My Journey by Salambin Razaaq

Articles

میرا تخلیقی سفر

سلام بن رزاق

کسی مفکر کا قول ہے ’’میں سوچتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ اس قول میں ذرا سی ترمیم کر دی جائے تو ایک ادیب کی حیثیت سے میرا معروضہ یہی ہوگا کہ ’’میں لکھتا ہوں اس لیے میں ہوں ۔‘‘ مفکر کی سوچ اس کی زندگی کی دلیل ہے تو ایک ادیب کی تحریر اس کے وجود کی شہادت ہے ۔ اگر کوئی مجھ سے پوچھے کہ تم کیوں لکھتے ہو ؟ تو شاید میں اس کا تسلی بخش جواب نہ دے سکوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔البتہ میں ایک چینی کہاوت ضرور سنانا چاہوں گا۔ ’’پرندے اس لیے نہیں گاتے کہ ان کے پاس گانے کا کوئی جواز ہے ۔ پرندے اس لیے گاتے ہیں کہ ان کے پاس گیت ہیں ‘‘ میں اس لیے لکھتا کہ میرے پاس لکھنے کے لیے کچھ ہے ۔
اگرچہ لکھنا ایک شعوری عمل ہے مگر لکھنے کی خواہش ادیب کے لاشعور کی گہرائیوں میں پرورش پاتی رہتی ہے ۔ جو مناسب وقت پر الفاظ کا جامہ پہن کر صفحۂ قرطاس پر نموپذیر ہوتی ہے ، بسا اوقات ہمیں خود پتہ نہیں چلتا کہ ہم نے کب اور کیوں لکھنا شروع کیا۔۔۔۔۔۔مجھے بچپن کا ایک واقعہ یاد ہے میں ابھی چھوٹا تھا ، تیرنا نہیں جانتا تھا مگر تالاب کے کنارے بیٹھ کر دوسرے بچوں کو تیرے ہوئے دیکھنے میں مجھے بڑا مزہ آتا تھا۔ پتہ نہیں ایک دن اچانک کسی نے مجھے پیچھے سے دھکا دے دیا۔ میں پانی میں گرکر کا غوطے کھانے لگا مگر ڈوبنے سے بچنے کے لیے غیر ارادی طور پر ہاتھ پائوں بھی چلاتا رہا بالآخر جوں توں کنارے پر آلگا مگر اس کے بعد میں نے محسوس کیا کہ مجھ میں حیرت انگیز طور پر تبدیلی آگئی ہے۔ میرے دل سے گہرے پانیوں کا خوف جاتا رہا اور میں بھی رفتہ رفتہ دوسرے بچوں کے ساتھ تیرنے لگ گیا۔ میرے لکھنے کی ابتدا بھی کچھ اس طرح ہوئی ۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تھا، داستانِ امیر حمزہ، الف لیلیٰ ، طوطا مینا، حاتم طائی ، باغ و بہار ، تاریخ اسلام ، صادق حسین سردھنوی، مولانا عبدالحلیم شرر اور نسیم حجازی کے تاریخی ناول ، ابن صفی کے جاسوسی ناول اور جانے کیا کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پتہ نہیں چلا کہ پڑھتے پڑھتے کب لکھنا شروع کردیا ۔ اب غور کرتا ہوں کہ وہ کون تھا جس نے مجھے پانی میں دھکا دیا تھاتو لگتا ہے کہ وہ کوئی اور نہیں شاید میرا ہی ہمزاد تھا۔
اول اول قلم چلانا شوق تھا رفتہ رفتہ جی کا روگ بن گیا اور اب تو تاحیات اس سے چھٹکارا پانے کی کوئی سبیل نظر نہیں آتی ۔ جس شوق کو کچی عمر میں ہنسی کھیل میں شروع کیا تھا، اب وہ لاعلاج مرض کی شکل اختیار کر چکا ہے اور صورت یہ ہے کہ اگر میں قلم کو چھوڑنا بھی چاہوں تو قلم مجھے چھوڑنے کو تیار نہیں ۔اکثر کوئی خیال کوئی سوال ، کوئی واقعہ ، کوئی کردار اچانک میرے سامنے آکھڑا ہوتا ہے اور کسی بیتال کی طرح میرا تعاقب کرتا ہے ۔ تب میں حتی الامکان اس سے دامن بچاتا ہوں ، آنکھیں چراتا ہوں ، بھاگنے کی کوشش کرتا ہوں مگر وہ میرا پیچھا نہیں چھوڑتا تاوقتیکہ میں اسے کسی موکل کی طرح اپنے قابو میں کرکے الفاظ کی بوتل میں بند نہیں کر دیتا۔
جب لکھنا شروع کیا تو چھپنے کا شوق پید ا ہونا بھی لازمی تھا۔ لہٰذا چھوٹے بڑے رسائل اور جرائد کے کشت زاروں میں قلم کا ہل چلایا ، الفاظ کی کاشت کی اور دادوتحسین کی فصل کاٹی۔ یوں تو میں ہلکے پھلکے تنقیدی مضامین ، تبصرے ،ڈرامے ،بچوں کے مضامین اور کہانیاں تراجم ، ریڈیو فیچر ، ٹیلی فلمیں اور فیچرفلمیں بقدر ظرف ہر صنف میں طبع آزمائی کرتا رہتا ہوں مگر ایک قلمکار کی حیثیت سے افسانہ لکھ کر مجھے روحانی مسرت حاصل ہوتی ہے اور اسے اگر کسی چیز کے مماثل قرار دوں تو وہ کم و بیش مہاتما بدھ کے نروان والی کیفیت سی ہو سکتی ہے ۔ مجھ سے ایک انٹرویوں میں پوچھاگیاتھا۔’’آپ کس حیثیت سے یاد کیا جانا پسند کریں گے؟‘‘ میں نے بلا تامل جواب دیا۔ ’’افسانہ نگار کی حیثیت سے ۔‘‘ اگر چہ میں جانتا ہوں فی زمانہ لکھنا اوروہ بھی افسانہ تضیع اوقات ہے ۔ تاہم اس کو کیا کیا جائے کہ بعض طبیعتیں خسارے کے سودے میں ہی تسکین پاتی ہیں ۔ ایسے موقع پر غالب کا یہ مصرعہ بڑی تسلی دیتا ہے :
ع عبادت برق کی کرتا ہوں اور افسوس حاصل کا
آج سے پچیس تیس برس پہلے معاشرے میں ادب کی اہمیت اور ضرورت ایک مسلمہ حقیقت تھی ۔ ادب ہمارے جمالیاتی ذوق کی تسکین کا سب سے بڑا وسیلہ سمجھا جاتا تھا۔ مگر آج معاشرے کا منظر نامہ بدل چکا ہے آج ہمارا معاشرہ ایک ہولناک صورتِ حال سے گزررہا ہے اور ایک تشویش ناک مستقبل ہمارا منتظر ہے اقدار پارہ پارہ ہوچکی ہیں ۔ جو اصول صبح بنائے جاتے ہیں شام میں شکستہ پیمانوں کی طرح پاش پاش ہوجاتے ہیں ۔ تہذیبیں دم توڑ رہی ہیں ۔ خدا کی موت کا اعلان تو بہت پہلے کیا جا چکا تھا اب خود انسانیت معرض خطرمیں پڑ چکی ہے ۔ اس ہیجان اور انتشار کے دور میں پہلا سوال جو ذہن میں آتا ہے وہ یہ ہے کہ آج کے معاشرے کو افسانے کی ضرورت ہے بھی یا نہیں ۔۔۔۔۔ ذرائع ابلاغ نے ایک عام قاری کے ذوق کو اس قدر پامال کردیا ہے کہ صرف افسانہ ہی نہیں پوراادب اس کے نزدیک ایک شوق فضول کے سوا کچھ نہیں ۔ بہر حال صورت ِ حال جو بھی ہو میں اتنا جانتا ہوں کہ معاشرے کی ضرورت ہو یا نا ہوں مگر افسانہ میری ضرورت ہے یقینا ہے ۔ میں نے اپنے پہلے افسانوی مجموعے ’’ننگی دوپہر کا سپاہی ‘‘میں بطور دیباچہ لکھا تھا :
انسانی قدروں کی بساط مضحکہ خیز طور پر الٹ گئی ہے وزیر شاہ پر سوار ہو گیا ہے ۔ ہاتھی گھوڑے کہیں کے کہیں جا پڑے ہیں اور پیادے چاروں خانے چت ہیں اس بکھری بازی کو دوبارہ کون جمائے ؟ کوئی نہیں جانتا بازی کہاں سے چلی تھی کہاں تک پہنچی ؟ مگر تعجب ہے کہ لوگ بازی پھر بھی کھیلے جارہے ہیں ۔ پر اب کوئی ضابطہ ہے نہ اصول ۔ ساری بازی کسی پاگل کی سنک کی طرح چل رہی ہے۔‘‘ اس دیباچے کو لکھے اٹھائیس برس گزر گئے ۔ آج اٹھائیس برس بعد بھی حالات جوں کے توں ہیں بلکہ صورت حال زیادہ پیچیدہ اور بھیانک ہو گئی ہے ۔میرے پائوں ننگے ہیں اور سر پر دھوپ کی چادر تنی ہوئی ہے ، تلوئوں میں چھالے پڑے ہیں اور راستہ پر خار ہے ۔
پیچھے مڑکر دیکھنے کا سوال ہی نہیں ۔ اگر میں نے ایسا کیا تو کسی جادو کے زور سے پتھر کا ہوجائوں گا ۔ اس خوف سے میں چلتا جا رہاہوں ۔ متواتر چل رہا ہوں ۔ میر اسفر جاری ہے ، میں اس سفر میں لمحہ لمحہ ٹوٹتا ہوں ، ریزہ ریزہ بکھرتا ہوں ۔ افسانہ لکھنا میرے نزدیک اپنے اسی کرچی کرچی وجود کو سمیٹنے کا نام ہے جس کے وسیلے سے میں اپنے آپ کو ماحول کی جبریت سے آزاد کرتا رہتا ہوں ۔ میرا افسانہ دراصل میری نجات کاذریعہ ہے ۔ سچ تو یہ ہے کہ افسانہ لکھنا کوئی خوشگوار عمل نہیں ہے ۔ بقول راجندرسنگھ بیدی یہ کام ایسا ہی ہے جیسے کسی شخص کی کھال کھینچ کر اسے ننگے بدن نمک کی کان سے گزارا جائے ۔ مگر کیا کیا جائے کہ تخلیق کار کو اسی میں راحت ملتی ہے ۔ کہتے ہیں کہ سیپی کے سینے میں جب کوئی کنکر گڑ جاتا ہے تو وہ اس کے اندر ٹیس پیداکرنے لگتا ہے ۔ سیپی اس رِڑک کو کم کرنے کے لیے اپنے اندر ایک قسم کا لعاب پیدا کرتی ہے اور لعاب کو اس پھنسے ہوئے ذرے کے گرد لپیٹتی رہتی ہے کنکر پر لعاب کی تہہ جمتی رہتی ہے ۔ پھر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ کنکر لعاب سے مل کر موتی بن جاتا ہے افسانہ لکھنا بھی دراصل اپنے اندر پھنسے کسی خیال کی رِڑک سے نجات پانے کا عمل ہے ۔ یہ خیال ہی کی رِڑک ہے جو افسانہ نگار کے جگر میں گڑتے گڑتے بالآخر افسانے کی شکل اختیار کرلیتا ہے ۔ میں اپنے افسانوں کے حوالے سے زندگی کو انگیز کرتا ہوں اور زندگی کے حوالے سے اپنے افسانوں میں رنگ بھرتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے کہ بعض افسانہ نگار ،عظیم موضوعات کی تلاش میں بہت دور نکل جاتے ہیں اس قدر دور کہ بسا اوقات اپنے گھر کا راستہ بھول جاتے ہیں جب کہ آنکھیں کھلی اور ذہن بیدار ہوتو ہر واقعہ ایک کہانی اور ہر فرد ایک کردار ہے ۔ میں اپنی ذات کے آئینے میں اپنے اطراف کے لوگوں کی حرکات و سکنات کا مشاہدہ کرتا ہوں ۔ میرے بیشترافسانوں کے کردار خود میری ذات سے کچھ اس طرح برآمد ہوئے ہیں کہ انھیں یوں اچانک دیکھ کر میں حیران رہ گیا ہوں ۔ ان کی محبتیں ، ان کی نفرتیں ان کی شرافت ، ان کی کمینگی ، ان کی سر کشی ، ان کی بزدلی ، ان کے سکھ دکھ ، غم و غصہ ، سختی و نرمی سب میرے ہی جذبہ و احساس کے مختلف عکس ہیں۔ اگر فلائبیر، مادام بواری ہے ، منٹو کا لی شلوار کا دلال ہے تو پھر میں واسوہوں ، ننگی دوپہر کا سپاہی ہوں ، بجوکاکی شالوہوں ، خصی کا پر س رام ہوں ، کام دھینوکا مادھوہوں ۔ انجام کار کا راوی ہوں ۔
میں ایک عام آدمی کا افسانہ نگار ہوں کیوں کہ میرے اردگرد ایسے ہی لوگ بستے ہیں ۔ مظلوم ، مجبور،محروم اور ناآسودہ ۔ مگر خاطر نشان رہے کہ یہ عام آدمی نہیں ہیں ۔ میرے کردار وہ سخت جان افراد ہیں جو دن بھر میں بیسیوں دفعہ ٹوٹتے ہیں ، ٹوٹ کر بکھرتے ہیں مگر دوسری صبح اپنے بستر سے صحیح و سالم اٹھتے ہیں۔ وہ روز شکست کھاتے ہیں مگر زندگی جینے کا حوصلہ نہیں ہارتے۔ میرا افسانہ نعرہ نہیں چیخ ہے ۔ بسا اوقات ایسی چیخ جو سینے میں گھٹ کر رہ جاتی ہے ۔ ان کی بے کسی اور بے چارگی دیکھ کر مجھے پکاسو کی عالمی شہرت یافتہ تصویر ، گویرنیکا ، کے اس گھوڑے کی یاد آتی ہے جو جاں کنی کے عالم میں چیخ رہا ہے ۔ اُس کی دلخراش چیخ کو بظاہر ہم اپنے کانوں سے سن نہیں پاتے البتہ اس کی خوفناک مگر خاموش گونج ہمارے وجود میں ایک پر شور طوفان کی سی کیفیت پیدا کردیتی ہے ۔ یہ وہ بد نصیب لوگ ہیں جنہیں حالات نے اپنے چکر ویومیں جکڑ رکھا ہے ۔ وہ اس چکر ویوسے نکلنا چاہتے ہیں مگر ابھیمنیوکی طرح، چکرویو کو توڑکر اس سے باہر نکلنے کا منتر نہیں جانتے ۔ میں حالات کے چکر ویو میں پھنسے انہیںبیمار، تھکے ہارے اور دبے کچلے افراد کا افسانہ نگار ہوں ۔ ان کے دکھ درد ان کی یاس و محرومی ان کا اضطراب و انتشار ہی میرے افسانے کا محرک اور موضوع ہے ۔ میں باغیوں کی کہانیاں اس لیے نہیں لکھتا کہ میرے عہد میں کوئی باغی نہیں ہے ۔ میں فاتحین اور نائکوں کے افسانے کیوں کر لکھوں کہ میرے عہد میں ظلم کو بہادری مکاری کو دانائی کج روی کو راستی اور موقع پرستی کو سیاست کا نام دیا گیا ہے ۔ ساری قدریں سر کے بل کھڑی ہوچکی ہیں ۔آج مذہب ،ذات ، قوم اور علاقے کے نام پر انسانوں کو اتنے خیموں میں بانٹ دیا گیا ہے کہ پورا سماج ٹکرے ٹکرے ہو کر بکھر گیا ہے ۔ میرے کردار اسی پارہ پارہ معاشرے کے افراد ہیں ۔ وہ اس گھنائونے معاشرے میں جینے اور مرنے پر مجبور ہیں ۔ انھیں غصہ آتا ہے ۔ وہ احتجاج بھی کرتے ہیں ۔ مگر ان کا غصہ اور ان کا احتجاج اس الائو کی مانند ہے جس کی آ گ راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے ۔ میرا افسانہ دراصل اُسی بجھے ہوئے الائو کی راکھ میں چنگاریاں تلاش کرنے کا عمل ہے ۔
مجھے اس نوجوان کی کہانی یاد آرہی ہے جس نے ٹھٹھرا دینے والے موسم میں پہاڑ کی چوٹی پر ننگے بدن رات گذارنے کی شرط لگائی تھی اور دور ایک کٹیا میں جگنو کی طرح ٹمٹماتے چراغ کی لو پر نظریں گڑائے اس نے صبح کے ستارے کا استقبال کیا تھا اور شرط جیت گیا تھا۔ میرے کردار جس الائو کے گرد بیٹھے ہیں اگرچہ اس کی بھی آگ سرد پڑ چکی ہے مگر ان کے لہو میں ایک مدھم چراغ روشن ہے ۔ اُمید کا یہ چراغ ان کے اندر زندگی کی حرارت پیدا کرتا ہے ۔ وہ افق پر نظریں گڑائے صبح کے انتظار میں رات کاٹ رہے ہیں وہ شرط جیتیں گے یا نہیں یہ انھیں بھی نہیں معلوم مگر وہ اتنا جانتے ہیں کہ شرط کے لیے زندہ رہنا ضروری ہے ۔ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اب ان کی نجات کی خاطر مصلوب ہونے کے لیے کوئی مسیح نہیں آئے گا ۔ نہ صداقت کے نام پر کوئی زہر کا پیالہ پئے گا ۔ہر شخص کو اپنی صلیب خود اٹھانی ہے اور اپنے حصے کا زہر خود ہی پینا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
منٹو کی موت پر کرشن چندر نے کہا تھا۔وہ اردو کا واحد شنکر ہے جس نے زندگی کے زہر کو گھول کر پی لیا ہے ۔ آج سے پچاس برس پہلے ممکن ہے کرشن چندر نے ایسا محسوس کیا ہو کہ تنہا منٹو زندگی کے زہر کو گھول کر پی سکتا ہے ۔ہمارے اردگرد چپے چپے پر اس قدر زہر پھیلاہے کہ منٹو کیا شنکر بھگوان بھی زمین پر آجائیں تو اس زہر کو نہیں پی سکتے ۔ لہٰذا معاشرے کا یہ زہر تھوڑا تھوڑا ہم سب کو پینا ہوگا۔ یہ ہمارے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ہماری ذمہ داری بھی ۔ ایک قلم کار کی حیثیت سے میرے سامنے بھی یہ چیلنج موجود ہے لہذا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں افسانے میں کیا لکھتا ہوں دراصل اپنے حصے کا زہر پی کر اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کرتا ہوں، علی ھذا القیاس۔
———————————————————————-

Shishe ka Ghar by Surendar Parkash

Articles

شیشے کا گھر

سریندر پرکاش

شیشے کے گھر میں سیڑھیاں، بنانا اور پھر ان سیڑھیوں پر اس کی آخری چھت تک پہنچنا کیا ایک مسئلہ نہیں ہے؟ یہ فرض کرلیا گیاہے کہ فنکار کو اس کی فن کاری کی دادملنی ہی چاہیے۔ لیکن کیافن کی تخلیق کے پیچھے داد خواہی کا جذبہ کلبلارہا ہوتا ہے؟
میں سمجھتا ہوں کہ اس مفروضے سے فن کی قدروقیمت کم ہوتی ہے۔ بڑے فن کی یہ صلاحیت ہونی چاہیے کہ وہ قاری،سامع یا ناظر کو فنکار کے تجربے میں شامل ہونے کی تحریک دے۔ اگر ایسا مان لیا جائے تو پھر دادا ملنے یا نہ ملنے سے کوئی فرق ہی نہیں پڑتا اور اگر تخلیق نے خاطر خواہ اثر نہیں کیا اور اس کی طرف نقاد یا قاری متوجہ نہیں ہوا تو فن کو اپنی تخلیقی صلاحیت پر نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔
تخلیق کو بسا اوقات معاوضے کے ترازو میں بھی تولاجاتا ہے لیکن یہ فراموش کردیا جاتا ہے کہ فن اپنا معاوضہ صرف سکّوں ہی کی صورت میں وصول نہیں کرتا۔ زیادہ تر فن کو پرکھنے والے ہی نہیں ملتے۔ نہایت اعلیٰ درجہ کا فن بھی انھیں لوگوں کو پرکھنے کے لیے پیش کردیا جاتا ہے جو عام درجہ کا فن پرکھنے کی عادت بنا کر بیٹھے ہیں۔ ان کے ہاں تخیل (Imagination) کی کمی ہوتی ہے اور وہ ایک محدود نظریہ فن کی بنیاد پر اپنا کام چلاتے ہیں۔ اکثر ایسی صورت میں ادب کو اس کا پارکھ قارئین میں مل جاتا ہے جو اپنی زندگی میں کم وبیش اسی ذہنی سفر کا تجربہ رکھتا ہے جیسا کہ اعلیٰ درجہ کا فنکار۔
جب مجھ پر پہلا خیال اترا جسے میں نے قلم بند کرنے کی کوشش کی تو میں صحیح معنوں میں تخلیقی عمل سے اچھی طرح روشناس نہ تھا۔ کوئی سامنے کا دیکھا ہوا واقعہ۔ کوئی دلچسپ کردار اچھا لگتا تو میں اس کی قلمی تصویر بنانے کے لیے قلم اٹھالیتا۔ لیکن وہ تصویریں بے جان ہوتیں۔ نہ ان کی شریانوں میں خون گردش کررہا ہوتا نہ ان کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہوتا۔ نہ ہی ان کے وجود میں روح جنبش کررہی ہوتی۔ نہ ہی میں ان تصویروں کا دکھ سکھ جان پاتا اور نہ ہی ان کے وسیلے سے اپنی ذات کا سکھ کہہ پاتا۔
میں الگ سے ایک آدمی ہوتا اور اپنی قلمی تصویروں سے میرا رشتہ اسی وقت ٹوٹ جاتا۔ جب میں ان کو اپنی طرف سے مکمل کر کے الگ ہوتا ، لیکن ایک خلش سی باقی رہتی۔ اپنے اندر ایک کمی سی محسوس ہوتی اور اس کیفیت کو ٹھیک طور پر سمجھنے کا شعور مجھ میں بالکل نہ تھا۔ ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میرا پہلا افسانہ تھا۔ جسے لکھنے کے بعد میں بے حد اداس ہوگیا۔ مجھے بے گھر ہونے کا احساس بری طرح ستانے لگا۔ اس افسانے کے مرکزی کردار کے سارے غم میں، میں نے اپنے آپ کو شریک پایا۔ اس گھر کے مکینوںسے اجنبیت کا کرب میرے اندر تک سرایت کر گیا۔
لیکن نہیں، یہ میں نہ تھا، یہ تو کوئی اور ہی شخصیت تھی۔ جس کا وجود اچانک عمل میں آگیا تھا جو میرے وجود کاانگ تھی۔ لیکن پھر بھی مجھ سے، میرے ماحول سے اور میرے رشتے ناطے والوں سے اجنبی تھی۔ کون ہے یہ؟ میں نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ تب میری نظروں کے سامنے ایک مجسمہ ابھرا جس کا آدھا دھڑ عورت کا تھا اور آدھا مرد کا۔ وہ وشنو کا اور نریشور کاروپ تھا۔ بات میری سمجھ میں آگئی۔ وہ راز میں سمجھ گیا کہ وشنو کا یہ روپ جس نے تخلیق کیا تھا وہ کہنا کیا چاہتا تھا۔
فنکار کی زندگی میں ایک وقت آتا ہے جب وہ اپنے ہی نطفہ سے اور اپنے ہی بطن سے ایک نئی شخصیت کو جنم دیتا ہے یعنی اس کی شخصیت کا مرد اس کی شخصیت کی عورت سے بیاہ رچا لیتا ہے اور ان کے قرب سے پیدا ہونے والا بچہ آنکھیں مل مل کر اپنے ارد گرد کے ماحول کو پہنچاننے کی کوشش کرتا ہے اور اسے سب اجنبی، اجنبی سا لگتا ہے اور پھر وہ بچہ پروان چڑھنے لگتا ہے۔
’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کی تخلیق کے بعد مجھ میں اور میرے بطن سے میرے ہی نطفے سے پیدا ہونے والے بچے میں ایک عجیب کشمکش سی شروع ہوگئی اور پھر ایک دن آیا کہ اس نے قلمدان میرے ہاتھ سے چھین لیا اور میں بے حسی اور بے کسی کے عالم میں گم سم کھڑا رہا۔ وہ بچہ جیسے جیسے توانا ہوا جاتا تھا، میں ویسے ویسے ہی کمزور و ناتواں ہوا جاتا تھا اور پھر ایک وقت آیا جب وہ جدو جہد ختم ہوگی اور میں نے اس کے آگے ہتھیار ڈال دیے۔ اس کے بعد سریندر پرکاش نام کا خاوند،باپ، بھائی اور دوست محض ایک نام رہ گیا اور زندگی کی پوری باگ ڈور سریندر پرکاش افسانہ نگار نے سنبھال لی۔
گو کہ سریندر پرکاش ابھی زندہ تھا، لیکن مردوں کے برابر کہ دونوں شخصیتیں الگ الگ اپنی زندگی گزاررہی تھیں۔ ایک جو تخلیق میں مصروف تھی اور دوسری جو رشتوں ناطوں کے محدود دائرے میں سانس لے رہی تھی۔
وہ کون ہے جو ،رونے کی آواز، بجو کا، بازگوئی اور ساحل پر لیٹی ہوئی عورت تخلیق کرتا ہے اور پوجا کا تلک میری پیشانی پر لگادیتا ہے، جس نے مجھے سکھایا کہ مذہب کو ذاتی عقیدے کے حصار سے نکال کر فلسفہ کے ساحل پر لا کر پرکھنے کی ضرورت ہے۔ جہاں اسلام، عیسائیت اور ہندومت اپنے آفاقی روپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ جہاں فرد کا کرب، انسانیت کا کرب بن جاتا ہے اور آدمی زندگی کا مہامنتر پاجاتا ہے اور آزادی۔ آزادی!
حیرانی کی بات یہ ہے کہ یہ دونوں الگ الگ شخصیتیں ایک ہی گھر میں قیام کرتی ہیں۔
میری جگہ اگر آپ ہوں تو آپ پر کیا گزرے گی۔
یہ کس نے بجائی بانسری؟ اور کون سے پیڑ پہ کوئل نغمہ سرا ہوئی اور کوئل کے کنٹھ میں کانٹا چبھا ہے۔ مت رو کوئل مت رو۔ کالی کلوٹی کوئل تو حسن کا مجسمہ ہے۔
اُف! اس نظام میں کس نے خون نہیں تھوکا؟
تو صاحبو۔ مطلب یہ ہوا کہ فنکار دوہری زندگی جیتا ہے۔ ایک چہرہ، چہرے پر لگا رہتا ہے اور ایک چہرہ چہرے کے نیچے چھپا ہوا ہوتا ہے۔ دنیا بھر کے عتاب مجھ پر نازل ہوتے ہیں۔ لوگوں کی نفرتیں، شکایتیں اور دشنام میرے لیے ہیں۔ نیکیاں، تعریفیں اور اعزاز اس کے لیے جو میری شخصیت کے پردے میں چھپا بیٹھا ہے یہاں تک کہ اب لفظ بھی اسی پر نازل ہوتا ہے اور میں محض تماشائی کی طرح سب کچھ دیکھتا ہوں اور کڑھتا ہوں۔
اگر آپ نے میرا افسانہ ’سرنگ ‘پڑھا ہے تو آپ کو ضرور معلوم ہوگا کہ مجھے اس نے ایک ٹنل میں لا پٹکا ہے، جس میں سے نکلنے کا راستہ بڑا دشوار گزار ہے اور آدم خور چوہے میری بوٹی بوٹی کے بھوکے ہیں۔ مجھے دو جنگیں ایک ساتھ لڑنا پڑ رہی ہیں۔ ایک اس کے ساتھ اور دوسری آپ کے ساتھ۔ جی ہاں! میں آپ کے ساتھ بھی برسرِپیکار ہوں۔
’بجوکا‘ میں جب زمانے کا سردو گرم برداشت کرنا ہوتا ہے تو وہ مجھے ’بجوکا‘ بنا کے کھیت میں کھڑا کر دیتا ہے اور فصل کاٹتے وقت وہ ہوری بن کے آموجود ہوتا ہے اور جب ہوری کا مقدر موت بن جاتی ہے تو وہ خود،بجوکا‘ بن جاتا ہے اور میری فصل کا ایک چوتھائی لینے کا حق دار بن جاتا ہے۔ ’بازگوئی‘ میں نیک موسیقار اور شاعر تلقار مس وہ ہے اور جب تلقار مس کا پتن ہوتا ہے تو وہ مجھے تلقارمس بناڈالتا ہے اور میرے ہاتھ پائوں کاٹ کر ملکہ شہروزی کے محل کے کھنڈر میں پھنکوا دیتا ہے۔
نتیجہ یہ ہوا ہے کہ میرا مزاج بالکل بدلتا جارہا ہے۔ میرے اوپر کی کھال اتر رہی ہے اور میرا سارا وجود اس کی شخصیت میں سماتا جارہا ہے مجھے محسوس ہو رہا ہے کہ میں ایک دن اپنی شخصیت سے ہاتھ دھو بیٹھوں گا اور اس کا تابع ہو کر رہ جائوں گا۔ کیا یہ ایک عظیم کرب نہیں ہے کہ میں زندہ ہوں اور اپنی زندگی کا ثبوت مجھے اس کے وسیلے سے دینا پڑ رہا ہے۔
سیرابی و تشنگی کا احساس میرا کہاں رہا ہے کہ میںاپنے سننے اور پڑھنے والوں کو جس میں شامل کروں!شاعری کرنا یا افسانہ لکھنا ایک ایسا عمل ہے کہ جس کے لیے اپنا سر اپنی ہتھیلی پر رکھ کر اس گلی میں داخل ہونا پڑتا ہے، ورنہ آپ کا لفظ، لفظ نہیں بنتا جو پڑھ کر پھونکا جاسکے۔
ہاں تو میں عرض کررہا تھا شیشے کا یہ گھر عجیب ہے۔ جس میں کوئی سیڑھی نہیں اور جس کی کوئی چھت نہیں اور آپ اس کی چار دیواری کے اندر رہ کر بھی لوگوں کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔ باہر سے آپ کی نظریں فنکار کو کھائے جاتی ہیں اور اندر سے فنکار اپنا خون گھونٹ گھونٹ پیتا رہتا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ مرنے کے باوجود فنکار اپنی موت کے بعد بھی زندہ رہتا ہے اکثر دیکھا ہے، وہ شیشے کے گھر میں گردن جھکائے آہستہ آہستہ ٹہلتا رہتا ہے، لیکن اس کے اندر بلا کی بے چینی ہوتی ہے وہ جانتا ہے کہ اس گھر میں کوئی دروازہ نہیں، باہر نکلتا ہے تو کسی ایک دیوار کا شیشہ ضرور ٹوٹے گا اور پھر ٹوٹے ہوئے گھر میں بھی اسے ہی جھک کر ایک ایک کرچی چننا ہے۔


My Journey by Rajindar Singh Bedi

Articles

افسانوی تجربہ اور اظہار کے تخلیقی مسائل

راجندر سنگھ بیدی

میں معافی چاہوں گا کہ اس مضمون کو لکھنے کے لیے مجھے اپنی ذات سے ہوکر گزرنا پڑرہا ہے۔ آپ اس لیے بھی درگذر کریں گے کہ اتنی بڑی مخلوق کی میں بھی اکائی ہوں ایک،لہٰذا سب کو سمجھنے کے لیے میری نزدیک یہ ضروری ہے کہ پہلے میں اپنے آپ سے سمجھ لوں۔
افسانوی تجربہ کیا ہے؟ مجھے افسانہ سازی کی لت کیسے پڑھی؟ اگر یہ مجھے اور میرے کچھ دوستوں کو پڑی، تو باقی دوسروں کو کیوں نہیں پڑی؟ کیوں نہیں میں کسی فرنانڈس کی طرح گرجے کے سامنے بیٹھا موم بتیاں بیچتا؟
فن کسی شخص میں سوتے کی طرح نہیں پھوٹ نکلتا۔ ایسا نہیں کہ آج رات کو آپ سوئیں گے اور صبح فن کار ہوکر جاگیں گے۔یہ نہیں کہا جاسکتا کہ فلاں آدمی پیدائشی طور پر فن کار ہے، لیکن یہ ضرور کہا جاسکتا ہے، کہ اس میں صلاحیتیں ہیں، جن کا ہونا بہت ضروری ہے۔ چاہے وہ اسے جبلت میں ملیں اور یا وہ ریاضت سے ان کا اکتساب کرے، پہلی تو یہ کہ وہ ہر بات دوسروں کے مقابلے میں زیادہ محسوس کرتا ہو، جس کے لیے ایک طرف تو وہ داد تحسین پائے اور دوسری طرف ایسے دکھ اٹھائے، جیسے کہ اس کے بدن پر سے کھال کھینچ لی گئی ہو اور اسے نمک کی کھان سے گزرنا پڑرہا ہو۔ دوسری صلاحیت یہ کہ اس کے کام و دہن اس چرند کی طرح ہو جو منھ چلانے میں خوراک کو ریت اور مٹی سے الگ کرسکے۔ پھر یہ خیال اس کے دل کے کسی کونے میں نہ آئے گا کہ گھاسلیٹ یا بجلی کا زیادہ خرچ ہوگیا۔ یا کاغذ کے ریم کے ریم ضائع ہوگئے۔ وہ جانتا ہو کہ قدرت کے کسی بنیادی قانون کے تحت کوئی چیز ضائع نہیں ہوتی۔ پھر وہ ڈھیٹ ایسا ہو کہ نقش ثانی کو ہمیشہ نقش اول پر فوقیت دے سکے۔ پھر اپنے فن سے پرے کی باتوں پہ کان دھرے۔ مثلاً موسیقی، اور جان پائے کہ استاد آج کیوں سُر کی تلاش میں بہت دور نکل گیا ہے۔ مصوری کے لیے نگاہ رکھے اور سمجھے کہ وشی واشی میں خطوط کیسی رعنائی اورتوانائی سے ابھرے ہیں۔ اگر یہ ساری صلاحتیں اس میں ہو تو آخر میں ایک معمولی سی بات رہ جاتی ہے اور وہ یہ کہ جس ایڈیٹر نے اس کا افسانہ لوٹا دیا ہے، گدھا ہے!
اس کے بعد کوئی بھی چیز افسانے کے عمل کو چھیڑ Trigger ofکرسکتی ہے۔ مثلاً کوئی راہ جاتا اس کی پگڑی اچھال دے، یا کوئی ایسا حادثہ پیش آئے جس پہ اس غریب کا کوئی بس نہ ہو اور جو اسے بے سلامتی کا شکار کردے اور وہ اپنے آپ میں ٹھان لے کہ مجھے اس بے تعاون ، بے رحم دنیا میں کہیں جگہ پانا ہے کچھ بن کے دکھانا ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ جب تک آدمی خطرے سے دوچار نہیں ہوتا اس میں مدافعت کی وہ قوتیں نہیں ابھرتیں، قدرت کے پاس جن کا بہت بڑا خزانہ ہے۔
نوعمری میں یہ سب باتیں میرے ساتھ ہوئیں اور مجھے یقین ہے کہ تھوڑے سے یا زیادہ فرق کے ساتھ دوسرے فن کاروں پر بھی بیتی ہوں گی۔ اکثر لوگوں کو حادثے پیش آتے ہیں اور وہ گوناگوں مصیبتوں کا شکار ہوتے ہیں۔ لیکن یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ وہ فن کے راستے پر سے ہوکر گزرنے کی بجائے کسی اور طرف مڑ لیے۔ صد ہرجا کہ نشیند ، صد راست۔ انھوں نے یا تو اپنے مخصوص کام میں جھنڈے گاڑے اور یا تھک ہار کر جنت کو سدھارے۔ گویا بے عزتی اور پے درپے حادثوں کے بعد کچھ کرنے، بن کر دکھانے کے سلسلے میں اپنے ملک کے ہر اردو داں نوجوان کی طرح غزل کہنے کی کوشش کی، لیکن کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکا۔ کیوں کہ چھوٹی عمر ہی میں میری شادی ہوگئی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ میری بات سمجھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کوئی معشوق میرے سامنے تھا ہی نہیں۔ اگر تھا تو مجھے بچہ سمجھ کر ٹال جاتا تھا۔ اگر وہ رکے تو میری بیوی جوتا پکڑ کر اسے ہنکا دیتی تھی۔ میں نے تو یہ پڑھ رکھا تھا کہ عشق پہلے معشوق کے دل میں پیدا ہوتا ہے۔اس لیے میں چپکے سے بیٹھا اس کا انتظار کرتا اور کرتا ہی رہ گیا۔ میں نے ہجر و وصال، وفا و بے وفائی، رقیب و مستحب کے مضمون شاعروں کے تتبع میں باندھے، مگر وہ سب مجھے جھوٹے اور کھوکھلے لگتے تھے۔ میں نے دیکھا کہ مستحب تو میں خود ہوں۔ رقیب روسیاہ کی کیا مجال جو میرے گھر کے پاس پھٹکے۔ یہ تو شادی کے ان لکھے معاہدے کی دوسری مد ہے، جس کی رو سے اگر رقیب کو قتل نہیں کیا جاسکتا۔ حوالات تو بھجوایا جاسکتا ہے۔ بہت کم لوگ جو فیض کی طرح رقیب کے ساتھ رشتہ پیدا کرسکتے ہیں اور اس کے افادی پہلوسے واقف ہیں۔ گویا زندگی شعر کے سلسلے میں جو بھی تعلیم دیتی ہے، میں اس میں کورا ہی رہا۔ اس کے برعکس میڈم زندگی نے تلافی مافات میں مجھے دوسرے مسئلے دے دئیے۔ مثلاً خانہ داری کے مسئلے ، روزگار کے مسئلے جو کسی طرح بھی عشق کے مسائل سے کم نہ تھے۔ حالات میں ایسا جمود پیدا کردیا اور بدن میں ایسی کپکپی کہ لاہور کے لنڈے بازار سے خریدا ہوا مرانجا مرانج پرانا پھٹا کوٹ بھی مجھے نہ بچا سکا۔
بس، بہت ہولی۔ اب میں اپنی بات بند کرتا ہوں، کیوں کہ ’’گرم کوٹ‘‘ کے بعد میرے ساتھ کیا ہوا اور کیا نہ ہوا، یہ کچھ لوگ جانتے ہیں، بلکہ کیا نہیں ہوا کے بارے میں انھیں مجھ سے زیادہ واقفیت ہے۔
افسانے اور شعر میں کوئی فرق نہیں۔ ہے تو صرف اتنا کہ شعر چھوٹی بحر میں ہوتا ہے اور افسانہ ایک لمبی اور مسلسل بحر میں جو افسانے کے شروع سے لے کر آخر تک چلتی ہے۔ مبتدی اس بات کو نہیں جانتا اور افسانے کو بحیثیت فن شعر سے زیادہ سہل سمجھتا ہے۔ پھر شعر با۔الخصوص غزل میں آپ عورت سے مخاطب ہیں لیکن افسانے میں کوئی ایسی قباحت نہیں۔ آپ مرد سے بھی بات کررہے ہیں۔ اس لیے زبان کا اتنا رکھ رکھاؤ نہیں۔ غزل کا شعر کسی کھردرے پن کا متحمل نہیں ہوسکتا، لیکن افسانہ ہوسکتا ہے۔ بلکہ نثری نژاد ہونے کی وجہ سے اس میں کھردرا پن ہونا ہی چاہیے، جس سے وہ شعر سے ممیز ہوسکے۔ دنیا میں حسین عورت کے لیے جگہ ہے تو اکھڑ مرد کے لیے بھی ہے، جو اپنے اکھڑپن ہی کی وجہ سے صنف نازک کو مرغوب ہے۔ فیصلہ اگرچہ عورت پہ نہیں ، مگر وہ بھی کسی ایسے مرد کو پسند نہیں کرتی جو نقل میں بھی اس کی چال چلے۔ ہمارے نقادوں نے افسانے کو داد بھی دی تو نظم کے راستے سے ہوکر، نثر کی راہ سے نہیں، جس سے اچھے اچھے افسانہ نگاروں کی ریل پٹری سے اتر گئی اور جن کی نہیں اتری تھی، ایسی توصیف سے متاثر ہوکر انھوں نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی لائن کے نٹ بولٹ ڈھیلے کرلیے۔
یہ بات طے ہے کہ افسانے کا فن زیادہ ریاضت اور ڈسپلن مانگتا ہے۔ آخر اتنی لمبی اور مسلسل بحر سے نبرد آزما ہونے کے لیے بہت سی صلاحیتیں اور قوتیں تو ہونی چاہئیں ہی۔ باقی کی اصناف ادب، جن میں ناول بھی شامل ہے، کی طرف جزواً جزواً توجہ دی جاسکتی ہے لیکن افسانے میں جزو کل کو ایک ساتھ رکھ کر آگے بڑھنا پڑتا ہے۔ اس کا ہراول اور آخری دستہ مل کر نہ بڑھیں تو یہ جنگ جیتی نہیں جاسکتی۔ شروع سے ہی لے کر آخر تک لکھ لینے کے بعدپھر آپ ایک لفظ بڑھانے یا دو فقرے کاٹ دینے ہی کے لیے لوٹ سکتے ہیں۔ رد و اضافے کی یہ نسبت میں نے بے خیالی میں قائم نہیں کی۔ کیوں کہ یہ حقیقت ہے کہ افسانے میں ایراد اضافے سے زیادہ ضروری ہے۔ آپ کو ان چیزوں کو قلم زد کرنا ہی ہوگا جو بجائے خود خوبصورت ہوں اور مجموعی تاثر کو زائل کردیں ا ور یا مرکزی خیال سے پرے لے جائیں۔
اب میں ایک چونکا دینے والی بات کرنے جارہا ہوں اور وہ یہ کہ اردو زبان نے ابھی اتنی ترقی نہیں کی ہے کہ افسانے کے فن لطیف کو اس طریقے سے سمجھ سکے یا قبول کرسکے، جیسے سمجھنا یا قبول کرنا چاہیے۔ میری اس بات کو سمجھنے کے لیے آپ پیچھے مڑ کر دیکھئے کہ ہر آن آپ نے ڈکشن پر کچھ زیادہ ہی زور دیا ہے۔ اس عمل کا گراف بنایا جائے تو وہ میرؔ، انیسؔ، اور غالبؔ کے بعد نیچے ہی آتا ہوا دکھائی دے گا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہم نے ’فسانۂ آزاد ‘‘ کو افسانہ یا ناول ہی سمجھ کر پڑھا۔ ہم نے اس کا مقابلہ Vanity Fairسے کیا ہے۔ ہم نے آغا حشر کو ہندوستانی شیکسپیئر بھی کہا ہے جس سے پتا چلتا ہے کہ ہم نے دونوں میں سے کسی ایک کو نہیں پڑھا اور اگر پڑھا تو فرق کو نہیں سمجھا۔یہی وجہ ہے کہ پونا فلم اور ٹیلی ویژن انسٹی ٹیوٹ میں ممتحن کی حیثیت سے جب میں نے ایک امیدوار سے سوال کیا…آپ کو کون سے مصنف پسند ہیں تو اس نے آنکھ جھپکے بغیر جواب دیا۔ ’’مجھے تو دو ہی پسند ہیں سر، گلشن نندہ اور شیکسپیئر!‘‘
کبھی ’’ہمایوں ‘‘ اور’ ادبی دنیا‘ کے پرچے فیاض محمود اور عاشق بٹالوی کی توصیف میں کالے تھے اور آج ہم ہی افسانے کی تاریخ میں ان بے چاروں کا ذکر تک نہیں کرتے۔ ہم نے افسانے میں زور بیان کو اس قدر سراہا ہے کہ ادب تو ایک طرف خود ادیب کو نقصان پہنچایا ہے۔ افسانے میں اظہار کے تخلیقی مسائل میں سب سے بڑا مسئلہ گریز کا ہے۔ لیکن ہمارے شغف ناآشنا کان ،گریز کو معجز بیان کا نام دیتے ہیں۔ ہم ابھی تک داستان گوئی، فلسفہ رانی اور تخلیقی واقعات کو آج یا کل کے کرداروںکی معرفت پیش کردئیے جانے پر سردسھنتے ہیں۔ سردھننے سے مجھے کچھ کد نہیں ہے۔ کیوں کہ وہ تو ہم کچھ بھی کرکے دھنیں گے ہی کہ ہماری عادت ثانیہ ہوچکی ہے۔ مگر تکلیف اس وقت ہوتی ہے جب ہم خطیب، مؤرّخ اور فلسفہ بردار ہی کو افسانہ نگار کا نام دیتے ہیں۔
افسانہ کوئی سودیشی Indigenousشے نہیں۔ ہم نے جاتک کہانیاں لکھیں، کتھا ساگر لکھی اور ہم سے لوگ انھیں مغرب لے گئے جہاں انھوں نے کہانی کو فن بنادیا۔ ہیئت میں بے شمار تجربے کیے، جن سے استفادہ کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں ہے۔ افسانے کے فن کو چھوڑئیے، کسی بھی فن کو جانچنے پرکھنے کے لیے عالمی پیمانے پر اسے جاننے اور سمجھنے کی ضرورت ہے۔ یہاں کوئی علاحدگی (Isolation)نہیں ہے۔ ملکوں اور قوموں کی حدیں نہیں ہیں۔ بشرطیکہ آپ منٹو کو موپساں اور مجھے چیخوف کے نام سے نہ پکارنے لگیں۔ حالانکہ یہ ممکن ہے کہ میں خود کو کاوا باٹا کہلوانا پسند کروں۔ آپ کو کیسا لگے اگر میں کہوں کہ رام لال اور جوگندر پال ہندوستان کے ہیزش بوہل ہیں اور قرۃ العین حیدر ،ہان سویان! مجھے اس پر بھی اعتراض نہیں ہے۔ بشرطیکہ ہان سویان کے ہم وطن اسے اپنے دیس کی قرۃ العین حیدر کہیں۔
عجیب دھاندلی ہے نا ۔ معلوم ہوتا ہے اردو اسم بامسمّیٰ ہوتی جارہی ہے۔ ہیزش بوہل کا ایک جج کردار یہ کہتا ہے:
’’…ایسے مقدمے میں انصاف قسم کی کوئی چیز ہی نہیں کیوں کہ ملزم اس کا تقاضا ہی نہیں کرتے۔ یہ ایک ایسی آمریت ہے جس میں انفرادی اظہار اور اخلاقی سہوزمانی (Anachronetic)بات ہے…‘‘
مذکورہ ریاضت اور عالمی پیمانے پہ گردوپیش کی آگہی کے بعد ہی افسانے پر عبور حاصل ہوتا ہے اور جب یہ بات ہوجاتی ہے تو افسانہ لکھنے والے کے اضطرار (Reflexes) کا حصہ ہوجاتا ہے۔ نہ صرف آپ کی بے ارادہ بات سے افسانے کا مواد مل سکتا ہے بلکہ ہر موڑ، ہر نکڑ پہ افسانے بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور وہ تعداد میں اتنے ہیں کہ انھیں سمیٹتے ہوئے افسانہ نگار کے ہاتھ قلم ہوجائیں۔ بہرحال افسانوی تجربے پر عبور حاصل ہوجانے کے بعد افسانہ نگار کو یونان کے اساطیری کردارمی ڈاس کا وہ لمس مل جاتا ہے جس سے ہر بات سونا ہوجاتی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ہندوستان کا افسانہ نگار سونے کو بھی چھوتا ہے تو وہ افسانہ ہوجاتا ہے۔ گھبراہٹ کی بات اس لیے نہیں کہ اتنا سونا پاکر می ڈاس بھی بھوکا مرا تھا۔
افسانہ لکھنے کے عمل میں بھولنا اور یاد رکھنا دونوں عمل ایک ساتھ چلتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے بڑی بڑی ڈگریوں والے…پی ایچ ڈی اور ڈی لٹ اچھا افسانہ نہیں لکھ سکتے۔ کیوں کہ انھیں بھول نہ سکنے کی بیماری ہے۔ میں ایک دماغی تساہل کی طرف اشارہ کرتا ہوں۔ جسے منٹو نے میرے نام ایک خط میں لکھا…’بیدی، تمھاری مصیبت یہ ہے کہ تم سوچتے بہت زیادہ ہو۔ معلوم ہوتا ہے کہ لکھنے سے پہلے سوچتے ہو،لکھتے ہوئے سوچتے ہو اور لکھنے کے بعد بھی سوچتے ہو‘‘۔ میں سمجھ گیا کہ منٹو کا مطلب ہے۔ میری کہانیوں میں کہانی کم اور مزدوری زیادہ ہے۔ مگر میں کیا کرتا؟ ایک طرف مجھے فن اور دوسری طرف زبان سے لوہا لینا تھا ۔ اہل زبان اس قدر بے مروّت نکلے کہ انھوں نے اقبال کا بھی لحاظ نہ کیا۔ کسی سے پوچھا آپ اقبال سے ملے تو کیا بات ہوئی۔ بولے، کچھ نہیں، میں ’جی ہاں جی ہاں ‘ کہتا رہا اور وہ ’ہاں جی ہاں جی ‘ کہتے رہے۔ اب کے حالات میں نسبتاً آسانی ہے کیوں کہ سند کے لیے ہمیں کہیں دور نہیں جانا ہے۔ پرسوں ہی ڈاکٹر نارنگ مجھ سے کہہ رہے تھے کہ پاکستان میں ایک تحریک چلی ہے جو شوکت صدیقی جیسے ادیبوں کی پورب سے آئی زبان کو ٹکسالی نہیں مانتی۔ بہرحال میں نے منٹو کی تنقید سے فائدہ اٹھایا اور دھیرے دھیرے اپنی کہانی سے ہاتھ کو مار بھگایا۔ لیکن اس کا کیا کروں کہ وہ ادھر ادھر سے ہوکر پھر رونما ہوجاتا ہے۔ وہ بے ادائی کی ادا جس کی طرف منٹو نے اشارہ کیا میرکے الفاظ میں خاک ہی میں مل کر میسّر آتی ہے لیکن یہی بے ادائی اور قلم برداشتگی جہاں منٹو اور کرشن چندر میں مزہ پیدا کرتی تھی، وہیں بدمزگی بھی۔ منٹو کی تنقید کی وجہ سے میری حالت اس عورت کی سی تھی جو مقبوض اور تاراج بھی ہونا چاہتی ہے اور پھر اس کا بدلہ لینا بھی۔ جب میں نے منٹو کے کچھ افسانے میں لاابالی پن دیکھا تو انھیں لکھا…’’منٹو تم میں ایک بری بات ہے اور وہ یہ تم لکھنے سے پہلے سوچتے ہو اور نہ لکھتے وقت سوچتے اور نہ لکھنے کے بعد سوچتے ہو۔‘‘
اس کے بعد منٹو اور مجھ میں خط و کتابت بند ہوگی۔ بعد میں پتہ چلا کہ انھوں نے میری تنقیدکا اتنا بر انہیں مانا جتنا اس بات کا کہ میں لکھوں گا خاک، جب کہ شادی سے پرے مجھے کسی بات کا تجربہ ہی نہیں۔ اس پہ طرفہ یہ کہ میں نہ صرف بھینس کا دودھ پیتا ہوں بلکہ اسے پال بھی رکھا ہے۔ میں انھیں کیسے بتاتا کہ اگر اونٹ کا رشتہ مسلمان سے ہے۔ گائے کا ہندو سے، تو سکھ کا بھی کسی سے ہوسکتا ہے۔
افسانہ ایک شعور، ایک احساس ہے، جو کسی میں پید انہیں کیا جاسکتا۔ اسے محنت سے تو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن حاصل کرنے کے بعد بھی آدمی دست بہ دعا ہی رہتا ہے۔ کچھ وافر باتیں سوئے ہضم کی وجہ سے بھی اس میں آجاتی ہیں اور کچھ ذہنی فتور سے…تسکین کی بات صرف اتنی ہے کہ افسانہ ابھی ہمارے ہاتھ سے نکل کر ایڈیٹر کے ہاتھ نہیں پہنچا۔ ہم اس میں ایرادو اضافہ کرسکتے ہیں اور اس پر بات نہ بنے تو پھاڑ کر پھینک سکتے ہیں۔ اگر ہیمنگ وے پانچ سو صفحے لکھ کر ان میں سے صرف چھیانوے صفحے کا مواد نکال سکتا ہے، تو ہم ایسا کیوں نہیں کرسکتے؟
اُردو میں بہت عمدہ افسانے لکھے گئے ہیں۔اگر ان کی تعداد گنی چنی ہے تو اس کی یہی وجہ ہے کہ اپنے اور دوسروں کے تقاضے پورا کرنے میں ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ایمان ہاتھ سے جارہا ہے۔ یہ نہیں جانتے کہ اہم اپنے ہی امیج میں قیدی ہوکر رہ ئے ہیں۔


مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 97تا 104

My Poetry by Akhtarul Iman

Articles

میری شاعری

اختر الایمان

میری عادت ہے جب نظم ہو جاتی ہے اسے رکھ دیتا ہوں اور اتنے دن رکھا رہنے دیتا ہوں کہ نظم ذہن سے محو ہوجائے ۔نظر ثانی کرتے وقت اکثر اوقات نظم کا اچھا برا سامنے آجاتا ہے پھر بھی یہ کوئی قاعدہ یا کلیہ نہیں۔میں نے یہ عادت اس لیے اختیار کی کہ شاعری پر کبھی کسی سے اصلاح نہیں لی تھی نہ کوئی مشورہ کیا تھا۔جس طرح کا مزاج تھا اس میں استادی شاگردی والا ڈھرّہ چل بھی نہیں سکتا تھا ۔شاعری شروع کی تھی لونڈے پن میں۔رکان تھی مصرع موزوں کرنے کی مگر جب کچھ دوستوں اور بزرگوں نے کہا تمہارے اندر شاعر بننے کی صلاحیت ہے تو اس پر سنجیدگی سے غور کیا۔شاعری کیا ہے اور کیا ہونی چاہیے سمجھنے کے لیے کافی ریاض کیا۔کچھ ایسے بے لاگ بات کرنے والے دوست اور ساتھی بھی مل گئے جو مجھے پسند تھے اور گاڑی دھیرے دھیرے ڈھرّے پر آگئی۔
ڈھرے کا یہ مطلب نہ نکالیے کہ مہاتما بدھ کی طرح کسی پیڑ کے نیچے القا یا الہام ہوا۔کہنے سے مراد ہے مجھے کس طرح کا شاعرانہ رویہ پسند ہے،اور اسے اختیار کرنے کی سبیل کیا ہو،اس کا ایک دھندلا ساراستہ دکھائی دیا۔ہر دور کی تخلیق اور احتساب، پیش رو‘بڑے لکھنے والوں کی تخلیقات کو ذہن میں رکھ کر کیا جاتا ہے ۔سامنے غزل کی بڑی شاعری تھی۔پھر مسدس سریلے بول اور غالبؔ کو از سر نو روشناس کرانے والے لوگ۔
یہ درست ہے لکھنے کے بہت ابتدائی دور میں شاعرکو اتنا شعور نہیں ہوتا کہ چیزوں کی بہت چھان پھٹک کرے مگر غیر شعوری ہوتے ہوئے بھی فن کا ایک معیار تو ذہن میں ہوتا ہے۔ راستہ دھندلا ہوتا ہے پھر بھی کوئی یہ تو نہیں چاہتا کہ کوشش رائیگاں جائے۔تقریب کچھ تو بہرملاقات چاہیے والا بھی ایک راستہ ہے مگر میرے ذہن میں وہ نہیں تھا۔
آج کل کے چل چلاؤ کے زمانے میں اچھے خاصے معقول حضرات بھی ایک الجھن کا حل دوسری الجھن کی صورت میں پیش کردیتے ہیں۔شاید سوچتے ہیں کون جھنجٹ میں پڑے۔ کسی نے پوچھا آسمان پر کتنے ستارے ہیں جواب دیا سمندر میں جتنے قطرے ہیں ۔اب چاہے راتوں کو بیٹھے آسمان تکا کیجئے چاہے سمندر میں غوطہ لگائیے اس سے انہیں کچھ مطلب نہیں۔ جدید اردو شاعری کا بھی کچھ ایسا ہی حال دکھائی دیتا ہے۔اس خواب کو بھی کثرت تعبیر کرنے پر پریشان کردیا ہے۔گنبد میں ہر کوئی اپنی سی کہے جاتا ہے اور ہر نئے آنے والے کی تعمیر یا (تخریب)الجھنوں میں اضافہ کردیتی ہے، اور نقصان میں رہتے ہیں شعر و شاعری سے لطف اٹھانے والے یا ان سے بھی زیادہ خود شاعری۔مختصر یہ کہ جدید اردو شاعری کے تصوّر کو بعض لوگوں نے جان بوجھ کر انجانے میں ایک گورکھ دھندابنادیا ہے۔اور یوں وہ اکثر لوگوں کے لیے بھول بھلیاں بن کر رہ گئی ہے۔ایسی صورت حال کے ہوتے ہوئے وہی لوگ فائدہ میں رہ سکتے ہیں جو اپنی عینک میں صحیح نمبر کا شیشہ لگا کر دیکھنے کی کوشش کریں۔
جدید اردو شاعری ایک ایسی پھلواری ہے جس کی زمین تو حالیؔ، اسماعیل ،آزاد اور ان کے دوسرے ہم خیالوں نے تیار کی تھی لیکن اس میں سب سے پہلا خوشنما اور بارآور پودا عظمت اللہ اور بجنوری ؔنے لگایا تھا۔اپنے وسیع مفہوم کے لحاظ سے جدید اردو شاعری کا اطلاق حالیؔ اور اس کے بعد کی شاعری پر کیا جاسکتا ہے مگر آج اضافی ادب خصوصاً مغربی ادب کے مطالعے کے اثرات سے ہمارے جو نئے شاعر پیدا ہوئے ہیں ان کے صحیح پیش رو میری نظر میں عظمتؔ اللہ اور بجنوریؔ ہیں۔گذشتہ دس پندرہ سال کی اردو شاعری میں فن اور خیال کے تمام تجربات شجرے کے لحاظ سے انہیں کے ذیل میں آئیں گے ۔عظمت اللہ خاں نے ’’سریلے بول‘‘کے آغازمیں نئی پود کے نام اپنے کلام کاانتساب یوں کیا۔
’’اس آنے والی پود کے لیے جس کے ہونٹوں پر ابھی ماں کے دودھ کا مزہ کچھ یونہی سا باقی ہے۔جس کی آواز میں ابھی لڑکپن کا سریلا پن گونج رہا ہے یہ چند lyric نظمیں سوغات کے طور پر پیش کی جاتی ہیں۔اس پود کے پھولنے پھلنے کے بعد بڑا کام یہ ہوگا کہ اس کی نغمہ سرائی سے اردو شاعری فطرت کی طرح وسیع ہوجائے اور فطرت ہی کی طرح گونج اٹھے۔اگر ان چند بولوں سے اس پود کو اردو ادب کا ایک نیا دور طلوع کرنے میں ذرا بھی مدد ملی تو گویا ان ناچیز۔چیزوں کا صلہ مل گیا۔‘‘
یہ اس شاعر کے الفاظ ہیں جسے اپنے اوپر اعتماد تھا۔اس اعتماد کی تائید اس نئے دور نے زیادہ سے زیادہ زور دار الفاظ میں کی ہے جو اردو شاعری میں طلوع ہوچکا ہے لیکن اس نئے دور میں اپنے پیشرو کے ہم نوا اس کے جیسے اعتماد کے حامل نہیں ہیں۔چاہے آزاد نظم اور دوسرے ضمنی تجربات ہوں چاہے جنسی موضوعات اور چاہے سیاسی عقائد اور خیالات۔ہر ایک کے حامیوں کی ہستی کچھ برسبیل تذکرہ ہی دکھائی دیتی ہے۔یہ تسلیم کہ شروع میں صرف قدامت پرستی اور محض بے علمی یا جہالت کی جس مخالفت سے سامنا پڑا تھا وہ اب دور ہوچکی ہے یا کم سے کم دب سی گئی ہے ۔مگر اس کی جگہ اب آنے والوں کی باہمی غلط فہمیوں نے لے لی ہے۔ادب برائے ادب کا مقولہ تو اب ایک پرانی سی بات ہے اس کا نعم البدل ادب برائے زندگی کی صورت میں نمودار ہواتھا۔اس کی چھان پھٹک کے بعد اب جو صورت مجھے دکھائی دیتی ہے اسے دو گروہوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک وہ لوگ جو زندگی برائے زندگی کے قائل معلوم ہوتے ہیں اس گروہ کی سطحیت ہی انہیں درخور اعتنانہ سمجھنے کا جواز ہے۔دوسرے گروہ میں وہ لوگ آتے ہیں جو زندگی برائے ادب پر عمل پیرا ہیں۔اور اپنے مسلک کے پردے میں ادب برائے زندگی کے مفہوم کو بھی لئے ہوئے ہیں لیکن ان کا راستہ بھی صاف نظر نہیں آتا۔
ہمارے جدید شاعروں کی مختلف الجھنوں کا ابتدائی زمانہ تو گذرتا جارہا ہے بلکہ یوں کہئے ختم ہونے کو ہے لیکن اس کے ساتھ ہی وہ منزل بھی تقریباًآن پہونچی ہے جہاں کھڑے ہوکر سب سے پہلے انہیں سختی کے ساتھ نیا جائزہ لینا ہوگا پھر مستقبل پر ایک نظر ڈال کر آگے بڑھنا ہوگا ورنہ ان کی محنتوں کے بے ثمر ،ہونے کا اندیشہ ہے ۔عظمت اللہ اور بجنوری کی شخصیتیں اس سلسلے میں اب بھی ان کی راہ نما ہوسکتی ہیں۔یہ دونوں شاعر مغربی علوم کے ساتھ ساتھ مشرقی علوم سے بھی کماحقہ،واقف تھے اور اس کے پہلو بہ پہلو رائے زنی کی وہ اہلیت بھی ان کی ذہانت کا خاصہ تھی جو صرف گہرے مطالعے سے حاصل ہوتی ہے۔یہی وجہ تھی کہ بجنوری کے مقدمے سے قطع نظر ان کی تخلیقات میں تجربوں کے باوجود ایک توازن تھا ایک ایسی ہم آہنگی تھی جو انسان کی سطحیت سے بچائے رکھتی ہے آج ہمارے بہت سے شاعر جنسی موضوعات پر محض اس لیے خامہ فرسائی کرتے ہیں کہ اس میں انہیں لذّت حاصل ہوتی ہے۔آزاد نظم یا دوسرے ضمنی تجربوں کی طرف اس لیے رجوع کرتے ہیں کہ ان کی عجب پرستی ہی نمودکا باعث بن جائے اور اپنی ہر نظم سرخ روشنائی سے اس لیے لکھتے ہیں کہ سرخ پھریرانوجوانوں کے لیے فیشن سا بن گیا ہے۔
عظمت اللہ نے جس دور کی پیشن گوئی کی تھی وہ آگیا ہے اور شاعری کے دروازے ہر طرح کے موضوعات کے لیے کھل گئے مگر کتنے اس دروازے سے داخل ہونے کی نیت رکھتے ہیں اس کا اندازہ آج کی ادبی فضا سے ہوسکتا ہے ۔لکھنے والے پلٹ پلٹ کر پیچھے کی طرف بھاگ رہے ہیں ۔جس طرح قصیدہ ،مرثیہ،رجز،پوری شاعری نہیں شاعری کی ایک صنف ہے،اور زندگی کے صرف ایک رخ کی نمائندگی کرتے ہیں وہی صورت حال غزل کی بھی ہے۔ غزل کی تعریف جو میں نے پڑھی ہے وہ،بازی کردن محبوب و حکایت کردن ازجوانی و حدیثِ صحبت و عشق زناں’’یعنی محبوب کے ساتھ کھیل ،رنگ رلیاں ،جوانی کی باتیں اور عورتوں کے ساتھ عشق و محبت کے قصّے ۔ظاہر ہے بڑا دلچسپ موضوع ہے۔خدا سب کو اس کی توفیق دے مگر یہ زندگی کا صرف ایک رخ ہے ۔اس کا زمانہ اور وقت بھی بہت محدود ہے۔
پندرہ بیس سال پرانی بات ہے میں نے مدراس کی ایک فلم لکھی تھی جس کا نام ’’آدمی‘‘ تھا۔(یوسف خان)دلیپ کمار،کے ساتھ اس فلم میں بہت سے بڑے بڑے اور معروف اداکار بھی تھے۔کوڈے کنال میں فلم کی شوٹنگ ہورہی تھی جس ہوٹل میں ہم سب کا قیام تھا اس کا نام شاید کوائیلٹی ہوٹل تھا۔ایک روز رات کے کھانے کے بعد یوسف خان نے ڈائنگ ہال میں بیٹھے ہوئے سب لوگوں کو روک لیا ۔کہا اخترالایمان کی شاعری سنیں گے ۔ان میں ایک مصور بھی تھا جو گجرات کا رہنے والا تھا۔باقی سب کی زبان بھی اردو نہیں تھی۔یوسف خان نے کہا وہ نظم کا انگریزی میں ترجمہ کریں گے۔خیر!شاعری ہوئی یوسف ترجمہ کرتے گئے اور محفل بخیر خوبی ختم ہوگئی،اگلے روز شام کو میں ٹہلنے کے لیے کمرے سے نکل رہا تھا کہ یوسف خاں آئے اور معنی خیز انداز میں مسکراکر کہنے لگے وہ مصور صاحب جو کل رات ہال میں تھے بیٹھے تمہارا انتظار کر رہے ہیں ۔کہتے ہیں اسی قوّال کو بلاؤ جو کل سنا رہا تھا۔
یہ لطیفہ بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ شاعری کے ساتھ گانا بجانا جڑے ہونے کے سبب سننے والے شاعری کو تفریحی پروگرام کا بدل یا اس کا مترادف سمجھنے لگے ہیں ۔کوئی سنجیدہ چیز نہیں۔غزل کی طرف میرے اس رویہّ کا نتیجہ غزل کے کچھ شیدائیوں نے یہ نکالا ہے کہ میں غزل کا مخالف ہوں ۔نہیں ایسی بات نہیں ۔غزل کا حامی نہ ہونا مخالف ہونے کے مترادف نہیں۔نہ حامی ہونے کا سبب ایک تو یہ ہے کہ غزل میں پھولنے پھلنے کی گنجائش نہیں رہی دوسرا سبب یہ ہے کہ میں سمجھتا ہوں غالبؔغزل کا نقطہ عروج ہے۔
میں مزید اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا کہنا صرف اس قدر ہے کہ نظم ایسی صنف ہے جس کا احاطہ کرنا مشکل ہے۔زندگی سے متعلق کوئی ایسا موضوع نہیں جس پر نظم نہیں کہی جاسکتی۔ اخلاقی، سیاسی، معاشی، سماجی، نفسیاتی، رومانی کوئی بھی موضوع ہو نظم کا کینواس اتنا بڑا ہے کہ اس پر جو رنگ فنکار ڈھنگ سے استعمال کرے گا،اچھا لگے گا۔
اس پچھلے چالیس پچاس برسوں میں نظم کی صنف اتنی وسیع اور ترقی یافتہ یا اتنی بالغ ہوگئی ہے کہ اس پر پوری طرح اعتماد کیا جاسکتا ہے قناعت بہت اچھی چیز ہے انسان کو لالچی اور کمینہ ہونے سے بچاتی ہے۔حیوانیت کا توڑ بھی کرتی ہے مگر شاعری میں قناعت کا استعمال نقصان دہ ہے۔چونکہ قناعت اس ملک کے فلسفہ اور مزاح کا بڑا جزو ہے اس لیے ہم نے غزل پر قناعت کرلی مگر زندگی میں حریص اور کمینے ہوگئے۔
غزل اور بے غزلی کی بحث میں نہ پڑیئے۔ غزل ہی کیا ایسے اور بہت مسائل ہوں گے جن پر مجھے آپ سے اتفاق نہیں ہوگا اور آپ کو مجھ سے مگر اس بات پر ہم ضرور متفق ہوں گے کہ کوئی صنف سخن ہو اس میں وسعت کی گنجائش ہونی چاہیے اور زبان کا ایسا استعمال ہونا چاہیے کہ پہلے جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں اضافہ بھی ہو اور زبان اپنے وسیع تر معنوں میں بھی استعمال ہوسکے اور وہ صنف اور پیکر زندگی سے ہم آہنگ بھی ہو فن کا کام پوری زندگی کا احاطہ کرنا ہے اس کے کسی ایک رخ کا نہیں ۔تحریر وجود ہی میں کیوں آئی؟اس لیے کہ اشاروں اور اشکال کی زبان محدود تھی۔اس قید سے بچنے اور اپنی بات دوسروں تک پہنچانے کے لیے صرف شاعری ہی کا استعمال نہیں کیا آدمی نے نثر کی بھی بہت سی اصناف ایجاد کی ہیں۔کہانی لکھی،ڈرامہ لکھا،ناول لکھا،رپورتاژ لکھے،سوانح لکھی غرض کہ جو قلم کی زد میں آیا اگر ایک صنف نے ساتھ نہیں دیا تو دوسری ایجاد اور اختیار کی یہی بات اس نے شاعری میں بھی روا رکھی۔مثنوی لکھی،قصیدہ لکھا،مرثیہ لکھا،رجز لکھے،غزل لکھی اور جب زبان کو وسعت دینے کی ضرورت محسوس کی، گوناگوں خیالات کا اظہار چاہا تو نظم ایجاد کی۔بیان کو وسعت دینے کے لیے زبان لا محدود چاہئے۔ زبان تو ایک ہی ہے مگر موضوع کے ساتھ لفظوں کا دروبست بدل جاتا ہے۔ رپورتاژکی زبان کلاسیکی شاعری کے لیے موزوں نہیں۔قصیدہ اور مرثیہ کا ٹھاٹھ غزل میں کام نہیں آتا اور غزل کی نزاکت نظم کے دشوار گذار میدانوں میں ساتھ نہیں چل سکتی۔کچھ لوگ اگر دو مصرعوں میں بات کہنے کو غزل کا مترادف سمجھتے ہیں تو دوہا بھی دو ہی مصرعوں پر مشتمل ہوتا ہے مگر دوہا غزل نہیں ہوتا نہ دوہے کا انداز بیان غزل کے لیے موزوں ہے۔ادب، فن، شاعری جہاں انسانی جذبات اور معاملات کو رقم کرنے کا ذریعہ ہے وہاں اس کا مقصد زبان کی وسعت اور ترویج بھی ہے۔زبان میں وسعت آتی ہے پھیلے ہوئے ہشت پہلو موضوعات سے اور وہ صرف نظم میں آسکتے ہیں اس لیے کہ نظم محدود صنف سخن اور اظہار خیال کے ذریعہ کا نام ہے۔
جب میں شاعری میں کھردرے پن کا ذکر کرتا ہوں اس کا مطلب اخباری زبان نہیں ہوتا۔کلامِ موزوںبھی نہیں ہوتا۔اس کا مطلب ہوتا ہے بندھے ٹکے مروجہ اشارے اور تشبیہات ،بیان کے پیش افتادہ انداز اور مضامین سے گریز،ٹکسالی محاوروں اور روزمرہ سے پرہیز۔ایسی زبان جو ابھی شاعری کی خیرادپر نہیں چڑھی ،ان لفظیات سے مراد ہوتی ہے،جن میں ابھی کنوارا پن کی خوشبو ہے۔ اس لیے کہ وہ تواناہوتے ہیں اور نئے موضوعات میں خیال کے اظہار کا بھرپور ذریعہ ثابت ہوتے ہیں ۔تخلیق کا ایک اور اہم پہلو خود احتسابی ہے۔
خود احتسابی ایسی صفت ہے جس کا ہونا ایک قلم کار کے اندر اس کی ذہنی صحت مندی کی علامت ہے۔ہر انسان کو اپنی اولاد عزیز ہوتی ہے یہ تسلیم مگر اپنے احمق بیٹے کو دنیا کا سب سے زیادہ خود صورت اور ذہین انسان سمجھ لینا ذہنی کج روی کی علامت ہے۔
٭٭٭

مشمولہ: ممبئی کے ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتگان، مرتب :پروفیسر صاحب علی ، صفحہ نمبر 17تا 24

Urdu ke Aham Adabi Jaraid by Dr. Asad Faiz

Articles

اردو کے اہم ادبی جرائد کے اولین شمارے

ڈاکٹر اسد فیض

بیسویں صدی کی ابتدائی دھائیوں میں برصغیر کے اہم ادبی مراکز سے ادبی جرائد کی اشاعت کا سیلاب اُمڈ آیا تھا۔اِن ادبی جرائد نے بر صغیر کے ادبی معاشرہ کی علمی اور فکری بنیادیں استوار کیں اور اُن کو استحکام بخشا۔اپنے عہد کا شعور اپنے اندر سمیٹے ہوئے یہ ادبی رسائل ہمارا عظیم اثاثہ ہیں۔آج کے کئی معروف ادیبوں کی ابتدائی تحریروں اور علمی و فکری تحریکوں کے بھی یہ جرائدامین ہیں۔پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی نے اپنے ایک مضمون ’’اردو کا اولین رسالہ‘‘میں ’’ محب ہند‘‘دہلی کو اردو زبان کا اولین ادبی جریدہ قرار دیا ہے۔اس کا اجرا جون ۱۸۴۷ء میں عمل میں آیا(۱)۔ یہ ہر ماہ دہلی سے چھوٹی تقطیع کے پچاس صفحات کی ضخامت میں شائع ہوتا تھا۔اس کے ایڈیٹر ماسٹر رام چندر (۱۸۲۱۔۱۸۸۰) تھے جو دہلی کالج میں علوم ریاضی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے کئی کتب تالیف کیں۔ ان میں چند اردو زبان میں بھی تھیں۔رسالہ’’ محب ہند‘‘ میں بہادر شاہ ظفر،شاہ نصیر کی غزلیں اور مومن و مجنوں کی شاعری بھی شائع ہوتی رہی۔یوسف خاں کمبل پوش کا سفر نامہ کئی شماروں میں قسط وار طبع ہوا۔اکتوبر ۱۸۴۹ء کے شمارے میں یوسف خاں کمبل پوش کی شبہیہ بھی شائع کی گئی۔رسالہ محب ہند سے اب تک ادبی جرائد کی اشاعت کو ایک سو باسٹھ برس کا عرصہ گذر چکاہے۔اس دوران جن رسائل نے اپنی منفرد اشاعتوں سے ادبی تاریخ پریادگار نقوش ثبت کیئے۔ اُن میں ایک اہم نام نیاز فتح پوری کے ادبی جریدہ ’’نگار‘‘ کا ہے۔بیسویں صدی کی دوسری دہائی کی ابتدا میں اس ادبی جریدہ نے ہندوستان میں ایک دبستان اورتحریک کی صورت اختیار کرلی تھی اور اس کے موضوعات اور اسلوب نثرادب کی رومانوی تحریک کی تقویت کا باعث بنے ۔ ’’نگار‘‘کا پہلا شمارہ فروری ۱۹۲۲ میں آگرہ سے شائع ہوا( ۲ )۔ اولین شمارہ کے سرورق پر رئیس التحریر کے عنوان سے نیاز فتح پوری کا نام درج ہے .جبکہ اندرونی صفحات سے پتہ چلتا ہے کہ مخمور اکبر آبادی بھی ان کے ساتھ معاون مدیر کے طور پر شامل تھے۔نیاز فتح پوری (۱۸۸۴۔۱۹۶۶)تاریخ ساز ادبی شخصیت تھے ۔ انہوں نے اپنے عہد کے ادبی ،مذہبی ا ور تہذیبی منظر نامے پر انمٹ نقوش ثبت کئے ۔نگار بنت عثمان ترکی کی ایک انقلابی شاعرہ تھی ۔نیاز اس کی انقلابی اور رومانوی شاعری سے متاثر تھے۔ اس لئے انہوں نے اُس کے نام پر نگار کا اجراء کیا۔۔نیاز فتح پوری اس وقت تک افسانہ نگار کے طور پر شہرت حاصل کرچکے تھے لیکن نگار ان کے سنجیدہ علمی موضوعات کا صحیح معنوں میں ترجمان ثابت ہوا۔نگارمیں انہوں نے اخلاق و حکمت سے لے کر علم نجوم ،مذہب،ادب، سیاست ،معاشرت اور جنس تک کے موضوعات پر خامہ فرسائی کی۔پہلے شمارے کے کل صفحات اسی(۸۰)ہیں ۔پرچہ کی ابتدا منظوم انتساب کی صورت ہے۔ جو نیاز فتح پوری کے اعلا شعری ذ وق اور اختراعی ذہن کی علامت ہے۔اس تخیلاتی اور احساس آفریں نظم کا آخری شعر ہے۔
ان خندہ ہائے حسن کی کرتا ہوں قائم یادگار
یعنی ان پھولوں کا ہے چھوٹا سا گلدستہ نگار
’’عناصر نگار ‘‘ کے عنوان سے نیاز نے اداریہ لکھا ہے اور ’’نگار‘‘ کی اشاعت اور اس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی ہے۔نثری مضا مین میں پہلا مضمون شعر (عربوں کے نقطہ نظر سے) ہے یہ نیاز فتح پوری کا لکھا ہوا ہے۔جس میں شاعری اور شعر کی داستان کو رقم کیا گیا ہے۔اس میں تمام دیگر اقوام اور زبانوں میں بھی شاعری کے معانی اور ارتقا پر روشنی ڈالی گئی ہے اس مضمون سے اندازہ ہوتا کہ نیاز تحقیقی مزاج بھی رکھتے تھے۔فکشن کی ذیل میں ’’سمنستان کی شاہزادی‘‘ کے عنوان سے لطیف الدین احمد کا ایک افسانہ شائع ہوا ہے ۔
ل ۔احمد کا اسلوب سجاد حیدر یلدرم کے رنگ سے مما ثلت رکھتا ہے،کہانی دلچسپ اور قدیم شہزادے شہزادیوں کے قصے پر مبنی ہے۔ اگلے صفحات پر نیاز فتح پوری کا ایک مضمون ’’کیا مانی واقعی مصور تھا‘‘ طبع ہوا ہے جس میں مانی کی اصلیت کے بارے میں تحقیق کی گئی ہے اور اس کے مذہب کے بارے میں معلومات پیش کی گئی ہیں۔’’صحرا کے مو تی ‘‘کے نام سے قمرالحسن قمر کی ایک کہانی اس شمارے کی زینت ہے۔یہ عرب معاشرت سے متعلق ہے اور ایک لڑکی کی بے مثال قربانی سے عبارت ہے۔ترکی ادب سے ماخوذ’گیسو‘‘ کے عنوان سے نیاز اور ’’مطربہ‘‘کے نام سے امتیاز علی تاج کی رشحات قلم بر صغیر میں ترکی اد ب کی مقبولیت اور نثر کے رومانوی اسلوب کے مرصع و رنگین انداز کی خوبصورت جھلکیاں ہیں۔نثرکے دیگر مضا مین میں جو نیاز فتح پوری نے لکھے ۔ ان میں ’’جرمن حرب و تجارت کا ایک عجیب راز‘‘ ،معلومات حرکت زمین کا مشاہدہ عینی،اشتراکیت کے عنوان سے تمام معلو ماتی مضا مین نیاز فتح پوری کے نتیجہ فکر کے مر ہون منت ہیں۔صفحہ ۵۵ پر ایک غلطی کا ازالہ کے عنوان سے نیاز نے علی گڑھ میگزین کی جولائی تا اکتوبر اشاعت میں سُہاکی شرح دیوان غالب پر ایک معاندانہ تبصرہ سے اپنی لا تعلقی کا اعلان کیا ہے۔مضمون کے آخر میں صرف فتح پوری از بھوپال شائع ہوا ہے۔ انہوں نے ایڈیٹر رشید احمد صدیقی سے نگار کے صفحات کے توسط سے استد عا کی ہے کہ اس مسئلہ پر روشنی ڈالیں ۔نگار کے اس شمارے میں چھپنے والی منظو مات بھی معیاری ہیں۔’’فروغ نظر‘‘ کے عنوان سے ضیائی ،’’شام جمن ‘‘کے نام سے مخمور اکبر آبادی جن کا اصل نام سید محمد محمود رضوی ہے ان کی ایک نظم،’’اندر پرستش‘‘ کے عنوان سے صفحہ ۹ ۳۔۴۰ پر ایک فارسی نظم،’’بہار کی دیوی ‘‘ کے عنوان سے نیاز فتح پوری کی نظم اس شمارہ کا قابل قدر حصہ ہیں ۔اس شمارے کی واحد غزل شوکت علی فانی کی تحریر کردہ ہے جس پر ایڈیٹر نے ایک طویل نوٹ لکھا ہے۔مجموعی طور پر ’’نگار‘‘ کا یہ شمارہ اس دور کے ادبی مزاج کو سمجھنے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔خاص طور پر اس شمارے کی وساطت سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ نیاز اپنے عہد کی نابغہ روزگار شخصیت تھے جنہوں نے ادب میں اپنی الگ پہچان بنائی۔اگست ۱۹۶۲ سے نگار پاکستان کے نام سے کراچی سے تسلسل کے ساتھ شائع ہورہا ہے۔ڈاکٹر فرمان فتح پوری اس کے ایڈیٹر اور پبلشر ہیں ۔نگار کا شمار آج بھی سنجیدہ ادبی جرائدمیں ہو تا ہے۔جس پر ابتدا میں نیاز کی اور اب ڈاکٹر فرمان فتح پوری کی شخصیت کی چھاپ نما یاں ہے۔ اس کا ہر شمارہ یادگارحیثیت کا حامل ہو تا ہے۔
بیسویں صدی کی دوسری دھائی میں ایک اور ادبی جریدے نے بھی مجلا تی صحافت کو نئی راہوں اور مزاج سے آشنا کیا ۔اس کا نام نیرنگ خیال ہے۔ ’’نیرنگ خیال‘‘کے مالک و مدیر حکیم یوسف حسن تھے۔ وہ افسانہ نویس اور طبیب بھی تھے۔وہ ۱۸۹۴ ء کو لا ہور میں پیدا ہوئے ۔ابتدائی تعلیم لا ہور میں پائی ۔مڈل پاس کرنے کے بعد ریلوے میں بطور گڈس کلرک ملازم ہوگئے تھے۔لائل پور میں بھی تعینات رہے۔انہوں نے اپنی ادبی زندگی کی ابتدا افسانہ نگاری سے کی ۔اُن کے افسانے’’ نیرنگ خیال‘‘اور’’ زمانہ ‘‘ کانپور میں شائع ہوتے رہے۔جو اس زمانے کا ایک مقبول ادبی جریدہ تھا۔حکیم یوسف حسن نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کا اجرا جولائی ۱۹۲۴ میں لاہور سے کیا(۳) ان کے ساتھ محمد دین تا ثیر(۱۹۰۲۔۱۹۵۰) بھی جائینٹ ایڈیٹر کی حیثیت سے شریک ِسفر تھے ۔ حکیم یوسف حسن کا کہنا ہے کہ’’نیرنگ خیال‘‘ کا نام حکیم فقیر محمد چشتی نے تجویز کیا تھا اور اس کا ٹائیٹل بھی حکیم فقیر محمد چشتی نے بنایا تھا(۴)پہلے شمارے کا سائز ۸ / ۳۳x ۲۳ اور اس کے کل صفحات پچاس تھے۔علامہ اقبال نے ’’نیرنگ خیال‘‘ کی اشاعت پر اِس کے ایڈیٹر کو ایک خط ۱۷ اگست ۱۹۲۴ کو تحریر کیا ۔
’’رسالہ نیر نگ خیال جو حال ہی میں لاہور سے نکلنا شروع ہوا ہے۔بہت ہونہار معلوم ہوتا ہے ۔اس کے مضامین میں پختگی اور متانت پائی جاتی ہے مجھے یقین ہے کہ یہ رسالہ پنجاب میں صحیح ادبی مذاق پیدا کرنے میں بہت مفید ثابت ہوگا‘‘(۵)
پہلے شمارے کااداریہ’’ مقالہ افتتا حیہ‘‘ کے عنوان سے حکیم یوسف حسن نے تحریر کیا ہے۔ انہوں نے اداریہ میں لکھا ہم اسے تجارتی فوائد کے لیئے نہیں چلا رہے مگر ہم تمام تجارتی اصولوں کے پابند رہیں گے تاکہ اس رسالہ کی زندگی محض ایک رقص شرر ثابت نہ ہو ۔اُن کا یہ خلوص شائد قدرت کو اتنا پسند آیاکہ اس پرچے نے خاص نمبروں کی اشاعت کا رواج ڈالا اورعلامہ اقبال کی زندگی ہی میں ان پر ایک شاندار اور یادگار نمبر ستمبر ۔اکتوبر ۱۹۳۲ میں شائع کیا۔حکیم یوسف حسن کا انتقال ۱۹۸۱ کو راولپنڈی میں ہوا۔ان کی عمر نوے برس تھی (۶)حکیم یوسف حسن کا یہ فیضان ’’ نیرنگ خیال ‘‘ جس نے اپنا اشاعتی سفر ۱۹۲۴ء میں شروع کیا تھا ۔ آج بھی جاری و ساری ہے۔اب سلطان رشک اِسے راولپنڈی سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ پہلے شمارہ کے مشمولات میں مضامین کا حصہ بے حد معیاری اور معلوماتی ہے۔ابتدائی صفحات میں ’’شذرات‘‘ کے عنوان سے ہندوستان بھر سے اہم خبروں اور واقعات کو بھی شائع کیا گیا ہے۔ان شذرات سے اس دور کے سیاسی و معاشرتی حالات پر بھی روشنی پڑتی ہے ۔تحریک خلافت کے حوالے سے تحریر ہے۔
’’سیاسی سرگرمیوں اور مسئلہ خلافت کے حل میں مسلمانوں کے کامل دس سال صرف ہوچکے لیکن ہماری بدقسمتی ہے کہ مسئلہ خلافت ہنوز روزاول کا مصداق ہے اور بلا شبہ اس کی ضرورت سمجھنے یا ِاس کے متعلق حقیقی کام کرنے کا وقت اب آیا ہے۔گزشتہ دس سال کی سیاسی سرگرمیوں سے ہمیں کوئی نمایاں فائدہ نہیں پہنچا کیونکہ ان سرگرمیوں کا انجام ہندو مسلم نفاق کی صورت ظاہر ہوا ہے اور تمام ملک میں کانگریس کمیٹیوں کی جگہ سنگھٹن شدھی اور مہابیر دل وغیرہ جماعتوں نے لے لی ہے۔قومی اخبارات کی جگہ ہندو مسلمانوں کو لڑانے اور گالیاں دینے کے لئے فحش نویس ظریفانہ اخباروں کا ظہور ہواہے۔ ( ۷ )
شذرات سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ بیسویں صدی کی دوسری دھائی کے وسط میں پنجاب میں طاعون کی وبا نے بے حد جانی نقصان کیا اور اس کا زیادہ تر شکار مسلمان ہوئے۔
اس شمارے کی واحد افسانوی تحریر بلقیس خاتون جمال بنت مولوی عبدالاحد کا ایک فسانہ ’’عصمت کی دیوی‘‘ہے یہ افسانہ ہندوستانی عورت کی عزت و عصمت کے لئے قربانی اور پتی ورتا کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔جس وجہ سے دیوتائوں نے اسے ’’عصمت کی دیوی‘‘ کا خطاب دیا ہے۔اس افسانے کا مرکزی کردار ایک ہندو عورت تلو تما ہے۔اس شمارے کے دیگر معلو ماتی اور خوبصورت مضامین میں ملک عبدالقیوم کا ترکوں کی معا شرت،دینی مضامین میں مولانا محمد عبداللہ کا مضمون ’’حسن معاملت‘‘’ایک مسلمان کے قلم سے ایک فکر انگیز مضمون ’’عمل‘‘میں اُس دور کے مسلمانوں کی حالت زار کو یوں بیان کیا گیا ہے۔
ـ’’مسلمانوں کی موجودہ پستی اور تنزل و کمزوری محض کام نہ کرنے کا نتیجہ ہے۔مسلمان باتیں بہت کرتے ہیں لیکن کسی نظام و ضابطہ کے ماتحت عمل کرنا ان کے لئے محال ہے۔قوم کی جہالت و لا علمی کو دور کرنے کے لئے تعلیمی نظام پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔قوم کی مالی کمزوریوں کو دور کرنے کے لئے قوم کو تجارتی و صنعتی کاموں میں حصہ لینے کی حاجت ہے۔( ۸)
عبدالرحمن چغتائی جن کو اس شمارے میں ہندوستان کا مایہ ناز مصور کہا گیا ہے۔ اُن کے فن کا نمونہ ایک مصورانہ کاوش ’ ’ لیلیٰ کا تحفہ‘‘اور نثری تحریریں بہ عنوان ’’حجازی شراب‘‘اور’’ راوی‘‘ بھی شامل ہیں ۔ایڈیٹر نے اس پر ایک مختصرشذرہ رقم کیا ہے اور اس اسلوب ِنثر کو جو رنگینی عبارت سے معمور ہے عبدالرحمن چغتائی کا خاص مصورانہ اسلوب قرار دیاہے۔محمد دین تاثیر کا ایک مضمون ’’فلسفہ اقبال‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں انہوں نے علامہ اقبال کی فکر کومشرقی تنا ظر میں پیش کیاہے اور معترضین کے اس اعتراض کو رد کیا ہے کہ اقبال کی فکر کا ماخذمغربی افکارہیں۔اس شمارے میں ایڈیٹرحکیم یوسف حسن کا ایک مضمون ’’میں کون ہوں‘‘ کے عنوان سے طبع ہوا ہے۔یہ مضمون انسان کو محنت اور عمل کا درس دیتا ہے۔اس میں قومی اور انفرادی سطح پر کام کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔’’گل ِصد برگ ‘‘ کے عنوان سے ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد تحریروں کے انتخاب کا ایک گوشہ ترتیب دیا گیا ہے۔جس میں دو مختصر تحریریں ’’میں کہاں ہوں ‘‘ اور’’ تاج آگرہ ‘‘شائع کی گئی ہیں۔’’ اخبارِ علمیہ‘‘ کے عنوان سے ’’نیرنگ خیال ‘‘میں ہندوستان کے اخبارات و رسائل کی منفرد و اہم تحریروں کو بھی جگہ دی گئی ہے۔یہ نئی دریا فتوں اور ایجادات سے متعلق ہیں۔ ’’تنسیخ خلافت پر ایک محققانہ رائے‘‘ کے عنوان سے آغا محمدصفدر کا ایک مضمون بھی شامل اشاعت ہے جس میں تحریک ِخلافت کے تاریخی کردار کا جائزہ لیا گیا ہے۔’’عہد حاضرہ کا مغل اعظم ‘‘کے عنوان سے ایک تحریر کا انگریزی جریدہ سے ترجمہ شائع کیا گیا ہے۔جس میں سنت نہال سنگھ کی مسلمان حکمران شاہ دکن کے دولت کا ڈھیر رکھنے کے باوجود کفایت شعاری سے کام لینے اور سادہ زندگی بسر کرنے کو ہدف تنقید بنایا ہے۔جس کے جواب میں مدیر’’ نیرنگ خیال‘‘ نے شاہ دکن کی علم دوستی کا حوالہ دیتے ہوئے کفایت شعاری کو عین بمطابق اسلام بتایا ہے۔آخری صفحات میں’’ پارۂ دل ‘‘کے عنوان سے خواجہ حسن نظامی کی ایک تحریر بھی شائع ہوئی ہے۔جس میں مسلم معاشرت کی اصلاح کے حوالے سے مختصرتحریریں جمع کی گئی ہیںجن میں مسلمانوں کو خاص طور پر عورتوں کو ہندووں کی شادی بیاہ اور دوسری رسموں سے اجتناب برتنے کی تلقین کی گئی ہے۔شاعری کی ذیل میں جو منظو مات اس شمارے میں شائع ہوئی ہیں ان میں’’طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا ’‘ مولانا اختر علی خان کی نظم ہے جو مولانا ظفر علی خاں کے صاحب زادے تھے ۔
سنگدل ہے اس کے در پہ جائیں کیا
اپنا سر پتھر سے ہم ٹکرائیں کیا
کس سے ہوگا چارہ درد فراق
اس دل بیتاب کو سمجھا ئیں کیا
ہوچکے جب زلف پُر خم کے اسیر
طوق اور زنجیر سے گھبرائیں کیا
دے کے ان کے ہات میں قسمت کی باگ
اس کئے پر اپنے ہم پچھتائیںکیا
کج ادائی جس کا شیوہ ہو چکا
حال دل اس شوخ کو بتلائیں کیا
داغ ہائے غم ہیں دل پر جا بجا
کھول کر سینہ انھیں دکھلائیں کیا
پوچھتے ہیں ہم سے وہ اختر کا حال
’’کوئی بتلاوٗ کہ ہم بتلائیں کیا‘‘ ( ۹ )
اس کے علاوہ ’’نمود صبح‘‘ کے نام سے محمد دین تاثیر ’’برسات کی رت‘‘ محمود حسن محمود اسرائیلی ’’ واردات قلب‘‘ کے عنوان سے حامداللہ ا فسربی اے،’’ادبیات‘‘عزیز لکھنوی، ’’افکارناظم‘‘،ابو الانظم محمدناظم،حسیات شایق،سردار اودے سنگھ شائق کی خوبصورت نظمیں شائع ہوئی ہیں۔غزلوں میں،ظہیری بدایونی ، سہا،تاجور نجیب آبادی،اور رابعہ پنہاں کی شاعری اس شمارے کی زینت ہے۔اسلامی دنیا کی مردم شماری کے عنوان سے آخری صفحات میں دنیا میں مختلف حوالوں سے دئے گئے اعداد شمار سے مسلمانوں کی آبادی کا تخمینہ لگانے کی سعی کی گئی ہے اور تحریر کیاگیا ہے ۔
’’ اس جدید حساب کی رو سے مسلمانوں کی تعداد ۲۳۴۸۱۴۹۸۹ ہے۔جس میں سے دس کروڑ ستاون لا کھ تئیس ہزار انگریزی جھنڈے تلے ہیں‘‘ ( ۱۰)
’’مرقع الاخبار ‘‘کے تحت واقعات حاضرہ کے حوالے سے ہاتھ سے بنائی گئی تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں۔جن میں سے ایک محمد علی جناح صدر آل انڈیا مسلم لیگ (۲)غازی فتحی بے جو مسئلہ موصل (۳)آغا محمد صفدر استقبا لیہ کمیٹی۔صفحہ ۵۱ پر ایک ادبی جریدہ اور ایک گلدستہ کا اشتہار بھی شائع ہوا ہے۔ان میں ایک دلکش لا ہور جس کا پہلا شمارہ جولائی ۱۹۲۴ میں شائع ہونا ہے۔دوسرا الکمال ہے جو عرصہ سے لا ہور سے شائع ہوتاہے اور اسے ہندوستان بھر کا واحد گلدستہ قرار دیا گیا ہے جو ملک و قوم کی خدمت کر رہا ہے۔مجموعی طور پر جو لائی ۱۹۲۴ میں’’ نیرنگ خیال ‘‘کا پہلا شمارہ متنوع دلچسپیوں کا محور و مرکز ہے۔یہ شمارہ حکیم یوسف حسن اور محمد دین تاثیرکی اجتماعی کو ششوں کا ثمر ہے۔جنہوں نے اسے دلچسپ بنانے کے لئے مختلف علمی مذہبی اور قومی معاملات و مسائل پربھی مضامین کو اس شمارے میں شامل اشاعت کیا۔اس دور کی مسلم معاشرت،ہندوستان کے سیا سی و معا شرتی حالات ادیبوں کی سوچ و فکر کا بھی یہ شمارہ آئینہ دار ہے۔اس لحاظ سے یہ کہا جا سکتا ہے کہ ’’نیرنگ خیال‘‘ محض ایک ادبی جریدہ ہی نہ تھا ایک علمی تحریک کا نام بھی تھا جس نے بر صغیر کے عوام میں آزادی کا جذبہ ابھارنے میں بھی اہم کردار ادا کیا ۔ چالیس کی د ہائی میں اردو زبان کے ایک اور مقبول عام ادبی جریدہ ’’نیا دور ‘‘بنگلور کا اجرا عمل میں آیا۔اس کا پہلا شمارہ اگست ستمبر ۱۹۴۴ میں شائع ہوا۔ادارہ تحریر میں صمد شاہین اور ممتاز شیریں کے نام شامل تھے ۔صمد شاہین نے اس کا اداریہ ’’افتتاحیہ‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا ہے۔ مضامین کے حصے میں پہلا مضمون فیض احمد فیض کا ترقی پسند ادب ہے۔یہ مضمون ان کے ابتدائی دور کے خیالات کا عکس ہے اور ان کے پہلے نثری مجموعہ ’’میزان‘‘میںبھی شامل ہے۔عبدالقادری سروری نے ’’موجودہ اردو ادب کا پس منظر‘‘جبکہ ممتاز شیریں نے’’ ۱۹۴۳ کے افسانے ‘‘کے عنوان سے ۱۹۴۳ میں لکھے جانے والے افسانوںکا عمدہ تنقیدی جائزہ لیا ہے۔یہ اُن کا پہلا تنقیدی مضمون ہے۔ جنگ عظیم دوم کے تناظر میں ایک اور اہم تنقیدی مضمون کرشن چندر کا ’’جنگ اور ہندوستانی ادیب‘‘ ہے۔شاعری کے حصے میں غزل کے عنوان سے واحد غزل حسرت موہانی کی ہے جسے انہوں نے قسم فاسقانہ تحریر کیا ہے۔اس کے علاو ہ حصہ شاعری میں باقی تمام نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ان میں ’’دریچے کے قریب‘‘،ن م راشد،’’اندھیرا‘‘مخدوم محی الدین، ’’شباب‘‘،اخترانصاری،’’قیامت‘‘،اخترالایمان،’’ٹیپوکی آواز‘‘، آل احمد سرور، ’’سناٹا‘‘، مجروح سلطان پوری،’’کھنڈر‘‘،منیب الرحمن،’’عزم جواں‘،محمد علی کمالی،’’ زندہ و پائندہ رہوں ‘‘خورشیدالا سلام۔یہ خوبصورت نظمیں چالیس کی دہائی کے شعری منظر نامہ کو عیاں کرتی ہیں۔کہا نیاں کے عنوان سے پہلی کہانی ’’آم‘‘ سعادت حسن منٹو کی ہے۔دوسری طبع زاد کہانی صمد شاہین کی تحریر کردہ ہے جو’’ توہین‘‘ کے نام سے شائع کی گئی ہے۔دو غیر ملکی ترجمہ شدہ کہا نیاں بھی شائع کی گئی ہیں ان میں ایک ’’دہی والی‘‘کنٹری زبان کے ادیب ماستیونگ آینگار اور دوسری’’نفرت‘‘ما ئیکل شالوخوف کی ہے۔نیا دور کا پہلا شمارہ 23X33/16 کے سائز کے دو سو تین صفحات پر محیط ہے آخری صفحات پر اس شمارے کے لکھنے والوں کا تعارف بھی شاملَِ اشاعت ہے۔ممتاز شیریں کے بارے میں تحریر کیا گیا ہے۔
’’عمر انیس سال مہارانی کالج بنگلور سے ۱۹۴۲ء میں بی اے کیا۔کالج میں بہت ذہین طالبعلم تھیں۔ادبی زندگی کی ابتدا تراجم سے ہوئی۔ میسور کی یہی ایک مسلمان خا تون ہیں جن کے تراجم اور طبعزاد افسانوں نے شمالی ہند کے معیاری رسالوں میں جگہ پائی۔ممتاز شیریں نے صرف تین طبعزاد افسانے لکھے ہیں ‘‘ (۱۱)
صمد شاہین ایڈیٹر و پبلشر ’’نیا دور ‘‘ کے بارے میں تعارف کے حوالے سے درج ذیل معلو مات شائع ہوئی ہیں ۔
’’پیدائش ۱۶ جون ۱۹۱۶ء مہاراجہ کالج میسور میں انگریزی ادب کے آ نرز کے لئے پڑھالیکن بی اے کی ڈگری ملی گو انٹر میڈیٹ میں وہ انگریزی میں اول رہے تھے علی گڑھ میں ایم اے کے لئے چار پانچ ماہ رہے لیکن تعلیم مکمل کئے بغیر آنا پڑا پھر لا کالج پونا سے ایل یل بی کیا۔اب ایم اے سیا سیات، معا شیات اور ایل ایل ایم کی تیاری کر رہے ہیں اچھے مقرر ہیں ۔اردو کی بہ نسبت انگریزی میں زیادہ لکھتے ہیں اردو میں بھی چند افسانے لکھے ہیں جوایک مقامی رسالہ میں چھپ کر مقبول ہوئے بنگلور سے صادق صاحب کے ساتھ ایک ہفتہ وار انگریزی ’’میسورین‘‘ نکال رہے ہیں اور ا ب نیا دور کی بھی ادارت کر رہے ہیں ابھی ابھی وکالت شروع کی ہے‘‘(۱۲)
یہ پر چہ قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۲ تک کراچی سے چھپتا رہا۔اس کے بعد اسی نام سے ایک پرچہ کراچی سے ڈاکٹر جمیل جالبی بھی مرتب کرتے رہے اور لکھنو (انڈیا)سے اتر پردیش کے محکمہ اطلاعات کے تحت ایک ماہ نامہ نیا دور کے نام سے بھی شائع ہو رہا ہے۔ نقوش ایک اور ایسا جریدہ ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد اپنا سفر شروع کیا لیکن اردو کی ادبی صحافت میں اپنے لیے جلد ایک الگ جگہ بنا لی۔نقوش کے تمام اشاعتی سفر کے دوران اس کے خاص نمبر ہی اس کی وجہ شہرت بنے۔ نقوش کا پہلا شمارہ مارچ ۱۹۴۸ میں منصہ شہود پر آیا۔اس کے پہلے ایڈیٹر ہا جرہ مسرور اور احمد ندیم قاسمی تھے ۔ ان کی ادارت میں شمارہ ایک تا دس شائع ہوئے۔قاسمی صاحب نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ’’ نقوش‘‘ کا نام انہوں نے تجویز کیا تھا (۱۳)پہلے شمارے کا سرورق آذر زوبی نے بنا یا تھا۔اس کی پیشانی پر’’ زندگی آمیز اور زندگی آموز ادب کا ترجمان ‘‘کے الفاظ بھی قاسمی صاحب کے خلاق ذہن کی اختراع تھے۔محمد طفیل (۱۹۲۳۔۱۹۸۶) جو نقوش کی بدولت محمد نقوش بن گئے تھے۔ انہوں نے ۱۹۴۴ میں لا ہور میں ادارہ فرو غ اردو کی بنیاد رکھی تھی ’’نقوش ‘‘ کا اجراء اس کے تحت کیا گیا تھا۔’’نقوش‘‘ نے کئی معر کۃالآرا نمبر شائع کیے ا ور اپنے پیشرو جرائد ’’نگار‘‘ اور ’’نیرنگ خیال ‘‘کی روایت کو آگے بڑھایا۔نقوش کا پہلا شمارہ ۸۶ صفحات پر مشتمل تھا۔ طلوع کے نام سے اس کا اداریہ ہا جرہ مسرور نے لکھا ہے۔مضامین،افسانے اور شاعری کا بے حد متنوع اور معیاری انتخاب اس شمارے میں شامل اشاعت ہے۔افسانوں میں احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’میں انسان ہوں ‘‘اور ہا جرہ مسرور کا افسانہ ’’بڑے انسان بنے بیٹھے ہو‘‘ ۱۹۴۷ کے فسادات کے تناظر میں لکھے گئے ہیں اور انسانیت پر کئے گئے ظلم و ستم کی المناک داستاں سناتے ہیں۔دیگر افسانوں میں کرشن چندر کا ’’بھیروں کا مندر لیمٹڈ‘‘ اور عزیز احمد کا ’’ میرا دشمن میرا بھائی‘‘ بھی لائق مطا لعہ ہیں۔مضامین میں خالد حسن قادری نے’’ نیا افق‘‘ کے عنوان سے نئے پاکستان کے احوال اور اردو زبان کو موضوع بنا یا ہے عزیز احمد نے فرحت اللہ بیگ کی مزاح نگاری پر اور غلام رسول مہر نے کمال الدین اصفہانی پر مقالات تحریر کئے ہیں۔نقوش کے پہلے شمارے میں اردو زبان کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے اور اس بارے میں فلک پیما،ڈاکٹر عبدالحق،سیماب اکبر آبادی۔خواجہ احمد فاروقی احتشام حسین، نورالحسن ہاشمی اور خدیجہ مستور کے ز ریں خیالات اور اردو کے فروغ کے لیے تجاویزشائع کی گئی ہیں۔غزلوں میں اثر لکھنوی،اختر شیرانی،فراق گو رکھپوری ،حفیظ ہوشیار پوری علی سردار جعفری ،احمد ندیم قاسمی ،سیف الدین سیف، مختار صدیقی کی خوبصورت غزلیں شائع کی گئی ہیں۔نظموں میں حفیظ جالند ھری،سیماب اکبر آبادی،یوسف ظفر،قتیل شفائی اور احمد ندیم قاسمی کی رُبا عیات شائع ہوئی ہیں۔اِن صفحات سے ا س دور میں دونوں جانب اردو شاعری اور غزل و نظم کے مو ضوعات اور معیار کو دیکھا جا سکتا ہے۔حالات حاضرہ کے تحت ایک مضمون ہاجرہ مسرور کا ہمارا سماج کے عنوان سے شائع ہوا یہ ان عورتوں سے متعلق ہے جو فسادات میں اغوا ہوگئی تھیں ۔ ان کی واپسی نے دونوں جانب بہت سے سماجی مسائل کو جنم دیا ۔یہ مضمون ان حالات کا تجزیہ کرتا ہے۔عبدالمجید سالک نے مسئلہ فلسطین کے حل کے لیے کی گئی کو ششوں کا احاطہ کیا ہے دیگر عنوانات کے تحت فلم کے عنوان سے ڈاکو منٹری کی اہمیت اور افادیت پر اے قدوس نے اپنے خیالات رقم کیے ہیں ’’نئی کتابوں‘‘ کے عنوان سے ہم وحشی ہیں کرشن چندر کے افسانوی مجموعہ پر ہا جرہ مسرور اور علی سردار جعفری کے شعری مجموعہ پر قاسمی صاحب نے تبصرہ کیا ہے۔بہ حیثیت مجموعی ’’نقوش‘‘ کا یہ شمارہ خوبصورت اور یادگار تحریروں کا ایک گلدستہ ہے جس کی مہک آج بھی محسوس کی جا سکتی ہے۔’’ماہ نو ‘‘حکومت پاکستان کا سرکاری ادبی جریدہ ہے جو ہندوستانی جریدے ’’آجکل‘‘ دہلی کی طرز پر نکالا گیا تھا ۔وقار عظیم آجکل دہلی کے ایڈیٹر بھی رہ چکے تھے ۔پاکستان کا پہلا دارلحکو مت کراچی تھا۔ اس لیے اپریل ۱۹۴۸ میں’’ ماہ نو ‘‘ کا پہلا شمارہ کراچی سے جلوہ گر ہوا۔معروف نقاد وقار عظیم اس کے مدیر تھے۔اولین شمارہ ۶۲ صفحات پر مبنی تھا۔ادب کے بڑے اہم نام اور اُن کی تحریریں اس شمارے کی زینت تھیں ۔’’کچھ اپنی با تیں ‘‘ کے عنوان سے مدیر وقار عظیم نے اولین شمارہ کا اداریہ رقم کیا ہے۔صفحہ ۳ پر حامد حسن قادری نے ’’تاریخِ قیام پاکستان‘‘ قران مجید سے نکا لی ہے۔اس کے بعد خوبصورت اور معیاری نظموں اور غزلوں کا ایک انتخاب شائع کیا گیا ہے۔اس شمارے کی زیادہ تر تخلیقات آزادی اور فسادات کے تناظر میں لکھی گئی ہیں۔اسد ملتانی کی نظم ’’غم نہ کر‘‘ مسعود حسن کی نظم ’’مدینہ آدم‘‘ش ضحی کی نظم ’’ محسوسات‘‘ اور وشوامتر عادل کی نظم ’’نیند سے پہلے‘‘ کے بنیادی استعارے اور لفظیات غم، بے بسی اور اس سے جنم لینے والی یاسیت ہے جبکہ احمد ندیم قاسمی کی نظم ’’کل اور آج‘‘ ان کے ترقی پسندانہ نظریات کی علمبردار ہے۔اس شمارے کی واحد غزل فراق گورکھ پوری کی ہے جو غزل کے روایتی مو ضوع کی حا مل ہے اور اس میں کوئی نیا پن نہیں ہے۔افسانوں میں کرشن چندر کا ’’لال باغ ‘‘ آغا محمد کا اشرف کا ’’دلی کا ایک پودہ‘‘خواجہ احمد عباس کا افسانہ ’’میں کون ہوں ‘‘ فسادات کے موضوع پر ہیں۔اس شمارے کے قابل مطالعہ اور اہم مضا مین میں خواجہ غلام السیدین کا مضمون ’’آندہی میں چراغ‘‘ قومی ترقی کے موضوع کا احاطہ کر تا ہے۔ علی سردار جعفری کا مضمون ’’اقبال کی آواز‘‘ اقبال کی شاعری میں حرکت و عمل کے پہلو کو اجاگر کرتا ہے۔ سید احتشام حسین نے ’’اردو کا لسا نیاتی مطالعہ‘‘میںزبان کے مطا لعہ کے لئے صوتیات اور لسا نیات کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ اختر حسین رائے پوری کا مضمون ’’پاکستان کے بعض تعلیمی مسائل ‘‘اس میں نو زائیدہ ملک میں تعلیم کی حالت زار اور مستقبل کے تعلیمی منصوبوں پر سوچ بچار شامل ہے۔جس کا ایک پیراگراف حکومتوں کے طرز عمل اور سوچ و فکر کی عکاسی کرتاہے۔ جس کا تسلسل آج بھی جاری ہے۔
اختر حسین رائے پوری لکھتے ہیں :
’’ تعلیم کے متعلق ایک عام غلط فہمی یہ ہے کہ اس پر خزانہ کے روپے صرف کرنا اگر فضول خرچی نہیں تو زکواۃ یا خیرات کے قسم کی کوئی چیز ہے جس کا حاصل مادی اعتبار سے کچھ نہیں‘‘ (۱۴)
’’ اتا ترک کی وصیت‘‘ آغا محمد یعقوب دداشی کا مضمون ہے جس میں اتاترک کی ایک تقریر کا اقتباس دیا گیا ہے جو پارٹی کی ایک کانگریس میں چھ دن جاری رہی تھی دیگر مضامین میں سید وقار عظیم نے شاہ عبدللطیف بھٹائی کا تعارف اور فضل حق قریشی دہلوی نے مغلوں کے فن خطاطی پر ایک دلچسپ اور معلو ماتی مضمون تحریر کیا ہے۔صفحہ ۵۵ پر دو نئی اردو فلموں اور نئی کتابوں کے عنوان سے علی سردار جعفری کی نظموں کے مجموعے ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ اور اوپند ناتھ اشک کے ڈراموں کے مجموعہ ’’ازلی راستے‘‘ پر تبصرہ کیا گیا ہے۔جریدے کے وسط میں قیام پاکستان سے متعلق کئی اہم تصاویر بھی شائع کی گئی ہیں ۔ماہ نو کا اشاعتی سفر آج بھی جاری ہے ۔اب یہ لا ہور سے شائع ہو تا ہے اور علمی ادبی حلقوں میں ایک معتبر ادبی جریدہ سمجھا جا تا ہے۔اس کے سینکڑوں صفحات پر پاکستانی ادب کے عظیم جواہر پارے اور ادب کی تاریخ بھی ثبت ہیں۔ ’اوراق‘ کا پہلا شمارہ ۱۹۶۵ میںڈاکٹر وزیر آغاکی زیر ادارت لا ہور سے ماہ وار جریدے کی صورت شائع ہوا ۔اس پر کسی مہینے کا اندراج نہیں ہے یہ ۳۱۲ صفحات پر مشتمل ہے۔اس کی قیمت دو روپے ہے ۔فہرست میں مختلف اصناف کے لئے عنوانات قائم کئے گئے ہیں ۔پہلا ورق کے عنوان سے ڈاکٹر وزیر آغا نے اداریہ میں لکھا ہے۔
’’اوراق کے پس پشت بنیادی ادبی نظریہ یہی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ کسی ملک کے ادب کو اس کی ثقافت اور تہذیب سے الگ نہیں کیا جا سکتا اور ثقافتی ماحول زمین کی باس ،پانی،نمک اور فضا پر عناصر آفاقی کے عمل سے پیدا ہوتا ہے اوراق زمین کو اہمیت دینے میں اس لئے پیش پیش رہے گا کہ زمین عورت کی طرح تخلیق کرتی ہے لیکن وہ آسمان کی اہمیت کو بھی نظر انداز نہیںکرے گا کہ آسمان اس تخلیق میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے مگر آسمان کی اہمیت بہر حال ثانوی ہے اور یہ نکتہ ہمہ وقت ہماری نظروں کے سامنے ہے‘‘ (۱۵)
آغاز میں ’’ہمارا وطن‘‘ کے عنوان سے نظمیں اور افسانے شا ئع کئے گئے ہیں۔پہلی نظم ’’سپاہی‘‘ کے عنوان سے مجید امجد کی ہے دیگر شعرا میں قیوم نظر،شہزاد احمد،رشید قیصرانی وزیر آغا،جعفر طاہر،عارف عبدالمتین کی نظمیں شائع کی گئی ہیں ۔ای گوشہ مولا نا صلاح الدین احمد کی یاد میں بھی مخصوصکیا گیا ہے جس میں آغا محمد باقر،انور سدید اور وزیر آغا کے مولانا صلا ح الدین احمد کے فن و شخصیت پر مضامین شائع کئے گئے ہیں ۔’’سوال یہ ہے‘‘کے عنوان سے ایک مسلسل سلسلہ اوراق میں آخر تک قائم رہا۔جس میں کسی ایک مو ضوع پر مختلف ادیبوں کی آرا شائع کی جا تی رہیں ۔پہلے شمارے میں ’’فن ابلاغ کی اہمیت پر شہزاد احمد، افتخار جالب،سجاد باقر رضوی،غلام جیلانی اصغر،صدیق کلیم اور صلاح الدین ندیم کی رائے شامل اشاعت ہے۔(۱۶)پہلے شمارے میں تمام اہم ادبی اصناف پر بہترین معیاری انٹخاب شائع کیا گیا ہے اور ساٹھ کی دحائی کے تمام اہم ادیبوں کی بغیر کسی ادبی گروہ بندی کے نام اور تخلیقات اس شمارے میں جلوہ گر ہیں ۔اوراق کی ادبی خدمات کا دائرہ تقریبا ستر شماروں پر محیط ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ ان عظیم ادبی جرائد کے اشاریئے مرتب کرائے جا ئیں تاکہ ان میں موجود عظیم ادب پاروں کا نئی نسل اور محقیقین کو اندازہ ہو سکے اور وہ اس سے استفادہ کرسکیں۔
______________________________________________________
حوالے و حواشی
( ۱)۔ ادبی دنیا،لاہور، نو روز نمبر، ۱۹۳۲،جلد نمبر ۶،شمارہ نمبر ۱ ،ص ۹۸
( ۲)۔ڈاکٹر خلیق انجم نے لکھا ہے کہ’’ نگار کا اجرا آگرہ سے ہوا اور پہلا جریدہ ۲۲ فروری ۱۹۲۲ کو شائع ہوا،صفحہ ۸۶ماہ نامہ انشا کلکتہ دسمبر ۱۹۹۶ نیاز فتحپوری نمبر ،مانک ٹالہ نے صفحہ ۱۴۸ پر یہ ہی بات دہرائی ہے۔ ڈاکٹر انور سدید نے اپنی کتاب ’’پاکستان میں ادبی رسائل کی تاریخ،مطبوعہ ۱۹۹۲میں صفحہ ۱۱۷ پر لکھا ہے ۔’’بھوپال سے فروری ۱۹۴۴ میں نگار جاری ہوا‘‘۔رسالے کے ابتدائی صفحات میں ایسا کچھ نہیں پرنٹ ہوا کہ یہ پرچہ کہاں سے شائع ہورہا ہے۔صفحہ ۵۳ پر لکھا ہے ایڈیٹر سے خط و کتابت کا پتہ ۔نور محل بھو پال ہے۔امکان غالب ہے کہ نیاز فتح پوری بھو پال میں مقیم تھے اور پرچہ آگرہ سے جاری کیا گیا۔
(۳)اردو جامع انسائکلو پیڈیا (جلد دوم) مطبوعہ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۸۸ نے صفحہ ۱۹۱۰ پر لکھاکے نیرنگ خیال لاہور ۱۹۲۲ ء میں نکلا جو کہ غلط ہے۔
(۴) محمد طفیل،حکیم صاحب(خاکہ)مطبوعہ، نقوش ،لا ہور، محمد طفیل نمبر،(جلد دوم)شمارہ۱۳۵، جولائی ۱۹۸۷،ص۱۰۷۶
( ۵)برنی،سید مظفر حسین ، کلیات مکاتیب اقبال ،جلد دوم،اردو اکادمی دہلی۔۱۹۹۳ ،ص۵۳۲
(۶) حکیم یوسف حسن کی وفات پر شان الحق حقی نے تاریخ ِوفات کہی ہے ۔اٹھ گیا بانی میخانہ نیرنگ خیال لُجہ دود ہوا عرصہ نیرنگ خیال ۱۴۰۱ ھ بحوالہ ۔سہ ماہی اردو کراچی جلد ۶۱،شمارہ نمبر ۳،۱۹۸۵،ص ۳۳
(۷)نیرنگ خیال ، ماہ نامہ،لا ہور ،جلد نمبر ۱، شمارہ نمبر ۱،۱۹۲۴،ص
(۸) ایضاً ص ۲۷
(۹) ایضاً ص ۳۸
(۱۰) ایضاًص ۴۷
(۱۱ )نیا دور،سہ ماہی،بنگلور،جلد۱ شمارہ نمبر ۱ ،ص ۲۰۲
(۱۲) ایضا ص ۲۰۳
(۱۳)بحوالہ نقوش ،محمد طفیل نمبر (جلد نمبر ۱)،ص ۱۷
(۱۴) رائے پوری،اختر حسین،ماہ نو،کراچی،جلد ا ،شمارنمبر ۱،اپریل ۱۹۴۸،ص ۲۸
(۱۵)اوراق،ماہ نامہ ۔لاہور، جلد نمبر ۱ شمارہ نمبر۱ ،۱۹۶۵،ص۵
(۱۶) سوال یہ ہے،جو ’’اوراق ‘‘کا مقبول سلسلہ تھا ۔اِس کے تمام مباحث کو کتابی صورت میں جمع کرکے شائع کر دیا گیا ہے

Khwaja Ahmad Abbas by Dr. Abubakar Abbad

Articles

ترقی پسندوں کا پہلا درویش: خواجہ احمد عباس

ڈاکٹر ابوبکر عباد

خواجہ احمد عباس افسانہ نگار تھے، ناول نویس تھے،ڈرامہ نگار تھے ، صحافی تھے، کالم نگار تھے،فلم ساز تھے اورخاکہ نگار بھی۔انھوں نے سفر نامے لکھے،آپ بیتی لکھی ، ڈراموں میں ایکٹنگ کی اور اردو، ہندی اورا نگریزی میں بہت سارے مضامین تحریر کیے۔مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی ہر ایک حیثیت ایک دوسرے پر فوقیت رکھتی ہے ، سو اُن کا تقابل مختلف اصناف کے ماہرین یا ان کے معاصرین سے نہیں بلکہ خود ان کی ہی شخصیت کی مختلف جہات کاایک دوسرے سے کرنا چاہیے۔ ان کی اس ہمہ گیر خوبی کو عام لوگ اور ناقدین بھی جانتے تھے اور خواجہ احمد عباس بھی اس سے واقف تھے ۔ چنانچے وہ لکھتے ہیں:
ادیب اور تنقید نگار کہتے ہیں میں ایک اخبارچی ہوں،جرنلسٹ کہتے ہیں کہ میں ایک فلم والا ہوں، فلم والے کہتے ہیں میں ایک سیاسی پروپیگنڈٹسٹ ہوں، سیاست داں کہتے ہیں کہ میں کمیونسٹ ہوں،کمیونسٹ کہتے ہیں کہ میں بورژوا ہوں۔۔۔ سچ یہ ہے کہ مجھے خود نہیں معلوم کہ میں کیا ہوں۔ ‘‘(آئینہ خانے میں، مطبوعہ، افکار، کراچی، دسمبر، 1963)
اور آگے کی بات یہ ہے کہ لوگ انھیں لا مذہب سمجھتے تھے، لیکن اُنھوں نے اپنے وصیت نامے میں دعویٰ کیا ہے کہ ’’میں اب بھی لا ادری ہوں یعنی مذہب کا مجھے زیادہ علم و ایقان نہیں، لیکن میں وحدہ لا شریک کا پرستار ہوں، اور اس حیثیت سے میں مسلمان ہوں۔‘‘دوستوں اور ان کے ساتھ کام کرنے والے احباب کی رائے تھی کہ خواجہ احمد عباس نہایت نیک، شریف النفس، ترقی پسند، سیکولر اور ہر مصیبت میں لوگوں کے کام آنے والا فرشتہ تھا۔
خواجہ احمد عباس اپنے متعلق جو کہیں ، لوگ ان کے بارے میں جو سمجھیں۔ ان کی کتاب زندگی اور فن کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہ ایک بشر دوست ،بے ریا ، مخلص، حق گو، ہمدرد،اور غیر مصلحت پسند انسان تھے۔ اور زندگی بھر اسی انسانیت کی تبلیغ کے لیے انھوں نے مختلف ذرائع ابلاغ سے کام لیا۔یاد پڑتا ہے کہ حدیث کی کسی کلاس میں ایک استاذ نے فرمایا تھا کہ ’’ جس شخص سے ہر طبقے کے لوگ خوش ہو ں وہ شخص در اصل منافق ہوتا ہے۔‘‘ایک شاگرد نے دریافت کیا کہ اگر بعض طبقے خوش ، بعض ناراض ہوں تو؟ ارشاد فرمایا: ’’ وہ سچا انسان ہو گا۔‘‘’’اور حضرت ! جو سبھی طبقے ناراض ہوں جس آدمی سے۔‘‘ ایک اور شاگرد نے استفسار کیاتھا۔فرمایا استاذ نے کہ:’’ وہ سچا انسان حق پسند بھی ہوگا ، حق گو بھی۔‘‘ساتھ ہی یہ بھی کہا تھا کہ انسانیت کی یہ منزل بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک ہوتی ہے ، تادیر کم ہی لوگ اس منزل پر ٹھہر پاتے ہیں۔‘‘ اور صاحبو! کہنے کی اجازت دیجیے کہ خواجہ احمد عباس انسانیت کی اس بے حد بلند لیکن انتہائی خطرناک منزل سے عمر کے آخری پڑائو تک نیچے نہ آئے۔ جب انھوں نے افسانہ ’’سرکشی ‘‘ لکھا تو مسلمانوں نے ناراضگی جتائی اورسخت احتجاج کیا کہ افسانے کی مسلم ہیروئن کی ایک ہندو سے کیوں شادی کروائی گئی۔افسانہ ’’بارہ گھنٹے ‘‘ کی اشاعت پر ہندوئوں نے اس بات کو بنیاد بنا کر خواجہ صاحب کے خلاف جنگ کا اعلان کر دیا تھا، کہ افسانے کا ادھیڑ عمر انقلابی بارہ گھنٹے کے لیے رہا ہونے کے بعد بینا نام کی ایک آئیڈلسٹ لڑکی کے ساتھ رات گزارتا اور اس کے جسم سے لطف اندوز ہوتا ہے۔اور خواجہ صاحب کی زبردست مخالفت اور ان کے خلاف سب سے بڑا ہنگامہ تب ہوا جب ان کی کہانی ’’سردار جی‘‘ پہلی بار اگست 1948کے ’ادب لطیف‘ اور کچھ مہینوں بعد ہندی رسالے ’مایا‘ میں شائع ہوئی تھی۔ اس کہانی کے خلاف پورے ہندوستان کے سکھوں نے اتنا زبردست مظاہرہ کیا تھاکہ یو پی کی حکومت نے کہانی کو ممنوع قرار دے دیا اور مصنف، ایڈیٹر اور پریس کے مالک پر الٰہ آباد کورٹ میں مقدمہ بھی چلایا ۔لیکن خواجہ صاحب کی مخالفتوں کے تعلق سے مقام حیرت ابھی باقی ہے۔تب تک ذہن میں اُس واقعے کو تازہ کر لیجیے جب خواجہ صاحب نے راما نند ساگر کے ناول ’’اور انسان مرگیا‘‘ کا دیباچہ لکھا تھا۔تلخی گفتار کی اجازت دیں تو عرض کروں کہ تقسیم ملک کے نتیجے میں ہونے والے فسادات کے حوالے سے خواجہ احمد عباس کی صورت میں پہلی بار کسی نے سچ اورحق بات لکھنے کی جرأت کی تھی۔ ورنہ ترقی پسندوں نے توفسادات کے تعلق سے عمومی رائے یہ بنائی تھی کہ اس میں ہندو، مسلم اور سکھ کی کوئی غلطی نہیں۔ ساری غلطی انگریز سامراجی حکومت کی ہے جس نے نفرت ونفاق کا بیج بویا ، جس کی وجہ سے ملک تقسیم ہوا ۔ اور در اصل تقسیم ملک ہی فساد ات کی جڑ ہے۔خواجہ صاحب نے واضح طور سے لکھا کہ برطانوی سامراج کے ساتھ ساتھ پاکستان میں ان فسادات کے ذمے دارمسلمان اور ہندوستان میں ہندو اور سکھ ہیں۔ اوریہ بھی کہ ان فسادات کی ذمے داری ہندو مہا سبھا، جن سنگھ، کانگریس اور مسلم لیگ کے ساتھ ساتھ کمیونسٹ پارٹی پر بھی عائد ہوتی ہے کہ اس نے عوام کو مہذب بنانے کی ذمہ داری نہیں نبھائی ۔ بس پھر کیا تھاترقی پسند دوستوں نے خواجہ صاحب کو عوام دشمن ، بورژوا اور سامراجی ایجنٹ بتایااور انھیں مجرم قرار دے کر انجمن کی عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا۔ اور مقام حیرت یہ ہے کہ الٰہ آباد کی کورٹ نے تو دو سماعتوں کے بعدکہانی ’’سردارجی‘‘ کے تعلق سے خواجہ صاحب پر چلائے جارہے مقدمے کو خارج کردیااور خوشونت سنگھ نے ان کی اس متنازعہ کہانی کوپنجاپ پر لکھی جانے والی کہانیوں کے اپنے انگریزی انتخاب میں سرِ فہرست شائع کیا۔ لیکن خواجہ احمد عباس کو ’’اور انسان مر گیا‘‘ کے دیباچے میں حق بات لکھنے کی پاداش میں ترقی پسندوں کی عدالت نے انھیں نہ صرف انجمن سے نکالادیابلکہ اپٹا(IPTA)کے جنرل سکریٹری کے عہدے سے بھی ہٹایا اور ’’نیا ادب‘‘ کی رکنیت سے بھی باہر کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ برسوں بعد اُن سخت گیر دوستوں کے خیالات میں بھی تبدیلی آئی اوران کے رویوں میں بھی۔
خواجہ احمد عباس کو غیر اردو داں حضرات صحافی، فلم سازاور اسکرپٹ رائٹرکے علاوہ ’دھرتی کے لال‘ میںبلراج ساہنی اور ’سات ہندوستانی ‘ میں امیتابھ بچن کو بریک دینے والے کی حیثیت سے یاد رکھنے کے علاوہ راج کپور کے لیے بے حد کامیاب فلمیں لکھنے والے کہانی کار کے اعتبار سے بھی جانتے ہیں ۔ لیکن اردو کی دنیا میں بطور فکشن نگار اُن کی حیثیت مسلم ہے۔ انھوں نے نو ناول تحریر کیے۔ جن میں ’ ایک ٹب اور دنیا بھر کا کچرا‘، ’دوبوند پانی‘، ’تین پیسے‘، چار دل چار راہیں‘، ’سات ہندوستانی‘، انقلاب‘، فاصلہ‘، ’بمبئی رات کی بانہوں میں‘ ، ’اندھیرا اجالا‘ اور میرا نام جوکر‘ہیں۔ ’دوبوند پانی‘ راجستھان کے پس منظر میں پانی حاصل کرنے کی کوششوں پر مبنی ناول ہے ۔ ’سات ہندوستانی ‘چھوٹا سا ناول ہے جس میں گُوا کی تحریک آزادی کو محور میں رکھ کرہندوستان کے مختلف مذاہب اورمختلف لسانی خطوں کے تعصبات کوختم کرکے انھیں متحد رکھنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان دونوں ناولوں پر انھیں قومی یک جہتی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔ ’اندھیرا اجالا‘ میںحقیقت پسندی کو خوبی سے پیش کیا گیاہے۔ اور ’انقلاب ‘آزادی کی جد وجہد کی داستان پر مبنی ان کا ضخیم ناول ہے جو پہلے انگریزی میں شائع ہواتھابعد کو اردو میںہوا۔ اس ناول کو خواجہ صاحب کے ذاتی تجربے کی شمولیت اور عصری حسیت نے بے حد اہم بنادیا ہے۔
خواجہ صاحب کا پہلاافسانوی مجموعہ ’’ایک لڑکی‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا اور پھر ’پائوں میں پھول‘، ’زعفران کے پھول‘، ’میں کون ہوں‘،’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔‘، ’دیا جلے ساری رات‘، ’پیرس کی ایک شام‘، ’گیہوں اور گلاب‘، بیسویں صدی کے لیلیٰ مجنوں‘، ’نیلی ساڑھی‘ ’سونے چاندی کے بت ‘(اس مجموعے میں بعض فلمی ستاروں کے خاکے بھی شامل ہیں)اور ’نئی دھرتی نئے انسان‘تک یہ سلسلہ چلتا رہا۔
ٍ جن سات ڈراموں کی انھوں کی تخلیق کی ان میں’زبیدہ‘، ’یہ امرت ہے‘، ’میں کون ہوں‘، انناس اور ایٹم بم‘، ’لال گلاب کی واپسی‘، گاندھی جی کے قتل پر طویل ڈرامہ’گاندھی اور غنڈہ‘، اور ’بھوکا ہے بنگال‘ جس پر بعد میں ’دھرتی کے لال ‘ نام سے فلم بنائی گئی ، خاصے اہم ہیں۔ان کے سفر ناموں میں ’ مسافر کی ڈائری‘، خروشچیف کیا چاہتا ہے‘،’ مسولینی‘اور ’محمد علی ‘ کے نام لیے جاتے ہیں۔1977میں انھوں نے انگریزی میں I am not an islandکے عنوان سے اپنی آپ بیتی لکھی ۔ یہ آپ بیتی صرف ان کی زندگی کے اتار چڑھائو کاہی نہیں بلکہ برصغیر کی نصف صدی کی سیاسی، سماجی اور تہذیبی تار یخ کا بھی احاطہ کرتی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ انھوں نے پنڈت جواہر لال نہرو کی بھی سوانح تحریر کی ہے۔ کئی ایک تنقیدی مضامین کے علاو ہ دانشورطبقے کے حوالے سے ان کے افسانہ نما طنزیہ مضمون ’انٹلکچوئل اور بینگن‘ کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔لیکن آج کی صحبت میں گفتگو ان کے افسانوں اوران کے افسانوی طریقۂ کار سے ہوگی ۔
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ عام ترقی پسند افسانہ نگاروں کی طرح خواجہ احمد عباس نے بھی اپنے افسانوں کا محور و مرکزمعاشی، معاشرتی مسائل اور سماجی نظام کو بنایا ہے۔ فاقہ کشی، عدم مساوات، فسادات اور سامراج دشمنی جیسے موضوعات کو اہمیت دی ہے، روزانہ زندگی میں رونما ہونے وا لے واقعات اور انسان کوعام طور سے پیش آنے والے حادثات سے پلاٹو ں کی تعمیر کی ہے اور دبے کچلے عوام، گرے پڑے لوگوں اور حاشیے پر زندگی بسر کرنے والے افراد کو افسانوی محفل کا مسند نشیں بنایا ہے۔ لیکن انھوں نے اپنے ہم عصر ترقی پسندافسانہ نگاروں سے ذراالگ راہوں کا بھی انتخاب کیاہے۔ ایک تو یہ کہ انھوں نے تاریکیوںمیں بھی روشنی دریافت کرنے کی کوشش کی ہے اورزندگی کے بعض خوبصورت پہلوؤں کو بھی موضوع بنایا ہے۔ اس حوالے سے ان کے افسانے ’’گیہوں اور گلاب‘‘ ،’’ لال گلاب کی واپسی‘‘ اور ’’زعفران کے پھول‘‘ کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ ایسے ہی غیر روایتی رومان کے کچھ رومانی افسانے لکھے ہیں مثلاً ’’کہتے ہیں جس کو عشق‘‘، ’’شکر اللہ کا‘‘ اور ’’مسوری 52ء‘‘ وغیرہ۔ پھر انھوں نے ملک کے بعض ترقیاتی منصوبوں کوبنیاد بنا کر بھی افسانے لکھے ہیں جن میں ’گیہوں اور گلاب‘ کے علاوہ ’نئی جنگ‘ جیسے افسانوں کو رکھا جا سکتا ہے۔ اور شاید یہ کہنا بیجا نہ ہوگا کہ خواجہ احمد عباس پہلے ترقی پسند افسانہ نگار ہیں جنھوں نے اپنے افسانوں میں حب الوطنی کے جذبات کا کثرت سے اظہار کیا ہے۔اپنے مجموعے ’نئی دھرتی نئے انسان‘ میں انھوں نے ہندوستان میں ہونے والی ترقیوں، یہاں کی بدلتی ہوئی سماجی قدروں اور ہندوستانی عناصر کو خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ اپنے افکار و نظریات کو جِلا بخشنے کے لیے کارل مارکس اور لینن کے ساتھ گاندھی اور نہرو کے فلسفے سے بھی روشنی حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے بیشتر افسانوں میں ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کی جستجو دکھائی دیتی ہے جس میں عدم تشدد، مساوات، خیر سگالی، سماجی انصاف اور امن وامان کی بالا دستی ہو۔ ان کے ایک اہم افسانے ’’نکسلائٹ‘‘کی ایک لڑکی کہتی ہے’’ اس تشدد کے راستے سے ہم اپنی منزل تک نہیں پہنچ سکتے‘‘۔ظاہر ہے افسانے میں اُن حالات سے پردہ اٹھایا گیا ہے جو نوجوانوں کو دہشت کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ خواجہ صاحب کے اس افسانے پر بعض احباب نے خاصی ناگواری کا اظہار کیا تھا، لیکن اس کو کیا کہیے گاکہ تشدد کی راہ سے منزل تک نہ پہنچے کی یہ بات آج بھی اُتنی ہی صحیح ہے جتنی تب تھی۔
جنسی موضوع بھی ان سے اچھوتا نہیں رہا ہے۔ اس ضمن میں ’’ایک تھی لڑکی‘‘ اور ’’بارہ گھنٹے‘‘ جیسے افسانوں کو پیش کیا جا سکتا ہے۔ ’آزاد کا دن‘ کی طوائف ملک کی آزادی سے اس لیے خوش نہیں ہے کہ اس کے بعد انگریز اپنے وطن واپس چلے جائیں گے جس کی وجہ سے اس کا پیشہ بند ہو جائے گا، یا پھر ہندوستانیوں سے اسے بہت ہی کم پیسے ملیں گے۔ جنسی موضوع کے افسانوں میں خواجہ صاحب نے منٹو کے بیان کی سی گرماہٹ ، بیدی کی سی نفسیاتی تحلیل اور عصمت کے چٹخارے دار انداز سے پرہیز کیا ہے۔ وہ اس بات کے شدت سے قائل تھے کہ انسان نہ تو محض نفسیات سے مغلوب ہوتا ہے، نہ صرف معاشیات اس کی شخصیت کو طے کرتی ہے۔ اور نہ ہی وہ صرف خارجی ماحول سے متاثر ہوتا ہے،نہ محض باطن کا اسیر۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں کہ:
انسان کا کیریکٹر ہی نہیں، اس کی قسمت بھی داخلیت اور خارجیت دونوں کے تانے بانے سے بنتی ہے اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا،چاہے وہ مارکس کا چیلا ہو یا فرائڈ کا پیرو۔ بھلا کون کہہ سکتا ہے کہ زندگی کی بُناوٹ میں نفسیات کا تانا زیادہ اہم ہے یا معاشیات کا بانا۔
خواجہ صاحب نے اپنے افسانوں میں عصری زندگی کے سیاسی، سماجی، معاشی اور تہذیبی مسائل کو بڑی خوبی سے بیان کیااور جدید معاشرے کے کھوکھلے پن کوہنر مندی سے دکھایا ہے۔ وہ انفرادی انسان سے زیادہ معاشرتی انسان کی تصویر کشی کرتے ہیںجس میں ظلم کے خلاف ان کا سیاسی نقطۂ نظرخاصی اہمیت رکھتا ہے۔بیشتر افسانوں میں انسان کا ارتقا سماجی ارتقاسے وابستہ دکھانے کی کوشش کی ہے اور انسان اور اس کے معاشرتی یا اجتماعی وجود کے بارے میں جو کچھ لکھا ہے اس میں بحیثیت مجموعی ایک درد مند دل اور روشن فکر کی جھلک بہر طور نظر آتی ہے۔
تسلیم کرنا چاہیے کہ فکر و خیال اور موضوعات کے اعتبار سے خواجہ احمد عباس کی کہانیاں بے حد اہم ہیں لیکن فن اور ٹریٹمنٹ کے لحاظ سے انھیں اعلیٰ پیمانے کے افسانوں میں بمشکل شامل کیا جا سکتاہے۔ یہ درست ہے کہ افسانے میں مقصدیت کا ہونا معیوب نہیں لیکن محض مقصد کو افسانوی پیرائے میں پیش کرنے کے عمل کی بھی تحسین نہیں کی جا سکتی۔ سچ کو سچی صورت میں اور واقعی افراد کو بطور کردار افسانے میں پیش کرنے کی روایت ہمارے یہاں موجود رہی ہے۔ لیکن فکشن پر جوانی اور اس کے جوبن پر نکھار تب آتا ہے جب جھوٹ کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ سچ لگے اور غیر حقیقی یا لاموجود کرداروں کو افسانہ نگاراپنی خلاقی سے یوں ڈھالے کہ وہ جیتے جاگتے انسان دکھیں۔اس معاملے میں خواجہ احمد عباس کا معاملہ تقریباً اُلٹا ہے۔ یوں کہ ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ سچے اور گزرے ہوئے واقعات سے تشکیل پاتے ہیں لیکن افسانوں میں یہ واقعات غیر حقیقی اور جھوٹے معلوم ہوتے ہیں۔اسی طرح وہ اپنی کہانیوں میں بطور کردار فطری اور زندہ انسانوں کوداخل کرتے ہیں لیکن افسانوی عمل کے دوران وہ غیر فطری اور مصنوعی معلوم ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے ’میں کون ہوں‘، ’انتقام‘ ’میرا بیٹا میرا دشمن‘ ، ’ایک پائلی چاول‘، ’بنارس کا ٹھگ‘، ’ خونی‘،اور ’سبز موٹر وغیرہ‘۔ جیسے افسانوں کوپرکھا جا سکتا ہے۔ ’میں کون ہوں‘ فسادات کے پس منظر میں لکھی ہوئی کہانی ہے جس میں ایک مرتا ہوا زخمی آدمی ہنس ہنس کر ڈاکٹر کو اپنی داستان سناتا ہے اور یہ رٹ لگائے رہتا ہے ’میں ہندو نہیں ہوں‘ میں مسلمان نہیں ہوں، میں انسان ہوں۔‘’ایک پائلی چاول‘ میں راشن کی لائن میں کھڑی ایک عورت کے بچہ پیدا ہوجا تا ہے۔’انتقام‘ کا واقعہ یہ ہے کہ فساد میں ایک ہندو باپ پر اپنی جوان بیٹی کی کٹی ہوئی چھاتیاں دیکھ کر جنون طاری ہوجاتا ہے، وہ کسی بھی مسلمان لڑکی سے اس کا انتقام لیناچاہتا ہے، کافی عرصے کی تلاش کے بعد اسے موقع مل جاتا ہے، وہ چھرا نکال کر اس مسلمان لڑکی پر وار کرنے ہی والا ہوتا ہے کہ دیکھتا ہے اس کی چھاتیاں بھی پہلے سے ہی کٹی ہوئی ہیں۔اس افسانے کو نفسیاتی ٹچ دے کرمزید معیاری بنایا جا سکتا تھا، لیکن خواجہ صاحب بالعموم نفسیاتی دروں بینی اور انسانی بطون کے مقابلے میں خارجی واقعات اور سامنے کی چیزوں کو ہی مرکز توجہ بناتے اور ان کے اسباب و مضمرات بیان کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے متعدد افسانوں کی بنیاداخباروں میں شائع ہونے والی خبریں ہیں۔ مثلاً ’ایک پائلی چاول‘، ’نیلی ساڑھی‘ اور ’تین بھنگی‘ وغیر ہ جیسے کئی اور افسانے۔
خواجہ احمد عباس کے یہاں عشق کا تصوردوسرے افسانہ نگاروں سے قدرے مختلف یا یوں کہیے کہ زیادہ حقیقت پسندانہ ہے ۔ان کے اس نوع کے بیشتر افسانوں میں عشق کی بنیاد مساوی معیارِ زندگی پر قائم ہوتی ہے۔ اگر عاشق و محبوب کی زندگی معاشی اعتبار سے ایک جیسی نہیں ہے ، ایک امیر دوسرا غریب ہے تو محبت استوار نہیں رہتی ۔ گویا زندگی کا ایک جیسا معیار اور معاشی یکسانیت محبت کی پہلی شرط ہے۔ اور مفلس اور بے روز گار عاشق تو خواجہ احمد عباس کی افسانوی دنیا میں دو قدم بھی نہیں چل پاتے۔ ’کہتے ہیں جس کو عشق۔۔۔ ‘ ، ’شکر اللہ کا‘، ’ہنومان جی کا ہاتھ‘، ’سونے کی چار چوڑیاں‘، ’تیسرا دریا‘ اور ’ٹیری لین کی پتلون‘ وغیرہ اس کی عمدہ مثالین ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے افسانوں میں عشق کی نا آسودگی یاکہیے ایک نوع کی تشنگی کا احساس بھی ہوتا ہے۔عام طور سے یہ ناآسودگی یا تشنگی سماجی حالات اور معاشی حقائق کا زائیدہ ہوتی ہے۔ یہ کیفیت مذکورہ افسانوں کے علاوہ’نئی برسات‘، ’سبز موٹر‘، ’یہ بھی تاج محل ہے‘، ’چٹان اور سپنا‘، ’پائوں میں پھول‘ اور ’خزانہ‘ وغیرہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔ ان افسانوں کی قرأت کرتے ہوئے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ خواجہ احمد عباس فرائڈ کے نظریۂ تحلیل نفسی سے کافی حد تک متاثر ہیں لیکن وہ اپنے بیانیے کو منٹو کی سی جذباتی شدت اور عصمت جیسی شوخ اور چنچل زبان کے استعمال کے علاوہ بیدی کی نفسیاتی گہرائی میں اترنے سے بھی پرہیز کرتے ہیں۔ شاید اس لیے کہ ان کی منشا کرداروں کو اجاگر کرنا اور بیان کو شیرینی عطا کرنا نہیں بلکہ موضوعات کو روشن کرنا اور مقصدیت پر زور دیناہوتا ہے۔
اور شاید اسی مقصدیت کے ابلاغ اور اس کی تکمیلیت کے جوش میں چیخوف کے بتائے ہوئے افسانے کی خوبصورتی کے اِس راز کووہ فراموش کر جاتے ہیں کہ ’’افسانہ نگار کا کام مسئلے کاحل بتانانہیں ، محض مسئلے کو پیش کرنا ہوتا ہے۔‘‘ چنانچہ ’’نیا شوالہ‘‘ میں وہ نئے بن رہے باندھ کے راستے میں حائل پرانے مندر کو ہٹانے کے لیے ایک روشن خیال نوجوان سے اس مسئلے کو حل کرواتے ہیں۔ ’’ٹیری لین کی پتلون‘‘ میں گائوں میں پیدا ہونے والے منگو اچھوت کو شہر کے مخلوط ماحول میںلے جا کر اسے انسان ہونے کا احساس دلاتے ہیں جہاں اسے ہر ایک کے ساتھ اُٹھنے بیٹھنے اور کھا نے پینے کی آزادی ہے اور اونچی ذات کی ایک لڑکی کملا راٹھور کے ساتھ عشق کی بھی۔اس طریقۂ کار کوانھوں نے ’میری موت‘ اور ’چڑے اور چڑیا کی کہانی ‘کے علاوہ متعدد افسانوں میں برتا ہے۔ بعض افسانوں میں مسائل کے حل کی پیش کش میں ان سے چوک بھی ہوئی ہے۔ مثلاً’’بنارس کا ٹھگ‘‘، میں اس کا اہم کردار کبیر داس جوہر طرح کے تعصبات سے پاک اور معاشی مساوات کا علمبردار ہے وہ امیروں کے اسباب لوٹ کر غریبوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ’’خونی‘‘ کا کردار نوکری نہ ملنے کی بنا پر بلڈ بینک میں اپنے جسم کا خون بیچ کر گزارہ کرتا ہے۔ظاہر ہے ایسے افسانوں پر بعض ناقدین نے اعتراض بھی کیا ہے کہ اس سے سماج میں اچھا پیغام نہیں جا تا ۔
ان کی بعض کہانیاں متنازعہ فیہ بھی رہیں اور ان کو بنیاد بنا کر مختلف فرقوں نے ہنگامے بھی کیے، مثلاً ’سرکشی‘، بارہ گھنٹے‘ اور ’سردار جی۔ ‘ پہلی پر مسلمانوں نے، دوسری پر ہندوئوں نے اور تیسری کہانی پر سکھوں نے ہنگامے کیے۔ یوں فن کے اعتبار سے آخر الذکر یعنی ’سردار جی‘ زیادہ اچھی کہانی ہے۔ اور اسے خاطر خواہ شہرت بھی ملی۔فسادات کے زمانے میں ’سردار جی‘ کا سِکھ کردار اپنی جان دے کر بھی اپنے پڑوسی مسلمان کو بچاتا ہے۔ ظاہر ہے افسانہ نگار کا مقصد اس سے سکھ کردار کی عظمت دکھانا ہے اور سکھوں کے خلاف مسلمانوں کے تعصب کو ختم کرنا ہے۔اس عظمت کو پُر قوت بنانے کے لیے تضاد کے طور پر کہانی کی ابتدا میں سرداروں سے متعلق چند مضحکہ خیز لطیفے سناے جاتے ہیں،جس پر سارا ہنگامہ برپا ہواتھا۔جب راجندر سنگھ بیدی نے اس کہانی سے شروع کے چند لطیفوں کو نکال دینے کا مشورہ دیا تو خواجہ صاحب نے یہ کہہ کر اسے قبول نہیں کیا کہ اس سے افسانے کا نقطۂ عروج کمزور ہوجائے گااور تضاد کی وجہ سے بہادری اور انسان دوستی کا جو تاثر قائم ہوتا ہے وہ زائل ہو جائے گا۔اسی نوع کا ان کا ایک اور افسانہ ہے ’کیپٹن حمید مارا گیا‘۔ اس کہانی کا پس منظر تقسیم ملک کے معاً بعد کشمیر میں ہندوستان پاکستان کی جنگ کا محاذ ہے۔ یہ وہ وقت تھا جب عام ہندوستانی مسلمان سہمے ہوئے تھے، مسلمانوں کا دانشور طبقہ مہر بہ لب تھا اور نیشلسٹ مسلمانوں نے چُپ کی مصلحت اختیار کر رکھی تھی۔ یوں کہ بعض برادران وطن نے مسلمانوں پر دو قومی نظریے کا الزام لگا کر دہشت میں مبتلاجو کر دیا تھا۔ ایسے میں قوم پرست مسلمانوں کا کردار واضح کرنے والی کسی مسلم ادیب کی یہ پہلی تحریر تھی جس میں یہ ثابت کیا گیا تھا کہ قوموں کی بنیاد یں مذاہب نہیںہوتے، جغرافیائی حدود ہوتی ہیں۔ اور شاید یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ اس کہانی نے دہشت کے ماحول میں نہ صرف سیکولر نظریے کو فروغ دیا بلکہ مسلمانوں کو سر اٹھا کر جینے کا حوصلہ بھی بخشاتھا۔
خواجہ صاحب نے چند تمثیلی کہانیاں بھی لکھی ہیں۔ ان میں ’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ اور ’’فاحشہ‘‘ (غالباً)کے نام لیے جا سکتے ہیں۔ آخرا لذکر تقسیم وطن کے بعد فسادات کے پس منظر میں ایک ایسی فاحشہ لڑکی کی کہانی ہے۔ جسے نہ ہندوستان قبول کرتا ہے نہ پاکستان۔ مصائب وپریشانی جھیلتی یہ بے سہارا لڑکی بالآخر دونوں ملکوں کی سرحدپر گر کربیہوش ہوجاتی ہے۔ پہرے دار جب اس سے نام پوچھتے ہیں تو اس کی زبان سے یہ الفاظ ادا ہوتے ہیں ’’اردو۔۔۔اردو۔۔اردو۔‘‘’’ایک لڑکی سات دیوانے‘‘ میں لڑکی کے یہ اوصاف بیان کیے گئے ہیں:
لڑکی خوبصورت، چنچل ہے، طرحدار ہے۔ دنیا اس کی دیوانی ہے۔ ہر کوئی اس کی خاطر جان دینے کو تیار ہے۔ ساتھ میں لڑکی گُنی بھی تھی ، دنیا بھر کی زبانیں جانتی تھی۔ ملٹن اور شیلی ، ٹیگور اور قاضی نذر الاسلام، سبرامنیم بھارتی اور نرالا، جوش اور فیض کی نظمیں اسے زبانی یاد تھیں۔ لنکن اور گیری بالڈی، ژولا اور مارکس انجلزاور لینن۔ گاندھی اور جواہر لال نہرو کی کتابیں پڑھے ہوئی تھی۔ اس کی زبان میں جادو تھا۔
اس لڑکی پر جو لوگ اپنا تسلط جمانا چاہتے تھے ان میں تھے سوامی دھرم دیو، پرانے راجہ، نئے سرمایہ دار، نیا کسان، کمیونسٹ ریوولیوشنری،حاکم شاہی افسراورپولٹیکل لیڈر۔تمام گنوں سے بھر پور لڑکی در اصل ہندوستان کی تمثیل ہے اور یہ ساتوں لوگ نمائندے ہیں اُن طبقوں یا کلاسوں کے جو اس ملک پر قبضہ جمانا اپنا اقتدار حاصل کرنا چاہتے ہیں۔
خواجہ احمد عباس نے کبھی وقت اور حالات کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے ۔ کسی لیڈر، پارٹی،یا مذہبی پیشوا پر اعتبار نہیں کیا، اوروں کی طرح اپنے نظریے میں وقتاً فوقتاً تبدیلیاں نہیں کیں،اقتدار وقت سے سمجھوتے نہیں کیے اور نہ ہی کبھی اپنے قلم کی سمت رفتار بدلی۔وہ اکثر ٹوٹ ٹوٹ گئے ہیں جھکے کبھی نہیں۔یہ ان کے ذاتی اور شخصی اوصاف تھے ، اور ذرا غور کیجیے تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ ان کی بیشتر کہانیوں کے کرداروں کی نمایاں خوبی سادگی ، راست گوئی اور بے باکی ہے، نہ وہ مصلحت اندیش ہیں نہ بزدل۔خوابوں کی وادی میں نہیں حقیقی دنیا میں زندگی کرتے ہیں، وہ جیسے ہیں، جس طبقے کے ہیں کمیٹیڈ ہیں۔سو یقین جانیے کہ خواجہ صاحب افسانوی چوراہوں پر دوچار اہم کیریکٹرزکے بُت نصب کر کے ناموری کی خواہش کے بجائے اپنے ایسے ہی کرداروں کی دریافت کے ذریعے ایک صحت مند معاشرے کی جستجو اور مامون و مستحکم ملک کی تعمیر میں زندگی بھر مصروف رہے۔ ان کے اہم اور یادگار افسانوں میں’اتار چڑھائو‘، ’اجنتا‘، ’شامِ اودھ‘، ’سردار جی‘، ’نیلی ساڑھی‘، ’رادھا‘، ’زعفران کے پھول‘، ’باقی کچھ نہیں‘ ، یہ بھی تاج محل ہے‘، ’کیپٹن حمید مارا گیا‘ اور ’ایک لڑکی سات دیوانے وغیرہ کے نام قابل ذکر ہے۔
اعتراف کرنا چاہیے کہ ہمارے ناقدوں نے خواجہ احمد عباس کو کافی حد تک نظر انداز کیا ہے، اور جن لوگوں نے ان پر لکھا ہے انھوں نے ان کے مکمل فن کا جائزہ لینے کی کوشش نہیں کی ہے۔ بالعموم ان کے یہاں کوئی اہم کردار نہ ہونے کی شکایت توسبھوں نے کی ہے لیکن ان کی جدتِ فن کو ، ان کے موضوعات کے تنوع کو، فکر وخیال کی وسعت کو، بیان کے توازن کواور بیباکی ِاظہار کو سمجھنے کی کوشش نہیں کی ۔ اور نہ ہی کہانیوں کے پس منظر اور ان کی فضا پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی؛ جن میں ایک نئے ہندوستان کے تصوراور ہندوستانیوں کی نئی فکرکو پروان چڑھانے کی کوشش واضح طور پر نظر آتی ہے۔قبول کہ انھوں نے فن پر مواد کو ترجیح دی اور کرافٹ پر قصہ پن کو، لیکن یہ عیب کہاں ؟ حسن ہے۔ اور کیا ان کا یہ کارنامہ کم اہم ہے کہ انھوں نے کہانی کوافسانہ نگاروں کی تخیلاتی اقلیم سے نکال کر عوام کی حقیقی دنیا سے روشناس کرایا،اور شعری صداقت کے مقابلے میں علی الاعلان واقعی صداقت پر فکشن کی بنیاد رکھی۔
٭٭٭

Urdu Research in Bangladesh from 1947

Articles

بنگلہ دیش میں اردو تحقیق و تنقید ( ۱۹۴۷ء تا حال)

پروفیسر کنیز بتول

تاریخ و ادب اور تحقیق و تنقید کا رشتہ آپس میں بڑا گہرا اور مربوط ہے ۔ ایک کے بغیر دوسرے کی بنیاد نہیں پڑتی۔ زمانے کی ہوا و حوادث سے ٹکراتے ہوئے روزانہ زندگی میں رونما ہونے والے واقعات سے متاثر ہو کر تاریخ پہلے جنم لیتی ہے ،پھر اس تاریخ سے رشتہ جوڑ کر شعر و ادب اپنے عہد کا عکاس ہوتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ مورخین اور ادبا ہی تاریخ کو الفاظ کا جامہ پہناتے آئے ہیں ۔ اس سلسلے میں شعرا و ادبا غمِ جاناں اور غمِ دوراں کی ترجمانی نثر و نظم کے پیرائے میں کرتے رہے۔ ان کے تخلیقی عملیات میں شعوری و لا شعوری طور پر فن کاروں کی خوبیاں اور خامیاں بھی اجاگر ہوتی رہیں ۔
میر تقی میرؔ کا ’’ نکات الشعراء‘‘ میر حسنؔ کا ’’ تذکر ہ شعرائے اردو ‘‘مصطفی خاں شیفتہ کا ’’ گلشنِ بے خار‘‘وغیرہ کو بنیادی اور محمد حسین آزادؔ کی ’’ آبِ حیات‘‘ اس سلسلے کی کامیاب کڑی کہی جا سکتی ہے ۔ یہ تذکرے فارسی تذکروں کی تقلید میں لکھے گئے ۔ جب انگریزی ادب سے تاثر لے کر مولانا الطاف حسین حالیؔ اور مولانا شبلی نعمانی ؔ نے اردو ادب کو براہ راست تنقید و تحقیق سے روشناس کرایا تو ان ادب پاروں کی فنی و جمالیاتی پہلو کے مثبت و منفی قدریں اجاگر ہونے لگیں ۔ دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ادب کی طرح اردو میں بھی تحقیق و تنقید کی راہ نمائی اجاگر ہوئی ۔ ان مفید نتائج کے اثرات سے بنگلا دیش کا اردو ادب متاثر ہوتا رہا۔ اس سلسلے میں عبدالغفور نساخ ( ۱۸۳۳۔ ۱۸۸۹ء) کی تصنیفات ’’ تذکرۃ المعاصرین‘‘ اور ’’ تذکرہ ٔ سخن شعراء‘‘ نشی رحمن علی طیشؔ کی (۱۸۲۳ء ۔۱۹۰۵ء) ’’ تواریخ ڈھاکا‘‘ حکیم حبیب الرحمن (۱۸۸۱ء۔۱۹۴۱ء) کی تصنیفات ’’ آسودگان ڈھاکا‘‘ اور ’’ثلاثہ عسالہ‘‘ وغیر ہ کو تنقید و تحقیق کی بنیادی کڑیاں کہی جا سکتی ہیں۔ یہ تصنیفات بر صغیر کے مورخین کے علاوہ فارسی و اردو ادب کے محققین کے لئے مفید ثابت ہوئی ہیں ۔
۱۹۴۷ء کے بعد جب سابق مشرقی پاکستان میں ( بنگلا دیش میں) اردو ادبی ماحول خوش گوار ہونے لگے تو دیگر اصناف سخن کی طرح تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی وسعت و گیرائی پیدا ہوئی کہ یہاں ایک دبستان ِ تحقیق و تنقید بھی قائم ہو گیا ۔
تحقیق و تنقید کی اس دقیق خدمات میں جن مشاہیر قلم نے بڑی جستجو و لگن سے مفید مضامین و تصنیفات سپرد قلم کئے ان میں ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو فارسی کے اساتذہ ، راجشاہی یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ کے اساتذہ،سابق مشرقی پاکستان کے مختلف کالجوں میںاردو درس و تدریس سے منسلک اساتذہ کے علاوہ اردو زبان و ادب کے متعد د پرستاروں نے حسب توفیق دفتری و پیشہ روزگار ی کی ذمہ داریوں کو سنبھالتے ہوئے دبستان اردو کے اس خشک گوشے کو غیر معمولی تحقیقی صلاحیت سے ما لامال کیا۔ ان خدمت گاران ادب کے کارنامے حسب ذیل ہیں ۔
شعبہ اردو ڈھاکا یونیورسٹی کے ناقدین میں سب سے اول نام ڈاکٹر عندلیب شادانی (۱۸۹۷ء ۔۱۹۶۹ء) کا لیا جاتا ہے ۔ ۱۹۲۸ء سے ۱۹۶۹ء تک وہ شعبۂ اردوڈھاکا یونیورسٹی سے وابستہ رہے ان کی قلمی خدمات برطانوی دور سے پاکستانی دور تک کا احاطہ کرتی ہے ۔ شادانی کی تنقید حقیقت بیانی پر مبنی ہے ۔ فنکار چاہے کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو، وہ اس کی خامیوں کو معاف کرنے کے قائل نہیں ۔ دوسری خصوصیت جو انھیں تخریبی تنقید کے سرحد تک لے جاتی ہے وہ ان کی نفسیاتی کمزوری یا احساس برتری کا تقاضا ہے ۔ انھوں نے فن کار کے محاسن کی بہ نسبت معائب کو زیادہ اجاگر کیا ہے ۔ تا ہم ان کی تحقیقی و تنقیدی صلاحیت و علمیت انھیں ذی فہم نقاد کا درجہ عطا کرتی ہے ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ دور حاضر اور اردو غزل گوئی‘‘ ،’’تحقیقات‘‘ اور ’’تحقیق کی روشنی میں ‘‘ مفید تنقیدی کتابیں ہیں ۔
شعبۂ اردو فارسی کے پروفیسر ڈاکٹر شوکت سبزواری (۱۹۰۷ء۔۱۹۷۳ء) کی تحقیق و تنقید میں بڑی گہرائی ہے ۔ انھوں نے اپنی رائے بڑی چھان بین کے بعد پیش کی ہے ۔ ’’ اردو زبان کا ارتقا‘‘ ان کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے ۔ دوسری اہم کتاب ’’ نئی اور پرانی قدریں ‘‘ہیں ۔اس میں مصنف نے اردوز بان کے بہت اہم مسائل کو روشنی میں لانے کی کوشش کی ہے ۔ پر پیچ مسائل کو واضح کرتے ہوئے وقتاً فوقتاً ان کا انداز بیان واعظانہ ہو گیا ہے ۔’’ معیارِ ادب‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ اس میں تنقیدی اصول و مسائل پر بحث کی ہے ۔’’ لسانی مسائل‘‘ بھی ان کی قابل قدر کتاب میں شامل ہے ۔ جس میں اردو زبان کے لسانی مسائل سے بحث کی گئی ہے ۔۱۹۵۹ء میں وہ کراچی بلائے گئے اور انجمن ترقی اردو کراچی کی خدمات سے وابستہ رہے ۔ انھوں نے ۱۹۷۳ء میں کراچی میں انتقال کیا۔ اور وہیں سپرد خاک کئے گئے۔
ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی ( ۱۹۱۵ء۔۱۹۹۸ء) ناقد سے زیادہ محقق ہیں۔’ ’گلہائے داغ‘‘ ،’’ صہبائے مینائی‘‘ ، ’’ شبلی ایک دبستان ‘‘ ان کے مفید ادبی کارنامے ہیں ۔
’’ شبلی ایک دبستان‘‘ ان کا تحقیقی مقالہ ہے ۔ ۲۲۸ صفحات پر مشتمل یہ کتاب مصنف کی تحقیقی صلاحیت کا نمونہ ہے جس میں شبلی اور ان کے نوائے وقت کی بھر پور آئینہ داری ہے ۔ ڈاکٹر آفتاب احمد صدیقی ۱۹۷۵ء تک شعبۂ اردو فارسی میں درس و تدیس سے منسلک رہے ۔ ملازمت سے سبکدوشی کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔ ۱۹۹۸ء میں کراچی میں انتقال کیا وہیں سپرد خاک ہوئے۔
ڈاکٹر حنیف فوق قریشی ، ۱۹۵۰ء سے قیام بنگلا دیش تک شعبۂ اردو فارسی ڈھاکا یونیورسٹی کے با شعور مدرس اور مقبول ناقد کی حیثیت سے اردو زبان و ادب کی خدمات انجام دیتے رہے ۔ وہ تنقید کے جدید اصولوں سے واقف ہیں۔ ان کا شمار ترقی پسند نقاد کے زمرے میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے اردو تنقید کا رشتہ بنگلا دیش کی سرزمین سے جوڑنے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے تحقیقی مضامین’’ اردو کے بنگالی تراجم ‘‘،’’ مشرقی پاکستان میں اردو ادب اور ادیبوں کے مسائل‘‘ ،’’ اردو ادب میں بنگالی ثقافت ‘‘ ،(ناول نگاری میں ) اس ضمن میں مفید کارنامے ہیں ۔
ان کی ناقدانہ صلاحیت کا معیار اس بات سے صاف عیاں ہے کہ انھوں نے بغیر کسی راہ نماکے ’’ دی سوشل انالائز آف اردو پوئٹری ۱۸۵۷ء اینڈ آفٹر‘‘( اردو شاعری سماجی تجزیہ۱۸۵۷ء اور اس کے بعد ) کے عنوان سے پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں پیش کیا اور کامیاب ہو گئے ۔’’ مبشر قدریں‘‘ اور ’’ متوازی نقوش‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کے مجموعے ہیں ۔ حنیف فوق کی تنقید ساینٹفک تنقید ہے ۔ ان کی تنقید ادب کی روح کو بر قرار رکھتے ہوئے زندگی کے مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
ارشد کاکوی (۱۹۳۰ء۔۱۹۶۳ء ) سابق مشرقی پاکستان میں اچھے نقاد اور صحافی کی حیثیت سے اپنی ذمہ داری نبھا رہے تھے ۔ (۱۷ )ماہنامہ ’’ ندیم‘‘ ڈھاکا کے شماروں میں ان کا تحریر کردہ اداریہ ان کی ناقدانہ صلاحیت کا آئینہ دار ہے ۔
پروفیسر محمد طاہر فاروقی (۱۹۰۶ء۔ ۱۹۷۸ء) کا شعبۂ اردو فارسی میں (۱۹۵۱ء۔ ۱۹۵۲ء) صرف ایک سال تقرر رہا ۔’’ سیرت اقبال ‘‘ان کی تحقیق و تنقید کا عمدہ نمونہ ہے ۔ اس میں انھوں نے علامہ اقبال کی سوانح کے ساتھ ان کی شاعری کا جامع اور تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔
شعبۂ اردو فارسی ڈھاکا یونیورسٹی کے پروفیسر عبداللہ کا شمار بنگالی نثر اور اردو نقادوں میں ہو تا ہے ۔ انھوں نے ’’ بنگلا دیشے فارسی ساھیتو ‘‘ ( بنگلہ دیش میں فارسی ادب) کے عنوان سے تحقیق مقالہ بنگلا زبان میں لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ پروفیسر عبداللہ نے ارد و ادب کے شہ پاروں کو بنگلا زبان کے قارئین میں اور اردو داں افراد کو بنگلا مشاہیر قلم کے مفید کارناموں سے رو شناس کرانے کی کامیاب کوشش کی ہے ۔ اس سلسلے میں پروفیسر عبداللہ کی اردو زبان میں لکھی ہوئی کتاب’’ قاضی نذرالاسلام‘‘اور بنگلا زبان میں لکھی ہوئی کتاب ’’ اقبال کابّے اسلامی بھاب دھارا‘‘ ( اقبال کی شاعری میں اسلامی تفکر ) وغیرہ ان کی مفید کاوش ہے ۔ ان کتابوں کے مضامین ان کی غیر معمولی ناقدانہ صلاحیت کی دلیل ہے۔۱۹۷۱ء سے قبل ڈاکٹر عبداللہ اردو ادب کی تحقیقی سرگرمیوں سے منسلک رہے ۔ ان کے مضامین ماہ نو کراچی ، فاران کراچی، ماہنامہ سیارہ لاہور، ماہنامہ ساقی میں شائع ہوتے رہے ۔ اب ان کا تحقیقی رجحان بنگلا دیش کی تاریخ و ثقافت ہے۔ ان کی تحقیق و تنقید کا احاطہ بہت وسیع ہے ۔ بنگلا اردو انگریزی زبان میں ان کی تقریباً تیس تحقیقی کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ تحقیق و تنقید کے میدان میں اب تک ان کا قلم رواں دواں ہے۔ ان کا اردو اسلوب تحریر مولوی عبدالحق سے متاثر ہے ۔
پروفیسر کلثوم ابوالبشر ۱۹۷۳ء سے ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ فارسی و اردو کے درس و تدریس سے وابستہ ہیں ۔ درسی مصروفیات کے پہلو بہ پہلو وہ اردو ، فارسی زبان و ادب کی تحقیق و تنقید کے مفید خدمات انجام دے رہی ہیں ۔ وہ ایک با شعور محققہ کہلانے کی مستحق ہیں ۔ پروفیسر کلثوم نے ’’ ڈاکٹر عندلیب شادانی : حیات اور کارنامے‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ سپر د قلم کر کے بمبئی یونیورسٹی سے ڈاکٹریٹ کی ڈگر ی حاصل کی ۔ ان کی تنقید میں رواداری ہے ، تلخی نہیں۔ ان کے متعدد مضامین بنگلادیش، بھارت و پاکستان کے معیاری جرائد میں شائع ہوئے ۔ انھوں نے ڈھاکا یونیورسٹی کے کتب خانے میں پڑے ہوئے بیشتر اردو فارسی کے مخطوطات کو اپنی قلمی کاوشوں سے منظر عام پر لا کر قابلِ قدر خدمات انجام دیں۔ ان کی تحقیقی خدمات جاری ہیں۔
پروفیسر ام سلمیٰ ، شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی ۱۹۷۴ء سے منسلک ہیں۔ انھوں نے ’’ بنگلا دیش کے فارسی و اردو ادب میں تاریخی ما خذ( انیسویں صدی میں) ‘‘کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔یہ مقالہ بنگلا دیش میں انیسویں صدی کی سماجی ، سیاسی ، ادبی و ثقافتی زندگی کی معلومات کے لئے دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے ۔ ؎ ۲۱ اس کے علاوہ انھوں نے اردو فارسی ادب سے منسلک متعدد تحقیقی مضامین بھی سپرد قلم کئے جو بنگلا پاک و بھارت کے موقر جریدوں میں شائع ہوئے ۔ موصوفہ میں تحقیق و تفتیش کا مادہ بدرجۂ اتم موجود ہے ۔ ان کا ناقدانہ لہجہ نرم اور دوستانہ ہے ۔ پروفیسر ام سلمیٰ کی ایک ناقدانہ کاوش’’ علامہ اقبال اور قاضی نذرالاسلام ‘‘ کتابی شکل میں زیر طبع ہے۔ ان کی تحقیقی کوشش رواں دواں ہے ۔
مذکورہ شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی کے تحقیقی خدمات میں راقمہ کا نام بھی لیا جا سکتا ہے ۔ راقمہ نے ’’ بنگلا دیش میں اردو ادب ( ۱۹۴۷ء ۔ تا ۱۹۹۰ء) ‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے (۲۰۰۳ء) میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی ۔ ایک مرتب کردہ انتخاب ’’ آتش و گل‘‘ ( قاضی نذرالاسلام کی نظموں، گیتوں، افسانوں اور ڈرامہ کے منتخب تراجم) نذرل انسٹی ٹیوٹ ڈھاکا سے ۲۰۰۶ء میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ راقمہ کی تحقیقی کتاب ’’ اردو بھاشائے نذرل چرچا( اردو زبان میں نذرل چرچا) نذرل انسٹی ٹیوٹ سے ۲۰۰۱ء میں اشاعت پذیر ہوئی ۔ اس کے علاوہ راقمہ کے متعدد تحقیقی مضامین بھی موقر جریدوں میں شائع ہوتے آرہے ہیں ۔
محترمہ زینت آراشیرازی ، ڈھاکا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو میں تعلیمی مصروفیات کو انجام دیتے ہوئے بنگلہ و اردو زبان میں تحقیقی مضامین بھی سپرد قلم کرتی رہی ہیں ۔ ڈھاکا کا شیعہ شیمپر و دائر سنسکرتی و اردو فارسی شاہیتے ابدان’’ ڈھاکے میں فرقہ شیعہ کی ثقافت و فارسی اردو ادب میں خدمات‘‘ عنوان پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہی ہیں ۔ ان کا تحقیقی پروگرام اب تکمیل کے مراحل میں ہے ۔
مذکورہ شعبے کے استاد ڈاکٹر جعفر احمد بھوئیاں نے ’’ احسن احمد اشکیر جیبوں وکرمو ‘‘ (احسن احمد اشک کی سوانح حیات اور کارنامے) کے عنوان سے بنگلا زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر پی ایچ ڈی کی سند لی ۔ انھوں نے متعدد مضامین بھی سپرد قلم کئے ۔
ڈاکٹر محمود الاسلام نے پروفیسر ام سلمیٰ کی نگرانی میں ’’ اردو ادب کی سر پرستی میں انگریز افسروں کا حصہ اور اردو ادب پر انگریزی ادب کا اثر‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر شعبۂ فارسی و اردو ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔
راجشاہی یونیورسٹی ،شعبۂ السنہ کے پروفیسر ڈاکٹر کلیم سہسرامی کا شمار بنگلہ دیش کے ممتاز نقادان ادب میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے شعبۂ السنہ، راجشاہی یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے متعدد تنقیدی مضامین ارد و فارسی زبان میں سپرد قلم کئے ۔ وہ تنقید میں اپنے استاد ڈاکٹر عندلیب شادانی اور ڈاکٹر شوکت سبزواری سے متاثر ہیں ۔ ان کی تنقیدی تصنیفات ’’ روایت در روایت‘‘ ۲۲ ،’’ بنگال میں غالبؔ شناسی‘‘ ۲۳، ’’ معائر بنگال‘‘ ۲۴ ،’’ خدمت گزاران فارسی در بنگلا دیش ‘‘ بنگلا دیش کے قومی ورثہ کے شامل رہنے کے مستحق ہیں ۔ حق گوئی و سچائی ان کی تنقیدی شان ہے ۔ ان کی تنقید عملی تنقید کی مترادف کہی جا سکتی ہے ۔ کلیم سہسرامی (۱۹۳۰ء ۲۰۰۶ء) نے ایک مدت علیل رہنے کے بعد ۲۰ نومبر ۲۰۰۶ء کو اپنی بیٹی ارم کی رہائش گاہ پر ومیمن سنھ میں وفات پائی اور وہیں سپرد خاک ہوئے ۔
پروفیسر ڈاکٹر عبدالحق کا شمار بنگلہ دیش کے بنگالی نژاد محققین میں ہوتا ہے ۔ موصوف کا تقرر لیکچرر کی حیثیت سے راجشاہی کالج میں ہوا ۔ بعد میں وہ راجشاہی یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ میں درس و تدریس سے منسلک ہو گئے ۔ ۱۹۶۱ء میں انھوں نے ’’ فارسی شاعری کا اثراردو شاعری پر‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ان کا یہ مقالہ اردو فارسی تشنگانِ ادب کے لئے نہایت مفید ہے ۔ یہ مقالہ ڈھاکا یونیورسٹی کے کتب خانہ میں محفوظ ہے ۔ اس میں انھوں نے اٹھارہویں صدی سے انیسویں صدی تک اردو اصنافِ سخن پر فارسی کے اثرات کا سیر حاصل جائزہ پیش کیا ہے ۔ موصوف ۱۹۶۴ء میں راجشاہی سے ڈھاکا آتے ہوئے ہیلی کاپٹر کے ہوائی حادثے میں جاں بحق ہوئے ۔
مذکورہ یونیورسٹی کے شعبۂ السنہ کے پروفیسر ڈاکٹر شمیم خان نے مولانا عبیداللہ عبیدی سہروردی کی خود نوشت سوانح عمری کا مخطوطہ ( داستان عبرت بار)’’ تصحیح انتقادی داستان عبرت بار‘‘ کے عنوان سے فارسی زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر تہران یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سندحاصل کی ۔ پروفیسرشمیم خان وقتاً فوقتاً اردو میں بھی مضامین سپرد قلم کرتے رہے ہیں ’’ مولانا عبیداللہ عبیدی کی اردو شاعری پر ایک نظر‘‘ ،’’ علامہ شبلی‘‘ وغیرہ ان کے اچھے مضامین ہیں ۔
ڈاکٹر حسین احمد کمالی نے’’ سر سید احمد خاں اور ان کی علمی خدمات‘‘ کے عنوان سے بنگلہ زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر راجشاہی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ حسین احمد کمالی میں تفتیش اور تحقیق کا مادہ اچھا ہے ۔ بنگلہ دیش گو اردو معلم کی حیثیت سے ان کاکارنامہ قابل ذکر ہے ۔ انھوں نے اردو میں بھی مضامین لکھنے کی سعی کی ۔ ڈاکٹر حسین احمد کمالی شعبہ السنہ راجشاہی یونیورسٹی میں درس و تدریس کے فرائض انجام دیتے ہوئے مضمون نگاری سے بھی دلچسپی رکھتے ہیں ۔
راجشاہی یونیورسٹی کے ایسوسیٹ پروفیسر ڈاکٹر لطیف احمد نے (۱۹۷۱ء۔ ۱۹۹۰ء) ’’ بنگال میں اردو صحافت (۱۹۰۱ء۔ ۱۹۷۰ء) ایک تحقیقی جائزہ‘‘ کے عنوان سے انگریزی زبان میں تحقیقی مقالہ لکھ کر راجشاہی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی سند لی۔ اس کے علاوہ ان کے متعدد تحقیقی مضامین موقر جرائد میں شائع ہوئے ۔ ڈاکٹر لطیف احمد کا فطری رجحان افسانہ نگاری کی طرف مائل ہے ۔ لطیف احمدکی اسلوب زبان بڑی پر لطف اور با محاورہ ہے ۔ وہ اپنے مضامین میں تنقید کے خشک و کار دار احاطے سے ہٹ کر غیر ارادی طور پر افسانوی رنگ میں پہنچ جاتے ہیں ۔ تاہم ان کی تنقیدی صلاحیت قابل ذکر ہے ۔
ڈھاکا یونیورسٹی اور راجشاہی یونیورسٹی کے اساتذہ کرام کے علاوہ متعدد کالجوں کے نامور اساتذہ اور اردو شعر و ادب سے منسلک دیگراہل قلم نے بھی اردو تحقیق و تنقید کے میدان میں کامیاب خدمات انجام دیئے ۔ وہ حسب ذیل ہیں :
پروفیسر اقبال عظیم (۱۹۱۳ء۔ ۲۰۰۰ء) نے ۱۹۵۱ء سے ۱۹۷۰ء تک سرکاری کالج چاٹگام میں پروفیسر و صدر شعبہ اردو کی ذمہ داری کے علاوہ تحقیق و تنقید کے میدان میں بھی ناقابل فراموش کارنامے انجام دیئے ۔ اردو ارباب قلم میں ان کا تعارف کامیاب معلم، معیاری شاعر اور نامور محقق کی حیثیت سے ہے۔ وہ اپنی ’’ مشرقی بنگال میں اردو ‘‘ ۲۶ (۱۹۵۴ء چاٹگام ) لکھ کرمشہور ہوئے ۔ اس کتاب میں ان کی طبعی رجحان تنقید سے زیادہ تحقیق کی طرف مائل ہے ۔ تا ہم ۴۷۶ صفحات پر مشتمل یہ ضخیم تصنیف اردو ادب کے محققین کے لئے مشعلِ راہ ہے ۔ اس کے علاوہ ’’ سات ستارے‘‘ اور ’’ مشرق‘‘ بھی مصنف کی تحقیقی صلاحیت کا نمونہ ہے ۔ ۲۲ ستمبر ۲۰۰۲ء کو اقبال عظیم نے کراچی میں رحلت فرمائی اور وہیں سپرد خاک کئے گئے۔
وفاراشدی (۱۹۲۶ء ۔۲۰۰۳ء) کا بنیادی میدان تحقیق وتنقید ہے ۔ ۱۹۴۷ء سے ۱۹۴۹ء تک ان کا قیام ڈھاکے میں رہا ۔ بنگال میں اردو ( ۱۹۵۵ء حیدر آباد) ان کی مشہور و معروف کتاب بنگال میں اردو کی تقریباً دو سو سال کی تاریخ پر محیط ہے۔ اس کتاب میں ان کی تفتیش و تحقیق قابل ستائش ہے اس میں تنقید کا فقدان ہے ۔ بقول مصنف اسے تذکر ہ نگاری میں شامل کیاجائے ۔ بلا شبہ یہ کتاب دبستان اردو کے محقق کے لئے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ ’’ سنہرا دیس‘‘ ( ادارہ مطبوعات پاکستان ۱۹۶۴ء) وفا راشدی کا دوسرا اہم کارنامہ ہے۔ یہ سابق مشرقی پاکستان ( بنگلا دیش ) کی تاریخ ،ادبیات، اہم مقامات ، مشاہیر و اولیائے کرام کے بارے میں ایک اہم دستاویز ہے ۔ اس کی ادبی حیثیت اور تاریخی حقیقت کے تناظر میں ایوب خاں کی حکومت نے ۱۹۶۶ء میں وفا راشدی کو بہترین مصنف کی حیثیت سے انعام و اکرام سے نوازا اور توصیفی سند بھی عطا کی ۔ ۲۷ اس کے علاوہ ان کی تنقیدی تصنیفات میں ’’ حیات و حشت‘‘ ،’’ کیفیات غالب‘‘ ،’’ چاند تارے‘‘ ،’’ خالد ایک نیا آہنگ‘‘،’’ میرے بزرگ میرے ہم عصر‘‘ ،’’ مہران نقش‘‘ وغیر ہ کو ان کے تحقیقی و تنقیدی شعور کی مفید سعی کہی جا سکتی ہے ۔
پروفیسر فروغ احمد (۱۹۲۰ء۔ ۱۹۹۴ء) قائد اعظم کالج ڈھاکا میں اردو کے پروفیسر تھے ۔ ۱۹۷۳ء میں لاہورچلے گئے ۔ فروغ کا بنیادی میدان تحقیق و تفیش ہے ۔ ادبی تاریخ ہو یا تنقید وہ اپنے آپ کو اسلامی نظریات کے تابع رکھنے کی کوشش کرتے تھے ۔’’ اسلامی ادب کی تحریک ۔ ایک اجمالی جائزہ ‘‘، ’’ مشرقی پاکستان میں نئے ادبی اور سماجی رجحانات ‘‘، ’’ ساقی کا نذالاسلام نمبر‘‘،’’ بنگلا زبان پر فکر اقبال کا اثر‘‘ وغیرہ ان کی کامیاب ناقدانہ کاوش کہی جا سکتی ہے ۔ ۲۸ فروغ کی تنقید روایتی ہے ۔ ان کا ناقدانہ اسلوب شبلی اور حالی سے متاثر ہے ۔ فروغ کے بیان میں پیچیدگی نہیں ۔ ان کے اسلوب میں سنجیدگی اور سچائی ہے ۔
پروفیسر ہارون الرشید ، جگناتھ کالج ڈھاکا میں اردو کے پروفیسر تھے ۔ ۱۹۸۵ء میں پاکستان ہجرت کر گئے ۔ ہارون الرشید تنقید نگاری کے علاوہ شاعری کا بھی ذوق رکھتے تھے ۔ ان کی تنقید اسلامی و اخلاقی تفکر سے رشتہ جوڑتی ہے ۔ پروفیسر ہارون الرشید کی نگارشات میں مذہبیت غالب رہتی ہے ۔ لیکن انھوں نے ملّا یا وعظ بننا پسند نہیں کیا ۔ ہارون الرشید راقمہ کے سوال نامہ کے جواب میں لکھتے ہیں ۔’’ میرا ذہن کبھی یہ بات قبول کرنے پر آمادہ نہیں رہ سکا کہ ایک شخص اپنے آپ کو مسلمان کہتے اور سمجھتے ہوئے اپنے فکر و عمل یا تحریر و تقریر میں غیر اسلامی رویہ بھی اختیار کر سکتا ہے ۔‘‘
’’ اردو ادب اور اسلام‘‘ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے جس میں نثر، ناول، مختصر افسانہ ، طنز و مزاح کے عنوان سے پانچ ابواب میں اسلامی ادب کو اجاگر کرنے کی کامیاب سعی کی گئی ہے ۔ ان کی تصنیف ’’ محفل جو اجڑگئی ‘‘ ادبی تحقیق کا بہترین نمونہ ہے ۳۰ ’’ سر گذشت آصف‘‘ ، میں مرحوم آصف بنارسی کی سوانح اور کلام پر ناقدانہ اظہار ہے ۔ مصنف کی گراں قدر کتاب ’’اردو کا دینی ادب‘‘ ۲۰۰۶ء میں کراچی سے شائع ہوئی ۔ یہ کتاب ۱۹۵۷ء سے حال تک اسلام پسند مشاہیر قلم کی تحقیق و تنقید کی نشان دہی کرتی ہے ۔
پروفیسر اظہر قادری (۱۹۲۹ء۔ ۲۰۰۳ء) ترقی پسند خیالات کے حامل ادیبوں میں شامل تھے ۔ وہ ڈھاکا میں سینٹ گرے گریزکالج ( ڈھاکا) ہولی کراس کالج (ڈھاکا) میں اردو درس و تدریس سے وابستہ رہے ۔ انقلاب بنگلہ دیش کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔ ۲۰۰۳ء میں کراچی رحلت ہوئی اور وہیں سپرد خاک کئے گئے ۔اردو ادب پروروں میں اظہر قادری نقاد کی حیثیت سے مقبول ہیں ۔ان کی تنقیدی نگارشات کو افادی و علمی حیثیت سے اہم کہا جا سکتا ہے ۔ فکر و فن کے محرکات ۳۱ ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے ۔ بقول شفیق احمد شفیق:
’’ اظہر قادری تنقید کے جدید سائنٹفک اصولوں سے اچھی طرح واقف ہیں ‘‘
بحیثیت مجموعی اظہر قادری کی تنقید عملی و تعمیری کہی جا سکتی ہے ۔ ان کی تنقید ادب کے ساتھ انسانی زندگی کا رشتہ جوڑتی ہے ۔’’ ہندو شعراء بارگاہِ رسول ؐ میں‘‘ فکر و فن کے بنیادی محرکات ، جوش، ایک تجزیاتی مطالعہ وغیرہ ان کے اچھے مضامین ہیں ۔ ان کے علاوہ انگریزی و اردو کے موقر جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔ ان مضامین کے موضوعات اردو، فارسی اور انگریزی ادب سے منسلک ہیں ۔
اردو ارباب قلم میں پروفیسر نظیر صدیقی (۱۹۳۰ء۔ ۲۰۰۱ء) کی شہرت اردو معلم، انشائیہ نگار، نقاداور شاعر کی حیثیت سے ہے ۔ ان کو اردو کے علاوہ انگریزی زبان پر بھی دستگاہ حاصل تھی ۔ اردو لیکچرر کی حیثیت سے ۱۹۵۴ء میں ان کا تقرر قائد اعظم کالج ڈھاکا میں ہوا ۔ ۱۹۶۱ء میں نو ٹرڈم کالج ڈھاکا میں اردو لیکچرر کے عہدے پر بحال ہو ئے ۔ ۱۹۶۹ء میں نو ٹرڈم سے استعفیٰ دے کر اردو کالج کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ذمہ داری سنبھالی ۔ نظیر صدیقی آخر دم تک درس و تدریس کی ذمہ داریاں سنبھالتے رہے ۔ ۳۱ ۲۰۰۱ء میں انھوں نے اسلام آباد میں انتقال کیااور وہیں سپرد خاک کئے گئے ۔
پرفیسر نظیر صدیقی ایک بے باک اور نڈر نقاد تھے ۔’’ شہرت کی خاطر‘‘ ( ڈھاکا ۱۹۶۱ء ) ’’ تعصبات و تاثرات‘‘(ڈھاکا ۱۹۶۲ء)’’ میرے خیال میں ‘‘ ( ۱۹۶۸ء) ان کی ناقدانہ صلاحیت کے عمدہ نمونے ہیں ۔اس زمانے میں ان کی تصنیفات کی بڑی پذیرائی ہوئی ۔ نظیر صدیقی کی کتاب’’ شادانی ایک مطالعہ‘‘ ۱۹۸۵ء میں کراچی سے شائع ہوئی ۔ یہ کتاب اس دور کی ادبی محفل کی جیتی جاگتی تصویر کہی جا سکتی ہے ۔ اس میں تنقید کا فقدان ہے ۔ نقاد کی حیثیت سے نظیر صدیقی ، رشید احمد صدیقی سے متاثر نظر آتے ہیں ۔ تنقید و تحقیق ان کا نشہ تھا ۔ انھوں نے متعدد کتابوں کے دیباچے اور ناقدانہ مضامین بھی سپرد قلم کئے ہیں جو بر صغیر کے موقر جرائد میں شائع ہوتے رہے ۔
شہزاد منظر (۱۹۳۳ء۔ ۱۹۹۷ء) کا تعارف ایک معتبر صحافی ، مقبول افسانہ نگار اور با شعور ناقد کی حیثیت سے ہے ۔ ۱۹۷۱ء تک ان کا قیام ڈھاکے میں رہا ۳۳۔ افسانہ اور تنقید سے متعلق شہزاد منظر کا مطالعہ وسیع تھا ۔
ان کی تنقیدی تصنیفات حسب ذیل ہیں :
’’ رد عمل‘‘ ( مطبوعہ منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۶ء) ’’ علامتی افسانے کے ابلاغ کا مسئلہ‘‘( مطبوعہ منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۶ء)’’ مشرق و مغرب کے چند مشاہیر ادباء‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۹۶ء)’’ جدید اردو افسانہ ہندوستانی ایڈیشن ‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۸۸ء)’’ پاکستان میں اردو تنقید کے پچاس سال‘‘ ( پاکستان اسٹڈی سینٹر۱۹۹۶ء ) ’’ غلام عباس : ایک مطالعہ‘‘( منظر پبلی کیشن کراچی۱۹۹۱ء)اس کے علاوہ ان کے متعدد تنقیدی مضامین روز نامہ عصر جدید( کلکتہ )روز نامہ آزاد ہند (کلکتہ) روز نامہ وطن ( ڈھاکا) روز نامہ پاسبان( ڈھاکا) سہ ماہی ماہ نو ( کراچی) وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ۔
شہزاد منظر کی زندگی کا بڑا حصہ مشرق و مغربی بنگال میں گذرا ۔ یہی وجہ ہے کہ افسانہ ہو یا تنقید وہ اپنی تحریر کا رشتہ بنگال سے جوڑتے آئے ہیں ۔ شہزاد نے تنقید کرتے ہوئے اپنے زمانے کے اہم ترین موضوعات پر قلم اٹھایا ْ بڑی تحقیق و تفتیش کے بعد غیر جانبدار رہ کر اپنی رائے پیش کرنے کی کوشش کی۔ ان کی تنقید میں ترقی پسند نظریات اور روایت پرستی کی ہم آہنگی ملتی ہے ۔ وہ دونوں میں اعتدال کے خواہاں رہے ۔ ان کے بیشتر مضامین عملی و تعمیری تنقید کے زمرے میں شامل ہیں ۔
محمد عبدالجلیل بسملؔ کا تعارف ایک محقق کی حیثیت سے ہے ۔ انھوں نے سہلٹ میں اردو ۳۳۶ صفحات پر مشتمل ایک تحقیقی کتاب سپرد قلم کر کے بنگلہ دیش کے دبستانِ اردو کے ادبی ذخیرے میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔ یہ کتاب انجمن پریس کراچی سے ۱۹۸۱ء میں شائع ہوئی ۔ بنگلہ دیش میں اردو ادب کی تاریخ میں تنقید و تحقیق کے لیے بسمل کی کتاب ’’ سہلٹ میں اردو‘‘ کلیدی حیثیت رکھتی ہے ۔ یہ تاریخی اور افادی دونوں حیثیت سے معتبر ہے۔ بسملؔ کی دوسری تحقیقی کتاب ’’ شیخ سید جلال مجرد‘‘ کیلائی کی مختصر سوانح ۹۳ صفحات کی ہے۔ یہ ستارۂ پاکستان پریس ڈھاکا سے۱۹۳۶ء میں شائع ہوئی ۔ اس میں مصنف نے تاریخی واقعات پیش کرتے ہوئے تحقیقی دلائل سے کام لیا ہے ۔ بلا شبہ عبدالجلیل بسمل ایک کامیاب محقق ہیں ۔
مسعود شہر یار ،۱۹۵۸ء سے ۱۹۶۴ء تک ڈھاکا میں انجمن اردو مشرقی پاکستان کے اہم رکن کی حیثیت سے منسلک رہے ۔ انھوں نے ’’ مشرقی پاکستان میں اردو ادب کا وسیع تر جائزہ‘‘ کے عنوان سے مقالہ لکھ کر پنجاب یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی ۳۴ ۔ مسعود کی تنقید جدید اور سائنٹفک ہے ۔ گر چہ ان کے قیام کا عرصہ بنگلا دیش میں مختصر رہا ۔ تا ہم انھوں نے اپنی تنقید و تحقیق کا رشتہ بنگلا دیش کی سر زمین سے جوڑ کر اردو ادب کی تاریخ میں ایک اہم باب بن کر حیات ابدی پا گئے ۔ ان کی یہ کتاب تاریخی، سیاسی اور ادبی حیثیت سے مفید کارنامہ کہی جاسکتی ہے ۔ مسعود کی تنقید تعمیری ہے ۔ وہ ترقی پسند نقادوں میں شمار کئے جاتے ہیں ۔
ڈاکٹر یوسف حسن (۱۹۲۶ء پیدائش) کھلنا میں اپنی تعلیمی درس گاہ ( پرائیویٹ اسکول) سے منسلک ہیں ۔ انھوں نے بنگال میں اردو ( آغاز سے ۱۹۴۷ء تک ) کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر ڈھاکا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی ۔ جس کا صرف ایک حصہ زیور طبع سے آراستہ ہو کر منظر عام پر آچکا ہے ۳۵ ۔ کتاب میں مصنف ناقد سے زیادہ ایک با شعور محقق کہلانے کے مستحق ہیں ۔ ڈاکٹر یوسف حسن کے متعدد تحقیقی مضامین موقر جرائد میں شائع ہوتے آ رہے ہیں ۔ تحقیق و تفتیش میں مصنف بڑی عرق ریزی سے کام لیتے ہیں۔
ڈاکٹر نورالدین (۱۹۲۹ء۔۱۹۹۹ء) کا شمار بنگالی نژاد اردو مصنف میں ہوتا ہے ۔ انھوں نے ’’ اسلامی تصوف اور علامہ اقبال‘‘ کے عنوان سے تحقیقی مقالہ لکھ کر کراچی یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کی ڈگری لی۔ ’’ تاریخ ادبیاتِ اردو حصہ اول حصہ دوم ( مطبوعہ اردو اکیڈمی لاہور ۱۹۹۷ء) ان کی تحقیق و تنقید کا قابل قدرکارنامہ ہے ۔ اس کے علاوہ انھوں نے علامہ اقبال کی سوانح اور شعری خدمات سے متعلق بنگلا زبان میں بھی ایک تحقیقی کتاب ’’ مہا کوی اقبال‘‘ ( عظیم شاعر اقبال) رقم کی۔ ڈاکٹر نورالدین کو بنگلا، اردو او ر انگریزی تینوں زبانوں سے اچھی واقفیت تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے مضامین تینوں زبانوں میں وقتاً فوقتاً شائع ہوتے رہے۔ علامہ اقبال کی فکر تصوف اور کودی سے متعلق انگریزی میں ۶۴ صفحات پر مشتمل کتاب ( ALLAMA IQBAL’S ATTITUDE TO WARD SUFISM AND HI SUNIQUE PHILOSOPHI OF KHUDIS SELF)ٰٓٓایک مفید تحقیقی کو شش ہے ۔
پروفیسر اسد الحق ، کشتیا سرکاری کالج میںدرس و تدریس کے پہلو بہ پہلو تحقیق و تنقید کی خدمات بھی انجام دیتے رہے ۔ ’’ نئی اور پرانی روشنی‘‘ ان کے اردو تحقیقی مضامین کا مجموعہ۱۹۹۶ء میں سبزی باغ پٹنہ ( انڈیا) سے شائع ہوا ۔ ان کا طبعی رجحان تنقید سے زیادہ تحقیق کی طرف مائل ہے ۔’’ نذ رالاسلام ۔ شاعر انقلاب‘‘ مثنوی کی تاریخ ، فلسفہ اقبال کی اساسی قدریں ‘‘ وغیرہ مصنف کے بہترین تحقیقی مضامین ہیں ۔
شفیق احمد شفیق کا تعارف شاعر ، تنقید نگار اور صحافی کی حیثیت سے ہے ۔ موصوف قیام بنگلہ دیش کے بعد کراچی ہجرت کر گئے ۔نقاد کی حیثیت سے شفیق کا درجہ قابل ذکر ہے ۔ گر چہ ان کی تنقید وقتاً فوقتاً تاثراتی اور نظریاتی زمرے میں آجاتی ہے ۔ کیوں کہ انھوں نے زیادہ تر ان فن کاروں یا فن پاروں پر اظہار خیال کیا ہے جن سے وہ کسی نہ کسی انداز سے متاثر ہوئے ۔ مثلاً انھوں نے نظیر صدیقی ، ایوب جوہراور اظہر قادری پر جو رائے ظاہر کی ہے، یہ تاثراتی کہی جا سکتی ہے ۔ تا ہم فیض احمد فیض ، جوش ملیح آبادی ، غلام عباس وغیرہ میں شفیق احمد کی تنقید تعمیری کہی جائے گی۔ انھوں نے فن کار کے مفید پہلو کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ۔ ان کے مضامین کا مجموعہ ’’ اردو ادب مشرقی پاکستان میں ‘‘ ( تنقید و تحقیق) اور تنقید (مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی ۱۹۹۱ء) ادراک( تنقید) ان کے مضامین کا مفید مجموعہ ہے ۳۷ ۔
احمد الیاس کا تعارف بنگلا دیش میں کہنہ مشق شاعر ، مضمون نگار اور صحافی کی حیثیت سے ہے۔ ان کا بنیادی میدان شاعری ہے ۔ طرز تحریر میں وہ ترقی پسند خیالات کے حامی ہیں لیکن روایت سے منحرف نہیں ۔ وہ وقتاً فوقتاً تحقیقی مضامین ، کتابوں کے دیباچے بھی سپرد قلم کرتے آرہے ہیں ۔ خصوصاً بنگلہ دیش میں اردو شعر و ادب کے محققین کو ان کے مضامین سے مفید اطلاعات حاصل ہوتی ہیں ۔ احمد الیاس کے مضامین تاریخی، تحقیقی وافادی حیثیت سے قابل قبول ہیں۔بڑی نا سپاسی ہوگی اگر جناب شعیب عظیم کی تحقیقی و تنقیدی خدمات کا ذکر نہ کیاجائے ۔ شعیب عظیم بنگلا دیش میں اردو کے ایک بے لوث خادم کہے جاتے ہیں ۔ ان کا مطمح نظر تعمیر ادب ہے ، تخریب ادب نہیں ۔ وہ ادبی تحقیق میں بڑی عرق ریزی سے کام لیتے ہیں ۔ تنقید کے معاملے میں شعیب عظیم کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دوستانہ لہجے میں فن کار کو اس کی خامیوں سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کے مضامین بر صغیر کے متعدد جرائد میں شائع ہوتے آرہے ہیں ۔
۱۹۴۷ء کے بعد سے حال تک شعر و ادب کی سرگرمیوں سے متعلق ان کی معلومات وسیع ہیں ۔ اردو محققین کو ان سے بڑی اچھی ہدایت ملتی رہیں ۔ رسالہ’’ عقاب‘‘ (ڈھاکا) سہ ماہی ’’خرام‘‘(ڈھاکا) مصور ماہنامہ ’’ دلربا‘‘ ایک تفصیلی جائزہ وغیرہ ان کی تحقیق و تدقیق کی ایک حد تک کامیاب سعی ہے ۔بنگلا دیش میں ۱۹۴۷ء سے تا حال تک اردو تحقیق و تنقید کی سر گرمیوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے مجموعی طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ قیام بنگلا دیش کے بعد اردو کے نا مساعد حالات میں بھی محققین و ناقدین کی یہ دلچسپی اس بات کی ضامن ہے کہ مستقبل میں اردو تحقیقی کاموں کی اچھی روایت باقی رہے گی ۔
منابع و ماخذ :
۱۔ عبدالغفور نساخ ۔ تذکرۃ المعاصرین، کلکتہ ۱۸۰۹ء؁
۲۔ ایضاً تذکرۂ سخن شعرا ء، نول کشور لکھنؤ ۱۸۷۴ء؁
۳۔ منشی رحمن علی طیش تواریخ ڈھاکا ، ضلع آرہ ، بہار ۱۹۱۰ء؁
۴۔ حکیم حبیب الرحمن، آسودگانِ ڈھاکا ۔ منظر پریس ، ڈھاکا ۱۹۴۶ء؁
۵۔ حکیم حبیب الرحمن، ثلاثہ عسالہ ۔ لاہور ۔۱۹۹۵ء؁
۶۔ ڈاکٹر عندلیب شادانی، دور حاضر اور اردو غزل گوئی ، شیخ غلام علی اینڈ سنز ۱۹۵۱ء؁
۷۔ ایضاً تحقیق کی روشنی میں ۔ شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور ۱۹۶۳ء؁
۸۔ ڈاکٹر کینز بتول، بنگلہ دیش میں اردو ادب ( ۱۹۴۷ء تا ۱۹۹۰ء) غیر مطبوعہ تحقیقی مقالہ
۹۔ ڈاکٹر شوکت سبزواری ، اردو زبان کا ارتقاء، گہوارۂ ادب ڈھاکا ۱۹۵۶ء؁
۱۰۔ ڈاکٹر کینز بتول، مذکورہ بالا۔
۱۱۔ ڈاکتر آفتاب احمد صدیقی ، گلہائے داغ، مکتبہ عارفین پریسڈھاکا۱۹۵۷ء؁
۱۲۔ایضاً صہبائے مینائی ، مطبوعہ ڈھاکا ۱۹۵۸ء؁
۱۳۔ ایضاً شبلی ایک دبستان ، مکتبہ عارفین پریس ڈھاکا،
۱۴۔ڈاکٹر کنیز بتول ۔ متذکرہ بالا ص ۱۵۰
۱۵۔ ڈاکٹر حنیف فوق ، مثبت قدریں ، مطبع پاسبا ن ڈھاکا۱۹۵۸ء ص ۷۵
ٍ۱۶۔ ایضاً متوازن نقوش ، نفیس اکیڈمی اردو بازار کراچی ۱۹۸۹ء؁
۱۷۔ارشد کا کوی ، ماہنامہ ندیم ڈھاکا ، جون و جولائی ۱۹۶۰ء؁
۱۸۔ پروفیسر ہارون الرشید ، محفل جو اجڑ گئی ، زین پبلی کیشن کراچی ۲۰۰۲ء؁ ص ۱۷۹
۱۹۔پروفیسر محمد عبداللہ ۔ قاضی نذرالاسلام۔ ڈھاکا ۱۹۷۱ء؁
۲۰۔ پروفیسر ڈاکٹر کلثوم ۔ متذکرہ بالا
۲۱۔ پروفیسر ام سلمیٰ ۔ بنگلہ دیش کے فارسی و اردو ادب میں تاریخی ما خذ، انیسویں صدی میں غیر مطبوعہ تحقیقی مقالہ
۲۲۔پروفیسر کلیم سہرامی ، روایت در روایت ( تنقید و تحقیق) نقاد پبلیشر عالم گنج ،پٹنہ ۱۹۹۱ء؁
۲۳۔ پروفیسر کلیم سہرامی ، بنگال میں غالب شناسی ، اقبال روڈڈھا کہ۱۹۹۰ء؁
۲۴۔ پروفیسر کلیم سہرامی ، مآثر بنگال ۔ پھلواری شریف، پٹنہ ۱۹۳۰ء؁
۲۵۔ پروفیسر اقبال عظیم ۔ مشرقی بنگال میں اردو ۔ چاٹگام ۱۹۵۴ء؁
۲۶۔ ڈاکٹر وفا راشدی کی خود نوشت کوائف۔ راقمہ کے سوال نامے کے جواب میں جو انھوں نے فراہم کئے۔
۲۷۔ ماہنامہ سیارہ لا ہور ۔ فروغ نمبر ۱۹۹۵ء؁
۲۸۔ پروفیسر ہارون الرشید ۔ اردو ادب اور اسلام ۔ اسلامک پبلی کیشنز لمٹیڈ لاہور ۱۹۷۰ء؁
۲۹۔پروفیسر ہارون الرشید۔ محفل جو اجڑ گئی ۔ زین پبلی کیشنز کراچی ۲۰۰۲ء؁
۳۰۔ پروفیسر اظہر قادری ۔ فکر و فن کے محرکات ۔ آہنگ نو کراچی ۲۰۰۱ء؁
۳۱۔ پروفیسر نظیر صدیقی ۔سو یہ ہے میری زندگی ۔ خود نوشت سوانح حیات ۱۹۹۱ء؁
۳۲۔ شہزاد منظر کی خود نوشت کوائف راقمہ کے سوال نامے کے جواب میں انھوں نے فراہم کئے ۔
۳۳۔ مسعود شہر یار ۔ مشرقی پاکستان میں اردو ادب کا وسیع تر جائزہ، کتابیات پریس لاہور ۱۹۹۹ء؁
۳۴۔ ڈاکٹر یوسف حسن ۔ بنگال میں اردو ( ۱۹۴۷ء؁ تک)
۳۵۔ اسدالحق شیدائی ، نئی اور پرانی روشنی ، تنقید و تحقیق پٹنہ ۱۹۹۶ء؁
۳۶۔ شفیق احمد شفیق ، ادراک: مطبوعہ ایجوکیشنل پریس کراچی
mmm

Muqadma E Hali Aur Ghalib Shanasi

Articles

مقدمۂ حالی اور غالب شناسی

پروفیسر یونس اگاسکر

حالی نے ’مقدمۂ شعر و شاعری‘ میں ’شاعری کے لیے کیا کیا شرطیں ضروری ہیں‘ کے زیر عنوان سب سے پہلے تخیل کا ذکر کیا ہے اور بتایا ہے کہ جس شاعر میں قوت متخیلہ اعلا درجے کی ہوگی، اس کی شاعری اعلا درجے کی ہوگی۔ اپنی قوتِ متخیلہ کے زور پر شاعر جو نتیجے نکالتا ہے، وہ منطق کے قاعدوں پر منطبق نہیں ہوتے لیکن جب دل اپنی معمولی حالت سے قدرے بلند ہو جاتا ہے تو وہ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔
اپنی بات میں تیقن پیدا کرنے کے لیے حالی نے فیضی کے درجِ ذیل فارسی شعر کی مثال دی ہے:
سخت است سیاہیِ شبِ من
لختے ز شب است کوکبِ من
(یعنی میری رات اتنی زیادہ تاریک ہے کہ میری قسمت کا ستارہ بھی اس رات ہی کا ایک ٹکڑا معلوم ہوتا ہے۔)
اس شعر کی توجیہہ میں حالی فرماتے ہیں:
’’رات کی تاریکی سب کے لیے یکساں ہوتی ہے، پھر ایک خاص شخص کی رات سب سے تاریک کیوں کر ہوسکتی ہے؟ اور تمام کواکب ایسے اجرام ہیں جن کا وجود بغیر روشنی کے تصور میں نہیں آسکتا۔ پھر ایک کوکب ایسا سیاہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اسے کالی رات کا ایک ٹکڑا کہا جا سکے۔ مگر جس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب ناممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں۔‘‘
عرض کرنا چاہوں گا کہ فیضی کے مذکورہ شعر کی روشنی میں حالی کی راے کو جوں کا توں تسلیم کرنے میں تردّد ہوتا ہے۔ اس حقیقت کو حالی نے بھی تسلیم کیا ہے کہ تخیل کی ڈور مشاہدات و تجربات سے بندھی ہوتی ہے۔ چناں چہ قوتِ متخیلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وہ ایک ایسی قوت ہے کہ معلومات کا ذخیرہ جو تجربے یا مشاہدے کے ذریعے سے ذہن میں پہلے سے مہیا ہوتا ہے، یہ اس کو مکرر ترتیب دے کر ایک نئی صورت بخشتی ہے اور پھر اس کو الفاظ کے ایسے دل کش پیراے میں جلوہ گر کرتی ہے جو معمولی پیرایوں سے بالکل یا کسی قدر الگ ہوتا ہے۔‘‘
اس توضیح کی روشنی میں فیضی کا شعر ایک بار پھر ملاحظہ کیجیے:
سخت است سیاہیِ شبِ من
لختے ز شب است کوکبِ من
اوّل تو یہ شعر فیضی کے احوال سے میل نہیں کھاتا کہ اسے ’’جس عالم میں شاعر اپنے تئیں دکھانا چاہتا ہے وہاں یہ سب ناممکن باتیں ممکن بلکہ موجود نظر آتی ہیں، کے ذیل میں رکھا جاسکے۔ دوسرے یہ کہ اس شعر میں تجربے یا مشاہدے سے زیادہ فارسی اور اُردو شاعری میں مروّج تاریکیِ شب کے تصور کو بنیاد بنا کر محض مبالغے کی مدد سے بات کو دل چسپ بنانے کی کوشش کی گئی ہے جسے معمولی پیرایوں سے الگ پیرایہ سمجھنا بھی محال ہے۔
اس شعر کے مقابلے میں غالب کا یہ شعر جسے حالی نے قابل اعتنا نہیں سمجھا ہے، حالی کے موقف کی بھرپور کفایت کرتا ہے کہ اس میں مشاہدے کے توسط سے حاصل کردہ ذخیرۂ معلومات کو دل کش اور منفرد پیرایے میں اس طرح پیش کیا گیا ہے کہ دل و دماغ دونوں کے لیے تسکین و راحت کا سامان مہیا ہو جاتا ہے:
کیا کہوں تاریکیِ زندانِ غم، اندھیر ہے
پنبہ نورِ صبح سے کم جس کے روزن میں نہیں
غالب کے ہاں منطقی ربط بھی ہے کیوں کہ زنداں کے روزنوں میں روئی کے گالے ٹھنسے ہونے سے روشنی کے دُخول کا امکان ہی نہیں رہا۔ چناں چہ ایک گہری تاریکی کا عالم ہے جس میں سفید روئی کے گالوں پر سپیدۂ سحر کا گمان ہونا قطعی فطری تاثر ہے۔ اس کے علاوہ ’اندھیر ہے‘ کے فقرے میں لفظی رعایت کے باوجود بیان کی دل کشی پائی جاتی ہے کہ یہ ٹکڑا متکلم کی بے بسی و ناامیدی کا اشاریہ بھی ہے۔
شاعری کے لیے دوسری شرط حالی نے ’کائنات کا مطالعہ‘ بتائی ہے۔ فرماتے ہیں:
’’اگر چہ قوتِ متخیلہ اس حالت میں بھی جب کہ شاعر کی معلومات کا دایرہ تنگ اور محدود ہو، اس معمولی ذخیرے سے کچھ نہ کچھ نتائج نکال سکتی ہے ۔ لیکن شاعری میں کمال حاصل کرنے کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ نسخۂ کائنات اور اس میں سے خاص کر نسخۂ فطرتِ انسانی کا مطالعہ نہایت غور سے کیا جائے۔‘‘
اس شرط کی تکمیل کی مثال کے طور پر حالی نے غالب کا ایک اُردو اور ایک فارسی شعر پیش کیا ہے۔ ملاحظہ ہو:
بوے گل ، نالۂ دل ، دودِ چراغِ محفل
جو تری بزم سے نکلا سو پریشاں نکلا
بگذر ز سعادت و نحوست کہ مرا
ناہید بہ غمزہ کشت و مریخ و بقہر
عرض کرنا چاہوں گا کہ غالب کے ان دو شعروں کے مضمون اور انداز پیشکش میں کائنات یا فطرت انسانی کے مطالعے سے زیادہ تخیل کی مدد سے اپنے تجربے اور مشاہدے کو شعر میں ایک نئی ترتیب اور نئی صورت میں پیش کر کے اپنا پسندیدہ نتیجہ اخذ کرنے کی سعی نظر آتی ہے۔
شاعر کو پتا ہے کہ بوے گل ، نالۂ دل اور دودِ چراغِ محفل ان تینوں میں بکھرنے یا پریشان ہونے کی صفت مشترک ہے۔ لیکن وہ اسے معشوق کی بزم طرب سے ناکام و نامراد لوٹنے کا نتیجہ بتاتا ہے ۔ یعنی ایک عمومی مشاہدے کو ایک خصوصی صورت حال سے جوڑتا ہے۔ بوے گل اور دودِ چراغ محفل کی مثال کو اپنے نالۂ دل کے ساتھ شامل کر کے معشوق کی بے اعتنائی و بے رخی کو جو فارسی و اُردو کی غزلیہ شاعری کے مسلمات میں شامل ہے، مزید اجاگر کرتا ہے۔ میرے نزدیک اس شعر کو مطالعۂ کاینات کے ذیل میں رکھنا دشوار ہے۔
غالب نے اپنے فارسی شعر میں عام تصور کے مطابق سعادت و نحوست کے حامل ستاروں ناہید یعنی زہرہ و مریخ دونوں کو اپنے لیے ناموافق و ناسازگار بتایا ہے کیوں کہ قسامِ ازل نے اس کی تقدیر میں صعوبت و کلفت لکھ دی ہے۔ ایسے میں ناہید کاغمزہ بھی وہی کام کرتا ہے جو مریخ کے قہر سے وابستہ سمجھا جاتا ہے ۔ کیوں کہ بربادی و ستم رانی کا شکار ہونا تو متکلّم کا مقدر ہے۔
غالب نے اپنے ایک اُردو شعر میں اسی خیال کو دوسرے لفظوں میں اس طرح باندھا ہے:
میرے غم خانے کی قسمت جب رقم ہونے لگی
لکھ دیا من جملۂ اسبابِ ویرانی مجھے
حالی نے مطالعۂ کائنات کی گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے شاعر کے لیے ضروری قرار دیا ہے کہ وہ کائنات میں گہری نظر سے ان خواص و کیفیات کا مطالعہ کرنے کے بعد جو عام آنکھوں سے مخفی ہوں، مشق و مہارت سے مختلف چیزوں میں متحد اور متحد چیزوں سے مختلف خاصیتیں اخذ کر کے انھیں اشعار میں ڈھالے۔ غالب کے مذکورۂ بالا دونوں شعروں سے اس شرط کی تکمیل ہوتی نظر نہیں آتی کیوں کہ ان میں عام آنکھوں سے مخفی خواص و کیفیات کی بجائے معلوم حقایق اور فرد کے ذاتی تاثرات جھلکتے ہیں۔
حالی نے میر ممنون کا یہ شعر متحد اشیا سے مختلف خاصیتیں استنباط کرنے کی مثال کے طور پر پیش کیا ہے:
تفاوت قامتِ یارو قیامت میں ہے کیا ممنوں
وہی فتنہ ہے لیکن یاں زرا سانچے میں ڈھلتا ہے
یعنی قامت معشوق اور قیامت دونوں فتنہ ہونے میں تو متحد ہیں مگر فرق یہ ہے کہ فتنۂ قیامت سانچے میں ڈھلا ہوا نہیں ہے۔
عرض ہے کہ میر ممنون نے قامت یار کے مسلمہ تصور کو قیامت سے متعلق عقیدے سے جوڑ کر قامت یار کو سانچے میں ڈھلا ہونے کے سبب نہایت قابل قبول و لایق ستایش بتایا ہے۔ زور تخیل اور حسن بیان کے حامل اس دل کش شعر کو مطالعۂ کائنات کی بحث میں شامل کرنا، موزوں نہیں معلوم ہوتا۔ اس شعر کو معشوق کی صفات کی تحسین سے متعلق گفتگو میں شامل کرنا چاہیے۔
مقدمے کے نصفِ دوم میں حالی نے غزل، قصیدہ اور مثنوی پر بہ تفصیل گفتگو کی ہے اور ان تینوں اصنافِ سخن کی خوبیوں اور خامیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے متقدمین و متاخرین شعرا کے تخلیقی کارناموں کا بھی تنقیدی محاسبہ کیا ہے۔ اس مضمون میں غالب کے غزلیہ اشعار پر حالی کے تنقیدی کلمات سے متعلق گفتگو کرنی مقصود ہے۔ متقدمین کے ذریعے غزل میں باندھے گئے مضامین کو متاخرین شعرا نے کس طرح اپنایا اور ان میں کیا اضافے کیے، اس پر بحث کرتے ہوئے حالی نے شفائی صفاہانی کا ایک شعر نقل کرتے ہوئے لکھا ہے کہ غالب نے اسی شعر سے قصداًیا بلا قصد خیال اخذ کیا ہے اور بہ قول حالی
’’اس مضمون کو اصل خیال کے باندھنے والے سے بالکل چھین لیا ہے۔‘‘

فارسی کا شعر ملاحظہ کیجیے:
مشاطہ را بگو کہ بر اسبابِ حسنِ دوست
چیزے فزوں کند کہ تماشا بہ ما رسید
یعنی ہماری پسند کے لیے معشوق کا روز مرہ کا سامانِ آرایش کافی نہیں ہے، مشاطہ کو چاہیے کہ اس میں کچھ اور اضافہ کرے کہ اس کا نظارہ کرنے کی نوبت ہم تک آپہنچی ہے۔ حالی نے غالب کو اس بات کا کریڈٹ دیتے ہوئے کہ انھوں نے اس مضمون کو بہت بلندی عطا کی ہے، نواب تجمل حسین خاں والیِ باندہ کی مدح میں کہے گئے اس شعر کو نقل کیا ہے:
زمانہ عہد میں ہے اس کے محو آرایش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے
حالی نے اس شعر کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے :
مرزا نے ممدوح کو ایک ایسے کمال کے ساتھ متصف کیا ہے جو تمام کمالات کی جڑ ہے۔ یعنی وہ ہر چیز کو کامل تر اور افضل تر حالت میں دیکھنا چاہتا ہے اس لیے ہر شئے اپنے تئیں کامل تر حالت میں اس کو دکھانا چاہتی ہے اور اس سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ اگر یہی حال ہے تو شاید آسمان کی زیب و زینت کے لیے اور ستارے پیدا کیے جائیں گے۔‘‘
ہمیں حالی کی شرح پڑھ کر ان کی سخن فہمی اور ذہنی رسائی پر ایمان لانا ہی پڑتا ہے۔ مگر غالب کو شفائی صفا ہانی کا خوشہ چیں بتانے پر سخت حیرت بھی ہوتی ہے۔کیوں کہ شفائی کا مضمون غالب کے مضمون سے کم تر ہی نہیں مختلف بھی ہے۔ شفائی نے اپنے ذاتی معیار حسن کی تعریف کی ہے جب کہ غالب اپنے ممدوح کی اعلا ظرفی و تکمیل پسندی کی مدح کر رہے ہیں۔ معشوقِ ازلی کے سجنے سنورنے کا مضمون بھی نیا نہیں ہے۔ اور اس کے لیے اسے کسی مشاطہ کی ضرورت نہیں ہوتی۔ خود غالب کے ہاں اس کی گونج سماعت فرمائیں۔ غالب کہتے ہیں:
آرایشِ جمال سے فارغ نہیں ہنوز
پیشِ نظر ہے آئینہ دایم نقاب میں
شفائی نے مشاطہ کا ذکر کر کے معشوق ازلی کو معشوق مجازی میں بدل دیا ہے جس سے شعر ادنا درجے کا معلوم ہونے لگا ہے۔ جب کہ زمانے کا نواب تجمل حسین خاں کے لیے محو آرایش ہونا، اس مضمون کو ایک نئی جہت دے رہا ہے۔
غالب کے درج ذیل شعر کے تعلق سے بھی حالی کا کہنا ہے کہ غالب نے عرفی شیرازی کے مضمون کو دوسرے لباس میں جلوہ گر کیا ہے۔ شعر ملاحظہ ہو:
محرم نہیں ہے تو ہی نوا ہاے راز کا
یاں ورنہ جو حجاب ہے پردہ ہے ساز کا
حالی کی رائے میں غالب نے عرفی شیرازی کے اس شعر سے اخذِ مضمون کیا ہے:
ہر کس نہ شناسندۂ راز ست وگرنہ
ایں ہا ہمہ راز است کہ معلوم عوام است
حالی کے نزدیک:
’عرفی کا یہ شعر آب زر سے لکھنے کے قابل ہے اور اس جس اسلوب میں کہ یہ خیال اس سے ادا ہوگیا ہے، اب اس سے بہتر اسلوب ہاتھ آنا دشوار ہے۔
اس کے بعد غالب کی وکالت میں کہتے ہیں:
’’مرزا کی جدّت اور تلاش بھی کچھ کم تحسین کے قابل نہیں ہے کہ جس مضمون میں مطلق اضافے کی گنجایش نہ تھی، اس میں ایسا لطیف اضافہ کیا ہے جو باوجود الفاظ کی دل فریبی کے لطفِ معنی سے بھی خالی نہیں ہے۔‘‘
اخیر میں کہتے ہیں:
عرفی کا یہ مطلب ہے کہ جو باتیں عوام کو معلوم ہیں، یہی در حقیقت اسرار ہیں۔ مرزا یہ کہتے ہیں کہ جو چیزیں مانع کشفِ راز معلوم ہوتی ہیں، یہی در حقیقت کاشفِ راز ہیں۔
اب حالی سے یہ کون دریافت کرے کہ حضرت’ جو باتیں عوام کو معلوم ہیں، یہی در حقیقت اسرار ہیں‘ اور ’یہی در حقیقت کاشفِ راز ہیں‘ میں کون سی معنوی مناسبت ہے جس کی بنا پر آپ نے غالب کو عرفی شیرازی کے شعر سے مضمون اُڑا لینے کا مرتکب ٹھہرایا ہے؟
اور یہ بھی کہ جو راز معلوم عوام ہوں وہ بھلا اسرار کیوں کر ٹھہرائے جائیں گے؟
عرفی کے شعر کا معنوی تضاد خود اُن کے شعر کو سبک ٹھہرانے کے لیے کافی ہے۔
اور جہاں تک غالب کے شعر کا سوال ہے اس کا ایک ایک لفظ معنویت سے پر اور پردۂ ساز کی ترکیب غالب کی انفرادیت اوراختراع پسند طبیعت پر دال ہے۔ موسیقی کی اصطلاح میں تاروں والے سازوں میں لگنے والے پیتل کے وہ ٹکڑے جن پر انگلیاں چلا کر یا جنھیں انگلیوں سے دبا کر الگ الگ سُر قایم کرتے ہیں، پردہ کہلاتے ہیں۔ اسی طرح بعض سازوں پر آڑے لگے ہوئے تاروں کو جن پر موسیقار انگلیاں چلا کر راگ یا سر نکالتا ہے، پردہ کہا جاتا ہے۔
غالب نے نہ صرف محرم، نواہاے راز، حجاب اور پردۂ ساز کی لفظی مناسبت سے بیان میں دل کشی پیدا کی ہے بلکہ معنوی اعتبار سے بھی شعر کو اس مقام پر پہنچا دیا ہے جہاں طائرِ خیال کے پر جلنے لگتے ہیں۔
اخیر میں عرض کردوں کہ غالب نے موسیقی کی اصطلاحوں خصوصاً پردۂ ساز کی ترکیب کو ایک سے زیادہ بار استعمال کیا ہے اور ہر جگہ اپنی انفردیت کی چھاپ ڈالی ہے:
غالب کا یہ مشہور شعر کس نے نہیں سنا ہوگا
نہ گلِ نغمہ ہوں نہ پردۂ ساز
میں ہوں اپنی شکست کی آواز
اب دو کم معروف شعر بھی سن لیجیے:
جاں مطربِ ترانۂ ہل من مزید ہے
لب پردہ سنجِ زمزمۂ الاماں نہیں
فریاد اسد غفلتِ رسوائی دل سے
کس پر دے میں فریاد کی آہنگ نکالوں

٭٭٭

Shabkhoon ka Tauzihi Ishariya

Articles

شب خون کا توضیحی اشاریہ : ڈاکٹر انیس صدیقی کی معرکہ آرا تحقیقی کتاب

ڈاکٹربی محمد داؤد محسن

ڈاکٹر انیس صدیقی کا شمار کرناٹک کے ان معدودے چند اردو قلم کاروں میں ہوتا ہے جن کی پہچان ادبی حلقوں میں ہے بھی اور نہیں بھی ۔ یہ ان قلم کاروں میں سے نہیں ہیں جو ہر دوسرے ہفتہ اپنی تخلیقات کے ساتھ کسی نہ کسی اخبار کے ادبی صفحات کی زینت بڑھاتے ہیں اورنہ رسائل کی رونق بڑھاتے ہیں۔ ان کا شماران نام نہاد ، کثیر جہات قلم کاروں میں بھی نہیں ہوتا جنھوں نے نظم و نثر کی کم کم ہی اصناف کو اپنی طبع آزمائی سے محفوظ رکھا ہے۔ سمیناری لکھاریوں کی فہرست میں بھی ڈاکٹر انیس صدیقی شامل نہیں ہیں۔ فیس بک اور واٹس اپ کی واہ واہی خرافات سے بھی خود کو بچائے رکھا ہے۔ لیکن یہ اپنی سنجیدہ علمی و ادبی کاوشوں کی وجہ سے اردو کے پڑھے لکھے طبقے میں نہ صرف اپنی ایک خاص پہچان رکھتے ہیں بلکہ قدر کی نگاہ سے بھی دیکھے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی نے ابتدائی زمانے میں ہی اپنے میلان طبعی کا محاسبہ کیا، اپنے لیے منزلیں طے کیں اور ان تک رسائی کے لیے راستوں کا انتخاب کیا۔ آج بھی وہ نہایت تندہی اور دل بستگی کے ساتھ ان ہی راہوں پر گامزن ہیں۔ ادبی صحافت ، ترتیب و تدوین اور تحقیق، ادب کے باب میں ان کی ترجیحات ہیں۔ چنانچہ زمانۂ طالب علمی میں اپنا ادبی رسالہ ’نوائے عصر‘ جاری کیا۔ کالج اور یونیورسٹی کے مجلّوں کی ادارت کی۔ کئی مقامی ادبا اور شعرا کے کلام کو ترتیب دیا اور انھیں شائع کیا۔ کرناٹک اردو اکادمی کے رکن نامزد ہوئے اور اکادمی کے ترجمان ’اذکار‘ کی ادارت ان کوتفویض کی گئی تو انھوںنے ممتاز شیریں کے ’نیا دور‘ اور محمود ایاز کے’سوغات‘ کی طرح ’اذکار ‘کی بھی قومی سطح پر شناخت بنائی۔ انجمن ترقی اردو ہند(شاخ) گلبرگہ کے ترجمان ’انجمن ‘کے کئی شمارے بھی ڈاکٹر انیس صدیقی نے ترتیب دیے ہیں۔ گلبرگہ کے مقامی روز نامہ ’کے بی این ٹائمز‘ کے ادبی صفحہ ’ادب نما‘ کے مرتب کی حیثیت سے بھی ان کی خدمات قابل لحاظ رہی ہیں۔
ڈاکٹر انیس صدیقی کی اولین تحقیقی کاوش ان کا پی ایچ ڈی کے لیے لکھا گیا تحقیقی مقالہ تھا جو بعد میں ’کرناٹک میں اردو صحافت ‘ کے زیر عنوان کتابی صورت میں منظر عام پر آیا ۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی بے محل نہ ہوگاکہ کرناٹک کی مختلف جامعات کے اردو شعبہ جات میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کے لیے درجنوں مقالے لکھے اور لکھوائے گئے لیکن ان مقالوں میں زیور طباعت سے آراستہ ہونے والے مقالوں کی تعداد غالباً ایک ہاتھ کی انگلیوں سے بھی کم ہے۔ اس کے اسباب و علل پر گفتگو ایک دفتر کا متقاضی ہے اور یہاں صرف اس بات کا اظہار مقصود ہے کہ ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنا تحقیقی مقالہ شائع کیا اور یہی ان کی محقق کی حیثیت سے پہچان کا سبب بنا۔ اس کے بعد اپنے مختلف احباب کی شراکت سے گلبرگہ کے ادبا و شعرا کا انتخاب ’افلاک‘ ، گلبرگہ کے شعر و ادب کی سمت و رفتار پر انجمن ترقی ہند اردو(شاخ) گلبرگہ کے سمیناروں کے مقالوں پر مشتمل کتاب ’گلبرگہ میں شعر و ادب‘ ترتیب دی ۔ پھر ممتاز شاعر ، ادیب و نقاد شمس الرحمن فاروقی صاحب کے مختلف کتابوں اور رسالوں میں شائع شدہ انٹرویو کو یکجا کرکے ’فاروقی : محوِ گفتگو‘مرتب کیا۔اسی طرح ’خاکہ نگاری اردو ادب میں‘ ان کی مرتبہ ایک اور کتاب ہے جس میں انھوں نے خاکہ نگاری کے آغاز و ارتقا اور اس کے فن پر تا حال شائع شدہ مضامین کو نہایت سلیقہ سے ترتیب دے کر اسے ایک دستاویزی حیثیت دی ہے۔
پیش نظر کتاب ’شب خون کا توضیحی اشاریہ‘ ڈاکٹر انیس صدیقی کے تحقیقی جنون و جستجو کی مظہر ایک ایسی عدیم المثال کتاب ہے جسے قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان نئی دہلی نے اپنے اشاعتی پروگرام کے تحت تقریباً 1500 صفحات پر مشتمل کتاب کو دو ضخیم جلدوں میں شائع کیا ہے ۔اس کتاب کے ایک ایک صفحے سے ان کی تحقیقی ژرف نگاہی اور عرق ریزی کا پتہ چلتا ہے۔
اشاریہ سازی اردو میں بہت زیادہ قدیم فن نہیں ہے۔ محققین کو مواد کی رسائی میں آسانی فراہم کرنے والا تحقیق کے فن کا ہی یہ ایک شعبہ ہے۔ حالیہ دو تین دہوں میں اردو کے اہم اور غیر اہم ادبی ، مذہبی ، علمی و سائنسی رسائل کے اشاریے سامنے آئے ہیں۔ جامعاتی سطح پر بھی اس فن میں کام ہوا ہے ۔لیکن اردو کے رجحان ساز رسالہ ’شب خون‘ کااشاریہ تیار کرنے کا سہرا ڈاکٹر انیس صدیقی کے سربندھا۔ ’شب خون‘ اردو کی ادبی صحافت کی تاریخ کا روشن ترین نام ہے اس رسالہ نے اردو میں جدیدیت کے رجحان کی بنیاد رکھی اور اس رجحان کو فروغ دینے اسے مستحکم اور توانا کرنے میں غیر معمولی کردار ادا کیا ۔ ڈاکٹر انیس صدیقی کے مطابق ؛
’’شب خون نے اردو ادب میں جدیدیت کے انقلاب آفرین رجحان کی اساس رکھی اور اس کی معنویت اور اہمیت کو اجاگر کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔’شب خون‘ نے نئے فکری و معنوی ابعاد اجاگر کیے ۔ قاری کے فکر و ذہن کو مرتعش کرنے والے فکر انگیز مباحث کو جنم دیا۔ جدید ادب کے مالہ و ماعلیہ پر عالمانہ انداز کے حامل مضامین شائع کیے ، جدیدیت کی تائید و تردید ، افہا م و تفہیم ،وضاحت اور حد بندیوں پر کثرت سے مضامین شائع کی ہیں۔ ‘‘
جہانِ شعر و ادب میں اردو کی ادبی صحافت کے منارۂ نور’ شب خون‘ کے اشاریہ کی ترتیب و تدوین اور اس کی ضرورت کا جواز ڈاکٹر انیس صدیقی نے یوں پیش کیا ہے؛
’’ اردو ادب کے توانا اور مقبول ترین رجحان جدیدیت کے آغاز و ارتقا ، اس کا تاریخی پس منظر، اس کے صحیح خد و خال ، نظم و نثر کی تمام اصناف پر اس کے اثرات و اطلاقات، اس کے رجحان سے متاثر اور اس کے ہم نوا اہل قلم سے متعلق کسی بھی موضوع پر تحقیقی کام ’شب خون‘ میں شائع ہوئی تحریروں کے حوالے کے بغیر ممکن نہیں۔ لہٰذا ’شب خون ‘کا پیش نظر اشاریہ ، ان تحقیق کاروں کے لیے مفید ہوگا جو جدید ادب اور اس کے متعلقات کے کسی موضوع پر کام کررہے ہیں۔ ‘‘
’شب خون کا توضیحی اشاریہ‘ پانچ ابواب پر مشتمل ہے۔ جلد اول میں دو باب اور جلد دوم میں تین ابواب شامل ہیں۔ پہلا باب ’شب خون‘ کے تعارف پر مبنی ہے۔ جس میں ہندوستان کی اردو ادبی صحافت کے تاریخی سیاق و سباق میں ’شب خون ‘کے اجرا ، ادارت ، ضخامت ، کتابت و طباعت اور اس کے مستقل کالموں سے متعلق معلومات افزا مواد کے علاوہ شب خون کی ادبی خدمات سے متعلق مشاہرین ادب کی آراء کو بھی پیش کیا گیا ہے۔
اس کتاب کا دوسرا باب ’شب خون‘ میں شائع شدہ نثری نگار شات کا احاطہ کرتا ہے۔ جس میں اصناف کے اعتبار سے زمرہ بندی کی گئی ہے۔ اس باب کا سب سے اہم حصہ مضامین سے متعلق ہے۔ اس میں ڈاکٹر انیس صدیقی نے ’شب خون ‘میں شائع ہوئے سات سو سے زائد تنقیدی و تحقیقی مضامین کی توضیحات قلم بند کی ہیں۔ اس کی افادیت یہ ہے کہ تحقیق کار کو ان مضامین کے مندرجات اور ان کی کیفیت و کمیت کا پتہ لگانے میں آسانی ہوتی ہے۔
تیسرا باب شعری نگارشات پر مشتمل ہے۔ یہاں بھی اشاریہ ساز نے اصناف کے اعتبار سے شعری نگارشات کی تفصیلات کو درجہ بند کیا ہے۔ چوتھا باب شب خون میں شائع ہوئے تراجم پر محیط ہے اس حصہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ شب خون میں دیگر زبانوں کے ادبیات کے سیکڑوں ادبی شہ پاروں کو اردو قارئین سے متعارف کرانے میں بڑا اہم کام انجام دیا ہے۔
پانچواں اور آخری باب سب سے اہم ہے جسے ’ماحصل ‘ کا عنوان دیا گیا ہے۔ اس باب میں شب خون کے کل 293شماروں میں شائع شدہ قلم کاروں اور ان کی نثری و شعری نگارشات کے تعلق سے دلچسپ معلومات اعداد و شمار اور گراف کے توسط سے پیش کی گئی ہیں۔ مثلاً بتایا گیا ہے کہ ’شب خون ‘کے کل 293شماروں میں 1357قلم کاروں کی 16721شعری و نثری تخلیقات شائع ہوئی ہیں۔ ان میں سب سے زیادہ 710نگار شات شمس الرحمن فاروقی کی ہیں۔ ’شب خون ‘میں شائع ہونے والی خاتون قلم کاروں کی تعداد صرف 91ہے جو کل تعداد کا 6.7فی صد ہے۔ غیر مسلم اردو قلم کاروں کی تعداد 138بتائی گئی ہے نیز یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ’شب خون‘ میں شائع شدہ کل 16721تخلیقات میں 2748کا تعلق نثر سے اور13169کا تعلق شاعری سے ہے۔ جب کہ تراجم کی تعداد 806ہے۔ ’شب خون ‘کے تعلق سے اس طرح کی کئی اور معلومات اس حصہ کو نہ صرف دلچسپ بناتی ہیں بلکہ قاری کو حیرت انگیز مسرت سے بھی دو چار کرتی ہیں۔ کتاب کے آخر میں دو مفصل اشاریے الگ الگ اردو اور غیر اردو زبانوں کے قلم کاروں کے شامل ہیں۔
اس مضمون کا حق اس وقت تک ادا نہیں ہوگا جب تک کہ اس کتاب پر لکھے گئے شمس الرحمن فاروقی صاحب کے مقدمہ کا ذکر نہ کیا جائے۔ فاروقی صاحب کے تبحر علمی ، کثیر جہات ، وقیع اور گراں قدر ادبی خدمات کا ذکر کرنا الفاظ کا زیاں ان معنوں میں ہے کہ اسکالر ، دانشور، نابغۂ روزگار ، عبقری شخصیت ، لیجنڈ جیسے الفاظ شمس الرحمن فاروقی صاحب کے محاذی بونے نظر آتے ہیں۔ جیسا کہ ادبی دنیا واقف ہے کہ فاروقی صاحب ہی شب خون کے روح رواں تھے اور یہ ڈاکٹر انیس صدیقی کے لیے اعزاز کی بات ہے کہ ایسی شخصیت نے اس کتاب کی تیاری میں نہ صرف ان کی رہنمائی کی بلکہ اس کتاب کے لیے مقدمہ بھی قلم بند کیا۔ فاروقی صاحب کے مطابق ؛
’’حالاں کہ اشاریہ سازی یا فہرست سازی خالص علمی اور شماریاتی کام ہے لیکن اشاریہ اورفہرست سازی خاص کر کتابوں یا رسالوں کی اشاریہ سازی اور فہرست سازی میں فہرست ساز کی اپنی رائے (یا اپنے تعصبات)کی جھلک کہیں نہ کہیں نظر آجاتی ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ انیس صدیقی نے خود کو ہر طرح کے تعصب اور خود درائی سے محفوظ رکھا۔ مشمولات میں اس قدر تفصیل اور اندراجات میں اس قدر تنوع ہے کہ یہ اشاریہ عام کتاب کے طورپر ، عام دل چسپی کی خاطر بھی پڑھا جاسکتا ہے۔ ‘‘
شمس الرحمن فاروقی صاحب اور ’شب خون ‘کی مداحی اور پرستاری کے دعوے دار، ان کی وابستگی کے حوالے سے فائدہ اٹھانے والوں میں سے کئی احباب شمالی ہند کی مختلف جامعات میں اہم مناصب پر فائز ہیں۔ لیکن کسی نے اس رسالے کی خدمات پر کام کرنے یا کروانے کی جانب توجہ نہیں کی۔یہ بات ہمارے لیے باعث فخر و انبساط ہے کہ اس کام کو جنوبی ہند کے محقق ڈاکٹر انیس صدیقی نے انجام دیا اور بہت بہتر طریقہ سے انجام دیا۔ بہر حال ڈاکٹر انیس صدیقی نے اپنی کتاب کے ذریعہ ’شب خون ‘کی نہایت غیرمعمولی اور روشن ادبی خدمات پر جمتی ہوئی زمانے کی گرد کو اپنی بے لوث تحقیقی جستجو سے صاف کرنے اور نئی نسل کو اس تاریخ ساز رسالے کی خدمات سے واقف کرانے کا اہم کام انجام دیا ہے۔ امید کی جاسکتی ہے کہ سنجیدہ علمی و ادبی حلقوں میں ڈاکٹر انیس صدیقی کی اس گراں قدر تحقیقی کتاب کی پذیرائی ہوگی اور ’فاروقیات‘کے باب میں ایک اہم اضافہ تصور کی جائے گی۔
٭٭٭

 

Interview of Adil Mansuri by Dr. Qasim Imam

Articles

ہر تجربہ رواج نہیں پا تا ہے

عادل منصوری

ڈاکٹرقاسم امام : عادل منصوری صاحب سب سے پہلے تو یہ بتائیں کہ آپ نے جو ماڈرن یا سر ریلسٹک شاعری کی ہے تو کیا یہ سب کچھ آپ کے ذہن میں پہلے سے تھا یعنی یہ کہ آپ کا تخلیقی تجربہ اسی طرح کا اظہار چاہتا تھا یا پھر آپ نے جدیدیت سے متاثر ہوکر اس اندازِ بیان کو اختیار کیا؟
عادل منصوری: ’ماڈرن ‘ یا ’سرریلسٹ‘ وغیرہ قسم کے نام شاید تخلیق کاروں نے نہیں دیئے۔ پینٹنگ کے ذریعہ اس بات کو موثر طریقے سے واضح کیا جاسکتا ہے۔ مثال کے طور پر ’لینڈ سکیپ‘ اور ’پورٹریٹ‘پینٹنگ غالباً ہر دور میں، ہر وقت میں تقریباً روایتی یگانگت سے منسلک رہتے ہیں۔ آنکھ کے سامنے کوئی منظر یا شخص موجود ہوتا ہے، جس کا تاثر فنکار برش، رنگوں کی مدد سے کینواس پر پھیلاتا ہے۔ اس کے برعکس جب ’کیوبزم‘ اور ’ایبسٹریکٹ‘ پینٹنگ کا دروازہ کھلتا ہے اور کینواس بالکل بدل جاتا ہے۔ پکاسو، ڈالی ، پولوک تک پہنچتے پہنچتے کینواس اپنی فریم توڑ کر پھیلنے لگتا ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے افق در افق پھیلتا ہوا خلاء کی لامحدود یت سے جا ملتا ہے۔ اب اسے اپنی قدیم فریم کی حدود میں واپس لے جانا ناممکنات میں شامل ہے۔بالکل اسی طرح :
یہ ہم سے پوچھ کہ معیارِ دوستی کیا ہے
کہ ہم نے سانپ بھی پالے ہیں آستینوں میں

محسوس یہ ہوتا ہے مجھے آپ سے مل کر
پہلے بھی کہیں اپنی ملاقات ہوئی ہے

جیسے شعر کہنے والا اب :
حیرت سے سبھی خاک زدہ دیکھ رہے ہیں
ہر روز زمیں گھٹتی ہے کونوں کی طرف سے
ڈھوتے ہیں شب و روز یہ الفاظ کی اینٹیں
رہتی ہے ادھوری ہی ، وہ دیوار الگ ہے
دل کی گہرائی میں خواہش کے اگیں ہاتھ ہزار
اور خواہش کے ہر اک ہاتھ میں سُرخاب کا پر
اظہار کا نیا روپ اختیار کرلیتا ہے۔ کافکا، بیکٹ اور ’تھیئٹر آف ایبسرڈ‘ کے متعدد قلم کاروں نے معنی کی فریم توڑ دی ہے ،اور تخلیقی تجربے کے اظہار کے لیے خلاء کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ اور تحت الشعور میں موجزن احساسات کو وسعتِ آفاق میں پھیلا دیئے ہیں۔
ڈاکٹرقاسم امام : اچھا ، اس طرح کا اندازِ بیان اختیار کرتے وقت آپ نے کبھی یہ نہیں محسوس کیا کہ اردو میں اس نوع کی شاعری ابھی رواج نہیں پاسکی ہے ، اس طرح کی شاعری کی کوئی مستحکم روایت نہیں ہے تو اس پر شدید رد عمل سامنے آئیں گے؟
عادل منصوری:شدید ردِّ عمل کا خوف محسوس کریں تو پھر ادب اور آرٹ میں کوئی نئی بات، نیا تجربہ، نئی جدّت وجود ہی میں نہیں آسکتی۔ اگر شدید ردِّ عمل سامنے آنے کے فرضی خوف کی دیوار کے پیچھے نت نئے اظہار کے پیکروں کو روپوش کردیا جائے تو تجسس کے افق پر پَو پھٹنے کے منظر کا تصور کیسے مجسوم ہوسکے گا۔ نہ صبحِ کاذب ہوگی ، نہ صبحِ صادق تاریکی کی اتھاہ گہرائی میں امید کی کرن کیسے جگمگائے گی؟ سنگ نا تراشیدہ میں محور خواب پیکروں کو کیسے جگایا جاسکے گا۔ جواب میں سوالوں کا ایک لامتناہی سلسلہ دروازہ کھٹکھٹائے گا۔ دروازہ کب تک بند رہے گا؟
ڈاکٹرقاسم امام :خیر نظموں میں سر ریلسٹک انداز بیان کسی نہ صورت نبھ جاتا ہے اور آپ نے اس نہج پر چلتے ہوئے کچھ شاہکار نظمیں بھی خلق کی ہیں اور آج یہ اندازِ بیان اردو کی نظمیں شاعری میں رواج بھی پاگیا ہے لیکن غزل میں شاید یہ کوششیں اتنی کامیاب نہ ہوسکیں۔ آپ کی ’’الف اور شین ‘‘ سیریز کی غزلوں اور ظفر اقبال کی اینٹی غزل میرے خیال میں اردو میں اتنی رواج پاتی نظر نہیں آرہی ہے؟
عادل منصوری:نظم کے ذریعے افتخار جالب اور احمد ہمیش نے اظہار کے کینواس کو پھیلانے میں بہت اہم ، نمایاں اور کامیاب تجربے کئے ہیں۔ غزل میں ظفر اقبال نے مشعل کو بلند کئے ہوئے بڑی پیش رفت کی ہے۔ غزل کو نئی وسعت اور زبان کو انوکھی دھار عطا کرنے کا ان کا کارنامہ اردو غزل کو نئی تابناکی سے منور کررہا ہے۔ اب تک ، ۔۔۔۔۔ ان کی کلیا ت کا سلسلہ اگر ایک پلڑے میں رکھ دیا جائے تو دوسرے پلڑے میں کیا کیا رکھا جاسکتا ہے؟ کسی بھی طرزِ تحریر کا رواج پانا ، یہ تخلیقی عمل کے بعد کی بات ہے۔ ہر تجربہ رواج بھی نہیں پا تا ہے۔ یہ اس کی کامیابی یا ناکامی کا معیار بھی تو نہیں بن سکتا۔ شاید نظم کی بہ نسبت غزل کی فریم منہدم ہونے میں مزید وقت ، شدید ضرب اور کئی ایک ظفر اقبال درکار ہوں۔لیکن پچھلی پانچ دہائیوں میں غزل کتنی بدلی ہے، کتنی کامیاب رہی ہے یہ تو اظہرمن الشمس ہے۔
ڈاکٹرقاسم امام : ہاں ! یوں کہا جاسکتا ہے کہ آپ کی اور ظفر اقبال اور کچھ دیگر شعراء کی اس نوع کی غزلوں سے ایک بے تکلفی کا مزاج پیدا ہوا اور نئے شعراء نے آپ حضرات سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے تخلیقی اظہار میں لکیر کے فقیر نہ رہتے ہوئے بے تکلفی کا اظہاراختیار کیا۔ کیا آپ اسے جدید غزل کی کامیابی تصور کرتے ہیں؟
عادل منصوری:زبان کی نسبت بے تکلفی کا مزاج ظفر اقبال کی غزلوں میں شروع ہی سے کامیاب ترین شکل میں نمایاں ہے۔ آج وہ اردو غزل میں Legendہیں ، اور یہ بات راتوں رات تو ظہور میں نہیں آجاتی۔
ڈاکٹرقاسم امام :گجراتی شاعری میں عادل منصوری بھی ایک Legendشاعر کا نام ہے۔ خیر سے اردو کے جدید شعرا کی مختصر سے مختصر فہرست میں بھی آپ کا نام ضرور شامل رہتا ہے۔ تو ان دو مختلف زبانوں میں شاعری کرتے ہوئے آپ کیسا محسوس کرتے ہیں؟ یعنی اپنے آپ کو جذباتی طور کس زبان سے زیادہ قریب پاتے ہیں اور جب آپ ایک زبان میں شاعری کررہے ہوتے ہیں تو کیا دوسری زبان اور اس کی شاعری اور اس کی شعری روایت سے بھی استفادہ کرتے ہیں؟
عادل منصوری:دو مختلف زبانوں میں شاعری کرنے کا تجربہ کچھ عجیب سا ہے۔ گجراتی مادری زبان ہوتے ہوئے بے تکلفی اور آسانی کے ساتھ اظہار کا ذریعہ بنتی ہے۔ دن بھر گھر میں گجراتی بولتا ہوں ۔ اردو نائٹ اسکول میں جاکر پڑھی، سیکھی اور ڈھیر ساری کتابیں پڑھیں اور مشاعرے سنے، پھر بھی جب جب ذریعہ اظہار کے طور پر برتنے کی گھڑی آتی ہے تو ذہن میں ایک گھنٹی سی بجنے لگتی ہے ، کہ کہیں زبان میں لکھنے، بولنے ، برتنے میں کوئی غلطی تو سرزد نہیں ہورہی ہے؟ کئی بار لغت بھی زیرِ مطالعہ رہتا ہے۔ لغت میں ایک ہی لفظ کے کئی کئی معنی اور بعض جگہ تو متضاد معنی دیکھ کر شش و پنج میں مبتلا ہوجاتا ہوں ۔ شاید اسی تجربے کے تحت ’’ یہود یُو کان یُوس یکرز‘‘ قبیل کی نظمیں بھی کہی ہیں۔
گجراتی میں غزل کہتے وقت اردو زبان اور غزل کی شعری روایت اور تجربے سے ، اور اردو میں نظم لکھتے وقت گجراتی زبان اور گجراتی نظم کی شعری روایت اور تجربے سے بھر پور استعادہ کرتا رہتا ہوں۔ اصل میں، دو زبانوں اور دو زبانوں کی شعری روایات کے درمیان ایک Balancing Actہے میرے لیے۔ کبھی کبھی اس عمل پر مجھے تعجب بھی ہوتا ہے۔ اردو کی عظیم شعری روایت سے گجراتی غزل میں بھر پور استفادہ دیکھا جاسکتا ہے۔ تقریباً 35-40سال قبل ممبئی میں ’آئی ، این، ٹی‘ کے ایک بڑے گجراتی مشاعرے میں نظامت کرتے ہوئے ، ہر دو شاعر کے درمیانی وقفے میں ظفر اقبال کے منتخب شعر سناتا رہا۔ گجراتی شاعروں اور سامعین کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ گجراتی کے مقبول اور معمر شاعر امرت گھایلؔ (جو اردو بھی جانتے تھے ) ظفر اقبال کے شعروں بہت متاثر ہوئے۔ ’آبِ رواں‘ منگوا کر بڑے ذوق شوق سے پڑھی اور ایک حد تک ان کا اثر بھی قبول کیا۔
ڈاکٹرقاسم امام :گجراتی غزل پر اردو غزل کے کیا اثرات مرتب ہوئے اور کیا گجراتی غزل کی بنیاد اردو غزل پر ہی ہے؟
عادل منصوری:جی ہاں! گجراتی غزل کی بنیاد اردو پر ہی ہے۔ تقریباً 150-175سالوں سے گجراتی میں غزلیں لکھی جارہی ہیں۔ 103برس کی عمر کے بزرگ شاعر حضرت عاصمؔ رَاندِیری (محصود میاں صوبے دار) آج بھی بقید حیات ہیں۔ اختر شیرانی کے رنگ میں نظمیں ، غزلیں کہتے ہیں۔ ’سلمیٰ‘ کی طرح ’لیٖلیٰ ‘ نام کی فرضی محبوبہ سے خطاب کرتے ہوئے شاعری کرتے ہیں۔ ان کی کلیات کا نام بھی ’لیٖلیٰ‘ ہی ہے اور کافی مقبول و مشہور ہے۔
ابتدا میں گجراتی میں فارسی اور عربی آمیز غزلیں لکھی جاتی تھیں۔ پھر اردو آمیز اور 1960ء سے خالص گجراتی میںغزلیں لکھی جارہی ہیں۔ ممبئی، احمد آباد اور گجرات کے کئی بڑے شہروں میں بڑے پیمانے پر مشاعروں کا سلسلہ جاری و ساری ہے۔ اور ان مشاعروں میں اکثر جدید غزل کا دور دورہ ہے۔
ہم لوگوں نے جب گجراتی میں غزل کہنی شروع کی تو سامنے اردو غزل کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔خاص طور پر جدید اردو غزل کے تخلیقی سفر کا غیر شعوری ادراک، گجراتی غزل کی کشتی چلانے کے لیے بادبان اور پتوار بن گیا۔1960ء سے پہلے گجراتی غزل کی دنیا میں جدید اردو غزل سے واقفیت برائے نام بھی نہیں تھی۔ گجراتی کے وہ شعرا جو اردو شاعری سے واقفیت رکھتے تھے ان میں اکثر اختر شیرانی اور عبد الحمید عدم کو اہم شاعر مانتے تھے اور بات بات میں ان کے شعر ٹانکا کرتے تھے۔
جدید اردو غزل کا تجربہ گجراتی میں نئے گل کھلا گیا۔ بہت قلیل مدت میں گجراتی غزل کا رنگ روپ ، زبان اور طرز سب کچھ بدل گیا۔ غزل ، روایت کی لکشمن ریکھا پھلانگ کر باہر نکل آئی۔ اتاری ہوئی کینچلی میں سانپ کا واپس جانا ، ناممکن ہوگیا۔ سانیٹ اور ہائیکو کی طرح غزل بھی اب گجراتی شاعری کا حصّہ بن گئی ہے۔ بلکہ اہم اور مقبول ترین حصّہ بن گئی ہے۔
ڈاکٹرقاسم امام:خیر یہ بھی بتاتے چلیں کہ امریکہ جو کہ اب آپ کا وطنِ ثانی بن چکا ہے ، یہاں اردو کی کیا صورتِ حال ہے۔ اور تخلیقی اظہار کے لیے آپ لوگ اردو زبان کا استعمال کرتے ہیںتو کیا وہاں اتنے دنوں رہتے ہوئے سوچنے کے عمل میں بھی اردو کا اتنا ہی ساتھ ہوتا ہے جتنا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے تھا؟
عادل منصوری:یہاں امریکہ میں سوچنے کے عمل میں اردو کا اتنا ہی ساتھ ہوتا ہے جتنا کہ ہندوستان میں رہتے ہوئے تھا۔ اردو کے رسائل ، کتابیں، مشاعرے ، ٹی وی چینلوں میں زبان کی دھڑکنیں سنائی دیتی رہتی ہیں۔

———————————————————————