Tare Wajood pa Jabtak na Hoo by Dr. Saleem Khan

Articles

ترے وجود پر جب تک نہ ہو نزول کتاب ۰۰۰۰

ڈاکٹر سلیم خان

علا مہ اقبال کے کچھ اشعار پڑھنے کے بعد نہ جانے کیوں ان کے الہامی ہونے کا گمان گذرتا ہے مثلاً جب وہ کہتے ہیں کہ ’’سنا ہے میں نے یہ قدسیوں سے‘‘ تو ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کوئی ہے جو ان کے کانوں میں کچھ بول رہا ہے اور جو کچھ وہ سن رہے ہیں ہم سے بول رہے ہیں ۔علامہ اقبال خود اپنے بارے میں فرمایا تھا ۔میں نے کبھی اپنے آپ کو شاعر نہیں سمجھا۔ فن شاعری سے مجھے کوئی دلچسپی نہیں رہی ۔ہاں بعض مقاصد رکھتا ہوں جن کے بیان کیلئے حالات و روایات کی رو سے میں نے نظم کا طریقہ اختیار کرلیا ہے ۔ اس لئے ہمیں ان کی شاعری کو محض شاعری نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ وہ رازدروں کا خوبصورت اظہار ہے جس کا عالم الغیب نے انہیں محرم بنایا تھا اقبال اس رازکا پردہ کچھ اس طرح فاش کرتے ہیں کہ

میری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ

کہ میں ہوں محرم ناز دورنِ مہ خانہ

اللہ بزرگ و برتر نے کائناتِ ہستی میں حضرتِ انسان کی تخلیق احسن تقویم پر کی اوردیگر مخلوقات کواس کے آگے مسخّر کردیا ۔گویا نباتات و جمادات سے لیکر چرند و پرند بلکہ ستارے اورسیارے ،سورج و چاند سبھی کو انسانوں کی خدمت پر معمور فرما دیا اور انسانوں کو ایک قلیل متاع حیات دے کر اس دنیا میں مختصر سی مدت کیلئے بھیج دیا نیزاس کے لئے مختلف حالات مقدر کر دئیے ۔ روز و شب کا نہایت انوکھانظام تشکیل فرماکراس کے بطن سے نت نئے حادثات رونما کرنے کا انتظام کیا جن سے انسان آئے دن دوچار ہوتا رہتا ہے ۔بقول اقبال

سلسلۂ روز و شب ، نقش گرِ حادثات

سلسلۂ روز و شب ، اصلِ حيات و ممات

انسانی زندگی کے اس سہانے سفر کو دلچسپ بنانے کی خاطر خالق کون ومکاں نے پیش آنے والے سارے مراحل کوطے فرما کر ان پرغیب کا پرجائے گادہ ڈال دیااور خود بھی عالمِ غیب چھپ گیا اور اپنی نشانیاں جابجابکھیر دیں جن کی مدد سے انسان ازخود اپنے مالک وآقا کی معرفت حاصل کرسکتاتھالیکن اس مہم میں آسانی کیلئے رحمٰن و رحیم نےانسانی نفس کو ہموار فرمایا اس کا تقویٰ اور فجور اس کے اندرالہام فرمادیا۔اس کو علم وعرفان کی نعمت سے سرفرازکیا اور اپنے بر گزیدہ پیغمبروں کا سلسلہ جاری فرماکر اپنے احسانات کا اتمام فرما دیا ۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سارا کھیل کیوں رچایا گیا؟اقبال اس کی دو وجوہات بیان فرماتے ہیں

سلسلۂ روز و شب ، تارِ حريرِ دو رنگ

جس سے بناتي ہے ذات اپني قبائے صفات

سلسلۂ روز و شب ، سازِ ازل کي فغاں

جس سے دکھاتی ہے ذات زير وبم ممکنات

اولاًدن اوررات کےان سیاہ و سفید دھاگوںسے انسان اپنی صفات کا لباس بنتا ہے۔اُسے آزادی ہے جیسا چاہے لباس زیب تن کر لے جو صفات چاہے اختیار کر لے۔اسی کے ساتھ ساتھ اس روز و شب کی کشمکش انسانوں کو اس کے اندر پوشیدہ قوت عمل سے بھی آگاہ کرتی ہے جن کی مدد سے انسان نا ممکن کو ممکن کے سانچے میں ڈھالتا ہے اور ثقافتی و سائنسی ارتقاء پررواں دواں ہے ۔اس مرحلہ میں ایک اور سوال پیدا ہوتا ہےکہ آخر اس ارتقاء کی غرض و غایت کیا ہے؟

تجھ کو پرکھتا ہے يہ ، مجھ کو پرکھتا ہے يہ
سلسلۂ روز و شب ، صيرفي کائنات

اللہ رب العزت کا فرمان ہے ’ہم نے موت وحیات کو اس لئے تخلیق کیا تاکہ یہ دیکھیں تم میں سے کون اچھے اعمال کرتا ہےـ ‘آزمائش کی خاطر یہ سب کیا گیا۔ انسانوں کو پرکھا جارہا تاکہ خود اسے اس بات کا فیصلہ کرنے کا موقع دیا جاسکے کہ وہ اپنے آپ کو جنت کا مستحق بنانا چاہتا ہے یا جہنم رسید کرنا چاہتا ہے۔ ہادیٔ برحق رسول کریمﷺ کا ارشاد ہے ،ہر روزسارے نفوس اپنے آپ کو اللہ کے ہاتھ فروخت کر دیتے ہیں اور پھر اس سودے کے عوض کوئی اپنے آپ کو جہنم کی آ گ سے بچا لیتا ہے تو کوئی اپنے آپ کو اس کا مستحق بنا دیتا ہے۔گویا انسان اپنے نفس کو بیچ کر جو مہلتِ عمل حاصل کرتا وہی اس کی متاع حیات ہے ۔

تو ہو اگر کم عيار ، ميں ہوں اگر کم عيار

موت ہےتيري برأت، موت ہے ميري برأت

اس بیش بہا خزانے کی اگر وہ ناقدری کرتا ہے اور اسے ضائع کر دیتا ہے تو گویا اپنے آپ کو مٹا دیتا ہے اور اگر اس کا بیجا استعمال کرتا ہے تب تو گویا وہ اپنے آپ کو غضب کا مستحق بنا لیتا ہے۔انسانی زندگی کودینارودرہم میں نہیں ناپا جاتا اس کا سکہ رائج الوقت کچھ اور نہیں وقت ہے اسی اکائی میں اس کا حساب رکھا جاتا ہے اور اسی کسوٹی پر اسے پرکھا جاتا ہے کہ اس نے اپنے وقت کا استعمال کیسے کیا ۔اس صیرفیٔ کائنات پر اس کے فلاح و خسران کا دارومدار ہے ۔

آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر

کارِ جہاں بے ثبات ، کارِ جہاں بے ثبات!

انسانی زندگی کو عام طور پر ماضی ، حال اور مستقبل کے خانوں میں تقسیم کر کے دیکھا جاتا ہے لیکن اگر غور کیا جائے تو ان تینوں کی سرحدیں ایک دوسرے کے اندر اس طرح پیوست ہیں کہ ان کو جدا کرنا ایک امرِ محال ہے ۔انسان دو پہیوں کی سواری ہے اس کا اٹھنے والا قدم جب زندگی کے ایک پرانےلمحے کو ماضی کے نہاں خانے میں پھینک رہا ہوتاہے اسی وقت دوسرا قدم مستقبل کے خزانے سے ایک نیا لمحہ اچک رہا ہوتا ہے ۔گویا انسان بیک وقت ماضی اور مستقبل سے نبرد آزما ہوتا ہےاور اس کے درمیان اس کا حال نہ جانے کہاں غائب ہو جاتا ہے۔یہ سلسلہ ایک وقت خاص تک جاری رہتا ہے اور اسے اچانک پتہ چلتا ہےکہ اس کے مستقبل کا خزانہ خالی ہو چکا ہے اور ماضی کا گو شوارہ بند کیا جاچکا ہے ۔وہ خدا وہ ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے پھر ایک مدت کا فیصلہ کیا ہے اور ایک مقررہ مدت اس کے پاس اور بھی ہے لیکن اس کے بعد بھی تم شک کرتے ہو ۔ (انعام۲)

اس آیت میں دو عدد مقررہ مدت کا ذکر کیا گیا ہے جب پہلی گھڑی آن کھڑی ہوتی ہے تو انسانی زندگی کی بساط وقتی طور پر لپیٹ دی جاتی ہے ایسے میں اس کے احباب و اقارب بادلِ ناخواستہ اسے کفن میں لپیٹ کر بڑے احترام کے ساتھ قبر کے حوالے کر دیتےہیں اور اس دارِفانی میں آخری گھر کا دروازہ ایک اوروقت ِمقررہ کیلئے بند کردیا جاتا ہے اس پر تختی تو لگتی ہے لیکن قفل نہیں لگایا جاتا اس لئے کہ نہ لوٹنے کا امکان ہوتا ہے اور نہ لٹنے کا اندیشہ ۔اس کے شب وروز بے حقیقت قرار پاتے ہیں اور اس کے کارہائے نمایاں دارِ فانی میں بے معنیٰ ہو جاتے ہیں۔

تيرے شب وروز کی اور حقيقت ہے کيا
ايک زمانے کي رَو جس ميں نہ دن ہے نہ رات

گردش لیل ونہارہی کی مانند زمانے کی رفتار بھی ہمیشہ یکساں نہیں ہوتی ۔اکثر و بیشتروقت کا پہیہ اس قدر سست رفتار ہوتا ہے کہ لوگوں کو گمان ہونے لگتا ہے گویا سب کچھ ٹھہرا ہوا ہے ۔لیکن پھر یہ کال چکر اچانک تیزی سے گھومنے لگتا ہے ۔افرادکی طرح اقوام کی مدت عمل بھی مقرر ہوتی ہے ان کو عطا ہونے والا غلبہ اور اقتدار بھی محدود مدّت کے لئے ہوتا ہے اور جب اس کے اختتام کاوقت آدھمکتا ہے اس میں ذرہ برابر تعجیل و تاخیر نہیں ہوتی اور دیکھتے دیکھتے اچھے اچھوں کی بساط لپیٹ دی جاتی ہے اور وہ بے یارو مددگار بنا دئیے جاتے ہیں۔گزشتہ قوموں کے کھنڈرات کو نشانِ عبرت بنا کر پاک پروردگار نے بعدوالوںکے لئے محفوظ کر دیا ہے تاکہ لوگ ہوشیار ہو جائیں اور اپنی باغیانہ روش کی اصلاح کریں۔

اول و آخر فنا ، باطن و ظاہر فنا
نقشِ کُہن ہو کہ نَو ، منزلِ آخر فنا

ایک دن ایسا بھی آنے والا ہے جب اس قصہ کو تمام کر دیا جائے گااور سارے نشان مٹا دئیے جائیں گے ۔ یقیناً وہ دن آ کر رہے گا جب اس جہانِ فانی کو تہس نہس کر دیا جائیگا تو کیا اس روز سب کچھ ختم ہو جائیگا ؟ جی ہاں ساری چیزیں مٹا دی جائیں گی سوائے ایک کے باقی رہ جائیگی ۔انسان کا وہ عمل جو اس نے آگے بھیجا ہوگا ۔اور اس کے بعد قائم ہونے والے دائمی جہان میں عمل ِ خیر ہی انسان کا واحد سرمایہ ہوگا وہی اس کے نجات کی واحد سبیل ہوگی بقول اقبال:

ہے مگر اس نقش ميں رنگِ ثباتِ دوام

جس کو کيا ہو کسي مردِ خدا نے تمام

علامہ اقبال کے یہ بصیرت افروزاشعار ان کی دینی بصارت کا راز کھولتےہیں حالانکہ انہیں کسی روایتی درسگاہ سے دینی تعلیم حاصل کرنے کا موقع نہیں ملا اس کے باوجودعالم الغیب و الشہادہ نےجہانِ ہستی کےسر بستہ راز ان پر آشکار کر دئیے ۔اس لئے انہوں نے زندگی کا سفر کچھ اس طرح کیا کہ ان کے داہنے ہاتھ میں ماضی کا چراغ تو تھا بائیں ہاتھ میں مستقبل کی امید ۔ لیکن قدم زمانۂ حال میں جمے ہوئے تھے ۔ ان کی نگاہ میں ایک طرف برہان ِحق پایا جاتاتھا تو دوسری جانب ان کی نظر باطل کی فتنہ سامانیوں پر ہوتی تھی ۔ وہ ایک کان سے الہامِ خوش بیان سے استفادہ کرتے تھے اور دوسرا کان مغرب کے فلسفہ پر دھرتے تھے ۔ان کا ذہن انسانیت کے دکھ درد کا مداوا تلاش کرنے میں مصروف ِ عمل ہوتا تھا اور معرفتِ خداوندی سے معمورقلب دیدارِ الٰہی کے لئے بے قرار رہتا تھا۔

اقبال کے آہنگ و بیان میں پائی جانے والی آفاقیت کی وجہ یہی فطری توازن تھا ۔وہ کبھی اپنے آپ سے خودکلام ہوتے تو کبھی اپنے رب سے ہم کلام دکھائی دیتے ہیں ۔کبھی امت کو خوابِ غفلت سے بیدار کرنے میں مصروف ہوتے تو کبھی عالم ِ انسانیت کو انجام ِبدسےخبردار کرتے ہوئے نظر آتے ہیں ۔دور حاضر کے حالات کو سمجھنے اور بدلنے کے لئے اسی نور ِ بصیرت کی ضرورت ہے ایسے میں حکیم الامت کی دعا بے ساختہ زبان پر آجاتی ہے ۔

خدایا آرزو میری یہی ہے

مرا نورِ بصیرت عام کر دے

 

Iqbal ka Aik Aham Shaeri Muharrik by Qazi Jamal Husain

Articles

اقبال کا ایک اہم شعری محرک

پروفیسر قاضی جمال حسین

اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید، رسالت اور قرآن کریم کی تعلیمات پر استوار ہے اور یہی تصور پوری دنیا میں مسلمانوں کے ملی اتحاد کا سبب ہے۔ مغرب نے قومیت اور وطن پرستی کے تصور کو ، اپنے سیاسی اغراض کے سبب ، جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کی تفریق سے وابستہ کرکے بلادِ اسلامیہ کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔علامہ اقبال کے کلام کا معتد بہ حصہ، مختلف پیرایوں میں اسی رنج کا اظہار ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک بار پھر یکجا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ اپنی شاعری اور نثری تحریروں میں علامہ اقبال نے جمہوریت، قومیت، فسطائیت اور اشتراکیت کے پردے میں چھپے ہوئے خطروں سے ملت اسلامیہ کو بار بار آگاہ کیا ہے۔ مسلم کانفرنس منعقدہ لاہور ۱۹۳۲ء کے خطبۂ صدارت میں اقبال نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ: اقبال نے اپنی شاعری کی بنیاد جن افکار پر رکھی ہے، ان کے پیش نظر زمان ومکان کی سرحدیں، قلب و نظر کی تنگ دامانی کا مظہر معلوم ہوتی ہیں۔ اس وجہ سے علامہ اقبال وطنیت کے موجودہ نئے تصور کو، امت مسلمہ کے حق میں زہر ہلاہل تصور کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اسلام نے عالمگیر انسانی برادری کا جو تصور پیش کیا ہے اسی میں امت مسلمہ کی بقا اور استحکام کا راز پوشیدہ ہے۔ حریت ، اخوت اور مساوات کا تصور، اسلامی معاشرت کی بنیاد ہے۔ امت مسلم کی شوکت اور سربلندی کی بنیاد، توحید، رسالت اور قرآن کریم کی تعلیمات پر استوار ہے اور یہی تصور پوری دنیا میں مسلمانوں کے ملی اتحاد کا سبب ہے۔ مغرب نے قومیت اور وطن پرستی کے تصور کو ، اپنے سیاسی اغراض کے سبب ، جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کی تفریق سے وابستہ کرکے بلادِ اسلامیہ کی وحدت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔علامہ اقبال کے کلام کا معتد بہ حصہ، مختلف پیرایوں میں اسی رنج کا اظہار ہے۔ وہ ملت اسلامیہ کے بکھرے ہوئے شیرازے کو ایک بار پھر یکجا دیکھنے کے آرزو مند ہیں۔ اپنی شاعری اور نثری تحریروں میں علامہ اقبال نے جمہوریت، قومیت، فسطائیت اور اشتراکیت کے پردے میں چھپے ہوئے خطروں سے ملت اسلامیہ کو بار بار آگاہ کیا ہے۔ مسلم کانفرنس منعقدہ لاہور ۱۹۳۲ء کے خطبۂ صدارت میں اقبال نے واضح لفظوں میں کہا تھا کہ:
’’میں یورپ کے پیش کردہ نیشنل ازم کا مخالف ہوں اس لیے کہ مجھے اس تحریک میں ’مادیت‘ اور الحاد کے جراثیم نظر آتے ہیں اور یہ جراثیم میرے نزدیک دورِ حاضر کی انسانیت کے لیے شدید ترین خطرات کا سرچشمہ ہیں‘‘ (بحوالہ نقوش اقبال صفحہ ۲۵۳ ، ایڈیشن فروری ۲۰۰۶)
ترکی میں خلافت کے خاتمے کا ایک بڑا سبب بھی وطنیت کا یہی مغربی تصور تھا جس کی زد پر تمام ایشیائی اقوام تھیں۔ اندلس، الجزائر، طرابلس، فلسطین اور مراکش کی جو سلطنتیں ، طویل عرصہ تک مسلمانوں کے زیر نگیں تھیں رفتہ رفتہ ان کی قلمرو سے نکلنے لگیں۔ اس کے اسباب جہاں مسلمانوں کی تن آسانی، خانہ جنگی اور عیش کوشی تھی وہیں ایک بڑا سبب وطنیت کا وہ نیا تصور بھی تھا جس کی بنیاد جغرافیائی حدود اور رنگ و نسل کے امتیاز پر تھی۔ اقبال کی شہرۂ آفاق نظم ’’خضرِ راہ‘‘ میں ’’دنیائے اسلام‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت خضر کا جواب، مغرب کے ان سیاسی حیلوںکو آشکارا کرتا ہے۔
لے گئے تثلیت کے فرزندمیراثِ خلیل
خشتِ بنیاد کلیسا بن گئی خاک حجاز
ہوگئی رسوا زمانے میں کلاہِ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے ، ہیں آج مجبور نیاز
حکمتِ مغرب سے ملت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کردیتا ہے گاز
ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تابہ خاکِ کاشغر
جو کرے گا امتیازِ رنگ و خوں مٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والاگہر
تاخلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈکر اسلاف کاتب و جگر
اسی طرح ’’سرمایہ و محنت‘‘ کے ذیلی عنوان کے تحت خضر کا یہ جواب بھی توجہ طلب ہے:
ساحر الموط نے تجھ کو دیا برگ حشیشاور تو اے بے خبر سمجھا اسے شاخ نبات
نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چن چن کے بنائے مسکرات
کٹ مرانا داں خیالی دیوتاؤں کے لیےسکر کی لذت میں تو لٹواگیا نقد حیات
قومیت کے اسلامی تصور کو علامہ اقبال نے بار بار اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے اور اسلامی تاریخ کی ایسی تصویر پیش کی ہے کہ عظمت رفتہ پر حسرت و یاس کے بجائے، بازیابی کا حوصلہ پیدا ہوسکے۔ اسلامی شوکت اور غلبہ کی تاریخ اقبال کی شاعری کا ایک اہم محرک ہے بلکہ خود ان کے بیان کے مطابق ان کی شاعری دراصل اسلاف کی سرگزشت سے عبارت ہے :
میں کہ مری غزل میں ہے آتشِ رفتہ کا سراغمیری  تمام سرگزشت کھوئے ہوؤں کی  جستجو (نظم۔ ذوق و شوق)
اور یہی وجہ ہے کہ اقبال کے کلام میںان تاریخی مقامات کا ذکر نہایت جذباتی انداز میں ہوا ہے جہاں اسلامی حکومت کے گہرے نقوش ثبت ہیں۔ قرطبہ ، قسطنطنیہ، ترک، فلسطین ، طرابلس اور غرناطہ کو اقبال اپنے کلام میں ایک ناقابل فراموش یادگار کے طور پر جگہ دیتے ہیں۔ ان مقامات کے بیان میں اقبال نے جو پیرایہ اختیار کیا ہے اور جس طرح کی صفات(Adjectives)استعمال کی ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ملت کے افراد میں آج کن خصوصیات کے آرزو مند ہیں۔ مسلمانوں کی سیاسی و تہذیبی بالادستی کا مضمون ان کے کلام میں شوکت و دبدبہ کی عجب کیفیت پیدا کردیتا ہے۔ خصوصاً اندلس میں مسلمانوں کی فتوحات اور تہذیبی مظاہر کی عظمت کے پیش نظر ان کی آرزو یہ تھی کہ کاش، مسلمانوں میں غیرت و حمیت کی وہی شان پھر پیدا ہوتی جو فاتح اندلس، طارق بن زیاد کی شخصیت کا امتیاز ہے، اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک کے زمانے میں موسیٰ بن نصیر شہر قیروان کا وائسرائے تھا، طارق بن زیاد انھیں موسیٰ بن نصیر کا آزاد کردہ بربر غلام تھا، موسیٰ بن نصیر نے طارق کی بہادری اور عسکری تنظیم کی غیر معمولی صلاحیت کو دیکھتے ہوئے اسے مراقش کی اسلامی فوج کا سپہ سالار مقرر کردیا تھا۔ موسیٰ بن نصیر نے طارق کو جس وقت اسپین پر حملے کا حکم دیا، مورخین کے بیان کے مطابق اس کے پاس کل ۷ ہزار سپاہیوں پر مشتمل فوج تھی جس میں بربر نسل کے نو مسلم زیادہ اور عرب کم تھے۔ طارق کے پاس کل ۴ کشتیاں تھیں جن میں سوار ہوکر اسلامی فوج کئی بار میں افریقہ سے ہسپانیہ کے ساحل پر پہنچی۔ طارق کی قیادت میں اسلامی لشکر جس پہاڑی پر اترا، اس کا نام Lion’s Rockیا قلۃ الاسدتھا بعد میں اس پہاڑی کو جبل الطارق یا جبرالٹر کہا جانے لگا۔ شاہِ اندلس کو شکست فاش ہوئی۔ کہتے ہیں کہ دریا عبور کرنے کے بعد طارق نے کشتیوں کو جلادینے کا حکم دیا تھا تاکہ فوج کے دل میں واپسی کا موہوم خیال بھی باقی نہ رہے۔ جان کو بچانے کی تدابیر، دراصل احساسِ شکست کا نقطۂ آغاز ہے۔ کشتیاں جلانے کے بعد فوج سے طارق نے جو بات کہی اور جس خود اعتمادی اور اولولعزمی کا مظاہرہ کیا وہی جذبہ علامہ اقبال کی شاعری کا مرکزی حوالہ ہے۔
’’ایّھا الناس، این المفر، البحرمن ورائکم، والعدو امالکم، ولیس لکم واللہ الا الصدق والبصر‘‘(لوگو، کوئی راہِ فرار نہیں، پیچھے سمندر اور سامنے دشمن ہے۔ یہی سچائی اور صبر کا جذبہ ہی واحد راستہ ہے۔ فتح کے علاوہ زندہ بچنے کی کوئی صورت نہیں۔) ۷۱۱ء میں طارق بن زیاد کی یہ فتح صدیوں تک قائم رہنے والی، پائیدار اسلامی حکومت کا نقطۂ آغاز ہے۔
علامہ اقبال کی نظم ’’طارق کی دعا‘‘ کا سب سے زیادہ اہم اور لائق توجہ پہلو شاعر کی وہ ہم احساسی (Empathy)اور طارق کے جذبات سے شاعر کی وہ ہم آہنگی ہے جو اس نے تاریخی کردار طارق بن زیادہ سے قائم کی ہے۔ گمان میں نہیں گزرتا کہ شاعرانہ صداقت نے کس ہنر مندی سے تاریخی صداقت کی جگہ لے لی ہے۔ یہ نظم کل دس اشعار پر مشتمل ہے۔ ان دس شعروں میں حوصلہ مندی اور شوق شہادت کو مسلمانوں کا امتیاز قرار دیا گیا ہے۔ اور آخری شعر میں طارق کی زبان سے اقبال نے اپنی آرزو کا اظہار کیا ہے :
عزائم کو سینوں میں بیدار کردےنگاہِ مسلماں کو تلوار کردے
نظم کی لفظیات، اس کا صوتی آہنگ اور لہجہ قاری کی رگوں میں خون کی گردش کو تیز کردیتا ہے۔ نظم کے اشعار ہیں :
یہ غازی یہ تیرے پراسرار بندے
جنھیں تونے بخشا ہے ذوقِ خدائی
دونیم ان کی ٹھوکر سے صحرا و دریا
سمٹ کر پہاڑ ان کی ہیئت سے رائی
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذت آشنائی
شہادت ہے مطلوب و مقصودِ مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
خیاباں میں ہے منتظر لالہ کب سے
قبا چاہیے اس کو خونِ عرب سے
دریا عبور کرنے کے بعد، طارق نے کشتیوں کے جلا ڈالنے کا جو بے مثال تاریخی کارنامہ انجام دیا تھا، اسے علامہ اقبال کے شاعرانہ تخیل نے ایک اور موقع پر نہایت ڈرامائی انداز میں پیش کیا ہے۔ فتح مندی اور غلبہ کے یقین سے سرشار، طارق کا یہ اقدام ، علامہ اقبال کے فکری نظام سے اس درجہ ہم آہنگ ہے کہ اقبال اس واقعہ میںشامل مرد مومن کی تصویر دیکھتے ہیں۔ علامہ اقبال، انسانوں کے خود ساختہ جغرافیائی حدود کو توڑ کر، پورے عالم کو اس مثال مردِ مومن کی مملکت تصور کرتے تھے۔ ملاحظہ ہو کہ طارق بن زیاد کے پردے میں ، خود علامہ اقبال کی رگوں میں، خون کی رفتار کس قدر تیز ہوگئی ہے:
طارق چوں بر کنارۂ اندلس سفینہ سوخت
گفتند کارِ توبہ نگاہِ خرد خطا ست
خندید ودست خویش بہ شمشیر مرد و گفت
ہر ملک ملکِ ماست، کم ملک خدائے ماست
طارق کے لبوں پر نمودار ہونے والے اس خفیف سے تبسم میں، اعتماد، عزم اور یقین کی جو سرشاری نظر آتی ہے یہی اقبال کی شاعری کا بنیادی سروکار ہے۔ اسے اقبال نے مختلف پیرایوں میں باربار بیان کیا ہے :
درویش خدامست نہ شرقی ہے نہ غربی
گھر میرا نہ دلی نہ صفاہاں نہ سمرقند
علامہ کے سفر اندلس کی تقریب یہ تھی تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کے لیے علامہ اقبال کو انگلستان جانا تھا، یہ کانفرنس ۱۷؍نومبر ۱۹۳۲ء کو شروع ہونے والی تھی لیکن اقبال کانفرنس سے ایک ماہ قبل ۱۷؍اکتوبر کو ہی لاہور سے روانہ ہوگئے، ان کا خیال تھا کہ کانفرنس سے پہلے یورپ کے بعض علمی مراکز میں چند دنوں قیام کریں گے۔ گول میز کانفرنس سے فارغ ہوکر اقبال پہلے فرانس اور پھر ہسپانیہ گئے۔ وہاں انھوں نے میڈرڈ یونیورسٹی میں ’’ہسپانیہ اور عالم انسان کے ذہنی ارتقا‘‘ کے موضوع پر لکچر بھی دیا۔ یہاں ان کی ملاقات پروفیسر اسیں(Prof. Miguel Asin) مصنف ’’ڈیوائن کمیڈی اور اسلام‘‘ سے بھی ہوئی۔ جس نے اطالوی شاعر دانتے کی شہرہ آفاق تصنیف ’’ڈیوائن کمیڈی‘‘ پر آنحضرت کے سفر معراج سے متعلق احادیث کے اثرات کی نشاندہی کی ہے۔ ہسپانیہ سے اقبال اٹلی تشریف لے گئے اور یہاں ان کی ملاقات مسولینی سے ہوئی۔ لیکن اس سفر میں ہسپانیہ سے جو جذباتی وابستگی اقبال نے محسوس کی وہ کسی دوسرے ملک کے ساتھ نظر نہیں آتی۔ اندلس کے جتنے گہرے نقوش ان کے دل و دماغ پر مرتب ہوئے اس کا کسی قدر اندازہ ، اسپین کے پس منظرمیں کہی گئی نظموں کی تعداد اور اشعار کی کیفیت سے ہوجاتا ہے۔ اقبال نے ایک نظم ’’دعا‘‘ کے عنوان سے کہی ہے۔ یہ نظم بھی مسجد قرطبہ میں کہی گئی ہے۔ نظم کی داخلی ساخت میں اقبال کی حسرت اور دلی آرزو کا رنگ صاف جھلکتا ہوا نظر آتا ہے کہ 750برس سے بھی زیادہ عرصہ تک مسلمانوں کی شاندار حکومت کے بعد ہسپانیہ میں مسلمانوں کے زوال نے انھیں کتنا غم زدہ کیا ہے۔ نظم کے آخر میں اشعار میں گم شدہ عظمت کی یاد، بازیابی کی دعا کا رنگ اختیار کرلیتی ہے:
چشم کرم ساقیا دیر سے ہیں منتظر
جلوتیوں کے سبو، خلوتیوں کے کدو
تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ
اپنے لیے لامکاں میرے لیے چار سوں
فلسفہ و شعر کی اور حقیقت ہے کیا
حرفِ تمنا جسے کہہ نہ سکیں رو برو
آخری شعر کا ’’حرفِ تمنا‘‘ اپنے مخصوص سیاق و سباق میں گم شدہ سلطنت و شوکت کو پالینے کی حسرت کا شاعرانہ اظہار ہے۔ جسے برملا اور بے محابہ کہنے میں شاعر کو اس لیے بھی عذر ہے فلسفہ و شعر دونوں کا پیرایۂ اظہار ایمائی اور استعاراتی ہوتا ہے فلسفیانہ مضامین اور شاعرانہ تجربہ دونوں ہی برہنہ گفتاری کے متحمل نہیں ہوتے۔
اندلس کے حوالے سے اقبال کی ایک اور نظم ’’عبدالرحمن اول کا بویا ہوا کھجور کا پہلا درخت ‘‘ بھی لائق توجہ ہے۔ عبدالرحمن، اندلس میں اموی سلطنت کا بانی ہے۔ سیاسی حالات کے نتیجے میں اسے شام سے نکلنا پڑا مصر و مراکش ہوتا ہوا وہ اندلس آگیا اور اپنی سیاسی سوجھ بوجھ اور حسن تدبیر سے اندلس میں اس نے اپنی مضبوط حکومت قائم کی۔ اس نے اپنے لیے مسجد قرطبہ کے پاس ہی ایک محل بھی تعمیر کروایا جس کے باغ میں اس نے کھجور کا ایک درخت ایسا بھی لگایا جس کی گٹھلی اس کے وطن ملک شام کی تھی۔ ایک روز کھجور کا یہ درخت دیکھ کر اس کے دل میں وطن کی یاد تازہ ہوگئی۔ عبدالرحمن چونکہ شاعر بھی تھا اس لیے اس نے اسی کیفیت میں بے ساختہ چند اشعار بھی کہے۔ علامہ اقبال کی یہ نظم عبدالرحمن الداخل کے عربی اشعار کا آزاد ترجمہ ہیں۔ لیکن نظم کے دوسرے بند میں زمان و مکان کے اپنے مخصوص تصور سے اقبال نے پہلے بند کی مایوسی اور افسردگی کو ایک نیا تناظر فراہم کردیا ہے۔ پہلے بند میں شاعر کھجور کے درخت سے مخاطب ہے کہ ہم دونوں وطن سے بہت دور ہیں اور پردیس میں ناموری کی کیفیت سے دوچار ہیں۔ لیکن دوسرے بند میں وطن سے دوری کو ایک نیا موڑ دے کر، جغرافیائی حدود پر مبنی وطن کے محدود تصور کو مسترد کرتے ہیں نظم اس شعر پر ختم ہوتی ہے :
مومن کی جہاں کی حد نہیں ہے
مومن کا مقام ہر کہیں ہے
اسی سلسلہ کی ایک اور نظم ’’قید خانہ میں معتمد کی فریاد‘‘ کے عنوان سے بال جبرئیل میں شامل ہے۔ اندلس میں اسلامی حکومت جب خانہ جنگی اور طوائف الملوکی کے سبب چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں بٹ گئی تو یہ ریاستیں آپس میں برسرِ پیکار ہوگئیں۔ ان میںایک سلطنت اشبیلیہ (Seville)کی تھی قرطبہ اسی ریاست میں شامل تھا۔ اشبیلیہ کا بادشاہ المعتمد علی اللہ تھا جس نے ۱۰۶۸ء سے ۱۰۹۱ء تک تقریباً ۲۳ برس حکومت کی۔ معتمد نے اسلامی حکومتوں کو اکٹھا کرنے اور اپنی حکومت کو عیسائی بادشاہ الفانسو کی چیرہ دستیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے مراکش کے بادشاہ یوسف بن تاشقین سے مدد طلب کی۔ بعض مسلم حکمرانوں نے اندیشہ ظاہر کیا (اور یہ اندیشہ بعد میں سچ ثابت ہوا) کہ اس طرح  بعد میں یوسف خود کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر ہماری سلطنتوں پر قابض ہوجائے گا۔ اس سلسلہ میں معتمد کا جواب یہ تھا کہ سوروں کا ریوڑ چرانے کے بجائے میں اونٹوں کا چرواہا بننا زیادہ پسند کروں گا۔ مراکش کے حاکم یوسف بن تاشقین نے ۱۰۹۱ء میں معتمد کو مراکش بلوا کر قید کردیا۔ معتمد نے زندگی کے باقی دن قید و بند کی صعوبت میں گزارے، معتمد عربی کا شاعر بھی تھا اس نے اپنی اسیری کے جذبات کو اشعار میں بیان کیا ہے۔ اقبال کی یہ نظم معتمدکے انھیں عربی اشعار کا ترجمہ کہی جاسکتی ہے۔
اقبال کے نظام افکار کے سیاق و سباق میں اس نظم کی معنویت یہ ہے کہ فولادی زنجیروں میں جکڑے، مجبور، معتمد کے دل میں نیزہ اور تلوار و روم کی یادیں اسیری میں بھی تازہ ہیں۔ فولاد سے معتمد کی یہ دلچسپی اقبال کے قوت و شوکت کے تصور سے ہم آہنگ ہے۔ معتمد کے اس قابل رحم انجام کا سبب، عشق کی آگ کا سرد پڑ جانا اور سوزِ ایمانی کا رخصت ہوجانا ہے۔ (۸)آٹھ مصرعوں کی یہ مختصر نظم ملاحظہ ہو :
اک فغان بے شرر سینے میں باقی رہ گئی
سوز بھی رخصت ہوا جاتی رہی تاثیر بھی
مرد حُر زنداں میں ہے بے نیزہ و شمشیر آج
میں پشیماں ہوں، پشیماں ہے میری تدبیر بھی
خود بخود زنجیر کی جانب کھینچا جاتا ہے دل
تھی اسی فولاد سے شاید مری شمشیر بھی
جو مری تیغ دو دم تھی، اب مری زنجیر ہے!
شوخ و بے پروا ہے کتنا خالق تقدیر بھی
تدبیر و تقدیر دونوں کی ناکامی کا افسوس کرنے کے باوجود، نظم کا کلیدی شعر معتمد کی بہادری کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

خود بخود زنجیر کی جانب کھینچا جاتا ہے دل

تھی اس فولاد سے شاید مری شمشیر بھی۔

باطل کو زیر کرنے کے علاوہ، فولاد میں کیا منافع ہیں؟ اس کا قدر اندازہ سورہ ’حدید‘ کی آیت ’’و انزلنا الحدید فیہ باش شدید و منافع للناس‘‘ سے کیا جاسکتا ہے۔
اسی سلسلہ کی ایک اور نظم ’’ہسپانیہ‘‘ کے عنوان سے ہے۔ ہسپانیہ میں قیام کے دوران اور مختلف تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد اقبال کے دل میں جو جذبات پیدا ہوئے۔ یہ نظم انھیں کا شاعرانہ اظہار ہے۔ اندلس میں مسلمانوں کے آمد کا تذکرہ کرکے اقبال نے یورپ میں اسلامی فتوحات کی یاد تازہ کردی ہے۔ سرزمین پر انھیں چشم تخیل سے سجدوں کے نشان نظر آتی ہیں ا ور صبح کی ٹھنڈی ہواؤں میں اذان کی آوازیں سنائی دیتی ہیں ۔ اقبال ایک بار پھر اندلس میں اسلامی حکومت کا خواب دیکھتے ہیں:
پھر تیرے حسینوں کو ضرورت ہے حنا کی
باقی ہے ابھی رنگ مرے خونِ جگر میں
کیوں کر خس وخاشاک سے دب جائے مسلماں
مانا وہ تب و تاب نہیں ا س کے شرر میں
غرناطہ بھی دیکھا مری آنکھوں نے ولیکن
تسکینِ مسافر نہ سفر میں نہ حضر میں
غرناطہ اندلس میں اسلامی حکومت کی آخری نشانی ہے۔ یہاں کا حاکم ابوعبداللہ اسلامی حمیت سے عاری ایک پست حوصلہ شخص تھا۔ چنانچہ ۱۴۹۲ء میں قصر الحمرا کی کنجیاں عیسائی بادشاہ فرڈی ننڈ اور اس کی ملکہ ازابلا کے حوالے کرکے وہ غرناطہ سے رخصت ہوگیا۔سقوط غرناطہ کے بعد، ہسپانیہ کی اسلامی حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔ ۷۱۱ء میں طارق بن زیاد کی آمد سے لے کر ۱۴۹۲ء میں سقوط غرناطہ تک ۷۸۰ برس، ہسپانیہ پر مسلمانوں کی روح بے چین ہو اٹھی۔ چنانچہ نظم بے چینی کے اس تاثر پر ختم ہوتی ہے:
دیکھا بھی دکھایا بھی، سنایا بھی سنا بھی
ہے دل کی تسلی نہ نظریں نہ خبریں
اس سلسلہ کا سب سے عظیم شاہکار اور نہ صرف اقبال بلکہ اردو کی مایہ ناز تخلیق، مسجد قرطبہ کے بغیر اقبال کے اس شعری محرک کا تذکرہ ناتمام ہوتا۔ فلسفیانہ افکار اور آفاقی صداقتوں کے سبب یہ نظم ’نوائے سروش سے کم نہیں، اس مسجد کی بنیاد عبدالرحمن اوّل نے رکھی تھی جو ہسپانیہ میں اموی سلطنت کا بانی ہے۔ برسوں تک اس مسجد میں اضافے ہوتے رہے۔ ابوعامر المنصور نے اس کی تعمیر مکمل کی۔ مسجد کی شوکت و شکوہ کا اندازہ فقط اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اس میں ۱۴۱۷ ستون ہیں۔ اسلامی فن تعمیر کے اس شاہکار میں اقبال نے درو دیوار کے پس پردہ کیا کچھ دیکھا؟ اور ان کے ردِّ عمل کی سطح کیا تھی؟ اس کا اندازہ نظم کے ایک ایک مصرعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ یہ نظم اقبال کے فلسفۂ حیات کا جوہر اور ان کے افکار کا آئینہ خانہ ہے۔ نظم کی ساخت یہ ہے کہ نظم کل ۸ بندوں پر مشتمل ہے اور ہر بند ۱۶مصرعوں پر۔ہر بند کا پندرہواں اور سولہواں مصرعہ غزل کے مطلع کی طرح ہم ردیف ہم قافیہ ہے۔ جبکہ بند کا پہلا اور دوسرا مصرعہ ہم قافیہ ہے۔ باقی مصرعوں میں غزل کے اشعار کی طرح ایک ایک مصرعہ کے فصل سے قافیہ کا التزام رکھا گیا ہے۔نظم اپنی اس مخصوص ہیئت کی وجہ سے غایت درجہ خوش آہنگ اور مترنم ہوئی ہے۔ نظم کی بحر میں، ارکان کے درمیان سکوت کا خفیف سا واقعہ خوش خرام موجوں کی طرح، ابھرنے اور ڈوبنے کا خاص پیٹرن (Pattern) بناتا ہے اور قاری اسی آہنگ کے سہارے، جذبے اور خیال کے بہاؤ میں ’ڈوبتا، ابھرتا آگے بڑھتا چلا جاتا ہے۔ نظم کا یہ نغمہ بھی قاری کے لیے ایک انوکھا تجربہ ہے۔
نظم کی دوسری بڑی خوبی یہ ہے کہ نظم جس ماورائی فضا اور فلسفیانہ سطح سے شروع ہوتی ہے، طوالت کے باوجود نظم کی یہ فضا آخری مصرعے تک برقرار رہتی ہے۔ بلکہ نظم کا ہر بند ایک نیا افق دریافت کرتا ہے۔ توحید اور ایمان علامہ اقبال کے نزدیک ایسی الوہی کیفیت ہے، جس کے بیان سے جملہ لسانی تعبیرات عاجز ہیں۔ عشق، خون جگر اور شوق کی تعبیر اسی بے پایاں کیفیت کو بیان کرنے کے لیے اختیار کی گئی ہیں۔ اندلس کے حوالے سے نظم کا توجہ طلب حصہ وہ مصرعے ہیں جن میں عربی شہسواروں کو، ان کی سخت کوشی شوقِ شہادت اور خلق عظیم کے سبب یاد کیا گیا ہے:
کعبۂ ارباب فن سطوت دین مبیں
تجھ سے حرم مرتبت اندلسیوں کی زمیں
آہ وہ مردانِ حق ! وہ عربی شہسوار
حامل خلق عظیم صاحب صدق و یقیں
جن کی نگاہوں نے کی تربیت شرق و غرب
ظلمت یورپ میں تھی جن کی خرد راہ بیں
جن کے لہو کی طفیل آج بھی ہیں اندلسی
خوش دل وگرم اختلاط ، سادہ و روشن جبیں
آج بھی اس دیس میں عام ہے چشم غزال
اور نگاہوں کے تیر آج بھی ہیں دل نشیں
بوئے یمن آج بھی اس کی ہواؤں میں ہے
رنگ حجاز آج بھی اس کی نوائوں میں ہے
لیکن شاندار ماضی کی یادوں سے فقط خوش ہولینے یا سقوط سلطنت سے افسردہ ہونے کے بجائے اقبال ایک رجائی پہلو اختیار کرتے ہیں نظم کے ساتویں بند میں دنیا کی بڑی انقلابی تحریکات کو یاد کرتے ہوئے ملت اسلامیہ کے حق میں چشم تخیل سے گنبد نیلوفر کے رنگ ملانے کا دلکش نظارہ دیکھنے لگتے ہیں۔ نظم کے آخری بند کے اشعار ہیں :
آب روانِ کبیر تیرے کنارے کوئی
دیکھ رہا ہے کسی اور زمانے کا خواب
عالم نو ہے ابھی پردۂ تقدیر میں
میری نگاہوں میں ہے اس کی سحر بے حجاب
پردہ اٹھا دوں اگر چہرۂ افکار سے
لا نہ سکے گا فرنگ میری نواؤں کی تاب
یقین کی حدوں کو چھوتی ہوئی اقبال کی خواہش یہ تھی کہ انقلاب چونکہ قانون قدرت ہے اس لیے امت مسلمہ جو آج مغلوب اور سرنگوں ہے، بہت جلد غالب اور سربلند ہوگی۔ اسلام اپنے عقیدۂ توحید اور سخت کوشی کے سبب دنیا میں قیادت کے لیے آیا ہے۔
نظم اس بیان پر ختم ہوتی ہے کہ ایسے تمام تہذیبی مظاہر اور سبھی نغمے جن کی تخلیق میں خون جگر شامل نہ ہو، نقش ناتمام ہیں۔ نظم کے پہلے بند میں یہ بات کہی گئی تھی کہ :
آنی و فانی تمام معجزہ ہائے ہنر
کارِ جہاں بے ثبات کارِ جہاں بے ثبات
آخری بند میں اس بے ثباتی کا سبب بیان کرکے اقبال نے نظم میں ایک نامیاتی وحدت پیدا کردی ہے۔ یہاں پہونچ کر نظم اپنی ابتدا، نقطۂ عروج اور انجام کا، ایک پورا دائرہ مکمل کرتی ہے :
نقش ہیں سب نا تمام خونِ جگر کے بغیر
نغمہ ہے سووائے خام خون جگر کے بغیر
علامہ اقبال کے شعور میں اندلس اس درجہ جاگزیں ہے کہ اس پس منظر میں انھوں نے کئی نظمیں کہی ہیں کیوں کہ مسلمانوں کی شوکت، اقتدار اور غلبہ کی عملی تصویریں انھیں مسلمانوں کے بعد حکومت میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔ ان کا تمام کلام  اپنی بنیادی فکر میں اسی عظمتِ رفتہ کی بازیافت سے عبارت ہے۔ان پرانی تصویروں میں نئے نئے دلکش رنگ بھر کر علامہ اقبال قوم میں بے باکی اور اولوالعزمی کی وہی حرارت ایک بار پھر پیدا کرنا چاہتے ہیں جس سے کبھی زمیں کانپ اٹھتی اور پہاڑ تھراتے تھے۔ یورپ کی مادہ پرستی اور علم و دانش کی پرفریب چکاچوند سے ہوشیار رہنے کی تلقین اقبال نے جس کثرت سے کی ہے اس سے خیال ہوتا ہے کہ فتح اندلس کی تاریخ میں اسلام کی سربلندی اور سرخروئی کے علاوہ ، اقبال کو یورپ کی شکست اور پسپائی کے خواب کی تعبیر بھی نظر آتی ہے۔ شعری محرک کی حیثیت سے اندلس کے انتخاب میں یہ نکتہ بھی ملحوظ رکھنا چاہیے:
وہ سجدہ روحِ زمیں جس سے کانپ جاتی تھی
اسی کو آج ترستے ہیں ممبر و محراب
سنی نہ مصر و فلسطیں میں وہ اذاں میں نے
دیا تھا جس نے پہاڑوں کو رعشۂ سیماب
ہوائے قرطبہ شاید ہے یہ اثر تیرا
مری نوا میں ہے سوز و سرودِ عہد شباب

Iqbal Ka Tasawwar E Fuqr o Darweshi by Prof. Saheb Ali

Articles

اقبال کا تصورِ فقر و درویشی

پروفیسر صاحب علی

مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ مولانا صلاح الدین احمد نے تحریر کیا ہے کہ ’’ اقبال کا فکر و فلسفہ تاریخی عوامل کی پیداوار ہے۔‘‘ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ اقبال کے فکر و فلسفہ کے ان تاریخی عوامل کا نقطۂ آغاز کیا ہے؟ بادی النظر میں اقبال کے فکر پر بیک وقت مشرقی و مغربی مفکرین کے اثرات صاف محسوس کیے جاسکتے ہیں لیکن ذرا باریک بینی سے مشاہدہ کریں تو اقبال کے فکر و فلسفہ کا بنیادی رویہ قرآن اور سنّتِ رسول ؐ کے اتباع اور بلادِ مشرق کے ممتاز دانشوروں جلال الدین رومی اور مجدد الف ثانی  ؒ وغیرہ کے افکار و خیالات سے استفادہ کا ہے۔ مثلاً اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘ بادی النظر میں نطشے کے ’’سپر مین‘‘ کا تتبع محسوس ہوتا ہے لیکن اقبال کے’’ مردِ مومن‘‘ میں جو درمندی اور تنوع ہے وہ نطشے کے ’’سپر مین‘‘ میں نہیں۔ نطشے کا ’’سپر مین‘‘ اخلاقی خوبیوں کو کمزوری پر محمول کرتا ہے اور خیر و شر کو محض اضافی قدر گردانتا ہے جبکہ اقبال کے ’’مردِ مومن ‘‘ کی بنیاد ہی اخلاقیات پر ہے۔ اقبال کا ’’مردِ مومن‘‘ ،’لا‘ کے ساتھ ’الّا‘ کا بھی قائل ہے اور ایمان اور یقین کے اِس اعلیٰ ترین جوہر کو خلق کرنے میں اقبال نے مشرقی خصوصاً اسلامی فکر و فلسفہ سے بھرپور استفادہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نطشے کے ’’سپر مین‘‘  کے برخلاف اقبال کے ’’مردِ مومن‘‘ کی قوت کا سرچشمہ محض جسمانی قوت نہیں بلکہ انسان کی روحانی اور اخلاقی قوت ہے۔ اقبال نے ’’مردِ مومن کے لیے اپنی شاعری میں ’’شاہین‘‘ کا استعارہ استعمال کیا ہے مثلاً
کیا میں نے اس خاک داں سے کنارہ
جہاں رزق کا نام ہے آب و دانہ
بیاباں کی خدمت خوش آئی ہے مجھ کو
ازل سے ہے فطرت مری راہبانہ
ہوائے بیاباں سے ہوتی ہے کاری
جواں مرد کی ضربتِ غازیانہ
یہ پورپ ، یہ پچھم ‘ چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
متعدد نظموں میں اقبال نے ’’شاہین‘‘ کو مختلف زاویے سے پیش کیا ہے گویا ’’شاہین‘‘ اقبال کا محبوب پرندہ ہے۔ بلکہ یہ کہنا مناسب ہوگا کہ ’’شاہین ‘‘ اقبال کے فکر و فلسفہ کا کلیدی استعارہ ہے۔ اقبال نے اپنے فکر و فلسفہ کی اکائی کے طور پر ’’شاہین‘‘ کو اس لیے استعارہ بنایا ہے کیونکہ ’’ اس کی غیرت ، خود داری ، تیز نگہی ، خلوت پسندی انھیں بے حد عزیز ہے۔ یہ بلند پرواز کی علامت ہے۔ جس کے پروں کے نیچے ساری دنیا ہے، آشیاں بندی جس کے لیے باعثِ ذلّت ہے۔ شاہین میں بحیثیت مجموعی تین خوبیاں بدرجۂ اتم موجود ہیں جو اقبال کے فسلفیانہ افکار پر محیط ہیں ۔ ’’عمل‘‘ ، ’’خودی‘‘ اور ’’فقر‘‘۔(اقبال کی شعری و فکری جہات۔ از : عبد الحق ۔ صفحہ ۲۳۳) علامہ اقبال کے کلام میں خودی کی بلندی ، عشق کی روحانی کیفیت اور حرکت و عمل کے ایک پہلو کا نام فقر بھی ہے۔ ظاہری نظر سے فقر افلاس کا نام ہے مگر اقبال کے یہاں فلسفیانہ اصطلاح میں یہ ترکِ نفس ہے، تیاگ ہے۔ دنیا کی احتیاج سے بلند ہونا ہے۔ جس میں فقر ہو اسے اقبال نے اصطلاحاً قلندر یا درویش بھی کہا ہے ۔ اسی قلندری اور درویشی میں ہی سکندری یعنی فاتح ہونے کا راز ہے۔
اگر جواں ہوں مری قوم کے جسور و غیور
قلندری مری کچھ کم نہیں اسکندری سے
قلندر روحانیت کا مالک ، دنیا سے بے نیاز اور جبر کا فاتح ہے۔ اقبال کی نظر میں انسان کی بلندی کی معراج یہی قلندری ہے۔ جس میں قلندری ہو وہ قوموں کا قائد بن سکتا ہے اور اس کے ہاتھوں دوسروں کو غلامی سے نجات ملتی ہے۔ ’’جاوید نامہ‘‘ میں جن ہستیوں کا ذکر ہے ان میں درویش سوڈانی یعنی مہدی سوڈانی بھی شامل ہے۔ جس نے برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کی اور شہادت پائی۔ ایسے تارک نفس درویشوں سے بڑے بڑے جابر ڈرتے ہیں کیونکہ ان کی بے غرضی قوموں میں آزادی کی روح پھونک دیتی ہے۔ مثنوی’’ اسرارِ خودی‘‘ میں ہے:
از شکوہ بوریا لرزد سریر
یعنی ایسے درویش کے بوریے سے عظمت کے تخت بھی لرزتے ہیں ۔ اسی طرح نظم ’’قلندر کی پہچان‘‘ میں قلندر کی عظمت کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں:
کہتا ہے زمانے سے یہ درویش جواں مرد
جاتا ہے جدھر بندۂ حق تو بھی ادھر جا
ہنگامے ہیں میرے تری طاقت سے زیادہ
بچتا ہوا بہ نگاہِ قلندر سے گزر جا
میں کشتی و ملاح کا محتاج نہ ہوں گا
چڑھتا ہوا دریا ہے اگر تُو تو اتر جا
توڑا نہیں جادو مری تکبیر نے تیرا
ہے تجھ میں مکر جانے کی جرأت تو مکر جا
اقبال کے تصورات شاعری میں ’’فقر‘‘ ایک بنیادی تصور ہے ۔ خصوصاً اقبال کے وہ تصورات جو فرد کے ارتقا اور انفرادی سیرت سے متعلق ہیں وہ اسی تصورِ ’’فقر‘‘ سے مملو ہیں ۔ اقبال کا مردِ مومن ہو ، مردِ درویش ہویا اس مردِ مومن کا احساسِ خودی ، یہ سب منصبِ فقر کے احساس کے ہم معنی ہیں۔ تصور ِ فقر کا جلوہ اقبال کے ابتدائی کلام میں بھی کسی نہ کسی طور ظاہر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ ’’بانگِ درا‘‘ کی بعض نظموں میں اس تصور کا عکس کسی نہ کسی صورت جھلکتا نظر آتا ہے:
بندۂ مومن کا دل بیم دریا سے پاک ہے
قوتِ فرماں روا کے سامنے بے باک ہے
جیسے جیسے اقبال کا شعری سفر اپنی منزلیں طے کرتا جاتا ہے یہ تصور واضح اور روشن ہونے لگتا ہے۔ بلکہ ’’پیامِ مشرق‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ تک آتے آتے اقبال کے تصورِ فقر میں ایک نوع کی برّاقی اور تیزی پیدا ہوجاتی ہے۔ مولانا صلاح الدین احمد تحریر کرتے ہیں ’’ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ فقر اس کے ہاتھ میں ایک تلوار کی مانند ہے جس سے وہ کائنات کو تسخیر کیا چاہتا ہے۔‘‘ (تصوراتِ اقبال ۔ صفحہ ۵۹)
علامہ اقبال کے نزدیک فقر کی دو قسمیں ہیں ایک قسم وہ ہے جو بہادر کو بزدل بنادیتی ہے اور دوسری قسم شاہانہ تمکنت عطا کرتی ہے اور انسان مردِ کامل بنتا ہے ۔ مثلاً ’’بالِ جبریل‘‘ میں شامل نظم ’’فقر‘‘ ملاحظہ فرمائیں:
اک فقر سکھاتا ہے صیاد کو نخچیری
اک فقر سے کھلتے ہیں اسرارِ جہانگیری
اک فقر سے قوموں میں مسکینی و دلگیری
اک فقر سے مٹی میں خاصیتِ اکسیری
اک فقر ہے شبّیری اس فقر میں ہے میری
میراثِ سلیمانی ، سرمایۂ شبّیری
اس نظم میں اقبال نے فقر کے دو رویوں کا موازنہ پیش کیا ہے۔ ایک وہ جو پست ہمتی کی طرف لے جاتا ہے اور دوسرا وہ رویہ ہے جس سے قلب انسانی پر اسرارِ جہانگیری منکشف ہوتے ہیں۔’’ یہاں تضاد، حیات کے اثبات اور اس کے انکار کے درمیان ہے۔ ’’اسرارِجہانگیری‘‘ سے مراد ہوس اور خواہشاتِ دنیاوی کے بھنور میں اپنے آپ کو ڈال دینے سے نہیں ہے بلکہ موجودات کے وجدانی ادراک سے ہے اور نخچیری سے مراد ترغیبات کے سامنے سپر اندازی نہیں ہے۔ اسی طرح خاصیتِ اکسیری سے غرض یہ ہے کہ صحیح اور صالح قسم کا فقر ، فرد کی کجروی اور بے بصری سے دور رکھ کر ہمیں اشیا کا عرفان بخشتا ہے ۔اسی طرح ایک لفظ ’’شبّیری ‘‘ میں دنیاوی لذات سے بے رغبتی ، کردار کی صلابت اور اس کے ساتھ نظر کی پختگی رضائے الہیٰ کے سامنے بہ تمام کمال سرنگوں ہونے کا جذبہ اور روحانی اہتزاز کا وہ تجربہ شامل ہے جس سے تصوف اور فقر عبارت ہیں۔(اقبال آئینہ خانے میں ۔ از : ڈاکٹر اسلوب احمد انصاری۔ صفحہ نمر: ۵۰)
اقبال کا تصورِ ’’فقر و درویشی‘‘ در اصل رہبانیت یا مردم بیزاری نہیں بلکہ یہ دل و نظر کی عفّت و طہارت سے عبارت ہے۔ جس کے ذریعہ انسان جسمانی اور ارضی زندگی کی ترغیبات ترک کرکے انفس و آفاق پر غلبہ اور تفوق حاصل کرنے کی طرف رجوع ہو:
فقر کے ہیں معجزات تاج و سریر و سپاہ
فقر ہے میروں کا میر ، فقر ہے شاہوں کا شاہ
اقبال نے اپنے تصورِ فقر میں ظاہری شان و شوکت اور جاہ و حشم کی در پردہ نفی کرکے نفسی اور روحانی طمانیت کو سراہا ہے۔ یہی روحانی طمانیت فقر کا حاصل اور اس کا اصل جوہر ہے وگرنہ گدائی اور فقر میں تمیز مشکل ہے:
جو فقر ہوا تلخیٔ دوراں کا گلہ مند
اس فقر میں باقی ہے ابھی بوئے گدائی
اقبال کے شاعرانہ افکار میں فقر کی اہمیت کو اس طرح بھی محسوس کیا جاسکتا ہے کہ انھوں نے علم و فقر کو متضادات کے طور پر بھی سامنے لایا ہے:
علم کا مقصود ہے پاکیٔ عقل و خرد
فقر کا مقصود ہے عفّتِ قلب و نظر
علم فقیہہ و حکیم ، فقر مسیح و کلیم
علم ہے جویائے راہ ، فقر ہے دانائے راہ
فقر مقامِ نظر ، علم مقامِ خبر
فقر میں مستی ثواب ، علم میں مستی گناہ
اقبال کو علم ضرورت و اہمیت سے انکار نہیں لیکن ان کے نزدیک نفس و روح کی کائنات بھی کچھ اہمیت کی حامل نہیں ہے۔ علم اور فقر کے مابین کیفیاتی فرق کے ماسوا فقر کے مفہوم میں وقت کے ساتھ جو تبدیلی رونما ہوئی ہے۔ اقبال کا ذہن اس سے بھی غافل نہیں ہے۔دولتِ فقر کے کھوجانے کا غم اس کے لیے باعثِ اضطراب ہے۔ مثلاً یہ چند اشعار ملاحظہ ہوں:
مومن پہ گراں ہیں یہ شب و روز
دین و دولت قمار بازی
ناپید ہے بندۂ عمل مست
باقی ہے فقط نفس درازی
ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقیری
جس فقر کی اصل ہے حجازی
مومن کی اسی میں ہے امیری
اللہ سے مانگ یہ فقیری
اقبال کے نزدیک ’’فقر ‘‘ محض فکری آماجگاہ نہیں بلکہ یہ انسان کی عملی زندگی کا حصّہ ہے۔ اقبال نے ’’فقر ‘‘کو جمالِ الہیٰ کا ایک کرشمہ گردانا ہے۔ اس ضمن میں ’’فقر و ملوکیت‘‘ کے یہ اشعار توجہ طلب ہیں:
فقر جنگاہ میں بے ساز دیراق آتا ہے
ضرب کاری ہے اگر سینے میں بے قلبِ سلیم
اُس کی بڑھتی ہوئی بے باکی و بے تابی سے
تازہ ہر عہد میں ہے قصہّ فرعون و کلیم
اب ترا دور بھی آنے کو ہے اے فقرِ غیور
کھاگئی روحِ فرنگی کو ہوائے زردسیم
نظم میں ’’بے سازدیراق‘‘ کہنے کے باوجود ‘ فقر ، مسکینی و محرومی نہیں بلکہ ایک انقلابی قوت ہے جو اشیائے عالم کی شیرازہ بندی کرنا چاہتی ہے۔ ’’ حق و باطل کی جنگ میں ’’فقر‘‘ حق کی قوت ہے اور اس کے مدِّ مقابل ملوکیت ایک طاغوتی قوت ہے۔ جسے یہ شکست دے کر زیر کرنا چاہتی ہے۔‘‘( اقبال آئینہ خانے میں ۔ از : ڈاکٹر اسلوب احمد انصاری۔ صفحہ نمر: ۵۰)’’ہوائے زرد سیم‘‘ کو جو قوت متوازن کرسکتی ہے وہ فقر کی قوت ہے اُس سے ایسے نفسی انقلاب اور اندرونی تغیر کی بنیادپڑتی ہے جس سے انسان کے اندازِ نظر کو مثبت انداز سے تبدیل کیا جاسکتا ہے۔٭٭٭

Bhusawal mein shaeri Nashist

Articles

*بھساول میں 'پرورش لوح و قلم' کے عنوان سے شاندار طرحی نشست کا کامیاب انعقاد

وسیم عقیل شاہ

*روایت سے انحراف کر کے معیاری شاعری کی توقع ہرگز نہیں کی جا سکتی : احمد

بھساول 27 اکتوبر : عنیق فاؤنڈیشن بھساول اور خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ضلعی سطح پر ایک طرحی نشست کا انعقاد 27 اکتوبر کو بھساول کے عکاشہ فرنیچرز میں بڑے ہی تزک و احتشام کے ساتھ کیا گیا ـ حافظ مشتاق ساحل نے تلاوت کلام پاک سے تقریب کا آغاز کیا تو رئیس فیضپوری نے نعت رسول صل اللہ علیہ و آلہ و سلم سے محفل کو پر نور کر دیا ـ سلیم خان فیضپوری نے تحریک صدارت پیش کی اور تالیوں کی گونج میں احمد کلیم فیضپوری کی صدارت کی تائید کی گئی ـ خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن کے روح رواں صغیر احمد نے اس تقریب کے مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ادارہ ہذا کی جانب سے یہ چوتھا ادبی جلسہ ہے جو حسب معمول علاقہ خاندیش میں اردو زبان و ادب کی اشاعت و ترویج کے مقاصد لیے ہوئے ہے ـ صغیر احمد کے مطابق ادارہ “خاندیش اردو رائٹرز فاؤنڈیشن” کا دائرہ کار پورے خاندیش پر محیط ہے لہٰذا ادارے کی جانب سے صرف جلگاؤں، بھساول ہی نہیں بلکہ خاندیش کے مختلف علاقوں میں بھی ادبی سرگرمیاں منعقد کی جاتی رہیں گی ـ بعد ازاں اس طرحی مصرع پر کہ *’رگوں میں خون نہ ہوتا تو مر گئے ہوتے ‘* رئیس فیضپوری ،شکیل حسرت، ساحر نصرت، ساعد جیلانی، حفیظ مینا نگری، رحیم رضا، ڈاکٹر قاضی رفیق راہی، شکیل انجم مینا نگری، اخلاق نظامی، وقار صدیقی، حافظ مشتاق ساحل، اقبال اثر، رفیق پٹوے اور اشراق راویری جیسے شعرا نے اپنا کلام پیش کیا ـ بطور مبصر ڈاکٹر غیاث عثمانی، قیوم اثر اور شکیل میواتی نے خاندیش کے موجودہ شعری منظر نامے پر گفتگو کی اور پیش کیے گئے شعراء کے کلام کے معنی و ابعاد کی نئی پرتیں سامعین کے سامنے رکھیں ـ فنی اعتبار سے بھی تینوں ہی مبصرین نے اپنے خیالات کا اظہار نہایت ہی جامع اور پر تاثر انداز میں کیا ـ اپنے خطبہ صدارت میں احمد کلیم فیضپوری نے ادبی نشستوں کے متواتر انعقاد پر منتظمین کو مبارکباد پیش کی اور ایسی محفلوں کو وقت کی اشد ضرورت بتاتے ہوئے اس نشست کو یادگار نشست قرار دیا ـ علاوہ ازیں موصوف نے شاعری میں روایت کی اہمیت پر خاص زور دیا ـ آپ نے مزید کہا کہ بلا شبہ خاندیش نے اردو کو بہت اچھے شاعر دیے ہیں جن کے چند اشعار آج بھی زبان زد ہیں ـ اسی حوالے سے آپ نے خاندیش کے سابقہ نمائندہ شاعر ایمان بیاولی، قمر بھساولی، سیف بھساولی اور مرزا مصطفی آبادی کو خصوصیت سے یاد کیا ـ اس تقریب میں عبدالرشید قاسمی،مشتاق کریمی، حنیف خان اسماعیل عرف ملو سیٹھ، حاجی انصار اور ندیم مرزا کے علاوہ ضلع بھر سے ادب دوست سامعین نے کثیر تعداد میں شرکت کی ـ رسم شکریہ عنیق فاؤنڈیشن کے صدر شکیل حسرت نے جبکہ نظامت کے فرائض مشہور ناظم مشاعرہ ہارون عثمانی نے بحسن و خوبی انجام دیے ـوے)

Tagore, Iqbal Aur Hindustan by Dr. Qamar Siddiqui

Articles

ٹیگور ، اقبال اور ہندوستان

قمر صدیقی

رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔ رابندر ناتھ ٹیگور کا مشہور زمانہ ترانہ ’’جن گن من ادھینائک جے ہے‘‘ اور ڈاکٹر اقبال کا نغمہ’’ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا‘‘ اس کی بہترین مثال ہے۔ رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان سے ابھرنے والی دوایسی آوازیں تھیں جن کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ ہندوستانی معاشرے کے لیے ایک ہنگامہ خیز دور تھا۔ ایک طرف برطانیہ کا نوآبادیاتی غلبہ مضبوط ہورہا تھا تو دوسری طرف ہندوستانی عوام میں اس نوآبادیاتی غلبے کے خلاف بیداری بھی پیدا ہورہی تھی۔ کشمکش کے اس دور میں ہندوستان کے دو بڑے اذہان ،رابندر ناتھ ٹیگور اور ڈاکٹر محمد اقبال نے ہندوستانی قوم کی رہنمائی کی۔ دونوں نے اس پیغمبری دور میں اپنے قلم کے ذریعے وطنیت سے لبریز نغمے لکھ کر ہندوستانی قوم کی دست گیری کی۔  اقبال اور ٹیگور کے افکار و نظریات بعض سطحوں پر مطابقت رکھتے ہیں۔ رابندر ناتھ ٹیگور نے اپنے ایک مضمون میں تحریر کیا تھا کہ : ’’ تخلیقِ انسانی کا مقصد یہ ہے کہ انسان دنیا میں مکمل ہو۔ آج جو کچھ ہو رہا ہے وہ سعی کا وہ سلسلہ ہے جس کا تعلق کَل انسانیت کی تکمیل سے ہے۔ یہ دنیا صرف مادی ہی نہیں ہے بلکہ اس مادی دنیا میں انسان کا عقلی ،اخلاقی اور اعتدالِ حسن کے لحاظ سے مکمل ہونا، اس عالم کی تخلیق کا مقصد معلوم ہوتا ہے۔ انسان کے اندر کوئی چیز ہمیشہ اس کو یہی کہتی رہتی ہے کہ آگے بڑھو اور ترقی کرو اور انسان ہونے کی حیثیت سے مکمل بنو۔‘‘(انسان کا مذہب ، از : رابندر ناتھ ٹیگور۔ رسا لہ ندیم، گیا۔ اگست ۱۹۳۱ء) اقبال نے اس خیال کو شعر کے قالب میں ڈھال کر یوں پیش کیا ہے:

یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہے دمادم صدائے کن فَیکون
رابندر ناتھ ٹیگور اور اقبال کے تقابلی مطالعہ میں یہ پہلو بڑی اہمیت کا حامل ہے کہ یہ دونوں ہندوستان کے اولین بڑے شاعر ہیں جنھیں نو آبادیاتی غلبے کا احساس سب سے پہلے ہوا بلکہ سب سے پہلے انھوں نے اس کے خلاف قلم بھی اٹھایا۔ گوکہ نوآبادیاتی غلبے کے خلاف ہندوستانی شاعروں میں پہلی آواز اکبر الہ آبادی تھی لیکن چونکہ ٹیگور اور اقبال نے یورپ کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اوریہ یورپ کے اجتماعی فکر و فلسفہ سے کماحقہ‘ آگاہی رکھتے تھے اس لیے اکبر کی بہ نسبت ٹیگور اور اقبال کے یہاں یہ موضوع زیادہ ہمہ گیریت کے ساتھ برتا گیا ہے۔ اقبال اور ٹیگور کا دور وہ دور تھا جب پوری دنیا میں ایک نوع کا خلفشار مچا ہوا تھا۔ یورپ کا صنعتی و حرفتی انقلاب اور پھر پہلی جنگِ عظیم نے ساری دنیا میں ایک بحرانی کیفیت پیدا کردی تھی۔ خصوصاً ہندوستان کو یورپ کے لیے قربان گاہ بنایا جارہا تھا۔ قومیں مٹ رہی تھیں اور نئی قومیں ابھر رہی تھیں۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہندوستان اور ایشیا کے دوسرے ممالک اپنی سیاسی انفرادیت کے ساتھ اپنی قومی اور اخلاقی انفرادیت بھی کھو رہے تھے۔ ہندوستان جو کبھی تہذیب و تمدن کا گہوارہ تھا ، مغربی تہذیب اس پر غلبہ حاصل کرتی نظر آرہی تھی۔ نوآبادیاتی نظام کی یہ خصوصیت ہوتی ہے کہ وہ جس قوم پر غلبہ حاصل کرتی ہے سب سے پہلے اس کی تہذیب پر حملہ آور ہوتی ہے اور مغلوب تہذیب دھیرے دھیرے غالب تہذیب میں ضم ہونے لگتی ہے۔ ٹیگور اور اقبال کی شاعری کا مجموعی رویہ اس تہذیبی غلبے سے مزاحمت کا ہے۔ لیکن انھیں یہ بھی احساس ہے کہ ہندوستانی تہذیب جتنی قدیم ہے اتنی ہی توانا بھی ہے اور نہ جانے کتنی تہذیبیں یہاں آئیں اور ہندوستانی تہذیب کا حصہ بن گئیں۔ یہی رنگارنگی اور کثرت میں وحدت ہندوستانی تہذیب کا طرّہ امتیاز ہے۔اقبال کہتے ہیں:
ٹوٹے تھے جو ستارے فارس کے آسماں سے
پھر تاب دے کے جس نے چمکائے کہکشاں سے
وحدت کی لے سُنی تھی دنیا نے جس مکاں سے
میرِ عرب کو آئی ٹھنڈی ہوا جہاں سے
میرا وطن وہی ہے ، میرا وطن وہی ہے
اور غزل کے یہ اشعار ہندوستان میں انگریزی سامراج کے زوال کے حوالے کچھ سوال بھی کھڑے کرتے ہیں:
اعجاز ہے کسی کا یا گردشِ زمانہ
ٹوٹا ہے ایشیا میں سحرِ فرنگیانہ
تعمیرِ آشیاں سے میں نے یہ راز پایا
اہلِ نوا کے حق میں بجلی ہے آشیانہ
ٹیگور کی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کا یہ بند بھی شاید اس کی ترجمانی کرتا ہے:
آریا ، دراوڑ، چینی ، شک، ہون ، پٹھان اور مغل
یہاں سب ایک جسم کا حصّہ ہوگئے
آج مغرب نے دروازہ کھولا ہے ، اپنی سوغاتوں کا
وہ دیں گے اور لیں گے ، ملائیں گے اور ملیں گے
لوٹ کر نہیں جائیں گے ، اس عظیم بحرِ ہند کے ساحل سے
(بھارت کا سفر ، گیتانجلی ، انتخاب از: ساہتیہ اکادمی۔ صفحہ نمبر ۲۱۷)
اقبال کی شاعری میں سب سے زیادہ نمایاں اور قابلِ قدر پیغام عمل کا پیغام ہے۔ ان کی شاعری میں جتنے بھی استعارے اور علامتیں استعمال ہوئی ہیں براہِ راست یا بالراست ان کا تعلق عمل سے ہے۔ چاہے وہ ’شاہین ‘ ہو، یا اقبال کا مردِ مومن ہر جگہ حرکت اور عمل کا پیغام ہے۔ گویا اقبال کی شاعری کا اصل جوہر حرکت یا عمل سے عبارت ہے۔اقبال کی نظم ’’شاہین ‘‘ کے کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
جھپٹنا ، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورپ یہ پچھم ، چکوروں کی دنیا
مرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
اسی طرح ایک غزل کے ان اشعار میں حرکت و عمل کا پیغام اس طرح پیش کیا گیا ہے:
تو ابھی رہ گزر میں ہے قیدِ مقام سے گزر
مصر و حجاز سے گزر ، پارس و شام سے گزر
جس کا عمل ہے بے غرض اس کی جزا کچھ اور ہے
حور و خیام سے گزر ، بادہ و جام سے گزر
کوہ شگاف تیری ضرب تجھ سے کشادِ شرق و غرب
تیغِ ہلال کی طرح عیشِ نیام سے گزر
اقبال حرکت و عمل کو زندگی اور سکون کو موت قرار دیتے ہیں۔ اس ضمن ان کی نظم ’’زندگی‘‘ کے یہ اشعاربھی توجہ چاہتے ہیں:
برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیمِ جاں ہے زندگی
تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں ، پیہم دواں ، ہردم جواں ہے زندگی
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِّ آدم ہے ضمیرِ کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہ کن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگِ گراں ہے زندگی
آشکارا ہے یہ اپنی قوتِ تسخیر سے
گرچہ اک مٹّی کے پیکر میں نہاں ہے زندگی
خام ہے جب تک تو ہے مٹّی کا اک انبار تو
پختہ ہوجائے تو ہے شمشیرِ بے زنہار تو
اقبال کی تعلیم وتربیت مغرب کی درسگاہوں میں ہوئی لیکن وہ مغربی تعلیم و تہذیب سے مرعوب نہیں ہوئے ۔ انھوں نے جدید مغربی افکار و نظریات کو مغرب و مشرق کے علوم و نظریات کی روشنی میں دیکھا تو اس کا مصنوعی پن ظاہر ہوگیا۔ انھوں نے دیکھا کہ مغرب کے جدید افکار جن کی پوری دنیا میں تبلیغ کی جارہی ہے وہ مشرقی فکر و فلسفہ کے گنجِ گراں مایہ کے سامنے خش و خاشاک سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے۔ چنانچہ انھوں نے ایشیا والوں اور بالخصوص مسلمانوں کو ان کی عظمتِ رفتہ یاد دلائی اور خود اعتمادی کا درس دیا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ مادیت، مغرب پرستی اور مغرب زندگی کا وہ ٹھاٹھیں مارتا سیلاب جو تیزی سے ایشیا کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا اقبال کی شاعری اس کے سامنے آہنی دیوار بن کر کھڑی ہوگئی ۔ اور اقبال کی شاعری کا سب سے بڑا اور حقیقی کارنامہ یہی ہے۔ اقبال کی شاعری جہاں یورپ کی مادیت پرستی کے سیلاب کے سامنے ایک دیوار بن کر کھڑی ہوگئی تھی وہیں ٹیگور کی شاعری یورپ میں ہندوستانی فکر و فلسفہ کی تبلیغ و ترسیل کا اہم ذریعہ بن کر ابھری۔ جس طرح اقبال کی شاعری ایک انوکھے اور جداگانہ اسلوب کی حامل ہے اسی طرح ٹیگور کی شاعری بھی منفرد اسلوب اور زبان و بیان کے تجربات سے عبارت ہے۔ ٹیگور کی شاعری تخیل کے اعتبار سے بہت بلند ہے۔ وہ فطرت کے رموز سے آگاہ ہیں اور کائنات کے عمیق ترین مسائل سے بحث کرتے ہیں۔ وہ اپنی شاعری میں ظاہری نہیں بلکہ باطنی ، جسمانی نہیں بلکہ روحانی مقاصد پیشِ نظر رکھتے ہیں۔مثلاً ان کی ایک نظم ’’تصویر‘‘ کا یہ آخری حصّہ ملاحظہ ہو: کسی بیتے ہوئے وقت میں تمھیں پایا تھا
پھر رات کو کھو دیا
اس کے بعد اندھیرے میں ، اکثر تمھیں پایا کرتا ہوں
تصویر نہیں ہو، تم صرف تصویر نہیں ہو
(نظم ’’تصویر‘‘ انتخاب ،از۔ ساہتیہ اکادمی ، صفحہ نمبر ۲۲۷)
ہمایوں کبیر نے ٹیگور کی مجموعی فکر کا احاطہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :’’ ٹیگور نے دنیا کو محض ایک ایسا رنگ منچ نہیں تسلیم کیا ہے جہاں انسان زندگی بتانے کی کوشش کرتا ہے بلکہ انھوں نے اسے ایک ممتا بھری ماں کے روپ میں بھی دیکھا ہے جو زندگی اور زندگی کے مسائل کے حل تلاش کرتے انسان کی نگرانی کرتی ہے۔‘‘ (رابندر ناتھ کی نظمیں ۔ انتخاب : ہمایوں کبیر ۔ ساہتیہ اکادمی ۔ صفحہ نمبر ۱۳) ٹیگور کی عالم گیر مقبولیت کا ایک راز یہ بھی ہے کہ انھوں نے دنیا کو محض ایک تماشائی یا سنیاسی کی طرح نہیں دیکھا ہے بلکہ اس کے تمام رنگوں میں شامل رہ کر اسے اپنی شاعری میں برتا ہے۔  سروجنی نائیڈو نے ٹیگور کے انتقال پر جو تقریر کی تھی اس میں انھوں نے ٹیگور کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے بڑے پتے کی بات کہی ہے:
’’ رابندر ناتھ ٹیگور کی اہمیت کیا تھی ؟ دنیا تغزل ، موسیقی اور حسن سے لبریز ہے۔ تو پھر ٹیگور میں وہ کونسی خوبی تھی ، جس کی بنا پر وہ دنیا کے ہزاروں انسانوں کا محبوب تھا؟ وہ بنگا ل میں پیدا ہوا ۔ اس کے دماغ اور جسم کے تمام تاثرات بنگال کے ممون ہیں۔ اس کی تمام شاعری بنگال کے دریائوں کے مناظر ، پھولوں ، دیہاتی زندگی اور ساون کے گہرے بادلوں سے بھری پڑی ہے ۔ اس کی شاعری کے تمام عناصر اپنے ملک کے محتاج ہیں اس کے باوجود بھی وہ تمام دنیا کا شاعر تھا۔ اس کی شاعری کی زبان سے بہت کم لوگ واقف تھے مگر یہ رفتہ رفتہ لاکھوں انسانوں کے دلوں کی زبان بن گئی ۔ آخر اس کا راز کیا تھا؟ اس کا پیغام کیا تھا؟ بنی نوع انسان کی محبت اور انسانوں کے جذبہ خدمت سے گہرا عشق ہی اس کی زندگی کا راز تھا۔‘‘ (از: رسالہ ندیم ،گیا۔ اکتوبر ۱۹۴۱ء ۔ مترجم خواجہ عبد القیوم)
یہی جذبۂ عشق و محبت اور انسانیت ٹیگور کی شاعری کا بنیادی رویہ ہے۔ بنی نوع انسان کے تئیں یہی احترام ٹیگور کی بین الاقوامی مقبولیت کا راز ہے ۔اپنی نظم ’’بھارت کا سفر‘‘ کے آخری بند میں وہ کہتے ہیں:
اے آریا ، غیر آریا آئو ، ہندو مسلمان آئو
آج آئو ، سب انگریز کرسچن آئو
من کو پاک کر آئو ، برہمن سب کے ہاتھ پکڑو
اے بچھڑوں آئو، من کے سب بوجھ اتار دو
ماں کی ممتا کی چھائوں میں جلد آئو
سب کے لمس سے پاک کیے مقدس جل سے
اس عظیم بحرِ ہند کا ساحل
اس کا گھاٹ ابھی بھرا نہیں ہے۔
ٹیگور کا رویہ مغرب ہویا مشرق سب کے لیے یگانگت کا ہے۔ ٹیگور کی جنگ روحانی جنگ ہے اور یہ انسان کے لیے ہے ۔ ان کا مقصد انسانوں کو اُن بندھنوں سے آزاد کرانا ہے جو اس نے اپنے اطراف بُن لیے ہیں۔ ٹیگور کے نزدیک روحانی آزادی ہی اصل آزادی ہے۔
ہر زمانہ اپنی ضرورتوں کے مطابق ایک بڑا شاعر پیدا کرتا ہے ۔ جو لوگوں کو صحیح راستہ پر چلنے کا پیغام دیتا ہے۔ لیکن بیسویں صدی کے آغاز کے ہندوستان کو یہ فخر حاصل ہے کہ اس نے بیک وقت دو ایسے شاعر پیدا کیے ۔ ان میں سے ایک ایشیا کو جد جہد کا پیغام دیتا ہے اور دوسرا یورپ کو صلح و امن و آشتی کا اور یہ دو شاعر اقبال اور ٹیگو رہیں۔
٭٭٭

Asrarul Haq Majaz by Prof. Muniuddin Jinabade

Articles

اسرارالحق مجاز بازتفہیم

پروفیسر معین الدین جینا بڑے

مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ مجاز کے چھوٹے سے شعری مجموعے کا ایک وصف ایسا بھی ہے جس کی طرف ابھی تک اردوکے علمی و ادبی معاشرے نے توجہ نہیں کی ہے۔ یہ مقالہ اس وصف کے حوالے سے مجاز کی باز تفہیم کی ایک سعیِ عاجز ہے۔ جدید اردو شاعری کی روایت میں شاید ہی کسی کے یہاں Confessional Poetryکی اتنی مثالیں مل جائیں جتنی مجاز کے یہاں ہیں۔ شاید ہی کسی کے مجموعۂ کلام میں اعترافیہ نوعیت کی شاعری کا وہ تناسب مل پائے جو مجاز کے یہاں ملتا ہے۔ آج کی رات، بتانِ حرم،نذرِ دل، مجبوریاں، نورا، دلّی سے واپسی، بربطِ شکستہ، تعارف، طفلی کے خواب، شکوۂ مختصر،گریز، ایک غمگین یاد، عشرتِ تنہائی، عیادت، مادام، آج بھی، شرارے، اعتراف، الہ آباد سے اور آج۔یہ تو میں نے بیس بائیس نظموں کے عنوان مثال کے طور پر آپ کی خدمت میں پیش کیے۔ چھوٹا سا مجموعہ ہے۔ گنتی کی نظمیں ہیں تناسب کا فیصد بغیر کسی خاص زحمت سے معلوم کیاجاسکتا ہے۔ یہ حساب کتاب بعد میں بھی ہو سکتا ہے سرِ دست ان کی غزلوں سے دو ایک مثالیں اس نوع کی شاعری کی آپ کی خدمت میں پیش کرنا چاہوںگا   ؎مری بربادیوں کا ہم نشینوتمھیں کیا خود مجھے غم نہیں ہے
الجھنوں سے گھبرائے میکدے میں در آئےکس قدر  تن آساں ہے ذوقِ رائیگاں اپنا
یہ میری دنیا یہ میری ہستینغمہ طرازی صہبا پرستی
اعترافیہ شاعری میں شاعرکی ذات خالص شخصی اور نجی حوالوں سے شعر کے قالب میں ڈھلتی ہے۔ یہ شخصی اور نجی حوالے گفتنی بھی ہو سکتے ہیں اور ناگفتنی بھی۔ اس نوع کے شاعروں میں اعصاب زدگی قدرِ مشترک کا درجہ رکھتی ہے۔ انگریزی ادب میں اس کی عمدہ مثال مشہور شاعرہ سیلویاپلاتھ کے یہاں ملتی ہے جس کی اعصاب زدگی اسے خودکشی تک لے گئی۔ اس نوع کے شاعروں کے لیے ان کی ذات ان کے لیے کسی نہ کسی صورت میں مسئلہ بنی ہوئی ہوتی ہے اور وہ اس حقیقت کو نجی حوالوں سے شعر میں ڈھالنے سے کتراتے نہیں۔ ایسے شاعروں پر گفتگو ان کی شخصیت کے حوالے ہی سے ممکن ہے۔ مجاز کی شخصیت کا نمایاں وصف ان کا تصنع اور ریاکاری سے پاک ہونا ہے۔ انگریزی میں وہ جو کہتے ہیں کہ ان کے یہاں Pretentionsبہت ہیں،یہ بات مجاز کے بارے میں نہیں کہی جا سکتی۔ اگر اس وصف سے فائدہ اٹھایاجائے تو یہ خوبی قرار پاتا ہے بصورت دیگر جی کا روگ بن کر آدمی کو لے ڈوبتا ہے۔ مجاز کے ڈوبنے کی روداد دردناک بھی ہے اور عبرتناک بھی۔ اسے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں روداد کی تفصیل سے نہیں سبب سے سروکار ہے۔ تاہم روداد کا اجمال اور سبب کا خلاصہ دونوں ایک ہیں اور وہ یہ کہ اسرارالحق، مجاز سے لپٹ گئے؛لپٹے کیا، چمٹ گئے۔ ایسے چمٹے کہ الگ ہونے کا نام نہ لیا۔ مجاز تو پھر مجاز ہے حق کے اسرار کی تاب کہاں تک لاپاتا؛ اپنے ساتھ اسرار کو بھی لے ڈوبا! تخلیقی شخصیت میں فرد اور فن کار کا باہمی رشتہ تخلیق کے اسرار سے کم پُراسرار اور پیچیدہ نہیں ہوتا۔ یہ رشتہ اتنا پُراسرار اور ایسا پیچیدہ ہوتا ہے کہ اس کی وجہ سے بحیثیت مجموعی معاشرے کی نظر میں فن کار کی ذات کبھی طلسم تو کبھی مِتھ یا پھر معمے کی حیثیت اختیار کرجاتی ہے۔ساعتِ تخلیق میں شخصیت کے یہ دونوں پہلو(یعنی فرد اور فن کار) سائی کک پرسنالٹی کی وحدت میں ڈھل جاتے ہیں۔ تخلیق کا دورانیہ اس عرصۂ وحدت کی طوالت کو محیط ہوتا ہے۔ عام حالات میں جو حالتِ ثنویت ہوتی ہے؛ ان دونوں کے بیچ آنکھ مچولی کا کھیل چلتا ہے۔ ایک فعال ہوتا ہے تو دوسرا مجہول۔ کون کتنا فعال اور کس حد تک مجہول ہوگا، اس کا کوئی فارمولہ نہیں ہے۔ کلیہ ممکنات کی رو سے دو امکانات پر توجہ مرکوز کی جا سکتی ہے۔ پہلا امکان یہ کہ فرد کی حیثیت فعال عنصر کی ہو اور فن کار شخصیت کا مجہول پہلو بنے رہنے پر قانع رہے۔ دوسرا امکان اس کے برعکس ہے، وہ یہ کہ فن کار فعال حیثیت اختیار کرنے پر اصرار کرے اور فرد کو مجہول بناکر رکھ دے۔معاشرتی زندگی کے سیاق میں پہلی صورت معمول یا رول کا حکم رکھتی ہے تو دوسرا امکان معمول سے انحراف قرارپاتا ہے۔ معمول سے انحراف کی حالتِ ثنویت میں فرد جب فن کار کے مقابل مجہول حیثیت اختیار کرکے اس کے تابع ہوجاتا ہے تومعاشرے کی نظر میں اس کی حیثیت تابع مہمل کی سی ہوجاتی ہے۔ تابع مہمل کے ساتھ دل لگی کی جا سکتی ہے، دل نہیں لگایاجاسکتا۔ اس کے ساتھ وقت گزاراجاسکتا ہے، زندگی نہیں بتائی جا سکتی ہے۔ اسے سنجیدہ گفتگو میں شریک کیا جا سکتا ہے کہ وہ صرف ہنسی مذاق اور دل بہلانے کی چیز نہیں ہوتا لیکن اس کی ذات کو زندگی کے سنجیدہ معاملات کا اہل نہیں سمجھا جا سکتا۔ فرد جب تخلیقی شخصیت کا فعال عنصر ہوتا ہے تو فن کار اس کی عزت و توقیر کا سبب بنتا ہے صورتِ واقعہ اس کے برعکس ہو تو اسے فن کار کی وجہ سے برداشت کیا جا تا ہے اور برداشت کی ایک حد تو بہرحال ہوتی ہے۔ اس حد کے آگے اللہ دے اور بندہ لے والا معاملہ ہوتا ہے۔ پوئٹک پرسوناسوشل ریئلم میں آپریٹ کرنے لگ جائے تو حقیقت اور فینتاسی کی حدیں گڈمڈ ہونے لگتی ہیں۔ مجاز ہوں یا میراجی دونوں اس گڈمڈ والے گھپلے کا شکار ہوئے۔ اس گھپلے کی سنگینی کا احساس اعزا و اقارب کو اس وقت ہوتا ہے جب پوئٹک پرسونا سوشل ریئلم میں اپنے تصرفِ بے جا سے دست بردارہونے پر کسی صورت راضی نہیں ہوتا۔ میراجی نے یہ کہہ کر علاج سے انکار کردیا تھا کہ پھر میں لکھ نہیں سکوںگا۔ اخترالایمان سمجھاتے رہے کہ لکھتے تو آپ اپنی ذہانت سے ہیں لیکن وہ نہیں مانے بالآخر جبر اور حکمت سے کام لینا پڑا ۔مجاز کے معاملے میں بھی حیلے بہانے ہی سے کام نکالا گیا۔ میراجی سے صرفِ نظر کرتے ہوئے سردست ہم مجاز پر توجہ مرکوز رکھتے ہیں۔ مجاز کی زندگی اور شاعری ایک دوسرے کا عکس ہیں۔دونوںکا محورجذبہ ہے۔ فکر کا پہلو دونوں طرف دبتا ہوا نظر آتا ہے۔ جذباتی آدمی چاہے بھی تو تصنع اور ریاکاری سے کام نہیں لے سکتا۔ بعض اوقات اس کی جذباتیت بیوقوفی کی حدوں کو چھوتی ہوئی معلوم ہوتی ہے۔ اسے زمانہ سازی نہیں آتی کہ وہ زمانہ شناس نہیں ہوتا۔اس کے عاقبت نا اندیش ہونے کے امکانات قوی ہوتے ہیں۔ جوش نے اس ایک جملے میں کہ مجاز آدمیGenuineہے، دو باتیں کہی ہیں۔ ایک تو یہ کہ یہ آدمی کھرا ہے اور دوسری یہ کہ بیوقوف بھی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ آج کے معاشرے میں یہ قیمت چکائے بغیر کوئی کھرا آدمی بن بھی نہیں سکتا۔ جوش زمانہ شناس اور زمانہ ساز دونوں تھے۔ ایسا آدمی اب مردم شناس بھی ہوتا ہے۔ یادوں کی برات میں جابجا راست گوئی سے برأت کا مظاہرہ کرنے والے جوش سے بہتر اس نکتے کو بھلا کون سمجھ سکتا تھاجو اس نے اس ایک جملے میں بیان کیا ہے۔ رہی بات ایک جملے میں دو باتوں کی تو کون نہیں جانتا کہ پہلودار گفتگو اودھ کا نراج اور اردو تہذیب کی شناخت سے عبارت رہی ہے۔ تصنع اور ریاکاری سے پاک مجاز کا منظوم ذاتی تعارف، تعارف کم اور کنفیشن زیادہ معلوم ہوتا ہے۔ ایک ایسے شخص کا کنفیشن جس کے یہاں فکر کا پہلو دب رہا ہے۔ پورا تعارف تو نہیں چند اشعار پر ہم توجہ مرکوز کرتے ہیں۔مندرجہ ذیل اشعار اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں   ؎خوب پہچان لو اسرار ہوں میںجنسِ الفت کا طلب گار ہوں میںعشق ہی عشق ہے دنیا میریفتنۂ عقل سے بیزار ہوں میںعیب جو حافظ و خیام میں تھاہاں کچھ اس کا بھی گنہ گار ہوں میںکفر و الحاد سے نفرت  ہے مجھےاور مذہب سے بھی بیزار ہوں میںزندگی کیا ہے گناہِ آدمزندگی ہے تو گنہ گار ہوں میں جس ترتیب سے یہ اشعار درج ہوئے ہیں، اسی ترتیب سے ان پر غور کرتے ہیں۔ جنسِ الفت کا طلب گار کون نہیں ہوتا لیکن اس طلب کو یوں واشگاف انداز میں زبان پر نہیں لایاجاتا۔ عاشقانہ نیازمندی کاPretentionاس لطیف جذبے سے وابستہ کثافت کی تطہیر کا ایک حیلہ بھی ہے۔ شاعر اس تکلف کا روادار نہیں۔ عقل فی نفسہٖ فتنہ نہیں ہوتی۔ عقل جب عقلِ سلیم نہیں بن پاتی تو فتنہ و فساد کا سبب بنتی ہے۔ عقل سلیم کی حیثیت دل کے پاسبان کی ہوا کرتی ہے۔ اس کے ہوتے عشق عشق ہوتا ہے ورنہ تو جو کچھ ہوتا ہے، اسے ہوس کے علاوہ کچھ اور نام نہیں دیا جا سکتا عقل سلیم کے ہونے یا نہ ہونے سے بات بنتی یا بگڑتی ہے۔ عقل سلیم ہے تو عشق ہے، نہیں تو فسادِ گندم۔ اپنی میخواری کے جواز کی خاطر اعتذا رکے طور پرحافظ و خیام کا سہارا لینا جرأتِ رندانہ کے فقدان کے ساتھ اصل حقیقت سے واقف نہ ہونے کی خبر دیتا ہے۔ استعارے کو لغوی معنی کی سطح پر کھینچ لانا غیر شاعرانہ حرکت ہے اور اصل حقیقت کی طرف اکبر ان الفاظ میں اشارہ کرچکے ہیں   ؎رنگ حافظ پہ بہک جاتے ہیں ارباب مجازیہ نہیں سمجھتے و ہ بادہ پرستی کیا تھی زندگی کو گناہ آدم اور اپنے وجود یا ہستی کو مجسم گناہ سمجھنے کی مریضانہ فہم روحانی دیوالیہ پن کی اپج ہے۔ اس اپج پر عقل سلیم ماتم کرتی ہے تو فساد گندم کے لبوں پر مربیانہ مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔تثلیث کے عقیدے اور ازلی گناہ کے تصور پر استوار فلسفے اور مابعدالطبیعاتی فکر کے علمبردار کلیسا کی استحصالی حکمت عملی نے یوروپ کے آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کردیا۔ یہ تاریخی حقیقت غیریوروپی آدمی کو اس کے مذہب سے بدظن اور بیزار کرنے کا جواز یا سبب نہیں بن سکتی۔ ان تعارفی اشعار میںاگر احتجاج ہے تو یہ احتجاج برائے احتجاج ہے۔ شاعر کے اس موقف کو فکروتدبر کی پشت پناہی حاصل نہیں۔ فکروتدبر کے مقابلے میں جذبے اور احساس کے غیرمتوازن تناسب کی وجہ سے مجاز کی شخصیت میں ایک آنچ کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ پختہ کارشخصیت کے تیور کچھ اور ہوتے ہیں۔ فرد کی مجہول حیثیت نے مجاز کی شخصیت کے ارتقا کے امکانات کو پوری طرح ختم کردیا۔ اسرارالحق کو اس حقیقت کا احساس تھا نہ ادراک۔ وہ پوئٹک پرسونا کی مقبولیت کے اسیر رہے۔ ایسے اسیر رہے کہ اس اسیری کو وجہ افتخار سمجھ کر سدا اس پر نازاں بھی رہے۔تعارف کے نو دس برس بعد نظم’آج بھی‘ کے بین السطور میں جیسا کہ عنوان سے ظاہر ہے، وہ اس پر فخر کرتے ہوئے نظر آتے ہیں کہ گزرنے کو وقت گزرگیا لیکن آج بھی مجازوہی ہے جو دس برس پہلے تھا۔ ان دس برسوں میں ہونے کو تو بہت کچھ ہوا؛ اگر کچھ نہیں ہوا تو بس اتنا کہ ایک نوجوان کی زندگی میں جن باتوں کو جس طرح ہونا چاہیے، ان میں سے ایک بھی اس طرح مجاز کے یہاں نہ ہوئی۔ان کی زندگی میں محرومیوں کی مستقل نوعیت ان دس برسوس میں پوری طرح مستحکم ہوگئی۔ اس صورتحال کی المناکی سے انکار نہیں لیکن صورتحال کا یہ افسوسناک پہلو ہمارے نزدیک زیادہ اہم ہے کہ ان محرومیوں کے صلے میں غم کی دولتِ بیدار اسرارالحق کے حصے میں نہ آسکی۔ زندگی محرومیوں اور ناکامیوں کا دوسرا نام ہے کہ کسی کو مکمل جہاں کبھی نہیں ملا۔ محرومیاں اور ناکامیاںبجائے خود مسئلہ نہیں ہوتیں۔ فرد کا رویہ طے کرتا ہے کہ وہ مسئلہ بنیںگیں یا نہیں۔ارادوں کے ٹوٹنے سے جب آدمی رب کو پہچاننے لگتا ہے تو محرومیاں اور ناکامیاں شخصیت کے ارتفاع کا حیلہ بن جاتی ہیں۔ مجاز کی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ وہ غم کی دولت سے محروم رہے۔ وہ غم جو  جوانی کو لطف خواب سے جگاتا ہے۔ وہ غم جو مضراب بن کر شباب کے ساز کو بیدار کرتا ہے۔ اس محرومی کی وجہ سے یہ ہوا کہ ارادے ایک ایک کرکے ٹوٹتے رہے اور ان کے ساتھ مجاز کا باطن ریزہ ریزہ ہوتا رہا۔ باطن کے انہدام کا یہ عمل مجاز کے یہاں بڑی سرعت کے ساتھ انجام پاگیا۔ منظوم تعارف کو لکھے ابھی دو سال بھی نہیں ہوئے تھے کہ مجاز اندر سے پوری طرح ڈھہ چکے تھے۔’ آواراہ‘ کے ٹیپ کے مصرعے کے سیاق میں آخر ی بند تک پہنچتے پہنچتے فرسٹریشن اور جھلاہٹ کا انتہا کو چھولینا اس حقیقت کا غماز ہے کہ(جگر کے الفاظ میں)شاعر کا سینہ خالی اور آنکھیں ویران ہیں۔ وہ شکست خوردہ تو ہے ہی اس نے شکست کو تسلیم بھی کرلیا ہے اور اس اعتراف شکست میں ایک طرح کی قطعیت اور حتمیت پائی جاتی ہے۔ یہ قیامت کسی جہاںدیدہ ادھیڑ یا پختہ عمر کے آدمی پر نہیں، اس لڑکے پر ٹوٹی ہے جس کی عمر بمشکل25یا26برس ہے۔ یہ وہ عمر ہے جس میں آدمی کو لوہو کی لالی پر ناز ہوتا ہے۔ اس کے اندر وقت سے لوہا لینے کا حوصلہ ہوتا ہے۔ اپنا کس بل آزمانے اور زمانے سے پنجہ لڑانے کے لیے وہ ہر دم آمادہ رہتا ہے۔ مجاز کی جو دو چار نظمیں آج ان کی ادبی معنویت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ رات اور ریل، مجبوریاں، نوجوان خاتون سے اور نذرِ علی گڑھ جیسی نظم’ آوارہ ‘کے بعد ان سے نہ ہوپائی۔ یہ حقیقت بھی توجہ طلب ہے کہ ترقی پسند موضوعات پر مجاز کی اچھی نظمیں بھی آوارہ سے پہلے کی ہیں۔ وہ نظمیں ہیں—نوجوان سے، نوجوان خاتون سے،طفلی کے خواب، نذر دل اور انقلاب۔’ بول او ری او دھرتی بول‘ نظم نہیں، گیت ہے جو مجاز نے’ آوارہ ‘کے بعد لکھا ۔ جذبے اور احساس کے اثاثے پر گزارا کرنے والے شاعر کے لیے ’آوارہ‘ کے بعد جذبہ مسئلے کی صورت اختیار کرجاتا ہے۔ نظم اعتراف کے درج ذیل ٹیپ کے شعر اس ضمن میں ہماری توجہ کے مستحق ہیں۔ نظم جس مصرعے سے شروع ہوتی ہے، اسی پر ختم بھی ہوتی ہے اور وہ مصرع ہے عاب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟اب ٹیپ کے شعر ملاحظہ کیجیے   ؎مجھ سے ملنے میں اب اندیشۂ رسوائی ہےمیں نے خود اپنے کیے کی سزا پائی ہے
میری ہر فتح میں ہے ایک عزیمت پنہاںہر مسرت میںہے رازِ غم و حسرت پنہاں
وہ گدازِ دلِ مرحوم کہاں سے لاؤںاب وہ جذبۂ معصوم کہاں سے لاؤں
اب میں الطاف و عنایت کا سزاوار نہیںمیں وفادار نہیں ہاں وفادار نہیں
اب میرے پاس تم آئی ہو تو کیا آئی ہو؟
قطعہ کی شعری ہیئت میں لکھی نظم ’گریز ‘جذبے سے فرار کا اعلان کررہی ہے   ؎یہ جاکر کوئی بزمِ خوباں میں کہہ دوکہ اب درخورِ بزمِ خوباں نہیں میںمبارک تمھیں قصر و ایواں تمھارےوہ دلدادۂ قصر و ایواں نہیں میںجوانی بھی سرکش محبت بھی سرکشوہ زندانیِ زلفِ پیچاں نہیں میںتڑپ میری فطرت تڑپتا ہوں لیکنوہ زخمیِ پیکانِ مژگاں نہیں میںدھڑکتا ہے دل اب بھی راتوں کو لیکنوہ نوحہ گرِ دردِ ہجراں نہیں میںبہ ایں تشنہ کامی بہ ایں تلخ کامیرہین لبِ شکر افشاں نہیں میںشراب و شبستاں کا مارا ہوں لیکنوہ غرقِ شراب و شبستاں نہیں میںقسم نطق کی شعلہ افشانیوں کیکہ شاعر تو ہوں، اب غزل خواں نہیں میںیہ آخری شعر مجاز نے آشوبِ ذات کے سیاق میں کہا ہے۔ جگر نے یہی بات کہی تھی لیکن سیاق آشوبِ زمانہ کا تھا   ؎فکر جمیل خواب پریشاں ہے آج کلشاعر نہیں ہے وہ جو غزل خواں ہے آج کلمجاز نے یہ بات آشوب زمانہ کے سیاق میں نہیں کہی کیونکہ پہلے شعر میں وہ یہ اعتراف کرچکے ہیں کہ اب وہ درخورِ بزمِ خوباں نہیں رہے۔ شکوۂ مختصر سات اشعار کی نظم ہے۔اس کے شروع کے چھ اشعار ایک مہذب، متمدن اور شریف النفس انسان کی اعترافیہ شاعری کا عمدہ نمونہ بننے کے پورے امکانات اپنے اندر رکھتے ہیں؛بات آخری شعر پر آکر ٹھہر تی ہے کہ دیکھیں یہ صاحب اس عالی ظرفی کو کیسے نبھاتے ہیں   ؎مجھے شکوہ نہیں دنیا کی ان زہرہ جبینوں سےہوئی جن سے نہ میرے شوقِ رسوا کی پذیرائیمجھے شکوہ نہیں ان پاک باطن نکتہ چینوں سےلبِ معجز نما نے جن کے مجھ پر آگ برسائیمجھے شکوہ نہیں تہذیب کے ان پاسبانوں سےنہ لینے دی جنھوں نے فطرت شاعر کو انگڑائیمجھے شکوہ نہیں افتادگانِ عیش و عشرت سےوہ جن کو میرے حالِ زار پر اکثر ہنسی آئیمجھے شکوہ نہیں ان صاحبان جاہ و ثروت سےنہیں آئی میرے حصے میں جن کی ایک بھی پائیاور اب وہ آخری شعر   ؎زمانے کے نظام زنگ آلودہ سے شکوہ ہےقوانینِ کہن، آئینِ فرسودہ سے شکوہ ہےیہ آخری شعرنظم کا حصہ نہیں بن پایا۔اس سے انکار نہیں کہ انسانی تاریخ استحصال کی روداد ہے لیکن استحصال کا نظام کسی خاص فرد کو اذیتِ خاص میں مبتلا کرنے کے لیے معرض وجود میں نہیں آیا ہے۔ اب اگر کوئی ترقی پسند ہمیں یہ باور کرانا چاہے کہ شروع کے چھ شعروں کو اعترافیہ شاعری کے ذیل میں رکھ کر نہ دیکھا جائے تو مشکل یہ ہے کہ ایسا کوئی قرینہ بھی تو نہیں کہ ہم ان چھ شعروں کو آر کے لکشمن کے Common Manسے منسوب کرسکیں۔ ہمارے ترقی پسندوں کے ذہن کی نکتہ رسی کے ہم بھی قائل ہیں اور ہمیں یہ اطمینان بھی ہے کہ ادب کی مارکسی جمالیات بھی ادبی متن میں قرینے سے صرفِ نظر کرنے کا تقاضہ نہیں کرتی۔ ’مادام‘ غزل کی ہیئت میں دس اشعار کی نظم ہے۔ شروع کے نو شعروں میں اپنی وارفتگیِ شوق کا بیان ہے۔ نظم جب اس شعر پر ختم ہوتی ہے   ؎میری وارفتگیِ شوق مسلم لیکنکس کی آنکھیں ہیں زلیخا کا حسیں خواب لیےتو معلوم ہوتا ہے کہ اپنے یہاں وصفِ یوسفی کے زوال کا اعتراف کررہے ہیں۔ یہ کوئی دورازکار تاویل نہیں، سیدھی سی بات ہے۔ وصفِ یوسفی سلامت ہو تو ایک کیا کئی زلیخاؤں کی آنکھوں میں خواب جاگ اٹھتے ہیں۔خواب اگر نہیں جاگ رہے ہیں تو اس میں کسی زلیخاکا قصور نہیں۔ نظم آج میں تو انھوںنے خود ہی کہہ دیا کہ عیاں بہ ایں عالم غرورِ یوسفیت بھی نہیں آوارہ کے بعد جب جذبہ مسئلہ بن گیا تو بقائے حیات کی جبلت Survival Instinctکے عین مطابق مجاز نے عورت کے تصور میں پناہ تلاش کرنے کی کوشش کی۔ جیتی جاگتی عورت مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتی ہے بالکل اسی طرح جیسے جیتا جاگتا مرد مسئلہ بننے یا بنائے جانے کے امکانات اپنے اندر رکھتا ہے۔ ان دونوں میں سے کوئی بھی فی نفسہٖ مسئلہ نہیں ہوتا۔ دراصل کسی بھی Actuality ء کے ساتھDealکرنے کے کچھGround rule یعنی ارضی قاعدے ہوتے ہیں۔ ان ارضی قاعدوں کو سمجھ نہ پانے یا برت نہ پانے سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ اس کے برعکس تصور چاہے عورت کا ہو یا مرد کا، اس میں عافیت ہی عافیت ہوتی ہے۔ مجاز کی نظم’کس سے محبت ہے‘ کے تعلق سے یہ غلط فہمی عام ہے کہ اس کا موضوع عورت ہے۔ اس کے پہلے بند میں واضح الفاظ میں اور بعد کے بندوں میں بھی کچھ اسی قسم کا تاثر پایاجاتا ہے   ؎بتاؤں کیا تجھے اے ہم نشیں کس سے محبت ہےمیں جس دنیا میں رہتا ہوں وہ اس دنیا کی عورت ہےسراپا رنگ و بو ہے پیکرِ حسن و لطافت ہےبہشتِ گوش ہوتی ہیں گہر افشانیاں اس کییہ بند اور اس نظم کے کچھ درمیانی بند ہمارے یہاں Misquoteہوتے رہے ہیں۔ ہم بھول جاتے ہیں کہ آخر آخر تک بدن چرائے رہنا نظم کاصنفی مزاج ہے۔ نظم کھلتی ہے تو آخری بند یا آخری مصرعے میں۔ذرا اس نظم کا آخری بند ملاحظہ کیجیے   ؎کوئی میرے سوا اس کا نشاں پا ہی نہیں سکتاکوئی اس بارگاہِ نازتک جا ہی نہیں سکتاکوئی اس کے جنوں کا زمزمہ گا ہی نہیں سکتاجھلکتی ہیں مرے اشعار میں جولانیاں اس کیشروع کے دس بند تصور میں ابھرتی عورت کی پرچھائیاں ہیں۔ یہ آپ کے تصور میں ابھرنے والی عورت کی پرچھائیاں ہیں اسی لیے آپ کے علاوہ کوئی اور اس کا نشاں نہیں پاسکتا۔ تصور میں ابھرنے والی پرچھائی پرچھائی ہی ہوتی ہے۔اس نظم کا موضوع عورت کا ذاتی /نجی تصور ہے جسے شاعر کا دماغ/تخیل خلق کررہا ہے کہ وہ اس کی نفسیاتی ضرورت ہے۔    M. L. Rosenthalجس نے اپنے مضمونPoetry As A Confessionمیں 1959میں اعترافیہ شاعری کی اصطلاح پہلی بار استعمال کی ہے۔ اس نوع کی شاعری کی معالجاتی قدر (Theraputic Value)کا معترف ہے۔ The Nationکے ستمبر1959کے شمارے میں Robert Lowellکی شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے وہ لکھتا ہے:” Robert Lowell seems to regard it [poetry] more as soul’s therapy. The use of poetry for the most naked kind of confession grows apace in our day.”1.    یہ  معاجلاتی قدر مجاز کے یہاں بھی کارفرما  ہے ۔ اسے  مجاز کی جرأ ت  رندانا  ہی کہیے کہ اردو کو  ایک  جدید confessional poet  فراہم  ہوا  ۔  ٭٭٭ 1. First Published in  The Nation, 19th September,1959. Reprinted in  Rosenthal,M.L. Our Life In Poetry, 1991. p.109

Majaz ke Shaeri Tareqa e kar by Prof. Sahfey Kidway

Articles

مجاز کے شعری طریقۂ کار کی شناخت آوارہ کے حوالے سے

پروفیسر شافع قدوائی

کسی تخلیق کار کی ہمہ گیر عوامی مقبولیت اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ناقد کو اس امر کا مکلّف نہیں بناتی کہ وہ مذکورہ فنکار کی تخلیقات کے مابہ الامتیاز عناصر بشمول موضوع ، اسلوب ،ہیئت ،ڈکشن اور فنی طریقۂ کارکے معروضی اور تجزیاتی مطالعے سے گریز کرکے محض موضوع کی Paraphrasingاور بعض غیر قطعی نیز پیش پا افتادہ تنقیدی اصطلاحات کا بے محابا استعمال کرکے اپنے تنقیدی فریضے سے عہدہ بر آہوجائے ۔مقام افسوس ہے کہ اردو کے بیش تر ناقدین نے عہد حاضر کے ایک مقبول شاعر مجاز کی شاعری کی تعیین قدر کے سلسلے میں واضح طور پر تنقیدی سہل نگاری کا ثبوت دیا۔ہوا یہ کہ بیش تر ناقدین نے مجاز کے شعری اکتسابات اور فنی طریقۂ کار پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ان کی مقبولیت کو موضوعات کی عمومیت اور غنائیت کی رہین منت قراردیا۔ان کی شاعری’’رومانی انقلابیت‘‘اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کی معاشی بدحالی،بے اطمینانی ،کرب اور شکستِ خواب کی مظہر قراردی گئی اور غزلوں و نظموں کی تحسن کے سلسلے میں بعض کلیشے مثلاََ ’’نغمہ باز غنائیت‘‘،’’لطافت احساس‘‘،’’جمالیاتی آہنگ‘‘،’’رومانی طرز احساس‘‘اور ’’ترقی پسند سماجی شعور‘‘وغیرہ تواتر اور شدومد کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ان کی شاعری کو’’نغمہ سنج کے گلے کے وفور‘‘کی زائید بھی ٹھہرایا گیا تاہم ’’آہنگ ‘‘ کے بالاستیاب اور مرکز آمیز مطالعے (Close Reading)کی کوئی سنجیدہ اور با معنی کوشش نہیں کی گئی۔یہی سبب ہے کہ مجاز کی شہر آفاق رومانیت کے اجزا ئے ترکیبی اور ان کے فن کے اسلوبیاتی و ہیئتی خصائص اب تک واضح نہیں ہو سکے پیں۔ کسی تخلیق کار کی ہمہ گیر عوامی مقبولیت اور ادبی حلقوں میں اس کی پذیرائی ناقد کو اس امر کا مکلّف نہیں بناتی کہ وہ مذکورہ فنکار کی تخلیقات کے مابہ الامتیاز عناصر بشمول موضوع ، اسلوب ،ہیئت ،ڈکشن اور فنی طریقۂ کارکے معروضی اور تجزیاتی مطالعے سے گریز کرکے محض موضوع کی Paraphrasingاور بعض غیر قطعی نیز پیش پا افتادہ تنقیدی اصطلاحات کا بے محابا استعمال کرکے اپنے تنقیدی فریضے سے عہدہ بر آہوجائے ۔مقام افسوس ہے کہ اردو کے بیش تر ناقدین نے عہد حاضر کے ایک مقبول شاعر مجاز کی شاعری کی تعیین قدر کے سلسلے میں واضح طور پر تنقیدی سہل نگاری کا ثبوت دیا۔ہوا یہ کہ بیش تر ناقدین نے مجاز کے شعری اکتسابات اور فنی طریقۂ کار پر توجہ مرکوز کرنے کے بجائے ان کی مقبولیت کو موضوعات کی عمومیت اور غنائیت کی رہین منت قراردیا۔ان کی شاعری’’رومانی انقلابیت‘‘اور متوسط طبقے کے نوجوانوں کی معاشی بدحالی،بے اطمینانی ،کرب اور شکستِ خواب کی مظہر قراردی گئی اور غزلوں و نظموں کی تحسن کے سلسلے میں بعض کلیشے مثلاََ ’’نغمہ باز غنائیت‘‘،’’لطافت احساس‘‘،’’جمالیاتی آہنگ‘‘،’’رومانی طرز احساس‘‘اور ’’ترقی پسند سماجی شعور‘‘وغیرہ تواتر اور شدومد کے ساتھ استعمال کیے گئے ہیں۔ان کی شاعری کو’’نغمہ سنج کے گلے کے وفور‘‘کی زائید بھی ٹھہرایا گیا تاہم ’’آہنگ ‘‘ کے بالاستیاب اور مرکز آمیز مطالعے (Close Reading)کی کوئی سنجیدہ اور با معنی کوشش نہیں کی گئی۔یہی سبب ہے کہ مجاز کی شہر آفاق رومانیت کے اجزا ئے ترکیبی اور ان کے فن کے اسلوبیاتی و ہیئتی خصائص اب تک واضح نہیں ہو سکے پیں۔ کلیم الدین احمد نے اس عام تنقیدی روش سے انحراف کرتے ہوئے مجاز کے کلام کو تجزیہ کے عمل (گو کہ یہ تجزیہ خاصا سطحی اور سرسری ہے)سے گزارکر یہ نتیجہ نکالا کہ ان کے (مجاز)ہاں رومانیت کی خوبیاں کم اور نقائص زیادہ ہیں اور ان کی زیادہ تر نظموں میں کسی عمیق تجربے کا بیان نہیں ملتا۔انہوں نے مجاز کی مشہور نظم’’نورا‘‘کی اجمالی تشریح کے بعد لکھا کہ یہ نظم ایک شرارت کے بیان کو محیط 1ہے اور اس قسم کے معمولی ،رکیک اور سطحی خام جذبے موضوع شاعری نہیں ہوتے۔کلیم الدین احمد کے نزدیک مجاز کی تخلیقات میں عموماََ کسی تجربے کا وجود ہی نہیں ہوتا اور اگر ہوتا ہے بھی تو یہ تجربہ غیر اہم اور ناقابل اعتنا ہوتا ہے۔کلیم الدین احمد سمیت تقریباََ تمام ناقد،کیا ترقی پسند اور کیا غیر ترقی پسند ،اس بات پر متفق ہیں کہ مجاز طبعاََ اور اصلاََ رومانی شاعر ہیں۔ظاہر ہے کہ رومانی شاعری کی بعض واضح خصوصیات ہوتی ہیں اور اس نوع کے شعرا کی تفہیم کے سلسلے میں ان پیمانوں سے استنباط کیا جاتا ہے۔تاہم مجاز کی بیش تر شاعری کو ان اصولوں کی کسوٹی پرپرکھنے کی کوشش نہیں کی گئی۔ مجاز کے کلام پر پہلا اعتراض کہ ان کی شاعری میں غیر اہم اور ناقابل اعتنا تجربے بارپاتے ہیں اور اس نوع کے معمولی ،رکیک اور سطحی خام جذبے موضوع شاعری نہیں ہوتے ،کے سلسلے میں یہ عرض کرنا ہے کہ فن کی دنیا میں کوئی جذبہ یا تجربہ فی نفسہ اعلی یا ادنیٰ یا سطحی یا وقیع یا خام یا پختہ نہیں ہوتا بلکہ زیادہ اہم ان کے اظہار کی نوعیت ہے۔دیکھنے کی بات یہ ہے کہ تجربے(شاعری تجربے کا اظہار بھی یا نہیں،یہ الگ لائقِ بحث موضوع ہے)کافنکار انہ اظہار ہوا ہے یا نہیں۔اگر کوئی فن پارہ کمزور یا سطحی نظر آتا ہے تو سبب بیان کردہ تجربے کا کچا پن نہیں بلکہ Expressionکی ناکامی ہے۔یہ عین ممکن ہے کہ مجاز کی بعض نظمیں اظہار کی ناکامی کے باعث یک رُخی ،اکہری اور ناکام لگتی ہیں مگر ایک طرف تو مجاز کو رومانی شاعر قراردیا جاتا ہے اور دوسری طرف شدومد کے ساتھ یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ ان کی لازمی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ اسے بعض غیر اہم تجربوں اور کمزور لمحوں کا بیان ملتا ہے۔یہ اعتراض ناقدین کی سہل نگاری پر دال ہے کیونکہ رومانی شاعرکی لازمی خصوصیت یہی ہوتی ہے کہ اسے بعض غیر اہم Trivialنظر آنے والے تجربات وقیع تر، دور رس اور حد درجہInspiringلگتے ہیں اور یہ تجربے اس کی رومانی Sensibilityکے داعیوں کو غذا پہنچاتے رہتے ہیں اس لحاظ سے مذکورہ اعتراض Self Contradictoryٹھہرتا ہے۔ اس تنقیدی رائے کے صائب ہونے میں کلام نہیں کہ مجاز انقلابی شاعری کے دلدادہ ہونے کے باوجود بنیادی طور پر رومانی شاعر تھے۔لیکن مجاز کی رومانیت کے عناصر ترکیبی کیا ہیں اور پھر تخلیقات میں کس طرح ان کا اظہار ہوا ہے،نیز رومانیSensibilityکے مختلف ابعاد اور پہلوؤں کی ترسیل میں ان کے اسلوب ،ڈکشن اور فنی طریقہ کی نوعیت کیا رہی ہے،ان سوالات پر غور کرنے کے لئے مجاز کی شہر آفاق نظم ’’آوارہ‘‘کو تجزیے کے لئے منتخب کیا گیا ہے۔تجزیے میں’’آوارہ‘‘پر ناقدین کے اس عام اعتراض کا کہ اس کے آخری بند جذباتی جھلاہٹ کے آئینہ دار اور نظم و ضبط سے یکسر عاری ہیں،محاسبہ کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ زیر تجزیہ نظم ’’آوارہ‘‘ایک طرف تو رومانی طرز احساس کی مظہر ہے تو دوسری طرف مجاز کی فنی ہنر مندی کو بھی نشان زدکرتی ہے۔نظم کے مطالعے سے منکشف ہوتا ہے کہ موضوع سے قطع نظر مجاز کا فنی شعور بھی خاصا بالیدہ تھا۔شاعر نے بعض خارجی مظاہرکے حوالے سے اپنی حسیاتی اور جذباتی زندگی کی رواداد فنکارانہ شعور کے ساتھ بیان کی ہے۔احساس ہوتا ہے کہ نا آسودگی، رفاقت سے محرومی ،دوستوں کی گریزپائی اور مروجہ معاشرتی نظام سے مکمل بے اطمینانی شاعر کے داخلی وجود پر بری طرح اثر انداز ہوئی ہے۔نظم کا ٹیپ کا مصرعہ’’اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں،نہ صرف نارسائی کے جاں گسل احساسات کو نشان زد کرتا ہے بلکہ یہ احساس بھی کراتا ہے کہ استحصالی معاشرہ کے مختلف مظاہرے نے نظم کے واحد متکلم کو آتش زیر پا کردیا ہے،نیز آبلہ پائی اس کی جذباتی زندگی کی آخری پناہ گاہ کی صورت میں سامنے آئی ہے۔شاعر نے داخلی احساسات کی عکاسی اور بعض خارجی مظاہر کی وساطت سے آبلہ پائی(Wandering)کی کیفیت کو اجاگر کرنے کے لئے نظم کا پورا ڈھانچہ حرکت (Movement)پر استوار کردیا ہے۔نظم کے عنوان ’’آوارہ‘‘سے لے کر آخری بند تک افعال(Verbs) کا تواتر سے خلاقانہ استعمال مجاز کی فنی بالغ نظری کا ناقابل تردید ثبوت پیش کرتا ہے۔ حال سے مایوسی اور عدم اطمینان کا احساس اور پھر اس پورے نظام کو بدلنے کی خواہش کوئی جامدیا منفعل جذبہ نہیں ہے بلکہ ایک مسلسل عمل اور جہد پیہم کی کیفیت ہے۔لہٰذا شاعر نے اس کیفیت کے اظہار کے لئے Action Verbsفنی چابکدستی سے استعمال کیے ہیں۔نظم کے ابتدائی بند کی ردیف ’’پھروں‘‘اور پھر اسی بند کے دوسرے اور تیسرے مصرعے میں قافیے’’آوارہ‘‘اور ’’مارا‘‘ کے حوالے سے ایک متحرک بصری پیکر تخلیق کیا گیاہے۔نظم کے پانچویں بند میں ردیف ’’چل ‘‘ اور چھٹے بند کے تین مصرعے ’’ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں‘‘،’’ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں‘‘اور ’’بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں ‘‘اصلاََفعلیاتی حقیقت کو ظاہر کرتے ہیں۔اس نظم کے کئی بندوں میں ردیف اور کافیے مرکب افعال پر قائم کیے گئے ہیں۔نویں بند میں ایک مرکب فعل’’توڑوں‘‘ردیف ہے،جبکہ گیارہویں بند کے تینوں مصرعوں ’’دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں‘‘،’’میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں‘‘اور ’’زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں‘‘میں قافیہ اور ردیف دونوں مرکب افعال پر استوار ہیں۔ اسی طرح بارہویں ،چودہویں اور پندرہویں بند میں بھی مرکب افعال ’’نوچ لوں‘‘۔’’توڑدوں‘‘اور’’ پھونک دوں‘‘ ردیف کا کام انجام دے رہے ہیں ۔اس نظم میں نہ صرف ایسے فعل اور مرکب افعال سے کسب فیض کیا گیا ہے جن سے عمل کے فوری پن اور سیال ذہنی کیفیت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ بعض ایسی صفتیں بھی استعمال کی گئی ہیں جن میں تحریک کا ایک عنصر پوشیدہ ہے۔ ’’آوارہ‘‘میں استعمال کی گئیں صنعتیں تحریک کو نشان زد کرتی ہیں مثلاََپہلے بند کے دوسرے مصرعے ’’جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں‘‘میں ابتدائی ٹکڑا ’’جگمگاتی جاگتی سڑک‘‘ اصلاََایک متحرک دوہری صفت ہے۔اسی طرح دوسرے بند کے پہلے مصرعے ’’جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی‘‘میں صفت ’’جھلملاتے‘‘اور اسی بند کے تیسرے مصرعے ’’میرے سینے پہ مگر دہکی ہوئی شمشیرسی‘‘میں صفت’’دہکی ہوئی‘‘سے تحریک کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔متحرک صفتوں کے استعمال کی مثالیں اردو نظم میں شا ذہی ملیں گی۔ مجاز نے اپنی اس مشہور نظم میں افعال اور متحرک صفتوں کے علاوہ بعض ایسے اسم بھی استعمال کیے ہیں جو نظم کے ڈھانچہ(جواصلاََMovementپر استوار ہے)سے عملی طور پر ہم آہنگ ہیں کہ ان اسما کا تعلق بھی تحرک سے ہے۔مثلاََتیسرے بند میں اسم’’تاروں‘‘،چوتھے بند کے پہلے مصرعے ’’پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی‘‘میں مستعمل اسما ’’ستارہ‘‘اور’’ پھلجھڑی‘‘کا براہ راست تعلق حرکت سے ہے۔نظم کا ڈھانچہMovementپر استوار کرنے کا مقصد ایک ایسی ذہنی اور جذباتی کیفیت کو بعض خارجی مظاہرے کے توسط سے بیان کرتا ہے جس کا براہ راست تعلق ان متحرک عمل یعنیWanderingسے ہے۔نظم کے مطالعے سے یہ بھی منکشف ہوتا ہے کہ WanderingاورEmotional Releaseکا ذریعہ بن گئی ہے۔افعال کے متواتر استعمال سے نہ صرف ایک نوع ڈرامائی فضا خلق ہوگئی ہے بلکہ پوری نظم میں گفتگو کی سی برجستگی(Immediacy) بھی پیدا ہوگئی ہے۔ ہیئتی خصائص سے قطع نظر زیر تجزیہ نظم کی موضوعاتی تفہیم جذبات کی منطق کے حوالے سے بھی کی جاسکتی ہے۔ٹیپ کا مصرعہ’’اے غم دل کیا کروں ،اے وحشت دل کیا کروں‘‘دو طرح کے جذبات کے اظہار سے عبارت ہے،پہلا جذبہ بدیہی طور پر غم ہے جس کا تعلق محرومی سے ہے۔اس نارسائی اور فراق نصیبی کا نتیجہ منتشر خیالی ،پراگندگی اور آوارگی کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے جس کی طرف مذکورہ مصرعہ’’اے غم دل کیا کروں،اے وحشت دل کیا کروں ‘‘اشارہ کرتا ہے۔ٹیپ کا مصرعہ تجسیم’’اے غم دل‘‘،’’اے وحشت دل‘‘کے علاوہ کلمۂ استہفام’’کیا‘‘اور فعل’’کروں‘‘پر استوار ہے۔مصرعہ میں’’کیا کروں ‘‘کی تکرار سے ایک طرف تو ایک نوع کی بے بسی،لاچاری اور بے بضاعتی کا احساس ہوتا ہے تو دوسری طرف ایک تیز اور تندجذبے کی عکاسی کا سراغ بھی ملتا ہے۔ نظم کا آغاز ایک جذباتی منظر’’شہر کی رات اور میں ناشادوناکارہ پھروں‘‘سے ہوتا ہے۔ابتدائی تین بندوں میں خارجی مناظر کا۔۔۔۔۔۔۔ذکر ہے تاہم پہلے بند کے تیسرے مصرعے ’’غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں‘‘اور دوسرے اور تیسرے بند کے آخری مصرعوں’’میرے سینے پر مگر دہکی ہوئی شمشیر سی‘‘اور’’آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال‘‘سے داخلی کیفیت بھی مترشح ہوتی ہے۔ نظم جیسے جیسے آگے بڑھتی جاتی ہے جذباتیت کی لے تیز تر ہوتی جاتی ہے اور آخر کے بندوں میں بیان کردہ بعض خارجی ناظر اپنی تمام ترظاہری دلکشی کے باوجود بے اطمینانی،محرومی اور کم مایگی کے احساسات کو برانگیخت کرتے نظر آتے ہیں۔ چوتھا بند ایکEpisodeکی صورت میں سامنے آتا ہے یعنی اس کا اظہار ستارہ ٹوٹنے اور پھلجھڑی چھوٹنے کے بیان سے ہوتا ہے اور پھر اس واقعہ کے شاعر کے پارہ پارہ داخلی وجود پرپڑنے والے اثرات بیان کیے گئے ہیں۔پہلے مصرعے ’’پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجھڑی‘‘میں بیان کردہ عمل سے نظم کے واحد متکلم کی جذباتی زندگی میں ہیجان برپا ہوتا ہے اور احساسِ محرومی بھی کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔آخری دو مصرعوں ’’جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی‘‘اور ’’ہوک سے سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی‘‘سے اس صورت حال کا احساس کیا جاسکتا ہے۔’’ستارہ ‘‘اور ’’پھلجھڑی‘‘اپنے لغوی مفاہیم سے قطع نظر یہاں عشرت شبانہ کے مظہر کے طور پر ابھرتے ہیں جن سے اب شاعر محروم ہوچکا ہے۔ پانچویں بند میں رات کے دو مشاغل مے خواری اور حسینوں کی ہم جلیسی کا ذکر ہے مگر اب شاعر بعض خارجی اسباب کی بنا پر ان دونوں سے محروم ہو چکا ہے۔رات جو ہمیشہ شاعر کو Inspireکرتی رہتی تھی ایک بار پھر دل آسائی کا سامان کرتی ہے اور شاعر کو تلقین کرتی ہے کہ وہ یا تو مئے خانے کا رخ کرے یا پھر کسی حسینہ کے کاشانے کی طرف جائے۔اگر یہ دونوں صورتیں ناقابل عمل ہوں تو پھر وہ ویرانے میں جائے کہ یہی وہ مقام ہے جہاںشفتہ سری کو قدرے سکون مل سکتا ہے۔یوں بھی اردو شاعری کی روایت میں صحرا اور ویرانہ عاشق کے جائے مسکن کے طور پر ابھرتے ہیں۔چھٹا بند پانچویں بند کی توسیع کی صورت میں سامنے آتا ہے کہ اس بند میں بھی رات سے وابستہ کیفیات کا ذکر ہے۔رات ثروت مند افراد کے لیے عشرت،رت جگے، رنگینی،رعنائی اور رنگ ونور کا سیلاب لے کر آتی ہے جس سے شاعر سخت اضطراب میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس بند کے آخری مصرعے’’بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں ‘‘سے نہ صرف ناپسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے بلکہ شاعر کے اخلاقی زاویۂ نظر کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس نظم میں شاعر نے اس امر کا بھی خاص خیال رکھا ہے کہ ہر بند خواہ اس کا تعلق خارجی منظر سے ہو یا داخلی احساسات کی ترسیل سے،لازماََ اشیا یا افراد کے تیئں جذباتی ردعمل کا اظہار کرے۔اس مرکزی تنظیم یا شیرازہ بندی کے علاوہ15بندوں پر مشتمل اس نظم کے چھ بند خارجی مظاہر کی عکاسی سے عبارت ہیں جبکہ بقیہ 9بندوں میں داخلی وجود کی مختلف النوع کیفیات کاذکر ہے۔ساتویں ،آٹھویں اور نویں بند میں نظم کے واحد متکلم نے اپنے شخصی خصائل’’راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں‘‘،’’لوٹ کر واپس چلا جاؤں میری فطرت نہیں‘‘اپنی بے بضاعتی اور محرومی’’اورکوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں‘‘،’’ان کو پاسکتا ہوں میں یہ آسرا بھی چھوڑدوں‘‘،اور مستقبل سے متعلق اپنے عزائم’’جی میں آتا ہے کہ اب عہد وفا بھی توڑدوں‘‘،’’ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑدوں‘‘کاذکر کیا ہے اور مذکورہ بیان اصلاََ شاعر کے جذباتی ردعمل کے بیان کو محیط ہے۔ پانچویں بند کی طرح گیارہویں بند کی ابتدا ایک خارجی واقعہ یعنی’’اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب‘‘کے بیان سے ہوتی ہے۔محل یہاں حسن کے استحصال (یعنی حسن اس کے زیر نگیں ہے)کے پیکر کے طور پر سامنے آتا ہے جس کی وجہ سے حسن کا اولین مظہر’’ماہتاب‘‘تابنا کی اور خیرہ کن روشنی کا منبع ہونے کے بجائے’’پیلا‘‘نظر آرہا ہے۔ماہتاب کی زردی تسکین قلب یا باعث اہتزاز ہونے کے بجائے بے چینی،کرب اور محرومی کے احساسات کو برانگیخت کرنے کا ذریعہ بن گئی ہے۔ویسے بھی چاند اکثر وحشت اور دیوانگی کے داعیوں کو متحرک کرتا ہے۔ پیلے ماہتاب کے افق پر نمودار ہوتے ہی شاعر کی جذباتی زندگی میں تلاطم برپا ہوجاتا ہے جس کی طرف بارہواں بند’’جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں‘‘الخ،چودہواں بند’’لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں‘‘الخ،اور پندرہواں بند’’بڑھ کے اس اندر سبھا کا سازوساماں پھونک دوں‘‘واضح اشارہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔مذکورہ بند نہ صرف جذباتی ہیجان کا نقطئہ عروج ہیں بلکہ یہی نظم کا کلائمکس بھی ہے۔نظم کا آغاز ایک قدرے کم جذباتی مصرعے ’’شہر کی رات اور میں ناشادوناکارہ پھروں‘‘سے ہوتا ہے۔آخر میں جذباتی تموج کے مظہر بند’’بڑھ کے اس اندرسبھا کا سازوساماں پھونک دوں‘‘پر ختم ہوئی۔ آوارہ کے بارہویں ،چودہویں اورپندرہویں بند کو عام طور پر ہدف تنقید بنایا گیا ہے اور کلیم الدین احمد سے لے کر جدید تر ناقدوں نے ان بندوں کو نظم وضبط سے عاری ،بہت زیادہLoudاورو فورِجذبات کاآئینہ دار قرار دے کر اسے نظم کی کمزوری پر محمول کیا ہے۔اس اعتراض کے سلسلے میں صرف یہ عرض کرنا ہے کہ نظم کا مذکورہ اختتامی حصہ اصلاََجذبے کے نقطئہ عروج کی عکاسی کرتا ہے جس کی مدھم لے کا اندازہ نظم کے پہلے بند سے لگایا جاسکتا ہے۔نظم میں جذبات کا دھیرے دھیرے ارتقا ہوتا ہے اور آخری بند کلائمکس ہونے کے باعث جذبے کی تندی کا مظہر ہے۔اس طرح’’آوارہ‘‘کو بجا طور پرEmotional Organic Growthکی نظم ٹھہرایا جاسکتا ہے کہ اس میں جذبات کا بتدریج ارتقا نظر آتا ہے۔اس اعتبار سے ’’آوارہ‘‘کے اختتامی حصے پر بے ربطی اور نظم وضبط سے عاری ہونے کا اعتراض بھی باطل ٹھہرتا ہے۔ نظم کے Localeسے شاعر کا رومانی رویہ مترشح ہوتا ہے۔شہر جو کلاسیکی شعرا کے نزدیک مرکز تہذیب و تمدن تھا اور جس کے کوچے’’اوراق مصور‘‘اور جہاں ہر صورت’’تصویر‘‘ نظر آتی تھی،رومانی شعرا کو مصنوعیت،ریاکاری،منافقت،کھوکھلے پن،غیر فطری پابندیوں اور معاشی عدم مساوات کا مرکز نظر آتا ہے۔رومانی فن کاروں کے نزدیک شہر میں سکونت کوئی پسندیدہ یا مطبوع خاطر شے نہیں،اس لیے تخلیق کار مناظرِفطرت کی آغوش میں پناہ لینے کا خواہاں رہتا ہے۔مجاز نے بعض مظاہر فطرت مثلاََ وادی،چشمہ اور کھلی فضا سے اپنی انسیت اور قلبی تعلق اور ان کی شہر پر فوقیت کا براہ راست ذکر تو نہیں کیا مگر شہر کی لعنتوں کو بے نقاب کرنے کے لیے اپنی نظم کاLocaleشہر کو بنایا ہے۔ نظم کے پہلے مصرعے’’شہر کی رات اورمیں ناشادوناکارہ پھروں‘‘سے پتا چلتا ہے کہ شاعر اس بات پر حیرت زدہ ہے کہ شہر کی رات جو عیش وعشرت،شادکامی اور سرخوشی سے عبارت ہوتی ہے اس کے حق میں ناکامی اور آوارگی کے پیامبر کی صورت میں کیوں سامنے آئی ہے۔ابتدا چھ بندوں میں رات سے وابستہ احوال بیان کیے گئے ہیں۔رات کی خیرہ کن روشنی میں ایک طرف تو رعنائیوں اور عیش و سرمستی کی مختلف صورتیں جلوہ گر ہوتی ہیں تو دوسری طرف استحصال کی مختلف شکلیں۔’’اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب‘‘،’’پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی اک پھلجھڑی‘‘،’’جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی‘‘اور مفلسی اور معاشرتی جبر کے مختلف مناظر،’’مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے‘‘،’’سینکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنے‘‘،’’سینکڑوں چنگیز ونادر ہیں نظر کے سامنے‘‘بھی ابھرتے ہیں۔یہ مظاہر Emotional Release کے جذبے کی شدت میں اضافہ کرتے ہیں۔اس مرحلے پرEmotional Releaseکا سب سے بہتر ذریعہ یہ نظر آتا ہے کہ اس پورے نظام کو یکسر بدل دیا جائے اور فن کاروں کو اس سلسلے میں Initiativeلینا چاہیے۔نظم کا واحد متکلم بھی اقدامیت پر مائل ہوتا ہے جس کی طرف چودہواں بند’’لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑدوں‘‘،الخ،اور آخری بند’’بڑھ کے اس اندرسبھا کا سازوساماں پھونک دوں‘‘اشارہ کرتا ہے۔آخر کے ان بندوں سے نہ صرف initiativeلینے کا اظہار ہوتا ہے بلکہ ایک نوع کے فوری پن یعنیSpontaneityکا احساس بھی ہوتا ہے۔نظم کے اختتامی حصے پر رومانی نظموں کی ایک مخصوص صفت جسےOverflow of powerful feelingsسے تعبیر کیا گیا ہے،کی گہری چھاپ نظر آتی ہے۔ زیر تجزیہ نظم میں تشبیہوں کے استعمال کی بھی ایک نئی اور انوکھی صورت ملتی ہے۔’’آوارہ‘‘میں مستعمل تشبیہیں محض کسی شے کی خوبی یا دو اشیا میں باہمی مماثلت کے کسی پہلو کو اجاگر نہیں کرتیں بلکہ اصلاََاشیا کے تیئں شاعر کے ردعمل سے قاری کو بے کم وکاست واقف کراتی ہیں۔تیسرے بند میں رات کا سماں دو تشبیہوں کے حوالے سے بیان کیا گیا ہے۔شاعر نے اولاََروپہلی چھاؤں کو صوفی کے تصور سے اورتاروں کے جال کو عاشق کے خیال سے تشبیہ دی ہے۔پہلے ایک مرئی شے رو پہلی چھاؤں اور ایک غیر مرئی شے صوفی کے تصور میں ایک قدرِ مماثلت تلاش کی گئی ہے۔یہ مماثلت روشن فضا کا احساس ہے۔روپہلی چھاؤں کی طرح صوفی کا تصور(مراقبہ)بھی واضح اور روشن ہوتا ہے اور جب صوفی ایک نقطہ پر توجہ مرکوز کرتا ہے تو تاریکی چھٹ جاتی ہے اور اسے روشن فضا کا احساس ہوتا ہے۔اسی طرح ایک خارجی مظہر روپہلی چھاؤں ایک داخلی کیفیت’’صوفی کے تصور‘‘کے عین مماثل ہے۔مگر دونوں تشبیہوں کے حوالے سے شاعر نے رات کے تئیں اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔اسی طرح تاروں کے جال اور عاشق کے خیال میں الجھاؤ کی بنا پر مماثلت کے نقوش واضح کیے گئے ہیں۔جال پیچیدگی الجھاؤ سے عبارت ہوتا ہے۔اسی طرح عاشق کا خیال بھی مرکز جو کیفیت کا مظہر ہونے کے باوجود اکثر منتشر خیالی،پراگندگی اور الجھاؤ کی متعدد صورتوں کو بھی سامنے لاتا ہے۔ دسویں بند میں ماہتاب کے لیے چار تشبیہیں،’’ملا کا عمامہ‘‘،’’بنئے کی کتاب‘‘، ’’مفلس کی جوانی‘‘اور’’بیوہ کا شباب‘‘استعمال کی گئی ہیں۔اس بند ’’محل‘‘حسن کے استحصال کے پیکر کے طور پر ابھرتا ہے جس کے باعث حسن مجسم ماہتاب اپنی کشش، جاذبیت،دلکشی اور تابنا کی کھو بیٹھتا ہے۔چاند کی تابناکی ماند پڑ کر پیلے رنگ کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ماہتاب اپنی معنوعیت سے محروم ہوکر شاعر کے نزدیک مفلس کی جوانی اور بیوہ کے شباب کی طرح بے کاروبے سود ہوکر رہ گیا ہے۔چاند کے تئیں شاعر کا پسندیدہ ردعمل دو تشبیہوں ’’ملا کا عمامہ‘‘اور’’بنئے کی کتاب‘‘سے ظاہر ہورہا ہے۔مجاز کی فنی بالغ نظری کا ایک ثبوت یہ بھی ہے کہ بارہویں بند میں شاعر نے جن مردہ چاند تاروں کو نوچ لینے کی خواہش کااظہار کیا ہے ان کا ذکر پہلے کے بندوں یعنی تیسرے اور دسویں میں کردیا ہے۔ تجسیم(Personification)کی بھی کئی مثالیں اس نظم میں موجود ہیں مثلاََٹیپ کا مصرعہ’’اے غم دل کیا کروں،اے وحشت دل کیا کروں‘‘،دوسرے بند کا دوسرا مصرعہ’’رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی ‘‘پانچویں بند کا تیسرا مصرعہ’’رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ میخانے میںچل ‘‘اور چھٹے بند کا تیسرا مصرعہ’’بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں ‘‘ وغیرہ۔ رومانی فنکاروں کی تخلیقات کا مابہ الامتیاز عنصرEmotional Betrayal کافنکارانہ اظہارہے۔Emotional Betrayalسے مراد یہ ہے کہ فن کاراپنی خواہش کے بر خلاف جذبے کا اظہار کرتا ہے تاہم بیان کی نوعیت سے اصل جذبے کا احساس ہوتا ہے۔ ’’آوارہ‘‘میں اس نوع کی ایک دو مثالیں نظر آتی ہیں مثلاََنویں بند میں شاعر محبوب سے ترک تعلق کا خواہاں ہوتا ہے،اس بند کا آخری مصرعہ’’ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑدوں‘‘ Emotional Betrayalکی اچھی مثال ہے۔’’زنجیر ہوا‘‘کی ترکیب سے ذہن ہوا و ہوس کی طرف جاتا ہے،یعنی ایسا لگتا ہے کہ شاید یہ باور کرانا چاہتا ہے کہ اس کا اور محبوب کا تعلق ہوسنا کی کی ایک شکل تھا۔نظم کے دیگر مصرعوں سے احساس ہوتا ہے کہ شاعر کا اصل تجربہ عشق ہے مگر وہ مذکورہ مصرعے میں ہوس کا ذکر کر رہا ہے جس کا اسے کوئی تجربہ نہیں ہے۔زنجیر ہوا کا ایک مفہوم رشتہ کی ناپائیداری اور اس کے موہوم ہونے کا بھی ہے۔اگر یہ مفہوم بھی مرادلیاجائے تو شاعر یہاں گہرے تعلق کو ناپائیداری سے تعبیر کر رہا ہے۔Emotional Betrayalکی صورت میں Surface Structureمیں نمایاں تنذیلی آجاتی ہے۔زبان،تراکیب اور لفظیات بھی منفرد اور مختلف ہوجاتی ہے۔زیربحث مصرعے ’’ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑدوں‘‘میں الفاظ کا انتخاب اور دروبست کی صورت اسی نظم کے بعض دیگر مصرعوں مثلاََ’’جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں‘‘،’’کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں‘‘سے بالکل مختلف ہیَ۔ رومانی شاعری کی بعض دیگر خصوصیات مثلاََاحساس تنہائی ،خود نگری اور اپنی خوبیوں کا بالتفصیل بیان بھی اس نظم میں موجود ہے ،مثلاََ’’آہ لیکن کون جانے ،کون سمجھے جی کا حال‘‘،’’اور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں‘‘،’’راستے میں رک کے دم لوں یہ مری عادت نہیں‘‘اور’’اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وامیرے لئے‘‘وغیرہ۔ ان معروضات کی روشنی میں یہ کہنا بے جانہ ہوگاکہ’’آوارہ‘‘محض موضوع (متوسط طبقے کے نوجوانوں کی بدحالی اور اس عہد کی معاشرتی صورت حال کی عکاسی)کی عمومیت کی بنا پر ایک قابل قدر نظم نہیں ہے بلکہ یہ مجاز کی فنی ہنر مندی کا بھی ناقابل تردید ثبوت پیش کرتی ہے جو تحریک یعنیMovementپر نظم کا ڈھانچہ استوار کرنے کی مثالیں اردو شاعری میں کم کم ملتی ہیں۔اس لحاظ سے ’’آوارہ‘‘ایک منفرد نظم ہے۔

A’sr E Hazir Mein Sir Syed ke Afkaar ki Ma’niuet

Articles

عصر حاضر میں افکار سر سید کی معنویت

پروفیسریو نس اگاسکر

 

میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں: میں اپنی گفتگوکا آغاز ’حیات جاوید ‘ میں شامل خواجہ الطاف حسین حالی کے دیباچے کے ایک اقتباس سے کرنا چا ہو ں گا جس پر میں نے اپنی اور آپ کی سہولت کی خاطر نمبر ڈال کر اسے ٹکڑوں میں بانٹ دیا ہے ۔سر سید کی لائف یا سیرت کے لکھنے کی غایت وضرورت پر روشنی ڈالتے ہو ئے حالی فرماتے ہیں:   {۱}   اس بزرگ کی لائف ہم کونصیحت کرتی ہے کہ زمانے کی مخالفت کو خدا کی  مخالفت سمجھ کر اس کے ساتھ مو افقت پیدا کر و تاکہ دنیا میں آرام سے اور عزت سے زندگی بسر کرو ۔{۲} جب تم میں عمدہ حاکم بننے کی لیاقت باقی نہ رہے تو عمدہ رعیت بننے میں کوشش       کرو تا کہ دونوں عمدگیوں سے ہاتھ نہ دھو بیٹھو۔(وہ بتاتی ہے کہ کوئی قوم محکوم        ہونے کی حالت میں کیوں کر قومی عزت حاصل کر سکتی ہے۔){۳} وہ جس طرح ہم کو آزادیِ رائے کی تعلیم دیتی ہے ،اسی کی طرح یہ بھی سکھاتی         ہے ہم کیوں کر اپنی آزادی کو قائم رکھ سکتے ہیں ۔ِ{۴} وہ ہم کو سبق دیتی ہے کہ قوم کی خیر خواہی اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ        بہت سے کام ان کی عقل اور عادات اور مرضی کے خلاف نہ کیے جائیں اور ان        کی مخالفت کو صبر و استقلا ل کے ساتھ بر داشت نہ کیا جائے ۔{۵} وہ ہم کو تعصبات سے متنفر کرتی ہے ،غیر قوموں کے ساتھ حسن معاشرت سکھاتی        ہے ،دوستوں کے ساتھ خواہ وہ ہندو ہوں یا مسلمان، عیسائی ہوں یا یہودی        خلوص اور سچائی سے ملنا سکھاتی ہے ۔ {۶} وہ ہم کو ہدایت کرتی ہے کہ جیسا دل میں سمجھو ویسا ہی زبان سے کہو اور جو کچھ کہو        اس کو کر دکھائو ۔{  ۷}وہ بآواز بلند کہتی ہے کہ وقت کی قدر کرو ،ڈیوٹی کا خیال رکھو ،ایک لمحہ بے کار نہ          رہو اور کام کرتے کرتے مر جائو ۔ ہمارے موجودہ حالات اور طرز فکر و عمل کے تناظرمیں ہم حالی کی بیان کردہ ان اچھی باتوں پر غور کریں تو ہمارا دل فوراً گواہی دے گا کہ سر سید کی حیات اور ان کے خیالات کی معنویت ہمارے دور میں نہ صرف بر قرار ہے بلکہ مزید اجاگر ہو گئی ہے ۔ سر سید نے جب ہوش کی آنکھیں کھولیں تو ایک شاندار حکومت کا سورج جس نے طبقۂ اشرافیہ کے گھرانوں میں روشنی اور گرمی کے ساتھ توانائی پیدا کی تھی ، غروب ہو چکا تھا اور صرف دھند لکا باقی تھا ۔ اس دور حکومت کی پروان چڑھائی ہوئی ہندوستانی مسلم تہذیب کے ایوانوں میں بھی فانوس خیال کی گردش کا ساسماں تھا ،در ودیوار روشن تو تھے مگر ان پر رقص کرتے ہوئے مناظر اتنی تیزی سے بدل رہے تھے کہ سر چکرانے لگتے تھے ۔ایسے میں ۱۸۵۷ ء کی قیامت صغرا نے سب کچھ تہ وبالا کر دیا ۔ ’’زمانہ با تو نہ ساز دتو بازمانہ بساز‘‘ کا سبق پڑھنے والوں کے ہوش و حواس بھی پر زن ہو گئے ۔پرانی بساط کے الٹ جانے کے بعد نئی بساط بچھی تو پتہ چلا کہ نہ صرف مہرے بدل گئے ہیں بلکہ چالیں بھی نئی چلی جا رہی ہیں۔ سر سید ان بدلے ہوئے حالات کے عینی مشاہدین اور ان سے متاثربھی تھے مگر انھوں نے شتر مرغ کی طرح ریت میں منہ چھپا کر جینے کی بجائے آندھی میں بھی اپنا راستہ تلاش کرنے کی تدبیر کی۔ اس میں شک نہیں کہ وہ ابتدا میں آندھی کی مخالف سمت میں بھی چلے تھے۔ ان کی ابتدائی قلمی کا وشات میں ان کی ماضی پرستی و احیا پسندی کے ساتھ ساتھ مذہبی عقائد میں رواداری کی کمی جھلکتی ہے ۔مثلاََ سلاطین تموریہ کے تذکرے ’جام جم ‘اور’’آئین اکبری ‘‘کی تر تیب و تصحیح کے ذریعے وہ ماضی کی باز آفرینی کے طالب نظر آتے ہیں۔ اسی طرح رسالہ راہ سنت و ردّبدعت اور شیعی عقائد کی تر دید میں شاہ عبدالعزیز دہلوی کے’’ تحفۂ اثناعشریہ‘‘کے ایک باب کا کیا ہوا ان کا ترجمہ ’تحفہ حسن‘ ان کی بے لچک و ہابیت کے غماز ہیں۔لیکن انھوں نے جلد ہی محسوس کر لیا کہ وہ حاکم ازل کی سلطنت کو کوئین و کٹوریہ کی حکومت سے بھی محدود سمجھ رہے ہیں جس میں مذہب و ملت اور فرقے و طبقے کے لوگوں کو اپنے عقیدے اور رسم ورواج کے مطابق چلنے کی آزادی میسّرہے۔ اور جب وہ انگلستان کے سفر سے واپس لوٹے تو انگریزی تہذیب و تمدن اور طرز حکومت و معاشرت کے مطالعے و مشاہدے نے ان کی سوچ کی دنیا ہی بدل ڈالی ۔ انھیں یقین ہو گیا کہ محض ایک سچا مسلمان ہو نے کے بجائے ایک اچھا شہری بننا ضروری ہے ۔اور اس کے لیے انگریزوں کے لائے ہوئے طرز حکومت ،نظام تعلیم اور حسن معاشرت کی تقلید لازمی ہے لیکن اپنی شناخت کو باقی رکھنے اور اپنی اجتماعیت کی حفاظت کرنے کے لیے اپنی تہذیب و مذہبی روایات کی پاس داری بھی ضروری ہے۔ سر سید نے زمانے کی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے حالات کو بھی موافق بنانے میں تن من دھن کی بازی لگا دی لیکن دنیا میں آرام سے رہنے اورعزت سے زندگی بسر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی قومی شناخت اور قومی مفادات کے تحفظ کی بھی جان توڑ کوشش کی ۔ معاف کیجیے ، میں نے آرام سے رہنے کی بات محض حالی کے اتباع میں کہی ہے ، ورنہ سر سید کی قسمت میں آرام کہاں تھا ۔حالی کا اقتباس تو آپ ملاحظہ فرما چکے ہیں اب خود سر سید کی گواہی بھی سماعت فرمائیے۔ اپنے مضمون ’’امید کی خوشی‘‘ میں خود کو اپنا ہی غیر تصور کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ وہ قومی بھلائی کا پیاسا اپنی قوم کی بھلائی کی فکرکرتاہے دن رات اپنے دل کو جلاتا ہے، ہر وقت بھلائی کی تدبیر یں ڈھونڈتا ہے (اور) ان کی تلاش میں دور دراز کا سفر اختیار کرتا ہے۔ یگانوں بیگانوں سے ملتا ہے ۔جن کی بھلائی چاہتا ہے انھیں کو دشمن پاتا ہے ۔شہری وحشتی بتاتے ہیں، دوست آشنا دیوانہ کہتے ہیں، عالم فاضل کفر کے فتووںکا ڈر دکھاتے ہیں ۔بھائی بند عزیز اقارب سمجھاتے ہیں اور پھر یہ شعر پڑھ کر چپ ہو جاتے ہیں :  وہ بھلا کس کی بات مانے ہیںبھائی سید تو کچھ دِوانے ہیں  ہو سکتا ہے ہمارے عہد کے اکاّدکا ّ دیوانوں میں سر سید کی مذکورہ خصوصیات پیدا ہو جائیں مگر ان کی سی ہمہ جہت و ہمہ صفت شخصیت کا ورود مسعود اب ممکن نہیں ہے۔ ہندوستان کی انیسویں صدی کسی اعتبار سے قحط الرجال کی صدی نہیں تھی اس کے باوجود سر سید کو جتنے محاذوں پر قومی، تہذیبی ،علمی ، سیاسی ،مذہبی ،اخلاقی ، اصلاحی اور تعلیمی جنگ لڑنی پڑی ، اس کی مثال ہمارے ملک کی تاریخ میں تو نہیں ملے گی ۔ پروفیسر آرنلڈ نے سر سید کی وفات کے بعد لاہور میں منعقدہ تعزیتی جلسے میں سر سید کی مختلف النوع شخصیت کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا تھا :’’تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوگا کہ دنیا میں بڑے آدمی تو اکثر گزرے ہیںلیکن ان میں بہت کم ایسے نکلیں گے جن میں یہ حیرت انگیز اوصاف اور لیاقتیں مجتمع ہوں ۔وہ(سر سید) ایک ہی وقت میں اسلام کا محقق ،علم کا حامی ، قوم کا سوشل ر فارمر ، پولیٹیشن،مصنف اور مضمون نگار تھا ۔ اس کا اثراس سوچنے والے عالم کا سانہ تھا جو گوشۂ تنہائی میں بیٹھا اپنی تحریروں سے لوگوں کے دلوں کو اکسائے بلکہ وہ اعلانیہ دنیا کے سامنے لوگوں کا رہبر بن کر آیا ۔اس لیے آیا کہ جس بات کو سچ اور صحیح سمجھے، اگر اس کی دنیا مخالف ہو تو بھی ساری دنیا سے لڑنے کے لیے ہر وقت آمادہ اور تیار رہے۔‘‘(برگ گل سر سید نمبر) پروفیسر آرنلڈ کی بات کو ڈاکٹر سید عبداﷲ نے تہذیب الاخلاق کی اہمیت کے حوالے سے قدرے تفصیل اور وضاحت کے ساتھ اس طرح بیان کیا ہے ۔’’ تہذیب الاخلاق کے مشتہرہ مقاصد کا دائرہ بہت وسیع تھا۔مثلاً فرد کے اخلاق کی اصلاح ،قومی اصلاح و تکمیل ،تہذیب و شائستگی اور قومی عزت کا احساس پیدا کرنا ،قوم کو جدید تر قیاتِ علمی کی طرف راغب کرنا ،علمی نقطۂ نظرکی اصلاح ، دینی زاویۂ نگاہ کی اصلاح ، ادب و انشا کے لیے ذوق صحیح کا پیدا کرنا ،اردو کو قومی حِسیات اور اجتماعی افکار کا ترجمان بنانا اور با لآ خر (بہ قول مولانا حالی) قوم میں زندہ دلی پیدا کرنا۔‘‘(بر گ گل ،سر سید نمبر ۱۹۵۵ء)  سر سید کی خدمات کا جب بھی ذ کر ہوتا ہے ،ان کی تعلیمی سر گرمیوں ، مسلمانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنے کی کاوشوں ،اخلاقی خرابیوں اور سماجی برائیوں کو دور کرنے کی کوششوں اور اردو کو جدید دور کے تقاضوں کی تکمیل کے لایق بنانے کی تدبیروں کو نمایاں طور پر بیان کیا جاتا ہے لیکن ان کی ایک نہایت اہم خدمت یعنی مسلمانوں کے علمی نقطۂ نظر اور دینی زاویۂ نگاہ کی اصلاح میں کی گئی ان کی مساعی کو بہ نظر تعمق نہیں دیکھا جا تا ۔ سر سید کو اس بات کا شدید احساس تھا کہ مسلمانوں کی دنیوی علوم سے دلچسپی میں اضافہ اور اس کے نتیجے میں دنیوی ترقی کی رفتارمیں تیزی اس وقت ممکن ہے جب انھیں اسلام کی عظمت رفتہ کی باز آفرینی کے تصور سے باز رکھا جائے۔سر سید نوجوانی میں وہابی اور اہل حدیث تھے مگر آگے چل کر انھیں یہ احساس ہو گیا کہ ان عقائد کے تحت وہ مذہب کی حرکی قوت سے منحرف ہو گئے ہیں اور مذہب کو ایک جاطرز حیات بنا کر اس کے فطری ارتقامیں مانع ہو رہے ہیں۔  سر سید کے نہایت معرکہ آرا مضمون ’’آزادیِ رائے ‘‘کے حوالے سے ان کی تعقل پسندی اور حق پر ستی پر گفتگو کی جائے تو عصر حاضر کے لیے ان کے افکار کی معنومیت کو اجاگر کرنے میں خاصی مدد مل سکتی ہے ۔سر سید نے ابتدا ہی میں اس حقیقت کا اعلان کیا ہے کہ ہر انسان کو آزادی ِرائے کا پورا حق ہے اور کسی رائے کی صحت یا غلطی کا دارو مدار ماننے والوں کی قلت یا کثرت پر نہیں ،قوت استدلال پر ہے ۔یعنی ایک تنہا آدمی کی رائے بھی اجتماعی رائے کے مقابلے میں صحیح و درست ہو سکتی ہے۔  محض کسی مذہبی خوف یا قوم و برادری کے اندیشے یا بد نامی یا حکومت کی تعذیر کے ڈر سے آزادی ِرائے کا استعمال نہ کرنا ،فرد و قوم بلکہ پوری انسانیت کے لیے مضرت رساں ثابت ہو سکتا ہے ۔آزادیِ راے میں مزاحم ہونے والے افراد اگر وہ کسی مذہبی گروہ سے وابستہ ہوں ،اپنی نادانی سے ساری دنیا پر یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کے مذہب کو مخالفوں کے اعتراضوں سے نہایت اندیشہ ہے ۔ ایسے میں ان کی رائے یا مذہبی عقیدہ درست بھی ہو تو اس کو صحیح ثابت کرنا ممکن نہیں ہوتا ۔ اپنے ہی عقیدے یا مذہب کو جس میں وہ پیدا ہوا ہے ،محض جمہور کے کہنے پر صحیح سمجھنے والا شخص اپنی کو ئی رائے نہیں رکھتا ۔ایسے میں جن وجوہات سے مسلم خاندان میں پیدا ہونے والا شخص بڑا مقدس مسلمان ہوتا ہے انھی وجوہات سے عیسائی یا بت پرست خاندان یا ملک میں پیدا ہونے والا اچھا عیسائی یا بت پرست ہوتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں کسی کا مسلمان ، عیسائی یا ہندو پیدا ہونا ایک اتفاقی امر ہے جس کی بنیاد پر تعصب برتنا کسی طور مناسب نہیں۔ سر سید کے نزدیک جس شخص کو اپنی رائے پر کسی قدر بھروسہ کیے جانے یا اسے عام لوگوں کے ذریعے تسلیم کیے جانے کی خواہش ہے اسے اپنی رائے کو عام مباحثے کے لیے پیش کرنا چاہیے ۔اس لیے کہ جن اعتقاد وں کو ہم نہایت جائز و درست سمجھتے ہوں ان کی درستی کی کوئی سند اور بنیاد بجز اس کے نہیں ہو سکتی کہ تمام دنیا کو اختیار دیا جائے کہ وہ ان کو بے بنیاد ثابت کرے۔  آگے چل کر انھوں نے مسلمانوں کی اس روش پر افسوس کیا ہے کہ وہ قدما کی طرح دلائل و براہین اور بحث و حجت سے عقائدو اعمال کو درست ثابت کرنے کی بجائے ،جھوٹے غرور اور بے جا استغناسے کام لیتے ہیں یا عقیدے یا مسلے کے بر خلاف کوئی دلیل سننے کے بجائے اپنے گروہ کے لوگوں کو کفر کے فتووں کے ڈراورا سے جہنم میں جانے کی چھوٹی دہشت دکھا کے ان عقائد یا مسائل پر غوریا بحث کرنے سے باز رکھتے ہیں۔         مضمون کے آخری حصّے میں سر سید نے اپنی گفتگو کا رخ مسلمانوں میں تجسّس و تحقیق کی کمی کی طرف موڑ دیا ہے اور علمی جستجو کے نام پر محض کتاب میں کیا لکھا ہے یہ جاننے یا کس نے کیا کہا ہے اور آیا کہا بھی ہے کہ نہیں یہ معلوم کرنے پر اکتفا کرنے کی روش کو نا پسند یدہ قرار دیا ہے۔ انھیں کے الفاظ میں’’ اس طریقے اور عادت نے آزادیِ رائے کو کھو دیا اور اس سیرت کو جس سے غلطی میں پڑنے سے حفاظت تھی، توڑ دیا ان کے تمام علم و فضل غارت ہو گئے ۔ان کے باپ دادا کی کمائی جس سے توقع تھی کہ ان کی اولاد فائدہ اٹھاوے گی سب ڈوب گئی۔ ‘‘ عصر حاضر میں مسلمانوں کے عقائد و طرز حیات میں پیدا ہونے والے جمود پر نظر ڈالیں اور ان کی ترجیحات میں کار جہاں کو اخیر میں رکھتے ہوئے دنیا کی جگہ محض عقبیٰ کو سنوارنے اور چند مخصوص عقائد و رسوم کی پا بندی کو انسان اور کا ینات کی تخلیق کا مقصد و منتہاسمجھنے کی روش کو نظر میں رکھیں تو سر سید کے مذکورہ بالا خیالات کی معنویت کو سمجھنے میں دیر نہیں لگے گی ۔

Nasr Kai Rang Roop ki Hooti hai : Nida Fazli (Interview)

Articles

نثر کئی رنگ روپ کی ہوتی ہے

ندا فاضلی

مقصود بستوی: نداؔ صاحب ! میں آپ سے جاننا چاہوں گا کہ نثر اور شاعری میں کیا رشتہ ہے۔ کیا یہ ایک دوسرے کو رد کرتی ہیں۔ ان میں باہمی داخلی جنگ ہے۔ اور یہ اپنی بقا کے لیے دوسری صنف کو کمزور کرنا ضروری سمجھتی ہیں؟

ندا فاضلی:شاعری کی طرح نثر بھی کئی رنگ روپ کی ہوتی ہے۔’صحافتی نثر‘، ’تنقیدی نثر‘،’ تجارتی نثر‘، ’تخلیقی نثر‘ ۔ میرے یہاں جو نثر ہے اس کا رشتہ میرے انھیں تجربہ و مشاہدہ اورسوچ کے زاویوں سے ہے جو وزن ، قافیہ اور ردیف کی پابندیوں میں شاعری میں ڈھل جاتے ہیں اور جب ان سے آزاد ہوتے ہیں تو نثر میں اتر آتے ہیں۔ ان دونوں میں ایک دوسرے کو رد کرنے کے کسی بھی رویہ کو میں نہیں مانتا۔ میرے یہاں یہ دونوں ایک دوسرے کے ہم سفر ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کبھی ذہن گھر کے در و دیوار پر کائنات کو سجاتا ہے اور کبھی کشادہ فضائوں میں خود کو پھیلاتا ہے۔ مجھے شعر کہہ کر جس تخلیقی مسرت کا احساس ہوتا ہے وہی نثر لکھ کر محسوس ہوتا ہے۔ ہا ں یہ ضرور ہے نثر نظم سے زیادہ محنت کا مطالبہ کرتی ہے۔ اور اس کی آزادیوں میں بہت سی ان دیکھی پابندیوں سے گذرنا پڑتا ہے۔

مقصود بستوی: یہ بات اکثر کہی جاتی ہے کہ شاعری کی ابتدا پہلے ہوئی ، نثر بعد میں آئی۔ اس سے لوگ اس لازمی نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ شاعری بنیادی طور وحشت ، شیفتگی، عدم ترتیب اور ذہنی تہذیب کے ضعف سے تعلق رکھتی ہے۔ اس کے برخلاف نثر انسانی ذہن کی بالیدگی ، تہذیب و ترتیب ، سنجیدگی اور پختگی کا ثمرہ ہے۔ اس سلسلے میں آپ کیا کہتے ہیں؟

ندا فاضلی: ذہن کی بالیدگی، تہذیب و ترتیب ، سنجیدگی اور پختگی کے بغیر ادب کی کسی صنف کا تصور ناممکن ہے۔ پہلے اور بعد کے زمانی فاصلے سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ادب ، نظم ہو یا نثر ، دیکھے ہوئے کو نہیں دکھاتا۔ دیکھے ہوئے میں جو، اَن دیکھا ہے، اس سے تحیر جگاتا ہے۔ میرؔ نے اس وصف کو ’ہر جا میں جہانِ دیگر‘ کے لفظوں سے ظاہر کیا ہے۔ اور شیکسپئر صاحب اسے میتھڈ ان میڈنس کہتے ہیں۔ میرے یہاں نثری برتائو شاعری سے قریب ہے۔ میں اسی قربت کو اس استعجاب کے لیے ضروری تصور کرتا ہوں جو لغت کو ادب بناتا ہے۔

ظہیر انصاری:ندا صاحب! آپ کی ابتدائی شاعری میں قصباتی معصومیت اور سادگی ملتی ہے۔ بڑے شہر ممبئی میں آنے کے بعد آپ کی شاعری میں جھنجھلاہٹ اور ہر چیز سے لڑجانے کا انداز جنم لیتا ہے۔ آپ کے پہلے شعری مجموعہ ’لفظوں کا پل‘ پڑھنے کے بعد یہی محسوس ہوتا ہے۔ اس سے متعلق خود آپ کی رائے کیا ہے؟

ندا فاضلی: ہر زندگی ایک ہی زندگی میں، کئی زندگیوں کا دائرہ بناتی ہے۔ ان کئی زندگیوں میں، ہر زندہ آدمی کی دیکھنے کی نظر پہلے سے مختلف ہوتی ہے۔ جو زندگی کے مختلف موسموں کے ساتھ بدلتے نہیں وہ اپنے محدود دائرے سے نکلتے نہیں۔ مہاتما بدھ نے کہا تھا کہ سچائی اجتماعی نہیں انفرادی ہوتی ہے۔ اور فرد اس کائنات میں ہمیشہ ایک سا نہیں رہتا۔ میری شاعری کے تعلق سے جو درجہ بندی آپ نے کی ہے وہ میرے دو مجموعوں ’لفظوں کا پُل‘ اور ’مور ناچ‘ تک محدود ہے۔ ان کے بعد بھی میرے تین مجموعے ’آنکھ اور خواب کے درمیاں‘ ، ’کھویا ہوا سا کچھ‘ اور ’شہر میرے ساتھ چل تو‘ بھی شائع ہوچکے ہیں۔ میں نے جب جیسی زندگی جی ہے یا جینے کو ملی ہے، ان میں میرے بدلتے ہوئے ذہنی رویوں کا عمل دخل دیکھا جاسکتا ہے:

اب جہاں بھی ہیں وہیں تک لکھو روداد سفر

ہم تو نکلے تھے کہیں اور ہی جانے کے لیے

ظہیر انصاری:شہری زندگی اور اس کے اقدار سے نالاں رہتے ہوئے بھی آپ اس کے اسیر نظر آتے ہیں؟

ندا فاضلی: میں شہری زندگی سے نالاں نہیں ہوں،پنڈت نہرو کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے،شہر جس طرح انتشار و بحران کا شکار ہوا ان سے مجھے شکایت ہے۔ چھوٹی بستیوں میں روزگاروں کی کمی اور اس کے ردِّعمل میں شہر کی بڑھتی آبادی اور اس کی سیاست نے جو پیچیدگیاں پیدا کی ہیں، وہ میرے موضوعات رہے ہیں۔ شہر میں گائوں اور گائوں میں شہر کی تلاش میری شعری Ironyہے۔ آپ نے ’اسیر‘ کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ میں اسے اتفاق سے بدلنا چاہوں گا۔ گھر سے بے گھر ہونے کے بعد ممبئی میں میرا قیام ایک اتفاق ہے۔ اس اتفاق کے تعلق سے میں میرؔ کے لفظ مستعار لوں تو کہوں گا: ’’ناحق ہم مجبوروں پر یہ تہمت ہے مختاری کی‘‘

ظہیر انصاری :آپ کی شاعری میں جابجا ’’گھر‘‘ کا ذکر آتا ہے، جیسے گھر کو آپ نے بہت زیادہ Missکیا ہے ۔ یہاں گھر سے مراد محض گھر نہیں بلکہ ’’فیملی‘‘ ہے ، آپ کے ماں باپ ہمیشہ آپ کو اپنے پاس بلاتے رہے یہاں تک کہ انھوں نے اپنے دوسروں بیٹوں کے ساتھ آپ کانام بھی نیم پلیٹ پر لکھوایا۔ آپ وہاں جانا بھی نہیں چاہتے اور گھر کو Missبھی کررہے ہیں، یہ کیسا تضاد ہے؟ اس کیفیت کو بغاوت نہیں تو اور کیا کہیں گے؟ آپ کی شاعری میں بھی روایت سے ہٹ کر کیفیتیں ملتی ہیں۔ ایسا کہاجاسکتا ہے کہ آپ کے اندر باغیانہ عنصر پایا جاتا ہے ۔ اس باغیانہ رویے کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟

ندا فاضلی: آپ کے سوال کا جواب ، زیادہ تفصیل سے میں اپنی کتابوں ’دیواروں کے بیچ‘ اور ’دیواروں کے باہر‘ دے چکا ہوں۔ یہاں میں صرف اتنا ہی کہنا چاہوں گا، برصغیر میں میرا مقدر بھی اس عام آدمی کا سا رہا ہے جسے چرواہوں کی لکڑیوں نے اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر بھیڑ بکریوں کی طرح ہکایا ہے۔ میرے ساتھ سیاست نے یہ کرتب 1964-65 ء میں کیا۔ گوالیار میں فسادات سے گھبرا کر میرے گھر والوں نے کراچی منتقل ہونے کا فیصلہ کیا اور میں نے چرواہے کی بھیڑ بننا پسند نہیں کیا، کیونکہ میں ان دنوں زمینی تبدیلی کومسائل کا حل نہیں سمجھتا تھا۔ انتخاب میر اتھا اس لیے اس سے ہم رشتہ ساری اچھائیوں ، برائیوں کی ذمہ داری بھی میں قبول کرتا ہوں:

ملک خدا میں ساری زمینیں ہیں ایک سی

اس دور کے نصیب میں ہجرت نہیں رہی

آپ جسے بغاوت کہتے ہیں، میں اسے انفرادی ذہانت کہنا پسند کروںگا۔ اس انفرادی عمل نے مجھے ہندو مسلمان کی دنیا میں انسان بننے کی ترغیب دی۔ آدمی، سے انسان بننے کے راستے میں یہ میرا پہلا قدم تھا۔

ظہیر انصاری :آپ نے اپنی شاعری اور نثر میں ماں سے محبت کی کیفیت کو جس انداز میں بیان کیا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہر آدمی اپنی ماں کو یاد کر رہا ہے جیسے وہ مشہور نظم:

بیسن کی سوندھی روٹی پر کھٹی چٹنی جیسی ماں

یاد آتی ہے ! چوکا ، بیسن ، چمٹا ، پھکنی جیسی ماں

وارث علوی نے ایک جگہ لکھا ہے’’ماں کے موضوع پر صرف دو ہی نظمیں یاد گار رہیں گی ایک فراقؔ کی نظم ’’جگنو‘‘اور آپ کی مندرجہ بالا نظم ۔علامہ اقبال ؔکی نظم :’والدہ مرحومہ کی یاد میں ‘ کے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے۔

ندا فاضلی: ماں اور اولاد کا رشتہ خالق اور مخلوق کے رشتے جیسا ہوتا ہے۔ ہر انسان کی پہلی تربیت گاہ ماں کی گود ہوتی ہے۔ میری ماں یسوع مسیح کی مریم سے مختلف ہے، جب وہ کراس پر تھے تو انھوں نے مریم کو دیکھ کر کہا تھا، رشتہ ، وشواس اور عقیدہ رویہ سے بنتا ہے خون سے نہیں ۔ڈاکٹر اقبال ؔ کے یہاں بھی ماں مرگ و حیات کے فلسفہ میں کھوئی ہوئی نظر آتی ہے۔۔۔۔۔۔۔ میری ماں نچلے متوسط طبقے کی ایک عورت تھی جو شوہر کی بے اعتدالیوں سے دور ہوکر اپنے بچّوں کی تربیت و پرورش کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے ہوئے تھی۔ اس مقصد کو اس نے آنسوئوں سے دھویا تھا اور بچّوں میں اپنے خواب جگانے کے لیے اپنا بہت کچھ کھویا تھا۔ میری ماں سیاست و فلسفہ سے ناوقف ہوتے ہوئے بھی ممتا کے اس نور سے روشن تھی جس کا ایک نام خدا ہے:

میں رویا پردیش میں بھیگا ماں کا پیار

دکھ نے دکھ سے بات کی بن چٹھی بن تار

میری ماں کی ردیف کی غزل میں جو ماں ہے وہ ایک عام ہندوستانی گھر کی معمولی عورت تھی۔ جس کے معمولی پن میں ہی اس کی عظمت تھی۔ وارث علوی کی پسندیدگی کی وجہ بھی شاید وہی یاد ہے جس سے میری تنہائی کی طرح ان کا ماضی بھی آباد ہے۔

’’ گھر کی تعمیر چاہے جیسی ہو، اس میں رونے کی کچھ جگہ رکھنا‘‘

مقصود بستوی: جدید غزل بظاہر ایک عجیب اصطلاح ہے کیونکہ ہر عہد میں جدید غزل کہی گئی ہے۔قلی قطب شاہ سے ولی ؔ جدیدہے۔ولی سے میر ؔ جدید ہے۔میرؔ سے غالبؔ جدید ہے ۔غالبؔ سے اقبالؔ جدید ہے ۔اور اقبالؔ سے فیضؔ جدید ہے۔لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ سب شعراء جدید ہیں تو صرف ایک خاص عہد کی غزل کو کیوں جدید سمجھا جاتا ہے ؟

ندا فاضلی: 1413ء صدی کے امیر خسروؔ سے موجودہ عہد تک بہت سارا وقت گذر چکا ہے ۔وقت کی اس طویل مدّت میں بہت کچھ بدل چکا ہے ۔دنیا سمٹ کرکمپیوٹر بن گئی ہے،مختلف دیسی بدیسی زبانو ں سے ادب کا لین دین بڑھا ہے، آدمی کی سمجھ بوجھ میں نت نئی کشادگیاں نمودار ہوئی ہیں، شعر کا ہیٔتی اور لسانی رقبہ وسیع ہوا ہے۔غزل ہر دور میں ان عہد بہ عہد تبدیلیوں کی آئینہ داری کرتی رہی ہے۔ میں ، غزل ہو یا نظم اسے کسی عہد سے جوڑنے کے بجائے، اس عہد میں شامل شعراء کی مختلف تخلیقی سطحوں کے سیاق میں پہچانتا ہوں۔ غالبؔ کے عہد میں ذوقؔ، مومنؔاور نظیرؔ بھی ہیں۔ان سب کی شعری شباہت ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ میں نے ایک مضمون لکھا تھا’ غالبؔ میرا ہم عصر ‘، یہ بات میں غالبؔ کے دیگر معاصرین کے بارے میں نہیں کہہ سکتا تھا۔ غالبؔ کے ’یوں‘ اور ’کیا‘ کے تجسس نے زمانی فاصلوں کو نزدیکیوں میں بدلاتھا۔ غالبؔ سے کئی برسوں کے بعد کے شاعر نوحؔ ناروی، جگرؔ، عزیزؔ وغیرہ غالبؔ کے مقابلے میں زیادہ قدیم لگتے ہیں۔ ہر وہ شاعر جدید ہوتا ہے جو اپنی آنکھ سے دیکھے ہوئے پر اعتماد رکھتا ہے۔ رہا سوال اصطلاحی ناموں کا تو یہ ناقدین کے تساہل کا شناختی کارڈ ہیں۔ اگر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ ناصر کاظمی اور احمد مشتاق میں فراقؔ چلتے پھرتے نظر آئیں گے اور باقر مہدی ، فضیل جعفری اور مظفر حنفی کے لفظوں میں یگانہؔ جھانکتے پائے جائیں گے۔ جدیدیت انسان اور معاشرہ کے رشتے کو شخصی نظر سے دیکھنے سے عبارت ہے:

ہر آدمی میں ہوتے ہیں دس بیس آدمی

جس کو بھی دیکھنا ہو کئی بار دیکھنا

مقصود بستوی: اینٹی غزل ایک جدید صنف ہے جو موضوع کی بنا پر ہے ۔کہا جاتا ہے کہ اس میں اکثر اشعار مہمل ہوتے ہیں لیکن شاعر کے مطابق اس میں کچھ معنی پوشیدہ ہوتے ہیں لیکن معنی کی تہہ تک پہنچنا عام طور سے ممکن نہیں ۔اینٹی غزل کے تجربات میں آپ کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی ،عادل منصوری،ظفر اقبال ،سلیم احمد،بشیر بدر اور مظفر حنفی بھی شامل ہیں ۔ندا صاحب!کیا آپ یہ بتانے کی زحمت گوارہ کریں گے کہ انیٹی غزل کسی خاص ضرورت یا کسی خاص مقصد کے تحت وجود میں آئی تھی ؟اور کیا ایسا نہیں ہے کہ جدید شعراء نئے اسالیب بیان کے چکر میں پھنس کر غزل کی صراطِ مستقیم سے بھٹک گئے؟ مثلاً آپ کا یہ شعر  :

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا

کھڑکی کے پردے کھینچ دیے رات ہو گئی

کھڑا تھا پاس جو برگد کا پیڑ صدیوں سے

ندی کے پاس وہ ٹانگیں اٹھا کے لیٹ گیا

(مظفر حنفی )

اور اسی طرح بشیر بدر کا یہ شعر :

اگر مجھ کو سورج کے نیزے لگے

تو کتّے کو کچا چبا جاؤں گا

ندا فاضلی:  ہرنئی نسل ، اپنی پچھلی نسل سے مختلف ہونے کے جوش میں ابتدا میں انتہا پسندیوں کا شکار ہوتی ہے، جو وقت کے ساتھ متوازن سمتوں میں مڑ جاتی ہے۔ اینٹی غزل اور اینٹی کہانی اسی ذیل میں آتی ہیں۔ آپ کے دیئے ہوئے ناموں میں بیشتر اب کئی کئی مجموعوں کے شاعر ہیں۔ ان میں اکثر کا شعری مزاج اب پہلے سے جدا ہی نہیں ہوا، ان ناموں سے غزل کی زبان اور موضوعات کے تنوع میں کئی اضافے بھی منسوب کیے جاسکتے ہیں۔ اور یوں بھی میں کامیاب تقلید سے ناکام تجربہ کو زیادہ اہمیت دیتا ہوں۔ ان تجربوں میں دوسری جنگ عظیم کے بعد جو سر یلزم ، دادا زم اور ایبسرڈ رائٹنگ کی تحریکیں فرانس کی مصوری سے یورپی ادب میں داخل ہوئی تھیں، ان کے اچھے برے اثرات بھی اردو اور ہندوستان کی دوسری علاقائی زبانوں کے ادب میں دیکھے جاسکتے ہیں۔ اردو کا افسانہ اور شاعری اب ابتدائی انتہا پسندیوں سے آزاد ہوکر قاری اور تخلیق کے فاصلوں کو کم کرنے لگی ہیں۔ لیکن ان ابتدائی تجربوں نے غزل کی لفظیات اور موضوعات کے برتائو میں نئے امکانات بھی روشن کیے ہیں جو اب سے پہلے کی غزل میں نظر نہیں آتے۔ جدیدذہن اب مقابلتاً زیادہ انتخابی اور احتسابی محسوس ہوتا ہے۔ ان میں سے کئی شاعروں کی تخلیقات نے غزل کی مستعمل تعریف اور اس کے تعقنات میں نئی تبدیلیوں کا احساس بھی دلایا ہے۔

ظہیر انصاری :ادب میں تحریکوں اور رجحانات کو آپ کس طرح Evacuateکرتے ہیں اور ان کے وجود کو مانتے بھی ہیں یا نہیں ۔ادب میںادوار کی درجہ بندی کرنا درست ہے یا نہیں ؟

ندا فاضلی:  اچھا ادب تحریکوں کے عروج و زوال کا محتاج نہیں ہوتا۔ تحریکیں عہد بہ عہد تبدیلیوں کی آئینہ داری ضرور کرتی ہیں لیکن شاعر و ادیب ان سے یکساں اثرات قبول نہیں کرتے۔ ترقی پسند عہد میں فیضؔ و مخدومؔ کے ساتھ جذبیؔ، مجازؔ اور جاں نثارؔ بھی ہیں۔ اور اسی دور میں عزیز حامد مدنی اور مجید امجدکے ساتھ ساحرؔ اور سلام مچھلی شہری ہیں اور انھیں کے ہم سفر کیفیؔ ، نیاز حیدر اور سردار جعفری بھی ہیں۔ ان میں سب کی شعری شناخت ایک دوسرے سے جدا ہے۔ اسی کا اطلاق جدیدیت کے شعراء پر کیا جاسکتا ہے۔ کسی ایک اصطلاح سے پورے عہد کی تفہیم ممکن نہیں۔ میرا شعری رویہ عادل منصوری اور قاضی سلیم سے کافی الگ ہے۔ لیکن ان سب کو جدیدیت کے ذیل میں رکھا جاتا ہے اور چوکٹھا بند نتائج نکال لیے جاتے ہیں ۔زبیر رضوی کی ’علی بن متقی سلسلے‘ کی نظموں کو بھی جدید کہاجاتا ہے۔ صنعتی شہروں میں ایک جیسے مکانوں کی طرح ادب کسی بھی دور میں یک چہرہ نہیں ہوتا ۔ ہماری تنقید انفراد سے کم اور تعمیم سے زیادہ بحث کرتی ہے۔

مقصود بستوی: آج کل جو ادب تخلیق ہو رہا ہے وہ ہمیں متاثر کیوں نہیں کر پاتااور اگر متاثر بھی کرتا ہے تو دوسرے پل اپنی آب کیوں کھو دیتا ہے ؟

ندا فاضلی: یہی بات کچھ سال پہلے ، مجھ سے سردار جعفری نے کہی تھی۔ انھوں نے کہا تھا ’جس طرح مجازؔ، فیضؔ اور دوسرے شاعروں کے کلام کے اکثر نمونے قارئین کے حافظوں کا حصّہ ہیں، جدید شعراء میں ایسی کوئی ابیلٹی کیوں نہیں ہے؟‘ یہ مسئلہ انسان کے ذہن کی کنڈیشننگ کا ہے۔ جس سے مشکل سے ہی آدمی باہر نکل پاتا ہے۔ متاثر ہونے کا عمل اضافی ہے۔ میں اس سلسلے میں بہادر شاہ ظفرؔ کے ایک شعر کا حوالہ دینا چاہوں گا:

کتنا ہے بدنصیب ظفرؔ دفن کے لیے

دو گز زمین بھی نہ ملی کوئے یار میں

اگر ذہن میں 1857ء کے حادثات نہ ہوں ، اور ان کی پرچھائیں ان لفظوں پر نہ پڑیں تو مذکورہ شعر ایک عام سا روایتی شعر بن جائے گا۔ لیکن قارئین و سامعین کے حافظوں میں چھپی ان کی سوانح نے اسے نہ صرف پر اثر بنادیا ہے، بلکہ اردو محاورہ کی شکل بھی دیدی ہے۔ تاثر پذیری میں ناسٹلجیا کے ساتھ ان مانوس شباہتوں کا بھی بڑا حصّہ ہوتا ہے جن سے ہم پہلے سے واقف ہوتے ہیں۔ اور پھر وقت بھی اس میں اہم رول ادا کرتا ہے۔۔۔۔۔ آپ کا یہ کہنا کہ آج کل کا ادب متاثر نہیں کرتا شاید درست نہیں ۔ پہلے کا ادب ، ادب کی کئی چھلنیوں سے چھن کر آپ تک پہنچا ہے اور آج کل کے ادب کے ساتھ آپ کا ہم عصر تعصب کارفرما ہے۔ کسی بھی عہد کے اچھے ادب سے جڑنے کے لیے تھوڑی سی ہم مزاجی ، تھوڑا سا تبدیلیوں کا احساس ، تھوڑی سی ہر رنگ میں وا ہونے کی پیاس بھی ضروری ہے۔

ظہیر انصاری :اختر الایمان نے ایک انٹرویو کے دوران آپ سے کہا تھا کہ نسل تو کتوں اور گھوڑوں کی ہوتی ہے پھر بھی میں آپ سے 80ء کے بعد کی نسل جسے نئی نسل کا نام دیا گیاہے کے بارے میں یہ پوچھنے کی جسارت کر رہا ہوں کہ یہ لوگ اپنے مشن میں کہاں تک کامیاب نظر آتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی آپ جیسے سرپرستوں پر کتنی لازم ہے؟

ندا فاضلی:  زندہ زبان ہر پانچ یا دس سال میں، ادب میں اپنا رنگ روپ بدلتی رہتی ہے۔ ادب زبان کے تخلیقی برتائو سے عبارت ہے۔ میں نسلوں کے امتیاز کو تو نہیں مانتا، لیکن وقت کے ساتھ شعری زبان میں جو رد و بدل پیدا ہوتا ہے اسے نیک شگون سمجھتا ہوں۔ ادب میں سرپرستی سے کام نہیں چلتا، خود کے مطالعہ اور عہد شناسی سے بات بنتی ہے۔ مجھے 80ء کے بعد کے کئی شاعر پسند ہیں۔یہ ممبئی میں بھی ہیں، بہار میں بھی ہیں، احمد آباد میں بھی ہیں، دہلی میں بھی، لکھنؤ میں بھی ہیں، کشمیر میں بھی ہیں ، حیدرآباد اور کرناٹک میں بھی ہیں۔ فہرست سازی سے اس لیے گریز کررہا ہوں کہ یاد داشت اکثر دھوکادیتی ہے اور اس عیب کی وجہ سے دوستوں کی ناراضگی کا خطرہ پیدا ہوتا ہے۔ مجھے پڑھنے کا شوق ہے۔ اس شوق میں خاص طور سے نئے شاعر زیادہ ہوتے ہیں۔ انھیں میں اس لیے بھی پڑھتا ہوں کہ ان کے بدلے ہوئے الفاظ کے آئینہ میں ، میں اپنے الفاظ کا جائزہ لے سکوں۔

مقصود بستوی: آج لفظ سے جو کھلواڑ کیا جا رہا ہے اپنی مرضی اور مفاد کے پیشِ نظراس کی معنی او رمفہوم کو بدلا جا رہا ہے ادھر ہمارے ہندوستان میں یہ کام سنگھ پریوار بڑی دیدہ دلیری سے کر رہا ہے ۔یہاں تاریخی حقیقت کو ’’ڈھانچہ‘‘اور مفروضے کو ’’آستھا‘‘کہا جا رہا ہے صداقت کو جھٹلایا اور تاریخ کو اپنے مزاج کے مطابق گڑھا جا رہا ہے ’’تاج محل ‘‘کوشیو مندر اور سنگِ اسود کو شیو لنگ بتایا جا رہا ہے کیا یہ کسی سنگین صورتحال کا پیش خیمہ نہیں ہے ؟

ندا فاضلی: سنگھ پریوار جو ہندو واد کاچہرہ لگائے گھوم رہی ہے ، وہ اس ملک کی ہندو آبادی کے ایک چھوٹے سے حصّہ کی نمائندگی کرتی ہے۔ ملک کی آبادی کی کثیر تعداد اس سیاست کے فریب سے دور ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہندو بنیاد پرستی کی مخالفت بھی تحریراً اور تقریراً بیدار ذہن ہندو ہی کر رہا ہے۔ ہندو واد کی سیاست ایک پیشہ وارانہ تجارت ہے۔ یہ انھیں خطوں میں وقتی طور سے کامیاب نظر آتی ہے جہاں تعلیم کی روشنی نہیں پہنچی ہے۔ ہر متعصب سیاست کی طرح ، اس نے بھی تعلیم کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لی ہے۔ایک ریکارڈ کے مطابق،آر ایس ایس ہر سال اپنی شاکھاؤں اور ششومندروں میں ۱۲ لاکھ کچے ذہنوں میں تعصب کا زہر انڈیلتی ہے نصاب میں تبدیلی ،تاریخ کے ساتھ کھلواڑ اسی زہر کے ترکیبی اجزاء ہیں مدرسوں میں بھی دوسری سطح پر کچھ ایساہی فرقہ وارانہ کام ہورہا ہے۔ لیکن مٹھی بھر لوگوں کے سیاسی کرتبوں سے ’ہندوستان کی جمہوریت‘ پر میرا اعتماد کمزور نہیں ہوتا۔ اس جمہوریت کی جڑیں پانچ ہزار سال گہری ہیں اور اس کا ثبوت موجودہ حکومت کی ساخت ہے۔ آج اسی ہندو اکثریت کے ملک میں صدارت کی کرسی پر ایک مسلمان بیٹھا ہے، پرائم منسٹر سکھ ہے اور ملک کی سب سے طاقت ور نسائی آواز عیسائی ہے۔ اس کی مثال پڑوسی ملک تو کجا ، کسی دوسرے ملک میں بھی ممکن نہیں۔ جو کام چھوٹے پیمانے پر آر ایس ایس ، شیوسینا اور دہشت گرد کررہے ہیں ، بڑے پیمانے پر وہی بُش اور ان کے اتحادی کررہے ہیں۔لیکن اقتدار کی یہ آنکھ مچولی بہت دن تک نہیں چل سکتی۔امریکہ میں بُش کی سیاست کے خلاف مظاہرے ، برطانیہ میں بلیئرکے خلاف برٹش کا غم و غصّہ اور اسرائیل میں اعتدال پسندوں کا احتجاج اور بھارت میں این ڈی اے کی شکست دنیا کے بدلتے ہوئے حالات کی طرف اشارہ کررہے ہیں۔

ظہیر انصاری :بابری مسجد کی شہادت کے بعد پھوٹ پڑنے والے فسادات کے Backdropمیں آپ نے ایک نظم کہی تھی ’’ایک قومی رہنما کے نام‘‘ :مجھے معلوم ہے/تمہارے نام سے منسوب ہیں /ٹوٹے ہوئے سورج /شکستہ چاند/تمہارے جیب میں خنجر/نہ ہاتھوں میں /کوئی بم تھا /تمہارے رتھ پہ تو/مریادہ پرشوتم کا پرچم تھا۔اس نظم میں کرب اور غصے کے ساتھ ساتھ قوم کے درد کا ادراک بھی ہے لیکن کیا وجہ ہے کہ سیکولر بننے کی ہوڑ میں آپ کوئی واضح Standنہیں لے پاتے ہیں ۔

ندا فاضلی: میری نظم’ ایک قومی رہنما کے نام‘ بابری مسجد کی شہادت سے پہلے اس رتھ یاترا کے بارے میں تھی جس کے سارتھی اڈوانی تھے۔ میں ادب کو ہندو مسلمان میں تقسیم نہیں کرتا۔میرے نزدیک اس کا رشتہ انسان سے ہے جو اپنے عقیدے اور آستھا کے ساتھ مشترک زمین پررہنے کے لیے آزاد ہے۔خداکی کتاب میں خدا کو رب العالمین پکارا گیا ہے۔ ہندو شاستروں میں ایشور کو ذرہ ذرہ میں پوشیدہ بتایا گیا ہے۔ مقدس انجیل میں جب روشنی کو پھیلنے کا حکم دیا گیا تھا تو اس کے پھیلائو کی حدیں مقرر نہیں کی گئی تھیں۔ میں نے یہ نظم لال قلعہ کے مشاعرہ میں پڑھی تھی جس کی صدارت اس وقت دہلی کے چیف منسٹر کھورانا کررہے تھے۔ نظم پڑھنے سے پہلے میں نے کھورانا کو مخاطب کرکے کہا تھا۔ مادری زبان کا حق ہو یا مذہب کی آزادی، یہ بھیک میں نہیں حق کے طور پر حاصل کیا جائے گا اور میری اس بات کی تائید مشاعرہ کے دس ہزار سامعین نے کی تھی۔ ہندوتو تلسی داس بھی ہیں، گاندھی بھی ہیں اور چھوٹا راجن بھی۔ مسلمانوں میں بھی امیر خسروؔ بھی ہیں ، ابوالکلام آزاد بھی ہیں اور دائود ابراہیم بھی۔ میری نظم کی طرفداری ان اقدار سے جو انسان کی انسانیت پر یقین رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر اقبالؔ کی ایک نظم کے مصرعے ہیں:

سچ کہہ دوں اے برہمن گر تو برا نہ مانے

تیرے صنم کدے کے بت ہوگئے پرانے

اپنوں سے بیر رکھنا تو نے بتوں سے سیکھا

جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے

ظہیر انصاری :نائن الیون9/11کے بعد عالمی ترجیحات بدل گئے ہیں ۔اس حادثے کا ظاہر ہے شعراء و ادبا نے اثر لیا ہے اور ان کی سوچ (فکر)متاثر ہوئی ہے ۔Scenarioمیں ایک شاعر و ادیب کا کیا رول ہونا چاہیے؟

ندا فاضلی: میرا موضوع ہمیشہ کی طرح اس حادثے کے بعد بھی انسان ہی رہا ہے۔ میں ہر انسان کو قدرت کا اعتبار مانتا ہوں۔ 9/11کے حادثہ کا شکار ہونے والوں میں عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ مسلمان بھی تھے۔ پاکستان میں شیعہ سنّی فسادات میں مارے جانے والے مختلف عقائد کے باوجود مسلمان ہی ہیں۔ ایران اور عراق کی جنگ میں بھی دونوں محاذوں پر ایک ہی عقیدہ کے لوگ تھے۔ بنگالی مسلمان اور پنجابی مسلمان کی لڑائی جو بنگلہ دیش کے وجود کی بنیاد بنی ایک ہی مذہب کے ماننے والوں کے خون خرابے کی داستان ہے۔ عراق اور کویت کی جنگ بھی مختلف مذاہب کے درمیان نہیں ہوئی تھی۔ تاریخ گواہ ہے کہ راجپوت حکمرانوں کی آپس میں جتنی لڑائیاں ہوئی ہیں وہ ان لڑائیوں سے کم ہیں جو مسلم حملہ آوروں اور ہندوستانی راجائوں کے درمیان ہوئی تھیں۔ اسی طرح مسلمان آپس میں جتنا لڑے ہیں اس سے بہت کم دوسروں سے نبردآزما ہوئے ہیں۔ لوگوں کے سوچنے کا انداز ، عوامی سطح پر سرکاری اور نیم سرکاری پبلیسٹی کے ذریعہ بنتا بگڑتا ہے۔ امریکہ میں بھی ہندوستان کی طرح عوامی جہالت کی افراط ہے، جسے ملکی سیاست اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی رہتی ہے۔ بُش نے دہشت پسندی کے خلاف جنگ کو جس طرح عیسائیت اور اسلام کی لڑائی بنایا تھا ، اسی نے انھیں الیکش جتایا تھا۔ اڈوانی نے رتھ یاترا سے جو مذہبی جنون پھیلایا تھا اسی نے پارلیمنٹ میں ان کے ممبران کی تعداد کو بڑھایاتھا۔ پاکستان نے ضیاء الحق کے دور میں اسی حکمت عملی کو دہرایا تھا اور مذہب کے نام پر عوام کو بھٹکایا تھا۔ مذہب کو جب اس کی روح سے الگ کرکے اقتدار کی تجارت بنایا جاتا ہے تو اسی طرح کا تماشا دکھایا جاتا ہے۔ ہماری کمزوری یہ ہے کہ ہم مذہب کی روحانیت اور مذہب کی تجارت میں فرق کرنا بھول گئے ۔ میں نے اپنی نظم’قومی رہنما کے نام‘ جس کے حوالے سے آپ نے پہلے سوال کیا تھا اس کی دو لائینیں یوں ہیں:

تمھیں ہندو کی چاہت ہے ، نہ مسلم سے عداوت ہے

تمھارا دھرم صدیوں سے تجارت تھا ، تجارت ہے

میرا خدا رب العالمین ہے۔یہ تمام عالموں کا خدا ’میرا یقین‘ ہے۔ ہاں خدا کے تاجروں میں، میں ہندو ، مسلم اور عیسائی کی تفریق غیر ضروری سمجھتا ہوں۔ میں مذہب کو قول سے زیادہ عمل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ اور عمل کی کسوٹی پر بہت کم پورے اترتے ہیں۔

ظہیر انصاری :فلمی شاعری اور ادبی شاعری میں نمایاں فرق کیا ہے؟

ندا فاضلی: فلمی نغمہ نگاری اور ادبی شاعری دو مختلف رویوں کے ترجمان ہیں۔ فلم میں ایک گیت کو کئی مراحل سے گذرنا پڑتا ہے۔ موسیقار کی دُھن، پروڈیوسر کی پسند، ڈائریکٹر کی کہانی کی سمجھ، کہانی میں کردار کی عمر اور سماجی حیثیت ، ان ساری حد بندیوں سے صحیح سلامت گزرکر ہی کوئی گیت صدا بند کیا جاتا ہے۔ ادبی شاعری ان پابندیوں سے آزاد ہوتی ہے۔ لیکن ان حد بندیوں کے باوجود ، اگر لکھنے والا لفظ شناس ہوتو ساحرؔ اور شیلندرؔ کے گیت وجود میں آتے ہیں۔

ظہیر انصاری :آخری سوال _____شاعری آپ کو ورثے میں ملی ہے ۔آپ کے والد صاحب بھی کہنہ مشق شاعر تھے ۔اگر آپ شاعر نہ ہوتے تو کیا ہوتے ؟

ندا فاضلی: جائداد کی طرح فن وراثت میں نہیں ملتا۔ فن اپنے ہر روپ میں زمین پر آسمان کی نعمت ہوتا ہے۔ لیکن اس نعمت کی حفاظت انسان کی محنت ہوتی ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے، جب اس کی خاطر خواہ حفاظت کوئی فنکار اپنی محنت سے نہیں کرتا تو یہ نعمت عطاکرنے والا واپس بھی لے لیتاہے۔ میرے گھر میں شاعرانہ ماحول ضرور تھا۔ میرے والد دعاؔ ڈبائیوی ، جانشین داغؔ حضرت نوح ؔناروی کے ممتاز شاگرد تھے ان کے دو مجموعے تصویرِ دعاؔ، اور تاثیرِ دعاؔ کے نام سے شائع ہوئے تھے۔والدہ کو بھی شعر کہنے کا شوق تھا۔ وہ ان دنوں کے خواتین کے رسائل میں جمیل فاطمہ مخفی کے نام سے شائع ہوتی تھیں۔ اگر میں شاعر نہ ہوتا تو اپنی ماں کی خواہش کے مطابق ڈاکٹری کی ڈگری حاصل کرتا اور آرام کی زندگی گزارتا۔ وقت پر تعلیم پوری کرتا ، اس کے بعدکوئی پیشہ اپنا تا ، پھر شادی کرتا، بڑھتی آبادی میں دو تین اپنے بھی شامل کرتا اور ماں باپ کی دعائوں کا حصّہ دار بنتا۔ لیکن شاعری کے شوق نے ایسا کچھ نہیں ہونے دیا۔ اور پھر جو کچھ ہوا تاخیر سے ہوا، تاخیر سے بے گھری کو گھر ملا، دیر سے بھوک اور روٹی کا رشتہ قائم ہوا، عورت بھی نصیب میں وقت پر نہیں آئی۔ زندگی میں اس سماجی ترتیب کے بگڑنے کا دکھ تو ضرور ہے، لیکن اپنی طرح جینے کا غرور بھی ہے، جو میرے خیال میں فن کی تربیت کے لیے اہم ہے:

کہیں چھت تھی دیوار و درتھے کہیں، ملا مجھ کو گھر کا پتہ دیر سے

دیا تو بہت زندگی نے مجھے ، مگر جو دیا وہ دیا دیر سے

ہوا نہ کوئی کام معمول سے ، گذارے شب و روز کچھ اس طرح

کبھی چاند نکلا غلط وقت پہ ، کبھی گھر میں سورج اُگا دیر سے

———————————————————————

ظہیر انصاری معروف ادبی جریدہ ’تحریرِ نو‘ کے مدیر ہیں۔

مقصود بستوی نئے شعرا میں ممتاز حیثیت کے حامل ہیں اور ایک ادبی دو ماہی ’بازدید‘ کے مدیر بھی ہیں۔

Town Planing in the Era of Prophet Mohammad (S)

Articles

عہد نبوی کا شہری نظام

اسد اللہ خاں شہیدی

مدینہ منور کی شہری ریاست دس برس کے قلیل عرصہ میں ارتقاء کی مختلف منزلیں طے کر کے ایک عظیم اسلامی ریاست بن گئی ، جس کے حدودِ حکمرانی شمال میں عراق وشام کی سر حدوں سے لے کر جنوب میں یمن وحضر موت تک ، اور مغرب میں بحرِ قلزم سے لے کر مشرق میں خلیج فارس و سلطنتِ ایران تک وسیع ہوگئیں اور علمی طور سے پورے جزیزہ نمائے عرب پراسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی ۔
اگر چہ شروع میں اسلامی ریاست کانظم ونسق عرب قبائلی روایات پر قائم واستوار تھا تا ہم جلد ہی وہ ایک ملک گیر ریاست اور مرکزی حکومت میں تبدیل ہوگئی ، یہ عربوں کے لیے ایک بالکل نیاسیاسی تجربہ تھا؛کیونکہ قبائلی روایات اور بدوی فطرت کے مطابق وہ مختلف قبائلی ، سیاسی اکائیوں میں منقسم رہنے کے عادی تھے ، یہ سیاسی اکائیاں آزاد وخود مختار ہوتی تھیں، جوایک طرف قبائلی آزادی کے تصور کی علمبرداری تھیں تو دوسری طرف سیاسی افراتفری اور اس کے نتیجہ میں تسلسل سیاسی چپقلش ، فوجی تصادم اور علاقائی منافرت کی بھی ذمہ دار تھیں ، عربوں میں ناصرف مرکزیت کافقدان تھا؛ بلکہ وہ مرکزی اور قومی حکومت کے تصور سے بھی عاری تھے کہ یہ نظریات ان کی من مانی قبائلی آزادی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتے تھے ، وہ کسی ”غیر“کی حکمرانی تسلیم ہی نہیں کرسکتے تھے ، یہ رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کاسیاسی معجزہ ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے دشمن قبائل عرب کو ایک سیسہ پلائی ہوئی قوم میں تبدیل کردیا اور ان کی ان گنت سیاسی اکائیوں کی جگہ ایک مرکزی حکومت قائم فرمادی، جس کی اطاعت بدوی اورشہری تمام عرب باشندے کرتے تھے ، اس کا سب سے بڑا؛ بلکہ واحد سبب یہ تھا کہ اب ”قبیلہ یاخون “ کے بجائے ”اسلام یادین “معاشرہ وحکومت کی اساس تھا، اسلامی حکومت کی سیاسی آئیڈیالوجی اب اسلام اور صرف اسلام تھا، جن کو اس سیاسی نصب العین سے مکمل اتفاق نہیں تھا ان کے لیے بھی بعض اسباب سے اس ریاست کی سیاسی بالادستی تسلیم کرنی ضروری تھی ۔
اللہ کے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے جب راہِ ہجرت میں قدم رکھاتو آپ صلى الله عليه وسلم کی زبان مبارک پرسورہ ٴ اسرائیل کی ایک آیت کثرت سے رہتی تھی :ترجمہ :﴿اے اللہ ! (نئی منزل میں ) صدق وصفا سے داخل کر اور جہاں سے نکالا ہے وہاں کا نکلنا بھی صدق وصفا پر مبنی ہو(نئی جگہ دین پھیلانے کے لیے )غلبہ عطا فرما۔ ﴾(سورہ بنی اسرائیل :۸۰)
چنانچہ اللہ تعالیٰ نے آپ صلى الله عليه وسلم کی دعاقبول فرمائی ، اسلامی مملکت کے قیام کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم کوغلبہ عطا فرمایا ۔ ابھی آپ صلى الله عليه وسلم حضرت ابوایوب انصاری رضى الله عنه کے مکان میں قیام فرماتھے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے میثاق ِمدینہ کااہتمام کیا ، اس مقصد کے لیے آپ صلى الله عليه وسلم نے مہاجرین ، انصار ، یہود ، عیسائی اور دیگر قبائل کوجمع کیا ، آپ صلى الله عليه وسلم نے کچھ گفتگو فرمائی، اس کے بعد آپ صلى الله عليه وسلم نے اس موقع پر ایک تحریر لکھوائی ، ابتدائی موٴرخین نے اسی کو صحیفہ کانام دیا ہے ، یہ حکمرانِ وقت کا ایک فرمان تھا ، ساتھ ہی تمام لوگوں کااقرار نامہ بھی تھا ،جس پران لوگوں کے دستخط تھے ، اس میں مسلمان اور مشرکین دونوں شریک تھے ، ڈاکٹر حمید اللہ نے اسے پہلا تحریری دستور قرار یاہے ،وہ لکھتے ہیں :
”مدینہ میں ابھی نِراج کی کیفیت تھی اور قبائلی دور دورہ تھا ، عرب اوس اور خزرج کے بارہ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور یہود بنوالنضیر و بنوقریظہ وغیرہ کے دس قبائل میں تھے ، ان میں باہم کئی کئی نسلوں سے لڑائی جھگڑے چلے آرہے تھے ، اور کچھ عرب کچھ یہودیوں کے ساتھ حلیف ہوکر باقی عربوں اور ان کے حلیف یہودیوں کے حریف بنے ہوئے تھے ۔ ان میں مسلسل جنگوں سے اب دونوں تنگ آچکے تھے اور وہاں کے کچھ لوگ غیر قبائل خاص کر قریش کی جنگی امداد کی تلاش میں تھے ؛ لیکن شہر میں امن پسند طبقات کوغلبہ ہورہاتھا اور ایک بڑی جماعت اس بات کی تیاری کررہی تھی کہ عبد اللہ بن ابی بن سلول کوبادشاہ بنادیں ؛ حتی کہ بخاری اورابن ہشام وغیرہ کے مطابق اس کے تاج شہر یاری کی تیاری بھی کا ریگروں کے سپر د ہوچکی تھی ، بلاشبہ حضور صلى الله عليه وسلم نے بیعة عقبہ میں بارہ قبائل میں بارہ مسلمانوں کو اپنی طرف سے نقیب مقرر کرکے مرکزیت پیدا کرنے کی کوشش فرمائی تھی ، مگر اس سے قطع نظر وہاں کے ہر قبیلے کاالگ راج تھا ، اور وہ اپنے اپنے سائبان میں اپنے معاملات طے کیا کرتاتھا ، کوئی مرکزی شہری نظام نہ تھا ، تربیت یافتہ مبلغوں کی کوششوں سے تین سال کے اندر شہر میں کچھ لوگ مسلمان ہوچکے تھے ؛ مگر مذہب ابھی تک خانگی ادارہ تھا ، اس کی سیاسی حیثیت وہاں کچھ نہ تھی ، اور ایک ہی گھر میں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے تھے ، ان حالات میں حضور صلى الله عليه وسلم مدینہ آتے ہیں، جہاں اس وقت اور متعدد فور ی ضرور تیں تھیں :
۱- اپنے اور مقامی باشندوں کے حقوق و فرائض کاتعین ۔

۲- مہاجرینِ مکہ کے قیام اور گزربسر کاانتظام ۔

۳- شہرکے غیر مسلم عربوں او رخاص کریہودیوں سے سمجھوتہ ۔

۴ – شہر کی سیاسی تنظیم اور فوجی مدافعت کااہتمام ۔

۵- قریشِ مکہ سے مہاجرین کوپہنچے ہوئے جانی و مالی نقصانات کابدلہ ۔
ان ہی اغراض کے مدنظر حضور صلى الله عليه وسلم نے ہجرت کرکے مدینہ آنے کے چند مہینہ بعد ہی ایک دستاویز مرتب فرمائی ،جسے اسی دستاویز میں کتاب و صحیفہ کے نام سے یاد کیا گیاہے ، جس کے معنی دستور العمل اور فرائض نامہ کے ہیں ، اصل میں یہ شہر مدینہ کو پہلی دفعہ شہری ملکیت قرار دینااور اس کے انتظام کا دستور مرتب کرنا تھا “(ڈاکٹر حمید اللہ کی بہترین تحریریں :مرتب قاسم محمود،ص :۲۵۳)
اس میثاق کے بنیادی نکات یہ تھے :
۱- آبادیوں میں امن و امامن قائم رہے گا ؛تاکہ سکون سے نئی نسل کی تربیت کی جاسکے۔
۲- مذہب اور معاش کی آزادی ہوگی ۔
۳- فتنہ وفساد کوقوت سے ختم کیاجائے گا ۔
۴- بیرو نی حملوں کا مل کر مقابلہ کیاجائے گا ۔
۵- حضورِ اکرم صلى الله عليه وسلم کی اجازت کے بغیر کوئی جنگ کے لیے نہیں نکلے گا ۔
۶- میثاق کے احکام کے بارے میں اختلاف پیدا ہو تو اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم سے رجوع کیاجائے گا۔
اس معاہدے میں مسلمانوں ، یہودیوں اور مختلف قبیلوں کے لیے ،الگ الگ دفعات مرقوم ہیں، یہ اصل میں مدینہ کی شہری مملکت کے نظم و نسق کا ابتدائی ڈھانچہ تھا، یہاں واضح طور پر یہ بات ذہن میں رہے کہ حضور اکرم صلى الله عليه وسلم یونان کی شہری ریاستوں کی طرح کوئی محدود ریاست قائم کرنا نہیں چاہتے تھے؛ بلکہ آپ صلى الله عليه وسلم نے ایک عالمگیر مملکت کی بنیاد ڈالی تھی، جو مدینہ کی چند گلیوں سے شروع ہوئی اور روزآنہ ۹۰۰ کلومیٹر کی رفتار سے پھیلتی رہی ، اس وقت دس لاکھ مربع میل کی مملکت تھی جب اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے دنیا سے پردہ فرمایا (محمد رسول اللہ صلى الله عليه وسلم : ڈاکٹر حمید اللہ )
اس عالمگیر مملکت کے تصور کو سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے آگے بڑھایا اور سو برس کے اندر اندر یہ تین براعظموں میں پھیل گئی ۔اس میثاق یعنی صحیفہ میں بلدیاتی نظام کے تعلق سے حسب ذیل امور سامنے آتے ہیں :
۱- امن و امان کاقیام ۔

۲- تعلیم و تربیت کی سہولتیں ۔

۳- روزگار ، سکونت اور ضروریات زندگی کی فراہمی ۔
قرآن حکیم نے بار بار نشاندہی کی ہے کہ انسان آدم وحوا کی اولاد ہیں اور زمین پراللہ کاکنبہ ہیں ، انسان فطرتاًمل جل کر رہنا چاہتاہے اور دنیاکے تمام وسائل ہمارے فائدے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ، اس لیے صاف اورسیدھا طریقہ یہ ہے کہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیں ، فرائض اور حقوق کی ایک بڑی تفصیل ہمارے سامنے ہے ، معلم کتاب و حکمت صلى الله عليه وسلم ان کی تشریح اور ان کی تفصیل فرماں چکے ہیں۔ہجرت کے حکم کے بعد مدینہ میں مہاجرین کاسیلاب امڈ پڑاتھا اور آخرکار مدینہ میں مقامی باشندوں کے مقابلہ میں مہاجرین کی تعداد کئی گنابڑھ گئی ۔ (صحیح بخاری ) ان نوواردوں کی آباد کاری کے متعلق حضور پاک صلى الله عليه وسلم نے شروع دن ہی سے ایک جامع منصوبہ تیار کرلیاتھا ، اس منصوبہ کی جزئیات کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد اندازہ ہوتاہے کہ آج سے چودہ سو سال پہلے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے نوآبادی (کالونائزیشن )اور شہری منصوبہ بندی (ٹاوٴن پلاننگ ) میں عظیم انقلاب برپا کردیاتھا ، نئے بسنے والوں کی اتنی بڑی تعداد کواتنے محدود وسائل میں رہائش اور کا م کی فراہمی کوئی آسان معاملہ نہ تھا، پھر مختلف نسلوں ، طبقوں ، علاقوں اور مختلف معاشرتی و تمدنی پس منظر رکھنے والے لوگ مدینہ میں آآکر جمع ہورہے تھے ، ان سب کو سماجی لحاظ سے اس طرح جذب کرلینا کہ نہ ان میں غریب الدیاری اور بیگانگی کا احساس ابھرے ، نہ مدینہ کے ماحول میں کوئی خرابی پیداہو اور نہ قانون شکنی اور اخلاقی بے راہ روی کے رجحانات جنم لیں … جیساکہ عام طور پرایسے حالات میں ہوتاہے …… رسول کریم صلى الله عليه وسلم کاایسا زندہ جاوید کارنامہ ہے، جو ماہرینِ عمرانیات کے لیے خاص توجہ اور مطالعہ کامستحق ہے ، جدید شہروں میں آبادی کے دباوٴ سے پیدا ہونے والے پیچیدہ تمدنی ، سیاسی اور اخلاقی مسائل سے نمٹنے کے لیے سیرت النبی صلى الله عليه وسلم سے، ماہرین آج بھی بلاشبہ بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں ۔ دنیا کو سب سے پہلے رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے اس راز سے آگاہ کیاکہ محض سنگ و خِشت کی عمارات کے درمیان میں کوچہ و بازار بنا دینے کانام شہری منصوبہ نہیں؛ بلکہ ایساہم آہنگ اورصحت مند تمدنی ماحول فراہم کرنا بھی ناگزیر ہے جو جسمانی آسودگی ، روحانی بالیدگی ، دینی اطمینان اور قلبی سکون عطا کرکے اعلی انسانی اقدار کو جنم دے اور تہذیبِ انسانی کے نشو ونما کاسبب بنے۔
مدینہ کی اسلامی ریاست کے قیام کے بعد دار الخلافہ کی تعمیر کے لیے موزوں جگہ کا انتخاب اور اس غرض کے لیے وسیع قطعہ اراضی پہلے ہی حاصل کرلیا گیاتھا ، مسجد اور ازواجِ مطہرات کے لیے مکانات بن جانے کے ساتھ دار الخلافہ کی تعمیر کاپہلا مرحلہ تکمیل کوپہنچا ، دوسرے مرحلہ کا آغاز نووارد مہاجرین کی اقامت اور سکونت کے مختصر مکانات (کوارٹرز) کی تعمیر سے کیاگیا ؛ یہی وجہ تھی کہ تعمیرات کے اس دو مرحلے ومنصوبے پر ایک سال یااس سے کچھ زیادہ عرصہ لگ گیا ۔
مدینة الرسول ،ایک لحاظ سے ”مہاجربستی “ تھی ، گوسارے مہاجروہاں اقامت نہ رکھتے تھے۔ (طبقات ابن سعد ) ہوسکتا ہے جب مدینہ کی آبادی بڑھی ہوتو مکانات اور تعمیرات کاسلسلہ پھیل کر عہدِ رسالت مآب صلى الله عليه وسلم ہی میں قریب کی آبادیوں بنی ساعدہ ، بنی النجار وغیرہ سے مل گیاہو، ورنہ ریاست کی پالیسی یہ تھی کہ مدینہ کی کالونی میں صرف مہاجرین کو بسایاجائے ، عوالی میں رہنے والے بنوسلمہ نے جب مدینہ آکر آباد ہونے کی درخواست کی تو آپ نے اسے نامنظور کردیا اور انھیں اپنے قریہ ہی میں رہنے کی ہدایت کی ،ریاست کی نوآبادی اسکیم کایہ بھی ایک اہم حصہ تھا کہ اللہ کی راہ میں وطن چھوڑ کر مدینہ آنے والے لٹے پٹے ، بے سروسامان اور بے یارو مدد گار مہاجروں کے قافلوں کو جائے رہائش سرکاری طور پر فراہم کی جائے ؛ بلکہ ان نوواردوں کو سرکاری مہمان خانہ میں ٹھہرایاجاتا اور ان کے کھانے اور دیگر ضروریات کا انتظا م بھی سرکار ی طور پر کیاجا تا، بعد میں ان لوگوں کو مستقل رہائش کے لیے جگہ یامکان مہیاکرنا بھی حکومت کا فرض تھا گویا مہاجرین کے لیے روٹی ، کپڑا اور مکان کی فراہمی اسلامی حکومت کی ذمہ داری تھی ۔
مہاجرین کی عارضی رہائش کاانتظام مسجد کے اندر کیمپ لگاکریا صفہ میں کیاجاتا، اگر مہاجرین کی تعداد زیادہ ہوتی یا قافلہ پورے قبیلہ پرمشتمل ہوتا تو انھیں عموماً شہر کے باہر خیموں میں ٹھہرایاجاتا؛ تاآں کہ مستقل رہائش کا معقول انتظام نہ ہوجاتا ، آباد کاری کے دو طریقے اختیار کیے گئے اولا ًیا تو کسی ذی ثروت انصاری مسلمان کو کہہ دیاجاتا کہ وہ ایک مہاجر کی رہائش کا اپنے ہاں انتظام کرلیں؛ مگرخیال رہے کہ صرف شروع کے ایام میں ایساکیاگیاجبکہ اسلامی ریاست صحیح طرح صورت پذیر نہیں ہوئی تھی او رنہ ہی منظم تھی ۔
مہاجروں کو ٹھہرانے کے لیے عموما ًبڑے بڑے مکانات تعمیر کیے گئے تھے ۔ یہ مکانات کئی کمروں پر مشتمل تھے ، ایک کمرہ ایک خاندان کو دیاجاتا؛ البتہ ایسے مکانات میں باورچی خانہ وغیرہ مشترکہ ہوتا، اندازہ ہوتاہے کہ حضور صلى الله عليه وسلم نے مدینہ کی کالونی میں سرکاری طور پر علٰحدہ رہائش کے لیے جومکانات بنوائے وہ تین کمروں کے تھے ، (ماخوذ از ادب المفرد :امام بخاری )
توسیعِ شہر:
تعمیرات کا سلسلہ ایک عرصہ تک تواتر کے ساتھ جاری رہا، یہاں تک کہ بنی قینقاع کے اخراج( ۳ھء)کے بعد مکانات کی خاصی تعداد مسلمانوں کے ہاتھ آجانے کے سبب رہائشی قلت بہت حد تک دو ر ہوگئی ، مگر یہ مسئلہ ختم نہ ہوا؛کیوں کہ رہائشی سہولتوں کے مقابلہ میں نوواردوں کی تعداد کہیں زیادہ تھی اور اس میں روز بروز اضافہ ہورہاتھا؛ اس لیے ۲ھء (بنوقریضہ کی فتح ) تک یہ مسئلہ سنگین نوعیت کا تھا، اس کے بعد اسلامی حکومت کی آمدنی کے وسائل بھی پیداہوگئے ، مسلمانوں کی اقتصادی حالت بھی کسی قدر سنبھل گئی ، یہودیوں کے بہت سے مکانات بھی مل گئے ، لہٰذا معاملہ کی سنگینی بڑی حدتک کم ہوگئی؛ تاہم آباد کاری کا کام فتحِ مکہ اور اس کے بعد بھی جاری رہا ، فتح کے ساتھی ہی چونکہ ہجرت کی فرضیت کا حکم منسوخ ہوگیا ، اس لیے مدینہ میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ رک گیا؛ تاہم کئی لوگ فتحِ مکہ کے بعد بھی مدینہ میں آکر آبا د ہوئے اور حصولِ تعلیم وغیرہ کے لیے آنے والوں کابھی تانتا بندھارہا (عہد نبوی کا نظام تعلیم :ڈاکٹر حمید اللہ )
عہد نبوی صلى الله عليه وسلم کے اواخر میں مدینہ کاشہر مغرب میں بطحا تک ، مشرق میں بقیع الغرقد تک ، اور شمال مشرق میں بنی ساعدہ کے مکانا ت تک پھیل چکا تھا ، رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے اب وہاں مزید مکانات تعمیر کرنے سے روک دیا، شہری منصوبہ بندی کے ضمن میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ اقدام زبر دست اہمیت کا حامل ہے ، اس کی اہمیت کا اندازہ وہی کرسکتے ہیں، جنھیں جدید صنعتی شہروں کے اخلاق باختہ اور انتشار انگیز معاشرہ کا قریبی مطالعہ کرنے کا موقع ملاہو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شہرِ نو (مدینہ) کو ایک خاص حد سے متجاوز نہ ہونے دیا ، اور اس شہر کی زیادہ سے زیادہ حد (۵۰۰)پانچ سو ہاتھ مقرر کی ، اور فرمایا کہ شہر کی آبادی اس حد سے بڑ ھ جائے تو نیا شہر بسائیں اور آپ صلى الله عليه وسلم نے اپنی زندگی میں بھی اس اصول پرعمل کرتے ہوئے دو اقدام کیے ، ایک یہ کہ اضافی آبادی کو یاتو اور زمینوں میں منتقل کرنے کا حکم جاری کیا، تاکہ اس طرح ایک طر ف زرعی انقلاب برپا کیا جاسکے اور دوسری طرف نئے لوگوں کی رہائش کے لیے گنجائش نکالی جاسکے ،دوسری طر ف یہ کہ قریظہ اور نضیر کی مفتوحہ بستیوں یاجوف مدینہ کے دیگر قریوں میں پھیلا دیا؛ تاکہ ایک جانب معاشرتی ناہمواریاں پیدا ہونے کے امکانات ختم ہوجائیں اور دوسری طرف صحت مند اور تعصبات سے پاک معاشرہ تخلیق کیا جاسکے ، اس میں مبالغہ نہیں ہے کہ رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے اپنے مقاصد میں حیرت انگیز کامیابی حاصل کی (نسائی ، کتاب الصلاة )
آج کل کچھ مغربی ممالک میں ٹاؤن پلاننگ کے انھیں ذریں اصولوں پر جنھیں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے چودہ سو سال پہلے آزمایاتھا، عمل کرکے معاشرتی ہیجان اور تہذیبی انتشار کی شدت کو کم کرنے میں، ایک حد تک کامیابیاں حاصل کی گئی ہیں ۔
مدینہ کی شہری ریاست :
موجودہ دو رمیں شہری حکومت کے مقاصد کچھ اس طرح ہوتے ہیں :
۱- شہر کی گلیوں اور شاہ راہوں کابندوبست ، مارکیٹوں کی تعمیر ، رہائشی انتظامات ۔

۲- پینے کے پانی کی فراہمی اور تقسیم ۔

۳- گندے پانی کی نکاسی ، کوڑے کرکٹ کے پھینکوانے کا بندوبست ۔

۴- تعلیم ، علاج ، دیگر فلاحی ادارں ، کھیل کے میدانوں کا قیام ۔

۵- چمن بندی اور شہر کی خوبصورتی اور تفریح گاہوں کا انتظام ۔

۶- ان کاموں کے لیے مالی وسائل اور کاموں کا احتساب ۔
حضور پاک صلى الله عليه وسلم کی احادیث سے ہمیں بلدیاتی نظام کے بہت سے اصول ملتے ہیں ،جہاں تک محکمہٴ احتساب کا تعلق ہے ، فارابی ، ماوردی اور اور طوسی اسی کی موافقت میں ہیں ؛ماوردی نے محکمہ ٴ احتساب کی خصوصیات کے بارے میں لکھا ہے کہ یہ محکمہٴ انصاف او رمحکمہٴ پولیس کے درمیان ایک محکمہ ہے ، محتسب کا فریضہ یہ ہے کہ اچھے کام جاری کرے اور برے کاموں کو روکے ۔
قرآنی اصطلاح معروف کی تین قسمیں ہیں :
۱- حقوق اللہ ۲-حقوق العباد ۳- وہ اعمال و ہ افعال جن کا تعلق دونوں سے ہو ۔
مدینة النبی صلى الله عليه وسلم میں یہ کام اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم خود انجام دیتے تھے ۔ حضور سرورِ کائنات صلى الله عليه وسلم مدینہ کے بازاروں میں نکلتے تو جگہ جگہ رک کر ، ناپ تول کر ، پیمانہ دیکھتے ، چیزوں میں ملاوٹ کا پتہ لگاتے ، عیب دار مال کی چھان بین کرتے ، گراں فروشی سے روکتے ، استعمال کی چیزوں کی مصنوعی قلت کا انسداد کرتے ؛ اس ضمن میں سید نا حضرت عمر رضى الله عنه ، حضرت عبیدہ بن رفاعہ رضى الله عنه ، حضرت ابو سعید خدری رضى الله عنه ، حضرت عبداللہ بن عباس رضى الله عنه ، حضرت ابوہریر ہ رضى الله عنه ،حضرت انس رضى الله عنه، حضرت ابو امامہ رضى الله عنه ، حضرت عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه، حضرت عائشہ صدیقہ رضى الله عنها ، حضرت علی رضى الله عنه اوردیگر صحابہ کرام رضى الله عنه کی بیان کردہ حدیثیں اصولوں کی تعین کرتی ہیں ۔
بلدیاتی نظام میں سب سے اہم سڑکوں ، پلوں کی تعمیراور دیکھ بھال کے علاوہ نئی شاہ راہوں کی تعمیر اور آئندہ کے لیے ان کی منصوبہ بندی کا کام ہوتاہے ۔بعض لوگ ذاتی اغراض کے لیے سڑکوں کو گھیر لیتے ہیں ، بعض مستقل طورپر دیواریں کھڑ ی کر لیتے ہیں ، فقہِ اسلامی میں اس کے بارے میں واضح احکام ملتے ہیں؛ صحیح مسلم کی ایک روایت ہے کہ حضرت ابو ہریرہ رضى الله عنه کہتے ہیں کہ ”اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: جب تم راستے میں اختلاف کرو تو اس کی چوڑائی سات ہاتھ ہوگی ، اس سے کم گلی بھی نہیں ہوسکتی ۔ “(صحیح مسلم)
حضور اکرم صلى الله عليه وسلم نے سڑکوں پر گندگی ڈالنے سے روکا ہے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے سڑکوں پر سے رکاوٹ کی چھوٹی موٹی چیز کو ہٹا دینے کو صدقہ قرار دیا ہے ، سڑکوں پر سایہ دا ر درخت لگانے کا حکم ہے ۔ ابوللیث سمر قندی رحمة الله عليه اپنے ایک فتویٰ میں لکھتے ہیں کہ ”کسی سمجھ دار آدمی کے لیے یہ بات زیبا نہیں کہ وہ راستہ پر تھوکے یاناک صاف کرے ،یاکوئی ایساکام کرے، جس سے سڑک پر پیدل چلنے والے کے پا وٴں خراب ہوجائیں ، اسلام کا قانون حق آسائش اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ سڑک پر کوئی عمارت بنائی جائے “
موجود ہ دور میں ایک اہم مسئلہ ٹرافک کاہے ، اس کے بار ے میں تعلیماتِ بنوی صلى الله عليه وسلم سے احکام ملتے ہیں، سڑکوں پر بیٹھ کر باتیں کرنے اور راستہ میں رکاوٹ کھڑی کرنے سے آپ صلى الله عليه وسلم نے منع کیا ہے ، آپ صلى الله عليه وسلم نے جانوروں تک کے لیے راستہ کی آزادی برقرار رکھی ہے ، مدینہ کی شہری مملکت میں پینے کے پانی کا انتظام یہودیوں سے کنوئیں خرید کر کیا گیا ، قبل از اسلام مدینہ کی گلیوں میں گندے پانی کی نکاسی کا انتظام نہ تھا ، بیت الخلاء کااس زمانہ میں رواج نہ تھا؛ لیکن مسلمانوں کی آمد کی وجہ سے جب شہروں کی آبادی بڑھنے لگی تو پھر ان مسائل کا حل تلاش کیا گیا ۔
شہر میں پینے کے پانی کی بہم رسائی کا سرکاری طورپر انتظام کیاگیا، مدینہ میں پینے کے لیے میٹھے پانی کے کنوئیں اورچشمے بمشکل دستیاب ہوئے ۔ حضرت عثمان رضى الله عنه نے جوخود بھی مدینہ کی نوآبادی میں رہتے تھے ،آن حضور صلى الله عليه وسلم کے حکم کے مطابق اہلِ مدینہ کے لیے یہودیوں سے میٹھے پانی کا کنواں بئرروماں خرید کر وقف کردیا ۔ (صحیح بخاری باب فضائل )
اسلام جسم و جان کی پاکیزگی او رظاہر و باطن کی صفائی پر بہت زیادہ زور دیتاہے ، وضو ، طہارت ، غسل کے احکامات اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ۔ آپ صلى الله عليه وسلم نے مسجدیں بناکر وہاں طہارت خانہ تعمیر کر نے کی ہدایت جاری کی ، اسلام کے عمومی مزاج اور آپ صلى الله عليه وسلم کے اس فرمان کے بعد گھر گھر غسل خانے بن گئے ۔ ہرمسجد کے ساتھ طہارت خانہ تعمیر کیے گئے ۔(ابن ماجہ)
ہم سایہ کے حقوق کے بارے میں رسول اکرم صلى الله عليه وسلم کے جوارشادات ملتے ہیں، ان پر عمل درآمد سے انسانی معاشرہ کے کئی مسائل حل ہوجاتے ہیں ، صحیح مسلم میں حضرت انس رضى الله عنه بن مالک کی روایت ہے ”کوئی مسلمان ، مسلمان نہیں ہے، جب تک وہ اپنے ہمسائے کے لیے وہی بھلائی نہ چاہے جو اپنے لیے چاہتاہے ۔ “
اس ایک ارشادِمقدس میں صفائی ستھرائی ، صحت ، شائستگی ، خوش خلقی ، صلح جوئی ، ہمدری ، ایثار اتنی ساری باتیں آتی ہیں کہ شہری زندگی کے تمام ضوابط کی عمدگی سے پابندی ہوسکتی ہے ۔
ہجرت سے قبل مدینہ میں ناجائز تصرفات عام تھے ، رسول اکرم صلى الله عليه وسلم نے اسے سختی سے منع فرمادیا ، گلی یا کوچہ کی کم سے کم چوڑائی جھگڑا ہوجانے کی صورت میں سات ہاتھ ”ذراع“ مقرر کی گئی۔ (صحیح مسلم ) جوفِ مدینہ کی آبادیوں میں گلیاں عام طور پر تنگ ہوتی تھیں ، اس لیے مدینہ میں بھی کوچہ تنگ، مگر سیدھے تھے ، باوجود یہ کہ آپ صلى الله عليه وسلم کا اور دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مکانات مختصر تھے، مگرعام طورپر آپ صلى الله عليه وسلم نے کشادہ مکانات کوپسند کیا اور فرمایا ”خوش بخت ہے وہ شخص جس کی جائے رہائش وسیع اور پڑوسی نیک ہوں“(امام بخاری ۔ باب ادب المفرد)
حفظانِ صحت کا خیال رکھنا اسلامی زندگی کا بنیادی نظریہ ہے ، صفائی اورپاکیزگی کو اسلام نے نصف ایمان کا درجہ دیاہے ، گھر، گھر کے باہرکا ہر مقام، اپنے جسم ، اپنے کپڑوں کی پاکی کاحکم بار بار آیا ہے، مسجدوں کو پاکیزگی کے نمونے کے طورپر پیش کیا گیا ہے، سرکاری عمارتوں کو پاک صاف رکھنے کا حکم دیا گیا ہے ، احادیث سے معلوم ہوتاہے کہ بعض بدوی مسجدبنوی کی دیواروں پر تھوک دیتے تواللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم اپنے ہاتھوں سے اس جگہ کوصاف کرتے تھے، وضو اور غسل کا نظام ، غلاظت سے صفائی کے احکام ، چوپال ، کھلیانوں کی جگہ ، دریاؤں کے کنارے اور تفریح کے مقامات کو پاک صاف رکھنا حفظانِ صحت کے اصول کے مطابق بھی ہے اور اس میں شائستگی کا اظہار بھی ہے۔
حفظانِ صحت ہی کے اصول کے تحت بلدیاتی نظام میں کھانے پینے کی چیزوں کے خالص بونے پر زور دیاگیا ہے ، ملاوٹ کر نے والوں کے لیے سخت سزائیں اور عذاب کی وعید ہے ، پینے کے پانی کوصاف رکھنے اور گندے پانی کی نکاسی کے احکام بھی اسی عنوان کے تحت آتے ہیں ، اسی عنوان سے متعلق بیماریوں کے علاج کی سہولتیں بھی ہیں، ان میں وباوٴں کے خلاف حفاظتی تدابیر اور ہر وقت ان کے انسداد کی ذمہ داری شہری حکومت پر ہے ۔
سایہ ، چمن بندی ، عوامی تفریح گاہوں کا انتظام بھی عین اسلامی تعلیم کے مطابق ہے ، مثلاً سورئہ عبس میں ارشاد ربانی ہے کہ” ہم نے زمین سے اناج اگایا اور انگور اور ترکاری اور زیتون اور کھجوریں اور گھنے گھنے باغ اور میوے اور چارا ،یہ سب کچھ تمہاے اور تمہارے چوپایوں کے لیے بنایا ہے “(سور ئہ عبس آیت : ۳۲۔۲۷)
ہجرت کے وقت مدینہ باغوں کی سرزمین کہلاتا تھا ، اور یہاں کے لوگ باغات کے بہت شوقین تھے، رسول صلى الله عليه وسلم نے شہر اورمسجد کی تعمیر کے وقت یہ کوشش کی کہ وہاں موجود کھجور کے درختوں کو کم سے کم نقصان پہنچے، مسجد النبی صلى الله عليه وسلمکے دروازہ کے قریب کھجور کے درختوں کا ذکر کتب احادیث میں ملتا ہے ، جہاں غسل خانہ اور طہارت خانہ بھی تھا اور کنواں بھی اسی جگہ تھا ، مسجد النبی صلى الله عليه وسلم کے بڑے دروازہ کے بالمقابل حضر ت ابو طلحہ انصاری رضى الله عنه کا وسیع و شاداب باغ بیر حاء تھا ، جہاں حضورپاک صلى الله عليه وسلم اکثر تشریف لے جاتے ۔( صحیح بخاری ، نسائی ، ابن ماجہ )
مدینہ میں نکاسیِ آب کا کوئی مسئلہ درپیش نہیں آیا؛ کیوں کہ شہر اونچی ڈھلوانی جگہ پر تھا ، اکثر کہیں سے کوئی پہاڑ ی ندی ، نالہ گذر تا تھا تو وہاں باندھ کے ذریعہ عمارات اور تعمیرات کو محفوظ بنادیاگیا تھا ۔
ہجرت کے بعد مدینہ میں خرید و فروخت کی سہولت کے لیے علاحدہ منڈی یابازار بنادیا گیا، خیال یہ ہے کہ یہ منڈی بنو قینقاع کے اخراج (۳ھء)کے بعد قائم ہوئی ہوگی؛ کیونکہ اس سے پیشتر عبد الرحمن بن عوف رضى الله عنه اوردوسرے تجارت پیشہ مسلمان اپنا کاروبار قینقاع کے بازار میں کرتے تھے ۔ (صحیح مسلم )
مدینے کا بازار مسجد النبی صلى الله عليه وسلم سے کچھ زیادہ فاصلہ پر نہ تھا ، بازار خاصہ وسیع و عریض تھا اور آخر عہد بنوی میں نہایت بارونق اور تجارتی سرگرمیوں کا مرکز بن چکا تھا ، تجارت کے فروغ کے لیے جناب رسالت مآب صلى الله عليه وسلم نے زبردست کوششیں کی،جن میں سب سے اہم آپ صلى الله عليه وسلم کا یہ فرمان تھا۔ ”مدینہ کی منڈی میں کوئی خراج نہیں ہے “(فتوح البلدان، بلاذری )
زمانہٴ جاہلیت میں خفارہ کا نظام اور قدم قدم پر محصول چنگی کی وجہ سے تجات میں بڑ ی رکاوٹیں تھیں ، آپ صلى الله عليه وسلم نے مختلف سیاسی اور عسکری مصالح کے پیش نظر یہ حکم صادر فرمایا جو دور رس نتائج کاسبب تھا ، اور دراصل اس طرح آپ صلى الله عليه وسلم نے چنگی کی لعنت ہی ختم نہ کی؛ بلکہ جزیرة العرب کی تسخیر کے بعد تمام ملک میں ، مدینہ کی طرح آزادانہ درآمدات او ر برآمدات کی اجازت دے کر بین الاقوامی آزاد تجارت کی داغ بیل ڈالی اور جدید تحقیقات نے اس بات کا نا قابل تردید ثبوت فراہم کردیا ہے کہ آزاد بین الاقوامی تجارت نہ صر ف اقوام و ملل کے لیے، بلکہ پوری نو عِ بشر کی مادی ترقی کے لیے ضروری ہے ، جس کے ذریعہ بین الاقوامی طورپر اشیاء کی قیمتیں متوازن رکھ کر عوام کوفائدہ پہنچایاجاسکتاہے اس طرح اقوام خوشحال بن سکتی ہیں ۔

تعلیمی اداروں کا قیام :
حضور پاک صلى الله عليه وسلم نے منجملہ ان باتوں کے تعلیم پر بڑا زور دیاہے ، تاریخِ اسلا م میں پہلا نصابِ تعلیم رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ہی ترتیب دیا، اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم نے مسجد نبوی کی تعمیر کے وقت ایک چبوترہ بناکر اسلام کی پہلی اقامتی درسگا ہ کی بنیاد ڈالی تھی؛ جہاں آپ صلى الله عليه وسلم خود درس دیاکرتے تھے، اپنے دورِ خلافت میں حضرت عمر رضى الله عنه نے مسجد میں مکتب قائم کرکے ان کی نگہداشت و اخراجات کا ذمہ دار بھی حکومت کو بنایا ،آج دورِ جدید میں شہری حکومت کی ذمہ داریوں میں تعلیم کی اشاعت اور فنون کی تربیت بھی شامل ہے ۔
اللہ کے رسول صلى الله عليه وسلم کا ارشاد ہے کہ علم انبیاء کا ورثہ ہے ، مسلمان کو چاہئے کہ جہاں سے ملے لے لے ۔
(بحوالہ: ماہنامہ دارالعلوم ‏، شمارہ 3 ، جلد: 95 ‏، ربیع الثانی 1432 ہجری مطابق مارچ 2011ء)