Saamraj, Nai Nauaabadiyat aur Radd e Nauaabadiyat

Articles

سامراج نئی نوآبادیات اور رد نوآبادیات

احمد سہیل

 

نوآبادیات کوئی ’جدید مظہر‘ نہیں ہے۔ قدیم ادوار میں یونانی ، رومن مورز اور عثمانیہ میں نوآبادیات کو فروغ حاصل ہوا۔ بعد ازاں اس نوآبادیاتی نظام کو برطانیہ، فرانس، اسپین، جرمن، ہالینڈ، پرتگال اور بلیجیم نے توسیع دی۔ ’کالونی‘ کی اصطلاح ’کالونوس‘ (Colonus)سے اخذ کی گئی ہے۔ جس کے معنی ’کسان‘ کے ہیں۔ جدیدنوآبادیات پندرہویں صدی کے لگ بھگ شروع ہوا۔ جب ۱۴۸۸ء میں جنوبی افریقی ساحلوں پر مغربی قوموں نے نوآبادیات قائم کی۔ امریکا کو ۱۴۶۲ء میں نوآبادیات بنایا گیا۔ نوآبادیاتی نظام سے یہ معنی لیے جاتےہیں کہ لوگوں کو ایک علاقے سے نقل مکانی کرکے نئی نوآبادیاں قائم کرتے ہیں اور وہاں کی زمینوں، قوانین، صفت و حرفت ، ثقافت اور نظام حکومت پر قبضہ کرتے ہیں اور مقامی آبادی کو ان کے تہذیبی ورثے اور نظام معاشرت کو کم تر محسوس کرواتے ہیں اور اپنی احساس برتری کو ان پر حاوی کردیتے ہیں اور اتنی ناانصافیاں کرتے ہیں جو جبر یہ بشری استحصال بھی ہے جس میں نوآبادیاتی قوتیں مقامی آبادی پر خودمختاری اور بالواسطہ طریقے سے اپنا غاضبانہ نظام چلاتی ہے۔ نوآبادیات ایک قوم کا دوسری قوم پر غلبے کے لیے بھی جانی جاتی ہے۔ یورپی اقوام نے اپنی نوآبادیات قائم کرنے کے لیے جو جنگیں لڑیں وہ عام طور پر ان سرحدوں سے بہت دور لڑی گئی۔ ان جنگوں کے تمام منفی اثرات ایشیا اور افریقی قوموں پر پڑے مگر ان نوآبادیاتی تباہ کاریوں اور انسانی استحصال کے بعد یورپی سامراجی قوتیں اپنے طور پر امیر سے امیر تر ہوتے گئے اور یورپ میں ہونے والی سائنسی ترقیوں کو نوآبادیات سے آنے والے دولت، وسائل اور غلاموں کے سبب ان کی معیارِ زندگیوں کو بلند سے بلند مقام تک پہنچادیا۔
نوآبادیاتی نظام کا مظہر فلحال غیر وضاحتی اور غیر واضح ہے۔ مشکل یہ ہے کہ نوآبادیات، پس نوآبادیات، نئی نوآبادیات اور نئی نئی نوآبادیات کی اصطلاحوں کی تشریح و تفہیم کے لیے ایک دوسرے سے تقابل کرنا پڑتا ہے۔ پھر اسے ایک ماڈل کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس میں سامراجی اور نوآبادیاتی متغیرات کے حسب مراتبیات کے متغیروں کے طور پر شناخت کرواتا ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہوتے ہیں اس میں اس نظریے کے نظریہ دان اور محققین ترمیم اور ردِّوبدل کرنا پسند نہیں کرتے اور نوآبادیات… سامراج کی تعریف سے اپنے لہجے کے ماڈل کے ساتھ سامنے لاتا ہے۔
اب بشریات میں بھی نوآبادیات کی نئی مباحث ہوئیں ہیں جن میں نوآبادیاتی نظام و نظریے کو تاریخ ادب اور نوآبادیاتی ماضی کا تناظر میں مطالعہ کرکے ان کے درمیان حدود کو مٹایا یا کم کیا جارہا ہے۔ سفریات (سیاحت) کے مطالعوں اور ’نسل نگاری‘ ، بشریاتی نوآبادیاتی مطالعوں کو نئی نوآبادیات کو معکوسی سمت بھی دی۔ ۱۹۶۰ء کے نوآبادیاتی بشری مطالعوں میں دو فردعی نمائندگی کو ایک جدوجہد اور فکری مکالمے کے تجزیات کے سیاق میں پیش کیا گیا۔جس نے نوآبادیاتی آقاؤں کو تاریخ اور نوآبادیات پر ازسرِ نو سوچنے اور لکھنے پر مجبور کیا۔ کیونکہ نوآبادیاتی حکومتوں نے اپنی ہی نہیں بلکہ محکوم قوموں کی تاریخ اور ثقافت کی شکل بھی بگاڑدی۔ جس میں تہذیبی مسماریت اور نوآبادیاتی قوموں کی ’احساس برتری‘ حاوی تھی۔ ثقافتی مطالعوں میں ثقافتی، تہذیبی افتراقات سے ہی ’نسلی دبستان‘ کی بنیاد پڑی جس میں اولین موضوعات نوآبادیات سے متعلقہ مباحث کے ہی ہوتے ہیں۔
مغرب سے بھی نوآبادیات ایک عرصے اخلاقی، معاشرتی و سیاسی اہلِ فکر کے لیے تشویش کا باعث رہا اور صلیبی جنگوں کے بعد اور امریکہ کی سول وار تک سیاسی دانشور سیاسی دانشور نے غیر ملکی ؍مغرب کی سازشی حکمت عملیاں، قدرتی قانون اور انصاف کے التباسات پر سوچا گیا اور یہ تناؤ، کشمکش،تصادم کی کیفیت، لبرل، روایتی اور نوآبادیاتی حرکیات کی صورت میں شدت سے ابھرا اور اس میں بایاں بازو نے نظریہ دان رجحان کے حامل فلاسبہ اور ادیبوں نے اس کے معیارات وضع کرتے ہوئے انسانی مساوات اور عدل سے منسلک کیا۔ جن کی نوآبادیات کے حق میں دلیل دینے والی قوتیں یہ کہتی رہی کہ یہ ’وحشی معاشروں‘ کے لیے ضروری تھا۔ جو ایک ’نوآبادیاتی مشن‘ ہے۔ نوآبادیاتی مطالعوں میں فطرت قانون اور نئے عہد کی بازیافت لبرل ازم، شہنائیت، مارکسزم، لنین ازم اور پس نوآبادیات کے نظریے کے تحت کیے جاتے ہیں۔
برطانیہ جیسی طاقت ور حکومت کو جنوبی افریقہ میں پچاس سے کم بوئر کسانوں کو شکست دینے کے لیے دس برس کا عرصہ لگا۔ سوڈان کے حریت پسند عسکری رہنما مہدی سوڈانی نے برطانیہ کو شکست دی اور جنرل گورڈن ان کی فوجوں کے ہاتھوں ہی مارا گیا۔ ادھر ہندوستان میں ’ریشمی رومال‘ اور ’روٹی‘ والی نوآبادیات شکن تحریکیں شروع ہوگئی تھیں۔ ہندستان میں جلیانوالہ باغ کا واقعہ پیش آیا۔ بھگت سنگھ اور ادھم سنگھ کی سامراج دشمنی سے کون واقف نہیں اور اس زمانے میں ایسے کئی واقعات ملتے ہیں جن سے انگریزوں کی سامراجی سفاکی اور بربریت ابھر کےسامنے آئی۔ اس کے ساتھ کی چھوٹی اور بڑی سامراجی طاقتوں کے مابین کشمکش شروع ہوگئی اور اس صدی کے اختتام سے پہلے فرانس اور جرمنی کی افریقا کے ممالک میں فوج کشی اور سازشیں شروع ہوگئی اور اس میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتارہا۔ بیسویں صدی کے اوائل میں نوآبادیاتی ممالک بڑے پیمانے پر جنگ کی تیاری کررہے تھے۔ پہلی عالمی جنگ کی صورت میں سامراجیوں کے درمیان ہولناک تصادم ہوا جس کے لیے چودہ سال کے اور اسی زمانے میں ترکی کی سلطنتِ عثمانیہ پارہ پارہ ہوئی جو برطانوی سامراج کی بڑی سازشی فتح تھی۔
موجودہ سامراجی دور میں دو عالمگیر جنگیں لڑی گئیں۔ ان کی شروعات کے لیے بظاہر وقتی حادثات کچھ بھی ہوئے ہوں، بنیادی طور پر ان جنگوں کی وجہ سے سامراجی طاقتوں کی طرف سے نوآبادیات کی تقسیم پر جھگڑا تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں بھی ایک طرف برطانیہ، فرانس، روس، بلجیم، ہالینڈ وغیرہ کے ممالک تھے، جن کے پاس دنیا بھر میں بے شمار نوآبادیات تھیں اور دوسری طرف جرمنی اور اس کے اتحادی ممالک کا گروہ تھا۔ جنھوں نے صنعتی لحاظ سے خوب ترقی کرلی تھی۔ لیکن سرمایہ دارانہ ترقی کے باعث تیار شدہ مال کے لیے منڈیاں نوآبادیات کی شکل میں موجود نہ تھیں۔ ان منڈیوں اور نوآبادیات کے حصول کی خاطر ہی پہلی جنگِ عظیم لڑی گئیں۔ جن میں جرمنی اور اس کے اتحادیوں کو نہ صرف ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا بلکہ ورسیلز معاہدہ کے تحت ذلت آمیز شرائط صلح بھی تسلیم کرنا پڑیں۔ جرمنی کے سرمایہ دار طبقے نے اس ذلت اور رسوائی کا انتقام لینے اور ایک بار پھر نوآًادیات کی تقسیم کے لیے جنگ کی تیاریاں شروع کرلیں۔ بنیادی طور پر دوسری عالمگیر جنگ نوآبادیات کی تقسیم کے لیے ہی تھی۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ جب تک دنیا میں سامراج موجود ہے۔ جنگ کا خطرہ موجود رہے گا۔ ان دنوں اگرچہ سرد جنگ ختم ہونے کے بعد گرم جنگ کے امکانات کو نظر انداز کیا جارہا ہے لیکن جس طرح سے پرانے نوآبادیاتی نظام کی جگہ نیا نوآبادیاتی نظام قائم کیا جارہا ہے، جو کسی ملک میں پرانے نوآبادیات نظام کی طرح فوج کشی کرکے قبضہ تو نہیں کرتا۔ لیکن اقتصادی اور معاشی لوٹ کھسوٹ مقامی ایجنٹوں کے ذریعے حسب سابق ہی کرتا ہے۔ پسماندہ اور غیر ترقی یافتہ ممالک کی لوٹ کھسوٹ کی خاطر جہاں ایک طرف امریکا، جرمنی، فرانس اور برطانیا جاپان وغیرہ میں سامراجی تضادات موجود ہیں، وہاں ان دبی کچلی قوموں میں سامراج کے خلاف شدید جذبہ پایا جاتا ہے۔ اگرچہ فلحال نہ توبین السامراجی تفاوات اس قدر ہگرے ہوئے ہیں کہ سامراجی طاستوں کے درمیان جنگ کی صورت اختیار کریں اور نہ ہی دبی کچلی قوتوں میں سامراج کے خلاف بغاوت کے جذبے کی شدت پائی جاتی ہے۔ اس لیے عالمی جنگ کا کوئی خطرہ موجود نہیں۔ تاہم سامراجی لوٹ کھسوٹ کے جاری رہنے اور اس لوٹ کھسوٹ کے لیے سامراجی طاقتوں کے درمیان تفاوات کی موجودگی کے باعث جنگ کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جساکتا ہے۔ کسی وقت بھی یہ تفاوات شدید ہوکر جنگ کے امکانات پیدا کرسکتے ہیں جنگ کو دائمی طو رپر ختم کرنے کے لیے سامراج کا خاتمہ ضروری ہے جب تک سامراج ختم نہیں ہوتا جنگ کے امکانات موجود رہیں۔ اس لیے دوسری جنگِ عظیم کی تباہ کاریوں کا بنیادی سبق یہ ہے کہ انسانیت کو جنگ کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے سامراج کے خاتمے کی جدوجہد ضروری تھی۔ مورّخ مبارک علی کا کہنا کہ یہ التباس ہوتا ہے۔ اس سبب استعماری قوتوں کے بارے میں رویہ کبھی نوآبادیاتی عوام کے لیے سودمند اور دوستانہ نہیں ہوتا۔ بلکہ اپنے مقصد کے حصول کی خاطر ہر قسم کے تشدد کو روا رکھنا اپنا حق سمجھتی ہے۔
پس نوآبادیاتی تنقید کے علم برداروں نے مغربی سامراج کے پنجے سے آزاد ہونے والے ممالک کے ادب پر سیر حاصل بحث کی۔ خاص کر ہندوستان کی آزادی کے بعد آنے والی ادبی تنقید کو اس رجحان سے متعارف کروایا۔ ساٹھ کی دہائی میں ایشیا اور افریقا کے کئی ممالک استعماری قوتوں سے آزادی حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اس عالمی سیاسی تناظر کے زیر اثر نوآبادیاتی تنقید نے تیسری دنیا کے مزاحمتی احتجاجی تناظر میں بھی اپنی فکری اور تنقیدی حصّہ داری کااحساس دلوایا۔ ان رجحانات کے ڈانڈے مابعدجدیدیت اور رد تشکیل کے ادبی اور لسانی نظریوں سے بھی ملائے گئے۔ پس نوآبادیاتی تنقید میں یقیناً مشرق اور مغرب کی امتیازات ، تعصبات، تشدد، سفاکی کی عمیق آگہی موجود تھی۔ اس میں ماضی کی ستم، انسان کے ہاتھوں انسان کا استحصال کا ادراک اس قدر حاوی تھا کہ اپنی مقامی شناخت کی تلاش میں پسماندہ، ترقی پذیر اور تیسری دنیا کا ادب بھٹک گیا اور ان اقدار کو تلاش کرنے لگا جو مغرب کی اقدار اور روایت کی دین تھیں۔ یہ رویہ سراسر واہماتی عینیت پسندی کے زمرے میں آتا تھا۔ لہذا انھی سابقہ مغربی اور بدیسی آقاؤں کی فکری گرفت سے چھٹکارا نہ مل سکا۔
یہ کہا جاسکتا ہے کہ رد نوآبادیاتی تنقید نے نسبتاً ایک ایسے وسیع النظر تناظر کو جنم دیا جو پہلے نہیں تھا، یہ نظریہ ابھی بھرپور طور پر ابھر کے سامنے نہ آسکا، کیونکہ نئے آزاد ہونے والے ممالک اسی پروانے خول میں بند ہیں۔ نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد چاہیے وہ ہندستان ہو یا الجزائر، سوڈان ہو یا انڈونیشیا، تقریباً ادب وفن پر سابقہ سامراجی اثرات قائم رہے کیونکہ نوآبادیاتی نظام کی جڑیں مکمل طور پر نہیں کاٹی گئیں تھیں۔ لہذا ان ممالک کے فکری افق پر منافقت، سودے بازی اور نعرے بازی کی قوتیں کچھ ایسی حاوی رہیں کہ نوآبادیاتی نظام سے چھٹکارا پانا ان کے لیے مشکل ہوگیا۔ فرد ہو یا حکومت ایک طبقہ ہو یا ایک معاشرہ، ہر مقام پر سمجھوتے کیے گئے اور پس نوآبادیاتی ادب و فکر میں التباس کی دھند پھیلی۔ پس نوآبادیاتی تنقید میں انھی پرانے نظریوں اور دانش سے رہنمائی حاصل کی گئی اور کوئی آئیڈیالوجی راسخ نہ ہوسکی۔ تقریباً سبھی چھوٹے بڑے، سابقہ غلام ممالک کسی واضح فکری قدر کو نہ اپنا سکے اور نہ ہی کوئی مستحکم نظام ان کے حصّے میں آیا۔ وہی دو ممالک جو ایک ہی نوآبادیاتی شکنجے سے آزاد ہوئے ایک دوسرے کے دشمن ٹھہرے جن خوابوں کو پانے کے لیے سامراجی نظام سے ٹکر لی گئی، بعد میں وہ سب ہی منافقت، زرپرستی اور اقتدار پسندی کے نذر ہوگئے۔ فرد سے فردکا قلبی رشتہ کٹ گیا۔ فکری اور عمرانیاتی آدرش بکھر بکھر کر ریزہ ریزہ ہوگئے تو فرد کو اپنے پھسپھسے اور کھوکھلے نظریات اور جحانات کا احساس ہوا یہ احساس قرۃالعین کے ناولوں سے جابجا ملتا ہے۔ خاص کر ان کا ناول ’چاندنی بیگم‘ میں ہندستان کی آزادی کے بعد دو ملکوں کی تہذیبی، سیاسی، معاشی پامالی کی نوحہ گری ہے۔ جن میں نوآبادیاتی نظام سے آزادی کے بعد نئے اقتدار کی ترجیحات ایک ارب عوام کی ترجیحات سے مختلف تھیں، فرد مجہول اور نفسیاتی مریض بن کے رہ گیا۔ رد نوآبادیاتی تنقید نے نیم جاگیردارانہ نظام، سیاست، قانون، صحافت، نئے سرمایہ دارانہ نظام (چھوٹے) شوبزنس پاپولر ذرائع ابلاغ، سستی اور سطحی تفریحی پر ڈراموں سے فرد ہی کا نہیں بلکہ معاشرے کی بنیادی اکائی ’خاندان‘ کے سکوں کو تباہ و برباد کردیا۔ نوآبادیاتی نظام کے باطن سے پیدا ہونے والے استحصالی نظام کو خوش آمدید کہنے پر مجبور ہوگیا۔ اسی طرح خدیجہ مستور کے ناول ’آنگن‘ میں خاندانی اکائی کا تتر بتر ہوجانا اور زریں اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر حالات سے معاشی اور معاشرتی مفاہمت کرلینا ظاہر ہوتا ہے، شوکت صدیقی کے ناول ’خدا کی بستی‘ میں ہجرت کے حوالے سے نئی تبدیلی کی اذیت ناکی ملتی ہے۔ جس کے پس منظر میں سامراجی رجحان کا حاوی محرک نمایاں ہے، جہاں فرد کے آدرش ٹوٹ پھوٹ گئے اور کوئی نظریہ حیات نہ ابھرسکا۔ عبداللہ حسین کا ناول ’نادار لوگ‘ میں پاکستانی حوالے سے فرد کی باطنی سچائی کو اجاگر کرتے ہوئے معاشی منعفت پسندی کو ٹھکرا دیا گیا۔ ساٹھویں دہائی میں تیسری دنیا کے لیے سابقہ نوآبادیاتی ممالک کی ادبیات میں رد نوآبادیاتی تناظر کو محسوس کیا گیا خاص کر اردو کے جدیدیت پسند رجحان میں فرد کی جو ٹوٹ پھوٹ ہوئی اور قنوطی سیاق میں جو کچھ لکھا گیا وہ انحطاطِ ذات تو تھا ہی، مگر اصل میں اس کے پس منظر میں ردنوآبادیاتی کا نظریہ لاشعور بھی چھپا ہوا تھا۔
انہ۔۔۔۔ سویت روس، انقلاب ایران، سقوط مشرقی پاکستان اور دیگر عالمی تبدیلیوں نے رد نوآبادیاتی تنقید کی راہیں مستحکم کیں۔
ایک جاپانی شاعر کیوکروڈا (Kio-Kuroda)نے کچھ سال قبل ایک نظم ’ہنگرین قہقہہ‘ لکھی۔ اس طویل نظم میں ردنوآبادیاتی رجحان کو شناخت کیا جاسکتا ہے۔
میں کل ضرور لکھوں گا
ہنگری کے متعلق ایک نظم
لوکاشیؔ کون ہے
جسے پھانسی دی گئی
ناگےؔ کہاں ہے
جسے ہم بھلا چکے ہیں
جیسے میں گم شدہ ہوں
ہنگری میں روس کے نوآبادیاتی تسلط کے خلاف بغاوت کے حوالے سے اس نظم کو دیکھیں تو ردنوآبادیاتی رجحان کے عناصر کی کارکردگی کا اس میں صریحاً بیاں نظر آتا ہے۔
خاص کر ۱۹۷۰ء کے بعد تیسری دنیا کی فکری بساط پر نوآبادیاتی پس منظر میں نئے تاریخی تناظر اور عقل پسندی کے مہروں کو اپنایا گیا یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ ہر ادب اپنے مخصوص احوال کے تناظر میں ایک نوآبادیاتی کو اپنے ذہن کے اصل فکری التباس اور حقیقی صورتِ حال کا پتہ چلا کہ ایک مصنوعی آئیڈیالوجی، قدامت پسندی اور اقتدار پسندی کے رجحان نے علم و ادب کا کس صفائی سے استحصال کیا۔ پس نوآبادیاتی فکر میں بغاوت کا شور شرابا بہت تھا جس فکر جذباتی اور سطح ہوگئی اور سیاسی اور گروہی اہداف کو پالینے کے لیے اسے استعمال کیا گیا۔ مثلاً پاکستان میں جب بھی مارشل لا لگا تو ظاہراً تو مزاحمتی شعرا کی ایک فوج ابھر کر سامنے آئی لیکن چونکہ ان کے پاس نظریاتی قوت کی کمی تھی اس لیے ان کے تمام جذبات و دانش مثل حباب ثابت ہوئے اور ان کی شاعری افادیت پسندی اور شوبزنس سے آگے نہ بڑھ سکی۔
آئرلینڈ کے شاعر ولیم بٹلر یٹس ( William Butler Yeats)کو جدید انگریزی ادبیات کے مخاطبے (ڈسکورس) اس سبب امتیاز و مقام حاصل ہے کہ انھوں نے یورپ کے ہائی ماڈرن ازم کے باطن میں پویشدہ نوآبادیاتی رویوں کا سراغ لگایا۔ یٹسؔ نے آئرلینڈ کی روایت تاریخ اور سیاسی سیاق میں اس بات کاشدت سے احساس دلوایا کہ اس کڑے وقت میں قوم پرست آئرلینڈ تکالیف کا شکار ہے، انگریزی شعرا اور اردو ادیب آئرلینڈ کے سلسلے میں نوآبادیاتی ذہنیت کا اظہار کررہی ہے کیونکہ آئرلینڈ کی ثقافت و ادب مغربی جدیدیت سے قطعاً محتلف ہے۔
یٹس (Yeats)کو آئرلینڈ کے قومی شعرا میں شمار کیا جاتا ہے جو کہ سامراج شکن ہیں۔ انگریز ثقافت کا حاوی عنصر آئرلینڈپر نوآبادیات پنجے کو ثابت کرنے کےلیے کافی ہے۔ آئرلینڈ کی ثقافتی خود مختاری کا خواب اصل میں رد نوآبادیاتی رجحان ہے۔ آئرلینڈ کی تاریخ مسخ کی گئی ہے۔ یٹس ؔ کا خیال ہے کہ رد نوآبادیاتی مزاج کے سبب آئرلینڈ کی تاریخ کے موضٰعات کو نظر انداز کیا گیا ہے۔ ان کی نظم ’ماہی گیر‘ (Fisherman)رد نوآبادیاتی تجربے کا حساس اظہار ہے۔
یہ طویل ہے، میری ابتدا سے
آنکھوں تک پکارتا ہوں
یہ نیک اور سادہ آدمی
میں تمام دن چہرے میں دیکھتا ہوں
کیا میں امید کروں
کہ اپنی نسل پر لکھوں
اور حقیقت (۱)
ایڈورڈ ولیم سعید نے لکھا ہے کہ یٹسؔ کی شاعری نے نوآبادیاتی رویوں کو دریافت کیا ہے۔ ایڈورڈ سعید کے بقول انگریزی زبان پر آئرلینڈ کے اس شاعر کی شعری فطائت کاادراک نہ ہوسکا ( یا انھیں دانستہ طو رپر نظر انداز کیا گیا) کیونکہ آئرلینڈ پر انگریز ثقافت ، ادب اور یورپ کی جدیدیت کی یلغار ہمیشہ سے ہوتی رہی ہے۔ یٹس ؔ نے آئرلینڈ کے ساحلوں پر برطانوی سامراج کی ریشہ روائیوں کو محسوس کیا۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے تجربات کے حوالے سے سامراج شکن رویوں کو جگہ دیتے ہیں رد نوآبادیاتی وساطت سے ایڈورڈ سعید نے مصر، ترکی سیلوں (سری لنکا) انڈونیشیا، چین اور ہندستان کی مشالیں دیتے ہیں اور ادبی اور ثقافتی حوالوں سے تیسری دنیا کے ان ممالک میں رد نوآبادیاتی رجحان کا پتہ لگاتے ہیں۔ (۲)
یورپ میں چند لکھنے والے ایسے بھی ملتے ہیں جنھوں نے اپنی تخلیقات میں رد نوآبادیاتی رویوں کو جگہ دی۔ ان میں سب سے نمایاں نام فرانسیسی ڈراما نگاری ژان ژینے ( Jean Genet)کا ہے۔ ان کے ڈرامے ’دی بلیک‘ (The Black)میں سیاہ فام طوائف نوآبادیاتی نظام کے کارندوں کو یک بعد دیگرے موت کے گھاٹاتار دیتی ہے۔ دیکھنے میں یہ نسلی نوعیت کا احتجاج ڈراما ہے لیکن اصل میں ژان ژینے نے اس کھیل میں مغرب کے نوآبادیاتی نظام کے رد کو ابھارہ ہے۔
برٹینڈرسل (Bertrand Russell)جنھیں فلسفہ اور ریاضی کے میدان میں شہرت حاصل ہے وہ مغرب کی گوری تہدیب کے نشاۃ الثانیہ کے اس حد کت خواہاں ہیں کہ ان کی فکر نوآبادیاتی رنگ میں ڈھل جاتی ہے۔ یہ وہی برٹینڈرسل ہیں جنھو ںنے ژان پال سارتر کی رفاقت میں ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا کے نوآبادیاتی اور سامراجی عزائم کا پردہ چاک کرتے ہوئے امریکا پر کھلی عدالت میں مقدمہ چلایا اور امریکا کو جنگی مجرم قرار دیا۔
اسی طرح انگلستان کے افادیت پسند فلسفی جاں اسٹیورٹ مل (Mills)کے نظریات میں ہندستان سے نفرت آسمان کو چھوتی ہے۔ برصغیر میں انگریزوں کانوآبادیاتی نظام اخلاقی مذہبی اور نسلی برتری کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوا بلکہ یورپ کی عقلیت پسندی، منطقی ہیئت، ثنوتیت اور سائنسی ترقی نے ہندستان کے روایتی معاشرے پر باآسانی تسلط قائم کرلیا۔ انگریز کو بھی علم تھا کہ انھیں ہندستان میں خوش آمدید نہیں کہا گیا بلکہ کمزور معاشرتی اور سیاسی ڈھانچے اور داخلی خلفشار اور بحران کا فائدہ اٹھا کر انھیں ہندستان میں اپنی نوآبادیات قائم کی اور انھیں یہ خام خیال تھی کہ اعلا اصولوں، اخلاقی اور تہذیبی اوصاف کے سبب ’سونے کی چڑیا‘ ان کے ہاتھ لگی ہے۔ ایک انگریز جان لارنس جو ۱۸۵۷ء میں پنجاب میں متعین تھا، اس نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا، ’’ہم یہاں لوگوں کی مرضی یا ان کے انتخاب سے نہیں آئے ہیں۔ بلکہ ہم اپنی اخلاقی برتری، حالات کی موافقت اور مثیت ایزاری کی مرضی کے تحت اقتدار میں آئے ہیں۔ یہی وہ چار ٹر ہے جس کی بنیاد پر ہم ہندستان میں حکومت کررہے ہیں۔ (۳)
لاطینی امریکا میں رد نوآبادیاتی رجحان اب خاصا پرانا ہوچکا ہے۔ نوآبادیات کا فکری احساس خاصا حساس بھی نہیں بلکہ اس کا اظہار لاطینی امریکا اور امریکا کے ’چکانو ادب ‘ (Chicano Literature) امریکا میں بسنے والے لاطینی امریکی نژاد باشندوں بالخصوص میکسیکو کے باشندوں کا ادب جو انگریزی زبان میں لکھا گیا۔ میں نمایاں طو رپر محسوس کیا جاسکتا ہے جو اصل میں یورپی نسل کے امریکی باشندوں کے سامراجی رویوں کے سبب وجود میں آیا۔ میکسیکو نے ۱۸۲۱ء میں اسپین سے آزادی حاصل کرنے کے بعد میکسیکو کے شمالی صوبہ جات پر مشتمل ’’Aztlan‘‘کے نام سے ایک ریاست ری پبلک آف میکسیکو میں شامل کردی۔ اس تسلط کے خلاف ۱۸۴۸ء تک خاصی مزاحمت کی گئی لیکن کوئی نتیجہ برآمد نہ ہوا۔ ابھی اس نوآبادیاتی تسلط سے نجات حاصل نہ ہوپائی تھی کہ امریکا نے اپنی نوآبادیات کو بڑھانے کے لیے جنوبی سرحدوں کی جانب ریلوے لائن بچھانا چاہی لہذا ۱۹۱۰ء سے ۱۹۲۰ء تک میکسیکو کے مقامی باشندوں اور مغربی استعمار کے درمیاں گھماسان کا رن پڑا۔ جس میں ملین کے قریب میکسیکو کے باشندے مارے گئے۔ شکست کے بعد ٹیکسس، نیو میکسیکو ، ایرے زونا، کیلے فورنیا اور آدی گن (آدھا) کو بندوق کے مور پر ریاست ہائے متحدہ امریکا کا حصّہ قرار دے دیا گیا اور بڑی صفائی سے مقامی آبادی کو اقلیت میں تبدیل کردیا گیا۔ لہذا آج بھی امریکا کے چکانو ادب اور بالخصوص شاعری میں Aztlanصوبے کا نوآبادیاتی ناسٹلجیائیہ احساس شدت کے ساتھ محسوس کیا جاسکتا ہے۔ نوآبادیات کے رد میں معاشرتی اور سیاسی حوالے سے معاشرتی نمونوں (روٹی، مکھن، لوبیا) کی علامتوں کی مدد سے نوآبادیاتی نظام کے خلاف احتجاج اور مزاحمت کی تصویر بھرپور طور پر سامنے آتی ہے۔
تم کچرا کھاتے ہو
تمھاری روٹی اور مکھن کے ساتھ
اور میں، میرا کھاتا ہوں، لوبیے کے ساتھ
اور ٹوٹریے ** کے ساتھ منہ مارتا ہوں
(میکیسکن روٹی (Tortilla))
البرٹ کامیوؔ نے ہزار الجزائر کی آزادی کے نغمے گائے ہوں مگر وہ فرانسیسی نوآبادیات سے الجزائر کو آزاد ہوتا دیکھنا نہیں چاہتے تھے اور کسی صورت میں بھی الجزائر ( جو ان کی جنم بھوی بھی تھی) کو خود مختار ملک کا رتبہ دینے کے حق میں نہ تھے، وہ ہر طور سے فرانسیسی نوآبادیاتی نظام کو برقرار رکھنا چاہتے تھے اور اس نظام کے تحفظ کے بھی خواہاں تھے۔ ٹی ایس ایلیٹ (T.S.Eliot)نے عیسوی شریعت کو رائج کرنے کے متمنی تھے۔ انھوں نے ’ویسٹ لینڈ‘ میں روحانیت اور قنوطیت کا ڈراما رچا کر مغربی ثقافت کو مغربیت رائج کرنے کا عندیہ دیااور جدیدیت کی آڑ میں مغرب کی نوآبادیاتی توسیع پسندی اور سامراج پرستی کا خواب دیکھا۔ دریردا (Derrida)نے دبے الفاظ میں نوآبادیاتی تصورات کو اپنی تحریروں میں جگہ دی۔ دریردا مغربی مابعدالطبیعات کو ’گوری اساطیر‘ سے تعبیر کرتے ہیں جو ان کی نظر میں مغربی ثقافت کا جبر ہے۔ دریردا کے ان خیالات نے نئے نقادوں کو مزید سوچنے پر اکسایا۔ باختنؔ کے Dialogisگرماسکی (Gramsci)کے مماثلتی تصور، فوکو کا قوت دور آگہی کا تصور اصل میں نوآبادیات شکن تصورات ہیں۔ ان افکار نے مغرب کے آون گارڈ اہرام یا ماڈل کی کوتاہ شعوری کا احساس دلوایا۔ ایڈورڈ سعید نے اپنی کتاب ’Orientalism‘میں چار ہزار سال کی تاریخی تناظر میں پس نوآبادیاتی تنقید کے حوالے سے فلسطین سے سیاسی سے اپنی فکری رفاقت کا احساس دلوایا۔ (۴)
دوسری جنگ عظیم کے ہیرو جنرل مٹگمری، جو نوآبادیاتی تسلط پسندی کے حامی تھے مگر اسی شدت سے وہ نوآبادیات خطوں میں عیسائیت کے احیا کے خواہش مند بھی رہے انھوں نے مغرب کی برتری کو کمزور نوآبادیات اور نئے آزاد ہونے والے سابقہ نوآبادیاتی ممالک پر ٹھونسنے کے لیے ، ناٹو، سیٹو، سینٹو جیسے سامراجی دفاعی معاہدات کی منصوبہ بندی کی۔ اس صورتِ حال کو بھاپ کر الفریڈ سیووئے (Alferad Sauvy)کے نظریہ تیسری دنیا کو ابھارہ گیا۔ پھر غیر وابستہ ممالک کی تحریک چلی۔ یہ سب رویوں اور جحانات در نوآبادیات کے سلسلے میں ہی تھے جس سے تیسری دنیا کے ممالک دوچار تھے۔
اسی طرح نوبیل انعام یافتہ ناول نگار گیبریل مارکیوز گارشیا، اکتاویوپاز، البرٹو اپسنووزا (Espinosa)کی تحریروں میں ردنوآبادیاتی احساس خاصا ترش ہے جو فکری سط پر خاصا گہرا بھی ہے۔ چلی کے شاعر پابلو نرودا نے رد نوآبادیات کی وساطت سے اپنے خدشات کااظہار کیا ہے۔ خاص طور پر وہ چلی کی داخلی نوآبادیات اور لاطینی امریکا میں پھیلے ہوئے مغربی سامراج کی توسیع پسندی کو اپنی شاعری میں بیاں کیا ہے۔
I knew that man, and when i could
when I still bad eyes in my head
when I still bad a voice in my throat,
I sought him among the tombs and I said to him
pressing his arms that still was not dust
“Everything will pass, you will still be living,
you set fire to life
you made what is yours”
So let no one be perturbed when
I seem to be alone and am not alone
I am not without company and I speak for as
Someone is bearing me without knowing it
But those I sing of those who know
go on being born and will over flow the world (5)
میکسیکو کے ناول نگار کارلوس فونیتیس (Carlos Fuentes)نے اپنی تحریروں میں امریکی نوآبادیاتی زمین کو بڑے دلچسپ انداز میں پیش کیا ہے ان کی ناول ’’The Old Gringo‘‘ (لاطینی امریکا، بالخصوص میکسیکو میں امریکیوں کو طنزاً ’گرینگو‘ کہتے ہیں) میں اس بات کا احساس دلوایا ہے کہ میکسیکو کے شمالی علاقوں میں امریکا نے پروٹسٹنٹ مذہب اور سرمایہ دارانہ ثقافت کی آڑ میں نوآبادیات کو فروغ دیا جس کا سلسلہ جنوبی میڈی ٹیرین ( Mediter ranean)تک جاتا ہے۔ نوآبادیاتی سلسلے میں ریگنؔ انتظامیہ نے نکارا گوا میں جو کچھ گُل کھلائے وہ تاریخی تناظر میں پریشان کن ہے۔ فونیتیس ؔ نے بل مائر ؔ (Billmoyer)کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ ۱۹۵۴ء میںگوئتے مالا میں جوکچھ ہوا وہ سب امریکا کی سامراجی قوت کے سبب ہوا۔ لہذا لوگوں نے اسے Vietnamization of Central America یا Central Americanization of Vietnamکا نام دیا۔ (۶)
یہ ڈراما تو ویت نام کے خونی ڈرامے سے ایک صدی پہلے لاطینی امریکا میں کھیلا جاچکا تھا۔ جس کی سب سے بھاری قیمت میکسیکو کو ہی ادا کرنی پڑی اور آج تک یہ ملک خسارے میں جارہا ہے۔
قونیتین ایک ماہر نفستیا ہیں۔ انھوں نے ۱۹۶۱ء میں اپنی کتاب ’بدنصیب زمین‘ میں طبی فطرت نوعیت کا نوآبادیاتی تجزیہ کیا ہے جو معاشروں کو تباہ و برباد کردیتے ہیں۔ ان کے خیال میں نوآبادیات اپنی شناخت کے ساتھ مقامی علاقوں میں داخل ہوکر ان علاقوں پر قبضہ کرلیتی ہے اور اپنی نوآبادیاتی صفات کو انسان قرار دیتی ہے اور مقامی باشندوں کو ان کی کمتری کااحساس دلوا کر غلامانہ ذہنیت پیدا کرجاتی ہے جس کے لیے ذہنی اور جسمانی تشدد کیا جاتا ہے جو مکمل طور پر ’نسلی‘ نوعیت کا ہوتا ہے۔ فونتین اسے ’متشدد مزاحمت‘ کہتے ہیں جو مقامی نفسی حسیت، عزت نفس کے پردے میں نوآبادیاتی خوشامدی ٹولہ پیدا کرتا ہے۔ انھو ںنے الجزائری جنگ آزادی کی کھل کر حمایت کی۔ ان کے خیال میں نوآبادیات مکمل طور پر معاشی نظریہ بھی ہے کیونکہ سامراج اعلا درجے کی سرمایہ داریت ہوتی ہے جس میں سرمایہ ’منافع‘ کو پیدا کرتا ہے۔ فونتین کا خیال ہے کہ تیسری دنیا کے بدترین استحصال کا نشانہ ہونے والے انسانوں کو ’افتادگان خاک‘ کہا۔ یہ ان کی کتاب کا عنوان بھی ہے۔ جس کا اصل اور بنیادی مقولہ ہے کہ مغربی سرمایہ کار طبقہ بیک وقت تعمیری اور طفیلی کردار کاحامل ہے اور نوآبادیاتی گماشتے کا کردار ادا کیا۔ اس عمل کے دوران استحصالی نوآبادیاتی نظام مقامی محنت کشوں اور کسانوں کا سفّاک اور بے رحمانہ استحصال کرتا ہے۔ فونتین کا نوآبادی نظریہ اصل میں ’تیسری دنیا کی انقلابی جدوجہد‘ کے مکالمے میں پوشیدہ ہے…. اس سلسلے میں کولمبیا کے نوبل انعام یافتہ ناول نگار گیبریل مارکیز گارشیا نے لکھا ہے ’’سیاست کے تناظر میں دیکھنے سے لاطینی امریکا کی نوآبادیات اور پس نوآبادیات کی معاشرت کاادراک تو ہوسکتا ہے مگر لاطینی امریکا کو آپ اس نظریے سے دیکھنے سے محروم ہوجائیں…. اس نظر سے گارشیا نے نوآبادیات کو لاطینی امریکا کے تناظر میں دیکھا۔
اردو میں باقاعدہ طور پر نوآبادیاتی فکرکا آغاز ۱۷۹۹ء میں فورٹ ولیم کالج کی بنیاد پڑنے کے بعد ہوا۔ جس نے ہندومسلم روابط میں دراڑیں ڈالیں۔ میر امد دہلوی نے گل گرسٹ کی سرپرستی میں ’باغ و بہار‘ لکھی اور میر امن نے اپنے مربی ڈاکٹر گل گرسٹ کو سر آنکھوں پر بھی بٹھایا۔ سوداؔ کے ’شہر آشوب‘، واجد علی شاہ کی ’مثنوی حزں اختر‘، نظیر اکبرآبادی کی نظمیں، پنڈت رتن ناتھ سرشار کا ’فسانہ آزاد‘ میں دبے الفاظ نوآبادیاتی رویوں کے خلاف فکری مزاحمت ملتی ہے۔ بہادر شاہ ظفر نے اپنی آخری عمر کی شاعری میں کنارتاً نوآبادیاتی رجحان کی طرف اشارہ کیا ہے۔ ۱۸۵۷ء کی جنگِ آزادی اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اکبر الہ آبادی کی طنزیہ شاعری میں نوآبادیاتی نظام کی نفی کی گئی ہے۔ جوش ملیح آبادی جذباتی انداز میں بکنگھم پیلس کو بم سے اڑا دینے کی خواہش کرتے ہیں۔ ایک طبقہ سرسید احمد خان پر انگریز نوازی کا الزام لگاتا ہے حالانکہ سرسید نے ہندستان کے ٹوٹے پھوٹے ہریمت زدہ معاشرے اور فکری ڈھانچے کو دوبارہ تعمیر کرنا چاہتے تھے لہذاوہ کچھ وقت کے لیے انگریزوں سے مزاحمت کے حق میں نہ تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ ہندستان مغرب سے اچھی چیزیں اخذ کرے اگر وہ ایسا نہ کرتے تو ہندستان میں نہ آج اردو ہوتی اور نہ ہی فکری ارتقا کی صورت نکل پاتی نہ ’مقدمہ شعر و شاعری‘ ہوتا، نہ ’آبِ حیات‘ نہ ’بانگ درا‘ ہوتی نہ ’ضربِ کلیم‘… اور نہ ہی ترقی پسند تحریک نظر آتی نہ جدیدیت اور مابعد جدیدیت کی کباحث اردو معاشرے کو جلا بخشتے اور نہ ہی عبدالسلام جیسا سائنس دان پیدا ہوتا۔
نظم جدید کی تحریک کے بعد اردو کو کئی فکری تغیرات سے گزرنا پڑا ۔ ترقی پسند تحریک نے یقیناً نوآبادیاتی رجحان کو رد کردیا۔ یہ ایک بڑی مزاحمتی تحریک بھی تھی لیکن جب ہم گوری نوآبادیاتی ذہنی ساخت کے پس منظر میں چلتے ہوئے ۵۰ء کے دہے تک پہنچتے ہیں تو ہمیں یکبارگی یہ احساس ہوتا ہے کہ روسی انقلاب سے متاثر آزادی کی وہ تحریکیں جو اشتراکیت کے حوالے سے اپنی جدوجہد برقرار رکھے ہوئے تھیں انھیں اس بات کا احساس نہیں تھا کہ روسی ذہنی ساخت عالمی اشتراکیت کے سیاق و سباق میں گوری نوآبادیاتی نظام کا نعم البدل بن جائے گی۔ اس کا سب سے واضح ثبوت برصغیر کے ادب بالخصوص اردو میں ملتا ہے۔ ہنگری پر جب روسی ٹینک چڑ دوڑے تو فیض احمد فیضؔ سے لندن کے ایک صحافی نے اس پر اظہارِ رائے کے لیے کہا، فیض کا جواب تھا، ’’روسی ٹینک آزادی کو پامال کرنے کے لیے نہیں بلکہ آزادی کی حفاظت کرنے کے لیے وہاں پہنچے ہیں۔‘‘ جب کہ ہنگری اور چیکوسلواکیہ میں روس نے اپنی فوجیں داخل کیں تو ژان پال سارتر نے روس کی شدید مذمت کی۔
اسی طرح روسی فوجوں کے افغانستان میں دخول کے بعد جب بھارتی وزیر اعظم نے یہ موقوف اختیار کیا کہ یہ اس وقت کی افغانی حکومت کی دعوت پر وہاں پہنچے ہیں تو ہندستان کی کمیونسٹ پارٹی کے زیر اثر ترقی پسند دانشوروں میں، جن میں علی سردار جعفری پیش پیش تھے اس موقوف کی حمایت کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ دونوں حالتوں میں یہ Neo Colonialismمطمع نظر تھا جس میں اردو کی ترقی پسند تحریک کے دو رہنما فیض احمد فیضؔ اور علی سردار جعفری کی تاریخی سطح پر سیاسی جبر اور جارجیت کے سلسلے میں مصلحت کوشی کھل کر سامنے آجاتی ہے۔ آئیڈیالوجی کے جبر کے تحت ان جیسے کئی سکہ بند ادیبو ں اور دانشوروں نے ہنگری اور چیکوسلواکیہ کے قابل مذمت واقعے کو تاریخی سطح پر درست قرار دیا لہذا آج نہیں تو کجل ہمیں یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ کون تاریخ کا مجرم ہے؟ ان دانشوروں کو مغربی سامراج اور نوآبادیات کے ظلم و جبر تو نظر آتے ہیں مگر سرخ نوآبادیاتی نظام اور آئیڈیالوجی سے جو نوآبادیات وجود میں آئیں وہ ان کی نظروں سے اوجھل رہی۔
سامراجیت (امپریلزم) کی اصطلاح دوسری جنگ عظیم سے پہلے کی اصطلاح ہے۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد امپیریلزم کو ’نوآبادیات‘ کی اصطلاح میں تبدیل کردیا گیا۔ تھرڈ نیو انٹرنیشنل ڈکشنری میں نوآبادیات کو کسی قوم کا ماتحت علاقہ حاصل کرنا اور اپنا تسلط قائم کرنا ہے اور اپنی معاشی اور دفاعی اقتدار کو قوت کے ذریعے زیر کرکے اپنا جارہانہ تسلط قائم کرنا ہے۔ تاکہ نئی منڈیاں تلاش کی جائیں۔ ۱۷۸۷ء کے بعد جن عالمی قوتوں نے دوسرے براعظموں کے پسماندہ ملکوں پر اپنا تسلط جمایا۔ ان میں برتانیا ، پرتگال، فرانس، ہالینڈ، اسپین، پرتگال پیش پیش تھا۔ بہرحال برتانیا نوآبادیاتی نظام کا سب سے کامیاب ملک رہا۔ جہاں اس کی نوآبادیات میں کبھی سورج غروب ہی نہیں ہوتا تھا۔ ۱۹۵ ممالک نے نوآبادیات سے آزادی حاصل کی مگر بدقسمتی سے وہ نئی نوآبادیات کے چنگل میں پھر پھنس گئے اور نئی معاشی، معاشرتی، ثقافتی اور سیاسی غلامی پر مجبور ہوگئے۔

خلاصہ کلام
بیسویں صدی کی چالیسویں دہائی سے قبل نوآبادیاتی اصطلاحات معرض وجود میں نہیں آئی تھی۔ ’سامراج‘ کو ہی نوآبادیاتی معنوں میں لیا جاتا تھا۔ ۱۹۴۰ء کے بعد پس نوآبادیاتی رویہ تنقید میں عام ہوا۔ پس نوآبادیاتی تنقید نوآبادیاتی تنقید سے کلی طور پر انحراف کرتی ہے لیکن رد نوآبادیاتی تنقید کا مسلک جداگانہ ہے یہ نہ تو پس نوآبادیاتی تنقید کی ضد ہے اور نہ ہی اس کی تائید مزید ہے۔ اپنے حس کارکردگی میں یہ نوآبادیاتی تقندی کا رد ہوتے ہوئے بھی تعمیری (Constructive)کردار ادا کرتی ہے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ رد نوآبادیاتی تنقید، نوآبادیاتی تنقید کارد ہے لیکن یہ پس نوآبادیاتی تنقید کی توسیع ہے جو کہ مغربی اور اشتراکی سامراجیت سے اپنی برہمی کا اظہار کرتی ہے اور فرد اور گروہ کو اسے نوآبادیاتی ماضی کے شعور، مستحکم منطقی تاویلات کی وساطت سے بیاں کرتی ہے۔ رد نوآبادیاتی تنقید مخاطبے (ڈسکورس) کے نئے مسائل اور قادیانہ مزاج کو پس نوآبادیاتی سیاق میں پرکھتے ہوئے سب سے پہلے اقتدار کی عفریت سے نجات دلوانا چاہتی ہے کیونکہ یہی عنصر فکر و ادب کا کاغذی پیراہن ہوتا ہے۔ اقتدار پسند طبقے کے رویوں اور جحانات کا عمیق گہرائیو ںسے مطالعہ کیے بغیر ردنوآبادیاتی تنقید کا کوئی جواز نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نوآبادیاتی تنقید خود میں منفی اقدار کی حامل نہیں۔
اب گروہ، ممالک اور آئیڈیالوجی کی جنگ نہیں ہوتی، اس دور میں تمام جنگیں ثقافت کے مابین ہیں۔ جیسے مذہبی، سیاسی، معاشی اور ماحولیاتی اصطلاحات میں بات کر انسان کے گلے میں نئے التباسات کے طوق ڈالے جارہے ہیں۔
ردنوآبادیاتی تنقید، سامراجی قدروں اور نظریات کو ہی نشانِ ہدف نہیں بناتی بلکہ دیگر جمہوری، معاشرتی اور سیاسی نظاموں میں چھپے ہوئے نوآبادیاتی اور سامراجی عنصر (عزائم) کو بھی شناخت کرلیتی ہے کیونکہ ان نظاموں میں فرد کی آزادی ایک دھوکہ ہے جب یہ نظام ہائے جیات مغرب سے سابقہ نوآبادیاتی خطوں میں برآمد کیے جاتے ہیں تو نراجیت، فاششت اور آمریت کا روپ دہار لیتے ہیں۔
اردو میں سامراج اور نوآبادیات کے حوالے سے چند اصطلاحات کے اردو تراجم اور منفردات درج کیے جارہ ہیں۔ جو عموماً نوآبادیاتی مطالعوں میں استعمال ہوتے ہیں۔
استعماریت- استعماریت پسندی – عادات Colonisalism
نوآبادیایہ – کالونی طریقے سے – مستعمرانہ Colonally
آبادکار-مستعمر – نوآبادی کا باشندہ Colonist
نوآبادیات نظام – استعماریت پسند Clonization
افسر نوآبادیات Colonization Officer
آباد کار Colonizer
نئی بستی قائم کرنا Colonize
نوآبادیاتی استعماری Colonial
نیا استعمار- نئی نوآبادیات Neo Colonisalism
پس استعماریت – پس نوآبادیات Post Colonisalism
رد استعماریت – ردنوآبادیات De Colonisalism
سابقہ نوآبادیاتی نیو کلیائی مخاطبہ Former Colonist Nuclear Discourse

1. W.B.Yeats, Collected Poems, New York: Macmillan, 1959. P. 146.
2. Said Edward W., Culture and Imperialism, New York: Alfred A. Knopf, 1993. PP 220-238.
3-رابرٹ سلیل (ترجمہ مبارک علی)، ’’کلچر امپیریلزم‘ ، لاہور: ماہ نو جولائی ۱۹۸۶ء ، ص: ۲۳
4. Said, Edward. Orientalism, New York: Pantheon, 1978.
5. Neruda, Pablo, Fully empowered, trans. Alastair Reid, New york: Farrar Straus & Ciroux, 1986, P 131.
6. Moyers Bill, World of Ideas, New York: Doubleday 1989 PP 506-513. (Conversation with carlos Fuentes)
ll

Jadeediyat, Maba’d Jadediyat aur PasNauaabadiyat

Articles

جدیدیت، مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیات

احمد سہیل

 

جدیدیت، مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیات کا مخاطبہ وسیع، پیچیدہ، مخالق نامطابق میدانوں میں بٹا ہوا ہے۔ ان تینوں نظریاتی مباحث سے بھی روابط، انسلاک کے کثیر الجہت معنی پوشیدہ ہوتے ہوئے بھی ان کی محدودیت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ یہ اپنے مزاج اور اس کے پس منظر میں مابعد پر ہی مکالمہ نہیں کرتی بلکہ اپنے قریبی اور اختتامی ’مابعد‘ تصورات کو بھی حدود المکان اپنے مباحث میں شامل کرتی ہے۔ بہرحال ان تینوں تصورات کے انسلاکی پہلوؤں میں متن کو مختلف اندازسے تجزیہ کیا جاتا ہے اور انھی متنی تجزیات کے مباحثی بطن سے فکر کے وسیع تر دروازے کھل جاتے ہیں اور متن کی صورتِ حال میں نئے امکانات تلاش کرکے ان کے فکری روابط کو دریافت کرنے کے بعد کئی فکری اور اضافی پہلوؤں کا انکشاف بھی ہوپاتا ہے۔ لہذا مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی فکر رویوں کی یکسانیت اور تفاوت کے کئی دلچسپ نکات ابھرتے ہیں۔ مثال کے طور پر لسان کے حوالے سے ہی بیانیہ آوازیں مابعد جدیدیت کے عام چوکھٹے (فریم ورک) میں اپنی جلوہ نمائی کرتی ہیں اور اسی حوالے سے عدم تسلسل، عدم مقامیت، عدم مرکزیت، نایقینیت اور نوآبادیات شکنی جیسے تصورات ذہن میں آنا شروع ہوجاتے ہیں۔ یہ نکات ، شناخت ، تاریخ اور موضوعیت جیسے متنازعہ فی مسائل پر سوچنے پر اکساتے ہیں۔

انسانی موضوعات سے آئیڈیالوجی اور لسانی مخاطبوں کا ممکن ہونا:

مابعد جدیدیت اور بالخصوص پس ساختیات کے ہدوف میں موضوع اور تنقیدی انسان پسندی کے قیاسات کے انسانی موضوعات کو لامرکز کرنا، شامل ہوتا ہے۔ موضوعات اور فلسفیانہ فکر شکنی کے صورتِ حال میں مسلسل شناخت کا اصل مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھوں سے ادبی تحریروں کے ڈھانچوں کو شعوری طور پر کار گر معنیات عطا کرتےہیں، جیسے کہ وہ ان پہلوؤں سے فکری مخاطبہ کرتی ہے جس کا تعلق نوآبادیاتی خطوں میں لینے والے لوگوں ےس ہوتا ہے اور ان کی پہچان اور ان کی صورتِ حال پر ’موضوعیات‘ کا حاوی عنصر نمایاں ہوتا ہے۔ موضوع اور موضوعیاتی عنصر کے یہی انسلاکی رویے لسان سے ہی متعلق ہوتے ہیں کیونکہ موضوعیت کے تساولی عنصر سے ہی موضوعیت لسان سے متعلق و منسلک ہوجاتی ہے اور انسانی فطرت کے متبادلیات قیاس ہی نہیں کیے جاتے بلکہ اس سے فکری تشکیلات بھی جنم لیتی ہیں اور انسانی موضوعات سے ہی آئیڈیالوجی اور لسانی مخاطبہ بھی ممکن ہوپاتا ہے۔ جو موافق طور پر پس نوآبادیات کے مخاطبے میں مثبت طور پر اور مابعد جدیدیت کو بھی متعارف کرواتا ہے جو کہ مثبت اقدار اور افتراقات کو ایک دوسرے سے اپنی شراکت داری کا احساس بھی دلواتے ہیں اور آئیڈیالوجی پر کلیت اور یکسانیت کو مستحکم بناتے ہیں۔ جس طرح جدیدیت کے تصورات مجّرد اور مغائرتی چیلنجوں کو ایک دوسرے سے علیحدہ کردیتےہیں اور مابعد جدیدیت کے مخفی اور ثنوئی مرابتیاتی افکار کو ’ذات دیگر‘ کے حوالے سے منظر عام پر لاتے ہیں اور اپنی سفارشات میں افتراقات کی کثیرالجہت اور مخٓلق نا مطابق کثریت کو ثنوتی تضادات سے جدا بھی کرتی ہیں۔

بورژواژی لبرل ازم سے بیزاری:

لنڈا ہیچن (Linda Hutcheon)نے ژان فرانسرز (Jean Francois)کے مابعد ثقافت کے تناظر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ان کا لبرل انسان دوست ثقافت کا حاوی لیبل انکے برخلاف جاتا ہے۔ اس سے زیادہ صحیح اور نمایاں طور پر ان کے خیالات کو اس طور پر لیا جاسکتا ہے جیسا کہ ہیچن نے لیوتاغ (لیوتار) کے بارے میں لکھا ہے کہ :
حقیقت پسندانہ مابعدجدیدیت ثقافت کے لیے ضروری ہے کہ مہابیانیہ کے جوابی اقدار کے تصور سے آگاہ ہو جیسا کہ اسطور اور فن میں ہوتا ہے، یہ جدیدیت کے لیے بھی اطمینان بخش قرار پاتا ہے۔ ہیچن کا خیال ہے کہ لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کی وساطت سے مہابیانیہ پر جس قسم کی ناراضگی کا اظہار کیا ہے وہ اصل میں بورژواژی لبرل ازم سے بیزاری ہے۔ ہیچن کے بقول لیوتاغ کا مابعد جدیدیت کے حوالے سے مہا یا مابعد بیانیہ کے لیے یہ خیالات بے اعتقادیت سے تعبیر کیے جاسکتے ہیں۔ جو کہ اصل میں ’معنویت کی گم شدگی‘ کا رنج و غم ہے۔ جس کے پس منظر میں اصل ماتم اس بات کا ہوتا ہے کہ آگہی کے عمل اور فن یا دنیا میں بنیادی طور پر بیانیہ کی آگہی کا کسی قسم کا وجود نہیں ہوتا۔

 

مہا بیانیے کا تصور جدیدیت کے یہاں ناقابل قبول ہے:

لیوتاغ نطشے کی طرح عیسائیت، روشن خیالی اور مارکزم پر بحث کرتے ہیں۔ جو کہ اصل میں مغربی تہذیب کا مہابیانیہ تصور کیا جاتا ہے جو کہ مابعد جدیدیت کی تشکیک کی وجہ سے آنکھیں کھولتا ہے اور عظیم کہانیوںکی کل تشریح اور توجیہات کو انسانی فطرت، حریّت ، ترقی اور تاریخ کے مخصوص ماحول میں ہی پروان چڑھاتا ہے۔ بہرحال لیوتاغ کا چھوٹا بیانیہ تکثرتی معاشرے میں نطشے کے Overmanکے مرابتیاتی منصوبے اور ’غلام‘ کام کرنے والوں سے بہت مختلف نوعیت کا ہے۔ دریرداؔ اور نطشےؔ کی طرح لیوتاغ بھی اس بات کا تاثر دیتے ہیں کہ مہابیانیہ کی ضروری بنیادیں مزید قبول نہیں کی جاسکیں۔ بہرحال نطشے اور لیوتاغ دونوں کا ہی تاریخی تناظر چارو ناچار ایک مخصوص دائرے میں گردش کرکے اپنا سفر مکمل کرتا ہے ۔ لیوتاغ کا خیال ہے کہ ’مکمل طور پر مہابیانیے کا یہ تصور جدیدیت کے یہاں ناقابل قبول ہے کیونکہ مابعدجدیدیت کی تشکیلیت سے مکمل طور پر مختلف ہوتا ہے۔

فن کا انفرادیت اور اجتماعیت سے غیر واضح انسلاک:

مابعد جدیدیت کا ’پتلاپن‘ مابعدبیانیہ انفرادی انسانی موضوع کو اتفاق و موافقیت کے نظریے کی ’دریافت‘ میں بہادیتا ہے، چاہے بیانیہ کا نظام ہمیں اس بات پر سوچنے کی اجازت دے دے کہ ہم تساولی اور آفاقی سطح پر نظیرے اور فنکارانہ عمل کی عوامی بحث کو افتراق کے بیاں میں واضح کریں۔ اتفاق اور موافقت کے وجدان کو تساولی التباس کے اس انسلاک کے ساتھ ابھارے جس کا تعلق فرد اور معاشرے سے ہوتا ہے جس میں انسان زندگی بسر کررہا ہوتا ہے لیکن فن کا انفرادیت اور اجتماعیت سے انسلاک غیر واضح ہوتا ہے جو درحقیقت انسان کی زندگی اور فن سے علیحدگی کا عندیہ دیتی ہے جو کہ انسانی پیکریت کے مقابلے میں ابتری اور انشتار کو ابھارتے ہوئے اسے گرفت میں نہیں لے پاتی اور مابعد جدیدیت کے فن کے بارے میں برعکس قسم کی غلط بیانی بھی ایک مخصوص نظام کے ساتھ ترتیب پاتی ہے لہذا انفرادی انسانی موضوع، فن، معاشرہ اور نظریہ مجبوریوں میں لپٹا محسوس ہوتا ہے۔

مابعد جدیدیت-مابعد بیانیہ کی جانب بے اعتقادی ہے:

لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کے سیاق کو سائنسی تناطر میں موضوع بحث بناتا ہے اور ان کے تفتیشی رسائی کے شعبدے تجربی مطالعوں سے بہت پیچھے ہیں۔ لیوتاغ نے ’جدید‘ کی اصطلاح کو سائنس اور قانونی حوالے سے ظاہر کرتے ہوئے مابعد بیانیے کے تصور کو ابھارہ ہے جو کہ مہابیانیے کے لیے واضح طور پر جازبیت کو ابھارتی ہے جیسے ’روح کی جدلیات‘ ۔ تفہیماتی معنویت، عقلی آزادی یا موضوع کے اعمال اور دولت کی تخلیق کاری سے متعلق ہے۔
لیوتاغ کا خیال ہے کہ روشن خیالی بیانیہ قیاسی طور پر پیغام دینے والے اور پیغام وصول کرنے والے کے درمیان ایک طرح کی موافقیت ہے اس رابطے میں اصل’مقولہ ‘ پیش کی قدر کا ہوتا ہے۔ جو اس وساطت سے عقلی ذہن کی متوقع ہم کلامی ہوتی ہے۔ لیوتاغ نے مابعد جدیدیت کو بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ مابعد بیانیہ کی جانب بے اعتقادی ہے۔ اور اس سے زیادہ بیانیہ کے وظائف زبان کے بیانیے کے عناصر کے سبب جبر کا شکار ہوجاتے ہیں اور یوں بیانیہ ادراک اور مظاہر کو نئی معنویت سے آشکار کرتا ہے لہذا مابعدجدیدیت کی اصطلاح کی تساولی وجوہات کی بنا پر مہابیانیہ کا عدم امتیاز بھی ہے جس پر روایت کے حوالے سے زبان کی تلوار لٹکی ہوئی ہوتی ہے اور اسی دنیا اور زبان کا آپسی رابطہ بھی تسلیم کیا جاتا ہے جیسا کہ دریرداؔ کے تصور ’لفظ کی مرکزیت‘ میں پوشیدہ ہے جو کہ معنی کی مرکزیت میں توازن پیدا کرنے کے لیے قطبین کے تناؤ کے درمیان افتراقات کو بھی تلاش کرتا ہے۔
دریرداؔ کے رد تشکیل کے اس مخاطبے کو رومان سیلڈن (Roman Selden)نے تجزیہ کرتے ہوئے لکھا ہے ، ’معنی کی مرکزیت‘ کی خواہش میں یہ موجودگی کی ضمانت ہوتی ہے۔ جیسے کہ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا ذہنی اور طبیعی وجود ایک مرکز پر مجتمع ہوتا ہے اور اس کیفیت کی ساخت اس کے مکاں پر آکر جمع ہوجاتا ہے۔ بہرحال فرد کی آزادی کے بغیر چھوٹا بیانیہ یا مہابیانیہ ایک دھوکہ ہے اور مائیکرو بیانیے سے ہی میکرو بیانیہ تشکیل پاتا ہے۔ اجزا ہی مل کر ’کل‘ بیانیے کو بناتے ہیں۔ ریاستی جبر ہویا ریاستی استبداد ان سب سے چھوٹے برے بیانیے ہی فرد سے ابلاغ کی جہتیں ابھر کر فرد اور اجتماع کو تاریخی جبر اور معاشرتی و سیاسی استبداد کی صورتِ حال سے آگاہ کرتا ہے اور اسی سے نوآبادیاتی بیانیہ اور مخاطبہ کو ایندھن فراہم کرتا ہے۔
نطشے، فورائیڈ، فوکو اور دریردا کے مدِّ نظر مرکزیت کا قیاس مختلف سطح پر ایک کل کی صورت میں عقلی موضوعیت ہے اور اس کے لیے یہ ممکن نہیں ہوتا کہ مرکزیت کے اصولوں سے باہر رہ کر اس پر سوچا جائے جیسا کہ ہم وجود جوہر، ہرستی، سچائیہ، ہیئت، ابتداور اختتام۔ شعور، فرد، خدا پر فکری مکالمہ کرتے ہیں جو شاید قطبین کے مجموعے کے حاوی ثنوتی اختلافات یا تضادات سے نظریں چراتے ہیں اور اس کام میں ’عمل‘ کی مرکزیت کی شناخت کو پالینے کے لیے ’خیال دیگر‘ سے انکار بھی کردیا جاتا ہے۔

مشرق اور مغرب کے ثنوئی اختلافات کی تشکیلات:

ثافتی انتشار مخاطبوں کے ان بیانیوں میں انتشار فکر اور گرمگو صورتِ حال پیدا کردیتے ہیں۔ جس سے نوآبادیاتی قوتیں فائدہ اٹھاتی ہیں۔ ’ثقافت اور سامراجیت‘ میں ایڈورڈ ولیم سعید اسی قسم کی عدم یکسانیت کے التباس کو مرکزیت کی شناخت اور موضوعیت میں دریافت کیا جو انفرادیت اور اجتماعیت میں ابھرتی ہے، یوں زبان بیانیہ کی دوسری قسم بھی تسلیم کی جاتی ہے۔ ایڈورڈ سعید نے مغرب اور مشرق کے جوغے دار اضداد کی تشکیلات پ اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مشرق اور مغرب کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نوآبادیات کی مشیری اور سامراجیت کو ثقافتی ثمر کے طور پر پیش کرتے ہوئے نوآبادیاتی معاشروں نے محکوم آبادیوں پر اپنے فن اور ادب کو اعلا ترین بناکر پیش کیا۔ جس طرح شیکسپیئر کا کیلیبن (Caliban)پس نو آبادیاتی اسطوری کردار ہے جس کا قریبی انسلاک زبان و تاریخ کسے ہے اور اس کی زبان انسانی کاوشوں سے ہی جنم لیتی ہے کیونکہ نوآبادیات کبھی نہ کبھی اپنے لسانی روپ کو سامنے لاتی ہے اور بعض دفعہ یہ اپنی شناخت کی بحالی کے لیے ہاتھ پاؤں مارتی ہے اور وہ پس قطبین میں پہنچ کر قوم پرستانہ اقتدار اور آزادی کو بیاں بالیقین میں تبدیل کردیتی ہے۔ لہذا اس سلسلے میں یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ مختلف اقسام کی شناخت ہمیشہ ناکام رہتی ہیں یوں بھی ثنوئی اختلاف کے تصور میں قوم پرستانہ اور سامراج متعلقات بہت پسندیدہ ہوتے ہیں، سوائے اس کے کہ پرانا اقتدار آسانی سے نئے اقتدار کی جگہ نہیں لے سکتا اور یوں نئے تصورات، خیالات حدود اور جوہر تیزی سے زمین میں آتے ہیں اور اس طور پر تصورات کی نئی صف بندی، فکر کے نئے اور بنیادی نوعیت کے سکونی تصورات کی شناخت کی درجہ بندی ہوپاتی ہے جو کہ سامراجی عہد کے دوران ثقافت کے افکار کی پہچان قرار پاتے ہیں۔ نوآبادیاتی شناخت کے سلسلے میں ’شناختی بیت‘ بھی نمود کھاتی ہے۔ جس کا مقولہ ’ہم‘ اور ’وہ‘ ہوتا ہے۔ اس قسم کی میکانیت نئی ہیئت، سیاسی افتراقات کی حرکیات سے جنم لیتی ہیںباوجود اس کے کہ ردِّ تشکیل حدود اور تجدیدات نوآبادیوں اور نوآبادیوں کے درمیاں ایک کٹھن عمل ہوتا ہے۔

 

مابعد جدیدیت سے پس نوآبادیات کا ابھرنا، اور اختتام محیط ارض سرمایہ داریت پر ہونا

ایڈورڈ سعید کے خیال میں نوآبادیاتی صورتِ حال اس سیاق میں ہوتی ہے کہ کیسے فن و ادب ایک دوسرے سے باہم ہوکر نوآبادیات کی سیاست کے رویوں کو ابھارتا ہے۔ اس سلسلے میں انھوں نے لکھا ہے کہ نوآبادیاتی ادب عموماً مغربی سامراج کے مہابیانیہ کو تہہ بالا کرتا ہے اور محمبّر (Concrete)دعوؤں کے ساتھ نوآبادیاتی موضوعات سے رابطہ کرتی ہے۔ شناخت اور موضوعیت کے حوالے سے ایڈورڈ سعید بنیادی مسائل کو چھیڑتے ہوئے سامراجی تجربے کو ادراکِ نو کے حوالے سے Compartmentalisedکی اصطلاح سے علیحدہ کرکے بیاں کیا ہے اور ایڈورڈ سعید ان حدود کو بآسانی مغربیت اور مشرقیت میں تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہوپاتے۔ عارف ڈارلک (Arif dirlik)کا اس سلسلے میں یہ خیال ہے کہ ان مسائلی حدود کو سیاسی اور معاشی متعلقات سے باہم کردیا جاتا ہے۔ عارف ڈارلک نے اپنے ایک مقالے Borderland Radicalismمیں مابعد جدیدیت اور پسِ نوآبادیات کے تنقیدی رویوں کی وساطت سے حدود، موضوعیت اور تاریخ کو موضوع بحث بنایا ہے۔ عارف ڈارلک نے انکشاف کیا ہے کہ مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کا رجحان نوآبادیت کی پس سرمایہ داریت پر زور دیتا ہے کیونکہ مابعدجدیدیت کی صورتِ حال نمایاں طور پر اعتدال پسند عہد کی پیداواریت ہے۔ جو کہ نظری فرائض کے تحت تاریخ اور معاشرتی نظریات کو چیلنج کرتی ہے اور اس کو حاصل کرنے کےلیے سیاسی قیمت بھی ادا کرتی ہے۔ بہرحال ساتھ ہی وہ تاریخ کے موضوعات کا صفایا کردیتی ہے۔ یہ تمام صورتِ حال سیاسی عمل کے طور پر سامنے آتی ہیں اور تاریخ کے موضوعات کو تہس نہس کردیتے ہیں اور ساتھ ہی کئی موضوعات کی ’خطرناکی‘ کو بھی کم کردیتے ہیں۔ یہ قبل تصوراتی نوعیت کے نظریات ہوتے ہیں اور اپنے مزاج میں دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں۔
عارف ڈارلک کا دعوا ہے کہ یہ پسن نوآبادیات کی انبساطی تکثریت ہے جو کہ سرحدوں کے حدود کے بہاؤ کے محدود مکاں (Space)پر زور دیتے ہیں اور اشرفیہ کے مشابہ بیانیہ اور ثقافت سے بہت زیادہ اختلاف نہیں کرتے جیسا کہ انھیں کرنا چاہیے۔ ڈارلک نے بہتے ہوئے موضوعات کے مقام کے رجحانات میں پائے جانے والے روابط کا بھی سراغ لگانے کی کوشش کی ہے کہ مابعد جدیدیت سے پس نوآبادیات ابھرتی ہے اس کی انتہا محیط ارض سرمایہ داریت پر آکر اپنا دم توڑتی ہے۔ پیدواریت کے اس لچک دار دور میں ہم سب سرحدوں میں مقید زمینوں پر رہتے ہیں۔ سرمایہ، عدم علاقائیت اور عدم مرکزیت، سرحدوں کے علاقے تشکیل دیتے ہیں جہاں آسانی سے گھوما پھرا جاسکتا ہے، فرد، ریاست اور معاشرے کے کنٹرول سے دور رہتا ہے لیکن پھر بھی ریاست اور معاشرے کا تصادم بھی مشاہدے میں آتا ہے۔ بہرحال مسئلہ یہی ہوتاہے کہ پس نوآبادیاتی مخاطبہ ہی اس کو منظرِ عام پر لاتا ہے اور مادی زندگی آزادی کے مخاطبے کے مسئلے اور اس کی علیحدگی اور بذاتِ خود اس کی مادی زندگی کی صورتِ حال اسی حالت میں عصری، آفاقی معاشرے بنیادی اصولوں کو محیط ارِ سرمایہ داریت کی صورت میں پیش کرتے ہیں۔
عارف ڈارلک کا خیال ہے کہ دانش ور طبقہ محیط ارض سرمایہ دارانہ نظام کا ہی حصہ ہے جو ان کے یہاں زماں و مکاں کا ملا جلا تصور ہے۔ بہرحال مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیاتی ادب انارکی اور انتشار ہی برپا نہیں کرتا بلکہ وہ جدیدیت کی فکریات (آئیڈیالوجی) کے خلاف باغی بھی پیدا کرتے ہیں اور لازمیت کی شناخت کے کل بیانیے کو بھی رائج کرنا چاہتے ہیں۔ عالمی نوعیت کا سرمایہ دارانہ نظام کا کسی انسان دوستی یا آئیڈیالوجی سے کوئی سروکار نہیں ہوتا بلکہ آزاد غلاموں کی منڈیوں میں مقامیوں کا استحصال کرنا اور اپنی برتری کو محیط ارض پر پھیلانے کے لیے ہر قسم کے جائز و ناجائز ہتھکنڈے استعمال کرکے ہر اس فکر و آئیڈیالوجی کو کچل دیتے ہیں جو ان کی راہ میں آتے ہیں اور فکری بیانیہ اور اس کا مخاطبہ ممکن نہیں ہوپاتا۔

مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی مباحث روشن خیال پروجکٹ کا نقد ہے:

عارف ڈارلک کا موقف یہ ہے کہ جدیدیت کا پروجکٹ انیسویں صدی کی اس فکری روشن خیالی کے بعد تشکیل پاتا ہے جب اس کے بطن سے آفاقی اخلاقیات، قانون، آزادنہ فنون اور معروضی سائنس کو تشکیل دینے کی سعی کی گئی ہے کیونکہ اس سے یہ امید ہوچلی تھی کہ فن اور سائنس نہ ہی فطرت کی قوتوں کو کنٹرول ہی نہیں کریں گے بلکہ آفاق، ذات، اخلاقی طریقۂ کار، اداروں کے قوانین اور انسانی وجود کے انسباط کی آگہی کو بھی اپنی گرفت میں لاسکے گی۔
لگتا تو ایسا ہے کہ مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیاتی مباحث بذاتِ خود روشن خیال پروجکٹ کا نقد ہے جو کہ عدم تسلسل، تدبیلی اور غیر یقینیت کی راہوں کو مٹانا چاہتی ہیں۔ اس کے مصنوعی پن کا مظاہرہ عموماً ذات کے انعکاس کی صورت میں نمودار ہوتا ہے جیسا کہ ناول نگار، افسانہ نگار تھامس پنچن ، سلمان رشدی، کارلوس فونٹین، مارکیز اور اردو میں جوگندر پال، سریندر پرکاش، احمد ہمیش، الیاس احمد اور آغا گل کے افسانوی متن کا بنیادی مقولہ ہے۔ یہ چلن بیانیہ آرکی ٹیکچر کے انتشار میں شامل ہوجاتے ہیں۔ جس میں کسی زمانی خاکے، منصوبے اور فریم ورک کے وجود کا سراغ نہیں لگایا جاسکتا لیکن لسانیات کے نظام میں یہ رد تشکیل اور تشکیل نو کے مباحث کو ابھار دیتا ہے۔ ایک نقطۂ نظر سے مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کو نقطۂ اتصال فراہم کرتا ہے اور بیانیہ اور لسان میں نئی تعبیرات کھولتے ہوئے ہائی ماڈرن ازم کو دریافت کرتا ہے جیسا کہ جیمس جوائس کے Finnegans Wakeمیں نئی زبان و الفاظ کے کئی دروازے کھل جاتے ہیں۔ جس طرح ناصر کاظمی کے شاعرانہ بیانیے میں نئی لسان و لفظیات اور معنیات کی نئی گرہیں کھلتی ہیں۔ حبیب جالب کی شاعری کابنیادی مخاطبہ اسی نوآبادیات کی باقیات کے خلاف احتجاج اور فکری مزاحمت کا مہابیانیہ ہے جبکہ ن م راشد کے یہاں سامراجی قوتوں کے خلاف آگہی اور اعصابی تناؤ دراصل جدید تر فرد کی وہ بے چینی پائی جاتی ہے۔ جو پس نوآبادیاتی معاشروں کا المناک سانحہ بنا۔ راشد کی شاعری نئی نئی جدیدیت اور مقامی نوآبادیاتی رویوں کا درد بھرا اور حقیقت پسندانہ مخاطبہ ہے اور ہائی ماڈرن ازم کا پردہ چاک بھی کرتی ہیں جس ک پس منظر میں نوآبادیاتی فکر کا بھیانک منظر نامہ ادراک میں آتا ہے۔ یہی آگہی راشد کے شعری بیانیے میں داخل ہوکر نئے نوآبادیاتی رجحان کو ابھارتی ہیں جو کہ مقامیت کے حصار میں تیسری دنیا کے فرد کی اذیت ناک سیاسی، معاشرتی اور آئیڈیا لوجیکل تجزیوں کا قنوطی اور دل خراش تجزیوں کا مشاہدہ ہے۔

نوآبادیاتی شناخت اور باہمی افتراقات کو دریافت کرتی ہیں:

پس نوآبادیاتی دیگر Post-ismsکی طرح نہ ہی اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ یہ نہ ہی نوآبادیاتی مطالعوں کا اختتام ہے اور ن ہی یہ اسے منفرد کرتا ہے بلکہ وہ نئی آگاہیوں اور رسائیوں کے تحت نوآبادیاتی تصورات اور اس کے واقعات و مظاہر کو قدرے قریب ترین تناظر فراہم کرتے ہیں۔ جس سے نوآبادیاتی موضوعات کے تاریخی سیاق میں نئی شناخت تشکیل پاتی ہیں۔ اور جو نوآبادیاتی شناخت میں مطالعہ کیے جانے والے ثقافتی، معاشرتی گروہوں کے باہمی افتراقات کو دریافت کرتے ہیں۔ پارتھا چٹرجی (Partha Chaterjee)کے بقول ’قوم اور اس کا انتشار کے وصف نوآبادیاتی پروجکٹ ہیں جو کہ اقتداری اور اقتدار پسندطبقے سے مختلف طبقہ ہوتا ہے۔ یہ اصل میں اعتدال پسند طبقہ ہوتا ہے۔ اور اقتدار پسند طبقے سے مغائرتی فاصلہ رکھے ہوئے ہوتا ہے لیکن وقت کے ساتھ ساتھ متن ان افتراقات سے دھند صاف کرتا ہے۔ جس میں ’دوسروں‘ کو کم تر اور ریڈیکل سطح پر مختلف بتایا جاتا ہے۔

قوت و اقتدار کا شعور پر قابض ہونا

نوآبادیاتی پروجکٹ سیاسی اور معاشی قوتوں کے اس عدم مساوات کو بھی اپنی تعریفات میں شامل کرتا ہے جو ان کے عالمی انسلاکات کے تناظر میں ہوتے ہیں۔ اس طریقۂ کار میں ثقافتی اور مذہبی متعلقات ہی نہیں بلکہ معاشی اور سیاسی حرکیات اور رجحانات کو بھی کنٹرول کیا جاتا ہے جو کہ آلتھیوسے (Althuseer)کی درجہ بندی کے حوالے سے ریاست کے ادارتی اور جبریاتی آلات (Apparatues)ہوتے ہیں۔
بلاشبہ ہم اس وقت جس صورتِ حال کا مطالعہ کررہے ہیں وہ نوآبادیاتی کو بحیثیت کلیاتی واقعات کے قریبی تناظر میں پرکھنا چاہتی ہے کہ نوآبادیات کی اصطلاح دنیا کو پہلے ہی نوآبادیاتی آقاؤں اور نوآبادیاتی نظام میں کچلے ہوئے لوگوں کے انسلاک کے ماجرے کی صورت میں ادارک میں آچکی ہے جو کہ حاشیائی سطح پر ابھر کر مرکوز ہوجاتی ہے جیسا کہ ایڈورڈ ولیم سعید نےمشرقیت کے حوالے سے یہ اشارہ کیا ہے کہ ’’سامراجی قوتوں کو ایک دوسروں کو خلق کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘ مشرق کے فکریاتی نظام میں یہ تعریف خود ان کے مرکز میں برپا ہوتی ہے۔ سامراج کی سیاست اس مرکز کے دوسرے قطبین سے بھی خوف زدہ ہوتی ہے جو حاشیاتی سطح پر ایک منصوبے کے تحت ’دوسرے‘ کے طور پر نوآبادیات کے محکوم لوگوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان تمام کا تمام انسلاک ایک مرکز پر ہی محیط ہوتا ہے۔

سیاست اور معاشرت پر ثقافت کا غلبہ:

نگووگی واتھیونگ (Naugi Wathoings)اپنے نظریہ اور فکشن میں نوآبادیات کی اثر پذیری کو ظاہر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ یہ سیاسی اور معاشری سیاق کے موضوعات ہی نہیں ہوتے بلکہ اس سے زیادہ ثقافتی نوآبادیاتی منصوبہ بندی کی ضرورت پر اصرار کرتے ہیں جو کہ نوآبادیات میں بسے ہوئے لوگوں کی مدد سے ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے ارتباط اور یک جہتی کی کوئی صورت نکال لیتے ہیں انھوں نے The Cultural Factor in Neo-coloialeraمیں اپنے اس موقف کااظہار کیا ہے کہ ’’سیاسی اور معاشی کنٹرول پر ثقافت کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ آہستہ آہستہ گہرا سے گہرا تر ہوتا چلاجاتا ہے جو کہ تعلیم، ابلاغ، ادب، مذہب، زبان کے تحفظ، حکمتِ عملی اور حرکت پذیری کو کلی طور پر کنٹرول کرتے ہیں۔ یہ اقتدار اور قوت کا جبری تصور ہے جو کہ رویوں، مطمع نظر، اقدار محسوسات کی صدرت میں مخصوص آئیڈیالوجی پر حاوی ہونا چاہتا ہے اور بعدازاں قوت کی یہ صورتِ حال شعور کے تمام حصّوں پر غلبہ جمالیتی ہے۔ ذاتی پیکروں سے لے کر انفرادی اور اجتماعی سطح پر بھی انھیں محسوس کیا جاتا ہے۔ جس میں حاوی رجحان طبقات اور اسکی تمثالوں کو ثقافتی اور نفسیاتی سطح پر کنٹرول کرتے ہیں اور جبری تصورات اور طبقاتاس بات کی کوش کرتے ہیں کہ ’غلامی‘ کے طوق کو وہ عام سی انسانی صورتِ حال کے طور پر رائج کردیں۔
ثقافتی نوآبادیات کی منصوبہ بندی نو (Neo)نوآبادیاتی اصطلاح اور معنویت کو نئی طور پر روشناس کرواتے ہوئے وہ اشرافیائی طبقے کے معاشی ہدوف کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں جو کہ سابقہ نوآبادیاتی نظام کی اساس ہوتی ہے۔ ثقافتی نوآبادیات سابقہ نوآبادیات میں فلم، ریڈیو، ٹیلی وژن، انٹرنیٹ، فیشن اور شو بزنس کے افقی التباس کو رواج دے کر سابقہ نوآبادیات میں بسنے والے عوام کو فکری جمود کے حصار میں مقید کردیتے ہیں۔

پس نوآبادیاتی ادب، سامراجی قوتوں کی ساخت سے برآمد ہوتا ہے

جب پس نوآبادیاتی نظام میں تعلیمی نظام اور زماں ثقافتی پیداوار کا روپ دہار لیتی ہے تو اس کے نتیجے میں پس نوآبادیاتی ادب ابھرتا ہے۔ ’’پس نوآبادیاتی ادب یورپی رزمیہ اور بیانیہ سے ہوتی ہوئی یورپی بورژوا ناول کی بنیادوں پر تناسب کا رنگ اختیار کرتی ہے۔ جو بہت ہی عمیق طریقے سے تاریخی اور ثقافتی امتیازات کو بڑی صفائی سے مٹا کر پس نوآبادیاتی افتراق کو ابھارتے ہیں اور اس ردعمل کے طور پر غیر فطری پس نوآبادیات ابھرتی ہے اور خود اپنے ہاتھوں سے ہی اپنا گلاخود ہی گھونٹ دیتی ہے اور اپنے اختلافات اور اپنی ڈاڑاروں کو خود ہی منظرِ عام پرلاتی ہے…..!‘‘
(’’پس نوآبادیات کیا ہے؟‘‘ از مشرا وارہیجن) لیکن اب نئے محیط ارض کا عالمی منصوبہ نئی نوآبادیات کی تشکیل بندی کرکے ثقافت اور ادب کو نئے رنگ میں پیش کرتے ہوئے تیسری دنیا کے عوام کا آبادی کی منصوبہ بندی سے لے کر مذہبی درس گاہوں پر نقب لگانے سے بھی باز نہیں رہتا اور یوں نوآبادیات کا نیا بیانیہ بھی تجربے میں آتا ہے اور اس کے بیانیے کو اس کے ذرائع ابلاغ اعلا قسم کا بیانیہ اور طاقت ور مخاطبہ قرار دے کر عالمی سطح پر اس کی رونمائی کی جاتی ہے۔
پس نوآبادیاتی صورتِ حال دراصل نوآبادیات کے معاشرتی سیاسی، معاشی اور ثقافتی ردعمل کے مزاحمت اور احتجاج کے بعد نمودار ہوتی ہے۔ مشرا او ر ہیچن کا موقف ہے کہ پس نوآبادیاتی ادب سامراجی قوتوں کی ساخت میں سے برآمد ہوتے ہیں جو اس کے ترتیب وار طریقۂ کار کے ثقافتی غلبے سے تشکیل پاتے ہیں اور اس مقام پر پس نوآبادیات کی نبضوں کو تلاش کرتے ہیں جن کے بطن میں نوآبادیاتی مخاطبہ چھپا ہوتا ہے اور پس نوآبادیاتی ثقافتی رویوں کے مثبت اور منفی نتائج سے پیشگی طور پر آگاہ بھی ہوتا ہے اور اپنی ثقافت کو مقفل کردیتا ہے کہ وہ یہ نہیں چاہتا کہ کسی طور پر بھی نوآبادیاتی ادب اور ثقافت کی تشریح اور ترجمہ ان کی زبانوں میں ہو اور یہ بھی چاہتا ہے کہ یورپی مطالعے اور قرات کو لا مرکز کرکے اس کو نوآبادیاتی متن کے حصوں میں شامل کردے جس میں مسخ چہروں والے نام اور بے شناخت لوگوں اور ان کی آئیڈیالوجی کو پیش کرتے ہیں۔ یہ قوت اور حاوی اقتدار کا حصہ ہوتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ قوت کے اس انسلاک کو موثر طور پر پھیلا جائے۔ نوآبادیات سے نوآبادیاتی صورتِ حال پھوٹتی ہے۔ ارتقائی حالت میں وہ نوآبادیاتی نظام سے اختلاف بھی کرتی ہے۔ نوآبادیاتی تناظر میں ادب کے تنقیدی پہلوؤں کو تجزیہ کیا جاتا ہے۔ مغرب کے انسان دوست مابعد بیانیے کی بنیادوں میں کئی مسئلے مسائل ہیں جنھیں نوآبادیاتی رجحانات اور تصورات جواز کے طور پر پیش کرتے ہیں اور یوں نوآبادیات بذات خود سیاست اور تاریخ کا محرک بن جاتے ہیں اور نوآبادیات کے تنقیدی فریم ورک کے باہر وہ اپنا وجود برقرار نہیں رکھ پاتا اور یوں وہ اپنے تناظر کو شناخت کے لیے پس نوآبادیاتی تناظر کا محتاج ہوجاتا ہے۔

عینیت: جواز اور عقلیت کا استحقاق ہے:

مابعد جدیدیت اور پس نوآبادیات کا جب بھی قریبی طور پر تقابل کرنا مقصود ہو تو ذہن میں جدیدیت بطور پس نوآبادیات کے آتی ہے۔ ان کے انسلاکات دریافت ہوتے ہیں جو کہ نوآبادیات کی کوکھ سے جنم لیتی ہے ۔ اس تعلق سے جدیدیت اور نوآبادیاتی مطالعوں میں پیچیدگی بھی پیدا ہوتی ہے جو بلاشبہ دلچسپ بھی ہے اور کسی طور پر موضوع سے الگ بھی نہیں اور وہ اپنے مطالعوں اور تجزیات کا جواز خود ہی پیش کرتی ہے۔ دونوں ہی روشن خیال بیانے کے مبادزت (Chalenges)کے مسئلے سے دو چار ہیں۔ جدیدیت عرصے سے اپن طو رپر کچھ حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پیر مار رہی تھی۔ بقول لیوتاغ مابعد بیانیے نے مغرب کے انسان دوست افکار کو دوبارہ منفرد کیے ہوئے دیوتا میں تبدیل کردیا۔ اس سلسلے میں اس قسم کے تجزیات ہوئے کہ سرمایہ داریت کے عروج اور مغربی قوتوں کی سامراجی دلچسپی نے جدیدیت کے تصورات کو ابھارتے ہوئے اس کی کلیت میں ارتقا کے عنصر کو بازیافت کرنا چاہا۔ یہ عینی نوعیت کا ارتقائی تصور بہرحال روشن خیال پروجکٹ سے کشید ہوتا ہے اور یہ جواز اور عقلیت کا استحقاق بھی ہے کیونکہ ذہن اور جواز اور ’کنٹرول‘ قسم کی فطرت سے مکمل طو رپر علیحدہ وہتی ہے جو کہ ’اندر‘ اور ’باہر‘ کی جنگ کا سبب بنتی ہے۔ اس کا تمام کا تمام ڈھانچہ منطقی ہئیت اور اس کاخلاصہ موضوعی (Substantive)سیاق میں ہوتا ہے۔ جو کہ موضوعی وجودی کیفیت اور معروضی حقیقت کو بھی احاطہ مشاہدہ میں لاتا ہے۔ جدلیات کی روشن خیالی میں ہورک ہائمر (Hork Heimer)اور اودونو (Adorno)نے لکھا ہے کہ تخلیقی دیوتا کی روح فطرت کے قوانین جیسی ہوتی ہے مینز (Mans)کا کہنا ہے کہ خدا کا اقتدار اعلا دنیا کے اوپر ہوتا ہے اور قیادت ان کی رہنمائی کرتا ہے۔ مینرز کی اس تعریف میں قوت کی مشق جو کہ موضوع اور معروض کے مابیں ایک قسم کے التباس کے انسلاک کا عندیہ دیتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ اس کو کس طرح بڑے سے بڑا کیا جائے اور یہی ’آقا‘ کا تصور معاشرے کے نظام میں ’آقا‘ اور ’غلام‘ کی حرکیات کے غلبے کا سبب بنتا ہے پھر کلی سطح پر معاشرے میں وہ بذات خود قوت کی علامت ہی نہیں بنتا بلکہ یہ اپنے طور پر اپنے آپ کو مستحکم سے مستحکم تر بناتا رہتا ہے اس بات کو ہورک ہائمر اور ادودنو نے ’ثقافتی صنعت‘ (Cultural Industry)کہا جو کہ اپنی ہی خدمات کو اپنی ہی ذات کی بقا کے لیے ایک مرکز پر لے آتی ہے اور یہ ثقافتی اشیا سامراج کو آفاقی اور فطری غلبے کی شدت کے ساتھ ابھارتی ہے۔ ہورک ہائمر اور ادودنو نے اپنے مطالعوں اور تجزیات میں خارجی نوآبادیات کا تذکرہ نہیں کیا جس کی مدد سے روشن خیالی اور سامراج کے انسلاک کو آگہی میں لایا جاسکے۔ اسی حوالے سے یہ مقامی لوگوں کو ’ترقی‘ کا جھانسہ دے کر مغربی غلبے کا جواز پیش کرتے ہیں، اسی طرح کی صورتِ حال کئی نوآبادیاتی بیانیوں میں نظر آتی ہے۔ خاص طو رپر کانریڈ ( Conrad)کیپلنگ (Kipling)وار ڈینیسن (Dinesen)پال ڈی ایووا (Paul D. Ivo)کے مخاطبے میں مقامی آبادیوں کے لوگوں کی معاشرتی حرکیات اور ماحولیاتی احوال نظر آتا ہے اور لگتا ہے کہ یہ تمام مخاطبے فطرت کی تمثالوں کو تشریح کررہے ہوں۔ لیکن یہ تمام کے تمام بیانیے عمیق قسم کے سیاسی ردعمل میں تبدیل ہوکر کبھی کبھار بشریات کے سوالوں کو اٹھاتے ہیں۔ ان بیانیوں میں ’مقامی‘ (آدمی) فطری سطح پر غیر تہذیبی انسان ہوتا ہے۔ فکر کا یہ تمام کا تمام ڈھانچہ ثنوئی اخلافات کے نظام کو ابھارتا ہے جس سے فرد فطرت سے علیحدہ ہوکر مغائرت کی نئی سطحوں کو بنتے دیکھتا ہے جس میں زیادہ تر صورتِ حال اس قسم کی ثنوئی اختلافات کی ہوتی ہے۔

فطرت؍ ثقافت
دائیں ؍ بائیں
جنگ ؍ امن
دن ؍رات
آقا ؍ غلام
ثواب ؍ گناہ
اچھا ؍ برا
عروج ؍زوال
ہار ؍ جیت
مہذب ؍ جنگلی
زندگی ؍ موت
ملاپ ؍ جدائی
زمین ؍ آسمان
مغرب ؍ مشرق
اندھیرا ؍ اجالا
لڑکا ؍ لڑکی
محبت ؍ نفرت
گرم ؍ سرد
بہادر ؍ بزدل
جھوٹ ؍ سچ
جنت ؍ دوزخ
چاند ؍ سورج
غریب ؍ امیر
جدید ؍ قدیم
اور انھی ثنوئی اختلافات کی مدد سے نوآبادیاتی فکر کو عقلیت کا روپ دے دیا جاتا ہے جو اس وقت سیاسی اور معاشی محرکات سے مالا مال ہوتے ہیں۔ اصل میں مغربی عقلیت اپنے آپ کو تاریک ابتریت (Chaotic)اور فطرتی دنیاؤں میں آزاد چھوڑ دیتا ہے۔ ان نوعیتوں کی قراتوں میں نوآبادیاتی قاری ادیرداؔ کے رد تشکیل کے افتراق (Differance)کی اصطلاح کو پالیتا ہے۔
مابعد جدیدیت، جدیدیت کو مکمل طور پر مسترد نہیں کرتا۔ بیچن نے اسے Rhetoric of rupureکہا ہے۔جس میں ماضی کی مثنیت کو Remainsجانا گیا ہے اور اس بات کا درس بھی دیا جاتا ہے کہ معاشرتی حقیقتوں کی ساخت مخاطبوں کے بعد تشکیل پاتا ہے اور ہیچن نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا ہے کہ مابعد جدیدیت کا مابعد بیانیہ کی جدیدیت کا انسلاک ایک قسم کا تنقیدی Revisitingاور طنزیاتی مکالمہ ہے جو کہ فن اور معاشرے کے ماضی سے متعلق ہوتا ہے اور اس کمشکش میں بعض دفعہ نئے مظاہر بھی ادراک کا حصہ بنتے ہیں، عموماً مابعدجدیدیت نوآبادیاتی تاریخی متعلقات کو اپنی مباحث سے بے دخل نہیں کرتا۔ بہرحال یہ لازمی نوعیت کا رد نوآبادیات اور پس نوآبادیات کا شناختی پیمانہ ہے جو مابعد جدیدیت کے نظر انداز کیے ہوئے معاشرتی نظریے کی عملیات سے روشن خیالی کی نئی کرنوں کو ابھرتا محسوس کرتا ہے تاکہ نوآبادیات کی قراتِ نو ممکن ہوسکے کیونکہ یہ بیانیے پر حاوی خیال کیا جاتا ہے۔

لبرل انسان دوست بدیعیات، تشکیک سے عبارت ہے:

چٹرجی (Chaterjee)نے اس سلسلے میں لکھا ہے کہ رد نوآبادیات کے شروع کے زمانے میں جس قسم کی ’قومیت‘ کو فروغ حاصل ہوا، وہ پیچیدہ تھا کیونکہ یہ ثقافتی اعتدال پسندی تھی، وہ اس طرح کہ وہ نوآبادیاتی حکومتوں سے اپنی خود مختاری ایک محکوم حالت میں کرتی تھیں جو کہ پس روشن خیال معاشرتی افکار کے آفاقی جواز کے ماخذات سے تشکیل پاتا تھا۔ یہ پس نوآبادیاتی نظریے کے پھلنے پھولنے کے لیے تذبذب کا مقام تھا۔ جو اس بارے میں زور دیتا تھا کہ آزادی کو تسلیم کروانے کے لیے صرف سیاسی اور معاشی خود مختاری پر ہی تکیہ نہیں کیا جاسکتا اور یہ بات بھی صاف ہے کہ نوآبادیات منصوبے اور اس کا مخاطبہ سابقہ نوآبادیات سے ہی ترتیب پاتا ہے۔ بعد ازاں یہ لبرل انسان دوستی کی بدیعیات کے طریقے کار کی تشکیک کی صورت میں ابھرا اور آفاقی مہا بیانیے کو پس نوآبادیات اور مابعد جدیدیت کے پروجکٹ سے جوڑ دیا گیا۔

نئے نوآبادیاتی موضوعات کی لاتشکیلیت اور مزاحمتی ماڈل کی فراہمی:

مابعدجدیدیت کے زیر اثر پس نوآبادیاتی فکر ایک خطرناک اور حساس قسم کا وظیفہ ہے کیونکہ اس سے پس نوآبادیات ایک دوسرے سامراجی پروجکٹ میں داخل ہوجاتی ہے۔ جب بھی پس نوآبادیات کو مابعدجدیدیت کی اصطلاح میں رکھ کر مطالعہ کیا جاتا ہے تو ایسا لگتا ہے کہ اس نے مابعدجدیدیت کے بطن سے جنم لیا ہے اور پس نوآبادیات کے سیاسی اور تاریخی جہتیں بھی وہیں سے پھوٹتی ہیں حالانکہ یہ اس کا نوآبادیاتی فکر کے تناظر کا کلیدی نکتہ ہوتا ہے۔
مشرا اور بیچن نے اس سلسلے میں (۱) نسل (۲) زمان اور (۳) سیاسی کشمکش کا ایک دوسرے سے فرق واضح کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان تینوں تصورات کو پس نوآبادیات کے کسی بھی نظریے میں جوڑا جاسکتا ہے۔ اگر پس نوآبادیات کے نظریے اور اس کی عملیات کو اگر غیر موثر بنادیا جائے تو روشن خیال پروجکٹ اس کو عقلی بنادیتا ہے۔ وہ نوآبادیاتی موضوعات کو خلق کرنے کے علاوہ موضوع کی صورتِ حال اور اس کے موضوعات کی ہیئت بندی کرنے کے لیے سوالات اٹھاتا ہے جو بعد میں رد نوآبادیات کے منصوبے کا لازمی حصّہ بن جاتا ہے اور اس سے رد نوآبادیاتی پروجکٹ میں کئی عنوانات کی توسیع ممکن ہوپاتی ہے۔
بہت سے پس نوآبادیاتی لکھنے والے نوآبادیاتی یا نئے نوآبادیاتی موضوعات کو لاتشکیل کرکے قوت کی ساخت کو نوآبادیاتی موضوع سے Intertellateکرتے ہیں۔ یہ موضوعات کو کھلے دل سے خوش آمدید کہتے ہیں اور کسی طو رپر د تشکیل کا وظیفہ بھی قرار پاتے ہیں ایک ہی وقت میں وہ اقتصادی اور ثقافتی سامراجیت کے درمیاں پیچیدگیاں کھڑی کردیتے ہیں تاکہ مزاحمت کے ماڈل اور نظریات مہیا کیے جائیں۔

مزاحمتی مابعد جدیدیت اور معاشرتی کشمکش سے معنی کا پیدا ہونا:

بیچن کے بقول مابعدجدیدیت بنیادی طور پر متنازعہ ہے کیونکہ یہ سیاسی اور تاریخی متعلقات کو الجھا دیتی ہے۔ ٹریسا ایبرٹ (Teresa Ebert)اسے مزاحمتی مابعدجدیدیت کہتی ہیں۔ جو کہ لفظ اور دنیا کے مابین ایک تصور ہے۔ اس میں زبان اور معاشرتی حقائق یا مختصر طور پر افتراق میں متن کے نتائج نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی لیکن یہ معاشرتی کشمکش کے لیے کوشش ضرور کرتا ہے۔
زبان رسمی نظام سے معنی حاصل نہیں کرتی لیکن معاشرتی کشمکش سے معنی جنم لیتے ہیں۔ لہذا یہ عیاں ہے کہ ’مزاحمتی مابعد جدید کی اصطلاح دو ’’Postism‘‘کو رسائی عطا کرتے ہوئے زبان کی مادّی کارکردگی میں جبر کے خلاف کشمکش کرنے کے لیے ’علاقہ‘ فراہم کرتی ہے اور یوں معنیاتی خصائص کا خلاصہ مابعدجدیدیت اور نوآبادیات کے مابین شراکت داری کا احساس دلواتا ہے۔ مادّی زبان کی اختراع نوآبادیاتی فرد کے شعور اور سائیکی میں اس سبب داخل کی جاتی ہے کہ وہ جبر کے خلاف مزاحمت کو بھول جائے اور لمحہ گزارنے میں لگ جائے کیونکہ سامراجی نظام نوآبادیاتی فرد پر لمحوں کو بہت بھاری کردیتا ہے تاکہ فرد روئی اور بنیادی ضرورتوں کے پیچھے دوڑتے دوڑتے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلے اور سامراجی نظام کا دیا ہوا نظریہ زیست اپنالے۔ زندگی سے سمجھوتہ اور معاملہ کرکے خود کو مٹادے تاکہ معاشرتی کشمکش کی فکری معنویت خود ہی دم توڑ دے۔

درخاتمہ:

مابعدجدیدیت کی وساطت سے جب بھی نوآبادیاتی مطالعوں سے متعلقہ موضوعات پر بحث کی جاتی ہے تو ضروری نہیں کہ ہر نوآبادیاتی مظہر کو ہم اس حوالے سے سمجھ پائیں۔ مابعدجدیدیت سے نوآبادیات کا تقابل ایک صحت مندانہ فکری تصّور ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ابھی مابعد جدیدیت اتنی واضح نہیں کہ وہ نوآبادیاتی مطالعوں کو کامل اور مکمل طور پر اپنے ادراک میں لاسکے۔ مابعدجدیدیت، جدیدیت کے دوسرے قطبین پر کھڑی دکھائی دیتی ہے لیکن اس میں کہیں نہ کہیں جدیدیت کی بازگشت سنائی دیتی ہے اور نوآبادیات، پس نوآبادیات، رد نوآبادیات، نئی نوآبادیات علاقاتی ؍ مقامی نوآبادیات وغیرہ چاہے کوئی بھی مطالعہ ہو وہ جدیدیت اور ہر اس مغربی بازگشتوں اور اس کے ثقافتی مطالعوں سے دور رہتا ہے جس میں دوسری جنگ عظیم سے پہلے والا ’سامراج‘ اور دوسری جنگ عظیم کے بعد والے ’نوآبادیات‘ مظاہر کا جبر دکھائی دیتا ہے۔
مابعدجدیدیت کی بحث عرصے سے ہونے کے باوجود بھی اس کی بہت سی باتیں انسانی فہم میں نہیں آرہی کیونکہ ان کی تفہیم اور تشریح گرمگو ہے۔ مابعدجدیدیت کے حوالے سے جب بھی نوآبادیاتی بحث ہوتی ہے تو مابعدجدیدیت نوآبادیوں مطالعوں پر جبری طور پر غالب ہوجاتی ہے کیونکہ مابعدجدیدیت میں ’مغربی سائیکی‘ چھپی ہوتی ہے جس کا تناسب کچھ زیادہ ہی ہے۔ جب بھی نوآبادیاتی مطالعے کیے جائیں تو ضروری ہے کہ علاقائی ؍ مقامی مابعدجدیدیت کے فکر احوال اور حوالوں کے ساتھ اسے گرفتِ بحث میں لایا جائے۔ اگر ’مغربی‘ مابعدجدیدیت کے مجرد تصورات کا جوں کا توں لے کر اور اس کی مخفی رجعت پسندی کے منفی رجحان اور مخصوص سائیکی کی تہذیبی نامیات کو آگہی میں لائے بغیر نوآبادیاتی مطالعہ کیا جائے تو یہ ریت کے محل کی طرح پل بھر میں ڈھیر ہوجاتا ہے۔ نوآبادیاتی مطالعے بنیادی طو رپر ’مغربیت‘ کی اس سامراجی قوتوں کے خلاف کھلا احتجاج اور مزاحمت ہی نہیں بلکہ ماضی میں مغرب کی ان سامراجی قوتوں نے ایشیا، افریقا اور لاطینی امریکا کے خطوں میں جو گل کھلائے ان زخموں کا دور اور سفّاکی نوآبادیات میں بسنے والا فرد اب بھی اپنے جسموں پر محسوس کرسکتا ہے۔ نوآبادیاتی چنگل سے آزاد ہوجانے کے بعد نوآبادیاتی باقیات اور اس کا استحصالی نظام اب بھی ان سابقہ نوآبادیاتوں میں اپنے مقامی مہروں کی معاونت سے قائم ہے۔ آدھی صدی سے زائد گمرجانے کے بعد بھی نوآبادیاتی باقیات کا خاتمہ نہیں کیا جاسکا کیونکہ مغرب کی جدیدیت اور مابعدجدیدیت کے فکری سیاق وسباق کا حاوی غلبہ نوآبادیاتی مطالعوں میں تشکیک، ایہام کو ابھار کر نوآبادیاتی فرد کو فکری سطح پر الجھا کر اس کا میٹھی چھری سے قتلِ عام کرتا ہے ان کی آگے پڑھنے اور ترقی کی جتنی بھی کوشش ہوتی دکھائی دیتی ہیں وہ اصل میں ’مغربیت‘ کے تصورات اور عزائم کا سانحہ ہوتی ہیں اس منفی فکر اور عملی حرکیات نے وہ گل کھلائے اور کھلا رہی ہے۔ جس میں آزاد فکر اور آزاد فرد کا تصور مفقود ہے جبکہ ’آزاد غلاموں‘ کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ مابعدجدیدیت میں معاشرتی معاشی اور تمدنی اختتاصیت کو کمال ہوشیار سے ایک دوسرے میں مدغم کرکے نئے مخاطبے کو تشکیل دے دیا جاتا ہے اور نوآبادیاتی تاریخ کو غیر اہم گردان کر اس کو سرمایہ دارانہ سامراجیت کو نوآبادیاتی فکر سے مصنوعی انسلاک کی کوشش بھی کی جاتی ہے، اور حقیقی تاریخی حرکیات کو وہ بنادیا جاتا ہے جو حقیقت میں سچی نہیں ہوتیں، اس میں بصریت کا خلا بھی ہوتا ہے اور جب یہ فکری ’نمونے‘ نوآبادیاتی خطوں میں برآمد کیے جاتے ہیں تو وہ ترسیل کی تشکیک کا شکار ہوکر خود ہی غیر موثر ہوجاتے ہیں۔ کیونکہ مابعدجدیدیت اور نوآبادیاتی مطالعوں کی قرأت کی منہاجیات ایک دوسرے سے مختلف اندام کی ہوتی ہے اس کا بیانیہ، جمالیاتی مخاطبہ کچھ ایسے قیاسات کو بھی جنم دیتا ہے جو فکری متغیرات کی صورت میں ایک دوسروں کو مسترد بھی کردیتے ہیں کیونکہ ان دونوں مطالعوں میں تاریخ اور ثقافتی راہیں اور رسائیاں ایک دوسرے سے مختلف ہوتی ہیں۔
نوآبادیاتی فکر میں فرعد اور گروہ قابلِ تقسیم ہوتے ہیں۔ انھیں با آسانی تقسیم کیا جاسکتا ہے اور ان کو بانٹ کر ان کے حقوق کو غصب کرلیا جاتا ہے اور ان کو ان کی ہی سرزمین پر دوسرے درجے کا شہری بنادیا جاتا ہے یوں سامراجی نظام بڑی ہوشیاری سے اکثریت پر غلبہ جمالیتا ہے۔ استغراب تو اس بات پر ہوتا ہے کہ مغرب کی اجتہادی تحریک نے کلیسا کو چیلنج کیا اور نشاۃ ثانیہ نے مغرب کے فرد کو آفاقی مرکزیت عطا کی، انساں دوستی کے تصور، سائنسی، تجربی اور عملیاتی ترقی نے ادعائیت اور تنگ نظری کو مسترد کرتے ہوئے کشادہ دل کا جھانسہ دیا۔ جبکہ مغرب کی یہی روشن خیالی ایشا، افریقا اور لاطینی امریکا کی قوموں کو عیارانہ طور پر اپنا غلام بنانے کےلیے ایک عمیق نوعیت کا استحصال اور سامراجی پیمانہ ثابت ہوا۔ ان کی فکری معنیت نے سامراج کے شکنجے کو نوآبادیاتی علاقوں میں گہرا سے گہرا تر کردیا۔ جدیدیت نے نوآبادیاتی تسلط میں آئے ہوئے علاقوں میں فرد کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے بکھیردیا۔ اصغری (Micro)اور اکبری (Macro)نامیات کو بڑی ہوشیاری سے تہس نہس کیا گیا اور احساس دلوایا کہ سامراجی حکمران ہی تاریخ بناتے ہیں اور تاریخ لکھتے ہیں، اس کے موئف بھی وہی ہوتے ہیں۔ اصل میں ثقافتی، معاشرتی، معاشی اور سیاسی جبر کا تسلسل ہی تاریخ کو رقم کرتا ہے۔ تاریخ اجتماعی جبر سے عبارت ہوتی ہے۔ مابعدجدیدیت کا مغربی تناظر اپنی تاریخ کو بناتا ہے۔ تاریخ گری کے بعد وہ دوسروں کی تاریخ کو بڑی ہوشیاری و صفائی سے بگاڑ بھی دیتا ہے اور نوآبادیاتی فکر کو ابہام، تشکیک، عدم شناخت اور ادھورے پن میں مبتلا کرکے اس کے نامکمل ہونے کا جواز پیش کرتا ہے۔ مابعدجدیدیت ہزار واحدنی نظریے کی نفی کرے لیکن جب بھی وہ نوآبادیاتی مطالعوں میں اپنا نفوذ کرتی ہے تو وہ، وہ نہیں رہتا جس کا وہ عموماً اعادہ کرتا ہے۔ وہ ادبی مخاطبے کو بھی بیاں کرتی ہے لیکن ثقافتی مخاطبے کے سلسلے میں ان کا ذہن صاف نہیں ہوتا۔ یہی سبب ہے کہ نوآبادیاتی مطالعے اور اس کی فکری جہتیں سب کے سب چشم زن میں مسمار ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔ فرد کا احزان اس میں ہے نہ کسی ثقافتی جہت کا بھرپور اخصار مابعد جدیدیت کے متعلقہ احقاق مکیں نمو پذیر ہوتا ہے۔ مابعدجدیدیت بعض دفعہ نویساریت پسندوں کے تصورات سے نوآبادیاتی مطالعوں کی تفہیم کرنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ مابعدجدیدیت نویساریت پسندوں کے احصار میں رہ کر اپنی نوآبادیاتی آگہی کو انشراح کے تفہیمی نظام میں تبدیل کردیتے ہیں اور ان باتوں سے اغماض برتے ہیں جو کہ ان کے فکری وار ذہنی نظام کے ادراک میں شامل نہیں اور مابعد جدیددیت کے فکری اہمال نوآبادیاتی مطاعلوں میں جب بھی نفوذ کرتے ہیں تو اس میں مغربی سامراج کی ایالت بھر کر نوآبادیاتی نوآبادیات تصورات کو مدھم کرنا چاہتی ہے۔ مابعدجدیدیت کا سامراجی نظام نئی مغربیت کے روپ میں اپنی نمو چاہتا ہے جو فکرکا ایک ایسا تاریخی جبر ہے جس میں انخفاف بہت ہے اور نوآبادیاتی نظریاتی مطالعوں میں منازعت کا باعث بھی بنتا ہے۔ مابعدجدیدیت اور نوآبادیاتی اپنے مزاج میں ایک دوسرے کی ضد ہرگز نہیں مگر ان کے فکری افتراقات بہت وسیع اور عمیق ہیں۔ کوئی مطالعاتی اور تنقیدی ماڈل کو ہم سرے سے مسترد نہیں کرسکتے۔ موضوعیت ہو یا معروضیت یا اس کی تکنیکی مباحث، یہ سب ادبی نظریوں کے لیے ضروری ہیں۔ نظریاتی ماڈل ہیئتی ہوتا ہے یا نظریاتی، جس میں جبریاتی عنصر حاوی ہوتا ہے۔ تمام مطالعے قرأت سے ابتدا کرتے ہیں پھر تفہیم، تمدنی حرکیات اور تاریخی جبر کا تناظر فکرِ آگہی کو نئی راہوں سے متارف کرواتے ہیں اور فرد کی فکر کو سیراب کرتے ہیں۔

مابعدجدیدیت اور پس نوآبادیاتی مطالعوں کے لیے مناجیاتی اور فکری سفارشات:
(۱) موضوع کی لامرکزیت اور تاریخانہ
lنسل، طبقہ اور جنسی گروہوں کی موضوعاتی صورتِ حال
lفطرت کے موضوعات کی تشکیل پر زور دینا
lمابعدجدیدیت کو انسان دوست نظریے کے طور پر تشریح و تعریف
lمابعدجدیدیت کو بطور سامراجیت کے نظریے کے طور پر تشریح و تعریف
lتقابلی موضوعات کو مرکوز نکتے پر لاکر یکساں نوعیت کے عمومی سوالات کی گرہیں کھولنا۔
مرکزیت کبھی بھی متن کو مکمل طور پر گرفت میں نہیں لے پاتا اور رد تشکیلیت کے تناظر میں حاشیائی اور سابقہ مرکزیت اپنے آپ کو تسلیم کروانے کے لیے اپنی ہی ثقافت کو بے شناخت بنادیتی ہے، جس کاقیاس کیا جاسکتا ہے۔

(۲) متنی حکمت عملیوں کو حاوی مخاطبے کو تہس نہس کرنے کے لیے منظرِ عام پر لانا:
lسامراج کی نشاہندی کرنا اور عام بدیعیاتی حکمت عملیوں کو حاضر مخاطبے کو مقابلے کے لیے زمانی اور مکانی سطح پر پیش کرنا
lمتن کے ساتھ معاملہ : قبل نوآبادیاتی متن کا زبانی اور تحریری انسلاک (کہانی گو؍ واقعہ گو کو بطور راوی جاننا – اسطور کا استعمال ) جادوئی حقیقت پسندی (عقلیت کے بنے بنائے تناظر کے رویوں سے مبارزت)
lلسانی نظام کے افتراق کو نمایاں کرنا
lکھلے بیانیے
lتصمین:  تنقیدی فاضلوں کو دہرورانا، جب یکسانیت کو قلب میں طنزیہ افتراقات کا رمز بنتے ہیں اور ثقافتی تبدیلی کے تسلسل کو قائم رکھتے ہیں۔
lبیانیہ تناظر کو ناپیدار کرنا

(۳) متن کے اندر رد تشکیلیت کی حرکیت:
lبطور ایک سیاسی ایجنڈے کے کھلے اور مہابیانیے کو لاتشکیل کرنا اور کردار بندی کے باہر رہ کر انسانی تجربے کی تدوین کرنا جو مثبت ردتشکیل میں مغربی فلسفے سے متعلق ہوتی ہے۔
lمنطقی مبادزت کی منطقی درجہ بندی کو اختلافات کے ساتھ تشریح و تفہیم کرنا جس طرح اسپیوک کا کہنا ہے کہ ’ردتشکیل مغربی تاریخی بیانیے کے تصور سے بنیادپاتا ہے۔‘
lمہابیانیے کو نوآبادیاتی مرکز سے توڑ کر علیحدہ کردینا، اس کی کھوج کرنا اور ان کے متعلق منطقی درجہ بندی کے حوالے سے سوچ و بچار کرنا جو ہم خود سے بھی مغائرت کیے ہوئے ہو۔

(۴) ادبی روایت اور مکمل متن کا تساولی انسلاک:
lہمیشہ حاوی مخاطبے کو مدنظر رکھے جانا
lادبی ماضی کے تنقیدی تناظر کو مدِّنظر رکھنا

(۵) تاریخی یقینیت کے سوالات:
lتاریخی بیانیے کی تشکیلی فطرت پر زور دینا
lگم شدہ مہابیانیے کو دریافت کرنے کےلیے اسے نوآبادیاتی بیانیے سے الگ رکھنا (یہ مسئلہ نسوانی اور گے اور لزبن متن میں مشاہدہ کیا جاتا ہے)
lانسانی تاریخ کو بطور اجتماعیت جاننا، لیکن جس کے تجربات انفرادی ہوتے ہیں اور انسان دوستی اور آفاقیت سے اختلاف کرتے ہیں۔
lمتبادل ، نظرثانی، تاریخ کا جغرافیائی ردعمل

(۶) حقیقت پسندی پر نقد:
lدوسری قوموں پر غلبہ حاصل کرنے کے سوالات اور اس کے تشریح و بیاں کے لیے حقیقت پسندانہ تناظر کی ضرورت۔ اس صورتِ حال میں ’اصل‘ کو دوبارہ پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ جو پہلے ہوچکا ہے ، وہی سامنے لایا جائے۔

(۷) آفاقیت اور لازمیت کو مسترد کیے جانا:
lمرکز کے مرکزی مخاطبے کے سوالات
lمغربی افکار اور اس کے تاریخانہ کے بنیادی سوالات
lعمومی اور مقامی مظاہر کا مرکوز مطالعہ
lغیر یقینیت اور تبدیلی کی خواہش کو تسلیم کیا جانا
lاختلافات

(۸) ذیلی نوآبادیات کا مطالعہ:
lسابقہ نوآبادیاتی خطوں میں پائے جانے والے متن اور مخاطبوں میں ذیلی نوآبادیات کا سراغ
lنوآبادیاتی نظام سے نجات حاصل کیے ہوئے ممالک میں بڑے لسانی، معاشی، مذہبی یا سیاسی گروہوں کے چھوٹے گروہوں کے استحصال سے آگہی۔
lسابقہ نوآبادیاتی علاقوں میں ذیلی نوآبادیات کی حرکیات، جبر اور مزاحمتی احتجاج کا نیا بیانیہ اور اس کا کھوج لگانا۔
lسابقہ نوآبادیات میں نئی نوآبادیات (نوآبادیات کی باقیات) کی آگہی و تشریح
lذیلی نوآبادیات میں پائے جانے والے ذیلی گروہوں کا آپسی نظریاتی تصادم- تصادم کی یہ صورتِ حال سیاسی، انسانی حقوق، مذہبی آزادی، لسانی، معاشی اور ثقافتی مسائل کی صورت میں نمودار ہوتے ہیں۔
lعسکری اور دفتر شاہانہ طبقے کا نوآبادیاتی نظام کی باقیات سے جڑا رہنا
lذیلی نوآبادیات میں جاگیردارانہ نظام کا برقرار رہنا

Works Cited

Abrams, M. H. A. Dictionary of Literary Terms: Seventh Edition, USA, : Harcourt Brace, 1999.
Adam, Ian, (Ed) “Past the Last Post” Areil: A Review of English Literature, Vol 4, No.4, Oct – 1989.
Ashcroft B., Griffiths G. and Tiffin H. “Key Concepts in Post-colonial Studies”. New York: Routledge. 1998.
Brodber, Erna. “Fiction in the Scientific Procedure.” (Essay)
Brodber, Erna. Jane and Louisa Will soon come home. London: New Beacon Books. 1980.
Deane, Seamus. Introduction to James Joyce’s “Finnegan’s Wake”. Penguin, 1992.
Dirlik, Arif. “Borderlands Radicalism” in After the Revolution: Waking to Global Capitalism. Hanover. Wesleyan UP, 1994
Hutcheon, Linda. “Postmodernism” in Encyclopedia of Contemporary Literary Theory. Ed Irena R. Makaryk. Toronto: University of Toronto Press, 1993.
Hutcheon, Linda. A Poetics of Postmodernism: History, Theory, Fiction. New York: Routledge, 1988.
Robinson, Dave. Nietzsche and Postmodernism. New York: Totem, 1999.
Rushdie, Salman. Imaginary Homelands: Essays and Criticism, 1981-1991. New York: Viking, 1991
Said, Edward. Culture and Imperialism. New York: Random House, 1993.
Selden, Raman and Widdowson, Peter. A Reader’s Guide to Contemporary Literary Theory (Third Edition). Kentucky, USA: University Press of Kentucky, 1993
ll

Kulyate Sauda (Niskha e India office) by Prof. Naseem Ahmed

Articles

’’انڈیا آفس میں محفوظ کلیات سوداؔ کے ایک قلمی نسخہ کا تعارف‘‘(مع ترمیم و اضافہ)

پروفیسر نسیم احمد

’’انڈیا آفس میں محفوظ کلیات سوداؔ کے ایک قلمی نسخہ کا تعارف‘‘
(مع ترمیم و اضافہ)
ارتقاے زبان ایک فطری اور ناگزیر عمل ہے۔ اس ارتقائی عمل میں الفاظ اور ان کے تلفظات مختلف مراحل سے گزرتے ہیں اور اپنی تغیر پذیر شکل کے ذریعے اپنے زمانے کی نمائندگی کرتے ہیں۔ چنان چہ کسی بھی عہد کی لسانی تاریخ ان تغیرات کی صحیح آگہی کے بغیر ترتیب نہیں دی جا سکتی اور اگر کسی زبان کی لسانی تاریخ صحت کے ساتھ مرتب نہیں کی گئی تو اس زبان میں تحقیق و تنقید کی بنیاد میں متزلزل رہیں گی اور اس کے نتیجے میں اعلیٰ ادب یا تو سرے مفقود ہوگا یا کم از کم اس کے پنپنے اور پھولنے پھلنے کے امکانات کم ہوں گے۔
اس حقیقت کے پیش نظر کسی بھی شخص کو خواہ وہ کتنا بڑا ادیب اور عالم کیوں نہ ہو، تحقیق وتدوین کے نام پراُسے شاعر کی زبان میں ترمیم وتصحیح کا حق نہیں دیا جاسکتا۔ اس کے باوجود ادبیات کی تاریخ میں ارادی اور غیر ارادی تحریفات کی مثالیں اس کثرت سے موجود ہیں کہ ان کا احاطہ بہ آسانی ممکن نہیں۔ جہاں تک اردو ادب کا تعلق ہے، ارادی تحریفات کے ضمن میں ناسخ کے شاگرد میر علی اوسط رشک اور ذوق کے شاگرد مولانا محمد حسین آزاد کے نام سرِ فہرست رکھے جا سکتے ہیں۔
کلام سوداؔ کے مطالعے کے سلسلے میں اگر چہ ارادی اور غیر ارادی تحریفات کے درمیان واضح طورپر کوئی خط فاصل قائم نہیں کیاجاسکتا تاہم یہ کہاجا سکتاہے کہ ان کے کلام میں ترمیم وتحریف کا سلسلہ ان کی زندگی ہی میں شروع ہوگیاتھا۔ چنان چہ ان کے ایک شاگرد معین بدایونی کے بارے میں میر حسن کا بیان ہے کہ ’’دیوان ِ استادِ خود راموافق طبعِ خود درست می کند وسخن خودرا سرسبز می نماید‘‘ معین کو جب استعمال عام کے خلاف لفظ کی سند درکار ہوتی تھی تو وہ اپنے استادکے کلام میں حسب خواہش تصرف کرلیاکرتے تھے اور اپنی بات بالا رکھتے تھے۔ معاصر تذکروں میں بھی ایسے متعدد اشعار موجود ہیں جن کا متن کلام سودا ؔ کے کسی قدیم نسخے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا۔ مثا ل کے طورپر میرؔ کے تذکرے میں ایک شعر اس طرح نقل ہواہے :
موج نسیم گرد سے آلودہ ہے نپٹھ
دل خاک ہوگیا ہے کسی بے قرارکا
جب کہ دوسرے تمام قدیم ماخذ میں شعر کی شکل یہ ہے:۔
موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے
دل خاک ہوگیاہے کسی بے قرار کا
سودا ؔ نے مندرجہ ذیل اشعار قطعہ میں غالباً اسی طرح کی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیاہے :
ہے جو کچھ نظم ونثر عالم میں
زیر ایراد ِ میرؔ صاحب ہے
ہر ورق پر ہے میرؔ کے اصلاح
لوگ کہتے ہیں سہوکاتب ہے
سوداؔ کا ایک اور شعر ان کے کلام کے قدیم مخطوطات میں ا س طرح درج ہے:
اندامِ گل پہ ہونہ قبااس مزے سے چاک
جوں خوش چھبوںکے تن پہ مسکتی ہیں چولیاں
لیکن مجموعہ نغز اور بعض دوسرے تذکروں میں شعر کامصرع دوم اس طرح نقل ہواہے:
ع جوں خوش قدوں کے تن پہ مسکتی ہیں چولیاں
سوداؔ نے یہاں ہندی وفارسی ترکیب قصداً استعمال کی ہے جو فارسی ترکیب کے مقابلے میں زیادہ چست اور مناسب ہے حالاں کہ ایک دوسرے شعر میں خوش قد کی ترکیب بھی موجودہے ۔
رفتار دیکھتے ہوتم ان خوش قدوں کی ہاے
ٹھوکر لگے ہے دل کے تئیں جس خرام میں
تذکروں میں اس قسم کے اختلافاتِ متن کی مثالیں بکثرت موجود ہیں لیکن انھیں حتمی طورپر ناقلین کے ارادی تصرف کانتیجہ قرار نہیں دیاجاسکتا۔ اس کے بر خلاف ملک اور بیرون ملک کے کتب خانوں میں محفوظ کلام سوداؔ کے لاتعداد مخطوطات میںسے کم ازکم پانچ خوش خط اور دیدہ زیب نسخوں کے متعلق وثوق کے ساتھ یہ کہاجاسکتاہے کہ ان میں دیدہ ودانستہ تحریفیں کی گئی ہیں اور الحاقی کلام شامل کیاگیاہے۔زیر بحث نسخوں میں کی گئی تحریفات کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے۔
۱۔ الفاظ کے معمولی ردوبدل کے ذریعے زبان کو سہل بنانے یاقدیم اثرات کو زائل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
۲۔ کسی شعر کو بزعم خود زیادہ چست اور بامعنی بنانے یامضمون میں جدت پیدا کرنے کی غرض سے کسی خاص لفظ یاترکیب کو بدل دیاگیاہے۔
ان تبدیلیوں کے نتیجے میں بعض اوقات مصرعے دولخت اوراشعار بے معنی ہوکر رہ گئے ہیں۔ مثلاً: سوداؔ کی ایک غزل جس کے قوافی( دہن، کفن، لگن، وغیرہ) ہیں، کے ایک شعر میں قافیہ ’چمن‘ کوبدل کر اس کا مناسب ’سحر‘ لفظ رکھ دیاگیاہے۔ بعض اوقات شعر وزن سے بھی خارج ہوگیاہے مثلاً:-
اندام میں کچھ اس کے تپ ہجر نہیں ہے
دی عشق نے ظالم ترے بیمار کو آتش
کے مصرع اول کو ا س طرح تبدیل کیاہے: ع اندام میں تو کچھ شب تار نہیں ہے
لیکن عام طورپر ان نسخوں میں الحاقی کلام کی شمولیت نیز الفاظ وتراکیب کی تبدیلی اتنی صفائی سے کی گئی ہے کہ محققین تک اس کی گرفت سے قاصر رہے ہیںحتیٰ کہ بعض حضرات مثلاً ڈاکٹر شمس الدین صدیقی،پروفیسر عتیق احمدصدیقی اورڈاکٹر ہاجرہ ولی الحق نے بھی کلام سودا ؔ کی ترتیب کے سلسلے میں ان نسخوں سے بلاتامل استفادہ کیاہے۔سطور ذیل میں بہ غرضِ اختصار صرف ایک نسخے کا تعارف پیش کیا جا رہا ہے۔
انڈیا آفس لائبریری لندن کے ذخیرۂ مخطوطات میں فہرست نمبر۱۴۶، پی ۳۵۳ کے تحت کلام سوداؔ کا نہایت عمدہ نستعلیق خط میں لکھا ہوا ایک قلمی دیوان محفوظ ہے جو عام طور پر نسخۂ جانسن کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ نسخہ ۱۳ سطری مسطر کے ۴۷۰ صفحات پر مشتمل ہے ۔ اس کی نقلیں (فوٹو اسٹیٹ، الیکٹرو اسٹیٹ کاپیاں ) خدا بخش لائبریری پٹنہ ، مولانا آزاد لائبریری ، علی گڑھ ، اترپردیش اردو اکادمی لائبریری، لکھنؤ کے علاوہ بعض اہل علم حضرات کے ذاتی ذخیرئہ کتب میں بھی موجود ہیں ۔ راقم نے اردو اکادمی لائبریری میں محفوظ نقل سے استفادہ کیا ہے ۔ یہ مُثنّیٰ بہت واضح اور ایک حد تک مانند اصل ہے ۔ نسخے پر کہیں کاتب کا نام، سنہ کتابت اور مقام کتابت وغیرہ کا اندراج نہیں ہے۔
اس مخطوطے میں اصل کتاب کے آغاز سے قبل ، پہلے ورق پر ایک تصویر ہے جس میں نوابی وضع قطع کا ایک شخص قالین پر بیٹھا ہوا پیچوان پی رہا ہے۔ اس کے پیچھے ایک ملازم نما شخص ہاتھ میں کاغذ لیے کھڑا ہے ۔ قالین پر بیٹھے ہوئے شخص کے سامنے ایک کتاب پڑی ہے ۔ تصویر کی کوئی تفصیل درج نہیں ۔ قیاس کہتا ہے کہ یہ مسٹر جانسن ، سوداؔ یا کسی نواب یا شہزادے کی ہوگی ۔ مرتب ’’قصائد سودا ‘‘ پروفیسر عتیق احمد صدیقی کا خیال ہے کہ ’’غنچہ لاتو قلم دان ‘‘ کی روایت غالباً تصویر مذکور کی بنیاد پر اختراع کی گئی ہے۔ چنان چہ لکھتے ہیں ۔ ’’تصویر میں کوئی تعارفی عبارت نہیں لیکن شاید اسی تصویر سے غنچہ کی روایت پیدا ہوئی ہے ۔ ‘‘ (۲) شیخ چاند مرحوم (متوفی ۱۹۳۶ء) کی کتاب ’’سودا ‘‘ (طبع۱۹۳۶ء ) اور ڈاکٹر خلیق انجم کی تصنیف ’’ مرزامحمد رفیع سودا ‘‘ (طبع ۱۹۶۶ء ) مین آغاز کتاب سے پہلے یہ تصویر سوداؔ کے نام سے موجود ہے ۔ فرق یہ ہے کہ ان دونوں کتابوں میں ثانی الذکر سے پیچھے کھڑے ملازم اور سامنے رکھی ہوئی کتاب کو تصویر سے حذف کر دیا گیا ہے۔
نسخۂ جانسن کے پہلے ورق کی پشت کے بالائی سرے پر پختہ خط میں ایک انگریزی عبارت اور ورق ۴ پر صا ف ستھرے عمدہ نستعلیق خط میں دو فارسی عبارتیں ملتی ہیں ۔ ان کے علاوہ دیوان کی ابتداسے قبل ورق ۲پر تئیس ۲۳ اشعار کا ایک قصیدہ ’’ع دیکھا نہ جائے اس سے روے گل رُخاں پہ رنگ ‘‘ بھی سوداؔ تخلص کے ساتھ موجود ہے ۔ جس پر کوئی عنوان درج نہیں لیکن گریز کے شعر:-
’’ہے اب مگر وہ ایک کہ جس کا یہ ہے خطاب
ممتاز الدولہ فخر جہان وحسام جنگ‘‘
سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نظم ممتاز الدولہ فخر جہاں حسام جنگ کی مدح میں کہی گئی ہے ۔ مزیدبرآں ایک مدحیہ شعر:-
’’تیری وہ ذات گو تو نہیں ہے شہ فرنگ
کرسی میں تیری پایہ اورنگ کا ہے ڈھنگ ‘‘
سے ظاہر ہوتا ہے کہ کسی انگریز افسر ہی کی تعریف میں یہ قصیدہ کہا گیا ہے ۔ ممکن ہے کہ یہ افسر جانسن ہی ہو ۔ حالاںکہ کسی تذکرے یا معاصر تاریخی کتاب سے سو داؔ اور مسٹر جانسن کے تعلقات پر روشنی نہیں پڑتی ۔ مخطوطے کی مذکورہ انگریزی عبارت کا متن یہ ہے :
”Mr. Richard Johnson, the gift of ye author Mirza Souda”
اور فارسی عبارتیں حسب ذیل ہیں :
دیوان میرزا رفیع سودا ، گذرایند ئہ میر حسین صاحب ، در بلدئہ لکھنؤ ،
داخل کتاب خانہ سرکار شد
دیوان سرکار نواب صاحب ممتاز الدولہ مفخر الملک حسام جنگ مسٹر رچارڈ جانسن صاحب بہادر دام اقبالہ ۔
مسٹر جانسن اور میر محمد حسین کے بارے میں مختلف تذکرو ں اور تار یخی کتابوں سے جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ اختصار کے ساتھ سطور ذیل میں پیش کی جاتی ہیں :
مسٹر جانسن کا شمار اپنے زمانے کے ذہین انگریز افسر وں میں ہوتا تھا ، لکھنؤ آنے سے قبل وہ بر دوان کا صاحب کلاں اور بنگال کو نسل کا فعال رکن تھا ۔ وہ سیاسی ساز باز کا ماہر سمجھا جاتا تھا۔ ۱۷۶۵ء میںنواب میر جعفر کے انتقال کے بعد اس نے، ان کے بڑے لڑکے نجم الدولہ معروف بہ میر پھلوری کو مرشداآباد کے صاحب کلاں مسٹر مڈلٹن کی مدد سے تخت نشین کرایا ۔ (۳) اس نواب گری کے معاوضے کے طور پر جانسن اور اس کے معاون انگریز افسر وں نے نواب نجم الدولہ اور ان کے وزیروں سے نقد روپیوں کے علاوہ کافی تعداد میں جواہرات ، قیمتی اشیا اور بیش بہا تحائف حاصل کیے ۔ (۴) یہ تحائف ڈائرکٹر کے حکم امتناعی کے باوجود وصول کیے گئے تھے، چنان چہ کمپنی نے رشوت لینے کے الزام میں جانسن اور اس کے دیگر ساتھیوں کے خلاف مقدمہ قائم کیا۔ لیکن جانسن اپنی فطانت اور سیاسی اثر و رسوخ کی بدولت اس الزام سے بری ہوگیا ۔ علاوہ ازیں جانسن روایتی طور پر ایک ظالم اور مغرور انگریز افسر بھی تھا۔ ایک مرتبہ اپنے کسی نوکر کو مارنے اور اس کے ساتھ بے حد سختی برتنے کی پاداش میں اس پر جرمانہ بھی عائد کیا گیا تھا اور جب اس نے کو رٹ میں حاضر ہو نے سے انکار کر دیا تو حکم عدولی کے جرم میں اُسے جیل میں ڈال دیا گیا ۔ لیکن تین مہینے کی سزا کاٹنے کے بعد جب اس نے معافی کی ایک تحریری درخواست کو رٹ میں گزاری تو اُسے منظور کر لیا گیا (۵)۔
نسلی افتخار اور سیاسی جوڑ تور سے قطع نظر ، جانسن کی قابلیت ، علم دوستی ، ادبا پروری ، معاملہ فہمی ، رعب اور دبدبے کے واقعات بھی بعض معاصر کتب میں مرقوم ہیں ۔
۱۔مرزا ابوطالب اصفہانی، لندنی نے لکھا ہے کہ ۔۔۔۔۔ ’’ مسٹر جانسن کہ دوم او (مسٹر ایوس (Ives) رزیڈنٹ) بود ۔ لیاقت ہمہ کار داشت بہ حدے کہ اہل کاران وزیر ( آصف الدولہ) از ترسِ معاملہ دانیش شب خواب بہ آرام نمی کر دند ۔ اماچہ فائدہ کہ بہ سبب ناموافقت مسٹر ایوس در کارہا دخل نہ داشت ‘‘(۶)
۲۔علی ابراہیم خاں خلیلؔ نے نواب محبت خاں محبتؔ کے ذکر میں لکھا ہے کہ ۔۔ ۔۔ ’’مثنوی موسوم بہ ’’اسرار محبت ‘‘ کہ حکایت عشق سسی پنو [ است ] بفر مودہ ممتاز الدولہ مسٹر جانسن بہادر منظوم نمودہ ‘‘۔ (۷)
۳۔میر قمر الدین منّت ، لالہ رام جس متخلص بہ محیطؔ ومغمومؔ اور ان کے چھوٹے بھائی لالہ جواہر سنگھ رامؔ وغیرہ بھی جانسن کی سر کار سے وابستہ تھے (۸) ۔ ’’ مخطوطات انجمن ترقی اردو‘‘ کراچی ، پاکستان ، کے مرتبین نے جانسن کی سر کار میں رام جس محیطؔ کے توسُّل کی تقریب کا ذکر اور جانسن کی ادب نوازی کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے ۔ ’’ یہ وہی جانسن صاحب ہیں جن کو دربار لکھنؤ سے ممتاز الدولہ کا خطاب ملا تھا ۔ جانسن صاحب بڑے ادب پرور تھے ۔ لکھنؤ میں رہے تو اس صفت میں نیک نام رہے اور بنا رس چلے گئے تو وہاں بھی رام جس محیطؔ وغیرہ اُن کے متوسل رہے۔ (۹) یہ اطلاع کہ ’’جانسن بنارس چلے گئے‘‘ غلط اور مبنی بر سہو ہے۔ اصلاً محیط ’’داروغہ پرمٹ ‘‘ ہو کر بنارس چلے آئے تھے اور یہیں ۱۱۹۹ھ میں علی ابراہیم خاں خلیلؔ سے اُن کی ملاقات ہوئی تھی ۔ خلیلؔ کے الفاظ یہ ہیں:۔ ازدل برداشتگا ن سموم عشق و منسلکان سر کار ممتاز الدولہ مسٹر جانسن بہادر (بودہ) است۔ بعد ازاں بہ سر رشتہ داری پر مٹ ضلع بنارس ماموراست ۔ در ۱۱۹۹ھ باراقم آثم در بنارس ملاقی شدہ ‘‘ (۱۰) ۔
۴۔لچھمی نرائن شفیق اورنگ آبادی نے بھی اپنی ایک کتاب ’’ تنمیق شگرف ‘‘ رچرڈ جانسن کے نام معنون کی تھی ، اب یہ کتاب نایاب ہے ۔ (۱۱)
۵۔ میر قمرالدین منّت نے ۱۱۹۶ ھ میں مشہور پنجابی قصہ ’’ ہیررانجھن ‘‘ کے عنوان سے فارسی زبان میں نظم کر کے اپنے مربی مسٹر رچرڈ جانسن کے نام معنون کیا ۔ (۱۲)
۶۔ انڈیا آفس لندن کے شعبۂ ہندوستانی میں ۹۲ صفحات پر مشتمل نو طرزمرصّع کا ایک قلمی نسخہ محفوظ ہے۔ یہ کتاب مکمل نہیں بلکہ اس میں پہلے درویش کی کہانی تک ، داستان کا ابتدائی حصہ ہی ہے ۔ اس کے صفحہ اوّل پر مندرج ایک عبارت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ نسخہ لکھنؤ میں محمد بخش خاں نام کے کسی کاتب نے ’’ سر کار نواب صاحب ممتاز الدولہ ، مفخر الملک حسام جنگ مسٹر رچرڈ جانسن صاحب دام اقبالہ ‘‘ کی لائبریری کے لیے تیا ر کیا تھا ۔ یہ نسخہ انیسویں صدی عیسوی کا مکتوبہ بتایا جاتا ہے ۔ (۱۳) (۱۳ الف)
میر حسین ایک نسبتاً غیر معروف شخصیت ہے۔ نسخۂ جانسن کے اندراجات کے پیش نظر ہمارا قیا س یہ ہے کہ وہ بہ حیثیت دیوان مسٹر جانسن کی سرکار سے متوسل تھا۔ دوسرے مآخذ کے مطابق اُس کا پورانام میر محمد حسین تھا ۔ وہ انگریزوں سے بہت زیادہ ربط ضبط رکھتا تھا۔ اس لیے عرفِ عام میں فرنگی کے لقب سے مشہور تھا ۔ نواب آصف الدولہ نے ہارپر کے نام اپنے شکایت نامے میں جانسن کا ذکر کر تے ہوئے لکھا ہے کہ اس (مسٹر جانسن ) نے میر محمد حسین سے بہت زیادہ ربط ضبط بڑھارکھا ہے اور حسب منشا اس (میر محمد حسین ) کے لیے وظیفہ مقرر کراکر جتنی رقم چاہتا ہے اس کے نام سے خود وصول کر تاہے ۔ (۱۴)
۱۷۸۴ء میں جب جانسن رزیڈنٹ کی حیثیت سے حیدر آباد گیا تو میرمحمد حسین بھی وہاں پہنچ گیا ۔ جانسن کے بعد میرمحمد حسین کا بھی اودھ چھوڑکر حیدر آباد چلے جانے پر سرکار اودھ نے میر مذکور کا وظیفہ بند کر دیا تھا ۔جانسن نے نواب کے نام اپنے ایک خط میں لکھا کہ میر محمد حسین حیدرآباد آنے پررضا مند اس وقت ہوا جب گور نر جنرل نے اسے یقین دلایا کہ اس کاسرکاری (اودھ کا) وظیفہ باقاعدگی کے ساتھ ملتارہے گا۔ لیکن نواب نے اپنے خط میں اس بات کی تردید کی کہ ہیسٹنگ (گورنر جنرل ) کے ساتھ اس کا اس قسم کا کوئی معاہدہ ہوا ہے۔ کمپنی نے بھی گورنر جنرل اور کونسل کی ہدایت کے مطابق میر محمد حسین کے وظیفے کی رقم (جو ۷۳۳،۳۲روپیے پر مشتمل تھی ) نواب سے طلب کی۔ نواب آصف الدولہ نے عذر پیش کیا اور کمپنی کو لکھا کہ اس طرح کا کوئی معاملہ سرکار اودھ اور گور نرجنرل کے بیچ نہیں ہوا ہے ۔ لیکن کمپنی باربار اپنا مطالبہ دہراتی رہی اور جانب داری میں یہ کہتی رہی کہ حیدر آباد کے قیام کے دوران میر محمدحسین نے نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور سات سوروپیے ماہوار جو کمپنی میر مذکور کو دیتی رہی ہے اسے سرکار اودھ ہی سے وصول کیا جائے گا ۔ لیکن جب لارڈکارنوالس گورنر جنرل ہوئے تو انھوںنے اس مطالبے کو باطل قراردے دیا اور یہ ہدایت کی کہ اس (وظیفہ کے ) مد میں سرکار اودھ سے جو رقم وصول کی گئی ہو وہ کمپنی کے حساب میں شامل کر لی جائے ۔ (۱۵)
مرزا علی لطف کے ایک بیا ن سے بھی جانسن اور میر محمد حسین کے تعلقات پر روشنی پڑتی ہے ۔ تذکرہ نگار موصوف میرقمرالدین منّتؔ کے حالات میں ’’ ویرا نی شاہجہان آباد‘‘ کے بعد لکھنؤ میں ان کے ورود کا تذکرہ کر تے ہوئے لکھتے ہیں ۔ ’’میرمحمد حسین فر نگی لقب کی باد فروشی کے سبب مشتاق اُن کا وہاں ایک زمانہ ہوا ۔ بعد چندے مربی گری سے میر مذکور کے ، ممتاز الدولہ مسٹر جانسین بہادر کی سرکار میں توسل انھوں نے حاصل کیا ۔‘‘ (۱۶)
تذکرہ ’’ ریاض الوفاق ‘‘ کے مصنف ذوالفقار علی مست نے میر محمد حسین سے کلکتے میں اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے اور ’’ خلاصۃالافکار ‘‘ کے حوالے سے ان کے بارے میں چند اطلاعات فراہم کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں کہ میر محمد حسین عربی وفارسی کے علاوہ علم طب ، علم ریاضی اور علم طبیعی سے واقف ہیں ۔ ان کا مولد لکھنؤ ہے۔ دکن گئے تھے ، سخت بیمار ہوکر وطن روانہ ہوئے۔ بنارس کے قریب ۱۲۰۵ھ میں فوت ہوئے۔ صاحب دیوان شاعر ہیں ۔ ان کے دیوان میں تقریباً چھ ہزار ابیات ہیں لیکن کسی شعر میں تخلص موجود نہیں ۔ (۱۷)
مصحفیؔ نے اپنے تذکرے ’’ عقد ثریا ‘‘ کے آخر میں’’ خاتمہ ‘‘ کے زیر عنوان دو ایسے ’’ دانش مندوں ‘‘ کا ذکر کیا ہے جو ’’ بمقتضاے موزونی طبع ‘‘ کچھ کہ لیا کر تے تھے لیکن اس سے ’’اظہار کمال شاعری ‘‘ مقصود نہ تھا ۔ اس لیے انھوں نے کوئی تخلص اختیا ر نہیں کیاتھا ۔ ان میں دوسرے ’’دانش مند ‘‘ کے ذکر میں’’ میر محمد حسین لندنی ‘‘ کا عنوان قائم کر کے فارسی کا ایک شعر نقل کر دیاگیا ہے (۱۸)ممکن ہے کہ مصحفیؔ نے ’’لندنی‘‘ یہاں ’’فرنگی‘‘ کے بدل کے طور پر استعمال کیا ہو اور اس سے مراد یہی میر محمد حسین ہوں ۔
’’ در سنہ گیارہ سو اکیانوے ۱۱۹۱؁ھ بہ سبب ویرانی دار الخلافہ وارد لکھنؤ گشتہ۔۔۔۔۔بنا بر ِ نقادی میر محمد حسین مرحوم ۔۔۔۔ سکّۂ تمام عیار سخش رواج باز از گوش صغیرو کبیریافت و ہم بہ توجہ آں سید عالی قدر توسل بہ ۔۔۔۔۔ مسٹر جانسن بہادر سلمہ‘۔۔۔۔۔بہم رسانیدہ بہ سفر بنگالہ و دکن برداخت۔۔۔۔۔۔‘‘ ۱۸ (الف)
(تذکرہ یوسف علی خاں بحوالہ نواے ادب اپریل ۱۹۵۱ ص:۱۲
مصحفیؔ نے میر صدرالدین محمد صدّر کے حال میں لکھا ہے کہ:
’’(میر محمد حسن) مرد کم گو بود خلیق و بدلہ سیخ و لطیف مزاج و خوش اختلاط است۔۔۔ خط شفیعارا بیار خوب میں نوسیہ گا ہے بعد سالے ماہے بمقتضاے ٔ موزونی طبع خیالِ شعر ہم فی کند‘‘ اور نہ اطلاع بھی دی ہے کہ ’’ از چند گاہ بہ لکھنؤ رسیدہ رفاقت جانسن فرنگی اختیار نمودہ ‘‘ ۱۸ (ب)
(عقد ثریا، طبع دوم ۱۹۷۸ انجمن ترقی اردو پاکستان، کراچی ص ۷۴)
نسخہ جانسن کو اردو دنیا سے روشناس کرانے کاسہرا شیخ چاند مرحوم کے سر ہے ۔ انھوں نے اس کا تعارف اپنی کتاب ’’سودا‘‘ (مطبوعہ۱۹۳۶ء ) میں قدرے تفصیل سے پیش کیا ہے ۔ ان کا بیان ہے کہ یہ دیوان ’’ سوداؔکی زندگی کا لکھاہواہے ۔۔۔ اور بہ طور تحفہ لکھنؤکے ریزیڈنٹ اور شاعرکے ممدو ح جانسن کو دیا گیا تھا۔۔۔ یہ بہت ہی خوبصورت نستعلیق خط میں لکھاہوا ہے۔۔۔ جانسن کی مدح میں سوداؔ نے ایک قصیدہ بھی لکھا ہے۔۔۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ (نسخہ )خاص طور پر جانسن کی نذر کر نے کے لیے تحریر کیا گیا تھا۔۔۔ بہت صحیح اور مستند نسخہ ہے ۔‘‘ (۱۹)
شیخ چاند مرحوم کے محولہ بالا مفروضے کی بنیاد پر محققین اور علماے ادب نے بغیر کسی تحقیق وتفتیش کے نسخہ مذکور کو کلام سوداؔکاواحد مستندنسخہ باور کرلیا ، چنان چہ پاکستان میں ڈاکٹرمحمدشمس الدین صدیقی نے اس کو بنیاد بناکر’’کلیاتِ سودا‘‘مرتب کیا جسے ’مجلس ترقی ادب لاہور ، نے چار جلدوں میں شائع کیا (۲۰) ۔ اور ہندوستان میں ڈاکٹر محمدحسن نے اس نسخے کی مبینہ غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر املااور خط کی تمام خصوصیتوں کوعلیٰ حالہ قائم رکھتے ہوئے نہایت اہتمام کے ساتھ اس کی کتابت کرائی اور ماڈل ٹاؤن دہلی سے چھپوا کر عام کیا۔ جناب رشید حسن خاں نے اسی کی بنیادپر’’انتخاب سوداؔ‘‘ کے نام سے سوداؔ کے منتخب کلام کا مجموعہ ایک مبسوط مقدمے کے ساتھ ترتیب دیا جو۱۹۷۲ء میں مکتبہ جامعہ دہلی سے شائع ہوا۔ علاوہ بریں ڈاکٹر عتیق احمد صدیقی، ڈاکٹر خورشید الاسلام اور ڈاکٹر ہاجرہ ولی الحق نے بالترتیب ’’ قصائد سوداؔ‘‘ ’’انتخاب کلام سوداؔ‘‘ اور ’’ غزلیات مرزا محمد رفیع سوداؔ‘‘ کی تدوین اور ترتیب میں اس نسخے سے استفادہ کیا ہے ۔
قاضی عبد الودود مرحوم اردو ادب میںکسی تعارف کے محتاج نہیں ، ڈاکٹر محمودشیرانی کے بعد اردو تحقیق نے جس قدر بھی وقار حاصل کیاہے وہ تمام تر قاضی صاحب کی دیانت دارانہ محنتوں کا ثمرہ ہے۔ انھوں نے اپنے ایک مضمون میں نسخۂ جانسن کے بارے میں ایک حد تک شیخ چاند مرحوم کے قول کا ہی اعادہ کیا ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ’’ یہ وہ نسخہ ہے جو سوداؔ نے رچرڈجانسن نائب رزیڈنٹ اودھ کو اپنی موت سے دو چار سال قبل دیا تھا ‘‘(۲۱)
ڈاکٹر خلیق انجم نے اپنی تصنیف ’’مرزامحمد رفیع سوداؔ‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ وہ یہ نسخہ ہے جسے سوداؔ نے رچرڈ جانسن کی خدمت میں پیش کیا تھا ۔۔۔۔۔یہ کلیات سوداؔ کے معتبر ترین نسخوں میں ہے ۔۔۔۔۔‘‘(۲۲)
جناب رشید حسن خاں کا شمار عصرحاضر کے ژرف بین اور سنجیدہ محققین میں ہوتا ہے ۔ ان کے تحقیقی اور علمی کارناموں کے مطالعے سے مترشح ہوتاہے کہ وہ تحقیق میں شرک گوارا نہیں کرتے ، نہ ہی سہل انگاری اورعجلت کے قائل ہیں، سنسنی خیز اور سنی سنائی باتوں پر ایمان لانا مذ ہب تحقیق کے منافی خیال کر تے ہیں ۔ لیکن چوںکہ انسان خطاونسیاں سے مرکب ہے اس لیے اُس سے بھول چوک اور غلطیوں کا سر زد ہوجانا بہر حال بعیداز امکان نہیں۔ یہاں زیر تبصرہ مخطوطے کے بارے میں اُن کے غیر محقق بیان کو سامنے رکھ کر یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ موصوف نے محض سنی سنائی باتوں پر یقین کر کے اسے معتبرترین نسخے کا درجہ دے دیا ہے۔ انھوں نے مختلف مقامات پر اپنے اس مفروضے کی پرزور حمایت کی ہے ۔ وہ کہتے ہیں :ـ۔
۱۔’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر کلیات سودا کے نسخہ جانسن میں ،جس کی کتابت لازماً سوداؔ کے آخری زمانے میںہوئی ہے … اس لفظ (تڑپھ) کا املا یہی ہے ‘‘(اردواملا ،طبع اول ص۶۶۱)
۲۔’’ یہ نسخہ ۔۔۔۔ الحاقی کلام سے پاک ہے ۔۔۔۔۔‘‘ اس میں اغلاطِ کتابت کم ہیں‘‘ (۱)۔(مقدمہ ’’انتخاب سودا‘‘ ص ۳۰) (۱۱)۔( ادبی تحقیق مسائل اور تجزیہ ص۱۷ از رشید حسن خاں )
۳۔ اس کی مدد سے کلام سوداؔ کے متن کی تصحیح بخوبی ممکن ہے۔ (مقدمہ’’ انتخاب سودا‘‘ ص۳۰)
۴۔ ’’ کلام سودا کا (بہ لحاظ صحت متن وانتساب متن ) اہم ترین اور معتبر ترین خطی نسخہ وہ ہے جو انڈیا آفس لائبریری ، لندن میں محفوظ ہے ۔ اس کی کتابت سوداؔ کی زندگی میں ہوئی تھی ۔ ۔۔۔ تکمیل ۱۱۹۳ھ تا۱۱۹۵ھ میں ہوئی تھی ۔۔۔ یہ نسخہ سوداؔ کے ایک ممدوح رچرڈ جانسن کی نذر کیا گیا تھا۔۔۔۔‘‘ (’’ادبی تحقیق۔۔۔۔۔‘‘ ص۱۳۰ )
۵۔ ’’انڈیا آفس لندن کے ذخیرۂ مخطوطات میں کلام سوداؔ کا وہ نادر مخطوطہ محفوظ ہے جس کی کتابت سوداؔ کی زندگی کے بالکل آخری زمانے میں ہوئی تھی ۔ یہ بیش قیمت خطی نسخہ سوداؔ کے ایک ممدوح رچرڈ جانسن کو نذر کیا گیا تھا ، جو اودھ میں نائب رزیڈنٹ اور قائم مقام رزیڈنٹ رہ چکا ہے ۔ ‘‘ (مقدمہ ’’انتخاب سوداؔ ‘‘ ص ۲۹، ۳۰ )
۶۔ ’’۔۔۔۔اردو ادب پر جانسن کا یہ احسان ہے کہ اس کی بدولت کلام سوداؔ کا اہم ترین نسخہ وجود میں آیا اور محفوظ رہا ۔ ایسا نسخہ جس کو پیش نظر رکھے بغیر تصحیح وتدوین کا کام انجام دیا ہی نہیں جاسکتا ۔ اب تک دریافت شدہ نسخوں میںصحت متن کی بنا پر یہ واحد مخطوطہ ہے جس کو تدوین کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔ ( مقدمہ’’ انتخاب سوداؔ ‘‘ ص۳۲)
پروفیسر خورشید الاسلام نے سوداؔ کے کلیات کا ایک انتخاب ’’کلام سوداؔ‘‘ کے نام سے مرتب کیا، جو ۱۹۶۴ء میں انجمن ترقی اردو علی گڑھ سے شائع ہوا ہے۔ پروفیسرموصوف اپنے مقدمے میں نسخۂ جانسن کا ذکر ان الفاظ میں کرتے ہیں ’’۔۔۔۔ یہ وہ نسخہ ہے جسے سوداؔ نے اپنے اہتمام میں لکھوا کر جونسن کو پیش کیا تھا۔۔۔۔‘‘ (ص ۳۱) خلیق انجم نے بھی یہی راے اس نسخے کے بارے میں ظاہر کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں : یہ وہ نسخہ ہے جسے سوداؔ نے رچرڈ جانسن کی خدمت میں پیش کیا تھا۔
ڈاکٹرمحمد شمس الدین صدیقی نے برٹش میوزیم اور انڈیا آفس لائبریری میں محفوظ کلامِ سوداؔ کے نسخوں کی مدد سے کلیاتِ سوداؔ مرتب کیا تو انھوں نے بہ وجوٗہ نسخۂ جانسن کو بنیادی نسخے کی حیثیت سے استعمال کیا۔ اور عام طور پر اسی کی قرأت کو ترجیح بھی دی۔ اُن کا قیاس ہے کہ یہ نسخہ ۱۷۸۱ء کے نصف اوّل میں مکمل ہوا اور سوداؔ نے اسے رچرڈ جانسن کی خدمت میں میرحسین کی معرفت پیش کیا۔
درج بالا بیان کے علی الرغم مرتب یہ تسلیم کرتے ہیں کہ اُن کے بنیادی نسخے میں اغلاطِ املا و کتابت اور الحاقی کلام کے علاوہ متعدد نظموں کے غلط انتسابات بھی موجود ہیں جو اس بات کے شاہد ہیں کہ یہ دیوان کتابت کے بعد سوداؔ کی نظر سے نہیں گزرا۔
ڈاکٹر محمد حسن نے نسخہ جانسن کے مشمولات کو’’ کلیات ِ سوداؔ‘‘ (جلد اول ) کے نام سے اس کے اصل خط اور ترتیب کے مطابق ادارہ تصنیف ماڈل ٹائون دہلی -۹ سے ۱۹۴۹؁ء میں شائع کیا ہے ۔مقدمے میں ان کا ارشاد ہے کہ:
[۱] ’’ یہ نسخہ مصنف کی زندگی میں مرتب ہوا اور لکھنو میں ایک اہم شخصیت کو پیش کیا گیا۔ عین ممکن ہے کہ سوداؔ نے خود پیش کیا ہو یا شاعر کے ایماسے پیش کیا گیا ہو۔ قرین قیاس ہے کہ اس کی ترتیب میں زیادہ توجہ صرف کی گئی ہوگی‘‘ (مقدمہ’’کلیات سودا ؔ‘‘ جلد اول ص ۳۱)
[۲] ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس مخطوطے سے مقابلے کے بعد سوداؔ کے متعدد اشعار کی صحیح قرأت تک بھی رسائی ممکن ہے ‘‘ (ایضاً ص ۳۱)
اپنے اس دعوے کے ثبوت میں مرتب نے ایک شعر نسخہ آسی سے پیش کیا ہے جس میں ’’صورت دیبا‘‘ کو ’’صورت زیبا‘‘بنادیا گیا ہے ۔ لیکن یہ اختصاص صرف جانسن کے متن تک محدود نہیں بلکہ قدیم ترین مطبوعہ ایڈیشن ’’نسخہ مصطفائی ‘‘ میں صحیح متن ’’دیبا‘‘ہے اور جو بعد کے مراحل میں دنیا ’’اورزیبا ‘‘ میں بدل گیا ۔ مرتب نے اپنے ادعا سے قبل اسی کلیات کے پیش لفظ میں لکھاہے کہ ممکن ہے میر محمد حسین نے جانسن کی خوشنودی حاـصل کر نے کے لیے یہ مخطوطہ اس (جانسن ) کے کتب خانہ میں داخل کرایا ہو (ایضاً) ڈاکٹر موصوف کا یہ بیان بھی درست نہیں کہ ’’یہ نسخہ ۱۱۹۲ھ کے لگ بھگ مرتب ہو ا‘‘۔ (ایضاًص۳۰)
ڈاکٹر جمیل جالبی نے سوداؔ کے دیوانِ اُردو پر تبصرہ کرتے ہوئے تقریباً انھی باتوں کو دہرایا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: (۱) ’’۔۔۔۔ البتہ ایک نسخہ انڈیا آفس لندن میں محفوظ ہے جو سوداؔ کی زندگی میں سوداؔ کے ایماپر لکھنؤ میں انگریز وں کے نائب رزیڈنٹ رچرڈ جانسن کے لیے لکھوایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ کلیات ِسوداؔ کا واحد معلوم نسخہ ہے جو سوداؔ کی نظر سے گزراتھا اور جس میں کتابت کی غلطیاں بھی کم ہیں ۔‘‘ (تاریخ ادب اردو جلددوم و طبع دوم ۱۹۸۷ء مجلس ترقی ادب لاہور ،پاکستان ،ص۶۶۹)
(۲) قائم کے تعلق سے ایک جگہ لکھتے ہیں : ۔۔۔۔۔قائم کا بہت سا کلام ۔۔۔۔۔غلطی سے کلیات سوداؔ میں شامل ہو گیا ہے اور میر کلیات سوداؔ کے اس نسخے میں شامل نہیں ہے جو خود سوداؔ کی نگرانی و زندگی میں رچرڈ جانسن کے لیے تیار کرایا گیا تھا۔۔۔۔۔۔(ص: ۷۴۹)
لیکن مندرجہ بالا راپنی دونوں آرا اے کے برخلاف موصوف ۱۹۹۴ء؁ میں شائع شدہ اپنے ایک مضمون میں نسخہ ٔ جانسن کا ضمناً ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ’’یہ وہی ممتاز الدولہ رچرڈ جانسن بہادر ہیں جو لکھنؤ میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی طرف سے نائب رزیڈنٹ تھے اور جنھیں دیوان سوداؔ محمد حسین نے خوشخط لکھواکر پیش کیا تھا اور جو آج نسخہ ٔ جانسن کے نام سے معروف ہے ‘‘۔ (مصحفی کے تذکرے۔ ایک تجزیاتی مطالعہ، مشمولہ یادگار نامہ۔ فخر الدین علی احمد مطبوعہ ۱۹۹۴؁ء، غالب انسٹی ٹیوٹ ، نئی دہلی ۔ ص ۴۱۰)
ڈاکٹرعبدالاحد خاں خلیل مرحوم کا ایک تحقیقی مضمون ’’رچرڈ جانسن اور سوداؔ‘‘ کے عنوان سے ماہنامہ نیا دور، لکھنؤ شمارہ اپریل ۱۹۷۳ء میں شائع ہوا ہے۔ نسخۂ جانسن کے بارے میں ان کی راے بھی شیخ چاند مرحوم کے مفروضے سے چنداں مختلف نہیں بلکہ اُن کے بیان کی توضیح معلوم ہوتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’یہ دیوان چوں کہ خود سوداؔ کے ایما سے اور اُن کی نگرانی میں تحریر ہوا تھا۔ [اور] اس زمانے کے ممتاز رکن حکومت یعنی مسٹر رچرڈ جانسن کو پیش کیا گیا تھا اس وجہ سے اس کا امکان بالکل نہیں ہے کہ اس میں کسی دوسرے ہم عصر شاعر کا کلام شامل کر لیا گیا ہو۔ چنان چہ الحاقی کلام اس میں یکسر موجود نہیں ہے اور جو کچھ ہے وہ سب ہر لحاظ سے قابل اعتماد ہے‘‘۔
پروفیسر اکبر حیدری کی راے ہے کہ ’’یہ نسخہ ۱۱۹۳ تا ۱۱۹۵ کے درمیان رچرڈ جانسن کو پیش کیا گیا تھا‘‘ (اکادمی لکھنؤ، مئی ۱۹۸۲ء ص ۸۵) البتہ انھیں یہ ماننے میں تامّل ہے کہ نسخہ الحاقی کلام سے یکسر پاک ہے۔ وہ ’’مثنوی در ہجو فدوی معروف بہ قصۂ بوم بقال ‘‘ کو سوداؔ کی نہیں شیداؔ کی تصنیف خیال کرتے ہیں۔
غالبا ً شیخ چاند ایم ۔اے ۔ ایل۔ ایل۔ بی (متوفی ۱۹۳۶ء) کے بیان پرقاضی صاحب مرحوم کی مہرتصدیق کے بعد مزید تحقیق کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی اور حسن ظن کی بنا پر یہ بات دہرائی جاتی رہی کہ یہ نسخہ جو رزیڈنٹ یا نائب رزیڈنٹ کو سوداؔ نے نذر کیا تھا ، سب سے معتبر نسخہ ہے اور یہ کہ اس کی کتابت ۱۱۹۲ھ تا ۱۱۹۵ھ کے درمیان ہو ئی ہے وغیرہ وغیرہ ۔
راقم سطور نے زیر بحث ’دیوان سوداؔ‘ کے متن کا مقابلہ ملک اور بیرون ملک میں موجود کلام سوداؔ کے کئی معتبر اور قدیم نسخوں سے کرنے کے بعدیہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ کاتبِ دیوان خوش خط اور پڑھا لکھا ہونے کے علاوہ جعل سازی کے فن میں بھی مہارت تامہ رکھتا ہے ۔ اس نے بڑی ہوشیاری سے الفاظ و حروف میں جا بجا اس طرح ترمیمیں کی ہیں کہ سرسری طور پر ان کی گرفت نہیں کی جاسکتی ۔ کاتب کی اس جعل سازی کی وجہ سے ہمارے محققین اور علماے فن تدوین نے نسخہ مذکور کے بارے میں غلط آرا قائم کی ہیں اور گمراہ کن مفروضے پر اپنی تحقیق و تدوین کی بنیا د یں رکھی ہیں۔
یہاں مذکورہ بالا دعوے کی تائید میں چند تحقیقی معروضات پیش کیے جائیں گے ، بعد ازاں ’’دیوان‘‘ کے محرف و الحاقی کلام ، نظموں کے غلط انتسابات اور اغلاط املا و کتابت پر قدرے تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے گی ۔
۱۔ دیوان کے پہلے ورق کی پشت کے بالائی سرے پر منقول انگریزی عبارت سے یہ مترشح ہوتا ہے کہ یہ کتاب مرزا محمد رفیع سوداؔ نے مسٹر جانسن کو تحفتہً دی تھی ۔ لیکن خود پیش کی تھی یاکسی کے توسط سے، یہ واضح نہیں۔ دراصل انگریزی خط کے انداز اور جاے تحریر سے ظاہر ہوتاہے کہ یہ عبارت بعد کی ہے اور کسی ایسے شخص کا اضافہ ہے جس سے فارسی عبارات کو سمجھنے میں تسامح ہواہے۔ اس کے بر عکس فارسی عبارتیں کاتب متن کے قلم سے اُسی خط اور روشنائی میں لکھی ہوئی معلوم ہوتی ہیں ۔ مزید بر آں فارسی الفاظ’’ گذرایندہ ٔمیر حسین صاحب ‘‘سے اول تو انگریزی عبارت کی تردید ہوتی ہے دویم اس امر کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ ’’دیوان مذکور ‘‘ سوداؔنے نہیں، میر حسین نامی ایک شخص نے جانسن کو پیش کیاتھا ۔
۲۔ جانسن کا پورا نام رچرڈ جانسن تھا ۔ عام طور پر مسٹر جانسن کے نام سے جاناجاتاہے اور اسی نام سے تاریخی کتابوں میں اس کے حالات درج ہیں ۔ میر حسین کو اس کی سرکار میں غیر معمولی رسوخ حاصل تھا اور اپنی ’’باد فروشی ‘‘ کے سبب عوام میں ’’فرنگی ‘‘ لقب سے یاد کیاجاتا تھا۔ مسٹر جانسن اور میر محمد حسین کے اس باہمی رشتے کے پیش نظر غالب گمان یہی ہے کہ صاحب بہادر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے یہ دیوان میر مذکور نے اُنھیں دیاہوگا ۔
۳۔ فارسی عبارات میں جانسن کا ذکر خطابات (ممتاز الدولہ مفتخر الملک حسام جنگ صاحب بہادر) کے التزام کے ساتھ کیاگیا ہے لیکن سوداؔ (متوفی ۱۱۹۵ھ/۱۷۸۱ء) کی زندگی میں لکھی گئی کسی کتاب میں جانسن کے نا م کے ساتھ خطابات مذکور نہیں ۔حیدر آباد کے قیام کے زمانے (۸۶۔۱۷۸۴ء)کی تحریروں سے بھی اس کے خطاب یافتہ ہونے کا کو ئی ثبوت نہیں ملتا ۔ ’’خیابانِ آصفی‘‘کے مولف مانک راؤ وِٹھل راؤ نے کتاب کے آخر میں مملکت آصفیہ، حیدر آبادکے کل سر سٹھ رزیڈنٹوں کا ایک چارٹ اور فٹ نوٹ میں ان کے خطابات کی نشا ن دہی کا التزام کیاہے لیکن انھوں نے بھی جانسن کے کسی خطاب کا ذکر نہیں کیاہے۔ (۲۳)
۴۔ مشہور معاصر تاریخ نویس او رمصنف ابو طالب اصفہانی لندنی، جانسن کا بڑا مداح ہے۔ اس نے اپنی تالیف ’’وقائع زماں نواب آصف الدولہ ‘‘معروف بہ ’’تاریخی آصفی ‘‘میں ۷۶۔۱۷۷۵ء ؍۱۱۸۹ھ تا۱۷۹۶ء/۱۲۱۱ھ تک کے سیاسی اور معاشی حالات قلم بند کیے ہیں ۔ وہ جانسن کے علم و فراست کا ذکر اور اس سے اپنے قلبی تعلق کا اظہار باربار کرتا ہے لیکن اس کے کسی خطاب کا تذکرہ اس کے یہاں بھی موجود نہیں ۔ پوری کتاب میں اس نے جانسن کے لیے مسٹر جانسن لکھاہے جب کہ ایک دوسرے انگریز افسر وینسٹیارٹ کانام خطاب کے ساتھ لکھاہے ۔ کتاب مذکور کی عبارت دیکھیے:
’’مسٹر وینسٹیارٹ ہوشیارجنگ اور مسٹر جانسن اس سفر میں جنرل کے ساتھ تھے‘‘ (۲۴)
یہاں صرف مسٹر جانسن لکھنا یہ ظاہر کرتاہے کہ مصنف اس کے خطابات سے ناواقف تھا۔
۵۔ ۱۷۷۹؍ ۱۱۹۳ھ سے ۱۷۸۱؍۱۱۹۶ تک لکھنؤمیں جانسن کے زوال کا زمانہ تھا ۔ بیگمات اودھ اور نواب کے ساتھ اس کے تعلقات نہایت کشیدگی اختیا ر کر چکے تھے ۔ نواب آصف الدولہ نے تنگ آکر جانسن کی بد عنوانیوں کی شکایت اس وقت کے رزیڈنٹ مسٹر ہار پر سے کی تھی ، نتیجے کے طور پر ۱۷۸۲ء میں اسے اپنے عہدے سے الگ ہوناپڑا تھا۔ ایسی صورت میں سرکار اودھ کی جانب سے اس کا خطابات سے نوازاجانا نیز نواب کے ایک معتمد علیہ درباری شاعر کا جانسن کی مدح میں قصیدہ لکھنا اور اپنا دیوان نذر کرنا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے ۔
۶۔ مسٹر جانسن کی فر مائش پر لکھی گئی مثنوی موسوم بہ ’’ اسرار محبت ‘‘ کا سنہ تصنیف ۱۱۹۷ھ ہے۔اس مثنوی میں فرمائش کنندہ کو نکتہ داں ، شفیق ، قدرداں ، مہرباں ، والامناقب ، فخر فرنگستان وغیرہ صفات سے متصف کیاگیا ہے لیکن مسٹر جانسن بغیر کسی اعزازی نام کے ساتھ نظم کیاجانااس دعوے کی قوی دلیل ہے کہ اس وقت تک جانسن کو کوئی خطاب نہیں ملاتھا۔
۷۔ تذکرہ گلزار ابراہیم پہلی تاریخی دستاویز ہے جس میں ’’مسٹر جانسن ‘‘ کے نام سے قبل ’’ممتاز الدولہ ‘‘ اور بعد میں ’’بہادر‘‘ کااضافہ کیاگیا ہے ۔ یعنی ممتاز الدولہ مسٹر جانسن بہادر‘‘ لیکن ’’مفتخر الملک حسام جنگ ‘‘ یہاں بھی موجود نہیں ۔ تذکرہ میںموجود داخلی قرائن سے پتا چلتاہے کہ اس کی تکمیل ۱۷۸۴ء / ۱۱۹۹ھ کے بعد ہی کسی سال میں ہوئی ہوگی ۔
۸۔ انڈیا آفس لائبریری ، لندن میں موجود ’’نوطر ز مرصع ‘‘ کے صفحہ ٔ اول پر جانسن کا پورا نام ’’سرکار نواب صاحب ممتا ز الدولہ مفتخر الملک حسام جنگ مسٹر جانسن صاحب دام اقبالہ ‘‘ لکھاہواہے ۔ یہ نسخہ انیسویں صدی عیسوی کا مکتوبہ بتایاگیاہے ۔(۲۵)۔
۹۔ اصفہانی کے ایک بیان کے مطابق ۱۷۸۶ء میں حیدر آباد میں رزیڈنٹ کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد جانسن لکھنو ٔ چلاآیا اور اودھ میںمسٹر ایوس (Ives) کے رزیڈنٹ مقرر ہونے پر وہ دوبارہ رزیڈنٹ کا نائب بنا ۔ اس مرتبہ نواب کے ساتھ اس کے تعلقات نسبتاً بہتر رہے ۔ راقم کا خیال ہے کہ اسی زمانے میں جانسن کو خطابات عطاہوئے ہوں گے اور میر حسین نے یہ نسخہ اس کی نذر کیاہوگا ۔
۱۰۔ ذوالفقار علی مست نے کلکتے میں میر حسین سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا ہے اور جو اطلاعات بہم پہنچائی ہیں ان کی روشنی میں یہ خیال کیا جا سکتا ہے کہ یہی وہ میر حسین ہے جو فرنگی یا لندنی کے لقب سے مشہور تھا اور جانسن سے منسلک تھا ۔ اور جس نے زیر بحث دیوان اس کی نذر کیا تھا ۔ تذکرہ نگار نے یہ بھی لکھاہے کہ میر محمد حسین کا دیوان چھہ ہزار اشعار پر مشتمل ہے اور کسی شعر میں تخلص موجود نہیں ۔ ’’ عقد ثریا‘‘ کے آخر میں ’’داانش منداں ‘‘ کے زیر عنوان جس میر محمد حسین کا ایک فارسی شعر نقل ہے وہ یقینا یہی میر حسین ہیں۔ مصحفیؔ نے بھی لکھاہے کہ یہ ’’دانش مند‘‘ تخلص نہیں رکھتا تھا ۔ اس سے یہ نتیجہ مستنبط کیاجاسکتاہے کہ چوںکہ یہ شخص شاعر بے تخلص تھا اس لیے اس نے اپنے شاعرانہ کمال کا مظاہرہ کرنے کے لیے شاعر کی زبان و بیان میںرچرڈ جانسن کی مدح کہ کر اس میں سوداؔ تخلص شامل کر دیا ۔
۱۔ ’’تحریفات ‘‘
سوداؔ کے کلام میں ترمیم و تحریف کا سلسلہ ان کی زندگی میں ہی میں شروع ہوگیا تھا۔ چنان چہ میر حسن نے ان کے ایک شاگرد معین بدایونی کے ترجمے میں لکھا ہے کہ : ’’دیوان استاد خودرا موافق طبع خود درست کند و سخن خود را سر سبز می نماید ‘‘ (۲۶) علاوہ ازیں معاصر تذکروں میں ایسے متعدد اشعار موجود ہیں جن کا متن کلام سوداؔ کے کسی قدیم نسخے کے متن سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ مثال کے طور پر میرؔ کے تذکرے میں ایک شعر اس طرح نقل ہوا ہے :
’’موج نسیم گرد سے آلودہ ہے نپٹھ
دل خاک ہو گیا ہے کسی بے قرار کا‘‘
جب کہ دوسرے تمام قدیم مآ خذ میں مصرع اول کی شکل یہ ہے :
’’ع موج نسیم آج ہے آلودہ گرد سے ‘‘
مرزا سوداؔ نے مندرجہ ذیل اشعار قطعہ میں غالباً اسی طرح کی تبدیلیوں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔
ہے جو کچھ نظم و نثر عالم میں
زیر ایراد میر صاحب ہے
ہر ورق پر ہے میرؔ کے اصلاح
لوگ کہتے ہیں سہو کاتب ہے
تذکروں میں اس قسم کے اختلافات متن کی مثالیں بکثرت موجود ہیں لیکن انھیں حتمی طور پر ناقلین کے ارادی تصرف کانتیجہ قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ اس کے بر خلاف نسخۂ زیر بحث کے متعلق وثوق کے ساتھ کہاجاسکتا ہے کہ اس میں دیدہ و دانستہ تحریفیں کی گئی ہیں۔
ان تحریفوں کی نوعیت کچھ اس قسم کی ہے۔
۱۔ الفاـظ کی معمولی ردوبدل کے ذریعے زبان کو سہل بنانے یا قدیم اثرات کو زائل کر نے کی کوشش کی گئی ہے یا
کسی شعر کو بزعم خویش زیادہ چست اور بامعنی بنانے یا مضمون میںجدت پیدا کرنے کی غرض سے کسی خاص لفظ یا ترکیب کو بدل دیا گیا ہے ۔
یہ تبدیلیاں اتنی صفائی سے کی گئی ہیں کہ ہمارے بعض ممتاز محققین تک ان کی گرفت سے قاصر رہے ہیں ۔مثلاً:-
(i)۔ کلامِ سوداؔ کے تمام قدیم مآخذ میں ایک مصرع کی شکل یہ ہے ’’ع دکھلائیے لے جاکے تجھے مصر کا بازار‘‘ لیکن زیر بحث نسخے کے کاتب نے’’ مصرکا بازار ‘‘کی جگہ’’مصر کے بازار ‘‘ کردیا ہے جسے ’’مصر کی بازار ‘‘ بھی پڑھاجاسکتاہے ۔
(ii)۔ ایک اور مصرعے ’’نہ پہنچے دل ستی ہرگز زباں تلک یک حرف ‘‘ میں زبان کے قدیم اثرات کو زائل کر نے کی غرض سے متن کو یوں بدل دیا ہے ’’ع کبھو نہ پہنچ سکے دل سے تا زباں یک حرف ‘‘
(iii)۔ ایک اور شعر قدیم نسخوں میں اس طرح نقل ہے ۔
’’ایک شب آ، کوئی دلسوز نہ رویا اس پر شمع تک گور ہماری سے جلی دور سدا ‘‘
نسخہ جانسن میں دوسرا مصرع بہ ادنیٰ تصرف اس طرح لکھاگیا ہے :
ع ’’شمع بھی گورہماری پہ جلی دور سدا ‘‘
(iv)۔ فارسی کے مشہور شاعر حافظؔ کی ایک غزل کو سوداؔاور بیدارؔ دونوں نے تضمین کیا ہے ۔ دیوان حافظؔ، دیوان بیدارؔ اور کلام سوداؔ کے قدیم نسخوں میں غزل مذکور کاایک مصرع اس طرح ملتاہے:
ع ’’جز ایںقدرے نتواں گفت در جمال تو عیب ‘‘لیکن نسخۂ جانسن میں’’ گفت ‘‘کو بدل کر ’’یافت ‘‘کردیا گیا ہے ۔
(v)۔ میرؔ کی بھی ایک غزل سوداؔ کے یہاں مخمس میں تضمین ہوئی ہے ۔دیوان میرؔ کے تمام نسخوں اور کلام سوداؔکے قدیم نسخوں میں میرؔ کی غزل کاایک مصرع اس طرح لکھا ہواہے۔ ع’’ خاک کن کن کی ہوئی صرف، بناکیاکیا کچھ ‘‘لیکن نسخۂ زیر بحث میں اس کی شکل یہ ہوگئی ہے۔ ع’’خاک کن کن کی ہوئی ، ظرف بنا کیا کیا کچھ ،‘‘یہاں یہ محرف متن بہ اعتبار معنی غلط بھی ہے ۔
(vi) اسی طرح تاباںؔ کی ایک غزل کے خمسے میں بھی اس کے کئی مصرعوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں۔ مثال کے طور پر تاباںؔ کا ایک مصرع دیوان تاباںؔ اور دیوان سوداؔ کے قدیم قلمی اور مطبوعہ نسخوں کے علاوہ بیشتر تذکروں میں اس طرح ملتاہے ’’ع بیاں کیا کروں ناتوانی میں اپنی ‘‘ لیکن نسخہ ٔجانسن میں تصرف کے ساتھ یوں لکھاگیاہے ’’ع ولے کیا کہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ‘‘
اس غزل کے ایک دوسرے مصرعے ’’مری خاک پر لوگ رکھتے ہیں گل کو ‘‘ میں ’’خاک ‘‘کی بجاے ’’گور‘‘ کردیاگیا ہے ۔
ذیل میںمختلف اصناف سخن سے ایسے ہی کچھ اور منتخب اشعار درج کیے جاتے ہیں تاکہ نسخۂ جانسن اور قدیم نسخوں (اصل متن ) کا فرق واضح تر ہو جائے۔

 

(الف) ’’غزلیات‘‘
نسخۂ جانسن
نسخہ ہائے قدیم
۱
اس گلشن ہستی میں عجب دید ہے لیکن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جب چشم کھلے گل کی تو موسم ہو خزاں کا
جب چشم کھلی گل کی تو موسم ہے خزاں کا
۲
دکھلائیے لے جاکے تجھے مصر کے بازار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مصر کا بازار

لیکن نہیں خواہاں کوئی وھاں جنس گراں کا
______________________
۳
اے برق کس طرح سے میں حیراں ہوں تجھ کنے
حیراں ہوں کس طرح ستی اے برق تجھ کنے

نقشہ ہے ٹھیک دل کے مرے اضطراب کا
______________________
۴
کبھو نہ پہنچ سکے دل سے تا زَباں یک حرف
نہ پہنچے دل ستی ہرگز زَباں تلک یک حرف

اگر بیاں کروں طالع کی نارسائی کا
______________________
۵
ایک شب آ، کوئی دلسوز نہ رویا اُس پر
______________________

شمع بھی گور ہماری پہ جلی دور سدا
شمع تک گور ہماری سے جلی دور سدا
۶
یھاں تک ہوں میں ضعیف کہ کہتے ہیں میرے عضو
یھاں تک گداز غم ہوں کہ کہتے ہیں میرے عضو

باریک و ناتواں ہے اب اس کی کمر کہ ہم
______________________
۷
ہزار حیف کوئی باغ میں نہیں سنتا
ہزار حیف کوئی باغ میں جو سنتا ہو

چمن چمن پڑی کرتیں ہیں بلبلاں فریاد
______________________
۸
نہ میرے دل کی خموشی ہے موجب آرام
نہ میرے دل کو خموشی۔۔۔۔۔۔الخ

کبھو ہوا ہے، کرے مرغ نیم جاں فریاد
______________________
۹
عقل نے ایک دن آکر یہ کہا سوداؔ سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاس یاہم سے رہا کیجیے یا ہم سے دور
خواہ نزدیک ہمارے رہو، خواہ ہم سے دور
۱۰
منہ تو مجھے لگاوے تو کب جام کی طرح
منہ تو کہاں لگوں ہوں تیرے جام کی طرح

اتنا بھی واہ واہ میسر ہو گر کہیں
______________________
۱۱
تو تو اس معنی سے کیا شاد ہوا ہووے گا
تو تو اس معنی کو سن شاد ہوا ہووے گا

پوچھیے اہل دلوں سے کہ وہ کیا کہتے ہیں
پوچھیے۔۔۔۔ دلوں سے۔۔۔۔۔۔؟
۱۲
خانۂ مشرب کی دیکھ تازہ بنا کو میرے
دیکھ کے تازی بنا، خانۂ مشرب کی مجھ

کہتے ہیں نت ساکن دیر و حرم واہ واہ
______________________
۱۳
مستی سے اس نگاہ کی، لے محتسب خبر
گردش سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ

دنیا تمام بزم خرابات ہو گئی
______________________
۱۴
سوداؔ سے یہ کہا میں کچھ ذکر کر کسی کا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خاموشی نے تو تیری، عالم کا جی لیا ہے
تیری خموشی نے تو عالم کا جی لیاہے
۱۵
سمجھے اگر تو اتنا یہ زندگی مرض ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہو درد جس طرح کا پھر وہ تجھے دوا ہے
ہو زہر جس طرح کا ۔۔۔۔۔ الخ
۱۶
نامے کا غور سے ٹک میرے جواب لکھنا
نامے کا ٹک سمجھ کے میرے جواب لکھیو

انشاے ظاہری کے باطن میں مدعا ہے
______________________

۱۷
(ب)قصائد
فراہم زر کا کرنا باعث اندوہ دل ہووے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہیں کچھ جمع سے غنچے کو حاصل جز پریشانی
حصول جمع سے غنچے کو، آخر ہو پریشانی
۱۸
بہ رنگ شیشۂ مے وقت اشک ریزی کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گلے سے پڑتی ہے دل تک مرے ہزار گرہ
گلے سے پڑتی ہے دل تک ہزار بار گرہ
۱۹
ہے غرض اس نظم سے اتنی ہی کچھ تا کیحے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عرض اپنے حال کا نزد شہ ہر دو جہاں
عرض اپنے حال کی نزد۔۔۔ الخ
۲۰
عجب نہیں ہے کہ جاتی رہی ہو دنیا سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

زبس خوشی نے مرے دل سے اب کیا ہے فرار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا ہے کنار
۲۱
دلا اس اپنے غم دل کو نت غنیمت جان
دل تو اپنے غم دل کو اب غنیمت جان

بدل خوشی سے تو اس دور میں نہ کر زنہار
______________________
۲۲
کسو سے یھاں غم دل یوں نہ لے گیا دوراں
کسو ہی سے غم دل یوں نہ۔۔۔۔ الخ

کہ شادی مرگ کیا ہو نہ اس کو آخر کار
______________________
۲۳
نہیں ہے شادی بے غم چمن میں دنیا کے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ چاک کرکے گریباں ہنسے ہے گل اے یار
کہ گل ہنسے ہے گریبانِ پیرہن کو پھاڑ
۲۴
سنی میں ایک غزل بلبل طبیعت سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ دل کے لخت گرے چشم سے ہزار ہزار
کہ لخت دل گرے آنکھوں ستی ہزار ہزار
۲۵
زمیں وہ نور سے اس مرتبہ ہے مالا مال
ہے اس قدر وہ زمیں نور سیتی مالا مال

کہ جس کی رات کے آگے نہیں ہے دن کو قرار
______________________
۲۶
اسی ہی غم سے جہاں میں ظہور کرتی ہے صبح
اسی ہی غم سے نکلتی ہے ظاہرا دم صبح

ہمیشہ پنجۂ خورشید اپنی جیب پہ مار
ہمیشہ پنجۂ خورشید سے گریباں پھاڑ
۲۷
انجم تگرگ وار زمیں پر ٹپک پڑیں
انجم تمام قطرۂ خوں ہو، ٹپک پڑیں

صدمہ ٹک اس سے پہنچے اگر آسماں تلک
صدمہ اگر اس سے پہنچے کبھو آسماں تلک
۲۸
نہیں ہے کام مجھے شعر و شاعری سے ولے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

خرد نے مجھ کو نصائح سے بار ہا یہ کہا
خرد نے مجھ ستی سمجھا کے بار ہا یہ کہا
۲۹
یک تن نوالہ خوار نہ ہو اس سے تا ابد
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

روز ازل سے ہے یہ نگوں کاسۂ سفال
ہے سرنگوں ازل ستی یہ کانسۂ سفال
۳۰
دونوں عارض گویا شیشے ہیں مے گلگوں کے
عارض اس کے گویا شیشے ہیں مئے گلگوں کے

زنخ ان دونوں میں یوں جیسے نمک داں میں گزک
______________________
۳۱
سن کے میں نے یہ کہا اس سے کہ مایۂ ناز
سن کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔مایۂ حسن

خیر ہے بات سمجھ کر تو کہ اتنا نہ بہک

۳۲
حلم تیرے کے جو ہم وزن فلک سے کچھ شے
بار تجھ حلم میں ہے یہ کہ تیرے وقت خرام

ڈال دیوے زرہ سہو و خطا کوئی ملک
ہووے ذرہ بھی اگر مرکز خاکی پہ دھمک
۳۳
گزرے وہ جس طرف سے کبھو اُس طرف نسیم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس طرف سیتی

باد سموم ہووے وہیں گر کرے گزار
باد سموم ہووے صبا گر کرے گزار
۳۴
زہے امام زماں، خاک در سوا جس کے
زہے امام کہ جز خاک درستی جس کے

قبول ہو نہ کبھو سجدۂ نماز گزار
_____________________
۳۵
مقابلے سے کماں کے ترے عدو تیرا
تری کمان کے آگے ستی عدو تیرا

کبھو نہ نبھ سکے روزِ نبرد کر کے فرار
______________________
۳۶
دل کو بے جا تیرے کوچے میں ہے نالے کی ہوس
تیرے کوچے میں عبث دل کو ہے نالے کی ہوس

راہ زن راہ نبود باک ز فریاد جرس
______________________

۳۷
(ج)مخمسات
ع ولے کیا کہوں ناتوانی میں اپنی

ع بیاں کیا کروں ۔۔۔۔۔۔ الخ
۳۸
ع مری گور پر لوگ رکھتے ہیں گل کو
ع مری خاک پر ۔۔۔۔۔۔۔۔ الخ
۳۹
ع نہیں رہتے میری گلا تم کیے بن
ع نہیں رہتے میرا گلا تم کیے بن
۴۰
ع کی اس شوخ نے جب سے سیر گلستاں
کیا جب ستی اُن نے سیر گلستاں
۴۱
ع قینچی کی طرح ہرگز پرزے نہ کترتی تھی
ع قینچی کی طرح دل کے پرزے نہ کترتی تھی
۴۲
ع جب شام کی ہوتی ہے پھر شمع نمط گلنا
ع جب رات کے ہوتے ہی نت شمع نمط جلنا
۴۳
ع تقصیر نہیں دل کی میں فرض کیا ہونا
تقصیر نہیں دل کی قسمت کا برا ہونا
۴۴
ع جزایں قدر نتواں یافت درجمال تو عیب
ع جزایں قدر نتواں گفت در جمال تو عیب
۴۵
ع کشمیری ٹولے سے میں ایک فاحشہ بلائی
ع کشمیری ٹولے سیتی ایک فاحشہ بلائی
۴۶
ع خاک کن کن کی ہوئی ظرف بنا کیا کیا کچھ
خاک کن کن کی ہوئی صرف، بنا کیا کیا کچھ

الحاقی کلام
زیر بحث دیوان سوداؔ کا یہ نسخہ الحاقی کلام سے بھی یکسر پاک نہیں، راقم کی تحقیق کے مطابق ایک سو چودہ اشعار کی ایک مثنوی (۱)، چھ شعر کی ایک غزل اور ایک غزل کے دو شعر مع مطلع اس نسخے میں ایسے ہیں جنھیں سوداؔ کے نتائج افکار سمجھنا تحقیقی نقطۂ نظر سے درست نہیں معلوم ہوتا۔ آئندہ سطور میں اس اجمال کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔
۱۔ مثنوی ع یارو خدا ایک ہے دوسرے بر حق نبیؐ
’’در ہجو فدوی‘‘ کے عنوان سے ایک سو چودہ ۱۱۴ اشعار کی یہ مثنوی کلام سوداؔ کے بعض دوسرے نسخوں کے علاوہ نسخۂ جانسن میں بھی شامل ہے۔ لیکن معاصر تذکرہ نگاروں کے بیان اور اس میں موجود چند اشعار کے پیش نظر اسے سوداؔ کی تصنیف نہیں کہا جا سکتا۔ تذکرہ نگاروں کے بیانات یہ ہیں:
(i)میر حسن نے فدویؔ لاہوری کے ذکر میں لکھا ہے۔ ’’میر فتح علی شید اہجواو (فدوی) راخوب کردہ است، قصۂ بقال و بوم حسب حال او درج نمودہ است‘‘ (۲۷)
(ii)علی ابراہیم خاں خلیل نے بھی فدویؔ کے حالات میں یہی بات کہی ہے۔ اُن کے الفاظ یہ ہیں۔ ’’میر فتح علی شیداؔ در ہجو او قصۂ بوم و بقال ضبط نمودہ‘‘(۲۸)
(iii)تیسرے معاصر تذکرہ نگار ابوالحسن امیر الدین احمد امر اﷲ الہ آبادی نے شیداؔ کے حال میں بالواسطہ طور پر اس مثنوی کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مثنوی در ہجو فدوی لاہوری کہ حریف مرزا (رفیع سودا) بود بہ نظم آوردہ۔۔۔۔۔۔۔۔ تمام مثنوی انشاء اﷲ تعالیٰ در ذیل احوال فدوی قلمی خواہد شد‘‘۔ (۲۹) چنان چہ فدویؔ لاہوری کے ترجمے میں تذکرہ نگار نے اپنے بیان کے مطابق مثنوی مذکور کے ایک سو گیارہ (۱۱۱) اشعار نقل کیے ہیں (ایضاً ص۲۰۰۔۱۹۶)تذکرہ مسرت افزا طبع اول مرتبہ قاضی عبدا لودود میں یہ مثنوی موجود نہیں ہے ۔اصلاً مرتب نے ان اشعار کو غیر ضروری خیال کرکے حذف کردیا تھا ۔ نتیجتاً یہ غلط فہمی پیدا ہوئی کہ تذکرہ نگار اپنے مذکورہ بالابیان :’’تمام مثنوی انشاء اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔الخ‘‘ کے باوجود فدوی لاہوری کے حالات قلم بند کرتے وقت شیدا کی مثنوی ’’درہجو فدوی‘‘ نقل کرنا بھول گیا ہے۔
اِن بیانات کے علاوہ اس مثنوی کے درج ذیل اشعار بھی اس کے تصنیف شیداؔ ہونے پر دلالت کرتے ہیں:-
۱
حضرت سوداؔ تلک جو مرے استاد ہیں
۴
ایسا ہی ایک اور شعرحضرت استاد کا

شعر پہ ان کے بھی اب اُن کے یہ ایراد ہیں

جو قلم فہم سے خلق نے دل میں لکھا
۲
شعر وہ اُن کا سنا جا کے انھوں نے کہیں
۵
سن کے انھوں نے پسند اُس کا جو مضموں کیا

شیخ و برہمن کو ہے جس میں کہ نسبت بہ دیں

میں نے تب اس بحر میں یوں اسے موزوں کیا
۳
اُن کو یہ لازم نہ تھا آن کر اس شہر میں
۶
بس چل اب آگے نہ کہ کچھ انھیں شیداؔ خموش

اٹکیں یہ اس شخص سے طاق ہے جو دہر میں

کیحے اس سے سخن ہووے جسے عقل و ہوش
متذکرہ بالا شواہد کی موجودگی میں مصحفیؔ، سعادت خاں ناصر، قاضی عبدالودود مرحوم، جناب رشید حسن خاں اور ڈاکٹر سید محمد عقیل رضوی کا یہ خیال کہ یہ مثنوی سوداؔ کی تصنیف ہے، قابل قبول نہیں۔ کسی قدر تامل کے ساتھ یہ تو تسلیم کیا جا سکتا ہے کہ یہ مثنوی خود سوداؔ ہی نے لکھ کر اپنے شاگرد کو دے دی ہو لیکن مندرجہ بالا اشعار کے ساتھ اُن کا اسے اپنے دیوان میں درج کرنا یا درج کرنے کی اجازت دینا قطعاً بعید از امکان ہے۔
(۲)

 

’’حاضر ہے تیرے سامھنے سوداؔ کر اس کو قتل

 

مجرم یہ سب طرح سے ہے پریک نگاہ کا‘‘

یہ شعر نسخۂ جانسن اور کلام سوداؔ کے بعض دوسرے نسخوں میں موجود ایک غزل: ع ’’چھٹنا ضرور مکھ پہ ہے زلف سیاہ کا‘‘ کا مقطع ہے۔ لیکن قائم نے صرف تخلص کی تبدیلی کے ساتھ اپنے تذکرے میں اسے بند رابن راقمؔ تلمیذ سوداؔ کے نام سے درج کیا ہے۔ اگر قائمؔ کا بیان درست ہے (اور درست نہ ہونے کی کوئی وجہ نہیں) تو اِس مقطع کی بنا پر پوری غزل سوداؔ کی بجاے راقمؔ کی تصنیف قرار پائے گی اور یہ بھی کہ ’’مخزن نکات‘‘ کے سنہ تصنیف ۱۱۶۸ھ؁ سے قبل معرض وجود میں آچکی ہوگی۔ اس غزل کا سوداؔ کی تصنیف نہ ہونے کا دوسرا ثبوت یہ ہے کہ اس کی زندگی میں ترتیب دیے ہوئے کسی نسخے میں یہ غزل نہیں ملتی، نہ ہی کسی تذکرے میں اس کا انتساب سوداؔ سے ہوا ہے۔
(۳)
بدلا ترے ستم کا کوئی تجھ سے کیا کرے
اپنا ہی تو فریفتہ ہووے خدا کرے
قاتل ہماری نعش کو تشہیر ہے ضرور
آئندہ تا کوئی نہ کسی سے وفا کرے
گر ہو شراب و خلوت و محبوب خوب رو
زاہد قسم ہے تجھ کو جو تو ہو تو کیا کرے
(نسخۂ جانسن)
یہ تینوں شعر کلام سوداؔ کے تقریباً تمام نسخوں کے علاوہ نسخہ جانسن میں بھی نو شعر کی ایک غزل میں موجود ہیں۔ علاوہ بریں، میرؔ، شورشؔ اور قاسمؔ نے صرف مطلع، گردیزی اور خلیلؔ نے تینوں شعر، میر حسن اور مبتلاؔ نے شعر نمبر ۱، ۳ مصحفیؔ نے شعر نمبر ۱،۲ اور باطن اکبر آبادی نے صرف شعر نمبر ۳ کو سوداؔ کے نمونۂ کلام میں درج کیا ہے، خود سوداؔ نے متذکرہ بالا غزل کو ایک مخمس میں تضمین کیا ہے جس میں یہ تینوں شعر بھی شامل ہیں۔ لیکن دوسری طرف یہ تینوں شعر خفیف تصرف کے ساتھ دیوان یقینؔ کے تمام مطبوعہ وغیر مطبوعہ نسخوں میں پانچ شعر کی ایک غزل میں موجود ہیں نیز تذکرہ ’’چمنستان شعرا‘‘ میں انھیں یقینؔ کی تصنیف بتایا گیا ہے۔
انعام اﷲ خاں یقینؔ مرزا سوداؔ اور میرؔ کے معاصر اور مرزا مظہر جان جاناں کے شاگرد تھے۔ پانچ شعر کی غزلیں کہتے تھے۔ اُن کے دیوان میں کل ایک سو ستر غزلیں ہیں اور سب کی سب پانچ شعر کی۔ اردو شعرا میں یہ اختصاص انھی کے ساتھ مخصوص ہے۔ لچھمی نرائن شفیق اورنگ آبادی (مصنف چمنستان شعرا) نے ان اشعار کو اپنے تذکرے میں یقین کے نام سے نقل کرنے کے بعد لکھا ہے کہ:-
فتح علی خاں این دو بیت کہ تحریر یافت بنام میرزا رفیع سودا گرفتہ و میر محمد تقی میرہم فقط مطلع این ریختہ را کہ بالا مرقوم شد، در ترجمۂ او نوشتہ۔ و فقیررا در اکثر دواوین یقین این سہ بیت بہ نظر رسید، واﷲ اعلم، لیکن از نہج بستگی این معلوم می شود کہ این ابیات لا ریب از یقینؔ اند۔ ہر کہ واقف طرز سخن گوئی ہر دو صاحبان است۔ زبان ہریک می شناسد و تفریق اشعار می نماید۔ دو دو بیت کہ بقایا ھمیں ریختہ بود بقلم آمد:
جو کوئی کہ عرض حال کرے تجھ ستی مرا
اوّل بیان واقعۂ کربلا کرے
ہوتا ہوں خاک راہ وفا بے گماں یقیںؔ
ہے دل میں یوں کہ شرطِ محبت ادا کرے(۳۰)
میرؔ اور گردیزی کی طرح شفیق بھی معاصر تذکرہ نگار ہے اور یقینؔ کی شاعری کا اس قدر دلدادہ ہے کہ اس نے اس کی تمام غزلوں پر غزلیں کہی ہیں۔ لہٰذا قیاس یہ کہتا ہے کہ ضروری تحقیق و تفحص کے بعد ہی اس نے اپنے معاصر تذکرہ نگاروں کے بیان کی تردید کی ہوگی۔
منقولہ بالا اشعار میں تیسرے شعر کا مصرع اوّل دیوان سوداؔ، کے بر خلاف دیوان یقینؔ میں اس طرح مندرج ہے۔ ع خلوت ہو اور شراب ہو، معشوق سامنے
راقم سطور کا خیال ہے کہ سوداؔ نے یقینؔ کی غزل کے تین شعروں پر (جو واقعی بہترین شعر ہیں) اپنے مخمس کی بنیاد رکھی اور بقیہ اشعار اپنی طرف سے کہ کر مخمس مکمل کر لیا۔ بعد ازاں کاتبوں نے ان اشعار کو سوداؔ ہی کی تصنیف سمجھ کر کلیات سوداؔ، کے حصہ غزلیات میں شامل کر لیا۔ جہاں تک مصرع مذکور میں تبدیلی کی بات ہے وہ دراصل بند کے دوسرے مصرعوں کے قافیوں کی رعایت سے کی گئی ہے۔ اس طرح کی تصرفات کی مثالیں سوداؔ کے یہاں اور بھی ہیں مثلاً: حافظؔ کا ایک مصرع دیوان حافظؔ میں اس طرح ہے ’’ع عرض حاجت در حریم حرمتت محتاج نیست‘‘ لیکن قافیوں کی رعایت سے اس کی شکل یہ ہوگئی ہے ’’ع عرض حاجت در حریم حضر تت چوں آورم‘‘ اور میرؔ کے اس مصرعے ’’ع حسرت وصل و غم ہجر و خیال رخ دوست‘‘ کو قافیے کی تنگی کی بنا پر تبدیل کرکے ’’ع حسرت وصل و غم ہجر و خیال آزار‘‘ کر دیا گیا ہے۔ سوداؔ اپنے معاصر ین کے اشعار تضمین کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کرتے تھے چنان چہ انھوں نے میر،ؔ قائمؔ اور تاباںؔ کی غزلوں کو بھی جزوی یا کلی طور پر تضمین کیا ہے۔ خود یقینؔ کا ایک مصرع اُن کے ایک مخمس ترجیع بند میں بہ طور مصرع ترجیع شامل ہے۔ اس مخمس کا آخری بند جس میں یقینؔ کے کلام کے بارے میں سوداؔ کی پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے، درج ذیل ہے:
مصرع کو یقیںؔ تیرے سوداؔ نے سنا تھا کل
روتا ہے وہ یوں تب سے برسے ہے گویا بادل
ہے رعد نمط نالاں بجلی کی طرح بے کل
پڑھتا ہے یہی پھر پھر آنکھوں کے تئیں مل مل
کیا کام کیا دل نے دیوانے کو کیا کہیے
ان دونوں انتسابات کے برخلاف ’’سید صباح الدین عبدالرحمن نے دیوانِ فغاںؔ کے ایک قلمی نسخے مملوکہ پنجاب یونیورسٹی کے حوالے سے انھیں اشرف علی خاں فغاںؔ کی تصنیف قرار دیا ہے ‘‘۔ (۳۱)
لیکن یہ انتساب درست نہیں معلوم ہوتا ۔
’’غلط اور نا مکمل انتسابات‘‘
کسی کتاب میں موجود کلام کی صحت کا انحصار اس بات پر بھی ہوتا ہے کہ وہ غلط انتسابات سے کس حد تک پاک ہے۔چنان چہ اگر کسی نسخے میں کسی نظم یا بعض نظموں کی پیشانی پر درج سرخیاں اصل سے مطابقت نہیں رکھتیں تو انھیں مصنف کے نتائج قلم نہیں قرار دیا جا سکتا۔ زیر بحث ’’دیوان سوداؔ‘‘ میں شامل بعض نظموں کے عنوانات غیر معتبر اور نامکمل ہیں اور قرائن سے یہ پتا چلتا ہے کہ کاتب نسخہ ان عنوانات کے اندراج کے سلسلے میں کافی غیر محتاط ہے۔
ڈاکٹرمحمد شمس الدین صدیقی نے اپنے مرتبہ ’’کلیات سوداؔ‘‘ (جلد اوّل) کے مقدمے میں نسخۂ جانسن کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے دوسری چند غلطیوں کے علاوہ تین قصیدوں کے غلط عنوانات کی بھی نشان دہی کی ہے۔ اور لکھاہے کہ یہ غلطیاں اس نسخے میں ایسی ہیں کہ اگر سوداؔ کی نظر سے گزرتیں تو تصحیح سے نہیں بچ سکتی تھیں۔ ’’قصائد سودا‘‘ کے مرتب ڈاکٹر عتیق احمد صدیقی نے بھی بعض قصیدوں کے غلط انتسابات پر محققانہ بحث کر کے عنوانات کا صحیح تعین کیا ہے۔
راقم سطور کی تحقیق کے مطابق نسخہ مذکور میں ایسی متعدد نظمیں موجود ہیں جن کی سرخیاں غلط یا نامکمل ہیں۔ علاوہ بریں مفقود العنوان کلام بھی اس میں بہ کثرت شامل ہے۔ یہاں بہ نظر اختصار صرف ایک مخمس کے غلط عنوان کی تفصیل پیش کی جا رہی ہے۔
’’ع ہم کو دکھا جب اپنے تم اطوار رہ گئے‘‘ (۲۶ بند)
چھبیس بندوں کا یہ مخمس کلام سوداؔ کے کم و بیش تمام نسخوں کے ’’حصہ مخمسات‘‘ میں بغیر کسی عنوان کے موجود ہے۔ اس کے بر خلاف زیر بحث ’’دیوان سوداؔ‘‘ میں اس کا عنوان ’’تضمین بر غزل خود‘‘ ہے۔ راقم کو یہ غزل کلام سوداؔ کے کسی قلمی یا مطبوعہ نسخے میں نہیں ملی۔ تفصیل حسب ذیل ہے:-
اس مخمس کے نویں بند کا اصل شعر جس پر مصرعے لگائے گئے ہیں، یہ ہے۔
’’کہ باغباں قسم ہے تجھے کیا چلی بہار
دامانِ گل پکڑ کے جو یہ خار رہ گئے‘‘
حکیم قدرت اﷲ خاں قاسمؔ نے اس شعر کو سوداؔ کے ایک مجہول الاسم شاگرد عاکفؔ سے منسوب کیا ہے اور یہ اطلاع دی ہے کہ مرزا سوداؔ نے اسے اپنے ’’واسوخت‘‘ میں تضمین کیا ہے۔ بہ ظاہر واسوخت سے یہی مخمس مراد ہے کیوں کہ سوداؔ کے یہاں یہ شعر اس مخمس کے علاوہ کسی اور جگہ نہیں ملتا۔ علاوہ بریں موضوع اور مواد کے اعتبار سے یہ مخمس دراصل واسوخت ہی کے ذیل میں آتا ہے۔ دوسرے تذکرہ نگار نواب اعظم الدولہ میر محمد خاں سرور نے ایک شخص کے حوالے سے عاکفؔ کا صرف ایک شعر نقل کیا ہے، جس کا مصرع اوّل منقولہ بالا شعر کے مصرع اوّل کے مطابق ہے لیکن مصرع ثانی مختلف ہے۔ یہ دوسرا مصرع حسب ذیل ہے:-
’’ گل کو جو دیکھ دیکھ کے روتی ہے عندلیب‘‘
سرورؔ نے چو ںکہ یہ شعر کسی نا معلوم شخص کی زبانی سن کر نقل کیا ہے اس لیے اس امکان کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ راوی کو دوسرا مصرع یاد نہ رہا ہو اور اُس نے غلطی سے کسی دوسرے شعر کا مصرع نقل کر دیا ہو۔ لیکن خوب چند ذکاؔ نے اپنے تذکرے ’’عیار الشعرا‘‘ میں اس امر کی وضاحت کر دی ہے کہ مرزا رفیع سوداؔ نے عاکف کی غزل کو اپنے ’’مخمسات‘‘ میں نظم کیا ہے۔ اور مندرجہ بالا شعر ہی کو ان الفاظ کے ساتھ نمونے کے طور پر نقل کیا ہے۔ ’’غزل اُو (عاکف) رامرزا مرحوم (مرزا سودا) در مخمسات خود تنظیم کردہ، ایں شعر از ہمان غزل است‘‘ (عیار الشعرا، قلمی، مائکرو فلم، اکادمی لائبریری، لکھنؤ) سوداؔ کے زیر بحث مخمس کا آخری بند یہ ہے:
سوداؔ کی تم نہ مانیو یہ لن ترانیاں
اس گفتگو کے کرنے سے گھستی نہیں زباں
جو کچھ کوئی کہے وہ سنا کیحے مہرباں
تجھ کو کے عاکفاں کو چھٹ اس کے جگہ کہاں
در سے اٹھا دیا پس دیوار رہ گئے
ذکاؔ کی صراحت اور اس بند کے آخری دو مصرعوں میں سے پہلے مصرعے میں لفظ ’’عاکفاں‘‘ کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ سوداؔ نے عاکفؔ کے صرف ایک شعر کو نہیں بلکہ پوری غزل کو اس مخمس میں تضمین کیا ہے۔ اس بنا پر یقین کے ساتھ یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس نظم کا عنوان ’’تضمین بر غزل خود‘‘ کی بجاے ’’تضمین بر غزل عاکفؔ‘‘ ہونا چاہیے۔
’’اغلاط املا و کتابت‘‘
شیخ چاند مرحوم کا یہ دعوا کہ ’’یہ (نسخہ) سوداؔ کی زندگی میں خاص اہتمام سے تیار ہوا ہے‘‘۔ (سودا ص ۱۰۸) اور جناب رشید حسن خاں کا یہ بیان کہ ’’اس میں اغلاط کتابت کم ہیں‘‘ (مقدمہ انتخاب سودا ص ۳۰) درست معلوم نہیں ہوتا۔ ’’خاص اہتمام‘‘ کے ساتھ تیار کردہ نسخے کو املا و کتابت کی عام فرو گذاشتوں سے پاک ہونا چاہیے۔ اور احتیاط کا تقاضا بھی یہ ہے کہ کاتب؍ مصنف یا جس کی نگرانی میں یہ نسخہ تیار ہو رہا ہو، وہ اس پر نظر ثانی کرکے حتی الوسع غلطیوں کی تصحیح کر دے (اتفاقیہ غلطیوں کا رہ جانا دوسری بات ہے) لیکن اس مخطوطے میں کسی ایک مقام پر بھی تصحیح نہیں کی گئی ہے، نتیجتاً نسخے میں بعض لفظوں کا املا غلط ہے، کئی الفاظ قرأت کی عدم صحت کی بنا پر غلط لکھ دیے گئے ہیں اور بہت سی جگہوں پر الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں۔ اس قسم کی چند نمایاں مثالیں سطور ذیل میں درج کی جاتی ہیں:-
نسخہ جانسن
صحیح صورت
۱
قطرہ گرا تھا چوکی مرے اشک گرم سے
قطرہ گرا تھا جو کہ۔۔۔۔ الخ‘‘ ہونا چاہیے

دریا میں ہے ہنوز پہپولا حباب کا
__________________
۲
نہ طبع جبد سے سر زد کبھو ہوں معنی رنگیں
صحیح لفظ ’’طبع حیز‘‘ (ہیز) ہے۔

جہاں میں تخم سے تھوہر کے کب گلزار ہو پیدا
__________________
۳
اے طفل اشک ہے فلک ہفتمی پہ عرش
’’فلک ہفتمیں‘‘ صحیح املا ہے۔

آگے قدم نہ رکھیو تو زنہار دیکھنا
______________
۴
چھپنے کی عشق کے نہ بنی بات پیش یار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

سو طرح سے میں سامھنے اس کے چھپائی بات
۔۔۔۔ ’’اس کے بنائی بات‘‘ ہونا چاہیے
۵
زلفوں کے تلے شوخ کی، خط کا نہیں آغاز
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۶
دوڑی ہے شب خوں سپہ شام جہاں پر
’’دوڑی پے شب خوں‘‘ ہونا چاہیے۔

انکار قتل سے تو کرے ہے سخن ہنوز
’’سجن ہنوز‘‘ ہونا چاہیے۔

میلا نہیں ہوا ہے ہمارا کفن ہنوز
_______________________
۷
آتش کو رنگ گل کی صبا تو نے پھونک دی
’’پھونک پھونک‘‘ ہونا چاہیے۔

جلوائے آشیاں کے مرے خار و خس تمام
_______________________
۸
ہوں اسیر اُس کا جسے بعد گرفتاری صید
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ گرفتاری سے مطلب رہے نے دام سے کام
’’نہ گرفتار سے مطلب‘‘ ہونا چاہیے۔
۹
نہ غنچے گل کے کھلتے ہیں نہ نرگس کی کھلی کلیاں
’’کھلیں کلیاں‘‘ ہونا چاہیے۔

چمن میں لے کے خمیازہ کسی نے انکھڑیاں ملیاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۰
تبسم یوں نمایاں ہے مسی آلودہ ہونٹھوں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ ہو ابر سیہ میں اس طرح بجلی کی اچہپلیاں
نہ ہوں ابر۔۔۔ اچپلیاں‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۱
کیا ہے عہد و پیماں اشتیاق اپنے سے یہ میں نے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کہ جس ساعت گلی لکھنا مجھے تیرا میسر ہو
’’گلے لگنا‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۲
بوئوں میں تخم دل کو جہاں وہاں زقوم ہو
’’تخم گل کو جہاں وھاں‘‘ ہونا چاہیے۔

پالوں جو عندلیپ قفس میں تو بوم ہو
’’عندلیب‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۳
چوب شکست خوردۂ کشتی ہوں میں کہ جو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پانی میں ہو نہ غرق نہ آتش کہ جل سکے
’’آتش میں جل سکے‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۴
نہیں گلخن بھی کچھ گلشن سے کم احباب اے سودا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رکھیں سیر چمن سے کچھ مجھے معذور بہتر ہے
’’سے گر مجھے معذور‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۵
شیخ گل بازی کو تم سے روز للچاتا ہے دل
۔۔۔۔۔۔۔ ’’تم سے زور‘‘ ہونا چاہیے

زرد چیرا آپ کا گیندے کا گویا پھول ہے
_______________________
۱۶
ٹک تری مرضی سے باہر جو کرے کار جہاں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاتھ سے کام زمانے کے ووہیں جائے بحل
۔۔۔۔۔۔ ’’جائے بچل‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۷
اس کے قبضے پہ جو ہو دست مبارک تیرا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نہ رہے دین محمدؐ کے سوا اور ملل
’’نہ رہیں دین۔۔۔الخ‘‘ ہونا چاہیے۔
۱۸
مدح اپنی نہ سمجھ یہ جو کہا میں اس سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رتبہ تجھ ہجو کا اعلیٰ ہی سخن یہ اسفل
’’تجھ مدح کا اعلیٰ ہے‘‘ ہونا چاہیے
۱۹
تالب جو پہ کرے خیمہ کو استاد حباب
’’استادہ حباب‘‘ ہونا چاہیے۔

تابچھاوے بروشِ سبزۂ فرشِ مخمل
ؔ’’بہ روش سبزہ فروش مخمل‘‘ ہونا چاہیے۔
۲۰
پہنچیں نہ ہم مبادا کسیکی گماں تلک
۔۔۔۔۔’’مباد کسی کے‘‘ ہونا چاہیے۔
۲۱
دریاے طبع سے یہ کئی گوہر سخن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تیری رسال کے لیے پہنچے مجھے رسال
’’تیرے نثار کے لیے‘‘ ہونا چاہیے۔
۲۲
دیکھے سے جس کی جلوہ پاکیزہ طینتوں کے
’’جس کا جلوہ‘‘ ہونا چاہیے۔

آنکھوں کو امن ہووے جی کے تئیں اماں ہو
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۳ٍ
دانتوں کے بیچ اس کے ہے جسقدر بھسونڈا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

وصف ذخامت اس کا کیجے تو کیا بیاں ہو
’’وصف ضخامت‘‘ ہونا چاہیے
۲۴
تکان پاکی سدا اس کی جو سنی سو کہی
کی صدا اس کے جو سنے سو کہے‘‘ ہونا چاہیے۔

سیاہ خیمۂ لیلیٰ میں قیس ہے زنجیر
_______________________
۲۵
یک خم تھی دل انھوں کا پرازبادۂ غرور
’’یک خم تھا‘‘ ہونا چاہیے۔___

تیں اُس میں کر دیا نمک تیغ آب دار
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۶
رہ نوردوں کی نظروں میں اکثیر
۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’اکسیر‘‘ ہونا چاہیے

بد تراز گرد کارواں ہووے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۷
عیش و عشرت ہی سدا دمساز
’’عیش و عشرت [سے] ہے سدا۔۔‘‘ ہونا چاہیے۔

پیر ہو کوئی یا جواں ہووے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۸
باد پیما ترا تعالیٰ اﷲ
’’تعال اﷲ‘‘ ہونا چاہیے۔

جلوہ گر آکے وہ جہاں ہووے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۹
احوال اس کا دیکھ کے کہنے لگا طبیب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اب فسد و مسہل اس کے لیے ہے مفید تام
’’اب فصد۔۔۔۔۔۔ الخ‘‘ ہونا چاہیے
۳۰
دیہات جو ہیں مصرف مطبخ کے اُن میں سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس نقدی کے عوض ہو مجھے سحنک طعام
۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’صحنک‘‘ ہونا چاہیے
۳۱
یہ سن کے دیا کچھ تو ہوئی عید و گرنہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

شوال سے پھر ماہ مبارک رمضاں ہے
’’شوال بھی پھر ماہ‘‘ ہونا چاہیے۔
۳۲
اپنی منہ کی نہ کہا کن نے سخن گوہر
’’اپنے منہ کے۔۔۔ سخن [کو] گوہر‘‘ ہونا چاہیے۔

لعل سودا ہی کو پر ہم نے اگلتے دیکھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۳
سمجھ کے باندھا آشیاں ہم رہے گا با آب و تاب گلشن
’’باندھا [تھا] آشیاں‘‘ ہونا چاہیے۔

یہی کہ غنچے نے آنکھ کھولی، خیال گل تھا تو خواب گلشن
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۴
پر اب خوشی ہے یہ خلقت کو تیری صحبت سے
۔۔۔ ’’تیری صحّت سے‘‘ ہونا چاہیے۔

کہ آج تک نہ ہوئی ہوئیگی ز روز نخست
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۳۵
اتنی ہے کثرت لغزش بہ زمیں ہر باغ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

جو ثمر شاخ سے اوتر سو گرا سر کے بہل
’’جو ثمرشاخ سے اترا سو گرا سر کے بھل‘‘ ہونا چاہیے۔
مندرجہ بالا شواہد کی روشنی میں یہ بات بلاتامل کہی جا سکتی ہے کہ دیوان سوداؔ کا زیر بحث نسخہ نہ تو خود مصنف نے جانسن کو پیش کیا تھا اور نہ اس کی تیاری میں اُس کی مرضی کو کوئی دخل تھا، بلکہ میر محمد حسین جو جانسن کا ملازم (دیوان )اور شاعر بھی تھا ہی نے اسے تیار کراکر جانسن کے کتب خانے میں داخل کیا تھا۔ اسی نے اس میں جابہ جا تحریفیں کی ہیں اور سوداؔ کے نام سے ایک قصیدہ کہ کر کتاب کے آغاز میں شامل کیا ہے۔ دراصل یہ نسخہ اپنی تمام ظاہری چمک دمک اور غیر معمولی مقبولیت کے باوجود ٹھوس داخلی یا خارجی شہادتوں کی عدم موجودگی اور الحاقات و تصرفات نیز نظموں کے غلط انتسابات اور املا و کتابت کی متعدد غلطیوں کے باعث کسی طرح سند اعتبار حاصل نہیں کر سکتا۔ اور اس کی بنیاد پر سوداؔ کے کل کلام کو یا اس کے بعض حصوں کو مرتب کرنا حد درجہ گمراہ کن اور سعی لاحاصل کے مترادف ہوگا۔

Naz’m Aur Kalam E MauzoN by Moid Rasheedi

Articles

نظم اور کلام موزوں:فکرآزاد کی نظری اساس

معید رشیدی

آزاد میں نقد کا مادہ مطلق نہ تھا۔نظر مشرقی حدود میں پابند تھی۔وہ لکیر کے فقیر تھے،باریک بینی اور آزادیِ خیال سے مبرا۔انگریزی لالٹینوں کی روشنی ان کے دماغ تک نہیں پہنچی تھی۔1
اس زمانے میں مغرب کی طرف نظریں اٹھ رہی تھیں۔سب سے پہلے آزاد نے اس طرف توجہ کی تھی اور لوگوں کی توجہ دلائی تھی۔2
دونوں اقتباسات کلیم الدین احمد کے ہیں۔دونوں میں جو تضاد ہے، وہ اظہرو من الشمس ہے۔آزاد مشرقی روایات کے امین تھے۔ان کے کمال علم میں کلام نہیں،لیکن شعر و ادب کی تفہیم،توضیح،تعبیر،تجزیے اور تقابل کے معائر ان کے ہاں مخصوص سیاق میں تھے،جسے کلیم الدین احمد ’مشرقی حدود‘سے تعبیر کرتے ہیں،مگر یہ بھی سچ ہے کہ ان کی حیثیت مجتہد کی تھی۔انھوں نے ادب کی تفہیم و تعینِ قدرمیں نظری مباحث کی ضرورت محسوس کی اور اپنی تحریروں میں انھیں چھیڑا بھی۔وہ اپنے پیش روئوں سے کئی قدم آگے تھے۔آزاد اور حالی مخصوص معنوں میں اپنی روایات کے باغی بھی تھے۔اس عہد میں بغاوت کی یہ لے سرسید کے ہاں سب سے تیز تھی۔دنیا بدل رہی تھی۔نئی قدریں پرانی قدروں پر غالب آرہی تھیں۔ہند ایرانی/ہند اسلامی تہذیب کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ 1857میں ایک عہد کا خاتمہ ہوگیا۔نو آبادیات کی سائکی نئے تجربات کے ہمراہ متنوع تغیرات بھی لائی ۔ان تبدیلیوں نے مغرب کی تفہیم کے لیے راہ ہموار کی۔محمد حسین آزاد کی ذہنی پرورش مشرقی ماحول میں ہوئی تھی،لیکن نہ وہ لکیر کے فقیر تھے،اور نہ ہی آزادیِ خیال سے مبرا۔اگر وہ مشرقی حدود ہی میں پابند رہنا چاہتے، تو ان کی نظر مغرب کی طرف کیوںکر اٹھتی، اور وہ کیوں کہتے:
اس سے یہ نہ سمجھنا کہ میں تمھاری نظم کو سامان آرائش سے مفلس کہتا ہوں۔نہیں[،]اس نے اپنے بزرگوں سے لمبے لمبے خلعت اور بھاری بھاری زیور میراث پائے۔مگر کیا کرے کہ خلعت پرانے ہوگئے اور زیوروں کو وقت نے بے رواج کر دیا۔تمھارے بزرگ اور تم ہمیشہ سے نئے مضامین اور نئے انداز کے موجد رہے مگر نئے انداز کے خلعت و زیور جو آج کے مناسب حال ہیں۔وہ انگریزی صندوقوں میں بند ہیں[،] کہ ہمارے پہلو میں دھرے ہیں اور ہمیں خبر نہیں۔ہاں[،] صندوقوں کی کنجی ہمارے ہم وطن انگریزی دانوں کے پاس ہے۔3
بڑی بات یہ ہے کہ آزاد وقت کے تقاضوں سے با خبر تھے۔وہ عربی اور فارسی کے بڑے عالم تھے،اوربھاشا کی باریکیوں کے ساتھ سنسکرت کی روایات کا بھی درک رکھتے تھے۔انگریزی سے کماحقہ واقف نہ تھے،لیکن’ ہم وطن انگریزی دانوں‘اور بعض انگریزدوستوں/شاگردوں سے ان کے گہرے مراسم تھے۔ان کی صحبت میں انگریزی ادب اور اس کے متون کی تفہیم کی کوشش کرتے تھے۔حصولِ علم کا جنون اور نئے میدانوں کی سیر کا جذبہ انھیں ہمہ وقت بیدار، رکھتا تھا۔کرنل ہالرائڈ(Holroyd)اور ڈاکٹر لائٹنر(Leitner)سے انھیں قربت تھی۔’نیرنگ خیال‘اور’نظم آزاد‘کا انتساب ہالرائڈ ہی کے نام ہے۔نبیرۂ آزادآغامحمدطاہرنے آزاد کی تصنیف’کائناتِ عرب‘کے دیباچے میں ڈاکٹر لائٹنرسے آزاد کے تعلقات کا ذکر کیا ہے۔آزاد کی عمر کا ایک بڑا حصہ لائٹنرکے ساتھ گزرا۔لائٹنرجب سنٹرل ایشیا گئے توآزادبھی ان کے ساتھ تھے۔آغا محمدطاہرکا بیان ہے کہ’’ڈاکٹر لٹنر[لائٹنر]صاحب کا قاعدہ تھا کہ اپنی رائے کا اظہار کردیتے۔مولانا اس مضمون کو بنا سنوار کر لے جاتے۔ڈاکٹرصاحب کو پسند آیا تو بہت خوب۔ورنہ مولوی صاحب دوبارہ لکھیں۔‘‘(4)لائٹنرسے آزاد کی جس قدر قربت تھی،بعدمیں اختلاف بھی اتنا ہی ہوگیا،لیکن اختلافی امور اور ان کی وجوہ کی طرف توجہ نہ کرکے سردست اس بات پر توجہ دینی ہے کہ آزاد نے انگریزی/مغربی فکر و فلسفے کی تفہیم کے لیے انگریزی متون کا کتنا مطالعہ کیا ،اور ’انگریزی صندوقوں‘سے کس قدر خلعت و زیور حاصل کئے۔انھوں نے مغربی ا صولوں کی پیروی تو کی،لیکن کیا وہ ان اصولوں کی تہ تک پہنچ پائے تھے،اور کیا انھوں نے ان کے متون سے براہِ راست استفادہ کیا تھا؟اس ضمن میں آزاد کا کوئی ٹھوس بیان نہیں ملتا۔انشا پردازی کے رنگ کو برقرار، رکھنے میں وہ اکثر گول مول باتیں کہہ جاتے ہیں۔یہ ان کا سب سے بڑا عیب ہے۔ان کے معاصر حالی اور شبلی انگریزی سے واقف نہ تھے،مگرآزاد کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ان کے بعض جملے(جو مبہم ہی صحیح)اور اسلم فرخی کے بعض بیانات اس باب میں رہنمائی کرتے ہیں۔پھر اس سلسلے میں ان کی کتاب’نیرنگ خیال‘خود ہی اہم حوالہ ہے۔آزاد لکھتے ہیں:
میں نے انگریزی انشا پردازوں کے خیالات سے اکثر چراغ روشن کیا ہے۔5
یہ چند مضمون جو لکھے ہیں[،]نہیں کہہ سکتا کہ ترجمہ کیے ہیں۔ہاں[،]جو کچھ کانوں نے سنااور فکر مناسب نے زبان کے حوالے کیا[،]ہاتھوں نے اسے لکھ دیا۔6
کیسی حسرت آتی ہے۔جب میں زبان انگریزی میں دیکھتا ہوں کہ ہر قسم کے مطالب و مضامین کو نثر سے زیادہ خوبصورتی کے ساتھ نظم کرتے ہیں۔7
میں زبان انگریزی میں بالکل بے زبان ہوں اور اس ناکامی کا مجھے بھی افسوس ہے۔8
مندرجہ بالااقتباسات کی روشنی میں کوئی حتمی فیصلہ ممکن نہیں۔’’میں جب زبان انگریزی میں دیکھتا ہوں۔‘‘…صرف یہی جملہ لے لیجیے یا پھر انگریزی خیالات سے چراغ روشن کرنے والی جو بات ہے،اس سے یہی گمان گزرتا ہے کہ انھوں نے انگریزی متون سے براہ راست استفادہ کیا تھا،لیکن جب وہ اپنے(نیرنگ خیال)کے مضامین کو ترجمہ کہنے سے انکار کرتے ہیں ،اور کانوں سے سن کر زبان کے حوالے کرنے کی بات کرتے ہیں تومبہم کیفیت پیدا ہوتی ہے،اور ذہن الجھ جاتا ہے،کہ واقعہ کیا ہے۔جب وہ زبان انگریزی میں بالکل بے زبان ہونے کا اعتراف کرتے ہیں تو مسئلہ اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے۔اسلم فرخی کا بیان ہے کہ ’’راقم الحروف نے ان کی تحریرکردہ ایک انگریزی درخواست بچشم خود دیکھی ہے۔‘‘(9)/’’انھوں نے سنین اسلام کے عنوان کے سلسلے میں انگریزی میں ایک مضمون بھی لکھاتھالیکن ان کی واقفیت اتنی نہ تھی کہ وہ ایڈیسن اور جانسن کا براہ راست مطالعہ کرتے اوران کے مضامین کو اردو میں منتقل کرلیتے۔‘‘(10)اس زمانے میں ایک ایسا شخص جس کی تربیت اور تعلیم مشرقی ماحول اور حدود میں ہوئی ہو،اگر وہ انگریزی میں درخواست اور مضمون لکھنے کی استعداد رکھتا ہے تو یہ کم بڑی بات نہ تھی،(فرخی کا بیان اپنی جگہ)لیکن اس پہلو پر زیادہ اعتبار اس لیے نہیں کیا جاسکتا کہ مثالوں کا فقدان ہے۔ہو سکتا ہے کہ کسی انگریز دوست/شاگرد کی مدد سے وہ درخواست/مضمون لکھا گیا ہو۔بہر حال اتنی بات تو صاف ہے کہ آزاد کو انگریزی سے دلچسپی تھی،اور وہ اس کے حصولِ علم کی کوشش بھی کرتے تھے۔مالک رام کہتے ہیں:
نیرنگ خیال میں جتنے مضمون شامل ہیں[،]یہ دراصل انگریزی سے ترجمہ کئے گئے ہیں۔ان میں سے چھ مضمون جانسن کے ہیں،تین ایڈیسن کے اور بقیہ دوسرے انگریزی ادیبوں کے۔لیکن ان کے ترجموں میں آزاد نے اپنی ذہانت اور سحر بیانی سے اتنا رد و بدل کر دیا ہے کہ ان کا درجہ ترجمے سے بڑھ کر تخلیق کا ہو گیا ہے۔11
یہاں دو سوال پیدا ہوتے ہیں۔اول یہ کہ یہ مضامین ترجمہ ہیں یا نہیں۔دوم یہ کہ اس قدر، ردوبدل کی ضرورت کیوں پڑی۔زبان اور انشا کے معاملے میں آزاد اپنے مزاج سے مجبور ہیں۔عام (تخلیقی)تحریر اور ترجمے میں فرق ہے۔دونوں کے تقاضے جدا ہیں۔ذہانت اور سحر بیانی اپنی جگہ،لیکن رد و بدل کی کثرت یہ باور کراتی ہے کہ آزاد میں ترجمے کی صلاحیت مفقود تھی۔ان کے مضامین اور ایڈیسن اور جانسن کے مضامین میں جو مشترک باتیں موجود ہیں، تو اس سے یہی نتیجہ نکالا جا سکتا ہے کہ ان کے ساتھ اس کام میں کوئی اور بھی شریک تھا۔اس لیے کہ’’پروفیسر صاحب[آزاد]کو یہ بھی شوق تھاکہ وہ اپنے انگریزی جاننے والے تلامذہ سے کارآمدمغربی خیالات اخذ کرتے اور انھیں اپنے سرور آگیں اور پرکیف طرز میں ڈھال لیتے۔‘‘(12)یہ سچ ہے کہ آزاد نہ محض انگریزی کی وکالت میں پیش پیش تھے،بلکہ اپنے معاصرین میں وہ اس زبان کو سیکھنے اور سمجھنے میں بھی بہت آگے تھے۔انھیں احساس تھا کہ اس زبان کو سیکھے بغیر وہ دنیا سے کٹ جائیں گے،اور عالمی، خصوصاً مغربی ادبیات میں کیا کچھ ہو رہا ہے،اس کے علم سے محروم رہیں گے۔وہ تغیر چاہتے تھے۔ادب میں وسعت کے قائل تھے۔اس لیے انھوں نے احساس دلایا کہ انگریزی، شجر ممنوعہ نہیں ہے۔اپنی محنت سے انھوں نے انگریزی کی شدبد پیدا کی،لیکن انگریزی کے معیاری اور دقیق متون وہ اپنے انگریز دوستوں/شاگردوں سے پڑھوا کر سنتے تھے۔پھر ان پر غور کر کے اپنی زبان میں ڈھال لیتے تھے۔کالج کی ملازمت کے ساتھ وہ انگریزوں کو اردو پڑھایا کرتے تھے۔لائٹنر کی رفاقت میں وہ انگریزی ادب سے آشنا ہوئے،اور یہ آشنائی انھیں نئے جہانوں کی سیر کی طرف لے گئی۔انھیں زبان کے دقیق مسائل میں دلچسپی تھی۔الفاظ کی تشکیل اور ان کے مآخذ کے مختلف حوالوں پر مسلسل غور کرتے رہے۔متعدد ممالک کا سفر بھی کیا۔قدیم فارسی،عربی اور سنسکرت کے الفاظ میں لسانی اشتراک ڈھونڈتے رہے۔مسلسل غور و فکر کے نتیجے میں ’سخندان فارس‘منصہ شہود پر آئی۔ان سے ڈیڑھ سو سال قبل ٹیک چند بہار اور خان آرزو نے الفاظ کی ماہیت پر غوروفکر کرنے کی بنیاد اردو معاشرے میں ڈال دی تھی۔یہ دونوں بقول آزاد’فلسفی لغت ِ فارسی‘تھے۔دونوں فارسی کے ماہر تھے،اور ہندی ان کے وطن/گھر کی زبان تھی۔آزاد نے ان کی روایت کو جلا بخشی،لیکن انھوں نے کوئی لغت تیار نہیں کیا،بلکہ زبانوں کے اختلاط کا جائزہ لیا،اور ان کے اثرات کی نشاندہی بڑی چابک دستی سے کی۔اس زمانے میں اس موضوع میں دلچسپی لینے والے خال خال تھے،لیکن آزاد کی علمیت،تحقیقی مزاج اور ذوقِ جستجو نے اردو میں تقابلی لسانیات کے مطالعے کی مستحکم روایت قائم کی،اور’ فیلا لوجیا‘ (Philology)کے تصورو تعارف سے اپنی بساط کے مطابق اہلِ اردو کو آگاہ کیا۔
نو آبادیات کے مختلف پہلوئوں میں ایک نکتہ لسانی تغیر کا بھی ہے۔ان تغیرات سے آزاد کا ذہن آشنا تھا۔یہی وجہ ہے کہ علوم کے مختلف شعبوں کی طرف ان کی نظر اٹھ رہی تھی۔انگریز حاکم تھے اور ان کی زبان ہندوستانیوں کے لیے توجہ کا مرکز،مگر ایک بڑا طبقہ ان کے ساتھ ان کی زبان سے بھی نفرت کرتا تھا، کہ کہیں یہ نئی زبان ہماری تہذیب ہی کو غارت نہ کردے۔اکبرالٰہ آبادی اس احتجاج کی سب سے بلندآواز اور نمایاں علامت ہیں۔دراصل معاملہ زبانوں کا نہیں،تہذیبوں کا تھا۔انگریزی سیکھنے میں زیادہ قباحت نہ تھی،لیکن یہ بھی سچ ہے کہ ہر زبان اپنی تہذیب بھی ساتھ لاتی ہے۔آزاد زبان کے ریفارمر نہ تھے۔وہ ان تصورات و عقائد کے خلاف تھے جو برسوں سے بے منطق اور بغیر مناسب سیاق کے دہرائے جارہے تھے۔سرسید تحریک نے معقولیت اور منطقی جواز کا جو اصول وضع کیا تھا،اس کے اثرات آزاد پر بھی ہیں۔نیچر کی ترجمانی کا سادہ نظریہ ان کے ہاں بھی کارفرما ہے۔نیچر اپنے آپ میں کتنی مبہم،پراسرار اور پیچیدہ ہے،اس سے نیچر کی ترجمانی پر اصرار کرنے والے ادبی ریفارمر نا واقف تھے۔ان کے نزدیک کسی چیز کا ہوبہو پیش کرنا ہی نیچر ہے۔پہاڑ،جنگل،دریا اور کسی موضوع کے خارجی حوالے ہی ان کے لیے نیچر ہیں۔ شبلی اسی کو’ محاکات‘ کہتے ہیں، جو یونانی تصور ہے، اور عرب ناقدین کے وسیلے سے ان تک پہنچا ہے۔ محمد حسین آزاد کی لسانی خدمات کا اعتراف ہر ذی نظر کرے گا، لیکن ان کے روایات کے باغی اور مجتہد ہونے والی جو بات ہے، اس ضمن میں ان کے نظری اختصاص اور نقد و نظر کے معائر پر نگاہ ڈالنا ضروری ہے، اور یہی پہلو ان کی عظمت کا تاریخی جواز فراہم کرتا ہے۔ آگے بڑھنے سے قبل اسلم فرخی کی یہ رائے ملاحظہ ہو:
آزاد کے نظریۂ شعر میں خیالی، ما بعدالطبیعاتی اور افادی سبھی عناصر موجود ہیں لیکن انھوں نے کسی چیز کی وضاحت نہیں کی۔ بہر حال انھوں نے کچھ نئی باتیں ضرور پیش کی ہیں اور مغرب و مشرق کو ہم آہنگ کر نے کی کوشش کی ہے۔ 13
یہاں سے گفتگو نیا موڑ لیتی ہے اور کچھ بنیادی سوال قائم ہوتے ہیں۔پہلا یہ کہ آزاد کا نظریۂ شعر کیا ہے۔دوسرا یہ کہ انھوں نے کون سی نئی باتیں پیش کیں۔تیسرا یہ کہ مغرب و مشرق کو ہم آہنگ کرنے کی ان کی کوشش کہاں تک بار آور ہوئی۔ان کے نظریۂ شعر کی تفہیم میں ان کے دو لکچر بنیادی حوالہ ہیں۔ دیگر کتب بھی اس ضمن میں معاونت کرتی ہیں۔پہلا لکچر انھوں نے 5اگست1867میں دیا تھا جس کا عنوان ہے’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات‘۔دوسرا لکچر 19اپریل1874میں دیا تھا جس کا کوئی عنوان انھوں نے شاید متعین نہیں کیا۔دونوں لکچر’نظم آزاد‘(1899)میں شامل ہیں۔یہ لکچر آزاد نے انجمن پنجاب کے جلسوں میں دیے۔انجمن کا قیام21جنوری1865کو سکشا سبھا کے مکان میں ہوا جس میں حکومت کے عہدیدار اور نمائندے بھی شریک ہوئے۔پنڈت من پھول کو صدارت سونپی گئی۔پنڈت جی نے انجمن کا نام’انجمن اشاعت ِ مطالب ِ مفیدہ پنجاب‘رکھا،جس کے مقاصد میں لٹریچر تیار کرنا، علمی جلسے منعقد کرنا… جن میں تعلیمی،سماجی،تہذیبی،اخلاقی،اصلاحی اور انتظامی امور پر مضامین پیش کیے جائیں،تاکہ اظہار خیال کے لیے فضا ہموار ہو۔لکچروں کا اہتمام کیا جائے تا کہ ذہنی اصلاح ہوسکے۔ڈاکٹر لائٹنر کی تجویز پرآزاد27مارچ1867میں انجمن کے سکریٹری منعقد کیے گئے۔سکریٹری بننے کے بعد انھوں نے انجمن کو نئی زندگی دی،اور بقول منظراعظمی محض ایک سال میں انھوں نے چھتیس مضامین،لکچر اور تبصرے پڑھے۔انجمن میں ہالرائڈ کی تجویز پر جدید طرز کے مشاعروں کا انعقاد ہوا جس میں مصرع طرح کے بجائے کوئی عنوان دیا جاتا تھا۔یہی مشاعرے نظم نگاری کی تحریک کا نقطۂ آغاز ہیں، جس میںآزاد اور حالی کی شخصیت اپنی خدمات کے حوالے سے بہت نمایاں ہے۔آزاد کے جن دو لکچروں کا اوپر ذکر کیا گیا وہ نظم نگاری کی تحریک کا منشور قرار پائے۔انھوں نے جو نظری مباحث قائم کیے،انھیں حالی نے زیادہ مبسوط،معروضی اور علمی طرز پر’مقدمہ شعروشاعری‘(1893)میں پیش کیا۔
محمد حسین آزاد کا کارنامہ محض یہی نہیں ہے کہ انھوں نے ’آب حیات‘(1880)کو تذکروں کے عام معیار سے نکال کر ادبی تاریخ و تنقید کے حصار میں لا کھڑا کیا،بلکہ نظری سطح پر پہلی بار مروجہ موضوعات کے سطحی برتائو کے خلاف جرأت آمیز صدا بلند کی ،اورانگریزی ادب کی طرف اذہان کومائل کیا۔اس ضمن میں ان کے شعری مجموعے کے پہلے صفحے کی یہ عبارت ملاحظہ ہو…’’نظم آزاد،جو حسن و عشق کی قید سے آزاد ہے۔‘‘’حسن و عشق‘ کو قید سمجھنے اور ان سے آزادی حاصل کرنے کا خیال ان کے ذہن میں کیوں آیا۔ہو سکتا ہے کہ ان کے ذہن میں ادب کا افادی نظریہ رہا ہو،کہ ادب کو اخلاق درست کرنے کا آلۂ کار ہونا چاہیے، یا ادب سے متعدد نوع کے اصلاحی کام لیے جائیں،لیکن وہ ان زنجیروں کو توڑ دینا چاہتے تھے جن میں اردو شاعری گرفتار تھی۔وہ اپنے ادب کو کم مایہ نہیں،گراں مایہ سمجھتے ہیں۔زورِعبارت،مضمون کا جوش و خروش اور لطائف و صنائع کے اعتبار سے وہ اردو زبان کو دیگر زبانوں سے کسی قدر کم تصور نہیں کرتے۔انھیں اس بات پر افسوس ہے کہ اردو شاعری بے موقع احاطوں میں محبوس ہوگئی ہے، جس میں معاملاتِ عشق کا بیان ان کے نزدیک سب سے قابلِ اعتراض پہلو ہے۔یہ کہا جا سکتا ہے کہ جس شخص نے زندگی میں اتنے دھوکے کھائے ہوں،عتاب کا شکار ہوا ہو۔تحفظِ ناموس کے لیے شہر شہر بھٹکا ہو۔انگریزوں سے وفاداری ثابت کرنے کے لیے جاسوسی تک کی ہو۔جس کے سامنے اس کے باپ کو سرعام بغاوت کے الزام میں گولی ماردی گئی ہو،اس کے مزاج میں دہشت نہیں تو اور کیا ہوگی۔اس لیے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ ایسے شخص کے مزاج کی تشکیل میں عشقیہ واردات کہاں سے بار پائیں گی،لیکن یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پر آشوب دور میں عشق اپنی معنویت اور جاذبیت کھو بیٹھتا ہے؟زندگی دو پہلوئوں سے عبارت ہے…حقیقت اور رومان۔رومانیت محض عشقیہ واردات کا نام نہیں۔یہ تخیل،تجسس اور اسرار پر مبنی ہے۔عشق کی تعریف بھی اپنے اندر گیرائی رکھتی ہے۔اس لیے اس کے سطحی تصور سے کوئی نتیجہ اخذ کرنا مناسب نہیں۔آزاد کا اعتراض عشقیہ واردات کے اظہار پر نہیں ہے۔وہ تو عشق کے مفہوم/مضمون کو تنگ دائروں میں مقید کرنے کے خلاف ہیں۔ایسے ہی اعتراضات پر حالی نے مقدمہ میں مفصل بحث کی ہے۔وصل کا لطف،بہت سے حسرت و ارمان،ہجر میں آہ و بکا،شراب و ساقی،بہار و خزاں،شکوۂ فلک،اقبال مندوں کی خوشامدجیسے مضامین ہی میں اگر شاعری محبوس ہوجائے، اور فقط نازک خیالی ہی شاعری کا جوہر ٹھہرے، تو پھر شعر کی عظمت،وسعت اور گہرائی پر سوالیہ نشان لگ جائے گا،اور اس کی اظہارِ ذات والی تعریف میں ’ذات‘کے معنی بدل جائیں گے۔آزاد موضوعات و مضامین میں تنوع اور تراکیب و لفظیات میں ندرت چاہتے تھے۔وہ اپنے عہد کے سروکاروں کے ساتھ جینا چاہتے تھے۔ان کے خیالات ان کے عصر کے بطن کا زائیدہ ہیـ:
اب وہ زمانہ بھی نہیں کہ ہم اپنے لڑکوں کو ایک کہانی،طوطے یا مینا کی زبانی،سنائیں۔ترقی کریں،تو چار فقیر لنگوٹ باندھ کر بیٹھ جائیں،یا پریاں اڑائیں؛دیو بنائیں اور ساری رات ان کی باتوں میں گنوائیں۔اب کچھ اور وقت ہے۔اسی واسطے ہمیں بھی کچھ اور کرنا چاہیے۔14
محمد حسین آزاد کی شخصیت اسی لیے معتبر ہے کہ وہ استفادے پر زور دیتے ہیں۔ یہ نہیں کہ مغربی ادب کے سامنے اپنے ادب کو مطعون اور بے مایہ ٹھرائیں۔وہ مشرق و مغرب میں امتزاج اور تفاعل کے قائل ہیں۔وہ ان لوگوں میں نہیں ہیں،جن کے نزدیک 1857کے ساتھ شاعری بھی ختم ہوگئی۔ان کے لیے دنیا/زندگی بہت وسیع ہے۔اسی لیے وہ اصلاح کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔مغربی افکار سے چراغ روشن کرنے کے ساتھ انھوں نے مٹی کی خوشبو بھی محسوس کی۔وہ پہلے شخص ہیں جنھوں نے اردو پر فارسی کے اثرات کے ذکر میں شعرا کے ذہنی رویوں پر تنقید کرتے ہوئے یہ احساس دلایاکہ ہمیں اس کا بھی احتساب کرنا چاہیے کہ ہم جس مٹی کی پیداوار ہیں،اور جس ماحول میں رہتے ہیں،اس کی عکاسی میں اجتناب کیوں کریں۔وہ بیرونی علامتوں،اصطلاحات اور لفظیات کے منکر نہیں،لیکن اس پہلو پر معترض ضرور ہیں کہ ہمارا شاعر پپیہے/کوئل کی آواز اور چنپا/چنبیلی کی خوشبو کو بھول گیا۔ہزار/بلبل اور نسرین/سنبل جو کبھی نظر سے بھی نہ گزری تھیں،ان کی تعریفیں کرنے لگا۔رستم اور اسفند یار کی بہادری پر نظر ٹھہری اور ارجن کی شجاعت کا ذکر مفقود ہوا۔کوہِ الوند اور بے ستون کے آگے ہمالے کی سرسبز و شاداب پہاڑیاں اور برف سے ڈھکی چوٹیاں توجہ کا مرکز نہ بن سکیں۔جیحوںسیحوں کی روانی نے کہرام مچایا اور ان کے مقابلے گنگا جمنا کی روانی بے لطف رہی۔ہمارا شاعر ایرانی موسموں،تہواروں،رسم و رواج اور روایات کے بیان میں رطب اللسان تھا،لیکن آزاد نے پہلی بار ایوانِ شاعری میں احتجاج درج کیا کہ جس مٹی سے ہمارا خمیر اٹھا ہے،اسے نظر انداز کرنا غیر فطری ہے۔انھوں نے شعرا کا ذہن زمینی وابستگی کی طرف مائل کیا۔ان کا اعتراض بجا تھااور اس کے اثرات دوررس۔شعری وسائل اور صنعتوں کے بے جا استعمال کو وہ غیر مستحسن قرار دیتے ہیں۔ان کا خیال ہے کہ ’’بیشک مبالغے کا زور ،تشبیہ اور استعارے کا نمک زبان میں لطف اور ایک طرح کی تاثیر زیادہ کرتا ہے۔لیکن نمک اتنا ہی چاہیے کہ جتنا نمک۔نہ کہ تمام کھانا نمک۔‘‘(15)انھوں نے اردو شاعری کی ندرت اور،رفعت کا اعتراف تو کیا،لیکن حسن و عشق کے مروجہ اسالیب پر جب انھوں نے چوٹ کی تو کچھ جملے کافی سخت بھی ہوگئے۔مثلاً یہی جملہ …’’انجام یہ کہ زبان ہماری ایک دن نظم سے بالکل محروم ہوگی اور اردو میں نظم کا چراغ گل ہوگا۔‘‘(16)انگریزی کی پیروی پر زور دینے اور اس نوع کے جملوں کے نتیجے میں اس عہد کے اخبارات میں ان کے خلاف کافی کچھ لکھا گیا۔عشقیہ معاملات کے بیان پر جس طرح انھوں نے اعتراضات کئے،لوگوں کو لگا کہ وہ پوری کلاسکی شاعری پر طنز کر رہے ہیں۔معاملہ اتنا طول پکڑا کہ انھیں ایک اخبار کے مدیر کے نام خط میں وضاحت کرنی پڑی:
بیشک میری بھی یہی رائے ہے کہ بے عشق کے کلام بے مزہ رہتا ہے۔لیکن میرے تمام لیکچر میں یہ کہیں نہیں ہے کہ عاشقانہ کلام کو بالکل ترک کرنا چاہیے۔اور خود انگریزی کلام بھی عشق سے خالی نہیں۔17
کلیم الدین احمد کی اس رائے سے بات شروع ہوئی تھی کہ آزاد میں نقد کا مادہ مطلق نہ تھا۔اس جملے پر اکثر لوگ انھیں تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔ان کی یہ رائے کتنی صحیح یا کتنی غلط ہے،اس میں الجھنے سے بہتر ہے کہ اس پس منظر کو ذہن میں رکھیں جہاں سے اردو تنقید کا خمیر اٹھا ہے۔پودا، ایک دن میں درخت نہیں بن جاتا۔فصل ایک دن میں نہیں اگ آتی۔کھیت کے لہلہانے سے قبل کے مراحل پر نگاہ رکھنا بھی ضروری ہے۔تنقید کی وہ شکل جو محمد حسن عسکری،کلیم الدین احمد اور شمس الرحمن فاروقی کے ہاں ہے،اس کی بنیاد میں تذکروں کی وہ روایت بھی شامل ہے،جہاں ذوق ہی شعر کی پرکھ کا پیمانہ تھا۔آج یقینا شعر کی پرکھ کے معیار بدلے ہیں،لیکن وہ کلیتاًکہیں سے برآمد نہیں کئے گئے،اور نہ ہی یہ ممکن ہے۔اردومیں تنقیدی اصولوں کے ڈانڈے عربی فارسی شعریات میں پیوست ہیں۔نظری مباحث کے سرے بھی عرب فلسفیوں کے ہاں موجود ہیں۔افلاطون،ارسطو،لونجائنس،ہوریس،دانتے،کولرج،میتھیو آرنلڈ،کروچے،آئی۔اے۔رچرڈس،ازراپائونڈسے لے کر ٹی۔ایس۔الیٹ تک کے افکار سے ہم انگریزی ادب کے وسیلے سے بہرہ ور ہوئے۔آج ہماری تنقید جس بصیرت سے مالامال ہے،اس میں عربی فارسی شعریات کے ساتھ مغربی شعریات سے استفادہ بھی شامل ہے۔آزاد کے زمانے تک اردو میں تنقید کوئی مستقلDisciplineنہیں بنی تھی۔تبصرے/ریویواور تنقید میں کوئی فرق نہ تھا۔اصول سازی پر توجہ نہ تھی۔بین اللسانی اور بین العلومی مطالعے کا چلن نہ تھا۔آزاد نے سب سے پہلے ادبی استحکام کے لیے مشرق و مغرب کے امتزاج پر زور دیاـ:
اردو اپنی زبان ہے اور انگریزی کنجی خدا نے دی۔ہم اور ہمارے ساتھی پرانی لکیروں کے فقیر،جو کچھ کرنا تھاسو کرچکے۔نہ ان میدانوں میں اب ہم سے کچھ ہو سکے۔چقماق کے دونوں جزوں کو ٹکرائو کہ آگ نکلے۔اون اور شیشے کو رگڑو کہ ایلکٹرسٹی[الکٹرسٹی] کے فوائد حاصل ہوں۔لیکن فقط پتھر ہو،تو پتھر ہی ہے اور فقط شیشہ،ڈر کا گھر۔اپنی زبان کے زور سے اس میں اس طرح جان ڈالو کہ ہندوستانی کہیں:سودا اور میر کے زمانے نے عمر دوبارہ پائی۔اس پر انگریزی روغن چڑھاکر ایسا خوش رنگ کرو کہ انگریز کہیں:ہندوستان میں شیکسپیر کی روح نے ظہور کیا۔18
محمد حسین آزادکی دوراندیشی اس اقتباس سے ظاہر ہے۔انھوں نے کہیں بھی اپنی تحریر کو تنقید نہیں کہا۔وہ اوکسفورڈ اور کیمبرج کے تعلیم یافتہ نہ تھے،کہ وہاں کی نہج پر تنقید لکھتے۔ان کی تو زندگی ہی اتنی منتشر رہی، کہ کبھی اطمینان سے بیٹھ کر کام کرنے کا موقع نہ ملا،لیکن شعرو ادب سے شدید وابستگی ہی تھی کہ آخری بیس سالوں کی حالت ِجنون میں بھی لکھتے پڑھتے رہے۔حالی اردو کے پہلے ناقد تسلیم کیے جاتے ہیں،مگر انھوں نے بھی ان سے خاصا استفادہ کیا ہے۔کلیم الدین احمد نے صحیح کہا ہے کہ حالی کام کی باتیں کام کی زبان میں کرتے ہیں،جب کہ آزاد پرانے تذکروں کے رنگ میں ڈوب کر گل بوٹے کھلانے میں رہ گئے،اور کام کی باتیں بھی کام کی زبان میں نہ کرسکے۔بنیادی اعتراض ان کے اسلوبِ بیان پر ہے،نہ کہ ان کے افکار پر۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کے افکار پر بھی اعتراض کی گنجائشیں ہیں،لیکن ان سے ہزار اختلاف صحیح،انھوں نے جو’کام کی باتیں‘کی ہیں،ان کے اعتراف سے مفر نہیں۔ان پر جتنی تنقیدیں ہو سکتی تھیں،وہ تنہا کلیم الدین احمد نے کرلیں۔ان کے فقرے چست کرنے کے ڈھب پر انھوں نے واہ واہ کہا،لیکن اسے مغز سے خالی قرار دیا۔یہ سبھی باتیں اپنی جگہ،مگر اپنے مخصوص انداز ہی میں صحیح،انھوں نے جو نظری اساس فراہم کی،اس پر گفتگو ہونی چاہیے،کیوں کہ ان کے نظریے کی تفہیم اسی وقت ہو سکتی ہے،جب ہم ان کے متن سے براہِ راست مکالمہ کریں۔’نظم اور کلام موزوں کے باب میں خیالات‘سے مکالمے کے نتیجے میں کئی نکتے ہاتھ آتے ہیں۔پہلا سوال یہی ہے کہ شعر کیا ہے۔ہماری عروض کی کتابیں،فن شاعری کے استاد اورتذکرے یہی کہیں گے کہ شعر کلام موزوں و مقفیٰ کو کہتے ہیں،لیکن آزاد اس میں اضافہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کلام کو موزوں و مقفیٰ ہونا کافی نہیں،بلکہ اسے موثر ہونا بھی ضروری ہے۔محض منظومہ ان کے نزدیک ایسا کھانا ہے،جس میں کوئی مزانہیں۔نہ ترش،نہ شیریں۔یہاں اچھی خاصی بحث ہو سکتی ہے کہ شاعری کیا ہے،اور نظم کیا ہے۔شعر کے لیے وزن ضروری ہے یا نہیں۔قافیہ پیمائی اور تخلیقی مراقبے میں کیا فرق ہے۔تاثیر کا ہونا اگر شرط ہے تو اثر سے کیا مراد ہے۔اس کے پیمانے کیا ہوں گے…وغیرہ وغیرہ۔عروضی ساخت اور شعری بافت میں پیٹرن کے حوالے سے مناسبت ضرور ہے ،لیکن عروضی مباحث اور مطالبات کی تکمیل کا مطالعہ نقاد کے لیے جتنا اہم ہے،تخلیق کار کے لیے اتنا ہی اہم نہیں۔بہت سے اچھے شعرا عروض سے واقف ہی نہیں ہوتے۔اس لیے موزونیت کی میزان فقط فاعلاتن فاعلات ہی نہیں،بلکہ طبیعت بھی ہے۔آزاد صحیح نتیجے پر پہنچے ہیں کہ موزونیِ طبع جوہرِخداداد ہے۔ہو سکتا ہے کہ کوئی بہت بڑا عروضی ہو،لیکن وہ شاعری بھی کرلے یہ کوئی ضروری نہیں۔بعض حضرات ایسے بھی ہیں،جوموزوں شعر کو بھی ناموزوں پڑھتے ہیں۔اس لیے طبیعت کی موزونیت لازمی ہے،اور یہی آزاد کا مطمحِ نظر ہے۔
شاعری کسی تجربے کے توسط سے تخیلی پیکر تراشنے کا نام ہے۔شاعری میں موزونیت لازمہ نہیں،خاصہ ہے۔اس لیے تخلیقی عمل میں تخیل کو مرکزیت حاصل ہے۔تخیل پر حالی اور شبلی نے مفصل بحث کی ہے،لیکن آزاد کے ہاں تخیل کی تعریف کا کوئی خاص اہتمام نہیں۔انھوں نے گفتگو کے انداز میں مطالب کا جو سلسلہ چھیڑا تو بات بات میں شعر کی ماہیت سے متعلق بعض بنیادی باتوں پر اظہارِ خیال بھی کرتے گئے۔ادبی تخلیق کی بنیاد تخیل پر ہے۔تخیل(Imagination)کی بہترین تعریف کولرج نے کی ہے۔آزاد کی رسائی کولرج کے خیالات تک نہ تھی،لیکن شاعر کے فکری کینوس کو اجالنے میں انھوں نے تخیل کی اصطلاح استعمال کیے بغیر اس کی اہمیت کا احساس دلایا۔تخیل ذہن میں موجود خیالات کو مکرر ترتیب دینے کا نام ہے۔فینسی(Fancy)اس کی اہم ترین حالت ہے،جو نئی نئی اشیا میں ربط پیدا کرتی ہے۔تخلیقی عمل میں یہ تحرک کا کام کرتی ہے۔آزاد کہتے ہیں:
شاعر اگر چاہے تو اموراتِ عادیّہ کو بھی بالکل نیا کر دکھائے۔19
[شاعر]تمام عالم میں اس طرح پر حکومت کرتا ہے ۔جیسے کوئی صاحب خانہ اپنے گھر میں پھرتا ہے۔پانی میں مچھلی اور آگ میں سمندر ہوجاتا ہے۔ہوا میں طائر بلکہ آسمان پر فرشتے کی طرح نکل جاتا ہے۔جہاں کے مضامین چاہتا ہے [،]بے تکلف لیتا ہے اور بہ تصرف مالکانہ اپنے کام میں لاتا ہے۔20
اموراتِ عادیّہ یا کسی بھی تجربے کو ’بالکل نیا کر دکھانا‘ہی تخیل کی تعریف ہے،کہ یہ نقش ثانی ہے،اور افکار کے خزانے کو مکرر ترتیب و تنظیم عطا کرنے سے عبارت ہے۔پھر شاعر کے تخیلی اختیارات کی وسعت کا اقرار تخیل کے اوصاف کی توضیح پر دال ہے۔آزاد جب یہ کہتے ہیں کہ شاعر اگر چاہے تو ’’پتھر کو گویا کردے۔درختان پا در گل کو رواں کر دکھائے۔ماضی کو حال ۔حال کو استقبال کردے۔دور کو نزدیک کردے۔زمین کو آسمان۔خاک کو طلا۔اندھیرے کو اجالا کردے…زمین اور آسمان اور دونوں جہان[،]شعر کے دو مصرعوں میں ہے۔ترازو اس کی شاعر کے ہاتھ میں ہے۔جدھر چاہے جھکا دے۔‘‘(21)تو ایک طور پر وہ Fancyہی کی تعریف کرتے ہیں۔ماضی کو حال،حال کو استقبال،خاک کو طلا اور طلے کو خاک میں بدلنا، فینسی ہی کی مثالیں ہیں۔شاعری کی نظری اساس میں یہ پہلو بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے،لیکن اس کے بیان میں آزاد کے پاس تنقیدی اصطلاحات نہیں تھیں،اور یہ ان کے شعورِ نقد کے اظہاریے کی مجموعی صورتِ حال ہے۔
آزاد شاعری کو الہام تصور کرتے ہیں۔شاعری الہام ہے یا نہیں۔یہ بحث فلسفے پر قائم ہے۔جہاں محض موشگافیاں ہی کی جاسکتی ہیں۔شاعری اگر واقعی الہام ہے تو شاعر کی حیثیت محض ایک منشی کی ہوگی،کہ وہ اس شانِ نزول کو حوالۂ قلم کردے،اور بس۔شاعری میں کسب ِ فن کے لیے ریاض کی ضرورت پڑتی ہے۔شاعر اپنے شعر کو خود متعدد ،دفعہ کاٹتا چھانٹتا ہے۔اس عمل میں وہ خوب سے خوب تر کی تلاش میں سرگرداں رہتا ہے۔اس لیے شاعری الہام نہیں،کہ غیب سے اچانک نازل ہوجائے۔کائنات کے اسرار پر فکر کرنا بھی کوئی شے ہے۔البتہ یہ سچ ہے کہ شاعری کسبی نہیں،وہبی چیز ہے،اور اس سے قطعی یہ مراد نہیں کہ بغیر غور و فکر کے کسی پر اشعار اترتے ہیں۔یہ صحیح ہے کہ تخلیق ایک قسم کا مراقبہ ہے،لیکن یہاں بھی غور و فکر سے مفر نہیں۔آزاد شعر کی تعریف میں لکھتے ہیں:
شعر سے وہ کلام مراد ہے جو جوش و خروش خیالات سنجیدہ سے پیدا ہوا ہے اور اسی قوت قدسیہ الٰہی سے ایک سلسلہ خاص ہے۔خیالات پاک جوں جوں بلند ہوتے جاتے ہیں،مرتبۂ شاعری کو پہنچتے جاتے ہیں۔22
اس اقتباس کے دوسرے ٹکڑے پر اعتراضات کا دفتر کھڑا کیا جا سکتا ہے،لیکن پہلے ٹکڑے کی اہمیت اس سے کہیں زیادہ ہے۔’جوش و خروش‘اور سنجیدہ خیالات سے شعر مراد لینے میںبحث کے کئی در وا ہوتے ہیں۔حالی نے بھی’سادگی،اصلیت اور جوش‘کو اچھے شعر کا وصف بتایا۔سنجیدگی سے مراد یہی ہے کہ شاعری ایک نوع کے ضبط اور ٹھراؤ کا مطالبہ کرتی ہے،اور جوش و خروش کا مقصود لاابالی پن نہیں، کہ جو اور جس طرح جی میں آئے،باندھ دو۔یعنی بقول غالب؛ شعر قافیہ پیمائی نہیں،معنی آفرینی کا نام ہے۔معنی خیزی کے عمل میں تخلیقی ضبط/سنجیدگی کے ساتھ جوش یعنی بے ساختہ پن اور موثر پیرایے کا بھی دخل ہوتا ہے۔جوش سے حالی آمد مراد لیتے ہیں۔حاصل کلام یہ ہے کہ آزادنے شعر میں جوش و خروش کی صفت سے اپنے نظریے کو صلابت عطا کی۔محمدحسین آزاد کے مطابق شعر کو موثر،متین اور جوش و خروش سے پر ہونا چاہیے۔یہ بہت اچھی بات ہے،لیکن سب سے بڑا قضیہ ان کے نظریۂ ادب میں اخلاقیات کے تصور کا ہے۔وہ ادب پر اخلاقی قدغنیں عائدکرتے ہیں۔کہتے ہیں:
شاعر کو ایک نسبت خاص عالم بالا سے ہے۔23
فی الحقیقت شعر ایک پر تو روح القدس کااور فیضان رحمت الٰہی کا ہے۔کہ اہلِ دل کی طبیعت پر نزول کرتا ہے۔24
شاعروں کی بدزبانی و بد خیالی سے شعر بھی تہمت ِ کفر سے بدنام نہیں ہوسکتا۔در حقیقت ایسے کلام کو شعر کہنا ہی نہیں چاہیے۔25
حیرت ہوتی ہے کہ ایک طرف تو وہ گرد و نواح کے زمینی حقائق کو شعر میں سمونے کی بات کرتے ہیں،کہ ہمارا شاعر گنگا جمناکا ذکر نہیں کرتا۔ہمالے کی بلندی اور ارجن کی شجاعت اسے متاثر نہیں کرتی،اور دوسری طرف اسے ’عالم بالا‘میں پہنچا کر دوسری ہی دنیا کا مخلوق گردانتے ہیں۔یہ بھی فرماتے ہیں کہ برے خیالات کا اظہاریہ شعر ہو ہی نہیں سکتا۔خیالات کا اچھا یا برا ہونا اپنی جگہ،لیکن کوئی خیال مضمون بن کر جب شعر میں آتا ہے تو خواہ وہ برا ہی صحیح،فنی عناصر اس کے معیار کو طے کرتے ہیں۔تخلیق کو اخلاق سے سبق لینے کی ضرورت نہیں۔پھر نیک خیال اور بد خیال کیا ہے۔خیالات کا رشتہ براہِ راست معنی سے ہے،اور شعروادب میں معنی کو کسی مخصوص عینک سے دیکھنا مناسب نہیں۔یہاں ترسیل کے ہمراہ اپنے اپنے طور پر تفہیم کی بھی آزادی ہے۔مسئلہ کسی خیال کے پاک یا ناپاک ہونے کا نہیں،بلکہ اصل معاملہ تخلیقی برتاؤ کا ہے،کہ کس طرح کوئی خیال تخلیقی بنت کا حصہ بنتا ہے اور اس کی ترسیل/تفہیم کے معائر کیا ہیں۔ترسیل میں تخلیقی عناصرسے جوجھنا پڑتا ہے اور یہ عناصر معنی کو انگیز کرتے ہیں۔خیال کا حسن معنی میں ہے،اور معنی کا حسن تجرید میں۔آزاد نے یہ کہہ کر اہم نکتے کو پالیا ہے کہ شاعر معنی کی تصویر دل پر کھینچتا ہے۔(26)’معنی‘کیفیت کا نام ہے اور ’دل‘سے اشارہ اثر پذیری کی طرف ہے۔
لفظ و معنی کی بحث کا سرا قدیم عربی شعریات کی طرف منتقل ہوتا ہے۔جاحظ،عبدالقاہرجرجانی،ابن رشیق قیروانی وغیرہ نے لفظ و معنی کے ا ختصاص اور منازل کی تعین میں فکر ِبلیغ سے کام لیتے ہوئے متن/لفظ اور معنی کے رشتے پر مبسوط ڈسکورس قائم کیا ہے۔آزاد کو عربی فارسی شعریات کا عمیق درک تھا۔فکر ِآزاد کی تشکیل میں یہ عناصر جز و لا ینفک ہیں۔ان کی تنقید کا ڈھانچہ لفظ و معنی کے مروجہ اسالیب میں حسن و قبح کی تلاش سے عبارت ہے۔معاصر ادبی تنقید میں لسان کو مرکز میں رکھا گیا ہے۔اس تنقیدی تھیوری کے نظامِ کلام(Discourse)میں دریدا(Jacques Derrida) ،اور سوسیور(Ferdinand de Saussure) کے نظریات پر ادراکِ معنی کی کوششیں نمایاں ہیں۔معنی تک رسائی کے پیمانے ہر عہد میں نامیاتی رہے ہیں۔معنی کے سیاق کی جڑیں دور تک پھیلی ہوتی ہیں۔اس لیے شاعر اگر معنی کی تصویر کھینچتا ہے ،تو اس تصویر میں جو سیاق خلق ہوگا،اس کی اساس جدلیاتی ہوگی۔آزاد نے اپنے فکری اور معاشرتی حدود میں شاعری کی تفہیم کے لیے بعض اہم نکتوں کی طرف اشارہ کر دیا ہے،جن پر آئندہ بھی بحثیں ہوتی رہیں گی۔مثلاً ان کا یہی جملہ ،کہ ’’شاعرگویا ایک مصور ہے۔‘‘(27)مصور کا کام تصویریں بنانا ہے۔وہ تصور سے کام لیتا ہے۔تصور اور تخیل میں فرق ہے۔تصورMimesisہے،جب کہ تخیلImagination۔یہاں ذہن افلاطون اور ارسطو کی جانب بھی جاتا ہے۔تصور یعنی نظریۂ نقل(Mimesis)کی بحث بہت قدیم ہے۔ارسطو نے نقل کو ترجمانی کا نام دیا۔تصور ادراک کی منزل ہے،تخیل اس سے بہت آگے کی شے ہے۔شاعری مصوری یا نقل نہیں،تخیلی تجربہ ہے،اپنی وسعت میں بے کنار۔آزاد کے زمانے میں یہ نکتے صاف نہ تھے۔ان کے ہاں تخیل اور تصور ایک ہی چیز کا نام تھا۔آزاد قوتِ واہمہ(Fancy)کی اصطلاح استعمال کیے بغیر اس کی تعریف کرتے ہیں،کیوں کہ ان کے ہاں نظریے کی منطقی تنظیم اس طور پر متشکل نہیں ہوئی تھی،جس طرح آج کے ناقدین کے ہاں ہے،اس لیے ان کی فکریات اور نظری اساس کو ابوالکلام قاسمی کے الفاظ میں اردو تنقید کی شیرازہ بندی کی اولین کوشش کہنا،بالکل بجا ہے۔(28)
٭٭٭
حواشی:
(1)کلیم الدین احمد،اردو تنقید پر ایک نظر،1983،سبزی باغ،پٹنہ:بک امپوریم،ص:57
(2)ایضاً،ص:107
(3)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:4
(4)محمدحسین آزاد،کائنات عرب،1922،لاہور:آزاد بک ڈپو،ص:6
(5)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:14
(6)ایضاً،ص:15-16
(7)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:6
(8)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:15
(9)اسلم فرخی،محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف(حصہ دوم)،1965،کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:348
(10)ایضاً
(11)مالک رام،تعارف،مشمولہ:نیرنگ خیال/محمدحسین آزاد،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:6
(12)گورنمنٹ کالج لاہور کی تاریخ سے اقتباس،مشمولہ:محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف/اسلم فرخی(حصہ دوم)،1965،
کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:348
(13)اسلم فرخی،محمد حسین آزاد:حیات اور تصانیف(حصہ دوم)،1965،کراچی،پاکستان:انجمن ترقی اردو،ص:93
(14)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:15
(15)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:3
(16)ایضاً،ص:6
(17)محمدحسین آزاد،مکاتیب آزاد،مرتبہ:فاضل لکھنوی،1966،لاہور،پاکستان:مجلس ترقی ادب،ص:84
(18)محمدحسین آزاد،نیرنگ خیال(اول و دوم)،1970،دہلی:مکتبہ جامعہ لمیٹڈ،ص:27
(19)محمدحسین آزاد،نظم آزاد،1899،لاہور:مفیدعام پریس،ص:2
(20)ایضاً،ص ص:3-4
(21)ایضاً،ص ص:2-3
(22)ایضاً،ص:8
(23)ایضاً،ص:2
(24)ایضاً،ص:3
(25)ایضاً
(26)ایضاً،ص:8
(27)ایضاً،ص:2
(28)ابوالکلام قاسمی،مشرقی شعریات اور اردو تنقید کی روایت،2002،نئی دہلی:قومی کونسل براے فروغ اردو زبان،ص:235
( بحوالہ سہ ماہی ’’اردو چینل‘‘ شمارہ نمبر 29، بابت جلد ۱۳، شمارہ ۲ ، اگست ۲۰۱۱)

Surendra Parkash ki Afsana Nigari

Articles

سریندر پرکاش کی افسانہ نگاری

گوپی چند نارنگ

آزادی کے بعد ہندوستان میں اردو افسانے کے کئی رجحان سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے جو رجحان بنیادی نوعیت کے ہیں وہ چار ہیں۔ پہلا رجحان تقسیم کے المیے کو پیش کرنے کا ہے۔ اس ذیل میں اس طرح کے افسانے آتے ہیں۔ ایک تو وہ جن کی نوعیت ہنگامی تھی اور جو فسادات کو براہ راست موضوع بنا کر لکھے گئے تھے۔ دوسرے وہ جو تہذیبی سطح پر تقسیم کے المیے کو پیش کرتے ہیں۔ اس رجحان کے بہترین علم بردارہندوستان میں قرۃ العین حیدر اور پاکستان میں انتظار حسین ہیں۔ دونوں کے نقطۂ نظرتکنیک اور کینوس میں بڑا فرق ہے، لیکن دونوں کے ایسے افسانوں کا محرک بعض محبوب تہذیبی قدروں کا زوال ہے۔ دوسرا رجحان زندگی کی جامعیت اور اس کے نارمل حسن کو اس کی سیاہی اور سفیدی کے ساتھ پیش کرنے کا ہے۔ اس رنگ کے امام راجندر سنگھ بیدی ہیں۔ نئی نسل کے بیشتر لکھنے والے بھی زندگی کی ہمہ پہلو ترجمانی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ان میں سے کسی میں بیدی والی بات نہیں۔ البتہ یہ لوگ اس لحاظ سے پچھلے افسانہ نگاروں سے مختلف ہیں کہ ان میں سے بیشتر کسی طرح کی نظریاتی وابستگی قبول نہیں کرتے اور ’’سوچے سمجھے نتائج‘‘ کی فارمولا کہانی سے بچتے ہیں۔ ان کے ہاں بنیادی اہمیت فرد کو حاصل ہے، اور بجائے ٹائپ، کردار پر زور ملتا ہے۔ یہ زندگی کے حقیقی خدوخال کو پہچاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایسے افسانہ نگاروں میں رام لال،جوگندرپال،شرون کمار درما، اقبال متین، ستیش بترا، قیصر تمکین، رتن سنگھ، اقبال مجید، امرسنگھ کے افسانے یا اتر پردیش کے قصباتی تمدن سے متعلق قاضی عبدالستار کے افسانے۔ دوسری طرف وہ افسانے ہیں جن میں کسی علاقے کی گھریلو زندگی کی ترجمانی کی گئی ہے، مثال کے طور پر جیلانی بانو، واجدہ تبسم، یا آمنہ ابو الحسن کے افسانے۔ چوتھا بنیادی رجحان تجریدی اور علامتی افسانے کا ہے۔ اس قسم کا افسانہ آزادی سے پہلے کے افسانہ نگاروں کے ہاں بھی ملتا ہے، مثلاً کرشن چندر کا ’’غالیچہ‘‘، ’’چوراہے کا کواں‘‘، ’’جہاں ہوا نہ تھی‘‘ اور ’’چھڑی‘‘ احمد ندیم قاسمی کا ’’سلطان‘‘ اور ’’وحشی‘‘ اور ممتاز شیریں کا ’’میگھ ملہار‘‘۔ احمد علی کے بعض افسانے بھی تجریدی افسانوں کی ذیل میں آتے ہیں۔ لیکن ادھر نئی نسل کے بعض افسانہ کے نگاروں نے اسے ایک رجحان کی حیثیت سے اپنایا ہے۔ زیر نظر مضمون میں ہندوستان میں اردو افسانہ کے اسی جدید رجحان سے بحث کی جائے گی۔ ایسے افسانوں میں اشاریت اور علامتیت کو باقاعدہ فن کی حیثیت سے برتا جاتا ہے۔ وزیر آغا نے ایک جگہ صحیح لکھا ہے۔ ’’اشاراتی عنصر تمام اصناف ادب میں اہمیت حاصل کر رہا ہے اور افسانے نے بھی اسے اپنے دامن میں جگہ دی ہے۔ دراصل تہذیبی ارتقا کے ساتھ ساتھ فرد کی تیز نگاہی بھی پروان چڑھ رہی ہے۔ اب وہ پلک جھپکتے میں بات کی گہرائی تک پہنچ جاتا ہے اور اس لیے واشگاف انداز کا کچھ زیادہ دلدادہ نہیں رہا۔‘‘ سیدھے سادے روایتی افسانے کے مقابلے میں علامتی افسانہ کچھ غیر مرئی سا ہوتا ہے۔ اس میں ٹھوس ہونے کی وہ کیفیت نہیں پائی جاتی جو منطقی افسانے کی خصوصیت ہے۔ اس میں زماں اور مکاں کا واقعیاتی احساس بھی نہیں ملتا بلکہ زماں اور مکاں دونوں ذہنی تجرید کی سطح پر واقع ہوتے ہیں اور ان میں اچانک تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ علامتی افسانے میں ٹھوس کرداروں کا کام تمثیلوں اور علامتوں سے لیا جاتا ہے جیسا کہ آگے چل کر وضاحت کی جائے گی۔ علامتیں ایک طرح کے وسیع استعارے میں جن کے شعوری اور نیم شعوری رشتوں کو ابھار کر افسانہ نگار معنوی تہہ داری پیدا کر دیتا ہے۔ علامتوں کے حسی پیکر ہوتے ہیں، لیکن بعض علامتوں سے افسانہ نگار فضا آفرینی کا یا محض خاص طرح کے تاثر ابھارنے کام لیتا ہے۔ ایسے افسانے کا کمال یہ ہے کہ وہ لغوی اور علامتی دونوں سطحوں پر پڑھا جا سکے۔ بعض افسانوں میں خاص لفظوں کا استعمال ایسی معنوی وسعت اختیار کر لیتا ہے کہ ان میں علامتی افسانہ کی شان ازخود پیدا ہو جاتی ہے۔ احمد ندیم قاسمی کا افسانہ ’’سلطان‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ تجریدی افسانہ ہمارے افسانے کے اس سفر کی نشاندہی کرتا ہے جس کا رخ خارج سے داخل کی طرف ہے۔ یہ انسان کے ذہنی مسائل، اس کے کرب اور حقیقت کے عرفان کی تلاش کا اظہار ہے۔ صرف فکر یا ذہنی سوچ کی سطح پر ۔ افسانہ علامتی ہو یا تجریدی، اس میں لغوی معنی صرف ایک طرح کا اشارہ کردیتے ہیں۔ باقی کام پڑھنے والے کی ذہنی استعداد کا ہے۔ در اصل لفظوں کے ظاہری،منطقی اور لغوی معنی کے علاوہ اور معنویت بھی ہو سکتے ہیں۔ ایسے افسانوں کا مطالعہ کرتے وقت اگر یہ بات نظر میں رہے تو ان سے لطف اندوز ہونا چنداں مشکل نہیں۔ پاکستان میں اس رجحان کے نمائندہ افسانہ نگار مندرجہ ذیل ہیں:
انتظار حسین (آخری آدمی) عبداللہ حسین (جلاوطن) ،خالدہ اصغر (ایک بوند لہو کی، سواری، بے نام کہانی)، انور سجاد (مرگی، چوراہاکونپل،گائے، پرندے کی کہانی) اور غلام الثقلین (لمحے کی موت، وہ ،سرگوشی) ہندوستان میں اس کو آگے بڑھانے والوں میں دیوندرا سر، سریندر پرکاش، بلراج مین را، کمار پاشی، احمد ہمیش اور عوض سعید کے نام خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔ یہاں اس رجحان سے مزید بحث کرنے کے لیے صرف سریندر پرکاش کو لیا جائے گا، اس لیے نہیں کہ ان کا افسانہ بہترین ہے بلکہ اس لیے کہ اس سے اس رجحان کے سمجھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ یہاں یہ بتانے کی کوشش کی جائے گی کہ تجزیاتی طور پرافسانے کا ڈھانچا کیا ہے۔ اس میں علامتیں اور ذہن واحساس کی رو کس طرح کام کرتی ہے اور کیا اس میں کسی طرح کی کوئی معنوی تہہ داری ہے یا نہیں؟ جدید ادب پر تنقید کرتے ہوئے میرا مسلک کچھ ایسا ہے کہ اس طرح کے تجزیے کے بعد ہی ہم کو یہ حق پہنچتا ہے کہ ہم نئے رجحانات کے بارے میں کوئی حکم لگا سکیں۔
سریندر پرکاش کے افسانے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کا شمار اردو کے اہم علامتی افسانوں میں کیا جا سکتا ہے۔ دوسرے افسانوں کی طرح اس کی بھی تلخیص ممکن نہیں، لیکن اگر ایسی کوئی ناکام کوشش کی جائے تو وہ کچھ اس طرح کی ہوگی: سمندر اور میدان سے گزرنے کے بعد وہ وادی میں اتر گیا۔ دوسرے تھوتھنیا اٹھائے اس کی طرف دیکھ رہے تھے اور ان کی گردنوں میں بندھی ہوئی گھنٹیاں الوداع الوداع کہہ رہی تھیں۔ وادی میں سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی چڑھ رہا تھا۔ گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر چکنی سڑکوں سے گزرتے ہوئے وہ ایک کشادہ مکان کے پھاٹک پر رکا۔ خاموشی میں اس کی آواز گونجی۔ ولندیزی دروازے نے باہیں پھیلا کر خیر مقدم کیا۔ ڈرائنگ روم کی آرائش سے اس نے اندازہ کیا کہ یہاں کارہنے والا خوش سلیقہ آدمی ہوگا اور دونوں گرم جوشی سے ملیں گے۔اس نے گل دان کو چھوا اور اپنی انگلیوں پر اس کی خنکی محسوس کی اور آتش دان کے سیاہ مرمر کی دھاریوں کے صحرا میں خود کو ڈھونڈنے لگا۔ ایک تصویر اس کا ہاتھ لگنے سے گر گئی۔ اس میں ایک آدمی گود میں ایک ننھی سی بچی کو اٹھائے ایک عورت کے ساتھ بیٹھا مسکرا رہا تھا۔ اسے یاد آیا کہ یہ تصویر کبھی کھنچوائی تھی۔ بر آمدے سے کسی کے لاٹھی ٹیک کر چلنے کی آواز آرہی تھی، مسلسل، باقاعدہ۔ اس نے محسوس کیا کہ یہ سمندر کنارے کا کوئی شہر ہے اور باہر برف گررہی ہے، لیکن کھڑکی سے ہاتھ باہر نکالا تو برف نہیں تھی۔ وہ تنہائی محسوس کرتے ہوئے غمزدہ سا ہوگیا۔ اتنے میں اس کے ذہن سے ایک سانپ نکلا اور اپنی تیز تڑپتی ہوئی سرخ زبان نکالے ہوئے بیڈروم میں چلا گیا۔ یہاں ایک عورت نے انگڑائی لی اور ایک بچی کھیلتی ہوئی نظر آئی۔ لاٹھی ٹیکنے کی آواز پھر آنے لگی۔ برآمدے میں ایک اندھا آدمی لاٹھی کے سہارے چل رہا تھا۔ اس نے اسے روکنا چاہا لیکن وہ برآمدے کے موڑ سے گزرگیا۔ اس نے سوچا کاش ڈرائنگ روم کی سب چیزیں اس کی ہوتیں۔ لیکن اس کا وجود اسے قالین پر اوندھا پڑا ہوا محسوس ہوا اور وہ رونے لگا، لاٹھی کی آواز پھر آئی۔ اس نے بوڑھے کو لپک کر پکڑنے کی پھر کوشش کی، لیکن ناکام رہا۔ برآمدے کے پاس کانسے میں ڈھلا ہوا ایک بوڑھا بیٹھا ناریل پی رہا تھا۔ اس نے چاہا وہ بھی اسی کی طرح اطمینان سے بیٹھ کر تمباکو کو پیتا رہے، لیکن جواب ملا کہ کانسے میں ڈھلنا پڑے گا۔ وہ سوچنے لگا کہ ایک بپھرے ہوئے سمندر، ریت اڑاتے ہوئے صحرا اور برف باری کے طوفان میں اکیلا انسان کیا کر سکتا ہے؟ وہ دل ہی دل میں اس چیز کو گالی دینے لگا جو یہ سب سوچتی ہے لیکن نظر نہیں آتی۔ وہ ابھی خوش سلیقہ آدمی سے ملاقات کے انتظار میں تھا کہ آواز آئی، چلو اب دیر ہو رہی ہے۔ وہ ڈرائنگ روم کی چیزوں کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھنے لگا۔ آواز پھر آئی۔ یہ سب تمہارا ہی تو تھا مگر اب مہلت نہیں۔ وہ کسی انجانی چیز کے کھو جانے کے احساس سے پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔ بے بس ہو کر اس نے کہنا چاہا: اگر کبھی کوئی کمزور، بے سہارا کشتی ساحل سے آلگے تو سمجھ جانا کہ وہ میں ہوں۔
کہانی کے پہلے ہی پیرا گراف میں ہمیں ایک قافلہ دکھائی دیتا ہے:
’’سمندر پھلانگ کر ہم نے جب میدان عبور کیے تو دیکھا کہ پگڈنڈیاںہاتھ کی انگلیوں کی طرح پہاڑوں پر پھیل گئیں۔ میں اک ذرا، رکا اور ان پر نظر ڈالی جو بوجھل سر جھکائے ایک دوسرے کے پیچھے چلے جارہے تھے۔ میں بے پناہ اپنائیت کے احساس سے بھر گیا تب علاحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک بے نام کسک کی صورت اختیار کی اور میں انتہائی غمزدہ، سرجھکائے وادی میں اتر گیا۔ جب میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو وہ سب تھوتھنیاں اٹھائے میری طرف دیکھ رہے تھے۔ بار بار سر ہلا کر وہ اپنی رفاقت کا اظہار کرتے اور ان کی گردنوں میں بندھی ہوئی دھات کی گھنٹیاں ’’الوداع‘الوداع‘‘ پکار رہی تھیں اور ان کی بڑی بڑی سیاہ آنکھوں کے کونوں پر آنسو موتیوں کی طرح چمکے رہے تھے۔‘‘
سمندر ،میدان، پگڈنڈیاں ان سب کے ایک ساتھ سامنے آنے سے ذہن کسی طرح کے سفر کی طرف جاتا ہے۔ شاید وہ سفر جو قدیم سے جدید کی طرف رہا ہے یا لوک کلچر سے آج کے صنعتی کلچر کی طرف رہا ہے۔ پہلے انسان سب کے ساتھ تھا اور اپنائیت کے احساس سے سرشار تھا۔ لیکن جدید کی ’’وادی‘‘ میں اترتے ہوئے علاحدگی کے بے نام جذبے نے ذہن میں ایک کسک کی صورت اختیار کی اور وہ انتہائی غمزدہ ہو گیا۔‘‘ افسانہ کی معنوی کلید اسی پہلے پیرا گراف میں موجود ہے۔ فوراً بعد دوسرے پیراگراف میں تھوتھنیوں اور گھنٹیوں سے ذہن جانور کی طرف یا غیر متمدن انسان یا بنیادی انسان کے Archetypeکی طرف جاتا ہے جواب وقت کی فصیل کے اس پاررہ گیا تھا۔ وادی میں نئے راستوں پر چلتے ہوئے اس کے ’’دل میں رہ رہ کے امنگ سی پیدا ہوتی‘‘ ہے‘ آگے بڑھنے کی‘نئی مسافت طے کرنے کی یا کچھ پانے کی۔ سامنے سائنسی، صنعتی یا تہذیبی ارتقا کا ’’سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی سیڑھی چڑھ رہا تھا۔‘‘ قدیم کی ’’گرد آلود پگڈنڈیاں‘‘ پیچھے رہ گئیں اور وہ جدید کی ’’صاف شفاف‘ چکنی سڑکوں‘‘ پر چلنے لگا۔ ملاحظہ فرمائیے پگڈنڈی کے مقابلے پر صاف شفاف چکنی سڑک ذہن کو موجودہ دور کی ظاہری چمک دمک اور بے حسی سے کس قدر نزدیک لے آتی ہے۔ انسان کی معصومیت اور اپنائیت کی مسرت کا دن ڈھل رہا تھا اور شام ہوتے ہوتے وہ ایک مکان میں داخل ہوا۔ شام اداسی یا غم کا استعارہ ہے۔ اس سے مراد جدائی کا آغاز بھی ہوسکتا ہے اور مشینی ترقی کے تاریک دور کی ابتدا بھی۔ خاموشی میں انسان کو یوں محسوس ہوا جیسے کوئی پکار رہا ہے۔ یہ گویا اشارہ ہے اس کے پچھڑ کر تنہارہ جانے کی طرف۔ مغربی طرز کا ولندیزی دروازہ باہیں پھیلا کر اس کا خیر مقدم کرتا ہے۔ مکان میں پرانے انداز کے آریائی جھروکوں جیسی کھڑکیاں ہیں، لیکن ان پر گزرے ہوئے وقت کے بھاری پردے پڑے ہوئے ہیں۔ یہاں لفظوں کی معنوی چکاچوند میں جو کچھ سامنے آتا ہے، ان سب پر نظر رہنی چاہیے۔ اگر قاری محض لغوی معنی سے چپکا رہے گا تو افسانے سے لطف اندوز نہیں ہوسکتا۔ کھڑکیاں بھی ہیں، جھروکے بھی، پرانے تمدن کی نشانیاں بھی اور تاریخ کا تسلسل بھی‘ نیز یہ بھی نظر میں رہے کہ شاید ماضی کی روشنی بھاری پردوں کے ادھر رہ گئی ہے اور مستقبل کی کرنیں بھی حال تک نہیں پہنچ سکتیں۔ ڈارئنگ روم کی آرائش دیکھ کر معاً ذہن انسان کی صنعتی ترقی اور مادی آسائش یا آرام پسندی کی طرف جاتا ہے۔ یہاں افسانہ نگار نے کہا ہے:
’’آتش دان میں آگ بچھ چکی تھی۔‘‘ اس سے مراد قدروں کا زوال اور یقین کا فقدان بھی ہو سکتا ہے۔ اس طرح جدید انسان کی ذہنی افسردگی کو ایک بار پھر ابھارا گیا ہے۔ سمندر اور میدان یعنی فطرت کے بے پایاں حسن کی جگہ اب دھات کے گلدان یعنی بے حسی نے لے لی ہے۔ پہلے انسان کو فطرت سے ہم کلامی کا شرف حاصل تھا لیکن اب گلدان کا اپنا ’’الگ وجود‘‘ ہے۔ اس کے چھونے سے انگلیوں پر سوائے ’’خنکی‘ کے کچھ اور محسوس نہیں ہوتا۔ علامتوں کا جو نظام سامنے آچکا ہے اس کی روشنی میں دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہاں اشارہ فطرت کے تجارتی قدر بن جانے یا صنعتی کلچر کے بے جان اور بے حس ہونے کی طرف کیا گیا ہے۔
آتش دان کے سیاہ مرمر کی سفید دھاریوں کو صحرا کہا ہے، خالی، اداس اور خاموش! شاید یہ جدید دور کی بے شخصیت آبادیاں ہیں، جن میں دور دور تک مسرت کے نخلستان کا نشان نہیں۔ اگر چہ انسان اس میں خود کو پانا چاہتا ہے لیکن ہوس کی ’’ریت کے جھکڑ‘‘ کے اندر گم ہو کر رہ گیا ہے۔
عورت مرد اور بچی کی تصویر سے ذہن خاندانی وابستگی اور ملی جلی مسرتوں کی طرف جاتا ہے۔ اس کی مسکراہٹ ماضی میں ممکن تھی، اب نہیں۔ کیوں؟ شاید اس لیے کہ شخصیت کے زوال اور اپنائیت کے احساس کے فنا ہوجانے سے انسان اپنی مسکراہٹ پر بھی قادر نہیں رہے۔ بر آمدے میں لاٹھی ٹیک کر چلنے والا آدمی کون ہے؟ اس کی رفتار میں باقاعد گی ہے۔ یہ آرہا ہے، جارہا ہے، لیکن کبھی ہاتھ نہیں آتاکہیں یہ ’’ وقت‘‘ تو نہیں، جس کو کوئی روک نہیں سکتا ٹک ٹک گھڑی کے پنڈولم کی طرح اس کی رفتار میں باقاعدگی ہے، اور یہ ہمیشہ حرکت میں ہے۔ یہ صنعتی اور میکا نکی انسان بھی ہوسکتا ہے جو پوری طرح ’’وقت‘‘ کے قابو میں ہے۔ یہ اندھا ہے۔ نیز جدید انسان بھی تجارتی اقدار کے حصول کی دوڑ میں اندھا ہورہا ہے۔ لاٹھی سے مراد صنعتی دوڑ میں مادی آسائشوں کا وہ سہارا بھی ہو سکتا ہے جن کے بغیر انسان ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتا ۔ لاٹھی کی آواز کی باقاعدگی موجودہ تہذیب کی میکا نیکیت اور اکتا دینے والی یکسانیت کو بھی ظاہر کرتی ہے اور وقت کی رفتار اور تسلسل کی مظہر بھی ہے۔ اس کے بعد افسانہ میں سمندر اور برف کا ذکر ہے۔ بپھرا ہوا سمندر مشینی تہذیب کا پھیلائو ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں برف اس تہذیب کی سرد مہری کی علامت ہوگی۔ سرخ زبان والا سانپ جو انسان کے ذہن سے پھن اٹھا کر نکلتا ہے۔ مرد کے خانگی خوف یا جنس کا استعارہ ہو سکتا ہے۔ افسانہ نگار نے اس کے فوراً بعد عورت اور بچی کا ذکر کیا ہے جس سے سانپ کی علامت اپنے تمام امکانات کے ساتھ سامنے آجاتی ہے۔ لاٹھی کے سہارے چلنے والے انسان کے معمولات بندھے ہوئے ہیں اور وہ گھڑی کے پنڈولم کی طرح بے بس آگے پیچھے حرکت کرتا رہتا ہے۔ دوسرا اس انسان سے ملنا چاہتا ہے۔ کمرے کی حسین چیزوں کو اپنانا چاہتا ہے اور عورت اور بچی کے اپنائیت کے احساس سے سرشار ہونا چاہتا ہے، لیکن کسی بات میں اسے کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور وہ تنہا اور خالی خالی محسوس کرتا ہے۔ یہ پرانی اور نئی تہذیبوں کا ٹکرائو ہے۔
کانسے میں ڈھلا ہوا انسان اطمینان سے تمبا کو پی رہا ہے، یہ گویا علامت ہے ماضی میں زندہ رہنے کی یا بے حس ہونے کی۔ یعنی اس دور میں فراغت سے وہی ہے جس کا احساس بیدار نہیں یا جو صرف سانس لینے پر قانع ہے۔
اس مقام پر کہانی کے یہ جملے خاصے اہم ہیں:
’’ایک بپھرا ہوا سمندر، ایک ریت اڑاتا ہوا صحرا اور ایک برف کا طوفان اور میں اکیلا آدمی! میں کیا کچھ کرلوں گا؟میں دل ہی دل میں اس چیز کو گالی دیتا ہوں جو یہ سب کچھ سوچتی ہے مگر نظر نہیں آتی اور مجھ نحیف، کمزور بے سہارا کو بھٹکاتی پھرتی ہے۔‘‘
جو سب کچھ سوچتی ہے، لیکن نظر نہیں آتی۔ شاید انسان کا ذہن ہے۔ تجزیے کی اس منزل پر پہنچنے کے بعد علامتوں کے نظام کے بارے میں اس وضاحت کی ضرورت باقی نہیں رہتی کہ ڈرائنگ روم ہمارا جدید معاشرہ ہے۔ سمندر، میدان اور وادی سے گزر کر آنے والا شخص عہدِآفرینش کا انسان ہے اور جس انسان سے اس کی ملاقات نہیں ہو پاتی وہ وقت ہے یا صنعتی دور کا بے شخصیت انسان ہے جس کا وجود میکانکیت کی نذر ہو چکا ہے۔ کہانی عہدِآفرینش کے انسان کی اپنائیت،رفاقت اور معصومیت کے احساس سے شروع ہوتی ہے، صنعتی دور کے اثر سے پیدا ہونے والی ذہنی علیحدگی (Alienation) کی مختلف کیفیتوں کو ابھارتی ہے اور اپنائیت کے فقدان کے المیہ کو نقطۂ عروج پر پہنچا کر ختم ہو جاتی ہے۔ عہد آفرینش کے انسان کو جو بجائے خود اپنائیت اور رفاقت کی علامت ہے، ڈرائنگ روم یعنی جدید معاشرے سے رخصت ہونا پڑتا ہے تو وہ قالین یعنی دھرتی کو ایک نظر دیکھتا ہے اور اسے اپنی بانہوں میں بھرلینے کی کوشش کرتا ہے۔ معاشرہ اس کا اپنا ہے لیکن علیحدگی کے جذبے کی وجہ سے اسے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کہا ہے۔ آخر میں یہ کہہ کر کہ ’’اگر کوئی کمزور ،نحیف،بے سہارا کشتی ساحل سے آکر لگے تو سمجھ جانا کہ وہ میں ہوں‘‘ اس تمنا کا اظہار کیا گیا ہے کہ شاید کبھی اپنائیت کو اپنا کھویا ہوا قالب پھر مل جائے۔
سریندر پرکاش نے جدید انسان کے ذہنی مسائل کو اپنا نشانہ بنایا ہے۔ اس کی کہانیاں زبان و بیان کے ایجاز اور تہ در تہ علامتوں کی معنویت کی وجہ سے ممتاز ہیں۔ وہ بظاہر نہایت سادہ زبان استعمال کرتاہے جیسے کوئی روانی سے بے تکلف لکھے چلا جاتا ہو، لیکن ہر سطر گہرے غوروفکر کا نتیجہ ہوتی ہے اور چندہی جملوں کے بعد احساس ہونے لگتا ہے کہ پڑھنے والے کو ذہنی چیلنج کا سامنا ہے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں کا تانا بانا خواب اور بیداری کے بیچ کی کیفیتوںسے تیار ہوتا ہے۔ اس لیے اکثر چیزیں اپنی روایتی طور سے ہٹ کر سامنے آتی ہیں اور پڑھنے والا چونک چونک اٹھتا ہے۔ نیم شعوری اور تحت الشعوری کیفیتوں کے امتزاج سے جا بجا تحیر کے چھینٹے بھی ملتے ہیں جو کہانی کی دلچسپی بنائے رکھتے ہیں۔سریندر پرکاش کے افسانوں میں لفظوں کے لغوی اور منطقی معنوں کے پیچھے ایک اور جہانِ معنی آباد نظر آتا ہے۔ وہ استعاروں کے جال سے علامتی معنوں کی ایک وسیع اور روشن فضا قائم کردیتا ہے۔ اس کی ذہنی پر چھائیاں اجلی ،نمایاںاور متحرک ہوتی ہیں اور واقعات کا ایک دریا سا اپنے حسی اور فکری اتار چڑھائو کے ساتھ سامنے آتا ہے۔ لغوی معنی سے پرے دیکھ سکنے والوں کے لیے سریندر پرکاش کے افسانوں میں داستان کی سی واقعیت ہے اور قصے کی سی کشش! لیکن وہ لوگ جو رسمی معنی میں ابلاغ کا ماتم کرتے رہتے ہیں، ان کے بارے میں سوائے اس کے اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ انھیں تخیلی نارسائی کا شکریہ ادا کرنا چاہیے۔
٭٭٭

Aesthetic of Absurd: Miraji by Moid Rasheedi

Articles

ابہام کی جمالیات : میراجی

معید رشیدی


[شعر خوب معنی ندارد…بیدلؔ]

شعری دھند میں لپٹی ہوئی دوآوازیں ہیں…میرجی اورمیراجی۔دوسایے ہیں جو ہمارے تعاقب میں ہیں اور ہم ان کے تعاقب میں۔داستان رات اور سایے کی ہے۔رات انسان کی پہلی شناخت ہے۔سایہ آدمی کا پہلاہمزاد ہے۔سایے کی رات کتھادھند کے خمیر سے پھوٹی ہے۔یہ زمین بنجرہے!۔یہاں سوال اگتے ہیں:
جانے کس پاتال سے آئے
دھندلی رات کے دکھیا سائے
پاتال،رات اور سایہ…تینوں علامتیں ہیں۔معنوی اعتبارسے نہایت دبیز۔ان کی وجودی تعبیرمعنی کو وہ سمت عطاکرتی ہے جہاں لفظ’گنجینۂ معنی کاطلسم‘بن جاتاہے۔اس شعر کے توسط سے جب ہم نے میراجی کو سمجھنا شروع کیاتومحسوس ہواکہ یہ شخص دیوانہ ہے۔سوالات بہت کرتاہے،اورسوالات بھی ایسے کہ اس کے ہر سوال میں سوالوں کی ایک دنیاآباد ہے۔دھندلی رات کادکھیاسایہ دھرتی کے پاتال تک پہنچنے کی کوشش میں ماراماراپھرتاہے:
نگری نگری پھرامسافرگھرکارستہ بھول گیا
کیاہے تیراکیاہے میرااپناپرایابھول گیا
آوارگی ابہام کاچہراہے۔دھندلی رات کے دکھیاسایے نے ابہام کی چادر اوڑھ لی ہے۔ابہام کیاہے؟یہ کوئی صنعت نہیں۔ہرلفظ اس وقت تک مبہم اوربے معنی ہے جب تک ہم اسے مفروضوں کے ذریعے بامعنی نہ بنائیں۔ابہام لفظ کے خمیر میں ہے۔یہ مانوس و نامانوس کاایک سلسلہ ہے جس میں شاعر زندگی کے تجربوں کواجنبیاتاہے۔ابہام معنی کے طرفوں کوکھولنے کے لیے متن کی قرأت کاطریقہ بھی فراہم کرتاہے۔یہ طریقہ سوال سے شروع ہوکر سوال ہی پر ختم ہوجاتاہے۔ابہام کے پاتال میں چھپی زندگی خود سب سے بڑاسوال ہے۔توپھرابہام سے مفرکہاں؟قرأت کاتجزیاتی نظام ہرلفظ کومعنوی اساس پر پھیلنے کا موقع عطاکرتاہے۔استعارہ لفظ کے معنوی امکانات کو پھیلانے کاعام ذریعہ ہے۔زبان کی اساس استعاراتی ہے۔مفروضہ جب روزمرہ کاحصہ بن جاتاہے تو اس کی استعاراتی اہمیت کم ہوجاتی ہے۔اس لیے ہرنیااستعارہ مشاہدے کی ندرت کوپیش کرتاہے۔شاعری زبان کامعجزہ ہے۔اس لیے ادبی تخلیق پر ہونے والی ہربحث کاآغاز لسانی بنت کے مسائل سے ہوتاہے۔لفظ ومعنی کے رشتے کوسمجھے بغیر معنوی رعایتوں کی تفہیم ادھوری ہے۔ہراستعاراتی پیکر مشاہدات کے متعدد اجزاسے باہم مربوط ہوتاہے۔انھی اجزاکی کثرت سے رعایتیں وجود میں آتی ہیں۔چونکہ مجازکی تمام صورتیں ابہام کی کوکھ سے پیداہوئی ہیں،اس لیے قاری کا ذہن ان صورتوں سے آشناہوتے ہوئے بھی مطمئن نہیں ہوتا۔ہرقاری متن سے مطابقت کانیاقرینہ ڈھونڈتاہے۔
ابہام شعری خواص کوتوانابناتاہے،کیونکہ یہ شاعری کی جڑوں میں پیوست ہے۔یہ ذہن کی مستقل حالت ہے۔انسانی ذہن ہمیشہ شک،واہمہ یامبہم کیفیات کاشکار،رہتاہے۔عبیداللہ علیم کی ایک تقریب میں جون ایلیانے کہاتھاکہ شاعری اظہارذات نہیں،بلکہ ہیجانِ ذات کااظہارہے۔یہ دراصل ذات کے حوالے سے ذہنی ہیجان کامعاملہ ہے جواکائی کی صورت کسی تخلیقی متن میں اپنی تمام ترکثرت کے ساتھ متشکل ہوتاہے۔کوئی بھی نظم،چاہے اس کابیانیہ جتنابھی سپاٹ ہو،ابہام سے مبرانہیں ہوتی۔نظم کاکوئی بھی مطالعہ شرح،تعبیریاتجزیے کے لیے نہ صرف ابہام کے درجات سے ہوکرگزرتاہے،بلکہ ان میں الجھتابھی ہے۔یہی وجہ ہے کہ تخلیقی متن کی قرأت ایک نوع کامجاہدہ بھی کہلاتی ہے۔قرأت کی پیچیدگیاں باذوق قاری کو مسرت بہم پہنچاتی ہیں۔میراجی کی شاعری میں ابہام ایک پاتال ہے۔فکری بنت،دھندلی رات کی مانند ہے اور دکھیاسایہ ان کامرکزی شعری کردار۔اسی لیے ابہام کی جمالیات کو ہم نے ان کی شاعری کاسرنامہ بنایاہے۔قرینہ یہ ہے کہ باغی اور وحشی تخیل والایہ دکھیاسایہ دھندلے اوراندھے نغموں میں راتوں کی کہانی سناتاہے:
آؤ۔اپنے باغی،وحشی تخیل کی
دھندلے،اندھے نغموں میں
سن لوکہانی راتوں کی۔ [مدھوری بانی]
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
قصہ گوئی کی تاریخ/تصور،رات ہی سے وابستہ ہے۔انسان نے اپنی اساطیر کوتخیلی حکایات میں پہچانا۔رات کتھاکابیانیہ سادہ ہوہی نہیں سکتااوریہاں تورات کاہرلمحہ خون بن کر تجربے کی آنکھوں سے رس رہاہے۔سرخ وسیاہ کے اس جنگل میں ایک سادھوآسن جمائے،دھونی رمائے پریم کے منتر پڑھ رہاہے۔الفاظ زبان سے اداہورہے ہیں اورمعنی کاچشمہ اداس آنکھوں سے پھوٹ رہاہے۔من مندر میں ایک دیوی ہے جس کے علم میں بنگال کاجادوہے۔روایت ہے کہ اس کے شہر میں جانے کے کئی راستے ہیں،واپس آنے کاکوئی راستہ نہیں۔اب سادھواس شہرکافقیربن چکاہے۔وہ اس شہر کی سانولی مٹی میں ضم ہوچکاہے۔اسی مٹی سے کالی بنتی ہے اورمیراسین کامیراجی کالی[رات]کی کہانی سنارہاہے:
رات اندھیری،بن ہے سونا،کوئی نہیں ہے ساتھ،
پَوَن جھکولے پیڑ ہلائیں،تھرتھرکانپیں پات
دل میں ڈرکاتیرچبھاہے،سینے پرہے ہاتھ،
رہ رہ کرسوچوں یوں کیسے پوری ہوگی رات؟ [نارسائی]
واہمہ کے دشت میں میراجی کاتخیل ارضی پیکرتراشتاہے۔ان کاارضی بیانیہ قدیم وطویل ہندوستانی تہذیب کے سلسلوں سے عبارت ہے۔ان کاکلام انھی سلسلوں کامظہرہے۔ابہام کی جمالیات نے ان کے تخیل کودبازت عطاکی ہے۔ان کی قرأت میںمعنوی پہلوؤں کی دریافت کے لیے ابہام کے مدارج کوطے کرناہے۔ابہام اورایہام میں فرق ہے۔ایہام[Pun]ایک شعری صنعت ہے جس میں ایک لفظ کے دومعنی مراد لیے جاتے ہیں۔ایک قریب کاہوتاہے،دوسرابعید کا،اورلکھنے والے کی مراد بعیدمعنی سے ہوتی ہے۔Ambivalenceبھی اسی سے مشابہ ہے۔یہاں دونوں معنی ایک دوسرے سے جداہونے کے ساتھ محدود ہوتے ہیں،جبکہ ابہام کثرت ِ معنی پردال ہے۔ابہام کی تعریف میں مارکسی نقادٹیری ایگلٹن لکھتاہے:
Ambiguity happens when two or more senses of a word merge into each other to the point where the meaning itself becomes indeterminate.(1)
یعنی ابہام معانی کاانضمام ہے۔کسی سیاق یاتناظر میں کوئی مبنی برابہام لفظ اپنے لغوی معنی [Literal Sense]میںاستعمال نہیں ہوتا۔ایک لفظ سے جب کئی معنی دریافت ہوں تومجازاپناسایہ وسیع ترکرلیتاہے۔کسی مخصوص/لغوی معنی سے تجاوزشعری عناصر[تشبیہ، استعارہ، کنایہ، مجازمرسل، تمثیل، مبالغہ،علامت وغیرہ]کی تشکیل کاموجب بنتاہے۔بنیادی چیز تخیل ہے۔قوتِ واہمہ[Fancy]اس کاغیر منقسم حصہ ہے۔واہمہ مختلف معانی میں ارتباط پیداکرتاہے اورمنضبط قوتِ حاسّہ اسے صحیح سمت عطاکرتی ہے۔واہمہ ابہام کی کلید ہے۔ابہام عام گفتگو میں بھی درآتاہے،لیکن سب سے مبہم شعری زبان ہوتی ہے جس کاہرجزاپنی فطرت میں جدلیاتی ہوتاہے۔شمس الرحمن فاروقی کاخیال ہے:
اجمال اور جدلیاتی لفظ کے بعد ابہام شاعری کی تیسری اورآخری معروضی پہچان ہے۔[موزونیت اوراجمال کی موجودگی ہمیشہ فرض کرتے ہوئے]ہم یہ کہہ سکتے ہیں اگرکسی شعر میں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں،لیکن جس طرح تنہاجدلیاتی لفظ شعرکوشاعری میں بدل دیتاہے،اسی طرح تنہاابہام بھی شعر کوشاعری بنادیتاہے۔شعر میں ابہام یاتوعلامت سے پیداہوتاہے یاایسے الفاظ کے استعمال سے جن سے سوالات کے چشمے پھوٹ سکیں۔جتنے سوالات اٹھیں گے شعراتناہی مبہم ہوگااوراتناہی اچھاہوگا۔(2)
یعنی اجمال اورجدلیاتی لفظ کی طرح ابہام بھی شاعری کامستقل جزہے،اوریہ تینوں شاعری کی معروضی شناخت مقرر کرتے ہیں،لیکن ابہام بذاتِ خود کبھی معروضی نہیں ہوتا۔[یعنی] ابہام کی معروضی شناخت ممکن نہیں،کسی مبنی برآہنگ شعری متن میں ابہام موجودہوتواسے شاعری کہاجاسکتاہے۔ابہام شاعری کی آخری معروضی شناخت نہیں،بلکہ یہ پہلی شناخت ہے اورشاعری کی اولین شرط بھی۔فاروقی صاحب بجافرماتے ہیںکہ اگرکسی شعرمیں صرف ابہام ہی ہے توبھی وہ شاعری ہے۔وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام طورپرجدلیاتی لفظ اورابہام ساتھ ساتھ آتے ہیں۔ہمارے خیال میں ابہام پہلے آتاہے،جدلیاتی لفظ بعدمیں۔اس لیے کہ جدلیاتی لفظ کی بنیاد ہی ابہام پرہے۔وہ کون سااستعارہ ہے جس سے ایک سے زائد سوالات پیدانہیں ہوتے؟اگرسوالات پیداہوتے ہیں تواس کی وجہ ابہام ہے۔اس طرح اس کی اولین حیثیت سے انکار ممکن نہیں۔چوں کہ جدلیاتی لفظ از خود مبہم ہوتاہے،اس لیے ترسیل کا مسئلہ بھی پیداہوگا۔ابہام میں ابلاغ کاعمل جمالیات کوبھی طے کرتاہے۔
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
اکثر کہاجاتاہے کہ فلاں شعر/نظم مہمل ہے۔ابہام سے شعر نہ توچیستاں بنتاہے اور نہ ہی مبالغے سے کوئی شعرلغویات کے دائرے میں آتاہے۔ہرشعرمہمل نہیں ہوتا۔قصور تواپنی تفہیم کابھی ہوتاہے۔کوئی خیال کسی کے لیے مہمل ہوسکتاہے،لیکن وہی خیال دوسروں کے لیے بھی مہمل ہو،کوئی ضروری نہیں۔مبالغہ ابہام کے بطن سے نکل کر استعارے کی وجودیات میں داخل ہوجاتاہے۔ابہام نہ تواہمال ہے اور نہ اِشکال۔اہمال’مہمل گوئی‘کوکہتے ہیں،جبکہ ابہام معنی خیزی کاعمل ہے۔یہاں کوئی نہ کوئی معنی ضرورنکل آئے گا۔اِشکال میں کوئی خیال مشکل ضرورہوتاہے،ناقابلِ فہم نہیں۔بعض حوالوں سے یہ مشکل دورہوسکتی ہے۔کہاجاتاہے کہ’شاعری انکشاف ہے اسی لیے مبہم ہے۔‘کسی پرمہملیت کالیبل لگانابہت آسان ہے۔جب آدمی بشیربدراوراحمدفرازکوپڑھنے کاعادی ہوجاتاہے تواسے ن۔م۔راشداورمیراجی کی شاعری تومہمل معلوم ہوگی ہی۔ہم نے بعض لوگوں کوکہتے سناہے کہ میراجی مہمل بکتے ہیں۔کچھ لوگوں کویہ شکایت ہے کہ جس طرح فیض ہماری زبان پررہتے ہیں،میراجی نہیں رہتے۔ان کاکلام زبان زدنہیں ہوتا۔بھئی زبان زد توچٹکلے بھی ہوجاتے ہیں۔توشاعری اورلطیفے میں کیافرق ہے؟فیض کامیراجی سے کوئی موازنہ نہیں۔دونوں اپنے ڈھب کے شاعر ہیں۔میراجی کاکلام اگریاد نہیں رہتاتواس میں ان کاکوئی قصورنہیں۔میراجی وجودکاشاعرہے۔وہ مٹی میں چھپے پاتال میں لے جاناچاہتاہے۔جب زندگی ہی مبہم ہے تومیراجی سے کیوں مطالبہ کیاجائے کہ ان کے مطالب آسان ہوں؟ فاروقی صاحب نے پرلطف بات کہی ہے کہ :
ذاتی طورپرمیں کسی شاعری کومہمل کہنے سے اتناہی ڈرتاہوںجتناکوئی مسلمان دوسرے مسلمان کوکافرکہنے سے ڈرتاہے۔لیکن افسوس یہ ہے کہ ہمارے ملک میںکفرکافتویٰ ہمیشہ سے بہت سستارہاہے،اورآج بھی ہے۔(3)
اب تک کی گفتگومیں بنیادی سوال یہ بھی ہے کہ ابہام کی شناخت کیوں کرمقررکی جائے؟ابہام کی دبازت علامت ہے۔علامت میں تشبیہ،استعارہ یاتمثیل کامفہوم شامل ہوتاہے۔یہ استعارے سے زیادہ عمیق ہے۔علامت اپنے تمام انسلاکات کے ساتھ ظاہرہوتی ہے۔فرض کیجیے کہ’ آسمان‘،زمانے کااستعارہ ہے،لیکن اس میں عظمت،وسعت،تحرک،تغیر،وقت،جیسے تمام مفاہیم بھی موجود ہیں۔آسمان،خداکابھی استعارہ ہوسکتاہے اورظالم کابھی۔اس کی کیفیت کی مناسبت سے مفاہیم بدلیںگے،لیکن یہی آسمان جب علامت کے معنی میں لیاجائے گاتواس میں یہ سارے معانی مراد لیے جائیںگے۔
ابہام پرگفتگومیں سرولیم ایمپسن کی کتاب’Seven Types Of Ambiguity‘اہم حوالہ ہے۔یہ کتاب ایمپسن نے اس وقت لکھی جب وہ بائیس برس کے بھی نہیں تھے۔جب وہ چوبیس سال کے ہوئے توپہلی بار یہ کتاب 1930میں شائع ہوئی،اورجدیدادبی تنقید میںسنگ میل قراردی گئی۔ایمپسن نے ابہام کو سات حصوں میں تقسیم کرکے ان کی الگ الگ درجہ بندی کی۔اس نتیجے پرپہنچے کہ ابہام شاعری کے خمیرمیں ہے۔ابہام کی تعریف میںلکھتے ہیں:
‘Ambiguity’ itself can mean an indecision as to what you mean, an intention to mean several things, a probability that one or other or both of two things has been meant, and the fact that a statement has several meanings.It is useful to be able to separate these if you wish, but it is not obvious that in separating them at any particular point you will not be raising more problem than you solve.(4)
ایمپسن نے ابہام کی جمالیات کواسلوب کی لطافت سے تعبیر کیاہے۔ہماراخیال ہے کہ ابہام توبت ہزارشیوہ ہے۔اس تک رسائی کے محض سات نہیں،ہزاروں درہیں۔اس کی تہ میں اترنے کی کوشش میں قاری مزید الجھتاجاتاہے،اورمعنی التوامیں رہتاہے۔
کچھ لوگ ابہام کے بڑے مخالف ہیں ۔میراجی اور راشد کی شاعری کے مطالعے میں ابہام کا ذکر شدو مد سے کیا جاتا رہاہے ۔یہاں سلیم احمد کے دو مضامین کا حوالہ دینا مناسب معلوم پڑتا ہے ۔ ’ابہام کیوں ؟‘ اور ’ ابہام اور بازی گری ‘ ۔ انھوں نے ابہام کی مختلف صورتوں کا ذکر کیا ہے اور اس نوع کے سوالات قائم کیے ہیں :
·ہمیں ایک نظم مبہم معلوم ہوتی ہے ۔ اس کا کیا سبب ہوتا ہے ؟
·[قاری کے ساتھ] شاعر بھی ابہام میں مبتلاہوتا ہے ۔ کیوں ؟
·ابہام کی فنی ضرورت کیا ہے ، یعنی دانستہ ابہام کی غرض و غایت کیا ہے ؟
سلیم احمد نے ابہام کی ممکنہ صورتوں کا جائزہ لینے کی بساط بھر کوشش کی ہے اور ابہام کو الہام سے ملاکر دیکھا ہے :
شاعری کے کسی سنجیدہ طالب علم سے یہ بات پوشیدہ نہیں ہے کہ شاعری اپنی آخری حدود میں ’’حقیقت نامعلوم‘‘ کا اشاریہ ہے ۔ یہ حقیقت اظہار اور ابلاغ سے گریزاں ، اور طالب ِ اخفا ہے ۔ اس کی فطرت ہی یہ ہے کہ ظاہرہونے سے بچتی ہے ۔ مگر شاعری ہمیشہ اس حقیقت پر کمند انداز ہونے کی کوشش کرتی رہی ۔ یہ حقیقت تو قابو میں نہیں آتی مگر شاعری ایک ایسا آئینہ ضرور تیار کردیتی ہے جس میں اس کا عکس جھلملانے لگے یا کم از کم وہ نیم ظاہر ہوجائے ، گھونگھٹ میں چھپے ہوئے محبوب کی طرح حقیقت کی یہ جلوہ نمائی شاعری کو الہام بنادیتی ہے ۔ الہام ابہام کے بغیر ممکن نہیں ، اور راز کھل کر بھی راز ہی رہتے ہیں ۔(5)
یہ تحریر آپ اردو چینل ڈاٹ اِن پر پڑھ رہے ہیں
شاعری کو الہام کہاجاتارہاہے ۔ یہ ایک الگ نظریہ ہے ۔ شاعری الہام ہے یا نہیں ، الگ بحث کا موضوع ہے ، لیکن اس بحث میں بعض اختلافات کے باوجود جو نکتہ اہم ہے وہ ابہام کا اعتراف ہے ، کیونکہ یہاں الہام کا دارومدارہی ابہام پر رکھاگیا ہے ۔[ایہام سے قطع نظر ] نظری سطح پر ابہام کے مطالعے کا چلن میراجی اور راشد کی شاعری کے جائزے سے ہوا۔ ایک گروہ نے ابہام کی حمایت کی اور دوسرے نے سخت مخالفت ۔ اس معرکے میں ابہام کی نظری اساس کو استحکام حاصل ہوا۔سلیم احمد کا مضمون ہے ’ ابلاغ کا مسئلہ ‘ ۔ اس میں انھوں نے وزیر آغاکے مضمون ’ ابلاغ سے علامت تک ‘ پر گفتگو کرتے ہوئے شاعری میں ابلاغ کے مسئلے کوالہام [ غیر اناکا شعور]کے حوالے سے سلجھانے کی کوشش کی ہے ۔ ان کے نزدیک تخلیق ،داخلیت [غیر انا کا شعور] سے خارجیت [ انا کا شعور ] کے سفر کا نام ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ تخلیقی امیج پوری تخلیقی شخصیت کا نچوڑ ہوتی ہے ۔ انھوں نے وزیر آغا اور شمس الرحمن فاروقی کی شاعری کو بری شاعری کا نمونہ اس بنیاد پر قرار دیا کہ ان کے یہاں ’غیر انا‘ کا شعور ’انا‘ کے شعور سے مکالمے پر تیار نہیں ہوتا اور اسی لیے ان کی شاعری میکانکی ہوجاتی ہے ۔ انھوں نے ’ فکر کا طاعون ‘ والے مضمون میں فاروقی صاحب سے اپنے اختلافات واضح کیے ہیں ۔اس ضمن میں فاروقی صاحب کے تین مضامین حوالے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ’ تعبیر کی شرح ‘ ، ’ترسیل کی ناکامی کا المیہ‘ اور ’ شعر کا ابلاغ ‘ ۔ان مضامین کا براہِ راست تعلق ابہام سے ہے ۔ متن سے معنی کشید کرنے کا عمل تعبیر کہلاتا ہے ۔ تعبیر کے مختلف وسائل ہیں۔تعبیر کے عمل میں معنی کشید کرنے کا مرکزی وسیلہ ابہام ہے ۔تخلیقی سطح پر اظہار ، ترسیل اور ابلاغ کے تینوں مراحل میں زیریں لہر کے بطور ابہام موجود ہوتاہے ۔ ادبی تخلیق میں کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ اس نے وجدان کو اپنے اوپر مکمل طور پر ظاہر کرلیاہے ؟کیا اس بات پر کوئی مصر ہوسکتا ہے کہ اس کے اظہار نے مکمل ترسیل حاصل کرلی ہے ؟ کیا اس پہلو پر کوئی اَڑ سکتا ہے کہ اسے تخلیقی متن کا پور ا ، ابلاغ ہوچکا؟ترسیل کی ناکامی کے لیے مصنف کو قصور وار ٹھہرانے سے پہلے تھوڑے توقف کے ساتھ غور کرلینا چاہیے کہ متن کا تشکیلی نظام کیا کہتا ہے اور متن کی قرأت کیسے کی جائے ؟ ہر متن ایک ہی زاویے سے نہیں پڑھاجاسکتا۔میراجی کا متن ترسیل کی ناکامی کا المیہ نہیں ؛ ابہام کی جمالیات کا محورہے ۔ محمد حسن عسکری نے میراجی پر خاکہ لکھتے ہوئے اس جانب توجہ مبذول کرائی ہے کہ لوگوں کو میراجی سے شکایت رہتی ہے کہ وہ سمجھ میں نہیں آتے ۔ وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ انھوں نے پڑھنے والوں کا خیال نہیں رکھا۔ اس نوع کی باتیں اب کوئی اہمیت نہیں رکھتیں ۔
کلیات میراجی کی پہلی نظم ہے ’چل چلاؤ‘۔موضوع ’بے ثباتی ِ دنیا‘۔اس موضوع پر شاعری کا انبار ہے۔میرؔ جی نے تو ہستی کوحباب اور اس کی نسبت ، نمائش کو سراب سے تعبیر کیا ہے۔میر کے ہم عصر نظیر نے بھی کہا ہے ۔’سب ٹھاٹ پڑا رہ جاوے گا /جب لاد چلے گا بنجارہ‘۔ولی نے بھی خدو خال کی بات کو خال خال بتا کر زندگی کو دردو غم سے جوڑ دیا ہے۔میرجی سے میراجی تک کے سفر میں بے ثباتی ِ دنیا کا موضوع پامال بھی بہت ہوا۔شیلی بھی کہہ کر چلا گیا:
Our sweetest songs are those that tell of sadist thought
اس طرح درد و غم کے اظہار پر شاعروں کا اجارہ ٹھہرا۔حزنیہ اظہار شعر گوئی کا فیشن بھی قرار پایا۔جب تک درد کی جبلت کو محسوس نہ کیا جائے۔جب تک غم کی ماہیت سے ہوکر نہ گزراجائے۔اسے اپنے باطن میں کیسے اتارا جاسکتاہے؟ہاں صاحب ، میراجی غم کاشاعر ہے۔دکھوں کو اس نے پہچان لیاہے۔درد اس کے درون میں ہے۔غم اس کے وجود میں ہے۔وہ اپنے تخیل کو وحشی کیوں کہتا ہے؟راتوں کی کہانی کیوں سناتا ہے؟یہ کیسا عاشق ہے جو محبوب کی چوٹی اور کمر کا مقتول نہیں؟اس کے یہاں محبت پوجا بن گئی ہے اور اس محبت سے پھوٹنے والاہر منطقہ اس کے لیے مقدس ہے۔
میراجی کی شاعری عشق کا صحیفہ ہے۔اس جوگی نے دنیا کو ہزار رنگ میں دیکھا،لیکن:
’بس دیکھا اور پھر بھول گئے‘
کیوں؟اس لیے کہ کسی منظر کو ثبات نہیں۔’چل چلاؤ‘ ایک ’ لمحے ‘ کی جمالیات کو محسوس کرنے کا تجربہ ہے۔زندگی کو دیکھنے کے بے شمار زاویے ہیں۔قطرے میں دریا کی تلاش تصوف کا علاقہ ہے۔جز کو عظیم کُل کا حصہ سمجھنا اہل تصوف کا شیوہ رہاہے۔زندگی کا ہر لمحہ حیات ِ کُل کاایک جز ہے۔فانی نے کہا ہے:’ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانی/ زندگی نام ہے مرمر کے جیے جانے کا‘۔غالب نے بھی کہا ہے:’عشرت ِ قطرہ ہے دریا میں فنا ہوجانا‘۔غالب جادہ ٔ راہ ِ فنا کو عالم کے اجزاے پریشاں کا شیرازہ بتاتے ہیں۔میراجی نے عرصۂ حیات کے ، ایک لمحے میں سمٹنے کا تجربہ کیا ہے :
ہر منظر ، ہر انساں کی دیا اور میٹھا جادو عورت کا
اک پل کو ہمارے بس میں ہے ، پل بیتا ، سب مٹ جائے گا،
اس ایک جھلک کو چھچھلتی نظر سے دیکھ کے جی بھر لینے دو ،
تم اس کو ہوس کیوں کہتے ہو؟
کیا داد جو اک لمحے کی ہو وہ داد نہیں کہلائے گی ؟

ہے چاند فلک پر اک لمحہ ،
اور اک لمحہ یہ ستارے ہیں ،
اور عمر کا عرصہ بھی ، سوچو ! اک لمحہ ہے !
[چل چلاؤ]
میراجی نے عرصۂ حیات کو ایک لمحہ سمجھنے کے ساتھ ہستی کو ایک ذرہ بھی تصور کیا ہے ۔مسرت کے فلسفے میں زندگی کو خواب سے تعبیر کرکے انھوں نے مسرت کے خوف کا ادراک کیا ہے ۔اس دنیا میں ہرشخص مسرت کی تلاش میں ہے لیکن وہ مسرت سے خوف کھاتے ہیں ۔اس لیے کہ کہیں یہ مسرت زندگی کو خواب نہ بنادے ۔مسرت میں جو رومان کا پہلو ہے وہ خواب کی کیفیت کو جلا بخشتا ہے ۔شکست ِ خواب ان کے یہاں کرب انگیز تجربہ ہے ۔خواب بہر حال خواب ہے ۔ہر خواب حقیقت نہیں بنتا۔خواب کا ٹوٹنا میراجی کے یہاں دل کا ٹوٹنا ہے ۔انھیں معلوم ہے کہ ہر مسرت فانی ہے ۔اس لیے اس تجربے سے گزرنے میں انھیں ڈر کا احساس ٹیسیں مارتا ہے :
میں ڈرتا ہوں مسرت سے ،
کہیں یہ میری ہستی کو
پریشاں ، کائناتی نغمہ ٔ مبہم میں الجھا دے ؛
کہیں یہ میری ہستی کو بنادے خواب کی صورت ؛
[میں ڈرتا ہوں مسرت سے ]
ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کائنات کے نغمۂ مبہم میں الجھنا نہیں چاہتے لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ ہر پل انھی نغموں میں گھرے ہوئے ہیں جن میں کائنات کے اسرار پوشیدہ ہیں ۔وہ ابہام کو بعض اوقات شعوری طور پر موزوں کرتے ہیں ۔ان کی بعض نظمیں پہلی قرأت میں آسان معلوم پڑتی ہیں لیکن جب تہہ میں اتر نے کی کوشش کی جاتی ہے تو معاملہ پیچیدہ ہوتا جاتا ہے ۔ان کی ایک نظم ہے ’سمندر کا بلاوا‘ ۔اس کی مختلف تعبیریں کی گئی ہیں ۔سمندر یہاں کلیدی وجودی علامت ہے ۔متکلم داخلی وجودی کردار ہے ۔بعض حضرات سمندر کو ماں کی علامت بتاتے ہیں کہ میراجی نے اپنی ماںکی یاد میں یہ نظم لکھی تھی ، لیکن اس طرح تو نظم ایک سیاق میں مقید ہوجاتی ہے ۔اس نظم کے کوڈز کو جب ڈی کوڈ کیا جاتا ہے تو معنی کی کئی نمایاں لہریں ابھرتی ہیں ۔ان لہروں میں بہہ جانے کے امکانات زیادہ ہیں اور یہ معنی کی سیال کیفیات کی وجہ سے ہیں۔سرگوشیوں سے شروع ہونے والی اس نظم میں آوازوں کی چمک ، دھمک ، شور اور اسرار کا جال پھیلا ہوا ہے ۔’صدا‘ اور ’ندا‘ دو بنیادی ذیلی علامتیں ہیں:
مگر یہ انوکھی ندا جس پہ گہری تھکن چھارہی ہے
یہ ہر اک صدا کو مٹانے کی دھمکی دیے جارہی ہے
عموماً صدا اور ندا کو ہم معنی تصور کیا جاتا ہے لیکن لغت اور علامت میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔صدا پر ندا غالب ہے ۔صدا زندگی اور ندا موت ہے ۔اگر آپ اسے رد کرتے ہیں تو صدا خارج اور ندا باطن کا بلاوا ہے۔ اگر آپ اسے بھی رد کرتے ہیں تو صدا فانی ہے اور ندا لافانی تجربہ ہے ۔ ہر اک شے سمندر سے آئی اور سمندر میں جاکر ملے گی تو اس سمندر کا بلاوا وجود کا بلاوا ہے ۔سمندر کی ندا قطرے کی صدا سے ٹکرا رہی ہے :
یہ اک گلستاں ہے …ہوا لہلہاتی ہے ، کلیاں چٹکتی ہیں /…
یہ پر بت ہے …خاموش ساکن /…
یہ صحرا ہے …پھیلاہوا ، خشک ، بے برگ صحرا /…

نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
گلستاں ہو ، پربت ہو کہ صحرا، تینوں دبیز علامتیں ہیں ۔ ان میں زندگی کے دونوں پہلو موجود ہیں۔ گلستاں میں ہواکا لہلہانا، کلیوں کا چٹکنا ،غنچوں کا مہکنا، پھولوں کا کھلنا …یہ سب زندگی اور بقا کی علامتیں ہیں لیکن انھیں پائداری میسر نہیں ۔بہار کے بعد خزاں کا دور بھی آتاہے ۔پربت کے دامن میں وادی ہے ۔وادی میں ندی ہے ۔ندی میں بہتی ہوئی ناؤ ہے ۔ندی زندگی کی علامت ہے ۔اس کی حرارت میں ناؤ کا بہنا زندگی کا رومان ہے لیکن ناؤ بہتے بہتے آنکھوں سے اوجھل ہوجاتی ہے ۔منظر ، پس منظر میں چلاجاتا ہے ۔حال سے ماضی بننے کا سفر تاریخ کے جبر کو بھی ہویدا کرتا ہے ، اس کے فنتاسی کو بھی اوراس کے اثبات کوبھی ۔صحرا کے بگولوں سے بننے والے عکس مجسم بھی زندگی کی رمق لیے ہوئے ہوتے ہیں لیکن اک پل کو یہ متشکل ہوتے ہیں اور جیسے ہی طوفان اٹھتا ہے یا تند ہوا چلتی ہے تو عکس ِ مجسم بکھرجاتے ہیں ۔یہ فنا کی منزل ہے ۔یعنی ہر شے فانی ہے ۔تغیر مادّے کی فطرت میں ہے ۔مادہ ایک صورت سے دوسری صورت میں منتقل ہوتا ہے ۔ختم نہیں ہوتا ۔فنا اور بقا ،دونوں مستقل حالت نہیں ہیں ۔ہر بقا کو فنا کے رستے ہوکر گزرناپڑتا ہے ۔بہار کے بعد خزاں ہے لیکن خزاں کے بعد نئی بہار بھی تو ہے ۔ہرشے سمندر سے آئی ،سمندر سے جاکر ملے گی ۔سمندر زندگی کی نہایت عمیق علامت ہے ۔یہ زندگی کا منبع ہے ۔سمندر وقت کی بھی علامت ہے ۔شاعر پر یہ راز کھل چکا ہے کہ ثبات محض تغیر کو ہے ۔ہر شے مدارج ِ انتقال سے گزرتی ہے ۔اس لیے شاعر کی نظر اب نہ صحرا پر ہے ، نہ پربت پر اور نہ کسی گلستاں پر۔شاعر تو پیڑوں کے ایک جھرمٹ پر اپنی نگاہیں جمائے ہوا ہے ۔جھرمٹ جہاں ہر درجے کے پیڑ موجود ہیں۔مختلف رنگ، نسل اور جسامت کے ۔ ایک پیڑ گرتا ہے تو وہیں کوئی نو نہال سر اٹھاتا ہے ۔اجتماع تہذیب کابھی نقش ہے ۔یہاں ہر وحدت ، کثرت کا حصہ ہے ۔جس طرح فرد سماج کااور جس طرح قطرہ سمندر کا حصہ ہے :
نہ صحرا نہ پربت ، نہ کوئی گلستاں ، فقط اب سمندر بلاتا ہے مجھ کو
کہ ہر شے سمندر سے آئی ، سمندر میں جاکر ملے گی
جب شاعر یہ کہتا ہے کہ ’ تو پھر یہ ندا آئینہ ہے ، فقط میں تھکا ہوں ‘ ، تو آئینے کا طلسم ٹوٹتا ہے ۔ نداآئینہ ہے اور آئینہ وجود ۔جسم مرتا ہے ، روح منتقل ہوتی ہے ۔اسی طرح آئینے میں عکس کچھ دیر کو ٹھہرتا ہے اور پھر غائب ہوجاتا ہے ۔آئینہ قائم رہتا ہے ، چہرے بدل جاتے ہیں ۔
’دن کے روپ میں رات کہانی ‘، ’جاتری ‘، ’محبت‘ ، ’ اونچا مکان ‘ ، ’ عکس کی حرکت ‘ ، ’ شام کو ، راستے پر ‘ ، ’ اُفتاد‘ ، ’ محبوبہ کا سایہ ‘ ، ’ فنا ‘ جیسی دیگر تمام نظمیں ابہام کی جمالیات میں قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں:
لیکن یہ رنگ خیالوں کے اب میری نظر میں سایہ ہیں
سب بیتی رات کا جادو ہیں ، سب پچھلے جنم کی مایا ہیں [محبوبہ کا سایہ ]
جس جگہ آکے ازل اور ابد ایک ہوئے تھے دونوں ،
ایک ہی لمحہ بنے تھے مل کر [بعدکی اڑان ]
رات اک بات ہے صدیوں کی ، کئی صدیوں کی [دن کے روپ میں رات کہانی ]
یہ لہریں ہیں ، انھیں نسبت ہے کالی رات کے غمناک دریا سے [سرسراہٹ]
میراجی کی شخصیت اور شاعری دونوں کے ساتھ ابہام کا گہرا رشتہ ہے۔میراجی کی موت پر منٹو نے کہا تھا کہ اگر وہ کچھ دیر سے مرتا تو یقیناً اس کی موت بھی ایک درد ناک ابہام بن جاتی۔منٹو نے میراجی کے ’تین گولے‘ والے خاکے میں لکھا ہے کہ اس کے سارے وجود میں ایک ناقابل ِ بیان ابہام کا زہر پھیل گیاتھاجوایک نقطے سے شروع ہوکرایک دائرے میں تبدیل ہوگیاتھا،اس طور پر کہ اس کاہرنقطہ اس کا نقطۂ آغاز ہے اوروہی نقطہ ، نقطۂ انجام۔

حواشی
(1)Terry Eagleton,How to read a poem,Indian edition 2007,Blackwell Publishing,P:125
(2)شمس الرحمن فاروقی،شعر،غیرشعراورنثر،2005،قومی کونسل براے فروغ اردوزبان،نئی دہلی،ص:96
(3)ایضاً
(4)William Empson, Seven Types Of Ambiguity, 1949,Chatto and Windus,London,P :5-6
245-246،اکادمی بازیافت ، کراچی ،: پاکستان ، ص ص: 2009سلیم احمد، مضامین سلیم احمد، مرتبہ: جمال پانی پتی ، (5)

Majrooh and Progressive Movement by Farooqui

Articles

مجروحؔ سلطان پوری اور ترقی پسند تحریک

شمس الرحمٰن فاروقی

مجروحؔ سلطان پوری اس بات سے متفق نہ ہونگے ،لیکن واقعہ یہ ہے کہ ترقی پسند تحریک سے منسلک ہونے کی وجہ سے انھیں جو شہرت اور عزت ملی اس کی قیمت سے بہت زیادہ قدر و قیمت کے حامل شعر کہہ کر انھوں نے خود ترقی پسند غزل کی توقیر بڑھائی۔بہ الفاظ دیگر مجروحؔ سلطان پوری کی عزت ترقی پسند تحریک کے باعث نہیں بلکہ ترقی پسند تحریک کا اعتبار مجروحؔ جیسے شعراء کے باعث تھا۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ ترقی پسند نظریے پر ان کے عقیدئہ راسخہ اور اس کے رہنمائوں سے ان کی عقیدتِ شدیدہ نے اشعار بھی ان سے کہلائے جو ترقی پسند غزل کی بدنامی اور خود ان کے شاعرانہ مرتبے میں تخفیف کا سبب بنے۔یعنی ترقی پسندی سے وفاداری کی بنا پر ان کا نقصان دونوں طرف سے ہوا۔جیل جانا یا نوکری سے برطرفی بھی نقصانات ہیں،(اور مجروحؔ جیل گئے بھی)لیکن یہ نقصانات شعر کی زندگی کے مقابلے میں چند روزہ ہیں۔ترقی پسند صاحبان فیضؔ کا ذکر کرتے ہیں تو ان کے جیل جانے کی بات ضرور کرتے ہیں ،کہ فیضؔ صاحب نے اپنے آدرشوں اور اصولوں کی خاطر قید کی صعوبت بھی اٹھائی۔حالانکہ واقعہ یہ ہے سزا ئے قید نے فیضؔ کی شہرت میں غیر معمولی اضافہ کیا ۔اچھے شاعر تو وہ بہرحال تھے،لیکن جیل ان کو اور اس طرح ان کی شاعری کو ،ترقی پسندی کا اسطور بنا دیا۔اس کی ایک وجہ غالباً یہ بھی تھی کہ فیضؔ صاحب چاہے جتنے بڑے انقلابی ترقی پسند رہے ہوں ،لیکن شاعری کے معاملے میں خاصے محتاط تھے۔ انھوں نے برہنہ حرف نہ گفتن کے اصول پر بیش از بیش عمل کیا۔مجروحؔ صاحب تو ہٹلر کے چیلوں کو دوڑا کر مارنے اور حسن کو کارخانے میں ڈھال کر اسے موٹر سائیکل(یا شاید سائیکل ) قسم کی چیز قرار دینے کے لیے بدنامی بٹورتے رہے اور ان کے اچھے اشعار دوسروں کے لیے شہرت کے شہپر بنتے رہے۔ غنی کاشمیری؎
یاراں برد نہ شعر مارا ٭ افسوس کہ نام ما نہ بردند
میں اپنے بارے میں کہہ سکتا ہوں کہ مجروحؔ کے یہ اشعار میں نے لڑکپن میں شکیلؔ بدایونی کے نام سے سنے تھے ۔عرصہ دراز کے بعد میں نے ان کا مجموعہ(یا انتخاب) دیکھا تو حقیقت آشکار ہوئی۔؎
یہ رکے رکے سے آنسو یہ دبی دبی سی آہیں
یوں ہی کب تلک خدایا غمِ زندگی نباہیں

کبھی جادئہ طلب سے جو پھرہوں دل شکستہ
تری آرزو نے ہنس کر وہیں ڈال دی ہیں باہیں
یہ شعر بہت اعلی پائے کے نہیں ہیں(ان دنوں البتہ بہت اچھے لگتے تھے اور اتنے برس بعد آج بھی یاد ہیں) لیکن ان کا لہجہ بہر حال جگرؔ ،فراقؔ اور حسرتؔ موہانی کی غزل سے بہت مختلف ہے۔ان دنوں ہم لوگ بھی کچھ پڑھے لکھے نہ تھے ،افسوس تو ان پڑ ھے لکھوںپر ہوتا ہے جنھوں نے ؎
میں اکیلا ہی چلا تھا جانبِ منزل مگر
لوگ ساتھ آتے گئے اور کارواں بنتا گیا
ستونِ دار پہ رکھتے چلو سروں کے چراغ
جہاں تلک یہ ستم کی سیاہ رات چلے
جیسے اشعار کا سہرا فیضؔ کے سر باندھ دیا اور یہ بھی نہ دیکھا کہ ان شعروں کا آہنگ اور کیفیت فیضؔ کے رنگ سے کوئی مطابقت نہیں رکھتے۔اس طرہ یہ کہ مجروحؔ کی طرف سے احتجاج ہوا تو تو لوگ خفا ہوئے کہ بھلا یہ کیا بات ہوئی،شعر تو مشہور ہوگئے کسی بھی نام سے سہی۔مجروحؔ نے اپنے بارے میں خوب کہا ہے کہ’’چپ رہوں تو معضوب اور بولوں تو مغضوب ہوں‘‘۔
اسی طرح میں اس بات کا بھی گواہ ہو کہ میری عمر کے لوگوں نے مجروحؔ سلطان پوری کو ترقی پسند تحریک کے حوالے سے نہیں ،جگرؔ صاحب کے بھی حوالے سے نہیں ،محض شاعری کے حوالے سے جانا۔’’ گائے جا پپیہے گائے جا‘‘بڑی شاعری نہ سہی لیکن اس نظم میں ہم نوبارگانِ شعر کو لطف آتا تھا وہ جوش کے گاڑھے لہجے اور احسان دانش(ان دنوں احسان بن دانش) کے مزدور کی بیٹی میں نہ تھا۔اور جب فیضؔ کا نام میرے کانوں میں پڑا ،اور احتشام حسین کا تعریفی ذکر میں نے اپنے والد مرحوم سے سنا(یہ بات ۱۹۴۸ء کی ہے) تو اس سے مجروحؔ کی جگہ میرے دل میں کم نہ ہوئی ۔ لیکن وہ اس قدر کم گو اور کم نما تھے کہ فیضؔ، سردار جعفری،جذبیؔ اور دوسرے ترقی پسند شعراء کے غلبے میں گھرے ہوئے مجروحؔ ہم نوجوانوں کو بہت کم نظر آتے تھے۔میرؔ کا شعر یاد آیا؎
وہ کم نما ء دل ہے شائق کمال اس کا
جو کوئی اس کو چاہے ظاہر ہے حال اس کا
یہاں یہ بات بھی ظاہر کردوں کہ ترقی پسندوں میں سردار جعفری میرؔ شناسی کے لیے مشہور ہیں اور بجا مشہور ہیں۔ لیکن مجروحؔ سلطان پوری کو بھی میرؔ سے سچا اور گیرا شغف ہے اور وہ میرؔ کا کلام سمجھتے بھی خوب ہیں۔میرؔ کو جذب کیے بغیر مجروحؔ سلطان پوری اس طرح کے شعر نہیں کہہ سکتے تھے۔؎
وہ تو گیا یہ دیدئہ خوں بار دیکھئے
دامن پہ رنگِ پیرہنِ یار دیکھئے
اسیرِ بندِ زمانہ ہوں صاحبانِ چمن
مری طرف سے گلوں کو بہت دعاء کہئے
خنجر کی طرح بوئے سمن تیز بہت ہے
موسم کی ہوا اب کے جنوں خیز بہت ہے
اپنی اپنی ہمت ہے اپنا اپنا دل مجروحؔ
زندگی بھی ارزاں ہے موت بھی فراواں ہے
مجرحؔ کی بہترین غزلوں میں کلاسیکی غزل کی تمکنت اور آہنگ کی بلندی ہے۔آہنگ کی بلندی سے میری مراد خطابانہ یا وعظانہ انداز نہیں،بلکہ زبان کی وہ موسیقیاتی صفت ہے تجریدی سطح پر جس کی مثال روی شنکر کے ستار یا فیاض خاں کی آواز کے جوار بھاٹے اور گونج میں دیکھی جا سکتی ہے۔
آہی جائے گی سحر مطلع امکاں تو کھلا
نہ سہی باب قفس روزن ِزنداں تو کھلا
سیلِ رنگ آہی رہے گا مگراے کشت چمن
ضرب موسم تو پڑی بند بہاراں تو کھلا
دل تلک پہنچے نہ پہنچے مگر اے چشم حیات
بعد مدّت کے ترا پنجہ مژگاں تو کھلا
پھر آئی فصل کہ مانند برگ آوارہ
ہمارے نام گلوں کے مراسلات چلے
اس پر باقر ہروی کا شعر یاد آگیا؎
برگ گل رابہ کف باد صبامی بینم
باغ ہم جانب اونامہ بر سے پیدا کرو
فرق یہ ہے کہ باقر ہروی کے شعر میں معشوق کے نام نامہ و پیام کا ذکر ہے۔اور مجروح سلطان پوری خود بہار ِباغ کے مکتوبِ الیہ ہیں۔ایک اگر معشوق میں گم ہے تو دوسرا اپنے نصب العین کو اپنا عشق گردانتا ہے اور اس کا معشوق خود اسے آواز دیتا ہے،جیسا کہ اسی غزل کے ایک شعر میں ہے؎
ہمارے لب نہ سہی وہ دہان زخم سہی
وہیں پہنچتی ہے یاروں کہیں سے بات چلے
کلاسیکی آہنگ کی ایک مثال میں چند شعر اور دیکھئے؎
ہوئے ہیں قافلے ظلمت کی وادیوں میں رواں
چراغ راہ کئے خوں چکاں جبینوں کو
نہ دیکھیں دیر و حرم سوئے رہروانِ حیات
یہ قافلے تو نہ جانے کہاں قیام کریں
پارئہ دل ہے وطن کی سر زمیں مشکل یہ ہے
شہر کو ویراں کہیں یا دل کو ویرانہ کہیں
یہ کہنا مشکل ہے کہ مجروح ؔ نے خود کو بعض مضامین وافکار کا پابند نہ کر لیا ہوتا تو ان کی غزل کن راہوں اور وادیوں میں گامزن ہوتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ ترقی پسند تحریک سے وابستگی نے ان کی شاعری میں کاروبار حیات اور معاملات جہد وعمل کے بارے میں ایک شدت شعور ،ایک فوری پن، اور خارج کی زندگی کے بارے میں سریع التاثیری ضرورپیدا کی۔ان کے یہاں ایک ولولہ کچھ کر جانے کے لئے تیاری اور جوش ،اور زندگی کی خاطر موت کے لطف اندوز ہونے کاجو تاثر نظر آتا ہے وہ انھیں تمام معاصرغزل گویوں میں ممتاز کرتا ہے؎
جگائیں ہم سفروں کو اٹھائیں پرچم شوق
نہ کب ہو سحر کون انتظار کرے
سیر ساحل کرچکے اے موج ساحل سر نہ مار
تجھ سے کیا بہلیں گے طوفان کے بہلائے ہوئے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیں
ہر چند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے
اکتا کے ہم نے توڑ دی زنجیر نام وتنگ
اب تک فضا میں ہے وہی جھنکار دیکھئے
یہ سب اشعار درست ہیں،ان میں ’’پیغام‘‘کا عنصر الگ سے نہیں لایا گیا،بلکہ شعر میں مل گیا ہے۔ ان کی ایک بہت بڑی خوبی یہ ہے کہ ان پر کوئی سیل نہیں لگ سکتا ۔سرور صاحب نے یگانہ کے بارے میں عمدہ بات کہی تھی کہ ان کے یہاں اکڑ تو ہے ،لیکن فرحت نہیں ۔مجروحؔ کے مندرجہ بالا اشعار کی عدم ا لنفالیت اورماحول سے لوہا لینے کی ادا ایک حد تک یگانہ کی یاد تو دلاتی ہے ،لیکن ان اشعار میں غزل کی زبان از خود بول رہی ہے ،یگانہ کی طرح تکلف کا احسا نہیں ہوتا ۔اور یہ بھی ہے کہ ان اشعار کو یا ان کی طرح کے اور اشعار کو معنی سے آزاد کرکے صرف کیفیت کے بل بوتے پر نہیں پڑھا اور قبول کیا جاسکتا ۔یہ اشعار کسی نہ کسی طرح کی دعوت فکر ضرور دیتے ہیں۔
مجروح ؔکا کلام بہت تھوڑا ہے،لیکن ابھی اس کے بارے میں اور بہت کچھ کہا جاسکتا ہے۔یہ سوال پھر بھی قائم رہتا ہے کہ مجروح نے اتنا کم کیوں کہا؟ان کا پہلا مجموعہ ’’غزل ‘‘مشکل سے پچھتر اسّی صفحات کا تھا۔نیا مجموعہ جس میں ’’غزل‘‘کا خاصا حصّہ شامل ہے،اس سے کچھ ہی بڑا ہے۔ایک اردو ایک فارسی نظم کی شمولیت نے ’’مشعل جاں‘‘ کو ’’غزل‘‘کے مقابلے میں کچھ زیادہ تنوع عطا کردیاہے۔دونوں نظمیں بہت عمدہ اور مجروح ؔکے عام کلاسیکی رنگ میں رچی ہوتی ہیں۔لیکن یہ سارا سرمایہ پچاس پچپن برس کی مشق سخن کے سامنے کچھ نہیں معلوم ہوتا ۔مجروحؔ کی کم سخنی جدیدادب کالاینحل معما ہے۔توقع تھی کہ زیر نظر کتاب میں اس معمے کا حل نہیں تو اس پر کچھ روشنی ضرور ہوگی،لیکن یہ توقع پوری نہیں ہوتی ۔مجروحؔ اور ان کے چا ہنے والوںاپنا وطن خاص کرکے نقادوں سے سردمہری کا شکوہ ہے۔اور یہ شکوہ کچھ الجھا بے جا بھی نہیں لیکن یہ بات بھی خیال میں رکھنے کی ہے مجروح نے کہا کس قدر کم ہے۔اب ایسی کثرت بھی نہ چاہتے جیسی ہم ان دنوں بعض لوگوں کے یہاں دیکھتے ہیں اور جس کا نقصان مصحفیؔنے اٹھایا۔میرؔ نے تو کثرت سے زیادہ کثر ت کی شہرت کے با عثِ نقصان اٹھایا ،ورنہ ان کا تمام کلیات مع مثنویات ومراثی مصحفیؔ کے اول تین دیوان سے بہت زیادہ نہیں ۔کثرت کلام سے زیادہ قلت کلام نقصان دیتی ہے۔مجروحؔ نے گزشتہ تیس برسوں میں دو غزلوں کا بھی اوسط نہ رکھا۔غالبؔ کو تو جنت کے خیال سے وحشت ہوتی تھی کہ تا ابد وہی ایک حور ساتھ رہیگی تو زندگی اجیرن ہوجائے گی ۔اردو غزل کا قاری ہزار ہابرس سہی ،لیکن وہ ان دس پندرہ غزلوں میںکیا کھئے اور کیا پس انداز کرے؟مولانا روم نے مثنوی کے چھ ضخیم دفتر کہہ لینے کے بعد ساتواں مجوزہ دفتر نہ لکھا ۔لیکن مولانا اس وقت تک چھبیس ہزار شعر وں کی شاہکار مثنوی اور کم سے کم تیس ہزار شعر کا دیوانِ غزلیات اور سیکڑوں رعبایاں کہہ چکے تھے۔اور یہ سب اس پائے کا کہ اتنا ضخیم و حجیم کلام بھی سراپا انتخاب ہی کہا جائے گا۔’’مشعلِ جاں‘‘ میں شامل فارسی مثنوی میں قوتِ کلام کا اظہار صاف پتہ دیتا ہے کہ بستہ شد دیگر نہ می آید بروں کا معاملہ یہاں نہیں ہے۔اور نہ ابھی ان بدلے ہوئے زندگانی کو پھاند کر سیرآں سوئے تماشا کا وقت آیا ہے۔کارلائل کے بارے میں سنا ہے کہ جب اس نے اپنی ’انقلابِ فرانس‘ مکمل کی تو آب دیدہ ہوگیا کہ اس کے آگے کیا لکھوں۔ چارلس ڈکنس نے انقلاب فرانس کے بارے میں اپنے ناول ’’دو شہروں کا ایک قصہ‘‘ کے بارے میں مبالغہ آمیز مگر مبنی برحقیقت دعوی کیا کہ میں نے اپنا ناول لکھنے کے پہلے کارلائل کی کتاب پانچ ہزار مرتبہ پڑھی تھی۔مگر مجروحؔ کی غزل میں اتنی کیفیت نہیں کہ وہ اتنے مسلسل اور مکرر مطالعے کی متحمل ہو سکے۔ان پر زمانے کا یہ حق بہرحال ہے کہ ان کے گنجِ ہائے رنگا رنگ سے مزید مستفیض ہو۔
٭٭٭

Shafeeq Fatima Shera ka Sheri Canvas

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ کا شعری کینوس اور نسائی حسیت

قمر جہاں

بیاباں سبزۂ نوخیز سے آباد ہوتے ہیں
سکھی تم بھی جو اپنا دل بسا لیتیں تو اچھا تھا
حیا ہے خوف ہے پندار ہے ضد ہے یہ کیا شے ہے
تم اس خود ساختہ زنداں کو ڈھادیتیں تو اچھا تھا
ہمیشہ التجائیں رائیگاں جاتی رہیں میری
کبھی میری خوشی کی بھی دعا لیتیں تو کیا ہوتا
(’ صدا بصحرا ‘ازشفیق فاطمہ شعریٰؔ)
نسائی جذبات سے لرزاں یہ دل نشین آوازبیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں ابھرنے والی اس شاعرہ کی آواز تھی جس کے پیش نظر اردوشاعری میں نسائی حسیت کی پیش کش کا کوئی بہت کامیاب نمونہ نہیں تھا۔باوجود اس کے اس نے خالص نسائی جذبات کو الفاظ کا شفاف پیرہن عطا کیا، وہ بھی اس کامیابی کے ساتھ کہ یہ نظمیں اردو شعروادب کی تاریخ میں خوشگوار اور تازہ ہوا کا جھونکا ثابت ہوئیں اور شائقین ادب کے قلوب و اذہان کے لیے باعث مسرت و بصیرت۔ یہ منفرد آواز اس وقت گونجی جب بقول محمود ہاشمی ’’اردو میں خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا۔‘‘(۱)
شعریٰ نے اپنے تخلیقی سفر کا آغاز منظوم تراجم سے کیا۔ انھوں نے اقبال کی پیام مشرق، ارمغان حجاز اور جاوید نامہ کا منظوم ترجمہ (ادھورا) کیا۔ ساتھ ہی اسپین کے نوبل انعام یافتہ غنائی شاعر JAUN RAMON JIMENEZ کی نظموں کا ترجمہ کیا تھاجو ان کے پہلے مجموعۂ کلام ـ ’گلۂ صفورہ‘ میں شامل ہے۔یہ ان کا پہلا مجموعۂ کلام ہے جس میں ان کی شادی (۱۹۶۵) سے قبل کی نظمیں شامل ہیںلیکن اس کی اشاعت مکتبہ جامعہ سے ۱۹۹۰؍ میں ممکن ہوسکی ۔ دوسرا مجموعۂ کلام ’آفاق نوا‘ ہے جس میں شادی کے بعد کا کلام شامل ہے لیکن اگر اشاعتی ترتیب سے دیکھا جائے تو یہ مجموعہ ’گلۂ صفورہ‘ سے پہلے یعنی ۱۹۸۷ میں شائع ہواجب کہ ان کا کلیات ’سلسلۂ مکالمات‘ کے نام سے ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،دہلی سے ۲۰۰۶ میں شائع ہوا، جس میں مذکورہ دونوں مجموعوں کے علاوہ ’کرن کرن یادداشت ‘اور ’سلسلۂ مکالمات‘نامی مجموعے بھی شامل ہیں۔ ۱۳ ؍ اگست ۲۰۱۲؍کو آسمان ادب کا یہ روشن ستارہ ہمیشہ کے لیے غروب ہوگیا۔
شعریٰ کی نظمیں گجر، صبا، آئینہ ، سوغات، شب خون، شعروحکمت، شاہراہ اور بہت بعد میںپاکستان سے شائع ہونے والے رسالہ بادبان اور دیگر ادبی رسالوں کی زینت بنتی رہیں۔ ان کی نظموں نے اپنے آغاز میں ہی باذوق قارئین کو چونکایاتھا۔ حمید نسیم نے انھیں عہد حاضر کے پانچ سب سے بڑے شاعروں میں شمار کیا ہے اورگلۂ صفورہ‘ کے گرد پوش پرقاضی سلیم ان کا تعارف کراتے ہوئے ’ ’شعریٰ اردو شاعری کی پہلی نسائی آوازہے‘‘ جیسا اہم بیان درج کیا ہے۔
شعریٰ کی شاعری کا کینوس بہت وسیع ہے ۔ ابتدائی عہد کے کلام میں نو بلوغیت کے عہد کے نسوانی جذبات کی خوبصورت عکاسی ملتی ہے وہیں آگے چل کر ان کی شاعری میں احساسات کی نزاکت اور غنائیت کے ساتھ ساتھ فکر کی گہرائی و گیرائی اور متانت ودانش وری کا جو امتزاج نظر آتا ہے وہ ان کی ہم عصر شاعرات میں سے کسی کے یہاں نظر نہیں آتا۔ خواتین کے سماجی مسائل پر اپنے منفرد انداز میں قلم اٹھانے والی اس شاعرہ کی گرفت میں انفس و آفاق بھی ہیں، بحروبر اور دشت و شجر بھی اور آج کا وہ صنعتی اور مادی عہد بھی جس میں تمام جمالیاتی اور اخلاقی قدریں اپنی ناقدری پر ماتم کناں ہیں۔ان کے یہاں مستعمل علامتوں ، تشبیہوں اور استعاروں میں قرآنی آیات، بزرگوں کے اقوال و ملفوظات کا بکثرت استعمال نظر آتا ہے ۔ ان کی شاعری کی جڑیں اپنے تہذیبی ورثے میں برگد کی پارنبیوں کی طرح پیوست ہیں۔ موضوعات کے تنوع کے ساتھ ہی فنی باریکیوں پر بھی ان کی نظر گہری ہے۔ شعریٰ کی شاعری میں نسائی حسیت ان کے ہشت پہلو کلام کا ایک مختصر سا زاویہ ہے۔کلامِ شعریٰ میں نسائی حسیت کی نشان دہی سے پہلے بہتر ہوگاکہ نسائی حسیت کی تعریف متعین کرنے کی کوشش کی جائے۔
ہر ذی روح میں خواہ وہ انسان ہو یا جانورفطری طور پر قوت حس ودیعت کی گئی ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ انسان قوّت گویائی کا سہارا لے کر اپنی حسیت یا اپنے احساسات کا اظہار کر سکتا ہے جب کہ جانور اس قوت سے محروم ہے ۔ انسان کی یہ حسّی صلاحیت عمر، طبقہ ،مزاج اور جنس کی نوعیت پر منحصر ہوتی ہے۔ کسی سے کوئی رشتہ اور لگاؤ بھی حسی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے ،یہ رشتہ فرد سے بھی ہو سکتا ہے اور سماج یا سیاست سے بھی ۔ حسیت کو بیدار کرنے میں شخصیت کے مخصوص مزاج کا بھی اہم رول ہوتا ہے ۔ اسی طرح مختلف طبقات یا جماعت کے لوگوں کے احساسات و جذبات اور سوچنے کے انداز میں فرق ہوتا ہے علاوہ ازیں جنسیت یعنی Sex بھی حسیت کو متاثر کرتا ہے۔
عورتوں میں چند مخصوص خوبیاں اور صفات ایسی ہوتی ہیں، جن کی وجہ سے ان کی حسیت میں کچھ ایسی انفرادیت آجاتی ہے جو مردوں میں نہیں پائی جاتی ۔جیسے جذباتیت، ایثار و قربانی ،ممتا ، وفا ، پناہ اور رقیق القلبی وغیرہ کا جذبہ جو مردوں کے بالمقابل عورتوں میں زیادہ پایا جاتا ہے۔ عورتوں کی ان حسیات کو جو عرف عام میں عورتوں سے مخصوص ہیں ،نسائی حسیت یا عورت پن سے تعبیر کیا جاتا ہے۔حالانکہ یہ صفات خالص فطری نہیں بلکہ اس میں سماج اور معاشرے کا بہت بڑا رول ہوتا ہے جو مشرقی اورمغربی عورت کے تقابل سے بالکل صاف اورواضح ہو جاتا ہے۔نسائی حسّیت کے سلسلے میں خالدہ حسینؔ لکھتی ہیں:
نسائی حسیت صرف یہی نہیں کہ مؤنث واحد متکلم کا صیغہ اپنا لیا جائے۔ گھر آنگن اور سنگھار اور برہا کی بات کی جائے۔ اوڑھنی کے رنگوں اور چوڑیوں کی چھنک کو شاعری میں ایک معتبر مقام دلوایا جائے۔ نسائی حسیت سے مراد ہے کہ عورت جس طرح زندگی کو دیکھتی اور بسر کرتی ہے وہ مرد سے مختلف ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ ہر انسان وقت کو اپنے حوالے سے پہچانتا ہے۔یعنی اس کا وقت کا تصور ذاتی اور داخلی نوعیت رکھتا ہے۔ اس طرح عورت کا وقت کے ساتھ تعلق اور زمانی احساس مرد سے مختلف ہے کیوں کہ اس کے شب و روز اور معاملات و مسائل کی نوعیت منفرد ہے ۔ وہ اپنی سائیکی (جو مرہون منت ہے اس کی جسمانیات کی )کے حوالے سے فطرت کے تمام مظاہر کو ، جن میں اس کے پانچوں حواس سے اخذ کردہ تجربہ یعنی رنگ ، خوشبو ، آواز ، لمس اور ذائقہ شامل ہیں اپنے ا نداز سے محسوس کرتی ہے اس میں صدیوں کے روایتی تلازمات کا بھی دخل ہے اور حال کی تبدیلیوں اور مستقبل کی امیدوں کا تعلق بھی ۔وہ جب موسموں ، رتوں رنگوں اورخوشبوؤں کا تجربہ کرتی ہے تو اس کے تلازمات میں ممتااور بیٹی، بہن اور بیوی کی ذات بھی شامل ہے ۔مرد اس سے مختلف انداز میں سوچتا اور محسوس کرتا ہے ۔ اس کی سوچ دور رسی اور ارتکا زکی خصوصیت رکھتی ہے ۔ جب کہ عورت بے شمار کام بہ یک وقت نمٹاتی اور ان گنت رشتوں کو قائم رکھتی ہے۔ یوں دیکھا جائے تو ہر عورت فنکار ہے ۔ یوں شعر میں عورت کی شخصیت ایک منفرد نقطہء نظر کی صورت اختیار کرتی ہے تو اسے ہم نسائی حسیت کا نام دیں گے ورنہ محض مؤنث کا صیغہ استعمال کرلینا کوئی معنی نہیں رکھتا۔(۲)
نسائیت عورت کی حسیت کا ایک نمایاں پہلو ہے عورت کی مکمل حسیت یا نسائی حسیت کا دائرہ اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے ، جس کا تعلق عورت کی پوری زندگی اور اس کی پیچیدگیوں سے عبارت ہے۔ اس میں اس کے جذبات و احساسات، افکار و تخیلات ، مزاج و اطوارسبھی کا دخل ہوتا ہے۔ لہٰذا ہر عورت کی حسیت ایک دوسرے سے منفرد ہوتی ہے یہ الگ بات ہے کہ گھریلو اور سماجی زندگی میں یکسانیت اور مطابقت کی بنا پر ان کے فکرو احساس کے دھارے میں بھی مماثلت پائی جاتی ہے۔شاعری میں نسائی حسیت کا اطلاق ان اشعار پر ہوتا ہے جن مین عورت کی مخصوص فطرت، اس کی ذات، ذہنی و نفسیاتی کیفیات ، اس کی خواہشات و آرزوؤں کا بیان فطری انداز میں ہوتا ہے اور اس میں کسی روایتی کردار یا اصلاحی جذبہ کی شمولیت نہیں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی وہ موضوعات بھی نسائی حسیت کے زمرے میں آتے ہیں جس میں کسی سیاسی وسماجی مسئلے کا بیان ایک عورت (ماں،بیوی، بہن،بیٹی)کے زاویہء نگاہ سے کیا جاتا ہے۔
نسائیت
نسائیت اور تانیثیت عورت کی حسیت کے دو نمایاں پہلوہیں ، جنھیں نسائی حسیت کے تحت رکھا گیا ہے۔ اول الذکرکا تعلق جذباتی حسیت سے ہے جب کہ آخر الذکرکا فکری حسیت سے ہے۔نسوانیت اور نو بلوغیت سے تعلق رکھنے والے شدید جذبات کے اظہار کو ’ نسائیت ‘ کا نام دیا گیا ہے ۔ شعریٰؔ کو زمانہء طالب علمی سے ہی ادب کے علاوہ مذہب،تاریخ اور عصری حالات و سانحات سے گہری دلچسپی تھی ۔ تاہم شاعری کی سطح پر اگر غور کیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں یا بالفاظ دگر شادی سے قبل کی نظموں میں غنائیت سے بھرپور نیز جذبات کو بر انگیختہ کرنے والاایسا اسلوب ملتا ہے جو شعریٰ کا اپنا ذاتی اسلوب ہے اور جسے’ نسائیت‘ کے ذیل میں رکھا جاسکتا ہے۔ یہ نظمیں بے چینی اور شوریدگی ،سلگتے ہوئے جذبات کا بہاؤ،احساسات کی شدّت کی تپش ، اپنی کھال سے باہر نکلنے اور کسی کو ٹوٹ کر چاہنے کی ناآسودہ خواہش اور جذباتی زندگی میں ناکامیوں کا زبردست تخلیقی اظہار ہیں۔ غیر معمولی غنائیت اور لہجے کا ایسا اتار چڑھاؤجو موسیقی سے لبریز زمزموں کی شمعیں روشن کردیتا ہے۔حمید نسیم کے الفاظ میں ’’گلہء صفورہ کی نظموں میں فکر محکم اور پختہ ہے لیکن بیشتر نظموں میں ایک ترنگ سی ، جذبہ کا ایک وفور سا ہے ۔ اسلوب میں ایک لہک ہے جس کی حدت سے Effervescent Lyricism ایک ابھرتی ہوئی موج کی مانند ہے ،جو قاری کو اپنے ساتھ بہا لے جاتی ہے ۔‘‘ (۳)
عشق شروع سے ہی نہ صرف اردو شاعری کا بلکہ انسانی زندگی کامرکزی موضوع رہا ہے ۔عہد قدیم سے لے کرآج تک شعرا اس محبوب موضوع کو نئے پیرہن میں پیش کرتے رہے ہیں۔لیکن شعریٰؔ کی شاعری اس حیثیت سے ایک ممتاز حیثیت کی حامل ہے کہ اس میں عشقیہ جذبات کا اظہار (جن پر ابھی تک شعرا قابض تھے) ایک شاعرہ کی جانب سے ہوا اور یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ مرد کی طرح عورت بھی اپنے دھڑکتے ہوئے دل میں لطیف جذبات و احساسات رکھتی ہے۔اس کے دل میں بھی عشق و محبت کے حسین جذبات پنہاں ہوتے ہیں۔یہ صرف معشوق نہیں عاشق بھی ہے۔ شعریٰؔ کی اس قبیل کی شاعری خالص جذبات واحساسات کی شاعری ہے جو ظاہری آلائش سے پاک دل کا رشتہ دل سے رکھتی ہے۔ ’ارضِ نغمہ ‘ کے یہ اشعار ملاحظہ ہوں:
جب سے مجھ کو دل ملا دل کو دھڑکنیں ملیں
تب سے میرے دل میں تھا اس کے پیار کا قیام
اس کی راہ میں مجھے کتنے ہم سفر ملے
ایک مے سے ہیں گداز جن کی زندگی کے جام (۴)
عصر حاضر میں ہم دیکھتے ہیں کہ یورپ میں خواتین تانیثیت کے نام پر زندگی کے ہر میدان میں مساوی حقوق کی جنگ لڑ رہی ہیں، وہیں مشرق میں عورت ابھی درونِ خانہ ہی آزاد نہیں کجا بیرونِ خانہ ۔ وہ اپنی زندگی کے کسی فیصلے میں آزاد و خود مختار نہیں۔ ہماری تہذیب و ثقافت جہاں سماجی سطح پر عورتوں کا دائرہ محدود اور زندگی بسر کرنے کے اصول و ضوابط مرد حضرات سے مختلف ہیں، جہاں شادی بیاہ جیسے اہم ترین معاملات میں بھی لڑکیوں کی رائے لینے کی ضرورت نہیں سمجھی جاتی ، جہاں وفا، عصمت ، پاکیزگی اور قربانی جیسی صفات عورتوں کے ساتھ مخصوص ہیں؛ ایسی تہذیب و ثقافت میں عشق جیسے شجر ممنوعہ کے پھل کو چکھنے کی اجازت کسے ہوسکتی ہے۔ اوراگر کسی نے غلطی سے اس پھل کو چکھنے کی جسارت کرلی تو یقیناً راندۂ درگاہ ہونا طے ہے۔ مشرقی ممالک میں ایسا قدم اٹھانے والی دوشیزاؤں کو آنر کلنگ کے نام پر زندگی کی قید سے آزاد کر دینا کوئی تعجب خیز امر نہیں۔ لیکن عشق تو ایک فطری اور الوہی جذبہ ہے،جس سے دامن بچانا ممکن نہیں ۔ ’ صدا بصحرا‘ میں ایک ایسی ہی لڑکی کی سہمی سہمی کیفیت کی عکاسی کی گئی ہے ، جو عشق کی کسک سے آگاہ ہے لیکن حیا اور پندار کے نام پر خاموش اور اظہار سے قاصر اندر ہی اندر گھٹ رہی ہے:
سکھی پھر آگئی رت جھولنے کی گنگنانے کی
سیہ آنچل کی تہہ میں بجلیوں کے ڈوب جانے کی
سبک ہاتھوں سے مہندی کی ہری شاخیں جھکانے کی
لگن میں رنگ آنچل میں دھنک کے مسکرانے کی
امنگوں کے سبو سے قطرہ قطرہ مے ٹپکنے کی
گھنیرے گیسوؤں میں ادھ کھلی کلیاں سجانے کی(۵)
’صدا بصحرا‘ کے اس بند میںگنگنانے ، جھولنے اور مہندی کی ہری شاخیں جھکانے والی رت سے مرادساون کا وہ روایتی مہینہ ہے ،جب ایک طرف تو پانی ٹوٹ کر برستا ہے اور دوسری طرف دوشیزاؤں کے پورے وجود پر ایک شعلہ صفت ہریالی چھا جاتی ہے اور جذبات سلگنے لگتے ہیں۔ نظم میں سکھی کو جو لڑکی مخاطب کرتی ہے وہ در اصل ان ہی جذبات کی نمائندگی کرتی ہے۔اور جس لڑکی سے یہ باتیں کی جارہی ہیں وہ راوی کی اپنی ہم زاد ہے،ایسی ہم زاد جس پربدلتے ہوئے موسموں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ۔ وہ ایک ایسی جھیل ہے جس کی تہہ میں اگرچہ ہلچل ہے لیکن اس کی سطح بہت پرسکون اور خاموش ہے ۔مختصر یہ کہ راوی جذبہ ہے جب کہ اس کا مخاطب اس کا اپنا شعور ہے۔فضیل جعفری ؔلکھتے ہیں’’ حقیقت یہ ہے کہ نوجوانی اور جوانی کے دور میں ان پر’ میر ابابیت ‘کا غلبہ تھا ۔علاوہ ازیں ان کی بعض نظموں سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے عشق تو ٹوت کر کیا مگر کلی پھول نہ بن سکی۔ اپنی ایک بڑی خوبصورت نظم ’سمتیں ‘کے اس بند میں انھوں نے جو داستان بیان کی ہے وہ حقیقت پر مبنی ہے۔‘‘ (۶)
اس شاعری میں جدت کا رنگ اور آہنگ پایا جاتا ہے ،جس میں عشق و محبت کے سارے رنگ محبوب کی فکرمندی، روٹھنے منانے کا کھیل،بچھڑنا اور پھر زندگی کی تاریک راتوں میں محبوب کی یادوں کے اجالوں کو اپنے ہمراہ رکھناغرض یہ کہ تمام احساسات مرد کے عشقیہ جذبات واحساسات سے مختلف ہیں ۔ شعریٰ کی نظموں میں عورت رادھا ، میرا اور سیتا کا روپ ہے جس نے اپنے محبوب کو ٹوٹ کر چاہا ہے۔ نظم ’سمتیں‘ کے یہ دو بند ملاحظہ ہوں :
راہی سب سے روٹھو لیکن مت روٹھو
اپنی میٹھی اور منوہر بانی سے
اس لہجہ سے جس پر سب مفتون ہوئے
جس کی بدولت لگتے ہو لاثانی سے
—————-
راہی یوں نہ سمجھنا بازی ختم ہوئی
جنم جنم ہم راہوں میں ٹکرائیں گے
جنم جنم چمکیں گے اشارے سمتوں کے
دل کی قسمت کے تارے گہنائیں گے (۷)
مندرجہ بالا اقتباسات میں جدید شاعری کے مروجہ تکنیکی عناصر یعنی علامتوں ، استعاروں اور امیجری کی پیچیدگی نظر نہیں آتی لیکن جذبات و احساسات کی شدّت اور بیانیہ کی ندرت نے مجموعی طور پر اتنا زبردست تاثر تخلیق کر دیا ہے ،جس سے دامن بچا کر نکل جاناممکن نہیں۔ان اشعار میں عشق کا اظہار ایک خالص ہندوستانی عورت کی طرف سے ہوا ہے جو ہندوستانی شاعری کا امتیاز ہے جب کہ اب تک فارسی شاعری کے زیرِ اثرعورت اردو غزل کا معشوق تھی۔ شعریٰ کے کلام کی نسائیت ’’سکھی پیا کو جو میں نہ دیکھوں تو کیسے کاٹوں اندھیری رتیاں‘‘کا ایک روپ ہے، جو ایک عورت کی زبان سے تشکیل پارہا ہے۔ اس سے قبل کی شاعری میں عورت ستر پردوں میں ملفوف معشوقہ یا پھر سنگ دل شاہدان بازاری تھی۔ وہ سب کچھ تھی بس نہیں تھی تو ایک عورت۔ اس کے بارے میںاب تک جو کچھ لکھا یا کہا گیا وہ اس کے تئیں محض مرد کا تصور یا اس سے متعلق مرد کی آرزوؤں اور خواہشوں کا مظہر تھا۔ شعریٰ کی اس قبیل کی دوسری کئی نظموں جیسے’ زوالِ عہد تمنا‘،’زیرِ چرخِ کہن‘،’گلۂ صفورہ‘،’اسیر‘، ’صدا بصحرا‘اور ’پریتی‘ وغیرہ کا عمومی اسلوب بیک وقت شیریں بھی ہے اور اس پر اداسی کی پرچھائیں بھی نظر آتی ہے۔شعریٰؔ کی ابتدائی شاعری کی اس غیر معمولی حد تک غنّائیت اور داخلیت کے بارے میں وحید اخترؔ لکھتے ہیں :
ان کے لہجے پر عرب شاعروں کے عشقیہ آہنگ کا بھی اثر ہے ۔لیکن جو چیز انھیں ممتاز کرتی ہے وہ ان کا افسردگی آمیز تفکر ہے ۔اس افسردی میں کھوکھلے رجائیت سے زیادہ ایمان افروز کیفیت ہے ۔ دوسری خصوصیت جو انھیں تمام خواتین شعرا سے ممتا ز کرتی ہے ،ان کا نسائی لب ولہجہ ہے۔ترقی پسند دور کی شاعرات میں ادا بدایونی ؔ اور صفیہ شمیمؔ ملیح آبادی کے یہاں جو لہجہ ہے وہ اس دور کے مرد شاعروں سے الگ نہیں ،صرف نام سے یہ پتہ چلتا ہے کہ یہ خواتین کی نظمیں ہیں۔اس کے برخلاف شعریٰؔ کی نظم کا پورا ڈھانچہ اور ان کے لہجے کی ہلکی سی کسک ،دردمندی اور نرمی ان کے جنس کی صاف غمّازی کرتی ہیں۔(۸)
تانیثیت
تانیثیت بنیادی طور پر ایک شعوری تصور ہے جس کے پیچھے بطور محرک عورت کے وہ اجتماعی تجربات کار فرما ہیں جو اس نے مرد اساس نظام و اقدار میں استحصال اور نا انصافی کی شکل میں حاصل کیے ہیں ۔مرد اور عورت کے درمیان حیاتیاتی تفریق کے سبب اسے سیمون دی بوار کے لفظوں میں ہمیشہ’ دوسری جنس ‘ہی سمجھا گیا۔چونکہ وہ صرف ایک کمیوڈٹی تھی اس لیے سیاسی ، سماجی، معاشی اور قانونی سطح پر اس کے لیے یکساں حقوق کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا تھا۔تانیثی تحریک کا بنیادی مقصدان حقوق کی حصولیابی اور ترقی کے میدان میں انھیں یکساں مواقع فراہم کرنا ہے۔اجتماعی طور پر تانیثیت کی لہر اٹھنے سے پہلے حقوق نسواں کی تمام تر جدوجہد انفرادی کوششوں کا نتیجہ تھی۔ ایک تحریک کی شکل میں تانیثیت کا آغاز انیسویں صدی کے دوران برطانیہ میں ہوااور تب سے اب تک مغرب میں تانیثی تحریک نے تین ارتقائی مراحل طے کیے ہیں جنھیں تین’ لہر‘ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ پہلی لہر میں، جس کا آغاز برطانیہ میں ہوا عورتوں کی تعلیم، ان کے لیے روزگار کے مواقع اور شادی سے متعلق قوانین جیسے مسائل کو اٹھایا گیا ۔ اس تحریک کو زبردست کامیابی ملی عورتوں کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھل گئے اور ۱۸۷۰ء میں شادی شدہ عورتوں کی حق ملکیت کا قانون بھی عمل میں آگیا۔ تانیثیت کی یہ لہر پہلی عالمی جنگ تک جاری رہی۔
برطانیہ میں حقوق نسواں کی اس بلند بانگ صدا نے نہ صرف یہ کہ پورے یورپ کی خواتین کوبیدار کردیا بلکہ اس کی گونج امریکہ کی شاہراہوں تک پہنچی ۔نتیجتاً بیسویں صدی کی چوتھی دہائی میں یوروپی ممالک اور امریکہ میں عورتوں کے حقوق کی پاس داری کے لیے آواز بلند کی گئی۔ تانیثیت کی اس دوسری لہر میں اسقاطِ حمل کے حق اور لسبین مسائل کو بھی حقوق نسواں کی تحریک میں شامل کیا گیا۔ یہ لہر تنازعات کا شکار ہوکر ۱۹۹۰ء کے آس پاس ختم ہوگئی ۔
تانیثی تحریک کی تیسری لہر بیسویں صدی کی آخری دہائی سے ذرا قبل نمودار ہوئی۔ اس تحریک سے عورت کی ایک نئی شبیہ ابھر کر سامنے آئی۔ اب عورت ادعائیت کی حامل ہے ، طاقت ور ہے، اپنے تشخص پر اسے خود اختیار ہے ۔ یہ تحریک عورت کے سیاسی ،سماجی اور معاشی طور پر خود مختار ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی انفرادی تشخص پر بھی مصر ہے۔عورت کو اپنا تشخص یا پہچان خود قائم کرنے کی حوصلہ افزائی کرتی ہے۔
بیسویں صدی کے دوران برصغیر ہندوپاک میں عورتوں کی تعلیمی بیداری کے نتیجے میں ان کا شعور بھی بیدار ہوا اور بیرونِ خانہ معاملات سے وابستگی نے ان کے اندر تشخص کا احساس جگایا۔یہی تشخص تانیثیت کا مرکزی موضوع ہے لہٰذا تانیثیت کو ’جدید عورت کی حسیت‘ اور نسائیت کو’قدیم عورت کی حسیت ‘سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ امتیاز صرف یہ ہے کہ نسائیت کا عنصر تو عصر حاضر کی شاعرات کے یہاں بھی مل جائے گا لیکن تانیثیت بیسویں صدی کے نصف آخر اور خاص کر ۱۹۶۰؁ء کے پہلے شاذ ہی نظر آتا ہے ۔البتہ افسانہ نگاروں نے بیسویں صدی کے آغاز میں ہی خواتین کی مساوی حیثیت پر زور دیا۔ انھوں نے خواتین کی سماجی نابرابری ، کمتر حیثیت اور تعلیم سے محرومی کو اپنا موضوع بنایا۔ بلا مرضی اور بے جوڑ شادی، جنسی ناآسودگی، درونِ خانہ عورتوں کا جنسی استحصال، کثرت ازدواج، بچوں کی بھرمار اور اس کے اوپر لعنت ملامت وغیرہ موضوعات بھی تانیثیت کے رجحان کے تحت حیطۂ تخلیق میں لائے گئے۔ ان مسائل کی کامیاب اور پرزور پیش کش سب سے پہلے رشید جہاں اور پھر عصمت کے یہاں نظر آتی ہے۔ تعلیمی بیداری کے نتیجے میں خواتین کا شعور بیدار ہو، ساتھ ہی تعلیم اور ملازمت کی وجہ سے وہ گھر سے باہر کی دنیا سے بھی آشنا ہوئیں۔باہر کی دنیا میں قدم رکھتے ہی وہ اس کربناک حقیقت سے بھی روشناس ہوئیں کہ صرف معاشی خود کفالت ہی سماجی مساوات کی آخری حد نہیں بلکہ یہ اس کی ایک چھوٹی سی اکائی ہے۔ ورکنگ وومن کے سامنے اپنے مسائل کا ایک کھولتا ہوا جہنم موجود تھا۔ کام کے مواقع میں بھی عدم مساوات، مشاہرے میں ان کے ساتھ امتیاز اوراس قسم کے دیگر مسائل ورکنگ وومن کی نفسیات و تجربات کا حصہ ہیں ۔ تانیثی رجحان جیسے جیسے آگے بڑھتا گیا ویسے ویسے اس کے سامنے خواتین سے متعلق مسائل کی فہرست نئی نئی شکل میں آنے لگی۔
تانیثیت کے اس کارواں میں شاعرات بھی پوری سج دھج کے ساتھ شریک ہوئیں۔ پروین شاکر، کشور ناہید، فہمیدہ ریاض، زاہدہ زیدی، ساجدہ زیدی،سارا شگفتہ اور زہرا نگاہ وغیرہ نے ایک طرف جہاں عورتوں کے مسائل کو اٹھایا وہیںسماجی، سیاسی اور معاشی سطح پر ان کے مساوات کی متقاضی ہوئیںہے۔ان شاعرات کے یہاں اظہار کے پیرایے اور لہجے میں فرق ہے تاہم مقصد سب کا ایک ہے یعنی عورت کے وجود کو اس کے پورے احترام کے ساتھ منوانا۔محض مراعات کی بخشش مسئلے کا حل نہیں ۔ پہلے عورت کی نفسیاتی، جذباتی اور انسانی تشخص کو تسلیم کرنا پڑے گا تب ہی باہمی شرکتیں مکمل ہو سکتی ہیں۔اس سلسلے میں جب ہم نظر ڈالتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ تقریباً سبھی شاعرات نے اپنی شاعری کا آغاز ’تانیثیت‘نہیں بلکہ ’ نسائیت ‘ سے کیا ، اور نوعمری کے نسوانی اور غنائی جذبات کو شاعری کا جامہ پہنایالیکن بہت جلد ہی شرم و حیا ،کپکپاتے ہوئے ہونٹ اور خواہشات کی دھیمی دھیمی سلگتی آگ کی جگہ بغاوت، جسارت اور اعلان جنگ نے لے لی۔نظم ’گھاس بھی مجھ جیسی ہے‘ میںکشور ناہید لکھتی ہیں:
گھاس بھی مجھ جیسی ہے ؍ ذرا سر اٹھا نے کے قابل ہو ؍ تو کاٹنے والی مشین ؍ اسے مخمل بنانے کا سودا لیے ؍ ہم پر وار کرتی ہے (۹)
یہ ہے صدیوں کے ظلم اور مردوں کی غلامی کا شکار عورت۔وہ بولنا چاہتی ہے تو اسے قوت گویائی سے محروم کردیا جاتا ہے،کھلے آسمان میں اپنے پنکھ پھیلا کر اڑنا چاہتی ہے تو ا س کے پر کاٹ دیئے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود کہ صدیوں سے استحصال کا شکار عوت اپنے وجود اپنے جسم اور اپنے حقوق کی لڑائی لڑتی ہوئی لہولہان ہورہی ہے اور بسا اوقات شکست سے دوچار بھی تاہم اس کی ہمت پر آفرین کہ وہ اس شکست کو جز سنجیدنِ پر سے زیادہ اہمیت نہیں دیتی۔ بالزاک نے کہا تھا ’’شادی شدہ عورت غلام سے بھی بدتر ہے۔‘‘ بس فرق یہ ہے کہ بالزاک نے فرانس کے تناظر میں یہ بات انیسویں صدی میں کہی تھی جب کہ جنوبی ایشیا میںاکیسویں صدی کی شادی شدہ عورت کی حالت اب بھی اس قول کی صداقت کی گواہ ہے۔کشور ناہید کی ایک اور نظم نیلام گھر کے کچھ مصرعے ملاحظہ ہوں:
مرے منھ پر طمانچہ مار کر ؍ تمھاری انگلیوں کے نشان ؍ پھولی ہوئی روئی کی طرح ؍ میرے منھ پر صد رنگ غبارے چھوڑ جاتے ہیں ؍ تم حق والے ہو ؍ تم نے مہر کے عوض حق کی بولی جیتی ہے (۱۰)
اس کے علاوہ جاروب کش،میں کون ہوں ،سنسر شپ ، دفعہ ۱۴۴ ؍اور اینٹی کلاک وایز جیسی نظمیں بھی ان کے تانیثی رویوں کی بھر پور نمائندگی کرتی ہیں۔انھوں نے اپنے وجود کو پوری طرح اس معاشرے سے منوایا جہاں عورت کی جمہوری حق حکمرانی اور پوری یا آدھی گواہی جیسے مسائل پر ابھی تک بحث جاری ہے۔پاکستان میں جنرل ضیا ء الحق کا عہد آمریت عورتوں کے لیے سیاسی اور سماجی دونوں سطح پر ناسازگار ثابت ہوا ۔ اسلامی حکومت کے نام پر خود ساختہ قوانین کو جبراً نافذ کرنے کے نتیجے میں تعلیم یافتہ عورتوں کے طبقے میں شدید احتجاج ہوا۔ ’حدود قانون‘ اور ’ نصف گواہی‘ جیسے مسئلے پر عورتوں کا شدید ردّ ِ عمل سامنے آنا لازمی تھا۔’ حدود آرڈیننس‘ کے خلاف اسی عنوان سے زہرہ نگاہ ؔ نے ایک نظم لکھی جو خواتین کے احتجاج کی تصویر پیش کرتی ہے۔
فہمیدہ ریاض اپنی نظموں میں خدا، مذہب اور معاشرے سے مخاطب ہوتی ہیں۔ ان کی نظموں میں احتجاج اور بغاوت کی شدت فرسودہ معاشرے اور مذہبی بندشوں کے بارے میں از سر نو غور کرنے پر مجبور کر دیتی ہے۔مقابلہء حسن، باکرہ ، نینا عزیز ، اقلیما،چادر اور چاردیواری اور کب تک اسی قبیل کی نظمیں ہیں، جن میں مذہب اور سماج کے خودساختہ ٹھیکیداروں کو انتہائی طاقتور آواز میں چیلنج کیا گیا ہے ۔
چونکہ مرد اساس معاشرے کے قانون ساز مرد حضرات ہیں اس لیے معاشرتی سطح پر سارے اختیارات آج بھی مرد ہی کو حاصل ہیں۔ عورت کو محض اس کی ضرورتوں کی تکمیل کا ذریعہ مانا جاتا ہے یہی وجہ ہے کہ مرد اور عورت کاگاڑی کے دو پہیے ہونا صرف مقولے کی حد تک درست ہے ورنہ عملی زندگی میں عورت کی حیثیت ثانوی ہے ۔ عورت کی اس بے جان حیثیت کو فہمیدہ ریاض نے اپنی نظم’ گڑیا ‘میں بہت خوبصورتی کے ساتھ موضوع بنایا ہے:
جب جی چاہے کھیلو اس سے ؍ الماری میں بند کرو ؍ یا طاق میں اسے سجا کر رکھ دو ؍ اس کے ننّھے لبوں پہ کوئی پیاس نہیں ؍ نیلی آنکھوں کی حیرت سے مت گھبراؤ ؍ اسے لٹا دو ؍ پھر یہ جیسے سو جائے گی(۱۱)
خالص نسائی لہجے کی سوگوار شاعرہ پروین شاکر ؔنے بھی اپنی ایک نظم ’نک نیم ‘ میں عورت کی اس حالت کو موضوع بنایا ہے ۔ایک ایسا معاشرہ جہاں کبھی مذہب ، کبھی سماج تو کبھی تہذیب و ثقافت کے نام پرعورت کے ساتھ بے شمار زیادتیاں اور ناانصافیاں روا رکھی گئیں۔ خانگی تشدد، زدوکوب، جنسی استحصال اورکبھی عزت تو کبھی جہیز کے نام پر قتل یہ سب عام واقعات ہیں۔ عورت کی ذہانت، صلاحیت اور قابلیت سے قصداًچشم پوشی کی گئی ، اسے مرد کے مقابلے میںجسمانی طور پر کمزور اور ناتواں نیز جذباتی طور پرزیادہ حساس اور نم دیدہ قرار دیا گیا۔ ناقص العقل بھی کہا گیا اگرچہ سائنس اسے ثابت نہیں کر سکی۔اس کے علی الرغم مردکو عقل و فراست، ذہانت اور تفکر پسندی کی صفت سے متصف قرار دیا گیا۔اسے سیتا، ساوتری،شکنتلا، پدمنی اور دروپدی کا درجہ دیا گیا یا پھر، پری ، شہزادی، گڑیا، ملکہ اور مہارانی کا ۔ محروم رکھا گیا تو صرف ایک حیثیت سے اور وہ حیثیت ایک انسان کی ہے۔یہ ذہنیت صرف مشرق ہی تک محدود نہیںبلکہ مغرب جو ترقی پسندی کی روشن مثال ہے وہاں بھی رائج ہے۔ سلویا پلاتھ کے مطابق”They spoke about us, to us and at us but never for us.”مرد اساس معاشرے میں عورت کی ذات اپنے جذبات و احساسات کی ترجمانی و نمائندگی سے یکسر محروم رہی ۔ پروین شاکر ’نک نیم‘ میں اس طرح تصویر کشی کرتی ہیں:
تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو ؍ کھیلنے والے سب ہاتھوں کو ؍ میں گڑیا ہی لگتی ہوں ؍ جو پہنا دو مجھ پہ سجے گا ؍ میرا کوئی رنگ نہیں ؍ جس بچے کے ہاتھ تھما دو ؍ میری کسی سے جنگ نہیں ؍ سوتی جاگتی آنکھیںمیری ؍ جب چاہے بینائی لے لو ؍ کوک بھرو اور باتین سن لو ؍ یا میری گویائی لے لو ؍ مانگ بھرو سیندور لگاؤ ؍ پیار کرو آنکھوں میں بساؤ ؍ اور پھر جب دل بھر جائے تو ؍ دل سے اٹھا کے طاق پہ رکھ دو ؍ تم مجھ کو گڑیا کہتے ہو ؍ ٹھیک ہی کہتے ہو(۱۲)
فہمیدہ ریاض اور پروین شاکر ؔ کی ان نظموں کے بعد جب ہم اسی موضوع پر شعریٰؔ کی نظم کا جائزہ لیتے ہیں توشعریٰؔکی فکری انفرادیت ابھر کر سامنے آتی ہے۔’ گڑیاگھر ‘جیسے اکہرے موضوع میں بظاہر کسی فکری گہرائی یا موضوعی پیچیدگی کی گنجائش نظر نہیں آتی لیکن شعریٰؔنے اس موضوع میں بھی اپنی انفرادیت کو برقرار رکھا ہے اور اپنی مخصوص تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے ’گڑیا گھر‘ جیسے پامال موضوع کو ایک ندرت بخشی ہے۔یعنی مرکزی موضوع کے علاوہ بھی اس میںبعض ضمنی موضوعات کو سمیٹ لیا ہے ،جس کی وجہ سے تانیثیت کی جو دھیمی اور تیز ہوتی لے پروین شاکر یا فہمیدہ ریا ض کے یہاں نظر آتی ہے جسے پڑھتے ہوئے یکسانیت بلکہ توارد کا احساس ہوتاہے وہ یکسانیت شعریٰؔ کے یہاں نظر نہیں آتی۔ بلکہ ان کے یہاں سوگواری اور متانت کی ایک کیفیت ہے جوقاری کو ایک گہری سوگواری سے دوچار کرتی ہے ۔اور ان کا سنجیدہ اور فلسفیانہ انداز قاری کو غور و فکر دعوت دیتا ہے۔ شعریٰؔ کی نظم’گڑیا گھر‘ کا ابتدائی بند ملاحظہ ہو:
ریاضت کے لیے مردان حق ؍ کوہ و بیاباں کی طرف نکلے ؍ کبھی ڈوبے کبھی ابھرے ؍ مگر گڑیا کی رنگیں پالکی کو پالکی بردار ؍ جس بستی میں لے آئے ؍ وہیں اپنی تپسیا کی ڈگر پر اس کو چلنا ہے(۱۳)
پروین شاکر اور فہمیدہ ریا ض ؔکی نظموں ( گڑیا اور نک نیم )کے بر خلاف شعریٰؔ کی نظم میں شائستہ اور پُر وقار لہجے کے ساتھ فکراور دانش وری کی ایک لہر ملتی ہے جو نہ صرف یہ کہ ظاہری طور پرموضوع کا احاطہ کرتی ہے،بلکہ اس میں عورت کی مکمل زندگی کا ایک عکس پیش کیا گیا ہے ۔ ہمارا سماج جہاںسربراہِ مملکت سے لے سربراہِ خاندان تک اقتدار اور طاقت کی ہر کرسی کا حقدار صرف اور صرف مرد ہے۔جہاں قانون ساز اداروں میں خواتین کے لیے ۳۳؍ فیصد نشستیں محفوظ کرانے کا بل سولہ برسوں سے زیرِ التوا ہے ،جہاں پہلی لوک سبھا سے سولہویں لوک سبھا تک کے طویل سفر میں خواتین کی شمولیت کا تناسب ۵ فیصدکی جگہ صرف ۱۲ فیصد ہوا ہے اور جس ملک میں اکیسویں صدی میں بھی جہیز کے لیے عورتوں کو نذر آتش کر دینے کی خبریں تقریباً روز ہی اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ایسے معاشرے میںخواتین کے سماجی، سیاسی، قانونی اور دیگر حقوق کے تحفظ اور صنفی مساوات کے خواب بھی کیسے دیکھے جاسکتے ہیں۔ شعریٰؔ اسی موضوع کو ایک آفاقی رنگ دیتی ہیں :
چھٹی حس بھی معطل ہونے لگتی ہے جب اخبار کی خبروں سے ؍ تو پرکھوں کی دعائیں ؍ کام آتی ہیں ؍ وہ گڑیا کو کہانی ؍ ایسے بیڑوں کی سناتی ہیں ؍ ہزاروں سال کے ترک ِ وطن کے بعد بھی ؍ جن کی جڑیں ؍ اپنی زمیں سے جڑ نہیں پائیں (۱۴)
عورت کو جنم سے ہی ایک گھر کی خواہش ہوتی ہے جو گزرتے عمر کے ساتھ شدید ہوتی جاتی ہے۔ ناسمجھ اور معصوم بچیوںکا ریت کے گھروندوںکی تعمیر میں منہمک ہونا ان کے اس فطری رجحان کی غمازی کرتاہے۔ اس کے باوجود عورت تمام عمر باپ،بھائی ، شوہر اور بیٹے کے گھر میں زندگی بسر کرتی ہے،اس کا کوئی اپنا گھر نہیں ہوتا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ اسے ووٹ ڈالنے ، ملازمت ، اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے اور جائیدادکی ملکیت کے حقوق حاصل ہیں تاہم جب ہم اپنے ارد گرد نظر ڈالتے ہیں تو پاتے ہیں کہ آج بھی اس کا کوئی گھر نہیں ہوتا۔ حتیٰ کہ ورکنگ وومن کے نام سے شناخت رکھنے والی ملازمت پیشہ عورتوں کے گھروں کے باہربھی نیم پلیٹ پر مرد حضرات کے نام ہی جگمگاتے ہیں۔شعریٰؔ رقم طراز ہیں :
یہ حسرت رہ گئی ؍ سارا جہاں ہوتا ؍ گھروندا اپنا موروثی ؍ پہن کر خول کچھوے کانہ پھر یوں زندگی کرتے ؍ غبار آلود چہروںاور پراگندہ لٹوں والے ؍ ملامت کیش(۱۵)
انسان کے خواب و حقائق کی کوئی انتہا نہیں ،اس نے ستاروں پر کمندیں ڈالیں اور چاند پر اپنے نقش پا ثبت کیے۔اس کی خواہشیں، تمنائیں اور آرزوئیں روزنت نئے ایجادات کا عملی جامہ پہن کر ہمارے سامنے مجسم نظر آتی ہیں اوراب تو وہ مقام آگیا ہے کہ انھوں نے عقل انسانی پرحیرت کے سارے در بند کر دیئے ہیں۔ سائنس اور ٹکنالوجی کے میدان میں اس ہوشربا ترقی نے انسان کو خوب سے خوب تر کی تلاش میں منہمک رکھا ہے۔’’لب کشا‘‘میں لکھتی ہیں:
ہم آہنگ گردش ستاروںکی ہے ؍ پڑ گئیں جو فضاؤں میں لیکیں پرانی ؍ وہ ان پر پھرے جارہے ہیں، پھرے جارہے ہیں ؍ سب حدیں ان کی پیمودہ ہیں ؍ مگر اپنے خواب و حقائق کا سیل عظیم ؍ کوئی لیک اس کی بنا دے ؍ مگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں؟ ؍ کبھی جو بنا دے بھی کوئی تو سوچو ؍ ہمارے قدم اور لیکوں کا رشتہ کہاں تک ؍ کہ اک حد پہ مٹ جائیں گی وہ ؍ تو کیا ہم بھی تھم جائیں گے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ؍ ہم تو بڑھتے ہی رہتے ہیں ؍ چاہے وہ زلزال ہو جو ہمکتا نظر آئے ؍ چاہے وہ ایک سوچ ہو جو تراشے چلی جائے بے شوروشیون ؍ سیہ دہشتوں کے پہاڑ(۱۶)
لیکن اس کے بعد شعریٰؔ جب معاشرے میں عورت کی حالت پر نظر ڈالتی ہیں تو اس کے برعکس پاتی ہیں۔عورت تو آج بھی وہی ہیں جہاں روز اول تھی ۔’’اک ستارہ آدرش کا‘‘میںیوں گویا ہوتی ہیں:
’’ہم نے انساں کا جنم پایا ‘‘ ؍ ستارے گارہے تھے—– ؍ ’’کس عمل کے اجر میں ؍ پایا ستارو، ؍ تم نے انساں کا جنم؟‘‘ ؍ ہم تو انساں کے جنم میں بھی ستارے ہی رہے(۱۷)
اردوادب کی ممتاز شاعرات کے یہاں تانیثیت کی بے باک اور چبھتی ہوئی آواز کے پہلو بہ پہلو جب ہم شعریٰ کی ان نظموں کو رکھتے ہیں تو پاتے ہیں کہ شعریٰؔ کے یہاں تانیثیت کا مخصوص آہنگ نظر نہیں آتا ۔ ان کے پہلے مجموعے میں نسائیت ضرور نظر آتی ہے۔ ’گلہ ء صفورہ‘ کے گردپوش پر قاضی سلیم کے اس جملے ’’ شعریٰ ؔ اردو شاعری کی پہلی نسائی آواز ہے ‘‘کے حوالے سے فضیل جعفری لکھتے ہیں کہ ’’ قاضی صاحب کا یہ قول فیصل’ گلہء صفورہ‘ میں شامل نظموں پر ہی صادق نہیں آتا بلکہ اس کا تعلق شعریٰؔ کے عمومی شعری اور فکری رویے سے ہے۔ عورتوںکے سلسلے میں شعریٰؔ کا جو وژن ہے اس کی تشکیل میں مشاہدات کے علاوہ ان کے ذاتی تجربات کا کردار بھی نمایاں ہے ۔‘‘ (۱۸) ذاتی تجربات سے شعریٰؔ کے گھریلو مسائل کی طرف اشارہ ہے ۔ شعریٰؔ کے عہد میں تانیثیت کا غلغلہ پورے زور و شور کے ساتھ اٹھا ، لیکن شعریٰؔ اس سے بالکل بھی متاثر نہیں تھیں ۔تانیثیت سے شعریٰؔکی جذباتی یا نظریاتی وابستگی تلاش کرنے سے قبل تانیثی تحریک کے سلسلے میں شعریٰؔ کی آرا سے رجوع کرنا زیادہ مناسب ہے۔وہ لکھتی ہیں:
اقبال نے نسوانی زندگی کو نسبتوں کے تناظر میں پیش کیا ہے۔
مریم ازیک نسبت عیسیٰؔ عزیز
از سر نسبت حضرت زہرا عزیز
خانوادہ کی دنیاعقبیٰ تک توسیع یاب ہے لیکن خانوادہ کے وقت کے تسلسل کا ایک موڑ یوم مسئولیت ہے،جہاں زن و مرد دونوں اپنے انسانی جوہر کی نمود کے ساتھ ، فرد واحد کی حیثیت سے ذات یکتاکے حضور حاضر پائے جاتے ہیں ۔ نسبتوں کا تناظر پیچھے چھوٹ جاتا ہے یہاں نہ مریم نسبت سے عیسیٰ عزیزالوجود ہیں نہ عیسی نسبت مریم سے بلکہ اپنی سج دھج اپنے تیور اور اپنے جوہر سے عزیز الوجود ہیں ۔ اس پہلو سے اقبال کی نگاہ نے صورت حال کو نہیں دیکھا۔۔۔
یہ ضروری نہیں کہ ان خیالات کی بنا پر میں اناثی تحریک کی گرد کارواں سمجھی جاؤں۔ سچ بات تو یہ ہے کہ اس تحریک کے رطب و یابس کا بوجھ اٹھانا میرے بس کا روگ نہیں۔ اپنے عہد کے تناظر میں گھر سنسار کا منظر نامہ ابھرے تو دکھائی دیتا ہے کہ گھر سنسار حال حال تک اپنی خیر منارہا تھا کہ کہیں اشتراکی ریاستوں کی اجتماعی رہائشی فارمولوں میں تحلیل ہو کر نہ رہ جائے۔۔۔آخر میں اپنے یہاں کی صورت حال پر ایک نظر ڈالنا بھی قرین انصاف ہو گا۔ عرصہء دراز سے یہاںعورت کو حور ارضی کاتشخص عطا کیا گیا ہے۔ اس موقف میں ایسا لگتا ہے کہ شاید روز حساب یہ اپنے نامہء اعمال کو بھی اپنے سرپرستوں سے پڑھوائے جانے پر اصرار کرے گی۔(۱۹)
اس سے یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ شعریٰؔ تانیثیت کی تحریک سے وابستگی تو دور کی بات اس تحریک کوپسندیدگی کی نظر سے نہیں دیکھتی تھیں ۔ شعریٰؔ نے اخلاقی حدود میں رہتے ہوئے خواتین کو زندگی گزارنے کے لیے ’رابعہ تابعیہ‘ کے حوالے سے پورا منشور مرتب کردیا ہے۔ عقائد کی دیوار کو توڑ کراجتہاد کی جو بنیاد حضرت آسیہ ؓنے رکھی تھی اسے رابعہ ؒنے آگے بڑھایا ہے۔ انھوں نے خود اپنی مثال دے کر خواتین کو خود کفیل بننے اور پورے اعتماد کے ساتھ زندگی گزارنے کا راستہ دکھایا ہے۔
’’وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلاًلِلَّذِیْنَ آمَنُوْا اِمْرَاَتَ فِرْعَوْنَ اِذْ قَالَتْ رَبّ ِ ابْنِ لِیْ عِنْدَکَ بَیْتاًفِیْ الْجَنَّۃِ وَ نَجِّنِیْ مِنْ فِرْعَوْنَ وَ عَمَلِہٖ وَ نَجِّنِیْ مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْن ‘‘( اور اللہ نے ایمان والوں کے لیے فرعون کی بیوی کی مثال بیان فرمائی ،جب کہ اس نے دعا کی کہ اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں مکان بنا اور مجھے فرعون سے اور اس کے عمل سے بچا اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے) (سورہ تحریم : آیت : ۱۱) قرآن کریم کی اس آیت کے حوالے سے نظم ’دعائے بانوئے فرعون ‘ میںا س عقیدے کو باطل قرار دیا ہے کہ شوہر سے غیر مشروط ہم آہنگی کا نام وفا ہے اور عورت ایک ایسی مخلوق ہے جو اس وفا کی بنا پر ہی باشرف اور نیک ٹھہرے اور اس کی عبادتیں اور نیکیاں اسی شرف کی بنا پر تولی جائیں۔عہد قدیم کی اس عظیم المرتبت خاتون کی دعا کے ان الفاظ میں ان کا مکمل تعارف موجود ہے ایسا کافی ووافی تعارف جس کی بنا پر انسانی تاریخ میں ایک مثال اور ایک آدرش کی حیثیت سے ان کا تذکرہ کیا جائے گا ۔ قرآن مجید میں تاریخ عالم کی جھلک، ارتقا کے سنگ ہائے میل بنانے والے انسانی کارناموں پر مشتمل ہے۔’ دعائے بانوئے فرعون‘ کے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
اتفاق و بخت کا ہر دام جبر ؍ توڑ دینے کی یہ مختاری ، ؍ یہ گھر کے راج سے ، ؍ حق بجانب ارجمندو بے گزند، ؍ دست برداری ، ؍ خدا یا ؍ تیرے رازوں میں ؍ یہ کیسا راز ہے(۲۰)
شعریٰؔ اپنے ایک مضمون میںلکھتی ہیں:
فرعونی جلال وجبروت کو ٹھکراتے ہوئے صرف عائیلی نظام سے نہیں بلکہ ناکسوں کے خشک وتر سے بھی غیر مشروط ہم آہنگی کے وفادارانہ عقیدہ کو وہ [ فرعون کی بیوی حضرت آسیہؓ] مسترد کرتی ہیں، جس کو آج سے ہزاروں برس پہلے مسترد کرنا جان کا زیاں تھا۔۔۔ان کا یہ رویہ انھیں خدا سے دور نہیں کرتا۔ بلکہ اس کے جوار قرب کے باغات میں بسیرا کرنے کا تمنائی بناتا ہے۔(۲۱)
ساتھ ہی شعریٰؔ اس حقیقت سے بھی آگاہ ہیں کہ عورتوں کو ذریعہ معاش کے لیے گھر کی چہار دیواری سے باہر نکلنا پڑتا ہے،کیوں کہ صارفیت کے اس دور میںبسا اوقات تنہا مرد کی آمدنی کے ذریعے گھر چلانا مشکل ہو جاتا ہے ۔ ’شاہ راہ آرزو ‘ نامی نظم کا یہ صرف ایک پہلو ہے دوسرا پہلو ملک میں پھیلی ہوئی غربت اور غریبوں کی زندگی کی سچائی اور مشکلات کو اجاگر کرنا ہے:
سطح غربت سے بھی نیچے پلنے والا صبر و شکر ؍ متصل ہو جب شب غم میں بلاؤں کا نزول ؍ مٹ کے رہ جاتا ہے فرق اندرون ِ خانہ و بیرونِ در ؍ صبح دم دونوں ہی (مرد وزن ) ؍ تلاش رزق میں باہر نکلتے ہیں ؍ تبھی چلتا ہے کام(۲۲)
اور وہ جانتی ہیں کہ روز اوّل سے اسی لیے بابِ رعایت کشادہ ہے کہ بسا اوقات خواتین کا ملازمت کرنا ناگزیر ضرورت بن جاتی ہے۔اسلام عورت کی انفرادی اور اجتماعی شخصیت کا محافظ ہے اور اسے ملازمت و تجارت میں حصہ لینے کی اجازت دیتا ہے۔ تاریخ اسلام کا اگر مطالعہ کیا جائے تو امہات المؤمنین ، صحابیات کرام اور دیگر خواتین اسلام کے باقاعدہ تجارت اور صنعت و حرفت سے وابستہ اور معاشی طور پر خودمختار ہونے کی کئی مثالیں نظر آتی ہیں۔ روشن ترین مثال ام المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی ہے:
لارہی ہیں بھر کے مشکیزے کہاں سے لڑکیاں؟ ؍ ۔۔۔۔۔۔بہتے چشموں سے ؍ بیابانوں سے ۔۔۔۔۔۔۔ایندھن ؍ میوہ ہائے خشک وتر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔باغات سے ؍ کچھ رداؤں میں ہیں مستور ؍ اور کچھ ان میں ہیں بے چادر کھلے سر ؍ خادمائیں بھی ہیںمخدومات بھی پاکیزہ اطوار ؍ یہ ہیں معروف النسب اپنے قبیلے میں، ؍ انھیں پہچانتے ہیں نام سے ان کے، ؍ غیورانِ عرب۔ ؍ کون ہیں یہ؟ ؍ یہ وہی ہیں جن کے قدموں کے تلے ؍ مردانِ آزاد ؍ ڈھونڈتے ہیں اپنی جنت کا سراغ (۲۳)
شعریٰؔ معاشی طور پرعورت کی خود مختاری کی اس وجہ سے بھی قائل تھیںکہ معاشی پائیداری عمدہ سماجی زندگی کی بنیاد ہوتی ہے اور عورت کی خستہ حالی میں معاشی کمزوری کا بہت اہم کردار ہوتا ہے۔ظلم وزیادتی کی اصل وجہ معاشی طور پر مرد کا دست نگر ہونا ہی ہے۔اور شعریٰؔ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھیں بلکہ اس تجربے سے گزری بھی تھیں جب ان کے والد لڑکیوں کی مخلوط تعلیم کے سلسلے میں نظریاتی اختلاف کی بنا پر ان کی والدہ اور ان بھائی بہنوں کو چھوڑ کر چلے گئے تھے۔
شعریٰؔعورت کو صنف کی حد میں محدود رکھنے کی قطعی مخالف ہیں ۔ وہ نسوانی چہرے کے پس منظر میں انسانی چہرے کی جھلک تلاش کرنے کی قائل ہیں ۔جنس کی بنیاد پر تقسیم کی وہ قائل نہیں ہیں ۔ مردوں کی بالا دستی والے نظام معاشرت کے اس اصول کے خلاف تھیں کہ عورت کو تو ہمیشہ صنف کی حد میں محدود کردیا جاتا ہے، جب کہ اس کے بر خلاف مردانہ تجمل کو لازماً انسانی سج دھج کا آئینہ مانا گیا ہے ۔ اس سلسلے کی ان کی خوبصورت نظم ’رابعہ تابعیہؒ کی یاد میں ‘ ہے اس میں لکھتی ہیں :
امتیاز ِ مردو زن سے ماورا
سطح برتر بھی ہے اک انسانیت کی
جس پہ ابھرے وہ معاصر تابعین(۲۴)
رابعہ تابعیہؒ علامت ہیں عورت کے خود کفیل ہونے کی۔ رابعہ تابعیہ ؒالمعروف بہ رابعہ بصریؒ کا شمار تاریخ اسلام کی ان پاکیزہ اور نیک خواتین میں ہوتا ہے جن کی از ابتدا تا آخر تمام زندگی فقرو غنا سے عبارت ہے۔انھوں نے شدید ریاضت،علم سیکھنے کے کمال اور زہدو عبادت سے ایسا مقام پالیا تھا کہ ان کے عہد کے بڑے بڑے زاہدوعابد مالک بن دینارؒ،سفیان ثوریؒ،شفیق بلخی ؒ اور ابراہیم ادہمؒ جیسے بزرگ ان کے پاس بیٹھنا اور ان کی گفتگو سننا اپنے لیے باعثِ شرف سمجھتے تھے۔وہ بزرگ بھی جو عمر اور بای النظر میں علم اور تصوف میں ان سے آگے تھے ،ان کی مجلس میں مؤدب رہتے تھے۔ اور حسن بصری ؒ جیسے صاحب علم بزرگ کے نزدیک ان کا یہ مرتبہ تھا کہ:
مجلس خاموش محو انتظار ؍ کس کی آمد پر نہ جانے آج ہے موقوف آغاز خطاب ؍ گوش بر آواز ہیں ہم سب یہاں ؍ لب کشا ہوتے نہیں لیکن حسن بصری ؍ کہ اب تک رابعہ آئی نہیں ؍ ’’ کس طرح شربت بھرا اتنا گراں برتن ؍ جو ہاتھی کے لیے ہے ؍ میں اٹھا کر چیونٹیوں کے سامنے رکھ دوں‘‘ ؍ حسن بصری نے پو چھا (۲۵)
مادری نظام کے بعد انسانیت نے جوں ہی پدری نظام میں قدم رکھا ،تمام اقدار کا مرکز مرد بن گیا۔ اساطیری دیویاں ماقبل تاریخ کی خرافات ٹھہریں اورخدا ، دیوتا ، فرشتے ، اوتار اور پیغامبر وغیرہ کا صیغہ آہستہ آہستہ تذکیر میں بدل گیا۔ پدرانہ نظام معاشرت میں گھر سے لے کر تخت اور مکتب سے لے کر منبر اور محراب تک ہر درجے پر مرد اپنا ہی حق فائق سمجھتا آرہا ہے ۔ایسے میں اگر ایک زاہد و صالح عورت اپنے اقوال و افکار سے اور اپنی عبادات کی انتہا سے ہلچل مچادے تو یہ حیرت کا مقام ہے۔اور یہی رابعہ ؒ شعریٰؔ کے لیے سر چشمہء فیضان ہیں۔ کہتی ہیں : ’’رابعہ سر چشمہء فیضان ہیں میرے لیے‘‘۔رابعہ بصری ؒکی جن خوبیوں نے شعریٰؔ کو اپنا گرویدہ بنایا ہے۔ اور جن کی وجہ سے وہ انھیں ’سرچشمہء فیضان‘ قرار دیتی ہیں ان میں سے ایک رابعہؒ کا خود کفیل ہونا اور مرد کی با لا دستی والے اس معاشرے میں کسی کا دست نگر نہ ہوکر ایک خود مختار زندگی بسر کرنا ہے:
زندگی نے بارہا آواز دی ؍ پرکشش محمل کی جانب ؍ وہ مگر بہر مثال ؍ پاپیادہ ہی رہیں اپنی ریاضت کی ڈگر پر گامزن ؍ اک کھلی دنیا کا انسانی تناظر ؍ اس میں اک خاتون تنہا خود کفیل ؍ منفرد اپنی روش میں بر بنائے اجتہاد ؍ بے ہراس و برحق و بااعتماد ؍ یہ طریق زندگی خود ان کا اپنا انتخاب(۲۶)
عورت کے سلسلے میں شعریٰؔ کی یہ شعری تحریریں صنفی انصاف اور صنفی مساوات جیسے نظریات سے آگے کی منزل ہیں۔ آج صورت حال یہ ہے کہ ہندوستان جیسا جمہوری ملک ہو یا امریکہ جیسا ترقی یافتہ ۔ دنیا کے تمام ممالک میں خواتین کو مال واسباب کی طرح استعمال کیا جارہا ہے اور انھیں مال و اسباب کو فروخت کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی بنا دیا گیا ہے۔اس لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو ’’ رابعہ تابعیہؒ‘‘ ایک طاقتور نظم ہے کہ انھوں نے اس میں ’صنف ‘ والی قدیم دیوار کو ڈھا کرمعاشی، سماجی، مذہبی اور سیاسی غرض کہ ہر زاویے سے عورت کو مرد کا نصف بہتر کہنے کے بجائے ایک آزاد اور خود مختار انسانی وجود کے طور پر پیش کیا ہے ۔شعریٰؔ کا تاریخی شعور بہت بالیدہ ہے ۔ اکثر وہ شاعرات جنھوں نے تانیثیت کو برتنے کی کوشش کی ، اعتدال و توازن کی ڈور ان کے ہاتھوں سے چھوٹ گئی اور باغیانہ پن ان کے لہجے میں در آیا۔نتیجتاً ان کی شاعری ، شاعری کم اور نعرہء بغاوت زیادہ معلوم ہوتی ہے۔اس کے بر عکس شعریٰؔ کے یہاں ایک خوشگوار توازن پایا جاتا ہے۔ انھوں نے تانیثیت کے نام پربے مہار آزادی اور جنسی بے راہ روی کا استقبال نہیں کیا بلکہ ان کے تانیثی رویے کو اس زمرے میں رکھا جاسکتا ہے جو تیسری دنیا کے بیش تر ممالک میں ’اسلامی تانیثیت‘ کے نام سے رائج ہے۔پڑھی لکھی مسلم خواتین اب نہایت سنجیدگی سے اپنے حقوق کے لیے متحرک ہورہی ہیں۔ ناری شکشا نکیتن لکھنؤ میں اقتصادیات کی ایسوسی ایٹ پروفیسر عذرا بانو لکھتی ہیں:
جنسی مساوات ایک طرح کی جنگ نہیں مردوں سے، بلکہ ایک ایسی روایت کو توڑنا ہے جو ہمارے سماج میں برسوں سے بودی گئی ہے۔ سماج کو چاہیے کہ اس کی اہمیت کو محسوس کریں اور قبول کریں کہ عورت مرد زندگی کے ہم سفر ہیںاور سماج کی پہچان اور ترقی صرف مردوں سے نہیں بلکہ عورتوں سے بھی ہوتی ہے۔ آج کی عورت نے برابری کی آواز اٹھانے کے حق کو طلب کیا ہے۔ یہ برابری تعلیم ، نوکری، سیاست اور جائداد وغیرہ کے لیے ہے۔ یہ نعرے عورتوں کو آگے لانے کے لیے ہیںجو ان کی شخصیت اورخیالات میں تبدیلی لانے کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔(۲۷)
شعریٰ نے تاریخ سے ایسی مسلمان خواتین کو اپنا موضوع بنایا،جنھوں نے خود مختاری کی زندگی گزارتے ہوئے بھی عظمتوں کی بلندیوں کو چھوا اور آنے والی نسلوں کے لیے مثال بن گئیں ۔ان کا آئیڈیل آسیہؓ، خدیجہؓ، عائشہؓ اور ہاجرہؓ جیسی خواتین ہیںاور وہ ان ہی کرداروں سے روشنی اخذ کرتی ہیں۔ شعریٰ کی اس قسم کی نظموں میں ’گلۂ صفورہ،‘’ مریم صدیقہ‘ ،’رابعہ تابعیہ کی یاد میں‘، ’دعائے بانوئے فرعون‘، ’اک ستارہ آدرش کا‘ اور ’شاہ راہِ آرزو وغیرہ‘ ہیں۔ شعریٰ اپنے معاشرے اور ماحول سے نامطمئن ضرور ہیں ،لیکن باغی نہیں۔ یہی اعتدال و توازن انھیں فکر وفن کی بلندیوں سے ہمکنار کرتا ہے۔
حواشی
۱۔ محمود ہاشمی، ’’آفاقِ نوا -ایک جائزہ‘‘ ، سوغات،شمارہ: پہلی کتاب (ستمبر ۱۹۹۱ء)، ص، ۴۲۳۔
۲۔خالدہ حسین،’’زہرانگاہ‘‘، شعر و حکمت ،کتاب :۱۲،دور : سوم ،ص،۱۰۳۔
۳۔ حمیدنسیم،’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ (ایک تعارف)‘‘،مشمولہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات،ہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء ، ص ، ۳۷۷۔
۴۔شفیق فاطمہ شعریٰؔ،سلسلہء مکالمات ،ص ،۲۶۹۔
۵۔ایضاً،ص،۳۱۸۔
۶۔فضیل جعفری، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘، اردو ادب (سہ ماہی)کتاب : ۳۶۱ ، (جولائی تا ستمبر ۲۰۱۳ء) ،ص ،۳۹۔
۷۔ایضاً،ص،۳۱۰۔
۸۔وحیداختر، ’’ اردو نظم آزادی کے بعد‘‘، سرورا لہدیٰؔ(مرتبہ)، کلیاتِ وحید اختر جلددوم،ص،۸۰۔
۹۔کشور ناہیدؔ،دائروں میں پھیلی لکیر،نئی دہلی؛ نئی آواز، جامعہ نگر،۱۹۸۷ء،ص،۵۲۔
۱۰۔ ایضاً،ص، ۲۷۔
۱۱۔فہمیدہ ریاض ،میں مٹی کی مورت ہوں ، لاہور؛سنگ میل پبلیکیشنز،۱۹۸۸ء، ص ۶۴۔
۱۲۔پروین شاکر ،ماہِ تمام، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس،۲۰۰۸ء، ص، ۷۷۔
۱۳۔ شعریٰؔ، سلسلہء مکالمات ،ص ،۱۱۴
۱۴۔ ایضاً،ص،۱۱۵۔
۱۵۔ ایضاً،ص،۱۱۷۔
۱۶۔ایضاً، ص،۳۲۔
۱۷۔ایضاً، ص،۱۴۹۔
۱۸۔فضیل جعفری ؔ، ’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کی شاعری ( ۱۹۶۵ء کے بعد کی کچھ نظموں کے حوالے سے ) ‘‘،اردو ادب ، ص، ۵۱۔
۱۹۔ شفیق فاطمہ شعریٰؔ، ’’دعائے بانوئے فرعون ‘‘، مشمولہ سلسلہء مکالمات ، ص ،۱۸۰۔
۲۰۔ ایضاً، ص ،۱۶۱۔
۲۱۔ ایضاً،ص،۱۸۰۔
۲۲۔ ایضاً،ص،۲۴۱۔
۲۳۔ ایضاً، ص،۲۴۰۔
۲۴۔ ایضاً،ص،۱۳۹۔
۲۵۔ ایضاًایضا۔
۲۶۔ ایضاً، ص،۱۴۰۔
۲۷۔ بحوالہ خلیل احمد بیگ۔’’تانیثیت‘‘۔ مشمولہ اردو ادب میں تانیثیت کی مختلف جہات (مرتبہ) صالحہ صدیقی۔ دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس۔ ۲۰۱۳۔ ص،۷۱۔

Shafeeq Fatimia Shera ki Shairi by Qamar JahaN

Articles

شفیق فاطمہ شعریٰ ؔکے کلام میں پیکر تراشی

قمر جہاں

تھم جاتے ہیں پل بھر کو نوا گر سفر نصیب
یہ کس ساگر کی پروردہ بدلی ہوگی
کتنی جاں لیوا مسافتیں طے کر کے اسے
اس وادی کے دامن میں ملا
ہنگام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔برسنے کا (شعریٰؔ)
دشت شاعری کی خارزار راہوں کی جان لیوا مسافتیں طے کرکے اپنا انفرادی اور امتیازی تشخّص قائم کرنے والا یہ خوبصورت لہجہ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے ۔ جس نے بیسویں صدی کی پانچویں دہائی میں اپنی طویل نظم ’’ فصیلِ اورنگ آباد ‘‘ کے ذریعے باذوق قارئین کو نہ صرف چونکایا بلکہ اردو شاعری کی تاریخ کو ایک نیا اوراہم موڑ دینے کا عزمِ مصمّم کیا ۔
اردو شاعری کے ابتدائی دور سے ہی خواتین کی شاعری کے نقوش ملتے ہیں لیکن یہ نقوش اتنے مدھم اور دھندلے ہیں کہ وہ اردو شعرو ادب کی تاریخ میں کوئی نمایاں اور دیر پا اثر نہ چھوڑ کر تاریخ کے اوراق میں گم ہوجاتے ہیں تفنّنِ طبع اور ذہنی تسکین کے لیے کی جارہی اس شاعری میں پر اعتمادی اور انفرادیت نہیں بلکہ تقلید کا رویّہ صاف نظر آتا ہے لہٰذا اس میں عورت کی انفرادیت اور اس کا امتیازی لہجہ تلاش کرنا عبث ہے۔
شاعری سے قطعِ نظر اگر فکشن پر نظر ڈالی جائے توترقی پسند تحریک کے زیرِ اثر رشید جہاں ؔ کے پر اعتماد اور باغی لہجہ نے مردوں کی بالادستی والے اس معاشرے میں عورت کے وجود اور اس کے حقوق کا احساس دلایا اس کے ساتھ ہی عصمت چغتائیؔکا بے باک لہجہ بھی ادب میں اپنے قدم جمارہا تھا لیکن شاعری کی تاریخ ہنوز کسی وجودِ زن کے قرطاس و قلم سے محروم تھی۔ محمود ہاشمی کے الفاظ میں ’’ اردو میں اور خصوصاً جدید نظم میں کسی نسوانی آواز کا عدم وجود بے حد کھلتا تھا ۔‘‘کہ انھیں حالات میں شفیق ؔفاطمہ آسمانِ شاعری پر شعریٰؔ بن کر نمودار ہوئیں ،جس کی ضیا پاش کرنوں نے ماقبل کی تاریخ میں ٹمٹماتے ہوئے نسوانی لہجے میں خود کو شعریٰ( آسمان کا روشن ترین ستارہ (Siriusثابت کیا۔ ان کی شاعری کے تعلق سے یہ دعویٰ غلط نہیں کہ انھوں نے نہ صرف شاعرات کی دنیا میں ایک نمایاں مقام حاصل کیا بلکہ خوبصورت، دلکش اور مسحور کن لب و لہجہ کی حامل یہ پہلی شاعرہ تھی جس کی شاعری کے کینوس پر بکھرے ہوئے قوس قزح کے متعدد رنگوں نے مردوں کے ہمراہ اپنا نام درج کرایا۔ ذہنِ جدید کے شمارہ نمبر ۲۸؍ میںجمال اویسیؔ لکھتے ہیں ’’میرے سامنے اردو شاعری کی پوری تاریخ ہے اور میں اقبالؔ کے بعدراشدؔ، میراجیؔ، اخترالایمان ، فیضؔ، منیر نیازیؔ،ضیا جالندھریؔ، مجید امجدؔ ، منیب الرحمٰن اور شفیق فاطمہ شعریٰؔ وغیرہ کو اہم نظم نگار شاعر تسلیم کرتا ہوں۔‘‘
ادب میں زبان کا براہِ راست نہیں بلکہ اس کا تخلیقی استعمال کیا جاتا ہے اورتخلیقی زبان چار چیزوں سے عبارت ہے: تشبیہہ،پیکر ، استعارہ اور علامت۔نثر ہو یا شعر ،اگر ان میں زبان کا تخلیقی استعمال نہ کیا جائے تو وہ ادب نہیں بلکہ صحافت کے دائرے میں آجاتا ہے۔ زبان کے اس تخلیقی استعمال کے متعلق شمس الرحمن فاروقی رقم طراز ہیں :
تشبیہ، پیکر، استعارہ اور علامت میں سے کم سے کم دو عناصر تخلیقی زبان میں تقریباً ہمیشہ موجود رہتے ہیں ۔ اگر دو سے کم ہوں تو زبان غیر تخلیقی ہو جائے گی ۔ یہ اصول اس قدر بین اور شواہد و براہین کے ذریعہ اس قدر مستند ہے کہ اس سے اختلاف شاید ممکن نہ ہو۔(شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)
چونکہ گفتگو’’ شفیق فاطمہ شعریٰؔ کے کلام میں پیکر تراشی‘‘ سے ہے اس لیے تشبیہہ، استعارہ اور علامت سے صرفِ نظر کرتے ہوئے بحث براہِ راست پیکرتراشی یا امیجری کے حوالے سے کی جا رہی ہے ۔ پیکر تراشی یا امیجری کا سیدھا سادہ مفہوم لفظوں کے ذریعے تصویر کشی ہے۔امیجری، پیکر تراشی یا محاکات کا عمل بنیادی طور پر اشاراتی یا علاماتی زبان کا حصہ ہوا کرتا ہے ۔ امیج کے لفظی معنی یوں تو پیکر یا تصویر کے ہوتے ہیں لیکن جب یہ لفظ شاعری کے حوالے سے استعمال ہوتا ہے اس وقت محض پیکر یا تصویر کے معنی کے بجائے یہ لفظ ایک اصطلاح بن جاتا ہے۔ امیجری کی تعریف کرتے ہوئے مشہور نقاد پروفیسرابوالکلام قاسمی نےC. Day Lewis کی معرکۃ الآرا کتاب The Poetic Imageکے حوالے سے لکھا ہے کہ:
لفظی تصویریں بنانا امیج سازی کا بنیادی مقصد ہے اور یہ کہ اس وقت پوری نظم ایک مکمل امیج بن جاتی ہے جب اس کے مختلف حصوں میں متنوع پیکروں کی تخلیق ایک ساتھ مل کر مبسوط اور مرکب تشکیل کا روپ اختیار کر لیتی ہے۔(شاعری کی تنقید، ص، ۱۱۸)
گذشتہ سطروں میں محاکات کو پیکر تراشی اور امیجری کے ہم معنی لفظ کے مفہوم کے طور پر استعمال کیا گیاہے ۔ اس لیے مناسب ہو گا کہ پیکر تراشی کے ساتھ ساتھ محاکات پربھی ایک نظر ڈال لی جائے۔ شعر کے لوازم میں محاکات کا ذکر سب سے پہلے شبلیؔ نے کیاہے، انھوںنے محاکات کو شعر کا ایک لازمی عنصر قرار دیا ہے ۔ وہ محاکات کی تعریف یوں کرتے ہیں :’’محاکات کے معنی کسی چیز یاکسی حالت کا اس طرح ادا کرنا ہے کہ اس شے کی تصویرآنکھوں میں پھر جائے۔‘‘( شعرالعجم (جلد چہارم) ص، ۸)پیکر کی تعریف کرتے ہوئے شمس الرحمان فاروقی لکھتے ہیں،’’ہر وہ لفظ جو حواسِ خمسہ میں کسی ایک( یا ایک سے زیادہ ) کو متوجہ اور متحرک کرے پیکر ہے ۔ یعنی حواس کے اس تجربے کی وساطت سے ہمارے متخیلہ کو متحرک کرنے والے الفاظ پیکر کہلاتے ہیں ۔‘‘(’’علامت کی پہچان‘‘ شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۱۳۹)صاحبِ آئینۂ بلاغت مرزا محمد عسکری محاکات کی تعریف کے ضمن میں لکھتے ہیں ’’کسی منظر کا مرقع الفاظ کے ذریعہ سے کھینچنا جس کی تصویر کوئی مصور نہ کھینچ سکے۔‘‘(آئینۂ بلاغت، ص، ۳۶)
تقریباً سوا سو سال پر محیط اردو تنقید کی تاریخ میں اہم مقام کے حامل ان نظریہ ساز ناقدین کی آرا کو مد نظر رکھتے ہوئے پیکر تراشی کو اس طرح سمجھا جا سکتا ہے کہ مادی اور غیر مادی مناظر کی تفریق سے قطع نظر کسی منظر، شے یا حالت کی ایسی تصویر کشی کی جائے کہ قاری یا سامع کے حواسِ خمسہ میں سے کوئی حس متحرک ہو جائے۔ واضح ہو کہ مصوری اور پیکر تراشی میں یہ فرق ہوتا ہے کہ فنِ مصوری میں کسی منظر کی ہو بہو تصویر کھینچنا فن کی پختگی اور فنکار کی مہارت کا ثبوت ہے جب کہ پیکر تراشی میں شاعراپنی مرضی کے مطابق اصل نقش میں حذف و اضافہ کر لیتا ہے۔اسی لیے شبلیؔ محاکات کو شاعرانہ مصوری سے تعبیر کرتے ہیں ۔ لیکن وہ تصویر کشی یا مصوری اور محاکات میں فرق کرتے ہیں ۔ شبلیؔ کے مطابق مصوری میں ہو بہو تصویر کھینچی جاتی ہے جب کہ محاکات کے ذریعے شاعر ہو بہو تصویر نہیں کھینچتا بلکہ اصل نقش میں کچھ اضافے اور کچھ کمی کے ذریعے اپنے خیال کی تر جمانی کرنے والی تصویر کھینچتا ہے۔ اس طرح کی تصویر کشی کو نئی تنقید میں ’’پیکر تراشی‘‘یا ’’ امیجری‘‘ کہا جاتا ہے۔
پیکر تراشی کا سب سے اہم رول مجرد تصورات کو مجسم اور ٹھوس پیکر میں تبدیل کرنا ہے۔ اس طرح پیکر تراشی کے ذریعے شاعر ایسی فضا خلق کرتا ہے کہ ہم مناظر کو دیکھنے، آوازوں کو سننے اور بعض کیفیات کو لامسہ، ذائقہ اور شامّہ کی مدد سے محسوس کرنے لگتے ہیں ۔
شعریٰؔ کے شعری امتیازات ،ان تمام فنی تدابیر اور شاعرانہ ہنر مندی میں مضمر ہیں جن کو انھوں نے اپنے شعری اظہار اور لسانی طریقِ کار کا حصہ بنایا ہے ۔ کلامِ شعریٰؔ میں ان عناصر کی تلاش و جستجو کرنے پر،جن سے ان کا کلام دو آتشہ ہوجاتا ہے ،پتہ چلتا ہے کہ ان کے کلام میں جہاں فکر کی گہرائی وگیرائی اور دیگر فنی محاسن عروج پر ہیں ،وہیںاحساس کو مہمیز کرنے والے پیکروں کی فراوانی اور مجرد احساسات وکیفیات کو لفظوں کے ذریعے رونما ہوتے ہوئے دکھانے کے سارے وسائل موجود ہیں ۔ موضوع کی ڈرامائی پیش کش ،متفرق اجزا کے ترک و اختیار اور الفاظ کے خلاقانہ استعمال سے وہ ایسا مرقع تیار کرتی ہیں کہ جب نظم کے درمیان کوئی منظر نامہ آجاتا ہے تو ہم خود کو قاری کے بجائے ناظر محسوس کرنے لگتے ہیں۔
شعریٰؔ نے شعری تصویر بنانے اور تاثر خلق کرنے کے لیے جس انداز کے پیکروں کی تخلیق کی ہے ان میں بصری پیکروں کی فراوانی ہے ۔ان کی نظموں کے ان گنت بند یا مصرعے مناظر کا بیان کم کرتے ہیں اور انھیں رو بہ عمل ہوتے ہوئے زیادہ دکھاتے ہیں۔ ان مناظر سے کبھی خوش گوار تاثر ابھرتا ہے ،کبھی حیرت و استعجاب کی کیفیت طاری ہوتی ہے اور کبھی کھوئے ہوؤں پرافسردگی کا احساس ہوتا ہے۔ مجموعی طور پر شعریٰؔ کی شاعری میں پیکر تراشی کے بہت عمدہ نمونے ملتے ہیں ۔ نظم’ راگ یُگ کی نظمیں ‘سے یہ مصرعے ملاحظہ ہوں:
حاشیہ دیوار کی صورت
ڈھیر سنہرا
پیلے سوکھے پتوں کا
چر مر کرتا ضرر سے عاری
خاک میں رلتی چر مر اس کی سنتا ہوا
کھڑکی سے چپکا کھڑا وہ بے پروا
ہر آہٹ کے ہر آواز کے ڈھانچے میں
رینگ رہا بیری بھیدی———-(سلسۂ مکالمات، ص، ۱۰۵)
اس بند میں جس نوع کا شعری پیکر تراشا گیا ہے اس کا تعلق قاری کی قوّتِ بصارت اور قوّتِ سماعت کو مہمیز کرتا ہے۔ حاشیہ دیوار، پیلے سوکھے پتوں کا سنہرا ڈھیر،چر مر، ضرر سے عاری،کھڑکی سے چپکا،بے پروا ،بیری ، بھیدی ان الفاظ کے ذریعے استعارے اور پیکر کا پورا نظام مرتب ہو گیا ہے۔ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاعرہ ایک خاموش اور پر اسرار تصویر کو مختلف زاویوں سے دکھانا چاہتی ہے اور وہ یقیناً اپنے مقصد میں بحسن و خوبی کامیاب ہوئی ہے۔
اردو شاعری میں زیادہ تر پیکری اظہار بصری اور صوتی رہا ہے اگرچہ نئے شعرا کے یہاں لمسی اور ذوقی پیکر وں کا استعمال ملتا ہے۔نئے شعرا میں سے راشد ؔ ، میراجیؔاور فیض میں راشدؔ کے یہاں استعارہ زیادہ ہے پیکر کم ، جب کہ فیض نے پیکر کا استعمال زیادہ کیا ہے۔لیکن فیض ؔ کے پیکر داخلی منظر کو زیادہ ابھا رتے ہیں اس لیے زیادہ تر بصری ہیں میراجیؔ واحد شاعر ہیں جو پانچوں حواس پر قادر ہیں ۔ بقول فاروقیؔ’’نئی شاعری جو میراجیؔ کی طرف بار بار جھکتی ہے اور ان کے یہاں سے اپنا جواز ڈھونڈھتی ہے اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔ ‘‘(،شعر، غیر شعر اور نثر، ص، ۹۰)
شاعرانہ امیجری کے ماہرین کا عام خیال ہے کہ ایسے حسّی پیکر تراش لینا جو کسی مخصوص قوّتِ حاسہ کو بر انگیخت کر لیں ہر چند کہ اہم اور قابلِ تعریف شعری محاسن میں سے ایک ہے ،لیکن پیکر جس حد تک اور جتنے زیادہ حواس کو متحرک کرے گا اتنا ہی اس شاعری کا معیار بلند ہوگا ۔ایک ساتھ مختلف حواسِ انسانی کو بیدار کرنا کوئی معمولی کارنامہ نہیں ہوتا تاہم اس ضمن میں بھی شعریٰؔ کا امتیاز غیر معمولی ہے۔ان کی نظموں میں متعدد مقامات پر یکساںاور متوازی طور پر ایک سے زیادہ حواس کو متحرک کرنے والے مخلوط پیکروں کی فراوانی ہے ۔ایک سے زائد حواس کی پیکر تراشی میں قاری اس طرح محو ہوجاتا ہے کہ اس کا پورا وجود شاعر کی بنائی ہوئی فضا،آواز،خوشبو،رنگ اور منظر میں شریک ہو جاتا ہے۔نظم ’ بہتا پانی‘ میں لکھتی ہیں :
اچانک کہیں اک درندے کا بین
وحشت آلود بد مزہ بو املتاس کی
تیز جھونکا سا بھرتا اڑان
جھاڑ جھنکاڑ کے درمیاں
پر بچاتا سمٹتا گذرتا ہوا ———–(سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۳)
اس اقتباس میںمتحرک بصری پیکر کو ملاحظہ کیا جاسکتا ہے۔پہلے ہی مصرعے میںمستعمل علامت’ درندے کا بین ‘استماعی تجربہ ہے لیکن درندے کا لفظ بصری حسّیت کو بھی مہمیز کرتا ہے۔ بدمزہ بو بیک وقت قوت ذائقہ ، شامّہ اور باصرہ جب کہ تیز جھونکا سا بھرتا اڑان احساسِ بصارت جیسے حواسِ انسانی کو متحرک کرتا ہے۔ غیر معمولی طور پرمتحرک یہ منظر اپنے مختلف حوالوں سے قاری کے ایک سے زائد حواس ( قوّت ِ باصرہ،سامعہ،شامہ، ذائقہ) کو بیدار کرتا ہے۔الفاط کے جدلیاتی استعمال سے شعریٰؔ نے تصویر کو ایسا ہشت پہل بنا دیا ہے کہ دیکھنے کا ہر زاویہ منظر کا کوئی نیا پہلو ہمارے سامنے لاتا ہے۔استعارے ،علامت اور پیکر کا یہ دلکش امتزاج شعریٰؔ کی انفرادیت ہے۔اس قسم کے پیکر شعریٰؔ کے یہاں بکثرت ملتے ہیں:
گپھا گپھا یگوں کے دائرے
گپھا گپھا یگوں کے دائرے میں
بن گھنے کہ جن میں جھٹپٹا
تپسویوں کے ساتھ ساتھ تھا سدا مقیم
جل رہے ہیں
جل رہا ہے فجر کا الاؤ
سگندھ اس کی اتنی گھائل اتنی تیز ہے
کہ سیلی سیلی یہ سگندھ ہے لہو لہو۔ ———–(نظم:فجر کا الاؤ، سلسلۂ مکالمات، ص، ۷۷)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کوئی ہیرے کی کنی سی کہ ہے طینت میں سرشتہ
کبھی آواز کی لو بن گئی
آفاق بہ آفاق پلٹتی ہوئی اوراق
کبھی چھنتی رہی آنکھوں سے پیہم صفت ِ اشک
تو بدلتا ہوا رستہ
تہہ دریا سے دہکتی ہوئی بالو میں
نکلتا ہوا رستہ
جسے دیکھا
وہ مرا وہم نہیں میرا یقیں تھا—–(نظم:نرمل میٹھے پا نی کی تلاش میں، سلسلۂ مکالمات،ص،۸۳ )
اردو شاعری کے بارے میں عام طور پر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اس میںمناظر فطرت کی ترجمانی یا منظر نگاری ،مغربی شاعری سے اثر پذیری کا نتیجہ ہے ۔ یہ خیال 1857 کے بعد نشوونما پانے والی شاعری کی حد تک تو درست معلوم ہوتا ہے لیکن دکنی اردو شاعری کے متعلق یہ رائے درست معلوم نہیںہوتی ۔ فطرت پرستی اور مناظر قدرت کی پیش کش کے آغاز کا سہرا غالباً محمد قلی قطب شاہؔ کے سر ہے مگر اس کی منظر نگاری بالکل ضمنی ہے ۔ قطب شاہی دور کے شعرا میں غواصیؔ نے سب سے پہلے منظر نگاری کی طرف توجہ دی۔منظر نگاری کے تحت فطرت کی کیف سامانیاں اور رنگینیاں بیان کی جاتی ہیں۔منظر نگاری کے دلکش نمونے مثنویوں اور خاص کر ’ سحر البیان ‘ میں ملتے ہیں ۔ اس کے علاوہ مرثیہ میں بھی منظر نگاری کے اعلیٰ ترین نمونے پیش کیے گئے ہیں ۔ کربلا کے بے آب وگیاہ میدان میں پیڑ پودے اور جنگل وغیرہ کا ذکر بے معنی ہے لیکن چہرے یا تمہید کے بندوں میں شعرانے خوب خوب کمالات دکھائے ہیں ۔ جنگ کے وقت منظر کا بیان تو سورج کی تمازت، ریت کی تپش اور لو، دھوپ کے تھپیڑوں تک محدود ہے لیکن اس محدود منظر میں بھی خاص کر انیسؔ نے ایسی گل کاریاں کی ہیں کہ موسم بہار کے مناظر بھی پھیکے پڑ جائیں ۔
شعریٰؔ کے کلام میں منظر نگاری کے خوبصورت نمونے ملتے ہیں ۔شعریٰؔ کے منظر نگاری کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ انھوں نے اپنے بیانات کی بنیاد تخیل پر نہیں بلکہ مشاہدہ پر رکھی ہے اور ایک مصور کی طرح قدرتی مناظر کی بڑی خوبصورت تصویر کشی کی ہے ۔ نظم’ فصیل اورنگ آباد ‘ میں فصیل کے دوسری طرف کھیتوں کی منظر کشی اس طرح کرتی ہیں :
ایک سمت کھیتوں کی خوشگوار ہریالی
فرط سر خوشی سے ہے پتی پتی متوالی
ننھی ننھی چڑیوں کے دل یہاں ابلتے ہیں
کھیت کی خموشی سے زمزمے ابلتے ہیں
کاشتکار کے دل کے سب دبے چھپے ارماں
ان حسین خوشوں کی گودیوں میں پلتے ہیں
اک ہوا کے جھونکے سے کھیت ہوگئے ترچھے
جھک کے پھر وہ اٹھتے ہیں گر کے پھر سنبھلتے ہیں

منقولہ اشعار میں اور بطورِ خاص مؤخر الذکر شعر میں لہلہاتے کھیت کی جس قدر جاندار اور حقیقی تصویر کشی کی گئی ہے اس سے خوبصورت تصویر کشی ممکن نظر نہیں آتی ۔ مناظر فطرت کی پیکر تراشی میں شعریٰؔ نے تکلف، مبالغے اور رعایت لفظی و معنوی خاص کر صنعت حسن تعلیل کانہایت فن کا رانہ استعمال کیا ہے ۔حسن تعلیل کا اتنا خوبصورت استعمال میر انیس ؔ کی یاد تازہ کردیتا ہے کہ میر انیس ؔنے بھی قدرتی مناظر کی تصویر کشی میں اس صنعت کا خوبصورت استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں مناظر فطرت کے بیان میں اس صنعت کا استعمال ملاحظہ کیجیے:

شوخ و شنگ کرنیں بھی جھیل میں نہانے آئیں
بے قرار موجوں پر ناچ اٹھے ستارے سے
اف کنول کے پھولوں کا یہ تبسم شیریں
کانپ اٹھے ہیں شرما کر موج کے اشارے سے

اسی طرح ’خوابوں کی انجمن ‘ میں بھی منظر نگاری کے دلکش نمونے نظر آتے ہیں ۔خاص کر اس کے پہلے بند میں چاندنی رات کی اتنی مکمل اور جاندار عکاسی کی گئی ہے کہ شاعرہ کی چشمِ خامہ کے بالمقابل حقیقی کیمرہ ناکام نظر آتا ہے ۔ بارہ مصرعوں پر مشتمل یہ بند پڑھتے ہوئے ہم کسی اور ہی خوبصورت لیکن پرسکون ماحول میں پہنچ جاتے ہیں اس بند میں بھی حسن تعلیل کے دو اشعار ملاحظہ ہوں۔ منظر یہ ہے کہ رات کی تاریکی اپنا دامن وسیع کرتی جارہی ہے اور ستارے تنہا اس تیرگی سے دست و گریباں ہیں :
تیرگی کے نرغے میں کانپ کانپ اٹھے تارے
کررہا ہے روشن تر ان کو خوف پسپائی
سایے میں درختوں کے اپنے جال بننے کو
ٹہنیوں سے چھن چھن کر روشنی اتر آئی
کررہے ہیں سرگوشی جھنڈ کچھ سندولی کے
سوچتے ہیں بڑھ جائیں جا ملیں مناروں سے

اکثر مقامات پرایسی انوکھی تشبیہا ت و استعارات کی زرتابی کے ساتھ منظر کشی کرتی ہیں کہ ان کے تخیل کی داد دینی پڑتی ہے ۔ اردو شاعری کے منظر نامے پر آغاز سے ہی مناظرِ فطرت جیسے سورج،چاند ، ستارے ، پہاڑ ، دریا ، درخت، پھول، ہوا موسم ، بادل ،اور بارش وغیرہ کی چھاپ بہت گہری ہے ۔ لیکن قدیم شعرا کے یہاں زیادہ تر فطرت بحیثیت ایک معروض کے سامنے آتی ہے۔ جہاں شاعر کا مقصد مناظرِ فطرت کی معروضی پیش کش کے علاوہ کچھ اور نہیں ہوتا ہے ۔ مناظرِ فطرت کی پیش کش کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ فطرت کے رسمیاتی یا عمومی اظہار سے قطعِ نظر فطرت کو اپنے موضوع کے پسِ منظر کے طور پر استعمال کیا جائے ۔ جب کہ نظم کا اصل موضوع کچھ اور ہوتا ہے۔ ایسی نظمیں فطرت کا لینڈ اسکیپ معلوم ہوتی ہیں لیکن پوری نظم میں اصل موضوع اسی طرح متاثر کن ہوتا ہے جیسے کسی مصور کی بنائی ہوئی تصویر میں فطری مناظر تصویرِ مقصود کے حسن میں اضافہ کرنے کا باعث ہوتے ہیں،اور شاعر کا کمال اس بات میں مضمرہوتا ہے کہ اس نے اپنے خیالات کو ابھارنے میں فطرت کا کتنا کامیاب اور خوبصورت استعمال کیا ہے۔ فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کرنے والے شعرا میںنمایاں ترین نام اقبال ؔ کاہے ۔ اقبالؔ کی متعدد نظموں کے آغازمیں مناظرِ فطرت کی سادہ پیکر تراشی کا تاثر ابھرتا ہے، لیکن انجام تک پہنچتے پہنچتے فطرت کا رشتہ کسی گہری اور فلسفیانہ فکر سے استوار ہو جاتا ہے ، اور وہ زندگی یا قوم و فرد کے افکار کا علامیہ بن جاتی ہے۔ اقبال کے علاوہ جوشؔ اور اختر الایمانؔ وغیرہ نے بھی فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے۔ ان شعرا کے یہاں فطرت کا معروضی اور غیر معروضی دونوں تصور موجود ہے۔
شعریٰؔ نے فطرت کو شعری وسیلے کے طور پر استعمال کیا ہے ۔شعریٰؔ کے یہاں ان کی بنیادی فکر (اسلامی فکر )اور آگہی تک رسائی حاصل کرنے میں مناظرِ فطرت شاعرہ کے ہم سفر و رہنما بن کر سامنے آتے ہیں ۔ا س طرح فطرت شعریٰؔ جیسی ’’اہلِ نظر‘‘شاعرہ کے لیے انکشافِ ذات ،عرفانِ الٰہی اور’ ثبوتِ حق ‘کا ذریعہ بن جاتی ہے ۔ ان کی ایک نظم’ اسیر‘سے ایک بند ملاحظہ ہو:

یہ پانی جس نے دی پھولوں کو خوشبو دوب کو رنگت
حلاوت گھول دی آزاد چڑیوں کے ترنم میں
دہکتے زرد ٹیلوں کے دلوں کو خنکیاں بخشیں
ڈھلا آخر یہ کیسے میرے آزردہ تبسم میں

شعریٰؔ کی یہ نظم مکمل طور پر منظر کشی کے سہارے ہی آگے بڑھتی ہے اور پوری نظم میں مناظر کے ذریعے ایک سوگوار اور دلکش فضا تخلیق کی گئی ہے ۔ شعریٰؔ کی اس نظم میں منظر نگاری کے اس فنکارانہ استعمال کا ذکر کرتے ہوئے گوپی چند نارنگؔ لکھتے ہیں ’’ ایسی نظموں کو پڑھ کر اس امر کی توثیق ہوجاتی ہے کہ جس طرح وقت کا تحرک واقعات کا progression یا مکالمہ سے واردات کا کھلنا،بیانیہ عنصر ہو سکتے ہیں اسی طرح منظر کاری بھی بیانیہ سے باہر نہیں۔‘‘(’’جدید نظم کی شعریات اور بیانیہ ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۳۹)
مذکورہ نظموں کے علاوہ نہ صرف یہ کہ شجرِ تمثال، خلدآباد کی سرزمین، فصیلِ اورنگ آباد، ایلورہ، شفیع الامم اور یاد نگر وغیرہ نظمیں بھی پیکر تراشی کے نمونوں سے آراستہ ہیں بلکہ ان کا پورا کلیات ہی ایک ایسا خوبصورت البم ہے جس میں جابجا متحرک اور غیر متحرک تصویریں قاری کے حواس کو بیدار کرنے کے ساتھ ایک ایسے انجانے جہان کی سیر کراتی ہیں کہ قاری ایک مسحور کن کیفیت سے دوچار ہوتا ہے ۔ باذوق حضرات کلیاتِ شعریٰؔ کی ورق گردانی کرسکتے ہیں ۔
کلامِ شعریٰؔ میں موجود فنی اور فکری محاسن کے باعث ہی فضیل جعفریؔ کا خیال ہے کہ جو مقام انگریزی فکشن میں جین آسٹنؔ کا ہے، اردو نظم میں وہی مقام شفیق فاطمہ شعریٰؔ کا ہے۔جدید نظم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے فضیل جعفری کہتے ہیں، ’’وہ [ شعریٰؔ] تمام جدید شاعروں سے یکسر مختلف ہیں ۔ آخر میں یہ بھی کہہ دوں کہ پاکستانی شاعرات جن کی نظموں کا ڈنکا چار دانگ عالم میں پیٹا جارہا ہے ، تاحال شعریٰؔ کی منزل سے آگے نہیں بڑھ سکی ہیں ۔ ‘‘( ’’ جدید نظم کا موجودہ منظر نامہ‘‘اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، ص، ۱۷)۔
کتابیات
ابوالکلام قاسمی ، شاعری کی تنقید، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۱۱ء۔
اردو نظم ۱۹۶۰ء کے بعد، تیسری اشاعت، دہلی؛اردو اکادمی، ۲۰۱۳ء۔
شفیق فاطمہ شعریٰؔ ، سلسلۂ مکالمات، دہلی؛ ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس، ۲۰۰۶ء۔
شمس الرحمٰن فاروقی، شعر، غیر شعر اور نثر، تیسری اشاعت، نئی دہلی؛ قومی کونسل برائے فروغِ اردو زبان، ۲۰۰۵ء۔
علامہ شبلی نعمانی، شعرالعجم حصہ چہارم، اعظم گڑھ، دارالمصنفین شبلی اکیڈمی، ۲۰۱۴ء۔
مرزا محمد عسکری، آئینۂ بلاغت، تیسری اشاعت، لکھنؤ، اتر پردیش اردو اکادمی، ۲۰۱۵ء۔


قمر جہاں جواں سال مصنفہ اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کی ریسرچ اسکالر ہیں ۔

Slottica Casino Polska

Articles

Slottica Casino Polska

Odkryj ekscytujący świat rozrywki online w kasynie Slottica! Slottica to dynamicznie rozwijające się kasyno online, oferujące szeroki wachlarz gier hazardowych, dostosowanych do potrzeb polskich graczy. Zanurz się w atmosferze pełnej emocji i wygrywaj prawdziwe pieniądze, korzystając z dogodnych metod płatności w polskich złotych (PLN). W Slottica znajdziesz wszystko, czego potrzebujesz do niezapomnianej rozrywki – od klasycznych automatów po nowoczesne gry stołowe i emocjonujące kasyno na żywo.

Slottica kasyno, działające na rynku od 2019 roku, zyskało renomę dzięki transparentności, bezpieczeństwu i atrakcyjnym promocjom. Posiadamy licencję, co gwarantuje uczciwą grę i ochronę danych osobowych naszych użytkowników. W Slottica dbamy o komfort graczy, oferując intuicyjną platformę, łatwą nawigację i profesjonalną obsługę klienta, dostępną w razie jakichkolwiek pytań czy wątpliwości. Nasza oferta obejmuje gry od renomowanych dostawców oprogramowania, co zapewnia najwyższą jakość grafiki, dźwięku i płynność rozgrywki.

Dołącz do grona zadowolonych graczy Slottica i skorzystaj z licznych bonusów powitalnych oraz regularnych promocji. Oferujemy szybkie i bezpieczne wypłaty wygranych za pomocą popularnych w Polsce metod płatności, takich jak karty płatnicze, e-portfele i przelewy bankowe. Niezależnie od tego, czy jesteś doświadczonym graczem, czy dopiero zaczynasz swoją przygodę z hazardem online, w kasynie Slottica znajdziesz coś dla siebie. Rozpocznij swoją ekscytującą podróż w Slottica casino już dziś i przekonaj się, co oznacza prawdziwa rozrywka na najwyższym poziomie!

Slottica Casino: Zalety i Wady

Slottica Casino Dla polskich graczy
Zalety

  • Bogaty wybór gier: Ponad 3000 tytułów od czołowych dostawców, m.in. NetEnt, Microgaming i Play’n GO. Oferujemy sloty, gry stołowe, kasyno na żywo i wiele innych!
  • Atrakcyjne bonusy i promocje: Skorzystaj z bonusów powitalnych, darmowych spinów, zwrotów gotówki i regularnych akcji dla nowych i stałych graczy.
  • Błyskawiczne i bezpieczne płatności: Wpłacaj i wypłacaj środki za pomocą popularnych metod, takich jak Visa, Mastercard, Skrill i Neteller.
  • Całodobowa obsługa klienta: Nasz profesjonalny zespół wsparcia jest dostępny 24/7, gotowy do pomocy w każdej sytuacji.
  • Licencjonowane i zaufane kasyno: Graj bezpiecznie w legalnym i regulowanym kasynie online z ważną licencją.

Wady

  • Dostępność regionalna: Slottica może być niedostępna w niektórych regionach.

Odbierz Atrakcyjne Bonusy w Slottica Kasyno!

Slottica PL oferuje rozbudowany program bonusowy, który usatysfakcjonuje zarówno początkujących, jak i doświadczonych graczy. Wykorzystaj szeroki wybór promocji i zwiększ swoje szanse na wygraną!

Bonus Powitalny

  • 200% bonusu do 700 zł od pierwszego depozytu! Podwój swoją pierwszą wpłatę i zyskaj dodatkowe środki na grę.
  • Minimalny depozyt: 70 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Bonusy od Kolejnych Depozytów

  • Drugi depozyt: 150% bonusu do 1500 zł
  • Minimalny depozyt: 250 zł
  • Warunek obrotu: 45x
  • Trzeci depozyt: 100% bonusu do 2100 zł
  • Minimalny depozyt: 350 zł
  • Warunek obrotu: 45x

Inne Promocje

  • Cotygodniowy Bonus: 90 Darmowych Spinów za depozyt minimum 450 zł (warunek obrotu: 45x)
  • Regularne Darmowe Spiny:
    • 35 darmowych spinów za depozyt minimum 250 zł
    • 50 darmowych spinów za depozyt minimum 500 zł
    • Warunek obrotu: 45x

Ważne Informacje

  • Zapoznaj się z regulaminem każdego bonusu przed skorzystaniem z oferty.
  • Wymagania obrotu określają, ile razy musisz postawić kwotę bonusu przed wypłatą wygranych.
  • Maksymalna stawka zakładu podczas gry z aktywnym bonusem wynosi 20 zł.
Bonus Szczegóły Oferty Minimalny Depozyt Wymóg Obrotu
Bonus Powitalny 200% do 140 zł przy pierwszym depozycie 70 zł 45x
Bonus od Drugiego Depozytu 30 darmowych spinów w “100 Joker Staxx: 100 lines” 200 zł 45x
Bonus od Trzeciego Depozytu 100% bonusu do 350 zł 350 zł 45x
Pakiet Darmowych Spinów 100 spinów w “Wild’n Luck 20” za 350 zł 350 zł 45x
Darmowe Spiny 60 spinów w “Four Lucky Clover” za 200 zł 200 zł 45x
Darmowe Spiny 50 spinów w “Clover Bonanza” za 70 zł 70 zł 45x

Odkryj Świat Gier w Slottica Casino

Slottica to kasyno online oferujące szeroki wybór gier od renomowanych dostawców, takich jak NetEnt, Play’n GO i Microgaming. Znajdź rozrywkę dopasowaną do Twoich preferencji:

  • Sloty: Ponad tysiąc slotów online, od klasycznych automatów owocowych po nowoczesne wideo sloty z imponującą grafiką i innowacyjnymi funkcjami. Odkryj popularne tytuły, takie jak Book of Dead, Starburst i Gonzo’s Quest.
  • Gry karciane: Doskonal swoje umiejętności w różnych wariantach blackjacka, bakarata i pokera.
  • Ruletka: Wybierz swój ulubiony wariant ruletki: europejską, amerykańską lub francuską.
  • Kasyno na żywo: Poczuj autentyczną atmosferę kasyna, grając z profesjonalnymi krupierami w ruletkę, blackjacka, bakarata i pokera na żywo.

Kasyno na Żywo — Doświadcz Prawdziwych Emocji

Zanurz się w świecie kasyna na żywo i graj z prawdziwymi krupierami w czasie rzeczywistym. Odkryj klasyczne gry stołowe, takie jak ruletka, blackjack i bakarat, a także unikalne tytuły, takie jak Andar Bahar i Sic Bo. Ciesz się wysoką jakością transmisji i interaktywnymi funkcjami. Znajdziesz tu popularne warianty gier stołowych i ekscytujące teleturnieje. Dzięki czatowi na żywo poczujesz autentyczną atmosferę kasyna

Loterie i Turnieje z Fantastycznymi Nagrodami

Weź udział w regularnych loteriach i turniejach, aby wygrać atrakcyjne nagrody, w tym darmowe spiny, bonusy i nagrody rzeczowe. Rywalizuj z innymi graczami i ciesz się emocjami związanymi z wygrywaniem. Do wygrania są nagrody pieniężne, darmowe spiny i ekskluzywne gadżety. Informacje o aktualnych akcjach znajdziesz w sekcji “Promocje”.

Zakłady Sportowe — Więcej niż Kasyno

Slottica to nie tylko kasyno online, ale także miejsce dla fanów zakładów sportowych. Obstawiaj wyniki meczów w popularnych dyscyplinach, takich jak piłka nożna, koszykówka, tenis i hokej. Skorzystaj z konkurencyjnych kursów i obstawiaj na żywo. Oferujemy szeroki zakres rynków i zakłady na żywo. Slottica dba o atrakcyjne kursy i różnorodne promocje sportowe.

Wirtualne Sporty — Akcja przez Całą Dobę

Obstawiaj wirtualne sporty, dostępne 24 godziny na dobę, 7 dni w tygodniu. Wybieraj spośród wirtualnych wyścigów konnych, psich i samochodowych, a także meczów piłki nożnej i koszykówki. Wirtualne sporty generowane są komputerowo z wysokiej jakości grafiką. To szybka i dynamiczna forma rozrywki z natychmiastowymi wynikami.

Dołącz do Slottica i Zacznij Wygrywać!

Zarejestruj się w Slottica i odbierz swój bonus powitalny. Ciesz się szerokim wyborem gier, ekscytującymi promocjami i profesjonalną obsługą klienta. Rozpocznij swoją przygodę z wygranymi już dziś!

Szybkie i Bezpieczne Płatności w Slottica Kasyno

W Slottica PL dbamy o Twój komfort i bezpieczeństwo transakcji. Oferujemy szeroki wybór metod płatności, umożliwiających szybkie i wygodne wpłaty oraz wypłaty środków.

  • Karty płatnicze: Wpłacaj środki natychmiastowo za pomocą karty Visa.
  • Portfele elektroniczne: Korzystaj z popularnych portfeli elektronicznych, takich jak eZeeWallet i Jeton, aby dokonywać szybkich i bezpiecznych transakcji online.
  • MiFinity: Zarządzaj swoimi środkami w wygodny sposób za pomocą aplikacji MiFinity.
  • Kryptowaluty: Wpłacaj Bitcoin, ciesząc się anonimowością i błyskawicznymi transakcjami.
  • Binance Pay: Płać za pomocą różnych kryptowalut dzięki usłudze Binance Pay.

Stosujemy zaawansowane technologie szyfrowania, aby zapewnić bezpieczeństwo Twoich transakcji. Możesz skoncentrować się na rozgrywce, wiedząc, że Twoje dane są chronione.

Wypłaty i Weryfikacja Konta

Weryfikacja tożsamości: Dla zapewnienia bezpieczeństwa Twoich środków i spełnienia wymogów prawnych, przed pierwszą wypłatą prosimy o przesłanie kopii dokumentu tożsamości do naszego Działu Bezpieczeństwa. Ten prosty proces weryfikacji zapewni ochronę Twojego konta i transakcji.

Metody wypłat: Oferujemy wygodne metody wypłaty, takie jak portfel elektroniczny Jeton oraz przelew bankowy. Wybierz opcję, która najlepiej odpowiada Twoim potrzebom.

Warunki wypłat: Przed zleceniem wypłaty należy spełnić wymóg obrotu trzykrotności kwoty depozytu. Oznacza to, że należy postawić zakłady o łącznej wartości co najmniej trzykrotnie wyższej od wpłaconej kwoty. Jest to standardowa procedura zapewniająca uczciwość gry.