The Father A Short Story by Bjornstjerne Bjonson

Articles

والد

بیورنسِٹے بیورنسن

وہ اس علاقے کا سب سے زیادہ بااثر آدمی تھا۔ایک دن وہ درازقد آدمی پادری کی لائبریری میں بے حد سنجیدگی سے کہہ رہا تھا کہ اس کے یہاں لڑکا تولد ہوا ہے اور وہ اس کا بپتسمہ کروانا چاہتا ہے۔
’’اس کا نام کیا ہوگا؟‘‘پادری نے پوچھا۔’’فِنّا،میرے باپ کے نام پر۔‘‘
’’او رمذہب،والدین؟‘‘
’’ان کا انتخاب کرلیا گیا ہے۔وہ ہمارے گائوں کے قابلِ احترام میاں بیوی ہیں۔ ان کا تعلق میرے خاندان سے ہے۔‘‘
’’کچھ اور؟‘‘پادری نے آنکھیں اٹھاکر اس کی جانب دیکھتے ہوئے کہا۔کسان کچھ لمحے خاموش رہا اورپھربولا،’’میں اپنے بیٹے کا اپنی مرضی سے بپتسمہ کروانا چاہتا ہوں۔‘‘
’’اس ہفتے میں کسی بھی دن؟‘‘
’’آئندہ سنیچر بارہ بجے۔‘‘
’’اور کچھ؟‘‘پادری نے پوچھا۔’’کچھ نہیں۔‘‘کسان نے اپنی ٹوپی ٹھیک کرلی۔اس سے ظاہر ہوا کہ وہ جانے والاہے۔اسی وقت پادری اٹھا۔’’بس!یہ کچھ۔‘‘کہتے ہوئے پادری تھورد کے پاس گیا۔اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے او راس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہنے لگا،’’خدا کرے یہ بچہ تمہارے لیے خوش بخت ثابت ہو۔‘‘ٹھیک سولہ سال بعد تھورد پھر پادری کے کمرے میں موجود تھا۔’’تھورد،تم تو ویسے ہی ہشاش بشاش نظرآرہے ہو۔‘‘پادری نے کہا۔اسے تھورد میں کوئی تبدیلی نظر نہیں آئی۔’’مجھے کسی بات کی کوئی فکر لاحق نہیں ہے۔‘‘تھورد نے جواب دیا۔
پادری خاموش رہا۔پھر چند لمحوں کے بعد پوچھا،’’آج اِدھر کیسے؟‘‘
’’آج میں اس لیے حاضر ہوا ہوں کہ کل میرے لڑکے کا ’کنفرمیشن‘ہے۔‘‘
’’وہ ایک ہونہار لڑکا ہے۔‘‘
’’میں پادری کو اس وقت تک کچھ نہیں دینا چاہتا تھا ،جب تک کہ یہ پتہ نہ چلے کہ اسے رسم میں کون سا مقام ملا ہے؟‘‘
’’وہ اول مقام پر ہے!‘‘پادری نے کہا۔’’میں یہ جان کر بے حد خوش ہوں۔لیجیے یہ دس ڈالر پادری کے لیے ہیں۔‘‘
’’کیا اور کچھ؟‘‘پادری نے پوچھا۔اس کے بعد مزیدآٹھ سال بیت گئے۔ایک بار پھر پادری کے کمرے میں ہلچل ہوئی۔ اس مرتبہ تھورد کے ساتھ بہت سے لوگ آئے تھے۔پرلسٹ نے دیکھتے ہی اسے پہچان لیا۔’’آج تم بہت سے لوگوں کے ساتھ آئے ہو!‘‘
’’میں اپنے بیٹے کی شادی کا اعلان اس چرچ سے کروانا چاہتا ہوں۔ اسے گُڈ منڈ کی لڑکی کارین استور لبدن سے شادی کرنی ہے۔وہ بھی یہاں آئی ہوئی ہے۔‘‘
’’اور وہ اس علاقے کی سب سے امیر لڑکی ہے۔‘‘پادری نے کہا۔
’’آپ کا کہنا درست ہے۔‘‘تھورد نے جواب دیااور ایک ہاتھ سے اپنے بال ٹھیک کیے۔
پادری چند لمحوں تک خاموشی سے سوچتا رہا۔بولا کچھ نہیں۔اس نے ناموں کا اندراج کرلیا اور لوگوں کے دستخط کروالیے۔تھورد نے تین ڈالر میز پر رکھ دیے۔
’’میں صرف ایک ڈالر لوں گا۔‘‘پادری نے کہا۔
’’میں جانتا ہوں،مگر میرا اکلوتا لڑکا ہے۔میں اس کے نام سے کچھ بھلائی کے کام کرنا چاہتا ہوں۔‘‘پادری نے تین ڈالر قبول کرلیے۔’’تھورد،تم اپنے لڑکے کے لیے یہاں تیسری بار آئے ہو۔‘‘
’’یہ آخری بار ہے۔‘‘تھورد نے کہا۔اس نے اپنی ڈائری بند کرکے اپنی جیب میں رکھ لی اور پادری سے اجازت لے کر چل پڑا۔دھیرے دھیرے لوگ بھی اس کے پیچھے ہولیے۔اس کے ٹھیک چودہ روز بعد باپ بیٹے،ایک سہانے دن،کشتی پر سوار ہوکر لبدن سے شادی کے متعلق بات چیت کرنے جارہے تھے۔’’میری سیٹ ہل رہی ہے۔‘‘کشتی میں بیٹھے بیٹھے بیٹے نے کہا اور کہتے ہی وہ سیٹ کو ٹھیک کرنے کے لیے کھڑاہوا۔اس وقت لکڑی کا وہ تختہ پھسل گیا،جس پر وہ کھڑا تھا۔توازن برقرار رکھنے کی کوشش میں اپنے ہاتھ پھیلائے،چیختے ہوئے وہ پانی میں جاگرا۔’’چپوئوں کو پکڑو!‘‘باپ چلایا۔اس نے کھڑے ہوکر جلدی چپوں نکالا۔لڑکا کچھ دور تک تیرتا رہا پھر بھنور میں پھنس گیا۔’’ٹھہرو!‘‘باپ پھر چلایا۔اس نے چپوئوں کوتیزتیز چلایا۔لڑکا پھر اپنی پیٹھ کے بل اوپر نیچے ہوا۔اپنے باپ کی جانب دیکھا اور پھر ڈوب گیا۔تھورد کو یقین نہیں آیا۔کشتی کو مضبوطی سے پکڑکر وہ اس جگہ کو اس امید سے گھورتا رہا کہ شاید اس کا لڑکا پھر سے اوپرآجائے!
مگر وہاں کچھ بلبلے اٹھے،پھر کچھ اور۔آخر میں ایک بڑا سا بلبلہ پھٹا اور بس!پانی پر سکوت طاری ہوگیا۔لوگوں نے دیکھا باپ تین دن اور تین راتیں بنا کچھ کھائے پیئے،بنا پلک جھپکائے اس جگہ لگاتار نائو چلاتا رہا،جہاں اس کا لڑکا ڈوباتھا۔اس نے تلاش جاری رکھی کہ شاید اس کا لڑکا اوپر آجائے۔ تیسرے دن کی صبح اس کا بیٹا مل گیا۔بیٹے کو اٹھائے وہ اس پہاڑی پرگیا جہاں اس کا گھر تھا۔
اس کے تقریباًڈیڑھ سال بعد پت جھڑکی ایک شام کو پادری نے اپنے دروازے پر دستک سنی۔باہر کوئی بڑی احتیاط سے کنڈی ٹٹول رہا تھا۔پادری نے دروازہ کھولا۔تو دیکھا کہ ایک دراز قد،کمزور، جھکی ہوئی کمر اور سفید بالوں والا انسان اندر داخل ہورہا ہے۔پادری کو اسے پہچاننے میں وقت لگا۔وہ تھوردہی تھا۔’’تم!اس وقت!‘‘پادری نے پوچھا اور پھر سامنے کھڑاہوگیا۔
’’او،ہاں۔اس وقت آنا پڑا۔‘‘تھورد نے جواب دیااور بیٹھ گیا۔پادری بھی وہیں بیٹھ گیا۔بڑی دیر تک خاموشی کی دبیز چادر تنی رہی۔پھر تھورد نے بتایا اس نے جو دولت کمائی ہے اسے وہ غریبوں میں تقسیم کردینا چاہتا ہے۔ یہ کہہ کر وہ اٹھ کھڑاہوااور اس نے ڈھیر سارے روپے میز پر رکھ دیئے اور پھر بیٹھ گیا۔پادری نے روپے گنے۔’’یہ تو بہت بڑی رقم ہے!‘‘وہ بولا۔
’’میرا ایک فارم ہائوس تھا،جسے میں نے آج ہی فروخت کیا ہے۔‘‘تھورد نے بتایا۔ پادری بڑی دیر تک خاموش بیٹھا رہا۔آخر خاموشی کو توڑتے ہوئے سوال کیا،’’اب کیا کروگے؟‘‘
’’اس سے کچھ اچھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘وہ دونوں بیٹھے رہے،تھورد زمین پر نظریں جھکائے اور پادری اس پر نظریں جمائے۔پھر آہستگی سے پادری نے کہا،’’تمہارا بیٹا تمہارے لیے آخرت کا ذریعہ بن گیا ہے۔‘‘تھورد نے جواب دیا۔’’ہاں،میرا بھی یہی خیال ہے۔‘‘یہ کہتے ہوئے اس نے اوپر دیکھا اور غم کے آنسوئوں کے قطرے اس کی آنکھوں سے ڈھلک گئے۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

بیو رنسٹنے بیورنسن ۱۸۳۲ء میں ناورے میں پیدا ہوئے اور ۱۹۱۰ء میں انتقال فرماگئے۔انہوں نے نارویجین ادب کو نیا روپ عطا کیا۔وہ شاعر،ناول نگار،ناقد،ڈرامہ نگار کے علاوہ اپنے زمانے کے مشہور و معروف سیاسی رہنما بھی رہے۔انہیں شاعری کے لیے ۱۹۰۳ء میں نوبل سے نوازا گیا۔ ان کی تصانیف میں سنووے سولواکین،آرنے،اے ہیپی بوائے،بِروین دَ بیٹلز،دَ گریٹ ٹرولوجی،سیگرڈ دَ بیٹرڈ وغیرہ شامل ہیں۔

 

Intekhab E Kalam Ismaeel Merathi

Articles

انتخابِ کلام اسماعیل میرٹھی

اسماعیل میرٹھی

حمد

تعریف اس خدا کی جس نے جہاں بنایا
کیسی زمیں بنائی کیا آسماں بنایا

پاوں تلے بچھایا کیا خوب فرشِ خاکی
اور سر پہ لاجوردی اِک سائباں بنایا

مٹی سے بیل بوٹے کیا خوشنما اُگائے
پہنا کے سبز خلعت ان کو جواں بنایا

خوش رنگ اور خوشبو گل پھول ہیں کھلائے
اِس خاک کے کھنڈر کو کیا گلستاں بنایا

میوے لگائے کیا کیا ، خوش ذائقہ رسیلے
چکھنے سے جن کے مجھ کو شیریں دہاں بنایا

سورج سے ہم نے پائی گرمی بھی روشنی بھی
کیا خوب چشمہ تو نے اے مہرباں بنایا

سورج بنا کے تو نے رونق جہاں کو بخشی
رہنے کو یہ ہمارے اچھا مکاں بنایا

پیاسی زمیں کے منہ میں مینہ کا چوایا پانی
اور بادلوں کو تو نے مینہ کا نشاں بنایا

یہ پیاری پیاری چڑیاں پھرتی ہیں جو چہکتی
قدرت نے تیری اِن کو تسبیح خواں بنایا

تنکے اٹھا اٹھا کر لائیں کہاں کہاں سے
کس خوبصورتی سے پھر آشیاں بنایا

اونچی اڑیں ہوا میں بچوں کو پر نہ بھولیں
ان بے پروں کا اِن کو روزی رساں بنایا

کیا دودھ دینے والی گائیں بنائی تو نے
چڑھنے کو میرے گھوڑا کیا خوش عناں بنایا

رحمت سے تیری کیا کیا ہیں نعمتیں میّسر
ان نعمتوں کا مجھ کو ہے قدر داں بنایا

آبِ رواں کے اندر مچھلی بنائی تو نے
مچھلی کے تیرنے کو آبِ رواں بنایا

ہر چیز سے ہے تیری کاری گری ٹپکتی
یہ کارخانہ تو نے کب رائیگاں بنایا
٭٭٭

ہماری گائے

رب کا شکر ادا کر بھائی
جس نے ہماری گائے بنائی

اس مالک کو کیوں نہ پکاریں
جس نے پلائیں دودھ کی دھاریں

خاک کو اس نے سبزہ بنایا
سبزہ کو پھر گائے نے کھایا

کل جو گھاس چری تھی بن میں
دودھ بنی اب گائے کے تھن میں

سبحان اللہ دودھ ہے کیساا
تازہ گرم سفید اور میٹھا

دودھ میں بھیگی روٹی میری
اس کے کرم نے بخشی سیری

دودھ دہی اور مٹھگا مسکا
دے نہ خدا تو کس کے بس کا

گائے کو دی کیا اچھی صورت
خوبی کی ہے گویا مورت

دانہ دنکا بھوسی چوکر
کھا لیتی ہے سب خوش ہو کر

کھا کر تنکے اور ٹھیڑے
دودھ دیتی ہے شام سویرے

کیا ہی غریب اور کیسی پیاری
صبح ہوئی جنگل کو سدھاری

سبزہ سے میدان ہرا ہے
جھیل میں پانی صاف بھرا ہے

پانی موجیں مار رہا ہے
چرواہا چمکار رہا ہے

پانی پی کر چارہ چر کر
شام کو آئی اپنے گھر پر

دوری میں جو دن ہے کاٹا
بچہ کو کس پیار سے چاٹا

گائے ہمارے حق میں ہے نعمت
دودھ دیتی ہے کھا کے بنسپت

بچھڑے اس کے بیل بنائے
جو کھیتی کے کام میں آئے

رب کی حمد و ثنا کر بھائی
جس نے ایسی گائے بنائی
٭٭٭

صبح کی آمد

خبر دن کے آنے کی میں لا رہی ہوں
اجالا زمانہ میں پھیلا رہی ہوں
بہار اپنی مشرق سے دکھلا رہی ہوں
پکارے گلے صاف چلا رہی ہوں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں سب کار بہوار کے ساتھ آئی
میں رفتار و گفتار کے ساتھ آئی
میں باجوں کی جھنکار کے ساتھ آئی
میں چڑیوں کی چہکار کے ساتھ آئی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

اذاں پر اذاں مرغ دینے لگا ہے
خوشی سے ہر اک جانور بولتا ہے
درختوں کے اوپر عجب چہچہا ہے
سہانا ہے وقت اور ٹھنڈی ہوا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

یہ چڑیاں جو پیڑوں پہ ہیں غل مچاتی
ادھر سے ادھر اڑ کے ہیں آتی جاتی
دموں کو ہلاتی پروں کو پھلاتی
مری آمد آمد کے ہیں گیت گاتی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو طوطے نے باغوں میں ٹیں ٹیں مچائی
تو بلبل بھی گلشن میں ہے چہچہائی
اور اونچی منڈیروں پہ شاما بھی گائی
میں سو سو طرح دے رہی ہوں دہائی
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہر ایک باغ کو میں نے مہکا دیا ہے
نسیم اور صبا کو بھی لہکا دیا ہے
چمن سرخ پھولوں سے دہکا دیا ہے
مگر نیند نے تم کو بہکا دیا ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہوئی مجھ سے رونق پہاڑ اور بن میں
ہر ایک ملک میں دیس میں ہر وطن میں
کھلاتی ہوئی پھول آئی چمن میں
بجھاتی چلی شمع کو انجمن میں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

جو اس وقت جنگل میں بوٹی جڑی ہے
سو وہ نو لکھا ہار پہنے کھڑی ہے
کہ پچھلے کی ٹھنڈک سے شبنم پڑی ہے
عجب یہ سماں ہے عجب یہ گھڑی ہے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

ہرن چونک اٹھے چوکڑی بھر رہے ہیں
کلولیں ہرے کھیت میں کر رہے ہیں
ندی کے کنارے کھڑے چر ہیں
غرض میرے جلوے پہ سب مر رہے ہیں
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

میں تاروں کی چھاں آن پہنچی یہاں تک
زمیں سے ہے جلوہ مرا آسماں تک
مجھے پاو¿ گے دیکھتے ہو جہاں تک
کرو گے بھلا کاہلی تم کہاں تک
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

پجاری کو مندر کے میں نے جگایا
مو¿ذن کو مسجد کے میں نے اٹھایا
بھٹکتے مسافر کو رستہ بتایا
اندھیرا گھٹایا اجالا بڑھایا
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لدے قافلوں کے بھی منزل میں ڈیرے
کسانوں کے ہل چل پڑے منہ اندھیرے
چلے جال کندھے پہ لے کر مچھیرے
دلدر ہوئے دور آئے سے میرے
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بگل اور طنبور سنکھ اور نوبت
بجانے لگے اپنی اپنی سبھی گت
چلی توپ بھی دن سے حضرت سلامت
نہیں خواب غفلت نہیں خواب غفلت
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

لو ہشیار ہو جاو¿ اور آنکھ کھولو
نہ لو کروٹیں اور نہ بستر ٹٹولو
خدا کو کرو یاد اور منہ سے بولو
بس اب خیر سے اٹھ کے منہ ہاتھ دھو لو
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭

بڑی دھوم سے آئی میری سواری
جہاں میں ہوا اب مرا حکم جاری
ستارے چھپے رات اندھیری سدھاری
دکھائی دیے باغ اور کھیت کیاری
اٹھو سونے والو کہ میں آ رہی ہوں
٭٭٭

بارش کا پہلا قطرہ

گھنگھور گھٹا تلی کھڑی تھی
پر بوند ابھی نہیں پڑی تھی
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہ خطرہ
ناچیز ہوں میں غریب قطرہ
تر مجھ سے کسی کا لب نہ ہوگا
میں اور کی گوں نہ آپ جوگا
کیا کھیت کی میں بجھاو¿ں گا پیاس
اپنا ہی کروں گا ستیاناس
خالی ہاتھوں سے کیا سخاوت
پھیکی باتوں میں کیا حلاوت
کس برتے پہ میں کروں دلیری
میں کون ہوں کیا بساط میری
ہر قطرہ کے دل میں تھا یہی غم
سرگوشیاں ہو رہی تھیں باہم
کھچڑی سی گھٹا میں پک رہی تھی
کچھ کچھ بجلی چمک رہی تھی
اک قطرہ کہ تھا بڑا دلاور
ہمت کے محیط کا شناور
فیاض و جواد و نیک نیت
بھڑکی اس کی رگ حمیت
بولا للکار کر کہ آو¿!
میرے پیچھے قدم بڑھاو¿
کر گزرو جو ہو سکے کچھ احسان
ڈالو مردہ زمین میں جان
یارو! یہ ہچر مچر کہاں تک
اپنی سی کرو بنے جہاں تک
مل کر جو کرو گے جاں فشانی
میدان پہ پھیر دوگے پانی
کہتا ہوں یہ سب سے برملا میں
آتے ہو تو آو¿ لو چلا میں
یہ کہہ کے وہ ہو گیا روانہ
”دشوار ہے جی پہ کھیل جانا”
ہر چند کہ تھا وہ بے بضاعت
کی اس نے مگر بڑی شجاعت
دیکھی جرات جو اس سکھی کی
دو چار نے اور پیروی کی
پھر ایک کے بعد ایک لپکا
قطرہ قطرہ زمیں پہ ٹپکا
آخر قطروں کا بندھ گیا تار
بارش لگی ہونے موسلا دھار
پانی پانی ہوا بیاباں
سیراب ہوئے چمن خیاباں
تھی قحط سے پائمال خلقت
اس مینہ سے ہوئی نہال خلقت
جرات قطرہ کی کر گئی کام
باقی ہے جہاں میں آج تک نام
اے صاحبو! قوم کی خبر لو
قطروں کا سا اتفاق کر لو
قطروں ہی سے ہوگی نہر جاری
چل نکلیں گی کشتیاں تمہاری
٭٭٭

شفق

 

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ
جنہیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے
طبیعت ہے بادل کی رنگت پہ لوٹ
سنہری لگائی ہے قدرت نے گوٹ
ذرا دیر میں رنگ بدلے کئی
بنفشی و نارنجی و چمپئی
یہ کیا بھید ہے کیا کرامات ہے
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے باڑ
بنے سونے چاندنی کے گویا پہاڑ
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ
ہرے بن میں گویا لگا دی ہے آگ
اب آثار ظاہر ہوئے رات کے
کہ پردے چھٹے لال بانات کے
٭٭٭

رات

گیا دن ہوئی شام آئی ہے رات
خدا نے عجب شے بنائی ہے رات

نہ ہو رات تو دن کی پہچان کیا
اٹھائے مزہ دن کا انسان کیا

ہوئی رات خلقت چھٹی کام سے
خموشی سی چھائی سر شام سے

لگے ہونے اب ہاٹ بازار بند
زمانے کے سب کار بہوار بند

مسافر نے دن بھر کیا ہے سفر
سر شام منزل پہ کھولی کمر

درختوں کے پتے بھی چپ ہو گئے
ہوا تھم گئی پیڑ بھی سو گئے

اندھیرا اجالے پہ غالب ہوا
ہر اک شخص راحت کا طالب ہوا

ہوئے روشن آبادیوں میں چراغ
ہوا سب کو محنت سے حاصل فراغ

کسان اب چلا کھیت کو چھوڑ کر
کہ گھر میں چین سے شب بسر

تھپک کر سلایا اسے نیند نے
تردد بھلایا اسے نیند نے

غریب آدمی جو کہ مزدور ہیں
مشقت سے جن کے بدن چور ہیں

وہ دن بھر کی محنت کے مارے ہوئے
وہ ماندے تھکے اور ہارے ہوئے

نہایت خوشی سے گئے اپنے گھر
ہوئے بال بچے بھی خوش دیکھ کر

گئے بھول سب کام دھندے کا غم
سویرے کو اٹھیں گے اب تازہ دم

کہاں چین یہ بادشہ کو نصیب
کہ جس بے غمی سے ہیں سوتے غریب
٭٭٭

 

Old Waiter A Short Story by Ernest Hemingway

Articles

بوڑھا ویٹر

ارنسیٹ ہیمنگوے

رات کافی بیت چکی تھی اور سب لوگ کیفے سے چلے گئے تھے مگر وہ بوڑھا بجلی کے کھمبے کے ساتھ کھڑے درخت کے نیچے بیٹھا ہوا تھا۔دن میں وہ جگہ گردغبار سے اٹی رہتی تھی،مگر رات میں اوس گرنے کے سبب گروغبار بیٹھ جاتا تھا۔بوڑھے کو یہاں بیٹھنا پسند تھا،کیوں کہ وہ بہرہ تھا اور رات کے پرسکون سناٹے میں اسے یہاں کا ماحول اچھا لگتا تھا۔کیفے میں بیٹھے دونوں ویٹر جانتے تھے کہ بوڑھا ہلکے نشے میں ہے۔پھر بھی انھیں معلوم تھا کہ بوڑھا ایک اچھا گاہک ہے،مگر انھیں یہ بھی معلوم تھا کہ اگر اسے نشہ چڑھ گیاتو وہ پیسے ادا کیے بنا ہی چلاجائے گا۔اس لیے وہ اس پر نظر رکھے ہوئے تھے۔
’’پچھلے ہفتے اس نے خودکشی کی کوشش کی تھی۔‘‘ایک ویٹرنے کہا۔
’’کیوں؟‘‘
’’وہ بے حد دکھی تھا۔‘‘
’’اس کے پاس بہت دولت ہے۔‘‘
وہ دونوں کیفے کے پاس والی دیوار سے لگی میز پر بیٹھے تھے اور چھجے کی طرف دیکھ رہے تھے، جہاں ایک کے علاوہ ساری میزیں خالی تھیں۔ہوا سے ہلتی ہوئی پتیوں کی چھائوں میں وہ بوڑھا اب بھی وہاں بیٹھا ہوا تھا۔باہر گلی میں ایک سپاہی ایک لڑکی کے ساتھ جارہا تھا۔
’’اسے گارڈ پکڑلیں گے۔‘‘ایک ویٹر نے کہا۔
’’جو یہ چاہتا ہے،وہ مل جانے پر بھی اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’اسے گلی میں سے چلے جانا چاہیے۔نہیں تو اسے گارڈ پکڑلیں گے۔ابھی پانچ منٹ قبل ہی وہ یہاں سے گئے ہیں۔‘‘پیڑکے نیچے بیٹھے بوڑھے نے اپنے گلاس سے پلیٹ کو بجاکر آواز کی۔ نوجوان ویٹر اس کے پاس گیا،’’کیا چاہیے؟‘‘
بوڑھے نے اس کی جانب دیکھا۔
’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے کہا۔
’’تم پر نشہ طاری ہوجائے گا۔‘‘ویٹر نے کہا۔
بوڑھے نے جواب نہیں دیااور اس کی جانب دیکھا۔
’’وہ آج ساری رات یہیں رہے گا۔‘‘اس نے اپنے ساتھی سے کہا۔
’’لیکن مجھے نیند آرہی ہے۔مجھے کبھی تین بجے سے قبل سونا نصیب نہیں ہوتا۔اسے پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘ویٹر نے کائونٹر سے برانڈی کی بوتل اور ایک پلیٹ اٹھائی اور اس بوڑھے کی طرف چل دیا۔پلیٹ نیچے رکھ کر اس نے گلاس کو برانڈی سے بھردیا۔
’’تمہیں پچھلے ہفتے خودکشی کرلینی چاہیے تھی۔‘‘
بوڑھے نے اپنی انگلی ہلائی اور کہا،’’تھوڑی سی اور !‘‘ویٹر نے تھوڑی سی برانڈی انڈیلی۔ وہ بہہ کر نیچے والی پلیٹ میں گرنے لگی۔ویٹراپنے ساتھی کے ساتھ میز پر آبیٹھا۔
’’اب وہ نشے میں ہے۔‘‘اس نے کہا۔
’’یہ تو ہر رات نشے میں ہوتا ہے۔‘‘
’’خودکشی کیوں کرنا چاہتا ہے؟‘‘
’’مجھے کیا معلوم؟‘‘
’’کیسی کوشش کی تھی اس نے؟‘‘
’’خود کو رسی سے لٹکالیاتھا۔‘‘
’’اس کی رسی کس نے کاٹی؟‘‘
’’اس کی بھانجی نے۔‘‘
’’مگر اس نے ایساکیوں کیا؟‘‘
’’شاید اپنی خود کشی کے ڈر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
’’اس کے پاس کتنا پیسہ ہے؟‘‘
’’کافی ہے۔‘‘
’’وہ اسی سال کا تو ضرور ہوگا؟‘‘
’’میں چاہتاہوںکہ اب وہ گھر چلا جائے۔میں کبھی تین بجے سے قبل نہیں سوتا۔یہ بھی سونے کا وقت ہے۔‘‘
’’وہ بیٹھا رہتا ہے۔اسے یہ جگہ پسند ہے۔‘‘
’’وہ اکیلا ہے ۔مگر میں تو اکیلا نہیں ہوں۔میری بیوی انتظار کررہی ہے۔‘‘
’’اس کی بھی بیوی ہے؟‘‘
’’ہاں،مگراس کی بھانجی ہی اس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔‘‘
’’میں جانتا ہوں تم نے کہاتھا،اسی نے رسی کاٹی تھی۔میں کبھی اتنا بوڑھا نہیں ہونا چاہوں گا۔ بڑھاپا منحوس ہوتاہے۔‘‘
’’میں اسے نہیں دیکھنا چاہتا۔وہ گھر چلا جائے تو اچھا۔‘‘بوڑھے نے گلاس سے سر اٹھاکر پہلے باہر دیکھا،پھر ویٹروں کی طرف۔’’ایک اور برانڈی!‘‘اس نے گلاس کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔جس ویٹر کو جلدی تھی،وہ اس کے پاس آیا۔
’’ختم!‘‘اس نے مدہوشی کے عالم میں کہا۔
’’آج رات اور نہیں!اب بند۔‘‘
’’ایک اور!‘‘بوڑھے نے کہا۔
’’نہیں،ختم!‘‘ویٹر نے میز کاکونا صاف کرتے ہوئے کہا۔
دھیرے دھیرے پلیٹیں گنتے ہوئے بوڑھا اٹھ کھڑاہوا۔پھر اس نے پرس نکالا اورپیسے دے دیئے۔آدھا پیسہ ٹِپ چھوڑدی۔دیٹر نے اسے جاتے ہوئے دیکھا۔بوڑھے کی چال غیر متوازن مگر رعب دار تھی۔
’’تم نے اسے بیٹھنے اور پینے کیوں نہیں دیا؟‘‘نوجوان ویٹر نے پوچھا،’’اسے جلدی نہیں تھی۔ابھی تو ڈھائی بھی نہیں بجے ہیں۔‘‘
’’میں سونے کے لے گھر جاتا ہوں۔‘‘
’’ایک گھنٹے سے کیا فرق پڑتا ہے؟‘‘
’’میرے لیے کافی فرق پڑتا ہے۔‘‘
’’مگر ایک گھنٹہ تو ایک گھنٹہ ہے۔‘‘
’’تم بذاتِ خود ایک بوڑھے کی طرح بات کررہے ہو۔وہ بوتل خرید کر گھر میں پی سکتا ہے۔‘‘
’’گھر میں پینے سے وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘
’’ہاں،وہ مزہ نہیں آتا۔‘‘شادی شدہ ویٹر نے کہا۔
’’اور تم ؟تمہیں جلدی گھر جانے سے ڈر تو نہیں لگتا؟‘‘
’’تم میری بے عزتی کرنا چاہتے ہو؟‘‘
’’نہیں،میں تو مذاق کررہا تھا۔‘‘
’’نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘شٹر گراتے ہوئے اس ویٹر نے کہا،جسے جلدی تھی،پھر وہ اس سے بولا۔’’مجھے اپنے آپ پر بھروسہ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس سب کچھ ہے۔‘‘
’’تمہارے پاس کیا کمی ہے؟‘‘
’’نوکری کے علاوہ سبھی چیزوں کی۔‘‘
’’تمہارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میرے پاس ہے۔‘‘
’’نہیں،اعتماد تو مجھ میں کبھی رہا نہیں اور اب تو میںجوان بھی نہیں ہوں۔‘‘
’’چھوڑو یہ بکواس۔لاک کرو۔‘‘
’’میں ان لوگوں میں سے ہوں،جو رات دیر تک کیفے میں رہنا چاہتے ہیں،ان سب لوگوں کے ساتھ،جنھیں رات میں روشنی درکار ہوتی ہے۔‘‘
’’میں توگھر جاکر سونا چاہتاہوں۔‘‘
’’ہر رات کو میں کیفے بند کرتے وقت ہچکچاتا ہوں،کیوں کہ شاید کوئی ایسا آدمی ہو، جسے اس کیفے کی ضرورت ہو۔‘‘
’’بہت سی شراب کی دکانیں رات بھر کھلی رہتی ہیں۔‘‘
’’تم نہیں سمجھتے ،یہ ایک صاف ستھرا کیفے ہے۔یہاں روشنی بھی مناسب ہے۔ساتھ ہی درختوں کے سایے بھی ہیں۔‘‘
وہ بتیاں بجھاتا رہااور خود سے ہی بات چیت کرتا رہا۔’’روشنی ضروری ہے۔مگر ساتھ ہی جگہ بھی صاف ستھری اور اچھی ہونا چاہیے۔موسیقی بے شک نہ ہو۔موسیقی کی ضرورت تو بالکل نہیں ہے اور بار کے سامنے تو کوئی بھی عزت کے ساتھ کھڑا نہیں ہوسکتا۔حالانکہ رات کے ان اوقات میں یہاں بارکھلے ہوتے ہیں۔اسے ڈر کس بات کا تھا؟ یہ ڈرتو نہیں تھا۔یہ تو ایک خالی پن کاا حساس تھا، جسے وہ اچھی طرح محسوس کرسکتا تھا۔ضرورت صرف روشنی او رتھوڑی سی صفائی کی تھی۔ کچھ لوگ تو محسوس کیے بنا ہی خالی پن کے ساتھ زندگی جیتے ہیں،مگر اسے احساس تھا کہ یہ صرف خالی پن کی بنا پر ہے۔
ہمیں ہمارا خالی پن،ہر روز کا خالی پن دے دو! کیوں کہ ہم اپنے خالی پن کو محسوس کرتے ہیں۔مگر ہمیں اس خالی پن سے نجات دلادو ۔اے خالی پن،تمہارا خیر مقدم ہے،کیوں کہ تمہارے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘
ایک اُجلے سے کافی بار کے سامنے وہ کھڑا ہوگیا۔’’کیا چاہیے؟‘‘بار والے نے پوچھا۔
’’خالی پن!‘‘
’’ایک چھوٹا کپ،‘‘بار والے نے کہا۔
’’ایک چھوٹا کپ۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’روشنی تو چمکدار اور اچھی ہے،مگر بار صاف ستھرا نہیں ہے۔‘‘ویٹر نے کہا۔
’’تمہیں ایک اور کوپیرا چاہیے؟‘‘
’’نہیں،تھینک یو!‘‘ویٹر نے کہااور باہر چلاگیا۔اسے بار اور شراب خانوں سے نفرت تھی مگر ایک صاف ستھرے اور روشنی سے بھرپور کیفے کی بات ہی کچھ اور ہے۔اب وہ مزید کچھ سوچے بغیر اپنے گھر،اپنے روم میںچلا جائے گا۔اپنے بستر میں لیٹا رہے گا اور طلوع آفتاب کے ساتھ ہی سوجائے گا۔یہ شاید نیند نہ آنے والی بیماری ہے۔بہت سے لوگ اس کا شکار ہوں گے،اس نے سوچا۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

ارنیسٹ ہیمنگوے ۱۸۹۹ء میں امریکہ میں پیدا ہوئے اور ۱۹۶۱ء میں انتقال فرمایا۔انہیں ۱۹۵۴ء میں ’’دَ اولڈ مین اینڈ دَ سی‘‘ناول کے لیے نوبل انعام پیش کیا گیا۔انہوں نے عالمی ادب کو بے شمار بہترین کہانیاں اور ناول دیئے ہیں۔اپنی تخلیقات میں ہیمنگوے نے اپنی زندگی کے تجربات کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا ہے۔کچھ عرصے تک نامہ نگاری کے علاوہ ماہی گیری بھی کی اور ان سے حاصل کردہ تجربات کو انہوں نے نوبل انعام یافتہ ناول میں پھولوں کی طرح پرودیاہے۔ان کی تصانیف میں اِن آدر ٹائم،دَ سن آلسو رائزیز،مین ودائوٹ ویمن،اے فیئرویل ٹو آرمس،ڈیتھ اِن دَ آفٹرنون،وِنر ٹیک نتھنگ،گرین ہِلس آف افریقہ وغیرہ شامل ہیں۔

 

Phool Aur Bachche

Articles

پھول اور بچے

پروفیسر صاحب علی

Kawwon ka School

Articles

کووں کا اسکول

پروفیسر صاحب علی

“Death of A Dream” Short Story by Sigrid Undset

Articles

ایک خواب کی موت

سیگرواُنڈسیت


گرجا گھر کے دروازے پر ہاتھوں میں جلتی ہوئی موم بتیاں لے کر راہبائیں آنے والوں کو خوش آمدید کہنے کے لیے پہنچ گئی تھیں۔خوف نے کرستین کے پورے ہوش و حواس کو اپنے قبضے میں کرلیا تھا۔اسے لگا جیسے چلتے ہوئے وہ کچھ تو اپنے آپ کو ڈھورہی ہے اور کچھ دوسروں کے سہارے بڑھ رہی ہے۔دروازے سے گزر کر وہ سفید دیواروں والے کمرے میں داخل ہوگئے،جہاں موم بتیاں اور سرخ دیودار کی مشعل کی ملی جلی پیلی روشنی پھیلی ہوئی تھی اور قدموں کی آہٹ سمند رکی لہر وں جیسی آوازیں پیداکررہی تھیں۔اس قریب المرگ عورت کو محسوس ہورہا تھا جیسے اس روشنی کی ہی طرح اس کی زندگی کی لو بھی بس اب بجھنے والی ہے اور ان قدموں کی آواز کے ساتھ ہی جیسے موت اس کے قریب آتی جارہی ہے۔
موم بتی کی روشنی پھر کھلے میں پھیل گئی تھی۔اب وہ برآمدے میں آگئے تھے۔چرچ کی بھورے پتھروں کی دیواروں اور اونچی اونچی کھڑکیوں سے اب موم بتی کی روشنی کھیلنے لگی تھی۔ اس وقت وہ کسی کی بانہوں کے سہارے تھی۔یہ سہارا ولفؔ ہی کا تھا۔مگر اس وقت تو وہ ان سبھی لوگوں جیسا دکھائی دے رہا تھا،جو اسے سہارا دیتے آئے ہیں۔ جب کرستین نے اپنی بانہیں اس کے گلے میں حائل کردیں اور اپنا گال اس کی گردن سے لگالیا تو لگا جسیے وہ پھر سے بچی بن گئی ہے اور اپنے والد کے ساتھ ہے۔ساتھ ہی اسے ایسا بھی لگا،جیسے وہ کسی بچے کو اپنے سینے سے لگارہی ہے۔ اس کے کالے سر کے پیچھے سے لال روشنی دکھائی دے رہی تھی،ایسے لگ رہا تھا جیسے اک آگ کی لپٹ ہو جوہر طرح کے پیار کے لیے ضروری ہو۔
تھوڑی دیربعد اس نے آنکھیں کھولیں۔اب اس کے ذہن میں انتشار نہیں تھا۔اب وہ ایک کمرے میں اپنے بستر پر تکیے کے سہارے بیٹھی تھی۔ایک راہبہ کپڑے کی پٹی لیے اس پر جھکی ہوئی تھی۔اس میں سے سِرکے کی بو آرہی تھی۔وہ سِسٹر ایگنیس تھی۔کرستین نے اسے اس کی آنکھیں اور ماتھے کے لال مسّے سے پہچان لیا تھا۔دن اوپر چڑھ آیا تھا اور کھڑکی کے چھوٹے سے کانچ میں سے چھن کر پوری روشنی کمر ے میں آرہی تھی۔
وہ بھیانک درداب نہیں تھا،مگر وہ پسینے سے پوری طرح بھیگی ہوئی تھی۔سانس لیتے ہوئے اس کی چھاتی بہت زور سے آگے پیچھے ہورہی تھی۔جو دواسِسٹرایگنیس نے اس کے منہ ڈالی اس نے چپ چاپ نگل لی۔اس کا بدن بالکل ٹھنڈا تھا۔
کرستین نے اپنی پشت تکیے سے لگالی۔اب اسے یاد آیا کہ پچھلی رات کو کیاکیا وقوع پذیر ہوا تھا۔وہ مایاجال سے بھرا بُرا خواب بیت گیا ہے،لیکن وہ حیران بھی تھی۔پھر بھی یہ ٹھیک ہی ہوا کہ کام ہوگیا کہ اس نے بچے کو بچالیا اور ان بے چارے لوگوں کی روحوں کو اس نفرت انگیز کام سے دور ہی رکھا۔وہ سمجھتی تھی کہ اس کی وجہ سے اسے خوش ہونا چاہیے،کیوں کہ مرنے سے قبل اسے یہ اچھا کام کرنے کا موقع نہیں ملاتھا۔دن بھر کے کام کرنے کے بعد شام کو یورنؔ گارد کے گھر میں،اپنے بستر پر لیٹتے ہوئے اسے جتنی طمانیت کا احساس ہوتاتھا،اس وقت اس سے زیادہ طمانیت کا احساس ہورہا تھا۔ اس کے لیے اسے ولفؔ کا شکر گزار ہونا چاہیے۔جب وہ ولف کا نام لے رہی تھی تو شاید وہ دروازے کے پاس ہی کہیں بیٹھا تھا،کیوں کہ اسی وقت وہ اندر آیا اور بستر کے پاس آکر کھڑا ہوگیا۔کرستین نے اپنا ہاتھ اس کی جانب بڑھادیا۔اس نے ہاتھ اسی وقت اپنے ہاتھ میں لیااور مضبوطی سے تھام لیا۔
اچانک بستر مرگ پر پڑی کرستین بے چین ہوگئی اور اس کے ہاتھ اپنے گلے پر بندھی پٹی سے الجھ گئے۔
’’کیا ہوا کرستین؟‘‘ولف نے پوچھا۔
’’یہ کراس۔‘‘اس نے سرگوشی میں کہا اور نہایت تکلیف کے ساتھ اپنے والد کا سونے کا پانی چڑھا کراس کھینچ کر باہر نکال دیا۔تبھی اسے یاد آیا کہ اس نے کل بے چاری استینن کی روح کو سکون حاصل ہونے کے لیے کوئی تحفہ دینے کا وعدہ کیا تھا۔تب اسے کہاں پتہ تھا کہ دنیا میں اس کے لیے اب زیادہ وقت باقی نہیں رہ گیا ہے۔اس کے پاس دینے کے لیے اب کچھ نہیں بچا تھا،سوائے اس کراس کے، جو اس کے والد کا تھا اور اس کی شادی کی انگوٹھی کے جواب بھی اس کی انگلی میں پڑی تھی۔ اس نے انگوٹھی کو انگلی سے باہر نکالا اور اسے غور سے دیکھنے لگی۔اس کے کمزور ہاتھوں کو یہ کافی بھاری لگ رہی تھی،کیوں کہ یہ خالص سونے کی تھی اور بڑا سا لال پتھر اس پر جڑا ہواتھا۔ بہتر ہوگا کہ اسے بھی وہ کسی کو دے دے۔دینا تو چاہیے ،مگر کسے؟ اس نے اپنی آنکھیں بند کرلیں اور انگوٹھی ولف کی جانب بڑھادی۔
’’تم یہ کسے دینا چاہتی ہو؟‘‘اس نے پوچھا اور جب کرستین نے کوئی جواب نہیں دیا تو خود ہی کہنے لگا،’’تمہارا مطلب ہے کہ میں اسے،کُلے کو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘
کرستین نے نفی میں سرہلایا اور پھر آنکھیں مضبوطی سے بند کرلیں۔
’’استینن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس کے لیے کچھ دوں گی۔‘‘ اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں اور اس انگوٹھی کو اپنی نظروں سے تلاش کرنے لگی،جو ولف کی بھاری بھرکم ہتھیلی پر رکھی تھی۔اس کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی لگ گی۔اسے محسوس ہوا،جیسے وہ پہلی بار اس علامت کا مفہوم سمجھی ہو۔جو ازدواجی زندگی اس انگوٹھی نے اسے دی،جس کے خلاف اُسے اتنی شکایتیں رہی ہیں،جس کے خلاف وہ ہر دم سر گوشیاں کرتی رہی،جس پر اسے اتناغصہ رہا ہے اور جس کی وہ مخالفت کرتی رہی ہے۔باوجود ان سب کے جسے اس نے پیارکیا ہے،جس سے اس نے حِظ اٹھایا ہے چاہے وہ سکھ کے دن رہے ہوں یا دکھ کے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ولف اور راہبہ نے کچھ بات کی،جسے وہ سن نہ سکی اور پھر وہ کمرے سے باہر نکل گیا۔کرستین نے چاہا کہ وہ اپنا ہاتھ اٹھاکر اپنی آنکھیں پونچھ لے مگر وہ ایسا نہ کرسکی اورہاتھ اس کے سینے پر ہی پڑا رہا۔ اندرونی کرب نے اس کے ہاتھ کو اتنا بھاری بنادیا تھا،جیسے لگتا تھا کہ وہ انگوٹھی ابھی اس کی انگلی میں ہی ہے۔ا س کا دماغ پھر دھندلانے لگا۔اسے یہ جانناہی چاہیے کہ انگوٹھی واقعی چلی گئی ہے اور اس کاجانا اس نے خواب میں دیکھاہے۔اب سب کچھ غیر متوقع سا لگ رہا تھا۔کل رات بھی جو کچھ واقع ہوا،اس کے بارے میں بھی توقع نہیں تھی کہ واقعی کچھ ہوجائے گا۔یا پھر اس نے صرف خواب دیکھا تھا۔اپنی آنکھیں کھولنے کی طاقت بھی اس میں باقی نہیں تھی۔
’’سِسٹر!‘‘راہبہ نے اس سے کہا،’’اب آپ کو سونا نہیں چاہیے۔ولف آپ کے لیے پادری کو بلانے گیا ہے۔‘‘
ایک جھرجھری لے کرکرستین پوری طرح جاگ گئی۔اب وہ مطمئن تھی کہ سونے کی انگوٹھی جاچکی تھی اور اس کے بیچ والی انگلی پرا نگوٹھی پہننے کی جگہ پر سفید نشان بن گیا تھا۔
اس کے دماغ میں ایک اور واضح خیال گردش کررہا تھاکہ اس نشان کے مٹنے سے قبل اسے مرجانا چاہیے۔اس خیال سے وہ خوش تھی۔اسے محسوس ہواکہ یہ اس کے لیے ایک ایسا معمہ ہے جس کی گہرائی وہ جان نہیں پائی ہے،لیکن وہ یقینی طور سے جانتی تھی کہ خدا اس کے اوپر محبتوں کی بارش کرتا ہوا، اس کی جانکاری کے بناہی اپنے عہد کو پورا کرنے کے لیے اس کی آرزوئوں کے خلاف، اسے جلد ہی اپنے پاس بلارہا ہے۔وہ خدا کی بندگی تو کرتی رہی مگر ضدی اور آزاد طبع بھی تھی۔جس کے دل میں کوئی اعتقاد نہیں تھا،کاہل اور بے پرواہ،اپنے کام میں من نہ لگائے رکھنے والی۔پھر بھی خدا نے اسے اپنی بندگی سے الگ نہیں کیااور چمکدار سونے کی انگوٹھی کے نیچے اپنا پاکیزہ نشان بنائے رکھا۔یہی نشان تو ظاہر کرتا ہے کہ خدا کی،ساری دنیا کے پروردگار کی باندی رہی ہے اور وہی خدا اب پادری کے پاکیزہ ہاتھوں کے روپ میں آرہا ہے تاکہ اسے نجات ملے۔
پادری سراایلیوؔ کے ہاتھوں سے تیل کاجلتا ہوا دیالینے کے تھوڑی دیر بعد کرستین پھر بے ہوش ہوگئی۔خون کی الٹیوں کے دوروں اور تیز بخار نے اسے بے ہوش کردیاتھا۔ اس کے پاس کھڑے پادری نے راہبائوں کو بتایا کہ وہ جلد ہی اس جہاں سے کوچ کرنے والی ہے۔
بستر مرگ پر پڑی اس عورت کو ایک دوبار ہلکا ساہوش آیااور اس نے ایک دوچہروں کی اور دیکھا۔اس نے سِرا ایلیو کو پہچاناپھر ولف کو بھی پہچان لیا۔اس نے یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی کہ وہ پہچان رہی ہے۔اور اس کے پاس آنے اور اس کے لیے دعا کرنے کے لیے وہ ان سب کی شکر گزار ہے۔مگر جو لوگ آس پاس کھڑے تھے،انھیں لگ رہا تھا جیسے موت کی سختی سے وہ اپنا ہاتھ چھٹپٹانا چاہتی ہے۔
ایک بار اسے اَدھ کھلے دروازے میں سے جھانکتا اپنے چھوٹے بیٹے موننؔ کا چہرہ دکھائی دیا پھر اس نے اپنا چہرہ پیچھے کرلیا۔اور ماں خالی دروازے کو گھورتی رہ گئی۔اس امید پر کہ لڑکا پھر سے وہاں دکھائی دے گا۔مگر اس کے بدلے ایک راہبہ کمرے میں داخل ہوئی اور ایک گیلے کپڑے سے اس کا چہرہ پونچھنے لگی۔یہ بھی اسے اچھا لگا۔پھر سب چیزیں کالے لال کہرے میں کھوگئیں۔اور ایک غراہٹ پہلے بڑے ڈرائونے ڈھنگ سے شروع ہوئی اور مدھم پڑتی چلی گئی۔ لال کہرا بھی ہلکا ہوتا چلاگیا اور آخر میں وہ طلوع آفتاب سے قبل ہلکے کہرے میں بدل گیا۔ساری آوازیں بند ہوگئیں اور وہ جان گئی کہ وہ مررہی ہے۔
سراابلیو اور ولف اس موت والے کمرے سے ساتھ ساتھ باہر نکل آئے۔تھوڑی دیر کے لیے وہ گرجا گھر کے دروازے پررکے۔برف باری ہوچکی تھی۔جس وقت وہ عورت موت کے ساتھ نبرد آزما تھی،اس کے آس پاس کھڑے ہوئے لوگوں کو پتہ نہیں چلا کہ برف باری ہورہی ہے۔ چرچ کی ڈھلوان چھت سے آنے والی سفید چمک سے چندھیاتے دو لوگ۔ہلکے بھورے رنگ کے آسمان کے بیچ میں چرچ کا بڑا سا برج چمک رہا تھا۔کھڑکیوں کے چھجوں پرسے مہین برف پڑی تھی۔لگتا تھا جیسے وہ دونوں اس لیے رک گئے ہیں کیوں کہ وہ نئی پڑی ہوئی برف کی چادر کو اپنے قدموں کے نشانات سے بگاڑنا نہیں چاہتے ہوں۔
انھوں نے ہوا میں گہری سانس لی۔کسی بھی بیمار کے کمرے میں بھری رہنے والی بدبودار ہوا کی بہ نسبت یہ ہوا ٹھنڈی اور میٹھی تھی۔
برج کا گھنٹہ پھر سے بجنے لگا تھا۔دونوں نے اوپر دیکھا ۔ہلتے ہوئے گھنٹے پر سے برف کے ذرات نیچے گرتے ہوئے ننھے ننھے قطروں میں تبدیل ہورہے تھے اور گول چکر کاٹتے ہوئے نیچے آرہے تھے۔
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

—————————————————-

سیگروانڈسیت ۱۸۸۲ء میں ناروے میں پیدا ہوئیںاور ۱۹۴۰ء میں انتقال فرمایا۔انہیں’’کرسٹن لورانسٹر‘‘کے لیے ۱۹۲۸ء میں نوبل انعام سے نوازا گیا۔انہوں نے تقریباً دس برس تک ایک دفتر میں کام کیا تھا۔اس لیے دفتر میں کام کرنے والی خواتین کے موضوع کو انہوں نے اپنی تخلیقات میں بہتر انداز سے پیش کیا۔ان کے دکھ ،سکھ کو فطری انداز میں پیش کرنے کا سہرا سیگروانڈسیت کے سر جاتا ہے۔ان کی تصانیف میں ماسٹر آف ہیٹ ویکین،جینی،گنارس،ڈاٹر،دَبرننگ بُش،امیجینران اے مِرر،دَوائلڈ آرچڈ،اِڈا ایلیزبیتھ وغیرہ شامل ہیں۔

 

Burhanpur by Shabana Nikhat Ansari

Articles

بابِ دکن برہان پور ایک سیاسی ،سماجی ، ثقافتی اور ادبی بازیافت

شبانہ نکہت انصاری

Torn Shoes A Short Story by Grazia Deledda

Articles

پھٹے ہوئے جوتے

گریزیا ڈیلیڈا

ایلیا کچہری میں بے کار سا رہتا تھا۔ان دنوں لوگ کچہری سے دور ہی رہنا پسند کرتے تھے۔ بڑے سے بڑے وکیل بھی چھوٹے چھوٹے مقدمے لینے پر مجبور تھے۔ایلیا کے پاس تو کوئی بھی مقدمہ نہ آتا،پھر بھی وہ کچہری میں جاتا اور وہاں تنہائی میں بیٹھ کر اپنی بیوی کے لیے شعر کہتا۔ایک دن راستے میں ایک شناساگاڑی بان نے ایلیا کو روکتے ہوئے کہا،’’میں ابھی ابھی تیرسنوا سے آرہا ہوں،وہاں میں تمہارے چاچا سے ملا تھا۔وہ سخت بیمار ہیں۔‘‘
ایلیا گھر لوٹاتو اس کی بیوی گھر کے سامنے دھوپ میں کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی۔ ایلیا نے چاچا کی بیماری کی خبر اسے سنائی تو اس کے فکر مند چہرے پر بے چینی کی بجائے معنی خیزمسکراہٹ ابھر آئی۔اسے دیکھ کر ایلیا بھی مسکرادیا۔
’’تو پھر میں جاتا ہوں۔‘‘ایلیانے کہا۔آگے وہ کچھ نہ بولا۔بیوی اس کے دل کا حال جان گئی تھی۔چاچا انتقال کے بعد ساری دولت اسے ہی دینے والے تھے۔تبھی اس نے اپنے شوہر کے پھٹے ہوئے جوتے کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا،’’سفر کے اخراجات کے بارے میں کچھ سوچا ہے؟‘‘
’’اس کی فکر مت کرو۔میرے پاس کچھ پیسے ہیں۔‘‘ایلیا اپنے چاچا سے ملنے کے لیے روانہ ہوگیا۔راستے میں وہ تیزتیز قدم چلتا ہوا،اپنے پھٹے ہوئے جوتے کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ وہ اسے کسی نہ کسی چاچا کے گھر تک پہنچا دے تو بہت اچھاہو۔
رات ہوئی ہوا میں خنکی بڑھنے لگی۔ایلیا کو لگا اس کے پائوں برف پرپڑرہے ہوں۔اس نے اپنے خستہ جوتے کی طرف دیکھا،جواب مرمت کرنے کے قابل بھی نہیں رہ گیا تھا۔اسے پہن کرچلنے میں بڑی تکلیف ہورہی تھی۔پھر یہ خیال بھی تکلیف دے رہا تھا کہ ایسا جوتا پہن کر چاچاکے گھر جانا بے عزتی والی بات ہوگی،لیکن کوئی چارہ نہیں تھا۔تب وہ جوتے کی طرف سے دھیان ہٹاکر چاچا کی دولت حاصل کرنے اور مستقبل میں بہترین زندگی گزارنے کے بارے میں سوچنے لگا۔ایک گائوں آنے پر وہ را ت بتانے کے لیے ایک مسافر خانہ میں ٹھہرا۔کم کرایے کی وجہ سے اسے ایک گندہ چھوٹا سا کمرہ ملا۔وہاں دو لوگ پہلے سے موجود تھے۔وہ دونوں ہی سوئے ہوئے تھے۔
ایلیااپنے انھیں کپڑوں میں لیٹ گیا،لیکن نیند نہ آئی۔اس نے اپنے خیالوں میں دنیا کی سبھی سڑکوں پر اور سبھی گھروں میں بے شمار جوتے دیکھے،پھرتو جیسے اسے ہر جگہ جوتے ہی جوتے دکھائی دینے لگے۔آخر اسے لگا کہ جیسے اس کمرے میں بھی جوتے بکھرے پڑے ہوں۔ تبھی وہ اچانک اٹھ بیٹھا۔اور سردی سے کانپتا ننگے پائوں چلتا ہوا،آہستگی سے اپنے قریب ہی سوئے ہوئے مسافر کی کھاٹ کے پاس گیا۔اس کا ایک جوتا اس نے پہنا ہی تھا کہ اس کے تپتے ہوئے پائوں میں کوئی چیز چبھی۔اس نے جوتا اتاردیا،تبھی کمرے کے باہر اسے کچھ آہٹ سی سنائی دی تو ڈرکے مارے اس کے پائوں جہاں تھے وہیں جم گئے۔اور اسی وقت اس نے اپنے ضمیر کی پھٹکار سنی کہ وہ گناہ کے راستے پر جارہا ہے۔باہر کی آہٹ جب بند ہوگئی تو وہ کمرے سے نکلا۔وہاں کوئی نہیں تھا۔ایک طرف لٹکی ہوئی لالٹین مدھم سی روشنی بکھیر رہی تھی۔ایلیانے اِدھر اُدھر دیکھاتو پاس ہی ایک جوتے کا جوڑ دکھائی دیا۔ اسی وقت اس نے بنا کچھ سوچے سمجھے جوتوں کو اٹھاکر اپنے کوٹ میں چھپالیا۔پھر ایک نظر وہاں سوئے ہوئے چوکیدار کی طرف دیکھا اور چپکے سے پھاٹک کھول کر وہ باہر نکل گیا۔
تقریباً آدھا گھنٹہ ننگے پائوں چلنے کے بعد اسے جوتے پہننے کا خیال آیا۔ایک پتھر پر بیٹھ کر وہ چند لمحات تک جوتوں دیکھتا رہا۔آخر جب وہ جوتے پہن کر کھڑاہوا تو اس کے اندر سے آواز آئی، ’’گناہ،عظیم گناہ‘‘لیکن آواز کی ذرا بھی پرواہ کیے بنا وہ چل پڑا،اب وہ پہلے کی طرح تیزتیزقدم نہیں اٹھا رہا تھا۔اب اس کے قدم لڑکھڑارہے تھے۔اور وہ باربار پیچھے مڑکر دیکھتا تھا کہ کوئی اس کا پیچھا تو نہیں کررہاہے۔صبح کا اجالا پھیلنے لگاتھا تب ایلیا کاڈر اور بڑھ گیا۔اس کے دماغ میں مختلف خیالات نے ہلچل مچادی تھی۔اسے محسوس ہورہا تھا کہ راہ چلتے لوگ اس کی چوری کو بھانپ لیں گے اور پھر اس کے چور ہونے کی خبر چاروں جانب پھیل جائے گی۔آخر پکڑے جانے کے ڈر سے اس نے پھر اپنا جوتا پہن لیااورچرایا ہوا جوتا سڑک کی ایک جانب اچھال دیا۔تب بھی اس کا دل مطمئن نہیں ہوا۔رات کا وہ واقعہ رہ رہ کر اس کے سامنے آنے لگا۔اسے باربار محسوس ہورہا تھا کہ اس کمرے کے دونوں مسافر اس کے پیچھے آرہے ہوںگے۔پھر اس خیال سے اس کا دل کانپ اٹھاکہ اس کے چور ہونے کی خبر اس کی بیوی تک پہنچ گئی تو غضب ہوجائے گا۔دولت حاصل کرنے سے قبل ہی وہ کس گناہوں کے دلدل میں دھنس گیا ہے۔
چلتے چلتے وہ رک گیا اور پھر لوٹ پڑا۔اس کا پھینکا ہوا جوتا وہیں پڑاتھا۔اُسے دیکھتے ہوئے اس کے دل میں عجیب سی ہلچل ہونے لگی۔اگر وہ اسے چھپادے یا زمین میں گاڑدے تب بھی وہ چوری اس کے ضمیر پر بوجھ بنی رہے گی ور وہ چوری اس کی پوری زندگی پر کلنک بن کر چھائی رہے گی۔
اچانک اس نے جوتے اٹھائے اور مسافر خانے کی طرف چل پڑا۔وہ دھیرے دھیرے چل رہا تھاتاکہ اندھیرا ہونے پر مسافر خانہ پہنچے۔دن بھر اس نے کچھ نہیں کھایاتھااور بے حد تھکان محسوس کررہا تھا۔اس کے قدم ڈگمگارہے تھے۔
مسافر خانے میں خاموشی چھائی ہوئی تھی۔اس نے رات گزارنے کے لیے جگہ لی۔ پھر موقع پاکر اس نے وہ جوتے اسی جگہ رکھ دیئے،جہاں سے اٹھائے تھے۔اور اپنی کھاٹ پر جاکر لیٹ گیا۔بستر پر لیٹتے ہی وہ نیند کی آغوش میں سماگیا۔صبح جاگنے کے بعد اس نے بچے کھچے پیسوں سے ایک ڈبل روٹی خریدی اور وہاں سے چل دیا۔
بڑا سہانا موسم تھا۔ایلیا اپنے پھٹے ہوئے جوتے پہن کر بڑے اطمینان سے چلاجارہا تھا۔ آخر جب وہ اپنے چاچا کے گھر پہنچا تو پتہ چلا کہ کچھ ہی گھنٹے قبل ان کا انتقال ہوگیاہے۔ نوکرانی نے اسے بتایا کہ،’’مالک نے آپ کا راستہ دیکھا۔کافی دیر تک انتظارکیا۔تین دن قبل انھوں نے آپ کو تاربھی بھیجا تھا۔وہ کہا کرتے تھے کہ آپ اکیلے ہی ان کے وارث ہیں،لیکن آپ نے انھیں بھلادیا ہے۔ وہ آپ سے بہت ناراض تھے۔جب آج صبح بھی آپ نہیں آئے تو انھوں نے اپنی ساری دولت مچھیروں کے یتیم بچوں کے نام کردی۔‘‘
ایلیا لوٹ کر اپنے گھر آیا۔اس کی بیوی نے سارا ماجرہ سن کر کہا،’’اچھا ہی ہوا، دولت ہمیں نہیں ملی۔جس دولت کے ملنے سے پہلے ہی آدمی اپنی ایمانداری کھوبیٹھے،اس کا نہ ملنا ہی اچھا ہے۔‘‘
٭٭٭

اس کہانی کو معروف مترجم قاسم ندیم نے ’اردو چینل‘ کے لیے انگریزی سے ترجمہ کیا ہے۔

————————–

گریز یاڈیلیڈا ۱۸۷۵ء میں اٹلی کے ایک قصبے میں پیدا ہوئیں اور ۱۹۳۶ ء میں انتقال فرمایا۔انہیں’’ایڈز اِن دَ وِنڈ‘‘پر نوبل انعام سے نوازا گیا۔انہوں نے اپنی ابتدائی زندگی میں دکھ اور پریشانیوں کا سامنا کیا تھا اس لیے ان کی تخلیقات میں اس کا اثر نمایاں نظر آتا ہے۔انہوں نے جو کچھ تحریر کیااپنے دل کی طمانیت کے لیے تحریر کیا۔انہیں ۱۹۲۶ء میں نوبل انعام تقویض کیا گیا۔ان کی اہم کتابیں آفر دَ ڈائیورس اور دَ مدرہیں۔

 

Masnavi Gulzar E Naseem

Articles

مثنوی گلزارِ نسیم

مثنوی گلزارِ نسیم

Albert Camus

Articles

البرٹ کامو

البرٹ کامو