Intekhab E Kalam Balraj Komal

Articles

انتخابِ کلام بلراج کومل

بلراج کومل

 

صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے

 

صبا کے ہاتھ پیلے ہوگئے

میں ساعت سرشار میں

لاکھوں دعائیں

خوبصورت آرزوئیں

پیش کرتا ہوں

صبا ممنون ہے

لیکن زباں ہے

کچھ نہیں کہتی

صبا اب روز و شب

دیوار و در تن پر سجاتی ہے

اب آنچل چھت کا سر پر اوڑھتی ہے

لمس فرش مرمریں سے

پاؤں کی تزئین کرتی ہے

وہ کہساروں شگفتہ وادیوں جھرنوں

چمکتے نیلگوں آکاش کے

نغمے نہیں گاتی

صبا اب لالہ و گل کی طرف شاید نہیں آتی

صبا شبنم ادا تصویر پا بستہ

در روزن میں آویزاں

حسیں نازک بدن

روشن منور ساحلوں پر اب نہیں بہتی

صبا لب کھولتی ہے مسکراتی ہے

صبا سرگوشیوں میں

اب کسی سے کچھ نہیں کہتی


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

گریہ سگاں

جب کتے رات کو روتے ہیں

تو اکثر لوگ سمجھتے ہیں

کچھ ایسا ہونے والا ہے

جو ہم نے اب تک سوچا تھا نہ ہی سمجھا تھا

جو ہونا تھا وہ کب کا لیکن ہو بھی چکا

یہ شہر جلا

اس شہر میں روشن ہنستے بستے گھر تھے کئی

سب راکھ ہوئے

اور ان کے مکیں

کچھ قتل ہوئے

کچھ جان بچا کر بھاگ گئے

جو با عصمت تھیں

رسوائی کی خاک اوڑھ کے راہ گزر پر بیٹھی ہیں

کچھ بیوہ ہیں

کچھ پابستہ رشتوں کی وحشت سہتی ہیں

کچھ ادھ ننگے بھوکے بچے

دن بھر آوارہ پھرتے ہیں

ہر جانب مجرم ہی مجرم

ان میں سے کچھ ہیں پیشہ ور

کچھ سیکھ رہے ہیں جرم کے فن کے راز نئے اسرار نئے

جو ہونا تھا یہ سچ ہے اس میں سے تو بہت کچھ ہو بھی چکا

لیکن شاید کچھ اور بھی ہونے والا ہے

کتے تو آخر کتے ہیں

دن بھر کچرے کے ڈھیروں پر

وہ مارے مارے پھرتے ہیں

جب رات اترنے لگتی ہیں

آنے والے دشمن موسم کی دہشت سے

سب مل کر رونے لگتے ہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

غزلیں

دل کا معاملہ وہی محشر وہی رہا

اب کے برس بھی رات کا منظر وہی رہا

نومید ہو گئے تو سبھی دوست اٹھ گئے

وہ صید انتقام تھا در پر وہی رہا

سب لوگ سچ ہے با ہنر تھے پھر بھی کامیاب

یہ کیسا اتفاق تھا اکثر وہی رہا

یہ ارتقا کا فیض تھا یا محض حادثہ

مینڈک تو فیل پا ہوئے اژدر وہی رہا

سب کو حروف التجا ہم نذر کر چکے

دشمن تو موم ہو گئے پتھر وہی رہا


2

کھویا کھویا اداس سا ہوگا

تم سے وہ شخص جب ملا ہوگا

قرب کا ذکر جب چلا ہوگا

درمیاں کوئی فاصلہ ہوگا

روح سے روح ہو چکی بد ظن

جسم سے جسم کب جدا ہوگا

پھر بلایا ہے اس نے خط لکھ کر

سامنے کوئی مسئلہ ہوگا

ہر حماقت پہ سوچتے تھے ہم

عقل کا اور مرحلہ ہوگا

گھر میں سب لوگ سو رہے ہوں گے

پھول آنگن میں جل چکا ہوگا

کل کی باتیں کرو گے جب لوگو

خوف سا دل میں رونما ہوگا


Nepali Folk Tale

Articles

گیدڑ اور بھالو

نیپالی لوک ادب

 

ایک مرتبہ کی بات ہے گیدڑ اور بھالو کی ملاقات گاﺅں کے میلے میںآسمانی جھولے میںہوئی ۔انھوں نے جھولے کا بھر پور مزہ لیا۔پوری رات انھوں نے شراب پینے ، قمار بازی اور لطیفہ گوئی میں صرف کر دی۔دوسرے دن صبح تک وہ دونوں بہت اچھے دوست بن گئے۔انھوں نے فیصلہ کیا کہ اب سے وہ دونوں ساتھ ساتھ رہینگے، ساتھ کمائینگے اور ساتھ کھائینگے ۔
گیدڑ نے کہا ”میرے دوست ہم بھائی جیسے ہیں ہم الگ نہیں ہیں۔ ہم نے ایک ہی چھت کے نیچے رہنے کا فیصلہ کیاہے کیوں نہ ہم ساتھ مل کر کھیتی باڑی شروع کریں۔“
بھالو نے سوچا یہ تو بہت اچھی بات ہے۔ تب دونوں گھر کی تلاش میں نکلے۔ گاﺅں سے تھوڑے ہی دور جنگل میں جہاں لوگ لکڑیاں کاٹنے جاتے تھے انھیں وہاں ایک چرواہے کا جھونپڑا نظر آیا جو کئی سالوں سے ویران تھا ۔انھوں نے بامبو سے چھت بنائی اور جھونپڑے کو اچھی طرح سے صاف کیا۔پھر انھوں نے جوئے میں جیتے ہوئے پیسوں سے ایک سانڈ خریدااور زمین جوتنا شروع کردی۔
بھالو کا سلوک گیدڑ کے ساتھ بہت اچھا تھا اور وہ بہت محنتی بھی تھالیکن بے وقوف تھا ۔دوسری طرف گیدڑ بہت چالاک تھا لیکن اسے کام سے بالکل بھی دلچسپی نہ تھی۔انھوں نے مل کر اپنی پہلی بھنٹے کی فصل تیار کرلی ۔گیدڑ کو ایسا محسوس ہونے لگا کہ وہ بھالو کے ساتھ زندگی بطور کسان نہیں گذار سکتا۔
دوسرے دن صبح گیڈر نے کہادوست میںکھیت میں کام کرتا ہوں اور تم جاﺅ سانڈ کو چرا لاﺅ۔اس طرح ہم باری باری کرینگے جس سے ہمارے کام کا بوجھ ہلکا ہو جائیگا ۔
یہ طریقہ بھالو کو بہت پسند آیا وہ روزانہ صبح اٹھتا ناشتہ کرتا اور سانڈ کو چرانے نکل جاتا اور سانڈ کو چرانے چھوڑ کر اونچی جگہ جا کر بیٹھ جاتا اور دن بھر اس پہ نظر رکھتا ۔اس طرح سانڈ گھم ہو جانے اور شیر کی خوراک بننے سے بچا رہتا۔اسی دوران گیدڑ کھیت میں درخت کے سائے میں دن بھر لیٹا رہتا اس طرح فصل بڑھتی گئی۔
جب فصل کی کٹائی کا وقت آیا تب گیدڑ نے کہا”میرے دوست تم نے بہت محنت کی ہے اورکئی دنوں سے سانڈ کو چرا رہے ہو ۔ سانڈ بھی بہت صحت مند ہو گیا ہے ۔اب میری باری ہے اسے چرانے کی اب تم کھیت میں کام کرو۔
بھالو اپنی تعریف سنتے ہی راضی ہو گیا۔وہ فصل کی کٹائی کرنے لگااور گیدڑ سانڈ کو چرانے چلا گیا۔
بھالو مسلسل پورا دن کام کرتا رہتا ۔گیڈر کم محنتی تھا۔اسے گھنے جنگل میں اندر تک جانا بھی بھاری پڑتا تھا جہاں سانڈ کے لیے اچھی غذا تھی۔اسے اونچی جگہ پر چڑھنا اور سانڈ پہ نظر رکھنا بھی بھاری پڑتا تھا ۔ اور وہ دن بھر سانڈ کے ساتھ رہتا کہ کہیں گھم نہ جائے یا وہ شیر کی خوراک نہ بن جائے۔وہ میدانی علاقے میں سانڈ کو چرا تا رہتا یہ اس کے لیے آسان تھا اسے اس چیز کی پرواہ نہ تھی کہ وہاں چھوٹی چھوٹی گھاس ہے۔وہ بیری کے درخت کے نیچے لیٹا رہتا اور اسے دیکھتا رہتا۔اسے نہ ہی اٹھنے کی ضرورت پڑتی اور نہ ہی سانڈ کے پیچھے پیچھے بھاگنے کی۔شام میں تاخیر سے وہ گھر جاتا تاکہ اسے بھالو کے ساتھ فصل کی کٹا ئی میں مدد نہ کرنا پڑے۔
چند دنوں بعد سانڈ دبلا پڑ گیا۔اگر چہ بھالو بے وقوف تھا مگر اندھا نہیں تھا۔
اس نے ایک شام کو گیدڑ سے کہا”دوست ہمارا سانڈ اتنا دبلا کیوں ہوتا جا رہا ہے۔“
گیدڑ کے پاس جواب تیار تھا۔
” اس معاملہ میں ہم دونوں برابرنہیں ہیں دوست تم مجھ سے زیادہ اچھا چراتے ہو“۔ اس نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا”جہاں کہیں میں اسے لے جا تا ہووہاں مجھ سے پہلے لوگ پہنچ جاتے ہیں اس لیے اسے کھانے کے لیے کم مل پاتا ہے۔لیکن آج میں نے ایک ایسی جگہ دریافت کرلیہے جہاں گھاس سانڈ کے گھٹنوں تک اگی ہوئی ہے۔کل میں اسے وہاں لے جاﺅں گا اور اسے پیٹ بھر کھلاﺅں گا۔“
بھالو کو یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی کہ گیدڑ اچھا چرواہا بننے کی کوشش کر رہا ہے۔
دوسرے دن صبح جب گیدڑ سانڈ کو لے جانے کے لیے اس کی رسی کھول رہا تھا تب اس نے دیکھا کہ فصل کی کٹائی تقریباََ ہو چکی ہے ۔ اسی دن کا اس کو انتظار تھا ۔وہ گیڈر کو جنگل میں لے گیا مگر اسے گھنی جھاڑی میں نہیں لے گیا بلکہ بنجر ٹیلہ پر لے گیا جہاں گھاس کا نام و نشان نہ تھا۔جب سانڈ نے چرنے کے لیے اپنے سر کو جھکایا تب گیڈر نے اسے دھکا دے دیا اور وہ ٹیلہ سے نیچے گر گیا۔پھر گیدڑ بھاگتا ہوا ٹیلے سے نیچے اترا اور سانڈ کے مردہ جسم کو کھسکا کرٹیلے کے سائے میں لے آیا تا کہ اسے کوئی دیکھ نہ سکے۔
صبح کا ناشتہ گیدڑ نے سانڈ کے گوشت سے کیا۔جب اس کا پیٹ بھر گیا تب اس نے سانڈ کے بچے ہوئے جسم کو پہاڑ کی غار میں چھپا دیا اور غار کے راستے کو پتھروں سے بند کردیا صرف اتنی جگہ چھوڑ دی کہ وہ خود اندر داخل ہو سکے اور سانڈ کی پونچھ سوراخ سے لٹکا کر باہر چھوڑ دی۔جب سب کام ختم ہو گیا تب اس نے سوچا کہ تھوڑی دیر آرام کر لیا جائے ۔وہ گھر شام کو دیر سے جانا چاہتا تھا کیوں کہ اسے معلوم تھا کہ فصل کاٹنے میں آج بھالو کو دیر ہو جائے گی۔
گیدڑ کو دور سے اکیلا آتا دیکھ بھالو نے گیدڑ سے کہا”سانڈ کہاں ہیں؟“
گیدڑ روتے ہوئے کہنے لگا ” دوست آج بہت برا ہوا سانڈ غار کے دہانے میں پھنس گیا میں نے اسے نکالنے کی بہت کوشش کی لیکن میں اسے نکال نہ سکا کیوں کہ میں بہت کمزرور تھا ۔میرے دوست تم بہت طاقتور ہو ۔ کل تم میرے ساتھ چلو مجھے یقین ہے کہ تم اسے نکال لو گے۔
بھا لو تعریف سن کر نرم پڑ گیااور وہ اپنے دوست کی بات ٹال نہ سکا۔
دوسرے دن صبح گیدڑ بھالو کو لے کر غار کے پاس پہنچا ۔گیدڑ نے بھالو سے کہا تم بہت موٹے ہو تم اندر نہیں جا سکتے میں اندر جاتا ہوں اور سانڈ کو ڈھکیلتا ہوںتم باہر رہو اورباہر کی طرف کھینچو۔لیکن جب تک مت کھینچنا جب تک میں نہ کہوں۔جب میں کہوںتب تم دونوں ہاتھوں سے پوری طاقت لگا کر کھینچنا ۔
بھالو راضی ہو گیا اور گیدڑ غار کے اندر چلا گیا۔اور اند رجا کر اس نے سانڈ کو باہر ڈھکیلنے کی پوری تیاری کرلی۔پھر آواز لگائی”دوست کھینچو!“
بھالو نے دونوں ہاتھوں سے پونچھ کو پکڑا اور اپنا پیر سہارے کے لیے غار پر رکھ کرپوری طاقت سے کھینچنے لگا۔جب گیدڑ کو لگا کے بھالو پوری طاقت سے کھینچ رہا ہے تب اس نے سانڈ کو باہر کی طرف ڈھکیل دیا ۔بھالو سانڈ کے وزن کو سنبھا ل نہ سکا اور لڑکھڑا کر پہاڑسے نیچے ندی میںگر گیا۔
سانڈ ہاتھ مل کر مسکرانے لگا ۔ وہ بہت خوش تھا کہ اس کا منصوبہ کامیاب ہو گیا تھا۔فصل پوری کٹ چکی تھی۔سانڈ کو بھی اب چرانے کی ضرورت نہیں تھی اور اب بھالو بھی نہیں تھا جو اسے غلط کام پر بولتا۔دھوکہ باز گیدڑ نے سوچا”اب جیسا میں چاہوں ویسا کر سکتا ہوں کوئی بولنے والا نہیں ہے۔“
وہ بھاگتا ہواگھر آیا ۔کلہاڑی اور باسکٹ لے کر پھر پہاڑی پر گیا تاکہ سانڈ کا بچا ہوا گوشت کھا سکے اورجو بچے اسے کاٹ کر گھر لا سکے۔گیدڑ نے گھر سے دلیابھی ساتھ لے لیا تا کہ دوپہر کا کھانا مکمل ہو جائے۔اور وہ یہ ساری چیزیں لے کر پہاڑی پر پہنچا ۔
پہنچتے ہی وہ ششدر رہ گیا۔ غار کے سامنے بھالوہاتھ باندھے کھڑا ہوا تھا۔
” ارے دوست “گیدڑ کو دیکھ کر بھالو نے کہا۔”سانڈ کا کیا ہوا؟“
”تم نے زیادہ زور سے کھینچ دیا “ گیدڑ نے برجستہ جواب دیا۔” تمہیں اپنی طاقت کا اندازہ نہیں رہا ۔ تمہارے ساتھ ہی سانڈ بھی دریا میں گر گیا اور ڈوب گیا۔وہ دریا میں بہت زور سے گرا تھا پانی بھی بہت اوپر تک اچھلا تھا۔“
”میرے پیارے دوست“بھالوبڑبڑاتے ہوئے کہنے لگا”اب ہم اس سے کبھی نہیں مل سکتے ۔ اس کے ساتھ میری بھی زندگی ختم ہوگئی !“ پھراس نے گیدڑ کی طرف دیکھ کر کہا”تم کلہاڑی اور باسکٹ اپنے ساتھ کیوں لائے ہو؟“
”میں نے سوچا کہ میں جنگل میں جا کر کچھ لکڑیاں کاٹ لاﺅں گا۔مجھے معلوم تھا کہ تم دریا سے بچ کر نکل جاﺅں گے اور تمہیں سردی پکڑ لے گی اور تم کام نہیں کر پاﺅں گے۔میں تم سے کہنے ہی والا تھا کہ تم گھر جا کر تھوڑا آرام کرلو۔“
تمہیں اپنے آپ پر رشک کرنا چاہئے کہ تمہارے بارے میں اتنا سوچنے والا تمہیں بھائی جیسادوست ملا۔پھر بھالو نے کھچڑی کی طرف دیکھ کر کہا ”تم دلیا کیوںاپنے ساتھ لائے؟“
”میں نے سوچا کہ تم تیرتے تیرتے بہت تھک گئے ہوگے اور تمہیں بہت بھوک لگی ہو گی اس لیے میں گھر جاکر تمہارے لیے کھچڑی لے کر آیا۔“
بھالو کے چہرے پر مسکراہٹ چھا گئی اور وہ خوش نظر آنے لگا۔
”میرے دوست تم لاکھوں میں ایک ہو“ اس نے چلا کر کہا اور گیدڑ کو گلے سے لگا لیا۔
گیڈر نے بھی ہنسنا شروع کر دیا ۔وہ دونوں ہنسی خوشی پہاڑ سے نیچے اتر گئے۔جب دونوں ہنستے ہنستے نڈھال ہوگئے تب انھوں نے ساتھ مل کردلیا کھایا۔پھر جنگل جاکر لکڑیاں کاٹ کر دونوں ساتھ لائے ۔
دونوں ایک دوسرے کے اب تک دوست تھے ۔حالانکہ کسی کوبھی یقین نہیں آتا تھا کہ بے وقوف ،سخت محنتی بھالو چالاک اور کام چور گیدڑ کا دوست کیسے ہے۔

 


انگریزی سے ترجمہ:حیدر شمسی

Nepali Folk tale

Articles

چالاک نائی

نیپالی لوک ادب

ٰٓ ایک شہزادے کو اپنے نائی کی باتیں بہت پسند تھیں۔ہر صبح نائی اس کی داڑھی بنانے آیا کرتا تھااور داڑھی بناتے وقت وہ مختلف قسم کی باتیں کرتا تھا۔ جو کچھ وہ شہر والوں کے منہ سے سنتا آکر کہہ دیتا ۔
لیکن نائی کو شاہی پادری بالکل بھی پسند نہیں تھا جسے دربار کا ہر شخص عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتا تھا ۔یہ بات نائی کو بہت نا خوشگوار گزرتی تھی جسے وہ برداشت نہیں کرسکتا تھا ۔لہٰذا  اس نے پادری سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک منصوبہ بنایا ۔
ایک دن صبح جب وہ شہزادے کی داڑھی بنانے آیا تب اس نے معمول کے مطابق کوئی بات نہیں کی۔ ”تمہیں کیا ہوا ہے آج؟ تم بولتے کیوں نہیں؟“ شہزادے نے نائی سے پوچھا ۔
آخر کار اس کے منھ سے چند جملے نکلے” گذشتہ رات میں نے ایک خواب دیکھاکہ میں جنت میں ہوں جہاں میری ملاقات آپ کے والد بزرگوار اور عزت مآب والدہ سے ہوئی۔ لیکن وہ دونوں بہت پریشان تھے ۔
”کیوں ؟ انھیں کیا پریشانی ہے؟“ شہزادے نے پوچھا۔
چالاک نائی نے صورت بنا کر کہا ” انھیں پادری کی اشد ضرورت ہے جو ان کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرسکیں ۔ انھوں نے کہا ہے کہ میں آپ سے اس بات کا تذکرہ کروں اگر آپ شاہی پادری کو ان کی خدمت میں بھیج سکیں توفوراََ جنت میں بھیج دیں ۔
”لیکن کیسے؟“
” اس کام میں کسی قسم کی کوئی مشکل در پیش نہیں آئے گی “ نائی نے جواب دیا۔” بس کفن پہنانا پڑے گا اور قبر میں لٹا نا ہوگا ۔ پھرپادری کی آنکھ سیدھا جنت میں کھلے گی۔“
” اچھا میں سمجھ گیا ۔ میں ایسا ہی کروں گا ۔“
نائی اور شہزادے کے درمیان جو باتیں ہوئیں اور جوفیصلہ کیا گیا یہ باتیں پادری کو معلوم پڑیں ۔لیکن وہ بھی بہت ہوشیاراور چالاک تھا۔اس نے شہزادہ سے درخواست کی کہ ایک مہینہ کی مہلت دی جائے تاکہ جنت کے سفر کے لئے مکمل تیاری کر لے۔
اس نے اپنی قبر کے لئے اپنے ہی باغ میں ایک جگہ منتخب کی۔اور ایک درجن مزدوروں کو تہہ خانہ بنوانے کے لئے لگا دیاجس کا راستہ سیدھا اس جگہ سے اس کے گھر کو نکلے۔پھر قبر میں اس نے ٹوٹی پھوٹی لکڑیاں ، گھاس اور پیڑ کے سوکھے ہوئے پتے سے تہہ خانہ کے دہانے کو چھپا دیا ۔
البتہ وہ مقدس دن آگیا جب پادری کو کفن پہنا کر قبر میں لٹانا تھا جس کی تیاری میں وہ پچھلے ایک مہینے سے لگا ہوا تھا۔پادری کو کفن پہنا کرقبر میں لٹا دیا گیا اورمٹی ڈا ل دی گئی اس طرح تدفین ہوگئی ۔ پادری نے کفن کھولا اور تہہ خانہ کے راستے اپنے گھر پہنچ گیا۔
تین سال کا عرصہ گزر گیا ۔اس دوران پادری نے اپنے بال، داڑھی اور ناخن نہیں کاٹے اور انھیں بڑھنے دیا ۔ایک دن اچانک وہ گھر سے نکل کر شہزادہ کی خدمت میں حاضر ہوا ۔دربار میں حاضر ہوتے ہی سب کے ہوش اڑ گئے اور سب حیرانی سے پادری کو دیکھنے لگے۔
”تم جنت سے کب واپس آئے؟ شہزادے نے پوچھا ۔  ” اور تم نے اپنی صورت کیا بنا رکھی ہے۔ تمہارے بال ، داڑھی اور ناخن اس قدر بڑھے ہوئے کیوں ہیں؟ “
” اسی لیے تو میں آج یہاں آیا ہوں۔“ پادری نے جواب دیا۔ ”کون بے وقوف ہے جو جنت کا آرام چھوڑ کر یہاں زمین پر آئے گا ۔اگر یہ خاص مقصد نہیں تو اور کیا ہے؟ آپ کو معلوم ہے تقریباََایک سال ہوگئے۔ آپ کے والد کے پاس ایک استاد نائی تھا جسے کسی وجہ سے پچھلے چند مہینوں سے جنت سے باہر کسی کام کے لیے بھیج دیا گیا ہے ۔ اس کی جگہ کوئی دوسرا نائی اب تک جنت میں نہیں آیا ۔آپ کے والد بزرگوار نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ کے پاس جاﺅں اور آپ سے کہوں کہ آپ فوراََ کوئی نائی بھیج دیں تاکہ ان کی ضرورت پوری ہوجائے۔“
شہزادے نے نائی کو حکم دیا کے وہ جنت میں چلا جائے۔
نائی بہت زیادہ ڈر گیا کیوں کہ اس کی بازی الٹ گئی تھی ۔وہ بہت دیر تک خاموش رہا کیوں کہ وہ شہزادے کے حکم کو ماننے سے انکار نہیں کر سکتا تھا۔شہزادے کے حکم دیتے ہی سپاہیوں نے قبر کھودناشروع کردی۔بیچارے نائی کو کفن پہنا کر زندہ درگور کر دیا گیا۔

سبق: جیسا بوئوگے ویسا ہی کاٹو گے۔

 


انگریزی سے ترجمہ:حیدر شمسی

Nepali Folk Tale

Articles

کل سب بدل جائے گا

نیپالی لوک کہانیاں

 

ایک مرتبہ کی بات ہے ایک آدمی کا گزر پٹن سلطنت (موجودہ للت پور)سے ہوا۔ وہاں وہ رگھو نام کے آدمی کو دیکھ کر بہت حیران ہو اجو تیل نکالنے والی میل میں جانوروں کی طرح پہئے کو گول گول گھما رہا تھا۔
مسافر نے پوچھا ” تم کب تک اسے یوں ہی گھماتے رہو گے؟“ رگھو نے جواب دیا ۔” فکر مت کرومیر ے دوست کل سب بدل جائے گا!“
کچھ دنوں بعد مسافرکا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا۔اس بار وہ پہلے سے اور زیادہ حیران ہوگیا وہی رگھو جسے تیل کی میل میں جانوروں کی طرح کام کرتے دیکھا تھا اب وہ میل کا مالک بن چکا تھا ۔مسافر نے اسے اس ترقی پر مبارک باد پیش کی ۔رگھو نے شکریہ ادا کیا اور کہا” میرے دوست کل سب بدل جائے گا۔“
اگلی مرتبہ اسی شہر سے جب مسافر کا گذر ہوا ۔اس بار حیرت کی انتہانہ رہی ۔رگھو پٹن سلطنت کا راجا بن چکا تھا ۔ ” یہ کیسے ہوا میرے دوست؟“ مسافر نے پوچھا۔ رگھو نے بتایا کہ جو اس سے پہلے راجاتھا اس کا انتقال ہو گیا اور علاقائی دستور کے مطابق راجا وہی شخص بنتا ہے جسے شاہی ہاتھی پھولوں کا ہار پہنائے۔ شہرکے سب لوگ جمع ہوئے شاہی ہاتھی میرے قریب آیا اورمجھے ہار پہنا دیا۔
”مجھے سن کربہت خوشی ہوئی رگھو ۔بہت بہت مبارک ہو!“
رگھو مسافر سے بغل گیر ہوگیا اور معمول کے مطابق کہا” فکر مت کروکل سب بدل جائے گا !“
کچھ دنوں بعد پھر مسافر کا گزر اسی جگہ سے ہو ا۔اس بار وہ اور زیادہ حیران ہواکیوں کہ اسے وہاں اینٹ اور پتھروں کا ڈھیر اور منہدم عمارتیںنظر آئےں۔وہاں محل ،شہر اور رگھو کا نام و نشان نہ تھا ۔مسافر کو بے حد تکلیف ہوئی جب اسے کسی سے پتہ چلا کہ زلزلے میں پورا شہر برباد ہو گیا۔
پھر مسافر کو رگھو کی وہ بات یاد آئی جو وہ بار بار کہتا تھا کہ کل سب بدل جائے گا ۔ مسافر نے اپنے آپ سے کہا واقعی کل سب بدل جائے گا!“
سبق : ہر چیز فانی ہے/کوئی بھی چیز ہمیشہ کے لئے باقی نہیں رہتی۔


 

انگریزی سے ترجمہ : حیدر شمسی

Intekhab E Kalam Khumar Barabankvi

Articles

انتخابِ کلام خمار بارہ بنکوی

خمار بارہ بنکوی

اصلی نام محمد حیدر خان تھا اورتخلص خمار۔ 19 ستمبر 1919 کو بارہ بنکی (اتر پردیش) میں پیدا ہوئے۔ نام کے ساتھ بارہ بنکوی اسی مناسبت سے تھا۔ 19 فروری 1999 کو بارہ بنکی میں انتقال کر گئے۔

1

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

سکوں ہی سکوں ہے خوشی ہی خوشی ہے

ترا غم سلامت مجھے کیا کمی ہے

چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں

نیا ہے زمانہ نئی روشنی ہے

ارے او جفاؤں پہ چپ رہنے والو

خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

مرے راہبر مجھ کو گمرہ نہ کر دے

سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

خمارؔ بلا نوش کہ تو اور توبہ

تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے


2

مجھ کو شکست دل کا مزا یاد آ گیا

تم کیوں اداس ہو گئے کیا یاد آ گیا

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر

کچھ یوں بسر ہوئی کہ خدا یاد آ گیا

واعظ سلام لے کہ چلا مے کدے کو میں

فردوس گم شدہ کا پتا یاد آ گیا

برسے بغیر ہی جو گھٹا گھر کے کھل گئی

اک بے وفا کا عہد وفا یاد آ گیا

مانگیں گے اب دعا کہ اسے بھول جائیں ہم

لیکن جو وہ بوقت دعا یاد آ گیا

حیرت ہے تم کو دیکھ کے مسجد میں اے خمارؔ

کیا بات ہو گئی جو خدا یاد آ گیا


3

وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں

جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں

محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں

سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں

تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی

وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو

یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

ہوائیں چلیں اور نہ موجیں ہی اٹھیں

اب ایسے بھی طوفان آنے لگے ہیں

قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے

خمارؔ اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں


4

ہنسنے والے اب ایک کام کریں

جشن گریہ کا اہتمام کریں

ہم بھی کر لیں جو روشنی گھر میں

پھر اندھیرے کہاں قیام کریں

مجھ کو محرومیٔ نظارہ قبول

آپ جلوے نہ اپنے عام کریں

اک گزارش ہے حضرت ناصح

آپ اب اور کوئی کام کریں

آ چلیں اس کے در پہ اب اے دل

زندگی کا سفر تمام کریں

ہاتھ اٹھتا نہیں ہے دل سے خمارؔ

ہم انہیں کس طرح سلام کریں


5

ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی

جذبات میں وہ پہلی سی شدت نہیں رہی

ضعف قویٰ نے آمد پیری کی دی نوید

وہ دل نہیں رہا وہ طبیعت نہیں رہی

سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا

دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

کمزوریٔ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا

جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے

دامان یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

پیہم طواف کوچۂ جاناں کے دن گئے

پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

چہرے کو جھریوں نے بھیانک بنا دیا

آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمارؔ

اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی

Intekhab E Kalam Nooh Naarvi

Articles

انتخابِ کلام نوح ناروی

نوح ناروی

 

نوح ناروی : (18 ستمبر، 1879ء – 10 اکتوبر، 1962ء ) –  مشہور کہنہ مشق شاعر، داغ دہلوی کے جانشین تھے۔ ان کی ولادت  ریاست اترپردیش ، رائے بریلی ضلع، سلون تحصیل کے بھوانی پور گاؤں میں ہوئی، جو ان کا نانہال تھا۔

نانا کا نام شیخ علم الہدیٰ صاحب تھا اور آپ یہیں پیدا ہوئے۔ تعلیم مختلف حضرات سے پائی جن میں اہم نام حافظ قدرت علی صاحب و مولوی یوسف علی صاحب ۔ بعد ازاں حاجی عبدالرحمن صاحب جائسی کے پاس تعلیم حاصل کی۔ فارسی اور عربی تعلیم کے لئے میر نجف علی صاحب استاذ رہے۔ آپ کو انگریزی پڑھنے کا موقع بھی ملا۔

شعر و سخن کا شوق میر نجف علی صاحب کی صحبت مکی وجہ سے پیدا ہوا۔ آپ ابتداء میں شرف تلمذانہیں سے کیا کرتے تھے۔ پھر آپ جناب امیر مینائی سے کلام کا اصلاح لیا کرتے تھے۔ جناب جلال لکھنوی سے بھی شرف تلمذ رہا ۔ اور آخر میں فصیح الملک حضرت داغ دہلوی کے شاگرد ہوگئے۔ 1903ء کو حیدرآباد تشریف لے گئے۔

کلاسیکی غزل کی آبیاری کرنے والوں میں نوح ناروی صاحب نام بھی شامل ہے، جنہوں نے نہایت ہی عمدہ اور خوبصورت شعر تخلیق کئے۔

ان کی مشہور غزل جس کو پنکج ادھاس نے گایا اور غزل گائکی دنیامیں اپنا مقام دائم کرلیا۔

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں
جب طبیعت کسی پہ آتی ہے
موت کے دن قریب ہوتے ہیں۔

نوح ناروی بلاشبہ اپنے عہد کے بہت بڑے شاعر تھے۔ جس کا اعتراف جدید نسل بھی بڑے ہی شان سے کرتی ہے۔


1

شکوؤں پہ ستم آہوں پہ جفا سو بار ہوئی سو بار ہوا

ہر بات مجھے ہر کام مجھے دشوار ہوئی دشوار ہوا

ساقی کی نشیلی آنکھوں سے ساری دنیا سارا عالم

بدمست ہوئی بدمست ہوا سرشار ہوئی سرشار ہوا

ہے نام دل مضطر جس کا کہتے ہیں جسے سب جان حزیں

مرنے کے لئے مٹنے کے لئے تیار ہوئی تیار ہوا

اظہار محبت بھی ہے غضب اظہار محبت کون کرے

حجت ان سے جھگڑا مجھ سے ہر بار ہوئی ہر بار ہوا

دنیا میں بہار اب آ پہنچی مے خانے کا در بھی کھل جائے

ایک ایک گلی ایک ایک مکاں گل زار ہوئی گل زار ہوا

کیوں رحم وہ ظالم کرنے لگا کیوں موت یہاں تک آنے لگی

الفت سے مری صورت سے مری بیزار ہوئی بیزار ہوا

حسرت اپنی ارماں اپنا آزار اپنا تکلیف اپنی

ہم درد بنی ہم درد بنا غم خوار ہوئی غم خوار ہوا

ملنے سے تنفر تھا جس کو آغوش میں اب وہ سوتا ہے

تقدیر مری اقبال مرا بیدار ہوئی بیدار ہوا

مقتل میں جفائیں ڈھانے پر مقتل میں جفائیں سہنے پر

قاتل کی نظر بسمل کا جگر تیار ہوئی تیار ہوا

اے نوحؔ یہ کیا سوجھی تم کو طوفان اٹھایا کیوں تم نے

ساری دنیا سارا عالم بیزار ہوئی بیزار ہوا


2

ہر طلب گار کو محنت کا صلہ ملتا ہے

بت ہیں کیا چیز کہ ڈھونڈھے سے خدا ملتا ہے

وقت پر کام نہ آیا دل ناشاد کبھی

ٹوٹ کر یہ بھی اسی شوخ سے جا ملتا ہے

وہ جو انکار بھی کرتے ہیں تو کس ناز کے ساتھ

مجھ کو ملنے میں نہ ملنے کا مزا ملتا ہے

یہ کدورت یہ عداوت یہ جفا خوب نہیں

مجھ کو مٹی میں ملا کر تمہیں کیا ملتا ہے

نوحؔ ہم کو نظر آیا نہ یہاں بت بھی کوئی

لوگ کہتے تھے کہ کعبہ میں خدا ملتا ہے


3

کیوں آپ کو خلوت میں لڑائی کی پڑی ہے

ملنے کی گھڑی ہے کہ یہ لڑنے کی گھڑی ہے

کیا چشم عنایت کا تری مجھ کو بھروسہ

لڑ لڑ کے ملی ہے کبھی مل مل کے لڑی ہے

کیا جانئے کیا حال ہمارا ہو شب ہجر

اللہ ابھی چار پہر رات پڑی ہے

تلوار لیے وہ نہیں مقتل میں کھڑے ہیں

اس وقت مرے آگے مری موت کھڑی ہے

جینے نہیں دیتے ہیں وہ مرنے نہیں دیتے

اے نوحؔ مری جان کشاکش میں پڑی ہے


4

کوچۂ یار میں کچھ دور چلے جاتے ہیں

ہم طبیعت سے ہیں مجبور چلے جاتے ہیں

ہم کہاں جاتے ہیں یہ بھی ہمیں معلوم نہیں

بادۂ عشق سے مخمور چلے جاتے ہیں

گرچہ آپس میں وہ اب رسم محبت نہ رہی

توڑ جوڑ ان کے بدستور چلے جاتے ہیں

بیٹھے بیٹھے جو دل اپنا کبھی گھبراتا ہے

سیر کرنے کو سر طور چلے جاتے ہیں

قیس و فرہاد کے مرنے کا زمانہ گزرا

آج تک عشق کے مذکور چلے جاتے ہیں


5

آپ جن کے قریب ہوتے ہیں
وہ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں

جب طبیعت کسی پر آتی ہے

موت کے دن قریب ہوتے ہیں

مجھ سے ملنا پھر آپ کا ملنا

آپ کس کو نصیب ہوتے ہیں

ظلم سہہ کر جو اف نہیں کرتے

ان کے دل بھی عجیب ہوتے ہیں

عشق میں اور کچھ نہیں ملتا

سیکڑوں غم نصیب ہوتے ہیں

نوحؔ کی قدر کوئی کیا جانے
کہیں ایسے ادیب ہوتے ہیں

Kalimuddin Ahmad ka Tasuwwar e shair

Articles

کلیم الدین احمدکا تصور نقد اور نقد شعر

شاکرعلی صدیقی

کلیم الدین احمد(1907ئ-1983ئ)کی تنقیدی تحریر کا باضابطہ آغاز1939ء میں گل نغمہ کے مقدمہ سے ہوا۔اسی مقدمہ میں ان کی زبان قلم سے رسوائے زمانہ جملہ غزل نیم وحشی صنف شاعری ہے  منظر عام پر آیا۔ اس بیان کی کلیدی وجہ یہ بتائی گئی کہ غزل میں ربط،اتفاق اورتکمیل کا فقدان ہے ،جس کے باعث تہذیب یافتہ ذہن کو لطف اور نہ تربیت یافتہ تخیل کو سرور حاصل ہے ۔ گل نغمہ کے تقریباً ایک سال بعد ان کی دوسری مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر1940ء میں مشتہر ہوئی۔یہ کتاب در اصل شاعری کے مختلف اصناف کی تنقید پر مبنی ہے ۔ کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ان کی تیسری کتاباردو تنقید پر ایک نظر1942ء میں شیوع ہوکر متنازعہ حیثیت اختیار کر گئی۔ اس کتاب سے ادبی دنیا میں ایک طرح کی کھلبلی مچ گئی۔جس کی بنیادی وجہ یہ رہی کہ اردو کے پورے تنقیدی سرمائے تذکروں سے آب حیات اور حالی سے ان کے معاصر ین تک کی،تنقیدی کاوشوں کو یکسر رد کیا گیا اور یہاں تک کہ اردو تنقید کے وجود کو محض فرضی،اقلیدس کے خیالی نقطے اور معشوق کی موہوم کمر سے تعبیر کیا گیا۔جس پر ناقدین ادب نے مختلف نوعیت کے شدید تر رد عمل کیے ۔مثلاً پروفیسر نثار احمد فاروقی لطیف طنز کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:

پرو فیسر کلیم الدین احمد تو اردو میں تنقید کے وجود سے ہی منکر ہیں اور اسے معشوق کی موہوم کمر کہتے ہیں ، مگر اس(کا کیا کیا جائے ؟کہ)انکار میں اقرار بھی پوشیدہ ہے اس لیے کہ معشوق کی کمر(تو) ہوتی ہے ،بس وہ شاعر کو نظر نہیں آتی۔کلیم الدین صاحب تنقید کو کوئی فتویٰ یا حتمی فیصلہ قرار دینا چاہتے ہیں۔

سوال یہ قائم ہوتا ہے کہ کلیم الدین نے اردو شعر و ادب کی اصنافی خصوصیات /امتیازات اور اس کی تنقید کو از راہ نظر یکسر رد کیا ہے یا پھر کسی ذاتی منصوبہ بند سازش کے تحت۔کیوں کہ اس سے قبل بھی مشرقی علوم و فنون پرانگشت نمائی کی جاتی رہی ہیں،کبھی مرعوبیت کی شکل میں اور کبھی حکمرانی کے رو سے ۔لہٰذا یہ نکتہ غورطلب ہے کہ آیا مشرقی(بالخصوص عربی ،فارسی اور اردو) ادب اتناہی گرا ہوا/پست قد ہے کہ اس کی تہذیبی،ثقافتی ،لسانی اور فنی قدروں کی یکسر تردید کی جائے ،تو پھر دوسری طرف ان مشرقی علوم کی رہزنی کیوں؟ یا پھر ان شہ پاروں کی تحقیق کیوں؟ اور مزید جدید ادبی تھیوریز (جن کو ہم مغرب کی دین کہتے ہیں)کی اساس کیا مشرقی تصور ادب کے ذیلی مباحث کے تحریف شدہ نظریات پر مبنی نہیں؟۔بہرحال یہ مسئلہ ہنوز تحقیق اورغور طلب ہے۔

کلیم الدین احمد کے پورے تنقیدی سرمائے کو باریک بینی سے دیکھا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنے تنقیدی شعور و آگہی کا اطلاق ایک مخصوص نقطئہ نظر کے تحت کیا ہے ۔اس لیے ان کا تمام تنقیدی کارنامہ تین شقوں پر قائم ہے ۔ اول تو انہوں نے سب سے پہلے فن تنقید کے بنیادی مسائل اٹھائے ہیں اور پھر اصول تنقید کو مرتب کیا ہے ۔ دوم انہوں نے اپنے وضع کیے ہوئے اصولوں کا انطباق شعر و ادب پر کیا ہے ۔ سوم انہوں نے تمام شعری اصناف کا عمیق تجزیاتی مطالعہ کرکے قدر و قیمت کا تعین کیا ہے ۔ان کے اہم ادبی تصورات کو سمجھنے کے لیے مندرج ذیل اقتباسات ملاحظہ ہوں:

ادب کی دنیا ایک ہے ، اس میں الگ الگ چھو ٹی چھوٹی دنیائیں نہیں ، خود مختار حکومتیں نہیں۔ شاعری کا مدعا اآج بھی وہی ہے جو دو ہزار برس پہلے تھا اور فنون لطیفہ کے بنیادی قوانین شاعری کی اصولی باتیں ساری دنیا میں ایک ہیں۔

ادب دماغ انسانی کی کاوشوں کا ایک آیئنہ ہے ، انسانی فطرت ہر قوم ، ہر ملک ، ہر زمانہ میں یکساں نظر آتی ہیں ۔ سطحی اختلافات تو ضرور ہیں اور ہوتے رہتے ہیں ؛لیکن حقیقت نہیں بدلتی ۔… ادب بنی نوع کی زندگی اور اس کے شعور سے وابستہ ہے ۔ نوع انسانی کی زندگی مسلسل ہے ۔ افراد فنا ہوجائیں؛ لیکن نوع کی فنا نہیں ۔ اس میں تغیر تو ضرور ہوتا ہے ۔ لیکن یہ تغیر ارتقا ئی صورت میں جلوہ گر ہوتا ہے ۔ اسی طرح ادب میں بھی اس تسلسل کا وجود لازمی ہے ۔ “

مذکورہ اقتباس سے واضح ہوتا ہے کہ کلیم الدین احمد کا ادب کے متعلق ایک مخصوص نظریہ ہے ۔ وہ تمام ادبوں کی دنیا کو ایک تصور کرتے ہیں ۔ اس لیے ان کے ادبی تصور میں علاقایئت کے بجائے عالمیت کا غالب رحجان پایا جاتا ہے ۔ ان کے نزدیک ادب انسانی تجربات کا اظہار ہے ۔ ان تجربات میں جذبات اور خیالات دونوں شامل ہیں ۔ ان کا موقف یہ بھی ہے کہ کہ تجربہ میں محض زندگی کے روزمرہ حقائق داخل نہیں بلکہ اس میں احساسات بھی دخل ہیں ۔ان میں ایک قسم کی عالم گیری اوار ابدیت ہوتی ہے ۔ ادب، پائدار ادب اسی قسم کے بنیادی تجربات سے سروکار رکھتا ہے ۔ اس لیے ایک دور کا ادب کسی دوسرے دور میں بیکار ،مہمل ، فرسودہ ، ازکار رفتہ نہیں ہوجاتا بلکہ جہاں تک بنیادی اور پائدار تجربات کا سوال ہے ۔اپنی قدرو قیمت پر قائم رہتا ہے ۔  نیز ادب نام ہے تجربات کے اظہار کا ۔ یہ تجربات ایک حد تک انسان کے ماحول سے وابستہ ہیں یہ ماحول کائنات کی ہر چیز کی طرح بدلتا رہتا ہے ۔ اس لیے لازمی طور پر انسانی تجربات میں بھی تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے ۔ ماحول کا وہ سماج ہو یا خارجی ماحول ہو ،اثر کسی دور کے ادب پر ہوتا ہے اور کسی دور کے ادب کو پورے طور پر سمجھنے کے لیے اس ماحول کا جائزہ لینا ضروری ہے ۔  کلیم الدین کے شعور ادب میں تجربہ خاص اہمیت رکھتا ہے ۔ جس کا براہ راست تعلق انسانی ماحول سے ہے ۔ جس میں تغیر بھی ہے اور تبدل بھی ، اس لیے ان کے نزدیک شعرو ادب کی تفہیم میں ماحول کا مطالعہ ناگزیر ہے ۔

کلیم الدین کے نزدیک شاعری بیش قیمتی تجربات کا موزوں ترین اظہار ہے ۔ اس اظہار میں تین بنیادی شرائط ہیں اس میں سچائی ہو، خلوص ہو اور گہرائی ہو ۔ انہوں نے اپنی کتاباردو شاعری پر ایک نظرمیں شاعری کے متعلق بہت سے بنیادی نکات اٹھائے ہیں ۔ وہ شاعری کی تعریف اس طرح کرتے ہیں :

شاعری اچھے اور بیش قیمت تجربوں کا حسین ، مکمل اور موزوں بیان ہے ۔

شاعری کی جو تعریف انہوں نے بیان کی ہے وہ مشرقی اصول شعر سے عبارت ہے ۔ عربی اور فارسی کے ناقدین نے انسانی تجربوں کے موزوں بیان کوہی شاعری تسلیم کیا ہے ؛ لیکن یہ نکتہ قابل غور ہے کہ انہوں نے اس میں مکملکی شرط لگا کر اپنے مخصوص زاویئہ نظر کو قائم رکھنے کی کوشش کی ہے ۔ حالاں کہ شاعری اشارات و کنایات میں اپنی بات پیش کرتی ہے ، جس کو قاری اپنے تربیت یافتہ ذہن کے ذریعہ مکمل کرتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہماری مشرقی شاعری میں ربط یا تسلسل نام کی کوئی ظاہری چیز نہیں پائی جاتی اور نہ ہی انگریزی شاعری کی طرح اس میں ابتدا ، وسط اور انتہا کا التزام ہوتا ہے ۔ کلیم الدین احمد آگے چل کر اسی نقطہ پر ٹھہر جاتے ہیں اور میر کے دو شعر کا موازنہ سلی پردوم کی ایک نیم مختصر  نظم سے کرکے یہ نتیجہ بر آمد کرتے ہیں کہ :

 میں صرف ایک بات اور کہہ دینا چاہتا ہوں کہ اس نظم کے مختلف اجزا میں ربط و تسلسل ہے اور صرف یہی نہیں اس نظم میں خیالات و جذبات کی ابتدا ، ترقی اور انتہا ہوتی ہے اور یہاں یہ تینوں حصے بہت صاف صاف دکھائی دیتے ہیں ۔

کلیم الدین احمد کے نزدیک شاعری انسانی کامرانی کی معراج اور انسانی تہذیب و تمدن کے سر کا تاج ہے ۔وہ اسے انسان کی زندگی کی تکمیل کا بنیادی وسیلہ تصور کرتے ہیں ان کا خیا ل ہے کہ شاعری وہ طاقت ور صنف ہے جس میں انسان کی تمام تر قوتیں بروئے کار لائی جاسکتی ہیں ۔ اسی وجہ سے شاعری انسان کو کامل سکون عطاکرتی ہے ۔ ان کے یہاں شاعری کی ماہیت اور انسان کی زندگی میں شاعری کی قدرو قیمت کو ایک خاص مقام حاصل ہے ۔ بہرکیف شاعری سے متعلق ان کے تمام تصورات کا خلاصہ یہ ہے کہ :

  1. شاعری میں پیش کردہ تجربات یا خیالاتقیمتی ہوں ۔
  2. خیال میں انفرادیت اور تازگی ہو ۔ نیز وہ نئے جذبات و احساسات سے پر ہوں ۔
  3. شاعری میں حسن بیان ہو ۔ ان کا موقف ہے کہ شاعری کا بنیادی تعلق آسودگء روح ہے ۔ اس لیے جن الفاظ کا پیکر اسے عطا کیا جائے وہ بھی حسین ہونے چاہیے ۔
  4. اچھی شاعری کے لیے یہ بھی لازم ہے کہ مکمل بیان ہوایسا نہ ہو کہ الفاظ کے پردے سے معنی دھندلے ہوجائیں۔
  5. شاعری میں پیش کردہ تجربات کے لیے مناسب الفاظ استعمال کیے جائیں تاکہ مفہوم پوری طرح ادا ہوجائے ۔
  6. شاعری میں موزونیت ، نغمگی اور تناسب کا ہونا بھی ضرور ی ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعری میں عمدہ اور بے بہا تجربات ہوتے ہیں ۔ اس لیے اس کی صورت گری تین عناصر ” نقوش، الفاظ ، وزن / آہنگ ” کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یہ عناصر استعارات کی شکل میں ہوتے ہیں ۔ جو لازم جزو شاعری ہے ۔

شاعری کی عملی تنقید کے حوالے سے ان کی دو کتابیںاردو شاعری پر ایک نظراورعملی تنقید قابل ذکر ہیں۔ان کے علاوہ دیگر کتابوں میں بھی شاعری کی عملی بحثیں ملتی ہیں؛لیکن اول الذکر دونوں کتابیں شاعری تنقید میں کلیدی درجہ رکھتی ہیں۔ان کی عملی تنقید میں غزل تنقید کو ایک نمایاں مقام حاصل ہے ۔ حالی کے بعد ان کو یہ شرف حاصل ہے کہ انہوں نے غزل کا تفصیلی جائزہ لے کر اس کے خدو خال کا تعین کیا ۔ اگرچہ ان کو غزل کی ہیت ، ریزہ خیالی اور موضوعات کے تکرار سے اتفاق نہیں تھا جس کی وجہ سے “غزل کو نیم وحشی صنف سخن ” قرار دیا ؛ لیکن انہیں غزل کی مستحکم روایت اور نزاکت کا پورا پورا احساس تھا ۔ غزل تنقید کے متعلق ان کا پہلا مضمون ” نگار ” لکھنو ، جنوری تا فروری 1942ء میں شائع ہوا ۔ اس کے بعد انہوں نے  اردو شاعری پر ایک نظر اور  عملی تنقید جلد اول میں صنف غزل پر عملی بحث کی ۔  نگار کے مضمون میں انہوں نے غزل کے متعلق جو آرا پیش کی تھیں انہیں کو مربوط شکل میں اپنی مشہور کتاباردو شاعری پر ایک نظر میں پیش کیا ہے ۔ اور پھر اسی روشنی میں غزل ، قطعہ ، قصیدہ اور مرثیہ جیسی معروف صنف سخن کو زیر تجزیہ لائے اور انہیں اصناف کے تحت نمائندہ شعرا مثلاً میر  ، درر ، سودا ، ذوق ، غالب ، مومن  ، میر حسن  ، نسیم  ، شوق ، انیس  اور دبیر  وغیرہ کے فن پاروں کو موضوع بحث بنایا ۔ مثلاََ:

غالب کی ایک مشہور غزل جو سات اشعار پر مشتمل ہے ،جس کا مطلع غیرلیں محفل میں بو سے جام کے ہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے اورمقطع  عشق نے غالب نکما کردیا ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے  اس پوری غزل کو نقل کرکے وہ لکھتے ہیں :

 اس غزل پر سرسری نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شعروں میں مشابہت اور مناسبت ہے ۔ سب ہم وزن ہم قافیہ اور ہم ردیف ہیں ۔ ایک شعر کے سوا سب شعر عشق اور عشق کے لوازمات سے وابستہ ہیں ۔ اس ظاہری مطابقت کی وجہ سے خیال ہوتا ہے کہ باطنی مطابقت بھی ہوگی اور ان شعروں میں معنی کے لحاظ سے ربط و تسلسل اور ارتقائے خیال بھی ہوگا؛ لیکن یہ خیال غلط ہے ۔ مختلف شعروں میں شعور ی اور غیرشعوری کوئی ربط نہیں ۔ پڑھنے والے کے ذہن میں مکمل تجربے کی تصویر اجاگر نہیں ہوتی بلکہ چند پراگندہ خیالات اور نقوش جم جاتے ہیں ۔ رقیبوں کی کامیاب قسمت ، شاعری کی خستگی ، خط لکھنے کا ارادہ ، زمزم پر مے کشی ، دل کا آنکھوں میں جاپھنسنا ، شاہ کے غسل صحت کی خبر ، شاعر کا نکما ہونا ان باتوں میں کوئی معقول مناسبت نہیں ۔ ان میں ربط و تسلسل ، وہ ارتقائے خیال نہیں جو سلی پرودوم کی نظم کے مختلف بندوں میں ہے۔

یہ حقیقت ہے کہ غزل میں تسلسل بیان نہیں ہوتا ، ہر شعر جداگانہ مفاہیم کا حامل ہوتا ہے ۔ اسی طرح غزل کا ہر شعر اپنے میں مکمل اور معنی میں خود مکتفی ہوتا ہے ۔ ظاہری تسلسل کے لحاظ سے غزل کے اشعار ایک دوسرے سے متفرق ہوتے ہیں ؛ لیکن ربط باہمی سے پیوست ہوتے ہیں ۔ مثلاً غزل کے اشعار میں بحور قوافی کی جھنکار اور ردیف کی تکرار باہمی ربط کی عمدہ دلیل ہے ۔ جس کی شناخت صاحب فہم یا غزل شناس ہی کرسکتا ہے ۔

غزل کے تاریخی ، تہذیبی اور صنفی خصوصیات و امتیازات سے چشم پوشی کا ہی یہ نتیجہ ہے کہ کلیم الدین سلی پرودوم کے نظم کی خصوصیات و امتیازات کوغالب کی غزل میں تلاش کرتے ہیں ۔ یہ واقعہ دلچسپی سے خالی نہیں کہ ایک مرتبہ ایک ضعیفہ اپنے گھر کے باہر سرکاری بلب کی روشنی میں کچھ تلاش کر رہی تھی ۔ایک راہ گیر نے پوچھا بڑی بی کیا تلاش کر رہی ہو ؟ بھیا ! سوئی تلاش کر رہی ہوں۔ پھر اس نے پوچھا کہاں گری تھی ؟ ضعیفہ نے کہا وہ تو اندر کوٹھری میں گری تھی ۔ پھر یہاں کیوں تلاش کر رہی ہو ؟ وہاں اندھیرے کی وجہ سے سوجھائی نہیں دے رہا تھا ۔ اس لیے سوچا یہاں روشنی میں تلاش کرلوں ! یہی واقعہ کلیم الدین احمد کے ساتھ بھی پیش آیا کہ انگریزی شاعری کی خصوصیات و امتیازات کو اردو شاعری میں تلاش کر رہے تھے ۔ جس کے باعث اردو شاعری ان کے معیار و میزان پر پوری نہیں اتری ۔

شاعری کے عملی مباحث میں کلیم الدین احمد کی عملی تنقید سر فہرست ہے ۔ اس میں ان کا طریق نقد بالعموم یہ رہا ہے کہ شعرو ادب کے جائزے سے قبل متعلقہ جائزے کے کچھ بنیادی اصول وضع کیے ہیں ۔ بالفاظ دیگر فن پارے کی عملی تنقید سے پہلے اپنی نظری تنقید کو مستحکم کیا ہے ۔ فن پارے کو پرکھنے کے لیے انہوں نے جن نکات کی نشاندہی کی ہے یہاں ان کا ذکر ناگزیر معلوم ہوتا ہے ۔ اس لیے اہم نکات کا خلاصہ آپ کے پیش نظر ہے :

اول شعر کی تفہیم کے لیے ان کے نزدیک دو شرطیں ہیں کیا اور کیسے ؟ ان کے نزدیک کیا سے مراد مضمون ہے اور کیسے سے مراد الفاظ ہیں ۔ یعنی ان کی عملی تنقید موضوع اور ہیت کے مطالعات پر مبنی ہیں ۔ وہ اس ضمن میں رقمطراز ہیں :

……..شعر کو سمجھنے ، پورے طور پر سمجھنے ، ان کی خصوصیتوں کو اجاگر کرنے کے لیے اس کا تجزیہ ضروری ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ کیا اور کیسے کی بات اٹھائی جاتی ہے اگر ایسا نہ کیا جائے تو پھر مقصد میں کامیابی بھی ممکن نہیں ؛اس لیے یہ تجزیہ ضروری ہے ، کیا اور کیسے کی بات ضروری ہے ۔

ہیئت / فارم کے مطالعے کے لیے ان کے یہاں چار چیزیں ہیں : اول نقوش، دوم الفاظ ، سوئم آہنگ یا وزن،چہارم لب و لہجہ ۔ ان کا موقف ہے کہ شعر کی تشکیل الفاظ کے ذریعہ ہوتی ہے ۔ یعنی شاعرخیال ، ذہنی نقش یا تاثر کی شکل میں کچھ کہتا ہے ۔ اگر یہ خیال یا ذہنی نقوش اعلیٰ درجہ کے ہیں اور اس میں تجربے کی باریکی ، تازگی اور گہرائی موجود ہے تو یہ شاعری اعلیٰ درجہ کی ہوگی۔

شعر کے مطالعہ کادوسرا نکتہ الفاظ کی پیش کش ہے ۔ وہ لفظ کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لیے آئی اے رچرڈز کے نظریہ سے استفادہ کرتے ہوئے یہ حوالہ دیتے ہیں کہ ہر لفظ کا ایک پیکر ہوتا ہے ، اسے بولتے ہیں تو اس کی ساخت ہم منہ میں محسوس کرتے ہیں ، سنتے ہیں تو ایک خاص صوتی پیکر کا احساس ہوتا ہے ،سوچتے ہیں تو آنکھوں کو ، اندرونی آنکھوں کو اس کا صوری پیکر نظر آتا ہے ۔  ان کا خیال ہے کہ شعر مخصوص لفظوں کا مجموعہ ہوتا ہے ؛لیکن لفظوں کا ہر مجموعہ شعر نہیں ہوتا ہے ۔

کلیم الدین کے عملی تنقید کی ایک خوبی یہ ہے کہ وہ تجربات و الفاظ میں ناگزیر ربط تلاش کرتے ہیں ۔ ان کا خیال ہے کہ شاعر تجربات کی پیش کش کے لیے غیر شعوری طور پر بہترین الفاظ تلاش کرتا ہے اور پھر وہ انہیں عمدہ ترتیب اور مناسبت سے آراستہ کرتا ہے ۔ اس لیے ناقد کے لیے ضروری ہے کہ معنی اور جذبات سے علاحدہ ہوکر پہلے الفاظ کی طرف متوجہ ہو ؛ کیونکہ الفاظ ہی ناقد کی رہنمائی اور منزل مقصود تک لے جاتے ہیں ۔ یعنی شعر کے محاسن و معائب سے آگاہ کرتے ہیں ۔ اگر چہ انہوں نے موضوعات کے حوالے سے بھی متعدد شعرا کے کلام کا جائزہ لیاہے ؛لیکن ان کی عملی تنقید کا بیشتر حصہ ہیتی مطالعات پر مبنی ہے ۔مثلاََ:

سودا کا مشہور قصیدہ جس کا مطلع  ہوا جب کفر ثابت ہے وہ تمغائے مسلمانی  نہ ٹوٹی شیخ سے زنارتسبیح سلیمانی کی تشبیبکے متعلق وہ لکھتے ہیں :

ان شعروں میں چند اخلاقی خیالات کا بیان ہے ۔ ان میں کوئی ناگزیر ربط و تسلسل نہیں ، کوئی خاص ارتقائے خیال نہیں ۔ ان کا بیان نثر میں بھی ممکن تھا لیکن سودا نے انہیں شعر کے سانچے میں ڈھالا ہے ۔ نثر میں یہ باتیں سیدھے سادے طریقے سے ہوتیں، شعر میں انہیں نقوش کے قالب میں ڈھالا گیا ہے ۔ہر شعر کے دوسرے مصرعے میں کوئی تشبیہ یا استعارہ ہے ۔ اور یہ تشبیہ یا استعارہ صرف ایک زیور نہیں بلکہ جز وخیال ہے ۔اس کی وجہ سے خیالات کا مطلب وسیع اور پر اثر ہوجاتا ہے ۔ ہر خیال گویا ایک حسین تصویر ہے ۔ جذبات کی گرمی ، تخیل کی رنگینی ہر شعر میں موجود ہے ۔

کلیم الدین فن پارے کی خصوصیات کو نمایاں کرنے کے لیے فارم / ہیئت کا سہارا لیتے ہیں ۔ اگرو ہ کسی فن پارے کے خیالات کا ہی تجزیہ کیوں نہ کرتے ہوں ؛ لیکن ان کے یہاں ہیتی مطالعہ غالب رہتا ہے ۔ دوسری بات یہ بھی قابل غور ہے کہ اردو شاعری پر ایک نظرمیں عملی تنقید کی جو مثالیں ملتی ہیں ان میں استخراج نتائج کے باعث متن کی تفہیم میں تشنہ لبی کا احساس ہوتا ہے ۔نیزاپنے مخصوص نکتہ نظر کے تحت فن پارے کے معائب کی جستجو متن کی توضیح میں حائل رہتی ہے ۔جبکہ بعد کی تحریروں میں مثلاً  سخن ہائے گفتنی ، عملی تنقید اور اقبال ایک مطالعہ  میں شاعری کی عملی تنقید پر مبنی تمام مثالیں انکشاف متن کے لحاظ سے عمدہ اور پختہ ثبوت فراہم کرتی ہیں ۔

اسی طرح کلیم الدین نے اپنے طریقئہ نقد میں تقابل اور توازن کو ایک خاص اہمیت دی ہے ۔ ان کا بیشتر تنقیدی سرمایہ موازنہ پر مبنی ہے ۔ کبھی تو وہ موازنہ کے ذریعہ استنباط نتائج کو مستحکم کرتے ہیں اور کبھی فن پارے کے تجزیاتی مطالعہ کی اساس تقابل پر قائم کرتے ہیں۔ایک مثال سودا اور محسن کاکوری کے مشہور قصیدے کے مطلع سے ملاحظہ ہو ۔ انہوں نے ان دونوں شعرا کی تشبیب کا موازنہ موضوع کے پیش نظر جزوی طور پر پیش کیا ہے ۔ سودا کا مطلع دیکھیے :

اٹھ گیا بہمن و دے کا چمنستان سے عمل

تیغ اردی نے کیا ملک خزاں مستاصل

محسن کاکوری کا مطلع :

سمت کاشی سے چلا جانب متھر بادل

برق کے کاندھے پہ لائی صبا گنگا جل

کا تقابل کرتے ہوئے وہ رقمطراز ہیں :

سودا بہار کا نقشہ پیش کرتے ہیں ، محسن کاکوری برسات کا ۔ سودا کی تشبیب سے کم سے کم بہار کی رنگینی و فراوانی کا اندازہ ملتا ہے ۔ محسن کاکوری کے اشعار سے پراگندگی پیدا ہوتی ہے ۔ اور کوئی صاف مکمل نقشہ مرتب نہیں ہوتا۔ سودا میں ایک زور ہے جس نے آورد کو آمد میں تبدیل کر دیا ہے ۔ محسن کاکوری میں یہ زور موجود نہیں ۔

ان کی عملی تنقید میں موازنہ کا طریقہ ایک مخصوص حیثیت کا حامل ہے ۔ کبھی تو انہوں نے فن پارے کی توضیحی اساس تقابل پر منضبط کی ہے اور کبھی استخراجی نتائج کی تائید و تردید کے لیے تقابل کا سہارا لیا ہے ۔ اسی وجہ سے ان کی عملی تنقید کا بیش تر حصہ موازنہ سے عبارت ہے ۔ہاں یہ ضرور ہے کہ ان کے یہاں شاعری تنقید میں کسی فن پارے کا کلی طور پر تقابلی مطالعہ نہیں ملتا،بلکہ جزوی طور پر نمایاں ہوتا ہے ۔ جس کی بنیادی وجہ غالباً یہ ہوتی ہے کہ وہ جس متن کو اپنے تجزیاتی مراحل سے گزراتے ہیں اس کا تقاضہ یہی ہوتا ہے کہ مقاصد کی تکمیل جزوی تقابل سے پوری ہوجاتی ہے ۔ بعض مواقع میں کلیم الدین کا تقابلی مطالعہ ناقص رہتا ہے ۔ کیونکہ وہ اپنے وضع کردہ اصولوں کے انطباق میں نفس مضمون اور عندیہ متن کی تحریف کا لحاظ کیے بغیر فن پارے سے استدلال کرتے ہیں ۔ بہر کیف اس کے باوجوبھی ان کا تقابلی طریق نقد ، متون کی توضیح ، استنباط نتائج اور تعین قدر کے اعتبار سے صحت مند ہے ۔

بحیثیت مجموعی کلیم الدین کی عملی تنقید شعرو ادب کے متن کو بنیادی حیثیت عطا کرتی ہے ۔ ان کی تنقید کی اساس فن پارے پر مرتکز رہتی ہے ۔ وہ فن پارے کے مختلف انسلاکات اور معروضی لوازمات سے قطع نظر فنی تخلیق پر اپنی پوری توجہ صرف کرتے ہیں اور کبھی کبھی وہ فن کارکی قدر سنجی کے لیے اس کے معاشرتی پس منظر کا بھی مطالعہ کرتے ہیں ۔ اسی طرح انہوں نے فن پارے کی عملی تنقید کرتے وقت متن کے مرکزی خیال اور موضوع کی نشاندہی کرکے اسے کے حسن و قبح پر زیادہ تر بحث کی ہے ۔ انہوں نے موضوع اور ہیت کو منفرد اکائی کے طور پر پرکھنے کی کوشش کی ۔ اسی طرح انہوں نے شاعری تنقید میں بعض موقعوں پر معروضی اور تجزیاتی انداز نقد سے انحراف کرتے ہوئے محض تاثراتی انداز نقد سے بھی کام لیا ہے ۔ بالفاظ دیگر ان کی عملی تنقید متن کے مخصوص معنیاتی نظام کا عمیق مطالعہ کرتی ہے ۔ کلیم الدین احمد کی عملی تنقید کا پہلا حصہ تجزیاتی نوعیت کا ہوتا ہے ۔ یہاں انہوں نے وضاحت ، استدلال اور تقابل کے ذریعہ متن کی مختلف جہتوں تک رسائی حاصل کی ہیں ۔ بعض موقعوں پر زیر تجزیہ متن کے جزیاتی نکتوں کو اس قدر کھول کھول کر بیان کیا ہے کہ فن پارے کی تمام تفہیمی پرتیں وا ہوگئی ہیں ۔ مثلاً جب وہ کسی غزل یا نظم کے مصرعوں کو آگے پیچھے کر کے دکھاتے ہیں یا چند مصرعوں کو حذف کر کے دکھاتے ہیں کہ یہ ضروری ہیں اور یہ غیر ضروری ! فن پارے میں الفاظ کی تکرار پر گرفت کرتے ہیں تو وہ ہیتی طریق نقد کے اعلیٰ رمز شناس معلوم ہوتے ہیں ۔

٭٭٭

Qaisarul Jafri ka Muntakhab kalam

Articles

قیصر الجعفری کا منتخب کلام

قیصر الجعفری

 

گھر لوٹ کے روئیں گے ماں باپ اکیلے میں

مٹی کے کھلونے بھی سستے نہ تھے میلے میں

کانٹوں پہ چلے لیکن ہونے نہ دیا ظاہر

تلووں کا لہو دھویا چھپ چھپ کے اکیلے میں

اے داور محشر لے دیکھ آئے تری دنیا

ہم خود کو بھی کھو بیٹھے وہ بھیڑ تھی میلے میں

خوشبو کی تجارت نے دیوار کھڑی کر دی

آنگن کی چنبیلی میں بازار کے بیلے میں


2

تمہارے شہر کا موسم بڑا سہانا لگے

میں ایک شام چرا لوں اگر برا نہ لگے

تمہارے بس میں اگر ہو تو بھول جاؤ مجھے

تمہیں بھلانے میں شاید مجھے زمانہ لگے

جو ڈوبنا ہے تو اتنے سکون سے ڈوبو

کہ آس پاس کی لہروں کو بھی پتا نہ لگے

وہ پھول جو مرے دامن سے ہو گئے منسوب

خدا کرے انہیں بازار کی ہوا نہ لگے

نہ جانے کیا ہے کسی کی اداس آنکھوں میں

وہ منہ چھپا کے بھی جائے تو بے وفا نہ لگے

تو اس طرح سے مرے ساتھ بے وفائی کر

کہ تیرے بعد مجھے کوئی بے وفا نہ لگے

تم آنکھ موند کے پی جاؤ زندگی قیصرؔ

کہ ایک گھونٹ میں ممکن ہے بد مزہ نہ لگے


3

پھر مرے سر پہ کڑی دھوپ کی بوچھار گری

میں جہاں جا کے چھپا تھا وہیں دیوار گری

لوگ قسطوں میں مجھے قتل کریں گے شاید

سب سے پہلے مری آواز پہ تلوار گری

اور کچھ دیر مری آس نہ ٹوٹی ہوتی

آخری موج تھی جب ہاتھ سے پتوار گری

اگلے وقتوں میں سنیں گے در و دیوار مجھے

میری ہر چیخ مرے عہد کے اس پار گری

خود کو اب گرد کے طوفاں سے بچاؤ قیصرؔ

تم بہت خوش تھے کہ ہمسائے کی دیوار گری


4

دیواروں سے مل کر رونا اچھا لگتا ہے

ہم بھی پاگل ہو جائیں گے ایسا لگتا ہے

کتنے دنوں کے پیاسے ہوں گے یارو سوچو تو

شبنم کا قطرہ بھی جن کو دریا لگتا ہے

آنکھوں کو بھی لے ڈوبا یہ دل کا پاگل پن

آتے جاتے جو ملتا ہے تم سا لگتا ہے

اس بستی میں کون ہمارے آنسو پونچھے گا

جو ملتا ہے اس کا دامن بھیگا لگتا ہے

دنیا بھر کی یادیں ہم سے ملنے آتی ہیں

شام ڈھلے اس سونے گھر میں میلہ لگتا ہے

کس کو پتھر ماروں قیصرؔ کون پرایا ہے

شیش محل میں اک اک چہرا اپنا لگتا ہے


5

تری گلی میں تماشا کیے زمانہ ہوا

پھر اس کے بعد نہ آنا ہوا نہ جانا ہوا

کچھ اتنا ٹوٹ کے چاہا تھا میرے دل نے اسے

وہ شخص میری مروت میں بے وفا نہ ہوا

ہوا خفا تھی مگر اتنی سنگ دل بھی نہ تھی

ہمیں کو شمع جلانے کا حوصلہ نہ ہوا

مرے خلوص کی صیقل گری بھی ہار گئی

وہ جانے کون سا پتھر تھا آئینہ نہ ہوا

میں زہر پیتا رہا زندگی کے ہاتھوں سے

یہ اور بات ہے میرا بدن ہرا نہ ہوا

شعور چاہئے ترتیب خار و خس کے لیے

قفس کو توڑ کے رکھا تو آشیانہ ہوا

ہمارے گاؤں کی مٹی ہی ریت جیسی تھی

یہ ایک رات کا سیلاب تو بہانہ ہوا

کسی کے ساتھ گئیں دل کی دھڑکنیں قیصرؔ

پھر اس کے بعد محبت کا حادثہ نہ ہوا

Intekhab E Kalam Fani Badauni

Articles

انتخابِ کلام فانی بدایونی

فانی بدایونی

 

1

خلق کہتی ہے جسے دل ترے دیوانے کا

ایک گوشہ ہے یہ دنیا اسی ویرانے کا

اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا

زندگی کاہے کو ہے خواب ہے دیوانے کا

حسن ہے ذات مری عشق صفت ہے میری

ہوں تو میں شمع مگر بھیس ہے پروانے کا

کعبہ کو دل کی زیارت کے لیے جاتا ہوں

آستانہ ہے حرم میرے صنم خانے کا

مختصر قصۂ غم یہ ہے کہ دل رکھتا ہوں

راز کونین خلاصہ ہے اس افسانے کا

زندگی بھی تو پشیماں ہے یہاں لا کے مجھے

ڈھونڈتی ہے کوئی حیلہ مرے مر جانے کا

تم نے دیکھا ہے کبھی گھر کو بدلتے ہوئے رنگ

آؤ دیکھو نہ تماشا مرے غم خانے کا

اب اسے دار پہ لے جا کے سلا دے ساقی

یوں بہکنا نہیں اچھا ترے مستانے کا

دل سے پہنچی تو ہیں آنکھوں میں لہو کی بوندیں

سلسلہ شیشے سے ملتا تو ہے پیمانے کا

ہڈیاں ہیں کئی لپٹی ہوئی زنجیروں میں

لیے جاتے ہیں جنازہ ترے دیوانے کا

وحدت حسن کے جلووں کی یہ کثرت اے عشق

دل کے ہر ذرے میں عالم ہے پری خانے کا

چشم ساقی اثر مئے سے نہیں ہے گل رنگ

دل مرے خون سے لبریز ہے پیمانے کا

لوح دل کو غم الفت کو قلم کہتے ہیں

کن ہے انداز رقم حسن کے افسانے کا

ہم نے چھانی ہیں بہت دیر و حرم کی گلیاں

کہیں پایا نہ ٹھکانا ترے دیوانے کا

کس کی آنکھیں دم آخر مجھے یاد آئی ہیں

دل مرقع ہے چھلکتے ہوئے پیمانے کا

کہتے ہیں کیا ہی مزے کا ہے فسانہ فانیؔ

آپ کی جان سے دور آپ کے مر جانے کا

ہر نفس عمر گزشتہ کی ہے میت فانیؔ

زندگی نام ہے مر مر کے جئے جانے کا


2

اے اجل اے جان فانیؔ تو نے یہ کیا کر دیا

مار ڈالا مرنے والے کو کہ اچھا کر دیا

جب ترا ذکر آ گیا ہم دفعتاً چپ ہو گئے

وہ چھپایا راز دل ہم نے کہ افشا کر دیا

کس قدر بے زار تھا دل مجھ سے ضبط شوق پر

جب کہا دل کا کیا ظالم نے رسوا کر دیا

یوں چرائیں اس نے آنکھیں سادگی تو دیکھیے

بزم میں گویا مری جانب اشارا کر دیا

دردمندان ازل پر عشق کا احساں نہیں

درد یاں دل سے گیا کب تھا کہ پیدا کر دیا

دل کو پہلو سے نکل جانے کی پھر رٹ لگ گئی

پھر کسی نے آنکھوں آنکھوں میں تقاضا کر دیا

رنج پایا دل دیا سچ ہے مگر یہ تو کہو

کیا کسی نے دے کے پایا کس نے کیا پا کر دیا

بچ رہا تھا ایک آنسودار و گیر ضبط سے

جوشش غم نے پھر اس قطرے کو دریا کر دیا

فانیؔ مہجور تھا آج آرزو مند اجل

آپ نے آ کر پشیمان تمنا کر دیا


3

لے اعتبار وعدۂ فردا نہیں رہا

اب یہ بھی زندگی کا سہارا نہیں رہا

تم مجھ سے کیا پھرے کہ قیامت سی آ گئی

یہ کیا ہوا کہ کوئی کسی کا نہیں رہا

کیا کیا گلے نہ تھے کہ ادھر دیکھتے نہیں

دیکھا تو کوئی دیکھنے والا نہیں رہا

آہیں ہجوم یاس میں کچھ ایسی کھو گئیں

دل آشنائے درد ہی گویا نہیں رہا

اللہ رے چشم ہوش کی کثرت پرستیاں

ذرے ہی رہ گئے کوئی صحرا نہیں رہا

دے ان پہ جان جس کو غرض ہو کہ دل کے بعد

ان کی نگاہ کا وہ تقاضا نہیں رہا

تم دو گھڑی کو آئے نہ بیمار کے قریب

بیمار دو گھڑی کو بھی اچھا نہیں رہا

فانیؔ بس اب خدا کے لیے ذکر دل نہ چھیڑ

جانے بھی دے بلا سے رہا یا نہیں رہا


4

سوال دید پہ تیوری چڑھائی جاتی ہے

مجال دید پہ بجلی گرائی جاتی ہے

خدا بخیر کرے ضبط شوق کا انجام

نقاب میری نظر سے اٹھائی جاتی ہے

اسی کو جلوۂ ایمان عشق کہتے ہیں

ہجوم یاس میں بھی آس پائی جاتی ہے

اب آ گئے ہو تو اور اک ذرا ٹھہر جاؤ

ابھی ابھی مری میت اٹھائی جاتی ہے

مرے قیاس کو اپنی تلاش میں کھو کر

مرے حواس کو دنیا دکھائی جاتی ہے


5

ہر گھڑی انقلاب میں گزری

زندگی کس عذاب میں گزری

شوق تھا مانع تجلی دوست

ان کی شوخی حجاب میں گزری

کرم بے حساب چاہا تھا

ستم بے حساب میں گزری

ورنہ دشوار تھا سکون حیات

خیر سے اضطراب میں گزری

راز ہستی کی جستجو میں رہے

رات تعبیر خواب میں گزری

کچھ کٹی ہمت سوال میں عمر

کچھ امید جواب میں گزری

کس خرابی سے زندگی فانیؔ

اس جہان خراب میں گزری

Intekhab E Kalam Raes Amrohvai

Articles

رئیس امروہوی کا منتخب کلام

رئیس امروہوی

 

ستمبر 1914ء اردو کے نامور اور منفرد لب ولہجہ کے شاعرو ادیب رئیس امروہوی صاحب کی تاریخ پیدائش ہے۔
رئیس امروہوی کا اصل نام سید محمد مہدی تھا اور وہ امروہہ میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد علامہ سید شفیق حسن ایلیا بھی ایک خوش گو شاعر اور عالم انسان تھے۔ رئیس امروہوی کی عملی زندگی کا آغاز صحافت سے ہوا۔ قیام پاکستان سے قبل وہ امروہہ اور مراد آباد سے نکلنے والے کئی رسالوں سے وابستہ رہے۔ قیام پاکستان کے بعد انہوں نے کراچی میں سکونت اختیار کی اور روزنامہ جنگ کراچی سے بطور قطعہ نگار اور کالم نگار وابستہ ہوگئے، اس ادارے سے ان کی یہ وابستگی تا عمر جاری رہی۔
رئیس امروہوی کے شعری مجموعوں میں الف، پس غبار، حکایت نے، لالہ صحرا، ملبوس بہار، آثار اور قطعات کے چار مجموعے شامل ہیں جبکہ نفسیات اور مابعدالطبیعات کے موضوعات پر ان کی نثری تصانیف کی تعداد ایک درجن سے زیادہ ہے۔
22 ستمبر 1988ء کو رئیس امروہوی ایک نامعلوم قاتل کی گولیوں کا نشانہ بن گئے۔رئیس امروہوی کراچی میں سخی حسن کے قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔

 

رئیس امروہوی کا منتخب کلام

 

میں جو تنہا رہِ طلب میں چلا

ایک سایہ مرے عقب میں چلا

صبح کے قافلوں سے نبھ نہ سکی

میں اکیلا سوادِ شب میں چلا

جب گھنے جنگلوں کی صف آئی

ایک تارا مرے عقب میں چلا

آگے آگے کوئی بگولا سا

عالمِ مستی و طرب میں چلا

میں کبھی حیرتِ طلب میں رکا

اور کبھی شدتِ غضب میں چلا

نہیں کھلتا کہ کون شخص ہوں میں

اور کس شخص کی طلب میں چلا

ایک انجان ذات کی جانب

الغرض میں بڑے تعب میں چلا

———————————

2

صبحِ نَو ہم تو ترے ساتھ نمایاں ہوں گے

اور ہوں گے جو ہلاکِ شبِ ہجراں ہوں گے

میری وحشت میں ابھی اور ترقی ہو گی

تیرے گیسو تو ابھی اور پریشاں ہوں گے

آزمائے گا بہرحال ہمیں جبرِ حیات

ہم ابھی اور اسیرِ غمِ دوراں ہوں گے

عاشقی اور مراحل سے ابھی گزرے گی

امتحاں اور محبت کے مری جاں ہوں گے

قلب پاکیزہ نہاد و دلِ صافی دے کر

آئینہ ہم کو بنایا ہے تو حیراں ہوں گے

صدقۂ تیرگیِ شب سے گلہ سنج نہ ہو

کہ نئے چاند اسی شب سے فروزاں ہوں گے

آج ہے جبر و تشدد کی حکومت ہم پر

کل ہمیں بیخ کنِ قیصر و خاقاں ہوں گے

وہ کہ اوہام و خرافات کے ہیں صیدِ زبوں

آخر اس دامِ غلامی سے گریزاں ہوں گے

صرف تاریخ کی رفتار بدل جائے گی

نئی تاریخ کے وارث یہی انساں ہوں گے

صدمۂ زیست کے شکوے نہ کر اے جانِ رئیسؔ

بخدا یہ نہ ترے درد کا داماں ہوں گے


 

3

سیاہ ہے دلِ گیتی سیاہ تر ہو جائے

خدا کرے کہ ہر اک شام بے سحر ہو جائے

کچھ اس روش سے چلے بادِ برگ ریز خزاں

کہ دور تک صفِ اشجار بے ثمر ہو جائے

بجائے رنگ رگِ غنچہ سے لہو ٹپکے

کھلے جو پھول تو ہر برگِ گل شرر ہو جائے

زمانہ پی تو رہا ہے شرابِ دانش کو

خدا کرے کہ یہی زہر کارگر ہو جائے

کوئی قدم نہ اٹھے سوئے منزل مقصود

دعا کرو کہ ہر اک راہ پُر خطر ہو جائے

یہ لوگ رہگزرِ زیست سے بھٹک جائیں

اجل قوافلِ ہستی کی ہم سفر ہو جائے

بہ قدرِ یک دو نفس بھی گراں ہے زحمتِ زیست

حیاتِ نوعِ بشر اور مختصر ہو جائے


 

4

خاموش زندگی جو بسر کر رہے ہیں ہم

گہرے سمندروں میں سفر کر رہے ہیں ہم

صدیوں تک اہتمامِ شبِ ہجر میں رہے

صدیوں سے انتظارِ سحر کر رہے ہیں ہم

ذرے کے زخم دل پہ توجہ کیے بغیر

درمانِ درد شمس و قمر کر رہے ہیں ہم

ہر چند نازِ حسن پہ غالب نہ آ سکے

کچھ اور معرکے ہیں جو سر کر رہے ہیں ہم

صبحِ ازل سے شام ابد تک ہے ایک دن

یہ دن تڑپ تڑپ کے بسر کر رہے ہیں ہم

کوئی پکارتا ہے ہر اک حادثے کے ساتھ

تخلیقِ کائناتِ دگر کر رہے ہم

اے عرصۂ طلب کے سبک سیر قافلو

ٹھہرو کہ نظم راہ گزر کر رہے ہیں ہم

لکھ لکھ کے اشک و خوں سے حکایاتِ زندگی

آرائشِ کتابِ بشر کر رہے ہیں ہم

تخمینۂ حوادثِ طوفاں کے ساتھ ساتھ

بطنِ صدف میں وزنِ گہر کر رہے ہیں ہم

ہم اپنی زندگی تو بسر کر چکے رئیسؔ

یہ کس کی زیست ہے جو بسر کر رہے ہیں ہم


 

5

چل اے دل!سوئے شہرِ جانانہ چل

بصد شب رَوی ہائے مستانہ چل

یہی ہے تمنائے خواب و خمار

سوئے ارضِ افسون و افسانہ چل

یہی ہے تقاضائے شعر و شباب

سوئے شہرِ مہتاب و مے خانہ چل

بہ تعمیلِ منشورِ مے خانہ اُٹھ

بہ تجدیدِ پیمان و پیمانہ چل

مبارز طلب ہیں حوادث تو کیا؟

رجز پڑھ کے تُو رزم خواہانہ چل

مصائب ہیں ہنگامہ آرا تو ہوں

عَلَم کھول کر فتح مندانہ چل

جو مقصودِ خاطر ہے تنہا روی

تو آزاد و تنہا و یگانہ چل

جو تنہا روی کا سلیقہ نہ ہو

تو انجان راہوں میں تنہا نہ چل

اُٹھا دلق و کشکول و کاسہ اُٹھا

قلندر صفت چَل فقیرانہ چل

دف و چنگ و طاؤس و طنبور و نَے

بہ قانونِ شہرود و شاہانہ چل

شُتر بانِ لیلیٰ کو زحمت نہ دے

رہِ شوق میں بے حجابانہ چل

ابھی منزلیں منزلوں تک نہیں

ابھی دُور ہے شہرِ جانانہ چل

ابھی حُسن کی خیمہ گاہیں کہاں ؟

ابھی اور ویرانہ ویرانہ چل

ابھی شہرِ جاناں کی راہیں کہاں

ابھی اور بیگانہ بیگانہ چل

جَبل در جَبل دَشت در دَشت ابھی

جواں مردِ کہسار! مردانہ چل

وہ بنتِ قبیلہ نہ ہو منتظر

ذرا تیز اے عزمِ مستانہ چل

وہ سلمائے صحرا نہ ہو مضطرب

رَہِ دوست میں عذر خواہانہ چل

حریفوں کی چالوں سے غافل نہ ہو

کٹھن وادیوں میں حریفانہ چل

غزالوں کی آبادیاں ہیں قریب

غزل خوانیاں کر غزالانہ چل

بہت اجنبیت ہے اس شہر میں

چل اے دل! سوئے شہرِ جانانہ چل

——————————-