Mumbai ke Asri Afsane ka Manzarnama

Articles

مُمبئی کے عصری افسانے کا منظر نامہ

محمد اسلم پرویز

parvez45@gmail.com
کہنے کی ضرورت نہیں بمبئی جسے اب ممبئی کہا جاتا ہے،محض جغرافیائی حد وں میں بندھے ہوئے زمین کے ایک ٹکڑے کا نام نہیں۔ ساڑھے تین ہزار مربع کلو میٹر پر پھیلا،بیس ملین سے زائد آبادی والا،سات جزیروں سے بنا ،پانی پر تیرتا یہ شہراردو فکشن کی ثروت مند روایت کا امین رہا ہے۔ ایک زمانے میں اردو افسانے کی گلیکسی ممبئی کے آسمان تلے موجود تھی۔راجندر سنگھ بیدی،کرشن چندر،سعادت حسن منٹو، عصمت چغتائی ،قرۃالعین حیدر، خواجہ احمد عباس ،مہندر ناتھ سے لے کر سریندرپرکاش ، محافظ حیدر ،واجدہ تبسم،جیتندر بلّو،ساگر سرحدی جیسے لکھنے والوں کے لیے ممبئی شہر سے بچنا محال تھا اورشعوری و غیر شعوری طورپر ممبئی کی ہمہ پہلو ، بھاگتی دوڑتی زندگی کو وہ اپنے فن اور فکشن میں تبدیل کرتے رہے۔ان میں زیادہ ترلوگ چونکہ دوسرے علاقوں سے یہاں آکر بسے تھے لہذا ممبئی کے حوالے انہوں نے جو کامیاب افسانے لکھے ان میں وہ اس شہر کو ایک ٹورسٹ کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے۔ لیکن ستّر کے بعد جو افسانہ نگارابھرے وہ تو ممبئی کی زندگی میں رچے بسے تھے اس لیے ان کے افسانوں میں ممبئی کی محض topography نہیں۔ ممبئی شہر کی آوازوں، روشنیوں اور سایوں ،اس کی رفتار ،ردھم ،ماحول کو ان افسانہ نگاروں نے جس طرح کاغذ پر پکڑنے کی کوشش کی ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے ممبئی کو سنا سونگھا،ہاتھ لگا کر چھوا،برتا اور جیابھی ہے۔ان افسانہ نگاروں کے فن میں ممبئی اپنے کیا جلوے بکھیرتی ہے اس کا مطالعہ اور تجزیہ دلچسپ بھی ہو سکتا ہے اور معنی خیز بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔لیکن اس وقت میرا موضوع اردو افسانوں میں ممبئی نہیں بلکہ سن ستّر او ر اس کے بعد کے وہ افسانہ نگار ہیں،جنہوں نے ممبئی میں رہتے ہوئے اردو افسانے کو نئے رنگ دئے۔
افسانہ ،افسانہ ہوتا ہے اسے ممبئی، دہلی ،کولکتہ میں بانٹنا غلط ہوگا۔اگر تقسیم کا یہی مزاج رہا تو پھرمنطقی اعتبار سے اس کی مزید خانہ بندی کی جاسکتی ہے۔ ممبئی آٹھ کے افسانے، مضافات کے افسانے ،نئی ممبئی کے افسانے وغیرہ وغیرہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ظاہر ہے افسانہ نگاروں کے domacileدیکھ کر فن کا مطالعہ بھی ایک مضحکہ خیز عمل ہے۔ لیکن یہاں اردو افسانے کے ہندوستانی منظر نامے کے حوالے سے ممبئی کے لکھنے والوں کے فنی امتیازسے بحث کرنا مقصود ہے کہ ان کا تخلیقی رویہ ہندوستان کے دوسرے لکھنے والوں سے کس حد تک مختلف ہے اور کیوں؟
گزشتہ چار دہائیوں کے دوران ممبئی کے جن لکھنے والوں نے فکری فطانت، تخلیقی سرگرمیوں اور فنی مشق و مہارت کی وجہ سے اردو افسانے کی تاریخ میں اپنی شناخت درج کی ان میں سلام بن رزاق ،انور خان، انور قمر،علی امام نقوی ، ساجد رشید، مشتاق مومن ، مقدر حمید اورم ناگ کے نام کافی اہم ہیں۔گو کہ ان کے تجربات کا دائرہ بہت وسیع نہیں اور بڑا افسانہ لکھنے کی منوہری کنجی ابھی تک ان کے ہاتھ نہیں لگی ہے لیکن اپنے محدود ماحول، دائرے اور تجربے میں رہ کر بھی انہوں نے اردو فکشن کو چند اہم اور دلچسپ افسانے ضرور عطا کئے ہیں اوراہم بات یہ ہے کہ آج بھی یہ اس کے لیے کوشاں ہیں۔
ستّر کے بعد ابھرنے والے ان افسانہ نگاروں نے کم و بیش ایک ایسے وقت میں لکھنا شروع کیا جب جدیدافسانہ اردو فکشن پر تجریدی،علامتی اور تمثیلی کہانیوں کی شکل میں موجودتو تھا لیکن قاری سے اپنا ترسیلیnetworkکو توڑ چکاتھا۔اس وقت سیدھی سرل اور سہیج افسانے لکھنا ممنوع تھا۔مقبول ہونا غیر ادبی ہونے کی دلیل تھی اور ساری کوشش افسانے کو مشکل اور پیچیدہ بنانے پر ہوتی تھی۔دلچسپ بات یہ تھی کہ یہ نام نہاد جدیدیت absolute story پیدا کرنے کی جھونک میں جس کہانی پن کو fake encounter میں قتل کرنے کے درپے تھی وہی کہانی پن ممبئی کے افسانہ نگاروں کے پاس survival kitکی طرح موجود تھی۔
نئے افسانے میں سب سے بڑی تبدیلی کہانی کی واپسی سے عبارت ہے۔ لیکن فکشن کے طالبِ علم کی حیثیت سے ایک سوال مجھے پریشان کرتا ہے کہ اس وقت جب پورے ملک میںعلامتی وتجریدی افسانہ پورے طمطراق سے فروغ پا رہا تھا ممبئی کے لکھنے والوں کا فنی شعور اس سُر میں سُر کیوں نہیں ملا رہا تھا ؟اس کی سب سے بڑی اور سامنے کی وجہ تو یہ تھی کہ ممبئی جیسے کاسمو پولیٹین مہا نگرمیں رہنے کے باعث ممبئی کے اردو لکھنے والوں کو دوسری زبان یعنی ہندی،انگریزی، مراٹھی ،گجراتی زبان کے ادیبوں سے ملنے کے مواقع نسبتاً زیادہ نصیب تھے۔ دوسری زبان کی ادبی ،تخلیقی اور ثقافتی آدان پردان نے اردو فکشن میں رائج فارمولا کہانیوں اور فیشن پرستی سے انہیں کسی حد تک محفوظ رکھا۔۔اس وقت جب جدید افسانہ عدم تحفظ،خوف،دہشت اور تشکیک کو شعور کی رو ،علامت، تمثیل اور استعاروں کے ذریعے بڑے دھوم دھڑاکے سے پیش کر رہا تھا ممبئی کے افسانہ نگار نہ تو جدیدیت کے اس high voltageگلیمر سے متاثر ہوئے اور نہ ہی جدیدیت کے camp fallowers میں اپنا نام درج کرایا۔ ستّر کے بعد کے ان افسانہ نگاروںنے تو ’۔’روشنی کی رفتار‘‘ کی قرۃالعین حیدرمیں اورانتظار حسین کااس ’’آخری آدمی‘‘میں جو بندر کی جون میں منقلب ہونے سے خودکو بچا رہا تھا اپنی فنی شناخت کے مراکز تلاش کئے۔ظاہر ہے یہ سب کسی منصوبہ بندی یا hidden agenda کے تحت نہیں کیا گیا۔ممبئی کے لکھنے والے علامتی ،تجریدی اور تمثیلی افسانے اس اختصاص کے ساتھ لکھ رہے تھے کہ کہانی پن سے افسانے کا رشتہ منقطع نہ ہونے پائے۔ ’’ ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘،’’زنجیر ہلانے والے،‘‘ ’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘،’’شان دار موت کے لیے‘‘،’’کلر بلائنڈ‘‘، ’’منو کی ارتھ ہین یاترا‘‘، ’’جلتے پروں کی اڑان‘‘، ’’خواب‘‘،’’ڈاکو طے کریں گے ‘‘، ’’موت شطرنج اور پرندے ‘‘ تمام تر علاماتی اور استعاراتی اظہار کے باوجودیہ افسانے اپنا سارا زور اسی کہانی پر دیتے ہیں جو بیانیہ کے back stageپر وقوع پذیر ہو رہی ہے۔
ممبئی کے افسانہ نگاروں کا فنی رویہ اپنے ہم عصرافسانوں اور افسانہ نگاروں سے اگر مختلف تھا تو اس کی میرے خیال میں دو اور وجہیں تھیں۔ ایک تو خود سریندرپرکاش ، جو ا س وقت ایک سنئیر پیش رو افسانہ نگار اور جدید افسانے کے ایک رول ماڈل کے طور پر ستّر کی اس نسل کے سامنے موجود تھے۔ سریندر پرکاش کا فنی رویہ اظہار و اسالیب کے نئے وسیلوں کو قبول کرنے کے باوجود اپنا رشتہ اسی تجسس آمیز قصّہ گوئی پر قائم کررہاتھا، جو پریم چند ،منٹو اور بیدی کے ذریعے ان تک پہنچی تھی۔یہی وجہ ہے کہ استعاراتی اظہار اورتجریدی اسلوب میں لکھے ہوئے افسانوں میں بھی کہانی سے کلیتاً دامن چھڑانے کی کوشش ان کے یہاں نظر نہیں آتی۔ میں یہ تو نہیں کہوں گا کہ سریند پرکاش کی story tellingکے آرٹ نے ممبئی کے افسانہ نگاروں کو لکھنے کی ترغیب دی لیکن نت نئے تجربے کواپنی تحریروں میں جگہ دینے کے شوق میں کہانی پن کو outcasteکرنے سے اگر انہوں نے اپنے آپ کو بچائے رکھا تو اس میں کہیں نہ کہیں سریندر پرکاش کا بھی کچھ حصّہ ضرور ہے۔ سریند پرکاش کے علاوہ ممبئی کے ان افسانہ نگاروں کے ذہنی کلچر کی تعمیر میں باقر مہدی نے بہت اہم اور بامعنی رول ادا کیا ہے۔ باقر مہدی شاعری کے نقاد تو تھے ہی لیکن فکشن پر بھی ان کی نظر گہری تھی۔ یہی نہیں وہ افسانے کے بہت ہی حساّس اور پر شوق قاری تھے۔ فکشن کے فنی تقاضوں اور اس کے بدلتے سماجی رول کا وہ کس قدرگہرااور زندہ شعور رکھتے تھے اس کی شہادت تو فکشن پر لکھے ان کے مضامین دے ہی دیں گے لیکن ’’اظہار ‘‘میں انہوں نے نمائندہ جدید افسانہ نگار انور سجّاد کے افسانوں کا جو انتخاب شائع کیا وہ فکشن سے ان کے ادبی مطالبات کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔ غرضکہ یہ بات بغیر کسی تکلف کے کہی جا سکتی ہے کہ سریندر پرکاش اور باقر مہدی کی ذہنی قربت اور رفاقت اگر ممبئی کے لکھنے والوں کو نصیب نہیں ہوئی ہوتی تو شاید جدید افسانے کی سونامی انہیںبھی ٹھکانے لگا چکی ہوتی۔
ستّر کے بعد افسانہ نگاروں کی نسل کا اگر کوئی ’’کارنامہ‘‘ ہے تو وہ یہ ہے کہ انہوں نے افسانے کو اس کھویا ہوا چہرہ عطا کیا۔ اس کارنامے کو انہوں نے متن اور کرافٹ دونوں سطحوں پر انجام دیااور اس انجام دہی میں ممبئی کے افسانہ نگاروں کا رول قابلِ ذکر بھی ہے اور قابلِ قدر بھی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سلام بن رزاق، انور خان اور انور قمر ممبئی کے افسانہ نگاروں کی یہ تثلیث نہ تو ترقی پسندوں کے مخالف تھی نہ ہی جدیدیت کی علمبردار۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے یہاں بنیادی کردار ایک ایسے شخص کا رہا ہے جو موجود ہ سماجی،سیاسی ، مذہبی ،ثقافتی ،معاشی منظر نامے میں خود کو situate کرنے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔
سلام کے افسانوں پر مختلف ناقدوں نے جو رائے دی ہے اسے پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ سلام اپنی نسل کے اہم اور نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ ’’ننگی دوپہر کا سپاہی‘‘ ،’’معبر‘‘ اور ’’شکستہ بتوں کے درمیان‘‘ ان کے تین افسانوی مجموعے ہیں جن میں لگ بھگ پچاس ساٹھ افسانے شامل ہیں۔ زیادہ تر افسانے موضوع،کرافٹ ،اوراسلوب کے نقطہ نظر سے ایک ہی زنجیر کی کڑیاں معلوم ہوتے ہیں۔ زندگی کی بساط پر رینگنے والے اس بے بس، لاچار اور مجبور انسان کوجسے سسٹم نے پیس ڈالا ہے سلام نے اپنے افسانے کاشاہ کردار بنایا ۔۔۔۔۔۔تو گویا سلام کے افسانوں کے ذریعے ہماری ملاقات ایک ایسے ہیرو سے ہوتی ہے جواپنی اصل میں نان ہیرو ہے۔
بہت پہلے شاید ایمرجنسی کے زمانے میں سلام بن رزاق نے ایک مختصر سا افسانہ ’’اندھیرا‘‘کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ چار چھ سطری یہ مختصر افسانہ یا افسانچہ میرے خیال میں سلام کے فنی رویے کا بلو پرنٹ ہے۔افسانہ کچھ اس طرح ہے کہ شہر کی بجلی فیل ہو جانے کے کارن اچانک چاروں طرف اندھیرا چھا گیا۔ آنکھیں ناکارہ ہوگئیں اور ہاتھوں کو ہاتھ تک سجھائی نہیںدے رہے تھے۔ مگر کچھ دیر بعد لوگوں کو محسوس ہواکہ اندھیرا کم ہو رہا ہے اور انہیں کچھ کچھ دکھا ئی دے رہا ہے مگر حقیقت یہ تھی کہ اندھیرا کم نہیں ہو رہا تھا بلکہ لوگوں کی آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کی عادی ہوتی جا رہی تھیں۔غور کریں توسلام کے بیشتر افسانوں کا موضوع اورمظروف اندھیرے سے مانوس ہوتی وہی آنکھیں ہیں۔ ہر ظلم سہہ جانے کی بے بس مجبور اور لاچار آدمی کی سائیکی جوزندگی بھر گم نام حاشیہ بن کر جیتاہے اور ہر قسم کی سماجی ناانصافی اور سیاسی جبر کو بڑی خود اطمینانی کے ساتھ برداشت کرتے ہوئے مر جاتاہے۔ اب چاہے وہ ’’انجام کار‘‘ کا مرکزی کردار ہو یا’’کام دھینو ‘‘ کا مادھو۔، ’’خصی‘‘ کا پرس رام ہو یا پھر ’’خوں بہا‘‘ کا اسکول ماسٹر۔۔۔۔۔۔ ۔۔ اہم بات یہ ہے کہ سلام نے بے حسی ،مفاہمت پسندی اور خود اطمینان زندگی جینے والی اس معمولی، بے بس اور لاچار اکائی کے حوالے سے نہ صرف اپنے عہد کی حقیقتوں کو جاننے کی کوشش کی بلکہ اپنے تخلیقی اور فنی وجود کی شناخت بھی کی۔ایک زمانے میںسلام سے ان کے ہم عصرلکھنے والوں اور ناقدوں کو یہ شکایت تھی کہ ان کے کردار افسانے اختتام میں سرینڈرہو جاتے ہیں۔افسانے کے کرداروں کی مزاحمت اور مفاہمت کے حوالے سے ادبی اقدار کا تعین جتنا خطرناک ہے اتنا ہی گمراہ کن بھی۔ افسانے کی کامیابی و ناکامی کا انحصار فنکارکی اظہاری صورتوں میں مضمر ہے۔
اور یوں بھی ا فسانے میں کرداروں کی مفاہمت کا اظہار کیا انحرافی قوت کا پیش لفظ نہیں ہو سکتا؟
ابھی حال میں سلام بن رزاق نے جودو افسانے تحریر کئے ہیں ان میں ان کا سماجی و سیاسی سروکار بہت سیدھا صاف اور شفاف ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘ اور ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔‘‘دونوں افسانوں میں ایک داخلی مماثلت ہے۔’’آخری کنگورا ‘‘اگر بم بلاسٹ میں بے قصور پکڑے جانے والے مسلمانوں کی کہانی ہے تو ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘مذہبی شدّت پسندی کے بیچ پسنے والی ایک مسلم نوعمر لڑکی کا افسانہ ہے۔ دونوں افسانوں میں سلام نے مسئلے کو اندر سے دیکھنے اور آدمی و سماج کو ایک نقطے پر پکڑنے کی کوشش کی ہے ۔۔۔۔خاص طور پر ’’زندگی افسانہ نہیں۔۔۔۔‘‘ کے اختتام پر غائب راوی کا افسانے کی چوتھی دیوار کو توڑ کر براہِ راست قاری سے مخاطب ہو نا ironyکی عمدہ مثال پیش کرتا ہے۔
سلام بن رزاق کے نہایت قریبی ہم عصر افسانہ نگار انور خان ہیں۔ دونوں نے لگ بھگ ایک ساتھ ہی لکھنا شروع کیا افسانوی مجموعے بھی دونوں کے ایک دو سال کے فرق کے ساتھ منظر عام پر آئے۔ سلام کی بہ نسبت انور خان کا رحجان علامتی طرز کی کہانیوں کی طرف زیادہ رہا۔’’ راستے اور کھڑکیاں ‘‘،’’ فنکاری‘‘ اور’’یاد بسیرے‘‘کے مختلف افسانے ان انسانی اقدار کے کھونے اور کھوجنے کا اظہار ہے جو ہماری سماجی، سیاسی، تہذیبی ،ثقافتی اور ذہنی زندگی کی فریم سے نکل گئے ہیں۔سلیم شہزاد ی اصطلاحوں کا سہارا لے کر کہوں توmimeticاور diegtic بیانیہ کے دونوں طریقِ کار کا استعمال انور خان اپنے افسانوں میں نہایت کامیابی سے کرتے ہیں۔’’لمحوں کی موت‘‘، ’’شام رنگ ‘‘اور ۔’’بول بچن ‘‘میں اگرافسانے کاحاضر یا غائب راوی ماجرائی پرتوں کو مکالموں کی ڈرامائیت اور منظر کے ذریعے دکھاتا ہے تو’’شاندار موت کے لیے‘‘ ،’’کوئوں سے ڈھکا آسمان‘‘ ، ’’برف باری‘‘ اور ’’اپنائیت ‘‘میں راوی واقعہ کا حصہ نہیں بنتا ،وہ محض واقعہ کی تفصیل کو اطلاعاتی انداز میں فراہم کر دیتا ہے۔انور خان کے افسانوں میں غالب رحجان diegtic طرزِ اظہار کا ہے اور یہی ان کے فنّی رویے کو مخصوص پہچان عطا کرتا ہے۔
انور خان کے بیشتر افسانے کی قرات کے دوران جدید مشینی دور کے غیر انسانی اور لاتعلقانہ رویے کا شدید احساس ہوتا ہے۔ ’’راستے اور کھڑکیاں ‘‘اور ’’فنکاری‘‘کے بیشتر افسانے جذبات سے عاری ایک ایسے اسلوب میں لکھے گئے ہیں جو اپنے ڈسکورس کے دوران سولات قائم کرتے چلے جاتے ہیں۔ یہ سوالات زمیں اور آسمان کے بیچ رہنے والے ایک حسّاس انسان کے ہیں جو مختلف محاذ پر لڑ رہا ہے اور ہر محاذ پر اپنے سامنے اپنے آپ کو ہی پا رہا ہے۔ سولات پوچھنے کی tendencyنے انور خان کے افسانوی ڈسکورس کو اگر ایک طرف ثروت مند کیا ہے تو دوسری طرف قاری کو اس روحانی کرب سے متعارف کروادیا ہے جن سے گزر کریہ ڈسکورس قائم ہوا ہے۔ انور خان کی فنی معروضیت اصل میں ان کی گہری فنکارانہ وابستگی کے سبب ہے۔اس نے انہیں الفاظ کے کفایت شعارانہ استعمال کا سلیقہ بھی دیا۔انور خان کفایت ِلفظی کے توقائل ہیں لیکن یہ کفایتِ لفظی افسانوی تاثّر کو گہرا کرنے کا محض ذریعہ ہی نہیں بلکہ قاری کے ذہن کو متحرک کرنے کا یہ ایک حیلہ بھی ہے۔ غور سے دیکھیں تو ان کے افسانوں کے جملوں میں الفاظ کے بیچ کی خالی جگہوں میں کئی گہرے خیال اور نکتے چھپے ہوتے ہیں۔ انور خان کے بیشتر افسانوںمیں کرداراپنے ہاڑ مانس کے ساتھ حرکت نہیں کرتے بلکہ shadow play کی طرح ابھرتے اور ڈوبتے ہیں۔
انور خان کی ایک اور خوبی یہ ہے کہ وہ زندگی کے چھوٹے چھوٹے واقعات کو زندگی کی بڑی حقیقتوں کے انکشاف کا وسیلہ بنا دیتے ہیں۔’’برف باری‘‘ میں محض وقت گزاری کے لیے tic tac toe کا کھیل کھیلنا،یا ’’فنکاری ‘‘میں چائے کے داموں میں اضافے پر احتجاج کرنا،یا پھر ’’گیلری میں بیٹھی ہوئی ایک عورت‘‘ میں عورت کا یوں ہی اپنے سامنے پھیلے ہوئے منظر کا جائزہ لینا۔۔۔۔یہ سب بظاہر بہت ہی معمولی واقعات ہیں لیکن انور خان ان ہی معمولی اور روٹین واقعات سے ہماری زندگی کے گہرے حقایق کو منکشف کرتے ہیں۔اس سے اندازہ ہو تا ہے کہ انور خان نہ صرف روزمرہ کے معمولی واقعات اور جزئیات سے کہانی بننے کے فن سے واقف ہیں بلکہ مجرد خیال کو کہانی میں بدل دینا بھی انہیں خوب آتا ہے۔’’برف باری‘‘، کتاب دار کا خواب‘‘ ، ’’اپنائیت‘‘اس کی جگمگاتی مثالیں ہیں۔لیکن بعض افسانوں کو پڑھتے ہوئے احساس ہوتا ہے کہ خیالات کو افسانے کے چوکھٹے میں پیش کرنے کی شعوری کوشش کی گئی ہے۔ ’’شاٹ‘‘،’’ہوا‘‘،’’گونج ‘‘جیسے افسانوں میں ان کی اس کمزوری کا احساس شدّت سے ہوتا ہے۔
انور خان اور سلام بن رزاق کے ہم سفر اور ہم رکاب افسانہ نگاروں میں انور قمر نہایت اہم ہیں۔ ان کے چار افسانوی مجموعے ’’چاندنی کے سُپرد‘‘ ، ’’ چوپال میں سنا ہوا قصّہ‘‘ کلر بلائنڈ‘‘ اور ’’جہاز پر کیا ہو ا؟‘‘شائع ہوچکے ہیں ،جو ان کے چالیس سالہ افسانوی سفر کی کُل پونجی اور تخلیقی سرگرمی سے ان کے والہانہ لگائو کا نتیجہ ہیں۔ خوش کن بات یہ ہے کہ ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ چالیس سالہ فکشن کے اس سفر میں انور قمر کے یہاں کئی طرح کے فکری و فنی پڑائو ملتے ہیں۔انورقمر ایک فکرسے مربوط افسانہ نگار نہیں ہیں۔زندگی کی جولانی اور ہیجان ،داخلی احساسات اور تجربات کا reflectionان کی تحریروں میں کسی نہ کسی صورت ابھرتا ہے اور یہ صورتیں ان کے افسانوں میں ایک دوسرے سے کس قدر مختلف، متضاد اور متنوّع ہوتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ ان کے افسانوی رویے کو کسی ایک خاص برانڈ میں باندھا نہیں جا سکتا۔ان کی تخلیقی کائنات بیانیہ، علامتی، تمثیلی، اشارتی،فنٹیسی اور تجرباتی سبھی طرز کے افسانوں سے آباد ہے۔ کہیں وہ کامیاب ہیں ،کہیں ناکام اور کہیںبری طرح ناکام۔۔۔۔۔۔لیکن اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ موضوعی و اسلوبیاتی تنوع اور آزاد تخلیقی فضا کا جو احساس ہمیں انور قمر کے یہاں ملتا ہے ،ان کے دوسرے ہم عصروں کے یہاں کم کم ہے۔یہ تنوع ان کے یہاں ایک ایسے تخلیقی و ارتقائی سفر کی نشاندہی کرتا ہے جو افقی بھی ہے اور عمودی بھی۔ موضوعی اور اسلوبیاتی سطح کے ساتھ ساتھ ان کی فکری تبدیلیوں کا اشاریہ ان کے افسانوں سے حاصل ہوتاہے۔’’چاندنی کے سُپرد ‘‘کے افسانوں میں جو سرخ رنگ خوش آئند مستقبل کا استعارہ نظر آتا ہے وہی ’’کابلی والا کی واپسی ‘‘ میں خون کی سرخی میں تبدیل ہو گیا ہے۔
انور قمر کا تعلق افسانہ نگاروں کے اس قبیل سے ہے جو instinctکے بجائے فکر و شعور کی تمام جہات کو برروئے کار لاتے ہوئے افسانے کی تعمیر کرتے ہیں۔انور قمر نے جب بھی لکھا بہت سوچ سمجھ کر اور سنبھل کر لکھا۔ان کا فنی رویہ اپنے موضوع کے انتخاب ،واقعات کی تشکیل ،ان کی ترتیب اور ان کے درمیان ربط کی نوعیت میں منصوبہ بند تعمیر کا پابند ہوتا ہے۔ان کے یہاں سبب اور نتیجہ والی تعقلّی ترتیب سے انکار بھی اتفاقی اور غیر شعوری نہیں بلکہ بہت سوچ سمجھ کر تخلیقی مقاصد کے پیشِ نظر ہوتا ہے۔ اس طرح یہ کہا جا سکتا ہے کہ انور قمر اپنے ہم عصرافسانہ نگاروں میں سب سے زیادہ concious افسانہ نگار ہیں۔
بعض افسانوں میں انور قمر کا سماجی و سیاسی سروکار بہت واضح نظر آتاہے تو بعض میں قدرے دھندلا۔۔۔۔۔ ۔ برسوں پہلے افغانستان پر روسی حملے کے حوالے سے انہوں نے رابند ناتھ ٹیگور کی کہانی ’’کابلی والا‘‘ کو بنیاد بنا کر ایک نیا افسانہ’’کابلی والا کی واپسی‘‘ کے عنوان سے تحریر کیا تھا۔ ابھی حال ہی میں گجرات میں مسلم کش فسادات کو موضوع بنا کر’’جہاز پر کیا ہوا ؟‘‘ جیساایک اہم افسانہ لکھا۔ دونوں افسانوں میں سیاسی جبر اور منافرت کی فضا کو جس طرح تخلیقی جہت دی ہے وہ انور قمر کے فکری و فنی شعور پر دال ہے۔ دونوں افسانے سیاسی افسانے کا ا لتباس پیدا کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں افسانے مخصوص تاریخٰی صورتحال میں گھرے عام آدمی کے مقدر اور اس کے وجود کی معنویت کی دریافت سے عبارت ہیں۔ اقتدار کی اندھی قوت کے سامنے ایک عام آدمی کے د رد اور خوف کو انور قمر نے یوں translateکیا ہے اسے کسی سیاسی تاریخ کے حصار میں باندھا نہیں جا سکتا۔
70ء کی دہائی ممبئی کے اردو فکشن کے لیے یوں بھی فالِ نیک ثابت ہوئی کہ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان ابھی اپنی فنی شناخت کے پہلے پائیدان پر ہی تھے کہ افسانہ نگاروں کی دوسری فصل ممبئی میں لہلہاتی ہوئی نظر آنے لگی۔ مقدر حمید،ساجد رشید، علی امام نقوی، مشتاق مومن نے بڑے جوش و خروش سے لکھنا شروع کیاکچھ عرصے بعد ہی م ناگ بھی ناگپور اٹھ کر ان لوگوں کے بیچ کنڈلی مار کر بیٹھ گئے اور ایسے بیٹھے کہ پھر ممبئی کے ہی ہو گئے۔ان لکھنے والوں نے اپنے افسانوں سے اردو فکشن کو وقار اور اعتبار بخشا۔ خاص طور پر ساجد رشید، علی امام نقوی اورم ناگ نے ۔۔۔۔
یہاں میں مشتاق مومن کا ذکر خاص طور پر کرنا چاہوں گا۔ سلام، انورخان اور انور قمر کے فو راً بعد ممبئی کے اردو افسانے کے سنیئر یوپر اچانک ابھرنے اور پھر چپ چاپ ڈوب جانے والے ایک فنکار کا نام مشتاق مومن ہے۔ ’’رت جگوں کا زوال‘‘ ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ ہے جس میں ’’کریم لگا بسکٹ اور چونٹیاں‘‘ ،’’موز ‘‘اور’’رت جگوں کا زوال‘‘جیسے کئی صاف ستھرے اورنتھرے ہوئے افسانے ہیں جو اپنے قاری کو چونکائے بنا متاثر کرتے ہیں۔ لیکن ایک افسانہ اس کتاب میں ایسا بھی شامل ہے جس نے پڑھنے والے کومتاثر کئے بنا چونکایا اور جسے مشتاق مومن نے نہیں سریندرپرکاش نے ’’دنیا کا سب سے بڑا افسانہ نگار‘‘کے عنوان سے کتاب کے پیش لفظ کے طور پر تحریر کیا تھا۔ سریندرپرکاش کے اس left handed compliment نے لوگوں کو چونکایا توضرور مگر مشتاق مومن کے فن اور فنی رویے پر روشنی ڈالنے کے بجائے یہ فسانہ خود سریندر پرکاش کی شخصیت کے مختلف پہلوئوں کو بے نقاب کرتا ہے۔
مشتاق مومن نے اسّی کی دہائی میں جو افسانے لکھے تھے ان میں کچھ اب بھی حافظے کے کسی گوشے میں محفوظ ہیں۔ جس طرح عبدل بسم اللہ نے اپنے ناول ’’جھینی جھینی بینی چدریا‘‘ میں بنارس کی مسلم بستی مدن پورہ کی inner life کو زندہ کر دیا ہے اسی طرح مشتاق مومن نے پاور لوم سٹی بھیونڈی کواپنے افسانوں میں دھڑکتے ہوئے حوالوں کا حصّہ بنا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ گزشتہ بیس برسوں سے افسانہ نگاری سے ان کا رشتہ ٹوٹ سا گیا۔ اس سے پہلے کہ وہ اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو بررئوے کا ر لا تے ہوئے امتیاز و اختصاص کی منزلوں سے گزرتے ان کی صحت نے انہیں معذور کر دیا ہے اور اب تو افسانہ نگاری سے ان کے رشتے کی تجدید معدوم نظر آتی ہے۔
افسانوں کا انتخاب ہو یا تنقیدی مطالعے میں فنکاروں کانام اور ذکر ،بڑی حد تک یہ مرتبین اور ناقدین کی صواب دید کا پابندہوتا ہے۔لیکن جب جوگندر پال پنگوین کے لیے ’’عصری اردو کہانیاں‘‘ مرتب کرتے ہوئے غزال صیغم کے افسانے کو شامل کرتے ہیں اور انور خان کوبھول جاتے ہیں یا پھر قاضی افضال سیّد ممبئی کے افسانہ نگاروں پراپنے کلیدی خطبے میں مظہر سلیم کا ذکر بڑے اہتمام سے کرتے ہیں مگر ساجد رشید کا نام ان کے حافظے سے پھسل جاتا ہے ، تو اس کا جواب اور جواز سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے تعصب اور بد دیانتی آج بھی ہماری ادبی کلچر کا اٹوٹ حصّہ ہے۔انور خان اور ساجد رشید کے افسانوں پر سخت سے سخت تنقید کی جا سکتی ہے لیکن یہ ممکن نہیں کہ آپ نئے افسانے کے ذکر میں انہیں بھول جائیں۔
جہاں تک ساجد رشید کا تعلق ہے انہوں نے سلام بن رزاق،انور خان اور انور قمر کے بعد لکھنا شروع کیا،لیکن قصّہ گوئی کی سلیقہ مندی نے انہیں بہت جلدی اپنے سنیئر افسانہ نگاروں کی صف میں لا کھڑا کیا۔ستّر کے بعد کے افسانہ نگاروں نے جس کہانی پن کی بازیافت کی تھی وو ساجد رشید کے افسانوں میں ایک تنائو کی شکل میں ابھرتی ہے اور تجسس کو جنم دیتی ہے۔ نکیل ان کے ہاتھ سے نہیں چھوٹتی اور ایک کشمکش۔۔۔۔۔۔۔ایک تصادم ٹیومر کی طرح ساجد کے افسانوں میں پہلی سطر سے اختتام تک زندہ رہتا ہے۔ جامد تصاویر کے بجائے متحرک مناظر اور مکالماتی بیانیہ نے ان کے افسانوں کو ڈرامے کی صنف سے قریب کردیا ہے۔ ساجد کے افسانوں کی قرات کے دوران قاری ناظر میں تبدیل ہو جاتا ہے اور کردار اداکار میں۔۔۔۔۔۔اور یوں وہ افسانوی متن کو اسٹیج پر پرفارم ہوتا ہوا دیکھتا ہے۔یہ ساجد کا فنی امتیاز ہے کہ وہ افسانے میں موجود اندورنی تصادم کو فوکس کرنے کے لیے مختلف tools استعمال کرتے ہیں۔چونکہ ساجدصرف افسانہ نگار نہیں بلکہ صحافی،سماجی ورکر،ڈرامہ نگار،اداکار اور کارٹونسٹ بھی ہیں اس لیے ان تمام فنون کے اظہاری وسائل کا بھرپور فائدہ افسانے کی تعمیر میں وہ اٹھانے سے نہیں چوکتے۔ ساجد رشید کے افسانوی ڈسکورس میں ہم ڈرامہ نگار ،سماجی ورکر، صحافی ،کارٹونسٹ اور اداکار ساجد رشید کو افسانہ نگار ساجد رشید سے قریب آتا ہوا محسوس کرتے ہیں۔اس قربت نے بیشتر جگہوں پر ان کے فکشن کے امتیازی عناصر کی شناخٹ قائم کی ہے اوربعض مقامات پر ان چیزوں نے ان کے افسانوی کرافٹ کوزبردست نقصان بھی پہنچایا ہے۔لیکن یہ قصّہ پھر کبھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موضوعی طور پر ساجد رشید کے افسانوں کو دوحصّوں میں بانٹا جاسکتا ہے۔ ایک سماجی و سیاسی سروکاروں کے افسانے دوسرے انسانی رشتوں کے افسانے۔ گو کہ یہ تقسیم واٹر ٹائیٹ کمپارٹمینٹل نہیںہے کیونکہ انسانی رشتوں کے افسانوں میں سماجی و سیاسی سیاق ابھرتے ہیں تو سیاسی اورسماجی موضوع کے افسانوں میں انسانی رشتے پنپتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں۔ پہلے طرز کے افسانوں میں ساجد اگر آس پاس بکھری ہوئی سماجی و سیاسی زندگی پر تبصرہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں تو دوسرے طرزکے افسانوں میں بجائے خود زندگی کو دریافت کرنے میں سرگرداں دکھائی دیتے ہیں۔لیکن جو بات ساجد کے افسانوں کو ایک امتیازی وصف عطا کرتی ہے وہ یہ کہ ان کا ہر افسانہ اپنے عصر اور سماج سے ایک جرح ہے ،ایک مکالمہ ہے۔
موضوع ،تکنیک ،مواد اور زبان کا ایک اچھا تال میل ساجد کے افسانوں میں ملتا ہے۔وہ بہتر جانتے ہیں کہ کون سا افسانہ کس ڈکشن میں لکھنا ہے۔بیانیہ پر مظبوط گرفت ،بے پناہ قوّت مشاہدہ اور انسانی نفسیات کے ان کے گہرے شعور کے سبب ہی اپنے کسی انٹرویو یا نجی گفتگو میں وارث علوی نے ساجد رشید سے کرداری افسانہ لکھنے کی توقع ظاہر کی تھی؟ اس میں کوئی شک نہیں کہ اپنے مختلف افسانوں میں کئی منفرد، پیچیدہ اور complexedکردارپیش کرنے کے باوجود ساجد رشید کے پاس کوئی کرداری افسانہ نہیں ہے۔’’مردہ دھوپ‘‘کی پھوپھی یا ’’ایک چھوٹا سا جہنم ‘‘کا ڈاکٹر نائیک یا پھر ’’شام کے پرندے ‘‘کے اختر حسین، یہ سبھی ساجد رشید کے ایسے کردار ہیں جو اپنی شناخت افسانوی فریم ورک سے باہر نہیں بلکہ اس کے اندر کرواتے ہیں۔ انسانی ہمدردی کی سرشاری میں ساجد کی مثالیت پسندی کا جواز تلاش کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ ساجد رشید اپنی بنیاد میں idealist ہیں اوراگر یہ idealism حیات و کائنات کے بارے میں ان کے موقف کی تشکیل کرتا ہے توان کی مثالیت پسندی کرداروں کے حقِ خود اختیاری کی محتسب بن کر بھی ابھرتی ہے۔ ساجد رشید سے کرداری افسانے کے مطالبے کے پیچھے وارث علوی کہیں اس دھندلی مثالیت پسندی کو فنی دائرے سے ٹاٹ باہر کرنے کے تو متمنی نہیں ہیں؟ میرے خیال میں ساجد رشید کو وارث علوی کی اس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
کرداری افسانوں کی جس کمی کا احساس وارث علوی کو ساجد رشید کے افسانوں میں ہوتا ہے وہ شاید علی امام نقوی کے افسانوں میں انہیں نہ ہو۔ علی امام نقوی کے بیشتر افسانوں میںڈرائیونگ سیٹ پر پلاٹ کے بجائے کردار سوار ہوتا ہے، چنانچہ وہاں واقعات کردار کا تانا بانا بننے کے بجائے کردار خودواقعات کی ترتیب و تنظیم کرتے ہیں۔ ’’نئے مکان کی دیمک ‘‘،’’گھٹتے بڑھتے سائے‘‘،’’مباہلہ‘‘اور ’’موسم عذابوں کا ‘‘اپنی ان چار کتابوں میں شامل افسانوں سے علی امام نقوی اردو فکشن میں اپنی جگہ محفوظ کر چکے ہیں۔
علی امام نقوی نے اپنی افسانوی کائنات ہمارے معاشرے کے ان کرداروں سے سجائی ہے جن کی تلاش میں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں۔ٹیکسی وٹرک ڈرائیور، شرابی، چرسی، آوارہ، بیکار، نکمے افراد،مزدور، وارڈ بوائز،جرائم پیشہ ،ریکروٹنگ ایجنٹ ،کلرک، ٹی وی مکینک ،کباڑیے ،رنڈیاں، بدچلن عورتیں۔۔۔۔۔۔ ان کی جیتی جاگتی تصویروں کو تخلیقی جہت دے کرعلی امام نے ایک فنی تجربے میں بدل دیا ہے۔ ان کرداروں کی معمولی سے معمولی اور اسفل سے اسفل جزئیات اور تفصیلات میں دلچسپی محض ان کی زندگی کا روزنامچہ ان ہی کی زبان اور محاورے میں لکھنا ہی علی امام کا منتہائے مقصود نہیں بلکہ ہوا کے دبائو اور پانی کے بہائو سے ادھر ادھر ڈولنے والے ان بے بس اور مجبور کرداروں کے ذریعے زندگی کی پہنایوں تک اترنے کی جہت ان کے افسانوں کے sub textمیں دیکھی جا سکتی ہے۔ علی امام نے اپنے بیانیہ میں ایک under currentضرور بچھایا ہے جن میں ان کے نقطہ نظر کے بنیادی نقوش جھلملاتے ہوئے نظر آتے ہیں اور یوں کہا جا سکتا ہے کہ اصل زندگی علی امام کے یہاں، زندگی کی اصل تک رسائی حاصل کرنے کی ایک فنکارانہ کوشش ہے۔
تین لوک میں متھرا پیاری ۔۔۔اور علی امام کی متھرا ان کی ممبئی ہے۔ ممبئی کی زندگی علی امام نقوی کے افسانوں میں سانس لیتی اور خون میں دوڑتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ یہاں کا ماحول، یہاں کی زندگی کی رفتار،بھیڑ بھاڑ،اس شہر کی زندگیوں کے sound tracks اور اس کی خاموشیاں ،یہاں کے محاورے اور یہاں کی low languageکو علی امام نے اپنے ناول ’’تین بتی کے راما ‘‘ اور مختلف افسانوں میں جس طرح پکڑا ہے وہ اس شہر کو جئے بنا حاصل ہونا ممکن نہیں۔ ’’ڈونگر واڑی کے گدھ‘‘فسادات پر لکھا ان کا یہ افسانہ کافی مشہور ہوا۔اکثر لوگوں کا خیال ہے اختتام میں علی امام نے عصری پس منظر کو ایک دائمی تناظر عطا کر دیا ہے۔ممکن ہے یہ درست ہو لیکن افسانے کا یہ انجام تاثّر سے بھرپور ہونے کے باوجود پہلے سے طے شدہ معلوم ہوتا ہے۔البتہ اس افسانے میں پارسیوں کے dialectکا بہت ہی خلاّقانہ استعمال انہوں نے کیا ہے۔
تقسیم اگر ہندوستانی فکشن کا ایک اہم موڑ ہے تو تقسیم کے بعد بھی ہند و پاک کے تہذیبی ثقافتی رشتوںپردونوں ملک میں کئی اچھے اور کامیاب افسانے لکھے گئے۔ ان میں علی امام کا افسانہ’’ میراث‘‘کافی اہم ہے مگر افسوس کے ناقدوں نے اس پر بہت زیادہ توجہ نہیں دی۔
ہمارے یہاں بیشتر لکھنے والوں کے لیے افسانہ تحریر کرنا سوئمبر میں حصّہ لینے جیسا ہے۔ جہاں سوئمبر کی شرائط کی تکمیل کے لیے افسانہ نگار جان کی بازی لگاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ لیکن ناگ کا فنی رویہ ان سے قدرے مختلف ہے۔ ناگ کے لیے افسانہ لکھنا سوئمبر میںحصّہ لینانہیں ہے۔ اسی لیے نہ تو وہ شیو کے دھنش کو توڑنے کی کوشش کرتے ہیں اور نہ ہی ارجن کی طرح اپنی نظر صرف مچھلی کی آنکھ پر رکھتے ہیں۔اس تخلیقی رویے نے ناگ کے افسانوں کو اس منطقی ارتقاء سے محروم رکھا جو عموماً افسانے میں وحدتِ تاثّر ابھارنے میں مدد دیتا ہے۔پلاٹ کے افسانے میں واقعات کی ایک منطقی ترتیب ہوتی ہے اور اس کا ایک خاص نقطہ آغاز اور نقطہ انجام ہوتا ہے۔ سارے سلسلے ایک مرکزی نقطے سے جڑے ہوتے ہیںلیکن ناگ افسانوں میں کوئی منطقی ترتیب نہیں ملتی اور اگر ہے بھی تو سطح پر نہیں تیرتی۔ چونکہ افسانہ واقعہ کو منطقی ترتیب سے بیان نہیں کرتا۔ اس لیے متن میں موجود کشمکش زبان کی تخلیق نہیں کرتی بلکہ افسانہ نگار اپنے اسلوب میں اپنی زبان ،اپنے نجی محاورے میں اپنی بات کہتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ اسی نجی آھنگ اور ذاتی لہجے کی چھاپ نے ایک طرف ناگ کے افسانوں کو رسمی اسلوب اور موضوعات کے فرسودہ برتائو سے آزاد رکھا تو دوسری طرف الفاظ کو فقط سننے یا پڑھنے کی چیز نہیں بلکہ دیکھنے اور چھونے کی چیز بھی بنا دیا ہے۔
اگر علی امام نقوی کے افسانوں میں مختلف رنگ، نسل ،ڈئزائن کے کرداروں کا میلا ہے تو م ناگ اپنے افسانوں کی دنیا میں بالکل اکیلا ہے۔ اپنے اندر اور باہر اجنبی سچائیوں کو دیکھتا ،پرکھتا ایک اکیلا تنہا آدمی۔۔۔ان کے افسانوں کو پڑھتے ہوئے مجھے اکثر آر کے لکشمن کے عام آدمی کا وہ کارٹون یاد آتا ہے جو دیکھتا سب کچھ ہے ،سنتا سب کچھ ہے لیکن بولتا کچھ بھی نہیں۔ ناگ کے افسانے بھی سننے اور دیکھنے والے افسانے ہیں،بولنے والے نہیں ۔۔۔۔کیونکہ ناگ کے افسانوں میں خاموشیاں بھی بولتی ہیں۔ان کے دو افسانوی مجموعے ’’ڈاکوطے کریں گے‘‘ اور ’’غلط پتہ‘‘اب تک منظر عام پر آ چکے ہیں۔ ان کی اشاعت میں بھی ایک طویل عرصہ حائل ہے۔اور بقول انتظار حسین ہمارا زمانہ ادیب کو پروجیکٹ کر رہاہے اور ادب کو پیچھے دھکیل رہاہے۔اسی لیے جو دکھتا ہے وہ بکتا ہے کہ اس دور میں دنیا داری کے جھمیلوں اور تعلقات عامّہ کے حیلوںسے الگ تھلگ رہنے اور رسائل میں افسانوں کی اشاعت سے بے نیازی برتنے نے ناگ کو بہت نقصان پہنچایا۔
ناگ نے اپنے افسانوں میں جو دنیا رچی ہے وہ ہمیں بتاتی ہے کہ جس دنیا میں ہم آپ جی رہے ہیں وہ اتنی سیدھی اور صاف نہیں ہے۔ شفاف واقعات کی باطنی پرت کے نیچے بھی مضحکہ خیز عوامل کار فرما ہیںاور بظاہر سیدھے دکھائی دینے والے رشتے بھی دھندلے ہو چکے ہیں۔ایک بے نیازاور بے پروا راوی کا پوز بنائے رکھنے میں ناگ اکثر کامیاب ہو تے ہیں۔
ناگ کی تخلیقیت کا بنیادی رمز ان کا اسلوب ہی ہے۔یہ اسلوب اور کچھ نہیں ناگ کی شخصیت کی ہی لسانیاتی تجسیم ہے۔ ہلکی پھلکی لیکن گہری ،دلچسپ اور دلاویز اور شاید اسی لیے منفرد بھی ۔۔۔۔۔۔۔ ناگ کے افسانے ہر پھر کر ان کی شخصیت کے آس پاس ہی طواف کرتے ہیں اور۔اسی لیے ان کے زیادہ تر افسانے آٹو بائیگرافیکل ہونے کا بھرم پیدا کرتے ہیں۔ناگ کے افسانوں تک رسائی ہم اس اس کی شخصیت کو tracepass کر کے ہی حاصل کر سکتے۔
جنس ناگ کا پسندیدہ موضوع ہے۔ موضوع بھی نہیں بلکہ ایک حوالہ ہے۔ جنس کے مجرد اور غیر مجرد تصورات کو جس طرح ناگ نے اپنے افسانوں میں animateکیا ہے اس نے ان کی تحریروں کو اپنے پیش روئوں اور ہم عصروں میں منفرد بنا دیا ہے۔ چونکہ جنس کو موضوع کے بجائے بطور حوالہ برتا گیا ہے اسی لیے افسانوں میں ناگ کا رویہ peeping tomجیسا نہیں ہے اور اسی لیے سیکس اور رشتوں پران کی متنازعہ تحریروں میں بھی ترغیب کا پہلو نہیں ہے۔ فنکارانہ اعتبار سے ناگ کے افسانے بلاشبہ اتنے بلند نہ ہوں لیکن اس میں ایک ایسے آدمی کا کرب ضرور موجود ہے جو رشتوںاور سسٹم کو اپنی کھال اور روح پر بھوگ رہا ہے۔ان کے دونوں افسانوی مجموعوں سے متعلق یہ بات کہی جا سکتی ہے۔ ’’ڈاکو طے کریں گے‘‘کے بعد ’’غلط پتہ ‘‘تک پہنچتے پہنچتے البتہ ایسا لگتا ضرورہے ناگ کا تخلیقی رویہ اپنے محور سے کچھ ہٹ سا گیا ہے ’’غلط پتہ‘‘ میں نہ تو وہ تازگی ہے اور نہ ہی وہ brandingجو ناگ کی پہچان ہے۔ ’’غلط پتہ‘‘ پر پہنچنے کا جو احساس قاری کو ہوتا ہے اگر وہ افسانہ نگارکوبھی ہوجائے تو شاید وہ اپنی کھوئی ہوئی زمین پا لے۔
مقدر حمیدایک سنئیر افسانہ نگار ہیں۔ انہوں نے لگ بھگ سلام بن رزاق ،انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھا۔لیکن ایک زمانے تک ادبی رسائل سے ایک ’’محفوظ دوری‘‘بنائے رکھنے کے سبب ناقدین اور قارئین نے بھی انہیں وہ توجہ نہیں دی جس کے وہ مستحق تھے۔ چالیس سال پر محیط اپنے افسانوی سفرمیں مقدر حمید کے تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آئے۔ ’’زر بیل‘‘ ،’’ابر کاری‘‘ اور ’’جل ترنگ‘‘یہ عنوانات ہی افسانوں کے موڈ اور ان کے فنی رویوں کی جانب اشارہ کرتے ہیں۔
مقدرحمید کے بیشتر افسانے دھیمی لے کے افسانے ہیں اور معلوم پڑتا ہے کمر کے نیچے تکیہ رکھ کرconciveکئے گئے اور آرام کرسی پر لیٹ کر تحریر کئے گئے ہیں۔قاری کے ذہن پر ہتھوڑا مار کر اس کے پورے وجود کوجھنجھنا دینے والے افسانوں کے بجائے ان کے افسانے غلام علی کی گائیکی کی طرح اپنی محدوداور مخصوص نوٹ سے اوپر نہیں اٹھتے۔ اپنے آس پاس کی زندگی پر ان کی نظر مرکوز ہوتی ہیںاور اپنے پڑھنے والوں کو بھی اس میںشریک کرنا چاہتے ہیں۔اور اپنے محدود کینواس کے باوجودان کے یہ افسانے پڑھنے کی ترغیب دیتے ہیں۔ زندگی کی تلخیاں ،مقدر حمید کے افسانوںمیں ایک خاص قسم کا تاثّر دینے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ان کی زبان واقعات کو دلچسپ اور شگفتہ انداز میں بیان کردیتی ہے۔۔۔۔۔۔ ان کے یہاں موضوع کے بطن سے واقعات جنم نہیں لیتے بلکہ واقعات کی پرتوں میںوہ موضوع تلاشتے ہیں۔
مقدر حمید کے یہاں خوبصورت الفاظ کا استعمال کثرت سے ملتا ہے۔مگر یہ خوبصورت الفاظ ان کی قصّہ گوئی کو مدد بہم پہنچانے کے بجائے سلمہ ستاروں کی طرح افسانوی فریم ورک میں بے بس ٹنکے نظر آتے ہیں۔اورظاہر ہے جب لفظ افسانوی فریم ورک میں اپنا کام انجام دینے سے انکار کردیں تو افسانہ نگار کی خود تزئینی کا بہانہ بن جاتے ہیں۔
’’ابر کاری‘‘ کے پیش لفظ میں انہوں نے لکھا تھا کہ اپنی بات کہنے کے لیے کہانی کی تصویر کو جو بھی فریم راس آتی ہے اسے اپنانے میں انہیں احتراز نہیں ہے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ مقدر حمید نے کہانی کی تصویر کے مطالبے کے موافق ہی فریم کا انتخاب کیا ہے۔ یہاں ستم ظریفی یہ ہے کہ ان کے سارے افسانے ایک ہی فریم میں جڑے نظر آتے ہیں۔ ہاں فریم کو نقش و نگاری کے ذریعے انہیں الگ کرنے کی کوشش افسانہ نگار نے ضرور کی ہے۔
مقدر حمید کی طرح جیتندر بلّونے بھی انور قمر اور انور خان کے ساتھ ہی لکھنا شروع کیا تھابلکہ بلّو تو غالباًان سے بھی پہلے سے لکھ رہے ہیں۔ گزشتہ کئی برسوں سے وہ لندن میں مقیم ہیں اسی لیے ان کے افسانوں کا پس منظر دیارِفرنگ میں بسے ہندوستانیوںکے تہذیبی اور جذباتی مسائل ہیں۔اپنی زندگی کے آزمائشی دور کا ایک حصّٓہ انہوں نے ممبئی میں ہی گزارا تھا۔’’ پہچان کی نوک پر‘‘کے افسانے ان کے اسی دورکی یادگار ہیں۔اس میں کل چودہ افسانے ہیں اوربیشترافسانوںکو ان کی زبان کے استعاراتی برتائو نے حقیقت نگارانہ اکہرے پن سے بچا لیا ہے۔ انسانی رشتوں کے ٹوٹنے اور بکھرنے کی کہانیوں کوبِلو نے فنکارانہ صداقت کے ساتھ پیش کیا ہے اور سماجی حقیقتوں،معاشرتی ناہمواریوں اور نفسی الجھنوںکو بیانیے کی نت نئی صورتوں میں ڈھالا ہے۔ ابھی حال میں ہی ان کے افسانوں کا نیا مجموعہ اور بقول ان کے آخری مجموعہ ’’چکر‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ اپنی اس کتاب کے مقدمے میں اردو ادب میں بڑھتی ہوئی اسلام پسندی سے متعلق انہوں نے جو سوال اٹھائے ہیں ان پر غور کرنا بہت ضروری ہے۔گو کہ ان کا لہجہ کچھ کڑا اور کڑوا ہو گیا ہے اور جذبات میں جتیندر بلّو یہ بھول گئے ہیں کہ کمبل سے کمبل کی گانٹھ نہیں بندھتی۔
سلام بن رزاق سے لے کر م ناگ تک یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے ہیں جنہیںفضیل جعفری نے Bombay group of short story writers کے نام سے یاد کیا ہے۔ ان مین اسٹریم رائٹرس کے علاوہ ایسے لکھنے والے بھی یہاں بڑی تعداد میں موجود ہیں جن کے لیے افسانہ نگاری جز وقتی کام رہا یا پھر جنہوں نے افسانہ نگاری کو سنڈے پینٹنگ کی طرح آزمایا۔گو کہ ان سے چار چھ ڈھنگ کے افسانے بھی سرزد ہوگئے مگر وہ ان کی شناخت کا حوالہ نہیں بن پائے۔ساگر سرحدی ،محمود ایوبی، بنتِ مسعود(جو بعد میں فیروزہ خان کے نام سے لکھنے لگیں)الیاس شوقی، اقبال نیازی، اسلم خان، معین الدین جینابڑے اور مقصود اظہر کے نام اس فہرست میں شامل کئے جا سکتے ہیں۔ ان میں سے کچھ نے توبڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا لیکن بعد میں کچھ نے اپنی ذاتی وجوہات کی بنا پرکنارہ کشی اختیار کر لی۔ کچھ کے منکے ڈھیلے پڑ گئے ، کچھ نے اپنے تخلیقی اظہار کے لیے دوسرے میدانوں کا انتخاب کیا اورکچھ نے لکھنا جاری رکھا مگر سنڈے پینٹنگ کی طرز پر۔۔۔۔۔۔۔۔
بنتِ مسعود ایک بہت اچھی لکھنے والی ہیں۔افسانے بننے کے عناصر ان میں بدرجہ اتم موجود ہیں مگر غالباً ازدواجی زندگی کی مصروفیات نے انہیں افسانہ نگاری ترک کرنے پر مجبور کیا۔ اقبال نیازی نے ’’سرکس‘‘ اور ’’اسپیڈ بریکر ‘‘ جیسی خوبصورت کہانیاں لکھیں تو ان سے بھی کچھ توقع بندھی مگر بہت جلد ڈراموں نے انہیں highjackکر لیا اور ان دنوں بڑے زور شور سے تھیٹر کے لیے سرگرداں ہیں۔البتہ اسلم خان نے ابھی تک افسانہ نگاری ترک کرنے کا اعلان نہیں کیا اوراپنے نئے افسانے کے ساتھ کبھی بھی LOCپار کر سکتے ہیں۔ ابتداء میں انہوں نے ’’ٹیلی پرنٹر‘‘ ،’’کنفیشن‘‘، ’’کاروائی‘‘ اور’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘ جیسے چند ایک اچھے افسانے ضرور تحریر کئے تھے مگر پھر event managementجیسی کسی چیز میں مصروف ہوگئے۔ ان کے تحریر کردہ افسانے بھی کسی event کاخاکہ ہی معلوم پڑتے ہیں۔ ’’ ایک ٹیلی فلم کا خاکہ ‘‘اصل میں ایک فلمی کہانی کی one line script ہے مگر اسے افسانہ سمجھ کر پڑھا بھی جا سکتا ہے اور انگیز بھی کیا جا سکتا ہے کیونکہ فنی سرچشموں سے نکلنے والے اس کے زریں دھارے ایک بڑی تصویر کا خاکہ پیش کرتے ہیں۔مقصود اظہر ان لوگوں سے نسبتاً جونئیر لکھنے والے ہیں ’’کشتن‘‘ کے عنوان سے ان کا ایک افسانوی مجموعہ منظر ِعام پر آ چکا ہے۔ اس سے پہلے کہ یہ افسانے پڑھنے والے کو متوجہ کرتے اور ان کا نام لوگوں کے حافظے پر چڑھتا انہوں نے بھی افسانہ نگاری ترک کرد ی۔ گزشتہ کئی برسوں سے ان کا کوئی افسانہ پڑھنے کو نہیں ملا۔ یہی حال الیاس شوقی کا ہے۔ افسانے سے منہ موڑ کر انہوں نے تنقید کا دامن تھاما ہے اور’’فکشن پر مکالمہ ‘‘ان کے تنقیدی مضامین کا مجموعہ ہے۔
دو اور ایسے فنکار ہمارے درمیان موجود ہیں جنہوں نے افسانے تو لکھے ہیںلیکن بنیادی طور پر ناول نگار ہیں۔ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر۔۔۔۔۔۔ شاید دونوں کے لیے افسانہ نگار ی مین کورس کے بعد سرو ہونے والے desertکی طرح ہے۔ دونوں نے ناول لکھ کر ثابت کر دیا ہے کہ فکشن کے آسمان پر اڑنے کے لیے ان کے پنکھ مضبوط ہیں۔رحمٰن عباس کے اب تک دو ناول’’نخلستان کی تلاش میں‘‘ اور ’’ایک ممنوعہ محبت کی کہانی‘‘منظر عام پر آ چکے ہیں۔ان کا پہلا ناول جس قدر کمزور اور لچر تھا دوسرا اتنا ہی thought provokingاور توانا۔زبان کے پُر تکلف اور شاعرانہ استعمال کے باوجود رحمٰن نے اپنے اس نئے ناول میں کوکن کے گائوں بدلتے لینڈاسکیپ کواپنی نظر سے دیکھنے ،اپنے ذہن سے سوچنے اور اپنے محاورے میں اسے دریافت کرنے کی جرائت مندانہ کوشش کی ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آخراس ناول پر اچھے مضامین اور تجزیے تو جانے دیجئے ڈھنگ کے تبصرے بھی کیوں نہیں آئے ؟
کیا اس کی وجہ اس کا موضوع ہے؟
۔رحمٰن عباس نے کچھ افسانے بھی لکھے ہیں مگر وہ تعداد میں اتنے کم اور فکری وحدت میں اس قدرمعمولیہیں کہ ان کے فنی رویے کی نشاندہی کرنے سے قاصر ہیں۔لگ بھگ یہی بات ہم صادقہ نواب سحر کے افسانوں کے تعلق سے کہہ سکتے ہیں۔ البتہ’’کہانی کوئی سنائو متاشا‘‘ ناول لکھ کر بحیثیت فکشن نگارصادقہ نواب سحر نے اپنی شناخت درج کر لی ہے۔ناول کے کرافٹ اور متن کے ایک خوشگوار تال میل نے ان کے ناول کو دلچسپ اور readableبنا دیا ہے۔ تازہ ہوا لانے والی کوئی کھڑکی اچانک کھل جانے کا احساس اس ناول سے ہوتا ہے اور اہم بات یہ ہے کہ اسے لوگوں نے respondبھی کیا۔اس کی وجہ ظاہر ہے ناول میںپیش کی گئی نسائی حسیت اور سوز و گداز سے بھرے احساسات اوراپنے آس پاس بکھری زندگی پر ناول نگار کی گہری ،شفاف اورحساّس نگاہیں ہیں۔ناول کے اجزائے ترکیبی پر گہری نظر کے علاوہ صادقہ نواب کی پی آر شپ نے بھی اس ناول کو پروجیکٹ کرنے میں اہم بھومیکا نبھائی ہے۔ جہاں تک افسانہ نگاری کا تعلق ہے وہ رحمٰن عباس اور صادقہ نواب سحر کا اصل میدان نہیں لیکن پھر بھی ان سے اچھے اور یادگار افسانوں کی امید کی جا سکتی ہے۔ان بھولے بسرے لکھنے والوں کے ریوڑ میں مجھے بھی آپ کالی بھیڑ کے طور پر شامل کر سکتے ہیںکیونکہ میں نے جو دو ڈھائی افسانے تحریر کئے وہ اتنے بچکانہ ، ناپختہ اور trashتھے کہ اب ان کا ذکر کرنا بھی بے کار ہے۔
سنئیر لکھنے والوں میں ساگر سرحدی، محافظ حیدر اور محمود ایوبی نے منہ کا مزہ بدلنے کی خاطر کئی اچھے افسانے لکھے گو کہ ان کی اصل پہچان افسانہ نگار کی نہیں ہے۔ ساگر سرحدی ایک فلم کاراور ڈرامہ نگار کی حیثیت سے جانے اور پہچانے جاتے ہیں۔ بہت کم لوگ واقف ہوں گے کہ انہوں نے افسانے بھی لکھے ہیں۔ان کے افسانوں کی ایک کتاب’’آوازوں کا میوزیم‘‘ اردو میں اور ’’جیو جناور‘‘ ہندی میں شائع ہو چکی ہے۔ساگر سرحدی کی ذہانت، بذلہ سنجی اور تخلیقیت کا جو جلوہ ہمیں ان کے ڈراموں اور مکالموںمیں ملتا ہے افسانوں میں diluteہو گیا ہے۔یہی نہیں موضوعات کو جو تنوع ان کے ڈراموں میں ہے افسانے میں دیکھنے کو نہیں ملتا۔بیشتر افسانے man-woman relationshipکی تفتیش پر قائم ہیں۔ اس رشتے کو دیکھنے والی آنکھیں ایک مرد کی ہیں اور ناک پر ٹکی ہوئی عینک کے lensبھی خالص مردانہ ہیں۔ عورتوں کے مختلف روپ ساگرکے افسانوں میںنظر آتے ہیں مگر وہ مرد کی ہم سفر یا دوست کم اس کی sleeping partnerزیادہ ہے۔ عورتوں کی نفسیات،ان کے خواب اور خوف پر ساگر کی نظر گہری ہے اور پینی بھی۔محبت میں سرشار عورت ہو یا خود فریبی میں گرفتار،نوعمر لڑکی ہو یا بیوہ عورت، ماضی سے خوف زدہ ہو یا مستقبل سے پرامید ،ساگر سرحدی کے افسانوں میں عورتیں اپنے ہاڑ مانس اور سوچ کے ساتھ موجود ہے۔ لیکن مختلف افسانوں کے مرد کرداروں کی گردن پر چہرہ ایک ہی ہے۔یہ کوئی اور نہیں ساگر سرحدی کا ہمزاد ہے۔ شاید اسی لیے ساگر کے ان افسانوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیںڈائری یا یاداشتوںکا گمان سا ہوتا ہے۔ پرسنل ٹچ ان افسانوں کی طاقت ہے تو کمزوری بھی۔ ساگر ہر لفظ، جذبے اور احساس کے پیچھے سے جھانکتے دکھائی دیتے ہیں۔ اگر یہ افسانے ساگر سرحدی کی شخصیت سے اپنے آپ کو بچا پاتے تو شاید اور زیادہ کامیاب ہوتے۔
مکالمہ نگاری ساگر سرحدی کا fortay ہے اور اس میں ان نبض دھڑکتی ہے۔ مکالمہ نگاری ساگر کے افسانوں میں کبھی کردار نگاری کے فرائض انجام دیتی ہے تو کبھی منظر نگاری کی۔
ساگر سرحدی کی طرح محافظ حیدر کا تعلق بھی فلم اور ٹی وی کے میڈیم سے رہا ،جس کی وجہ سے افسانہ لکھنے کے لیے وہ زیادہ وقت نہیں نکال سکے۔ حالانکہ افسانہ بُننے کا آرٹ انہیں بھی خوب آتا ہے،جس کا بین ثبوت ’’کاغذ کی دیوار‘‘ میں شامل ان کے افسانے ہیں۔ ان افسانوں کی سب سے بڑی خوبی ان کی readablity اور originalityہے۔افسانے کی روایت سے الگ ہوئے بنا محافظ حیدر کے ان افسانوں کی اپنی ایک originalityہے۔ تکنیک کے اعتبار سے محافظ حیدر کے یہ افسانے روایت کے تسلسل کا ایک جز ہی ہی معلوم ہوتے ہیںلیکن ان میں معنویت کے لحاظ سے جو تنوع ہوتا ہے وہی ان کے تخلیقی جوہر کا بنیادی نشان ہے۔ فارم ،زبان اور کرافٹ کی سطح پر ان میں کوئی تجربہ نہیں اور نہ ہی موضوع چونکائو ہیں۔ لیکن آرٹ اور کرافٹ کی سطح پریہ افسانے اتنے سدھے ہوئے ہیں کہ یہی سہجتا ان کی USPبن گئی ہے۔ محافظ حیدر کے افسانوں کاقاری ہونے کی حیثیت سے ایک احساس مجھے ہمیشہ سے رہا اپنی تخلیقی انفرادیت، گہری نظر،فنی ہنر مندی اور زندگی کے متنوع تجربات و مشاہدات کا جس قدر فائدہ افسانہ نگار کو اٹھانا چاہئے تھا کسی وجہ سے محروم رہا۔ لیکن اس کے باوجود ان کے کھاتے میں ’’روزنامچے کا ایک ورق‘‘،’’سالگرہ‘‘،’’ہوائی قلعہ‘‘ اور آئیڈنٹیٹی کارڈ‘‘ جیسے خوبصورت افسانے ہیں، جنہیں لکھنے کا خواب کوئی بھی افسانہ نگاردیکھنا پسند کرے گا۔
ساگر سرحدی اور محافظ حیدرکے ساتھ ایک اور نام محمود ایوبی کاہے۔ محمود ایوبی بنیادی طور پر صحافی اور مارکسٹ نظریہ کے حامی تھے۔اکّا دُکّا افسانے تو وہ ابتداء ہی سے لکھ رہے تھے لیکن باقاعدہ افسانہ نگاری انہوں نے انہوں نے ریٹائرمینٹ لائف کے دوران شروع کی۔ ان کے افسانوں کے دو مجموعے ’’دوسری مخلوق‘‘ اور’’پری کتھا‘‘منظر عام پر آچکے ہیں۔
محمود ایوبی کے افسانوں پر instantردّعمل کے طور پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ حقیقت نگاری ہی ان کے افسانوں کا مرکز اور محور ہے۔سیدھے سادے لوگوں کی باتوں کوبہت سادے طریقے سے بیان کردیناہی ان کا ادبی موقف رہا ہے۔ چونکہ صحافت سے محمود ایوبی کا تعلق بہت گہرا تھاچنانچہ اس کا مثبت اور منفی اثر ان کے افسانوں میں نظر آنافطری ہے۔ صحافت کی وجہ سے روز مرہ کے واقعات جنہیں ہم عموماً معمولات کا درجہ دے دیتے ہیں ایوبی صاحب نے انہیں افسانے کے فارم میں ڈھال کر امکانات کی نئی سطح عطا کی۔ لیکن افسانہ نگاری کا فن جس تحمل کامطالبہ کرتا ہے اور افسانے کی ماجرائی پرتیں جس فطری ارتقاء کے ساتھ unfoldہونے کی مانگ کرتی ہیں وہ صحافی محمودایوبی میں کم کم نظر آتی ہے۔ اور لگتا ہے اخبار کی آخری کاپی کی طرح افسانے کو بھی ایک طے شدہ ٹائم میں بھیجنا ضروری ہو۔ اگر یہ افسانے افسانہ نگار کی دوسری نظر اور finishing touches پا لیتے تو شاید ان کی روپ ریکھا اور سنور جاتی۔ کچھ افسانے غیر ضروری طوالت کا شکار ہو گئے ہیں اورانہیں نہ صرف ایڈیٹنگ کی سخت ضرورت بلکہ کئی افسانوں کو سخت ایڈیٹنگ کی ضرورت ہے۔
نوّے کی دہائی میں ممبئی کے جن افسانہ نگاروں نے بڑے زور و شور سے لکھنا شروع کیا تھا اور پڑھنے والوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی تھی ان میں معین الدین جینابڑے کا نام کافی اہم ہے۔ سن2000ء کے آس پاس ان کے افسانوں کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’تعبیر‘‘ کے نام سے جب منظر عام پر آیاتو لوگوں نے ایک اہم افسانہ نگار کی آمد کی آہٹ اس میں محسوس کی لیکن پتہ نہیں اپنے کس فکری،نظریاتی اور جذباتی اسباب کے تحت ان کا دل افسانہ نگاری کی طرف سے ہٹ گیا۔ کیونکہ ادھر ان کے نئے افسانے پڑھنے کو کم کم ہی ملے۔
’’تعبیر‘‘کے افسانوں کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ معین الدین سوچ سوچ کر لکھنے والے افسانہ نگار ہیں اور جو لکھتے ہیں فنی شعور کی بھٹّی میں تپ کر آنے کے بعد ہی لکھتے ہیں۔ اس کتاب میں ’’تعبیر‘‘ ،’’گیت گھاٹ ‘‘اور ’’کہانی‘‘جیسے خوبصورت افسانے ہیں۔معین الدین کا فنی رویّہ واقعات تانے بانے بننے کے بہانے اپنے خیالات کی صورت گیری کرتا ہے جس میں ایک لُپی پتی اور پھونک پھونک کرقدم رکھنے والی محتاط شخصیت سے ہم روبرو ہوتے ہیں۔ میرے خیال میں اپنے آپ کو انڈیلنے کے شوق نے افسانے کے ندیدہ تخلیقی امکانات کو منکشف ہونے نہیں دیا اور اسے معین الدین جینا بڑے نے اپنی شخصیت کا ضمیمہ بنا کر رکھ دیا ہے۔ ’’رنگ ماسٹر‘‘ اس کی عبرتناک مثال ہے۔
جس طرح مقدر حمید زبان کو تصویر کے پُر کشش چوکھٹے کی طرح استعمال کرتے ہیں معین الدین اپنے خیالات کو افسانے میں بھرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ کبھی غائب راوی کے ذریعے تو کبھی کسی کردار کا مکھوٹا پہن کر ۔۔۔۔۔غرضکہ افسانے کی کوئی دیوار ان کے یہاں خالی نہیں۔ قصّہ گوئی میں جب اپنی ادبی ،ثقافتی اور تہذیبی شخصیت کو ظاہر کرنے کا لپکا افسانہ نگار میں پیدا ہو جائے تو سب سے پہلے جو ڈھیر ہوتا ہے اس کا نام افسانہ ہے۔
بنتِ مسعود ،ساگر سرحدی، محافظ حیدر، اقبال نیازی، محمود ایوبی ،معین الدین جینا بڑے یہ ممبئی کے وہ لکھنے والے جن کے فنکارانہ اظہار کا اصل میدان اور ان کی شناخت کا اصل وسیلہ افسانہ نگاری نہیں بلکہ کچھ اور تھا۔اور اس میں شک نہیں کہ اگر اپنی خلاقانہ صلاحیتوں کو وہ افسانوں میںمرتکیز کرتے تو شاید ممبئی کااردو افسانہ اور بھی صاحبِ ثروت کہلاتا۔بہرکیف ان جُز وقتی افسانہ نگاروں اور اتواری مصوروں سے قطع نظر ممبئی میں ایسے لکھنے والوں کی تعدادبہت زیادہ نہیں تواتنی کم بھی نہیں، جن کی شناخت کا بنیادی حوالہ افسانہ اور افسانہ نگاری ہے۔ نئی صدی کے قرب و جوار میں تازہ دم لکھنے والوں میں مظہر سلیم،ایم مبین، اشتیاق سعید،عبدالعزیز خان کے نام اہم ہیں۔
کہا جاتا ہے ٹڈیوں کا آنا کال کی نشانی ہے اور ممبئی کے اردو افسانے پر گزشتہ دیڑھ دو دہائیوں سے ٹڈیوں کے دل منڈلا رہے ہیں۔قرۃالعین حیدر نے اردو افسانے پر مسلط جس میڈیوکریسی کااظہار برسوں پہلے کیا تھا اس کا نہایت ہولناک سایہ ممبئی کے ان عصری افسانہ نگاروں پردیکھا جا سکتا ہے۔اس وقت سریندرپرکاش کا ایک فقرہ یاد آتا ہے جسے اکثروہ اپنے بعد میں آنے والی نسل کے افسانہ نگاروں کو مخاطب کرتے ہوئے نہایت استہزایہ انداز میں کہا کرتے تھے۔’’سچ ہے اردو افسانے پر برا وقت آن پڑا ہے۔‘‘
یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ستّر کے بعد ابھرنے والے افسانہ نگاروں کی نمائندگی سلام بن رزاق کر رہے تھے تو نوّے تک آتے آتے نمائندگی کی یہ پگڑی وقت نے مظہر سلیم کے سر باندھ دی۔ مظہر سلیم 90ء کے آس پاس ممبئی کے ادبی منظر نامے میں ابھرنے والے ایک ایسے افسانہ نگار ہیں جوممبئی میں کم لیکن مہاراشٹر کے دیگر اردو حلقوں میں خاصے مقبول ہیں۔’’جہاد‘‘،’’اپنے حصّے کی دھوپ‘‘کے علاوہ ان کے افسانوں کاایک انتخاب ’’نیا منظر نامہ‘‘(مرتب:ابراہیم اشک) بھی شائع ہوا ہے۔ان کے افسانوں کے ذخیرے میں علامتی، تمثیلی اور بیانیہ سبھی طرز کے افسانے دستیاب ہیں۔ایک محدود اور تنگ دائرے میں گردش کرنے والے ان افسانوں میں کامیاب اور ناکام افسانے شامل ہیں۔لیکن افسانوں کا کامیاب یا ناکام ہونا مظہر کا مسئلہ نہیں ہے۔ کیونکہ اپنے اس محدود دائرے میں مظہر اور مظہر کے یہ افسانے بہت شاداں ہیں۔۔۔اپنے آپ میں مست ۔۔۔۔۔اسی لیے دائرے سے باہر چھلانگ لگانے کی یا اس کا حصار توڑنے کی کوئی جہت ان میں نظر نہیں آتی۔ یہ خود اطمینانی ہی مظہر سلیم کے فنّی رویے کی تشکیل و شناخت کرتی ہے۔ افسانہ ان کے پاس جس فارم میں ،جس زبان میں اور جس تکنیک میں آتا ہے مظہر کان سے پینسل اتار کر اسے لکھ ڈالتے ہیں۔مظہر سلیم کا فنّی رویہ انہیں سکینڈ ٹھاٹ دینا یا اسے re-writeکرنے کا تکلف سہارتا نہیں ہے۔اس تن آسانی ،یا خوش گمانی یا عجلت پسندی نے ان کے بہت سے افسانوں کی مٹی خراب کی ہے اور تیز دھماکے دار بارود کو سلے ہوئے پٹاخوں میں تبدیل کر دیا ہے۔’’نیا مظر نامہ‘‘اور ’’اپنے حصّہ کی دھوپ‘‘کو ہم مظہر کے نمائندہ افسانے کہہ سکتے ہیں۔
ممبئی میں نوّے کے بعد جو افسانہ نگار ابھرے ایم۔ مبین اس نسل کے صفِ اول کے افسانہ نگاروں میں شامل ہیں اس کی وجہ یہ ہے کہ اس نسل کی دوسری صف تیار ہی نہیں ہو سکی۔ ایم مبین کے کچھ افسانے ادھر ادھر رسائل میں پڑھے تھے لیکن ان میں کوئی افسانہ بھی حافظہ میں محفوظ نہیں ہے۔ان کے اب تک تین افسانوی مجموعے منظر عام پر آچکے ہیں ’’ٹوٹی چھت کا مکان‘‘اور ’’نئی صدی کاعذاب ‘‘اردو میں اور’’اذان ‘‘ ہندی میں ۔۔۔۔۔میرے پاس ان کی کوئی کتاب نہیں تھی لہذا ویب سائٹ سے ان کے اٹھائس افسانے پڑھے جو انہوں نے up loadکئے ہیں۔یہ دیکھ کر خوشی بھی ہوئی کہ اردو کے افسانہ نگار بھی اب وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چل رہے ہیں۔ایم مبین کے افسانوں کو پڑھتے ہی خوشی کا یہ احساس کہیں تحلیل ہو گیا۔ان کے بیشتر افسانے پرانی لیک پر چلنے والے افسانے ہیں اور انہیں پڑھتے ہوئے سمجھ میں نہیں آتا کہ ہم کب گابرئیل گارسیا مارکیز کی طلسمی حقیقت نگاری کے دورسے نکل کرماضی کے سہیل عظیم آبادی کی حقیقت نگاری کے دور میں پہنچ جاتے ہیں۔۔۔۔جن پڑھنے والوں کو باریکیوں کی تلاش ہوتی ہے بلاشبہ انہیں ایم مبین کے افسانوں سے مایوسی ہی ہوگی۔ یہ افسانے قاری کی بصیرت اور بصارت کا امتحان لیے بنا ہی اپنی حقیقت منکشف کر دیتے ہیں اور یوں پڑھنے والے کوفن کے اسرار و رموز کی تفہیم کے لیے جدوجہد نہیں کرنی پڑتی۔ ان افسانوں کی کوئی خوبی ہے تو بیانیہ کی روانی اور اسلوب کی سادگی ۔۔۔۔۔۔لیکن یہ سادگی سادہ لوحی کی کوکھ سے برآمد ہوئی ہے لہذا مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ ان اٹھائس افسانوںمیں ایک افسانہ بھی ایسا نہیں جو ذہن کے تاروں کو جھنجھوڑ دے یا جسے پڑھ کر قاری اندر سے جگمگا اٹھے۔ جو چیز سب سے زیادہ کھلتی ہے وہ ان کی سطحیت ، اکہریت اورفکری افلاسیت ۔۔۔۔۔۔اگر آپ مجھے ایم مبین کے دو نمائندہ افسانے منتخب کرنے کے لیے کہیں گے تو میں ’’سمینٹ میں دفن آدمی ‘‘اور ’’نئی صدی کا عذاب‘‘ کا نام لوں گا۔
اردو فکشن کے قاری کے لیے عبدالعزیز خان کا نام نامانوس نہیں ہے۔ گزشتہ ایک دہائی سے وہ تھوک کے بھائو سے افسانے لکھ کر ممبئی عصری اردو افسانے سے اپنا بھر پور تعارف کرا رہے ہیں۔ان دس برسوں میں انہوں نے اردو فکشن میں جو کارہائے نمایاں انجام دئے ہیں اس کے لیے اگر لمکا گینئس بُک میں ان کا نام درج ہو جائے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ ’’ باتوں سے بنی کہانیاں‘‘ کے تحت ایک ہزار کے قریب مکالماتی افسانے لکھنے کا اعزاز بھی انہیں حاصل ہے۔یہی نہیں’’بریکنگ نیوز‘‘ کے عنوان سے صرف پندرہ صفحات پر ناول لکھنے کا ریکارڈ توڑ کمال بھی جس شخص نے انجام دیا ہے اس کا نام عندالعزیز خان ہے۔پچھلے دنوں ان کی ’’ایک سطری افسانوں‘‘ کی کتاب بھی منظر عام پر آچکی ہے۔پھول کی جگہ پنکھڑی جمع کرنے کے شوق نے ہی عزیز خان سے یہ آٹھ سو بیانوّے یک سطری افسانے لکھوائے ہیں۔حوصلہ اگر ساتھ رہا تو بعید از قیاس نہیں کہ وہ ’’یک لفظی‘‘ افسانے لکھنے کی بدعت شروع کردیں۔ان کے پیش رواور ہم عصر لکھنے والوں کے سینوں میں اب جبکہ سانسیں نہیں سما رہی ہیں اور ان کی تحریروں سے ہانپنے کی آواز صاف سنائی دینے لگی ہے ، عبدالعزیز خان بفضلِ تعالیٰ مسلسل لکھے جا رہے ہیں۔ان کا قلم سرپٹ دوڑ رہاہے۔ پانچ ناولوں کے ایک مجموعے کے علاوہ ان کے کئی افسانوی مجموعے ’’ایک اور بجوکا‘‘،’’مونالیزا کی مسکراہٹ‘‘ ،’’فساد،کرفیو اور کرفیو کے بعد‘‘ ،’’اور بجوکا ننگا ہو گیا‘‘اور ’’سلم ڈاگ ملینئر ۔‘‘ بڑے ٹیم ٹام اور ٹھاٹ باٹ کے ساتھ شائع ہوئے ہیں اور۔۔۔۔اور بس۔۔۔۔۔۔۔۔
نوّے کے بعد ممبئی کے فکشن کے آسمان پر چمکنے والے سبھی ستاروں کے ساتھ ٹریجڈی یہ ہے کہ ڈھیر سارا لکھنے کے باوجود بھی بے توفیقی کا یہ عالم ہے کہ ان کی کوئی تحریر، کوئی افسانہ اپنی فنی قدر و قیمت کے بوتے پر قاری کے ذہن میںاپنے عنوان ریکارڈ نہیں کرواپایا ہے۔ ایک عرصے کے بعد فن اور فنکار یا افسانہ اور افسانہ نگار ایک دوسرے کی شناخت کا حوالہ بن جاتے ہیں۔ دور کیوں جائیں ’’ڈونگر واڑی کے گدھ ‘‘کے ساتھ ہی علی امام نقوی یاد آ جاتے ہیں یا انور خان کا نام لیا جائے تو دوسرے ہی لمحے ’’لمحوں کی موت ‘‘ سے لے کر’’ کتاب دار کا خواب ‘‘تک کتنے ہی افسانوں کے عنوانات ذہن کے افق پر تیرنے لگتے ہیں۔ سریندرپرکاش، سلام بن رزاق،ساجد رشید،م ناگ کے ساتھ بھی لگ بھگ یہی معاملہ ہے مگر مظہرسلیم ہوں یا اشتیاق سعید یا ان کے دوسرے رفقاء اس قدر بے مایا اور تہی دست ہیں کہ ایک عرصے سے لکھنے بلکہ مسلسل لکھتے رہنے کے باوجود ان کی کوئی تحریر قاری کے ذہن میں مستقیل جگہ بنائے رکھنے میں ہنوز ناکام ہے۔
اشتیاق سعید کا تعلق بھی اس صدی کے آغاز میں ابھرنے والی نسل سے ہے۔ افسانہ نگاری سے قبل انہوں نے ڈرامے بھی تحریر کئے ہیں۔ان کا تحریر کردہ ڈرامہ’’نعرہ بکتا ہے‘‘کتابی شکل میں دستیاب ہے۔حال ہی میں ان کے افسانوں کا مجموعہ ’’ہل جوتا‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے۔اس میں کُل اٹھارہ افسانے اور ایک مقدمہ ہے۔ان کے تحریر کردہ مقدمے سے پتہ چلتا ہے کہ ساجد رشید کو وہ اپنا mantor مانتے ہیں۔کاش وہ ساجد رشید سے کہانی کہنے کے گُر بھی سیکھتے۔
ہندی میں گائوں کے افسانے نسبتاً زیادہ لکھے گئے ہیں اردو میں تو گائوں میں قیام پذیر قلمکاروں کی تحریروں میں بھی شہر چیختا اورچنگھاڑتا ہے۔بے شک ان دنوں شہر و گائوں کی دوریاں مٹتی جا رہی ہیں اوردونوں کی شکلیں ملتی جا رہی ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ گا ئوں یا شہر کا پس منظر افسانہ نگار کے اسلوبیاتی بنیاد کی نشاندہی تو کر سکتا ہے لیکن فنی سا لمیت اور تخلیقی وحدت کا جواز نہیں بن سکتا لیکن پھر بھی یہ اشتیاق سعید نے ممبئی جیسے شہر میں رہتے ہوئے گائوںکے back dropمیں افسانے لکھے اور یہی ان کی شناخت بھی ہے۔
دہاڑی پر کام کرنے والے کسان،کھیت کھلیان،لہلہاتی فصل،جیٹھ بیساکھ کی چلچلاتی دھوپ،ساون کی پہلی پھوار،گوبر کی لپائی کرتی عورتیں ،مہنت، پردھان،پروہت،گائوں کی چوپال،جن پنچایت،کھیت کی منڈیریں،ستیہ نارائین کی کتھا،گائے کے ڈکارنے کی آوازیں،مونج کی رسی سے بندھے کھیتوں میں کھڑے بجوکا،سوکھتے ہوئے کنویںِ،کھیتوں میں اچانک پھوٹتے پانی کے چشمے ،ہریجنوں کی بستی،مہواکی شراب،مٹی کی سوندھی سوندھی مہکاریں،حقّہ گڑگڑاتے ،بلغم تھوکتے بوڑھے ،ٹیوب ویل،گائوں کی عورتیں،چرن چھوتے اور آشیرواد لیتے بچے اور جوان،دیوی پرکوپ سے خوفزدہ لوگ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔غرضکہ اشتیاق سعید ان کے افسانوںمیں دیہی زندگی کے منظر جا بجا ابھرتے ہیںلیکن یہ تخلیقی وحدت کا حصّہ نہیں بنتے بس افسانوی فریم ورک میں آدھے ادھورے اور شکستہ بجوکا کی طرح بے حس و بے حرکت ہاتھ پسارے جہاں تہاں کھڑے نظر آتے ہیں۔stock emotionsنے افسانے کی روح کو بری طرح مجروح کیا ہے۔
ڈرامہ سے اشتیاق سعید کا تعلق کس قدر گہرا رہا ہے لیکن ان کے افسانوں کا بیانیہ میں وہ تجسس خیزی اور بصری ڈرامائی صورتحال کر داروں کا تصادم اور سچویشنز کی کشمکش کا فقدان ہے جو اکہریت اور سپاٹ پن کو جنم دیتا ہے۔ کہیںکہیں انہوں نے جذباتی شدّت پیدا کرنے یا کیفیت کو ابھارنے کی خاطر اپنے لہجے کو انڈر لائین کیا ہے جس نے افسانوی بیانیہ کی روانی کو بری طرح متاثر کیا اور کرداروں کو fakeبنا دیا ہے۔ اشتیاق سعید بھی برسوں سے لکھ رہے ہیں لیکن ابھی تک ان کے قلم تلے رکھا ہوا کورا کاغذ ایک ایسے افسانے کا منتظیر ہے جسے ممبئی کی بھاشا میں ’’سالڈ‘‘ کہا جاتا ہے لیکن قمبرعلی جیسوں کی بھی ہمارے یہاں کمی نہیںجنہیں اشتیاق سعید کا ’’بجوکا‘‘ افسانہ سریندر پرکاش اور سلام بن رزاق کے ’’بجوکا ‘‘سے زیادہ بہترافسانہ لگتا ہے۔ ویسے تو کمی تو ہمارے یہاں ایسے لوگوں کی بھی نہیں ہے جن کا ماننا ہے کہ امریکن excentمیں انگریزی بولنے سے دانتوں کو کیڑے نہیں لگتے۔ کیا کیا جائے؟؟؟
اصل مسئلہ نئے لکھنے والوںکی مجرمانہ معصومیت اور سادہ لوحی ہے جو اپنے متعلق کہے یا لکھے ہر توصیفی کلمات پر ایمان لانے کے لیے تیار بیٹھی ہوئی ہے۔اب چاہے کسی نقادکے نجی خط میں رسماً لکھی ہوئی عبارت ہو یا کسی سنئیر رائٹر کے ذریعے مروتاً تحریر کیاگیا تعریفی نوٹ ہو۔ ان توصیفی کلمات اور تبصروں کو اگر کوئی اپنے کارناموں کا momento سمجھنے لگے تو بھلا کوئی کیا کر سکتا ہے۔نئے لکھنے والوں میں اکبر عابد قریشی اور ڈاکٹر سلیم خان کے نام بھی لیے جا سکتے ہیں۔سلیم خان کے افسانوں کا مجموعہ ’’حصار‘‘ کے نام سے شائع ہوا ہے جو زندگی کی کثافتوںپر رومانی لطافتوں کے غالب آنے کی داستان بیان کرتے ہیں جبکہ اکبر عابد قریشی نے اپنی کتاب ’’چپ چاپ‘‘ میں زندگی کے چھوٹے چھوٹے مسائل کو موضوع بنایا ہے۔ان کے علاوہ محتشم اکبر اور شاداب رشید بھی ان دنوں افسانہ لکھنے میں مصروف ہیں۔ان کے افسانے مقامی اخبارات میں شائع ہوتے رہتے ہیں۔
آخر میں اپنے اس مضمون کو سمیٹتے ہوئے اتنا کہوںگا کہ زندگی کو جس روپ میں پریم چند، سریندر پرکاش، سلام بن رزاق دیکھ رہے تھے وہ زندگی بعد کے لکھنے والوں کے حصّے میں نہیں آئی۔ گزشتہ بیس برسوںجو اقدار بدلی ہیں،جینے کے جو pattern تبدیل ہوئے ہیں اس نے زندگی کوجس قدر پے چیدہ اور مشکل بنا یا ہے وہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ہے۔ کہنے کے لیے دنیا کو ایک عالمی گائوں یعنی گلوبل ولیج میں بدل دیا گیاہے مگر اسی کے ساتھglobal marketingکے ان گنت آ ہنی ہاتھ نہایت تیزی، چالاکی، ہنرمندی اور ظالمانہ طریقے سے ہمارے معاشرے، ہماری ثقافت اور وراثت کودبوچ رہے ہیں۔جو لفظ نئے لکھنے والوں نے وراثت میں پائے تھے وہ لفظ اپنی حرمت بھی کھو چکے ہیںاور معنویت بھی۔
ایک وقت تھا جب ہر دس سال بعدافسانہ نگاروں کی کھیپ نمودار ہوجایا کرتی تھی اور اب صورتحال قحطِ دمشق کی سی ہے۔ ممبئی کے افسانوں کی محفل ودھوا کے آنچل جیسی اجڑی ہوئی ہے اورنئے افسانہ نگارblack patch سے گزر رہے ہیںگو کہ اس برے وقت کے لیے وہ خود جتنے ذمہ دارنہیں ہیں اس سے زیادہ وہ ماحول اور وقت بھی ہے جس میں وہ لکھ رہے ہیں۔
زندگی جس طرح آج کے انسان کو برت رہی ہے اس نے آرٹسٹ کے سر پر دوہری ذمہ داری سونپ دی ہے۔ اپنی تخلیقی نہج اور فنی ترجیحات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آج کی زندگی سے اپنے محاورے حاصل کرنااس کے لیے اشد ضروری ہے۔ لیکن حیرت کی بات ہے اور حیرت سے زیادہ افسوس کی بات ہے کہ نوّے کے افسانہ نگاروں کے پاس نہ تو آج کی زندگی کو پیش کرنے لیے آج کے محاورے ہیں نہ ہی نئی حسّیت۔۔۔۔۔۔ اظہار کے toolsتک زنگ آلود ہیں۔ شاید اسی لیے سماجی اور جذباتی مطالعات کے ساتھ جو نئے رحجانات ممبئی کے اردو فکشن میں طلوع ہونے چاہئے وہ موضوعاتی سطح پر تو کہیں کہیں اپنی جھلک دکھلا جاتے ہیں لیکن یہ رحجانات تخلیقی تجربے کی وحدت میں مبّدل ہوتے نظر نہیں آ رہے ہیں۔ ممبئی کے یہ نئے لکھنے والے (گو کہ ان کے برتھ سر ٹیفکیٹ میں درج ان کی عمر اور ان کی کنپٹیوں پر ابھرتی سفیدی مجھے ان کو نیا کہنے سے روکتی ہے ) ابھی تک اپنے سنئیراور پیش رئو لکھنے والوں کی دال سے کام چلا رہے ہیںاور بہت فاصلے سے ان کے پیچھے پیچھے چلے جا رہے ہیں۔ستم ظریفی یہ ہے اپنی فنی مفلسی اور فکری کنگالی کا انہیں احساس تک نہیں۔ ان نئے لکھنے والوں کے افسانوں کے مطالعے کے بعد پتہ چلتا ہے کہ ستّر پانچ پچھتر سالہ بزرگ افسانہ نگار اقبال مجید ان لوگوں سے کہیں زیادہ جواں سال اور ماڈرن ہے۔ احساس و ادراک میں بھی اور فنی رویوں کے اظہار میں بھی۔
آپ کا کیا خیال ہے؟

Majaz Ka Tassaur E Jamal

Articles

مجازؔ کا تصور ِجمال

ڈاکٹر رشید اشرف خان

 

 

دنیا کی ہر قدیم و جدید زبان کا شعری و نثری ادب اور آرٹ کے سبھی اسکول تذکرۂ حسن وجمال سے بھرے پڑے ہیں ۔زبان خواہ ادب کی ہو یا رنگ ونور کی موسیقی کی ہو یا رقص وسرود کی ، بہر حال کسی نہ کسی شکل و صورت میں نمائش و اظہار حسن وجمال سے عاری نہیں ہے۔اس نمائش واظہار کے طریقے اور مظاہر گونا گوں ہیں۔شرط یہ ہے کہ دیکھنے والی آنکھیں ، سننے والے کان، محسوس کرنے والادل اور سمجھنے والا دماغ ہو۔
’’جمالیات‘‘ نسبتاََ ایک قدرے جدید اصطلاح ِ ادب سمجھی جاتی ہے لیکن حقیقتاََ ایسا نہیں ہے ۔ البتہ اس کو سمجھنے اور محل استعمال کے سائنٹفک مطالعہ کی کوششیں کسی قدر نئی ضرور ہیں ۔ جمالیات کے بنیادی موضوع کے متعلق ہم اس وقت تک کچھ نہیں کہہ سکتے جب تک اس کا علم حاصل نہ ہوجائے اور اس کے جوہر کی پہچان نہ ہوجائے۔ جمالیات کی ایک بڑی تاریخ ہے، اس نے بہت سی ارتقائی منزلیں طے کی ہیں۔ اگرچہ جمالیات بذات خود ایک فلسفیانہ اور تکنیکی اصطلاح ہے لیکن خود جمالیات نے کتنی نئی اور معنی خیز اصطلاحوں کو جنم دیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ لفظ’’ جمالیات‘‘ کی صرف ایک مکمل تعریف پیش کرنا ممکن نہیں ، پیاز کے چھلکوں کی طرح اس کے معانی و مفاہیم تہہ بہ تہہ ، پرت در پرت پوشیدہ ہیں۔جمالیاتی تصورات کو مختلف مثالوں ، نمونوں اور تشریحات کے ذریعہ سمجھا اور سمجھایا جاسکتا ہے۔اس تھیوری کو سمجھنے کے لیے اسرارالحق مجازؔ کی شاعری کو نقطۂ مطالعہ بنایا گیاہے۔
کلیات مجاز ’’آہنگ‘‘ اور ان پر لکھے گئے مختلف النوع مضامین کے بالاستیعاب مطالعے سے جمالیات کی راہیں پہلے سے کہیں زیادہ روشن ہوجاتی ہیں۔مثال کے طور پر مجاز کی نظم ’’ تعارف‘‘ کو ان کے جمالیاتی شعور کا نچوڑ سمجھا جاسکتا ہے۔ کلیات مجاز کا وہ ایڈیشن جسے آزاد کتاب گھر کلاں محل دہلی نے مارچ ۱۹۵۲ء میں شائع کیا تھاجس میں نظم تعارف صفحہ ۶۱ پر شائع کی گئی ہے جب کہ اصول ترتیب کے اعتبار سے اسے فیض احمد فیض کے تحریر کردہ دیباچہ کے فوراََ بعد ہونا تھا ۔ نظم کے اختتام پر سن تصنیف ۱۹۳۵ء لکھا ہوا ہے جب کہ صحیح سن تصنیف ۲۸ ستمبر ۱۹۳۱ء ہے یہ مستند خبرمجاز کے والد سراج الحق نے پنے عزیز دوست شیخ ممتاز حسین جونپوری کو دی تھی جس کو انھوں نے اپنے ایک مضمون میں اس طرح نقل کیا ہے:
’’مجازؔ نے اپنی تعارف والی نظم جو ۲۸ستمبر ۱۹۳۱ء کو اپنے کرم فرما آصف علی صاحب ایم۔ایل ۔اے کے آرام کمرے میں بیٹھ کر خدا جانے کیا سوچ کر لکھی تھی‘‘
( مضمون: مجاز کا سوگ اور اس کی شاعری، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱)
اگر جامع و مانع انداز میں کہا جائے تو مجاز سراپا جمال تھے یعنی ان کوقدرت نے کچھ ایسی حسن پرستی اور جمال پسندی عطا فرمائی تھی کہ وہ کائنات کی بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی چیزمیں جلوۂ جمال دیکھ سکتے تھے۔ مثال کے طور پر نظم’’تعارف‘‘ حقیقی معنوں میں از ابتدا تا انتہا مجازؔ کے ذوق جمال کی بولتی تصویر ہے۔نظم کا مطلع یا پہلا شعر خیالات وجذبات شاعر کی افہام وتفہیم میں بلا مبالغہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے :
خوب پہچان لو اسرار ہوں میں
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
پہلے مصرعے کی تحکمانہ بناوٹ مصرع کی جزالت و معنویت کو کہیں سے کہیں پہنچا رہی ہے۔ بجائے اپنے تخلص کے نام اسرار( اسرارالحق) کا استعمال جان بوجھ کر کیا گیا ہے۔ معنوی اعتبار سے ’’اسرار ‘‘ جو ’’سِر‘‘ بمعنی راز کی جمع ہے ، شاعر کی شخصیت میں ایک خاص وزن ووقارکا آئینہ دار ہے۔ بہ الفاظ دیگر شاعر اپنے وجود اور اس وجود سے منسلک درجنوں رازوں کے پوشیدہ ہونے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جب ہم اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوجاتے ہیں تو وہ یکے بعد دیگرے ہر راز کھولتا چلا جاتا ہے مثلاََ :
جنسِ الفت کا طلب گار ہوں میں
مصرعۂ ثانی کا بے ساختہ پن یا بے تکلفی شاعر کی مکمل شخصیت کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ بالکل ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کسی تھیٹر کا پردہ اچانک کھلا اور پردے کے پیچھے چھپے ہوئے مناظر و کردار ہماری نگاہوں کے سامنے آنے لگے۔ یہ ڈرامائی کیفیت نہایت درجہ آگاہ کن(Alarming) اور مہیّج (Stimulating)ہے۔ شاعر نے جنس الفت کے علاوہ کسی دوسری چیزکی طلب گار ی ہی نہیں کی۔ اسی بات کو یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ شاعر ہر اس شے ، وجود یا جذبے کو پسند کرتا ہے جس میں جنس یا اس کی پسندیدگی شامل ہو۔ بس یہی پسند تو ’’جمالیت‘‘ ہے خواہ اس کی تعمیر میں منفیت ہو یا اثبات ہو۔ رومان کا مرکز ثقل ہر خوبصورتی ہے۔ جب کہ جمالیات کا نعرہ یہ ہے کہ جو بھی چیز مجھے پسند ہے وہ حسین ہے۔
ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ مجازؔ کی شاعری میں قطعی طور پر رومان کا فقدان ہے لیکن مادی اور جنسی محبت کے ساتھ ساتھ ان کے اشعار میں جمالیات کے نقطۂ نظرکی بھی حد سے زیادہ کارفرمائی ہے ۔ جمال پرستی کا پہلا نمونہ ہمیں اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ہم مجاز کو علی گڑھ میں ایک طالب علم کی حیثیت سے دیکھتے ہیں۔ اپنی یاد گار زمانہ نظم ’’نذر علی گڑھ‘‘ ۱۹۳۶ء میں مجاز کہتے ہیں:
اس فرش سے ہم نے اڑ اڑ کر افلاک کے تارے توڑے ہیں
ناہید سے کی ہے سر گوشی ، پروین سے رشتے جوڑے ہیں
اس بزم میں تیغیں کھینچی ہیں، اس بزم میں ساغر توڑے ہیں
اس بزم میں آنکھ بچھائی ہے ، اس بزم میں دل تک جوڑے ہیں
بادی النظر میں ایک عام قاری یا اردو ادب کا ایک باضابطہ ذہین طالب علم مذکورہ بالا مصرعوں کی تشریح کرتے ہوئے یہی کہے گا کہ ناہید وپروین افلاک کے دو بلند پایہ خوب صورت اور روشن ستارے ہیں لیکن حیاتِ مجاز کے پس منظر میں شاید لاشعوری طور پر ان کا استعمال تزئینِ بیان کے لیے کیا گیا ہے۔پروفیسر قاضی افضال حسین نے لکھا ہے کہ:
’’ہم اسے مجاز ؔکا خاص انداز بھی تصور کرسکتے ہیں کہ انھوں نے اپنے اشعار میں ایسے اسما نظم کیے ہیں جو ہمارے معاشرہ میں لڑکیوں کے عام نام خیال کیے جاتے ہیں ۔ پروفیسر محمد حسن نے اپنے ایک مضمون میں نذر علی گڑھ کے (مذکورۂ بالا) ایک شعر کی نشان دہی کی ہے جس میں ناہید اور پروین کا نام آیا ہے ،جن کی طرف سے مجاز کے لیے پیغام آیا تھا‘‘
( مضمون: عشق مجازی اور دیوانگی، مشمولہ نیا دور مجاز نمبر ستمبر، اکتوبر ۲۰۱۲ء ص ۱۱۳)
’’نورا‘‘ مجازؔکی ایک نمایندہ نظم ہے ۔ ۳۵ اشعار پر مشتمل اس نظم کا ذیلی عنوان ’’نرس کی چارہ گری‘‘ ہے۔اس کو پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ’’نورا‘‘ کی معصومیت اور والہانہ خدمت گزاری نے جس طرح بیمار مجازؔ کے احساس جمال کو مہمیز کیا ہے۔ شاعر کی کشادہ دلی اور بے تعصبی دیکھیے کہ وہ نرس کی شخصیت اور عقیدے کی بھی پذیرائی کررہا ہے ۔اس سے انجیل مقدس کی تلاوت کو عقیدت بھرے کانوں سے سن رہا ہے۔ اسے بنت مریم ، ارض کلیسا کی ماہ پارہ تثلیث کی دختر نیک اختر اور کنیز سلیمان کے القاب سے یاد کرتا ہے پھر اس سے خاموش محبت کا اظہار کرتا ہے۔ اس اظہارکی پاکیزگی اور بے ساختگی نے اس بھولی بھالی معصوم نرس کے منھ یہ پیغام کہلوالیا کہ ع
کہ کس روز آؤ گے بیمار ہوکر
مجازؔ ایک ایسا شاعر ہے جو محض رومانی خیالات اور بیان عشق و محبت تک ہی ا پنی شعری تخلیقات کو محدود نہیں رکھتابلکہ جب یہ رومان جذبۂ عشق و محبت اور کاروبار شوق پختہ تر اور تابندہ تر ہوجاتا ہے تو شاعر کی نگاہ ماورائے حسن و عشق بھی دیکھنے لگتی ہے۔ اب وہ حسین اشیا اور پر کشش واقعات کے علاوہ کم رتبہ اشخاص، غیر اہم واقعات ، غیر شاعرانہ مناظر اور اکثر ناپسندیدہ باتوں میں بھی حسن کی علامتیں ، عشق کی سرگرمیاں اور غیر ذی روح میں بھی روحانیت کی جھلکیاں دیکھنے لگتا ہے۔ یہ بصارت کی معراج ہے جو سفرِ بصیرت میں بھی فن کار کی معاونت کرنے لگتی ہے۔ مثال کے طور مجازؔ کی نظم ’’رات اور ریل‘‘ کا حوالہ دیا جاسکتا ہے ۔یہ نظم چالیس اشعار پر مشتمل ہے اور ۱۹۳۳ء کی تخلیق ہے جب ہندوستان میں ترقی پسند تحریک کی شروعات نہیں ہوئی تھی۔ مجازؔ انجمن ترقی پسند مصنفین سے وابستہ تو تھے لیکن ’’رات اور ریل‘‘ اس انجمن کا ثمر پیش رس نہیں تھی۔ انھوں نے آگرہ میں انٹر میڈیٹ کے طالب علم کی حیثیت سے ۱۹۲۹ء میں شاعری شروع کی تھی ۔ ۱۹۲۹ء اور ۱۹۳۳ء میں محض چار سال کا فرق ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مجازؔ نے انگریزی میں Robert Southey کی نظم ’’The Train‘‘ اور لسان العصر اکبر الہ آبادی کی نظم ’’ریل‘‘ ضرور پڑھی ہوگی لیکن ’’رات اور ریل‘‘ مجازؔ کی طبع زاد نظم ہے۔ ان کاذہن جذبیؔ، فانیؔ اور آل احمدسرور کی صحبت میں اتنا ترقی پذیر ، مشاہدہ اتنا بالغ اور زبان اتنی پختہ ہوچکی تھی کہ فطری احساس جمال کی آبیاری اس درجہ باثمر ہوگئی۔ ریل کا بیان چھوٹے بچوں کے لیے صرف تفریح اور دل بستگی کا سامان ہوتا ہے جیسا کہ مجازؔ نے کہا ہے کہ ع
نونہالوں کو سناتی ، میٹھی میٹھی لوریاں
خیر یہ تو الگ بحث ہے۔ نظم کو پڑھ کر ایک سنجیدہ قاری بڑی شدت سے محسوس کرتا ہے کہ شاعر کا لب ولہجہ نرم اور رومانوی ہے اس میں ترقی پسندوں کے علم باغیانہ اور انقلابی تیور نہیںہیں لیکن سچ تو یہ ہے کہ شاعر کے دل ودماغ میں انقلابی جراثیم کی موجودگی سے یکسر انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے باوجود اگر ہم غور کریں تو بیک وقت کئی جمالیاتی پہلو اندھیرے میں رہ رہ کر ہماری آنکھوں کو چکا چوند کردیتے ہیں۔ مثلاََ نیم شب کی خامشی، زیر لب گنگنانا، چھم چھم کا سرود دل نشیں ، نازنینوں کو سنہرے خواب دکھانا، سیماب چھلکانا، رخش بے عناں، چراغ طور دکھلاناوغیرہ یہ تمام صوتی محاسن اور بصری مناظر ایک جمال پسند شاعر کے فنی آلے اور شعر ی اوزار کہے جاسکتے ہیں۔
’’آہنگ‘‘ صرف ایک مجموعہ کلام ہی نہیں بلکہ مجازؔ کے لطیف جذبات اور فلک بوس خیالات کا دل نواز غیر فانی البم بھی ہے۔جمالیاتی نقطۂ نظر سے دیکھیں تو ’’ آوارہ ‘‘ بھی مجاز ؔ کا ایک شاہکار ہے۔ یہ نظم ۱۹۳۷ء میں کہی گئی تھی ۔اس زمانے میں مجاز ؔ آل انڈیا ریڈیو ، نئی دہلی سے منسلک تھے اور A.I.R. کے رکن کی حیثیت سے پندرہ روزہ ’’آواز‘‘ کا سب ایڈیٹر تھے۔ مجازؔ کی بہن حمیدہ سالم لکھتی ہیں :
’’ جگن بھیا۱۹۳۶ء میں دہلی گئے اور تقریباََ ایک سال تک ’’آواز‘‘ کی سب ایڈیٹری کے فرائض انجام دیے۔ دہلی کے قیام کے دوران جگن بھیا کے دل نے ایک ایسی چوٹ کھائی جس کا زخم ان کی زندگی میں کبھی نہ بھر سکا‘‘
(مضمون: جگن بھیامطبوعہ افکار ، کراچی ، مجاز نمبر ص ۵۶)
دہلی میں لگنے والی جس دلی چوٹ کی طرف مجاز ؔ کی بہن حمیدہ سالم اور کچھ سوانح نگاروں نے اشارہ کیا ہے کہ اس کا سبب زہرہ تھیں جن کی دلکش اداؤں نے شاعر کے دل کو اس درجہ متاثر و محسور کیا کہ وہ فلمی انداز سے مجازؔ کے دل ودماغ پراس قدر مسلط ہوگئیں کہ وہ اپنے ہوش و حواس کھو بیٹھے اور جب پتہ چلا کہ وہ ایک سراب کے پیچھے بھاگ رہے تھے تو ان پر عجیب و غریب وحشت و دیوانگی کا دورہ پڑگیا۔زہرہ کے والد دہلی میں کسی کالج کے پرنسپل تھے۔ ایک بار زہرہ مجازؔ کو اپنے والد سے ملوانے لے گئیں تو پہلے انھوں نے مجازؔ کا خوش روئی سے استقبال کیا لیکن جب مجازؔ سے ان کی آمدنی کے بارے میں پوچھا تو اٹھ کر اندر چلے گئے اور زہرہ سے نہایت ناگوار لہجے میں کہا کہ میں ایسے لوگوں سے نہیں ملتا جس کی آمدنی صرف دو تین ہزار روپے ہو ۔ اس توہین آمیز برتا ؤ کو برداشت نہ کرتے ہوئے مجازؔ زہرہ کے گھر سے چلے آئے۔اوڈین سنیما کے پاس پہنچتے پہنچتے ان کے قلب مضطر کے زخموں کی سوزش ناقابل برداشت ہوگئی ۔ کچھ دیر تک اِدھر اُدھر بے مقصد ٹہلتے رہے، دوکان سے سگریٹ اور کاغذ خریدا اور بنچ پر بیٹھ کر لکھنے لگے:
شہر کی رات ، اور میں ناشاد وناکارہ پھروں
جگمگاتی ، جاگتی سڑکوں پہ آوارہ پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بدر مارا پھروں
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر دہکی ہوئی شمشیر سی
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
یہ روپہلی چھاؤں ، یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ ، لیکن کون جانے کون سمجھے دل کا حال
اے غم دل کیا کروں ، اے وحشت دل کیا کروں
پہلے بند میں ’’ غیر کی بستی‘ سے مراد دہلی ہے جہاں مجازؔ ملازمت کرتے تھے اور یہیں ان کی منظور نظر زہرہ بھی رہتی تھی لہٰذا شاعر کے لیے یہ شہر جمالیات کا مرکز تھا ۔ اگر زہرہ تک شاعر کی مستقل رسائی ممکن ہوتی تو یقین تھا کہ مجازؔ دہلی کو غیر کی بستی کہہ کر نہ پکارتے گو یا دہلی اور زہرہ دونوں شاعر کے لیے لازم و ملزوم تھے۔ ان کی عدم یافت نے گویا احساس جمال میں یکبارگی پچاس فیصدی کمی کردی۔ شاعر کے ذہن میں اس لمحے تک جھلملاتے قمقموں کی زنجیر ، رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر اس وقت تک جلوہ افروز تصورات تھے جب تک زہرہ کے وصل کی آس تھی۔ صوفی کا تصور اور عاشق کا خیال کے استعارے جان بوجھ کر استعمال کیے گئے ہیں کیوں کہ صوفی اللہ کے تصور میں کھویا رہتا ہے اور عاشق اپنی محبوبہ کے خیال میں گم رہتا ہے۔ بہ الفاظ دیگر صوفی اور عاشق دونوں ہی اپنے اپنے نشانات کو شاذ ونادر ہی پاسکتے ہیں۔ جمال بھی بعض اوقات حقیقی موجودات سے آشنا ہوتا ہے اور اکثر و بیشتر خوش فہمیوں کا شکار بنتا ہے۔
پندرہ بندوں پر مشتمل مذکورہ نظم میں ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ ہر بند کا تیسرا مصرع مجازؔ کی شکست اور ہزیمت کا اعلان نامہ محسوس ہوتا ہے ۔ ان مصرعوں میں شاعر کی شکست خوردگی کی علامت بھی ہے اور اس میں پوشیدہ جمال پرستی کے نمونے بھی ہیں جن سے شاعر کو ناقابل بیان لذت آفرینی ملتی ہے ۔ اس لطیف شے کے لیے وہ تا عمر متلاشی اور تمنائی رہے ۔ اس لذت آفرینی کا صحیح احساس آپ کو اور ہم کو نہیں ہوسکتا ۔ اس احساس کے لیے مجازؔ کا سا دل، اس کے خونیں تجربات اور اس قوت آخذۂ جمال کی ضرورت ہے جو خدا نے مجازؔ کو عطا کیا تھا۔
نظم ’’ آوارہ‘‘ کے حوالے سے چند باتیں خصوصیت کے ساتھ عرض کرنی ہیں، پہلی بات یہ کہ نظم رومان سے شروع ہوکر انقلاب پر ختم ہوتی ہے۔ نظم کے نصف حصے تک مجازؔ کی شاعری جمالیات کی بہترین مثال ہے۔نظم کے آخری چار بند جارحانہ اور انقلابی جذبات کی بازگشت ہیں۔ ان بندوں کا لب و لہجہ، Diction اور انداز پیش کش ترقی پسندوں کی حرکیMovementsکا مظہر ہے جس سے شاعر کی چڑچڑاہٹ اور تخریب کاری کا پتہ چلتا ہے۔ علم نفسیات کا اصول ہے کہ محبت ونفرت اعتدال کے ساتھ بیک وقت یکجا نہیں ہوسکتے لہٰذا میرا خیال ہے کہ آوارہ کے ابتدائی بند اوڈین سنیما کے آس پاس کہے گئے ہیں باقی بند بعد میں کسی اور مقام پر کہہ کر اس نظم میں جوڑے گئے ہوں گے۔ آوارہ کے بارے میں یہ بات بڑے وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اس نظم کا جنم مجازؔ کی شراب خوری کے دوران ہرگز نہیں ہوا کیوں کہ زبان کی جو لطافت ، الفاظ کا جو انتخاب اور مصرعوں کی جو ادبی سجاوٹ اس نظم میں نظر آتی ہے وہ نشے کے عالم میں ممکن نہیں۔ ایک قابل توجہ امر یہ ہے کہ آوارہ کے مصرع ’’ پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل‘‘ کی قرات غلط ہے اسے شہناز و لالہ رخ ہونا چاہیے۔ علی گڑھ میں شہناز اور لالہ رخ نام کی دو نوجوان لڑکیاں تھیں جنھیں مجازؔ پسند کرتے تھے۔آخری بات یہ کہ آوارہ سراسر خود کلامی یا Soliloquy(صحبت باخود) کا عملی نمونہ ہے ۔تنہائی جمالیاتی اصطلاح ہے جسے مجازؔ نے اس نظم میں بہ حسن خوبی استعمال کیا ہے۔ فراق گورکھپوری نے لکھا ہے کہ:
’’ یہ نظم شاعر کی زندگی کے آخری چھ سات سال اور اس کے المناک خاتمے کی پیشین گوئی تھی۔ یہ نظم بارود پر چنگاری کے منڈلانے کا منظر پیش کررہی تھی۔نظم کی نوک پلک نظر فریب بھی تھی اور اعلا ن خطرہ بھی کررہی تھی ۔ایک سوئے ہوئے جوالا مکھی کے عنقریب پھٹ جانے کی گڑگڑاہٹیں اس نظم میں سنائی دیتی تھیں۔ نظم میں ایک خطرناک دلکشی تھی ۔اس میں مقناطیسی کشش تھی مگر نظم کے سحر سامری سے انکار ممکن تھا‘‘
(مضمون: ایسے پیدا کہاں ہیں مست وخراب، مشمولہ افکار(کراچی) مجازؔ نمبر ص ۱۷۱)
آوارہ کے علاوہ مجازؔ کی کہی ہوئی نظمیں مثلاََ نذردل، مجبوریاں، نذرخالدہ، خواب سحر،آبنگ نو، آج بھی، لکھنؤ، اعتراف ،بتان حرم اور فکر وغیرہ بھی جمالیاتی مطالعہ کا تقاضہ کرتی ہیں۔
مذکورۂ بالا نظموں کے علاوہ مجازؔ کی تخلیق کردہ غزلیں بھی ان کے مخصوص تغزل کی بو قلمونی اور خیالات وجذبات ست رنگی قوس قزح کی دلکشی ودل ربائی کے سہارے ہمارے احساس شعروشباب اور نوخیز جلوہ ہائے جمال کی منفرد عکاسی کرتی ہیں۔یہاں پر اس بات کا ذکر غیر ضروری نہ ہوگا کہ دنیا میں جتنے بھی فنون لطیفہ ہیں وہ کم وبیش سبھی فلسفۂ جمالیات سے اکتساب فیض کرتے ہیں۔اس ضمن میں پروفیسر قاضی جمال حسین کا یہ محاکمہ قابل توجہ ہے:
’’ بام گارٹن نے حسن کے تمام مظاہر اور احساس حسن کی تمام کیفیات کو جمالیات کے دائرے میں شامل کیا تھا، خواہ اس حسن کا تعلق مناظر فطرت سے ہو، انسانی حسن یا فنون لطیفہ سے۔ ایسی ہر چیز اور ایسے تمام مظاہر حسن جن کا حسی ادراک مسرت بخش ہو اور جو ہمارے احساس جمال کو بر انگیختہ کرے ، جمالیاتی مطالعہ کا موضوع ہے‘‘
( جمالیات اور اردو شاعری ص ۱۳)
اس بیان کی روشنی میں غزلیات مجاز ؔ کا مطالعہ بلا شبہ مسرت بخش اور بصیرت افروز ہے۔بعض کم علم ،جلد باز اور تنگ نظر اشخاص غزل کو ایک محدود ، پسماندہ اور تنگ دامن صنف سخن سمجھتے ہیں جیسا کہ کلیم الدین احمد نے سمجھا اور سمجھایایا بعض نام نہاد ترقی پسندوں نے اس غلط نظریے کی تبلیغ کی ،جب کہ حقیقت یہ ہے کہ غزل کی تثلیث (عاشق، محبوب اور رقیب) کا ئنات کی وسعتوں کو آشکار کرتے آئے ہیں۔ مجازؔنے نظمیں زیادہ کہیں اور غزلیں تعداد میں کم کہی ہیں لیکن جتنی کہی ہیں وہ فنی لحاظ سے بہت عمدہ ہیں۔ مثال کے طورپر یہ غزلیہ اشعار دیکھیے جو ایک سنجیدہ قاری سے مجازؔ کی صناعی اور فن کاری کی داد مانگتی ہے:
حسن کو بے حجاب ہوناتھا
شوق کو کامیاب ہونا تھا
ہجر میں کیف اضطراب نہ پوچھ
خون دل ہی شراب ہونا تھا
تیرے جلوؤں میں گھر گیا آخر
ذرے کو آفتاب ہونا تھا
کچھ تمھاری نگاہ کافر تھی
کچھ مجھے بھی خراب ہونا تھا
جس طرح رنگ برنگی مچھلیاں صاف و شفاف پانی میں ڈبکیاں لگاتی ہوئی خوبصورت نظر آتی ہیں بالکل اسی طرح ایک اچھی غزل کے اشعار رومانیت ، غنائیت اور جمالیت کے رس میں ڈوب کر پڑھنے اور سننے میں بھی اچھے لگتے ہیں اور معنویت اور تاثر کے لحاظ سے بے پناہ ہوتے ہیں ۔مثال کے طور پر یہ شعر دیکھیے:
فلک کی سمت کس حسرت سے تکتے ہیں معاذاللہ
یہ نالے نارسا ہوکر ، یہ آہیں بے اثر ہوکر
اس شعر میں معاذاللہ کی ترکیب کے عرفان سے شاعر نے جو فائدہ اٹھایا ہے وہ معنوی پہلو سے شعر وادب میں مجاز ؔ کا بہترین تحفہ ہے۔نالوں کی نارسائی اور آہوں کی بے اثری کا عالم ، امید وبیم اور حسرت ویاس کے ساتھ نیلے آسمان کو تکتے رہنے کا مزہ اسی کو ہوتا ہے جو ایک فطری جمال پرست عاشق کی طرح زخم کے کرب کی لذت سے آشنا ہو۔ اسی طرح کا ایک اور شعر :
یہ کس کے حسن کے رنگین جلوے چھائے جاتے ہیں
شفق کی سرخیاں بن کر تجلیِ سحر ہوکر
جب عاشق دل میں حسن محبوب کی یاد کو بسا کر آسمان کی طرف تکتا رہتا ہے تو فطری طور پر وہ بہ قدر ذوق نظر فضائے آسمانی سے فیض یاب ہوتا ہے ۔ شفق کی سرخیاں ، صبح کے خوبصورت اجالے کا اس کے دل ودماغ پر اثر پڑتا ہے۔ اس کی نگاہوں میں ایک جہان فکرو نظر آباد ہوجاتا ہے۔ایک غزل میں مجاز ؔ کہتے ہیں:
تو جہاں ہے زمزمہ پرداز ہے
دل جہاں ہے گوش بر آواز ہے
چھپ گئے وہ ساز ہستی چھیڑ کر
اب تو بس آواز ہی آواز ہے
آپ کی مخمور آنکھوں کی قسم
میری میخواری بھی اب تک راز ہے
ان اشعارکو پڑھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ مجازؔ نے بغیر مضمون آفرینی کا مصنوعی سہارا لیے محض رومانی زبان ، ذاتی تجربات اور جذباتی لب ولہجہ استعمال کیا ہے۔ مذکورہ اشعار با لکل نجی عشق کے آئینہ دار ہیں لیکن ان میں جو رنگ جمال پوشیدہ ہے وہ ذاتی ہوکر بھی دوسروں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔اس مختصر سے محاکمے کے بعد یہ بات وثوق کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ مجازؔ کی شاعری میں جمالیاتی قدریں نظریۂ اظہاریت کی بہترین مثال ہے۔ آہنگ کی جملہ شاعری میں مجازؔ نے اپناجمالیاتی احساس اور حسن وعشق کے سربستہ رازوں کو تمام تر جزئیات کے ساتھ منعکس کیا ہے۔ یہاں پر یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ کلیات مجاز کا جمالیاتی مطالعہ ادبی مطالعے سے کہیں زیادہ وسیع النظری اور ہمہ گیر یت کا مطالبہ کرتا ہے۔
٭٭٭

Mazameen E Sir Sayed

Articles

مضامینِ سر سیّد

سر سیّد احمد خان

 

رسم و رواج​

جو لوگ کہ حسنِ معاشرت اور تہذیبِ اخلاق و شائستگیِ عادات پر بحث کرتے ہیں ان کے لئے کسی ملک یا قوم کے کسی رسم و رواج کو اچھا اور کسی کو برا ٹھہرانا نہایت مشکل کام ہے۔ ہر ایک قوم اپنے ملک کے رسم و رواج کو پسند کرتی ہے اور اسی میں خوش رہتی ہے کیونکہ جن باتوں کی چُھٹپن سے عادت اور موانست ہو جاتی ہے وہی دل کو بھلی معلوم ہوتی ہیں لیکن اگر ہم اسی پر اکتفا کریں تو اسکے معنی یہ ہو جاویں گے کہ بھلائی اور برائی حقیقت میں کوئی چیز نہیں ہے بلکہ صرف عادت پر موقوف ہے، جس چیز کا رواج ہو گیا اور عادت پڑ گئی وہی اچھی ہے اور جس کا رواج نہ ہوا اور عادت نہ پڑی وہی بری ہے۔

مگر یہ بات صحیح نہیں۔ بھلائی اور برائی فی نفسہ مستقل چیز ہے، رسم و رواج سے البتہ یہ بات ضرور ہوتی ہے کہ کوئی اسکے کرنے پر نام نہیں دھرتا، عیب نہیں لگاتا کونکہ سب کے سب اس کو کرتے ہیں مگر ایسا کرنے سے وہ چیز اگر فی نفسہ بری ہے تو اچھی نہیں ہو جاتی۔ پس ہم کو صرف اپنے ملک یا اپنی قوم کی رسومات کے اچھے ہونے پر بھروسہ کر لینا نہ چاہیئے بلکہ نہایت آزادی اور نیک دلی سے اس کی اصلیت کا امتحان کرنا چاہیئے تا کہ اگر ہم میں کوئی ایسی بات ہو جو حقیقت میں بد ہو اور بسب رسم و رواج کے ہم کو اسکی بدی خیال میں نہ آتی ہو تو معلوم ہو جاوے اور وہ بدی ہمارے ملک یا قوم سے جاتی رہے۔

البتہ یہ کہنا درست ہوگا کہ ہر گاہ معیوب ہونا اور غیر معیوب ہونا کسی بات کا زیادہ تر اس کے رواج و عدم رواج پر منحصر ہو گیا ہے تو ہم کس طرح کسی امیر کے رسم و رواج کو اچھا یا برا قرار دے سکیں گے، بلاشبہ یہ بات کسی قدر مشکل ہے مگر جبکہ یہ تسلیم کر لیا جاوے کہ بھلائی یا برائی فی نفسہ بھی کوئی چیز ہے تو ضرور ہر بات کی فی الحقیقت بھلائی یا برائی قرار دینے کے لئے کوئی نہ کوئی طریقہ ہوگا۔ پس ہم کو اس طریقہ کے تلاش کرنے اور اسی کے مطابق اپنی رسوم و عادات کو بھلائی یا برائی قرار دینے کی پیروی کرنی چاہیئے۔

سب سے مقدم اور سب سے ضروری امر اس کام کے لئے یہ ہے کہ ہم اپنے دل کو تعصبات سے اور ان تاریک خیالوں سے جو انسان کو سچی بات کے سننے اور کرنے سے روکتے ہیں خالی کریں اور اس دلی نیکی سے جو خدا تعالیٰ نے انسان کے دل میں رکھی ہے ہر ایک بات کی بھلائی یا برائی دریافت کرنے پر متوجہ ہوں۔

یہ بات ہم کو اپنی قوم اور اپنے ملک اور دوسری قوم اور دوسرے ملک دونوں کے رسم و رواج کے ساتھ برتنی چاہیئے تا کہ جو رسم و عادت ہم میں بھلی ہے اس پر مستحکم رہیں اور جو ہم میں بری ہے اسکے چھوڑنے پر کوشش کریں اور جو رسم و عادت دوسروں میں اچھی ہے اس کو بلا تعصب اختیار کریں اور جو ان میں بری ہے اسکے اختیار کرنے سے بچتے رہیں۔

جبکہ ہم غور کرتے ہیں کہ تمام دنیا کی قوموں میں جو رسوم و عادات مروج ہیں انہوں نے کس طرح ان قوموں میں رواج پایا ہے تو باوجود مختلف ہونے ان رسوم و عادات کے ان کا مبدا اور منشا متحد معلوم ہوتا ہے۔

کچھ شبہ نہیں ہے کہ جو عادتیں اور رسمیں قوموں میں مروج ہیں انکا رواج یا تو ملک کی آب و ہوا کی خاصیت سے ہوا ہے یا ان اتفاقیہ امور سے جن کی ضرورت وقتاً فوقتاً بضرورت تمدن و معاشرت کے پیش آتی گئی ہے یا دوسری قوم کی تقلید و اختلاط سے مروج ہو گئی ہے۔ یا انسان کی حالتِ ترقی یا تنزل نے اس کو پیدا کر دیا ہے۔ پس ظاہراً یہی چار سبب ہر ایک قوم اور ہر ایک ملک میں رسوم و عادات کے مروج ہونے کا مبدا معلوم ہوتے ہیں۔جو رسوم و عادات کہ بمقتضائے آب و ہوا کسی ملک میں رائج ہوئی ہیں انکے صحیح اور درست ہونے میں کچھ شبہ نہیں کیونکہ وہ عادتیں قدرت اور فطرت نے انکو سکھلائی ہیں جس کے سچ ہونے میں کچھ شبہ نہیں مگر انکے برتاؤ کا طریقہ غور طلب باقی رہتا ہے۔

مثلاً ہم یہ بات دیکھتے ہیں کہ کشمیر میں اور لندن میں سردی کے سبب انسان کو آگ سے گرم ہونے کی ضرورت ہے پس آگ کا استعمال ایک نہایت سچی اور صحیح عادت دونوں ملکوں کی قوموں میں ہے مگر اب ہم کو یہ دیکھنا ہے کہ آگ کے استعمال کے لئے یہ بات بہتر ہے کہ مکانات میں ہندی قواعد سے آتش خانہ بنا کر آگ کی گرمی سے فائدہ اٹھاویں یا مٹی کی کانگڑیوں میں آگ جلا کر گردن میں لٹکائے پھریں جس سے گورا گورا پیٹ اور سینہ کالا اور بھونڈا ہو جائے۔

طریقِ تمدن و معاشرت روز بروز انسانوں میں ترقی پاتا جاتا ہے اور اس لئے ضرور ہے کہ ہماری رسمیں و عادتیں جو بضرورتِ تمدن و معاشرت مروج ہوئی تھیں ان میں بھی روز بروز ترقی ہوتی جائے اور اگر ہم ان پہلی ہی رسموں اور عادتوں کے پابند رہیں اور کچھ ترقی نہ کریں تو بلا شبہ بمقابل ان قوموں کے جنہوں نے ترقی کی ہے ہم ذلیل اور خوار ہونگے اور مثل جانور کے خیال کئے جاویں گے، پھر خواہ اس نام سے ہم برا مانیں یا نہ مانیں، انصاف کا مقام ہے کہ جب ہم اپنے سے کمتر اور ناتربیت یافتہ قوموں کو ذلیل اور حقیر مثل جانور کے خیال کرتے ہیں تو جو قومیں کہ ہم سے زیادہ شایستہ و تربیت یافتہ ہیں اگر وہ بھی ہم کو اسی طرح حقیر اور ذلیل مثل جانور کے سمجھیں تو ہم کو کیا مقامِ شکایت ہے؟ ہاں اگر ہم کو غیرت ہے تو ہم کو اس حالت سے نکلنا اور اپنی قوم کو نکالنا چاہیئے۔

دوسری قوموں کی رسومات کا اختیار کرنا اگرچہ بے تعصبی اور دانائی کی دلیل ہے مگر جب وہ رسمیں اندھے پن سے صرف تقلیداً بغیر سمجھے بوجھے اختیار کی جاتی ہیں تو کافی ثبوت نادانی اور حماقت کا ہوتی ہیں۔ دوسری قوموں کی رسومات اختیار کرنے میں اگر ہم دانائی اور ہوشیاری سے کام کریں تو اس قوم سے زیادہ فائدہ اٹھا سکتے ہیں اس لئے کہ ہم کو اس رسم سے تو موانست نہیں ہوتی اور اس سبب سے اسکی حقیقی بھلائی یا برائی پر غور کرنے کا بشرطیکہ ہم تعصب کو کام میں نہ لاویں بہت اچھا موقع ملتا ہے۔ اس قوم کے حالات دیکھنے سے جس میں وہ رسم جاری ہے ہم کو بہت عمدہ مثالیں سینکڑوں برس کے تجربہ کی ملتی ہیں جو اس رسم کے اچھے یا برے ہونیکا قطعی تصفیہ کر دیتی ہیں۔

مگر یہ بات اکثر جگہ موجود ہے کہ ایک قوم کی رسمیں دوسری قوم میں بسبب اختلاط اور ملاپ کے اور بغیر قصد و ارادہ کے اور انکی بھلائی اور برائی پر غور و فکر کرنیکے بغیر داخل ہو گئی ہیں جیسے کہ ہندوستان کے مسلمانوں کا بالتخصیص حال ہے کہ تمام معاملاتِ زندگی بلکہ بعض اموراتِ مذہبی میں بھی ہزاروں رسمیں غیر قوموں کی بلا غور و فکر اختیار کر لی ہیں، یا کوئی نئی رسم مشابہ اس قوم کی رسم کے ایجاد کر لی ہے مگر جب ہم چاہتے ہیں کہ اپنے طریقِ معاشرت اور تمدن کو اعلیٰ درجہ کی تہذیب پر پہنچا دیں تا کہ جو قومیں ہم سے زیادہ مہذب ہیں وہ ہم کو بنظرِ حقارت نہ دیکھیں تو ہمارا فرض ہے ہم اپنی تمام رسوم و عادات کو بنظر تحقیق دیکھیں اور جو بری ہوں ان کو چھوڑیں اور جو قابلِ اصلاح ہوں ان میں اصلاح کریں۔

جو رسومات کے بسبب حالتِ ترقی یا تنزل کسی قوم کے پیدا ہوتی ہیں وہ رسمیں ٹھیک ٹھیک اس قوم کی ترقی اور تنزل یا عزت اور ذلت کی نشانی ہوتی ہیں۔

اس مقام پر ہم نے لفظ ترقی یا تنزل کو نہایت وسیع معنوں میں استعمال کیا ہے اور تمام قسم کے حالاتِ ترقی و تنزل مراد لئے ہیں خواہ وہ ترقی و تنزل اخلاق سے متعلق ہو خواہ علوم و فنون اور طریقِ معاشرت و تمدن سے اور خواہ ملک و دولت و جاہ و حشمت سے۔

بلاشبہ یہ بات تسلیم کرنے کے قابل ہے کہ دنیا میں کوئی قوم ایسی نہیں نکلنے کی جس کی تمام رسمیں اور عادتیں عیب اور نقصان سے خالی ہوں مگر اتنا فرق بیشک کہ بعضی قوموں میں ایسی رسومات اور عادات جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہوں، کم ہیں، اور بعضی میں زیادہ، اور اسی وجہ سے وہ پہلی قوم پچھلی قوم سے اعلیٰ اور معزز ہے۔ اور بعض ایسی قومیں ہیں جنہوں نے انسان کی حالتِ ترقی کو نہایت اعلیٰ درجہ تک پہنچایا ہے اور اس حالتِ انسانی کی ترقی نے ان کے نقصانوں کو چُھپا لیا ہے جیسے ایک نہایت عمدہ و نفیس شیریں دریا تھوڑے سے گدلے اور کھاری پانی کو چھپا لیتا ہے یا ایک نہایت لطیف شربت کا بھرا ہوا پیالہ نیبو کی کھٹی دو بوندوں سے زیادہ تر لطیف اور خوشگوار ہو جاتا ہے اور یہی قومیں جو اب دنیا میں “سویلائزڈ” یعنی مہذب گنی جاتی ہیں اور در حقیقت اس لقب کی مستحق بھی ہیں۔

میری دلسوزی اپنے ہم مذہب بھائیوں کے ساتھ اسی وجہ سے ہے کہ میری دانست میں ہم مسلمانوں میں بہت سے رسمیں جو در حقیقت نفس الامر میں بری ہیں مروج ہو گئی ہیں جن میں ہزاروں ہمارے پاک مذہب کے بھی بر خلاف ہیں اور انسانیت کے بھی مخالف ہیں اور تہذیب و تربیت و شایستگی کے بھی بر عکس ہیں اور اس لئے میں ضرور سمجھتا ہوں کہ ہم سب لوگ تعصب اور ضد اور نفسانیت کو چھوڑ کر ان بری رسموں اور بد عادتوں کے چھوڑنے پر مائل ہوں اور جیسا کہ ان کا پاک اور روشن ہزاروں حکمتوں سے بھرا ہوا مذہب ہے اسی طرح اپنی رسوماتِ معاشرت و تمدن کو بھی عمدہ اور پاک و صاف کریں اور جو کچھ نقصانات اس میں ہیں گو وہ کسی وجہ سے ہوں، ان کو دور کریں۔

اس تجربہ سے یہ نہ سمجھا جاوے کہ میں اپنے تئیں ان بد عادتوں سے پاک و مبرا سمجھتا ہوں یا اپنے تئیں نمونۂ عاداتِ حسنہ جتاتا ہوں یا خود اِن امور میں مقتدا بننا چاہتا ہوں، حاشا و کلا۔ بلکہ میں بھی ایک فرد انہیں افراد میں سے ہوں جنکی اصلاحِ دلی مقصود ہے بلکہ میرا مقصد صرف متوجہ کرنا اپنے بھائیوں کا اپنی اصلاحِ حال پر ہے اور خدا سے امید ہے کہ جو لوگ اصلاحِ حال پر متوجہ ہونگے، سب سے اول انکا چیلہ اور انکی پیروی کرنے والا میں ہونگا۔ البتہ مثل مخمور کے خراب حالت میں چلا جانا اور روز بروز بدتر درجہ کو پہنچتا جانا اور نہ اپنی عزت کا اور نہ قومی عزت کا خیال و پاس رکھنا اور جھوٹی شیخی اور بیجا غرور میں پڑے رہنا مجھ کو پسند نہیں ہے۔

ہماری قوم کے نیک اور مقدس لوگوں کو کبھی کبھی یہ غلط خیال آتا ہے کہ تہذیب اور حسنِ معاشرت و تمدن صرف دنیاوی امور ہیں جو صرف چند روزہ ہیں، اگر ان میں ناقص ہوئے تو کیا اور کامل ہوئے تو کیا اور اس میں عزت حاصل کی تو کیا اور ذلیل رہے تو کیا، مگر انکی اس رائے میں قصور ہے اور انکی نیک دلی اور سادہ مزاجی اور تقدس نے ان کو اس عام فریب غلطی میں ڈالا ہے۔ جو انکے خیالات ہیں انکی صحت اور اصلیت میں کچھ شبہ نہیں مگر انسان امور متعلق تمدن و معاشرت سے کسی طور علیحدہ نہیں ہو سکتا اور نہ شارع کا مقصود ان تمام امور کو چھوڑنے کا تھا کیونکہ قواعدِ قدرت سے یہ امر غیر ممکن ہے۔ پس اگر ہماری حالتِ تمدن و معاشرت ذلیل اور معیوب حالت پر ہوگی تو اس سے مسلمانوں کی قوم پر عیوب اور ذلت عائد ہوگی اور وہ ذلت صرف ان افراد اور اشخاص پر منحصر نہیں رہتی بلکہ انکے مذہب پر منجر ہوتی ہے، کیونکہ یہ بات کہی جاتی ہے کہ مسلمان یعنی وہ گروہ جو مذہبِ اسلام کا پیرو ہے نہایت ذلیل و خوار ہے۔ پس اس میں در حقیقت ہمارے افعال و عاداتِ قبیحہ سے اسلام کو اور مسلمانی کو ذلت ہوتی ہے۔ پس ہماری دانست میں مسلمانوں کی حسن معاشرت اور خوبیٔ تمدن اور تہذیب اخلاق اور تربیت و شایستگی میں کوشش کرنا حقیقت میں ایک ایسا کام ہے جو دنیاوی امور سے جس قدر متعلق ہے اس سے بہت زیادہ معاد سے علاقہ رکھتا ہے اور جس قدر فائدے کی اس سے ہم کو اس دنیا میں توقع ہے اس سے بڑھ کر اُس دنیا میں ہے جس کو کبھی فنا نہیں۔


 

 

خوشامد​

دل کی جس قدر بیماریاں ہیں ان میں سب سے زیادہ مہلک خوشامد کا اچھا لگنا ہے۔ جس وقت کہ انسان کے بدن میں یہ مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو وبائی ہوا کے اثر کو جلد قبول کر لیتا ہے تو اسی وقت انسان مرضِ مہلک میں گرفتار ہو جاتا ہے۔ اسی طرح جبکہ خوشامد کے اچھا لگنے کی بیماری انسان کو لگ جاتی ہے تو اس کے دل میں ایک ایسا مادہ پیدا ہو جاتا ہے جو ہمیشہ زہریلی باتوں کے زہر کو چوس لینے کی خواہش رکھتا ہے، جسطرح کہ خوش گلو گانے والے کا راگ اور خوش آیند باجے والے کی آواز انسان کے دل کو نرم کر دیتی ہے اسی طرح خوشامد بھی انسان کے دل کو ایسا پگھلا دیتی ہے کہ ایک کانٹے کے چبھنے کی جگہ اس میں ہو جاتی ہے۔ اول اول یہ ہوتا ہے کہ ہم اپنی خوشامد کرتے ہیں اور اپنی ہر ایک چیز کو اچھا سمجھتے ہیں اور آپ ہی آپ اپنی خوشامد کر کے اپنے دل کو خوش کرتے ہیں پھر رفتہ رفتہ اوروں کی خوشامد ہم میں اثر کرنے لگتی ہے۔ اسکا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اول تو خود ہم کو اپنی محبت پیدا ہوتی ہے پھر یہی محبت ہم سے باغی ہو جاتی ہے اور ہمارے بیرونی دشمنوں سے جا ملتی ہے اور جو محبت و مہربانی ہم خود اپنے ساتھ کرتے ہیں وہ ہم خوشامدیوں کے ساتھ کرنے لگتے ہیں اور وہی ہماری محبت ہم کو یہ بتلاتی ہے کہ ان خوشامدیوں پر مہربانی کرنا نہایت حق اور انصاف ہے جو ہماری باتوں کو ایسا سمجھتے ہیں اور انکی ایسی قدر کرتے ہیں جبکہ ہمارا دل ایسا نرم ہو جاتا ہے اور اسی قسم کے پھسلاوے اور فریب میں آ جاتا ہے تو ہماری عقل خوشامدیوں کے عقل و فریب سے اندھی ہو جاتی ہے اور وہ مکر و فریب ہماری طبیعت پر بالکل غالب آ جاتا ہے۔ لیکن اگر ہر شخص کو یہ بات معلوم ہو جاوے کہ خوشامد کا شوق کیسے نالائق اور کمینے سببوں سے پیدا ہوتا ہے تو یقینی خوشامد کی خواہش کرنے والا شخص بھی ویسا ہی نالائق اور کمینہ متصور ہونے لگے گا۔ جبکہ ہم کو کسی ایسے وصف کا شوق پیدا ہوتا ہے جو ہم میں نہیں ہے یا ہم ایسا بننا چاہتے ہیں جیسے کہ در حقیقت ہم نہیں ہیں، تب ہم اپنے تئیں خوشامدیوں کے حوالے کرتے ہیں جو اوروں کے اوصاف اور اوروں کی خوبیاں ہم میں لگانے لگتے ہیں۔ گو بسبب اس کمینہ شوق کے اس خوشامدی کی باتیں اچھی لگتی ہوں مگر در حقیقت وہ ہم کو ایسی ہی بد زیب ہیں جیسے کہ دوسرں کہ کپڑے جو ہمارے بدن پر کسی طرح ٹھیک نہیں (اس بات سے ہم اپنی حقیقت کو چھوڑ کر دوسرے کے اوصاف اپنے میں سمجھنے لگیں، یہ بات کہیں عمدہ ہے کہ ہم اپنی حقیقت کو درست کریں اور سچ مچ وہ اوصاف خود اپنے میں پیدا کریں، اور بعوض جھوٹی نقل بننے کے خود ایک اچھی اصل ہو جاویں) کیونکہ ہر قسم کی طبیعتیں جو انسان رکھتے ہیں اپنے اپنے موقع پر مفید ہو سکتی ہیں۔ ایک تیز مزاج اور چست چالاک آدمی اپنے موقع پر ایسا ہی مفید ہوتا ہے جیسے کہ ایک رونی صورت کا چپ چاپ آدمی اپنے موقع پر۔

خودی جو انسان کو برباد کرنے کی چیز ہے جب چپ چاپ سوئی ہوئی ہوتی ہے تو خوشامد اس کو جگاتی اور ابھارتی ہے اور جس چیز کی خوشامد کی جاتی ہے اس میں چھچھورے پن کی کافی لیاقت پیدا کر دیتی ہے، مگر یہ بات بخوبی یاد رکھنی چاہیئے کہ جسطرح خوشامد ایک بد تر چیز ہے اسی طرح مناسب اور سچی تعریف کرنا نہایت عمدہ اور بہت ہی خوب چیز ہے۔ جسطرح کے لائق شاعر دوسروں کی تعریف کرتے ہیں کہ ان اشعار سے ان لوگوں کا نام باقی رہتا ہے جنکی وہ تعریف کرتے ہیں اور شاعری کی خوبی سے خود ان شاعروں کا نام بھی دنیا میں باقی رہتا ہے۔ دونوں شخص ہوتے ہیں، ایک اپنی لیاقت کے سبب سے اور دوسرا اس لیاقت کو تمیز کرنے کے سبب سے۔ مگر لیاقت شاعری کی یہ ہے کہ وہ نہایت بڑے استاد مصور کی مانند ہو کہ وہ اصل صورت اور رنگ اور خال و خط کو بھی قائم رکھتا ہے اور پھر بھی تصویر ایسی بناتا ہے کہ خوش نما معلوم ہو۔ ایشیا کے شاعروں میں ایک بڑا نقص یہی ہے کہ وہ اس بات کا خیال نہیں رکھتے بلکہ جسکی تعریف کرتے ہیں اسکے اوصاف ایسے جھوٹے اور نا ممکن بیان کرتے ہیں جن کہ سبب سے وہ تعریف، تعریف نہیں رہتی بلکہ فرضی خیالات ہو جاتے ہیں۔ ناموری کی مثال نہایت عمدہ خوشبو کی ہے، جب ہوشیاری اور سچائی سے ہماری واجب تعریف ہوتی ہے تو اسکا ویسا ہی اثر ہوتا ہے جیسے عمدہ خوشبو کا مگر جب کسی کمزور دماغ میں زبردستی سے وہ خوشبو ٹھونس دی جاتی ہے تو ایک تیز بو کی مانند دماغ کو پریشان کر دیتی ہے۔ فیاض آدمی کو بد نامی اور نیک نامی کا زیادہ خیال ہوتا ہے اور عالی ہمت طبیعت کو مناسب عزت اور تعریف سے ایسی ہی تقویت ہوتی ہے جیسے کہ غفلت اور حقارت سے پست ہمتی ہوتی ہے۔ جو لوگ کہ عوام کے درجہ سے اوپر ہیں انہیں لوگوں پر اسکا زیادہ اثر ہوتا ہے جیسے کہ تھرما میٹر میں وہی حصہ موسم کا زیادہ اثر قبول کرتا ہے جو صاف اور سب سے اوپر ہوتا ہے۔


Last Interview of Nida Fazli

Articles

ندا فاضلی کا آخری انٹرویو

ڈاکٹر ذاکر خان ذاکرؔ

ذاکر:نِدا صاحب کشمیر کے ساتھ آپ کے بڑے دیرینہ مراسم رہے ہیں، آپ شاید فاضلی سادات میں سے ہیں اور وہ بھی کشمیری فاضلی،آپ کو شاید علم ہوگا کہ برج ناراین چکبستؔ،اقبالؔ، منٹوؔ،کرشن چندر، مہندر ناتھ ، سہگل،ملکہ پکھراج، اُستاد بسم اﷲ خان، راما نند ساگر، جیون ، راج کمار بھی ایسے ہی کسی خاموش تعلق سے کشمیری رہے ہیں،بہرحال آپ اپنے بارے میں کچھ بتائیں؟
ندا فاضلی:کچھ سال قبل ایک سیرئیل آیا تھا جس کا نام سیلاب تھا اور اُس کے ڈائریکٹر روی رائے تھے۔اُس میں ایک ٹائٹل گیت بھی تھا جس کا ایک شعر یوں تھا کہ
وقت کے ساتھ ہے مٹی کا سفر صدیوں سے
کس کو معلوم کہاں کے ہیں کدھر کے ہم ہیں
آدمی اور مٹی کا رشتہ صدیوں پرانا ہے، اس رشتے کو میں علاقہ، مذہب اور زبان سے جوڑنا نہیں چاہتا ہوں میرا آئیڈیل وہ انسان ہے جسے غالب ؔ نے ا نسان کے روپ میں گڑھا تھا۔
بسکہ دشوار ہے ہر کام کا آساں ہونا
آدمی کو بھی میسّر نہیں انساں ہونا
میرے خیال سے ادیب، شاعر،نقّاد،سوچنے والا ذہن ماں کی کوکھ سے پیدا ہوجاتا ہے۔لیکن وہ زندگی بھر وراثت کے بوجھ کو گدھے کی طرح لادے ہوئے نہیں چل سکتا۔وہ اپنی وراثت میں کچھ چھوڑتا جاتا ہے اور کچھ جوڑتا جاتا ہے۔ اور اس طرح سے وہ اپنی تکمیل کو پہنچتا ہے۔ غالب کے انسان کا رشتہ کشمیر سے بھی ہے، ایران سے بھی ہے، پاکستان سے بھی ہے،امریکہ سے بھی ہے،انگلینڈ سے بھی ہے ۔میرے والد کے پاس ایک شجرہ تھااُس شجرے کی ابتدا ایک فاضل نام کے شخص سے ہوئی تھی۔ممکن ہے کہ فاضل صاحب کشمیر سے آئے ہوں۔نہرو نے بھی ڈسکوری آف انڈیا میں کہا ہے کہ میں پیدا ہوا ایک گھر میں ہندوستانی بن کر اور وہ اتفاق تھا چند مثالوں سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ علاقائیت یا لسانیت یا مذہبیت ہی منزل کا راستہ ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ نے بار بار اس بات کا اعتراف کِیا ہے کہ آپ کی زندگی اور شاعری کا خمیرسورداس، میرا، کبیر ، نانک، جایسی، خسرو، رس خان، غالب، میر، ولی۔۔۔۔جیسے گنگا جمنی تہذیب کے میناروں سے اُٹھا ہے کشمیر میں بھی اسی تسلسل میں للیشوری، حبہ خاتون، نُند رِشی، شاہ ہمدان، مہجور، غنی کاشمیری،شیخ نورالدین نورانی،روپا بھوانی، رسول میر،کی صوفی روایت کا مستند حوالہ ملتا ہے۔آپ نے ان صوفی سنتوں کو کتنا پڑھا ہے ۔
ندا فاضلیؔ:حقیقتاً آدمی کی نشو نماخود اُس کے عمل سے شروع ہوتی ہے۔اور عمل سے ہی آگے بڑھتی ہے۔آپ جیسے جیسے زندگی کے راستے میں آگے بڑھتے میں آپ کی وراثت میں بہت کچھ شامل ہوتا جاتا ہے۔آپ نے جو نام لیے ہیں وہ صحیح بھی ہیں اُن میں بے شمار پنجاب کے صوفی بھی ہیں،بے شمار مختلف ممالک کے لوگ بھی ہیں اور اُن ہی میں انگریزی کے وہیٹ من بھی ہیں،روس کے پشکِن بھی ہیں،جیکوف بھی ہیں،شیکسپیئر بھی ہیں،اس طرح سے آپ جیسے جیسے زندگی کا سفر کرتے رہتے ہیں آپ کی ذہنی وسعت کے ساتھ ساتھ آپ کی وارثت کا دائرہ بھی پھیلتا جاتا ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ آپ کا ویژن بھی بڑھتا جاتا ہے۔حقیقت میں آپ جس علاقے میں رہتے ہیں لسانی طور پر اُس علاقے سے وابستہ ہوتے جاتے ہیں۔
ذاکر:نِدا صاحب آپ سیاست پر بھی قریبی نظر رکھے ہوئے ہیں،لیکن کشمیرکو لے کر آپ نے کم و بیش ہمیشہ بات کرنے سے احترازکیا ہے، ایسا کیوں؟
ندا فاضلی:یہ آپ کو کیسے پتہ کہ میں نے کشمیر کے تعلق سے کبھی بات نہیں کی ۔میرا ایک شعر ہے کہ۔۔۔۔ یہاں تو برف گرا کرتی ہے پہاڑوں سے۔۔۔ تمھارے شہر کا موسم دھواں دھواں کیوں ہے
ذاکر:ندا صاحب
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچّے کو ہنسایا جائے
یا
بچہ بولا دیکھ کے مسجد عالیشان
اﷲ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
یہ کون سا منتھن ہے۔ جو بار بار آپ کے یہاں ایک معصوم ترین بچہ آ دھمکتا ہے، آخر یہ کیا ہے؟جو ﷲ/مسجداورمذہب۔ ایک معصوم بچے کے مقابلے کھڑے کر دئے جاتے ہیں۔
ندا فاضلیؔ:پچھلے دنوں گورنمنٹ میرے تعلق سے ایک ڈاکیومنٹری بنارہی تھی تب میں غالبؔ کے مزار پر گیا تھا۔اور میں نے دعا مانگی تھی کہ غالب ؔ اچھا ہوا کہ تم بہت جلدی مر گئے۔اچھا ہوا کہ تم ابھی زندہ نہیں ہو،اگر تم اس وقت زندہ ہوتے تو تم پر سینکڑوں اعتراضات پیدا ہوجاتے۔اور مختلف جماعت والے آپ کو جینے نہیں دیتے۔ندا فاضلیؔ سے یہ شعر کوٹ کر کے سوال پوچھنے والوں سے میں سے میں پوچھنا چاہوں گا کہ یہ کیا ہے مثلاً
زاہد شراب پینے دے مسجد میں بیٹھ کر
یا وہ جگہ بتا دے جہاں پر خدا نہ ہو
یا
اپنوں سے بیر رکھنا تونے بتوں سے سیکھا
جنگ و جدل سکھایا واعظ کو بھی خدا نے
ذاکر:نِدا صاحب ادب میں ساٹھ ستر کے جدیدیت کے ہنگام کے دنوں میں،آپ نے، عادل منصوری نے، بشیر بدر نے، زیب غوری ، ظفر اقبال نے عجیب سے تجریدی، تجرباتی اور لایعنی اشعار کامحشر بپا کیا تھا،مثلاً
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑی کے پردے کھینچ دئے رات ہو گئی
آخریہ سب کیا تھا؟
ندا فاضلی:مجھے افسوس ہوتا ہے اعترض کرنے والوں پر۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے اجمیر شریف کی دیگ سے ایک چاول نکال کر دیکھا جائے کہ پوری دیگ پک گئی ہے یا نہیں ۔ آپ بھی چند برے اشعار کو یاد کرکے کسی کی پوری شاعری پر فیصلہ نہیں کر سکتے۔آپ کو پوری شاعری کا مطالعہ کرنا چاہیے۔آپ کو ہر عہد کے شاعر کے یہاں اس طرح کے اشعار ملیں گے۔میرؔ کے چھ دیوان ہیں لیکن ان کا یہ مصرعہ کہ “اسی عطار کے بیٹے سے دوا لیتے ہیں”ان کی شعری عظمت کے شایانِ شان نہیں ہے۔داغ کے چار دیوان ہیں اُس میں اچھے اشعار بھی ہیں اور برے اشعار بھی ہیں ۔
ذاکر:اب ایک آدھ بات فلم کے حوالے سے،
تُو اس طرح سے مِری زندگی میں شامل ہے
یا
ہوش والوں کو خبر کیا زندگی کیا چیز ہے
جیسے گیت لکھنے والا نِدا فاضلی آج کہاں ہے؟آپ اچانک آہستہ آہستہ منظر سے ہٹتے چلے گئے،
ندا فاضلی:بات دراصل یہ ہے کہ مجھے کافی دنوں کے بعد احساس ہوا کہ معجزوں میں تو بیک وقت کئی گھوڑوں کی سواری ممکن ہے لیکن حقیقتاً ایک سوار ایک ہی گھوڑے پر سواری کر سکتا ہے۔ساحر لدھیانوی کامیاب فلمی نغمہ نگار رہے ہیں لیکن دو مجموعوں کے علاوہ تیسرا مجموعہ نہیں آسکا،مجروح سلطانپوری کامیاب نغمہ نگار رہے ہیں لیکن ایک مجموعے کے علاوہ دوسرا مجموعہ نہیں آسکا۔ناکام رہنے والوں میں جانثار اختر بھی ہیں جن کی کلّیات اِن دونوں حضرات سے دوگنی یا تگنی ہے۔ندا فاضلی کی کتابوں کی اگر گنتی کی جائے تو ان کی گنتی ہی سے شاید اس سوال کا جواب ممکن ہوجو آپ پوچھنا چاہتے ہیں۔ندا فاضلی ؔنے کئی سمتوں میں سفر کیا ہے ہے اُس نے فلمی گانے بھی لکھے ہیں، ڈائیلاگ بھی لکھے ہیں اور بی بی سی کے لیے کالمس بھی لکھے ہیں۔اس نے کتابیں بھی لکھی ہیں اور مختلف اصناف میں کام بھی کیا ہے۔
ذاکر:نِدا صاحب اردو زبان اور اردو ادب کی موجودہ صورتِ حال کے بارے میں آپ کا کیا کہنا ہے؟ اردو کی بہتری کے امکانات کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟
ندا فاضلیؔ:دیکھئے اردو جو ہے وہ سیاسی نزلے میں آ گئی ہے ہندوستان ہی میں نہیں بلکہ پاکستان میں بھی۔ہمارے یہاں colonial hangover ہے۔ اس سے ہم لوگ ابھی تک باہر نہیں آئے۔ انگریزی کیریئر کی زبان بن چکی ہے۔دوسری بات یہ کہ ہندوستان میں اردو کے ساتھ ایک مسئلہ آگیا ہے مذہب کا ، جہاں تک رسم الخط کا سوال ہے دنیا کی کئی بڑی زبانیں ایک ہی رسم الخط میں لکھی جاتی ہیں۔اور وہ ہے رومن رسم الخط ہے۔وہ رشین ہو جرمن ہو میکسیکن ہوامریکن ہوبرٹش ہویا کوئی اور۔لیکن اس کے باوجود ہر زبان کا اپنا ایک لسانی کیریکٹر ہے مثلاً اٹالین جو ہے وہ جرمن سے الگ ہے،جرمن میکسیکن سے الگ ہے،میکسیکن رشین سے الگ ہے۔لیکن مسئلہ اردو کا عجیب ہے۔اردو کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو جاننے والا ہی اردو پڑھ سکتا ہے۔آپ اعراب کا استعمال نہیں کرتے مثلاً ایک لفظ ہے دَانِشوَر اسے کئی طرح پڑھا جا سکتا ہے۔ اسے دانشُور بھی پڑھ سکتے ہیں دانِشور بھی پڑھ سکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ کہ ہمارا سرمایا اردو میں ہے۔لیکن میں کہتا ہوں کہ ہمارا سرمایا عربی میں بھی ہے فارسی میں بھی ہے۔جہاں تک املا کی اصلاح کا سوال ہے رشید حسن خاں نے یہ کام شروع کیا تھا۔خواجہ حسن نظامی نے یہ کام شروع کیا تھا۔لیکن لوگوں نے توجہ نہیں دی آج بھی ہم بین الاقوامی لکھتے ہیں۔آج بھی فارغ الاصلاح عربی انداز میں لکھتے ہیں۔ہمارے یہاں اس زبان کو عوامی بنایا ہی نہیں جا رہا ہے۔یا بنایا نہیں گیا۔اور یہ مسئلہ بہت ہی لجھا ہوا ہے کہ جو موجود ہ سیاست ہندوستان کی ہے کہ ہندو،ہندی، ہندوستان۔بیوقوفوں کو یہ نہیں معلوم کہ ہندی اردو کا ہی ایک نام ہے۔غالب نے اپنے کلام کو کلامِ ہندی کہا ہے۔امیر خسرو کی زبان کا رسم الخط فارسی رسم الخط تھا۔مثلاً
خسرو رین سہاگ کی جاگی پی کے سنگ ۔۔۔۔ تن میرا من پیو کا دونوں بہے ایک رنگ۔۔۔۔۔ اس میں تن، من، رین ،خسرو ،سہاگ ،یہ زبان ہندوستانی ہے۔یہ وہی زبان ہے جو آگے چل کر ہندی اور اردو کے روپ میں سامنے آئی۔دیکھئے جب تک زبان کا تعلق روزگار سے نہیں جڑے گا تب تک زبان کا کوئی مقصد حاصل نہیں ہوگا۔آپ یہ دیکھئے امارت کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔دبئی کی جو فلائٹس ہوتی ہیں۔اس میں اردو اخبار نہیں ہوتا ،تمل ہوتا ہے کنّڑ ہوتا ہے۔انگریزی ہوتا ہے،کیونکہ وہ کاروباری طور پر ان لوگوں سے وابستہ ہیں جو ان تمام زبانوں کو جانتے ہیں۔اردو سب کی زبان ہے اتفاق سے اردو کا علاقہ بھی وہی ہے جو ہندی کا علاقہ ہے۔بنگال میں اردو بنگالی کی زبان نہیں، گجرات میں اردو گجراتی کی زبان نہیں ہے۔کنّڑ میں اردو کنّڑ کی زبان نہیں ہے۔یوپی، بہار، راجستھان، ایم پی یہی ہندی کے بھی گھر ہیں اور یہی اردو کے بھی گھر ہیں۔یہیں خسرو ہیں یہیں غالب ہیں۔یہیں میرا ہیں یہیں کبیر ہیں۔۔۔۔

شکریہ ندا فاضلی ؔصاحب آپ نے ہمیں اپنے قیمتی وقت سے نوازا۔

Global Village and Society

Articles

عالمی بستی اور سماج

پروفیسر طفیل ڈھانہ

 

ہم عالمی بستی کے لوگ ہیں۔ گلوبل ولیج بن گئی ہے دنیا ہماری۔ بڑی بحث تھی اس موضوع پر ، بڑا شور تھا گلوبلائزیشن پر ، مگر اب نہیں ہے۔ اب ہم گلوبلائزیشن کے ساتھ جینا سیکھ رہے ہیں۔ پہلے ڈر رہے تھے ، اب تربیت لے رہے ہیں۔ گلوبلائزیشن والے کہتے ہیں کہ یہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کا کمال ہے کہ دنیا سب کے لیے ایک جیسی ہوگئی ہے۔ تبدیلی ٹیکنالوجی کے ساتھ آئی ہے، معاشی بھی اور اخلاقی بھی۔ کلوننگ، کمپیوٹر، سیٹیلائٹ اور بہت سی ٹیکنالوجی لے کے آئی ہے مابعد جدیدیت ۔ گلوبلائزیشن بھی اسی کا نتیجہ ہے۔ اپنے کمرے میں بیٹھ کر ہم کسی سے بھی رابطہ اور بات چیت کرسکتے ہیں۔ کوئی رکاوٹ نہیں درمیان میں۔ یہ ہے گلوبل وِلیج ۔ جو جغرافیائی سرحدیں نیشنل ازم نے بنائی تھیں وہ اب برائے نام رہ گئی ہیں۔
پہلے بس ایک سرکاری چینل تھالیکن اب سینکڑوں چینلس ہیں۔ خبر پر سرکار جو پابندی لگاتی تھی وہ اب ختم ہوگئی ہے۔ گلوبل وِلیج میں کہاں کیا ہوا ، اب ہم دیکھ سکتے ہیں۔ اچھا ہے میڈیا آزاد ہوا کیو نکہ ہم دنیا سے علیحدہ نہیں رہ سکتے۔ مگر میڈیا کی آزادی عالمی کارپوریشنوں کا بھی مطالبہ تھا۔ لہٰذا قومی خبروں کا زمانہ گیا۔ عالمی خبروں کا عہد آگیا ہے۔ اس میں بزنس ہے۔ میڈیا والے اطلاعات بیچتے ہیں، ہم خریدار ہیں۔ قومی میڈیا قومی اطلاعات دیتا تھا ، عالمی میڈیا عالمی اطلاعات لے کے آگیا ہے۔ عالمی میڈیا عالمی کارپوریشن لے کے آئی ہے۔ لہٰذا ہم دیکھتے ہیں کہ خبروں کے درمیان ملٹی نیشنل کارپوریشنوں کا اشتہار آجاتا ہے۔ اس لیے ، کیونکہ آزاد میڈیا کارپوریشنوں کا نوکر ہے۔ ہرچینل پر کارپوریشنوں کے اشتہار چلتے ہیں کیونکہ وہ پیسہ دیتے ہیںچینل والوں کو۔ اس بزنس میں کمائی اچھی ہے۔ ساری خبریں، سارے پروگرام عالمی کارپوریشنوں کے پیسوں سے چلتے ہیں۔ خدمت نہیں ، یہ بزنس ہے۔ عالمی کارپوریشن جو دکھائے گی، ہم دیکھیں گے۔ جو بیچے گی ہم خریدیں گے۔ ٹیکنالوجی ملٹی نیشنل کارپوریشن کے پاس ہے۔ چینل والے ٹیکنالوجی خریدنے والے ہیں۔ کارپوریشن نے میڈیا ٹیکنالوجی ایجاد کی ہے تو اسے فروخت بھی کرنا ہے۔ لہٰذا میڈیا کو آزادی دلائی کارپوریشن والوں نے۔ ہم بھی خوش اور وہ بھی خوش۔
رابطوں کے لیے موبائل فون بنادیا ۔ کمپنیوں نے ہمارے لیے انٹرنیٹ چلا دیا۔ ہم رابطہ کرسکتے ہیں مگر قیمت ادا کرتے ہیں کمپنی والوں کو۔ ہماری ضرورت کا سارا سامان ہے ان کے پاس ۔ لہٰذا وہ بیچے گیں اور ہم خریدیں گے۔ اس لیے کارپوریشن والے گلوبلائزیشن لے کے آئے ہیں۔ زراعت ، صنعت ، تعلیم ، تجارت ، ٹرانسپورٹ میں کارپوریشن آگئی ہے۔ موٹر وے بنایا، بسیں چلا رہے ہیں۔ ریلوے وزیر نہیں چلا سکتے مگر ملٹی نیشنل والے چلا لیں گے۔ بجلی کمپنیاں بنارہی ہیں، گیس ، تیل کمپنیاں نکالتی ہیں۔ ڈیم کمپنیاں بنادیں گی۔ کیونکہ ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے نہ سرمایہ۔ علم و دانش اور سائنس سبھی کچھ کمپنیوں کے دستِ نگر ہے۔ شہر میں ڈپارٹمنٹل اسٹور کھلے ہیں، گورمے اور میکڈونلڈ۔ یہاں بھی کمپنیوں کی فروخت ہوتی ہے۔ کمپنی کے مقابلے میں ہماری دکان نہیں چل سکتی۔ عالمی بستی میں ہم پرچون فروش ہیں۔ ہمارے کاروباری اشرافیہ کی اس سے بڑی حیثیت نہیں ہے عالمی معاشی نظام میں۔
مجھے لالہ لال دین یاد آتا ہے۔ لال دین پھیری والا، کپڑا بیچتا تھا۔ شہر سے کپڑا لاکے گاﺅں میں بیچتا تھا لال دین سائیکل پر۔ کبھی سائیکل خراب، کبھی طبیعت خراب۔ پھر یوں ہوا کہ کپڑے کی ایک بڑی دکان کھل گئی گاﺅں میں۔شہر سے آیا ہوا یک بڑا سودا گر تھا وہ دکان کھولنے والا۔ لالہ لال دین بوڑھا ہوگیا تھا، تھک گیا تھا۔ اس نے بڑی دکان پر نوکری کرلی۔ وہ دکان کھولتا، جھاڑو دیتااور مالک کی خدمت کرتا تھا۔اچھا شریف آدمی تھا ، لال دین پھیری والا۔ کاروبار میں کامیابی کادرس دیتا تھا بستی کے نوجوانوں کو۔
عالمی بستی میں ، میونسپل کمیٹی سے بڑی حیثیت نہیں ہے حکومت کی۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں نے حکومت کو جو کام دیا ہے وہ اتنا ہی ہے جتنا کہ ایک میونسل کمیٹی کے پاس ہوتا ہے۔ امن قائم کرو تاکہ ملک میں کاروبار چلے۔ شہروں کی صفائی کرو، ٹریفک کنٹرول کرو۔کالجوں اور یونیورسٹیوں میں ہنر مند تیار کرو۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں کے لیے ہماری حکومت اتنا کرلے تو اچھا ہے۔ نہیں تو یہ لوگ حکومتوں کا سودا کرنے کو بھی تیار رہتے ہیں۔
پچھلی صدی میں حملہ کیا تھا امریکہ نے عراق پر۔ بغداد قدیم تہذیب کی بنیاد والا کلاسیکل شہر تھا۔ برباد کیا نیٹو والوں نے۔ نیٹو فوجی کارپوریشن ہے۔ عراق تنہا تھا ، مگر صدام تنہا نہ تھا۔ کتنے لوگ عراق والوں کے ساتھ تھے، صدام کے ساتھ تھے۔ مگر احتجاج کام نہ آیا۔ کتنے بڑے بڑے جھوٹ بولے تھے بش نے عراق پر حملہ کرنے کے لیے۔
صدام نے اجازت نہ دی تھی کارپوریشن والوں کو عراق میں داخل ہونے کی۔ بس اتنی لڑائی تھی۔ عراق قومی ریاست تھی۔ لوگ خوشحال تھے، اچھا معاشرہ تھا، کارپوریشنوں والے عراق والوںکو لوٹنے آئے تھے۔صدام نے انکار کیا اور دروازے بند کردیئے تھے کارپوریشن والوں کے لیے۔ مگر اندر سے کچھ سیاست پیشہ مل گئے امریکہ والوں کو۔ وہ کارپوریشن والوں کے ساتھ بزنس چاہتے تھے اس لیے اُن کے ساتھ مل گئے۔ عراق کی حکومت میں جو لوگ تھے سارے قتل کیے گئے۔ صدام کو سولی پرچڑھایا گیا۔ کیا جج تھا ، عدالت لگانے والا؟ کیا حکومت تھی عراق میں؟ پارلیمنٹ کی حیثیت میونسپل کمیٹی سے زیادہ نہ تھی اُس وقت عراق میں۔ جمہوریت تو امریکہ میں نہیں، یورپ میں بھی نہیں ہے۔ کیونکہ یہاں بھی کارپوریشن کی سلطانی ہے۔ قذافی کو مار کے صحرا میں دفن کیا۔ شام اور یمن میں خانہ جنگی کا دور دورہ ہے۔ کہانی بس اتنی ہے کہ دیواریں گرا رہے ہیں گلوبلائزیشن والے ، اپنی دنیا بنانے کے لیے۔
٭٭٭
مشمولہ سہ ماہی ” ارد چینل“ شمارہ نمبر 34 صفحہ نمر 58تا 60

Mumbai ki Baz’m AaraiyaN

Articles

بمبئی کی بزم آرائیاں

رفعت سروش

بمبئی بچپن سے میرے خوابوں میں بسا ہوا تھا۔ یہ خواب میرے ساتھ جوان ہوا اور میں نگینہ سے نکل کر اور دو سال دہلی کے دفتروں کی خاک چھان کر بالآخر اپنے بچپن کے خوابوں کے شہر بمبئی پہنچ گیا۔
اسٹیشن کی بھیڑ کو چیرتا ہوا جب میں باہر نکلا تو بوری بندر پر انسانوں کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھ کر آنکھیں کھلی رہ گئیں ۔میں نے جیب سے پتے کا پرچہ نکال کر وکٹوریہ والے سے کہا کہ کھڑک پر زینب چیمبرس چلو ۔ وکٹوریہ میں بیٹھتے ہی دہلی اور بمبئی کا فرق واضح ہوگیا۔ وکٹوریہ کرافورڈ مارکیٹ اور پھر محمد علی روڈ ہوتی ہوئی ، مینارہ مسجد سے کھڑک کی طرف مڑی اور آگے چل کر ایک گندی سی سڑک پر ایک پرانی بلڈنگ کے سامنے رکی۔ یہی میری منزلِ مقصود تھی۔
ذریعہ معاش اور ادبی مشاغل کو میں نے دہلی میں بھی الگ الگ رکھا تھا اور بمبئی میں یہی روش اختیار کی ایک حیثیت سے میری شخصیت کے یہ دو متوازی روپ تھے۔دہلی میں سرکاری دفتروں میں نوکری کرتا تھا اور ادیبوں اور انقلابی دوستوں کے ساتھ شامیں گزارتا تھا۔ مجاز ؔان میں سے ایک تھا۔ دہلی سے چلتے وقت مجھے مجاز نے سردار جعفری کے نام ایک تعارفی پرچہ دیاتھا اور ان الفاظ میں سردار کا غائبانہ تعارف کرایاتھا کہ سردار جعفری ترقی پسندوں کا ظفر علی خاں ہے۔بمبئی پہنچنے کے چند روز بعد جب اس ہنگامہ خیز شہر کی سڑکوں اور راستوں سے کسی قدر واقف ہوگیا تو کھیت واڑی پر کمیونسٹ پارٹی آفس پہنچا۔ میں بلڈنگ کے دروازے پر کھڑا تھا کہ ایک دُبلا پتلا پھرتیلا نوجوان بلڈنگ کے چوڑے زینے کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اوپر چڑھنے لگا۔ میں نے اسے مخاطب کرکے کہا کہ مجھے سردار جعفری سے ملنا ہے۔اس نے کہا،فرمائیے میرا نام علی سردار جعفری ہے۔ میرے ذہن میں علی سردار جعفری نام تھا کسی بھاری بھرکم شخصیت کا ۔
مگر میرے سامنے ایک نوجوان تھا میرے ہی جیسے قد و قامت کا ، کھادی کے کرتہ پاجامہ میں ملبوس اور لمبے بالوں کو انگلیوں سے سنوارتا ہوا ، عمر میں کچھ مجھ سے بڑا ۔خیر میں نے اپنا تعارف کرایا اور مجاز کا پرچہ دیا۔سردار بہت اخلاق سے ملے اور مجھے اپنے ساتھ ’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر لے گئے ۔ ’’قومی جنگ‘‘ کا دفتر کمیونسٹ پارٹی کے ہیڈکوارٹر میں ہی تھا اس لیے وہاں اس وقت کے دانشور ، ادیب اور شاعر موجود تھے اور وہیں سے ’’نیا ادب‘‘ نکلتا تھا۔
سب سے پہلے سردار نے مجھے کیفی اعظمی سے ملایا ۔ میں نے کیفی کی ایک نظم ’’عورت‘‘ پڑھی تھی اور اس کی وہ نظم ’’اب تم آغوش تصور میں نہ آیا کرو‘‘ حال ہی میں چھپی تھی۔ کیفی کی شخصیت پر ایک گو نہ بے خودی سی طاری تھی۔ لہجے میں گہرائی اور ٹھہرائو، آنکھوں میں خلوص ، چہرے پر سکون ۔ یہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ پر سکون شخص جب انقلابی نظم پڑھتا ہے تو آواز اور انداز بیان سے الفاظ اور معنی کو مجسم کردیتا ہے اور مجمع پرپہلے تو استعجاب و تحسین کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے اور پھر وہ بے اختیار ہوجاتا ہے۔
یہ سبطِ حسن ہیں ۔چھریرے بدن،سبک نقوش پہ سوچتی ہوئی آنکھیں، دھیما لہجہ ۔تو یہ ہیں ’’نیا ادب‘‘ کے ایڈیٹر اور مجاز کے پرانے ساتھی۔
یہ ہیں ڈاکٹر کنور محمد اشرف۔ڈاکٹر اشرف کو میں نے بہت پہلے ۱۹۳۵ء یا ۳۶ء میں موانہ ضلع میرٹھ میں دیکھا تھا ۔ کانگریس کے ایک جلسے میں پنڈت جواہر لال نہرو نے انھیں اپنی جگہ جلسے کی صدارت کرنے بھیج دیا تھا۔ ڈاکٹر اشرف کی تقریر کا لطف میرے ذہن کے کسی گوشے میں محفوظ تھا۔ میں نے بڑی عقیدت سے انھیں آداب کیا اور ان کے پروقار مگر بے تکلف انداز گفتگو نے مجھے مسحور کرلیا۔
بنے بھائی ، سیّد سجاد ظہیر _____’’لندن کی ایک رات ‘‘ اور ’’انگارے‘‘ والے سجاد ظہیر سے ملاقات ہوئی ۔کیا متبسم اور پاکیزہ شخصیت ہے اور کیا اپنا پن ہے ان کی باتوں میں ۔ان کی شخصیت کا جادو دل پر چل گیا اور ایسا کہ اب تکاثر باقی ہے۔
’’قومی جنگ‘‘ کے دفتر کی ایک میز پر محمد علی بیٹھے اور دوسری میز پر علی اشرف ۔ یہ صحافی برادری کے آدمی تھے ، کم سخن لیکن پر خلوص ۔
ان سب لوگوں سے مل کر مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے میں اپنے گمشدہ کنبے میں آگیا ہوں۔ اتنی اپنائیت مجھے مجاز کے علاوہ اور کسی سے نہیں ملی تھی۔ میں نے ایک دو نظمیں سنائیں جنھیں سبھی نے پسند کیا اور خاص طور پر سردار جعفری نے بہت ہمت افزائی کی۔ پھر تو میرا معمول ہوگیا کہ دوسرے تیسرے دن جب موقع ملتا پارٹی آفس چلا جاتا اور کچھ نہ کچھ اپنے دامن میں لے کر واپس آتا۔
کمیونسٹ پارٹی کے ان لوگوں نے مجھے ان کی علمی اور ادبی سرگرمیوں کے علاوہ جس چیز نے خاص طور پر متاثر کیا وہ تھا ان کا خلوص اور بے غرض کام کرنے کا جذبہ۔اکثر لوگ کھاتے پیتے گھرانوں کے چشم و چراغ تھے مگر بڑے پیمانے پر انسانیت کی خدمت کا جذبہ اور جبر و استحصال سے پاک معاشرہ قائم کرنے کی لگن انھیں ہندوستان کے گوشے گوشے سے اس کمیون میں کھینچ لائی تھی جہاں ایک سخت انتظام کے تحت راہبانہ زندگی گزارتے تھے۔ سادہ کھاتے تھے اور موٹا چھوٹا پہنتے تھے ، علمی اور سیاسی مشاغل پر زندگی گزارتے تھے۔ جد و جہد کرتے تھے اور محض اپنے لیے نہیں، ملک اور انسانیت کے بہتر مستقبل کے خواب دیکھتے تھے ۔ ان کی ادائیگی فرض کا اس امر سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ’’قومی جنگ‘‘ کے ایڈیٹران سردار جعفری اور کیفی اعظمی وغیرہ پھیری والے کی طرح بھنڈی بازار اور دیگر علاقوں میں اپنا اخبار بیچنے میں گریز نہیں کرتے تھے۔
ہفتہ وار ’’نظام‘‘ کا دفتر ہم چند ادیبوں کا اڈہ تھا۔ قدوس صہبائی تو اڈیٹر تھے ہی ، بہت دلچسپ شخصیت کے مالک تھے ۔ بھوپال سے آئے تھے اور وہاں بائیں بازو کی سیاست سے ان کا تعلق تھا، اس لیے ان کے پرچے کی پالیسی بھی یہی تھی۔ ’’نظام‘‘ کسی پارٹی کا آرگن نہ ہوتے ہوئے بھی انجمن ترقی پسند مصنفین کا آرگن بن گیا تھا اور اس کی ہفتہ وار میٹنگوں کی تفصیلی رپورٹیں باقاعدگی سے اس میں چھپتی تھیں۔ اس کے علاوہ ہم سب ترقی پسند ادیب اپنی منظومات اور افسانے قدوس صہبائی کو فراخ دلی سے ’’نظام‘‘ کے لیے دیتے تھے اور وہ بہت نمایاں انداز میں چھاپتے تھے۔ اکثر کسی نہ کسی ادیب کا فوٹو ’’نظام‘‘ کے سرورق پر ہوتا اور ایک نظم ____یہ پرچہ کئی سال تک بڑے کر و فر سے چلا۔ آج اگر اس کے فائل کسی کے پاس ہوں تو اس زمانے کی ادبی تاریخ مرتب کرنے میں بڑی مدد مل سکتی ہے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے ایک یادگار دور کی سرگرمیوں کو جمع کیا جاسکتا ہے۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں روز شام کو آنے والوں میں تھے ساحرؔ لدھیانوی ، حمید اختر ، ابراہیم جلیس ____ساحرؔ ’’ادب لطیف‘‘ چھوڑ کر لاہور سے اپنی قسمت آزمانے ایک نئی فلم کمپنی میں آگئے تھے (کچھ کلا مندر قسم کا نام تھا اس کا) اوران کے ساتھ حمید اختر آئے تھے جو ساحرؔ کے جگری دوست اور افسانہ نگار تھے ۔ حیدر آباد سے ابراہیم جلیس آگئے تھے۔ ان کا بھی اس فلم کمپنی سے تعلق تھا۔ ابراہیم جلیس بھی بڑے زندہ دل آدمی تھے ۔ ہم لوگوں میں بے تکلف دوستی تھی۔ تقریباً سب ہم عمر تھے اکثر یوں ہوتا کہ ہم لوگ ’’نظام‘‘ کے دفتر میں شام کو ملتے۔ چائے پیتے اور پھر جے جے اسپتال سے پلے ہائوس ہوتے ہوئے بازار حسن سے بے تعلق گزرتے ہوئے بلاسس روڈ آجاتے اور ناگ پاڑے سے اپنی اپنی بس پکڑ کر ادھر ادھر ہوجاتے_____راستے میں دلچسپ فقرے بازی اور لطیفے ہوتے اور پتہ بھی نہ چلتا کہ یہ کئی میل لمبا رستہ کیسے کٹ گیا _____ہم لوگوں کی اس دلچسپ حرکت پر قدوس صہبائی نے ’’نظام‘‘ کے مزاحیہ کالم ’رنگ ترنگ‘ میں چار اونٹ کے عنوان سے ایک مضمون لکھا تھا _____ انھیں دنوں ابراہیم جلیس نے بمبئی پر ایک رپورتاژ لکھا تھا ’’شہر‘‘ ۔ یہ رپورتاژ بھی ’’نظام‘‘ میں چھپا تھا۔
’’نظام‘‘ کے دفتر میں ہی اسمعیٰل یوسف کالج کے ایک ہونہار طالب علم عالی جعفری سے ملاقات ہوئی تھی ۔ ان کا گھر دفتر کے بالکل قریب تھا اس زمانے میں انھوں نے غالباً کچھ چینی کہانیوں کے ترجمے ’’نظام‘‘ میں چھپوائے تھے _____بعد میں عالی جعفری نے شاعری اور افسانہ نگاری تو برائے نام ہی کی مگر وہ ایک اچھے معلم ثابت ہوئے اور اب وہ بمبئی کے علمی حلقوں میں اپنا ایک مقام رکھتے ہیں ۔
قدوس صہبائی کے دفتر میں ہی بھوپال کے نوجوان جرنلسٹ احمد علی سے ملاقات ہوئی بہت ہی سنجیدہ طبع نوجوان _____اوراب ۱۹۸۲ء میں ان سے کراچی میں ملنے کا شرف حاصل ہوا۔ ’ڈان‘ کے ایڈیٹر ہیں اور ہاجرہ مسرور کے شوہر۔
انجمن ترقی پسند مصنفین پر شباب آگیا تھا اور اس کی ہفتہ وار نشستیں بنے بھائی کے مکان ۹۶؍ والکیشور روڈ پر نہایت پابندی اور باقاعدگی سے منعقد ہونے لگی تھی۔
اتوار کو دوپہر بعد ہر ادیب و شاعر کا راستہ بنے بھائی کے گھر کی طرف جاتا تھا کوئی باقاعدہ عہدوں کی تقسیم نہیں تھی، سب ممبر تھے۔ حمید اختر نے سکریٹری کاکام سنبھال لیا تھا اور باقاعدہ سچی سچی اور دلچسپ رپورٹ لکھتے تھے ____ ’’قومی جنگ‘‘ کے ادارہ میں ایک کبھی نہ پر ہونے والا خلا پیدا ہوگیا تھا اور ایک خوشگوار اضافہ بھی ہوگیا تھا۔ خلا تھا سیّد سبطِ حسن کے ذاتی سلسلے میں امریکہ چلے جانے کی وجہ سے اور خوشگوار اضافہ تھا ،ظ۔ انصاری کی آمد سے۔ دلّی کے پارٹی آفس سے سبطِ حسن کی جگہ ظ۔ انصاری بمبئی لائے گئے تھے_____ظ۔ انصاری ان دنوں انجمن کے جلسوں میں رونق اور تفریح کا سامان بنے تھے ______ظ۔ انصاری (ظل حسین انصاری) میرٹھ کی شیعہ درس گاہ منصبیہ کالج کے پڑھے ہوئے تھے اور کچھ عرصہ پہلے روزنامہ ’’انصاری‘‘ دہلی میں کام کرتے تھے۔ صحافی بھی تھے اور شاعر بھی۔ہماری انجمن کی میٹنگ میں عام طور پر ایک نظم پڑھی جاتی ، ایک افسانہ اور ایک آدھ مقالہ اور کھل کر بحث ہوتی _____بحث کا ایک پیٹرن بن گیا تھا۔ عام طور پر سب سے پہلے ظ۔ انصاری مکتبی قسم کا اعتراض کرتے۔ اس کی ’’ہ‘‘گری ہے ، اس کا ’’الف‘‘ زیادہ ہے، یہ مصرعہ یوں نہیں یوں ہونا چاہیے یا ٹکنیک کمزور ہے اور بحث شروع ہوجاتی۔ جب دوچار آدمی بول چکتے تو سردار جعفری اپنے فیصلہ کن انداز میں مختصر تقریر کرتے _____اور موضوع اور اس کی اہمیت پر زیادہ زور دیتے اور محفل کو اپنا ہم نوا بنالیتے _____لیکن ظ۔ انصاری آخر میں کہتے ’’ مگر میرا اعتراض باقی ہے‘‘۔ ایک میٹنگ کی بات یاد آئی _____ساحرؔ لدھیانوی نے اپنی تازہ نظم ’’جہانگیر ‘‘ سنائی اس کا ایک مصرع تھا :
’’ہم کوئی بھی جہاں نورو جہانگیر نہیں‘‘
مگر ظ۔ انصاری نے کہا ____جہاں نور غلط ہے ۔ مصرع یوں ہونا چاہیے:
’’یاں کوئی نور جہاں اور جہانگیر نہیں‘‘
سردار نے اور دوسرے لوگوں نے کہا کہ مصرع خوبصورت اور رواں دواں ہے اور ’’جہاں نور‘‘ کہنے میں ایک خاص معنویت ہے۔ مگر سب کی سننے کے بعد وہ یہی بولے _____’’میرا عتراض باقی ہے۔‘‘
ان کا اعتراض باقی رہتا اور صاحب صدر میٹنگ کی کاروائی آگے بڑھانے ا شارہ کرتے۔
جب بات زیادہ الجھ جاتی تو بنے بھائی بولتے تھے ۔ جن کا سب لوگ احترام کرتے تھے۔ اصل میں بنے بھائی کی وجہ سے ایک توازن قائم تھا۔ انھوں نے انجمن کے دروازے کسی پر بند نہیں کیے تھے اور ان کی کوشش ہوتی تھی کہ سکّہ بند ترقی پسندوں کے علاوہ وہ ادیب اور شاعر بھی ان میٹنگوں میں آئیں جن کا براہ راست تحریک سے تعلق نہیں ہے۔ کاروائی میں حصہ لیں، بحث و مباحثہ ہو اور ذہنوں میں زیادہ کشادگی پیدا ہو، اورحلقۂ ادب اور وسیع ہو۔
یہ ان کی وسیع النظری کا ہی نتیجہ تھا کہ ان جلسوں میں جگرؔ صاحب بھی شریک ہوتے اور یگانہ چنگیزی بھی ، ذوالفقار بخاری اور پطرس بخاری بھی ۔جن کا بائیں بازوں کی سیاست یا ادب سے کوئی تعلق نہیں تھا ان لوگوں کے کلام اور خیالات کو نہایت احترام سے سناگیا۔ جس میٹنگ میں پطرس بخاری کو خصوسی طور پر بلایا گیا تھا وہ بہت دلچسپ تھی۔ پطرس سے مختلف باتوں کے علاوہ علامہ اقبال کے بارے میں پوچھا گیا _____انھوں نے کئی دلچسپ باتیں بتلائیں۔ مثلاً یہ کہ اقبال کو کسی خاص سیاسی مسلک سے کٹر پن کی حد تک وابستگی نہیں تھی۔ وہ تو شاعر تھے جو کچھ سامنے آیا اس پر نظم لکھ دی۔ کارل مارکس یا لینن کے متعلق ان کی نظمیں پڑھ کر یہ سمجھنا کہ وہ کمیونسٹ تھے غلط ہوگا۔ کہنے لگے ، ایک بار مجھ سے کسی بات پر گفتگو ہورہی تھی جس نے بحث کی شکل اختیار کرلی۔ اگلے دن جو میں علامہ کی خدمت میں حاضر ہوا تو کہنے لگے میں نے تمہارے بارے میں ایک نظم لکھی ہے اور وہ نظم سنائی ۔ ’’فلسفہ زدہ سیّد زادے کے نام‘‘۔
بنے بھائی کے گھر کبھی کبھی بہت دلچسپ میٹنگیں ہوتی تھیں۔ جوشؔ صاحب مستقل طور پر تو پونہ رہتے تھے مگر کبھی کبھی بمبئی آتے اور اتوار ہوتا تو پی ڈبلیو اے کی میٹنگ میں ضرور آتے۔ چنانچہ ایک میٹنگ میں آئے تو اپنی برقعہ پوش محبوبہ کو بھی ساتھ لائے اور پورے موڈ میں اپنا کلام سنایا۔ محبوبہ کو اپنے ساتھ تخت پر بٹھالیا۔ ان سے چہرے سے نقاب اٹھانے کو کہا _____اور خوبصورت تشبیہوں اور استعاروں سے بھر پور اپنی وہ حسین نظم سنائی۔
’’برقعہ برفگن‘‘ ____یہ نظم ان کے کسی مجموعہ کلام میں چھپی ہے اور کالے برقعہ میں ملبوس بے نقاب مگر محبوب حسن پر کئی معرکتہ الآرا رباعیاں بھی ہیں ____یہ کلام اسی برقعہ پوس حسینہ کارہینِ منت ہے۔
انجمن ترقی پسند مصنفین کی میٹنگوں کی اہمیت اور افادیت مسلم تھی۔ بمبئی کے سب ادیب نہایت سنجیدگی اور پابندی سے شریک ہوتے تھے۔ کرشن چندر ، خواجہ احمد عباس، بلراج ساہنی ، رامانند ساگر، اختر الایمان ، نیاز حیدر ، مجروح سلطان پوری، قدوس صہبائی، وشوا متر عادل، پریم دھون اور وہ سب جن کا ذکر گزشتہ صفحات میں آچکا ہے انجمن کے روح رواں تھے ۔
اس زمانے میں ہم لوگوں کی نظمیں انجمن کی میٹنگوں سے چھن کر ہی رسائل میں چھپتی تھیں۔ معقول اور تعمیری تنقید کی روشنی میں نظر ثانی کی جاتی تھی ____ نظریاتی بحث پر زیادہ توجہ دی جاتی تھی۔ انجمن ترقی پسند مصنفین بمبئی کا خوشگوار دور اس وقت تک جاری رہا جب تک بنے بھائی بمبئی رہے۔ ان کے ترکِ وطن کرنے کے بعد انجمن کے جلسوں کی جگہ اور نوعیت بھی بدل گئی اور وہ وقت کے سخت تھپیڑے کھانے لگی۔
بمبئی جد و جہد آزادی کا اہم مرکز تھا۔ اس شہر نے خلافت کا شباب دیکھا۔ یہیں انڈین نیشنل کانگریس کے بہت سے اہم جلاس ہوئے _____خاص طور پر ۱۹۴۲ء کا وہ اجلاس جس میں ’’ہندوستان چھوڑو دو‘‘ ریزولیشن پاس ہوا اور جس کے نتیجے میں پورا ملک انقلاب زندہ باد کے نعروں سے گونج اٹھا اور انگریزی سامراج کو پسینے آگئے_____۱۹۴۶ء میں ملاحوں کی ہڑتال کا مرکز یہی شہر تھا جس نے برٹش حکومت کی جڑیں کھوکھلی کردیں۔ مسلم لیگ کی سیاست کا مرکز یہی شہر تھا جس کی سرگرمیوں کی وجہ سے آخر کا ر ملک تقسیم ہوا اور پاکستان وجود میں آیا۔
بھلا اس شہر میں جشن آزادی نہ منایا جاتا تو کہاں منایا جاتا _____تین دن اور تین رات یہ شہر مسلسل جاگتا رہا اور لوگوں نے جھوم جھوم کر جشن آزادی منایا۔ بسوں اور ٹراموں میں وہ بھیڑ کہ خدا کی پناہ ،راتیں دن کو شرماتی تھیں اور پورا شہر بقعۂ نور بنا ہوا تھا ______ادیبوں اور شاعروں اور فنکاروں نے کھل کر آزادی کے گیت گائے _____سردار جعفری نے اپنی توانا آواز اور نظم آزاد کے لہجے میں پکارا:
ناگہاں شور ہوا
لو شبِ تار غلامی کی سحر آپہنچی
اور مطرب کی ہتھیلی سے شعائیں پھوٹیں
ان دنوں پریم دھون کا ایک گیت جسے اپٹا کے کلاکاروں نے پریم دھون کے ساتھ گایا تھا _____بہت مقبول ہوا اور بچے بچے کی زبان پر تھا :
ناچو آج ، گائو آج ، گائو خوشی کے گیت
اندھیارے کی ہار ہوئی ہے اجیارے کی جیت
(کچھ عرصے بعد مجروح سلطان پوری نے اس مکھڑے کو پریم دھون کی اجازت سے ذرا سی تبدیلی کے ساتھ ایک فلم کے گیت کا مکھڑا بنا دیا۔ جس میں دوسرا مصرع بدل دیا گیا تھا۔
’’آج کسی کی ہار ہوئی ہے آج کسی کی جیت‘‘
یہ گیت مکیش نے گایا تھا۔
آزادی آئی لیکن لہو لہان ______
بہت جلد یہ خوشی ماتمی دھن میں بدل گئی جب پنجاب اور دہلی کے قتل و غارت کی خبروں نے فیضؔ کے ان مصرعوں کی تفسیر پیش کردی:
یہ داغ داغ اجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا یہ وہ سحر تو نہیں
تو بنے بھائی کا گھر ادبی سرگرمیوں کا مرکز تھا اور آزادی کے بعد انجمن کے جلسوں میں نیا جوش و خروش آگیا تھا _____کچھ ادیب چلے گئے تھے اور بہت سے ادیب ادھر ادھر سے بمبئی آگئے تھے۔ لکھنؤ سے ممتاز حسین ایک خوشگوار اضافہ تھے، جن کی تنقید بہت گاڑھی اور ادق ہوتی تھی۔بنے بھائی اپنے مخصوص متبسم انداز میں کہا کرتے تھے کہ ممتاز حسین ترقی پسندوں کا محمد حسن عسکری ہے۔ ساحرؔ اور حمید اختر اور ابراہیم جلیس چلے گئے تھے۔ (ساحرؔ کچھ عرصہ بعد پھر بمبئی واپس آئے) اور اب انجمن کے جلسے کی رپورٹیں مہندر ناتھ لکھتے تھے۔ مہندر ناتھ بھی مشہور افسانہ نگار تھے۔ اس لیے حمید اختر کی طرح ان کی رپورٹوں میں بھی ادبی چاشنی ہوتی تھی _____ اور ’’نظام‘‘ ویکلی کے بند ہونے کے کچھ دن بعد ’’شاہد‘‘ ویکلی نکلا تھا جس کے مالک سلطان صاحب تھے اور ایڈیٹر عادل رشید۔ یہ ویکلی رسالہ جب تک چلا ترقی پسند مصنفین کا غیر سرکاری آرگن بنا رہا۔
پنجاب سے کئی ادیب آگئے تھے جن کی آمد سے بمبئی کی ادبی فضا میں اور گیرائی پیدا ہوگئی تھی _____رامانند ساگر آئے اپنے ناول ’’اور انسان مر گیا ‘‘ کے ساتھ۔ انھوں نے اس ناول کی کئی قسطیں انجمن کے جلسوں میں پڑھیں۔ یہ ناول فسادات کے پس منظر میں لکھا گیا تھا۔ اس پر بہت بحثیں ہوئیں اور رامانند ساگر کے قنوطی نقطۂ نظر سے کھل کر اختلاف کیا گیا اور کہا گیا کہ انسان اس قتل و غارت کے باوجود زندہ ہے _____بلراج ساہنی کے چھوٹے بھائی بھیشم ساہنی بھی بمبئی آگئے۔ وہ ہندی ادیب ہیں اور اب ایک عرصہ سے دلی رہتے ہیں۔ ذاکر حسین کالج میں پڑھاتے ہیں۔ انجمن ترقی پسند مصنفین اور آفرویشیائی رائٹرس کانفرنس کے سرگرم رکن ہیں _____مگر وہ بمبئی میں اتنے نمایاں نہیں ہوسکے تھے۔
آزادی کے کچھ سال قبل پونہ اردو ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا۔ ڈبلو زیڈ احمد نے شالیمار فلم کمپنی بنائی تھی جس کی مشہور فلمیں تھیں ’’ من کی جیت‘‘ اور ’’غلامی‘‘ ۔ اس فلم کمپنی میں جوش ملیح آبادی ، ساغر نظامی، کرشن چندر، اختر الایمان ، مسعود پرویز ، بھرت ویاس اور اردو ہندی کے کئی ادیب اور شاعر تھے _____ مگر اس کمپنی کا شیرازہ آہستہ آہستہ بکھرا تھا اور ایک ایک کرکے سبھی ادیب اور شاعر بمبئی آگئے تھے۔تقسیم وطن سے کچھ دن پہلے ،جاز بھی کچھ عرصے کے لیے بمبئی آئے تھے اور کھیت واڑی کمیون ہی میں ٹھہرے تھے۔
۳۰؍ جنوری ۱۹۴۸ء _____بمبئی کی ایک نہایت خوشگوار اور پربہار شام ۔ ریڈفلیگ ہال میں ایک ایسی مبارک تقریب ہے جس میں کمیونسٹ پارٹی کے اراکین کے علاوہ اردو کے بیشتر ادیب و شاعر جمع ہیں۔ عورتوں نے بالخصوص زرق برق لباس پہنے ہیں۔ آج علی سردار جعفری اور سلطانہ بیگم کی شادی ہے _____ پارٹی کی رسم کے مطابق دو کمیونسٹ ممبران کی شادی ____ہال کھچاجھچ بھرا ہوا ہے _____رسم تو پوری ہوچکی ہے۔اب احباب مبارکباد دے رہے ہیں۔ نئے جوڑے کو تحائف پیش کررہے ہیں۔ میراجی نے ایک نظم پڑھتے ہوئے نئے جوڑے کو ایک دلچسپ تحفہ دیا ہے _____بک شلف ، لکڑی کے دو خوبصورت مینڈھے ۔ آمنے سامنے ۔ ممتاز بہن اور ملک نورانی نے بجلی کی کیتلی دی ہے تاکہ چائے فوراً تیار ہوسکے _____(یہ دونوں میاں بیوی ہم سب لوگوں کے بہت پیارے دوست تھے۔ اب بھی ہیں مگر کراچی میں) کیفی اعظمی نے اس موقع پر چھوٹی سی خوبصورت تقریر کی ہے کہ میں نے سردار جعفری سے بہت کچھ سیکھا مگر ایک چیز میں نے ان کو سکھائی ____شادی کرنا _____اور کیفی نے ایک خوبصورت نظم پڑھی :
یہ خوبصورت تقریب اختتام کے قریب تھی کہ ریڈیو پر شام کے چھ بج کر دس منٹ کی خبریں سنتے ہی ہندی کے مشہور ادیب رمیش سنہا مائک پر یہ اعلان کرتے ہیں کہ گاندھی جی کی پرارتھنا سبھا میں انھیں کسی نے گولی ماردی _____مجمع پر سناٹا چھا جاتا ہے اور ماحول یکسر بدل جاتا ہے۔ اس زمانے کی فضا کو دیکھتے ہوئے یہی خیال ہوتا ہے کہ کسی مسلمان نے گولی ماردی ہوگی۔ اور اس خیال کے ساتھ ہی فرقہ وارانہ فساد کی آگ یک لخت بھڑک جانے کا اندیشہ ہے۔ سب لوگ اپنے اپنے گھروں کی طرف بھاگنے لگتے ہیں۔ گاندھی جی کی موت کی خبر آگ کی طرح پورے شہر میں پھیل جاتی ہے _____بسیں اور ٹرامیں بند ہیں۔ شہر میں دفعہ ۱۴۴ کا نفاذ ہوگیا ہے۔ جہاں یہ خوبصورت تقریب منائی جارہی تھی ، کھیت واڑی پر ہے۔ ذرا دو قدم پر گولی پیٹھا ____پھر بھنڈی بازار۔ ساغر صاحب نے زوردار شیروانی پہن رکھی ہے اور ذکیہ بھابی نے غرارہ۔ میرے بھائی امتیاز بھی شیروانی میں ملبوس ہیں۔ ظاہر ہے ایسے موقعوں پر آدمی اپنے لباس سے فوراً پہچانا جاتا ہے۔ ہم لوگ گلی گلی ہوتے ہوئے کسی طرح اپنے گھر کھڑک پہنچتے ہیں ، سب دم بخود ہیں کہ دیکھئے اب کیا ہونے والا ہے۔ اس وقت ریڈیو اتنا عام نہیں تھا کہ گھر گھر سٹ یا ٹرانزسٹر ہوں۔ ہمارے پڑوس میں ریڈیو بج رہا تھا اور سب لوگ اس کی آواز پر کان لگائے ہوئے تھے۔ وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی آواز آئی کہ ایک پاگل نے باپو کو گولی ماردی _____ اس کا نام ناتھو رام گوڈسے بتایا گیا تو سب کی جان میں جان آئی اور اس فساد کا خطرہ ٹلا جو ہمارے ذہنوں پر منڈلا رہا تھا۔
بنے بھائی کے بمبئی سے چلے جانے کے بعد بمبئی کی ادبی فضا تیزی سے بدلی۔ اگرچہ انجمن ترقی پسند مصنفین میں نام نہاد عہدوں کی تقسیم نہیں تھی اور اپنی اپنی بساط اور حیثیت کے مطابق سبھی خلوص دل سے کام کرتے تھے۔مگر ظاہر ہے سربراہی کا سہرا سجاد ظہیر ہی کے سر تھا۔ ان کے چلے جانے کے بعد یہ ذمہ داری علی سردار جعفری کے سر آگئی _____ان دونوں شخصیات میں بہت بڑا فرق تھا۔ میرے نزدیک بنیادی بات یہ تھی کہ بنے بھائی کو اپنے ادبی کیریئر کی کوئی فکر نہ تھی۔ ان کا ایک مقام متعین تھا جو صرف ان کے لیے مخصوص تھا (اور اسی لیے ان کی جگہ آج تک خالی ہے) وہ اپنی ذات سے بے نیاز ہوکر ادب ، ادیب اور معاشرے کی بہبودی کے لیے کام کرتے تھے۔ مگر سردار جعفری کی شخصیت زیرِ تشکیل تھی۔ بے شک وہ ترقی پسند مصنفین کے بہترین وکیل تھے اور ان کے زورِ خطابت کے آگے اچھے اچھوں کی دلیلیں بے وزن ثابت ہوجاتی تھیں۔ مگر ان کی مشکل یہ تھی کہ بحیثیت شاعر وہ اپنی شخصیت منوانے میں منہمک تھے اور اس وقت شعرا کی صفوں میں ان سے کہیں زیادہ مقبول شعرا موجود تھے۔ مخدومؔ محی الدین ، فیضؔ، جذبیؔ، جاں نثار اخترؔ، اختر الایمان _____اور ذرا ادھر دیکھئے تو ن۔ م۔ راشد اور میراجی _____یہ سب کم و بیش سردار جعفری کے ہم عصر تھے۔ مگر اس وقت کے تنقیدی شعور نے ان شعرا کو قابل توجہ تسلیم کرلیا تھا اور ادبی رسائل ان کے ذکر سے بھرے رہتے تھے۔ ان سب نے شاعری کی نئی جہتیں تلاش کی تھیں، جبکہ سردار جعفری کا کوئی خاص تذکرہ نہیں کیا جاتا تھا اور نہ سردار کا کوئی قابل ذکر کارنامہ سامنے آیا تھا۔ ان کا پہلا مجموعہ کلام ’’پرواز‘‘ شاید ۱۹۴۵ء میں چھپا تھا جس کی کوئی خاص پذیرائی نہیں ہوئی تھی۔ سردار جعفری کی جس کتاب نے ایک گروہ (یعنی ترقی پسند) کے ناقدین کو اپنی طرف متوجہ کیا وہ ان کی طویل نظم ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ ہے جس میں سردار نے روایتی شاعری کی ڈگر سے ہٹ کر آزاد نظم کی تکنیک کو برتا۔ اگرچہ ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ کی آزاد شاعری میں راشد کی شاعری جیسا سحر انگیز آہنگ اور تہہ داری تو نہیں ہے مگر ایک شکوہ ہے اور مکالماتی قوت ہے جو سردار کے شعری آہنگ کو ممیز کرتی ہے _____مگر ’’نئی دنیا کو سلام‘‘ غالباً اوائل ۱۹۴۷ء میں چھپی ہے اور اردو میں کسی کتاب کو مقبول ہوتے ہوتے دو تین سال تو لگ ہی جاتے ہیں۔
غرض سردار کے ہاتھ میں انجمن کے زمام آتے ہی اس کے رنگ ڈھنگ بدلنے لگے اور آہستہ آہستہ وسیع النظری اور ادبی رواداری میں کمی آنی شروع ہوئی۔ مگر اس کا احساس شروع شروع میں اس لیے نہیں ہوا کہ ملک کے حالات تیزی سے بدل رہے تھے اور بین الاقوامی تبدیلیوں کا دبائو بھی انجمن کی کارکردگی پر پڑنا لازمی تھا۔ اب مقصدیت کی سلپ ہر تخلیق کے ماتھے پر چپکائی جانے لگی اور ادبی محاسن کو طاق میں رکھنے کا چلن شروع ہوگیا اور سردار جعفری کی شہرت نے فراٹے بھرنے شروع کیے۔ ان کے نثری مضامین ان کی پشت پناہی کا فرض انجام دینے لگے اور انھوں نے فیضؔ کی :
’’یہ داغ داغ اجالا یہ شب گزیدہ سحر‘‘
والی نظم کو رجعت پرستانہ قرار دیا اور دلیل دی کہ آزادی کے اجالے کو داغ داغ تو مسلم لیگ بھی کہتی ہے اور آر ایس ایس بھی _____چونکہ یہ واضح نہیں ہوتا کہ یہ تاثر ’’عوام‘‘ کا ہے اور نظم واضح نہیں ہے۔ اس لیے ترقی پسند نہیں ہے (اس وقت میرے سامنے وہ مضمون نہیں ہے مگر سردار کے اس مضمون سے سب اہل نظر واقف ہیں) سردار کے ان ترقی پسندانہ تجزیوں نے ان کے لیے ایک نئی راہ کھول دی اور انھوں نے ’’نیا ادب‘‘ میں ’’دار و رسن‘‘ کے عنوان سے جارحانہ مضامین کا ایسا سلسلہ شروع کیا جس میں شعرا کی تخلیقات کا جائزہ لے کر انھیں دار و رسن پر چڑھایا جاتا تھا اور سادہ لوح قارئین سے کہا جاتا تھا کہ ان کی شاعری زہرناک ہے۔ مضامین اٹھا کر دیکھئے ، کون کون سولی پر نہ چڑھا یا گیا۔ حیدر آباد میں مخدومؔ کو چھوڑ کر باقی سب شاعر ، پنجاب میں احمد ندیم قاسمی کو بھی نہیں بخشا گیا ، بمبئی میں ساغر نظامی کو بھی در پر کھینچ دیا _____اور سردار کے ان کارناموں کی اتنی واہ واہ ہوئی کہ اس وقت کے نئے شاعروں اور ادیبوں کی عاقبت خراب ہوئی سو ہوئی ، اچھے خاصے مقبول شاعر اور ادیب بھی اپنی اپنی روش سے بہک گئے:
رقص کرنا ہے تو پھر پائوں کی زنجیر نہ دیکھ
جیسی مرصع شاعری کرنے والے شاعر نے مطلع نکالا:
امن کا جھنڈا اس دھرتی پر کس نے کہا لہرانے نہ پائے
ہے یہ کوئی ہٹلر کا چیلا ، مار لے ساتھی جانے نہ پائے
اس دور کا ایک مشہور شعر ملاحظہ ہو ، غزل کا شعر:
اس طرف روس، ادھر چین ، ملایا ، برما
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
تو میں عرض کر رہا تھا کہ آزادی کے کچھ ماہ بعد علی سردار جعفری انجمن کے سربراہ بن گئے جسے انھوں نے شخصیت سازی کے لیے استعمال کیا _____کچھ عرصہ بعد بمبئی کی ادبی محفل میں کچھ اور لوگ بھی آگئے _____راجندر سنگھ بیدی آئے مگر وہ جلسوں میں آتے تو تھے ، نئے افسانے نہیں پڑھتے تھے۔ انھوں نے کہیں لکھا ہے کہ وہ ایک عرصہ تک خاموش رہے اور اس نئے ماحول میں نیا پیرایۂ بیان تلاش کررہے تھے۔ بیدی بھی فلم انڈسٹری میں آئے اور کرشن چندر کے برعکس ان کی فلمی زندگی کامیاب رہی۔ ساحر لدھیانوی لاہور سے ’’نیا سویرا‘‘ اور دہلی سے ’’شاہراہ‘‘ جیسے معیاری ادبی پرچے نکالنے کے بعد واپس بمبئی آگئے ____اور جدو جہد کی دلدل میں پھنس گئے _____جب یک مضبوط جگہ کھڑے ہوگئے تو پھر ادب کی طرف مائل ہوئے _____ بھوپال سے جاں نثار اختر ، کالج کی نوکری چھوڑ کر بمبئی آئے۔ جاں نثار اختر بھی ’’مقصدیت زدہ ‘‘ ادب کا شکار ہوئے اور بہت دن تک ایسی سپاٹ نظمیں کہتے رہے جو ان کے اپنے رنگ و آہنگ سے مطابقت نہ رکھتی تھیں اور جن پر وہ ’’راہ راست‘‘ پر آنے کے بعد شرماتے ضرور ہوں گے۔ کیونکہ صفیہ کے انتقال کے بعد جاں نثار اختر کی شاعری کا نیا جنم ہوا اور ان کی دل میں اتر جانے والی نظمیں اور غزلیں ’’خاک دل‘‘ اور ’’پچھلا پہر‘‘ میں شائع ہوئیں جن کے ذریعے جاں نثار اختر نے اپنی بازیافت کی ______ورنہ پہلے مجموعہ کلام ’’سلاسل‘‘ کے بعد ان کا مجموعہ ’’جاوداں‘‘ بہت کمزور اور وقتی قسم کی نظموں پر مشتمل ہے۔ یادش بخیر جاں نثار اختر بہت مخلص آدمی تھے۔ نہایت شریف اور دلچسپ اور خوددار انسان۔ جانے کیسے کیسے سہانے خواب دیکھ کر بھوپال سے بمبئی آئے تھے مگر یہاں انھیں ٹھکانہ ملا تو جے جے اسپتال پر آرکیڈیا بلنڈنگ کے ایک کمرہ میں جو ایک دھان پان سے بزرگ خلیل صاحب کا کمرہ تھا ۔ جاں نثار مدتوں وہیں رہے۔ اسی کمرے میں انھوں نے صفیہ کے محبت بھرے خط پڑھے۔ بستر مرگ سے اپنی چہیتی بیگم کے خط ، جن میں تقاضا ہوتا تھا ، التجا ہوتی تھی کہ تم آجائو اور مجھے موت کے منہ سے نکال لو۔ میں ابھی مرنا نہیں چاہتی ____اسی کمرے میں جاں نثار اختر نے صفیہ کی موت کے بعد ان خطوط کو ترتیب دے کر ’’زیرِ لب‘‘ چھاپی ____پھر کچھ عرصہ بعد اسی کمرے میں گوالیار سے نئی محبوبہ خدیجہ کو بیاہ کر لائے _____جاں نثار اختر مدتوں ساحر لدھیانوی کی پرچھائیں بنے رہے۔ یہ عالم ہوگیا تھا کہ اگر کوئی ان سے کہتا کہ جاں نثار کچھ سنائو ____تو وہ جواب میں کہتے تھے _____’’ ہاں پہلے ساحرؔ سے ان کی تازہ نظم سنو‘‘ ____ جاں نثار نے فلمی گانے بھی لکھے ۔ بہو بیگم فلم بھی بنائی ____مگر دولت مند کبھی نہ بن سکے ___ بس اپنا اور اپنے بیوی بچوں کا پیٹ پال سکے۔ ترقی کرکے آرکیڈیا بلڈنگ کے کمرے سے باندرہ کرایے کے فلیٹ میں چلے گئے تھے اور بس ‘ ہاں آخری عمر میں ان کی شاعری پر جوانی آگئی تھی اور انھوں نے وہ قرض چکا دیا جو اردو شاعری کا ان کے سر تھا۔
ذکر تھا انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں کا اور درمیان میں آگئے کچھاحباب ۔ اب انجمن کے جلسوں کی مستقل جگہ ۹۶؍ والکیشور روڈ ختم ہوگئی تھی اور کچھ دن ہمارے جلسے اوپیرا ہائوس پر دیودھر اسکول آف میوزک کے ہال میں ہوئے۔ ملک کے حالات کروٹیں بدل رہے تھے اور حکومت وقت کی تنقید ترقی پسندی کا منصب قرار پایا تھا اور اسی مناسبت سے ترقی پسند ادیبوں پر حکومت کی کڑی نظر تھی۔ نشستوں میں اور پبلک جلسوں اور مشاعروں میں گرم نظمیں اور دھواں دھار تقریریں ہونے لگیں اور نوبت سربرآوردہ ادیبوں کی گرفتاریوں تک پہنچی۔ بلاسس روڈ پر پروفیسر سامری کے مشاعرے میں لائوڈ اسپیکر کے اوقات کے خلاف ورزی کرنے کے جرم میں نیاز حیدر اور مجروح سلطان پوری کی گرفتاری کے وارنٹ جاری ہوگئے۔ نیاز تو جلد ہی پولیس کے ہتھے چڑھ گئے مگر مجروح سات آٹھ ماہ تک روپوش رہے۔ لیکن ایک دن مستان تالاب کے مشاعرے میں مجروح شریک ہوئے ۔ مطلع پڑھا:
مجھے سہل ہوگئیں منزلیں کہ قدم کے خار نکل گئے
ترا ہتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
اور جب مشاعرہ ختم ہوا تو خفیہ پولیس کے انسپکٹر نے مجروح کا ہاتھ پکڑ کر کہا:
ترا ہاتھ ہاتھ میں آگیا تو چراغ راہ میں جل گئے
مجروح کی نئی نئی شادی ہوئی تھی اور اس وقت وہ مالی دشواریوں کا شکار تھے ۔اس نازک وقت میں راجندر سنگھ بیدی نے مجروح سے حق دوستی نبھایا اور سات آٹھ مہینے ، جتنے دن مجروح جیل میں رہے بیدی نے کفالت کی۔
تھوڑے دن بعد سردار جعفری کو پولیس ان کے گھر سے پکڑ لے گئی اور وہ کئی ماہ آرتھر روڈ جیل میں رہے۔ سردار نے پتھر کی دیوار والی اکثر نظمیں اسی جیل میں لکھی ہیں جن میں ذاتی غم اور یادوں کی چاشنی ہے۔
ظ۔ انصاری اور بلراج ساہنی بھی گرفتار ہوگئے مگر کچھ دن بعد سنا کہ یہ دونوں انقلابی جیل میں جاکر اس قدر صلح پسند ہوگئے کہ ’’مشروط‘‘ طور پر رہا کردیے گئے۔ مگر رہائی کے بعد ان دونوں کے رخ بدل گئے۔ بلراج ساہنی نے تو ’’اپٹا‘‘ کی سرگرمیوں سے کنارہ کشی کرکے فلمی لائن اختیار کرلی۔ فلم ’’ہم لوگ‘‘ میں بہت عمدہ رول ادا کیا اور اداکاری کی اعلیٰ منزلیں طے کرنے لگے۔ یہی وہ زمانہ ہے جب انھوں نے تھیٹر کا شوق پورا کرنے کے لیے اپنے مکان پر ہی ’’جوہو آرٹ تھیٹر‘‘ بنیاد ڈالی جو شاید اب تک چلتا ہے۔
ظ۔ انصاری جو کمیونسٹ پارٹی کے باقاعدہ ممبر تھے ، اب پارٹی کی سرگرمیوں سے کنارہ کش ہوگئے تھے اور انجمن ترقی پسند مصنفین کے جلسوں میں بھی ان کا گزر نہیں تھا۔ اب وہ ’’انقلاب‘‘ اخبار کے ادارہ سے وابستہ ہوگئے اور کچھ ادھر ادھر کے کام کرتے نظر آئے جیسے کسی سرمایہ دار کو ٹیوشن پڑھانا وغیرہ وغیرہ۔
ظ۔ انصاری نے ادھر ادھر پیر مارنے شروع کیے۔انھیںدنوں ان کے انشائیوں کی کتاب چھپی ’’ورق ورق‘‘ وہ شمع والے حافظ محمد یوسف کے ہفتہ وار اخبار ’’آئینہ‘‘ کی ادارت کرنے دلی آگئے۔ اور وہاں سے ماسکو پرواز کی۔ بہر حال بمبئی ان سے اور وہ بمبئی سے چھوٹ گئے، ایک لمبے عرصے کے لیے ۔اب تو ظ۔ انصاری پھر بمبئی آگئے مگر ان کے مشاغل اب دوسرے ہیں۔ اب تو وہ خیر سے پروفیسر ظ۔ انصاری ہیں اور بمبئی یونیورسٹی کے قابل ذکر استاد۔
ادیبوں اور شاعروں کی گرفتاریوں سے ان کی شہرت میں اضافہ ہوا تھا اور عوام میں جوش و خروش کی ایک نئی لہر دوڑ جاتی تھی۔ اس امر کا سب سے شاندار مظاہرہ سردار جعفری کی گرفتاری کے موقع پر ہوا۔ انجمن کی ہنگامی میٹنگ ہوئی۔ رمیش سنہا نے کہا کہ ’’ سردار جعفری رہائی تحریک ‘‘ چلائی جائے۔ شاہد لطیف نے ایک چھوٹا سا تاثراتی مضمون پڑھا جس کا ایک جملہ اب تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔ آج ایسا لگتا ہے کہ کرشن چندر سردار جعفری کے بغیر یتیم ہوگئے ہیں۔ دراصل اس زمانے میں ہم لوگ خوش فہمی کے شکار تھے کہ انقلاب اب آیا ۔ سب یہی سوچتے تھے کہ :
اب اجالے مری دیوار تک آپہنچے ہیں
سردار کی غیر موجودگی میں انجمن کی کمان کیفی اعظمی نے سنبھالی۔ پہلے وہ صرف نظمیں پڑھتے تھے۔ اب جلسوں میں تقریر کرنے لگے۔ کیفی کی مقبولیت اتنی بڑھ گئی کہ جب سردار جعفری جیل سے چھوٹ کر آئے تو انھیں دوبارہ اپنے مقام پر کھڑے ہونے میں جد و جہد کرنی پڑی
انجمن کے دیودھر اسکول کے جلسوں میں میراجی بھی اکثر آتے تھے۔ وشوا متر عادل جو لاہور، اور اس کے بعد میراجی کے نقش قدم پر چلنے والے شاعروں میں سے تھے اب یکسر بدل گئے تھے اور اچھی خاصی علامتی شاعری کو چھوڑ کر دو اور دو چار کی شاعری کرنے لگے تھے اور وقتی واہ واہ کے پیچھے بھاگنے لگے تھے۔ ان کی اس ’’تالیف قلب‘‘ میں اپٹا کی ایک کلاکار سے دوستی کا بھی ہاتھ تھا اور سننے میں آیاتھا کہ در اصل میراجی اور وشوا متر عادل میں معاصرانہ نہیں ، رقیبانہ چشمک شروع ہوگئی تھی۔ بہر حال حقیقت کچھ ہو، عادل گھٹیا شاعری کرنے لگے اور آہستہ آہستہ شاعری کے اسٹیج سے دور چلے گئے۔
دیودھر ہال میں ہی وہ جلسہ ہوا جس میں عصمت چغتائی نے قرۃ العین حیدر کے افسانوں کا خاکہ اڑایا تھا اور ’’پوم پوم ڈارلنگ‘‘ کے عنوان سے عینی کے فن اور ان کی افسانہ نگاری کو نشانۂ ملامت بنایا تھا اور سب ترقی پسندوں نے بغلیں بجائی تھیں۔ عصمت کے اس مضمون کی بہت دنوں تک دھوم رہی تھی۔
دیودھر ہال میں ہی انجمن ترقی پسند مصنفین کا وہ جلسہ جس میں خواجہ احمد عباس کی خبر لی گئی ، انھیں رجعت پسند کہا گیا تھا اور جب سب کی سننے کے بعد خواجہ صاحب نے جوابی تقریر میں کہا تھا : ’’ ساتھیو ! اپنے ضمیر میں جھانک کر دیکھو کہ تم جو کچھ کہہ رہے ہو ٹھیک ہے۔‘‘تو گیت کار شیلندر نے کہا تھا کہ ضمیر کو دیکھنے کے لیے کون سی سرچ لائٹ ہوتی ہے، ہمیں نہیں معلوم اور رمیش سنہا نے کہا تھا کہ جب عباس ہمیں ’’ساتھیو !‘‘ کہہ کر خطاب کرتے ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ اس ریاست کا وزیر اعلیٰ ہم سے مخاطب ہے۔ (یعنی ہم عباس کو اپنا ساتھی ماننے کو تیار نہیں ہیں)۔
دیودھر اسکول کے بعد صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ میں ، جی پی او کے سامنے کوٹھاری مینشن میں اور آخر آخر میں کمیونسٹ پارٹی کے کمیون کے ہال میں انجمن ترقی پسند مصنفین کے ہفتہ وار جلسے ہوتے رہے۔ حاضری کبھی کم ہوتی تھی ، کبھی زیادہ۔ بعض بعض ہفتے چار پانچ آدمی ہی آئے مگر جلسہ ضرور ہوا۔ لیکن اس باقاعدگی کے باوجود انجمن دن بہ دن بے روح ہوتی جارہی تھی۔ تازہ تخلیقات پر تنقید میں وہ ادبی دیانت داری اور مخلصانہ رویہ مفقود ہوتا جارہا تھا جو کبھی انجمن کا طرۂ امتیاز تھا۔ اب یا تو نظرانداز کرنے کی توہین آمیز پالیسی پر عمل کیا جاتا، یا لٹھ مار تنقید کی جاتی تھی۔ کچھ جلسے بڑے معرکتہ الآرا ہوئے جن کی تلخ و شیریں یادیں اور تاثرات ذہن میں آج بھی محفوظ ہیں۔
اختر الایمان ، میراجی ، مدھو سودن اور ظ۔ انصاری ، ان چار ادیبوں کی ادارت میں ایک ماہانہ رسالہ ’’خیال‘‘ نکلا۔ خالص ادبی اور معیاری رسالہ ادھر ’’نیاادب‘‘ نکل رہا تھا جس پر کمیونسٹ پارٹی کے نظریات کا غلبہ تھا اور معیاری اور دار و رسن کا بازار گرم تھا۔ جس پرچے کے ایڈیٹر میراجی ؔ ہوں اس میں جنسیات زدہ ادب کا نہ چھپنا تعجبات میں سے ہے ۔’’خیال‘‘ ہمہ رنگ ادبی رسالہ تھا۔ اور اس میں سیاسیات کا گزر نہیں تھا۔ پرچے کی مقبولیت بڑھتی جارہی تھی جو ’’نیاادب‘‘ کی ساکھ پر اثر انداز ہوسکتی تھی چنانچہ دار و رسن والے خدائی فوجدار بن کر میدان میں نکل آئے۔ بمبئی جیسے لاکھوں کی آبادی والے شہر میں مٹھی بھر اردو کے ادیب و شاعر تھے۔ صابو صدیق انسٹی ٹیوٹ کے ہال میں حشر برپا ہوا اور سب اپنے اپنے اعمال نامے لے کر حاضر ہوگئے۔ جلسہ انجمن ترقی پسند مصنفین کا ۔ صدارت علی سردار جعفری کی ، مدعی بھی وہی ۔ سردار نے حوالے کے لیے میز پر کتابوں اور رسالوں کا ڈھیر رکھا اور مجھے پرانے زمانے کے مذہبی مناظروں کا منظر یاد آگیا۔ اور بجائے اس کے کہ صدر آخر میں بولے ، صدر صاحب بحیثیت علی سردار جعفری کے شروع ہی میں شعلہ زن ہوگئے اور حسب معمول دلائل کے ساتھ یہ ثابت کیا کہ ’’خیال‘‘ ترقی پسند نظریات کا حامل نہیں ہے اور کہا کہ کسی بھی ترقی پسند ادیب کو ’’خیال‘‘ میں نہیں لکھنا چاہیے۔ اہل محفل کا خیال تھا کہ سردار کی تقریر حرفِ آخر ہے۔ اب کون بول سکتا ہے اس شعلہ بیان کے آگے۔ مگر ایک صاحب ہیں جو طالب علمی کے زمانے سے ہی سردار کے مقابلے میں اسٹیج پر بولتے رہے ہیں اور سردار کی طرح ان کی گاڑی سیدھی سپاٹ ایک رفتار سے نہیں چلتی ، بلکہ وہ اپنی تقریر میں زیر و بم اور مد و جزر کی کیفیت پیدا کرنے پر قادر ہیں اور سامعین کواپنے ساتھ بہا لے جانا اس مقرر کی خصوصیت ہے اور وہ صاحب ہیں اختر الایمان ۔ اختر نے نرم لہجے میں تقریر شروع کی۔ ’’ صاحب صدر بڑی تیزی میں گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ‘‘ اور اختر نے جملہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سوال یہ ہے کہ کیا ادب پر پارٹی ڈسپلن عاید ہوتا ہے یا ہونا چاہیے۔ ایک ہی ایسی بات ہے جس کا جواب دینا مشکل ہے کیونکہ انجمن ترقی پسند مصنفین کے منشور میں بھی کہیں نہیں ہے کہ انجمن کمیونسٹ پارٹی کے مقرر کردہ اصولوں پر چلے گی۔ بلکہ لفظی طور پر اس مفروضے کی نفی کی جاتی رہی ہے۔ یہ ادیب کاذاتی معاملہ ہے کہ وہ کیا سیاسی خیالات رکھتا ہے چونکہ خواجہ احمد عباس پہلے بھگت چکے تھے اس لیے آج وہ اختر الایمان کے ساتھ تھے ۔ انھوں نے بھی عمدہ تقریر کی اور کچھ لوگ ادھر ادھر سے بولے۔ مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات ۔ کرسی صدارت کے فیصلے کے مطابق تمام ہندوستان میں انجمن کی شاخوں کو سرکلر بھیج دیے گئے تھے کہ’’ خیال‘‘ کے لیے کوئی نہ لکھے اور اختر الایمان نے اس کے بعد بہت دلچسپ بات کہی کہ میں آج سے اپنا نام اختر الایمان رجعت پرست لکھا کروں گا۔ دیکھیں میرا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے۔ اختر نے تو یہ بات محض تفریحاً کہی تھی مگر واقعہ یہ ہے کہ وقت نے ثابت کردیا کہ یوں عدالتیں قائم کرکے ادب نہیں پیدا کیا جاسکتا اور ادب اور ادیب پر آسانی سے لیبل لگانا اپنی کور ذوقی کا مظاہرہ ہے۔ ڈنڈے کے زور سے نہ کبھی ادب تخلیق ہوا ہے نہ ہوسکتا ہے۔ اختر الایمان میں غضب کی خود اعتمادی ہے ۔ وہ کسی بھی جعفریانہ پروپیگنڈے سے مرعوب نہیں ہوئے اور اپنے مخصوص اور منفرد انداز میں لکھتے رہے اور بیرونی اثرات کے باعث اپنا شعری رویہ نہیں بدلا۔ اور ان کا ادبی مرتبہ وقت کے ساتھ بلند ہوتا گیا۔
کوٹھاری مینشن میں بھی بعض یادگاری نشستیں ہوئیں۔ دو نشستوں کا ذکر دلچسپی سے خالی نہیں اور انجمن کے مخصوص ماحول کو سمجھنے کے لیے یہ ذکر ضروری بھی ہے۔
ساحر لدھیانوی ویسے بے پروا اور بے نیاز قسم کے انسان نظر آتے ہیں ، مگر اپنے معاملات میں وہ بہت محتاط اور سنجیدہ تھے اور جب کوئی پروگرام ترتیب دیتے تھے تو اس کی کامیابی کے لیے جملہ پہلوئوں پر غور کرتے تھے اور ضروری ہوا تو ہر طرح کی پیش بندی کرتے تھے۔ میرے خیال میں ان کی اسی خصوصیت نے انھیں فلموں میں بھی اس قدر کامیاب کیا۔ ساحر اور کیفی اعظمی میں بہت پرانی دوستی تھی۔ اس قدر کہ حیدر آباد کانفرنس سے لوٹنے کے بعد ساحر نے اپنی ایک نظم کیفی اعظمی کے نام منسوب کی تھی ۔اس نظم کا پہلا مصرع ہے:
اب تک میرے گیتوں میں امید بھی تھی پسپائی بھی
ان دونوں دوستوں میں کسی بات پر اختلاف ہوگیا۔ کوئی ادبی مسئلہ نہ تھا بلکہ قطعاً ذاتی اور رومانی قسم کی بات تھی مگر ایسا اکثر ہوا ہے کہ یارلوگوں نے ذاتی رنجشوں کو ادب کے اسٹیج پر لاکر زور آزمائی کی اور نتیجہ کے طور پر ادبی تحریک پر منفی اثر پڑا۔ چنانچہ اس موقع پر بھی ساحر لدھیانوی بے حد جذباتی ہوگئے اور نھوں نے منصوبہ بند طریقے سے نجی محفلوں میں کیفی کی شاعری کی برائی کرنی شروع کی اور اس کے خلاف لابی تیار کی۔ اور جب فضا سازگار ہوگئی تو ساحر نے کیفی اعظمی کی شاعری پر ایک مضمون انجمن کے جلسے میں پڑھا جس کا پروپیگنڈا شد و مد سے کیا گیا تھا اور ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔ سردار جعفری جلسے کی صدارت کررہے تھے۔ کیفی اور ان کی بیگم بھی جلسے میں موجود تھے۔ ساحر نے مضمون پڑھا جس میں کیفی کی شاعری کے معائب ہی کو اجاگر کیا گیا تھا، اور ہرزاویے سے نقائص ہی نقائص تلاش کیے گئے تھے اور نفسِ مضمون یہ تھا کہ اول تو کیفی شاعر ہی نہیں ہے اور اگر ہے تو گھٹیا درجے کا۔ ساحر مع اپنے مخصوص احباب کے جلسے میں تشریف لائے تھے اس لیے اہل محفل نے مجموعی طور پر مضمون پر واہ واہ کی۔ کچھ بحث ہوئی مگر مجمع کا موڈ ہی کچھ اور تھا۔ آج سب کو کیفی کی شاعری میں صرف خامیاں ہی خامیاں نظر آرہی تھیں۔ صاحبِ صدر نے حسب معمول جوشیلی تقریر کی مگر وہ بھی ساحر کے مضمون کا طلسم پوری طرح نہ توڑ سکے۔ سردار نے جب ادب لطیف اور سویرا کی ان تحریروں کا حوالہ دیا جس میں ساحر نے بحیثیت ایڈیٹر کے کیفی کی تعریف میں اپنا زور قلم صرف کیا تھا تو ساحر نے برجستہ کہا کہ وہ میرے کمرشیل نوٹ تھے، ناقدانہ رائے نہیں تھی۔ غرض ساحر اپنے مقصد میں کامیاب ہوگئے۔ کیفی جلسے کے آخر تک موجود رہے مگر انھوں نے ایک لفظ بھی اپنی صفائی میں نہیں کہا۔ ان کی گمبھیر خاموشی کا مطلب تھا : ’’بکتے رہو ، میرا کیا بگاڑ سکتے ہو؟‘‘
سردار جعفری بہت بھنّائے اور انھوں نے پی ڈبلو اے کی اگلی میٹنگ میں ایک جوابی مضمون ساحر لدھیانوی کی شاعری کے بارے میں پڑھا۔ اس میں بھی یک رخا پن تھا ۔ سردار نے ساحر کی مشہور نظم ’’تاج محل‘‘ پر سخت تنقید کی اور کہا کہ اس نظم میں ہندوستان کے تہذیبی ورثے اور تاریخی عظمت کا مذاق اڑایا گیا ہے اور یہ رویہ نہایت رجعت پرستانہ ہے اور یہ نظم نہایت کمتر درجے کی ہے۔ ساحر کی اور نظموں کی بھی اسی طرح درگت بنائی ۔
جب مضمون ختم ہوگیا تو ساحر لدھیانوی بہت اطمیان سے اپنی جگہ سے اٹھے اور پورے قد کے ساتھ اٹھ کر کہا :’’ اس مضمون سے آپ یہ ثابت کرسکتے ہیں کہ ساحر لدھیانوی گھٹیا شاعر ہے ، مگر اس سے یہ کہاں ثابت ہوا کہ کیفی اعظمی اچھا شاعر ہے۔‘‘
ساحر کے اس ایک ہی جملے نے سردار کے مضمون کا اثر زائل کردیا اور سردار کی بدنیت کو واضح کردیا۔
بمبئی صفِ اول کے ترقی پسند ادیبوں اور شاعروں کا مرکز تھا مگر ان سربرآوردہ ادیبوں کی اس طرح کی چشمکوں نے انجمن کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچایا اور آہستہ آہستہ عوام کے دلوں میں اس کی وقعت کم ہونے لگی، کیونکہ انجمن کوئی جامد شے نہیں ہے بلکہ افراد کے اجتماع اور ان کے عمل کا نام ہے۔ مختلف ادیبوں کی شعوری ہم آہنگی سے انجمن کو فروغ حاصل ہوا تھا اور اس کے فقدان سے انجمن ترقی پسند مصنفین کا شیرازہ بکھرنے لگا ۔ جس انجمن کے پلیٹ فارم سے تیسری عالمی جنگ کے امکانات کو ختم کرنے کے لیے بھرپور جد و جہد کی گئی تھی اور ’’پانی کا درخت‘‘ اور ’’کالو بھنگی‘‘ جیسے افسانے اور ’’نیلا پرچم‘‘ اور ’’ابن مریم‘‘ جیسی نظمیں اردو کو دی تھیں اس کی صفوں میں انتشار پیدا ہوا تو سب اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ گانے بجانے لگے۔ جس کا جدھر منہ اٹھا چل دیا اور اپنا اپنا کیریئر تلاش کرنے کوئی فلم کی طرف گیا ، کوئی روس اڑا ، کوئی چین:
کھاکے لندن کی ہوا عیش وطن بھول گئے
٭٭٭

مشمولہ : ’’ترقی پسند تحریک اور ممبئی‘‘ از: پروفیسر صاحب علی ۔۔۔۔۔ تلخیص : ڈاکٹر قمر صدیقی

Khwaja Ahmad Abbas: YadeN Aur Tassurat

Articles

خواجہ احمد عباس : یادیں اور تاثرات

ڈاکٹر غلام حسین

 

میں ضلع بستی کے ایک دور افتادہ گائوں میں ، جو میرا مولد و مسکن بھی ہے، گرمی کی چھٹیاں گزار رہا تھا۔۔۔۔۔چھٹیاں کیا گزار رہا تھا اپنے مستقبل کے عنوانات طے کر رہا تھا کہ یکایک پہلی اپریل کو محلے کا ایک طالب علم دوڑتا ہوا آیا اور اس نے ریڈیو کی وہ خبر دہرائی جو خواجہ صاحب کی شدید علالت سے متعلق تھی ۔ میں ابھی چند ماہ پہلے تک خواجہ صاحب کے ساتھ ممبئی میں رہ چکا تھا، جب خواجہ صاحب کے عزم اور ان کی قوت ارادی کا تصور کیا تو خبر کچھ مبالغہ آمیز معلوم ہوئی لیکن جب ان کے سن و سال اور ان کی حرکت و عمل کی درماندگی کا جائزہ لیتا تھا تو یہ خبر اندیشہ ہاے دور و دراز میں مبتلا کر دیتی تھی۔ میں متصادم خیالات کی یورش سے گھبرا گیا اور گورکھپور چلا آیا۔ پھر اخبارات سے خواجہ صاحب کا حال معلوم ہوتا رہا اور وہ اس حد تک اچھے ہو گئے تھے کہ بلٹز نے ’’ آزاد قلم‘‘ کے سلسلے کو جلد ہی دوبارہ جاری کر نے کی یقین دہانی کرائی۔ اسی دوران میں نے خواجہ صاحب کو خیریت معلوم کرنے کے لیے خط لکھا جس کا جواب آیا: ’’میرے جاننے پہچاننے والے ہی میری اصل دولت ہیں‘‘۔میں عید کے مبارک موقع پر گائوں چلا گیا جہاں وہ خبر سنی جس کا صدمہ الفاظ میں منتقل نہیں ہو سکتا۔
ویسے تو میں خواجہ صاحب کے ’’آزاد قلم‘‘ کا برسوں سے قاری رہا ہوں لیکن ان کی کہانیوں کا مجموعہ ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ پڑھنے کے بعد مجھے خواجہ صاحب کی تخلیقات سے والہانہ لگائو ہو گیا تھا۔ جب میں نے گورکھپور یونیورسٹی سے اردو ادب میں ایم۔اے۔ کر لیا تو میں نے اپنے مشفق استاد سے اپنی اس خواہش کا اظہار کیا کہ میں ’’خواجہ احمد عباس کی حیات اور کارنامے کے موضوع پر پی ۔ایچ۔ ڈی۔ کے لیے مقالہ لکھنا چاہتا ہوں۔ انھوں نے بڑی خوشی سے یہ موضوع منظور کر لیا۔ اور میں نے ان کی نگرانی میں کام شروع کر دیا۔
بہت پہلے ’’آزاد قلم‘‘ اور ’’نئی دھرتی نئے انسان‘‘ کے افسانوں سے متاثر ہو چکا تھا۔ اب خواجہ صاحب کی اور تخلیقات پڑھنے کا موقعہ ملا۔ جوں جوں خواجہ صاحب کی تحریروں کا مطالعہ بڑھتا گیا، ان کی عظیم شخصیت میرے دل میں گھر کرتی چلی گئی۔ ابھی تک توخواجہ صاحب سے ملاقات ان کی تحریروں کے زریعہ ہوتی تھی لیکن اب یہ خواہش ہوئی کہ ان سے براہ راست ملاقات کی جائے میں نے اپنے نگراں سے بات کی تو انھوں نے کہا کہ ابھی ان کی تحریروں کا عمیق مطالعہ جاری رکھو۔
اتفاق ہی کہئے کہ اسی دوران یعنی ۱۹۸۳ء کے اوائل میں جب سردی کی شدت ختم ہو رہی تھی ، بستی والوں نے ایک فلمی فنکشن منعقد کیا جس کی صدارت خواجہ احمد عباس صاحب نے کی۔ فنکشن کے دوسرے دن اپنے نگراں کے حکم کے مطا بق خواجہ صاحب سے ملاقات کے لیے بستی پہنچا۔ اس وقت وہ بستی کے ڈاک بنگلے میں قیام پزیر تھے۔ تقریباً صبح کے ۸ بج چکے تھے ڈاک بنگلے کے برآمدے میں دھوپ پھیل چکی تھی۔ ملاقاتیوں کا تانتا بندھا ہوا تھا اس میں میرا ایک اور اضافہ ہو گیا۔ ملاقات کرنے والے حضرات برآمدے میں بیٹھے ہوئے تھے میں بھی وہیں ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خواجہ صاحب ایک آدمی کا ہاتھ پکڑے اور اپنی چھڑی کے سہارے آہستہ آہستہ باہر نکلے۔ بظاہر ان کی صحت اچھی تھی لیکن پیر سے معذور تھے۔ برآمدے میں ایک آدمی کے سہارے کھڑے ہو گئے اور سب سے مصافحہ کیا اور ایک کرسی پر بیٹھ گئے ۔ مجھ سے مخاطب ہوئے تو میں نے اپنا مدعا بیان کیا اور جتنی ان کی لکھی ہوئی کتابیں پڑھی تھیں ان کی فہرست پیش کی تو انھوں نے اپنی باقی تصنیفات کا اضافہ اپنے قلم سے کر دیا۔ چونکہ اس دن خواجہ صاحب کے پروگرام میں لمبنی کا سفر بھی شامل تھا جو گوتم بدھ کی جائے پیدائش ہے ۔ اس لیے مفصل بات چیت نہیں ہو سکی۔
خواجہ صاحب بمبئی جیسے دور دراز شہر سے شمالی مشرقی علاقے میں آئے تھے اس لیے یہاں کے اہم مقدس مقامات کو دیکھنا چاہتے تھے ۔ لمبنی کے علاوہ وہ کبیر کے مقبرے کی زیارت کے لیے مگہر بھی تشریف لے گئے۔
گورکھپور یونیورسٹی میں خواجہ صاحب نے لکچر دیا جس میں قومی ایکتا کو مزید مستحکم بنانے کے لیے کبیر کے اصولوں پر چلنے کی ہدایت کی گورکھپور ریڈیو اسٹیشن نے خواجہ صاحب کی آمد پر اپنے یہاں ایک انٹرویو کا اہتمام کیا۔ اس انٹرویو میں پروفیسر محمود الٰہی صاحب نے ان سے ایسے ایسے سوالات کئے کہ ان کی زندگی کے سارے گوشے اجاگر ہو گئے۔ خواجہ صاحب جب بستی جانے لگے تو میں بھی ان کے ساتھ ہو لیا۔ بستی کے لوگوں نے خواجہ صاحب کا بڑا خیر مقدم کیا۔ ہنومان پرشاد جگرؔ صاحب نے ان کی بڑی ضیافت کی اور انھیں اپنے دولت خانے پر لے جانا باعثِ فخر سمجھا۔ بستی انفارمیشن دفتر کی طرف سے ناوابستہ تحریک پر ایک پروگرام منعقد ہواجس میں خواجہ صاحب نے ناوابستہ تحریک کی غرض و غایت پر پُر مغز تقریرکی۔ لوگوں کی فرمائش پر اپنی ایک کہانی ’’تین مائیں ایک بچہ‘‘ بڑے ہی دلچسپ انداز میں سنائی۔ بستی میں تقریباً ایک ہفتے کے قیام کے بعد خواجہ صاحب بمبئی واپس ہوئے اور جب وہ بمبئی پہنچے تو بستی کے متعلق ’’آزاد قلم‘‘ میں اپنے خیال کا اظہار کیا۔
اب تو خواجہ صاحب سے خط و کتابت کا بے تکلف سلسلہ شروع ہوگیا۔ اگر کوئی کتاب نایاب ہوتی اور ان کے پاس ہوتی تو لکھنے پر فوراً ارسا ل فرماتے۔ مقالے کے متعلق خط کا جواب ضرور دیتے ۔ دورانِ تحقیق ایک منزل ایسی آئی کہ خواجہ صاحب سے براہ راست ملاقات کی ضرورت پڑی۔ میں نے ان کے پاس خط لکھا تو انھوں نے فوراً جواب دیا کہ جب آپ کی مرضی ہو آسکتے ہیں۔ ۱۹۸۴ء کے اواخر میں میں نے بمبئی کا سفر کیا تو خواجہ صاحب نے مواد کی فراہمی میں میری مدد کی لیکن ایک حیرت انگیز بات یہ ہے کہ مصنف کے پاس اس کی لکھی ہوئی زیادہ تر کتابیں نہیں تھیں۔ بہر حال بمبئی کی دوسری لائبریریوں اور بلٹز کے دفتر سے میرے مسائل حل ہو گئے۔ بمبئی میں تقریباً ایک مہینے کا قیام رہا۔ اس دوران میں نے محسوس کیا کہ خواجہ صاحب بالکل تھک چکے ہیں۔ ایک ملاقات میں انھوں نے خود کہا کہ اب میں سوچتا ہوں کہ آرام کروں۔ تب میں نے کہا نہیں جناب آدمی کی زندگی کام کرتے رہنے سے عبارت ہے، اگرآپ لکھنا پڑھنا بند کردیں گے تو اور بوریت ہوگی۔ جینے کے لیے مصروفیت کی ضرورت ہے ۔ اس پر خواجہ صاحب بہت خوش ہوئے ۔ جب میں ان کے پاس سے گورکھپور آنے لگا تو انھوں نے کہا ، گورکھپور پہنچتے ہی خط لکھنا۔ مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھا یاتو بڑے ہی مایوسانہ انداز میں ہاتھ ملاتے ہوئے کہا معاف کرنا بھائی ،یہ لنگڑا آدمی آپ کو دروازے تک بھی نہیں چھوڑ سکتا۔
خیر میں بمبئی سے گورکھپور آگیا اور اپنا کام مکمل کرنے میں مصروف ہو گیا۔ مقالہ جمع کرنے کے بعد خواجہ صاحب کے پاس خط لکھا جس میں تعلیم کے میدان کی حقیقت حال اور اپنے معیار زندگی کے متعلق لکھا تو انھوں نے بڑی اچھی رائے دی کہ آپ جیسا معیار زندگی والے لوگوں کو اونچی تعلیم نہیں حاصل کرنی چاہیے بلکہ ہائی اسکول یا انٹر کے بعد کوئی ہنر سیکھنا چاہیے لیکن آپ دل برداشتہ نہ ہوں محنت کبھی کسی کی رائگاں نہیں جاتی۔
پی ۔ایچ ۔ڈی کی ڈگری ایوارڈ ہونے کے بعد جب میں نے خواجہ صاحب کو خط لکھا تو انھوں نے مبارکباد کا خط لکھا اور بطور انعام سو روپیہ کا منی آرڈر بھی بھیجا۔
ڈگری ملنے کے بعد ہاسٹل خالی کرنا پڑا تو شہر میں رہنے کا پیچیدہ مسئلہ پیش ہوا۔ اسی پریشانی کے عالم میں خواجہ صاحب کو ایک جذباتی خط لکھ دیا۔ خواجہ صاحب پر اس خط کا بڑا اثر ہوا۔ انھوں نے میرا ذکر اپنے مختلف ملنے والوں سے کیا اور میرے لیے اپنے ایک فلمی ساتھی جے۔کے۔صاحب کے یہاں گنجائش پیدا کرلی۔ رہنے کی جگہ اور پانچ سو روپیہ ماہانہ پر بات طے ہوئی۔ خواجہ صاحب نے فوراً میرے پاس خط لکھا کہ میں کرایہ بھیج رہا ہوں اور آپ بمبئی چلے آئیے۔ میں نے شکریہ کے ساتھ بمبئی پہنچنے کا خط لکھا اور ساتھ ہی یہ بھی لکھا کہ آپ نے بمبئی جیسے شہر میں قیام و طعام کا انتظام کر دیا یہی کیا کم ہے۔ اور جناب میں عمر کے اس دور سے گذر رہا ہوں کہ مجھے آپ جیسے بزرگوں کی خودخدمت کرنی چاہیے۔ اس لیے کرایہ بھیجنے کی زحمت نہ کیجئے گا ۔ میں جلد ہی بمبئی پہنچ رہا ہوں۔ پورے عزم و حوصلہ کے ساتھ میں بمبئی پہنچ گیا۔ خواجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آداب کیا ۔ اس وقت وہ بیٹھے ہوئے کچھ لکھ رہے تھے ۔ فوراً مجھ سے پوچھا چائے پیئں گے یا کافی! میں نے کہا چائے۔
تھوڑی دیر میں چائے آگئی۔ جب میں چائے پی رہا تھا تبھی میرے لیے جے۔کے۔صاحب کے پاس خط لکھا اور جب میں چائے پی چکا تو فوراً ایک کاغذ پر منزل پر پہنچنے کا نقشہ بنا دیا ۔ نقشے کے سہارے میں جے۔کے۔صاحب کے فلیٹ پر پہنچ گیا۔ اتفاق سے اس دن ان سے ملاقات نہیں ہوئی۔ دوسرے دن ذرا دیر سے خواجہ صاحب کے پاس پہنچاتو لگے ڈانٹنے ۔ میرا تو برا حال تھا اور خواجہ صاحب ڈانٹے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ’’بمبئی تیز رفتا شہر ہے ۔ آپ اپنی دیہاتی معصومیت چھوڑدیجئے ورنہ بھوں کوں مرجائو گے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔میں لنگڑا او اندھا آدمی آج ہوں کل نہیں۔ میرا کیا بھروسہ‘‘۔ میں فوراً وہاں سے اٹھ کر جے۔کے۔صاحب کے پاس گیا اور اس دن ملاقات ہوگئی۔ جے۔کے۔صاحب بڑے ہی خوش اخلاقی سے پیش آئے لیکن بعض وجوہ سے انھوں نے میرے متعلق خواجہ صاحب سے جو وعدہ کیا تھا اس کے ایفا سے معذور تھے۔ اس سے خواجہ صاحب بہت فکر مند ہوئے۔ دو ہفتہ بعد خود انھوں نے اپنے فلم پروڈکشن میں میرے لیے کانٹی نیوٹی لکھنے کی جگہ نکال لی۔
اب میں خواجہ صاحب سے اور قریب ہو گیا ۔ مہینے میں چار پانچ دن شوٹنگ کا کام ہوتا جس میں کانٹی نیوٹی لکھنا ہوتا تھا۔ باقی اور دنوں میں خواجہ صاحب یا تو کسی فلم کا مکالمہ ڈکٹیٹ کرتے یا اپنی فلم ’’ایک آدمی ‘‘ کے مکالمہ کی کئی کاپیاں نقل کرواتے۔ دوپہر کے کھانا کے بعد جب خواجہ صاحب آرام کرنے کے لیے لیٹتے تو مجھ سے کہتے بھئی آپ نے مجھ پہ مقالہ لکھا ہے وہ پڑھ کر سنائیے ، میری بینائی اتنی کمزور ہو گئی ہے کہ میں پڑھ نہیں سکتا ۔ لہٰذا میں خواجہ صاحب کو مقالہ پڑھ کر سناتا۔ جب کئی دن میں مقالہ پورا سنا دیا تو بہت خوش ہوئے۔ اٹھ بیٹھے اور مجھ سے ہاتھ ملایا ۔ اور مزید یہ بھی کہا کہ میں اس مقالے کو اپنے ٹرسٹ سے چھپوائوں گا۔
شوٹنگ کے دن خواجہ صاحب اس وقت تک کھانا نہیں کھاتے جب تک شوٹنگ ختم نہیں ہو جاتی ۔ اور یونٹ کا ہر فرد کھانے سے فارغ نہیں ہو جاتا ۔ اگر شوٹنگ دن بھر چلتی تو وہ دن بھر کھانا نہیں کھاتے ۔ بس کافی پیا کرتے تھے۔ رات کی شوٹنگ میں وہ رات کی رات جاگتے۔ ہاں میں نے ان کے اندر یہ سب سے بڑی خوبی دیکھی کہ ہر فرد کا برابر خیال کرتے تھے۔ اداکار سے لیکر کیمرہ مین ، کلیپ مین اور میک اپ کرنے والے ان کی نگاہ میں برابر تھے۔ سب خواجہ صاحب سے ہاتھ ملاتے اور بے تکلف باتیں کرتے۔ جیسے شوٹنگ ختم ہوتی اپنے سیکریٹری سے سب کو فوراً کھانا کھانے کا پیسہ دلواتے، اس لیے ہر آدمی خواجہ صاحب کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مندرہتا تھا۔
خواجہ صاحب میں کام کرنے کی بے پناہ صلاحیت تھی ۔ ضعیفی اور معذوری کے باوجود جتنا وہ لکھ پڑھ لیتے تھے اتنا کسی اور کے بس کی بات نہیں تھی۔ وہ طلوع آفتاب سے پہلے بیدار ہو تے تھے اور اپنے نوکر کے سہارے صبح ٹہلتے تھے۔ بعد میں انگریزی اردو کے اخبارات پڑھتے۔ ان کے بستر پر اتنے اخبار و رسائل ہوتے تھے کہ مشکل سے بیڈ شیٹ دکھائی دیتی تھی اور خواجہ صاحب ان اخباروں اور رسالوں کے بیچ بیٹھتے ، لکھتے اور سوتے تھے۔ بلٹز کا آزاد قلم اورآخری صفحہ بلا ناغہ لکھتے ، اس کے لیے ہفتہ میں ایک دن مقرر تھا۔ بصارت اتنی کمزور ہو چکی تھی کی کبھی کبھار تو ایک ہی لائن پر دو مرتبہ لکھ دیتے تھے اور اگر کبھی قلم کی سیاہی ختم ہو جاتی تو اس کا بھی احساس نہیں ہوتا لیکن مشق و بصیرت سے ان کا قلم چلتا رہتا ۔ یہ اور بات تھی کہ جو ان کی تحریر نقل کرتا تھا اس کی شامت آجاتی تھی ۔ وحیدا نور صاحب ڈانٹ کی زد میں آجاتے تھے اور اگر وہ موجود نہ ہوتے تو وہ سب مجھے جھیلنا پڑتا۔ جب ان کی تحریر پڑھنے میں ہچکچاہٹ ہوتی تو ڈانٹتے اور زور سے کہتے پڑھو۔ ایک پی۔ایچ ۔ڈی کی طرح پڑھو۔ پی۔ایچ۔ڈی بے چارہ کیا خاک پڑھے جب حروف روشنائی سے بے نیاز ہوں ۔ خواجہ صاحب آزاد قلم کبھی ڈِکٹیٹ کرواتے اور کبھی نقل کرنے کے بعد پڑھواتے۔ اگر روانی کے ساتھ پڑھتا اور کہیں غلطی نہیں ہوتی توبہت خوش ہوتے ۔ جیب سے بیس روپیہ نکال کر دیتے اور ساتھ ہی یہ بھی کہتے کہ پیسے کی جب بھی ضرورت ہو بغیر کسی تکلف کے لے لینا۔ بلٹز ان کا مقصدِ حیات تھا۔ بغیر بلٹز لکھے انھیں چین نہیں آتا تھا۔ بلٹز بمبئی میں جمعرات ہی کو مل جاتا ہے۔ جمعرات کے دن خواجہ صاحب بلٹز کے منتظر رہتے تھے۔ عجیب بات یہ ہے کہ بلٹز دفتر سے جو ملازم آتا تھا وہ اس کے گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے آشنا تھے ۔ ایسا کئی بار ہوا ہے کہ بلٹز دفتر سے آیا ہوا ملازم باہر گھنٹی بجاتا ہے اور اندر سے خواجہ صاحب نے یہ کہہ دیا کہ بلٹز آگیا۔ گھنٹی بجانے کی اسٹائل سے وہ ملاقات کرنے والے لوگوں کی دل کی بات اور مقصد گھنٹی کی آواز ہی میں پہچان جاتے تھے۔
مجھ سے اکثر خواجہ صاحب کہتے تھے کہ جب تک آنکھ چشمے سے بے نیاز ہے تب تک خوب پڑھ لو۔ خاص طور سے پنڈت جواہر لال نہرو کی کتاب ’’گلمپز آف دی ورلڈ ہسٹری ‘‘پڑھنے کی ہدایت کی۔ روزانہ وہ جانچ بھی کرتے کہ کتنے صفحات کا مطالعہ ہوا اور کون کون سی چیز معلوم ہوئیں۔ خواجہ صاحب نہرو جی کے طرز تحریر کے گرویدہ تھے۔
خواجہ صاحب ایک سیکولر مزاج کے آدمی تھے۔ عید اور بقرعید کے دن اپنے دوست و احباب کو سیوئیاں کھلاتے اور رکشا بندھن کے دن ان کی بہنیں ان کے ہاتھوں میں راکھی باندھتیں اور لڈو کھلاتیں۔خواجہ صاحب رکشابندھن کا لڈو اسی رغبت سے کھاتے تھے جس رغبت سے سیوئیاں ۔ وہ مذہبی بحث مباحثہ میں کبھی نہیں پڑتے تھے۔ جس مسلم تہذیب میں ان کی پرورش ہوئی تھی وہ تہذیب آخری وقت تک ان میں برقرار تھی ۔ یہ الگ بات ہے کہ وہ مذہب کے مقلد نہیں تھے انھیں خدا کے وجود میں یقین تھا۔ ایک روز میں حیرت میں پڑگیا جب انھوں نے جون کے مہینہ میں ۷۳برس کی عمر میں روزہ رکھا۔
مجھے خواجہ صاحب کو بہت قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ میں نے ان کی تخلیقات کے مطالعے سے ان کا جو پیکر تیار کیا تھا ہو بہو اس کا عکس ان کے اخلاق و عادات و اطوار اور معمولات زندگی میں دیکھا۔
خواجہ صاحب کے نزدیک اپنے اور پرائے کا تصور نہیں تھا۔ جوبھی ان کے قریب ہوتا تھا وہی ان کا اپنا ہوتا ۔ میں بھی خواجہ صاحب کی شفقت کا مقروض ہوں ۔ میرے لیے انھوں نے بہت کچھ کیا اپنے فلم پروڈکشن میں مجھے کام دیا اور ہر چھوٹی بڑی بات کا باپ کی طرح خیال کیا۔ برسات ہونے لگی تو فوراً چھتری کا انتظام کیا عید کے موقع پر کپڑے کا خیال کیا۔ اپنے دست شفقت سے مجھے عیدی دی ۔ پڑھنے لکھنے کے لیے مختلف لائبریریوں سے رابطہ قائم کروایا۔
خواجہ صاحب مساوات اور انسانیت کے جتنے بڑے پجاری اپنی تحریروں میں تھے ویسے ہی وہ مجھے اپنے کردار اور گفتار میں نظر آئے۔ ان کا دسترخوان وسیع تھا ۔ کھانے کے وقت جو بھی موجود ہوتا بغیر کسی تکلف کے دستر خوان پر بیٹھ جاتا ۔ خواجہ صاحب اس چیز کو بہت پسند کرتے تھے۔ جو بلانے پر جاتا یا کھانا کھا کر اٹھ جاتا اسے ڈانٹتے بھی۔ کھانا کھاتے وقت اپنے باورچی کو ساتھ میں بٹھا کر کھلاتے ۔ اگر وہ اکیلے کھانا کھا لیتے تو انھیں ہضم ہی نہیں ہوتا۔ اس کا مجھے اس وقت احساس ہوا کہ آدمی جتنا ہی عظیم ہوتا ہے اتنا ہی اس کے دل میں ہر آدمی کے لیے جگہ ہوتی ہے۔
خواجہ صاحب کا کھانا نہایت سادہ ہوتا تھا اور مشکل سے دو پھلکے کھاتے تھے اور اگر یہ کہا جاتا کہ اور کھائیے تو کہتے بھائی بہت کام کرنا ہے زیادہ کھانے سے نیند آجائے گی۔ ۷۳ برس کی عمر میں کام کا اتنا خیال تھا ۔ کام کرنا ہی ان کا مقصد حیات تھا۔ اگر کوئی کام کر رہے ہیں اور چائے آگئی ہے تو ٹھنڈی ہو رہی ہے اس کی کوئی پرواہ نہیں بلکہ کام میں اس قدر ڈوب جاتے کہ اکثر وہ ٹھنڈی چائے پیتے۔
خواجہ صاحب اپنے ذاتی کام کے لیے کبھی حکم نہیں صادر کرتے تھے۔ آخری وقت میں جب کہ بڑی حد تک وہ آنکھ اور پائوں سے معذور ہو چکے تھے اپنا کام خود کرنا پسند کرتے تھے۔ مثلاً اگر دروازہ بند ہوتا تو وہ کسی کو دروازہ کھولنے کا حکم صادر نہیں کرتے بلکہ آہستہ آہستہ اٹھتے، اپنی چھڑی ٹٹولتے اور چھڑی سے دروازہ کھولنے کی ناکام کوشش کرتے ۔ قریب جو بھی ہوتا اس جد وجہد کو دیکھ کر دروازہ کھول دیتا۔ خواجہ صاحب اسے شکر گزار آنکھوں سے دیکھنے لگتے ۔ اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہیں تھی مگر قوت ارادی اتنی مضبوط تھی کہ اپنی کوشش سے اٹھ کھڑے ہوتے اور چھڑی کے سہارے چلنے لگتے۔ جو بھی قریب ہوتا بڑھ کر اپنا کندھا پیش کر دیتا اور خواجہ صاحب بخوشی کندھے کا سہارا قبول کر لیتے اور اس کے سہارے سے ڈائننگ ٹیبل اور ڈرائنگ روم میں آکر بیٹھ جاتے ۔ میں نے بھی اپنے کندھے کا سہارا دیا ہے لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ خواجہ صاحب کے جنازے کو میں کاندھا نہ دے سکا۔
بڑے آدمی ہر ایک کے ساتھ یکساں حسن سلوک کرتے ہیں۔۔۔۔۔۔مگر ہر ایک کو ہمیشہ یہ خوش فہمی ہوتی ہے کہ جناب کی نگاہ کرم مجھ پر سب سے زیادہ ہے ، یہی بات خواجہ صاحب میں میں نے دیکھی ۔ جو بھی ان سے زیادہ قریب رہے ان کو یہی گمان رہا کہ محترم سب سے زیادہ مجھے چاہتے ہیں اور خواجہ صاحب کا یہ عالم تھا کہ وہ سب کو برابر چاہتے تھے ۔ ہر کسی کی یہ خواہش تھی کہ خواجہ صاحب ابھی اور جیتے لیکن مشیت ایزوی کا علم کسے ہے؟
خواجہ صاحب جسمانی طورپر آج ہمارے درمیان نہیں رہے لیکن ان کی ساری روح ان کی تخلیقات میں سمٹ آئی ہے۔ ان کی عہد ساز تخلیقات انسان کے شعور کو بیدار کرتی رہیں گی۔ ایسے لوگ صدیوں میں کہیں پیدا ہوتے ہیں۔ ایسی ہستیوں کے متعلق کہا گیا ہے ؎

مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں

Khuda Hafiz Zubair Saheb

Articles

زبیرصاحب ، خدا حافظ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

 

زبیر رضوی جیسی متنوع شخصیت ذرا کم ہی پیدا ہوتی ہے۔ یعنی جدید شعرا کی جھرمٹ کا روشن ترین ستارہ، ہندوستانی ڈراما کا ایک مستند نقاد اور محقق، اردو کی ادبی صحافت کا ایک رجحان ساز مدیر، فائن آرٹ کا مبصر اور اسپورٹس کامینٹیٹروغیرہ وغیرہ گویا ان کی شخصیت رنگوں کا ایک کولاژ تھی کہ جس کا ہر رنگ اپنی جگہ مجلا اور مکمل تھا۔ میر کے لفظوں میں کہیں تو :ــ’’پیدا کہاں ہیں ایسے پراگندہ طبع لوگ‘‘ زبیر صاحب کی طبیعت کا یہ تنوع جب ایک نکتے پر مرکوز ہوتا تو ’’ذہنِ جدید‘‘بن جاتا تھا۔ اس رسالے کا ہر شمارہ اُن کی ہمہ جہتی کا تعارف بن کر ابھرتا ۔ اداریہ کی بے باکی سے لے کر فلم ، موسیقی، ڈراما، پینٹنگ کی تجزیاتی رپورٹنگ تک ہر ہر صفحے پر ان کے باریک بیں مزاج کا نقش صاف جھلکتا ۔ادبی صحافت میں ہم بلا تکلف نیاز فتح پوری، محمد طفیل ، محمود ایاز ،شمس الرحمن فاروقی وغیرہ کے ساتھ ان کا نام لے سکتے ہیں۔ذہنِ جدید کا ہرشمارہ خاص ہوتا تھا۔ خاص اس لیے کہ اس میں ادب کے معاصر رویے اور رجحانات کے علاوہ لگ بھگ سو صفحات عالمی ادب ، تھیٹر، مصوری، سنگیت، فلم ، کارٹون اور فوٹو گرافی وغیرہ کے لیے مخصوص ہوتے تھے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ان موضوعات پر بیشتر بلکہ کبھی کبھی تمام تحریریں زبیر صاحب کے زورخیز قلم کا نتیجہ ہوتی تھیں۔ خیر عالمی ادب کے نمائندہ تخلیق کاروں کا تعارف و تبصرہ کچھ ایسا مشکل کام نہیں تاہم موسیقی ، مصوری، فلم ،کارٹون اور فوٹو گرافی پر تواتر سے لکھنا آسان نہیں ہے ۔ یہ زبیر صاحب کی فنونِ لطیفہ سے والہانہ دلچسپی ہی تھی جو ان سے اس نوع کا مشکل کام کروا لیا کرتی تھی۔
بطور شاعرزبیر رضوی نے اپنی ایک الگ شناخت قائم کی۔ وہ ان چند ایک جدید شعرا میں تھے جن کی مقبولیت علمی اور ادبی حلقے کے علاوہ عوامی مشاعروں میں بھی خوب تھی۔ ’ یہ ہے میرا ہندوستان‘ جیسی مقبول نظم کے خالق زبیر رضوی کی جب ’پرانی بات ہے‘ سیریز کی نظمیں شائع ہوئیں تو ان نظموں کو جدید شاعری میں ایک اضافہ تسلیم کیا گیا۔یہ نظمیں اپنے داستانوی اسلوب اور ہند+اسلامی تہذیب کے پس منظر کی وجہ سے خاصی مقبول بھی ہوئیں۔نظموں کی زبان غیر آرائشی ہے اور ان نظموں کی ایک خاصیت پیکر تراشی بھی ہے۔ پیکر تراشی کا عمل نظموں کے آغاز سے ہی جاری ہوجاتا ہے اور اختتام تک پہنچے پہنچتے بعض پیکر علامت اور بعض استعاروں میں ڈھل جاتے ہیں۔ لہٰذا جب نظم ختم ہوتی ہے تو قاری ایک مانوس دنیا میں رہتے ہوئے بھی حیرت انگیز احساس سے دوچار ہوتا ہے۔ ’پرانی بات ہے‘سیریز کی نظموں کے تعلق سے خود زبیر رضوی نے ایک بار کہا تھا کہ :’’میں شاعری کو ایک ایسا جھوٹ سمجھتا ہوں جس کے توسط سے سچ کو پایا جاتا ہے۔ میں نے ایسا کرتے ہوئے اس سارے سچ کو بھی اپنا ورثہ سمجھا جو مجھ سے پہلے کی گئی شاعری میں دمکتا چمکتا رہا تھا۔ میرے نزدیک اس کرۂ ارض پر انسان کا وجود سب سے بڑا عجوبہ اور کرشمہ ہے اس لیے میرا تعلق انسان کی جہاں بانی اور جہاں سازی اس کی آفاقیت اور بے پناہی ، اس کی سرشت اور رشتوں کی پیچیدگی کے عمل سے بڑا گہرا ہے۔ میں امروہے جیسے ایک قصبے سے سفر کرتا ہوا نوابی شہر حیدر آباد تک پہنچا تھا اور پھر دلّی میرے قیام کا آخری پڑاؤ بن گئی اور یوں شہر اور مدنیت کے تضاد، ٹکراؤ، انسان کا مشینی عمل اس کی مادیت پرستی اور زندگی کی آسائشوں کے حصول کے لیے ہر جائز و ناجائز حربے کو استعمال کرنے کی قوت کو میری تخلیقی فکر میں ایک بیکرانی ملی۔ جیسا کہ میں نے کہا کہ مجھ میں وہ قدیم بھی کنڈلی مار کے بیٹھا رہا تھا جس کی جڑیں ہزاروں برسوں کی تاریخ و تہذیب میں پیوست تھیں۔ میرا یہ قدیم، ظلمت پسند نہیں تھا اس میں انسان کے لیے ایسی ہی برکتیں ، نعمتیں تھیں جو خود انسان نے اپنی گمراہیوں سے گنوا دیں۔ یہ تاریخی اور تہذیبی ملال میری نظموں کے سلسلے ’ پرانی بات ہے ‘ میں ایک حکائی شعری لہجہ بن کر ابھرا ہے ، مدنیت کے سلسلے میں میرے رویے کی بڑی واضح مثالیں میرے چوتھے شعری مجموعے ’دھوپ کا سائبان ‘ میں شامل ہیں۔ یہ میری آہنگ سے آزاد نظموں کا مجموعہ ہے اور اس وقت یہ ساری نظمیں کاغذ پر منتقل ہوتی چلی گئی تھیں جب ’ پرانی بات ہے ‘ جیسی پابند نظمیں لکھنے کے بعد مجھے لگا تھا کہ اب جو کچھ میں کہنا چاہتا ہوں وہ آہنگ سے ماورا اپنا تخلیقی اظہار چاہتا ہے۔ اس لیے ان نظموں کی ہیئت میرے ارادے سے کہیں زیادہ اپنے شعری اظہار کا تقاضا تھا۔ ‘‘
زبیر رضوی کی غزلوں میں ایک نوع کی تحیر خیزی نظر آتی ہے۔ بالکل سامنے کی باتوں کو غزل کا موضوع بنانا ان کا محبوب مشغلہ تھا۔ جدید شعرا میں یہ وصف محمد علوی کا اختصاص ہے تاہم علوی کے شعروں میں موضوع کو برتتے ہوئے ایک طرح کی بذلہ سنجی (wit) نظر آتی ہے جبکہ زبیر صاحب کے یہاں witکے بجائے باوقار سنجیدگی کا احساس ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر:
کوئی ٹوٹا ہوا رشتہ نہ دامن سے الجھ جائے
تمہارے ساتھ پہلی بار بازاروں میں نکلا ہوں
پہلے مصرعے میں راشتہ اور دامن ، پھر الجھنے اور ٹوٹنے کی اور دوسرے مصرعے میں نکلنے اور بازار کی مناسبتوں کے لطف سے قطع نظر ایک کہنہ مضمون میں واقعہ نگاری کے اسلوب نے گویا جان ڈل دی ہے۔ یہ زبیر رضوی کا خاص رنگ ہے۔ کچھ اشعار ملاحظہ ہوں:
تمام راستہ پھولوں بھرا تمہارا تھا
ہماری راہ میں بس نقش پا ہمارا تھا
پھر اس کے بعد نگاہوں نے کچھ نہیں دیکھا
نہ جانے کون تھا جو سامنے سے گزرا تھا
میں اس محفل کی روشن ساعتوں کو چھوڑ کر گم ہوں
اب اتنی رات کو دروازہ اپنا کون کھولے گا
ادھر کھلی کوئی کھڑکی نہ کو ئی دروازہ
جہاں سے آگ کا منظر دکھائی دیتا ہے
فلابئیر نے کہا تھا کہ ’’میں جانتا ہوں کہ میں ان دنوں جو کچھ لکھ رہا ہوں اسے کبھی بھی مقبولیت حاصل نہ ہو گی لیکن میرے نزدیک اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ لکھنے والا خود اپنے لیے لکھے ، حسن آفرینی کا یہی ایک طریقہ ہے۔‘‘ تخلیقی آزادی کی اساس یہی ہے کہ تخلیق کار شہرت و دولت کوموخر جانے اور سرشاری و حسن آفرینی کو مقدم۔ زبیر صاحب نے ہمیشہ تخلیقی آزادی کو غیر معمولی اہمیت دی اور ادب میں تنقید کی بالادستی ختم کرنے کے لیے کوشاں رہے۔ ظاہر ہے بغیر کسی جذباتی رشوت، سمجھوتے اور لالچ کے انھوں نے نہ صرف اپنا ادبی سفر جاری رکھا بلکہ کامیاب بھی ہوئے۔
آج زبیر رضوی کاہمارے در میان سے جانا اردو شاعری کے علاوہ اردو کی مجلاتی صحافت کا ایسا نقصان ہے جس کی تلافی ممکن نہیں۔ یہ سوچ کر ہی دل سی پارہ ہورہا ہے کہ بڑی زبان کا زندہ رسالہ ’’ذہنِ جدید‘‘ اب پڑھنے کو نہیں ملے گا۔ خیر زبیر صاحب ، خدا حافظ۔

—————————————————————-

Life of Shamsur Rahman Farooqui

Articles

شمس الرحمن فاروقی کے سوانحی حالات

ڈاکٹر رشید اشرف خان

خواجہ الطاف حسین حالیؔ نے اپنے یادگار’’مرثیۂ دہلی مرحوم‘‘ لکھتے وقت کہا تھا:
چپّے چپّے پہ ہے یاں ، گوہریکتا تہ خاک
دفن ہوگا نہ کہیں ، اتنا خزانہ ہرگز
یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک نا بغۂ روزگار یا Geniusہیں۔یہ کہنا مبالغہ نہ ہوگا کہ عبقری ، نابغے اور جینیئس بنا نہیں کرتے بلکہ پیدا ہوتے ہیں اور یہ کام دستِ مشیّت میں ہوتا ہے۔ہاں اتنا ضرور ہے کہ قسمت ، حالات ، ماحول اور ذاتی کوشش کو بھی بڑی حد تک اس میں دخل ہے۔
موضع کوریا پار ، ضلع اعظم گڑھ ( موجودہ ضلع مئو) کا نام روشن کرنے والے ادیب، شاعر، دانشور،معلم ، ناقد، مترجم اور صحافی شمس الرحمن فاروقی اسی کوریا پار کے رہنے والے ہیں۔کوریا پار کی تاریخ فاروقی کے والدمحترم کے ان جملوں سے واضح ہوجا تی ہے:
’’کوریا پار کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ ایک بزرگ جن کانام ’’ کوڑیا شاہ ‘‘ تھا انھیں کے نام سے یہ موضع کوڑیا پار کے نام سے مشہور ہوا۔ ان بزرگ کے بارے میں ایک تاریخی اشارہ یہ بھی ملتا ہے کہ چودھویں صدی کے آخر میں ۱۳۸۸ء میں جب فیروز شاہ تغلق کا انتقال ہواتو دہلی کی بد امنی اور طوائف الملوکی سے عاجز آکر وہاں کے مشائخ اور علما دہلی چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں کی طرف ہجرت کرنے لگے۔ چنانچہ ابراہیم لودھی کی تخت نشینی ہوئی تو بزرگ کوڑیا شاہ ، اعظم گڑھ پہنچے اور کوڑیا پار میں آباد ہوگئے ‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی کے آبا واجداد ہندوستان میں فاروقی شیوخ شیخ عبداللہ ابن حضرت عمر فاروق ابن خطّاب کی نسل سے ہیں ۔وہ سب کے سب امر با المعروف اور نہی عن المنکر کے اصول پر تا حیات سختی سے قائم رہے۔ ان کے اکابر حضرت شاہ مولانا اشرف علی تھانوی اور بعد میں ان کے خلیفۂ رشید حضرت شاہ مولانا وصی اللہ کے باقاعدہ مریدین میں سے تھے۔ تذکرہ علماے اعظم گڑھ (مولفہ مولانا حبیب الرحمان قاسمی) میں شمس الرحمن فاروقی کے دادا حکیم مولوی محمد اصغر صاحب کا ذکر خیر بڑے اچھے الفاظ میں ملتا ہے۔ دادیہالی بزرگوں میں مذہبی کٹّر پن تھا اور اس میں کسی قسم کا جھوٹ یا مصالحت کی کوئی گنجائش قطعی نہیں تھی۔اس کے برعکس نانہال میں مذہبی رواداری بھی تھی۔نانا مرحوم بھی پابند صوم وصلوۃ تھے لیکن میلاد کی محفلیںبڑے ذوق وشوق سے منعقد کراتے اور نذر و نیاز میں بڑی دلچسپی لیتے تھے۔فاروقی صاحب کی نانی ضلع بلیا کے ایک معروف گاؤں قاضی پور کی رہنے والی تھیں۔ اس پورے قاضی خاندان میں علوم دینیہ کی شان دار روایت برسوں سے چلی آرہی تھی۔ اپنے دادیہال اور نانیہال کا تعارف پیش کرتے ہوئے فاروقی لکھتے ہیں:
’’ میری نانی حضرت چراغ دہلوی کے خاندان کی تھیں اور ان کے گھر میں بھی علم کے ساتھ ساتھ مذہب کا چرچاتھا ۔ میرے دادا کا گھرانا حضرت مولانا تھانوی کا مرید تھا ۔ میرا نا نیہال تقریباََ سب کا سب حضرت مولانا احمد رضاخاں بریلوی کے حلقۂ ارادت میں تھا۔‘‘۲؎
فاروقی کے والد کانام مولوی خلیل الرحمن فاروقی تھا۔ وہ ۱۹۱۰ء میں پیدا ہوئے اپنے سات بھائیوں میں سب سے چھوٹے تھے ۔ انہوں نے عربی فارسی پڑھی ، بی۔اے کیا، ایم۔اے سال اوّل کا امتحان دیا جس میں فیل ہوگئے۔ اس کے بعد ایل ۔ٹی کیا۔ ۱۹۳۹ء میں محکمۂ تعلیم سے وابستہ ہوگئے اور سب انسپکٹر کے عہدے پر فائز ہوئے ۔ ڈپٹی انسپکٹر مدارس اسلامیہ بنادیے گئے جہاں سے ۱۹۷۰ء میں وظیفہ یاب ہوئے۔ انگریزی بہت اچھی جانتے تھے اور بے تکان لکھتے تھے لیکن انگریزی بولتے نہیں تھے۔ عام طور پر ان کالباس پتلون پر شیروانی یا کڑاکے کی سردیوں میں پتلون اور شیروانی پر بڑا کوٹ زیب تن کرتے تھے۔
ملازمت سے سبک دوش ہونے کے بعد مولوی خلیل الرحمن فاروقی نے الہ آباد کے محلہ راجہ پور میں ایک عمارت ’’دارالسلام‘‘ کے نام سے بنوائی ۔ عبادت وریا ضت اور تبلیغ دین کے لیے خود کو وقف کردیا ۔اپنی سوانح عمری (خود نوشت) ’’ قصص الجمیل فی سوانح الخلیل ‘‘ مرتب کی لیکن یہ کتاب شمس الرحمن فاروقی نے ۱۹۷۳ء میں چھپوائی کیو نکہ ۱۳فروری ۱۹۷۲ء کو ۶۲ سال کی عمر میں خلیل الرحمن فاروقی صاحب اس دارِ فانی سے کوچ کر گئے۔
۳۰ستمبر ۱۹۳۵ء کو کالا کانکر ہاؤس ، پرتاپ گڑھ (یوپی) میں شمس الرحمن فاروقی کی ولادت ہوئی جہاں ان کے نانا خان بہادر محمد نظیر صاحب اسپیشل منیجر کورٹ آف وارڈس تھے اور جس مکان میںان کا قیام تھا وہ مہاراجہ پرتاپ گڑھ کی کوٹھی تھی۔ان کی ولادت سے سارے خاندان میں بہت خوشی ہوئی۔ اس لیے کہ وہ دو لڑکیوں یعنی دوبہنوں کے بعد پیدا ہوئے تھے۔شمس الرحمن فاروقی کے کل سات بھائی اور دو بہنیں ہیں جن میں فاروقی بھائیوں میں سب سے بڑے ہیں۔
غیر ضروری نہ ہوگا اگر ہم اس موقع پر یہ بھی بتاتے چلیں کہ شمس الرحمن فاروقی کے نام کے سلسلے میں کیسے کیسے تماشے ہوئے ۔ دراصل فاروقی کے بڑے والد محمد عبداللہ فاروقی کے بڑے صاحب زادے شمس الہدیٰ المتخلص بہ قیسیؔ الفاروقی اس تماشے کا سبب تھے۔ فاروقی لکھتے ہیں:
’’ مجھے قیسیؔ الفاروقی میں الف لام کا دم چھلّا غیر ضروری اور بے جا تصنع لگتا تھا ۔لیکن قیسی ؔ الفاروقی نے میری ادبی زندگی کو بہر حال متا ثر کیا ۔ میں نے اپنا قلمی نام ’’ شمسی رحمانی اعظمی‘‘ اختیار کیا اس لیے کہ خلیل الرحمن اعظمی میرے ممتاز ہم وطن تھے ۔اور ’’ رحمانی‘‘ اس لیے کہ ان دنوں ’’ رحمانی ‘‘ نام والے کئی لکھنے والے معروف تھے۔اور ’’ شمسی ‘‘ اس لیے کہ یہ سب ملا کر ’’شمس الرحمن ‘‘کالازمی نتیجہ تھا ۔( میرے خیال میں) قیسی ؔ صاحب نے مجھے اعظمی ترک کرنے کی صلاح دی جو میں نے قبول کرلی۔ کچھ دن میرا نام ’’شمسی رحمانی ‘‘ ہی رہا ۔ پھر مجھے یہ مقفّیٰ نام اور لفظ’’ رحمن ‘‘ کا بگاڑ بہت برا لگنے لگا اور میں سیدھا سادہ شمس الرحمن فاروقی بن گیا۔‘‘۱؎
شمس الر حمن فاروقی نے اپنی تعلیم کی ابتدا روایت کے مطابق عربی وفارسی سے کی تھی۔ انھیں کوریا پار میں مولوی محمد شریف صاحب نے پڑھایا تھا۔اس کے بعد آپ اعظم گڑھ کے ایک مکتب میں داخل کردیے گئے اس مکتب کانا م باغ پر پیٹو تھا۔ یہاں انھیں دینی تعلیم دی گئی۔ نانیہالی رسم کے مطابق فاروقی کی تسمیہ خوانی ( رسم بسم اللہ) چار برس چار مہینے کی عمر میں ہوئی تھی اور دوسال بعد ناظرہ قرآن پاک ختم کر لیا تھا۔
ابتدائی تعلیم کے بعد فاروقی کا داخلہ ویسلی ہائی اسکول اعظم گڑھ میں درجہ پنجم میںکرایا گیاجہا ں سے انھوں نے درجہ نہم تک کی تعلیم حاصل کی۔ ۱۹۴۸ء میں گورنمنٹ جوبلی ہائی اسکول گورکھپور میں داخل ہوئے اور۱۹۴۹ء میں ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا۔ مزید تعلیم کے لیے میاں صاحب جارج اسلامیہ انٹر کالج گورکھپور میں داخل ہوئے۔ یہاں خوش قسمتی سے انھیں بڑے لائق و فائق اور شفیق اساتذہ سے سابقہ ہوا۔ان کے سب سے زیادہ پسندیدہ استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم تھے جن کے بارے میں شمس الرحمن فاروقی لکھتے ہیں:
’’ انگریزی کے استادغلام مصطفٰے خاں صاحب رشیدی مرحوم نے اپنی طلاقت لسانی اور تبحّر علمی اور پھر اچھے طالب علموں سے ان کی دلچسپی اور ان کی مسلسل ہمت افزائی کے ذریعے چند ہی دنوں میں سارے فرسٹ ایئر کو اپنا گرویدہ کرلیا۔ مجھے اس بات کا فخر رہے گا کہ رشیدی صاحب مجھے اچھے طالب علموں میں شمار کرتے تھے اور میرے اردو ادبی ذوق کو بھی انہوں نے ہمیشہ تحسین کی نگا ہوں سے دیکھا ۔ اپنی اردو تحریریں کبھی کبھی ان کو دکھاتا ۔ ان کے مشورے نہایت ہمدردانہ لیکن باریک بینی سے مملوہوتے تھے اور میں نے ان سے بہت فائدہ اٹھایا‘‘۱؎
فاروقی کے دیگر اساتذہ میں مسٹر پی ، آئی کورئین( انگریزی) پرنسپل حامد علی خاں (انگریزی صرف و نحو کے استاد) اردو کے استاد منظور علی صاحب اور شمس الآفاق صاحب تھے۔
انٹر میڈیٹ پاس کرنے کے بعد فاروقی نے مہارانا پر تاپ کالج گورکھپور میں بی۔اے میں داخلہ لیاجہاں انہوں نے جغرافیہ، اقتصادیات اور مغربی فلسفے کی تاریخ پڑھی۔ کانٹ ، ہیگل اور افلاطون نیز فرائڈ وغیرہ سے واقفیت حاصل کی۔ ۱۹۵۳ء میں بی۔اے کرنے کے بعد فاروقی انگریزی ادب میں ایم۔ اے کرنے کی غرض سے الہ آباد پہنچے۔ ۱۹۵۵ء کا سال فاروقی کے لیے انتہائی مبارک ثابت ہوا۔انھوں نے نہ صرف فرسٹ ڈیویژن میں ایم۔اے کا امتحان پاس کیا بلکہ پوری یونی ورسٹی میں اول مقام کے حق دار پائے گئے اور بطور اعزاز انہیں دو گولڈ میڈل بھی ملے۔
الہ آباد میں فاروقی کے سب سے محبوب استاد پروفیسر ایس۔سی ۔دیب صاحب تھے (جو احتشام حسین ، محمد حسن عسکری اور سید اعجاز حسین کے بھی محبوب استاد رہے ہیں)جن کے بارے میں فاروقی اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے لکھتے ہیں :
’’ دیب صاحب سے میںنے بہت کچھ سیکھا۔علی الخصوص یونانی المیہ نگاروں کی عظمت و وقعت اور کولرج کی باریک بینیاں مجھ پر دیب صاحب کے ذریعے منکشف ہوئیں ۔دیب صاحب کی تعلیم خاصی قدامت پرستا نہ تھی لیکن وہ بر انگیخت(Provoke (بہت کرتے تھے اس واسطے ان کے کلاس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات سننے کو مل جاتی تھی جو بعد میں ایک پورے نظام فکرمیںDevelopہوسکتی تھی‘‘ ۱؎
دیب صاحب کے علاوہ فاروقی کے بالواسطہ خاص استاد میں پروفیسر پی۔ ای دستور ، ڈاکٹر ہری ونش رائے بچن ، پروفیسر پی ۔سی گپت، پروفیسر وائی سہائے اور پروفیسر فراقؔ تھے۔فاروقی کا یہ بھی کہنا ہے کہ میں ڈاکٹر سید اعجاز حسین ،پروفیسر سید احتشام حسین اور ڈاکٹر سید مسیح الزماں کو بھی اپنا استاد سمجھتا ہوں البتہ محمد حسن عسکری کو فاروقی بطور خاص عزیز رکھتے ہیں۔ اپنے ایک مضمون میں فاروقی نے لکھا ہے :
’’ عسکری کو پڑھ کر میرے تو چھکے چھوٹ جاتے تھے کہ میں تو اتنا علم رکھتا ہی نہیں ہوں اور نہ اس طرح لکھ سکتا ہوںتو پھر میں تنقید کیا کرسکوں گا ؟ تو میں اس وقت سے عسکری صاحب کا قائل اور مداح ہوں ۔ ان کا عقیدت مند رہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ میں ہر جگہ ان سے متفق نہیں ہوں مگر ان کا حلقہ بگوش تو یقینا ہوں۔‘‘۲؎
مذکورۂ بالا عظیم ہستیوں کے علاوہ جن کو فاروقی نے اپنا ذہنی رہنما مان لیا تھایا جن سے لاشعوری طور پر ان کی ادبی تخلیق و تحقیق کی راہیں روشن ہوئیں،میری مراد ان مفکرین و مصنفین سے ہے جن سے اوائل عمر ہی سے فاروقی نے استفادہ کیا ۔ کہیں براہ راست اس استفادے کا اعلان کیا اور کہیں ان کے خیا لات و نظریات کو اپنے دل ودماغ میں جذب کرکے ان کی وضاحت یا تنقید وتردید کی مثلاََ
1-Thomas Hardy, 2-Bertrand Russell, 3-A.C. Ward, 4-Andre Gid, 5-William Shakespeare,
تھامس ہارڈی (Thomas Hardy)کے بارے میں فاروقی لکھتے ہیں:
’’ بی۔ اے میں نام لکھایا ہی تھا کہ ہارڈی کے ناولوں نے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا ۔ ہارڈی کے نام سے تو میں مجنوں صاحب کے مختصر ناولوں(یا ہندوستانی رنگ اور اردو زبان میں ہارڈی کے بعض ناولوں کی تلخیص) کے ذریعہ آشنا ہوچکا تھا لیکن انگریزی میں پڑھنے کی نوبت نہیں آئی ۔ انگریزی میں اس کا ایک ناول پڑھا تھاکہ مجھ پر یہ بات بالکل عیاں ہوگئی کہ ہارڈی کے ناولوں کی تشکیک ،محزونی، دنیا میں انصاف اور نیکی کے فقدان کا احساس ، انسانی زندگی کے المیاتی ابعاد ۔ غرض کہ ہارڈی تھا کہ مجھے اپنی دنیا میں کھینچے لیے جارہا تھا‘‘ ۱؎
فاروقی اپنی افتاد مزاج اور کچھ اہل خانہ کی عملی تربیت کی بنا پر بہت ہی متین ، سنجیدہ اور بردبار انسان ثابت ہوئے ہیں۔ بچوں کے کھیل کود سے انھیں زیادہ دلچسپی نہیں بلکہ صاف ستھری اورپُر سکون زندگی زیادہ پسند ہے۔ وہ انتہائی با اصول ،پابند وقت اور وسیع المطالعہ شخص رہے ہیں۔مختلف موضوعات پر کتا بیں حاصل کرناانھیں پڑھنا اور جو کچھ پڑھا ہے اسے سمجھنے کی کوشش کرنا ان کی فطرت ثانیہ رہی ہے۔
جن لوگوں نے شمس الرحمن فاروقی کو قریب سے دیکھا ہے یا جنھیں فاروقی سے مختلف حیثیتوں سے ملنے جلنے کی سعادت نصیب ہوئی ہے وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ باوجود خاموش طبع ، کم آمیز اور گوشہ نشین رہنے کے وہ بڑے زندہ دل ، ملنسار اور خوش مزاج انسان ہیں ۔ یہی سبب ہے کہ ان کا حلقۂ احباب بہت وسیع اور متنوع ہے ۔ ڈاک خانہ کی شاندار ملازمت ،شب خون کی اشاعت ،اندرون وطن اور بیرون وطن کے اسفار نیز ان کی کتابوں ، تقریروں ، علمی وادبی لکچرز اور عظیم شخصیتوں سے میل ملاقات کا فطری نتیجہ یہ نکلا کہ قریبی اعزہ سے لے کر دور دراز رہنے والے صاحبان ذوق ان کے مداح اور قصیدہ خواں ہیں۔حد تو یہ ہے کہ کچھ حضرات ان کے نظریات یا ذاتی اسباب کی بنا پر ان کے مخالف بھی ہیں لیکن اپنے تئیں مصلحتاََ یا مجبوراََ ان کے دوست کہلانا پسند کرتے ہیں۔
راقم الحروف اس بات کا دعوے دار نہیںہے کہ وہ فاروقی کے سبھی دیرینہ اور موجودہ احباب سے واقف ہے کہ وہ ہر دوست کی کیفیت ِ مزاج اور مو صوف سے قربت کی نوعیت کا کما حقہ جائزہ لے سکے۔ ان کے بعض قریبی اعزہ کی زبانی نیز ان کی تصانیف اور رسائل کی مدد سے جو معلومات حاصل ہوسکی صرف ربط بیان کے لیے ان کا انتہائی اختصار کے ساتھ تذکرہ کرتا ہے۔اس ضمن میں لا شعوری طور پر اگر کوئی فروگذاشت واقع ہو تو ازراہ کرم آپ اسے راقم کی کم علمی پر محمول فرمائیں یا پھر اس امر کو ’’ دروغ برگردنِ راوی‘‘ کے خانے میں ڈال دیں۔
جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر ہوچکا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے انگریزی ادب کا عمیق مطالعہ کرکے ۱۹۵۵ء میں الہ آباد یونی ورسٹی سے ایم۔ اے کا امتحان دیا۔ اس امتحان میں نہ صرف یہ کہ کامیابی حاصل کی بلکہ ان کا نام Toppersمیں تھا ۔ اس یونی ورسٹی کے شعبۂ انگریزی کی غیر تحریری روایت رہی ہے کہ فرسٹ کلاس طالب علموں میں سب سے زیادہ نمبر لانے والے امید وار کو شعبہ میں از خود لکچرشپ مل جایا کرتی تھی کیوں کہ اسے شعبہ کے لیے ایک طرۂ امتیاز سمجھاجاتا تھا ، لیکن برا ہو تنگ نظری ، عصبیت اور دھاندلی کا کہ اتنی شاندار لیاقت رکھنے اور میرٹ لسٹ میں آنے کے باوجود اس قاعدے قانون کو فراموش کرکے ساتویں اور آٹھویں پائیدان تک آنے والوں کو لکچر شپ دے دی گئی۔ ظاہر ہے کہ ارباب اقتدار کی اس حرکت مذبوحی کو دیکھ کر فاروقی کو سخت کوفت ہوئی لیکن وہ ایک با حوصلہ نوجوان تھے لہٰذا ہمت نہیں ہارے ۔ انہیں یہ حکیمانہ قول یا د تھا کہ’’ اگر کوئی تمھیں لیموں دے تو اسے فوراََ لیموں کے شربت میں بدل دو‘‘ ۔ان کا اسی سال ستیش چندرڈگری کالج یوپی میں بحیثیت لکچرر تقر ر ہوگیالیکن جب انھیں شبلی کالج ، اعظم گڑھ نے دعوت دی تو موصوف علامہ شبلی نعمانی سے منسوب اس کالج کی طرف بصد شوق مڑ گئے اور ۱۹۵۶ء سے ۱۹۵۸ء تک وہاں انگریزی پڑھاتے رہے۔
۱۹۵۸ء ہی کی بات ہے کہ فاروقی نے ہندوستان کے سب سے باوقار پیشے کے لیے مقابلہ جاتی امتحان آئی ۔اے۔ ایس) (I.A.S. میں شرکت کی اور خوش قسمتی سے پہلی کوشش میں کامیاب ہوگئے۔انٹر ویو میں کامیابی کے بعد انھوں نے انڈین پوسٹل سروس جوائن کیا۔ ملازمت کے دوران وہ حکومت ہند کے اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز رہے ۔مثلاََ:
۱۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، بہار (پٹنہ) ۲۔ چیف پوسٹ ماسٹر جنرل ، اترپردیش (لکھنؤ) ۳۔ ڈپٹی ڈائرکٹر پوسٹل مٹیریلس ، پی اینڈ بورڈ (نئی دہلی)۴۔ جوائنٹ سکریٹری ، ڈیپارٹمنٹ آف نان کنونشل انرجی سورسس ہند (نئی دہلی)
اپنی عمر عزیز کے ۳۶ سال بلا تفریق مذہب وملت کمال فرض شناسی ودیانت داری کے ساتھ ملازمت سے ۳۱ جنوری ۱۹۹۴ء کو سبک دوش ہوئے۔جس زمانے میں فاروقی ملازمت میں تھے، ان کے مخلص دوست ڈاکٹر نیر مسعود لکھتے ہیں :
’’فاروقی کانپور میں تعینا ت تھے ایک دن لکھنؤ آئے کسی سخت الجھن میں مبتلا تھے کہنے لگے میں نے فیصلہ کرلیا ہے کہ ملازمت سے استعفٰی دے دوں۔ ان سے جب اس فیصلے کا سبب پوچھا تو بتایا کہ ان کے پی ۔ایم۔ جی صاحب ان کے پیچھے پڑ گئے ہیں ۔انہیں یہ خیال ہونے لگا ہے کہ فاروقی، محکمے میں مسلمانوں کو زیادہ بھرتی کر رہے ہیں۔میںنے پوچھا کیا یہ حقیقت ہے؟ ’’ہاں کسی حد تک‘‘ انھوں نے جواب دیا۔ میرے کاموں میں طرح طرح کی رکاوٹیں ڈالتے ہیں۔ بالکل مجھ سے کلر کوں والا برتاؤ کرتے ہیں۔ دیر تک دل کا بخار نکالنے کے بعد واپس چلے گئے۔ اگلی بار آئے تو بہت خوش تھے۔ کہنے لگے۔ اس نے مجھے کلرک سمجھ لیا تھا تو میں نے بھی کلرکوں والی حرکتیں شروع کردیں ۔ اس کے ہر آرڈر میں طرح طرح کی قانونی قباحتیں نکال دیتا تھا اور باربار آرڈر میں تبدیلیاں کراتا تھا۔ عاجز آکر اس نے کہہ دیا ۔ مسٹر فاروقی ، آپ جو مناسب سمجھئے وہ کیجیے۔‘‘۱؎
۲۶ دسمبر ۱۹۵۵ء کوشمس الرحمن فاروقی کی شادی ضلع الہ آبا کے قصبہ پھول پور کے ایک زمیندار گھرانے میں سید عبد القادر کی بڑی لڑکی جمیلہ خاتون سے ہوئی ۔جمیلہ خاتون الہ آباد یونی ورسٹی کی ایک ہونہاراورذہین طالبہ تھیں۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ وہ ایک باحوصلہ، ذمہ داراور خوش اخلاق خاتون بھی تھیں۔ وہ الہ آبا د کے حمیدیہ اور قدوائی گرلزکالج جیسے مؤقر ادارے کی پرنسپل بھی رہی ہیں۔فاروقی کی دو لڑکیاں ہیں۔۱۔مہر افشاں، ۲۔ باراں رحمن
(۱) مہر افشاں (پیدائش ۱۹۵۷) ایم۔اے (تاریخ) ڈی فل ( تاریخ) اردو فارسی سے واقف ہیں ۔اردو فارسی سے انگریزی میں اور انگریزی سے اردو میں کئی تراجم کیے ہیں۔ پنسلوانیا یونی ورسٹی میں مہمان پروفیسر رہ چکی ہیں۔ ابتدائی تعلیم کونونٹ میں حاصل کی۔ پرائمری درجات سے ایم ۔اے تک اول درجے سے کامیابی حاصل کی۔ فی الحال امریکہ کی ورجینیا یونیورسٹی میں درس وتدریس کا کام انجام دے رہی ہیں۔
(۲) باراں رحمن ( پیدائش ۱۹۶۵ء) بی۔ایس سی ، ایم۔اے پی ایچ ڈی (انگریزی) اوراردو فارسی سے واقف ہیں ۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں انگریزی کی پروفیسر ہیں۔
فاروقی کی شریک حیات محترمہ جمیلہ فاروقی جو حقیقی معنوں میں ان کی زندگی کا ایک اہم حصہ اور ((Morale-Boosterدل بڑھانے والی خاتون تھیں ،اس دنیاے آب وگل میں تقریباََ ۵۲ برس تک ان کے ساتھ رہیں۔جمیلہ فاروقی اچانک بیمارپڑ گئیں۔خیال تھا کہ الہ آباد کے ڈاکٹر انھیںسنبھال لیں گے لیکن ایسا نہ ہوسکا ۔ انھیںدہلی کے مشہور بترا ہسپتال میں داخل کیا گیا،کئی ڈاکٹر شب وروز ان کی نگہداشت میں جی توڑ کوشش کر رہے تھے لیکن علالت ایسی تھی کہ کسی طرح افاقہ ممکن نہ تھا۔آخر طے پایا کہ بیگم فاروقی کو الہ آباد لایا جائے۔ مشیت ایزدی میں کیا چارہ ہے ۔آخر کار دہلی سے الہ آبا واپس لائی گئیں جہاں ۱۹؍اکتوبر ۲۰۰۷ء (بروز جمعہ) کو تمام اہل خانہ کو وہ داغِ مفارقت دے گئیں،جس کا اندازہ فاروقی کے ان اشعار سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے:

اس کو وداع کرکے ، میں بے قرار رویا
مانند ابر تیرہ ، زار و قطار رویا
طاقت کسی میں غم کے ، سہنے کی اب نہیں ہے
اک دل فگار اٹھا ، اک دل فگار رویا
اک گھر تمام گلشن ، پھر خاک کا بچھونا
میں گور سے لپٹ کر دیوانہ وار رویا
تجھ سے بچھڑ کے میں بھی اب خاک ہوگیا ہوں
تربت پہ تیری آکر ، میرا غبار رویا
٭٭٭
شمس الرحمن فاروقی کو ان کے چالیس سے زائد اردو انگریزی تصانیف اور کارناموں پر ہندوستان کی کم وبیش سبھی اکیڈمیوں اور ادبی اداروں نے انعامات سے سرفراز کیاہے۔علاوہ ازیں ان کی ادبی قدر قیمت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ بر صغیر کا سب سے بڑاادبی ایوارڈ’’سرسوتی سمان‘‘جو مالیت کے لحاظ سے بھی سب سے بڑاہے، شمس الرحمن فاروقی کو ’شعر شور انگیز‘‘ کے لیے ملا۔فاروقی اردو کے پہلے ادیب ہیں جنھیں سرسوتی سمان سے نوازا گیا۔
شمس الرحمن فاروقی بنیادی طور پر ایک دانشور ہیں ۔ان کی عالمانہ تصانیف کو پڑھ کر نیز’’شب خون‘‘ جیسے معیاری رسالے کی ترتیب و تزئین کو دیکھ کر ہر کس وناکس اردو اور فارسی ادبیات پر ان کی گرفت کی تعریف کرتا ہے۔رسالہ’’شب خون ‘‘ جون ۲۰۰۵ء تک یعنی کم وبیش چالیس سال تک شائع ہوتا رہا۔اگرچہ اس میں بحیثیت مدیر ،پرنٹر اور پبلشر عقیلہ شاہین کا نام درج ہوتا تھا ، لیکن ترتیب و تہذیب کے ذمہ دار فاروقی تھے اور وہی دراصل پورے رسالے کی نگرانی کرتے تھے۔ ملازمت سے وظیفہ یاب ہونے کے بعد وہ از اول تا آخر اسے سجاتے سنوارتے تھے۔ تقریباََ ۸۰ صفحات پر مشتمل اس رسالے میںاعلیٰ درجہ کے طبع زاد نثری مضامین کے علاوہ مختلف زبانوں کے تراجم اور ادبی مباحث بھی ہوتے تھے۔ منظومات کے علاوہ چند مستقل عنوانات مثلاََ ’’سوانحی گوشے ‘‘،’’ کہتی ہے خدا خلق‘‘ا ور ابتدائیہ میں ادب عالیہ کا کوئی تعارفی مضمون ضرور ہوتا تھا۔ اس رسالے کی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ نہ تو کوئی مضمون قسطوں میں چھپتاتھا اور نہ مختلف الگ الگ صفحات پر ۔ صحت کی خرابی اور دوسرے نا گزیر اسباب کی بنا پر فاروقی نے جون تا دسمبر ۲۰۰۵ء میں دوجلدوں پر مشتمل آخری شمارہ نکال کر’’شب خون‘‘ بند کردیا۔
یہ بات تو اپنی جگہ بالکل طے ہے کہ شمس الرحمن فاروقی ایک پیدائشی فنکار ہیں لہٰذا یہ ایک بدیہی امر ہے کہ مطالعۂ کتب ، مشاہدۂ کائنات،خامہ فرسائی ، علمی وادبی مباحث، نزدیک و دور کے اسفار،خطابت اور صحافت ہی ان کے میدان عمل یا کارگاہِ غور وفکر ہیں۔
شعر گوئی اور سخن فہمی فاروقی کو وراثتاََ اپنے بزرگوں سے ملی ہے۔لیکن ان کا کلام سنجیدہ مزاج اور فلسفیانہ خیالات رکھنے والے عالم ودانا سامعین و ناظرین میں نسبتاََ زیادہ مقبول ہے جس کا احساس خود فاروقی کو بھی ہے۔چنانچہ اپنے ایک شعری مجموعہ کے دیباچے میں لکھتے ہیں:
’’انگریزی زبان کے ایک معروف شاعر ٹی ۔ ایس ۔ ایلیٹ کے ایک دوست نے ان سے کہا کہ تمھاری شاعری اتنی مشکل ہے کہ اسے مشکل سے دولوگ سمجھ سکتے ہیں۔ ایلیٹ نے جواب دیا کہ میں انھیں دو لوگوں کے لیے لکھتا ہوں۔‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی اردو زبان کے ایک سچے عاشق بھی ہیں اور وکیل بھی۔اکثر اردو کے نادان دوست یا مخالفین مخلص یہ مشورہ دیتے ہیں کہ اردو رسم الخط بدل دیا جائے تو یہ زبان اور ہردلعزیز ہو جائے گی ۔ فاروقی اس تجویز کے سخت خلاف ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ یہ ہماری زبان کی بدنصیبی ہی کہی جائے گی کہ اس کا رسم الخط بدلنے کی تجویزیں با ر با ر اٹھتی ہیں ، گویا رسم الخط نہ ہوا کوئی ایسا داغ بدنامی ہوا کہ اس سے جلد از جلد چھٹکارا پانابہت ضروری ہو۔کبھی اس کے لیے رومن رسم خط تجویز ہوتا ہے ، کبھی دیونا گری ۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ رسم خط میں تبدیلی کی بات کہنے والے اکثر خود اہل اردو ہی ہوتے ہیںجس کی ایک مثال یہ ہے کہ ایجو کیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے ۲۰۰۵ء میں پروفیسر گیان چند جین کی بدنام زمانہ کتاب ’’ایک بھاشا، دو لکھاوٹ ،دو ادب ‘‘ کے عنوان سے شائع کی تھی ۔ ۳۰۰ صفحات سے کچھ اوپر ضخامت رکھنے والی اس کتاب میں جملہ ۱۴ ابواب ہیں ۔ فاروقی نے اس کتاب کے ایک ایک جزو پر خالص عالمانہ بحث کی ہے اور آنجہانی ڈاکٹر جین کے ایک ایک معاندانہ دعوے کی تردید کی ہے۔فاروقی کا یہ محاکمہ خالص منطقی استدلال پر مبنی ہے ورنہ موصوف یہ نہ لکھتے کہ:
ــ’’ یہ کتاب اردو ہندی تنازع پر نہیں ،بلکہ ہندو مسلم تنازع پر لکھی گئی ہے بلکہ ہندو مسلم افتراق کو ہوا دینے اور ابناے وطن کے درمیان غلط فہمیوں کو فروغ دینے کے لیے لکھی ہے۔‘‘۱؎
پوری کتاب کا حرف بہ حرف تجزیہ کرنے کے بعد فاروقی نے اپنے تبصرے کا اختتام یوں کیا ہے:
’’ یہ کتاب ایجوکیشنل پبلشنگ ہاؤس دہلی نے شائع کی ہے۔ یہ ادارہ اردو اشاعت کا ایک معتبر ادارہ ہے۔ اس کے مالک جمیل جالبی کے بھائی ہیں۔ وہی مشہور محقق اور ادبی مؤرخ جمیل جالبی جن کے معتقد ہمارے فاضل مصنف بھی ہیں اور جن کو انھوں نے اپنی کتاب ’’ اردو کی ادبی تاریخیں ‘‘ لکھ کر معنون کی ہے کہ جمیل جالبی ’’ادبی تاریخ کے سب سے اچھے اہل قلم ‘‘ ہیں ۔ حیرت ہے کہ اردوکے صریحاََ خلاف جھوٹ اور اغلاط اور تعصب سے بھری ہوئی یہ کتاب ایک اردو ادارہ سے کیسے اور کیوں شائع ہوئی‘‘ ۲؎
فاروقی کی ایک حیثیت مورخ اردو زبان وادب کی بھی ہے ۔ اس کا بین ثبوت ان کی تحریر کردہ کتاب ’’ اردو کا ابتدائی زمانہ، ادبی تہذیب وتاریخ کے پہلو‘‘ہے یہ کتاب جو دو سو صفحات پر مشتمل ہے اس کا پہلا ایڈیشن اجمل کمال نے ۱۹۹۹ء میں ’’آج کی کتابیں‘‘ نامی ادارہ واقع صدر ، کراچی پاکستان سے شائع کیا تھا ۔ یہی کتاب بہ زبان انگریزی آکسفورڈ یونی ورسٹی پریس سے چھپ چکی ہے وہاں اس کی سرخی ہے:
Establishing New Facts about Urdu Language & Literature
Shamsur Rahman Faruqi’s
EARLY URDU LITERARY CULTURE AND HISTORY
Published by Oxford University Press
شمس الرحمن فاروقی نے اندرون ملک اور بیرون ملک کی متعددیونی ورسٹیوں اور جلسوںمیںشرکت کی جہاں انہوں نے مختلف ادبی موضوعات پرعالمانہ لکچر دیے اور جلسوں سے بھی خطاب کیا۔طوالت کی خاطر میں صرف بیرون ممالک کے اسفا ر کا سرسری جائزہ پیش کروںگا۔ شمس الرحمن فاروقی نے پہلی بار ۱۹۸۷ء میں برطانیہ اور امریکا کا دورہ کیا جہاں انہوںنے وسکالنسن یونی ورسٹی میں بین الاقوامی ادبی کانفرس میں شرکت کی اور شکاگو یونی ورسٹی میں لکچر دیے۔۱۹۸۰ء میں پاکستان کے شہر لاہور اور کراچی کے ادبی جلسوںسے خطاب کیا ۔۱۹۸۴ء میں امریکا اور کناڈا کا سفرکیا اورٹو رنٹو میں بین الاقوامی ادبی کانفرنس میں شرکت کرنے کے بعد برٹش کولمبیا یونی ورسٹی (وین کور) کیلی فورنیا یونی ورسٹی(برکلے) اور وسکالنسن یونی ورسٹی میں جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۴ء ہی میں تھائی لینڈ کے شہر بنکاک کے SAARCکانفرنس میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۵ء میں سوویت یونین ماسکو میں ہندوستانی سائنس نمائش میں ہندوستانی وفد کی قیادت کی۔۱۹۸۶ء میں دوبارہ پاکستان کا سفر کیا اور اسلام آباد میں SAARC(دیہی توانائی) میں ہندوستان کی نمائندگی کی۔۱۹۸۶ء میں امریکا اور کناڈا کا دورہ کیا جہاں انہوں نے چھ امریکی شہروں میں ہندوستانی شاعری میلہ اور ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۷ء میں خلیجی ممالک دوحہ، قطر میں ہند پاک جلسوں میں شرکت کی۔۱۹۸۸ء میں برطانیہ اور امریکا گئے جہاں لندن کے ایک ادبی جلسے سے خطاب کیا علاوہ ازیں پنسلوانیا ، فلاڈلفیا اور کولمبیا یونی ورسٹی نیو یارک میں لکچر دیے۔۱۹۸۹ء میں خلیجی ممالک دوحہ ،قطرہندپاک جلسوں میںشرکت کی،واپسی میں کراچی کے ادبی جلسوں سے خطاب کیا۔۱۹۸۹ء میں پنسلوانیا یونی ورسٹی امریکا میں اردو ادب پر تقاریر کیں۔ ۱۹۹۰ء میں جدید اردو کلاسیکی ادب پر شکاگو میں لکچر دیے۔۱۹۹۳ء میں پنسلوانیا ، شکاگو اور کولمبیا یونی ورسٹیوں میں اپنے خطبات پیش کیے۔۱۹۹۳ء میں مغربی یورپ بلجیم اور ہالینڈ کا سفر کیا۔۱۹۹۳ء میں بنکاک،نیوزی لینڈ اور سنگاپور کا سفر کیا جہاں انہوں نے پوسٹل انتظامیہ کی دولت مشترکہ کانفرنس منعقدہ نیوزی لینڈ میں ہندوستانی نمائندے کی حیثیت سے شرکت کی اور ’’ آب ِحیات‘‘ کے انگریزی ترجمے میں بحیثیت مشیر ۱۹۹۳ء میں کولمبیا میں کام کیا اور کناڈا کے شہر ٹورنٹو میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا۔۱۹۹۵ء انگریزی ترجمے کے ماہر مشیرکی حیثیت سے کولمبیا میں کام کیا اور کیلیفورنیا ،برکلے اور کنکورڈیا کی یونی ورسٹیوں میں ادبی جلسوں میں خطاب کیا۔۱۹۹۵ء میں لندن اور بریڈ فورڈ میں ادبی جلسوں کو خطاب کیا اور آکسفورڈ لائبریری میں نایاب کتابوں کا مطالعہ کیا۔ ۱۹۹۶ء میں عبرانی یونی ورسٹی یروشلم میں تین لکچر کلاسیکل اردو غزل کی شعریات پر دیے۔نومبر ۱۹۹۶ء میں فاروقی کو ہیبرو یونیورسٹی اسرائیل نے ’’ہندوستانی شعریات ‘‘ کے موضوع پر لکچر کی دعوت دی جس کا معاوضہ کافی خطیرتھا پھربھی فاروقی نے اسے قبول کرنے سے انکارکردیا ۔ فاروقی نے اسرائیلی دعوت نامے کومسترد کرکے یہ ثابت کردیا کہ وہ انسان دوستی کو نام ونمود اور اعزازات پر مقدم سمجھتے ہیں۔انہوں نے اس عمل سے فلسطین کے ان مظلوموں اور ناداروں کی ایک طرح سے حمایت بھی کی جو صیہونی ظلم واستبداد کا آئے دن نشانہ بنتے ہیں۔
چونکہ اس تصنیف کا مقصد شمس الرحمن فاروقی کی فکشن نگاری عموماََ اور ان کے مشہور ناول ’’کئی چاند تھے سرِآسماں‘‘ کا مطالعہ خصوصاََ پیش کرنا ہے۔لہٰذا گزشتہ چند صفحات میں ان کے سوانحی حالات اختصار کے ساتھ پیش کیے گئے ہیںتاہم اس نکتہ کو پیش نظررکھا گیا ہے کہ فاروقی کی پیدائش سے اب تک کی زندگی کا محاکمہ اس ترتیب سے کیا جائے کہ ان کی گھریلو ، علمی اور عملی زندگی کے وہ اہم واقعات وحالات ضبط تحریر میں آجائیںجو کہ ان کی پرورش و پرداخت اور ذہنی نشو ونمامیں اہمیت کے حامل ہیں۔ان کی شخصیت کے مطالعے کے بعد یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جاسکتی ہے کہ اردو کی باقاعدہ تعلیم حاصل نہ کرنے کے باوجود انھوں نے اردوزبان و ادب پر جو اختصاص حاصل کیا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہو سکا۔صرف اردو ہی نہیں بلکہ دنیا کی دیگر اہم زبانوں اور ان کے ادب سے کما حقہ واقفیت فاروقی کو عبقری شخصیت کا درجہ عطا کرتی ہے۔ انھیں ابتداے عمر ہی سے مطالعے کا شوق تھا۔رفتہ رفتہ یہ شوق ان کے مزاج اور شخصیت کا ایک دائمی جز بن گیا۔ انھوں نے زندگی میں جو کچھ بھی حاصل کیا وہ اپنی محنت وریا ضت کے دم پر کیا ۔ادب میں تحقیق، تنقید اور تخلیق غرض کہ ہر شعبے میں انہوں نے اہم خدمات انجام دی ہیں۔
٭ ٭ ٭

 

Novel Kai Chand They Sa’ar E Asman

Articles

ناول کئی چاند تھے سرِ آسماں کے تشکیلی عناصر

ڈاکٹر رشید اشرف خان

’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ شمس الرحمن فاروقی کا تخلیق کردہ ایک ایسا کوزہ ہے جس میں ناول نگار نے ہزاروں دریا سمو دیے ہیں ۔ اس شاہکار ادب پارے کو پڑھ کر اردو کے مشہور و معروف ادیب انتظار حسین نے فاروقی سے کہا تھا کہ’’ آپ آدمی ہیں کہ جن؟‘‘
یقینا مؤکل ، شمس الرحمن فاروقی کے تابع ہیں جن سے وہ جب چاہیں ، جیسا چاہیں کام لے لیتے ہیں۔ویسے تو اس ناول کی کہانی کو دراز تر کرنے میں درجنوں کردار ، مقامات ، واقعات اور حادثات سبھی شریک ہیں لیکن سب سے زیادہ نمایاں رول ، جگت استاد ، فصیح الملک نواب میرزا خاں داغ دہلوی کی والدۂ گرامی، وزیر خانم عرف چھوٹی بیگم زہرہؔ دہلوی کا ہے۔ وزیر خانم کا نام زبان پر آتے ہی اردوکے معروف استاد شاعر ثمرؔ ہلّوری کا یہ شعر یاد آجاتا ہے:
ازل سے تا ابد ، نا محرمِ انجام ہے شاید
محبت ، اک مسلسل ابتدا کا نام ہے شاید
غیر ضروری نہ ہوگا کہ اگران عناصر پر بھی گفتگو کی جائے جن کے اشتراک سے ایک ناول کی تشکیل عمل میں آتی ہے ۔اسی مقصد کے تحت ذیل کی سطو ر میں ناول کے چند تخلیقی عناصر پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔
زبانی بیانیہ
بیانیہ یاNarration ایک مخصوص انداز ہے جس سے اردو ادب کی نظم ونثر کی قرأت اور بلند خوانی دونوں میں مدد لی جاتی ہے:
’’ بیانیہ سے مراد صرف ناول یا وہ فکشن نہیں جس کے بنیادی نمونے ہنری فیلڈنگ اٹھارویں صدی اور ہنری جیمس نے انیسویں صدی میں قائم کیے۔ ناول یا فکشن ایک طرح کا بیانیہ ہے ،لیکن ناول کو بیانیہ کا واحد معیار یا واحد اصول ساز نہیں کہہ سکتے ۔ دوسرے الفاظ میں ، ہر بیانیہ کو ناول ،فکشن کے چوکھٹے میں رکھ کر نہیں دیکھنا چاہیے‘‘۱؎
بیانیہ اور زبانی بیانیہ میں فرق ہے۔داستان میں ناول کے بر خلاف الگ ضوابط اور رسومیات ہوتے ہیں۔یعنی داستان کا مطالعہ آزادعلومیہFree disciplineکی حیثیت سے کیا جاتا ہے ۔شاید اس مخصوص disciplin کا نتیجہ تھا کہ جس زمانے میں ہمارے وطن اور بیرون وطن میں ناول کا بول بالا تھاتو ادب کے ماہرین نے بالاتفاق یہ مان لیا تھا کہ ناول کے ہوتے ہوئے کسی اور نثری بیانیہ کی ہمیں ضرورت ہی نہیں ہے۔بہت سے اہل علم آج بھی داستان کو ناول کی ایک قسم قرار دیتے ہیں۔منظوم شکل میں جو داستا نیں لکھی گئیں یا قصہ خوانی کے دوران جو مثنویاں جوڑ دی گئیں انھیں ترنم سے یا گا کر پڑھا جاتا ہے اس کے برعکس ناول میں اگر اشعار نقل بھی کیے جاتے ہیںتو انھیں گاکر نہیں پڑھا جاتا۔جیسا کہ ’’کئی چاند تھے سرِآسماں ‘‘ میں اکثر مقامات پر ایسے ٹکڑے ملتے ہیں جو زبانی بیانیہ کے ذیل میں آتے ہیں۔ مثلاََ جب ولیم فریزر کے قتل کے الزام میں نواب شمس الدین احمد خاں پر فردجرم عائد کرکے انگریزوں نے انھیں پھانسی دے دی تو وزیر خانم کی دنیا ہی اجڑ گئی ۔ وہ چپکے چپکے روتی اور دل ہی دل میں نوحے کے انداز میں یہ اشعار پڑھتی تھی:
شربتے از لب لعلش نہ چشیدیم و برفت
روئے مہ پیکراو سیر نہ دیدم و برفت
گوئی از صحبت مانیک بتنگ آمدہ بود
بار بربست و بہ گردش نہ رسیدیم و برفت
اسی طرح ایک مقام پر جب کریم خاں کی گرفتاری کے بعد دلا ورلملک نواب شمس الدین احمد خاں کو کمپنی بہادر کے افسران ،فیروزپور جھرکہ سے دہلی طلب کرنے کے لیے ایک خط روانہ کرتے ہیں۔خط کو پڑھ کر نواب شمس الدین خاں کی زندگی میں طوفان آجاتا ہے ۔وہ اندرون خانہ جاکر اپنی بیگمات اور بچوں سے ملتے ہیں ۔انھیں دلاسہ دیتے ہیں اور بادل ناخواستہ ایک ایک سے رخصت ہوتے ہیں۔شہر فیروز پور کے سبھی عوام وخواص گریہ وزاری کرکے انھیں الوداع کہتے ہیں اور روضہ خوان سیدنا امام حسن کے شہید فرزند حضرت قاسم کا یہ نوحہ پڑھتے ہیں:
آں دم عروس ہے ہے ، رو رو کہے زناں سوں
جاتے ہیں واہ ویلا تنہا ستم گراں سوں
ملنا جو پھر کہاں ہے ، وا حسرتا جہاں سوں
کرکے چلے اندھارا ، دن کو چو شام قاسم
مذکورۂ بالا نمونوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ ضروری نہیں کہ اشعار گاکرہی پڑھے جائیںاگرچہ بعض حالات میں وہ ترنم سے خواندگی کے متقاضی محسوس ہوتے ہیں ۔اس سلسلہ میں ایک بات اور بھی قابل وضاحت ہے:
’’طویل یا مختصر بیانیہ نظموں کو گاکر یا پڑھ کر سنانے کا رواج مغرب میں بھی اتنا ہی مقبول اور اتنا ہی قدیم ہے ،جتنا مشرق میں۔ اور مغرب کی بعض عظیم ترین نظموں کی تنقید اسی وقت بامعنی قرار دی جاسکی جب اس نکتہ کو ملحوظ رکھا گیا۔ مثلاََ ہومرؔ کی ایلیڈ اور اوڈیسی اور ان کی طرح مشرقی نظموں مثلاََ مثنوی کے بھی عناصر یہی دو ہیں یعنی رزم اور بزم‘‘۱؎
داستان کو بیانیہ اس لیے سمجھا جاتا ہے کیوں کہ اس کے سننے والے سامعین ہواکرتے ہیں۔اب تو خیر داستا نیں ، کتابی شکل میں یا فلم کے پردے پر آنے لگیں لیکن دور قدیم میںیہ سننے ہی کی چیز تھی البتہ ناول نویس سنانے کے لیے نہیں بلکہ پڑھوانے کے لیے لکھتا ہے۔دور حاضر میں بھلا کس میں اتنی صلاحیت ہے کہ فاروقی کے مذکورہ ناول کو حرف بہ حرف ازبر کرکے عوام کے مجمع میں سنا سکے۔یہ اور بات ہے کہ ناول نویس کے ذہن میں کچھ مفروضہ سامعین ہوں ،پر ضروری نہیں کہ وہ سامنے موجود ہوں۔
داستانی عناصر
ناول کے مصنف شمس الرحمن فاروقی ،قاری یا ناقد کوئی بھی یہ بات ماننے کو تیار نہیں کہ یہ تصنیف کسی حیثیت سے داستان کے زمرے میں آتی ہے۔لیکن اس حقیقت سے کیسے انکار کردیا جائے کہ اس میں ’’داستانی عناصر‘‘ کا شائبہ بھی نہیں ہے۔فن داستان گوئی ، افسانہ نگاری اور ناول نویسی کے اختصاصی مبصر وقار عظیم کا یہ محاکمہ توجہ طلب ہے:
’’چھوٹی بڑی، سب داستانوں میں دلچسپی پیدا کرنے کاایک طریقہ تو یہ ہے کہ قصے کو جہاں تک ممکن ہو طول دیا جائے تاکہ پڑھنے والا زیادہ سے زیادہ عرصے تک حقیقت کی دنیا بھول کر ، رومان اور تخیل کی دنیا کی سیر کرے ۔کہانی کو طویل بنانے کے لیے ہمارے داستان نویسوں نے عموماََ یہ انداز اختیار کیا ہے کہ وہ اصل قصے کے ساتھ’’ ضمنی قصے‘‘ بڑھا کر پڑھنے والے کی توجہ اور انہماک کے لیے نئی نئی باتیں نکالتے رہتے ہیں‘‘۱؎
اس بیان کی روشنی میں اگر ہم جائزہ لیں تو کہانی کا مرکزی کردار الملقب بہ شوکت محل کی داستان حیات بیان کرتے وقت بنی ٹھنی، وسیم جعفر، تعلیم،مہاداجی سندھیا،مہاکالی وغیرہ کو اگرچہ اصل قصے میں انتہائی ہنر مندی سے جوڑ دیا گیا ہے لیکن بغور دیکھئے تو یہ سب چیزیں اضافی نظر آتی ہیں۔بنی ٹھنی کے حسن وجمال، اس کے اعضا وجوارح کی متناسب بناوٹ اور مہا راول گجندر پتی سنگھ مرزاکی چھوٹی جوان بیٹی من موہنی، عرف رادھا ،عرف بنی ٹھنی کی تصویر کشی فاروقی نے بہت تفصیل سے کی ہے۔
’’بنی ٹھنی‘‘ کی اس تفصیل کا داستانی عنصر یہ تھا کہ راجپوتانے کے علاقہ کشن گڑھ میں واقع گاؤں ’’ہندل پروا ‘‘ کے باشندے میاں مخصوص اللہ ایک شبیہ ساز تھے۔نہ جانے کس طرح انھیں یہ توفیق ہوئی کہ بے خیالی میں انھوں نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کی شبیہ بنادی۔ مخصوص اللہ اور ان کے گاؤں والوں کی شامت ہی تھی کہ بنی ٹھنی کے خد وخال مہاراول گجندر پتی مرزا کی چھوٹی بیٹی من موہنی سے بالکل مل گئے۔مہاراول یہ سوچ کر آپے سے باہر ہوگیا کہ میری بیٹی کو کسی نا محرم نے دیکھ لیا اور اب میری جگ ہنسائی ہوگی ۔چنانچہ اس نے اپنی بیٹی کو نہایت سفاکی سے قتل کردیا ۔مگر قدرت کے کھیل نیارے ہوتے ہیں ۔ مخصوص اللہ کے پرپوتے یوسف سادہ کار کے گھر میں وزیر خانم پیدا ہوگئی جو شکل وصورت میں بنی ٹھی کی ہم شکل یاTru-copy تھی۔اس قسم کے آوا گون۔دوسرے جنم یاRe-incarnation کے فارمولے کیا اس ناول کے داستانی عنصر کی غمازی نہیں کرتے؟داستانی عنصر کی ایک اور مثال بڑی دلچسپ ہے:
’’یہ حقیقت اظہر من الشمس ہے کہ ہر بیانیہ ماضی یا حال یا مستقبل میں واقع ہوتا ہے لیکن داستان کی صفت یہ ہے کہ اس میں مستقبل کی باتیں بسا اوقات پہلے ہی منکشف کردی جاتی ہیں۔مختصراََ یا مطولاََ ۔۔۔اور پھر سارے واقعات اپنے وقت پر دوبارہ بیان ہوتے ہیں۔تجسس کی وہ نوعیت باقی نہیں رہتی جو عام ناولاتی فکشن میں نظر آتی ہے‘‘۱؎
ناول ’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘کی ابتدا ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی، ماہر امراض چشم کی یاد داشتوں سے ہوتی ہے لیکن ایک مضحکہ خیز پہلو اس حوالے میں یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کا وجود محض خیالی ہے۔ان کانام بھی مستعار ہے یعنی شمس الرحمن فاروقی کے والد مرحوم مولوی خلیل الرحمن اور دادا حکیم مولوی اصغر فاروقی کے ناموں کا مرکب ہے۔یہ التزام شاید فاروقی نے بڑی دوراندیشی سے کیا ہے اس سے موصوف کی ذہنی اپج اور درّاکی کا نمونہ سامنے آتا ہے۔
ڈرامائی پہلو
ڈراما ایک ایسی صنف ادب ہے جس میں منظر بدل جاتے ہیں ،مکالموں پر توجہ دی جاتی ہے، روشنی اور آواز کے اتار چڑھاؤ پر دھیان دیا جاتا ہے۔جذبات نگاری اور موسیقی کا بھی لحاظ کیا جاتا ہے۔اگر موضوع تاریخی یا سماجی ہے تو زمان ومکاں اور ماحول، زبان، لہجہ ،کردار اور آغاز و اختتام پیش نظر رہتا ہے ۔اکثر خود کلامی ،طنز ومزاح یا لکچر بازی کا بھی التزام رہتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ بنیادی طور پر ایک ناول ہے جس میں بیک وقت داستان، ڈراما اور ناول سبھی رنگ نظر آتے ہیں۔ناول کے مطالعہ کے دوران ہمیں ڈرامائی پہلوؤ ں سے بھی سابقہ پڑتا ہے۔پہلا ڈرامائی پہلو وہاں نظر آتا ہے جب لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر اور ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کی پہلی تفصیلی ملاقات ہوتی ہے۔دونوں دریائے ٹمیز کے کنارے اتوار کو اس مقام پر ملتے ہیں جہاں پرانی کتابوں کا بازار لگتا ہے۔اسی طرح ناول کی ابتدا میں جب مخصو ص اللہ کی شبیہ سازی کی وجہ سے پورے گاؤ ں والوںکے سرپر موت کے بادل منڈلانے لگتے ہیںاوروہ ہجرت کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ایک اور درد انگیز ڈرامائی موقع وہ بھی ہے جب صاحب عالم مرزا فتح الملک بہادر عرف مرز افخرو، ولی عہد سوم ایک مختصر سی علالت کے بعد انتقال کرجاتے ہیںاور چھوٹی بیگم (وزیر خانم) جنھیں مرزا فخرو کی بیگم بننے کے بعد شوکت محل کا خطاب ملا تھا بیوہ ہوجاتی ہیں تو مرزا فخرو کے چہلم کے تیسرے دن بعد ان کی سوتیلی ماں اور بہادر شاہ ظفر کی منظور نظر زینت محل وزیر خانم کو بلواکر کہتی ہیں:
’’ چھوٹی بیگم ،ہمیں تمھاری بیوگی پر بہت افسوس ہے لیکن تم تو ایسے سانحوں کی عادی ہوچکی ہو ۔ اسے بھی سہ جاؤگی‘‘۱؎
کافی دیر تک دونوں کی تلخ وتند گفتگو کے بعد زینت محل نے بڑی بے رحمی سے وزیر خانم کو قلعہ سے نکل جانے کا حکم صادر کردیا۔
تاریخی پس منظر
شمس الرحمن فاروقی نے ناول کے آخر میں یہ اعلان کیا ہے کہ:
’’یہ بات واضح کردوں کہ اگرچہ میں نے اس کتاب میں مندرج تمام اہم تاریخی واقعات کی صحت کاحتی الامکان مکمل اہتمام کیا ہے لیکن یہ تاریخی ناول نہیں ہے۔ اسے اٹھا رویں ، انیسویں صدی کی ہند اسلامی تہذیب ، انسانی اور تہذیبی وادبی سروکاروں کا مرقع سمجھ کر پڑھا جائے تو بہتر ہوگا‘‘۲؎
فاروقی کے اس اعلان کی تائید کرتے ہوئے اگر مان بھی لیتے ہیںکہ یہ ناول بنیادی طور پرتاریخی نہیںہے۔اس زاویہ نظر سے ہم اس کتاب سے چند نمایاںمثالیں پیش کر سکتے ہیں۔جس طرح تاریخ لکھتے وقت مورخ قدیم تاریخی ماخذسے استفادہ کرتا ہے اور ہرپیچیدہ مسئلے کو دروغ بر گردن راوی کے فارمولے کے ذریعے قابل اعتماد ویقین بنا دیتاہے۔ اس طرح اگرچہ فاروقی نے اپنی کتاب پر تاریخیت کی مہر ثبت نہیں کی لیکن کتابیات کی سرخی کے تحت قریب قریب سبھی ایسی کتابوں کے حوالے دیے ہیں جن کے استناد میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں۔ناول میں گزشتہ اٹھا رویں اور انیسویں صدی کے واقعات کو زیادہ سے زیادہ جاندار اور پراثر بنانے کے لیے فاروقی نے روسی ناول کی تکنیک Docu-Fictionکا استعمال کیا ہے۔اس ضمن میںانھوں نے نہایت باریک بینی کے ساتھ انگریز افسران کی ذاتی ڈائریوں ، روزنامچوں اور خطوط کا بغور مطالعہ بھی کیا ہے:
’’یہاں ایسا محسوس ہوتا ہے کہ محقق فاروقی ، ناول نگار فاروقی کو پوری طرح کمک پہنچا رہا ہے۔ لہٰذا اس میں ہم تاریخ کو تخلیقی طور پر فکشن کے روپ میں ڈھلتے دیکھتے ہیں‘‘۱؎
اس ناول کا اطلاق اگرچہ سو فیصد تاریخیت پر نہیں ہوتا لیکن اسی عنصر تاریخیت نے ناول میں دلکشی اور سنجیدگی پیدا کردی ہے ۔شاید اسی لیے مظہر جمیل نے لکھا ہے :
’’ناول میں جو تاریخی و نیم تاریخی مواد استعمال ہواہے اس کی حیثیت خواہ تحقیق کی رو سے بہت زیادہ مستند نہ ٹھہرتی ہولیکن طریق اظہار کے ذریعہ بیانیہ اپنا اعتماد قائم کرنے میں کا میاب رہا ہے کیونکہ اس سے ایک مانوس فضا اور التباس حقیقت کا مضبوط تاثر قائم ہوا ہے‘‘۲؎
کئی چاند تھے سرِآسماں کی ورق گردانی کرتے وقت کئی ایسی باتیں سامنے آتی ہیںجن کا تعلق اٹھا رویں اور انیسویں صدی کی تاریخ سے ہے اور جن کی صحت کا آسانی سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔مثلاََحسیب اللہ قریشی عرف سلیم جعفر سچ مچ ایک مشہور ومعروف ادیب، نقاد اور عروضی تھے ۔انھوں نے نظیر اکبرآبادی کا ایک مبسوط انتخاب ’’گلزار نظیر‘‘ کے نام سے مرتب کیا ہے۔اسی سلسلے میں لاہور میں ۳۰؍جون ۱۷۹۲ء کو دو ہفتوں کے لیے مینا بازار لگا ۔مخصوص اللہ شبیہ ساز کے بیٹے یحییٰ بڈگامی کو اسی مینا بازار میں بصد اعزاز بلایا گیا تھا ،یہ ایک تاریخی واقعہ ہے۔اس ضمن میں یہ تاریخی واقعہ بھی قابل ذکر ہے کہ وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد سے ایک بیٹا تھا جو آگے چل کر فصیح الملک نواب مرزاخاںداغؔ دہلوی کے نام سے مشہور ہوا ۔
مذہبی حوالے
جس طرح شاعری کی صنف مثنوی میں عمومی طورپر دو طرح کی مثنویاں ہوتی ہیں۔ رزمیہ اور بزمیہ۔ پھر آگے چل کر شاعراپنی شعوری جدت طرازیوں اور اختراع پردازیوںکے جوہر دکھانے کی کوشش کرتا ہے توکبھی مثنوی درس اخلاق کا صحیفہ بن جاتی ہے اور کبھی حسن وجمال کا مرقع ، کبھی سوانح اور آپ بیتی کا دفتر بن جاتی ہے اور کبھی داستانوں کا افسوں۔اکثر نمائش علم کا میدان قرار پاتی ہے اور کبھی عرفانیت اور روحانیت کی مبلغ۔ داستانوں میں با لخصوص مذہبی حوالوں اور تعلیمات کے مواقع زیادہ ہوتے ہیں،جب کہ افسانہ اور ناولوں میں ان حوالوں کی گنجائش کم سے کم رہتی ہے۔قاری ذہنی تفریح اور جذباتی لطف کے لیے ناول پڑھتا ہے، یا زیادہ سے زیادہ ناول نگار کے انداز نگارش کا مزہ لینے کے لیے،عمدہ جاسوسی ناول علمی ترقی ، زبان وبیان کی چاشنی یا جذبۂ تحیر وتجسس کی تسکین کے لیے ایسے ناولوں کا مطالعہ کرتا ہے۔وقت گزاری اور منھ کا مزا بدلنے کے لیے بھی ناول پڑھے جاتے ہیں۔ لیکن یہ امر بڑا حیرت افزا ہے کہ فاروقی کا ناول گاگر میں ساگرAll in one کی بہترین مثال ہے۔اس میں تاریخ بھی ہے، تہذیبی پس منظر بھی ہے،مکالمے بھی ہیں،محبت بھی ہے نفرت بھی ہے، مکاریاں بھی ہیں ،شرافت و وضع داری بھی ہے، جنسیت بھی ہے نفسیاتی کیفیات بھی ہیں۔شاعری بھی اور فنون لطیفہ کی لطافت بھی ہے اوران سب سے بڑھ کر مذہبی حوالے بھی ہیں۔فاروقی لکھتے ہیں کہ:
’’ بڑی بیگم کو ایام صبا ہی سے اللہ رسول سے بے حد لگاؤ تھا۔ سات برس کے سن سے اس کی نماز قضا نہ ہوئی ،نو سال کی ہوئی توپابندی سے روزے رکھنے لگی ۔ کلام مجید کی کئی سورتیں، بہت سی حدیث پاک، قصص الا نبیا کے کتنے ہی اجزا ،سب اسے ازبر تھے۔پردے کی سخت پابند، کھیل تماشوں سے اسے کچھ لگاؤ نہ تھایہاں تک کہ بسنت کی بہار بھی نہ دیکھتی‘‘۱؎
جب ناول کے اسٹیج پر وزیر خانم نمودار ہوتی ہے تو بزرگوں کی روایت کے مطابق اسے اپنے والد محمد یوسف سادہ کار کے ہمراہ عرس مبارک کے ایام میں مہرولی شریف خواجہ قطب شاہ کی درگاہ فلک بارگاہ سے واپس آتے ہوئے دکھایا جاتا ہے۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ محمدیوسف سادہ کار اور اس کے اہل خاندان مذہبی خیالات رکھتے تھے۔
فاروقی نے شعوری طور پر اس ناول میں مذہبی حوالوں کا التزام رکھا ہے۔فاروقیوں کا حوالہ بڑی چابکدستی سے داکٹر خلیل اصغر فاروقی کی زبانی دیا ہے اس سے وہ قارئین پر یہ راز آشکار کرنا چاہتے ہیں کہ موجودہ اعظم گڑھ(یا مئو) میں رہنے والے فاروقی (جس میں موصوف بھی حسن اتفاق شامل ہیں) ممکن ہے کہ ان کے آبا واجداد برہان پوری فاروقیوں سے تعلق رکھتے ہوں۔
جب ۸؍اکتوبر ۱۸۳۵ ء بروز پنچ شنبہ ۸ بجے دن نواب شمس الدین خاں کوپھانسی دینے کے لیے لے جایا جاتا ہے۔اس وقت کا ایک اندوہ گیں لیکن عجیب وغریب منظر دیکھئے:
’’تختۂ دار پر چڑھنے سے پہلے شمس الدین احمد نے کلمۂ توحید اور پھر کلمۂ شہادت پڑھا ۔انھوں نے جلادوں سے ان کی سرگوشی کے لہجہ میں ان کی ذات اور مذہب پوچھا۔جواب سن کر جو اسی طرح زیر لب دیا گیا تھا، نواب شمس الدین احمد نے آہستہ سے خود کلامی کے لہجہ میں کہا ۔اللہ جانے میرے ڈھیر کو مسلمان کے ہاتھ کی مٹی نصیب ہوگی کہ نہیں ۔اس لیے میں خود ہی اپنی مٹی کی دعا پڑھ لوں‘‘۱؎
اسی طرح آغا مرزا تراب علی رفاعی جب ہاتھیوں اور گھوڑوں کی خریداری کے لیے رام پور سے کافی دور سون پور (بہار)جاتے ہیں۔تب وزیر خانم اور راحت افزا دونوں باری باری آغا مرزا کو امام ضامن باندھتی ہیں۔آغا مرزا بھی اپنے بچوں کو دعائیں اورانھیں ’’اللہ کی امان‘‘ میں دے کر گھر سے نکل جاتے ہیں۔
اسی ناول میں ٹھگوں کے حوالے سے دیوی بھوانی ،کسّی اور بہت سے ایسے الفاظ و مصطلحات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان ٹھگوں کے نزدیک ایک سخت ظالمانہ عقیدہ اور مذہب ہے۔
سیاسی حالات
فاروقی کا تحریر کردہ ’’کئی چاندتھے سرِآسماں‘‘ ایک ایسا وسیع وعریض ناول ہے جو دیگر باتوں کے علاوہ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں ہندوستان میں کار فرما سیاسی حالات کابھی بطور خاص احاطہ کرتا ہے ۔ہم جانتے ہیں کہ کسی بھی منظم ملک کی زندگی میں جہاں اور بہت سے عوامل کام کرتے ہیں وہاں سیاسی حالات کا بھی عمل دخل ہوتا ہے۔تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ سات سمندر پار سے آئے ہوئے افرنگیوںنے کس طرح ہندوستان کو رفتہ رفتہ اپنا غلام بنا لیا۔’’سیاست افرنگ ‘‘کے عنوان سے علامہ اقبال نے محض چار مصرعوں میںبہت پتے کی بات کہی ہے:
تری حریف ہے یارب ، سیاست افرنگ
مگر ہیں اس کے پجاری فقط امیر و رئیس
بنایا ایک ہی ابلیس آگ سے تونے
بنائے خاک سے اس نے دو صد ہزار ابلیس۱؎
مذکورہ ناول ۱۸۵۶ء تک کے زمانے کی عکاسی کرتا نظر آتا ہے۔اپنی مقصد بر آوری کے لیے سب سے پہلے انگریز وں نے ہندوستان کی مختلف زبانیں سیکھیں۔عوام تو عوام،افسران بالا مثلاََگورنر جنرل، ریزیڈنٹ اور سفرا ،انگریز ہونے کے باوجود عمدہ ادبی فارسی میں گفتگو کرنے کے ساتھ ساتھ اشعار پڑھتے اور خطابت بھی کرتے تھے۔مثال کے طور پر جب جنرل لارڈ لیک نواب احمد بخش خاں شاہ عالم کی فوج میں شامل ہوئے تو ان کی قیمتی خدمات کے صلہ میں فیروز پور جھرکہ اور الور کے علاقے انھیں بطور انعام ملے تھے ۔ انھیں کی میواتی بیگم سے نواب شمس الدین احمد خاں تھے۔انگریزوں نے فارسی واردو میں خصوصی طور پر ایسا درک حاصل کرلیا تھا کہ غیر ملکی لہجہ ہونے کے باوجود وہ ان زبانوں سے بڑی حد تک بے تکلف ہوگئے تھے۔یہ مشق وہ کسی ادبی معیار کو قائم کرنے کے لیے کم اور سیاسی مقاصدکے حصول کے تحت زیادہ کرتے تھے۔مثال کے طور پرجب نواب یوسف علی خاں والیِ رام پور کی دعوت پر وزیر خانم انگریز ریزیڈنٹ ،ولیم فریزر کی کو ٹھی پر پہنچی اور دربان نے پکار کر وزیر خانم کی آمد کی خبر دی تو ولیم فریزر باہر آیا اور بولا:
’’ اہلاََ و سہلاََ۔ اے آمدنت باعث دل شادی ما۔
حضور نواب صاحب کلاں بہادر ، کنیزک شما و دعاگوئے شما
دیدہ ودل فرش راہ ، اندر تشریف لے چلیں‘‘
انگریزوں کی زبان دانی کی ایک بہترین مثال اس وقت دیکھنے کو ملتی ہے جب فریزر کی کوٹھی پر شعری نشست کے دوران فریزرنے مرزا غالبؔ سے کہا :
’’کہ میں نے فرنچ لیکور کا انتظام کیا لیکن شرط نئی غزل کی ہے ۔مرزا صاحب نے مسکراتے ہوئے بوتل کھولی اور کہا منھ میں تو پانی بھر اآرہا ہے لیکن اسے چندے کھلا چھوڑتا ہوں کہ ہوا خوردہ ہوجائے لیکن یہ شرابیں ایسی ہیں کہ سانس لینے کا تقاضا کرتی ہیں۔وللہ مرزا نوشہ ۔آپ کی انھیں باتوں پر تو ہم فدا ہیں۔ولیم فریزر ہنس کر بولا۔آداب مَے نوشی کوئی آپ سے سیکھے‘‘۱؎
ہندوستان میں اپنی ناپاک سیاسی تماشوں کی بساط بچھانے والے انگریز وںکی ایک مثال مرزا فخرو (جن کا پورا نام میرزا محمد سلطان فتح الملک شاہ بہادر عرف مرزا غلام فخرالدین عرف مرزا فخرو تھا)کے ساتھ تاریخی ساز باز ہے۔مرزا فخرو اور انگریز کے مابین یہ طے ہوا کہ اگر مرزا فخرو اپنے والد کے بعد حسب ذیل شرائط پوری کرتے ہیں تو انھیں ولی عہد نامزد کیا جائے گا:
’’ ۱۔ مرزا فخرو جب بھی گورنر سے ملیں تو برابری کے رشتے سے ملیں۔
۲۔ شاہی زمینوں کا بندوبست حکومت بر طانیہ کے ہاتھوں میں ہوگا۔
۳۔ سلاطین مغلیہ کو قلعۂ معلی میں رہنے کا حق نہ ہوگا۔
۴۔ ولی عہد بہادر کے لیے دوامی حکم ہے کہ وہ لال قلعہ خالی کرکے
قطب صاحب چلے جائیں۔‘‘۲؎
مرزا اسدللہ خاں غالب بھی اسی عہد کے ایک نمائندہ شاعر وادیب تھے۔وہ ایک بیدار مغز اور فیصلہ کن ذہن کے دور اندیش بھی تھے لیکن انسانی کمزوریاں اور کمیاں ان میں بھی تھیں۔وہ صرف خیالی دنیا میں رہنے والے محض شاعر بھی نہ تھے۔جیسا کہ خواجہ احمد فاروقی نے لکھا ہے کہ:
’’غالب ؔ کو اس بات کا اندازہ ہوگیا تھا کہ اب بچی کھچی فصل طاقت کا خاتمہ بہت قریب ہے۔چنانچہ غالبؔ نے اپنے مستقبل کو قلعۂ معلی کے نئے حکمرانوں سے وابستہ کرنے کی کوشش تیز کردی اور ملکۂ وکٹوریہ کی تعریف میں ایک قصیدہ فارسی میں لکھ کر لارڈ ایلن کے ذریعہ انگلینڈ روانہ کیا‘‘۱؎
اسی طرح ناول میں بھی انگریزوں کی سیاسی ریشہ دوانیاں اور ملکی نظام میں ان کی بڑھتی ہوئی مداخلت کو مختلف کرداروں کو عمل اور رد عمل کے سبب پیدا ہونے والے حالات اور واقعات کے حوالے سے پیش کیا گیا ہے۔اس ناول کا بنیادی مقصد گرچہ ہندوستانی معاشرہ میں مقبول ہنداسلامی تہذیب کے گونا گوںمظاہر کو نمایاں کرنا ہے لیکن جس عہد کے واقعات کو ناول نگار نے اس مقصد کے لیے منتخب کیا ہے ان میں ملک کی ہر لحظہ تبدیل ہوتی سیاسی بساط کی جھلکیاںبھی واضح نظر آتی ہیں۔اس طرح یہ ناول شمس الرحمن فاروقی کے پختہ سیاسی شعور اور سیاست وسماج کی وابستگی میں پوشیدہ اسرار جاننے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
ہندوستانی معاشرے کی جزئیات
تاریخ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ با مزہ و بے مزہ لذتوں کی ایسی حکایت بے پایاں ہے جس کی درازی کا کوئی اُور چھور نہیںہے۔جب بھی ایک قوم دوسری قوم سے ٹکراتی ہے تو دونوں اقوام میں شعوری و لا شعوری طور پر کچھ لین دین ہوتاہے۔اس لین دین کی نوعیتیں جدا گانہ ہو سکتی ہیںلیکن بہر صورت اس کے نتائج بڑے دور رس اور مستحکم ہوتے ہیں۔اس کے علاوہ زبان ، لباس ، روز مرہ کا رہن سہن ، معاش ،تعلیم،تجارت،ثقافت، سیاست اور تہذیب و تمدن میں واقع ہوتی ہے۔
فاروقی نے کسی نہ کسی حیثیت سے اٹھارویں اور انیسویں صدی کے حوالے سے آخری دور مغلیہ اور ایسٹ انڈیا کمپنی کے دور عروج کی جزئیات کو بخوبی پیش کیا ہے :
’’تاریخ سے تھوڑی بہت واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ مغلوں کے زوال آمادہ دور میں اور اس کے بعد بھی اکبری بائی ایسی پیشہ وروں کی کیسی قدر ومنزلت تھی۔امیر وامرا اپنے بچوں کی تربیت دلانے کے لیے ان خواتین کے پاس بھیجا کرتے،یہ بچے یہاں آداب واخلاق سیکھتے ۔ملنے ملانے کے طور طریقوں کے علاوہ علم وادب میں بھی ہنر مندی پیدا کرتے،وزیر خانم کے بچپن کا ایک حصہ اپنی نانی کی رفاقت میں گزراتھا‘‘۱؎
اگرچہ انگریز ،صاحبان عالی شان بن کر انگلستان سے ہندوستان آئے تھے لیکن اپنی عیاریوں ، مکاریوں اور ہندوستانیوں کی فطری بزدلی ،آرام طلبی ،عیاشی ،آپسی رنجش اور بغض و حسد سے فائدہ اٹھا کر وہی غیر ملکی مداخلت کاررفتہ رفتہ ہمارے حاکم اور تقدیر ساز بن گئے۔بہ ظاہر اپنی حکمت عملی اور چالبازیوں سے کام لیتے ہوئے وہ ہمارے برسوں پرانے اور تاریخی سماج میں درانداز ہوگئے لیکن ان کے احساس برتری اور ہندوستانیوں کو ہر لحاظ سے کمتر اور بے وقوف سمجھنے کی فطرت میں قطعاََ فرق نہ آیا۔ہمارے ناول کی ہیروئن وزیر خانم اپنی ضد ، ناعاقبت اندیشی اور غلط جوش جوانی میں ایک انگریز افسر مارسٹن بلیک کے دام محبت میں گرفتا ر ہوگئی۔اہل خاندان کے سمجھانے بجھانے کے باوجود بغیر نکاح کیے اس انگریزسے منسلک ہوکر دہلی کو چھوڑ کر جے پو ر (راجپوتانہ) چلی گئی۔وہاں دونوں ’’زن و شو‘‘ کی طرح رہنے لگے۔ایک بیٹے اوربیٹی کی ماں بھی بن گئی۔لیکن مارسٹن بلیک کی انگریزیت میں ذرہ برابر فرق نہ آیا:
’’وزیر تو یہ دیکھتی تھی کہ مارسٹن بلیک کے گھر میںچوریاں بہت ہوتی تھیں۔مارسٹن بلیک ان چھوٹی موٹی چوریوں سے کسی بڑے مالی نقصان میںتو نہ آتالیکن الجھتا اور جھنجھلاتا بہت تھا۔وہ کبھی کبھی چڑ چڑا کے وزیر سے یہ بھی کہہ گزرتا تم ہندوستانی ہوتے بڑے چور اور بے ایمان ہو‘‘ ۱؎
جب انگریز ریزیڈنٹ دہلی،ولیم فریزر نے ایک مرتبہ اپنی کوٹھی میں ایک شعری نشست رکھی تھی اور نشست کا صدر نجم الدولہ دبیر الملک مرزا اسد اللہ خاں غالبؔعرف مرزا نوشہ کو بنایاتو ان کے پہلو میں مظفرالدولہ ناصر الملک مرزا سیف الدین حیدرخاں بہادر کو بٹھایا۔ناصر الملک ، مبارز الدولہ مختارالملک نواب حسام الدین حیدر خاں بہادر کے بڑے بیٹے تھے۔مالک رام( ماہرِغالبیات) لکھتے ہیں:
’’ یہ بھی معلوم ہے کہ میرزا غالبؔ کے تعلقات نواب حسام الدین حیدر خاں کے خاندان سے نہایت ابتدائی زمانے سے تھے اور ان کے صاحب زادے ناظر حسین مرزا ان کے بچپن کے ہمجولی تھے اور یہ خاندان بھی کٹر شیعہ تھا۔اس لیے عین ممکن ہے کہ ان کے اثرات نے مجموعی طور پر مل کر میرزا کو بھی شیعیت کی طرف مائل کردیا ہو‘‘۲؎
فاروقی نے ناظر حسین مرزا کا نام نہیں لکھا لیکن بہر حال ان کا یہ کہنا درست ہے کہ ’’میرزا غالب کو تشیع کی طرف مائل کرنے میں لڑکپن کی اس دوستی کو بہت دخل تھا‘‘
ہم دیکھتے ہیں کہ وزیر خانم کے کردار میں بچپن ہی سے ایک قسم کا باغیانہ پن تھا۔یہ باغیانہ پن علامت ہے اس بات کی کہ اٹھارویں صدی اور انیسویں صدی سے ہی ہندوستانی عورت میں یہ خصوصیت پیدا ہونی شروع ہو چکی تھی کہ وہ آزاد خیال ہو ،اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے اور اپنی تقدیر کو بنائے یا بگاڑے۔ ہوسکتا ہے یہ اثرانگریزی تعلیم اور انگریزوں کی صحبت کا بھی تھا۔دراصل اس کی سوچ میں تہذیبی بغاوت تھی۔وزیر خانم تو خیر اس ناول کا مرکزی کردار ہے لیکن اس سے منسلک دوسرے کرداروں کے آئینے میں بھی ہم اس عہد کے تہذیبی اور معاشرتی رویوں کو بہ آسانی سمجھ کر اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس وقت کے معاشرہ میں عورت کا کیا مقام تھا۔
جزئیات نگاری کا ایک نمونہ اس وقت سامنے آتا ہے جب صاحب عالم و عالمیان مرزا فخرو بہادر ولی عہد سوم نے وزیر خانم کی تصویر دیکھ لی اور ان پر فریفتہ ہوکر انھوں نے سوچا کہ اپنے معزز دوست اور مشہور عالم شیخ امام بخش صہبائی کو بلا کر اس معاملہ میں پیغام رسانی کا وسیلہ بنائیں۔لہٰذا:
’’اگلی صبح کو مولوی صہبائی ابھی چاشت کی نماز سے فارغ ہوئے ہی تھے کہ صاحب عالم و عالمیان کا ایک چوبدار ایک کوزے میں ٹھنڈا دودھ اورایک کوری ہانڈی میں گرم گلاب جامنیںاور دوسری ہانڈی میںمال پُوے لے کر مولوی صاحب کے دروازے پر پہنچاکہ صاحب عالم نے ناشتہ بھجوایا ہے اور ارشاد فرمایاہے کہ مولانا صاحب حویلیِ مبارک میں صاحب عالم و عالمیان کے ایوان خاص میں تشریف لے آویں‘‘۱؎
زیر نظر ناول کے چند ابتدائی صفحات کا مطالعہ کرتے ہیں اور اس مقام پر پہنچتے ہیں جب بنی ٹھنی کی تصویر بنانے والا مخصو ص اللہ اپنے آبائی وطن سے شہر بدر ہونے کے بعد جب بارہ مولہ(کشمیر) پہنچتا ہے ۔وہ وہاں کی جنت نظیر وادیوں کو دیکھ کر ایک بار پھر اپنے آبائی پیشہ شبیہ سازی کا ڈول ڈالنا چاہتا ہے۔ لیکن افسوس صد افسوس کہـ:
’’وہ کشن گڑھ قلم کی مصوری کے لیے رنگ بنانا بھول گیا تھا۔اور کیسے نہ بھولتا ،ان اطراف میں نہ تو وہ جڑی بوٹیاں تھیں ، نہ وہ پتھر اور پانی ،نہ وہ کیڑے مکوڑے،اور سب سے بڑھ کر نہ وہ دیویوںجیسی قد آور اور سنہرے تامڑے رنگ کے ہاتھ پاؤں والی حسین لڑکیاںجن کے ہتھوڑے کی ایک ضرب سے لاجَورد یا زبرجَد کا بظاہرمٹ میلا ،ڈلا تین ٹکڑے ہوجاتا ۔ پھر بڑے پتھر کو وہ آہستہ آہستہ ہلکے پانی میں دیر تک اس طرح سے گھستی رہتیں کہ ان کا سقیم و عقیم حصہ گھس کر زائل ہوجاتا اور نیلے نافرمان والے رنگوں جیسی تتلی یا مصری اسکیرب جیسے فیروزی کیڑے کا رنگ نمایاں ہوجاتا۔کشمیر کی نازک انگلیوں اور لچک دار کلائیوں میں وہ صلابت نہ تھی ۔مخصوص اللہ نے کچھ دن لکڑی پر نقش ونگار بنانے کا کام کیا۔ اور حق یہ ہے کہ خوب کیا‘‘۱؎
ان تمام مثالوں سے ثابت ہوتا ہے کہ ناول نگاری کا ایک خاص اسلوب جزئیات کا حوالہ بھی ہوتا ہے ۔جزئیات کی مدد سے مصنف اپنے مافی الضمیر کو بھی بخوبی واضح کرسکتا ہے بلکہ وہ اسی کے ساتھ پلاٹ اور کرداروں کی اثر انگیزی میں خاطر خواہ اضافے کرسکتا ہے۔
سماجی اقدار اور دہلوی کلچر
ہر ملک ،ہر زمانہ اور ہر حالت کے مطابق ہی سماجی قدریں بنتی ہیں۔ضروری نہیں کہ ہزار برس پہلے تشکیل شدہ سماجی قدریں آج بھی جوں کی توں برقرار رہیں۔مثال کے طور پر اٹھارویں اور انیسویں صدی کے دوران ہندوستان میں ہزاروں سماجی قدریں تھیں ان کے چند نمونے ہم کو زیر مطالعہ ناول میں جگہ جگہ مل جاتے ہیں۔ہوسکتا ہے یہ قدریں اس زمانے میں سکۂ رائج الوقت ہو ں لیکن آج قابل مذمت یا قابل اعتنا نہ ہوں۔
جس زمانے کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں اسی زمانے میں نوابین اور رؤساایک آدھ شادی اپنے ’’کفو‘‘ یا خاندان میں کرتے تھے اور بہت سی عورتوں کو بے نکاحی یا خانگی بنا کر رکھتے تھے۔اس زمانے میں یہ کوئی عیب نہ تھا۔شرفا اور امرا اپنے بچوں کو طوائفوں کے کوٹھے پر بھیجتے تھے تاکہ وہاں ادب ،تہذیب اور شائستگی کا سبق لیں۔
سماجی اقدار کی ایک بہترین مثال ہندو مسلم اتحاد تھا۔دیکھئے کہ پنڈت نند کشور کس طرح مسلمانوں میں شیر وشکرہیں ۔طہارت اور پاکیزگی کا کس قدر خیال کرتے ہیں۔زبان کا کوئی مذہب نہ تھا ۔مسلمان عربی فارسی کے ساتھ ساتھ سنسکرت ،ہندی،علم نجوم اور عربی بھی سیکھتے تھے۔شیعہ سنی میں شادیاں ہوتی تھیں اور میاں بیوی اپنے اپنے مسلک پر قائم رہتے۔مرزا غالبؔ کی بیگم (امراو ٔ بیگم) سنی تھیںاور وزیر خانم کے شوہر آغامرزا تراب علی رفاعی نے شیعہ اور سنی دونوں طریقوں سے اپنا نکاح پڑھوایا تھا۔
اٹھارویں اور انیسویں صدی میں دہلوی کلچر کی چند مثالیں یہ ہیں کہ ہر ڈیوڑھی پر چوبدار ، لٹھیت ،برچھیت اور دربان ملازم ہوتے تھے۔ جب بھی کوئی ملنے آتا تو وہ آنے والے کو روک کر آواز لگاتے ۔تب اسے اندر جانے کی اجازت ملتی تھی۔ہر گھر میں مامائیں، اصیلیں ،کنیزیں، باندیاں اور مختلف کاموں کے لیے ملازمائیں رکھی جاتی تھیں۔خصوصیت کے ساتھ یہ سب اہتمام رئیسوں اور افسران کے گھروں میں ہوتے تھے۔
ملازم اپنے آقا ، خاتون خانہ اور مہمانوں کو بات بات میں تین سلام اور سات سلام کرتے اورخاص مہمانوں کو وہی جوتیاں پہناتے تھے۔مہانوں کی تواضع شربت ،پان ، عطر، گلاب اور بھنڈے(حقے) سے کی جاتی تھی۔جب کہیں سے کوئی ہرکارہ یا پیغامبر آتا تھا تو اسے انعام دیے بغیر واپس کرنا معیوب سمجھاجاتا تھا۔شب میں مالک یا مالکن سے شب بخیر اور صبح کو ’صبا حکم‘ خیر کہا جاتا تھا۔ خواتین بگھی یا نالکی میں آتی جاتی تھیں۔لیکن اب امرا و رؤسا کے یہاں بھی ایسا اہتمام نہیں کیا جاتا۔یہ تبدیلی بلا شبہ بدلتے وقت کا نا گزیر تقاضا ہے جسے نظر انداز کرکے یا اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں پرانے طور طریقوں کے مطابق ہی زندگی بسر کرنے کو عقل مندی بہر حال نہیں کہا جاسکتا ۔لیکن یہ بھی ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ گزرے وقتوں کے طرز معاشرت سے مکمل طور پر عملی نہ سہی لیکن ذہنی وابستگی عصر حاضر کے سماجی ارتقا کی سچی تصویر مرتب کرنے میں معاون ہوتی ہے۔رسم ورواج میں تبدیلی ،انسانی روابط کی بدلتی نوعیت اور وسیع تناظر میں آداب معاشرت کا اختلاف اُسی طور پر بہتر سمجھا جاتا ہے جب تبدیلی کے با وصف انسانی قدروں کے تحفظ کو ترجیح دی گئی ہو۔
یہ ناول جس عہد کے سماج کو پیش کرتا ہے اس میں اور موجودہ معاشرہ کی اقدار کا موازنہ مقصود نہیں لیکن فاروقی نے ناول میں بیان کردہ زمانے کی سماجی اقدار اور کلچر کی جزئیات کو اس انداز میں پیش کیا ہے کہ جسے پڑھنے کے بعد عہد حاضر کے سماج کی خوبیاں اور خامیاں از خود نمایاں ہوجاتی ہیں۔
فنون لطیفہ کے حوالے
فن لطیف یاFine Art اس ہنر مندی یا لیاقت خصوصی کو کہتے ہیںجس کا تعلق ہمارے نازک ترین احساسات اور شدید جذبات سے ہو ۔اس فن کی تشکیل میں ندرت، حیرت افروزی ، جمال آفرینی ، اکملیّت اور سکون دل ودماغ کی شمولیت لازمی اجزائے ترکیبی ہیں۔جہاں تک مجھے ذاتی طور پرعلم ہے کہ فاروقی ایک مستند اور صاحب دیوان شاعر ہیں۔ان کے کئی شعری مجموعے شائع ہوکر قبولیت عام حاصل کرچکے ہیں۔ممکن ہے کہ ان میں ’’لے‘‘ کا مادہ بھی ہولیکن موصوف اپنا کلام ترنم سے کبھی نہیں پڑھتے ۔ہاں اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ حسِ موسیقی یاMusic Sense سے بڑی حد تک متصف ہیں۔
کئی چاند تھے سرِ آسماں کے متن کو ذہن میں رکھیں تو شمس الرحمن فاروقی ایک حقیقی عالم نظر آتے ہیں ۔قبائے دانشوری ان کے جسم پر پوری طرح جامہ زیبی کی قسم کھاتی ہوئی نظر آتی ہے۔جہاں تک فنون لطیفہ کا تعلق ہے وہ کم وبیش سبھی سے گہری دلچسپی رکھتے ہوئے محسوس ہوتے ہیں ۔ان کا علم سرسری نہیں بلکہ گہرا ہے۔اس اجمالی بیان کی تفصیل یوں پیش کی جاسکتی ہے کہ ناول کے آغاز ہی سے ان کے علوم کے نمونے سامنے آنے لگتے ہیں۔
اصل کہانی کے مقدمہ کے طور سب سے پہلے ہماری نظر مخصو ص اللہ کی طرف جاتی ہے جو مفلوک الحال انسان تھے لیکن جاننے والے جانتے تھے کہ اس کے ہاتھوں میں قوسِ قزحRainbowاور انگلیوں میں صبح اور چاندنی کی روشنیاں، بادلوں اور دھندلکوں کی سیا ہیاں ہیں۔مخصو ص اللہ جیسا کوئی لاجواب شبیہ ساز نہ تھا۔مگر جو کہتے ہیں نہ کہ’’ اے روشنیِ طبع تو بَرمَن بلا شدی! ‘‘یہی شبیہ سازی ،صرف مخصو ص اللہ کو کیا،پورے ہند ل پروا گاؤں کو لے ڈوبی۔
ہندل پروا سے ہجرت کرنے کے بعد مخصو ص اللہ بڈگام(کشمیر) میں سکونت اختیار کرتا ہے ۔ایک دن اچانک یا شیخ العالم ! کا نعرہ لگا کر وہ گھر سے غائب ہوجاتاہے۔ اس کی ملاقات بڈگام کی بڑی مسجد میں ایک ایسے خدا ترس ، رحم دل اور ماہر فن بزرگ سے ہوتی ہے جو قالین بافی(Carpet Weaving) کے استاد ہیں۔اس فن کو وہ تعلیم کے نام سے پکارتے ہیں۔آٹھ سال کی مدت میں شدید محنت و ریا ضت کے نتیجہ میں مخصو ص اللہ کشمیر کا سب سے بڑا تعلیم نگار مان لیا جاتا ہے۔اس وقت اس کی فن کاری کے نمونے ہندوستان کے علاوہ ایران و کاشان تک پہنچ چکے تھے۔
مخصو ص اللہ کے دونوں پوتے داؤد اور یعقوب بھی فن موسیقی میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ایک مشہور صاحب ثروت تاجر حبیب اللہ بٹ نے اپنے گھر میں منعقد ہونے والی محفل موسیقی میں شرکت کے لیے دونوں بھائیوں کو بحیثیت فن کار خصوصی طور پر مدعو کیا ۔محفل موسیقی کے آغاز کا نقشہ فاروقی نے کس طرح کھینچا ہے:
’’دونوں بھائیوں کے ہاتھ میں طاؤس، ایک ایک سنتور نواز،اور دف نواز دائیں اور بائیں۔ تین نوجوان سمر قندی سہ تار لیے ہوئے پیچھے کچھ الگ کھڑے ہوئے تھے۔سنتور نواز کے پیچھے ایک سنتور،اور ایک بزرگ نَے نواز نے ہاتھ میں ایک چھوٹی سی نے ،لیکن بید کی نہیں پیتل کی۔طاؤس اور سہ تار کو ہم آہنگ کرنے کی مشقیں جاری تھیں ۔ دف نواز اور سنتورنواز ابھی خاموش تھے۔حبیب اللہ بٹ نے ہاتھ جوڑ کر پوچھا ۔ حکم ہو تو محفل کا آغاز کیا جائے۔درایں اثنا سہ تاروں کی صدا میں سنتور کی گنگناہٹ شامل ہوکر بلند ہوئی۔ محمد داؤد نے راگ چاندنی کدارا میں الاپ شروع کیا۔یعقوب نے انترے سے استھائی میں قدم رکھا‘‘۱؎
مذکورۂ بالا اقتباس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مخصو ص اللہ ،اس کا بیٹا محمد یحییٰ بڈگامی ، اور اس کے دونوں سپوت ہنر وارانہ ذہن اور جمالیاتی احساس رکھتے تھے۔شبیہ سازی ، قالین بافی اور علم موسیقی سے فطری رغبت میرے اس دعوے کی دلیل ہے۔اتنا ہی نہیں بلکہ اس ناول کا بالا ستیعاب مطالعہ یہ واضح کرتا ہے کہ کسی نہ کسی شکل میں فنون لطیفہ سے دلچسپی اور اس میں مہارت ِ تامّہ اس خاندان کے قریب قریب ہر فرد کی موروثی شناخت تھی۔آگے چل کر ہم دیکھتے ہیں کہ محمد یوسف جو یعقوب بڈگامی اور جمیلہ کا بیٹا تھا وہ بڑا ہوکر سادہ کار یعنی کپڑوں پر بیل بوٹے اور رنگ برنگے ڈیزائن بنانے والے ایک فن کار کے روپ میں دنیا کے سامنے آتا ہے۔ایک اور دلچسپ بات یہ تھی کہ یوسف سادہ کار تک صرف مرد ہی اس خاندان میں فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھتے تھے لیکن یوسف کی تینوں بیٹیاں (انوری خانم، عمدہ خانم اور وزیر خانم) بھی کسی حد تک آر ٹسٹک ذہن کی مالک تھیں یعنی اس شجرہ کی عورتوں میں بھی یہ اثر نفوذکرگیا۔بہت ممکن ہے کہ اپنی نانی ڈیرہ دارنی اکبری بائی فرخ آبادی کی تربیت اور ان کے گھریلوماحول کے زیر اثر یہ جمالیاتی احساس اور فنون لطیفہ کی طرف رجحان کارفرما ہوگیا ہو۔ عمدہ خانم ( منجھلی بیگم) طبیعت کی متین تھی ۔اکبری بائی کی صحبت میں رہ کر اسے نستعلیق گفتگو،بذلہ سنجی ، بات بات پر شعر خوانی ، بیگماتی رکھ رکھاؤ خوب آگئے تھے۔موزوں طبع تھی۔ خود شعر کہتی تھی ۔ ماہؔ تخلص تھا۔زمانے کے نئے سنگیت کی طرزوں ، خیال اور دادرا سے بھی خوب واقف تھی۔پیشے کے طور پر نہیں بلکہ شوق پورا کرنے کے لیے اس فن کی تعلیم بھی حاصل کی تھی۔وزیر خانم (چھوٹی بیگم) بچپن ہی سے نانی کے عشرت کدہ میں گھسی رہتی تھی۔ وہاں اس نے تھوڑا بہت گانا بجانا بھی ضرور سیکھ لیا تھا۔ گلا اس کا شروع ہی سے اچھا تھا۔ نانی کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے اسے بعض معمولی راگ راگنیاں بھی بخوبی یاد ہوگئی تھیں ۔یمن ، بسنت ، بہار ، باگیسری پھر بہت کچھ دادرا۔ کھتریوں اور چرواہوں کی دھنیں جیسے چیتی ، بنارسی ، ٹھمری وغیرہ۔
فنون لطیفہ کا ایک نادرو نایاب نمونہ اس وقت سامنے آتاہے جب ڈاکٹر وسیم جعفر نے اپنے انتقال سے پہلے ایک لفافہ اور کوئی پچاس اوراق پر مشتمل ایک کتاب ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی کے لیے چھوڑی تھی ۔کتاب کوئی جنّاتی کارخانہ معلوم ہوتی تھی۔ اس میں سے طرح طرح کی آوازیں آرہی تھیں۔
پلاٹ
پلاٹ کو ترتیب ماجرا بھی کہتے ہیں۔قصہ گوئی میں خواہ وہ افسانہ ہو یا ناول ، پلاٹ کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔پلاٹ کی عدم موجودگی میں افسانے یا ناول کی تخلیق کرنے کا امر محال نہیں تو مشکل ضرور ہے۔عہد حاضر میں بہت سے افسانہ نویسوں اور ناول نگاروںنے محض جدت اور ذہانت کے زعم میں بغیر پلاٹ کے بھی کہا نیاں لکھی ہیںاور داد وتحسین بھی حاصل کی ہے لیکن سچ پوچھئے تو یہ صرف جدت برائے جدت اور داد برائے داد ہے،نہ تو ہر کس وناکس بغیر پلاٹ کے کہانی لکھ سکتا ہے اور نہ ہی ہر شخص کی سمجھ میں یہ کہانی آسکتی ہے۔پروفیسر وقار عظیم نے لکھا ہے کہ:
’’ پلاٹ، واقعات یا تاثرات کو ایک فنی ترتیب دیتا ہے۔اسی فنی ترتیب میںقصہ کی ابتدااور انجام کے درمیان ایک منطقی ربط کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ قصہ میں وحدت تا ثر قائم رہے‘‘۱؎
سب سے پہلے پلاٹ کی تعریف اور وضاحت کرتے ہوئے اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ اسے پہلے پہل زمانۂ قدیم میں یونانیوں نے اتنی اہمیت دی تھی چنانچہ ارسطو نے اپنی عالم گیر شہرت یافتہ کتاب بو طیقا میں ڈراما کے اہم ترین اجزائے ترکیبی میں شمار کیا تھا ،اس کے نزدیک پلاٹ المیہ ڈرامے کی جان تھا ۔آگے چل کر یہ طے پایا گیا کہ کم ازکم ناول میں ضروری نہیں کہ مکھی پر مکھی بٹھا دی جائے یا ٹی وی سیریل کی طرح کڑی سے کڑی ملائی جائے۔اس اصول کے تحت جب آپ’’ کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کا فنی مطالعہ کریں تو معلوم ہوگا کہ اگرچہ ناول کا مقصد نواب مرزا خاں داغؔ دہلوی کی والدہ وزیر خانم کو مستقل طور پر محل اصلی یاFocusمیں رکھنا ہے اس کے باوجودناول میں تجارتی وقفے نہ سہی ادبی وقفے ضرور موجود ہیں اس سے یک رنگی ویک نوائی (Monotony) سے قاری کو بڑی حد تک نجات حاصل ہوتی ہے ۔یہ زمانۂ موجودہ میں ریڈیو اور ٹی وی کی جدید ترین تکنیک ہے۔
مثال کے طور پر پہلے تو ہم ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی ماہر امراض چشم سے ملاقات کرتے ہیں۔موصوف کے لندن میں ڈاکٹر وسیم جعفر ،پی،ایچ ڈی ۔ ایف آر ایچ ایس وغیرہ سے مل کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شمس الرحمن فاروقی نے کسی آنے والے ڈرامے کا کتنا شاندار ابتدائیہ کیا ہے۔ہمارا تجسس وہیں سے شروع ہوجاتا ہے کہ ڈاکٹر وسیم جعفر کی پردادی، وزیرخانم کون تھیں اور کیسی تھیں؟
اصل کہانی کا آغاز محمد یوسف سادہ کار کے بیان سے ہوتا ہے۔وہ اپنے اصل وطن اور بزرگوں کا مختصراََ تعارف کراتا ہے اور کہتا ہے کہ میرے آبا واجداد کس لیے وطن سے ہجرت کرکے راجپوتانے سے بارہ مولہ (کشمیر) جابسے؟ اس بیان کے بعد یکے بعد دیگرے متعدد اور متفرق واقعات سامنے آتے ہیں جن کا بظاہر ایک دوسرے سے کوئی منطقی ربط نہیں ہوتا لیکن دو باتیں ایسی ہیں جو ہمارے تجسس اور دلچسپی کو برقرار رکھتی ہیں۔ایک تو یہ کہ ہر واقعہ اپنے مقام پر مکمل ہے دوسرے وزیر خانم ایک زیریں لہر کی طرح اس دریا ئے واقعات میں ہر جگہ موجود ہے۔بالآخر ہم مارسٹن بلیک تک پہنچتے ہیں جہاں سے قصہ بڑی حد تک سلسلہ وار بیان کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود پنڈت نند کشور، راحت افزا،بھرمارو،کسّی،مہاکالی وغیرہ کہانی کاجز ہوتے ہوئے بھی کہانی سے جداگانہ حیثیت رکھتے ہیں۔
تکنیکی زبان میں ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اس ناول کا پلاٹ سادہ بھی ہے اور پیچیدہ بھی لیکن غیر منظم ہرگز نہیں۔ یہی سبب ہے کہ اس میں یقینی طور پر وحدت تاثر کی کیفیت پائی جاتی ہے جو بہرحال ایک نیم تہذیبی، نیم تاریخی اور رومانی ناول کی کامیابی کی ضمانت ہے۔
کردار نگاری
پلاٹ کی تعمیر میں کردار کا بہت اہم رول ہوتا ہے ۔کرداروں کاتعارف قرین مصلحت ہم آپ سے اس مقالے کے آغاز میں کراچکے ہیںجہاں موجودہ ناول میں بکھرے ہوئے متعدد افراد کے جغرافیائی وجود کو پیش کرتے ہوئے ان کی اہم حرکات و سکنات پر روشنی ڈالی گئی ہے۔لیکن ناول کے تشکیلی عناصر پر گفتگو کے دوران مناسب ہے کہ کردار نگاری پر بھی مختصراََ اظہار خیال کیا جائے۔اس ضمن میں جو سب سے اہم اور بنیادی بات ہے وہ یہ کہ ناول نگار نے گو کہ بیشتر کردار ایسے منتخب کیے ہیں جو کہ ہندوستان کی سیاسی، ادبی اور ثقافتی تاریخ میں ایک علاحدہ شناخت رکھتے ہیں لیکن شمس الرحمن فاروقی نے ان کی پیش کش میں ناول نگاری کے فن کو ملحوظ رکھا ہے۔ناول کے مرکزی اور ضمنی کرداروں کی نفسیاتی کشمکش اور ذہنی و جذباتی رویہ کی عکاسی اس انداز میں کی گئی ہے کہ وہ کسی ضابطہ بند ارتقائی عمل سے نہ گزرتے ہوئے اپنے عہد اور زمانے سے متاثر ہوتے ہیں اور اپنی ذات سے اپنے عہد کے سماج کو متاثربھی کرتے ہیں۔بلاشبہ وزیر خانم کا کردار ایسا کردار ہے جسے اردو ناول نگاری کی تاریخ کے چند اہم کرداروں میں شمار کیا جاسکتا ہے۔ناول کے اس مرکزی کردار کے علاوہ دیگر کردار بھی اپنے عہد کی تہذیب و معاشرت کی نمائندگی کرتے ہوئے ایسا منظر نامہ مرتب کرتے ہیں جو ہندوستان کی تاریخ میں ایک اہم دور تسلیم کیا جاتا ہے۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں ‘‘ میں فاروقی نے اٹھارویں اور انیسویں صدی کی دہلی کی تہذیبی ، معاشرتی اور انسانی زندگی کے ہر پہلوکو اس کے تما م تر جزئیات کے ساتھ پیش کیا ہے اس کی سب بڑی مثال وزیر خانم کا جیتا جاگتا کردار ہے۔وزیر خانم کا کردار ناول نگا ر کی حقیقت پسندی اور آزمودہ کار ہونے کی بھر پور دلالت کرتا ہے۔وزیر خانم کے اندر بچپن ہی سے مذہبی بغاوت کا جذبہ تھا۔ علم وآگہی کے ساتھ ساتھ سلجھاہوا ادبی ذوق بھی رکھتی تھی۔اس کے باوجود بھی اس کے مزاج میں شو خی اوربے باکی کوٹ کوٹ کر بھری تھی ۔غالباََ اس کی وجہ اس کی نانی اکبری بائی کی صحبت کا اثر تھا ۔یوں سمجھئے کہ وہ انیسویں صدی کی ترقی پسند تھی۔ بالآخر یہی ترقی پسندی ، شوخی اور بے باکی اس کی زندگی کی تباہی کا سبب تھی۔
مارسٹن بلیک، بھلے ہی وزیر خانم کی رضامندی سے اس کی زندگی میں آنے والا پہلا مرد تھا اور وہ اس کے ساتھ جے پور میں بڑی شادمانی سے اپنی زندگی گزار رہی تھی۔مارسٹن بلیک کوایک ہندوستانی بیوی سے دوبچے بھی پیدا ہوئے اس کے باوجودبھی اس کے دل کے کسی نہ کسی گوشے میں ہندوستانیوں کے خلاف نفرت کی جگہ تھی اور یہ نفرت کسی حد تک وزیرخانم کے لیے بھی تھی۔
انگریز ریزیڈنٹ ولیم فریزر کا کردا ر یک رخا کردار ہے ۔وہ اپنی مطلق العنانیت اور بربریت کے لیے مشہور تھا۔دیگر ہندوستانی عورتوں کی طرح وزیر خانم کو بھی اپنی ہوس کا نشانہ بنانا چاہتا تھا۔ فریزر کی کوٹھی پر شعر ی نشست کے دوران عورت ذات کی چھٹی حس نے وزیرخانم کو اشارہ دے دیا تھا کہ ولیم فریزر محض اپنی بدنظری اور بد چلنی کی خاطر وزیر خانم پر بری نگاہ ڈال چکا تھاتو دوسری طرف نواب شمس الدین احمد خاں جن کے چہرے سے امارت کی رعونت اور تجربے کی پختگی کے آثار نمایاں تھے ،وزیر خانم کے حسن وجمال پر فریفتہ ہو گئے۔ خود وزیر خانم بھی نواب شمس الدین کو اپنے دل میں بسانے کا خواب دیکھنے لگی۔
مذکورہ ناول میں نواب شمس الدین احمد خاں والیِ فیروز پور جھرکہ اور لوہارو کاکردار خودداری،نیکی،شرافت ، انسانیت اور ہندوستانی تہذیب کی خاطر خواہ نمائندگی کرتاہے علاوہ ازیںبائی جی، پنڈت نند کشور،مرزاغالبؔ،امام بخش صہبائی،ذوق ؔ دہلوی ،حکیم احسن اللہ خاں ،مرزا داغؔ،کریم خاں ، انیامیواتی،حبیبہ اور راحت افزاکا شمار گرچہ ثانوی،ضمنی اور اضافی کرداروں میں ہوتا ہے لیکن ان کرداروں کی پیش کش کوفاروقی نے نہایت چابکدستی سے برتاہے کہ یہ ناول کا اہم حصہ معلوم ہوتے ہیں۔ڈاکٹر محمد یٰسین لکھتے ہیں:
’’ناول نگاری میں واقعات اور کرداروں کو نمایاں کرنے کے لیے،واقعیت کے ساتھ حسین دروغ گوئی کا بھی سہارا لیا جاتاہے‘‘۱؎
شمس الرحمن فاروقی نے اس شاہکار ناول میں شاید ہی کہیں ’حسین دروغ گوئی‘ کے حربے سے کام لیاہو۔اس میں کوئی شک نہیں کہ فاروقی نے زیب داستاں کے لیے ابتدا میں ڈاکٹر خلیل اصغر فاروقی (ماہر امراض چشم)کی نام نہاد یاد داشتوں کا سہارا لے کر انھوں نے خود اس غائب راوی اور وسیم جعفر کی تشریح کردی ہے۔رہ گیا اس ناول کا اصل متن تو بلاخوف وتردید کہا جاسکتا ہے کہ اس میں تاریخی حقائق کم سے کم ہیں تو حسین دروغ گوئی کی آمیزش بھی خال خال ہے۔اس ناول کو جہاں تک میں نے سمجھا ہے اور بہت حد تک ممکن ہے کہ اس میں منظر کشی اور مبالغہ آرائی کی بہتات ہے مگر کسی بھی طرح ناول یا اس کے فن پر گراں نہیں گزرتا۔
جان دار منظر نگاری
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ ایک ایسا ناول ہے جو جام ِ جہاں نما کی طرح ہر قسم کی معلومات سے لبریز ہے ۔اسے کثیر الابعاد شیشے Prismکی طرح جیسے جیسے گھماتے جاؤ نئی نئی شکلیں نظر آئیں گی۔ناول کا مطالعہ کرتے وقت ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ اس ناول کے خالق شمس الرحمن فاروقی محض ایک فکشن نگار ہی نہیں بلکہ وہ عالم گیر شہرت کے مالک ایک شاعر ، صحافی،ادبی نقاد اور دانشور بھی ہیں۔موصوف نے حقیقی معنوں میں دنیا دیکھی ہے شاید یہی سبب ہے کہ فاروقی کو ہر قسم کی منظر نگاری میں ید طولیٰ حاصل ہے۔پہلے ہم نے ان کے مختصرافسانوں میں لاجواب منظر نگاری کے خوبصورت نمونے دیکھے اور اب یہ ضخیم لیکن دلچسپ ناول ایک بڑا کینوس لے کر سامنے آتا ہے۔طوالت کی خاطر جاندار منظر نگاری کی صرف دومثالیں پیش کی جاتی ہیں۔پہلی مثال یہ ہے کہ جب کشن گڑھ (راجپوتانہ) کے گاؤں’’ ہندل پروا‘‘ کے مشہور شبیہ ساز مخصوص اللہ نے ’’بنی ٹھنی ‘‘ کی تصویر بنائی تھی جس کی وجہ سے پورے گاؤں پر مہاراول گجندر پتی سنگھ مرزا کا قہر نازل ہوا ۔ بہر حال فاروقی نے ’’بنی ٹھنی‘‘ کا نقشہ کچھ اس طرح کھینچا ہے:
’’چودہ ۔پندرہ برس کی لڑکی ۔سنگ سیاہ کی ایک شکستہ سی چوکی پر یوں بیٹھی ہوئی گویا اب اٹھے گی تو پوری جوان ہی اٹھے گی۔بھر پور جوانی اس کے عضو عضو پر دستک دے رہی تھی۔لہنگا ذرا ڈھیلا اور لمبا،لیکن گلاب کی کلی سے نازک تر ٹخنے اور گلاب کی پنکھڑی سے بھی لطیف ،گلابی لیکن زندہ پھڑکتے ہوئے رنگ کے پاؤں تھوڑے تھوڑے جھلک رہے تھے۔ایک تلوے پر ہلکا سا داغ۔ خدا معلوم تل تھا یا باغ کی کوئی پتی پاؤں کے صدقے ہوکر رہ گئی تھی۔گردن اسی طرح ایک طرف خم ۔صورت ویسی ہی نیم رخ ،لباس شوخ او ر بھڑ کیلانہیں بلکہ سفید اور گلابی اور زعفرانی،لیکن تینوں رنگ اس طرح سے بول رہے تھے کہ تصویر تھر تھراتی ہوئی معلوم ہوتی تھی۔گردن میں صرف ایک سادہ سونے کا ہارجس میں گوریا کے انڈے کے برابرایک انتہائی صفائی سے بیضوی کاٹے ہوئے یاقوت انجم کا آویز،کلائیوں میں صرف ایک ایک گھڑیالی کڑا۔ٹھنڈی پہاڑی جھیل جیسی گہری آنکھوں میں خوش مزاجی اور الھڑپن اور نخوت کاامتزاج۔چہرے پرواضح مسکراہٹ نہیں توکوئی تشویس بھی نہیں،ایک خاموش تمکنت،خود پر کامل اعتماداور دنیا کے ہر خوف سے بیگانہ،مطمئن انداز نشست۔‘‘۱؎
فاروقی کی لاجواب منظر نگاری کا دوسرا نمونہ اس وقت دیکھنے میں آتا ہے جب مرزا اسداللہ خاں غالبؔ کی صدارت میں ولیم فریزر کی کوٹھی پرشعری نشست کے بعد نواب شمس الدین احمد خاں نے وزیر خانم سے ملنے کی پیش کش کی جسے وزیر خانم نے دل وجان سے قبول کیا۔اس کے کچھ دنوں بعد نواب شمس الدین کی دعوت پر وزیر خانم خود ان کے گھر تشریف لے جاتی ہیں ۔وزیر خانم اور نواب شمس الدین احمد خاں کی غالباََ یہ تیسری ملاقات تھی۔اس دن وزیرخانم پوری تیاری کے ساتھ نواب شمس الدین احمد کے یہاں جاتی ہیں:
’’وزیر خانم نے اس دن ترکی وضع کے کپڑے پہنے تھے۔پاؤں میں آسماں رنگ کاشانی مخمل اور پوست آہو کی نکے دار شیرازی جوتیاں ، بہت پتلی ایڑی اور لمبی ڈور ، دیوار بالکل نہ تھی ،ایڑیاں کھلی ہوئی تھیں ۔ جوتیوں کی نوکیں بھی شکر خورے کی چونچ کی طرح بہت لمبی اور اوپر اٹھی ہوئی تھیں اور ان کے سرے پر جنگلی مرغے کے سرخ بیر بہوٹی جیسے پَر کے طرّے تھے۔جوتیوں کے حاشیوں پر باریک بیل تھی جس میں سفید اور سنہرے پکھراج ٹکے ہوئے تھے۔آدمی جوتیوں کی چھب دیکھے تو دیکھتا رہ جائے لیکن اس کے آگے کا منظر دیکھنے کے لیے شیر کا کلیجہ اور تندوے کی بے حیائی درکار تھی‘‘۲؎
درج بالا دونوں اقتباس سے اس بات کا بہ خوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ناول نگار شمس الرحمن فاروقی ہر قسم کی منظر کشی کے فن میںمعراج کمال کا درجہ رکھتے ہیں۔
ناول کی زبان
زبان کی تشکیل میں بدلتے ہوئے ماحول ، موضوع گفتگو،وقت ،علاقائیت اور تہذیب وتمدن کا بڑا ہاتھ ہوتاہے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی عیسوی کا احاطہ کیے ہوئے فاروقی کا یہ ناول اس پہلو پر کافی روشنی ڈالتا ہے کہ اس کی زبان کیسی ہے ؟ جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا گیا ہے کہ اس زمانے میں خصو صیت کے ساتھ دہلی اور اس کے قرب وجوار میں فارسی بولنے اور لکھنے کاچلن عام تھا ۔ناول کو پڑھنا شروع کیجیے تو وہیں یا تو فارسی تراکیب سے گراں بار اردوملتی ہے یا فارسی کے بر محل کلاسیکی اشعار۔مثال کے طور پرجب مرزا غالبؔ، داغؔ دہلوی سے پہلی بار ملے تو کہا کہ پوری دلّی میں تمھاری شہرت پر لگا کر اڑ رہی ہے اورتمھیںصرف مجھی سے ملنا نہیں ہورہاہے۔پھر انھوں نے یہ شعر پڑھا:
اے آتش فراقت ، دلہا کباب کردہ
سیلاب اشتیاقت جاں ہا خراب کردہ
صاحبزادے ! ہم آج تم سے وہی غزل سنیں گے۔اے سبحان اللہ،یہ عمر اور یہ مضمون یا بیاں؟ سچ ہے صاحب ،خدا جس کو دے۔
اسی طرح جب وزیر خانم سے ملاقات کرنے کے لیے نواب شمس الدین احمد خاںنے چوبدار کے ذریعے ملاقات کاوقت مانگا تووزیر خانم (چھوٹی بیگم) نے تڑپ کر کہا:
دیدہ و دل فرش راہ!
جس عہد کی ہم بات کررہے ہیں اس عہد کی باتوں میں علاقائی محاسن ،وہاں کی سرزمین، لوگوں کی روزمرہ زندگی،مشاغل ،مذہبی رسوم،شادی بیاہ کی رنگ رلیوں اور حسن فطرت کے حوالے کبھی براہ راست اور کبھی با لواسطہ ملتے ہیں۔مثلاََ :
۱)جی ۔جی ۔ ہاں مسافر ہی کہہ لیجیے۔یہاں غریب الدیارہوں۔
۲) بولنے والے کی آواز میں بادشاہوں جیسا اعتماد اور اولیا اللہ جیسی گیرائی تھی۔
۳) واہ بھئی سلیمہ بی بی، اتنے اچھے ہاتھ پاؤں کا بچہ اور اتنا کالا رنگ؟ گویا نشاط باغ کا کالا گلاب۔واہ جی واہ سبحان اللہ۔
’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ موضوع کے علاوہ زبان وبیان کے اعتبار سے بھی اردو کے چند اہم ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔فاروقی نے ناول میں جو زبان استعمال کی ہے وہ اردو اور فارسی کے علاوہ عربی زبان سے بھی ان کی کما حقہ واقفیت کی دلالت ہے۔اس ناول کی زبان وہ کلاسیکی اردو ہے جس کے نشان اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔آج کے اردو قاری کے لیے یہ زبان بھلے تھوڑی مشکل ہو لیکن اس کا اعتراف بہر حال کرنا پڑے گا کہ شمس الرحمن فاروقی نے قدیم اردو لغات اور محاورات سے عصر حاضر کے اردو قاری کو متعارف کرانے کا ایک بڑا ادبی فریضہ انجام دیا ہے۔ناول کی زبان، ناول کے بنیادی موضوع کے ارتقائی عمل میں معاون دیگر واقعات اور حالات کو تمام لوازم اور جزئیات کو کامیابی کے ساتھ منعکس کرتی ہے۔ناول کی زبان اس قدر شستہ اور رواں ہے کہ بیان کردہ واقعات کی تفہیم میں کوئی مشکل نہیں ہوتی۔
یہ ناول فاروقی کی ہمہ جہت شخصیت اور مختلف النوع علوم وفنون اورکئی زبانوں پردسترس رکھنے کا تاریخی دستا ویز ہے ۔اس کا اندازہ ناول کے مطالعے سے بخوبی لگایا جاسکتاہے کہ ناول نگار دہلی اور اس کے اطراف واکناف میں بسنے والے فرقے ،ان کے مذہب کی تہذیب وتمدن اور معاشرت سے گہری واقفیت رکھتا ہے۔
فاروقی کی تحریریں اس لیے بھی پُر کشش ہوتی ہیں کہ وہ ہر قسم کے بیانیہ میں شاید غیر ارادی طور پر یا عادتاََایسے عبارتی ٹکڑے رکھ دیتے ہیں کہ ایک طرف تو ان کا مافی الضمیر پوری طرح ان کے حسب منشا واضح ہوجاتا ہے اور دوسری طرف وہ ٹکڑاقاری کی مذاق سازی کا کام بھی کرتا ہے۔مختصر یہ کی ناول’’کئی چاند تھے سرِ آسماں‘‘ کی زبان، مصنف کے حاکمانہ اقتدار پر دلالت کرتی ہے۔یہ اس دور کی بھر پور نمائندگی کرتی ہے اگر چہ کہیں کہیں لغت اور اس دور کے شعرا کی مدد بھی لینی پڑتی ہے۔
شمس الرحمن فاروقی نے اس ناول میں نہ صرف اس عہد کی زبان کا خاص خیال رکھا ہے بلکہ ایک ماہر سماجیات کی طرح معاشرہ کے ہر اتار چڑھاؤ پر نظر بھی رکھی اور ساتھ ہی ساتھ اس کے اسباب وعلل کو جاننے کی کوشش بھی کی ہے۔ان کی یہ معروضیت ناول کو اس قدر حقیقت سے قریب تر کردیتی ہے کہ اس میں بیان کیے گیے تمام واقعات کے حقیقی ہونے کا گمان گزرتا ہے گوکہ ان میںسے بیشترفاروقی کی قوت متخیلہ کی ایجاد ہیں۔
٭٭٭