیرت میں بھی فن کار کی معاونت کرنے لگتی ہے۔ مثال کے طور مجازؔ کی نظم ’’رات اور ریل‘‘ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ۔یہ نظم چالیس اشعار پر مشتمل ہے اور ۱۹۳۳ء کی تخلیق ہے جب ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ مجازؔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ تو تھے لیکن ’’رات اور ریل‘‘ اس انجمن کا ثمر پیش رس نہیں تھی۔ انھوں نے آگرہ میں انٹر میڈیٹ کے طالب علم کی حیثیت سے ۱۹۲۹ء میں شاعری شروع کی تھی ۔ ۱۹۲۹ء اور ۱۹۳۳ء میں محض چار سال کا فرق ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجازؔ نے انگریزی میں Robert Southey کی نظم ’’The Train‘‘ اور لسان العصر اکبر الہ آبادی کی نظم ’’ریل‘‘ ضرور پڑھی ہوگی لیکن ’’رات اور ریل‘‘ مجازؔ کی طبع زاد نظم ہے۔ ان کاذہن جذبیؔ، فانیؔ اور آل احمدسرور کی صحبت میں اتنا ترقی پذیر ، مشاہدہ اتنا بالغ اور زبان اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ فطری احساس جمال کی آبیاری اس درجہ باثمر ہوگئی۔ ریل کا بیان چھوٹے بچوں کے لیے صرف تفریح اور دل بستگی کا سامان ہوتا ہے جیسا کہ مجازؔ نے کہا ہے کہ ع
نونہالوں کو سناتی ، میٹھی میٹھی لوریاں
خیر یہ تو الگ بحث ہے۔ نظم کو پڑھ کر ایک سنجیدہ قاری بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ شاعر کا لب ولہجہ نرم اور رومانوی ہے اس میں ترقی پسندوں کے علم باغیانہ اور انقلابی تیور نہیںہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ شاعر کے دل ودماغ میں انقلابی جراثیم کی موجودگی سے یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود اگر ہم غور کریں تو بیک وقت کئی جمالیاتی پہلو اندھیرے میں رہ رہ کر ہماری آنکھوں کو چکا چوند کردیتے ہیں۔ مثلاََ نیم شب کی خامشی، زیر لب گنگنانا، چھم چھم کا سرود دل نشیں ، نازنینوں کو سنہرے خواب دکھانا، سیماب چھلکانا، رخش بے عناں، چراغ طور دکھلاناوغیرہ یہ تمام صوتی محاسن اور بصری مناظر ایک جمال پسند شاعر کے فنی آلے اور شعر ی اوزار کہے جاسکتے ہیں۔
’’آہنگ‘‘ صرف ایک مجموعہ کلام ہی نہیں بلکہ مجازؔ کے لطیف جذبات اور فلک بوس خیالات کا دل نواز غیر فانی البم بھی ہے۔جمالیاتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ’’ آوارہ ‘‘ بھی مجاز ؔ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ نظم ۱۹۳۷ء میں کہی گئی تھی ۔اس زمانے میں مجاز ؔ آل انڈیا ریڈیو ، نئی دہلی سے منسلک تھے اور A.I.R. کے رکن کی حیثیت سے پندرہ روزہ ’’آواز‘‘ کا سب ایڈیٹر تھے۔ مجازؔ کی بہن حمیدہ سالم لکھتی ہیں :
’’ جگن بھیا۱۹۳۶ء میں دہلی گئے اور تقریباََ ایک سال تک ’’آواز‘‘ کی سب ایڈیٹری کے فرائض انجام دیے۔ دہلی کے قیام کے دوران جگن بھیا کے دل نے ایک ایسی چوٹ کھائی جس کا زخم ان کی زندگی میں کبھی نہ بھر سکا‘‘
(مضمون: جگن بھیامطبوعہ افکار ، کراچی ، مجاز نمبر ص ۵۶)
دہلی میں لگنے والی جس دلی چوٹ کی طرف مجاز ؔ کی بہن حمیدہ سالم اور کچھ سوانح نگاروں نے اشارہ کیا ہے کہ اس کا سبب زہرہ تھیں جن کی دلکش اداؤں نے شاعر کے دل کو اس درجہ متاثر و محسور کیا کہ وہ فلمی انداز سے مجازؔ کے دل ودماغ پراس قدر مسلط ہوگئیں کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور جب پتہ چلا کہ وہ ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے تو ان پر عجیب و غریب وحشت و دیوانگی کا دورہ پڑگیا۔زہرہ کے والد دہلی میں کسی کالج کے پرنسپل تھے۔ ایک بار زہرہ مجازؔ کو اپنے والد سے ملوانے لے گئیں تو پہلے انھوں نے مجازؔ کا خوش روئی سے استقبال کیا لیکن جب مجازؔ سے ان کی آمدنی کے بارے میں پوچھا تو اٹھ کر اندر چلے گئے اور زہرہ سے نہایت ناگوار لہجے میں کہا کہ میں ایسے لوگوں سے نہیں ملتا جس کی آمدنی صرف دو تین ہزار روپے ہو ۔ اس توہین آمیز برتا ؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے مجازؔ زہرہ کے گھر سے چلے آئے۔اوڈین سنیما کے پاس پہنچتے پہنچتے ان کے قلب مضطر کے زخموں کی سوزش ناقابل برداشت ہوگئی ۔ کچھ دیر تک اِدھر اُدھر بے مقصد ٹہلتے رہے، دوکان سے سگریٹ اور کاغذ خریدا اور بنچ پر بیٹھ کر لکھنے لگے:
شہر کی رات ، اور میں ناشاد وناکارہ پھروں
جگمگاتی ، جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر دہکی ہوئی شمشیر سی
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
یہ روپہلی چھاؤں ، یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ ، لیکن کون جانے کون سمجھے دل کا حال
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
پہلے بند میں ’’ غیر کی بستی‘ سے مراد دہلی ہے جہاں مجازؔ ملازمت کرتے تھے اور یہیں ان کی منظور نظر زہرہ بھی رہتی تھی لہٰذا شاعر کے لیے یہ شہر جمالیات کا مرکز تھا ۔ اگر زہرہ تک شاعر کی مستقل رسائی ممکن ہوتی تو یقین تھا کہ مجازؔ دہلی کو غیر کی بستی کہہ کر نہ پکارتے گو یا دہلی اور زہرہ دونوں شاعر کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ ان کی عدم یافت نے گویا احساس جمال میں یکبارگی پچاس فیصدی کمی کردی۔ شاعر کے ذہن میں اس لمحے تک جھلملاتے قمقموں کی زنجیر ، رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر اس وقت تک جلوہ افروز تصورات تھے جب تک زہرہ کے وصل کی آس تھی۔ صوفی کا تصور اور عاشق کا خیال کے استعارے جان بوجھ کر استعمال کیے گئے ہیں کیوں کہ صوفی اللہ کے تصور میں کھویا رہتا ہے اور عاشق اپنی محبوبہ کے خیال میں گم رہتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر صوفی اور عاشق دونوں ہی اپنے اپنے نشانات کو شاذ ونادر ہی پاسکتے ہیں۔ جمال بھی بعض اوقات حقیقی موجودات سے آشنا ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر خوش فہمیوں کا شکار بنتا ہے۔
پندرہ بندوں پر مشتمل مذکورہ نظم میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر بند کا تیسرا مصرع مجازؔ کی شکست اور ہزیمت کا اعلان نامہ محسوس ہوتا ہے ۔ ان مصرعوں میں شاعر کی شکست خوردگی کی علامت بھی ہے اور اس میں پوشیدہ جمال پرستی کے نمونے بھی ہیں جن سے شاعر کو ناقابل بیان لذت آفرینی ملتی ہے ۔ اس لطیف شے کے لیے وہ تا عمر متلاشی اور تمنائی رہے ۔ اس لذت آفرینی کا صحیح احساس آپ کو اور ہم کو نہیں ہوسکتا ۔ اس احساس کے لیے مجازؔ کا سا دل، اس کے خونیں تجربات اور اس قوت آخذۂ جمال کی ضرورت ہے جو خدا نے مجازؔ کو عطا کیا تھا۔
نظم ’’ آوارہ‘‘ کے حوالے سے چند باتیں خصوصیت کے ساتھ عرض کرنی ہیں، پہلی بات یہ کہ نظم رومان سے شروع ہوکر انقلاب پر ختم ہوتی ہے۔ نظم کے نصف حصے تک مجازؔ کی شاعری جمالیات کی بہترین مثال ہے۔نظم کے آخری چار بند جارحانہ اور انقلابی جذبات کی بازگشت ہیں۔ ان بندوں کا لب و لہجہ، Diction اور انداز پیش کش ترقی پسندوں کی حرکیMovementsکا مظہر ہے جس سے شاعر کی چڑچڑاہٹ اور تخریب کاری کا پتہ چلتا ہے۔ علم نفسیات کا اصول ہے کہ محبت ونفرت اعتدال کے ساتھ بیک وقت یکجا نہیں ہوسکتے لہٰذا میرا خیال ہے کہ آوارہ کے ابتدائی بند اوڈین سنیما کے آس پاس کہے گئے ہیں باقی بند بعد میں کسی اور مقام پر کہہ کر اس نظم میں جوڑے گئے ہوں گے۔ آوارہ کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس نظم کا جنم مجازؔ کی شراب خوری کے دوران ہرگز نہیں ہوا کیوں کہ زبان کی جو لطافت ، الفاظ کا جو انتخاب اور مصرعوں کی جو ادبی سجاوٹ اس نظم میں نظر آتی ہے وہ نشے کے عالم میں ممکن نہیں۔ ایک قابل توجہ امر یہ ہے کہ آوارہ کے مصرع ’’ پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل‘‘ کی قرات غلط ہے اسے شہناز و لالہ رخ ہونا چاہیے۔ علی گڑھ میں شہناز اور لالہ رخ نام کی دو نوجوان لڑکیاں تھیں جنھیں مجازؔ پسند کرتے تھے۔آخری بات یہ کہ آوارہ سراسر خود کلامی یا Soliloquy(صحبت باخود) کا عملی نمونہ ہے ۔تنہائی جمالیاتی اصطلاح ہے جسے مجازؔ نے اس نظم میں بہ حسن خوبی استعمال کیا ہے۔ فراق گورکھپوری نے لکھا ہے کہ:
’’ یہ نظم شاعر کی زندگی کے آخری چھ سات سال اور اس کے المناک خاتمے کی پیشین گوئی تھی۔ یہ نظم بارود پر چنگاری کے منڈلانے کا منظر پیش کررہی تھی۔نظم کی نوک پلک نظر فریب بھی تھی اور اعلا ن خطرہ بھی کررہی تھی ۔ایک سوئے ہوئے جوالا مکھی کے عنقریب پھٹ جانے کی گڑگڑاہٹیں اس نظم میں سنائی دیتی تھیں۔ نظم میں ایک خطرناک دلکشی تھی ۔اس میں مقناطیسی کشش تھی مگر نظم کے سحر سامری سے انکار ممکن تھا‘‘
(مضمون: ایسے پیدا کہاں ہیں مست وخراب، مشمولہ افکار(کراچی) مجازؔ نمبر ص ۱۷۱)
آوارہ کے علاوہ مجازؔ کی کہی ہوئی نظمیں مثلاََ نذردل، مجبوریاں، نذرخالدہ، خواب سحر،آبنگ نو، آج بھی، لکھنؤ، اعتراف ،بتان حرم اور فکر وغیرہ بھی جمالیاتی مطالعہ کا تقاضہ کرتی ہیں۔
مذکورۂ بالا نظموں کے علاوہ مجازؔ کی تخلیق کردہ غزلیں بھی ان کے مخصوص تغزل کی بو قلمونی اور خیالات وجذبات ست رنگی قوس قزح کی دلکشی ودل ربائی کے سہارے ہمارے احساس شعروشباب اور نوخیز جلوہ ہائے جمال کی منفرد عکاسی کرتی ہیں۔یہاں پر اس بات کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا کہ دنیا میں جتنے بھی فنون لطیفہ ہیں وہ کم وبیش سبھی فلسفۂ جمالیات سے اکتساب فیض کرتے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر قاضی جمال حسین کا یہ محاکمہ قابل توجہ ہے:
’’ بام گارٹن نے حسن کے تمام مظاہر اور احساس حسن کی تمام کیفیات کو جمالیات کے دائرے میں شامل کیا تھا، خواہ اس حسن کا تعلق مناظر فطرت سے ہو، انسانی حسن یا فنون لطیفہ سے۔ ایسی ہر چیز اور ایسے تمام مظاہر حسن جن کا حسی ادراک مسرت بخش ہو اور جو ہمارے احساس جمال کو بر انگیختہ کرے ، جمالیاتی مطالعہ کا موضوع ہے‘‘
( جمالیات اور اردو شاعری ص ۱۳)
اس بیان کی روشنی میں غزلیات مجاز ؔ کا مطالعہ بلا شبہ مسرت بخش اور بصیرت افروز ہے۔بعض کم علم ،جلد باز اور تنگ نظر اشخاص غزل کو ایک محدود ، پسماندہ اور تنگ دامن صنف سخن سمجھتے ہیں جیسا کہ کلیم الدین احمد نے سمجھا اور سمجھایایا بعض نام نہاد ترقی پسندوں نے اس غلط نظریے کی تبلیغ کی ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غزل کی تثلیث (عاشق، محبوب اور رقیب) کا ئنات کی وسعتوں کو آشکار کرتے آئے ہیں۔ مجازؔنے نظمیں زیادہ کہیں اور غزلیں تعداد میں کم کہی ہیں لیکن جتنی کہی ہیں وہ فنی لحاظ سے بہت عمدہ ہیں۔ مثال کے طورپر یہ غزلیہ اشعار دیکھیے جو ایک سنجیدہ قاری سے مجازؔ کی صناعی اور فن کاری کی داد مانگتی ہے:
حسن کو بے حجاب ہوناتھا
شوق کو کامیاب ہونا تھا
ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل ہی شراب ہونا تھا
تیرے جلوؤں میں گھر گیا آخر
ذرے کو آفتاب ہونا تھا
کچھ تمھاری نگاہ کافر تھی
کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
جس طرح رنگ برنگی مچھلیاں صاف و شفاف پانی میں ڈبکیاں لگاتی ہوئی خوبصورت نظر آتی ہیں بالکل اسی طرح ایک اچھی غزل کے اشعار رومانیت ، غنائیت اور جمالیت کے رس میں ڈوب کر پڑھنے اور سننے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور معنویت اور تاثر کے لحاظ سے بے پناہ ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:
فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذاللہ
یہ نالے نارسا ہوکر ، یہ آہیں بے اثر ہوکر
اس شعر میں معاذاللہ کی ترکیب کے عرفان سے شاعر نے جو فائدہ اٹھایا ہے وہ معنوی پہلو سے شعر وادب میں مجاز ؔ کا بہترین تحفہ ہے۔نالوں کی نارسائی اور آہوں کی بے اثری کا عالم ، امید وبیم اور حسرت ویاس کے ساتھ نیلے آسمان کو تکتے رہنے کا مزہ اسی کو ہوتا ہے جو ایک فطری جمال پرست عاشق کی طرح زخم کے کرب کی لذت سے آشنا ہو۔ اسی طرح کا ایک اور شعر :
یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں
شفق کی سرخیاں بن کر تجلیِ سحر ہوکر
جب عاشق دل میں حسن محبوب کی یاد کو بسا کر آسمان کی طرف تکتا رہتا ہے تو فطری طور پر وہ بہ قدر ذوق نظر فضائے آسمانی سے فیض یاب ہوتا ہے ۔ شفق کی سرخیاں ، صبح کے خوبصورت اجالے کا اس کے دل ودماغ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کی نگاہوں میں ایک جہان فکرو نظر آباد ہوجاتا ہے۔ایک غزل میں مجاز ؔ کہتے ہیں:
تو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے
دل جہاں ہے گوش بر آواز ہے
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے
آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم
میری میخواری بھی اب تک راز ہے
ان اشعارکو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجازؔ نے بغیر مضمون آفرینی کا مصنوعی سہارا لیے محض رومانی زبان ، ذاتی تجربات اور جذباتی لب ولہجہ استعمال کیا ہے۔ مذکورہ اشعار با لکل نجی عشق کے آئینہ دار ہیں لیکن ان میں جو رنگ جمال پوشیدہ ہے وہ ذاتی ہوکر بھی دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مختصر سے محاکمے کے بعد یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مجازؔ کی شاعری میں جمالیاتی قدریں نظریۂ اظہاریت کی بہترین مثال ہے۔ آہنگ کی جملہ شاعری میں مجازؔ نے اپناجمالیاتی احساس اور حسن وعشق کے سربستہ رازوں کو تمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کیا ہے۔ یہاں پر یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کلیات مجاز کا جمالیاتی مطالعہ ادبی مطالعے سے کہیں زیادہ وسیع النظری اور ہمہ گیر یت کا مطالبہ کرتا ہے۔
٭٭٭