MYSTICISM AND SCIENCE by Dr. Rasheed Ashraf Khan

Articles

تصوف اور سائنس

ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

زیر مطالعہ عنوان گفتگو یعنی ’’ تصوف اور سائنس‘‘ بظاہر مفکر یگانہ مہد ی افادی کے الفاظ میں ’’ گول چیز میں چوکھنٹی ‘‘ کے مترادف معلوم ہوتا ہے۔یعنی دو متضاد چیزوں کا یکجا ہونا یا بقول امام الہند مولانا ابولکلام آزادعلمی اصطلاح میں ’’اجتماع النقیضین‘‘ ۔ تصوف کا موضوع خالص روحانیت ہے جب کہ سائنس کا نقطۂ پرکار مادیت ہے۔ اگر ہم اپنے زاویۂ نظر کو عالی ظرفی ، وسیع النظری اور باریک بینی سے اپنی نگاہوں کے سامنے لائیں اور قدرے عمیق نظر سے دیکھیں تو ہم بھی شاید اس عالم طلائی کی خیالی دنیا کا جلوہ دیکھ سکیں گے جس کا نظارہ ایک انگریز شاعر نے اپنی شہرۂ آفاق نظمTHE ELDORADOمیں دکھایا ہے۔ یعنی اس کے تخیل نے ایک ایسا تصوراتی خاکہ پیش کیا ہے جہاں پورا شہر سونے میں نہایا ہوا تھا۔جہاںہر چیز سونے کی تھی۔ اس مثال کی مدد سے ہم نے یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ تصوف میں روحانیت کے ساتھ ساتھ کسی قدر مادیت بھی ہے اور سائنس خالص مادیت ہی نہیں بلکہ اس میں روحانیت کی آمیزش بھی ہے۔
تصوف کو انگریزی زبان میں Mysticism اور ہندی بھاشا میں رہسواد کہا جاتا ہے۔ دراصل یہ عربی اور فارسی زبان کا لفظ ہے ۔تصوف کی تاریخ ۱۴۳۶ سال پرانی ہے ۔اس زمانے میں صوفی پیدائشی نہیں ہوتے تھے بلکہ ان کا فطری رجحان قرآن کریم کو سننے سمجھنے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تقریروں اور سنتوں پر عمل کرنے کے باعث تعلیمات قرآنی میں ڈھل جانے کی وجہ سے ہوجاتا تھا ۔ سیدھی سادی زندگی ، دنیوی معاملات میں میانہ روی ، اقوال و افعال میں شفافیت ، عبادت الٰہی کا شغف ، اوامرونواہی کا احتساب، خوف الٰہی، اور حقوق العباد کا خیال اور جہنم سے نجات کا تصور یہ تمام باتیں ایک سچے صوفی کی پہچان تھیں ۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات تک بس اتنے ہی اصول تصوف کے تھے۔ البتہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابۂ کرام ، تابعین اور تبع تابعین تک ایک سچے صوفی کی مندرجہ ٔ بالا شناختیں کم وبیش قائم رہیں مگر افسوس کہ دائم نہ رہ سکیں۔ عشق الٰہی جو ایوان تصوف کا بنیادی پتھر تھا رفتہ رفتہ دنیاداری اور ریاکاری کی نذر ہوگیا۔ علامہ اقبال نے اس ملمع کاری کو اس طرح سے پیش کیا ہے:
رہنے دے جستجو میں ، خیالِ بلند کو
حیرت میں چھوڑ دیدۂ حکمت پسند کو
جس کی بہار تو ہو ، یہ ایسا چمن نہیں
قابل تری نمود کے ، یہ انجمن نہیں
یہ انجمن ہے کُشتۂ نظارۂ مجاز
مقصد تری نگاہ کا خلوت سرائے راز
ہر دل مئے خیال کی مستی میں چور ہے
کچھ اور آج کل کے کلیموں کا طور ہے
’’تصوف ‘‘ شروع شروع میں صرف ایک طریقۂ کار یا لائحۂ عمل تھا جس میں صرف عبادت وریاضت پر زیادہ زور دیا جاتا تھا اور اس کے احکام ومسائل سینہ بہ سینہ منتقل ہوتے رہتے تھے ۔ رفتہ رفتہ ان احکام و مسائل کو مختلف درجات یا مراحل میں تقسیم کیا گیا ۔ ان مراحل کی شرائط کی روشنی میں جو صوفی عمل پیرا ہوتا تھا تواس صوفی کو اصطلاح صوفیہ میں سالک ( بمعنی چلنے والا) طریقے کو (مسلک) راستہ اور مقامات کو منزل مانا جاتا تھا۔ اس ضمن میں خواجہ شمس الدین محمد حافظ شیرازی فرماتے ہیں:
بہ مَے سجادہ رنگیں کن ، گَرَت پیر مغاں گوید
کہ سالک بے خبر نہ بُوَد ز راہ رسمِ منزلہا
(یعنی اگر پیر مغاں تجھ سے یہ کہے کہ اپنے مصلے کو شراب میں ڈبو کر بھگا دو تو مجھے ایسا ہی کرنا چاہیے کیوں کہ تو راہ تصوف میں چلنے والا صوفی (سالک ) ہے جومنزلوں کے طور طریقوں سے بے خبر نہیں ہوتا )
جب تصوف عرب سے ہندوستان آیا تو یہاں صوفی مبلغین اسلام کی اچھی خاصی تعداد پیدا ہوگئی ۔جب علوم کی تدوین و کتابت شروع ہوئی اور اہل تصوف نے زہد ورع اور افعال واعمال پر محاسبے کے طور طریقوں پر کتابیں لکھیں جیسا کہ علامہ قشیری نے اپنے رسالہ میں اور شیخ سہر وردی نے اپنی مشہور کتاب ’’عوارف المعارف‘‘ میں لکھا ہے کہ بعض دوسرے اکابر صوفیہ آئے تو علم تصوف ملت اسلامیہ میں ایک مرتب اور مدّون علم کی حیثیت سے سامنے آیا۔
ہندوستان آنے کے بعد تصوف دو خاص حصوں میں بٹ گیا ۔ اسلامی تصوف و غیر اسلامی تصوف ۔ اسلامی تصوف کی بنیاد قرآن کریم ، سنت نبی ، احادیث صحیحہ اور صحابۂ کرام کے اقوال پر تھی جب کہ غیر اسلامی تصوف میں ویدانت اوربھکتی تحریک کے اصول شامل کردیے گئے۔ کرم، یوگ اور مایا کے ہندو نظریات تصوف میں دخیل ہونے کے بعد فلسفہ کی اس شاخ کو وسعت تو بے شک بڑھی اور ہزاروں ہندوؤں نے اسے اپنالیالیکن مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد تصوف کے اس روپ کو ناپسند بھی کرتے تھے ۔
صوفیاے کرام اور ان کی سائنسی بصیرت کے ضمن میں یہ نہ بھولنا چاہیے کہ آج سے صدیوں پہلے سائنسی ایجادات یا علوم سائنس کے طور طریقے نہ تو معلوم تھے اور نہ ان کی طرف کچھ زیادہ توجہ کی گئی تھی لیکن ہم لاشعوری طور پر ان سے واقف بھی تھے اور روزمرہ زندگی میں ان کا استعمال بھی ہوتا تھا ۔ مثال کے طور پر جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ علم العلمان علم الادیان و علم الابدان ، تو اس وقت آپ نے دو سائنسی علوم یعنی علم الٰہیات (Theology)اور علم الابدان (Physical Science)کی خصوصی اہمیت کا اعلان فرمایا تھا ۔ علم الٰہیات کے ذیل میں قرآن کریم مع جملہ علوم القرآن ، علوم الحدیث اور سنن رسول سبھی آجاتے ہیں ۔ اسی طرح علم الابدان، علوم معرفت الانسان (Physiology)علوم حفظان الصحت(Hygiene)بشریات (Anthropology)علم النفس(Psychology)نیز جملہ سماجی علوم(Social Science)اور ماحول کے تعلق سے جانداروں کے توضیحی مطالعہ (Ecology)کا مجموعہ ہے۔
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بذات خود شہر علم تھے لہٰذا مذکورہ ٔ بالا علوم سے کما حقہ واقف ہونا آپ کے لیے کوئی نئی بات نہ تھی۔بہر حال حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زبان مبارک سے اور پھر اپنی سنت کے ذریعے مسلمانوں کو مخاطب کرکے وقتاََ فوقتاََ سائنسی علوم سے آشنا کیا ۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات عالیہ احادیث کی شکل میں منضبط کر لیے گئے۔
آج دنیا سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں کارہائے نمایاں انجام دے رہی ہے ۔دنیا کے بڑے بڑے ماہرین فلکیات اور ماہرین طبیعات نے جو جدید انکشافات کیے ہیں ،وہ انکشافات آج سے تقریباََ چودہ سو سال قبل احادیث نبویہ میں واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہیں ۔جس کی دو مثالیں یہاں پیش کرنا غیر ضروری نہ ہوگا۔
حدیث نمبر۱: { عن ابی موسی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم
لاتقوم الساعتہ حتیٰ یکون القرآن عارا ویتقاالزمان}
’’ جب تک قرآن کریم کو باعث عار نہ سمجھا جانے لگے لگا اور زمانہ جلدی جلدی گزرنے اور اس کے گوشے سمٹنے نہ لگیں گے اس وقت تک قیامت برپا نہ ہوگی‘‘
(مجمع الزوائد: حدیث نمبر ۱۲۴۳۷، جلد نمبر ۷ ص ۳۲۴)
مذکورہ حدیث کے عربی متن میںلفظ ’’ تقارب‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے جس کے معنی ہیں دو چیزوں کا قریب ہونا۔اس میں جہاں ایک طرف زمانے کی اضافی حیثیت یعنی(Relative)کی طرف اشارہ ملتا ہے تو دوسری طرف یہ اشارہ بھی ہے کہ زمانۂ قدیم میں جن کاموں میں لمبے عرصے گزرجاتے تھے وہی کام مستقبل میں نہایت کم عرصے میں انجام دیے جانے لگیں گے،جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ آج سائنس اور ٹکنالوجی ہر شعبۂ حیات میں غیر معمولی ترقی کر چکی ہے۔یہ حدیث دور حاضر کے ذرائع حمل و نقل اور سرعت رفتا رکی غماز ہے۔اس حدیث میں’’ تقارب الزمان ‘‘ جیسے الفاظ کا استعمال کرکے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے زمانے کے تغیرات کا انکشاف کیا ہے۔
حدیث نمبر۲: {عن ابی ھریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ عن النبی صلی علیہ وسلم قال تغسل
الاناء اذا ولغ فیہ الکلب سبع مرات اولھن او اخراھن بالتراب}
’’ اگر تمھارے برتن کو کتا چاٹ جائے تو وہ سات مرتبہ دھونے سے پاک ہوگا ،جن میں پہلی دفعہ مٹی سے دھویا جائے‘‘
( ترمذی شریف ،ابواب الطہارۃ ص ۶۸)
عہد رسالت میں ایسی ادویات کا نام ونشان تک نہ تھا جوجراثیم پر اثر انداز ہوسکیں لہٰذا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتے کے جراثیم کو ختم کرنے کے لیے مٹی سے برتن دھونے کا حکم فرمایا۔حضور صلی علیہ وسلم کی سائنسی بصیرت کا اعتراف اس وقت ہوا جب سائنسی تحقیق نے مٹی میں Tetraliteاور Tetracyclineجیسے اجزا کی نشان دہی کی۔یہ اجزا جراثیم کش دواؤں کے لیے بطور خاص استعمال ہوتے ہیں۔کتوں کے چاٹے ہوئے برتن کے ذریعے ان کے جراثیم انسانوں پر اثر انداز ہونے کا خدشہ لاحق ہوجاتا ہے،اسی لیے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مٹی سے برتن دھونے کی تاکید کی ہے۔یوروپ کے بعض انگریزمحققین نے اس موضوع پر کئی تحقیقی مضامین قلم بند کیے جس میں اس حدیث کا اعتراف بڑی شدت کے ساتھ کیا گیا ہے۔
بہ خوف طوالت صرف ایک مثال پر اکتفا کی جاتی ہے جو اس ثبوت کے لیے کافی ہے کہ خانقاہوں اور عبادت گاہوں میں قیام کرنے والے صوفیاے کرام ، فخر روحانیت وخدا شناس ، شاہان بے تاج وتخت تھے۔مذکورہ مثال پر مشتمل میر تقی میرؔ کاشعر درج ہے:
فقیرانہ آئے ، صدا کرچلے
میاں خوش رہو ہم دعا کرچلے
جسے اللہ کی معرفت حاصل ہوگی پھر اسے دنیا نہیں ڈھونڈ سکتی۔وہ اپنے خالق حقیقی کی زندگی میں بھر پور جذب ہوجاتاہے۔تصوف اور سائنس کے حوالے سے عہد رسالت کے دو صوفی سائنس دانوں لبیب بن سعد اور حبیب بن سعد کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا جو حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں مکہ معظمہ میں تھے اور بعد میں آپ کے ساتھ مہاجر بن کرمدینہ پہنچے۔ یہ دونوں سگے بھائی تھے ۔ صوفی ہونے کے ساتھ ساتھ علم نجوم(Astronomy)سے خاطر خواہ دلچسپی رکھتے تھے۔علم ریاضی میں کافی درک حاصل تھا۔ان نجومیوں کا وطیرہ تھا کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم جب بھی بہ غرض تجارت دور دراز کا سفر کرتے یا برائے غزوات تشریف لے جاتے تو یہ حضور اکرم کی خاص اجازت سے قافلے یا لشکر اسلامی کے ساتھ بطور بدرِقہ(Escort)ضرور جاتے تھے اور اندھیری رات میں اپنی خانہ ساز دوربینوں (Binoculors) کی مدد سے پتہ لگا لیتے تھے کہ رات میں ستاروں کی مدد سے راستہ کیسے تلاش کیا جاسکتا ہے ؟ قمر در عقرب کب ہوگا، اچھی بری ساعتیں کون سی ہیں ۔چاند گہن اور سورج گہن(کسوف وخسوف) Eclipseکب ہوگا۔ان کے اثرات مخلوق الٰہی پر کیا کیا اور کس طرح پڑتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔یہ ایک دلچسپ بات ہے کہ قدرت ، دنیاوی علوم اور اپنے خاص احکام میں ہمیشہ سے ایک خط امتیاز (Line of Demarcation)کھینچتی چلی آئی ہے تاکہ دنیا کی نگاہ میں خدا اور بندگان خدا کے افعال میں تعینِ حدود نظر آسکے ۔ مثال کے طور پر ایک مرتبہ دشمنان اسلام نے ایک دفاعی جنگ کا اعلان کیا ۔پہلے تو سرکار دوعالم نے رفعِ شر کی کوشش کی ،جسے دشمنان اسلام نے بزدلی سمجھااور اپنے موقف پر اڑے رہے تب حضور نے حضرت علی کو بلایا اور فرمایا کہ حضرت جبریل علیہ السلام اللہ کا پیغام لائے ہیںکہ علی کی قیادت میں جنگ کی جائے۔حضور کا یہ فیصلہ سن کر دونوں نجومی بھائیوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ یہ ساعت جنگ کے لیے بہت منحوس ہے ۔اگر اس وقت کوچ کیا گیا تو خدا ناخواستہ لشکر اسلام کی شکست یقینی ہے ۔ایک نحس ستارہ ہمارے لشکر پر مخالف نظر رکھتا ہے ۔ حضور نے ان کی بات ان سنی کردی اور حضرت علی سے فرمایا: بسم اللہ مجریھا باذن اللہ مرسٰھا۔دونوں نجومی شکست کے خوف سے لشکر کے ساتھ نہیں گئے اور اپنے حجرے میں بیٹھ کر زائچے بناتے رہے۔ایک وقت ایسا آیا جب دونوں نجومی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور سلام کرکے سجدۂ الٰہی میں گر گئے اور کہا یا رسول اللہ مبارک ہو حضرت علی بہ حیثیت فاتح مع لشکر تشریف لارہے ہیں ۔ حضور نے فرمایا جبرئیل امین نے پہلے ہی یہ خوش خبری سنادی ہے مگر تمھیں اس بات کا علم کیسے ہوا؟ انھوں نے عرض کیا کہ وہ منحوس ستارہ جو دوسال کی مدت میں اپنی جگہ سے ہٹنے والا تھا لیکن جوں ہی ہمارا لشکر روانہ ہوا وہ ستارہ دو دنوں میں اپنے مقام سے ہٹ گیا۔بس ہمیں اطمینان ہوگیا کہ اب ہماری فتح یقینی ہے ۔ حضور نے فرمایا کہ میںنے تم سے پہلے ہی کہا تھا کہ علم نجوم فی نفسہ برا نہیں ہے اسے ضرور سیکھو لیکن اسے عقیدے سے نہ ٹکراؤ ورنہ الحاد اور بے دینی کی طرف لے جائے گا۔
عرب ممالک کے علاوہ ایران اور ہندوستان اور دیگر ایشیائی ممالک میں بھی تصوف کا اسلامی فلسفہ تیزی سے مقبول ہوا ۔ ایک ہندو مصنفDr. N.K. Singh نے لکھا ہے کہ ایک ہندوستانی صوفی حضرت شیخ ابوسعد ابوالخیر نے ایک حقیقی صوفی کی تعریف درج ذیل الفاظ میں کی ہے:
“That is the true Man of God, who sits in the midst of his fellowmen, and rises up and eats and sleeps and buys and sells and gives and takes in the bazaars amongst other folk, and yet is never for one moment forgetful of God” .
(Dr. N. K. SINGH: SUFIS of India, Pakistan and Bangladesh. Vol. One
First Edition – 2002. (Preface) PP. X – XI.)
شیخ ابو سعد ابوالخیر کے مذکورہ بالا بیان کی روشنی میں نہایت اختصار کے ساتھ طوطیِ ہند حضرت ابوالحسن یمین الدین امیر خسروؔ کے نمایاں افادات کا ذکر ضروری ہے۔ جنھوں نے حضرت نظام الدین اولیا رحمتہ اللہ علیہ کے نامور مرید کی حیثیت سے شہرت دوام حاصل کی۔حضرت امیر خسروؔ کے تعلق سے حسن الدین احمد لکھتے ہیں:
’’ اگر سطحی طور پر دیکھیں تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امیر خسروؔ کی صوفیانہ منش شاعرانہ طبیعت اور دربارداری کے درمیان تضاد ہے، لیکن اس زمانے کے حالات اور امیر خسروؔ کے خاندانی ماحول پر نظر رکھی جائے ، ان کی زندگی کے تنوع کا تجزیہ کیا جائے اور جس انداز سے انھوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نبھایا اسے پیش نظر رکھا جائے تو یہ بات ظاہر ہوجاتی ہے کہ ان کی زندگی میں مکمل ہم آہنگی تھی‘‘
( مضمون: امیر خسرو کے درباری تعلقات ، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی ، نومبر ۱۹۷۴ء ص ۴۴)
فارسی ، اردو اور سبک ہندی کے ادیب وشاعر ہونے کی وجہ سے امیر خسروؔ کاجو بلند مرتبہ ہے وہ تو ہے ہی لیکن موسیقی اور ساز وآواز کی دنیا میں انھوں نے جو کمالات دکھائے اور اختراعات کیں ان سے بھی صرف نظر ممکن نہیں۔ اس ضمن میں نقی محمد خاں خورجوی لکھتے ہیںـ:
’’امیر خسروؔ نے سب سے پہلے عجمی موسیقی کے انداز پر ترانہ ، قول نقش ونگارِ گل وغیرہ گانے ایجاد کیے۔ باوجودیکہ اسلام میں علما نے موسیقی کو ناجائز قرار دیا تھا لیکن ایک گروہ صوفیوں کا ہر زمانے میں ایسا ہی رہا ہے جو تصوِ فانہ غزلیں گا کر روحانی سرور حاصل کیا کرتے تھے‘‘
( مضمون: امیر خسرو ؔ کی موسیقی، مطبوعہ ماہنامہ آجکل نئی دہلی نومبر ۱۹۷۴ء ص ۱۶)
ہم اس حقیقت کو تسلیم کرتے ہیں کہ امیر خسروؔ بنیادی طور پر ایک شاعر تھے اور وہ شاعر سے زیادہ ایک صوفی بھی تھے ۔ سماع کی وجہ سے موسیقی کے بھی دلدادہ تھے شاعری اور موسیقی کا شمار فنون لطیفہ میں ہوتا ہے لیکن انھیں سائنس داں اس لحاظ سے کہہ سکتے ہیں کہ انھوں نے آلات موسیقی کی اختراعات کیں ۔ اگر آلات موسیقی ایجاد و اختراع کو آپ فنون لطیفہ کا سر ٹیفکٹ دیں گے تو پھر گراموفون ، ریڈیو ، ٹیلی فون، موبائیل اور کمپیوٹر وغیرہ سبھی فن لطیف کے خاندانی رشتہ دار بن جائیں گے ۔لہٰذا سماع وغیرہ میں کام آنے والے سبھی آلے فن لطیف کے مددگار ومعاون تو بنیں گے لیکن وہ اپنے مقام پر آلات سائنس(Scientific Devices) ہی کہلائیں گے۔
آلات موسیقی دراصل سائنسی اصولوں پر بنائے گئے ہیں اور ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچ چکی ہے جنھیں دو خاص گروہوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ (۱) باد سازی(Wind Instrument) (۲) زہی ساز(Bow Instrument) پہلی قسم میں ساز بین ، بانسری ، فلوٹ وغیرہ ہیں جب کہ دوسری قسم میں خنجری وغیرہ ہیں ۔ انھیں میں ضربی ساز (Pluck Percussion) بھی ہیں۔ ضربی سازوں میں سِتار بہت مشہور ہے اور اس کے مؤجد حضرت امیر خسروؔ تھے۔ اس ساز میں راگ پیش کرنے کی بے پناہ صلاحیت ہے۔ امیر خسرو نے اپنی کتاب ’’ قِران السعدین‘‘ اور ’’نہہ سپہر‘‘ میں آلات موسیقی اور ان کے استعمال کے بارے میں ایسی باتیں لکھی ہیں جو ایک ماہر فن ہی لکھ سکتا تھا۔ امیر خسرو نے ایرانی عود اور وینا کے استفادے کے بعد سہ تار کی تشکیل کی ۔ امیر خسرو کی علم موسیقی میں مہارت کا ایک واضح ثبوت اس قطعے میں ملتا ہے جو ’’ اربعہ عناصر دواوین خسرو ‘‘ میں موجود ہے ۔ ’’خسروی سِتار ‘‘ کی ابتدائی شکل وہ کشمیری سِتار ہے جو صوفیانہ موسیقی (کلاسیکی موسیقی کشمیر) میں استعمال ہوتی ہے۔ اس حوالے سے عظمت حسین خاں میکش کا یہ اقتباس کافی اہمیت کا حامل ہے:
’’ صدیوں پہلے جب ہماری موسیقی نے الفاظ کا جامہ پہنا تو دُھرپد کی ابتدا ہوئی (جو موسیقی کی ایک صنف ہے ) جس میں دیوتاؤں کی استُتھی(تعریف)ہوتی تھی یا مذہبی واقعات کا ذکر ہوتا تھا لیکن دُھرپد شروع کرنے سے پہلے راگ کے وستار (پھیلاؤ) کے لیے چند الفاظ وضع کیے گئے جن میں عبادت یا پرارتھنا کا مفہوم یا تاثر تھا اس اندازکو ’’ الاپ جاری‘‘ کہا گیا ۔ حضرت امیر خسرو نے قوت ایجاد سے کام لے کر ’’الاپ جاری ‘‘ میں بھی ایک نئی چیز پیدا کردی جس کا نام ’’ترانہ‘‘ تھا ۔ ’’ خیال‘‘ گانے والے کے لیے ترانہ گانا بھی ضروری ہے ، کیوں کہ خیال اور ترانہ ، دونوں امیر خسرو کی مو سیقی سے منسوب ہیں‘‘
( مضمون : ترانہ اور خسرو۔ مطبوعہ قومی راج بمبئی ، خسرو نمبر نومبر ۱۹۷۵ء ص ۵۶)
قول اور قوالی بھی امیر خسرو کی ایجاد ہیں جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ امیر خسرو اپنی سائنسی اختراعات کی بنا پر ساز وآواز دونوں میں مجتہدانہ شان رکھتے تھے۔
اب ہم مولانا محمد جلال الدین رومیؔ کی عالمی شہرت یافتہ مثنویِ معنوی کی بنیاد پر ان کے صوفیانہ خیالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے سائنس سے متعلق ان کے نظریات کا مطالعہ کرتے ہیں ۔ اس ضمن میں مولانا روم کے سائنسی نظریات کو سمجھنے کے لیے ان کے فارسی کلام کا عام فہم اردو ترجمہ بھی پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
تجارب اجسام(The Gravity of Bodies) کا نظریہ انگریز سائنس داں اسحاق نیوٹن نے۱۶۶۶ء میں پیش کیاتھا کہ درخت سے نیچے گرنے والا سیب آخر زمین ہی کی طرف کیوں آتا ہے ۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمین میں قوت کشش(Gravity) پائی جاتی ہے یہی واقعہ تمام اجسام کے ساتھ پیش آسکتا ہے ۔ اس ضمن میں علامہ شبلی نعمانی لکھتے ہیں کہ:
’’ اس مسئلہ کی نسبت تمام یورپ کا بلکہ تمام دنیا کا خیال ہے کہ نیوٹن کی ایجاد ہے ، لیکن لوگوں کو سن کر یہ حیرت ہوگی کہ سیکڑوں برس پہلے یہ خیال مولانا روم نے ظاہر کیا تھا‘‘
( سوانح مولانا روم : دارالمصنفین شبلی اکیڈمی اعظم گڑھ ۲۰۱۰ء ص ۱۵۳)
مولانا جلال الدین رومی نے نیوٹن سے سیکڑوں سال قبل جس قانون قدرت کو اپنی مثنوی میں پیش کیا ہے اس کے فارسی اشعاراور اس کا اردو ترجمہ کچھ اس طرح سے ہے:
فارسی اشعار
جملہ اجزائے جہاں زاں حکم پیش
جُفت جُفت و عاشقانِ جفت خویش
ہَست ہر جُفتے ز عالم جُفت خواہ
راست ہم چوں کہر با و برگ کاہ
آسماں گوید زمیں را مرحبا
با تو اَم چوں آہن و آہن ربا
اردو ترجمہ
تیرے حکمِ خاص سے جتنے ہیں اجزائے جہاں
ہم نوا کی جستجو میں غرق مثلِ عاشقاں
ہم نوا سب کو سکھائیں ہم نوائی کا سبق
جیسے بجلی اور پتی گھاس کی مانگے ہیں حق
آسماں دیتا ہے شاباشی زمینِ پست کو
جیسے آہن دیکھ لے آہن ربائے مست کو
اگر کوئی شخص حکیم کامل مولانا جلال الدین رومی کی روح پُر فتوح سے ان کے شاگرد علامہ اقبال کی طرح سوال کرے کہ یہ بتایئے کہ فضائے بسیط میں زمین کس طرح نظر آتی ہے تو پیر رومی ، مرید ہندی کو مخاطب کرکے فرمائیں گے کہ:
فارسی اشعار
گُفت سائل ، چوں بماندِ این خاک داں
درمیانِ این محیطِ آسماں
ہم چو قندیلے معلّق در ہَوا؟
نے بَر اسفل می رَوَد نَے بر عُلا
آں حکیمش گفت کز جذبِ سما
از جہاتِ شش (چھ) ، بماند اندر ہَوا
چوں ز مقناطیس قبّہ ریختہ
درمیاں ماند آہنے اویختہ
اردو ترجمہ
پوچھا سائل نے کہ قبلہ راز کیوں پوشیدہ ہے
یہ زمیں کیوں وسعتِ افلاک میں پاشیدہ ہے
کس لیے ہے وہ معلّق مثل قندیلِ ہَوا؟
نیچے جانے کو ہے راضی اور نہ اوپر راستہ
بولے اس سے یہ حکیمِ دیدہ ور سن تو ذرا
ہے چہوں جانب سے بے چاری کشش میں مبتلا
سوچ لے گنبد بنایا تو نے مقناطیس کا
اور بیچوں بیچ اک لوہے کا تختہ ہو پڑا
مختصر طور پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ دور حاضر میں بہتوں کا مشاہدہ اور قیاس ہے کہ بالعموم ہماری نئی نسلوں کے پاس نہ وہ جنون عشق الٰہی ہے نہ شعور نعت نبی۔ دین وایمان کی وہ روح ، سائنسی بصیرت اور عبادتوں کا خضوع و خشوع دیکھنے کو نہیں ملتا جو ہمارے سیدھے سادے فرشتہ صفت بزرگوں میں پایا جاتا تھا۔ بالخصوص جب یہ ماحول ان تمام ممالک میں ہو، جو ’’اسلامی ‘‘ کہلاتے ہیں یا ان علاقوں اور خطہ ہائے زمین میں ہو جہاں مسلمانوں کی آبادی نسبتاََ زیادہ ہے۔ مادیت ، گندی سیاست ، غلط روایات ، تخریب اخلاق ، خوف خدا کی کمی اور جذباتی بے راہ روی نے ہم سے اُس اطمینان قلب اور ذہنی یک سوئی کو چھین لیا ہے جو صحت مند فلسفۂ تصوف کی جان تھی۔ اب تو صرف ایک ہی راستہ بچا ہے کہ موبائل ، انٹر نیٹ ، کمپیوٹر ،ٹی وی اور اسی طرح دوسرے سائنسی آلات کی مدد سے صوفیانہ خیالات اور تجربات کی عملی تبلیغ دانش مندانہ طورپرکی جائے ۔ممکن ہے کہ یہ طریقۂ کار کسی قدر کامیاب ثابت ہو۔
٭٭٭٭

مضمون نگار اردو کے جواں سال نثر نگار ، شاعر اور شعبۂ اردو ، ممبئی یونیورسٹی میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔

Sanah E Karbala ki Asri Ma’nwiat by Qamar Siddiqui

Articles

سانحۂ کربلا کی عصری معنویت

قمر صدیقی

۱۰ محرم ۶۱ ھجری میں کربلا کی سرزمین پر پیغمرِ اسلام حضرت محمد ؐ کے نواسے حضرت امام حسین ؓ اور ان کے ساتھیوں کی شہادت نے بنی نوع انسان کو انسانیت کی سربلندی کے لیے برائی کی خلاف جد جہد کا درس دیا۔ان کی اس قربانی کو تاقیامت فراموش نہیں کیا جاسکتا۔امام حسینؓ نے اُس وقت جبراً تبدیل کی جارہی سیاسی، معاشی اور تہذیبی صورتِ حال کے خلاف عَلم بلند کیا تھا جب اسلامی طرزِ حکومت یعنی ’’خلافت‘‘ کو مٹانے کے اقدامات ہورہے تھے، جب خلافت ’ملوکیت‘ میں تبدیل ہورہی تھی، جب اسلامی تمدن کو غیر اسلامی اور خاندانی عصبیت کے رُخ پر موڑنے کے مذموم سازشیں کی جارہی تھیں، جب مذہبی مجالیس میں سب شتم نے اپنی جگہ بنا لی تھی، جب عہد اور بد عہدی میں تفریق کرنے والوںکو گوشہ نشینی پر مجبور کیا جانے لگا تھا ۔ ایک ایسے وقت میں جب برائی نے مختلف جہتوں سے اپنے پائوں پسارنے شروع کردیئے تھے، امام حسینؓ نے ان برائیوں کے سد باب کے لیے عملی قدم اٹھایا۔ کربلا کی تاریخ سے کیا اہل علم و دانش اور کیا ہم جیسے معمولی علم رکھنے والے سبھی واقف ہیں۔لہٰذا آج کے اس پر فتن دور میں اس کی اشد ضرورت ہے کہ ہم غور کریں کہ کربلا کی تاریخ سے ہم نے کیا سیکھا ہے۔
دونوں عالمی جنگوں کی ہولناک تباہی اور ایٹمی دھماکوں کے سبب موت کی ہیبت کا آنکھوں میں بس جانا، خانہ جنگی، دہشت گردی اور ان سب وجوہات کی باعث موجودہ صدی میں انسانی زندگی کی بے وقعتی کی وجہ سے دانشوروں کی فکر، جذ بے اور اعصاب پر خاتمے کا احساس کچھ اس درجہ حاوی ہوگیا ہے کہ ہمارے دور کو ’’عہدِ مرگ‘‘ کے نام سے موسوم کیا جانے لگا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ ہمارا ذہن فنا کےتصور سے بالکل عاری ہے بلکہ ہمارے حافظے میں آتشِ نمرود سے ریگزارِ کربلا تک کی داستانِ شجاعت اب بھی محفوظ ہے ۔ طوفانِ نوح کا علم سب کو ہے اور قیامت کے دن صور پھونکا جائے گا اس سے بھی ہم آگاہ ہیں۔ لیکن آج جس طرح سماج دشمن اور انسان دشمن لوگوں نے ٹکنالوجی کے مخصوص استعمال کے ذریعے انسانوں کی موت کو اتنا سستا اور آسان بنا دیا ہے کے اس باعث خاتمے کے احساس نے انسان کو اندرسے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ صرف اکیسویں صدی کے اِن 18برسوں میںتشدد کے سبب اتنی اموات ہوئی ہیں ،کہ اتنی اموات پچھلے دو سو سال میں نہیں ہوئیں۔ شاید ولیم فاکنر نے صحیح کہا تھا: ’’آج ہر آدمی کے سامنے ایک ہی سوال ہے کہ میں کب کہاں بھَک سے اُڑ جائوں ‘‘۔
ایک ایسے دور میں جب احساسِ مرگ نہ صرف انسان کے ذہن بلکہ اعصاب پر بھی سوار ہوچکا ہے، ’کربلا‘ سے حاصل کیے گئے سبق کا اعادہ کرنا اور بھی ضروری ہوجاتا ہے کیونکہ کربلا تاریخ کا ایک واقعہ ہی نہیں بلکہ مسلسل جد و جہد کا استعارہ بھی ہے۔
سال بیلو نے تحریر کیا تھا کہ ’’ انسان ہونے کے کیا معنی ہیں؟ایک شہر میں، ایک صدی میں، ایک ہجوم میں ، ایک تغیر میں جسے سائنس نے ایک منٹ میں بدل دیا ہے۔ ایک منظم قوت جس نے کئی طرح کی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں ۔ یہ ایک ایسی صورتِ حال ہے جو میکانکی عمل سے وجود میں آئی ہے۔ ایک ایسا سماج ہے جس میں برادری نہیں ہے اور فرد کی حیثیت ختم ہورہی ہے۔‘‘ یہاں بنیادی سوال یہ نہیں ہے کہ بشمول سماج و فرد تاریخ ، ادب ، آرٹ اور انسان کی ایک منفی تعبیر و تشریح سامنے آرہی ہے بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ اس طرح کے نظریات کو فروغ دینے کی وجوہات کیا ہیں؟ ان کا مقصد کیا ہے؟ آخر کیوں رائج قدروں کی نفی کرتے ہوئے انسان کو محض طبقاتی کشمکش، جنسی جبلت اور لاشعوری جبریت کا پُتلا گردانا جا رہا ہے۔ غور کیا جائے تو یہ ساری صورتِ حال سائنسی دریافتوں اور ٹیکنالوجی کے فروغ کے ساتھ پیدا ہوئیں۔ ٹیکنالوجی شروع سے ہی صاحبِ زر کے ہاتھوں گروی رہی ہے۔ یورپ کے نشاۃالثانیہ کے بعد جب وہاں کےعوام م چرچ اور سرمایہ داروں کی جکڑ بندی سے آزاد ہوئے تو ٹکنالوجی کے اسپانسرس بہت گھبرائے۔ انھوں نے اس صورتِ حال سے بچائو کی یہ تدبیر کی کہ ٹکنالوجی کے ساتھ ساتھ نظریات بھی اسپانسر کرنے لگے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب یورپ کے دیہات اُجڑ رہے تھے اور شہر کانکریٹ کے جنگل بن رہے تھے اس وقت ایک طرف مساوات ، بھائی چارے اور انسانی حقوق کی باتیں ہورہی تھیں اور دوسری طرف مزدوروں کے حقوق پامال ہورہے تھے۔ جب یہی مزدور بھوک سے بلبلا کر احتجاج کرتے تو نظریات کی افیون انھیں سلادینے کے لیے کارگر ثابت ہوتی۔ یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا گیا۔ حتیٰ کہ ہمارے زمانے میں بودریلا جیسے دانشور نے عراق امریکہ جنگ سے متعلق یہ تحریر کیا:
Gulf war did not happen, and was only as televized simulation of a war
(خلیجی جنگ واقع نہیں ہوئی ، یہ صرف ٹیلی ویژن کے ذریعے پیش کی گئی جنگ کی شبییہ محض تھی۔)
ہم دیکھ رہے ہیں ہمارے زمانے میں اظہار و دانش کے تقریباً تمام ذرائع فروخت ہوچکے ہیں۔ دانشور، تخلیق کار، صحافی ایک لمبی فہرست ہے بازار میں اپنے دام لگانے والوں کی۔ دراصل کارپوریٹ ایک ایسا سماج تیار کررہا ہے جو مارکیٹ یا بازاری سماج ہو۔ جہاں ٹوتھ پیسٹ سے لے کر انسانی رشتے سبھی بازار کے بکائو مال بن جائیں۔اس کام کی ابتدا دنیا کو ایک عالمی گائوں بنانے کی کوشش سے شروع ہوچکی ہے۔ افسوس ناک بات یہ ہے کہ اس نئے سماج کی تشکیل کچھ مخصوص لوگوں کے ہاتھوں تک محدود ہے۔ وہ لوگ جن کے پاس خزانے تک پہنچنے کا پاس ورڈ موجود ہے۔ وہ اپنی اتھاہ دولت کے بوتے پر پیپسی کلچر رائج کررہے ہیں، ناچنے گانے والوں کو عوامی ہیرو بنا رہے ہیں، ٹی وی چینلس، کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی مدد سے اپنے من چاہے رواج کو عوام میں رائج کررہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ تازہ ہوا ہر ذی نفس کی بنیادی ضرورت ہے مگر تازہ ہوا کے نام پر طرح طرح کی کثافت کو برداشت کرنا کہاں کی دانش مندی ہے۔ ہمیں اس ثقافتی ، سیاسی اور معاشی یلغار کا مقابلہ کبھی نہ کبھی کرنا ہی ہوگا۔ ایک ایسی یلغار جو صرف لامحدود ہی نہیں متنوع جہات کی حامل بھی ہے اور جس کے پاس وقتی فوائد اور سرور و نشاط کی الف لیلیٰ بھی ہے۔
اس برائی کے خلاف آواز اٹھانے کے لیے ہمیں ایندھن تاریخ سے ہی حاصل کرنا ہوگا۔ امام حسینؓ سے ہم آج بھی برائی کے خلاف عَلم بلند کرنے کا سبق سیکھ سکتے ہیں۔ کیونکہ کربلا کی سرزمین کو اپنے لہو کی خوشبو سے معطر کرتے وقت امامَ حسینؓ اور ان کے قافلے کا مقصد نہ حصولِ خلافت تھا نہ حصولِ زر بلکہ ان کے نزدیک تو ایک عظیم مقصد تھا، تبدیلی کے اس عمل کے خلاف سینہ سپر ہوجانا جس کا غالب پہلو برائی تھی۔
آج ہمارے سامنے بھی تبدیلی کا ویسا ہی عمل جاری ہے جس میں غالب پہلو برائی کا ہی ہے۔ مگر ہمارے درمیان امامِ حسینؓ نہیں ہیں ، ہوبھی نہیں سکتے:
قافلۂ حجاز میں ایک حسین بھی نہیں
گر چہ ہے تابدار ابھی گیسوے دجلہ و فُرات
لیکن اس پر فتن دور میں ہم اتنا تو کرہی سکتے ہیں کہ برا کو برا کہیں۔ ہر چند کہ آہ بھی بھرنے میں بدنام ہونے کا خطرہ ہے تاہم یہ بھی تو سچ ہے :
مشکیزے سے پیاس کا رشتہ بہت پرانا ہے

_______________________________________

مضمون نگارمعروف ادبہ سہ ماہی ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی پورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘کے مدیر ہیں۔

Ganga Jamuni Tahzeeb ki Tashkeel mein Sufia

Articles

گنگا جمنی تہذیب کی تشکیل میں صوفیائے کرام کاحصہ ازپروفیسر صاحب علی

ہندوستان کی سرزمین ہمیشہ سے مذہبی اورروحانی عظمت کی حامل رہی ہے ۔ یہاں مختلف مذاہب کے رشی منی اورصوفی سنتوں نے تصوف اوربھکتی کی تعلیمات کو عام کرنے میں اہم کرداراداکیاہے ۔ہندودھرم کے رشی منی اورسنت نے عبادت وریاضت کے علاوہ نفس کشی میں سرگرم عمل رہے۔بدھ دھرم اورسکھ مذہب کی اشاعت اور تعلیمات بھی ہندوستان ہی سے شروع ہوئیں ۔ مسلمان صوفی اوربزرگان دین نے بھی اسی دیارِ ہند کو اپنی رشدوہدایت ، اخلاص ومحبت کی تعلیم وترویج کے لیے پسندکیا۔
مذہب ِ اسلام جنوبی ہندوستان میں پہلے پہل ملابار کے ساحلی علاقوں میں پھیلا۔ اِنھیں ابتدائی ایام میں خانہ بدوش زندگی گزارنے والے صوفیائے کرام نے رشدوہدایت کے ساتھ ساتھ صلح وآشتی ،محبت وبھائی چارگی کی تعلیم کی تبلیغ واشاعت شروع کی ۔ ہندوستان میں باہرسے تشریف لانے والے سب سے پہلے صوفی غالباً حضرت خواجہ غریب نواز سید معین الدین چشتی اجمیری ہیں جوراجا پرتھو ی راج کے عہد حکومت میں 592ہجری میں اجمیرتشریف لائے اورمحبت واخلاق کا سبق دینا شروع کیا ۔ آپ کی خانقاہ میں امیروغریب اورحکومت کے اراکین سبھی لوگ حاضری دیتے اورفیضیاب ہوتے ۔ آج بھی لاکھوں بندگانِ خدا بلاتفریق مذہب وملت آپ کے آستانے اجمیرشریف پرحاضر ہوتے ہیں اورخیروبرکت حاصل کرتے ہیں۔خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ کی تعلیمات کے حوالے سے وفیسر آرنلڈ نے لکھا ہے کہ :
’’ وہ دہلی جس پر اہل دہلی کا تصرف تھا اور کفر والحاد کی ہوا میں پوری فضا بکھری ہوئی تھی ۔حضرت خواجہ کے چند روزہ قیام میںسات سو سے زیادہ ہندو ان کے فیض سے مشرف بہ اسلام ہوئے اور اجمیر میں جو پہلی جماعت ان کے ہاتھ پر مشرف بہ اسلام ہوئی ان میں راجہ کا پجاری اور گُرو بھی تھا‘‘
( پریچنگ آف اسلام اردو ترجمہ ص ۲۸۱)
حضرت خواجہ غریب نوازنے متعدد مریدوںکواجازت وخلافت سے نوازااوراپنا جانشیں حضرت قطب الدین بختیارکاکیؒ کو بنایااوردہلی میں رہنے کی تاکید فرمائی۔
ایک طرف دہلی میں حضرت قطب الدین بختیارکاکیؒ جو بے نیازی اور ضبط نفس کی ایک زندہ مثال تھے، اپنے صوفیانہ خیالات کو عوام میں پھیلارہے تھے تودوسری طرف آپ کے مرید وجانشیں حضرت بابافریدالدین گنج شکرؒ پنجاب میں رشدوہدایت اورتبلیغ اسلام کی اشاعت کررہے تھے ۔ کچھ ہی عرصے میں ہندوستان کے مختلف حصوں اورخطوںمیں حضرت کے مریدین وخلفا لوگوں میں خلوص ومحبت، باہمی اتحاد اوراطاعت خداوندی کی تبلیغ کرنے لگے ۔ حضرت بابا فریدؒ نے اپنا جانشیں اپنے چہیتے مرید وخلیفہ حضرت محبوب الٰہی نظام الدین اولیاکو نامزد کیا اوردہلی کی ولایت آپ کو تفویض کی ۔ آپ کی خدمت میں اراکینِ سلطنت اوربادشاہ وقت خیروبرکت کے لیے حاضرہوتے تو آپ انھیں عدل وانصاف ، رعایاپروری اورغربانوازی کی تاکید فرماتے۔ آپ نے اپنی وفات سے کچھ دن پہلے اپنے مریدین اورخلفا کوتبرکات سے نوازا اوران کو خاص خاص مقامات پر رشدوہدایت کرنے کا حکم صادرفرمایا۔حضرت برہان الدین غریبؒکو دکن کاعلاقہ عطافرمایا ۔ حضرت اخی سراج کو بنگال ، جن کے مرید وخلیفہ علاء الحق پنڈوی ؒ سے یوپی اوربہارکا خطہ فیضیاب ہوا۔ حضرت شیخ نصیرالدین چراغ دہلی کو اپنا جانشیں بنایا۔ ان تمام صوفیائے کرام نے تصوف کی تعلیمات عام کرنے میں اہم رول اداکیا ۔ ان کی خانقاہیں آج بھی رشدوہدایت کا سرچشمہ بنی ہوئی ہیں۔صوفیا کی خانقاہوں کے تعلق سے پروفیسر نثاراحمد فاروقی نے لکھا ہے کہ :
’’چشتی صوفیانے اپنے خلفا کو دوردراز علاقوں میں بھیج کررشدوہدایت کافیضان عام کردیاتھا۔ آٹھویں صدی ہجری کے طلوع ہونے تک بنگال کے مشرقی علاقے میں جنوب میں دیوگری اورگلبرگہ ، شمال میں کشمیر اورجنوب مغرب میں گجرات کاٹھیاواڑ تک چشتی خانقاہیں قائم ہوچکی تھیں۔ … چشتی خانقاہوں میں جوگیوںکی آمدورفت تھی اوران سے روحانی تجربوں کے اصول ورسوم پر تبادلۂ خیال بھی ہوتاتھا۔‘‘
(اردواورمشترکہ ہندوستانی تہذیب : مرتبہ ڈاکٹرکامل قریشی،ص:216-17)
تاریخ شاہد ہے کہ محمد تغلق نے جب دیوگری کو اپنی سلطنت کادارالخلافہ بنایاتو جنوبی ہند میں صوفی سلسلے کو کافی تقویت ملی ۔ حضرت برہان الدین غریب ؒ نے دکن اورمہاراشٹرمیں تصوف کی تعلیمات اورپیغام حق کاکام انجام دیا۔ آپ دیوگری اورخلدآباد کے علاقے میں تقریباً 28برس تک رشد وہدایت کا کام انجام دیتے رہے ۔ اکابر صوفیا اور مشائخ میں مولانا زرداری ،امیرحسن سنجری ، سید یوسف والدخواجہ بندہ نواز گیسودراز ، خواجہ حسین اورخواجہ عمرشمال کی جانب سے دارالخلافہ دیوگری میں تشریف لائے ۔ ان صوفیائے کرام نے یہاں کی سماجی ، تہذیبی ادبی ، مذہبی اوراخلاقی زندگی کو متاثرکیا۔ تصوف کی تعلیمات کے ذریعے ربط ضبط بڑھاجس سے شمالی اورجنوبی ہند کی تہذیبی اورلسانی مشکلیں کسی حد تک دورہوگئیںلہٰذا مختلف تہذیبوں اورمذہبوں میں میل ملاپ ہوا۔ ایک دوسرے کو جاننے اورسمجھنے کی راستے ہموارہوئے چنانچہ لوگوں کے دلوںمیں بغض وتعصب اورنفرت کی جگہ رفتہ رفتہ بھائی چارگی نے لے لی۔اصل میں صوفیاے کرام نے اپنی روحانی طاقت ،اپنے کرداراور اپنی گفتار،اپنے ایثار اور اپنے خلوص و رواداری سے ایسی فضا خلق کی جو امن و آشتی، تزکیہ نفس اور اصلاح معاشرہ کی ضامن تھی۔
صوفیائے کرام کی خانقاہیں مختلف مذاہب اورمختلف زبان بولنے والوں کی آماجگاہ ہوتی تھیںاوراب بھی ہیں ۔ یہیں پر مختلف تہذیبوں اورزبانوں کا آپسی لین دین ہوا۔ ان کی خانقاہیں بنی نوع انسان کی ہم آہنگی کاذریعہ بنیں ۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب آئے ۔ ذات پات اوررنگ ونسل سے ہٹ کر تمام انسانوں کے لیے صوفیانے عزت ووقار چاہا۔چنانچہ ان کی عوامی ہمدردی ، خدمت خلق، روادارانہ اخلاق اورحُسنِ سلوک نے اُنھیں سماج میں ایک معتبر مقام دیا۔ صوفیائے کرام کی عملی زندگی غیرمسلموں کے لیے بھی ایک بہترین نمونہ تھی ۔ اس لیے غیروں کا متاثرہونا لازمی تھا ۔ عملی زندگی میں صوفیوں اورسادھوسنتوں میں کافی مشابہت رہی ہے۔ ایک طرف پیرومرشد کارشتہ ہے تودوسری طرف گرو اورچیلے کا۔یہی وہ طور تھے جن کے تحت کبھی شنکراچاریہ اوررامانج نے بھکتی تحریک کے ذریعے منزل حقیقت تک پہنچنے کا راستہ بتایااورکبھی پریم مارگی سنتوں نے ذات پات کی تفریق کے خلاف بغاوت کانعرہ بلند کیا اورتمام انسانوںمیں محبت اوراخوت کی تبلیغ کوبنیادی مقصد قراردیا۔ہم یہاں کہہ سکتے ہیں کہ ہمارے صوفی سنت گنگا جمنی تہذیب کے علم بردار ہیں۔
صوفیائے کرام نے تصوف کی تعلیمات کی نشرواشاعت پر زوردیا ۔ ان کے نزدیک فقروقناعت ، تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، نفسیاتی خواہشات سے پرہیز اورمعبودحقیقی کی عبادت وریاضت کو خاص اہمیت حاصل تھی ۔صوفیا تصوف کی تعلیمات کے تحت ملک کے عوام وخواص میں اتحادواتفاق اورجذباتی ہم آہنگی قائم کرنا چاہتے تھے اورسارے ملک کو انسانیت کے رشتے میں جوڑنا چاہتے تھے ۔ غالباً اسی لیے خانقاہوں پر قوالی کی محفلیں منعقد کی جانے لگیں ۔ مزاروں پر پھولوںکی چادریںچڑھائی جانے لگیں ۔ گاگراورصندل وغیرہ کی رسمیں اداکی جانے لگیں۔اس طرح وطن سے محبت کاجذبہ بھی ابھرا اوروطنیت کا شعوربھی جاگا۔
گنگا جمنی تہذیب کے حوالے سے ہمیں یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ تصوف کی تعلیمات کے بعض پہلو بھکتی تحریک سے گہری مماثلت رکھتے تھے ۔ یعنی دونوں طرزفکر میں انسانی عظمت ومساوات ، احترامِ آدم ورواداری، ایک دوسرے سے محبت اورایسے عشق کاتصور پایاجاتاہے جس میں ہرطرح کے امتیازات مٹ جاتے ہیں ، خاص طورسے تصوف میں تو منافرت کے بجائے محبت ،وسیع المشربی ، عوام دوستی اورآزاد خیالی کو اس حد تک اہمیت دی جانے لگی کہ ہرمذہب کو محبوبِ حقیقی تک پہنچنے کاذریعہ سمجھاگیا اوریہاں تک کہہ دیا گیا اگر خلوصِ دل سے خدا کی عبادت کی جائے تو وہ بت خانے میں بھی ہے اورکلیسا میں بھی ۔ اس طرح یہ با ت واضح ہوجاتی ہے کہ صوفیائے کرام ہرمذہب کی انفرادیت کے قائل بھی تھے اورایک دوسرے میں اتحاد واتفاق اورجذباتی ہم آہنگی بھی قائم ودائم دیکھنا چاہتے تھے ۔یہی اصل میں گنگا جمنی تہذیب ہے ۔اس تہذیب کی رواداری کے تمام عناصر ہمارے صوفی سنتوں کی عملی زندگی میںدیکھنے کو ملتے ہیں۔
حضرت بندہ نواز گیسودراز جید عالمِ دین تھے ۔ آپ نے اسلامیات کے علاوہ ہندودھرم کامطالعہ بھی کیاتھا اورسنسکرت زبان سے بھی واقف تھے ۔ آپ نے دکن میں لوگوں کی سماجی ، مذہبی اورروحانی زندگی پر زبردست اثر چھوڑاہے ۔ آپ کی خانقاہ سے تمام لوگ آج بھی فیض حاصل کرتے ہیں ۔آپ کی رواداری اوروسیع القلبی کا یہ عالم تھا کہ آپ ایسے لوگوں کی سخت تنقید کرتے تھے جو ضدی اورکٹر مزاج ہوتے تھے اورجو مختلف مذاہب اورزبان کے میل جول میں مانع ہوتے ۔ رواداری کی ایک مثال سید محمد غوث گوالیاری کی بھی ہے ۔آپ ہندومسلم دونوں مذاہب کے ماہرتھے ۔ حضرت گوالیاری نے ہندوئوں کے تصوف کی ایک کتاب ’’امرت کنڈ‘‘ کافارسی میں ترجمہ کرکے مسلم صوفیوں کے سامنے پیش کیااس ترجمے کے ذریعے ہندو یوگی روایات بھی تصوف میں شامل ہوگئیں جو تصوف کے فروغ میں نہایت موثر ثابت ہوئیں۔ان کی خانقاہ میں ہندواورمسلمان دونوںکو ایک نظرسے دیکھاجاتاتھا ،کہاجاتاہے کہ مشہور موسیقارتان سین ،حضرت گوالیاری کے بڑے معتقد تھے ۔ اسی طرح اجمیرکے حمیدالدین شیخ نے اپنے ایک مریدکو صرف اس لیے اپنے حلقے سے خارج کردیا تھا کہ وہ مذہب کی ثانوی چیزوں کو زیادہ اہمیت دیتاتھا اورغیر مسلم کی اصل روح کے اندر جھانکنے سے قاصرتھا۔ مذکورہ گفتگوسے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ مسلم صوفیوں کے دیگر تمام مذاہب کے سادھوسنتوں ،رشی منیوں اورگروئوں سے تعلقات استوارتھے ۔ وہ آپس میں عبادت وریاضت اورروحانی معاملات میں ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال بھی کرتے تھے ۔ اصل میں ان میں باہم محبت بھی ہوتی تھی۔
عرض کیاجاچکاہے کہ مسلمانوں کی طرح ہندوئوں میں بھی اصلاحی اورروحانی تحریکیں شروع ہوئی تھیں۔شمالی ہند میں جے دیو، میرابائی ، رامانند ،کبیر مہاراشٹرااورگجرات میں گیانیشور، بنگال میں جیتنیہ اورکرناٹک میںلنکایت کی تعلیمات عوام الناس کے لیے تھیں۔بلاتفریق مذہب وملت ہرطبقے کے لوگوںکو ان تحریکوںمیں شریک ہونے کی دعوت عام تھی ۔ان تحریکوںمیںہندوئوںکے علاوہ مسلمانوںنے بھی شرکت کی۔ یہ خیال عام ہے کہ انھیں تحریکوں سے مسلمانوںمیں ہندی شاعری مقبول ہوئی۔چنانچہ مُلّا قطبن، ملک محمد جائسی ،عبدالرحیم خانخاناں،علاء الدین ،شیخ عثمان، شیخ نبی ،نورمحمد اورفاصل شاہ وغیرہ نے اپنی ہندی شاعری میں ہندوئوں اورمسلمانوںکو ایک دوسرے سے قریب لانے کی کوشش کیں۔ مختصریہ کہ ہندوئوں کی اصلاحی اورروحانی تحریکوںکافیضان ہرایک کے لیے عام تھاخواہ وہ کسی بھی مذہب اورپنتھ کاپیروکارہو۔
اس بات کواورواضح کرتاچلوں کہ صوفیائے کرام سماج اور گنگا جمنی تہذیب کی تشکیل میں کس طرح اپنارول اداکرتے رہے ؟ انھیں قوت کہاں سے ملتی رہی کہ وہ اپنے کام میں کامیاب ہوتے گئے ۔ قرآن اور حدیث سے اس کے اشارے ملتے ہیں کہ صوفیا کا مطمحِ نظر اللہ رب العزت سے محبت کرناتھا اوربس۔ خداسے محبت کرنے کاطریقہ خود خدانے بتایاہے کہ اس کے نبی کی اتباع کی جائے اوراتباع اُسی صورت میں ممکن ہے کہ نبی سے محبت کی جائے ۔ معلوم ہواکہ اللہ سے محبت کرنے کے لیے نبی سے محبت کرنا لازمی ہے ۔ یعنی بغیرعشقِ محمد خداپر ستی چہ معنی دارد ،اورجب آدمی اللہ اوراس کے رسول دونوں سے والہانہ محبت کرنے لگتاہے تو اس کے اورخدا کے درمیان فاصلے ختم ہوجاتے ہیں ۔ نگارخانۂ رحمت کے دَراُس کے لیے واہوجاتے ہیں ، اوربقول علامہ اقبال اُس کاہاتھ خداکاہاتھ ہوجاتاہے ۔اس منزل پر پہنچنے کے بعد صوفیائے کرام تہذیب اورمعاشرے کی تشکیل واصلاح کاکام اللہ کی اُسی دی ہوئی قوت سے لیتے تھے ۔ چنانچہ وہ جس طرف بھی نظرِکرم کرتے تھے قوم کی قوم معاشرے کامعاشرہ سنورجاتاتھا اورقوموںکے ذہن وشعورمیں انقلاب ِ عظیم برپا ہوجاتا تھا۔ اس حقیقت کااعتراف ہمارے علمائے دین نے کیاہے کہ صوفیائے کرام اوراولیائے عظام کی طاقت وتوانائی کاندازہ لگانا محال ہے۔تاہم مولوی عبدالحق اشارہ کرتے ہیںکہ:
’’…علماوامرابلکہ حکومتوں اوربادشاہوںسے بھی وہ کام نہیں ہوسکتاجوفقیراوردرویش کرگزرتے ہیں۔ بادشاہ کادربار خاص ہوتاہے اورفقیرکادربارعام ہے، جہاںبڑے چھوٹے، امیرغریب، عالم جاہل کاکوئی امتیاز نہیں ہوتا۔ بادشاہ جان ومال کامالک ہے ۔ لیکن فقیر کاقبضہ دلوںپرہوتاہے اس لیے ان کااثرمحدودہوتاہے اوراِن کابے پایاں۔ اوریہی سبب ہے کہ درویش کو وہ قوت واقتدارحاصل ہوجاتاہے کہ بڑے بڑے جبّاراورباثروت بادشاہوں کو بھی اس کے سامنے سر جھکاناپڑتا ہے‘‘
(ابتدائی نشوونمامیں صوفیائے کرام کاحصہ،ص:7)
صوفیائے کرام نے اپنے حسن سلوک سے سماج میں پھیلی ہوئی تمام خرابیوں مثلاً بھید بھائو، اونچ نیچ اور چھوٹے بڑے کو دورکیا۔ ان کاسلوک سب کے ساتھ یکساں تھا خواہ وہ ہندوہویامسلمان ، آزادہویاغلام ، چھوٹاہویابڑا، شاہ ہویاگدا، غریب ہویامحروم سب کے لیے ان کا سلوک ہمدردانہ تھا۔ انھوں نے اپنی روحانی طاقت سے تمام لوگوںکے لیے خوش گوار سماجی ماحول پیداکیا۔ ایساماحول جہاں اتحادواتفاق اورجذباتی ہم آہنگی ہو۔ نظیراکبرآبادی کے الفاظ میں صوفیانے اس بات کی تبلیغ کی:
جھگڑانہ کرے مذہب وملت کاکوئی یاں
جس راہ میں جوآن پڑے خوش رہے ہرآں
زنّار گلے میں کہ بغل بیچ ہو قرآں
عاشق تو قلندرہے نہ ہندونہ مسلماں
کافرنہ کوئی صاحب اسلام رہے گا
آخر وہی اللہ کا اک نام رہے گا
مذکورہ بالا معروضات سے یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کے فروغ میں صوفیوں اور سنتوں کی تعلیمات جو ہر دور میں انسانی قدروں کی تشکیل اور تزکیۂ قلب و تطہیر کی ضامن رہی ہے جو ذات پات ،مذہب اور عقیدے کی قیود سے آزاد بھی تھیں ۔قرون وسطیٰ میں ہندوستان کی روحانی فضا میںہماری گنگا جمنی تہذیب نشوونما پائی۔ اس کے برعکس جب ہم موجودہ ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب پر نظر ڈالتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ تہذیب سیاسی، سماجی ،معاشی اور اخلاقی ہر طور سے ذات پات، فرقہ وارانہ گروہ بندیوں میں جکڑی ہوئی ہے ۔اس لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان گونا گوں مسائل کو حل کرنے کے لیے ہندوستانی معاشرے کو صوفیا اور بھکتی سنتوں کی روحانی تعلیمات کی جتنی ضرورت آج درپیش ہے اتنی ضرورت شاید ماضی میں بھی نہیں رہی ہوگی۔
مختصر یہ کہ صوفیوں اورسنتوں کی تعلیمات کو مشعل راہ بنا کرہمیں اس پر عمل پیراہونا چاہیے تاکہ ایک پُر امن اور ہم آہنگ سماج کی تشکیل میںجو ناقابل مصالحت اختلافات در آرہے ہیں ان کا خاتمہ ہو۔ انسان دوستی ،اعتدال پسندی ،صلح وآشتی اورخلوص ومحبت کا استحکام اُسی وقت ممکن ہے جب ہم تصوف کے سیاق میں صوفیاے کرام کی تعلیمات کا مطالعہ کریں۔مزید براں اپنے اپنے مذہب پر عمل پیرارہتے ہوئے دوسروںکے مذاہب کااحترام بھی کریں کیونکہ تہذیبی ہم آہنگی کے فروغ میں مذہبی رواداری کا جذبہ ایک کلیدی کردار ادا کرتا ہے ،یہ جذبہ اخوت، بھائی چارگی ، مساوات کے مقصد کی نشوونما کرسکتا ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ ایک اچھے سماج کی تشکیل اور دور حاضر کے اخلاقی، تہذیبی اور ثقافتی طور سے پسماندہ معاشرے کو صحت مند بنانے کے لیے ہمیں صوفیوں اور سنتوں کی تعلیمات کوعملی جامہ پہنانے کا عہد علامہ اقبال کے ان اشعارسے کرنا چاہیے:
آ ، غیریت کے پردے اک بار پھر اٹھادیں
بچھڑوں کو پھر ملادیں نقشِ دُوئی مٹادیں
سونی پڑی ہوئی ہے مدت سے دل کی بستی
آ ، اِک نیا شوالہ اس دیس میں بنادیں
شکتی بھی شانتی بھی بھگتوں کے گیت میں ہے
دھرتی کے باسیوں کی مکتی پریت میں ہے
٭٭٭

Qurratul Haider : The memories

Articles

قرۃالعین حیدر:یاد سے تیری دل درد آشنا معمور ہے

جمیل اختر

21 اگست 2018، عینی آپا کو اس دارفانی سے کوچ کیے گیارہ سال ہو جائیں گے۔ وقت کس سرعت کے ساتھ گزرا کہ پتہ ہی نہیں چلا۔ جیسے لگا ابھی کل کی بات ہے۔ ان کی یاد دل میں ایسے بسی ہوئی ہے جیسے لگتا ہے کہ میں عینی آپا کے آس پاس ہی جی رہا ہوں۔ ان کی آواز، ان کے قہقہے، ان کی گفتگو، ان کی شفقت و محبت، ان کا روٹھنا، غصہ کرنا اور مان جانا، ان کے بات کرنے کا انداز، جیسے لگ رہا ہو کہ میں ہر لمحہ ان سے مکالمہ کر رہا ہوں۔ وہ کبھی ہنس کے، کبھی خوش دلی سے، کبھی کچھ خفگی سے، کبھی بے حد ناراض ہو کر مجھ سے ہر موضوع پر گفتگو کرتی جا رہی ہیں۔ ان کا ہنستا بولتا چہرہ اور جیتا جاگتا وجود مجھے اپنے حصار میں ایسے لیے ہوا ہے کہ میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو اس سے باہر نہیں نکال پاتا۔ اور سچائی یہی ہے کہ میرے شب و روز عینی آپا کے ساتھ ہی بسر ہو رہے ہیں۔ اور کیوں نہ ہو وہ جاتے جاتے مجھے ایک بڑی ذمہ داری جو سونپ گئیں۔ کلیات کی تحقیق و تدوین و ترتیب کی ذمہ داری۔ جس کی ابتدا ان کی حیات میں ان کی رضامندی سے ہو چکی تھی اور چار جلدیں ان کے ہوش و حواس میں رہتے ہوئے شائع بھی ہو چکی تھیں۔ اور چند ماہ بعد ہی آپا اس دار فانی سے کوچ کر گئیں۔
چلتے چلتے ایک بات اور گوش گزار کرتا چلوں کہ کلیات کی تدوین کے سلسلے میں بھی اس کام کو کرنے کے لیے کئی لوگوں نے ان سے اجازت چاہی تھی مگر انھوں نے منع کر دیا تھا۔ حتیٰ یہ کہ کونسل بھی یہ کام کرنا چاہتی تھی اور اس نے مخمور سعیدی صاحب کو ان کے پاس ان کی رضامندی حاصل کرنے کے لیے بھیجا تھا مگر اس وقت انھوں نے ان کو منع کر دیا تھا۔ اس لیے کونسل کو جب میں نے یہ پروجیکٹ دیا تھا تو کونسل نے پہلی شرط ان سے تحریری اجازت نامہ ہی لینے کو کیا تھا اور جب اس خواہش کا اظہار میں نے آپا سے کیا تو انھوں نے بخوشی تحریری اجازت نامہ لکھ کر دے دیا جس کی پرخاش کئی لوگوں کو ہوئی تھی۔
ایک دن مجھ سے ہم کلام ہوئیں اور کہنے لگیں کلیات کی بقیہ جلدیں کب تک منظر عام پر آئیں گی۔ میں نے کہا آپا! چار جلدوں کی خوشی تو آپ برداشت نہیں کر سکیں کیا بقیہ کا بار آپ اٹھا پائیں گی۔ بولیں بات یہ نہیں ہے کہ میں خوشی برداشت نہیں کر سکی بلکہ سچائی یہ ہے کہ آپ جیسے ذمہ دار اور ایماندار نوجوان محقق کے ہاتھوں میں یہ ذمہ داری سونپ کر میں مطمئن ہو گئی اور یہ یقین ہو گیا کہ اب تک جس محنت، لگن، ایمانداری اور جذبۂ خلوص سے آپ نے یہ کام کیا ہے آئندہ بھی اس میں کوئی کمی باقی نہیں رہنے دیں گے (آپا کبھی اپنے کسی عزیز کے لیے بھی تم کا لفظ استعمال نہیں کرتی تھیں۔ یہ ان کی تہذیبی اقدار و روایت کے خلاف تھا اور مجھ جیسے نئے لکھنے والوں کی بے حد قدر اور حوصلہ افزائی کرتی تھیں)۔ جب میری حیات میں آپ نے اتنے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھایا کہ میں خود آپ کی تحقیقی کاوشوں کو دیکھ کر حیران رہ گئی تھی۔ چھپی ہوئی وہ تمام چیزیں جو اب تک رسالوں کے گرد آلود انبار میں چھپی ہوئی تھیں اسے تھپکیاں دے دے کر باہر نکال لائے۔ بغیر کسی مالی مدد کے آپ نے پہاڑ کاٹے تھے اور کئی دریا عبور کیے تھے، تبھی تو گوہر نایاب ادب کے قاری کے لیے نکال کر لائے تھے۔ آج کلیات کی ان چار جلدوں کی ادبی دنیا میں اتنی دھوم مچی ہوئی ہے کہ میری روح اپنے تخلیقی کارنامے پر کم اور آپ کی محققانہ کاوشوں پر زیادہ خوش ہو رہی ہے۔ اور میں اللہ رب العزت سے دعا گو ہوں کہ آپ کی سعی و محنت میرے وسیلے سے آپ کی شہرت دوام کا ذریعہ بنے۔ ’آئینۂ جہاں‘ کی یہ چاروں جلدیں ادب کے قارئین کے لیے ایک انمول تحفہ ہیں۔
پھر گویا ہوئیں بقیہ جلدیں کب تک منظر عام پر آئیں گی۔ میں نے کہا آپ کی اجازت کا انتظار تھا۔ اب مل گئی ہے تو پھر سمجھیے جلد ہی منزل سر ہوگی۔ ویسے ایک بات بتا دوں آپا! میں اس درمیان اس طرف سے غافل ہرگز نہیں تھا۔ بلکہ خموشی سے اپنا کام کر رہا تھا بالکل آپ کی طرح گوشہ نشیں ہو کر۔ لیکن آپ کا دم بھرنے والے لوگوں یا اداروں کی طرف سے ایسی کوئی آفر نہیں آئی کہ تم کام جاری رکھو ہم تعاون کریں گے۔ آپ کے تعزیتی جلسے میں اردو کے چھوٹے بڑے اداروں نے اپنی بساط سے بڑھ چڑھ کر بڑے بڑے دعوے کیے تھے جیسے وہ آپ کو خوش کرنا چاہتے ہوں کہ دیکھو تم مرنے کے بعد بھی مجھے کس قدر عزیز ہو۔ سبھی دعوے جھوٹے اور کھوکھلے نکلے۔ کسی ادارے نے بھی سوائے جامعہ ملیہ اسلامیہ کے آپ کے شایان شان کوئی کام نہیں کیا۔ جامعہ قابل تعریف ہے اور اس کے وائس چانسلر (اس وقت پروفیسر مشیرالحسن) جنھوں نے آپ کی قدر و قیمت کو پہچانا۔ باب قرۃالعین حیدر، میوزیم، قرۃالعین حیدر چیئر تاکہ آپ پر کام کرنے والا کوئی شخص اس پر فائز ہو کر آپ کی شان کو مزید روشن کر سکے۔ لیکن یہاں بھی مصلحت دنیاداری نے نہ میوزیم کا نگراں اور نہ ہی آپ کے نام قائم چیئر پر کسی ایسے شخص کو فائز کیا جو علم و فضل میں کوئی مرتبہ ہی رکھتا ہو اور جسے آپ کے نام اور کارنامے کا ہی کوئی علم ہو۔ اگر ایسا ہوتا تو آپ کے گم شدہ ادبی اثاثے کی بازیافت شاید اتنی مشکل نہیں ہوتی اور جوکھم بھری مہم جوئی کو ایک بڑے ادارے کی سرپرستی حاصل ہونے سے دشوار مراحل ذرا آسان ہو جاتے۔ آپ ہی کے لفظوں میں:
رموز مملکت خیش خسرواں دانند
آپ کی قدردانی کی یہ تمام چیزیں مستحکم یادگار کے طور پر کی گئی ہیں۔ بقیوں نے تو صرف ڈھول پیٹا ہے اور کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ہے۔ یہاں تک کہ کسی رسالے نے ایک خاص نمبر بھی آپ پر ڈھنگ کا نہیں نکالا ہے اور نہ کسی ناقد نے کوئی تازہ بہ تازہ اچھوتا ناقدانہ مضمون ہی آپ پر لکھا جس سے آپ کی عظمت کا اعتراف ہی ہو سکے۔ ہاں، البتہ چند تعزیتی قسم کے مضامین لے کر لوگ دوڑے ضرور جس سے ان کے اور آپ کے روابط پر روشنی پڑتی ہو۔ ورنہ زیادہ تر رسالوں نے پرانے مضامین ہی کو نئے خول میں ڈال کر آپ پر گوشے اور نمبر نکالنے کی ہوڑ میں شامل ہوئے۔ اس لیے کہ یہ منفعت کا سودا تھا۔ آپ پر آپ کی حیات میں جو کچھ لکھا گیا اس شکایت کے باوجود کہ ناقدوں نے آپ کے ساتھ انصاف نہیں کیا اب لکھے جا رہے مضامین سے بدرجہا بہتر ہے۔ اب تو آپ کے بارے میں ناقدوں کی سوچ رک سی گئی ہے۔ کچھ لوگ فہرست میں نام ڈلوانے کے خواہش مند ہیں سو وہ کوشش کر رہے ہیں۔ ان کی بات دل پر مت لیجیے گا۔
اب رہی کلیات کی بات۔ اگر آپ نے یہ بار گراں اس ناتواں پر ڈال ہی دیا ہے اور اس یقین کے ساتھ کہ میں دیانت داری کے ساتھ انصاف کروں گا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ کے اعتماد کو مجروح نہیں ہونے دوں گا۔
میں نے کلیات کا پورا منصوبہ بھی بنا لیا ہے۔ اور یہ کام آپ ہی کی غائبانہ رہنمائی میں پایۂ تکمیل کو پہنچے گا۔ غائبانہ اس لیے کہ جو طریقہ اور سلیقہ آپ کی کلیات کے سلسلے میں میں نے اپنایا ہے اس کی تائید آپ نے کر دی ہے لہٰذا رہنما اصول وہی رہیں گے اور طریق کار بھی وہی جسے آپ نے منظوری دی ہے۔ میرے خزانے میں در نایاب بہت ہیں جس کی چمک قاری کی نظروں کو خیرہ ضرور کریں گی۔ ’پدما ندی کنارے‘ والا رپورتاژ بھی آپ کی نشان دہی پر میں نے حاصل کر لیاہے۔ سنہ ماہ و سال پر آپ کی یہ گرفت۔ آپ کی یاد داشت قابل داد ہے۔ کلیات کی تدوین کے ہر مشکل مرحلے میں، میں آپ سے رجوع کرتا رہوں گا۔ امید ہے آپ کی رہنمائی جاری رہے گی۔
آپا سے ان کی حیات میں اتنے مکالمے کیے کہ اب جب بھی ان کا خیال کرتا ہوں لگتا ہے وہ سامنے بیٹھی مجھ سے گفتگو کر رہی ہیں اور میرے کسی نہ کسی سوال کی گتھیوں کو سلجھانے میں مصروف ہیں۔ اگرچہ عینی آپا سے میری پہلی ملاقات 1984 میں اس وقت ہوئی تھی جب میں نے جواہرلعل نہرو یونیورسٹی سے ایم اے کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ میں پی ایچ ڈی میں داخلہ لیا تھا اور فکشن پر میری دلچسپی کو دیکھتے ہوئے صدر شعبہ پروفیسر گوپی چند نارنگ نے مجھے عینی آپا پر کام کرنے کی صلاح دی تھی اور کافی غور و خوض کے بعد ’قرۃالعین حیدر کے فکشن کا تنقیدی مطالعہ‘ میری تحقیق کا موضوع طے پایا تھا۔ پھر مجھے یہ بھی کہا گیا تھا کہ عینی آپا یہیں پر ذاکر باغ میں رہتی ہیں، کبھی وقت لے کر ان سے مل بھی لیجیے گا۔ سن کر بے حد خوش ہوں گی اور شاید کچھ مدد بھی کریں۔ میں نے سوچا ضرور ملوں گا۔ اتنی بڑی ادیبہ سے ملنے کا موقع جو ہاتھ آیا ہے۔ اسی اثنا میں ایک دن میں شعبے کے سامنے کھڑا ہوا اپنے کچھ دوستوں سے محو گفتگو تھا۔ اتنے میں ایک کار شعبے کے سامنے آ کر رکی۔ تین خواتین باہر نکلیں اور شعبہ اردو کی طرف جانے لگیں۔ میں اس وقت تک قرۃالعین حیدر کو نہیں پہچانتا تھا۔ میرے دوستوں میں سے ایک نے کہا دیکھو! یہی ہیں قرۃالعین حیدر۔ دوسری دو خاتون کون تھیں مجھے یاد نہیں۔ اور آپا بھی اس وقت کس لباس میں ملبوس تھیں یہ بھی مجھے یاد نہیں۔ ساڑی یا شلوار قمیض۔ بس کیا تھا میری خوشی کی انتہا نہ رہی۔ جن سے ملنے کا پروگرام بنا رہا تھا وہ سامنے کھڑی تھیں۔ میں نے فوراً موقع کا فائدہ اٹھایا اور آگے بڑھا۔ آپا کے قریب پہنچ کر سلام عرض کیا۔ انھوں نے بے حد خوش خلقی سے جواب دیا۔ پھر میں نے عرض کیا آپا میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔ کہنے لگیں کس سلسلے میں۔ میں نے کہا میں آپ پر تحقیقی کام کر رہا ہوں اور آپ سے مل کر کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں۔ اتناسننا تھا کہ آپا کا انداز بالکل بدل گیا۔ چہرے پر کچھ ناگواری کے آثار پیدا کرتے ہوئے بولیں نہیں، نہیں آپ مجھ پر پی ایچ ڈی ہرگز نہ کریں۔ کس احمق نے آپ کو یہ موضوع دے دیا ہے۔ میں اپنے بارے میں کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہرگز نہیں کرتی۔ آپ اپنا موضوع تبدیل کروا لیں اور یہ کہتی ہوئی وہ شعبہ کے اندر چلی گئیں اور میں باہر بھونچکا سا کھڑا رہ گیا۔ ساری بساط ہی الٹ گئی۔مجھے ان سے اس طرح کے سپاٹ جواب کی قطعی توقع نہیں تھی۔ میں تو یہ سوچ رہا تھا کہ وہ یہ جان کر بے حد خوش ہوں گی اور مجھے گھر پہ ملنے کا وقت بھی دیں گی۔لیکن یہاں تو معاملہ بالکل بے نیازی کا تھا۔ خوشی کی بات تو الگ رہی۔ پہلے بھی بہت سی باتیں ان کے مزاج کے بارے میں لوگ مجھ سے کہہ چکے تھے کہ ذرا نک چڑھی ہیں، جلدی کسی کو خاطر میں نہیں لاتیں لیکن میں تو ان پر پی ایچ ڈی کر رہا تھا، پھر ایسا کیوں؟ میں نے شعبے میں اساتذہ سے ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کوئی بات نہیں ہے۔ ہر بڑا ادیب سنکی ہو جاتا ہے وہ بھی ہیں، آپ اپنا کام جاری رکھیے۔ ان سے ملنا اتنا اہم نہیں۔ بات آئی گئی اور پھر ان سے ملنے کا کبھی خیال نہیں آیا۔ قرۃالعین حیدر کی شخصیت کا وہ نقش میرے ذہن پر کچھ اس طرح ثبت ہوا کہ میں نے اپنی پی ایچ ڈی کے دوران ان سے ملنے کی پھر دوبارہ کوشش نہیں کی بلکہ ان کی تحریروں سے ان کی شخصیت کے روپ رنگ نکھارے اور ان کے فکشن کے مطالعہ سے ان کی انفرادیت اور انوکھے انداز تحریر، نئے تجربے، فکر و فن کے نیاپن اور فکشن کو ان کی دین اور اس میدان میں ان کے مقام و مرتبے کا تعین کیا اور تحقیقی مقالے پر ڈاکٹریٹ کی ڈگری جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے لے لی۔ اب آپ حیران ہوں گے کہ داخلہ تو جامعہ میں لیا اور ڈگری جے این یو سے لی۔ آخر ماجرا کیا ہے۔ یہاں جامعہ سے جے این یو کی جست کا واقعہ گرچہ خوش گوار نہیں ہے لیکن بہتر ہوگا کہ بتاتا چلوں
قصۂ درد سناتا ہوں کہ مجبور ہوں میں
میں نے جواہر لعل نہرو یونیورسٹی میں 1981 میں ایم اے اردو میں داخلہ لیا تھا۔ 1983 میں میرا ایم اے مکمل ہو گیا۔ اس سال طلبا کے ایجیٹیشن کی وجہ سے یونیورسٹی ایک بحران میں مبتلا ہو گئی۔ وائس چانسلر کے گھر کی ناکہ بندی کی وجہ سے صورت حال اتنی سنگین ہو گئی کہ پولس ایکشن ہوا اور جے این یو کیمپس میں پہلی بار پولس نہ صرف داخل ہوئی بلکہ پورا کیمپس پولس کے حوالے کر دیا گیا۔ ایک ہزار سے زائد طلبہ نے گرفتاری دی۔ یونیورسٹی سائن ڈائی (غیر معینہ مدت) ہو گئی۔ طلبہ سے چوبیس گھنٹے کے اندر کیمپس خالی کرنے کا آرڈر نکال دیا گیا اور پولس کی مدد سے تمام ساز و سامان کے ساتھ طلبہ سے جبراً ہاسٹل خالی کرا لیے گئے۔ جس کی وجہ سے فائنل امتحانات میں تاخیر ہوئی اور ریزلٹ دیر سے نکلے۔ پھر زیرو سیمسٹر ڈکلیئر کر کے 83-84 کے سیشن میں داخلے نہیں ہوئے اور اسی اثنا میں بہت سے قاعدے قوانین اور داخلہ پالیسی میں ترمیم کی گئی۔ اس درمیان مغنی صاحب انجمن ترقی اردو ہند کی کسی میٹنگ میں شرکت کے لیے دلی تشریف لائے۔ میں نے ان سے ذکر کیا۔ سال ضائع ہوتا دیکھ کر پروفیسر عبدالمغنی صاحب (مرحوم) کے مشورے پر میں نے جامعہ کی طرف رخ کیا۔ مغنی صاحب نے ہی پروفیسر گوپی چند نارنگ صاحب سے میرا پہلا تعارف کرایا۔ نارنگ صاحب نے ہی موضوع طے کیا۔ یہ سب ہو ہی رہا تھا کہ اسی بیچ نارنگ صاحب کو دہلی یونیورسٹی سے پروفیسر شپ کی آفر ملی۔ جامعہ کے حالات نارنگ صاحب کے لیے اس وقت خوش گوار نہیں تھے۔ پروفیسر عنوان چشتی صدر شعبہ بننے والے تھے اور نارنگ صاحب اور عنوان صاحب میں چھتیس کا آنکڑا تھا۔ نارنگ صاحب نے اب تک حکمرانی کی تھی اب اپنے کسی جونیئر کے ماتحت کام کرنا کیسے گوارا کر سکتے تھے۔ ہیڈ شپ کی روٹیشن کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا۔ جامعہ میں اپنا کوئی روشن مستقبل انھیں نظر نہیں آ رہا تھا۔ لہٰذا عزت اسی میں تھی کہ جامعہ چھوڑ کر دہلی یونیورسٹی کی آفر منظور کر لی جائے اور نارنگ صاحب نے ایسا ہی کیا۔ جاتے وقت مجھے نئے صدر شعبہ پروفیسر عنوان چشتی صاحب کے حوالے (زیر نگرانی) کر گئے۔ میں نیا نیا تھا، شعبے کے کسی بھی اساتذہ کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتا تھا۔ یہاں آنے پر معلوم ہوا کہ ریسرچ اسکالر سے نگراں نوکروں سے بدتر سلوک کرتے ہیں۔ جس نے سپر ڈال دی اور نفس امارہ کو سمجھا لیا، اپنی انا اپنا ضمیر سب کچھ دفن کر دیا وہ کامیاب ڈاکٹر بن کر نکلتا ہے۔ اور جس نے ذرا اکڑفوں دکھلائی اس کی عاقبت خراب۔ ان سب باتوں نے مجھے بالکل دہلا دیا تھا۔ میں تو امت مسلمہ کے اس ادارے میں اپنی عاقبت سنوارنے آیا تھا مگر یہاں تو حالات برعکس تھے۔ جو میرے مزاج سے بالکل میل نہیں کھاتے تھے۔ کہاں جے این یو کی آزادانہ فضائیں و اساتذہ اور طلبا کا دوستانہ ماحول اور کہاں جامعہ کا مولویانہ دقیانوسی ماحول۔ ہر چیز میں ایک گھٹن کا احساس ہوتا تھا۔ بہر حال 1984 کے مارچ میں میرا داخلہ پی ایچ ڈی میں ہو گیا اور ایم اے فرسٹ ڈویژن ہونے کی وجہ سے فیلوشپ بھی مل گئی۔ میرے ساتھ ارتضیٰ کریم کا بھی داخلہ ہوا۔ ہم دونوں کے نگراں عنوان چشتی صاحب مقرر ہوئے۔ مقرر کیا ہوئے صدر شعبہ کی حیثیت سے ان کے حصے میں آئے۔ ارتضیٰ کریم کو بھی فیلوشپ ملی۔ نارنگ صاحب اپنے پرانے گھر دہلی یونیورسٹی کو لوٹ چکے تھے۔
داخلہ کے کچھ دنوں بعد ارتضیٰ کریم کو جامعہ کے نامساعد حالات کا شاید بہت کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔ وہ اپنے روشن مستقبل کے امکانات کی تلاش میں جامعہ سے دہلی یونیورسٹی منتقل ہو گئے اور پروفیسر قمر رئیس صاحب کی زیر نگرانی اپنا داخلہ کرا لیا اور جامعہ کو خیر باد کہہ کر دلی یونیورسٹی کو اپنا نیا اور مستقل مسکن بنایا۔ ہم دونوں ایکد وسرے سے بالکل واقف نہیں تھے۔ وہ بودھ گیا سے ایم اے کر کے آئے تھے اور میں جے این یو سے ایم کر کے گیا تھا۔ ہم دونوں کی شناخت صرف ایک طالب کی تھی۔
پروفیسر عنوان چشتی صاحب کی زیر نگرانی میں واحد ریسرچ اسکالر تھا۔ کچھ دنوں تک تو حالات ٹھیک ٹھاک چلتے رہے۔ مگر جامعہ میں نگراں کو یہ بات ہرگز گوارا نہیں کہ کوئی ریسرچ اسکالر ان سے روزانہ نہ ملے۔ بلکہ روزانہ گھنٹوں زانوئے ادب تہہ کر کے ان کی خدمت اقدس میں حاضری نہ دے اور گھر سے لے کر باہر تک کے ان کے سارے کام جسے ایک ذاتی نوکر کو کرنا چاہیے نہ بجا لائے تو وہ کامیاب ڈاکٹر بن ہی نہیں سکتا۔ میں نے حکم عدولی کی نگراں کی خدمت میں روزانہ گھنٹوں بیٹھ کر وقت برباد کرنے کے بجائے لائبریری میں وقت گزارنے کو بہتر جانا اور دو تین دنوں پر ایک بار ضرور اپنی صورت نگراں کو دکھلا دیتا تھا۔ مگر وہ اس بات سے خوش نہیں رہتے تھے۔ یہ سلسلہ کھینچ تان کر کسی طرح ایک سال تو چلا پھر وہی ہوا جو ہونا چاہیے تھا۔ میرے نگراں نے مجھے اپنے قابو میں کرنے کے لیے ایک آفیشیل شو کاز نوٹس کا سہارا لیا جس میں میرے ایک سال کے تحقیقی کام پر اپنی عدم اطمینانی کا اظہار کرتے ہوئے مجھ سے جواب طلب کیا۔ نوٹس اور نوٹس کے جواب پر پھر کبھی تفصیل سے لکھوں گا۔ فی الوقت تو اتنا جان لیں کہ یہ حربہ بھی ان کے کام نہ آیا اور میں نے خوف زدہ ہونے کے بجائے اس نوٹس کا قانونی جواب دینا بہتر سمجھا۔ پھر کیا تھا، جامعہ میں ایک بھونچال آ گیا۔ خط کی کاپی اس وقت کے وائس چانسلر پروفیسر علی اشرف مرحوم اور ڈین آرٹس فیکلٹی پروفیسر انور صدیقی مرحوم کی خدمت میں بھی دے دی تھی۔ جامعہ کی تاریخ میں کسی پروفیسر کے خط کا جواب کسی ریسرچ اسکالر نے پہلی بار دینے کی ہمت کی تھی جس کے چرچے خوب ہوئے۔ تمام پروفیسران اس حمام میں برہنہ ہوتے نظر آئے۔ لہٰذا میرا معاملہ حق بہ جانے ہوتے ہوئے بھی جامعہ کی فضا میرے حق میں عدل و انصاف سے عاری نظر آئی۔ مجھے یہاں کے ماحول میں مزید گھٹن اس واقعے کے بعد محسوس ہونے لگی۔ ہر کوئی پس پردہ میرا ہمدرد تو تھا لیکن سامنے آنے کے لیے کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ لہٰذا ماحول کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے میں نے جامعہ کو خیر باد کہا اور پھر جے این یو واپس آ گیا۔
جو غم ملا ہے بوجھ اٹھایا ہے اس کا خود
سر زیر بار ساغر و بادہ نہیں کیا
(پروین شاکر)
اور پروفیسر محمد حسن کی نگرانی میں ایم فل اور پی ایچ ڈی مکمل کیا۔
پھر مدتوں قرۃالعین حیدر سے نہ میری ملاقات ہوئی اور نہ میں نے ملاقات کی کوشش کی اور نہ ہی کسی جلسے میں آمنا سامنا ہوا۔ 1991 میں تحقیقی مواد کی فراہمی کے سلسلے میں میں پاکستان گیا تھا اور قرۃالعین حیدر پر اردو اور انگریزی میں بہت سے مضامین، ان کے بہت سے نئے افسانے جو ان کے افسانوی مجموعوں میں نہیں تھے، ان کے مضامین اور ان کی بہت سی ایسی تحریریں جو مختلف رسائل میں بکھری پڑی تھیں ڈھونڈھ کر لایا اور ان افراد سے بھی ملاقات کی جن کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ قرۃالعین حیدر کے قریبی حلقے میں رہے ہیں اور ان سے قرۃالعین حیدر کے بارے میں بہت کچھ معلومات حاصل ہو سکتی ہے۔ اور ایسا ہوا بھی غرض کہ بہت کچھ نیا نیا میں لے کر واپس آیا۔ لیکن تب بھی قرۃالعین حیدر سے ملنے کا خیال میرے ذہن میں پیدا نہیں ہوا۔ وہ تو کہیے کہ کچھ صورت ایسی بن گئی کہ ان سے ملنے کا موقع نکل آیا۔
پاکستان سے لوٹنے کے چند ماہ یا چند سال بعد افتخار عارف دلّی آئے۔ اشوکا ہوٹل میں ٹھہرے ہوئے تھے۔ پاکستان میں میری ان سے کئی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔ اور آنے کے بعد کچھ دنوں تک خط و کتابت کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ اس وقت افتخار عارف ادارہ ادبیات پاکستان کے ڈائریکٹر تھے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ کے ذریعہ جب مجھے یہ خبر ملی کہ وہ آئے ہوئے ہیں اور اشوکا میں ان کا قیام ہے تو میں نے ان کو فون کر کے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے دوسرے دن صبح ملنے کا وقت دیا۔ میں وقت مقررہ پر پہنچ گیا۔ انھوں نے پہنچتے ہی کہا کہ عینی آپا سے ملنے جانا ہے اگر تمھارے پاس وقت ہو تو تم بھی چلو۔ اندھا چاہے دو آنکھ۔ میں نے کہا جی ضرور چلوں گا۔ افتخار عارف نے فون کرکے آپا کو اپنے ہندوستان آنے کی اطلاع دی اور ان سے ملنے کی خواہش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا فوراً آ جائو۔ افتخار صاحب تیار بیٹھے تھے۔ ہم لوگ فوراً روانہ ہو گئے اور کچھ دیر بعد ذاکر باغ پہنچ گئے۔ ان کے گھر جانے کا یہ میرا پہلا اتفاق تھا۔ آپا ذاکر باغ کے ٹاور میں فرسٹ فلور پر رہتی تھیں۔ جب میں ان کے فلیٹ کے سامنے پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ جوتے اور چپلوں کا انبار باہر پڑا ہوا ہے اور بہت سے لوگ نیچے سے لے کر اوپر تک مختلف کیفیتوں میں بیٹھے اورلیٹے ہوئے ہیں۔ ماجرا میری سمجھ میں نہیں آیا۔ میں ان لوگوں کو پھلانگتا ہوا آگے بڑھا اور دروازے کی گھنٹی بجائی۔ ان کی خادمہ نے دروازہ کھولا۔ دروازہ کھلا تو اندر ڈرائنگ روم کا منظر بھی ایسا ہی تھا۔ تل رکھنے کو جگہ نہیں تھی۔ عجیب و غریب قسم کے لوگ، متوحش چہرے، بڑھے ہوئے بال، گلے میں مالائیں، دیوانوں سا انداز۔ میں حیران تھا کہ ان بھانت بھانت کے لوگوں سے عینی آپا کا کیا تعلق۔ ایسے لوگ تو میں نے درگاہوں میں دیکھے تھے۔ ابھی ہم لوگ ڈرائنگ روم میں کھڑے ہی تھے کہ افتخار عارف کی آواز سن کر عینی آپا اپنے کمرے سے نکل کر تیزی سے ڈرائنگ روم کی طرف آتی ہوئی دکھائی دیں۔ افتخار عارف کو گلے لگایا اور دعائیں دیں۔ میں نے بھی سلام عرض کیا۔ اور پھر آپا کے بیٹھنے کے بعد ہم لوگ بھی صوفے پر بیٹھ گئے۔ اس وقت مجھے آپا کی شخصیت کا دوسرا ہی روپ نظر آیا۔ خوش مزاج، باتونی اور قہقہہ لگانے والی۔ پھر آپا نے کہا کہ بھیا جی آئے ہوئے ہیں۔ میں نے سن رکھا تھا کہ عینی آپا کسی پیر کی عقیدت مند بن گئی ہیں اور وہ برابر ان کے یہاں آتے رہتے ہیں اور آپا بھی وہاں جاتی رہتی ہیں۔ ان کے فکشن میں تصوف کی طرف ان کا جھکائو بھیا جی کی وجہ سے ہوا اور آپا نے اس کے حوالے بھی دیے ہیں۔ ان کا اصل نام حضرت سلطان محمد عارف عرف عام میں ’بھیا جی‘ کہلاتے ہیں۔ اس وقت پاک و ہند کے سلسلہ چشتیہ مینائیہ کے سب سے بڑے نمائندہ سمجھے جاتے تھے۔ وہ حضرت مخدوم شیخ سارنگ کے صاحب سجادہ حضرت مخدوم مکرم دانش علی کے صاحب زادے ہیں۔ یہ بھیا جی بارہ بنکی والے وہی پیر صاحب ہیں جن کا تذکرہ ’چاندنی بیگم‘ میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ عینی آپا صوفیا کرام کے سلسلے کو نہ صرف مانتی تھیں بلکہ بزرگوں کے مزاروں پر ان کا آنا جانا بھی تھا۔ خود ان کے خاندان میں کئی بزرگ اور صوفیاء گزرے جہاں وہ ہر سال عرس کے موقع پر پابندی سے جاتی تھیں۔ بھیا جی بھی ان کے خاندانی سلسلے کے بزرگ ہیں۔ بھیا جی نے شب بے داری کی تھی لہٰذا وہ دن کے کوئی گیارہ بجے سوئے ہوئے تھے۔ افتخار عارف بھی ان کے عقیدت مندوں میں تھے اس لیے وہ ان کے کمرے میں ان کا دیدار کرنے کے لیے گئے۔ آپا نے انھیں جگانے سے منع کر دیا تھا۔ صوفیائی صفت کے مالک بزرگ تھے افتخار عارف جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئے ان کو احساس ہو گیا کہ کوئی آیا ہے، فوراً وہ نیند سے بے دار ہو گئے اور افتخار صاحب کے ساتھ ڈرائنگ روم میں تشریف لے آئے۔ نورانی چہرہ، صاف رنگت، دراز قد، متوسط بدن، داڑھی سے مبرا چہرہ، عمر بھی زیادہ نہیں۔ دیکھنے سے جواں سال لگتے تھے۔ ان کے آتے ہی سارے مریدین اٹھ کھڑے ہوئے اور قدم بوسی کے لیے جھک گئے۔ وہ ہم لوگوں کے درمیان کچھ وقت آ کر بیٹھے۔ افتخار عارف سے جب انھوں نے گفتگو کی تو اس سے اندازہ ہوا کہ علم و ادب کا بھی خاصا ذوق رکھتے ہیں۔ میں نے بھی انھیں سلام کیا، مصافحہ کیا۔ افتخار عارف نے ان سے میرا تعارف کرایا۔ انھیں یہ جان کر مسرت ہوئی کہ میں عینی آپا پر تحقیقی کام کر رہا ہوں۔ پھر انھوں نے بہت دعائیں دیں۔ چند منٹ سبھوں کے درمیان بیٹھ کر وہ پھر اپنے کمرے میں آرام کرنے چلے گئے۔ میں نے پہلے سے ان کے بارے میں سن رکھا تھا۔ ان کے جانے کے بعد افتخار صاحب نے آپا سے میرا تعارف کرایا۔ اور یہ بھی بتلایا کہ یہ آپ پر پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔ یہ جان کر اس وقت آپا بے حد خوش ہوئیں۔ اور کہا کہ پھر کبھی آپ آ کر ملیے گا۔ میں نے بھی کہا جی ضرور۔ لیکن اس کے بعد عرصے تک ان سے ملنا نہیں ہوا۔ ہاں البتہ کبھی کبھی ادبی محفلوں میں وہ نظر آ جاتی تھیں۔
ستمبر 2001 میںجب ان کے انٹرویوز کا ایک مجموعہ ترتیب دے رہا تھا تو ان سے ایک انٹرویو کرنے کی غرض سے پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ان کے یہاں گیارہ بجے دن میں حاضر ہوا۔ اس وقت آپا جل وِہار نوئیڈا سیکٹر 20 کی پہلی منزل پر رہتی تھیں۔ سوالنامہ میں نے پہلے سے تیار کر رکھا تھا۔ دس منٹ بعد عینی آپا سامنے آ کر بیٹھیں۔ پہلے میرا تفصیلی تعارف جاننا چاہا۔ میں نے بتلایا۔ تفصیلی تعارف جاننے کے بعد جب انھیں اطمینان ہوا تو پھر انھوں نے سوالات پوچھنے کی اجازت دی۔ اس سے پہلے میں نے انھیں بتلایا کہ میں نے آپ پر پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھا ہے اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی سے اس پر ڈگری بھی ایوارڈ ہو چکی ہے۔ بے حد خوش ہوئیں۔ پھر میں نے کہا میرے پاس آپ کے بہت سے ایسے افسانے ہیں جو کسی افسانوی مجموعے میں شامل نہیں ہیں۔ مضامین، انٹرویوز، خاکے وغیرہ ساتھ ہی ان پر لکھے گئے وہ سینکڑوں مضامین ہیں جو میں نے جمع کیے ہیں۔
آپا یہ سب سن کر بے حد خوش ہوئیں اور کہا کہ آپ نے بہت سی چیزیں جمع کر رکھی ہیں۔ ان چیزوں کو شائع ہونا چاہیے۔ انٹرویو سے پہلے میں نے ماحول کافی خوشگوار بنا دیا۔ پھر انٹرویو کا سلسلہ شروع ہوا۔ آپا کے مزاج کے بارے میں لوگوں سے میں نے بہت کچھ سن رکھا تھا۔ لہٰذا میری کوشش یہ تھی کہ کوئی بات خلاف مزاج نہ ہو اور کہیں وہ اوروں کی طرح مجھے بھی گھر سے باہر نہ کر دیں۔ میں کہ ٹھہرا ایک طالب علم، فلسفیانہ اور عالمانہ گفتگو تو میں کر نہیں سکتا تھا۔ میں نے تو ان کی تحریروں سے ہی کچھ سوالات تیار کیے تھے اور لے کر گیا تھا جس کی تفہیم تفصیل کی متقاضی تھی۔ لیکن کیا پتہ کون سی بات طبع نازک پر گراں گزرے۔ بہت سے سوالوں میں ایک سوال ان کی تاریخ پیدائش کی گتھیوں کو بھی سلجھانے کے بارے میں تھا۔ جسے میں نے جان بوجھ کر درمیان میں رکھا تھا تاکہ خوشگوار ماحول میں اس سوال کا آسانی سے جواب حاصل کیا جا سکے۔ آخر وہی ہوا جس کا مجھے ڈر تھا۔ دوران گفتگو میں نے آپا سے ان کی تاریخ پیدائش جاننی چاہی، بس کیا تھا آپا کا پیمانۂ صبر و شکیب ٹوٹ گیا۔ بے حد خفا ہوئیں اور از حد ناراضگی سے بولیں یہ میری تاریخ پیدائش کا کون سا مقدمہ لے کر بیٹھ گئے۔ میں 1925، 26 یا 27 میں پیدا ہوئی کیا فرق پڑتا ہے۔ آپ لوگ ایک خاتون سے اس طرح کا سوال کیسے کر سکتے ہیں۔ آپ اس سے کیا اخذ کرنا چاہتے ہیں۔ کیا جاننا چاہتے ہیں۔ جسے دیکھیے یہ سوال ضرور کرے گا۔ میں خاموشی سے ان کی ڈانٹ سنتا رہا۔ اب یہاں قرۃ العین حیدر کا کچھ اور ہی رنگ تھا۔ وہی رنگ جس کے تزکرے محفلوں میں ہر خاص و عام کی زبان پر تھے۔ لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہی خاتون ہیں جو نہایت خوش خلقی سے میرے سوالوں کے جواب دے رہی تھیں۔ میں ڈر اکہ کہیں انٹرویو کا سلسلہ یہیں نہ رک جائے اور وہ مجھے جانے کے لیے کہہ دیں۔ لہٰذا بیچ بیچ میں کچھ عاجزی اور کچھ انکساری سے میں عرض کرتا رہا کہ آپا یہ بات نہیں ہے۔ مقصد آپ کی دل آزاری ہرگز نہیں ہے بلکہ تحقیق کی ضرورت کے پیش نظر میں نے آپ سے یہ جاننا چاہتے تھے۔ اگر آپ مناسب نہیں سمجھتی ہیں تو اس سوال کا جواب ہرگز نہ دیں۔ میری کوشش تھی کہ انٹرویو درمیان میں نہ رک جائے اور ماحول خراب ہونے سے بچا رہے۔ پورے انٹرویو کے دوران جو تقریباً پانچ گھنٹے سے زیادہ چلا، آپا کئی بار آپے سے باہر ہوئیں۔ لیکن میں ہر بار ان کی تعریف کر کے ان کے مزاج کو بگڑنے سے بچاتا رہا میں نے ہر معاملے میں آپا کو بے حد حساس پایا۔ وہ اپنی تعریف سے خوش تو بے حد ہوتی تھیں لیکن نقادوں سے بے حد ناراض تھیں۔ ان کا ماننا تھا کہ اکثر نقادوں میں فکشن کی سمجھ نہیں ہے۔ وہ لکیر کے فقیر ہیں،انھوں نے خاتون لکھنے والیوں کو اگنور کیا ہے۔ اور اردو میں متوازن تنقید بہت کم لکھی گئی ہے۔ اپنے افسانوں کے متعلق انھوں نے عرض کیا کہ میرے افسانوں میں بہت ویرائٹی ہے، تہہ داری ہے اور ناقدین ان کی گہرائیوں تک نہیں پہنچ سکے ہیں سوائے چند ایک کے۔ اردو میں طرز جدید کے افسانے سب سے پہلے میں نے لکھے اور جدیدیوں نے اس کا سہرا انور سجاد کے سر منڈھ دیا۔ یہ اور اس قسم کی ہزارہا باتیں۔
یہ میری قرۃالعین حیدر سے پہلی تفصیلی ملاقات تھی جس میں ان کے مزاج کے کئی رنگ نظر آئے۔ علم و ادب کی کسی بڑی شخصیت سے انٹرویو کا یہ میرا پہلا موقع تھا۔ اور وہ بھی ایک ایسی خاتون سے جس کے علم و فضل کا رعب و دبدبہ تھا۔ جس سے باتیں کرنے میں اچھے اچھوں کی زبان لڑکھڑاتی تھی۔ایسی صورت میں ان سے طویل ترین مکالمے کے لیے ہمت جٹانا کوئی آسان کام نہیں تھا۔ جو لوگ آپا کی تنک مزاجی، ان کی حساس طبیعت سے واقف ہیں وہ طویل گفتگو میں پیش آنے والی مشکلات کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں۔
اخلاقی طور پر آپا میں کوئی کمی نہیں۔ ہر کسی سے ملتی تھیں، ان میں وقت کی پابندی بے حد تھی۔جب کسی کو وقت دیتیں تو پہلے سے تیار ہو کر اس کا انتظار کرتی تھیں۔ چائے ناشتے کے ساتھ کھانے کا بھی اہتمام کرتی تھیں۔ میں جب بھی گیا دن کا کھانا ساتھ ہی کھایا۔ کھانا کھائے بغیر واپس نہیں آنے دیا۔ انھیں آم بے حد پسند تھا۔ گوشت خور بھی تھیں اور کہتی تھیں کہ گوشت خوری کے معاملے میں میں خاصی مسلمان ہوں۔ گوبھی گوشت انھیں دل سے پسند تھا۔ ان کے دسترخوان پر زیادہ تر گوشت ہوتا تھا۔ عمر کی اس منزل میں سب کچھ کھاتی تھیں، ہاضمے کی کوئی پریشانی نہیں تھی۔ ہاں بینائی بہت کمزور تھی۔سماعت پر بھی اثر پڑا تھا۔ اونچا سنتی تھیں۔ چند سال پہلے آلۂ سماعت بھی خریدا تھا۔ 2001 سے 2007 تک میں وقفے وقفے سے اور کبھی لگاتار بھی ہفتوں گیا ہوں۔ پہلی بارجب میں ’نوائے سروش‘ کے لیے انٹرویو کرنے گیا تھا تو اس وقت وہ J40 سیکٹر 20 نوئیڈا میں تھیں اس وقت بھی کئی دنوں تک میں لگاتار گیا تھا۔ کتاب کا پیش لفظ بھی میری گزارش پر انھوں نے لکھوایا تھا۔ اور کتاب کا نام بھی تجویز کرنے میں میری رہنمائی کی تھی۔ اور جب کتاب چھپ کر نومبر میں آ گئی تو وقت طے کر کے دوسرے دن صبح کتاب لے کر ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ کتاب دیکھ کر بے حد خوش ہوئیں۔ ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ کشور ناہید آ گئیں۔ ان کے آنے کا پروگرام غالباً پہلے سے طے نہیں تھا۔ آپا کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی۔ کتاب سامنے رکھی تھی۔ آپا نے کتاب کشور ناہید کی طرف بڑھائی اور میرا تعارف کرایا۔ انھوںنے انٹرویو کے عنوانات جو میں نے آپا کے چبھتے ہوئے جملوں کے دیے تھے، کو دیکھ کر بے حد پسند کیا اور میری کافی ستائش کی اور اس پر آپا کا پیش لفظ دیکھ کر اور بھی خوش ہوئیں۔ عینی آپا کی خوشی دیکھنے کے لائق تھی۔ وہ بچوں کی طرح کلکاریاں بھر رہی تھیں۔ فوراً اپنی خادمہ سے کہا کہ ان کے (خاکسار) ساتھ میری تصویر بنائو۔ خادمہ نے کہا کہ کیمرے میں ریل نہیں ہے۔ کہا ڈرائیور سے بھیج کر منگوائو۔ ریل آئی اور کئی تصویریں بنائی گئیں۔ یہاں ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتا چلوں کہ یہ تصویر کف گل فروش میں جو اس وقت زیر ترتیب تھی اس میں شامل بھی کی گئی لیکن کچھ اس طرح کہ اس تصویر سے مجھے الگ کر دیا گیا اور یہ کام ان کے پی اے نے ان کی مرضی جانے بغیر ان کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کیا۔ کتاب جب شائع ہو کر آئی تو مجھے یہ دیکھ کر تکلیف ہوئی اور میں نے آپا سے ذکر کیا تو انھوں نے اپنے پی اے کو اس کی اس حرکت کے لیے سرزنش کی اور بے حد ناراضگی کا اظہار کیا اور پھر بعد میں اسے ہٹا بھی دیا۔ اسے اس بات کی رنجش تھی کہ میں برسوں سے ان کے ساتھ کام کر رہا ہوں اور کئی بار تصویر کے لیے گزارش کی لیکن ہر بار منع کر دیا۔ اور آج خود ہی جمیل اختر کے ساتھ تصویر بنوائی۔ حاسدانہ مزاج نے اسے یہ کام کرنے پر مجبور کیا۔ میں حیران تھا کہ ابھی چند دن پہلے میں نے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا تھا تو صاف منع کر دیا تھا کہ میں تصویر وغیرہ کھنچوانی پسند نہیں کرتی۔ لیکن آج لگتا ہی نہیں تھا کہ یہ وہی عینی آپا ہیں۔ کسی سے خوش ہوتیں تو سب کچھ نچھاور کرنے کو تیار اور ناراض ہوتیں تو دیا ہوا واپس لینے میں بھی کوئی عار محسوس نہیں کرتیں۔ یاد داشت اتنی کمزور ہو چکی تھی کہ پل بھر کی بات یاد نہیں رہتی تھی۔ ماضی کی ہر بات، ایک ایک واقعہ، واقعے کی ایک ایک جزئیات، منظر کشی، کیا مجال جو ایک واقعہ بھی بھول جائیں لیکن بات یاد نہیں رہتی تو سامنے کی۔ میری تین کتابوں کے پیش لفظ انھوںنے لکھوائے تھے۔ اسے پڑھ کر اندازہ ہوگا کہ ان کا ذہن آخر آخر تک کتنا چاق و چوبند تھا۔
عینی آپا سے میری دوسری تفصیلی ملاقات 18 جون 2003 کو ان کے نئے مکان E55، سیکٹر 21 نوئیڈا میں ہوئی۔ یہاں بھی معاملہ ان سے انٹرویو ہی کرنے کا تھا۔ لیکن ایک ایسا انٹرویو جو غیر معمولی ہو اور جس کی مثال بہ شمول اردو دنیا کی کسی زبان میں موجود نہ ہو یعنی طویل سے طویل تر۔ آپا اب کسی حد تک میرے نام سے واقف ہو چکی تھیں لہٰذا انھوں نے آسانی سے وقت دے دیا۔ اس انٹرویو کے لیے سوالنامہ میں نے ادب سے الگ ہٹ ان کی زندگی کے دوسرے پہلوئوں سے جو لوگوں کی نظروں سے اوجھل تھے، سے بنائے تھے۔ صحافت، صحافتی زندگی، موسیقی سے دلچسپی، مصوری کا شوق، سب پر الگ الگ سوالنامہ اور بالتفصیل گفتگو۔ اس گفتگو میں آنے والی دشواریوں کا ذکر میں اپنی کتاب’اندازِ بیاں اور‘ میں کر چکا ہوں، یہاں دہرانے کی ضرورت نہیں۔ یہ کتاب 2005 میں فرید بک ڈپو دہلی سے شائع ہوئی۔ یہ پوری کتاب میری آپا سے ہوئی گفتگو پر مبنی ہے۔ اور بہت سے سر بستہ رازوں سے پردہ اٹھا ہے۔ اس انٹرویو کے لیے میرا ان کے یہاں کئی ماہ تک مسلسل اور کبھی وقفے وقفے سے آنا جانا جاری رہا۔ پھر یہ سلسلہ ’کلیاتِ قرۃالعین حیدر‘ کی تدوین سے جڑ کر بے حد طویل ہو گیا۔ پھر نیا افسانوی مجموعہ جس کا نام ’قندیل چین‘ آپا نے تجویز کیا تھا جو کلیات کی چوتھی جلد کے طور پر شائع ہوا ہے کے سلسلے میں انتقال سے محض چند ماہ قبل تک ملنا جاری تھا۔ ان چند برسوں میں میں نے آپا کے مزاج کے بہت سے رنگ دیکھے۔ کئی بار ایسا لگا کہ سلسلہ ٹوٹ جائے گا۔ ان کے رخ کو دیکھ کر کبھی کبھی بہت بد دلی بھی ہوتی تھی کہ کہیں محنت رائیگاں نہ چلی جائے اس خیال کے آتے ہی ان کے ہر رخ کو برداشت کرتا رہا۔ ان کی ناز برداری کرتا رہا۔ لیکن مجھے کیا پتہ تھا کہ قدرت مجھے سخت ترین آزمائش میں ڈالنے والی ہے اور میں جس چیز سے ڈر رہا تھا وہی ہوا۔ اگست 2005 میں میرا ایک طویل مضمون ’قرۃالعین حیدر ادبی و شخصی خاکہ‘ کے عنوان سے ’آج کل‘ میں شائع ہوا جس میں میں نے ان کی تنک مزاجی اور ان کے والدین کے درمیان خوشگوار رشتوں کی کمی اور نذر سجاد حیدر کے تسلط کا ذکر کیا تھا۔ یہ مضمون آپا کو ان کے ادبی معاون (مجیب احمد خاں) نے نہ جانے کس قرأت میں پڑھ کر سنایا کہ آپا انتہائی کرب و پریشانی میں مبتلا ہو گئیں۔ ان کے دونوں ادبی معاون کو نہ جانے کیوں میرا آپا کے یہاں بار بار آنا جانا پسند نہیں تھا۔ میں ان دنوں نیا افسانوی مجموعہ ’قندیل چین‘ کے پیش لفظ کی ڈکٹیشن لے رہا تھا۔ مضمون سن کر ان کی بے چینی اور بے اطمینانی کافی بڑھ گئی۔ بعد میں مجھے پتہ چلا کہ ان کے ادبی معاون نے مضمون کی قرأت کے دوران بہت سے بھڑکیلے جملے جو مضمون میں درج نہیں تھے اپنی طرف سے اضافہ کر کے ان کو سنائے۔ ایسا انھوں نے ہم دونوں کے درمیان 2001 سے چلے آ رہے خوشگوار رشتوں کی بنیاد ہلا دینے کے لیے کیا۔ مضمون کی اشاعت کے کچھ قبل ہی سے میں اپنی عدم مصروفیت کی وجہ سے پندرہ بیس دنوں کا وقفہ گزرا ہوگا جو میں ان کی خدمت سے غیر حاضر رہا۔ بس شیطانوں کو ریشہ دوانیوں کا موقع مل گیا۔ وہ چاہتے تھے کہ آپا کی کلیات وہ مرتب کریں لیکن آپا ان کو اس کام کے لیے منع کر چکی تھیں اور جب انھوں نے مجھے باضابطہ تحریری اجازت کلیات کی تدوین کے سلسلے میں دی تو ادبی معاون کو یہ بات بے حد ناگوار گزری۔ وہ وقتاً فوقتاً میرے غائبانہ میں آپا کو میرے بارے میں اُکساتے رہتے تھے جس کی اطلاع آپا کی گھریلو معاون مجھے دیتی رہتی تھی۔ لیکن میں نے اس بات کو ہمیشہ نظر انداز کیا۔ مجھے کیا پتہ تھا کہ یہ لوگ میرے خلاف گہری سازش کر رہے ہیں۔ آخر ان لوگوں کو اس مضمون کے حوالے سے میرے خلاف سازش کرنے کا موقع مل گیا۔ آپا کو اس مضمون کے حوالے سے اس قدر بدظن کیا گیا کہ انھوں نے فون کر کے مجھ سے نہ صفائی مانگی نہ جواب طلب کیا۔ اپنی بھانجی (ہما حیدر) اور ان کے شوہر (رفیع الحسن) کو بلا کر اپنی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے قانونی چارہ جوئی جیسا بڑا قدم اٹھا لیا۔ اور لوگوں کے کہنے کے باوجود کہ آپ جمیل اختر سے پہلے بات کریں اس لیے کہ آپ ان کو اپنی کتاب کا مقدمہ لکھوا رہی ہیں جو ابھی ادھورا ہے۔ لیکن نہ جانے کیوں آپا نے مجھ سے بات نہیں کی یا ان کے معاونین نے مجھ سے رابطہ نہ کرانے کا کوئی حربہ اپنایا واللہ عالم بالصواب۔ ہاں ’آجکل‘ کے ایڈیٹر عابد کرہانی کے پاس آپا کا ناراضگی، غصہ اور انتہائی خفگی بھرا فون ضرور آیا جس میں سخت و سست کہنے کے بعد قانونی چارہ جوئی کا ذکر بھی کیا۔ اس ناگہانی آفت سے عابد کرہانی بے حد پریشان ہوئے اور انھوں نے فوراً مجھے فون کیا۔ میں اس وقت علی گڑھ میں تھا۔ انھوں نے کہا کہ آپا کا فون آیا تھا۔ آپ کے مضمون سے بے حد برہم ہیں اور رسالہ ’آج کل‘ کو قانونی نوٹس بھیجنے کی بات کہہ رہی ہیں۔ اس وقت تک مجھے ان حالات کی کوئی اطلاع نہیں تھی۔ پہلی اطلاع عابد کرہانی صاحب کے فون سے ملی۔ میں نے پھر بھی اس کو اس قدر سنگین معاملہ نہیں سمجھا اور عابد صاحب سے کہہ دیا کہ آپ پریشان نہ ہوں، اس مضمون میں کوئی ایسی بات نہیں ہے جس پر قانونی چارہ جوئی کی جا سکے۔ میں نے سوچا کہ جب میں علی گڑھ سے واپس دلّی جائوں گا تو آپا سے مل کر بات کر لوں گا۔ لہٰذا میں نے اس اطلاع کے باوجود آپا کو بھی فون نہیں کیا اور اطمینان سے رہا۔ تقریباً ہفتہ دس دنوں بعد جب علی گڑھ سے دلی واپس آیا تو پیش لفظ جو ادھورا تھا اس کو مکمل کرانے کے لیے آپا سے وقت طے کرنے کے لیے فون کیا۔ حسب معمول ریحانہ نے فون اٹھایا۔ میں نے کہا کہ آپا سے بات کرائو، میں کل صبح آنا چاہتا ہوں۔ تو اس نے بتایا کہ آپا آپ سے بہت ناراض ہیں اور وہ شاید آپ سے بات بھی نہ کریں۔ تب مجھے حالات کی سنگینی کا احساس ہوا۔ ریحانہ نے آپا سے بتایا کہ جمیل اختر ہیں، آپ سے بات کرنی چاہتے ہیں۔ آپا نے فون لیا، بات کی اور وقت بھی دیا۔ پتہ ہی نہیں چلا کہ آپا مجھ سے اس قدر خفا بھی ہیں۔ ریحانہ کو بھی بے حد حیرانی ہوئی۔ میں مطمئن ہوا کہ معاملہ رفع دفع ہو گیا۔ بات کوئی ایسی تھی بھی نہیں کہ معاملہ اس قدر طول پکڑے۔
میں دوسرے دن متعینہ وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے آپا کے دولت کدے پر پہنچا۔ عموماً میں اسی وقت ان کے یہاں جاتا تھا۔ ریحانہ نے دروازہ کھولا اور کہا بیٹھیے۔ پھر اس نے کہا کہ کچھ اور لوگ آنے والے ہیں۔ آپا نے آپ پر اس مضمون کے حوالے سے پنچایت بٹھائی ہے۔ میرا کلیجہ دھک سے رہ گیا۔ یا اللہ یہ کیا معاملہ ہے۔ میں نے اس قدر تفصیلی اور تحقیقی مضمون اس لیے تو نہیں لکھا تھا کہ آپا کی دل آزاری ہو۔ لیکن دل بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ مضمون میں تو ایسی کوئی بات نہیں کہ طبع نازک پہ گراں گزرے۔ بہر حال اسی ادھیڑ بن میں بیٹھا ہوا تھا کہ ریحانہ نے مجھے بتایا کہ آپ کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جا چکی ہے اور 25 لاکھ روپے ہرجانے کا دعویٰ کیا جا چکا ہے۔ ’آج کل‘ کو نوٹس بھیج دی گئی ہے۔ قومی کونسل میں بھی کلیات کی تدوین کے سلسلے میں پروجیکٹ آپ سے واپس لینے کا بھی خط بھیجا جا چکا ہے۔ یہ سننا تھا کہ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ ریحانہ نے آپا کے ادبی معاون کی طرف اشارہ کیا کہ انھوں نے آپا کو آپ کے خلاف بہت بھڑکایا ہے۔ ورنہ آپا شاید اس قدر ناراں نہیں ہوتیں۔ میرے بدخواہوں کو میرے خلاف سازش کا سنہری موقع جو ہاتھ آیا تھا۔ بہر حال، اب اس وقت کیا کیا جا سکتا تھا۔ عدالت لگنے کے انتظار میں بیٹھا رہا۔ اتنے میں کیا دیکھتا ہوں کہ صغریٰ مہدی اور شمیم حنفی صاحب داخل ہوئے اور میرے پاس ہی آ کر بیٹھ گئے۔ چند منٹ بعد ان کی بھانجی ہما حیدر اور ان کے شوہر رفیع الحسن صاحب تشریف لائے (یہ دونوں اب مرحومین میں شامل ہو چکے ہیں)۔ اور پھر کچھ دیر بعد ایک کرنل صاحب جو آپا کے پڑوس میں رہتے تھے تشریف لائے۔ پھر ریحانہ نے آپا کو جا کر خبر دی کہ تمام لوگ آ چکے ہیں تو پھر آپا تشریف لائیں۔ کچھ دیر تک خاموشی طاری رہی۔ ہر کوئی آپا کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا اور آپا نظریں جھکائے بیٹھی تھیں اور میں باری باری ہر ایک کے چہرے کا جائزہ لے رہا تھا۔ تبھی رفیع الحسن مرحوم نے آپا سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ آپ نے ہم لوگوں کو کس لیے بلایا ہے، کیا بات ہے۔ تب آپا نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انھوں نے میرے بارے میں جو اس قدر بے ہودہ مضمون لکھا ہے اس کا کیا کیا جائے۔ مجمع میں خاموشی تھی۔ سب میری طرف دیکھ رہے تھے۔ تب میں گویا ہوا اور آپا سے پوچھا کہ میرے مضمون کا کون سا جملہ یا میری کون سی بات آپ کی تکلیف کا باعث ہوئی۔ تو آپا نے کہا کہ یہ جو آپ نے میرے والدین کے بارے میں لکھا ہے یہ کیا ہے۔ یہ میں بالکل برداشت نہیں کروں گی۔ میں خاموشی سے آپا کی باتیں سنتا رہا۔ پنچایت میں موجود تمام لوگ بھی آپا کی باتیں سنتے رہے۔ میں نے اس مضمون میں یہ لکھا تھا کہ:
’’قرۃالعین حیدر کی والدہ اگرچہ بہت ہی روشن خیال خاتون تھیں لیکن روایت پرستی بھی ان میں موجود تھی۔ ساتھ ساتھ وہمی، ضدی اور غیر مستقل مزاج بھی تھیں۔ سجاد حیدر ان کی ضد کی آگے ہمیشہ سپر ڈال دیتے تھے۔ زندگی بھر پورا گھر معمولی معمولی باتوں کی وجہ سے ایک جگہ سے دوسری جگہ لیے لیے پھریں۔‘‘ (تنقید کے نئے افق، جمیل اختر، صفحہ 51-52)
ایک اور جگہ میں نے پورے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے عینی آپا کی شخصیت پر یوں روشنی ڈالی تھی:
’’جس متضاد قسم کے ماحول میں عینی نے پرورش پائی اس ماحول کا پورا تضاد اور کنفیوژن ان کی شخصیت میں در آیا۔ گھریلو ماحول تمام آسودگی اور خوش حالی کے باوجود اس ناطے ناخوش گوار تھا کہ والدہ کی بے جا ضد سے گھر میں ہر وقت ٹکرائو اور تنائو کی کیفیت رہتی تھی۔ گھر کے اس ماحول کا اثر بچوں کے ذہنوں پر مرتب ہوا۔ گھر کا یہی تضاد، تنائو اور ماحول کی ناخوشگواری عینی کی شخصیت میں داخل ہو گئی۔ غیر مستقل مزاجی، چڑچڑاپن اور زندگی کی بہت سی بے ضابطگی عینی کی فطرت کا حصہ بن گئیں اور آج بھی ان کی شخصیت میں یہ عناصر نہ صرف موجود ہیں بلکہ سرگرم ہیں اور اکثر اوقات ان کی پوری شخصیت پر حاوی ہو جاتے ہیں اور ان کے ملنے والوں کو بے حد مایوس کرتے ہیں۔‘‘ (تنقید کے نئے افق، صفحہ 51)
جب آپا خاموش ہوئیں تو سب لوگ میری طرف دیکھنے لگے۔ ظاہر سی بات ہے کہ مجرم کے کٹہرے میں کھڑا تھا۔ سب جواب طلب نگاہوں سے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ یہ پورا ماحول میرے لیے بے حد عجیب سا تھا۔ آج کا دن میرے لیے بڑا تاریخی دن تھا۔ ایک عہد ساز ادیبہ کے رو برو میں ایک ایسی کیفیت میں مبتلا تھا کہ قصور نہ ہونے کے باوجود احساس ندامت اور پشیمانی محسوس کر رہا تھا۔ ندامت اس بات کی کہ اتنی بڑی ادیبہ کو میرے لفظوں سے چوٹ پہنچی ہے اور وہ بھی اتنی کہ اس کی تاب تنہا نہ لا کر اپنے درد میںد و مزید بڑے ادیبوں اور رشتہ داروں اور احباب تک کو شریک کرنا پڑا (اس واقعے کے واحد چشم دید گواہ شمیم حنفی صاحب بقید حیات ہیں۔ صاحب معاملات سمیت تمام لوگ اس دارفانی سے کوچ کر چکے ہیں)۔ مجھے ان کی بھانجی ہما حیدر مرحومہ جو میرے پاس بیٹھی ہوئی تھیں، انھوں نے اس درد کی کیفیت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ عینی خالہ نے جب سے یہ مضمون سنا ہے بے حد بے چین ہیں۔ ان کے راتوں کی نیند ختم ہو گئی ہے۔ اکثر دیر رات میں فون کر کے درد کی کیفیت کا اظہار کرتی ہیں۔ میں نے زندگی میں انھیں اس قدر پریشانی اور بے چینی میں کبھی نہیں دیکھا۔ ساتھ ہی ساتھ انھوں نے یہ بھی بتلایا کہ میں نے آپ کا مضمون خاص طور پر پڑھا ہے تاکہ خالہ کے درد کو سمجھ سکوں۔ مگر وہ جملے جس کا اظہار ابھی خالہ نے کیا ہے وہ بھی مجھے ایسے نہیں لگے کہ اس پر اس قدر پریشان ہوا جائے۔ لیکن آپا بعض معاملات میں بے حد حساس واقع ہوئی ہیں۔ میں نے کہا کہ بعض میں نہیں بلکہ وہ حد درجہ حساس ہیں یہ میں بھی جانتا ہوں مگر مجھے حیرانی اس بات پر ہے کہ میں نے تو اپنی طرف سے کچھ بھی نہیں لکھا ہے بلکہ آپا کے لکھے ہوئے جملوں کا تجزیہ کیا ہے۔ پنچوں کا تجسّس بے قراری میں متبدل ہونے ہی والا تھا کہ میں نے اپنی تمام قوتوں کو مجتمع کر کے سب سے پہلے تو آپا کی طرف دیکھا پھر اوروں پر ایک نظر ڈالی اور آپا کو مخاطب کرتے ہوئے گویا ہوا۔ آپا جن باتوں سے آپ کو تکلیف پہنچی ہے وہ تمام باتیں میری نہیں بلکہ آپ کی تحریروں میں جابجا بکھری پڑی ہیں۔ پھر میں نے ’کارِ جہاں دراز ہے‘ سے اور ان کے چند مضامین سے اس کا حوالہ کوٹ کرتے ہوئے چند جملے بھی دہرائے اور خود آپا سے سوال کیا کہ کوئی تجزیہ نگار ان جملوں سے کیا نتیجہ اخذ کرے گا۔ جب آپ نے خود ہی اپنی تحریروں میں ان معصومانہ جذبات کا اظہار کیا ہے۔ کوٹیشن سن کر آپا دم بہ خود رہ گئیں اور ٹکٹکی لگا کر مجھے دیکھتی رہیں۔ میرے اس ترکی بہ ترکی جواب سے ماحول میں سکوت طاری ہو گیا اور سبھوں کو سانپ سونگھ گیا۔ میرے جواب کے بعد کسی سے کوئی سوال نہیں بن پڑا۔ سب خاموش بیٹھے رہے۔ میں پھر سکوت کو توڑتا ہوا گویا ہوا۔ آپا آپ مجھ سے بڑی ہیں۔ ہم سب کے لیے قابل قدر، اردو ادب کو آپ پر ناز ہے اور فکشن کی سرتاج ہیں اور یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں آپ کی صحبت سے فیض یاب ہو رہا ہوں۔ میری اس سے بڑی خوش بختی اور کیا ہوگی کہ آپ کے رو برو بیٹھا ہوا ہوں۔ میرے مضمون سے آپ کی دل آزاری ہوئی آپ کو تکلیف پہنچتی ہے۔ میں عمر میں آپ سے بہت چھوٹا ہوں اور ادب میں میری کوئی حیثیت نہیں ہے۔ میں نے کسی بدخواہی کے طور پر یہ جملے نہیں لکھے تھے بلکہ آپ کے جملوں کا تجزیہ کرتے ہوئے آپ کی شخصیت کو سمجھنے کی کوشش کی تھی۔ پھر بھی میرے جملوں اور الفاظ سے جو تکلیف آپ کو پہنچی ہے اس کے لیے میں بے حد معذرت خواہ ہوں۔ غبارے سے ہوا نکل گئی۔ جو لوگ مجھ پر حملہ کرنے کی تاک میں تھے وہ سب نہتے ہو گئے۔ ادبی معاون سے مضمون کی دوبارہ قرأت کے لیے کہا گیا اور ہما مرحومہ نے ان جملوں کو خاص طور پر پڑھنے کے لیے کہا جس نے آگ میں گھی کا کام کیا تھا۔ باوجود تلاش کے وہ جملے جس نے بے قراری اور غصے میں اضافہ کیا تھا اور معاون نے گڑھ کر پڑھے تھے دوبارہ پڑھنے سے قاصر تھا۔ اس لیے کہ صاحب مضمون بھی نظر کے سامنے تھا۔ اس کی بھی گھگھی بندھ گئی۔ تمام لوگوں پر سازش بے نقاب ہو گئی اور میرے جواب نے سب کو لاجواب کر دیا۔
اب پھر رفیع بھائی گویا ہوئے کہ خالہ یہ آپ پر کام کر رہے ہیں اور آپ نے اس کی اجازت انھیں دے رکھی ہے۔ یہ برسوں سے آپ کے پاس آ رہے ہیں۔ ابھی آپ انھیں کلیات کا مقدمہ بھی املا کرا رہی ہیں۔ آپ کی خواہش بھی ہے کہ آپ کی کلیات جلد از جلد آئے۔ آپ سے میں نے کہا تھا کہ جمیل اختر کو بلا کر تمام کارروائی سے پہلے ایک بار بات کر لیں لیکن آپ نہیں مانیں اور عجلت میں تمام کارروائی کر ڈالی۔ بتائیے اب کیا ہوگا۔ آپا نے کہا کہ آپ ہی لوگ بتائیے کہ اب کیا کیا جائے۔ رفیع صاحب نے کہا کہ تمام کارروائیاں روکنی ہوں گی اور کونسل کو جو لیٹر گیا ہے اسے واپس لینا ہوگا اور انھیں اس پروجیکٹ پر حسب سابق کام کرتے رہنے کا خط کونسل کو بھیجنا ہوگا۔ اور کورٹ کی کارروائی کو بھی روکنا ہوگا۔ یہ کام میں ابھی جا کر کروں گا۔ ابر چھٹ گیا، مطلع صاف ہو گیا، گھنگھور گھٹائیں بنا برسے حق و سچائی کی گرج چمک کے سامنے اپنے وجود کو برقرار رکھنے میں ناکام ہو گئیں۔ ماحول سازگار ہوا۔ سبھوں نے ساتھ میں ظہرانہ پر اس کڑواہٹ کو لذیز کھانوں کے ساتھ نگل لیا۔ کھانے کے بعد آپا آرام کرنے کے لیے اپنے کمرے میں چلی گئیں۔ شمیم حنفی اور صغریٰ مہدی صاحب کو الوداع کہنے میں باہر تک گیا۔ شمیم حنفی صاحب میرے جواب سے بے حد خوش تھے جس کا اظہار انھوں نے کئی ادبی محفلوں میں کئی لوگوں سے کیا۔ اپنی نوعیت کے اس انوکھے مقدمے کی گونج ہندوستان بھر میں سنائی دی۔ جس کسی نے سنا اسے میری قدآوری پر بے حد فخر ہوا۔ مقدمہ کسی اور نے نہیں ایک عہد ساز ادیبہ نے اس خاکسار پر، جس کی کوئی بساط نہیں تھی، کیا تھا۔ میں بھی بہت دنوں تک اپنے آپ پر ناز کرتا رہا۔
مجھے آگے کی کارروائی کے لیے بیٹھنے کا حکم دیا گیا تھا۔ دفتری وقت کے مطابق عینی آپا کچھ دیر آرام فرما کر اپنی نشست پر آ بیٹھیں اور گویا ہوئیں اب کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا اردو کونسل کے لیے خط لکھوانا ہے۔ آپا نے خط ڈکٹیٹ کرایا اور بھیجے گئے خط کو واپس لینے اور پروجیکٹ کا سلسلہ بدستور سابق جاری رکھنے کے لیے اردو کونسل کے ڈائریکٹر کو خط لکھوایا۔ رفیع بھائی وکیل کے پاس گئے کہ آگے کی کارروائی نہ ہو۔ اسی اثنا میں ’آج کل‘ کو اس مضمون کو شائع کرنے کا نوٹس وکیل کے ذریعہ بھیجا جا چکا تھا۔’آجکل‘ نے وضاحت نامہ شائع کر کے اپنی جان بچائی۔ اور کچھ دنوں تک میرا مضمون نہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا۔ لیکن یہ سب باتیں زیادہ دیرپا اثر قائم نہ رکھ سکیں اور تمام حالات معمول پر لوٹ آئے۔
آپا نے دوسری نشست میں پھر کلیات کا مقدمہ جو ادھورا تھا اسے مکمل کرانے کی شروعات کر دی اور اس دن تقریباً سات بجے شام تک انھوں نے خلاف معمول کام کرایا اور پھر یہ سلسلہ چل پڑا اور میں روزانہ جانے لگا۔ تقریباً ہفتہ دس دنوں میں یہ کام مکمل ہوا۔ پھر میری جان میں جان آئی۔ اس طرح یہ دشوارگزار مہم دشمنوں کی سازش کے باوجود بہ حسن و خوبی اختتام پذیر ہوئی اور میں نے اطمینان کی سانس لی۔ آپا کے تصدیق نامہ کے ساتھ چار جلدوں کا مسودہ اشاعت کے لیے کونسل میں داخل کر دیا گیا اور چند ماہ بعد شائع بھی ہو گیا۔ لیکن آپا اسے دیکھ پاتیں اس کی مہلت قدرت نے انھیں نہیں دی اور آپا بیمار ہو کر اسپتال میں داخل ہو گئیں اور پھر اس دارفانی سے کوچ کر گئیں۔
ان کی صحبتوں سے مجھے بے حد فیض پہنچا۔ میرے علم میں اضافہ ہوا۔ بہت سی چیزیں میں نے ان سے سیکھیں۔ ان کا انداز تخاطب اور طرز تحریر نے بھی مجھ پر کافی اثر ڈالا۔ میں اپنے کو خوش قسمت سمجھتا ہوں اتنی بڑی ادیبہ اور عہد ساز شخصیت کو نہ صرف قریب سے دیکھا بلکہ پورے پورے دن ان کی صحبتوں میں بیٹھا۔ ان سے ہر طرح کے موضوعات پر گفتگو کی۔ فراق نے اپنے متعلق کہا تھا:
آنے والی نسلیں تم پر فخر کریں گی اے لوگو
جب بھی تم یہ بتلائو گے میں نے فراق کو دیکھا ہے
عینی آپا کے حوالے سے میں ان لوگوں میں شامل ہو گیا جس پر آنے والی نسلیں فخر کریں گی۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ آپا ہم کلام ہوئیں کہ کلیات کی بقیہ جلدوں کا کیا رہا۔ میں نے کہا اب رہی کلیات کی بات، تو 2007 کے بعد سے میں مسلسل اس کام میں لگا ہوا ہوں تو کیا میری چاہت کا دم بھرنے والے اداروں نے تمھاری مدد نہیں کی۔ عینی آپا گویا ہوئیں۔ نہیں آپا نہیں بار بار کی یاد دہانی کے باوجود کسی نے بھی مدد کا بھروسہ نہیں دلایا۔ آپ کی زندگی میں آپ کے سامنے شیریں زبان و دہن سے گفتگو کرنے والے باثروت و بااختیار لوگوں نے اپنی بے بسی کا نہ صرف اظہار کیا بلکہ یہ ظاہر کر دیا کہ آنکھ بند کرنے کے بعد اس خود غرض دنیا میں کوئی کسی کا نہیں ہوتا۔ میں نے جس کسی سے بھی اس سلسلے میں تھوڑی سی امید نظر آئی تذکرہ ضرور کیا لیکن صرف اور صرف ناامیدی اور ناکامی ہی ہاتھ آئی۔ لیکن اس کے باوجود میں نے ہمت نہیں ہاری اور اپنی بساط بھر کوشش کرتا رہا۔ آخر سات آٹھ سالوں کی محنت شاقہ کے بعد اپنی ذاتی کوششوں سے میں نے اتنا کچھ جمع کرنے میں کامیابی حاصل کر لی کہ ایک دو نہیں بلکہ کل سات جلدوں کا مواد جمع ہو گیا۔ پھر میرے حوصلے کو ایسی توانائی ملی جیسے ہمالیہ سر کر کے فتح و نصرت سے ہمکنار ہونے والے لوگوں کو ملتی ہے۔ آپا مستقل مجھے حیرت و استعجاب بھری نظروں سے نہ صرف دیکھے جا رہی تھی بلکہ میری سرشاری کی کیفیت سے وہ بھی محظوظ ہو رہی تھیں۔ پھر زیر لب تبسم پیدا کرتے ہوئے ایک آہ سرد بھری اور بولیں مجھے اس صورت حال کا قطعی اندازہ نہیں تھا۔ میں تو سمجھتی تھی کہ میرے عشاق میری ناز برداری کریں گے اور میرے سرمایہ ادب کی حفاظت دامے، درمے، قدمے کریں گے۔ علامہ اقبال ٹھیک ہی فرما گئے ہیں:
جہاں بانی سے ہے دشوار تر کار جہاں بینی
جگر خوں ہو تو چشم دل میں ہوتی ہے نظر پیدا
لیکن میں ہی بے وقوف تھی دنیاداری کو سمجھ نہیں پائی۔ آپا اس کا تو آپ نے خود ہی اقرار کیا ہے ’’جہاں تک انسان کا تعلق ہے میں انھیں بہت زیادہ نہیں سمجھ پائی ہوں۔ انسان آسانی سے سمجھ میں آنے والی چیز بھی نہیں۔ اس کا ذہنی تجزیہ میرے لیے ناقابل حصول ثابت ہوا۔ آپا اس میں تو کوئی شک نہیں اس لیے تو لوگوں کا کہنا ہے کہ آپ کرداروں کی پیش کش میں بہت کامیاب نہیں ہیں اور اس کی وجہ شاید انسان شناسی ہی ہے۔ تم ٹھیک کہتے ہو میں جلد اعتبار کر لیتی ہوں۔ ہر انسان کی شخصیت کے اندر تہہ در تہہ شخصیتیں ہیں۔ کتنے پہلو دیکھے اَن دیکھے اور اجنبی راز ہیں۔ میرے لیے عورت اور مرد بعض اوقات ایسی پرچھائیاں ہیں جو میرے سامنے سے گزرتی ہیں۔ میں نہایت خوش ہو کر اپنے آپ کو یقین دلاتی ہوں کہ میں بھی انھیں پہچان سکتی ہوں۔ لیکن ان کے کسی ایک رویہ، محبت یا نفرت کا تجزیہ کر کے میں ان کے سارے چرتر پر کوئی فیصلہ تھوپ نہیں سکتی۔‘‘ میری یہی کمی کردار کی پیش کش میں حائل ہوتی ہے اور آج تمھاری زبانی زمانے کا احوال سن کر یہ یقین اور بھی پختہ ہو گیا کہ:
مونس ہے بعد مرگ کسی کا جہاں میں کون
دو پھول بھی لحد پہ کوئی دھر نہ جائے گا
اور پچھلے دس سالوں میں میں نے یہ بات محسوس بھی کی ہے۔ اور واقعی حقیقت بھی یہی ہے۔ آپا برصغیر کی نامور ادیبہ آج کسم پرسی کے حالات سے دو چار ہیں جس نے اردو فکشن کو نئے ہیئت و اسالیب سے روشناس کرایا اور بیسویں صدی کے ادبی افق پر جس نے اپنی فکر و فن کی ضیا پاشی سے منور رکھا وہی شخصیت اتنی جلد لوگوں کے دل و دماغ سے محو ہو جائے گی اور نام لیوا بھی باقی نہیں بچیں گے یہ سوچ کر حیرانی ہوتی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پر لوگوں کی یوم پیدائش اور یوم وفات منانے والے افراد و ادارے کا رویہ بھی آپ کے تئیں سوتیلا ہی ہے۔ حتیٰ کہ جس ادارے کی آغوش میں آپ مدفون ہیں وہاں کے لوگوں کی بے حسی بھی افسوسناک ہے۔ آپا یہ تو غیروں کی باتیں ہوئیں۔ آپ کے اپنوں نے بھی آپ کے ساتھ کون سا اچھا سلوک کیا۔ عمر بھر اپنی اور ہندوستانی وراثت کے بکھرے اور مٹتے نقوش کی محافظت کرتے کرتے آپ نے پوری زندگی کھپا دی اور یہ کتنی افسوس ناک بات ہے کہ آپ کی خود اپنی وراثت کو آپ کے رشتہ دار سنبھال کر چند ماہ بھی نہ رکھ سکے۔ ادبی وراثت کو تو چھوڑیے اسے تو ہم جیسا کوئی عشاق ادب سنبھال ہی دے گا۔ میں تو اس وراثت کی بات کر رہا ہوں جس کا شکوہ آپ ہمیشہ کرتی رہتی تھیں۔ یاد ہے عزیز بانو داراب وفا کے انتقال پر ایک تعزیتی مضمون لکھتے ہوئے آپ نے یہ لکھا تھا کہ:
’’عزیز بانو کا مکان بھی لکھنؤ کے چند اور مکانوں کی طرح نیشنل ہیریٹج میں شامل ہونا چاہیے تھا۔ میں تو ان کو ضرور یہ رائے دیتی مگر وہ خود ہی غائب ہو گئیں۔
انگلستان، فرانس، جرمنی اور روس کے اہل نظر نے اپنے عہد رفتہ کے مشاہیر کے مکانات کو اس طرح سجا بنا کے رکھا ہے۔ اور میں یہ رونا ہمیشہ روتی ہوں کہ مرزا غالب کے مکان میں کوئلے کی دکان کھل گئی۔‘‘
آپا لگتا ہے کہ آپ کے اپنے رشتہ داروں کو آپ کی اہمیت اور آپ کے قد کا کوئی اندازہ ہی نہیں تھا۔ یا پھر آپ ان کو تہذیبی وراثت کی اہمیت کا کوئی خاص احساس نہیں پیدا کر اسکیں تبھی تو آپ کے مرنے کے محض چند ماہ بعد ہی لوگوں نے اسے فروخت کر دیا۔ آپا انتہائی افسردگی کے ساتھ رقت آمیز لہجے میں بولیں، جب مجھے یہ خبر ملی تھی تو بے حد صدمہ ہوا تھا۔ خود میں نے کبھی یہ سوچا بھی نہیں تھا کہ انگلستان میں ادیبوں کے محفوظ مکان کا معائنہ کرنے والی خاتون کی اپنی ذاتی وراثت جسے نیشنل ہیریٹج میں شامل ہونا چاہیے تھا اتنی جلد بے نام و نمود ہو جائے گی۔ آپ کی روح اس حادثے پر کتنی اذیت محسوس کر رہی ہوگی اس کا مجھے اندازہ ہے۔ آپا نہایت سنجیدگی کے ساتھ کرب کو جذب کرتے ہوئے میری بات سن رہی تھیں۔ میں نے کہا، آپ یہی سوچ رہی ہوں گی نا کہ جس بات کے لیے میں زندگی بھر لڑتی رہی، احتجاج کرتی رہی، آج وہی بات، وہی حادثہ، تاریخ کی وہی المناکی میرے ساتھ بھی پیش آئی۔ تم ٹھیک کہتے ہو۔ تاریخ کی یہ دردناکی شاید انسان کا مقدر ہے۔ وقت کی جبریت کا قہر جب نازل ہوتا ہے تو سب کچھ تاخت و تاراج کر دیتا ہے۔ تہذیبی اقدار کی پامالی کا احساس موجودہ نسل کو کہاں۔ خود تزئینی کے شغل میں ڈوبے مادیت کے پرستاروں کو اپنی تہذیبی اساس کی کوئی فکر نہیں ہے۔ محدود فکر اور اوسط سوچ والے یہ لوگ مکر و فریب، مصلحت پسندی، خوشامد پسندی کے حصار میں جکڑے ہوئے ہیں۔ یہ تمدن کے قدر شناس نہیں ہو سکتے۔ مفاد پرستی کی اس دنیا میں جہاں ضمیروں اور روحوں کے سودے ہو رہے ہیں، زیاں کا کاروبار کون کرتا ہے۔ تمھاری فکر مندی اپنی جگہ جائز ہے۔ جتنا سوچو گے اس کے پیچھے درد ہی درد ملے گا۔ مجھے تو اپنی زندگی میں نامساعد حالات کا بہت کچھ اندازہ ہو گیا تھا۔ تہذیبی تشخص سے بے اعتنائی اور ان کی بربادی کا نظارہ پوری دنیا میں گھوم گھوم کر میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا۔ ان حالات پر دل خون کے آنسو روتا تھا۔ اطلاعی ٹیکنالوجی کی برقیاتی لہروں نے انسانی زندگی میں جو انقلاب برپا کیا اس کی تیز تر لہروں نے سماجی رابطے کو افرادی سطح پر ختم کر دیا۔ تہذیبی انقلاب کی آندھی نے مفاد پرستی، خود غرضی، ذاتی اغراض و مقاصد نے رشتوں کی اہمیت کو اپنی اپنی سہولتوں سے طے کرنے کے رویے کی وجہ سے سماج میں ایک بڑا خلا پیدا ہو گیا ہے۔ اقدار کی جگہ ضرورت نے لے لی ہے۔ زندگی لطف و انبساط سے بظاہر بھرپور ہونے کے باوجود کلبیت کا شکار ہے۔ تہذیب و ثقافت کا وہ تناور ماڈل جو صدیوں کی مشترکہ کوششوں سے وجود میں آیا تھا بدلتے افرادی اور سماجی رویوں سے پارہ پارہ ہو گیا۔ وہ عزت نفس ، وہ غیرت و حمیت، وہ عرفان ذات اگر نہ ہو اور فرد اپنے آپ کو دوسروں کے عکس میں دیکھنے کا عادی ہو جائے تو پھر اسے اپنی اصل حیثیت کا احساس نہیں رہتا۔ آپا کا اشارہ مغربی تہذیب کی نقالی کی طرف تھا جس کی وجہ سے ہندوستانی تہذیب زوال و انہدام کی طرف گامزن تھی۔ میں سوالیہ نظروں سے انھیں دیکھنے لگا تو پھر کہنے لگیں، جب کسی قوم یا ملک کی تہذیب خود اس کے افراد کے ہاتھوں منہدم ہوتی ہے تو ایک عمومی بے توقیری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔ آج پوری دنیا خاص کر ہندوستان میں مسلمانوں کی بے توقیری اس شکست خوردہ احساس کا نتیجہ کہی جا سکتی ہے۔ صدیوں اس ملک پر حکومت کرنے والی قوم ایک نظری اور فکری تاریکی میں مبتلا ہے۔ فطرت بھی کیا عجیب شے ہے۔ یہ کہہ کر آپا عالم استغراق میں چلی گئیں۔ اور میں سوچنے لگا تاریخ و تہذیب کے متعلق آپا کا یہ کمٹمنٹ ہی تو ہے جس نے آپا کو پوری ادبی دنیا میں ایک انفراد بخشا ہے۔ لوگ اس کے پیچھے ان کے اصل عزائم کا ادراک نہیں کر سکے اور احیائے تہذیب کی ان کی کوششوں کو ماضی کا مرثیہ قرار دے کر ان کے قد کو کم کرنے کی بھی کوشش کی۔ اس سے ان کی شبیہ کو کوئی نقصان تو نہیں پہنچا بلکہ ماضی کی تاریخ پر ان کی گہری نظر اور ان کی مدبرانہ اور مفکرانہ بصیرت نے ذہنی خلل کے شکار لوگوں کو اپنا ذہنی توازن درست کرنے پر ضرور آمادہ کیا۔ ابھی میں انہی خیالات میں مستغرق تھا کہ آپا نے پھر پوچھ ہی دیا کہ بھئی ان دس سالوں میں آپ نے آخر کیا کیا۔
آپا کے سوال پر میرے تخیل کا تانا بانا بکھر گیا اور میں پھر ان کی جانب بغور دیکھتے ہوئے بولا۔ آپا کام تو بہت سارے ہوئے اور آپ پر اس دل ناتواں نے خوب خوب کام کیا۔ کاموں کی تفصیل آپ کو بتاتا ہوں۔ آپا بہت اچھا کہہ کر میری جانب دیکھنے لگیں۔ اور آپا کے اشتیاق کو دیکھ کر میں یہ سوچنے لگا کہ گفتگو کی شروعات کہاں سے کروں۔ لیکن آپا کلیات کے بارے میں جاننے کے لیے زیادہ بے قرار تھیں لہٰذا میں نے مناسب یہی سمجھا کہ پہلے کلیات کی تفصیلات سے ہی آپا کو باخبر کر دیا جائے تاکہ ان کی بے قراری کو تھوڑا قرار آئے۔ پھر ان پر جاری اپنے دوسرے کاموں کے بارے میں بتلائوں گا۔ میں گویا ہوا آپا کئی سالوں تک تو آپ کے بچھڑنے کا غم اور مطلبی دنیا کی عیاریوں میں مبتلا رہا۔ پھر آپ کے چھوڑے ہوئے نامکمل ادبی سرمایے جو آپ کی رشتہ داروں کی دسترس میں تھا اس کے حصول کے لیے مستقل کوششیں کرتا رہا لیکن آپ کی بھانجی نے اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر دی لیکن وہ دونوں صندوق جس میں آپ کی یہ تمام چیزیں بند تھیں اور جسے ایک بار آپ نے مجھے دکھلایا بھی تھا، میرے سپرد کرنے میں ٹال مٹول سے ہی کام لیا۔ ان کے دنیا سے گزرنے کے بعد ان کے شوہر سے بھی مستقل رابطے میں رہا اور وہ بھی مخلص ثابت نہیں ہوئے۔ آخر ٹالتے ٹالتے وہ بھی ٹل گئے۔ اب تو اندھیرا ہی اندھیرا ہے۔ نواسے سانپ بن کر ان صندوقوں پر بیٹھے ہیں اور ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ میں نے بارہا فون کیا لیکن کبھی کوئی مثبت جواب نہیں دیا بلکہ اپنے والدین کی طرح ان کا رویہ بھی نہایت افسوس ناک ہے۔ لگتا ہی نہیں کہ ان لوگوں کو آپ کی ادبی وراثت سے کوئی دلچسپی ہے۔ ہاں مالی منفعت کی خاطر نیشنل ہیریٹج کی حامل آپ کی دانش گاہ حیات (مکان) جس کا کونہ کونہ میراث ادب کی یادگار کے طور پر ہزاروں برس روشن رہتا اسے بے نام و نمود کر کے ان لوگوں نے آپ کی روح کو جو اذیت پہنچائی اس کا اندازہ کرنا ممکن ہی نہیں۔ ان لوگوں نے تو اپنی خود غرضی میں آپ کی یادگار ہی مٹا دی۔ اب ادبی وراثت کو مٹانے کے درپے ہیں۔ آپا انتہائی پریشانی اور کرب کے ساتھ میری باتوں کو غور سے سنتی رہیں بلکہ تاسف کا اظہار کرتے ہوئے نہایت دکھے دل کے ساتھ بولیں آپ ہی سے امیدیں ہیں آپ کچھ کیجیے۔ آپ کے علاوہ کوئی اور ان بکھرے اوراق کو ترتیب و تنظیم سے سنوار بھی نہیں پائے گا۔ میں ان کی بے قرار روح کو دیکھ کر گویا ہوا، آپا آپ پریشان نہ ہوں۔ میں کوشش پیہم کر رہا ہوں۔ انشاء اللہ دیر سے ہی سہی کامیابی کی امید پوری ہے۔ خدا کرے ایسا ہی ہو۔ آپا مطمئن ہوتے ہوئے گویا ہوئیں، ویسے تمھاری لگن کی تو میں قائل ہوں۔ تم جس کام کا ارادہ کر لیتے ہو اسے پورا کر کے ہی چھوڑتے ہو۔ تمھارا کمٹمنٹ آف ورک کیا کہنا۔ آپا اس انتظار میں کلیات کے کام میں خاصی تاخیر ہوئی۔ جب کئی سالوں کی محنت و جانفشانی کے بعد ان کے رویے سے مایوسی ہوئی تو پھر میں نے کلیات کی بقیہ جلدوں پر کام کرنا شروع کر دیا۔ چونکہ بے حد بکھرا ہوا معاملہ تھا لہٰذا اس میں کافی محنت بھی لگی اور وقت بھی اچھا خاصا صرف ہوا۔ لیکن میں صبر و تحمل سے لگا رہا اور ایک ایک چیز کی چھان بین کرتا رہا۔ تقویمی ترتیب کا جو طریقہ میں نے پہلی چار جلدوں میں برتا تھا وہی طریق کار میں نے ان جلدوں میں برقرار رکھا۔ اس طرح ان دس سالوں کی محنت شاقہ کے بعد کل سات جلدیں زیور طبع سے آراستہ ہو کر آپ کے معتقدین کے ساتھ ساتھ ادب کے عام قاری جنھیں آپ کی تحریریں دل و جان سے پسند ہیں۔ ان کے ادبی ذوق کی تسکین کر رہی ہیں۔ واہ بہت خوب۔ آپا بے ساختہ بول پڑیں۔ متجسس نگاہوں سے میری طرف دیکھتے ہوئے بولیں، آخر ان سات جلدوں میں ایسی کون سی سوغات میرے چاہنے والوں کو آپ نے دی ہے۔ آپا پہلی دو جلدوں یعنی پانچ اور چھ میں تو آپ کے رپورتاژ ہیں۔ سات، آٹھ میں مضامین ہیں۔ نو میں خاکے ہیں۔ دس اور گیارہ میں آپ کی ادبی گفتگو یعنی انٹرویوز ہیں۔ سبحان اللہ۔۔۔ بھئی آپ نے تو کمال کر دیا۔ میں تو سن کر حیران ہو رہی ہوں۔ آپ کی ہمت کی داد دیتی ہوں۔ نہ جانے آپ نے کہاں کہاں سے کھود کھاد کر یہ سب چیزیں جمع کی ہوں گی اور پھر اس سلیقے سے کہ ہر موضوع پر الگ جلد۔ میں تو سوچ سوچ کر حیران ہو رہی ہوں۔ آپا یہ تو وہ چیزیں ہیں جو تھوڑی سی جستجو کے بعد مجھے حاصل ہو گئیں۔ ابھی تو آپ کی آدھی سے زیادہ تحریریں منتشر ہیں جن کو جمع کرنا ایک چیلنج سے کم نہیں۔ جس کے لیے ایک خطیر رقم کے ساتھ ساتھ تحقیقی جانفشانی کی بھی ضرورت ہے اور یہ منصوبہ وقت طلب اور دقت طلب بھی ہے۔ پاکستان، امریکہ، انگلینڈ کے ساتھ ہندوستان کی اہم لائبریریوں میں مواد کی چھان بین باضابطہ مہم کے طور پر کرنی پڑے گی تب جا کر آپ کے تمام ادبی اور صحافتی سرمایے اردو اور انگریزی دونوں میں جمع ہو سکیں گے۔ آپا میری بات غور سے سن رہی تھیں۔ پھر گویا ہوئیں، آخر اس کے لیے سرمایہ کہاں سے آئے گا، کون دے گا۔ یہی سوال تو مجھے بھی پریشان کیے ہوا ہے۔ میں نے کہا۔ میں نے اپنی بساط بھر اداروں اور افراد تک سے گزارش کر کے دیکھ لیا لیکن کوئی مثبت نتیجہ ان دس سالوں میں اب تک میرے سامنے نہیں آ سکا۔ تب ہی کسی قدر ناامید ہو کر میں نے اپنی ذات واحد کی بدولت جو کچھ جمع کر سکا اس کو منظر عام پر لانا مناسب سمجھا تاکہ اور لوگوں کو بھی حوصلہ مل سکے۔ اور کوئی ہم سا ہی عاشق عینی پیدا ہو سکے اور بقیہ بکھری ہوئی وراثت کو یکجا کر کے اس پول میں ڈال سکے۔ اس طرح میرے مقصد کومنزل مل جائے گی۔ یہی سوچ کر میں نے یہ قدم اٹھایا ہے۔ اللہ کرے ایسا ہو، آپا بول پڑیں۔ آپ کی قوت خود اعتمادی کی میں داد دیتی ہوں۔ ہمیشہ پرخطر راہوں میں قدم ڈال کر آپ نے یہ ثابت کیا ہے کہ جذبے صادق ہوں، لگن میں پختگی ہو، عزم و حوصلے کی بدولت منزل مل ہی جاتی ہے۔ خدا آپ کے اس جذبے کو برقرار رکھے۔ آپا یہ صرف کلیات کی بات ہے۔ میری ادبی فتوحات صرف آپ کے تعلق سے بڑی کامیابیوں سے ہم کنار ہوئی ہیں۔ وہ کیسے؟ دو بین الاقوامی اداروں سے بھی اس خاکسار کو پذیرائی ملی ہے۔ پہلا ادارہ جہاں سے کتابوں کی اشاعت باعث افتخار و اعزاز سمجھی جاتی ہے اس حقیر فقیر کی کتابیں بھی وہاں سے شائع ہوئی ہیں۔ آپا متوحش نگاہوں سے مجھے دیکھ رہی تھیں اور میرے بے قابو جذبات کی گہرائیوں کا اندازہ کرتے ہوئے بولیں، بھئی مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہو رہی ہے کہ تمھیں تمھاری محنتوں کا صلہ خدا نے اس بلندی سے عطا کیا جو ہر ایک کا مقدر نہیں ہوتا۔ لیکن یہ تو بتائیں کہ آخر یہ بین الاقوامی ادارے کون کون سے ہیں۔ آپا آپ بھی یہ جان کر بے حد خوش ہوں گی۔ پہلا ادارہ آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کراچی ہے۔ آکسفورڈ کا نام سنتے ہی آپا اچھل پڑیں۔ اور بولیں واقعی یہ تو بڑا اعزاز ہے۔ اور اس پر آپ کی خوشی بجا ہے۔ آپا اس ادارے نے ’اندازِ بیاں اور‘ جو میری اور آپ کی گفتگو پر مبنی ہے، اس کتاب کو 2014 میں شائع کیا۔ اور اس پر طرہ یہ کہ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ‘A Singular Voice’ کے نام سے شائع کیا۔ یہ کتاب 2017 میں منظر عام پر آئی اور محض چند ماہ میں 2017 میں پہلا ایڈیشن ختم بھی ہو گیا۔ یہ سنتے ہی آپا کلکاریاں بھرنے لگیں، بلکہ مجھ سے زیادہ خوشی انھیں ہو رہی تھی۔ ہوتی بھی کیوں نہیں، عالمی سطح پر ان کو پذیرائی جو مل رہی تھی۔ بھئی واہ یہ تو کمال ہی ہو گیا۔ واقعی اسے فتوحات ہی کہیں گے۔ آپ کی محنت و لگن اور علمی ارتکاز کی بدولت یہ سب ممکن ہو سکا ہے۔ وہ بھی کسی وسیلے کے بغیر اپنی ذاتی کوششوں سے آپ نے وہ کر دکھایا جو اس دور کے بڑے بڑے مہارتی بھی نہ کر سکے۔ مجھے زیادہ خوشی اسی بات کی ہو رہی کہ ایک انسان بغیر کسی سہارے کے صرف علمی بنیاد پر بین الاقوامی سطح پر اپنی ایک پہچان بنانے میں کامیاب ہوا۔ دراصل علم ہی اصل چیز ہے، توقیر اسی سے ملتی ہے۔ خدا نے آپ کی صلاحیتوں کی بدولت آپ کو وہ مرتبہ بخشا۔
آپا دوسرا ادارہ ’سنگ میل‘ ہے جس نے آپ کی کلیات کا پاکستانی ایڈیشن بڑے تزک و اہتمام سے شائع کیا ہے۔ بہت خوب، یہ سب سن کر میری روح سرشار ہو رہی ہے۔ اور میرے اس اعتماد کو مزید قوت مل رہی ہے جو میں نے اپنے کام کے سلسلے میں آپ پر قائم کر رکھا ہے۔ خدا آپ کو صحت دے اور صحت کے ساتھ سلامت بھی رکھے تاکہ آپ علمی و ادبی افق کی تابانی کو اپنے کارنامۂ صد ہزار رنگ سے جگمگائے رکھیں۔ آمین۔ لیکن آپا یہ تو راہ پرخطر ہے۔ اس میں تو انگلیاں فگار اپنی، خامہ خونچکاں اپنا۔ ادبی مزدوری کی میزان میں محقق کے حصے میں مالی منفعت تو دور کی بات صرف صفر ہی ملتے ہیں اس کے باوجود یہ ہم لوگوں کا جگر ہے کہ اپنے خون دل سے اس چراغ کی لو کو جلائے رکھتے ہیں بجھنے نہیں دیتے۔ افسردگی کے ساتھ آپا بولیں ہاں یہ بات تو ہے۔ ادارے نام و نمود اور شہرت کمانے میں اتنے مصروف ہیں کہ تحقیق جیسے جاں گسل کام کے لیے ان کے پاس فنڈ ہی نہیں۔ بھلا تحقیق کیسے زندہ رہے گی۔ یہ فکر مندی بھی بجا ہے میں نے عرض کیا۔ اور آپا سوچ میں گم ہو گئیں۔۔۔ اور میں بھی۔۔۔ پھر معاً مجھے خیال آیا کہ آپا کی افسردگی کو ایک نئی خوشی میں تبدیل کر دیا جائے۔ میں نے آپا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، معلوم ہے آپا میں نے کلیات کی تدوین کے ساتھ ساتھ آپ پر ایک کتابچہ (مونوگراف)بھی لکھا ہے۔ یہ کتاب ہندوستانی ادب کے معماروں کی سیریز کے تحت لکھنے کے لیے ہندوستان کے باوقار ادبی و ثقافتی ادارہ ساہتیہ اکادمی نے تفویض کیا تھا۔ آپ پر ایک مختصر کتابچہ لکھنا کوئی سہل کام نہیں تھا۔ سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے برابر تھا۔ بہر حال اس خاکسار نے یہ کام پوری جانفشانی سے کیا اور الحمدللہ آپ کے شایان شان کتاب تیار ہوئی۔ اردو حلقوں میں اس کی کافی پذیرائی ہو رہی ہے۔ آکسفورڈ نے بھی اس کتاب کو مزید کچھ اضافے کے ساتھ شائع کیا ہے۔ ہے نا خوشی کی بات۔ ہندوستان میں ساہتیہ اکادمی اور اُدھر آکسفورڈ، دونوں ادارے قابل صد افتخار ہیں اور مجھے یہ اعزاز آپ کی بدولت ہی حاصل ہو سکا ہے۔ یہ تو آپ کی خاکساری اور ذرہ نوازی ہے۔ ورنہ ان اداروں سے کتاب کی اشاعت بین الاقوامی سطح پر ادیب کی شناخت کو استحکام بخشنے کے ساتھ ساتھ اس کی معتبریت کو قائم کرتا ہے۔ آپ کی جملہ علمی صلاحیت نے آپ کو یہ مقام اور اعزاز بخشا ہے۔ مجھے یہ جان کر بے حد خوشی ہو رہی ہے۔ جس طرح یکے بعد دیگرے تسلسل کے ساتھ آپ کے ادبی کارنامے افق ادب پر نمودار ہو رہے ہیں وہ آپ کی ادبی کاوشوں کی گواہ خود ہیں۔ اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔ آپا آپ کی حوصلہ افزائی کا بے حد شکریہ۔ جاتے جاتے ایک خوشخبری اور دیتا جائوں کہ سلسلہ یہیں پر تھما نہیں ہے۔ آپ پر کئی کتابیں زیر منصوبہ ہیں۔ دس جلدوں میں ایک انسائیکلوپیڈیا بھی ’قرۃالعین حیدر کی کائنات فن‘ کے نام سے تیاری کے آخری مرحلے میں ہے۔ آپا بھونچکاں بنی میری طرف دیکھے جا رہی تھیں۔ پھر بول پڑیں، میاں تم انسان ہو یا جنّ، بھلا کوئی انسان بھی اس برق رفتاری کے ساتھ کام کر سکتا ہے۔ تم نے تو نیا ریکارڈ بنا ڈالا۔ اب ذرا یہ بھی بتا دیں کہ اس انسائیکلوپیڈیا کی تہہ سے کیا اچھلنے والا ہے:
دیکھیے اس بحر کی تہہ سے اچھلتا ہے
آپا آپ کہتی تھیں نا کہ نقادوں نے خاتون لکھنے والیوں کو اِگنور کیا ہے۔ یہ کتاب دراصل اس بات کی تردید کرے گی اور اس کا جواب پیش کرے گی۔ پھر آپ کو اندازہ ہوگا میل شونزم کی آپ کی شکایت درست تھی یا نامناسب، پھر آپ کی اس بات کا بھی جواب ملے گا کہ نقادوں نے فکشن کو سراسر نظرانداز کیا ہے۔ یا بیش تر نقادوں میں فکشن کی سمجھ نہیں، آپا میں حیران ہوں دل کو پیٹوں یا جگر کو میں۔۔۔ آپ پر اب تک صرف اردو میں چھے سو سے زائد مضامین لکھے جا چکے ہیں۔ انگریزی اور ہندی میں الگ۔ جو کسی بھی فکشن رائٹر پر اب تک لکھے گئے مضامین سے کئی گنا زیادہ ہیں۔ لوگوں کی صدیاں منائی گئیں مگر اس تعداد سے وہ لوگ محروم رہے۔ پھر آپ کا شکوہ۔۔۔ آپ خوش قسمت ہیں کہ ناقدین آپ پر لکھنا اپنے لیے اعزاز مانتے ہیں۔ یہ سلسلہ آپ کے ابتدائی دنوں سے ہی جاری ہے۔ آپ کے لیے یہ بات بھی قابل فخر ہے کہ اولین افسانوی مجموعہ اور اولین ناول کی اشاعت کے ساتھ ساتھ تنقید بھی مساوی طور پر اپنا فریضہ انجام دیتی رہی اور اردو کے تقریباً تمام اہم ناقدوں نے آپ کی تحریروں کا جائزہ لیا ہے۔ اور اس وقت جائزہ لیا جب آپ کی تحریریں لوگوں کی سمجھ سے بالا تھیں۔ اس لیے کہ آپ کی آواز میں نہ تو اپنے کسی پیش رو کی گونج شامل تھی، نہ اپنے دور کے رائج الوقت رویوں کی۔ یہ آپ کا اپنی روایت سے بغاوت نہ تھی بلکہ ایک تخلیقی اجتہاد تھا۔ اس اجتہاد کو اساس فراہم کرنے والے عناصر اردو فکشن کی عام روایت سے قطع نظر، آپ کے مغرب آگاہ معاصرین کے لیے بھی اجنبی تھے۔ بقول لارش، چونکہ اجنبی خیالات کو قبولیت ذرا مشکل سے ملتی ہے، اس لیے آپ کو بھی یہ کہہ کر سرے سے رد کرنے کی کوششیں ہوئیں کہ آپ کے خیالات و تجزیات مغرب زدہ ہیں۔ خاص طور پر آپ کی انگریزی آمیز زبان پر بہت سوال اٹھے تھے بلکہ لوگوں نے تو یہاں تک کہا تھا کہ افسانے کی شرح بھی چھپوا دو۔ یہ بات مذاق میں نہیں کہی تھی لوگوں نے بلکہ اس وقت کی سچائی تھی۔ بلکہ آپ پر یہ الزام بھی عائد کیا گیا کہ آپ کا طرز احساس اور طرز اظہار ہی نہیں بلکہ آپ کے ذہن اور جذباتی سروکار بھی ہماری زندگی اور ہمارے زمانے کی سچائی سے کوئی علاقہ نہیں رکھتے۔ آپ کی اولین کتابوں ’ستاروں سے آگے‘، ’شیشے کے گھر‘ اور ’میرے بھی صنم خانے‘ کی پذیرائی ان کتابوں کی اشاعت کے دور میں یوں کی گئی گویا یہ اظہارات کسی غیر متوقع اور بن بلائے مہمان کی آمد کے اعلانیے ہیں۔ ادب کی نامور ادیبہ نے تو آپ کی اس ادا پر آپ پر مضمون لکھتے ہوئے آپ کو پوم پوم ڈارلنگ کے خطاب سے نوازا تھا اور یکسانیت مضمون کی وجہ سے کہا تھا کہ ایک ہی لکیر کو کب تک پیٹتی رہو گی۔ آپ نے اسی لکیر کو پیٹ پیٹ کر اتنا نکھارا کہ موضوع میں تنوع پیدا ہو گیا۔ پھر لوگ آفریں آفریں کرنے لگے۔ ترقی پسند اور جدیدیوں کے بارے میں آپ کا شکوہ بجا ہے کہ ان کے تمام اہم رائٹر نے آپ کو اگنور کیا لیکن پس از مرگ ترقی پسندوں اور جدیدیوں کے اماموں نے اپنے رویے میں تبدیلی پیدا کی اور قمر رئیس سمیت کئی ترقی پسندوں نے نوحہ و ماتم کے بعد آپ کی ادبی حیثیت کو مکمل طور پر تسلیم کیا ہے۔ اور بورژوائیت کا لیبل اب آپ سے ہٹا دیا گیا۔ میری نشاندہی پر اب ان افسانوں اور ناولٹوں پر گفتگو کا سلسلہ شروع ہو گیا اور سماج کے متوسط اور انتہائی پسماندہ طبقے کے مسائل اور ان کی حالت زار پر آپ کی فکرمندی کی لوگ قدر کرنے لگے ہیں۔ آپا یہ انسائیکلو پیڈیا مختلف نظریات، طبقے اور تحریکوں اور نظریات سے وابستہ ناقدین کی مختلف آرا کو ایک گلدستہ کی شکل میں قارئین کو فراہم کرایا گیا ہے تاکہ اس زینت چمن سے آپ کی شخصیت، اور آپ کے فکر و خیال کی قوس قزح سے نئی نسل واقف ہو سکے اور آپ کو جس ادبی ناانصافی اور ناقدری کا شکوہ رہا ہے اس کا ازالہ نئی نسل کے ہونہار ناقدین جن کے ہاتھوں میں ادب کی باگ ڈور ہے وہ تمام تعصب سے بالاتر ہو کر آپ کی تخلیقات کا تجزیہ اپنی دانشمندانہ فکر اور مدبرانہ فہم کی بدولت نئے سرے سے کر کے آپ کے ادبی وقار میں اضافہ کر سکیں۔ اگر ایسا ہوا تو میری یہ کوشش کامیابی سے ہم کنار ہوگی اور انشاء اللہ ایسا ہی ہوگا۔ بھئی آپ کے حوصلے کی بھی داد دینی پڑے گی۔ یہاں تو پل بھر کی خبر نہیں اور آپ ہیں کہ طویل مدتی منصوبہ بنا کر اس قدر وقیع و وسیع کام کر رہے ہیں جس کے بارے میں سوچ کر ہی کتنوں کے حوصلے پست ہو جائیں۔ مجھے کسی شاعر کا ایک شعر یاد آ رہا ہے جو اس وقت آپ پر بالکل صادق آتا ہے:
تیرا اخلاق دیتا ہے پتہ تیری بلندی کا
تیرا یہ جھک کے ملنا کہہ رہا ہے آسماں تو ہے
میں تو بس اتنی دعا دے سکتی ہوں کہ خدا آپ کے حوصلے کو برقرار رکھے اور آپ کے یقین کی پراعتمادی کو قائم و دائم رکھے۔ آپ کی مجھ سے اس قدر محبت کہ اس کے لیے شکریے کے الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ میری ادبی وراثت کے امین بن کر جس طرح آپ یہ سب کام کر رہے ہیں میں اب پورے طور پر مطمئن ہوں کہ میری ادبی وراثت کو کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔ آپا میری کوشش تو یہی ہے۔ باقی اللہ کی فتح و نصرت پر یقین کامل ہے۔ انشاء اللہ وہ اس بیڑے کو ضرور پار لگائے۔ یقینا۔ اگر نہ ہو یہ امید پیہم تو دم نکل جائے آدمی کا۔ خدا آپ کی مدد کرے، آپا نے دعا سے نوازا۔ اور گفتگو کا یہ سلسلہ یہیں پر ختم ہو گیا۔ آپا میری نظروں سے یک بیک غائب ہو گئیں۔ یا میں لاشعور سے شعور کی حالت میں واپس آ گیا۔
عینی آپا سے وابستہ اتنے قصے اور اتنی یادیں ہیں کہ انھیں ایک مضمون میں سمیٹنا ناممکن ہے۔ ان پر آئندہ بھی لکھنا جاری رہے گا۔ ان پر کئی کتابیں بھی زیر ترتیب ہیں اور کلیات کو بھی مکمل کرنا ہے۔
ان کی تمام تحریروں کو محفوظ کرنا ہی ان کو صحیح خراج عقیدت پیش کرنا ہوگا۔ اس لیے کہ تہذیب اور تاریخ کا جتنا مبسوط اور ہمہ گیر ادراک ہمیں قرۃ العین حیدر کے یہاں ملتا ہے اس کی کوئی مثال اردو فکشن میں نظر نہیں آتی۔

 

Qabil Ajmeri ki Aik Naz’m “Yad E Watan”

Articles

قابلؔ اجمیری کی ایک نظم---------یاد وطن

عمران عاکف خان

دیار غریب میں وطن کی یاد اور وطن سے اپنی وابستگی کا اظہار، ہمارے شعرا و ادبا کاقدیم وطیرہ رہا ہے ۔وہ اپنے وطن مالوف سے نکل کرجہاں بھی گئے ،اپنے سرمایوں کے ساتھ’’یادوطن‘‘بھی لے گئے۔اس یادنے ہمیشہ انھیں ’’وطن‘‘سے جوڑے رکھا ۔بلکہ بسااوقات تو ’’وطن‘‘کی نسبت ،ان کے تشخص،ان کے امتیاز اور ان کی شناخت کا ذریعہ بھی بنی ،اسی طرح اس نسبت نے ہم عصروں میںانھیں ایک خاص مقام و مرتبہ بھی عطا کیا۔وہ بھی اپنی مجلسوں میں اس کا ذکر برملا اور فخر سے کر تے ۔پھر اس سے پہلے کہ بات مباہات تک پہنچتی تو دوسروں کے وطن کی تعریف سننے کے لیے خود کو تیار کر لیتے۔اس طرح وہ دوسروں کے وطنوں کی بات سن کر بھی اپنے وطن کی بات کہہ جاتے ۔
اردو شاعری میں وطن پرستی کے جذبات کا اظہار مختلف اندازاورمتعدد طریقوں سے ہوا ہے۔ یہاں تک کے اس نے ایک باضابطہ صنف کی شکل اختیار کرلی ۔یہی وجہ ہے کہ اکثر شعرا کے یہاں وطن سے دوستی ،وطن کی یاد،وطن سے وابستگی جیسے عناصر موجود ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات تو ان کے مجموعہ ہائے کلام کا سب سے دل ریز حصہ وہی ہوتا ہے ۔یہ حقیقت ہے کہ ہم اپنی عام زندگی میں وطن اور اس کی محبت کے حوالے سے جو جذبات رکھتے ہیں ،وہیں کچھ ایسے گوشے بھی ہوتے ہیں جن پراکثر نظر نہیں ٹھیرتی،ان کوشاعر اپنی فکروں کا موضوع بناتا ہے پھر اس کا اظہار اس طرح کر تا ہے کہ وہ وطن اسی انداز سے دنیا بھر میں اپنی پہچان بنا لیتا ہے۔ وطن پرستی ایک مستحسن اور ایمانی جذبہ ہے،جس کا کوئی بدل نہیں اور نہ ہی کوئی اس کی قیمت ادا کر سکتا ہے۔یہی جذبہ، شاعر کو بسااوقات جینے کے حوصلے بھی دیتا ہے ،اسی طرح نئے ردیف و قافیے بھی دیتا ہے اور اس کے کلام کی عظمت دوبالا کردیتا ہے۔نیز اس کلام کوزندگی بھی حاصل ہوجاتی ہے۔جب تک وطن باقی رہے گا،وہ شاعر اوراس کی وطن نواز نظمیں اورفکریں بھی باقی رہیں گی۔
خدائے سخن میرتقی میرؔ جب دہلی کی بربادی کے بعد لکھنؤ گئے، اس وقت وہاں کے شعری و ادبی حلقوں میں چڑھی ہوئی سوالیہ تیوریوں کے جواب میں انھوں نے اپنے وطن مالوف کا تعارف اس طرح کرایا:
کیا بو دو باش پوچھو ہو پورب کے ساکنو!
ہم کو غریب جان کے ہنس ہنس پکار کے!!
دلّی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب!
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے !!
جس کو فلک نے لوٹ کے ویران کر دیا !
ہم رہنے والے ہیں اسی اجڑے دیار کے !!
٭٭٭
دلّی کے نہ تھے کوچے،اوراق مصور تھے!
جو شکل نظر آئی تصویر نظر آئی!!
یہ وہ احساسات ہیں جو ایک غریب الدیار کو اس کے وطن کی عظمت کا احساس دلاتے ہیں اورجنھیں وہ سوال پوچھنے والوں یا اس کے وطن کے متعلق چہ می گوئیاں کرنے والوں کو بطور جواب دکھلاتا ہے ۔ اس طرح نہ صرف اس شخص کی عظمت دلوں میں بیٹھتی ہے ،اس کے وطن کی عظمت کا اعتراف بھی جاگزیں ہوتا ہے۔دلّی جو ایک شہر تھا،اسے عالم میں متعدد وجوہات سے امتیاز حاصل تھا ۔وہاں روزگار کے منتخب افراد اور ہستیاں رہتی تھیں ۔میر ؔکا یہ جواب سن کر اس کے بعد پورب کے ساکنان نظریں جھکا کر رہ گئے۔
وطن سے دور ،اس دیار غیر میں ان غریبوں کے پاس جو کچھ بھی اپنا ہوتا ہے،وہ وطن کی یادیں ہی ہوتی ہیں ۔جنھیں وہ محسنؔ نقوی کے الفاظ میں کسی مفلس کی پونجی کی طرح سنبھال کر رکھتے جاتے ہیں ،روزگنتے ہیں اور ان میں اضافہ کر نے کے لیے مختلف حیلے اور طریقے ایجاد کر تے ہیں۔اس بات کو اگر فکشن کے نقطۂ نظر سے دیکھاجائے تو پتا چلتا ہے کہ وطن کی یاد اور وطن کا اس طرح ذکر ایک نفسیاتی مسئلہ ہے ،تاہم اچھی بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف صاحب مسئلہ کے لیے ہی مضر و مفید ہے،اس کے علاوہ کسی کو اس سے کوئی خطرہ لاحق نہیں ہے۔نفسیاتی طور پر وطن سے محروم ایک شاعر ان ہی خیالات میں جتیا ہے اور ان کی روشنی میں اپنی آگے کی منزلیں طے کر تا ہے ۔یاد وطن کی یہ اثر پذیریاں جہاں اس ک ذوق وشوق کو دوبالا کر تی ہیں وہیں ان کے کلام اور ان کی حسن فکر کی بھی عکاسی کر تی ہیں ۔چنانچہ یہی وجہ ہے کہ شاعر ان ہی وارثتوں اور یادگاروں کو اپنا سب سے قیمتی سرمایہ تصور کر تا ہے اور ان کی حفاظت و صیانت میں اپنی جان کی بھی پروانہیں کر تا۔ایسا اسی وقت ہوتا ہے جب لاشعور میں موجود حسیات سے انسان کو تقویت اور حوصلہ ملتا ہے۔
کلاسیکی دور سے ہوتے ہوئے یہ روایت، جدید دورکے شعرا و ادبا میں بھی چلی آئی چنانچہ برج نرائن چکبستؔ اپنے وطن کی یاد اور محبت میں اس طرح تڑپے:
وطن کی خاک سے مر کر بھی ہم کو انس باقی ہے!
مزا دامان مادر کا ہے اس مٹی کے دامن میں!!
لال چند فلک ؔکا انداز اس طرح چھلکا :
دل سے نکلے گی نہ مرکربھی وطن کی الفت!
میری مٹی سے بھی خوشبوئے وفا آئے گی!!
رگھو پتی سہائے فراقؔ گورکھپوری کا یہ مصرع تو وطن سے جذباتی لگاؤ کابے مثال عنوان ہے:
دیار غیر میں سوز وطن کی آنچ نہ پوچھ!
اخترؔ شیرانی نے تو گویا قلم ہی توڑدیا:
وسعت خلد سے بڑھ کر ہے کہیں حب وطن!
تنگی گور سے بدتر ہے، فضائے غربت!!
کیف ؔبھوپالی کو جب وطن کی یاد آئی تو انھوں نے یوںکہا:
کیفؔ پردیس میں نہ کر یاد اپنا مکاں!
اب کے بارش نے اسے توڑ گرایا ہوگا!!
اسی سلسلۃ الذہب ،نایاب اور بے نظیر صف میں ایک اہم نام قابلؔ اجمیری (آمد:27اگست1931۔رخصت:30اکتوبر 1962)کا بھی شامل ہے ۔جو اس صف کی اولین قطار میں ہیں ۔ان سے جب وقت ، حالات اور میرؔ کے الفاظ میں ’’فلک‘‘نے وطن چھین لیااور وہ وطن کو نم آنکھوں سے دیکھتے ہوئے خداکی بستی یعنی پاکستان کے شہری بن گئے تو انھیں بھی اپنے وطن کی یادیں آئیں ۔اس وقت انھوں نے اپنے ان جذبات کی تشنگی و تسکین کے لیے ایک نظم ’’یاد وطن‘‘کے عنوان سے لکھی ۔جس کا انداز خود دعوت مطالعہ دیتا ہے ۔ذیل کی سطور میں نظم کا متن مع تجزیہ و تعارف نذرقارئین ہے۔
یـــــاد وطـــــن
فکر چمن نہ پو چھو
یاد وطن نہ پوچھو
دیوانہ پن نہ پوچھو
اکثر فریب کھایا
اجمیر یاد آیا
خواجہ کا آستانہ
دربار خسروانہ
وہ کیف وہ ترانہ
کچھ بھی نہ ساتھ لایا
اجمیر یاد آیا
وہ جھالرے کا پانی
آب بقا کا ثانی
بچپن کا یار جانی
اب ہو گیا پرایا
اجمیر یاد آیا
معنیؔ سا آہ رہبر
ہائے نیاز اطہرؔ
اب کیا کہیں کہ دل پر
کس کس کا داغ کھایا
اجمیر یاد آیا
راتوں کی خامشی میں
تاروں کی روشنی میں
شفاف چاندنی میں
دل نے سکون پایا
اجمیر یاد آیا
جب ابر مست چھایا
پیغام یار لایا
جب پھول مسکرایا
کوئل نے گیت گایا
اجمیر یاد آیا
بلبل نے جب پکارا
اک تیر دل پہ مارا
جذبات کو ابھارا
غم کا غبار چھایا
اجمیر یاد آیا
قابل کی یہ نظم ان کی نارسائیوں کی ایک داستان ہے ،اس کا مصرع مصرع وطن سے محبت کی سرشاری سے عبارت ہے۔آغاز سے ہی دل فگار یادوں کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔قابل ؔ اجمیری نے جن حالات میں ’’اجمیر‘‘کو خیرآباد کہا ،اس کے بعد جس طرح کے حالات اور امتحان کے پرچے سرزمین پاکستان کی وادیٔ مہران میں ان کے لیے پیش کیے گئے،ان کے تناظر میںاس نظم کے معانی اور مفاہیم اور سوا ہوجاتے ہیں ۔
اس نظم کو اگر تجزیاتی زاویوں سے دیکھا جائے تو سب سے پہلے دو بڑے پہلو نظر آتے ہیں۔اول یہ کہ یہ نظم قابل ؔ اجمیری کی یاد وطن کا اظہار اور اجمیرسے جدائیگی کا نالۂ فراق ہے۔یا یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ جب نئے دیار پاکستان میں انھیں اپنے ہی دوستوں کی بے رُخی اور وقت و حالات کی ستم ظریفیوں کا سامنا کرنا پڑا تو شدت غم سے یہ آنسوں چھلک پڑے۔دوسرا پہلو یہ کہ قابل ؔ نے اس دور اور شعرا کے قدیم طریقے کے طرز پر وطن کی محبت میں شعر کہے اور اپنے وطن کی خصوصیات اس طرح بیان کیں کہ اکبر آباد،دکن،بھوپال،دہلی،رام پور،بنارس ،لکھنؤ کے طرز پر اجمیر کا ذکر بھی تذکروں میں آئے اور اجمیر کے خوب صورت چہرے سے اردو شعرو ادب میں آب و تاب بڑھے۔اس کے شبستان میں ذکر اجمیر سے اجالے دمکیںاور اجمیر کا عنوان جڑے۔یہ پہلو ہو کہ وہ پہلو ہو،خاص بات یہ ہے کہ قابلؔ کا انداز بیان البیلا اور استاذ شعرا کا ہے ۔انھوں نے اپنے اجمیر کا حال اور اس سے جڑے اپنے جذبات کا اظہارصرف ایک شعر یا ایک ہی مصرع میں بیان نہیں کیا بلکہ ایک ایک شعر اور ایک ایک بند میں اجمیرکے سراپے،اجمیر کی رعنائیوں،اجمیر کے احباب،اجمیر کے اساتذہ،اجمیر کے موسم و ماحول ،اجمیر کے جھرنوں اور تالابوں کا ذکر،خواجہ اجمیری کے دربار خسروانہ کا حال سب اس طرح بیان کیا ہے کہ اجمیر کا نقشہ قاری کے سامنے کھنچ جاتا ہے۔جنھوں نے اب تک اجمیر نہیں دیکھا ،ان کے اندر اس نظم کو پڑھ کر اجمیر دیکھنے کی طلب بڑھ جاتی ہے اور جب وہ اجمیر دیکھتے ہیں تو قابلؔ کا فرمایا ہوا مستند ہوجاتا ہے۔
یہ بند قابل ؔ کی گہری نفسیات اور کا بیان ہے اور ان کی محرومی کا وہ تذکرہ جسے وہی محسوس کرسکتے ہیں ۔قاری یا مداح تو صرف سر دھن کر ہی رہتا ہے ،وہ اس شدت اور کر ب کو کسی طور محسوس نہیں کر سکتا ۔
وہ جھالرے کا پانی
آب بقا کا ثانی
بچپن کا یار جانی
اب ہو گیا پرایا
اجمیر یاد آیا
دیار غیر میں اپنے وطن کی مماثلتیں دیکھ کر ایک شاعر ،ایک فکر مند انسان،ایک حساس وجود جس طرح کے خیالات کا اظہار کر تا ہے وہ الفاظ میں اس طرح ڈھلتے ہیں:
راتوں کی خامشی میں
تاروں کی روشنی میں
شفاف چاندنی میں
دل نے سکون پایا
اجمیر یاد آیا
جب ابر مست چھایا
پیغام یار لایا
جب پھول مسکرایا
کوئل نے گیت گایا
اجمیر یاد آیا
حالاں کہ ان کیفیات کا احساس قابلؔ کو حیدرآباد(سندھ)میں ہوتا تھا مگر اپنے وطن کا موسم اپنا ہی ہوتا ہے۔وہاں تو سب کچھ کرائے کا تھا ، اپنے وطن میں سب کچھ اپنا ہونے کا احساس ہی بیش قیمت ہوتا ہے۔راتوں میں خامشی کا منظر ہر جگہ ہوتا ہے،اسی طرح تارے ہرمقام پر روشنی بکھیرتے ہیں،شفاف چاندنی دیار خود میں ہو کہ دیار غیر میں ،یکساں ہی ہوتی ہے۔ابر مست ہر جگہ چھاتا ہے۔پھول ہرمقام پر مسکراتے ہیں اور کوئل کے گیت ہر دیار میں گونجتے ہیں، مگر وہ سب کچھ اپنا نہیں،پرایا لگتا ہے ۔ان کیفیات میں وطن کی یادیں،وطن کا یاد آنا اور وطن سے اپنی وابستگی کا اظہار اس احساس کا ترجمہ ہے جو فطری ہوتا ہے۔
قابل ؔ کی یہ نظم ان کی منجملہ نظموں،غزلوں اور مجموعی کلام کی تمام تر خوبیوں سے سچی ہے۔چھوٹی بحر میں لفظوں کا مناسب انتخاب،وردو کلام، مصرعوں کی سجاوٹ، فضا کی کشید اور ایک شہر کی بیشتر خصوصیات کو جمع کر نا، ان کی وسعت نظر اور وطن سے سچی محبت کی زندہ باد علامتیں ہیں ۔وطن سے دوستی اور محبت کا دعوا اکثر کا ہوتا ہے مگر قابل کا یہ بے پایاں اظہار ابن انشا کے اس حکم نامے کی تصدیق کردیتا ہے:
دل عشق میں بے پایاں،سودا ہوتو ایسا ہو!
قابل ؔاجمیری نے اپنے وطن سے ایسا ہی سودا کیا اور اپنا دل اس کے عشق میں اسی طرح بے پایاں کردیا۔برے حالات کا شکوہ ،نامساعد حالات اور وقت کی برہم زلفوں کی سزا وطن کو کبھی نہیں دی جاتی ،قابلؔ اس حقیقت سے بہ خوبی واقف تھے ،اسی لیے باوجود اس کے کہ اجمیر شہر اُن کے لیے تنگ ہوگیا تھا ۔وطن کی اپنی مٹی ہی پرائی ہو گئی ،وہ وطن اس وقت دشمنوں کا ہی حامی بن گیا تھا مگر اس کے باوجود بھی قابل ؔ کو وہی شہر عزیز تھا ،ایک باضمیر اور باظرف انسان کا یہ وطیرہ نہیں ہوتا کہ وہ برسوں کی وفاداریوں کو چند بے رخیوں کے باعث بھلا دے۔شہر نے تو بے وفائی کی مگر قابل ؔنے کبھی بے وفائی نہیں کی ۔اپنی وفاداری اور اپنایت کا اظہار انھوں نے اس نظم کے ذریعے کیا اور اسے ’’یاد وطن‘‘کا بے مثال عنوان دیا۔
٭٭٭
مآخذو مراجع:
پیام فلک۔ویاس پستکالیہ،لاہور۔1914
چاند نگر۔ابن انشا۔نیشنل پبلشرز،کراچی۔1990
کلیات اختر شیرانی۔(مرتب)گوپال متل۔موڈرن پبلشنگ ہاؤس۔نئی دہلی۔1997
کلیات قابل اجمیری،فریدپبلشرز،نیو اردو بازار،کراچی۔2000


مضمون نگار سے رابطہ:
imranakifkhan@gmail.com
259،تاپتی ہاسٹل،جواہر لال نہرویونیورسٹی،نئی دہلی۔110067

Qabil Ajmeri ki Naz’m “Iqbal”

Articles

قابلؔ اجمیری کی نظم’’اقبال‘‘

عمران عاکف خان

عـــلامہ سر محمد اقبال ؔ کی عظمت و رفعت ان کے نام کی مانند ہی عظیم و رفیع ہے۔ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کسی عظیم و رفیع شخصیت کے آثار اس کے نام سے بھی ظاہر ہونے لگیں اورکانوں میں وہ نام پڑتے ہی وہ پیکر ہمارے سامنے آکھڑا ہو اورہم عقیدت و احترام کے جذبے سے سرشار عالم تصور میں ہی کھڑے ہوجائیں۔ چنانچہ عالم مشرق کو اس پر ناز ہے کہ اس نے 19ویں صدی میں اقبالؔ کو اپنی آغوش محبت میں پالا اور ان کے فن کو رشک عالم بنا دیا ۔قوموں نے ان سے حیات نو پائی اوراخلاق و ایمان سے بیمار سینوں میں ان کی حکمت نے کارتریاقی کیا ۔یہی وجہ ہے کہ حیات اقبالؔ سے لے کر آج تک کوئی لمحہ ایسا نہیں جاتا جب کہیں نہ کہیں ان کی آفاقی فکروں،کلام کے سوزو ساز ،ان کی دیدہ وری ،ان کی جہاندیدگی اور ان کے سمجھائے ہو ئے جہانگیری و جہاں بانی کے اصولوں پر باتیں نہ ہو تی ہوں ۔بلکہ بعض مقامات پر تو باقاعدہ ’’اقبالیات ‘‘پر لیکچر کی مجلسیں سجتی ہیں ۔ان مجلسوں میں ان کے فارسی کلام،اردو کلام ،تقاریر ،خطبات،سیاسی افکارو نظریات،سماجی ہدایات،تمدنی رہ نمائیوں اور ان کی ملت اسلامیہ کے تئیں فکر مندیوں کے متعلق غور و خوض کیا جاتا ہے ،نکات سمجھا ئے جاتے ہیں ،اپنے من میں ڈوب کر زندگانی کے مقاصد کا سراغ لگایا جاتا ہے اور بے راہ رو زندگیوں کو سنوارنے اور اقبال کی فرمودہ تلقینات پر عمل پیرا ہونے کے عہد لیے جاتے ہیں ۔
اقبال کی عظمت کیا ہے اور اقبال کون ہیں ،ان سوالوں کے جواب ہمیں کیا ملیں گے جب خود اقبال بھی اقبال سے آگاہ نہیں،باالخصوص ان کا فلسفۂ خودی تو معرکۃ الآرا اور آفاقی قدروں کا حامل ہے۔ اتنا ضرور ہے کہ ضمیر ، فطرت صالح ،صحت منداندرون اور خودی ،یہ چند عناصر مل کر جس طرح کے انسان کی تعمیر کرتے ہیں ،شاید وہی خودی کا رازداں اور خدا کا ترجماں بنتا ہے۔اگر وہ بھی نہیں تو پھر خدا جانے یہ خود ی کیا بلا ہے ۔خودی کا پرتو جب انسان میں نظر آئے تو وہ کیا بنتا ہے اور جب اس سے عاری ہوتو کیا ؟یہ واقعی فلسفیانہ بحثیں ہیں ۔یہ بحثیں اقبالؔ نے اس وقت چھیڑیں جب ایشیا مئے بے خودی میں مست تھا،اس کی قدریں اس سے چھینی جارہی تھیں، انگریزی سامراج نے اس کی گردن دبوچ رکھی تھی ۔حالات آتش فشاں بن گئے تھے۔ ایسے حالات میں خودی کی بیداری اور اسے فعال کر نااقبالؔ کا اولین فریضہ بن گیا۔یہ فریضہ انھوں نے کبھی میونخ،لندن،ہندوستان،ہسپانیہ ،ایران،کے ریگزاروں اور زمستانی ہواؤں میں ادا کیا تو کبھی پنجاب و بنگال کے کوہستانوں میں،کبھی مسجد قرطبہ کی ٹوٹی دیواروں کے سائے میں ادا کیا۔ہر عہد ،ہر موسم میں کیا۔ان کا یہ فریضہ فصل گل و لالہ کا پابندکبھی نہیں رہا ۔وہ حکم اذاں کے بہار وخزاں ہر موسم میں کاربند رہے۔اقبالؔ کی ان ہی بے لوث قربانیوں اور جانفشاں فکروں نے انھیں عالمی شہرت دلانے کے ساتھ ساتھ اقوام مشرق کا حکیم بھی بنادیا۔جس کا احسان وہ آج تک فراموش نہیں کرسکی ہیں۔
اقبالؔ تفہیم اور اقبالؔ شناسی کے سلسلے، ہماری ادبیات کا خراج ہیں ۔چنانچہ ہمارے شعرا اور ادبا نے پیام اقبالؔ کو دل کھول کر جلا بخشنے اور اسے نئی نسلوں تک پہنچانے کے لیے ایک فرض اورامانت سمجھ کر اپنے فن اور کلام میں برتاو ادا کیا ہے ۔چنانچہ ہر بڑے شاعرنے اقبالؔ کو اپنے طور پر خراج پیش کیا ہے اور ان کی ملک و ملت سوزی کا اعتراف کیا ہے جس میں وہ بہت حد تک کامیاب بھی ہیں ،بہت حد تک کوشاں بھی۔بعض نے ان کے کلام کی شرحیں لکھیں تو بعض نے ان کی زمینوں میں طبع آزمائی کی ۔جس سے فکر اقبال تک عام قارئین اور نئی نسلوں کی رسائی ممکن ہو سکی۔
عبد الرحیم قابلؔ اجمیری (27 اگست 1931تا30،اکتوبر 1962)کا شمار بھی ان شعرا میں ہوتا ہے۔انھوں نے علامہ اقبال ؔ پر ایک شاندار نظم’’اقبال‘‘ لکھی۔یہ نظم جہاں قابلؔ اجمیری کا اقبالؔ کو ایک بے مثال نذرانۂ عقیدت ہے ،وہیں اس کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ فکر اقبال اور اقبالیات میں خصوصی درک رکھتے تھے ۔اقبالیت اور ان کی فکر ،ان کے وجود کا حصہ بن گئی تھی ۔جس کا احساس ان کی غزلوں اور فکر انگیز نظموں میں بھی ہوتا ہے۔چنانچہ جب قابل ؔ’’اندیشۂ سودو زباں‘‘کی ترکیب اپنے اشعار اور غزلوںمیں استعمال کر تے ہیں تو ان میں اقبالؔ اور اقبالیات کا عکس جھلکتا ہے ۔اس لیے کہ ’’سودو زیاں‘‘اقبال ؔکی خاص ترکیب ہے جس کا استعمال انھوں نے اپنی متعدد پیامی نظموں میں مختلف انداز میں کیا ہے۔چند مثالیں ملاحظہ کرتے چلیں :
کیا ہے تو نے متاع غرور کا سودا!
فریب سودوزیاں لاالہ الا اللہ!!
٭٭٭
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی!
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی!!
٭٭٭
کیوں زیاکار بنوں سود فراموش رہوں!
ہم نوامیں گل ہو ںکہ خاموش رہوں!!
زیر مطالعہ نظم اختصار اور جامعیت کا نادر نمونہ ہے نیز اس کا اختصار اور جامع ہونا ہی اس کا وہ کمال ہے جو قابلؔ اجمیری کی شاعری کا خاص جوہر اور امتیازہے ۔قابل ؔ اجمیری جنھیں جدید اردوغزل کے پیش روؤں میں اہم مقام حاصل ہے،ان کا شعری وجدان اور ان کی فکری اپج، اقبالؔ کی ترجمانی اور تشریح میں نئے نکات و جہات کے دروا کر تی ہے ۔یہ نظم قابل ؔ کی کلیات اور ان کے اولین مجموعۂ کلام’’عشق انسان کی ضرورت ہے——‘‘ میں شامل ہے اس کا عنوان ’’اقبال‘‘ہے ۔انھوں نے اقبالؔ کے علاوہ ’’قائد اعظم‘‘——- ’’14اگست‘‘——–’’دریائے نیل‘‘—— ’’ایک عیدایک عہد‘‘——-’’شاعر‘‘ وغیرہ متعدد موضوعاتی نظمیںتحریرکی ہیں جو اُن کی علمیت، فردشناسی اور قومی رہ نماؤںو امور کے تئیں عقیدت تجربے ،احوال سے واقف کاری نیز ان کی فکر مندی کی دلیل ہیں ۔ سردست قابلؔ اجمیری کی نظم’’اقبال‘‘ کا متن اور اس کاتجزیہ‘‘ نذر قارئین ہے:———
اقبــــــال
وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلّی نکھار دی!
ذروں کو آفتابِ درخشاں بنا گیا!!
وہ چارہ ساز جس نے کیے تجرباتِ نو!
ہر درد کو ضمانتِ درماں بنا گیا!!
وہ باغباں جو اپنی نسیمِ خیال سے!
شامِ چمن کو صبحِ بہاراں بنا گیا!!
وہ دلربا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل!
تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا!!
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں!
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا!!
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے!
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا!!
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
یہ پوری نظم اقبالؔ کی فکر اقبال کے نظریات اور اقبالؔ کی مہمات کی ترجمان ہے۔وہ نوجواں مسلم سے کیا کیا توقعات رکھتے تھے اور اسے کس کس طرح سے بہلا تے تھے ۔اس کی بہبودی کے لیے انھوں نے کیا کیا طریقے اختیار کیے ۔کس کس طرح کی تلمیحات وہ قلزم قرآن و حدیث سے لائے ۔کبھی تو وہ اس کو لوح و قلم اور کتاب کہہ دیتے اور کبھی طائر لاہوتی گر دانتے ۔کبھی وہ اسے شاہین کہتے تو کبھی اس کی نسبت میر عرب اور ان کے جانباز سپاہیوں سے کرتے ۔کبھی وہ اسلامیان کے شاندار ماضی اور ان کے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑانے کی تحریکات دیتے اور کبھی طارق بن زیاد کی شجاعت کی کہانیاں سناتے ،یہ نظم ان سب کا نچوڑ ہے۔اس نظم کو جب ہم جز جز کر کے دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک ایک شعر اپنے اندر فکر اقبال کے ہزاروں نکات چھپائے ہوئے ہے۔ پہلے شعر میں جس طرح اقبالؔ کی اس کرامت کا ذکر ہے اس سے ہمارے دل یقین سے کہہ اٹھتے ہیںاس میں کوئی دورائے نہیں کہ اقبالؔ ایسے ہی دیدہ ورتھے جنھوں نے سورج کی نورانیت میں تجلّیات کی رونقیں بھردیں اور بے نام و گمنام ذروں کو اپنی فکر رسا سے درخشاں بنا دیا۔ان کی تلقین جس مسلم نو جوان نے بھی قبول کی وہ شاہین اور ھما بن گیا۔پھراس کی پرواز ستاروں سے آگے کے جہانوں تک بھی پہنچ گئی ۔وہ مہ کامل بھی بنا جس کے عروج سے انجم سہمے اور انھیں اپنا غرور ٹوٹتانظر آیا۔ اس نظم کا ہر شعر اپنی جداگانہ حیثیت بھی رکھتا ہے اور مجموعی طور پر بھی یہ نظم اقبالؔ کو بہترین خراج عقیدت ثابت ہوتی ہے۔بالخصوص اس کا نظم کا پانچواں شعر تو اقبال ؔ کے بنیادی فلسفے کا ترجمہ ہے:
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں!
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا!!
اس شعر میں نیاپن یہ ہے کہ اقبالؔ جہاں ’’خودی‘‘ کی تلاش کی تلقین دوسروں کو کرتے تھے وہیں وہ خود بھی اس کی تلاش میں ہیں ۔ یعنی انھیں بھی اس کی ضرورت ہے۔گویا’’خودی ‘‘ ایسا عنصر ہے جو ہر ایک کی ضرورت ہے اور اس سے متصف ہونا ہر کسی کے لیے ضروری ہے چاہے وہ اقبالؔ ہی کیوں نہ ہوں۔اس شعر کا دوسرا مصرع تو ارباب دل کو’’محرم یزداں ‘‘بنانے کی خبر دیتا ہے۔’’ارباب دل ‘‘ کی ترکیب ’’یزداں‘‘ کے’’ محرم‘‘ ہونے کے قبیل میں نادر ترکیب ہے اسی طرح تفویض امر بھی ہے۔چوں کہ’’ارباب دل‘‘پر ہی اکثر ذمے داریاں ، فرائض اورہوش و خرد کے امور واجب ہوتے ہیں ۔قابل ؔاجمیر ی اس حقیقت سے بہ خوبی آگاہ ہیں اور اقبالؔ بھی۔یہاں آکر دونوں کی آرا ایک ہوجاتی ہیں اسی طرح اقبال ؔکی طرح قابل ؔبھی قومی مفکر بن کر ہمارے سامنے آتے ہیں۔’’ارباب دل‘‘سے ’’غیر ارباب دل‘‘یعنی مردہ ضمیروں کی صاف نفی ہوتی ہے۔اس سے ان کی ہی محرومی اور بدقماشی ثابت ہوتی ہے اور ان کے لیے ایک یہ خبر یعنی ’’غیر ارباب دل‘‘ہونا ایک تازیانۂ عبرت بھی ہے جو انھیں یہ احساس دلاتا ہے کہ تم خدا تعالیٰ کی اس نعمت سے محروم ہو، یہ تمھاری بدقسمتی ہی ہے۔ اس کی تلافی اس طرح ممکن ہے کہ ’’ارباب دل‘‘کی صف میں شامل ہو کر ’’محرم یزداں‘‘ بن جاؤ۔
جیسا کہ ماقبل میں کہا گیااس شعر سے جو نئی بات معلوم ہوتی ہے ،وہ یہ کہ اقبالؔکا فلسفی اور مفکر ہوناخود ان کے لیے بھی بہت ضروری تھا۔ نیزوہ امروز یا ماضی قریب کے مفکرین و فلسفیو ںکی مانند اس سے خود کو ہرگز مبرا نہیں سمجھتے تھے۔بلکہ وہ اس حکم خداوندی یعنی ’’عرفان خودی‘‘کے خود کو اولین مستحق سمجھتے۔اسی طرح اس شعر میں ’’محرم یزداں‘‘کی ترکیب اس عہد الست کی تلقین اور اس پر ایمان کی تجدید کا استعارہ ہے جس کی مرقوم لوح، ہر انسان کے گلے میں لٹکی ہوئی ہے۔اس کی یاد دہانی کے لیے اس معاہد یعنی خدائے لم یزل نے پچھلے زمانوں میں رسول اور نبی بھیجے پھر یہ ذمے داری امت کے حکما اور مفکرین پر عائد ہوئی۔اقبال ؔکا پیغام خودی بہت واضح اور صاف لفظوں کا بیا ن ہے بس اس احساس کی ضرورت ہے جو قابل ؔ اجمیری نے اپنے انداز میں بتایا ہے۔اس شعر میں قابلؔ نے اقبال ؔکے ان ہی اشعار کی ترجمانی کی ہے جن میں وہ فرماتے ہیں:
خودی کی جلوتوں میں مصطفائی!
خودی کی خلوتوں میں کبریائی!!
زمین و آسمان و کرسی و عرش!
خودی کی رو میں ہے ساری خدائی!!
اسی طرح قابل ؔ کی اس نظم کا چھٹا شعر ملاحظہ کیجیے:
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے!
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا!!
یہ شعر اقبال کے اِن اشعار کا ترجمہ ہے:
بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم ہوجا!
نہ ایرانی رہے باقی نہ تورانی نہ افغانی!!
اسی طرح:—–
اپنی ملت پر قیاس اقوامِ مغرب سے نہ کر!
خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمی!!
اسی طرح وہ آپس میں دست وگریباں قوموں،علاقوں اور خطوں کے افراد سے مخاطب ہیں:
یوں تو سید بھی ہو ،مرزا بھی ہو افغاں بھی ہو!
تم سبھی کچھ ہو، بتاؤں تو مسلماں بھی ہو!!
یہ انداز تو لرزا خیز ہی ہے:—–
فرقہ بندی ہے کہیں اور کہیں ذاتیں ہیں!
کیا زمانے میں پنپے کی یہی باتیں ہیں!!
یہ اور اسی طرح کے متعدد اشعار ہیںجن میں اقبال ؔ،قوم رسول ہاشمی اور ملت کے افراد کو رنگ و نسل اورذات پات سے باز رکھ کر ایک دھارے یعنی ’’مسلمانیت‘‘میں شامل کر نا چاہتے تھے ۔قابلؔ اجمیری نے اس شعر میں اسی کی جانب اشارہ کیا ہے اور اقبالؔ کی اس جرأت رندانہ تذکرہ اسی انداز میں کیا ہے۔یہ شاعر کی بڑی خوبی ہوتی ہے کہ وہ کسی مفکر کی فکر کو اسی کے لہجے ،اسی کے اندازاور اسی کے آھنگ میں بیان کردے ۔ اس سے وہ ترجمہ شدہ کلام بھی مضبوط ہوتا ہے اور وہ ترجمانی کا حق بھی اداہوتا ہے ۔
اس نظم کا یہ آخری شعر تو دیکھیے جو چشم بینا کی روشنی کو حسرت و افسوس سے بڑھا دیتا ہے ۔وہ اقبالؔ کی اس فکر کا ترجمان ہے جس نے انھیں آخر میں مایوس کردیا تھا :
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
یہ یقینی بات ہے کہ اقبالؔ ساری عمر اسلامیان ہند کو اتحاد و اتفاق اور ’’بانگ درا‘‘پر نظر ڈالنے کی تلقین کر تے رہے مگر اس قوم کا جذبۂ قلندرانہ کوئی لے گیا۔ان میں گفتار کے غازی تو بہت تھے مگر کردارکسی کا غازیانہ نہیں تھا۔چنانچہ اس کا نتیجہ جو نکلا ،اس کا ذکر قابل ؔ نے ان ہی کی زبانی کیا:
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!!
اس نظم میں قابلؔ اجمیری نے علامہ اقبالؔ کی زندگی اور ان کی کلیات کے تمام پیغامات کو سمو دیا۔وہ جو’’ بانگ درا‘‘ کی صدا لے کر اٹھے اور ’’بال جبریل‘‘میں اس کوترقی دی نیز’’ضرب کلیم‘‘میں نقطۂ عروج پر لے گئے ،وہی پیغام ’’ارمغان حجاز‘‘تک آتے آتے اپنا اثر کھوبیٹھا حالاں کہ یہاں آکر تو اس کی تپش کو اور تیز ہونا تھا اسی طرح خوابیدہ دل اس سے اور گرماتے ۔مگر ایسا نہیں ہوا اوراقبالؔ دعا کرنے لگے:
یار ب دل مسلم کو وہ زندہ تمنا دے!
جو روح کو تڑپا دے جو قلب گر مادے!!
بھٹکے ہوئے آہو کو پھر سوئے حرم لے چل!
اس شہر کے خوگر کو پھر وسعتِ صحرا دے!!
پیدا دلِ ویراں میں پھر شورشِ محشر کر!
اس محملِ خالی کو پھر شاہدِ لیلا دے!!
یہ وہ لہجہ ہے جس میں اداسی اور مایوسی صاف جھلک رہی ہے ۔اس میں بجھے دل سے دعا ہے اور اسی خداسے ہے جو تبدیلیوں اور انقلابات کا حقیقی مالک ہے ۔ وہی رب العالمین ہے اور اسی کے دست قدر ت میں سب کچھ ہے ۔
قابلؔ اجمیری کی اس نظم کا آخری شعر تو پوری نظم کا حاصل ہے ۔ایسا حاصل جس کے بغیر نہ اعداد پورے ہوتے ہیں اور نہ ہندسوں کی تکمیل ممکن ہے۔یہ سبق آموز ’’حاصل ‘‘ اور اختتام قابل ؔ اجمیری کی شعری فکر اور ادبی مطالعے کی عمدہ مثال ہے اور ان کے وجدان شعرو شاعری کی دلیل بھی ہے۔
٭٭٭
مآخذو مراجع
عشق انسان کی ضرورت ہے——-قابل اجمیری۔مجلس یاد گار قابل،حیدرآباد(سندھ)1970
کلیات اقبال——— (ناشر)پرو فیسر شہرت بخاری۔اقبال اکادمی پاکستان ،لاہور۔1990
کلیات قابل اجمیری———(ناشر)ظفر قابل اجمیری۔مجلس یادگار قابل،کراچی شاخ۔دسمبر۔1990


مضمون نگار سے رابطہ:
imranakifkhan@gmail.com
259،تاپتی ہاسٹل،جواہر لال نہرویونیورسٹی،نئی دہلی۔110067

Qabil Ajmeri Jadeed Ghazal ke Peshrao

Articles

قابل اجمیری :جدید غزل کے پیش رَو!!

عمران عاکف خان

اس دنیائے مظاہر میںگوناگوں اور نوع بہ نوع کے ایسے کتنے ہی حیرت ناک واقعے رو نما ہوئے ہیں جنھوں نے تاریخ اور روایتوں کے دھاڑے موڑے ہیں ۔ چنانچہ صدیوں بعد بھی ان کے نشانات باقی ہیں اور ان سے متاثر یا فیض یاب ہونے والی جماعتیں، قومیں،خطے ، ممالک، عقیدے،عقیدتیں انھیں یاد رکھے ہوئے ہیں اور نسلاً بعد نسلٍ ان رسوم و روایات کو اپناتی چلی آرہی ہیں ۔
اسی دنیامیں کبھی کبھی اللہ تعالیٰ کی صنعت وخلاقیت کے ایسے نشان بھی مل جاتے ہیں جنھیں کمال صنعت کہنے کو بے اختیار دل چاہتا ہے اور پھر صانع ِ حق کے سامنے خود بہ خود سرجھکتے چلے جاتے ہیں،تا کہ اس کے مظاہر حق کا اعتراف اور یقین مضبوط ہوسکے اور اس کی تعریف کا فریضہ بھی۔جس کا ذکر چل رہا ہے اس کی صنعت کے کرشمے یہ ہیں کہ وہ اگر چاہے تو ذرے کو آفتاب بنا دے اور اگر نہ چاہے تو آفتاب وماہتاب بھی ذرے بن جائیں ۔وہ بہت کم عرصے میں بڑا کام لینے کا ہنر اپنی خلقت اور بندوں سے بہت اچھی طرح سے جانتا ہے۔بلکہ خود اس نے بھی محض چھے دنوں کے مختصر ترین عرصے میں بزم کاینات سجادی۔بے حیثیت اور کمزور بندوں سے بڑے بڑے کام لینے کے تو تاریخ میں ایسے کتنے ہی واقعات درج ہیں جن کے سنہری حروف اس حقیقت کا بیان ہیں ۔
ہماری تاریخ اردو شعرو ادب میں بھی صانع حق نے ایک ایسا شاہ کار پیدا کیا تھا ،جسے حسب دستور کم عمرملی مگر اسی مختصر زندگی میں اس سے ایسے کام لیے کہ ان پر اردو دنیا کو نازہے۔عبد الرحیم قابل ؔ اجمیری نام تھا اس شاہ کار کا۔جنھیں عمر عزیز کے کل 32برس ملے ۔جن میں سے بارہ برس محض اردوشاعری کے لیے ملے اور وہ اسی انگلیوں پر گنے جانے والے عرصے میں اردو دنیا پر اپنی دائمی چھاپ چھوڑگئے۔قابلؔ اجمیری کے انتقال کو حالاں کہ نصف صدی سے زائد کا عرصہ بیت چکا ہے مگر اب تک ان کے حقیقت افروز اور سدا بہار اشعار زبان زد عوام خواص ہیں:
تم نہ مانو مگر حقیقت ہے!
عشق انسان کی ضرورت ہے!!
حسن ہی حسن جلوے ہی جلوے !
صرف احساس کی ضرورت کی!!
جی رہا ہوں اس اعتماد کے ساتھ !
زندگی کو مری ضرورت ہے !!
٭٭
وقت کرتا ہے پرورش برسوں!
حادثے اک دم نہیں ہوتے!!
٭٭
اپنی اپنی جستجو ہے اپنا اپنا شوق ہے!
تم ہنسی تک بھی نہ پہنچے، ہم فغاں تک آ گئے!!
خود تمھیں آجائے گا چاک گریباں کا شعور!
تم وہاں تک آ تو جائو، ہم جہاں تک آگئے!!
آج قابلؔ میکدے میں انقلاب آنے کو ہے!
اہلِ دل اندیشۂ سود و زیاں تک آ گئے!!
٭٭
تم نے مسرتوں کے خزانے لٹا دیے!
لیکن علاجِ تنگیِ داماں نہ کر سکے!!
اک والہانہ شان سے بڑھتے چلے گئے!
ہم امتیاز ساحل و طوفاں نہ کر سکے!!
٭٭
کیسا شراب خانہ کہاں کا صنم کدہ!
کعبہ میں لْٹ گیا ہے مسلماں کبھی کبھی!!
٭٭
کوئے قاتل میں ہمیں بڑھ کے صدا دیتے ہیں!
زندگی آج ترا قرض چکا دیتے ہیں!!
یہ وہ آواز ہے جو 1950کے قریب دنیا میں جدید لب ولہجے اورقدیم روایت میں جدت کے اسلوب میںگونجی۔اس آواز کا گونجنا تھا کہ ترقی پسند غزل( محض نعرے بازی) سے تنگ شائقین اردو شعرو ادب اس کے گرد جمع ہونے لگے۔یہ کون ہے؟یہ آواز کہاں سے آرہی ہے؟کتنی گہرائی سے یہ صدا،یہ آہنگ،یہ اسلوب،یہ طرح نکل کرآرہی ہے؟ان سوالات نے جب شدت کی شکل اختیار کی تو انھیں بتایا گیا کہ یہ ’عبد الرحیم قابل اجمیری‘کا سوز وساز ہے۔بس پھر کیا تھا اس وقت کے اہم شعرا اور قابل قدر نقادوں نے اس کا کھلے دل سے استقبال کیا اور ایک بڑا طبقہ قابل تفہیم میں مصروف ہو گیا۔ان کے اشعار کے تجزیے ہونے لگے اور ان پر تنقیدنما بصیرت افروز مضامین کا سلسلہ شروع ہو گیا۔جن میں عاشق حسین سیماب اکبر آبادی، علی سکندر جگر مرادآبادی،ڈاکٹر عبادت یار خاں عبادت بریلوی،محمود ہاشمی،سحر انصاری،ڈاکٹر فرمان فتح پوری ،ماہر القادری،رئیس امروہوی وغیرہ کے نام نمایاں طور پر لیے جاسکتے ہیں ۔
قابل ؔاجمیری کی شاعری اور شعر پارے محض برائے شاعری ہی نہیں ہیں بلکہ ہماری جدید روایت اور دستور کے ترجمان ہیں۔اس وقت انسانیت ، عوام و خواص،بڑی طاقتوں کے ظلم و جور سے تنگ آدمیت جن حالات سے دوچار تھی،اس کے بعد جو مسائل درآئے تھے اور انھوں نے گھروں و آبادیوں کو نگلنا شروع کر دیا تھا،ان سب کی عکس بندیاں ہمیں قابل کی شاعری میں ملتی ہیں ۔اگر دو لفظوں میں کہا جائے تو قابل کی شاعری ایک گہرے دکھ اور کرب کا عنوان ہے اور اس فرض کی ادائیگی جو ان حالات میں واجب ہوچکا تھا۔دل چسپ بات یہ ہے کہ قابلؔ کے اس اظہار دردوکرب کے احساس نے اردو شاعری کو ’ جدید غزل‘ کاراستہ دکھا دیا۔
عبد الرحیم قابلؔ اجمیری27 اگست 1931 کو اجمیر شریف کے محلے چرولی میں عبد الکریم اور گلاب بیگم کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ نے اجمیر شہر کے مدرسہ نظامیہ(جونظام حیدرآباد دکن کے زیر انتظام چلتاتھا) میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔ محض14 برس کی عمر سے ہی شاعری کر نے لگے اور ارمانؔ اجمیری ومولانا عبدالباری معنیؔ اجمیری سے اصلاح لینے لگے۔ماں باپ کاسایہ سات سال کی عمر میں آپ کے سر سے رخصت ہو گیا ۔والد صاحب تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو کر چل بسے اور والدہ ان کے غم میں مالک حقیقی سے جاملیں۔ قابل ؔاس بھری پری دنیا اور کر بناک ماحول میں اکیلے رہ گئے اسی ماحول میں ان کے بھا ئی محمد شریف نے ان کی پر ورش کی ۔ اس وقت پوری دنیا جنگ عظیم دوم کے زخم چاٹ رہی تھی اور اس کے نتیجے میں بر پا ہونے والی مشکلوں کے اثرات دیگر ممالک کی طرح ہندوستان پر بھی پڑرہے تھے دوسری طرف تقسیم کی قیامت ٹوٹ پڑی تھی۔جس نے وہ حشر بپا کیا کہ تاریخ انسانیت میں ایسے واقعات کم ہی نظر آتے ہیں۔پورے ملک میں نارتھ پول سے سائوتھ پول تک اضطراب اور کشاکش کے مہیب دور شروع ہوگئے۔ ریاستوں کا غرور اور وجودٹوٹنے لگا ۔ جگہ جگہ فسادا ت اور آگ زنی ،بربادی ،عصمت دری،قتل و خون کے واقعات رونما ہونے لگے۔ان ہی سیریل اٹیکس اور مسلسل ٹریجڈیوں کو قابل نے اپنے ارد گرد محسوس کیا اور نہایت قریب سے دیکھا۔اس کا منطقی اثر یہ ہوا کہ آپ شاعربن گئے اور وہ درد و کرب،آہنگ،وہ دکھ اور سوز آپ کی شاعری میں اتر آیا۔ملک آزاد کیا ہوا ؟ہونا تھا آباد،برباد ہوگیا۔آزادی کی آڑ میں تقسیم کے شعلے بلند سے بلند ہوتے جارہے تھے نیز ہندوستانی مسلمانوں پر زندگی کا قافیہ دانستہ تنگ کیا جارہا تھا ۔ایسے حالات میںجنوری 1948 میں ، قابلؔ اجمیری بھی سرحد پار جانے والے ایک قافلے میں شامل ہوکر، اپنے چھوٹے بھائی محمد شریف کے ساتھ پاکستان ہجرت کر گئے اور حیدرآباد ، سندھ میںقیام پذیر ہوئے۔
پاکستان آنے کے بعد قابلؔ اجمیر ی کو کچھ قدردان ملے مگر اتفاق سے وہ بھی شاعر تھے۔جنھوں نے قابل کو مشاعروں کی راہ دکھائی ۔چنانچہ انھوں نے مشاعروں میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا ،وہاں امید سے زیادہ حصہ ملا اور وہ مقبول ترین شاعر بن گئے۔نیز ان کا شمار اختر انصاری اکبر آبادی، محسن بھوپالی سمیت حیدرآباد کے عظیم شعرا میں ہونے لگا اور انھیں محض 21 سال کی عمر میں اردو کے’سینئر ‘ شاعرکی حیثیت سے تسلیم کیا گیا ۔قابل نے جدید غزل کی روایت کو آگے بڑھانے میں اہم کارنامہ انجام دیا بلکہ اگر انھیں جدید غزل کا پیش رَو کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا۔قابل کے شاگردوں میں حمایت علی شاعرؔجیسے اہم ترین شعرا کا نام آتا ہے ۔
پاکستان میں قابلؔ اجمیری ادبی جریدے ‘نئی قدریں ‘ کے مدیر و مالک اختر انصاری اکبر آبادی کی سرپرستی میں رہنے لگے اور گزر بسر کے لیے حیدرآباد (سندھ) کے روزنامے’جاوید‘میں قطعہ نگاری کا آغاز کیا۔ اس کے بعد حیدرآباد ہی کے ایک اور ہفت روزہ جریدے ’آفتاب ‘ میں قطعات لکھنے لگے۔
قابلؔ نے پاکستان میںتقریباً 14سال بسر کیے مگر یہ عرصہ کتنی کلفتوں میں گزرا،وہی جانتے تھے۔ سب سے پہلا صدمہ انھیں اپنے بھائی شریف کی موت سے پہنچا، جو ان کی پاکستان آمد کے کچھ عرصے بعد ہی تپ دق کے مرض میں مبتلا ہو کر فوت ہوگئے۔ منہ پھاڑے غیر مناسب اور مصیبت بھرے حالات نے اکیلے قابلؔ کوچاروں طرف سے گھیر لیا اور حملہ کر بیٹھے۔حالاں کہ وہ ان سے لڑتے رہے مگر کب تک؟ وہ بے شمار ، نت نئے ،لمبے لمبے دانتوں ،خوف ناک آنکھوں اور ارادوں والے اور یہ تنہا۔بالآخر 1960کی دہائی میں جب کہ وہ شاعری کی دنیا میں اپنے پرچم بلند کر رہے تھے ،حالات سے ہار مان گئے اور اس شان سے ہارے کہ زندگی اپنی جیت کے باوجود رو پڑی:
میں زندگی کی بساط پر اس شان سے ہارا!
وہ اپنی جیت پر رویا بہت تھا!!
تاہم اپنے خاندانی مرض تپ دق کے موذی مرض نے ا نھیں کوئٹہ(بلوچستان) کے ملٹری اسپتال’سینوٹوریم‘پہنچادیا۔یہاںزندگی نے ان کے ساتھ ایک خوشگوار کھیل کھیلا۔ اس نے اپنا حسن دکھایا۔’سینوٹوریم ‘کے جس وارڈ میں قابل زیر علاج تھے،اس کی انچارج ایک نصرانی نرس ’نرگس سوسن ‘تھی۔انھیں جب اطلاع ملی کہ ’قابلؔ‘بطور پیشنٹ ان کے وارڈ میں لائے گئے ہیں تو انھوں نے ان کی تیمار داری کی تمام ذمے داریاں اپنے ہاتھ میں لے لیں۔نرگس کے اس حسن سلوک نے قابلؔ کو بہت متاثر کیا ۔مگر یہ عنایت یوں ہی نہ تھی، ’نرگس‘ان کی غائبانہ فین /مداح تھی اور اب تومحبوب سامنے تھا،بلکہ دسترس میں بھی۔ قدرت نے اس بہانے دونوں کو ملا دیا ۔محض رسماً نہیں بلکہ نر گس نے اسلام قبول کر کے قابل سے شادی کر لی۔یہ شادی ایک کامیاب شادی ثابت ہو ئی اور ’نرگس‘ کے بطن سے قابل کو ایک پھول’ظفر قابل اجمیری ‘کی صورت میںحاصل ہوا۔ مگر یہ قابل کی زندگی کے آخری ایام تھے۔مرض بگڑتا گیا۔بیگم نرگس قابل،انھیںتبدیلیٔ ا ٓب وہوا کی غرض سے حیدر آباد سے کوئٹہ لے آئیں لیکن قابل،اس درد سے نجات نہ پاسکے اور ایک دن دنیا کے تمام قابل ترین انسانوں کے طرز پر بہت مختصر زندگی پاکر بہ عمر31 سال عین جوانی میں تپ دق کی اسی بیماری کا شکار ہو کر 30،اکتوبر 1962 کو مالک حقیقی سے جاملے۔ان کے انتقال کے بعد ان کے قددانوں اور محبین نے حیدرآباد میں مجلس یاد گار قابل ؔ قائم کی اور اس کے زیر اہتمام سب سے پہلے ان کے شعری مجموعے’’دیدۂ بیدار‘‘1963کی اشاعت عمل میں آئی۔اس کے بعد ’’خون رگ جاں‘‘1966۔’’قابل کے سوشعر‘‘۔’’عصریات وتنقیحات ‘‘ دیگر یادگاریں شائع ہوئیں ۔ ان مجموعوں میں موجود قابل کی غزلیں،نظمیںدوہے،قطعے،گیت وغیرہ اس فکر کی غماز ہیں جو صرف اور صرف قابل کی ایجاد ہیں۔
قابل کا مطالعہ کر نے سے پتا چلاتا ہے کہ ان کی شاعری دلوں کی شاعری ہے اور ان کی غزلوں کا آہنگ ،وقت کی آوازہے ۔زندگی میں رونما ہونے والے واقعات ،وتجربات،ان کے شعری اسلوب میںڈھل گئے۔انھوںنے دل کی ہر کسک،ہر احساس اور ہر تڑپ کو شعری پیکر میں ڈھالنے کی کوشش کی ۔ان کی شاعری معیاری اورجدیدیت کے رنگ سے مزین تھی ۔جدید تصورات کے رجحانات کی عکاسی ان کے اشعار میں نمایاں طور پر موجود ہے۔اگر بغور دیکھا جائے توان کے یہاںمیر ؔ کا سوزو گداز،مومنؔ کے طرز ،غالب ؔ کی خیال آفرینی اور داغؔ کی شگفتہ بیانی کے ساتھ جدیدیت کی لے بھر پور طریقے سے موجود ہے۔انھوں نے اسی قدیم روایت میں تجدد کا راستہ اختیار کیا اور شعرو سخن کو نئی فکروں کا محور بنا دیا۔قدیم و جدید اور روایت میں تجدد کی آمیزش نے ان کے کلام کو سحر طراز ی کا عنوان بخشاہے۔
قابل اجمیری اور معاصرین کا موازنہ بھی ایک اہم ترین اور معرکۃ الآرا بحث ہے۔ ایک مقام پر جرمنی میں مقیم ظفر جعفری ،قابل اجمیری اور احمد فراز کا موازنہ کر تے ہوئے ظفر قابل اجمیری کے بلاگ میں لکھتے ہیں:
’’۔۔۔۔۔۔۔ احمد فراز بہت اچھے شاعر تھے اور ان کے بعد شاعری کے میدان میں جو سُونا پن اور خلا پیدا ہوا ہے وہ روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ یہ سوال کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ کس مقام پر ہوتے۔ میرا جواب یہ ہے کہ احمد فراز 1970 کے عشرہ میں ابھر کر سامنے آئے تھے جس کے بعد وہ سنورتے چلے گئے۔ لیکن احمد فراز 1970 سے پہلے غیر معروف تھے۔ اسکے بر عکس قابل اجمیری 1950-1951 ہی میں جگر اور سیماب جیسے اساتذہ سے اپنی شاعری کا لوہا منوا چکے تھے۔ اس تناظر کو سامنے رکھتے ہوئے میرا یہ دعویٰ ہے کہ زندگی اگر قابل کو مہلت دیتی تو وہ استادالاساتذہ کہلاتے۔ قابل اجمیری میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر ہیں۔ اُنکا آہنگ انکا اسلوب اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ قابل نے غزل کے ساتھ نظم بھی اُسی پائے کی کہی ہے۔ قابل کی نظم کا ایک نمونہ ملاحظہ ہو جس سے قابل کے منفرد آہنگ ، اسلوب اور شیریں بیانی اور فکر کا پتہ چلتاہے۔ اس عنوان پر(حالاں کہ) دوسرے شعرا نے لاتعداد نظمیں کہی ہیں۔
اقبال
وہ دیدہ ور کہ جس نے تجلّی نکھار دی
ذروں کو آفتابِ درخشاں بنا گیا
وہ چارہ ساز جس نے کیے تجرباتِ نو
ہر درد کو ضمانتِ درماں بنا گیا
وہ باغباں جو اپنی نسیمِ خیال سے
شامِ چمن کو صبحِ بہاراں بنا گیا
وہ دلربا کہ جس نے بدل دی سرشتِ دل
تکلیف کو نشاط کا ساماں بنا گیا
وہ فلسفی جو اپنی خودی کی تلاش میں
اربابِ دل کو محرمِ یزداں بنا گیا
وہ مردِ حق پرست مٹا کر جو تفرقے
اسلامیوں کو صرف مسلماں بنا گیا
اب کارواں کی بانگِ درا پر نظر نہیں!
سب کچھ ہے اس کی قوم مسلماں مگر نہیں!‘‘
(ظفر جعفری۔عالمی اخبار۔قابل اجمیری نمبر(بلاگ)19جون2010۔جرمنی)
قابل اجمیری کی اس روایت سے تجدد کی طرف مراجعت کو بعد میں’ جدید غزل‘ کے رجحان کا نام دیا گیا ۔جو بہت جلد اردو شعرو ادب کے حلقوں میں مقبول ہوا اور پھر اجنبیت و غربت کے مراحل سے گزرتے ہوئے جب محمود ایاز نے1959 میںماہنامہ ’سوغات‘ بنگلور۔اختر انصاری اکبر آبادی نے1950میں ماہنامہ’نئی قدریں‘حیدرآباد سندھ۔شمس الرحمان فاروقی نے جون 1966میں ماہنامہ’شب خون‘الہ آباداور نسیم درانی نے 1967میں ماہنامہ’سیپ‘کراچی شروع کیا تو اسے عالم گیر شہرت، مضبوطی اور تقویت ملتی چلی گئی پھر تو یہ مستحکم سلسلہ بن گیا۔مذکورہ بالا رسالے وہ ہیں جومستقل طورپر اس کے ترجمان بنے اور برسوں اس کی اشاعت وفروغ میں مصروف رہے ۔ان کے علاوہ دیگر معاصر رسالوں نے بھی اس رجحان کو عام کرنے میں اہم رول ادا کیا ۔ان میں اشہر ہاشمی کے دوماہی’’ گلبن‘‘ احمد آباد کا نام نمایاں ہے۔
اس رجحان کے صف اول کے شعرا میںاسلوب احمد انصاری،سرشار صدیقی،شہر ت بخاری،دیوندر اسّر ،تنویر عباسی،شوکت عباسی،مظفر علی سید ، ریحان صدیقی اوران میں نمایاں نام قابل اجمیری کاآتا ہے۔جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے قابل اس جہان میں صرف 31 برس رہے نیز اس عرصے میں بھی شاعری کے لیے انھیںبہ مشکل دس بارہ برس ہی ملے، لیکن انھو ںنے اسی مدت کو غنیمت جان کرجدید غزل کی طرح ڈال دی اور اردوغزل کا دامن نئے معانی و تراکیب سے وسیع کر دیا۔ان کی شاعری کی سطحیں جدید عناوین ورجحانات سے میل کھاتی ہیں۔ان کی غزلوں کا آہنگ خون کی دھار میں ڈوبا ہوا اورشعری ساز شعلہ وشبنم،شیشہ وتیشہ اور جگر پاش تھا۔لطف تو یہ ہے کہ ان کی یہ کربناکیاں قدیم روایت سے بالکل ہٹ کر جدید لب لہجے میں تھیں جو جدید شعرا کی اہم خصوصیت ہے۔قابل اجمیری کی حیثیت جدید غزل نگاری میں نمایندہ شاعر کی ہے۔چو ں کہ انھوں نے بہت پہلے اس رجحان کے تحت لکھی جانے والی شاعری کی ابتدا کردی تھی۔ قابل اجمیری گوباضابطہ جدید غزل کواس رجحان سے متعلق صرف دوسال ملے، مگر اس کے باوجود ان کی شاعری، فکری،فنی اور نئے و نادرامتیاز وانفرادیت کی بدولت جدید غزل کا جلی عنوان تھی۔ان کی شعری،فنی اور فکری جہات نے جد ید غزل کے رجحان سے پہلے ہی اس کی نمایندگی شروع کر دی تھی۔ قصہ مختصر یہ کہ ان کے کلام کا طرز فغاں ،عناوین اورموضوعات فرسو دہ روایت اور تقلید سے بالکل ہٹ کرجدید احساس و فکر لیے ہوئے ہیں۔چنانچہ ایک مقام پر عبادت یار خاں عبادت بریلوی لکھتے ہیں:
’’ قابل کے یہاں تقلید کا شائبہ تک نہیں ہوتا وہ نئی بات کہتے ہیں اور نئے انداز سے کہتے ہیں۔ غزل کی روایت سے پوری واقفیت رکھنے اور اس سے خاطرِ خواہ استفادہ حاصل کرنے کے باوجود وہ کبھی لکیر کے فقیر نہیں بنے۔ ان کے یہاں خاصا تنوع ہے لیکن اس تنوع کے ہاتھوں ان کی انفرادیت کوٹھیس نہیں لگتی ان کا مخصوص زاویہ نظر اس تنوع میں بھی ایک یک رنگی پیدا کرتا ہے‘‘
(ممتاز راشد۔ مضمون :’’قابل اجمیری‘‘خصوصی صفحہ’قابل اجمیری‘(انٹرنیٹ)–اشاعت 26جنوری2011۔ممبئی)
ایک دوسرے مقام پر عبادت بریلوی یوںرقم طراز ہیں:
’’۔۔۔۔۔ایک اور بات قابل صاحب کے کلام میں قابل ذکر ہے ۔وہ یہ کہ زندگی کی محرومیوں کو محسوس کر نے کے باوجود وہ زندگی سے مایوس نہیں ہیں ۔ان کے یہاں زندگی کی کسک کومحسوس کر نے کے باوجود خاصی جولانی کا احساس ہوتا ہے اور یہ جولانی انھیں عمل کی طرف راغب کر تی ہے۔چنانچہ عمل کی راہ پر آگے بڑھنے کا احساس ان کی شاعری میں بہت نمایاں ہے۔‘‘
(جوہر قابل۔ مشمولہ طالب علم ڈائجسٹ۔’قابل نمبر‘ص:22،فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
سحر انصاری کا خیال ہے:
’’۔۔۔۔۔زندگی کے مسائل کی طرح حسن کی بعض نفسیاتی کیفیات کا انھو ں نے گہرا مشاہدہ کیاہے۔قابلؔ نے حسن کے بعض ایسے پہلوؤں پر نگاہ ڈالی ہے جن کی طرف شایداس انداز سے کسی نے دیکھا نہیں اور اگر دیکھا بھی ہے تواس برجستگی اور اثر آفرینی کے ساتھ رقم نہیں کیا:
رُکا رُکا سا تبسم،جھکی جھکی سی نظر!
تمھیں سلیقۂ بیگانگی کہاں ہے ابھی!!
٭٭
بے نیازی کو اپنی خو نہ بنا!
یہ ادا بھی کسی کو پیاری ہے!!
٭٭
اضطراب دل سے قابلؔ وہ نگاہ بے نیاز!
بے خبر معلوم ہوتی ہے مگر ہوتی نہیں‘‘!!
(شاعر اعتماد:قابل اجمیری ۔سہ ماہی نخلستان۔قابل اجمیری نمبر۔مارچ:1986۔جے پور)
اس موقع کی مناسبت سے مناسب محسوس ہوتا ہے کہ رئیس المتغزلین،حضرت جگر مرادآبادی کا قول بھی نقل کرتا چلوں۔فرماتے ہیں:
’’ان(قابل) کے کلام سے ان کی انفرادیت نمایاں ہے اور یہی خصوصیت شاعر کے لیے اہم اور اہم تر ہے۔میں نے پہلی بارجب ان کا کلام(اجمیر کے مشاعرے میں) خود ان ہی کی زبانی سنا توحقیقتاً بہت متاثر ہوا۔خیالات اور جذبات کے ساتھ ساتھ اسلوب بیان بھی شگفتہ وپاکیزہ اور تغزل کا حامل ہے۔‘‘
(جگرمرادآبادی(ایک تاثر)مشمولہ۔طالب علم ڈائجسٹ۔قابل نمبر۔فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
غزل میں تجدد اور قابل ؔ اجمیری کی خدمات کے حوالے سے مجنوں گورکھپوری کا یہ اعتراف بھی دیکھتے چلیں:
’’۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کو ان الفاظ سے اندازہ ہوا ہوگا کہ قابل اجمیری میں نکتہ سے نکتہ پیدا کر لینے ،خیا ل روشن کر لینے اور روایت سے جدید روایت کو جنم دینے کی غیر معمولی صلاحیت ہے ۔ان کی طبیعت میں بلا کی جدت و لطافت اور ان کے احساس میں غضب کی تازگی و انفرادیت ہے۔یہی سبب ہے کہ غزل میں بعض حددرجہ فرسودہ اور ناموافق زمینوں میں بھی وہ ایسے آب دار نشتر نکال لیتے ہیں کہ خدا کی توفیق یاد آجاتی ہے۔‘‘
(غزل میں تجدد کی ایک مثال۔مشمولہ۔طالب علم ڈائجسٹ۔قابل نمبر۔فروری 1970۔حیدرآباد۔پاکستان)
بات ختم ،عبادت بریلوی ، سحر انصاری ، جگر مرادآبادی اور مجنوں گورکھپوری صاحبان کو جوکہنا تھاوہ کہہ چکے ۔اس کے بعد ذکر آتاہے اسی قابل ؔاجمیری کابلکہ فخر اجمیر وراجستھان قابل ؔاجمیری کا۔جن کے کا ذکر جدید اردو شاعری میں خصوصی اہمیت کا حامل ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے ایک موقع پر قابل ؔ اجمیری کی شاعری کو ’سچی‘اور ’اچھی شاعری ‘ کہا ہے۔واقعی قابلؔ سچے اور اچھے شاعرتھے ۔ان کی زبان اور تعبیرات حیرت انگیز اور اعلا پائے کی تھیں،ان کی زبان بھی کیسی؟ کوثر وتسنیم سے دھلی ہوئی جس کی کسوٹی میں ڈھل کر ان کی شاعروں دلوں کی آواز بن گئی۔
خلاصۂ گفتگو یہ کہ قابل اجمیری وجدان اور شعری فکر و جہات کی اس روایت سے تعلق رکھتے ہیں جو ناقابل فراموش ہے۔مناسب معلوم ہوتا ہے کہ قابل کے ان سدا بہار اشعار پر اپنی بات کا اختتام کروں :
پاس ہے منزل مگر انجام کا کیا ٹھیک ہے!
شوق کو مانوس سعیٔ رائیگاں کرتے چلو!!
راستے میں بجھ نہ جائیں آرزوئوں کے چراغ!
ذکر منزل کارواں در کارواں کرتے چلو!!
٭٭
زمیں پہ ہیں لالہ و گل، فلک پہ ماہ ونجوم!
میرا شمار یہاں بھی نہیں، وہاں بھی نہیں!!
٭٭
ہماری خامشی اے دوست افسانہ سہی لیکن!
زباں بہکے تو افسانہ بھی افسانہ نہیں رہتا!!
٭٭
ہر زخم ایک بہار ہے، ہر اشک اک گہر!
قابلؔ مری خزاں بھی،حسیں ہے بہار سے!!
٭٭
میخانہ اک سراب، صنم خانہ اک طلسم!
کچھ ان سے اعتبار نظر کے سوا نہ مانگ!!
٭٭
مآخذو مراجع:
O دیدۂ بیدار۔مجلس یادگار قابل اجمیری۔حیدرآباد۔(پاکستان)1963
O خون رگ جاں۔مجلس یادگارقابل اجمیری۔حیدرآباد(پاکستان)1966
O عصریات و تنقیحات(بیاض) غیر مطبوعہ
O طالب علم ڈائجسٹ:’قابل‘ نمبر (مرتب :محمد حسین قریشی)مارکیٹ روڈحیدر آباد(پاکستان)فروری 1970
O عالمی اخبار۔(بلاگ پیج)’قابل اجمیری‘ نمبر۔پاکستان
O قابل اجمیری: شخص اور شاعر۔(مونوگراف)عبدالمتین اجمیری۔راجستھان اردو اکادمی،جے پور (راجستھان) 1980
O نخلستان۔’قابل اجمیری ‘نمبر(مرتب :عبد المتین اجمیری)راجستھان اردواکادمی،جے پور(راجستھان) مارچ 1987

٭٭٭

مضمون نگار سے رابطہ:
imranakifkhan@gmail.com
259،تاپتی ہاسٹل،جواہر لال نہرویونیورسٹی،نئی دہلی۔110067

Rajaji ki Ramayan Translated by Prof. Yunus Agaskar

Articles

راجا جی کی راماین:بال کانڈ

ڈاکٹر یونس اگاسکر

راجا جی کی راماین:بال کانڈ
(رام جنم سے سیتا سوlتک)

 

ترجمہ
ڈاکٹر یونس اگاسکر

 

 

اردو چینل ڈاٹ اِن
اندرونِ صفحات

l ابتدائیہ / ڈاکٹر یونس اگاسکر 9
l راجا جی کی راماین اور ترجمۂ یونس اگاسکر/ ڈاکٹر وِدّیا ساگر آنند 12
l راجا جی کی راماین:
¡ پہلا باب : حمل 27
¡ دوسرا باب : رِشی وِشوامتر 32
¡ تیسرا باب : ترشنکو 38
¡ چوتھا باب : رام محل سے سدھارتے ہیں 48

 

¡ پانچواں باب : رام کے ہاتھوں راکشسوں کا قتل 54
¡ چھٹا باب : سیتا 65
¡ ساتواں باب : Aتھ گنگا لاتا ہے 72
¡ آٹھواں باب : اہلیا 78
¡ نواں باب : سیتا سوl 85
¡ دسواں باب : پرشورام کی شکست 90

¡¡
ابتدائیہ

برسوں پرانی بات ہے۔ بھارت بھومی کی ایک ریاست مہاراشٹر میں واقع ُبنکروں اور محنت کشوں کی نگری بھیونڈی میں ایک گریجویٹ نوجوان رہتا تھا۔ اس نے ممبئی کے ایک قدیم کالج سینٹ زیویرس سے اُردواور عربی میں بی اے پاس کرنے کے بعد ایم اے کرنے کی تمنّا کو دِل میں دبائے ہوئے اپنی مادر درس گاہ رئیس ہائی اسکول میں ملازمت کرلی تھی۔ ان دِنوں معاون مدرّس کی اسامی کے لیے تدریس کی سند لازمی نہیں تھی۔ یہاں اُسے اُردو اور عربی کے علاوہ انگریزی اور تاریخ بھی پڑھانی پڑتی تھی۔
ایک دن اسکول کے چند طالب علموں نے جو گیارہویں درجے (ایس ایس سی) میں پڑھتے تھے اور جنھیں وہ انگریزی نہیں پڑھاتا تھا، اُس سے انگریزی کا ٹیوشن پڑھانے کی درخواست کی۔ ٹیوشن کرنا اُس نوجوان کے پسندِ خاطر نہ تھا اس لیے اُس نے معذرت کی اور خصوصاً کسی کے گھر جا کر پڑھانے سے صاف انکار کردیا۔ ساتھ ہی اُس کے اپنے گھر میں بھی اس کی گنجائش نہ ہونے کی بات اُن پر واضح کردی۔ مگر وہ طلبہ نہ مانے اور اُنھوں نے شہر کی قدیم جامع مسجد میں درس و تدریس کا سلسلہ شروع کرنے کی اجازت حاصل کر کے اُسے راضی کرلیا۔ چناںچہ صبح کو اسکول شروع ہونے سے پہلے جامع مسجد کی اُوپری منزل کے وسیع ہال میں فرشی کلاس لگنے لگی۔
اُس وقت ایس ایس سی کی مجوّزہ انگریزی درسی کتاب میں سی راج گوپال اچاریہ یعنی راجاجی کی ’راماین‘ کا کچھ ّحصہ شامل تھا جس میں سیتا ہرن اور جٹایو کی راون سے جنگ اور ّہتیا کی حکایت مذکور تھی۔ ’راماین‘ کے قصّے سے واقف ہونے کے باوجود وہ نوجوان استاد جٹایو کی بے مثال قربانی کے واقعے سے متعارف نہ تھا۔ البتہّ سبق پڑھاتے ہوئے راجاجی کے اسلوب کی سلاست و حلاوت نے اُسے اتنا متا ّثر کیا کہ وہ راجاجی کا گرویدہ ہوگیا اور ان کا دِل سے احترام کرنے لگا۔ایک اسلامی عبادت گاہ میں راجاجی کی ’راماین‘ کی قرأت و تدریس کے انوکھے تجربے نے اُس نوجوان استاد کے جذبۂ احترام میں ایک سرشاری پیدا کردی تھی جس کی یاد اب تک برقرار ہے۔
راجاجی کی ’راماین‘ کے ابتدائی دس ابواب یعنی بال کانڈ کا زیرِ نظر ترجمہ اُسی خوب صورت یاد کے نام منسوب کرتے ہوئے راقم الحروف اپنے ملک کی رنگارنگ وراثت اور مذہبی رواداری پر اپنے اعتماد و یقین کو تازہ کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہے۔ خدا کرے کہ یہ حسین روایت پایندہ تر ہو۔
’راماین‘ کے ان دس ابواب میں جو حکایات و واقعات درج ہیں اور جن اشخاص و اشیا کا تذکرہ ملتا ہے وہ ہندوستانی ادبیات اور مشترکہ تہذیب کا اٹوٹ ّحصہ ہیں۔رِشی وشوامتر جو کئی ّقصوں کے راوی ہیں، ہندو اساطیر کا ایک امر کردار ہیں اور اپنی عظمت کے سبب اقبال کی نظم ’جاویدنامہ‘ میں بھی ’جہاں دوست‘ کی حیثیت سے جلوہ گر ہیں۔ ان کے علاوہ رِشیوں میں وسِشٹھ، اگستیہ اور کپل، اوتاروں میں وامن، راجاؤں میں مہابلی،Aتھ، پرشورام اور ترشنکو، راکشسوں میں راون، ماریچ اور تاٹکا، اپسراؤں میں مینکا اور رمبھا، عورتوں میں اہلیا، جانوروں میں کام دھینو، ہتھیاروں میں شیو کی کمان اور برہماستر— یہ سب ہندوستانی ادبیات اور لوک ساہتیہ کے جانے پہچانے نام ہیں جن سے اُردو کے قلم کار اور قاری بھی واقف ہیں اور ہمارے بعض تخلیق کاروں نے ان تلمیحات و اساطیر کو فن کارانہ انداز میں برتا بھی ہے۔
ان دس ابواب کے مطالعے سے یہ احساس اُبھرنے لگتا ہے کہ ہندو مایتھالجی کا ایک نمایاں
ّحصہ ہمارے سامنے مزید اُجاگر ہورہا ہے۔ اور جب ہم دیکھتے ہیں کہ شری رام اپنے ُگرو رِشی وِشوامتر کی آ ّگیا کا پالن کرتے ہوئے اپنے اوتار کو سوارت کرنے والے متعدّد کارناموں میں سے چند کی تکمیل کر کے جن میںسیتا سوl اور پرشورام کی شکست شامل ہیں، واپس ایودھیا لوٹ رہے ہیں تو ہمارے سامنے ’راماین‘ کا بال کانڈ سمپورن ہوجاتا ہے۔ اس اعتبار سے اس ترجمے کو اپنے آپ میں ّمکمل سمجھنا چاہیے۔
راجاجی کی ’راماین‘ کا ترجمہ ایک بزرگ کی فرمایش پر برسوں پہلے شروع کیا گیا تھا۔ اِن بزرگ نے ایک بڑے ادارے کی جانب سے اس کی اشاعت کی سبیل پیدا کرنے کا بھی وعدہ کیا تھا مگر جلد ہی اپنے وعدے سے پھر گئے اور بال کانڈ تک پہنچا ہوا یہ ترجمہ یوں ہی پڑا رہ گیا۔ لیکن ’اَلْاَمُوْرُمَـوْہُـوْنَۃٌ بِاَوْقَاتِـہا‘ یعنی ہرکام کا وقت ّمعین ہے کے مصداق علم و ادب کے حامی و طلب گار اور ’راماین‘ کے عاشقِ زار محترم ڈاکٹر وِدّیا ساگر آنند کی توجّہ نے نہ صرف اشاعت کی منزل کو آسان کردیا بلکہ ان کے گراںقدر مقالے اور کلماتِ تحسین نے اس ترجمے کی قدرومنزلت بڑھائی ہے۔برادرِ گرامی ساحرؔشیوی کی دل چسپی کے سبب یہ ممکن ہوسکا۔ اس لیے ان دونوں مر ّبیوں کا شکریہ ادا کرنا لازم ہے۔
اس ترجمے کی اشاعت ہمارے دوست پریم گوپال متّل کے موڈرن پبلشنگ ہاؤس، نئی دہلی کے زیرِاہتمام ہو رہی ہے، اس لیے یقین ہے کہ معیاری ہوگی۔ چناںچہ ان کا پیشگی شکریہ!
ممبئی/ یکم اپریل ۲۰۰۵ء (پروفیسر) یونس اگاسکر
راجا جی کی راماین اور ترجمۂ یونس اگاسکر

عہدِ جدید میں فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہ گئی ہے۔ جدید سہولیات نے دُنیا کو ایک بین الاقوامی گا ￿نو کی حیثیت دے دی ہے۔ اب دُور دراز ممالک اور وہاں کے افراد سے واقفیت کے لیے ہمیں لمبے سفر نہیں کرنے پڑتے۔ کمپیوٹر، فیکس، ٹی وی اور ٹیلی کمیونی کیشن کی دیگر نعمتوں نے دُوریاں پاٹ دی ہیں۔ لیکن کیا ہم روحانی اور اخلاقی طور پر بھی ایک دوسرے کے نزدیک آسکے ہیں؟ واقعہ یہ ہے کہ بے شمار مال و دولت اور لامحدود تکنیکی وسائنسی تر ّقیات کے باوجود روحانی طور پر ہماری دُنیا بے حد غریب ہے۔ موجودہ معاشرہ شراب نوشی، جنس زدگی، تشدّد اور نشیلی ادویہ میں ڈوب کر اخلاقی اقدار سے کوسوں دُور جاپڑا ہے، خصوصاً معاشی طور پر ترقی یافتہ مغربی دُنیا میں سخت بے چینی و بے اطمینانی پائی جاتی ہے۔ اُسے ایک ایسی فکر، ایک ایسے پارس ّپتھر کی تلاش ہے جسے چھوکر وہ ذہنی سکون و اطمینان حاصل کرسکے۔
لندن میں بسے ہوئے ایک عالمی شہری کی حیثیت سے دُنیا کا دورہ کرتے ہوئے میں نے شدید بے لگام اور بے سمت مادّہ پرستی کے نتائجِ بد دیکھے ہیں۔ یہ میری خوش نصیبی ہے کہ میری ولادت اُس ملک (بھارت) میں ہوئی جس نے ہزاروں برس پہلے مادّیت کے بہاو کے چیلنج کا سامنا کیا۔ اس ملک میں صدیوں سے صوفیوں، سنتوں اور رشیوں کی ایک ایسی روایت رہی ہے جس نے مادّی ترقی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کو پہلے سے محسوس کرلیا تھا۔ اُن دُور اندیش افراد نے فطرت کی گود میں پوشیدہ تباہ کاریوں کو محسوس کرتے ہوئے دولت کی پوجا کے بُرے اثرات سے ہمیں بہت پہلے آگاہ کردیا تھا— انھوں نے ہمیں بتایا تھا کہ اس طرح ہم پاپ، پریشانی اور ذہن و کردار کی کمزوری کا شکار ہوجائیں گے۔
ہمارے قدیم ّمفکرین نے اس موضوع پر متعدّد گرنتھ تخلیق کیے ہیں، لیکن ان تمام گرنتھوں میں’راماین‘ ہی وہ واحد گرنتھ ہے، جو بے حد مؤثرّ اور واشگاف لفظوں میں تباہی کے دہانے پر کھڑی ہوئی انسانیت کے سامنے عملی طور پر ان دائمی اور جاوداں حقائق کو پیش کرتا ہے جو اس کے وجود کے ّتحفظ کے لیے لازمی ہیں۔ یہ گرنتھ واہموں کا شکار، مصیبت زدہ انسان کو، چاہے وہ مغرب کا ہو یا مشرق کا، ایک آدرش عالمی انسان بننے کی ترغیب دیتے ہوئے اس کی رہنمائی کرتا ہے۔
’راماین‘ میں بیان شدہ واقعات میں اس عہد کی جھلک دیکھنے کو ملتی ہے، جب انسان نے حکومتی انتظام، ٹیکس کے نظام، عدل و انصاف اور دیگر ضابطے طے کرکے تاریخ بنائی تھی۔ نئی اقدار کے حامل ایک نئے سماج کی تشکیل کی تھی۔ مذہب نے انسان کو ا ّچھائیوں کی ترغیب تو دی، لیکن محض دھرم کی تبلیغ سے سماج کی اصلاح نہیں ہوجاتی۔ انسان کی اصلاح کے لیے اُس کی فطرت، اُس کے کردار، معاشی و سماجی حیثیت، مختلف اخلاقی معیارات، اُس کی کم علمی، لاعلمی سبھی کی اصلاح ضروری ہے اور اس کی عکاّسی ’راماین‘ میں پوری ّسچائی اور ایمان داری سے ملتی ہے۔
’راماین‘ میں ہیرو بھی ہیں اور وِلن بھی۔ اس میں طاقت ور کمزور، بہادر ڈرپوک، باعلم بے علم، لالچی اور دیش بھگت، فہیم اور کورمغز، سبھی طرح کے کردار ہیں۔ یہاں ہم جھوٹ اور بدصورتی سے نفرت کرتے ہیں اور ّسچائی، حسن، وفاداری اور پاکیزگی کو گلے لگاتے ہیں۔ سیتا سے زیادہ خوب صورت، کومل اور پاکیزہ ہیروئن کہاں ہے؟ کیا رام سے زیادہ مہربان اور رحم دِل ہیرو کوئی ہے؟ بے ریا، بے غرض لکشمن سے بڑھ کر کون بھائی ہوسکتا ہے، جو اخلاص، سوامی بھگتی اور عقیدت کا ّمجسمہ ہو۔
آج ایسے آدرش کرداروں، ہیرو اور ہیروئینوں کا تذکرہ اکثر ہوتا ہے جو ہماری نئی نسل کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ ہندوستان اور برِّاعظم ایشیا میں متعدّد ایسے آدرش عورتیں اور مرد پیدا ہوئے ہیں۔ ایک مشہور عالم کا قول ہے کہ لوک نایک وہ ہوتا ہے جو اپنے لوگوں کے جذبۂ آزادی، خودمختاری اور دلیری کی نمائندگی کرسکے۔ رام کے کردار میں اُن کے لوک نایک ہونے کی ایک اور خصوصیت سامنے آتی ہے۔ وہ جب دنڈک ارنیہ کو پھر سے بساتے ہیں اور دھرتی کو گل و گل زار بنا دیتے ہیں تو ایک Eco-warrior (ماحولیات کے محافظ) کی حیثیت سے سامنے آتے ہیں اور اُن کے کردار کی عصری معنویت مزید اُجاگر ہوجاتی ہے۔
ہندوستان کے عہد ساز مہان نیتا جانے اَنجانے ’راماین‘ اور اس میں مذکور قدیم اقدار سے متاثرّ ہوئے ہیں۔ ہندوستان کی خارجہ پالیسی طے کرتے ہوئے ہمارے دانشوروں، خاص طور سے ہمارے ہر دِل عزیز رہنما پنڈت جواہر لال نہرو نے ’راماین‘ میں بیان کیے گئے آدرشوں کو اپنانے کی سعی کی تھی۔ مثال کے طور پر پنچ شیل کا نظریہ ’راماین‘ ہی سے ماخوذ تھا۔ پرامن بقائے باہم، پڑوسیوں سے ا ّچھا برتاو، مذہبی رواداری، خود مختار آزاد قوموں کو سماجی و معاشی ترقیّ کا حق، جنگ سے انحراف ایسے آدرش ہیں جو شدید مصائب سے دو چار اور جدّوجہد کرتی ہوئی دُنیا کے لیے رہنما اور درخشاں ستارے ہیں۔
دُنیا کو سب سے پہلے ہندوستان نے ’غیر جانب داری‘ کا اخلاقی اصول دیا ہے جس میں حق کی طرف داری شامل ہے کیوں کہ ’راماین‘ نے ہمیں سکھایا ہے کہ جب حق و باطل کے درمیان محاذ آرائی ہو، تب غیر جانب داری بے معنی بن جاتی ہے، تب ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم حق کے طرف دار ہوں، لیکن اسی کے ساتھ ہمیں رواداری بھی اپنانی ہوگی، ’جیواور جینے دو‘ کا اصول بھی اپنانا ہوگا۔ کسی بھی ملک یا گروہ کو اپنے اعتقادات و نظریات دوسروں پر تھوپنے کا حق قطعی نہیں ہے۔ یہ راستہ تو جنگ کا راستہ ہے۔ واقعتا غیرجانب داری کا مطلب بے عملی اور لا ّتعلقی ہرگز نہیں ہے، غیر جانب داری کا مطلب تو اقوامِ عالم کو کسی ڈر، خوف اور دباو کے بغیر اپنا دوست منتخب کرنے کا حق دینا ہے۔ آدرشوں کی کھینچاتانی میں نہ پڑکر ُپرامن بقاے باہم کے لیے اپنے اثرات کو استعمال کرنا ہے۔ ’راماین‘ نے اس ّسچائی کو ہزاروں برس پہلے بیان کردیا تھا۔ آج کے حالات میں اگر غیر جانب دار تحریک کاوجود نہ ہوتا تو یہ دُنیا کب کی تباہ ہوچکی ہوتی۔ انسانیت کو نگلنے کے لیے جب جب جنگ کی آگ بھڑکی ہے، تب تب اس تحریک نے ’فائر بریگیڈ‘ کا کردار ادا کیا ہے۔
’راماین‘ میں فرماںبرداری، خود فراموشی، دیش بھگتی، شجاعت اور انصاف پسندی کے جن مثالی اوصاف کی تصویر کشی کی گئی ہے، وہ سب اوصاف صدیوں سے ہماری ’’زبانی روایات‘‘ کا ّحصہ ہیں۔ گا ￿نووں میں، جہاں بیش تر افراد پڑھنا لکھنا نہیں جانتے، سب لوگ جگہ جمع ہوکر ست ُیگ کی پریرنا دینے والی کتھائیں سنتے رہے ہیں۔
مدھر، بے مثال اور ُپر از معانی ’راماین‘ کے جذباتی واقعات کی ڈرامائی پیشکش بھی صدیوں سے ہوتی آئی ہے۔ کئی صدیوں پہلے، ہندوستان کے ابتدائی اسٹیج پر قدرتی مناظر کے پس منظر میں ان واقعات کو پیش کیا جاتا رہا ہے۔ کہتے ہیں کہ رام کتھا کے ُپراز جذبات اور متاثر ُکن واقعات کی پیشکش کے وقت خوںخوار جانور بھی اپنی روش چھوڑ کر ُپر سکون اور شانت ہوکر بیٹھ جاتے تھے— عہدِ وسطیٰ کے گھمکّڑ گایک بھی بستی بستی گھوم گھوم کر رام کتھا کا گاین کرتے اور عوام سب کچھ بھول کر اس میں ڈوب جاتے تھے۔ اس وقت کے لوگوں کے پاس ’راماین‘ جیسی عظیم المرتبت تخلیق کو سننے اور اس سے فلاح حاصل کرنے کا وقت بھی تھا اور دلِ دردمند بھی۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ ’راماین‘ محض مذہبی تقریبات کے موقع پر ہی نہیں پڑھی جاتی تھی بلکہ ادبی محفلوں میں بھی اس کا مطالعہ کیا جاتا تھا۔ آج تک نہ جانے کتنے شاعروں، ادیبوں، ڈراما نگاروں اور سنگیت کی سادھنا کرنے والوں کے لیے ’راماین‘ ترغیب کا باعث رہی ہے۔ آر۔ کے۔ ناراین نے، جنھیں عصری ہندوستان کا ایک مہان ناول نگار مانا جاتا ہے اور گراہم گرین نے جن کا موازنہ معروف روسی ادیب چیخوف سے کیا گیا ہے، اپنی زندگی پر پڑنے والے ’راماین‘ کے اثرات کو بڑی صاف گوئی سے قبول کیا ہے۔ماضی میں کالی داس اور بھوبھوتی جیسے بڑے ادیبوں نے بھی اپنی تحریروں پر ’راماین‘ کے واضح اثرات کو قبول کیا ہے۔
ہمارے عہد کے جن مترجمین و شارحین نے راماین کی سماجی و اخلاقی معنویت کو اُجاگر کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے اُن میں ہندوستان کے بزرگ نیتا چکرورتی راج گوپال اچاریہ عرف راجاجی کا نام بہت نمایاں ہے۔ انھوں نے والمیکی اور کمبن کی راماینوں کو پیشِ نظر رکھ کر انگریزی میں جو راماین مرّتب کی ہے، اُس میں جگہ جگہ راماین کے واقعات اور بیانات کی نئی توجیہات پیش کرتے ہوئے ان میں دورِ حاضر سے مطابقت پیدا کی ہے۔ انھوں نے پڑھنے والوں کی ذہنی تربیت کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیا ہے۔
راجا جی کی ’راماین‘ انسان کے بنیادی وصف، اس کی عظمت اور پاکیزگی میں یقین رکھتی ہے۔ یہاں ’انسان‘ سے مراد مرد اور عورت دونوں ہیں۔ انھوں نے دونوں کے بنیادی جسمانی فرق کو تو قبول کیا ہے لیکن عورت کو کہیں بھی مرد سے کم تر نہیں مانا— سیتا جی کی روشن اور تابناک کردار سازی اس کا ّبین ثبوت ہے۔ ایک آدرش ہندوستانی ناری کی جملہ خوبیاں سیتا میں موجود ہیں۔ سیتا نے اپنے شوہر کو پوری عزّت اور پریم دیا، جس کے عوض شری رام نے بھی انھیں بلند مرتبہ عطا کیا۔ سنگین ترین حالات میں ثابت قدم رہ کر حوصلہ اور ہمّت بنائے رکھنا سیتاجی کو اپنے شوہر کے وجدانی عشق کا مناسب ترین حق دار بناتا ہے۔ رام کے لیے سیتا ایک بیوی، ایک رفیق، ایک دوست ہیں، کوئی کنیز یا محض شہوانی تکمیل کا ذریعہ نہیں ہیں۔
’راجا جی کی راماین‘ مکمّل طور پر آشاوادی گرنتھ ہے۔ اس میں تشکیک اور قنوطیت کے لیے کوئی جگہ نہیں ہے، کیونکہ یہی تشکیک اور قنوطیت، عقلیت کی آڑ میں انسانی اقدار کو مسخ کرتی ہیں، یہی بُرائی کی توصیف اور ا ّچھائی کی مذ ّمت کرنا سکھاتی ہیں۔ ’راماین‘ کی لاتعداد تفسیریں کی گئی ہیں اور ہر تفسیرنگار نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ’راماین‘ میں پوشیدہ عظیم انسانی صداقت کا ایک نہیں، متعدد نقطہ ہاے نظر سے تجزیہ کیا جاسکتا ہے۔ راجاجی کی دلیل بھی یہی ہے۔ وہ انسان کے ضمیر اور اس کی فہم کو ہراساں کرنا نہیں چاہتے اور نہ کسی اندھی تقلید کے قائل ہیں۔ اُن کا عقیدہ تو یہ ہے کہ خود فکر کرو؛ بس اتنا جان لوکہ کچھ ایسی صداقتیں ہیں جو زندۂ جاوید اور ناقابلِ تسخیر ہیں۔ ’راماین‘ کو سمجھنے کے لیے ہمیں ایسے ہی نقطۂ نظر کی ضرورت ہے۔
ہندوستانی سماج کو ضرر رساں نسلی اقتدار سے نجات دلانے کی سمت میں کافی ترقیّ ہوئی ہے، لیکن اب بھی مذہبی قدامت پرستی کے پروردہ ایسے نام نہاد افراد اور ایسے متعدد طاقت ور گروہ موجود ہیں جو لوگوں کی مذہبی، روحانی اور تہذیبی برتری کی شناخت ’راماین‘ کی روشنی میں کرنے پرُمصر ہیں اور رنگ و نسل کے امتیاز کے لیے اس ّمقدس کتاب کا مطلب پرستانہ حوالہ دیتے ہیں،جب کہ ّسچائی یہ ہے کہ اس مدّلل انسانی رزمیہ میں کہیں ایک سطر بھی ایسی نہیں جو ولادت کی بنیاد پر نسلی امتیاز کی حمایت کرتی ہو۔ راجا جی کی ’راماین‘ واشگاف طور پر کہتی ہے کہ انسان تبھی تک کسی مخصوص امتیاز کا حامل رہ سکتا ہے جب تک وہ اوصافِ حمیدہ سے خود آراستہ رہے۔ جس انسان میں کام، کرودھ، لالچ، غرور اور خودغرضی جیسی اخلاق سوز برائیاں ہوں، اسے اعلا نسب انسان نہیں مانا جاسکتا۔ نسب کا مفہوم صرف جسمانی نہیں، باطنی بھی ہے۔ جہاں انسان کے ظاہر اور باطن میں فرق ہو، وہاں اس کے اعلا نسب ہونے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اعلا نسب میں پیدا ہوکر بھی اگر انسان کا ضمیر آلودہ ہو تو اُسے اعلا نسبی کا احترام پانے کا کوئی حق نہیں ہے۔
ہر ذی رُوح کو معیارِ زندگی کی بہتری اور ایک مکمّل انسان بننے کا تہذیبی، سماجی اور معاشی موقع ضرور ملنا چاہیے۔ اگرچہ اس طرح کا کوئی پیغام ’راماین‘ میں واضح لفظوں میں نہیں دیا گیا ہے لیکن راجاجی کے ہاں یہ مفہوم بین ا ّلسطور میں مضمر ضرور ہے، اسی لیے اُن کی ’راماین‘ کو سرسری نظر سے پڑھ لینا کافی نہیں ہے، اس کا مطالعہ بڑی باریک بینی اور گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ ایک صاحبِ فہم و عقل پر راجا جی کی ’راماین‘ کے ہر بار کے مطالعے سے کچھ نئی صداقتیں واشگاف ہوتی ہیں۔
ہماری موجودہ دُنیا میں بیش تر تنازعات اور آلام کا باعث نام نہاد اعلا طبقے کا، کسی وصف اور خوبی کے بغیر، اپنے آپ کو اشرف اور اکمل سمجھنا ہے۔ اگر یہ لوگ اپنے روییّ سے اپنی شرافتِ نفس کا ثبوت دیں تو ان کی اشرفیت کے قبول میں کوئی مضائقہ نہیں، لیکن وہ اگر ایسا نہیں کرتے تو وہ یہ حق کھو بیٹھتے ہیں۔ انسان کو دوسروں کا احترام تو کرنا ہی چاہیے۔ اسی کے ساتھ اسے آپ اپنی عزّت کرنا بھی سیکھنا چاہیے۔ اپنی عزّت خود کرنا بڑا مشکل کام ہے؛ خصوصاً اُس کے لیے جو کسی بھرم میں گرفتار ہو۔ ایک مقام پر شیکسپیئر نے کہا ہے:
’’سب سے بڑی بات یہ ہے کہ انسان اپنے تئیں ّسچا رہے۔‘‘
لہٰذا جو لوگ رام کے سچیّ پیروکار ہونے کا دعوا کرتے ہیں لیکن رام کے آدرشوں کے برعکس نفرت، نارواداری، تشدّد اور دوسروں کو اذ ّیت کے درپے ہیں، انھیں ایک لمحہ رُک کر اپنے اس روییّ کا احتساب کرنا چاہیے۔ اگر انھیں اپنے اس روییّ پر افسوس اور پشیمانی ہوتی ہے تو وہ یقینا رام راجیہ کے قیام میں اپنا بیش قیمت تعاون دے سکیں گے— ایسا رام راجیہ پھر سے قائم کرسکیں گے جس میں رُوحانی اور اخلاقی آنند ہو۔ وہ اس آنند کے امرت بھرے سرچشمے سے سرشار ہوسکیں گے۔ ’راماین‘ کے آدرشوں کو ُبھلا کر بھیدبھاوکی سیاست کرنے میں مصروف سیاست دانوں کی متشدّدانہ فطرت راکھشسی مزاج کی علامت ہے۔ یہ لوگ رام کے نہیں راون کے پیرو دِکھائی دیتے ہیں۔راجا جی کی راماین ہمیں اُن سے بچنے کا اشارہ دیتی ہے۔
’راماین‘ کا بنیادی سبق ہے ’خاندان کا وقار۔‘ خاندان، سماج کا ایک چھوٹا رُوپ ہے۔ سماج کی طرح ایک خاندان کے بھی روزمرّہ کے کچھ ضابطے ہوتے ہیں۔ خاندان کی یک جہتی کے لیے ایک دوسرے کے تئیں اعتماد اور اخلاص بہت ضروری ہے— ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہنا بڑی ذمّے داری ہے۔ ہندوستان میں خاندان کی جتنی اہمیت ہے اُتنی دُنیا میں کہیں اور نہیں ہے۔ ہندوستانی سیاق میں خاندان کی اجتماعیت نے ہمیں نسلی تفاوت، غریبی، غیرملک کے حملے اور ناقابلِ قبول تہذیبی خرابیوں کے سامنے سپر ڈالنے نہیں دی ہے۔ یہ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ اب ہمارے سماج میں بھی خاندانی اجتماعیت کی اہمیت گھٹ رہی ہے اور اس کی جگہ ذاتی غرض کو ترجیح دی جانے لگی ہے۔ اب ہر شخص سے اپنا راستہ خود بنانے کی تو ّقع کی جاتی ہے۔ جدیدیت کے نام پر بڑوں کا ادب، اخلاقی اقدار کا وقار اور اپنی تہذیب کا سمّان مفقود ہوتا جارہا ہے۔ باپ، بھائی، پڑوسی، شہری، یہاں تک کہ انسان کے افتخار کو گہن لگتا جارہا ہے۔ مجھ جیسے لوگوں کے لیے، جن کی زندگی کے کئی برس ہندوستانی سماج میں گزرے ہیں، نامانوس، غیرمحفوظ اور مختلف غیرملکی تہذیبی پس منظر میں خاندان کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ اہلِ برطانیہ نہ صرف ہم ہندوستانیوں کی سخت کوشی اور کاروباری و تعلیمی لیاقت کے سبب ہمیں عزّت دیتے ہیں بلکہ ہماری خاندانی ہم آہنگی بھی ہمیں ان کی نظروں میں مستحسن بناتی ہے۔ خاندانی ہم آہنگی کا یہی جذبہ ہمیں وہ ّتحفظ، خلوص ، سکون اور باقاعدگی عطا کرتا ہے جس سے خاندان کے ہر فرد میں خوداعتمادی اور رجائیت پیدا ہوتی ہے۔ خوش قسمتی سے جدیدیت کے متزلزل کردینے والے اثرات کے باوجود، ہندوستان سے باہر رہنے والے ہندوستانیوں میں خاندانی ہم آہنگی کے جذبے کو کسی طرح کا خطرہ نہیں ہے۔
راجا جی کی’راماین‘ نے بڑی مہارت اور خوبصورتی سے ہمیں خاندان اور سماج کے فوائد سے متعارف کرایا ہے۔ جب تباہ کار مخالف عناصر سے ہمارا واسطہ ہو تب خاندان اور سماج کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔ بھگوان رام پر جب مصیبت آئی، تب انھوں نے اپنے خاندان اور سماج کے تعاون سے ہی راون جیسے شہ زور دشمن پر فتح پائی تھی۔
جان ڈن نے لکھا ہے: ’’کوئی شخص ایک الگ جزیرہ نہیں ہوتا۔‘‘ جان ڈن سے ہزاروں برس پہلے ’راماین‘ یہی پیغام دے چکی ہے۔ ہم سب ایک دوسرے سے کسی نہ کسی طرح وابستہ رہتے ہیں اور اجتماعی وطبقاتی فروغ کے ذمّے دار ہیں۔ پہاڑوں کے غاروں میں زندگی بسر کرنے والے رِشی مُنیوں کو بھی کبھی کبھار اپنے ُکنج سے باہر آکر سماج سے اپنے لیے غذا اور سماجی ّتحفظات حاصل کرنے پڑتے تھے۔ نجات کے ّمتمنی ان حضرات کی بات چھوڑ بھی دی جائے، جنھوں نے انسانی سماج سے اپنے آپ کو بالکل منقطع کرلیا ہے، تو بھی دیگر سبھی کو کبھی نہ کبھی انسانی سماج سے ّتعلق قائم کرنا ہی پڑتا ہے۔ خصوصاً بااقتدار شخص کے لیے یہی مناسب ہے کہ وہ اخلاقیات کا اعلا نصب العین قائم کرتے ہوئے کمزوروں کو ّتحفظ مہیّا کرے۔ شہ زور دشمن ’بالی‘ کے خلاف کمزور ’ ُسگریو‘ کی طرف داری کرکے بھگوان رام نے جس انصاف پسندی کا ثبوت دیا تھا اس کی مثالیں بہت کم ملتی ہیں۔ بالی نے ُسگریو کے ساتھ انصاف نہیں کیا تھا۔ بھگوان رام نے انصاف کا ساتھ دیا اور ُسگریو کو اس کا حق دلوایا۔ سچ پوچھا جائے تو دھرم کا تقاضا یہی تھا۔ کوئی شخص بھی، چاہے وہ کتنا ہی بااثر، طاقت ور اور اہل ہو، دھرم سے اُوپر نہیں ہے۔بھگوان رام کی طرح ہر شخص کو حق کاطرف دار اور صداقت پسند ہونا چاہیے۔ راجاجی کی ’راماین‘ میں ان آدرشوں کا بڑا واشگاف بیان آیا ہے۔
آدمی کو دُنیا میں ایک مہمان کی طرح رہنا چاہیے اور اپنے افکار میں بھی ایک مہمان کی مانند ہونا چاہیے۔ اسے ہمیشہ صداقت پر قائم رہنا چاہیے۔ وہ ہے کون؟ حق نے اُسے مٹّی سے گھڑا اور آگ میں تپا کر یہ فانی شریر دیا ہے۔ حق کے بنا وہ مٹّی کے ایک ڈھیلے کی طرح ہے۔ اس کی عظمت اسی میں ہے کہ وہ مادّی عظمت کا خواہش مند نہ ہو۔ اگر دولت کا خواہش مند ہے تو اخلاص کی دولت جمع کرے، استغنا کی نعمت پائے اور عاجزی کو فروغ دے کر لمحہ بھر میں لافانیت حاصل کرلے۔
جس بھارت بھومی نے تقوے اور حقوقِ انسانی کے دفاع میں ایسا عظیم فلسفیانہ گرنتھ دیا اُسی بھومی پر آج انسانی افتخار کی تذلیل کی جارہی ہے۔ وِشوامتر ہمیں ایسے اعمالِ بد سے آگاہ کرتے ہیں لیکن ہمارے باطن کے دشرتھ ہمارے اندر کے رگھونندن کو ان برائیوں سے لڑنے کے لیے رِشی (ضمیر) کے ساتھ جانے نہیں دیتے۔ اسی لیے موجودہ دُنیا میں شیطانی طاقتیں پوری قوّت سے تانڈو کر رہی ہیں۔ ’راماین‘ کے مطابق جب چھتری بھی صداقت اور مذہب کے دفاع میں ناکام رہے تب پرشورام کی صورت میں ظاہر ہوکر بھگوان نے ان نام نہاد محافظوں کا خاتمہ کیا۔ اور تب بھگوان رام کا جنم ہوا جنھوں نے اپنے برتاو سے ’چھاتردھرم‘ کی مریادا قائم کی۔
دُنیا کے حق اور دھرم سے بھٹک جانے کے باوجود ہمیں مایوس نہیں ہونا چاہیے۔ یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ ہر سماج میں سچ اور جھوٹ، ا ّچھائی اور برائی کے درمیان رسّاکشی جاری رہتی ہے، جہاں کسی ایک برائی کو دبایا جاتا ہے وہیں دوسری برائی سر اُٹھانے لگتی ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ یہ برائیاں غالب نہ ہوجائیں اور آخری فتح بہرحال نیکی کی ہو۔ راجاجی کی ’راماین‘ ان لوگوں کے لیے محرّک کی حیثیت رکھتی ہے جو دُنیا کو بہتر، انصاف پرور اور خوبصورت بنانا چاہتے ہیں۔ مثلاً اہلیا کے اُدّھار کے واقعے کی مثال دیتے ہوئے راجا جی فرماتے ہیں:
’’اہلیا کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمارا پاپ کتنا ہی بڑا ہو،سزا اور پرائشچت سے گزر کر ہم اس سے نجات پانے کی تو ّقع رکھ سکتے ہیں۔ دوسروں کے پاپوں پر انھیں لعنت ملامت کرنے کے بہ جائے ہم خود اپنے دِلوں کو ٹٹولیں اور ہر قسم کے ُبرے خیال سے انھیں پاک کرنے کی کوشش کریں۔ ہم میں سے جو سب سے نیک ہیں انھیں بھی گناہوں سے بچنے کے لیے ہمیشہ بیدار اور محتاط رہنا چاہیے۔‘‘
مندرجۂ بالا اقتباس میں نے پروفیسر یونس اگاسکر کے اُردو ترجمے سے لیا ہے جو اس وقت میرے زیرِ نظر ہے۔ راجاجی کی انگریزی ’راماین‘ ہمارے عہد کی اہم کتابوں میں سے ایک ہے۔ اس کی سلیس و رواں انگریزی ہمارے دِلوں کو چھو جاتی ہے۔ مجھے یہ دیکھ کر بڑی مسرّت ہوئی کہ پروفیسر یونس اگاسکر نے نہ صرف اصل کی روانی و سلاست کو بڑی صفائی سے اُردو میں منتقل کیا ہے بلکہ سنسکرت اور ہندی کے الفاظ و تراکیب کو بھی اس خوبی سے برتا ہے کہ ا ّجنبیت کا احساس نہیں ہوتا اور ہم ’راماین‘ سے وابستہ لسانی و ثقافتی ماحول میں پہنچ جاتے ہیں۔
پروفیسر یونس اگاسکر کو ہندوستان کی مشترکہ تہذیب اور ملک کی وحدت و سالمیت سے گہرا لگاو رہا ہے۔ اُنھوں نے اپنے تراجم کے ذریعے مختلف زبانوں خصوصاً مراٹھی اور اُردو بولنے والوں کے درمیان جذباتی، تہذیبی و لسانی قربت و ہم آہنگی پیدا کرنے میں جو یوگ دان کیا ہے وہ یقینا قابلِ ستائش ہے۔
ممبئی یونی ورسٹی میں انھوں نے ُگرودیو ٹیگور چیئر اور شعبۂ اُردو کے باہم اشتراک سے ’راماین‘ اور ’مہابھارت‘ کی روایات پر جو دو قومی سیمینار کیے ہیں، وہ بھی ہمارے مشترک قومی ورثے کے ّتحفظ میں اُن کی اہم خدمت کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔ ان دو عظیم رزمیوں سے اُن کی دلچسپی کے پیشِ نظر اُن کے قلم سے راجاجی کی انگریزی ’راماین‘ کا اُردو میں منتقل ہونا ایک فطری عمل معلوم ہوتا ہے، جسے پروفیسر یونس اگاسکر نے بڑی تن دہی اور لگن سے انجام دیا ہے۔ یہی سبب ہے کہ راجاجی کی ’راماین‘ کے بال کانڈ کا یہ ترجمہ، جس میں سری رام کی پیدائش سے لے کر سیتا سوl اور پرشورام کو شکست دے کر اس کا غرور توڑنے تک کے واقعات شامل ہیں، ہمارے اندر رُوحانی تسکین کا احساس پیدا کرتا ہے۔
یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ تقسیم سے قبل شمالی ہند اور پنجاب کے ہندو اور مسلم اُردو ہی میں لکھتے پڑھتے تھے اور ہندوؤں کی ّمقدس کتابیں بھی اُردو زبان یا رسمِ خط میں چھپتی تھیں۔ راقم الحروف نے بھی ’راماین‘ سے پہلی واقفیت اُردو زبان ہی کے توسّط سے حاصل کی تھی۔ لیکن تقسیم کے بعد لسانی ماحول بدل گیا اور اُردو میں ’راماین‘ یا ’مہابھارت‘ وغیرہ کی اشاعت کا سلسلہ آہستہ آہستہ ختم ہوگیا۔
ہمیں شکرگزار ہونا چاہیے پروفیسر یونس اگاسکر کا کہ انھوں نے اس حسین روایت کا احیا کیا ہے اور اُردو کے ہندوستانی مزاج کو اُجاگر کرنے میں اپنے قلم کی طاقت اور ذہنی صلاحیت کو صرف کیا ہے۔ کاش کہ وہ ّمکمل ’راماین‘ کا ترجمہ کرپاتے مگر موجودہ صورت میں بھی یہ کتاب شری رام کی زندگی کے ایک اہم موڑ یا سنگِ میل تک ہمیں پہنچاتی ہے اور اس اعتبار سے مکمّل ہے کہ رام جب رِشی وِشوامتر کی آرزو کی تکمیل کر کے سیتاجی کے ہمراہ ایودھیا نگری لوٹتے ہیں تو ہم بھی اپنے من کی ایودھیا میں پہنچ جاتے ہیں۔
مجھے یقین ہے کہ اُردو کے ہندو مسلم قارئین، جن میں بچیّ بھی شامل ہوں گے اور ادب کے ماہرین و ناقدین بھی، پروفیسر ُیونس اگاسکر کی اس ادبی و قومی خدمت کی سراہنا کریں گے۔ میری نیک تمنّائیں ان کے ساتھ ہیں۔
(ڈاکٹر) وِدّیا ساگر آنند
لندن

——-v——-
راجا جی کی راماین : بال کانڈ
(رام جنم سے سیتا سوl تک)
——-v——-

 

یہاں دو باتوں کا ذکر ضروری ہے:
اس ترجمے کا دسواں باب پرشورام کی شکست سے ّمتعلق ہے لیکن ’راماین‘ کے واقعات میں سیتاسوlکو غیرمعمولی مقبولیت و شہرت حاصل ہے اور یوں بھی یہ ترجمہ رام اور سیتا کے ایودھیا لوٹنے پر پورا ہوتا ہے اس لیے کتاب کے ذیلی عنوان میں ’سیتا سوl‘ کو ترجیح دی گئی ہے۔
دوسرے یہ کہ ّبچوں، ِتعلیم بالغاں کے تحت اُردو پڑھنے والوں اور غیرملکی طالبِ علموں کی سہولت کی خاطر ترجمے کے متن (Text)کو جلی حرفوں میں چھاپا گیا ہے۔ اُ ّمید کہ ’راماین‘ کے اس ترجمے کے قدردانوں کو یہ بات پسند آئے گی۔
پہلا باب

 

حمل

دریاے گنگا کے شمال میں عظیم کوشل راج واقع تھا جس کی سرزمین کو سریوُندی نے زرخیز بنادیا تھا۔ اس کی راج دھانی ایودھیا تھی جسے سورج بنسی خاندان کے مشہور حکم راں ’’منو‘‘ نے تعمیر کیا تھا۔ والمیکی نے اپنی راماین میں جو تفصیلات دی ہیں، ان سے صاف پتا چلتا ہے کہ قدیم ایودھیا نگری ہمارے جدید شہروں سے کم تر نہیں تھی۔ قدیم بھارت میں بھی شہری تہذیب، اعلا درجے تک تر ّقی کرچکی تھی۔
راجا دشرتھ اپنی راجدھانی ایودھیا سے اس سلطنت پر حکومت کیاکرتے تھے۔ انھوں نے مختلف جنگوں میں دیوتاؤں کا ساتھ دیا تھا اور اپنی شجاعت کی بدولت تینوں لوکوں میں نام کمایا تھا۔ وہ بہادری میں اِندر اور دولت میں ُکبیر کے برابر تھے۔ کوشل راج کی رعایا خوش حال، مطمئن اور راست باز تھی۔ اس ملک کی سرحدوں کی حفاظت کے لیے ایک زبردست فوج موجود تھی اور کوئی دشمن اس کی سرحد کے قریب پھٹکنے کی جرأت نہیں کرسکتا تھا۔
سلطنت کی حفاظت کے لیے قلعے بھی تھے جن کے اِرد گرد خندقیں اور دیگر بہت سی ّتحفظاتی تنصیبات تھیں جن کی بدولت ایودھیا اپنے نام ہی کے مصداق دشمنوں کو ناکام بنائے ہوئے تھی۔ (ایودھیا کے معنی ہیں: غیر مفتوح)
راجا دشرتھ کے دس دانش مند وزیر تھے جو انھیں مشورہ دینے اور ان کا حکم بجالانے کے لیے ہر وقت مستعد رہا کرتے تھے۔ وسِشٹھ اور وام دیو جیسے رشی اور دیگر برہمن دھرم کی تعلیم دینے اور مذہبی رسومات اور Bکی تکمیل کے لیے موجود تھے۔ اس ملک میں محصول بہت کم تھے اور جرائم کی سزائیں انصاف پر مبنی تھیں اور خطاکار کی قوّتِ برداشت کے مطابق اس پر عائد کی جاتی تھیں۔ بہترین مشیروں اور سیاست دانوں کی موجودگی کے سبب راجا دشرتھ کی شان و شوکت چڑھتے سورج کی طرح روشن سے روشن تر ہوتی چلی گئی۔
اس طرح کئی سال گذر گئے لیکن ہر قسم کی خوش حالی کے باوجود راجا دشرتھ کو ایک غم کھائے جاتا تھا۔ اُن کے کوئی بیٹا نہ تھا۔
گرمیوں کی ابتدا میں ایک دن انھوں نے سوچا کہ اولاد کے لیے ’اَشومیدھ‘ کیا جائے۔ انھوں نے اپنے مذہبی ُگروؤں سے مشورہ کیا اور ان کی صلاح سے رِشی ’رِشیہ سرنگ‘ کو B کرنے کی دعوت دی۔
یہ B ایک غیر معمولی تقریب تھی جس میں اس وقت کے تمام راجے اور حکمراں مدعو تھے۔ B کی انجام دہی آسان نہ تھی۔ اس کے لیے جگہ کا انتخاب اور قربانی کے لیے منچ کی تعمیر مذہبی صحیفوں میں درج اصولوں کے عین مطابق ہونی چاہیے تھی۔ متعدّد ماہرین سے اس کے انتظامات کے سلسلے میں رہنمائی حاصل کی گئی۔ چناںچہ طے پایا کہ ایک ایسا شہر بسایا جائے جس میں ہزاروں مہمانوں کے لیے، جن میں شہزادے اور رشی شامل تھے، رہایش، ضیافت اور تفریح کا سامان مہیّا ہو۔ مختصر یہ کہ اس زمانے کے B ہمارے دَور کی ریاستی یا حکومتی سطح کی کانفرنسوں اور نمائشوں سے کم نہ تھے۔جب سارے انتظامات ّمکمل ہوگئے تو شاستروں کی ہدایتوں کے مطابق رسومات کا آغاز کیا گیا۔
جس وقت ایودھیا میں B چل رہا تھا، سورگ میں دیووں کی مجلسِ مشاورت ہورہی تھی۔ دیووں نے برہما سے شکایت کی کہ راکھشسوں کا راجا راون، برہما کے وردان کے سبب حاصل ہونے والی طاقت کے نشے میں انھیں حد سے زیادہ تکلیفیں اور اذ ّیتیں دے رہا تھا۔ انھوں نے برہما کی خدمت میں عرض کیا:
’’یہ ہماری طاقت سے باہر ہے کہ راون پر غلبہ یا فتح حاصل کریں یا اُسے جان سے ماردیں۔ آپ کے وردان کے ّتحفظ کی وجہ سے وہ زیادہ سے زیادہ شریر اور گستاخ ہوگیا ہے اور سب کے ساتھ، جن میں عورتیں بھی شامل ہیں، نہایت ُبرابرتاو کرتا ہے۔ اس کی خواہش ہے کہ اِندر کو تخت سے اُتار دے۔ اب ہمارے لیے آپ کی شرن لینے کے سوائے کوئی چارۂ کار نہیں رہا۔ اب آپ ہی کوئی طریقہ ایسا نکالیے کہ راون کا خاتمہ ہو اور اس کے ظلم و ستم سے سب کو نجات ملے۔‘‘
برہما جانتے تھے کہ راون کی ّتپسیا اور پرارتھنا سے خوش ہوکر انھوں نے اس کا ￿منہ مانگا وردان اسے دیا تھا، جس کے بل پر وہ دیووں، اَسوروں، گندھرووں اور ایسی ہی دیگر مخلوقات کے لیے غیر مفتوح اور ناقابلِ شکست ہوگیا تھا۔ البتہّ اپنے غرور کے نشے میں راون نے انسانوں کے خلاف ّتحفظ مانگنے کی پروا ہی نہیں کی تھی۔ جیسے ہی برہما نے راون کی اس بھیانک غلطی کی نشان دہی کی، سارے دیووں نے خوشیاں منائیں اور وشنو کی طرف روانہ ہوگئے۔
اپنے آپ کو ہری کے قدموں پر نثار کرتے ہوئے سارے دیووں نے ان سے التجا کی کہ انسان کا روپ لے کر پرتھوی پر جنم لیں اور راون اور اس کے اتیاچاروں کا خاتمہ کریں۔ ہری نے اُن کی پرارتھنا مان لی اور دیووں سے وعدہ کیا کہ وہ راجا دشرتھ، جو اس وقت اپنی نسل کے لیے Bکرنے میں مشغول تھے، کے چار پتروں کے روپ میں جنم لیں گے۔
چناںچہ جیسے ہی B کی اگنی میں گھی انڈیلا گیا اور اس کے شعلے بلند ہوئے، ان شعلوں میں سے ایک پُرشکوہ شبیہ، بلند ہوئی جو دوپہر کے سورج کی طرح روشن تھی اور جس کے ہاتھ میں ایک سونے کا پیالہ تھا۔ راجا دشرتھ کو اس کے نام سے مخاطب کرتے ہوئے اس شبیہ، نے کہا:
’’دیوتا تم سے پر ّسن ہوئے اور تمھاری پرارتھنا انھوں نے قبول کرلی۔ یہ ’پایسم‘ لوجودیوتاؤں نے تمھاری رانیوں کے لیے بھیجا ہے۔ جب تمھاری رانیاں اس ّمقدس مشروب کو پی لیں گی تو تمھارے یہاں دیوتاؤں کی مہربانی سے لڑکوں کی پیدایش ہوگی۔‘‘
راجا دشرتھ نے بے حد خوش ہوکر اس پیالے کو کسی ّننھے بچیّ کی طرح اپنے ہاتھوں میں لیا اور اپنی تینوں رانیوں کوشلیا، سمترا اور کیکئی کے درمیان وہ پایسم تقسیم کردیا۔ سب سے پہلے انھوں نے کو شلیا سے کہا کہ وہ آدھا پایسم پی لیں۔ پھر بچا ہوا آدھا پایسم انھوں نے سمترا کو دیا۔ سمترا نے اس میں سے آدھا پی لیا تو بچا ہوا پایسم کیکئی کو دیا گیا۔ کیکئی نے پایسم پینے کے بعد آخری بچا ہوا ّحصہ پھر سے سمترا کو دیا۔
راجا دشرتھ کی رانیاں ’پایسم‘ پی کر ایسے خوش ہوگئیں جیسے کسی فقیر کو گڑا ہوا خزانہ مل جائے۔ تھوڑے ہی دنوں بعد وہ تینوں حاملہ ہوگئیں۔
دوسرا باب

 

رِشی وِشوا ِمتر

کچھ عرصے بعد راجا دشرتھ کے ہاں چار لڑکے پیدا ہوئے۔ کوشلیا اور کیکئی نے رام اور بھرت کو جنم دیا۔ ُسمترا نے دوجڑواں بچوں لکشمن اور شتروگھن کو جنم دیا۔ کیوںکہ انھوں نے دو مرتبہ ’پایسم‘ پیا تھا۔
روایت مشہور ہے کہ راجا دشرتھ کی رانیوں میں سے جس نے جتنی مقدار میں پایسم پیا، اس کی اولاد میں اسی قدر وشنو کی خصوصیات پیدا ہوئیں۔ اس طرح رام آدھے وشنو ہوگئے۔ مگر اس طرح کے قیاسات کی کوئی حقیقت نہیں ہے اس لیے کہ ابدیت کو کسی پیمانے سے ناپا نہیں جاسکتا۔ شرتی (وید) کے مطابق اس ذاتِ اکبر کا ایک ذرّہ بھی ُکل ہوتا ہے اور اپنی ذات میں ّمکمل ہوتا ہے۔
’’ ُکل کیا ہے۔ یہی ُکل ہے اور جو کچھ ُکل سے نکلا ہے وہ بھی ُکل ہے۔ جب ُکل سے ُکل کو نکالا جاتا ہے تو ُکل ہی باقی رہتا ہے۔‘‘
راجا دشرتھ کے چاروں بیٹوں کو وہ ساری تعلیم و تربیت دی گئی جو راج کماروں کے لیے ضروری تھی۔ رام اور لکشمن میں بڑی ّمحبت تھی۔ اور بھرت اور شتروگھن آپس میں بڑا پیار رکھتے تھے۔ ہم اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اس خصوصی لگاو کا سبب وہ طریقہ تھا جس کے تحت ّمقدس پایسم راجا دشرتھ کی رانیوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ راجا دشرتھ یہ دیکھ کر خوش ہوا کرتے تھے کہ ان کے بچیّ نہ صرف قوی، صالح، بہادر اور سب کے پیارے ہوگئے تھے بلکہ راج کماروں کی ساری خوبیوں کے حامل تھے۔
ایک روز راجا دشرتھ بیٹھے اپنے ّبچوں کے بیاہ کے بارے میں سوچ رہے تھے کہ دربانوں نے عظیم رِشی وِشوامتر کی آمد کا اعلان کیا۔ وشوامتر کو رشیوں میں سب سے طاقت ور رشی کی حیثیت سے بڑی عزّت اور احترام کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ ایودھیا میں رِشی وِشوامتر کی آمد قطعی غیرمتو ّقع تھی۔ راجا دشرتھ نے اپنے تخت سے اُترکر اور چند قدم آگے بڑھ کر ان کا استقبال کیا۔
وِشوامتر دراصل ایک راجا تھے جنھوں نے کڑی ّتپسیاؤں کے بعد رِشی کا درجہ حاصل کیا تھا۔ بہت عرصے پہلے انھوں نے اپنی روحانی قوّتوں کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک نیا برہما اور ایک نئی کاینات تخلیق کرنی شروع کی تھی۔ وہ اپنے اس کام میں یہاں تک آگے بڑھ گئے تھے کہ نئے اجرامِ فلکی تک بنالیے تھے۔ مگر گھبرائے ہوئے دیوتاؤں نے منّت سماجت کرکے انھیں اس ارادے سے باز رکھا۔
قصہ یہ ہوا کہ اپنی حکم رانی کے زمانے میں وِشوامتر ایک مرتبہ اپنی فوج لے کر نکلے تو اچانک وسِشٹھ رشی کے آشرم پہنچ گئے۔ رِشی نے خوش دلی سے اس شاہی مہمان اور اس کی وسیع فوج کا استقبال کیا۔ اور ایسے لذیذ کھانوں سے ان کی تواضع کی کہ راجاوشوامتر کو حیرت ہوئی۔ بھلا جنگل کی ایک کٹیا میں چیزوں کی یہ افراط کہاں سے ہوئی۔ جب انھوں نے وسِشٹھ رِشی سے وضاحت چاہی تو انھوں نے اپنی گائے ’’سبلا‘‘ کو آواز دی اور بتایا کہ یہی نہ ختم ہونے والی نعمتوں کا ￿منبع ہے۔
رِشی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے راجا وِشوامتر نے کہا ’’آپ یہ گائے مجھے دے دیجیے اس لیے کہ یہ میرے لیے آپ سے زیادہ کار آمد ثابت ہوگی۔ قوّت اور دولت کی حامل چیزیں راجاؤں ہی کو زیب دیتی ہیں۔‘‘
وسِشٹھ کے لیے ّمقدس گائے کو چھوڑنا ممکن نہ تھا۔ اُنھوں نے کئی عذر پیش کیے اور راجا سے درخواست کی کہ اس سلسلے میں اصرار نہ کریں لیکن جوں جوں وسِشٹھ کا انکار بڑھتا گیا، گائے حاصل کرنے کے لیے وِشوامتر کی بے قراری میں اضافہ ہوتا گیا۔ رِشی کو لالچ یا ُپھسلاوا دے کر گائے حاصل کرنے کی کوشش میں ناکام ہونے پر وِشوامتر کو غصّہ آگیا اور انھوں نے اپنے فوجیوں کو حکم دیا کہ گائے کو زبردستی پکڑ لیں۔
بے چاری سبلا نہیں سمجھ سکی کہ اس کے ساتھ زور زبردستی کیوں کی جارہی ہے۔ وہ خود بھی رشی اور ان کے آشرم سے الگ ہونا نہیں چاہتی تھی۔ آ ￿نسو بہاتے ہوئے وہ حیرانی سے سوچتی رہی کہ اس سے کیا قصور ہوگیا ہے کہ وسِشٹھ ُچپ چاپ کھڑے دیکھ رہے ہیں مگر کھینچ لے جانے والوں سے اسے چھڑا نے کی کوشش نہیں کررہے ہیں۔ آخر گائے نے سپاہیوں پر حملہ کرکے انھیں پیچھے ہٹنے پر مجبور کردیا اور رِشی کے قدموں میں پناہ لی۔اپنی محبوب گائے کی قابل رحم حالت سے وسِشٹھ بڑے متاثرّ ہوئے۔ وہ ان کے لیے چھوٹی بہن کی مانند تھی۔ انھوں نے فرمایش کی:
’’ایک فوج کھڑی کردو جو وشوامتر کی فوج کا مقابلہ کرے۔‘‘
سبلا نے فوراً حکم کی تعمیل کی جس کے نتیجے میں حملہ آوروں کو شکست کا منہ دیکھنا پڑا۔ وِشوامتر غضب ناک ہوکر اپنے رتھ پر سوار ہوئے اور اپنی کمان اٹھاکر گائے کی پیدا کی ہوئی فوج پر تیروں کی بارش کردی مگر دُشمن کی طاقت اور تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کے تیر ختم ہوگئے اور ان کی فوج کو مکمّل شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ وِشوامتر کے چند لڑکوں نے وسِشٹھ کو نشانہ بنایا مگر وسِشٹھ کی جگہ وہ خود جل کر خاک ہوگئے۔
شکست اور ہزیمت اٹھانے کے بعد وِشوامتر نے اُسی وقت اپنی حکومت اپنے ایک لڑکے کو سونپی اور ّتپسیا کرنے کے لیے ہمالیہ کی طرف چلے گئے تاکہ وسِشٹھ کو نیچا دِکھانے کے لیے شیو کی آرادھنا اور پوجا کریں۔ وِشوامتر نے اپنی ّتپسیاؤں میں وہ ثابت قدمی اور استقلال دکھایا کہ شیو نے خوش ہوکر انھیں درشن دیا۔ بھگوان نے راجا سے پوچھا: ’’تم اپنی ّتپسیا کا کیا پھل چاہتے ہو؟‘‘
وِشوامتر نے جواب دیا: ’’اے اُماپتی! اگر آپ میری ّتپسیا سے مطمئن ہیں تو مجھے آسمانی تیر اور سارے ہتھیار چلانے کی مہارت کا وردان دیجیے۔‘‘
’’تتھاستو!‘‘ شیو نے کہا اور دیووں، گندھرووں، رشیوں، یکشوں اور راکھشسوں کو حاصل سارے ہتھیار وشوامتر کو سو￿نپ دیے۔
فخر سے سمندر کی طرح پھول کر وِشوامتر نے سوچا کہ اب وسِشٹھ کا خاتمہ ہوگیا۔ وہ سیدھے رِشی کی ُکٹیا کی طرف روانہ ہوگئے۔ وِشوامتر کی غضب ناک شکل دیکھتے ہی وسِشٹھ کے چیلوں اور آشرم کے مویشیوں میں بھگدڑ مچ گئی۔
وِشوامتر کے اگنی بان نے وسِشٹھ کے آشرم کو راکھ کے ڈھیر میں بدل دیا۔ وسِشٹھ کو حالات کا رُخ دیکھ کر بڑا دُکھ ہوا مگر انھوں نے ّتہیہ کرلیا تھا کہ وہ اس مغرور راجا کے غرور کو توڑکے رہیں گے۔ چناںچہ انھوں نے اپنی ّمقدس لاٹھی ’’برہما نند‘‘ اٹھائی اور وشوامتر کا مقابلہ کرنے لگے۔ غصّے میں لال پیلے ہوکر وِشوامتر نے سارے آسمانی ہتھیار اُن پر چلائے لیکن وہ سارے کے سارے رشی کی لاٹھی کے نزدیک پہنچتے ہی اس کے اندر سماتے چلے گئے گویا وہ انھیں پی گئی ہو۔
اب تو وِشوامتر کے پاس صرف ایک ہتھیار بچ رہا تھا جو سب سے طاقتور تھا یعنی ’’برہماستر۔‘‘ جیسے ہی انھوں نے وسِشٹھ پر وہ ہتھیار چلایا، ساری دُنیا پر اس طرح غم کی فضا چھا گئی جیسے بہت بڑا سورج گہن لگا ہو اور ساری مخلوق خوف سے کانپنے لگی ہو۔ لیکن وہ خوفناک ہتھیار بھی رِشی کی لاٹھی میں سما گیا۔ جس کے نتیجے میں وہ لاٹھی اور رِشی دونوں اس کی روشنی سے منوّر ہوگئے۔
وِشوامتر بدحواس ہوگئے۔ کھلے طور پر شکست کا اعتراف کرتے ہوئے انھوں نے کہا:
’’ہتھیار چلانے میں ایک چھتری کی مہارت کی حیثیت ہی کیا ہے اگر محض ایک لاٹھی کے ذریعے وسِشٹھ میرے سارے ہتھیاروں کا خاتمہ کردے۔ شیو نے یقینا مجھے بیوقوف بنایا اب میرے لیے سوائے اس کے کوئی چارہ نہیں کہ میں بھی وسِشٹھ ہی کی طرح برہم رِشی بن جاؤں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وِشوامتر میدانِ جنگ سے نکل گئے اور مزید کڑی ّتپسیا کرنے کے لیے جنوب کی طرف چلے گئے۔
سالہا سال تک وِشوامتر نے طرح طرح کی ّتپسیائیں کیں۔ برہما ان کی ریاضت کو دیکھ کر خوش ہوئے، اور انھیں اپنا درشن دیا۔ وِشوامتر کو یہ بشارت دیتے ہوئے کہ وہ اپنی ّتپسیا کی وجہ سے راجاؤں میں رِشی کے مرتبے کو پہنچ چکے ہیں، برہما غائب ہوگئے۔
وِشوامتر کو بڑی مایوسی ہوئی کہ اتنی ساری ریاضت اور ّتپسیا کے باوجود انھیں محض راجا رِشی کا درجہ حاصل ہوسکا۔ اپنے آپ کو برہم رِشی کے اعلا ترین مرتبے تک پہنچانے کے لیے انھوں نے اپنے آپ کو اور کڑی ّتپسیاؤں میں مبتلا کیا تاکہ انھیں وسِشٹھ کی برابری حاصل ہوسکے۔
تیسرا باب

 

ِترشنکو

یہ وہ زمانہ تھا جب سورج بنسی خاندان کا مشہور راجا ترشنکو حکومت کرتا تھا۔ وہ اپنے جسمانی حسن کا اس قدر عاشق تھا کہ مرتے وقت بھی اپنے جسم کو خود سے الگ کرنا نہیں چاہتا تھا۔ اس کی خواہش تھی کہ وہ اپنے جسم کے ساتھ ہی سورگ میں داخل ہو۔
وسِشٹھ نے جو اس کے پروہت تھے اور جن سے اس نے مدد مانگی تھی، اس کی خواہش جان کر اسے سمجھایا کہ اس ناممکن بات کا خیال چھوڑ دے۔ وسِشٹھ کے جواب سے مطمئن نہ ہوکر راجا ترشنکو نے ان کے بیٹوں سے مدد مانگی۔ انھیں اس سے رنج پہنچا کہ جس بات کو ان کے پِتا نے ناممکن بتایا تھا اس کے لیے راجا نے ان کی مدد مانگی۔ چناںچہ انھوں نے اس کی خودبینی کا مذاق اُڑایا اور اسے صاف صاف چلے جانے کے لیے کہا۔ لیکن راجا ترشنکو اپنا ارادہ بدلنے کو تیاّر نہ تھا۔ اس نے طنز کرتے ہوئے کہا ’’تم اور تمھارے ِپتا اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ میری مدد کرسکیں اس لیے میں کچھ اور بلوان رِشیوں کی مدد لوں گا۔‘‘ اب تو وسشٹھ کے بیٹوں کی قوّتِ برداشت جواب دے گئی اور وہ بولے: ’’بھگوان کرے تم چنڈال ہو جاؤ۔‘‘
اس شراپ کا اثر فوراً ہونے لگا اور دوسری صبح ترشنکو سوکر اٹھاتو اس کی شخصیت پوری طرح تبدیل ہوچکی تھی۔ وہ گندے کپڑوں میں ملبوس ایک بدشکل انسان بن چکا تھا۔ اس کے وزیروں اور محل کے لوگوں نے اسے پہچاننے سے انکار کردیا۔ نتیجے میں وہ اپنی سلطنت سے نکل کر دربدر بھٹکنے پر مجبور ہوگیا۔ یہاں تک کہ بھوک سے اس کی جان نکلنے کی نوبت آگئی۔ ایسے میں اس کی قسمت نے اسے وِشوامتر کے آشرم تک پہنچا دیا۔ ترشنکو کی قابلِ رحم حالت دیکھ کر وِشوامتر کا دل پگھل گیا اور انھوں نے پوچھا:
’’تم تو راجاترشنکو ہو۔ تمھاری یہ بُری حالت کیسے ہوگئی؟ کس کا شراپ ہے یہ؟‘‘
ترشنکو نے اس پر جو کچھ بیتی تھی رشی کو کہہ سنائی اور ان کے قدموں پر گرکے بولا:
’’میں ہمیشہ ایک ا ّچھے حکم راں کی طرح حکومت کرتا رہا اور دھرم کے راستے سے کبھی نہیں ہٹا۔ میں نے کوئی پاپ نہیں کیا اور نہ ہی کسی پر ظلم کیا۔ پھر بھی میرے دھرم ُگرو اور اس کے بیٹوں نے میرا تیاگ کیا اور مجھے شراپ دیا جس کے نتیجے میں آج میں اس حالت میں آپ کے سامنے ہوں۔‘‘
وِشوامتر کو راجا پر رحم آگیا جو محض ایک شراپ کی وجہ سے چنڈال بن گیا تھا۔ وِشوامتر میں یہ بڑی کم زوری تھی کہ وہ وقتی تاثرّ کے تحت عمل کرتے تھے اور غصّہ، ہم دردی اور پیار کے جذبات سے بہت جلد مغلوب ہوجاتے تھے۔ انھوں نے اپنے شیریں الفاظ سے بادشاہ کو مسرور کردیا۔ وہ بولے:
’’اے راجا، میں نے تمھاری انصاف پر مبنی حکومت کے بارے میں سنا ہے۔میں تمھیں اپنی پناہ میں لیتا ہوں۔ اب تمھیں کوئی خوف نہیں ہونا چاہیے۔ میں خود اس قربانی کا اہتمام کروں گا جس کے سبب تم اپنے جسم کے ساتھ ُسورگ میں داخل ہوسکو گے۔ تم اپنی اسی چنڈال کی شکل میں ُسورگ میں جاؤ گے۔ تمھارے ُگروکا شراپ تمھارا راستہ نہیں روک سکے گا۔ تمھیں میری بات پر یقین کرلینا چاہیے۔‘‘
چناںچہ انھوں نے ایک نہایت شان دار اور بے مثال B کا اہتمام کیا۔ انھوں نے اپنے چیلوں کو ہدایت کی کہ سارے رِشیوں اور ان کے چیلوں کو اس Bمیں شرکت کی دعوت دیں۔ رِشیوں میں وِشوامتر کی دعوت کو، جو حکم سے کم نہیں تھی، ردّ کرنے کی ہمّت نہیں تھی، اس لیے سب نے شرکت کی ہامی بھرلی۔ مگر وسِشٹھ کے بیٹوں نے دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا اور اس B کا یہ کہہ کر مذاق اُڑانے لگے کہ اس میں ایک ایسا شخص ’پروہت‘ ہوگا جو کبھی چھتری تھا اور’یجمان‘ ایک بدبو دار چنڈال ہوگا۔
وِشوامتر اس جواب سے، جو لفظ بہ لفظ اُن تک پہنچایا گیا تھا، سخت غضب ناک ہوئے اور انھوں نے بھڑک کر شراپ دیا ’’وسِشٹھ کے بیٹے سات جنم تک ایسے قبیلے میں پیدا ہوں گے جن کی غذاکتوّں کا گوشت ہوگی۔‘‘
اس کے بعد رِشی وشوامتر نے B شروع کیا۔ ترشنکو کی نمایاں خوبیوں کا بیان کرتے ہوئے وِشوامتر نے دوسرے رِشیوں سے اس بات کی درخواست کی کہ وہ ترشنکو کو اس کے جسم کے ساتھ ُسورگ تک پہنچانے میں ان کا ہاتھ بٹائیں۔ دعوت میں شریک رِشیوں کو وِشوامتر کی بے پناہ طاقت اور اُن کے آتشی مزاج کا پورا اندازہ تھا اس لیے انھوں نے Bمیں ّحصہ لینے ہی میں عافیت سمجھی اور B کا سلسلہ چلتا رہا۔ یہاں تک کہ دیوتاؤں سے دھرتی پر آنے اور نذر و نیاز قبول کرنے کی درخواست کی گئی، لیکن ایک بھی دیوتا نہیں پدھارے۔ صاف ظاہر تھا کہ وشوامتر کا Bناکام ہوچکا تھا۔ اس تقریب میں شامل ہونے والے سبھی لوگ وِشوامتر کی شکست کو دیکھ کر آپس میں ان کا مذاق اُڑانے لگے۔ غصّے میں لال پیلے ہوتے ہوئے وِشوامتر نے گھی کی ڈوئی شعلوں کے اوپر انڈیلی اور کہا:
’’اے راجاترشنکو، اب میری طاقت دیکھو۔ اب میں اپنے سارے کمالات کو تم میں منتقل کرتا ہوں۔ اگر میری ّتپسیاؤں کی کوئی حقیقت ہے تو وہ تمھیں تمھارے جسمانی ڈھانچے کے ساتھ ُسورگ میں لے جائیں گی۔ اگر دیوتاؤں نے میری نذر قبول نہیں کی ہے تو مجھے کوئی پروا نہیں ہے۔ اے راجا ترشنکو‘ اٹھو!‘‘
پھر کیا تھا، ایک معجزہ ہوگیا۔ سارا مجمع حیرت سے دیکھتا رہا اور راجا ترشنکو چنڈال کے جسم کے ساتھ ُسورگ کی جانب کوچ کرگیا۔ دُنیا نے وِشوامتر کی
ّتپسیا کی قوّت کا نظارہ کیا۔
راجا ترشنکو ُسورگ تک تو پہنچا مگر اِندر دیوتا نے اسے یہ کہہ کر فوراً نیچے دھکیل دیا:اپنے دھرم ُگرو کا شراپ مول لینے والے مورکھ پھر سے دھرتی پر چلاجا۔‘‘
ترشنکو سورگ سے نیچے کی طرف سر کے بل گرنے لگا تو چلاّکر بولا: ’’اے وِشوامتر مجھے بچائیے۔‘‘
یہ دیکھ کر وِشوامتر غصّے سے بے قابو ہوگئے۔ دیوتاؤں کو سبق سکھانے کے ارادے سے انھوں نے چیخ کر ترشنکو سے کہا: ’’وہیں رک جا۔ وہیں رُک جا۔‘‘
سارے لوگ حیرت سے دیکھتے رہ گئے۔ ترشنکو کا زمین کی جانب گرنا اچانک تھم گیا اور وہ ایک ستارے کی طرح خلا میں معلّق ہوگیا۔ وِشوامتر نے برہماثانی کی طرح جنوب میں ایک نیا ستاروں بھرا اُفق، ایک نیا اِندر اور نئے دیوتا بنانے کی مہم کا آغاز کردیا۔ ان مخلوقات کی برتری کو دیکھ کر دیوتاؤں نے صلح کا ہاتھ بڑھایا اور بڑی عاجزی کے ساتھ ان سے درخواست کی کہ اپنے ارادے سے باز آجائیں۔ انھوں نے کہا:
’’ترشنکو جہاں ہے اسے وہیں رہنے دیجیے۔ آپ کے تخلیق کردہ ستارے بھی آپ کی شہرت اور وقار کی طرح ہمیشہ چمکتے رہیں۔ آپ اپنے غصّے پر قابو پائیے اور ہم سے دوستی کرلیجیے۔‘‘
دیوتاؤں کی ہار سے مطمئن ہوکر تیزی سے بھڑک اُٹھنے اور اتنی ہی جلدی شانت ہو جانے والے وِشوامتر خوش ہوگئے، انھوں نے اپنا تخلیقی کام روک دیا۔ لیکن ان کی ایسی زبردست سرگرمی نے ان کی ساری طاقت کو جو انھوں نے سالہا سال کی ّتپسیا کے بعد حاصل کی تھی، فنا کردیا۔ انھیں اس کا احساس ہوا کہ اب وہ نئے سرے سے ّتپسیا کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔
اس کے بعد وشوامتر نے مغرب میں واقع پُشکر کی طرف سفر کیا اور وہاں پھر سے اپنی ّتپسیا شروع کردی۔ کئی برس تک ان کی ّتپسیا جاری رہی، لیکن عین اس وقت جب کہ ان کی ّتپسیا کا پھل انھیں ملنے والا تھا، کوئی ایسی بات ہوگئی جس کے سبب ان کا ّغصہ پھر عود کر آیا لیکن انھوں نے پوری طرح ّتہیہ کرلیا کہ غصّے کو پھر سے خود پر حاوی نہیں ہونے دیں گے۔ یہ طے کرکے وہ دو بارہ ّتپسیا میں مشغول ہوگئے۔
سالہا سال کی ّتپسیا کے بعد برہما اور دوسرے دیوتا ان کے سامنے نمودار ہوئے اور بولے: ’’اے کوشک، تمھاری ّتپسیا پوری ہوئی اب تم راجاؤں کی صف میں شامل نہیں ہو، تم سچیّ رشی ہوچکے ہو۔‘‘
وِشوامتر کو یہ وردان دے کر برہم واپس آگئے۔ وِشوامتر کے لیے یہ وردان بھی مایوس ُکن تھا۔ وہ تو برہما رِشی بن کر وسِشٹھ کے مدِّ مقابل ہونا چاہتے تھے لیکن انھیں صرف ایک عام رِشی کا درجہ دیا گیا تھا۔ ان کی ّتپسیاؤں کا یہ انعام اُتنا ہی بے مصرف تھا جتنے وہ طاقتور ہتھیار جنھیں وسِشٹھ کی لاٹھی ’’برہمانند‘‘ نگل چکی تھی۔ چناںچہ انھوں نے طے کرلیا کہ وہ اپنی ّتپسیا کو پہلے سے بھی زیادہ کڑی اور سخت بناکر جاری رکھیں گے۔
دیوتاؤں کو ان کی یہ حرکت پسند نہیں آئی۔ انھوں نے ُسورگ کی اپسرا ’’مینکا‘‘ کو روانہ کیا کہ اپنے آسمانی ُحسن اور اداؤں سے وِشوامتر کو بہکائے۔
مینکا پشکر چلی گئی جہاں وِشوامتر ّتپسیا کررہے تھے۔ اُس نے اپنے حسن اور جنسی اشاروں کے ساتھ رقص کرتے ہوئے انھیں متوجّہ کرنے کی ایسی ایسی کوششیں کیں کہ وِشوامتر اس کی طرف دیکھے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ اس کے حسن کے دام میں گرفتار ہوگئے، ان کا عزم اور ان کی ّتپسیا بھنگ ہوگئی۔ وہ دس سال تک خوابِ عیش میں مست رہے اور اپنے بلند عہد کو بھلا بیٹھے۔
آخرکار جب ان کی آنکھ کھلی تو انھوں نے کا ￿نپتی ہوئی مینکا کی طرف اُداسی سے دیکھا اور بولے کہ وہ اسے شراپ نہیں دیں گے کیوںکہ جو کچھ ہوا وہ ان کی اپنی حماقت سے ہوا اس میں اس کا کوئی قصور نہیں تھا، انھیں بہکاتے ہوئے وہ اپنے آقا کا حکم بجالا رہی تھی۔ بڑی اُداسی کے ساتھ وِشوامتر نے ہمالیا کی راہ لی تاکہ اپنی بگڑی ہوئی ّتپسیا کو پھر سے شروع کرسکیں۔
انھوں نے وہاں پر اپنے نفس کو پوری طرح قابو میں رکھتے ہوئے ایک ہزار سال تک بڑی سخت ّتپسیا کی۔ اُس وقت دیوتاؤں کی درخواست پر برہما، وِشوامتر کے سامنے نمودار ہوئے اور ان سے شیریں انداز میں بولے:
’’میرے بیٹے، میں ایک مہارِشی کی حیثیت سے تمھارا سواگت کرتا ہوں۔ تمھاری خلوص سے بھری ّتپسیا سے خوش ہوکر میں تمھیں یہ خطاب اور اس سے حاصل ہونے والی بزرگی عطا کرتا ہوں۔‘‘
کام رانی اور مایوسی دونوں سے متاثرّ نہ ہونے والے وِشوامتر نے احتراماً دونوں ہاتھ جوڑتے ہوئے کاینات کے ِپتا سے پوچھا: ’’کیا اس وردان کا مطلب اپنی ساری نفسانی خواہشات پر فتح مندی ہے؟‘‘
’’ہرگز نہیں‘‘ خالق نے کہا۔ ’’اے ُمنیوں میں شیر! نفسانی خواہشات پر قابو پانے کی کوشش جاری رکھو۔‘‘
وِشوامتر نے ّتہیہ کرلیا تھا کہ وہ اس عظیم ترین فتح مندی کو حاصل کرکے رہیں گے۔ چناںچہ انھوں نے مزید ہزار سال کے لیے پہلے سے بھی کڑی
ّتپسیا کا سلسلہ شروع کردیا جس سے دیوتاؤں میں اور بھی گھبراہٹ پھیل گئی۔
اِندر نے ُسورگ کی رقاصہ رمبھا کو طلب کیا اور دیوتاؤں کی ایک اہم خدمت اس کے سپرد کی۔ وہ خدمت یہ تھی کہ وِشوامتر کو اپنے حسن کے جادُو کا شکار بنائے اور انھیں اپنے مقصد سے بھٹکادے۔
رمبھا یہ کام کرنے سے خوف زدہ تھی مگر اِندرنے اسے یقین دلایا کہ وہ اس فرض کی ادایگی میں تنہا نہیں ہوگی، اس کی مدد کے لیے کام دیو اور بسنت کی دیوی دونوں اس کے ساتھ ہوں گے۔ رمبھابادلِ ناخواستہ روانہ ہوگئی۔ وہ جیسے ہی وِشوامتر کی ُکٹیا کے احاطے میں داخل ہوئی سارا جنگل موسمِ بہار کے ُحسن سے ِکھل اٹھا اور پھولوں کی خوشبو سے بھری ہوئی جنوبی ہوا دھیرے دھیرے بہنے لگی اور کویلیں کوکنے لگیں۔ اس کے ُحسن کی کشش میں اضافہ کرنے کے لیے کام دیو اور بسنت کی دیوی دونوں اپنا اپنا فرض ادا کررہے تھے۔ وِشوامتر نے جواَب تک موسم کی تبدیلیوں سے بے خبر رہے تھے، اچانک مضطرب ہوکر آنکھیں کھولیں اور دیکھا کہ بے مثال حسن کی ملکہ ایک اَپسرا کھڑی مسکرا رہی ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ بہار کی روح اپنے پھولوں، خوشبوؤں اور گیتوں کے ساتھ وہاں چلی آئی ہے۔ اس نرم و گداز ّمجسمۂ شہوت کو دیکھتے ہی وشوامتر نے اندازہ کرلیا کہ اُن سے حسد رکھنے والے دیوتاؤں نے انھیں بہکانے کے لیے ایک اور جنسی ترغیب کا پا ￿نسہ پھینکا ہے۔ ان کے تن بدن میں غصے کا سُرخ شعلہ دوڑ گیا اور انھوں نے رمبھا کو شراپ دیا:
’’اے رمبھا! میں اپنے غصّے (کرودھ) اور نفس (کام) پر قابو پانے کے لیے جدّوجہد کررہا ہوں اور تو مجھے بہکانے کی کوشش کررہی ہے، اس لیے میں تجھے شراپ دیتا ہوں کہ تو دس ہزار سال تک ّپتھر کی مورت بنی رہے گی۔‘‘
جیسے ہی وشوامتر غصّے سے پھٹ پڑے اُنھیں احساس ہوا کہ وہ اپنے مقصد میں کامیابی کی منزل سے اب تک کافی دُور ہیں۔ چناںچہ بڑی اُداسی کے ساتھ انھوں نے ہمالیائی جنگلوں کو خیر باد کہا اور تنہائی کی تلاش میں مشرق کی طرف چلے گئے۔ وہاں انھوں نے حبسِ دم کیا۔ دنیا کی کل اشیا کا خیال اپنے دل سے نکالا اور ایسی کڑی ّتپسیائیں کیں کہ ان کے جسم سے شعلے اور دُھواں نکلنے لگا اور ساری کائنات ان دونوں کی لپیٹ میں آگئی۔ اِس پر خوف زدہ دیوتاؤں نے برہما سے پرارتھنا کی اور ان کی التجا کو مان کر برہماایک بار پھر وشوامتر کے سامنے نمودار ہوئے اور انھیں برہم رشی کا مقام عطا کیا اور بولے:
’’مبارک ہو برہم رشی، میں تم سے پرسنّ ہوا۔ تمھاری زندگی
ّتقدس سے ُپرہو جائے۔‘‘
وِشوامتر خوش ہوگئے لیکن بڑے انکسار کے ساتھ انھوں نے کہا: ’’میں اس وقت تک خوش نہیں ہوسکتا جب تک کہ وسِشٹھ کی زبان سے نہ ُسن لوں کہ میں برہم رشی ہوں۔‘‘
وسِشٹھ نے جب سنا تو وشوامتر سے اپنی جنگ کو یاد کرکے مسکرائے اور بولے: ’’تم نے اپنی عظیم ّتپسیاؤں کا پھل پالیا۔ میرے بھائی تم یقینا برہم رِشی ہو۔‘‘
بس پھر کیا تھا ہر طرف خوشیاں ہی خوشیاں ناچنے لگیں۔ یہ تھی ساری کہانی اُن رِشی وِشوامتر کی جو راجا دشرتھ کے دربار میں اچانک پدھارے تھے۔
چوتھا باب

 

رام محل سے ِسدھارتے ہیں

راجا دشرتھ نے وِشوامتر کا اُسی طرح استقبال کیا جیسے اِندر برہما کا استقبال کرتے۔ اُن کے پیر چھوتے ہوئے راجا نے کہا:
’’میں یقینا انسانوں میں سب سے خوش نصیب ہوں۔ یہ میرے پُرکھوں کی نیکیوں کا پھل ہے کہ آپ میرے ہاں پدھارے ہیں۔ جس طرح صبح کا سورج اپنی روشنی سے رات کی تاریکیوں کو دُور کرتا ہے، آپ کا دیدار میری آنکھوں میں سرور بھررہا ہے۔ میرا دِل مسرّت سے بھرا ہے۔ آپ پیدایش کے اعتبار سے راجا تھے لیکن اپنی ّتپسیا کے بل پر برہم رِشی ہوگئے اور اب خود چل کر میرے گھر مہمان بن کر آئے ہیں۔ بتائیے میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں۔ جو کچھ میرے اختیار میں ہوگا آپ کے لیے کر گزروں گا۔ آپ حکم کیجیے، میں آپ کا حکم بجالاؤں گا۔‘‘
راجا دشرتھ کے یہ الفاظ سن کر وِشوامتر بہت خوش ہوئے اور ان کا چہرہ دمکنے لگا۔ وہ بولے:
’’اے راجا! تمھارے الفاظ یقینا تمھارے شایانِ شان ہیں۔ ’اِکش واکو‘ ُکل (نسل) میں جنم لے کر اور وِسِشٹھ جیسا ُگرو پانے کے بعد تمھیں ایسا ہی کہنا چاہیے۔ تم نے میرے سوال کرنے سے پہلے ہی اس کی تکمیل کی ہامی بھرلی ہے۔ میرا دِل اس بات سے بہت خوش ہوا۔‘‘
اس کے بعد انھوں نے اپنی آمد کا مقصد صاف صاف بتادیا۔ وہ بولے:
’’میں ایک B کرنے میں لگاہوا ہوں لیکن جیسے ہی یہ B تکمیل کو پہنچنے لگتا ہے، ماریچ اور ُسباہو نام کے دو طاقتور راکشس اُسے ناپاک کردیتے ہیں۔ وہ ّمقدس آگ پر گندے گوشت اور خون کی بارش کردیتے ہیں۔ دوسرے رشیوں کی طرح ہم بھی انھیں شراپ دے کر برباد کرسکتے ہیں۔ مگر اس سے ہماری ّتپسیا بھی برباد ہوجائے گی۔
اگر تم اپنے جنگجو بیٹوں میں سے بڑے بیٹے رام کو ہمارے ساتھ روانہ کردو تو ہماری ساری مشکلات کا خاتمہ ہوجائے گا۔ میری تربیت اس کے شاہی درجات کو اور بلند کردے گی۔ مجھے یقین ہے کہ وہ راکشسوں کا خاتمہ کردے گا اور اس کا نام اور مشہور ہوجائے گا۔
تم رام کو کچھ دِنوں کے لیے میرے زیر تربیت دے دو۔ دیکھو میری درخواست کو رد نہ کرنا۔ میرے سوال کرنے سے پہلے ہی تم نے میری درخواست کو قبول کرنے کا جو وعدہ کیا ہے اُسے پورا کرو۔ جہاں تک رام کے ّتحفظ کا سوال ہے، تمھیں کوئی فکر نہیں ہونی چاہیے۔ ایسا کرنے سے تمھیں تینوں لوکوں میں لافانی شہرت حاصل ہوگی۔ رِشی و سشٹھ اور تمھارے منتری میری بات سے ا ّتفاق کریں گے۔‘‘
راجا دشرتھ یہ سن کر اضطراب اور خوف سے کا ￿نپ اٹھے۔ ان کے لیے فیصلہ کرنا مشکل ہوگیا۔ اگر وہ وِشوامتر کی بات مان لیتے ہیں تو اپنے راج دلارے بیٹے کو راکشسوں کے مقابلے کے لیے بھیج کر اس کی جان سے ہاتھ دھولینے کا خطرہ مول لیتے ہیں۔ اور اگر نہیں مانتے ہیں تو وِشوامتر کے بھیانک غصّے کا شکار ہوسکتے ہیں۔
راجا دشرتھ پر گویا بجلی سی گرپڑی اور ذہنی صدمے کی وجہ سے وہ سکتے میں آگئے لیکن جلد ہی اپنے آپ پر قابو پاتے ہوئے انھوں نے رشی سے التجا کی کہ اپنی مانگ پر ُ ِمصر نہ ہوں۔ وہ بولے:
’’رام تو ابھی سولہ سال کا بھی نہیں ہوا۔ وہ بھلا راکشسوں سے کیسے لڑے گا؟ آپ کے ساتھ اُس کو روانہ کرنا مفید نہ ہوگا۔ راکشسوں کے مکرو فریب کا اسے اندازہ ہی کیا ہے؟ مجھے یہ مناسب نہیں معلوم ہوتا کہ ایک لڑکے کو اُن کا مقابلہ کرنے کے لیے روانہ کروں۔ میں خود موجود ہوں اور میری فوج بھی ان سے لڑنے کے لیے مستعد ہے۔ ایک لڑکا آپ کی اور آپ کے Bکی حفاظت کیسے کرسکے گا؟ مجھے آپ اپنے دشمنوں کے بارے میں ساری باتیں بتائیے۔ میں خود فوج کی سربراہی کرتے ہوئے آپ کے ساتھ چلوں گا، اور آپ کے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے آپ کی مشکل حل کروں گا۔ مجھے B کو ناپاک کرنے والوں کے بارے میں معلومات دیجیے۔‘‘
وِشوامتر نے ماریچ، سباہو اور ان کے آقا راون سے ّمتعلق تفصیل بتائی اور اپنی مانگ کو دہرایا کہ رام کو ان کے ساتھ روانہ کیا جائے۔ مگر دشرتھ اپنے انکار پر قائم رہے، انھوں نے کہا:
’’رام کی جدائی میری موت کا باعث ہوگی۔ میں چلوں گا آپ کے ساتھ۔ میں اور میری فوج دونوں۔ کیوںکہ آپ کا تجویز کیا ہوا کام مجھ اکیلے کے لیے بھی مشکل معلوم ہوتا ہے۔ ایسے میں میرا بیٹا اُسے کیسے انجام دے سکے گا۔ میں اسے ہرگز نہیں بھیج سکتا۔ آپ کا حکم ہوتو میں اور میری فوج حاضر ہیں۔‘‘
اپنے وعدے سے ِپھر جانے کی دشرتھ کی کوشش سے وِشوامتر کو غصّہ آگیا۔ راجا کی التجاؤں اور تاویلوں نے ان کے غصّے کی آگ پر تیل کا کام کیا۔
’’تمھارا یہ عمل تمھارے ُکل کے لیے باعثِ شرم ہے۔‘‘اُنھوں نے کہا۔ ’’صاف صاف بتاؤ کیا یہی تمھارا فیصلہ ہے۔ اگر ایسا ہے تو میں جس راستے سے آیا ہوں اسی راستے سے واپس چلا جاتا ہوں۔ ّسچائی کے راستے سے ڈگمگانے والے راجا! تم اور تمھارے خاندان کی عمر دراز ہو۔‘‘
دھرتی کا ￿نپ اٹھی اور رشی کے غصّے کے نتائج کے خوف سے دیوتا لرزگئے۔
اس وقت رشی وسِشٹھ نے راجا کی طرف دیکھا اور نرمی سے بولے:
’’اے راجا! تمھیں یہ زیب نہیں دیتا کہ وعدے سے ِپھر جاؤ۔ اکشوا کو ُکل میں جنم لینے کے بعد تم ایسا نہیں کرسکتے۔ ایک مرتبہ کسی کام کے کرنے کا وعدہ کرلینے کے بعد تمھیں اسے پورا کرنا ہی ہوگا۔ اگر تم نے ایسا نہیں کیا تو تمھاری ساری عظیم خوبیاں اور سارے ا ّچھے کرم نشٹ ہوجائیں گے۔
رام کو رشی وشوامتر کے ساتھ روانہ کردو اور لکشمن کو بھی۔ ان کی حفاظت کے لیے تمھیں فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں جب انھیں وِشوامتر کا ّتحفظ حاصل ہے تو کوئی راکشس ان کا بال ِبیکا نہیں کرسکتا۔ جس طرح دیوتاؤں کے مشروب کی حفاظت اگنی چکر کرتا ہے اسی طرح رام کی حفاظت وِشوامتر کریں گے۔ تمھیں وِشوامتر کی طاقت کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ انسانی روپ میں ّمجسم ّتپسیا ہیں۔ وہ ویروں کے ویر اور گیانیوں کے گیانی ہیں۔ وہ ہر ہتھیار چلانے کے ماہر ہیں، تینوں لوکوں میں جنگی اور روحانی شجاعت کے معاملے میں نہ تو ان کا کوئی ثانی ہے اور نہ کبھی ہوسکتا ہے۔ وہ جب راجا تھے تو انھوں نے دیوتاؤں سے سارے ہتھیار چلانے میں مہارت کا وردان پایا تھا۔وہ ماضی، حال اور مستقبل تینوں زمانوں پر نظر رکھتے ہیں۔ ہوسکتا ہے تمھیں ّتعجب ہوکہ اتنا سب ہونے کے باوجود وہ راجکماروں کو کیوں لے جانا چاہتے ہیں۔ وہ خود بھی اپنے Bکی حفاظت کرسکتے ہیں۔ دراصل تمھارے بیٹوں کی بھلائی کی خاطر وہ یہاں آئے ہیں اور تم سے مدد کے طالب ہوئے ہیں۔ ہچکچاؤ نہیں۔ اپنے بیٹوں کو ان کے ساتھ کردو۔‘‘
وِسِشٹھ جیسے گیانی رِشی کی بات سن کر راجا دشرتھ کی آنکھیں کھل گئیں اور انھوں نے رام اور لکشمن کو وِشوامتر کے ساتھ بھیجنے کا فیصلہ کرلیا۔ دونوں شہزادوں کو رِشی کے سامنے پیش کیا گیا۔ پھر راجا، ان کی رانیوں اور رِشی وسِشٹھ نے آشیرواد دے کر انھیں وِشوامتر کے ساتھ روانہ کردیا۔
نہایت خوشگوار ہوا چلنے لگی اور دیولوک سے پھولوں کی بارش ہوئی۔ مبارک باد کی آوازیں سنائی دیں۔ ہاتھوں میں کمان لیے ہوئے دونوں شہزادے رِشی کے دونوں پہلوؤں میں فخر سے چلتے ہوئے وہاں سے نکل گئے۔
والمیکی اور کمبن دونوں نے بڑے مزے لے لے کر اُس منظر کی تصویر کشی کی ہے۔ دونوں راج کمار اپنی پہلی مہم پر روانہ ہورہے ہیں اور ایک ایسے عظیم رشی کی رہنمائی میں جو خود ایک مشہور سورما رہ چکا ہے اور ایک ایسا ُگرو ہے جو ایک نئی دُنیا تخلیق کرسکتا ہے۔ وِشوامتر کے پہلوؤں میں فخر سے سر اُٹھائے دو شاہی شاگرد چل رہے ہیں جن کا جنم راکشسوں کی نسل کے خاتمے کے لیے ہوا ہے۔ کمر سے فتح کی تلواریں لٹکائے ہوئے اور مضبوط کندھوں پر تیر اور کمان لیے ہوئے وہ دونوں اس طرح چل رہے تھے جیسے تین سروں والے ناگ پھن اٹھائے ہوئے چل رہے ہوں۔
پانچواں باب

 

رام کے ہاتھوں راکشسوں کا قتل

مہارشی وِشوامتر اور دونوں راج کماروں نے َسریوُ ندی کے کنارے رات بسر کی۔ سونے سے پہلے وِشوامتر نے دونوں راج کماروں کو ’’بل‘‘ اور ’’اتی بل‘‘ نام کے دو خفیہ منتر سکھائے جو دونوں کو تھکن اور آفت سے بچانے کی خوبی رکھتے تھے۔ ندی کے سرسبز کنارے پر رات بسر کرکے وہ لوگ صبح تڑکے اُٹھ کر آگے کے سفر پر روانہ ہوئے۔ وہ اَنگ دیش کے کام آشرم پہنچے۔ وِشوامتر نے دونوں راج کماروں کو وہاں کے رِشیوں کی خدمت میں پیش کیا اور پھر ان کو اس آشرم کی کہانی سنائی۔ انھوں نے کہا:
’’یہی وہ جگہ ہے جہاں بھگوان شیو نے مدّت تک ّتپسیا کی ہے۔ یہیں پر احمق کام دیو مَن متھ نے شیو کو اپنے تیر کا نشانہ بنانے کی کوشش کی اور ان کے کرودھ سے جل کر خاک ہوگیا۔ اسی لیے اس جگہ کو کام آشرم کہا جاتا ہے۔‘‘
اس رات وہ لوگ رشیوں کے مہمان رہے اور اگلی صبح روز مرّہ کی پوجاپاٹ کے بعد وِشوامتر اور ان کے شاگرد اگلے سفر پر روانہ ہوکر گنگا پہنچے اور رشیوں کے بنائے ہوئے با ￿نسوں کے ٹھاٹھے پر سوار ہوکر ندی پارکر گئے۔ لیکن ندی پار کرتے ہوئے بیچ دھارے میں راج کماروں کو کچھ شور سا سنائی دیا۔ انھوں نے وِشوامتر سے اس کے بارے میں استفسار کیا تو انھوں نے بتایا کہ یہ دراصل َسریوُ ندی کا پانی ہے جو گنگا میں ملتے وقت آواز پیدا کررہا ہے۔ راج کماروں نے دونوں ّمقدس ندیوں کے سنگم کو خاموش شردھا نجلی پیش کی۔
چاہے ندی ہو یا پہاڑ، درخت ہو یا بادل، بے شک فطرت کے حسن کا کوئی بھی مظہر ہو، انسان کو ذاتِ مطلق کے بارے میں ّتفکر اور اس کی عبادت پر آمادہ کرسکتا ہے۔ خاص طور سے ّمقدس ندیاں، مندر اور مورتیاں، جن کی صدیوں سے بھکتی اور عبادت کی گئی ہے، اس قوّت کی حامل ہوتی ہیں کیوںکہ انھوں نے ّمقدس افکار کا نہ صرف مشاہدہ کیا ہے بلکہ انھیں اس طرح جذب کررکھا ہے جیسے کپڑے خوشبوؤں کو اپنے اندر سمولیتے ہیں۔
گنگا پار کرنے کے بعد وِشوامتر اور دونوں راج کمار ایک ایسے گھنے جنگل سے گزرنے لگے جہاں جنگلی جانوروں کی خوفناک آوازوں سے فضا گونج رہی تھی۔ وِشوامتر نے کہا:
’’یہ دنڈک نام کا جنگل ہے۔ اس بھیانک جنگل کی جگہ کبھی ایک بھرا پُرا ملک تھا۔ ایک مرتبہ اِندر کو وِرترا کی ہتّیا کا پاپ لگ گیا تھا، جسے دھونے کے لیے اسے دیولوک سے ہجرت کرنی پڑی تھی۔ دیوتاؤں نے اِندر کے پاپ کو دھونے کی مہم شروع کی۔ وہ ّمقدس ندیوں کا پانی لائے اور منتر پڑھتے ہوئے اِندر کو نہلانے لگے۔ اِندر کے پاپ کو دھونے والا پانی اس کے بدن سے بہہ کر زمین میں جذب ہوگیا جس سے دھرتی زرخیز ہوگئی اور سارا علاقہ ہرابھرا ہوگیا۔
ساری مردہ اشیا مثلاً بدبودار کوڑا کرکٹ یاسٹرتی ہوئی لاشیں جب دوبارہ مٹی میں مل جاتی ہیں تو مظاہرِ حسن میں تبدیل ہوکر نمایاں ہوتی ہیں جیسے پھول، پھل اور زندگی کو پروان چڑھانے والی صحت بخش اشیا۔ ایسی ہے ہماری دھرتی ماتا کی کیمیاگری۔‘‘
وِشوامتر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
’’ایک لمبے عرصے تک لوگ یہاں ￿ہنسی خوشی زندگی گزارتے رہے مگر تاٹکا ( ُشنڈ نامی یکش کی بیوی) اور اس کے بیٹے ماریچ نے یہاں تباہی مچادی اور اس بستی کو موجودہ خوف ناک جنگل میں بدل دیا۔ اب وہی اس جنگل میں بستے ہیں۔ تاٹکا کے ڈر سے کوئی یہاں قدم رکھنے کی ہمّت نہیں کرتا۔ اس میں بیس ہاتھیوں کا َبل ہے۔ میں تمھیں یہاں اس لیے لایا ہوں کہ تم اس جنگل کو اس بھیانک دُشمن سے نجات دلادو۔ مجھے یقین ہے کہ رشیوں کو تکلیف دینے والی یہ راکشسنی تمھارے ہاتھوں ماری جائے گی۔‘‘
رام نے، جو غور سے رِشی کی باتیں سن رہے تھے، ان سے پوچھا:
’’آپ کہتے ہیں کہ وہ یکش ہے۔ میں نے یکشوںکے بارے میں کبھی نہیں سنا کہ ان میں غیر معمولی طاقت ہوتی ہے اور مزید حیرت اس بات پر ہے کہ ایک عورت کو اتنی طاقت کیسے حاصل ہوگئی؟‘‘
وِشوامتر نے جواب دیا: ’’تم نے نہایت مناسب سوال کیا ہے۔ اسے یہ طاقت برہما کے ایک وردان کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔ سُکیتو نام کا ایک یکش تھا جس کے کوئی اولاد نہیں تھی۔ اس لیے اس نے ّتپسیا کی اور برہما سے یہ وردان حاصل کیا کہ اس کے ہاں ایک خوب صورت بیٹی پیدا ہوگی جو غیرمعمولی جسمانی طاقت کی مالک ہوگی۔ مگر اس کے یہاں کوئی بیٹا نہیں ہوگا۔ سُکیتو کی خوب صورت اور طاقت ور بیٹی تاٹکا کی شادی شنڈنامی یکش سے ہوئی۔ ماریچ انھیں کا بیٹا ہے۔
شُنڈ ایک مرتبہ رشی اگستیہ کے شراپ کا شکار ہوکر چل بسا۔ اس سے برہم ہوکر تاٹکا اور ماریچ نے اگستیہ پر حملہ کیا جس کے نتیجے میں اگستیہ نے انھیں شراپ دیا کہ وہ راکشس بن جائیں گے اور مردہ انسانوں کو کھاکر زندہ رہیں گے۔ یہی سبب ہے کہ تاٹکا ایک بدصورت راکشسنی ہوگئی ہے۔
تب سے تاٹکا اور ماریچ اگستیہ کے علاقے میں بسنے والے لوگوں کو پریشان کرتے رہتے ہیں۔ تم اس بات کا خیال کرکے کہ کسی عورت کو مارنا چھتری دھرم کے خلاف ہے، اس کا خاتمہ کرنے سے ہچکچانا نہیں۔ راجا کا فرض ہے کہ شر پسندوں کو، خواہ مرد ہوں یا عورت، سزا دے۔ اس کا مارنا ایسا ہی صحیح اور درست ہے جیسے انسانوں کی حفاظت کے لیے کسی جنگلی جانور کو مارنا۔ حکمرانوں کے لیے ایسا کرنا فرض ہے۔ اس سے پہلے بھی بہت سی عورتوں کو ان کے بُرے کرموں کے لیے موت کی سزا دی گئی ہے۔ اس لیے تم بھی ایسا کرنے سے ہچکچانا مت۔‘‘
رام نے وِشوامتر سے کہا: ’’ہمارے پتا کا حکم ہے کہ ہم آپ کا حکم بے چون و چرا بجالائیں۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں اور سب کی فلاح کے لیے ہم تاٹکا کو قتل کریں گے۔‘‘
ایسا کہتے ہوئے رام نے اپنی کمان چڑھائی اور اس کی ڈور کو اس طرح کھینچا کہ اس کی تیز آواز سے سارا جنگل گونج اُٹھا اور جنگلی جانور خوف زدہ ہوکر اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ اس کی آواز تاٹکا کی مضبوط کمین گاہ میں بھی پہنچی اور وہ اس گستاخ مداخلت کار کی ّہمت پر ّتعجب کرنے لگی جس نے اس کی حکومت میں داخل ہونے کی جرأت کی تھی۔ غصّے سے بے قابو ہوتے ہوئے وہ اُس سمت دوڑ پڑی جدھر سے کمان کی آواز آئی تھی۔ اور رام کو دیکھتے ہی اس پر پل پڑی۔ دونوں میں جنگ شروع ہوگئی۔
پہلے تو رام نے سوچا کہ اس کے ہاتھ پیر کاٹ ڈالیں اور اس کی جان نہ لیں۔ مگر تاٹکا نے بڑا خوف ناک حملہ کیا اور آسمان میں بلند ہوکر رام اور لکشمن پر ّپتھروں کی بارش کرنے لگی۔ دونوں راج کماروں نے اس حملے کا ￿منہ توڑ جواب دیا۔ جنگ جاری رہی۔ وِشوامتر نے رام کو تاکید کی کہ اس راکشسنی کو مارنے میں دیر نہ کریں۔
’’وہ ہمدردی کی مستحق نہیں ہے۔‘‘ انھوں نے کہا۔ ’’سورج ڈوبنے والا ہے اور یاد رکھو کہ سورج ڈوبنے کے بعد راکشسوں کی طاقت دوگنی ہوجاتی ہے۔ اس لیے اسے مارنے میں دیر نہ کرو۔‘‘
وِشوامتر کی نصیحت پر رام نے تاٹکا کے قتل کا فیصلہ کرلیا اور اپنے قاتلانہ تیر سے اس کے سینے کو نشانہ بنایا۔ تیر لگتے ہی وہ پہاڑ جیسی بد صورت دیونی مردہ ہوکر گرپڑی۔
دیولوک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور وِشوامتر نے جوشِ مسرّت میں رام کو سینے سے لگاکر آشیرواد دیا۔
تاٹکا کی ّہتیا کے بعد سارا جنگل اس کے شراپ سے آزاد ہوگیا اور پھر سے خوب صورت بن گیا۔ راج کماروں نے وہ رات وہیں گزاری اور اگلی صبح کو وِشوامتر کے آشرم کی طرف چل پڑے۔
چلنے سے پہلے وِشوامتر نے رام کو اپنے پاس بلایا اور اُنھیں آشیرواد دیتے ہوئے کہا:
’’میں تم سے بہت خوش ہوں۔ تم نے جو کچھ کیا ہے اس کے بدلے میں میں تمھیں کیا دوں۔ آؤ تمھیں تمام ہتھیاروں کے استعمال کا طریقہ بتاؤں۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وشوامتر نے وہ سارے ہتھیار جو انھوں نے اپنی ّتپسیا کے بل پر حاصل کیے تھے، شری رام چندر کو دے دیے۔ وِشوامتر نے رام کو ان کا استعمال، ان پر قابو رکھنے اور انھیں واپس لوٹانے کا طریقہ سکھایا، اور رام نے یہ ساری باتیں لکشمن کو سکھادیں۔
اپنے سفر کے دوران رام نے ایک اونچے پہاڑ کی جانب، جس کی ڈھلانوں پر خوب صورت جنگل اُگا ہوا تھا، اشارہ کرتے ہوئے پوچھا: ’’کیا یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں جانا ہے اور وہ بدمعاش کون ہیں جو آپ کے B میں رخنہ ڈالتے ہیں؟ مجھے ان کا خاتمہ کرنے کے لیے کیا کرنا ہوگا۔‘‘
رام چندر جی راکشسوں سے لڑکر رِشی کا آشیرواد پانے کے لیے بے چین ہو اٹھے تھے۔
’’ہاں یہی وہ جگہ ہے جہاں ہمیں جانا ہے۔‘‘ وِشوامتر نے جواب دیا۔ ’’وہیں پر بھگوان ناراین نے ّتپسیا کی تھی اور وامن اوتار کے روپ میں جنم لیا تھا۔ اس جگہ کو سِدّھ آشرم کہا جاتا ہے۔
وِروچن کا بیٹا اور نیک دل اَ ُسر پرلہاد کا پوتا مہابلی، اتنا طاقت ور حکمراں تھا کہ دیوتا بھی اس سے خوف کھاتے تھے۔ مہابلی نے اپنے نیک کرموں کے سبب خود اِندر کی طاقت حاصل کرلی تھی۔ کشیپ اور ان کی بیوی اَدیتی نے، وشنو کی پرارتھنا کی اور ان سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے کی حیثیت سے جنم لے کر اِندر اور دوسرے دیووں کو مہابلی سے بچائیں۔ ان کی التجا کو مان کر وِشنو نے ادِیتی کی کوکھ سے وامن کے روپ میں جنم لیا۔
وامن نے ایک نوجوان شاگرد کا روپ دھارا اور اس جگہ پہنچ گیا جہاں مہابلی Bکررہا تھا اور سب کوُکھلی دعوت تھی کہ وہاں پر جو جی چاہے مانگے اور حاصل کرے۔ جب وامن نے اپنے آپ کو ایک اُ ّمیدوار کی حیثیت سے پیش کیا تو آشوروں کے پروہت اور مہابلی کے ُگرو ُشکر اچاریہ اُسے پہچان گئے اور مہابلی کو خبردار کیا کہ اس کی درخواست پوری کرنے کا وعدہ نہ کر بیٹھے کیونکہ حقیقت میں وہ بھگوان تھے جو بھیس بدل کر اسے ناکام بنانے کے لیے وہاں آئے تھے۔
لیکن مہابلی نے ان کی بات پر دھیان نہیں دیا۔ مہابلی کسی کی درخواست رد کرنے کا عادی نہیں تھا۔ اس کے علاوہ دلی طور پر وہ بھگوان کا بھکت تھا اور یہ محسوس کررہا تھا کہ بھگوان نے اگر اس کے تحفے کو قبول کیا تو خود اسی پر ان کا کرم ہوجائے گا۔ چناںچہ مسکراتے ہوئے مہابلی نے وامن سے بغیر ہچکچاہٹ کے جو جی چاہے مانگنے کے لیے کہا: ’میرے پاس جو کچھ ہے میں آپ کے قدموں میں رکھتا ہوں۔ دولت، ہیرے، جواہر، یہ وسیع ملک اور اس سے پیدا ہونے والی ساری چیزیں آپ کے سامنے حاضر ہیں۔‘
وامن نے جواب میں کہا کہ ’دولت اس کے کس کام کی، اسے تو صرف اتنی ہی زمین چاہیے جتنی وہ تین قدم چل کرلے سکے۔‘ راجا نے مسکراکر پستہ قد برہم چاری کے پیروں کو دیکھا اور بولا: ’ایسا ہی ہوگا، چلو اور لے لو۔‘
وہ چھوٹا سا ￿کنوارا شاگرد اچانک اتنا اونچا ہوگیا کہ تری وکرم میں بدل گیا اور ایک قدم میں ساری زمین طے کرکے دوسرے قدم میں آکاش کو بھی پار کرگیا۔ اب تیسرا قدم رکھنے کے لیے کوئی جگہ ہی نہیں بچی اس لیے دانی راجا مہابلی نے اپنا سر جھکا دیا اور وامن نے اپنے بھکت کے سر پر اپنا قدم رکھ دیا۔ بھگوان کی نظروں میں ایک بھکت کا سرزمین اور آسمان کے برابر ہوتا ہے۔ راجا مہابلی کو جب ناراین کے قدم نے چھوا تو وہ بھی کاینات کے سات امر لوگوں میں سے ایک ہوگیا۔‘‘
راجا مہابلی کی کہانی سنانے کے بعد وشوامتر نے کہا: ’’یہ وہ جگہ ہے جہاں سب سے پہلے ناراین نے اور پھر کشیپ نے ّتپسیا کی جس کے سبب بھگوان نے وامن کا اوتار لیا۔ اس ّمقدس جگہ پر میں رہتا ہوں مگر راکشس یہاں آکر ہماری پوجا اور ّتپسیا میں رُکاوٹ ڈالتے ہیں۔ تم اس برائی کا خاتمہ کرنے کے لیے یہاں آئے ہو۔‘‘
’’ایسا ہی ہوگا۔‘‘ رام نے کہا۔
وِشوامتر اور دونوں راج کماروں کی آمد سے آشرم میں خوشیاں منائی جانے لگیں۔ رِشیوں نے رسم کے مطابق انھیں جل اور پھل پیش کیے۔ رام نے وِشوامتر سے درخواست کی کہ وہ فوراً ہی Bکی تیاّریاں کریں، اور وِشوامتر نے اسی رات ایسا کرنے کا وعدہ کرلیا۔
اگلی صبح بہت سویرے اُٹھ کر دونوں راج کمار وشوامتر کے پاس گئے اور ان سے دریافت کیا کہ راکشس کب تک آئیں گے تاکہ وہ ان کا مقابلہ کرنے کے لیے تیاّر رہیں۔ مگر وشوامتر نے تو مون دھارن کرنے کا برت لے لیا تھا۔ اس لیے وہ جواب نہیں دے سکے ا ّلبتہ ان سے کم درجے کے رشیوں نے راج کماروں کو بتایا کہ انھیں چھے رات اور چھے دن تک اٹوٹ پہرا دینا ہوگا تاکہ Bکی حفاظت کرسکیں۔
ہتھیاروں سے لیس ہوکر دونوں نے چھے رات اور چھے دن پہرا دیا۔ چھٹے دن کی صبح رام نے لکشمن سے کہا: ’’ ّبھیا! دشمنوں کے آنے کا وقت ہوگیا ہے۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیے۔‘‘
جیسے ہی رام کا جملہ پورا ہوا B کی اگنی کے شعلے بلند ہوئے کیونکہ آگ کے دیوتا اگنی کو راکشسوں کی آمد کا پتا چل چکا تھا۔ ادھر مذہبی رسمیں ادا ہورہی تھیں کہ اچانک آسمان سے ایک بھیانک گرج سنائی دی۔
رام نے اوپر نظر ڈالی تو دیکھا کہ ماریچ اور سبا ہو اور ان کے چیلے B کی آگ پر ناپاک چیزیں پھینکنے کی تیاّری کررہے ہیں۔ راکشسوں کی فوج نے سارے آسمان کو بڑے کالے بادل کی طرح ڈھک لیا تھا۔
رام نے کہا: ’’لکشمن، ہوشیار!‘‘ اور مانواستر سے ماریچ پر حملہ کردیا۔ رام کا ارادہ ماریچ کو قتل کرنے کا تھا لیکن مانواستر نے اسے پوری طرح اپنی لپیٹ میں لے کر اس طرح اُچھال دیا کہ وہ ایک سو پوجن کے فاصلے پر سمندر کے کنارے جاگرا۔ رام نے اگنی استر سے سُباہوکا خاتمہ کردیا اور پھر دونوں راج کماروں نے راکشسوں کی پوری فوج کو ملیامیٹ کردیا۔ آسمان پھر سے روشن ہوگیا۔
B کی تکمیل پر وشوامتر انتہائی خوش ہوئے اور بولے: ’’میں راجا دشرتھ کا شکر گذار ہوں۔ راجکمارو! تم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ میں تمھاری ّہمت کی قدر کرتا ہوں۔ تم دونوں کی وجہ سے یہ آشرم نئے سرے سے فتح کی جگہ یعنی سِدّھ آشرم بن چکا ہے۔ (سدھ کے معنی ہیں فتح مند یا کام یاب)۔
اگلی صبح پوجا پاٹ کے بعد رام اور لکشمن وِشوامتر کے پاس گئے اور ان سے اگلے احکامات کے لیے درخواست کی۔ رشی وشوامتر سے رام کی پیدائش کا مقصد پوشیدہ نہیں تھا۔ اور انھیں اس کا بھی پتا تھا کہ انھوں نے رام کو جو ہتھیار دیے ہیں ان میں کتنی طاقت ہے۔ پھر بھی یہ حقیقت ہے کہ کسی چیز کا عملی تجربہ اُس چیز سے وابستہ توقعات سے زیادہ بامعنی ہوتا ہے۔ رشی وشوامتر کی خوشی الفاظ میں بیان نہیں ہوسکتی تھی۔ ان کا چہرہ اگنی کی طرح روشن ہوگیا۔ انھیں خیال آیا کہ اب تک انھوں نے رام کی وہ سیوا نہیں کی ہے جو اُن پر فرض ہے یعنی راج کمار کی سیتا سے شادی۔
آس پاس جمع رشیوں نے رام سے کہا: ’’ہم وِدیہا راج کی طرف جانے کا ارادہ کررہے ہیں جس کی راج دھانی مِتھیلا میں ممتاز اور دانش مند راجا جنک ایک عظیم B کرنے کا ارادہ کررہا ہے۔ ہم سب وہیں جارہے ہیں۔ ا ّچھا ہوگا اگر تم اور تمھارا راج کمار بھائی دونوں ہمارے ساتھ چلے چلو— بہت مناسب اور موزوں رہے گا کہ ایودھیا کا راج کمار راجا جنک کے دربار میں رکھی ہوئی حیرت انگیز کمان کو چل کر دیکھے۔‘‘
چناںچہ یہی طے ہوا اور رشی وشوامتر کے ساتھ رام اور لکشمن راجا جنک کی راج دھانی مِتھیلا کی طرف چل پڑے۔
چھٹا باب

 

سیتا

متھیلا کا راجا جنک ایک آدرش حکمراں تھا۔ وہ راجا دشرتھ کا انتہائی محترم دوست تھا جسے راجا دشرتھ نے اپنے B کے وقت قاصدوں کے بجائے اپنے وزیروں کو متھیلا بھیج کر B میں شرکت کی دعوت دی تھی۔
جنک صرف ایک بہادر حکمراں ہی نہیں تھا بلکہ شاستروں اور ویدوں میں کسی رِشی کی سی مہارت رکھتا تھا اور رشی یاگیہ ولکیہ کاجنھوں نے اسے برہم گیان کی تعلیم دی تھی، محبوب شاگرد تھا۔ یہ گیان دراصل ’’برہد ارنیک اُپنشد‘‘ کا خلاصہ تھا۔ بھگو دگیتا میں شری کرشن نے کرم یوگی کی حیثیت سے راجا جنک کی مثال دی ہے۔ اس لحاظ سے راجا جنک سیتا کا پتا ہونے کی لیاقت رکھتا تھا۔ کیوںکہ سیتا جی دراصل وشنو کی جنھوں نے زمین پر رام کے روپ میں جنم لیا تھا پتنی ہونے والی تھیں۔
ایک مرتبہ B کی ّنیت سے جنک نے ایک منتخب جگہ پر ہل چلایا تھا اور جیسا کہ رسم ہے، اس نے یہ کام اپنے ہاتھوں انجام دیا تھا۔ جس وقت زمین صاف اور ہموار کی جارہی تھی، راجا جنک کو جھاڑیوں میں ایک بہت ہی خوبصورت ّبچی دِکھائی دی۔ جنک لاولد تھا اس لیے اس نے اِس معصوم ّبچی کو دھرتی ماتا کا دان سمجھ کر اپنا لیا۔ اس ّبچی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھاکر وہ اپنی محبوب بیوی کے پاس گیا اور بولا۔ ’’دیکھو ہمیں ایک خزانہ مل گیا ہے۔ مجھے B کی جگہ پر یہ بچی ملی ہے جسے ہم اپنی بیٹی کی طرح پالیں گے۔‘‘
رانی نے بڑی مسرّت کے ساتھ یہ بات قبول کرلی۔
ہماری مادّی آنکھیں دھرتی کی دیوی کے حسن کو پوری طرح نہیں دیکھ سکتیں۔ مگر جب ہم اپنے شکر گذار دل کی آنکھوں سے موسمِ بہار کی ہریالی اور مو ِسم خزاں کے سنہری کھیتوں کو دیکھتے ہیں یا حیرت اور احترام سے پہاڑوں، وادیوں، ندیوں اور سمندروں کی عظمت پر نظر ڈالتے ہیں تو اِس حسن کی جھلکیاں ہمیں دِکھائی دیتی ہیں۔
دھرتی ماتا کا یہ حسن سیتا میں پوری طرح اُتر آیا تھا۔ کمبن نے بیان کیا ہے کہ سیتا کے حسن نے لکشمی کے حسن کو، جو دودھ کے سمندر کے منتھن کے وقت امرت کے ساتھ باہر آئی تھیں، ماند کردیا تھا۔ آسمانی حسن کی مالک یہ ّبچی راجا جنک اور اس کی رانی کے ہاتھوں پروان چڑھ کر جوان ہوئی تھی۔
جب سیتا جی شادی کی عمر کو پہنچیں تو راجا جنک اس خیال سے اُداس ہوگئے کہ اب انھیں سیتا کو اپنے سے جدا کرنا پڑے گا۔ انھوں نے بہت کوشش کی مگر سیتا کے لایق کوئی راج کمار انھیں نہیں مل سکا۔ بہت سے راجا متھیلا پہنچے تاکہ سیتا کا ہاتھ مانگ سکیں لیکن راجا جنک کی نظروں میں ان میں سے کوئی بھی سیتا کے لایق نہیں تھا۔ اس کے بعد انھوں نے اس مسئلے پر بڑی تشویش کے ساتھ غور کیا اور ایک فیصلہ کرلیا۔
بہت عرصہ پہلے جنک کے Bسے خوش ہوکر ورُون دیوتا نے انھیں رُدر کی کمان اور دوترکش عطا کیے تھے۔ یہ ایک بہت قدیم آسمانی کمان تھی جسے کوئی عام انسان اٹھا بھی نہیں سکتا تھا۔ راجا جنک نے اس کمان کو ایک محترم موروثی شے کی طرح محفوظ رکھا تھا۔ راجا جنک کے نزدیک کوئی غیرمعمولی آدمی ہی سیتا کو بیاہنے کا اہل ہوسکتا تھا اس لیے انھوں نے یہ اعلان جاری کیا۔ ’’میری بیٹی سیتا سے وہی راجکمار بیاہ کرسکتا ہے جو شیو کی کمان کو، جسے ورون دیوتانے مجھے عطا کیا ہے، اٹھاسکے، موڑ سکے اور اس میں چلاّ چڑھاسکے۔‘‘
بہت سے راج کمار سیتا کی خوب صورتی کا ذکر سن کے اسے بیاہنے کے لیے متھیلا پہنچے اور ناکام اور مایوس لوٹ گئے۔ راجا جنک کی شرط کوئی بھی پوری نہ کرسکا۔
وِشوامتر کی سربراہی میں سِدّھ آشرم کے رشی بیل گاڑیوں پر سامان لاد کر متھیلا جارہے تھے۔ آشرم کے مویشی اور پرندے بھی وشوامتر کے پیچھے آنے لگے۔ تب انھوں نے نرمی سے انھیں رُک جانے کے لیے کہا۔
جب وہ لوگ سون ندی کے کنارے پہنچے تو شام ہورہی تھی اس لیے انھوں نے رات کو وہیں بسیرا کیا اور وشوامتر نے رام اور لکشمن کو اس مقام کی تاریخ بتائی۔ صبح اٹھتے ہی انھوں نے دو بارہ سفر شروع کیا اور ایک اور ندی پار کی جو زیادہ گہری نہیں تھی۔ دوپہر تک وہ لوگ گنگا کنارے پہنچ چکے تھے۔
سب نے اس پوتر ندی میں اشنان کیا اور رشیوں نے اپنے آبا و اجداد کی روحوں کو اس کے ّمقدس پانی کے ذریعے گناہوں سے پاک کیا۔ انھوں نے وہاں ایک آشرم بنایا، پوجا کی اور پھر کھانا پکایا۔ کھانا کھانے کے بعد سب وِشوامتر کے اِرد گرد بیٹھ گئے تب دونوں راج کماروں کی درخواست پر وشوامتر نے گنگا کی کہانی سنائی:
’’پربتوں کے راجا ہم وان اور اس کی رانی منورما کے دو بیٹیاں تھیں جن میں بڑی کانام تھا گنگا۔ دیوتاؤں کی درخواست پر ہم وان نے گنگا کو ُسورگ میں بھیج دیا اور وہ وہیں رہنے لگی۔ ان کی دوسری بیٹی اُما کو شیو نے پسند کرلیا اور وہ ان کی بیاہتا ہوگئی۔
ایودھیا کے ایک سابق راجا سگر کے کوئی بیٹا نہیں تھا۔ وہ اپنی دو بیویوں کیسنی اور سُمتی کے ساتھ ہمالیا میں جاکر ّتپسیا کرنے لگا۔ رشی بھرگونے اُس سے خوش ہوکر آشیرواد دیتے ہوئے کہا: ’تمھاری بہت سی اولادیں ہونگیں جو امر شہرت حاصل کریں گی۔ تمھاری دو بیویوں میں سے ایک کے یہاں اکلوتا بیٹا پیدا ہوگا جس سے تمھارا کل چلے گا۔ اور تمھاری دوسری رانی ساٹھ ہزار بلوان لڑکوں کو جنم دے گی۔‘
سگر کی رانیوں نے رشی کو جھک کر نمسکار کیا اور پوچھا کہ ان میں سے کس کے ہاں ایک بیٹا اور کس کی کوکھ سے ساٹھ ہزار بیٹے جنم لیں گے۔ رشی بھر گونے اُن دونوں سے اُن کی خواہش کے بارے میں پوچھا۔ کیسنی نے کہا کہ وہ صرف ایک بیٹے کی ماں بن کر خوش رہے گی۔کیوںکہ اُس سے راجا سُگر کی نسل چلے گی۔ سمتی نے ساٹھ ہزار لڑکوں کی ماں بننا قبول کرلیا۔
’ایسا ہی ہوگا۔‘ رِشی نے کہا۔
راجا اور اس کی دونوں رانیوں نے مطمئن ہوکر رشی سے واپس جانے کی اجازت مانگی اور ایودھیا لوٹ آئے۔ کچھ عرصے بعد کیسنی کے ہاں اسمنجس پیدا ہوا اور سُمتی نے باریک باریک ریشوں کے ایسے لوتھڑے کو جنم دیا جو ساٹھ ہزار ّبچوں میں تقسیم ہوگیا۔ ّبچوں کی اس فوج کی مناسب دیکھ بھال کے لیے ہزاروں دائیوں کا بندوبست کیا گیا۔
کئی سال بیت گئے۔ اور وہ ساٹھ ہزار لڑکے مضبوط اور خوب صورت راج کماروں میں بدل گئے جب کہ اسمنجس ایک بے رحم، جنونی انسان بن گیا۔ اُس کی تفریح یہ تھی کہ چھوٹے ّبچوں کو ندی میں پھینکے اور جب وہ باہر نکلنے کے لیے ہاتھ پیر مارتے ہوئے ڈوبنے لگیں تو ان کا تماشا دیکھ کر قہقہے لگائے۔ ظاہر ہے کہ لوگ اس پاگل سے سخت نفرت کرنے لگے اور انھوں نے اسمنجس کو دیش سے باہر نکال دیا۔ سب کو یہ دیکھ کر بڑی تسلّی ہوئی کہ اسمنجس کا بیٹا اَم سمان اپنے باپ کی ضد تھا۔ وہ ایک بہادر، نیک اور ملن سار راج کمار تھا۔
مہاراج سگر نے ایک بہت بڑا اَشو میدھ شروع کیا اور قربانی کے گھوڑے کی دیکھ بھال راج کمار اَم ُسمان کو سو ￿نپی۔ لیکن اِندر نے راکشس کا بھیس بدل کر گھوڑے کو چُرالیا۔ دراصل دیوتا انسانوں کے Bکو اپنی فوقیت کے لیے خطرہ محسوس کرتے تھے اور اس کام میں رُکاوٹ پیدا کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ اس کے باوجود ساری رکاوٹوں پر قابو پاتے ہوئے انسان B کو پورا کرنے میں کامیاب ہوجاتے تو دیوتا ان کے نذرانے کو قبول کرنے اور Bکرنے والے کو مناسب انعام واکرام سے نوازنے پر مجبور ہوجاتے تھے۔
راجا سُگر یہ جان کر بڑا دکھی ہوا کہ قربانی کا گھوڑا چرالیا گیا ہے۔ اس نے سُمتی کے ساٹھ ہزار بیٹوں کو اس کی تلاش میں روانہ کیا تاکہ وہ ساری دھرتی کو چھان ماریں اور اُسے واپس لوٹا لائیں۔ اس نے اپنے بیٹوں سے کہا: ’گھوڑے کا ُچرایا جانا محض B میں رُکاوٹ کا سبب نہیں ہے، اس سے ہم سب پر پاپ اور ذ ّلت کی مار بھی پڑے گی۔ اس لیے تم سب کا فرض ہے کہ گھوڑے کو، چاہے وہ کہیں بھی چھپایا گیا ہو، تلاش کرکے واپس لے آؤ۔‘
راجا سُگر کے بیٹوں نے بڑی بے تابی کے ساتھ ساری دھرتی پر گھوڑے کی تلاش شروع کردی مگر اس کا کہیں پتا نہ چلا۔ یہاں تک کہ انھوں نے دھرتی کو اس طرح کھودنا شروع کیا جیسے پوشیدہ خزانہ ڈھونڈ رہے ہوں اور اس اضطرابی کوشش میں مقامات اور اشخاص کی عزّت کا خیال بھی انھوں نے کھو دیا، جس کے نتیجے میں لوگ ان سے نفرت کرنے لگے۔ اس کے باوجود گھوڑا نہ ملا۔ جب انھوں نے راجا سُگر کو اپنی ناکامی کی اطلاع دی تو اس نے پاتال کو بھی تہہ و بالا کرنے کا حکم دیا۔ راج کماروں نے حکم کی تعمیل کی تو انھیں وہ گھوڑا پاتال میں واقع ایک آشرم کے کنارے گھاس چرتا ہوا مل گیا۔ وہیں پاس میں رشی کپل، جو دراصل وشنو تھے، دھیان میں بیٹھے ہوئے تھے۔
راج کماروں نے بغیر سوچے سمجھے یہ نتیجہ نکالا کہ انھیں نہ صرف گھوڑا ملا ہے بلکہ چور بھی مل گیا ہے اور یہ سوچ کر وہ سب چیختے چلاتے ہوئے رشی کپل کی طرف دوڑ پڑے۔
’وہ دیکھو چور! یوگی کا سوانگ رچائے بیٹھا ہے۔‘
رشی کپل کے دھیان میں خلل پڑا اور انھوں نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں، ساٹھ ہزار راج کمار راکھ کے ڈھیر میں تبدیل ہوگئے۔ گھوڑے کا اصلی چور تو اِندر تھا جس نے اسی مقصد کے تحت اسے بڑی چالاکی سے یہاں لاکر چھوڑ دیا تھا۔‘‘
ساتواں باب

 

Aتھ گنگا لاتا ہے

راجا سُگر قربانی کے گھوڑے کی تلاش میں نکلے ہوئے راج کماروں کا انتظار ہی کرتا رہ گیا۔ آخر تھک ہار کر اس نے چند روز بعد اپنے پوتے اَم ُسمان کو بلایا اور کہا: ’’میں یہ جاننے کے لیے بے چین ہوں کہ پاتال میں جانے والے راج کماروں کا کیا ہوا۔ تم بہادر ہو، ہتھیاروں سے لیس ہوکر وہاں جاؤ اور معلوم کرو کہ کیا ہوا۔ اور یاد رکھو کامیاب ہوکر ہی لوٹنا۔‘‘
راج کماروں کے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے اَم سُمان پاتال میں جاپہنچا۔ جہاں اُسے چاروں کونوں پر جسیم ہاتھی کھڑے نظر آئے۔ اس نے انھیں پرنام کیا۔ چاروں کونوں کے ان محافظوں نے اس کی ہمّت بڑھائی اور یقین دلایا کہ وہ اپنی مہم میں کامیاب ہوگا۔
جب اَم سُمان پاتال میں اِدھر اُدھر گھومنے لگا تو اسے قربانی کا گھوڑا بڑے مزے سے گھاس چرتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوگیا لیکن جیسے ہی اس کی نظر چاروں طرف بکھرے ہوئے راکھ کے ٹیلوں پر پڑی تو وہ حیران اور مضطرب ہوگیا۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ اس کے بہادرچاچاؤں کی راکھ ہو۔
سُگر کی دوسری بیوی سمتی کا بھائی پرندوں کا راجا گروڈ جو ا ّتفاق سے وہاں موجود تھا، اَم سمان سے بولا: ’’ ُسگر کے ساٹھ ہزار لڑکوں کا وجود بس یہی راکھ کا ڈھیر ہے۔ کیونکہ انھیں رشی کپل کی عتاب بھری نظر نے جلاکر خاک کردیا ہے۔ میرے بچیّ! گھوڑے کو لے جاؤ اور Bپورا کرو۔ ا ّلبتہ رسم کے مطابق مرنے والوں کی آتماؤں کو شانتی ملنے کے لیے راکھ کے ان ڈھیروں پر پانی چھڑکنا ہوتو دیوتاؤں کی سرزمین سے گنگا کو نیچے اُتارنا ہوگا۔‘‘
اَم ُسمان گھوڑے کو لے کر تیزی سے گھر لوٹا اور جو کچھ اس نے دیکھا اور جانا تھا، راجا سے بیان کیا۔ یہ سن کر ُسگر غم میں ڈوب گیا. اس کی بدقسمتی نے اس کی اولاد کو فنا کردیا تھا۔ بہرحال گھوڑا واپس مل چکا تھا۔ اس لیے Bپورا کرلیا گیا مگر اپنے بیٹوں کی موت اور گنگا کو پاتال میں اُتارنے میں ناکامی کے غم میں اس کی موت واقع ہوگئی۔
والمیکی کی راماین کے مطابق راجا ُسگر کی عمر ۳۰ ؍ہزار سال تھی۔ تیس ہزار یا ساٹھ ہزار جیسے اعداد سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے کیونکہ تیس ہزار سے مراد محض ایک لمبی یا صرف تیس سال کی مدّت بھی ہوسکتی ہے۔ البتہّ ہمارا جی چاہے تو ہم ان اعداد کو حرف بہ حرف صحیح بھی تسلیم کرسکتے ہیں۔
سُگر کے بعد ایودھیا کے راجا کی حیثیت سے اَم ُسمان تخت پر بیٹھا اور اس کے بعد دلیپ کو راج گدّی ملی۔ دلیپ کے بعد Aتھ راجا بنا۔ اَم سُمان اور دلیپ اگرچہ زندگی کے اور معاملات میں خوش نصیب اور خوش حال تھے مگر آخری دم تک اُنھیں یہی غم رہا کہ وہ اپنے بزرگوں کی نجات کے لیے گنگا کو پاتال تک نہیں لاسکے۔
اُن کا وارث Aتھ ایک بہادر راجا تھا مگر اس کے کوئی اولاد نہ تھی۔ اولاد کے حصول اور گنگا کو زمین پر لانے کی اُ ّمید میں اس نے ّتپسیا کی ّنیت سے اپنی حکومت اپنے وزیروں کے ہاتھوں میں سو ￿نپی اور گو کرن کی راہ لی۔ Aتھ نے کڑی ّتپسیائیں کیں۔ چاروں طرف آگ جلاکر اور تپتی ہوئی دھوپ میں کھلے سربیٹھ کر اور مہینے میں صرف ایک مرتبہ کھانا کھاکر اس نے اپنی ّتپسیا جاری رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ کسی نیک کام میں کی جانے والی سخت کوشش کے لیے Aتھ کی جدّوجہد کی مثال دی جاتی ہے۔
Aتھ کی ّتپسیا سے خوش ہوکر برہما نے اسے درشن دیا۔ اور پوچھا: ’’مانگو کیا مانگتے ہو۔‘‘
Aتھ نے برہما سے دو وردان مانگے۔ وہ بولا: ’’اگر آپ کو مجھ پر دَیا آتی ہے تو مجھے اولاد سے نوازیے، تاکہ میرے آباو اجداد کی نسل چلتی رہے۔ دوسرے یہ کہ کپل منی کے شراپ کی وجہ سے میرے پرکھے پاتال میں راکھ کا ڈھیر بنے پڑے ہیں۔ اگر اس راکھ کو گنگا کا پوتر پانی دھودیتا ہے تو میرے پُرکھوں کی آتمائیں ُسورگ میں جاسکیں گی۔ آپ مہربانی کرکے گنگا کو وہاں جانے کا حکم دیجیے۔‘‘
برہما نے جواب دیا: ’’دیوتا تمھاری ّتپسیا سے خوش ہوئے۔ تمھاری دونوں خواہشیں پوری کی جاتی ہیں۔ لیکن ایک مشکل ہے۔ یہ دھرتی گنگا کے اوترن کے زور کو برداشت نہیں کرسکے گی، صرف شیو میں یہ طاقت ہے کہ ُسورگ سے اُترنے والی گنگا کا زور سہارسکیں۔ اس لیے تم شیو کو منانے کے لیے ّتپسیا اور پوجا کرو۔‘‘
Aتھ نے نئے سرے سے ّتپسیا کرنا شروع کی اور ایک لمبے عرصے تک بغیر کھائے پیے ّتپسیا کرتا رہا۔ یہاں تک کہ اسے شیو کی خوشنودی حاصل ہوگئی۔ شیو نے اس کے سامنے نمودار ہوکر کہا: ’’میں تمھاری خواہش پوری کروں گا، میں گنگا کو اپنے سرپہ لوں گا۔ تم پر گنگا کی کرپا ہو۔‘‘
جب مہادیو نے Aتھ کی مدد کرنے کا وعدہ کیا تو گنگا نے برہما کے اشارے پر ُسورگ سے نیچے اُترنا شروع کیا۔ اس نے اپنے غرور میں سوچا کہ میں مہادیو کے سرپہ زور سے گروں گی اور انھیں بھی پاتال کی اور بہالے جاؤں گی۔ تین آنکھوں کے مالک بھگوان شیو نے بھی گنگا کو سبق سکھانے کی سوچی۔ مہادیو کے ارادہ کرتے ہی ان کے سرپر گرنے والے پانی کے دھارے کو ان کے الجھے ہوئے بالوں نے ایک پُرنہ ہونے والے برتن کی طرح اپنے اندر سمولیا۔ گنگا نے اپنی پوری کوشش کی کہ باہر آجائے مگر شیو کی الجھی ہوئی لٹوں کے جال میں سے اس کا ایک قطرہ بھی باہر نہ آسکا۔
یہ گنگا کے لیے ایک سبق ضرور تھا مگر Aتھ کے لیے دل توڑ دینے والی مایوسی کا سبب بھی تھا۔ اب اس کے لیے نئے سرے سے ّتپسیا کرکے شیو کو منانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔ اس نے ایک نیک کام کی خاطر یہ کڑی محنت کی تھی اس لیے شیو نے اُس پر رحم کھاکر گنگا کے پانی کو آہستہ سے ’’بندو سارس‘‘ میں اتار دیا۔ یہاں سے وہ سات چھوٹے چھوٹے چشموں کی شکل میں بہہ نکلی۔ ان میں سے تین چشمے مغرب کی طرف اور تین مشرق کی طرف بہہ گئے۔ اور ایک ندی Aتھ کے پیچھے پیچھے چلنے لگی جو اپنے پُرکھوں کی نجات کو قریب دیکھ کر خوشی سے پھولا نہیں سما رہا تھا۔
گنگا Aتھ کے فاتح رتھ کے پیچھے چلنے لگی۔ جیسے جیسے ندی اپنا راستہ طے کرتی گئی اس کا پانی اچھلتا ہوا اور بجلی کی طرح چمکتا ہوا آگے بڑھتا گیا۔ اس خوبصورت منظر کا نظارہ کرنے کے لیے آسمان میں دیوتا اور گندھرو جمع ہوگئے۔ کبھی آہستہ تو کبھی تیز، کبھی سرکتے ہوئے تو کبھی اُچھلتے ہوئے، گنگا Aتھ کے رتھ کے پیچھے ناچتی گاتی چلتی رہی اور دیولوک کے رہنے والے اس منظر کا لطف اٹھاتے رہے۔
گنگا نے اپنے راستے میں آنے والے جہنورشی کے B کے لیے نصب کیے ہوئے مچان کو نقصان پہنچایا۔ نتیجے میں رشی جہنونے گنگا کا ساراپانی اپنے چلّو میں بھرلیا اور اسے پی گئے۔ گنگا پھر سے Aتھ کو دُکھی اور پریشان چھوڑ کر غائب ہوگئی۔
دیوتا اور دوسرے رشیوں نے جہنو کے پاس جاکر ان سے درخواست کی کہ گنگا کو معاف کردیں اورAتھ کو اپنی ّتپسیاؤں اور ریاضتوں کا پھل بھوگنے کی اجازت دیں۔ رِشی نے ان کی بات مان لی اور گنگا کو اپنے سیدھے کان سے باہر نکال دیا۔ دیوتا خوش ہوگئے اور انھوں نے گنگا کو اس طرح آشیرواد دیا:
’’رشی جہنو کے بدن سے تم اس طرح نکلی ہو جیسے ماں کی کوکھ سے بچہّ پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے تم جاہنوی ہو یعنی جہنو کی بیٹی۔‘‘
اس کے بعد نہ تو کوئی رُکاوٹ پیش آئی اور نہ کوئی حادثہ ہوا اور سمندر کے راستے گنگا پاتال تک پہنچ گئی۔ گنگا کے پوتر پانی سے Aتھ نے اپنے پُرکھوں کا کریا کرم کیا جس سے ُسورگ میں اُن کا داخلہ یقینی ہوگیا۔Aتھ کی کوششوں سے گنگا دھرتی پر آئی اس لیے اُسے بھاگیرتھی کہا جاتا ہے۔‘‘
اپنی کہانی ختم کرتے ہوئے وِشوامتر نے راج کماروں کو آشیرواد دیا۔ اور بولے:
’’سورج غروب ہورہا ہے۔ چلو ہم اپنی شام کی پوجا گنگا کے پانی سے کریں جسے تمھارا ایک پُرکھا زمین پر لایا ہے۔‘‘
وہ لوگ جو گنگا کے پوتر پانی میں اشنان کرتے ہیں یا بھکتی بھاونا سے اِس مقدّس کہانی کو پڑھتے یا سنتے ہیں ان کے سارے پاپ دُھل جاتے ہیں اور انھیں نیکی، استحکام اور ان تھک جوش حاصل ہوتا ہے۔
آٹھواں باب

 

اہلیا

شہر وشال میں ایک دن ٹھہرنے کے بعد وشوامتر اپنی جماعت کے ساتھ متھیلا روانہ ہوگئے۔ متھیلا سے قریب ایک جگہ انھوں نے ایک خوب صورت آشرم دیکھا۔ لیکن یہاں کسی آشرم واسی کا پتا نہیں تھا۔ رام نے وشوامتر سے پوچھا: ’’اتنے پرانے درختوں سے گھرا ہوا یہ کس کا آشرم ہے؟ ایسی خوب صورت جگہ کو یہاں کے رہنے والے کیوں چھوڑ گئے؟‘‘
وِشوامتر نے جواب دیا: ’’دراصل یہ آشرم ایک شراپ کا شکار ہوگیا ہے۔ یہاں رشی گوتم اپنی بیوی اہلیا کے ساتھ رہتے تھے، اور دلی سکون کے ساتھ دھیان گیان میں اپنے دن بتاتے تھے۔ ایک دن جب کہ رشی آشرم سے دُور تھے، اِندر نے خوب صورت اہلیا کے لیے ناپاک خواہش سے مغلوب ہوکر رِشی گوتم کا بھیس بدلا اور اہلیا سے فوری وصال کا طالب ہوا۔ اہلیا نے گوتم کے بھیس میں بھی اِندر کو پہچان لیا مگر اپنی خوب صورتی کے غرور میں اور اس بات پر فخر کا احساس کرتے ہوئے کہ دیولوک کا راجا اِندر اس کی محبت میں گرفتار ہے، وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور اِندر کی بات مان گئی۔
گناہ کا ارتکاب کرتے ہی اُسے احساس ہوا کہ اس نے نہ صرف ایک گھناونا پاپ کیا ہے بلکہ زبردست روحانی طاقت کے مالک شوہر کو دھوکا دیا ہے۔ چناںچہ اس نے اِندر کو اس کے تباہ کن نتیجے سے آگاہ کرتے ہوئے اس سے منّت کی کہ وہ وہاں سے فوراً نکل جائے۔
اِندر شدید احساسِ جرم کی گھبراہٹ میں وہاں سے بھاگنے لگا لیکن بدقسمتی سے اشنان کرکے واپس آنے والے گوتم رشی سے، جو گیلے کپڑوں اور روحانی نور میں لپٹے سامنے کھڑے تھے، قریب قریب ٹکراگیا۔ اِندر نے جب دیکھا کہ سرو گیانی گوتم کے سامنے ڈھونگ رچانا بے کار ہوگا تو اس نے فوراً حقیرانہ عاجزی کے ساتھ اُنھیں نمسکار کیا اور ان کے قدموں میں گرکر رحم کی بھیک مانگنے لگا۔ رشی نے غصّے اور نفرت سے اس کی طرف دیکھا اور شراپ دیا: ’تم ایک خواہشوں کے غلام جانور ہو جسے ستیہ اور نیکی کا کوئی احساس نہیں ہے۔ اس لیے تم اپنی مردانگی سے محروم ہوجاؤگے۔‘
’’اِندر فوراً ایک زنخے میں تبدیل ہوگیا اور ذ ّلت آمیز شرمندگی کے ساتھ دیوتاؤں کے پاس واپس چلا گیا۔ اس کے بعد رشی نے اپنی غلط کار بیوی کی طرف دیکھا اور اسے ایک طویل پرائشچت کی بد دعا دی۔ انھوں نے کہا: ’ایک طویل مدّت تک تم صرف ہوا پر زندہ رہوگی اور کوئی تمھیں دیکھ نہیں سکے گا جب تک کہ دشرتھ کا بیٹا اس راہ سے نہ گزرے۔ جب وہ اس آشرم میں قدم رکھے گا تو اس شراپ سے تم آزاد ہوجاؤ گی۔ ایک مہمان کی طرح اس کا سواگت اور اس کی خدمت کرنا۔ ایسا کرنے پر تم اپنی کھوئی ہوئی عصمت اور خوب صورتی کو واپس حاصل کرسکو گی۔‘
یہ کہہ کر رِشی گو تم نے اپنا وہ آشرم، جس کی حرمت کو برباد کردیا گیا تھا، ترک کردیا اور ّتپسیائیں کرنے کے لیے ہمالیا کی طرف چلے گئے۔‘‘
وِشوامتر نے رام سے کہا: ’’آؤ اس آشرم میں چلیں۔ تم اہلیا کو اس کے شراپ سے نجات دلاؤگے اور رِشی کے کیے ہوئے وعدے کے مطابق اس کا حسن اور اس کی عصمت اسے واپس مل جائے گی۔‘‘
چناںچہ وہ لوگ آشرم میں داخل ہوئے۔ جیسے ہی رام نے آشرم میں قدم رکھا اُن کے چرنوں کے اسپرش سے شراپ کا خاتمہ ہوگیا اور اہلیا اپنی تمام تر خوب صورتی کے ساتھ ان کے سامنے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ جھاڑیوں اور پتوّں میں چھپی رہنے اور سالہا سال تک اپنی حالت پر قایم رہنے کے سبب رام کی موجودگی میں وہ ایسی تاب ناک لگنے لگی جیسے بدلی سے باہر آنے والا چاند، یا جیسے دُھوئیں سے اُٹھنے والا شعلہ یا جیسے مچلتے ہوئے پانی میں سورج کی کرنوں کا انعکاس ہو۔
رام اور لکشمن نے پرائشچت کے بعد پوتر ہوجانے والی رشی کی بیوی کے پیر چھوئے۔ اُس نے بھی مہمان نوازی کے تمام رسمی آداب کے ساتھ ان دیوتا صفت راج کماروں کا سواگت کیا۔ گناہوں سے پاک ہونے کے بعد اہلیا ایک دیوی کی طرح پُرنور ہوگئی اور آسمانوں سے اس پر پھولوں کی بارش ہوئی۔ ساتھ ہی ساتھ رِشی گوتم بھی آشرم میں لوٹ آئے، اور انھوں نے گناہ پر شرم سار اور دوبارہ پوتر ہوجانے والی بیوی کو اپنی محبت کے دائرے میں واپس لے لیا۔
یہ والمیکی کی بیان کی ہوئی اہلیا کی کہانی ہے۔ اگرچہ پُرانوں میں اور عوامی حکایتوں میں اس کہانی کے کسی قدر مختلف روپ ملتے ہیں لیکن ان اختلافات سے ہمیں پریشان نہیں ہونا چاہیے۔
میں اپنے زمانے کے ان لوگوں سے، جو راماین، مہابھارت اور دوسرے پُرانوں کا مطالعہ کرتے ہیں، چند باتیں کہنا چاہوں گا۔ ان صحیفوں میں جگہ جگہ دیوتاؤں اور راکشسوں کا ذکر ملتا ہے۔ راکشس شریر تھے، دھرم کی خلاف ورزی کرتے تھے اور ادھرم کے کاموں میں مسرّت محسوس کرتے تھے۔ اَسور بھی راکشسوں ہی کے مانند تھے۔ لیکن خود راکشسوں میں دانش مند اور نیک لوگ بھی ہوا کرتے تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ بہترین نسل کے لوگوں میں بُرے لوگ پیدا ہوتے ہیں اور بُروں میں ا ّچھے جنم لیتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ اسور اور راکشس دراصل وہ لوگ تھے جو بُرے کام کرنے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ افسوس ہم اپنی کم علمی کی وجہ سے اَسوروں اور راکشسوں کو قدیم ہندوستان کے جنگلی قبیلوں اور وحشی نسلوں کے لوگ سمجھتے ہیں۔ حالاںکہ کسی پرانے ادب یا روایت یا تاریخ میں ایسی کوئی بات نہیں ملتی ہے جس سے اس خیال کی تائید ہوسکے۔ غیر ملکیوں کا یہ قیاس کہ راکشسوں سے مراد دراوڑی نسل کے لوگ ہیں، کسی تامل ّمصنف یا ادبی تصنیف سے ثابت نہیں ہوتا ہے۔ تامل باشندے اَسوروں یا راکشسوں کی نسل سے نہیں ہیں۔
دیوتا عام طور پر دھرم کے محافظ ہوتے تھے اور راکشسوں کو شکست دینا اپنا فرض سمجھتے تھے۔ ُپرانوں کے مطابق راکشسوں کا مقابلہ کرنے کے لیے انھیں بعض اوقات دھرم کے خلاف بھی قدم اٹھانا پڑتا تھا کیونکہ بعض راکشس اپنی ّتپسیاؤں کے سبب غیر معمولی قوّت کے مالک ہواکرتے تھے۔
دیوتا عموماً نیک چلن ہواکرتے تھے اور جو نیک چلنی کے راستے سے بھٹک جاتے تھے انھیں اس کا پرائشچت کرنا پڑتا تھا۔ دیوتاؤں کے لیے دھرم یا شریعت کا کوئی الگ ضابطۂ عمل نہیں تھا۔ کرم کا اصول دیوتاؤں اور دوسری مخلوقات میں فرق نہیں کرتا۔ دھرم کا قانون دیوتاؤں اور دوسری مخلوقات پر یکساں لاگو تھا۔
دیوتاؤں کے ساتھ نیکی کا تصوّر لازمی تھا اس لیے ان کی چھوٹی سی لغزش بھی ہمیں سفید کپڑے پر لگے ہوئے داغ کی طرح نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ اور راکشسوں سے بُرے کرموں ہی کی تو ّقع کی جاتی ہے، اس لیے ان کے بُرے عمل کالے کپڑے پر لگے دھبّوں کی طرح نظر انداز ہوجاتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ نیک انسان اگر بہک جائے تو ہماری ہم دردی کا مستحق ہونا چاہیے، لیکن دنیا کا چلن یہ ہے— حالانکہ یہ غلط چلن ہے— کہ ہم نیک لوگوں کی چھوٹی سی لغزشوں پر بھی انھیں سخت لفظوں میں پھٹکارتے ہیں اور مستقل خطاکرنے والوں کو آسانی سے برداشت کرلیتے ہیں۔
یہ بات قابلِ غور ہے کہ پُرانوں میں ہم دیوتاؤں کو دھرم اور ادھرم کی کشمکش میں مبتلا دیکھتے ہیں۔ اِندر اور دوسرے دیوتاؤں کو ُپرانوں میں سنگین پاپ کرتے ہوئے بھی دکھایا گیا ہے۔ آخر اُن رِشیوں نے جو ان پُرانوں کے ّمصنف ہیں، ایسی باتیں بیان کرکے اپنے لیے مشکلات کیوں پیدا کرلیں؟ دراصل ان کا مقصد لوگوں کو دھرم پر چلنے کی راہ کے خطرات سے آگاہ کرنا تھا۔ ورنہ انھیں کیا ضرورت تھی کہ اپنے ہی مثالی کرداروں کے ساتھ جان بوجھ کر پاپ کرموں کو جوڑتے اور اپنی تعلیم کی راہ میں مشکلات حائل کرلیتے؟
کچھ لوگ پُرانوں میں بیان کردہ واقعات سے فوری غلط نتائج نکالنے میں مسرّت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی دلیل ہوتی ہے: ’’راون ایک بہت ا ّچھا حکمراں تھا۔ والمیکی نے غلطی سے بُرے کاموں کا الزام اس کے سر ڈال دیا ہے۔‘‘ وہ پوچھتے ہیں: ’’کیا فلاں موقع پر رام نے بھی ناانصافی سے کام نہیں لیا؟ کیا سیتا جی نے فلاں موقع پر جھوٹ نہیں کہا؟‘‘ وغیرہ وغیرہ۔
والمیکی چاہتے تو بڑی آسانی سے ان واقعات کو حذف کرسکتے تھے جن سے لوگوں کو روحانی درس نہیں ملتا۔ رام اور راون دونوں کا ذکر سب سے پہلے کوی والمیکی ہی نے کیا ہے۔ والمیکی کی راماین سے پہلے لکھی گئی کوئی ایسی تصنیف نہیں ملتی جس میں راون کا ذکر ہو اور جس کے حوالے سے والمیکی کے بیان کی تردید کرکے انھیں رام، سیتا اور دیوتاؤں کا طرف دار اور واقعات کو توڑ مروڑ کر لوگوں کو دھوکا دینے کا قصو وار قرار دیا جاسکے۔
اس قسم کے واقعات کا ٹھنڈے دل سے جائزہ لیا جائے تو پتا چلے گا کہ راماین میں ہماری روز مرّہ کی زندگی کے ملتے جلتے مسائل ہی کا عکس ملتا ہے۔ اب یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم پرانوں میں بیان کردہ اخلاقی آزمائشوں سے سبق سیکھیں۔ مثلاً اہلیا کے واقعہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہمارا پاپ کتنا ہی بڑا ہو، سزا اور پرائشچت سے گزر کر ہم اس سے نجات پانے کی تو ّقع رکھ سکتے ہیں۔ دوسروں کے پاپوں پر انھیں لعنت ملامت کرنے کے بجائے ہم خود اپنے دلوں کو ٹٹولیں اور ہر قسم کے بُرے خیال سے انھیں پاک کرنے کی کوشش کریں۔ ہم میں سے جو سب سے نیک ہیں انھیں گناہوں سے بچنے کے لیے ہمیشہ بیدار اور محتاط رہنا چاہیے۔ اہلیا کی خطا سے ہمیں یہی سبق ملتا ہے۔
نواں باب

 

سیتا سوl

جنک کے B کی ساری تیاّریاں ّمکمل ہوچکی تھیں اور مختلف ریاستوں کے رشی منی اور برہمن وہاں پدھار چکے تھے۔ وشوامتر اور ان کے ہم راہ آئے ہوئے راج کماروں کا مناسب سواگت کیا گیا۔ راجا جنک کے پروہت (دھرم ُگرو) شانند نے سب سے پہلے وِشوامتر کو تعظیم دی۔ پھر جنک نے ان کی تقلید کی، راجانے رشی سے کہا: ’’یہ میرے لیے بڑی سعادت کی بات ہے کہ آپ میرے B میں شریک ہیں۔‘‘
رام اور لکشمن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جنک نے وِشوامتر سے پوچھا: ’’یہ دونوں دیوتا صورت نوجوان کون ہیں جن کی صورتیں ایک دوسرے سے ملتی جلتی ہیں اور جو تجربہ کار ُسورماؤں کی طرح اپنے ہتھیاروں کو فخریہ بے پروائی کے ساتھ اُٹھائے ہوئے ہیں؟ وہ کون خوش نصیب باپ ہے جس کے یہ بیٹے ہیں؟‘‘
وِشوامتر نے جنک کو بتایا کہ وہ دونوں راجا دشرتھ کے بیٹے رام اور لکشمن ہیں۔ انھوں نے ان دونوں کے راکشسوں کو تباہ کرنے اور ان کے Bکو بچانے کی بات بھی بتائی: ’’یہ دونوں یہاں اس لیے آئے ہیں کہ ممکن ہوتو تمھارے محل میں رکھی ہوئی رُدر کی کمان کے درشن کرسکیں۔‘‘
جنک وِشوامتر کے الفاظ کا مطلب سمجھ گئے اور دِل ہی دل میں خوش ہوئے، وہ بولے:
’’کمان دیکھنے کے لیے راج کمار کا سواگت ہے۔ اگر وہ اس پر چلاّ چڑھا سکے تو میری بیٹی کو جیت لے گا۔ بہت سے راج کمار آئے جنھوں نے اس کمان کو دیکھا اور واپس چلے گئے کیوںکہ وہ اسے اپنے جگہ سے ہلا بھی نہیں سکے تھے۔ مجھے سچ مچ بڑی خوشی ہوگی اگر یہ راج کمار وہ کام کر دکھائے جس میں اتنے راج کمار ناکام رہے ہیں، تاکہ میں اپنی سیتا کا بیاہ اس سے کرسکوں۔‘‘
اس کے بعد جنک نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ بڑی حفاظت اور تقدّس کے ساتھ ایک لوہے کے صندوق میں رکھی ہوئی کمان کو وہاں لے آئیں۔ چناںچہ یاترا کے موقع پر نکالے جانے والے مندروں کے رتھ کی طرح آٹھ ّپہیوں والے رتھ پر رکھ کر وہ کمان وہاں لائی گئی۔
’’یہ رہی وہ رُدر کی کمان جسے میں اور میرے پُرکھے پوجتے چلے آئے ہیں۔‘‘ جنک نے کہا: ’’رام آئیں اور اس کے درشن کریں۔‘‘
وِشوامتر اور راجا جنک کی اجازت پاکر رام اس لوہے کے صندوق کے پاس گئے جس میں کمان رکھی ہوئی تھی۔ اس وقت سبھی کی آنکھیں پر اُ ّمید انداز میں ان پر جمی ہوئی تھیں۔ صندوق کو کھولتے ہوئے انھوں نے بڑی آسانی سے کمان کو اٹھالیا گویا وہ پھولوں کا ہار ہو۔ پھر اس کا ایک سرا اپنے پیر کے پنجے میں پکڑکر انھوں نے اسے موڑا اور اس پر چلاّ چڑھا دیا۔ پھر کمان کی ڈور کو ایسی زبردست قوّت کے ساتھ کھینچا کہ وہ مضبوط کمان بجلی کی کڑک کی آواز کے ساتھ دو ٹکڑے ہوگئی۔ اسی کے ساتھ آسمان سے پھولوں کی بارش ہوئی۔
جنک نے اعلان کیا: ’’میری پیاری بیٹی کا بیاہ اس راج کمارسے ہوگا۔‘‘
وِشوامتر نے جنک سے کہا: ’’ اپنے سب سے تیز رفتار قاصدوں کو ایودھیا روانہ کرو تاکہ وہ راجا دشرتھ کو اس بات کی اطلاع اور بیاہ میں شرکت کا نیوتا دے سکیں۔‘‘
جنک کے قاصد تیسرے ہی دن ایودھیا پہنچ گئے۔ انھوں نے اِندر کی طرح دربار لگاکر بیٹھے ہوئے راجا دشرتھ کے حضور میں حاضری دی اور عرض کی:
’’مہاراج! رشی وشوامتر اور راجا جنک نے آپ کے لیے خوش خبری بھیجی ہے۔ آپ کے بیٹے رام نے جو میتھلا پدھارے تھے، ہماری راج کماری سیتا کو، انھیں حاصل کرنے کی شرط پوری کرکے، جیت لیا ہے۔ انھوں نے رُدر کی کمان پر، جسے اُن سے پہلے کوئی ہلا بھی نہیں سکا تھا، نہ صرف چلاّچڑھایا بلکہ اس کو اس طرح موڑا کہ وہ اپنے غرور کے ساتھ دو ٹکڑے ہوگئی۔ راجا جنک اس بیاہ کے لیے آپ کی کریمانہ اجازت اور اس تقریب میں آپ کی شرکت اور آشیرواد کا بڑی بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ آپ سے التجا ہے کہ اپنے جاہ و حشم کے ساتھ متھیلا کے لیے روانہ ہوں۔‘‘
راجا دشرتھ، جنھوں نے رام کو رشی وشوامتر کے ساتھ ان کی یقین دہانی کے باوجود بڑے فکر مند دل کے ساتھ روانہ کیا تھا، یہ خوش خبری سن کر خوشی سے اُچھل پڑے۔ انھوں نے اپنے وزیروں کو حکم دیا کہ فوراً سفر کی تیاّری کریں۔ اور دوسرے ہی دن وہ راجا جنک کی راجدھانی کی طرف روانہ ہوگئے۔
جب راجا دشرتھ، ان کے درباری اور نوکر چاکر متھیلا پہنچے تو گرم جوشی سے ان کا سواگت کیا گیا۔ آپسی نمسکار اور تواضع کے بعد جنک نے دشرتھ سے کہا: ’’میرا B جلد ہی پورا ہوجائے گا۔ میرا خیال ہے کہ B ختم ہوتے ہی دونوں کا بیاہ کرنا بہتر ہوگا۔‘‘
یہ کہہ کر انھوں نے دشرتھ کی منظوری کے لیے ان کی طرف دیکھا۔
’’آپ لڑکی کے ِپتا ہیں اور آپ ہی کو اس کا ادھیکار ہے کہ جس طرح چاہیں رسم پوری کریں۔‘‘ راجا دشرتھ نے جواب دیا۔
مقرّرہ دن اور گھڑی پر راجا جنک نے سیتا کو رام سے بیاہ دیا اور بولے: ’’میری بیٹی سیتا اب آپ کے حوالے ہے جو دھرم کے راستے پر آپ کے قدم سے قدم ملا کر چلے گی۔ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں تھامے رہنا۔ سعادت مندی اور عقیدت مندی کے ساتھ وہ آپ کا سایہ بن کر چلے گی۔‘‘
اس طرح جنک نے سیتا کو رام سے بیاہ دیا۔ کیا وہ دونوں ازلی پریمی نہیں تھے جو دھرتی پر پھر سے مل گئے؟ چناں چہ وہ دونوں اس ملن پر ایسے ہی مسرور ہوئے جیسے بچھڑے ہوئے پریمی ایک مدّت کے بعد ملے ہوں۔
دسواں باب

 

پرشورام کی شکست

ایودھیا میں وِشوامتر کے حوالے کیے گئے دونوں راج کماروں کو انھوں نے حفاظت کے ساتھ مِتھیلا میں راجا دشرتھ کے حوالے کیا۔ پھر بیاہ کی تقریبات میں شرکت کرنے کے بعد انھوں نے دونوں سے رخصت لی اور ہمالیا کی طرف چلے گئے۔ راماین میں اس کے بعد وِشوامتر کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔
وِشوامتر کو راماین کی کتھا کے مندر کا سنگِ بنیاد کہا جاسکتا ہے۔ چناںچہ مِتھیلا میں رام کے بیاہ کے بعد وہ ہمیں پھر کہیں نظر نہیں آتے۔ خیال رہے کہ والمیکی راماین کی ایک فصل یا کانڈ میں جو کردار نمایاں اور مرکزی حیثیت رکھتے ہیں ، دوسری فصل میں وہ نظروں سے غائب ہوجاتے ہیں۔ مثلاً وِشوامتر جو بال کانڈ میں سب سے اہم کردار ہیں، پھر نظر نہیں آتے۔ اس طرح کیکئی اور گہا صرف ایودھیا کانڈ ہی میں نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ بھرت کے بارے میں بھی یہی بات کہی جاسکتی ہے جو چترکوٹ کی ملاقات اور رام کی ایودھیا کو واپسی کے درمیان کے ابواب میں کہیں دِکھائی نہیں دیتے۔ رام کے بن باس کے زمانے میں کوی والمیکی نے بھرت کو شاذ ہی کہیں پیش کیا ہے۔ والمیکی راماین کے کردار ہمارے سامنے بار بار نہیں آتے جیسا کہ مہابھارت اور دوسرے عام ناٹکوں اور کتھاؤں میں دِکھائی دیتے ہیں۔ ہمارے نقاّدوں کو والمیکی کے رزمیے کی اس عمومی خاصیت کو دھیان میں رکھنا چاہیے۔
راجا دشرتھ اپنے تام جھام کے ساتھ ایودھیا لوٹے۔ راستے میں کچھ برُے شگون بھی سامنے آئے اور پریشان دشرتھ نے وِسِشٹھ سے ان کی تعبیریں پوچھیں۔ وسِشٹھ نے جواب میں راجا کو مطمئن رہنے کے لیے کہا۔ کیوںکہ فضا میں اُڑتے پرندے آنے والی آفت کی نشان دہی کر رہے تھے۔ مگر زمین کے جانور رام اور سیتا کی خوش گوار بیاہتا زندگی کا یقین دلا رہے تھے۔
دشرتھ اور وسِشٹھ کے درمیان بات چیت چل رہی تھی کہ اچانک آندھی شروع ہوگئی۔ درخت اُکھڑ کر گرنے لگے، زمین ہلنے لگی اور آندھی کے ساتھ اُٹھنے والے گردوغبار کے بادلوں نے سورج کو بھی چھپا لیا۔ چاروں طرف گہری تاریکی چھا گئی۔ ہر شخص خوف زدہ ہوگیا۔ جلد ہی انھیں اس عجیب قدرتی مظہر کی وجہ معلوم ہوگئی۔ان کے سامنے خوف زدہ کرنے والی پرشورام کی عظیم شبیہ، کھڑی تھی۔ چھتریوں کا جانی دشمن پرشورام ایک کاندھے پر کمان اور دوسرے پر جنگی کلہاڑی (تبر) اور ہاتھ میں بجلی کی طرح چمکتا ہوا تیر لیے ہوئے تھا۔ خوفناک چہرے کے ساتھ اور اُلجھی ہوئی جٹاؤں کو سر کے اوپر باندھے ہوئے وہ ایسا لگ رہا تھا جیسے تری پرا کو تباہ کرنے میں فخر کا احساس کرنے والا رُدر ہو۔ اس کے چہرے کی چمک شعلوں جیسی تھی۔ رِشی جمداگنی کا یہ بیٹا چھتریوں میں، جن کی کئی نسلوں کو وہ برباد کر چکا تھا، خوف کی لہر دوڑا دیتا تھا۔ وہ جہاں کہیں جاتا اس سے پہلے آندھی اور زلزلہ آتا تھا اور چھتری ُکل کے لوگ خوف سے کا ￿نپنے لگتے تھے۔
راجا دشرتھ کی شاہی سواری میں شامل برہمن ایک دوسرے سے کہنے لگے:
’’پرشورام کے باپ کو ایک چھتری راجا نے قتل کردیا تھا اس لیے اس نے قسم کھائی کہ چھتریوں کو برباد کر کے رہے گا۔ ہم یہ اُ ّمید کرچلے تھے کہ اس نے بے شمار راجاؤں کا خون بہانے کے بعد اپنے انتقامی غصّے کی آگ کو ٹھنڈا کرلیا ہوگا، لیکن اس نے تو اپنی ظالمانہ سرگرمی پھر سے شروع کردی۔‘‘
بہرحال برہمنوں نے رسمی طور پر احتراماً اسے جل ارپن کیا۔ اُن کی پیش کش قبول کر کے پرشورام نے رام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:
’’دشرتھ کے بیٹے! میں نے تمھاری جواں مردی کے بارے میں بہت کچھ سنا ہے۔ مجھے یہ جان کر تھوڑی سی حیرت بھی ہوئی کہ تم نے راجا جنک کے دربار میں رکھی ہوئی کمان پر چلاّ چڑھایا اور اس کی ڈور کو اس طرح کھینچا کہ وہ دوٹکڑے ہوگئی۔ یہ رہی میری کمان جو ہر مقابلے میں تمھاری توڑی ہوئی کمان کی برابری کرسکتی ہے۔ یہ وشنو کی کمان ہے جو میرے باپ کو دی گئی تھی۔ اگر تم اس کمان پر چلاّ چڑھاسکے تو میں تمھیں اپنے سے مقابلہ کرنے کے لایق سمجھوں گا۔‘‘
ماحول کو اس طرح بدلتے دیکھ کر راجا دشرتھ پریشان ہوگئے اور انھوں نے پرشورام سے التجا کرنی شروع کی کہ رام کو اس آزمایش میں نہ ڈالیں۔ انھوں نے پرشورام سے کہا: ’’تم ایک برہمن ہو، ہم نے سنا تھا کہ اِندر کو دیے ہوئے قول کے مطابق اپنی جیتی ہوئی دھرتی کاشیپ کو دینے اور اپنے انتقام کی پیاس بجھا لینے کے بعد تم پھر سے اپنے دھرم کے مطابق ّتپسیا میں مصروف ہوگئے ہو۔ کیا یہ مناسب ہے کہ تم اپنی قسم کو توڑو اور ایک کم عمر راج کمار کو، جس نے تمھارا کچھ نہیں بگاڑا ہے اور جو ہمیں جان سے زیادہ پیارا ہے، نقصان پہنچانے کا بہانہ تلاش کرو۔‘‘
پرشورام نے دشرتھ کی بات سنی اَن سنی کردی اور اُن کی طرف دیکھے بغیر صرف رام سے اس طرح مخاطب رہا جیسے دوسرے لوگ وجود ہی نہ رکھتے ہوں:
’’وشوکرما نے اصل میں ایک جیسی دو کمانیں بنائی تھیں۔ ایک رُودر کو دی گئی اور دوسری وِشنو کو۔ یہ وِشنو کو دی ہوئی کمان ہے۔ اور جس کمان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تم نے اس پر چلاّ چڑھایا اور یہاں تک موڑا کہ اس کے دو ٹکڑے ہوگئے، دراصل شیو کی کمان تھی۔ اب وِشنو کی کمان کو توڑنے کی کوشش کرو۔ اگر تم نے ایسا کرلیا تو یہ تمھاری مہارت اور طاقت کا ثبوت ہوگا اور میں تم سے مقابلہ کر کے تمھاری عزّت بڑھاؤں گا۔‘‘
پرشورام نے بلند اور پرغرور لہجہ میں یہ بات کہی مگر رام نے اس کی بات کا بڑے پر اخلاق مگر مستحکم لہجہ میں جواب دیا:
’’جمداگنی کے بیٹے! تم اس لیے انتقام پر اُتارو ہوگئے ہو کہ تمھارے باپ کو کسی راجا نے قتل کردیا تھا۔ میں تمھیں اس بات کے لیے الزام نہیں دوں گا۔ لیکن تم مجھے صرف اس لیے نہیں ہراسکتے کہ مجھ سے پہلے بہت سوں کو ہراچکے ہو۔ لاؤ! اپنی کمان مجھے دینے کی کرپا کرو۔‘‘
اپنی بات ختم کر کے رام نے پرشورام سے تیر اور کمان لے لیے۔ انھوں نے کمان پر چلاّ چڑھایا اور تیر جوڑ کر کمان کو کھینچا۔ پرشورام سے خطاب کرتے ہوئے وہ مسکراکر بولے:
’’وِشنو کا یہ زبردست تیر کمان پر چڑھنے کے بعد یونہی واپس ترکش میں نہیں جاسکتا۔ اس سے کسی نہ کسی کا خاتمہ کرنا ضروری ہے۔ بتاؤ! کیا اس سے تمھاری رفتار کی طاقتوں کا خاتمہ کیا جائے یا تمھاری ّتپسیا کا پھل اس سے توڑ دیا جائے۔‘‘
جیسے ہی دشرتھ کے بیٹے نے وِشنو کی کمان پر چلاّ چڑھایا، پرشورام کے چہرے کی آب و تب جاتی رہی اور وہ جنگجو فاتح کی بجائے ایک منکسرمزاج رِشی کی مانند کھڑا کا کھڑا رہ گیا۔ کیونکہ پرشورام کے اوتار کا مقصد ہی پورا ہوچکا تھا۔
پرشورام نے بڑی نرمی کے ساتھ ایودھیا کے راج کمار سے کہا:
’’میں جان گیا آپ کون ہیں۔ مجھے کوئی افسوس نہیں کہ آپ نے میری غرور کی آگ کو ٹھنڈا کردیا۔ میری ساری ّتپسیا آپ پر قربان، مگر کاشیپ سے کیے گئے وعدے کے سبب میں اس کی مملکت میں ٹھہر نہیں سکتا اور سورج غروب ہونے سے پہلے مہندر کے پہاڑوں میں لوٹ جانا میرے لیے ضروری ہے۔ مجھے صرف اس کام کے لیے اپنی قوّتِ رفتار کو استعمال کرنے کی اجازت دیجیے۔ صرف اس بات کو چھوڑ کر آپ کا چڑھایا ہوا تیر میری ّتپسیا کے زور پر کمائی ہوئی طاقت کو ختم کردے تو مجھے غم نہ ہوگا۔‘‘
یہ کہتے ہوئے پرشورام نے احتراماً راج کمار کا طواف کیا اور وہاں سے چلا گیا۔

ایودھیا کی جنتا میں اس خبر سے خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ راجا دشرتھ اور دونوں راج کمار راجدھانی لوٹ رہے ہیں۔ سارا شہر پھولوں سے سجا دیا گیا اور دیولوک کی طرح سندر لگنے لگا۔
رام اور سیتا ￿ہنسی خوشی بارہ سال تک ایودھیا میں رہے۔ رام سیتا پر اپنا دِل نچھاور کرچکے تھے۔ یہ کہنا مشکل تھا کہ اُن دونوں کی ّمحبت میں اُن کی نیکیوں کے سبب اضافہ ہو رہا تھا یا اس میں ان کے جسمانی حسن کو دخل تھا۔ وہ ￿منہ سے لفظ ادا کیے بغیر اپنے دِل کی مدد سے ایک دوسرے سے اپنی بات کہتے تھے۔ رام کی ّمحبت میں سرشار سیتا دیولوک کی لکشمی کی مانند سندر لگتی تھیں۔
کافی عرصے بعد جب دونوں بن باس گئے تو عظیم رِشی اَتری کی پاک باز بیوی اَن ُسویا نے رام کے لیے سیتا کے پریم کی تعریف کی۔ تب سیتا نے کہا:
’’بھلا اس کے علاوہ اور کیا ہوسکتا تھا۔ رام تو ایک ّمکمل انسان ہیں۔ میرے لیے اُن کی ّمحبت میری ّمحبت کی برابری کرتی ہے۔ ان کا پیار بدلتا نہیں۔ ایک پاک اور پوتر دِل کے مالک ہونے کی وجہ سے انھوں نے اپنی ساری خواہشات پر قابو پالیا ہے۔‘‘

¡¡

 

Jazbi Chand Ta’ssurat by Zubair Rizvi

Articles

جذبیؔ ___چند تاثرات

زبیر رضوی

جذبیؔ کی مقبول غزل کا ایک شعر ہے :
جب کشتی ثابت و سالم تھی ساحل کی تمنا کس کو تھی
اب ایسی شکستہ کشتی پر ساحل کی تمنا کون کرے
جعفر علی خاںاثر ؔ نے اس غزل اور اس شعر کو پوری ترقی پسند شاعری کے ہم پایہ قرار دیا تھا ۔ ایسے اور اسی طرح کے مبالغہ آمیز بیانات نے شعر کی پرکھ اور تفہیم میں بے شمار گمراہیوں کو رواج دیا ہے ۔ مومنؔ کے ایک شعر کے عوض اپنا تمام تر شعری سرمایہ سپرد کرنے کی جو بات محمد حسین آزاد نے بغیر کسی ثبوت کے غالبؔ جیسے کج کلاہ شاعر سے منسو ب کی وہ چو نکہ چٹخارے دار تھی ، اس لیے زبان زد ہو گئی ۔ جعفر علی خاں اثرؔ کا ترقی پسندی سے بیر چونکہ جانا پہچانا تھا ، اس لیے ان کی اس بات پر طول کلامی کی نوبت نہیں آئی ۔ خدا لگتی بات تو یہ بھی ہے کہ جذبیؔؔ کی یہ غزل زمانے کا اتنا سرد و گرم سہہ لینے کے بعد بھی ہمارے حافظے سے محو نہیں ہو پائی۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ ہمارے ادبی ذوق کی تربیت میں ہمارے دور کے مقبول ادب پاروں کا بڑا ہاتھ تھا ۔ اس وقت فیض، جعفری، مخدوم، جذبیؔ جو کچھ لکھ رہے تھے وہ بطور قاری ہماری ادبی گفتگو اور مزاج کا حصہ بنتا جا رہا تھا اور ہم ان کے شاہکار ادب پاروں کے ساتھ اپنے ادبی ذوق کے سانولے سلونے سالوں میں قدم رکھ رہے تھے ۔ ادب کے ساتھ اپنی جنوں آمیز وابستگی کی نیو رکھنے کا یہی وہ زمانہ تھا ، جب جذبیؔ ؔ کی ’ فروزاں‘ مجاز کی ’ آہنگ‘ مخدوم کا ’ سرخ سویرا ‘ فیض کی ’ نقش فریادی‘ اور جعفری کی ’ خون کی لکیر‘ ازبر ہو گئے تھے ۔ اس طلسم سے باہر نکلنے میں برس تو لگ گئے ۔ لیکن بعض ادب پارے ہمارے حافظوں کی سطحوں سے چپک کر رہ گئے ۔ جذبیؔ کی نظم’ موت‘ اور ان کی کچھ غزلیں اس وقت بھی سامنے آکر یوں کھڑی ہو گئی ہیں جیسے کہہ رہی ہوں : ہماری اثر آفرینی سے انکار کرو تو جانیں ۔ جذبیؔ کے سارے لکھے ہوئے کو اب جو پڑھنے کی فرصت نکالی تو لگا جذبیؔ سامنے بیٹھے ہیں ۔ منھ میں سگار ہے۔ سلیقے سے سلی ہوئی شیروانی ۔ اسی کپڑے کی اونچی دیوار کی ٹوپی ،بڑے پائچے کا پاجامہ ، کم آمیز، کم گواور سوچتی ہوئی آنکھیں ، اپنائیت میں ڈوبا ہوا لہجہ ۔ یہ اس زمانے کی بات ہے جب ملنے ملانے اور باتیں کرنے میں سر خوشی کا احساس ہوتا تھا ۔ جذبیؔ جن سالوں میں اپنی مقبول ہوتی ہوئی غزلوں کی داد سمیٹ رہے تھے وہ میری پیدائش کے آس پاس کے سال تھے ۔ عمر کے اس فرق کے با وجودجذبیؔ یوں ملتے جیسے برابر کے ہوں۔ ان کے لہجے میں ایسی اپنائیت ہو تی کہ بہت جلد فاصلے پگھل جاتے ۔ تکلف اور حجاب بس اتنا رہتا جتنا ربط اور تعلق کی یک گونہ سرخوشی کے لیے نمک کی صورت ضروری سمجھا جاتا ۔ دلی میں ا ن کی آمد کبھی کسی مشاعرے میں ہو تی یا ریڈیو پروگرام کے لیے یا پھر علی گڑھ سے کسی شہر میں آتے جاتے وہ دلی رکتے ۔ یا پھر ہم علی گڑھ جاتے کہ اس زمانے میں علی گڑھ جانا ادبی فیشن بھی تھا کہ علی گڑھ میں آل احمد سرور، رشید احمد صدیقی ، مجنوں گورکھپوری، جذبیؔ، خورشیدلاسلام ، منیب الرحمن ، اختر انصاری کے ساتھ ساتھ خلیل الرحمن اعظمی ، وحید اختر، انور عظیم، امین اشرف،جاوید کمال نئے لکھنے والوں کے لیے کشش کا باعث تھے ۔ خلیل کو علی گڑھ ہی میں نہیں ، اس وقت کے پورے منظر نامے میں کلیدی حیثیت حاصل تھی ۔ جذبیؔ ،خلیل کے اور خلیل، جذبیؔ کے گرویدہ تھے۔جذبیؔ ہمیشہ اپنے ہم عصروں کے مقابلے میں نئے لکھنے والوں کی صحبت کو ترجیح دیتے ۔ موقع ہوتا تو خود بھی شعر سناتے ، مگر نئے لکھنے والوں سے کچھ تازہ لکھنے کا اصرار ضرور کرتے ۔ گفتگو کا زیادہ حصہ ادھر اُدھر کے موضوعات کو گھیر لیتا ، لیکن جب ہم ان سے کرید کرید کر سوال کرتے تو ان کی کم گوئی میں تھوڑی سی لچک آتی اور وہ اپنے ہم عصروں کی عیب جوئی سے زیادہ ان کی خوبیوں کا اعتراف کرتے ۔ اپنے سے بزرگ شاعروں کے ساتھ اپنی یا دوں کو تازہ کرتے اور ان کم حیثیت سخن شناسوں کا بھی ذکر کرتے جو کسی چائے خانے میں بیٹھ کر جذبیؔ سے پرتجسس انداز میں با ت کرتے اور مشورہ دیتے کہ اگر فلاں غزل میں فلاں لفظ یوں ہو جاتا تو شعر کس قیامت کا ہوجاتا ۔ جذبیؔ مولانا آزاد کی طرح اپنی گفتگو میں ایسے دو تین گمنام لوگوں کاذکر ضرور کرتے جن کے مشورے کو درست سمجھ کے انھو ںنے ’ ساحل کی تمنا کون کرے‘‘ جیسی مقبول غزلوں میں ایک دو حرف بدلنے میں اپنی شاعرانہ انا کو عناں گیر ہونے نہیں دیا تھا ۔ یہ خوبی بھی انھیں میں دیکھی کہ ریڈیو کے مشاعرے میں کلام سنانے کا دعوت نامہ بھیجا گیا ہے اور اس معذرت کے ساتھ واپس آگیا ہے کہ چونکہ تازہ کلام نہیں اس لیے پرانے سنا کر ریڈیو کے قواعد کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتا ۔ جذبیؔ سال میں ایک یا دو اور کبھی کبھی تو کئی سالوں میں کچھ کہہ پا تے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا تمام تر ادبی سرمایہ ڈیڑھ سو صفحات سے آگے نہیں بڑھ پایا ۔ اپنی کم گوئی کا جواز انھوں نے یہی دیا کہ وہ سوچ سمجھ کر اور خوب مانجھ کر غزل/ نظم کہتے ہیں اور جب تک ان کا اعتماد اور اطمینان آخری سرے پر کھڑے ہوئے ہری جھنڈی ہلا نہیں دیتا وہ غزل کو سرکولیشن میں آنے نہیں دیتے ۔ ان کی کم گوئی کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ وہ اپنے عہد کے بدلتے ہوئے ادبی منظر نامے پر بھی نظر رکھتے ہیں اور جو کچھ بھی مباحث ، تحریک یا سرگرمی کی صورت میں ہو رہا ہوتا ہے اسی کے شور میں خود کو گم کر دینے سے مزاجاً گریز کرتے ہیں اور پھر اپنے کہے ہو ئے کا احتساب کرتے ہیں ۔ اپنا لکھاہوا اس دوران اگر جی سے نہ اترا تو پھر اسے اپنی بیاض میں زندہ رہنے کا حق دیتے ہیں ۔ وہ ترقی پسند تحریک پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے اس خیال کو اکثر دہراتے ہیں :
’’ ایک شاعر کی حیثیت سے ہمارے لیے جو چیزسب سے اہم ہے، وہ زندگی یا زندگی کے تجربات ہیں ، لیکن کوئی تجربہ اس وقت تک موضوع سخن نہیں بنتا جب تک اس میں شاعر کو جذباتی شدت اور احساس کی تازگی کا یقین نہ ہو جائے ۔ یہی دونوں چیزیں شاعر کو قلم اٹھانے پر مجبور کرتی ہیں اور اگر شاعر کے پاس اپنا کوئی نقطۂ نظر ہے تو اس کی جھلک اس کے جذبات میں نظر آئے گی ۔ یہ جھلک کبھی ہلکی ہو گی کبھی گہری ، لیکن ہو گی ضرور ۔ کیونکہ جذبات و احساسات شاعر کی تنقیدی قوتوں سے بچ کر نہیں نکل سکتے ۔ عقل انھیں شعوری طور پرپرکھتی ہے ۔ اس عمل کے بعد شاعر کے نقطۂ نظر کا جذبات و احساسات میں سرایت کر جانا لازمی ہے ۔ یہاں ’’ حل‘‘ کی وضاحت ضروری نہیں ۔ اندا ز ِ بیان خود کی غمازی کرتا ہے ۔ دریا کا بہاؤ درست ہو نا چاہئے کشتی کشاں کشاں کنارے سے آ لگے گی ۔‘ ‘ ( دیباچہ فروزاں)
اس روشنی میں اگر فروزاں کو ہی پڑھا جائے تو کئی جگہ یہ احساس شدت سے ہوتا ہے کہ جذبیؔ ترقی پسندی کی رائج کردہ شعری بوطیقا سے انحراف کرنے کی ہمت نہ کرسکے ۔ یہ بات خاص طور سے ان کی ان نظموں کے بارے میں کہی جا سکتی ہے جنھیں آل احمد سرور اور خلیل الرحمن اعظمی نے اپنی ابتدائی تنقیدی اور تاثراتی تحریروں میں ’’ اہم ‘‘ قرار دیا ہے ۔ جذبیؔ نے اپنی گفتگو میں ہمیں یہ بات اکثر سجھائی کہ شاعری میں مکمل صداقت اور اس کے اظہار کا مطالبہ کرتی ہے ۔ ان کی تین اہم گنی جانے والی نظمیں ’ ہلالِ عید‘ ، ’فطرت ایک مفلس کی نظر میں ‘ اور ’ نیا سورج‘جذبیؔ کے اس شعری ایقان کی کھلی اور واضح تردید ہیں جسے میں نے نقل کیا ہے ۔ عید کا چاند برسوں سے طبقاتی تقسیم کے بغیر روزہ داروں کے لیے یکساں خوشی کا باعث رہا ہے ۔ غالب نے تو از راہ شوخی خس خانہ و برفاب نہ ہو نے کا ذکر کر کے روزہ رکھنے کے ثواب سے خود کو محروم رکھنے کا جواز پیدا کر لیا تھا ۔ لیکن جذبیؔ کے نزدیک ہلال عید تو در اصل روزہ داروں کے لیے نکلا ہے۔ کیو نکہ بقول ان کے جیب میں جتنے زیادہ پیسے ہوں گے ، عید کی مسرتیں بھی اتنی ہی بھاری بھرکم ہوں گی ۔ ایک غریب بے چارہ کیا عید منائے گا ۔ ایک مذہبی عقیدے کی رومانیت کو ترقی پسندی کی بھینٹ چڑھا دینے کی اس سے بھونڈی مثال اور کیا ہوگی ۔ اسی طرح فطرت اور اس کا حسن اس لیے ایک نادار کے لیے لا یعنی ہے کیونکہ وہ غریب ہے ۔ جب جیب میں پیسے ہوں اور کھانے کو روٹی میسر ہو تو ہر ٹوٹا پھوٹا منظر بھی تاج محل کی دید کا لطف دیتا ہے ۔
جذبیؔ کے یہاں ترقی پسند تحریک کے زیر اثر فروغ پانے والا یہ زاویہ 34ء ، 37ء میں بڑا توانا تھا جو کئی برس بعد ساحر لدھیانوی کی نظم تاج محل میں ایک فن تعمیر اور اس کی خوبصورتی کی نفی کے طور پر مقبول ہوا تھا ۔’’ فروزاں‘ ‘ کے دیباچے میں جذبیؔ نے خود اس رویے کو ہدف بنایا جوترقی پسند شاعروں نے 1947ء میں ملک کو ملنے والی آزادی کے سلسلے میں اپنایا تھا ۔ لیکن ان کی نظم ’’ نیاسورج‘‘ آزادی کا پر جوش خیر مقدم نہیں کرتی ۔ یہاں پر کمیونسٹ پارٹی کا منشور ِ آزادی، شاعر کے نظم کے Textکا تعین کرتا ہے ۔
’’ فرزواں‘‘ کی ابتدائی غزلوں میں لوگ فانی کے حزنیہ لہجے کو دریافت کر کے سمندر سے موتی نکالنے والوں کی طرح شور و غوغا کرتے ہیں ۔ لیکن جذبیؔ بھی یہ جانتے ہیں کہ شعری وجدان کی سطح پر فانی سے ان کا کوئی رشتہ نہیں ہے کیونکہ جذبیؔ نے شروع میں ملال ؔ تخلص کیا تھا اور آگرہ میں وہ فانیؔ کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے تھے ۔ اس لیے ان کے کسی قدر حزنیہ لہجے کے حسب نسب کو فانی تک ملا دینا آسان تھا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اردو کی لمبی چوڑی شعری روایت کے تسلسل میں کسی شاعر کا فانیؔ کے رنگ میں شعر کہنا باعثِ افتخار ہے؟ دوسرے معنی میں فانیؔ کیا خود ہماری شاعری کی پوری روایت میں ’’ تتبع کیے جانے ‘‘ کی شعری توانائی رکھتے ہیں ؟
جذبیؔ چونکہ اپنی شعری جہتوں سے واقف تھے ، انھوں نے جلد ہی نظم ترک کر دی اور غزل کو ایک نئے انداز سے قبول کیا ۔’’ فروزاں‘‘ میں ’دل‘ کو کلیدی لفظ اور کسی حد تک استعارے کی حیثیت حاصل تھی ، لیکن ’’ شب گذار‘‘ تک آتے آتے جذبیؔ کی غزل ایک دوسرے ہی لہجے سے آشنا ہوتی ہے جو دیوار پر لگے پرانے پلستر کو ناخنوں سے کھرچتی ہوئی نظر آتی ہے ۔ 1950ء کے بعد جذبیؔ کی غزل، خلق کرنے کی ایسی حدوں میں قدم رکھتی ہے جہاں پہنچ کر ان کی غزلوں کے لیے مرجھانے کے مہ و سال نہیں آتے ۔
جذبیؔ 1950ء کے بعد نئی شعری آبادیاں بساتے ہیں اور ہم جیسے غزل کے موہ میں گرفتار ان آبادیوں میں سیر کرتے ہوئے ان کے انہدام کی نہیں بلکہ ان کے رونقوں کے فزوں تر ہونے کی تمنا کرنے لگتے ہیں ۔چند شعر:
جاگ اے نسیم خندۂ گلشن قریب ہے
اٹھ اے شکستہ بال نشیمن قریب ہے
شریکِ محفلِ دار و رسن کچھ اور بھی ہیں
ستم گرو ابھی اہل کفن کچھ اور بھی ہیں
جب بھی کسی گل پر اک ذرا نکھار آیا
کم نگاہ یہ سمجھے موسم بہار آیا
ڈھونڈو تو کچھ ستارے ابھی ہوں گے عرش پر
دیکھو تو حریفِ شبِ تار کیا ہوئے
چمن کی نذر ہیں یہ پارہ ہائے قلب و جگر
یہ پھول وہ ہیں کہ شاید کبھی نہ مرجھائیں
جذبیؔ نے اس آخری شعر کو ’’ گدازِ شب‘‘ کے پہلے صفحے پر لکھا ہے اور اپنے پہلے شعری مجموعہ ’’ فروزاں‘‘ (مطبوعہ 1943ء) کے انتساب والے صفحہ پر یہ شعر لکھا ہے :
ابھی سموم نے مانی کہاں نسیم سے ہار
ابھی تو معرکہ ہائے چمن کچھ اور بھی ہیں
لگتا ہے جذبیؔ نے چمن کو ہمیشہ ہی زندگی کا استعارہ سمجھا ہے اور سموم، نسیم اور پھول ان کے شعری اظہار کے مختلف پیرائے رہے ہیں ۔

Sarfi Ma’shrat ke Tanazur mein Rashid ki Shairi

Articles

صارفی معاشرت کے تناظر میں راشد کی شاعری کی معنویت

ڈاکٹر ناصر عباس نیّر

صارفی معاشرت کے تناظر میں راشد کی شاعری کی کیا معنویت ہے؟
اس سوال کی تہ میں شعری تنقید کا ایک نہایت اہم قضیہ کارفرما ہے۔ اس قضیے کے مطابق شاعری کے معنی اور معنویت میں فرق ہے۔ بعض لوگوں نے ان کے لیے بالترتیب Verbal meaning اور Significanceکی اصطلاحات استعمال کی ہیں۔ ۱ معنی دراصل وہ بنیادی مفہوم ہے جو شعری متن کے فوری سیاق، اس کے آس پاس کے صنفی و شعریاتی منطقے کو ملحوظ رکھنے سے برآمد ہوتا ہے۔ معنی بالعموم متعین، مقرر اور محدود ہوتا ہے، مگر واضح رہے کہ معنی کا متعین اور محدود ہونا متن کے اس فوری سیاق کا مرہون ہوتا ہے جس میں متن تخلیق ہوا تھا اور جو متن کو اس کے لمحۂ تخلیق و ماحول سے وابستہ رکھتا ہے۔ وگرنہ متن، سیاق کے کناروں کو توڑ کر باہر جانے کے لیے مضطرب ہوتا ہے۔ قصہ یہ ہے کہ شعری متن، زبان کے ایک ایسے استعمال سے عبارت ہے، جس میں زبان کی بدیعی و تلازماتی قوت کو زیادہ سے زیادہ ابھارا جا سکے۔ شعری زبان میں آہنگ و صوت سے لے کر نحویاتی و معنیاتی سطحوں تک نئے نئے رشتے ابھارنے اور معنیاتی عدم تعین کی مستقل صورتِ حال تخلیق کرنے کا غیر معمولی ملکہ ہوتا ہے۔ چنانچہ جب کسی شعری متن کا معنی متعین کیا جاتا ہے تو دراصل شعری زبان کی تلازماتی قوت پر قدرت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس کوشش کی کام یابی کا انحصار شعری متن کے فوری سیاق کو گرفت میں رکھنے پر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شعری زبان کی تلازماتی قوت کو اگر کوئی چیز پابند کر سکتی ہے تو وہ سیاق یا تناظر ہے، وگرنہ یہ ایک مرکز گریز قوت ہے اور اس کی فطرت میں ایک ایسا اضطراب ہے جو اسے کسی ایک مقام پر رکنے نہیں دیتا اور نئے معنیاتی سلسلوں کی تخلیق پر اسے مائل رکھتا ہے۔ یہ اضطراب انسانی روح میں بھی موجود ہے اسے نئی حیرتوں کی تلاش اور محدود سے لامحدود کی طرف سفر پیما رہنے پر مجبور رکھتا ہے۔ جب شعری متن اپنے سیاق سے گریز اختیار کرکے کسی دوسرے تناظر میں قدم رکھتا ہے، یعنی کسی دوسرے زمانے، کسی مختلف صورتِ حال، کسی نئی فکر، کسی نامانوس معنیاتی فضا میں اسے پڑھا جاتا اور اس کی تعبیر کی کوشش کی جاتی ہے تو اس کے نتیجے میں جو کچھ ہمارے ہاتھ آتا ہے وہ متن کی معنویت ہے۔
بجا کہ معنویت، شعری زبان کی تلازماتی قوّت کے برسرِ عمل ہونے کا نتیجہ ہے، مگر اس قوت کی عمل آرائی کا میدان وہ عمومی ثقافتی فضا ہے، جسے ہم دنیا کو سمجھنے اور برتنے میں اکثر غیر شعوری طور پر کام میں لاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں شاعری کی معنویت ایک نفسیاتی عمل نہیں، ایک ثقافتی عمل ہے۔ کوئی شعری متن یا اس کے بعض مصرعے یا الفاظ کسی قاری کے یہاں کسی نفسیاتی واقعے کا محرک بن سکتے ہیں؛ قاری، متن اور اپنی ذہنی دنیاؤں میں بعض اشتراکات دریافت کر سکتا اور ایک جذباتی کیفیت میں مبتلا ہو سکتا ہے اور اس کیفیت کے زیرِ اثر ادبی متن کے مخصوص معانی قائم کر سکتا ہے، مگر انھیں متن کی معنویت قرار نہیں دیا جا سکتا۔ معنویت، کسی ادبی متن میں معنی سازی کی قوّت کا وہ انکشاف ہے جسے ایک ثقافتی عمل بنایا جا سکے۔ راشد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ’’ الفاظ کے اندر رنگ بھی ہوتے ہیں اور کئی طرح کے ٹیڑھے ترچھے زاویے بھی۔‘‘ ۲ ایک شاعر کی حیثیت میں راشد الفاظ کی اس دنیا سے خوب واقف تھے جو الفاظ کے لغوی و عمومی معانی کے آگے کی دنیا ہے۔ راشد نے دانستہ معانی کے بجائے رنگوں اور زاویوں کا ذکر کیا ہے۔ الفاظ کس طور اپنے محدود، مقرر معانی کو عبور کرنے کے لیے بے تاب رہتے، نئی نئی جمالیاتی کیفیتوں اور نئے نئے فکری اطراف کے اشارہ نما ہوتے ہیں، اس کے لیے رنگ اور زاویے ہی موزوں استعارہ ہیں۔ الفاظ کے انھی رنگوں اور زاویوں میں، معنی سازی کی قوّت ہوتی ہے۔ انگریزی تنقید میں الفاظ کے رنگوں اور زاویوں کے لیے Connotations کی اصطلاح مروّج ہے۔ ٹیری ایگلیٹن نے لکھا ہے کہ Denotations کے مقابلے میں Connotations آسانی سے گرفت میں نہیں آتے۔ ۳ حقیقت یہ ہے کہ Denotations میں فقط معنی ہے اور Connotations میں معنی سازی کا ملکہ ہے معنی گرفت میں آ جاتا ہے مگر معنی سازی کی قوت پر دسترس محال ہے اور اس قوّت کے ثقافتی تناظر میں اظہار کا دوسرا نام معنویت ہے۔
ان معروضات کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ صارفی معاشرت کا کوئی براہِ راست تعلق راشد کی شاعری کے معنی سے نہیں ہے۔ بلاشبہ صارفی معاشرت، راشد کی نظم کا فوری سیاق نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ بیسویں صدی کے تیسرے تا ساتویں عشرے کے درمیان، جب راشد شاعری تخلیق کر رہے تھے، صارفی معاشرت نے یہاں وہاں اپنے پر پرزے نکالنے شروع کر دیے تھے اور یہ بھی درست ہے کہ راشد کو اس مغربی معاشرت کو براہِ راست دیکھنے اور برتنے کا موقع ملا تھا، جہاں صارفیت دوسری جنگ عظیم کے بعد اہم ترین ثقافتی مظہر میں تیزی سے ڈھلنے لگی تھی، مگر راشد کے لیے صارفی معاشرت بوجوہ مرکزی شعری سروکار نہیں بن سکی تھی۔ اصل معاملہ یہ ہے کہ راشد نے اپنی معاصر عالمی معاشرت کا تصور استعماری معاشرت کے طور پر کیا تھا۔ چنانچہ صارفی معاشرت بالعموم، استعماری معاشرت کے ایک جز کے طور پر ہی ان کے شعری ادراک میں آئی۔ یہ کہنا مشکل ہے کہ راشد بہ طور شاعر صارفی معاشرتی کا ٹھیک اسی قدر ادراک کرنے میں کام یاب ہوئے، جس قدر یہ استعماری معاشرت کا حصّہ ہے۔ راشد کے یہاں استعماریت کا سیاسی پہلو مقابلتاً زیادہ نمایاں اور زیادہ اہم تھا۔ یہ سب برحق، مگر یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ راشد کے لیے اہم ترین چیز شاعری تھی اور وہ شاعر کے طور پر نہ صرف اپنی ذمے داریوں سے خوب آگاہ تھے بلکہ یہ بات بھی اچھی طرح جانتے تھے کہ ’’ادیب کی اصل ذمہ داری پوری زندگی کے سامنے ہے۔ کسی جغرافیائی حد بندی، کسی حکومت، سیاسی عقیدے یا سیاسی حزب یا گروہ کے سامنے نہیں۔ کیوں کہ یہ اس عظیم اور بے کراں زندگی کے، جو ادیب کی ذات کے اندر اور باہر ازل سے رواں دواں ہے اور ابد تک رواں دواں رہے گا، محض مختصر، بے مایہ اور ناقابلِ ثبات اجزا ہیں۔‘‘ ۴ ہر چند ذمے داری کا تصور اور شعور ایک چیز ہے اور اسے اپنے تخلیقی عمل کی اساس بنانا دوسری چیز ہے۔ تاہم راشد کی شاعری سے اس امر کی تائید ہوتی ہے کہ ان کے لیے ان کی معاصر سیاسی، مقامی، عالمی صورتِ حال بہر حال پوری زندگی کا ایک جز تھی۔ ہر چند راشد نے تنقیدی شعور کے لمحات میں اس جز کو بے مایہ اور حقیر کہا ہے، مگر انھوں نے استعماریت کو جس گہرائی سے پیش کیا ہے اور ایشیائی ممالک کو استعماری تہذیب کی بلندی کی چھپکلی سے تشبیہ، دی ہے، اس سے ہرگز نہیں لگتا کہ ان کے لیے یہ جز پوری زندگی کا بے مایہ اور ناقابلِ ثبات جُز تھا۔ غالباً شاعری کے اسی تصور کی وجہ سے ان کے شعری متن میں ’کئی رنگ اور ٹیڑھے ترچے زاویے‘ ظاہر ہوتے چلے گئے، وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جن کی نئی معنویتیں سامنے آ رہی ہیں۔
صارفی معاشرت اپنے تمام تر جلووں کے ساتھ تو یورپ اور امریکہ میں نظر آتی ہے، مگر اس کے اثرات کی زد میں پوری دنیا ہے۔ مغرب میں یہ مابعد صنعتی عہد کی صورتِ حال ہے۔ اکثر سماجی مفکّرین اسے صنعتی عہد کا لازمی، تاریخی نتیجہ قرار دیتے ہیں جو درست نہیں ہے۔ ان کے نزدیک صنعتی عہد کے نتیجے میں جب اشیا نہایت فراوانی کے ساتھ تیار ہونے لگیں تو ان کا صَرف سب سے بڑا مسئلہ تھا۔ ان کے صَرف کو ممکن بنانے کے لیے ماس مارکیٹ، ماس پاپولر کلچر کو پیدا کیا گیا اور ان کے فروغ کی خاطر میڈیا، اشتہاری صنعت وغیرہ وجود میں لائے گئے۔ حقیقت یہ ہے کہ صنعتوں کی بقا، ان کی پیداوار کی کھپت میں تھی، مگر صنعت کار محض اپنی صنعتوں کی بقا پر اکتفا کرنے کو تیار نہیں تھے: انھیں اپنے سرمائے میں مسلسل اور تیز تر اضافے کی بے لگام ہوس تھی۔ اس ہوس ہی نے صارفیت کو جنم دیا۔ لہٰذا صارفیت، صنعتی عہد کا لازمی تاریخی نتیجہ نہیں، سرمایہ پرستی کی ہوس کا شاخسانہ ہے۔ صارفیت، کثیر پیداواریت کے لا متناہی اور پیہم صَرف کو ممکن بنانے کی تدبیروں کی عملی شکل ہے۔ ان تدبیروں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ انسان کا وہ تصوّر تھا، جس کے مطابق انسان چند بنیادی ضرورتیں رکھتا ہے۔ (خود صنعتیانے کے عمل میں یہ تقاضا کہیں موجود نہیں تھاکہ اشیا کی پیداواریت انسان کی بنیادی ضرورتوں سے فزوں تر ہوگی۔) سرمایہ پرست ذہن نے اس تصوّرِ انسان کو تبدیل کرنے کی ٹھانی۔ اس ذہن کے نمایندہ امریکی مصنّف وکٹر لیبو نے 1955ء میں لکھا۔
’’ہماری عظیم پیداواری معیشت … تقاضا کرتی ہے کہ ہم صَرفیت کو اپنا طرزِ زندگی بنائیں۔ یہ کہ ہم اشیا کی خریداری اور ان کے استعمال کو رسومیات میں تبدیل کریں، یہ کہ ہم اپنی رومانی تسکین، اپنی انا کا اطمینان، صَرفیت میں تلاش کریں … ہمیں ایسی اشیا درکار ہیں جو صَرف ہو جائیں، راکھ ہو جائیں، پرانی بوسیدہ ہو جائیں، تبدیل ہو جائیں اور انھیں تیزی کے ساتھ ٹھکانے لگا دیا کریں۔‘‘ ۵
گویا صارفی انسان کا تصوّر تخلیق کیا گیا۔ اس تصوّر کے مطابق انسان کی ضرورتوں کا کوئی انت نہیں۔ اس کے اندر ان تمام اشیا کی شدید طلب ہے جنھیں کثرت سے منڈی میں لایا جاتا ہے۔ صارفی معاشرت میں اشیا، انسانی ضرورتوں کے مطابق پیدا نہیں کی جاتیں بلکہ اشیا کے مطابق انسانی ضرورتیں پیدا کر لی جاتی ہیں۔ صارفی معاشرت، انسانی نفسیات اور ثقافت کے گہرے مطالعے سے وہ تمام طریقے دریافت کرتی ہے، جو ایک طرف نئی انسانی ضرورتوں کی تخلیق کو ممکن بنائیں اور دوسری طرف نت نئی اشیا اور ان کے روز بدلتے برانڈ کے صَرف کو ایک ثقافتی تعیّش اور روحانی اطمینان میں بدل سکیں۔ دوسرے لفظوں میں صارفی انسان کے تصّور میں روح کا انکار موجود نہیں ہے، مگر یہ روح ارفع اور بے غرضانہ اعمال سر انجام دینے میں اطمینان حاصل کرنے کے بجائے نئی، مہنگی صنعتی اشیا کے صَرف میں سرشاری پاتی ہے۔ کیا انسانی روح اپنی اصل کو ترک کرکے باقی رہ سکتی ہے؟ صارفی معاشرت میں یہ سوال اس لیے پیدا نہیں ہوتا کہ صارفی معاشرت کسی ایسی انسانی ضرورت کے امکان ہی کو ردّ کرتی ہے، جسے وہ پورا نہ کر سکے۔ صارفی تصوّرِ کائنات میں انسانی ضرورتوں اور تمنّاؤں سے انکار کا شائبہ تک موجود نہیں ہوتا؛ وہ خود کو غیر معمولی خلاقیّت کا حامل سمجھتی ہے کہ جو ہر قسم کی انسانی تمنّا کی سرشاری کا سامان پیدا کر سکتی ہے۔
اب اگر اس تناظر میں راشد کی شاعری کی معنویت دریافت کریں تو مجموعی حیثیت میں ان کی پوری شاعری صارفی معاشرت کے خلاف مزاحمت کا استعارہ نظر آتی ہے۔ وجودیاتی سطح پر راشد کی شاعری اس تصوّر کے خلاف ایک باقاعدہ احتجاج ہے، جس کے مطابق ہر شے کی قدر و قیمت، اس کی صَرفی حیثیت سے متعین ہوتی ہے۔ صارفی معاشرت میں معنی کے واحد اور اٹل تصوّر کا غلبہ ہوتا ہے۔ یہ متوازی، متبادل اور استعاراتی معانی کے لیے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتی۔ متبادل اور استعاراتی معانی کو قبول کرنے کا مطلب لوگوں کے اس حق کو تسلیم کرنا ہے کہ وہ اشیا کے معنی اور مقصد کو خود اپنے تناظر میں متعین کر سکتے ہیں۔ صارفی معاشرت کے لیے اس سے زیادہ خطرناک کوئی بات نہیں کہ لوگ معنی متعین کرنے اور فیصلہ کرنے میں آزاد ہوں۔ چنانچہ وہ واحد معنی پر اپنے اجارے سے کسی طور دست بردار نہیں ہوتی۔اس زاویے سے دیکھیں تو راشد کی شاعری صارفی معاشرت کے تصوّرِ معنی کے یکسر برعکس تصوّرِ معنی کی علم بردار نظر آتی ہے۔ اگرچہ یہ خصوصیت دنیا کی تمام شاعری میں ہوتی ہے کہ وہ واحد معنی کے اجارے کو مسترد کرتی اور معانی کے نئے آفاق کی جستجو میں رہتی ہے، تاہم اس ضمن میں راشد کی شاعری کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں متوازی، متبادل اور استعاراتی معانی کی کثرت ہے، نیز بعض مقامات پر راشد براہِ راست صارفی کلچر کی بنیادوں پر ضرب لگاتے ہیں۔ مثلاً
زندگی ہیزمِ تنور شکم ہی تو نہیں
پارئہ نانِ شبینہ کا ستم ہی تو نہیں
ہوسِ دام و درم ہی تو نہیں
(کلیات، ص۱۶۱)
صارفی معاشرت کا سارا زور، انسانی زندگی کو اپنے تنور شکم کا ایندھن بنا ڈالنے پر ہے۔ اس نظم میں اس سے انکار ملتا ہے کہ زندگی کو اپنے یا غیر کے تنورِ شکم میں جھونک دیا جائے۔ اس انکار کے پردے میں زندگی کا وسیع اور بلند تصوّر تو موجود ہی ہے، زندگی کے بعض ایسے معانی کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے، جو زندگی کو کسی بھی شے کا ایندھن بننے کا انکار کرتے ہیں، خواہ وہ پارئہ نانِ شبینہ اور ہوسِ دام و درم ہوں یا آتشِ دیروحرم ہو۔ نظم کے آخر میں جن مردانِ جنوں پیشہ کا ذکر ہے، ان کے لیے زندگی انھی کی اپنی ہے اور وہی اس کے معانی و مقاصد متعین کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔ اس اعتبار سے دیکھیں تو راشد کے یہاں صارفی معاشرت کا ایک غیر معمولی اور وسیع تصوّر ملتا ہے۔ فقط سرمایہ پرست اور استعمار ہی لوگوں کی زندگی کو ایک قابلِ صَرف شے میں تبدیل نہیں کرتے، مختلف سٹیٹ اپریٹس، نظریے، کلامیے اور آئیڈیالوجی بھی انسانی زندگی کو اپنے تصرّف میں لاتے اور انسانوں سے اپنی ہستی کے معانی خود طے کرنے کی آزادی اور اختیار سلب کرتے ہیں۔ راشد کے یہاں فرد کی داخلی آزادی ایک ایسے تقدّس کی حامل ہے جسے مجروح کرنے کا حق کسی کو نہیں دیا جا سکتا۔ راشد اپنی اس فکر میں پوری طرح واضح تھے۔
’’میں فرد کی کامل آزادی اور اس کی انا کی نشو و نما کا شدّت سے حامی ہوں۔ ایسی آزادی جس کے راستے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو ۔۔۔ میرا عقیدہ یہ ہے کہ تمام اقدار کا مرکز انسان ہے اور تمام اقدار انسان کے ذاتی تجربات سے پیدا ہوئی ہیں۔ کسی الوہی طاقت کی طرف سے مقرر نہیں کی جاتیں، نہ کسی حکومت یا گروہ کی طرف سے عائد کی جا سکتی ہیں۔‘‘ ۶
ہر چند یہ فرد کی آزادی کا مثالی تصوّر ہے جسے مغرب میں بشرمرکزیت فلسفے اور جدیدیت نے پیدا کیا، تاہم راشد کے لیے یہ تصوّر عقیدے کا درجہ رکھتا تھا اور وہ فرد کو ایک قابلِ صَرف شے نہیں سمجھتے تھے اور مذہبی، ریاستی یا سماجی کسی بھی ادارے کو یہ حق دینے کو تیار نہیں تھے کہ وہ فرد کو اپنے مقاصد کے حصول میں صَرف کر دے۔ ان کے نزدیک ان اداروں کا کام فرد کو شے نہیں، ایک باشعور ہستی سمجھنا اور اس کی انا، شعورِ ذات کی نشوونما میں مدد دینا تھا۔ گویا راشد کے یہاں صارفیت کا محض اقتصادی مفہوم نہیں ملتا، ایک نیم فلسفیانہ اور ثقافتی مفہوم بھی موجود ہے۔ یہ مفہوم لا=انسان اور گماں کا ممکن کی نظموں میں شدّت سے پیش ہوا ہے۔ مثلاً نظم ’’میرے بھی ہیں کچھ خواب‘‘ کے یہ مصرعے فرد کی آزادیِ کامل پر زور دیتے ہیں۔
وہ خواب ہیں آزادیِ کامل کے نئے خواب
ہر سعیِ جگر دوز کے حاصل کے نئے خواب
آدم کی ولادت کے نئے جشن پہ لہراتے جلاجل کے نئے خواب
اس خاک کی سطوت کی منازل کے نئے خواب
یا سینۂ گیتی میں نئے دل کے نئے خواب
اے عشقِ ازل گیر و ابد تاب
(کلیات، ص۲۹۱)
مابعد صنعتی عہد کی صارفی معاشرت کی تمام قباحتوں کو راشد کے یہاں تلاش کرنا عبث ہے کہ یہ ان کی شاعری کا مرکزی سروکار نہیں تھا۔ تاہم ان کی بعض نظموں کی تلازماتی اور استعاراتی جہات کی تعبیر صارفی تناظر میں ضرور کی جا سکتی ہے۔ اس ضمن میں پہلی نظم ’وزیرے چنیں‘ ہے۔
اس نظم کی بنیاد الف لیلہ و لیلہ کی ایک کہانی ہے۔ یہ کہانی شیراز کے ایک نائی کی ہے جو نائی ہونے کے علاوہ دماغوں کا بھی مشہور ماہر تھا۔ وہ دماغ کو کاسۂ سر سے الگ کرکے، اس کی آلائشیں پاک کرکے اسے واپس اس کی جگہ لگانے کے فن میں قابل تھا۔ ایک دن اس کی دُکان پر ایران کا ایک وزیر کہن سال آیا۔ ابھی ’ماہرِ کامل‘ نے دماغ کو صاف کرنا شروع کیا ہی تھا کہ اسے بادشاہ کی طرف سے بلاوا آ گیا تو اسے عجلت میں بے مغز سر لیے دربارِ سلطانی میں جانا پڑا (گویا وہاں مغز کے بغیر ہی کام چل جاتا تھا)۔ دوسرے دن واپس آیا تو معلوم ہوا کہ اس کا دماغ نائی کے پڑوسی کی بلّی کھا گئی تھی۔ چنانچہ متبادل کے طور پر دانیالِ زمانہ کے سر میں بیل کا مغز رکھ دیا گیا اور اس کے بعد لوگوں نے دیکھا کہ جنابِ وزیر، فراست، دانش اور کاروبارِ وزارت میں پہلے سے بڑھ کر چاق و چوبند ہو گئے ہیں۔ اس کہانی کا (سامنے کا) معنی تو یہ ہے کہ حکومتوں کے لیے وہ لوگ زیادہ موزوں ہوتے ہیں جو مغز ہی نہیں رکھتے یا زیادہ سے زیادہ بیل کا دماغ رکھتے ہیں۔ اس سے بہتر طنز اربابِ حکومت پر نہیں ہو سکتا تاہم یہ نظم ایک اور تناظر میں گہری معنویت کی حامل دکھائی دیتی ہے۔ غور کریں تو یہ نظم صارفی معاشرت میں فرد کے نئے تشخّص کی تخلیق کے پورے عمل کو منکشف کرتی ہے۔ اس نظم کا مرکزی کردار وزیر نہیں، نائی ہے۔ نظم میں اہم تبدیلی وزیر کے کردار میں رونما ہوتی ہے۔ یہ تبدیلی وزیر کے اپنے ارادے یا اقدام سے نہیں، نائی کی مہارت سے پیدا ہوتی ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو نائی سرمایہ پرست طبقے کی اس آئیڈیالوجی کی علامتی نمائندگی کرتا ہے جس کے ذریعے نئے انسانی تشخّص کی تخلیق کی جاتی ہے۔ مثلاً یہی دیکھیے کہ نظم میں اس کے نائی کے پیشے سے زیادہ اس کے ماہرِ دماغ ہونے پر ارتکاز ملتا ہے۔ ہر چند اسے دعویٰ ہے کہ وہ دماغ کی آلائشیں دور کر تا ہے، یعنی وہ ایک معالج ہے، مگر یہ دعویٰ اسی تضاد اور خود تردیدی صورتِ حال کا حامل ہے جو ہر آئیڈیالوجی میں ہوتی ہے۔ نظم میں اس کے معالج ہونے کے دعوے کے ثبوت میں کوئی واقعہ مذکورہ نہیں اور جو واقعہ مذکورہ ہے اور جو کہانی میں ایک فیصلہ کن موڑ لاتا ہے، وہ اسے ایک ایسے پیشہ ور نیوروسرجن کے طور پر سامنے لاتا ہے جو نیا دماغ ٹرانسپلانٹ کرنے میں ماہر ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صارفی معاشرت میں فرد کو یکسر نیا تشخص دیا جاتا ہے۔ انسانی دماغ کی جگہ بیل کے دماغ کی پیوندکاری، اسی نئے تشخص کی تشکیل کی علامت ہے۔ قابلِ غور بات ہے کہ نائی کے پاس کئی حیوانوں کے مغز موجود تھے۔ وہ کہاں سے آئے؟ کیا ہم اسے نیم اساطیری کہانیوں کے اس عمومی واقعے کے طوپر پر لیں جس میں کوئی بھی عجیب و غریب بات اچانک ممکن ہوتی ہے اور اس کی کوئی منطق نہیں ہوتی یا پھر یہ سمجھا جائے کہ وہ لوگوں کے دماغوں کو تبدیل کرنے اور انھیں نئی شناختیں دینے کی خاطر طرح طرح کے دماغ اپنی دست رس میں رکھتا تھا اور اس کا یہ کہنا کہ وزیر کا مغز ہمسائے کی بلی کھا گئی ہے دراصل اسے نیا اور حیوانی دماغ لگانے کا محض بہانہ تھا۔ اسی طرح سوچنے والی بات یہ بھی ہے کہ اس نے آخر بیل کے مغز کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ کیا اس بات کا علامتی مفہوم یہ نہیں کہ اس کی دست رس میں ایک سے زیادہ تشخصّات تھے اور اسے اپنی مرضی اور ترجیح کے مطابق کسی ایک تشخص کے انتخاب کا اختیار بھی تھا۔ صارفی معاشرت میں سرمایہ پرست طبقے کو بھی شناخت سازی کے وسائل پر اجارہ حاصل ہوتا ہے۔ نیز بیل کے مغز کا انتخاب کیا یہ ظاہر نہیں کرتا کہ صارفی آئیڈیالوجی کو ایک ایسا انسانی تشخص مطلوب ہوتا ہے جو ارادے اور منشا سے محروم ہو؛ فیصلہ سازی کی صلاحیت سے عاری ہو؛ انفرادی سطح پر تلاشِ معنی کی تمنّا نہ رکھتا ہو۔ ان سب باتوں سے ہٹ کر صارفی طرزِ معاشرت میں شے پر شے صَرف کرتے چلے جانے اور پھر بھی نئی اشیا کی طلب کرتے چلے جانے کے لیے بیل کا مغز ہی چاہیے۔ اگر یہاں ایک لمحے کے لیے الف لیلہ و لیلہ کی بیل اور گدھے کی کہانی یاد کریں تو بیل کی کرداری خصوصیات آئنہ ہو جاتی ہیں: وہ وہی کچھ کرتا ہے جس کا مشورہ اسے گدھا دیتا ہے۔
اس سلسلے کی دوسری نظم ’ایک اور شہر‘ ہے جو 1957ء میں نیویارک میں لکھی گئی تھی۔ نظم کا موضوع بھی نیویارک شہر ہی ہے۔ اسے ایک اور شہر کا عنوان دینے کی ایک وجہ تو اسے اپنی ایک پہلی نظم ’ایک شہر‘ سے ممیز کرنا ہے جو 1950ء میں کراچی میں تخلیق ہوئی تھی اور دوسری وجہ اس بات پر زور دینا ہے کہ نظم جس شہر سے متعلق ہے وہ ایک نئی، انوکھی اور عجب قسم کا شہر ہے۔ نظم میں شہر اور اس کے باسیوں کا جو نقشہ کھینچا گیا ہے، وہ اسے ایک صارفی معاشرت کا حامل شہر ثابت کرتا ہے۔ یوں بھی دوسری عالمی جنگ کے بعد امریکہ اور یورپ میں صارفی کلچر کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت فروغ دیا گیا اور اسے سرمایہ دارانہ معیشت کی ترقی کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا تھا۔
یہ نظم ’وزیرے چنیں‘ کے گیارہ برس بعد لکھی گئی، مگر دونوں کی بافت (Texture) کو دیکھیں تو دونوں ایک ہی سلسلے کی کڑی نظر آتی ہیں۔ ’وزیرے چنیں‘ میں انسان کو ایک ایسی نئی شناخت دینے کی کہانی ملتی ہے جس کی سب سے بڑی خصوصیت اپنی داخلی آزادی، اپنی ہستی کے معنی خود دریافت کرنے کی صلاحیت سے محرومی ہے۔ نظم ’ایک اور شہر‘ کے پہلے بند میں اسی جانب اشارہ ملتا ہے:
خود فہمی کا ارماں ہے تاریکی میں روپوش
تاریکی خود بے چشم و گوش
اک بے پایاں عجلت راہوں کی الوند!
(کلیات، ص۲۳۹)
ایک اور شہر یا صارفیت زدہ شہر کے باسیوں کو خودشناسی کی تمنا ہی نہیں۔ ہو بھی کیسے سکتی ہے؟ انھیں اس مغز ہی سے محروم کر دیا گیا ہے جو خود آگاہی کی تڑپ پیدا کرتا ہے۔ صارفیت، معاشی سرگرمی کے نام پر لوگوں کو مسلسل حرکت میں رکھتی ہے۔ انھیں زیادہ سے زیادہ پیسے جمع کرنے کی تحریک دیتی ہے تاکہ وہ زیادہ سے زیادہ چیزیں خرید سکیں۔ صارفیت منڈی کو مسلسل آباد اور سرگرمِ کار دیکھنا چاہتی ہے اور آدمی سے اس فرصت، تنہائی اور باطنی خلوت کو چھین لیتی ہے، جس میں آدمی اشیا و مظاہر سے بے نیاز اور ماورا ہونے اور کائنات کی بے کرانیت کو محسوس کرنے کے قابل ہوتا ہے۔
جب آدمی کا دل، فرصت، آزادی اور خودفہمی کے ارماں سے خالی ہو تو دل کی بھی ’قلبِ ماہیت‘ ہو جاتی ہے۔
سینوں میں دل یوں جیسے چشم آزِ صیّاد
تازہ خوں کے پیاسے افرنگی مردانِ راد
خود دیوِ آہن کے مانند!
(کلیات، ص ۲۶۶)
چشمِ آزِ صیّاد، افرنگی مردانِ راد اور دیو آہن اس سرمایہ دارانہ استعماریت کی طرف غیر مبہم اشارہ ہیں، جس نے ہی صارفیت کو جنم دیا ہے۔ صارفیت کی وحشیانہ ترین شکل وہ ہوتی ہے، جو سیم وزر کو میزان قرار دے دیتی اور باقی تمام پیمانوں (اقدار) کو بے صَرفہ کر ڈالتی ہے۔ یعنی صارفی معاشرت میں اشیا کے معنی اور قدر کا واحد، یک رُخا اور حتمی تصوّر ہوتا ہے۔ یک رُخی، زر اساس اقدار کے سامنے ذوقِ حسن اور ذوقِ عمل کی کوئی اہمیت نہیں ہوتی، جو ہر لحظہ نیا طور، نئی برقِ تجلّی کی تلاش میں رہتے ہیں۔ تاہم واضح رہے کہ ذوقِ حسن کی عطا کردہ بے قراری اور صارفیت زدہ شہر کے باسیوں کی ’اک بے پایاں عجلت، میں زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے__ اسی نظم میں راشد خودفہمی کے ارماں سے تہی، اپنے دل کو چشم آزِ صیّاد اور سیم وزر کو میزان بنانے والوں کو افقی انسان قرار دیتے ہیں: یہ سب افقی انسان ہیں، یہ ان کے سماوی شہر۔ افقی انسان دراصل وہی صارفی انسان ہے۔
نظم ’تعارف‘ جو نیویارک ہی میں 1963ء میں لکھی گئی، اس میں افقی انسان کے تصوّر کو منفی انسان کے تصوّر سے بدل دیا گیا ہے۔ افقی انسان کی طرح منفی انسان بھی بندگانِ زمانہ اور بندگانِ درم ہیں۔ شاعر ان کے لیے اجل تجویز کرتا ہے۔
بڑھو، بندگانِ زمانہ بڑھو، بندگانِ درم
اجل یہ سب انسان منفی ہیں
منفی زیادہ ہیں، انسان کم
ہو ان پر نگاہِ کرم
(کلیات، ص۱۹۶)
قابلِ غور بات ہے کہ راشد کے یہاں افقی/منفی انسان کا تصوّر صارفی معاشرے کے مشاہدے ہی سے پیدا ہوا ہے۔ ہر چند اسے راشد کے اس تصوّرِ انسان سے جوڑا جا سکتا ہے جو شروع سے آخر تک ان کی شاعری میں برابر ترقی پذیر ملتا ہے، مگر یہ بھی درست ہے کہ راشد افقی یا منفی انسان کے تصوّر کو نہ تو دہراتے ہیں نہ آگے بڑھاتے ہیں۔ ان کے یہاں افقی/منفی انسان کا تصوّر مذکورہ دو نظموں میں مکمل ہو جاتا ہے۔ تاہم بعد کی دو ایک نظموں میں یہ مکمل تصوّر بین السطّور ظاہر ہوتا ہے۔افقی انسان دراصل وہ انسان ہے، جس سے عمودیت منفی ہو گئی ہے۔ نفسیاتی زاویے سے دیکھیں تو شخصیت کی افقی خصوصیات وہ ہیں جن میں کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی، جبکہ شخصیت کے عمودی پہلووں میں درجہ بندی ہوتی ہے: کچھ خصوصیات اور اقدار، دیگر سے کم تر یا برتر ہوتی ہیں، اور انھی کی وجہ سے شخصیّت میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں افقی انسان اقدار کے تصوّر سے تہی ہوتا ہے۔ اس کی نفسی قلم رَو پر واحد، یک رُخے، حتمی اور غیر مبدّل طرزِ فکر کی حاکمیت قائم ہوتی ہے۔ وہ متخیّلہ سے محروم ہوتا ہے جس کی مدد سے آدمی اپنے محدود تجربات کو وسیع تر کائناتی تناظر سے وابستہ کرنے یا اشیا و مظاہر کے نہاں پہلووں کا تصور کرنے، موجود کے جبر سے نجات پانے اور چند ایک معانی پر تکیہ کرنے کے بجائے نئے اور کثیر معانی خلق کرنے کے قابل ہوتا ہے۔ راشد کے لیے متخیّلہ یا عمودیت سے عاری انسان کو زندہ تصوّر کرنا محال ہے، اسی لیے وہ اسے اجل کے سپرد کرتے ہیں۔ یعنی انسان کے تصوّر میں افقی یا منفی تصوّرِ انسان کی گنجائش ہی نہیں دیکھتے۔
’اندھا کباڑی‘ بھی صارفی تناظر میں خاص معنویت کی حامل نظم ہے۔ اندھے کباڑی پر ہومر کا گمان گزرتا ہے جو یونان کی گلیوں میں اپنی نظمیں گاتا پھرتا تھا، مگر یہ جدید دور کا ہومر ہے جس کے خواب/نظمیں دام سمیت لینے کو بھی کوئی تیار نہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس نظم کی معنیاتی بافت میں افقی اور عمودی تصوّر انسان مضمر اور کارفرما ہے۔ اندھا کباڑی عمودی انسان کی نمائندگی کرتا ہے اور خوابوں کو لینے سے گریزاں تمام لوگ افقی انسان ہیں۔ کباڑی، ہومر کی طرح بصارت سے محروم ہے، مگر اس کی متخیّلہ حددرجہ فعال ہے اور خوابوں کی صورتِ گرثانی دینے میں ثانی نہیں رکھتی۔ لہٰذا اس کا اندھا ہونا درحقیقت اس کے اپنی عمودیت میں غرق ہونے کی علامت ہے۔
صارفی معاشرت میں ہر شے کو قابلِ صَرف بنایا جا سکتا ہے، سوائے خوابوں کے۔ یہی وجہ ہے کہ اندھے کباڑی کے خواب نہ کوئی خریدتا ہے، نہ مفت لیتا ہے اور نہ دام سمیت لینے پر تیار ہوتا ہے۔ علاوہ ازیں خواب انسانی ہستی کا وہ جوہر ہیں جسے ’شے‘ کا درجہ نہیں دیا جا سکتا اور صرف اشیا ہی صَرف ہوتی اور معدوم ہوتی ہیں۔ خود راشد کہتے ہیں:
وہ خواب کہ اسرار نہیں جن کے ہمیں آج بھی معلوم
وہ خواب جو آسودگیِ مرتبہ و جاہ سے
آلودگیِ گردِ سرِراہ سے معصوم!
جو زیست کی بے ہودہ کشاکش سے بھی ہوتے نہیں معدوم
خود زیست کا مفہوم!
(کلیات، ص۲۸۸)
چنانچہ صارفی معاشرت خوابوں سے گریزاں ہوتی ہے۔ اس معاشرت میں ہر شے عارضی، وقتی، لمحاتی، موسمی ہوتی ہے۔ ٹھہراؤ، استقلال، دوامیت کی کوئی جگہ نہیں ہوتی۔ یہاں وقت کا تصوّر فقط لمحۂ حال تک محدود ہوتا ہے اور ہر شے کی معنویت اور افادیت فقطہ لمحۂ موجود کے حاوی رجحان کے ہاتھوں متعین ہوتی ہے۔ اسی بنا پر اس معاشرت میں خوابوں سے گریز اور خوف پایا جاتا ہے۔ خواب اگر ایک طرف انسانی وجود کے عمودی اور دوامی عنصر کی نمائندگی کرتے ہیں تو دوسری طرف یہ وقت کا ایک ایسا ہمہ گیر تصوّر دیتے ہیں، جس میں لمحۂ حال محض ایک معمولی جز کی حیثیت رکھتا ہے۔ لہٰذا خواب صارفی یا افقی انسانوں کو ان کے عمود سے آشنا کروانے کی صلاحیت رکھتے ہیں، انھیں لمحۂ حال یا جز کی سطح سے اوپر اٹھا کر اُس کُل سے متعارف کروانے کی سعی کرتے ہیں جو ذرّے سے کہکشاں تک ہر شے میں رواں دواں ہے اور جس کے بغیر انسان آزادی کامل کے تجربے سے نہیں گزر سکتا، مگر صارفی انسان اس سب کے سلسلے میں بے حسّ ہوتا ہے، تشکیک میں مبتلا ہوتا ہے یا بری طرح خوف زدہ ہوتا ہے۔
اگرچہ اندھا کباڑی خوابوں کو (افقی) انسانوں کے سپرد کرنے میں ناکام ہوتا ہے اور نظم کے آخری مصرعے: ’’خواب لے لو ، خواب__/میرے خواب/ خواب __میرے خواب__/خوااااب__ / ان کے دااام بھی ی ی ی، اس کے غیر معمولی حُزن کا تاثر نمایاں کرتے ہیں، مگر نظم کا المیہ اختتام دراصل ایک ’کنونشن‘ ہے جس کے ذریعے اس امر پر شدت سے اصرار کیا گیا ہے کہ ’خواب‘ کسی حال میں ’کموڈیٹی‘ نہیں بن سکتے۔ صارفی معاشرت میں خواب واحد ایسا مظہر ہیں جو اس معاشرت کے مرکزی فلسفے کہ ہر شے قابلِ صَرف اور براے فروخت ہے، کا انکار کرتے ہیں۔ نظم میں خود خواب علامت ہیں۔ شاعر نے خاص قسم کے خوابوں کا ذکر نہیں کیا، اس لیے خواب کو ان تمام مثالی تصوّرات و اقدار کی علامت گردانا جا سکتا ہے جنھیں آرٹ نے منکشف کیا ہے یا جن میں آرٹ بنیاد رکھتا ہے اور جو صدیوں سے انسانی روحوں میں بسیرا کیے ہوئے ہیں۔۔ شاید اسی لیے اندھا کباڑی خود کو نقشِ گر ثانی کہتا ہے اور خود کو خوابوں کے مالک کے بجاے وارث کے طور پر پیش کرتا محسوس ہوتا ہے (یوں بھی ملکیت کا تصوّر استعماری/صارفی ہے)۔ حقیقی آرٹ، کبھی کموڈیئی نہیں بن سکتا۔ اسی لیے صارفی معاشرت ان کا انکار کرتی، ان کے سلسلے میں تشکیک پیدا کرتی، ان سے بیزاری خوف کو جنم دیتی ہے یا پھر اس جعلی آرٹ کی سرپرستی کرتی ہے جو خود کو قابلِ صَرف شے کے طور پر پیش کرے یا خود کو صارفیت کے ترجمان کے طور پر سامنے لائے۔
حواشی:
۱؎ یہ فرق تعبیریات کے معروف نظریہ ساز ای۔ڈی۔ ہرش جونیئر نے کیا ہے۔اپنے مقالے Meaning and Significance Reinter-preted میں لکھا ہے:
“Meaning, then, may be conceived as a self-identical schema whose boundries are determined by an originating speech event, while significance may be conceived as a relationship drawn between that self-identical meaning and something, anything, else.”
]مشمولہ Critical Inquiry، شکاگو یونیورسٹی، دسمبر ۱۹۸۴ء، ص۲۰۴[
۲؎ ن۔م۔راشد ، راشد بقلم خود، (مرتبین: سعادت سعید، نسرین انجم بھٹی) جی۔سی یونیورسٹی، لاہور، ص۸۲
۳؎ ٹیری ایگلٹن، How to Read a Poem ، بلیک ول پبلشنگ، اوکسفرڈ، ۲۰۰۷ء۔ ص۱۱۲
۴؎ ن م راشد ، راشد بقلم خود، ص۸۹
۵؎ وکٹر لیبو (Victor Lebow) ، Journal of Retailing ، بہار۱۹۵۵ء، ص۷
۶؎ ن م راشد، راشد بقلم خود، ص۹۳