Naguib Mahfouz by Qamar Siddiqui

Articles

معنی کے طرزِ وجود کا فکشن نگار: نجیب محفوظ

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

نجیب محفوظ نے اپنی ادبی زندگی کا آغازمعروف عربی جریدے ’المجلہ الجدید‘، مصر سے شروع کیا تھا۔ اس میں شائع ہونے والی تحریریں ترقی پسند نظریات سے نجیب کی وابستگی کا اعلان نامہ تھیں۔اگرچہ ابتدائی دورمیں شائع ہونے والی ان کی تین سلسلہ وار کہانیاں فرعونوں کی تاریخ کے پس منظر میں تحریر کی گئی تھیں تاہم اُن کہانیوں میں بھی مارکسی اثرات کی جھلک دیکھی جاسکتی ہے۔یہ وہ زمانہ تھا جب نجیب محفوظ نے اعلان کیا تھا کہ وہ سائنس، سوشلزم اور برداشت میں یقین کرنا سیکھ رہے ہیں۔ بعد ازاں نجیب سر رئیلسٹ فکشن نگاری کی طرف ملتفت ہوگئے ۔بعض ناقدین نے سر ریئلزم سے نجیب کے اس التفات کو پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھا ۔ حتیٰ کہ انھیں قنوطیت پسند فکشن نگار کے لقب سے بھی نوازا گیا:
’’نجیب محفوظ نے اپنی سوشلسٹ آیڈیالوجی سے ہٹ کر گہری قنوطیت کی راہ اختیار کر لی اور اپنے ارد گرد برے شکون کا دائرہ کھینچ لیا۔‘‘
( ایڈرورڈ بون ۔ ٹائمس لٹریری سپلیمنٹ۔ ص: ۹دسمبر ۔ ۱۹۹۰ء)

لیکن نجیب اپنے اِس اسلوب پر کاربند رہے۔بطور ایک سر رئیلسٹ فکشن نگار انھوں نے اپنی کہانیوں میں تصوف اور مابعدالطبعیاتی تجربات کو کامیابی کے ساتھ برتنے کی کوشش کی۔انہوں نے اپنی گویائی وہاں سے شروع کی جہاں سائنس خاموش ہوجاتی ہے۔ آگے چل کر انھوں نے ایسی کہانیاں تحریر کہیں جن میں سائنسی سماجیات اور روحانیت کسی حدتک آپس میں ہم آغوش ہیں۔1945ء میں شائع ہونے والا ان کا پہلا ناول ’خان الخلیلی‘ اسی کشمکش کی عکاس ہے۔اِس ناول کی اشاعت کے بعد نجیب محفوظ کو عرب دنیا میں ایک ناول نگار کے طور پر تسلیم کیا جانے لگا۔ البتہ اُن کے ملک مصر میں انھیں ایک ممتاز فکشن نگار کی حیثیت اُس وقت حاصل ہوئی جب ۱۹۵۷ء میں تین ہزار صفحات پر مشتمل اُن کی مشہور رزمیہ تصنیف ’’قاہرہ سے متعلق تین سلسلہ وار ڈرامے‘‘کی اشاعت ہوئی۔ یہ رزمیہ دراصل تین سلسلے وار ناول ہیں۔ پہلے ناول کا نام ہے ’ محل کی سیر Walk Palace The ، دوسرے ناول کا نام ہے ’ خواہشات کا محل‘ Palace of Desir اور تیسرے ناول کا نام ہے ’چینی کی گلی ‘ Sugar Street ۔تین ہزار صفحات کا احاطہ کرنے والے اس رزمیے میں قاہرہ کی مڈل کلاس زندگی کے سماجی اور ثقافتی پہلوؤں کو فنی چابکدستی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ مذکورہ رزمیے کی اشاعت کے بعد نجیب کو مصر میں نوجوان نسل کا ایک بڑا ناول نگار قرار دیا جانے لگا۔ البتہ عرب دنیا سے باہر نجیب کی شناخت ۱۹۶۰ء کے بعد قائم ہونی شروع ہوئی جب ان کی تصنیفات کے انگریزی، فرانسیسی ، جرمن ، اردو اور روسی زبانوں میں تراجم ہونے شروع ہوئے۔ نجیب کی اِس شہرت کو ۱۹۸۸ء میں ادب کا نوبل پرائز ملنے کے بعد گویا پَر لگ گئے اور وہ پوری دنیا میں عظیم ناول نگار تسلیم کیے جانے لگے۔
نجیب محفوظ روایتی فکشن نگار نہیں ہے اور روایتی ذہن کے ساتھ نجیب کی تحریروں کی قرأت عموماً ترسیل کی ناکامی پر منتج ہوتی ہے۔ دراصل نجیب معنی کی ترسیل کا نہیں بلکہ معنی کے طرزِ وجود (یعنی Ontology) کا فکشن نگار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اُن کی تحریریں مثلاً شوگر اسٹریٹ وغیرہ کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں باب در باب معنی کی تعمیر نہیں بلکہ معنی کے انہدام کے تجربے سے گزرنا پڑتا ہے۔دراصل اس ناول میں معنی خیزی کا منبع اِس کے قصے سے ماورا ،اِس کے اجزا کے باہمی ارتباط کا مرہون منت ہے۔ نجیب نے جن جگہوں، عمارات اور اشخاص کا ذکر اِس ناول میں کیا ہے غور کریں تووہ اِس ناول کی بافت یا فریم سے باہر اپنی اُس معنویت سے محروم ہوجاتے ہیں ، جو انھیں مذکورہ ناول میں حاصل ہے۔ یعنی ناول سیاق سے باہر قاہرہ وہ قاہرہ نہیں رہتا جو کہ ناول میں ہے۔ یا پھر کردار اور معاشرہ کے تعلق سے گفتگو کریں تو اس ناول میں جو ایک بھرا پُرا خاندان ہے اُس کی معنویت کا تعین ناول کے فریم اور اُس کے متن سے باہر شایدہی ممکن ہوسکے۔ لہٰذا ناول شوگر اسٹریٹ کو اس کے متن سے باہر نکل کر سمجھ پانا قدرے مشکل ہے۔
اسی طرح نجیب کا ایک پیچیدہ افسانہ ’’وقت اور مقام‘‘ ہے۔ اس افسانے میں پیچیدگی شاید اس لیے در آئی ہے کیوں کہ افسانے میں ایک ہی سطح پر دو زمانوں کو پیش کرنے کا تجربہ کیا گیا ہے۔ جس میں مابعد از طبیعات اور سائنسی سماجیات آپس میں کھل مل گئی ہیں۔افسانہ کا قصہ کچھ یوں ہے کہ راوی ،اس کا ایک بھائی اور ایک بہن مل کر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ اپنے آبائی مکان کو فروخت کرکے وہ ایک آرام دہ فلیٹ میں منتقل ہوجائیں۔ اس بیچ راوی اپنے آبائی مکان میں ایک میٹا فیزکل تجربے سے گزرتا ہے۔ اسے ایک ایسا شخص دکھائی دیتا ہے جو اس کا ہم شکل ہے ۔ ایک بوڑھا شخص راوی کے اُس ہم شکل کو ایک صندوقچی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ چونکہ اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے اس لیے وہ اِس صندوقچی کو کسی مناسب مقام پر دفن کردے اور وقت آنے پر اسے نکال کر اس میں لکھی ہدایات پر عمل کرے۔ راوی کو یہ سب خواب جیسا معلوم ہوتا ہے۔ تاہم تلاش کے بعد راوی وہ جگہ دریافت کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے جہاں واقعی صندوقچی دفن ہوتی ہے۔اُس کے تحیر کا ٹھکانہ نہیں رہتا اور وہ اپنے بھائی اور بہن کے مکان فروخت کرنے کے فیصلے سے خود کو الگ کرلیتا ہے۔ وہ صندوقچی کھول کر اُس میں پڑے کاغذ کے پرزے کی ہدایت پر عمل کرتا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ’’ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ ‘‘ خط میں پیر عارف البلقانی کے گھر کا پتہ بھی درج ہے۔ راوی خط پڑھ کر عارف البلقانی کے مکان کو تلاش کرتا ہوا پتے تک پہنچتا ہے۔ وہ مکان پولیس کی نگرانی میں ہے ۔ راوی کے وہاں پہنچنے پر اُسے گرفتار کرلیا جاتا ہے ۔مکان میں پہلے سے ہی ایک شخص قید ہے ۔ پولیس راوی کواُس کا گرگا تسلیم کرکے جیل میں ٹھونس دیتی ہے۔
اس طرح کے افسانوں کے لیے جس نوع کی فن کاری کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کے تعلق سے پروفیسر قاضی افضال حسین نے تحریر کیا ہے کہ :
’’اگر بالکل سادہ غیر تنقیدی زبان میں کہیں تو افسانہ جھوٹ کو سچ کر دکھانے کا فن ہے، اس لیے نہیں کہ اس میں بیان کردہ واقعات ’’سچے‘‘ نہیں ہوتے ؍ ہوسکتے بلکہ اس اعتبار سے کہ افسانہ نگار ، ہر وہ فنی تدبیر استعمال کرتا ہے جس سے وہ اپنے قاری کو یقین دلا سکے کہ وہ افسانہ نہیں لکھ رہا ہے بلکہ سچا واقعہ سنا رہا ہے اور اگر اس نے افسانے کی تشکیل کے لیے کوئی خاص زمانی یا مکانی عرصہ منتخب کیا ہے، جس کا تعلق ماضی بعید سے ہوتو اس کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ وہ افسانے کے خیالی بیانیہ کو تاریخی واقعہ کی شکل دے کر قاری کو یہ یقین دلا دے کہ وہ ’’فرضی‘‘ کہانی نہیں سنا رہا ، ایک خاص انداز سے تاریخ بیان کررہا ہے۔ اس نوع کے تاریخی افسانے کی سب سے آسان ترکیب یہ ہوتی ہے کہ بیان میں ماضی کے ایک زمانے میں ایک مخصوص جگہ، موجود افراد ؍ تعمیرات کے اسمائے خاص اور لوگوں کو پیش آنے والے واقعات کا حوالہ شامل کردیا جائے۔ اِن اسماء یا واقعات کا شدید حوالہ جاتی کردار بیان کی افسانویت ، یعنی اُس کی لسانی تشکیل ہونے پر دبیز پردے ڈال دیتا ہے۔ قاری پر افسانہ نگار کے اس فریب کا راز نہیں کھلتا اور ہم ایک صاف ’’جھوٹ‘‘ کو بے ملاوٹ ’’صداقت ‘‘ سمجھ کر پڑھ رہے ہوتے ہیں۔‘‘

(تحریر اساس تنقید۔ از: پروفیسر قاضی افضال حسین۔ ص: ۲۵۳۔ ایجوکیشنل بک ہاؤس، علی گڑھ۔ ۲۰۰۹ء)

افسانے کی بُنت میں نجیب نے مذکورہ بالا فنی چالاکیوں سے کام لیتے ہوئے ایک ایسا بیانیہ خلق کیا ہے جس میں جگہ جگہ سر ریئلزم کے رنگوں کی چھاپ بھی نظر آجاتی ہے۔ ایک نامانوس اور تحیر خیز کیفیت سے شروع ہونے والے اس افسانے کا اختتام مانوس مگر ناپسندیدہ ماحول پر ہوتاہے۔ مثلاًافسانے کا ابتدائی حصہ ہے کہ :
’’ ہماری بیٹھک نجانے کہاں کھو گئی اور اس کی جگہ ایک لمبے چوڑے دالان نے لے لی۔ جس کا دوسرا سرا چوک کی موٹی سفید دیوار تک جا پہنچا تھا۔ دالان میں کہیں گول گول اور کہیں دوج کے شکل میں گھاس اُگی ہوئی تھی اور درمیان میں ایک کنواں تھا ۔ کنویں سے کچھ فاصلے پر کھجور کا ایک اونچا درخت تھا۔ میں دو احساسات کے بیچ جھولنے لگا۔ کبھی لگتا کہ کچھ ایسا دیکھ رہا ہوں جو پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ کبھی لگتا کہ ان میں کچھ بھی میرے لیے ان دیکھا نہیں ہے۔مدھم ہوتی ہوئی روشنی سورج کے غروب ہونے کا اشارہ کرنے لگی اور اس کے ساتھ ہی کنویں اور کھجور کے درخت کے بیچ ایک ادھیڑ آدمی بھی آن کھڑا ہوا جو قطعی میری پوشاک پہنے ہوئے تھا۔ میں نے دیکھا کہ کوئی اُس ادھیڑ شخص کو ایک چھوٹی سی صندوقچی دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ :’’اس زمانے میں کچھ بھی محفوظ نہیں ہے۔ اسے زمین میں گہرا گاڑ کر چھپا دے۔ صحیح وقت آنے پر نکالنا۔‘‘

(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۹۸۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء
)
خواب اور واہمے کے درمیان کی کیفیت کے اِس ابتدائی بیانیے کے بعد اس

افسانے کا اختتام بھی ملاحظہ فرمانے کی زحمت کریں :
’’خاموشی کی دبیز چادر ہم پر چھاگئی۔ میں نے نئے مکان میں بیٹھے ہوئے اپنے بھائی ، بہن کا تصور کیا اور پرانے مکان میں بنے ہوئے گڑھے ، کنویں اور کھجور کا بھی۔ ساری چیزیں میرے سامنے اس طرح پیش ہوئیں جیسے میں اس کے اندر ہوتے ہوئے بھی ان کو باہر سے دیکھ رہا ہوں۔ مجھے بے ساختہ ہنسی آگئی۔ مگر کوئی میری او‘ر نہیں گھوما ۔کسی نے خاموشی نہیں توڑی۔‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۲۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )

افسانے کے ابتدائی اور اختتامی حصوں کو پڑھنے کے بعد یہ بات کسی قدر واضح ہوتی ہے کہ افسانے کی تفہیم کے لیے یہ ضروری نہیں کہ اُسے پہلے سے رائج تصورات کی مدد سے ہی سمجھا جاسکے۔ ہر بڑا فن پارہ اکثر اپنے پیش رو طریقۂ تفہیم کی نفی بھی کرتا ہے اور اپنی ترسیل کی نئی روایت کی بافت بھی۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ متن ہمیشہ ایک شفاف میڈیم کے طور پر سامنے آئے جیسا کہ حقیقت پسند افسانے میں پہلے سے موجود سچائی کو دوبارہ پیش کرتے ہوئے سامنے آتا ہے۔ اِس افسانے کا متن بھی سبب اور نتیجے والی افسانے کی روایتی منطق سے انکار کرتے ہوئے اپنی پیچیدگی کی طرف متوجہ کرتا ہے۔ البتہ سبب اور نتیجے کے عمل اور فیصلے کے لیے قاری کو راوی کے جبر سے آزاد کردیتا ہے۔ لہٰذا مذکورہ بالا دونوں پیراگراف کی مدد سے افسانے کی تعبیر اور تشریح کی تمام تر کوششوں کے لیے قاری آزاد ہے۔مثال کے طور پر افسانے کو ایک ایسی ناصحانہ تحریر کے طور پر بھی دیکھا جاسکتا ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ بغیر سوچے سمجھے محض تخیل کی مدد سے کیے گئے عمل کا نتیجہ خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔ یا اگر پورے متن کا تجزیاتی مطالعہ کیا جائے اور اس مطالعہ میں مصر کی سماجی اور سیاسی صورتِ حال کو سامنے رکھا جائے تو یہ افسانہ ایک ایسی انڈر گراؤنڈ تحریک کی طرف اشارہ کرتا ہے جو اُس وقت کی مصری حکومت کے طرز عمل سے نالاں ہے۔ راوی کے لاشعور میں اُس تحریک کے تئیں ہمدردی کے جذبات موجود ہیں لہٰذا اسے اس طرح کا خواب دکھائی دیتا ہے۔ خود افسانے کے متن میں بھی اِس کے شواہد موجود ہیں۔ مثلاً خط میں تحریر کیے جملے کی نوعیت ملاحظہ ہو:

’’ اپنا مکان مت چھوڑ ، کیوں کہ یہ قاہرہ میں سب سے خوبصورت ہے اور پھر اہلِ ایمان کے لیے تو بس یہی ایک مکان ہے۔ یہی ایک محفوظ مقام ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ تو حافظ حرم اور ہمارے پیر عارف البلقانی سے مل۔ تو اُن کے مکان میں جا۔ ‘‘
(وقت اور مقام ۔از: نجیب محفوظ۔ ص: ۱۰۰۔رسالہ ’’اردو چینل‘‘ دسمبر ۲۰۰۶ء )
مصر کے سماجی اور خاص طور سے سیاسی حالات کو نگاہ میں رکھیں تو حکومت سے اختلاف، ایسی ہی علامتی کہانی کے ذریعے ممکن تھا۔ لہٰذا اس افسانے کی ایک یہ بھی تفہیم ممکن ہے۔


مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

Viktoria Was Home All Alone by Martin Auer

Articles

خالی گھر اور تنہا وکٹوریہ

مارٹن آور

کہانی’ خالی گھر اور تنہا وکٹوریہ‘مارٹن آور کی تحریر کردہ ایک مضبوط ارادوں والی آسٹریائی لڑکی کی کہانی ہے۔ مارٹن آور کی شخصیت کی کئی جہات ہیں۔ تصنیف و تالیف کے علاوہ وہ اسٹیج اور صحافت سے بھی وابستہ ہیں۔ انھیں ادبِ اطفال پر آسٹریلین نیشنل ایوارڈ سے بھی سر فراز کیا جا چکا ہے۔

————————————–

ہر کوئی جا چکا تھااور وکٹوریہ گھر پر اکیلی تھی۔
’’جب سب جاچکے ہوتے ہیں تب میرا گھر ایک جادوئی جگہ بن جاتا ہے۔‘‘
وہ اپنے والدین کی خواب گاہ میں گئی اور وہاں پھیلی ہوئی چادر کو کھینچا۔بیڈ کے بالکل درمیان میں ایک بڑا بھالو لیٹا ہوا تھا۔وہ سیدھا اس کی طرف دیکھنے لگا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا
’’مجھے کچھ دو‘‘
بھالو کمرے سے باہر گیا اور وکٹوریہ کے لیے اس کے والد کی ہیٹ لے آیا۔وکٹوریہ نے اسے پہن لیا اور اس بھالو کو ڈھانک دیا۔
اس نے اپنی ماں کا نائٹ اسٹینڈ(بستر کے بازو میں موجود ٹیبل یا کباٹ)کھولا۔
یہاں سنہری آنکھوں والا ایک بڑا مینڈک بیٹھا ہوا تھا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا
’’مجھے کچھ دو‘‘
مینڈک اچھلتے ہوئے کمرے سے باہر گیا اور وکٹوریہ کے لیے اس کی والدہ کے جوتے لے آیا۔
وکٹوریہ نے جوتے پہن لیے اور نائٹ اسٹینڈ کو بند کردیا۔
وکٹوریہ نے الماری کی طرف دیکھا۔ وہاں سے اسے کچھ دھڑکنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھی۔وہ کپڑوں میں کچھ تلاش کرنے لگی۔تب اسے اپنے والد کا سردیوں میں پہنا جانے والا موٹا اور وزنی کوٹ نظر آیا۔دھڑکنے کی آواز اسی میں سے آرہی تھی۔وہ یہ دیکھنے کے لیے سوٹ کیس کے اوپر چڑھ گئی کہ کیا چیز دھڑک رہی ہے۔کوٹ کے اوپری جیب میں ایک بڑا سرخ وسیاہ دل دھڑک رہا تھا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا
کوٹ کے ایک کنارے والی جیب میں سنہری چابی اور دوسرے کنارے والی جیب میں کچھ بیج رکھے ہوئے تھے۔
’’کیا تم یہ مجھے دو گے‘‘اس نے دل سے دریافت کیا اور دل دھڑکنے لگا۔
تب اس نے چابی اور بیج لے لیے۔
وکٹوریہ پورے گھر میں بھٹکتی رہی، گھر بہت بڑا تھا۔
ایک کمرے میں ایک ڈیسک موجود تھا اور ڈیسک کے اوپر ایک کتاب رکھی ہوئی تھی۔وہ کرسی کے اوپر چڑھ گئی اور اس نے کتاب کھولی۔
کتاب میں تصویریں نہیں تھیں صرف کچھ الجھی ہوئی لکیریں نظر آرہی تھیں۔
’’آئو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے‘‘وکٹوریہ نے اپنے آپ سے کہا
اس نے اپنی سنہری چابی سے کتاب کو چھوا۔
الجھی ہوئی کالی لکیروں میں حرکت ہونے لگی۔وہ چھوٹے چھوٹے مرد اور عورتیں تھیں ، انہوں نے اب رقص کرنا شروع کردیا تھا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا اور صفحہ پلٹ دیا۔
اب وہ کالی الجھی ہوئی لکیریں ایسے تالاب میں تبدیل ہوگئیں جس پر بڑے بڑے پانی کے بلبلے تیر رہے تھے۔
وکٹوریہ نے ان بلبلوں کو اپنی چابی سے چھوا۔ان بلبلوں سے چھوٹے چھوٹے جرثومے پھسل کر اطراف میں تیرنے لگے۔ اب ان کی دُمیں غائب ہوچکی تھیں اور وہ مینڈک کی طرح نظر آرہے تھے۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا اور وہ صفحہ بھی پلٹ دیا۔
اگلے صفحے پر چھوٹے چھوٹے کیڑے تھے۔وکٹوریہ نے انہیں اپنی چابی سے چھوا۔
اچانک چاروں طرف کھٹمل پھیل گئے اور انہوں نے ان کیڑوں کو کھانا شروع کردیا۔
پھر چاروں طرف پرندے پھیلنے لگے اور ان پرندوں نے کھٹملوں کو کھانا شروع کیا۔
اس کے بعد اچانک لومڑیاں نمودار ہوئیں اور انہوں نے پرندوں کو کھا لیا۔
لیکن ایک لومڑی کے گلے میں ہڈی پھنس گئی اور اس کی موت ہوگئی۔
اچانک دوبارہ چھوٹے چھوٹے کیڑے نظر آنے لگے اور انہوں نے اس لومڑی کو کھالیا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا اور وہ صفحہ پلٹ دیا۔
اگلے صفحے پر ایک جنگل موجود تھا۔ اس نے جنگل کو اپنی چابی سے چھوا۔
اچانک وہاں کچھ لوگ نظر آنے لگے جو درختوں کو کاٹ رہے تھے۔
وہ درختوں کا استعمال گھر بنانے کے لیے اور شہر بنانے کے لیے کرتے تھے۔ وہ لوگ اپنے گھروں میں چلے گئے۔
اچانک آگ لگ گئی اور پورا شہر جل اٹھا۔
لوگوں نے اپنا سازوسامان باندھا اور باہر بھاگنے لگے۔
پھر ہوا اپنے ساتھ کچھ بیج اڑا کر لے آئی اور جنگل دوبارہ ہرا بھرا ہونے لگا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا اور کتاب کو بند کرکے اپنے پاس رکھ لیا۔
وہ کچن میں گئی، اس کی ماں سنک کے نیچے والے کباٹ میں گلدان رکھا کرتی تھی۔وکٹوریہ نے سب سے بڑا گلدان نکالا اور کمرے کے وسط میں بیٹھ گئی۔اس نے گلدان میں بیج ڈالے اور انہیں اوپر تک مٹی سے ڈھانک دیا۔
’’آئو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے؟‘‘وکٹوریہ نے اپنے آپ سے کہا اور گلدان کو اپنی سنہری چابی سے چھوا۔ مٹی میں حرکت شروع ہوئی ۔ بیجوں سے کونپلیں پھوٹ پھوٹ کر اوپر آنے لگیں۔کونپلیں مسلسل اونچائی کی جانب بڑھتی گئیں۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا
’’یہ جلد ہی کمرے سے باہر تک بڑھتی چلی جائیں گی‘‘
لیکن تب بھی کونپلیں شاخوں میں تبدیل ہو کر مسلسل بڑھتی رہیں۔
اب وکٹوریہ شاخوں پر چڑھنے لگی
وہ اوپر ہی اوپر چڑھتی رہی، کمرہ کسی مینار کی طرح اونچا نظر آرہا تھا۔
پتیوں کے درمیان سے ایک شیر جھانکتا ہوا نظر آرہا تھا۔وہ اپنا بڑا سا منہ کھولے دھاڑ رہا تھا۔
’’آئو دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے ‘‘وکٹوریہ نے اپنے آپ سے کہا اور شیر کو اپنی سنہری چابی سے چھوا۔
اچانک شیر پالتو بلّی کے بچے کی طرح ہو گیا۔
’’اوہ۔۔۔۔۔۔‘‘وکٹوریہ نے کہا او ر اوپر چڑھتی گئی۔
اچانک بھیڑیے اس کی طرف دوڑتے ہوئے آنے لگے۔وہ تیز آواز میں غرّا رہے تھے۔ وکٹوریہ نے انہیں اپنی چابی سے چھوا اور تمام بھیڑیے دیکھتے ہی دیکھتے پالتو کتّے کے پلّوں میں تبدیل ہوگئے۔
’’یہ اچھا ہوا‘‘وکٹوریہ نے کہا اور اوپر چڑھتی گئی۔
اچانک اسے کچھ اجنبی لوگ نظر آئے جو اس کی طرف دیکھ کر چیخ و پکار کر رہے تھے۔لیکن وکٹوریہ انہیں سمجھ نہیں سکی۔
اس نے اپنی سنہری چابی باہر نکالی،لوگوں نے اس چابی کو چھوا تب اس نے انہیں سمجھ لیا۔
’’وکٹوریہ ! آپ آخر کار یہاں تک پہنچ ہی گئیں، ہم بہت خوش ہیں کہ آپ یہاں ہو۔ـ‘‘اجنبیوں نے کہا۔ لیکن اب وہ اجنبی نہیں رہ گئے تھے۔
’’کیوں؟ شکریہ‘‘وکٹوریہ نے کہا۔
پھر لوگوں نے اسے اپنے گھر، اپنی بلڈنگیں اور اپنے اپارٹمنٹس بتاتے ہوئے کہا،’’اگر تمہیں گھر چاہیے تو ہمارے گھروں میں سے کوئی ایک لے لو۔‘‘
’’کیوں؟ شکریہ۔‘‘وکٹوریہ نے کہا۔’’شاید بعد میں‘‘اور وہ اوپر چڑھتی گئی۔
وکٹوریہ اوپر ہی اوپر چڑھتی رہی اور شاخ کے آخری سرے پر پہنچ کر اس نے چاند کو دیکھا۔
شاخ کے آخری سرے پر ایک ٹیبل پر اس کے والد اور والدہ بیٹھے ہوئے تھے۔وہ شمع روشن کر کے اپنے ہاتھوں کو اٹھائے ہوئے تھے۔
چاند اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔وکٹوریہ!اس کی والدہ نے اسے مخاطب کیا۔ ’’کیا تم ہمارے ساتھ بیٹھنا پسند کروگی؟‘‘
’’ہاں ضرور‘‘وکٹوریہ نے کہا۔
————————————————–

انگریزی سے ترجمہ : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

مترجم نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

It’s a Chick, Not a Dog by Jar al-Nabi al-Hilw

Articles

یہ چوزہ ہے ، پلّہ نہیں

جرالنّبی الحلو

کہانی ’یہ چوزہ نہیں پلّہ ہے‘ مصری نژاد کہانی کار جرالنّبی الحلوکی تحریر کردہ ہے۔ کہانی میں ایک مصری لڑکا انسانوں اور حیوانوں کے درمیان دوستی کے بارے میں سیکھتا ہے۔

—————————————-

ہم تمام مرد، عورت، لڑکے، لڑکیاں اور ہماری ماںایک بہت بڑے گھر میں رہتے تھے۔ماں میری توجہ کا مرکز ہوا کرتی تھی ۔ وہ جہاں کہیں بھی ہوتی تھی میں اسے دیکھا کرتا تھا۔ماں اکثر میرے والد کی تصویر دیوار پر لٹکانے کے لیے ہتھوڑا اور کیل لے آیا کرتی تھی۔ پھر مجھے سیمنٹ خریدنے کے لیے باہر بھیجتی تھی تاکہ دیواروں پر موجود دراڑوں کی مرمّت کی جا سکے۔گھر جتنا صاف ستھرا ہونا چاہیے وہ اسے اتنا صاف رکھنے کی کوشش کرتی۔وہ کھانا تیار کرنے کے بعد مرغے، مرغیوں، بطخوں اور خرگوشوں کے درمیان بیٹھ جاتی۔
ہماری پوری زندگی ان ہی مرغے، مرغیوں، بطخوں اور خرگوشوں کے درمیان گزر رہی تھی۔ان سبھوں کے درمیان ایک چھوٹا سا پیلا چوزہ مجھے ہمیشہ حیرت میں ڈال دیتا تھا۔اس کا جسم ریشم کی طرح نرم و ملائم تھا۔اس کے دائیں اور بائیں دونوں بازئوں میں تین تین چھوٹے چھوٹے پر نکل آئے تھے۔یہ پر بہت کمزور تھے اس کہ باوجود بھی وہ چوزہ اپنے پروں کو حرکت دے کر خود کو زمین سے اوپر اٹھانے کی کوشش کرتا۔یہ بالکل تنہا اور حیرت انگیز چوزہ تھا۔ ایک دن میں نے دیکھا کہ وہ گھر میں میری ماں کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔اس کے چلنے کا انداز بالکل ایسا تھا جیسے کوئی چھوٹا بچہ پیچھے چل رہا ہو۔وہ چلتے چلتے کبھی گرتا کبھی سنبھلتا ،لیکن میری ماں کی پیروی کرتا رہتا۔ کیا آپ تصور کرسکتے ہیںکہ وہ کیوں بخوشی چوں چوں کرتا ہوا میری ماں کے پیچھے چلتا تھا۔
ماں جانتی تھی کہ وہ اس کے پیچھے پیچھے چل رہا ہے۔یقینا وہ ہمیشہ سے اس بات کو جانتی تھی۔شاید آپ چاہتے ہوں کہ میں یہ بتائوں ایسا کیوں ہوتا تھا۔اس کی پہلی وجہ تو یہ تھی کہ میری ماں کا پیر چلتے وقت کبھی پیچھے نہیں آیا اور نہ ہی اس چوزے پر پڑا تھا۔دوسری وجہ یہ کہ میں اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا تھا اور میں یہ بھی دیکھ سکتا تھا کہ ماں چلتے وقت دیکھ لیا کرتی تھی کہ وہ اس کے پیچھے چل رہا ہے یا نہیں۔
تیسری وجہ یہ تھی کہ جب وہ گھر کے کسی کونے میں بیٹھ جاتی اور چوزے کی طرف دیکھ کر مسکراتی تب وہ فوراً اپنے پروں کو جنبش دیتا اور دوڑنا شروع کردیتا۔وہ کئی مرتبہ لڑکھڑاتا پھر کھڑا ہوجاتا،آخر کار وہ کھڑا ہوتا ہے اور ماں کی گود میں جا کر بیٹھ جاتا ہے۔
ماں اس طرح بیٹھی ہوئی ہے کہ سورج کی شعاعیں سیدھے اسی پر پڑرہی ہیں۔اب وہ اس طرح سے بیٹھتی ہے کہ سورج کی شعاعیں اس کی گود میں پڑنے لگتی ہیں۔وہ جدھر حرکت کرتی ہے چوزہ بھی اس سمت اپنا رخ کرتا ہے۔
ایک مرتبہ وہ ماں کی پشت پر بیٹھا تھا تب ماں نے اسے اپنی آغوش میں لے لیا۔ وہ ماں کی گود میں اس جگہ سوگیا جہاں سورج کی شعاعیں پڑ رہی تھیں۔وہیں بیٹھے بیٹھے ماں نے بھی اپنی آنکھیں بند کرلیں۔اپنے سر کو دیوار پر ٹیک دیااور اونگھنے لگی۔میں اس کے چہرے کے خدوخال دیکھنے لگا، اس کی پلکیں تقریباً بند ہوچکی تھیں۔ اس کی چوڑی پیشانی بالکل روشن تھی۔مجھے اس کے چہرے پر نا سمجھ میں آنے والی مسکراہٹ نظر آرہی تھی۔اس کی سیدھی آنکھ پر پَرکا ایک چھوٹا سا ٹکڑا نظر آرہا تھا۔وہ بہت گہری نیند سوئی ہوئی تھی۔ میں بمشکل اس کی سانسوں کی آوازیں سن سکتا تھا۔چوزہ سورج کی شعاعوں میں لپٹا اس کی آغوش میں سو رہا تھا۔
چوزہ ماں کے جسم پر چونچ مار رہا تھا۔اس کی چونچ ماچس کی تیلی کے کنارے سے بھی زیادہ چھوٹی تھی۔وہ ماں کی انگلیوں پر چونچ مار رہا تھا۔ ماں کی انگلیوں میں ایک انگوٹھی تھی جس پر نقش و نگار کنندہ تھے۔ میں ان نقش و نگار کو کبھی سمجھ نہیں پایا۔میں نے یہ فرض کرلیا کہ اس انگوٹھی پر ماں کا نام کنندہ تھا۔میں نے ایسا اس لیے فرض کیا تھا کیوں کہ ماں کے نام کے حروف بھی اس پر موجود تھے۔ میں نے اس چوزے سے دوستی کرنے کی کبھی خواہش نہیں کی اور نہ کبھی اسے اپنے پیچھے آنے دیااور سچائی یہی ہے کہ اس نے بھی کبھی میرے پیچھے چلنے کی کوشش نہیں کی۔خیر میرا دوست تو میرا اپنا پیارا سا کتّا تھا۔
میرا خوبصورت کتّا ہمارے گھر کے اطراف میں موجود چھوٹے سے باغ کے دروازے پر میراانتظار کرتا تھا۔لہٰذا میرے پاس ایک ایسا کتّا تھا جو میرے پیچھے پیچھے چلتا تھا۔
آپ بخوبی جانتے ہیں کہ کتّا کسی بھی طرح چوزے سے بڑا ہوتا ہے اور میرا کتّا میرا دوست تھا اس لیے وہ میرے برابر چلا کرتا تھا۔رات کی تاریکیوں میں تنگ گلیوں سے گزرتے وقت وہی میرے ڈر اور خوف کو دور کیا کرتا تھا۔ وہ بھونکتے ہوئے دوسرے کتّوں کی جانب دوڑتا تھا۔وہ ان بچوں کے پیچھے بھی دوڑتا تھا جو اسے ستانے کی کوشش کرتے تھے اور اس کے بعد ہانپتے کانپتے ہوئے میری طرف واپس آجاتا تھا۔
ایک مرتبہ رات کی رنگینیوں میں جب میں ایک موسیقی کی آواز پر رقص کر رہا تھا، میں نے دیکھا کہ وہ بھی خوشی کے ساتھ اپنی دُم کو ہلا رہا تھا اور اس کی کالی آنکھیں مجھ پر مرکوز تھیں۔وہ نہ کبھی مجھے پریشان کرتا تھا اور نہ ہی ناراض کیا کرتا تھا۔لیکن اسے یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ میں اپنے کسی اسکولی دوست سے بات رہاہوں، وہ اکثر ہماری گفتگو میں مداخلت کیا کرتا تھا۔اس وقت تک بھونکتا رہتا جب تک میں اسے ڈانٹ کر خاموش نہ کرادوں۔تب وہ اپنی دُم کو اپنے دونوں پیروں میں دبا لیتااور زمین پر اس طرح دیکھنے لگتا جیسے کچھ تلاش کر رہا ہو۔
چوزے نے کبھی ماں کے معاملات یا کسی بھی کام میں مداخلت کرنے کی کوشش نہیں کی۔ میں نہیں جانتا کہ یہ اچھی بات ہے یا نہیں۔لیکن مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ میرے کتّے کی طرح ناراض یا خوش نہیں ہوا کرتا تھا۔میں نے بہت کوشش کی کہ میرا کتّا بھی میری گود میں آکر سو سکے لیکن وہ اس بات سے بے چین ہوجاتا تھا۔وہ بیٹھتا بھی نہیں تھا۔میں نے ایک مدّت سے اچھلتے کودتے وقت بھی اس کے ناخن محسوس نہیں کیے۔وہ درخت سے گرتی ہوئی پتیوں کے پیچھے دوڑتا، جب اسے پتہ چل جاتا کہ یہ پتیاں ہی ہیں تب وہ واپس آجاتا اور اپنے پچھلے پیروں پر بیٹھ جاتا۔اکثر وہ میری گود سے فرار ہونے کے لیے اس طرح سے چالیں چلا کرتا تھا۔
باغ کے ایک کنارے پر میں نے لکڑیوں سے اس کے لیے ایک گھر بھی بنایا تھاتاکہ وہ اس میں آرام کر سکے۔میںنے اس طرح کے کئی گھرکہانیوں کی کتابوں میں تصویری شکل میں بنے ہوئے دیکھے تھے۔لیکن اسے اس گھر سے کچھ لینا دینا نہیں تھا۔کبھی کبھی وہ لکڑی کے بنے ہوئے چھوٹے گھر کے بازو میں سو جاتا۔لیکن آرام کرنے کے لیے گھر اور باغ کا دروازہ اس کی پسندیدہ جگہ تھی۔ ان جگہوں سے وہ اندر اور باہر کی بہتر طور پر نگرانی کر سکتا تھا۔کبھی کبھی وہ کسی پر حملہ کرنے کے انداز میں بھونکتا تھا۔
میری دانست میں چوزے کی سب سے بڑی چھلانگ وہ تھی جب وہ اچھل کر ماں کے کاندھے پر بیٹھ گیا تھا۔پھر اس کے بعد اس نے اپنے پروں کو موڑ دیا اور فوراً سو گیا۔ ماں نے اسے بیدار کیا، اس کی چونچ پکڑ کر اسے پانی پلایااور چاول کے دانے کھلائے۔میرا وقت گھر اور اسکول میں پڑھائی کرتے ہوئے گزرتارہا۔ اسی دوران یہ چوزا ایک مرغے کے روپ میں بڑا ہوگیا۔
ماں اس مرغے سے بہت خوش تھی۔میرے والد نے کہا کہ وہ اسے بھون کر کھانا چاہتے ہیں۔میرے بھائی چاہتے تھے کہ اسے چاول کے ساتھ پکایا جائے۔ ماں نے کسی اور ہی نیّت سے اسے دوسرے پرندوں کے ساتھ چھت پر رکھ دیا۔اب یہ مرغا بھی ان پرندوں میں سے ایک تھا۔وہ دیوار پر کھڑا ہوتااور جیسے ہی ماں کھانا اوپر کرتی وہ چیختے ہوئے اس پر جھپٹ پڑتا۔
اس مرغے کو ماںکی شفقت اور حسنِ سلوک یاد نہیں رہا۔اکثر جب وہ اس پر چھلانگ لگاتا تب اپنے پروں کو تیزی سے حرکت دیتا اورناخنوں سے ماں کی جلد کھرچنے لگتا۔ درحقیقت اب ماں بھی اس سے خوف زدہ رہنے لگی تھی۔اسی وجہ سے اب وہ اسے زیادہ سے زیادہ خود سے دور رکھنے کی کوشش کرتی۔
میں نے اکثر خرگوشوں اور دیگر پرندوں کو ماں پر اسی طرح جھپٹتے دیکھاتھا، جس طرح وہ کھانے پر ٹوٹ پڑتے تھے۔اس کے برعکس میرے کتّے میں اب نرم مزاجی آچکی تھی۔جب چھوٹے بچے اس پر چڑھ کر بیٹھ جاتے تب بھی وہ ناراض نہیں ہوتا۔صرف اپنی دُم کو ہلا دیتا۔اس کی عادت تھی کہ وہ اپنے سامنے والے پیروں کو پھیلا دیتا ، اپنی ٹھوڑی ان پیروں پر رکھتااور سوجایا کرتا تھا۔
ایک شام بہت زیادہ گرمی کے سبب میں ایک چٹائی پر لیٹا ہوا تھامیرا سر ماں کی گود میں تھااور اس کی انگلیاں آہستہ آہستہ نرمی کے ساتھ میرے بالوں میں گردش کررہی تھیں۔میں نے اس سے چوزے کے بارے میں پوچھاکہ وہ اتنے خونخوار مرغ میں کیسے بدل گیا۔
ماں مسکرائی’’اسی طرح زندگی چلتی ہے‘‘اس نے کہا۔’’وہ ان لوگوں سے خوفزدہ ہونا جانتا ہے جو اسے کھا جانا چاہتے ہیں۔‘‘
میں اپنے پنجوں پر چلتا ہوا گھر سے باہر آگیا۔ اکیلے ٹہلنے کے لیے باہر جانا چاہتا تھا۔لیکن میرا کتّا آگیا اور میرے پیچھے چلنے لگا۔اس کی د’م لہرارہی تھی اور مجھے ایسا محسوس ہو رہا تھاجیسے وہ کسی خوش کن گیت پر سیٹیاں بجا رہا ہو۔
——————————————————

انگریزی سے ترجمہ : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

مترجم نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Marked by the Moon by Nasser Yousefi

Articles

نشانِ قمر

ناصر یوسفی

کہانی ’’ نشانِ قمر‘‘ فارسی زبان سے ماخوذ ہے۔ اس کے مصنف ناصر یوسفی تعلق ایران سے ہے ۔ فارسی لوک کہانیوں پر ان کی نظر گہری ہے ۔ کہانی ’نشانِ قمر‘ میں بھی لوک کہانیوں کے اثرات کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔

——————————————–

ایک مرتبہ کا ذکر ہے۔ بہت پہلے، بہت بہت پہلے۔دنیا کے بالکل کنارے کسی ایسی جگہ پر جو نہ بہت دور اور نہ ہی بہت قریب تھی ایک لڑکی رہا کرتی تھی جس کا نام چاند پری تھا۔چاند پری بہت مددگار اور رحم دل تھی۔لیکن اس پر مایوسیوں اور اداسیوں کا بوجھ بھی تھا۔پوری دنیا میں اس کا اپنا گھر اور اس کے اپنے دوست نہیں تھے۔وہ بالکل اکیلی تھی۔وہ بی بی خانم کے یہاں رہا کرتی تھی۔بی بی خانم کی ایک لڑکی تھی جس کا نام گلاب تن تھا۔وہ بھی خوبصورت تھی لیکن رحمدل نہیں تھی۔وہ ہر ایک کا مذاق اڑایا کرتی تھی۔اگرچہ چاند پری کے پاس نہ خوبصورت لباس تھے، نہ اس کا اپنا گھر یا خاندان تھااور نہ ہی اس کے اپنے دوست تھے، اس کے باوجود بھی گلاب تن اس سے حسد کیا کرتی تھی۔
گھر کا تمام کام چاندپری کو ہی کرنا پڑتا تھا۔وہ صبح صادق سے لے کر آدھی رات تک گھر کا کام کیا کرتی تھی۔مختلف کمروں میں جھاڑو دینا، کپڑے دھونا، کھانا بنانا، کپڑے سینا اور اسی طرح کے تمام چھوٹے بڑے کام چاند پری کے ذمّہ تھے۔چاند پری ان تمام کاموں سے بہت زیادہ تھک جاتی تھی۔اس کے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں میں اتنے زیادہ برتن اور کپڑے دھونے کی طاقت نہ تھی اور نہ ہی وہ تمام کمروں میں جھاڑو لگا سکتی تھی۔کبھی کبھی تنہائی اور اکیلے پن کے احساس سے اس کا دل بھر آتا تھا۔تب وہ گھر کے پیچھے جاکر ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر رویا کرتی تھی۔اسے روتے دیکھ کر تتلیاں اس کے اطراف میں منڈلاتیں اور اس کے سر پر بیٹھ جایا کرتی تھیں۔پھول اپنا سر جھکا کر اپنی خوشبو اس پر چھڑکا کرتے تھے۔اگر رات کا وقت ہوتا تب ستارے رات بھر اس کے لیے جھلملایا کرتے تھے۔
ایک دن، گزرے ہوئے تمام دنوں کی طرح، ماضی کے تمام دنوں کی طرح چاند پری، بی بی خانم اور گلاب تن کے میلے کچیلے کپڑے دھونے کے لیے باہر گئی۔گھر کے پیچھے دو کنویں تھے۔ایک کنواں بہت پہلے ہی سوکھ چکا تھا۔لیکن دوسرا کنواں پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا۔چاندپری ایک ایک بالٹی پانی نکال کر کپڑے دھوتی رہی۔ان تمام کپڑوں کو دھونا اس کے لیے بہت مشکل کام تھا۔اس کی انگلیاں زخمی ہو چکی تھیں۔پیٹھ میں درد شروع ہو چکا تھا۔لیکن اس کے باوجود بھی اسے ابھی بہت سارے کپڑے دھونے تھے۔
اس نے تمام کپڑے دھو لیے ، انہیں سکھانے کے لیے ایک رسی پر پھیلادیااور ایک درخت کے سائے میں کچھ دیر آرام کرنے کے لیے بیٹھ گئی۔اس کی آنکھ لگ گئی اور چاندپری کو بالکل احساس نہیں ہوپایا کہ وہ کتنی دیر سے سوتی رہی ہے۔ اچانک تیز آوازسے وہ چونک کر بیدار ہوگئی۔شدید آندھی چل رہی تھی۔ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کوئی طوفان آنے والا ہو۔درخت جھومنے لگے ،خوفناک آوازیں تیز تر ہوتی چلی گئیں۔ آندھی ان تمام کپڑوں کو اڑالے گئی جسے چاندپری نے ابھی ابھی دھویا تھا۔چاندپری کپڑوں کو پکڑنے کے لیے ان کے پیچھے دوڑتی رہی۔انہیں یکجا کرنے کے لیے وہ ادھر سے اُدھر دوڑتی رہی۔ پھر اس نے اپنے اطراف دیکھا تو اسے پتہ چلا کہ کچھ کپڑے کنویں کے کنارے پر پڑے ہوئے ہیں۔ جب اس نے انہیں جمع کرنا شروع کیا تب ایک کپڑا کنویں میں گر گیا۔ چاندپری بہت گھبرا گئی۔وہ تیز آواز میں روتے ہوئے کہہ رہی تھی،’’اگر بی بی خانم کو اس بات کا پتہ چل گیا تو میں مصیبت میں آجائوں گی۔ یقینا وہ مجھے ڈانٹے گی۔ ہوسکتا ہے وہ مجھے، گھر سے ہی نکال دے۔‘‘
چاندپری آہستہ آہستہ پورے احتیاط سے کنویں میں اترنے لگی۔ اس نے سوچ لیا کہ چاہے جو ہوجائے وہ کپڑا باہر نکال کر ہی رہے گی۔ ابھی وہ زیادہ نیچے نہیں اتری تھی کہ اس کا پیر پھسل گیااور وہ نیچے گر گئی۔جب اسے ہوش آیا،اس نے اپنے اطراف دیکھا، بادل، زمین، آسمان،یہاں تک کہ درختوں اور پھولوں کے رنگ بھی مختلف تھے۔وہ بہت زیادہ خوبصورت اور دیدہ زیب تھے۔اس نے اپنی آنکھوں کو ملنا شروع کیا۔وہ خود نہیں جانتی تھی کہ وہ کہاں ہے۔اسے یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ اسے کہاں جانا ہے۔چاندپری نے بی بی خانم کا لباس تلاش کرنا شروع کیا۔ اسے تھوڑے فاصلے پر ایک جھونپڑی نظر آئی۔خاموشی سے وہ جھونپڑی کے قریب پہنچی اور اس نے دروازے پر دستک دی۔ اسے اندر سے آواز آئی کہ تم جو بھی ہو، جہاں سے بھی آئی ہو اندر آجائو۔دروازہ کھلا ہوا ہے۔چاندپری دروازہ کھول کرآہستہ سے اندر داخل ہوگئی۔اسے جھونپڑی مکمل طور پر درھم برہم نظر آرہی تھی۔ ہر چیز ادھر اُدھر بکھری ہوئی تھی۔اس پریشانی میں چاندپری کسی کو دیکھ نہیں سکی۔اسی آواز نے اسے مخاطب کرتے ہوئے کہا :’’میں یہاں ہوں، کھڑکی کی طرف دیکھو، میں یہاں بیٹھی ہوں۔‘‘
چاند پری نے اپنا سر گھمایا اور دیکھا، وہ ڈر کر کچھ پیچھے ہٹ گئی۔ایک چڑیل کھڑکی کے پاس بیٹھی ہوئی تھی۔اس نے چاند پری کی طرف مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا:’’لوگ مجھے آنٹی گھولی کہتے ہیں۔تمہارا نام کیا ہے؟‘‘چاندپری نے اچھی طرح اس کی جانب دیکھا۔آنٹی گھولی کی مسکراہٹ خوبصورت تھی۔ اس کی آنکھوں سے رحمدلی جھانک رہی تھی۔ان چیزوں کو دیکھ کر اس کا ڈر کچھ حد تک کم ہوگیا۔وہ اور قریب ہوگئی اور اپنا نام بتایا۔اسی لمحے اسے بی بی خانم کا لباس آنٹی گھولی کے ہاتھ میں نظر آیا۔چاندپری نے مسکراتے ہوئے کہا:’’یہ بی بی خانم کا ڈریس ہے اور میں اسے ہی تلاش کرتے ہوئے یہاں تک آئی ہوں۔‘‘
آنٹی گھولی نے لباس کو مضبوطی سے اپنے ہاتھوں میں پکڑلیا اور کہا،’’اگر تم میرے تین سوالوں کے جواب دوگی تب میں یہ لباس تمہیں لوٹا دوں گی اور تمہیں گھر جانے کا راستہ بھی بتا دوں گی۔‘‘چاندپری ہنسنے لگی، وہ آنٹی گھولی کی بغل میں بیٹھ گئی،اس کے پیروں پر ہاتھ رکھا اور کہا،’’اپنے سوال پوچھو لیکن یہ بھی خیال رکھو کہ سوال زیادہ مشکل نہیں ہونے چاہیے۔‘‘
آنٹی گھولی نے اپنے خیالات یکجا کرتے ہوئے پوچھا،’’کیا میرا گھر بی بی خانم کے گھر سے زیادہ خوبصورت ہے؟‘‘چاندپری نے اپنے اطراف دیکھا،ہرچیز بکھری پڑی تھی۔ایسا لگتا تھا جیسے آنٹی گھولی نے کئی سالوں سے اپنے کمرے کی صاف صفائی نہ کی ہو۔چاندپری نے اپنا سر ہلایا اور کہا،’’یہ گھر خوبصورت ہے لیکن بی بی خانم کا گھر اس سے زیادہ صاف ستھرا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی بے چین محسوس ہونے لگی۔ممکن تھا کہ وہ رودیتی لیکن چاندپری نے اس سے کہا، ’’آئو ہم دونوں ایک ساتھ کمرے کی صفائی کرتے ہیں۔‘‘فوراً اس نے خود سے کام کرنا شروع کردیا،سب سے پہلے اس نے کھڑکیاں کھولیں،اس کے بعد کمرے میں جھاڑو لگایا،ہر چیز کو اپنی صحیح جگہ پر رکھا،جتنی چیزوں کو دھونا ضروری تھا اسے دھویا،آنٹی گھولی بھی کام میں اس کی مدد کرتی رہی۔کچھ ہی وقت میں کمرہ صاف و شفاف نظر آنے لگا۔کام ختم کرنے کے بعد چاند پری نے کہا،’’اب تمہارا گھر بی بی خانم کے گھر سے زیادہ صاف اور خوبصورت ہو گیا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے کمرے کی طرف دیکھا،وہ خود بھی یقین نہیں کرسکی کہ کمرہ اتنا زیادہ صاف ہوگیا۔ وہ اتنی زیادہ خوش ہوئی کہ اسے یہ سمجھ میں نہیں آیا کہ اب کیا کرنا ہے۔چاندپری بھی مسکرانے لگی۔ اسے یاد تھا کہ اسے یہاں سے جانا ہے اس لیے اس نے آنٹی گھولی سے کہا کہ وہ اب اپنا دوسرا سوال کرے۔آنٹی گھولی نے اپنا اسکارف درست کیا،اپنے ڈریس پر ایک نظر ڈالی اور پوچھا،’’کون زیادہ خوبصورت ہے؟ میں یا بی بی خانم؟‘‘
چاندپری نے آنٹی گھولی کو بغور دیکھا،اس کا چہرہ انتہائی گندہ اور گرد آلود تھا،اس نے اچھی طرح سے اپنے ہاتھ اور منہ بھی نہیں دھویا تھا۔کافی عرصے سے بالوں میں کنگھی بھی نہیں کی تھی۔چاند پری نے ٹھنڈی آہیں بھرتے ہوئے کہا،’’مجھے آپ پر ترس آتا ہے، بی بی خانم آپ سے زیادہ خوبصورت اور نفاست پسند ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے دوبارہ بے چینی محسوس کی لیکن چاندپری نے کہا،’’آئو، کھڑے رہو اور پہلے اپنا ہاتھ منہ دھو لو۔‘‘چاندپری نے منہ ہاتھ دھونے میں آنٹی گھولی کی مدد کی۔اس کے بعد وہ نیچے بیٹھ گئی اور آنٹی گھولی کے بالوں میں کنگھی کرنے لگی۔اس نے اس کے سر پر صاف اسکارف بھی رکھا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا،’’اب آپ زیادہ نفاست پسند اور پرکشش نظر آرہی ہیں۔‘‘آنٹی گھولی نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا،وہ اپنا سر ادھر اُدھراور اوپر نیچے کرنے لگی۔پھر وہ چاندپری کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگی جبکہ چاندپری کا چہرہ آنٹی گھولی کے شانوں پر تھا، آنٹی گھولی چاند پری کا سر سہلانے لگی۔چاند پری کو اپنی ماں یاد آگئی۔اس نے آنٹی گھولی سے کہا،’’آپ بہت مہربان ہیں، آپ میری ماں کی طرح ہے۔‘‘اتنا سنتے ہی آنٹی گھولی کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔اس نے چاند پری کا چہرہ اوپر اٹھایا اور کہا،’’میری پیاری بیٹی، اب تم چلی جائو، کافی دیر ہو رہی ہے۔‘‘
چاند پری نے کہا، ’’کیا آپ بھول گئیں، آپ نے ابھی تیسرا سوال نہیں پوچھا ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے کہا ،’’تم نے خود ہی اس کا جواب دے دیا ہے۔میں یہی پوچھنا چاہتی تھی کہ ’’کون زیادہ مہربان ہے؟ میں یا بی بی خانم؟اور تم نے کہہ دیا کہ میں تمہاری ماں کی طرح ہوں۔‘‘ آنٹی گھولی نے چاندپری کو لباس لوٹا دیا اور کہا،’’کاش کہ تم ہمیشہ میرے ساتھ رہ سکتیں!کاش کہ تم میری دوست اور ساتھی ہوتیں!لیکن تمہاری جگہ یہاں نہیں ہے۔‘‘
آنٹی گھولی نے آہیں بھرتے ہوئے کہا،’’جھونپڑی کے پاس میں ایک ندی ہے، یہ دھنک ندی ہے،جب اس کا پانی نیلا ہوجائے تب تم اپنا چہرہ دھو لینا۔‘‘آنٹی گھولی نے اسے ایک پھول بھی دیااور کہا کہ ’’اسے’ گلِ آرزو ‘کہتے ہیں۔یہ تمہاری ایک خواہش پوری کرسکتاہے۔‘‘چاند پری بہت خوش ہوئی۔اس نے’ گلِ آرزو ‘اپنی جیب میں رکھا،آنٹی گھولی کا بوسہ لیا اور وہاں سے نکل پڑی۔جھونپڑی کے بازومیں اسے دھنک ندی دکھائی دی،اس نے پانی کا رنگ نیلا ہونے تک انتظار کیا،جس لمحے وہ ندی کے پانی میں اپنا چہرہ دھو رہی تھی تب اس پر مدہوشی طاری ہونے لگی،اسے محسوس ہورہا تھا جیسے دنیا اس کے سامنے گردش کر رہی ہے۔اس کے بعد کیا ہوا اسے کچھ بھی نہیں یاد رہا۔
جب چاندپری کی آنکھ کھلی تب اسے محسوس ہوا کہ وہ سوکھے ہوئے کنویں کے پاس پڑی ہے۔چاند پری نے اطراف میں دیکھا اور اپنے تمام کپڑے بالٹی میں یکجا کیے۔گھر جانے سے پہلے وہ اپنے ہاتھ دھونا چاہتی تھی۔اس نے کنویں میں بالٹی ڈالی،تب اچانک اسے محسوس ہوا کہ کنویں میں کوئی چیز چمک رہی ہے۔چاندپری اسے بغور دیکھنے لگی۔ایسا لگتا تھا جیسے کنویں میں کوئی ستارہ اتر آیا ہو۔اسے بہت تعجب ہوا۔اس نے عجلت میں پانی کی بالٹی اوپر کھینچی۔چاند پری بہت گھبرا گئی تھی۔وہ فوراً اپنے ہاتھ دھو لینا چاہتی تھی۔لیکن اب اسے ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے وہ ستارہ اس کی بالٹی میں چمک رہا ہو۔چاندپری نے اسے اور قریب سے دیکھا۔وہ چمک اس کے چہرے پر تھی۔وہ ہلالِ عید کی طرح اک چھوٹا اور خوبصورت چاند تھا جو چاندپری کی پیشانی پر جگمگارہا تھا۔
چاندپری نے اپنی پیشانی کو چھو کردیکھا،اس نے چاند نکالنے کی کوشش کی،لیکن کسی بھی طرح سے چاند اس کی پیشانی سے الگ نہیں ہوسکا۔اچانک نرم نازک ہو ا ا س کے چہرے کو چھو تے ہوئے گزرنے لگی۔پھول اسے دیکھ کر سر جھکانے لگے۔ پنکھڑیاں ٹوٹ کر اس کے پیروں پر گرنے لگی اور اسے چندا، چندا کہہ کر مخاطب کرنے لگیں۔تتلیاں اس کے اطراف منڈلاتے ہوئے اس کے کانوں کے قریب جاکر اسے چندا، چندا پکارتے ہوئے کہہ رہی تھیں کہ تم کتنی خوبصورت ہوگئی ہو!تتلیاں درخت اور ہوائیں اسے چاند پری کے نام سے مخاطب کرنے لگے۔دھیرے دھیرے اس نے گھر کا رخ کیا۔ اس نے اپنا ہاتھ پیشانی پر رکھ لیا تاکہ بی بی خانم اس کی پیشانی پر وہ چاند نہ دیکھ سکے۔ لیکن بی بی خانم نے اسے دیکھ ہی لیا۔ حیرت کی وجہ سے وہ کچھ بھی بولنے سے قاصر رہی۔ چاند پری کا چہرہ کسی چاند کی طرح روشن تھا۔ بی بی خانم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے اندر لے گئی۔ اسے اوپر سے نیچے تک دیکھنے کے بعد سوال کیاکہ کیا ہوا؟ یہ چاند کہاں سے آیا؟اورتم نے کیا کیا؟
چاند پری بہت ڈر گئی اس کے ہاتھ کانپنے لگے۔دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔اس نے کہا ’’میں نہیں جانتی ، شاید آنٹی گھولی نے ایسا کیا ہو۔‘‘
بی بی خانم نے حیرت سے دریافت کیا،’’آنٹی گھولی ! یہ آنٹی گھولی کون ہے؟‘‘پھر اس نے چاند پری کے بال کھینچتے ہوئے کہا،’’تم مجھے ضرور بتائو گی کہ تم نے کیا کیا،تم کہاں گئی تھیں؟ اور تم گلاب تن کو بھی سکھائو گی کہ تم نے ایسا کس طرح کیا۔‘‘
چاند پری خوفزدہ ہوگئی اس نے اپنا سر اثبات میں ہلاتے ہوئے کہا،’’ٹھیک ہے میں گلاب تن سے کہہ دوں گی کہ میں نے کیا کیا اور میں کہاں گئی تھی۔‘‘
اگلی صبح گلاب تن بھی بالٹی میں کپڑے بھر کر سوکھے کنویں کے قریب پہنچی،اس نے ایک لباس کنویں میں پھینک دیااور خود سے کنویں میں اترنے لگی،ابھی وہ تہہ تک بھی نہیں پہنچی تھی کہ اس کا پیر پھسل گیا۔
جب گلاب تن کو ہوش آیا تووہ جلدی جلدی اس سمت دوڑنے لگی جس کا ذکرچاند پری نے کیا تھا۔ کچھ ہی فاصلے پر اسے آنٹی گھولی کی جھونپڑی نظر آگئی۔دروازے پر دستک دیے بغیر وہ اندر داخل ہوگئی۔ اس نے سلام تک نہیں کیا۔وہ سیدھے اندر داخل ہوئی اور ایک کنارے پر جا کر بیٹھ گئی۔ آنٹی گھولی نے اسے دیکھا اور دریافت کیا،’’تم کون ہو؟ تم کہاں سے آئی ہو اور تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
گلاب تن نے نہ ہی اپنا نام بتایا اور نہ ہی یہ کہا کہ وہ کہاں سے آئی ہے۔اس نے صرف اتنا کہا کہ میں نے اپنا لباس گم کردیا ہے، مجھے میرا لباس دے دو اور میری پیشانی پر نشانِ قمر بنا دو۔
آنٹی گھولی نے اس سے کہا میں تم سے تین سوالات پوچھوں گی، اگر تم نے ان کے جوابات دے دیئے تو میں تمہیں تمہارا ڈریس لوٹا دوں گی اور تمہیں گھر کا راستہ بھی بتا دوں گی۔ اس نے اس کمرے کی طرف اشارہ کیا جسے چاند پری کی مدد سے اس نے صاف کیا تھا اور دریافت کیا کہ’’مجھے بتائو کیا میرا گھر بی۔بی خانم کے گھر سے زیادہ خوبصورت ہے۔‘‘
اطراف میں دیکھے بغیر گلاب تن نے جواب دیا۔’’ تمہارا یہ گھر کسی اصطبل کی طرح بدنما ہے۔ ہمارا گھر اس سے زیادہ صاف و شفاف اور خوبصورت ہے۔‘‘
آنٹی گھولی بے چینی محسوس کرنے لگی، اس نے سوچا شاید گلاب تن گھر کی صاف صفائی میں اس کی مدد کرے گی۔لیکن گلاب تن نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔
آنٹی گھولی نے دوسرا سوال کیا،’’مجھے بتائو کون زیادہ خوبصورت ہے؟ میں یا بی بی خانم؟‘‘
اس کے الفاظ سنتے ہی گلاب تن کھڑی ہو گئی اور کہا، ’’یہ بالکل واضح ہے کہ میری ماں زیادہ خوبصورت ہے۔میری یاداشت کے مطابق تم بد صورت ترین عورت ہو۔‘‘
آنٹی گھولی دوبارہ بے چینی محسوس کرنے لگی اور بہت اداس ہوگئی، اس نے سوچا شاید گلاب تن اسے خوبصورت بنانے میں مدد کرے گی۔ لیکن گلاب تن نے ایسا کچھ بھی نہیں کیا۔لہٰذا آنٹی گھولی نے اس سے تیسرا سوال نہیں کیا۔ اس نے سمجھ لیاکہ گلاب تن کا دل تاریکیوں سے بھرا ہوا ہے۔ آنٹی گھولی نے اسے گھر کا راستہ بتاتے ہوئے کہا،’’ندی کے کنارے سے جائو اور جب ندی کا پانی سفید ہوجائے تو اپنا چہرہ دھو لینا۔ ‘‘
آنٹی گھولی ندی کے سفید پانی سے گلاب تن کی تمام برائیاں دھونا چاہتی تھیں۔گلاب تن تیزی سے باہر نکلی اور ندی کے کنارے انتظار کرنے لگی۔ ندی مختلف رنگوں میں تبدیل ہوتی رہی، اس کے بعد ندی سفید ہوگئی لیکن گلاب تن نے اپنا چہرہ نہیں دھویا۔ اس نے اپنے آپ سے کہا ’’سفید پانی اتنا خوبصورت نہیں ہے،مجھے اس کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ اس نے ندی کو اور رنگوں میں تبدیل ہونے کا انتظار کیا،جب پانی سرخ ہوگیا تب گلاب تن بہت خوش ہوئی اور اس نے اپنا چہرہ دھولیا۔
جب گلاب تن نے اپنی آنکھیں کھولی تو اسے پتہ چلا کہ وہ اپنے بستر پر پڑی ہوئی ہے اور بی بی خانم اس کے بازو میں بیٹھی ہوئی ہے۔ گلاب تن اٹھ بیٹھی اور دریافت کیا’’کیا میری پیشانی پر بھی نشانِ قمر موجود ہے؟‘‘
بی بی خانم رونے لگی، گلاب تن نے قریب ہی موجود پانی سے بھرے ہوئے پیالے میں اپنا عکس دیکھا، چیختے ہوئے اس نے وہ پیالہ دور پھینک دیا۔ اس کی پیشانی پر ایک لال رنگ کا بڑا سا بدنماداغ ابھر آیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے خون سے بھرا ہوا پھوڑا ابھر آیا ہو۔
گلاب تن خوفزدہ ہو کر چیخنے لگی، چاند پری دوڑتے ہوئے اس کے کمرے میں پہنچی، اس کے چہرے پر موجود چاند کی وجہ سے پورا کمرہ روشن ہوگیا۔وہ خاموشی سے گلاب تن کے قریب گئی اور اس بدنما داغ کو دیکھا۔
گلاب تن نے چاند پری کو تمام واقعات کی تفصیل بتائی، اور اس کی گود میں سر رکھ کر رونے لگی۔ چونکہ گلاب پری خود بھی اپنی زندگی میں بہت رو چکی تھی لہٰذا کسی کو روتے دیکھنا چاند پری کو بالکل پسند نہیں تھا۔وہ گلاب تن کے لیے کچھ کرنا چاہتی تھی لیکن اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔
اچانک اسے ’گلِ آرزو‘یاد آگیا۔ اس نے اپنا ہاتھ اپنے اسکرٹ کی جیب میں ڈالا۔ ’گلِ آرزو‘ اب بھی وہاں موجود تھا۔ اگرچہ کہ اس کی اپنی بہت ساری آرزوئیں اور خواہشات تھیں لیکن اس نے انہیں پرے رکھتے ہوئے ’گلِ آرزو‘کو باہر نکالا۔ چاند پری نے اس کی پنکھڑیوں کو رگڑتے ہوئے کہا، ’’اے ’گلِ آرزو‘ اس دنیا میں میری بھی بہت ساری آرزوئیں اور تمنائیں ہیں لیکن میں کسی کو اداس اور غمگین نہیں دیکھ سکتی۔ اگر تم واقعی ’گلِ آرزو‘ہو تو ایسا کچھ کرو کہ گلاب تن پھر کبھی رو نہ سکے۔‘‘
ابھی چاند پری کے الفاظ ختم بھی نہیں ہو پائے تھے کہ گلاب تن کی پیشانی پر موجود لال بدنما داغ زائل ہونا شروع ہوااور پھر دھیرے دھیرے اس طرح سے غائب ہوگیا جیسے پہلے کبھی تھا ہی نہیں۔ بی بی خانم اتنا خوش ہوئی کہ اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اب وہ کیا کرے۔ گلاب تن بھی بہت خوش تھی۔ چاند پری ’گلِ آرزو‘ لے کر کمرے سے نکل گئی۔ وہ صحن میں بیٹھ کر سوچنے لگی، اس نے سوچا کہ اگلے دن اسے بی بی خانم اور گلاب تن کے لیے بہت سارا کام کرنا پڑے گا۔ اس نے یہ بھی سوچا کہ بی بی خانم اور گلاب تن اب بھی اس کے ساتھ بُرا سلوک کریں گے۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔ ایسا لگتا تھا جیسے دھنک ندی کے سفید پانی نے ان لوگوں کے کالے دلوں کو دھو دیا ہو۔ ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے ’گلِ آرزو‘ نے بی بی خانم اور گلاب تن کی ساری برائیوں کو زائل کردیا ہو۔
——————————————-

انگریزی سے ترجمہ : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

مترجم نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Granny Long Tongue by Chiba Mikio

Articles

لمبی زبان والی بُڑھیا

شیبا میکیو

کہانی ’لمبی زبان والی بڑھیا کی مصنفہ ‘شیبا میکیو1944میں جاپان کے می یاگی پری فیکچر نامی شہر میں پیدا ہوئیں۔ادبِ اطفال کے لیے سرگرم رہنے کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف آرٹ میں انہوں نے تقریباً نو سالوں تک تصویری کتابوں کانظریہ اور ادبِ اطفال کی تدریس کی۔انھوں نے جاپانی کہانیوں میں پائے جانے والے بھوت پریت اور عجیب الخلقت مخلوقات پر کافی کام کیا ہے یہی وجہ ہے کہ انہیں عجیب الخلقت مخلوق کا اسکالر بھی کہا جاتا ہے۔

———————————————–

اس کہانی کے تانے بانے اس وقت بُنے گئے جب بھوت پریت نہ صرف پہاڑوں پر بلکہ جنگلوں میں بھی رہا کرتے تھے۔اس وقت’ اُکوماٹا پاس‘ نامی جگہ پر واقع’ اُکویاما پہاڑ‘ پر لمبی زبان والی بڑھیا اور ریڈ بین نامی دیو رہاکرتے تھے۔بڑھیا کی زبان سانپ کے پھن سے زیادہ لمبی اور چابک سے زیادہ مضبوط تھی۔ریڈ بین کا چہرہ جھونپڑی کی کھڑکی سے زیادہ بڑا تھا۔ جب وہ اپنے دانت باہر نکال کر اپنا چہرہ اوپر کرتا تب اتنا بھیانک نظر آتا کہ خوف سے پہاڑی ریچھ بھی اپنی آنکھیں بند کرلیتے۔
لمبی زبان والی بڑھیا اور ریڈ بین اُکوماٹا پاس نامی علاقے کے گمشدہ لوگوں کو خوف زدہ کیا کرتے تھے اورانہیں اپنا یہ کام بہت پسند تھا۔بعد میں دھیرے دھیرے لوگوں نے پہاڑ کی جانب جانا بند کردیا۔
’’اے بڑھیا ! کیا تمھیں لگتا ہے کہ ہم نے تمام انسانوں کو خوف زدہ کردیا؟‘‘
’’ریڈ بین ! بے وقوف مت بنو۔یہاں اتنے انسان ہیں جتنا درختوں پر پتیاں ۔میرے دماغ میں ایک خیال آیا ہے ،کیوں نہ ہم یہاں سے باہر جائیں اور لوگوں کو ڈرائیں، خوف زدہ کریں؟‘‘
لمبی زبان والی بڑھیا ایک جست میں ریڈبین کے شانوں پر پہنچ گئی۔ بے ہنگم چال چلتے ہوئے وہ جنگلوں سے گزرے۔ انھوں نے دیکھا جنگل اب جنگل نہیں سپاٹ میدان میں تبدیل ہوچاک تھا۔ جنگل سے پہاڑ کے دامن تک موجود تمام درخت کاٹ دیے گئے تھے۔
’’اوہ! یہاں کی ہوا تازہ اور منظر بھی پر کشش ہے ۔‘‘ریڈ بین نے کہا۔
اس بات نے لمبی زبان والی بڑھیا سخت ناراض ہوئی اور پاگلوں کے انداز میں کہا۔
’’بے وقوف مت بنو!یہاں ایک بھی درخت موجود نہیں ہے۔انسانوں نے تمام درخت کاٹ دیے ہیں۔یقینا بارش کے موسم میں یہاں سیلاب آجائے گا۔ ریڈ بین جلدی گائوں میں چلو۔مجھے اس تعلق سے برے خیالات آرہے ہیں۔‘‘
دھمک ۔۔۔۔۔۔۔دھمک ۔۔۔۔۔۔د ھمک ۔۔۔۔۔۔۔۔دھمک ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ پہاڑوں کے دامن میں واقع ایک بڑی جھیل کے قریب پہنچے۔
’’دیکھو یہ راستہ سیدھے جھیل میں جاتا ہے۔اے بڑھیا !کیا تم سمجھتی ہوکے گائوں یہیں کہیں پانی کے نیچے ہے۔‘‘
’’بے وقوف مت بنو!انسانوں نے تمام درخت کاٹ دیے اور جنگلات کو برباد کردیا۔مٹی کے تودے اور لکڑیوں نے ندی کا راستہ بند کردیا ہے۔جلدی آگے بڑھو اور گائوں کی طرف چلو! سورج نیچے آتا جا رہا ہے۔‘‘
دھمک۔۔۔۔۔۔۔۔دھمک۔۔۔۔۔۔۔دھمک  جب وہ گائوں کے کنارے پہنچ گئے، انہوں نے بغیر پانی کا ایک تالاب دیکھا۔
’’بڑھیا ! دیکھو زمین پر کتنا بڑا انڈا پڑا ہوا ہے۔‘‘
’’بے وقوف مت بنو!یہ اژدھے کا موتی ہے!یہ تالاب یقینا اژدھا دیوتا کا ہے جو گائوں کے اوپر سے سب دیکھ رہا ہے۔مجھے لگتا ہے اژدھا پانی سوکھنے کے بعد کہیں اور چلا گیا ہے۔مجھے امید ہے ہر چیز ٹھیک ہی ہوگی۔ـ‘‘
گائوں میں بالکل سنّاٹا تھا۔معمولی سی آواز بھی سنائی نہیں دے رہی تھی۔حتیٰ کہ باورچی خانوں کی کھڑکھڑاہٹ اور کتوں کے بھونکنے کی آوازبھی نہیں آرہی تھیں۔
’’مجھے انسانوں کی بو آرہی ہے۔‘‘ریڈ بین نے ایک کھڑکی میں جھانکتے ہوئے چیخ کر کہا۔
کمرے کے اندر فرش پر اپنے والدین کے ساتھ دوبچے سکڑے ہوئے بیٹھے تھے۔وہ سب بہت تھکے ہوئے نظرآرہے تھے۔ان کے گھٹنے سینوں سے چمٹے ہوئے تھے۔
’’میری طرف دیکھو! میں لمبی زبان والی بڑھیا ہوں۔‘‘
اس نے اپنی لمبی زبان کسی چابک کی طرح باہر نکالی اور وہاں موجود ہر ایک شخص کے سر کے اطراف میں چاٹنا شروع کیا۔ لیکن ان لوگوں نے بس معمولی سی حرکت کی، صرف اپنے سر کو یہ دیکھنے کے لیے اوپر اٹھایا کہ کیا ہو رہا ہے۔(اور پھر پہلی حالت میںواپس ہوگئے)
’’لوگو! تمہیں کیا ہوا ہے؟ کیا تم بھوت پریت سے خوف زدہ نہیں ہوتے؟ ‘‘لمبی زبان والی بڑھیا نے حیرت سے پوچھا۔والد نے بالکل باریک اور دھیمی آواز میں جواب دیا۔’’ہمارے پاس ڈرنے اور خوف زدہ ہونے کی بھی طاقت نہیں ہے۔ ہمارے پاس کل سے کھانے کے لیے روٹی کا ایک ٹکڑا بھی نہیں ہے۔جب سے ندی خشک ہوئی ہے ہم چاول اور آلو بھی اگا نہیں سکے۔‘‘
’’تب تو ٹھیک ہے! لیکن تم جھیل سے پانی کیوں نہیں لے آتے؟‘‘
’’ہم اس کے قریب جانے سے بہت ڈرتے ہیں۔جب کبھی ہم اس کے قریب جاتے ہیں تب زمین حرکت کرنے اور لرزنے لگتی ہے۔اب ہمارے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم تمہارے جیسی خوفناک اور ڈراونی مخلوق سے مدد مانگیں۔کیا تم کنارے پر راستہ بنانے میں ہماری مدد نہیں کروگے تاکہ پانی بہتا ہوا دوبارہ ندی میں آجائے؟‘‘
جب کوئی مصیبت میں ہوتا ہے تب عفریت بھی اس کی مدد کردیتے ہیں۔لمبی زبان والی بڑھیا اور ریڈ بین عجلت میں جھیل کی طرف جانے لگے۔
’’ریڈ بین! ٹھیک ہے، ہم یہاں زمین میں ایک راستہ بنانے جارہے ہیںتاکہ پانی بہہ سکے۔‘‘
’’لیکن بڑھیا! ہمارا کام تو لوگوں کو ڈرانا اور خوف زدہ کرنا ہے۔ہم کیوں ان کی مدد کریں؟‘‘
’’جب انسان آسودہ حال ہوجائے گا ،تب وہ دوبارہ ہم سے ڈرنے لگے گا۔‘‘
اس طرح سے لمبی زبان والی بڑھیا اور ریڈ بین جھیل کے راستے میں پھنسے ہوئے لکڑی کے بڑے بڑے ٹکڑوں اور مٹی کے تودوں کو ہٹانے لگے۔
جیسے ہی پانی نے دوبارہ بہنا شروع کیا ، ان لوگوں نے اتنی تیز آواز سنی کہ پانی بھی دہل گیا۔
ـ’’اے! تم کیا سوچ رہے ہو :یہ تم نے کیا کیا؟‘‘
انہوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک دیو قامت اژدھا ان کی طرف دیکھ رہا تھا۔ اس کا جسم اتنابڑا تھا کہ اس سے پوری جھیل بھری جا سکتی تھی۔
’’خدا رحم کرے! دیکھو تم کتنے بڑے ہو۔یقینا تم وہ اژدھے ہو جو اژدھا دیوتا کے اس تالاب میں رہتے تھے۔تم اتنے بڑے کیسے ہوگئے؟‘‘
’’ہم اژدھے اسی طرح کے ہوتے ہیں۔اگر ہم تالاب میں رہیں تو ہم تالاب جتنے ہی بڑے ہو جاتے ہیں۔اگر ہم جھیل میں رہیں تب جھیل اتنے بڑے ہوجاتے ہیں۔اگر ہم آسمان میں اڑنا شروع کردیں تب ہم بادلوں کے برابر جسامت اختیار کرجائیں گے۔‘‘
اژدھا اپنے جسم کو لپیٹتا ہوا قریب سے قریب تک آتا گیا۔
“میں ان لوگوں کو سبق سکھانے جا رہا ہوں جنھوں نے اس تالاب کو خالی کردیا جہاں میں رہا کرتا تھا۔لیکن اس سے پہلے میںتم دونوں سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہوں۔”
“او! ریڈ بین ! بھاگو یہاں سے، جلدی بھاگو”
بڑھیا نے جنگل کی طرف بھاگتے ہوئے اپنی لمبی زبان ایک درخت کے اطراف میں لپیٹ دی۔لیکن ریڈ بین کی رفتار بہت سست تھی، اژدھے نے اسے اپنی گرفت میں لے کر ہوا میں اڑا دیا۔
’’ریڈ بین ! ہوا میں لٹکے رہو میں تمھیں بچا لوں گی۔‘‘
’’اوہ! تم اپنی زبان مجھ سے دور رکھو۔‘‘اژدھا اپنے جسم کو ادھر ادھر کرتے ہوئے چیخنے لگا۔
ریڈ بین اژدھے کے پھن سے آزاد ہو کر جھیل میں گر چکا تھا۔اس کے بعد بڑھیا نے حیرت انگیز طور پر اژدھے کی ناک باندھ دی۔
اوہ! اوہ! اوہ! اژدھا پھڑپھڑانے لگااور ایک زوردار چھینک ماری۔اتنی زوردار چھینک کہ پانی جھیل سے تیزی کے ساتھ کناروں کی طرف بہنے لگا۔اچانک کنارے پر ایک راستہ بن گیا۔پانی سیلاب کی طرح تیزی سے ندی میں بہنے لگا۔بڑھیا اور ریڈبین دونوں بھی گائوں کی جانب بہنے لگے۔
پانی نے انہیں اژدھا دیوتا کے تالاب تک پہنچا دیا۔
’’بڑھیا ! دیکھو اژدھا دیوتا کا تالاب اپنی پہلی حالت میں واپس آگیا۔‘‘
’’ریڈبین ! اس جانب دیکھو، تالاب میں اژدھا دیوتا کا موتی بھی نظر آ رہا ہے۔ دیکھو یہ کتنا چمک رہا ہے۔اژدھے کا موتی سات الگ الگ رنگوں میں چمک رہا تھا۔بڑھیا نے اسے آسمان کی طرف اٹھایا اور ناگ کو آواز دی۔
’’اے ناگ! تمہارا موتی دوبارہ پہلے کی طرح چمکنے لگا ہے۔ایک اچھا اژدھا بن جائو اور ہمیشہ کے لیے اندر چلے جائو۔یہی تمہارا گھر ہے۔‘‘
اتنا سنتے ہی اژدھا کہرے سے باہر نکلا اور اپنے موتی میں چلا گیا۔بڑھیا نے اس موتی کو آہستہ سے تالاب کے گہرے حصے میں رکھ دیا۔اب گائوں کی ہر چیز اپنی پرانی حالت پر لوٹ چکی تھی۔لیکن بڑھیا کے چہرے پر فکر مندی کے آثار نمودارتھے۔
اس نے گائوں والوں سے کہا،’’یہ سب بھیانک واقعات صرف اس لیے ہوئے کہ آپ لوگوں نے تمام درخت کاٹ دیے۔جائو اورابھی دوبارہ پہاڑوں کے دامنوں اور جنگلوں میں درخت لگائو،بالکل اسی طرح جس طرح پہلے تھے۔‘‘
لوگوں نے پہاڑوں کے دامن اور جنگلوں میں بالکل اسی طرح درخت لگا دیے جس طرح کا مشورہ بڑھیا نے دیا تھا۔ہر سال درخت بڑھتے ہی گئے۔جنگل بھی پہلے کی طرح ہوگیا۔ہر چیز اچھی ہوگئی۔ بارش بھی بھرپور ہونے لگی۔اب جب کبھی گائوں کے لوگ جنگلات کی طرف آتے تب وہ گمشدہ ہونے کا بہانہ کرتے اور لمبی زبان والی بڑھیا کی جھونپڑی کی طرف چلے جاتے۔وہ سورج ڈوبنے تک وہیں رہتے اور انتظار کرتے کہ بڑھیا اپنی زبان سے ان کے سروں کو چاٹے گی۔جبکہ ریڈ بین انہیں اب بھی ڈراتا تھا۔ لیکن اب وہ اچھے دوست بن چکے تھے اور خوشی خوشی رہنے لگے تھے۔
——————————————————

انگریزی سے ترجمہ : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

مترجم نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

The Angel’s Feather by Angela Nanetti

Articles

فرشتے کا شہپر

انجیلا نانیتی

 

کہانی ’فرشتے کا شہپر‘ اطالوی زبان سے لی گئی ہے ۔ اس کی مصنفہ انجیلا نانیتی نے بچوں اور بالغوں کے لیے تقریباً بیس کتابیں لکھی ہیں۔ان کتابوں کے مختلف زبانوں میں تراجم ہوچکے ہیں۔انھیں ا کو”دی ہنس کریسچن اینڈرسن میڈل” (نوجوانوں کے لیے تحریر کردہ کتابوں پر دیا جانے والابین الاقوامی میڈل) سے بھی سرفراز کیا گیا۔انجیلا فی الحال پیس کارہ (اٹلی)میں سکونت پذیر ہیں۔
————————————–

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک فرشتے نے اپنا پر کھودیا۔حالانکہ ایسا بمشکل دو یا تین سو سالوں میں ایک مرتبہ ہوتا ہے لیکن اب یہ حادثہ رونما ہو چکا تھا۔وہ فرشتہ ایک ویران جھیل کے اوپر پرواز کر رہا تھا۔نیلے آسمان سے اسے حد نگاہ تک چراگاہیں ہی چراگاہیں نظر آ رہی تھیں۔اس پر اِس مسحور کن خوبصورتی کا خمار چھانے لگااور اس کے دل میں پانی کو چھونے کی خواہش بیدار ہوئی۔وہ پانی پر اترتا چلا گیا۔اسی لمحے اس کے پر ٹوٹ گئے۔اس کے وہاں سے گزرتے ہی پانی پر لرزہ طاری ہوگیا۔فرشتے نے اس حال میں آسمان کی طرف پرواز کی کہ اس کا ایک پر جھیل کے پانی پر ہی رہ گیا۔تب تک نہ کسی نے فرشتے کو دیکھا تھا اور نہ ہی اس کے ٹوٹے ہوئے پروں کو۔پانی پرصرف سفید چاندنی جیسی روشنی نظر آرہی تھی۔پانی نے دھیرے دھیرے اُس فرشتے کے پر کو ساحل تک پہنچا دیا۔
وقت گزرتا گیا جس جگہ فرشتے کا پر پڑا ہوا تھا اب وہاں پھول اگ آئے تھے۔صاف و شفاف خوبصورت پنکھڑیوں اور نازک تنوں کے ساتھ کھلنے والے پھول ساحلوں پر چھا گئے تھے۔اس سے پہلے ایسے پھول یہاں کبھی نہیں دیکھے گئے تھے۔اِس ویران جھیل پر سوائے اُس فرشتے کہ اور کوئی نہیں آتا تھا۔
ایک دن ایک عورت کے ساتھ ایک مرد کی وہاں آمد ہوئی۔ عورت انتہائی خوبرو اور جاذب نظر تھی اور مرد بھی اُس سے بہت محبت کرتا تھا۔شاید وہ کہیں دور کا سفرطے کرکے آئے تھے۔ تھکن کا احساس اُن کے چہروں سے نمایاں تھا۔ وہ جھیل کے ساحل پر رُکے اور وہاں کھلے ہوئے پھولوں کو دیکھنے لگے۔ یہ لوگ بہت غریب تھے لہٰذا مرد نے سوچا کہ یہ پھول اس عورت کے لیے بہترین تحفہ ہوں گے۔ ابھی وہ پھول توڑنے ہی والا تھا کہ عورت نے اسے منع کردیا۔اس نے کہا کہ ان پھولوں کو توڑا نہ جائے۔کیونکہ یہ پھول بہت خوبصورت ہیں اور ان کی طرف دیکھ لینا ہی کافی ہے۔
اس آدمی نے عورت سے کہا’’آئو اسی جگہ پر رک جاتے ہیں اور اپنا ایک مکان تعمیر کرتے ہیںتاکہ ہم ان پھولوں کو ہمیشہ دیکھتے رہیں۔‘‘ عورت نے بھی اپنی رضامندی ظاہر کردی۔
وہ دونوں وہیں رک گئے اور جھیل کے پتھروں اور جنگلی لکڑیوں سے اپنا گھر تعمیر کیا۔درختوں کی ہری بھری شاخوں سے کھڑکیوں کو سجایا۔روٹی سینکنے کے لیے ایک چولھا بھی بنایا اور کپڑے سکھانے کے لیے رسیاں باندھ دیںاور کھیتی کے لیے زمین بھی ہموار کرلی۔پھر اس شخص نے کہا’’اب ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ عورت نے دوبارہ رضا مندی میں اپنا سر ہلا دیا۔
لیکن جنگلوں کی مٹی لالچی تھی یہاں بیری اور جنگلی پھل تو اگتے رہے لیکن گیہوں کی فصل نے انہیں مایوس کیا۔یہاں بُنے ہوئے کپڑے بھی نہیں تھے۔برف باری کی وجہ سے یہاں ایسے پودے بھی نہیں پائے جاتے تھے جن سے کپڑے بنائے جاسکیں۔اسی حال میں ان کے یہاں پہلے بچے کی پیدائش ہوئی۔ اس موقع پرآدمی اپنی بیوی کو ایک خوبصورت قیمتی پتھر تحفے میں دینا چاہتا تھا۔وہ اپنی بیوی سے بے پناہ محبت کرتا تھا لیکن اس کے جیب میں چند سکوں کے علاوہ کچھ نہ تھا۔مایوس ہو کر وہ جھیل کے ساحل پر چلنے لگا تاکہ کم از کم وہاں سے ایک پھول توڑ کر اپنی بیوی کو تحفے میں دے سکے۔لیکن رات بھر تیز ہوائیں چلتی رہیں اور ان ہوائوں نے پھولوں کو تہس نہس کرکے ان کی پنکھڑیوں کو جھیل پر بکھیر دیاتھا۔
اس آدمی نے خود سے کہا’’صبر‘‘کرو،میں انہیں جمع کروں گا اور اس سے ایک ہار بنائوں گا۔
وہ اپنے گھر واپس آیا، اپنا جال اٹھایا اور جھیل پر پہنچ کر بکھری ہوئی پنکھڑیوںکو جمع کرنے لگا۔ جب اس نے بہت ساری پنکھڑیاں جمع کرلیں تب اسے نظر آیا کہ کوئی چیز اس کے جال میں چمک رہی ہے۔ اس نے اسے اٹھا کر سوچا شاید کوئی چھوٹی مچھلی ہے؟لیکن اس نے دیکھا کہ وہ ویسی نہیں ہے جیسی مچھلیاں وہ عام طور پر پکڑا کرتا ہے۔اسے محسوس ہوا کہ یہ کوئی قیمتی دھات یا خالص چاندی سے بنی ہوئی کوئی شئے ہے۔کہیں کہیں سے یہ شئے سونے کی طرح بھی چمکتی نظر آ رہی تھی۔
حیرت اور خوشی کے جذبات سے سرشار وہ اُس چیز کو عورت کے پاس لے آیا اور کہا ’’میں شہر جاکر اسے بیچ دوں گا اور تمہارے لیے، تمہاری آنکھوں کے رنگ کا ایک خوبصورت پتھر خرید لائوں گا۔‘‘
لیکن عورت نے انکار کردیااور کہا کہ’’ اس طرح کی مچھلیاں فروخت کرنے کے لیے نہیں ہوتیں۔یہ اتنی خوبصورت ہے کہ اس کی طرف دیکھنا ہی کافی ہے۔‘‘
اِس مرتبہ آدمی نے عورت کی باتوں پر دھیان نہیں دیا۔وہ مچھلی بیچ کر خوبصورت پتھر خریدنے کے لیے شہر چلا گیا۔کچھ دیر بعد وہ مطمئن ہوکر اس عورت کے پاس واپس آگیا۔آتے ہی اس نے کہا ’’یہ میری طرف سے تمہارے لیے تحفہ ہے۔‘‘لیکن اس عورت کے چہرے پر مسکراہٹ جیسی کوئی چیز نظر نہیں آئی۔
کچھ ہی عرصہ میں چاندی کی مچھلی کی خبر پورے شہر میں پھیل گئی۔اس کے بعد لوگ بھیڑ کی شکل میں جھیل کی طرف نکل پڑے۔
ان لوگوں نے ہر قسم کا جال پھیلایااور مختلف قسم کی مچھلیاں پکڑیں لیکن ان میں کوئی مچھلی اس چاندی کی مچھلی کی طرح نہیں تھی۔ اس کے بعد بھی انہوں نے اپنی کوشش نہیں چھوڑی اور اس وقت تک مچھلیاں پکڑتے رہے جب تک پانی آلودہ اور جھیل کی تمام مچھلیاں ختم نہیں ہوگئیں، جب تک پھولوں کے تنے ٹوت کر بہہ نہ گئے،جب تک پھولوں کا نام و نشان مٹ نہ گیا۔
اس عورت نے سوچا کہ اب یہاں دوبارہ کبھی پھول نہیں کھلیں گے اور وہ بہت اداس ہوگئی۔ اس نے اس پتھر کو اٹھایا جس کے سبب اتنی تباہی پھیلی تھی اور اسے جھیل میں پھینک دیا۔آدمی نے اسے دیکھا لیکن کچھ بھی نہیں کہا۔ اس کے بعد وہ کبھی بھی خوش نہیں رہ سکے۔
گرمیوں کا موسم گزر گیا اور موسمِ سرما آگیا۔یہ برفیلا اور طوفانی سرد موسم تھا۔ایک رات ان کا بچہ روتے ہوئے بیدار ہوا، ماں نے اسے تسلّی دیتے ہوئے گیت گانا شروع کیا۔اس کا گیت ہوا کے دوش پر تیرتا ہوا کھڑکیوں سے باہر نکلا۔تب برفیلے طوفان اور گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ایک فرشتہ وہاں سے گزررہا تھا۔فرشتہ راستہ بھٹک چکا تھا۔اس نے مترنم آواز میں اس عورت کو گاتے ہوئے سنا۔گیت کی نغمگی اس کے حواس پر چھا گئی اوراسے محسوس ہونے لگا کہ وہ اپنے گھر واپس آچکا ہے۔وہ آندھیوں کی پیروی کرتا ہوا جھیل کی سطح سے کافی نیچے پرواز کرنے لگا۔جب وہ کھڑکی کے سامنے پہنچا تب اسے احساس ہوا کہ اس سے غلطی ہوگئی ہے۔لیکن وہ گیت اتنا میٹھا اور مترنم تھا کہ فرشتہ وہاں رک کر اسے سننے لگا۔
بچے کے سونے تک وہ عورت گاتی ہی رہی اور فرشتہ کھڑکی کے پاس کھڑا رہ کر سنتا رہا۔کچھ دیر بعد اس نے اپنے پروں کو حرکت دی اور وہاں سے پرواز کرگیا۔شاید اسی وقت آندھی نے اس کے ایک پر کو توڑ دیا۔ صبح کے وقت اُس کاپَر منجمد جھیل پر کسی چمکتی ہوئی چاندی کی طرح پڑا ہوا تھا۔
کسی نے بھی اس پر غور نہیں کیا۔ سب یہی سمجھتے رہے کہ یہ چمکتی ہوئی شئے سورج کی شعاعوں کا عکس ہے۔لیکن بہار کے موسم میں جب برف پگھلنے لگی تب جھیل میں ایک صاف و شفاف نئے پودے کھلتے ہوئے نظر آئے۔
وہ عورت اور آدمی کبھی یہ جان نہیں پائے کہ کوئی فرشتہ بھی کبھی ادھر سے گزرا تھا۔ لیکن اس کے بعد سے وہ دونوں دوبارہ خوش رہنے لگے۔
——————————-

انگریزی سے ترجمہ : ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر

مترجم نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Intekhab – e- Kalam Firaq Gorakhpuri

Articles

انتخابِ کلام فراق گورکھپوری

فراق گورکھپوری

1

زیر و بم سے سازِ خلقت کے جہاں بنتا گیا

یہ زمیں بنتی گئی یہ آسماں بنتا گیا

داستانِ جور بے حد خوں سے لکھتا ہی رہا

قطرہ قطرہ اشکِ غم کا بے کراں بنتا گیا

عشقِ تنہا سے ہوئیں آباد کتنی منزلیں

اک مسافر کارواں در کارواں بنتا گیا

میں ترے جس غم کو اپنا جانتا تھا وہ بھی تو

زیبِ عنوانِ حدیثِ دیگراں بنتا گیا

بات نکلے بات سے جیسے وہ تھا تیرا بیاں

نام تیرا داستاں در داستاں بنتا گیا

ہم کو ہے معلوم سب رودادِ علمِ و فلسفہ

ہاں ہر ایمان و یقیں وہم و گماں بنتا گیا

میں کتاب دل میں اپنا حالِ غم لکھتا رہا

ہر ورق اک بابِ تاریخِ جہاں بنتا گیا

بس اسی کی ترجمانی ہے مرے اشعار میں

جو سکوتِ راز رنگیں داستاں بنتا گیا

میں نے سونپا تھا تجھے اک کام ساری عمر میں

وہ بگڑتا ہی گیا اے دل کہاں بنتا گیا

وارداتِ دل کو دل ہی میں جگہ دیتے رہے

ہر حسابِ غم حسابِ دوستاں بنتا گیا

میری گھٹی میں پڑی تھی ہو کے حل اردو زباں

جو بھی میں کہتا گیا حسنِ بیاں بنتا گیا

وقت کے ہاتھوں یہاں کیا کیا خزانے لٹ گئے

ایک تیرا غم کہ گنجِ شائگاں بنتا گیا

سر زمینِ ہند پر اقوامِ عالم کے فراقؔ

قافلے بستے گئے، ہندوستاں بنتا گیا

2

نگاہِ ناز نے پردے اٹھائے ہیں کیا کیا

حجاب اہلِ محبت کو آئے ہیں کیا کیا

جہاں میں تھی بس اک افواہ تیرے جلوئوں کی

چراغ دیر و حرم جھلملائے ہیں کیا کیا

دو چار برقِ تجلی سے رہنے والوں نے

فریب نرم نگاہی کے کھائے ہیں کیا کیا

دلوں پہ کرتے ہوئے آج آتی جاتی چوٹ

تری نگاہ نے پہلو بچائے ہیں کیا کیا

نثار نرگس میگوں کہ آج پیمانے

لبوں تک آئے ہوئے تھر تھرائے ہیں کیا کیا

وہ اک ذرا سی جھلک برق کم نگاہی کی

جگر کے زخم نہاں مسکرائے ہیں کیا کیا

چراغ طور جلے آئینہ در آئینہ

حجاب برق ادا نے اٹھائے ہیں کیا کیا

بقدرِ ذوق نظر دید حسن کیا ہو مگر

نگاہِ شوق میں جلوے سمائے ہیں کیا کیا

کہیں چراغ، کہیں گل، کہیں دل برباد

خرامِ ناز نے فتنے اٹھائے ہیں کیا کیا

تغافل اور بڑھا اس غزال رعنا کا

فسونِ غم نے بھی جادو جگائے ہیں کیا کیا

ہزار فتنۂ بیدار خواب رنگیں میں

چمن میں غُنچہ گل رنگ لائے ہیں کیا کیا

ترے خلوص نہاں کا تو آہ کیا کہنا

سلوک اُچٹے بھی دل میں سمائے ہیں کیا کیا

نظر بچا کے ترے عشوہ ہائے پنہاں نے

دلوں میں درد محبت اٹھائے ہیں کیا کیا

پیام حسن، پیام جنوں، پیام فنا

تری نگہ نے فسانے سنائے ہیں کیا کیا

تمام حسن کے جلوے تمام محرومی

بھرم نگاہ نے اپنے گنوائے ہیں کیا کیا

فراقؔ راہ و فا میں سُبک روی تیری

بڑے بڑوں کے قدم ڈگمگائے ہیں کیا کیا

3

بہت پہلے سے ان قدموں کی آہٹ جان لیتے ہیں

تجھے اے زندگی ہم دور سے پہچان لیتے ہیں

مری نظریں بھی ایسے کافروں کی جان و ایماں ہیں

نگاہیں ملتے ہی جو جان اور ایمان لیتے ہیں

جسے کہتی ہے دنیا کامیابی وائے نادانی

اسے کن قیمتوں پر کامیاب انسان لیتے ہیں

نگاہِ بادہ گوں یوں تو تری باتوں کا کیا کہنا

تری ہر بات لیکن احتیاطاً چھان لیتے ہیں

طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں

ہم ایسے میں تری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں

خود اپنا فیصلہ بھی عشق میں کافی نہیں ہوتا

اسے بھی کیسے کر گزریں جو دل میں ٹھان لیتے ہیں

حیاتِ عشق کااک اک نفس جامِ شہادت ہے

وہ جانِ ناز برداراں کوئی آسان لیتے ہیں

ہم آہنگی میں بھی اک چاشنی ہے اختلافوں کی

مری باتیں بہ عنوانِ دگر، وہ مان لیتے ہیں

تری مقبولیت کی وجہ واحد تیری رمزیت

کہ اس کو مانتے ہی کب ہیں جس کو جان لیتے ہیں

اب اس کو کفر مانیں یا بلندیِ نظر جانیں

خدائے دوجہاں کو دے کے ہم انسان لیتے ہیں

جسے صورت بتاتے ہیں پتہ دیتی ہے سیرت کا

عبارت دیکھ کر جس طرح معنی جان لیتے ہیں

تجھے گھاٹا نہ ہونے دیں گے کاروبارِ الفت میں

ہم اپنے سر ترا اے دوست ہر نقصان لیتے ہیں

ہماری ہر نظر تجھ سے نئی سوگند کھاتی ہے

تو تیری ہر نظر سے ہم نیا پیمان لیتے ہیں

رفیقِ زندگی تھی اب انیسِ وقتِ آخر ہے

ترا اے موت ہم یہ دوسرا احسان لیتے ہیں

زمانہ وارداتِ قلب سننے کو ترستا ہے

اسی سے تو سر آنکھوں پر مرا دیوان لیتے ہیں

فراقؔ اکثر بدل کر بھیس ملتا ہے کوئی کافر

کبھی ہم جان لیتے ہیں کبھی پہچان لیتے ہیں

4

سر میں سودا بھی نہیں دل میں تمنا بھی نہیں

لیکن اِس ترک محبت کا بھروسا بھی نہیں

دل کی گنتی نہ یگانوں میں نہ بیگانوں میں

لیکن اس جلوہ گہِ ناز سے اٹھتا بھی نہیں

شکوۂ جَور کرے کیا کوئی اُس شوخ سے جو

صاف قائل بھی نہیں صاف مکرتا بھی نہیں

مہربانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست

آہ اب مجھ سے تری رنجش بیجا بھی نہیں

ایک مدت سے تری یاد بھی آئی نہ ہمیں

اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں

آج غفلت بھی اُن آنکھوں میں ہے پہلے سے سوا

آج ہی خاطِرِ بیمار شکیبا بھی نہیں

بات یہ ہے کہ سکونِ دل وحشی کا مقام

کنج زنداں بھی نہیں وسعت صحرا بھی نہیں

’’ارے صیاد ہمیں گل ہیں ہمیں بلبل ہیں‘‘

تونے کچھ آہ سنا بھی نہیں دیکھا بھی نہیں

آہ یہ مجمع احباب یہ بزمِ خاموش

آج محفل میں فراقِؔ سخن آرا بھی نہیں

5

نرم فضا کی کروٹیں دل کو دکھا کے رہ گئیں

ٹھنڈی ہوائیں بھی تری یاد دلا کے رہ گئیں

شام بھی تھی دھواں دھواں حُسن بھی تھا اداس اداس

دل کو کئی کہانیاں یاد سی آکے رہ گئیں

مجھ کو خراب کر گئیں نیم نگاہیاں تری

مجھ سے حیات و موت بھی آنکھیں چرا کے رہ گئیں

حسنِ نظر فریب میں کس کو کلام تھا مگر

تیری ادائیں آج تو دل میں سما کے رہ گئیں

تب کہیں کچھ پتہ چلا صدق و خلوص حُسن کا

جب وہ نگاہیں عشق سے باتیں بنا کے رہ گئیں

تیرے خرامِ ناز سے آج وہاں چمن کھِلے

فصلیں بہار کی جہاں خاک اُڑا کے رہ گئیں

پوچھ نہ اُن نگاہوں کی طرفہ کرشمہ سازیاں

فتنے سلا کے رہ گئیں فتنے جگا کے رہ گئیں

تاروں کی آنکھ بھی بھر آئی میری صدائے درد پر

اُن کی نگاہیں بھی ترا نام بتا کے رہ گئیں

اُف یہ زمیں کی گردشیں، آہ یہ غم کی ٹھوکریں

یہ بھی تو بختِ خفتہ کے شانے ہلا کے رہ گئیں

اور تو اہلِ درد کو، کون سنبھالتا، بھلا

ہاں، تیری شادمانیاں اُن کو رُلا کے رہ گئیں

یاد کچھ آئیں اس طرح بھولی ہوئی کہانیاں

کھوئے ہوئے دلوں میں آج درد اُٹھا کے رہ گئیں

سازِ نشاطِ زندگی آج لرز لرز اُٹھا

کس کی نگاہیں عشق کا درد سُنا کے رہ گئیں

تم نہیں آئے اور رات رہ گئی راہ دیکھتی

تاروں کی محفلیں بھی آج آنکھیں بچھا کے رہ گئیں

جھوم کے پھر چلیں ہوائیں وجد میں آئیں پھر فضائیں

پھر تری یاد کی گھٹائیں سینوں پہ چھا کے رہ گئیں

قلب و نگاہ کی یہ عید ، اُف یہ مآلِ قرب و دید

چرخ کی گردشیں تجھے مجھ سے چھپا کے رہ گئیں

پھر ہیں وہی اُداسیاں پھر وہی سونی کائنات

اہلِ طرب کی محفلیں رنگ جما کے رہ گئیں

کون سکون دے سکا، غم زدگانِ عشق کو

بھیگتی راتیں بھی فراقؔ آگ لگا کے رہ گئیں

6

شامِ غم کچھ اس نگاہِ ناز کی باتیں کرو

بے خودی بڑھتی چلی ہے راز کی باتیں کرو

یہ سکوتِ ناز یہ دل کی رگوں کا ٹوٹنا

خامشی میں کچھ شکستِ ساز کی باتیں کرو

نکہت زلفِ پریشاں داستانِ شام غم

صبح ہونے تک اسی انداز کی باتیں کرو

ہر رگِ دل و جد میں آتی رہے دکھتی رہے

یونہی اس کے جا و بیجا ناز کی باتیں کرو

جو عدم کی جان ہے جو ہے پیام زندگی

اُس سکوتِ راز اس آواز کی باتیں کرو

عشق رسوا ہو چلا بے کیف سا بیزار سا

آج اس کی نرگس غماّز کی باتیں کرو

نام بھی لینا ہے جس کا اک جہانِ رنگ و بو

دوستو! اس نو بہارِ ناز کی باتیں کرو

کس لئے عذرِ تغافل کس لئے الزامِ عشق

آج چرخِ تفرقہ پرواز کی باتیں کرو

کچھ قفس کی تیلیوں سے چھن رہا ہے نو رسا

کچھ فضا کچھ حسرتِ پرواز کی باتیں کرو

جو حیاتِ جاوداں ہے جو ہے مرگِ ناگہاں

آج کچھ اُس ناز اس انداز کی باتیں کرو

عشق بے پروا بھی اب کچھ ناشکیبا ہو چلا

شوخیِ حسنِ کرشمہ ساز کی باتیں کرو

جس کی فرقت نے پلٹ دی عشق کی کایا فراقؔ

آج اس عیسیٰ نفس دم ساز کی باتیں کرو

7

رُکی رُکی سی شبِ مرگ ختم پر آئی

وہ پو پھٹی وہ نئی زندگی نظر آئی

یہ موڑ وہ ہے کہ پرچھائیاں بھی دیں گی، نہ ساتھ

مسافروں سے کہو اُس کی رہ گزر آئی

فضا تبسّمِ صبحِ بہار تھی لیکن

پہنچ کے منزلِ جاناں پہ آنکھ بھر آئی

کہیں زمان و مکاں میں ہے نام کو بھی سکوں

مگر یہ بات محبت کی بات پر آئی

کسی کی بزمِ طرب میں حیات بٹتی تھی

امید واروں میں کل موت بھی نظر آئی

کہاں ہر ایک سے انسانیت کا بار اٹھا

کہ یہ بلا بھی ترے عاشقوں کے سر آئی

دلوں میں آج تیری یاد مدّتوں کے بعد

بہ چہرۂ متبسّم، بہ چشمِ تر آئی

نیا نہیں ہے مجھے مرگِ ناگہاں کا پیام

ہزار رنگ سے اپنی مجھے خبر آئی

فضا کو جیسے کوئی راگ چیرتا جائے

تری نگاہ دلوں میں یوں ہی اُتر آئی

ذرا وصال کے بعد آئینہ تو دیکھ اے دوست

ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی

تیرا ہی عکس سرشکِ غمِ زمانہ تھا

نگاہ میں تری تصویر سی اُتر آئی

عجب نہیں کہ چمن در چمن بنے ہر پھول

کلی کلی کی صبا جاکے گود بھر آئی

شبِ فراقؔ اُٹھے دل میں اور بھی کچھ درد

کہوں یہ کیسے تیری یاد رات بھر آئی

8

بحثیں چھڑی ہوئی ہیں حیات و ممات کی

سو بات بن گئی ہے فراقؔ ایک بات کی

سازِ نوائے درد حجاباتِ دہر ہیں

کتنی دُکھی ہوئی ہیں رگیں کائنات کی

رکھ لی جنھوں نے کشمکشِ زندگی کی لاج

بیدر دیاں نہ پوچھئے ان سے حیات کی

یوں فرطِ بیخودی سے محبت میں جان دے

تجھ کو بھی کچھ خبر نہ ہو اس واردات کی

ہے عشق اِس تبسّمِ جاں بخش کا شہید

رنگیناں لئے ہے جو صبحِ حیات کی

چھیڑا ہے دردِ عشق نے تارِ رگِ عدم

صورت پکڑ چلی ہیں نوائیں حیات کی

شامِ ابد کو جلوۂ صبحِ بہار دے

روداد چھیڑ زندگیِ بے ثبات کی

اس بزمِ بیخودی میں وجود و عدم کہاں

چلتی نہیں ہے سانس حیات و ممات کی

سو درد اک تبسّمِ پنہاں میں بند ہیں

تصویر ہوں فراقؔ نشاطِ حیات کی

9

رسم و راہِ دہر کیا جوش محبت بھی تو ہو

ٹوٹ جاتی ہے ہر اک زنجیر وحشت بھی تو ہو

زندگی کیا، موت کیا، دو کروٹیں ہیں عشق کی

سونے والے چونک اٹھیں گے قیامت بھی تو ہو

’’ہر چہ باداباد‘‘کے نعروںسے دنیا کانپ اٹھی

عشق کے اتنا کوئی برگشتہ قسمت بھی تو ہو

کار زارِ دہر میں ہر کیف ہر مستی بجا

کچھ شریک بیخودی رندانہ جرأت بھی تو ہو

کم نہیں اہلِ ہوس کی بھی خیال آرائیاں

یہ فناکی حد سے بھی بڑھ جائیں ہمت بھی تو ہو

کچھ اشاراتِ نہاں ہوں تو نگاہ ناز کے

بھانپ لیں گے ہم یہ محفل رشکِ خلوت بھی تو ہو

اب توکچھ اہل رضا بھی ہو چلے مایوس سے

ہر جفائے ناروا کی کچھ نہایت بھی تو ہو

ہرنفس سے آئے بوئے آتشِ سیالِ عشق

آگ وہ دل میں لہومیں وہ حرارت بھی تو ہو

یہ ترے جلوے یہ چشمِ شوق کی حیرانیاں

برقِ حسنِ یار نظارے کی فرصت بھی تو ہو

گردشِ دوراں میں اک دن آرہے گا ہوش بھی !

ختم اے چشم سیہ یہ دور غفلت بھی تو ہو

ہر دلِ افسردہ سے چنگاریاں اڑ جائیں گی

کچھ تری معصوم آنکھوںمیں شرارت بھی تو ہو

اب وہ اتنا بھی نہیں بیگانہ وجہ ملال

پرسش غم اس کو آتی ہے ضرورت بھی تو ہو

ایک سی ہیں اب تو حسن وعشق کی مجبوریاں

ہم ہوں یا تم ہو وہ عہدِ بافراغت بھی تو ہو

دیکھ کر رنگِ مزاج یار کیا کہیے فراقؔ

اس میں کچھ گنجائشِ شکر و شکایت بھی تو ہو

10

آئی ہے کچھ نہ پوچھ قیامت کہاں کہاں

اُف لے گئی ہے مجھ کو محبت کہاں کہاں

بیتابی و سکوں کی ہوئیں منزلیں تمام

بہلائے تجھ سے چھُٹ کے طبیعت کہاں کہاں

فرقت ہو یا وصال وہی اضطراب ہے

تیرا اثر ہے اے غمِ فرقت کہاں کہاں

ہر جنبشِ نگاہ میں صد کیفِ بیخودی

بھرتی پھرے گی حسن کی نیت کہاں کہاں

راہِ طلب میں چھوڑ دیا دل کا ساتھ بھی

پھرتے لیے ہوئے یہ مصیبت کہاں کہاں

دل کے اُفق تک اب تو ہیں پرچھائیاں تری

لے جائے اب تو دیکھ یہ وحشت کہاں کہاں

اے نرگسِ سیاہ بتا دے ترے نثار

کس کس کو ہے یہ ہوش یہ غفلت کہاں کہاں؟

نیرنگِ عشق کی ہے کوئی انتہا کہ یہ

یہ غم کہاں کہاں یہ مسرت کہاں کہاں

بیگانگی پر اس کی زمانے سے احتراز

در پردہ اس ادا کی شکایت کہاں کہاں

فرق آ گیا تھا دورِ حیات و ممات میں

آئی ہے آج یاد وہ صورت کہاں کہاں

جیسے فنا بقا میںبھی کوئی کمی سی ہو

مجھ کو پڑی ہے تیری ضرورت کہاں کہاں

دنیا سے اے دل اتنی طبیعت بھری نہ تھی

تیرے لئے اُٹھائی ندامت کہاں کہاں!

اب امتیازِ عشق و ہوس بھی نہیں رہا

ہوتی ہے تیری چشمِ عنایت کہاں کہاں

ہر گام پر طریق محبت میں موت تھی

اس راہ میں کھلے درِ رحمت کہاں کہاں

ہوش و جنوں بھی اب تو بس اک بات ہیں فراقؔ

ہوتی ہے اس نظر کی شرارت کہاں کہاں

Firaq Gorakhpuri ki Tanqeed Nigari by Qamar Siddiqui

Articles

فراق کی تنقید نگاری

ڈاکٹر قمر صدیقی

 

فراق گورکھپوری نے تنقید کے دو مجموعے ”اندازے“ اور ”حاشیے“ اور اردو کی عشقیہ شاعری پر ایک کتابچہ یادگار چھوڑے ہیں ۔ ان میں ’اندازے‘ تقریباً چار سو صفحات پر مشتمل ہے۔ اس مجموعے میں کل دس مضامین ہیں جس میں پانچ غزل یا غزل گو شعرا سے متعلق ہے۔ در اصل فراق کی تنقید اکثر و بیشتر اردو غزل کے آس پاس ہی رہی ہے۔ انھوں نے دہلی اور لکھنو¿ اسکول، داخلیت اور خارجیت، زمینوں کے انتخاب اور مطلعوں کی موزونیت کے علاوہ ریاض، مصحفی ، ذوق اور حالی وغیرہ کی شاعری کا فنی و تشریحی جائزہ پیش کیا ہے۔
’اندازے‘ کے دیباچے میں فراق گورکھپوری نے جس طرح روایت سے وابستگی اور ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے ترقی پسند ادب کی تحسین کی ہے وہ ان کے تنقیدی مسلک کی غمازی کرتا ہے۔ دیباچے میں انھوں نے بالکل تاثراتی انداز اپناتے ہوئے ادب اور تنقید میں میانہ روی کو مقدم گردانا ہے۔ وہ تحریر کرتے ہیں کہ:
” خوش نصیب ہیں نئی نسل والوں میں اور نئے ادب کے قدر شناسوں میں وہ لوگ جو پرانی غزلوں کے سمندر میں ڈوب کر ایسے ایسے موتی نکال لائے ہیں جن کی آب و تاب کو وقت دھندلا نہیں سکا۔ اقبال، اکبر، جوش، مجاز، زیدی اور جذبی اور ہماری نئی شاعری کے کئی اور نمائندے ہماری قدیم شاعری سے کم مستفید نہیں ہیں۔ لیکن نثر نگاروں، شاعروں اور پڑھنے والوں کی نئی نسل عجلت اور سہل پسندی کی غالباً شکار ہوئی ہے اور قدیم ادب سے منہ موڑ چکی ہے۔ لیکن یاد رہے کہ پرانی شاعری میں بھی بہت نئی چیزیں ہیں۔ تسلسل تاریخِ انسانی اور تاریخِ ادب کا اٹل قانون ہے۔ ماضی سے بے خبری ترقی پسندی نہیں ہے ، نہ ماضی کی قدر شناسی رجعت پسندی اور قدامت پسندی ہے۔“
فراق کی تنقید پر مغربی تنقید کے اثرات بہت واضح ہیں۔ حالانکہ انھوں نے جس زمانے میں تنقید نگاری کا آغاز کیا اس وقت ناقدین کی اکثریت کا مغربی ادب کا مطالعہ زیادہ گہرا نہ تھا۔ فراق کے بیشتر معاصرین فکری طور پر آزاد، حالی اور شبلی کا تتبع کررہے تھے اور ان کی تحریروں میں اِنھیں قد آور شخصیات کا پرتو نظر آتا ہے۔ فراق نے اپنے معاصرین کے برخلاف مغربی افکار و نظریات سے استفادے پر زور دیا۔ اس ضمن میں خود فراق گورکھپوری نے تحریرکیا ہے کہ:
” میرے مذاقِ تنقید پر دو چیزوں کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔ ایک تو خود میرے وجدانِ شعری کا ، دوسرے یورپین ادب اور تنقید کے مطالعے کا۔ مجھے اردو شعرا کو اس طرح سمجھنے سمجھانے میں بڑا لطف آتا ہے، جس طرح یورپین نقاد یورپین شعرا کو سمجھاتے ہیں۔ “
مغربی تنقید سے استفادے کے اس اعتراف میں اہم نکتہ یہ ہے کہ یہ دیکھا جائے کہ فراق نے مغربی تنقید کے کس دبستان کا تتبع کیا ہے۔ فراق کی تنقیدی تحریروں کے مطالعے سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اُن کا رجحان تاثراتی تنقید کی طرف ہے۔ محولہ بالا پیراگراف میں ”وجدانِ شعری“ کی ترکیب بھی اس بات کی طرف دلالت کرتی ہے۔ ”وجدان“ ایک خوبصورت مگر پر اسرار لفظ ہے اور معنی سے گریز پائی اس لفظ کا خاصہ ہے۔ کیونکہ شاعر کا وجدان اور نقاد کا وجدان دو الگ الگ ذہنی وقوعے ہیں البتہ اس کے استعمال میں آسانی یہ ہوتی ہے کہ نقاد مختلف نوع موشگافیوں کی مشقت سے بچ جاتا ہے۔ چنانچہ اردو میں وجدان تاثراتی نقادوں کا مخصوص Toolہے اور مہدی افادی سے لے کر عبد الرحمن بجنوری اور فراق گورکھپوری تک لگ بھگ تمام تاثراتی نقاد وجدان کے میزان سے شعر کو تولتے نظر آتے ہیں۔ فراق کے مجموعے ’اندازے‘ سے چند مثالیں ملاحظہ ہوں:
” مصحفی کی انفرادیت وجدانی سطح پر اپنا کام کرتی ہے۔“
” غم آمیز وجدان میں تنوع کے اتنے امکانات نہیں ہوتے جتنے نشاط آمیز وجدان میں ہوتے ہیں۔“
کتاب میں اس نوع کے تاثراتی جملے جگہ جگہ نظر آجاتے ہیں۔ تاثراتی تنقید اپنی اسی محدودیت کی وجہ سے بیشتر محاسنِ شعری کے بیان تک محدود رہتی ہے یا اپنی ارفع صورت میں بھی یہ تشریح و توضیح سے آگے نہیں بڑھ پاتی۔
تاثراتی تنقید کے مغربی اصولوں کے مطابق مواد اور ہیئت پر توجہ دیئے بغیر صرف ادیب کی شخصیت کی بنیاد پر فن پارے کے حسن و قبح کا فیصلہ کرنا تاثراتی تنقید کہلاتا ہے۔ اس ضمن میں تاثراتی تنقید کے نظریہ ساز والٹر پیٹر کی رائے بھی ملاحظہ فرمالیں؛ ”تنقید نگار کی ذمہ داری بس اتنی ہے کہ وہ فن پارے کو اس کے اصلی روپ میں دیکھے اور ان کے بارے میں اپنے تاثرات بیان کردے۔“ علاوہ ازیں یورپ میں تاثراتی نقادوں کا خیال تھا کہ کسی ادبی تخلیق کے مطالعے سے نقاد کے دل و دماغ اور اس کے شعور پر جو تاثرات مرتب ہوتے ہیں ، انھیں لفظوں میں سمودیا جائے اور یہی حقیقی تنقید ہے۔ مغرب میں تاثراتی تنقید کی یہ تحریک جے ۔ای اسپنگر کے خیالات سے متاثر رہی۔ اس کا کہنا تھا کہ داخلیت اور جذباتی و تاثراتی سطح ہی تنقید کا صحیح معیار ہے۔ وہ لکھتا ہے کہ:
” کسی فن پارے کو دیکھ کر جو جذبات و احساسات دل پر طاری ہوتے ہوں ان کو ہو بہو بیان کردینا تاثراتی دبستان سے تعلق رکھنے والے نقاد کے نزدیک تنقید نگاری کا سب سے بڑا منصب ہے۔“
فراق کی تنقیدی تحریریں بھی مذکورہ بالا خصوصیات سے مبرا نہیں ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے فراق کی تنقید اور تنقیدی فیصلے بیشتر صورتوں میں ایسے تاثرات پر مبنی ہوتے ہیں جن کی جڑیں بچپن کی یادوں میں پیوست ہیں۔ مثال کے طور پر ان کی یہ تحریریں ملاحظہ ہوں:
” ایک زمانہ ہوا جب میں نے مولوی اسمعیل میرٹھی کی مرتب کردہ کتاب ” تزکِ اردو“ میں جو میرے نصاب میں تھی غالباً پہلے پہل مصحفی کا نام دیکھا اور سنا۔ اب میرے جذبات کا حال سنیے، سب سے قابلِ توجہ بات تو یہ تھی کہ مصحفی کا تخلص وہ لفظ تھا جس کی صورت و صوت نے فوراً مجھ پر اپنی دلکش انفرادیت کا اثر ڈالا۔“
” مجھے بچپن سے نہ جانے کیوں ذوق کا کلام نا پسند تھا۔ “
” میں نے بھی اور شاید آپ نے بھی سات آٹھ برس کی عمر میں پہلے پہل حالی کا نام سنا ہوگا۔“
کچی عمر کے ناپختہ تاثرات سے اس طرح Conditionedہوکر کوئی تنقیدی نکتہ پیدا کرنا ظاہر ہے تقریباً نا ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ فراق گورکھپوری کی تنقیدی تحریریں ہمیں کوئی راہ نہیں سجھاتیں ، کسی منزل کا پتہ نہیں دیتیں۔ البتہ اتنا ضرور ہے کہ اندھیری رات میں یہاں وہاں چمکتے ہوئے جگنوﺅں کی مانند ان کی تحریروں میں بصیرت سے پُر جملے ایک ایسا جمالیاتی تاثر قائم کرتے ہیں جس کا سحر ہمارے ذہنوں پر تادیر قائم رہتا ہے۔
٭٭٭

مضمون نگار سہ ماہی رسالہ ’’اردو چینل‘‘ اور ادبی ویب پپورٹل ’’اردو چینل ڈاٹ اِن‘‘ کے مدیر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

urduchannel@gmail.com

09773402060

2 ZabaneN, 2 SHAIR, 1 Khayal

Articles

دو زبانیں، دو شاعر، ایک خیال

ڈاکٹر ذاکر خان

اردو اور انگریزی شعر و ادب کا مطالعہ کرنے کے بعد دو باتیں بالکل واضح ہو جاتی ہیں کہ اردو شعر وادب نے انگریزی شعر وادب کو اور انگریزی شعر و ادب نے اردو شعر و ادب کو نہ صرف متاثر کیا ہے بلکہ اس کی آبیاری کے لیے مناسب ماحول بھی فراہم کیا ہے۔دونوں ہی قسم کے شعر و ادب میں بے شمار مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ کبھی کبھی اس قسم کے شکوک و شبہات بھی ابھرنے لگتے ہیں کہ ایک زبان وادب کے فنکار نے دوسری زبان و ادب کے فنکار کی یاتو نقل کی ہے یا ادبی سرقہ کیا ہے۔کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ دو مختلف زبانوں کے فنکار ایک دوسرے کے فن اور شخصیت سے بالکل ہی ناآشنا ہوں مگر دونوں کے فن میں یکساں محرّکات کارفرما ہوں، یکساں خیالات و افکار کا سیلان ہو، یکساں حالات کی عکاسی کی گئی ہو۔حقیقت یہ بھی ہے کہ انیسویں صدی تک اردو شعراء، انگریزی شعر و ادب سے تقریباً نابلد تھے۔اس کی ایک وجہ یہ بھی کہ غیر منقسم ہندستانیوں اور انگریزوں کے درمیان نفرت کے جذبات نمایاں طور پر دیکھے جاسکتے تھے۔ان حالات میں ہندوستانیوں کی انا اور عزتِ نفس کبھی انہیں انگریزوں کی نقل کرنے کی اجازت نہیں دیتی۔اسی طرح انگریزی ادب بھی احساسِ برتری کا شکار تھا پھر وہ کس طرح غلام ہندوستانیوں کے خیالات و افکار کی ہو بہو نقل کرتا؟لیکن اس بات کے امکانات موجود ہیں کہ فورٹ ولیم کالج کے توسط سے اردو شعر و ادب انگریزوں تک برابر پہنچ رہا تھا۔اسی طرح دوسری جانب سرسید، حالی اور آزاد کی کوششوں سے انگریزی خیالات و افکار کی درآمدگی سہل ہوچکی تھی۔ کرنل ہالرائڈ اپنے مشن میں لگے ہوئے تھے اور اقبال آرنالڈ سے متاثر ہوچکے تھے۔ ان حالات میں اردو کے انگریزی پر اثرات اور انگریزی کے اردو پر اثرات مکمّل نہ سہی، کم کم، ہی پڑنے لگے تھے۔
الفاظ اور خیالات ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہوتے ہیں ، ان ہی دونوں کے اختلاط سے فن پاروں کا جنم ہوتا ہے۔شاعری ایک ایسی صنف ہے جو شاعر کو خوابوں میں بھی کافکا کی طرں جھنجوڑتی ہے، ایلیٹ کی طرح سوچنے پر مجبور کرتی ،ورڈس ورتھ کی طرح خوبصورت نظاروں کی سیر کراتی ہے۔اور کولرج کی طرح چبھتے ہوئے جذبات کی عکاسی کرواتی ہے۔یہی چبھتے ہوئے جذبات، اسٹیفن گل اور فراق گورکھپوری کی شاعری پر مبنی میرے مقالے کی اساس ہیں۔
فراق کا جنم گورکھپور میں ہوا جبکہ اسٹیفن گل پاکستان میں پیدا ہوئے ہندوستان میں پرورش پائی اور کنیڈا میں سکونت اختیار کی۔ فراق کی طرح اسٹیفن گل بھی شاعر اور نقاد ہیں ۔آپ تقریباً ۰۲ کتابوں کے مصنف ہیں جس میں ناول ، تنقید اور شعری مجموعے شامل ہیں۔ گلِ نے اردو، ہندی، پنجابی اور انگریزی میں شاعری کی ہے۔ ان کی نثر اور نظم دونوں کو ایک اندازے کے مطابق ایک ہزار پبلشر شائع کرچکے ہیں۔ہند و پاک کے مختلف گلوکاروں نے آپ کی شاعری کو اپنی آواز دی ہے۔
فراق اور گِل دونوںنے اپنی شاعری کی ابتدا بچپن ہی سے کردی تھی۔گل نے اپنے تجربات اور مشاہدات کو اپنی شاعری کی اساس بنایا ہے۔کے کے سری واستو دونوں کے ساتھ اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
“گل نے میرے پہلے مجوعہ کلامIneluctable Stilnessکی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں تمہاری شاعری میں جینت مہاپاترا کو پاتا ہوں جبکہ فراق نے ملاقات کے وقت مجھ سے کہا تھا کہ کبھی یوں بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایسے لوگوں کے درمیان رہو جو تمہارے برابر نہ ہو تب بھی اس طرح کا برتاﺅ کرو کہ وہ تمہیں اپنے برابر نظر آنے لگے۔ فراق اپنی اس عظمت سے واقف تھے”
وہ کہتے ہیں کہ
اب اکثر چپ چپ سے رہے ہیں، یوں کبھی منہ کھولے ہیں
پہلے فراق کو دیکھا ہوتا، اب تو بہت کم بولے ہیں
اسٹیفن گِل کبھی فراق کی طرح کھل کر سامنے نہیں آئے، ان کی شاعری پوری انسانیت پر چھائی ہوئی اداسی، مایوسی اور حسرت کی ترجمان ہے۔وہ جذبات کی گہرائی تک پہنچ کر انہیں آشکار کرتے ہیں۔کہتے ہیں کہ
storms hid the glow with dust
when the albatross of violence
flies over the flower
(You are not There)
جنگ جدید تہذیب و تمدّن کے ماتھے پر موجود ایک بدنما داغ ہے، فراق اور گِل دونوں بھی ہمیںجنگ اور اس کی تباہ کاریوں پر فکر مند نظر آتے ہیں۔دونوں ہی جنگ کو ایسی لعنت ملامت تصور کرتے ہیںجس کے چلتے فرار کے سوا کوئی دوسری راہ نہ ہو
فراق کہتے ہیں
کاریگر، مزدور کسان
کھریال اور بگرل جوان
کاندھے سے کاندھا جوڑیں گے
دنیا پر دھاوا بولیں گے
(نئی دنیا)
دوسری جگہ فراق کچھ یوں گویا ہوتے ہیں کہ
تیرے لیے دنیا ہے، دنیا کے لیے تو ہے
ہاں خود پر نظر کر کے دنیا پر نظر کر
(ہاں اے دل افسردہ)
جب جنگ چھڑی دیشوں میں
جو بھی پڑی ہم پر ہی پڑی
بھس میں چنگی دے کر ساتھی
دیکھ جمالو دور کھڑی
(مزدوروں کاریگروں شپکاروں کی للکار)
اسٹیفن گل اس سے آگے بڑھ کر وحشیوں اور درندوںکو امن قائم کرنے دعوت دیتے ہیں۔اس سے ان کی اندرونی تڑپ کا اندازہ ہوتا ہے کہ وہ کس حد تک جنگ زدہ حالات بدلنا چاہتے ہیں۔وہ کہتے ہیں
let us ask all beings
even the beast
give us their hands
let us not surrender
(Seekin the Dove of Peace)
کبھی وہ کہتے ہیں کہ
When
harmony was fused
into my mind, soul heart
and every other organ of the body
the human was created (When)
for which of those sins
offences and crime
have we lost the time to breathe
no hope, no spark
to own own your tranquil eyes (Hramony and Peace)
ہند پاک جنگ کے تناظر میں فراق نے کہا تھا کہ
ہم نے تم نے اپنی ہی بیٹیوں کا سہاگ مٹایا
اپنے بیٹوں کو خود ہی
کیا ہے یتیم
بھائی نے بھائی کے خون سے ہولی کھیلی
کیا ہمیں مل گیا گیا تمہیں مل گیا
ان ہی خیالات کو اسٹیفن گل کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ
if the nuclear bombs drop
will the dawn be born again
will the players play again
will the children swim again
تشدّد ان دونوں شعراءکو اس قدر کچوکے لگاتا تھا کہ وہ اپنے آپ کو اس طرح کے اشعار کہنے سے روک نہ سکے
صدیوں کے بنے کام بگڑ جائیں گے
دھرتی پر عالم موت کے گر جائیں گے
اسٹیفن کہتے ہیں
the willful ghosts of sorrow
have not dissolved
nor have the fogs of ignorance
will float over the cold tombs
rather
they have grown in strength
in the gloom of violence
(New Year)
ان ہی خطوط پر T.S. Eliotکہتا ہے کہ
“گزشتہ سال کے الفاظ کا تعلق گزشتہ سال کی زبان سے ہوتا ہے، آئندہ سال کے الفاظ کسی دوسری نئی آواز کے منتظر ہوتے ہیں”
آفاقی شاعر ہونے کے ناطے اسٹیفن گل کو کسی ایسے نظام کی تلاش ہے جو سماج و معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کو ختم کردے۔ وہ ایسی آواز کی حمایت کرتا ہے جسے پوری دنیا میں سنا اور سمجھا جا سکے۔وہ آواز امن اور محبت کی آواز ہو۔ وہ آواز بین الاقوامی اتحاد کی آواز ہو۔ گل کی نظمیں مختلف معنی و مفاہیم کا احاطہ کرتے ہوئے مختلف النّوع جذبات کی ترسیل کا کام انجام دیتی ہیں
فراق اور گل دونوں کا شمار شاعرِ امن آشتی اور شاعرِ محبت و انسانیت میں ہوتا ہے۔دونوں ہمیں عوام الناس کے آپسی اتحاد کے لیے کوشاں نظر آتے ہیں۔دونوں کی شاعری میں جذبات اہم کردار ادا کرتے ہیں۔دونوں ہی اپنی شاعری میں ماں کی یادوں میں ڈوبے ہوئے نظر آتے ہیں۔ فراق اپنی نظم “جگنو “میں کچھ یوں کہتے ہیں کہ
وہ ماں جو دودھ بھی اپنا مجھے پلا نہ سکی
وہ ماں جو ہاتھ سے اپنے مجھے کھلا نہ سکی
وہ ماں جو میرے لیے تتلیاں پکڑ نہ سکی
جو بھاگتے ہوئے میرے بازو پکڑ نہ سکی
ان ہی یادوں کو گل کچھ اس طرح بیان کرتے ہیں
images of sacrifice
message of hope
you are highly prized
the gift of this life
I owe to you
اکثر و بیشتر محبوبائیں تنہائی میں شعراءکے تخیّل پر وارد ہوتی ہیں۔ ان ہی کے جلوے کبھی تخلیقات میں اور کبھی تخلیقات سے پرے نظرآتے ہیں۔لیکن محبت کا حلقہ شاعری میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوتا ہے۔فراق اور گل نے بھی اپنی تنہائی کے لمحات اپنی اپنی شاعری میں پیش کیے ہیں۔ دونوں کے جذبات کی مماثلت قارئین کو چونکا دینے والی ہے۔
فراق کہتے ہیں
وہ چپ چپ آنسو بہانے کی راتیں
وہ اک شخص کے یاد آنے کی راتیں
شبِ ماہ کی وہ ٹھنڈی آنچیں وہ شبنم
ترے حسن کے کسمسانے کی راتیں
گل نے اسی خیال کو کچھ یوں باندھا ہے
In the ruin of lonesome hours
she knocks
at the doors of my dreams
and shyly sits
beside me (Haunting Melody)
نظم “ہنڈولا “میں شعور کی رو میں بہتے ہوئے فراق اپنے بچپن کو یاد کرتے ہیں ، یوں لگتا ہے جیسے فراق کے خواب بکھر گئے ہوں ، خواب خواب نہ بلکہ فریب نظر ہوں
مجھے گماں پرستانیت کا ہوتا تھا
ہر چیز کی وہ خواب ناک اصلیت
مرے شعور کی چلمن سے جھانکتا تھا کوئی
لیے ربوبیتِ کائنات کا احساس
ہرایک جلوے میں غیب و شہود کا وہ ملاپ
ہراک نظارہ اک آئینہ خانہ¿ حیرت
گل، فراق اور D.H. Lawrenceکی طرح پریوں کی دنیا میں سیر کرتے ہوئے شخص اور کائنات کے درمیان کا ربط تلاش کرتے ہوئے کہتا ہے
I wish to harvest
a ripened manna of wonders
of the youthful bloom
for the courtof enlightenment
to vakidatethe claim
those outgrowths
from diversityof landscape
stem from the cosmic order
of the same source
(To Be)
گل جمہوری طرز حکومت کے حامی تھے وہ کہتے ہیں کہ
I am aware of the dangers
from the east and the west
I know I am surrounded
by the demons of repression
اسی انداز میں فراق سوشلزم کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ
وہ علم کیا جو ضامنِ فردہ نہ ہو سکے
جو آئینے میں آج کے کل کو نہ دیکھ لے
Mathew Arnold نے کہا تھا کہ شاعر کو سمجھنے کے لیے شاعرانہ دل چاہیے۔ Walt Whitman کہتا ہے کہ اچھے شاعر پیدا کرنے کے لیے اچھے قارئین کا پیدا ہونا ضروری ہے۔ اگر یہ ممکن ہو تب ہی قارئین اسٹیفن گل اور فراق کی شاعری سے لطف اندوز ہوسکیں گے۔ دونوں کی شاعری انسانی جذبات، خواہشات اور یاداشت کی ترجمانی کرتے ہوئے، Benedict De Spinoza کی طرح اتحاد کی تبلیغ کرتے ہوئے لاکھوں کروڑوں دلوں کی دھڑکن بن چکی ہے۔
مندرجہ بالا مثالوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ عظیم اذہان، ذات پات، سماج و معاشرہ، زبان و ادب، ملک ملّت، اور علاقوں سے اوپر اٹھ کر انسانیت کی بھلائی کے لیے یکساں خطوط پر سوچ سکتے ہیں


مضمون نگار نور الاسلام جونیئر کالج ، گوونڈی ممبئی میں انگریزی کے استاد ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

khanzkr@gmail.com

09987173997

Firaq ki Infradiat by Abdulbari Qasmi

Articles

فراق کی انفرادیت

عبد الباری قاسمی

بیسویں صدی کو ادب داں طبقہ تحریکات و رحجانات کی صدی سے تعبیر کرتا اور جانتاہے انیسویں صدی میں ادب کی فضا بالکل مختلف تھی ، مگر جوں ہی اس کا اختتام ہواا ور عقلیت پسندی کارحجان بڑھنے لگا خود بخود نئی نئی تحریکیں معرض وجود میں آنے لگیں، ان تحریکات کا اثرادب کے تمام ہی اصناف پر ہوا خواہ شاعری ہو یا نثر، اسی دور میں غزل کی کوکھ سے جدید غزل کی پیدائش ہوئی اور اہل علم کے طبقہ نے ہر چیز میں جدت و ندرت تلاش کرنے میں مصروف رکھنے کو ہی قابلیت اور مہارت کا معراج سمجھنا شروع کیا ، اسی انیسویں صدی کے اختتام سے چند سالوں قبل گھورکھ پرساد عبرت کے لکشمی منزل میں رگھوپتی سہائے فراق نے آنکھیں کھولیں ، فراق کی زندگی گلہائے رنگارنگ سے مزین رہی ہے، اگر ہم فراق کا جائزہ لیں تو ان کی زندگی ہر سطح اور ہر باب میں منفرد دکھائی دیتی ہے خواہ ان کی شاعری کا مطالعہ کریں یا ان کی نثر کاجا ئزہ لیں ، ان کی داخلی زندگی کو دیکھیں یا ان کے خارجی معاملات کو ان کی انفرادیت ہر جگہ مسلم نظر آتی ہے، فراق کی شاعری کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ ان کی شاعری میں کئی زبانوں ، کئی تہذیبوں اور کئی تحریکات کا اثر صاف دکھائی دیتا ہے اور ان سب کے حسین امتزاج سے ان کی شاعری کی جودنیا آباد ہوتی ہے وہ انہیں بالکل مختلف اور منفرد مقام پر کھڑا کر دیتی ہے ، فراق کی شاعری کا بنیادی رنگ اور موضوع حسن و عشق ہے مگر جہا ں ان کی شاعری میں خاص طور پر غزل گوئی میں حسن پرستی اور انسان دوستی کے اعلیٰ نمونے اور قدریں ملتی ہیں تو وہیں ہندوستان کی گنگا جمنی تہذیب کی پر چھائیں بھی باہیں دراز کیے ہوئے استقبال کرتی نظر آتی ہے یہی وجہ ہے کہ جدید غزل گو شعرا میں فراق کا نام کافی اہمیت سے لیا جاتا ہے ویسے تو فراق غزلوں میں روایت کی پاسداری اور انحراف دونوںکا عکس دکھائی دیتا ہے انہوں نے اپنی شاعری میں عشق ، معاملات عشق، جسم و جنس کا تصور، اشتراکی رنگ، خوبصورت ہندوستانی دیومالائی عناصر سے مزین تشبیہات وا ستعارات ، ڈرامائیت، تجسیم کاری، معنیٰ آفرینی، رعایت لفظی اور کائنات کے حسین مناظر ان تمام چیزوں کو اس خوبصورتی سے غزل کا حصہ بنایا ہے کہ خود بخود ان کی شاعری ایک نئی جہت سے آشنا ہوگئی ہے ، فراق کے فکروفن دونوں اعتبار سے انفرادیت کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ان کی شخصیت اور فن کی تشکیل میں مشرق کی نرمی اور روحانیت اور مغرب کی جدت و آفاقیت دونوں ساتھ رہی ہیں اور انہیں دونوں کے امتزاج سے ان کی شاعری ایک نئی لے اور لہجہ سے آشنا ہوتی ہے فراق فارسی اردو ، انگلش اور ہندی جاننے کے ساتھ ساتھ سنسکرت پر بھی اچھی گرفت رکھتے تھے ، اس لیے ان کی شاعری میں ان تمام ہی زبانوں کے اثرات دکھائی دیتے ہیںا ور ان کی انفرادیت صرف غزل گوئی ہی میں نہیں بلکہ نظم نگاری ، رباعی نگاری، خطوط نگاری، تنقید نگاری، دوہے اور چھند وغیرہ میں بھی دکھائی دیتی ہے۔
فراق کی شاعری©: فراق گورکھپوری کو تو شاعری ورثہ ہی میں ملا تھا ؛اس لیے کہ ان کے والد گورکھ پرساد عبرت بھی شاعر تھے ۔”حسنِ فطرت“ نام سے ان کی مثنوی مشہور ہے۔ اس لیے بچپن سے ہی شاعری کا مزاج تھا ، مگر فراق نے باضابطہ شاعری 1918ءاور 1919ءکے درمیان شروع کی۔ اس وقت داغ اور امیر مینائی کا ہر طرف شہرہ تھا، اس لیے فراق نے بھی امیر مینائی کے شاگردوسیم خیر آبادی کو غزلیں دکھا نا شروع کیا ، اس کے بعد ریاض خیر آبادی اور پروفیسر مہدی حسن ناصری سے بھی اصلاحیں لیں، اصل ان کی شاعری میں انقلاب 1920ءمیں آیا جب پنڈت نہرو کے ساتھ گرفتار کر کے انہیں آگرہ جیل بھیج دیا گیا تھا چوں کہ جیل جانے والے لوگوں میں بڑے بڑے ادیب ، شعرا اور دانشور حضرات تھے ، اس لیے موقع پاکر جیل میں ہی مشاعرے ہونے لگے اورفراق کی شاعری ایک نئے انداز اور نئے لہجے سے متصف ہونے لگی ، اس سے ان کی شاعری اور نکھرتی ہی چلی گئی اور انہوں نے شاعری کو روایت سے لے کر انحراف تک کا سفر کر ایا یہی وجہ ہے فراق کی شاعری میں میر، حسرت اور دیگر شعراکا بھی رنگ نظر آتا ہے اوران کا رنگ ناصر کاظمی اور خلیل الرحمن اعظمی جیسے جدیدیت کے شعراپر بھی دیکھنے کو ملتا ہے، فراق نے غزل گوئی کے علاوہ نظم نگاری، رباعی نگاری، دوہے اور چھند بھی کہے ہیں اور شاعری کی ہر صنف میں ان کی آواز کو پہچانا جا سکتا ہے۔
فراق کی غزل گوئی: فراق گورکھپوری نے ویسے تو شاعری کے مختلف اصناف کو برتا اور اِس میں طبع آزمائی کی ہے، مگر وہ بنیادی طور پر غزل کے شاعر ہیں اور غزل گو شعرا میں بھی ان کا شمار ان شعرامیں ہوتا ہے جہنوں نے اپنی خلاقانہ ذہنیت ،بے انتہا علوم اور حساس مزاجوں کو استعمال کر کے غزل میں نئے نئے گوشوں کا اضافہ کیا، ان کی غزلوں میں مشرقی لے بھی نظر آتی ہے اور مغربی بھی، انہوں نے اپنی غزلیہ شاعری میں آزادی کے بعد کے ہندوستانی فضا کی عکاسی جس خوبصورتی سے کی ہے، اس کی نظیر نہیں ملتی، یہی وجہ ہے کہ اسلوب احمد انصاری جیسے ناقد نے انہیںہندوستان کی نشا¿ة ثانیہ کا ایک ممتاز نمائندہ قرار دیا ، سید محمد عقیل رضوی نے عہد آفریں ، مظہر امام نے کلاسیکی غزل کا آخری بڑا شاعر، رشید احمد صدیقی نے اردو غزل کا رمز آشنا، فتح محمد ملک نے جنوبی ایشیا کی تہذیبی دنیا میں معقولیت کی سب سے توانا آواز اور حسن عسکری نے نئی آواز سے تعبیر کیا، اس کے علاوہ بھی کچھ حضرات نے ا مام المتغزلیں اور خاتم المتغزلیں کے بھی خطاب سے فراق کو سر فراز کیا۔ پروفیسر شمیم حنفی صاحب نے فراق کے غزل کی تعداداور مقام پر اس انداز سے تبصرہ کیا ہے کہ
”1965 میں فراق صاحب نے اپنی غزلوں کا ایک اشاریہ بنوایا تھا ، اس اشاریہ کے مطابق 1965ءتک فراق صاحب نے کل چھ سو چوبیس غزلیں کہیں تھیں، 1965ءکے بعد سے 1982ءیعنی فراق صاحب کے سال وفات تک اس تعداد میں کم سے کم سو غزلوں کا اور اضافہ کر لیجیے یعنی کہ تقریباََ سو ا سات سو غزلیں ان میں زیادہ سے زیادہ چالیس پچاس غزلیں ایسی ہوں گی جنہیں فراق صاحب کے واسطے سے نئی حسیت کا ترجمان قرار دیا جا سکے“(۱)
فراق کی غزلوں میں میر کا رنگ بھی دکھائی دیتا ہے اور ان کے معاصرین شعرامیں حسرت، اصغر، جگر ، فانی اور یگانہ کا بھی، فراق کی نرمی، حلاوت، احساس کی گرمی اور جذبات کی آہستگی انہیں میر سے قریب کر دیتی ہے
بات بھی پوچھی نہ جائے گی جہاں جائیں گے ہم
تیری محفل سے اگر اُٹھے کہاں جائیں گے ہم
اس کے علاوہ ان کی غزلوں کی دوسری سب سے اہم خصوصیات ہیں کہ ان کی غزلوں میں مشرقی اور مغربی دونوں مزاجوں کا زبردست امتزاج ملتا ہے، اس لیے کہ جہاں وہ انگریزی شعرا شیلی، ورڈس ورتھ، اور کیٹس وغیرہ سے متاثر ہیں وہیں سنسکرت شاعری، سنسکرت تہذیب ، کلاسیکی اور جمالیاتی روایت پر بھی گہری نگاہ ہے، بلکہ فراق کی لفظیات ، استعارات، تشبیہات و کنایات کو سمجھنے کے لیے فارسی، اردو ، ہندی ، سنسکرت، انگریزی اور بھوجپوری کو بھی اچھی طرح جاننا ضروری ہے۔جذبات کی عکاسی کس خوبصورتی سے اس شعر میں کیا ہے
کوئی سمجھے تو ایک بات کہوں
عشق تو فیق ہے گناہ نہیں
فراق کی غزلوں کا رنگ ہی منفرد ہے، ان کا محبوب جہاں گوشت پوست والا انسان ہے، وہیں ان کی غزلوں میں تشبیہات وکنایات اور استعارات بھی روایتی اور تہذیبی ہیں، غرض انہوں نے جو کچھ دیکھا اور محسوس کیا اسے غزلوں میں ڈھال دیا ہے، ان کے یہاں سادگی بھی ہے اور روایت سے خوبصورتی سے انحراف، تحریکات کے اثرات بھی ہیں اور محبوب سے جدائی کے جذبات بھی۔
فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ: ویسے تو اگر ہم فراق کی غزلوں کو بغور پڑھیں تو احساس ہوتا ہے کہ ابتداہی سے وہ روایت سے انحراف کی کو شش کر رہے ہیں، مگر ان کی شاعری میں کلاسیکی رنگ دیکھنے کو خوب ملتا ہے، پروفیسر عتیق اللہ صاحب نے اس سلسلہ میں لکھا ہے کہ
”فراق کلاسیکی اردو شاعری کا گہراثر رکھتے تھے ان کی ذہنی اور فنی تربیت میں کلاسیکیت کا بہت بڑا ہاتھ تھا “(۲)
وحید اختر نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
”فراق کی غزل کلاسیکی روایت کاعطر مجموعہ ہے،ان کی شمع سخن میں تمام اساتذہ کی آوازیں روشن ہیں “ (۳)
ابولکلا م قاسمی صاحب نے ہلکی سی الگ رائے قائم کی ہے۔
”فراق کے شعر میں بلا شبہ میر کے شعر کی بازگشت بھی موجود ہے مگر میر کے شعر میں محبوب کو ساری خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ قبول کرنے پر اصرار ہے جبکہ فراق محبوب کے منفرد اور آزاد و جود کی اہمیت کو واضح کر نا چاہتے ہیں۔“ (۴)
دیکھ پھر حسن کے محاسن کو
حسن کی پہلے ہر برائی دیکھ
اس شعر میں میر کو محسوس کیا جاسکتا ہے، اس کے علاوہ شمس الرحمن فاروقی نے سودا کے نزدیک قرار دیا تو کچھ لوگوں نے مومن کے اسکول کانمائندہ قرار دیا،مگر یہ حقیقت ہے کہ فراق کی غزلوں میں کلاسیکی رنگ نمایاں ہیں اور یہ بات بھی مسلم ہے کہ فراقنے احساسات ، تجربات اور مشاہدات کی بنیاد پر ایک الگ راہ نکالی۔
تشبیہات واستعارات: فراق کی غزلوں میں تشبیہات و استعارات بھی دکھائی دیتے ہیں اور کمال ہے کہ فراق کے تشبیہات و استعارات اور تلمیحات میں بھی ہندوستانی رنگ دیکھنے کو ملتا ہے جیسے۔
دلوں میں تیرے تبسم کی یاد یوں آئی
کہ جگمگا اُٹھیں جس طرح مندروں میں چراغ
فراق عام طور پر رات، شب ، سناٹا، روشن وغیرہ الفاظ کو بطور تشبیہ خوب لاتے ہیں بلکہ رات“ کا تصور رتو اس قدر تنو ع سے ان کی شاعری میں ہے جس سے انداز ہوتا ہے کہ رات میں کبھی انہیں نیند ہی نہ آتی ہو
غزل کے ساز اُٹھاو¿ بڑی اداس ہے رات
نوائے میر سناو¿ بڑی اداس ہے رات
طبیعت اپنی گھبراتی ہے جب سنسان راتوں میں
ہم ایسے میں تیری یادوں کی چادر تان لیتے ہیں
اسلوب احمد انصاری نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ
” فراق کی تشبیہیں روایت سے کم اور ذاتی مشاہدہ سے زیادہ قریب ہیں “
ان اقتباسات سے اندازہ لگا یا جاسکتا ہے کہ فراق کس طرح کے تشبیہات و استعارات کا انتخاب کرتے ہیں۔
پیکر تراشی: لفظوںکی مدد سے شاعری میں تصویر سازی کے ہنر کوپیکر تراشی سے تعبیر کیا ہے ، اس باب میں بھی فراقنے خوبصورت نمونے پیش کیے ہیں
سفید پھول زمیں پر برس پڑیں جیسے
فضا میں کیف سحر ہے جدھر کو دیکھتے ہیں
آگئی باد بہاری کی لچک رفتار میں
موج دریا کا تبسم بس گیا رخسار میں
رومانیت: فراق انگریزی شعرا شیلی ، ورڈس ورتھ، کیٹس اور ٹینس وغیرہ کو خوب پڑھتے تھے، اس لیے انگریزی شاعری والی رومانیت فراق کی غزلوں میں دیکھنے کو ملتی ہے، مگر اس باب میں بھی فراق کی ایک انفرادیت ہے کہ وہ انگریزی شاعری کے مناظر فطرت اور رومانیت کو ہندوستانی تہذیب میں ڈھال کر بڑی خوبصورتی سے پیش کر تے ہیں
زندگی کیا ہے اس کو آج اے دوسست
سوچ لیں اور اداس ہوجائیں
مہر بانی کو محبت نہیں کہتے اے دوست
آہ اب مجھ سے تری رنجش بے جابھی نہیں
موضوعات: فراق کی غزلوں کے بنیادی موضوعات حسن و عشق،انسانی جذبات و کیفیات اور جسم و جمال کی لطافتیں ہیں وہ اپنے عمدہ اور لطیف تخیل کے ذریعہ غزلوں میں ایسا رنگ بھر دیتے ہیں کہ قاری متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا
ذرا وصال کے بعد آ ئینہ تو دیکھ اے دوست
ترے جمال کی دوشیزگی نکھر آئی
عشق: عشق اور معاملات عشق کا تعلق شروع سے ہی شاعری سے رہا ہے، مگر فراق کا عشق وہ ہے جو ذاتی حادثات و تجربات کے نتیجہ میں پیدا ہوتا ہے اور جلد ہی انسانیت کے عشق میں ڈھل جاتا ہے، پروفیسر ممتاز حسین نے لکھا ہے کہ
” وہ (فراق) بیسویں صدی کے اردو ادب کی تاریخ میں ان چند گنے چنے شعرامیں تھے جنہوں نے اردو شاعری کے رخ کو اس کے پیش پافتادہ وہ عشقیہ شاعری سے ایک نئی شاعری کی طرف موڑ دیا جو حیات آفریں کو منقلب کرنے والی ہے۔“(۶)
ہزار بار زمانہ ادھر سے گذرا ہے
نئی نئی سی ہے کچھ تری رہ گزر پھر بھی

عشق کی آگ ہے وہ آتش خود سوز فراق
کہ جلا بھی نہ سکوں اور بجھا بھی نہ سکو ں
محبوب: دیگر کلاسیکی شعراکی طرح فراق کے محبوب میں حقیقی و مجازی کا کوئی اختلاف نہیںہے، بلکہ ان کا محبوب خالص مجازی اسی دنیا میں رہنے ولا گوشت پوشت کا انسان ہے، فراق کو ہر وقت وصل کا غم دامن گیر رہتا ہے اور اسی وجہ سے ایسی کیفیت پیدا ہوگئی ہے کہ وصل میں بھی انہیں محرومی کا احساس ہوتا رہتا ہے۔
رات آدھی سے زیادہ گئی تھی سارا عالم سوتا تھا
نام تیرا لے لے کر کوئی درد کا مارا روتا تھا
جسم وجنس: فراق نے جسم و جنس کو احساس و ادراک اور فکر و فلسفہ میں ڈھال کرغزل میں پیش کیا ہے، یہ فراق کی ہی انفرادیت ہے، فراق نے جسم سے کائنات اور عشق سے عشقِ انسانیت کا سفر لاجواب انداز سے طے کیا ہے
ایک مدت سے تری یادبھی آئی نہ ہمیں
اور ہم بھول گئے ہوں تجھے ایسا بھی نہیں
ہندوستانی تہذیب کی عکاسی : فراقایک سچے محب و طن اور اپنی تہذیب سے بے انتہا محبت کرنے والے انسان تھے ، اس لیے ان غزلوں میں ہندوستانی تہذیب اوررنگ کافی نما یاں ہے خود انہوں نے اس تعلق سے لکھا ہے کہ ”ہندوستانی تہذیب میری غزلوں میں عشقیہ جذبات اور احساس کی نزاکتوں اور نرمیوں کا لہجہ اختیار کر لیتی ہیں۔“ اسی پہلو کو دوسری جگہ فراق نے اس انداز سے بیا ن کیا ہے کہ
” میرے و جدان پر عمر بھر ہندوستان کے قدیم ترین اور پاکیزہ ترین ادب اور دیگر فنون لطیفہ اور نظریہ¿ زندگی کا گہرے سے گہرااثر رہا ہے۔ساتھ ہی ساتھ بہترین فارسی شاعری، اردو شاعری ، انگریزی شاعری کے بہترین نثر و نظم کا ادب فلسفہ، اشتراکیت کی فکر یات قدیم و جدید ، یورپ کے ثقافتی خزانوں کے اثرات بھی میری غزل پر اثرا نداز ہوتے رہے ہیں میں نے اپنی غزلوں میں یہ چاہا ہے کہ اپنے ہر اہل وطن کو ہندوستا ن کے مزاج کا روح عصر اور صحت مند تصور دے دوں، میں نے یہ چاہا ہے کہ میری شاعری دھرتی کی شاعری ہے۔“(۷)
اشتراکی رنگ: فراق نے جب شاعری کی ابتدا کی تھی تو داغاور امیر کا زمانہ تھا، مگر جب عروج کا زمانہ آیا تو اشتراکی اور ترقی پسند تحریک کی شروعات بڑے زوو شور سے ہوئی، فراق بھی اس تحریک سے وابستہ ہوگئے اور شاعری کو قومیت کے نئے زنگ میں ڈھالنے کی کوشش کی
زندگی کو بھی منھ دکھانا ہے
رہ چکے تیرے بے قرار بہت
بعد کے شعراپر فراق کا رنگ: جس طرح فراق نے کلاسیکی شعر اکے اثرات قبول کیے فراق کے بعد آنے والے جدید شعرا نے بھی فراق کے اثرات قبول کیے جن میں ناصر کاظمی، خلیل الرحمن اعظمی اور شاذ تمکنت وغیرہ کے نام اہمیت سے لیے جاتے ہیں۔
ناصر کاظمی
تو کون ہے ترا نام ہے کیا
کیا سچ ہے کہ تیرے ہوگئے ہم
خلیل الرحمن اعظمی
ایسی راتیں بھی ہم پہ گزریں ہیں
تیرے پہلو میں تیری یاد آئی
ساقی فاروقی
وہ مری روح کی الجھن کا سبب جانتا ہے
جسم کی پیاس بجھانے پہ بھی راضی نکلا
حرفِ آخر: فراق زندگی ، فکر اور فن دونوں اعتبارسے تمام ہی چیزوں میں انفرادیت رکھنے والے شاعر ہیں، ان کی شاعری میں مشرق و مغرب دونوں مزاج کا حسین امتزاج ملتا ہے، انہوں نے کلاسیکی شعراکے اثرات قبول کیے اور اس سے انحراف کر کے ایک نئی راہ بھی نکالی ، گرچہ خلیق انجم صاحب نے کہا ہے کہ ” ان کے سامنے کوئی واضح راہ نہیں تھی“چوں کہ فراق بیک وقت کئی زبانوں پر عبور رکھتے تھے اور ہندوستانی تہذیب، مناظر قدرت، فطرت انسانی، زبان و ساز اور انگریزی، ہندی، فارسی ،اردو ، سنسکرت سے مل کر ایک نئی تہذیب ان کی شاعری میں رچ بس رہی تھی انہوں نے ان تمام چیزوں کو ملا کر اپنی ایک منفرد آواز بنائی ، فراق کا شمار ان جدید غزل گو شعرا میں ہوتا ہے جنہوں نے غزل کو جدت و ندرت اور نئے آواز و آہنگ سے آشنا کیا ۔ فراق کا کمال ہے کہ انہوں نے حسن و عشق اور جسم و حسن کو بھی احساسات و ادراک میں ڈھال کر ایک نئے اور اچھوتے انداز میں پیش کیا، ان کی شاعری میں ترقی پسند تحریک اور دیگر رحجانات اور ہندوستانی دیومالائی عناصر کا بھی رنگ دکھاتی دیتا ہے، انسان دوستی کاجذبہ بھی فراق کامنفرد ہے۔ انہوں نے غزل میں بہت سی خوبصورت تشبیہات و استعارات، علائم اور لفظیات پیش کیے جس کی نظیر یں ملتی۔ ان کی شاعری میں ڈرامائی عناصر بھی بہت خوبصورت نظر آتا ہے
تارے بھی ہیں بیدار زمیں جاگ رہی ہے
پچھلے کو بھی وہ آنکھ کہیںجاگ رہی ہے
……………………………………..
حوالہ جات
(۱) فراق دیار شب کامسافر شمیم حنفی جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛ ۱۵۱
(۲)فراق دیار شب کامسافر پروفیسر عتیق اللہ جامعیہ میگزین شمارہ ۶۹۹۱ء دسمبر ص؛۴۰۱
(۳) ص؛۵۰۱
(۴)شاعری کی تنقید ابوالکلام قاسمی ص؛۱۰۱
(۵)فراق گورکھپوری اسلوب احمد انصاری مجموعہ¿ مضامین انجمن ترقی اردو دہلی
(۶)فراق اور فراق کی شاعری پروفیسر ممتاز حسین
(۷)آج کل دہلی فراق گورکھپوری ص؛۴
(۸)پچھلی رات فراق گورکھپوری ص؛۷
(۹)فراقگورکھپوری ڈاکٹر خلیق انجم انجمن ترقی اردو دہلی ص؛۳۹۱


مضمون نگار شعبہ اردو ،دہلی یونیورسٹی میں ریسرچ اسکالر ہیں

مضمون نگار سے رابطہ:

abariqasmi13@gmail.com
9871523432