Iqbal Aur Nawjawan by Dr. Zakir Khan Zakir

Articles

اقبال اور نوجوان

ڈاکٹر ذاکر خان

 

حکیمِ مشرق اور نبّاضِ ملت علامہ اقبال کی تفہیم مختلف ادوار میں مختلف لوگوں نے مختلف طریقے سے کی ہے۔ جگنو پکڑتے ہوئے بچے اقبال کی شاعری میں ایک ایسی شخصیت سے روشناس ہوتے ہیں جو ان کے لیے سرور ہی سرور ہے کیف ہی کیف ہے۔ حوصلہ مند نوجوان کلامِ اقبال میں اس شاہین کو تلاش کرتے ہیں جس کی نظریں ہمیشہ اپنے مقصد پر ہوتی ہیں۔ اہلِ تصوف اقبال کی شاعری میں عشقِ حقیقی کے پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ اہلِ مدرسہ کے یہاں کلامِ اقبال عشقِ رسول اور معرفتِ خداوندی کی علامت ہے۔ اہلِ علم ودانش علامہ اقبال کی شاعری میں اپنے مزاج کے مطابق پہلو تراش کر ان کے فلسفے کو اپنی زندگی کا نصب العین بنا لیتے ہیں۔
یوں توعلامہ اقبال نے ہر عمر کے شخص کو اپنی شخصیت اور شاعری کا اسیر بنایا ہے لیکن خودی، تلقینِ حرکت و عمل، خیالِ شاہین و عقاب اور طائرِ لاہوتی جیسی اصطلاحیں بطورِ خاص نوجوانوں کے لیے استعمال کی ہیں۔
اقبال نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے سالانہ اجلاس 21مارچ 1932، میں خطاب کرتے ہوئے نوجوانوں کے بارے میں کہا تھا کہ
“میں ہندوستان کے تمام بڑے شہروں میں خواتین اور لڑکوں کے ثقافتی ادارے تشکیل دینے کی تجویز پیش کرتا ہوں جن کا سیاست سے تعلق نہ ہو”
ان کا بڑا مقصد نوجوانوں کی خوابیدہ روحانی صلاحیتوں کو بیدار کرنا تھا۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوانوں کو اس بات سے آگاہ کیا جائے کہ اسلام نے انسانی ثقافتی اور مذہبی تاریخ میں کیا کارنامے انجام دیے اور مستقبل میں مزید کیا امکانات ہو سکتے ہیں۔ اقبال کے تصور کے مطابق وہی نئی نسل اور نوجوان کامیابی کی راہ پر گامزن ہوسکتے ہیں جو اپنے اسلاف کی میراث کی حفاظت کرتے ہیں ۔ وہ کہتے ہیں کہ
گنوا دی ہم نے جو اسلاف سے میراث پائی تھی
ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا
اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے زورِ بازو پر انحصار کرتے ہوئے اپنے مستقبل کی راہیں خود طے کریں ۔ نوجوانوں کی تن آسانی، عیش و عشرت، مغرب کی اندھی تقلید انہیں کچوکے لگاتی رہتی تھی۔ مغربیت کے بڑھتے اثرات کا اندازہ اقبال بہت پہلے ہی لگا چکے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے نوجوانوں میں خودی بیدار کرنے کے حوالے سے بہت کچھ لکھا ۔ وہ چاہتے تھے کہ نوجوان اپنے آپ کو پہچانیں اور یہ جان لیں کہ وہ کائنات کا کتنا اہم جزو ہے۔ ان کہ یہاں ، یاس و حسرت، محرومی و ناامیدی اور بزدلی و کم ہمتی کا کوئی وجود نہیں۔ وہ یقیں محکم، عمل پیہم ، ثابت قدمی، اولعزمی، بلند حوصلگی، بلند پروازی پر یقین رکھتے تھے۔ اپنی نظم “ایک نوجوان کے نام”میں وہ کہتے ہیں
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
نظر آتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
نہ ہو نومید، نومیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امید مردِ مومن ہے خدا کے رازدانوں میں
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
تو شاہیں ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں میں
اقبال نے نوجوانوں کو پیغام دیا کہ وہ اپنے آپ کو اپنے اوصاف کو اور اپنی خودی کو نہ صرف پہچانیں بلکہ اس کی مکمل نشو نما بھی کرتے رہیں ۔ لفظ خودی سے اقبال کی مراد تکبر یا غرور نہیں ہے بلکہ ان کے یہاں خودی نام ہے احساس کی بیداری کا، جذبۂ خودداری کا، اپنی ذات و صفات کے ادراک کا، عرفانِ نفس کا، خود شناسی کا، خود بینی کا، خود آگاہی کا خدا آگاہی کا، اور لا الہ الا اللہ کے راز۔ وہ کہتے ہیں کہ توحید خودی کی تلوار کو آب دار بناتی ہے اور خودی توحید کی محافظ ہے۔ نظم ساقی نامہ میں اقبال فرماتے ہیں کہ
یہ موجِ نفس کیا ہے تلوار ہے
خودی کیا ہے تلوار کی دھار ہے
خودی کیا ہے رازِ درونِ حیات
خودی کیا ہے بیدارئ کائنات
خودی جلوہ بدمست و خلوت پسند
سمندر ہے اک بوند پانی میں بند
اندھیرے اجالے میں ہے تابناک
من و تو میں پیدا من و تو سے پاک
اسی نظم میں اقبال نیرنگئ زمانہ میں الجھے ہوئے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ دنیا اور اس کی حقیقت کچھ بھی نہیں یہاں کی ہر چیز فانی ہے ثبات صرف خدا کی ذات کو ہے جس کے قبضۂ قدرت میں ہماری جانیں ہیں۔ دنیاوی زندگی ،دائمی زندگی کے لیے صرف اور صرف ایک تربیت گاہ ہے۔یہ ہماری منزل نہیں بلکہ خودی تک پہنچنے اور اس سے روشناس ہونے کا ایک ذریعہ ہے ۔ اقبال کے مطابق دنیاوی زندگی وہ فرصت ہے جس میں خودی کو عمل کے لا انتہا مواقع میسر آتے ہیں۔ اس میں موت اس کا پہلا امتحان ہے تاکہ وہ دیکھ سکے کہ اسے اپنے اعمال و افعال کی شیرازہ بندی میں کس حد تک کامیابی حاصل ہوئی۔ لہذا خودی کی فنا اور بقا کا انحصار عمل پر موقوف ہے۔ خودی کو باقی رکھنے کے بعد ہی بلاامتیاز ہم من و تو کا احترام کر سکیں گے کیوں کہ بقائے دوام کے حصول کا انحصار ہماری مسلسل جدو جہد پر ہی ہے۔ وہ کہتے ہیں
خودی کی یہ ہے منزلِ اوّلیں
مسافر یہ تیرا نشیمن نہیں
تری آگ اس خاک داں سے نہیں
جہاں تجھ سے ہے تو جہاں سے نہیں
بڑھے جا یہ کوہِ گراں توڑ کر
طلسمِ زمان و مکاں توڑ کر
علامہ اقبال چاہتے تھے کہ نوجوان خودی کے راز کو پاکر مثلِ شاہین اپنے مقصد پر نظر رکھیں۔انقلاب آفرین ہستی وہ ہوتی ہے جو زمانے کو نئی سوچ دے ، پرانے الفاظ اور خیالات کو مفاہیم کے نئے جہان عطا کرے۔ اقبال سے قبل بھی ہمیں دیگر زبانوں کے شعری سرمائے میں مختلف پرندوں کا ذکر ملتا ہے۔ اقبال کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے ایک ایسے پرندے کا انتخاب کیا جو آسمانوں پر نظریں رکھنے کے باوجود اپنے اندر درویشی کی صفت رکھتا ہے۔اقبال کے یہاں شاہین وہی اہمیت ہے جو کیٹس کے یہاں بلبل اور شیلے کے یہاں سکائی لارک کی ہے۔ایک لحاظ سے شاہین کی حیثیت ان سب سے بھی بالاتر ہے۔ اقبال جمال سے زیادہ جلال پسند کرتے ہیں۔ انہیں ایسے پرندوں میں کوئی دلچسپی نہیں جو صرف جمالیاتی اہمیت رکھتے ہوں یا جو حرکت کے بجائے سکون کے پیامبر ہوں۔آپ کے یہاں شاہین ایک مسلم نوجوان کی علامت ہے۔اس لیے وہ نوجوانوں کو اس شاہین کے روپ میں دیکھنا چاہتے ہیں جو کبھی مردار نہیں کھاتا۔ انہیں ایک ایسے شاہین کی تلاش ہے جو بلند پروازہو۔ ایک ایسا شاہین جو کبھی باز ، کبھی عقاب، کبھی طائرِ لاہوتی بن آسمان کی وسعتوں کو مسخر کردے۔ایک ایسا شاہین جس کی پرواز آسمان کی وسعتوں کو چیر دے۔ ایک ایسا شاہین جو مشرق سے مغرب تک آسمانوں پر اپنی بادشاہت قائم کردے۔ ایک ایسا شاہین جو اپنے لیے جہانِ تازہ تلاش کرے، افکارِ تازہ کی نمو کرے۔
اقبال کے نزدیک شاہین کے علاوہ کوئی پرندہ نوجوانوں کے لیے قابلِ تقلید نہیں ہے۔ بالِ جبرئیل کی نظم ” شاہین” میں اقبال یو ں گویا ہوتے ہیں کہ
خیابانیوں سے ہے پرہیز لازم
ادائیں ہیں ان کی بہت دلبرانہ
حمام و کبوتر کا بھوکا نہیں ہوں
کہ ہے زندگی باز کی زاہدانہ
جھپٹنا ، پلٹنا ، پلٹ کر جھپٹنا
لہو گرم رکھنے کا ہے اک بہانہ
یہ پورب یہ پچھم چکوروں کی دنیا
میرا نیلگوں آسماں بے کرانہ
پرندوں کی دنیا کا درویش ہوں میں
کہ شاہیں بناتا نہیں آشیانہ
علامہ اقبال کا یہ کارنامہ یقیناً یاد رکھا جائے گا کہ انہوں نے ایک ایسے انسان یا نوجوان کا آئیڈیل ہمارے سامنے پیش کیا جو بقول ظ انصاری مستقبل کی ترقی یافتہ دنیا بنانے اور سجانے کی اہلیت رکھتا ہو۔ ایسے ہی نوجوان کو اقبال نے کہیں شاہین، کہیں طائرِ لاہوتی، کہیں مردِ مومن اور کہیں ایسا مسلمان کہا ہے جس کی خودی صورتِ فولاد ہے۔ جو بیک وقت شعلہ بھی ہے اور شبنم بھی۔ اسی نوجوان کو حرکت و عمل کا درس دے کر اقبال برسہا برس کے سکوت، جمود اور خاموشی کو توڑنا چاہتے تھے۔ وہ نوجوانوں کو مغرب اور مغرب زدہ تہذیب سے آزاد کرانا چاہتے تھے۔ حرکت و عمل کے ذریعے صدیوں کی زخم خوردہ انسانیت کے تنِ مردہ میں روح پھونکنا چاہتے تھے۔وہ عوام الناس کو ظلمت و الحاد کے گڑھوں سے اوپر اٹھا کر ان کے ہاتھوں میں ایمان و یقین کی مشعلیں دینا چاہتے تھے۔ اقبال کے نزدیک کائنات اپنے ہونے کا اظہار مسلسل تبدیلیوں کی صورت میں کرتی ہے۔ یہاں کسی شے، کسی منظر، کسی احساس، کسی قوم اور کسی بھی معاشرتی صورت حال کو قرار نہیں ہے۔ وہ ’’مرغ و ماہی ‘‘ ہوں یا ’’ ماہ و انجم‘‘ یہاں کی ہر شے’’ راہی‘‘ اور ہر چیز’’ مسافر‘‘ ہے۔اسی لیے وہ کہتے ہیں کہ
سکوں محال ہے قدرت کے کارخانے میں
ثبات ایک تغیر کو ہے زمانے میں
علامہ اقبال کے فلسفے اور شاعری کا بیشتر حصہ حرکت و تغیر کی اصلیت کو واضح کرتا ہے۔ وہ کائنات کے اصول یعنی حرکت و تغیر کو نوجوانوں کے حق میں ہمیشہ نیک شگون قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک حرکت زندگی کی پہچان اور سکون یا جمود موت کی شناخت ہے۔ شاید اسی لئے ہمارے روائتی انداز فکر میں بھی حرکت کو برکت کہا جاتا ہے۔ علامہ نے اس نکتے کی وضاحت بڑے موثر اور بھر پور انداز سے کی ہے۔ مثلاً وہ خضر کی زبانی بندہ مزدور کو یہ پیغام دلواتے ہیں۔
اٹھ کہ اب بزم جہاں کا اور ہی انداز ہے
مشرق و مغرب میں تیرے دور کا آغاز ہے
اس شعر میں علامہ بزم جہاں کے نئے انداز کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ یہ نیا انداز وہ معاشرتی، سیاسی اور معاشی حالات ہیں جو ہمارے اطراف میں پھیلے ہوئے ہیں۔ علامہ ہمیں ان حالات کا صحیح شعور اوروقوف پیدا کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔اقبال اس دنیاوی زندگی کو مکمل حقیقت تسلیم نہیں کرتے۔ ان کے نزدیک ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے۔وہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے نوجوان کے اپنے عمل میں مضمر امکانات کو بروئے کار لانے پر زیادہ زور دیتے ہیں ۔ اقبال اپنی تمام تر امنگیں اور آرزوئیں نوجوانوں سے وابستہ کرتے ہیں ۔ وہ ایک ایسے طبقے کو ہدف بناتے ہیں جس میں کچھ کر گزرنے کا جذبہ موجود ہوتا ہے۔ اقبال کا نوجوان مصلحتوں کے دائرے میں زندگی گزارنے کو غلامی تصور کرتا ہے،بقول اقبال
اپنی دنیا آپ پیدا کر اگر زندوں میں ہے
سرِ آدم ہے ضمیر کن فکاں ہے زندگی
زندگانی کی حقیقت کوہکن کے دل سے پوچھ
جوئے شیر و تیشہ و سنگ گراں ہے زندگی
قلزم ہستی سے ابھرا ہے تو مانند حباب
اس زیاں خانے میں تیرا امتحاں ہے زندگی
علامہ اقبال کی شاعری ،ان کا فلسفہ اور اس میں پوشیدہ رموز آج نہ صرف اہلِ اردو یا اہلِ مشرق کے لیے مینارۂ نور ہیں بلکہ دنیا بھر میں دیگر زبانوں کی یونیورسٹیاں بھی اقبال کے فن سے فیضیاب ہو رہی ہیں۔ اقبال کسی ایک خطے ،کسی ایک علاقے یا کسی ایک سرزمین کے شاعر نہیں ہیں بلکہ ان کی حیثیت آفاقی ہے کائناتی ہے۔ شاعرِ مشرق جیسا خطاب بھی اقبال کے بہت معمولی نظر آتا ہے کیوں کہ وہ تو شاعرِ ہستی ہیں، شاعرِ گیتی ہیں۔
***
ڈاکٹر ذاکر خان ذاکر نوجوان شاعر، مترجم اور ابھرتے ہوئے نقاد اور نور الاسلام ہائی جونیئر کالج ، گوونڈی میں انگریزی کے استاد ہیں۔

Iqbaliat Editor Dr. Tahir Hameed Tanoli

Articles

اقبالیات مدیر ڈاکٹر حمید تنولی

ڈاکٹر حمید تنولی

Isharat E Iqbal by Abdurrahman Tariq

Articles

اشاراتِ اقبال از عبد الرحمن طارق

عبد الرحمن طارق

Iqbal ka Shaheen by Wajahat A. S

Articles

اقبال کا شاہین از وجاہت عبدالستار

وجاہت عبدالستار

Iqbal ki Urdu Nas’r aik Mutala by Zaibunnisa

Articles

اقبال کی اردو نثر ایک مطالعہ از زیب النسا

زیب النسا

Malfozat E Iqbal by Dr. Abu Lais Siddiqui

Articles

منفوظاتِ اقبال از ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی

ڈاکٹر ابو اللیث صدیقی

Iqbal ki Sohbat mein by Dr. M. Abdullah Chughtai

Articles

اقبال کی صحبت میں از ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی

ڈاکٹر محمد عبد اللہ چغتائی

Allama Iqbal ki Aalmi Maqboliat by Dr. Syed Ahmad Qadri

Articles

علّامہ اقبالؔ کی عالمی مقبولیت از ڈاکٹر سید احمد قادری

ڈاکٹر سید احمد قادری

اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ اگرکوئی علّامہ اقبال ؔ کے متعلق کوئی یہ کہتا ہے کہ’’ وہ فلسفہ کے امام ہیں ، اقتصادیات پر ان کی گہری نگاہ ہے ، علم الاقوام بھی ان کے ذہن و دماغ میں رچا بسا ہوا ہے وہ دنیا کے نئے رجحانات و تصورات سے بھی واقف ہیں ۔ وہ قیصریت کے بھی ادا شناس ہیں ،اور فسطائیت کے رموز بھی جانتے ہیں ،وہ جمہوریت کے اسرار کے بھی ماہر ہیں اور اشتراکیت کی گہرائیوں میں غوطے لگا چکے ہیں ۔ غرض کہ دنیا کی کوئی تحریک ، کوئی رجحان ، کوئی تصور ایسا نہیں ہے جس سے اقبالؔ واقف نہ ہوں جس کا اقبالؔ نے مطالعہ نہ کیا ہو ، جس کے محرکات پر اقبالؔ کی نظر نہ ہو ۔ وہ بیرونی اور مقامی نظریات جدید اور قدیم کو بھی جانتے ہیں اور انہیں پرکھ چکے ہیں‘‘ تو غلط نہیں کہتا ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی ان جملہ خصوصیات کے ساتھ ساتھ رفتہ رفتہ اقبالؔ کی شاعری اس قدر مقبول ہوئی کہ دور حاضر میں مشکل سے کسی شاعر کو یہ فخر حاصل ہے۔ان کا کلام نہ صرف ہندو پاک بلکہ ایران ، افغانستان ، امریکہ ،انگلستان ، جرمن، فرانس ، روس، عرب وغیرہ جیسے ممالک میں بھی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
اقبالؔ کی شخصیت اور ان کی شاعری کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ غیر منقسم ہندوستان کی بڑی بڑی ہستیوں مثلاً جسٹس امیر علی ، شمس العلماء مولوی سید علی بلگرامی ، سر شیخ عبدالقادر ، مولانا غلام رسول مہر ، نواب بھوپال حمید اللہ خاں ، سیٹھ محمد جمال ، سر محمد اسمٰعیل ، مہاراجہ کشن پرشاد ، سر اکبر حیدری ، نظام حیدر آباد، ڈاکٹر عبداللہ چغتائی ، سر سید احمد خاں کے پوتے سر راس مسعود ، سر سکندر حیات ، لالہ لالجپت رائے ، ڈاکٹر لمعہ حیدر آبادی ،ہز ایکسی لنسی گورنر پنجاب ، سرندر سنگھ مجیٹھا ، منوہر لال چودھری ، سر چھوٹو رام ، میاں عبدالحی ، جسٹس عبدالرشید ، جسٹس دین محمد، جسٹس بخشی ، ٹیک چند ، جے ڈی پینی ، رابندر ناتھ ٹیگور، سبھاش چندر بوس ، مولانا ابوالکلام آزاد، محمد علی جناح ، مہاتما گاندھی اور پنڈت جواہر لال نہرو وغیرہ نے اقبالؔ کی عظمت کا صدق دل سے اعتراف کیا ہے ۔اس بات پر ان تمام حضرات کو فخر تھا کہ اقبال ؔ بھی ان کی طرح ہندوستانی ہیں ۔ اقبالؔ کی قدرومنزلت کا اندازہ ان کے انتقال کے بعد چند تعزیتی پیغامات سے بھی ہوتا ہے ۔ ملاحظہ فرمائیں۔
رابندر ناتھ ٹیگور لکھتے ہیں:
’’ ہمارے ادب میں ایک ایسا خلاء پیدا ہوگیا ہے جس کے پُر ہونے میں ایک جان لیوا زخم مندمل ہونے کی مانند بہت عرصہ لگے گا ۔ ہندوستان جس کی آج دنیا میں کوئی وقعت نہیں ہے ایسے شاعر کی وفات سے اور بھی قلّاش ہوگیا ہے جس کی شاعری عالمگیر اور آفاقی شہرت کی حامل تھی۔‘‘مولانا ابوالکلام آزاد کہتے ہیں:
’’ یہ سوچ کے ناقابل بیان صدمہ دل پہ گزرتا ہے کہ اب اقبال ؔہم میں موجود نہیں رہے ۔جدید ہندوستان اردو کا ان سے بڑا شاعر پیدا نہیں کر سکے گا ۔ ان کی فارسی شاعری بھی جدید فارسی ادب میں اپنا ایک خاص مقام رکھتی ہے ۔ ان کی وفات سے تنہا ہندوستان کو نہیں بلکہ پورے مشرق کو نقصان پہونچا ہے ، ذاتی طور پر مجھے اس بات کا انتہائی قلق ہے کہ میرا ایک دیرینہ دوست مجھ سے بچھڑ گیا۔‘‘نیتا جی سبھاش چندر بوس نے کہا تھا :
’’ سر محمد اقبالؔ کی رحلت کے یہ معنی ہیں کہ ہندوستانی ادب کے آسمان پر جو ستارے روشن تھے ان میں سے درخشاں ستارہ ٹوٹ گیا ۔ صف اوّل کے شاعر اور نقاد ہونے کے علاوہ سر محمد اقبالؔ ایک منفرد کردار کے بھی حامل تھے ۔ ان کی رحلت سے ہم سب کو جو عظیم نقصان پہونچا ہے اسے شدت کے ساتھ سارے ملک میں محسوس کیا جائے گا۔
محمد علی جناح نے اقبالؔ کی عظمت کا اعتراف ان لفظوں میں کیا تھا :
’’اگر میں ہندوستان میں اسلامی حکومت کو قائم ہوتا دیکھنے کے لئے زندہ ر ہوں اور اس وقت مجھ سے کہا جائے کہ ایک طرف اس اسلامی حکومت کے رئیس اعلیٰ کا عہدہ ہے اور دوسری طرف اقبالؔ کی تصنیفات تو میں تصنیفات کو ترجیح دوں گا۔‘‘مہاتما گاندھی لکھتے ہیں:
’’ ڈاکٹر اقبال کے بارے میں کیا لکھوں ۔میں اتنا ضرور کہہ سکتا ہوں کہ جب ان کی مشہور نظم ’’ ہندوستان ہمارا ‘‘ پڑھی تو میرا دل بھر آیا۔ بڑودہ جیل میں تو سینکڑوں بار اس نظم کو گایا ہوگا ۔ اس نظم کے الفاظ مجھے بہت ہی میٹھے لگے اور یہ خط لکھتا ہوں تب بھی وہ نظم میرے کانوں میں گونج رہی ہے۔‘‘
یہ غیر منقسم ہندوستان کی چند اہم شخصیات کے تعزیتی پیغامات کے اقتباسات ہیں ۔ ممکن ہے کچھ لوگ یہ کہہ کر در گزر کردیں کہ ہندوستانیوں کو ہندوستانی شاعر سے انسیت و محبت تو ہوگی ہی ۔ لیکن میں اس سے قبل بھی عرض کرچکا ہوں کہ اقبال کی شاعرانہ عظمت کا اعتراف دنیا کے بہت سارے ممالک نے کیا ہے ۔ ان میں ازہر یونیورسیٹی قاہرہ کے شیخ الجامعہ ، مصر کے ڈاکٹر محمد حسنین ہیکل ، محمد علی پاشا ، شہزادہ ولی عہد مانگرول ، روم کے ڈاکٹر اسکارپا پروفیسر جنٹلی ، ڈاکٹر نکلسن، مسولینی ، اٹلی کے پرنس کیتانی بیرن ، فلسطین کے مفتی اعظم امین الحسینی ، پیرس کے میگ نون برگساں ، اسپین کے پروفیسر آسین ، افغانستان کے نادر شاہ سردار صلاح الدین سلجوقی وغیرہ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں ۔ ان حضرات اور ان کے علاوہ دیگر عالموں ، مدبروں ، فلسفیوں ، مفکروں ، شاعروں ، ادیبوں اور ناقدین نے وقتاً فوقتاً اقبالؔ کی پر بہار شخصیت اور ان کی پُر اثر شاعری سے متاثر ہوکر اس کا اعتراف صدق دل سے کیا ہے ۔ اس سلسلے میں چند شخصیتوں کے خیالات اس طرح ہیں ۔ اقبالؔ کے فلسفہ کے استاد پروفیسر تھامس آرنلڈ فرماتے ہیں:
’’ایسا شاگرد استاد کو محقق اور محقق کو محقق تر بنا سکتا ہے۔‘‘  روم کے ڈاکٹر اسکارپا کہتے ہیں:
’’ایسے اچھوتے نادر اور پُر از حقائق خیالات کا آدمی میں نے کبھی نہیں دیکھا۔‘‘
اقبالؔ جب قاہرہ پہونچے تو ان کے قیام کے دوران مصر کے مشہور بزرگ سید محمد قاضی ابوالعزائم اپنے دونوں بیٹوں کے ساتھ ان سے ملنے آئے ، اس موقع پر علّامہ اقبالؔ نے ان سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’ آپ نے کیوں تکلیف کی میں خود آپ کی زیارت کے لئے آپ کے پاس چلا آتا‘‘ اقبالؔ کی اس بات پر قاضی صاحب فرمانے لگے: ’’ خواجہ دوجہاں حضور صلی اللہ علیہ وسلّم کا ارشاد ہے کہ جس نے دین سے تمسک حاصل کیا ہوتو اس کی زیارت کے لیے جاؤگے تو مجھے خوشی ہوگی۔‘‘
مسولینی نے خاص طور پر ڈاکٹر اسکارپا کے ذریعہ اقبالؔ سے ملنے کی خواہش ظاہر کی تھی جسے اقبال نے قبول کرلیا تھا ۔ اور 27؍ نومبر1933ء کو ملاقات کے دوران اقبال کی زبان سے ایک پیغام سنا تو وہ انگشت بدنداں رہ گیااور کرسی چھوڑ کر کھڑا ہوگیا۔ اور میز پر ہاتھ پٹکتا ہوا چلّانے لگا۔
“What an excellent idea :  What an excellent idea”
دنیا کے مشہور فلسفی اور مفکر ’’برگساں‘‘ نے جب اقبالؔ کی زبانی یہ حدیث سنی کہ ’’لا تسبرّالدھر انّ الدھر ھو اللہ۔‘‘(زمانے کو برا مت کہو کہ زمانہ خود خدا ہے )تو وہ جو گٹھیا کا مریض تھا اور کرسی کے بغیر اِدھراُدھر ہل ڈُل نہیں سکتا تھا ، کرسی چھوڑ کر آگے بڑھا اور علّامہ اقبال سے پوچھنے لگا:
’’کیا یہ واقعی حدیث ہے۔‘‘
یہ امر خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ برگساں اپنی بیماری کی وجہ کر بالکل گوشہ نشیں ہوگیا تھا اور کسی سے ملتا جلتا نہیں تھا ۔لیکن اقبال سے ملنے کے لئے ،اس نے خاص طور اہتمام کیا۔
یہ تمام باتیں ایسی ہیں ،جو علاّمہ اقبالؔ کی بین الاقوامی شہرت و مقبولیت کا مظہر ہیں ۔لیکن باوجود اس کے اردو کے معروف ناقد کلیم الدین احمد کا اقبال کے متعلق یہ خیال ہے کہ_ ’’اقبال کا علمی ادب میں کوئی مقام نہیں۔‘‘
اور ان کے بعد اسی ہندوستان کے مشہور شاعر فراق ؔگورکھپوری فرماتے ہیں کہ _
’’اخلاقی یا روحانی حیثیت سے اثر انداز ہونے والی شخصیت کی فہرستوں میں بھی ڈھونڈنے سے ڈاکٹر اقبال کا نام نہیں ملے گا۔‘‘ مگر اسی کے ساتھ ساتھ انھوں نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ ’’دنیا کے بڑے بڑے شاعروں کے یہاں جو خوبیاں ہیں ، وہ اقبال کے یہاں بھی موجود ہیں ۔‘‘ لیکن کلیم الدین احمد کے اس خیال کو کہ_’’اقبال کا عالمی ادب میں کوئی مقام نہیں‘‘تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ اگر ایسی بات ہوتی تو اقبال کے کلام کا عرب کے ڈاکٹر عبدالوہاب عزائم ، عراق کے امیر نورالدین ، شام کے عمیر الامیری ، مصر کے صادی شعلان،  یمن کے ابین زہیری وغیرہ اپنے اپنے ملک کی ترقی یافتہ زبانوں میں ترجمہ نہیں کرتے یا پھر دنیا کی بڑی زبانوں میںاقبال پر کتابیںنہ لکھی جاتیں۔ بقول ڈاکٹر عالم خوندیری :
’’ ان کی (اقبالؔ کی) پہلی قابلِ ذکر اور معرکۃ الآراء شعری فکری تخلیق ’’اسرار خودی‘‘ منظر عام پر آئی تو اس نے اپنے دور کے سب سے زیادہ مستند اور عظیم مغربی مستشرق کو اس حد تک متاثر کیا کہ انھوں نے اس کی اشاعت کے دو برس بعد اس کا انگریزی ترجمہ شائع کردیا۔‘‘
نکلسن فرماتے ہیں  :
’’ اقبالؔ صرف اپنے عصر کی آواز نہیں بلکہ اپنے دور سے آگے بھی ہیں اور ساتھ ہی اپنے زمانے میں بر سر جنگ بھی۔‘‘
اس کے بعد نکلسن کے شاگرد اور جانشیں آرتھر آربیری نے اقبالؔ کی چند شعری تخلیقات کا انگریزی میں ترجمہ کیا ،جو 1947ء میں شائع ہوا اور بعد ازاں آرتھرآر بیری نے ’’رموز زبور عجم ‘‘ و ’’ شکوہ اور جواب شکوہ‘‘ اور ’’جاوید نامہ‘‘ کے انگریزی ترجمے دنیا کے سامنے پیش کئے ۔ پھر براؤن نے بھی فارسی ادب پر کتاب لکھی ۔ ’’بوزانی‘‘ نے جاوید نامہ کو اطالوی قالب میں ڈھالا ۔ اور اقبالؔ اور دانتے کا موازنہ بھی کیا ۔یورپ کی دوسری اہم زبان دلندیزی میں بھی’’جاوید نامہ‘‘ کا نثری ترجمہ MEYEVOVITCHنے کیا ۔انہوںنے اقبالؔ کے خطبات کا بھی فرانسیسی زبان میں ترجمہ کیا ۔MEYEVOVITCHکے علاوہ LUCECLALIDEنے بھی اقبالؔ کو روشناس کرایا ۔ اور فرانسیسی ترجمے کا پیش لفظ مشہور و ممتاز مستشرق ’’مسینون ‘‘ نے لکھا ۔
بون یونیورسیٹی کے ماہر اسلامیات پروفیسر اناماری شِمل نے اقبالؔ کی بعض تخلیقات کا ترجمہ جرمن زبان میں کیا ۔اقبالؔ پر پروفیسر شِمل کی  بہترین تصنیف Gabriels Wingہے۔ان زبانوں کے علاوہ مشرقی یورپ اور سوویت یونین کی زبانوں میں بھی مثلاً چیک زبان میں چیک عالم ’’یان مارک‘‘ اور روسی زبان میں روسی عالم ’’انی کیار‘‘ نے بھی اقبالؔ کی تخلیقات کا ترجمہ کیا ، یہ سارے حقائق  علّامہ اقبالؔ کی عالمی شہرت ، عظمت اور مقبولیت کے واضح ثبوت ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭مضمون نگار اردو کے معروف نثر نگار ہیں۔ ان کا پتہ  ۷نیو کریم گنج، گیا (بہار )انڈیا

Kalam E Iqbal Mein Aurat aur Maan by M. Aslam Ghazi

Articles

کلام اقبال میں عورت اور ماں

محمد اسلم غازی

علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔  علامہ اقبال دنیا کے نابغۂ روزگار شاعر ہیں جن کا کلام شعری جمالیات کا اعلیٰ ترین مرقع ہونے کے علاوہ دنیا کے کروڑوں انسانوں کے دل کی آواز بھی ہے۔ ان کے کلام نے بین الاقوامی سطح پر ایک مردہ قوم کے لیے صور اسرافیل کا کام کیا ہے۔ اقبالؒ کی شاعری کا سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ انہوں نے آیات قرآنی اور آیات انفس و آفاق کی مدد سے اعلیٰ اقدار پر مشتمل پیغام کو شعری سانچے میں ڈھال کر پیش کیا۔ قرآنی آیات کا تو وصف ہی خیروصلاح کی طرف رہنمائی اور ہدایت ہے۔ علامہ اقبال نے ان سے حسب ضرورت استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ قدرتی مناظر، موسم، نباتات ، حیوانات، جمادات، چرند، پرند، پھل، پھول، درخت، باغ، کھیت، زمین، پہاڑ، ندی، سمندر، ہوا، بجلی، آسمان،انسان، اس کا جسم، دل و دماغ، انسانی تعلقات، احساسات و جذبات کی مدد سے انہوں نے جس طرح اپنا پیغام عام کیا ہے وہ صرف انہی کا حصہ ہے۔  علامہ اقبال نے ملت اسلامیہ کو اپنے کھوئے ہوئے مرتبہ و وقار کو حاصل کرنے کے لیے اسلام و قرآن سے مکمل وابستگی کا پیغام دیا ہے۔ یہ پیغام کہیں مجمل ہے اور کہیں مفصل۔ انہوں نے زندگی کے ہر پہلو کا باریک بینی سے جائزہ لے کر مسلمانوں کی کمزوریاں اجاگر کی ہیں اور ان کے تدارک کے طریقے بتائے ہیں۔ زندگی کی اعلیٰ حقیقتوں میں ’’ماں‘‘ اہم ترین مرتبہ رکھتی ہے۔ چنانچہ یہ ممکن نہ تھا کہ اقبالؒ اس اہم پہلو کو نظر انداز کردیتے۔ انہوں نے امت کی زبوں حالی دور کرنے کے لیے’’امومت صالحہ‘‘ پر بہت زور دیا ہے۔ یعنی ملت کو ایسی نیک مائوں کی اشد ضرورت ہے جو نیک ، تعلیم یافتہ، باپردہ، ذمہ دار اور اپنے بچوں، خاوند اور خاندان سے محبت کرنے والی ہوں۔ ان کے مجموعہ کلام ’’ضرب کلیم‘‘ میں ’’عورت‘‘ اور اس سے متعلق موضوعات پر 9؍عدد مختصر نظمیں ہیں جو ان کے اس پیغام کو واضح کرتی ہیں کہ عورت کی تعلیم ضروری ہے لیکن شمع محفل بننے کی بجائے اسے ایک ذمہ دار گھریلو خاتون بننا چاہیے۔ جس کی گود میں نئی نسلیں پروان چڑھیں۔ انہوں نے خالی گود عورتوں اور بے روزگار مردوں کو مغربی تہذیب کے بد ثمرات میں شمار کیا ہے۔ ماں اور اس سے متعلق موضوع پر اقبال کے مجموعۂ کلام ’’بانگ درا‘‘میں دو نظمیں ملتی ہیں (1) ماں کا خواب (2) والدہ مرحومہ کی یاد میں۔(1) ماں کا خواب ایک ماخوذ نظم ہے جس کے بارے میں پتہ نہیں چلتا کہ یہ کہاں سے ماخوذ ہے؟ یہ بچوں کے لیے ہے۔ اس کی زبان اتنی سادہ اور آسان ہے کہ کلام اقبال کے مشہور شارح پروفیسر یوسف سلیم چشتی نے اس کی تشریح و توضیح کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ نظم بڑوں کے لیے بھی بے حد مفید ہے۔ خصوصاً ’’مائوں‘‘ کے لیے تو اس میں بڑا سبق ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اس نظم کے ذریعہ بھی ایک پیغام دیا ہے۔ اس نظم میں معٰنی کے دو پہلو ہیں: (الف) یہ اُن مائوں کے لیے ہے جو اپنے ان لڑکوں کو بھی سینے سے لگائے رکھنا چاہتی ہیں جو قرآن کی زبان میں باپ کے ساتھ بھاگ دوڑ کرنے کی عمر کو پہونچ جاتے ہیں۔(سورۃ الصّٰفّٰت:آیت۱۰۲) یہ نظم بتاتی ہے کہ ایسے بچے ترقی کی دوڑ میں دوسروں کے مقابلے میں پیچھے رہ جاتے ہیں کیونکہ وہ اپنی مائوں کی بے جا محبت اور غیر ضروری احتیاط کی وجہ سے بیرونی دنیا سے ناواقف محض رہ جاتے ہیں۔ (ب) اس نظم کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ مائوں کو اپنے بچوں کے انتقال پر بہت رونے اور نوحہ و ماتم کرنے کی بجائے صبر و تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ اسلامی تعلیمات نوحہ و ماتم سے منع کرتی ہیں لیکن خاموشی سے آنسو بہانے سے منع نہیں کرتیں۔ آنحضورؐ کے فرزند ابراہیمؓ صغر سنی میں وفات پاگئے تھے۔ تدفین کے وقت آپؐ کی آنکھیں اشکبار تھیں۔ کسی نے کہا ’’یا رسول اللہؐ آپ بھی رورہے ہیں؟‘‘ آپؐ نے فرمایا ’’آنکھیں روتی ہیں لیکن دل اللہ کی مشیت پر راضی ہے۔ ‘‘ مسلمانوں میں یہ خیال عام ہے کہ میت پر نوحہ اور ماتم کرنے سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ علامہ اقبالؒ نے اسی خیال کو استعاراتی انداز میں نظم کیا ہے کہ بچے کی جدائی پر ماں کے رونے اور نوحہ و ماتم کرنے سے دوسری دنیا میں بچے کے ہاتھ میں جو چراغ ہے وہ بجھ جاتا ہے۔ لیکن یہ بات درست نہیں ہے کہ اعزہ یا کسی کے رونے سے میت کو عذاب ہوتا ہے۔ قرآن کا فرمان ہے کہ کوئی آدمی کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ یعنی نوحہ کوئی کرے اور اس کا عذاب میت کو ہو یہ قرآنی اصول کے خلاف ہے۔ (2) نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ علامہ اقبالؒ نے اپنی والدہ کی موت سے متاثر ہوکر کہی تھی۔ اس نظم میں بھی انہوں نے موقع سے فائدہ اٹھاکر اسلامی فلسفۂ موت و حیات پیش کرنے کے ساتھ ساتھ صبروتحمل کے اعلیٰ جذبات کی تلقین کی ہے۔ تیرہ(۱۳) بندوں پر مشتمل یہ نظم ارتقائی مراحل سے گذرتی ہے۔  پہلے بند میں کائنات کا پا بند تقدیر ہونے کی وجہ سے اس کو مجبور محض بتایا ہے۔ صرف انسان ہی نہیں، کائنات کا ذرّہ ذرّہ ، آسمان، سورج، چاند ، ستارے غرض کائنات کی ہر تخلیق Programmed ہے۔ اُن کی اپنی کوئی مرضی نہیں بلکہ وہ مقدر کا لکھا پورا کرتے ہیں۔  دوسرے بند میں کہا گیا ہے کہ انسان کو جب اپنی بے بسی کا ادراک ہوجاتا ہے تو پھر اسے زندگی کی رعنائیاں بے کار لگتی ہیں۔ وہ تقدیر سے سمجھوتا کرلیتاہے۔ اُس کا دل پتھر ہوجاتا ہے۔ علم و حکمت اُس کی گریہ وزاری پر روک لگاتی ہیں۔ نہ حیران ہوتا ہے، نہ ہنسی آتی ہے اور نہ ہی گریہ وزاری کرتا ہے۔  تیسرے بند میں اقبالؒ اس بے بسی سے آزاد ہونے کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ والدہ کی یاد نے ماضی و حال کے فاصلے ختم کر کے انہیں عہدِ طفلی تک پہنچا دیا۔ یہاں سے تدریجاً اس نظم کو کلائمیکس Climax کی طرف لے جاتے ہیں۔ ناامیدی سے امید کی طرف قاری کو اپنے ساتھ لے جانے میں اقبالؒ کو ملکہ حاصل ہے۔ چوتھے بند میں کہتے ہیں کہ میرے چرچے ہر طرف ہیں۔ میرے کلام کی قدردانی ایک عالم میں ہے۔ مگر ماں کی یاد آتے ہی یہ ساری حیثیتیں ختم ہوجاتی ہیں اور یہ اعتراف کرتے ہیں کہ ماں کی تربیت نے انہیں عروج بخشا۔ پانچویں بند میں ماں کی یاد میں زندگی کے مختلف ادوار تازہ ہوجاتے ہیں۔  چھٹے بند میں فرماتے ہیں کہ دنیا گویا ماتم کدہ ہے۔ موت جیسے ہوا کی طرح مسلسل بہہ رہی ہے۔زندگی اپنے اندر کس قدر آلام و مصائب لیے بیٹھی ہے غریب کا گھر ہو کہ محلات شاہی، موت سے کسی کو چھٹکارا نہیں۔ کائنات میں موت ہی موت کا دور دورہ ہے۔  ساتویں بند میں اقبال اسلام کا فلسفۂ حیات بیان کرتے ہیں۔ انسان ہمیشہ زندہ و جاوید رہتا ہے۔ موت اس کے جسم کو آتی ہے روح کو نہیں۔  ؎  جاوداں پیہم رواں ہردم جواں ہے زندگی  یہ زندگی امتحان کا دور ہے جو ختم ہوجائے گا تو اس کے بعد دائمی زندگی بہرحال شروع ہوگی۔ زندگی کا انجام خاک میں مل جانا نہیں ہے۔ یہ ایسا گوہر ہے جو ٹوٹ کر بکھر نہیں جائے گا۔  آٹھویں بند میں کہتے ہیں کہ قدرت کو خود زندگی اس قدر محبوب ہے کہ اُس نے ہر تخلیق میں زندگی کے تحفظ کا ذوق پیدا کردیا ہے۔ اصل میں خوب سے خوب تر کی جستجو ہے جو فطرت کو عمل فنا پر مجبور کرتی ہے۔ مٹانا، بنانا، بنا کر پھر مٹادینا اور پھر خوب تر بنانا۔ آخرت کی زندگی مکمل ترین زندگی ہوگی۔  نویں بند میں انسان کی عظمت کا بیان کرتے ہیں۔ عظیم الشان کائنات اور اجرام فلکی جن کی زندگی لامحدود ہے اور انسان کا یہ عالم ہے کہ وہ ان پر کمندیں پھینک رہا ہے۔ یہ آسمان تو انسانی آرزوئوں اور تمنائوں کے مقابلے میں صرف ایک نقطہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسی لیے انسان کی عظمت فرشتوں سے بھی بڑھ کر ہے۔ اصل میں انسان ہی اس کائنات کی جان ہے۔ اگر وہ نہ ہوتو زندگی کا یہ ساز بے کار ہے۔  دسویں بند میں موت پر فتح پاتی ہوئی زندگی کی مزید وضاحت کرتے ہوئے اس مضمون کو نقطہ عروج پر لے جاتے ہیں۔ کیسے موت کے پردے سے زندگی جنم لیتی ہے؟ بیج کو زمین میں دفن کرنا گویا اس کی موت ہے مگر مٹی کے اندر بیج میں دبی ہوئی زندگی اپنے نمو کے لیے بیتاب رہتی ہے۔ جس کی فطرت میں خودنمائی اور خودافزائی ہے وہ خود کو آشکار کرکے رہے گا۔ یعنی موت تجدید زندگی ہے۔ یہ پیغام ہے بیداری و شعور کا اور ایک دوسری ابدی زندگی کا۔  گیارہویں بند میں والدہ مرحومہ کی فرقت سے ان کے دل پر کسی حد تک پھر غمگینی طاری ہوتی ہے اور موت کو لادوا کہتے ہیں۔ موت سے جو زخم لگ جاتے ہیں اُن کو وقت کے مرہم سے شفا نہیں ہوتی۔سکون کی حالت سے انسان محروم ہی رہتا ہے۔ وہ ہمیشہ مضطرب رہتا ہے کیوں کہ اُس کے سینے میں دھڑکتا ہوا دل ہے۔ لیکن دل میں یہ احساس بھی رہتا ہے کہ انسان مرنے کے بعد فنا نہیں ہوجاتا۔ اس لیے اسے کچھ تسلّی ہوجاتی ہے۔  بارہویں بند میں اقبال حیات دائمی کے فسلفے کو مزید آگے بڑھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر صبح طلوع ہونے والا سورج مردہ کائنات کو زندگی بخشتا ہے۔ پھول کھلتے ہیں، بلبل نغمہ سرا ہوتی ہے۔ ہر نئی صبح نئی زندگی کا پیام لے کر آتی ہے اور کائنات کو دلہن بنا دیتی ہے۔ خوشیاں ہی خوشیاں چاروں طرف ہوتی ہیں۔ اس بند میں انسان کے لیے یہ پیغام ہے کہ آئین کائنات یہی ہے کہ ہر شام کی صبح ہوتی ہے۔ توکیا انسان کے تاریک مرقد کی صبح نہیں ہوگی؟  آخری بند میں والدہ کی یاد پھر سے اقبالؒ کے دل و دماغ پر چھا جاتی ہے جس سے چاروں طرف کا ماحول روشن (سیمیں) ہوجاتا ہے۔ ان یادوں کو انہوں نے مختلف کیفیتوں سے تشبیہ دی ہے جیسے کعبہ میں دُعائوں کا تسلسل وغیرہ۔ آخرت کو زندگی کی اصل جولان گاہ قرار دیا ہے۔ اگر دنیا کی زندگی میں کچھ نہ کریں تو آخرت کی کھیتی میں ہمارے پلّے کوئی فصل نہیں آئے گی۔ آخر میں والدہ کی پاک و صاف زندگی کو یاد کرکے دُعائیہ شعر پر نظم کا اختتام کیا ہے۔  نظم ’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ ان کی ایک اور نظم ’’خضر راہ‘‘ کی طرح ایک موضوع کے مختلف پہلوئوں کو اجاگر کرکے اُن کا احاطہ کرتی ہوئی آگے بڑھتی ہے اور بتدریج انسان کو مایوسی سے چھٹکارا دلا کر ایک روشن مستقبل کی طرف رہنمائی کرتی ہے۔

 

Iqbal Daroon E Khana by Khali Nazeer Sufi

Articles

اقبال درونِ خانہ۔۔۔۔خالد نظیر صوفی

خالد نظیر صوفی