Khizr E Hayat: Abul Kalam Azad by Dr. Hamid Ashraf
Articles
India Wins Freedom (Urdu) by Abul Kalam Azad
Articles
آزادیِ ہند ۔۔۔۔انڈیا وینس فریڈم
مولانا ابو الکلام آزاد
Maulana Abulkalam Azad ka Swanahi Khaka by Haseeb Ahmad Haseeb
Articles
مولانا ابو الکلام آزاد رح کا سوانحی خاکہ اور تفسیری منہج
حسیب احمد حسیب
بر صغیر پاک و ہند کے اہل علم کی ایک طویل فہرست ہے کہ جو مروجہ دینی علوم کے ساتھ ساتھ دنیوی علوم کا بھی خاص درک رکھتے تھے اور انہوں نے علوم دینیہ کے حوالے سے جدید انداز میں کام بھی کیا گو کہ ایسے احباب کی تفردات بھی بے شمار ہیں لیکن انکے علمی کام سے انکار بھی ممکن نہیں .
اسی فہرست کا ایک درخشندہ ستارہ مولانا ابو الکلام آزاد رح بھی تھے لیکن افسوس کے آپ کے علمی کمالات آپ کی سیاسی فکر کے پیچھے پوشیدہ ہو گئے اور خاص کر پاکستان کی سیاسی فضاء اور تقسیم کے قضیے کے تناظر میں مولانا آزاد رح کی علمی حیثیت کے ساتھ جو تعصب برتا گیا وہ انتہائی قابل افسوس ہے اسی حوالے سے مولانا اصلاحی مرحوم رح کو ایک تحریر بھی لکھنا پڑی .
مولانا پر بے جا تنقید
پاکستان اور ہندوستان کے متعدد مخلصین نے ہمیں کراچی کے ایک معاصر کے ایک مضمون کی طرف توجہ دلائی ہے جو معاصر مذکور کی مارچ کی اشاعت میں ’’پردہ اٹھنے کے بعد‘‘ کے عنوان سے شائع ہوا ہے۔ یہ مضمون مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ یہ پورا مضمون نہایت ہی توہین آمیز اور حد درجہ دل آزار ہے۔ یہ معاصر مولانا مرحوم کے متعلق اسی قسم کا ایک دل آزار مضمون اس سے پہلے بھی شائع کر چکا ہے۔ مولانا آزاد معاصر مذکور کی نظر میں جیسے کچھ بھی ہوں، لیکن اب وہ اپنے رب کے پاس جا پہنچے! وفات پا جانے والوں سے متعلق ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی ہدایت یہ ہے کہ اگر ان کی کچھ بھلائیاں ہمارے علم میں ہوں تو ان کا ذکر کریں، ورنہ کم از کم ان کی لغزشوں پر پردہ ڈالنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ مولانا کے وفات پا چکنے کے بعد ان کا پردہ اٹھانے کی سعی میں سرگرم ہیں، ان کے سینے ہمارے نزدیک خوف خدا سے بالکل خالی ہیں۔ وہ اپنے اس رویہ سے اللہ تعالیٰ کو چیلنج کر رہے ہیں کہ وہ اسی دنیا میں ان کے پردے چاک کرے۔
مولانا آزاد مکہ میں نہیں پیدا ہوئے کھیم کرن میں پیدا ہوئے۔ ان کے باپ کوئی بڑے عالم نہیں تھے، بلکہ مسجد کو رہن رکھنے والے اور بدعتی آدمی تھے۔ سوال یہ ہے کہ ان تحقیقات سے اقامت دین کے اس نصب العین کو کیا تقویت پہنچ رہی ہے جس کے یہ حضرات کل تک علم اٹھائے پھر رہے تھے! مولانا آزاد میں جو بڑائیاں اور خوبیاں تھیں، وہ یہ نہیں تھیں کہ وہ بہت بڑے باپ کے بیٹے یا کسی بہت بڑی درس گاہ سے نسبت رکھنے والے تھے، بلکہ یہ ساری خوبیاں ان کی ذاتی خوبیاں تھیں اور وہ اتنی شان دار تھیں کہ ان کے بدتر سے بدتر حاسد بھی ان کا انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتے۔ مولانا آزاد نے دوسروں کی نسبت سے خود شرف حاصل نہیں کیا، بلکہ اپنی نسبت سے دوسروں کو شرف بخشا۔
مولانا کی عربی دانی کی بحث بھی ایک غیر ضروری اور غیر مفید بحث ہے۔ اور اگر یہ بحث کچھ مفید بھی ہے تو بہرحال ان لوگوں کے اٹھانے کی نہیں ہے جو خود عربی، فارسی، انگریزی، ہر چیز سے بے بہرہ ہیں۔
مولانا پر یہ طنز بھی ہمارے نزدیک ابھی قبل ازوقت ہے کہ ’بھارت میں گائے کے ذبیحہ کی ممانعت سے لے کر توہین رسول تک کے اندوہناک واقعات رونما ہو گئے، مگر حزب اللہ کے موسس امام الاحرار مولانا محی الدین المکنی بابی الکلام الدہلوی دم سادھے بیٹھے رہے!‘
مولانا پر یہ طنز اس وقت موزوں رہے گا جب یہ حضرات بھارت کے کفرستان میں نہیں، بلکہ پاکستان کے اسلامستان میں، جو سو فی صد مسلمانوں کا ملک ہے اور اسلام ہی کے نام پر حاصل کیا گیا ہے، کچھ کر کے دکھا سکیں۔ ابھی تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ جن حضرات کو اپنے ناخن تدبیر کی جولانیوں پر بڑا ناز تھا، رشتہ میں ایک ہی گرہ پڑ جانے سے، وہ اس طرح چکرا گئے ہیں کہ گرہ کھولنے کے بجاے سر کھجانے میں مصروف ہیں :
اس بے بسی میں یارو، کچھ بن پڑے تو جانیں
جب رشتہ بے گرہ تھا ناخن گرہ کشا تھا
بہرحال، مولانا مرحوم کے متعلق اس طرح کی بحثیں جو لوگ چھیڑ رہے ہیں، ان کے ظرف کے متعلق کوئی اچھی راے نہیں قائم کی جا سکتی۔ مولانا آزاد ان حضرات کے نزدیک واقدی کی طرح کذاب ہیں۔ لیکن ان کی یہی ایک خوبی ان حضرات کی تمام خوبیوں پر بھاری ہے کہ ان کی ذات پر جب بھی اس قسم کے شریفانہ حملے کیے گئے تو انھوں نے ان کا نوٹس نہیں لیا، بلکہ اس سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ اپنے اس قسم کے کرم فرماؤں کے ساتھ ان کی مشکلات میں انھوں نے نہایت اچھا سلوک کیا۔ ان کی طبیعت میں بڑی بلندی تھی اور اس بلندی کی وجہ سے وہ لوگوں کی حاسدانہ باتوں کی کبھی پروا نہیں کرتے تھے۔ پھر یہ بات بھی تھی کہ ابتدا ہی سے اللہ تعالیٰ نے ان کو ایسی عظمت و شہرت عطا فرما دی تھی کہ ان کو اپنی شہرت و عظمت کی تعمیر کے لیے دوسروں کی شہرت پر حملہ کرنے کی ضرورت کبھی پیش نہیں آئی۔
مولانا آزاد جیسے لوگوں پر اگر کسی کو بحث کرنی ہو تو ان کے افکار و نظریات پر کرے۔ اس لیے کہ اس طرح کے لوگوں کے افکار و نظریات سے ہزاروں انسانوں کی زندگیاں بنتی اور بگڑتی ہیں۔ مولانا آزاد کے بعض افکار و نظریات سے ہمیں بھی اختلاف ہوا ہے اور ہم نے اپنے اس اختلاف کا اپنی تحریروں میں اظہار بھی کیا ہے، لیکن اس اختلاف کے باوجود ہماری نظروں میں ا ن کی عزت و عظمت کبھی کم نہیں ہوئی۔ اللہ تعالیٰ ان کی نیکیوں کو قبول فرمائے، ان کی لغزشوں سے درگذر فرمائے اور ان کی ذات پر اس قسم کے ’شریفانہ‘ حملے کرنے والوں کو توفیق دے کہ یہ اپنے زبان و قلم کی صلاحیتیں کسی مفید مقصد کے لیے استعمال کریں اور دوسروں کا پردہ اٹھانے کے بجاے اپنا پردہ قائم رکھنے کی کوشش کریں!
معاصر موصوف نے یہ سوال بھی اٹھایا ہے کہ مولانا مرحوم کے سارے تربیت یافتہ ملحد اور بے دین ہیں اور اس سے یہ نکتہ پیدا کیا ہے کہ مولانا بھی ایک ملحد و بے دین تھے۔ یہ نکتہ اگر صحیح ہے تو کیا یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اسی نکتہ کی روشنی میں ان بزرگوں کے متعلق کیا راے قائم کی جائے جن کے فیض تربیت کا یہ مظاہرہ معاصر موصوف نے کیا ہے اور جن کو اپنے صفحات میں وہ ہم رتبۂ ابن تیمیہ و شاہ ولی اللہ قرار دیتا رہا ہے۔
(مقالات اصلاحی ۲/ ۴۰۸، بہ حوالہ ماہنامہ میثاق لاہور۔ اپریل ۱۹۶۰ء)
مولانا آزاد سوانحی خاکہ
ابوالکلام محی الدین احمد آزاد : (پیدائش 11 نومبر 1888ء – وفات 22 فروری 1958ء)
مولانا ابوالکلام آزاد کا اصل نام محی الدین احمد تھا ان کے والد بزرگوار محمد خیر الدین انہیں فیروزبخت (تاریخی نام) کہہ کر پکارتے تھے۔ مولانا 1888ء میں مکہ معظمہ میں پیدا ہوئے۔ والدہ کا تعلق مدینہ سے تھا سلسلہ نسب شیخ جمال الدین سے ملتا ہے جو اکبر اعظم کے عہد میں ہندوستان آئے اور یہیں مستقل سکونت اختیار کرلی۔
1857ء کی جنگ آزادی میں آزاد کے والد کو ہندوستان سے ہجرت کرنا پڑی کئی سال عرب میں رہے۔ مولانا کا بچپنمکہ معظمہ اور مدینہ میں گزرا ابتدائی تعلیم والد سے حاصل کی۔ پھر جامعہ ازہر(مصر) چلے گئے۔ چودہ سال کی عمر میں علوم مشرقی کا تمام نصاب مکمل کر لیا تھا۔ مولانا کی ذہنی صلاحتیوں کا اندازہ اس سے ہوتا ہے کہ انہوں نے پندرہ سال کی عمر میں ماہوار جریدہ لسان الصدق جاری کیا۔ جس کی مولانا الطاف حسین حالی نے بھی بڑی تعریف کی۔ 1914ء میں الہلال نکالا۔ یہ اپنی طرز کا پہلا پرچہ تھا۔ ترقی پسند سیاسی تخیلات اور عقل پر پوری اترنے والی مذہبی ہدایت کا گہوارہ اور بلند پایہ سنجیدہ ادب کا نمونہ تھا۔
مولانا بیک وقت عمدہ انشا پرداز، جادو بیان خطیب، بے مثال صحافی اور ایک بہترین مفسر تھے۔ اگرچہ مولانا سیاسی مسلک میں کانگرس کے ہمنوا تھے لیکن ان کے دل میں مسلمانوں کا درد ضرور تھا۔ یہی وجہ تھی کہ تقسیم کے بعد جب مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے وقار کو صدمہ پہنچنے کا اندیشہ ہوا تو مولانا آگے بڑھے اور اس کے وقار کو ٹھیس پہنچانے سے بچا لیا۔ آپ آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم تھے۔ 22 فروری 1958ء کو انتقال ہوا۔
مولانا کی سیاسی فکر
فروری ۱۹۲۰ء مین بنگال کی صوبائی خلافت کانفرس کے صدر کی حیثیت سے مولانا ابوالکلام آزاد نے اپنے خطبۂ صدارت میں مسلۂ خلافت کی شرعی حیثیت بر بحث کرتے ہوئے کہا تھا۔
’’اسلام کا قانون شرعی یہ ہے کہ ہر زمانے میں مسلمانوں کا ایک خلیفہ و امام ہونا چاہئے ۔ خلیفہ سے مقصود ایسا خود مختار مسلمان بادشاہ اور صاحب حکومت و مملکت ہے جو مسلمانوں اور ان کی آبادیوں کی حفاظت اور شریعت کے اجراء و نفاذ کی پوری قدرت رکھتا ہو۔ اور دشمنوں سے مقابلہ کے لئے پوری طرح طاقتور ہو۔ صدیوں سے اسلامی خلافت کا منصب سلاطین عثمانیہ کو حاصل ہے اور اس وقت ازروئے شرع تمام مسلمانانِ عالم کے خلیفہ و امام وہی ہیں۔ پس ان کی اطاعت اور اعانت تمام مسلمانوں پر فرض ہے۔ اسلام کا حکم شرعی ہے کہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے محفوظ رکھا جائے اس میں عراق کا ایک حصہ بغداد بھی داخل ہے۔ پس اگر کوئی غیر مسلم حکومت اس پر قابض ہونا چاہے یا اس کو خلیفہ اسلام کی حکومت سے نکال کر اپنے زیر اثر لانا چاہے تو یہ صرف ایک اسلامی ملک سے نکل جانے کا مسئلہ نہ ہوگا بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ایک مخصوص سنگین حالت پیدا ہو جائے گی۔ یعنی اسلام کی مرکزی زمین پر کفر چھا جائے گا۔ پس ایسی حالت میں تمام مسلمانِ عالم کا اولین فرض ہوگا کہ وہ اس قبضہ کو ہٹانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوں۔ اسلام کے مقامامت مقدسہ میں بیت المقدس اسی طرح محترم ہے جس طرح حرمین شریف اسکے لئے لاکھوں مسلمان اپنی جان کی قربانیاں او یورپ کے آٹھ صلیبی جہادوں کا مقابلہ کر چکے ہیں۔ پس تمام مسلمانوں کا فرض ہے کہ اس مقام کو دوبارہ غیر مسلموں کے قبضے میں نہ جانے دیں۔ خاص طور سے مسیحی حکومتوں کے قبضہ واقتدار میں۔ اور اگر ایسا ہورہا ہے تو اس کے خلاف دفاع کرنا صرف وہاں کی مسلمان آبادی ہی کا فرض نہ ہوگا بلکہ بیک وقت وبیک دفعہ تمام مسلمانانِ عالم کا فرض ہوگا‘‘
مولانا ابوالکلام آزاد نے ائمہ کے اقوال کی روشنی میں نظامِ خلافت کی تعریف کی ہے:
”مسلمانوں کی ایسی حکومت جو ارکانِ اسلام کو قائم رکھے، جہاد کا سلسلہ و نظام درست کرے، اسلامی ملکوں کو دشمنوں کے حملہ سے بچائے اور ان کاموں کے لیے فوجی قوت کی ترتیب اور لڑائی کا سامان وغیرہ جوکچھ مطلوب ہو، اُس کاانتظام کرے، مختصر یہ کہ اسلام کا خلیفہ وہ حکمران ہوسکتاہے جواسلام و ملت کے لیے دفاع و جہاد کی خدمت انجام دے سکے۔”12
مسئلہ خلافت: ص126
ابوالکلام آزاد تحریر کرتے ہیں :
”عثمانی ترک نہ تو عرب پرقانع ہوئے نہ ایران و عراق پر، نہ شام و فلسطین کی حکومت اُن کو خوش کرسکی، نہ وسط ایشیاکی بلکہ تمام مشرق سے بے پروا ہوکر یورپ کی طرف بڑھے۔ اُس کے عین قلب (قسطنطنیہ) کو مسخر کرلیا اور اور اس کی اندورنی آبادیوں تک میں سمندر کی موجوں کی طرح در آئے حتیٰ کہ دارالحکومت آسٹریا کی دیوار اُن کے جولانِ قدم کی ترکتازیوں سے بارہا گرتے گرتے بچ گئی۔ ترکوں کا یہ وہ جرم ہے جو یورپ کبھی معاف نہیں کرسکتا۔ مسلمانوں کاکوئی موجودہ حکمران خاندان اس جرم (فتح یورپ) میں اُن کا شریک نہیں ہے۔ اس لیے ہرحکمران مسلمان اچھا تھا جو یورپ کی طرف متوجہ نہ ہوسکا مگر یہ ترک وحشی و خونخوار ہے اس لیے کہ یورپ کا طلسم سطوت اُس کی شمشیر بے پناہ سے ٹوٹ گیا۔”13
مسئلہ خلافت، ص116
مولانا کا تصور قومیت
مولانا نے رام گڑھ کے کانگریس کے ایک اہم اجلاس میں جو وقیع خطبہ دیا تھا آئیے ذرا اس کے ایک پیراگراف پر نظر ڈالتے ہیں:
”میں مسلمان ہو ں اور فخر کے ساتھ محسوس کرتاہوں کہ مسلمان ہوں، اسلام کے تیرہ سو برس کی شان دارر وایتیں میرے وِرثے میں آئی ہیں ، میں تیار نہیں ہوں کہ اس کا کوئی چھوٹے سے چھوٹا حصہ بھی ضائع ہونے دوں، اسلام کی تعلیم ،اسلام کی تاریخ ،اسلام کے علوم و فنون،اسلام کی تہذیب میری دولت کا سرمایہ ہے اور میرا فرض ہے کہ اس کی حفاظت کروں،بہ حیثیت مسلمان ہونے کے میں مذہبی اور کلچرل دائرے میں اپنی خاص ہستی رکھتاہوں اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس میں کوئی مداخلت کرے ،لیکن ان تمام احساسات کے ساتھ میں ایک اور احساس بھی رکھتاہوں جسے میری زندگی کی حقیقتوں نے پیدا کیا،اسلام کی روح مجھے اس سے نہیں روکتی،بلکہ وہ اس راہ میں میری رہنمائی کرتی ہے ،میں فخر کے ساتھ محسوس کرتا ہوں کہ میں ہندوستانی ہوں،میں ہندوستان کی ایک ناقابل تقسیم متحدہ قومیت کا ایک عنصر ہوں،میں اس متحدہ قومیت کا ایک ایسا عنصر ہوں جس کے بغیر اس کی عظمت کا ہیکل ادھورا رہ جاتا ہے ،میں اس کی تکوین کا ایک ناگزیر عامل فیکٹر ہوں ،میں اس دعوے سے کبھی دست بردار نہیں ہو سکتا۔ ہم تو اپنے ساتھ کچھ ذخیرے لائے تھے ،اور یہ سر زمین بھی ذخیروں سے مالا مال تھی، ہم نے اپنی دولت اس کے حوالے کردی اور اس نے اپنے خزانوں کے دروازے ہم پر کھول دیے ،ہم نے اسے اسلام کے ذخیرے کی وہ سب سے زیادہ قیمتی چیز دے دی جس کی اسے سب سے زیادہ ضرورت تھی،ہم نے اسے جمہوریت اور انسانی مساوات کا پیام پہنچادیا۔“
ترجمان القرآن
انتساب
غالباً دسمبر ١٩١٨ کا واقعہ ہے کہ میں رانچی میں نظر بند تھا، عشاء کی نماز سے فارغ ہوکر مسجد سے نکلا تو مجھے محسوس ہوا کہ کوئی شخص پیچھے آ رہا ہے، مڑ کر دیکھا تو ایک شخص کل اوڑھے کھڑا تھا۔
آپ مجھ سے کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
ہاں جناب! میں بہت دور سے آیا ہوں۔
کہاں سے؟
سرحد پار سے۔۔
یہاں کب پہنچے؟
آج شام کو پہنچا میں بہت غریب آدمی ہوں، قندھار سے پیدل چل کر کوئٹہ پہنچا، وہاں چند ہم وطن سوداگر مل گئے تھے، انہوں نے نوکر رکھ لیا اور آگرہ پہنچا دیا۔ آگرے سے یہاں تک پیدل چل کر آیا ہوں۔
افسوس تم نے اتنی مصیبت کیوں برداشت کی؟
اس لیے کہ آپ سے قرآن کے بعض مقامات سمجھ لوں۔ میں نے الہلال اور البلاغ کا ایک ایک لفظ پڑھا ہے۔ یہ شخص چند دنوں تک ٹھہرا اور پھر یکایک واپس چلا گیا۔ وہ چلتے وقت اس لیے نہیں ملا کہ اسے اندیشہ تھاکہ میں اسے واپسی کے مصارف کے لیے روپیہ دوں گا اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ اس کا بار مجھ پر ڈالے۔ اس نے واپسی میں بھی مسافت کا بڑا حصہ پیدل طے کیا ہوگا۔
مجھے اس کا نام یاد نہیں، مجھے یہ بھی نہیں معلوم کہ وہ زندہ ہے یا نہیں، لیکن اگر میرے حافظے نے کوتاہی نہ کی ہوتی تو میں یہ کتاب اس کے نام سے منسوب کرتا۔
١٢ ستمبر سنہ ١٩٣١ء کلکتہ
آغا شورش کاشمیری “ابوالکلام آزاد” جو مولانا کی سوانح عمری ہے کہ صفحہ نمبر 482 میں رقمطراز ہیں
“مولانا محمد علی جوہر سے تو راقم شخصی نیاز نہیں رہا کہ ان کی رحلت کے وقت راقم ساتویں یا آٹھویں جماعت کا طالب علم تھا لیکن مولانا ظفر علی خاں سے شرفِ تلمذ حاصل کیا، خیبر سے مانڈلے تک ان کے ساتھ شریکِ سفر رہا۔ ہندوستان کی سیاست اور مختلف شخصیتوں کے بارے میں جب بھی اُن سے بات چیت ہوتی تو ان نجی محفلوں میں قلم و زبان کی تیزی سے پرہیز کرتے۔ ان کے تبصرے نہایت نپے تُلے اور لگے بندھے ہوتے۔ کئی دفعہ مولانا آزادؒ کا ذکر آیا تو ان کے متعلق نہایت وقیع رائے ظاہر کی۔ ایک دفعہ کہیں سفر پر جا رہے تھے عملہ نے اصرار کیا تو جاتے جاتے ایک طویل نظم بالبداہت ارشاد فرمائی، مطلع تھا
؎
مجھے بھی انتساب ہے ادب کے اس مقام سے
ملی ہوئی ہے جس کی حد قدم گہ نظام سے
دسواں یا گیارھواں شعر تھا؎
جہاں اجتہاد میں سلف کی راہ گم ہوئی
ہے تجھ کو جستجو تو پوچھ ابوالکلام سے
راقم ہمراہ تھا۔ استفسار کیا۔
“مولانا ابوالکلام آزاد کے متعلق آپ نے جو شعر کہا ہے وہ محض قافیہ کی بندش ہے یا فی الواقعہ آپ ایسا ہی سمجھتے ہیں”:
فرمایا:
“جو کچھ میں کہا ، وہ لفظاََ ہی نہیں منعاََ بھی درست ہے”
عرض کیا”
“کیا مولانا ابوالکلام تفسیرِ قرآن میں اسلاف کے پیرو اور اس عہد کے مجتہد ہیں”؟
فرمایا:
“بالکل، اللہ تعالیٰ نے قرآن فہمی کے باب میں انہیں خاص ملکہ عطا کیا ہے ، وہ زمانہ کی فکری تحریکوں کو بخوبی سمجھتے اور قرآن کو ہر زمانے کی پچیدگیوں کا حل قرار دے کر انسانی معاشرے کو اس کے مطابق ڈھالنا چاہتے ہیں ۔ وہ قرآن کی ابدی دعوت پر نظامِ کائنات کی اساس رکھتے ہیں۔ ان پر بفضلِ ایزدی علم القرآن کے اس طرح کھلے ہیں کہ ان کے لیے کوئی سی راہ مسدود و منقطع نہیں۔ اُن کی آواز قرآن کی آواز ہے۔”
راقم:”مولانا کے ترجمہ و تفسیر میں بڑی خوبی کیا ہے؟ اور کونسا پہلو ہے جو دوسرے تراجم او تفاسیر کے مقابلے میں منفرد ہے؟”
مولانا:
“اُن کے ترجمہ و تفسیر کی بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ قرآن ہی کی زبان میں خطاب کرتے ہیں معلوم ہوتا ہے ان کے الفاظ الوہیت اور نبوت کا جامہ پہنے ہوئے ہیں اور یہ صرف اللہ کی دین ہے۔ دوسرے تراجم جو اب تک ہندوستان میں ہوئے ہیں وہ قرآن کے الفاظ میں لغوی ترجمہ ہیں، ان میں قرآن کے شکوہ کو ملحوظ نہیں رکھا گیا ۔ عربی الفاظ کا ترجمہ اردو الفاظ میں کیا گیا ہے ، مطالب کی طاقت و پہنائی اوجھل ہو گئی ہے۔ آزادؔ کی تفسیر محض مقامی و محض اسلامی نہیں، بین الاقوامی و بین الملی ہے۔ وہ الہیاتی زبان میں کائنات کو خطاب کرتے ہیں۔”
راقم: “ادب میں اُن کا مقام کیا ہے؟”
مولانا:
“فی الواقعہ وہ ایک سحر طراز ادیب ہیں، ان کا قلم تلوار ہے، وہ قرنِ اول کے غزوات کی چہرہ کشائی کرتے، اور عصرِ حاضر کی رزم گاہوں میں مسلمانوں کی فتح مندیاں ڈھونڈتے ہیں۔
ان کا اسلوبِ بیان بے مثال ہے آدمی ان کے الفاظ سے مسحور ہوتا اور مطالب میں ڈوب جاتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ وہ نکتہ آفرینی کے اعتبار سے اس وقت ہندوستان بھر میں اپنی نظیر نہیں رکھتے ۔ قلم کی نزاکت اور قلم کی طاقت مبدء فیاض نے ان کے لیے ارزاں کر دی ہے”
راقم: اُن کی زبان عوام کے لیے مشکل ہے:؟
مولانا:
“کوئی زبان مشکل نہیں ہوتی، سوال ہمارے علم کا ہے کہ ہم کس حد تک اس سے بہرہ یاب ہیں۔ ان کی زبان قرآن کی زبان ہے، جو قرآن نہیں جانتے یا اس کی زبان سے نا بلد ہیں ان کے لیے ان کی زبان فی الواقعہ مشکل ہے، ورنہ وہ آبشار کی طرح بہتی ہوئی اور چاندی کی طرح کھلی ہوئی زبان لکھتے ہیں، وہ ہمارے عظیم ماضی کی زبان و بیان کے وارث ہیں۔”
راقم:
“اُن کے عوام سے کٹ کے رہنے کی وجہ کیا ہے؟
“ہر طبیعت کا ایک اسلوب ہوتا ہے ان کی طبیعت عوام گریز واقع ہوئی ہے”
۔
مولانا لکھتے ہیں ۔
‘ خدا کی سچائی ، اس کی ساری باتوں کی طرح ، اس کی عالمگیر بخشش ہے ۔ وہ نہ تو کسی خاص زمانے سے وابستہ کی جاسکتی ہے ، نہ کسی خاص نسل و قوم سے ، اور نہ کسی خاص مذہبی گروہ بندی سے ۔تم نے اپنے لیے طرح طرح کی قومیتیں اور اور جغرافیائی اور نسلی حد بندیاں بنالی ہیں ، لیکن تم خدا کی سچائی کے لیے کوئی ایسا امتیاز نہیں گھڑ سکتے ، اس کی نہ تو کوئی قومیت ہے ، نہ نسل ہے ، نہ جغرافیائی حد بندی ،نہ جماعتی حلقہ بندی ۔وہ خدا کے سورج کی طرح ہر جگہ چمکتی اورنوع انسانی کے ہر فرد کو روشنی بخشتی ہے ۔ اگر تم خدا کی سچائی کی ڈھونڈھ میں ہو تو اسے کسی ایک ہی گوشے میں نہ ڈھونڈھو ۔ وہ ہر جگہ نمودار ہوئی ہے اور ہر عہد میں اپنا ظہور رکھتی ہے ۔ تمہیں زمانوں کا ،قوموں کا ، وطنوں کا ، زبانوں کا اور طرح طرح کی گروہ بندیوں کا پرستار نہیں ہونا چاہیے۔صرف خدا کا اور اس کی عالمگیر سچائی کا پرستار ہونا چاہیے اس کی سچائی جہاں کہیں بھی آئی ہو اور جس بھیس میں بھی آئی ہو ، تمہاری متاع ہے اور تم اس کے وارث ہو ۔
(ترجمان القرآن جلد اول ص 411 )۔
مالک رام ترجمان القرآن میں پیش کیے گئے ترجمہ پر اپنی کتاب ‘ کچھ ابوالکلام کے بارے میں ‘ میں اپنے خیالات کا یوں اظہار کرتے ہیں :
‘ یہ ترجمہ ادبی لحاظ سے بھی اتنا حسین اور برجستہ ہے کہ اسے ادبی تخلیق کا درجہ دیا جانا چاہیے تھا ۔افسوس کہ اس پہلو سے کوئی توجہ نہیں کی گئی ۔ مثال کے طور پر صرف سورہ فاتحہ کا ترجمہ ملاحظہ ہو :
اللہ کے نام سے جو الرحمان الرحیم ہے ۔
ہر طرح کی ستائش اللہ ہی کے لیے جوتمام کائنات خلقت کا پروردگار ہے ۔ جورحمت والاہے ، اور جس کی رحمت تمام مخلوقات کو اپنی بخششوں سے مالا مال کررہی ہے ، جو اس دن کا مالک ہے ، جس دن کاموں کابدلہ لوگوں کے حصے میں آئیگا۔ (خدایا!) ہم صرف تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور صرف تو ہی ہے ، جس سے (اپنی ساری احتیاجوں میں ) مدد مانگتے ہیں ۔ (خدایا !) ہم پر سعادت کی سیدھی راہ کھول دے ، وہ راہ جو ان لوگوں کی راہ ہوئی جن پر تونے انعام کیا ۔ ان کی نہیں جو پھٹکارے گئے ۔ اور نہ ان کی جو راہ سے بھٹک گئے ۔
اس پر ترجمہ کا گمان ہی نہیں ہوتا ۔ بلکہ یوں معلوم ہوتا ہے جیسے کسی مصنف نے اپنا ما فی الضمیر بیان کرنے کے لیے اسے اصل میں لکھا ہی اس طرح ہو ۔'(ص83 )
ترجمان القرآن کی تحریر کا مقصود
مولانا ابوالکلام آزاد (م ۱۹۵۸ء) نے جب قرآن مجید کو اپنے غوروفکر کا موضوع بنایا تو ان کے پیش نظر تین طرح کے کام تھے:
۱۔ مقدمۂ تفسیر، البصائر
۲۔ البیان فی مقاصد القرآن
۳۔ ترجمان القرآن
مقدمۂ تفسیر کے تحت مولانا قرآن حکیم کے مقاصد و مطالب پر اصول و مباحث کا مجموعہ مرتب کرنا چاہتے تھے ۔ اس کے کم از کم بارہ ابواب، نہ صرف لکھے جا چکے تھے، بلکہ چھپ بھی گئے تھے۔ ان بارہ ابواب کے صفحات کی تعداد سینکڑوں میں ہے۔۲ مولانا نے ’’تذکرہ‘‘ میں ایک مقام پر لکھا ہے:
’’شرح حقیقت تحریف شریعت علی الخصوص فتنتین عظمتین یونانیت و عجمیت کے لیے مقدمہ تفسیر باب بست ویکم اور تفسیر فاتحہ الکتاب کو دیکھنا چاہیے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ۱۹۵)
’’البیان‘‘ کے نام سے مولانا آزاد قرآن مجید کی ایک مکمل تفسیر لکھنا چاہتے تھے۔ ’’البلاغ‘‘ میں جب اس کا اشتہار شائع ہوا تو اس کے الفاظ یہ تھے:
’’اس تفسیر کے متعلق صرف اس قدر ظاہر کر دینا کافی ہے کہ قرآن حکیم کے حقائق و معارف اور اس کی محیط الکل معلمانہ دعوت کا موجودہ دور جس قلم کے فیضان سے پیدا ہوا ہے، یہ اسی قلم سے نکلی ہوئی مفصل اور مکمل تفسیر القرآن ہے۔‘‘۳
مولانا نے ایک اور مقام پر بھی ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ کا ذکر کیا ہے۔ ’’تذکرہ‘‘ میں سورۂ نور (۲۴) کی آیت ۳۵ نقل کرنے کے بعد لکھتے ہیں:
’’یہ مقام منجملہ روح الروح معارف کتاب و سنت، وحقیقت الحقائق قرآن و شریعت کے ہے جس کی طرف بہت کم توجہ کی گئی ہے۔ تفسیر البیان میں ایک سے زیادہ مواقع پر اس کی تشریح و توضیح ملے گی اور اس سے بھی زیادہ مقدمہ تفسیر موسوم بہ ’’البصائر‘‘ میں بہ عنوان حقیقت ایمان و کفر۔‘‘(ابوالکلام آزاد، تذکرہ ۷۶۔۱۷۵)
مولانا نے ہفتے کے سات دنوں کی تقسیم اس طرح کر رکھی تھی کہ تین دن ’’البلاغ‘‘ کی تدوین و ادارت کے لیے وقف تھے، دو دن ترجمے کے لیے اور دو دن تفسیر کے لیے۔ اپنی گرفتاری کے باعث مولانا جس طرح اپنے مسودات سے محروم ہوئے، اس کی تفصیل انھوں نے ’’ترجمان القرآن‘‘ کے دیباچے میں بیان کر دی ہے۔ اسی وجہ سے یہ شاہکار مکمل صورت میں ہمارے سامنے نہ آسکے۔
خدمت قرآن کے حوالے سے جو چیز مولانا کا تعارف بنی، وہ ’’ترجمان القرآن‘‘ ہے۔ مولانا نے اپنے الفاظ میں ’’ترجمان القرآن‘‘کا تعارف کراتے ہوئے ’’البیان‘‘ اور ’’البصائر‘‘ سے اس کا فرق واضح کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کی ترتیب سے مقصود یہ تھا کہ قرآن کے عام مطالعہ و تعلیم کے لیے ایک درمیانی ضخامت کی کتاب مہیا ہو جائے، مجرد ترجمے سے وضاحت میں زیادہ، مطول تفاسیر سے مقدار میں کم۔ چنانچہ اس غرض سے یہ اسلوب اختیار کیا گیا کہ پہلے ترجمہ میں زیادہ سے زیادہ وضاحت کی کوشش کی جائے پھر جابجا نوٹ بڑھا دیے جائیں۔ اس سے زیادہ بحث و تفصیل کو دخل نہ دیا جائے۔ باقی رہا اصول اور تفسیری مباحث کا معاملہ تو اس کے لیے دو الگ الگ کتابیں ’’مقدمہ‘‘ اور ’’البیان‘‘ زیر ترتیب ہیں۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
تاہم جیسے جیسے یہ کام آگے بڑھا اور مولانا کی سیاسی سرگرمیاں ان کے علمی کاموں میں حائل ہوتی گئیں، اس کام کا نقشہ بھی تبدیل ہوتا گیا۔ ’’البیان‘‘ جب سامنے نہ آ سکی تو ’’ترجمان القرآن‘‘ ہی میں بعض مقامات پر اس کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ پہلی جلد میں جن مقامات پر محض مختصر حواشی لکھے گئے تھے، دوسری جلد میں انھی مقامات کی تفصیل بیان کر دی گئی۔ اس ترمیم کے باوجود مولانا کے نزدیک ’’ترجمان القرآن‘‘ کا اصل امتیاز اس کا ترجمہ ہے، مولانا لکھتے ہیں:
’’ترجمان القرآن کا مطالعہ کرتے ہوئے یہ بات پیش نظر رکھنی چاہیے کہ اس کی تمام خصوصیات کا اصل محل اس کا ترجمہ اور ترجمہ کا اسلوب ہے۔ اگر اس پر نظر رہے گی تو پوری کتاب پر نظر رہے گی۔ وہ اوجھل ہو گئی تو پوری کتاب نظر سے اوجھل ہو جائے گی۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
ترجمے کے بعد ’’ترجمان القرآن‘‘ کی دوسری خوبی، مولانا کے نزدیک اس کے نوٹ ہیں۔ ’’ان کی ہر سطرتفسیر کا ایک پورا صفحہ، بلکہ بعض حالتوں میں ایک پورے مقالے کی قائم مقام ہے۔‘‘
’’ترجمان القرآن‘‘ کی وجہ تالیف خود مؤلف کے الفاظ میں یہ ہے:
’’ترجمان القرآن تفسیری مباحث کے ردوکد میں نہیں پڑتا صرف یہ کرتا ہے کہ اپنے پیش نظر اصول و قواعد کے ماتحت قرآن کے تمام مطالب ایک مرتب و منظم شکل میں پیش کر دے۔‘‘(ابوالکلام آزاد، ترجمان القرآن، جلد۳)
’’ترجمان القرآن‘‘ کا ایک اور امتیاز یہ ہے کہ ہر سورت کے ساتھ مطالب کی ایک فہرست دی گئی ہے جس سے اس کے مضامین کا اجمالی تعارف ہو جاتا ہے۔
مولانا آزاد چونکہ ایک صاحب طرز ادیب تھے، اس بنا پر’’ ترجمان القرآن‘‘ ان کے انشا کا بھرپور مظہر ہے، تاہم جہاں تک اصول تفسیر کا تعلق ہے تو وہ ائمۂ تفسیر ہی کی تتبع کرتے نظر آتے ہیں اور بہت کم کوئی ایسی راے قائم کرتے ہیں جو اسلاف کی راے کے برخلاف ہو۔ مولانا کا اصل کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے قرآن کو اپنے عہد میں ایک زندہ کتاب کے طور پر پیش کیا ہے جو مسلمانوں کے لیے واحد راہنما ہو سکتی ہے۔ سید سلیمان ندوی نے ’’ترجمان القرآن‘‘ پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
’’مصنف ترجمان القرآن کی یہ دیدہ وری داد کے قابل ہے کہ انھوں نے وقت کی روح کو پہچانا اور اس فتنۂ فرنگ کے عہد میں اسی طرزوروش کی پیروی کی جس کو ابن تیمیہ اور ابن قیم نے پسند کیا تھا اور جس طرح انھوں نے اس عہد کے مسلمانوں کی تباہی کا راز فلسفۂ یونان کی دماغی پیروی کو قرار دیا، اسی طرح اس عہد کے مسلمانوں کی بربادی کا سبب ترجمان القرآن کے مصنف نے فلسفۂ یونان و فرنگ کی ذہنی غلامی کو قرار دیا اور نسخۂ علاج وہی تجویز کیا کہ کلام الٰہی کو رسول کی زبان و اصطلاح اور فطرت کی عقل و فلسفہ سے سمجھنا چاہیے۔‘‘(ابوسلمان شاہجہانپوری، ابوالکلام آزاد(بحیثیت مفسر و محدث)۲۱۔۲۲)
ترجمان القرآن کے نمایاں اوصاف
تفسیر سوره فاتحہ
مولانا کی ترجمان القرآن کا خاصہ سوره فاتحہ کی مفصل تفسیر ہے کہ جو ٢٠٣ صفحات کی ضخیم جلد پر مشتمل ہے مولانا اهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ کے تحت لکھتے ہیں ہدایت کے چار درجات ہیں
١. وجدانی ہدایت
٢. حواسی ہدایت
٣. عقلی ہدایت
٤. وحی الہی سے مستنبط ہدایت
اور پھر اس بحث میں پہلی تین ہدایتوں کو ناکافی قرار دے کر وحی الہی کی فوقیت کو مظبوط دلائل سے ثابت کرتے ہیں (٧٢)
خلافت کی بحث
مولانا کی خاص بحث مسلمانوں میں احیائی روح کو بیدار کرنا ہے اور اس حوالے سے خلافت کی بحث انکی تفسیر قرآنی میں جا باجہ ملتی ہے مولانا جہاد کی تعریف کرتے ہوے اس کے دو درجات متعیّن فرماتے ہیں
١. اقدامی جہاد
٢. دفاعی جہاد
اقدامی جہاد کو مولانا فرض کفایہ قرار دیتے ہیں (١٠٤)
اور دفاعی جہاد انکے نزدیک فرض عین ہے (١٠٥)
خلافت میں قرشیت کی شرط
علماء امت کا موقف خلافت میں قرشیت لازم ہونے کا ہے
ائمہ قریش میں سے ہوں گے جب تک کہ وہ تین باتوں پر عمل کرتے رہیں گے ۔ حکم کریں تو عدل کے ساتھ، جب ان سے رحم طلب کیا جائے تو رحم کریں، جب عہد کریں تو وفا کریں۔ پھر جو ان میں سے ایسا نہ کرے اس پر اللہ، فرشتوں اور انسانوں کی لعنت: مسند احمد، مسند ابو داؤد
مات قریش کے معاملے میں علمائے امت کا مسلک:
“اور وہ سب (مکتبہ ہائے فکر)اس بات کے قائل ہیں کہ امامت کے لیے قریشی النسل ہونا لازمی ہے: الفارق بین الفرق از عبدالقاہر بغدادی (429ہجری)
“اہل سنت اور تمام شیعہ اور بعض معتزلہ اور جمہور مرجئیہ کا مذہب یہ ہے کہ امات جائز نہیں ہے مگر خصوصیت کے ساتھ قریش میں۔ ۔ ۔ ۔ اور تمام خوارج اور جمہور معتزلہ اور بعض مرجئہ کا مذہب یہ ہے کہ یہ منصب ہو اس شخس کے لیے جائز ہے جو کتاب و سنت پر قائم ہو خواہ وہ قریشی ہو یا عام عرب یا کوئی غلام زادہ ۔: الفصل فی املل و انحل از (452ہجری)ابن خرم
تمام امت اس امر پر متفق ہے کہ امامت قریش کے سوا کسی کے لیے درست نہیںہے” عبدالکریم شہرستانی (548 ہجری)
ضروری ہے کہ امام قریش میں سے ہوں اور ان کے سوا کسی دوسرے کو امام بنانا جائز نہیں: امام نسفی (537 ہجری)
امامت کے لیے قرشیت کا شرط ہونا تمام علما کا مذہب ہے اور علما نے اسکو اجماعی مسائل میں شمار کیا ہے” قاضی عیاض (544 ہجری)
مولانا آزاد اور سید مودودی رح نے اس مسلے سے اختلاف کیا ہے مولانا اپنی معروف کتاب ” مسلہ خلافت”
میں بھی “ شرط قرشیت “ کے عنوان کے تحت اس سے اختلاف کرتے نظر آتے ہیں .
ذولقرنین کی تاریخی تحقیق :-
مولانا نے جدید جغرافیائی تحقیق اور تاریخی حوالوں سے ذولقرنین کی حقیقت کو واضح کیا ہے اور انکے بعد کے زیادہ تر مفسرین نے اس مسلے میں انہی کا اتباع کیا ہے .
مولانا کی تحقیق کے مطابق ذولقرنین فارس کا شہنشاہ ” سائرس ” ہے
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
دوسری جانب مولانا یاجوج و ماجوج کے حوالے سے پڑی گرد کو بھی صاف کرتے ہیں اور منطقی دلائل سے اس حقیقت کو واضح کرتے ہیں کہ یاجوج ماجوج در اصل قدیم کاکیشین منگول قبائل ہیں .
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
ناسخ منسوخ کی بحث اور مولانا آزاد کا علمی استدلال : –
ناسخ و منسوخ ایک ایسا مسلہ ہے کہ جس پر متعدد مستشرقین اور دور جدید میں انکے پیروکاروں کی جانب سے تنقید آتی رہی ہے مولانا نے اس مسلے کو اتنی خوبی سے صاف کیا ہے کہ کسی ابہام و اشکال کی گنجائش باقی نہیں رہ جاتی .
مولانا تفسیری نوٹ میں اس کی تشریح یوں کرتے ہیں …
ایک شریعت کے بعد دوسری شریعت کا ظہور یوں ہوا کہ یا تو ” نسخ ” کی حالت طاری ہوئی یا ” نسیان ”
” نسخ ” یہ ہے کہ یب بات پہلے سے موجود تھی لیکن موقوف ہو گئی اور اس کی جگہ دوسری بات آ گئی ،
” نسیان ” کے معنی بھول جانے کے ہیں ،
پس بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ پچھلی شہریت کسی نہ کسی شک میں موجود تھی لیکن احوال و ظروف بدل گئے تھے یا اس کے پیروؤں کی عمل کی روح معدوم ہو گئی اسلیے ضروری ہوا کہ نئی شریعت ظہور میں آئے –
بعض حالتوں میں ایسا ہوا کہ امتداد وقت سے پچھلی تعلیم بلکل فراموش ہو گئی اور اصلیت میں سے کچھ باقی نہ رہا پس لا محالہ تجدید ہدایت ناگزیر ہوئی سنت الہی یہ ہے کہ نسخ شریعت ہو نسیان شریعت ہر نئی تعلیم پچھلی ے بہتر ہوتی ہے یا کم از کم اسی مانند ہوتی ہے ایسا نہیں ہوتا کہ کمتر ہو کیونکہ اصل تکمیل و ارتقاء ہے ناکہ تنزل و تشکل
(ترجمان القرآن ، مولانا آزاد ، سوره البقرہ)
مولانا کے افکار پر اعتراضات
١، سید مودودی رح کا اعتراض :-
۰۳ مارچ ۲۶۹۱ ء کو مولانا ابوالاعلیٰ مودودی رحمتہ اللہ علیہ نے مریم جمیلہ کے نام اپنے ایک مکتوب میں لکھا:
”۰۲۹۱ ء ۔ ا۲۹۱ ء کے زمانے تک مولانا ابوالکلام آزاد احیائے اسلام اور تحریک خلافت کے پرجوش حمایتیوں میں شامل تھے مگر اس کے بعد مولانا اپنے اس موقف کے متضاد قول فعل کی تکرار کرتے ہیں ۔ اس یک لخت تبدیلی پر بعض افراد کو یقین ہی نہیں آتا کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں ،ایسے لوگ آنکھیں ملتے ہوئے انہیں دیکھتے کہ یہ وہی ابوالکلام ہیں یا کوئی بالکل نئی شخصیت ! اب ابوالکلام سو فی صد ایک ہندوستانی قوم پرست کا روپ اختیار کرلیتے ہیں جو ہندوﺅں مسلمانوں کو ایک قوم کی شکل دینا چاہتا ہے۔ اب ابوالکلام بعض ہندو فلسفیوں کے پیش کردہ ”وحدت ادیان“ اور ڈارون کے نظریہ ارتقاءکو پوری طرح اپنی فکر کا حصہ بنالیتے ہیں ۔ ابوالکلام کے ان افکار تازہ کا نقش ان کی تفسیر قرآن میں صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے۔ “
مولانا یوسف بنوری رح کا اعتراض :-
سوره فاتحہ کے متعلق ان کی تفسیر خوب مفصل و مبسوط شایع ہوئی میں نے بھی اس کو خوب شوق سے لیا اور پڑھنا شروع کیا اور سوره فاتحہ کی مکمل تفسیر پڑھی اور پھر مختلف آیات کی تفسیر دیکھی تب اس شدت اشتیاق کی لو جو میرے دل میں جل رہی تھی وہ بجھ گئی اور میں انگشت بدنداں رہ گیا اور افسوس کرتا یہ سوچنے لگا کہ اگر یہ تفسیر نہ طبع ہوتی تو زیادہ بہتر تھا اسلئے کہ اس کے مطالعے سے قبل ان کی قدر و منزلت میرے قلب میں جاگزیں تھی اس مطالعے سے میں نے بھانپ لیا کہ خواہشات اور محض عقل کی کارفرمائی ان کو مختلف وادیوں میں لے گئی ہے اور اس اوہام پرستی نے موصوف کو کہیں کا نہ چھوڑا اور میں نے جانچ لیا کہ اس خود رائی اور اعجاب نے موصوف کو تقلید سے بے بہرہ کیا اور اور آخر صراط مستقیم سے ورے ورے شاہراہ باطل پہ گامزن کر دیا –
وكلّ يدّعي وصلا بليلى
وليلى لا تقرّ لهم بذاك
اصول تفسیر و علوم القرآن ، مصنف مولانا یوسف بنوری رح ، مکتبہ البینات ، صفحہ : ١١٢
مولانا کے حوالے سے تحریر کا اختتام علامہ شورش کاشمیری کے ان اشعار کے ساتھ جو انھوں نے 10 مارچ 1858 مولانا آزاد کے مزار پر لکھے تھے:
کئی دماغوں کا ایک انساں میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے زباں سے زور بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امیر کیا؟ کارواں گیا ہے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر وکعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم خواص پہنچے عوام پہنچے
تیری لحد پہ ہو رب کی رحمت،تیری لحد کو سلام پہنچے
مگر تیری مرگ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
بشکریہ اردو ویب ڈاٹ آرگ
Maulana Abulkalam Azad aur Unnki Khud Aitmadi by Noor us Sabah
Articles
مولانا ابوالکلام اور ان کی قوت ارادی از نور الصباح
نور الصباح
مولانا ابولکلام آزاد ایک عظیم المرتبت اور جلیل القدر شخصیت کے ساتھ ساتھ مفسر، محدث، انشاء پرداز، ادیب، تاریخ داں، سیاست داں،قومی و ملی رہنما،ماہر تعلیم اور مجاہد آزادی بھی تھے ۔مختلف ادیبوں نے ان کی ایک ایک خوبیوں کا جائزہ لیا ہے۔کسی کو وہ ادیب وانشاء پرداز نظر آئے،کسی نے ان کو تاریخی پس منظر میں دیکھا ،کسی نے سیاسی حلقوں میں،کسی نے ان کو آزادی کاعظیم مجاہد بتایا ، کسی نے ان کو قومی وملی رہنما کا درجہ دیا ، کسی نے ان کو تعلیمی نظریہ ساز کے پردے میں پیش کیا تو کسی نے ان کو مفسرو محدث کے روپ میں پیش کیا۔مگر ان کی اتنی ساری خوبیوں کی وجہ کیا تھی؟اس پر اب تک خامہ فرسائی نہیں کی گئی جب کہ وہ بھی ایک انسان ہی تھے ،جس طرح اللہ نے عام انسانوں کو عقل و فراست اور ذہانت سے نوازا اسی طرح انھیں بھی ،جس طرح عام انسانوں کی زندگیاں مشکلات سے دوچار ہوتی ہیں اسی طرح ان کی بھی زندگی نشیب وفراز اور کشمکش کا مجموعہ تھی بلکہ انھیں اسیری کے درمیان ایسی ایسی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جو شاید ہی کسی ادیب نے کیا ہو ،پھر بھی انھوں نے ہمت و حوصلہ نہیں ہارا ور اپنی قوت ارادی کے عمدہ استعمال سے اپنا ایک الگ راستہ بنایا اپنے کام میں منہمک رہے جو ’’غبارخاطر‘‘ کی شکل میں ایک حسین گلستاں کے طور پر دنیائے ادب میں نمودار ہوا۔
ان کو اتنے اعلیٰ وارفع مقام تک پہنچانے میں ان کی قوت ارادی،قوت استقلال،عزم مصمم،ہمت وحوصلہ اور جہد مسلسل ہے جس نے زنداں میں بھی ان کو اپنے فیصلے پر قائم رکھا اور ان کی قوت ارادی کو پابند سلاسل ہونے سے بچائے رکھا۔ انھوں نے غبارخاطر جیسی کتاب لکھ کر فلسفہ زندگی،جہد مسلسل،قوت ارادی، مذہب، عقیدہ، تحقیق، خوشی، تفکر و تدبر جیسی چیزوں سے پردہ اٹھایا اور عوام کو اس سے آشنا کیا کہ انسان کس طرح اپنے فیصلہ پر قائم رہ کر زندگی کی مشکلات سے گزر کر اپنی خوشیوں کو حیات بخش سکتا ہے،لیکن اس کے ساتھ اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ قوت ارادی کے لیے قوت متخیلہ ضروری ہے اور قوت متخیلہ کے لیے خودشناسی ضروری ہے اور خودشناسی کے لیے خود آگہی کا ہونا لازمی ہے۔ یہ ساری چیزیں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں جو انسان کو متحرک رکھنے پر قادر ہیں ۔یہی ساری چیزیں مولانا ابوالکلام کے اندر بدرجہ اتم موجود تھیں جو انھیں ہمیشہ متحرک و مصروف رکھتی تھیں۔
مولانا کی قوت ارادی کا عالم یہ تھا کہ وہ قید خانے کی زندگی میں بھی فرحت و انبساط کے اوقات تلاش کرلیتے تھے۔ان کے صعوبت بھرے لمحات بھی شگفتہ مزاجی و خندہ روی کے قالب میں اس طرح ڈھل گئے تھے گویا وہ کوئی ساعت محصور نہ ہوبلکہ روح پرور گھڑی ہوکہ نیلگوں آسماں اور خورشید جہاں تاب کی درخشندگی سے لطف اندوز ہورہے ہوں۔وہ ایک ادنیٰ سے کام میں بھی خوشیوں کو تلاش کرلیتے تھے ۔وہ زندگی کو چینی وفرانسیسی زاویہ نگاہ سے دیکھتے تھے کہ:۔
’’خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
گویا زندگی محض اپنی نہیں ہے بلکہ دوسروں کی امانت ہے اگر کوئی ایک انسان رنجیدہ ہوگا تو اس سے دوسروں کی مسکراہٹ بھی غائب ہوجائے گی اور یہ معاشرتی طور پر ایک غیر اخلاقی چیز ہے کہ ہم اپنے رنج و الم سے دوسروں کی خوشیوں کو کافور کریں۔کیوں کہ زندگی ایک آئینہ خانہ کے مانند ہوتی ہے جس میں ہر فرد کے ہزاروں،سیکڑوں چہرے نظر آتے ہیں،اگر کوئی ایک چہرہ بھی رنجیدہ خاطر ہوگیا تو سارے چہرے غبار آلود ہوجائیں گے جس طرح مضراب کے تار کو انگلیاں جب چھیڑتی ہیں تو اس کی جھنجھناہٹ کا وقفہ تا دیر قائم رہتا ہے بالکل اسی طرح کسی ایک شخص کی مغمومیت سے پورے افراد خانہ پر غمزدہ آثار کے سائے پڑ جائیں گے تو یہ ایک طرح سے اخلاقی ذمہ داری ہوئی کہ ہم اپنی وجہ سے کسی کو رنج نہ دیں بلکہ ہرحال میں خوش رہنے کی کوشش کریں اور مولانا آزاد بھی اسی نظریہ پر عمل کرتے تھے کیوں کہ ہم میں سے کوئی بھی شخص اس بات سے واقف نہیں ہے کہ ہماری غم یا خوشی کی ساعتیں کتنی دیر تک ہمارے ساتھ رہیں گی اس لیے ہمیں چھوٹی سے چھوٹی خوشیوں سے خوش ہونا چاہیے ،کیوں کہ ہمیں اس بات کا علم نہیں ہے کہ خوشی کا یہ موج ترنم کب تک قائم رہے گا اور غم کے سیلاب کس وقت آدبوچیں گے۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے،یہاں ہرچہرے کاعکس بیک وقت سینکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔اگر ایک چہرے پر غبار آجائے توسینکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیں گے۔ہم میں سے ہرفرد کی زندگی محض ایک انفرادی واقعہ نہیں ہے۔وہ پورے مجموعہ کاحادثہ ہے۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۱۲۷)
مولانا اپنی ذہانت،قابلیت اورعزم مصمم کی بدولت مشکل سے مشکل ترین راہ میں بھی زندگی کو جینے کا سلیقہ سیکھ لیے تھے۔اورہمیشہ ہر حال میں خوشی اور فرحت وانبساط کے لباس میں ملبوس رہتے ، ان خوشیوں سے ان کامقصدعوام کو،اپنے اطرا ف وجوانب اور عزیزواقارب کی مسکراہٹ کو قائم رکھنا تھا ،کیوں کہ اس میں اعلیٰ اخلاق کی صفات پوشیدہ تھیں۔وہ اپنی خوشیوں کو اپنے قرب وجوار میں نہیں بلکہ باطن میں تلاش کرتے تھے،اس طرح وہ اپنے دل کو ہمیشہ متحرک اور زندہ رکھتے تھے۔ایسا کرنے کے لیے وہ خود کو لغوباتوں اور لہولعب کی چیزوں میں مصروف نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ اس طرح سے اپنے قلب و روح کو امید سے زندہ اور کام سے تابندہ رکھتے تھے،اس کے لیے وہ کسی ایک چیز پر قانع ہوکر خلوت نشینی اختیار نہیں کرلیتے تھے بلکہ اضطراب کو ترجیح دیتے تھے اور کوئی ایسا مقصد حیات تلاش کرتے تھے کہ وہ بلائے جاں ہو جو انھیں ہمیشہ مضطرب رکھے اور اس کے تعاقب میں انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔ان کے نزدیک اگر زندگی میں اضطراب شامل نہ ہو محض سکون ہی سکون ہو تو ایسی زندگی کو یکسانیت کے زمرے میں شمار کرکے موت سے تعبیر کی جاسکتی ہے۔اگراپنے وجودکی عدم وجودیت کا خوف ہو تو اس کے لیے ہمیں مشکلوں اور زندگی کی تلخیوں سے گھبرا کر ناامید نہیں ہونا چاہیے بلکہ دنیا کو کارزار حیات اور اپنے وجود کو ایک جنگجو سپاہی سمجھ کر معرکہ آرائی کے لیے تیار رہنا چاہیے اگر وہ مقابلہ کی مشکلات کے خوف سے پیچھے ہٹ جائے تو کسی چیز کو پانے کی جستجو ہی باقی نہیں رہ جائے گی۔اور اگر کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسے کھودینے کے اندیشہ سے گوشہ نشینی اختیار کرلے تو وہ اس وقت تک ان خوشیوں سے حقیقی طور پر لطف اندوز نہیں ہوسکتا جب تک کہ اسے کچھ کھونے کا بھی احساس نہ ہو۔کیوں کہ کسی بھی انسان کو اگر اپنی زندگی کا وہ مقصد حاصل ہوگیا جس کی اسے خواہش تھی اور وہ اسی پر قانع ہو کر بیٹھ گیا تو پھر دنیاکی نظروں سے پوشیدہ ہوجائے گا،لہٰذا کسی بھی انسان کو کچھ کھوئے جانے کے خوف کے بنا اور کسی چیز کو پانے کی جستجومیں ہر میدان میں کامیابی کا علم نصب کرنا چاہیے ایسا کرنے کے لئے ہمت وحوصلہ اوراضطراری کیفیت کے ساتھ ساتھ صبرواستقلال بھی ضروری ہے۔اس ضمن میں ان کی گرفتاری کے وقت کی کیفیت کومدنظررکھا جائے تو اس سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ کسی دلنشیں سفرپر اپنے محبوب کی ہمراہی میں ہوں:۔
’’کار باہر نکلی تو صبح مسکرا رہی تھی۔سامنے دیکھا توسمندر اچھل اچھل کر ناچ رہا تھا۔نسیم صبح کے جھونکے احاطہ کی روشنی میں پھرتے ہوئے ملے۔یہ پھولوں کی خوشبو چن چن کر جمع کررہے تھے۔اورسمندر کو بھیج رہے تھے کہ اپنی ٹھوکروں سے فضا میں پھیلاتا رہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۵۶)
یہ سکون واطمینان کے آثاران کی قوت ارادی اور خودشناسی کی وجہ سے تھے کیوں کہ انھوں نے زندگی کا مقصد پالیا تھا،وہ کسی ایک ہی مقصد فکر تک محدود نہیں ہونا چاہتے تھے،بلکہ وہ ہر میدان میں طبع آزمائی کرتے اور خود کو حالات سے مقابلہ آرائی کے لیے تیار بھی رکھتے،وہ تمام مشکلات کو بآسانی ضبط کرلیتے تھے،وہ حواس پر قابو رکھتے اور اپنے گردوپیش سے ہی جینے کا ہنر فراہم کرلیتے تھے ،وہ ہمیشہ اپنے دل کی دنیا کو آباد رکھتے اور مختلف حالات و تبدیلیوں کے لیے خود کو اس طرح تیاررکھتے کہ خارجی ماحول کا انتشار اگرچہ ان کے اعصاب پر اثرانداز ہوتا مگر داخلی دنیا کو اس سے محفوظ رکھتے۔وہ ہمیشہ معتدل راستہ اپناتے تھے ،کبھی بھی تذبذب کا شکار نہ ہوئے نہ تو کبھی اپنے قائم کردہ فیصلہ پر متشکک ہوئے اور نہ ہی اپنے وضع کردہ اصولوں سے کبھی بدعملی برتی،وہ لوگوں کو جن اصولوں پر عمل کی تلقین کرتے تھے بذات خود وہ اس پر عمل کرتے تھے،نہ تو انھوں نے خود کو کبھی تقدیرکے حوالے کیا بلکہ تقدیر پر بھروسہ کرناان کے نزدیک کم ہمتی کا نام تھاجسے عوام کی دماغی لغات تقدیر کا نام دے کر اپنی زندگی کے تئیں غوروفکر اور کسی بھی نئے راستے کی جستجو سے رخ موڑ کرمنظر سے ہی روپوش ہوجاتی ہے،ایسی زندگی ان کے نزدیک تعطل اور فرار کی زندگی ہے بلکہ وہ اندھیرے میں بھی سورج کی شعاعوں کو تلاش کرلیتے تھے اور ظلمت کو دور کرنے کے خواہاں رہتے تھے،جیسا کہ انھوں نے اکتوبر۱۹۴۷ کے اپنے ایک خطبہ میں عوام کو خطاب کرتے ہوئے کہا ہے:۔
’’عزیزوں!تبدیلیوں کے ساتھ چلو یہ نہ کہو کہ ہم اس تغیر کے لیے تیار نہ تھے،بلکہ اب تیار ہوجاؤ ،ستارے ٹوٹ گئے،لیکن سورج تو چمک رہاہے،اس سے کرنیں مانگ لواور اندھیری راہوں میں بچھادو جہاں اجالے کی سخت ضرورت ہے‘‘(مولانا ابولکلام آزاد ایک تجزیاتی مطالعہ، مر تب مفتی عطاء الرحمن قاسمی ، ص:۴۸۹)
گویا وہ مشکل حالات کے لئے ہمیشہ تیار رہتے کبھی بھی ان حالات کو خود پر طاری نہیں کیا اور نہ ہی گوشہ نشینی اختیار کی بلکہ اپنی ذہانت و فراست سے اس سے نبردآزماہوتے اور مسئلے کا حل تلاش کرلیتے کیوں کہ ان کے نزدیک خوشی و غم ایک احساس کا نام تھاجو حیاتیات انسانی کے اندر موجود ہے اگر انسانی زندگی مسائل کے بوجھ تلے رنج والم کی زندگی گزارنے کی کوشش کرے تو وہ زندگی زخمی زخمی ہوجائے گی اور اگر مسائل کے حل کے لئے جدوجہد اور مسلسل سرگرم عمل رہے تو خوشیاں اس کے قدموں تلے ہوں گی اور ایسی لطیف زندگی کے علاوہ کوئی بھی چیز لذیذ نہیں ہوسکتی ۔اس ضمن میں انھوں نے عربی کا ایک مقولہ رقم کیا ہے’’حمضوامجالسکم‘‘کہ اپنی مجلسوں کا ذائقہ بدلتے رہو،گویا ایک چیز کے ختم ہوجانے سے تقدیر پر صبر کرکے بیٹھنا نہیں چاہئے بلکہ تلخیوں کا گھونٹ پی کردوسری راہ گزرمیں طبع آزمائی کرنی چاہیے تبھی زندگی کے اصل لطف سے بھی ہم واقف ہوسکتے ہیں۔اس کے پس پردہ اگر حالات حاضرہ کا مشاہدہ کیا جائے تو موجودہ نسل پریشان حال اور تباہ کن دہانے پر پہنچ کر اپنی زندگی اور والدین و بھائی بہن جیسے قریبی رشتوں سے بیزارمعیشت کے پیچھے سرگرداں ہے ایسی معیشت جو اسے خود اپنی بھی زندگی سے بیزار کر رہی اور ایسے علم کے پیچھے سراسیمگی کا شکار ہے جو اسے دین ودنیا سے تو خود سے بھی بیزار کرکے مایوسی و رنجیدگی کے گڈھے میں پہنچا رہا ہے ،مولاناآزاد علم و معیشت کے تئیں مقصدیت کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں ان کے نزدیک ایسے علم کے لیے صرف ڈگری تک محدود ہونا ہی علم نہیں تھا بلکہ اس کے لیے کوئی نہ کوئی واضح مقصد ہوناچاہیے۔اب اس سلسلے میں انتہائی غوروفکر کی ضرورت ہے کہ وہ مقصد کیا ہے؟اورکیسا ہونا چاہیے؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا زندگی کامقصد محض عمدہ تعلیم،اچھی ملازمت کا حصول اور معیار زندگی کومعراج کمال کی تکمیل کی پیہم سعی کے علاوہ کچھ نہیں ہے؟یہ ایک ایسا سوال ہے جو ایام گزشتہ سے گردش کرتا ہوا موجودہ عہد کی نسلوں کے لیے بھی پریشانی کا باعث ٹھہرا،اور اس مسئلہ لاینحل کے لئے تمام دانشوران علم وفن سرگرداں نظر آتے ہیں جس کے جواب پر مذاہب عالم کی تمام بنیادی تعلیمات کی تعمیرات بھی مبنی ہیں۔یہی فلسفہ زندگی مولانا ابوالکلام آزاد جیسے مفکر و مدبر کے لیے بھی ایک للکار بن کر ابھرا،انھوں نے فلسفہ زندگی کی گرہوں کو سلجھانے کے لیے مقصد زندگی کو اہم بتایا اور وہ مقصد محض ایک ہی نکتہ نظر تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اس میں وسعت،پھیلاؤ اور کشادگی ہونی چاہیے جو مختلف علوم وفنون کے لبادے میں وقتا فوقتا ظاہرہوتے رہیں جو ہمیشہ زندگی کو متحرک رکھے اور اپنی تکمیلت کے لیے ہمیشہ مضطرب بھی رکھے جو ایسا انگارہ ہو کہ کبھی بجھنے کا نام نہ لے،جو شورش ومستی کے جذبات سے لبریز ہو،جو ہنگامہ خیز ہو،جس کی تکمیل کے لیے قلب وروح سیمابی کیفیت کا حامل اور مائل اضطراب ہو۔وہ فرماتے ہیں:۔
’’ایک ایسا بلائے جاں مقصد،جس کے پیچھے انھیں دیوانہ وار دوڑنا پڑے۔جودوڑنے والوں کو ہمیشہ نزدیک بھی دکھائی دے اور ہمیشہ دور بھی ہوتارہے۔نزدیک اتنا کہ جب چاہیں ہاتھ بڑھاکر پکڑ لیں اور دور اتنا کہ اس کی گرد راہ کا بھی سراغ نہ پاسکیں۔‘‘
(غبارخاطر،ص:۸۳)
درج بالا اقتباس سے مولانا آزاد کا فلسفہ زندگی سامنے آتا ہے جو مقصدیت سے مملوہو،جوتحریک کا منبع اورمسلسل حرکت وعمل اور جہدمسلسل کا خزینہ ہو۔ان کے نظریہ کے مطابق کسی چیز کو حاصل کرلینے کے بعد اسی پر قناعت نہیں کرنا چاہیے بلکہ کوئی نہ کوئی مقصد حیات کا ہدف ہونا چاہیے بصورت دیگر حالت سکون کی زندگی موت کے زمرے میں شمار ہونے لگے گی،کیوں کہ زندگی مسلسل جہد عمل کا نام ہے اور دنیا امتحان گاہ ہے جواس امتحان گاہ میں کامیابی کے منازل طے کرکے کہیں ٹھہر گیا تو پھر اس امتحان گاہ سے خارج ہوگیاگویا وہ کالعدم ہوگیا۔میدان زیست میں کسی بھی کامیابی یا ناکامی کے بعد ہمیشہ ایک نئی جستجو اور نئے عزم کے ساتھ قدم آگے بڑھانا چاہیے،زندگی کا مدعا یہ ہے کہ وہ مقصدی اوراضطراری ہو ورنہ مقصد ختم تو زندگی ختم۔زندگی ایک ایسے دریا کے مانند ہے جس کے اندر اسی وقت تک تموج رہتا ہے جب تک لہریں طغیانیوں کی زد میں ہوتی ہیں ورنہ ایک خاموش اور کبھی نہ ختم ہونے والے سناٹے کی دبیز چادروں میں لپٹا ہوتا ہے۔ زندگی کو موت سے تعبیر کرنے کی مثال فارسی کے ایک شعر میں پیش کی ہے:۔
موجیم کہ آسودگی ماعدم ماست
مازندہ از انیم کہ آرام نہ گیریم
(ترجمہ:ہم توسمندر کی لہروں کی طرح ہیں جن کا سکون ان کی موت سے وابستہ ہے ہم اس لیے زندہ ہیں کہ ہمیں کوئی آرام حاصل نہ ہو)
مولانا آزاد ایسی بلند پرواز تخیل کے مالک تھے کہ وہ تصور میں ہی مستقبل کے نشیب وفراز اور معاشرتی حسن وقبح کو دیکھ لیتے تھے ان کا ذہن اتنا فکر رسا تھا کہ دبیز فولادی چادر میں بھی سوراخ کرکے مقصدیت کی تہوں تک پہنچ جاتا تھا مگر اس کے لیے وہ اپنے ذہن کو سکون کی چادر اور دل کو موت کے کفن سے محفوظ رکھتے ہوئے ہمیشہ خاردار راہوں کا انتخاب کرتے تھے تاکہ آیندہ آنے والی دشواریوں کا آسانی کے ساتھ سامنا کرنے کا امکان ہوسکے۔وہ ہمیشہ سنگلاخ راستوں کے ہی مسافر رہے۔فرماتے ہیں:۔
’’کوئی اپنا دامن پھولوں سے بھرنا چاہتا ہے،کوئی کانٹوں سے،اور دونوں میں کوئی بھی پسند نہیں کرے گا کہ تہی دامن رہے۔جب لوگ کامجوئیوں اور خوش وقتیوں سے پھول چن رہے تھے،تو ہمارے حصے میں تمناؤں اور حسرتوں کے کانٹے آئے انھوں نے پھول چن لیے اور کانٹے چھوڑ دیے۔ہم نے کانٹے چن لیے اور پھول چھوڑ دیے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۴)
مولانا آزاد فطری طور پر متحرک تھے ۔وہ خودکار اور خودمختارتھے ۔وہ خود غوروفکر کرتے اس کے بعد منصوبہ بناتے اور اس پر مضبوطی کے ساتھ قائم رہتے،ان کے نزدیک زندگی کی مختلف شاخیں تھیں وہ کسی نہ کسی شاخ کو اپنا آشیانہ بنا لیتے اور اس کی جڑوں کو مستحکم بنانے کی کوشش کرتے جس کے لیے وہ مسلسل جدوجہداور قوت استقامت کو خاطر نشاں رکھتے۔وہ کسی نہ کسی کام میں مستغرق رہتے ۔ان کی خاص بات یہ ہے کہ انھوں نے کسی بھی کام کو کل پر نہیں ٹالا۔ان کا یہ طرز عمل عوام کے لیے سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ ان کو قوت ارادی اور ہمت وحوصلہ بخشنے والا ہے کہ انسان چاہے کتنی ہی مشکلات میں محصور ہو مگر اسے ہمت وحوصلہ نہیں ہارنا چاہیے کیوں کہ اس طرح وہ مایوسیوں و ناامیدیوں کے درمیان پھنس کر تنہائی اختیار کرلیتاہے ،اس طرح افسردگی کی چادر میں لپٹ کر بیٹھ جانے سے دنیا کی نظروں میں ہمارا وجود ہی ختم ہوجائے گا اور ہم ایک خاک پریشاں کے علاوہ کچھ بھی نہیں رہ جائیں گے،جس طرح کسی درخت سے کٹی ہوئی ٹہنی پر کسی بھی موسم کا اثر نہیں ہوتا نہ تو موسم بہار ہی اس میں روح ڈال سکتا ہے ،نہ تو موسم خزاں کا ہی اس پر کچھ اثر ہوگا،حتیٰ کہ تمام موسم اس کے لیے سرد ہوں گے ،وہ موسم بہار کی شادابی اور موسم سرما کی تبدیلی سے محروم ہوگی،گلستاں میں جب رنگ برنگ پھول اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کھلتے ہیں تو لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جاتے ہیں،وہ ہر ایک کی دل کا سرور،آنکھوں کی ٹھنڈک اور جسم کی تراوت کا سامان بن جاتے ہیں،اور مالی بھی اس کی بقا کے لیے ہمیشہ نگہبانی کے لیے معمور ہوتا ہے ،لیکن جیسے ہی موسم خزاں کی آمد آمد ہوتی ہے وہی نگہبان گلچیں بن جاتا ہے ،ان پھولوں کو ڈالیوں سے جبراجدا کردیا جاتا ہے ،ان مرقع حسن اور رعنائی کے پیکر کو توڑ مروڑ کر گھانس کے تودہ کے مانند نذر آتش کرنے کے لیے بے سروسامان پھینک دیا جاتا ہے۔بالکل اس طرح انسانی زندگی بھی ہے ،اگر اس کا دل زندہ ہے تو امیدوبیم کے چراغ روشن ہوتے رہیں گے ،اور وہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے ہمیشہ متحرک اور دنیا کی نظروں میں سرسبزوشاداب رہے گا،ورنہ وہ بھی انھیں پھولوں کے مانند معاشرے سے کسی عضومعطل کی طرح کانٹ کر پھینک دیا جائے گا۔جس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں جو لوگوں کے لیے ایک بوجھ کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔مولانا ابوالکلام کی چند سطریں ملاحظہ ہوں:۔
’’انسانی زندگی کا بھی بعینہ یہی حال ہوا۔سعی وعمل کا جو درخت پھل پھول لاتا ہے اس کی رکھوالی کی جاتی ہے۔جو بیکار ہوتا ہے اسے چھانٹ دیا جاتا ہے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۴۶)
گویا ان کے نزدیک زندگی کا حقیقی مقصد یہ تھا کہ ہمارے پاس زندہ رہنے کی کوئی وجہ ہو،کوئی واضح نصب العین ہو،اور ہماری تمام تر کوششوں کا صرف ایک ہی مرکز ہو،مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا کرنا ممکن ہے ؟ کیا اس کی تکمیلیت کی جاسکتی ہے؟تو اس کا جواب ہاں میں ہی ہے۔کیوں کہ اللہ نے تمام انسان کو قوت فیصلہ،ذہانت اور قوت استدلال سے نوازا ہے،اگر ہر انسان اپنی ذہانت کو عمدہ طریقے سے استعمال میں لاکر ہمت وحوصلہ کے ساتھ سنگلاخ راستوں اور خاردار راہوں کی پرواہ کیے بغیر اسی کے پیچھے مسلسل لگا رہے تو اس کا مقصد پورا ہوسکتا ہے علاوہ ازیں وہ کٹی ہوئی شاخ کے مانند بیکار ہوکر رہ جائے گا جس کا ذکر قرآن میں بھی ہوا ہے’’فاماالزبد فیذہب جفاء واماماینفع الناس فیمکث فی الارض‘‘(کہ جوچیز نافع ہوتی ہے وہ باقی رکھی جاتی ہے۔جو بیکار ہوگئی وہ چھانٹ دی جاتی ہے)لہٰذا مولانا آزاد اپنی خلوت نشینی میں بھی اپنے دل وذہن کو کسی نہ کسی مقصد حیات سے روشن و متحرک رکھتے تھے اور کسی بھی صعوبت کی پرواہ کئے بغیر اس کی تکمیل کے لیے مسلسل عمل متحرک رہتے تھے،اس ضمن میں ان کی اس عادت کو پیش کرنا ضروری ہے جو بچپن سے ہی ان کی فطرت کا خاصہ بن گئی تھی ،وہ ہمیشہ صبح کو تین بجے اٹھتے اور اپنا نیا سبق یاد کرتے اس عادت کو انھوں نے اپنی زندگی کا معمول بنالیا تھا،اس سحر خیزی کی عادت انھیں ان کے والد مولانا محمد خیرالدین سے ورثے میں ملی تھی ۔یہ عادت انھیں گیارہ سال کی عمر سے ایسی لگی کہ اگر والدین اور بہنیں ان کی صحت کے خیال سے انھیں جگاتے نہیں تھے تو وہ پورے دن پشیمان رہتے تھے ۔وہ چپکے سے دوسرے دن اٹھتے اور شمع دان روشن کرکے اپنا سبق یاد کرتے،کیوں کہ صبح کے وقت سارا عالم محو خواب ہوتا ہے اور ساری چیزیں خاموشیوں کے پردے میں پوشیدہ ہوتی ہیں ،اسی عادت کو انھوں نے ہمیشہ برقرار رکھا حتیٰ کہ قلعہ احمد نگر کی اسیری کے درمیان بھی اس عادت کو قائم رکھا کیوں کہ ان کے نزدیک حال تھا ہی نہیں بلکہ وہ ماضی اور مستقبل پر ہی یقین رکھتے تھے اور اپنی اسی طبعی فطرت کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہتے تھے اس کی ایک مثال زنداں خانہ کے ایک صبح کی ہے جب وہ صبح کے تین بجے سوکر اٹھے تو ان کے قلم میں روشنائی نہیں تھی ،یہاں اپنے حال کو ماضی میں تبدیل نہ کرنے کے لیے ان کی ترکیب مرکب کی صناعی دیکھی جاسکتی ہے:۔
’’صبح کے ساڑھے تین بجے ہیں۔اس وقت لکھنے کے لیے قلم اٹھایا تو معلوم ہوا سیاہی ختم ہورہی ہے۔
ساتھ ہی خیال آیا کہ سیاہی کی شیشی خالی ہوچکی ہے۔نئی شیشی منگوانی تھی مگر منگوانا بھول گیا۔میں نے سوچاتھوڑا پانی کیوں نہ ڈال دوں؟یکایک چائے دانی پر نظر پڑی۔میں نے تھوڑی سی چائے فنجان میں اونڈیلی اور قلم کا من اس میں ڈبو کر پچکاری چلادی پھر اسے اچھی طرح ہلادیا۔کہ روشنائی کی دھوؤن پوری طرح نکل آئے اور اب دیکھئے روشنائی کی جگہ چائے کے تندوتیز عرق سے اپنے نفسہائے سرد صفحہ قرطاس پر نقش کررہاہوں۔‘‘(غبار خاطر،ص:۱۷۱)
مولانا کو صبح میں اٹھنے کے ساتھ ساتھ چائے کابھی ذوق تھا جب تک وہ لکھتے رہتے چائے کی چسکی لیتے رہتے تھے جس کو انھوں نے اپنی ذہانت سے روشنائی بنانے کی ترکیب میں استعمال کیا ۔انھوں نے اپنے قائم کردہ اصولوں کو کبھی بھی ملتوی نہیں کیا ہمیشہ اس پر عمل پیرا رہے ،نہ تو بھی انھوں نے اپنے اس روح پرور وقت کو کھویا ،بلکہ وہ اس عالم تنہائی اور خلوت سے اسقدر لطف اندوز ہوتے کہ ان کے تخیل کی پرواز نجانے کہاں سے کہاں پہنچ جاتی،وہی تنہائی ان کی جولانی فطرت کو ہوا دیتی اور یہ ہوا بادسموم کے مانند اتنی گرم ہوتی کہ اس سے چنگاریاں پھوٹنے لگتیں اور یہ چنگاریاں ان کی فطرت کی پہنائیوں میں اس طرح پیوست ہوجاتیں کہ اوقات شب وروز میں سے کسی بھی وقت ماند نہ پڑتیں اورمسلسل انھیں قوت محرکہ عطا کرتی رہتیں۔
اسی طرح ان کی فن موسیقی کا عالم تھا کہ صرف ایک شوق نے ان کو اس فن کا ماہر بنادیا جب کہ وہ اس کی مصطلحات سے بالکل ہی نابلد تھے ۔قصہ فن موسیقی یہ ہے کہ کتاب بینی کا شوق انھیں ایک کتب فروش خدابخش کی لائبریری تک کھینچ کر لے جاتا اسی شوق جنوں میں ان کے ہاتھ فقیراللہ سیف خاں کی راگ درپن کا ایک خوشخط نسخہ لگ گیا جس کو دیکھ کرعالیہ کے پرنسپل مسٹر ڈینسن راس نے ان سے کہا کہ ہندوستان کا فن موسیقی انتہائی مشکل فن ہے۔تمہیں اس کے مطالب سمجھ میں نہیں آئیں گے تو مولانا کتاب لی اور کہا کہ ’’جو کتاب بھی لکھی جاتی ہے وہ اس لیے لکھی جاتی ہے کہ لوگ اسے پڑھیں اور سمجھیں ۔میں بھی اسے پڑھوں گا تو سمجھ لوں گا‘‘ یہ ان کی خود اعتمادی تھی کہ انھوں نے وہ کتاب لی اور ان کی طلبی مبارزت کو قبول کیا۔اس کے لئے انھیں مختلف گلیوں کی خاک چھاننی پڑی،کیوں کہ یہ کتاب ان کے لیے واقعی چیلینج سے مملو ثابت ہوئی ۔زمانہ طالب علمی سے ہی وہ کتاب فہمی کے اتنے خوگر ہوئے تھے کہ وہ کسی بھی کتاب کو پڑھتے اس کے مطالب کی تہہ تک پہنچ جاتے،مگر موسیقی کا فن اتنا مشکل طلب واقع ہوا کہ ان کے مطالب نے انھیں الجھنوں ودشواریوں میں مبتلا کردیا ،ان کو سمجھنے کے لیے انھوں نے اپنے خاندانی مذہبی حالات کے مخالف میستا خاں سے تعاون حاصل کیا جس کاخاندانی پیشہ ہی موسیقی تھا ،آگرہ کے سفر میں تاج محل کی چھت پر رات کی چاندنی میں مضراب کے تاروں پر ان کی انگلیوں کاپیچ وخم پورے ماحول کو رقص و سرود کے سانچے میں ڈھال دیتا۔اسی اثنا میں لکھنؤ میں کرسچین کالج کے سامنے کرایہ کے ایک مکان میں ایک ٹوٹی ہوئی چھت پر علم ہیئت کے شوق میں ساری رات گزار دیتے۔مصر کے سفر میں ایک رقاصہ سے اس غرض سے رسم وراہ بڑھائی کہ اس سے عربی موسقی کے کمالات سنیں،اس کے لیے انھیں ان کوچہ و بازار میں قدم رکھنا پڑا پھر بھی اپنے مقصد سے نہیں ہٹے بلکہ جس میدا ن میں بھی قدم رکھا اس کو کمال تک پہنچا دیا،وہ خود فرماتے ہیں:۔
’’میری عمر سترہ برس سے زیادہ نہ ہوگی۔لیکن اس وقت بھی طبیعت کی افتاد یہی تھی کہ جس میدان میں قدم اٹھائیے،پوری طرح اٹھایئے اور جہاں تک راہ ملے بڑھتے ہی جائیے۔کوئی کام بھی ہو،لیکن طبیعت کبھی اس پر راضی نہیں ہوئی کہ ادھورا کرکے چھوڑ دیا جائے جس کوچہ میں بھی قدم اٹھایا۔اسے پوری طرح چھان کر چھوڑا۔ثواب کے کام بھی کئے تو وہ بھی پوری طرح کئے۔گناہ کے کام کئے تو انھیں بھی ادھورا نہ چھوڑا۔طبیعت کا تقاضا ہمیشہ یہی رہا کہ جہاں کہیں جایئے ناقصوں اور خام کاروں کی طرح نہ جایئے رسم و راہ رکھیئے تو راہ کے کاملوں سے رکھیئے۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۵۸۔۳۵۷)
اسی طرح انھوں نے اپنے موروثی مذہب پر قناعت نہ کرکے مذہب،فلسفہ اور سائنس کے دروازے بھی کھٹکھٹائے ،جبکہ اس میں بھی بہت سی مشکلات سامنے آئیں اور کچھ ایسے اختلافات سامنے آئے کہ جس نے انھیں متحیر اور متشکک کرنے کے ساتھ ساتھ لرزانی اورمتذبذبانہ کیفیت میں بھی مبتلا کیا مگر پھر بھی وہ اس راستے سے واپس نہیں آئے اور نہ ہی خود کو ملحد و منکر کی جماعت میں شامل کیا بلکہ اپنی قوت ارادی،محنت شاقہ،قوت حوصلہ اور قوت استقامت سے ایسے مذہب سے واقفیت ہوئی جو حقیقت سے منسلک تھا اور جس کو ناتجربہ کا ر،ناقص العلم مذہب کے پرستاروں نے غلط طریقے سے نشر کر رکھا تھا۔مولانا آزاداس حقیقی مذہب کے علوم کی پیاس میں اس سفر پر نکل پڑے اور سیراب ہوکر واپس ہوئے ۔علمااور مذہب کے تئیں وہ اس نتیجے پر پہنچے:۔
’’علم عالم محسوسات سے سروکار رکھتا ہے۔مذہب ماوراء محسوسات کی خبر دیتا ہے۔دونوں میں دائروں کا تعددہوا۔مگر تعارض نہیں ہوا۔جو کچھ محسوسات سے ماوراء ہے ہم اسے محسوسات سے معارض سمجھ لیتے ہیں اور یہیں سے ہمارے دیدہ کج اندیش کی ساری درماندگیاں شروع ہوجاتی ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۸۰)
مذکورہ بالا اقتباس ان کی سیمابی فطرت اور تلاش و جستجو کا شاہد ہے کہ وہ مذہب کی غلط ترویج و اشاعت پر عمل پیرا نہ ہوکر اس کی حقیقت کے پیچھے سرگرداں رہے اور علم و مذہب کی باریکیوں،غلط عقائد اور نزاعی مذہب کی گرہوں کو کھولا اور دونوں کے فرق کو واضح کرکے ان دونوں کو مختلف شکلوں کا رنگ دیا اور تاحیات اس پر کاربند رہے۔اسی طرح ’’چڑیا چڑے‘‘ کی کہانی پر ایک مضمون لکھ کر ان کی قوت ارادی کو پیش کرکے عوام کو اس بات کی تلقین کرتے ہیں کہ اگر کسی کے ارتقاء کی راہیں مسدود کرنے کی کوششیں کی جائیں تو انھیں مسدود راہوں کا سہارا لے کراپنی بلندی کی معراج بنالینی چاہیے۔قلعہ احمد نگر کے قیدیوں کو جو کمرے دیے گئے تھے وہ شہتیروں کے بنے ہوئے تھے چونکہ اس کی عمارت انتہائی قدیم تھی اس لیے چڑیوں نے جا بجا اس میں گھونسلے بنا رکھے تھے۔مولانا آزاد کے کمرے کے ایک گوشے میں چڑیوں نے اپنے آشیانے کی کچھ یوں تعمیر کی کہ ان کا لکھنا پڑھنا دشوار ہوگیا،جس کی وجہ سے مولانا آزاد اور چڑیوں کے درمیان معرکہ آریاں شروع ہوگئیں پھر بھی ان ننھے حملہ آوروں نے میدان کارزار کو پیٹھ نہیں دکھائی ،آخر کار مولانا نے ایک ترکیب نکالی اور بانس کے ذریعہ ان لوگوں کا بھگا دیا پھر وہی بانس اسی گھونسلے کے دہانے پر رکھ دیا ،پندرہ منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ ان چڑیوں کی چہچہاہٹ کی باد صرصر کی طرح فضامیں گونجنے لگی ،یہاں تک کہ اسی ہتھیار کو ان لوگوں نے اپناآلہ بنا رکھا ہے جس کے خوف سے میدان کو چھوڑنا پڑا تھا۔فرماتے ہیں:۔
’’تھوڑی دیر کے بعد واپس آیا تو کمرہ میں قدم رکھتے ہی ٹھٹھک کے رہ گیا۔کیا دیکھتا ہوں کہ سارا کمرہ پھر حریف کے قبضہ میں ہے اور اس اطمینان و فراغت سے اپنے کاموں میں مشغول ہیں۔جیسے کوئی حادثہ پیش آیا ہی نہیں۔سب سے بڑھ کر یہ کہ جس ہتھیار کی ہیبت پر اس درجہ بھروسہ کیا گیا تھا وہی حریفوں کی کامجوئیوں کا ایک نیا آلہ ثابت ہوا۔بانس کا سرا جو بالکل گھونسلے سے لگا ہوا تھا ۔گھونسلے میں جانے کے لئے اب دہلیز کا کام دینے لگاہے۔تنکے چن چن کر لاتے ہیں اور اس نوتعمیر دہلیز پر بیٹھ کر بہ اطمینان تمام گھونسلے میں بچھاتے جاتے ہیں ساتھ ہی چوں چوں بھی کرتے جاتے ہیں۔‘‘
(غبار خاطر،ص:۳۰۵۔۳۰۴)
درج بالا اقتباس سے انھوں نے یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ یہ تو ایک نازک سے پرندے تھے جنھوں نے اپنی قوت ارادی سے اپنے مقصد کی تکمیل کی جن کے پاس ایک چھوٹی سی چونچ کے علاوہ کچھ بھی نہیں محض ارادے کی پختگی نے ان کو اپنے مقصد پر حاوی رکھا تو انسانوں کو تو اللہ نے فہم و فراست کے ساتھ ساتھ اور بھی چیزوں سے نوازا ہے جس کو وہ اپنے کام میں لا سکتا ہے ۔مگر اس کے لئے شرط ہے کہ اس کے اندر ایک پختہ عزم،ولولہ اور جوش ہو تو وہ کمرہ تو کیا پوری دنیا کو فتح کرسکتا ہے۔حکیم اشمیدس کا مقولہ اس بات پر صادق آتا ہے کہ’’مجھے فضا میں کھڑے ہونے کی جگہ دے دو۔میں کرہ ارض کو اس کی جگہ سے ہٹا دوں گا‘‘مولانا آزاد نے جس قوت ارادی کا مظاہرہ کیا ہے وہ بدرجہ اتم ان کی اندر موجود تھی ۔وہ انتہائی صبروتحمل اور استقامت کے ساتھ جنون کی حد تک اپنے کام میں منہمک رہتے ۔وہ اپنے کام کو اس طرح انجام دیتے گویا وہ کوئی کام نہیں بلکہ ان کی محبوبہ ہو اور وہ اس کے عشق میں اسقدر گرفتار ہوں کہ اس سے آزادی کی کوئی بھی صورت نظر نہ آتی ہو ۔وہ کسی بھی کام کے لیے قدم اٹھاتے اس کو انجام تک پہنچاتے چاہے اس میں کتنی ہی دشواریاں ہوں ،نہ تو اس سے تغافل برتتے اور نہ ہی ان دشواریوں کا شکوہ کرتے۔
نورالصباح شعبہ اردو، دہلی یونیورسٹی کی ہونہار ریسرچ اسکالر ہیں
Javed Nama by Allama Iqbal
Articles
جاوید نامہ از علامہ اقبال
علامہ اقبال
Iqbal Aur Mashriq wa Maghrib ke Mufakkareen
Articles
اقبال اور مشرق و مغرب کے مفکرین
.
Iqbal ke Fikr o Falsafa ke Irteqai Manazil
Articles
اقبال کے فکر و فلسفہ کے ارتقائی منازل
ا
Zinda Rood by Javed Iqbal
Articles
زندہ رود از جاوید اقبال
جاوید اقبال
Iqbal aur Bhopal by Sahba Lakhnowi
Articles
اقبال اور بھوپال از صہبا لکھنوی
صہبا لکھنوی
Iqbal: Ibtedai Daur by Khurram Ali Shafeeq
Articles
اقبال : ابتدائی دور از خرم علی شفیق
خرم علی شفیق
