جس وقت تحریکِ آزادی شباب پرتھی اس وقت بمبئی ذریعۂ معاش کا اہم مرکزتھا۔ لوگ ملک کے مختلف حصوں سے ہجرت کرکے بمبئی میں داخل ہورہے تھے جس میں ایک بڑا طبقہ ادیبوں کا بھی تھا۔ پریم چند سے لے کر کرشن چندر، منٹو، بیدی، عصمت اور خواجہ احمدعباس جیسے اعلا پایہ کے ادیبوں نے ممبئی کی ادبی محفل کو رونق بخشی۔یہ شہر اس وقت جدید افسانہ کا مرکز تھا۔ جب یہاں کے ادیبوں نے ترقی پسند تحریک میں شمولیت اختیار کی تو ادبی دنیا میں ایک انقلاب آگیا۔ اس تحریک نے جہاں دبے کچلے افراد کی زندگی اور ان کے مسائل کو موضوع بنایاوہیں دوسری طرف ظالموں اور سرمایہ داروں کے ظلم وبربریت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ ترقی پسند تحریک کا دوراردو افسانہ نگاری کا عہدزریں کہا جاسکتا ہے۔ اس وقت ہندوستان مختلف مسائل سے دوچار تھا۔ عدم مساوات اور معاشی بحران کا مسئلہ ابھی حل بھی نہیں ہوا تھا کہ ملک کی تقسیم کا سانحہ پیش آیا، تقسیم ہند کے سانحے اور اس کے ردعمل کے طور پر رونما ہونے والے فسادات نے لوگوں کو ذہنی کرب میں مبتلا کردیا۔ اس دوران انسانیت کو شرمسارکردینے والے حادثات اور ہجرت کے کرب نے لوگوں کو بے حس بنادیا جس نے ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو صلب کردیا۔ جہاں ان مسائل کی وجہ سے اردو افسانے کے موضوعات کو وسعت حاصل ہوئی وہیں موضوعات کی یکسانیت نے اکتاہٹ پیدا کردی اور مقلدین کی بھرمار نے ادب کو نعرہ بنادیا جس کی وجہ سے اس تحریک کا زور ،روز بروز ختم ہوتا چلاگیا۔
۱۹۶۰ کے بعداردو افسانے میں تجربات اور ردوقبول کے دور کا آغاز ہوا۔ ان تجربات نے جہاں اردو افسانے کو مروجہ اسلوب سے باہر نکالا وہیں اردو افسانے کو نئے معنی و مفاہیم بھی عطا کیے۔ جدیدیت کی یہ تحریک ادب کے ساتھ ساتھ اسلوب اور موضوعات میں بھی شعوری طور پر تبدیلی کی خواہش مند تھی۔ چنانچہ اظہار خیال کے لیے نئے اسلوب کی تشکیل کا عمل شروع ہوا اور یہیں سے اسلوب کی سطح پر تجربات کے دور کا آغاز ہوا۔ موضوعات میں انفرادیت اور نئے پن کی جستجو نے انھیں اجتماعی موضوعات سے دورکردیا ۔ کبھی افسانے میں کردار کو، کبھی کہانی کو ردکیا گیا۔ افسانہ نگار اپنی بات اشاروں ، کنایوں ، تشبیہات و استعارات میں بیان کرنے لگا۔ حقیقت نگاری کا اسلوب علامتی اور تمثیلی پیرایہ بیان اختیار کرتا چلاگیا۔ اسی دور میں قاری تلازمۂ خیال ، خود کلامی، شعور کی روکی تکنیک اور آپ بیتی جیسے جدید اسلوب سے متعارف ہوا۔
۱۹۷۰ کے بعد اردو افسانہ نگاری کا اہم مرکز مہاراشٹر رہا۔ ۱۹۷۰ کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل جوگیندر پال، سریندرپرکاش، رام لال، اقبال متین، رتن سنگھ، اقبال مجید اور جیلانی بانو جیسے قدآور افسانہ نگاروں پر مشتمل ہے۔ سریندر پرکاش اور جوگیندرپال نے جب مہاراشٹرا کی سرزمین پر قدم رکھا تو دونوں نے جدیدیت کا پرزور استقبال کیا اور یہیں سے اردوافسانے میں ایک نئے دورکا آغازہوا۔ جوگیندرپال اور سریندرپرکاش نے جدیدیت کے زیراثر بے شمار افسانے تحریر کیے دونوں کا ویژن اور افسانوں کا کینوس بے حد وسیع ہے۔ سریندر پرکاش کے افسانوں میں ’’جپّی ژاں‘‘، دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘، ’’ساحل پر لیٹی عورت‘‘اور ’’سرنگ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ دوسری طرف جوگیندر پال نے ’’نوزائدہ‘‘،’’ پیچھے‘‘، ’’گھر‘‘، ’’مقامات‘‘، اور ’’پرندوں کا جھنڈ‘‘ جیسے لافانی افسانے تخلیق کیے۔ مہاراشٹرا میں جدیدیت کی اس تحریک کوآگے بڑھانے میں رفعت نواز،الیاس فرحت، ابراہیم اختر، سریندر کمارمہرا، محمود شکیل اور رشیدانور وغیرہ نے اہم کردار ادا کیا جو اس وقت افسانے کے فن پر طبع آزمائی کررہے تھے اور ان کے افسانے اس دور میں متواتر رسائل میں شائع ہورہے تھے۔ ترقی پسند تحریک کی مانند علامتی اور تمثیلی افسانوں کی یہ دنیا رفتہ رفتہ یکسانیت کا شکار ہوتی چلی گئی۔ موضوعات میں دہشت گردی ، عدم تحفظ، فرد کی تنہائی، انتظامیہ کی بے حسی اور ایک نامعلوم مستقبل کی نشاندہی باقی رہ گئی تھی ۔ بیشتر افسانہ نگار انھیں موضوعات کے اردگرد چکر لگارہے تھے۔
۱۹۸۰ کے بعد کے مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں کے لیے یہ دور لمحۂ فکریہ تھاکہ کیا کریں اور کیا نہ کریں ، افسانے کی کس روش کواختیار کریں ایک طرف جہاں ترقی پسند تحریک کے واضح نقوش تھے وہیں دوسری طرف جدیدیت کی تحریک باہیں کھولے دروازے پردستک دے رہی تھی۔ جدیدیت کی تحریک کے زیراثر اردوافسانے میں مختلف سطحوں پر زبردست تجربے کیے گئے اس میں کچھ کامیاب بھی ہوئے اور کچھ ناکام بھی مگر ان تجربوں سے افسانہ نگاروں کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ اس دور میں بہت سے افسانے ایسے لکھے گئے جو کہانی پن سے یکسر خالی تھے یعنی افسانے کے روایتی اجزا ئے ترکیبی سے انحراف کیا گیا اور اسے افسانے کے لیے غیر ضروری قرار دیتے ہوئے علامتی پیرایہ بیان اختیار کیا گیا ، چاہے قاری کی رسائی ان تک ہویا نہ ہو۔ اس پیرایہ بیان میں بھی وہ افسانہ نگار جو افسانے کے فن سے واقف تھے کامیاب افسانے تحریر کیے، مگر ۱۹۸۰ء کے بعد کی افسانہ نگاروں کی یہ نسل ہر طرح کی پابندیوں سے آزاد ہوکر نئی راہ کی متلاشی تھی چناچہ انھوں نے ایسے افسانوں کی تخلیق پر زوردیاجس میں کہانی پن، پلاٹ اور ماجراکے ساتھ ساتھ علامت اور استعارہ بھی حسب ضرورت شامل ہو مگر کہیں سے بھی آورد والی کیفیت نہ پیدا ہونے پائے افسانے میں تجسس کے ساتھ ساتھ افسانہ نگاری کے فن کو بھی ملحوظ رکھا جائے جس کی وجہ سے افسانہ کامیابی کی کسوٹی پر کھرا اترتاہے۔ مذکورہ بالا اصولوں کو سامنے رکھ کر ۱۹۸۰ء کے بعد مہاراشٹرا میں لکھے گئے افسانوں میں سلام بن رزاق کا افسانہ’’آخری کنگورہ‘‘، نورالحسنین کا ’’فقط بیان تک‘‘اور’’سبزۂ نوررستہ کا نوحہ‘‘ ، مشتاق مومن کا ’’ترنت شور مچائیے اور انعام پائیے‘‘، ساجد رشید کا ’’سونے کے دانت‘‘، انور خان کا ’’حق‘‘، ’’گڑھی میں اترتی شام‘‘ اور ’’فنکاری‘‘،انورقمر کا’’فضول کاغذات میں ملے تین خط‘‘، احمدعثمانی کا ’’اپنی مٹی‘‘ اور اشتیاق سعید کا افسانہ ’’ہل جوتا‘‘ وغیرہ مہاراشٹر ا کے نئے افسانوں میں اولیت کے حامل ہیں۔
بیسویں صدی کی آخری دہائی میں مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں نے موضوعات کی یکسانیت اور مروجہ افسانوی اسلوب کے خلاف آواز بلند کی اور اس کہانی کی تلاش میں سرگرداں ہوگئے جس میں دل کے دھڑکنے کی صدا واضح طور پر سنی جاسکے اور کہانی روح کی تسکین کا ذریعہ بن سکے جس میں شہری زندگی کے مسائل اور زندگی بسر کرنے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ ان کی آرزوئیں اور تمنائیں انگڑائیاں لے رہی ہوں اور معاشرے کے ایک ایک پہلو کو اجاگر کرسکے جہاں کہانی اسلوب کے پردے میں نہ چھپ جائے۔ اس احساس کے زیرِ اثر مہاراشٹرکی اردوافسانہ نگاری نے اپنا رخ بدلا جوکہ نہ تو اپنے پیش رو افسانہ نگاروں کے مشابہ تھا اور نہ ہی بالکلیہ جدیدیت کا منحرف جس کے نتیجے میں ایک ایسے افسانے کا چہرہ سامنے آیا جسے ناقدین نے ’’نئے افسانے‘‘ کے نام سے منسوب کیا۔ جوکہ افسانہ نگاروں کے فطری تقاضوں کو اپنے بھیتر پوری طرح سموئے ہوئے تھا۔ اس دور کے افسانہ نگاروں نے جہاں ایک طرف کہانی پن کے انحراف کو رد کیا وہیںدوسری طرف علامتی افسانوں کی بامعنویت گیرائی اور گہرائی کوبھی اپنے افسانوں میں جگہ دی۔ اس نئے افسانے کی کامیابی کاسہرا سلام بن رزاق کے سرہے۔ مگران کے شانہ بشانہ مہاراشٹرا کے دوسرے افسانہ نگاروں نے بھی اسے ترقی دینے میں اہم کرداراداکیا۔ آج مہاراشٹر میں اردو افسانے کی یہ مستحکم بنیاد انھیں افسانہ نگاروں کی کوششوں اور کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ عصر حاضر کے مہاراشٹرکے افسانہ نگاروںمیں سلام بن رزاق، انورقمر، ساجدرشید، انور خان، نورالحسنین، حمید سہروردی،مقدرحمید، سید محمداشرف، معین الدین جنابڑے، مین را، بانوسرتاج،احمد عثمان، ایم مبین، عارف خورشید، مشتاق مومن، قاضی مشتاق ،محمودایوبی، علی امام نقوی،مظہرسلیم، اشتیاق سعید، رحمن عباس، مشتاق رضا، عظیم راہی، م۔ناگ، طارق کولہاپوری اور براق مرزاوغیرہ کا نام خصوصیت کے ساتھ قابل ذکر ہے۔ اس میں کچھ ایسے افسانہ نگاربھی شامل ہیں جو اس دنیا سے رخصت ہوچکے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیںجن کے قلم اب خاموش پڑچکے ہیں۔ توکچھ ایسے بھی ہیں جن کے افسانے مسلسل ہمارے توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور کچھ ایسے بھی ہیں جن سے مستقبل میں امیدیں وابستہ ہیں، مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاروں کا یہ کارواں آج بھی رواں دواں ہے۔
اگر مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاری کا مجموعی طور پر جائزہ لیں تو اس بات کا بخوبی طور پر اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں کے افسانہ نگاروں نے اپنے اطراف واکناف میں رونما ہونے والے واقعات وحادثات کی مکمل عکاسی اپنے افسانوں میں کی ہے۔جس میں معمولی افراد بھی ہیں اور درمیانی طبقہ کے لوگ بھی ۔ لٹے پٹے نواب بھی ہیں تو دوسری طرف سرمایہ دار،زمیندار، جاگیر دار، کسان، مزدوراور وہ افراد بھی ہیں جو بظاہر ہمارے سماج کا حصہ ہیں لیکن ہماری فکر کا حصہ نہیں بن پاتے۔ مہاراشٹر کے عصری افسانوں میں ہندومیتھا لوجی، حکایات اور روایتوں سے خوب استفادہ کیا گیا ہے۔ انتظامیہ کی بے حسی، بدنظمی، بدعنوانی اور عدم تحفظ جیسے مسائل مہاراشٹرکے اردو افسانہ نگاروں کا محبوب موضوع رہا ہے۔ یہاں کے افسانہ نگاروں نے قومی ، ملکی اور بین الاقوامی مسائل کو پیش کرکے معاشرے کو اس کا اصلی چہرہ دکھانے کی بہترین کوشش کی ہے۔ الغرض مہاراشٹر میں لکھا جانے والا افسانہ اردو افسانے کے ارتقا ئی سفر میں پوری طرح شامل تھا اور موجودہ عہد میں اردو افسانے کی نمائندگی کررہاہے۔
مہاراشٹر میں اردو افسانے کے عصری منظرنامے کی وضاحت کے لیے ۱۹۸۰ء کے بعد مہاراشٹرمیں اردو افسانے کی سمت ورفتار پر تفصیلی گفتگو اشد ضروری ہے اس لیے یہاں مہاراشٹر کے نمائندہ افسانہ نگاروں اور ان کے افسانوں کا انفرادی طور پر جائزہ لینے کی کوشش کی گئی ہے تاکہ مہاراشٹر میں اردو افسانہ نگاری کا کوئی بھی باب تشنہ نہ رہ جائے اور موجودہ دور کے افسانوں کے موضوعات ومسائل کی روشنی میں ان کے معیار ومرتبے کا تعین کیا جاسکے۔
ساجد رشید کا شمار مہاراشٹر کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے حالانکہ وہ اب اس دارفانی سے رخصت ہوچکے ہیں مگر ان کے افسانے اور ان کا فن ہمارے درمیان آج بھی زندہ ہے۔ ساجدرشید ایک زندہ دل انسان تھے اس لیے وہ اپنے ماحول سے پوری طرح باخبر تھے۔ سماجی برائیوں اور مسائل کو بہت بے باکی کے ساتھ اپنے افسانوں میں جگہ دی اور ان پر جم کر وار کیا۔ آج کا دور بے مروتی اور بے حسی کا دور ہے لالچ، ہوس، حرص، خودغرضی اور موقع پرستی کو خوبیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ چاروں طرف افراتفری کا عالم ہے کوئی کسی کا پرسان حال نہیں ۔ جہاں صنعتی انقلاب نے لوگوں کی ترقی کے درواکیے وہیں اعلا قدریں اور روایتیں آخری سانسیں لے رہی ہیںجس کی وجہ سے آج کا فرد تنہائی اور گھٹن کا شکار ہے اس کی خوب صورت مثال ساجد رشید کے افسانے’’اوپرسے گرتا اندھیرا‘‘ کے طور پر پیش کیا جاسکتی ہے، جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ بظاہر انسان نے بہت ترقی کرلی ہے مگر انسان انسان سے دور ہوتا چلا جارہا ہے۔ ان کے افسانے ’’شام کے پرندے‘‘ اور ’’نفرتوں کے آرپار‘‘ وہ افسانے ہیں جس میں خاندانی روایتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانی بہت موثر انداز میں بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’برف گھر‘‘، ’’دوپہر‘‘ ، ڈاکو‘‘،’’سونے کے دانت‘‘ اور ’’کرما‘‘ وغیرہ ساجد رشید کے سماجی وسیاسی شعور پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ساجد رشید جہاں ایک طرف بدلتی قدروں کا نقشہ کھینچتے ہیں وہیں دوسری طرف شہری زندگی کے مسائل کی بے باک ترجمانی بھی کرتے ہیں۔’’چادروالا آدمی اور میں‘‘،’’اندھی سیڑھیاں‘‘،’’ایک گمشدہ عورت اور اندھیری گلی‘‘ اس کی واضح مثال ہیں۔
سلام بن رزاق کا شمار صرف مہاراشٹر ہی نہیں بلکہ اردو ادب کے اعلاپایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے اور عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں ان کا نام اولیت کا حامل ہے۔ بقول نورالحسنین’’نئے افسانے کی امامت کا تاج بلا شبہ سلام بن رزاق کے سر ہے‘‘۔ سلام بن رزاق کے افسانوں کا موضوع انسانی رشتے، ان رشتوں کا احترام، استحصال، سیاسی جبریت، انسان کی سماجی بندشوں ، ان کی لاچاری، مجبوری، بے بسی اور ان سے آزادہونے کی تڑپ وغیرہ ان کا پسندیدہ موضوع ہے‘‘۔ سلام بن رزاق متوسط طبقہ کے افسانہ نگار ہیں۔ وہ انسان کے ظاہرو باطن دونوں پہلوؤں کو کھنگالتے ہیں۔ ’’بیت‘‘، ’’پٹا‘‘ ، ’’ایک اورشرون کمار‘‘، اور’’ البم‘‘ وغیرہ ان کے اسی قبیل کے افسانے ہیں۔ سلام بن رزاق جب معاشرے پر نگاہ ڈالتے ہیں تو انھیں چاپلوسی، مکاری، تنگ نظری، مذہبی جنون، مصلحت کوشی اور خود غرضی چاروں طرف نظر آتی ہے اور انسان کی فطری خوبیاں انھیں کہیں نظر نہیں آتیں۔ ان کے افسانے ’’مکھوٹے‘‘ ،’’اس دن کی بات‘‘، ’’دوچراغ‘‘،’’یک لویہ‘‘،’’تصویر‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں‘‘ وغیرہ مختلف سماجی مسائل پر روشنی ڈالتے ہیں۔ ’’یک لویہ‘‘اور ’’زندگی افسانہ نہیں‘‘ میں مذہب کے پس پردہ ہونے والے استحصال کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ ان کا فن مسلسل ارتقا کی منزلیں طے کرتا رہا۔ دہشت گردی کے نام پر پولس کی یک طرفہ کاروائی کے خلاف ان کا افسانہ ’’آخری کنگورہ‘‘ بہت اہمیت کا حامل ہے۔
سید محمداشرف کا شمار بھی ۱۹۸۰کے بعد کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے حالانکہ ان کا تعلق براہ راست مہاراشٹرسے نہیں ہے لیکن انھوں نے مہاراشٹرکے ہم عصر افسانہ نگاروں کے ساتھ مل کر کامیاب افسانے تحریر کیے ۔ سید محمد اشرف کے بیشتر افسانوں میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کا بھی ذکر ہوا ہے ۔ انھیں انسانی جبلتوں میں جانوروں کی خصوصیات نظرآتی ہیں جس کی وجہ سے ایسا لگتا ہے کہ وہ کوئی نئی’’پنچ تنتر‘‘ لکھنے کی تیاری کررہے ہیں۔ چاہے افسانہ ’’لکڑبگھارویا‘‘ہویا’’لکڑ بگھا چپ ہوگیا‘‘ ان افسانوں کے ذریعے انھوں نے انسانی فطرت اور خود غرضیوں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان کا لافانی افسانہ’’روگ‘‘بظاہر پاگل ہاتھی کومارنے کی کہانی ہے اس افسانے کے ذریعے خوف اور انسانوں پر خوف کے تاثرات کی نشاندہی کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ افسانہ ’’چمک‘‘، ’’بادصبا کاانتظار‘‘ اور ’’تلاش رنگِ رائیگاں‘‘ کو ان کی خصوصیات کی بنیاد پر اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ سید محمد اشرف نے ممبئی کے ماحول میں افسانہ ’’دعا‘‘ تحریر کیا جس میں انھوں نے استحصال اور احتجاج کے امتزاج کی خوب صورت تصویر پیش کی ہے۔ سید محمد اشرف نے اپنے افسانوں کے لیے جن موضوعات کا انتخاب کیا ہے اس میں ہجرتوں کا کرب ، عدم تحفظ کا مسئلہ، انسانی رویے، عیاری، ریاکاری اور خود غرضی شامل ہیں۔ سید محمد اشرف کے افسانے جذباتیت سے لبریزہوتے ہیں۔
مہاراشٹر کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں انور خان کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ ان کے افسانوں میں زندگی کے کھوکھلے پن اور انسانی رویوں پر گہرا طنز دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کے موضوعات میں نسلی امتیازات، تنہائی کا کرب ، عمروں کا تضاد، بے چارگی اور انسان کی مجبوری اور بے بسی شامل ہے۔ وہ اپنے افسانوں کا مواد کسی بڑے واقعات سے اخذ نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے گردوپیش میں رونما ہونے والے چھوٹے بڑے واقعات وحادثات سے موضوع کا انتخاب کرتے ہیں۔ اسلوبیاتی سطح پر ان کے افسانوں کو دوحصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میںان کے طویل افسانے سادہ بیانیہ اسلوب پرمشتمل ہیں دوسرے حصے کے افسانے مختصر اور فلمی منظر نامے کی تکنیک سے آراستہ ہیں۔ ان کا افسانہ ’’کتاب دارکاخواب‘‘ اعلاپایہ کی تکنیک کا لافانی افسانہ ہے۔ آثار قدیمہ کے حوالے سے ایک زبردست تجربہ ہے جس میں قاری اپنے آپ کو کتاب دار کے ساتھ ساکت محسوس کرنے لگتا ہے۔ افسانہ ’’لمس‘‘ بہ ظاہر ایک کمرے کی کہانی ہے جس میں یہ دکھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ گھر کی بے جان چیزیں انسانی لمس کی محتاج ہیں اور ان کو چھونے سے اس میںکسی قدر جان پیدا ہوجاتی ہے۔ ان کا شاہکار افسانہ ’’کنوؤں سے ڈھکا آسمان‘‘ ایک ایسا افسانہ ہے جس میں انھوں نے آگ کو زندگی کی علامت کے طور پر دیکھا ہے۔ یہ ایک تہہ دار افسانہ ہے جس میں آج کے دور میں زندگی بسر کرنا آگ سے کھیلنے کے مترادف ہے اس پہلو ؤں کو پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔ افسانہ ’’صداؤں سے بنا آدمی‘‘،’’اور کبھی‘‘،’’سیاہ‘‘،’’سفید‘‘اور ’’شکستگی‘‘ وغیرہ کا شمار بھی ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ انور خان اپنے افسانوں میں سماج کے ایسے افراد کو پیش کرتے ہیں جوزندگی کی حقیقت سے بخوبی واقف ہیں۔ ان کا افسانہ ’’فنکاری‘‘ ان لوگوں کی کہانی ہے جو انتظامیہ کے خلاف آواز تو بلند کرتے ہیں مگر مانگیں پوری ہونے پر اسی انتظامیہ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ انور خان کے دوسرے افسانوں میں ’’یادبسیرے ‘‘، ’’اکیلی بستیاں‘‘ اور’’شام رنگ‘‘وغیرہ کے مطالعہ سے ان کے فن کی عظمت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
انور قمر کا شمار اردو ادب کے Genius افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں میں روایت اور جدت کا حسین ترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے وسیع مطالعہ کی بنیاد پر ان کے افسانوں کے موضوعات میں ندرت دکھائی دیتی ہے۔ وہ ایسے اچھوتے موضوعات کا انتخاب کرتے ہیں جن پر دوسرے افسانہ نگاروں کی نظرنہیں پڑتی۔ ان کے افسانوں کا محور ومرکز کمزور طبقات کی زبوں حالی، محرومی، اخلاقی زوال کے باعث پیدا ہونے والی خلا اور استحصال وغیرہ ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوں میں معنوی تہداری نظرآتی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’قیدی‘‘، ’’ہاتھیوں کی باڑ‘‘،’’چاندنی کے سپرد‘‘،’’کابلی والا کی واپسی‘‘اور’’چوپال میں سنایا ہوا قصہ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے نمائندہ افسانوں میں ہوتا ہے۔ بنیادی طورپر انور قمر شہری زندگی کے افسانہ نگار ہیں۔ افسانہ ’’ڈر‘‘ اور ’’چوراہے پر ٹنگا ہوا آدمی‘‘ میں آج کے دور میں شہری زندگی میں انسان کی ناقدری کے المیے کو پیش کیا گیا ہے۔ ان کا افسانہ ’’فضول کاغذات میں ملے تین خط‘‘ کو اردو ادب میں بہت سراہا گیا جس میں انھوں نے تقسیم ہند کے دوران ہجرت کے کرب کو موضوع بنایا۔
مقدر حمید کے افسانے گہرے تجربات پر مشتمل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کے افسانوں میں ایک نئی تازگی اور انوکھا پن نظرآتا ہے۔ ان کا افسانہ ’’محفوظ راستوں کی تلاش‘‘ ایسے افراد کی کہانی ہے جو کہ معاشی مشکلات کی وجہ سے ہجرت کرنے پر مجبور ہیں لیکن انھیں اس بات کا علم نہیں کہ یہاں کے باسی اس خوف کی وجہ سے پہلے ہی یہاں سے ہجرت کر چکے ہیں۔ افسانہ ’’زربیل‘‘ میں دولت کے پجاریوں کی عبرت ناک کہانی بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’فریم سے باہر کی تصویر‘‘ میں مردوں کی بے راہ روی اور دوسری عورتوں سے آسودگی حاصل کرنے کے برے نتائج کی طرف اشارہ کیا گیا ہے تو افسانہ ’’تھوڑی سی فضائی‘‘ میں دولت کے نشے میں انسان کی بے ضمیری کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مقدرحمید کے افسانوں میں سماج کی حیرت ناک اور عبرت ناک تصویر دیکھنے کو ملتی ہے۔
مشتاق مومن کے افسانوں میں صنعتی انقلاب اور اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے مسائل کی جیتی جاگتی تصویر دیکھنے کو ملتی ہے جس میں مذہب سے دوری، اقتدار کا زوال ، مذہبی استحصال ، خود غرضی، لالچ، حرص وہوس، مفاد پرستی اور ذمہ داریوں کا کرب وغیرہ کے مسائل پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔ اپنے افسانے’’ آسیب ‘‘، ’’کریم لگا بسکٹ‘‘ اور ’’چیونٹیاں‘‘ وغیرہ میں متذکرہ بالا مسائل کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ان کا شاہکار افسانہ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ میں عصری جبریت اور سیاسی داؤ پیچ کی کہانی بیان کی گئی ہے۔ افسانہ ’’دوساجن‘‘ میں دوسری شادی کی ضرورتوں اور جنسی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے تو افسانہ’’ مرد گزیدہ‘‘ میں دودھ کے رشتے کی دردناک تصویر پیش کی گئی ہے۔ الغرض ان کے افسانوں میں سماجی رشتوں کی ٹوٹتی بکھرتی کڑیوں کی جانب واضح طور پر اشارہ کیا گیا ہے۔
م۔ناگ کے افسانوں کے کردار بھولے بھالے معصوم انسان ہیں ۔ ان کی زبان بہت دلچسپ ہوتی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘،’’اسکول‘‘،’’کٹی ہوئی ناک‘‘،’’کمپیوٹر‘‘،’’عینک والا آدمی اور اس کی بیوی‘‘،’’ژراف‘‘،’’گھوڑسوار‘‘،’’تیرتھ‘‘ اور’’ چاند میرے آجا ‘‘ وغیرہ کا شمار ان کے کامیاب افسانوں میں ہوتا ہے۔ جس کے ذریعہ انھوں نے سماجی کھوکھلے پن کو بے نقاب کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔
احمد عثمانی کے افسانے سماجی حقیقت نگاری کی بہترین مثال ہیں۔ جو انسانی رشتے ،رویے، گھٹن، بے روزگاری، معاشی اور معاشرتی حالات کا جبر اور اس سے نجات پانے کی جدوجہد اور ان کی چھوٹی چھوٹی خوشیاں ان کے افسانوں کا محور ہیں۔ ان کے افسانوں میں ’’کوکھ جلی‘‘جس میں اولاد کی خواہش اور سماجی نفرتوں کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ ’’ بھنور‘‘نفسانی خواہشات کے غلام انسان کی کہانی ہے ۔ افسانہ’’موسموں کا اسیر‘‘ میں ان افراد کی کہانی بیان کی گئی ہے جو خوش حال زندگی کی تمنا لیے شہر کا رخ کرتے ہیںمگر یہاں فٹ پاتھ پر زندگی بسر کرنے کے لیے مجبور ہیں ۔ افسانہ ’’کفارہ‘‘ میں ضمیری اور بے ضمیری کے درمیان جنگ لڑتے نوجوان کی کہانی ہے۔ افسانہ ’’اپنی مٹی‘‘ ایسے افراد کی کہانی ہے جوجوش میں آکر ہجرت تو کرلیتے ہیں مگر زندگی بھر اپنی زمین سے دوری کے کرب سے آزاد نہیں ہو پاتے اور مسلسل اپنی واپسی کا خواب دیکھتے رہتے ہیں ۔
معین الدین جنا بڑے کا شمار بھی ۱۹۸۰ء کے بعد کے مہاراشٹرکے اہم افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ بقول معین الدین جنابڑے’’زندگی کہانی میں ڈھلتی ہے اور زندگی کہانی کا حصہ بن کر نئی کہانی کو جنم دیتی ہے ۔ زندگی آگے بڑھتی رہتی ہے اور کہانی جنم لیتی رہتی ہے ‘‘جنا بڑے کے اس قول سے کہانی کے متعلق ان کے نظریات کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ یہی صورت حال ان کی کہانیوں میں بھی نظرآتی ہے۔ ان کے افسانے زندگی کے کسی موڑ سے اٹھتے ہیں اور پھر ان کے کردار کئی کہانیوں کو جنم دیتے چلے جاتے ہیں جس سے افسانے میں تہہ داری بڑھتی چلی جاتی ہے اور قاری تجسس کی آخری منزلوں پر اڑان بھرنے لگتا ہے پھر رفتہ رفتہ کہانی کی معنوی سطحیں کھلنے لگتی ہیں۔افسانہ ’’رنگ ماسٹر‘‘،’’گرجاگھر‘‘اور ’’بھول بھلیاں‘‘وغیرہ اپنے عصری ماحول کے باوجود کہیں نہ کہیں روایت کا حصہ معلوم ہوتے ہیں مطلب یہ کہ ان کے افسانے قاری کو ایسی خیالی دنیا کی سیر کرواتے ہیں جہاں ماضی کی حکایتیں بھی ہیں اور ندی، دریا، جھرنے،پہاڑ،پرفضا مقامات اورگھاٹ سے وابستہ موت کی طرف لے جانے والی کہانیاں بھی ہیں۔
عارف خورشید کے افسانوں میں انسان کی فطری بے چینیاں واضح طور پر نظرآتی ہیں اور کردار کے تصادم سے پیدا ہونے والے مسائل ، سیاسی جبریت اور عصری مسائل سبھی کچھ ان کے افسانوں میں موجود ہے۔ مگر عارف خورشید بنیادی طور پر استحصال کے خلاف آواز بلند کرنے والے افسانہ نگار ہیں۔ انھوں نے اپنے افسانوں میں عورت کی لاچاری ، بے بسی اور مجبوری کے ساتھ ساتھ مردوں کے ہاتھوںعورتوں کا ہونے والا استحصال کی بالکل فطری تصویر پیش کی گئی ہے۔وہ خواہ افسانہ ــ’’سنگی احاطہ دل ‘‘ کی مر حومہ بیوی ہو یاافسانہ ’’احساس کا زخمی مجسمہ‘‘ کی سازیہ یا پھر ’’گناہ کی کیل‘‘کی بے نام محبوبہ یا’’ اڑائی ہوئی کلّی‘‘کی بیوی ہو الغرض ان کے افسانوں میں عورتوں کے استحصال کی درد ناک تصویر دیکھنے کو ملتی ہے ۔
مہاراشٹرکے عصر حاضر کے افسانہ نگاروں میں قاضی مشتاق احمد کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے۔ ان کا انداز بیان بالکل سیدھا سادہ ہے اور الفاظ کے تراش و خراش سے اپنے کو دور رکھا۔ علامتوں ، تشبیہات اور استعارات جیسے لوازمات سے ان کا افسانہ پاک ہے۔ ان کے بیشتر افسانوں کے پلاٹ عام انسانی زندگی سے مستعار ہیں یعنی ان کے افسانوں کی وہی دنیا ہے جس میں ہم اور آپ زندگی بسر کررہے ہیں اسی لیے ان کے کردارہمیں بے حد متاثر کرتے ہیں اور قاری کہانی سے جڑتا چلا جاتا ہے۔ ان کے افسانوں میں معاشرے کی جیتی جاگتی تصویر پیش کی گئی ہے۔جس کی وجہ سے ان کی کہانیاں سماجی حقیقت نگاری کا بہترین نمونہ ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ’’ویلکم قیامت‘‘ ’’انسان کی قسمت‘‘ ’’آہستہ آہستہ ‘‘ ’’اپنے غم‘‘اور ’’سونا اگلنے والی زمین ‘‘ قابل ذکر ہیں۔ ان افسانوں میں نیا پن بھی ہے اور کرداروں میں آپ اپنی زندگی جینے کی صلاحیت بھی موجود ہے ان کے افسانے نئی کہانی کے فنی لوازمات کو پوری طرح اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔
محمود ایوبی کی افسانہ نگاری کا دور بیسویںصدی کی آٹھویں دہائی سے شروع ہوتا ہے ان کے افسانوں کی برجستہ زبان اور مکالمے قاری کو محو حیرت کردیتے ہیںانہوںنے اپنے افسانوں میںسماجی مسائل کو اسی انداز سے پیش کیا ہے کہ جہاں افسانہ حقیقت نگاروں کاروپ لے لیتا ہے ، محمود ایوبی کے افسانوں میں’’چیخ ‘‘،’’بن باس‘‘، ’’آتنک‘‘ اور’’ سیوک ‘‘وغیرہ میں فرسودہ روایات اور سیاسی جبر کے خلاف آواز بلند کی گئی ہے۔ کچھ سال پہلے شائع ہونے والا ان کا افسانہ’’ندیا بہے دھیرے دھیرے‘‘ کے ادبی حلقوں میں بڑی پذیرائی ہوئی جس میں انھوں نے بڑھتی عمر میں بیوی کی اہمیت اور ضرورت کے نفسیاتی پہلوؤں کو بیان کیا ہے۔
بانو سرتاج کے افسانوں کا مرکز عورت ہے جس میں انھوں نے اپنے افسانوں کے ذریعے یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ عورت چاہے بے اختیار ہو چاہے بااختیار، ناخواندہ ہو یا تعلیم یافتہ، دولت مند ہو یا غریب، انھوں نے ہمیشہ عورت کو مرد کا کھلونا پایا اور کبھی کبھی تو عورت کو عورت کا استحصال کرتے ہوئے دیکھا۔ ان کے افسانوں میں ’’گھرے سمندر کا سفر‘‘، ’’عورت‘‘،’’بجوکا‘‘،’’تیسرے راستے کا مسافر‘‘،’’ایکلا چلو رے‘‘ اور ’’ماں ‘‘ وغیرہ کانام قابل ذکر ہے۔ جس میں انھوں نے عورت کے مختلف رویوں اورمسائل کی دردناک تصویر پیش کی ہے۔
۱۹۸۰کے بعد مہاراشٹر کے افسانہ نگاروں میں نورالحسنین کا شمار اعلا پایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ انھوں نے جدیدیت سے آنکھیں چار کیں اور علامتی اور تفصیلی افسانے لکھے مگر کہانی پن کی ڈور ہاتھ سے چھوٹنے نہیں دیتے۔ ان کے علامتی اور تفصیلی افسانوں میں ’’بازی گر‘‘،’’رنگوں کے اسیر‘‘،’’اللہ پانی دے‘‘،’’شناخت‘‘ اور ’’دلدل‘‘ کی ادبی اہمیت آج بھی برقرار ہے۔ افسانہ بازی گر میں انھوں نے ملک کے دو بڑے مذہبی طبقوں کے مابین تصادم اور دونوں طبقوں کے مذہبی ٹھیکہ داروں اور سیاسی رہنماؤں کی بازی گری کا پردہ چاک کیا گیا ہے۔ دونوں طبقوں کے لوگ کس طرح ان کے ہاتھوں کی کٹھ پتلی بن کر ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہیں۔ ان کاافسانہ ’’رنگوں کے اسیر‘‘ ملک کی صحیح قیادت کے فقدان کا نوحہ ہے۔ ’’اللہ پانی دے‘‘ ملک میں اپنے عدم تحفظ کے مسئلے پر سوالیہ نشان کھڑا کرتا ہے۔ افسانہ’’شناخت‘‘ ملک میں مسلمانوں کی زبوں حالی کی دردناک تصویر پیش کرتا ہے۔ افسانہ’’ دلدل‘‘ تقسیم ہند کے المیہ کی روداد ہے۔ انھوں نے افسانوں کے ذریعے جدیدیت اور روایت کی بکھرتی کڑیوںکو جوڑنے اور کہانی پن کی واپسی کی کامیاب کوشش کی ہے۔ ’’گود بھری‘‘،’’جب باغ کا دروازہ کھلا‘‘ ،’’وصیت‘‘،’’ایک زندہ کہانی‘‘ ،’’گڑھی میں اترتی شام‘‘،’’ تقلیت‘‘،’’پچھلے پہر کی خوشبو‘‘،’’روح میں لپٹی ہوئی آگ‘‘،’’ دھوپ میں جلتا گاؤں‘‘ اور ’’ایکشن‘‘ وغیرہ ان کے کامیاب افسانوں کی دلیل ہیں جس کے ذریعے انھوں نے مختلف سماجی و سیاسی مسائل کی طرف ہماری توجہ مبذول کرانے کی کوشش کی ہے۔ بقول سلام بن رزاق’’ان کے پاس مطالعاتی وصف ہے جو قاری کو باندھے رکھتا ہے ‘‘تو جاویدناصر کہتے ہیں’’نورالحسنین کا فن متنوع موضوعات سے عبار ت ہے۔
معین الدین عثمانی زندگی کے معمولی سے معمولی واقعات اور احساسات کو اپنے افسانے میں اسی طرح شامل کرتے ہیں کہ قاری ان کے افسانوں کے مطالعہ کے بعد ایک گہری سوچ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ان کا افسانہ قاری پر بھرپور تاثر چھوڑتا ہے۔ افسانہ ’’یادوں کے سلسلے‘‘ایک بچی کی مرض الموت اور داغ مفارقت کی کہانی ہے۔ بچی کی فرمائش اس کی زبان سے ادا ہونے والے کلمات ایک باپ کے دل ودماغ کو تار تار کردیتے ہیں جو بھیتر تک جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔ ان کے دیگر افسانوں میں افسانہ ’’خلیج ‘‘ میں جنریشن گیپ کی وجہ سے دومتضاد نظریات کے تصادم کو پیش کیا گیا ہے۔ افسانہ ’’وہ بات‘‘ اور ’’نمائش‘‘فرد کی ظاہری اور باطنی زندگی کی عکاسی کرتا ہے ’’بوجھ‘‘ اور ’’ریت کی دیوار‘‘ میں ازدواجی زندگی کے خانگی مسائل پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
مظہر سلیم کا شمار بھی عصرحاضر کے کامیاب افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ سماج کے دبے کچلے پسماندہ اور غریب عوام کی آواز واضح طور پر ان کے افسانوں میں سنی جا سکتی ہے۔ ان کے افسانوں میں کہیں بغاوت تو کہیں احتجاج ، کہیں مصلحت کوشی تو کہیں سمجھوتہ نظر آتا ہے۔ ان کے افسانے ’’درندہ‘‘،’’واگھ مارے نے خود کشی نہیں کی‘‘میں احتجاج اور سمجھوتا کا حسین ترین امتزاج دیکھنے کو ملتا ہے۔ ان کے افسانوں کا انجام قاری کو چونکا دینے والا ہوتا ہے۔ جس کا تاثر قاری پر دیرتک قائم رہتا ہے۔
مہاراشٹر کے عصرحاضر کے افسانہ نگاروں میں عظیم راہی کے افسانوں کی اہمیت اپنی جگہ مسلم ہے۔ عظیم راہی بنیادی طور پر مڈل کلاس کی نمائندگی کرتے ہیں جوکہ برصغیر کی ایک بڑی آبادی پر مشتمل ہے وہ اپنے کرداروں کے خارج اور باطن پر گہری نظر رکھتے ہیں ۔ ان کے افسانے’’ کسی درجہ میں‘‘ مسلمانوں کی زبوں حالی، ان کے ساتھ ہونے والی زیادتی اور مسلمانوں کو کس طرح نشانہ بنایا جارہاہے اس کی پوری تفصیل ہے۔
ایم۔مبین کے افسانوں کا محور و مرکزشہر ممبئی ہے۔ اسی لیے ان کے افسانوں میں شہری زندگی میں روزمرہ کے مسائل ، عدم تحفظ کا مسئلہ، رہائش کا مسئلہ اور تہذیبی تصادم وغیرہ کی تصویر واضح طور پر دیکھی جاسکتی ہے جہاں رہائش ایک خواب کی مانند ہے اور تہذیبی تصادم کی وجہ سے ایک نیا معاشرہ جنم لے رہاہے۔ بچوں کی پرورش وپرداخت اور تربیت کی خاطر علامتوں کی منتقلی ضرور ہوتی ہے مگر یہ مسئلہ ہر جگہ یکساں نظر آتا ہے ان کے تمام افسانوں میں ان کے نظریات کا عکس واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔ افسانہ ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘، ’’حوادث‘‘، ’’اذان‘‘، ’’قاتلوں کے درمیان ‘‘وغیرہ اسی قبیل کے افسانے ہیں جس میں شہری زندگی کے مسائل کی جھلک صاف طور پر نظر آتی ہے۔
سلطان سبحانی کی افسانہ نگاری کا دور ترقی پسند تحریک کے آخری پڑاؤ سے شروع ہوتا ہے جوبعدمیں جدیدیت کے ہم رکاب ہوئے اور پھرنئے افسانہ کے قافلے میں شامل ہوگئے۔ان کی افسانہ نگاری کی ابتدا رومانی افسانوں سے ہوئی مگر جلد ہی اس راستے کو خیرباد کہا اور جدیدیت کی صف میں شامل ہوگئے۔ مگر آخری دور میں نئے افسانوں سے وابستہ ہوکر کئی کامیاب افسانے تحریر کیے۔ ان افسانوں میں ’’چابک دست امام‘‘،’’دھنی ہوئی زمین‘‘ اور ’’جنگل اے جنگل‘‘ شامل ہے۔ اپنے ہم عصر افسانہ نگاروں کی طرح ان کے پاس بھی پاور فل بیانیہ ہے۔ وہیں دوسری طرف اپنے افسانوں میں موضوعات کے برتنے کے ہنر سے بخوبی واقف ہیں ۔ افسانہ ’’گل فروش‘‘،’’مسمار شدہ عمارت‘‘،’’ مینی پلانٹ‘‘،’’مردکی خوشبو‘‘، ’’چھاتا‘‘ اور ’’برگدپر بسا ہوا گاؤں ‘‘ جیسے بہترین افسانے تخلیق کیے۔ جن میں عصری ماحول کے حالات کے جبر کوواضح طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔
حمید سہروردی کا شمار بھی مہاراشٹر کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے افسانوں کا اسلوب قاری کو قدر نامانوس اور اجنبی سا لگتا ہے بقول نورالحسنین’’ وہ زبان کی ندرتوں اور زبان کی بندشوں کے بجائے متن سے پھوٹنے والی روشنی میں اپنا سفر طے کرتے ہیں‘‘۔ ان کے افسانوں کی پیش کش کا ڈرامائی انداز قاری کو بہت متاثر کرتا ہے جس کے ذریعے وہ اہم سماجی مسائل کی جیتی جاگتی تصویر پل بھر میں ہمارے سامنے پیش کردیتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں پیش آنے والی تشبیہات، استعارات اور شعری اصطلاحات وغیرہ قاری کی فکرو فہم کا امتحان لیتے ہیں ۔ ان کے افسانوں میں ’’کہانی در کہانی ‘‘،’’ کھوئے راستوںکی شب ‘‘، ’’گپھائیں‘‘، ’’لمحہ لمحہ درد‘‘، ’’خالی لمحوں کا سفر‘‘،’’روشن لمحوں کی سوغات‘‘،’’ساجو کی چاندنی‘‘ اور’’ زمین کی گم شدگی‘‘ وغیرہ وہ افسانے ہیں جنھیں اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ افسانہ ’’کہانی درکہانی‘‘ اقدار کے زوال کا نوحہ ہے’’کھوئے راستوں کی شب‘‘ میں عہد حاضر کی بے حسی ، خودغرضی،قتل وخون اور زندہ رہنے کی جدجہد کو موضوع بنایا گیا ہے۔ افسانہ’’گپھائیں‘‘ تاریخ کی روشنی میں انسانی جبلتوں کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔حمید سہروردی کے افسانوں پر جدیدیت کے نقوش آج بھی واضح طور سے دیکھے جاسکتے ہیں۔
علی امام نقوی کا شمار مہاراشٹرکے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔بقول نورالحسنین’’ان کے پاس خوب صورت زبان ، ماجرے کی کیفیت اور معاشرے کی بولی ٹھولی بالکل اس طرح آتی ہیں جیسے منظر پر کسی نے کیمرہ لگا دیا ہو۔ بیانیہ پر ان کی حاکمانہ گرفت افسانے کو حقیقت میں تبدیل کردیتی ہے‘‘۔ فسادات کے موضوع پر اردو ادب کے بیشتر افسانہ نگاروں نے طبع آزمائی کی ہے مگر اس موضوع پر جب علی امام نقوی قلم اٹھاتے ہیں توان کی جدت اور فکر کی بالیدگی اسے بالکل اچھوتی کہانی میں تبدیل کردیتی ہے۔ افسانہ’’ ڈونگرواڑی کے گدھ‘‘ اور ’’۱۳؍ اگست ۱۹۸۰‘‘ وغیرہ فسادات کے موضوع پر لکھے گئے افسانے ہیں جنھیں قاری پڑھتا ہے اور تجسس میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ ان کے افسانے ’’ڈونگر واڑی کا گدھ‘‘ کی خوبی یہ ہے کہ اس میںکہیں بھی براہ راست فسادات کا ذکر نہیں ہے لیکن انجام اس قدر چونکا دینے والا ہے کہ قاری انجام سے آغاز کی طرف واپس آجاتا ہے۔ افسانہ ’’۱۳؍ اگست ۱۹۸۰‘‘ فسادات کے دوران گھر کے باسی گھر میں قبرستان کی ہولناکیوں سے گزرتے ہیں۔ دردوغم کی شدت، مجبوری بے بسی اور کرفیو کی فضا وغیرہ فسادات کا ایسا نقشہ کھینچتے ہیں جو روح کو گرمادیتے ہیں۔ علی امام نقوی کے کرداروں میں غریب نادار بھی ہیں اور اعلا طبقہ کے افراد بھی اور درمیانی طبقہ کی ذہنی الجھنیں بھی ہیں جیسے افسانہ ’’بنگالی ہائوس کی منی‘‘، ’’ساتھی‘‘،’ ’مباہلہ‘‘، ’’مسیحائی‘‘، ’’باوجی‘‘،’’میراث‘‘،’’محور‘‘ اور ’’مرگ گزیدہ‘‘ وغیرہ میں ان کے افسانوں کی خصوصیات صاف طور پر دیکھی جاسکتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا شمار مہاراشٹرکے اعلا پایہ کے افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔
رحمان عباس کا شمار مہاراشٹر کے نئی نسل کے نمائندہ افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ وہ افسانہ نگاری کے جدید فن سے پوری طرح واقف ہیں اس لیے ان کے افسانوں کے مطالعہ کے وقت قاری کی دل چسپی شروع سے آخر تک برقرار رہتی ہے۔ ان کے افسانہ نگاری کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ ان کے افسانے مرتوں اور سمجھوتوں سے یکسر خالی ہیں ۔ وہ اپنی بات کو بہت بے باکی سے کہہ جاتے ہیں۔ اور سماجی برائیوں پر گہرا وار کرتے ہیں۔ ان کے افسانوں میںشامل ہیں۔
نئے افسانہ نگاروں میں اشتیاق سعید کا نام قابل ذکر ہے ان کے افسانوی مجموعے ’’ہل جوتا‘‘کی وجہ سے اردو ادب میں بہت شہرت حاصل ہوئی۔ وہ دیہی اور شہری زندگی کے مسائل کو ایک ساتھ موضوع بناتے ہیں ۔ ان کے کئی افسانے دیہی اور شہری زندگی کا بہترین نمونہ ہیں۔ انھیں افسانہ نگاری کے فن پر گہری دسترس ہے اور مستقبل میں ان سے بہترین افسانہ نگاری کی امیدیں وابستہ ہیں۔ ان کے افسانوں میں ’’بجوکا‘‘،’’ہل جوتا‘‘، ’’حاضرغائب‘‘، ’’ بھوک کشمیر کو بنگال بنادیتی ہے‘‘،’’فرنگی‘‘،’’بہ رضائے صنم‘‘،’’پُتروَدھو‘‘،’’تشنہ آزاد‘‘، ’’ماں‘‘ اور’’تاخیر‘‘وغیرہ شامل ہیں۔
مہاراشٹر کے دیگر ہم عصر افسانہ نگاروں میں اقبال نیازی کا نام بھی شامل ہے جنھوں نے اپنی ادبی زندگی کا آغاز افسانہ نگاری سے کیا تھا۔ ان کے افسانوں میں’’ اسپیڈ بریکر‘‘،’’طے شدہ‘‘،’’ابوخاں کی نئی بکری‘‘ اور ’’دستک‘‘ جیسے افسانے شامل ہیں۔ مگر انھوں نے بہت جلد افسانہ نگاری کو ترک کرکے ڈرامہ نگاری میں اپنی شناخت قائم کی ۔ بنیادی طور پر ان کا شمار مہاراشٹر کے کامیاب ڈرامہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ عبدالعزیز خاں مسلسل افسانہ لکھ رہے ہیں ۔ مشتاق رضا نے بھی شروع میں کچھ اچھے افسانے لکھے مگر بہت جلد مزاح نگار بن گئے۔ طارق کولہا پوری نے بھی کئی بہترین افسانے لکھے۔ فیروزہ فیاض نے بھی شروع میں کچھ اچھے افسانے لکھے مگر ادھر کافی دنوں سے ان کا قلم خاموش ہے۔ مہاراشٹر کے ہم عصر افسانہ نگاروں میں مقصود اظہر کا نام بہت اہمیت کا حامل ہے نئے لکھنے والوں میں انھیں منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کی فکر میں گہرائی و گیرائی ہے۔ ان کے افسانوں میں ’’کُشتن‘‘،’’پیپرویٹ‘‘ اور’’ گھر آنگن‘‘ کو بہت مقبولیت حاصل ہوئی۔
Maharashtra mein Urdu Afsana 1960 ke Ba’ad
Articles
مہاراشٹر میں اردو افسانہ ۱۹۶۰ کے بعد
ڈاکٹر عبداللہ امتیازاحمد
Meem Naag ki Afsana Nigari by Aseem Kavyani
Articles
م۔ ناگ کی افسانہ نگاری
اسیم کاویانی
مختار احمد (م۔ ناگ) نے مغربی وِدربھ کے ضلع ناگپور کے ایک غریب اور کثیر عیال ہیڈ کانسٹیبل کے یہاں جنم لیا تھا۔ اُس کے والد نے ایمان داری میں گزر بسرکی تھی اور وہ اپنے خاندان کو غریبی کی ظلمت سے نہ نکال سکے تھے۔ پہلی کلاس ہی میں مختار احمد نے چار سال لگا دیے تھے، اس لیے کہ ہر سال کسی نہ کسی سبب سے اُس کے والد کا تبادلہ ہو جانے کی وجہ سے وہ امتحان ہی نہیں دے پاتا تھا۔ اُس نے لکھا ہے کہ ’پولیس کالونی میں کوئی گھریلو تقریب ہوتی تو ہمارے کپڑے، ہمارا اوتار دیکھ کر خود ہمیں شرم آتی۔ ۔ ۔ دو جوڑی سے زائد کپڑے کسی کے پاس نہ تھے۔ ‘1؎ وہ اکثر اپنی امّاں اور ابّا کا جھگڑا دیکھا کرتا تھا اور اُس کی ماں کا یہ فقرہ اُس کے ذہن سے چپک کر رہ گیا تھا کہ ’آپ کے اصول سب کے لیے سزا بن گئے ہیں۔ ‘ 2؎ بقول ناگ اُس کے والد نے کبھی کوئی نصیحت تو نہیں کی تھی، لیکن اُن کے کردار و عمل نے اُس کی شخصیت کی تعمیر میں ایک اہم رول ادا کیا تھا۔ میں سمجھتا ہوں کہ مختار احمد کی میٹرک کے بعد اُسے پولیس کے محکمے میں لگانے کی صلاح دینے والے پولیس کمشنر کو اُس کے والد کا اپنا یہ فیصلہ سنادینا کہ وہ اپنے بیٹے سے بھیک منگوا لیں گے، لیکن اسے پولیس محکمے میں نہیں جانے دیں گے۔ 3؎ اپنے آپ میں ایک بہت بڑی نصیحت تھی۔ یہ اُن کے کردار و اصول ہی کا اثر تھا کہ جس نے مختار احمد کے خمیر میں فقر و قناعت، عاجزی و فروتنی، مصلحت و مصالحت اور سادگی و راستی کے عناصر کی پرورش کی تھی اور اس کے کردار میں احتجاج و بغاوت، چالاکی و ہوشیاری اور مسابقت و مخاصمت کے جذبات ٹھٹر کر رہ گئے تھے۔
مختار احمد میٹرک کے بعد چھوٹی موٹی ملازمتیں کرتا رہا، مثلاً: گوندیا میں شراب کی ایک ہول سیل کی دکان، بھنڈارا کے ایک اینٹ کے بھٹّے اور ناگپور کے ڈیم کنٹراکٹر کے یہاں منیم گری اور ایک واٹر ٹینکر کی کلینری وغیرہ۔
جب 1975ء میں اُس کے سر میں بمبئی جانے کا سودا سمایا تو اُس کے والد نے منع کیا تھا’ وہاں کون ہے تیرا؟‘ لیکن وہ اپنے ایک دوست سے سو روپیے اُدھار لے کر بغیر کسی کو بتائے بمبئی کے لیے بھاگ کھڑا ہوا تھا۔ اُس نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے :
’’میں ایک عدد ملازمت کے لیے بمبئی جا رہا تھا۔ میرا خواب کوئی بہت بڑا نہیں تھا کہ دنیا کو کچھ کر دکھانا ہے۔ میں تو ایک خوش حال زندگی گزارنا چاہتا تھا۔ ڈھنگ کے کپڑے جوتے ہوں، اچھا کھانا ہو، دوا دارو کا پیسہ ہو۔ ‘‘ 4؎
انصاف کی بات تو یہ ہے کہ خوش حال زندگی سے زیادہ یہ انسان کی صرف بنیادی ضرورت کی چیزیں ہیں، لیکن جیسا کہ ناگ نے لکھا ہے، ’ اس خواب کی تعبیر میں جیسے صدیاں گزر گئیں۔ ‘
م۔ ناگ نے اپنی خودنوشت کی دوسری قسط کے آغاز میں بمبئی کے بارے میں یہ عبارت درج کی ہے :
’’ممبئی ایک چوہا دان ہے، جس میں روٹی کا ٹکرا پھنسا ہے۔ میں روٹی کا ٹکڑا پانے کے لیے اندر کیا گیا، ساری دنیا باہر آ گئی۔ بس پھر کیا تھا، تیسری گھنٹی بجی، پردہ اٹھا اور چوہا بلی کا کھیل شروع ہو گیا۔ ‘‘ 5؎
اگرچہ م۔ ناگ اپنے شوقِ قلم کاری میں ’تاج‘ ویکلی میں چھپے اپنے پہلے افسانے کے بعد ماہ نامہ ’کتاب‘ لکھنؤ، ماہ نامہ ’تحریک‘ نئی دہلی، ماہ نامہ ’شمع‘ نئی دہلی، ماہ نامہ ’بانو‘ نئی دہلی اور ماہ نامہ ’روبی‘ نئی دہلی جیسے رسائل میں چھپ چکا تھا اور اس کے بیگ میں اُس کی غیر مطبوعہ کہانیوں کی ایک موٹی سی فائل بھی موجود تھی، مگر اِس شہرِ ستم گر کے سلسلے میں جب ایک زمانے میں شبلی جیسے علامہ کو یہ کہنا پڑ گیا تھا کہ ’’یہاں شبلی پڑا پھرتا ہے اور کوئی جانتا بھی نہیں کہ یہ شبلی ہے !‘‘ 6؎ تو یہ تو بے چارہ م۔ ناگ ہی تھا۔ یہاں اَن چاہا مہمان بننے سے لے کر فٹ پاتھ پر شب بسری، سروجنک غسل خانے اور بیت الخلا کے استعمال کے تجربے اور ملازمت کی تلاش میں لوکل ٹرینوں اور بسوں کی بھیڑ میں بھینچ بھنچا کر اُسے بہت جلد یہ احساس ہو گیا کہ ع
تلاشِ گُل میں ہم کس وادیِ پُر خار میں آئے !
ایک بار اُس نے دیکھا کہ لوکل ٹرین میں دروازے کا پول پکڑ کر باہر جھکے ہوئے لڑکے کو کسی مسافر نے منع کرتے ہوئے کہا تھا’ ’لڑکے، جھکو مت۔ تُو گرے گا تو ہمیں لیٹ (late) ہو گا‘‘ تو اُسے ممبئی کا مزاج سمجھنے میں دیر نہیں لگی تھی۔ اسی ممبئی کے بارے میں سید محمد ہادی نے کہا تھا ؎
یہاں چلنے کا طریقہ نہیں پہلے آپ کہنیاں مار کے بڑھنا سیکھولیکن ایسا کرنا تو م۔ناگ کے خمیر ہی میں شامل نہیں تھا۔ اُس نے مشہور افسانہ نگار انور قمر کی وساطت سے چمن لال سسوڈیا کی گوا اور ممبئی کی کمپنیوں میں تقریباً بارہ سال سپروائزر وغیرہ کی ملازمت کی اور چکّی کی مشقت کے ساتھ اپنی مشق سخن / قلم کو بھی جاری رکھا۔ اب یا تو وہ ملازمت اُسے راس نہیں آئی یا وہ اُس ملازمت کو راس نہیں آیا، وہ کبھی اپنے والد کو بمبئی کا سفر خرچ تک نہ بھیج سکا کہ وہ آ کر مل جائیں اور جب وہ چل بسے تو وہ اُن کے جنازے کو کندھا دینے بھی نہ جا سکا تھا۔
جب وہ اِنڈوفل میں ملازم تھا تو وہاں کے سکیوریٹی افسر الکزینڈر کو کمپنی کے مالک چمن لال سسوڈیا سے یہ کہتے سنا تھا کہ ’یہ لڑکا رات دن گدھے کی طرح کام کرتا ہے، لیکن نتیجہ صفر‘ 7؎۔ اُس وقت کے اپنے ردِّ عمل کو ناگ نے پُر لطف بمبیا ڈھنگ سے یوں بیان کیا ہے :’ یہ تو ایرانی ہو ٹل والا قصّہ ہو گیا کہ کھایا پیا کچھ نہیں، گلاس توڑا بارہ آنہ‘!
م۔ ناگ کی کہانیاں مشہور رسائل اور اخبارات میں شائع ہو رہی تھیں۔ آخر اس نے ملازمت سے پنڈ چھڑایا اور صحافت کو بطور پیشہ اپنا لیا۔ وہ بمبئی کے ہفت روز ’بلٹز‘ اور ’انقلاب‘، ’اردو ٹائمز‘، ’صحافت‘، ’ہندستان‘ اور ’مہانگر‘ جیسے اردو روزناموں اور چند ہندی اور مراٹھی اخبارات میں کالم نگاری، تبصرہ نگاری سے لے کر معاون مدیر تک کے فرائض انجام دیتا رہا۔ اُس کا ’ جن ستّہ‘ کا کالم ’اردو دنیا‘ اور ’صحافت‘ میں اردو قلم کاروں کے لیے گئے انٹرویو سرا ہے بھی گئے، لیکن وہ اپنی سادہ دلی اور صحافتی اداروں کی استحصال کاری کے باعث عموماً تنگ دستی کا شکار رہا۔ اُس نے لکھا ہے کہ ’ضروریاتِ زندگی کے مقابل اُس کی آمدنی ایسی ہی رہی جیسے اونٹ کے منہ میں زیرہ‘۔ اردو اخباروں کے روایتی ماحول میں وہ اپنی صلاحیتوں کا کوئی پائیدار نقش نہ بنا سکا۔
اس نے اپنی خودنوشت میں لکھا ہے کہ اکثر اُس کے پاس لوکل ٹرین کا سیزن ٹکٹ تک نہیں ہوتا تھا۔ اُسے بمبئی سینٹرل پر اُتر کر ناگپاڑا اپنے اخبار کے دفتر جانا ہوتا تھا تو وہ ٹکٹ چیکر سے بچنے کے لیے پلیٹ فارم کے پچھلے سِرے پر یارڈ سے ہوتا ہوا سڑک پر جا نکلتا تھا۔ ناداری کے دنوں میں اس کی شریک حیات نے گھر گھر ساڑیاں بیچنے کا کام بھی کیا تھا، لیکن سپلائر کو بروقت ادائیگی نہ کر پانے پر وہ سلسلہ ختم ہو گیا تھا۔ م۔ ناگ کو اُدھار لینے کی لت بھی پڑ گئی تھی اور قرض خواہوں کا سامنا کرتے کرتے اُس میں ڈھیٹ پن بھی آ گیا تھا، اُس نے خود لکھا ہے کہ لوگ اُس سے کترانے لگے تھے۔ اُس کی مفلسی نے اُس سے گھوسٹ رائٹنگ بھی کرائی اور وہ اپنے فن کو صیقل کرنے پر متوجہ نہ ہو سکا۔ ایک جگہ رقم طراز ہے :
’’بچّوں کا بچپن محرومیوں میں گزرا۔ نہ کپڑے، نہ کھلونے۔ اسکول کی فیس کے لیے بھی مسئلہ پیدا ہو جاتا تھا… … میری وجہ سے بیوی بچوں کو کافی تکلیف ہوئی۔ میں اپنے آپ کو اُن کا گنہگار سمجھتا ہوں۔ بڑی مشکل سے دن گزرتے تھے۔ حالانکہ میں ’اردو ٹائمز‘، ’مسلم ٹائمز‘… …لیکن پیسوں میں کوئی برکت ہی نہیں رہی۔ ‘‘ 8؎
اپنے آخری دور میں م ناگ نے جس اردو اخبار کی ملازمت کو چھوڑا تھا وہاں کا حال تو اور بھی ناگفتہ بہ تھا۔ انٹرنیٹ اور دوسرے اخباروں کی خبروں کے cut and paste سے اخبار تیار کر لیا جاتا تھا۔ DTP آپریٹر ہی اڈیٹر کا فرض انجام دے لیتے تھے۔ ناگ جیسے سینئر صحافی پر وہاں کے چپراسی کو ترجیح حاصل تھی کہ وہ مالکِ اخبار کی ناک کا بال اور اُس کا مخبر بھی تھا۔ مختصر یہ کہ ناگ اپنی زبوں حالی میں جیسے تیسے اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کے جتن کرتا رہا تھا۔ …دوسری طرف اس کے ہم عصر افسانہ نگاروں یعنی سلام بن رزاق، انور خان، ساجد رشید اور انور قمر نے چونکہ اپنے کرئیر پر دھیان دیا تھا، نوکری یا روزگار کے معاملوں میں اپنی صلاحیت و زیرکی کا ثبوت دیا تھا، اس لیے وہ لوگ اس کی بہ نسبت اپنے فن کے ساتھ ساتھ دنیاداری میں بھی کامیاب رہے۔ ناگ اپنے ہم راہیوں سے ہر دو محاذ پر پچھڑ کر رہ گیا۔
اُس کے ایک افسانے ’زراف‘ کا مرکزی کردار رائٹر ہے جسے اُس نے زراف سے نسبت دی ہے : ’ زراف کہ گردن لمبی ہونے کی وجہ سے نیچے کی طرف اُگی ہری پتیاں نہیں کھاسکتا اور چوٹیوں پر اُگا سبزہ ختم ہو چکا ہے۔ ‘ 9؎ نجانے کیوں ایسا لگتا ہے کہ اُس نے جگ بیتی کے پردے میں آپ بیتی کہنے کی کوشش کی ہے اور اپنے ہم عصر ساتھیوں کو بھی ہدف بنایا ہے۔ وہ یہ مغالطہ بھی پالے ہوئے رہا کہ زمانہ اُس کا بیری ہے : ’’میں کتنے محاذ پر تنہا لڑسکتا ہوں ؟ آخر کب تک … ؟ میں اکیلا اور وہ اتنے سارے لوگ کیل کانٹوں سے لیس۔ ‘‘ ایک مقام پر رائٹر اپنی بیوی سے کہتا ہے :
’’چپ رہو۔ وہ اونچی مچان پر بیٹھے ہیں اور مجھے پریشان کر رہے ہیں۔ ‘‘
’’کیوں بھلا! آپ میں کون سے سُرخاب کے پَر لگے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کی رائٹنگ سے ان کا تختہ پلٹ جائے گا! اگر یہ بات ہے تو وہ غلطی پر ہیں۔ ‘‘ بیوی ہنستی ہے۔
میں پھر سر جوڑے بیٹھا ہوں۔ کچھ نیا تخلیق ہو۔ کچھ شاہکار نہیں تو کم سے کم اوریجنل تخلیق ہوتا کہ اطمینان ہو جائے۔ ‘
اور یہ واقعہ ہے کہ اس نے اپنی کہانیوں میں اوریجنل پلاٹ پیش کرنے کی کوشش کی۔ چونکا دینے والا اسلوب اپنایا اور حد درجہ اختصار برتا۔ اب یہ الگ بات ہے کہ وہ کہیں کامیاب رہا، کہیں ناکام۔
بچپن میں وہ اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر واقع جیل میں ایک چور کو لائے جانے کی خبر سن کر تجسّس میں اسے دیکھنے چلا گیا تھا اور یہ دیکھ کر حیران رہ گیا تھا کہ چور بھی سپاہی کی طرح ایک انسان ہوتا ہے۔ تب اُس کے معصوم ذہن میں انسانی کردار کی اس خلیج یا تضاد پر جو سوال قائم ہوا تھا، اس سوال کے حل کی جستجو کواس کے فن کا سفر باور کیا جا سکتا ہے۔ یہ کہنا تو مشکل ہے کہ اس کے جواب کی جستجو میں اس نے کیا پایا لیکن یہ کہا جا سکتا ہے کہ غم ہائے روزگار میں بھی اس نے اپنے اندر کے فنکار کو کھونے نہیں دیا۔ زندگی بھر اپنے صحافتی روزگار کے ہنگامی موضوعات اور زود نویسی پر مجبور رہنے کی بنا پر اس نے اپنے اظہارِ فن کے لیے مختصر افسانوں کا وسیلہ اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ اس کے افسانوں میں سیاست کے مکر، رشتوں کے تصنع، قدروں کے زوال اور مادیّت کے جبر پر بے محابا طنز ہے اور خاص طور پر شہری زندگی کے بناوٹی، ریا کار اور زر پرست معاشرے پر بے دریغ تنقید کا اظہار ہوا ہے۔ مثلاً: ’’جنگل کاٹ دیے گئے ہیں اور جو بچے ہیں وہ بھی کٹتے جا رہے ہیں۔ تخلیقی اظہار میں جمالیاتی پہلو ہی نہیں رہا۔ درخت اُگاؤ کی جگہ ڈالڈے کے خالی ڈبّے میں ایک پلانٹ لگایا ہے، وہ بھی منی پلانٹ، اور اسے بالکونی میں ٹانگ دیا ہے۔ دیکھ دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ سوچتے رہتے ہیں کہ کس طرح منی کو سر پلس کریں۔ رشتوں کو کیسے ڈیوائڈ کریں۔ پہچان کیسے ملٹی پلائی کریں۔ کیا کیش کریں۔ کیا بچ گیا ہے اور کیا بھاپ بن کر اُڑ گیا ہے۔ ‘‘(افسانہ:’زراف‘)
میری نظر میں ’ڈاکو طے کریں گے ‘ ناگ کا بہترین افسانہ ہے، جو اپنے انوکھے پلاٹ اور اسلوب کی تازگی کی وجہ سے قاری کے ذہن پر نقش چھوڑ جاتا ہے۔ اس دنیا کی غرض و غایت اور انسانی ترقی و رفتار کی حدّو انتہا نہ پاکر کبھی کبھی اس کائناتی معمّے کو اندھی سرنگ میں نامعلوم منزل کی طرف تیزی سے دوڑتی ٹرین سے تشبیہ دی گئی ہے۔ ناگ کے اس افسانے میں دوڑتی ٹرین کے ڈاکوؤں کو ہم اپنے دور کے بے رحم اور بے نکیل سیاسی مقتدرہ پر منطبق کر سکتے ہیں۔ شلوار، پینٹ، ساڑی اور دھوتی عام لوگ ہیں۔ چشمہ، دانشور ہے اور سادھو، مذہبی رہبر۔
’’ہمیں تو یہ بھی پتا نہیں کہ ٹرین جا کہاں رہی ہے۔ ‘ شلوار
’آخر ہم کس ٹرین میں بیٹھے ہیں ؟ ‘ پینٹ
’ٹکٹ دیکھو! شاید ٹکٹ پر لکھا ہو کہ تمھیں جانا کہاں ہے ؟ ‘ دھوتی
چشمہ کتاب پڑھ رہا ہے۔
’ ایک سکیوزمی! کیا اِس کتاب میں کہیں لکھا ہے کہ ہم کہاں جا رہے ہیں ؟ ‘ ساڑی
’میں وہی تلاش کر رہا ہوں۔ ‘ چشمہ
ملے تو مجھے بھی بتانا پلیز! شلوار، (سادھو مہاراج بھی نہیں جانتا کہ ٹرین کہاں جا رہی ہے۔ )
یہ ڈاکو کہاں سے آ گئے ! ٹرین تو کہیں رُکی نہیں۔ پھر یہ ڈاکو کہاں سے آ گئے ؟
یہ ہمارے ساتھ ہی چلے تھے۔ یہ ہمارے ہم سفر ہیں۔ یہ ہماری جان و مال کی حفاظت کریں گے۔ یہ کہیں باہر سے نہیں آئے ہیں، کیا سمجھے، نہیں سمجھے !‘
’سب کچھ ہمارے حوالے کر دو، ورنہ بھون دیے جاؤ گے۔ ‘
’بھوننے کی کیا ضرورت ہے۔ سب کچھ بھُنا بھُنایا ہے جی۔ ‘
دوستو! ہم پھر وہیں لوٹ رہے ہیں، جہاں سے چلے تھے۔ ڈاکوؤں نے بندوق کی نال پر ہماری منزل طے کر دی ہے۔ ہم سب اُن کے آبھاری ہیں۔ 10؎
افسانے کا اختتام بتاتا ہے کہ بہ ایں ہمہ شورا شوری اپنے رہ نماؤں اور حاکموں کی وجہ سے ہم جہاں پہنچے ہیں وہ جگہ nowhereہے اور ہمارے دانش ور اور مذہبی رہنما بھی ہماری منزل کا پتہ دینے میں ناکام رہے ہیں۔
اُس کے اسلوب کی تازہ کاری اُس کی کہانی ’بائیں پسلی‘ میں بھی نمایاں ہے، بلکہ اُس کی پست و بلند ہر طرح کی کہانیوں میں بھی تازگیِ اسلوب کی جھلکیاں دیکھی جا سکتی ہے، مثلاً: اُس کی ایک کہانی ’کٹی ہوئی ناک‘ کی بے بی جوان ہو گئی اور پھر ایک دن گھر سے غائب ہو گئی، پھر:
٭ ’’پھر کئی پڑوسی زخم پر نمک چھڑکنے آ گئے۔
’’بے بی آ گئی کیا؟‘‘ … … … ’’بے بی ابھی تک نہیں آئی؟‘‘
اُن کے ہاتھوں میں سفید پِسے ہوئے نمک کے پیکٹ تھے۔ وہ زخم پر نمک چھڑکتے۔ ڈرامائی انداز میں تعجب کا اظہار کرتے اور چلے جاتے۔
٭ ’’وہ مندر میں بھگوان کے سامنے کھڑی ہے۔ مندر میں بھگوان نے اپنا ڈمی چھوڑا ہوا ہے اور خود نجانے کہاں غائب ہو چکا ہے۔ ‘‘ (گھوڑ سوار)
کہیں کہیں م۔ ناگ کی سہل انگاری بات بگاڑ بھی دیتی ہے۔ مثلاً انوکھے پن کی تلاش میں اُس نے ایک عجیب سی کہانی لکھی ’چاند میرے آ جا۔ ‘ جس میں یورینس والے زمین والوں سے چاند مانگ رہے ہیں۔ شاید اس میں اُن کے لیے کوئی خاص بات ہے۔ تبادلے میں وہ زمین کو دو چاند پیش کر رہے ہیں کیونکہ یورینس کے پاس پندرہ چاند ہیں۔ ایسے ماحول میں دھرتی پر ڈاکٹر ارشد اور رضیہ کی جوان بیٹی نازو گُم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر ارشد، رضیہ کو دلاسا دیتا ہے کہ وہ فکر نہ کرے۔ کائنات گلوبل وِلیج بن گئی ہے اور وہ اُسے جلد ہی تلاش کر لیں گے۔ ایسے اڈوانس دور میں جب کہ ٹی وی پر بریکنگ نیوز میں چاند کے چوری ہونے کی خبر دی جا رہی ہے، رضیہ کا بیٹی کی جدائی میں اپنے شوہر سے روایتی انداز سے یہ کہنا کہ ’’… … مگر ہم سماج کا کس طرح سامنا کریں گے۔ میرے لیے تو یہ اس دھماکے سے بھی بڑا ہے جو تخلیقِ کائنات کے وقت ہوا تھا۔ ‘‘ افسانے کی فضا کو عرش سے اُٹھا کر فرش پر دے مارتا ہے۔
م۔ ناگ کی کہانیوں کے تین مجموعے جو شائع ہو چکے ہیں، یوں ہیں : (1) ’ڈاکو طے کریں گے ‘ (1990ء) (2) ’ غلط پتہ ‘2009ء اور (3)’ چوتھی سیٹ کا مسافر ‘ (2015ء)۔ ان کی مجموعی ضخامت بھی تین سوصفحات سے زیادہ نہیں ہے۔ ناگ نے اپنی کہانیوں کا سارا خام مواد بھی ممبئی یا سلمبئی سے حاصل کیا ہے اور اُن کے کردار بھی۔ مثلاً لوکل ٹرین، دیونار ڈمپنگ گراؤنڈ، دھاراوی، کچرا اُلٹنے پلٹنے والے کالے کلوٹے مرد، عورتیں اور بچے، آفسوں کی میکانکی زندگی، بس اسٹاپ… … انتظار میں بیٹھی ہوئی لڑکی، جھونپڑپٹی، غنڈے، چال کے کمرے اور فلیٹ کی خلیج، شہر کی مادّیت اور میکانیکیت کے مارے ازدواجی رشتوں کی یبوسیت، شادی کی منتظر ڈھلتی جوانیاں، استحصالِ زن، ریپ، کسبیت، اسٹاکر (Stalker)، ٹریڈ یونین اور اردو اخبار کا دفتر وغیرہ۔
خاص بات یہ ہے کہ اس کی مٹھی بھر تخلیقی کائنات کی تقریباً ہر دوسری کہانی میں سیکس کا موضوع در آیا ہے۔ اس کے معاصرین میں سیکس پر سب سے انتہا پسندانہ اظہار بھی اسی کے یہاں ملتا ہے۔ یہ اور بات ہے کہ اُس کا قلم کہیں با مراد رہا تو کہیں نامُراد۔
اِس نوعیت کی کہانیوں میں اس نے مرد و زن کے شہوانی رشتوں کی ڈھکی ہوئی سچائیاں اس انداز سے سامنے لانے کی کوشش کی ہے کہ اس کے اسلوب کی سفّاکی قارئین کو اکثر ذہنی دھچکوں سے دو چار کر دیتی ہے۔ reality showsکے سچ کو دیکھنے کی طرح اِن کہانیوں کا مطالعہ بھی ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے کہ جھوٹ ہماری زندگی کے لیے کتنا ضروری ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ کہنا بھی ضروری ہے کہ اُس کی اکثر کہانیاں اپنے کرداروں کے نفسیاتی مطالعے سے محروم ہیں اور وہ محض اپنے چونکا دینے والے ٹریٹمینٹ کی وجہ سے یاد رہ جاتی ہیں، مثلاً:
٭جنسی بھیڑیوں سے بچ کر بھاگنے والی ایک لڑکی ایک گھر میں گھس کر پناہ لیتی ہے۔ وہ اُن متعدد بدمعاشوں کے ذریعے جنسی استحصال سے بچنے کے لیے بہ مجبوری یہ گوارا کر لیتی ہے کہ اُس کمرے کے تنہا مکین مرد کی ہوس کا تقاضا پورا کر دے۔ اس ساری واردات میں وہ اس بات کو غنیمت سمجھتی ہے کہ باہر کے لوگ، اُن بدمعاشوں سے اُس کا اپنی آبرو بچا لینا باور کر لیں گے۔ اس لڑکی کا اطمینانِ خاطر اِس بات پر ٹِکا ہے کہ دروازہ تو بند ہے۔ (دروازہ)
٭لڑکیوں کے عنفوانِ شباب کے حریفانہ جذبات کو ناگ نے اپنے مخصوص رنگ میں ایک کہانی میں یوں پیش کیا ہے کہ جب کچھ اغوا کار ایک گھر سے سویٹی کو لے جانے کی تیاری کر رہے تھے تو اُسی وقت اُس کی بڑی بہن پنکی غسل خانے سے نہا کر بدن پر تول یہ لپیٹے باہر آ گئی۔ اغوا کاروں نے اُسے لے جانا پسند کیا اور سویٹی کو چھوڑ گئے۔ پنکی لُٹ لُٹا کر لوٹی تو اُس نے سویٹی کو یوں تسلی دینے کی کوشش کی کہ چلو اُس کی عزت تو بچ گئی۔ لیکن وہ سویٹی کا یہ جواب سن کر ششدر رہ جاتی ہے کہ ’۔ ۔ ۔ تم ہر بات میں میرے آڑے کیوں آ جاتی ہو۔ تم نے مجھے بچایا نہیں بلکہ اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ ‘ ( ایک تھی سویٹی، ایک تھی پنکی)
٭اپنے ازدواجی / شہوانی عمل میں ’شہد‘ کا خواہاں ساگر اپنی بیوی کے جسم میں مِس پریرا کی گداز ٹانگوں اور مِس جنیجا کی سڈول چھاتیوں کو ملا کر بنی ہوئی عورت پانا چاہتا ہے مگر اُسے حاصل ہوتی ہے ’کڑوی کسیلی کونین‘۔ (رائے گر مورٹس)
٭جوانی کے مچلتے ہوئے جذبات سے مغلوب ایک بیٹی کے ماں باپ کی آنکھوں میں اُس کے لیے ایک قابل اور ’گھوڑ سوار دولھے ‘ کا خواب بسا ہوا ہے اور اُنھوں نے اپنی اس بیٹی کو جو کماؤ بھی ہے، نامناسب اُمیدوار’ بھیڑیوں ‘سے ڈرا کر انتظار کی دہلیز پر لٹکا رکھا ہے۔ لڑکی کے لیے جب یہ انتظار ناقابلِ برداشت ہو جاتا ہے تو وہ ’گھوڑ سوار دولھے ‘ کو بھول کر خود کو ’بھیڑیوں ‘ کے سپرد کر دینے کا ارادہ کر لیتی ہے، اور یہ سوچ کر کہیں وہ اپنے والدین کے لیے سونے کا انڈا دینے والی مرغی بن کر تو نہیں رہ گئی، کہتی ہے : ’کاٹ لو ایک ہی دفعہ، نکال لو سارے انڈے۔ ‘ (گھوڑ سوار)
٭ ایک ماں اپنی بیٹی کے پرس میں رکھے ہوئے کنڈوم دیکھ لیتی ہے۔ بات تو چنتا کی تھی، لیکن وہ اپنے دل کو یوں سمجھا لیتی ہے کہ ’محفوظ سیکس کرتی ہے۔ ‘ (محفوظ سیکس)
ناگ ’نے ’گریبان میں جھانکنا‘ اور ’بغلیں جھانکنا‘ جیسے عام محاوروں پر چسپاں افسانچوں کو بھی سیکس کے تڑکے کے ساتھ پیش کیا ہے۔ جنسی علامتوں کے لیے ’سگریٹ‘، ’ایش ٹرے ‘ اور ’ بڑا بڑاسامان‘ جیسے لفظوں کا استعمال بتاتا ہے کہ کلفتِ زمانہ نے اس کے جمالیاتی ذوق کو بھی ٹھس کر دیا تھا۔ اس باب (سیکس) میں اس کے ناقابلِ تذکرہ اور بے ہودہ افسانوں کی تعداد بھی زیاد ہے، مثلاً ’حسبِ معمول‘، ’آدم اور حوّا‘، ’لکڑ بگھا‘ اور ’جون‘ وغیرہ۔ سیکس کے موضوع پر اُس کے ذہنی رویے کا کھل کر اظہار اُس کے محرمات سے مباشرت (incest) کے تعلق سے لکھے ایک افسانے ’تیرتھ‘ میں ہوا ہے۔ افسانے کی مرکزی کردار ایک عورت ہے جس نے اپنے شوہر کے ’مدن ‘نامی سب سے کم عمر دوست سے جسمانی تعلق بنا رکھا ہے اور اُس کے شوہر نے مدن کی ماں سے۔ ایک دن مدن اس سے جھلّا کر پوچھتا ہے کہ آخر اُن کا یہ جسمانی رشتہ سماج کی کس اکائی میں آتا ہے ؟ ‘ عورت پلٹ کر جواب دیتی ہے کہ جس اکائی میں اُس کے شوہر اور مدن کی ماں کا جسمانی رشتہ آتا ہے اور پھر گویا مصنّف اُس عورت کی زبان سے اپنے جنسی نظریے کا اظہار کرتا نظر آتا ہے :
’’کیا تم سمجھتے ہو کہ تمھاری ماں ایسا نہیں کر سکتی! میرے بچے سمجھتے ہیں کہ اُن کی ماں ایسا نہیں کر سکتی۔ تمھاری ماں سمجھتی ہو گی کہ تم ایسا نہیں کر سکتے۔ میں سمجھتی ہوں کہ میرا شوہر ایسا نہیں کر سکتا۔ میرا شوہر سمجھتا ہے کہ اس کی بیوی یعنی میَں ایسا نہیں کر سکتی، لیکن ہم سب ایساکر رہے ہیں۔ میں پوچھتی ہوں یہ سب سماج کی کس اکائی میں فٹ بیٹھتا ہے۔ جسموں کو بھوگنے کے لیے کسی رشتے کی ضرورت نہیں ہوتی مدن۔ ضرورت ہوتی ہے مخصوص حالات اور ایک دوسرے کی مرضی کی۔ میں نہیں چاہتی کہ ہمارے تعلقات کسی نام کے محتاج رہیں۔ جہاں دو افراد کے درمیان رونما ہونے والے کام میں مرضی کا دخل نہیں ہے، وہیں گناہ سرزد ہوتا ہے۔ (تیرتھ)
یہ افسانہ م۔ ناگ کی 2009ء میں آئی کتاب ’غلط پتہ‘ میں شامل ہے۔ اتفاق تو دیکھیے کہ 2016ء میں ریلیز ہوئی بالی وڈ کی فلم ’پنک‘ میں گو کہ incestکا پہلو نہیں ہے پر یہی مرکزی خیال پیش کیا گیا ہے کہ زن و مرد کے تعلقات میں فریقین کی مرضی کا ہونا لازمی ہے اور جہاں مرضی کا دخل نہیں، وہیں جرم سرزد ہوتا ہے۔ فلمی مبصروں اور نقادوں نے مجموعی طور پر اس فلم اور اس کے مرکزی خیال کوسراہا ہے۔
کہا جا سکتا ہے کہ طویل افسانے کی دنیا میں ماحول سازی، جزئیات نگاری، کرداروں کی تشکیل اور ان کے احساسات کی ترجمانی کے جو تقاضے ہیں، ناگ کی اختصار پسندی اور عجلت نگاری ویسی دقّتِ نظری اور ریاضت کی متحمل نہیں ہو سکتی تھی یا دوسرے لفظوں میں کمند کوتاہ، بازوئے سست و بامِ بلند کا سا معاملہ تھا، اس لیے مختصر افسانے کا میدان منتخب کر کے اس نے ایک صحیح فیصلہ کیا تھا۔ اگر چہ ناگ کے ’ بلّی‘، ’بگ بینگ‘ اور ’ غولِ بیابانی‘ جیسے کئی افسانے ابہام کا شکار ہو گئے ہیں، لیکن اس نے مشق مسلسل سے اس صنف پر دسترس حاصل کی، مختصر فقروں میں وقوعے سمیٹے اور اپنے طنز کے حربے سے ان میں جان ڈال دی۔
بہر حال اپنے اسلوب کی اِسی بے تکلفی اور طنز کی پُر اثری کی وجہ سے وہ مختصر افسانہ نگاری کا ایک معروف نام بن گیا۔ آخری دنوں میں وہ اپنے غیر مدوّن افسانوں کا مجموعہ ترتیب دے رہا تھا، جس کا نام اس نے ’پھٹی ہوئی کتاب‘ رکھا تھا۔ یہ نام بھی اس کی سابقہ کتابوں کی طرح اس کی جدّت پسندی کا مظہر ہے۔ ممکن ہے کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعد اس کی افسانہ نگاری کے بارے میں زیادہ بہتر رائے قائم کی جا سکے۔
راقمِ تحریر پچھلے پچیس برسوں سےم ناگ کی صحافتی و ادبی کار گزاریوں کا دور سے شاہد رہا ہے، پر ذاتی اعتبار سے پچھلے پانچ چھے برسوں میں ہوئی سات آٹھ ملاقاتوں نے ایک محدود سا ربط بھی پیدا کر دیا تھا۔ وہ جب بھی ملا، ستم زدۂ روز گار بنا زبانِ حال سے یہ فریاد کرتا نظر آیا کہ : ’’خاک ہو کر بھی رہے ہم تو ہوا تیز رہی!‘‘گذشتہ برس ’نیا ورق فاؤنڈیشن‘ اور ’مہاراشٹر اردو رائٹرس گلڈ‘ نے میرا روڈ (ممبئی) میں م۔ ناگ کے اعزاز میں ایک شام منائی تھی۔ م۔ ناگ نے مجھ سے درخواست کی تھی کہ اُس موقع پر اگر مَیں اُس کے فن پر کچھ اظہار خیال کر دوں تو وہ ممنون ہو گا۔ اُن دونوں سہ ماہی ’نیا ورق ‘میں اس کی افسانوی خودنوشت ’دکھی من میرے ‘ کی دو قسطیں آ چکی تھیں۔ راقم نے اُس خودنوشت پر اظہارِ خیال کی ہامی بھری تھی تو وہ بہت خوش ہوا تھا۔ بہرحال اُس تقریب کی شام، شیام تن م۔ ناگ، گہرے نیلے سوٹ پر شوخ رنگ کی ٹائی لٹکائے، نوشہ بن کر اسٹیج پر آیا تو ناگ کے زہریلے رنگ کے ذوقِ انتخاب پر یار دوستوں نے خوب ہنسی مذاق کیا تھا اور اُس نے اپنی آرائشِ لباس میں سے کسی چیز کے کرایے پر لانے کا لطیفہ سنا کر اُنھیں مزید محظوظ ہونے کا موقع فراہم کر دیا تھا۔ تو ایسا تھا، م۔ ناگ۔
٭٭
1، 2:ص:152، افسانوی خود نوشت ’دُکھی من میرے ‘، پہلی قسط، ’نیا ورق‘، (ممبئی) اکتوبر2014 تا مارچ2015
3:ص:153
4:ص:159
5:ص:166، دوسری قسط، اپریل تا ستمبر 2015
6:ص:762، حیاتِ شبلی، (مولفۂ مولانا سیّد سلیمان ندوی)، طبعِ ثانی، 1970، دارالمصنّفین(مولانا شبلی طبعاً خلوت پسند تھے جب کہ ندوہ میں انھیں احباب اور ملاقاتی گھیرے رہتے تھے۔ وہ سیرت النبی کا کام سکون سے کرنے کے لیے بمبئی چلے آتے تھے اور جانتے تھے کہ یہاں کے کاروباری ذہن کے لوگ ان کے کام میں مخل نہیں ہوں گے۔ متذکرہ قول کے راوی اُن کے اسسٹنٹ مولوی عبدالسلام ندوی ہیں۔ )
7:ص:181، افسانوی خود نوشت ’دُکھی من میرے ‘، تیسری قسط، ’نیا ورق‘، (ممبئی)، اکتوبر تا دسمبر2015
8:ص:184
9:ص:55، افسانہ، ’زراف‘ مشمولہ ’ڈاکو طے کریں گے ‘
10:ص:39 تا43، افسانہ’ڈاکو طے کریں گے ‘ مشمولہ ’ڈاکو طے کریں گے ‘۔
Sajid Rasheed aur Samaji Discourse
Articles
ساجد رشید اور سماجی ڈسکورس
پروفیسر گوپی چند نارنگ
ایک عہد کی episteme دوسرے عہد میں بدل جاتی ہے۔ episteme سے مراد ہے علمیاتی زمرہ یعنی کسی عہد کے مباحث، مسائل، توقعات، تعصبات، علمیاتی موقف وغیرہ۔ علمیاتی افق کوئی منجمد شے نہیں بلکہ انسانی سرگرمی کے ساتھ ساتھ تغیر پذیر ہوتا رہتا ہے اور ایک دور اپنی توقعات و تعصبات کے ساتھ دوسرے دور میں بدل جاتا ہے۔ مثال کے طور پر جدیدیت کے عہد کی episteme کی سب سے بڑی پہچان ideology سے بیزاری تھی اور آئیڈیولوجی سے مراد وہ سیاسی آمریت تھی جس کا نفاذ پارٹی کرتی تھی۔ اس episteme کے بدلنے کے بعد نہ صرف آئیڈیولوجی کی معمولہ اور متعینہ معنویت بدل گئی ہے بلکہ ادب، زبان اور ثقافت کے آئیڈیولوجی سے رشتے کی نوعیت بھی بدل گئی ہے۔ بقول ایگلٹن اب آئیڈیولوجی سے مراد فقط سیاسی تصورات اور اصول و ضوابط ہی نہیں بلکہ بشمول جمالیات، الٰہیات، عدلیات وہ تمام نظامات بھی ہیں جن کی رو سے فرد زندگی کا ذہنی تصور قائم کرتا ہے۔ اب متن کے ذریعے رونما ہونے والے معنی و تصورات دراصل اُس تصورِ حقیقت کی لسانی تشکیل ہوتے ہیں جنھیں زبان اور آئیڈیولوجی نے قائم کیا ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو ادب آئیڈیولوجی کے مباحث کی جدلیاتی بازیافت ہوتا ہے، اس لیے کہ ادب آئیڈیولوجی سے متاثر بھی ہوتا ہے اور اس کو متاثر کرتا بھی ہے۔ غرض جدیدیت کی episteme نے ادب، آئیڈیولوجی، فرد کے بارے میں جو موقف اختیار کیا تھا وہ کالعدم ہوچکا ہے۔ ایک عہد کی episteme کے بدل جانے کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب اس سے فاصلہ پیدا ہوجائے اور نیا عہد نئی episteme سے تخلیقی معاملہ کرنے لگے۔
ساجد رشید کا تعلق اردو افسانہ نگاروں کی اس کھیپ سے ہے جنھوں نے اپنی تخلیقی شناخت بیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں بنائی ہے اور جن کا ذہن ختم صدی کے آخری عشروں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں کو شدت سے انگیز کرتا رہا ہے۔ ان کے تین مجموعے ’ریت گھڑی‘ (1990)، ’نخلستان میں کھلنے والی کھڑکی‘ اور ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ (2004) منظرعام پر آچکے ہیں۔ پیدائش کے اعتبار سے ان کا تعلق یوپی کی قدامت پسند قصباتی فضا سے ہے لیکن پرورش کے اعتبار سے وہ ایک ایسی کمرشیل مہانگری میں رہتے ہیں، جہاں گلوبلائزیشن کے شدید دباؤ اور ادب، آرٹ، انسان اور آئیڈیولوجی کے بارے میں بدلتی ہوئی توقعات کو شدت سے محسوسکیا جاسکتا ہے۔ جہاں تیز رفتار تجارتی زندگی کی آنکھوں کو خیرہ کر دینے والی چکاچوند اور فلک بوس عمارتوں اور بے تحاشا ریل پیل کے پیچھے جھونپڑپٹیوں، چالوں اور کھولیوں کا وہ بھیانک سلسلہ ہے جس کی وجہ سے یہ شہر دنیا کا slum capital سمجھا جاتا ہے۔ انسان کی زندگی جو یوں تو ہر جگہ ارزاں ہوگئی ہے یہاں ایسی سطح پر ملتی ہے جس کا بیان لفظوں کا متحمل ہو ہی نہیں سکتا۔ کارپوریٹ سیکٹر اور سلولائیڈ کی چمچماتی زندگی کے بیک ڈراپ میں انسانیت کا جو بے کراں سمندر دکھوں کا بوجھ ڈھوتے ہوئے رواں دواں ہے، اس کے درد کو محسوس کرنا آسان نہیں۔ یہاں قدم قدم پر بھیانک مسائل اور تضادات ملتے ہیں۔ ساجد رشید نے اپنی کہانیوں کا تانا بانا اِسی ماحول اور انہی مسائل سے بُنا ہوگا جن کی کوئی آسان تعبیر ممکن نہیں۔ بڑے شہروں کی زندگی کے تاریک پہلوؤں پر بڑے بڑے ناول اور شاہکار کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ سماجی ڈسکورس کے نام پر ہر طرح کا ہنگامی ادب بھی لکھا جاتا ہے۔ رومانوی سطحیت سے بچنا بھی آسان نہیں لیکن ساجد رشید جس طرح اس کمرشیل معاشرے کی Underbelly (زیر ناف) اور اُس کے مکروہ مسائل سے تخلیقی معاملہ کرتے ہیں، اس کا تقاضا ہے کہ اُسے غور سے دیکھا جائے۔
ساجد رشید کی ایسی کہانیوں میں ’اندھیری گلی‘، ’جنت میں محل‘، ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ اور ’زندہ در گور‘ خاص اہمیت رکھتی ہیں۔ ان سب کہانیوں میں protagonist کا تعلق کسی مثبت قدر سے نہیں ہے۔ وہ ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہا ہے جہاں اس کی انفرادی اور اختیاری حیثیت زائل ہوچکی ہے۔ اور وہ حالات کے جبر اور تاریخ کے بہاؤ میں نہ صرف زندہ ہے بلکہ تضادات سے نباہ بھی کررہا ہے۔ ’اندھیری گلی‘ ایک بیوڑا ماسٹر کی کہانی ہے جس کی جوان بیٹی شیرین کو کالج کا ایک غنڈا برابر چھیڑتا ہے۔ گھر کا ماحول خاصا قدامت پسند ہے۔ میاں کے آنے پر بیوی تسبیح کو چوم کر کچھ پڑھتی ہوئی شوہر پر پھونکتی ہے اور پھر شیرین پر بھی اسی طرح پھونکتی ہے۔ ڈونگری میں رہنے والی صوم و صلوٰۃ کی پابند انیسہ سمجھتی ہے کہ گھر میں آیت کریمہ کا ورد کرانے سے شیرین محفوظ رہے گی اور اُس کو غنڈے سے نجات مل جائے گی۔ درس و تدریس کے پیشے سے وابستہ اعجاز ماسٹر یہ سمجھتا ہے کہ مذہب نہیں بلکہ پولس غنڈے کا واحد حل ہے۔ وہ پولس اسٹیشن جاکر شکایت درج کرواتا ہے لیکن کوئی کارروائی نہیں ہوتی۔ اس لیے کہ ڈونگری میں غنڈوں کی حکومت ہے اور پولس غنڈوں سے ملی ہوئی ہے۔ اتفاق سے ایک لڑکا جو برسوں پہلے اسکول میں اعجاز ماسٹر کا طالب علم رہا تھا وہ ایوب گھوڑا کے نام سے غنڈوں کا سرغنہ ہے۔ وہ ماسٹر کو پہچان لیتا ہے اور چاہتا ہے کہ ماسٹر کی مدد کرے۔ لیکن ماسٹر جسے قانون پر بھروسا ہے، غنڈے کا احسان نہیں لینا چاہتا۔ ادھر انیسہ کسی پہنچے ہوئے بزرگ کا گنڈا لاکر بیٹی کو پہناتی ہے اور سمجھتی ہے کہ آیت کریمہ کے ورد اور بزرگ کے دم کیے ہوئے گنڈے کے طفیل اس کی بیٹی ہر بلا سے محفوظ ہوجائے گی۔ ماسٹر کے بار بار رپورٹ کرنے کے باوجود پولس کچھ نہیں کرتی اور شیرین کی پریشانی جوں کی توں رہتی ہے۔ بالآخر ایوب گھوڑا اور اس کی غنڈہ گردی ہی کام آتی ہے اور غنڈے کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولس شیرین کو چھیڑنے والے نوجوان کو پیٹتے ہوئے جیپ میں ڈال کر لے جاتی ہے :
’’اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرو بیٹی۔‘‘ انیسہ نے شیرین کے سر پر ہاتھ پھیر کر پُراعتماد لہجے میں کہا اور شوہر کی طرف دیکھ کر فاتحانہ انداز میں مسکرائی۔ ’’ہماری عبادتوں اور پیر صاحب کے گنڈے کی برکتوں کے طفیل ہی وہ بدمعاش اس انجام کو پہنچا ہے۔ میری دعائیں اور منتیں کام آئیں — چلو بیٹی ہم ابھی اسی وقت پیر صاحب کے آستانے پر چل کر پھولوں کی چادر چڑھائیں گے‘‘۔
اس کہانی میں زندگی آئیڈیولوجی اور اقدار کی تین سطحوں پر ملتی ہے۔ قانون کے تحفظ کی سطح جس میں ماسٹر اعجاز یقین رکھتا ہے۔ خدا میں یقین اور مذہبی عقیدت کی سطح جس میں بیوی یقین رکھتی ہے۔ ڈونگری کی معاشرتی زندگی کی سچائی کی سطح جس پر غنڈوں کا قبضہ ہے اور پولس جن کے اشارے پر کام کرتی ہے۔ تینوں سطحوں پر آئیڈیولوجی لخت لخت ہے۔ گویا سماجی تشکیل واحدالمرکز نہیں، یہ پارہ پارہ ہوچکی ہے۔ ایک ہی گھر اور ایک ہی گلی میں زندگی مختلف سطحوں پر سانس لے رہی ہے لیکن ہر چیز ساتھ ساتھ موجود ہے اور نباہ بھی کررہی ہے۔ انسان مغالطوں میں زندہ ہے اور اپنے تعصبات سے اوپر اٹھنے کے لیے تیار نہیں اور معاشرے میں جرائم پیشہ لوگوں کو اقتدار حاصل ہے اور یہی وہ قوت ہے جو سماجی تشکیل کی شیرازہ بندی کرتی ہے۔ ’اندھیری گلی‘ اس لیے کہ معاشرہ اندھا ہوچکا ہے اور یہ محسوس کرنے کی صلاحیت کھوچکا ہے کہ کمرشیل معاشرے کی بھیانک دوڑ میں نہ قانون کے وہ معنی رہے ہیں اور نہ ایمان کے۔ حقیقت کچھ اور ہی ہے۔ پھر بھی سہارے سہارے ہیں اور زندگی کے قائم رہنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سہاروں کا بھرم قائم ہے۔
اس نوع کی ایک اور کہانی ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ ہے۔ اس میں ڈرامائیت کہیں زیادہ ہے، بیانیہ کسا ہوا اور تناؤ سے بھرا ہوا ہے۔ ساجد رشید مہانگری نیم تاریک گنجان گلیوں اور کچی آبادیوں کی منظرکاری فنی چابکدستی سے کرتے ہیں۔ اشاریت اور رمزیت سے کام لیتے ہوئے وہ ہلکی سی سرّیت بھی پیدا کرتے ہیں جس سے بیانیہ میں بعض جگہ سرگوشی کا انداز پیدا ہوجاتا ہے :
’’شام کے باریک باریک خاکستری ذرے عمارتوں، لیمپ پوسٹوں اور درختوں کو ڈھک رہے تھے۔ وہ دونوں دبے پاؤں لمبے لمبے ڈگ بھرتے لیمپ پوسٹوں کے روشن ہونے سے قبل اپنا کام ختم کرلینا چاہتے تھے۔ آڑی ترچھی گنجان گلیوں سے گزر کر وہ ایک قدرے کشادہ گلی میں آگئے اور ایک ٹرانسفارمر کی آڑ میں کھڑے ہوکر گلی کی دوسری طرف ایک جوئے خانے کے باہر لکڑی کی ایک آرام کرسی پر بیٹھے ادھیڑ عمر کے پستہ قد آدمی پر نظریں مرکوز کردیں جس کی کرسی کے ایک پائے سے ایک بھورے رنگ کا قدآور ڈابر ہاؤنڈ کتا بندھا ہوا تھا۔ پستہ قد کے اُس آدمی کا رنگ اتنا کالا تھا کہ اُس کی بڑی بڑی آنکھیں گول چہرے پر بہت زیادہ نمایاں نظر آتی تھیں بالکل ڈابر ہاؤنڈ کی طرح۔ اُس نے سفید رنگ کی پوری آستین کی قمیض اور سفید رنگ کا پاجامہ پہن رکھا تھا۔ وہ بار بار ایک سفید تولیے سے اپنی گردن کا پسینہ پونچھ رہا تھا۔ دونوں ٹرانسفارمر کے پیچھے سانسیں روکے کھڑے تھے۔‘‘
وٹھل اور جبار قتل کے بعد ضمانت پر رہا ہوجاتے ہیں۔ دونوں کو ڈر ہے کہ اگر سرکاری وکیل نے بادشاہ کے کتے اور غلام کو کورٹ میں ثبوت کے طور پر کھڑا کردیا تو کیا ہوگا۔ جبار کہتا ہے :
’’دیکھ وٹھل غلام اپنے دھندے کا بھڑوا ہے جدھر وزن دیکھے گا اُدھر پے اُس کی وفاداری جھکے گی۔ اپنا اصلی ٹینشن تو وہ بیگم ہے، بادشاہ نے جس کو کچرے میں سے اٹھا کر رانی بنادیا‘‘۔
بیگم حیدرآباد سے بھاگ کر ممبئی آئی تھی اور گھروں میں صفائی کا کام کرتے کرتے چالیس سالہ بادشاہ کے دل کی بیگم بن بیٹھی۔ اس کا رنگ کندنی تھا اور جسم دھاردار۔ بادشاہ کے مارے جانے کے بعد غلام ٹھیکے کا بادشاہ بن چکا ہے۔ وٹھل اور جبار جیل سے نکل کر اُس گلی میں آتے ہیں جہاں بادشاہ کا گھر ہے اور جہاں اب اُس کی رانی غلام کے ساتھ رہتی ہے جو اب اُس کا بادشاہ ہے۔ ڈابر ہاؤنڈ کتا دونوں قاتلوں کو پہچان لیتا ہے اور بے قابو ہوکر بھونکنے لگتا ہے۔ غلام مارے ڈر کے گھگھیاتا ہے کہ وہ دھندے کا محض نگراں ہے :
’’بھائی اصل میں دھندہ آپ دونوں کا ہے آپ حکم کروگے تو دھندہ سنبھالوں گا‘‘۔
دونوں سوچتے ہیں کہ اگر اپنے کو بھی بادشاہ بننے کا ہے تو اس بادشاہ کو کم کرنا ہوگا۔ افسانہ نگار نے جرائم پیشہ افراد کی زبان سے جو فضاسازی کی ہے وہ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے :
’’تو سچ بولتا ہے۔ اپنے دھندے میں اور پولیٹکس میں کوئی فرق نہیں ہے۔ پولیٹکس میں بھی اپنے دھندے کی طرح کون کب وفاداری بدل دے کہہ نہیں سکتے۔‘‘
’’غلام کا وفاداری بدلنا تو سمجھ میں آتا ہے لیکن یہ بیگم۔۔۔‘‘ کہہ کر جبار نے نفرت سے ہونٹوں کو سکوڑ لیا۔ ’’اور غلام بھی بڑی حرامی چیز نکلا بادشاہ کے کتے اور عورت دونوں کو رکھ لیا۔‘‘
غلام اور بیگم دونوں انسان ہیں اور موقع پرستی کی اس دنیا میں جہاں طمع اور مفاد کی بالادستی ہے، انسان کو اپنی وفاداری بدلتے دیر نہیں لگتی۔ لیکن کتا تو جانور ہے۔ انسان کی وفاداری طاقت یا طمع کے آگے جھک سکتی ہے جانور کی نہیں۔ انسان اشرف المخلوقات ہے، سو وہ سودا کرسکتا ہے، جانور تو بیچارا جانور ہے۔ وٹھل بار بار ایک خواب دیکھتا ہے جس میں کتے کی بھونکار اس کو ڈرا دیتی ہے۔ بالآخر دونوں پستول میں گولیاں بھر کے کراس گلی جاتے ہیں، وہ نہ بیگم کو نشانہ بناتے ہیں نہ غلام کو، فقط کتے کو پستول کی گولیوں سے ٹھنڈا کردیتے ہیں۔ اس کے بعد جیسے ہی دونوں وین کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھتے ہیں، غلام ہاتھ جوڑے آکھڑا ہوتا ہے اور بیگم چپ چاپ پچھلی سیٹ کا دروازہ کھول کر وین میں بیٹھ جاتی ہے۔
جرائم، قتل، اغوا، ڈکیتی، بلاتکار آج کی معاشرت میں روز کا معمول ہے۔ انسان بے حس ہو چکا ہے۔ صبح کو اخبار دیکھتے ہوئے روزمرہ کے معمول کے مطابق ہم کاغذ لپیٹ کے ہاتھ چائے کی پیالی کی طرف بڑھا دیتے ہیں۔ معاشرہ کِن کمرشیل قدروں کے ساتھ ترقی کررہا ہے۔ پولس اسٹیشن بھی ہے، چوکیاں بھی، پوسٹ بھی، نگرانی کرنے والے راؤنڈ بھی لیتے ہیں، حفاظت کے لیے نہیں ہفتہ وصولنے کے لیے۔ جرائم کے ہاتھ کس طرح کھلے ہوئے ہیں، یہ کہانی اس کا نہایت موثر نقشہ پیش کرتی ہے۔ مہانگری زیرناف کی یہ فقط ایک جھلک ہے کہ کس طرح جرائم کے اس گھناونے ماحول میں قانون اور جرائم دو ایسے نشانات ہیں جو اطمینان سے ایک دوسرے کی جگہ لے لیتے ہیں اور ان کا امتیاز مٹ جاتا ہے۔ کیا ایسا فقط اس لیے نہیں ہوتا کہ سیاسی طاقت کا ڈسکورس آئے دن یہ تسلیم کراتا ہے کہ اقتدار کے کھیل میں جرائم کی ملی بھگت جڑوں سے نہیں معاشرے کی اعلیٰ ترین سطحوں سے آتی ہے اور قانون یا سیاست کا کوئی تصور جرم سے ہٹ کر نہیں کیا جاسکتا۔
’جنت میں محل‘ اور ’چادر والا آدمی اور میں‘ ہرچندکہ اسی زندگی کے مکروہ روپ ہیں لیکن ان کی نوعیت نہ صرف مندرجہ بالا کہانی ’بادشاہ، بیگم اور غلام‘ سے الگ ہے بلکہ یہ کہانیاں باہم دیگر الگ الگ وضع کی بھی ہیں۔
’جنت میں محل‘ اس اعتبار سے ساجد رشید کے تازہ مجموعے کی کلیدی کہانی ہے کہ اس نوع کی کہانی موجودہ کارپوریٹ سیکٹر اور گلوبلائزیشن کے عہد میں ہی لکھی جاسکتی ہے۔ مشتاق کسی کمپنی میں ملازم ہے اور اس امید میں ہے کہ کمپنی کے اعلیٰ افسروں کو اس کا کام پسند آگیا تو ملازمت پکی ہوجائے گی۔ وہ صوم و صلوٰۃ کا پابند ہے، درود شریف پڑھ کر دفتر جانا اس کا معمول ہے۔ مینجمنٹ کی جانب سے دی جانے والی پارٹیوں میں شرکت کرنا ملازمت کی مجبوری ہے۔ سوڈان سے بڑا ٹینڈر ملنے کی خوشی کو سیلی بریٹ کرنے کے لیے اوبرائے میں پارٹی رکھی جاتی ہے :
’’بیلے ڈانسر کی ناف میں تھرکتے چاند کو اپنے جام میں ڈبونے کی کوشش میں وہ خود ڈوبتا چلا گیا تھا۔ اسے افسوس زیادہ پینے کا نہیں بلکہ فجر کی نماز کے چھوٹ جانے کا تھا۔ فجر پڑھنا اسکول کے دنوں سے اس کا معمول تھا۔ اس کی تربیت ہی کچھ اس ڈھنگ سے ہوئی تھی کہ نماز نہیں تو ناشتہ بھی نہیں۔‘‘
سوڈان سے ایک بڑا پروجیکٹ ملنے کی خوشی میں سوڈانی مہمان کی تواضع کے لیے مشتاق سے کہا جاتا ہے کہ شیمپین کے علاوہ مینو میں کوئی فلپائنی لڑکی بھی ہونی چاہیے۔ ایسی فرمائشوں کی تکمیل کرنے والے قادر کو جب وہ فون ملاتا ہے تو اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور وہ ہکلا رہا تھا۔ قادر قہقہہ مارکر کہتا ہے :
’’اومین بی فرینک وی بوتھ آران دی سیم بزنس‘‘
بعد میں جب سوڈانی مہمان کو بخوبی انٹرٹینمنٹ کرنے کے لیے کمپنی کے جنرل منیجر سے وہ اپنی تعریف سنتا ہے تو نوکری کے مستقل ہونے کے تصور سے اس کا رواں رواں جھوم اٹھتا ہے، گاؤں میں آبائی مکان کی مرمت، چھوٹی بہن کی شادی وغیرہ وغیرہ۔ مذہبی معمولات کی پابندی کے باوجود اب وہ اس کام کو پورے اعتماد سے کرنے لگتا ہے۔
ساجد رشید عموماً کہانی کا آغاز ایسی منظرکاری یا مکالمے سے کرتے ہیں جس میں تھیم یا مرکزی مسئلے کا وہ رخ سامنے آجائے جس کو وہ قائم کرنا چاہتے ہیں یا جس کے بل پر وہ سکے کو گھماکر حقیقت کے دوسرے رخ کو سامنے لاسکیں :
’’رکوع میں جھکتے ہی تیز ڈکار آئی اور رات کی شراب کا کڑوا ذائقہ منہ میں گھل گیا۔ معدے کی تیزابی رطوبت کی آمیزش کے بعد وہسکی کی ترشی قدرے تیز ہوگئی تھی۔ سجدے میں جاتے ہی مشتاق کی آنکھوں میں وہ سرخ ربن لہرانے لگا جو بھاری کولہوں اور پتلی نازک سی کمر سے بندھا ہوا تھا اور جس کی گانٹھ سے جھولتے دونوں سرے کمر کے ہر لوچ پر سانپ کی طرح لہرا لہرا جاتے تھے۔ ناف کی گہرائی کے اطراف میں پسینے کے باریک قطرے ہزاروں ننھے ننھے قمقموں کی طرح جلتے بجھتے دکھائی دے رہے تھے۔ سجدے میں اس کے منہ سے بے ساختہ سبحان ربّی الاعلیٰ کے بجائے سبحان اللہ، سبحان اللہ نکل گیا تھا ۔۔۔ اس نے لاحول پڑھ کر سلام پھیر کر جا نماز لپیٹ دی تھی۔‘‘
ابّو موتیا بند کی تشخیص کرانے کے لیے شہر آجاتے ہیں تو مشتاق کچن میں رکھی ہوئی بیئر اور وہسکی کی بوتلوں کو ٹھکانے لگا دیتا ہے۔ ابو کو فکر ہے کہ بڑے شہر میں آکر مشتاق نے کہیں نماز تو ترک نہیں کردی، وہ اسے امّی کی دی ہوئی یاسین شریف دیتے ہیں کہ اسے جیب میں رکھوگے تو شر سے محفوظ رہوگے۔ ابو گاؤں کی مسجد کی رسید بُک دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ پچیس رسیدیں ہیں اپنے جاننے والوں سے پیسے جمع کرلینا۔ وہ سوچتا ہے کہ خدا کے گھر کی تعمیر میں حصہ لینا کتنا بڑا ثواب ہے۔
اس دوران آفس کی سالانہ میٹنگ میں کامرس منسٹری کا بنگالی سکریٹری بھی شریک ہوتا ہے۔ وی آئی پی گیسٹ کی مکمل انٹرٹینمنٹ کا انتظام کرنے کے بعد وہ رات گئے گھر پہنچتا ہے تو ابو گاؤں واپس جانے کی تیاری کرچکے ہیں۔ رات کی ندامت، فجر کی نماز چھوٹ جانے کا دُکھ، وہ مسجد کی رسیدوں کے پیسے ابو کو دیتا ہے تو ابو پھر کہتے ہیں :
’’نماز مت قضا کیا کرو بیٹا اور ہاں تمھاری امی نے تمھارے لیے یاسین شریف کی جو دفتی بھجوائی ہے اسے جیب میں رکھا کرو۔ تمام شر سے پاک رہوگے۔‘‘
کارپوریٹ سیکٹر کی ہوشربا ترقی سے معاشرتی زندگی میں انقلاب آگیا ہے اور معمولات میں جو تناقص پیدا ہوگیا ہے یہ کہانی اس کی ایک بین مثال ہے۔ والدین اور گھر کے لوگ الگ وضع کی زندگی جی رہے ہیں جو ایک دھڑے پر چلی جارہی ہے جس میں مذہبی شعائر کا سہارا ہے، وسائل کی کمی ہے لیکن کوئی شکوہ شکایت نہیں۔ مذہبی عقائد، آداب و اطوار اور ان کی پابندی بھی ایک طرح کی آئیڈیولوجی ہے جو یک گونہ طمانیت کا سرچشمہ ہے۔ دوسری طرف اقدار سے تہی کمرشیل زندگی ہے جہاں کامیابی کا واحد معیار دولت اور منافع ہے۔ دیکھا جائے تو باپ اور بیٹے کے درمیان کوئی جنریشن گیپ بھی نہیں۔ بیٹا بھی ان اقدار کو نباہنا چاہتا ہے جن کو نباہتا چلا آیا ہے لیکن کیریر کی کامیابی اپنی قیمت چاہتی ہے۔ دینی فرائض و وظائف شر سے پاک رکھنے کی ضمانت ہیں لیکن کیریر شر میں لپٹا ہوا ہے۔ مشتاق کی زندگی یکسر دوسری وضع پر آگئی ہے اور وہ نہ چاہنے کے باوجود کمرشیل زندگی کے بنیادی تقاضوں سے ہم آہنگ ہونے لگا ہے جہاں خود اپنے مذہبی و تہذیبی وجود سے اس کا فاصلہ بڑھتا جارہا ہے۔ ’جنت میں محل‘ بھلے ہی بن جائے لیکن دنیوی زندگی پُر از تناقض اور خالی از معنی ہوتی جاتی ہے۔ غور طلب ہے کہ موجودہ گلوبلائزڈ معاشرے میں کارپوریٹ کمرشیل زندگی کے نمو کرنے کی نوعیت کچھ ایسی ہے کہ ایک ڈسکورس دوسرے کو ردّ کرتا ہے لیکن بے دخل نہیں کرتا۔ زندگی میں تناقض ہے اور بظاہر دو الگ الگ دائرے ہیں لیکن ایک دائرہ دوسرے کی جگہ نہیں لیتا، یعنی تناقض کے باوجود ان میں ارتباط ہے اور دونوں ڈسکورس ایک ہی مربوط معاشرتی نظام کے اندر پہلو بہ پہلو زندہ ہیں، نہ صرف زندہ ہیں بلکہ ایک دوسرے کا سہارا بھی ہیں، اور ایک کی معنویت دوسرے سے قائم ہے۔ گویا ہماری آج کی شہری معاشرتی زندگی بے تعلق بھی ہے اور تعلق بھی رکھتی ہے، بے حس بھی ہے اور اس بے حسی پر طنز کرنے والی حِس بھی رکھتی ہے۔ باوجود خواہش کے وہ اس سے نجات نہیں حاصل کرسکتی بلکہ زیادہ سے زیادہ اس کے گلیمر کی طرف کھنچتی ہے۔
اسی نوع کی ایک اور عمدہ کہانی ’چادر والا آدمی اور میں‘ ہے جو کتھا ایوارڈ کی وجہ سے خاصی گردش میں رہی ہے۔ ممبئی کی ایک شناخت لوکل ٹرینوں اور ان میں سفر کرنے والی بے نام بھیڑ سے بھی ہے۔ ساجد رشید کی اکثر کہانیوں میں بیانیہ واقعہ نگاری کا حق ادا کرتا ہے۔ واقعات تواتر سے آتے ہیں اور خاص طرح کی ڈرامائیت کو راہ دیتے ہیں مگر اس کہانی میں کوئی بڑا واقعہ نہیں بلکہ دھیمی رفتار سے رونما ہوتے جانے والے ایک ہی واقعہ کے sustained بیانیہ کی کہانی ہے جو جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے قاری کے اشتیاق کو بھی انگیز کرتا جاتا ہے۔ اس کو پڑھتے ہوئے بھیشم ساہنی کی کہانی ’امرتسر آگیا‘ کا یاد آجانا ناگزیر ہے۔ ممبئی کی گرمیوں کی حبس زدہ شام میں مسافروں سے کھچاکھچ بھرے کمپارٹمنٹ میں کوئی آدمی چادر تانے سورہا ہے جبکہ کمپارٹمنٹ میں کئی آدمی کھڑے ہیں، بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے، ہر کوئی تعجب سے اُس آدمی کی طرف دیکھتا ہے جو چادر کے اندر اطمینان سے پاؤں پسارے چہرہ ڈھکے سورہا ہے۔ یہ آدمی معمّہ ہے لیکن کسی کو اسے چھیڑنے کی جرأت نہیں :
’’جی میں آیا کہ باپ کا گھر سمجھ کر سونے والے کی چادر کھینچ کر پھینک دوں اور اس کا گریبان پکڑ کر پوری قوت سے ایسے اٹھالوں جیسے خرگوش کو کان سے پکڑ کر اٹھاتے ہیں ۔۔۔پھر مجھے اخبار کی وہ خبر یاد آگئی کہ ویسٹرن لائن کی لوکل ٹرین میں ایک غنڈہ شراب کے نشے میں دھت، سیٹ پر لیٹا گالیاں بک رہا تھا ایک نوجوان جو اپنی بیوی بچوں کے ساتھ ان کے سامنے والی سیٹ پر بیٹھا تھا ضبط نہ کرسکا اور اس نے اسے ڈانٹ دیا، شرابی نے اٹھ کر جیب میں سے چاقو نکالا اور اس نوجوان کے پیٹ میں گھونپ دیا۔ عورت اور بچوں کی چیخیں نکل گئیں۔ دوسرے مسافر حیرت سے پھٹی آنکھوں سے یہ منظر دیکھتے رہ گئے۔ نشے سے جھولتے اس آدمی کو کسی نے پکڑا اور نہ ہی کسی نے گاڑی کی زنجیر کھینچی۔‘‘
لوگ چڑھتے ہیں اترتے ہیں۔ چادر تان کر سونے والے کو حیرت سے دیکھتے ہیں مگر کوئی کچھ نہیں کہتا۔ دادر، مسجدبندر، بائی کلہ، سائن ایک کے بعد ایک آتے ہیں اور نکل جاتے ہیں۔ جیسے جیسے بیانیہ بڑھتا ہے چادر اوڑھ کر سونے والے کے بارے میں اشتیاق بھی بڑھتا جاتا ہے۔ کوئی شام کا اخبار پڑھ رہا ہے، کوئی گٹکھا کھا رہا ہے، کوئی راڈ کو پکڑے کھڑا ہے، کوئی دروازے میں لٹکا ہوا ہوا کھا رہا ہے۔ بالآخر ڈبے میں تین لوگ سوار ہوتے ہیں جن کی گفتگو سے لگتا ہے کہ انھوں نے ٹھرّا پی رکھا ہے جس کے نوشادر کی بو ڈبے میں پھیل جاتی ہے۔ وہ فحش گفتگو کررہے ہیں اور گالیاں بک رہے ہیں۔ ان میں سے رودراکھشس کی مالا والا خراٹے بھرنے والے کو جھنجھوڑنے اور گالیاں دینے لگتا ہے۔ اس پر بھی جب وہ نہیں جاگتا تو رودراکھشس والا ناگواری سے چادر سمیت سونے والے کو گھسیٹتا ہے۔ چادر کے نیچے سے ایک مدقوق چہرے والے نے نحیف مٹھیوں سے چادر کے سروں کو پکڑ رکھا تھا۔ شیو بڑھا ہوا، آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے، کرتہ نما بنڈی و بوسیدہ پاجامہ جیسا عام طور پر سرکاری اسپتالوں میں مریضوں کو پہنایا جاتا ہے، گریبان کھلا ہوا جس سے پنجر کی ہڈیاں جھانک رہی تھیں۔ رودراکھشس والا اور اس کے ساتھی اس نحیف و نزار بوڑھے کے ساتھ بدزبانی کرتے ہیں۔ بھیڑ میں انھیں روکنے والا کوئی نہیں، سوائے ایک کالے چشمے والے اندھے فقیر اور ساتھ کی بچی کے جن کو ان لوگوں کا دراز دستی کرنا اور مدقوق چہرے والے کو گالیاں دینا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔ حتیٰ کہ رودراکھش والا اگلے پلیٹ فارم پر گاڑی رکتے ہی مدقوق آدمی کی گردن پکڑ کر اُسے اٹھا لیتا ہے اور اسے ڈبے سے باہر پھینک دیتا ہے۔ گاڑی چل دیتی ہے۔ پلیٹ فارم پر فقط کالے چشمے والا اندھا فقیر اور بچی ایک گٹھڑی کی طرح پڑے ایک آدمی پر جھکے ہوئے ہیں۔
گاڑیاں اور پلیٹ فارم بے ہنگم اور بے نام بھیڑ سے بھرے ہوئے ہیں۔ مہانگر گویا کوئی عفریت ہے اور یہ جم غفیر اس کے پیٹ کے غار سے نکلتا ہے اور پھر پیٹ میں سما جاتا ہے۔ ڈبے انسانوں سے کھچاکھچ بھرے ہوئے ہیں۔ اسٹیشن آتے ہیں جاتے ہیں، ایک کے بعد ایک لوگ چڑھتے ہیں اترتے ہیں لیکن مدقوق چہرے والے بے نام بے سہارا نیم اپاہج انسان سے کوئی ریلیٹ نہیں کرتا۔ یہ بے حسی اور بے تعلقی مہانگر کی بے ہنگم بھیڑ اور رواں دواں بھاگتی دوڑتی زندگی کی خاص پہچان ہے۔ انسانی جم غفیر کا ایک سیل ہے جو بھاگے چلا جارہا ہے۔ کسی کو کسی کی خبر نہیں۔ ٹھرّا پیے ہوئے نوجوان ایک دوسرے کی مجموعی طاقت سے بدمست ہیں، ریلیٹ وہ بھی نہیں کرتے، فقط دراز دستی کرتے ہیں۔ کوئی انھیں روکتا نہیں۔ یہ انسانی بے حسی اور بے تعلقی کی انتہائی مذموم سطح ہے جسے ہم آئے دن دیکھتے ہیں۔ وہ لوگ اس بوڑھے کو گٹھڑی بناکر اسٹیشن پر دھکیل دیتے ہیں، گویا وہ کوئی انسان نہیں کیچوا ہے جس کے جینے مرنے کا کوئی مصرف نہیں۔ ہزاروں لاکھوں دوڑتے بھاگتے جیتے جاگتے انسانوں کے سیلاب میں اگر اس بے آواز ہڈیوں کے ڈھانچ سے کوئی ریلیٹ کرتا بھی ہے تو وہ کالے چشمے والا اندھا فقیر یا اس کے ساتھ کی بچی ہے اور بس۔ بڑے واقعات یا بڑے کرداروں سے بڑی کہانی بنانا آسان ہے لیکن روٹین واقعہ سے کہانی بنانا اور انسانی دردمندی کے مردہ احساس کو جگا دینا آسان نہیں۔ مہانگر کی کمرشیل معاشرت کی برق رفتار دوڑ میں انسانی بے حسی کا یہ وہ منظرنامہ ہے جس کی اندوہناکی میں امیر غریب مرد عورتیں بوڑھے جوان سب شریک ہیں۔
مہانگر کی معاشرت کا ایک رخ وہ ہے جو پانچ ستارہ ہوٹلوں میں نظر آتا ہے، یا سمندر کنارے کی روشنی سے جھلملاتی سڑکوں پر کاروں کے نئے سے نئے ماڈلوں میں یا فیشن شوز، رقص گاہوں، کارپوریٹ پارٹیوں، یا بالی ووڈ کی ذہن کو سلانے حواس کو بیدار کرنے والی نیم عریاں سرگرمیوں میں نظر آتا ہے، تو ایک چہرہ وہ ہے جو لوکل ٹرینوں میں سفر کرنے والی بھاگم بھاگ، بے ہنگم انسانی بھیڑ میں دکھائی دیتا ہے، نیز ایک چہرہ وہ بھی ہے جو جھونپڑپٹیوں، کچی بستیوں، گندی نالیوں، چالوں اور کھولیوں میں بسنے والے ہزاروں لاکھوں لوگوں کی عفونت زدہ زندگیوں میں سانس لیتا ہے۔ جرائم کی موجِ تہ نشیں کہاں نہیں، لیکن یہاں کھلم کھلا دادا لوگوں کا راج ہے جو پولس کی نگرانی میں اپنا دھندہ چلاتے ہیں، تشدد کے بل پر متوازی حکومت چلاتے ہیں اور ہفتہ وصولی کرتے ہیں۔ پولس کے پاس فقط ڈنڈا ہے، ان کے پاس چاقو، پستولیں گولیاں سب کچھ ہیں۔ یہ پولس سے نہیں پولس ان سے ڈرتی ہے، سسٹم ہی ایسا ہے کہ مہانگر کے زیرناف میں نظم و نسق نہ نیتاؤں کا ہے نہ پولس کا فقط داداگری کرنے والوں کا ہے، راج ہے تو نیتاؤں کا نہ قانون کے محافظوں کا بلکہ انھیں غنڈوں، جرائم پیشہ دادا گیروں اور تسکری کرنے والوں کا ہے۔ مہانگر کے زیرناف کا کوئی ذکر پولس اور جرائم پیشہ داداؤں کے گٹھ جوڑ کے بغیر ممکن نہیں جس کی طرف کچھ اشارہ پہلے کیا جاچکا ہے۔ اسی قسم کی ایک اور کہانی ’مکڑیاں‘ ہے۔ اس کا پس منظر قصباتی ہے لیکن مرکزی مسئلہ پر مہانگر کی تجارتی ذہنیت کی طمع پیدا کرنے والی لعنت کا عکس ہے۔ بھیلی نام کی ایک گنوار قصباتی عورت ریزرو سیٹ پر چناؤ کے لیے کھڑی ہوتی ہے۔ چمرٹولے کے چماروں اور پوروا مسلمانوں کی حمایت اس کو حاصل ہے لیکن دوارکا بابو اپنی ہل واہ بہو کو امیدوار بنانا چاہتے ہیں۔ بھیلی اور اس کے میاں جیاون اور چمرٹولے والوں کو الیکشن نہ لڑنے کی تنبیہہ کی جاتی ہے۔ وہ باز نہیں آتے تو رات میں حملہ کراکے بھیلی کا اجتماعی بلاتکار کیا جاتا ہے۔ یہ وہ سانحات ہیں جو آئے دن رونما ہوتے ہیں اور اخباروں کی سرخیاں بنتے ہیں۔ ان میں کوئی نئی بات نہیں۔ کہانی کا کمال اس منظرنامے میں نہیں بلکہ ایسا بیانیہ تشکیل دینے میں ہے جہاں بھیلی، اس کا شوہر جیاون، نند چھولا، جمائی بابا اور چمرٹولے کے لوگ گاؤں کے تھانے میں بلاتکار کی رپورٹ درج کرانے جاتے ہیں تو پہلے کانسٹیبل اس کے بعد تھانیدار کا جو غیرانسانی رویہ ہے، وہ گویا پورے سسٹم کے گلے سڑے ہونے کو واشگاف کرنے کی فن کارانہ کوشش ہے۔ کہانی کا کلائمکس اس ذلت آمیز منظرنامہ سے ہٹ کر ہے۔ پہلے اخباری رپورٹر آتا ہے۔ پھر ایک کے بعد ایک ٹی وی چینل والوں کے ٹھٹھ کے ٹھٹھ لگ جاتے ہیں، موبائل وین، ڈش اینٹینا اور جینس پہننے والی اسمارٹ اینکروں کا بے حیائی سے الٹے سیدھے سوالات پوچھنا، یہاں تک کہ بھیلی اور اس کے ساتھ ہونے والی زیادتی ایک تجارتی commodity میں تبدیل ہوجاتی ہے اور بھیلی کا شوہر جیاون اور ٹی وی والے سب کے سب اس دھندے میں لگ جاتے ہیں۔ بھیلی کو لگتا ہے کہ وہ بلاتکار کا شکار مظلوم عورت نہیں بلکہ ایک بکاؤ مال بن چکی ہے اور ٹی وی چینل والے ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے لیے جیاون سے اس کا سودا کررہے ہیں۔ اس طرح برقیاتی میڈیا کی ایک دوسرے پر سبقت لے جانے والی کمرشیل ہوڑ کا یہ تکلیف دہ پہلو سامنے آتا ہے کہ کس طرح ایک حیوانی حملے کا المیہ پس پشت چلا جاتا ہے اور اجتماعی عصمت دری کا شکار قبائلی عورت فقط ایک بکنے والی چیز بن کر رہ جاتی ہے۔ یہ مہانگری زندگی کے زیرناف کا وہ روپ ہے جو برقیاتی میڈیا کے رنگین پردے پر آئے دن دکھائی دیتا ہے۔ افسانہ کی کامیابی اس میں ہے کہ کس طرح آج کا کمرشیل سماج ایک ’تماشا سماج‘ ہے جو انسانی المیوں کو بھی تماشہ میں بدل دیتا ہے۔ اب ’گھٹنا‘ وہ نہیں ہے جو ’گھٹ‘ رہی ہے بلکہ حقیقت وہ ہے جو اسکرین پر دکھائی جارہی ہے۔ بیانیہ کو جو چیز موثر بناتی ہے وہ آخری حصے کی سفاکی اور دردمندی ہے جو تہ نشیں آئرنی اور دبے دبے طنز کے استعمال سے پیدا ہوئی ہے۔
جیسے کہ اوپر ہم نے دیکھا بعض کہانیوں کی فضاسازی ہرچندکہ قصباتی معاشرت کے کوائف سے کی گئی ہے، لیکن ان کا رخ بھی میٹرو پلس شہروں کی بدلتی ذہنیت کی طرف کھلا ہوا ہے۔ کچھ کہانیاں نفسیاتی مسائل کے گرد گھومتی ہیں اگرچہ ان کی تعداد کم ہے۔ ایسی کہانیوں میں ’گم شدہ عورت‘ اور ‘زرد دھوپ‘ خاص ہیں۔ یہ ان کہانیوں میں ہیں جہاں افسانہ نگار نے عورت مرد کے رشتے کی تہیں کھولی ہیں، لیکن دونوں کہانیوں میں مرد ضمیمہ ہے اور عورت متن۔ ’گم شدہ عورت‘ کی سریکھا اور جگدیش کے رشتے میں ہمواری ہے۔ سریکھا دوبار حاملہ ہوتی ہے لیکن حمل ساقط ہوجاتا ہے۔ وہ چیک اپ کے لیے اسپتال میں داخل ہوتی ہے لیکن اچانک اپنے بستر سے غائب پائی جاتی ہے اور اس کی لاش اسپتال کے اسٹور روم سے ملتی ہے۔ پولس کی تفتیش سے پتہ چلتا ہے کہ موت سے قبل سریکھا کے ساتھ انٹرکورس کیا گیا۔ یعنی ریپ نہیں تھا۔ انسپکٹر جگدیش کو بتاتا ہے کہ اس کی پتنی سے ملنے والا شخص اس کے گاؤں کا تھا، وہ اسے بچپن سے جانتا تھا، لیکن جگدیش یقین کرنا نہیں چاہتا۔ وہ پولس سے پوچھتا ہے کہ کیا ملزم کا بیان بدلا نہیں جاسکتا، یعنی یہ کہ انٹرکورس نہیں سریکھا کا ریپ کیا گیا۔ سچائی معلوم ہوجانے کے بعد بھی جگدیش اپنے مائنڈ سیٹ سے باہر آنے کو تیار نہیں ہے۔ اُس کی نظر میں سریکھا کا ستی ساوتری کا جو امیج ہے وہ اس کو توڑنا نہیں چاہتا۔ انسانی رشتوں میں لاشعوری تہذیبی تصورات و توقعات کس قدر کارگر رہتی ہیں، کہانی اس گرہ کو پیش کرتی ہے۔
مرد اور عورت کے تہذیبی رویوں اور میلانات میں کبھی کبھی زمین آسمان کا فرق ہوتا ہے، ضروری نہیں کہ یہ فرق پہلے سے چلا آتا ہو۔ وقت کے محور پر ان میں تبدیلی ہوسکتی ہے اور دونوں یا ایک بدل بھی سکتا ہے۔ تہذیبی رویے یا طبعی میلانات بدلتے بھی ہیں اور نہیں بھی، ’مردہ دھوپ‘ اس کی مثال ہے جس میں راوی کے پھوپھا نے کچھ پہلے اپنی بیوی کی لاش کو مٹی دی ہے۔ وہ دیسی دارو کے ٹھیکے پر شراب سے لبالب بھرے گلاس کے سامنے گنہ گار کی طرح بیٹھا ہوا ہے۔ پھوپھا نے جوانی ہی میں گھر بار چھوڑ دیا تھا اور دوسری عورت کے ساتھ رہنے لگا تھا۔ خاندان کے لوگ پھوپھا کی عیب جوئی میں لگے رہتے تھے لیکن جب کوئی اس کی مے نوشی اور مقروض ہونے کے بارے میں پھوپھی سے کچھ کہتا ہے تو ہرچندکہ پھوپھی کی زندگی ویران ہوگئی ہے وہ اپنے شوہر کا اُسی طرح دفاع کرتی ہے اور اس کے عیوب پر پردہ ڈالتی ہے۔ بلانوشی کی وجہ سے پھوپھا اپنی تہذیبی قدروں سے دور ہوتے گئے تھے لیکن پھوپھی اپنے تہذیبی رویوں میں مرتے دم تک راسخ رہیں۔ محبت اور نفرت کا یہ ملا جلا رویہ ایک پُر اسرار ارتباط کو بھی راہ دیتا ہے، یعنی انھوں نے پھوپھا کو گھر سے تو نکال دیامگرجب تک زندہ رہیںزندگی سے نہ نکال سکیں۔
’کالے سفید پروں والے کبوتر‘ قصباتی اور شہری زندگی کے تال میل اور تضاد کی کہانی ہے۔ ’مردہ دھوپ‘ میں عورت ٹوٹ جاتی ہے لیکن اپنے تہذیبی لاشعوری رویے کو نہیں بدل سکتی۔ جبکہ ’کالے سفید پروں والے کبوتر‘ میں حضرت پیر سید خواجہ جلال الدین خاکی جو دنیا ترک کرچکے تھے اور مال و متاع اور مادی آلائشوں سے اوپر اٹھ چکے تھے، وہ اپنے بھانجے کی مدد کرنے کے لیے شہر میں آتے ہیں کہ موروثی جائیداد میں دوسرے بھائی خیانت نہ کریں لیکن رفتہ رفتہ مال و دولت اور جائیداد کا اندازہ کرکے خود ان کی ذہنیت بدل جاتی ہے۔ کہانی کا مرکزی نکتہ طمع ہے کہ انسانی ذہنیت باوجود شعوری دعاوی کے کس طرح اندر ہی اندر بدلتی ہے اور کمزوریوں کو راہ دیتی ہے۔ یہ نفسیاتی موڑ کہانی کے آخر میں آتا ہے اور بیانیہ میں خوبصورتی دینی توقعات کے بدل جانے سے پیدا ہوتی ہے۔ کہانی کا بڑا حصہ راسخ العقیدگی کی فضا میں رچا ہوا ہے اور مذہبی توقعات سے لبریز ہے۔خانقاہ کا منظر دیکھیے :
’’سب کی نظریں خانقاہ کے دروازے پر جم گئی تھیں جہاں سفید تہمد اور کرتے میں ایک بزرگ کھڑے تھے جن کی داڑھی اور گردن کے لمبے بال جگہ جگہ سے سفید ہوگئے تھے۔ سر پر مہین سفید کپڑے کا ایک بڑا سا رومال رکھا ہوا تھا۔
حضرت پیر سید خواجہ جلال الدین خاکی کھجور کے خشک پتوں کی چٹائی پر گاؤ تکیے سے پشت لگاکر بیٹھ گئے۔ وہاں موجود تمام لوگ بھی بالکل میکانیکی انداز میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے۔ قیمتی کپڑوں میں ملبوس عورتیں بنا کسی جھجک کے گندے کپڑے اور میلے جسم والی عورتوں کے ساتھ ننگے فرش پر بیٹھ گئیں۔ لوگ ایک ایک کرکے حضـرت کے سامنے جاکر عقیدت سے ہاتھ چومتے۔ دھیرے دھیرے کچھ کہتے ان میں کچھ ایسے بھی تھے جو حضرت کے ہاتھوں پر سر رکھ کر رونے لگتے اور وہ آنکھیں بند کیے سنتے رہتے اور سب کو تقریباً ایک سا جواب دیتے ۔۔۔ ’’مصائب خدا کا امتحان ہیں ثابت قدم رہو۔‘‘
جو زیادہ دکھی اور پریشان دکھائی دیتا اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر کچھ پڑھتے اور چہرے پر پھونک دیتے۔ ایسا شخص جب ان کے سامنے سے اٹھتا تو اس کے چہرے پر بشاشت ہوتی۔‘‘
کہانی کے آخر میں جب خواجہ جلال الدین خاکی کی ذہنیت بدلنے لگتی ہے تو بیانیہ چند رمزیہ جملوں کے ساتھ ختم ہوجاتا ہے : ’’اقبال (راوی) کو محسوس ہوا جیسے کمرے میں شام کی سیاہی گناہ کی طرح پھیل گئی ہے۔ وہ اندھیرے میں حیرت سے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ان کی آنکھوں میں مستقبل کے منصوبوں کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگا۔‘‘ یہ جملے ضرب کی طرح واقع ہوتے ہیں اور قاری کے ذہن کو صدمہ سے آشنا کرتے ہیں۔
’ایک چھوٹا سا جہنم‘ بھی نفسیاتی نکتہ کے گرد گھومتی ہے، لیکن یہ قلب ماہیت کی نہیں بلکہ ذہنی کشمکش کو جھیلنے کی کہانی ہے کہ مرکزی کردار کس طرح لاشعوری تناؤ پر قابو رکھتے ہوئے اپنے ضمیر کے فیصلے پر قائم رہتا ہے۔ ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ اور زندہ در گور‘ دونوں میں مہانگر کے فسادات اور قتل و خون کی دہشت ناک پرچھائیاں ہیں، لیکن یہ فسادات کی کہانیاں نہیں۔ ’ایک چھوٹا سا جہنم‘ میں ڈاکٹر نائک کے بچپن کے دوست شہزاد اور اس کی بیوی سیما کا چہرہ بار بار ابھرتا ہے۔ شہزاد نے ایک ہندو لڑکی کو بغیر کلمہ پڑھائے رفیقۂ حیات بنا لیا تھا۔ فساد ہوا تو بلوائیوں نے حملہ کرکے سیما کی نظروں کے سامنے شہزاد کو قتل کردیا۔ نہیں کہا جاسکتا کہ شہزاد کو سیما کے رشتہ داروں نے قتل کرادیا یا شہزاد کے مسلمان دوستوں نے ہی اسے مروا دیا۔ مقتول شہزاد کا چہرہ ڈاکٹر نائک کے خیالات میں بار بار ابھرتا ہے جبکہ وہ ایک ایسے ایمرجنسی مریض کو دیکھ رہا ہے جو اتفاق سے لیڈر ہے اور جس کے ہلکے سے اشارے پر شہر میں فساد پھوٹ پڑتا ہے اور انسانی زندگی جانور سے بھی حقیر بنا دی جاتی ہے۔ ڈاکٹر نائک سوچتا ہے کہ ایسے لوگوں ہی نے شہزاد کا قتل کیا ہے، کیوں نہ وہ اس کا مانیٹر بند کردے اور اسے مرنے دے کیونکہ ایسے لوگوں کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ آئی سی یو میں مریض مشینوں اور آکسیجن کی مدد سے زندہ ہے۔ ڈاکٹر نائک بار بار سوچتا ہے کہ اگر وہ چاہے تو اپنے دوست شہزاد کی موت کا بدلہ اس شخص سے لے سکتا ہے فقط ایک مشین کو سوئچ آف کرنے سے۔ لیکن بدلہ کی خواہش کے آگے وہ سر نہیں جھکاتا، اور ٹیک ریسٹ کہہ کر باہر نکل جاتا ہے۔ افسانہ نگار نے استعارتاً مہانگر کے جس لیڈر کی طرف اشارہ کیا ہے بیانیہ کو پڑھنے والا کوئی بھی حساس قاری اس کا اندازہ لگا سکتا ہے۔ غورطلب ہے کہ شہزاد کے امیج کے بار بار ہانٹ کرنے کے باوجود ڈاکٹر زندگی کا ساتھ دیتا ہے موت کا نہیں۔
’زندہ در گور‘ میں بھی مہانگر کے فسادات کی فضا ہے۔ دیکھا جائے تو قتل و غارت اور نقضِ امن مہانگر کے معاشرتی زیرناف کا حصہ ہے۔ لیکن افسانہ نگار کا مسئلہ نہ اکثریتی ڈسکورس ہے نہ اقلیتی۔ یہ کہانی اہم اس لیے ہے کہ افسانہ نگار نے اس میں آئے دن رونما ہونے والے فسادات کو جو ایک پامال موضوع ہے، بالکل ایک نئی سطح پر لیا ہے اور بیانیہ کی تشکیل کرتے ہوئے ایک ایسا چبھتا ہوا سوال اٹھایا ہے جس کا جواب آسان نہیں۔ اس موضوع پر اتنا کچھ لکھا جاچکا ہے کہ اب کوئی کتنا زور مارے میلوڈرامہ کا خدشہ رہتا ہے۔ ساجد رشید اس سے بچ نکلے ہیں۔ بیانیہ نہایت کسا ہوا، مختصر اور امیج آفریں ہے، اسٹوری لائن ہر سطر کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور منظرنگاری اور مکالمہ سازی اتنی موثر ہے کہ ہر چیز آنکھوں کے سامنے رونما ہوتی معلوم ہوتی ہے۔ مجید اور نورین اپنے بیٹے پپو اور دودھ پیتی بچی کے ساتھ ہاؤسنگ بورڈ کی دومنزلہ عمارت میں جہاں رہتے ہیں وہاں قریب ہی کھلے صحنوں پر پترے کی غیرقانونی کھولیاں بن گئی ہیں۔ کھولیوں کے بچے چھوٹی چھوٹی گلیوں میں شور مچاتے ہوئے کھیلتے رہتے ہیں۔ شام ہوتے ہی سگریٹ پان کی گمٹیوں اور چھوٹے چھوٹے چائے خانوں میں رونق ہوجاتی ہے۔ لیکن اب منظر دوسرا ہے۔ فساد پھوٹ چکا ہے۔ مجید کا دوست ہیمنت مجید کو بار بار فون کرکے کہتا ہے کہ سمے بہت خراب ہے۔ لوگوں پر دھرم اور ذات پات کا بھوت سوار ہے، تم کسی سرکشت جگہ پر چلے جاؤ۔ وہ یہ بھی کہتا ہے کہ میں تمھاری فیملی کو اپنے گھر پر رکھ لیتا لیکن کیا کروں کل کے دنگے کے بعد سے ٹینشن بہت ہے۔ مجید اور نورین بار بار سوچتے ہیں کہاں جائیں، گھر چھوڑنا بھی نہیں چاہتے۔ اچانک دروازے پر دستک ہوتی ہے۔ سامنے مسلح سات آٹھ نوجوان کھڑے ہیں۔ نورین پر کپکپی طاری ہوجاتی ہے :
’’آج لفڑے کا چانس ہے۔ ایک دبلے پتلے نوجوان نے آگے بڑھ کر سرگوشی کے انداز میں کہا ہوشیار رہنا پانی اُبال کر رکھو اگر بہن چود حملہ کریں تو اوپر سے پانی ڈالنا ویسے ہم لوگ ان کی میت سلانے کے لیے کافی ہیں۔‘‘
اس بیچ ہیمنت دوبارہ فون کرتا ہے۔ کسی سرکشت مقام پر چلے جاؤ۔ بالآخر مارے خوف کے یہ نکل کھڑے ہوتے ہیں۔ پپو اپنے طوطے کا پنجرہ بھی اٹھا لیتا ہے۔ پے بہ پے خطرات سے گزرتے ہیں۔ سوچتے ہیں کہاں جائیں کس سے پناہ مانگیں۔ قانون کی پاسبانی کرنے والے تو حملہ آوروں سے بھی زیادہ وحشی ہیں۔ عورتوں کی چیخ پکار بچوں کے رونے کا شور مردوں کی للکار کی آوازیں بڑھتی جاتی ہیں۔ یہ ہانپتے کانپتے چلتے رہتے ہیں۔ آس پاس لوگ بدحواس بھاگتے ایک دوسرے سے ٹکراتے نظر آتے ہیں۔ آسمان پر روشنی کا بڑا سا ہالہ پھیل رہا ہے جیسے کہیں آگ لگی ہو، ایک جیپ کچھ فاصلے پر آکر رک جاتی ہے۔ پولس کی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص نشیب میں پیشاب کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے۔ یہ چھپ جاتے ہیں۔ جہاں جہاں کوئی ٹیلی فون بوتھ نظر آتا ہے اپنے گھر کو فون کرتے ہیں گھنٹی بجتی ہے تو عافیت کا احساس ہوتا ہے کہ حملہ نہیں ہوا۔ بالآخر فون ڈیڈ ہوجاتا ہے تو خوف سے کانپنے لگتے ہیں۔ نورین اور پپو سے اب چلا نہیں جاتا۔ گود میں سوئی بچی اور پنجرے میں جھولتا طوطا بھی چیخنے لگتا ہے۔ آس پاس سے طرح طرح کا شور اٹھتا ہے جیسے کوئی کسی کو مار رہا ہو ذبح کررہا ہو زندہ جلا رہا ہو۔ بیانیہ کے یہ ٹکرے دیکھیے :
’’اچانک خاکستری اندھیرے میں سے ایک نوجوان نمودار ہوا۔ وہ انھیں کی طرف بے تحاشہ دوڑا چلا آرہا تھا۔ نصف چاند کے اجالے میں مجید نے دیکھا کہ اس کا منہ کسی تھکے ہوئے گھوڑے کی طرح کھلا ہوا ہے لیکن اس کی اُبلی پڑ رہی آنکھوں میں چاندنی کی نہیں موت کو مدمقابل دیکھ لینے کی وحشتناک چمک ہے۔ وہ ہانپتا ہوا ان کے قریب سے تیر کی طرح گذر کر مسجد والی گلی میں گھس گیا۔ نورین مڑ کر سکتے کے عالم میں یہ سب دیکھتی رہ گئی۔ بدحواس نوجوان جس سمت سے آیا تھا وہیں سے دس پندرہ لوگوں کا ایک غول گنڈا سہ، تلواریں اور گپتیاں لہراتا ہوا اس کے تعاقب میں شکاری کتوں جیسی وحشیانہ رفتار سے ایسے گذرا کہ ان کے دوڑتے قدموں کی آواز کے علاوہ دوسری کوئی آواز ہی سنائی نہیں دے رہی تھی۔ مسلح نوجوانوں کا غول جب دوڑتا ہوا مسجد والی گلی میں غائب ہوگیا تو وہ تینوں زندگی کی سانسیں بچانے کے لیے ٹرک کے نیچے سے نکلے اور دوڑتے ہوئے سڑک پار کر کے قبرستان کی چہاردیواری سے لگ کر کھڑے ہوگئے۔‘‘
موت کی دہشت کو سامنے دیکھ کر یہ قبرستان کی دیوار سے دوسری طرف کود جاتے ہیں۔ نیم تاریکی میں دور تک شکستہ اور ٹوٹی پھوٹی قبریں بکھری ہوئی ہیں۔ برگد اور پیپل کے گھنے پیڑوں کی طرف بھیانک اندھیرا ہے۔ وہ قبرستان جو دن کے وقت بھی ڈراؤنا محسوس ہوتا تھا مجید اور نورین کو اس مصیبت کی گھڑی میں امن کی پناہ گاہ معلوم ہوتا ہے۔ انسانی بستی میں انسان ایک دوسرے کے خون کا پیاسا ہورہا ہے، ایسے میں قبرستان جہاں دن میں بھی موت کا سایہ لہراتا رہتا ہے، اس وقت امن و عافیت کا گہوارہ معلوم ہوتا ہے۔ گھر چھوڑ کر بھاگنے والے ان بے سہارا انسانوں کو یہاں انسان سے کوئی خطرہ نہیں۔ گویا انسان زندوں سے بھاگ رہا ہے اور مُردوں میں عافیت ڈھونڈھ رہا ہے۔ سوال زندگی کی بقا کا ہے کہ کیا زندگی کو انسانوں میں نہیں بلکہ مُردوں میں پناہ ملے گی؟
’راکھ‘ بھی ایک ایسی کہانی ہے جو ہرچندکہ ہندو مسلم تناظر میں لکھی گئی ہے، فرقہ وارانہ منافرت یا رواداری کی کہانی نہیں بلکہ بیک وقت دونوں کی ذہنیتوں کے ٹکراؤ کی کہانی ہے اور دونوں کے لاشعوری تہذیبی رویوں کے تضادات کو فنکارانہ مہارت سے بے نقاب کرتی ہے۔ آپسی رشتہ قائم کرنے والی دو روحوں کو والدین اور رشتہ داروں کے تہذیبی میلانات کی وجہ سے جس کربناک اذیت سے گزرنا پڑتا ہے کہانی ان کے جذباتی نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے ایک ایسا منظر پیش کرتی ہے جہاں دباؤ فقط ایک فرقہ کا ہی نہیں دونوں کا ہے۔ ہماری بیشتر کہانیوں میں یہ رخ یا وہ رخ پیش کیا جاتا ہے اور قاری کی نظر اس پر رہتی ہے کہ افسانہ نگار نے ڈنڈی کہاں ماری ہے۔ سارا زور اسی پر صرف ہوتا ہے کہ فرقہ وارانہ ذہنیت کی مذمت ہوسکے اور باہمی ہم آہنگی اور رواداری کو پیش منظر میں رکھا جائے۔ ’راکھ‘ کا بیانیہ قطعاً ایسے کسی بوجھ سے دبا ہوا نہیں۔ اس کی بڑی خوبی اس کی معنی آفرینی اور کسا ہوا ہونا ہے جس میں واقعات آگے پیچھے آتے ہیں، واردات تواتر سے رونما ہوتی ہے اور ہر واقعہ مائل بہ ارتکاز نظر آتا ہے۔ جمال اور شمع میں محبت ہوجانا کوئی انہونی بات نہیں۔ شمع کا اصلی نام شماکلکرنی تھا۔ جمال شما کے برہمن والدین سے کہتا ہے کہ وہ دھرم بدل لے گا اور ہندو بن جائے گا لیکن وہ سویکار نہیں کرتے۔ البتہ جب اپنی ماں سے گفتگو کرتا ہے تو وہ شرط رکھتی ہے کہ لڑکی مسلمان ہوجائے تو تمہارے ابو کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔ بہرحال شما کلکرنی مذہب بدل کر شمع جمال بن جاتی ہے۔ دونوں خوشی سے رہنے لگتے ہیں۔ شمع مراٹھی میں قرآن پڑھتی ہے لیکن اپنا منگل کے برت کا معمول بھی جاری رکھتی ہے اور جب تک جمال گھر نہیں آجاتا وہ اپنے پتی پرمیشور سے پہلے کھانا بھی نہیں کھاتی۔ شمع حاملہ ہوتی ہے لیکن کچھ ہی مدت بعد اسے یرقان ہوجاتا ہے۔ ڈاکٹر کو بلوایا جاتا ہے، یرقان اپنے آخری اسٹیج پر ہے، پیشتر اس کے کہ اسپتال لے جایا جائے شمع کا انتقال ہوجاتا ہے۔ میت گھر میں رکھی ہے۔ بیانیہ میں یہ منظر بار بار ابھرتا ہے۔ میت کو غسل کے بعد کفن پہناکر دیدار کے لیے رکھا گیا ہے۔ تلاوت کی آواز ماحول کو مزید سوگوار بنا رہی ہے۔ ابو پوچھتے ہیں کہ تدفین کب ہوگی جمال کہتا ہے کہ وہ شمع کو قبرستان نہیں شمشان لے جائے گا کیونکہ شمع نے اس کے مذہب سے متاثر ہوکر اپنا مذہب نہیں بدلا تھا بلکہ اس کو حاصل کرنے کے لیے اپنے مذہب کو بدلنے کی رسم ادا کی تھی۔ جمال داہ سنسکار کرکے شمع کی آتما کو سکون پہنچانا چاہتا ہے۔ ابو غصے کو برداشت نہیں کرسکتے اور امی کا ہاتھ کھینچتے ہوئے سیڑھیوں سے اتر جاتے ہیں۔ شمع کے برہمن ماں باپ نے تو شادی کے دن سے ہی منہ موڑ لیا تھا۔ دونوں طرف سے ٹھکرایا ہوا جمال کہانی کے آخر میں شمع کے والدین کے دروازے پر کھڑا ہے اور اس کے ہاتھ میں چھوٹی سی کلسی ہے جس کے منہ پر سرخ کپڑا بندھا ہوا ہے۔ وہ کہتا ہے تو فقط اتنا :
’’میں آپ کی بیٹی کو لوٹانے آیا ہوں۔‘‘
مہانگر میں آئے دن بین المذہبی شادیاں ہوتی ہیں۔ یہ کوئی نئی بات نہیں لیکن تبدیلیٔ مذہب کے بعد بھی اس فرقے کے لیے یا اس فرقہ کے لیے قابل قبول نہ ہونا دونوں فرقوں کے سفاکانہ غیرانسانی رویوں کو ظاہر کرتا ہے۔ ایسی صورت میں بالعموم یہ ہوتا ہے کہ لڑکی یا لڑکے کے تبدیل مذہب کے بعد اگر ایک فریق نہیں تو دوسرا فریق قبول کرلیتا ہے، لیکن یہاں دونوں طرف استرداد ہے۔ کہانی کار کی خوبی یہ ہے کہ وہ کسی فرقے کو مورد الزام نہیں ٹھہراتا بلکہ دونوں کے تہذیبی رویوں کے تضادات کو بطور واقعہ نشان زد کردیتا ہے۔ بیانیہ میں بین السطور آئرنی ironyکی ایک لہر چلتی ہے۔ میت سفید چادر میں لپٹی ہوئی رکھی ہے، اگربتیوں کا دھواں پھیل رہا ہے۔ مرنے والی نے مذہب بھی تبدیل کیا اور زندگی کو بھی ٹھکانے لگادیا لیکن اس کا ایثار و قربانی پھر بھی قابل قبول نہ ہوا۔ نہ ہی جمال کی پیش کش قبول ہوئی، نہ ہی داہ سنسکار کرنے کا اس کا فیصلہ قابل قبول ہوا۔ روح کی تہوں تک اترے ہوئے معاشرتی اور تہذیبی رویوں کے المناک تضاد کو کہانی کار نے جس طرح چند صفحوں کے بیانیہ میں ابھارا ہے اس سے بلاشبہ اس ڈسکورس کی ایک نئی جہت سامنے آتی ہے۔ یہاں بھی مہانگر کی تیز رفتار زندگی کی تبدیلیاں اور تقاضے بیک وقت قدامت پسندانہ تہذیبی رویوں کے ساتھ ساتھ موجود ہیں جو آج کے گلوبل معاشرے میں سماجی ڈسکورس کی خاص پہچان ہے۔
اوپر ہم نے ساجد رشید کے جہانِ معنی کی ایک جھلک دیکھی اور ان کی کچھ کہانیوں کے متن کے اندرون میں جھانکنے کی کوشش کی۔ اس دوران ان کی بعض بہترین کہانیوں سے بھی ہم نے ملاقات کی۔ تنقید جتنا معروضی عمل ہے اتنا موضوعی عمل بھی ہے۔ ضروری نہیں کہ سب پڑھنے والے ان کہانیوں کو اس طرح دیکھیں جیسے کہ ہم نے دیکھا ہے۔ کوئی دوسرا ان متون کو کسی اور طرح سے بھی پڑھ سکتا ہے۔ ساجد رشید کی جڑیں یوپی کے قصبات میں ہیں، ان کی سائیکی میں قصباتی آرکی ٹائپ بھی ابھرتے ہیں لیکن ان کے شعور نے metropolis ممبئی (مہانگر) کی تیزی سے بدلتی ہوئی کمرشیل فضا میں آنکھ کھولی جہاں برقیاتی ترقی کی تماشا سوسائٹی میں گلوبلائزیشن کی خیرہ کردینے والی ریل پیل و صارفیت نے انسان کو بے حس بنا دیا ہے۔ نیز جھونپڑ پٹیوں اور کھولیوں کی عفونت زدہ جرائم کی دنیا جہاں انسان کی زندگی کیڑے مکوڑوں سے بھی بدتر ہے۔ بڑے میٹروپلس کی پہچان فقط آبادیوں کی ریل پیل اور تضادات سے ہی نہیں ہوتی، وہ ایک جیتا جاگتا ثقافتی وجود بھی ہوتے ہیں۔ ایسے ہر شہر کی اپنی پہچان اور اپنا کردار ہوتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ نمو کرتا ہے اور منقلب بھی ہوتا رہتا ہے۔ مہانگر کے تہذیبی اور سماجی مسائل کے بارے میں متعدد لوگوں نے لکھا ہے لیکن ساجد رشید کے افسانوں میں جس طرح آج کے میٹرو کا وجود ابھرتا ہے اور جس فن کارانہ سفاکی سے انھوں نے مہانگر کے زیرِناف اور دوسرے پہلوؤں کے بارے میں بیانیہ تشکیل دیا ہے وہ انہی کا حصہ ہے۔ ان کے زیادہ تر کردار حاشیے کے لوگ ہیں۔ جیسے کہ ہم نے اوپر دیکھا، ان کے یہاں دوسرے مسائل اور موضوعات پر کہانیاں بھی ہیں لیکن جس تخلیقی محویت اور رچاؤ سے انھوں نے آج کے مہانگری تضادات اور ان کے گھناونے پہلوؤں کو اجاگر کیا ہے وہ ان سے خاص ہے۔ اس نوع کے سماجی ڈسکورس میں نفسیاتی مسائل بھی ہیں۔ جرائم پیشہ داداگیری اور پولس کی بدکاریوں کے مرقعے بھی ہیں، مذہبی منافقت اور ریاکاری کے لاینحل تضادات بھی ہیں۔ وہ ان کی جیتی جاگتی پہچان کو پیش کرتے ہیں اور مہانگر کا وجود اور اس کا subaltern بین السطور میں سانس لیتا معلوم ہوتا ہے۔ ایسی کہانیوں میں میں ’زندہ در گور‘، ’راکھ‘، ’جنت میں محل‘، ’چادر والا آدمی اور میں‘، ’اندھیری گلی‘، اور ’بادشاہ بیگم اور غلام‘ کو ضرور شامل کروں گا، ہوسکتا ہے دوسروں کو دوسری کہانیاں پسند ہوں لیکن میرے نزدیک ان کے بیانیہ سے یہ بشارت ضرور ملتی ہے کہ ساجد رشید کا فن اب پختگی کی اس منزل میں ہے کہ ان سے توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اردو کو مہانگر کے سانس لیتے ہوئے سماجی اور ثقافتی وجود کے بارے میں ایسا ناول دیں جو اپنی مثال آپ ہو۔
Muqaddar Hameed : Shoor Angezi ke Beghair Kahaniyan
Articles
مقدر حمید: شور انگیزی کے بغیر کہانیاں
اقبال مجید
مقدر حمید کا پہلا افسانوی مجموعہ ’زربیل‘ ۸۹ کے اواخر میں اشاعت پذیر ہوا تھا۔ جس میں ڈیڑھ درجن کہانیاں شامل ہیں۔ اس لحاظ سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ان کا تعلق آٹھویں دہائی میں سامنے آنے والے افسانہ نگاروں میں کیا جاسکتا ہے۔
اردو فکشن کا باشعور قاری اس حقیقت سے واقف ہے کہ آٹھویں دہائی تک آتے آتے اردو افسانہ دو اہم ادبی رجحانات سے گزر چکا تھا جنھیں ترقی پسند تحریک اور جدیدیت کے رجحان سے پہچانا جاتا ہے۔ ان دونوں رجحانات کی اپنی اپنی خصوصیات تھیں جن پر برسوں بحثیں ہوئی ہیں اور دفتر کے دفتر لکھے گئے ہیں۔
آٹھویں دہائی کے لیے ادب میں نظریہ سازی کا عہد مشکوک ہوچکا تھا اور ادب اور پوسٹر کے لوازمات میں جو فنی فرق تھا اس پر چھائی ہوئی دھند چھٹ چکی تھی اور اس حقیقت پر ایمان لے آیا گیا تھا کہ کسی سیاسی نظریے کی گود میں پلا ہوا ادب اور ادب کی گود میں پلا ہوا کوئی نظریہ دو الگ الگ چیزیں ہیں اور آخر الذکر اوّل الذکر کے مقابلے میں کہیں زیادہ مستحسن ہے۔ افسانے میں در آئے ماضی قریب کے خطیبانہ رویے اور رومانیت زدہ نثر بھی فیشن سے باہر ہوچکی تھی۔ کرشن چندر وغیرہ کے افسانوی سرمائے کو کھنگالا جا چکا تھا یہ دیکھنے کے لیے کہ وہ کون سے اجزا ہیں جو افسانے کو فارمولا کہانی بناتے ہیں اور انھیں جذباتیت کی آنچ میں پگھلا کر ان کا حلیہ بگاڑ دیاکرتے ہیں۔ اس پر بھی باتیں ہوچکی تھیں کہ آدھی ادھوری زندگی کی سطح ترجمانی کا کھیل کھیلنایا علامت اور تجریدیت کے مکڑ جال تیا ر کرنے کا نام فکشن نہیں ہے۔ لاشعور کے نہاں خانوں کی سیر و تفریح میں جو بدسلیقگی اور معاشرے کے قومی مزاج کے خلاف جو بے اعتدالی برتی جاچکی تھی اس کے منفی نتائج بھی سامنے آچکے تھے اور اس طرح کی فکشن نگارکی ہی نہیں بلکہ افسانے کے قاری کی بھی جانے انجانے نئی تربیت اور تعلیم ہوچکی تھی۔ اس طرح افسانہ نگار اور افسانے کا قاری اس دہائی میں ایک صورتِ حال سے دوچار ہورہا تھااور قاری کے اپنے عہد کے افسانے سے جو مطالبات ہورہے تھے انھیں مہدی جعفر کے لفظوں میں یو سمیٹ دیا گیا تھا:
’’قاری دیکھے گا کہ افسانے کی پراسس کو جن سطحوں پر لے کر چلا ہے وہ سطحیں بخوبی اُجاگر ہوئی ہیں یا نہیں، اس لیے ہر سطح خوب ہونا چاہیے۔ محض پلاٹ کی بات نہیں ، بیان بھی، محض عمل ہی نہیں ردِّ عمل بھی، محض تفاعل نہیں تشکیل بھی، محض میڈیم ہی نہیں مقناطیسیت بھی ، محض واقعہ نہیں صورتِ حال بھی، محض کہانی نہیں عہدِ حاضر بھی، محض تخلیق نہیں نمائندگیِ اظہار بھی۔‘‘
یہی نہیں سن ۸۰ کی دہائی میں فکشن نگاروں نے زندگی جو کہ ادب کو خام مال مہیا کرتی ہے کی جانب سے لا ابالی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا بھی بند کردیا تھا جس کی جدیدیت کے رجحانات نے بنا ڈالی تھی اور خاطر خواہ پرورش کی تھی۔ یعنی زندگی کو مہمل اور بے معنی شئے بتایا گیا تھا، فرد اور ذات کو اولیت دے کر اس کے ڈھنڈھورے پیٹے گئے تھے جس کے نتیجے میں معاشرے کی خارجی زندگی ٹاٹ باہر ہوچکی تھی اور مزید یہ کہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا تھا کہ فن میں ترسیل کا معاملہ کوئی اہمیت نہیں رکھتاکیوں کہ ابلاغ کا عمل ایک پیچیدہ اور بعید از امکان عمل ہے۔ جدیدیت کے اندرون کے سیر سپاٹے کی بیماری کی حد تک بڑھ جانے والے شوق نے ادیب سے اس کے سماجی شعور کی پرکھ کرنا یہ کہہ کر بند کردی تھی کہ سماجی شعور پنساری کی دکان ر بھی مل جاتا ہے ، اب یہ بات افسانہ نگاروں کو قبول نہیں رہ گئی تھی۔ آٹھویں دہای کی نسل نے جدیدیت کے ایسے تمام منفی اثرات سے اپنا دامن جھاڑ لیا تھا اس نے افسانے کو پرکھنے کے وہ سارے پیمانے مسترد کردیئے تھے جن سے شاعری کو پرکھا جاتا تھا اور یہ انتظار کرنا بند کردیا تھا کہ نثر میں فکشن کو پرکھنے کے نئے پیمانے مرتب ہوجائیں تو وہ لکھنا شروع کرے کیونکہ ادب کے کاروبار تخلیق کو ہی اکثر تنقید کے آگے آگے چلنا پڑتا ہے۔
اس مختصر سے ادبی پس منظر کی روشنی میں دیکھا جائے تو مقدر حمید اس دشت نوردی میں کم سے کم ۲۵ سال کا طویل تو پورا کر ہی چکے ہیں۔ انھیں اپنے دوسرے افسانوی مجموعے ’ابرکاری‘ کی اشاعت کے موقع پر غالباً یہ احساس ہوا کہ وہ اپنے قارئین سے اپنا ادبی موقف اور اپنی ترجیحات کا ذکر کردیں چنانچہ انھوں نے ’عرضِ حال‘ کے طور پر کچھ ایسی پتے کی باتیں کہہ دیں جن سے افسانے میں ان کے فنی رویوں کا سراغ بھی مل جاتا ہے۔ جو ان کے فن کی تعین قدر میں ہماری مدد کرتا ہے۔ اس کے مطالعے سے ان کا یہ خدشہ سامنے آتا ہے کہ ’ یہ جو مابعد جدیدیت کے زیرِ اثر سماجی سروکار اور سیاسی آگہی کا راگ الاپا جارہا تو کہیں ایسا نہ ہو کہ اس کی زد میں افسانے کی لازوال فنی اور جمالیاتی قدریں آجائیں۔‘انھوں نے افسانے کے ’جادۂ معتبر‘ کی پہچان پہچان بتاتے ہوئے یوں کہا کہ ’’نامیاتی،افسانے کا سروکار زندگی کی بے معنویت سے نہیں بلکہ معنی آفرینی سے ہے، زندگی کو کلی صداقت کے روپ میں تسلیم کرنا اور معنی خیز لمحات کو تابندگی عطا کرنا ہی آج کے افسانے کا جادۂ معتبر ہے۔ ‘‘ساتھ ہی ساتھ یہ بھی واضح ہوجاتا ہے کہ وہ کسی مخصوص ادبی تحریک یا رجحان سے نہ تو مرعوب ہیں اور نہ اس کے معتقد۔ ان کا کہنا ہے ’’عقیدت مندی بعض کے نزدیک وصف ہو تو ہو میری نظر میں اندھی عقیدت سے بڑی کوئی خرابی نہیں۔ شعوری طور پر کبھی کسی خاص تحریک ، کسی خاص گروہ کی پیروی کو شعار نہیں کیا، اپنی بات کہنے کے لیے کہانی کی تصویر کو جو بھی فریم راس آئی اسے اپنانے سے احتراز نہیں برتا، ہر تخلیقی سرگرمی تن دہی ، دیانت ، تمام تر محویت بلکہ جنون کی متقاضی ہوتی ہے۔‘‘
مقدر حمید کے افسانوی سفر کے تینوں ادوار کو سامنے رکھتے ہوئے یہ دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے کہ انھوں نے اپنی کہانیوں کے لیے بیشتر طور پر شفاف بیانیہ کی ہی راہ اپنائی ہے۔ ان کے پہلے مجموعے کے افسانے زربیل، فریم سے باہر کی تصویریں، اداکار، دوریاں وغیرہ پھر دوسرے افسانوی مجموعے کے افسانے یاد گلی، ابرکاری، بدلتے موسم وغیرہ سب ہی کا بیانیہ صاف ستھرا ہے۔
زربیل سیدھا سیدھا بیانیہ تو ہے لیکن اس افسانے میں Money Plantیعنی زربیل کو آج کے معاشرے پر طنز کرنے کے لیے ایک خوبصورت اور بامعنی استعارہ بنایا گیا ہے۔یعنی جس طرح Money Plant کو دوسرے کے پاس سے چرا کر اپنے یہاں نہ لگایا جائے وہ بیل منفعت بخش ثابت نہیں ہوتی اسی طرح آج کی معیشت میں جب تک چوری چکاری نہ کی جائے وہ آسودہ حالی سے نہیں نوازتی۔ صرف زربیل ہی نہیں بلکہ وہ سارے افسانے جن کے عنوانات اوپر درج کیے گئے ہیں اور پھر نئے افسانوی مجموعے ’جل ترنگ‘ کے نمائندہ افسانے ’نَے چراغے ، نَے گُلے‘ دل کاری، شام نامہ، صبح گاہی ‘ وغیرہ سب ہی آج کے سماجی سروکاروں سے آراستہ ہیں۔
افسانہ ’ابرکاری‘ ایک شفاف بیانیہ ہے، یہاں بھی اگرچہ محیرالعقول واقعہ کو لے کر کہانی بُنی گئی ہے مگر اس کا سروکار اخلاقی اور سماجی ہے۔ مقدر حمید نے پیاسوں کو ان کی پیاس کی شدت میں بے دردی کے ساتھ پانی پلائے بغیر دروازے سے دھتکارتے ہوئے دکھایا ہے پھر ان معنی خیز لمحات کو کہانی کے اختتام میں نئی جلا بخشی ہے۔ کہانی اپنی بین السطور میں کہی ہوئی پائی جاتی ہے کہ دوسروں کو پیاسا رکھو گے تو قدرت تمھیں پیاسا رکھے گی۔ قدرت انسانوں سے ایسی ہی ابرکاری کی توقع رکھتی ہے۔
بدلتے موسم بھی ہمارے آج کے سماجی سروکاروں سے خای نہیں۔ بیٹا ایک غیر مسلم لڑکی سے محبت کی شادی کرنا چاہتا ہے، باپ اگرچہ مخالف ہے مگر لڑکے لڑکی کو ملنے ملانے کی آزادی دیتا ہے۔ لڑکے کی ماں آخرکار لڑکی کو پسند کرنے لگتی ہے مگر کچھ دنوں بعد لڑکا اور لڑکی خود ہی فیصلہ کرتے ہیں کہ ان میں خاصی دوریاں ہیں اور شادی کے بندھن میں بندھنا مناسب نہ ہوگا۔افسانہ نگار کی نظر اس افسانے میں محض سماجی سروکاروں کے کسی پیٹنٹ نسخے اور اس کے ترکیب استعمال پر نہیں ہے یا یہ نظریہ سازوں کے کسی گروہ کی جانب سے مہیا کی گئی ساجی حقیقت نگاری کی کوئی لیکھ بھی نہیں ہے جس پر افسانہ نگار کو چلنے کا حکم ملا ہو۔ کہانی میں جواقع ہوا ہے یعنی لڑکے اور لڑکی کا یہ فیصلہ کرنا کہ شادی کرنا مناسب نہ ہوگا یہ افسانے کے کردروں کے اپنے اتصال اور ذہنی و جذباتی تصادم کا نتیجہ ہے۔ یعنی ایک مخصوص صورتِ حال میں جو کچھ واقع ہوا وہ غیر فطری اور قیاس سے باہر نہیں ہے۔ افسانہ اس واقعہ پر قاری کو اعتبار کرلینے پر مجبور کرتے ہوئے مزید غور و فکر کی راہ فراہم کرتا ہے۔ گویا مقدر حمید کے افسانوں کا پہلا وصف ہی یہی ہے کہ وہ خارجی دنیا سے مطابقت رکھتے ہوئے تخلیق میں داخلی ہم آہنگی کو قائم کرتے ہیں۔
مقدر حمید ، سریندر پرکاش کی طرح کبھی کبھی اپنے افسانوں کے عنوانات قائم کرنے میں تازہ کاری سے کام لیتے ہیں مثلاً ’ دل کاری‘ انھوں نے ایک اچھا لفظ گڑھاہے۔ افسانے کے موضوع او اس کے طرزِ اظہار دونوں میں ندرت اور تازگی ہے۔ Chat Shaow کی تکنیک کو استعمال کرکے افسانے کو بتدریج آگے بڑھایا گیا ہے جو دلچسپ بھی اور لائقِ توجہ بھی ، افسانہ بڑی خاموشی سے ایک سوال اپنے قاری سے پوچھ کر ختم ہوجاتا ہے اور وہ سوال ہے کاش سرجری کے ذریعے دل کی رگوں میں جس طرح خون کی روانی میں رکاوٹیں دور کی جاتی ہیں ویسے ہی سرجری کے ذریعے دل کی کدورتوں اور نفرتوں کو بھی کسی طور دور کیا جاسکتا۔
یہاں پر یہ یاس دلاتا چلوں کہ نئے عہد کے سائنٹسٹوں نے انسنا کو فطری طور پر Geniticallyاور Neorologically ناقص بتایا ہے۔ انسان سے ہم مطلوبہ نیکی کا عمل تب ہی چاہ سکتے ہیں جب ہم اس کے Genesمیں تبدیلی کریں۔
ان افسانوں کو پڑھ کر بعض جگہوں پر سب سے پہلے جو بات متوجہ کرتی ہے وہ افسانہ نگار کی زبان ہے۔ مقدر حمید ناصر بغدادی کی طرح کبھی کبھی بھاری بھرکم ، کتابی اور مجلسی ٹھپّے کے الفاظ استعمال کرجاتے ہیںجو فکشن پڑھتے پڑھتے برک سا لگا دیتی ہے اور قاری ایک پل کو اس لفظ کو رک کر دوچار بار دہراتاہے تب آگے بڑھتا ہے۔ یہ درست ہے کہ کبھی کبھی ایسی نثر موضوع کی ضرورت ہوتی ہے لیکن پڑھنے والے کویہ محسوس نہ ہونا چاہیے کہ افسانہ نگار نے خود زبان کا چٹخارہ لینے کے لیے عبارت آرائی کی ہے۔ مثلاً ’’ نہ سورج اُگے گا، نہ چاند کی نرم و سبک کرنیں اپنے لمس سے خوابیدہ سر شاریوں کو جگائیں گی۔‘‘
’’لیکن منظر کوئی سا ہو، دلکش، دل رُبا یا ہھر اندوہناک، اسے ثبات کہاں ، بھلے ہی قریب کے لمحات یادیں بن کر سینے میں ہوک اٹھائیں یا لمبی تاریک راتوں کے عفریت دل میں برچھیاں پیوست کریں۔ ‘‘ پرتکلف اور شاعرانہ زبان آج کی کھردری، سفاک اور برہنہ حقیقت بیان کرنے والے افسانوں سے خدا واسطے کا بیر رکھتی ہے اور ٹاٹ میں مخمل کا پیوند معلومہوتی ہیں۔ ان کے روایتی سحر اور حسن سے بچا جائے تو اچھا ہے حالانکہ مقدر حمید کے کئی افسانوں مثلاً زربیل، دوریاں، دلدل، اُڑان، بدلتے موسم وغیرہ کی زبان سادہ اور پُرکار ہے۔ ان لفظوں کے استعمال میں اختصار بھی برتا گیا ہے۔ مقدر حمید کے افسانوں کا وصف خاص طور پر قابلِ توجہ ہے ،اس کی طرف اشارہ کرنا اس موقعے پر ضروری سمجھتا ہوں ۔ بار بار یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ ہمارے بعض افسانہ نگاروں کو مختلف ذرائع سے عصرِ حاضر کے مسائل سے متعلق سمیٹی ہوئی معلومات (Information) کو دماغ میں بھر لینے کا شوق ہے۔ ایک حیثیت سے یہ شوق اچھا بھی ہے لیکن اگر کوئی اس معلومات کو افسانے میں صحافتی انداز سے معاشرے کا Big Brother بن کر قے کردینا چاہے اور اسی پر اصرار بھی کرے کہ باقی دوسرے افسانہ نگار اس کے آگے بچے ہیں تو اسے صحافتی معلومات اور تخلیقی آگہی کے درمیان جو بنیادی فرق ہے اور جو ایک اچھے افسانے کو پڑھنے کا انعام ہے ، بتانا ہی چاہیے۔ مقدر حمید افسانے میں علم کے پٹارے اُنڈیل کر افسانے کا حلیہ نہیں بگاڑتے۔ بھلا وہ فن ہی کیا جو حسن پر لاٹھیاں برسانے لگے۔ مقدر حمید کے افسانے ، افسانے اس لیے ہیں کہ وہ افسانوی آگہی کی روشنی سے آراستہ ہیں، ممکن ہے اس روشنی کی تمازت جگنو کی چمک سے زیادہ نہ ہوکیونکہ بیا کے گھونسلے میں جگنو تو چمکایا جاسکتا ہے ، نصف النہار کا تمتماتا ہوا آگ اُگلتا سورج نہیں۔ افسانوی آگہی قاری میں ارتکاز کو بڑھاتی ہے، قاری اپنے اندر کچھ تبدیل سا ہوتا محسوس کرتا ہے، یہ تبدیلی اس میں نرم و نازک اور لطیف احساسات کو جگاتی ہے جو اسے آسودہ خاطر کرتی ہے۔برخلاف اس کے افسانوںمیں علم و معلومات کے وفور سے پیدا کیے جانا والا دبدبہ افسانے میں فنی طور پر جھول پیدا کرکے اسے بوجھل کردیتا ہے۔مقدر حمید کے بیشتر افسانوں میں کہیں جھول نہیں ملتا، وہ اخباری رپورٹنگ اور معلومات کے بوجھل وزن سے افسانے کو بچاتے ہیں۔ کیا نہیں لکھنا ہے اس پہلو پر برابر نظر رکھتے ہیں۔ ان کے افسانے غیر ضروری طور پر طویل نہیں ہوتے ، وہ افسانے میں کسی موضوع کو بھوسے کی ٹھونستے نہیں ہیں بلکہ اسے افسانے کے Spaceکی مناسبت سے اتنی ہی جگہ دیتے ہیں جس میں اس کا دم نہ گھٹے۔ موضوع کو افسانے میں باعزت اور مناسب جگہ ملنا ایک اچھے افسانے کی پہچان ہے۔ اگر اس کی جگہ افسانہ نگار اپنی لیاقت اور قابلیت بگھارنے لگے تو افسان دُم دباکر بھاگ کھڑا ہوتا ہے ۔ آج ہمارے بعض افسانہ نگاروں میں یہ بد ذوقی عام ہے۔ مقدر حمید کے افسانوں کی بیرونی تشکیل اگرچہ سادہ بیانیہ سی ہوتی ہے لیکن وہ اس بیانیہ میں موقع محل دیکھ کر ایک ہلکا سا استعاراتی اور علامتی رنگ بھی ڈال دیتے ہیں۔ اس طرح کہ افسانہ چیستاں اور بھول بھلیاں نہ بنے۔ علامتوں اور استعاروں کو پر اثر اور تخلیقی اوزار کی طرح استعمال کرنا افسانوی فن کی اہم ضرورتوں میں سے ایک ہے۔ افسانے میں مکالمہ نگاری کا معاملہ فلم اور ڈراموں سے مختلف ہے، حالانکہ ایسے دوسرے میڈیم افسانوں کے مکالموں پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ مقدر حمید کے افسانوں کے مکالمے ان بے لگام اثرات سے پاک ہیں لیکن افسانوں میں ان کی حیثیت کتنی تخلیقی ہے اور کتنی غیر تخلیقی یعنی مکالمہ برائے مکالمہ ہے یہ ایک الگ مسئلہ ہے ، مجموعی طور پر کہا جاسکتا ہے کہ وہ مکالموں کے استعمال میں احتیاط سے کام لیتے ہیں۔
بہر حال اتنا تو طے ہے کہ سن ۸۰ کے افسانہ نگاروں کو اس بات کی نشاندہی کرنا ہنوز باقی ہے کہ وہ کن نمایاں اوصاف کے سبب اپنے سے پہلے کے افسانہ نگاروں سے ادبی طور پر زیادہ پختہ ہیں اور وہ پچھلی قید و بند کون کون سی ہیں جن کی زنجیروں سے واضح طور پر انھوں نے آزادیاں حاصل کرلی ہیں۔ جہاں تک مقدر حمید کا تعلق ہے انھوں نے کئی جہتیں پار کی ہیں جس کی مثال ان کا ایک عمدہ افسانہ ’صبح گاہی‘ ہے۔ قارئین جب اسے پڑھیں گے تو خود ہی محسوس کریں گے کہ آج کی Sensibilitiesکو کتنی خوش اسلوبی سے گرفت میں لیا گیا ہے۔ گاڑی والے کے کردار کی ایمانداری سے عکاسی ہی نہیں کی ہے بلکہ مہاجر پرندوں کی طرح اچھے موسم میں نقل مکانی کررہے اپنے بیٹے کے کردار کے پس منظر میں کتنی فنی چابکدستی سے اس دلچسپ کردار کو اُجاگر کیا ہے اور کسی شور انگیزی کے بغیر کہانی کو موثر طریقے سے انجام تک پہنچایا ہے۔
Mushtaq Momin ki Afsana Nigari by Dr. Raunaq Raees
Articles
مشتاق مومن کی افسانہ نگاری
ڈاکٹر رونق رئیس
بنکروں کی بستی اور ہندوستان کا مانچسٹر کہلانے والا شہر بھیونڈی کے واجد محلہ میں پیدا ہونے والے مشتاق مومن اپنے افسانوں کے خوبصورب اسلوب سے پہچانے جاتے ہیں ۔انھوں نےاپنی تعلیم کے سلسلے کو آگے بڑھانے کے لیے ممبئی کا رُخ کیا اور اسماعیل یوسف کالج ، جوگیشوری ممبئی میں داخلہ لیا ۔یہیں سے ان کی ادبی سرگرمیاں شروع ہوئیں ۔
حالانکہ۱۹۸۴ء میں ان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’ رت جگوں کا زوال ‘‘ منظر عام پر آیا لیکن ان کے افسانے رسائل و جرائد میں پہلے سے شائع ہورہے تھے اور مشتاق مومن کا شمار ۱۹۷۰ کے بعد کے افسانہ نگاروں میں ہونے لگا تھا ۔ افسانوی مجموعہ ’’رت جگوں کا زوال ‘‘ کے بعد کے افسانے ان کی موت کے بعد ۲۰۱۳ء میں ان کی بیگم فریدہ نے شائع کروائیں ۔ اس مجموعے کا نام ’’تازہ خون میں ملی ہوئی مٹی ‘‘ ہے ۔ فریدہ مومن نے ’’ بھولی بسری یادو ں ‘‘ کے عنوان سے مشتاق مومن کی زندگی کے واقعات پر روشنی ڈالی ہے ۔
ساجد رشید ہی کی طرح مشتاق مومن بھی ممبئی کے ایک حساس افسانہ نگار تھے۔ان کے افسانوں کا مجموعہ’’رت جگوں کا زوال‘‘ ان کی تخلیقی صلاحیتوں کامظہر ہے۔ اس میں کل چودہ افسانے اور سریندر پرکاش کا تحریرکردہ دیباچہ شامل ہے۔ سریندرپرکاش نے اپنے دیباچہ میں مشتاق مومن کی افسانہ نگاری کی تحسین کرتے ہوئے اردو افسانہ کے حوالے سے عالمی افسانہ کی صورتِ حال کا جائزہ لیا ہے۔
مشتاق مومن کے افسانوں میں سماجی وجدان کی فضا پائی جاتی ہے۔وہ مشکل پسندی سے زیادہ سہل اور سادہ اسلوب کو پسند کرتے ہیں۔ان کے افسانوں میں انسانی اقدار میں تنزل سے بیزاری اور قتل وغارت گری سے تنفر،سیاسی چال بازیوںکے خلاف احتجاج اور نیچر سے محبت کی کہانیاں ملتی ہیں۔بحیثیت افسانہ نگار ان کا شمار ۱۹۷۰ء کے بعد کے اہم لکھنے والوں میں ہوتا ہے۔مشتاق مومن کے افسانوںمیںتہذیب کی انحطاط پذیری ،اخلاقی قدروں کی گراوٹ ، ریاکاری جیسے اہم موضوعات پائے جاتے ہیںاور ان موضوعات کے اظہار کے لیے ایک احتجاجی و انحرافی اسلوب کو متعارف کروانے کی کوشش نظر آتی ہے۔انھوں نے تمثیلی ،استعاراتی اور بیانیہ افسانوں کے ذریعہ اپنی شناخت قائم کی۔
رت جگوں کا زوال، کریم لگا بسکٹ اور چیونٹیاں ،فرذوق کہاںجائے گا؟، قصۂ جدید حاتم طائی میںاپنے عہد کی سماجی برائیوں پر نشتر زنی کی گئی ہے۔ان کے افسانے اپنے عہد کے تاریخی ،سماجی، معاشی ا وراقتصادی تجربات کے پس منظر کو پیش کرتے ہیں۔
ان کا افسانہ ’’کریم لگا بسکٹ اور چیونٹیاں ‘‘ ایک بیانیہ افسانہ ہے۔اس میں قربانی کے جذبے کی ایک انوکھی داستان بیان کی گئی ہے۔افسانہ نگار نے اس افسانے میں نہایت خلاقی سے ایک جلے ہوئے مزدور کے احساسات کو کہانی کے روپ میں پیش کیا ہے۔ بری طرح جل جانے کے باوجود زندہ رہنے والامزدور اسپتال کی تنہائی میںاپنے ہاتھوں سے اپنے نتھنوں میں لگی ہوئی آکسیجن کی نلی اس امید پر ہٹا دیتا ہے کہ اس کی موت کے بعد اس کے گھر والوں کوایک موٹی رقم بطور معاوضہ مل جائے گی۔
وہ دھاراوی میں رہنے والا ایک غریب انسان ہے جوہربار اوپر اٹھنے کی کوشش کرتا ہے اورہربار نیچے گرجاتا ہے۔ گھر میں اس کی بیوی اور جوان بیٹیاں ہیںجن کاسارادارومداراس غریب مزدورپرہے۔غریبی اور ناداری کے علاوہ حالات کی مار نے اس کی بیوی کواپنے وقت سے پہلے بوڑھابنادیا ہے۔ بیٹیاں ایک پہاڑ کی طرح اس کے سینے پر سوار ہیں۔ان کی شادی کی فکر اسے ہر وقت اور لمحہ ستاتی ہے۔اس کے علاوہ ایک پکے گھر کی تعمیر کا خواب آنکھوں میں لیے وہ اپنی زندگی سے جھوجھ رہاہے۔ حالات کی ستم ظریفی کہیے کہ ایک دن وہ ٹرین کے حادثے میں بری طرح جل جانے کے بعد اسپتال میں داخل ہوجاتاہے ۔ اسپتال کے قریب ایک نیم کا پیڑہے جسے وہ تکتا رہتاہے اور اس کے سرہانے تپائی یا ٹیبل پر رینگتی ہوئی چیونٹیاں ہمیشہ اس کی نظروں کامحور بنی رہتی ہیں۔
یہاں افسانہ نگار نے کہانی کو ایک نیا موڑ دینے کی کوشش کی ہے۔ ایک دن وہ پلیٹ میں ایک کریم لگا ہوا بسکٹ رکھ دیتا ہے اور پھر اس پلیٹ کو دوسری پلیٹ جس میں پانی بھراہوتا ہے، میں رکھ دیتا ہے اوردیکھتا ہے کہ چیونٹیا ں پلیٹ کے آس پاس رینگنا شروع کردیتی ہیں۔ بسکٹ تک پہنچنے کے لیے درمیان میں چیونٹیوں کو پانی پر سے گزرنا ہے۔اس عمل میںکئی چیونٹیاں مرجاتی ہیںاور مری ہوئی یہ چیونٹیاں دوسری چیونٹیوںکے لیے پانی پر پل کاکام دیتی ہیں اس طرح یہ مردہ چیونٹیاں ان زندہ چیونٹیوںکے لیے روزی روٹی کا سبب بنتی ہیں۔
دراصل چیونٹیوں کاعمل عام انسان کے لیے جدوجہد کی علامت ہے۔ اسی وقت افسانے کے کردارکے ذہن میںیہ خیال آتا ہے کہ اسے بھی اپنی جان کانذرانہ پیش کرکے اپنے گھر والوں کی بہتری اور خوشحالی کاذریعہ بننا چاہیے ۔اسے اس بات کاعلم ہے کہ ٹرین میں ہلاک ہونے والوں کو حکومت کچھ معاوضہ دینے والی ہے۔لہٰذا وہ آکسیجن کی نلی کواپنے نتھنوں سے ہٹا دیتا ہے اور گھر والوں کے لیے قربانی کامظہربن جاتا ہے۔
ان کادوسراافسانہ’’ ایک لمبی قبر‘‘ بھی بیانیہ افسانہ ہے۔اس کی کہانی ماضی کے واقعات کے سہارے آگے بڑھتی ہے اورجب حال میں لوٹتی ہے تو جنازہ ،قبر ،قبرستان اور شریک جنازہ لوگوں کے حالات کاپتہ دیتی ہے۔ اس میں میت کی تجہیز وتکفین اور تدفین کے حوالے سے کہانی کو اثرانگیز بنایاگیا ہے۔ بچپن کی یادوں کے حوالے سے راوی اس افسانے کے مرکزی کردار کی ذہانت ، حالاتِ زندگی ، اس کی مالی مجبوری اور بالآخر موت کو خوبصورت انداز میں بیان کرتا ہے۔ جس میں عام مذہبی انسانوں کی دو رخی زندگی پر چوٹ کی گئی ہے۔ بچپن میں دین سے تعلق اور جوانی میں دین سے بیگانگی اور بے راہ روی ، مذہب کو محض ایک رسمی شے سمجھنے والوں پر گہرا طنز کیا گیا ہے۔مشتاق مومن نے تدفین کے منظر میں ایک کرب کی کیفیت بھردی ہے۔ کہانی کا اختتام جہاں ایک دوست کے احساسِ ندامت کو پیش کرتا ہے ،وہیں پر قاری کو اپنے سماجی رویے پر خود احتسابی کی دعوت دیتا ہے۔
افسانہ ’’آسیب‘‘ غربت ،حالات کے جبر اور معاشی وسیاسی نظام پر گہراطنز ہے۔ افسانہ کا کردار ایک آسیب سے ڈرا ہوا ہے۔دراصل یہ ہمارے عہد کا ایک بڑا المیہ ہے۔آسیب اس کردار کے گھر دکھائی دیتا ہے۔کبھی وہ پیسہ رکھنے کے ڈبے میں گھس جاتا ہے ،کبھی راشن کے ڈبے میں،تو کبھی کپڑے کی پیٹی میںاور ہر دن اس کے گھر کی تمام اشیا مقدار میں کم ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔دیکھا جائے تو آج کی اس مہنگائی کے دور میں ہر آدمی اس آسیب کے سحر میں ہے۔جب اس کردار کو خبر ملتی ہے کہ آسیب پر قابو پالیا گیا ہے تو وہ وہاں جاکر دیکھتا ہے اور یہ محسوس کرتا ہے کہ آسیب کا پکڑا جانا صرف لوگوں کے دلوںکو تسلی دینا اور اس خیال سے بہلانا ہے۔ وہاںباقاعدہ اعلان ہوتا رہتا ہے کہ آسیب پر قابو پالیا گیا ہے لیکن حقیقتاًایسا کچھ بھی نہیںہے۔یہ افسانہ سیاسی نظام اور اس کی پالیسیوں کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔اس میں افسانہ نگارنے افسانے کے فن اور اس کے تقاضوں کواشارے اور کنائے کے ساتھ بڑی خوبصورتی سے برتا ہے اورفنی مہارت وفنی چابکدستی سے کہانی کی بنت کی ہے۔دراصل ہمارے ملک میںایسے کرداروں کی کوئی کمی نہیں ۔عام آدمی رات دن غریبی کی چکی میں پستا رہتا ہے۔وہ تلاشِ معاش میں سرگرداں رہتا ہے۔غریبی کی سطح کے نیچے زندگی گزارتاہے۔اس کے گھرپرتنگدستی ہمیشہ دستک دیتی ہے۔اکثر وہ بھوکا سوتا ہے۔اس کہانی کا مرکزی کردار وہی عام آدمی ہے ۔وہ ملک کے لاکھوں لوگوں کی ذہنی صورتِ حال کا نمائندہ بن کرسامنے آتا ہے۔ اس کہانی کا تعلق اقتصادی ومعاشی بدحالی ہے اور کہانی میں سائے کو گرفت میں لینے کی کوشش اورسسٹم کی جانب سے پیدا کیا گیا ابہام کہانی کے موضوع کو دلچسپ بناتا ہے اور Stablishment پر ایک گہراوارکرتا ہے۔
’’دوسرے انسان کا زوال‘‘یہ افسانہ ایک تخلیق کار کے کرب کا بیانیہ ہے ۔اس افسانے کا موضوع کہانی کی تلاش ہے۔یہاں تخلیق کار نے اپنی خلاقانہ بصیرت کا بھرپوراستعمال کیا ہے اور مختلف مقامات پر بڑے ہی معنی خیز لیکن ہلکے اشارے کیے ہیں۔
ان کاافسانہ’’موز‘‘ کی کہانی ایک شریف عورت کی دردناک کہانی ہے جوغربت سے تنگ آکر مجبوری کی حالت میں گلف چلی جاتی ہے اور عرب آقا کے ہاتھوں عصمت گنواکر واپس لوٹتی ہے۔ یہ عورت جب ہندوستان میںرہتی ہے تو انتہائی کسمپرسی کے حالات میں زندگی گزارتی ہے اور جب گلف سے لوٹتی ہے تو اس کی مالی حالت، اس کا لباس، اس کے گھر کی آرائش کو دیکھ کر سب کی نظریں خیرہ ہوجاتی ہیں۔تمام لوگ اسے دیکھ کر رشک کرتے ہیں۔اپنی نظروں سے اسے سراہتے ہیںلیکن کبھی اس کے دل کی حالت سمجھ نہیں پاتے۔ یہاں تک کہ اس کا بے روزگار اور تپ دق کے مرض میںمبتلا شوہراس سے بے اعتنائی کا اظہار کرتا ہے تب وہ تڑپ کر رہ جاتی ہے ۔اسے ہمیشہ اس کاضمیر کچوکے لگاتے رہتا ہے۔گلف میںاپنے جنسی استحصال کے واقعے کووہ فراموش نہیں کرپاتی۔اندرہی اندر وہ کڑھتی رہتی ہے۔وہ اپنی عفت اور عصمت کے تار تار ہونے کا ذکر بھی کسی سے نہیں کرپاتی۔ اسی کشمکش کو افسانہ نگار نے نہایت خوبصورت اور مناسب پیرائے میں بیان کیا ہے۔
اس افسانے کاکردار عائشہ اپنی معاشی مجبوری کے تحت مڈل ایسٹ اس لیے جاتی ہے کہ وہ اپنے بیمار شوہرکاباقاعدہ علاج کرسکے لیکن گلف کی زندگی اس کے لیے ذلت کاباعث بنتی ہے۔دولت کی دیوی اس کے در پر دستک تودیتی ہے، شوہربھی تندرست ہوجاتاہے مگر وہی شوہرعائشہ کے لیے وبالِ جان بن جاتا ہے اور پیراسائٹ بن کرعائشہ کاخون چوس چوس کرزندہ رہتا ہے۔
ان کےافسانوی مجموعہ ’’رت جگوں کا زوال ‘‘کے بیشترافسانے تلخ حقیقت نگاری کی واضح مثال ہیں۔ سلام بن رزاق نے اپنے مضمون ’’مشتاق مومن اور رت جگوں کا زوال‘‘میں تحریرکیا ہے۔
’’ سماجی حقیقت نگاری اردوافسانے کی تاریخ میںکوئی نئی چیز نہیںہے۔۔۔۔۔پریم چند سے لے کر کرشن چندر تک اور اس کے بعد بھی کئی افسانہ نگار وں نے زندگی کے بے شمار گوشوںکوحقیقت نگاری کے چراغوں سے روشن کیا گیا ہے۔مشتاق مومن نے بھی انہیں چراغوں سے اپنا چراغ جلایا ہے تا ہم اس چراغ کی روشنی میں زندگی کو دیکھنے اور پرکھنے کی نگاہ ان کی اپنی ہے۔‘‘
اس افسانے میں کردار حافظ رحمت علی کاذکرہے جو نہایت نیک ،سادہ لوح اور دردمند ہے۔وہ مخالفین کی بدگمانی اور ان کی گھنائونی سازش کی وجہ سے بدنام ہوجاتا ہے اوراسے سماج میںبدکردارکے طورپرپیش کیاجاتاہے۔افسانہ نگارنے اس کہانی میںبچپن کی یادوںکواجاگرکیاہے اور سماجی واخلاقی قدروںکی پامالی پرچوٹ کی ہے۔ساتھ ہی ساتھ سسٹم کی بدعنوانیوںکو بھی طنز کانشانہ بنایا ہے۔اس کہانی میں فساد ات برپاہونے سے پیشتر جوتنائوپیداہوتاہے اس ماحول کی خوبصورت عکاسی کی گئی ہے۔ ان کے افسانے ’’ہرے بھرے درخت، شطرنج،پرندے اور انقلاب‘‘ کمزور افسانوںکے زمرے میںآتے ہیں۔ان میں علامتوں کاسہارالے کرافسانہ نگار نے ایک تاثرپیداکرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔یہ افسانے علامتی افسانوں کے معیارپرپورے نہیں اترتے۔ البتہ اس میں اس عہدکا کرب اور حسیت کودیکھا جاسکتا ہے۔ ان کے افسانے قاری کے لیے ابلاغ کا مسئلہ نہیں پیدا کرتے۔ وہ زندگی کی بے ثباتی کو علامت اور استعارے کی عینک سے دیکھنے کے بجائے برہنہ آنکھوں سے دیکھتے اور دکھاتے ہیں۔ انہیں کہانی کہنے کا فن آتا ہے اورا ن کے یہاں ان جذبوں کی کارفرمائی شدت کے ساتھ محسوس کی جاتی ہے ۔ان کے پاس خلاقانہ بصیرت ہے اور وہ اس کا استعمال بھی نہایت فن کارانہ اندازمیں کرتے ہیں۔وہ افسانہ نگاری کے اصولوں کوبروئے کار لاتے ہوئے کہانی پراپنی مضبوط گرفت رکھتے ہیںنیزان کے یہاں سیاسی نظام کے خلاف احتجاج کی صدا صاف طورپر سنائی دیتی ہے۔
ان کاافسانہ ’’فرذوق کہاں جائے گا ؟‘‘ ہمارے عہد کے سیاسی جبرکا بیانیہ ہے۔ افسانے کا کردار فرذوق کے پیر میں لگا ہواپلاسٹراوراس میں کھٹملوں کی افزائش، ہمارے سماج پرایک تازیانے کی حیثیت رکھتاہے۔کھٹمل جوخون پرپلتے ہیںاوراپنی نسل کو آگے بڑھاتے ہیں۔فرذوق راوی کا دوست ہے لیکن کسی کوبھی فرذوق کے پیر میں فریکچر آنے کی وجہ نہیں معلوم۔ دراصل یہاں افسانہ نگار نے بیانیہ طرز پر اشاراتی اسلوب کااستعمال کیا ہے۔دراصل فرذوق کے پلاسٹر میں گھُسے ہوئے ایک کھٹمل نے کئی کھٹملوں کااضافہ کردیا ہے اور ان کھٹملوں نے بہت سارے انڈے دیے ہیں جن سے ان کی نسل بڑھنے والی ہے۔
یہ افسانہ انتہائی دلچسپ ہے ۔ کہانی پیچیدگی کے ساتھ آگے بڑھتی ہے اور یہی اس کی خوبصورتی ہے۔ یوں بھی زندگی ایک بوجھ ہی تو ہے جسے خوشی کے ساتھ کوئی اٹھانا نہیں چاہتا۔ ہر گام پر وہ اس بار گراں کو نہ چاہتے ہوئے بھی گھسیٹتا رہتا ہے جس سے اس کی ذات اور اس کی روح فریکچر ہوجاتی ہے اور اس فریکچر کی کوئی ایک وجہ نہیںہوتی۔اس کہانی میں تہہ داری کا عنصر نمایاں ہے۔
افسانہ ’’ادھوراگیان‘‘ قدیم ہندوستانی فلسفے اور موجودہ سماجی ،سیاسی شعور کے تقابل سے تیارکی گئی ایک کہانی ہے جس میں مہاتما گوتم بدھ کی تعلیم اور فلسفے کو عصر حاضر کے پس منظر میں پیش کیا گیا ہے۔اس کہانی میں فنکار نے تخلیقی بصیرت اور خلاقانہ ذہنیت کاخوبصورت ثبوت پیش کیا ہے۔اس کہانی کا کردار سدھارماایک گہری ہیجان میں مبتلا ہے۔ اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں، خواہشات اس کے سامنے دست بستہ کھڑی رہتی ہیں۔پھر بھی وہ راج گرو کی اس بات سے پریشان ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ایسی چیز کی خواہش نہ کرو جو تمہاری پہنچ سے باہر ہو۔ ایک حادثہ میں رانی سلونی سدھا رما کی ماں رانی چندرا کی جان بچاتی ہے۔تب رانی چندرا اس سے کہتی ہے’’جو مانگنا ہو مانگو۔‘‘ تب موقع سے فائدہ اٹھا کر رانی سلوچنا اپنے بیٹے کے لیے راج گدی کی مانگ کرتی ہے۔ دراصل جس کا اختیار سدھا رما کوتھا اور سدھا رما جب جنگل سے گرفتار کرکے لائے جاتے ہیں تو ان کی شخصیت میں کافی تبدیلی آچکی ہوتی ہے۔ رانی اسے سمجھاتی ہے کہ اسے خاندانی بادشاہت کاسلسلہ قائم رکھنا ہوگا۔اس لیے اسے بادشاہ بننا ہوگا۔وہ کہتی ہے کہ پرجا اور راجا ندی کے دوکنارے ہیںجو کبھی آپس میں نہیں مل سکتے۔ندی کے وجود کے لیے دونوں کا نہ ملنا ہی ٹھیک ہے۔
یہاں افسانے کی ہیئت اور کردار کے تجزیہ کی صورت میںایک نیا تاثر پیداہوتا ہے۔ سدھارماکے لیے یہ ہیجانی کیفیت جس میں وہ مبتلا ہے اس سے انصاف کا تقاضا کرتی ہے ۔سدھا رتھ کی طرح وہ جاننا چاہتا ہے کہ شانتی اور گیان سے موہ مایا کی طرف جایا جائے یا موہ مایا کو تج کرگیان اور شانتی میں دھیان لگایا جائے اورپھر سدھارما راج گدی پر اپنے ادھیکار کی بات کرتا ہے ۔تب راج گرو ہڑبڑا کر سوال پوچھ بیٹھتے ہیں کہ تمہارے گیان کا کیا ہوگا؟جواب میں سدھا رما کہتے ہیںکہ ہر یگ کو اس کے حساب سے گیان کی ضرورت ہوتی ہے۔اس یگ کے لیے یہی گیان کافی ہے۔
دراصل یہ کہانی ہمارے سماجی اور علمی اسٹرکچر پر تنقید کرتی ہے۔ساتھ ہی ساتھ ہمارے عہدکے سیاسی پس منظر کا پردہ بھی فاش کرتی ہے۔
افسانہ ’’مردم گزیدہ‘‘ میں مشتاق مومن نے ایک کتے ’’ڈاگی ‘‘کے حوالے سے ظلم کے خلاف فطری ردعمل کوظاہر کیا ہے۔ کہانی کی شروعات ڈاگی کی پیدائش سے ہوتی ہے۔
’’ ایک عورت نے جس کی شادی نہیں ہوئی تھی ایک بچے کو جنم دیااورخودمرگئی۔ پڑوسیوں کو اس کی اطلاع ہرگز نہ ہوتی لیکن ہنگامہ اس طرح شروع ہواکہ پہلے ۔۔۔۔۔
نوزائیدہ بچہ رویا۔۔۔۔۔
پھر اس کی ماں روئی۔۔۔۔۔
پھر دائی روئی اور اس کے بعد بہت ساری عورتوں نے رونا شروع کردیااور جب تمس زور سے چیخا تو چند سوئے ہوئے لوگ بھی ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھے۔دراصل چند رنا ایک کچرا چننے والی عورت تھی اور تمس کا گزر بسر چندرنا کی کمائی پر ہوتا تھااور اس کا بچہ اس کی دونوں ٹانگیں پتلی پتلی تھیں جسے دیکھ کر تمس کو غصہ آجاتا ہے کہ اب اس کو کماکر کون کھلائے گا۔ اس لیے وہ بچے کی دونوں ٹانگیں پھینک دینا چاہتا تھا۔ چندرنا کی منھ بولی بہن کُنتی بچے کو دوپہر کا دودھ پلاتی اور تمس سے کہتی :
’’اس گل گوتھنے بچے کو سنبھال میت پڑے، بڑے برے دنوں میں یہی تیرے کام آئے گا۔‘‘
’’تیرا آدھا جسم تو سڑا ہوا ہے رے۔۔۔۔۔‘‘
مصنف نے ڈاگی کے محروم بچپن کاتذکرہ بڑے خوبصورت انداز میں کیا ہے۔چندرنا کی منھ بولی بہن جب باہر جاتی تو ڈاگی کے پائوں میں رسی باندھ کراس کاایک سرا کھاٹ سے باندھ دیتی۔ایک د ن شہر میں فساد پھوٹ پڑتاہے۔ اکیلا بچہ کھاٹ سے بندھا ہوا بھوکا پیاسا روتا رہتا وہیں پر کُنتی کی پالتو کتیا بھربھری زمین پر گڈھابنائے،پیر پسارے لیٹی تھی۔ کتیا کے پلے دودھ پی رہے تھے۔ دودھ کی میٹھی خوشبو اور بھوک نے اسے اس کتیا کے دودھ کے پینے پر مجبور کردیا۔ کتیا نے ایک نظر اس کو مڑ کر دیکھا ، پھر آسمان کی طرف سر اٹھاکر رونے لگی گویا کہ انسان اور اس کی محرومیوں کاشکوہ خداسے کررہی ہے۔جب تک شہر میں فساد رہا،وہ اسی کتیا کے دودھ سے سیراب ہوتا رہا۔ جب یہ بچہ چلنے لگا،تمس نے اس کے ہاتھ میں بھیک مانگنے کی پیالی تھما دی۔
بچے کا کتیا کے دودھ پر پلنا،کہانی کو ناقابلِ یقین بناتا ہے اور کس طرح ڈاگی کی نفسیات متاثر ہوتی ہے اور اس کے اندر کتوں کی جبلت کے نقوش نمودار ہوتے ہیں ،اس سے برطرف اگر چہ دیکھا جائے تو یہ کہانی معاشی بدحالی اور انسان کے جانور میں بدل جانے کی کرب ناک کہانی ہے اور مردو عورت کے رشتے کی ایک انتہائی تکلیف دہ صداقت کی تصویر پیش کرتی ہے۔ اس کا ذمہ دار کون ہے۔انسانی بحران کا ذمہ دار انسان ہی ہے یا کوئی اور ؟ یہ قاری کو طے کرنا ہے۔مغنی تبسم ’’مردم گزیدہ ‘‘ کا تجزیہ پیش کرتے ہوئے لکھتے ہیں ۔
’’دورِ حاضر میں انسانی صورتِ حال کو دیکھتے ہوئے یہ گمان گزرتا ہے کہ شاید آدمی اس کرہ ارض پر سب سے ارذل مخلوق ہے اور یہ قول متناقص ہے کہ خود کو اشرف المخلوقات کہتااورسمجھتا ہے۔فطرت اور حیوانی دنیا سے ایک غیر فطری اور جارحانہ علیٰحدگی کا عمل مسلسل ہے جسے ہم انسانی تہذیب کے ارتقا کانام دیتے ہیں۔ نام نہاد انسانیت کا نصب العین اعلیٰ حیوانی قدروں سے دست بردار ہوجاناہے۔ چنانچہ آج انسان اپنا مستندوجود کھو کر ایک تجرید بن گیا ہے۔ مشتاق مومن کی کہانی ہم کو موجودہ دور کی اسی انسانی صورتِ حال کے دوبدو لاکھڑا کرتی ہے۔‘‘
افسانہ ’’ہرے بھرے کھیت ‘‘اس آدمی کی کہانی ہے جو نہایت سادگی اور عدم تشدد سے زندگی گزارناچاہتا ہے۔ اس نے کبھی کسی پرندے کو نہیں مارا، کبھی کسی ہرے بھرے درخت کو نہیںکاٹا۔اس لیے وہ ساتھیوں میں بیمار کہلاتا ہے۔ مصنف نے یہاں ایک مشہور لوک کہانی سے استفادہ کیا ہے۔جس میں ایک غریب آدمی کی کلہاڑی ندی میں گرجاتی ہے۔پھر ایک پری نمودار ہوتی ہے۔وہ پہلے اسے ندی سے ایک سونے کی کلہاڑی لاکر دیتی ہے۔غریب شخص ایماندار ہے،کہتا ہے یہ میری کلہاڑی نہیں ہے۔پھر وہ اسے چاندی کی کلہاڑی لاکر دیتی ہے۔وہ شخص اسے بھی لینے سے انکار کرتے ہوئے کہتا ہے کہ یہ کلہاڑی بھی اس کی نہیں ہے۔پھر وہ پری اسے لوہے کی کلہاڑی دیتی ہے۔تب وہ شخص اس کلہاڑی کولے لیتا ہے۔اسی دوران ایک انجانی آواز اس کے کانوں میں کہتی ہے کہ تم اس کلہاڑی سے ہرے بھرے درختوں کوکاٹ دینا چاہتے ہوجبکہ ہرے بھرے درخت زندگی کی علامت ہیں۔چونکہ اس غریب شخص کادل ہمدردی سے بھرا ہوا ہے۔تب وہ سوچتا ہے کیونکر وہ کسی پر ظلم کرسکتا ہے۔جبکہ اس نے کبھی کسی جاندار شے کونہیں مارا۔اس سے یہ خطا کس طرح سرزد ہوسکتی ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ فتوحات کے سلسلے ظلم وجبر اور سفاک راہوں سے گزر کر طے کیے جاتے ہیں۔ہر عہد میں جابر کی فتح اور مظلوم کی شکست فاش ہوتی آئی ہے۔غریب شخص پرجب یہ عقدۂ راز کھل جاتا ہے تب وہ خود کو بیمار محسوس کرنے لگتا ہے۔ ظاہری طور پر یہ کہانی حقیقت سے دورمعلوم ہوتی ہے۔البتہ انجانی آواز کے حوالے سے فنکار نے زندگی کی سچائیوں پر روشنی ڈالی ہے۔
افسانہ ’’شطرنج،پرندے اور انقلاب ‘‘میںایک بادشاہ ہے جواپنے محل میں شطرنج کھیل رہا ہے۔ شطرنج کی بساط پر مہروں کی جگہ وزیر ، غلام ، کنیز ، ہاتھی، اونٹ ، پیادے کا روپ لیے کھڑ ے ہیں اور تبھی بادشاہ کو پتا چلتا ہے کہ عوام نے بغاوت کردی ہے۔ بادشاہ کو اس بات پر کوئی تعجب نہیں ہوتا اور نہ ہی اسے اس بات کا افسوس ہے کہ عوام باغی ہوچکی ہے، بلکہ یہاں افسانہ نگار بادشاہ کے ذریعہ اس تصویر کو دکھاتا ہے جو دیوار پر چسپاں ہےجس میں ایک دبلا پتلا گورا آدمی دوانتہائی طاقت ور اور تندرست بیلوں پر سوار ہے اور انہیں متواتر چابک ماررہا ہے اور بیل چابک کی سان پر سرپٹ دوڑے چلے جارہے ہیں۔
مصنف نے یہاں یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ برسراقتداراپنے کامیاب اور کارآمد حربے کب استعمال کرسکتا ہے۔ اس کہانی میں ابہام کی فضا موجودہے۔اس ابہام کے پردے میں افسانہ نگار نے فنکارانہ تخلیقیت کا سہارا لے کر ایک سادہ خیال کو قصے کے پیکر میں ڈھالا ہے۔ جب بادشاہ اس تصویر کو دیکھتا ہے تووہ مسکراتا ہے اور ایک چال چلتا ہے ۔ دوسرے ہی لمحے بیگم کابادشاہ ،چاروںخانے چت ہوجاتا ہےجسے دیکھ کر بیگم حیرت زدہ رہ جاتی ہے۔یہ کہانی عصرحاضرمیںسیاسی حربوں کے استعمال اور اسکے دائوں پیچ کی زندہ مثال بن کر سامنے آتی ہے۔اسے ماضی اور حال کے تناظر میں پیش کرنے کی کامیاب کوشش ہے۔
’’جاتے ہوئے لوگ‘‘ نامی افسانہ جنگ کی تباہ کاری اور بربادی کا تذکرہ ہے۔ انسان سمجھتا ہے کہ جنگ کے ذریعے مسئلوں کوحل کیا جاسکتا ہے لیکن بقول ساحرلدھیانوی ’’جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے‘‘
جنگ کے سبب انسان مصائب کے دلدل میں دھنس جاتا ہے اور بڑی کسمپرسی کی زندگی گزارتا ہے۔جنگ آدمی کے ذریعے آدمی کے استحصال کادوسرا نام ہے۔جس سے انسانیت شرمندہ ہوتی ہے۔مشتاق مومن کی یہ کہانی عام آدمی کے ضمیر اور اس کی زخمی روح کی پکار ہے۔انھوں نے فوجیوں کی گفتگو کے حوالے سے اس کہانی کا خمیرتیار کیا ہے اور اس سپاہی کے دل کے درد کوبھی بیان کیاہے جو جنگ کی ہولناکیوں سے نالاں ہے۔
مشتاق مومن نے اپنی کہانیوں کا آغاز بھیونڈی سے کیا ۔فسادات کے موضوع پر’’ مردم گزیدہ‘‘ جیسا خوبصورت افسانہ لکھا۔ دھیرے دھیرے جب انھوں نے ممبئی میں مستقل سکونت اختیار کرلی تو یہاں کا ماحول اور یہاں کی زندگی ان کے افسانوں کے موضوعات میں شامل ہوگئی۔ ۱۷؍ رجب ۱۴۰۳ہجری اسی شہر بے خلوص کی کہانی ہے جس میں تُرسکر نام کاکردار ایک مظلوم انسان ہے۔ صنعت کاروں کی مکاریاں اور غریبوںاورمزدورطبقے کی بے بسی کو اس کہانی میں مشتاق مومن کی آنکھوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ جہاں اسٹیم رولر میں دب کر ٹورسکر جو ممبئی کے ہندو متوسط طبقے کا ایک فر دہے،دم توڑ چکاہے اور اس بھرے پرے شہر میں اپنی پتنی اور دو بچوں کو بے سہارا ،بے یارومددگار چھوڑ کر جاچکا ہے۔اس افسانے میں انھوںنے لال باغ کے نچلے ہندو طبقے کی عکاسی کی ہے۔ لال باغ مزدوروں، مل مزدوروں اور غریبوں کی بستی ہے۔
’’رت جگوں کا زوال ‘‘مجموعے کاٹائٹل افسانہ ہے۔اس کی جزئیات میں مسلم معاشرہ اور مذہبی اقدار کی بھرپور نمائندگی کااظہار ہے۔ رحمت علی نامی کردارکاخاندان تقسیم کے دوران بکھر جاتا ہے۔ان کابڑا بھائی پاکستان اورمنجھلا بھائی مغربی پاکستان (جو اب بنگلہ دیش ہے) ہجرت کرچکا ۔ رحمت علی ہر وقت اکھنڈ بھارت کی یادوں کو سینے سے لگائے رہتا ہے۔ اسے اس ملک کی گنگا جمنی تہذیب سے محبت ہے۔وہ اسے اپنی میراث سمجھتا ہے۔ اس کہانی میں فسادات کے سبب دو فرقوں کے درمیان مذہب کی حائل خلیج کا ذکر ہے۔یہاں مسجد ذاتی مفاد کا ذریعہ بن جاتی ہے۔انسان کی ارزل صفات اس کہانی کا مرکزہے اور وہ دوسرے کردار امام بخش کے حوالے سے ظاہر ہے۔
مشتاق مومن ممبئی کے کلچر کی خصوصیات اور یہاں کی زندگی کی چھوٹی چھوٹی جھلکیوں کے ذریعہ ممبئی کی ایک مکمل تصویر سامنے رکھ دیتے ہیں مثلاً کولہا پوری تمباکو اور چونانکال کر ہاتھوں پر مسلنے والا کردار ٹورسکر کی کھولی میں شری ہنومان کی تصویرپر جوایک پہاڑ ہاتھ میں اٹھائے ہوا میں اڑ رہاہے۔ نچلے طبقے کے گھروں میں ٹیپ ریکارڈ کا بجنا، ہندماتا ٹاکیز کا ذکر، مل مزدور وں کی ہڑتال ، وشنو بیڑی اور شیواجی بیڑی کا تذکرہ، اشتعال انگیز نعرے ۔۔۔ ’رام ہوگا روٹی ہوگی ، جن سنگھ کی یہ نیتی ہوگی‘۔۔۔کے علاوہ زندگی کے مختلف گھنائونے پہلوئوں کی تصویر کشی میں مشتاق مومن جزیات کو نہیں بھولتے اور سماجی حقیقت نگاری سے کام لیتے ہیں۔
Ali Imam Naqvi ki Afsana Nigari by Qasim Nadeem
Articles
علی امام نقوی کی افسانہ نگاری
قاسم ندیم
علی امام نقوی کے افسانوں کا فنی تجزیہ کیا جائے تو جو عناصر خاص طور پر متوجہ کرتے ہیں ان میں واقعہ کی فنی بُنت کاری، فضاکی تخلیق اور کردار نگاری کے ساتھ مکالمہ سازی ہے۔ ان کا کمال یہ ہے کہ وہ جس موضوع کو چھوتے ہیں اسے محدود نہیں رکھتے یعنی وقوع کو صرف واقعہ کی طرح بیان نہیں کردیتے بلکہ اس میں ایک اکائی پیدا کر دیتے ہیں جس سے خیال اور واقعہ مل کر افسانہ بنتا ہے۔ اس بنا پر افسانے میں ایک ایسی فضا پیدا ہوتی ہے جس میں کردار خود بخود فطری طریقے سے اپنی شناخت کرواتے ہیں۔ ان کے افسانوں میں تکنیک اور بُنت کاری کا فن پوری آب و تاب کے ساتھ دمکتا ہے۔ دوسری اہم بات ان کا بیان اور انداز ہے۔ انھوں نے اپنے زیادہ تر افسانے بیانیہ انداز میں تخلیق کیے ہیں۔ باقر مہدی کے رسالے’ اظہار‘میں ’نوسرہار‘ سیّد عارف کے ’جواز‘ میں ’صورتِ حال‘ وغیرہ جیسے خالص علامتی و تجریدی افسانوں سے صرفِ نظر کریں تو ان کا انداز بیانیہ ہی رہا ہے۔مگر ان کا بیانیہ انداز بھی دبازت لیے ہوئے ہے۔ لفظوں کااستعمال اور جملوں کی ساخت کا طریقہ بھی بڑی حد تک نیا ہی ہے۔ اسے ان کے اسلوب کا حصہ کہا جاسکتا ہے۔زیرِ نظر مضمون میں ان کے صرف پانچ افسانوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ ’تھکے ہارے، کھوئی، ضرورت، وراثت اور نقش‘۔یہ پانچوں افسانے موضوع کے لحاظ سے مختلف رنگ لیے ہوئے ہیں۔ ’تھکے ہارے‘ میں ہجرت کا غم اور ہجرت نہ کرنے کی مسرّت کا رنگ ہے۔ ’کھوئی‘ میں دو تہذیبوں کا تصادم ، جنگ، وفاشعاری اور یادوں کا رنگ ہے۔ ’ضرورت‘ میں سکھ مخالف فسادات کی لہو آمیزی اور مسلم روداری کا رنگ ہے۔ ’وراثت‘ میں رشتے ناتے، ذمہ داریاں اور بھوک کا رنگ ہے اور پانچواں افسانہ ’نقش‘ معاشرتی گھٹن اور انسانوں کی شکست و ریخت کا رنگ لیے ہوئے ہے۔
محولہ بالا مختلف رنگوں کی بنا پر ان کے افسانہ بیان کرنے کا علیحدہ انداز ابھرا ہے۔ ان افسانوں میں بعض اوقات واقعہ سامنے کا ہوتا ہے اور اپنی تمام تر جزیات کے ساتھ اپنی پہچان کراتا ہے لیکن افسانے کی مشکل میں ڈھلنے کے بعد اس میں کئی معنوی سطحیں پیدا کردیتا ہے۔
علی امام نقوی کا افسانہ ’تھکے ہارے‘ دہلی سے شائع ہوانے والے رسالے ’کتاب نما‘ میں ستمبر ۱۹۹۰کے شمارے میں شائع ہوا ہے۔ اس افسانے کی ابتدائی سطر قاری کو مکمل افسانہ پڑھنے کی جانب متوجہ کرتی ہے۔ افسانے کی ابتدا کچھ اس طرح ہوتی ہے:
’’تھکی ہوئی بوڑھی کی آنکھوں میں حسرتیں ہی حسرتیں ہیں ۔اس کا اکلوتا بیٹا ابھی ابھی گھر میں داخل ہوا تھا۔’سرجھکائے‘ زمانے بھر کی فکریں سجائے ، تھکی ہوئی بوڑھی آنکھوں نے بس ایک مرتبہ بیٹے کے چہرے کو دیکھا تھا۔ پھر وہ بیٹے کے پیروں پہ مرکوز ہوگئیں۔ کولہاپوری چپل کی پالش ماند پڑگئی تھی اور پیر بھی گرد آلود تھے۔‘‘
اس مختصر سے اقتباس سے قاری کے ذہن پر یہ بات عیاں ہونے لگتی ہے کہ اس خاندان پر حسرت و یاس سایہ کیے ہوئے ہے۔ بیٹے کا اپنے چہرے پر زمانے کی فکریں سجانے سے واضح ہوتا ہے کہ وہ بیروزگار ہے یا پھر اچھے روزگار کا متلاشی ہے ۔ کولہاپوری چپل کی پالش کا ماند ہونا مفلوک الحالی کی غمازی کرتا ہے اور پیروں کا گرد آلود ہونا بہتر مستقبل کی تلاش و جستجو کا مظہر ہے۔
اگلے پیرا گراف میں افسانہ نگار اپنے کیمرے سے دو مناظر ہمارے روبرو پیش کرتے ہیں۔ پہلے منظر میں ماں کا وجود ہے جو کہ کمان ہوا جارہا ہے اور پورا سراپا تھکن میں تبدیل ہوگیا ہے۔ اٹھارہ انیس برس کی بیٹیوں کے تیزی سے تبدیل ہوتے جسموں نے اس کمان زدہ بدن کے اعضا کو مزید کمزور کردیا ہے۔افسانہ نگار اپنے کمیرے کا زاویہ تبدیل کرتے ہیں اور اٹھارہ انیس برس کی بیٹیوں پر مرکوز کردیتے ہیں۔ دونوں بیٹیاں حسرت و یاس کا مجسمہ بنی ہوئی ہیں۔ چھینٹ کی معمولی سی شلوار قمیصوں میں ڈھکی چھپی ، سروں پہ سستے سے دوپٹّے اوڑھے اور آنکھوں میں امیدوں کے چراغ جلائے نہ جانے کس کی منتظر ہیں۔ یہ کمال ہے علی امام نقوی کا کہ وہ اپنے الفاظ کو اور افسانے کے مناظر کو متحرک کردیتے ہیں۔ سارے مناظر میں جان سی پڑجاتی ہے۔ کرداروں کی آواجاہی ذہن کے اسکرین پر جاری رہتی ہے۔ ساتھ ہی افسانہ بھی آگے بڑھتا ہے۔ بیٹے کا یہ کہنا کہ ’’ میں ہار چکا ہوں‘‘ اور تھکی ہوئی آنکھوں کا جواب دینا کہ ’’تلاش ‘‘ نئی نسل کی تقدیر ہے۔
کچھ فقرے یا جملے تاریخی استناد کا درجہ اختیار کرلیتے ہیں۔ تقریباً آج سے تیس برس قبل ادا کیے ہوئے جملے دورِ حاضر پر بھی صد فی صد صادق آتے ہیں۔ آج بھی ہمارے معاشرے میں بے شمار نوجوان بے روزگاری کی مار جھیل رہے ہیں۔ اس مار کی بنا پر کئی ٹوٹ جاتے ہیں اور غلط راہوں پر گامزن ہوجاتے ہیں۔ پورا معاشرہ اُس وقت بھی شکست و ریخت کا شکار تھا موجودہ حالات میں اس میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ اس وقت بھی رشوت ستانی اپنے عروج پر تھی آج بھی اس میں کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔ اس منظر کو افسانہ نگار نے کس طرح فوکس کیا ہے:
’’ایک ہی محور ہے ماں۔ جسے دفتری زبان میں وسیلہ کہتے ہیں۔
’کیا مطلب؟ـ
پنچانوے فیصد نمبر سے اول درجے کا رزلٹ ، رشوت کے سہارے نوکری دلوانے میں تو کامیاب ہوگیا تھا لیکن ترقی کے لیے وہ بھی ناکافی ثابت ہوا۔
لیکن تو تو ٹیسٹ میں کامیاب ہوگیا تھا؟
ہاں۔ لیکن اس اسامی پر اونچی ذات کے ایک ہندو کا تقرر ہوا ہے۔
کیوں؟
سرکاری محکمے ان سوالوں کے جوابات نہیں دیتے۔
مطلب یہ کہ اہم اور کلیدی عہدے ہمارے لیے نہیں۔‘‘
یہ پورا منظر نامہ آزادی سے لے کر تادمِ تحریر تبدیل نہیں ہوا اور شاید تبدیل ہونے کے آثار بھی نہیں ہیں۔ اقلیتوں اور نچلی ذات کے افراد بھٹی کا ایندھن بنتے جارہے ہیں۔ ہر محکمے میں حق تلفی کی جارہی ہے۔ عدالتِ عالیہ کے باضمیر منصف صاحبان کو پریس کانفرنس کرکے اعلان کرنا پڑ رہا ہے کہ عدالتِ عالیہ کے معاملات میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک نہیں چل رہا ہے۔ ایک تخلیق کار اپنے زمانے کی تلخیوں ، ترشیوں ، خامیوں اور برائیوں کو فنّی مہارت کے ساتھ صفحۂ قرطاس پر اتاردیتا ہے۔
اس افسانے میں پاکستانی مہاجرین کا ذکر کیا گیا ہے۔ دور کے ڈھول سہانے کے مصداق کمان زدہ والدہ سمجھتی ہیں کہ سرحد پار کرکے جانے والے جنّت میں رہتے ہیں۔ ان کے حالات بہتر ہیں اور وہ بہترین زندگی گزار رہے ہیں۔
سرحد پار سے ماموں زاد بھائی کا خط آنے پر وہاں کے حالات سے آگہی ہوتی ہے۔ خطر کچھ اس طرح ہے:
’’ برادرِ عزیز ۔السلام علیکم
تمہارا خط ملا۔ تفصیل پڑھ کر دکھ ہوا۔ اب تک امی اور ابو کے نام پھوپھی کے خط آتے رہے ہیں اور ان کے جوابات امی اور ابو نے جس انداز میں تحریر کروائے ہیں ان کا حقائق سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ میں اچھی طرح جانتا ہوں۔ امی اور ابو نے پھوپھی کو جنّت کی سیر کروائی ہے اور سچ پوچھو تو ان کے لیے یہ ضروری بھی تھا۔‘‘
خط سے یہ واضح ہوجاتا ہے کہ ہندوستان میں اعلیٰ ذات کے لوگ ہر اہم پوسٹ پر قابض ہیں اسی طرح سرحد پار بھی ہر اہم عہدہ اور اسامی پنجابی کو دے دی جاتی ہے۔ دونوں ممالک کے حالات تقریباً ایک جیسے ہیں۔ جو لوگ اپنی مرضی سے نہیں چلتے انھیں وقت کی ٹھوکر چلنے پر مجبور کرتی ہے۔ خط کے اختتام پر تھکی تھکی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں۔ تھکی تھکی آنکھوں میں چمک پیدا ہونا اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہجرت نہ کرنے کا فیصلہ درست تھا۔ حسرت و یاس کے مجسموں کا دائیں بائیں دیکھنا ان کی گو مگو کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔ لیکن کمان کا مزید جھک جانا آس کو نراس میں تبدیل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ علی امام نقوی یہ حقیقت بھی اس افسانے کے ذریعے قاری پر عیاں کرتے ہیں کہ ہندوستان سے ہجرت کرنے والے مہاجرین کی اکثریت قومی و ملی تصورِ حیات کی طرف مائل تھی۔ سرحدوں کے دونوں جانب ماضی پرستی کا رجحان غالب رہا۔ چونکہ مملکتِ خدا داد کے انتظام و انصڑام میں ان کو فیصلہ کن کردار عطا ہوا تھا، اس لیے یہ فطری امر ہے کہ مقامیت کے تقاضے مسلسل نظر انداز ہوئے۔ جس سے وہاں صوبائیت اور لسانیت کے مسائل کو ہوا ملی، مقامی لوگوں کے اپنے خواب تھے جو کہ مملکتِ خدا داد کے نظریہ سازوں کے تصورات سے متصادم ہوئے زمینی حقائق پر کسی نے غور نہیں کیا۔ اس افسانے کا اختتام بے حد تلخ ہے جو کہ حقیقت سے قریب تر ہے۔
علی امام نقوی کا افسانہ ’ضرورت‘ ایوانِ اردو،جون ۱۹۹۰ء کے شمارے میں شائع ہوا۔ اس افسانے کی بُنت نہایت ہنر مندی سے کی گئی ہے۔ یہ افسانہ سکھ نوجوان درشن سنگھ کے کردار پر مبنی ہے، جوکہ راوی بھی ہے۔ اس افسانے کا پس منظرسکھ مخالف فسادات پر مبنی ہے۔ دہلی اور قرب و جوار میں بھڑک اٹھنے والے سکھ مخالف فسادات میں درشن سنگھ اپنے والدین کی جلی ہوئی لاشوں کو دیکھتا ہے۔ دہلی سے لٹ پٹ کر وہ بیدر جاتا ہے اور خالصہ کالج میں اسے ملازمت مل جاتی ہے لیکن فسادات کی آگ وہاں بھی پہنچ جاتی ہے۔ وہاں بھی خون کی ندیاں بہتی ہیں، دھواں اٹھتا ہے۔ آگ دھوئیں اور خون خرابے سے بچتا بچاتا وہ پونہ پہنچ جاتا ہے۔ بے حد پریشان حال۔ وہاں اس کی ملاقات ایک خداترس ، مشفق انسان حکیم صاحب سے ہوتی ہے۔ وہ اس کی ڈھارس ہی نہیں بندھاتے بلکہ اپنے مطب کے سامنے والی عمارت میں اس کے رہنے کا انتظام بھی کردیتے ہیں۔ حکیم صاحب، عرف بابا حکمت کے ساتھ ساتھ شاعری کا بھی شغل رکھتے ہیں۔ ان کے آس پاس ہمیشہ ادیبوں اور شاعروں کا مجمع لگا رہتا ہے۔ حکیم صاحب درشن سنگھ کو کسی اسکول میں بطورِ مدرس رکھوا دیتے ہیں۔
اس افسانے میں موڑ اس وقت آتا ہے جب وہ ایک دن صبح سانولی سلونی نازک لڑکی دیکھتا ہے۔لڑکی اپنے دوپٹے کو اپنے بالائی جسم پر لپیٹ رکھتی ہے۔ تب وہ فلیش بیک میں آگ، دھویں اور خون کے دریا پر عبور کرتا ہوا اپنے گائوں پہنچ جاتا ہیْ گڑھل کے کنارے پیتل کا لوٹا اسے شدت سے یاد آنے لگتا ہے۔ اسی پیتل کے لوٹے سے اس کے والدہ کا تعلق ہے۔ درشن سنگھ کی والدہ اس پیتل کے لوٹے میں پانی لے کر پہلے ہاتھ دھویا کرتی تھیں، پھر پہنچوں تک پانی بہاتیں، نتھنوں میں پانی ڈالتیں۔ افسانہ نگار یہاں یہ عقدہ نہیں کھولتا کہ درشن سنگھ کی والدہ وضو کرتی تھیں۔ البتہ اس کا انکشاف قاری پر ہونے لگتا ہے۔ مگر ایک روز راوی یعنی درشن سنگھ سویرے جاگ اٹھتا ہے تب اس پر یہ راز افشاں ہوتا ہے کہ اس کی والدہ کس مذہب سے تعلق رکھتی تھیں۔ افسانہ قاری کے تجسس میں مزید اضافہ کرتا ہے اور آگے بڑھتا ہے۔ صبح سویرے بستر چھوڑتے ہیں سامنے کے مکان کی کھڑکی کی جانب دیکھنا راوی کا معمول بن جاتا ہے ۔ اسے وہاں وہی سانولی سلونی لڑکی سر پر دوپٹہ لپیٹے نماز ادا کرتی نظر آتی لیکن افسانے کی ایک پرت اور کھلتی ہے جب درشن سنگھ پر پڑوس میں تانک جھانک کا الزام لگایا جاتا ہے اور حکیم صاحب اسے سخت سست سناتے ہیں اور یہاں سے کہیں اور چلے جانے کا حکم دیتے ہیں۔ تب کہیں جاکر درشن سنگھ اعتراف کرتا ہے کہ لڑکی میں اسے اپنی والدہ نظر آتی ہیں۔ یہ سن کر تشکیک کے بادل چھٹ جاتے ہیں اور لڑکی کے والد صاحب دوسری صبح کھڑکی خود اپنے ہاتھوں سے کھول دیتے ہیں۔ اس افسانے کو علی امام نقوی نے بہترین انداز میں تخلیق کیا ہے۔ ماضی اور حال دونوں ادوار کو فیلش بیک کی مدد سے پیش کرکے اس افسانے کو پر تاثیر بنادیا ہے۔
اس افسانے میں درشن سنگھ کے ساتھ ہی حکیم صاحب کا کردار بھی پوری آب و تاب کے ساتھ ابھرتا ہے اور قاری کے ذہن پر تادیر نقش ہوجاتا ہے۔ جس دور میں یہ افسانہ تخلیق کیا گیا اس وقت پونہ سے مرحوم حکیم رازی ادیبی سہ ماہی ’’تکلم‘‘ شائع کرتے تھے۔ وہ بھی حکیم تھے۔ ان کے مطب پر بھی شعرا اور ادبا کا مجمع رہتا تھا۔ شاید علی امام نقوی نے یہ جیتا جاگتا کردار اسی مطب سے اخذ کیا ہے اور افسانے کا تانا بانا اسی کے ارد گرد بنا ہے۔
علی امام نقوی کا افسانہ ’کھوئی‘‘ ان کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ یہ افسانہ اپنے رنگ و روپ کے اعتبار سے ان کے دیگر افسانوں سے مختلف ہے۔ اس افسانے کا مرکزی کردار ’اونیل‘ امریکی دوشیزہ ہے جو کہ سکون کی تلاش میں بطور سیاح ہندوستان آئی ہے۔ ایک دور ہپیوں کا بھی تھا جو اپنے فرسٹریشن اور ڈپریشن کو مختلف نشہ آور اشیاء کا استعمال کرکے کم کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ اونیل کے ذہنی انتشار کا سبب اس کا منگیتر تھاجو کہ ویت نام کی جنگ میں آگیا تھا۔اونیل اس سے بے انتہا محبت کرتی تھی۔ اب وہ سکون کی تلاش میں ہندوستان آگئی تھی۔ اس کی ملاقات ایک پب میں ہندوستانی سفارت کار زویری سے ہوتی ہے۔ زویری اس سے دوستی کرلیتا ہے۔ ایک بار وہ تفریح کے لیے سی وے پر جاتے ہیں وہاں اونیل گنّے کی گنڈیریاں کھانے کی فرمائش کرتی ہے۔ افسانے کا یہ اقتباس دیکھیے:
’’میں نے گنّے کی گنڈیریاں خریدیں اور رومال پھیلا کر گنڈیریاں اس پر منتقل کردیں۔ میں گنڈیریاں کھا کر کھوئی اِدھر اُدھر پھینکتا رہا اور اونیل اس کی کھوئی ایک ہہ جگہ ڈھیر کرتی رہی۔‘‘
جب زویری ، اونیل سے پوچھتا ہے کہ اب تک تمہاری شادی کیوں نہیں ہوئی؟ اونیل جواب میں کہتی ہے کہ ویت نام کی جنگ یاد ہے نا تمہیں؟ اس جنگ کے لیے ہمارے یہاں جبراً فوجی بھرتی ہوئی تھی۔ کم بخت ۔۔۔۔۔۔۔میں خوش ہوں زویری کہ وہ جنگ ختم ہوئی۔ پر تم جانتے ہو وہ اپنے پیچھے کتنا زہر چھوڑ گئی، تمہیں پتہ ہے پچیس ہزار کام آئے ، لاکھوں بھاگ گئے۔ سن کر زویری اسے بانہوں میں بھر کر محبت کا اظہار کرنا چاہتا ہے مگر اونیل بچی کھچی گنڈیریاں ہوا میں اچھال دیتی ہے اور رومال پر کھوئی بٹور کر زویری کی طرف بڑھا دیتی ہے۔ یہی افسانے کا انجام ہونا تھا اور علی امام نقوی نے انتہائی فنکارانہ انداز سے اس افسانے کے انجام کو نقطۂ عروج پر پہنچایا ہے۔ افسانہ ختم ہوکر بھی جاری ہے۔ اس افسانے کا اختتام چونکانے والا قطعی نہیں ہے بلکہ یہ افسانہ قاری کے ذہن میں اپنے اختتام کی بنا پر کئی انمٹ نقوش ثبت کردیتا ہے۔ساتھ ہی کئی سوالات کے جواب کا متقاضی بناقاری کی جانب نہارتا ہے کہ صاحب بتائیے اونیل کا کردار آپ کو کیسا لگا؟ کیا ساری امریکی دوشیزائیں بے وفا ہوتی ہیں؟ کیا انھیں اپنی یادوں کے سہارے زندہ رہنے کا حق نہیں ہے؟ کیا وہ حقیقی محبت اور جزوقتی شہوانیت میں تفریق نہیں کرسکتیں؟ کیا وہ زویری جیسے کرداروں کے دامِ فریب میں آجاتی ہیں؟یہ افسانہ ایسے بے شمار سوالات قاری کے لیے چھوڑ جاتا ہے ۔ چونکہ افسانہ ایک شعوری تخلیقی عمل ہوتا ہے جو کہ زمان ومکاں کے ابعاد کیاندر تمام تر جزیات ، کیفیات اور زندگی کی متنوع خصوصیات کے ساتھ معرضِ وجود میں آتا ہے۔ اس میں خواب اور بیداری کا کھیل رچا جاتا ہے اور حقیقت اور گمان کی آمیزش حقیقی زندگی کے دائرے میں زندہ لوگوں سے مربوط رہ کر ہوتی ہے۔ علی امام نقوی نے بھی زندہ لوگوں سے رشتہ استوار رکھا۔ وہ زندگی کی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوئے۔ وہ تہذیبی اور ثقافتی ورثے کو مسترد نہیں کرتے۔ وہ زندگی کی ذمہ داریوں سے دست بردار نہیں ہوئے۔ اسی سبب اونیل اور زویری جیسے زندہ کردار افسانے کا حصہ بنے اور ’کھوئی‘ جیسا بہترین افسانہ منظرِ عام پر آیا۔ اگر کوئی تخلیق کار زندگی کے کھیل میں شامل ہی نہیں تو پھر وہ افسانہ کس طرح تخلیق کر سکتا ہے؟ افسانہ ہی زندگی ہے اور زندگی بذاتِ خود ایک افسانہ ہے۔ جس کے اجزائے ترکیبی اظہاریت ، تاثریت اور واقعیت ہیں۔ یہ تینوں اجزا ’کھوئی‘ میں موجود ہیں۔
’میراث‘ نئی نویلی دلہن ’صابرہ‘ کا افسانہ ہے۔ جو اپنے ہی قصبے میں بیاہی گئی ہے۔ وہ اپنے گھر اور سسرال کا موازنہ کرتی ہے۔ دیگر خواتین اور بچے اسے چھیڑتے ہیں مگر اس کا سارا دھیان پلائو پکنے کی خوشبو کی طرف ہے۔ اس کا تعلق ایک غریب خاندان سے ہے۔ وہ جس گھر میں بیاہ کر آئی ہے وہ بے حد کشادہ ہے۔ افرادِ خانہ بھی کئی ہیں ، دو جیٹھ اور جٹھانیا ں ہیں ،ان کے بچے ہیں، ساس ہے۔ شوہر اور دونوں بڑے بھائی رکشہ چلاتے ہیں جو کہ کرائے کے ہیں۔ بڑی جٹھانی کے ہاتھ میں گھر کے کھانے کا انتظام کرناہے اور کھانا کھلانے کی ذمہ داری نئی دلہن صابرہ پر ڈال دی جاتی ہے۔ سب کو کھانا کھلانے کے بعد جو کچھ بچا کھچا ہوتا ہے وہی صابرہ کے حصے میں آتا ہے۔ وہ اپنے شوہر سے شکایت بھرے انداز میں کہتی ہے کہ آپ کوئی دوسرا کام کیجیے جس سے آمدنی میں اضافہ ہو اور کھانے کو بھر پور ملے۔ مگر وہ انکار کردیتا ہے۔ وقت کب کس کے لیے رکا ہے؟ اور زچگی کے دوران بڑی جٹھانی کی موت واقع ہوجاتی ہے۔ گھر میں عورتیں رو روکر براحال کرلیتی ہیں لیکن باورچی کھانے میں بیٹھی صابرہ اپنی بھیگی آنکھوں سے چاول ، سالن کی ڈیگچیوں اور روٹی کو دیکھتی رہتی ہے۔
اس افسانے میں علی امام نقوی نے قصباتی زندگی کی ہو بہو تصویر کشی کی ہے۔ نئی نویلی دلہن جب سسرال آتی ہے اس کی اندرونی کیفیات کو انھوں نے بالکل اچھوتے انداز میں پیش کیا ہے۔ صابرہ کے ناتواں شانوں پر جلد ہی گھر کی بڑی ذمہ داری لاد دی جاتی ہے۔ کئی بار اسے روکھی سوکھی کھا کر یا بھوکا رہ کر گزارہ کرنا پڑتا ہے اس بنا پر صابرہ گھٹن کا شکار ہوجاتی ہے۔
جب بڑی بہو کا انتقال ہوتا ہے تب بھیگی آنکھوں سے کھانے کی چیزوں کو دیکھنا یعنی حسرت و یاس کے دوران امید کی کرن پھوٹنے کا اظہار بھی ہوسکتا ہے۔ شاید اسے اب پیٹ بھر کھانے کا موقع ملے۔ انسانی فطرت میں یہ شامل ہے کہ جب بھوک انسان کو اپنے نرغے میں لے لیتی ہے تب خوشی کا موقع ہو یا غم کا ، وہ ان سے متاثر نہیں ہوتا، بلکہ اس کا نقطۂ ارتکاز شکم سیری ہوتا ہے۔ علی امام نقوی نے صابرہ کے کردار کو صرف صابرہ تک محدود نہ رکھتے ہوئے ہمارے معاشرے میں زندگی گزارنے والی ایسی لاکھوں خواتین کی گھٹن سے انسلاک کردیا ہے۔ اس افسانے کی اہم بات اس کے چست مکالمے بھی ہیں۔ چند مکالمے ملاحظہ فرمائیں:
٭ عورت کی بھوک میاں کو کھلا کر مٹے ہے بائولی۔
٭ بائولی، کمانے والے کا پیٹ بھرجائے تو ہماری بھوک آدھی ہوجاوے ہے۔
٭ مجھے تو سرم آوے گی۔ رات بے رات اُنگے جاتے ہیں۔
٭ ابھی جائوں ہوں۔ دو نوالے تو ٹھونس لوں۔ بیاہ کا گھر تو شیطان کا گھر بن جاوے ، کھانے کی ہوس نہ پینے کی ۔
ایسے اور اس قسم کے مکالمے اس افسانے میں کئی جگہ موجود ہیں۔ مختلف کرداروں کا لب و لہجہ اس میں چار چاند لگا دیتا ہے۔ ’میراث‘ علی امام نقوی کے بہترین افسانوں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔
علی امام نقوی کے افسانوں میں معاشرتی گھٹن اور انسانوں کی شکست و ریخت کے مظاہر جابہ جہ نظر آتے ہیں۔ وہ زندگی کی لایعنیت سے معنی و مفاہیم اخذ کرتے ہیں۔ تاریخ کی دروغ گوئی ذہنی و معاشرتی الجھنوں کو اپنے افسانوں کا محور و مرکز بناتے ہیں۔ ابتدائی چند افسانوں کے علاوہ وہ افسانوں میں خود کلامی کے چکرویو میں نہیں گھرے رہے۔ وہ اپنے تجربات و مشاہدات کو نئی صورتِ حال میں ڈھال کر افسانے کو خلق کرنے پر قادر رہے۔ ان کے افسانوں میں بنتے ، بگڑتے ، الجھتے رشتے موجود ہیں۔ جیتے جاگتے کردار ہیں اور واقعات کی ترتیب و تزئین بھی ہے۔ ان کے افسانوں کی قرأت کرتے ہوئے قاری کو مطلق احساس نہیں ہوتا کہ افسانے کا پلاٹ یا اس کے کردار افسانہ نگار کی مرضی کے تابع ہیں۔ یہی وہ خوبی ہے جو علی امام نقوی کے افسانوں کو فن کا اعتبار عطا کرتی ہے۔
ان کا ایک افسانہ بعنوان ’نقش‘ معاشرتی گھٹن اور انسانوں کی شکست و ریخت کا عکاس ہے۔ افسانہ بہو، بیٹا، ماں اور ڈاکٹر ان چاروں کرداروں کو لے کر بُنا گیا ہے۔ بہو اور بیٹے کی میڈیکل رپورٹ میں خامی نہ ہونے کے باوجود پانچ برس بیت جانے کے بعد بھی وہ اولاد کی خوشی سے محروم ہیں۔ تینوں کے لیے یہ زندگی عذاب بنی ہوئی ہے۔ سارے علاج ہوچکے ، تمام طبی پیتھیوں کو آزمایا جا چکامگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ گیارہویں میڈیکل رپورٹ لے کر وہ ماہر نفسیات کے پاس جاتے ہیں اور ماہرِ نفسیات ڈاکٹر ان کے گھر جاکر تینوں سے باری باری گفتگو کرتا ہے اور یہ نتیجہ اخذ کرتا ہے کہ ماں جو کہ ایم ایس سی ، پی ایچ ڈی ہے کی بے جا احتیاط برتنے کی بنا پر بیٹا نفسیاتی مرض کا شکار بن گیا ہے۔ وہ ہر معاملے میں محتاط رہتا ہے اسی بنا پر وہ اولاد سے محروم ہے۔
اس افسانے میں بہو اور ڈاکٹر کے چند مکالمے دیکھیے:
٭ نبضیں بھی چپ سادھیں تو تہذیب کا ایک آدھ اصول اُلانگنا پڑتا ہے بی بی۔ دیکھیں میرا بھی سانس پھول رہا ہے، مگر میں مایوس نہیں ہوا کہ زمین کی پیاس سے بات چلی اور سانسوں کے پھولنے تک آپہنچی۔
٭ تو۔۔۔۔۔ تو پھر سن ہی لیجیے ۔ میرا ۔۔۔۔ میرا گھنا گھنگورا بر ۔۔۔۔۔۔ زمین کے بجائے پلنگ پہ بچھی چادر پر برستا ہے۔
٭ہر شخص اپنی زندگی میں ایسی کئی منزلوں سے گزرتا ہے جو عام طور پر امتحان کہی جاتی ہیں۔ ہر انسان اپنی زندگی کے کسی خاص امتحان میں کامیاب نہیں ہوتا۔ وہ ہمت ہار بیٹھتا ہے، کیونکہ وہ جانتا نہیں کہ اس کے وجود کا جوہر کیا ہے؟
یہ افسانہ ان لوگوں کے لیے آئینہ ہے بلکہ تازیانہ ہے جو کہ زندگی میں ہرقدم پر محتاط رہنے کا رویہ اپناتے ہیں۔ اپنے بچوں کو بھی ڈر و خوف میں مبتلا کر بیٹھتے ہیں۔ جب کچھ کر گزرنے کا وقت آن پڑتا ہے تب بھی وہ احتیاط برتتے ہیں۔ آہستہ آہستہ ایسے لوگوں کی زندگی کامیاب و کامران نہیں ٹھہرتی بلکہ وہ معاشرتی گھٹن اور انسانی رشتوں کی تقدیس پر بھی تشکیک کے بادل چھوڑ جاتی ہے جو کہ کرداروں کو درد و کرب میں مبتلا کردیتی ہے۔
علی امام نقوی جس دور میں معاشرتی زندگی کی آبیاری کررہے تھے وہ دور شدید انتشاری کیفیت کا دور رہا ہے۔ اس دور میں معاشرتی زندگی میں اور ذہنی اعتبار سے بھی بے یقینی ، ہیجان اور اضطراب کی کیفیات طاری رہی ہیں۔ ایسے حالات میں کسی افسانے کے اہم کردار کی ذہنی کیفیت اجاگر کرنا بے حد کٹھن مرحلہ ہوتا ہے۔ کردار کے درون میں در آئی پیچیدگیوں کو منعکس کرنا واقعی مشکل کام سمجھا جاتا ہے لیکن علی امام ایسے مشکل ترین مراحل سے بحسن و خوبی گزرے ہیں۔
’نقش‘ ایک ایس افسانہ ہے جو معاشرتی حالات کا شکار ہوکر پیچیدہ نفسیاتی کرداروں میں ڈھل جانے والی بہو، بیٹا اور ماں کا افسانہ ہے۔ ان کا یہ افسانہ اونچے اور اعلیٰ تعلیم یافتہ طبقے کے اوپری طمطراق اور اندرونی کھوکھلے پن کو نشانہ بنایا ہے۔ افسانے میں کئی مقامات پر معاشرتی محرکات بھی نشان زد کیے گئے ہیں۔ انسان کے داخلی عوامل اور خارجی عوامل اور محرکات کو اشاروں ، کنایوں اور ذاتی استعاروں میں بڑے احسن طریقے سے پیش کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ خارجی زندگی اور داخلی کشمکش یا داخلی واقعیت کا خوبصورت امتزاج ہے۔ تینوں کرداروں کی ذہنی کیفیات اور انتشار بڑے واضح انداز میں سامنے آتے ہیں۔
علی امام نقوی نے زندگی جینے والے انسانوں کو کئی زاویوں سے دیکھا ہے اور دکھایا ہے۔ وہی ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا تعارف اور حوالہ ہے۔ ایسی ہی کئی خوبیاں علی امام نقوی کو ایک معتبر افسانہ نگار کے طور پر مستحکم کرتی ہیں۔
Anwar Qamar ka Fanni Ikhtesaas by Dr. Jamal Rizvi
Articles
انور قمر کا فنی اختصاص
ڈاکٹر جمال رضوی
انور قمر ، بیسویں صدی کے سترویں اور اپنی عمر کے انتیسویں برس میں بطور افسانہ نگار ادبی دنیا سے متعارف ہوئے۔ان کا پہلا افسانہ بعنوان ’نروان‘۱۹۷۰ء میں رسالہ ’تحریک‘ میں شائع ہواتھا۔ اس کے آٹھ برس بعدان کا پہلا افسانوی مجموعہ ’چاندنی کے سپرد‘ ۱۹۷۸ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد ۲۰۰۸ء تک مزید تین افسانوی مجموعے شائع ہوئے، ’چوپال میں سنا ہوا قصہ‘ ۱۹۸۴ء میں ، ’کلر بلائنڈ‘ ۱۹۹۰ء میں اور ’جہاز پر کیا ہوا‘ ۲۰۰۸ء میں۔ان چار مجموعوں میں تقریباً ۶۰؍ افسانے شامل ہیں جن کا موضوعاتی تنوع افسانہ نگار کی قوت مشاہدہ کی پختگی اور ذہنی اپج کا ثبوت فراہم کرتاہے۔انور قمر کے افسانوں میں انسانی زندگی کے متنوع اور متعدد روپ عمر، جنس اور سماجی پس منظر کے اختلاف اور اس اختلاف سے وابستہ تقاضوں کو منعکس کرتے ہیں ۔ ان تقاضوں کے سبب ظاہر ہونے والے انسانی عمل اور رد عمل کی بوقلمونی ان کی افسانوی کائنات کی تزئین و آرائش کچھ اس طور سے کرتی ہے جس سے ان کی فنکارانہ مہارت و انفرادیت نمایاں ہوتی ہے۔ان کے فنی اختصاص کی دریافت کے لیے فکشن کی ان نزاکتوں اور باریکیوں سے کما حقہ واقفیت ضروری ہے جو کسی موضوع کی افسانوی تجسیم میں ناگزیر یت کی حامل ہوتی ہیں۔اس ضمن میں پہلا اور بنیادی مرحلہ موضوع کے انتخاب کا ہوتا ہے اور جیسا کہ افسانے کی تعریف میں بارہا یہ کہا گیا کہ افسانہ انسان کی حقیقی زندگی کا مظہر ہوتا ہے تو اس سیاق میں موضوع خواہ کسی بھی نوعیت کا ہو اس کا تعلق بہرحال زندگی کے حقائق سے ہوگا۔ ان حقائق میں بعض کا تعلق سماجی، سیاسی، معاشی و تہذیبی عوامل سے ہوگا اور بعض انسان کے نہاں خانہ ٔ ذات کے ان اسرار و رموز سے وابستہ ہوں گے جو اکثر موقعوں پر بڑی غیر متوقع صورت میں ظاہر ہوتے ہیںاور اظہار کی اس کیفیت سے انسانی رویہ کا وہ انوکھا پن ظاہر ہوتا ہے جس کی حقیقت تک پہنچنے کی کوشش افسانہ نگار اپنی استطاعت فہم و دانش کی بنا پر کرتا ہے۔ اس کوشش میں وہ اپنے عصر اور اپنے سماج کے رویہ کا مشاہدہ کرتا ہے اور چونکہ بحیثیت انسان وہ خود بھی اسی عصر اور سماج سے وابستہ ہوتا ہے لہٰذا زندگی کے متعدد ان امور سے وہ تجرباتی سطح پر دو چار ہوتا ہے جو افسانے کی تخلیق کے لیے اسے موضوع فراہم کرتے ہیں ۔انور قمر کے افسانوں کے موضوعات بھی ان کے عہد و سماج اور خود ان کی زندگی کے مختلف پہلووں کی ترجمانی کرتے ہیں۔ انھوں نے ایک مضمون میں اپنے تخلیقی محرکات کو بیان کرتے ہوئے جن نکات کی نشاندہی کی ہے ان سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے عہد اور سماج کا بغور مشاہدہ کیا ہے اور اس مشاہداتی عمل نے انسانی جبلت، نفسیات اور جذبات کے جن متنوع رنگوں کو آشکارکیا ،ان کو اپنے افسانوی کینوس پر اتارنے کی کوشش سے ہی ان کی تخلیقی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔اپنے عہد اور سماج سے وابستگی کا یہ معاملہ تہذیب و معاشرت کے ان جملہ عناصر کا فنکارانہ جائزہ لینے سے عبارت ہے جو انسانی فکر وجذبہ کو ایک مخصوص زاویہ عطا کرتے ہیں۔انور قمر کے افسانوں میں انسانی فکر و جذبہ کا انعکاس تاریخ و تہذیب کے ان حوالوں پر بھی روشنی ڈالتا ہے جو تہذیبی ارتقا کے سفر میں اہمیت کے حامل رہے ہیں۔
انور قمر کے افسانوں میں نظر آنے والاانسان ان حالات کا پروردہ ہے جو نظام حیات میں ہونے والے تغیر کے ساتھ خود کو ہم آہنگ کرنے میں اپنی توانائی صرف کرتا ہے اور اس امتزاجی عمل کو ایک مخصوص فکری سانچے میں ڈھالنے کی کوشش میں کبھی کامیاب ہوتا ہے اور کبھی ناکامی اس کے ہاتھ لگتی ہے۔کامیابی اور ناکامی کا یہ مسلسل عمل زندگی کے تئیں اس کے اعتقاد اور رویہ کا نہج طے کرتا ہے اور پھر جو تصویر سامنے آتی ہے اس میں حقائق حیات کے مظاہر دلچسپ،حیرت انگیز،ہیبت ناک ،راحت بخش اور اضطراب آمیز صورتوں میں رونما ہوتے ہیں۔ان صورتوں کے اظہار سے انسانی رویہ حقیقت کے اس تصور کے دائرے میں محصور نہیں رہ سکتا جو ہمیشہ یکساں طرز کا حامل ہو۔انور قمر کا فنکارانہ شعور حقیقت کے اس روپ کو دریافت کر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے جو دریا کی روانی کا سا مزاج رکھتا ہے ۔ حقیقت کا یہ روپ جب افسانہ نگار کی تخلیقی گرفت میں آتا ہے تو اس کی تخلیق میں آباد دنیا کبھی بالکل جانی پہنچانی لگتی ہے اور کبھی اس قدر انجانی کہ جیسے اس کرہ ٔ ارض پر اس کا ہونا ممکن ہی نہ ہو۔فن کی سطح پر افسانے کی کامیابی کا دارو مدار بھی ان دوصورتوں کے امتزاج پر ہوتا ہے اور دراصل یہی وہ مرحلہ ہوتا ہے جہاں افسانہ نگار کی فنکارانہ صلاحیت اجاگر ہوتی ہے کچھ اس طور سے کہ اگر اس کی تخلیق میں یہ امتزاج فنی سلیقہ مندی کا حامل نہ ہوتو تخلیق کی پیشانی پر ’افسانہ‘ کا لیبل تو چسپاں کیا جا سکتا ہے لیکن اس کا بقیہ وجود اس لیبل کے ساتھ انصاف نہ کر سکے گا۔انور قمر کے افسانوں میں اس فنی سلیقہ مندی کو بیشتر دیکھا جا سکتا ہے ۔ان کے افسانے کسی ایک واقعہ یا کیفیت کی ترجمانی کے لیے جو افسانوی منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں اس میں اس مخصوص واقعے یا کیفیت کے دوش بہ دوش کئی دیگر ایسے عناصر بھی نظر آتے ہیں جو بہ ظاہر اس واقعے یا کیفیت سے کوئی خاص ربط نہیں رکھتے لیکن مذکورہ واقعے یا کیفیت کی تاثر پذیری کا عمل ان عناصر کے بغیر اس حد تک ناقص رہ سکتا ہے جو کہ افسانے اور قاری کے ربط کو عارضی و تفریحی نوعیت کا بنا دے۔انور قمر نے اس فنی نکتے کو ملحوظ رکھتے ہوئے افسانے لکھے ہیں لہٰذا ان افسانوں میں مرکزی موضوع کے ارد گر د کئی ایسے ضمنی کوائف بھی نظر آتے ہیں جو مرکزی موضوع کی معنویت کو نمایاں کرتے ہیں۔اس حوالے سے ان کے افسانوں قیدی، شہر خطا کا زہر اور اس کی خانم ، کلر بلائنڈ،ذبیحہ،خزاں زدہ اورروٹی رساں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔ان افسانوں میں زندگی کی کسی ایک حقیقت کو پیش کرنے کے لیے ان دیگر حقیقتوں کو بھی اس کے متوازی بیان کیا گیا ہے جو افسانہ نگار کے مدعا کو انسانی جذبات و نفسیات اور معاشرتی حقائق کے تناظر میں واضح کرتے ہیں۔
انور قمر کا فنی اختصاص جن حوالوں سے ترتیب پاتا ہے ان میںایک نمایاں حوالہ سماج اور زندگی سے وابستہ حقائق کی ترجمانی کا وہ انداز ہے جو سماج اور زندگی کے ظاہری رنگ روپ میں پوشیدہ ان اسرار کو آشکار کرتا ہے جن سے عدم واقفیت سماج و زندگی دونوں کے لیے انتشار و اضطراب کا سبب ہوتی ہے۔اس موقع پر یہ بھی پیش نظر رہے کہ یہ اسرار سماج اور زندگی کے تشکیلی عمل میں کسی اضافی عنصر کی حیثیت نہیں رکھتے بلکہ سماج اور زندگی کی تشکیل کو ایک خاص انداز و مزاج عطا کرنے والے اسباب و محرکات سے ان کی وابستگی ناگزیر نوعیت کی ہوتی ہے لیکن اکثر و بیشتر ہوتا یہ ہے کہ ان تک رسائی حاصل کرنے کے لیے قلب و نظر کو جن مراحل سے گزرنا لازمی ہوتا ہے عام انسان ان مراحل سے گزرنے کی سکت اپنے اندر نہیں پاتا ۔ اس مرحلے کو عبور کرنے کی اولین شرط یہ ہوتی ہے کہ اپنے عہد سے وابستہ ان عوامل کا معروضی جائزہ لیا جائے جو تہذیب و تمدن کے تاریخی تسلسل کو برقرار رکھنے کا کام انجام دیتے ہیں۔فنکار (افسانہ نگار) ا ن عوامل کو جب تخلیقی آنچ کی حرارت عطا کرتا ہے تو ہی ان کا وہ روپ منجلی ہوتا ہے جو سماج اور زندگی سے وابستہ حقائق کی پراسراریت سے عبارت ہے۔انور قمر کے افسانوں میں سماج اور زندگی کا یہی روپ دیکھنے کو ملتا ہے ۔انسانی ذہن زندگی کی حقیقت کو دریافت کرنے کی سعی صدیوں سے کرتا رہا ہے اور اس کوشش میں جو مختلف تصورات و نظریات رائج ہوئے ان میں سے بعض تو کسی مخصوص مذہبی عقیدے کے بطن سے پیدا ہوئے اور بعض کومادی ترقی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔زندگی کی حقیقت سے وابستہ ان تصورات میں ایک تصور یہ بھی ہے کہ انسان کی ارضی زندگی ایک سفر کی مانند ہے اور اس سفر کی راحتیں اور صعوبتیں اس کے نفس اور ظرف کو ایک مخصوص سانچے میں ڈھالتی ہیں۔ زندگی کے سفر میں شامل انسانی کارواں بسا اوقات اس سفر کے مقصد ہی کو سمجھنے سے قاصر ہوتا ہے اور ایسی صورت میں یہ سفر جاری تو رہتا ہے لیکن مسافر کو یہ پتہ ہی نہیں چل پاتا کہ اسے جانا کہاں ہے۔ انور قمر نے ’چوراہے پر ٹنگا آدمی ‘ میں زندگی کے اس سفر کو ایک بڑے صنعتی و تجارتی شہر کے سیاق میں پیش کیا ہے۔ اس افسانے کا مندرجہ ذیل اقتباس اس کیفیت کو پوری شدت کے ساتھ ظاہر کرتا ہے:
’’ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟۔ تم کہاں جانا چاہتے ہو؟‘‘ ان سبوں نے اس چوراہے پر لٹکے آدمی سے پوچھا۔
’’ تم ہی بتاؤ۔ تم سب کہاں جانا چاہتے ہو؟‘‘
اس نے وہی سوال ان سے کردیا
’’ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں ؟۔۔۔۔۔ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟‘‘
وہ سب ایک دوسرے سے دریافت کرنے لگے
چوراہے پر ٹنگے آدمی نے قہقہہ لگایا۔۔۔۔۔۔ــ’’ ہا۔۔۔ہا۔۔۔۔ہا
جب تمہیں خود ہی نہیںمعلوم۔۔۔۔۔اور تم سبوں کو نہیں معلوم کہ تم کہاں جانا چاہتے ہو، تو یہ سوال تم نے مجھ سے کیوں کیا؟ اپنے آپ ہی سے پہلے پوچھ لیتے۔!
اس افسانے میں چوراہے پر ٹنگا آدمی زندگی کا وہ استعارہ ہے جس کے ذریعہ افسانہ نگار زندگی کے سفر کی لاحاصلی کو ظاہر کرتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جو انسان زندگی کے اس لاحاصل سفر میں شامل ہیں بہ ظاہر انھوں نے زندگی کے ان لوازمات کو حاصل کر لیا ہے جو سماجی سطح پر ان کے شخصی رتبہ کو فضیلت و امتیازکا حامل بناتے ہیں لیکن اس سفر کے کسی مرحلے پر جب خود زندگی ان سے اس سفر کا مقصد دریافت کرتی ہے تو ان کے پاس اس سوال کا کوئی اطمینان بخش جواب نہیں ہوتا اور وہ خود ایک مجسم سوال بن جاتے ہیں۔انسان ، خواہ وہ کسی بھی عہد یا سماج سے وابستہ ہو ،زندگی کے کسی نہ کسی مرحلے پر اس سوال سے روبرو ضرور ہوتا ہے اور اس مرحلے پر اس کے افکار و خیال میں جو بیچینی پیدا ہوتی ہے وہ اسے ایک ڈھرے سے بندھی زندگی کے حصار کو توڑنے پر اکساتی ہے اور جب وہ اس کے لیے آمادہ ہو جاتا ہے تو اس کی ذاتی ، خانگی اور معاشرتی مجبوریاں اور مصلحتیں اس کے ارادوں کو پھر اسی حصار کا پابند بنا دیتی ہیںاور افکار و خیال کا یہ لاوا اس کی ذات کے آتش فشاں میں ہی سرد پڑ جاتا ہے ۔اس کے بعد زندگی پھر اسی ڈھرے پر چلنے لگتی جس میں کسی نئی راہ کے پیدا ہونے اور زندگی کی حقیقت کو دریافت کرنے کے کسی تسلی بخش امکان کے نمو پانے کی امید معدوم ہو جاتی ہے۔انور قمر کے جس افسانے کا اقتباس ابھی پیش کیا گیا ، اسی افسانے کے درج ذیل دو اقتباسا ت اس کیفیت کو پورے تاثر کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ان اقتباسات میں جس کردار کے توسط سے اس کیفیت کو ظاہر کیا گیا ہے وہ چوراہے پر ٹنگا ہوا وہی آدمی ہے جسے زندگی کا استعارہ سمجھنا چاہیے:
(۱)’’ہا۔ ہا۔ ہا، اب میں کبھی صبح اخبار نہیں پڑھوں گا۔ کبھی چائے نہیں پیوں گا۔ کبھی بوٹ پالش نہیں کروں گا۔ کبھی داڑھی نہیں بناؤں گا۔ کبھی ریڈیو نہیں سنو ںگا۔ کبھی کام پر نہیں جاؤںگا۔کبھی راہ چلتے اشتہار نہیں پڑھوں گا۔ کبھی کسی کو تھینک یو نہیں کہوں گا۔۔۔۔۔۔۔۔کیوں کہ میں اپنی زندگی کے پہیے کو گھماتے گھماتے بور ہو گیا ہوں۔ بے زار ہو گیا ہوں۔ تھک گیا ہوں۔ وہ پہیّا جس محور پر گھوم رہا ہے وہ اپنی جگہ ہی پر قایم ہے۔ جب محور اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا تو پہیّا کیوں کر حرکت کرے گا۔ میں وہیں ہوں جہاں تھا۔ اور اگر محور اب بھی نہ بدلوں تو سالہاسال تک وہیں رہوں گا۔ اس لیے اب محور ہی کوئی اور ہوگا۔ نیا۔ انوکھا۔ اچھوتا۔!
(۲) دوسرے روز حسب معمول اس نے اپنے چائے کے پہلے پیالے کے ساتھ اخبار دیکھا اور یہ خبر پڑھ کر ششدر رہ گیا کہ کل فلورا فاؤنٹن کے چوراہے پر ایک شخص نے اپنے گلے میں رسی کا پھندا ڈال کر خود کشی کر لی ۔ جس کی لاش دیکھنے کے لیے ہزاروں لوگ جمع ہو گیے تھے ۔ اور وہ لوگ اس وقت تک جمع تھے جب تک چوراہے پر ٹنگے اس شخص کی لاش نیچے نہیں اتار ی گئی۔
درج بالا دوسرا اقتباس افسانے کا اختتامی اقتباس ہے جو بہ ظاہر ایک توضیحی بیان ہے جس سے افسانے کے مرکزی کردار کی خودکشی کے بارے میں پتہ چلتا ہے لیکن اس توضیح میں استفسار کے متعدد ایسے پہلو روپوش ہیں جو زندگی کی حقیقت سے وابستہ ہیں۔ افسانے کے مرکزی کردار کی یہ خود کشی زندگی کے اس سفر کا اختتام ہے جس کی بیزارگی سے اکتایا ہوا انسان نئے انوکھے اور اچھوتے محور کو تلاش کرنے کا ارادہ کرتا ہے لیکن دنیوی مسائل کے سبب اس کا یہ ارادہ تشنہ ٔ تکمیل رہ جاتا ہے اور انجام کار وہ پھر اسی ڈھرے پر لوٹ آتا ہے ۔ اس مراجعت کے بعد اگر چہ وہ ظاہری طور پر زندہ رہتا ہے لیکن زندگی کی حقیقت کو دریافت کرنے والے نئے محور کی تلاس کے ارادے کی عدم تکمیل اس کے باطنی وجود کو فنا کر دیتی ہے۔اس حادثہ کا نظارہ کرنے والا ہجوم بھی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں ایسے ہی حادثے سے دوچار ہوگا اور بالآخر زندگی کی حقیقت کو جاننے کی یہ سعی ایک مستقل سوال کے طور پر باقی رہے گی ۔انور قمر کے افسانوں میں یہ سوال ان تمام امکانی صورتوں کے ساتھ رونما ہوتا ہے جو زندگی کی حقیقت کا سراغ پانے کی کد و کاوش سے عبارت ہے۔انھوں نے اپنے افسانوں میں جن موضوعات کو برتا ہے وہ انسان کی زندگی کے تہذیبی و سماجی اور بعض دفعہ سیاسی حوالوں کے کسی نہ کسی زاویے سے اس سوال پر غور کرنے کی تحریک عطا کرتے ہیں۔موضوع کی افسانوی تجسیم کے دوران ان کا تخلیقی شعور مسلسل اس سوال سے الجھتا نظر آتا ہے اور اس کیفیت سے دو چار ہوتے رہنے کے دوران جب وہ اپنے گرد و اطراف پر نظر ڈالتے ہیں تو انھیں حیات و کائنات کی جو تصویر نظر آتی ہے اسے فنی مہارت کے ساتھ وہ الفاظ کا پیرہن عطا کر افسانے کی شکل میں ڈھال دیتے ہیں۔اس عمل کی تکمیل میں تخلیقیت کا وہ عنصر لازمی طور پر شامل ہوتا ہے جو افسانے کو حسیاتی و جذباتی سطح پر متنفس بنائے رکھتا ہے۔
انور قمر اپنے افسانوں میں مرکزی موضوع کی ترسیل کے لیے جو فضا بندی کرتے ہیں اس میں استفہامی رنگ گرچہ بہت کم پایا جاتا ہے لیکن اگر افسانے میں بیان کردہ مختلف واقعات اور ان واقعات سے پیدا ہونے والے تاثرات کو مرکزی موضوع کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہر تاثر ایک سوال کی صورت ان واقعات کے وقوع پذیر ہونے کے اسباب و محرکات کی جانب ذہن کو منتقل کرتا ہے ۔ موضوع کی ترسیل کا یہ ہنر انسانی نفسیات و جذبات کی نیرنگیوں پر فنکارانہ مہارت کے بعد آتا ہے اور اس معاملے میں ان کے اکثر افسانوں کو معیاری تخلیق کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ان کا ایک بہت مشہور افسانہ ہے ’ جہاز پر کیا ہوا‘ جو فساد زدہ انسانوں کا وہ مرثیہ ہے جس میں ’رن پڑنے‘ کا بیان اگرچہ نہ ہوا ہو لیکن انسانی زندگی پر فساد کے ہیبت ناک اور خونیں اثرات کو ظاہر کرنے کے لیے جس صورتحال کو پیش منظر کے طور پر استعمال کیا گیا ہے وہ افسردگی، اضطراب،اضمحلال،رنج اور غم ناکی سے مملو ہے۔یہ افسانہ سیاست اور مذہب کے اس سفاکانہ ارتباط پر ایک بھرپور طنز ہے جو اپنے مفاد کی خاطر انسانوں کو بھی ان بے حیثیت کیڑے مکوڑوں کی مانند سمجھتا ہے جنھیں بڑی آسانی سے پیروں تلے کچلا جا سکتا ہے۔سیاست اور مذہب کا یہ ارتباط اس عصر کی ایسی کریہہ حقیقت بن چکا ہے جس کے سبب اقدار حیات کا تصور بڑی حد تک دھندلا پڑ چکا ہے۔افسانہ صرف ان انسانوں کی غم ناک روداد بیان نہیں کرتا جو تجرباتی سطح پر فساد کی زد میں آئے بلکہ ان انسانوں کی خلش آمیز کیفیت بھی ظاہر کرتا ہے جو بہ ظاہر فساد سے تو محفوظ رہے لیکن سسٹم کے تقاضوں کی تکمیل ان کے اور فساد زدہ انسانوں کے درمیان مذہبی یکسانیت کی بنا پر ایسا ربط پیدا کر دیتی ہے جو ان کی فرض شناسی اور ایمانداری کو مشکوک بنا دیتی ہے۔اس افسانے کا کردار سینئر کپتان عرش الرحمن انہی انسانوں کا نمائند ہ ہے جو اپنی ڈیوٹی جہاز رانی شعبہ کے قوانین و احکامات کے مطابق کرتا ہے لیکن جہاز پر موجود فساد زدگان سے اس کی مذہبی یکسانیت اس کے عمل کی شفافیت کو متاثر کرتی نظر آتی ہے ۔ حالانکہ افسانوی کرافٹ کے اس مرحلے پر افسانہ نگار نے جہاز کے مالک کے فیکس کو عر ش الرحمن کے حق بہ جانب ہونے کے جواز کے طور پر پیش کیا ہے تاہم اس کا اپنے ساتھی بمل دت سے یہ کہنا ’’ یہ دنیا والے کبھی کسی کو اپنے غیر جانب دار ہونے کا موقع نہیں دیتے ۔ گوکہ اس کنٹینر میں آئے ہوئے تمام لوگ میرے بہن بھائی ہیں ، مگر میں ان کے ساتھ کیوں کر امتیازی سلوک کر سکتا تھا؟ اچھا ہوا جو یہ حکم آگیا۔‘‘اس کیفیت کا اظہار ہے جو سسٹم کی پیچیدگیوں میں جکڑی ہوئی زندگی کے کرب سے عبارت ہے۔جس حکم کو وہ اپنی عافیت کا سامان سمجھتا ہے دراصل وہی اس کی شخصیت پر ایسا مستقل سوال ہے جو زندگی کے مختلف مراحل پر اس کے لیے مشکلات و مسائل پیدا کر سکتا ہے۔عرش الرحمن کا مندرجہ بالا بیان افسانے کی وہ کلید ہے جو موضوع کے وسیع تر آفاقی تناظر میں مذہب و سیاست کے سفاکانہ کھیل کو نمایاں کرتی ہے۔اقتدار پرست عناصر کا یہ کھیل عام انسانوں کے لیے کس درجہ اذیت ناک ہوتا ہے ، اسے ’کابلی والا کی واپسی‘میں درد مندانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں انور قمر نے ’کابلی والا‘ کے توسط سے برصغیر کے اس سیاسی بحران کو پیش کیا جسے نام نہاد امن پسند بین الاقوامی طاقتیں اپنے مفادکے لیے استعمال کرتی ہیں۔یہ سیاسی بحران ایک عام انسان کی آرزووں اور خواہشوں کو کچھ اس طور سے پامال کرتا ہے کہ اسے اپنا گھر، اپنے لوگ، اپنی زمین اور اپنا وطن سب کچھ پرایا لگنے لگتا ہے اور پھر ایک مسلسل دربدری اس کا مقدر بن جاتی ہے۔انور قمر نے انسانی جذبات پر حالات کے جبر کی اثر پذیری کو جس انداز میں بیان کیا ہے اس میں دردمندی، ہمدردی اور دائمی احساس محرومی کو واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔
انور قمر نے اپنے افسانوں میں بیان کردہ واقعات کے سیاق میں انسانی جذبات کے زیر و بم کو بڑی خوبی کے ساتھ پیش کیا ہے۔یہ واقعا ت جن انسانوں پر یا جن کے توسط سے رونما ہوتے ہیں ان کے جذبات کی عکاسی کے لیے واقعہ کی ترتیب میں ان عناصر کو ملحوظ رکھنے کی ضرورت ہوتی ہے جو افسانوی کرداروں کے جذبات پر واقعے کی اثر پذیری کی نوعیت کو ظاہر کر سکیں۔افسانے میں بیان کی گئی صورتحال کے خارجی مظاہر سے ان عناصر کو اس طور سے منتخب کرنا جو کردار کی نفسیاتی و جذباتی کیفیت کو متشرح کرے ،افسانہ نگار کی تخلیقی صلاحیت کو واضح کرتا ہے۔اس حوالے سے ان کے افسانوں کا مطالعہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی واقعہ میں کارفرما خارجی مظاہر کو کردار کی داخلی کیفیت کے ساتھ ایسا معنوی ربط عطا کرتے ہیں جو واقعے کی تاثر پذیری کو پوری قوت کے ساتھ نمایاں کرتا ہے۔ان کے بعض افسانوں میں یہ خارجی مظاہر اگر چہ عارضی نوعیت کے ہوتے ہیں لیکن کردار کی تشکیل کے نفسیاتی و جذباتی مراحل پر ان کے دیر پا اثرات کو بہ آسانی محسوس کیا جا سکتا ہے۔افسانہ ’خزاں زدہ‘ میں ان خارجی مظاہر کے ذریعہ مسز ایمانویل کے ماضی اور حال کی جو روداد بیان کی گئی ہے اس میں آسودگی و خوشحالی اور تنہائی و بے چارگی کا تاثر شدت کے ساتھ نمایاں ہوا ہے۔یہ افسانہ فرقہ وارانہ فساد کے پس منظر میں لکھا گیا ہے لیکن افسانہ نگار نے فساد کی منظر کشی کے بجائے اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی اس صورتحال کو پیش کیا ہے جو انسانی زندگی کو خو ف اور محرومی کے دائمی احساس میں مبتلا کر دیتی ہے اور پھر اس کا وجود خارجی اور باطنی سطح پر غیر مندمل ہونے والے زخم کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔ انور قمر کا یہ افسانہ پہلی بار ۲۰۰۷ء میں کراچی سے شائع ہونے والے سہ ماہی رسالے روشنائی کے افسانہ صدی نمبر حصہ سوم میں شائع ہوا تھا۔ اس میں بیان کنندہ غائب متکلم کے طور پر مسز ایمانویل کا جو احوال بیان کرتا ہے وہ فساد کی زد میں آنے پر مسز ایمانویل کو ملنے والی جسمانی اذیت کی درد ناک روداد ہے ۔اس کے بعد انور قمر نے جب اس افسانے کو اپنے چوتھے افسانوی مجموعے ’جہاز پر کیا ہوا‘ میں شامل کیا تواس روداد میں اس حصہ کا اضافہ کیا جو مسز ایمانویل کی جسمانی اذیت کے سبب ان کی ازدواجی زندگی میں پیدا ہونے والے اس خلا سے عبارت ہے جو ان کی شخصیت کو روحانی طور پر دائمی کرب میں مبتلا کر دیتا ہے۔انور قمر کا یہ تخلیقی طریقہ ٔ کار ظاہر کرتا ہے کہ وہ انسانی زندگی میں رونما ہونے والے حادثات و واقعات کے ہمہ گیر اثرات کی ان تما م امکانی صورتوں تک رسائی حاصل کرنے کی فنکارانہ سعی کرتے ہیں جو کردار کی سماجی و ذاتی زندگی کو وسیع پیمانے پر متاثر کرتی ہیں۔اس کے ساتھ ہی یہ تخلیقی طریقہ کار ان کی فنی ریاضت کا مظہر بھی ہے۔
انور قمر کا افسانوی اسلوب ان کی منفرد فنی صلاحیت کو نمایاں کرتا ہے۔ انھوں نے جس زمانے میں افسانہ لکھنا شروع کیا اس دور میں افسانوی اسلوب کے متعلق نظری مباحث اردوافسانہ نگاری میں ایک فیشن کے طور پر رائج تھے۔ان مباحث میں ان اسلوبیاتی تجربات کی افادیت و معنویت پر گفت و شنید کا سلسلہ سا چل نکلا تھا جو طرز اظہار کو پیچیدہ یا مبہم اور سادہ یا عام فہم بناتے ہیں۔اس ضمن میں افسانے میں علامت و تمثیل نگار ی اور تجریدیت کے فنی سروکار مختلف حوالوں سے زیر بحث رہے۔اسی زمانے میں جدید اور جدید تر افسانے کی وہ بحث بھی چل نکلی تھی جسے سکہ بند قسم کی ترقی پسندی سے بیزاری کے طور پر دیکھا گیا اور ایک مخصوص نظریہ ٔحیات کی تائید و تشہیر کی غرض سے افسانہ لکھنے کو غیر ادبی تخلیقی عمل کے مترادف قرار دیا گیا۔ افسانے میں اسلوب کی سطح پر ہونے والے مختلف قسم کے تجربات کے باوصف یہ دعویٰ مشکل ہی س کیا جا سکتا ہے کہ کسی بھی دور کی افسانہ نگاری کا دامن انسانی زندگی اور اس کے لوازمات سے تہی رہا ہو۔یہ ضرور ہے کہ زندگی اور اس کے لوازم کی پیشکش کا انداز ہر دور میں یکساں نہیں رہا اورافسانہ نگاری کے فنی ارتقا میں ان مختلف النوع قسم کے تجربات کو یکسر غیر اہم بھی نہیں قرار دیا جا سکتا۔انور قمر کے افسانوی اسلوب پر معاصر تخلیقی رجحانات کے اثرات جابجا نظر آتے ہیں ۔ انھوں نے بعض افسانوں میں رمزیت اور اشاریت کو افسانوی فضا بندی کے لیے استعمال کیا ہے اور بعض موقعوں پر علامتی اسلوب سے بھی استفادہ کیا ہے۔انھوں نے اپنے افسانوں میں لسانی قلابازیاں دکھانے سے اجتناب کیا ہے تاہم یہ نہیں کہا جا سکتا کہ بہ ظاہر سیدھا و سپاٹ نظر آنے والا ان کا افسانوی اسلوب متن کی اس تہہ داری سے عاری ہے جس کی بنا پر افسانوی تخلیق کو فنی امتیاز حاصل ہوتا ہے۔اس ضمن میںان کے موقف کو ان ہی کے ایک افسانے ’کیلاش پربت‘ کے مرکزی کردار کیلاش چند کے اس بیان سے سمجھا جا سکتا ہے۔
’’میں اپنے کوٹ کی آستین میں سے خرگوش نکال کر دکھانے کا عادی نہیں ہوں اور نہ ہی مافوق الفطرت باتیں کرنے کا مجھے خبط ہے۔‘‘
انھوں نے اپنے افسانوی اسلوب میں سحر خیزی کی وہ کیفیت پیدا کرنے کی کوشش نہیں کی جو متن کی ظاہری ساخت کے طلسم سے قاری کو مبہوت کر دینے کو ہی افسانے کا مقصود سمجھے اور نہ ہی انھوں نے لسانی سطح پر ایسے بے ہنگم تجربات کیے جو افسانوی موضوع کے ترسیلی عمل کو متاثر کرتے ہیں۔انھوں نے اپنے افسانوی اسلوب کی تزئین کاری میںبعض اوقات تاریخ و اسطور سے استفادہ بھی کیا ہے لیکن استفادے کے اس عمل میں بھی سماج اور زندگی کے عصری حقائق کو نظر انداز نہیں کیا ہے۔ ان کے افسانوں میں زندگی اور انسان کی حقیقت کودریافت کرنے کا تخلیقی عمل شعوری فنی کاوش کے طور پر نظر آتا ہے اور یہ ان کے فنی اختصاص کاایک اہم حوالہ ہے جس کی بنا پر انھیں اردو کے افسانہ نگاروں میںنمایاں مقام حاصل ہوا۔
Salam Bin Razzaq ke Afsano mein Wajoodi Asraat
Articles
سلام بن رزاق کے افسانوں میں وجودی اثرات
میر عابد

اردو ادب میں جدیدیت کا میلان دوسرے میلانات کی طرح مغرب کے زیرِ اثر وجودمیں آیا اور وسیع معنویت کے ساتھ اردو افسانے میں پھیلنے لگا۔ جدیدیت ایک ایسا تخلیقی رویہ ہے جو روایتی انداز کو ردّ کرتا ہے اور ماضی کے مقابلے میں حال کے تقاضوں کو پورا کرنے اور عصری مسائل کو پیش کرنے کی ضرورت پر زور دیتا ہے۔ وحید اختر کے حسبِ ذیل اقتباس سے اس کی پوری وضاحت ہوتی ہے:
’’اپنے عہد کی زندگی کا سامنا کرنے اور اسے تمام امکانات و خطرات کے ساتھ برتنے کا نام جدیدیت ہے۔ ہر عہد میں جدیدیت ہم عصرزندگی کو سمجھنے اور برتنے کے مسلسل عمل سے عبارت ہوتی ہے۔ اس لحاظ سے جدیدیت ایک مستقل عمل ہے جو ہمیشہ جاری رہتا ہے۔ ‘‘( ’جدیدیت اور ادب ‘۔ وحید اختر ص: ۳۹)
جدیدیت کی ایک فلسفیانہ اساس وجودیت کا فلسفہ ہے جس میں فرد کی ذات کو مرکزیت Centralityحاصل ہے۔ اس فلسفہ کی رو سے فرد کو اپنے وجود معاشرے اور کائنات میں سب سے پہلے اپنے وجود سے متصادم ہونا پڑتا ہے اور وجود کی آگہی کا کرب جھیلنا پڑتا ہے۔ نیز ساری کائنات میں فرد تنہا و بے یار و مددگار ہے اور اس کا کوئی سہارا نہیں۔ وجودی فکر نے بیسویں صدی میں گہری تقویت اور مقبولیت حاصل کی۔ دو عالم گیر جنگوں کی تباہیوں کے نتیجے میں انسان خوف و ہراز کا شکارہوگیا۔ اس کے علاوہ سائنسی ایجادات اور مادی ترقی نے انسانی وجود کی معنویت اور عظمت مشکوک کردی۔ غرض فرد اجتماعی تصورات سے لاتعلق ہوکر اپنی ذات کے خول میں سمٹ گیا۔
جدیدیت اور فلسفہ وجودیت کے تناظر میں اس امر کی صراحت ضروری ہے کہ فلسفہ وجودیت کی ہمہ گیری اور وسعت کے باوجود یہ باور نہیں کیا جاسکتا ہے کہ جدیدیت سے وابسطہ تمام ادبا اور شعرا وجودیت کو فکری طور پر یا اسے نصب العین بناکر ادب کی تخلیق میں سرگرم ہیں۔ گمان اغلب ہے کہ فلسفہ وجودیت کے عناصر بتدریج شعوری یا غیر شعوری طور پر پھیلے ہیں اور ہمارا افسانوی سرمایہ اس کے حصار میں محصور ہوتا گیا ہے۔ جدید ناقدین ادب نے بارہا اس امر کا اظہار کیا کہ نئے افسانے میں وجودی اثرات بیش از بیش ملتے ہیں۔ ان ناقدین ادب نے اس بات کا بھی احساس دلایا کہ اکثر افسانہ نگار ایسے بھی ہیں جنھیں اس طرزِ فکر کی باقاعدہ خبر نہیں یا انھوں نے اس فلسفے کا براہ راست مطالعہ نہیںکیا یا اس فلسفے کے فکری محور سے ان کا تعارف نہیں لیکن پھر بھی بہر نوع ان کی تخلیقات میں وجودی اثرات کی بازگشت واضح اور عیاں ہے۔ ڈاکٹر وحید اختر نے اپنی کتاب ’’فلسفہ اور ادبی تنقید‘‘ میں ان امور کی صراحت حسبِ ذیل میں کی ہے:
’’ ہمارے ادب پر وجودیت کے فلسفہ کا براہ راست اثر کم ہے لیکن ہماری فکر میں وہ عناصر جو وجودیت کی تشکیل کرتے ہیں بالواسطہ اور غیر شعوری طور پرخود بخود شامل ہوگئے ہیں۔ کیوں کہ وجودیت حقیقی معنوں میں آج کا فلسفہ ہے۔ ہائن مان Heinmannکا خیال ہے کہ وجودیت اب مستقبل نظامِ فلسفہ کی حیثیت سے قابلِ قبول نہیں رہی لیکن اس میں آج کے حالات کو سمجھنے کے لیے جو بنیادی صداقتیں ملتی ہیں وہ اس فلسفے کی مقبولیت کی آج بھی ضامن ہیں۔ ‘‘ (ص:۱۷۳، ۱۷۴)
مذکورہ بالا اقتباس سے یہ حقیقت مترشح ہوتی ہے کہ ہمارے اردو ادب میں خصوصاً افسانوی ادب میںایسے عناصر بیش از بیش ملتے ہیں جو فلسفہ وجودیت کی تعمیر اور تشکیل میں معاون ہوتے ہیں۔یہ عناصر جدید حالات کی تفہیم میں معاون ہیں۔ اس کے اندر بنیادی صداقتیں پوشیدہ ہیں۔ یہ ہمارے تجربے کی کسوٹی پر کھرے اتر چکے ہیں اور موجودہ صورتِ حال کے عین مطابق ہیں۔ اس امر کی صراحت آج کے افسانہ نگاروں کی نگارشات سے واضح ہوتی ہے۔ یہاں سلام بن رزاق کے نمائندہ افسانوں کا جائزہ لیاجاتا ہے تاکہ اس امر کی وضاحت ہوسکے کہ کس حد تک وجودی اثرات کی بازگشت ان کے افسانوں میں موجود ہے۔
نئے افسانہ نگاروں کی نسل میں سلام بن رزاق سب سے زیدہ خلاق افسانہ نگار ہیں۔ جدیدیت کے زیرِ اثر ان کی تربیت ہوئی لیکن انھوں نے سریندر پرکاش، بلراج مین را، خالدہ حسین اور انور سجاد کی روایت سے خود کو الگ کرتے ہوئے تجرید، استعارات اور علامات کے ساتھ روایتی بیانیہ کی شمولیت کی ضرورت محسوس کی اور تکنیکی سطح پر میانہ روی کا ثبوت دیتے ہوئے افسانے لکھے۔انھوں نے زیادہ نہیں لکھا لیکن احتیاط کے ساتھ موضوع اور فن کا لحاظ رکھتے ہوئے لکھا۔ ۱۹۶۴ء سے افسانہ نگاری کا جو سفر شروع ہوا وہ اب چار جلدوں میں موجود ہے۔ ننگی دوپہر کا سپاہی، معبر، شکستہ بتوں کے درمیان اور زندگی افسانہ نہیں جیسے افسانوی مجموعوں کے حوالے سے سلام بن رزاق کی افسانہ نگاری کے ارتقائی سفر کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ سلام بن رزاق کے یہاں بیانیہ انداز پایا جاتا ہے اور وہ بے جا آرائش و زیبائش سے گریز کرتے ہیں۔ معاشرہ اور اخلاقی اقدار کی زوال پذیری، مذہبی ایقانات کی بے اثری اور فرد کے استحصال کے پس پردہ جو سماجی اور سیاسی محرکات کارفرما ہوتے ہیں انھیں وہ علامتوں کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ان تمام کیفیات کو اپنا ذاتی تجربہ بناکر وہ اس طرح پیش کرتے ہیں کہ قاری کو خود اپنی وارداتِ قلبی معلوم ہوتی ہے۔ وجودی فن کاروں کی طرح ان کی تقریباً تمام کہانیوں میں ایک خاص قسم کا ڈر، خوف، یاسیت اور محرومی مختلف پیرائے میں نظر آتی ہے۔ باطن میں غوطہ زنی کرکے اس کی گہرائیوں تک پہنچ کر ذات کی تلاش کا عمل ان کے یہاں ملتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھیں وجودی افسانہ نگاروں کی صف میں شامل کیا جاسکتا ہے۔
سب سے پہلے ان کے افسانے ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ کو موضوع بنایا جاتا ہے تاکہ یہ واضح ہوسکے کہ کس حد تک سلام بن رزاق کے مذکورہ بالا افسانے میں وجودی اثرات کی بازگشت ملتی ہے۔ ’ننگی دوپہر کا سپاہی‘ میں افسانہ نگار نے جدید انسان کے مسائل اور زندگی کی پیچیدگیوں کو موضوع بنایا ہے۔ ماحول کا انتشار، وجودکی آگہی کا کرب، سفر بے سمت، بے مقصدیت ، رشتوں کی مہملیت، قدروں کی شکست و ریخت، خوف و اندیشہ، تنہائی اور اجنبیت اور نہ جانے کتنے ہی ایسے احساسات اس کہانی میں فنی چابکدستی سے برتے گئے ہیں۔ ایک دو اقتباس ملاحظہ ہوں تاکہ یہ احساس ہوسکے کہ سلام بن رزاق انسانی احوال کو پیش کرتے ہوئے وجودی فکر سے کتنے قریب آگئے ہیں:
’’ نہ تم جانتے ہو کہ تم کہاں جارہے ہو ، نہ میں جانتا ہوں کہ میں کہاں جارہا ہوں۔ کوئی نہیں جانتا کہ ہم سب کہاں چلے تھے، کہاں جارہے ہیں ، جب سفر ہی زندگی کی شرط ٹھہری تو پھر سفر اکیلے بھی جاری رکھا جاسکتا ہے۔ بھیڑ کا احسان کیوں لوں۔‘‘ (ننگی دوپہر کا سپاہی، مطبوعہ شب خون، مارچ ؍ اپریل ۱۹۷۷ء جلد ۵ ، شمارہ ۱۰۳، ص: ۴)
زندگی ایک طویل سفر کا نام ہے۔ اس سفر کی ابتدا کی نہ خبر ہے اور نہ ہی انتہا معلوم۔ صرف چلے جانا ہے کہاں، کس طرف ، کدھر، کیوں۔ یہ سب سوالات بے معنی ہیں۔ کسی کو معلوم نہیں کہ سفر کا رُخ کیا ہے۔ اس سفر کی منزل کہاں ہے گویا زندگی انسان کا مسئلہ ہے اور وہ اس مسئلے میں کسی کا شریک نہیں۔ وہ اکیلا ہے ، اکیلا ہی اس سفر کا بوجھ اٹھاتا ہے۔ ایک اور اقتباس ملاحظہ ہو:
’’سب دھوکا ، سب فریب ، عزیز، رشتہ دار ، جائداد ، خاندان ، عزت یہاں تک کہ کتابیں بھی اور زندگی بھی؟ نہیں۔ زندگی ایک سوال کی شکل میں اس کے آگے چل رہی تھی اور وہ دیوانہ اس کے پیچھے لپکا جارہا تھا۔(ایضاً)
ظاہر ہے یہ وجودی احساس ہی تو ہے۔ کیوں کہ دوست، احباب ، عزیز و اقارب ، خاندان ، جائداد سب دھوکا اور فریب قرار دینا اقدار کی شکست و ریخت کی طرف اشارہ ہے۔ اس کے علاوہ رشتے کی مہملیت اور بے اعتباری کی کیفیت بھی اس سے آشکارہ ہے۔ بکھرائو و شکستگی کی اس فضا میں ایک ہی شئے ایسی ہے جس پر اعتبار کیا جاسکتا ہے اور وہ ہے زندگی ۔ زندگی کے خطرات و مسائل کے درمیان گھر کرنا بھی معنی خیز ہے یہی ایک مستند چیز ہے جس کے پیچھے دیوانہ وار لپکا جاسکتا ہے۔
وجود کی تلاش کا عمل ، تنہائی اور زندگی کی لایعنیت Absurdityکے احساسات جدید دور کی دین ہیں۔ اور ہمارا جدید افسانوی سرمایہ ان ہی موضوعات کے ارد گرد گردش کرتا نظر آتا ہے۔ سلام بن رزاق کے کرداروں کی غالب اکثریت اپنی ذات کا عرفان حاصل کرنے کی کوشش میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔ نیز ان کے کردار وجود کی تہوں سے گزر کر وجود ہی کے توسط سے زندگی کے اسرار و رموز کی تلاش میں سرگرداں ہیں۔ ایسی ہی کہانیوں میں ’البم ‘ کو غیر معمولی اہمیت حاصل ہے۔ اگرچہ یہ کہانی بیانیہ نثر کی عمدہ شاہ کار ہے لیکن اس کے پسِ پردہ راوی کے وجود کی کئی پرتیں کھلتی نظر آتی ہیں۔ کہانی کا ڈھانچہ اس طرح ہے کہ راوی ’البم‘ میں اپنی تصویر چسپاں کرنے کی کوشش کرتا ہے اچانک تصویر میں کئی دوسرے چہرے اسے ماضی کی گم گشتہ یادوں میں گم کرتے ہیں۔ یہ چہرے اس کے عزیزوں ، رشتہ داروں اور دوستوں کے ہیں۔ ان چہروں میں بوڑھی ماں کا چہرہ خستہ ہے اور بڑھاپا ان کے چہرے سے عیاں ہوتا ہے۔ ماں کے چہرے کے ساتھ ایک اور چہرہ جڑا ہوا ہے جو بہت ہی اداس اور مضمحل ہے۔ یہ ان کے والد مرحوم کا چہرہ ہے۔ اس کے بعد تصویر میں اس کی بیوی کا چہرہ ہے جب وہ اس کے گھر میں دلہن بن کر آئی تھی۔ غرض ماں ، باپ ، بیوی ، بھائی، عزیز و رشتہ دار کئی پرچھائیاں اس کے ارد گرد منڈلا رہی ہیں۔ وہ ایک آئینہ کی مانند ہے جس میں دوسروں کے عکس گڈ مڈ ہوگئے ہیں۔ یہاں راوی ایک شدید وجودی بحران سے دوچار ہوتا ہے۔ کہتا ہے کہ میں جو کچھ ہوں دوسروں کے طفیل ہوں، میں خود کہیں نہیں ہوں۔ اقتباس ملاحظہ ہو:
’’پرچھائیوں کے اس ہجوم میں اپنی ذات کی تلاش کی انتھک کوشش نے مجھے چور چور کردیا۔ میں ایک سعادت مند بیٹا ہوں۔ ایک باوفا شوہر ہوں، شفیق باپ ہوں۔ دوست ہوں یعنی جو کچھ بھی ہوں دوسروں کے طفیل ہوں۔ میں خود کہیں کچھ نہیں ہوں۔ کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میری ہستی ایک کتاب ہے جس کا میں صرف عنوان ہوں۔ ورق ورق کھنگال ڈالتا ہوں اندر عنوان سے متعلق ایک حرف نہیں ملتا۔ ‘‘ (افسانہ ’البم‘ مشمولہ ’ شکستہ بتوں کے درمیان)
مذکورہ بالا اقتباس سے یہ حقیقت مترشح ہوجاتی ہے کہ کہانی میں راوی اپنے وجود کی موجود گی کو درج کرانے کے لیے بے چین ہے۔ غرض افسانہ نگار نے افسانے میں یہ تاثر دلانا چاہا کہ عصرِ حاضر کا فرد بے چہرہ ہے اور یہی بے چہرگی موجودہ دور کے فرد کا مقدر بن گئی ہے۔
سلام بن رزاق کی افسانہ نگاری کی جڑیں تمام تر زمین میں پیوست ہیں۔ بے چہرگی ، احساس تنہائی، اپنے وجود کی بازیافت، بے سمتی جو جدید افسانے کے کلیشے بن گئے۔ سلام بن رزاق کے مشاہدے اور نظر کی تیزی جہانِ دیگر کے پردوں کے پار وہ سب دیکھ لیتی ہے جن کے اسرار ذات دوسرے شناور افسانہ نگاروں پر نہیں کھلتے۔ اس حوالے سے سلام بن رزاق کا افسانہ ’شکستہ بتوں کے درمیان‘ ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ افسانہ انسانی وجود اور درد مندی کے جذبے سے تیار کیا گیا ہے۔ مائیکل کی یتیم خانے کے چرچ میں ولادت ہوتی ہے اور پرورش بھی وہیں ہوتی ہے۔ لیکن یتیم خانے کی باہر کی دنیا میں اس کا کوئی نہیں ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی ذات کے خول میں سمٹ کر رہ جاتا ہے۔ اس کے ذہن میں یہ بات ان مٹ نقش کی طرح گھر کر جاتی ہے۔ میرا کوئی نہیں میں کسی کا نہیں ۔۔۔۔میں خدا کی مانند تنہا ہوں۔ اس کے ہاتھوں سے ریت سے بچے کا مجسمہ بن جانا اور پھر ماں کے سینے سے دودھ پیتے ہوئے مجسمہ بنانا اس کی انتہائی محبت کی محرومی کا وجودی اشارہ ہے۔ اسے کسی کی سرپرستی اور شفقت نہیں ملتی جس کا وہ متلاشی۔ اسے اس بھری دنیا سے سروکار نہیں۔ اسی لیے وہ شکستہ بتوں کے درمیان رہ کر زندگی کو آخری دہانے پر پہنچا کر خود اپنی ذات کے ساتھ ان بتوں کی مانند شکستہ ہوجاتا ہے۔
سلام بن رزاق جیساکہ عرض کیا جاچکا ہے کہ ان کے ہاں انسانی وجود اور شخصیت کی صلابت پر زور ہے۔ جب آدمی اس سے گریز کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اسے بھٹکنا پڑتا ہے۔ ایک دوست اور مصلح کی طرح سلام بن رزاق اس کے وجود کی آواز بن کر ابھرتے ہیں۔ اس کی مثال کے لیے ان کا افسانہ ’’دوسرا قتل‘‘ اہم ہیں۔ دوسرا قتل میں عصرِ حاضر میں روحانیت، مذہبی عقائد اور اخلاقی رویوں کا قتل یا زوال دکھایا گیا ہے۔ غرض یہاں مادہ پرستی کا عروج ہے اور مادہ پرستی کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ہولناک نتائج کی طرف بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ کسی جرم کو آپ جتنا چھپانا چاہتے ہیں لیکن انسان کے اندر کی آواز یعنی ضمیر اس کی گواہی اتنی ہی شدت سے دیتا ہے۔ اس افسانے میں اسی پہلو کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ اگر ایک باضمیر شخص اپنے ضمیر کا خون کردیتا ہے تو بے ایمانی ، موقع پرستی اس کا نصب العین بن جاتی ہے۔ لیکن دوسری طرف ضمیر ہر ممکن موقع پر انسان کو تاکید کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ خلاصہ کلام یوں ہے کہ اس افسانے میں سلام بن رزاق کا انسانی وجود سماج، اخلاق اور سچائی کے تئیں اعتماد و وابستگی کا صحیح اندازہ ہوتا ہے۔
سلام بن رزاق نے اپنی تخلیقی انفرادیت کو کثرت سے جدا کرنے کے لیے دلچسپ کہانی بیان کرنے کی واضح صورت پر دھیان مرکوز کیا ہے جس کی بہترین نمائندگی ان کی کہانی ’’آوازِ گریہ‘‘ سے ہوتی ہے۔ افسانہ نگار نے یہاں انسان کے اندر زندہ درگور کیفیات کو منظر نامہ بنادیا ہے۔ ایک اقتباس ملاحظہ ہو:
’’۔۔۔۔۔۔میرا وجود اندھیرے میں تحلیل ہوچکا ہے۔ اس دردناک بے بسی پر مجھے پہلی بار رونا آتا ہے اور میں بے اختیار رونے لگتا ہوں۔ میں رو رہا ہوں، میرے رونے کی آواز منوں مٹی تلے اس طرح گھٹی گھٹی ، پھنسی پھنسی نکل رہی ہے جیسے کسی شکستہ بانسری کے سوراخ میں کوئی سُر اٹک گیا ہو۔ ‘‘( افسانہ ’آوازِ گریہ‘ مشمولہ ’شکستہ بتوں کے درمیان۔ص:۱۵۷)
غرض مذکورہ بالا افسانے میں واحد متکلم اپنے وجود کے اندر پنپتے حادثات کو خواب کی شکل میں ظاہر کرتا ہے۔ گویا سلام بن رزاق کے افسانوں میں فکر کا وہی دائرہ ہے جو فلسفۂ وجودیت کا خاصہ ہے اور اس صراحت پچھلے صفحات میں پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔ مادی ترقی اور روحانی بحران کے اس کی دور میں آج کے فرد کا سب سے بڑا مسئلہ اپنے وجود کی معنویت کی تلاش ہے۔ آج کاانسان بے چہرہ ہے۔ نفسیاتی الجھنوں اور نیوراتیت کا شکار۔ وہ جذباتی اور ذہنی مسائل میں الجھا ہوا ہے۔ وہ اپنے آپ سے لڑ رہا ہے۔ یہ وہ تمام عناصر ہیں جو سلام بن رزاق کے تقریباً سبھی افسانوں میں کم و بیش پائے جاتے ہیں۔ گمان اغلب ہے کہ سلام بن رزاق کا وجودی مفکروں کے افکار سے براہ راست کوئی تعارف نہیں یا اس فلسفے کے بنیادی افکار سے ان کا سابقہ نہیں اور کسی تخلیق کار کے لیے ضروری بھی نہیں کہ وہ اپنی تخلیقی نگارشات میں کسی مخصوص فکر ہی کو موضوع بحث بنائے۔ لیکن حالات اور زمانے کے مسائل اور کوائف سے متاثر ہونا ایک لازمی امر ہے۔ یہاں یہ بھی عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کی افسانہ نگاری کی ساخت الگ الگ ہے لیکن فکری اعتبار سے وجودیت کے دائرے میں ہی گردش کرتا نظر آتا ہے۔
Bayania ka Jadogar Anwar Khan by Qamar Siddiqui
Articles
بیانیہ کا جادوگر انور خان
ڈاکٹرقمر صدیقی
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا مجموعی رویہ جدیدیت سے ہم آہنگی کے ساتھ حقیقت پسندانہ اسلوب سے رغبت کا رہا ہے۔ انور خان ان میں سب سے نمایاں ہیں۔ان کا افسانہ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ بہت مشہور ہوا تھا۔ اس کے علاوہ ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ ، ’فنکاری‘، ’ کتاب دار کا خواب‘ ، ’یاد بسیرے‘ اور ’فرار‘ جیسے افسانے ان کے شاندار تخلیقی سفر کا اشاریہ ہیں۔ انور خان کے افسانوں کا بنیادی رویہ علامتی ہے اور ابہام کا خلاقانہ استعمال افسانوں کی معنوی تہوں کو مجلا کرتا ہے۔ وارث علوی نے انور خان کی اس فنّی خاصیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ:
’’انور خان کے تمثیلی افسانوں میں ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ اور ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘ نہایت کامیاب افسانے ہیں۔ بوڑھا خدا کی علامت بھی ہوسکتا ہے، اخلاقی روایت کی بھی، ضمیر کی بھی، بہرحال اس کے ابہام میں اس کی آرکی ٹائپل حسن اور معنویت ہے۔ ‘‘ (’تین مضمون نگار‘ مشمولہ ’’جواز‘‘ مالیگائوں، شمارہ ۱۷ ص:۸۹)
بلاشبہ ’جب بوڑھا فریم سے نکل گیا‘ ایک شاہکار افسانہ ہے۔ اس افسانے میں ابتدا سے لے کر اختتام تک انور خان معاشرتی برائیوں کی پرتیں کھولتے نظر آتے ہیں۔ خاص طور سے کہانی کے اختتام میں انورخان نے گویا کہانی میں جان ڈال دی ہے۔ ملاحظہ ہو:
’’وائرلیس گاڑیاں شب و روز دوڑ رہی ہیں۔ طیارے فضا میں منڈلا رہے ہیں۔ ساحل پر بحری افواج چوکس ہیں۔ صنعت کار ہراساں ہیں۔ انڈر ورلڈ کے سلاطین پریشان اور بوڑھے کے نقش پا شہر کے چپے چپے پر بکھرے ہوئے۔ وہ شہر میں بے خطر گھوم رہا ہے۔ کبھی ایسا سننے میں آتا ہے کہ بوڑھا گرفتار ہوگیا ہے۔ کوئی کہتا ہے وہ پھر سیٹھ دیوان چند کے ڈرائنگ روم میں لگے فریم میں لوٹ گیا ہے لیکن لوگ یقین نہیں کرتے جب تک آسمان نیلا ہے، گھاس ہری اور چائے ذائقہ دار۔‘‘ (مشمولہ مجموعہ’ راستے اور کھڑکیاں‘ ص: ۱۰۲)
انور خان کے تین افسانوی مجموعے ’راستے اور کھڑکیاں‘ ، ’فنکاری‘ اور ’یاد بسیرے‘ شائع ہوئے ۔ا ن مجموعوں کی بیشتر سرگزشت کھوئے ہوئوں کی جستجو پر مشتمل ہے۔ یہ افسانے ہماری سماجی اور ثقافتی زندگی کے فریم سے باہر کردیے گئے انسان اور انسانی قدروں کا بیانیہ ہیں۔ ان افسانوں میں ممبئی کا ماحول، یہاں کی زندگی، یہاں کے لوگوں کے طور طریقے اور مزاج و عادات کی بہترین عکاسی کی گئی ہے۔ فلم ، ٹی وی اور دیگر تفریحی و تشہیری ذرائع کی مدد سے ممبئی کا جونقشہ مرتب ہوتا ہے وہ خاصا محدود ہے۔ چاندنی بکھیرتے چاند چہروں سے منور جگ مگ کرتا یہ شہر دراصل شہر نہیں شہر کے وہ امیجیز ہیںجنھیں فلم اور ٹی وی اسکرین کے لیے تیار کیا جاتا ہے۔ اصل شہر تو انور خان کے افسانوں میں نظر آتا ہے۔ افسانہ ’شام رنگ‘ میں انسانوں کی بھیڑ چیونٹیوں کی قطار کی طرح گلیوں اور سڑکوں پر وقت اور ضرورت کے مردہ جھینگر کو سوت سوت سرکاتی نظر آتی ہے۔ اسی طرح افسانہ ’صدائوں سے بنا آدمی‘ میں انور خان زندگی کی تمام تر سفاکیوں کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کرکے بتاتے ہیں کہ جو آدمی ایک دن میں کروڑپتی بنتا ہے وہ ایک ہی دن میں فقیر بھی بن سکتا ہے۔ افسانے کی یہ سطریں ملاحظہ فرمائیں:
’’کھلونے کی مانند خوبصورت بنگلہ اسے شرارت آمیز نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
____بنگلہ کمروں میں منقسم ہے۔ کمروں میں ٹیلی فون براجمان ہیں۔ گھنٹیاں اعداد و شمار اگلتی ہیں۔ اعداد و شمار نے بینک کی پاس بُک بنائی۔ بینک کی پاس بُک نے بنایا سیمنٹ کا نکریٹ کی اونچی عمارتوں کا جنگل جو ہونٹوں پر پتھریلی چپ لیے بنگلے کے عقب سے تک رہا ہے۔
____ اس کے قدم غلط پڑگئے۔
____وہ بے دھیانی میں یہ حرکت کر بیٹھا۔
____وہ ہمیشہ سے سڑک پر ہے۔
جینتی لال نہیں۔ وہ صرف ٹیلی فون کی گھنٹیوں کی زبان سمجھتا ہے۔ ‘‘
(مشمولہ مجموعہ’ راستے اور کھڑکیاں‘ ص: ۴۲)
انور خان کا افسانہ ’’فنکاری ‘‘جسے باقر مہدی نے Circularکہانی قراردیا ہے لیکن لطف کی بات یہ ہے کہ یہیCircularity اس کہانی کا حسن ہے۔۔۔۔۔ہر بار ہوٹل والا شیٹی ،چائے کے داموں میں اضافہ کردیتا ہے۔ہربار ہوٹل کے گاہکوں میں برہمی پیدا ہوتی ہے اور ہر بار تھوڑی جدوجہد اور احتجاج کے بعد سب شانت ہوجاتا ہے۔یہ کسی ایک شہر ،ایک قصبہ یا ایک ملک کی بات نہیں ہے بلکہ پوری تیسری دنیا کا منظر نامہ ہے ۔باقر صاحب نے اس کہانی پر گفتگو کرتے ہوئے آگے لکھا ہے کہ یہ ہندی فلموں کا خاص موضوع رہا ہے لہٰذا فلمی اصطلاح استعمال کرتے ہوئے یہ بھی کہاجاسکتا ہے کہ کیا زندگی کی بھی اپنی Locationنہیں ہوتی؟جس کی مناسبت سے ہمارے واسطے اور وسیلے ،رہائش کے طور طریقے ،رہن سہن کے آداب،وقت گزاری کے مشاغل ،دیگر دلچسپیاں اور مواقعے ،ساتھ بیٹھنے والے حلقۂ احباب اور نہ جانے کون کون سی چیزوں کے دائرہ کار کا انتخاب اور تعین ہوتا ہے۔افسانہ ’فنکاری‘ احتجاج کا افسانہ ہے اور اس کا کردار استحصال کے خلاف آواز بلند کرتا ہے لیکن اسٹبلشمنٹ کی لذت بغاوت کی آب کو ماند کردیتی ہے۔ افسانہ نگار یہ بتانے میں کامیاب ہے کہ احتجاج کس طرح نمائش کی چیز بن جاتا ہے۔ صارفیت اور اشتہاریت کس درجہ سماج پر اثر انداز ہورہے ہیں اور ہمارے آج کے میڈیا اساس سماج میں احتجاج اور بغاوت کو کس طرح نمائشی بلکہ سازشی بنادیا گیا ہے یہ کہانی اس کی ترجمان ہے۔
انور خان نے اپنے افسانوں میں بیانیہ کے مختلف طریقوں کو کامیابی سے برتا ہے۔ شروعات کے افسانوں میں بیانیہ کا Diegtic انداز حاوی ہے اور یہی انداز انور خان کی شناخت بھی بنا مثلاً’ کوئوں سے ڈھکا آسمان‘میں واقعہ نگاری کا اسلوب ہی افسانے کی روح ہے۔ پورے افسانے میں آواز ہی آوازہے،اپنے پورے وجود کے ساتھ ۔یخ بستہ رات،پہلاآدمی ،دوسرا آدمی، تیسرا اور چوتھاآدمی ،گلابی صبح ،ہنستا بچہ،شرماتی لڑکی، پھونس کا مکان،مٹھی بھر چاول،مچھلی کا شوربہ، روئی کی دلائی،کوّوں سے ڈھکا آسمان اور کہانی کے آخر میں کارپوریشن کی گاڑی ،سڑک کا موڑ، شدید سردی کے باعث برہنہ اکڑے ہوئے چند جسم، ان کا گاڑی میں لادے جانا اور گاڑی کا چل دینا۔۔۔۔۔۔یعنی کہانی اندر کہانی ۔انور خان ایسے ہی قصہ گو تھے۔لوگ زمان ومکان سے بے پرواہ منہ کھولے بس سنتے جائیں،گویا کسی نئی دنیا کا سیاح کوئی اجنبی واقعات بیان کررہا ہو!!حالانکہ ان کی کہانیوں کا ہر لفظ اپنے اطراف اوراپنے ماحول کا عکاس ہے۔انور خان کے یہاں بیانیہ کا Mimeticاسلوب جس میں کہانی پر ڈرامائیت غالب ہوتی ہے بھی ملتا ہے ۔اس نوع کے افسانوں میں ’شام رنگ‘، صدائوں سے بنا آدمی‘، ’ لمحوں کی موت‘ ، ’بول بچن‘ اور کسی حد تک ’فنکاری ‘ کا بھی شمار کیا جاسکتا ہے۔ افسانہ ’’ برف باری‘‘ بیانیہ کے Interal Monologueاسلوب کا عکاس ہے۔ تقریباً آدھا افسانہ راست بیانیہ انداز میں تحریر کیا گیا ہے باقی آدھا افسانہ داخلی خود کلامی یعنی Interal Monologueکے اسلوب میں۔ ایک ہی افسانے میں دو تکنیکوں کا ادغام افسانے کی ترتیب و ترسیل دونوں کے لیے چیلنچ ہوتا ہے۔ یہاں فن پر اپنی دسترس کی وجہ سے انور خان اس رہِ حاجر و حاجز پر سبک روی سے گزر گئے ہیں۔
ادب کے علاوہ زندگی کے مختلف شعبوں سے متعلق تحریروں کا مطالعہ انور خان کا پسندیدہ مشغلہ تھا یہی وجہ ہے کہ ان کا تخلیقی کینوس بھی خاصا وسیع ہے۔ روز مرہ کی زندگی ، جبر و استحصال ، ہماری ظاہری وباطنی دنیا ، انور خان کے افسانوں کی یہی رنگا رنگی انھیں معاصر افسانہ میں ایک اہم مقام عطا کرتی ہے۔ ان تمام رنگوں میں ایک رنگ صوفیانہ افکار و خیالات کا بھی ہے۔ تلاشِ حق کی یہ جستجو ، یہ تڑپ انور خان کے مزاج کا حصہ تھی۔اپنے پہلے مجموعے کی اشاعت سے تقریباً سات آٹھ سال قبل انھوں نے انورقمر کے نام ایک خط میں تحریر کیا تھا کہ :
’’ میںجاننا چاہتا تھا، دنیا میںیہ اونچ نیچ کیوںہے؟ نیکی کیا ہے؟ بدی کیا ہے؟ نیکی کیوںکی جائے؟ بدی کیوں نہ کی جائے؟ اس دنیا میںمیری حقیقت کیا ہے؟ خود اس دنیا کی حقیقت کیا ہے؟ میںکیا کرسکتا ہوں؟ مجھے کیا کرنا چاہیے؟ میںکیا کروں؟ ‘‘(مشمولہ ششماہی ’’اردو نامہ‘‘مدیر: پروفیسر صاحب علی ،مضمون’ انور خان کی فنکاری‘ از: ڈاکٹر جمال رضوی، شمارہ:۷ بابت نومبر ۲۰۱۶ ص: ۲۷۸)
تلاش و جستجو کے اس جذبے نے انورخان سے تصوف کے موضوع پر بھی افسانے لکھوائے۔ اس ضمن میں افسانہ ’’چھاپ تلک‘‘ بہت اہم ہے۔ اس میں افسانہ نگار نے تصوف کی ظاہری علامات مثلاً درگاہ، پیر و مرشد، محفلِ سماع وغیرہ کے مناظر پیش کرتے ہوئے تصوف کی تعلیمات کا مثبت پیرائے میں ذکر کیا ہے۔ اسی طرح افسانہ ’بلاوہ‘ میں انھوں نے فنا و بقا کے مسئلے کے علاوہ مابعد الطبیعاتی حقیقتوں کا جائزہ لینے کی کوشش کی ہے۔ اس افسانے کے مرکزی کردار کا ایک مشاہدہ ملاحظہ فرمائیں:
’’اس کی آنکھوں کے سامنے اچانک اندھیرا چھا گیا جیسے سورج بدلی میں گھر گیا ہو۔ اْس نے دیکھا وہ ایک بہت بڑے سوراخ کے دہانے پر کھڑا ہے اور تمام چیزیں اْس سوراخ میںکھینچتی چلی جارہی ہیں۔ہرے بھرے درخت ، فضا میں اْڑتے پرندے ، مکانات ، بجلی کے قمقمے ، موٹریں ، گاڑیاں ، ڈاک کا ڈبہ ، خوش پوش راہگیر ، سڑک پر کھیلتے بچے ، سبک اندام حسینائیں، بازار ، رکشائیں ، سب ہی اپنی ملی جلی آوازوں سمیت جذب ہوتے چلے جارہے ہیں۔ وہ ٹھٹھک کر کھڑا ہوگیا۔ سوراخ سے مسلسل ایک ڈرائونی سی کھوں کھوں کی آواز آرہی تھی۔ ‘‘
تصوف کی بنیاد بشمول زندگی ، کائنات کے دیگر مظاہر کو التباس (Simulacra) تسلیم کرلیے جانے پر قائم ہے۔ انور خان نے یہاں کمالِ فن سے مختلف تہذیبوں میں رائج فنا کے بیانیوں کی تشکیلِ نو کی ہے۔ اس زاویے سے دیکھیں تو یہ افسانہ بین المطونیت کی بھی ایک عمدل مثال بن جاتا ہے۔ اس نہج کے دیگر افسانوں میں ’بھیڑیں‘ اور ’عرفان‘ وغیرہ کو بھی شامل کیا جاسکتا ہے ۔ البتہ افسانہ ’کمپیوٹر‘ میں انور خان نے گوکہ وجود ، عدم ، خالقِ کائنات جیسے صوفیانہ/بھکتی افکار کو ہی موضوع بنایا ہے ۔لیکن اس افسانے کی خاصیت یہ ہے کہ ہماری روایتی بصیرتوں کے ساتھ ساتھ علومِ جدیدیہ خصوصاً سائنسی بصیرتوں کی آمیزش اور انسان اور مشین کے ربط سے پیدا ہونے والی کارکردگی کو اجاگر کرکے ایک نئی منطق کا اضافہ کیا گیا ہے۔ یہ افسانہ سائنس فکشن نہیں بلکہ یہ جدید دنیا کی نئی بوطیقا ہے جس میں مشین کے ذریعے قادرِ مطلق تک رسائی کو درشانے کی سعی کی گئی ہے۔ مثال کے طور پر افسانے کا یہ حصہ پیش کیا جارہا ہے:
’’وہ دھیان کے آسن میں بیٹھ گیا اور اْسے پتہ بھی نہیں چلا کہ کب وہ دھیان میں چلا گیا۔ اُس نے دیکھا اُس کے گرو دروازے پر کھڑے اْسے بلا رہے ہیں۔ وہ اپنی جگہ سے اْٹھا اور ایک بے جان معمول کی طرح گرو کے ساتھ چل پڑا۔ پتہ نہیں وہ کتنی دیر تک چلتے رہے کم از کم رمیش کو یہی محسوس ہوا جیسے وہ صدیوں سے چل رہا ہو ، یہاں تک کہ اُس نے دیکھا کہ وہ بالکل دھرتی کے سرے پر آگئے ہیں۔ اُسے خوف محسوس ہوا مگر وینکٹ چلم ( گرو ) نے اُسے تسلّی آمیز نگاہوں سے دیکھا کہ گھبرائو مت ، میں تمہارے ساتھ ہوں۔ دوسرے ہی لمحے وہ خلا میں تھے۔ حسب معمول وہ سفید روشنیوں میں سے گزرے ، پھر زرد، گہری، نیلی، سبز اور ہلکی آسمانی روشنیوں سے گزرتے ، سرخ روشنیوں میں آگئے۔ آسمانی اور سرخ روشنیوں سے گزرنے کا رمیش کا یہ پہلا اتفاق تھا۔ ان روشنیوں سے گزرتے ہوئے رمیش کو ایک ہیجان سا محسوس ہوا جو جلد ختم ہوگیا کیونکہ اب وہ ایک بے رنگ وادی سے گزررہے تھے۔ اس وادی میں قدم رکھتے ہی اُنھیں محسوس ہوا کہ اُن پر پھول برس رہے ہیں۔ سکون اور خوشبو کی لپٹو ں نے اُنھیں اپنے ہالے میں لے لیا ہے اور وہ وہیں ٹھہر گئے۔ اُس نے اپنے گرو کی طرف دیکھا۔گرو نے مسکراتے ہوئے اُسے اُفق پر دیکھنے کا اشارہ کیا۔ گرو کے حکم کی تعمیل میں رمیش نے اُفق کی طرف دیکھا۔ گہری سیاہی مائل روشنی نے اچانک ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ رمیش نے اس روشنی کو اپنے اندر اُترتامحسوس کیا اور اُس نے دیکھا کہ وہ اور اُس کا گرو اب مجسم روشن ہوچکے ہیں۔ اب وہ سرتاپا آنند تھے۔ بڑی دیر تک وہ یونہی کھڑے رہے یہاں تک کے گرو وینکٹ چلم نے اشارے سے کہا کہ اب ہمیں واپس چلنا چاہیے اور اگلے ہی لمحے اْس نے خود کو روشنیوں کے درمیان سے گزرتے ہوئے پایا۔ رمیش نے آنکھیں کھولیں۔ ہر چیز ویسی ہی تھی اور ابھی رات ہی تو تھی۔ جیسے اْس نے ایک جھپکی لی ہو۔‘‘
یہ اور اس قبیل کے دوسرے افسانوں کی ایک خصوصیت ان کا بیانیہ بھی ہے۔علاوہ ازیں افسانہ ’’کمپیوٹر‘‘ میں زبان کا خلاقانہ استعمال بیانیہ کو مزید جاذبیت عطا کرتا ہے۔ خاص طور سے مابعد الطبیعاتی بیان کے لیے اس کی مناسبت سے زبان کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔انور خان نے حقیقت اور علامت کی باہمی آمیزش سے ایک ایسا بیانیہ تشکیل دیا ہے جو متنوع اور خیال انگیز ہے۔ انور خان نے بیانیہ میں منظری (Scenic)اور غیر منظری (Non Scenic) دونوں طریقوں کا استعمال کیا ملتاہے۔ کرداروں کے بجائے واقعات کو اہمیت دیتے ہوئے انھوں نے اپنے کئی کامیاب افسانے منظری (Scenic) اسلوب میں تحریر کیے۔مثلاً ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘، ’ صدائوں سے بنا آدمی، ’ شکستگی‘ اور’ سیاہ و سفید‘ وغیرہ ۔ زبان کا معروضی استعمال اور ڈسکورس کے دوران سوال قائم کرنے کا انداز انورخان کے بیانیہ کو پرکشش بناتا ہے۔ سوالات قائم کرنے کا یہ حوصلہ انور خان کی اصل طاقت ہے اور ان کے فنی رویے کی مخصوص پہچان بھی۔ان کے افسانوں میں استفہامی انداز کے علاوہ متن میں موجود صورتِ حال کے نتیجے میں بھی سوالات قائم ہوتے ہیں۔ یہ سوال اساس بیانیہ افسانوں میں معنی کی تکثیریت کو انگیز کرتا ہے۔ انور خان کے یہاں حقیقت نگاری، سادہ اور تاثراتی بیانیہ کے افسانوں کے علاوہ بیانیہ کے حوالے سے قدرے مشکل تمثیلی اور ایک سے زیادہ راویوں کی مدد سے بیانیہ تشکیل دینے کی تکنیکوں کا استعمال بھی کیا گیا ہے۔ افسانہ ’’ہوا‘‘ اس کی اچھی مثال ہے۔ تمثیلی بیانیہ میں زندگی کے داخلی و معنوی حقائق بیان کرتے ہوئے اس کے ابدی حقائق پر بھی توجہ مرکوز رکھنی ہوتی ہے۔ تمثیلی قصے میں اخلاقی مضامین کے ساتھ ساتھ ہر طرح کے مضامین شامل کیے جاسکتے ہیں۔ تمثیل ایک طرح سے استعارہ در استعارہ یا استعارہ بالتصریح سے قریب ترہے لہٰذا اسے فن کے لیے ایک کارگر وسیلہ تسلیم کیا جاتا ہے۔ افسانہ ’’ہوا‘‘ میں انور خان نے اسی وسیلے کے ذریعے بھیڑ یا اجتماع کی نفسیات کے منفی اثرات کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔
انور خان کے افسانوں میں تکنیک کے تجربات بھی ملتے ہیں۔ اس تعلق سے ان کے کئی افسانوں پر گفتگو کی جاسکتی ہے۔ ’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘ ان کا مقبول افسانہ ہے۔ اس میں انھوں نے کٹ اپ کی تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ کٹ اپ تکنیک میں پہلے جملے کے اختتام سے دوسرے جملے کو شروع کیا جاتا ہے۔ اس سے بیان میں شدت اور تاثر میں گہرائی پیدا ہوتی ہے۔مثال کے طور پر یہ چند سطریں ملاحظہ فرمائیں:
’’شہر کی بجلی فیل ہوگئی ہے۔‘‘ کہانی جمع کرنے والا ۔
’’بجلی فیل ہوگئی ہے۔‘‘ پہلا آدمی آگ میں گرتے گرتے بچا۔
’’بجلی فیل ہوگئی ہے۔دوسرا ہڑبڑایا۔
’’کیا یہ سچ ہے کہ اب صبح نہیں ہوگی۔‘‘(مشمولہ ’راستے اور کھڑکیاں ‘ ،ص: ۱۱)
اس طرح کے کٹ اپ تکنیک کا استعمال افسانے میں کئی بار نظر آتا ہے۔ دراصل اس افسانے میں انورخان نے اس تکنیک کی مدد سے ماحول کے بوجھل پن کے تاثر کو مزید گہرا کردیا ہے۔افسانہ ’ کتاب دار کا خواب‘‘ میں منظر کو ساکن (Freeze Frame)کردینے والی تکنیک کا استعمال کیا گیاہے۔ افسانے میں کسی فلم کی طرح انور خان بہتیرے مناظر کو ہماری آنکھوں کے سامنے بالکل ساکن کردیتے ہیں۔ مثال کے طور پر ’کتاب دارکا خواب‘ میں دیکھیے:
’’______یکایک سارا شہر تھم گیا ہے۔
_______ آسمان گیند کی شکل میں سر پر ہے۔
_______ غنچہ پھول بنتے بنتے ادھ کھلا رہ گیا ہے۔
_______پرندے ہوا میں اڑتے اڑتے ساکت ہوگئے ہیں۔
_______نوزائیدہ بچہ جس نے ابھی ابھی آنکھ کھولی ہے ، ہاتھ پیر پٹخ کر روتے ہوئے ویسے ہی ٹھہر گیا ہے۔‘‘ (مشمولہ ’’فنکاری ‘‘ ، ص:۲۴)
افسانہ نگار نے اس افسانے میں آثارِ قدیمہ کے توسط سے ایک ایسا تجربہ بیان کرنے کی کوشش کی ہے جس میں پورا منظر ایک لمحے کو ٹھہر جاتا ہے اور قاری اپنے آپ کو کتاب دار کے ساتھ ہی ساکت محسوس کرنے لگتا ہے۔ تکنیک کے تجربے کے اعتبار سے دیگر افسانوں میں ہوا، برف باری، نرسری، اپنائیت ، گونج، بول بچن اور میونسپل پارک کا ذکر بھی ضروری ہے۔ خاص طور سے ’’میونسپل پارک‘‘اس میں تو ایک جہان دگر آباد ہے۔افسانہ ’بول بچن‘ کو موضوعی سطح پر ایک عام سا افسانہ گردانا گیا ہے تاہم اس افسانے میں ممبئی کی علاقائی زبان کے الفاظ (slang) کااستعمال ہمیں منٹو کا افسانہ ’’ممد بھائی‘‘ کی یاد دلاتا ہے۔ ظاہرہے اس طرح کے تجربات اردو افسانے میں کم کم ہی دیکھنے کو ملتے ہیں لہٰذا یہ افسانہ اس حوالے سے بھی یاد رکھے جانے کے قابل ہے۔ اِس افسانے میں انور خان نے منظری (Scenic) اسلوب استعمال کرتے ہوئے ڈرامائیت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے۔ افسانہ ’’شاٹ‘‘ میں انورخان نے واقعات کو خاص زمانی ترتیب سے نہ بیان کرتے ہوئے ماضی سے حال کے انسلاک کے لیے فلیش بیک تکنیک کا استعمال کیا ہے۔ فلیش بیک تکنیک کا تعلق بنیادی طور فلم سے ہے ، یہاں ایک ندرت یہ بھی ہے کہ یہ افسانہ فلم کے ایک سین کا بیانیہ ہے جس میں فلیش بیک کے لیے ٹیلی گرام کے حروف ’’ کل مامی کا انتقال ہوگیا ہے‘‘ کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس ایک جملے سے پوری کہانی کی تعمیر و تشکیل کی گئی ہے۔ قاری جب اس کہانی کو Disconstruct کرتا ہے تو اسے زندگی کے بعض ایسے حقائق سے آنکھیں چار کرنی پڑتی ہیں جس کی وجہ سے وہ زندگی کے تئیں اپنی ترجیحات پر از سرِ نو غور کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہے۔
انور خان انسانی نفسیات کے پارکھ تھے اور انھوں نے اپنے افسانوں میں اس کا بخوبی اظہار بھی کیا ہے ۔انھوں نے ہمارے اطراف و اکناف میں بکھرے چھوٹے چھوٹے واقعات سے کہانیاں بُنیں اور زندگی کے انھیںچھوٹے چھوٹے واقعات کو بڑی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنایا ۔
Surandar Parkash ke Afsane by Dr. Nisar Ahmad
Articles
سریندر پرکاش کے افسانے
ڈاکٹر نثار احمد

۱۹۶۰ کے آس پاس اردو میں علامتی و تجریدی افسانے کا چلن عام ہوا۔ یہ اتنا حاوی رجحان تھا کہ کم و بیش اردو کا ہر قابلِ ذکر افسانہ نگار ادب میں اپنے وجود کی بقا کے لیے علامت و تجرید کا سہارا لینے پر مجبور ہوا۔ افسانوں میں تجرید پیدا کرنے کے لیے کہانی کے بنیادی صنفی عناصر یعنی پلاٹ ، کردار، واقعہ اور فضا کی ناگزیریت سے انکار کیا گیا اور منجھی ہوئی مانوس اور مربوط زبان کے بجائے نسبتاً ناہموار اور کھردری زبان کے ذریعے پر اسرار فضا کی تخلیق کی سعی کی گئی۔ اس کے جواز کے لیے کہا گیا کہ چونکہ افسانے میں فرد کے باطنی انتشار کی ترجمانی کی جارہی ہے اس لیے اس میں منطقی ربط کے بجائے بے ربط اظہار ضروری ہے۔ کہانی میں علامتی اظہار کے لیے داستان ، حکایت، دیومالا، بودھ جاتک ، یونانی دیومالا اور آسمانی صحائف سے جردار اور واقعات مستعار لیے گئے اور انھیں جدید زندگی کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے علامت کی تخلیق میں مدد لی گئی۔ بعض افسانہ نگاروں نے ذاتی علامتیں بھی وضع کیں۔ ان افسانوں میں جدید معاشرے کے ذہنی مسائل مثلاً تنہائی کا احساس ، عدم تحفظ کا کرب، بے سمتی و بے معنویت ، بے چہرگی کا احساس، اخلاقی و روحانی زوال، رشتوں کی بے معنویت، تشکیک اور فطرت سے ہجرت وغیرہ جیسے موضوعات کو پیش کیا گیا۔ اگر سیاسی جبر اور معاشی ناہمواری کو دکھایا گیا تو افسانہ نگار کی پوری توجہ اس کے انسانی باطن پر پڑنے والے اثرات پر رہی۔ اس طرح کے جدید افسانے لکھنے والوں میں ایک منفرد نام سریندر پرکاش کا ہے۔
سریندر پرکاش کے تین افسانوی مجموعے ’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘ (۱۹۶۸)، ’برف پر مکالمہ‘ (۱۹۸۱ء) اور ’بازگوئی‘ (۱۹۸۸) منظرِ عام پر آچکے ہیں۔ ان کے علاوہ درجن بھر افسانے مختلف رسائل کی زینت بن چکے ہیں۔ سریندر پرکاش جدید افسانہ نگاروں میں اس اعتبار سے منفرد و ممتاز ہیں کہ انھیں اپنے میڈیم پر فنکارانہ دسترس حاصل ہے۔ وہ الفاظ کو روایتی تلازمات سے آزاد کرکے استعمال کرتے ہیں جس کے نتیجے میں جدید انسان کی ذہنی و جذباتی کیفیات کی ایسی تصویر سامنے آتی ہے جو دوسروں سے نمایاں طور پر منفرد ہوتی ہے ۔ وہ تجرید اور اسطور دونوں کو فنکارانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔ وہ قدیم ہندو دیومالائی اساطیر اور اسلامی اساطیر سے کام لیتے ہیں اور خود اساطیر خلق بھی کرتے ہیں اور ان کے پرسے میں صنعتی دور کے تھکے ہوئے اور ستائے ہوئے انسان کے روحانی کھوکھلے پن ، ذہنی پراگندگی، رشتوں کی شکست و ریخت، اقدار کی پامالی، رنگ و نسل اور مذہب کی بنیاد پر نفاق اور تشدد نیز سیاسی و سماجی تبدیلیوں کے نتیجے میں انسانی ذہن پر پڑنے والے اثرات کی عکاسی فنکارانہ انداز میں کرتے ہیں۔ ان کے یہاں موضوع سے زیادہ اس کی پیشکش پر زور ملتا ہے اور وہ موضوع کی پیشکش کے لیے مختلف فنی تدابیر اختیار کرتے ہیں جس کے سبب ان کی کہانیاں ایک دوسرے کی فوٹو اسٹیٹ کاپی نہیں معلوم ہوتیں جیسا کہ بعض جدید افسانہ نگاروں کے یہاں دیکھنے کو ملتا ہے۔ وہ اپنے افسانوں میں ایک پراسرار ، خوابناک، مبہم اور انجانی دنیا خلق کرتے ہیں جن میں کردار پرچھائیں نما معلوم ہوتے ہیں۔ ان کرداروں کی شناخت ان کے ظاہری اعمال اور ان کے ناموں سے نہیں ہوتی بلکہ ان کی باطنی صورتِ حال سے ہوتی ہے۔ یہ کردار اپنے ظاہر میں نہیں بلکہ اپنے باطن میں پھیلتے اور سمٹتے ہیں۔ نیم بیداری کی کیفیتوں سے بنے گئے ان افسانوں میں تحیر و استعجاب کے عناصر پائے جاتے ہیں اور ان کے واقعات میں منطقی ربط نہیں ہوتا بلکہ خواب کی دنیا کے واقعات کی طرح ہم ان میں غیر متوقع اور بعید از فہم واقعات سے دوچار ہوتے ہیں۔ غالباً یہی وجہ ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے سریندر پرکاش کی علامتوں کو خواب کی علامتوں اور افسانوںکی بافت کو انوکھی بے بدنی سے تعبیر کیا ہے۔ فاروقی صاحب سریندر پرکاش کے پہلے افسانوی مجموعے کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں:
’’یہ افسانے محض بے پلاٹ کے نہیں ہیں۔ اگر پلاٹ نہ ہو لیکن کردار زمان میں حرکت کرتا رہے تو بھی افسانے کو ایک داخلی ربط میسر ہوجاتا ہے۔ ان کہانیوں کے کردار بھی کسی نقطۂ وقت پر ٹھہرے ہوئے اور اس میں گرفتار ہیں۔ اگر وہ حرکت بھی کرتے ہیں تو اپنے ذہنوں کی خلائوں میں۔ اس طرح ان کہانیوں میں ایک انوکھی بے بدنی (Bodylessness) پائی جاتی ہے جو بیک وقت مضطربھی کرتی ہے اور متحیر بھی۔‘‘
سریندر پرکاش کے پہلے مجموعے ’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ میں چودہ کہانیاں ہیں۔ ’’رونے کی آواز‘‘ اندورنی اظہار کی کہانی ہے جس میں جگہ جگہ خود کلامی کے ذریعے حزنیہ کیفیت پیدا کی گئی ہے اور اسی کے ساتھ شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے متضاد خیالات کی لہروں کو افسانہ نگار کی بے جا مداخلت کے بغیر بہنے دیا گیا ہے۔ کہانی کا واحد متکلم ایک وجودی کردار ہے جو جدید معاشرے کے مختلف مسائل سے دوچار ہے۔ اس کا وجود مختلف حصوں میں بٹ گیا ہے۔ وہ بے چہرگی ، تنہائی اور مایوسی کا شکار ہوکر باطنی کرب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ رشتوں کی ناپائیداری فرد کی بے بسی اور خود غرضی دیکھ کر اسے رونا آتا ہے۔ اس طرح رونے کی آواز مرکزی کردار کے ضمیر کی آواز کی علامت ہے۔ کہانی میں وشنو بابا کو پہلے سرسوتی سے پھر لکشمی سے شادی کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ وشنو بابا دوسری شادی کے بعد سرسوتی کو روتا بلکتا چھوڑ جاتا ہے۔ واضح رہے کہ سرسوتی علم کی دیوی ہے اور لکشمی دولت کی۔ ان دیومالائی علامتوں کے ذریعے سریندر پرکاش نے جدید معاشرے میں علم سے بے رغبتی اور دولت سے بے پناہ محبت کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کہانی کی فضا خوابناک اور پر استعجاب ہے اور زبان میں روانی ہے۔ کہانی کے بنیادی ڈھانچے میں اتنی توڑ پھوڑ نہیں کی گئی ہے کہ کہانی پن مجروح ہوجائے۔
’’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘‘ کو عام طور پر سریندر پرکاش کے پہچان کے وسیلے کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ کہانی نہایت پیچیدہ علامتوں کی حامل ہے۔ کہانی میں زرعی معاشرے سے جدید معاشرے کی طرف ہجرت کی داستان بیان کی گئی ہے۔ کہانی کا ایک اقتباس دیکھئے تو بات زیادہ روشن ہوجائے گی:
’’ وادی میں بے ترتیب درخت جابجا پھیلے ہوئے تھے جن کے جسموں کی خوشبو فضا میں گھل مل گئی تھی ۔ نئے راستوں پر چلنے سے دل میں رہ رہ کر امنگ سی پیدا ہوتی۔ سورج مسکراتا ہوا پہاڑ پر سیڑھی در سیڑھی چڑھ رہا تھا۔ میں گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر صاف شفاف چکنی سڑکوں پر آگیا۔ پختہ سڑکوں پر صرف میرے پائوں سے جھڑتی ہوئی گرد تھی جو میں پگڈنڈیوں سے لے کر آیا تھا یا پھر میرے قدموں کی چاپ سنائی دے رہی تھی۔‘‘
وادی کے بے ترتیب درخت زرعی معاشرے کی علامت ہے جس میں وسعت اور پھیلائو کے علاوہ فطرت سے قربت کا احساس ہوتا ہے۔ گرد آلود پگڈنڈیوں کو چھوڑ کر صاف ستھری چکنی سڑک پر آنا زرعی معاشرے سے جدید معاشرے کی طرف ہجرت ہے۔ پختہ سڑک پر آکر گرد کو جھاڑنا ماضی کے آثار و نقوش سے دستبردار ہونے کا اشاریہ ہے۔ بہر حال پوری کہانی نہایت پیچیدہ ہے اور قاری کے فہم و ادراک کو چیلنج کرنے والی ہے۔ کہانی میں صنعتی معاشرے کی تنہائی ، بے رخے پن اور رشتوں کی ناپائیداری کی طرف بھی بلیغ اشارے کیے گئے ہیں۔
’دوسرے آدمی کا ڈرائنگ روم‘ میں ’بدوشک کی موت‘ نسبتاً کم پیچیدہ ہے۔ اس کہانی میں جنگ کے دہشت نال ماحول میں عام لوگوں کی مسرتوں اور مسکراہٹوں کے چھن جانے کو موضوع بنایا گیا ہے۔ ’بدوشک‘ دراصل ہندی لفظ ’ودوشک‘ کی بگڑی ہوئی شکل ہے جس کے معنی مسخرہ کے ہوتے ہیں۔ بہ ظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بدوشک راوی کا دوست ہے جو مسخرے پن کی حرکتیں کرتا رہتا ہے لیکن غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ بدوشک کوئی کردار نہیں بلکہ راوی کی بٹی ہوئی شخصیت ہے اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب بدوشک کی موت واقع ہوجاتی ہے تو راوی اور اس کے گھر والے کہتے ہیں وہ ان کی شخصیت کا اٹوٹ انگ تھا اور ان کے ساتھ ۳۵ برسوں سے رہ رہا تھا۔ راوی کی عمر بھی ۳۵ برس کے آس پاس ہے۔ یہ دراصل جنگ کے دہشت ناک ماحول میں مسکراہٹوں اور خوشیوں کے چھن جانے کی علامت ہے۔ کہانی میں جگہ جگہ بارود، ٹینک اور بلیک آئوٹ کا ذکر ہے۔ بدوشک کو اگر کہانی کا ایک کردار بھی تسلیم کرلیا جائے تب بھی کہانی کی علامتی معنویت میں فرق نہیں پڑے گا۔
سریندر پرکاش نے اپنی کہانیوں ’نئے قدموں کی چاپ، پوسٹر، پیاسا سمندر، خشت و گل، رہائی کے بعد، رات روتی ہے، جنگل مہاراج روڈ‘ وغیرہ میں زرعی معاشرے سے ہجرت کرکے صنعتی معاشرے میں آمد اور پھر صنعتی معاشرے کی لعنتوں سے تنگ آکر قدیم تہذیب اور مذہب کی طرف مراجعت کو بڑی فنکارانہ انداز میں پیش کیا ہے۔ ’نئے قدموں کی چاپ‘ میں دونوں تہذیبوں کی کشمکش کو بڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ ماضی میں اکتارے پر برہا کے گان کے ذریعے ذہنی سکون حاصل کیا جاتا تھا لیکن جدید معاشرے میں میاں بیوی دونوں روزگار کے سبب مختلف شہروں کی خاک چھانتے ہیں لیکن انھیں کہیں بھی اطمینان اور سکون میسر نہیں آتا۔ اس طرح مادیت کی طرف بڑھتے ہوئے رجحان کے سبب ہر شخص پریشان ہے۔ رشتے ناطے اور بھائی چارہ سب کا خاتمہ ہوگیا ہے۔ یہاں پر ہابیل اور قابیل کے قرآنی اسطور کے وسیلے سے بھائی چارگی کے خاتمے کو پیش کیا گیا ہے۔ بالآخر اس سارے شکست و ریخت کا حل ماضی میں نظر آتا ہے جہاں مذہبی نظریات اور عقائد اسے ذہنی سکون عطا کرتے ہیں۔ ’پوسٹر‘ میں بھی جدید معاشرتی نظام اور پاپ کلچر کی لعنتوں کو موضوع بنایا گیا ہے اور یہ دکھایا گیا ہے کہ مادی آسائش کے حصول کے لیے جائز و ناجائز طریقوں میں امتیاز نہیں رہا۔ شوہر اپنی بیوی کو غیر کے ساتھ قابلِ اعتراض حالت میں دیکھتا ہے لیکن سوری کہہ کر بغیر کسی ردِّعمل کے وہاں سے ہٹ جاتا ہے۔ پریم ودا جنسی آزادی کے وسیلے سے زندگی کی مسرتوں کو کشید کرنا چاہتی ہے لیکن بالآخر ایک مرحلہ ایسا آتا ہے جب اسے وجودی خلا کا احساس ہوتا ہے۔ اس کی بے قراری ، تنہائی اور خودشکستگی کا مداوا سریندر پرکاش مذہب میں دکھاتے ہیں۔ ’خشت و گل‘ میں بھی قدیم و جدید تہذیبوں کی کشمکش کو دکھایا گیا ہے۔ اس میں قرآن پاک کے حضرتِ نوح کے قصے اور ہندو دیومالا میں منو، برہما، وشنو، مہیش اور گوتم بدھ کے واقعات اور ان سے متعلق تصورات گھلا ملا کر اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ حیرت ہوتی ہے۔ اس طرح کا کامیاب تکنیکی تجربی انتظار حسین نے اپنے افسانوں میں کیا ہے۔
مذکورہ کہانیوں میں سریندر پرکاش نے کہانی کے بنیادی صنفی عناصر کو یکسر مسترد نہیں کیا ہے بلکہ کہانی پن اور فضا سازی کے سبب یہ کہانیاں دوسری جدید کہانیوں سے منفرد شناخت رکھتی ہیں۔ ان کے برخلاف ’نقب زن‘ اور ’تلقارمس‘ خالص تجریدی کہانیاں ہیں۔ اول الذکر افسانے میں مختلف دائروں کے ذریعے تجریدیت پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور موخر الذکر کہانی اس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ سریندر پرکاش کی پیچیدہ تر کہانیوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اس کہانی کا انگریزی ترجمہ Linda Wentinkنے Indian Literatureکے لیے کیا تھا اور اسے اردو کی نمائندہ تجریدی کہانی قرار دیا تھا۔ بہر حال تلقارمس لفظ سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ کوئی عبرانی یا لاطینی لفظ ہے۔ خاطر نشان رہے کہ سریندر پرکاش کے بعد کی دو کہانیوں ’بازگوئی‘ اور ’ جمغورۃ الفریم‘ میں تلقارمس ایک کردار کے طور پر بھی سامنے آیا ہے۔ پوری کہانی میں کہیں کوئی وقفہ ،سکتہ یا کوئی دوسری علامت نہیں ہے۔ اس کے ذریعے سریندر پرکاش غالباً یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ جس دور کو یہ کہانی پیش کر رہی ہے اس میں زندگی بھی بغیر رکاوٹ کے ایک ہی رفتار پر چل رہی ہے۔ کہانی کا ایک اقتباس دیکھئے:
’’ستمبر کے مہینے میں آنسو گیس کا استعمال ٹھیک نہیں۔ ان دنوں کسان شہر سے راشن کارڈ کا بیج لینے آیا ہوتا ہے۔ وہ بڑے مہمان نواز قسم کے لوگ تھے۔ انھوں نے انڈوں کی جگہ اپنے بچوں کے سر ابال کر اور روٹیوں کی جگہ عورتوں کے پستان کاٹ کر پیش کردئے۔ مگر آخری وقت جب میں نزع کے عالم میں تھا وہ میرا راشن کارڈ چرانے کی ترکیبیں سوچ رہے تھے۔ انھوں نے اپنے خوانچے اونچی اونچی دیواروں پر لگا رکھے تھے اور نیچے وادی میں جھونپڑیاں جل رہی تھیں۔ جھونپڑیاں جلنے تک گاڑی پلیٹ فارم پر آجاتی ہے اور سب لوگ آگے بڑھ کر اپنی لاش پہچان لیتے ہیں پھر وہ گرم کباب کی ہانک لگاتے کوئی نہ پوچھتا کس عزیز کے گوشت کے کباب ہیں۔‘‘
اس اقتباس میں جملے جوڑ کر معنی بر آمد کیے جاسکتے ہیں لیکن اس میں کہانی پن کی تلاش سعی لاحاصل ہوگی البتہ اس میں کچھ واقعات اور کچھ باتیں شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے یکجا کردیئے گئے ہیں۔ اس کہانی کی نہ کوئی تھیم ہے نہ کوئی پلاٹ اور نہ ہی کوئی کردار۔ اس میں جدید دور کے بے شمار مسائل کو شعور کی رو کی تکنیک کے ذریعے پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اس طرح یہ اینٹی اسٹوری کی نمایاں مثال ہے۔
مجموعہ ’’ برف پر مکالمہ‘‘ میں گیارہ افسانے ہیں۔ اس مجموعے کے افسانوں میں دیومالائی عناصر کار فرما نظر آتے ہیں۔ اس سلسلے میں انھیں انتظار حسین سے مدد ملی۔ ’بن باس ۸۱‘ میں رامائن کے اسطور سے اور ’گاڑی بھر رسد‘ میں داستانوں سے مدد لی گئی ہے۔ ان کے برخلاف ’جمغورۃ الفریم، جبی ژان‘ اور ’برف پر مکالمہ‘ میں اسطور سازی کا رجحان ملتا ہے۔ اس مجموعے کی ایک اہم کہانی ’گاڑی بھر رسد‘ ہے جس کو عام طور پر نظر انداز کیا گیا ہے۔ اس کہانی کا موضوع حکمراں طبقے کے ذریعے عوام کا استحصال ہے۔ آزادی سے قبل ہندوستان کے عوام انگریزوں کے ظلم و جبر اور استحصال کا شکار تھے۔ آزادی کے بعد انگریزوں کے ظلم و جبر سے نجات پانے پر انھوں نے خوشیاں منائیں لیکن جب آزادی کے بعد اپنے ہی ملک کے حکمرانوں نے ان کا استحصال شروع کردیا تو ان کے توقعات کی شکست ہوگئی۔اس تھیم کی پیشکش کے لیے سریندر پرکاش نے داستانوں سے مدد لی ہے۔ کہانی میں دکھایا گیا ہے کہ پہاڑوں کے پیچھے سے ایک پر اسرار سواری آتی ہے اور کچھ کھانے پینے کے سامان کے علاوہ ایک خوبرو نوجوان کو لے کر روانہ ہوجاتی ہے۔ یہ عمل برسوں سے جاری ہے۔ یہ ایک اجتماعی آشوب ہے جس سے بستی والوں کو نجات دلانے والا کوئی نہیں۔ اس کہانی میں سریندر پرکاش نے سواری کا تصور داستان سے لیا ہے لیکن اس میں تھوڑی سی تبدیلی کرکے نیا مفہوم پیدا کیا ہے۔ داستانوں میں ہوتا یوں ہے کہ قریہ والوں کو اس اجتماعی آشوب سے نجات دلانے کے لیے بالاآخر ایک خطر پسند شہزادہ یا سبز پوش بزرگ آتے ہیں اور بستی والوں کو نجات دلاتے ہیں لیکن اس کہانی میں کوئی نجات دہندہ نہیں آتا ہے۔ اس سے سریندر پرکاش یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ آج آدم زاد جس اجتماعی آشوب میں گرفتار ہے اس سے نجات ممکن نہیں، موجودہ نظام حکومت سے بے اطمینانی کے اظہار کے لیے سواری کے اس تصور سے خالدہ حسین نے اپنی نہایت کامیاب اور پر قوت علامتی کہانی ’سواری‘ میں فائدہ اٹھایا ہے۔ خاطر نشان رہے کہ جدید کہانیوں میں نجات دہندہ کے غائب ہوجانے کے نکتے کی طرف پہلی بار ’سواری‘ پر بحث کرتے ہوئے انتظار حسین نے اشارہ کیا ہے۔ بہر کیف کہانی میں سریندر پرکاش نے جہاں گاڑی کی آمد کو بیان کیا ہے وہاں گاڑی اور گاڑی بان کی جزئیات کو اس طرح پیش کیا ہے کہ اس سے نہ صرف پر اسراریت پیدا ہوتی ہے بلکہ خوف و دہشت کی ایک انوکھی اور پر ہول فضا تیار ہوتی ہے۔ کہانی کی نثر نہایت خوبصورت ہے۔
اس کے بر خلاف ’ بن باس ۸۱‘ میں سریندر پرکاش نے اسطور کے ماخذ کے مطابق کتھا کی زبان سے کام لیا ہے جو نہایت دلکش معلوم ہوتی ہے۔ کہانی میں رام کے بن باس کے اسطور سے کام لیا گیا ہے۔ رامائن کے برخلاف اس کہانی میں بھی رام چندر جی چودہ برس کے بن باس کے بعد واپس نہیں آتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ رام چندر جی ہندو قوم کے نجات دہندہ تھے۔داستانوں کی طرح اس کہانی کا آغاز بھی پر اسرار انداز سے ہوا ہے۔ کہانی میں جگہ جگہ طنز سے کام لیا گیا ہے۔ اجودھیا میں رام چندر جی کے نہ آنے کے سبب جو تجارتی صورتِ حال ہے وہ ہمارے دور کا آئینہ ہے۔ وٹھل سیٹھ بھیکو کسان کے اناج لوہے کے باٹ سے تول کر خریدتا ہے اور نمک سونے کے باٹ سے تول کر دیتا ہے۔ کہانی کے آخر میں رامائن کے اسطور کو اسلامی اسطور سے ملا دیا گیا ہے۔ غالباً اس کے ذریعے حقیقت کے ایک ہونے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ کہانی کی ایک بڑی خوبی اس کی روانی ہے اور اسطور کے ماخذ کے مطابق زبان ہے۔ اس سلسلے میں کہانی کا ایک اقتباس ملاحظہ کیجیے:
’’مجھے شما کردیجئے پتا جی۔ رام کو ایودھیا واپس لانے میں اسپھل رہا ہوں۔ ان کی ہٹ کے آگے میری ایک نہ چلی۔ وہ آپ کی آگیا اور ماں کی اکچھا کا پالن کرنے پر ووش ہیں اور مجھے ان کی آگیا کا پالن کرنے پر ووش ہونا پڑ رہا ہے۔ راج سنگھاسن پر ششوبھت ہونے کے لیے اپنی کھڑاویں دی ہیں۔ وہ تو بن باس ہی رہیں گے پرنتو مجھے آدیش دیا ہے کہ میں ان کھڑائوں کی سہایتا سے راج کاج چلائوں۔ مجھے آشیرواد دیجئے کہ اس کٹھن پریکشا میں سپھل ہوسکوں۔‘‘
اس کے برخلاف ’جپی ژان ، برف پر مکالمہ‘ اور ’ جمغورۃ الفریم‘ میں اسطور سازی کا رجحان ملتا ہے۔ ’جپی ژان‘ سریندر پرکاش کا نمائندہ افسانہ ہے جس پر اس کی اشاعت سے اب تک بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ کہانی کا موضوع جدید معاشرے میں مادیت کے غلبے کے سبب پیدا ہونے والی انجانی ذہنی بے اطمینانی سے نجات حاصل کرنے کے لیے روحانیت کی طرف مراجعت ہے۔ سریندر پرکاش نے ’جپی ژان‘ کو ایک نجات دہندہ روحانی پیشوا کے علامت کے طور پر استعمال کیا ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ سریندر پرکاش نے اس کے ایک ہاتھ میں کھتری اور دوسرے میں سنکھ دکھایا ہے۔ کھتری کہیں مہرِ نبوت تو نہیں ؟ اور سنکھ کہیں صورِ اسرافیل تو نہیں؟ جس کو قیامت برپا کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ خیال رہے کہ نبی کی حیثیت بشیر اور نذیر دونوں کی ہوتی ہے۔ جپی ژان ایک روحانی پیشوا کی علامت ہے اس خیال کو تقویت اس واقعے سے ملتی ہے جس میں عورتیں جپی ژان کے انتظار میں ایک میدان میں اکٹھا ہیں۔ ظاہر ہے کہ عورتیں زیادہ مذہبی ہوتی ہیں اور معجزات و کرامات پر زیادہ یقین رکھتی ہیں۔ بہر حال کہانی میں جپی ژان کا شدت سے انتظار کیا جارہا ہے لیکن جب اس کو بوسیدہ حالت میں دریافت کرلیا جاتا ہے تو ان کے توقعات کی شکست ہوجاتی ہے۔ کہانی میں جدید دور کے دوسرے مسائل کی طرف بھی اشارے کیے گئے ہیں۔ خوبصورت نثر اور پراسراریت کے سبب کہانی کامیاب ہے۔
’جمغورۃ الفریم‘ میں ہندوستان کے تقسیم در تقسیم کے المیے کو موضوع بنایاگیا ہے۔ جمغورہ غالباً جمہوریت کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔ سریندر پرکاش عام طور پر پراسراریت پیدا کرنے کے لیے اس طرح کے حربے اختیار کرتے ہیں۔ ثبوت کے طور پر جپی ژان اور تلقارمس جیسے ناموں کو بھی پیش کیا جاسکتا ہے۔ سریندر پرکاش نے تقسیم کے المیے کو بالکل انوکھے انداز سے برتا ہے۔ ایک کمرہ ہے جس میں ایک کٹی پھٹی لاش پڑی ہے۔ کہیں دور فوارہ چل رہا ہے۔ ایک آدمی سائیکل پر چلا جارہا ہے اور کتا بھونک رہا ہے۔ کتے کو چپ کرانے کے لیے لاش کے کچھ حصے کاٹ کر کتے کے سامنے ڈال دیا جاتا ہے گویا آزادی کے وقت ہندوستان کی حیثیت ایک لاش کی طرح تھی اور اس پر طرہ یہ ہوا کہ کچھ لوگوں نے تقسیم ہند کا مطالبہ شروع کردیا لہٰذا اس لاش کا ایک حصہ کاٹ کر ان کے سامنے ڈال دیا گیا۔ اس طرح تقسیم کے واقعے کو علامتی انداز میں سریندر پرکاش نے پیش کیا ہے۔ کہانی میں داخلی خود کلامی کی تکنیک استعمال کی گئی ہے اور کہانی میں خوف و دہشت کی فضا ہے۔ ’برف پر مکالمہ‘ میں جدید معاشرے کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ برف در اصل جمود کی علامت ہے اور یہ اخلاقی و روحانی جمود کا اشاریہ ہے۔ کہانی میں اسطور سازی کا عمل ہے۔ اس کے علاوہ ’مردہ آدمی کی تصویر‘ اور ’ ہم صرف جنگل سے گزر رہے تھے‘ میں بھی معاشرے کے زوال کو موضوع بنایا گیا ہے۔ مذکورہ تینوں کہانیاں نہایت پیچیدہ علامتی نظام کی حامل ہیں اس لیے کہانی کی ترسیل میں دشواری ہوتی ہے۔ مختصر یہ کہ اس مجموعہ کی کہانیوں میں خوبصورت نثر، تحیر کا عنصر ، سیاسی و سماجی حوالے اور معمولی چیزوں کو گھما پھرا کر بیان کرنے کے اندازنے ان کو انفرادی رنگ عطا کردیا ہے۔
’بازگوئی‘ سریندر پرکاش کی افسانہ نگاری کے نئے موڑ کا اشاریہ ہے۔ اس مجموعے کی کہانیوں میں فکر کا غلبہ ضرور ہے لیکن اسی کے ساتھ سیاسی و سماجی حوالوں کی کثرت بھی ہے۔ ان افسانوں سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ سریندر رکاش ’تلقارمس‘ جیسے چونکانے والے تجربوں کے جادو سے باہر نکل آئے ہیں۔ اس مجموعے کی کہانیاں نسبتاً آسان ہیں۔ ان کی علامتیں اور تمثیلیں قدرے آسان ، مانوس ، واضح اور غیر مبہم ہیں۔ اس لیے قاری کو بہت جلد اپنی گرفت میں لے لیتی ہیں حالانکہ ان میں بھی سریندر پرکاش نے انہی فنی چابکدستیوں سے کام لیا جو ان کا امتیاز ہے۔
’بازگوئی‘، بجوکا، خواب صورت، جمغورۃ الفریم دو، جنگل سے کاٹی ہوئی لکڑیاں‘ اور ’ساحل پر لیٹی ہوئی عورت‘ میں اسطور سازی کا رجحان ہے۔ ’بازگوئی‘ سریندر پرکاش کی نمائندہ کہانیوں میں سے ایک ہے۔ اس کہانی کی پوری فضا داستانی ہے۔ کرداروں ، جگہوں اور شہروں کے نام کے ذریعے بھی داستانی فضا تیار کرنے میں مدد لی گئی ہے۔ بظاہر کہانی مصر کے کسی قدیم شہر کی معلوم ہوتی ہے لیکن اسے اپنے زمانے سے ہم آہنگ کرنے کے لیے سریندر پرکاش نے کہانی کے درمیان مداخلت کرکے ایمرجنسی کے زمانے کی سیاسی صورتِ حال کا ذکر کیا ہے۔ سریندر پرکاش نے یہ تکنیکی تجربہ کم ہمت اور کم کوش قاری کے لیے کیاہے۔ اگر کہانی کو جگہ جگہ مداخلت کرکے سریندر پرکاش نہ کھولتے تو کہانی غیر معمولی طور طاقتور ہوجاتی۔ بہر کیف کہانی کے وسیلے سے سریندر پرکاش یہ کہنا چاہتے ہیں کہ اقتدار ایک اندھی قوت ہے جو اس کو کنیز بنانا چاہتا ہے خود اس کا اسیر بن جاتا ہے اور اقتدار پر ہمیشہ قابض رہنے کے لیے حاکم ہر طرح کی گھناونی حرکتیں کرتا ہے۔ مختلف زمانوں اور جگہوں پر یہی عمل دہرایا جاتا رہا ہے۔ لطف کی بات تو ہے کہ حاکم اور مخالف دونوں دستور کی دہائی دیتے ہیں۔ ملکۂ شبروزی اسی اقتدار کی علامت ہے۔ تلقارمس ان باغی کرداروں کا نمائندہ ہے جو اقتدار کی ہوا لگنے کے بعد اپنی ساری بغاوت بھول جاتے ہیں۔ کہانی اپنی بے مثال خوبصورت نثر اور پر اسرار داستانی فضا کے سبب قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ اس طرح کی خوبصورت ، گداز اور نغماتی نثر اور داستانی رنگ و آہنگ ’جمغورۃ الفریم دو‘ میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ کہانی وحدتِ آدم کے محور پر گردش کرتی ہے۔ انسان کو وقت اور سیاسی و سماجی صورتِ حال نے مذہب ، رنگ ، نسل اور قبیلہ وغیرہ کے خانوں میں بانٹ کر ایک دوسرے سے جدا کردیا ہے۔ کہانی لمحے بھر خارج میں چلتی ہے پھر داخل میں سفر کرنے لگتی ہے۔ اس کے لیے سریندر پرکاش کرداروں کو خوابناک کیفیت سے دوچار کرکے ایک انہونی اور انجانی دنیا میں لے جاتے ہیں۔ جہاں ایسے واقعات وقوع پذیر ہوتے ہیں جن کا حقیقت کی دنیا میں گزر ممکن نہیں۔ بہر حال کہانی میں ہزاروں سال کی تاریخ بولتی ہے۔ ’ساحل پر لیٹی ہوئی عورت‘ بھی بے مثال داستانی رنگ کی کہانی ہے ۔ کہانی کے سیاسی و سماجی حوالوں کو آسانی سے شناخت کرنا ممکن نہیں ہے۔
سریندر پرکاش اپنی افسانوی روایت کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور اس سے استفادہ کرکے اپنی کہانیوں کو روشن کرتے ہیں۔ چنانچہ انھوں نے بیدی کی کہانی ’بھولا‘ کو بنیادی بناکر ’بھولا کی واپسی‘ کے عنوان سے کہانی لکھی ہے۔ بیدی کی کہانی میں بھولا اپنے ماموں کی تلاش کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن سریندر پرکاش کی کہانی میں دونوں ایک دوسرے کو تلاش کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ بھولا کا ماموں دہشت گردوں کے ہاتھوں مارا جاتا ہے۔ اس طرح انھوں نے اپنی بے حد خوبصورت اور طاقتور کہانی ’بجوکا‘ میں پریم چند کے ہوری کو کردار بنایا ہے۔ پریم چند کا ہوری آزادی سے پہلے کا ہندوستانی کسان تھا لیکن سریندر پرکاش کا ہوری آزادی کے بعد کے ہندوستانی عوام کا نمائندہ ہے اور بجوکا موجودہ جمہوری نظام کی علامت ہے۔ سریندر پرکاش نے اس کہانی کے ذریعے موجودہ طرزِ حکومت سے اپنی بے زاری اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ اس کہانی کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ سریندر پرکاش نے کہانی میں بہت کم مداخلت کی ہے۔
’بازگوئی‘ کے بعد کی کہانیوں میں ’جیلخانی، ترپوسیاں، چیچو کی ملیاں، بالکنی‘ اور ’ایک اور پناہ گزیں‘ میں پاکستان جانے والے مہاجرین کے دکھوں کی داستان سنائی گئی ہے۔ پچاس برس سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود آج بھی پاکستانی معاشرہ نے انھیں قبول نہیں کیا ہے اور ان کے ساتھ سیاسی و سماجی اور معاشی اعتبار سے امتیاز برتا جاتا ہے۔ ان کہانیوں میں حزنیہ کیفیت حاوی ہے۔ ان کہانیوں کے کردار ماضی کی یادوں کے اپنے سینے سے لگائے نظر آتے ہیں۔ ان کہانیوں میں سریندر پرکاش خود راوی کی حیثیت سے موجود معلوم ہوتے ہیں کیونکہ وہ خود مہاجر ہیں۔ ذاتی تجربے نے کہانیوں میں شدت پیدا کردی ہے۔ سریندر پرکاش کی ان کہانیوں میں مشترکہ تہذیب کے فنا ہونے کا بھی شدید احساس ہے۔
مختصر یہ کہ سریندر پرکاش کا شمار اردو کے ممتاز علامتی افسانہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ ان کے یہاں موضوعات ، اسالیب اور تکنیک میں تنوع پایا جاتا ہے۔ زبان و بیان پر غیر معمولی قدرت داستانی فضا کی تعمیر میں چابکدستی ، بظاہر غیر متعلق اور غیر اہم واقعات کو نزاکت و لطافت سے جوڑنے اور تجریدی علامتی رنگ و آہنگ تیار کرنے کی بے پناہ صلاحیت نے ان کے افسانوں کو انفرادیت کا حامل بنا دیا ہے۔
