Adab Aur Maoshara by Qazi Jamal Husain

Articles

ادب اور معاشرہ

پروفیسر قاضی جمال حسین

ابتدائی دور سے لے کر دور جدید تک اردو کے شعری سرمایے کا مطالعہ اس حیثیت سے بھی دلچسپ و معنی خیز ہوگا کہ سماجی ڈھانچے میں تبدیلی کے زیر اثر محبت کاتصور اور محبوب کی شخصیت بھی متاثر ہوتی رہی ہے یہ تبدیلی انسانی تجربات و جذبات کے اتار چڑھا ؤ کا فطری نتیجہ ہے چنانچہ مغلیہ سلطنت کے عہد زوال میں محبوب کا کردار ان خصوصیات کا جامع نظر آتا ہے جو کسی بادشا ہ وقت کے لیے زیادہ موزوں تھیں کیو ں کہ بد نظمی ،لوٹ مار ،قتل وغارت گری کی کثرت کے باعث بادشاہ ہی عوام کی واحد جائے پناہ اور مرکزتوجہ تھا۔جاگیردارانہ نظام کی تخلیقات کے مطالعہ سے محبوب کا جو کردار ابھرتا ہے اور ا س کی شخصیت جن اوصاف وخصوصیات کی حامل نظر آتی ہے وہ ایک جفاکش ، ستم پیشہ ،اور سنگ دل حاکم وقت کو زیادہ زیب دیتی ہیں اور شاعر جو عوام کا نمائندہ ہے اس کے رحم و کرم ،توجہ و عنایت اورایک نظر کرم کا طالب ،اس کشمکش میں وہ بس ایک بے چارگی کی تصویر نظر آتا ہے۔ مزید برآں یہ کہ اخلاقی پابندیوں کی بنا پر محبو ب کی جانب سے ایک ادنیٰ التفات کا تصور بھی ناممکن تھا ایسی گھُٹی ہوئی اور تنگ فضا میں ظاہر ہے کہ محبت ایک المیہ کے سوا اور کیا ہوسکتی تھی ان حالات میں محبوب کی جو تصویر ہمارے سامنے آتی ہے وہ ایک ایسا شخص ہے جس کا معمول آئے دن کسی نہ کسی پر ظلم کرنا ،مشق نا ز کے نتیجے میں دوعالم کا خون کرنا ہے جس کا دشنہء مژگا ں ہمہ وقت لوگوں کو نیم بسمل اور بے جان کرنے کے بہانے ڈھونڈتا رہتا ہے ۔گویا محبو ب انسانی جذبات سے عاری، محبت کی فطری خواہش سے محروم ایک ایسا ظالم ،تند خو اور سفاک بادشاہ تھا جس کے دل میں رعایا کے لیے کبھی نرم گوشہ نہیں ہوتا اور اسے ان پر ایک نگاہ غلط انداز ڈالنا بھی گوارا نہیں ،دنیا میں اور تو سب کچھ ممکن ہوسکتا ہے مگر معشوق اپنے چاہنے والا کا کبھی نہیں ہوسکتا ،بیچارہ عاشق اپنے اس محبوب کے قریب بھی نہیں بیٹھ سکتا، جس کی خاطر اس نے اپنے ایمان و آگہی تک کی پر وا ہ نہ کی ،اور پھر حد تو یہ کہ اس آداب عاشقی پر وہ نازاں بھی ہے۔
لیکن جب اخلاقی بندھنوں کے تنگ دائرے سے معاشرے کو نجات ملی اور جاگیردارانہ نظام حیات کی گرفت ہلکی پڑی تو محبوب کا مرمریں جسم قالب خاکی میں تبدیل ہوا اور رگ سنگ میں انسانی لہو دوڑنے لگا ،محبو ب کے دل میں بھی چاہنے اور چاہے جانے کی فطری خواہش بیدار ہوئی ۔عورتوں کی ہم نشینی ،بجائے اخلاقی جرم ،شرافت اور عزت کامعیار بنی۔ دولت کی فراوانی اور شجاع الدولہ جیسے حاکم وقت کے میلان طبع نے عورتوں کے اختلا ط کو اور بھی سہل بنادیا۔ چنانچہ جرأت ،مصحفی اور انشاء کی شاعری میں محبو ب کا جو کردار نظر آتا ہے وہ ایک ایسی عورت ہے جو محبت کا جواب نہ صرف محبت سے دیتی ہے بلکہ اظہار محبت میں جذباتی شوخی بلکہ سطحیت کو بھی معیوب نہیں سمجھتی جب یار کی جانب سے ہمیشہ ہی رخصت بیباکی و گستاخی میسر تھی تو بھلا لکھنؤ کے خو ش مزاج خجلت تقصیر کیوں کر گوارا کرتے ۔نتیجہ ظاہر ہے اس پورے سماجی نظام کا اثر شاعری پر بھی پڑا محبت کی جگہ جنسی جذبے نے اور پرد ہ نشین محبو ب کی جگہ شوخ و بے باک عورت نے لے لی ،جو اپنے عاشق کے گھر رات میں مہمان بھی ہوسکتی ہے ،عاشق کے اصرار پر نہ ماننے والی بات ،مان بھی سکتی ہے ۔ ملاقات کے وقت طرح طرح کے اشارے بھی ہوسکتے تھے ،جن کا جواب
’’دن ہے ابھی رات کے وقت ‘‘
جیسے الفاظ میںبھی دینے سے اسے عار نہیں ! ۱؎اب نہ تو محبوب میں وہ ایذارسانی ،بے باکی و سفاکی نظر آتی ہے اور نہ عاشق میں ذلت کی حدوں کو چھوتی ہوئی خاکساری ،محرومی اور نامرادی ۔یہاں شاعر ایک گوشت پوست کی عورت سے آشنا ہوتاہے جس کے سینے میں انسانی جذبات اور نسوانی خواہشات سے بھرا ہوا ایک دل ہے جس کا مظاہر ہ وہ اپنی عادات واطوارسے بھی کرتی ہے لیکن مختلف اقتصادی ،سیاسی اور تمدنی حالات

کل واقف راز اپنے سے وہ کہتا تھا یہ بات

جرأت کے یہاں رات جو مہمان گئے ہم

 

کیا جانیے کم بخت نے کیا ہم پہ کیا سحر

جو بات نہ تھی ماننے کی مان گئے ہم

اس طرح لکھنؤ کے مخصوص تمدن کی پروردہ شاعری میں محبوب کا کردار ایک ایسی عورت ہے جسے اپنے اور غیر سبھی چھیڑتے ہیں اوراسے اگر خوف ہے تو بس،کسی کے پس دیوا ر ہونے کا۔ ابواللیث صدیقی نے جرأت کے محبوب کے متعلق جو بات لکھی ہے وہ لکھنؤ کے تمام تر شعری سرمایے میں محبوب کے کردار کی نمائندگی کرتا ہے لکھتے ہیں:
’’جرأت کے دیوان کے مطالعہ سے معلو م ہوتاہے کہ ان کی محبوبہ ایک گداز بدن کی جوان عورت ہے ان کی محبت میں جنسی لگاؤ کا پہلو نمایاں ہے اس لیے وہ مضامین جن پر زیادہ زور دیاگیاہے دراصل نفسانی لذت کے اساس پر مبنی ہیں‘‘۔۱؎

کچھ اشارہ جو کیا ہم نے ملا قات کے وقت

ٹال کر کہنے لگا دن ہے ابھی رات کے وقت
ناسخ

چھیڑے ہے اس کوغیر تو کہتا ہے اس سے یوں

کوئی کھڑا نہ ہو پسِ دیوار دیکھنا
مصحفیؔ
۱؎ لکھنؤ کادبستان شاعری ،ابواللیث صدیقی ،ص ۱۵۲
کی تبدیلی کی بنا پر جب معاشرے نے پھر ایک نئی کروٹ لی اور نظام زندگی جاگیرداری سے سرمایے داری اور صنعتی تمدن میں داخل ہوا تو زندگی کے تقاضے بھی بدلے ، پرانے تہذیبی اقدارکی جگہ نئی تہذیبی قدریں منظر عام پر آئیں جن سے ادبی اقدار میں تبدیلیاں رونما ہوئیں ،زندگی کے متعلق انسانی رویہ بھی بدلا ۔ مسائل، فکریں،خارجی حالات،اور مادی حقائق نے فر دکے جذبے اور احساس ،فکر وشعور کو بھی متاثر کیا اب نہ تو اس کے سوچنے کا ڈھنگ پہلے کا سا رہا اور نہ اشیا کے متعلق اس کا رد عمل ۔
شاخ در شاخ سائنسی علوم کی کثرت اور وسعت ،حقیقت پسندی اور واقعیت ، کائنات اور کائنا ت کے مظاہرسے متعلق غیر جذباتی ،معتدل اور متوازن نقطئہ نظر پیچیدہ تر سماجی نظام سے ہم آہنگ ،حق ،حسن اور خیر کے نئے اصول و معیار نے شاعری میں محبت کے تصور اور محبوب کے کردار دونوں کو متاثر کیا ،اب محبت میں بجائے جذباتیت ایک سوچ اور گہری فکر کااحساس ہوتا ہے اب وصل کے سوا دوسری راحتیں بھی شاعر کا دامن دل کھینچتی ہیں اور زمانے کے دوسرے بہت سے غم اسے معشوق سے بیگانہ کردیتے ہیں شاعری میں اس نئی عورت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر آغا نے لکھا ہے کہ :
’’نئی عورت کی ذہنی بلندی ،نزاکت اور شعریت کے پیش نظر غزل گو شاعر کو اظہار عشق میں کسی سپاٹ یا بے حد جذباتی طریق کے بجائے ایک ایسا پیرایہء بیان اختیار کرنا پڑا ہے جس میں لطیف اشاراتی عناصر کی فراوانی ہے اس میں بیشتر اوقات شاعر کے جذباتِ محبت میں عجیب سے ضبط و امتناع کا احساس بھی ہوتا ہے جس کی ایک اہم وجہ یہ بھی ہے کہ خود شاعر کے یہاں سوچ کا عنصر بڑھ گیا ہے دوسرے لفظوںمیں غزل گو شاعر کے یہاں جذبے اور فکر کا خوشگوار امتزج رونماہوا ہے جس کے باعث جذباتِ محبت میں ضبط و توازن اور رفعت کا احساس پیداہوتاہے ‘‘۔
محبت میں اسی ضبط وتوازن اور رفعت کے احساس نے جہاں جدید دور میں محبت کے تصور کو امتیاز بخشا ہے وہیں محبوب کی مخصوص روایتی شخصیت کو بھی متاثر کیا ہے چنانچہ اب وہ نہ تو محض ظالم ، جفاکار ،ستم پیشہ ہے اور نہ عریانیت ،فحاشی اور جسمانی لذت تک محدود کوئی طوائف ، بلکہ زمینی اوصاف کی حامل ایک ایسا کردا رہے جس میں کسی Normalعورت کے تمام جذبات ایک پُروقار ٹھہراؤ کے ساتھ نظر آتے ہیں ۔
دوپہر کی دھوپ میں مجھ کو بلانے کے لیے
وہ ترا کو ٹھے پہ ننگے پاؤں آنا یاد ہے
اس پرسش کرم پہ تو آنسو نکل پڑے
کیا تو وہی خلوص سراپا ہے آج بھی

 

(حسرت)

(فراق)
تونے کہا نہ تھا کہ میں کشتی پہ بوجھ ہوں
آنکھوں کو اب نہ ڈھانپ مجھے ڈوبتے بھی دیکھ
یہی دل تھا کہ ترستا تھا مراسم کے لیے
اب یہی ترک تعلق کے بہانے مانگے
زندگی جن کی رفاقت پہ بہت نازاں تھی
ان سے بچھڑے ہیں تو اب آنکھ میں آنسو بھی نہیں

(شکیب)

(احمد فراز)

(زبیر رضوی)
ان اشعار میں محبو ب کا جو کردار ابھرتا ہے وہ جدید عہد کے تقاضوںسے نہ صرف ہم آہنگ ہے بلکہ ہمارے عہد کے شعرا کے طرز فکر اور ان کے وارداتِ ذہنی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔زندگی کی الجھنیں ،ذہنی نا آسودگی،پراگندگی،اور یک گونہ بے حسی ،سب کچھ ان اشعار میں موجود ہے کہ شاعر جس معشوق کی رفاقت کو اپنا حاصل زیست سمجھتاہے ،شام فراق اس کی یاد میں آنکھوں سے جوئے خوں تو کیا اب ایک قطرہ آنسو بھی نہیں ٹپکتا کیوں کہ محبوب سے جداہو کر وہ کشمکش حیات میں کچھ ایسے کھو جاتا ہے کہ دنیا اور دنیا کی مختلف فکریں اسے محبوب کی یاد سے بیگانہ کردیتی ہیں اور حد تو یہ کہ موجود ہ زندگی کی روزافزوں پیچیدگیوں اور دشواریوں سے مجبور شاعر تنگ آکر اسی محبوب سے ترک تعلق کے بہانے ڈھونڈتا ہوا نظر آتاہے جس کی رسم وراہ کے لیے وہ مدتوں ترسا کیا تھا ۔ جب کہ معشوق شاعری کی روایات کے خلاف غیر متوقع طور پر عاشق کے تئیںمدتوں سراپاخلوص دکھائی دیتا ہے ۔
محبت کے تصور اور محبوب کے کردار میں عہد بہ عہدیہ تبدیلی ،اس کی بے اعتنائی ،ظلم اور سفاکی کی جگہ، شوخی، عریانیت ،اور ہوس پرستی کی یہ داستانیں اور پھر محبت کا میکانکی اور کاروباری انداز سب کچھ محض اتفاقی امور نہیں !اور نہ ہی کوئی غیبی کرشمہ ۔حقیقت یہ کہ پردوں پر بدلتی ہوئی یہ تصویریںپسِ پردہ تہذیبی اقدار اور معاصر سماجی نظام سے گہرا اور مضبوط رشتہ رکھتی ہیں کہ جوںجوں پس منظر میں عوامل اور محرکات بدلتے رہتے ہیں ادبی سرمایے سے ابھرنے والی یہ تصویریں بھی نہایت خاموشی سے اپنے اوصاف بدلتی رہتی ہیں۔
اس تمام گفتگو کاحاصل یہ ہے کہ ادب کی جملہ اصناف خواہ ان کا تعلق شاعری سے ہویا نثرنگاری سے ،اقتصادی ،سیاسی اور سماجی حالات سے بے نیا ز نہیں ہوتیں بلکہ تہذیبی قدریں شاعر کے تصور حسن اور نظریہء جمال سے لے کر دیگر ادبی اقدار تک کو متاثر کرتی ہیں حتی کہ خوب و نا خوب کے معیار بھی اس تہذیبی دباؤ اور تاریخی جبریت سے آزاد نہیں ہوتے معاشرتی حالات کے ہی زیراثر مختلف ادوار یں ادب کی نئی صنفیں وجود میں آتی رہی ہیںاور وقتاً فوقتاً شاعری کی نئی نئی صنفوں کو فروغ ہوتا رہا ہے غرض زبان سے لے کر موضوعات ، خیالات اور افکار، پھر اصناف ، ہیئتیں اور فنی وسائل سبھی کچھ ہم عصرتہذیبی اقدار اور سماجی حالات سے ہم آہنگ نظر آتے ہیں اور اس طرح بہ نظر غائر ان خطوط پر ادبی سرمایے کا مطالعہ ہمیں مادی حقائق اور خارجی زندگی کو ادبی میلانا ت کے سلسلے میں کافی اہم بنادیتا ہے۔لیکن اصل مسئلہ اس سماجی دباؤ کی نوعیت کا ہے جو بہت سے غلط نتائج اور متعدد پیچیدگیوں کی وجہ بنتا ہے حالی نے ادب پر انھیں سماجی اثرات کے سلسلے میں لکھا ہے :
’’قاعدہ ہے کہ جس قدر سوسائٹی کے خیالات اس کی رائیں ،اس کی عادتیں ، اس کی نوعیتیں اس کا میلان اور مذاق بدلتا ہے اسی قدر شعر کی حالت بدلتی رہتی ہے اور یہ تبدیلی بالکل بے ارداہ معلوم ہوتی ہے کیوں کہ سوسائٹی کی حالت کو دیکھ کر شاعر قصداً اپنا رنگ نہیں بدلتا بلکہ سوسائٹی کے ساتھ ساتھ وہ خود بخود بدلتا چلا جاتا ہے شفائی صفاہانی کی نسبت جو کہا گیا ہے کہ اس کے علم کو شاعری نے اور اس کی شاعری کو ہجو گوئی نے بربادکیا اس کا منشا وہی سوسائٹی کادباؤ تھا اور عبید زاکانی نے جو علم وفضل سے دست بردار ہوکر ہزل گوئی اختیار کی یہ وہی زمانے کا اقتضا تھا‘‘۔۱؎
دراصل سوسائٹی کے ساتھ ساتھ شاعر یا ادیب کا خود بخود بدلتے رہنا اور اس تبدیلی کا بے ارادہ ہونا ہی قابل لحاظ ہے بہ صورت دیگر بہت سے معقول اور حق بجانب اختلافات پیداہوں گے جن کاجواب بھی جانب داری اور پہلے سے کسی طے شدہ نظریے کی حمایت کے سوا کچھ اور نہ ہوگا عہد اور ماحول تو خود اپنی ادبی اور فنی قدریں ساتھ لاتے ہیں جو ہر آن بدلتی ہوئی زندگی کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہیں اس میں فن کار کے شعور و ارداے کو بہت ز یادہ دخل نہیں ہوتا معاصر تہذیبی و اخلاقی قدریں ،مذہبی تصورات ،اقتصادی نظام ،سماجی ادارے اور سیاسی کشمکش یہ سبھی کچھ اس عہد کی ادبی تخلیقات میں موجود ہوتا ہے لیکن اثر اندازی اور اثر پذیری کا یہ عمل کچھ اتنا خاموش اور اس کی جہتیں اتنی غیر محدود ہوتی ہیں کہ ان کی نشان دہی خاصی دشوار ہوجاتی ہیں یہ مسئلہ اس وقت الجھتا ہے اور مشکل اس وقت اور پیدا ہوتی ہے جب نقاد درمیان میں آتا ہے اور ادب کو سماج یا ہیئت اجتماعی سے قریب تر لانے کی شعوری کوشش کرتا ہے جس کے نتیجے میں ادب کی اپنی ہیئت تبدیل ہونے لگتی ہے اور اس کی لے کچھ اتنی بڑھ جاتی ہے کہ ادب بجائے فن ِلطیف کچھ اور ہی شکل اختیار کرلیتا ہے ادب میں سماجی شعور حقیقت نگاری اور جمالیاتی قدروں کے علاوہ فکر و نظر کی گہرائی ،اعلی آدرش ،افادیت ،زندگی کی ٹھوس اور متحرک حقیقتوں کا اظہار ،اجتماعی زندگی سے گہرا تعلق ، جیسے مطالبات سے شروع ہوکر ’بات‘سیاسی اغراض ،طبقاتی کشمکش اور سماجی اور معاشی مسائل کے براہ راست حل ڈھونڈنے تک جا پہنچتی ہے اور ادب محض کسی ایک گروہ اور ا س کے نظریات کی ترویج و

۱؎ مقدمہ شعر و شاعری ،خواجہ الطاف حسین حالی ،ؔص ۱۲۲
اشاعت کا آلہ ء کار بن کر رہ جاتا ہے ادب نہ تو بغاوت و انقلاب کا اسلحہ ہے اور نہ فسطائیت ، مناظرہ یا پروپیگنڈہ -اور فن -محض ز ندگی کا آئینہ دار ،ترجمان یا نقاد نہیں !بلکہ ز ندگی کے تجربات اور روحِ کائنات کا جمالیاتی و تاثراتی اظہار بھی ہے تاثر یا ذوق جمال سے عاری اظہار ،زندگی کی تفہیم تو کرسکتا ہے مگر سائنس یا فلسفہ کے نام پر ،جس کی نوعیت یا سطحیں ادبی اظہار سے قطعی مختلف ہوں گی۔ادب کے سماجی یا اجتماعی پہلو سے انکار مسلمات سے انکار ہوگا لیکن اس کی نوعیت غالباً یہ نہ ہوگی کہ وہ دور حاضر کی سماجی زندگی میں کھل کر حصہ لے ۔ظالموں کے ہاتھ سے عنان حکومت چھین کر بنی نوعِ ا نسان کے علم برداروں کو دے اور اپنی ساری تصویر یں اسی نقطئہ نظر سے بنائے ۔ اختر حسین رائے پوری نے ترقی پسند ادب و ادیب کی خصوصیات بیان کرتے ہوئے یہ بات بھی لکھی ہے کہ :
’’ترقی پسند ادب صرف حقیقت پسند نہ ہوگا بلکہ اس کے سامنے حقیقت کا ایک صاف تخیل ہوگا او روہ ہر تصویر اسی نقطئہ نظر سے بنائے گا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک ہم اپنے سماجی فرض کو نہ سمجھیں…یعنی دور حاضر کی سماجی جنگ میں اس طبقہ کی تائید کرنا جو ظالموں اور غاصبوں کے ہاتھ سے عنان ِ حکومت چھین کر بنی نوعِ انسان کی آزادی کے علم بردارو ںکو دے رہا ہے ادب اپنا سماجی فر ض اس وقت تک ادا نہیں کرسکتا جب تک اس طبقے کا ہمنوا اور ہم گوش نہ ہوجائے ‘‘۔۱؎
مجنوں صاحب نے اگرچہ ترقی پسند ادیبو ںاور نقادو ں کے ان انتہا پسند انہ خیالات کو اپنے مضامین ’’ادب اور ترقی‘‘’’ادب کی جدلیاتی ماہیت‘‘ ادب اور مقصدوغیرہ ہیں بقدر امکان Justify کرنے کی کوشش کی ہے اور ان کی مختلف تاویلیں بھی کی ہیں لیکن جب بنیادی نظریہ ہی ان توجیہوں کو قبول نہ کرتا ہو توایسی صورت میں یہ کوشش کس حد تک با رآور ہوسکتی ہے۔ چنانچہ اپنی انتہائی میانہ روی ،اور اعتدال پسندی کے باوجود ایک جگہ لکھتے ہیں:
’’ہمارے دور کی سب سے نمایا ںخصوصیت یہ ہے کہ اس وقت سرمایے و محنت کے تصادم کی شکل میں ہمارے سامنے سماجی نظام میں فساد پھیلائے ہوئے تھے ، یہ سرمایے دار اور محنت کرنے والوں کا جھگڑا دراصل گنتی کے چند قارونو ں اور خلق اللہ کا جھگڑا ہے اور ادیبوں اور فن کارو ںمیں ان دونوں فریقوں میں سے کسی ایک کی نمائندگی کرنا ہے جیسا کہ وہ اب تک غیر شعوری طور پر کرتے رہے ہیں اس وقت غیر جانبداری نہ ممکن ہے ،نہ مفید ادیب یا شاعر کبھی اپنے دور کے خطرات وتصادمات سے بیگانگی نہیں برت سکتا ۔ترقی پسند جماعت اس سنگین حقیقت کو محسوس کرتی ہے اور دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے‘‘۔۲؎

۱؎ ادب اور انقلاب ،اختر حسین رائے پوری ،ص۸۵۔۸۴
۲ ؎ ا دب اور زندگی ،احمد صدیق مجنوں ؔ،مضمون ’’نیا ادب کیا ہے، ص۲۲۲
مجنو ں صاحب کا مذکورہ بالا خیال اختر حسین رائے پوری ہی کی صدائے بازگشت معلوم ہوتاہے ۔ بنیادی نظریے میں کوئی اختلاف نہیں فرق صرف لہجہ اور طریق اظہار کا ہے کہ اختر حسین رائے پور ی کے لہجے میں شدت اور ادعائیت نمایا ں ہے جب کہ وہی خیالات مجنو ں صاحب کے یہاں لہجے کی نرمی اور علمیت کے ساتھ ساتھ وضاحتی انداز میں پیش کیے گئے ہیں ۔
شاعر یا ادیب سے سماجی فریضے کے اس مطالبے نے اصل مسئلے کو کافی حد تک پیچیدہ بنادیا
ہے کیوں کہ ایسی صورت میں ادبی فریضے مجروح ہوتے ہوئے دکھا ئی دیتے ہیں اولاً تو یہ کہ اس طر ح کے ادبی نظریات کا اگر تجزیہ کیا جائے اور قدرے ٹھہر کر صورت حال سمجھنے کی کوشش کی جائے تو خود عبارتوں کا داخلی تضاد اور اضطراب ادب کے قاری کو کسی واضح نتیجے تک پہنچنے اور پھر اسے قبول کرنے سے باز رکھتا ہے مثلاً مذکورہ عبارت ہی سے جو حقائق سامنے آتے ہیں وہ یہ کہ :
۱۔ہمارے دور کی خصوصیت سرمایے اور محنت کا تصادم ہے ۔
۲۔ نتیجتاً سماجی نظام میں فساد پھیلا ہوا ہے ۔
۳۔یہ فسا دچندقارونوں اور خلق اللہ کا جھگڑا ہے۔
۴۔ ادیب اور فن کار کو ان دونوں (قارونوں اور خلق اللہ)میں سے کسی ایک کی نمائندگی کرنا ہے ۔
۵۔ فن کار اب تک یہ نمائندگی غیر شعوری طور پر کرتا رہا ہے ۔
۶۔ اس تصادم یا فسا د کے وقت ادیب کی غیر جانب داری ممکن نہیں !
۷۔غیر جانب داری مفید بھی نہیں ۔
۸۔فن کار اپنے دور کے خطرات و تصادمات سے بیگانگی نہیں بر ت سکتا ۔
۹۔ترقی پسند جماعت نے اس حقیقت کو محسوس کیا ہے اور دوسروں کو بھی اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے ۔
سماج میں پھیلے ہوئے فساد یا جھگڑے میں فن کار کا پڑنا ہی کیوں ضروری ہے اگر وہ قارونوں اور خلق اللہ کے بیچ ہونے والے اس فساد میں ہاتھ نہیں بٹاتا تو کیا یہ فسا د فرو نہیں ہوسکتا ؟اور کیا اس کے حصہ لینے سے مصالحت کی کوئی صورت نکل ہی آئے گی ۔مارکس کے نظریۂ جدلیت کے رو سے ہر قوت خود اپنے اندر ہی اپنی ضد کا مادہ بھی رکھتی ہے جن کی باہمی آویزش کائنا ت کو حرکت اور نموبخشتی رہتی ہے ۔ طبقاتی جد و جہد ،سماج میں انقلاب اور اس کی ترقی کاوسیلہ بنتا ہے ۔پھر سماج کا یہ طبقاتی اختلاف اقتصادی بنیادوں پر ہے جس کا تعلق ذرائع پیداوار وغیرہ سے ہے نہ کہ شاعری سے۔پھر یہ کہ طبقاتی کشمکش کے بعد وجود میں آنے والا نیا سماج طبقاتی اونچ نیچ یا اختلاف سے پاک نہیں ہوتا بلکہ ظلم کی نئی نئی شکلیں اور کشمکش کی نئی صورتیں پیدا ہوجاتی ہیں ایسی صورت حال میں بے چارہ شاعر اس جھگڑے میں حصہ لے تو کیا ،اور نہ لے تو کیا، معاشرے کا یہ تضاد اور کشمکش اگر ختم ہوتو سماجی حرکت اور اس کی ترقی متاثر ہوتی ہے اور یہ تصادم اگر جاویدانی ہے تو ادیب کے حصہ لینے سے فائدہ ہی کیا ہوا ۔اگر وہ شریک نہیں بھی ہوتاتو بھی تصاد م تو چلتا ہی رہے گا ۔
اس کے بعد جو دشواری نظرآتی ہے وہ یہ کہ بقول فاضل نقاد اگر ادیب نے اب تک غیر شعوری طور پر اس سرمایے و محنت کے تصادم میں کسی ایک کی نمائندگی کی ہے تو حسب روایت غیر شعوری طور پر وہ آ ئندہ بھی نمائندگی کرتا رہے گا۔ نمائندگی کے لیے اس درجہ اصرار اور تاکید کی کیاضرورت ؟ اگر نمائندگی کی اس تاکید سے کسی مخصوص طبقہ (خلق اللہ )کی شعوری نمائندگی کی طرف اشارہ ہے تو ادیب کافکر و شعور ،جو اس کے تجربات و مادی حالات کا نتیجہ ہے محض اس اشارے سے بدلا نہیں جاسکتا ۔
مجنو ں صاحب کایہ بھی خیال ہے کہ اس تصاد م کے وقت ادیب کی غیر جانب داری ممکن ہی نہیں جس کی رو سے غیر جانب داری کے مفید اور مضر ہونے کی بات ہی قطعاً بے معنی ہے کیوں کہ اس کا تو امکان ہی نہیں مضر یا مفید ہونے کی بحث تو جب اٹھتی ہے کہ اس غیر جانب داری کا امکان ہوتا ۔
آگے لکھتے ہیں کہ ’’فن کار اپنے دور کے خطرات و تصادمات سے بیگانگی نہیں برت سکتا ‘‘ اس عبارت کامفہوم یا تو بیگانگی کے امکان کی نفی ہوسکتا ہے یا زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ فن کار کو ہرگز بیگانگی نہیں برتنا چاہیے کہ اس بیگانگی کی صورت میں وہ اپنے فرض منصبی کی ادائیگی میں کوتاہی کرے گا اور فن کا ر کہے جانے کا مسحق نہیں ہوگا ۔
مفہوم کے پہلے امکان کی رو سے یہ کون سی مخفی حقیقت تھی جس کا ادراک ترقی پسند جماعت نے کرلیا ہے اور جس سے 1936ء سے قبل لوگ بے خبر تھے اور بالفرض اگر بے خبر بھی تھے تو اس بے خبر ی سے نقصان ہی کیا تھا اور اس حقیقت کے عرفان سے فائدہ ہی کیا پہنچا کہ ادیب اپنے دو ر کے تصاد مات سے بیگانہ نہیں رہ سکتا ۔ا س علم سے پہلے بھی ادیب بیگانہ نہیں تھا اور آج بھی نہیں ہے کیوں کہ مفروضے کی رو سے بیگانگی محال ہے ۔ترقی پسند جماعت دوسروں کو بھی کیوں اس حقیقت کی طرف متوجہ کرنا چاہتی ہے دوسروں کو اگر اس حقیقت کا عرفان ہوجائے کہ ’’فن کار کا اپنے دور کے خطرات سے بیگانہ رہنا محال ہے ‘‘تواس سے ادب کے سلسلے میں کیا نئے امکانا ت پیداہوجائیں گے۔
عبارت کے مفہوم کی دوسری صورت یہ تھی کہ فن کار کو بیگانہ نہ ہوناچاہیے ورنہ وہ فن کار کہے جانے کا مستحق نہ ہوگا ‘‘اس توجیہ کے پیش نظر ان فن پاروں کا کیا ہوگا جن میں اپنے دور کے کسی خطرے یا تصادم کا ذکرنہیں مثال کے طور پر:
اسد بندِ قبائے یار ہے فردوس کا غنچہ
اگر وا ہو تو دکھلا دوں کہ اک عالم گلستاں ہے
یا
نشۂ رنگ سے ہے واشدِ گل
مست کب بند قبا باندھتے ہیں
کیا ہم ان اشعار کو فن پارہ یا غالب کو فن کار محض اس بنیاد پر نہ کہیں کہ ان اشعار میں اپنے دور کے کسی خطرے کا ذکر نہیں ۔
یہ صورت حال محض مجنو ں صاحب تک محدود نہیں بلکہ مجنوں کامعاملہ ان کے وسیع مطالعہ ، گہری فکر اورشعر و ادب کے ستھر ے ذو ق کی بنا پر دیگر ترقی پسند شاعروں ،ادیبو ںاور نقادوں کے مقابلے میں بہت سلجھا ہوا ہے ۔اختر حسین رائے پوری کے تنقید ی نظریات کاجائزہ لیتے ہوئے شارب ردولوی نے جو نتائج نکالے ہیں اور ان کے متعلق جن خیالات کااظہار کیا ہے بڑی حد تک درست ہیں لکھتے ہیں :
’’اسی لیے اختر حسین رائے پوری کے یہاں ادبی تنقید سماجی اور عمرانی تجزیہ معلوم ہونے لگتی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ وہ ادب کوکمیونسٹ پارٹی کا آلہ کار بنانا چاہتے ہیں ان کی اس انتہا پسندی کے اشارے ان کے مضامین میں اکثر نظر آتے ہیں‘‘۔
آگے چل کر لکھتے ہیں :
’’وہ ادب کو ایک ماہر اقتصادیات اورسماجیات کی رپورٹ کی طر ح دیکھنا چاہتے ہیں وہ مارکس کے نظریات کے ایک جذباتی معلم اور مبلغ کی طرح آئے اور چوں کہ جذباتیت میں گہرائی و گیرائی نہیں ہوتی ہے اس لیے بہت جلد ان کے یہاں اس کا رد عمل شروع ہوگیا اور و ہ اس سے الگ ہوگئے ۔ان کے اسی اندا ز و رجحان کی دجہ سے انھیں سائنٹفک نقاد یا صحت مند مارکسی نقادوں میں شمار نہیں کیا جاسکتا‘‘۱؎
ادب کو معاصر تہذیبی اثرات و اقدار سے قریب تر لا نے کی اس انتہا پسندانہ شعوری کوشش
نے دوسری جانب بھی نقادوں کی ایک صف کھڑی کردی اور حقیقت ان دونوں انتہاؤں کے بیچ کہیں گم ہو کر رہ گئی۔یہ رد عمل ایک فطری امر تھا جس نے ادب میں سماجی حقائق کی اہمیت سے یکسر انکار کیا اور ادب کو فن کار کامحض شخصی اظہار قرار دیا چنانچہ کلیم الدین احمد کا خیال ہے کہ :
’’سماجی حالات سے ادب پیدا نہیں ہوتا اورنہ ہوسکتا ہے آرٹ کاوجود فن کار کی کاوشوں سے ہوتا ہے سماج کی کاوشوں سے نہیں ہوتایہ ایسی روشن حقیقت جس سے سمجھدارآدمی انکار نہیں کرسکتا مارکسی نقاد اس روشن حقیقت پر پرد ہ ڈالنے کی ناکام کوشش کرتے ہیں وہ ادب اور فن کی تخلیق میں فن کاروں کی انفرادیت کو کم ازکم اہمیت دیتے ہیں ‘‘۲؎

۱؎ جدید اردو تنقید ،اصول و نظریات ،شارب ردولوی ،ص۳۵۹۔۳۵۸
۲ ؎ اردو تنقید پر ایک نظر ،کلیم الدین احمد ،ص۱۹۱
یہ بات کافی حد تک درست ہے کہ مارکس کے اقتصادی نظریات کی روشنی میں اد بی تنقید فن کار سے جس قسم کے سماجی شعور اور اجتماعی افادیت وغیرہ کا مطالبہ کرتی ہے اس سے ادیب کی آزادی اور ادب کافنی پہلو مجروح ہوتا ہے۔ اور یہ مارکس سے انتہائی ارادت کانتیجہ ہے کہ اس کے سماجی و اقتصادی نظریات کو فنو ن لطیفہ اور شاعری تک میں راہ دی گئی ۔بلکہ اس کے اصول و معیار تک مارکس کے فلسفے کی روشنی میں وضع کیے گئے۔ چنانچہ کلیم الدین احمد نے احتشام صاحب کی تنقیدی بصیرت کا جائزہ لیتے ہوئے ان پر جہاں اور بہت سے اعتراضات کیے ہیں وہیں یہ بات بھی کھل کرکہی ہے کہ وہ جو کچھ کہتے ہیں مارکس کی زبان سے کہتے ہیں ۔جو کچھ دیکھتے ہیں مارکس کی نظر سے دیکھتے ہیں ۔اور خود مارکس کاحال بقول احسن فاروقی یہ ہے کہ :
’’مارکس کی تصانیف کامطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ وہ بالکل یک طرفہ ذہن والا انسان تھا اور وہ سوشل تاریخ ہی کی عینک لگا کر ہر چیزکو دیکھتا تھا…مارکس بھی ادب میں وہی چیزیں دیکھتا ہے جو سوشل تاریخ اور کشمکش کے نقطئہ نظر سے اہم ہیں ۔ ایسی ہی چیزوں کو یکجاکردینا مارکسی تنقید کہلاتی ہے ‘‘۔۱؎
چنانچہ واقعہ ہے کہ بجائے فنی خوبیوں اور خامیو ں کے مارکسی نقاد کسی ادبی تخلیق کے قدر و معیار کے سلسلے میں مادی فلسفہ ،اجتماعی نظام ، سماجی تجزیہ ،تاریخی شعور ،جدلیاتی ماہیت ، طبقاتی تضاد،جہد ِحیات اور اقتصادی بنیادوں ہی کی بات کرتا ہے جن سے ادب یقینی طور پر متاثر تو ہوتا ہے لیکن اولاً تو یہ کہ اس اثر پذیری کی نوعیت دیگر علوم سے قطعاً مختلف ہوتی ہے اور جو فن کار کی تخئیل اور جذبے سے ہم آمیز ہوکر اپنی شناخت قطعا ختم کردیتی ہے اور ثانیاً یہ کہ ان امور کے علاوہ بھی دوسرے بہت سے شخصی عوامل ہیں جن سے ادب اور ادیب متاثر ہوتاہے اور جنھیں نظر انداز کرنے کے بعد ادب کی افہام و تفہیم ناممکن ہوگی ۔

۱؎ فن تنقید ،احسن فاروقی ،مشمولہ تنقیدی نظریات ،حصہ دوم، ص۱۶۶

Taraqqipasand Shairi Khalilurrahman Azmi ki Nazar Mein

Articles

ترقی پسند شاعر ی — خلیل الرحمن اعظمی کی نظر میں

پروفیسر قاضی عبید الرحمن ہاشمی

ہماری ادبی تاریخ کے معدودے چند اہلِ قلم، جنھوں نے بیک وقت تنقید اور شاعری دونوں میں اپنی صلابتِ فکر کے جوہر دکھائے، خلیل الرحمن اعظمی (1978-1927) اُن میں سے ایک ہیں۔ خلیل صاحب نے چونکہ بہت تھوڑی عمر پائی اور صرف 51 برس میں راہیِ ملک عدم ہوگئے، اس لیے انھوں نے شاعری اور تنقید دونوں میدانوں میں کچھ بہت وافر سرمایہ نہیں چھوڑا، تاہم اس میں شک نہیں کہ ان دونوں حوالوں سے ان کے جس قدر بھی اکتسابات ہیں، ان کی نمایاں ادبی حیثیت اور قدر و قیمت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ایک اعلیٰ درجہ کے تخلیق کار ہونے کے لحاظ سے خلیل صاحب کو یقینا یہ امتیاز بھی حاصل تھا کہ وہ نسبتاً زیادہ گہری بصیرت اور ذہنی ہمدردی کے ساتھ تخلیقی متون کی تعیین قدر کرسکتے تھے، جس کا انھوں نے صحیح معنوں میں اپنے تنقیدی مطالعات میں ثبوت بھی فراہم کیا ہے۔
خلیل صاحب کی زندگی کے نشیب و فراز پر جن کی نظر ہے وہ جانتے ہیں کہ وہ ملکی آزادی سے قبل 1945 میں تقریباً 18برس کی عمر میں ترقی پسند ادبی تحریک سے وابستہ ہوگئے تھے اور علی گڑھ میں تعلیم کے دوران بحیثیتِ سکریٹری بڑی سرگرمی کے ساتھ ترقی پسند فکر و فلسفہ کی ترویج و اشاعت میں منہمک تھے۔ اِس جرم کی پاداش میں انھیں قید و بند کی صعوبتوں سے بھی گزرنا پڑا۔ 1947 کے فرقہ وارانہ ماحول کے دوران دہلی سے علی گڑھ کے سفر میں چلتی ٹرین سے پھینکے بھی گئے، تاہم وہ انسانیت کی سربلندی اور نجات کے لیے اپنے مشن اور ذہن و قلم سے جہاد کے فرض سے کبھی غافل نہیں ہوئے۔ البتہ ترقی پسند تحریک چونکہ بنیادی طور پر اپنا ایک سماجی نظریہ، سیاسی کردار اور انقلابی منشور رکھتی تھی، شعر و ادب اور فنونِ لطیفہ وغیرہ اس کی محض ذیلی و ضمنی شاخیں تھیں، جن کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت اشتراکی سیاست، معیشت اور قانون کی گاڑی کو ایک خاص سمت اور ڈھرے پر چلانے میں معاونت کرنی تھی۔ ان کی اپنی کوئی خودمکتفی آزادانہ حیثیت ہرگز نہ تھی۔خلیلؔ صاحب جو ایک مفلوک الحال زمیندارانہ مذہبی گھرانے کے فرد تھے، طبعاً انسانی شرافت، رواداری، عدل و انصاف اور خدمتِ خلق کی اعلیٰ اقدار کے دلدادہ تھے، ترقی پسندی کی انسانی فلاح اور مساوات پر مبنی فلسفیانہ تعبیر سے متفق ہونے کے باوجود اس کی بڑھتی ہوئی ادعائیت، مذہبی انداز کی جکڑبندی اور Regimentation سے بتدریج دل برداشتہ، اور بے زار ہوتے چلے گئے اور بالآخر 1950ء کے قریب جب تحریک اپنے عروج پر تھی، نفع و ضرر کی پروا کیے بغیر اس سے لاتعلق ہوگئے۔
خلیل صاحب جنھوں نے ترقی پسند ادبی تحریک سے گہری وابستگی کے ساتھ برسوں اس کی خدمت کی اور ذہنی و جسمانی شداید سے بھی گزرے، اس سے علاحدگی کے اسباب پر کبھی بہت تفصیل سے روشنی نہیں ڈالی، نہ اس فیصلے کے لیے کسی کو موردِ الزام ٹھہرایا۔
بہت بعد میں ایک عمومی بیان کی حد تک اختصار کے ساتھ، اظہارِ خیال بھی کیا تو صرف اتنا کہا کہ:
’’ترقی پسندی ایک فلسفۂ حیات کے طور پر تو شاید اب بھی بعض لوگوں کے لیے قابلِ قبول ہو، لیکن طے شدہ منصوبوں اور پروگراموں کا باجماعت ادب، اب اپنی ساکھ اِس قدر کھوچکا ہے کہ اس پر اعتبار کرنے اور ایمان لانے والے ابھی بہت دنوں تک ہمارے یہاں پیدا نہ ہوسکیں گے۔‘‘
ترقی پسند تحریک سے علاحدگی کے چند برس بعد جب وہ پی ایچ ڈی میں داخل ہوئے تو انھوں نے اپنے مقالے کا موضوع— ’اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک‘ منتخب کیا، جو پروفیسر رشید احمد صدیقی کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ جس پر انھیں 1957ء میں ڈگری تفویض ہوئی۔ یہ مقالہ کئی برس بعد 1973ء میں پہلی بار علی گڑھ سے شائع ہوا، جس کا ادبی حلقہ میں پہلے بھی کافی ذکر تھا اور اب تک کسی نہ کسی طرح اس کا تذکرہ ہوتا رہتا ہے۔ عزیز احمد اور علی سردار جعفری کی کتابیں اِس موضوع پر خلیل صاحب سے پہلے شائع ہوچکی تھیں۔ خلیل صاحب کے اِس علمی و تحقیقی کارنامہ کو متوازن، تنقید کی بہترین مثال تصور کیا جاتا ہے۔
بقول خلیل ؔصاحب انھوں نے اپنی اِس کتاب میں مجموعی طور پر ترقی پسند ادب کا معروضی objective محاکمہ کرنے کی کوشش کی ہے جس میں دیگر اصناف کے ساتھ شاعری بھی شامل ہے۔ انھوں نے تقریباً دو۲ درجن شعرا کے کارناموں کا جائزہ پیش کیا ہے، جن میں سے چند کے نام اس طرح ہیں: اخترؔانصاری، اسرارالحق مجازؔ، معین احسن جذبیؔ، فراقؔ گورکھپوری، فیض احمد فیضؔ، مخدومؔ محی الدین، علی سردار جعفریؔ، کیفی ؔاعظمی، جاں نثار اخترؔ، ساحر لدھیانوی، مجروحؔ سلطان پوری، اختر ؔالایمان، احمدؔندیم قاسمی، شادؔ عارفی اور منیبؔ الرحمن وغیرہ۔

یہ مضمون آپ ـ’’ اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ پر پڑھ رہے ہیں۔

یقینا یہ چند شعراوہ ہیں جن میں سے فراقؔ اور اخترالایمان کو اگر مستثنیٰ بھی کردیا جائے تو بقیہ تمام کی شناخت، اعتبار اور امتیاز ترقی پسند تحریک کا ہی رہینِ منت رہا ہے۔ اس حلقہ میں اُن کے کارناموں کی نہ صرف خوب خوب داد دی گئی بلکہ ان میں سے بعض کی عالمی شہرت اور مقبولیت کا سبب بھی تحریک ہی رہے۔
خلیلؔ صاحب کے تنقیدی موقف کی ایک اہم خوبی جو ان کا خصوصی امتیاز کہی جاسکتی ہے اور جس کا اظہار موجودہ تنقیدی محاکموں میں بھی ہوا ہے وہ یہ ہے کہ وہ جدیدیت کے ہمنوا ہونے اور ترقی پسندی سے یکسر مختلف نقطۂ نظر کی حمایت کرنے کے باوجود جیسا کہ انھوں نے جدیدیت سے وابستہ طریقۂ نقد کے ضمن میں، اظہارِ خیال کرتے ہوئے، وضاحت کی ہے کہ:
’’نیا ادب، مواد اور ہیئت اور جماعت، سیاسی اور غیرسیاسی مسائل کی دوئی، کے بجائے ان کی وحدت پر زور دیتا ہے اورزندگی کی رنگارنگی اور پیچیدگی کو سادہ مفروضوں اور بنے بنائے فارمولوں کی مدد سے میکانکی طور پر حل کرنے کے بجائے آزاد تحقیق کے ذریعہ سمجھنا چاہتا ہے۔ وہ نظریے اور عقیدہ Dogma سے دست بردار ہوکر سائنسی دور کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کے لیے انفرادی خلوص کو ضروری سمجھتا ہے۔‘‘
مزید فرماتے ہیں:
’’تخلیقی عمل، ادیب کی شخصیت، افتاد طبع، زندگی کے محسوسات و تجربات کی نوعیت اور اس کے انسانی و سماجی تعلقات، ایک پیچ در پیچ سلسلہ کا نام ہے۔ ان مراحل سے فطری طور پر گزرنے کے بعد ہی نظم یا ادب پارہ اپنے اندر وہ کیفیت پیدا کرسکتا ہے جو اسے جمالیاتی قدر اور فنی حسن عطا کرتی ہے۔‘‘
خلیلؔ صاحب نے اپنے تنقیدی محاکموں میں ترقی پسند سرمایۂ سخن کا جائزہ لیتے ہوئے کسی خارجی اصول اور فنی و لسانی فارمولے کو نافذ کرنے کے بجائے متعلقہ شعری کائنات سے ہی رہنما اصول اخذ کرنے کی کوشش کی ہے اور اس طرح کسی کارنامہ کے حسن و قبح کی نشاندہی کی ہے۔
خلیل صاحب نے اپنے الگ الگ مضامین گرچہ کافی مبسوط طور پر زیادہ مثالوں کے ساتھ بھرپور انداز سے سپرد قلم کیے ہیں۔ تاہم اپنی کتاب— ’ترقی پسند ادبی تحریک‘ جس میں بیک وقت بہت سے شعرا کے خصوصیاتِ کلام پر رائے زنی کرنے کی مجبوری تھی، قدرے اختصار سے کام لیا ہے۔ لیکن ضبط و توازن سے کہیں دست بردار نہیں ہوئے ہیں۔
معروف شاعر اختر انصاری کی مزاجی کیفیت اور انفرادی تخلیقی سروکار پرروشنی ڈالتے ہوئے، فرماتے ہیں کہ:
’’اختر انصاری تغزل کے تمام آداب کو برتتے ہوئے، روایتی غزل گوئی کی یکسانیت اور باسی پن کے شکار نہیں ہوئے۔ انھوں نے جو کچھ لکھا ہے اس کی بنیاد خود ان کے اپنے محسوسات ہیں، اس لیے ان میں تاثیر اور دلکشی ہے۔
رومان سے ان کی ہجرت عام نوجوان ترقی پسند شعرا کی طرح انقلاب اور بغاوت کی طرف نہیں ہوئی۔ گھن گرج اوربلند آہنگی سے، ان کے مزاج کو مناسبت نہیں، نظم گوئی میں ان کا انداز سادہ اور سلیس ہے، اخترانصاری نے قطعہ نگاری کو ایک مستقل فن کی حیثیت دی۔ انھیں قطعہ کے فن پر پوری قدرت ہے اور ہر قطعہ تکمیل کا احساس دلاتا ہے ؎
میں نے اک بار کہا، تم سے محبت ہے مجھے
تم نے شرماتے ہوئے، مجھ کو جواب اس کا دیا
آہ لیکن دل ناشاد (یہ غارت ہوجائے)
اِس قدر زور سے دھڑکا، کہ میں کچھ سن نہ سکا
خلیل صاحب کا کمال دیکھیے کہ اِس مختصر سی تحریر کے ذریعہ انھوں نے اخترؔانصاری کے فکر و فن کے جملہ عناصر کی اِس انداز سے نشاندہی کردی کہ اب ان کے بارے میں کہنے کے لیے کچھ زیادہ باقی نہیں رہا۔
اسرارالحق مجازؔ جنھوں نے اپنی ہلکی پھلکی لیکن خوبصورت رومانی شاعری کے ذریعہ یوروپی رومانی شعرا کی یاد تازہ کردی، ترقی پسندوں کو ان کی شاعری میں سماجی وابستگی اور سیاسی شعور کی کارفرمائی نظر آئی اور اسی انداز سے ان کی تعبیر و تشریح کرتے رہے۔ خلیل صاحب کا کہنا ہے کہ:
’’مجاز کے ذہن کی تعمیر چونکہ رومانیت کی بنیاد پر ہوئی تھی۔ اس لیے یہ ذہن آگے چل کر زندگی کے سنگین حقائق سے عہدہ برآ نہ ہوسکا اور اس کی رومانیت زمانے کے طوفان سے ایسی ٹکرائی کہ اس کی شخصیت پاش پاش ہوگئی۔ نظم- آوارہؔ میں جو رومانی کرب، جھنجھلاہٹ اور وحشیانہ بغاوت ہے، وہ ایک بجھے ہوئے چراغ کا آخری بھڑکتا ہوا شعلہ ہے۔‘‘
مزید فرماتے ہیں کہ:
’’مجازؔ کے کلام کو فکر و فن کے اعلیٰ معیار پر جانچا جائے تو شاید اس میں وہ گہرائی اور تفکر نہ ملے جو ادب میں عظمت و بلندی کا ضامن ہوتا ہے، تاہم ان کے کلام کی غنائیت، شادابی اور شگفتگی، ہمارے حواس کی تسکین کا سامان بہم پہنچاتی رہے گی۔‘‘
معین احسن جذبیؔ کے شاعرانہ مقام و مرتبہ کا تعین کرتے ہوئے، خلیل صاحبؔ فرماتے ہیں:
’’جذبیؔ کی شاعری کا آغاز غزل سے ہوتا ہے۔ ترقی پسند تحریک کے ابتدائی دور کے نوجوان شعرا میں جذبیؔ ہی ایک ایسے شاعر تھے جن کو غزل کے فن پر قابو تھا، اس کی وجہ ان کی شخصیت کا گداز اور آہستہ آہستہ آنچ دینے والا انداز ہے۔ جذبیؔ نے صرف انھیں تجربات کو اپنی تخلیق کا موضوع بنایا جو ان کی شخصیت میں حل ہوچکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ ترقی پسند تحریک کے دور عروج میں بہت سے اہم سیاسی و سماجی مسائل پر انھوں نے لکھنے سے انکار کردیا، کیونکہ انھیں احساس تھا کہ ان موضوعات پر ان کی تخلیقی گرفت ایسی نہیں ہے، جس سے کوئی قابلِ قدر فن پارہ وجود میں آسکے۔‘‘
خلیل صاحب مزید فرماتے ہیں کہ:
’’جذبیؔ کی اکثر نظمیں احساس کی شدت اور اندازِ بیان کی نشتریت کی وجہ سے ترقی پسند شاعری کے سرمائے میں مستقل ادبی قدر رکھتی ہیں۔ جذبیؔ کے تجربات میں وسعت نہ ہو لیکن گہرائی ہے۔ انھوں نے زندگی کے مختلف مظاہر اور سماجی زندگی کی متنوع حقیقتوں تک رسائی حاصل نہیں کی ہے لیکن ان کا کارنامہ یہ ہے کہ تجربات کی جو متاع، ان کے ہاتھ لگی ہے، اسے انھوں نے سلیقہ کے ساتھ شعر میں ڈھالا ہے۔‘‘
فراق ؔگورکھپوری کی شاعری اردو غزل کی نیم کلاسیکی روایت کے تناظر میں ایک قطعاً نئی آواز تھی، ان کی شعری کائنات میں سماج و سیاست کے ارتعاشات یقینا محسوس کیے جاسکتے ہیں، لیکن ان کو صحیح معنوں میں ترقی پسند شاعر نہیں کہا جاسکتا۔فراقؔ کے اکتسابات پر روشنی ڈالتے ہوئے، خلیل صاحب رقمطراز ہیں:
’’فراقؔ ایک غیرسیاسی شاعر ہیں۔ ان کے تجربات کا محور عام طور پر عشق و محبت، فطرت، جمالیات اور تمدنی مسائل کے دائرے میں ہے، اسی لیے بعض حضرات جو ترقی پسندی کو خالص سیاسی اور وقتی مسائل تک محدود سمجھتے ہیں، وہ فراقؔ کو یا تو ترقی پسند ہی نہیں سمجھتے، یا ان کی شاعری کے بعض عناصر کو علاحدہ کرکے دیکھتے ہیں اور صرف ان کی بنا پر حکم لگانے لگتے ہیں۔ فراقؔ نے بعض سیاسی و سماجی مسائل پر بھی لکھنے کی کوشش کی ہے۔ جیسے ’دھرتی کی کروٹ‘، ’شاہنامہؔ آدم‘، ’ڈالردیس‘ اور ’امریکی بنجارہ نامہ‘ وغیرہ لیکن انھیں پورے طور پر کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔‘‘
فیض احمد فیضؔ جنھیں رومان سے خصوصی رغبت ہے لیکن جو مجازؔ کے مقابلے میں زیادہ گہرے تفکر اور تخیل کی رہنمائی میں زندگی کے طلسم تماشے کو دیکھنے دکھانے کا ہنر جانتے ہیں، باوجود اس کے کہ وہ عملی طور پر بھی تمام زندگی ترقی پسند تحریک کی خدمت کے لیے وقف رہے، انھیں خالصتاً تحریکی معنوں میں حقیقت نگار شاعر نہیں کہا جاسکتا۔ ان کی ترقی پسندی اور شاعرانہ مقام و مرتبہ کے ضمن میں خلیل صاحب فرماتے ہیں:
’’فیضؔ کی شاعرانہ شخصیت کی نشو و نما مناسب طور پر ہوئی ہے اور رومان سے حقیقت کی طرف ہجرت کرکے انھوں نے اپنی آواز کا رس اور اس کی شیرینی زائل نہیں کی۔فیضؔ بلند بانگ شاعری کے کچھ زیادہ قائل نہیں، وہ انقلابی اور سیاسی موضوعات کو کھلے ڈلے طریقہ پر، خطیبانہ اور واعظانہ انداز میں نظم کردینے، یا بندھے ٹکے نعروں کو اوڑھنا بچھونا بنانے کو اچھی نظر سے نہیں دیکھنے، ان کا خیال ہے کہ ادب برائے ادب کی طرح ادب برائے انقلاب بھی ایک گمراہ کن رجحان ہے۔‘‘
مخدومؔ محی الدین جو صحیح معنوں میں تحریک کے لیے وجہ افتخار تھے، جن کا ایک ایک لمحہ اس کی کامیابی کے لیے وقف تھا، بنیادی طور پر وہ بھی اوسط درجہ کے شاعر رومان تھے اور اسی روزن سے سماجی انقلاب کی سرخ آندھیوں کا مشاہدہ کرنا انھیں پسند تھا۔ خلیل صاحب مخدومؔ کی شعری انفرادیت کا احاطہ ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’مخدومؔ نے جو عشقیہ اور رومانی نظمیں لکھیں، ان میں ایک عجب تازگی اور شادابی کا احساس ہوتا ہے۔ ان میں جمالیاتی کیف اور اندازِ بیان کی ندرت ہے ؎
رات بھر دیدۂ نمناک میں لہراتے رہے
سانس کی طرح سے، آپ آتے رہے، جاتے رہے
یہ سپردگی اور سرمستی مخدومؔ کی انقلابی نظموں میں بھی ملتی ہے۔ وہ انقلاب کا انتظار بھی اس طرح کرتے ہیں جیسے کوئی کسی خوش جمال محبوب کا انتظار کرتا ہے ؎
اے جانِ نغمہ، جہاں سوگوار کب سے ہے
ترے لیے، یہ زمیں، بے قرار، کب سے ہے
ہجوم شوق، سرِ رہگزار، کب سے ہے
گزربھی جا، کہ ترا انتظار کب سے ہے
ان کی سب سے کامیاب نظم— ’’چارہ گر‘‘ ہے۔
علی سردارؔ جعفری جو سجادؔ ظہیر کے بعد ترقی پسند تحریک کے سب سے اہم رہنما اور روحِ رواں تھے، انھوں نے اپنی تمام تخلیقی صلاحیت، شاعری میں اشتہاری مواد کے لیے وقف کردی، تحریک کو ممکن ہے اس سے کچھ فائدہ ہوا ہو لیکن اردو شاعری ان کی خدمات سے بہت کم مستفید ہوسکی۔ خلیل ؔصاحب نے ان کی خصوصیات کلام پر صحیح اظہار خیال کیا ہے۔ فرماتے ہیں:
’’پریمؔ چند کی نصیحت پر سب سے پہلے سردار جعفری نے عمل کیا۔ انھوں نے اپنے مواد عام طور پر ’قومی جنگ‘ میں شائع ہونے والی خبروں، اداریوں، سماجی جماعتوں کی تقریروں، قراردادوں، عوامی لیڈروں کے بیانات اور ہدایات وغیرہ سے حاصل کیے، یہی وجہ ہے کہ ان کی نظموں میں وجدان اور تخلیقی عناصر کی کمی شروع ہی سے کھٹکتی رہی ہے ؎
دوستوں کے لیے، الفت کی زباں ہے لینن
دشمنوں کے لیے، شمشیر و سناں ہے لینن
رگِ مزدور میں خوں، بن کے رواں ہے لینن
دل پہ سرمائے کے اک سنگِ گراں ہے لینن
ہٹلریّت کے نشاں، جس سے جھکے جاتے ہیں
حرّیت کا وہ سرفراز، نشاں ہے لینن
اِس طرح کی نظموں سے شاعر کی ذات، اپج یا اس کی تخلیقی صلاحیت کا پتہ نہیں چلتا۔ یہ وہی انداز ہے جس کی پیروی احسانؔ دانش اور جوشؔ کے بعض معاصرین بھی کررہے تھے۔‘‘ جعفری کی طویل نظم ’نئی دنیا کو سلام‘ میں وہ حصہ جو پابند نظم میں ہے۔ اس میں بڑی خوبصورتی ہے لیکن جہاں آزاد نظم کی باگ سنبھالی ہے، یہ رہوار ان کے قابو سے نکل گیا ہے— ’اودھ ؔکی خاکِ حسیں‘ اور نیندؔ، میں ذاتی زندگی کے بعض تجربے آگئے ہیں، اس لیے ان کے استعارے جیتے جاگتے ہیں۔

یہ مضمون آپ ـ’’ اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ پر پڑھ رہے ہیں۔

کیفی ؔاعظمی کی تمام تر شناخت ترقی پسند تحریک سے تھی۔ جو بڑی سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ تحریک کے ایجنڈے کے مطابق شاعری کرتے رہے، خلیل صاحب ان کے کارناموں کو اجاگر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’کیفی اعظمی ایک شاعرانہ شخصیت لے کر پیدا ہوئے تھے۔ ان کی ابتدائی نظمیں لطیف کیفیتو ںاور دل کی دھڑکنوں سے معمور ہیں، بعد میں ہنگامی واقعات پر فوری نظمیں لکھنے کی طرف مائل ہوگئے، تاہم میرانیسؔ کے اثر سے ان کے ہاں فصاحت اور روانی باقی رہتی ہے۔
منجمد خون میں شعلے سے تپاں ہیں دیکھو
افقِ دار سے لاشیں، نگراںہیں، دیکھو
وہ زیادہ تر فرمائش پر نظمیں لکھنے لگے تھے، جس کے سبب وقتی شاعری زیادہ ہوئی، لیکن جلد ہی انھیں اپنی ہنگامی شاعری کا احساس ہوگیا، اور کچھ عرصہ کے لیے خاموش ہوگئے۔ بہت عرصہ بعد ان کی ایک رومانی نظم — ’بوسہ‘ شائع ہوئی جس میں کیفیؔ نے شعریت کی روح کو چھو لیا ہے ؎
جب بھی چوم لیتا ہوں ان حسین آنکھوں کو
سو چراغ اندھیرے میں، جھلملانے لگتے ہیں
خشک خشک ہونٹوں میں جیسے دل کھینچ آتا ہے
دل میں کتنے آئینے تھرتھرانے لگتے ہیں
جاں ؔنثار اختربھی ترقی پسند ہراول دستے میں نہ صرف شامل بلکہ اس کے اہم نمائندہ ہیں، ان کا سرمایۂ شعری بہت مختصر ہے، خلیلؔ صاحب فرماتے ہیں:
’’جاں نثارؔ اختر رومان سے انقلاب کی طرف آئے۔ وہ ایک انتخابی ذہن رکھتے ہیں، خود اپنا راستہ نکالنے کے بجائے دوسروں کے بنائے ہوئے راستوں پر فوراً چل پڑتے ہیں، چنانچہ انھوں نے اکثر اقبالؔ، جوشؔ، فیضؔ، سردار اور جذبیؔ کے بیان اور خیال اخذ کیے ہیں— البتہ ان کی دو نظمیں— ’خاکِ دل‘ اور — ’خاموش آواز‘ ان کی انفرادیت کی نشانِ راہ ہیں۔‘‘
ساحرؔ لدھیانوی کی شہرت تو فلمی نغمہ نگاری سے تھی لیکن ترقی پسند تحریک کے سبب ان کو خاصی عوامی مقبولیت حاصل ہوئی، ان کے امتیازات کو نشان زد کرتے ہوئے، خلیلؔ صاحب فرماتے ہیں:
’’اُن کی ابتدائی نظموں میں ایک ناپختہ ذہن کے نقوش ملتے ہیں، تاہم ان کے مزاج میں شاعرانہ بے ساختگی اور تغزل کے عناصر شروع سے دکھائی دیتے ہیں ؎
تجھ کو خبر نہیں، مگر اک سادہ لوح کو
برباد کردیا ترے دو دن کے پیار نے
میں اور تم سے ترکِ محبت کی آرزو
دیوانہ کردیا ہے غمِ روزگار نے
پھر نہ کیجے، مری گستاخ نگاہی کا گلہ
دیکھیے آپ نے، پھر، پیار سے دیکھا مجھ کو
ترقی پسند شاعروں میں ساحرؔ کا مجموعہ کلام سب سے زیادہ پڑھا گیا ہے۔ اس کی وہ یہ ے کہ ساحرؔ نہ تو فیضؔ کی طرح ذہین طبقہ کے شاعر ہیں اور نہ بہت سے دوسروں کی طرح مزدوروں کے جلسہ کے شاعر۔ ان کی اپیل متوسط طبقہ کے عام تعلیم یافتہ نوجوانوں میں ہے۔ ان کی نظم — ’پرچھائیاں‘ امن کے موضوع پر بہت کامیاب ہے۔‘‘
مجروحؔ سلطان پوری فلم اور ترقی پسند تحریک سے وابستگی کے باوجود غزل کے منفرد شاعر ہیں، جن کے ہاں روایت کا گہرا شعور بھی ہے اور حال کی آگہی بھی۔ خلیل صاحب ان کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’مجروحؔ کی شخصیت کی نشو و نما جگر کے زیراثر ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان کو غزل کے فن پر خاصا عبور ہے۔ سیاسی موضوعات پر ان کی غزلوں میں جو آبداری ہے، وہ معدودے چند شعراکو نصیب ہے:
دیکھ زنداں سے پرے، رنگِ چمن، جوشِ بہار
رقص کرنا ہے، تو پھر پاؤں کی زنجیر نہ دیکھ
——
شبِ ظلم، نرغۂ راہزن سے پکارتا ہے کوئی مجھے
میں فرازِ دار سے دیکھ لوں، کہیں کاروان سحر نہ ہو
——
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں، وہ ہوا کے رخ بھی بدل گئے
ترا ہاتھ، ہاتھ میں آگیا، کہ چراغ راہ میں جل گئے
جوشِ وفاداری میں مجروحؔ نے اپنی روش کے خلاف مزدور اور کسان وغیرہ کو بھی خراجِ پیش کیا لیکن بہت جلد سنبھل گئے، تاہم وہ سیاسی موضوعات کے تنگنائے سے باہر نہیں نکلتے۔ متنوع حقیقتوں کے برخلاف ایک ہی قسم کی کیفیتوں سے سابقہ پڑتا ہے۔‘‘
اخترالایمانؔ کی کوششوں سے اردو نظم کو ایک خاص وقار اور اعتبار حاصل ہوا، وہ ایک غیرمعمولی صلاحیت کے حامل، اعلیٰ پائے کے تخلیق کار ہیں، جنھوں نے فلمی زندگی کی سطحیت اور ترقی پسندی کی عوامی رغبتوں سے کبھی سمجھوتا نہیں کیا، گہرے تفکر، خلاقیت اور مخصوص شوریدہ سری کے اوصاف سے مزین اُن کی نظمیں، سرمایۂ شعری میں گرانقدر اضافہ ہیں۔ خلیل صاحب اخترالایمان کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’جدید شاعری میں اخترالایمان ایک نئے لہجے کے ساتھ آئے۔ ان کے فنی خلوص نے آنی و فانی موضوعات سے بچ کر زندگی کی تہوں میں جانے اور اس کا تجزیہ کرنے پر مائل کیا، یہی وجہ ہے کہ ان کے ہاں تفکر کا عنصر بہت نمایاں ہے۔ ان کا اسلوب جدید ہیئت کا پابند ہے۔ ان کا علامتی اسلوب اور موضوعات کی طرف بالواسطہ رویہ، وقتی مسائل کے بجائے بنیادی حقیقتوں کا عکاس ہے اور اپنے اندر بصیرت اور تہہ داری رکھتا ہے۔ ان کی ہر نظم ایک تصویر بن جاتی ہے جس میں خطوط اور رنگوں کا تناسب اور توازن ہے، ترقی پسند تحریک کا بحرانی دور گزر جانے کے بعد ان کی شاعری کی طرف زیادہ توجہ کی گئی۔
شاد عارفی جو سوداؔ، نظیرؔ اور انشااللہ خاں انشاؔ کے قبیل کے شاعر ہیں، اپنے ہجو ملیح اور طنزیہ اسلوب سے پہچانے جاتے ہیں، خلیل صاحب نے ان کی انفرادیت کے نمایاں خد و خال پر اس طرح روشنی ڈالی ہے:
’’شادؔ کی نظمیں اپنی تکنیک، اسلوب اور طرزِ احساس کے اعتبار سے اردو شاعری میں ایک نئے عنوان کی حیثیت رکھتی ہیں، ان کی نظموں کا موضوع سماجی اور معاشرتی مسائل ہیں۔ انھوں نے ترقی پسند شاعروں کی طرح اپنی شاعری کا دائرہ محض سیاست تک محدود نہیں رکھا، بلکہ زمانہ اور زندگی کو قریب سے دیکھنے اور برتنے کی کوشش کی۔ بہت سے سیاسی معاملات میں ترقی پسند مصنّفین کی پالیسی سے مطمئن نہ ہونے کے باوجود بھی اپنے آپ کو ترقی پسند سمجھا اور اپنی شاعری کا رشتہ آنے والے زمانے سے جوڑنے کی کوشش کی۔ انھوں نے زندگی میں جو دُکھ جھیلے ہیں، ان کے بیان میں ایک عمومیت اور ہمہ گیری پیدا ہوگئی ہے، ان معنو ںمیں شادؔ کو موجودہ دور کا عوامی شاعر کہا جاسکتا ہے۔‘‘
منیب الرحمنؔ بیشتر دیارِ غیر میں رہنے کے باوجود اپنی تخلیقی تب و تاب اور کائناتی صدمات سے شرابور بے حد لطیف نظموں کے سبب ادبی حلقے کے حافظے سے کبھی غائب نہیں ہوئے۔ خلیل صاحب نے منیب الرحمن کی مخصوص انفرادیت، تخلیقی تگ و تاز اور انسانی دردمندی پر بڑی خوبی کے ساتھ روشنی ڈالی ہے، فرماتے ہیں:
’’(جنگ عظیم دوم کے دوران) منیب الرحمن جب انگلینڈ گئے تو جنگ کی تباہ کاری اور ہولناکی کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھا، جس نے ان کی ذہنی حالت یکسر بدل ڈالی، ان کی سب سے پہلی نظم کا عنوان ہی’’ جنگ‘‘ ہے ؎
جنگ قابیل کے بیٹوں کا بہیمانہ جنوں
آخری لرزشیں، گرتے ہوئے، ایوانوں میں
اسلحہ جات کا، طاقت کا، حکومت کا فسوں
شہپرِ موت کی تاریک فضا میں لرزش
خوں امنڈتا ہوا آنکھوں میں، دہن شعلہ فشاں
شہر کے کوچہ و بازار میں پیروں کی دھمک
سینہ تانے ہوئے کہسار کے مانند جواں
منیب الرحمن کی اکثر نظموں پر ترقی پسند نقطۂ نظر کی چھاپ بہت واضح ہے۔— انھوں نے کلاسیکی صنف شہر آشوب، کو بھی پیرایۂ بیان کے طور پر استعمال کیا جس میں طنز کے بے شمار تیر و نشترہیں۔ یہ شہر آشوب بہت سے ترقی پسند شعراکے نام نہاد سماجی و سیاسی شاعری پر بھی بھاری ہیں۔ جن میں کسی قسم کی چیخ پکار، گھن گرج، اور نعرۂ انقلاب نہیں ہے، لیکن پھر بھی دلوں پر اثر کرتے ہیں۔ منیب الرحمن ان ترقی پسند شاعروں میں ہیں جنھوں نے اس نظریے سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن اس تحریک کی بیشتر خامیوں سے خود کو محفوظ رکھا ہے۔ ان کی شاعری اپنے اندر بڑے امکانات رکھتی ہے۔‘‘
ترقی پسند ادبی تحریک سے کسی نہ کسی طرح وابستہ مذکورہ شعرا کی شعری کائنات کے حوالے سے کسی قدر تفصیلی گفتگو کرنے کے بعد خلیل صاحب نے بحیثیتِ مجموعی بھی اس خاص نقطۂ نظر سے شعر و سخن کی سرپرستی اور حمایت میں تحریک کے تاریخی کردار پر روشنی ڈالی ہے۔ تحریک کے سماجی ایجنڈے اور سیاسی منشور کی مجبوری کے ماتحت بعض بندشوں اور حیدود و قیود کا بھی تذکرہ کیا ہے۔ جن کے سبب اس قافلہ سے وابستہ اکثر شعراکے تخلیقی عزایم سرد ہوگئے اور سطحیت ہی ان کا مقدر بن گئی۔ اس ضمن میں خلیل صاحب کا کہنا ہے کہ:
’’تقسیم ہند اور فرقہ وارانہ فسادات کا نفسیاتی اثر جس طور پر ترقی پسند شعرا کے ذہنوں پر پڑا، اس نے ایسی شاعری کے لیے زمین ہموار کی جس میں جذبات کی تہذیب و تحلیل نہیں ہوتی، بلکہ فوری تاثر اور ردِّعمل ہی اس کی سب سے اہم بنیاد ہوتی ہے۔ پھر بھی یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ بعض سنجیدہ شعرا نے اس موضوع پر بھی اچھی نظمیں لکھیں اور وہ نظمیں جو بہت اعلیٰ درجہ کی نہیں ہیں، ان میں بھی بہرحال خلوص اور انسان دوستی کی جذبہ ہے۔‘‘
البتہ خلیل صاحب کا کہنا ہے کہ تحریک کی ادبی ساکھ کو جس چیز نے سب سے زیادہ صدمہ پہنچایا وہ 1949ء میں منعقدہ بھیمڑی کانفرنس کا منشور تھا، جس نے تحریک کو خالصتاً سیاسی تحریک میں منتقل کردیا۔ ذاتی غم، انفرادی تجربے اور احساس کی مصوری کو رجعت پسندی قرار دیا گیا۔ آزادی اور انقلاب کی جدوجہد میں بین الاقوامی سیاسی ورجحان کی حمایت، فن کی جمالیاتی اور دائمی اقدار کی نفی، پروپیگنڈہ کو ادب، رمزیت و اشاریت کو بورژوائی فکر کی زائیدہ زوال کی علامت قرار دیا گیا، جن پر عمل پیرا ہونے کی صورت میں تخلیقی منظرنامہ پر چیخ و پکار، خطابت، تکرارِ خیال اور مصنوعی رجائیت کے دیکھتے دیکھتے بے شمار بادل منڈلانے لگے، تاہم خس و خاشاک کے اس انبارِ ناپیداکنار میں، چند استثنائی مثالیں بھی مل جاتی ہیں مثلاً غلام ربانی تاباںؔ اور سلیمان اریب وغیرہ جنھوں نے سیل میں بہنا پسند نہیں کیا۔
آزادی کے بعد ابھرنے والے بعض شعرا مثلاً بلراج کوملؔ، شہاب جعفریؔ، مظہرامامؔ، منظرسلیمؔ، عمیقؔ حنفی، وحیداخترؔ، حسن نعیمؔ اور شفیقؔ فاطمہ شعریٰ وغیرہ نے ترقی پسند منشور کو نظرانداز کرکے اپنی انفرادی ہستی اور تخلیقی فطانت کی رہنمائی میں آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور آج شاید انھیں کی بدولت وقت کی طوفانی آندھیوں میں بھی شعر و سخن کی شمع روشن ہے۔
خلیل صاحب کا خیال ہے کہ ’’تحریک کے بحرانی دور سے نکلنے کے ساتھ ہی نسبتاًزیادہ متوازن نقطۂ نظر سامنے آیا ہے۔ جامد اور محدود تصورات کے بجائے، روایت کے صحت مند تصور کو سمجھنے اور نئے حالات سے خود کو منسلک کرنے کا جذبہ پیدا ہورہا ہے۔ اب اس بات کا احساس ہوچلا ہے کہ شاعری محض خیالات سے نہیں۔ احساس اور تجربے سے پیدا ہوتی ہے، غمِ ذات، غمِ جاناں اور غمِ دوراں کو انسانی تجربہ ایک رشتہ میں پروسکتا ہے۔ اب ترقی پسندی اور رجعت پرستی کے میکانکی خانے بنانے اور ان میں شاعر کو قید کرنے کی رسم بھی مٹتی جارہی ہے۔‘‘
میرا خیال ہے کہ خلیل صاحب غالباً یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ترقی پسندی اور جدیدیت کے درمیان جو آہنی دیوار اور خلیج عرصہ سے حائل تھی، اس میں اب شگاف پڑچکی ہے اور شاعری اپنے آفاقی مفہوم، جمالیاتی اقدار، اعلیٰ انسانی احساسات اور تخلیقی کردا رکے ساتھ گمنامی کے پردوں سے اب باہر آچکی ہے۔
خلیل الرحمن اعظمی کی معرکۃ الآرا تصنیف ’اردو میں ترقی پسند ادبی تحریک‘ کے حوالے سے ترقی پسند شعری سرمائے کے اس مختصر سے جائزے سے ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ خلیل صاحب کا کوئی بھی بیان، کسی ذہنی اشتعال، انتقام یا ادعائیت کا نتیجہ ہرگز نہیں ہے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ معروضی اور عقلی سطح پر اس سے بہتر کوئی دوسری تحریر اب تک سامنے نہیں آئی ہے، تو شاید غلط نہ ہوگا۔ وہ ترقی پسند نہ ہوکر بھی پورے شعری سرمائے پر کسی طے شدہ فارمولے یا منصوبے کے تحت خطِ تنسیخ کھینچ دینے کے بجائے، اعلیٰ، ادنیٰ تجربات میں فرق و تمیز کرنے کا ہنر جانتے ہیں، اور بڑے ہی مدلل، مخلصانہ اور معقول طریقہ سے اپنے نتائج فکر سامنے لاتے ہیں۔ گرچہ یہ کہنا شاید غلط نہ ہوگا کہ انھوں نے مولانا شبلی، رشید احمد صدیقی اور آل احمد سرورؔ کی قائم کردہ تنقیدی روایت کی پیروی کرتے ہوئے اپنی تمام تر ذہانت طباعی اور انفرادیت کے باوجود تنقید کے نئے مغربی پیمانو ںکو برتنے اور شعری متن کے فنی و لسانی تجزیے کے بجائے روایتی تاثراتی طریقۂ نقد سے ہی سروکار رکھا ہے، یہ الگ بات ہے کہ اس طرزِ مطالعہ سے بھی جو نتائج برآمد کیے ہیں وہ بالعموم صحیح اور اطمینان بخش ہیں۔

Urdu Afsane ka Niswani Lahan by Dr. Mirza Hamid Baig

Articles

اردو افسانے کا نسوانی لحن

ڈاکٹر مرزا حامد بیگ

”ہم زندگی کا احترام اُس وقت تک نہیں کرسکتے، جب تک کہ ”ہم جنس“ کا احترام کرنا نہ سیکھیں۔“ (ڈاکٹر ہیولاک ایلس)
مشرق اور مغرب، ہر دو اطراف کے مذہبی مفکرین کا خیال ہے کہ مرد ازل سے صاحبِ فہم و فراست ہے اور عورت ناقص العقل۔ حقوقِ نسواں کی عالمی تحاریک کے زیرِ اثر”برابری کا درجہ“ مل پائے گا یا نہیں، کچھ نہیں کہہ سکتے لیکن ہمارا قدیم ماضی اور ماضی قریب تو کم از کم اِس بات کی گواہی نہیں دیتا۔
ہمارے ہاں عورت کو زندگی کرنے کے مساویانہ حقوق نہ ملنے کے سبب جملہ تہذیبی نشوونما اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ادبی سطح پر بھی عورت کا تخلیقی اشتراک اُس طور میسر نہ آسکا، جیسا کہ مغرب میں دکھائی دیتا ہے۔ اس کے باوجود شعری سطح پر زیب النساءمخفی(بنتِ اورنگ زیب عالمگیر) تا شاہدہ حسن، اور افسانے کی سطح پر عباسی بیگم، نذر سجاد، آصف جہاں اور انجمن آراءسے خالدہ حسین تک نسوانی تخلیق اظہار نے تہذیبی ، سماجی اور ادبی سطح پر بھرپور اثرات مرتب کیے۔
فرانسیسی مستشرق گارسیں دتاسی نے لکھا ہے کہ:”میں نے زیب النساءکی اردو نظمیں دیکھیں اور پڑھی ہیں۔“(۱ ) لیکن بطور شاعرہ زیب النساءزیبی مخفی کا ذکر اُس کے اپنے زمانے میں ممکن نہ تھا۔ خود میر محمد تقی میر نے اپنی شاعرہ بیٹی، بیگم کا ذکر تذکرہ ”نکات الشعرائ“ میں نہیں کیا، محض اس لیے کہ عورتوں کے جذبات کو(خواہ وہ تخلیقی اور خیالی ہی کیوں نہ ہوں) بے نقاب کرنا سماج میں بُری نظر سے دیکھا جاتا تھا۔
دوسری طرف ہوس گیری کا یہ عالم ہے کہ حکیم فصیح الدین رنج نے جب ایک سو چُہتر اردو شاعرات کا ا وّلین تذکرہ ”بہارستانِ ناز“(1846) میں قلم بند کیا تو اپنے زمانے کی معروف شاعرہ مُنی بائی حجاب کا ذکر یوں کرتے ہیں:
”عمر میں ابھی انیسویں سال کی گرہ پڑی ہے۔ شاعری کے رستے میںقدم تو رکھا ہے مگر سنبھل کر چلیں، یہ منزل کڑی ہے۔ پہلے ہم گداختہ دلوں سے اپنا دل لگائیں۔ معشوقی کو بالائے طاق رکھیں، عاشق بن جائیں۔ آج کل کی شاعرات سے اب بھی بہتر ہیں۔ مشتری اور زہرہ کی ہم سر ہیں۔ دُور دُور کی سیر بھی کرچکی ہیں، پیمانہ¿ زندگی خوب بھر چکی ہیں، بس ایک ہم سے ہی ملاقات ہونا باقی ہے۔ یقین ہے کہ یہ آرزو بھر آئے گی، اگر سچی مشتاقی ہے۔“۲
غرض یہ کہ مرد کا معاشرہ تھا اور ماضی قریب کا ہندوستانی سماج، رسوم و رواج کی زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور توہّمات گلے کا ہار تھے۔ ایسے میں عورت حد درجہ مظلوم تھی اور مظلوم بھی اس قدر کہ روحانی اور جسمانی قیود کا شکار ہو کر ایک طرح کی مفلوج زندگی گزاررہی تھی۔ نتیجہ کے طور پر اُس میں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مرد کے مقابلے میں حد درجہ کم تھی۔ تخلیقی اظہار کیوں کر ممکن ہوتا۔
انگریزی عملداری (1860ء) میں چند علم دوست انگریز حکام کی راہنمائی میں جابجا علمی اور ثقافتی انجمنوں کا قیام عمل میں آیا۔ آگرہ، بنارس، شاہجہاں پور اور لکھنو¿ میں معاشرتی اصلاح نیز تعلیم نسواں پر زور دیا گیا۔ اس سلسلے میں گورنر شمال مغربی صوبہ جات سرولیم میور اور ڈائریکٹر تعلیمات مسٹر کیمپس کی مساعی قابلِ ذکر ہے۔ لگ بھگ1864ءمیں گورنمنٹ آف پنجاب نے تعلیم نسواں کی طرف توجہ کی جس کے نتیجہ میں مدرسہ جات برائے خواتین اور نارمل اسکول معرضِ وجود میں آئے۔ لیکن اس ضمن میں مردانہ معاشرے کی بے توجہی نے اس کوشش کا عدم وجود برابر کردیا۔ ان مدرسوں میں معمولی گھرانوں کی لڑکیاں داخلہ لیتیں۔ اعلیٰ درجہ کے مسلم گھرانے اپنی لڑکیوں کو ان اسکولوں میں داخلہ دلوانا کسرِ شان تصو ر کرتے۔ لڑکیوں کی کم سنی میں شادی بھی اس حوالے سے بڑی رکاوٹ تھی۔ابتداءمیں سرسید تحریک کا دائرہ اثر ہندوستان کے مقامی مرد تک محدود تھا۔ یہ دیکھ کر نذیر احمد دہلوی نے اصلاح نسواں کی ضرورت کے پیش نظر تربیت اولاد پر توجہ مبذول کی۔نذیر احمد دہلوی کے تمثیلی قصے ”مراة العروس“ (1869ء) ، ”منتخب الحکایات“(1869ء) ، ”بنات النعش“(1872ء) اور رشید النساءبیگم کا ”اصلاح النسائ“(1881ء) ایک طرح سے مسلم گھرانوں میں گھریلو مکتب کا آغاز ہیں۔ خاص طور پر ”مراة العروس“ میں ہندوستانی عورت کی اصلاح اور تعلیم کے لیے جہاں گھرداری کے معاملات سے متعلق دو ابواب مختص کیے گئے ہیں وہیں اسے جغرافیہ، جرِ ثقیل، مقناطیس، اجرامِ فلکی اور علم تاریخ کے ساتھ ساتھ ایک پاکباز انگریز گھرانے کا احوال بھی سنایا گیا۔
19 ویں صدی کے نصف آخر میں عورت کے لیے چار قسم کا ادب سامنے آیا:
۱۔ چھوٹے چھوٹے رسائل کی صورت ناصحانہ ادب۔ مقصد تعلیم اور اصلاح تھا از قسم ”مجالس النسائ“ از حالی 1874ء
۲۔ مذہبی رسائل۔ احادیث اور تفاسیر کی روشنی میں حقوق و فرائض سے متعلق، از قسم”رسالہ تحفہ الزوجین“ از مولوی محمد قطب الدین خاں 1858ء۔ نیز آدابِ معاشرت و اخلاقی سے متعلق رسائل از قسم ”آداب النسائ“ از حافظ سید محمد بنگلوریہ 1858ء/”چند بند“ از نذیر احمد دہلوی1871-72ء/”رسالہ علم الاخلاق‘ از مولوی سید کرامت حسین۔
۳۔تمثیلی قصے۔ مقصد اصلاحِ نسواں از قسم ”مراة العروس“،”بنات النعش“،”توبتہ النصوع“،”فسانہ¿ مبتلا“، ”ایامیٰ“ اور ”رویائے صادقہ“ از نذیر احمد دہلوی،”اصلاح النسائ“ از رشید النساءبیگم1849ء، ”عفتِ نسواں“،’اور ”شعلہ پنہاں“ از اکبری بیگم (قبل 1906ء)۔
۴۔ معلوماتی کتب کے تراجم۔ از قسم ”رسوم ہند“ جاری کردہ محکمہ تعلیم 1968ء/”منتخب الحکایات “ ترجمہ نذیر احمد دہلوی 1869ء/”سیرِ ظلمات“ ترجمہ ظفر علی خاں۔
عورت، جسے مرد نے ہمیشہ سربستہ راز تصور کیا، مرد تخلیق کاروں کا موضوع رہی، لیکن عورت کی نزول نفسی کیفیات کو پوری طرح بیان کرنے کے لیے ہمیشہ عورت ہی کی ضرورت محسوس کی گئی۔
ابن العربی کا قول ہے کہ:”ہر جزو، اپنی کُل کی طرف لوٹتا ہے۔ آدم نے حوّا کو اپنی پسلی سے جُدا کرکے دیکھا اور اُس کی طرف راغب ہوگیا۔“
یقینا واپسی کا راستہ جنس کے شاداب خطے سے ہو کر نکلتا ہے لیکن ہمارے ہاں جسمانی قربت ہی پر قناعت کی گئی۔ یہ دیکھتے ہوئے محمدی بیگم (والدہ امتیاز علی تاج) نے صغرا ہمایوں مرزا کی سرپرستی میں ”تہذیبِ نسواں“ لاہور کا اجراء(1898ء) کرکے نسوانی اظہار کو ایک پلیٹ فارم مہیا کردیا۔ ”تہذیب نسواں“ ہندوستان کا پہلا ہفتہ وار زنانہ اخبار تھا۔ بقول قرة العین حیدر اسی زنانہ اخبار کے اجراءسے ”معمولی تعلیم یافتہ پردہ نشیں خواتین میں تصنیف و تالیف کا شوق پیدا ہوا۔“۳
”مدرسة النسواں“ علی گڑھ(قیام:1906ء) کا مجلّہ ”خاتون“ علی گڑھ، منشی محبوب عالم کا مُجلّہ ”شریف بی بی“ لاہور، بیگم شیخ محمد اکرام (مدیرہ) کا مُجلّہ”عصمت“ دہلی(اجراء:1908ء)، بیگم احتشام (قلمی نام: مسز خاموش) کا مُجلّہ ”رسالہ پردہ نشین“ آگرہ(اجراء:1912ء) ، راشد الخیری کا ہفتہ وار مُجلّہ ”سہیلی“ دہلی اور ”بنات“ دہلی (اجراء1915ء) اور قمر النساءبیگم (والدہ اختر جمال) کا مُجلّہ اُمہات“ بھوپال(اجراء1920ء) نے بیسیوں خواتین افسانہ نگار پیدا کردیں۔راشد الخیری کی ”تربیت گاہِ بنات“ دہلی (قیام 1923ء) ایک اور جرات مندانہ اقدام تھا جسے سجاد حیدر یلدرم کی ”آزادی نسواں تحریک“ نے بڑھاوا دیا۔ جس سے یہ ہوا کہ چلمن کے پیچھے سے جھانکنے والی سرشار کی سپہرآراءلکھنو، دہلی، علی گڑھ اور لاہور کی مقفل حویلیوں کی چہار دیواریوں سے نکل کر ممبئی کی چوپاٹی پر کُھلی ہوا میں سانس لینے لگی۔۴
عجیب اتفاق ہے کہ اردو کی اوّلین افسانہ نگار خواتین: عباسی بیگم، نذر سجاد حیدر، آصف جہاں اور انجمن آراءکے پہلے طبع زاد افسانوں کا سال اشاعت ایک ہی ہے یعنی 1915ء۔ یوں تاریخی اعتبار سے ان افسانہ نگار خواتین سے قبل اردو کے افسانوی افق پر صرف اور صرف دس نام ہی دکھائی دیتے رہے ہیں، یعنی راشد الخیری(1903ء) ، علی محمود(1904ء) ، وزارت علی اورینی(1905ء) ، سجاد حیدر یلدرم(1906ء) ، سلطان حیدر جوش(1907ء) ، پریم چند(1908ء)، محمد علی ردولوی(1910-11ء) ، خواجہ حسن نظامی (1912ء)، نیاز فتح پوری اور سدرشن (1913ء)۔
اوّلین افسانہ نگاروں میں عباسی بیگم کا پہلا افسانہ ”گرفتار قفس“ مطبوعہ ”تہذیبِ نسواں“ لاہور، 1915ءہے۔ عباسی بیگم (والدہ حجاب امتیاز علی ) کا تعلق مدراس کے ایک متمول اور روشن خیال گھرانے سے تھا۔ عباسی بیگم کے ابتدائی افسانے ”تہذیب نسواں“ لاہور ، ”عصمت“ دہلی، ”خاتون“ علی گڑھ اور ”تمدن“ دہلی میں شائع ہوئے اور کچھ ہی مدت بعد انھیں بطور افسانہ نگار ”مخزن“ لاہور اور ”زمانہ“ کانپور نے بھی قبول کرلیا۔
عباسی بیگم ایک آدرشک حقیقت نگار تھیں۔ افسانہ ”گرفتار قفس“ میں پردہ نشیں عورت کو ایک ایسے پرندے سے تشبیہ دی گئی ہے جسے پنجرے میں قید کردیا گیا ہو۔ افسانہ ” دو شہزادیاں“ میں مغل شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر کے عہد سے متعلق ایک تاریخی واقعہ کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ شہزادہ شجاع کی اپنے باپ اورنگ زیب کے خلاف بغاوت اور شکست کے نتیجہ میں جلا وطنی نصیب ہوتی ہے۔ ایسے میں شجاع کی دو بیٹیاں بھاگ کر ایک جنگل میں پناہ لیتی ہیں۔ ان کا قیام ایک جھونپڑی میں ہے ا ور کسمپرسی کا عالم۔ ایسے میں ایک نو عمر لڑکا ”عالیہ“ اُدھر آنکلتا ہے۔ جو اپنی ظریفانہ حرکات سے شہزادیوں کا غم غلط کرتا ہے۔ شہزادیاں بھی اس سے مانوس ہوجاتی ہیں۔ کچھ مدت بعد پتا چلتا ہے کہ اس علاقے کے ایک رئیس کو جنگل میں ان کی موجودگی کا علم ہوگیا ہے۔ یہ قیامت کی گھڑی تھی اور موت صاف نظر آرہی تھی۔ ایسے میں ایک شہزادی اُس لڑکے کو الوداع کہتے ہوئے اپنی انگوٹھی بطور یادگار دے دیتی ہے۔ خلاف توقع اس رئیس کے محل میں شہزادیوں کا استقبال کیا جاتا ہے۔ جب تمام خواص اور عمائدین رخصت ہوجاتے ہیں تو رئیس اپنے تخت سے نیچے اتر کر شہزادیوں سے پوچھتا ہے:
”کیا تم نے جنگل کے اس پُرانے رفیق ”عالیہ“ کو پہچان لیا؟“
حقیقت یہ تھی کہ عالیہ ہی اُس علاقے کا رئیس تھا۔ محبت کی نفسیات سے متعلق یہ افسانہ خاصے کی چیز ہے۔ جب کہ افسانہ ”ظلم بیکساں“ ایک سیدھا سادہ بیانیہ افسانہ ہے جس میں عورت کو مرد کے ظلم و ستم کا شکار دکھایا گیا ہے۔نذر سجاد حیدر کا پہلا افسانہ ”خونِ ارماں“ 1915ءمیں شائع ہوا اور پھر یکے بعد دیگرے ”حور صحرائی“،”نیرنگ زمانہ“ اور ”حق بہ حق دار“ جیسے افسانے لکھ کر شہرت پائی۔ ان کے افسانوں کا لینڈ اسکیپ خاص طور پر اُتر پردیش اور علی گڑھ کا علاقہ ہے۔
نذر سجاد حیدر کے افسانوں میں آزادی¿ نسواں کے حوالے سے عورت کی تعلیم، آزادی اور رجعت پسندی کے ردّ کے آثار خاص اہمیت رکھتے ہیں۔ ان کی نظر اپنے دور کی سیاست پر بھی گہری تھی۔ یہی سبب ہے کہ تحریک عدم تعاون پر انھوں نے کُھل کر لکھا۔ ان کے افسانہ ”حورِ صحرائی“ (مطبوعہ 1926ئ) کے لیے ایک اخباری خبر نے پلاٹ مہیا کیا، جس میں بتایا گیا تھاکہ جنگل میں ایک شیر کی کچھار سے دو صحت مند بچے برآمد ہوئے جنھیں شیرنی نے ماں بن کر اپنا دودھ پلایا تھا۔
آصف جہاں آزادی¿ نسواں کی علمبردار تھیں۔ انھوں نے عورت اور مرد کے باہمی رشتے کو اپنا موضوع بنایا۔ اُن کا پہلا افسانہ ”شش و پنج“ (1915ئ) کے عنوان سے شائع ہوا۔ پھر وقفے وقفے سے انھوں نے متعدد یادگار افسانے لکھے خصوصاً ”تیسری تاریخ کا چاند“ (1918ئ) ، ”مشق ِ ستم“(1920ئ) ،”سالگرہ“ (1920ئ) ، ”ندامت“ (1924ئ)، ”مرتا کیا نہ کرتا“(1925ئ)،اور ”عجلت بے جا“(1925ئ) نے بہت شہرت پائی۔
انجمن آراءکا افسانہ”ریل کا سفر“ (1915ئ) خاص طور پر یاد رکھا جائے گا، جس میں ریل کے پہلے سفر کے دوران عورت کی بے بسی اور مجبوری قابل ِ دید ہے۔ مرد کی ہوس پرستی پر یہ ایک شدید طنز ہے۔اِن چار اوّلین افسانہ نگار خواتین کے 1915ءمیں سامنے آنے کے فوراً بعد نئے ناموں کی جیسے ایک کہکشاں سج گئی۔
اُمّت الوحی کی افسانہ نگاری کا آغاز 1916ءمیں تہذیب نسواں ، لاہور اور ’عصمت‘ دہلی سے ہوا۔ اُن کے ہاں موضوعات کا تنوع خاص طور پر قابل توجہ ہے۔ جب کہ اصلاح پسندی قدرِ مشترک۔ 1927۱ءمیں ان کا افسانہ ”شاہد وفا“ شائع ہوا اور یہی ان کا شہرت کا باعث بھی ہے۔ ”شاہدِ وفا“ کے تین مرکزی کردار ہیں۔ سعید، سلمہ ایک نوبیاہتا جوڑا ہے جس کی خوشیوں کا محور ان کا نومولود بیٹا ہے۔ بچے کی دیکھ بھال کے لیے ایک نرس مہرالنساءکو ملازم رکھا جاتا ہے۔ جو بچے سے محبت کی آڑ میں سعید پر ڈورے ڈالتی ہے۔ سعیداشارے کنائیوں میں بیوی پر صورت احوال واضح کرتا ہے لیکن سلمہ، مہرالنساءکی بے بسی اور مجبوری کو دیکھتے ہوئے خدا ترسی کے سبب اسے ملازمت سے علاحدہ نہیں کرتی۔ تاوقتیکہ مہرالنساءپوری طرح سعید کے حواس پر چھا جاتی ہے۔ سلمہ سے دوسری غلطی یہ ہوئی کہ ان دونوں کی شادی پر رضا مند ہوگئی۔ اب مہرالنساءکمال مہارت سے سعید کو اس کی وفا شعار اور خدا ترس بیوی سے بدٰظن کردیتی ہے اور سعید اپنی بیوی کو عین اُس وقت اپنے گھر سے نکال دیتا ہے جب وہ امید سے ہے۔
خود راکردن علاج نیست کے مصداق سلمہ بے کسی کے عالم میں دوسرا بچہ جنتی ہے۔ افسانے کے دوسرے حصے میں سعید اور مہرالنساءکو بے اولاد رکھا گیا ہے جب کہ سلمہ پر دوسری افتاد یہ پڑی کہ سعید اس سے اس کی زندگی کا سہارا جمیل(بیٹا) بھی چھین لیتا ہے۔ کچھ مدت بعد مہرالنساءبیمار پڑتی ہے تو سلمہ اپنے ہی گھر میں بھیس بدل کر بطور ملازمہ پہنچ جاتی ہے۔ اب وہ اپنے ہی گھر میں بطور خدمت گار ملازم ہے اور سعید کے بیمار پڑنے پر اُسے اپنا خون دینے کے سبب جان گنوا بیٹھتی ہے۔ آخری وقت میں سعید کو جب یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کی جان بچانے والی سلمہ تھی تو وہ کفِ افسوس مَلتاہے لیکن اس کی یہ پشیمانی سلمہ کو موت سے نہیں بچا سکتی۔
یہ افسانہ دوہرے پلاٹ کا حامل ہے اور اس تکنیک کو اُمّت الوحی نے پہلی بار برتا۔ اس افسانے کی مقبولیت کا اس بات سے اندازہ لگائیے کہ قیام پاکستان کے بعد اداکار و ہدایت کار نذیر نے اس کہانی پر مشہور فلم ”نوکر“ بنائی۔ جس میں سلمہ کا کردار مشہور اداکار سورن لتا اور سعید کا کردار نذیر نے ادا کیا تھا۔
اُمّت الوحی کے سات افسانوں کا مجموعہ ”شاہد وفا“ کے نام سے شائع ہوا تھا۔
خاتون اکرم نے مختصر افسانہ لکھنے کے ساتھ پہلی بار طویل مختصر افسانے لکھنے کی ابتدا کی۔ ان کے بیشتر افسانے1918ءتا 1920ءکی تخلیقات ہیں۔خاتون اکرم نے رسوم باطلہ اور نئی تہذیب کی خرابیوں کو اپنا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوی کردار سرسید احمد خان کے مضمون ”گزرا ہوا زمانہ“ (مطبوعہ: ”تہذیب الاخلاق“ علی گڑھ بابت: 21 مارچ 1973) کے انداز میں اپنے بُرے افعال سے متعلق بھیانک خواب دیکھ کر گزشتہ زندگی سے تائب ہوتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ اس طریقہ کار کی ایک مثال ان کا افسانہ ”بالائی آمدنی“ ہے۔
خاتون اکرم کا نمائندہ افسانہ ”آرزو کی قربانی“ ایک ایسی ہٹ دھرم خاتون کی کہانی ہے جو بے جا رسوم کی پابند ہے اور نئی تہذیب کی گرویدہ ۔ اس نے محض ایک رنگا رنگ تقریب کا اہتمام اپنے گھر پر کرنے کی خاطر اپنی تین سالہ بیٹی ثریا کو شدید گرم موسم میں روزہ رکھوایا اور افطار پارٹی کے اہتمام میں جُت گئی۔ افطار کے وقت جب ثریا کی ڈھنڈیا پٹی تو کیا دیکھتے ہیں کہ وہ معصوم لڑکی اپنے کمرے میں پانی سے بھری صراحی پر منہ رکھے ابدی نیند سورہی ہے۔ اس نے ماں کے خوف سے پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں پیا اور پیاس کے سبب جان دے دی۔
خاتون اکرم کا پہلا افسانوی مجموعہ ”گلستانِ خاتون“ کے عنوان سے شائع ہوا اور اس کے بعد دو طویل مختصر افسانے ”پیکر وفا“ اور ”بچھڑی بیٹی“ کے عنوانات سے الگ الگ کتابی صورت میں سامنے آئے۔
سعیدہ اختر نے 1919ءمیں افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ ان کا پہلا افسانہ ”کوکب“ تھا لیکن اس کے بعد محض چند افسانے لکھ کر ادبی اُفق سے غائب ہوگئیں۔ سعیدہ اختر کے افسانے تکنیکی اعتبار سے بیانیہ لیکن کرداروں کا ڈوب کر مطالعہ کرنے کے غماز ہیں۔ انھوں نے ایک افسانوی مجموعہ ”ستارے“ کے نام سے یادگار چھوڑا۔
زبیدہ زری نے لگ بھگ 1920-21ءمیں افسانہ نگاری شروع کی اور تسلسل کے ساتھ اس دور کے تمام اہم ادبی جرائد خصوصاً ”ہمایوں“ اور ”ادبی دنیا“ میں لکھتی رہیں۔ ان کے ہاں موضوعات کا تنوع ہے اور اصلاح پسندی کا وہ زور و شور بھی نہیں جو ابتدائی دور کی خواتین افسانہ نگاروں کے ہاں دکھائی دیتا ہے۔
زبیدہ زری کے افسانوں کو پریم چند کی ادبی روایت میں رکھ کر دیکھا جاسکتا ہے۔ انھوں نے ”ادب زری“ کے عنوان سے ایک افسانوی مجموعہ یادگار چھوڑا۔
آمنہ نازلی نے افسانہ نگاری کے ساتھ ڈراما نگاری بھی کی۔آمنہ نازلی کے افسانوں اور ڈراموں میں زبان و بیان کا وہ اعلیٰ معیار دیکھنے کو ملتا ہے جسے اکثر مرد افسانہ نگار بھی چُھو کر نہیں گزرے۔ اُن کے افسانوں کی اہم خصوصیات میں موضوعات کا تنوع اور حد درجہ اختصار ہے۔ اُن کے ایک افسانے سے اقتباس ملاحظہ ہو:
”خالہ امی نے پلیٹ پوش ہٹا کرایک لمبی سی پسلی اٹھائی:”اوئی بُوا یہ حصّہ“ ۔
”کیا کہیں سے حصہ آیا ہے، بیگم صاحبہ؟“ سعیداً باورچی خانہ سے لپک کر آئی۔
”ہاں ہاں، بھاوج کے گھر سے، ذرا دیکھو تو اُس گھر میں کیا بلیاں رہتی ہیں جو چھیچھڑوں کے ڈھیر لگادیئے۔“
خالہ امی نے دوبارہ کپڑا ہٹا کردو بوٹیاں چٹکی سے پکڑ کر لٹکائیں۔ لمبے لمبے چھیچھڑوں میں پتلی پتلی پسلیاں، کہیں غدودوں کے گُچھے جھلّی میں لپٹی ہوئی مُنحنی سی بوٹی۔ خالہ امی تو خالہ امی، اُس وقت بُوا سعیداً کو بھی غصہ آگیا۔“
(افسانہ: ”بقرعید کے حصّے بخرے“)
آمنہ نازلی کے دو افسانوی مجموعے شائع ہوئے جن میں سے ”ننگے پاؤں“ نے بہت شہرت پائی۔
ابتدائی دور کی دیگر افسانہ نگار خواتین میں حجاب امتیاز علی کی دو خالاؤں رابعہ سلطان بیگم اور خیر النساءبیگم، سیدة النسائ، صُغرا ہمایوں مرزا، نسیم ایوب، زبیدہ سلطان اور عزیز النساءکے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
اردو افسانے میں اصلاحِ نسواں (بہ حوالہ راشد الخیری) قوم پرستی، سماجی اصلاح پسندی، داستانوی رومانیت(بہ حوالہ پریم چند اور سدرشن)، ماضی میں پناہ لینے کا رویہ، نفسیات سے شغف اور داستان طرازی(بہ حوالہ محمد علی ردولوی) کی ملی جلی صورتیں خواتین کے افسانوں میں بھی ظاہر ہورہی تھیں کہ سجاد حیدر یلدرم نے ترکی ادب کے تراجم کی معرفت خالصتاً یورپی وضع کی رومانیت متعارف کروائی۔ اس سے قبل ہمارے افسانوی ادب میں رومانیت کا مشرقی رویہ تو موجود تھا لیکن اب نیاز فتح پوری نے اپنے دور کے مروج افسانے سے محض اصلاح نسواں اور سماجی اصلاح پسندی کو موضوعی سطح پر چنتے ہوئے رومانی ذات کے حوالے سے معاشرتی سطح پر انقلاب برپا کرنے کی ٹھانی۔ یوں اردو افسانے میں بلند آہنگی اور نشتریت کی جگہ انسانی داخل کا اثر و نفوذ بڑھا نیز سرسید احمد خان کی متعارف کردہ خشک بے جان نثر کی جگہ ادبِ لطیف نے لے لی۔ اب مجنوں گورکھ پوری نے مرد اور عورت کی محبت کو معاشرتی جکڑ بندیوں سے آزاد دیکھا اور ٹامس ہارڈی و ہیگل کے گہرے اثرات قبول کرتے ہوئے رومان اور فلسفے کے باہمی امتزاج سے ارد و افسانے میں نرول رومان پسندی کی ایک نئی الم پسند لہر متعارف کروادی۔ اس نئی رومان پسند لہر میں مسز عبدالقادر اور حجاب امتیاز علی( حجاب اسماعیل) کا حصہ بہت نمایاں ہے۔1920ءمیں اس نئی رومانی لہر کی اولین نمائندہ نسوانی آواز راحت آراءبیگم کے افسانوں کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ ان کے تین افسانوی مجموعے ”پریمی“،”بانسری“،اور ”غنچہ“ کے عنوانات سے شائع ہوئے۔ یہ الگ بات ہے کہ راحت آراءبیگم کا اپنا کوئی مخصوص رنگ نہیں۔ انہوں نے یلدرم اور نیاز فتح پوری کے ساتھ پریم چند کے متحارب رنگوں کو باہم ملا کر پیش کردیا۔
نرول رومانی انگ کی پہلی بھرپور صورت مسز عبدالقادر(اصل نام: غلام زینب خاتون) کے افسانے ہیں۔ مسز عبدالقادر کا پہلا افسانہ ”لاشوں کا شہر“ لگ بھگ 1920ءکی تخلیق ہے۔ یوں ”لاشوں کا شہر“ سے افسانہ ”صدائے جرس“ تک ان کے افسانوں پر امریکی ناول نگار اور افسانہ نگار ایڈگرایلن پو کی چھاپ بہت گہری ہے۔ خاص طور پر افسانہ ”بلائے ناگہاں“ اور ایڈگرایلن پو کے افسانے “The Black Cat” کی حیرت انگیز مشابہت خاص طور پر قابل توجہ ہے۔
مسز عبدالقادر کے افسانوں میں حد درجہ کی پُراسراریت اور تجسّس انسانی نفسیات کی حیرت انگیز جہتوں کی چہرہ نمائی کے وسیلے ہیں۔ جب کہ بعض افسانوں خصوصاً ”راکھشس“،”سمادھ کا بھوت“،”بلائے ناگہاں“،”لاشوںکا شہر“،”صدائے جرس“،”راہبہ“،”ارواحِ خبیثہ“،”شگوفہ“،”کاسہ¿ سر“،”ناگ دیوتا“،”رسیلا“ میں خوف اور دہشت کی کیفیات انہیں اردو ادب میں سب سے الگ تھلگ اور نمایاں مقام عطا کرتی ہیں۔
مسز عبدالقادر نے ایڈگر ایلن پو کے گہرے اثرات کے تحت افسانہ نگاری کا آغاز کیا اور اس میں اُن کی اپنی نفسی کیفیات نے بھی اہم رول ادا کیا۔ بقول مسز عبدالقادر:
”سیاحت کے دوران میں نے انجیل، تورات، زبور اور قرآن مجید کا تفصیلاً مطالعہ کی۔ اس تمام مطالعہ کا مجھ پر یہ اثر ہوا کہ میرا فلسفہ آواگوں پر یقین ہوگیا اور مجھے یہ خیال آنے لگے کہ میرا دوسرا جنم ہے اور اس لیے میرا اس دنیا میں دل نہیں لگتا۔ لیکن یہ اعتقاد ہندو عقیدے کی و جہ سے نہیں ہوا کیونکہ مجھے ہندوؤں سے بہت نفرت ہے بلکہ میرا یہ اعتقاد مطالعہ سے اور اپنے ذاتی تجربات کی بنا پر ہوا کیونکہ بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ جب میں کسی چیز کو دیکھتی تو مجھے یوں محسوس ہوتا کہ میں اس چیز کو پہلے بھی دیکھ چکی ہوں لیکن یہ یاد نہ آتا کہ یہ چیز پہلے کہاں دیکھی تھی۔“۵
اس نفسی کیفیت کے زیرِ اثر انھوں نے ڈوب کر لکھا:
”فرزانہ کی چیخیں بند ہوچکی تھیں۔ وہ بے حس و حرکت پڑی تھی۔ میں اس بدحواسی میں اٹھا۔ مرتعش ہاتھوں سے بندوق اٹھائی اور ایک لاش کی پیشانی کا نشانہ لے کر داغ دی۔ گولی ٹھیک نشانہ پر بیٹھی۔ اس لاش کا آدھا سر اڑ گیا۔ مگر وہ بدستور بڑھ رہی تھی۔ حتی کہ لاشیں بالکل قریب آگئیں۔ بڑھی ہوئی مایوسی اور بے بسی سے میرا دل بیٹھ رہا تھا۔ میں دیوار کے سہارے کھڑا ہوگیا۔ اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔ مجھے صرف اتنا معلوم ہوا کہ کوئی ٹھنڈی ٹھنڈی سخت چیز میرے بدن پر مَس ہوئی۔ اس کے بعد مجھے کچھ ہوش نہ رہا۔“(افسانہ:”لاشوں کا شہر“)
افسانوی مجموعہ ”وادی قاف“ کے افسانے متنوع منظرناموں اور مناظرِ فطرت(خصوصاً قہار فطرت) اور ”راہبہ“ کے افسانے دنیا بھر کی گم نام سیاحت گاہوں کے حوالے سے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔ ہر دو مجموعوں میں قہار فطرت کے مقابل انسان کھڑا ہے:
”اس کا بدن بخار سے پھنک رہا تھا۔ اس کی آنکھیں لال انگارہ ہورہی تھیں۔ ادھر اُدھر سر پٹختا تھا اور ”مجھے بچاؤ بچاؤ“ کہہ کر جگر خراش چیخیں مارتا، کبھی کہتا ”ہائے چچی حفیظ گرم سلاخوں سے میرا بدن داغ رہی ہے۔“ کبھی کہتا۔” ریشمہ مجھے آتشیں بھالا نہ مارو۔ ہائے مجھے دوزخ کے فرشتے پابجولاں کرکے لے چلے ہیں، مجھے چھڑاؤ۔“
غرض کہ اسی طرح چیختا چلاتا صبح کے وقت مر گیا۔ ادھر طوفان بھی تھم گیا تھا۔“
(افسانہ ”پاداش عمل“ سے اقتباس)
مسز عبدالقادر خود بتاتی ہیں:
”میںنے کبھی کسی کہانی کا پلاٹ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کی بلکہ جب کبھی مجھے کسی کہانی کے پلاٹ کی ضرورت پڑے تو میں کسی ویران اور سنسان کھنڈر میں چلی جاتی ہوں تو وہاں ماحول کے تاثرات سے کہانی کا پلاٹ خود بخود سوجھ جاتا ہے۔“
(بحوالہ: ”خود نوشت حالاتِ زندگی“:مملوکہ مرزا حامد بیگ)
اُن کے افسانے نہ صرف موضوعی سطح پر منفرد ہیں بلکہ اسلوبیاتی سطح پر بھی الگ ذائقہ کے حامل ہیں۔ تحیر خیزی اور دہشت ناکی کی پیش کش کے ساتھ ان کا رومانی رویہ انھیں اردو کے بڑے رومانی افسانہ نگاروں میں اہم مقام دلاتا ہے۔
مسزعبدالقادر کے چار افسانوی مجموعے ”لاشوں کا شہر اور دوسرے افسانے“(طبع اول: 1936ئ، ”صدائے جرس“(طبع اوّل:1939ئ) ،”راہبہ اور دوسرے افسانے“(1946ء)اور”وادی¿ قاف اور دوسرے افسانے “ (طبع اول: 1954ئ) کے عنوانات سے شائع ہوئے۔
اردو افسانے میں نرول رومانی لہر کے حوالے سے دوسری توانا آواز حجاب امتیاز علی کی ہے۔ یہ بھی اتفاق ہے کہ حجاب امتیاز علی کے لڑکپن میں اُن کی والدہ (عباسی بیگم) کی ناوقت موت نے حجاب کو یکسر تنہا ہی نہیں کردیا بلکہ مسز عبدالقادر کی طرح وہ بھی ذہنی اذیت کا شکار رہیں۔ اس عالم میں انھوں نے نثر لطیف لکھ کر نوجوانی میں بے پناہ شہرت حاصل کی۔ فکشن نگاری کی سطح پر طویل مختصر افسانہ ”میری ناتمام محبت“ مطبوعہ: نیرنگ خیال“ لاہور ۲۳۹۱ءسے انھیں لازوال شہرت ملی۔
پہلے پہل انھوں نے حجاب اسماعیل کے نام سے لکھا۔ امتیاز علی تاج سے شادی کے بعد حجاب امتیاز علی کے نام سے لکھنے لگیں۔ اُن کے افسانے رومانی کردار نگاری اور رومانی فضا بندی کے ساتھ اجنبیت کا احساس لیے ہوئے ہیں۔ اس پر مُستزاد رومان پرور اور سحر آفریں ماحول ہے۔ جس کا جنم جنوبی ہند کے ضلع کرشنا کے مضافات اور دریائے گوداوری سے ہوا۔ کنول کے پھول، کیوڑے کے جنگلات، تاڑ کے سربلند درخت، دھان کے کھیت۰ حواصلیں، کال کلیچیاں، سنگھا پوری مینائیں اور اگیا بیتال سے پیدا ہونے والی ہیبت ناکی۔ یہ اردو میں بصری رومانیت کا پہلا تجربہ تھا۔ لیکن حجاب کے افسانوں کی طلسماتی فضا اور رومان میں ڈوبے ڈاکٹر گار، چچا لوث، دادی زبیدہ، رُوحی، صبوحی، صوفی اور ریحانی جیسے کرداروں کی نقل و حرکت پُراسرار تو ہے، مسز عبدالقادر کے افسانوی فضا کی طرح ہیبت ناک ہر گز نہیں۔
حجاب امتیاز علی نے تاریخ، نفسیات، سائنس، علم نجوم اور مذاہب عالم کا مطالعہ جم کر کیا تھا، اِ س لیے وہ کردار نگاری کی سطح پر دادی زبیدہ، جسوتی، سرجعفر، ڈاکٹرگار، زوناش اور چچا لوث جیسے بڑے رومانی کردار خلق کرپائیں۔ یہ سب کردار حجاب کے تخلیق کردہ فنٹاسٹک ماحول میں جیتے ہیں۔ یہ حجاب کی خیالی ریاستوں شموگیہ اور کیباس کے باشندے ہیں۔ جو اکثر چہل قدمی کرتے ہوئے حجاب کے خلق کردہ خیالی جنگل ناشپاس تک چلے جاتے ہیں۔
حجاب امتیاز علی اپنی افتادِ طبع کی تشکیل سے متعلق خود بتاتی ہیں:
”میری ادبی زندگی کا گہرا تعلق میرے بچپن کی تین چیزوں سے ہے۔ فضا، ماحول اور حالات میرے بچپن کا ابتدائی زمانہ جنوب میں دریائے گوداوری کے ہوشربا کناروں پر گزرا۔
….ہوتا یہ تھا کہ کالی اندھیری راتوں میں گوداوری کے سنسان کناروں پر ہندوؤں کی لاشیں جلائی جاتی تھیں۔ جلانے کے دوران ہڈیاں اور سر اس قدر ڈراؤنے شور کے ساتھ چیختے تھے کہ انہیں سن کر ہوش اڑ جاتے تھے۔ اس سرزمین پر گوشت پوست سے عاری انسانی ڈھانچے اور ہڈیاں جگہ جگہ پڑی رہتی تھیں اور چیخ چیخ کر انسان کے فانی ہونے کا یقین دلایا کرتی تھیں۔ ا تنا ہی نہیں بلکہ جب ان ساحلوں پر رات پڑتی تو ہڈیوں کا فاسفورس اندھیرے میں جل اٹھتا تھا اور ٹیلوں فاصلے سے غول بیابانی کی طرح ان ویرانوں میں روشنیاں رقصاں نظر آتی تھیں۔ یہ دہشت خیز منظر ہیبت ناک کہانیوں کے لکھنے کی ترغیب دیتا تھا۔ غرض ان کا حسن اور رات کی خوفناکی یہ تھی فضا۔ ایسی فضا میں جو شخص بھی پلے اور بڑھے اس میں تھوڑی بہت ادبیت، شعریت اور وحشت نہ پیدا ہو تو اور کیا ہو۔
تیسری بات حالات کی تھی۔ جنھوں نے مجھے کتاب و قلم کی قبر میں مدفون کردیا۔ مدفون کا لفظ میں نے اس لیے استعمال کیا کہ اگر میں نے اس زمانے میں اپنے آپ کو ادبی مشاغل میں دفن نہ کردیا ہوتا تو میں کبھی کی ختم ہوگئی ہوتی۔ وہ زمانہ مرے لیے بے حد حزن و ملال ا تھا۔ مری والدہ ابھی جواں سال ہی تھیں کہ اللہ کو پیاری ہوگئیں ان کی موت مرے خرمن پر بجلی بن کر گری۔ اس زمانے میں میرا ذہنی توازن درست نہ تھا۔ لڑکپن تھا، اس پر شدید ذہنی دھچکا ماں کی موت کا تھا۔ ان دونوں نے مل کر مجھے اعصابی بنا دیا تھا۔“۶
حجاب امتیاز علی کے ان خالص رومانی افسانوں کے ساتھ ساتھ ایسے رومانی افسانے بھی لکھے جن میں زندگی کے تلخ حقائق کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس خصوص میں ”عناصر میں ظہور ترتیب“ اور ”پے انگ گیسٹ“ جیسے افسانے الگ ذائقے کے حامل ہیں لیکن اُن کے آخری افسانے ”درزی“ تک اُن سے مخصوص رومانی فضا قائم و دائم رہی۔
حجاب امتیاز علی کے متعدد افسانوی مجموعے بہ عنوان:”میری ناتمام محبت اور دوسرے رومانی افسانے“(طبع اول: 1932)، ”لاش اور دوسرے ہیبت ناک افسانے“(طبع اول:1933)، ”کاؤنٹ الیاس کی موت“(طبع اول:1935)، ”تحفے اور دوسرے شگفتہ افسانے “(طبع اول: 1939)، ”صنوبر کے سائے اور دوسرے رومانی افسانے“(1939ءسے قبل)، ”ممی خانہ اور دوسرے ہیبت ناک افسانے“(1946ءسے قبل)،”ڈاکٹر گار کے افسانے“(1946ءسے قبل) اور ”وہ بہاریں یہ خزائیں“(طبع اول: 1946ء) شائع ہوچکے ہیں۔
رومان نگاری کی اس روایت میں سحاب قزلباش کا افسانوی مجموعہ: ”بدلیاں“، زبیدہ سلطان کے دو افسانوی مجموعے ”لمحات رنگین“ اور ”شبستان“ ، سعیدہ عبدل کا افسانوی مجموعہ ”پرچھائیاں“، مشہوراداکارہ خورشید کا مجموعہ ”آبشار“ ، سعیدہ بزمی کا افسانوی مجموعہ:”حجاب“ اور نجمہ انوارالحق کا افسانوی مجموعہ ”پھول کی زبانی“ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ان باقاعدہ رومانی افسانہ نگار خواتین کے علاوہ فلمی دنیا سے متعلق تین نام ایسے ہیں جنھوں نے جزوقتی طور پر اچھے رومانی افسانے لکھے۔ ان میں اسٹیج کی ملکہ شریفہ بائی اور مشہور زمانہ اداکار نثار کی اداکارہ بیٹی حسن بانو(اصل نام: روشن آراءپ:1919) مشہور مغنیہ جدن بائی کی اداکارہ بیٹی نرگس (اصل نام: کنیز فاطمہ پ:1928) اور ادکارہ منورما(پ:1926) کے نام خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔
رومانی افسانہ نگار خواتین میں طاہرہ دیوی شیرازی کا نام بھی شامل کیا جاتا رہا ہے۔ جس کا بارہ افسانوں پر مشتمل ایک افسانوی مجموعہ بھی 1935ءمیں شائع ہوا، لیکن درحقیقت طاہرہ دیوی شیرازی کا وجود نہ تھا۔ اس نام کے پردے میں چراغ حسن حسرت اور ضمیر جعفری تھے۔
1932ءمیں پروفیسر محمد مجیب کا افسانوی مجموعہ ”کیمیا گر اور دوسرے افسانے“ اور ”انگارے“ مرتبہ احمد علی اردو افسانے کے نسوانی لحن کو بھی نئی جہت عطا کر گئے۔ یہ اعلامیہ تھا مذہبی اور معاشرتی جکڑ بندیوں سے بغاوت کا۔ جبکہ رشید جہاںکا نام ”انگارے گروپ“ کا دوسرا اہم نام ہے۔ ان کا پہلا افسانہ ”سلمیٰ“ بہ زبان انگریزی، ازابیلا تھوبرن کالج، لکھنو کے کالج میگزین میں1932ءمیں شائع ہوا۔ ازاں بعد اس افسانے کا ترجمہ آل احمد سرور نے کیا اور اب وہ افسانہ رشید جہاں کے افسانوی مجموعہ ”شعلہ جوالا“ میں شامل ہے۔
رشید جہاںکا تعلق آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی سے تھا۔”انگارے“ میں شامل اُن کا افسانہ ”دلّی کی سیر“ یوں تو اس مجموعے میں شامل دیگر افسانوں کی نسبت بے ضرر شے ہے لیکن آگے چل کر انھوںنے جن موضوعات پر ہاتھ ڈالا وہ ان کی بے پناہ جرا¿ت فکر اور جرا¿ت بیان کو ظاہر کرتا ہے۔ بلکہ کہاجاسکتا ہے کہ آج بھی ”سودا“ جیسا افسانہ لکھنا مرد افسانہ نگاروں کے بس کی بات نہیں۔
”ماشاءاللہ کیا کہنے، آپ کیوں پہلے جائیں گے! یہ خوب رہی کہ آپ تو وہاں مزے کریں اور ہمارا جوش یہیں کھڑے کھڑے ختم ہوجائے…. اس اندھیرے میں وہ تینوں مرد برابر ہلتے ہوئے نظر آرہے تھے ایک عورت اور تین مرد اور تینوں اتنے سخت بے چین اور بے تاب، فیصلہ مشکل تھا ۔ ان کی آوازیں جوش حیوانی سے اسی طرح کانپ رہی تھیں جس طرح کہ ان کے جسم متحرک تھے۔ یہ عورت بالکل خاموش تھی۔ بازار میں جب ایک کتیا کے پیچھے تین چار کتے پڑتے ہیں اور اسی طرح جوش اور بے تابی دکھاتے ہیں تو کم بخت کتیا بھی اتنے خریداروں کا ہجوم دیکھ کر جان چھپا کر بھاگتی ہے لیکن یہ انسان عورت جس کو مالداروں اور نیک شریف عورتوں نے کتیا سے بھی نیچا کردیا تھا ایک ہاتھ سے کار پکڑ کر جھولتی رہی۔“
”سودا“(رشید جہاں)
رشید جہاں کے افسانوں میں چرکہ لگانے اور چوٹ کرنے کا عنصر نمایاں ہے۔ جیسے اُس دور کی ادبی فضا پر چھائی ہوئی رومانیت کا ردِ عمل بھی کہا جاسکتا ہے۔ لیکن بقول قرة العین حیدر:
”1938ءتک پہنچتے پہنچتے دنیا بدل چکی تھی۔ گھر آنگن وہی تھے۔ مگر باہر کی دنیا میں”آندھیاں“ چل رہی تھیں۔ ڈیوڑھیوں پر لٹکے ہوئے ٹاٹ کے ٹکڑے اور محل سراؤں اور کوٹھوں کے ڈرائنگ رومز کے مخملیں پردے، سب کے سب اس آندھی میں پھٹپھٹانے لگے تھے اور اُن کے اٹھنے سے اندر کی ایک بالکل نئی اور غیر متوقع جھلک دکھائی دے گئی تھی۔“۷
رشید جہاں نے ناقص اقتصادی نظام اور فرسودہ معاشرت کی غلط روش کو اس طور پر اجاگر کیا کہ سب ششدر رہ گئے۔ رشید جہاں وہ پہلی باہمت خاتون ہیں جنہوںنے حد درجہ جرا¿ت اور بے باکی کے ساتھ سماج کی کوتاہیوں اور خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مرد کی انسانی دوستی، غیرت اور حمیت کو للکارا۔
افسانہ ”استخارہ“ میں ایک مظلوم دلہن کی افسانوی روداد بیان کی گئی ہے…. ایک طرف مولانا خادم علی اپنی تیسری بیوہ کنیز کے بطن سے سالانہ ایک بچے کی آمد کو یقینی بنانے میں مصروف تھے اور دوسری طرف زچگی کے موقع پر اس امر کے لیے بھی استخارہ لینے کو اپنا ایمان جانتے ہیں کہ زچگی ہسپتال میں کرائی جائے یا کسی دائی کے حوالے کنیز کو کیا جائے۔ چنانچہ کنیز خادم علی کے استخارے کی بھینٹ چڑھ جاتی ہے۔ مگر اس افسانے کا انجام معنی خیز ہے:
”کنیز اب اتنی سخت بیمار تھی اور بچنے کی کوئی امید نہ تھی لیکن سانس ہے تو آس ہے۔ خادم علی نے عمر میں پہلی دفعہ استخارہ کی بغیر اجازت ایک کام کیا اور وہ یہ تھا کہ جا کر لیڈی ڈاکٹر کو بلالائے۔“
رشید جہاں نے محمد حسن عسکری کے نام ایک خط میں اپنا نظریہ فن بیان کرتے ہوئے لکھا تھا:
”میں اپنے افسانوں میں یہی کوشش کرتی ہوں کہ جو میرے خیالات ہیں، ان کی ترجمانی ایمانداری سے کروں۔“۸
افسانہ ”سڑک“ میں جولائی اگست 1947ءکا ہندوستان پوری طرح اپنی جھلک دکھاتا ہے۔رشید جہاں نے ڈراموں کے علاوہ کل 19 افسانے لکھے۔ جو ان کے تین افسانوی مجموعوں ”عورت اور دیگر افسانے“(طبع اول: نومبر1937)، ”شعلہ¿ جوالا“(طبع اول:1928) اور ”وہ اور دوسرے افسانے“ (طبع اول :1977) میں شامل ہیں۔
شکیلہ اختر (بیگم اختر اورینوی) کا تعلق بہار سے ہے۔ کچھ یہی سبب ہے کہ ان کے بیشتر افسانوں کا لینڈ اسکیپ بہار کے دیہات رہے۔ دیہی معاشرت کی پیش کش کے حوالے سے ان کے مشاہدے کی گہرائی اور بیان کی سادگی خاص طور پر توجہ طلب ہے۔ ترقی پسند نظریات کے سبب مالک اور مزارع کی باہمی کش مکش خاص طور پر شکیلہ اختر کا من پسند موضوع رہالیکن کبھی کبھار انھوں نے افسانہ ”تین ستارے“ (1944) جیسے رومانی افسانے بھی لکھے۔ ”آنکھ مچولی“ ان کا نمائندہ افسانہ شمار کیا جاتا ہے لہٰذا اسی افسانے سے ایک اقتباس دیکھیے:
”وہ بچپن سے بہت شوخ و چنچل اور بڑی ہنس مکھ تھی، دیکھنے والے اسے دیکھ کر کرکہتے ”ہنستے ہی ہنستے تو گھر بستے ہیں“ اور جب اس کی زندگی کا دوسرا اور سب سے اہم دور شروع ہوا تو اس کے تبسم اور زیادہ رنگین ہوگئے اور ہنسی کی سریلی جھنکاریں ستاروں کی طرح تاب ناک ہوگئیں۔ اسے تنہائی سے وحشت ہوتی تھی، اسی لیے وہ رنگ و بو کی طرح ہر محفل پر چھائی رہتی۔“ (افسانہ :”آنکھ مچولی“)
شکیلہ اختر کے پانچ افسانوی مجموعے بہ عنوان ”درپن“(1943۱) ، ”آگ میں پھول“،”آنکھ مچولی“(1947)، ”لہو کے مول“ اور ”ڈائن“(1956) منظر عام پر آئے۔ ا س کے باوجود ان کے لاتعداد افسانے ادبی رسائل میں بکھرے پڑے ہیں جنھیں سمیٹنے کی صورت میں کئی مجموعوں کا مواد مل سکتا ہے۔
رضیہ سجاد ظہیر کے افسانوں کا خاص موضوع متوسط گھرانوں کی روز مرہ زندگی ہے، جس میں سماج کی بے انصافیاں اور یکایک نمودار ہونے والے انہونے واقعات فرد کی زندگی کو تلپٹ کردیتے ہیں، ایک مثال:”نئی نویلی“
نظریاتی طور پر رضیہ سجاد ظہیر سرکردہ ترقی پسند خاتون تھیں۔ اپنے میاں سجاد ظہیر کی ہمراہی میں آل انڈیا کمیونسٹ پارٹی سے قربت کے سبب ان کے افسانوں میں معاشرتی اونچ نیچ کے باہمی تفاوت کا تجزیہ خصوصی طور پر توجہ طلب ہے۔ ان کے نمائندہ افسانوں میں ”لنگڑی ممانی“،”نیچ“،”معجزہ“اور ”نگوڑی چلی آوے“ خاص طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ رضیہ سجاد ظہیر کے دو افسانوی مجموعے ”اللہ کی مرضی“ اور ”رنگ روتے ہیں“ شائع ہوچکے ہیں۔
عصمت چغتائی نے ابتدا میں حجاب اور نیاز فتح پوری کے زیر اثر رومانی افسانے لکھے لیکن 1938ءتک اُن کے افسانے اشتراکی فکر کے نمائندہ بن گئے۔ ہندوستان کے گھٹن زدہ ماحول کی لاچار عورت عصمت چغتائی کا موضوع خاص ہے اور اس حوالے سے عصمت کا باغیانہ لہجہ سب کو حیران کر گیا۔ بقول پطرس بخاری:”انھوں نے بعض ایسی پرانی فصیلوں میں رخنے ڈال دیئے ہیں کہ جب تک وہ کھڑی تھیں، کئی رستے آنکھوں سے اوجھل تھے۔“
عصمت کے اولین افسانے ”کافر“ مطبوعہ ”ساقی“ دہلی1938ءکی اشاعت کے بعدیکے بعد دیگرے ”خدمت گار“،”بچپن“ اور” ڈھیٹ“ جیسے چُلبلے افسانے ۸۳۹۱ءہی میں سامنے آگئے اور 1940ءمیں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ”کلیاں“ شائع ہوا تو مولانا صلا ح الدین احمد نے انھیں ”بصیرت کی ایک نہایت بے باک اور صداقت شعار ترجمان“ قرار دیا۔
عصمت چغتائی کے شاہکار افسانوں :”لحاف“،”ساس“،”چھوئی موئی“،”پنکچر“،”ایک بات“، ”چابڑے“،”جڑیں“،”ننھی کی نانی“اور مٹھی مالش“ کی گونج اردو افسانے کے ایوان میں موجود تھی کہ انھوں نے مغل بچہ“ اور ”گلدان“ جیسے دو شاہکار افسانے لکھ کر سب سے الگ اور نمایاں مقام حاصل کرلیا۔ اب وہ اپنے یکسر منفرد کرداروں اور احساسات کے تعمیر کردہ جہان کی باسی تھیں جسے کوئی اور چھوکر بھی نہیں گزرا۔
عصمت چغتائی کے متعددافسانوی مجموعے بہ عنوان ”کلیاں“(1940) ، ”چوٹیں“ (1942)، ”ایک بات“(1952) ، ”چھوئی موئی“(1952) ، ”دو ہاتھ‘ (1962) ، ”زہر“ ،”پہلی لڑکی“،”خرید لو“،” لحاف“،”بدن کی خوشبو“ اور ”آدھی عورت ، آدھا خواب“ شائع ہوا۔
برانٹے سسٹرز کی طرح خدیجہ مستور اور ہاجرہ مسرور کے نام اردو کے افسانوی اُفق پر طویل مدت چمکے ہیں۔ خدیجہ مستور نے افسانہ نگاری کا آغاز 1938ء میں ہفت روزہ ”خیام“ لاہور میں لکھنے سے کیا اور ان کا پہلا باقاعدہ افسانہ ”پہیا“ مجلہ ”عالمگیر“ لاہور1941ءمیں شائع ہوا۔اس کے فوراً بعد انھوں نے اس دور کے اہم ادبی پرچوں از قسم ”ساقی“ دہلی اور ”ادب لطیف“ لاہور میں افسانہ ”جوانی“،”موہنی“،”یہ بڈھے“،” یہ ہم ہیں“،” کیا پایا“،”لاشیں“،”پتنگ“ اور ”دہائی“ جیسے افسانے لکھ کر اپنی پہچان کروائی۔ ۵۴۹۱ءمیں جب ان کا افسانہ ”ہُنہ“ اور افسانہ ”یہ گاؤں ہے“ شائع ہوئے تو اس دور کے اہم نقاد احتشام حسین نے آل انڈیا ریڈیو لکھنو¿ کے ایک ادبی جائزے میں ان کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا ۔ یہ خدیجہ مستور کا آغاز تھا۔
اس زمانے میں ترقی پسند تحریک عروج پر تھی۔ جس کی فرنٹ لائین پر رشید جہاں اور عصمت چغتائی کے ساتھ خدیجہ مستور بھی کھڑی دکھائی دیں۔ ان کے ابتدائی افسانوں میں معاشرتی حقائق کا بیان بھی ہے اور رومانی لحن بھی۔ اس طریقہ کار کے نمونے ان کے پہلے افسانوی مجموعے ”کھیل“ میں ملتے ہیں جب کہ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ”بوچھاڑ“ ترقی پسند افسانے کے پہچان ہے۔ اب ان کے افسانوں میں آزادی کی تڑپ، جنسی گھٹن، افلاس اور محرومی جیسے موضوعات فنکارانہ چابک دستی سے بیان کیے گئے۔ اس حوالے سے خاص طور پر افسانہ ”ہُنہ“،”چیلیں“ اور ”چپکے چپکے“ ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
جزئیات نگاری کا کمال دیکھنا ہوتو خدیجہ مستور کے افسانے دیکھیے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا تیسرا مجموعہ ”چند روز اور“ کے عنوان سے شائع ہوا جس میں ایک افسانہ ”ایک خط“قیام پاکستان سے قبل 1945ءکا تحریر کردہ ہے۔ 1947ءکے بعد ان کے دیگر دو افسانوی مجموعے ”تھکے ہارے“ اور ”ٹھنڈا میٹھا پانی“ کے عنوانات سے سامنے آئے۔
”ہینڈ پمپ“ اور”مینوں لے چلے بابلا“ خدیجہ مستور کے نمائندہ افسانے ہیں۔خدیجہ مستور کی طرح ہاجرہ مسرور کی پیدائش بھی لکھنو¿ کی ہے لیکن ان دونوں کا بچپن اُتر پردیش کے مختلف قصبہ جات میں گزرا اور دونوں کو ادبی دنیا سے متعارف کروانے کا سہرا ”خیام“ لاہور اور ”عالمگیر“ لاہور کے مدیر عبدالحلیم شبلی کے سر بندھتا ہے۔ ہاجرہ مسرور کا پہلا افسانہ ”لاوارث لاش“ کے عنوانات سے 1941ءکے ہفت روزہ ”خیام“ میں شائع ہوا۔ یوں1944۱ءتک وہ ادبی حلقوں میں متعارف ہوچکی تھیں۔ جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ ان کا ایک شاندار افسانہ ”بندر کا گھاؤ“1944ءکے مجلہ ”ساقی“ دہلی میں شائع ہوا۔ اس افسانے سے اقتباس ملاحظہ ہو:
”پنجرے کا پنچھی اڑان کے لیے پَر تول رہا تھا۔
رات کو ماں نے پلنگ پر لیٹتے ہی چابیوں کا گُچھا کمر بند سے کھول کر دیتے ہوئے کہا۔
”لو یہ…. اور کوٹھڑی کا تالا کھول کر زینے کے دروازے میں ڈال دو۔ آج تو بچے کی پتنگ پر نیت خراب کی۔ کل کو گھر کا صفایا کردے گا۔ اے ہاں نگوڑا!“ اور پھر اپنا گھڑا جیسا چمکتا ہوا پیٹ کھول کر اطمینان سے ٹانگیںپساردیں۔ اپنے بھر حفاظت کرچکی تھیں۔ لیکن ادہر شروع ہوگیا کاٹ پیچ۔ وہ کوٹھڑی کا تالا کھولتے ہوئے سوچ رہی تھی ”چھت سے چھت تو ملی ہے آج اس سے وہ سب کچھ کیوں نہ کہہ ڈالوں جو ہوش سنبھالنے کے بعد سے اب تک دل میں بھرا ہوا ہے۔“ زینے کا دروازہ مقفل کردیا گیا لیکن گچھے سے اس کی چابی غائب ہو کر تکیہ کے نیچے پہنچ گئی۔“
1944ءمیں ہاجرہ مسرور نے اوپر تلے ”ہائے اللہ“،”موہنی“،”تل اوٹ پہاڑ“،”نیلم“،”میرا بھیا“ اور فروزاں جیسے عمدہ افسانے لکھ کر افسانہ نگاروں کی فرنٹ لائن میں اپنی جگہ بنالی۔ 1945ءمیں ان کے دو افسانے ”گربہ مسکین“ اور ”کوٹھی اور کوٹھڑی“ سامنے آئے جن کا ذکر ممتاز شیریں نے ”نیا دور“ بنگلور(1945) کے ادبی جائزے میں کیا۔
اپنی بہن خدیجہ مستور کی طرح ہاجرہ مسرور بھی انجمن ترقی پسند مصنفین سے جڑی ہوئی تھیں اور ان کا پسندیدہ موضوع سماجی ناانصافیوں میں گھری ہوئی عورت ہے۔ ہاجرہ مسرور کے افسانوں کا ابتدائیہ خوبصورت جزئیات نگاری کے سبب خاموشی کے ساتھ رفتہ رفتہ سارے منظرنامے تک پھیلتا ہے اور اختتامیہ یکلخت سکڑ کر ایک نئی ترتیبی ہئیت اختیار کرکے چونکا دیتا ہے۔ افسانہ ”ننھے میاں“ کا ابتدائیہ ملاحظہ ہو:
”مردانے کمرے میں ننھے میاں اور ان کے دوست بیٹھے باتیں کررہے تھے۔ باتیں بھی ایسی جو بار بار کانا پھوسیوں میں تبدیل ہوجاتیں لیکن نہ جانے کیوں ننھے میاں کی خوب صورت آنکھیں بوجھل ہوئی جارہی تھیں اور پورا چہرہ لال بھبھوکا۔ وہ رہ رہ کر پہلو بدل رہے تھے ان کا دوست جو عمر میں ان سے بھی کم دکھائی دیتا تھا اپنی پتلیاں گھما گھما کر کھسر پھسر کرتا جارہاتھا۔
”اماں بس کرو“ ننھے میاں بری طرح کسمسا کر بولے۔
”سنو تو یار! پھر ایک دن وہ آگئی جھانسے میں“ …. وہ پھر سرگوشیاں کرنے لگا۔
ننھے میاں کا چہرہ ایک بڑا سا دہکتا ہوا انگارہ معلوم ہونے لگا۔“
(افسانہ: ”ننھے میاں“)
ہاجرہ مسرور کے افسانوں میں سماجی الجھیڑوں پر چٹکیاں لینے اور زہر خند کا انداز نمایاں ہے(مثالیں:”بندر کا گھاؤ“ اور ”ہائے اللہ“) یہاں نوجوان لڑکیوں کے جنسی مسائل کو عصمت چغتائی کی طرح ہر قیدو بند سے آزاد کرکے نہیں دیکھا گیا بلکہ ہلکے ہلکے اشارے کنائے ہیں۔ البتہ ہاجرہ کے ہاں عصمت کی نسبت طنز کی کاٹ زیادہ گہری ہے مثال: ”چراغ کی لَو“
ہاجرہ مسرور کے اولین افسانوی مجموعے ”چرکے“ (1944) میں شامل پانچ افسانے: ”چاند“،”ڈھونگ“،”اندھیرے میں“،”تھپڑ“ اور ”کدھر“ طبقہ نسواں کی مظلومیت اور بے بسی کے آئینہ دار ہیں۔ ان کا دوسرا افسانوی مجموعہ ”ہائے اللہ“ ۶۴۹۱ءمیں نکلا۔ دیگر افسانوی مجموعوں میں ”چوری چھپے“،”اندھیرے اجالے“،”تیسری منزل“اور ”چاند کی دوسری طرف“ یادگار ہیں۔
شیلا سمیر کا تعلق جموں و کشمیر سے تھا۔ بعد میں پنجاب آبسیں۔ اُن کا ایک نمائندہ افسانہ ”برکت“ بشیر ہندی کی مرتب کردہ انتھالوجی ”میرا پسندیدہ افسانہ “(1942) میں شامل ہے۔ افسانے سے اقتباس ملاحظہ ہو:
”گاؤں میں ڈاک والے کا آنا ایک عجیب نظارہ ہوتا ہے۔ میں سمٹ کر، پلو نیچا کرکے دیوار سے ہٹ کر کھڑی ہوگئی۔ خط لال دین کے نام تھا۔ میرے ہونٹ پھڑک رہے تھے۔“ (افسانہ :”برکت“)
کوشلیا اشک (بیگم اوپندرناتھ اشک) کا پہلا افسانہ ”تھکان“1943ءمیں شائع ہوا۔1944ءمیں انھوں نے ”فیصلہ“ اور ”نمو“ جیسے کامیاب افسانے لکھے۔ اُن کا افسانہ ”جگن ناتھ“ اردو افسانوں کی اہم انتھالوجیز میں شامل ہے۔
سرلا دیوی (کرشن چندر اور مہندر ناتھ کی ہمشیرہ) نے بہت کم لیکن بہت عمدہ لکھا۔ ان کا افسانہ ”چاند ہوگیا“ نقوش، لاہور افسانہ نمبر 1955ءکا بہترین افسانہ ہے۔ اسی طرح ناہید عالم بہت عمدہ لکھنے والی تھیں لیکن کم لکھا۔ ان کا افسانہ ”رخشی“ مطبوعہ ”سویرا“ لاہور شمارہ :۴ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
اختر جمال کا پہلا افسانہ ”پیاسی دھرتی“ قدوس صہبائی کے ادبی مجلہ ”انصاری“ دہلی 1945ءمیں شائع ہوا تھا۔ اُس کے بعد انھوں نے ”افکار“ بھوپال اور ”نقوش“ لاہور سے شہرت پائی۔ اختر جمال کو ترقی پسند افسانے کے نسوانی لحن کی آخری نمائندہ آواز کہہ سکتے ہیں۔ یہ بنیادی طو رپر امن کی پرچارک ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے بہ عنوان ”پھول اور بارود“ (1967) ، ”انگلیاں فگار اپنی“ (1971) ”زرد پتوں کا بن“ (1981) اور ”سمجھوتہ ایکسپریس“(1990) شائع ہوئے۔
خواتین افسانہ نگاروں میں اس ترقی پسندانہ لحن کے ساتھ ساتھ بہت سے ایسے نام دکھائی دیتے ہیں جو موضوعاتی تنوع، تکنیک کے تجربات اور اسلوب کے حوالے سے اہمیت کے حامل ہیں۔ ان میں بطور خاص صالحہ عابد حسین، تسنیم سلیم چھتاری، شائستہ اکرام اللہ، صدیقہ بیگم سیوہاروی، قرة العین حیدر، جیلانی بانو، ممتاز شیریں، جمیلہ ہاشمی، الطاف فاطمہ، واجدہ تبسم اور بانو قدسیہ بہت نمایاں ہیں۔ صالحہ عابد حسین (بیگم ڈاکٹر عابد حسین) کے افسانوں کا پہلا مجموعہ :”بات چیت“(1928ئ) تھا۔ اس کے بعد اُن کے تین دیگر افسانوی مجموعے ”ساز ہستی“، ”تونگے“ اور”نراس میں آس“ کے عنوانات سے شائع ہوئے۔
معاشرتی مسائل اور گھریلو زندگی کی پیش کش میں صالحہ عابد حسین کی شگفتگی بیان اور لطافت فکر ان کی خاص پہچان ہے۔
”شام کا وقت تھا۔ بے وقت کی بارش نے موسم خوش گوار کردیا تھا۔ آسمان پر بادلوں کے ٹکڑے ایک دوسرے کے پیچھے بھاگ رہے تھے۔ جن کے بیچ بیچ میں گہرے نیلے آسمان کی جھلک بڑی دل کش تھی۔ سورج کی گول تھال دھیرے دھیرے مغرب کے اُفق کی طرف سرک رہی تھی اور اس کے چاروں طرف قوس و قزح کے حسین رنگ بکھرے ہوئے تھے۔ پکّے کھیتوں کی سنہری بالیاں ہوا سے ہلکورے لے رہی تھیں۔ گھاس کا دھانی رنگ کچھ اور نکھر آیا تھا۔“
(افسانہ: ”تفریح“ سے اقتباس)
تسنیم سلیم چھتاری کی پیدائش نینی تال کی ہے اور ان کے افسانوں کا خاص موضوع سفید پوش طبقے کے سماجی اور نفسیاتی مسائل رہے ہیں(ایک مثال:”کاش“)۔ متوسط اور اعلی درجے کی روز مرہ زندگی کی پیش کش میں انھیں خاص ملکہ حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موضوعات میں رنگا رنگی نہ ہونے کے باوجود انھیں ایک زمانے میں حد درجہ مقبولیت حاصل رہی۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
”سائنس کا گھنٹہ تھا اور اسٹرانومی پڑھائی جارہی تھی۔ ایک لڑکے نے پروفیسر سے پوچھا۔”تارے کیوں ٹوٹ جاتے ہیں؟“ پروفیسر صاحب اس وقت لیکچر میں گم تھے۔ انھوں نے اس سوال پر دھیان نہیں دیا۔
اسی لڑکے نے پھر یہی سوال کیا اور پروفیسر صاحب نے دوبارہ بھی نہیں سنا تو میرے قریب سے ایک دوسرے لڑکے نے آہستہ سے کہا۔
”مجھ سے پوچھو…. جب کسی کی موت آتی ہے تو تارا ٹوٹتا ہے۔“
”جب کسی انسان کی موت آتی ہے تو آسان سے ایک چمکتا ہوا تارا ٹوٹ کر تاریکیوں میں ڈوب جاتا ہے۔“ اس فقرے سے سب کے کان آشنا تھے۔ یہ بات لاکھ مرتبہ چمکتے تارے کی طرح دل کے آسمان پر طلوع ہوئی تھی اور تکلیف کی اندھیری گہرائیوں میں کھو گئی تھی۔
مجھے اس جواب نے وہ ساری کہانی یاد دلا دی جس میں ایک تارہ نکلا، چمکا اور پھر اپنے پیچھے یاد کی گہری لکیر چھوڑ کر ہمیشہ کے لیے غائب ہوگیا۔“
(افسانہ: ”ٹوٹ گیا اِک تارا“)
تسنیم سلیم چھتاری کے بیان میں مزاح کی چاشنی او رشوخی ان کی الگ سے پہچان کا باعث بنی۔ ان کے دو افسانوی مجموعے ”کسک“(1942) اور ”قصص شرر کے بعد“یادگار ہیں۔
شائستہ اکرام اللہ کی نظر اردو افسانے پر بہت گہری ہے۔ انھیں اردو فکشن کی تنقید لکھنے کے حوالے سے خواتین میں اولیت حاصل ہے لیکن انھوں نے خود بہت کم افسانے لکھے۔ ان سے ایک افسانوی مجموعہ ’کوششِ ناتمام“ یادگار ہے۔
صدیقہ بیگم سیوہاروی کے افسانوں میں موضوعات اور منظرناموں کا تبدیل ہوتا ہوا ایک طویل سلسلہ دیکھنے کو ملتا ہے۔ انھیں ماضی کو حال میں دیکھنے دکھانے پر حد درجہ عبور حاصل ہے۔ ان کا قلم تنگ و تاریک گلی محلوں، بنگال کے قحط زدہ علاقوں کے ساتھ ساتھ اطلس و کمخواب سے سجے ایوانوں کا احاطہ یکساں قدرت کے ساتھ کرتا ہے۔ ایسے میں بیان کی شگفتگی اور ہندی گیتوں کی فضا بندی میں اُن کے منفرد اسلوب کی پہچان ہے۔ مثالیں:”ملہار ہے یا دیپک“ اور ”روپ چند“۔
”اگر ندی کے پاس سوکھے درخت کا تنا نہ ہوتا تو لوگ ضرور پوچھتے کہ آج تک بوڑھا روپ چند ندی کے کنارے کیسے بیٹھا رہ گیا تھا، یہ تیز و تند ہوا کے جھونکے اس کا کچھ بھی تو نہ بگاڑ سکے تھے، ریت کے ٹیلے بنتے اور بگڑتے رہے مگر وہ درخت نہ تو کبھی ہرا ہوا اور نہ اس پر کبھی پھل پھول ہی کھلے اور نہ پت جھڑ میں اس کے نیچے سوکھی پتیاں ہی نظر آئیں۔“ (افسانہ: ”رُوپ چند“)
صدیقہ بیگم سیوہاروی کے متعدد افسانوی مجموعے شائع ہوئے، جن میں سے ”پلکوں میں آنسوں“،”ہچکیاں“،”دود ھ اور خون“،”آنکھ مچولی“،”درد کے افسانے“ اور ”رقصِ بسمل“ خاص طور پر یاد رکھے جائیں گے۔
قرة العین حیدر کا پہلا افسانہ ”ہمایوں“ لاہور1944ءمیں سامنے آیا۔ اُن کے ابتدائی افسانے خصوصاً ”دیودار کے درخت“،” میری گلی میں ایک پردیسی“ اور ”خوابوں کے محل“ واضح طور پر رومانی لحن کے حامل ہیں۔ یوں قرة العین حیدر کی افسانہ نگاری کا آغاز رومانی افسانہ نگاروں کے زیر اثر ہوا لیکن اس فرق کے ساتھ کہ قرة العین حیدر نے ماحولیاتی سطح پر اُس مراعات یافتہ طبقے کی عکاسی کی جس کے بارے میں متوسط اور زیریں طبقے میں آدھی ادھوری معلومات پائی جاتی تھیں۔قرة العین حیدر کے پہلے افسانوی مجموعے ”ستاروں سے آگے“ (طبع اوّل 1947ء) کے افسانوں کی رومانی فضا بندی، کتھا کلی اوربرج کی محفلوں اورکرداری سطح پر بورژوا نسوانی کردارو ںکی بظاہر لایعنی مصروفیات میں بھی ایک معنویت تھی۔ اُن افسانوں میں ترقی پسند افسانہ نگاروں کی طرح بنگال کا قحط دکھائی نہیں دیتا۔ لیکن مایخل اینجلو کو زیر بحث لانے والے بالائی طبقے کے کرداروں کی عکاسی اتنی بے معنی نہیں جتنی کہ اُس دور کے ناقدین کو دکھائی دی۔ لوئر مڈل کلاس اور مڈل کلاس کی پیش کش کے مقابل ماضی قریب کے مراعات یافتہ طبقے کی عکاسی قرة العین حیدر کی عطا ءخاص ہے۔
قرة العین حیدر کا ایک منفرد اسلوبِ تحریر ہے جسے تاریخ اور سماجیات کے گہرے مطالعے نے جِلا بخشی ہے۔ ان کے ہاں لفظیات کی سطح پر حسیاتی تاثر کی موسیقیت نے جنم لیا ہے جس کی خوبصورت امثال ”فصل گل آئی یا اجل آئی“،”یہ داغ داغ اجالا“،”کارمن“ اور ”سرراہے“ میں دیکھی جاسکتی ہیں۔
ان کے شاہکار افسانوں میں ”کارمن“،”جب طوفان گزر گیا“،”دحلہ بہ دجلہ یم بہ یم“،”فوٹوگرافر“ اور کیکٹس لینڈ“ بہت نمایاں ہیں۔
”فوٹوگرافر نے چونک کر اُن کو دیکھا اور پہچاننے کی کوشش کی۔ پھر خاتون کے جھریوں والے چہرے پر نظر ڈال کر الم سے دوسری طرف دیکھنے لگا۔ خاتون کہتی ہیں…. اُن کی آواز بھی بدل چکی تھی۔ چہرے پر درشتی اور سختی تھی اور انداز میں چڑچڑاپن اور بے زاری اور وہ سپاٹ آواز میں کہے جارہی تھیں:
”میں اسٹیج سے ریٹائر ہوچکی ہوں۔ اب میری تصویریں کون کھینچے گا بھلا، میں اپنے وطن واپس جاتے ہوئے رات کی رات یہاں ٹھہر گئی تھی۔ نئی ہوائی سروس شروع ہوگئی ہے۔ یہ جگہ راستے میں پڑتی ہے….“
”اور….اور….آپ کے ساتھی؟“ فوٹوگرافر نے آہستہ سے پوچھا۔
کوچ نے ہارن بجایا۔
”آپ نے کہا تھا نا کہ کارزارِ حیات میں گھمسان کا رن پڑا ہے۔ اُسی گھمسان میں کہیں کھو گئے۔“
کوچ نے دوبارہ ہارن بجایا۔
”اور اُن کو کھوئے ہوئے بھی مدت گزر گئی…. اچھا خدا حافظ۔“
خاتون نے بات ختم کی اور تیز قدم رکھتی کوچ کی طرف چلی گئیں۔ والرس کی مونچھوں والا فوٹوگرافر پھاٹک کے نزدیک جاکر اپنی ٹین کی کرسی پر بیٹھ گیا۔
زندگی انسانوں کو کھا گئی ۔ صرف کاکروچ باقی رہیں گے۔“
(افسانہ: ”فوٹوگرافر“ کا اختتامیہ)
قرة العین حیدر کے افسانوی مجموعوںمیں ”ستاروں سے آگے“(1947) ، ”شیشے کا گھر“ (1956) ”پت جھڑ کی آواز“ (1967) ، ”فصل گل آئی یا اجل آئی“،” جہاں پھول کھلتے ہیں“،”جگنوؤں کی دنیا“،” تلاش“،” روشنی کی رفتار“،”کلیسا میں قتل“اور ”میرے بہترین افسانے“ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
جیلانی بانو کا تعلق حیدرآباد دکن سے ہے۔ انھوں نے آزادی سے قبل ”ادب لطیف“ لاہور اور ”افکار“ بھوپال سے افسانہ نگاری کا آغاز کیا۔ خود جیلانی بانو کا کہنا یہ ہے کہ انھوں نے موپاساں اور چیخوف کا مطالعہ گہری نظر سے کیا۔ شاید اسی لیے ان کے افسانوں کی سب سے بڑی پہچان ان کے ابتدائیے ہیں اور ابتداءہی سے قاری کُلّی طور پر ان کی گرفت میں چلا جاتا ہے۔
جیلانی بانو کے افسانوں خصوصاً ”ادھوری بات“ اور ”اکیلا“ میں بچوں کی صورت میں آسودگی حاصل کرنے کی تمنا ایک انوکھے لحن کی حامل ہے۔ ایک افسانے کا ابتدائیہ دیکھیے:
”آج بھی اندھیرے کمرے میں لیٹا میں خیالی ہیولوں سے کھیل رہا تھا۔
اور جب بھی اندھیرا چھا جاتا تم نہ جانے کہاں سے نکل آتی ہو جیسے تم نے تاریکی کی کوکھ ہی سے جنم لیا ہو، اور مجبوراً مجھے جلے ہوئے سگریٹ کی راکھ کی طرح تمھیںبھی زمین پر جھٹک دینا پڑتا ہے۔
میں نے کبھی تمھارے سامنے ہاتھ نہیں پھیلائے۔ کبھی تمھارے لیے نظمیں نہیں لکھیں۔ کبھی تمہاری یاد میں تارے نہیں گنے۔ پھر کیوں میں تمھیں یاد کیے جاؤں….؟“ (افسانہ:”موم کی کی مریم“)
جیلانی بانو کے چار افسانوی مجموعے بہ عنوان ”اجنبی چہرے“،” روشنی کے مینار“،”نروان“ اور نغمے کا سفر“ شائع ہوچکے ہیں۔
ممتاز شیریں کا تعلق آندھرا پردیش سے تھا تاہم بچپن میں ہی میسور چلی گئیں اور اُس کے بعد بنگلور اور کراچی میں قیام رہا۔ ان کی ادبی زندگی کا آغاز ان کے شوہر صمد شاہین کے مرتب کردہ ادبی مجلہ ”نیا دور“ بنگلور میں چھپنے والے تنقیدی جائزے”1943ءکے افسانے“ کی اشاعت سے ہوا۔ اس تنقیدی جائزے نے انھیں ملک گیر شہرت دلا دی۔ اس کے اگلے برس ان کا پہلا افسانہ ”انگڑائی“،”ساقی“ دہلی 1944ءمیں شائع ہوا۔ اس افسانے کی اشاعت سے قبل انھوںنے انگریزی اور فرانسیسی فکشن کو پوری طرح کھنگال ڈالا تھا۔ لیکن اِس بے پناہ مطالعے کا انھیں ایک نقصان بھی اٹھانا پڑا، اور وہ یہ کہ ان کے بعض افسانوں کی بُنت میں شعوری کاوشوں ، منصوبہ بندی اور اس دور کی ادبی تحریکات کا اجتماع، ایک مصنوعی فضا بندی کا باعث بنا۔(امثال:”میگھ ملہار“ اور ”دیپک راگ“)
جہاں تک ان کے ابتدائی افسانوں خصوصاً ”انگڑائی“،” آئینہ“،” اور گھنیری بدلیوں میں“ کا تعلق ہے تو ان کے موضوعات خصوصی طور پر اہمیت رکھتے ہیں مثلاً افسانہ ”انگڑائی“ ہم جنسی کے موضوع پر اردو کے اولیں افسانوں میں شمار ہوگا۔ دوسری اہم بات یہ کہ ممتاز شیریں کے افسانوی کردار ایک خاص قسم کی خود پسندی کا شکار ہیں۔ افسانہ ”شکست“ اور ”رانی“ پر ترقی پسند تحریک کے اثرات بھی ظاہر ہوئے۔ یہ الگ قصہ ہے کہ قیام پاکستان کے بعد محمد حسن عسکری کی طرح ممتاز شیریں نے بھی ”نیادور“ کراچی کی معرفت پاکستانی ادب کی تحریک چلائی اور ان دو افسانوں کے لکھنے پر ہمیشہ شرمندگی کا اظہار کیا۔ ممتاز شیریں لکھتی ہیں:
”شکست“ اور ”رانی“ گو میںنے پورے جذباتی خلوص سے لکھے ہیں اور ان میں ہمدردی کے ساتھ غریب طبقے کی مصیبت زدہ زندگی کو پیش کیا ہے لیکن میرے لیے یہ پیش کش، بہرحال ایک شعوری کوشش تھی…. ”شکست“ اور ”رانی“ کے جذباتی خلوص کے باوجود ان میں ادبی خلوص کی کمی تھی۔“(9)
”وہ گڑگڑارہی تھی۔ پھر وہ خاموشی سے آنکھیں پونچھتی ہوئی باہر نکل آئی اور گھر آکر پانچوں بچوں کو ساتھ لے آئی۔ اُف وہ بچے! آنکھیں اندر دھنسی ہوئیں، صرف ایک پھٹی لنگوٹی باندھے، ننگ دھڑنگ پیٹ پیٹھ سے جا لگا تھا اور پسلیوں کی ہڈیاں اتنی اُبھر آئی تھیں کہ انھیں اچھی طرح گنا جاسکتا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ انھوں نے تین دن سے نہیں تو دو ایک دن سے تو کچھ نہیں کھایا تھا۔ وہ مشکل سے گھسٹ گھسٹ کر چل رہے تھے اور چھوٹے بچوں کو تو ماں کھینچے لیے آرہی تھی۔“
(افسانہ :”رانی“)
کیا عجیب اتفاق ہے کہ ممتاز شیریں کے خود ردّ کردہ افسانوں میں سے ”شکست“ کو 1959ءمیں ایک آسٹریلئن انتھالوجی میں جگہ ملی اور اُن کا پہلا افسانہ ”انگڑائی“ تاحال ان کی شہرت اور مقبولیت کا باعث ہے۔
ممتاز شیریں کے دو افسانوی مجموعے ”اپنی نگریا“ اور ”میگھ ملہار“ آزادی کے بعد شائع ہوئے۔
آزادی کے فوراً بعد اُبھر کر سامنے آنے والی افسانہ نگاروں میں جمیلہ ہاشمی، الطاف فاطمہ، واجدہ تبسم، اور بانو قدسیہ اپنے اپنے منفرد موضوعات اور اندازِ تحریر کے سبب نمایاں ہیں۔
جمیلہ ہاشمی اور الطاف فاطمہ کے افسانوں میں سماجی اور نفسیاتی مسائل کی شکار عورت کی تصویر کشی کا اپنا اپنا انداز ہے لیکن یہ دونوں، ایک دوجے سے یکسر الگ بیانئے اکثر اُس حیرت کو جگاتے ہیں جو لوک دانش کا خاصہ رہا ہے۔
جمیلہ ہاشمی کے ہاں دیہی منظرنامہ، کھری سکھ معاشرت کی عکاسی، کرداروں کی انا پیشگی اور روہی کے منظرنامے سے مخصوص دھیمے دھیمے درد کی لَے ایک انوکھا تاثر رکھتی ہے۔ اور اس حوالے سے ”لہو رنگ“،”سرخ آندھی“،”بن باس“،”آتما کی شانتی“ اور ”ناستک“ جیسے افسانے جمیلہ ہاشمی کی پہچان ہیں۔
”ماں مندر سے ابھی تک نہیں لوٹی۔ ٹوپے کی طرف جانے والے راہ پر بنے گرجا کا گھنٹہ بِنا رُکے بج رہا تھا۔ شام کی نیلی دُھند بادلوں میں کھو گئی ہے۔ نیچے وادی کے گھروں میں جلتے دیوں کی روشنیاں دُور سے یوں دکھائی دیتی ہیں جیسے برکھا کے دنوں میں کھیتوں پر جگنوؤں کی براتیں اتری ہوں۔“
(افسانہ”ناستک“ سے اقتباس)
الطاف فاطمہ کے ہاں تجرد کی زندگی کا تجربہ اور ملازمت پیشہ نسوانی کردار نگاری بے مثل ہے۔ اس خصوص میں ان کا افسانہ ”بیچلرز ہوم“ یادگار ہے۔ جب کہ الطاف فاطمہ اور جمیلہ ہاشمی کے افسانوں میں شاندار زبان لکھنے کا عمل ایک اضافی خوبی ہے۔
”جس دن وہ روانہ ہوئی ہے، وہ دن کتنا سرد تھا! صبح سے کُہر کا دُھندلکا چھایا ہوا تھا۔ کمرے کی کھڑکیوں اور برآمدے میں سے سامنے کی سڑک بھی نظر نہیں آرہی تھی۔ لان کا سبزہ اور سفیدے کے اونچے درخت بھی کُہر کی چادر میں چُھپے جارہے تھے۔ دوپہر کے وقت سورج کی اِکا دُکا کرنیں چوری چوری جھانکنے لگیں تو میں برآمدے میں کرسی پر جا بیٹھا۔“ (افسانہ ”بیچلرز ہوم“ سے اقتباس)
جمیلہ ہاشمی کے دو افسانوی مجموعے :”اپنا اپنا جہنم“ اور ”آپ بیتی، جگ بیتی“ اور الطاف فاطمہ کے بھی دو افسانوی مجموعے ”وہ جسے چاہا گیا“ اور”جب دیواریں گریہ کرتی ہیں“ یادگار ہیں۔
واجدہ تبسم نے حیدرآبادی جاگیردار طبقے کے زوال اور جنس نگاری کی معرفت ایک انوکھا اسلوب وضع کیا، جس کی مثال نہ تو منٹو کے ہاں دیکھنے کو ملتی ہے نہ ممتاز مفتی، شیر محمد اختر، عصمت چغتائی، اور رحمان مذنب کے ہاں۔ یہ سب سے جداگانہ لطف ہے جو واجدہ تبسم کے افسانوں:”اُترن“،” نتھ اترائی“،”دیار حبیب“،” گلستان سے قبرستان تک“ اور ”محبت“ سے مخصوص ہے:
”نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی ہے۔“
”ایو، اِس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟“
”اوں…. “ چمکی شرمائی۔
”اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟“ شہزادی پلشا، جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔ چمکی نے کچھ ڈرتے ڈرتے، کچھ شرماتے شرماتے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے پہلے تو اپنا کُرتا اُتارا، پھر پاجامہ۔“
(افسانہ ”اترن“ سے اقتباس)
واجدہ تبسم کے افسانوں کے مجموعوں میں ”شہر ممنوع“،”توبہ توبہ“،”محبت“،” کنگن محل“، ”(1971ئ)”جیسے دریا“ (1970) ، ”آئینہ کے سامنے “(طبع دوم:1978) ، ”روزی کا سوال“ (طبع دوم:1977)، ”کیسے سمجھاؤں“(1977) ، اُترن“ ، ”پوجا کا مان“،”پھول کھلنے دو“ اور زخمِ دل“ بہت مقبول ہوئے۔
بانو قدسیہ نے مشرقی عورت کی معاشرتی زندگی کو اُس کے روحانی اور جنسی مسائل سمیت چنا ہے۔ جب یہی موضوع پھیل کر جانوروں اور پرندوں کے طرزِ زیست کے مشاہدے کی گہرائی میں جا نکلتا ہے تو ”کال کلیجی“ جیسے شاہکار افسانے جنم لیتے ہیں۔ بانو کے ہاں تصوف کی لہر ایک انوکھا آہنگ ہے۔ جس کی خوب صورت مثال افسانہ ”انترہوت اداسی“ ہے:
”یہ پہلی بار تھی، اُس کے بعد دو بار اور ایسے ہوا…. بالکل ایسے۔جب میرا بایاں پاؤں بانس کی سیڑھی کے آخری ڈنڈے پر تھا اور میرا دایاں پاؤں صحن کی کچی مٹی سے چھ انچ اونچا تھا تو پیچھے سے ماں نے میرے بال ایسے پکڑے جیسے نئے نئے چوزے پر چیل جھپٹتی ہے….
”بول، بول اس بھری دوپہر میں تُو کہاں سے آرہی ہے؟ گشتی….“
(افسانہ ”انتر ہوت اداسی“ سے اقتباس)
بانو قدسیہ کے افسانوی مجموعہ میں ”بازگشت “،” امربیل“،”کچھ اور نہیں“،”دانت کا دستہ“ اور ”ناقابل ذکر“ (طبع اول:1985) یادگار ہیں۔
ساٹھ کی دہائی میں ابھر کر سامنے آنے و الی افسانہ نگاروں میں آمنہ ابوالحسن، خالدہ حسین اور عذرا بخاری نمایاں ہیں۔
آمنہ ابوالحسن نے متوسط ہندو مسلم گھرانوں میں زندگی کا جتن کرتی ہوئی عورت کے خواب رقم کیے۔ ان کے افسانوں میں یکایک نمودار ہونے والے ان ہونے واقعات فرد کی زندگی کو تلپٹ کررہے ہیں، جس کی مثال ”میری میّا“،”من کا موتی“ اور ”ستون“ جیسے خوبصورت افسانے ہیں:
”کسی ناقابلِ یقین واقعے ، کسی اچانک ظہورپذیر حادثے کی ایک لہر سرتاپا قدم اُسے جھنجھوڑ گئی۔ اُس نے آنکھیں مَل کر دیکھا۔ وہ جاگ رہا تھا۔ تو پھر ایسا غیر معمولی حسن، ایسا پُرکشش وجود“ (افسانہ ”من کا موتی“ سے اقتباس)
آمنہ ابوالحسن کا افسانوی مجموعہ ” کہانی“ سراہا گیا۔
خالدہ حسین نے ابتدائی افسانے خالدہ اصغر اور خالدہ اقبال کے ناموں سے لکھے۔ اُن کے بیشتر افسانوں کا منظرنامہ متوسط درجے کے گھرانوں سے متعلق ہے اور کردارو ںمیں محسوساتی سطح پر ایک انجانا خوف پل رہا ہے، جس کے ڈانڈے کبھی تو نفرت ، کبھی اذیت اور بعض اوقات تشکیک سے جا ملتے ہیں۔
خالدہ حسین نے ”سواری“ اور ”ایک رپورتاژ‘ جیسے عمدہ افسانے لکھ کر ساٹھ کی دہائی میں سب کو حیران کردیا تھا۔ پھر پندرہ برس کے تعطل کے بعد انھوں نے ”اے ڈیڈ لیٹر“،” پرندہ“،”سایہ“ اور ”مکڑی“ جیسے صوفیانہ رچاؤ اور بالغ عصری شعور کے حامل افسانے لکھے۔ قہار فطرت کے مقابل انسان کی بے بسی کی کہانی خالدہ حسین نے بڑے سبھاؤ کے ساتھ لکھی ہے۔ ان کے ہاں تکنیکی سطح پر استعارہ، علامت اور تجرید کا ورتارا معنویت کے نئے جہان سامنے لاتا ہے۔ اب تک اُن کے تین افسانوی مجموعے شائع ہوچکے ہیں:”پہچان“ (1980)، ”دروازہ“(1984) اور ”مصروف عورت“(1989)۔
عذرا بخاری کے افسانوں کا موضوع اص مشرق کی مجبور اور بے بس گھریلو عورت کا تجربہ اور دکھ ہے۔ جو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل ہوتا چلا آیا ہے۔ انھوںنے جنس کے حوالے سے عصمت چغتائی اور واجدہ تبسم کی طرح کھل کر نہیں بین السطور لکھا ہے۔ ان کے بیانیہ افسانوں میں ”دیوانے فرزانے“ اور ”کفارہ“ یادگار ہیں جب کہ نیم علامتی اسلوب کے افسانوں میں ”آرزو کی موت“ عمدہ افسانہ ہے۔ ان کا افسانوی مجموعہ ”فاصلے“ شائع ہوچکا ہے۔
ساٹھ کے دہے کی دیگر افسانہ نگاروں میں نکہت حسن( افسانے:”سونی سنسان سڑک“، ”زبان“،”کھلونے والا“)، رشیدہ رضویہ (افسانہ:راندے ووں)، فہمیدہ ریاض(بوڑھا اور لڑکا، دو عورتیں، ایک محبت کی کہانی، دامنی)، رضیہ فصیح احمد(منو چچا، کبھی شعلہ کبھی شبنم، موڑ، بارش کا آخری قطرہ، بڑماں) ، سیدہ حنا(پتھر کی نسل) ، فہمیدہ اختر( مجاہد کا بیٹا)،فرخندہ لودھی(گوبر ٹیکس، آدھی رات) ، عطیہ پروین) دل کا کانٹا) اور حسانہ انیس(پچھتاوا) کے نام بیانیہ افسانے کے حوالے سے ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے۔
ستر کی دہائی اردو افسانے میں ایک اہم موڑ ثابت ہوئی لیکن مین اسٹریم کے افسانہ نگاروں میں نسوانی لحن بہت کم اُبھر کر سامنے آیا۔ لے دے کر زاہدہ حنا ، خالدہ شفیع، رفعت مرتضیٰ، ذکیہ مشہدی، مسرت لغاری، نگہت مرزا، نزہت نوری، سعیدہ نور، قدسیہ انصاری، اور نیلوفر اقبال کے نام دکھائی دیتے ہیں اور ان میں سے بھی زاہدہ حنا کو چھوڑ کر تمام کے تمام نام بیانیہ افسانے سے متعلق ہیں۔ یعنی ستر کے دہے میں جس نوع کا تکنیکی تنوع دیکھنے کو مل رہا تھا، افسانے کا نسوانی لحن اس سے محروم تھا۔ البتہ زاہدہ حنا کے افسانوں میں وجودیت کے فلسفہ کے زیر اثر انسانی جدوجہد کی معنویت اُبھری ہے۔ زاہدہ حنا کا موضوعِ خاص وجودی سطح پر عورت اور مرد کا ازلی تنازعہ ہے جس کی خوبصورت مثالیں ”ساتویں رات“ اور ”تتلیاں ڈھونڈنے والی“ جیسے افسانے ہیں۔ زاہدہ حنا کے دو افسانوی مجموعے :”قیدی سانس لیتا ہے“(طبع اول:1983) اور ”راہ میں اجل ہے“(1993) شائع ہوچکے ہیں۔ خالدہ شفیع(چاندی کا گھاؤ، ریپ، اک تری خاطر) ، رفعت مرتضے (سفر، آدم کی ہڈی) ، ذکیہ مشہدی(چرایا ہوا سکھ)، مسرت لغاری)ریپلیکا، سمجھوتا، شریف زادی، کینسر) ، نگہت مرزا(بری بات، نامراد) نزہت نوری(مسیحا) سعیدہ نور( بازار، کانج کے پتلے) ، قدسیہ انصاری(جھوٹی رکابی، کوری چادر) اور نیلوفر اقبال (حساب، دستاویزی ثبوت، گھنٹی) بھرپور بیانیہ افسانے ہیں۔
1980ءتاحال، افسانوی افق پر عطیہ سید، نیلم احمد بشیر اور طاہرہ اقبال ہی کے نام نمایاں دکھائی دیتے ہیں، لیکن وہ اردو افسانے کی ’مین اسٹریم‘ کا حصہ تب بنیں گی جب خالدہ حسین کے افسانوں جیسا تکنیکی تنوع ان کے ہاں جھلک دکھائے گا۔ فی الوقت تو عطیہ سید کے نمائندہ افسانوں(”ایبل اور میں“،”بنت اسرائیل “ اور ”خزاں میں کونپل“) میں وقت کا تصور اور سفر مستقیمی ہے، لہذا گزرا ہوا زمانہ اوریادوں کے سلسلے دکھائی دیتے ہیں التبہ ان کے افسانوں میں وصال کی نسبت فراق کی اپنی معنویت ہے۔ نیز انسانی تاریخ اور نفسیات سے شغف عطیہ سید کے افسانوں میں گہرائی پیدا کرتا ہے اور نیلم احمد بشیر کے بیانیہ افسانوں میں کرداری مطالعے خاص معنویت کے حامل (مثالیں: بچت، شریف، اپنی اپنی مجبوری، چائے کی پیاس) مغربی طرز زیست پر نیلم احمد بشیر کی نظر گہری اور قابل مطالعہ ہے۔ جب کہ پنجاب کے محتلف دیہی علاقہ جات کا مشاہدہ اور ان سے مخصوص پنجابی لحن طاہرہ اقبال کے افسانوں کی پہچان۔
مجمل طور پر اردو افسانے کا نسوانی لحن یہ ثابت کرتا ہے کہ عورت کی جذباتی دنیا، مرد کے مقابلے میں کہیں زیادہ رنگا رنگ اور بھرپور ہے۔ جزئیات نگاری، خواتین افسانہ نگاروں کا وصفِ خاص ہے، نیز نفسیاتی الجھیڑوں اور جذباتی تناؤ کا بیان حد درجہ متنوع۔

حواشی و حوالہ جات:
(۱) ”مقالات گارساں دتاسی“ ، ترجمہ: ڈاکٹر یوسف حسین خاں، ڈاکٹر اختر حسین رائے پوری و عزیز احمد، اورنگ آباد:
انجمن ترقی اردو(ہند) جلد اول: 1935ء جلد دوم:1943ء
(۲) ”بہارستانِ ناز“ مولفہ حکیم فصیح الدین رنج، طبع اول:1864۱ء، طبع دوم:1869ء، طبع سوم:1888ء
(۳) ”کارِ جہاں دراز ہے“(ناول) از قرة العین حیدر( جلد اول) ، طبع اول:1977ء
(۴) مجلہ ”پگڈنڈی“ امرتسر(یلدرم نمبر) ص :36
(۵) ایک خط سے اقتباس، مشمولہ :”مسز عبدالقادر “ مقالہ برائے ایم اے اردو ، یونیورسٹی اورنٹل کالج لاہور
(۶) ”میری ادبی زندگی“ مطبوعہ:’نیرنگِ خیال“ لاہور
(۷) ”افسانہ“ (مضمون) مشمولہ :”پکچر گیلری“ از قرة العین حیدر، لاہور، قوسین، ص 38
(۸) ”میرا بہترین افسانہ“ مرتبہ:محمد حسن عسکری، دہلی: ساقی بک ڈپو، طبع اول: 1943ء
(۹) دیباچہ ”میگھ ملہار“ از ممتاز شیریں

Ibne Safi Mukhtasar Sawaneh Hayat

Articles

ابن صفی __مختصر سوانح حیات

محمد حنیف

ابن صفی ٢٦،جولائی ١٩٢٨ء کو الٰہ آباد ڈسٹرکٹ کے گائوں نارہ میں پیدا ہوئے ۔ان کے والد صفی اللہ اور والدہ نزیرہ بی بی نے ان کا نام اسرار احمد رکھا ۔اسرار احمد کا خاندان نارہ کے راجہ ویشدر دیال سنگھ سے تعلق رکھتا تھا جو قبول اسلام کے بعد بابا صدیقی کے نام سے معروف ہوئے ۔ان کا مزار آج بھی نارہ میں موجود ہے ۔ابن صفی کے والدین کا تعلق ایک جاگیر دار گھرانے سے تھا ۔ان کے دادا مولوی عبدالفتح تقسیم سے قبل ایک اسکول ٹیچر تھے ۔والدہ نزیرہ بی بی کا خاندان حکیموں کا خاندان کہلاتا تھا ۔والدہ کے چچا ،تایا حکیم احسان علی اور حکیم رحمان علی نے طب پر مستند کتابیں چھوڑی ہیں۔ان کی فارسی کتابیں طب رحمانی اور طلب احسانی عرصے تک ہندوستان کے طبی مدارس میں شامل نصاب تھیں۔نزیرہ بی بی نے بڑی شفقت اور محنت سے اسرار احمد کی پرورش کی اور اس بات کو یقینی بنایا کہ انھیں بہتر دوستوں کی صحبت اورا چھے تعلیمی مواقع میسر آ سکیں۔
اسرار احمد کے بھائی ایثار احمد اور بہن غفیرہ خاتون بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے ۔البتہ ان کی بہن عذرا رحمان (بلاغت خاتون) اور ان کا ساتھ ساری زندگی رہا ۔
اسراراحمد نے ابتدائی تعلیم نارہ کے پرائمری اسکول میں جبکہ ثانوی تعلیم مجیدیہ اسلامیہ ہائی اسکول میں حاصل کی۔جب وہ آٹھ برس کے تھے تو انھیں طلسم ہوش ربا کی پہلی جلد پڑھنے کا اتفاق ہوا مگر زبان کے ثقیل ہونے کے باعث وہ اسے اچھی طرح نہ سمجھ پائے لیکن اس کی کہانی نے ان کے تخلیقی ذہن پر گہرا اثر مرتب کیا اس کے بعد انھوں نے طلسم ہو ش ربا کی ساتوں جلدوں کو باربار پڑھا ڈالا۔
اسرار احمد نے کم عمری میں ہی نثر لکھنا شروع کر دیا تھا ۔جب وہ ساتویں درجے میں پہنچے تو عادل رشید کے زیر ادارت شائع ہونے والے ہفت روزہ ”شاہد” میں ان کی پہلی کہانی ”ناکام آرزو” شائع ہوئی۔آٹھویں درجے میں آنے کے بعد شاعری بھی شروع کر دی۔جگر مرادآبادی حواس پر چھائے ہوئے تھے چنانچہ ابتدا خمریات سے ہوئی ۔
اس دوران ان کے والدین الٰہ آباد منتقل ہوگئے اور حسن منزل کے فلیٹ نمبر پندرہ اور سولہ میں قیام پذیر ہوئے چنانچہ اسرار احمد نے میٹرک ڈی ۔اے۔وی اسکول الٰہ آباد سے کیا ۔انہی دنوں رائیڈرہیگرڈ کی”She”اور” “Return of Sheکا اردو ترجمہ عذرا اور عذرا کی واپسی کے نام سے پڑھنے کا موقع ملا ۔جس نے ان کے ذہن کو اسراریت کی طرف آمادہ کیا ۔میٹرک میں پہنچے تو بے بی کمیونسٹوں کا ساتھ ہو گیا جس کے باعث ان کی شاعری میں ظالم سماج اور سرمایہ دار در آئے ۔لیکن دوسری جنگ عظیم کے باعث بدلتے ہوئے حالات نے انھیں کمیونسٹوں سے برگشتہ کر دیا ۔ان دنوں ترقی پسندی کا بھی بڑا چرچا تھا۔چنانچہ اسرار احمد بھی اپنے آپ کو اس سے دور نہ رکھ سکے ۔جس کے نتیجے میں ان کے بھی وارنٹ گرفتاری جاری ہوئے ۔
اسرار احمد نے انٹر میڈیٹ کی تعلیم ایونگ کرسچین کالج الٰہ آباد میں حاصل کی۔یہ ایک مخلوط تعلیمی ادارہ تھا جہاں آپ کی شاعری پروان چڑھتی رہی۔کالج کے دوسرے سال بزم ادب کی صدارت ان کے حصے میں آئی چنانچہ سالانہ مشاعرے میں ان کی پڑھی جانے والی نظم”بنسری کی آواز” کو بے حد داد ملی ۔
١٩٤٧ء میں اسرار احمد جب الٰہ آباد یونی ورسٹی پہنچے تو ڈاکٹر سید اعجاز حسین کے لیکچر ز نے ذہنی نشو ونما کے نئے باب کھول دئیے ۔ لیکن یہ عرصہ کافی مختصر رہا کیوںکہ آزادی ہندوستان کی تحریک زور پکڑ چکی تھی۔اس سلسلے میں یونی ورسٹی میں بھی خنجر زنی کی ایک واردات ہو گئی چنانچہ بزرگوں نے آپ کا یونی ورسٹی جانا بند کرادیا ۔جب ١٩٤٨ء میںتقسیم پاک و ہند کے بعد حالات معمول پر آئے تو دوبارہ داخلے کی ہمت اس لیے نہیں پڑی کہ ان کے ساتھی اگلے درجے میں پہنچ چکے تھے ۔
الٰہ آباد یونی ورسٹی میں پرائیویٹ امیدواروں کے لیے کوئی گنجائش نہیں تھی ۔یوپی میں صرف آگرہ یونی ورسٹی ایسے طلبا کا واحد سہارا تھی ۔لیکن شرط یہ تھی کہ امیدوار کو کسی ہائی اسکول میں معلمی کا دو سال کا تجربہ ہونا چاہیے ۔چنانچہ پہلے اسلامیہ اسکول الٰہ آباد اور اس کے بعد یادگار حسین اسکول میں پڑھایا ۔اس طرح انھوں نے آگرہ یونی ورسٹی سے بی ۔اے کیا۔اس دوران ادبی ذوق کے باعث ان کے مراسم عباس حسینی اور ان کے بھائی جمال رضوی (شکیل جمالی) سے ہو گئے اور یوں ایک نئے گروپ کی تشکیل ہوئی جس میں عباس حسینی کے کزن سرور جہاں (مشہور مصور سرور جہاں عابدی) ،مجاور حسین رضوی (ابن سعید ) ڈاکٹر راہی معصوم رضا ،اشتیاق حیدر ،یوسف نقوی ،حمید قیصر ،قمرجائسی ،نازش پرتاب گڑھی اور تیغ الٰہ آبادی (مشہور شاعر مصطفی زیدی) شامل تھے ۔
١٩٤٨ء میں عباسی حسینی نے ایک ادبی رسالہ ماہنامہ ”نکہت” کی داغ بیل ڈالی ۔اسرار احمد حصہ نظم اور مجاور حسین نے حصہ نثر سنبھال لیا۔اس دوران اسرار احمد نے ادب کی مختلف اصناف میں طبع آزمائی شروع کی اور سنکی سولجر اور طغرل فرغان کے قلمی ناموں سے کہانیاں اور طنز و مزاح پر مشتمل مضامین لکھنے لگے ۔
اتنا کچھ لکھنے کے باوجود اسرار احمد اپنی تحریروں سے مطمئن نہیں تھے ۔آٹھ برس کا وہ لڑکا جس نے طلسم ہوش ربا کو اچھی طرح سے کھنگال ڈالا تھا اور جس کے ذہن پر رائیڈرہیگرڈ کی پراسرار زمین اور واقعات و اسرار نے قبضہ جما رکھا تھا وہ انھیں کچھ اور کرنے پر اکساتا رہا ۔
١٩٥١ء کے اواخر میں ایک ادبی نشست کے دوران کسی نے کہا کہ اردو میں صرف وہ کہانیاں مقبولیت کا درجہ پاسکتی ہیں جن میں جنسیت کا عنصر شامل ہو ۔اسرار احمد نے اس سے اختلاف کیا اور وعدہ کیا کہ وہ اس کا متبادل سامنے لائیں گے ۔اسرا ر احمد کے مشورے سے عباس حسینی نے ماہنامہ ”جاسوسی دنیا” کا اجر ا کیا۔جس کے تحت اسرار احمد نے ابن صفی کے قلمی نام سے پہلا ناول ”دلیر مجرم” لکھا ۔یہ ناول مارچ ١٩٥٢ء میں شائع ہوا۔اس ناول کا پلاٹ وکٹر گن کے ناول آئرن سائڈزلون ہینڈ سے ماخوذ تھا جبکہ فریدی اور حمید کے کردار ابن صفی کے اپنے تخلیق کردہ تھے ۔دلیر مجرم کے بعد ابن صفی باقاعدگی سے جاسوسی دنیا کے لیے ہر ماہ ناول لکھتے رہے اور ان کی تحریروں کے چاہنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی رہی ۔
اگست ١٩٥٣ء میں جبکہ جاسوسی دنیا کے سات ناول شائع ہو چکے تھے ابن صفی اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے جہاں ان کے والد صفی اللہ اپنے کام کے سلسلے میں پہلے سے کراچی میں مقیم تھے ۔ابن صفی نے جاسوسی دنیا کا آٹھواں ناول”مصنوعی ناک” دوران سفر تحریر کیا ۔کراچی آ کر ابن صفی پہلے پہل C-1ایریا لالو کھیت (لیاقت آباد) میں رہائش پزیر ہوئے ۔پاکستان آکر بھی ابن صفی تواتر کے ساتھ ہر ماہ جاسوسی دنیا کے لیے ناول تحریر کرتے جو کہ جاسوسی دنیا الٰہ آباد ہی سے شائع ہوتے رہے ۔١٩٥٣ء میںجب ان کی عمر صرف ٢٥ برس تھی وہ برصغیر پاک و ہند میںاردو پڑھنے والوں کے حواسوں پر چھا چکے تھے ۔لوگ بے چینی سے ہر ماہ ان کے ناول کا انتظار کرتے اور ٩ آنے قیمت کا ناول کئی گنا زیادہ قیمت پر خریدنے کو تیار ہو جاتے ۔
١٩٥٣ء میں ابن صفی ”ام سلمی خاتون” کے ساتھ رشتہ ٔ ازدواج میں منسلک ہو گئے ۔سلمیٰ خاتون ١٢،اپریل ١٩٢٨ء کو پیدا ہوئیں ۔ان کے والد محمدامین احسن سلطان پور ،انڈیا میں ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولس کے عہدے پر فائز تھے ۔ان کی والدہ کا نام ریاض فاطمہ بیگم تھا ۔سلمیٰ خاتون کا تعلق ایک تعلیم یافتہ مذہبی گھرانے سے تھا ۔مشہور شاعر محمد احسن وحشی ان کے دادا جبکہ چچا مولانا نجم احسن ،مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے ۔سلمیٰ خاتون کے بھائی مکین احسن کلیم روزنامہ مشرق لاہور کے چیف ایڈیٹر رہے اور ان کی بہن صفیہ صدیقی کا شمار بھی اچھے لکھنے والوں میں ہوتا ہے ۔
١٩٥٥ء میں ابن صفی نے ایک نیا کردار”عمران” تخلیق کرکے عمران سیریز کا آغاز کیا۔اس سلسلے کا پہلا ناول ”خوفناک عمارت” اگست ١٩٥٥ء میں اے اینڈ ایچ پبلیکشنز،١٣،حسن علی آفندی روڈ ،کراچی سے شائع ہوا۔الٰہ آباد میں عمران سیریز کے پہلے دو ناول ”خوفناک عمارت” اور ”چٹانوں میں فائر” ماہنامہ نکہت کے تحت عباس حسینی نے ”عمران کے کارنامے ” کے عنوان سے اکتوبر ١٩٥٥ء میں شائع کیے۔عمران کے کردار کو بھی قارئین نے ہاتھوں ہاتھ لیا اور یوں ہر ماہ جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے ناول باقاعدگی سے شائع ہونے لگے۔١٩٥٦ء میںجاسوسی دنیا کی شعلہ سیریز نے ایک تہلکہ مچا دیا اور ابن صفی کی شہرت آسمانوں کو چھونے لگی۔
ابتدائی طور پرانڈیا میں عمران سیریز کے ناول ماہنامہ نکہت الٰہ آبادکے تحت شائع کیے جاتے تھے ۔عمران کے کارنامے اس قد ر مقبول ہوئے کہ ١٥،دسمبر ١٩٥٥ء کو نکہت کے ”ناول نمبر” میں اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کیا گیا ۔
عمران سیریز کا چوتھا ناول ”بھیانک آدمی” جاسوسی دنیا کے تحت شمارہ ٤٩ کے طور پر مارچ ١٩٥٦ء میں شائع ہوا ۔اس کی وجہ جاسوسی دنیا کے گولڈن جوبلی ناول ”شعلوں کا ناچ” کی اشاعت میں تاخیر تھی ۔اکتوبر ١٩٥٦ء میںنکہت نے ”عمران نمبر”کے عنوان سے ”جہنم کی رقاصہ” اور ”سانپوں کے شکاری” یکجا کر کے شائع کیے ۔نومبر ١٩٥٧ء میں”عمران کی جاسوسی” کے عنوان سے نکہت نے ”دھوئیں کی تحریر” اور ”لڑکیوں کا جزیزہ” ایک ہی جلد میں شائع کیے۔بالآخر دسمبر ١٩٥٧ء میں عباس حسینی نے فیصلہ کیا کہ عمران سیریز کو ماہنامہ نکہت کے زیر اہتمام مستقل طور پر ہر ماہ شائع کیا جائے اور اس کی ابتدا عمران سیریز کے جو بیسویں ناول”پاگل کتے” سے ہوئی۔
ابن صفی کی شخصیت اپنے قارئین کے لیے اب تک اسرار میں گم تھی ۔چنانچہ قارئین کی بے حدفرمائش پر ابن صفی کی تصویر پہلی مرتبہ گولڈن جوبلی ”شعلوں کا ناچ” میں اپریل ١٩٥٦ء میں شائع ہوئی اور یوں لاکھوں مداح ان کی صورت سے آشنا ہوئے ۔
اکتوبر ١٩٥٧ء میں ابن صفی نے اسرار پبلیکشنز لالوکھیت کراچی کی بنیاد ڈالی اور یہاں سے جاسوسی دنیا کا جو ناول پہلے پہل شائع ہوا وہ ”ٹھنڈی آگ” تھا ۔یہ ناول بیک وقت الٰہ آباد سے بھی شائع ہوا۔
١٩٥٨ء میں ابن صفی اپنے نئے تعمیر شدہ مکان ناظم آباد نمبر ٢ میں منتقل ہو گئے جہاں انھوں نے اپنی زندگی کے بقیہ ماہ و سال گزارے۔اس کے ساتھ ہی جنوری ١٩٥٩ء میں اسرار پبلیکشنز ،فردوس کالونی کراچی نمبر ١٨ میں منتقل ہوگئی۔دفتر کے باوجود ابن صفی اپنے تخلیقی کاموں کے لیے گھر میں لکھنا زیادہ پسند کرتے تھے ۔عمران سیریز کے آغاز کے بعد ابن صفی ہر ماہ دو سے چار ناول لکھ ڈالتے تھے ۔جون ١٩٦٠ء تک ابن صفی جاسوسی دنیا کے ٨٨(پرنس وحشی) اور عمران سیریز کے ٤١ (بے آواز سیارہ) ناول لکھ چکے تھے ۔اس دوران اٹھوں نے جاسوسی دنیا کے میگزین ایڈیشن کا بھی اجرا کیا ۔یہ پاکستان میں ڈائجسٹ کی ابتدائی شکل تھی ۔اس کا پہلا شمارہ نومبر ١٩٥٩ء میں شائع ہوا لیکن اس کے چار شمارے ہی شائع ہوپائے ۔اس تیز رفتار تخلیقی عمل سے وہ ذہنی طور پر بیمار ہو گئے اور شیزوفرینیا اور نروس بریک ڈائون کا شکار ہوگئے ۔چنانچہ ١٩٦٠ء سے ١٩٦٣ء کے دوران وہ کچھ نہ لکھ پائے ۔بالآخر قریبی عزیزوں ،دوستوں اور لاکھوں مداحوں کی دعائوں کے علاوہ حکیم اقبال حسین کے علاج سے وہ صحت یاب ہوئے ۔
٢٥،نومبر ١٩٦٣ء کو ایک طویل انتظار کے بعد ابن صفی کی عمران سیریز کا ٤٢ واں ناول”ڈیڑھ متوالے” منظر عام پر آیا جس نے برصغیر پاک و ہند میں مقبولیت کے تمام ریکارڈ توڑ دئیے ۔ہندوستان میں اس ناول کی تقریب رونمائی آنجہانی لال بہادر شاشتری نے کی جو کہ اس وقت وزیر مواصلات تھے ۔ایک ہفتے کے بعد ہی اس ناول کا پہلا ایڈیشن فروخت ہو گیا ۔کئی شہروں میں یہ ناول بلیک میں فروخت ہوا ۔اس لیے اس کا دوسرا ایڈیشن شائع کرنا پڑا جس کی تقریب رونمائی صوبائی وزیر قانون جناب علی مظہر نے کی ۔
صحت یابی کے بعد انھوں نے معالج کی ہدایت کے مطابق لکھنے کے عمل میں آہستگی پیدا کی ۔چنانچہ روزنامہ حریت میں ”ڈاکٹر دعاگو” کے عنوان سے عمران سیریز کا ناول قسط وار لکھنا شروع کیا ۔اس کے بعد ”جونک کی واپسی” اور ”زہریلی تصویر” بھی قسط وار چھپتے رہے ۔یہ ناول ہفتے میں دو بار اتوار اور بدھ کو شائع ہوتے تھے ۔
١٩٦٥ء کے دوران ابن صفی کے ناولوں کے یک رنگ ایڈیشن لاہور سے شائع ہونا شروع ہوئے ۔٢٧،جون ١٩٦٧ء کوابن صفی کے والد صفی اللہ اس دنیا سے رخصت ہوگئے ۔اس دوران ابن صفی جاسوسی دنیا کا پلاٹینم جوبلی نمبر ”دیوپیکر درندہ” تحریر کر رہے تھے ۔٧٠، کی دہائی میں قومی ادارے آئی ایس آئی کی درخواست پر جاسوسی کے بنیادی طریق کار پر چند لیکچرز بھی دئیے۔
ابن صفی نے ١٩٧٣ء میںفلم پروڈیوسر نواب محمد حسین تالپر المعروف بہ مولانا ہپی کی فرمائش پر فلم ”دھماکہ” کی کہانی لکھی جو کہ عمران سیریز کے ناول”بے باکوں کی تلاش” پر مبنی تھی۔اس فلم کو ہدایت کار قمر زیدی نے ڈائریکٹ کیا ۔ابن صفی نے اس فلم کے مکالمے اور گیت بھی لکھے ۔حتیٰ کہ ہیروئن کے کپڑے بھی انھوں نے ڈیزائن کیے ۔فلم میں جاوید شیخ نے ظفر الملک اور مولانا ہپی نے جیمس کے کردار ادا کیے ۔”بیباکوں کی تلاش ” کی صبیحہ کا کردار شبنم نے بخوبی اد کیا ۔عمران اور ایکس ٹو کی ٹیم کو اس فلم میں پیش کرنے سے احتراز کیا گیا۔X2کی آواز کے لیے ابن صفی نے اپنی آواز دی۔یہ فلم کراچی میں ١٣،دسمبر ١٩٧ء کو ریلیز ہوئی لیکن چند تکنیکی وجوہ کی بناء پر خاطر خواہ کامیابی نہ حاصل کر سکی۔
جنوری ١٩٧٧ء میں مشتاق احمد قریشی نے ابن صفی میگزین کے عنوان سے ایک نئے ڈائجسٹ کا اجرا کیا ۔ابن صفی اس کے اعزازی مدیر اعلیٰ تھے ۔بعد میں چند قانونی دشواریوں کے باعث اس ڈائجسٹ کا نام نئے افق کر دیا گیا ۔
مارچ ١٩٧٧ء کے الیکشن کے دوران پاکستان ٹیلی وژن ،اسلام آباد سینٹر نے عمران سیریز کے ناول”ڈاکٹر دعاگو” کی ڈرامائی تشکیل کی ۔اس کا اسکرپٹ حمید کاشمیری نے تحریر کیا اور اداکار قوی خان نے عمران کا کردار ادا کیا ۔پی ٹی وی نے اس کی اشتہاری فلم بھی نشر کی۔لیکن الیکشن کے منسوخ ہو جانے کے بعد یہ ڈراما بھی نہ نشر ہو سکا ۔بعد میں مارشل لا حکام نے الیکشن کا سارا ریکارڈ ضبط کر لیا اور یوں یہ ڈراما کہیں ردی کی نظر ہو گیا ۔
١٨،جون ١٩٧٨ء کو ابن صفی کی والدہ کا انتقال ہو گیا ۔ابن صفی نے ان کی جدائی کے کرب کو اپنی نظم ”ماں” میں سمودیا ۔
ستمبر ١٩٧٩ء میں ابن صفی کے پیٹ میں درد اٹھا تو انھیں ہسپتال لے جایا گیا ۔وقتی طور پر تکلیف رفع ہو گئی تو گھر واپس آ گئے ۔اس برس دسمبر میں یہ تکلیف دوبارہ ہوئی تو جناح ہسپتال کے اسپیشل وارڈ میں داخل کر ایا گیا۔اس وقت ڈاکٹر اس نتیجے پر پہنچ گئے کہ انھیں لبلبے کا کینسر ہے ۔فیملی فزیشن ڈاکٹر سعید اختر زیدی اور ایک ڈاکٹر قمر الدین صدیقی نے ان کا علاج کیا لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا ۔پھر آخری دنوں میں جنرل فزیشن ڈاکٹر رب اور کینسر اسپیشلسٹ سید حسن منظور زیدی نے بھی ان کا علاج کیا لیکن مشیت کو کچھ اور ہی منظور تھا ۔دسمبر ١٩٧٩ء سے جولائی ١٩٨٠ء کے درمیان ان کی صحت تیزی سے گر رہی تھی لیکن انھوں نے لکھنا نہیں چھوڑا ۔ہفتہ ٢١،جولائی ١٩٨٠ء بمطابق ١٢،رمضان المبارک ١٤٠٠ھ کو فجر کے قریب اپنے چاہنے والوں کو روتا چھوڑ کر ابن صفی ہمیشہ کے لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے ۔ان کا نامکمل عمران سیریز کا آخری ناول”آخری آدمی” ان کے سرہانے رکھا تھا ۔
ابن صفی نے پسماندگان میں اپنی اہلیہ سلمیٰ خاتون کے علاوہ چار صاحبزادے اور تین صاحبزادیوں کو سوگوار چھوڑا ۔
١۔ ڈاکٹر ایثار احمد صفی ،ماہر امراض چشم ، ان کا انتقال ٣،جولائی ٢٠٠٥ء ہوا
٢۔ ابرار احمد صفی، میکانیکل انجینئر ،امریکا میں رہائش پزیر ہیں۔
٣۔ ڈاکٹر احمد صفی، مکانیکل انجینئر ،معاش کے سلسلے میں لاہور میں مقیم ہیں۔
٤۔ افتخار احمد صفی، الیکڑیکل انجینئر ، ریاض ،سعودی عرب میںرہائش پزیر ہیں۔
صاحبزادیوں میں نزہت افروز، ثروت اسرار اور محسنہ صفی شامل ہیں۔ابن صفی کی اہلیہ جمعرت ١٢،جون ٢٠٠٣ء کو اس دنیا سے انتقال فرما گئیں۔
ابن صفی نے جاسوسی دنیا اور عمران سیریز کے علاوہ بھی چند کتابیں لکھیں جن کے نام حسب ذیل ہیں:
١۔ پرنس چلی۔یہ ناول دلکش سیریز میں اولاً ”زلفیں پریشاں ہو گئیں” کے عنوان سے شائع ہوا لیکن بعدمیں مزید اضافہ کے ساتھ پرنس چلی کے نام سے شائع ہوا۔
٢۔ آدمی کی جڑیں۔یہ نفسیاتی ناول ابن صفی نے جاسوسی دنیا کے میگزین ایڈیشن کے لیے لکھنا شروع کیا تھا جو کہ نامکمل رہ گیا ۔
٣۔ بلدران کی ملکہ۔ معزز کھوپڑی، گلترنگ،شمال کا فتنہ، ان کی تخلیق کردہ ریاستوں شکرال، قلاق، اور کراغال کی نمائندہ طویل کہانیاں ہیں۔
٤۔ ”اب تک تھی کہاں”، مصر کے اساطیری ماحول میں پروان چڑھی ایک پراسرار کہانی جو کہ عالمی ڈائجسٹ میںقسط وار شائع ہوئی۔
٥۔ ”ڈپلومیٹ مرغ”۔”ساڑھے پانچ بجے”، ابن صفی کے لکھے گئے طنزیہ اور مزاحیہ مضامین کے مجموعے
٦۔ ”تزک دوپیازی” ۔دوپیازہ کی آپ بیتی جو کہ پیروڈی کے طور پر لکھی گئی۔
(بشکریہ ’اردو فلک ڈاٹ نیٹ)

Bayania Tareef o Tabeer by Dr. Abdur Rahman Faisal

Articles

بیانیہ - تعریف وتعبیر

ڈاکٹر عبدالرحمن فیصل

 

اردو میںNarrativeکاترجمہ ’بیانیہ‘اورNarratologyکا’بیانیات‘کیاجاتاہے۔ جدید تنقیدمیں نقدِبیانیہ اوراس کے نظریاتی مباحث کو اہم ترین مقام حاصل ہے۔ اس نے باقاعدہ ایک شعبہ علم’بیانیات‘(Narratology)کی شکل اختیار کرلی ہے۔
’بیانیات‘مطالعۂ متن کاایک شعبہ (Discipline) ہے ۔جس میں بیانیہ کی ساخت(Narrative structure) کامطالعہ کیا جاتا ہے۔ یہ تھیوری صرف نظریاتی مباحث کامجموعہ ہی نہیں ہے بلکہ اس کی اطلاقی اہمیت وافادیت بھی مسلم کرتی ہے۔ یہ بیانیہ کے مختلف ترکیبی عناصرکی تعریف متعین کرتی ہے اوران اسباب پربھی غورکرتی ہے جن کے ذریعے بیانیہ متن معرضِ وجودمیں آتاہے۔ علم بیانیات کے ذریعے ایسے مخصوص ،بیانیہ اصول بھی مرتب کیے جاسکتے ہیں جوبیانیہ کی امتیازی خصوصیات کاتعین کرنے کے علاوہ اس کی مختلف سطحوں کی علاحدہ علاحدہ شناخت قائم کرنے میں معاون ہوں۔ غرض یہ کہ علم ’’بیانیات‘‘میں بیانیہ کی تھیوری ،اقسام، اوصاف اوراس کی اہمیت وافادیت کامطالعہ کیاجاتاہے۔
اردوادب میں اس موضوع پراب تک بہت کم لکھاگیاہے۔ لیکن مغرب میں بیانیہ کی تھیوری ،اس کے اوصاف ، اہمیت وافادیت پربہت کچھ لکھاجاچکاہے ۔Encyclopedia of literary Critics & Criticism میں بیانیہ کی یہ تعریف کی گئی ہے :
“What are Narrative. Is a sequence of events connected by Causality and probability”. (1)
(ترجمہ:بیانیہ کیا ہے ؟یہ واقعات کا ایسا تسلسل ہے جو ممکنات اور سبب ونتیجے کی منطق سے مربوط ہوتا ہے۔)
Gerald Priceلکھتے ہیں:
“Narrative has been minimally defined as the Representation of at least one event one change in a state of affairs. In narrative discourse revisited, for example Gerard Genette wrote: the idea of minimal Narrative presents a problem of definition that is not slight [….] for me, as soon as there is an action or an envent, even a single one, there is story because there is a transformation, a transition from an earlier to a later and resultant state. (1983:18f).” (2)
(ترجمہ: کم سے کم الفاظ میں بیانیہ کی یہ تعریف کی گئی ہے کہ بیانیہ کم سے کم ایک واقعے یا ایک صورت حال میں کسی تبدیلی کی نمائندگی کرتا ہو۔ بیانیہ کلامNarrative) discourse )کی نظر ثانی میں، مثلاـ ژراژنت نے جو لکھا ہے کہ کم سے کم بیانیہ(minimal narrative) کا تصور بیانیہ کی تعریف کے مسائل کو پیش کرتا ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔۔۔۔۔میرے نزدیک جیسا میں نے کہا کہ صرف ایک عمل یا ایک واقعہ ہو تو وہ قصہ ہے کیوں کہ ایسی صورت میں ماقبل سے بعد کی طرف کوئی نہ کوئی نتیجہ خیز تقلیب ہوتی ہے۔)
Jerame Brunerبیانیہ کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
” A Narrative is an account of events occuring over time it is irreducibly durative.” (3)
(ترجمہ: بانیہ واقعات کا وہ بیان ہے جو ایک وقت مقررہ میں واقع ہوتا ہے اور اس کا کردارلازماً زمانی ہوتا ہے۔ )
Paul Cobleyاپنی کتاب Narrative the new Critical Idomمیں لکھتے ہیں:
” Story Consists of all the events which are to be depicted, Plot is the chain of causation which dictates that these events are some how and that they are there fore to be depicted in relation to each other… Narrative is the showing or the telling of these events and the mode selected for that to take place…Narrative is a sequence that is narrated.” (4)
(ترجمہ: کہانی ان تمام واقعات سے تعمیر ہوتی ،جسے بیان کیا جانا ہے۔پلاٹ اسباب کی وہ زنجیر ہوتا ہے جو یہ متعین کرتا ہے کہ یہ واقعات ایک دوسرے کی مطابقت میں بیان کیے جانے ہیں۔۔۔۔۔۔۔بیانیہ ان واقعات کو بیان کرتا یا دکھاتا ہے اور یہ بھی طئے کرتا ہے کہ انہیں کس طرز پر بیان کیا جائیگا۔)
زرارژینت(Gerard Genette) بیانیہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ اگرہم خودکوصرف ادبی اظہار کی عمل داری تک محدود رکھیں توہم کسی دقت کے بغیر بیانیہ کی تعریف کرسکتے ہیں:
’’یہ زبان کے ذریعے اوربہ طورخاص تحریری زبان کے ذریعے ،حقیقی یا افسانوی واقعہ یاواقعات کے تسلسل کی نمائندگی ہے۔‘‘(۵)
بیانیہ کی تھیوری کے مضمرات اوراس کے امکانات کوپوری وضاحت کے ساتھ پیش کرنے والے ناقدین میں ایک قابل قدرنام ڈچ خاتون Mieke Balکا ہے۔ انھوںنے اپنی تصنیف “Narratology: An Introduction to the theory of Narrativeمیں بیانیہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
” A narrative text is a text in which a narrative agent tells a story.” (6)
(ترجمہ: ایک بیانیہ متن،وہ متن ہے جس میں ایک راوی کہانی بیان کرتا ہے ۔)
بال نے بیانیہ متن کو موضوع بحث بناتے ہوئے بیانیہ کی یہ تعریف وضع کی ہے ۔ اس کا اطلاق بیانیہ کی ان تمام اصناف پر ہوسکتا ہے جن کا ذریعۂ اظہار لسانی نشانات یعنی الفاظ ہیں۔
اردومیں سب سے پہلے ممتاز شیریں نے بیانیہ کے متعلق اپنے مضمون ’’ناول اورافسانے میں تکنیک کاتنوعـ‘‘میں لکھا ہے :
’’بیانیہ صحیح معنوں میں کئی واقعات کی ایک داستان ہوتی ہے ۔ جویکے بعددیگرے علی الترتیب بیان ہوتے ہیں۔ ہم بیانیہ کوبقول عسکری کہانیہ بھی کہہ سکتے ہیں ۔‘‘(۷)
مندرجہ بالااقتباس سے یہ نتیجہ نکلتاہے کہ ممتازشیریں کے نزدیک بیانیہ سے مراد وہ تحریر ہے کہ کوئی شخص واقعات کوترتیب دے کر کوئی افسانہ تشکیل دیتاہے۔ شمس الرحمن فاروقی ، ممتازشیریںکے اس اقتباس کے متعلق لکھتے ہیں :
’’ممتاز شیریں(یامحمد حسن عسکری اوران کی اتباع میں ممتاز شیریں) بیانیہ سے وہ چیزمرادلیتی ہوئی معلوم ہوتی ہیں۔ جسے روسی ہیئت پرست نقاد وں خاص کربورس آئخن بام(Boris Eixenbam)نے Syuzetیعنی قصہ مروی کا نام دیاتھا۔ قصہ مروی سے اس کی مرادتھی واقعات اوران کی وہ ترتیب، جس ترتیب سے وہ قاری تک پہنچتے ہیں۔ Syuzetیعنی قصہ مروی کے متقابل شئے کوآئخن بام نے fabulaیعنی قصہ مطلق کانام دیاتھا۔ قصہ مطلق سے اس کی مرادتھی وہ تمام ممکن واقعات جوکسی بیانیہ میں ہوسکتے تھے،لیکن جن میں سے چندکو منتخب کرکے بیانیہ مرتب کیاجائے۔‘‘ (۸)
فاروقی صاحب بیانیہ کی تعریف کرتے ہوئے رقم طراز ہیں:
’’بیانیہ سے مراد ہروہ تحریر ہے جس میں کوئی واقعہ (event)یاواقعات بیان کیے جائیں۔‘‘(۹)
پروفیسرقاضی افضال حسین نے اپنے مضمون’’واقعہ راوی اوربیانیہ‘‘میں بیانیہ کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے :
’واقعہ کابیان اصطلاحاً بیانیہ کہلاتاہے۔‘‘(۱۰)
مندرجہ بالاتمام تعریفوں سے یہ بات ظاہرہوتی ہے کہ واقعہ یاواقعات کابیان ،کم سے کم ایک صورت حال کا تبدیل ہونا، واقعات کاترتیب واربیان ،جوسبب اورنتیجے کی منطق پرمبنی ہوبیانیہ کی تشکیل کے لیے ضروری ہے۔
بیانیہ کی ان تعریفوں میں ایک لفظ ’’واقعہ‘‘(event)قدرمشترک ہے۔ یایہ کہیں کہ بیانیہ کے وجود کے لیے واقعہ شرط ہے ۔ توسوال یہ ہے کہ واقعہ کیاہے؟یاکسے کہتے ہیں؟میکے بال لکھتی ہیں:
“Events have been defined in this study as ‘the transition from one state to another state, Caused or experienced by actor s ۱۱؎
(ترجمہ:اس مطالعہ میں واقعہ کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ یہ ایک صورت حال سے دوسری صورت حال میں تقلیب ہے جس سے کوئی کردار گزرتا ہے یا اس کا تجربہ کرتا ہے۔)
Shlomith Rimmankenanلکھتا ہے:
“An event may be defined without great rigaur as somthing that happens, something that can be summed up by a verb or a name of action.”۱۲؎
(ترجمہ: ایک واقعہ کی بغیرکسی دشواری کے یہ تعریف کی جا سکتی ہے کہ’’کچھ ہوا‘‘( یعنی جو ہوا) اسے ایک ’فعل‘ یا ’عمل کے اسم‘ میں مجملاً بیان کیا جا سکتا ہے۔ )
واقعہ کی تعریف کرتے ہوئے شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیںکہ:
’’وہ بیان جس میں کسی قسم کی تبدیلی حال کاذکرہوeventیعنی واقعہ کہاجائے گا۔‘‘
مثلاً حسب ذیل بیانات میںواقعہ بیان ہواہے:
(الف):
(۱) اس نے دروازہ کھول دیا
(۲) دروازہ کھلتے ہی کتااندرآگیا۔
(۳) کتااس کوکاٹنے دوڑا۔
(۴) وہ کمرے کے باہر نکل گیا۔
ان کے برخلاف مندرجہ ذیل بیانات کوواقعہ یعنی eventنہیں کہہ سکتے ،کیونکہ ان میں کوئی تبدیل حال نہیں ہے:
(ب):
(۱) کتے بھونکتے ہیں
(۲) انسان کتوںسے ڈرتاہے۔
(۳) ہرکتے کے جبڑے مضبوط ہوتے ہیں۔
(۴) کتے کے نوک دار دانتوں کودندان کلبی کہاجاتاہے۔(۱۳)
پروفیسرقاضی افضال حسین واقعہ کی تعریف ان الفاظ میں کرتے ہیں:
’’جس عمل (حرکت) میں صورت حال تبدیل ہوتی ہواسے واقعہ کہتے ہیںاور صورت حال سے مراد وہ زمانی تسلسل ہے جس میں مظہر /تنظیم/اشیاء ایک ہی شکل میں قائم رہتی ہیں۔ اس تسلسل یاٹھہرائو یاتنظیم میں کسی عمل کے سبب تبدیلی رونماہوتی ہے تواسے واقعہ کہتے ہیں۔‘‘(۱۴)
واقعہ کی اس بحث سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ لسانی نشانات کے بیان میں جب ایک صورت حال کسی عمل کے سبب زمانی ومنطقی طورسے دوسری صورت حال میں تبدیل ہوتی ہے توواقعہ وجودمیں آتاہے اورواقعے کے لسانی اظہار یاتنظیم کو بیانیہ کہتے ہیں۔
یہاں پر یہ سوال ذہن میں آتاہے کہ صورت حال تبدیل ہونے سے پہلے کابیان کیاکہلائے گا۔ کیونکہ وہ بھی اسی بیانیہ متن کاحصہ ہے ۔ ایک مثال کے ذریعے اس کی وضاحت کی جاسکتی ہے ۔ایک افسانہ نگاردن یارات کے کسی حصے کا منظر بیان کرتاہے یاکسی کمرے یامکان کی تصویر کشی کرتاہے تویہ ایک صورت حال ہوگی اور جب کسی عمل کے نتیجے میں اس صورت حال میں تبدیلی ہوتی ہے تووہ واقعہ ہوگا۔ مثلاً ’’رات کاسناٹا جنگل کی طرح سائیں سائیں کررہا تھا ، کمرے میں گھڑی کی ٹک ٹک کی آواز کے علاوہ کہیں کوئی آواز سنائی نہیں دے رہی تھی ۔میں بسترپر لیٹا چھت کو گھورے جارہا تھا۔‘‘یہ ایک صورت حال ہے ’’کہ اچانک ایک دل دہلادینے والی دھماکے کی آواز سنائی دی ۔میں ڈرسے بسترپر اٹھ کر بیٹھ گیا۔ یہ ایک واقعہ ہوا۔ اس بیان میں صورت حال بیان کرنے والے لسانی نشانات کے ساختیاتی مجموعے کو ’’وصف حال‘‘ (Description)اورواقعہ کے بیان کو بیانیہ (Narration)کہتے ہیں ۔یعنی ایک مکمل متن، بیانیہ اوروصف حال سے مل کر تعمیر ہوتاہے۔
زرار ژینت(Gerard Genette)لکھتا ہے:
’’ہربیان حقیتاً دوقسم کی نمائندگی سے مل کربنتاہے۔ جومختلف تناسب میں ایک دوسرے میں گھلے ملے ہوتے ہیںایک طرف عمل اورواقعات کی نمائندگی ہے ۔جواپنے خالص مفہوم میں بیانیہ ہے اوردوسری طرف اشیاء وکرداروں کا بیان ہے جوروئیداد اور تفصیل کانتیجہ ہے۔۔۔۔روئیدادکاتصور بیانیہ کے بغیر کیا جاسکتا ہے ،لیکن حقیقت میں یہ کبھی آزاد حالت میں نہیں ملتا:بیانیہ ،روئیداد کے بغیرقائم نہیں ہوتالیکن روئیداد پراس کایہ انحصار، متن میں اس کے غالب کردارکو متاثر نہیں کرتا۔ روئیداد بالکل فطری طورپر بیانیہ کالاحقہ ہے جوہمیشہ فرماں بردار ،ہمیشہ بہت ضروری غلام ہوتاہے اورکبھی دعویِ خود مختاری نہیں کرتا۔‘‘(۱۵)
وصف حال Descriptionبیانیہ کاایک لازمی جزو ہے یعنی ایک مکمل بیان /متن بیانیہ اوروصف حال سے مل کر تعمیر ہوتاہے ۔
بیانیہ کاتعلق چونکہ واقعہ سے ہوتاہے اورواقعہ صورت حال کی تبدیلی سے عبارت ہے اس لیے اس میں افعال کوکلیدی حیثیت حاصل ہوتی ہے اور وصف حال (Description)کاتعلق اشیاء، افراد یاکسی موقع کی تصویر سے ہوتاہے جس میں مرکزی حیثیت اسماء کوحاصل ہوتی ہے۔
اقتباس ملاحظہ ہو:
’’بیانیہ کاسروکار فعل یاواقعہ سے ہے جوخالص تسلسلِ عمل ہے اور اس سبب وہ بیان کے ڈرامائی اورزمانی کردار پر زور دیتاہے۔ دوسری طرف روئیداد یا صراحتی بیان چونکہ یہ اشیاٗ اورمعروض پران کے ہمہ وقتی وجودکے حوالے سے غور کرتاہے اورعمل کے تسلسل کوبھی ایک منظرتصور کرتاہے۔ وقت کومعطل کرتااور بیانیہ کوایک مخصوص مکانی عرصے میں پھیلاتا محسوس ہوتاہے۔ اس طرح کلام کی یہ دواقسام دومتضاد رویّوں کااظہار کرتی معلوم ہوتی ہیں۔‘‘(۱۶)
مذکورہ اقتباس سے صاف ظاہر ہے کہ بیانیہ کا سروکار فعل یا واقعہ سے ہے یعنی واقعہ فعل سے مشتق ہوتا ہے۔ فعل سے تعلق ہونے کے سبب واقعہ کی کچھ صفات بھی ہوں گی جیسا کہ مذکورہ اقتباس میں ذکر ہوا ہے کہ بیان کے ڈرامائی اور زمانی کردار پر زور دیتا ہے۔ ڈرامائی کردار پر زور دینے کے معنی یہ ہوئے کہ واقعہ حرکت سے عبارت ہوگا یعنی ایک صورت حال جب دوسری صورت حال میں تبدیل ہوگی تو اس عمل میں سبب اور نتیجے کا تعلق ہوگا۔ دوسرا، زمانی کردار کے معنی یہ ہیں کہ اس عمل /حرکت میں ایک زمانہ بھی شامل ہوگا۔ فعل سے عبارت ہونے کے سبب واقعہ کی ایک صفت یہ بھی ہوگی کہ اس عمل کا کوئی نہ کوئی کرنے والا بھی موجود ہوگا۔ یعنی واقعہ جسے پیش آئے گا، اصطلاحاً اسے کردار کہتے ہیں۔ اس طرح یہ کہاجاسکتا ہے کہ یہ تمام شرائط واقعہ کے بنیادی وصف ہیں۔
بیانیہ کے لیے واقعہ کاہوناشرط ہے ۔واقعہ حقیقی بھی ہوسکتاہے۔ یعنی خارج میں اس کاوقوع ہواہواورواقعہ خیالی بھی ہوسکتاہے۔ یعنی خارج میں اس کاوقوع نہ ہوبلکہ خیال یاجذبے کی غیرمادی دنیامیں ہو۔قاضی افضال حسین لکھتے ہیں:
’’ان دونوں صورتوں میں واقعہ کی تعریف نہیں بدلتی ہے لیکن اس کے بیان کی صفات وامتیازات بدلتے جاتے ہیں۔ مثلاً واقعہ اگر خارج میں ہو جس کی صفت یہ ہے کہ حواس کے ذریعے اس کاادراک ممکن ہواس لیے نتیجتاً اس کی تصدیق ہوسکے تواس کابیان خبر، تاریخ، سوانح، سفرنامہ یا روزنامچہ وغیرہ کہاجائے گا۔ اوراگرواقعہ نہ تو خارج میں ہواورنہ ہی اس کی تصدیق ممکن ہواورنہ تصدیق ضروری ہو۔تو اس کا بیان داستان افسانہ نگار یافکشن کی دوسری شکلیں کہلائے گا۔‘‘(۱۷)
اس طرح واقعہ کی نوعیت کے اعتبارسے بیانیہ (تحریری بیانیہ)کودوحصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے۔ اول غیرافسانوی بیانیہ اوردوسراافسانوی بیانیہ ۔ کوئی بھی بیان یامتن خود بخود وجودمیں نہیں آتابلکہ کوئی اسے بیان کرتایاترتیب دیتاہے ۔ واقعہ بیان کرنے والے کواصطلاحاً راوی کہتے ہیں یعنی ہرنوع کے بیانیے میں ایک بیان کرنے والا موجود ہوتا ہے۔
بیانیہ حرکت وعمل کی تصویرپیش کرتاہے ۔اس کاتعلق صورت حال کی تبدیلی سے ہے۔بیانیہ اس وقت قائم ہوتاہے جب اس میں کسی واقعہ کاانعقاد یاکم از کم اس کے انعقاد کاامکان موجود ہو۔ کسی بھی عمل یاواقعے کاانعقاد لازماً کسی نہ کسی زمانے کاپابند ہوتاہے اوراسی کے سہارے بیانیہ یاتوسیدھے خطوط پر آگے بڑھتا ہے یااپنے گردوپیش پھیلتاہے۔ بیانیہ محض بیانِ واقعہ یا واقعات کاسلسلہ نہیں بلکہ واقعات کابامعنی سلسلہ ہوتاہے۔ دوسرے الفاظ میں واقعات ایک مربوط اورمنظم سلسلے کے تحت بیان ہوتے ہیںخواہ اس کاربط منطقی ہوزمانی ہو، سبب یانتیجے کی منطق پر ہویا یہ تعلق ایک کردار یاکرداروں کے مختلف صورت حال سے دوچار ہونے کے نتیجے میں پیداہو۔یعنی بیانیہ کے لیے واقعات میں معنی کی وحدت بنیادی شرط ہے۔
لسانی اظہارکے علاوہ اظہار کے وہ طریقے جن میں واقعہ بیان نہیں ہوتابلکہ واقعے کو آنکھوں کے سامنے پیش کیاجاتاہے ان کوبیانیہ کہاجائے گایانہیں مثلاًڈرامہ ،فلم، اخباری فلم وغیرہ ۔شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں کہ:
’’یہ سوال بڑی حدتک پیش کردگی پرمبنی ہے اورپیش کردگی ہی پرمبنی کرکے خالص بیانیہ کوبھی تین انواع میں تقسیم کیاجاسکتاہے :
۱۔لکھاہوابیانیہ، جوزبانی سنانے کے لیے خصوصی طورپر لکھاگیاہومثلاً ناول، افسانہ، سفرنامہ، تاریخ وغیرہ۔
۲۔ایسابیانیہ جوصرف زبانی سنایاجائے مثلاً داستان، جب تک وہ غیر تحریری شکل میں ہو۔
۳۔ ایسابیانیہ جولکھاہواہو۔لیکن پہلے وہ زبانی سنایاگیاہویاجسے زبانی سنانے کی غرض سے لکھاگیاہو۔ مثلاً داستان جب وہ زبانی سنانے کے کام کی ہولیکن لکھ لیا گیا ہو یاچھاپ دیاگیاہو۔‘‘(۱۸)
گویا فاروقی صاحب بیانیہ کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، تحریری بیانیہ اور غیر تحریری بیانیہ یعنی زبانی بیانیہ خصوصاً داستانوی بیانیہ۔
رولاں بارت لکھتا ہے:
’’دنیا میں بیانیے کی اقسام بے شمار ہیں… بیانیہ کے اظہار کے وسیلوں میں تحریری یا غیر تحریری، مدلل و مربوط زبان، ساکت یا متحرک تصاویر، جسمانی حرکات و سکنات، یا پھر ان سب کی آمیزش سے بنا کوئی وسیلۂ اظہار شامل ہے۔ بیانیہ اسطور،روایتی قصوں حکایتوں، داستانوں، مختصر افسانوں، رزمیوں، تاریخ، المیہ، ڈراما (تجسس ڈراما)، طربیہ مائم (Pantomime) ،مصوری (مثلاً کارپاکسیو کی کی پینٹنگ، سینٹ ارسلا کو یاد کریں)، دھندلے شیشوں کی کھڑکی، سنیما، کامکس، مقامی خبروں اور گفتگو، سب میں موجود ہوتا ہے۔ یہ ہیئتوں کے لامتناہی تنوع میں تو ہوتا ہی ہے، اس کے علاوہ بیانیہ ہر عہد میں، ہر مقام پر اور ہر سماج میں وجود رکھتا ہے۔‘‘(۱۹)
رولاں بارت کے اس بیان سے بیانیہ کی ہمہ گیر آفاقیت کے ساتھ ساتھ اظہار کے ان تمام طریقوں کا بھی علم ہوتا ہے، جن میں بیانیہ موجود ہوتا ہے۔ماہرین بیانیات نے بیانیہ پربہت توجہ صرف کی ہے ۔ شاید اسی لیے بیانیات کو جدید تنقید میں ایک اہم ترین مقام حاصل ہے ۔ بیانیہ کی دنیابہت وسیع ہے ۔اسے پوری زندگی کااستعارہ کہہ سکتے ہیں ۔بقول زویتان ڈارف (Tzvetan Todorov)’’بیانیہ برابر ہے حیات کے۔‘‘(۲۰)
رولاں بارتھ(Roland barth) کاخیال ہے کہ بیانیہ ہرعہد اور سماج اورہرجگہ موجود ہے ۔انفرادی اور اجتماعی طورپر ہر شخص کاحوالہ بیانیہ ہی ہے ۔’’بیانیہ ہے اسی لیے میں ہوں۔‘‘بیانیہ کی حیثیت بین الاقوامی ،ماورائے ثقافت اورماورائے تاریخ ہے ۔یہ بس موجود ہے جس طرح زندگی موجود ہے۔
رولاں بارتھ کا یہ کہنا بالکل صحیح ہے کہ’ بیانیہ ہے اسی لیے میں ہوں‘ ، کیوں کہ بیان کے ذریعے ہی اس دنیا میں ہرفرد اور معاشرہ کی اپنی شناخت قائم ہوتی ہے ۔
٭٭٭
حوالہ جات حواشی:
۱۔ Encyclopedia of litrary Critics & Criticism: Edited by Chris Murray. V2-Pg793, 1999.
۲۔ Narrative Theory: Micke ball. v.I, Pg11,2004
۳۔ ایضاً ۔Pg217
۴۔ Narrative the new Critical Idiom: Paul Cobley. Pg-5 to 7, 2001, Routledge Newyork.
۵۔ بیانیہ کی سرحدیں : مترجم قاضی افضا ل حسین ،مشمولہ تنقید علی گڑھ ۔ص۱۶۴،۲۰۱۱ء
۶۔ Narratology: An Introduction to the theory of Narrative: Mieke ball.Pg-16, 1999. Second edition. University of Toronto Press.
۷۔ ناول اورافسانے میں تکنیک کاتنوع۔ممتاز شیریں۔ تنقید علی گڑھ ۔ص۱۹۵
۸۔ چندکلمے بیانیہ کے بیان میں ۔شمس الرحمن فاروقی ،مشمولہ تنقید ،علی گڑھ ۔ص۵۳۔۲۰۱۱ء
۹۔ ایضاً۔ص۵۳
۱۰۔ واقعہ ،راوی اور بیانیہ ازقاضی افضال حسین ۔مشمولہ تنقید ،علی گڑھ ۔ص۱۹۵
۱۱۔ Narratology: An Introduction to the theory of Narrative: Mieke ball.Pg-182, 1999. Second edition. University of Toronto Press.
۱۲۔ Shlomith Rimmon-Kenan : Narration Fiction, Contemporary Poetics Second Edition 2003 Routledge London Newyork
۱۳۔ چندکلمے بیانیہ کے بیان میں ۔شمس الرحمن فاروقی ،مشمولہ تنقید ،علی گڑھ ۔ص۵۳
۱۴۔ واقعہ ،راوی اوربیانیہ ازقاضی افضال حسین مشولہ ،تنقید،علی گڑھ ۔ص۱۹۵
۱۵۔ بیانیہ کی سرحدیں :مترجم قاضی افضال حسین، مشمولہ تنقید ،علی گڑھ ۔ص:۱۷۱۔۱۷۲
۱۶۔ رسالہ تنقید ششماہی علی گڑھ ۲۰۱۱ء،ص:۱۹۸)
۱۷۔ واقعہ ،راوی اوربیانیہ ازقاضی افضال حسین مشولہ ،تنقید،علی گڑھ ۔ص۲۰۴
۱۸۔ چندکلمے بیانیہ کے بیان میں ۔شمس الرحمن فاروقی ،مشمولہ تنقید ،علی گڑھ ۔ص۶۰
۱۹۔ بیانیہ کا ساختیاتی تجزیہ: ایک تعارف مترجم ارجمند آرا، مشمولہ تنقید ششماہی علی گڑھ، ۲۰۱۱ء، ص:۶۴
۲۰۔ رسالہ تنقید ،علی گڑھ ،مدیر قاضی افضال حسین ۔ص۶۲

Ahde Hazir mein Mashriqi Uloom by Obaidur R .Hashmi

Articles

عہد حاضر میں مشرقی علوم و افکار کی معنویت

پروفیسرقاضی عبید الرحمن ہاشمی

قبل اس کے کہ مختصراً مشرقی علوم و افکار کی ضرورت اور اہمیت بیان کی جائے، مشرق، اہل مشرق، خصوصاً اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں صدیوں سے چلے آرہے مغربی تصورات و افکار سے بھی کسی قدر واقفیت ضروری معلوم ہوتی ہے جس پر بیسویں صدی میں بڑی خوش اسلوبی، ہمدردی اور خلوص کے ساتھ ایڈورڈ سعید نے اپنی معروف کتاب مشرقیات(Orientalism) میں روشنی ڈالی ہے۔
اس حقیقت سے انکار ناممکن ہے کہ مشرقیات(Oriantalism) کی تحریک نے ان تمام تہذیبوں اور ثقافتوں کو وحشی، غیر مہذب اور پسماندہ بتایا جو مغربی دائرہ ٔاثر سے باہر تھے۔ اس نظریے کا بنیادی مقصد ان تہذیبی تبدیلیوں کے لیے راستہ ہموار کرنا تھا جن سے مغرب کی سیاسی، عسکری اور اقتصادی توسیع پسندی میں آسانی ہوسکے۔ چنانچہ مشرقیات بنیادی طورپر بیک وقت استحصالی بھی تھی اور نوآبادیاتی بھی۔
مغربی معاشرے میں قرونِ وسطیٰ سے اسلام کے بارے میں مناظراتی صورت نظر آتی ہے کہ یہ ایک پرتشدد اور خطرناک عقیدہ ہے۔ جبکہ موجودہ مغربی فکر سر تاسر اسلام دشمنی اور کینہ پروری کی غماز ہے۔ قرونِ وسطیٰ میں مغربی سیاحوں کے سفر ناموں میں کثرت سے بے سر پیر اور حیران کن بیانات کا سراغ ملتا ہے۔ ان متون میں مسلمانوں کو بے دین، شہوت پسند، لالچی، ظالم اور وحشی کہا گیا ہے۔ ان کے نزدیک بظاہر یہی وہ بنیادی عناصر تھے جن سے مشرقی اسلام عبارت تھا۔ Divine Comedyمیں دانتے (1320d)نے حضور مقبولؐ کے خلاف صریح نازیبا کلمات استعمال کیے ہیں۔ بہت سے یورپین دانشوروں اور مصنّفین نے اسی بیمار ذہنیت کا مظاہرہ کیا ہے جس میں کئی نام عالمی شہرت رکھتے ہیں، مثلاً Machiavelli(d1527)، سمن اوکلےSimon Ockley(d1720)، بولین ولیرسBoulain Villiers(d1722)، ڈائڈریٹDiderot (d1784)، مولیرMoliere (d1673)اور والٹیرVoltaire (d1778)وغیرہ خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہیں جنھوں نے مسلمانوں، اسلام اور حضور مقبولؐ کے بارے میں نہایت ہتک آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں۔ حد یہ ہے کہ پایرلوتی Pierre Lote (d1923)جو کہ عثمانیوں کا دوست سمجھا جاتا تھا اس کا خیال تھا کہ مسلم ممالک میں مقامی عورتیں شہوت پرست، بدچلن اور آوارہ ہوتی ہیں۔
نیپولین کے زیر نگیں مصر کے تذکرے میں فلابیر کہتا ہے کہ یہاں مردوں کی شہوت انگیزی کا یہ عالم ہے کہ وہ اپنی داشتاؤں کے ساتھ قاہرہ کے شاہی محل کے سامنے کھلے میدان میں سب کے سامنے مباشرت کرتے ہیں۔ یہ سب باتیں اس وجہ سے زیادہ حیران کن ہیں کہ اسلام ایک ایسا مذہب ہے جس نے مرد عورتوں کے درمیان تعلقات کے سلسلہ میں واضح قوانین دیے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ اہل مغرب اور مغربی سیاحوں نے مسلمانوں کی شہوت زدگی کی جو تصویریں پیش کی ہیں انھوں نے کبھی اسلام کی تعلیم پر توجہ کرنے کی ضرورت نہیں محسوس کی، اس سے اسلام اور مسلمانوں کے سلسلہ میں غیر مسلموں کی عقل عامہ کی شدید کمی کا بھی اندازہ کیا جاسکتا ہے۔
جیکولین سیزیری(Jecelune Cesari)اس تناقص کا سبب تلاش کرنے کے لیے اس تاریخی تناظر کی طرف اشارہ کرتی ہیں جب قرون وسطیٰ کے بعد بحیرۂ روم میں اسلام اور یورپ کے درمیان جھڑپیں ہوئیں، ان کا خیال ہے کہ اسلام کے بارے میں تمام اطلاعات یورپی نقطۂ نظر کی پیداوار ہیں جو ان سیاسی اور مذہبی تناقضات کی زائیدہ ہیں جو صدیوں سے چلے آرہے ہیں اس طرز فکر کے ذریعہ شخصی اور ذاتی پسند و ناپسند کو بنیاد بنا کر اسلام کی سچائی کو ملبے کے نیچے دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے۔
یورپ میں اسلام سے متعلق مواد(Literature)کا تعلق سفر ناموں تک محدود نہیں ہے۔ ۱۸ویں صدی تک آتے آتے محسوس ہوتا ہے کہ اسلام کے بارے میں ریسرچ پہلے شروع ہوگئی تھی چنانچہ ان متعلقات نے استشراق(Orientalism) کی شکل میں بتدریج ایک باقاعدہ مبسوط ضابطۂ فکر کی شکل اختیار کرلی، تاہم اس عرق ریزی کے پس پشت ہمیشہ ایک ’غیر‘ کا ہی تصور کارفرما رہا ہے۔ اسلام کے بارے میں اس بشری نقطۂ نظر نے نہ صرف یہ کہ یورپ کو تعصب سے آزاد نہیں ہونے دیا بلکہ اس میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا اور بالآخر اہل مغرب کو اعلان کرنا پڑا کہ اسلام مغربی اقدار اور بالعموم سائنسی ترقی کا دشمن ہے۔ استشراق(Orientalism)نے ایک ایسی سائنس اور خیالات کی روایت ڈالی جس کی اساس اس بات پر تھی کہ مشرق اور مغرب وجودیاتی (Ontological)سطح پر ایک دوسرے سے مختلف ہیں لہٰذا اس نے ۱۸ویں صدی اور ۱۹ویں صدی میں اس بنیاد پر ایک بین الاقامی نوآبادیات کا جواز پیدا کیا۔
استشراق کی خاص دلیل یہ تھی کہ اسلام ہر طرح کی سائنس وتحقیق کو گناہ سمجھتا ہے جس نے مسلمانوں کو وحشی گروہ کے ساتھ جوڑ دیا۔ ارنیسٹ رینن (Mernes Renan D 1892)کے مطابق مسلمان سائنس سے نفرت کرتے ہیں، تحقیق کو غیر ضروری، غیر مفید اور فضول سمجھتے ہیں۔ فطری سائنس سے بھی انھیںنفرت ہے، یہ الگ بات ہے کہ رینن نے مسلمانوں کے بارے میں جن خیالات کا اظہار کیا ہے اس کی تائید میں کوئی ثبوت بہم پہنچانا ضروری نہیں سمجھتا ہے۔ یوں بھی وہ اسلام کے بجائے یہودیت پر اپنے کاموں کے لیے مشہور تھا اور سامی روایت پر تحقیق میں اہمیت رکھتا تھا۔ اس کی تحقیقات میں سامی دشمنی کی بھی نمایاں جھلک موجود ہے۔ اس کے اسلام کے بارے میں متعصبانہ رویہ غالباً اس کی اسی ذہنی حالت سامی دشمنی کا پیدا کردہ تھا۔ اس نے اپنے مضمون’اسلام اور سائنس‘ میں مشرقی وسطیٰ میں مسلمانوں کے زوال کا ذمہ دار اسلام کو قرار دیا ہے۔ اس کا خیال ہے کہ تمام سامی مذاہب و ثقافتوں میں اسلام کا مطمح نظر سائنس اور سائنسی خیالات کے بجائے صرف الہامی اکتسابات اور شاعرا نہ جوش و خروش تک محدود ہے۔ حالانکہ رینن جو کچھ کہہ رہا ہے اس کا زیادہ تر تعلق قرونِ وسطیٰ میں مغربی کلیساؤں سے وابستہ عیسائیوں کے سائنس کے بارے میں ذہنی رویے سے ہے۔
آج ان مستشرقین کی ذہنیت کے گہرے اثرات کو ان مغربی تجزیوں میں دیکھا جاسکتا ہے جو انھوں نے مسلم دنیا کے تعلق سے کیے ہیں۔ مغربی میڈیا ان مظاہر سے بے حد متاثر ہے جو مسلم دنیا سے متعلق اہم نشانات اور اسلام کے ثقافتی تصورات کے بارے میں انتشار پیدا کرنے والے ہیں۔
تشدد اور ہٹ دھرمی کے واقعات کی فوری اطلاعات کے ذریعہ مغربی تخیل کو اسلام کے خلاف برگشتہ کیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں میڈیا اسلام اور اسلامی دنیا کے مسلمانوں کی ایسی علامتی شبیہہ پیش کرتا ہے جس میں سیاسی اور نظریاتی بنیاد پرستانہ جہت شامل ہوتی ہے۔ مختلف میڈیا کے ذریعہ گمراہ کیے جانے کے سبب عوام کی سمجھ میں کچھ نہیں آتا کہ شام، الجیریا، ایران، مصر، افغانستان، ترکی اور عراق میں کیا سیاسی کھیل کھیلا جارہا ہے۔ اہل مغرب میں جب تک اسلام کے بارے میں صحیح معلومات اور واقفیت نہیں ہوگی اس وقت تک وہ مذکورہ شبہے سے خوف زدہ رہیںگے۔ علاوہ ازیں موجودہ عہد میں مسلمان ملکوں میں اسلام کے بارے میں بڑھتی ہوئی واقفیت ان کے نزدیک بین الاقوامی گروہی دہشت پسندی کے مترادف رہے گی۔
اس مغربی نقطۂ نظر کو اسلامی دنیا کی بعض تحریکوں سے بھی تقویت حاصل ہوئی ہے۔ مثلاً انقلاب ایران، امریکی سفارت خانے کا محاصرہ، توڑ پھوڑ، انور سادات کا قتل (۱۹۸۱ء)، سلمان رشدی کے خلاف فتویٰ، عرب اسرائیل جنگ، الجیریا اور افغانستان کا بحران اور حالیہ زمانے میں خصوصیت کے ساتھ شام اور عراق کے حالات کو مغربی میڈیا نے جس طرح پیش کیا ہے، اس سے کمیونسٹ بلاک کے خاتمے کے بعد ایک نئی نزاعی صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے۔ دہشت گردی کے ہر بین الاقوامی واقعے کو اسلام سے منسوب کردینے کے باعث ، تہذیبوں کے درمیان تصادم کے نظریے کو تقویت حاصل ہوئی ہے۔ اسلام کی سیاسی جہت پر حد سے زیادہ اصرار کے باعث اس کی دینی حیثیت پر کسی قسم کی عالمانہ گفتگو آج کم ہی کی جاتی ہے چنانچہ مغرب کا دانشورانہ تخیل اسلام کو صرف ایک سیاسی محرک کی حیثیت سے ہی دیکھنے دکھانے پر مصر نظر آتا ہے۔
موجودہ حالات میں جبکہ آج ہماری زندگی اور اس کے تمام تر مظاہر و ممکنات، تہذیبی ادارے، علوم و فنون اور افکار و خیالات پر صحیح معنوں میں دانش مغرب کی مکمل حکمرانی ہے۔ مغربی سیاسی و نظریاتی تسلط اور تہذیبی بالادستی کا جو عمل ہمارے ملک میں خاموشی کے ساتھ گزشتہ تقریباً ڈیڑھ دو سو برسوں سے جاری تھا آج وہ اپنی مکمل صورت میں اپنے تمام تر عذاب و ثواب کے ساتھ ہمارے سامنے موجود ہے۔ تہذیبی یلغار کا عمل جو ابتدا میں بہت مدھم تھا گزشتہ کچھ برسوں میں صنعتی، مواصلاتی اور تکنیکی شعبوں میں برق رفتار ترقی کے طفیل اس قدر تیزی سے آگے بڑھا ہے کہ عقل حیران ہے اور یہ اندازہ کرنا بھی مشکل ہے کہ یہ سیلاب کب، کس طرح اور کہاں جاکر تھمے گا۔
آج جہاں ہماری تمام تر معاشرتی زندگی، اس کے امتیازی خد و خال اور اقدار کو اپنی نیستی کا خطرہ درپیش ہے، خود ہمارے علوم و افکار بھی نوآبادیاتی اثرات سے اس قدر رنگین ہوچکے ہیں کہ ان کی الگ سے شناخت ایک مشکل مرحلہ بن چکی ہے۔ ہمارے جملہ علوم، ادبی و جمالیاتی افکار، مذہبی و روحانی اقدار، فنی و فکری کارگزاریاں اور ادارے نہ صرف عام بے اعتنائی کے شکار ہیں بلکہ بدیسی ثقافت کے ملبے میں دب کر یہ تمام سرمایۂ علم و دانش بتدریج معدوم ہوئے جاتے ہیں، چنانچہ تہذیب مغرب کی تحقیر یا اس کی گوناگوں برکات سے چشم پوشی کیے بغیر بھی جب ہم پچھلے کچھ برسوں میں اپنی علمی و فکری متاع کا جائزہ لیتے ہیں تو اطمینان سے زیادہ تشویش کو راہ ملتی ہے اس لیے کہ ہم نے نئی عمارت بنانے کی دھن میں نہ صرف سنگ و خشت اور رنگ و روغن مغرب سے مستعار لیا بلکہ عمارت کی بنیادبھی مستعار افکار کی سرزمین پر استوار کرتے رہے اور اسی پر فخر کرتے رہے۔ تاہم جس طرح ہماری ادبی و لسانی تاریخ میں پہلے بھی نو آبادیاتی ترجیحات کے غلبے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی جاتی رہی ہے، مشرقی اور ہند اسلامی ثقافت سے وابستہ امتیازی اور آفاقی، فنی اور جمالیاتی اقدار پر زور دیا جاتا رہاہے۔ ہمارے عہد میں بھی مغربی افکار کی سرکش لہروں کے متوازی ایک لہر مشرقی علوم و فنون اور خالص ہندوستانی افکار و خیالات کے احیا اور اثبات کے لیے آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ بات شدت سے محسوس کی جارہی ہے کہ مغرب جو خود اپنے وجودی اور روحانی زخموں کا مداوانہ کرسکا اس کے ژولیدہ افکار ہماری تاریک راتوں کو کس طرح منور کرسکیں گے۔ اس طرز فکر کے نتیجے میں جہاں وسیع تر پیمانے پر زندگی کی ہر سطح پر از سر نو غور و خوض اور نقد و احتساب کا عمل تیز ہوا ہے ادبی سطح پر بھی عظیم کلاسیکی شاہکاروں کی شعریات کی بازیافت اور ان کو از سر نو جانچنے اور پرکھنے کا رجحان بھی تیزی پکڑ رہا ہے۔ مشرق کی منفرد علمی ادبی روایات اور ان کی گہری بنیادوں کی جستجو کا مقصد دراصل خود اپنی ہستی کو جواز فراہم کرنا اور اپنا شناخت نامہ ترتیب دینا ہے۔
اس نوع کی سرگرمی کی معنویت افادیت اور اہمیت موجودہ دور میں یوں بڑھ جاتی ہے کہ آج وہ تمام افکار و نظریات جن کی تعقل پسندی اور معروضیت کا بڑا شہرہ تھا، اکثر و بیشتر سرنگوں ہوچکے ہیں اور وہ تمام محل جو صرف مادی خیالات اور مغربی افکار کی بنیادوں پر استوار کیے گئے تھے ریزہ ریزہ ہوکر بکھر رہے ہیں۔ میری مراد ترقی پسند تحریک کی فکری بنیادوں اور جدیدیت کے میلان کی پشت پر کارفرما فلسفے اور نظریات سے ہے۔
نئے عہد میں مشرقی اقدار کی جستجو کا ایک مفہوم ہماری، علمی ادبی روایات میں مضمر سچے مذہبی شعور و ادراک اور روحانی و قلبی واردات کی بھی تلاش و جستجو ہے جن کی آگہی سے دانش مغرب قاصر ہے۔ اساطیر، دیومالا، علامات، مابعد الطبعیاتی افکار اور وہ تمام فنی و لسانی لزوم جو ہماری خالص مشرقی ثقافت اور تخلیقی مزاج کا صدیوں سے حصہ رہے ہیں ان کی تعبیر و تشریح اور افہام و تفہیم موجودہ آگہی کا لازمی نتیجہ ہے۔
میرا خیال ہے کہ ہماری علمی ، ادبی ، جمالیاتی اور فنی روایات میں مشرقی ، روحانی اور انسانی مآخذ و سرچشموں کو ڈھونڈنے کا عمل جس قدر تیز ہوگا اسی قدر سرعت کے ساتھ ہمیں اپنی علمی میراث کی قدر و قیمت کا اندازہ ہوگا اور مغربی علوم کے مقابلے میں اپنے سرمایۂ علم و ودانش کے تئیں ہماری تحقیری روش بھی یکسر بدل جائے گی۔ تاہم اس عمل کو اگر کوئی Puritanismاور ترقی معکوس سے تعبیر کرتا ہے تو یہ محض ایک غلط فہمی ہوگی۔ مشرق و مغرب کے بنیادی فلسفیانہ حقائق میں مماثلتوں کی نشاندہی کرتے ہوئے اپنے علمی و ادبی ورثے اور اکتسابات کے امتیازات کو نمایاں کرنے کا عمل کسی طرح منفی یا Fanaticتصور ہرگز نہیں ہوسکتا۔
٭٭٭

“eucalyptus” aik Tajaziya by Abdur Rahman

Articles

’یو کلپٹس‘ ایک تجزیاتی جائزہ

عبدالرحمن فیصل

عورت افسانہ نگار بیدیؔ کا بہت پسندیدہ موضوع ہے۔ اپنے اس پسندیدہ (Motif) غالب محرک کی بنیاد پر انہوں نے متعدد افسانے تعمیر کیے ہیں۔ ان میں ایک ’یوکلپٹس‘ بھی ہے، جس میں تین نسوانی کرداروں کے ارد گرد کہانی تشکیل دی گئی ہے۔
افسانے کی ابتداء ہمہ داں راوی کے ذریعہ ایک صورت حال کے بیان سے ہوتی ہے، جس سے یہ اطلاع ہے کہ لمحوں کے گزرنے یا ایک دوسرے پر ڈھیر ہونے سے مٹی کا ٹیلا بنتا ہے۔ مٹی کے ڈھیر ہونے کا بیان لمحوں کے گزرنے کے حوالے سے کیا گیا ہے گویا ’مٹی کا ڈھیر‘ گزرے ہوئے ماہ و سال کا کنایہ ہے، جس سے یو کلپٹس کا درخت نکلتا ہے۔
افسانہ نگار اس صورت حال کے بیان سے ہی قاری کے ذہن میں سوالات قائم کرکے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے، مثلاً لمحوں کے ایک دوسرے پر ڈھیر ہونے سے مٹی کا ٹیلا بننے میں کیا ربط ہے؟ اور پھر لمحوں کے ذریعہ بنائے گئے ٹیلے سے ’یوکلپٹس‘ کا درخت نمود پاتا ہے۔ یہ سوالات، قاری کے ذہن میں افسانے کے عنوان کے متعلق بھی دلچسپی پیدا کردیتے ہیں۔
اس کے بعد افسانے میں ’کندن‘ کا کردار سامنے آتا ہے۔ وہ ایک تعلیم یافتہ عورت ہے اور ایک کرشچین اسکول میں وائس پرنسپل ہے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ کسی ٹیلیفون کی اطلاع پر وہ گھر لوٹی تھی لیکن بنگلے میں داخل ہوتے ہی وہ ہمیشہ کی طرح ’سرجو‘ کے پاس رک جاتی ہے۔ جو قاعدے کے مطابق نہیں تھا یہ کہہ کر راوی قاری کی توجہ ’کندن‘ کے اس عمل پر مرکوز کرنا چاہتا ہے۔
’سرجو‘ یوکلپٹس کے درخت کا نام تھا۔ یہاں پر افسانے کا راوی درخت کے متعلق اطلاعات فراہم کرتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’یہ پیڑ کندن نے تین سوا تین برس پہلے لگایا تھا، جب وہ نئی نئی وس کوسن یونیورسٹی سے ٹیچنگ کا ڈپلوما کرکے آئی تھی۔ جب یہاں کھیتھولک چپلن فادر فشر رہا کرتا تھا اور جس نے بنگلہ کا آدھا حصہ کماری کندن کو دے رکھا تھا۔ پھر برس ایک کے بعد وہ مشن کا کام پورا کرکے امریکا چلا گیا اور کندن نے تنہائی سے گھبراکر اپنی بوڑھی ماں کو بلالیا۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس کے مطالعہ سے ’یوکلپٹس‘ کے متعلق قاری کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہونے کے ساتھ ذہن میں کئی سوال بھی پید اہونے لگتے ہیں کہ کندن اور پوکلپٹس کے درخت میں کیا رشتہ تھا؟ کہ وہ ہمیشہ اس کے پاس رک جاتی تھی۔ اس نے یہ درخت کیوں لگایا؟ اسے ایک مخصوص نام کیوں دیا؟ اور راوی کی یہ اطلاع کہ فادر فشر اس وقت بنگلے میں رہتا تھا، ایک اہم بات یہ بھی کہ لفظ ’کندن‘ کے ساتھ کماری کا اضافہ کیوں کیا؟ جب کہ افسانے کے پہلے پیراگراف میں صرف ’کندن‘ لفظ بیان ہوا ہے۔ یہ تمام سوالات اس نقطے کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ یوکلپٹس، کندن اور فادر فشر کے مابین کسی نہ کسی نوع کا ربط ضرور موجود ہے۔
مذکورہ اقتباس کے آخری سطر میں یہ بھی ذکر ہے کہ فادر فشر کے چلے جانے کے بعد کندن اس تنہائی سے گھبراکر اپنی ماں کو بلالیتی ہے۔ فادر فشر کے چلے جانے کے بعد کندن کو تنہائی کا احساس ہونے لگا۔ یہاں افسانہ نگار نے کماری کندن اور فادر فشر کے مابین رشتے کے متعلق نہایت بلیغ اشارہ کیا ہے تاکہ واقعے کے متعلق قاری کی دلچسپی میں مزید اضافہ ہو۔
راوی پھر سے افسانے کی ڈور اسی یوکلپٹس کے درخت سے جوڑ دیتا ہے جہاں کندن قاعدے کے خلاف آکر رک جاتی ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’وہ پیار سے اس پر ہاتھ پھیرنے ہی والی تھی کہ دوسری طرف برآمدے میں اسے اپنی جیلی فش ماں کا ہیولا سا نظر آیا۔ اسی دم جھک کر کندن نے پیڑ کے نیچے سے تازہ گرے ہوئے پتے اٹھالیے اور ہاتھ میں مسل کر انھیں سونگھنے اور لانبے لانبے سانس لینے لگی جیسے اسے زکام ہو اور یوکلپٹس کی بو تنفس اور اس کے رگوں ریشوں کو ایک طرح کا سکون دے رہی ہو۔ پھر ماں کی طرف منھ کرتے ہوئے کندن تھوڑا کھیسائی۔ ’’میں سرجو کو بڑھتے دیکھ بھی سکتی ہوں، ماں۔‘‘ اور اس نے پیڑ کی طرف اشارہ کیا۔‘‘
مذکورہ متن کے بغور مطالعے سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کندن کو اس درخت سے جذباتی لگاؤ ہے۔ جیسے انسانی رشتوں میں ہوتا ہے کہ اس کی قربت اور لمس سے ایک نوع کی قلبی تسکین حاصل ہوتی ہے۔ اقتباس کے آخری چار سطروں میں بیدیؔ ،بڑی فن کاری سے قاری کو مغالطے میں ڈال دیتے ہیں تاکہ مکمل طور پر یہ توضیح نہ ہوسکے کہ کندن اور یوکلپٹس کے درمیان رشتے کی نوعیت کیا ہے۔
اقتباس کے آخر سے تیسری اور چوتھی سطر سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس پیڑ کی پتیوں کی خوشبو سے ایک بھولی ہوئی یاد بھی تازہ ہوتی ہے۔ یوکلپٹس کی مسلی ہوئی پتیوں کی خوشبو، کسی ایسی خوشبو کی یاد تازہ کرتی ہیں، جن سے کندن کا جذباتی تعلق ہے۔ جو قاری کے ذہن کو کندن اور فادر فشر کی جانب مبذول کرتا ہے۔ لیکن آخری دو جملے جو کندن کی زبانی بیان ہوئے ’’میں تو سرجو کو بڑھتے دیکھ بھی سکتی ہوں، ماں۔‘‘ اور اس نے پیڑ کی طرف اشارہ کیا۔ کندن اور سرجو کے مابین رشتے کی ایک الگ ہی نوعیت کی وضاحت کرتے ہیں۔ جیسے ماں اپنے بچے کے لیے کہہ رہی ہو کہ میں اسے بڑا ہوتے دیکھ سکتی ہوں۔ اس بات کی وضاحت کے لیے افسانے کے یہ دو اقتباس دیکھیں:
’’ہر صبح و شام اسکول جانے سے پہلے اور لوٹنے کے بعد کندن اس کے پاس رکتی اور اس کی نرم سی چھال پر ہاتھ پھیرتی، پیار کرتی……‘‘
’’کندن نے اپنے بدن میں سے کوئی بجلی جھٹکی اور بنگلے کی طرف مڑ آئی۔ راستے میں سرجو کی طرف دیکھا تو ایک بچہ دکھائی دیا، جس سے ڈر کر وہ بھاگتی ہوئی ڈرائنگ روم میں داخل ہوگئی۔‘‘
ان اقتباسات میں واضح طور پر کندن کے ممتا بھرے جذبات کا اظہار کیا گیا ہے۔
راوی افسانے کو کندن کی نوکرانی لکھی کے درد زہ کے واقعے سے آگے بڑھاتا ہے کہ جب لکھی درد زہ میں مبتلا ہوتی ہے تو سبھاشنی (کندن کی ماں) اسے گالیاں دینا شروع کردیتی ہے لیکن افسانے میں جیسا کہ بار بار سبھاشنی کو سخت دل دکھایا گیا ہے ایسا نہیں ہے کیوں کہ لکھی جب بھی درد زہ میں مبتلا ہوتی ہے تمام گالیوں کے باوجود سبھاشنی اس کے درد کو محسوس کرتی ہے۔ جو ایک عورت کی ذاتی صفات کا خاصہ ہے۔
’’ادھر لکھی اپنے کوارٹر میں کراہ رہی تھی۔ ادھر ماں گالیاں بکے جارہی تھی اس کی آخری گالی تھی — ’چھنار‘ جبھی لکھی کی چیخ سنائی دی تو ماں اورکندن دونوں منھ اٹھاکر اندھیرے میں دیکھنے لگیں، جیسے لکھی سامنے تڑپتی ہوئی نظر آرہی ہو۔ شاید… زہ کے درد میں مبتلا عورت کہیں بھی ہو، دوسری سب عورتوں کو دکھائی دینے لگتی ہے۔
کندن نے ایک دم گھبراکر ماں کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔ ’’ماں‘‘
سن رہی ہو …… ’’مجھے بھی کان دئیے ہیں پرماتما نے‘‘
کیا جذبہ تھا کہ دوسری چیخ کے ساتھ ہی ماں بھی چلا اٹھی۔ ’’مرتی ہے تومرجائے۔‘‘
افسانے میں سبھاشنی کے جس سخت دلی کا اظہار ملتا ہے در اصل وہ ان تمام مردوں کے لیے ہے جو عورت کے کرب کو نہیں سمجھتے اور اپنے بیوی، بچوں کی ذمہ داری نہیں اٹھاتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’کیوں تو ہر بار اس کے ساتھ راس رچا بیٹھتی ہے۔؟‘‘
’’جب وہ تیری ذمہ داری لیتا ہے، نہ تیرے بچوں کی، اپنے…؟‘‘
’’سب مرد ایک ہی رسی سے پھانسی دئیے جانے کے قابل ہیں۔‘‘
کندن کے علاوہ بنگلے میں دو عورتیں اور رہتی ہیں سبھاشنی اور لکھی۔ یہ تینوں عورتیں بغیر مردوں کے اس بنگلے میں رہتی ہیں اگرچہ لکھی کا شوہر ہے لیکن اس کا ہونا یا نہ ہونا کوئی معنی نہیں رکھتا۔
لکھی کی چیخیں سن کر سبھاشنی لکھی کے کواٹر میں چلی جاتی ہے تو کندن کھڑکی کے پاس جاکر کھڑی انتظار کرنے لگتی ہے۔ یہاں پر راوی کا بیان ملاحظہ کریں:
’’کندن کھڑکی میں جاکھڑی ہوئی اور انتظار کرنے لگی۔ روشنی میں تو اونچ نیچ سب نظر آتا ہے، مگر اندھیرا ایک عجیب قسم کی یکسانیت پیدا کرتا ہے صرف عادی ہوجانے پر مصیبتوں کے ہلکے خاکے اور گہرے خاکے دکھائی دیتے ہیں، جو اس یکسانیت میں اور بھی تاکید کا عالم پید اکردیتے ہیں اور آدمی گھبراکر کھڑکی چھوڑ دیتا ہے اور ایک بے پناہ حبس سے بچنے کے لیے کسی کا بھی گریبان پھاڑ دیتا ہے۔‘‘
اس پورے اقتباس کے ذریعے افسانہ نگار نے کندن کے ذات کی تنہائی اور اس اکیلے پن کے کرب کو ظاہر کیا ہے، جو عورت کی زندگی میں مرد ذات کے نہ ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔
راوی بیان کرتا ہے کہ کندن کھڑکی سے واپس آکر تپائی پر پڑی ہوئی کتابیں الٹنے پلٹنے لگتی ہے۔
’’کندن نے اوپر کی کتاب کو صاف کیا جس کا عنوان تھا— ’’مرد عورتوں کے بغیر—‘‘ —اس نے کتاب کھولی، پہلی چند سطریں پڑھیں اور پھر بند کرتے ہوئے سوچنے لگی —عورتیں، مردوں کے بغیر۔‘‘
مذکورہ بالا اقتباس کو بیدیؔ نے بڑی فن کاری کے ساتھ تشکیل دیا ہے۔ کس طرح بیدیؔ صرف دو جملوں (۱-مرد عورتوں کے بغیر‘ ۲- عورتیں، مردوں کے بغیر) سے انسانی رشتوں (مرد اور عورت کے مابین) کی اہمیت کی فلسفیانہ توضیح پیش کرتے ہیں۔ ان دو جملوں کے ذریعہ عورت اور مرد کے فطری ؍قدرتی رشتے کی حقیقت، قاری پر واضح ہوجاتی ہے۔ افسانہ نگار کا یہ بتانا مقصود ہے کہ انسانی زندگی میں مرد اور عورت کا رشتہ کتنا اہم ہے چاہے وہ شوہر بیوی کی شکل میں ہو، باپ بیٹی کی شکل میں ہو، ماں بیٹے کی شکل میں ہو یا بہن بھائی کی شکل میں ہو۔ مرد اور عورت دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ کسی ایک کے بغیر دوسرے کا وجود ممکن ہی نہیں ہے۔
اس کے بعد افسانہ تینوں نسوانی کرداروں کندن، سبھاشنی اور لکھی کی زندگی کی تفصیلات کے ذریعہ آگے بڑھتا ہے۔ کندن جب اپنی ماں کے پیٹ میں ہی تھی یتیم ہوجاتی ہے اور زندگی بھر وہ اپنے باپ کا چہرہ دیکھنے کے لیے ترستی رہی۔ ماں کے بیان کے مطابق :
’’اس صدی کے شروع میں جو پلیگ پھیلی تھی اس نے موت میں سچ اور جھوٹ کو برابر کردیا تھا۔ عجیب سی یکسانیت پیدا کردی تھی۔‘‘
سبھاشنی کے ذریعہ دئیے گئے اس اطلاع کے مطابق کہ کندن کا باپ پلیگ میں چل بسا تھا۔ قاری کو شک و شبہ میں ڈال دیتا ہے۔ جس کا آگے چل کر افسانے میں ذکر ملتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’وہ ہمیشہ ایک جرم کے احساس اور اذیت پسندی کے جذبے میں نیچے ٹھنڈے فرش پر سوتی تھی اور ایک رہبانیت سی اس کے جذبات پر چھائی رہتی، جس میں اداسی بھری ایک تسلی تھی…… وہ تو خواب اور بیداری کے اعراف میں روتی ہنستی رہتی اور بھجن اس کا سہارا ہوتے۔
کب نینن سے نیند گنوائی، تکیہ لیف بچھونا کیا
آخر- سمجھ بوجھ کچھ سوچ پیارے، پیار کیا تو ڈرنا کیا؟
اس کے بعد راوی سبھاشنی کی زندگی کے متعلق اطلاع فراہم کرتا ہے کہ کندن کو پالنے اور تنہا رہبانیت کی زندگی گزارنے میں اسے کتنی اذیتیں اٹھانی پڑیں لیکن ان تمام تر تکلیفوں کے باوجود سبھاشنی نے کندن کو اعلیٰ تعلیم دلوائی۔ لیکن راوی بیان کرتا ہے کہ تعلیم نے اگرچہ اس کے حسن کو صیقل کردیا تھا پھر بھی اس کی آنکھوں میں شکوک اور وسوسے موجود تھے۔ شاید اس لیے کہ سبھاشنی اس کی زندگی کے ایک خلا کو پُر نہ کرسکی، جو اس کے باپ کی غیر موجودگی کی وجہ سے زندگی میں حائل تھی۔
’’آنکھیں بڑی بڑی تھیں جن میں بیسیوں شک تھے اور وسوسے۔ ایک عجیب سے ارتقاء میں اس کی آنکھیں کانوں تک کھنچ آئی تھیں۔ معلوم ہوتا تھا سامنے جاتی ہے تو پیچھے بھی دکھائی دیتا ہوگا۔ یا وہ ایسے ہی دیکھتی رہتی تھی جیسے کوئی اس کا پیچھا کررہا ہے۔ باپ نہ ہونے سے لڑکیوں کو کیسی کیسی باتوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے…۔‘‘
اقتباس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ معاشرے کے اپنے بنائے ہوئے اصولوں کے خلاف اگر کوئی انسان ایساکام کرگزرتا ہے جو معاشرے کی نظر میں ناپسندیدہ عمل ہے تو ساری عمر اسے اور اس کی اولاد کو معاشرے کے طنز کا نشانہ بننا پڑتا ہے۔
لیکن اسی اقتباس کے فوراً بعد افسانہ نگار کندن کے متعلق وہ بات لکھتا ہے جس سے معاشرے کے اپنے بنائے ہوئے اصول و اقدار بے معنی معلوم ہونے لگتے ہیں۔ اقتباس دیکھیں:
’’اس کے باوجود بارہ تیرہ برس ہی کی عمر میں کندن کو ایک ایسے مرد کے سلسلے میں تجربہ ہوا تھا، جس کے بارے میں وہ کبھی سوچ بھی نہ سکتی تھی۔ شاید وہ مرجاتی مگر کُٹّھ نے اس کی زندگی بچالی، تاکہ بڑی ہوکر یوکلپٹس کا پیڑ بوسکے۔‘‘
لکھی ایک عیسائی عورت تھی۔ اس کا نام لکشمی رام داس تھا اور اس کے شوہر کا نام سِدّھو جو اس کا تیسرا شوہر تھا۔ کبھی اس نے لکھی کی زندگی کے بارے میں نہیں سوچا۔ لیکن افسانے کے ان دو کرداروں (کندن او رسبھاشنی) کے علاوہ لکھی کی زندگی میں مرد ذات کی بہت اہمیت تھی۔
’’مرد… لکھی پھٹی پھٹی نگاہوں سے دیکھنے لگتی۔ کبھی سب غلط اور کبھی سب ٹھیک معلوم ہونے لگتا… ہاں، ہاں، ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہیں۔ سب مرد اس قابل ہیں کہ… میں ایک اور کرلوں گی، مگر نہیں… وہ بھی تو – پھر وہ ایکاایکی خفا ہو اٹھتی اور اپنا ہاتھ جوگی کی طرف لے جاتی۔ اس کے بعد سدھو کا ہمزاد اس کی طرف نم آنکھیں لیے، ہاتھ جوڑے اور لکھی کا ہاتھ جولی کی طرف جانے لگتا۔ پھر وہ دیکھتی۔ جب تک سدھو کا ہاتھ لکھی کے بعدن پر پڑتا اور لکھی کی گرفت ڈھیلی ہوجاتی، آنکھیں چڑھنے، بند ہونے لگتیں اور وہ بے دم سی ہوکر گرجاتی ہے۔‘‘
لکھی کو جب ایک اور لڑکی پیدا ہوئی تو کندن کی ماں گالیاں دیتی ہوئی آئی۔ افسانہ نگار کندن کی زبانی یہ بتاتا ہے کہ ماں کی آخری گالی تھی… ’’ایک اور لڑکی چلی آئی…‘‘
بیدیؔ نے اس جملے کے ذریعے پورے مرد اساس معاشرے پر گہرا طنز کیا ہے اور عورت کی زندگی کے ذاتی کرب کو نمایاں کیا ہے۔
لکھی کی اب چار لڑکیاں ہوچکی تھیں۔ عورت کی زندگی میں مرد ذات کے نہ ہونے سے اسے کن کن اذیتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اس فکر میں سبھاشنی گالیاں دیتے ہوئے کندن سے کہتی ہے:
’’ایک لائسن (لائسنس) لے لو کندنا!… اب کے وہ حرامی آیا، تو میں اسے گولی مار دوں گی۔‘‘
آگے راوی بیان کرتا ہے کہ:
’’ماں سبھاشنی اپنے تخیل میں لاش دیکھ رہی تھی اور روبھی رہی تھی، جیسے ہر عورت اپنے بیٹے کی سرزنش کے بعد خود رونے بیٹھ جاتی ہے…۔‘‘
اس پورے اقتباس میں ایک عجیب کشمکش کی کیفیت نمایاں ہوتی ہے۔ ایک طرف وہ سدھو کی بے مروتی بلکہ مرد ذات کی بے مروتی پر گالیاں دیتی ہے اور پھر ممتا کے جذبہ کی وجہ سے رونے بھی لگتی ہے۔
افسانے کے درمیان میں جب سبھاشنی کو معلوم ہوتا ہے کہ لکھی کے پیٹ میں دوبارہ بچہ ہے تو کندن اور سبھاشنی دونوں کے پوچھے جانے پر کہ یہ کیسے ہوا؟ لکھی اس کا کوئی تسلی بخش جواب نہیں دے پاتی ہے لیکن وہ اس بات سے انکار کرتی رہی کہ وہ سدھو یا کسی اور مرد سے نہیں ملی۔
افسانہ نگار یہاں پر ایک سوال قائم کرتا ہے کہ نہیں دیکھا تو پھر یہ سب کیسے ہوا؟ کیوں کہ منطقی طور پر انسانی معاشرے؍ دنیا میں کسی مرد سے ہم بستر ہوئے بغیر عورت کے پیٹ میں حمل کیسے ہوسکتا ہے؟ یہیں سے افسانے پر عیسائیت کا رنگ غالب نظر آتا ہے اور مریم اور یسوع کے واقعے کی طرف ذہن کو مبذول کرتا ہے۔
سبھاشنی نے خوب ہنگامہ کیا گالیاں دیں کہ کندن لکھی کو بنگلے سے نکال دے لیکن ماں کے گھر سے چلے جانے کی دھمکی کے باوجود بھی کندن لکھی کو اس تکلیف میں اکیلا نہیں چھوڑسکتی تھی۔ اس لیے اس نے ماں کو صاف منع کردیا۔ تو سبھاشنی پھر سے لکھی پر سوالوں کی بوچھار کردیتی ہے۔
’’سچ بتا، کہاں سے لائی ہے؟‘‘
’’کہیں سے نہیں، لکھی کہتی ’’اگر میں نے پاپ کیا ہو تو خداوند یسوع میری چاروں بیٹیوں کو لے جائیں۔‘‘
’’بیٹیوں کا کیا ہے‘‘ ماں کہتی ’’وہ تو ہر عورت چاہتی ہے۔‘‘
کندن ایک جھٹکے کے ساتھ بات کاٹ دیتی۔ ’’ماں……‘‘
مان کندن کی طرف دیکھتی ہے……
’’میں بھی تیری بیٹی ہوں… ‘‘ کندن آنکھوں میں شکایتیں، حکایتیں لیے ہوئے ماں سے کہتی ’’تو چاہتی ہے پرماتما مجھے لے جائیں۔‘‘
ماں سبھاشنی کندن کے منہ پر ہاتھ رکھ دیتی،… اور پھر اپنی بیٹی سے لپٹ جاتی، کہتی ہوئی ’’کندن‘‘ اور پھر ’’تو میری بات نہیں سمجھتی، میں بھی تو کسی کی بیٹی ہوں۔ میں بھی سوچتی ہوں میں کیوں اس سنسار میں چلی آئی؟ کیوں نہ پیدا ہوتے ہی مرگئی۔
سبھاشنی اور کندن کے اس مکالمے؍ گفتگو سے افسانہ نگار کا یہ بتانا مقصود ہے کہ مرد کے بغیر ایک عورت کی زندگی کس طرح بے معنی اور اذیت ناک ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ سبھاشنی اپنی پوری زندگی بغیر مرد کے سہارے گزار دیتی ہے اور اسی لیے وہ کہتی ہے ’’میں سوچتی ہوں کہ کیوں اس دنیا میں چلی آئی۔ پیدا ہوتے ہی کیوں نہ مرگئی۔‘‘
اس کے بعد افسانہ نگار وقت کے بہاؤ کو سمیٹتے ہوئے کہتا ہے کہ ڈیڑھ مہینے بعد جب باب ؍فادر فشر آیا اور اسے دیکھتے ہی کندن دوڑ کر اس سے لپٹ گئی۔ لیکن باب نے اسے دور جانے کے لیے کہا تو کندن حیرت زدہ ہوکر پیچھے ہٹ گئی اور نگاہوں میں معمے لیے ہوئے بابی فشر کے چہرے کی طرف دیکھنے لگی۔
یہاں پر کندن اور فادر فشر کے درمیان تعلق کی پوری وضاحت ہوجاتی ہے کہ کندن، فادر فشر سے محبت کرتی ہے۔
کندن اپنے جذبات پر قابوپاتے ہوئے خاموش کھڑے ’باب‘ سے سوال کرکے کہتی ہے کہ باب کچھ تو بولو۔ افسانہ نگار اس کے فوراً بعد لکھتا ہے کہ:
’’کندن کا جسم ساتھ لگتے ہی فادر فشر کی پاکیزگی کے ہمالے اور اس کے وطن کے اینڈیز پگھلنے پسیجنے لگے۔ چند لمحے پہلے سردی میں ٹھٹھرنے والے دو جسموں پر کوئی لحاف سے چلے آئے، جنھیں اتار، ایک طرف پھینک کر باب بولا ’’پرے ہٹ جاؤ… تم عورتیں سمجھتی ہو مردوں کے عصمت ہی نہیں ہوتی؟‘‘
اس پیراگراف میں افسانہ نگار نے فطری طور پر مرد اور عورت کے جسم کے ملنے سے جو کیفیت پیدا ہوتی ہے اس کی بہترین عکاسی کی ہے۔ لیکن باب کا یہ کہنا کہ ’’تم عورتیں سمجھتی ہو کہ مردوں کے عصمت ہی نہیں ہوتی ہے۔ قاری کے ذہن میں ایک سوال پیدا کرتا ہے اور پھر افسانہ نگار اس سوال کا جواب خود کندن کی زبانی بیان کرتا ہے:
’’میں نے عورت ہوکر تمھیں معاف کردیا، باب… اور تم…‘‘
’’میرے اور تمھارے درمیان…… میں عورت ہوں۔‘‘
کندن کے اس پورے بیان سے مرد اور عورت کے فطری رشتے کی طرف اشارہ ملتا ہے کہ دنیا کی ہر عورت مرد کے بغیر ادھوری ہے اور اس کے علاوہ عورت کے خلوص و محبت اور ایثار و قربانی کے جذبے کی بھی عکاسی ہوتی ہے۔
اس کے بعد راوی بیان کرتا ہے کہ جب ’باب‘ کندن کی جانب پلٹ کر نہیں دیکھتا ہے تو ’’پھر اسے خیال آیا شاید…‘‘
اس جملے سے افسانہ نگار کا اس بات کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ باب کا پلٹ کر نہ دیکھنا ایسے ہی ہے جیسے اس کا باپ کبھی اس کی زندگی میں لوٹ کر نہیں آیا۔
کندن اس پر چیخ کر کہتی ہے۔
’’اور اس نے ایک بار پھر بلند آواز میں پکارا… فا…د…ر…‘‘ اور اس کی آواز بے شمار گھاٹیوں اور ان کی سیاہ تہوں میں گرتی، جذب ہوتی ہوئی دکھائی دی۔‘‘
اس پورے بیان کے بعد راوی پھر سے کہانی کو لکھی پر ہورہے سوالوں سے لاکر جوڑ دیتا ہے۔
’’سچ بتا کون تھا؟… یہ اپجس کی گانٹھ کہاں سے لائی؟‘‘
تم تو یہ مت پوچھو، ماں
ماں ایکا ایکی ڈر گئی۔ اس نے بیٹی کے چہرے پر دیکھا اور کچھ مطلب ڈھونڈھنے کی کوشش کی۔
کندن نے بالقصد چہرے پر ایک معصومیت لاتے ہوئے کہا ’’ہم عورتیں ہیں… ہمیں ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں ماں۔ کیا یہ کافی نہیں کہ وہ بچہ ہے…؟‘‘
اگر پھر لڑکی ہوگئی تو؟‘‘
’’لڑکی کیا انسان نہیں ہوتی؟‘‘
’’ہوتی ہے مگر…‘‘
اس پورے مکالمے میں پیدا ہونے والے سوالات کے جواب خود افسانے کے اس اقتباس میں موجود ہیں۔
’’اور پھر سب باتیں ان چند سوالوں میں گم ہوگئیں، جو عورت سے ازل سے پوچھے جارہے ہیں اور ابد تک پوچھے جائیں گے۔ جن کا وہ کبھی جواب دے گی اور کبھی نہ دے سکے گی اور دے گی بھی تو اس پر ہزاروں دباؤ ہوں گے… سماجی، اخلاقی…… اور بچے کو کچھ پتہ نہ ہوگا اور ماں ڈری سہمی رہے گی۔‘‘
راوی بیان کرتا ہے کہ جب لکھی نے گرجے میں کنفیشن کیا تو ایک نئی اطلاع سامنے آئی کہ ’رام داس‘ اس کے خواب میں آیا تھا۔ وہ کسی مرد کے پاس نہیں گئی۔ وہ قسمیں لیتی رہی لیکن لکھی کی اس بات سے سب حیرت میں تھے۔
اس پر کندن نے فرداً فرداً فادر روبیلو اور فادر مائیکل سے پوچھا کہ کیا ایسا ہوسکتا ہے تو انہوں نے کہا کہ اگر لکھشمی رام داس سچ کہتی ہے تو کیوں نہیں۔ لیکن کندن ایک تعلیم یافتہ عورت تھی اسے اطمینان بخش جواب نہیں ملا تو اس نے فادر فشر کو گرجے سے باہر جانے والے راستے پر روک کر پوچھ لیا۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’فادر فشر نے ادھر اُدھر دیکھا اور کندن سے کہا ’’نہیں‘‘
کندن چونک گئی اور بولی ’’فادر… تم ایک کیتھولک پادری ہوکر اس بات کو نہیں مانتے؟‘‘
’’نہیں‘‘
’’کیوں نہیں‘‘
’’اس لیے کہ خدا کے بیٹے اور انسان کے بیٹے میں فرق ہے… میرا خیال ہے، کہیں رات کے وقت سدھو چپکے سے چلا آیا ہوگا۔‘‘
کندن کو ماں کا فقرہ یاد آیا۔ ’’اتپتی کے سب کام پرماتما اندھیرے میں کرتے ہیں۔‘‘ مگر فادر فشر کو آخری حد تک پہنچانے کے لیے کند ن بولی ’’سدھو یا رام داس؟‘‘
’’سدھو‘‘
’’رام داس کیوں نہیں؟‘‘
’’رام داس کوئی حقیقت نہیں رکھتا… اس کا کوئی وجود نہیں۔ وہ تو صرف نام ہے رجسٹر میں۔‘‘
ہاں مگر کندن نے ضد کی ’’آیا بھی تو لکھی کو پتہ نہ چلا ہوگا۔‘‘
’’تم تو جانتی ہو‘‘ فادر فشر نے کندن کے نگاہوں کو ٹالتے ہوئے کہا… ’’پھر خواب کتنا گہرا ہوجاتا ہے……۔‘‘
یہ پورا بیان کنایاتی یا تمثیلی معلوم ہوتا ہے، جو عیسائی مذہب سے مستعار ہے۔ لیکن بیدیؔ اس پورے بیان سے صرف ماں اور اس کے بچے کے مقدس رشتے کی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں، جس کا آگے چل کر بیان کیا گیا ہے۔لیکن اقتباس کے آخر میں راوی یہ کہتا ہے کہ کندن حقیقت جاننے کے لیے فادر فشر سے سوال و جواب کرتی ہے یہاں قاری کے ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر وہ کیا جاننا چاہتی ہے؟ چوں کہ کندن ایک تعلیم یافتہ لڑکی ہے اور وہ جانتی ہے کہ انسانی معاشرہ میں بغیر عورت اور مرد کے اتصال سے بچے کا کوئی وجود نہیں اور یہ بات فادر فشر بھی جانتا تھا۔ لیکن اقتباس کا آخری جملہ کندن اور فادر فشر کے مابین تعلق کی نوعیت کی پوری وضاحت کرتا ہے اور کندن، فادر فشر پر مرد اور عورت کے فطری رشتے کی حقیقت کو واضح کرنا چاہتی ہے۔
’’کندن جذبات سے معمور ہوگئی- ’باب‘ اس نے کہا۔ ’’تم ایسا سمجھتے ہو تو کیوں نہیں یہ مشن چھوڑ دیتے؟ کیوں نہیں شادی–‘‘
باب فشر نے کندن کو وہیں روک دیا۔ صرف اتنا کہہ کر– ’’نہیں‘‘
’’تم کیوں نہیں سمجھنے کی کوشش کرتے، باب؟ اس دنیا کے سب دھندے کرتے ہوئے آدمی پادری سے بھی بڑا ہوسکتا ہے، یسوع—۔‘‘
مذکورہ اقتباس سے بیک وقت کئی نتیجے برآمد ہوتے ہیں مثلاً دنیاوی زندگی میں مرد اور عورت کے رشتے کی وضاحت کی گئی ہے اور یہ بتانا مقصود ہے کہ قدرت نے عورت کو مرد کے لیے اور مرد کو عورت کے لیے ہی تخلیق کیا ہے۔ دونوں کے ذریعہ ہی انسانی زندگی کا وجود ممکن ہے۔ دوسرا یہ کہ فادر فشر اس بات کو سمجھتا ہے لیکن مذہبی جکڑبندیوں کی وجہ سے مجبور رہتا ہے۔ تیسری اور سب سے اہم بات جو اس اقتباس کے آخری سطر سے معلوم ہوتی ہے کہ دنیا کا یہی نظام ہے کہ آدمی فطری رشتوں کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے ایک انسان کی طرح زندگی گزارے تو وہ ایک پادری؍ راہب کے درجہ سے بھی بلند ہوسکتا ہے۔
اس کے بعد افسانے میں بیدیؔ عورت کے اس جذبے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو صرف عورت کی ذاتی صفات کا حصہ ہے، جسے مرد آخر دن تک نہیں سمجھ سکتا ہے۔ ایک عورت ساری تکالیف برداشت کرکے اولاد کو جنم دیتی ہے، اقتباس ملاحظہ ہو:
’’پیدائش کے فوراً بعد، لڑکے اور لڑکی تو کیا، زندگی اور موت سے بھی بے خبر لکھی ایک میٹھی نیند سوگئی ایسی نیند جو اس جانکاہی کے بعد ہی آتی ہے اور جس کا احساس مرد کو کبھی نہیں ہوتا۔‘‘
اور بیدیؔ نے عورت کے اس جذبے کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ ہر عورت کے اندر ایک درد مند دل ہوتا ہے جو ممتا سے لبریز ہوتا ہے۔ اسی لیے لکھی کی تکلیف دیکھ کر کندن، ماں کے نہ چاہنے پر بھی لکھی کے پاس چلی جاتی ہے اور اس کے پیچھے سبھاشنی بھی پہنچ جاتی ہے۔ لیکن اس بار یہ ہوتا ہے کہ لکھی کو ایک مرا ہوا لڑکا پیدا ہوتا ہے۔ راوی بیان کرتا ہے کہ رات کے اندھیرے میں حقیقت کی راہیں ٹٹولتی ہوئی کندن مشن میں پہنچتی ہے۔
’’جہاں مقدس مریم اور اس کے اور بھی مقدس بچے کا آئیکون تھا، جس کے سامنے وہ دو زانوں ہوگئی۔ وہ جو ایک کرشچین سے بہت بڑی تھی، دائیں بائیں طرف دو بڑی سی موم بتیاں کانپنے لگیں، جن سے آئیکون متحرک ہوگیا اور مقدس ماں، بچے کوگود میں لیے کندن پر مسکرانے اور اس سے باتیں کرنے لگی۔‘‘
اس پورے بیان کے ذریعہ بیدیؔ معاشرے سے پرے ماں اور اس کے بچے کے رشتے کی وضاحت کرتے ہیں کہ ماں اور اولاد کا رشتہ ایک مقدس رشتہ ہے اور ممتا کا یہی مقدس جذبہ بھی ہے کہ ہر عورت ساری اذیتیں برداشت کرکے بھی اپنے بچہ کو پیدا کرتی اور اس کی پرورش کرتی ہے۔ شاید اقتباس کے آخر میں مریم اور یسوع کے آئیکون کے ذریعہ بیدیؔ اسی طرف اشارہ کرنا چاہتے ہیں۔
افسانے میں مجسمے کا کندن سے بات کرنے کے بعد، بیدیؔ معاشرے کے بنائے ہوئے اصول و قواعد پر گہرا طنز کرتے نظر آتے ہیں۔
’’جبھی فادر مائیکل آیا اور کندن کو مسیح کو بھیڑوں میں شامل ہوتے دیکھ کر مسکرادیا، لیکن جبھی اس کے ہونٹ بھنچ گئے اور اس نے بچے کا فاتحہ پڑھنے سے انکا رکردیا کیوں کہ کرشچین ہوئے بغیر مرگیا تھا، شراب اور پانی کے ساتھ اس کا بپتسمہ نہ ہوسکا تھا……‘‘
صبح کندن کو ایک اور ہی مسئلہ در پیش تھا۔ بچہ کرسچین تھا اور نہ مسلمان…… نہ ہندو… کون اسے اپنے قبرستان میں دفنانے دے گا۔ شمشان میں جلانے دے گا۔ ہر کوئی یہی پوچھے گا۔ اس کے باپ کا نام کیا ہے؟‘‘
افسانے کے اخیر میں سبھاشنی لڑکے کو تابوت میں رکھ کر دفنادیتی ہے۔ یہاں راوی بیان کرتا ہے:
’’کندن… کندن کہاں تھی؟ تھوڑی ہی دیر میں وہ نیچے سے آتی ہوئی دکھائی دی۔ اس کے ہاتھ میں سرجو کا ایک بوٹا تھا جسے وہ کہیں سے کھود لائی تھی۔ ‘‘
’’یہ اس پر لگادو ماں‘‘ وہ بولی۔
ماں نے دیکھا اور اس کے ہاتھ سے کھرپی گرگئی۔ اس نے ایک تیز سی نظر سے سرجو– یوکلپٹس کے پیڑ کی طرف دیکھا اور پھر ڈبڈباتی ہوئی آنکھوں میں ایک جست کے ساتھ اپنی بیٹی سے لپٹ گئی۔ ماں بیٹی دونوں ایک مشترک غم میں رو رہی تھیں۔‘‘
افسانے کے آخر میں قاری پر کندن اور یوکلپٹس کے مابین تعلق کی نوعیت واضح ہوتی ہے کہ آخر کندن کو سرجو سے اس قدر جذباتی لگاؤ کیوں تھا؟
مذکورہ اقتباس کا بغور مطالعہ کیا جائے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بیدیؔ نے بڑی فنکاری کے ساتھ ان چند سطروں میں عورت کی زندگی کا المیہ پیش کردیا ہے۔ افسانے کے آخری چھ سطروں میں ماں سبھاشنی اور کندن کی گفتگو کے ذریعہ بیدیؔ نے ساری دنیا پر یہ واضح کیا ہے کہ عورت اور مرد کا رشتہ فطری ہے کسی ایک کی بھی عدم موجودگی سے دونوں کی زندگی کا وجود ممکن نہیں۔
٭٭٭

مضمون نگار شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں

Ail Baap Bikao hai ka Tajaziyati Mutala

Articles

’’ایک باپ بکاؤ ہے‘‘ کا تجزیاتی مطالعہ

عبدالرحمن فیصل

یہ افسانہ راجندر سنگھ بیدی کے آخری مجموعے ’مکتی بودھُ (۱۹۸۲ء) میں شامل ہے۔ افسانے میں چند واقعات اور کرداروں کے ذریعہ بیدی نے اپنے عہد کے شہری معاشرے کی تصویر کشی کی ہے، جب ساری دنیا میں رشتوں؍ کنبے کا تصور بکھر رہا تھا۔ سائنس کی ایجادات نے جہاں انسانی زندگی کو مادیت؍ مادی ترقی سے نوازا، وہیں مادیت پرستی نے انسانی رشتوں، معاشرے کی اخلاقیات و اقداری نظام کو بہت نقصان پہنچایا ۔ دولت کی خاطر بوڑھے والدین کے ساتھ نافرمانی کرنے والی اولادوں پر برملا طنز، افسانے کا موضوع ہے۔ والدین کو تنہا چھوڑ دینے پر بوڑھاپے میں وہ کس کرب سے دوچار ہوتے ہیں، بیدی نے اس کی بہترین عکاسی کی ہے۔
افسانے کی ابتدا ایک اخباری اشتہار سے ہوتی ہے، جسے خریدوفروخت کے کالم میں شائع کیا گیا تھا۔ ہمہ داں راوی کی زبانی یہ اپنی نوعیت کا پہلا اشتہار تھا۔ اس لیے کہ خریدوفرخت کے کالم میں اشیاء کا اشتہار دیا جاتا ہے اور یہ اشتہار ایک ذی روح؍ انسان کے متعلق تھا، اشتہار کا عنوان تھا ’’بکاؤ ہے ایک باپ‘ عمر اکتہر سال، بدن اکہرا، رنگ گندمی، دمے کا مریض۔‘‘ اس اشتہارکے ہی پہلے ٹکڑے کو ذرا سے فرق کے ساتھ بیدی نے اپنے افسانے کا عنوان بھی دیا ہے، ’’ایک باپ بکاؤ ہے‘‘ ۔ افسانے کو یہ عنوان دے کر ہی بیدی نے اس معاشرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
اشتہار شائع ہوتے ہی معاشرے میں طرح طرح کی باتیں سنائی دینے لگتی ہیں۔ بیدی نے بڑی فن کاری کے ساتھ اشتہار پر ہونے والی گفتگو کے ذریعہ بھی لوگوں کے ذہنی نفسیات کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’کوئی بات تو ہوگی؟!
ہوسکتا ہے، پیسے جائیداد والا…
بکواس۔ ایسے میں بکاؤ لکھتا؟
مشکل سے اپنے باپ سے خلاصی ہے۔ باپ کیا تھا چنگیز ہلاکو تھا سالا۔
تم نے پڑھا، مسز گوسوامی؟
دھت- ہم بچے پالیں گی، سدھا، کہ باپ؟ ایک اپنے ہی وہ کم نہیں گو- سوامی ہے!
ہی… ہی ہی۔
باپ بھی حرامی ہوتے ہیں…‘‘ (ص : ۸۵۵-۸۵۶)
افسانہ اشتہار پر آئے خطوط کے ذریعے آگے بڑھتا ہے۔ عوام کی گفتگو کی طرح ان خطوط کے ذریعے بھی بیدی نے لوگوں کے نفسیات کی عکاسی کی ہے کہ کس قدر لوگ خود غرض اور لالچی ہوگئے ہیں۔ کسی نے یہ معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی کہ آخر اکہتر سال کی عمر میں ایک باپ نے ایسا اشتہار کیوں دیا۔ کیا اس کی اولاد اس لائق نہیں کہ اسے اپنے پاس رکھ سکے یا کہیں یہ اشتہار اس کی اولادوں نے ہی نہیں دیا۔
اس کے علاوہ لوگوں میںاشتہار کے متعلق خوب دلچسپی بڑھ رہی تھی۔ عوام کا یہ رویہ دیکھ کر اشتہار چھاپنے والوں نے جنرل منیجر سے اشتہاروں کے نرخ بڑھانے کی تجویز پیش کی۔
’’مگر نوجوان بڈھے یا بڈھے نوجوان منیجر نے تجویز کو پھاڑ کر ردّی کی ٹوکری میں پھینکتے ہوئے کہا۔ Shucks۔ ایک پاپولر اشتہار کی وجہ سے نرخ کیسے بڑھادیں؟… اس کے انداز سے معلوم ہوتا تھا جیسے وہ کسی غلطی کا ازالہ کرنے کی کوشش کررہا ہے۔ ‘‘ (ص : ۸۵۶)
مذکورہ اقتباس سے معلوم ہوتا ہے کہ جنرل منیجر لوگوں کے اس رویہ پر خفگی کا اظہار کرتا ہے۔ بیدی نے یہاں بڑی فن کاری کے ساتھ ان دو لفظوں ’’بڈھے نوجوان یا نوجوان بڈھے‘‘ کا استعمال کیا ہے۔ یعنی منیجر بوڑھے باپ کے درد کو محسوس کررہا تھا اور خود کو ایسا اشتہار دینے کے لیے قصور وار ٹھہرا رہا تھا۔
اس کے بعد ہمہ داں راوی کے بیان کے ذریعہ بکاؤ باپ کا کردار سامنے آتا ہے، جس کا نام گاندھروداس ہے۔ وہ کسی زمانے میں ایک مشہور موسیقار تھا۔ اس کی بیوی جو برسوں پہلے مرچکی تھی، دونوں کی کبھی نہیں نبھتی، کیوں کہ وہ گاندھروداس کی موسیقی کو ناپسند کرتی تھی۔ دونوں کے درمیان جنسی تعلقات نہ ہونے کے باوجود بھی دونوں ساتھ ساتھ رہتے تھے۔
گاندھروداس کی تین اولادیں تھیں، دو بیٹھے اور ایک بیٹی۔ بڑا لڑکا ایک نامی پلے بیک سنگر تھا۔ چھوٹا بیٹا پریس میں نوکری کرتا اور اپنی اطالوی بیوی کے ساتھ رنگ رلیاں مناتا پھرتا۔
گاندھروداس چوں کہ ایک کلاسیکی موسیقار تھا اس لیے پلے بیک موسیقی کے آنے سے اس کا کام ٹھنڈا پڑگیا۔ تو اس نے اپنے چھوٹے بیٹے سے کہا جو اس وقت تک اس کے ساتھ ہی تھا کہ ہم رکارڈوں کی ایجنسی لے لیتے ہیں تو اس نے صاف انکار کردیا۔
’’گاندھرو نے کہا- چلو، ایچ ایم وی کے رکارڈوں کی ایجنسی لیتے ہیں۔ چھوٹے نے جواب دیا۔ ہاں، مگر آپ کے ساتھ میرا کیا مستقبل ہے؟ گاندھرو داس کو دھچکا سا لگا۔ وہ بیٹے کا مستقبل کیا بتاسکتا تھا؟ کوئی کسی کا مستقبل کیا بتاسکتا ہے؟ گاندھرو کا مطلب تھا کہ میں کھاتا ہوں تو تم بھی کھاؤ۔ میں بھوکا مرتا ہوں تو تم بھی مرو۔ تم جوان ہو، تم میں حالات سے لڑنے کی طاقت زیادہ ہے۔ اس کے جواب کے بعد گاندھرو داس ہمیشہ کے لیے چپ ہوگیا۔‘‘ (ص : ۸۵۷-۸۵۸)
گاندھرو داس کے بیٹے اس وقت تک ساتھ تھے جب تک اس کے پاس دولت تھی لیکن جیسے ہی اس کے پاس دولت نہیں رہی، دونوں بیٹوں نے ساتھ چھوڑ دیا۔
مذکورہ اقتباس میں چھوٹے بیٹے کے منع کردینے پر گاندھرو داس کے جذبات بالکل متزلزل ہوگئے۔ افسانہ نگار نے گاندھرو داس کے غصے اور درد کی کیفیت کی بہترین عکاسی کی ہے۔لیکن بیدی اگر یہ اقتباس راوی سے بیان کرانے کے بجائے خود کردار کے داخلی نفسیات کے ذریعے دکھاتے تو بیانیہ اور زیادہ موثر ہوتا۔
راوی بیان کرتا ہے کہ تینوں بہن بھائی جب اکٹھا ہوتے تو اپنے باپ کو رنڈوا نہیں، مرد بدھوا کہتے اور اپنی اس اختراع پر قہقہہ لگاتے۔ اولاد کے ذریعے اپنے والد کے لیے اس طرح کے الفاظ کا استعمال ان کی بدتمیزی اور نافرمانی پر دال ہے کہ والدین جو اولاد کی پرورش کرتے ہیں انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے لائق بناتے ہیں اور جب وہ بوڑھے ہوجاتے ہیں تو صرف دولت کی خاطر اولاد ان کا مذاق اڑاتی ہے۔
اس کے بعد افسانے میں بیدی ایک سوال قائم کرتے ہیں کہ ایسا کیوں؟ کہ بچے اپنے والد کے ساتھ ایسا سلوک کرتے ہیں چاترک کے کردار کے ذریعے راوی اس سوال کی تاویلیں پیش کرتا ہے کہ ضرور گاندھروداس میں ہی کوئی خرابی ہوگی۔ لیکن راوی کا یہ بیان ملاحظہ ہو:
’’ہندسوں میں الجھے رہنے کی وجہ سے کہیں چاترک کے الہام اور الفاظ کے درمیان فساد پیدا ہوگیا تھا۔ وہ نہ جانتا تھا کہ ہندوستان تو کیا، دنیا بھر میں کنبے کا تصور ٹوٹتا جارہا تھا۔ بڑوں کا ادب ایک فیوڈل بات ہوکر رہ گئی ہے۔ اس لیے سب بڈھے کسی ہائیڈ پارک میں بیٹھے، امتداد زمانہ کی سردی سے ٹھٹھرے ہوئے، ہر آنے جانے والے کو شکار کرتے ہیں، کہ شاید ان سے کوئی بات کرے۔ وہ یہودی ہیں، جنھیں کوئی ہٹلر ایک ایک کرکے گیس چیمبر میں دھکیلتا جارہا ہے، مگر دھکیلنے سے پہلے زنبور کے ساتھ اس کے دانت نکال لیتا ہے، جن پر سونا مڑھا ہے اگر کوئی بچ گیا ہے تو کوئی بھانجا بھتیجا اتفاقیہ طور پر اس بڈھے کودیکھنے کے لیے اس کے مخروطی ایٹک میں پہنچ جاتا ہے، تو دیکھتا ہے کہ وہ تو مرا پڑا ہے اور اس کی فلزاتی آنکھیں اب بھی دروازے پر لگی ہیں۔ نیچے کی منزل والے بہ دستور اپنا اخبار بیچنے کا کاروبار کررہے ہیں، کیوں کہ دنیا میں روز کوئی نہ کوئی واقعہ تو ہوتا ہی رہتا ہے۔ ڈاکٹر آکر تصدیق کرتا ہے کہ بڈے کو مرے ہوئے پندرہ دن ہوگئے۔ صرف سردی کی وجہ سے لاش گلی سڑی نہیں۔ پھر وہ بھانجا یا بھتیجا کمیٹی کو خبر کرکے منظر سے ٹل جاتا ہے، مبادا آخری رسوم کے اخراجات اسے دینے پڑیں۔‘‘ (ص : ۸۵۸)
اس بیان کے ذریعے بیدی نے اس عہد میں پیدا ہونے والے انتشار، رشتوں کے بکھراؤ اور اخلاقی زوال کو پیش نظر رکھ کر پورے معاشرے کو طنز کا نشانہ بنایا ہے۔ بیدی نے صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں پھیلی خود غرضی، بزرگوں کے ساتھ بدسلوکی اور بزرگوں کے کرب کو دکھانے کی کوشش کی ہے۔ بزرگوں کے ساتھ اس طرح کے سلوک کی وجہ صرف مادی خود غرضی تھی جو شاید اس صنعتی دو رکی ہی پیداوار تھی۔
ہمہ داں راوی اس کہانی کو دوبارہ اسی اشتہار کے جواب میں آئے خطوط سے جوڑ دیتا ہے اور قاری پر گاندھروداس کے متعلق ایک نئی بات کا انکشاف کرتا ہے۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’اشتہار کے سلسلے میں آنے والے کچھ لوگ اس لیے بدک گئے کہ گاندھروداس پر پچپن ہزار کا قرض بھی تھا، جو بات اس نے اشتہار میں نہیں لکھی تھی اور غالباً اس کی عیاری کا ثبوت تھی۔ اس پر طرفہ ایک نوجوان لڑکی سے آشنائی بھی تھی جو عمر میں اس کی اپنی بیٹی رُما سے چھوٹی تھی۔ وہ لڑکی، دیویانی گانہ سیکھنا چاہتی تھی جو گوروجی نے دن رات ایک کرکے اسے سکھادیا او رسنگیت کی دنیا کے شکھر پر پہنچادیا۔ لیکن ان کی عمروں کے بُعد کے باوجود ان کے تعلقات میں جو ہیجانی کیفیت تھی، اسے دوسرے تو ایک طرف، خود وہ بھی نہ سمجھ سکتے تھے۔‘‘ (ص : ۸۵۹)
افسانہ نگار گاندھروداس کے کردار کے ساتھ کوئی ہمدردی نہیں جتاتا ہے اور نہ طرف داری کرتا ہے۔ بلکہ دیانت داری کے ساتھ جہاں وہ اس کے درد کا بیان کرتا ہے، اسی جگہ اس کی عیاریوں؍ خرابیوں کا بھی بیان کرتا ہے۔
مذکورہ اقتباس میں راوی اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ گاندھروداس ایک عیب دار شخص ہے اس لیے کہ اپنی بیٹی کی عمر کی لڑکی سے اس کی آشنائی تھی لیکن اقتباس کا آخری جملہ ’’ان کی عمر کے بعد کے باوجود… اسے دوسرے تو ایک طرف، خود وہ بھی نہ سمجھ سکے تھے۔‘‘ اس بات کی وضاحت کرتا ہے کہ گاندھروداس کا دیویانی کے ساتھ تعلقات، صرف جنسی خواہش کی وجہ سے نہیں تھا۔ اس کی مزید وضاحت کے لیے افسانے کا یہ اقتباس دیکھیں۔
’’کیا دیویانی اب بھی بابوجی کے پاس آتی ہے؟‘‘
ہاں۔
مسز دُروے کچھ نہیں کہتیں؟
پہلے کہتی تھیں۔ اب وہ ان کی پوجا کرتی ہیں۔ بابوجی در اصل عورت کی جات ہی سے پیار کرتے ہیں، فلپ… معلوم ہوتا ہے انھوں نے کہیں پر کرتی کے چِتوَن دیکھ لیے ہیں، جن کے جواب میں وہ مسکراتے تو ہیں، لیکن کبھی کبھی بیچ میں آنکھ بھی ماردیتے ہیں…
دُروے کہتا گیا-بابوجی کو شبد- بیٹی، بہو، بھابی، چاچی، للّی، میّا بہت اچھے لگتے ہیں ، وہ بہو کی کمر میں ہاتھ ڈال کر پیار سے اس کے گال بھی چوم لیتے ہیں اور یوں قید میں آزادی پالیتے ہیں اور آزادی میں قید۔
دیویانی؟
دُروے نے حقارت سے کہا…… سنگیت شاید آڑتھی دیویانی کے لیے…
بابوجی نے مجھے بتایا کہ وہ لڑکی بچپن ہی میں آوارہ ہوگئی۔ اس نے اپنے ماں باپ کو کچھ اس عالم میں دیکھ لیا، جب کہ وہ نوخیزی سے جوانی میں قدم رکھ رہی تھی۔ پر وہ ہمیشہ کے لیے آپ ہی اپنی ماں ہوگئی۔ باپ کے مرنے کے بعد وہ گھبراکر ایک مرد سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے کے پا س جانے لگی۔ اس کا بدن ٹوٹ ٹوٹ جاتا تھا، مگر روح تھی کہ تھکتی ہی نہ تھی۔
کیا مطلب؟
دیویانی کو در اصل باپ ہی کی تلاش تھی۔‘‘ (ص : ۸۶۴-۸۶۵)
یہاں پر بیدی جنس کے مسئلے پر ایک فلسفی کی طرح نظر ڈالتے ہیں۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’تم سیکس کو اتنی ہی اہمیت دو فلپ، جتنی کاکہ وہ مستحق ہے۔ تیتر بٹیر بنے بغیر اسے حواس پہ مت چھانے دو… (ص : ۸۶۵)
افسانے میں دُروے کا کردار وہ شخص ہے، جو گاندھروداس کو خرید کر لایا تھا۔ دُروے اسے باپ کی طرح عزت دیتا اور اس کی خدمت کرتا ہے۔ اپنے ملازموں کے پوچھے جانے پر کہ وہ گاندھروداس کو کیوں خرید لایا تو دُروے کہتا ہے:
’’تم نے ان کی آنکھیں دیکھی ہیں۔
جی نہیں۔
جاؤ، دیکھو، ان کی روتی ہنستی آنکھوں میں کیا ہے۔ ان میں سے کیسے کیسے سندیس نکل کر کہاں کہاں پہنچ رہے ہیں؟‘‘ (ص : ۸۶۱)
دُروے کے اس مختصر بیان کے بطن سے معنی کی وہ سطحیں نمو کرتی ہیں، جس سے گاندھروداس ہی نہیں بلکہ ساری دنیا کے بوڑھے والدین جن کی نافرمان اولادیں ان کا ساتھ چھوڑ دیتی ہیں، کے کرب، مایوسی اور ذات کے انتشار کا ادارک، قاری کے حواس پر ہونے لگتا ہے۔
ملازم جمنا داس اور دُروے کی گفتگو سے معلوم ہوتا ہے کہ ہر گھر میں ایک بزرگ کا ہونا ضروری ہے اور انسانی زندگی میں بزرگوں کی کیا اہمیت ہے جیسا کہ دُروے کہتا ہے کہ جہاں بھی میں جاتا ہوں لوگ میرے سامنے سر جھکاتے ہیں لیکن جمناداس کہیں میں بھی اپنا سر جھکانا چاہتا ہوں۔ افسانہ نگار کا یہاں یہ بتانا مقصود ہے کہ دولت ہی انسانی زندگی میں سب کچھ نہیں ہے بلکہ والدین کی محبت، شفقت اور ان کا سایہ اولاد کے لیے روحانی نعمت ہے، جن کے بغیر انسانی زندگی کھوکھلی ہے۔
’’اگر انسان کے زندہ رہنے کے لیے پھل پھول اور پیڑ پودے ضروری ہیں، جنگل کے جانور ضروری ہیں، بچے ضروری ہیں تو بوڑھے بھی ضروری ہیں۔ ورنہ ہمارا ایکولاجکل بیلنس تباہ ہوکر رہ جائے۔ اگر جسمانی طور پر نہیں تو روحانی طور پر بے وزن ہوکر انسانی نسل ہمیشہ کے لیے معدوم ہوجائے۔‘‘ (ص : ۸۶۲)
دُروے اشوک کے پیڑ سے ایک پتہ توڑ کر جمناداس کو دے کر کہتا ہے:
’’اپنی پوری سائنس سے کہو کہ یہ تازگی، یہ شگفتگی، یہ شادابی اور یہ رنگ پیداکرکے دکھائے… …‘‘ (ص : ۸۶۲)
افسانہ نگار یہ بتانا چاہتا ہے کہ باپ ایک درخت کی مانند ہے اور اولاد اس اشوک کے پتے کی طرح جو درخت سے جدا ہونے کے بعد اپنا کوئی وجود نہیں رکھتے۔
افسانے کے اخیر میں بیدی نے یہ وضاحت کی ہے کہ والدین سے بڑھ کر دولت دنیا میں کچھ بھی نہیں ہے۔ اور افسانے کے اختتامیہ کا آخری جملہ جو بڑی فن کاری کے ساتھ تشکیل دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے افسانہ ایک مخصوص زمان و مکان کے حدود سے آزاد ہوکر آفاقی حیثیت کا حامل ہوجاتا ہے اور پوری انسانیت کے لیے یہ پیغام دیتا ہے کہ:
’’تم انسان کو سمجھنے کی کوشش نہ کرو، صرف محسوس کرو اسے۔‘‘ (ص : ۸۶۵)

٭٭٭
حواشی : ’’کلیات بیدی‘‘ از مرتب وارث علوی، ص-۸۵۴-۸۶۵


مضمون نگار شعبۂ اردو، علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں

Shaad Aarfi Aik Munfarid Fankar

Articles

شادؔ عارفی: ایک منفرد فنکار

پروفیسر مظفر حنفی

اُردو غزل کی صدیوں پر محیط ، بے کراں روایت میں یہ سعادت گنتی کے تین چار شاعروں کو نصیب ہوئی ہے کہ ان کا ہرشعر اپنے لہجے کی بنا پر دور سے پہچانا جاتا ہے۔ شادؔ عارفی نے غلط نہیں کہا:
اور پھر کہتے ہیں کہ کس کو ندرتِ طرز ادا
میرے شعروں میں مری آواز پہچانی گئی
عام طور پر شادؔ عارفی کو ایک عظیم طنز نگار غزل گو کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے، لیکن وہ عشقیہ غزل کے بھی اتنے ہی اہم شاعر ہیں۔ انھوں نے منظر یہ، طنزیہ اور رومانی نظمیں اتنی اچھی اور ایسی کثیر تعداد میں کہی ہیں کہ تا حال تنقید یہ فیصلہ نہیں کر سکی کہ شادؔ کی غزل اور نظم میں سے کس کا پلّہ بھاری ہے۔ نثر میں بھی شادؔ عارفی نے تنقیدی مضامین اور مکتوبات کی شکل میں قابلِ لحاظ ادبی سرمائے کا اضافہ کیا ہے۔
شادؔ عارفی رامپور میں پیدا ہوئے وہیں عمر بسر کی اور وہیں وفات پائی۔ ان کا سالِ پیدائش ۱۹۰۰ء ہے اور سنہ وفات ۱۹۶۴ء۔ شاعری وہ نو عمری میں ہی کرنے لگے تھے۔ ان کی تخلیقی کاوشیں کم و بیش بچاسٍ برسوں کا احاطہ کرتی ہیں۔ اس دوران ان کی شاعری میں کئی موڑ آئے۔ ایک جگہ خود کہا ہے:
وہ رنگیں نوائی ، یہ شعلہ بیانی
کئی موڑ آئے مری شاعری میں
بڑی بات یہ ہے کہ اُس دور میں بھی جسے شادؔ عارفی رنگیں نوائی سے تعبیر کرتے ہیں انھوں نے لب و رخسار والی روایتی شاعری نہیں کی بلکہ اپنے سچّے اور پُرجوش واقعاتِ عشق کو ایسے نادر لہجے میں اس ندرتِ ادا کے ساتھ پیش کیا کہ ان کی عشقیہ غزل کاذائقہ اُردو کی عام عاشقانہ اور روایتی غزل سے منفرد ہو گیا۔ بقولِ شادؔ:
دوسروں کے واقعاتِ عشق اپناتے ہیں وہ
جن سخن سازوں کی اپنی داستاں کوئی نہیں
انھوں نے دوبار محبت کی اور جواب میں انھیں دوسری طرف سے بھی محبت ملی۔ ان کی عشقیہ غزلوں میں اس دو طرفہ محبت کے جیتے جاگتے، سچے اور تابناک مناظر دیکھے جا سکتے ہیں:
کام کی شے ہیں کروٹن کے یہ گملے اے شادؔ
وہ نہ دیکھے مجھے ، میں اس کا نظارہ کر لوں
………
لائے ہیں تشریف تکیوں پر دُلائی ڈال کر
حُسن اور اس درجہ بے خوف و خطر میرے لیے
………
چھپائی ہیں جس نے میری آنکھیں میں انگلیاں اس کی جانتا ہوں
مگر غلط نام لے کے دانستہ لطف اندوز ہو رہا ہوں
………
اس سے جب پوچھا گیا چھُپ چھپ کے رونے کا سبب
دردِ دل کا کام اس نے دردِ سر سے لے لیا
………
دل نوازی جو بھرے گھر میں نہیں بن پڑتی
رُخُ محبوب پہ گیسو ہی بکھر پڑتا ہے
………
لکھ کر میرا نام اے شادؔ
اس نے بھیجا ہے رومال
………
بھولی سی ہم مکتب کوئی کوئی سہیلی خالہ زاد
اُن کے ہاتھوں خط بھجواتے میں ڈرتا ہوں لیکن وہ
………
مسکرا دیں گے مرا نام کوئی لے دیکھے
وہ کسی فکر میں بیٹھے ہوں ، کسی کام میں ہوں
………
ابھی انگڑائیاں لی جا رہی ہیں
سمجھتے ہیں ابھی دیکھا نہیں ہے
………
اُسے نسیمِ چمن کہہ رہا ہوں میں لیکن
کہیں نسیمِ چمن مُڑ کے دیکھتی بھی ہے
………
کیا لکھ رہے ہیں آپ مجھے دیکھ دیکھ کر
میں نے دیا جواب ، غزل کہہ رہا ہوں میں
گیسو بدوش محوِ تماشائے آئینہ
اس کی نگاہ روزنِ دیوار نہیں
آج ہم نئی غزل کے عہدِ شباب میں غالباً اس نئے پن، نادرہ کاری اور غیرروایتی آہنگ کو اتنا محسوس نہ کر سکیں جتنا کہ آج سے نصف صدی پیشتر کے نقادوں نے شادؔ کی غزلوں میں محسوس کیا ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ یگانہؔ اور فراقؔ سے زیادہ شادؔ عارفی کو نئی غزل کے بنیاد کاروں میںشمار کیا جاتا ہے۔اس دور میں شادؔ کی عشقیہ نظمیں ’’سماج‘‘، ’’ ایک تصویر‘‘ ’’ فسانۂ نا تمام‘‘، ’’بسنت‘‘ ، پھول کی پتی سے‘‘، ’’ وفائے وعدہ‘‘، ’’دسہرہ اشنان‘‘ وغیرہ بھی بے حد مقبول ہوئی تھیں۔ شادؔ عارفی کی رنگیں نوائی کے بارے میں ڈاکٹر معصوم رضا راہیؔ نے سچ کہا ہے:
’’ شادؔ کی عشقیہ شاعری کا پلڑا زمین کی طرف جھکتا ہے۔ غالباً ایسی ہندوستانی فضا اور گھریلو محبت، حسرتؔ کی غزل اور فراقؔ کی رباعی کے علاوہ اُردو شاعری میں صرف شادؔ کی عشقیہ نظم و غزل ہی پیش کر سکی ہے ۔ ان کی محبت کے یہ گیت اتنے مقدس اور گھریلو ہیں کہ حسرت موہانی کے علاوہ کوئی اور شاعر عشق کی اس سادگی اور پاکیزگی کی منزل پر نظر نہیں آتا۔‘‘
ہمارے عظیم اور قابلِ ذکر شاعروں میں میرؔ، فانیؔ اور یگانہؔ کی تنگدستی اور پریشاں حالی کے تذکرے عام ہیں لیکن شادؔ عارفی کے حالاتِ زندگی ان سب سے زیادہ تلخ ہیں۔ کچھ ابتدائی برسوں کو چھوڑ کر انھوں نے تمام عمر انتہائی مفلسی، بے روزگاری اور پریشانی میں بسر کی۔ چالیس برس کی عمر میں شادی کی تو اہلیہ ڈیڑھ برس میں ہی انتقال کر گئیں۔ اعزّا و اقارب نے انھیں فریب دیے اور صحت بھی جواب دے گئی۔ طُرّہ یہ کہ طبعاً بیحد غیور اور خود دار تھے اس لیے کسی کی مدد قبول کرنا اپنی توہین سمجھتے تھے ان سب باتوں کے زیر اثر ان کا مزاجِ شعر ، طنز کی طرف مائل ہو گیا اور انھوں نے زمانے کی نا انصافیوں اور خام کاریوں کے خلاف جہاد کرنے کے لیے اپنے قلم کو تلوار بنالیا:
میں دنیا پر طنز کروں گا
دنیا میرے کیوں در پے ہو
اور
اس نے جب سو تیر چلائے
میں نے ایک غزل چپکا دی
علامہ نیازؔ فتح پوری نے ان کی بابت لکھا ہے۔
’’ شادؔ عارفی زمانۂ حال کے شاعروں میں ایک خاص رنگ کے نقّاد و طنز نگار ہیں جن کی غزلیں اور نظمیں جارحانہ انتقاد سے تعلق رکھتی ہیں ، ان میں کہیں کہیں مزاحی رنگ بھی آجاتا ہے۔ اس رنگ کی شاعری میں ایک خاص لب و لہجہ کی ضرورت ہوتی ہے جس میں قطعیت بہت زیادہ ہو۔ اس کوشش میں بہت سے حضرات آرٹ سے ہٹ کر خشک واعظ بن کر رہ جاتے ہیں لیکن شادؔ عارفی شاعرانہ زہر خند تبسمِ زیرِ لب کو کبھی ہاتھ سے جانے نہیں دیتے۔‘‘
حق تو یہ ہے کہ اردو شاعری میں خالص طنز کی روایت جو انگریزی کے زیر اثر اور مزاح کے غلبے کی وجہ سے ادب میں دوسرے درجے کی چیز بن گئی تھی، شادؔ عارفی کی تخلیقات میںدوبارہ زندہ ہو گئی اور اس رنگ میں شادؔ عارفی نے وہ خاص طرز اختیار کی جس کے موجد بھی وہی تھے اور خاتم بھی وہی ٹھہرے ، ملاحظہ ہوں یہ اشعار:
آشیاں پھول نہیں تھے کہ خزاں لے اڑتی
آپ اس بحث میں جانے کی اجازت دیں گے
………
مگر یہاں تو جل رہا ہے آدمی سے آدمی
سُنا یہ تھا چراغ سے چراغ جلتے آئے ہیں
………
دل میں لہو کہاں تھا کہ اک تیر آلگا
فاقے سے تھا غریب کہ مہمان آگیا
………
اُسے جس حال میں سجدہ کیا ہے
اسے اللہ بہتر جانتا ہے
………
کہنے والوں نے کہا ظلِ الٰہی جن کو
ہم انھیں سایۂ دیوار نہیں کہہ سکتے
………
لاکھوں ہیں ہم سب بے چارے
اے شہزادو! تم سب کے ہو
………
جب چلی اپنوں کی گردن پر چلی
چوم لوں منہ آپ کی تلوار کا
………
کاروبارِ قفس اب یہاں آ گیا
وہ فلاں چل بسا، وہ فلاں آگیا
ہمارے ہاں کی سیاست کا حال مت پوچھو
گھری ہوئی ہے طوائف تماش بینوں میں
………
کہیں رہ نہ جائے مشینوں کی دنیا
کہیں آدمی آ نہ جائے کمی میں
………
ناجائز پیسے کی اُجلی تعمیروں کے ماتھے پر
آپ نے لکھا دیکھا ہوگا یہ سب فضلِ باری ہے
………
جہاں تک ہماری غزل جائے گی
تعزّل کے معنیٰ بدل جائے گی
بلا شبہ شاد عارفی نے تغزل کے معنی تبدیل کر دیے ، غزل میں ایسی کاٹ پیدا کر دی، اس میں وہ معنویت اور مقصدیت شامل کی جس نے اُسے زمانۂ حال کی چیز بنا دیا اور اپنے معاشرے کی تمام خامیوں پر نشتر زنی کرنا سکھا دیا۔
نقدِ ماحول کہ فن ہے میرا
ہر طرف رُوئے سخن ہے میرا
بقول حفیطؔ جالندھری:
’’شادؔ عارفی اپنے ارد گرد کے سیاسی اور ادبی دور سے مکمل با خبر ہی نہیں بلکہ مجاہدانہ اور سخت گیر انہ طریق پر اُس پُرآشوبی کے نقّاد صادق ہیں۔ شادؔ نے اپنے دَور کے حالات سے جو احساسات اخذ کیے ان کا اظہار مثبت اور واضح طور پر نُدرتِ ادا کے ساتھ کیا ہے۔‘‘
شادؔ نے طویل و مختصر سو طنزیہ نظمیں بھی کہی ہیں جن میں اپنے عہد کی برائیوں اور کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہوئے سماج کی دُکھتی رگوں پر نشتر چلائے گئے ہیں۔ یہ نظمیں ایسی نئی نئی اور دلچسپ ہیئتوں میں ہیں کہ شادؔ عارفی کی فنکاری پر ایمان لانا پڑتا ہے۔ ان کی نظم نگاری پر اظہار خیال کرتے ہوئے خلیل الرحمن اعظمی رقمطراز ہیں:
’’ شادؔ عارفی نے اپنے نظموں میں بیانیہ پیرایہ اختیار کرنے کے بجائے ڈرامائی، مکالماتی اور تمثیلی انداز اختیار کیا ہے۔ انھوں نے یہ کمال کیا ہے کہ ایک ہی مصرع کے اندر دو دو اور تین تین کرداروں کے مکالمے ادا کرنے کی کوشش کی ہے۔۔۔۔۔ ٹی ایس ایلیٹ نے شاعری کی تین آوازوں کا ذکر کیا ہے۔ ان تینوں آوازوں کا ایک ہی نظم میں اجتماع بہت ہی مشکل کام ہے۔ شادؔ نے اُردو نظم میں یہ کام بھی کر دکھایا ہے۔‘‘
ان کی نظموں میں ’’ شوفر‘‘ ، ’’ پرانا قلعہ‘‘ ’’ ان اونچے اونچے محلوں میں‘‘ ، ’’رنگیلے راجا کی موت‘‘، ’’ نمائش ‘‘ ، ’’ ان سے ملیے‘‘ ’’ ٹکڑ گدے ‘‘ اور ’’ ابھی جبلپور جل رہا ہے‘‘ وغیرہ اُردو نظم کے سخت سے سخت انتخاب میں جگہ پانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
پروفیسر احتشام حسین نے لکھا ہے:
’’ مجھے ذاتی طور پر شادؔ عارفی کی شاعری نے متاثر کیا۔ وہ جو تھے وہی ان کی شاعری ہے، زندگی نے انھیں جو دیا وہ اُن کے کلام میں کبھی غصّہ بن کر ، کبھی طنز اور زہر خند بن کر اور کبھی دکھے دل کی پُکار بن کر محفوظ ہو گیا۔‘‘
اپنی عشقیہ اور طنزیہ غزل نیز منظریہ عاشقانہ اور طنزیہ نظموں میں شادؔ عارفی نے جس مجتہدانہ شان کے ساتھ زبان کا تخلیقی استعمال کیا ہے جس طرح عام بول چال کے غریب اور ٹاٹ باہر الفاظ کو اپنے جادو نگار قلم کے لمس سے ادبی شان عطا کر دی ہے اس کی مثال اُردو شاعری میں نایاب ہے اور یہ صفت انھیں سچے معنوں میں ایک عوامی شاعر بناتی ہے۔پروفیسر آل احمد سرورؔ نے غلط نہیں کہا:
’’ جو لوگ شاعری کی زبان اور بول چال کی زبان کو ایک دوسرے سے الگ کر کے دیکھتے ہیں، انھیں شادؔ کے کلام کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ شادؔ نے بول چال کی زبان کی طاقت اور شعریت کو جس طرح اجاگر کیا اور جس طرح بقول ایذرا پاؤنڈ ، حقیقی نفسیات کو زبان دی ہے اُسے جدید اُردو شاعری ہمیشہ یاد رکھے گی۔‘‘
کچھ اپنے کھرے مزاج کی وجہ سے اور کچھ اپنی شاعری کے بالکل ہی نئے رنگ کی وجہ سے اردو تنقید نے ان کی زندگی میں اس عظیم فنکار کو وہ اہمیت نہ دی جس کے وہ بجا طور پر مستحق تھے لیکن ان کی وفات کے تین سال کے اندر ہی ایک مجموعہ مضامین ’’ ایک تھا شاعر‘‘ منظرِ عام پر آیا جس میں ہر اہم تخلیق کار اور ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے نقادوں نے شادؔ عارفی پر مضامین لکھ کر ان کی اہمیت اور عظمت کااعتراف کیا۔ اس کے چند برس بعد ہی ان کی شخصیت اور فن پر ایک تحقیقی مقالہ بھی شائع ہو گیا۔ اسی طرح ان کی حیات میں انجمن ترقی اردو کے ایک مختصر سے انتخاب کے علاوہ کوئی ڈھنگ کا شعری مجموعہ تک نہیں شائع ہو سکا تھا لیکن انتقال کے بعد مرحوم کا تمام کلام ’’ شادؔ عارفی کی غزلیں‘‘، ’’ سفینہ چاہیے‘‘، ’’ اندھیر نگری‘‘، ’’ شوخیِ تحریر‘‘ ’’دکھتی رگیں‘‘، ’’ کلیاتِ شادؔ عارفی‘‘ میں محفوظ ہو گیا ہے۔ ان کے مکاتیب اور مضامین ’’ ایک تھا شاعر‘‘، ’’ نثر و غزلدستہ شاد عارفی‘‘ اور ’’ شادؔ عارفی ایک مطالعہ‘‘ میں شائع کیے گئے ہیں۔
شادؔ عارفی کی نثر بھی ان کی شاعری کی مانند انفرادی رنگ و آہنگ اور مخصوص لہجہ رکھتی ہے۔مختلف لوگوں کے نام ان کے خطوط اور ادبی موضوعات پر ان کے مضامین سے کچھ مختصر مختصر اقتباسات پیش کیے جاتے ہیں جو بر جستگی اور کاٹ میں شعروں کی طرح پُر تاثیرا اور پُر کیف ہیں۔ فرماتے ہیں:
’’ کوئی بھی ادب کھجور یا ناریل کا درخت نہیں ہوتا کہ اس سے شاخیں نہ پھوٹیں۔‘‘
’’ جوش ملیح آبادی کی آج کل کی شاعری پر اتنا تبصرہ کافی ہوگا کہ وہ اپنے قطعات میں لغت کمپوز کررہے ہیں۔‘‘
’’ میرے نزدیک اچھے شعر کی تعریف اس میں نہیں کہ وہ صحیح ہو۔ اپنے معنی پر دلالت کرتا ہو بلکہ میں کسی بھی شعر میں سب سے پہلے تخیل کی انفرادیت اور پھر ندرتِ ادا پر نظر ڈالتا ہوں۔‘‘
’’ خطائے بزرگاں گرفتن خطا است، کے معنی یہ سمجھائے جاتے ہیں کہ اپنے بزرگوں کو ان کی غلطی پر ٹوکنا غلطی ہے حالانکہ وہاں گرفتن کے معنی ہیں تقلید۔ مطلب یہ کہ بزرگوں کی غلطیوں کی پیروی نہ کرو۔‘‘
’’ بلا مبالغہ ہر روز پچاس ساٹھ نادر تخیلات ذہن میں آتے ہیں لیکن مشکل سے پانچ چھ فنی گرفت میں آتے ہیں، باقی کو ترک کر دینا پڑتا ہے اور صرف اس لیے کہ ان کو ادا کرنے کے لیے موزوں الفاظ دستیاب نہیں ہوتے۔‘‘
’’ جلی ہوئی رسّی کے بل اور گھڑے کی چکناہٹ میں دنیا کو کیا پسند ہے ۔ آپ جانتے ہیں اور مجھے کیا پسند ہے ، دنیا جانتی ہے۔‘‘
’’سب سے اچھی کتاب وہ ہے جس میں بیان کی ہوئی باتیں کسی دوسری کتاب میں نہ پائی جائیں۔‘‘
’’ ڈومنی ڈومنی کے ہاں بغیر معاوضہ لیے ناچتی ہے۔ اس لیے میں شاعر ہو کر ایسے شاعر سے جو مدیر بھی ہو، ہزار مجبوریوں کے بعدبھی کچھ نہیں کہہ سکتا ہاں اس حکومت سے التماس کر سکتا ہوں جس کے ہاتھ جھوٹا موتی سچے موتی پر مسکراتا ہے۔‘‘
’’ لوگ ادب نوازی کا ڈھونگ رچاتے ہیں مگر شاعر سے اپنے پیسے پیسے کے عوض قصیدہ چاہتے ہیں۔‘‘
’’ کس قدر مہمل بات ہے کہ عیسائی، یہودی ، سکھ، ہندو ہونے کی وجہ سے آپ اس کے یا وہ آپ کا دوست نہ بن سکے صرف اس لیے کہ آپ نماز پڑھتے ہیں وہ گنگا کو جاتا ہے یا واہ گرو خالصہ کا نعرہ لگاتا ہے۔‘‘
’’صرف لفظوں کو جمع کر دینے سے تکملۂ شعر تو ممکن ہے مگرتاثیر دینا ممکن نہیں۔ ‘‘
’’غزلوں میں اشعار کی ترتیب موڈ کے تحت ہونی چاہیے۔ مطلع سیاسی ہے تو پوری غزل سیاسی ہو، عاشقانہ ہے تو سب شعر عاشقانہ ہوں۔ ایک قافیہ دوسرے کو کاٹتا ہوا نہ ہو، نفی اور اثبات کا اجتماع ٹھیک نہیں۔‘‘
’’ میرا ایک مخصوص زاویۂ فکر ہے جو طنز و سیاست کے امتزاج سے پیدا ہوتا ہے۔ ندرتِ ادا میرے نزدیک شعر کی جان ہے۔‘‘
’’ ہمارے شعرا ایران و مصر پر اس طرح نظمیں لکھ رہے ہیں جیسے گھر پر سب خیریت ہے۔‘‘
بحیثیت مجموعی شادؔ عارفی کی اہمیت اور عظمت سے کسی بھی دبستانِ ادب کو انکار نہیں ہو سکتا۔ شمس الرحمن فاروقی کا یہ قول صد فیصد صداقت کا حامل ہے:
’’ شادؔ کی طنزیہ غزل ہی نے جدید غزل کی راہ ہموار کی۔۔ شادؔ عارفی بہر حال ایک عہد ساز شاعر تھے، ان کے بعد آنے والے ہر شاعر، بالخصوص نئی غزل کے ہر شاعر نے ان سے اکتسابِ فیض کیا ہے۔
٭٭٭

Intezar Husain ki Safarnama Nigari by Dr. Abrar Ahmad

Articles

انتظار حسین کی سفرنامہ نگاری

ڈاکٹرابراراحمد

انتظارحسین اردوکے ایک ایسے ادیب ہیں جنھوں نے ادب کے جس میدان میں بھی قدم رکھااسے اپنی فنی اورتخلیقی مہارت سے ایک نئی سمت ورفتارعطاکی ہے۔وہ کثیرالجہت ادبی شخصیت کے حامل ہیں۔انھوں نے جہاں افسانہ ،ناول،ڈراما،خاکہ ،سوانح ،تراجم ، تنقید،خودنوشت اورکالم نگاری کے میدان میں اپنے فکری وفنی کمالات دکھائے ہیں وہیں سفرنامہ میں بھی ان کی خلّاقانہ مہارت ’’زمین اورفلک اور‘‘اور’’نئے شہرپرانی بستیاں ‘‘کے سفرناموں میں اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ رنگ جماتی نظرآتی ہے۔ان کے یہ سفرنامے مختلف ممالک کے نہ صرف تاریخی وسیاحتی مقامات کی سیرکراتے ہیں بلکہ ان کی تہذیبی ،معاشرتی اورادبی زندگی پرسیرحاصل بحث بھی پیش کرتے ہیں۔اس طرح سے انتظارحسین نے اردوسفرناموں کی قدیم بنیادی روایتوں کی حدبندیوں کوتوڑکراور فنی وموضوعاتی دونوں سطح پر نت نئے تجربات کرکے اپنی ایک منفردشناخت اورپہچان قائم کی ہے۔
’’زمین اور فلک اور ‘‘ انتظار حسین کے ان تین ہندستانی اسفار کا مجموعہ ہے جوانھوں نے مختلف سمیناروں اور متعددتقریبات میں شرکت کے لیے کیے تھے ۔اس مجموعہ میں شامل پہلاسفر انھوں نے حضرت نظام الدین اولیاکے عرس کی تقریب میں شرکت کے لیے کیاتھاجسے انھوں نے ’’مور کی تلاش ‘‘کے عنوان سے قلم بند کیاہے ۔اس سفر میں تقسیم ہند سے ذراقبل ،دہلی کی جوادبی وتہذیبی صورت ِحال تھی اس کو پیش نظر رکھاہے۔یہی وجہ ہے کہ وہ تقسیم ہند سے قبل کی دہلی کو تلاش کرتے ہوئے نظر آتے ہیں اورجب انھیں ان کے ذہن میں موجود تصویر کے مطابق دہلی نہیں ملتی تو وہ قدم قدم پر حیرت واستعجاب کااظہار کرتے ہیں ۔موجودہ دہلی میں انتظار حسین کوکوئی کشش اس لیے نظرنہیں آتی ہے کیو نکہ اس نے اونچی عمارتوں اورپررونق بازاروں کے چکرمیں اپنے ویرانوں ،درختوں اورپرندوں کو گم کر دیاہے۔ لہذاانھیں موجودہ ہندستان ماضی کے ہندستان سے کمتر معلوم ہوتاہے۔انتظار حسین نے جہاں قدیم تہذیب وثقافت کی گم شدگی پراپنی حیرانی ظاہر کی ہے وہیںبعض تبدیلیوں کی انھوں نے تعریف بھی کی ہے ۔
’’یہ اکیلی بستی نظام الدین ہی کی داستان نہیں ۔پوری دلی کااحوال یہی ہے ۔شادآباد ہونے کے شوق میں اس نے اپنے ویرانوں کوگم کردیاہے اوراپنے موروں کورخصت کردیاہے ۔ نئی دلی واہ واہ سبحان اللہ،وسیع شاہراہ ہیں پررونق بازار۔میں کناٹ پیلس کودیکھااورالف لیلہ کاابوالحسن بن گیا۔تقسیم سے پہلے والاکناٹ پیلس اب پھل پھول کر کتناشادآبادہوگیاہے۔‘‘۱؎
اس سفرنامہ کاایک اہم موضوع ادب اور ادیب ہے جہاں بھی انتظار حسین کوموقع ملاہے انھوں نے اس پر بھر پور طبع آزمائی کی ہے۔انھوں نے اردواورہندی کے ممتاز ادبا وشعرا سے ملاقاتیں کیں اورموجودہ علمی وادبی صورت حال پربات چیت بھی کی ہے۔خاص طور پر جدید ہندی شاعری کے حوالے سے جوباتیں کی ہیں وہ قابل توجہ ہیں ۔ہندی کے جدید شعرااور ان کی شاعری پر تنقید کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان کاعالم یہ کہ وہ اردومیں نظمیں لکھتے ہیں اور اسے کویتاکانام دیتے ہیں ان کی کویتامیں رسم الخط کے علاوہ کوئی بھی چیز ہندی کی نہیں ہے کہیں یہ اردورسم الخط کوبدلنے کی سازش تونہیں ہے ۔انتظارحسین جدید ہندی شاعری پر اپنی رائے کااظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’میں سنتارہاتھااورکڑھ رہاتھاکہ کوی لوگ اردوکی نظمیں لکھ کر لائے ہیں اوراسے ہندی بتارہے ہیں۔ یہی احساس مجھے اس وقت ہوا۔جب وشنوپربھاکر جی نے سرت بابوکی سوانح جوانھوں نے ’’آوارہ مسیحا‘‘کے نام سے لکھی ہے مجھے عطاکی ۔میں اسے جہاں تہاں سے پڑھ رہاتھااورسوچ رہاتھاکہ اس کتاب میں رسم الخط کے سواکون سی بات ہندی والی ہے۔توکیااردواپنے رسم الخط میں ہے۔‘‘۲؎
انتظارحسین نے اس سفرنامہ میں ترقی پسندادیبوں اورانقلابیوں کے دورخے پن پر خوب طنز کیاہے۔اور ساتھ ہی ان کی قلعی بھی کھولی ہے کہ وہ کس طرح انقلاب کے نام پر لوگوں کے ساتھ فراڈ کرتے ہیں۔انقلاب کانعرہ بلند کرتے کرتے کس طرح وہ عیش وآرام کی زندگی بسرکرنے کابندوبست کرتے ہیں ۔ دراصل یہ وہ لوگ ہیں جو صرف نعروں سے ہی سب کچھ حاصل کرنے پر یقین رکھتے ہیں جہاں جان کاخطرہ ہوتاہے وہاں سے وہ بھاگ لیتے ہیں۔اس طرح سے انتظار حسین نے ادیبوں کے مزاج سے قوم کے مزاج کومتعین کرنے کی کوشش کی ہے۔
’’میں نے سرسے پیرتک رہبر صاحب کودیکھا۔’’رہبر صاحب آپ ابھی تک جیل جاتے ہیں۔ ہمارے یہاں توانقلابی یہ عمر آنے سے پہلے ہی کوٹھی اورکار کے بندوبست میں مصروف ہوجاتے ہیں ۔‘‘ ۳؎
انتظار حسین زندگی کی تلخ وترش صداقتوں میں طنزو مزاح کاعنصر شامل کرکے ایسے پر لطف انداز میں بیان کرتے ہیں کہ وہ بھی شگفتہ معلوم ہونے لگتی ہیں۔لیکن اس سے طنزکی نشتریت میں اضافہ ہوجاتاہے۔وہ انور عظیم کومرکز بناکر ترقی پسندوں پرطنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’میں نے عرض کیا کہ انورعظیم صاحب کوئل ایک ہی ہوا کرتی ہے کہ اس کی اکیلی آوازہی سے فضابھرجاتی ہے۔بہت سے توکوّے ہواکرتے ہیں یاترقی پسند ادیب ہوتے ہیں ۔ویسے میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ میں اگر ہجرت نہ کرتاتوہندوستان کومیری ذات سے کیافیض پہنچتا۔یہی ہوناتھاکہ میں علی سردارجعفری سے ادب کی ہدایت پاکر دوسراانورعظیم بن جاتااورہندوستان کوایک کے بجائے دوانورعظیم برداشت کرناپڑتے ۔‘‘۴؎
’’پھر ایک دن یوں ہوا کہ پاکستانی زائرین کاپوراقافلہ درگاہوں،اورمقبروں کے سفر پرنکلاـــ۔حضرت بختیارکاکی کی درگاہ،حضرت چراغ دہلوی کی درگاہ،خواجہ باقی باللہ کی درگاہ،صفدرجنگ کامقبرہ،قطب صاحب کی لاٹھ ۔اورپھر ہماری بس اچانک برلامندر کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔میں نے منوبھائی کوٹہوکا،دیکھ رہے ہو ،پاکستانی زائرین مورتیوں کے درشن کریں گے۔‘‘۵؎
انتظارحسین نے ریوتی سرن شرماکے حوالے سے تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی ہندوتہذیب ومعاشرت ، بودوباش ،رہن سہن ،رسم ورواج غرضیکہ پوراگھریلوماحول و معاشرہ اوراس معاشرے کے بطن سے جنم لیتی ہوئی انسانی نفسیات اورطرزفکر کو بہت ہی خوبصورت انداز میں بیان کیاہے ۔انھوں نے تین عہد کو چند سطورمیں اس خوش اسلوبی سے بیان کیاہے کہ وہ عہد ہماری نظروں کے سامنے جی اٹھتاہے۔
’’خیر اب میں سرلاکی بدولت پتل یگ سے نکل آیاتھااورتھال کٹوری یگ میں سانس لے رہاتھااوراب میں تھال کٹوری یگ سے بھی نکل آیاہوں اورڈنر ٹیبل کے زمانے میں ہوں ۔ریوتی کے گھر میں زمانہ بالکل بدل چکاہے۔ڈرائینگ روم کے برابر ایک ڈائننگ روم ہے۔ہم ڈائننگ ٹیبل پربیٹھ کرپوری پراٹھے کھارہے ہیں ۔میز پر کوئی تھال کوئی کٹوری نہیں ہے۔ہمارے سامنے چینی کے پلیٹ ہیں۔‘‘۶؎
انتظارحسین نے اس سفرنامہ میں دہلی اورنواح دہلی ،آگرہ اورفتح پورسکری کے تاریخی وادبی مقامات کی سیاحت سے ہندستان کی تہذیبی ،ثقافتی اورادبی تاریخ کواجاگر کرنے کی کوشش کی ہے ۔اور ساتھ ہی وہ اپنی یادوں کے سہارے ہندستان کے ان نقوش اورتصاویر کوبھی پیش کرتے ہیں جنھیں ماضی کی گرد نے دھندلاکردیاہے۔ماضی کوبیان کرتے ہوئے وہ حال پر حیرت وافسوس کااظہارکرتے ہیں جس سے سفرنامہ میں ایک اداسی کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔
اس مجموعہ میں شامل دوسرااورتیسراسفر انھوں نے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے سمیناروں میں شرکت کی غرض سے کیاتھا۔دوسراسفر انھوں نے ۱۹۸۰ء میںــ’’ مختصر افسانہ سمینار ‘‘ کی تقریب میں شرکت کی غرض سے کیا جسے انھوں نے ’’بندر کی دم ‘‘ کے عنوان سے لکھا اورتیسراسفر ۱۹۸۳ء میں ’’میرسمینار‘‘ کی تقریب میں شرکت کے لیے کیاتھا اسے انھوں نے ’’زمین اور فلک اور ‘‘کے زیر عنوان بیان کیاہے ۔ان دونوں سفرناموں میں انتظارحسین پر حیرت واستعجاب کے بجائے رنج وملال کی کیفیت طاری نظرآتی ہے ۔وہ جہاں بھی جاتے ہیں وہاں کی موجودہ صورتِ حال کو دیکھ کرماتم کناں ہوجاتے ہیں کہ وہ کیسے کیسے لوگ تھے اورکیاکیامناظر تھے جونظروں سے اوجھل ہوگئے۔ ان کاکہناہے کہ قدیم تہذیبوں اوراس سے وابستہ لوگوں کے گم ہونے سے صرف لوگوں کے چہرے ہی نہیں بدلے ہیں بلکہ ان لوگوں کے جانے سے زندگی کے تمام شعبے متاثر ہوئے ہیں، یہاں تک کہ کھانے پینے کی اشیابھی اس سے متاثر ہوئے بنانہ رہ سکیں ۔ یہی وجہ کہ لکھنؤکی ربڑیوں اورکھانوں میں اب وہ لطف نہیں رہاجوپہلے ہواکرتاتھا۔لکھنؤکی ربڑی اب گلے میں اٹکنے لگی ہے ۔یہی حال ناگپور کے سنترے اوربنارس کے رس گلوں کاہے کہ اب ان میں رس باقی نہیں ہے وہ بے رس ہوچکے ہیں :
’’پہلی سی بات اب کہاں رہ گئی ہے ۔سندیلہ میں لڈوئوں میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی ۔چوک لکھنؤمیں ربڑی میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی ۔ناگپور میں سنتروں میں وہ پہلی سی بات نہیں رہی ۔ ذائقے زوال میں ہیں ۔زمانے سے برکت اٹھ گئی ۔سب صنعتی عہد کی برکتیں ہیں صاحب!‘‘۷؎
اسی طرح لکھنؤ کے انواع واقسام کے کھانے کاذکرکرتے ہیں اورداددیتے ہیں لیکن جب ان کی نظر موجودہ لکھنؤچوک پر پڑتی ہے تووہ غمگین ہوجاتے ہیں اور افسوس کرتے ہیں کہ نادان اب اس لکھنؤ کااوراس کے اس رنگ ڈھنگ کوڈھونڈنا نادانی ہے باعث پریشانی ہے ۔وہ رنگ ،وہ ذائقے ،وہ خوشبوئیں اور وہ پری چہرہ لوگ جن سے لکھنؤکبھی عبارت تھااب خواب وافسانہ ہے ۔سو اپنے ہوش کی دواکر اور اسی کو حقیقت جان کہ اب اصل لکھنؤیہی ہے۔
’’لیجئے اب اور ہی طرح کی خوشبوئوں کی لپٹیں آنے لگی ہیں کہ زبان اور تالوکے بیچ کیسے کیسے ذائقے بھربھرانے لگتے ہیں۔ہوائی چپاتیاں ،ورقی پراٹھے اٹھارہ ورق ’’لیجئے اب اور ہی طرح کی خوشبوئوں کی لپٹیں آنے لگی ہیں کہ زبان اور تالوکے بیچ کیسے کیسے ذائقے بھربھرانے لگتے ہیں۔ہوائی چپاتیاں ،ورقی پراٹھے اٹھارہ ورق والے ،پستہ بادام کی تہ دی ہوئی پوریاں، انناس والامزعفر ،نارنجی زردہ ،شش رنگا،یاقوتی مٹی کی ورقی ہنڈیوں میں لگی ہوئی ۔مگر میری آنکھیں میرے ساتھ دغاکرتی ہیں ۔انھیں نقشہ اورنظرآتاہے ۔اے نادان ،اپنی آنکھوں پراعتبار کر۔ توکونسے چوک کاتصور لے کر یہاں آیاہے۔وہ چوک جنھوں نے دیکھاان کے لیے اب وہ خواب ہے۔ جنھوں نے سناان کے لیے افسانہ ہے ۔نہ وہ رنگ نہ وہ ذائقے نہ وہ خوشبوئیں نہ وہ پری چہرہ لوگ نہ وہ نگر سرمہ سا۔بلاخانے ویران ہیں۔ع،:خاک میں کیاصورتیں ہوں گی کہ پنہاں ہوگئیں‘‘۸؎
انتظارحسین ان اسفار کے دوران ہندستان کے مختلف تہذیبی شہروں جیسے دہلی، لکھنئو،علی گڈھ ،الٰہ آباد،بنارس ،پٹنہ ،بمبئی ،اورنگ آباد،حیدرآباداور جے پوروغیرہ کاسفرکرتے ہیں ۔اور ان تمام شہروں کے تہذیبی زوال پر افسوس کااظہار کرتے ہیں کہ یہ شہر کیاتھے اور اب یہ کیاہوگئے ہیں ۔انھوں نے ان قدیم شہروں کی پراگندگی اورانتشار کوموازانہ ومقابلہ کی تکنیک سے اس طرح پیش کیاہے کہ ان کی پراگندگی مزید بڑھ جاتی ہے ۔انتظارحسین لکھنئو کے تہذیبی تغیر وتبدل کوکچھ انداز سے بیان کرتے ہیںـ:
’’مگر وقت تیزی سے گزررہاہے ،بد ل رہاہے ۔چودھرائن کی عمر ڈھلتی جارہی ہے اور لکھنئوکے رئوساشرفاکااقبال گہنارہاہے۔تعلقہ داروں کے ٹھاٹ باٹ ختم ہورہے ہیں ۔چودھرائن کی محفل میں درہمی پیداہوتی چلی جارہی ہے ۔مگر وہی ٹھساوہی اللّے تللّے حویلی رہن رکھی جاتی ہے ۔اب اس حویلی سے ایک خوشبورخصت ہورہی ہے دوسری خوشبوآرہی ہے ۔ڈیرہ دارنیاں گئیں۔چودھرائن ، بڑی چودھرائن ،چوٹی چودھرائن ،گھرانے کی آخری کلی رشک منیر ،سب چہک مہک کر رخصت ہوئیں۔ اب اصغر علی محمد علی اپنی خوشبوئیں لے کر یہاں براجمان ہوتے ہیں ۔مگرجب وہ خوشبونہ رہی تویہ خوشبوکیسے رہ جائے گی ۔عطریات کازمانہ بھی تووہی تھا۔اصغر علی محمد علی کے عطر تھوڑے عرصے خوب چلے۔مگر اب یہ عمارت مقفل پڑی ہے ۔پہلے وہ جومہکتے تھے اوردوائے دل بیچتے تھے رخصت ہوئے۔اب وہ بھی جن کے عطر کی مہک دوردورتک گئی تھی یہاں نظرنہیں آتے ۔‘‘۹؎
انتظار حسین نوابوں اور مغلوں کی تہذیب وثقافت کوبہت عقیدت مندی کی نظر سے دیکھتے ہیں اس لیے وہ اس تہذیب کے زوال کوکرب وحسرت کے ساتھ پیش کرتے ہیں اوراس کے زوال پر افسوس بھی کرتے ہیں ۔لیکن اس تہذیب نے اوراس کی چمک دمک نے کتنے عام لوگوں کی زندگیوں کوبے نور اوربے رونق کیاتھااس کی طرف ان کی نظر کبھی نہیں جاتی ہے ۔وہ اس تہذیب کی قصیدہ خوانی کرتے کرتے کبھی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ انسانوں کومختلف طبقوں میں بانٹ دیتے ہیں انھیں یہ بات پسند نہیں کہ عام آدمی ہاتھی کی سواری کرے ،یہ ان کو ہاتھی کازوال نظرآتاہے ۔ہاتھی کاعروج ان کوبادشاہوں کے یہاں نظر آتاہے حالانکہ ہاتھی کازوال تواسی وقت شروع ہوگیاتھاجب انسان نے اسے جنگل سے لاکے اپنے کھونٹوں سے باندھ دیاتھا۔
’’میں نے ہاتھی کے حال پر ایک افسوس اس وقت کیاتھاجب دلی میں جامع مسجد اورلال قلعہ کے بیچ ایک ہاتھی کولکھنئوکے کرتوں کااشتہاری بنے دیکھاتھا۔ایک افسوس اس وقت کیاجب جے پورکے قلعہ میں ہاتھیوں کوایراغیراسواریوں کوڈھوتے دیکھا۔ہندستان ترقی کررہاہے مگرہندستان کے ہاتھی پرزوال آچکاہے۔‘‘۱۰؎
انتظارحسین حیدرآباد کودیکھتے ہیں اورعش عش کراٹھتے ہیں کہ یہ شہر اب بھی اپنی آن شان اور بان کوبڑی حد تک برقرار رکھے ہوئے ہے ۔چارمینار ،مکہ مسجد،گولکنڈہ ،قطب شاہوں کے مقبرے یہ سب اس تہذیب و ثقافت کی نشانیاں ہیں جوبزبان حال ان بادشاہوں کی عظمت وسطوت کوبیان کررہی ہیں کہ وہ کتنے عظیم اوربلندمرتبت لوگ تھے ۔انتظار حسین سالار جنگ میوزیم کودیکھ کر رشک کرتے ہیں کہ یہ نوادرات تنہا ایک شخص کی کاوشوں کانتیجہ ہیں۔کاش کوئی پاکستان میں بھی اس جذبہ سے سرشارہوتاتووہاں بھی ایک شاندارمیوزیم وجودمیں آسکتاتھا۔
’’سالارجنگ میوزیم بھی دیکھا۔واہ واہ سبحان اللہ یہاں امرائووروسااس طرح کے ہواکرتے تھے ۔ یہ ایک شخص کے جمع کیے ہوئے نوادرات ہیں ۔کچھ باپ داداکے ،زیادہ اپنے کہ انہیں آراستہ کیاگیاتوہندوستان کاایک نمائندہ میوزیم وجودمیں آیا۔کاش پاکستان کے امرائووروساپربھی سالارجنگ یاکسی ایسے ہی نواب کاپرچھاواں پڑجاتا۔‘‘۱۱؎
اسی طرح بمبئی شہر کی گنجان آبادی ،تنگ وطویل گلیاں ،فلک بوس عمارتیں اوران عمارتوں میں کلبلاتی زندگیوں کی انتظارحسین نے کچھ اس اندازسے تصویرکشی کی ہے کہ بمبئی شہر اپنی تمام ترخوبیوں اورخامیوں کے ساتھ ہماری نگاہوں کے سامنے گھومنے لگتاہے۔بڑھتی ہوئی بمبئی کی آبادی اورتنگ ہوتی زمین نے آج کے اس ترقی یافتہ دورمیں بھی انسانوں کوکیسے ایک بار پھر سے غاروں میں رہنے پر مجبورکردیاہے۔بمبئی کی تنگ گلیاں اوراس میں بنے فلیٹ کسی غار سے کم نہیں ہیں ۔انتظار حسین بمبئی شہر کی زندگی کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’بمبئی کونیاشہر کس نے کہا۔مجھے تووہ انسانی تہذیب سے پہلے کاشہرنظرآیا۔آدمی نے غاروں سے’’بمبئی کونیاشہر کس نے کہا۔مجھے تووہ انسانی تہذیب سے پہلے کاشہرنظرآیا۔آدمی نے غاروں سے نکل کر بستیاں بسائیں۔شہرآبادکئے ۔حویلیاں تعمیر کیں۔بمبئی پہنچ کر وہ واپس غاروں میں چلاگیا۔بمبئی غاروں کاشہر ہے ۔غارنئی طرز کے ہیں ۔انہیں فلیٹ کہاجاتاہے۔ساراشہر فلک بوس غاروں سے پٹاپڑاہے اورآدم لوگ سے لبالب بھراہے۔غارہی غار۔لوگ ہی لوگ ۔غاروں سے نکلتے ہوئے ،غاروں میں داخل ہوتے ہوئے ۔مجھے اس شہر سے بہت خوف آیا۔قدم قدم پہ کھٹکالگارہتاکہ کہیں ساتھیوں سے بچھڑنہ جائوں ۔بچھڑااورکھویا۔‘‘۱۲؎
انتظارحسین نے مذکورہ بالاشہروں کے ممتازاردواورہندی کے ادیبوں وشاعروں سے ملاقاتیں کی اور ان سے ادبی وعلمی مسائل وموضوعات پر گفت وشنید بھی کی ،ساتھ ہی اردواورہندی کی موجودہ صورتِ حال پر تبادلہ خیال بھی کیا۔اس ضمن میں ہندی کہانی کاروں اور ان کی کہانیوں پر جوبات چیت ہوئی وہ خاص طورپر قابل ذکر ہے۔انتظار حسین پریم چند کے چھوٹے صاحبزادے امرت رائے کی ہندی کہانی پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’امرت رائے اپناافسانہ لے کر آئے ہوئے تھے ۔امرت رائے ہندی کے لیکھک ہیں ۔میں مستعد ہوبیٹھاکہ چلوایک محفل ایسی بھی ہوئی جس میں میں ہندی کاافسانہ سنوں گامگر عجب ہندی تھی ۔میں منتظر ہی رہاکہ کوئی فقرہ کوئی مکالمہ ایساآئے کہ میں اسے ہندی جانوں ۔آخر میں میں نے طے کیاکہ یہ اردوافسانہ تھاجوہندی میں لکھاگیا۔‘‘۱۳؎
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ’’زمین اورفلک اور ‘‘اردوکاایک اہم اور قابل قدر سفرنامہ ہے ۔اس سفرنامے میں ہندستان کی ادبی، تہذیبی اورثقافتی زندگی کو ایک نئے تناظر میں دیکھنے کی کوشش کی گئی ہے ۔اس سفرنامے میں انتظار حسین ایک گم شدہ زمین اورآسمان سے دوبارہ ملاقات کے آرزومند ہیں۔ اسی لیے موجودہ ہندستان میں انھیں کوئی کشش اوردلچسپی کی بات نظرنہیں آتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ قدم قدم پر ماضی کے ان نقوش کوتلاش کرتے ہیں جو ان کی یادوں میں محفوظ ہیں ۔اس سفرنامے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس میں انتظار حسین نے تاریخی مقامات ،مقابر،عمارتوںاورغاروں کے تذکرے میں اپنے تاثرات کے ساتھ ساتھ تخیلات سے بھی جابجاکام لیاہے ،جن میں کثرت سے دیومالائی حوالے ملتے ہیں ،جس سے آگہی کے نئے منظر نامے روشن ہوتے ہیں ۔اس سفر نامے کی سب سے خاص بات اس کااسلوب اورانداز بیان ہے جو اپنے اندر ایک نوع کی جاذبیت لیے ہوئے ہے۔انتظار حسین اپنے داستانوی اوردیومالائی اسلوب سے اس سفرنامے میں ایک ایسی فضاتعمیرکرتے ہیں کہ قاری اس فضاکے سحر میں کھوجاتاہے ۔یہ انتظارحسین کے فن کی ایک ایسی خوبی ہے جوانھیں دوسرے سفرنامہ نگارو ں سے منفرد وممتازبناتی ہے ۔
’’نئے شہر پرانی بستیاں ‘‘انتظار حسین کے ان اسفارکامجموعہ ہے جوانھوں نے مختلف اوقات میں متعدد پروگراموں میں شرکت کے لیے ہندستان ،برطانیہ ،ایران اورنیپال جیسے ممالک کاسفرکیاتھا۔ اس سفرنامے میں انھوں نے مذکورہ بالاممالک کے متعددتہذیبی وثقافتی شہروں کی روداد سفر کوپیش کیاہے۔اس سفرنامے کو پہلی بار۱۹۹۹ء میں سنگ میل پبلی کیشنزلاہورنے زیورِطباعت سے آراستہ کرکے قارئین کے لیے کتابی شکل میں شائع کیاتھا۔یہ ۱۶۸ صفحات پر مشتمل ہے۔اس سفر نامے میں سات عناوین قائم کیے گئے ہیں جن کے تحت ان اسفارکی روداد کوبیان کیاگیاہے جوبالترتیب اس طرح سے ہیں۔’’نئے شہر میں پرانا آدمی ‘‘ ، ’’نیاتیرتھ‘‘،’’جمناسے کاویری تک‘‘،’’ایک پھیرا ایران کا‘‘،’’مندروں کے نگر میں ‘‘،’’اردودیارہند میں ‘‘ ، ’’پورب گئے پچھم گئے‘‘۔
’’نئے شہر میں پراناآدمی‘‘یہ سفرنامہ نہیں بلکہ یہ ایک مضمون ہے جسے انتظارحسین نے اردومرکز لندن کی تقریب میں اظہارتشکرکے طورپرپڑھاتھا۔اس مضمون میں انھوں نے سفر کی اہمیت وافادیت کوبیان کرتے ہوئے یورپ کے آج کے سفر اورپہلے کے اسفارکے درمیان کیافرق ہے اس پرروشنی ڈالی ہے ۔پہلے لوگ انگریزی زبان کوتمام علوم کی کنجی سمجھتے تھے اورمغربی تہذیب کوترقی کی سیڑھی گردانتے تھے۔ لہذااس نقطۂ نظر کے ساتھ وہ اس شہر کاسفرکرتے تھے اور ان کے سفر کامقصد انگریزی زبان سیکھنا ہوتاتھااس لیے وہ اس شہر کی تہذیب وثقافت سے مرعوب ہوجاتے تھے۔اور ان پر اس شہر کی تہذیب ومعاشرت کاایسااثر ہوتاکہ وہ اپنی ساری روایات بھول جاتے تھے۔اردوادب اوراردوکے ادیبوں پر ایک زمانے تک مغرب کی ادبی روایت اوران کے ادیبوں کااتنااثررہاکہ وہ اپنی ادبی روایات کوہی بھول گئے تھے اورنوبت یہاں تک پہنچ گئی تھی کہ کوئی اگر مغربی ادباوشعراکے ساتھ اردوکے کسی شاعریاادیب کانام لے لیتا تو پوچھنا پڑتا تھا کہ یہ بزرگ کیابیچتے تھے ۔ لیکن اب اس شہر کی حالت ذرامختلف ہے اب یہاں اردوزبان کابھی بول بالاہے ۔اورلوگ اس شہر کاسفر اردو سمیناروں اورمشاعروں میں شرکت کی غرض سے کررہے ہیں اس لیے اس شہر کااب وہ رعب داب نہیں جوپہلے ہواکرتاتھا۔اورنہ ہی جوائس ،لارنس اور ایلیٹ جیسے ادیب ہیں کہ جن سے لوگ رعب کھاتے تھے ۔سویہ شہر اب انتظارحسین کی قدامت پرستی پر کوئی اثر نہیں ڈال سکتاہے۔
’’نیاتیرتھ‘‘اس مجموعہ کاپہلا سفرنامہ ہے جس میں انتظارحسین نے لندن کی تہذیبی ،ثقافتی ،معاشرتی اورعلمی زندگی کابہت باریک بینی سے مشاہدہ کیاہے۔ انھوں نے لندن شہر کے حوالے سے یورپ کی مصنوعی اوربناوٹی زندگی کوپیش کیاہے کہ یہاں کے گلی کوچے،ہوٹل ، بازار،بس،گاڑیاں ،پارک،حیوانات ونباتات غرض یہ کہ ہر چیز صاف ، شفاف،دھلی منجھی اورچمچماتی نظرآتی ہے لیکن یہ چمک دمک صرف نظروں کادھوکاہے حقیقی زندگی بے نوراوربے رونق ہے۔ان کے تصنع کی انتہایہ ہے کہ یہاں فطرت بھی ایک ڈسپلن میں رہتی ہے ۔پرندے ایک مخصوص وقت ہی میں چہچہاتے ہیں ۔درخت اورجھاڑیاں ایک حد تک ہی بڑھ سکتی ہیں اگر حدسے تجاوزکیاتوکتردی جاتی ہیں ۔ پھولوں کاعالم یہ ہے کہ رنگ برنگ کے پھولوں سے علاقہ بھراپڑاہے ایسالگتاہے کہ پوراعلاقہ ایک پھلواڑی ہو، مگران پھولوں سے خوشبوغائب ہے ۔ مغرب کی زندگی بھی بالکل اسی طرح کی ہے کہ دورسے دیکھنے میں بہت خوش رنگ اورپرکشش معلوم ہوتی ہے لیکن قریب جائو توپتہ چلتاہے کہ زندگی رمق وحرارت سے خالی ہے ۔اس شہر میں انسان چلتا پھرتاربوٹ معلوم ہوتاہے جوجذبات واحساسات سے خالی ہے ۔صرف انسان ہی نہیں بلکہ پوراعلاقہ ہی مصنوعی وبناوٹی نظرآتاہے ۔اس سفرنامہ کاسب سے نمایاں پہلویہ ہے کہ انتظار حسین لندن شہر کی ہرچیز کوآنکھ بند کرکے قبول نہیں کرتے ہیں بلکہ اس پرتنقیدی نگاہ بھی ڈالتے ہیں ۔
’’سبحان اللہ کیاسبزہ وگل کانقشہ جماتھا۔ڈہڈہاتے پھول ۔یہ بڑے بڑے اوراتنے خوش رنگ۔ مگرخوشبوندارد۔وہ پوراعلاقہ بس سمجھو کہ باغ تھا۔مگروہ جواپنے یہاں باغ کانقشہ ہوتاہے کہ جس روش سے گذرتے ہیں خوشبوکی ایک لپٹ آئے گی اورآپ کے دل دماغ میں بس جائے گی۔ ورڈسورتھ کی فطرت میں رنگ ہی رنگ ہے ۔خوشبواس میں نہیں ہے۔ہاں سلیقہ اس میں بہت ہے۔ فطرت اوراتنی خوش سلیقہ۔‘‘۱۴؎
انتظارحسین لندن شہر کی صرف خامیوں کوہی بیان نہیں کرتے ہیں بلکہ اس میں جوخوبیاں ہیں اسے بھی لوگوں کے سامنے رکھتے ہیں ۔وہ لندن کی اس روایت سے بہت متاثر ہیں کہ اگر وہاں کے مکان میںکسی نے چند دن بھی بتائے ہیں، چاہے وہ ان کے ملک کاہویابیرون ملک کاوہ اس کی شناخت کوباقی رکھتے ہیں ۔بس اس کے نام کے سامنے اپنے نام کی تختی لگادیتے ہیں ۔اس طرح سے ایک ہی مکان میںبیک وقت کئی ناموں کی تختیاں لگی ہوتی ہیں ۔ اورکسی کواس سے کوئی پریشانی نہیں ہوتی ہے۔
’’یہ ہوٹل کیسنگٹن ہے ۔اس کے عین مقابل ایک مکان ہے جس پر سوبرس پہلے کے ایک مکین کی تختی لگی ہوئی ہے جس سے اڑتی اڑتی سی شناسائی ہماری بھی ہے ۔رابرٹ برائوننگ کہ ۱۹۸۹ء تک یہاں اس شاعر کاقیام رہا۔مطلب یہ کہ آخری سانس اسی گھر میں لیا۔مگراس ایک تختی پرکیاموقوف ہے ۔ایسے ناموں کی تختیاں اس شہر میں جانے کتنے گھروں پرلگی ہیں ۔مکان ایک ہے،مکین دودو۔ایک مکین وہ جواب قیام پذیر ہے۔ایک مکین وہ جس نے ایک زمانہ پہلے یہاں قیام کیاتھا۔تختی اس کے نام کی بھی لگی ہے ،اس کے نام کی بھی ۔تھوڑاعرصہ قیام کیاہے اورشخصیت پرائے دیس کی ہے توبھی کوئی مضائقہ نہیں ۔رسل روڈپرایک مکان میں قائد اعظم نے بس کوئی ڈیڑھ برس قیام کیاہوگا۔مگر مکان پر تختی لگ گئی ،ایم اے جناح ہائوس(۱۸۹۵ء)۔‘‘۱۵؎
اس سفر کے دوران انتظارحسین نے لندن کے مختلف تاریخی وسیاحتی مقامات کابھی مشاہدہ کیا۔نیشنل آرٹ گیلری ،برٹش میوزیم ،برٹش لائبریری ،اورینٹل کورنر،ہائیڈپارک،لیک ڈسٹرکٹ ،بی بی سی لندن اوروہاں آنے والے زائرین کودیکھااوران مشاہدات کو اپنے مخصوص انداز میں اس سفرنامہ میں پیش کیاہے ۔ساتھ ہی وہاں موجود اردوکے دانشوروں اورادیبوں سے ملاقات کی اوران سے اردوکے تعلق سے بات چیت بھی کی ۔جن شخصیات سے اس سفر میں انھوں نے ملاقات کی ان میںرضاعلی عابد،عبید صدیقی ،آصف جیلانی ،الطاف گوہر،افتخارعارف ، ڈاکٹرزہرااحسن،پروفیسرامین مغل ،تصدق حسین ،شبانہ محموداوربلوم فیلڈخاص طورپر قابل ذکر ہیں۔
اس مجموعہ کادوسراسفرنامہ ’’جمناسے کاویری تک‘‘ہے جس میں انتظارحسین نے ہندستان کے قدیم شہروں ،دہلی ، حیدرآباد ، کلکتہ ، بنگلور،میسوروغیرہ کاذکرکیاہے ۔انتظارحسین عام طورپر سیاسی مسائل اورسیاسی گفتگوسے اپنادامن بچاکر نکل جاتے ہیں لیکن اس سفرنامہ میں وہ سیاسی مسائل سے بچ نہ سکے ۔یہی وجہ ہے کہ بابری مسجد تنازعہ اوراس سے منسلک دوسرے مسائل بیچ بیچ میںاپنی جھلک دکھاتے نظرآتے ہیں ۔رامائنی تنازعہ بھی انھیں میں سے ایک ہے ، اس کاپس منظر یہ ہے کہ رامائن کے مختلف Versionجومختلف زمانوں اورمختلف علاقوں کے حوالے سے تاریخ میں ملتے ہیں جن میں رام اورسیتاکے کردارکومختلف رشتوں میں دیکھاگیاہے ۔کہیں بھائی اوربہن کے روپ میں اور کہیں پتی اورپتنی کے رشتے میں ،یعنی ہرVersionاپنی الگ کہانی بیان کرتاہے۔اس موضوع پر اس سفرنامہ میں تفصیل سے گفتگوکی گئی ہے ۔پروفیسر وجیندر شاستری جودہلی یونیورسٹی میں سنسکرت کے ہیڈآف دی ڈیپارٹمنٹ تھے وہ اس سلسلے میں کہتے ہیں ۔
’’اب رام جنم بھومی کاجھگڑاکھڑاہوگیا۔مجھے کچھ سمجھ آتی نہیں ۔پھرآہستہ سے ٹکڑالگایا۔پتہ نہیں رام جی پیداہوئے بھی تھے یانہیں ۔‘‘۱۶؎
کنڑ زبان کے مشہورناول نگار اننت مورتی جی بابری مسجد کے پورے مسئلے کومدنظررکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تاریخی واقعات کو اس کے پورے تاریخی پس منظر میں رکھ کر دیکھناچاہیے تبھی ہم کسی صحیح نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں ورنہ ہم تضادات کے ایسے نرغے میں گھر جائیں گے کہ وہاں سے واپسی ناممکن ہوجائے گی۔
’’لوگ تاریخ کوآج کے حساب سے پڑھتے ہیں ۔وہ بادشاہ جوکچھ کررہے تھے اسے اسی زمانے کی سیاست کے پس منظر میں دیکھناچاہیے پھرکوئی ایک بات لے لیتے ہیں ۔باقی بات چھوڑدیتے ہیں ۔ یہ صحیح ہے کہ اورنگ زیب نے بنارس میں مندر ڈھاکرمسجدتعمیر کی۔مگریہ بھی صحیح ہے کہ بنارس یونیورسٹی کے بیچ ایک لاٹھ کھڑی ہے جس پراورنگ زیب کاایک حکم نامہ کندہ ہے ۔حکم نامہ یہ ہے کہ کسی مندر کوڈھانے کی کوشش نہ کی جائے ۔ٹیپوسلطان بہت غیرمتعصب اورروشن خیال حکمران تھا۔مگریوںبھی ہواکہ ایک وقت میں اس نے ہندوئوں کوزبردستی مسلمان بنانے کی کوشش کی ۔یہ اصل میں اس وقت کی سیاست تھی۔‘‘۱۷؎
اسی طرح دہلی کی سیاسی صورتِ حال پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ دہلی میں مسلم علاقوں میں جوبدحالی ،بدنظمی اورگندگی پائی جاتی ہے اس کے وہ خودذمہ دارہیں ۔کیونکہ جامع مسجد کے علاقے کی صفائی مہم کے بعد انھوں نے جس ردعمل کااظہار کیااس کے بعد کوئی بھی حکومت ان علاقوں میں کسی بھی طرح کے مثبت اقدام اورترقیاتی کام کرانے کی زحمت نہیں کرے گی کہ وہ کام بھی کرائے اورووٹ سے بھی ہاتھ دھوبیٹھے ۔ چنانچہ اب جوان علاقوں کی حالت ہے وہ اسی ردعمل کانتیجہ ہے۔
’’اس صفائی کے خلاف جوہنگامہ ہواتھااس کااحوال مجھے بتاتے ہوئے کہنے لگا،پتہ ہے اب کیاہوگا۔کوئی حکومت مسلمانوں کے علاقوں کی طرف توجہ نہیں دے گی ۔انھیں کیاپڑی ہے کہ وہ اپنے ووٹ گنوائیں ،بیشک مسلمانوں کے علاقےSlumبن جائیں۔مجھے لگاکہ دلی کے مسلمانوں کی زندگی میں شاید اب وہ منزل آگئی ہے کیونکہ اس کے بعد میں نے حضرت نظام الدین اولیاکی درگاہ پربھی حاضری دی تھی اورمیں نے اس باراس کوچے کاحال بھی ابتردیکھا۔‘‘۱۸؎
انتظارحسین عام طورپر ہندستان کے شہروں کاجب ذکرکرتے ہیں توان کی نظراس شہر کے تہذیبی ومعاشرتی زوال پرجاکے ٹھہرجاتی ہے اور وہ اس شہر کے زوال کا نوحہ پڑھناشروع کردیتے ہیں۔لیکن اس سفرنامہ میں ان کارویہ کچھ بدلاسانظر آتاہے ۔وہ حیدرآباد،بنگلوراورمیسور کاذکرکرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بنگلورتوباغوں کاشہر ہے ۔ہرطرف ہریالی ہی ہریالی ہے ۔سبزہ نے پورے شہر کواپنی لپیٹ میں لے رکھاہے ۔ دہلی اورکلکتہ کی طرح اس شہر میں پالوشن ،بھیڑبھاڑ،شورغل بالکل نہیں ہے ۔انتظار حسین کوان شہروں کی آب وہوااورآبادیوں کاتناسب بہت پسندآیا۔ان شہروں کودیکھ کر وہ بے حد خوش ہوئے کہ ہندستان میں اب بھی ایسے شہر ہیں جوآلودگی اورٹریفک کی اودھم سے پاک ہیں ۔انتظارحسین نے ان شہروں کے تاریخی ،تہذیبی ، مذہبی اورادبی مقامات واداروں کی سیاحت بھی کی،خاص طور حیدرآباداورمیسور کے میوزیم ،مقابر ،مساجد اورمزاروں کی زیارت کی اوراس سے بہت متاثر ہوئے ۔ ان کامانناہے کہ حیدرآباد لٹ کر بھی اپنے دامن میںبہت کچھ لیے ہوئے بیٹھاہے۔صرف حیدرآبادہی نہیں بلکہ یہ تینوں شہر آج بھی اپنی تہذیبی شناخت کو بڑی حدباقی رکھے ہوئے ہیں ۔وہ میسورشہر کی سرسبزی وشادابی کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’مصفاکوچے ،منزہ ہوا۔نہ گرد،نہ دھواں،نہ ٹریفک کاشور۔یعنی ہرقسم کی آلودگی سے پاک۔خوب شہر ہے ۔صندل سے مہکتاہے،درختوں سے بھراہے۔میسورکی دوچیزیں خاص طورپر مشہورہیں، صندل اورسلک ،جابجاصندل کی لکڑی کے کاریگراپنی کاریگری کی دکان سجائے بیٹھے ہیں ۔ان کی دکان میں قدم رکھو،صندل کی خوشبومیں بس جائوگے ۔بزازوں کی دکانوں میں جائو۔تھان کھول کھول کرسلک کی رنگ رنگ ساڑھیوں کے انبارآپ کے سامنے لگادیں گے ۔سوکوچۂ وبازارمیں گہماگہمی ہے مگربڑے شہروں کے بازاروں والااودھم نہیں ہے۔‘‘۱۹؎
اس سفر میں انتظار حسین نے اردواورہندی کے ادیبوں وشاعروں کے علاوہ کنڑزبان کے ادیبوں سے بھی ملاقات کی ۔انھوں نے دکن میں اردوکی بہتر حالت کودیکھ کر کہاکہ دہلی ،یوپی اوربہار میںاردوخوب پھولی پھلی۔اب ایسالگتاہے کہ ان علاقوں کوجوفریضہ انجام دیناتھاوہ دے چکے اب کسی اورعلاقے کے اوپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اردوکے گیسوئے برہم کوسنوارے سجائے ۔اوردکن اس ذمہ داری کواٹھانے کے لیے اپنے آپ کوتیار کررہاہے۔اسی کے ساتھ انھوں نے گم ہوتے ہوئے دکنی لہجے پر وہاں کے ادیبوں کی توجہ مبذول کرائی کہ آپ لوگ فخرتو قلی قطب شاہ پر کرتے ہیں اورسندکے طورپر ناسخ وآتش کومانتے ہیں۔زبان کودھونے مانجھنے کے چکر میں اردوکے نہ جانے کتنے زندہ لہجے گم ہوگئے۔ان کے علاوہ انھوں نے ہندستان کی مختلف جامعات کوبھی دیکھا،وہاں کے اساتذہ و طلباسے ادب کے تعلق سے بات چیت کی اوران کواپنی کہانیاں بھی سنائی۔جواہرلال نہرویونیورسٹی کی ایک ایسی ہی محفل کاذکرکرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’لیکن جے این یویعنی جواہر لال نہرویونیورسٹی کی محفل کاذکرکروں نہ کروں ،اس یونیورسٹی کا،نہیں اس کے اردگردکاذکر ضرورکروں گا۔یونیورسٹی اپنی جگہ،مگر مجھے اس کے اردگرد نے پکڑا۔اس یونیورسٹی میں میں نے پہلی بارقدم رکھاتھا۔لیجئے ہم کیمپس میں داخل ہوگئے۔کیمپس ۔یہ کیمپس ہے۔یہاں توجنگل پھیلاہواہے۔اورپہاڑیاں ہیں ۔انتظارصاحب ،یہ اراولی کی پہاڑیاںہیں جن کاذکرمہابھارت میں آیاہے۔میں نارنگ صاحب کی بات سنتاہوں اورحیران وششدر دیکھتاہوں۔ جنگل ،پہاڑیاں ،تویہ اراولی کی پہاڑیاں ہیں ۔پھریاں سے اندرپت کتنی دورہوگا۔ اوریہ موروں کی جھنکارکہاں سے آرہی ہے۔اراولی پہاڑیوں کے بیچ سے یااندرپت کے باغوں سے جہاں سداکوئلیںکوکتی اورمورجھنکارتے رہتے تھے۔مگریہ توسامنے یونیورسٹی کی عمارت کھڑی ہے۔اراولی پہاڑیوں کاجادوکافورہوا۔ہم یونیورسٹی میں داخل ہوتے ہیں جہاں ایک محفل کااہتمام ہے ۔ پروفیسرنامورسنگھ صدارت کریںگے۔میں افسانہ پڑھوںگا۔آگے وہی جوہواکرتاہے۔ طلبا، طالبات،پروفیسرحضرات،اکادکاباہرکامہمان۔کوئی مروت میںتحسین کاکلمہ کہے گا۔کوئی شایدسچے دل سے ۔پھرکچھ سوال۔میری طرف سے ان کے ٹوٹے پھوٹے جواب۔‘‘۲۰؎
’’ایک پھیراایران کا‘‘یہ سفر انتظارحسین نے انورسجاداوراصغرندیم سیدکی معیت میں جنوری ۱۹۹۰ء میںایک سمینارمیں شرکت کی غرض سے کیاتھا۔اس سفرنامہ میںانھوںنے ایرانی تہذیب ومعاشرت پراپنے تجربات ومشاہدات کی روشنی میں اظہارخیال کیاہے۔ اسلامی انقلاب کے بعد ایران میں کیاکچھ تبدیلیاں رونماںہوئیںاس پر بھی انھوںنے ایک طائرانہ نظرڈالی ہے۔وہ دومثالوں کے ذریعے سے وہاں ہونے والی تبدیلی کوپیش کرتے ہیں کہ اسلامی ایران میں صرف نسوانی آوازمیں موسیقی کوغیرمستحسن قراردے دیاگیاہے اسی طرح خواتین کربلاکوکرداروں کی صورت اسٹیج پرپیش کرنابھی ممنوع ہوگیا ہے ۔انھوں نے وہاں کے اہم تاریخی و مذہبی مقامات کی زیارت بھی کی ۔ اس سفرنامہ کوانتظارحسین نے ڈائری کی تکنیک میں لکھاہے ۔ایرانی بازاروں کی رونق کووہ اپنے منفرداسلوب و اندازسے بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’سامنے بازارہے کہ دورتک پھیلانظرآرہاہے۔چلوچل کرمشہد کابازاردیکھیں ۔چلتے چلتے ایک گلی میںمڑے۔گلی سے جونکلے توکیادیکھا۔ایک اورہی طرح کابازار۔زعفران کی خوشبومیں بساہوا،سرخ رنگ میں رنگاہوا۔بڑے بڑے طشت زعفران سے بھرے ہوئے۔چلوزعفران کوتوہم نے پہچان لیا۔مگربرابرمیں یہ جوشوخ قسم کاسرخ مال طشتوں میں سجارکھاہے یہ کیاہے۔ایرانی دوست نے بتایاکہ صاحب یہ زرشک ہے ۔پلائوبریانی میں پڑتاہے ۔اورلیجئے اسی بازار کے اندرایک اوربازارجیسے بڑے سے باغ میں سیرکرتے کرتے کوئی خوبصورت سی روش آجائے۔ خاکِ شفاکی سجدہ گاہیں،تسبیحیں ،رنگ رنگ کے نگینے ،قسم قسم کی انگھوٹھیاں ،چھوٹی چھوٹی زعفران کی پوٹلیاں ۔جیسے بازار نہ ہو،نمائش گاہ ہو۔‘‘۲۱؎
’’مندروں کے نگر میں‘‘اس سفرنامہ میں انتظارحسین نے نیپال کے مشہورشہر کاٹھمنڈوکے اردگردکے پس منظراوراس کے تاریخی ومذہبی مقامات اوران مقامات سے جڑی روایات اورحکایات کوپیش کیاہے۔ انھوں نے اس سفر نامہ میں دیومالائی کہانیوں کاجابجااستعمال کیاہے ۔اس کی وجہ یہ ہے کہ کاٹھمنڈومندروں کاشہر ہے۔ یہاںلوگوں کے رہنے کے لیے جتنے گھرنہیںہیں اس سے کہیں زیادہ مندر ہیں ۔یہاں لیجنڈاوردیومالاکی بہتات ہے ۔ہرشے اورہر مندرکے ساتھ کوئی نہ کوئی دیومالائی کہانی یالیجنڈچمٹی ہوئی ہے۔جس مندرمیں قدم رکھئے وہ اپنے آپ میں ایک دیومالائی جہان معلوم ہوتی ہے ۔مندروں میں نصب مورتیاں اوران سے منسوب مختلف داستانیں گویا کاٹھمنڈو شہر شہرنہ ہوکوئی دیومالائی جہان ہوجس میںانتظارحسین گھوم پھر رہے ہیں۔وہ اس شہرکی ہرشے کوحیرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اوربیان کرتے ہیں :
’’تھوڑاآگے چلواورکماری کودیکھ لو۔جیتی جاگتی ننھی دیوی ۔یہ ننھی دیوی کون ہے۔یہ اٹھارویںصدی کے بیچ کاواقعہ ہے ۔راجہ جے پرکاش مل نیپال میں راج کرتاتھا۔ایک رات عجب گھڑی آئی کہ رانی نے اعلان کرڈالاکہ میں جگت ماتاہوں ۔راجہ نے شردھاسے سرجھکادیا۔لیکن اگلے دن اس نے ایک ننھی لڑکی کودیکھاکہ اسی لہجہ میں اعلان کررہی تھی کہ میں جگت ماتاہوں ۔راجہ کواس پرسخت غصہ آیا۔حکم دیاکہ یہ لڑکی شہر سے نکل جائے ۔لیجئے نکل گئی ۔مگراگلے دن کیاہوا۔راجہ کواحساس ہواکہ اس سے کوئی بڑاپاپ ہوگیاہے ۔لڑکی کوجھٹ پٹ بلوایااوربھرے دربارمیں اس کے آگے ماتھاٹیک دیا۔حکم دیاکہ ہمارے راج محل کے پاس اس کے لیے شاندارگھرتعمیرکیاجائے۔ ننھی لڑکی کواس میں رکھاگیا۔سال کے سال تیوہارمنایاجاتااورراجہ ننھی جگت ماتاکے سامنے سیس نواتا۔‘‘۲۲؎
انتظارحسین نے یہ سفرایک ورک شاپ میں شرکت کے لیے کیاتھاجس کو اکسفورڈ(ایشین کلچرل فورم آن ڈیویلپمنٹ)اورنیٹ ورک کلچر(ایشیا)نے منعقد کیاتھا۔اس کامقصد مذہبی بنیادپرستی کی مذمت اورفرقہ وارانہ ہم آہنگی کوفروغ دیناتھا۔دراصل بابری مسجد کے انہدام نے سیکولرذہن کے لوگوں کی روح تک کوہلادیاتھا۔انھوں نے بہت غوروفکر کے بعد یہ پروگرام طے کیاکہ کیوں نہ ہم تاریخ ،آرٹ ، ادب کے حوالے سے اپنی روایات کودیکھیں اوران کی روشنی میں سمجھنے کی کوشش کریں کہ ہماری روایت کیاہے اورہم کدھر جارہے ہیں ۔ اننت مورتی جی اس ورک شاپ کے مقصدکی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں :
’’دوستوسچی بات یہ ہے کہ بابری مسجد کے انہدام کاواقعہ ہماری روحوں میں گہرااترگیاہے۔ایک مسجد منہدم نہیں ہوئی ۔اس کے ساتھ بہت کچھ ڈھے گیاہے۔مسلمان صوفیوں اورہندوجوگیوں نے مل کر جومشترکہ سمبلز تخلیق کئے تھے وہ بھی مسجد کے ساتھ ڈھے گئے ۔اب کیاکریں ۔مذہب کی نفی کاکوئی فائدہ نہیں ہے ۔مذہب کی نفی کرکے توچند ہی لوگ آپس میں مل پاتے ہیں ۔ہندستان ، پاکستان ،بنگلہ دیش میں یہ جوبہت سی خلقت بسی ہوئی ہے وہ تومذہب میںایمان رکھتی ہے۔ توکیاہم ہندواورمسلمان رہتے ہوئے آپس میں نہیں مل سکتے۔مسلمان مسلمان رہے، اورہندوہندورہے اورپھرملیں۔مذہب کی اس طرح کی قبولیت ہی سے سیکولرزم کوتقویت حاصل ہوگی ۔ممکن ہے بعض لوگوں کواس میں تضادنظرآئے ۔مگر مجھے اس میں کوئی تضادنظرنہیں آتا۔توآئیں سرجوڑکربیٹھیں اورسوچیں۔‘‘۲۳؎
اس ورک شاپ میں ہندستان ،پاکستان اوربنگلہ دیش کے نامورادیبوں ودانشوروں نے حصہ لیاجن میں اصغر علی انجینئر،غلام شیخ صاحب ،اننت مورتی ،گیتانجلی،کرشناسوبتی ،سدھیر،انتظارحسین ،جاوید بھٹی ،نیلم، حناقیصر،شومی وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔ان لوگوں نے اپنے اپنے اندازمیں اس پر کھل کر بحث کی ۔اس بحث کے بیچ بیچ میں تقسیم ہنداورسقوط مشرقی پاکستان کے سانحات کاذکر بھی آتاہے جس سے کچھ دیر کے لیے ماحول غمگین ہوجاتاہے۔ لیکن پھر کوئی دانشوراٹھتاہے اورلوگوں کی توجہ کومشترکہ تہذیب کی طرف مبذول کراتاہے۔ اس طرح سے یہ سفرنامہ صرف نیپال کے مندروں اوروہاں کے لوگوں کے مذہبی عقائد ورسم رواج کے بیان تک ہی محدودنہیں رہتاہے بلکہ اس میں۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی ،۱۹۴۷ء،اور۱۹۷۱ء کے واقعات کابھی ذکرکیاگیاہے جن کی وجہ سے اس کی حیثیت ایک تاریخی دستاویز کی ہوجاتی ہے ۔
’’اردودیارہندمیں‘‘اس میں انتظارحسین نے ہندستان میں اردوکی موجودہ صورت حال اور مستقبل میں اس کے امکانات کوبیان کیاہے ۔ان کامانناہے کہ اردوکوئی اینٹ مٹی کی عمارت نہیں ہے کہ جب جی میں آیاگرادیااوراس کی جگہ کوئی دوسری عمارت تعمیر کردی۔ اردوسخت جان اورزندہ زبان ہے اسے مٹاناآسان نہیں ہے بلکہ اب توہندستان میں اردوکاایک بالکل الگ ہی نقشہ نظرآرہاہے۔لوگ اب اردوکی سماجی وتاریخی حیثیت کوتسلیم کرنے لگے ہیں کہ اردوعوامی رابطہ کی زبان ہے۔ اس کے علاوہ اردوزبان کے اندر جوشیرینی ،نغمگی اورکشش ہے وہ بھی لوگوں کواپنی طرف کھینچ رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ غیراردوداں طبقہ بھی اس کی طرف کھچا چلا آرہاہے۔نئے ہندستان میںاردوکے سحر کایہ عالم ہے کہ ہندی کے ناشرین اردوکے شعراکے کلام اورافسانہ نگاروں کے افسانوں کوہندی میں منتقل کررہے ہیں ۔لیکن یہ نیالسانی عمل خوداردوکے لیے ایک بڑاچیلنج ہے ۔ اس فضااوراس نئے لسانی عمل میں کیااردواپنی شناخت کوباقی رکھ پائے گی یاتحلیل ہوجائے گی کچھ نہیں کہا جا سکتا ہے۔
’’پورب گئے پچھم گئے ‘‘اس سفرنامہ میں انتظارحسین نے لندن ،اوسلواوربرلن جیسے شہروں کی روداد سفرکو بہت ہی مختصر انداز میں بیان کیاہے ۔وہ ان شہروں کے بازاروں پارکوں اورمیوزیم وغیرہ کی صفائی ستھرائی اورنظم وضبط کودیکھ کربہت متاثر ہوتے ہیں اور ان کے ذوق سلیم کی داددیتے ہیں کہ انھوں نے کیاخوب شہر بسایاہے ۔ان کے شہر بستی اورجنگل کاآمیزہ ہیں ۔لیکن اس آمیزش میں بھی کوئی شتر بے مہارنہیں ہے کہ جوجدھر چاہے نکل لے۔ہر ایک چیز میں نظم وضبط پایاجاتاہے۔پاکستان کی طرح نہیں ہے کہ جنگل بڑھناشروع کیاتوشہرکونگل گیااورشہر بسناشروع ہواتوجنگل اوردرختوں کونگلنے لگا۔یورپ کامعاملہ یہ ہے کہ یہاں عمارتوں کے بیچ درخت اورپہاڑیاں اس طرح سے ہیں کہ یہ طے کرنامشکل ہے کہ شہر جنگلوں اورپہاڑیوں میں بساہے یاشہر کے اندر جنگل اورپہاڑیاںآگئی ہیں ۔وہ اوسلوشہر کی اسی خوبی کوبیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’اوسلووالوں نے طے کیاکہ ایساشہر بسائو کہ بستی اورجنگل کاآمیزہ ہو۔توخوب آمیزہ تیارکیا،ہرپہاڑی فلیٹوں اورگھنے درختوں کاملاجلاگلدستہ ہے ۔‘‘۲۴؎
مجموعی طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ انتظارحسین نے سفرناموں کی عام روش سے ہٹ کر اپنی ایک الگ راہ بنانے کی شعوری کوشش کی ہے۔انھوں نے اپنے سفرناموں میں تاثرات کے ساتھ ساتھ تخیلات سے بھی جابجا کام لیاہے ۔انھوں نے متعلقہ ممالک کی ثقافتی وتہذیبی حالات،علمی وادبی احوال کوصرف ظاہری آنکھوں سے دیکھنے پراکتفانہیں کیابلکہ اپنے تجربات اورمشاہدات کی روشنی میں اسے جانچاپرکھاہے اورپھر اسے تحریری شکل عطاکی ہے جس سے ان کے سفرنامے محض بصری مناظریاواقعات نہیں بلکہ تہذیب وثقافت کے مرقعے بن گئے ہیں ۔انھوں نے حال کوماضی کے تناظر میں پیش کرکے لوگوں کواس سے عبرت حاصل کرنے کی دعوت دی ہے کہ اگرعقل ودانش ہے تو ان واقعات سے سبق حاصل کرو۔انتظارحسین اپنے سفرناموں میں واقعاتِ سفر سے زیادہ کیفیاتِ سفر کوبیان کرتے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ ان کے سفرناموں میں تاثرات ،جذبات واحساسات اورذاتی ردعمل کااظہارکثرت سے ملتاہے۔اسلوب اوراندازبیان کے لحاظ سے بھی ان کے سفرنامے عام سفرناموں سے بالکل الگ اورمنفرد ہیں۔انھوں نے داستانوی اوردیومالائی اسلوب کااستعمال کرکے اردوسفرنامے کونئے اسالیب سے روشناس کرایاہے۔اس طرح سے انتظارحسین نے اپنے تخلیقی انداز سے اس صنف کارشتہ ادب کی دوسری اصناف سے جوڑدیاہے جن کے باعث ان کے سفرنامے فکشن کے بہت قریب نظرآتے ہیں ۔

حواشی
۱۔ انتظارحسین ،زمین اور فلک اور،ایجوکیشنل پبلشنگ ہائوس ،دہلی ،۲۰۱۲ء ،ص۱۱
۲۔ ایضاً، ص۱۶
۳۔ ایضاً، ص۱۴
۴۔ ایضاً، ص۳۱
۵۔ ایضاً، ص۲۸
۶۔ ایضاً، ص۱۹
۷۔ ایضاً، ص۱۴۲
۸۔ ایضاً، ص۱۱۰
۹۔ ایضاً، ص۱۱۲
۱۰۔ ایضاً، ص۱۱۳
۱۱۔ ایضاً، ص۱۵۳
۱۲۔ ایضاً، ص۶۳
۱۳۔ ایضاً، ص۷۶
۱۴۔ انتظارحسین ،نئے شہرپرانی بستیاں ،سنگ میل پبلی کیشنز،لاہور،۱۹۹۹ء،ص۲۸
۱۵۔ ایضاً، ص۱۹۔۱۸
۱۶۔ ایضاً، ص۸۶
۱۷۔ ایضاً، ص۷۱
۱۷۔ ایضاً، ص۷۱
۱۸۔ ایضاً، ص۴۲
۱۹۔ ایضاً، ص۷۷
۲۰۔ ایضاً، ص۴۹
۲۱۔ ایضاً، ص۱۰۹
۲۲۔ ایضاً، ص۱۴۳
۲۳۔ ایضاً، ص۲۲۔۱۲۱
۲۴۔ ایضاً، ص۱۶۰

Dr.Abrar Ahmad
Assistant Professor
Department Of Urdu, Arabic& Persian
Poona College of Arts Science & Commerce, Camp, Pune
Mobile. 855400863